پوسٹ تلاش کریں

حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت!

حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت!

”جب رسول اللہ ۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ کے حوالہ سے فرمایا: مجھ پر حرام ہے” تو سورہ تحریم میں بھرپور وضاحت آئی کہ بیوی کو حرام کہہ دینے سے حرام نہیں قرار دیا جاسکتا تو کیا یہ کم رہنمائی ہے؟
علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میںبیوی کو” حرام ” کہنے پر20اجتہادی مذاہب کونقل کیاہے کہ حضرت عمر ایک طلاق اور حضرت علی تین طلاق قرار دیتے

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ امام مہدی کا ظہور قریب ہے۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کا اجتہاد ٹھیک اور کس کا غلط ہے اور امام مہدی کا فیصلہ حق ہوگااوران کا مخالف باطل ہوگا

جب حضرت معاذ بن جبل یمن کے حاکم بنادئیے گئے تو نبی ۖ نے پوچھا کہ لوگوں کے درمیان کس چیز پر فیصلہ کروگے؟۔ ابن جبل نے عرض کیا کہ قرآن سے۔ نبی ۖ نے پوچھا کہ اگر قرآن میں نہ ملے تو؟ ، معاذ بن جبل نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ۖ کی سنت سے ۔پھر پوچھ لیا کہ اگر سنت میں بھی نہ ملے توپھر؟۔ معاذبن جبل نے عرض کیا کہ پھر میں خود کوشش کروں گا۔ نبی ۖ نے اس پر انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا تھا۔
عربی میں اجتھد میںکوشش کروں گا۔ انا مجتھد میں محنتی ہوں ۔ھو مجتھد وہ محنتی ہے۔بدقسمتی سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ ڈال دیا گیا ہے کہ ” اجتہاد” مستقل مذاہب ہیں جن کی تقلید کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیوی کو ” حرام” کہنے پر علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے20اجتہادات کو نقل کیا ہے۔ لکھاہے کہ حضرت عمر کے نزدیک بیوی کو ”حرام” کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ جبکہ حضرت علی کے نزدیک بیوی کو ” حرام” کہنے سے تین طلاق مغلظہ واقع ہوں گی۔ اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ اجتہادی غلطی پر ایک نیکی ملتی ہے اور اگر اجتہاد ٹھیک ہو تو پھر دو نیکیاں ملتی ہیں لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کس کا اجتہاد ٹھیک ہے اور کس کا اجتہاد غلط ہے؟۔ امام مہدی تشریف لائیں گے تو ٹھیک اور غلط واضح ہوگا۔
علامہ ابن تیمیہ نے ایک کتابچہ لکھا ہے جس میں چاروں فقہاء کی تقلید کو فرقہ واریت اور ناجائز قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے شاگرد علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد میں4کی جگہ20اجتہادات لکھ دئیے۔
اہل سنت صحیح بخاری کے بارے میںکہتے ہیں کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری ”اللہ کی کتاب کے بعدسب سے زیادہ صحیح کتاب صحیح بخاری ہے”۔ حسن بصری سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ” بیوی کو حرام کہنا بعض علماء کے اجتہاد کے مطابق تیسری طلاق ہے اوریہ کھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیں ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے کام چل جائے بلکہ تیسری طلاق کے بعد بیوی حلال نہیں ہوتی ہے کہ جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرکے ہمبستری نہ کرلے”۔ اورابن عباس نے کہا کہ ” بیوی کو حرام کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا نہ طلاق اور نہ قسم کا کفارہ۔ یہ سیرت رسول ۖ کا تقاضہ ہے ”۔(سورۂ تحریم ماریہ قبطیہ حرام کرنے پر اتری) بخاری کی ان روایات میں بہت بڑا تضاد ہے۔ کہاں تیسری طلاق اور کہاں کچھ نہیں؟۔
اللہ نے فرمایا کہ ” اپنی زبانوں کو ملوث مت کروکہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے”۔ (القرآن)۔ کیا حضرت عمر، علی اورا بن عباس نے اللہ کی کتاب قرآن کے منافی حلال اور حرام کے اجتہادات کرلئے تھے؟۔ جب سورہ تحریم میں اللہ نے قرآن میں نبی ۖ کی سیرت کے ذریعے اتنی زبردست وضاحت فرمائی ہے تو کیا صحابہ اور خاص طورپر خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی میں اتنے بڑے تضادات ہوسکتے تھے؟۔
امام مہدی حنفی مسلک، علی اور عمر میں کس کی تائید یا تردید کرے گا؟۔ قرآن وسنت اور خلفاء راشدین کی صحت کا فیصلہ کس طرح کرے گا؟۔ اگر ان کی آمد سے پہلے امت نے معقول حل تلاش کیا تو کیا ہوگا؟۔
قرآن وسنت میں طلاق اور اس سے رجوع کرنے کا ایک بنیادی مسئلہ میاں بیوی میں معروف رجوع ہے اور معروف رجوع کا مطلب قرآن وسنت میں بالکل واضح ہے کہ شوہراورعورت رجوع کیلئے راضی ہوں اور یہ مفہوم بار بار قرآن میں اللہ نے واضح کیا ہے۔ یہاں تک کہ جب نبی ۖ نے ایلاء کیا تھا تب بھی اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ رجوع کرنے سے ان کو علیحدہ ہونے کا مکمل اختیار دے دو۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ جب ایک شخص نے اپنی بیوی کو حرام قرار دیا اور اس نے حضرت عمر سے پوچھ لیا کہ رجوع ہوسکتا ہے؟۔ حضرت عمر نے اس کی بیوی کی رضا مندی معلوم کرنے کے بعد رجوع کا فتویٰ دیا۔ پھر حضرت علی کے پاس ایک اور مسئلہ آیا کہ ایک شخص نے بیوی کو حرام قرار دیا۔ حضرت علی نے معلوم کیا تو بیوی رجوع کیلئے راضی نہ تھی اسلئے فتویٰ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ۔ اس کو کسی نے تین اور کسی نے تیسری طلاق کا نام دیا لیکن یہ نہیں دیکھا کہ قرآن وسنت کے مطابق بالکل درست فتویٰ دیاتھا۔ حضرت عمر وعلی کی کوشش(اجتہاد) میں تضاد نہیں قرآن وسنت سے مطابقت ہے۔
تحریم کا معنی حرام کرناہے۔سورۂ تحریم اور نبی ۖ کا بیوی کو حرام قرار دینے سے مسئلہ سمجھنا مشکل نہ تھا۔ ”فتاویٰ عثمانی” میں ہے کہ ” بعض علماء کے نزدیک ” میں نے تجھے چھوڑ دیا” طلاق صریح ہے جو طلاق رجعی ہے اور اس میں نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن” تومجھ پر حرام” سے طلاقِ صریح کیوں واقع نہیں ہوتی بلکہ بائن واقع ہوتی ہے جس میں نکاح کی ضرورت پڑتی ہے؟”۔اس میں کیا فرق ہے؟۔ جواب:” اس فرق کو سمجھنے کیلئے فقہ پڑھنے کی ضرورت ہے، لہٰذا یا تو آپ فقہ کی تعلیم حاصل فرمائیں یا پھر اہلِ علم سے مسئلہ پوچھ کر اس پر عمل فرمائیں اور دلائل کے پیچھے نہ پڑیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ ٣٧٤،٣٧٥

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

علماء حق اور علماء سوء میں حدفاصل کیا ہے؟ اور کب سے معاملات زیادہ خراب ہوگئے ہیں؟

علماء حق اور علماء سوء میں حدفاصل کیا ہے؟ اور کب سے معاملات زیادہ خراب ہوگئے ہیں؟

جب مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ،مفتی تقی ورفیع عثمانی اورمفتی رشیداحمد لدھیانوی نے جمعیت علماء اسلام پر1970میں کفر کا فتویٰ لگایاتو ان کاعلامہ محمد یوسف بنوری نے کوئی ساتھ نہیں دیا تھا

دارالعلوم کراچی نے شیعوں کے خلاف فتویٰ نہیں دیا لیکن جمعیت علماء اسلام اور حاجی محمد عثمان کے خلاف فتویٰ دینے میں ایک سرغنہ کا کردار ادا کیا تھا۔ علماء حق اور علماء سو ء کا معیار یہ تھا؟

علمائِ حق کے سروں پر سینگوں کا تاج نہیں ہوتا کہ ان کو ذوالقرنین کہا جائے اور نہ علماء سوء کی چوتڑ پر لمبی دُم ہوتی ہے کہ اس سے ان کی شناخت کی جائے۔
جب1970میں علماء حق پر ان علماء سوء نے فتویٰ لگادیا تو اس پر ایک بڑا کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے تھا تاکہ عوام کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ پھر1980میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں بینکوں سے زکوٰة کے مسئلے پر طلب کیا اور دورانِ گفتگو مفتی تقی عثمانی نے کہاکہ ”ہم دونوں بھائی دن میں ایک بار ایک کپ چائے پیتے ہیںاور پھر سارا دن نہیں پیتے”۔ حالانکہ مہمان کا میزبان کی دعوت کا قبول نہ کرنا قرآن وسنت اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ مفتی محمود نے کہا تھا کہ ” نبی ۖ نے دودھ کی دعوت قبول کرنے کا حکم فرمایا ہے اور چائے بھی دودھ کے حکم میں ہے”۔ جب حضرت ابراہیم کی دعوت مہمانوں نے قبول نہیں کی تو ان کو خوف محسوس ہوا۔ لیکن پھر انہوں نے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ مفتی محمود نے کہا تھا کہ ”میں خود چائے زیادہ پیتا ہوں لیکن اگر کوئی کم پیتا ہے تومیں اس کو پسند کرتا ہوں”۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ”حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے”۔ (پان کا بٹوا دکھاکر)۔ مفتی محمود نے کہا کہ ” یہ توچائے سے بھی بدتر ہے” اور پھر مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلایا اور جب تھوڑی دیر بعد مفتی محمود کی طبیعت خراب ہوگئی تو مفتی رفیع عثمانی نے دورہ قلب کی خاص گولی اس کے حلق میں ڈال دی اور ڈاکٹر کے پہنچنے سے پہلے رحلت فرماگئے تھے۔ پان کھلانے اور حلق میں گولی ڈالنے کی بات مفتی تقی عثمانی نے اپنی اس تحریر میں نہیں لکھی تھی جو اس نے البلاغ میں مفتی محمود کی وفات کے بعد لکھی تھی لیکن مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے دونوں باتیں ماہنامہ بینات بنوری ٹاؤن کراچی میں لکھ دی تھیں اور جب ‘اقراء ڈائجسٹ بنوری ومحمود کا خاص نمبر چھپ گیا تو دونوں تحریرات بھی شائع کی تھیں۔ جب ہم نے ان کا حوالہ دیا تو مفتی تقی عثمانی نے مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو ڈانٹ دیاتھا۔ پھر بہت بعد میں مفتی تقی عثمانی کا آڈیو ریکارڈ نیٹ پر آیا کہ مفتی محمودسے بے تکلفی تھی، وہ مجھ سے کہتے تھے کہ بھیا ! تمہارا پان کھائیں گے ، لاؤ مجھے اپنا پان ذرا کھلاؤ۔ مفتی تقی عثمانی کی تحریر اور تقریر میں بہت بڑا تضاد ہے۔ جھوٹ پکڑنے والی مشین کے ذریعے سے بھی اسکا ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن پہلے کہتا تھا کہ ” بینکوں کی زکوٰة شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ہے ”۔ لیکن پھر اس کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔مولانا سلیم اللہ خان اور مفتی زرولی خان کے علاوہ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، پاکستان کے تمام مدارس کے علماء ومفتیان نے مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کی مذمت کی تھی لیکن اب معاملہ یکسر تبدیل ہورہاہے اور کسی دور میں سود کی حرمت مسئلہ نہیں رہے گا۔ ایک ایک بات پر زبردست کمیشن بنانا پڑے گا۔
اہل تشیع پر علامہ بنوری ٹاؤن کراچی اور پاکستان بھر سے تین بنیادوں پر کفر کا فتوی لگایا گیا تھا۔1:تحریف قرآن کے قائل ہیں۔2:صحابہ کرام کی تکفیر کی وجہ سے کافر ہیں۔3:عقیدہ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر اور کافر ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اور حاجی عثمانپر فتویٰ لگادیامگر شیعہ پر سرکاری مرغا ہونے کی وجہ سے نہیں لگایا۔ فتاویٰ عثمانی میں ایک طرف شیعہ کیساتھ نکاح کو ناجائز قرار دیا اور دوسری طرف جائز قرار دے دیا۔
علماء حق اس پر متحد ومتفق ہوسکتے ہیں کہ تحریف قرآن کا عقیدہ سنی وشیعہ جو بھی پڑھاتا ہے وہ کفر ہے اور اپنے نصاب کی اصلاح کرلے۔ جب قرآن پر اتفاق رائے ہوجائے گی تو صحابہ کرام و اہل بیت کے بارے میں بھی سب متفق ہوجائیںگے۔ پھر عقیدہ امامت پر بھی کفر وگمراہی کی جگہ اتفاق رائے ہوگی اور مسلمان اتحاد واتفاق اور وحدت کے راستے پر گامزن ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی تقی عثمانی کے ”فتاویٰ عثمانی’ ‘ کا قرآن وسنت سے انحراف اورزبردست آپریشن کا آغاز

مفتی تقی عثمانی کے ”فتاویٰ عثمانی’ ‘ کا قرآن وسنت سے انحراف اورزبردست آپریشن کا آغاز

ہم مفتی تقی عثمانی کے اس فتوے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں کتنی خواتین کو اپنے شوہروں پر حلالہ کی لعنت کیلئے انہوں نے ناجائز حرام کردیا ہے،اللہ نے ہمیں قبول کرلیا ہے!

جس طرح نسوار، سگریٹ، حقہ، بھنگ،شراب، چرس، افیم، کوکین ، شیشہ اور ہیروئن کے نشے کی علت لگتی ہے اسی طرح سے ان علماء ومفتیان کوحلال نکاح کو حرام کرنے کی بھی علت لگی ہے

ہمارا مقصد اپنا دفاع یا انتقام نہیں بلکہ ان علماء ومفتیان کے ہاتھوں جس طرح قرآن اور امت مسلمہ کی خواتین کی بے حرمتی ہورہی ہے اس کو روکنا اصل مقصد ہے۔علمائِ حق ہمارا ساتھ دیں!

مولانا فقیر محمد پر گریہ طاری رہتا لیکن حاجی عثمان کی محفل میں وہ وجد میں آکر گھومنا شروع ہوجاتے۔ حاجی عثمان نے کئی بزرگوں سے اکتساب فیض کیا۔ سیدعالم چشتی اور قادری سلسلہ سے خلافت تھی۔ مولانا سید محمد میاں جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور نے ” علماء ہند کا شاندار ماضی ”میں لکھا : ” شیح احمد سرہندی مجدد الف ثانیسب سلسلوں میں مقبول تھے اور سبھی خلافت وبیعت کی نسبت دینے کی کوشش کررہے تھے ، پھر رسول اللہ ۖ نے فیصلہ فرمایاکہ سب سلسلے کی طرف سے اجازت دی جائے لیکن نقشبندی سلسلہ کی خدمت کریں گے”۔
مولانا فقیر محمد نے کسی کے مشورہ پر حاجی عثمان سے خلافت واپس لی ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مہتمم مفتی احمدالرحمن اور مفتی ولی حسن نے کہا کہ آپ نے حاجی محمد عثمان کو ورود سے خلافت دی تو مشورے پر شرعاً خلافت واپس نہیں لے سکتے جب تک کہ دوبارہ ورود نہ ہو۔ مولانا فقیر محمد نے جامعة العلوم اسلامیة بنوری ٹاؤن کراچی کے لیٹر پیڈ پر لکھ دیا کہ ” میں نے حاجی محمد عثمان کو ورود کی نسبت سے خلافت دی تھی جو تاحال قائم اور دائم ہے”۔
اس پر مفتی احمد الرحمن، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن رئیس دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن اور مفتی جمیل خان روزنامہ جنگ کراچی کے دستخط ہیں۔
مفتی احمد الرحمن و مفتی ولی حسن غریبوںکو حاجی عثمان کے خلفاء نے گاڑیوں کا مالک بنادیا تھا۔ پھر جب سرمایہ دار مرید مفتی تقی عثمانی کی سازش سے مخالف بن گئے اور دارالعلوم کراچی نے” الاستفتاء ” کے نام سے سوالات اور جوابات کو خود مرتب کیا تو مفتی رشیداحمدلدھیانوی نے حاجی عثمان کو دھمکی دی کہ اگر نہیں آئے تو یکطرفہ فتویٰ دیںگے۔ حاجی عثمان آپریشن کیلئے داخل تھے۔ پیشاب کی تھیلی ہاتھ میں لئے پہنچے تو علماء ومفتیان کی طوطا چشمی دیکھ کر حیران ہوگئے۔
مولانا فقیر محمد نے جن علماء ومفتیان کا شرعی فتویٰ مان کر لکھا تھا کہ مشورے سے ورود کی دی ہوئی خلافت واپس نہیں لی جاسکتی ۔ انہوں نے ہی مولانا فقیر محمد کو مشورہ دیا کہ خلافت واپس لو۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گمراہ پیر کی خلافت پر مولانا فقیر کی پیری تحفظات کا شکار بن جاتی مگر حاجی عثمان کے خلفاء جگر کے ٹکڑے تھے اور مولانا فقیر محمد ورود کی نسبت خلافت دینے کے باوجود معتبر تھے ؟ ۔ اگرحاجی عثمان پیری کے قابل نہیں تھے تو یہی فتویٰ پھر مولانا فقیرمحمد پر لگتا تھا؟۔
مولانا فقیر محمد شیخ و مرشد نہیں تھے بلکہ حاجی عثمان کے بارے میں لکھ دیا کہ ”مولانا اشرف علی تھانوی کے مرشد حاجی امداداللہ مہاجر مکیسے بہت مشابہت رکھتے ہیں اور ان کا بہت شکریہ کہ27رمضان المبارک کی رات مسجد نبوی ۖ مدینہ منورہ میںورود کی خلافت کوقبول فرمالیا ہے”۔اس میں بڑے راز کی بات تھی کہ ورود کی خلافت ،TJابراہیم سے الائنس موٹرز کی کہانی، علماء ومفتیان کے شرمناک فتوے اور اس پر معافی مانگنے سے لیکر دوبارہ انتہائی جہالت اور کمینہ پن سے فتویٰ بازی اور بدمعاشی کے معاملات تک بہت حقائق سامنے آگئے ۔
حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے مرید وخلفاء میں اکابر دیوبند تھے اور بریلوی مکتبہ فکر میں بھی حاجی امداداللہ مہاجر مکی کا احترام ہے اور” فیصلہ ہفت مسئلہ” میں بریلوی دیوبندی اختلافات کو حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے ختم کیا۔ علماء دیوبند کااس کتاب سے اختلاف تھا بلکہ جلا دیا تھا لیکن مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو شائع کیا تھا۔جب فتویٰ کے بعدمیرا خانقاہ میں قیام تھا تو میں نے خواب دیکھا کہ ” حاجی امداداللہ مہاجر مکی خانقاہ کے مشرقی دروازے سے داخل ہوئے اور کہا کہ میں عتیق کو دیکھنے آیا ہوں۔ میں کمرے میں آرام کررہا تھا ۔پھر کمرے کے دروازے پر آئے تو تھوڑی سی شرمندگی کا احساس ہوا اور دروازہ کھول دیا”۔ حاجی محمد عثمان مجھے حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر لے گئے لیکن میں نے ایسی کیفیت کی مزاحمت کی کہ مکاشفہ ہوجائے۔ پھر ایک دفعہ خواب دیکھا تھا کہ ”پہاڑ پر چڑھتے ہوئے جس سڑک پر چل رہے ہیں۔ وہ ساری کٹی ہوئی تھی۔ گاڑی کا یہ کمال ہوتا ہے کہ سڑک کی بھرائی بھی کرتی ہے اور مرمت بھی کرتی ہے اور اس پر کارپٹ بھی خود بخود بچھاتی ہے۔ اس میںتقریباً70،80افرادتھے”۔ حاجی محمد عثمان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے پوچھ لیا کہ میں بھی اس میں ہوتا ہوں؟۔ میں عرض کرتا ہوں کہ آپ نہیں ہوتے۔ فرمایا کہ ” آپ کیلئے70،80بھی کافی ہیں”۔ یہ بھی فرمایا تھا کہ ” آپ سے اللہ نے دین کا بہت بڑا کام لینا ہے اور آپ کے ذریعے اللہ صدیقین کی جماعت پیدا کرے گا”۔قرآن میں کافروں کا ذکر ہے اور مکذّبین کا ذکر ہے جو جھٹلانے والے ہوتے ہیں۔ایمان والوں کا ذکر ہے اور متصدقین کا ذکر ہے جس کا معنی تکذیب کے مقابلے میں تصدیق کرنے والے ہیں لیکن علماء نے ان سے صدقہ دینے والے مراد لئے۔
ہمارے کئی ساتھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ باقی ہم اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ امت کی بھلائی کیلئے ایک بڑا انقلاب برپا ہوجائے ۔
اللہ نے قرآن میںفرمایا: منھم من قضٰی نحبہ ومنھم من ینتظر ۔ ایک وہ جنہوں نے اپناہدف پورا کردیا اور دوسرے وہ جو انتظار میں بیٹھے ہیں۔
مولانا فقیر محمد سادہ تھے۔ حاجی عثمان کی خلافت قدرت کی ایک چال تھی۔ اللہ نے فرمایا : ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین ”اور یہ اپنا جال بچھاتے ہیں اور اللہ اپنا جال بچھاتا ہے اور اللہ بہتر جال بچھانے والا ہے”۔
علامہ یوسف بنوری اور دوسرے اکابر علماء جب حج پر مستورات کے ساتھ جاتے تو مستورات کو حاجی محمد عثمان کے ذمہ لگاتے۔ علامہ سید محمد یوسف بنوری نے اپنے صاحبزادے مولاناسید محمدبنوری سے فرمایا تھا کہ ” حاجی محمد عثمان سے خوف رکھو، ان کے ہاتھ میں چھڑی ہے”۔ مولانا سیدمحمد بنوری فتویٰ لگنے کے بعد بھی حاجی عثمان کے پاس آتے تھے اور علماء کرام کو بھی ساتھ لاتے تھے۔ ایک مرتبہ مولانا سید عبدالمجید ندیم کو بھی ساتھ لائے تھے۔ ندیم صاحب نے کہا تھا کہ ” عثمان نام ہے تو مظلومیت کا انداز بھی وہی ہے اسلئے کہ نام کا اثر ہوتا ہے اور جنہوں نے فتویٰ لگایا ہے کہ یہ گند اور بدبو کے ڈھیر ہیں”۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ” یہ سن70کا فتویٰ لگتا ہے۔ علماء ومفتیان نے سرمایہ داروں سے خوب مال کھایا ہوگااور یہ پیر کوئی اچھے آدمی ہوں گے”۔
حاجی عثمان کی بیعت سے پہلے مولانا اللہ یار خان کے مریدوں نے پیشکش کی تھی کہ مولانا اللہ یار خان نے کہا کہ مجھ سے بیعت نہ ہوں بلکہ رسول اللہ ۖ کے ہاتھ میں براہِ راست بیعت ہوگی لیکن میں نے اس پیشکش سے معذرت کرلی تھی اسلئے کہ انکے مریدوں نے کہا تھا کہ ”آپ بیعت ہوجائیں تو دنیا کی ساری ضروریات پوری کردیںگے”۔ مجھے ان کی یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔ مولانا اللہ یار خان کے خلیفہ مولانا اکرم اعوان انقلابی تھے اور بہت سارے فوجی افسران ان سے بیعت تھے اور حاجی محمد عثمان سے بھی فوجی افسران بیعت تھے۔ وہ بھی انقلاب چاہتے تھے لیکن مرید فوجیوں اور علماء نے کوئی ساتھ نہیں دیاتھا ۔
مولانا عبدالقدوس خطیب جامع مسجد یارک ڈیرہ اسماعیل خان نے بتایا کہ ”مولانا اللہ یار خان نے وزیرستان کا سفر کیا تھا اور کہا تھا کہ میں ایک موتی تلاش کرنے آیا ہوں،اگر اللہ نے دیا۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کی تلاش میں گئے تھے”۔
وزیرستان جلسہ عام میں مولانا نورمحمدMNA،مولانا اکرم اعوان اور میں ساتھ تھے ۔مولانا اکرم اعوان خلیفہ مولانا اللہ یار خان نے کہا تھاکہ ”میں کسان ہوں۔ کسان فصل اٹھاتا ہے تو باقی گندم اخراجات رکھتا ہے اور بہترین گندم کوبیج کیلئے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ نے وزیرستان کی عوام کو بیج کیلئے محفوظ رکھا ہوا ہے”۔
مفتی عبدالرحیم نے شیخ سید عبدالقار جیلانی، شاہ ولی اللہ، علامہ سیدیوسف بنوری اور شیخ الحدیث مولانا زکریا کے معتقدات پر بھی کفروگمراہی، الحاد وزندقہ، قادیانیت اور دیگر فتوے لگادئیے تھے۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے اس خوف سے اتنی پھوسیاں ماری ہوں گی کہ دارالافتاء والارشاد کو بدبوسے بھر دیا ہوگا لیکن جب ہم نے رعایت کی تو پھر انہوں نے الائنس موٹرز کی نمک حلالی کیلئے اپنا وہی کام شروع کردیا۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ فتوؤں کا کواڑ بالکل کھلا رکھا گیاہے۔
مولانا فضل محمد یوسف زئی استاذ حدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا تھا کہ ” مفتی رشید احمد لدھیانوی نے علامہ سید محمد یوسف بنوری سے اذیت ناک سلوک روا رکھا تھا اسلئے اللہ نے تیرے ہاتھوں اس کو عذاب کا مزا چکھادیا ”۔
تصوف وسلوک کے میدان میںعلماء ومفتیان کی نالائقی اپنی جگہ تھی لیکن جب درسِ نظامی کے نصاب کو دیکھا جائے اور اس سے باصلاحیت علماء ومفتیان کی جگہ کوڑھ دماغ شخصیات جنم لینے کا قضیہ دیکھا جائے تو معاملہ بڑا بگڑتا ہے۔ جب دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ہماری وجہ سے اس پر متفق ہوجائیں کہ قرآنی آیات کی تفسیر اور احادیث کی تشریح پر اختلاف نہیں رہے بلکہ سب کیلئے قابلِ قبول ہو ۔ حضرت عمر اور حضرت علی کا اختلاف نہیں رہے بلکہ سب کیلئے قابل قبول ہو۔ تمام مذہبی وسیاسی قیادت ایک جگہ جمع ہوکر اسلام کے حقیقی معاشرتی نظام کا نقشہ پاکستان اور پوری دنیا کے سامنے پیش کریں۔ہمارا مشن دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ کیلئے قابل قبول ہے اور مذہبی طبقہ اس وجہ سے اقتدار کی دہلیز تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ جان لو کہ مولانا فضل الرحمن و مریم نواز کیساتھ عمران خان اور آصف زرداری بھی اس مقدس مشن کا ساتھ دیں گے۔
شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے ” بدعت کی حقیقت ” میں تقلید کو عملی بدعت قرار دیا۔ علامہ یوسف بنوری نے اسکے ترجمہ پر تقریظ لکھی ہے اور تقریظ میں دوسری کتاب ”منصبِ امامت” کی بھی بہت تعریف لکھ دی ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب ”بدعت کی حقیقت” کی وجہ سے اکابردیوبند پر اسلاف سے انحراف کا فتویٰ لگادیا تھا لیکن علماء دیوبند نے پھر تقلید کا دامن تھامنے پرکتاب لکھ دی۔ علامہ سیدیوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے لکھا کہ ” ہندوستان میں مذہب حنفی کی بقاء کا سہرا مولانا احمد رضا خان بریلوی کے سر جاتا ہے”۔ اہلحدیث کے مولانا اسحاق نے کہا کہ ”ایک نواب کی تعریف میں مولانا احمدرضا خان بریلوی سے اشعار کا تقاضہ کیا گیا کہ پھر نواب ماہانہ وظیفہ مقرر کردے گا تو مولانا احمد رضا بریلوی نے صاف انکار کردیا کہ” میں نبیۖ کی تعریف میں نعمت پڑھ سکتا ہوں۔ کسی نواب کیلئے قصیدہ گوئی کی توقع مجھ سے مت رکھو”۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حق کی راہ کے متلاشی افراد کیلئے قرآن وسنت اور اجماع وقیاس کا وہ راستہ کھول دیں جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔ فرقہ واریت نے امت کی اکثریت کو مذہبی طبقے سے بہت متنفر کردیا ہے۔ ہم علماء ومشائخ کی عزت کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
نکاح وطلاق کے مسائل کی وجہ سے علماء ومفتیان نے اچھی تعلیم یافتہ اور سمجھدار قوم کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ ”فتاویٰ عثمانی” کے واقعات کاا ندراج کیا جائے تو دنیا دنگ رہ جائے گی کہ گیدڑ سنگھی کے بچے مفتی تقی عثمانی نے اسلام کا تماشہ بنادیا۔ انشاء اللہ دنیا میں اسلام کا نام و کام روشن ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن اپنے گھر میں میرے ساتھ مفتی تقی عثمانی کو بٹھادیں تو مولانا کا دماغ کھلے گا۔
میں نے دارالعلوم کراچی میں داخلہ لیا تھا تو اپنے طعام کیلئے نوکری ڈھونڈ لی تھی، جب طلبہ نے اسرار کیا کہ مفت کی سہولت موجود ہے تو مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ میں نے کہا کہ ”میں سید ہوں اور زکوٰة میرے لئے جائز نہیں ”۔ انہوں نے کہا: ‘ ‘اکابرسادات نے مدارس میں پڑھا اور یہ نہیں کہا”۔ میں نے کہا: ”پھر کیامیرے لئے زکوٰة جائز ہوجائے گی؟ اور انشاء اللہ میں مسجد کی امامت، آذان اور قرآن کا درس دوں گا مگر تنخواہ نہیں لوں گا”۔جب یہ رپورٹ مدرسہ کے انتظامیہ کو دی گئی تو مجھے دفترمیں بلایا اور کہا: ” آپ کا داخلہ نہیں ہوسکا ہے”۔ لیکن اس کے برعکس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پہلی تقریر یہ سن لی کہ اگر دنیا کا ارادہ ہے تو دنیا کو دنیا کے طریقے سے کمانا چاہیے اور مدرسہ چھوڑدو۔ پھر وہ وقت آیا کہ میں نے مسجد الٰہیہ میں بغیر تنخواہ کے خدمات انجام دیں تو حاجی محمد عثمان نے فرمایا کہ ”ہماری مسجد کو مسجد نبویۖ کے پہلے دور سے مشابہت مل گئی جس میں امام بغیر تنخواہ کے امامت کرتا تھا”۔
ہم سے اللہ تعالیٰ نے طلاق و حلالہ، عورت کے حقوق، قرآنی آیات کی تفسیر اور احادیث صحیحہ کے علاوہ فقہ واصول فقہ کے حوالے سے دین، علم اور ایمان کی جو زبردست خدمات لی ہے وہ حضرت حاجی محمد عثمان کی شخصیت کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں۔ اس داستان میں میرے طالب علمی کے زمانے سے دین کو سمجھ اور اساتذہ کرام کی زبردست حوصلہ افزائی کا بھی بڑا عمل بلکہ بنیادی اور اصلی کمال ہے لیکن اگر یہ حادثہ نہ ہوتا تو شاید ہم سے اللہ تعالیٰ اتنا عظیم کا م بھی نہ لیتا۔سید عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کفار ، اہل کتاب اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان

کفار ، اہل کتاب اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان
فصل فی المناکحة بالکفار واھل الکتاب والفرق الضالة

درج بالا عنوان کے تحت7ذیلی عنوان ہیں۔
1:عیسائی عورت سے نکاح کا حکم : عیسائی عورت سے مسلمان کا نکاح منعقد ہوجاتا ہے ۔شرط یہ ہے کہ عورت واقعی عیسائی ہو، دہریہ نہ ہو۔ دوسری شرط یہ کہ نکاح شرعی طریقے پر دوگواہوں کے سامنے ہوا ہو۔
2:لامذہب اور شیعہ سے نکاح کا حکم : صورت مسئولہ میں لڑکا صراحةً سنی ہونے کا انکار کررہاہے اور اسکے والدین واضح شیعہ ہیں تو اب شیعہ ہونے سے انکار کا مطلب یا تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ تقیہ کررہاہے اور حقیقت میں شیعہ ہے۔ یا پھر وہ کوئی مذہب ہی نہیں رکھتا ، لامذہب ہے۔ اور دونوں صورتوں میں اس کا نکاح صحیح العقیدہ سنی لڑکی سے کرنا جائز نہیں۔ اگرچہ لڑکا کہہ رہا ہو کہ وہ شیعہ نہیں ہے۔
3:قادیانی سے نکاح کا حکم اور کیا مسلمان ہونے کیلئے سرٹیفکیٹ ضروری ہے؟: ایک نوسر باز جعل سازقادیانی کے متعلق جواب میں لکھا ہے کہ اگر سوال میں ذکر کردہ واقعات درست ہیں تو مسماة نفیس فاطمہ کا نکاح مذکورہ شخص سے نہیں ہوا ۔ نکاح نامہ کے سادہ فارم پر صرف دستخط کردینے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے کم ازکم دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ضروری ہے۔ علاوہ ازیں اگر مذکورہ شخص اب بھی قادیانی ہے اور مسلمان ہونے کا سر ٹیفکیٹ جھوٹا ہے تو قادیانی مرد سے مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، خواہ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہواہو۔ دوسرا یہ کہ قادیانی سے مسلمان ہونا درحقیقت قلبی عقائد کی تبدیلی اور ان کے اعلان پر موقوف ہے۔ اگر کوئی شخص قادیانی عقائد سے واقعةً تائب ہوجائے، زبان سے اس کا اعلان کردے تو وہ مسلمان ہوسکتا ہے خواہ اس کے پاس سرٹیفکیٹ نہ ہو۔ اگر دل سے تائب نہ ہوتو جھوٹا سر ٹیفکیٹ بنوانے سے مسلمان نہیں ہوسکتا۔
4:شیعہ سے نکاح کا حکم : ”ان سے نکاح تو ہوجاتا ہے مگر مناسب نہیں”۔ شیعہ کے بارے یہ کھلے متضاد فتوے دئیے گئے ۔
5:حاجی عثمان کے معتقد سے رشتہ جائز نہیں۔ نکاح کا انجام عمر بھر کی حرامکاری اور اولادالزنا۔
عنوانات6:اور7:کافر کی بیوی مسلمان ہوجائے توقاضی جب تک نکاح فسخ کا فیصلہ نہیں کرتا تو کافر سے نکاح برقرار رہتا ہے۔ومالم یفرق القاضی فھو زوجتہ ( شامی ج : ٢ص:٣٨٩)۔
قادیانی کی بیوی مسلمان ہوجائے توعدالتی فیصلے کے بغیر چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ قادیانی نوسر باز مرد کیلئے لکھ دیا کہ” نکاح درست نہیں” ۔یہ نہیں لکھا کہ قادیانی عورت کا مسلمان مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ کیا جنرل ضیاء کے بیٹے ڈاکٹر انوار الحق کا قادیانی عورت اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا نکاح بچانا تھا؟۔
اللہ نے مشرک اور مشرکہ سے نکاح کا منع کیا ۔ عیسائی عورت تثلیث کی وجہ سے مشرکہ ہوتی ہے لیکن اس سے نکاح کا جواز ہے ۔ نبیۖ نے صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہونے والی عورتوں کو پناہ دی اور اللہ نے فرمایا کہ ” وہ اپنے شوہر کیلئے حلال نہیں اور نہ شوہر ان کیلئے ہیں” ۔جج سے تنسیخ نکاح کا فیصلہ قرآن کے خلاف ہے۔ البتہ ام ہانی نے مشرک شوہر سے ہجرت نہ کی تو اس پر حرامکاری کا فتویٰ نہیں لگایا گیا۔ مولانا مودودی نے جسم جڑی ہوئی دو بہنوں کو بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا جائز قراردیا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا یوسف لدھیانوی شہید حاجی عثمان کی قبر پر بیٹیوں اور دامادوں کیساتھ معتقد بن کر جایاکرتے تھے۔

مولانا یوسف لدھیانوی شہید حاجی عثمان کی قبر پر بیٹیوں اور دامادوں کیساتھ معتقد
بن کر جایاکرتے تھے۔
حاجی عثمان کے معتقد سے رشتہ جائز نہیں ،انجام عمر بھر کی حرامکاری اولادالزنا

لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم”اللہ پسند نہیں کرتا کسی کا کھل کر برائی سے بات مگر جس کیساتھ ظلم ہواہو”

ڈاکٹر انوار الحق سے قادیانی کا نکاح پڑھایا،مفتی رشیدکے کزن جنرل قمرباجوہ کا سسر قادیانی ہے تو کیا اولاد پر فتویٰ لگے گا؟

مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب” فتاویٰ عثمانی” پہلے جولائی2007میں چھپی اور طبع جدید ستمبر2022۔ اس میں یہ سوالات بھی مفتی عبدالرحیم نے خود لکھے:
نمبر1:حاجی عثمان کے معتقد سے نکاح جائز ہے؟
نمبر2:اور اگررشتہ کرلیا جائے تو نکاح صحیح ہوجائے گا یا نہیں؟۔
پھرجواب بھی مفتی عبدالرحیم نے دیا۔ اسلئے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا کہ ” جوغلط باتیں حاجی عثمان کی طرف منسوب ہیں اگر وہ ان میں نہیں تو ان پر فتویٰ بھی نہیں لگتاہے اور نکاح تو بہرحال جائزہی ہے”۔ مفتی عبدالسلام چاٹگامی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن نے تصدیق کی تھی۔
دارالعلوم کراچی سے فتوے طلب کرنے میں یہ الفاظ تھے کہ ” نکاح منعقد ہوجائے گا یا نہیں؟۔ جس کے جواب میں مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی نے لکھ دیا تھا کہ ”نکاح منعقد ہوجائے گا لیکن مناسب ہے ان صاحب کے حالات سے اپنے داماد کو آگاہ کردیں”۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے دارلافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی سے مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ دیا کہ ” نکاح جائز نہیں ہے”۔
مفتی عبدالرحیم نے بنوری ٹاؤن اور دارالعلوم کراچی کے فتوؤں کے ردعمل میں لکھا تھا کہ جس نکاح کو تم نے جائز قرار دیا ہے اس کا جواز تو بہت دور کی بات ہے، صرف یہ سوال اٹھانا بھی کہ نکاح کرلیا جائے تو ہوجائے گا یا نہیں؟ شریعت کی تخفیف وتوہین ہے اسلئے کہ کسی حرام کام کا پوچھ لینا بھی شریعت کا مذاق ہے۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ حرام سود کو جواز دیکر شریعت کی دھجیاں بکھیر دیں؟۔
مفتی عبدالرحیم نے اساتذہ کی حیثیت رکھنے والے مفتی تقی ومفتی رفیع عثمانی پر بدمعاش و بدقماش کی طرح فتویٰ لگادیا، مفتی ولی حسن مفتی تقی و رفیع عثمانی کے استاذ تھے۔ استاذا لاساتذہ میں فتویٰ ٹھونک دیا۔ ہم نے دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن کی مساجد میں باجماعت نماز مغرب اور باجماعت نماز عشاء کے بعد اعلان کرکے چیلنج کیا کہ یہ فتویٰ تم پر ہی لگتا ہے۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کو تحریری چیلنج دیا۔ جس پر مفتی عبدالرحیم نے اپنے ہاتھ اور دوسروں سے ہمارے ساتھیوں کی بدترین پٹائی لگائی تھی۔مار کی شدت سے اللہ نکلتا تھا تو یہ کہتا تھا کہ ان کو گٹر کاپانی پلاؤ۔ مفتی ولی حسن ٹونکی تو مجذوب الحال شخص تھے ۔ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء فتویٰ کے مخالف تھے ۔ مفتی تقی ومفتی رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق ،مولانا اشفاق قاسمی فاضل دارالعلوم دیوبند،جامعہ فاروقیہ کے استاذ اور مولانا فضل محمد یوسف زئی استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن حاجی عثمان کے مرید تھے۔
بدشکل دتو مفتی تقی عثمانی وبدنما مفتی عبدالرؤف سکھروی حلالہ کیلئے فتویٰ کا چکر چلاتے۔ جس کی فتاویٰ عثمانی جلد دوم میںکئی نظیر ہیں۔ مولانا اشفاق قاسمی کی بیگم فوت ہوچکی تھی اور فتویٰ کے بعد حاجی عثمان کی خانقاہ میں دارالعلوم کراچی سے آتا رہتاتھا ۔ گمراہ پیر کے گمراہ مرید کا وہاں کیاکام تھا؟، حلالہ سے دارالعلوم والے دوسروں کی عزتوں سے کھیلتے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا: ” خبیث عورتیں خبیث مردوں کیلئے ہوتی ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کیلئے ہوتے ہیں”۔ رنڈوے گمراہ مولانا قاسمی کو اپنی عورتوں کیلئے ہی رکھ لینا قرین قیاس ہوسکتا تھا۔
جن کو اپنی حرامکاری کی پرواہ نہیں ہوتی تو وہ دوسروں پر فتوے لگانے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ مولانا یوسف لدھیانوی نے کہا کہ” مفتی جمیل نے لکھ کر میری طرف خط منسوب کیا، یہ خباثت مفتی رشیدلدھیانوی کی ہے”۔ حاجی عثمان کی قبر پر اپنی بیٹیوں اور دامادوں کیساتھ گئے تو کیا ان پریہ فتویٰ لگتا ہے؟۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پر قادیانیت کی تہمت لگی ۔ اوریا مقبول جان اور علامہ زاہدالراشدی نے کہا کہ وہ قادیانی نہیں۔ پھر پتہ چلاکہ سسر اور بیگم قادیانی ہے۔ اسلئے وہ خود قادیانی کو کافر قرار دینے کی وضاحت نہیں کرتا۔جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبدالسلام سے کہا تھا کہ ”تم ہم سے بہتر مسلمان ہو”۔ مفتی عبدالرحیم کی جنرل باجوہ سے ملاقات رہتی تھی ۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی ماں جنرل قمر باجوہ کی نانی کی سگی بہن تھی۔ سوال یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی اولاد پر مفتی عبدالرحیم عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزناکا فتویٰ لگائے گا؟ اور مفتی تقی عثمانی تصدیق کریگا؟۔ جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح مشہور قادیانی مبلغ جنرل رحیم الدین کی بیٹی سے مفتی تقی عثمانی نے ڈاکٹر عبدالحی سے پڑھوایا۔ جنرل قمر کے بچوں، جنرل ضیاء کے پوتوں پر کونساحکم لگتا ہے ؟۔ مفتی عبدالرحیم شیخ الحدیث مولانانذیرکا چہیتاتھا، پیسہ لیتااور خدمت کرتا۔ شیخ نذیرکاطلبہ سے جنسی سکینڈل بدنام زمانہ مفتی عزیز الرحمن سے بھی زیادہ بدنام تھا۔ اسرائیل وامریکہ کے ایجنٹ یہی علماء ہیں ۔جرائم پیشہ دہشتگردی کے اڈے چلانے والوں سے ہم سوال کی جرأت نہیں کرسکتے؟۔ جنرل قمر باجوہ کا مفتی عبدالرحیم کی بیگم سے یارانہ تھا؟ ۔کہ اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگاتا؟ اور مفتی عثمانی کے گھرانہ سے جنرل ضیاء کا کیا ناجائزتعلق تھا کہ قادیانی بہو سے نکاح پڑھانے گیاتھا؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت حاجی محمد عثمان ایک عہد ساز شخصیت اور علماء سوء اور مفتیانِ خران کا بڑابدترین کردار!

حضرت حاجی محمد عثمان ایک عہد ساز شخصیت اور علماء سوء اور مفتیانِ خران کا بڑابدترین کردار!

تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف نے حاجی محمد عثمان کیلئے یہ رعایت رکھی تھی کہ6نمبروں کے علاوہ جس موضوع پر بھی بیان کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ حضرت حاجی محمد عثمان ایک بہت بڑے اللہ والے تھے۔ جب حضرت مولانا یوسف کے بعد تبلیغی جماعت کے اندر اکابرین اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا شروع ہوا تو آپ نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ اس طرح اکابرین کی اصلاح بھی نہیں ہوگی۔ تبلیغی جماعت میں پیران طریقت اور علماء کرام کے علاوہ بڑے پیمانے پر دنیا دار اور بڑے لوگ آتے ہیں اور اپنے بستر کو خود اٹھاکر وقت لگاتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے برتن دھوتے ہیں۔ کھانے پکاتے ہیں اور عوام کی خدمت کرتے ہیں، جس سے ان کی اصلاح ہوجاتی ہے ۔ اگر کچھ اکابر بن کر بیٹھ جائیں اور ان کا مخصوص کھانا پینا ہو ، جماعتوں میں وقت نہ لگائیں اور طبقاتی بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو ان کی اصلاح کون کرے گا؟۔
حاجی محمد عثمان نے35سال مسلسل تبلیغی جماعت میں لگائے ، جس میں چلے سہ روزوں کے علاوہ محلے اور بیرون محلے کی گشت اور روزانہ کی تعلیم شامل تھی۔ جب تبلیغی جماعت میں فضائل درود شریف کو اپنے نصاب سے نکال دیا تو حاجی صاحب نے اس کو ہفتہ وار معمول بنادیا۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا نے یہ خواب اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے خواب میں فرمایا کہ شیخ زکریا فضائل درود کی وجہ سے اپنے معاصرین میں سبقت لے گئے ہیں۔ سعودی عرب کے شیوخ کی وجہ سے تبلیغی جماعت نے فضائل درود کو اپنے نصاب سے نکال دیا تھا لیکن پھر بھی وہ پابندی سے نہیں بچ سکیں ہیں۔ اکابرین نے شروع میں حاجی محمد عثمان پر بہت زور ڈالا کہ ہمارے طبقے میں شامل ہوجائیں ، اچھے کھانوں کے عیش اڑائیں اور خود کو عوام کی طرح مشکلات میں نہ ڈالیں۔ لیکن یہ مرد کا بچہ اپنی حق بات اور اپنے عمل صالح پر ڈٹا رہا۔ جب منبر پر تقریر کرتے تو وہ اکابرین کے بھی پیر طریقت لگتے تھے۔ لیکن جب وہ اکابرین کے بیانات سنتے تھے تو عوام کے ساتھ عام مجمع میں بیٹھ جاتے۔ یہ روش اکابرین کو پسند نہیں تھی اور اس کی وجہ سے انکے خلاف طرح طرح کے پروپیگنڈے اندرون خانہ کرتے ۔ سب سے زیادہ مؤثر پروپیگنڈہ یہ تھا کہ حاجی عثمان کی وجہ سے جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے۔ حضرت حاجی عثمان نے اپنے مریدوں میں ایک تقریر کی اور اس میں تبلیغی جماعت والوں کو بھی آنے کی اجازت دی۔ خانقاہ کا بیان صرف مریدوں کیلئے ہوتا تھا اور کبھی کبھار علماء کرام بھی اس میں تشریف لاتے تھے۔ تبلیغی جماعت کراچی کے پرانے مرکز مکی مسجد میں جمعرات کے اجتماع میں اعلان کروایا کہ اس مرتبہ اتوار کو حاجی عثمان خانقاہ میں بیان کریں گے تو اس میں تبلیغی جماعت کے افراد بھی شرکت کرسکتے ہیں۔ اس بیان میں شخصیت موضوع تھا۔ حاجی صاحب نے فرمایا کہ جماعت کا مقصد بھیڑ اکھٹا کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ شخصیات بنانا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے صحابہ کرام میں شخصیات بنائی تھیں۔ پھر یہ بیان شیخ الحدیث مولانا زکریا کے پاس بھی آڈیو ریکارڈ کی شکل میں بھیج دیا تھا۔ مولانا زکریا نے تبلیغی جماعت کے سارے اکابر کو بلاکر یہ بیان سنایا تھا اور ان سے کہا تھا کہ حاجی صاحب کی بات100فیصد درست ہے اپنا رجحان بدلو۔ حاجی صاحب مکی مسجد میں بھی عوام کے ساتھ بیٹھتے تھے اور اجتماعات میں بھی عوام کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دورہ حدیث کا ایک طالب علم مولانا نور زمان ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ لاکھوں کے مجمع میں جب بہت دور سے حاجی عثمان کے اوپر نظر پڑی تو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخصیت ہیں؟۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ حاجی عثمان صاحب ہیں۔
جب خانقاہ آتے جاتے وقت کبھی راستے میں ٹریفک کی وجہ سے راستے میں نماز پڑھنے کیلئے مسجد میں جاتے تو لوگ جانتے نہیں تھے لیکن نمازی لائن بناکر ان سے مصافحہ کرتے۔ دار العلوم دیوبند کے بہت سے فاضل آپکے مرید تھے۔ جن میں مفتی محمد تقی عثمانی ومفتی محمد رفیع عثمانی کے اُستاذ مولانا عبدالحق صاحب بھی تھے اور دار العلوم کراچی کے مولانا اشفاق احمد قاسمی بھی تھے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اُستاذ حدیث مولانا فضل محمد بھی آپ کے مرید و خلیفہ تھے۔
آپ کو سعودی حکومت کی طرف سے اعزازی اقامہ بھی ملا ہوا تھا۔ مدینہ اور مکہ میں آپ کی وجہ سے تبلیغی جماعت کا کام بہت پھیلا۔ کراچی میں زیادہ لوگ آپ ہی کی وجہ سے تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے تھے۔ تبلیغی جماعت کے امیر بھائی امین اور ان کے صاحبزادے مفتی شاہد اور مفتی زبیربھی آپ کے عقیدتمند تھے۔ سعودی عرب اور شام کے عربی بھی آپ کے مرید تھے۔3مرید ابراہیم ، جاوید اور طیب نے آپ سے دعا لیکر کاروبار شروع کیا تو اس میں بہت برکت ہوئی۔ کچھ لوگوں نے شمولیت کی درخواست کی تو آپ نے علماء و مفتیان کی رہنمائی میں شریعت کے مطابق کاروبار کی اجازت دی۔ شروع میں اس کا نامTJابراہیم تھا۔ پھر تبلیغی جماعت نے اشتہار دیا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جب حاجی صاحب نے اشتہار دیکھا تو ان کو کمپنی ختم کرنے کا حکم دیا۔ جس پر انہوں نے کمپنی ختم کرنے کے بجائے الائنس موٹر کے نام سے کام جاری رکھا۔ مفتی تقی عثمانی و دیگر علماء و مفتیان نے بھی کمپنی میں اپنا اور دوسروں کا سرمایہ لگایا ہوا تھا۔ کمپنی کا اصول یہ تھا کہ60فیصد منافع کمپنی کا اور40فیصد سرمایہ کار کا۔ ایجنٹ کے توسط سے سرمایہ لگانے والے2فیصد ایجنٹ کو دیتے تھے۔ مفتی تقی اور دوسرے علماء و مفتیان باقاعدہ ایجنٹ بنے ہوئے تھے۔ مفتی تقی اورمفتی رشید کی طرف سے باقاعدہ رائیونڈ کے تبلیغی اکابرین کے خلاف فتویٰ جاری کیا گیا جس کا مقصد حاجی محمد عثمان کے مشن اور مریدوں کا دفاع تھا۔
جب حاجی عثمان نے اعلان کیا کہ جن مریدوں نے کوئی مشاہدات دیکھے ہیں تو وہ اپنے مشاہدات بیان کریں۔ ہزاروں کے مجمع میں سے اکثریت ان کی تھی جو مشاہدات بیان کرنے کیلئے ایک سائڈ پر ہوگئے۔ میں وہ شخص تھا کہ جب کسی نے بھی کوئی مشاہدہ نہیں دیکھا تھا تو میں نے دیکھا تھا۔ وہ بھی جامعہ بنوری ٹاؤن کے سال اول میں۔ اور غالباً کچھ طلباء کو ان کے اصرار پر اپنا مشاہدہ بتایا ۔ میں نے مشاہدے کے دوران بھی مشاہدے کو دیکھنا منع کردیا تھا کہ میرے لئے لا الہ الااللہ کا پڑھنا کافی ہے۔ میں مشاہدات والوں کے ساتھ نہیں بیٹھا تھا۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مشاہدات بیان کرنا شروع کئے تو آخر کار صرف ان لوگوں کو مشاہدات بیان کرنے کی اجازت دی گئی جن کے پاس علم کی سند ہو یا تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگائے ہوں یا پھر حضرت کے خلیفہ ہوں۔ کئی دنوں تک مشاہدات کا سلسلہ جاری رہا لیکن مشاہدات ختم نہیں ہورہے تھے۔ پھر یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔ لیکن حاجی عثمان صاحب نے بتایا تھا کہ ایک آزمائش آنے والی ہے جس میں لوگ تین اقسام پر تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک دنیا دار وہ نکل جائیں گے۔ دوسرے آخرت والے اور تیسرے اللہ والے۔ دنیا دارکھدڑے ہیں ، آخرت والے عورتوں کی طرح ہیں اور اللہ والے مرد ِ میدان ہیں۔
پھر اچانک حاجی صاحب کے بارے میں اعلان ہوا کہ بہت سخت شوگر ہے اور جو کوئی کسی اور جگہ پر بیعت ہونا چاہتا ہے تو اس کو حضرت نے اجازت دی ہے۔ کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ حاجی صاحب کو قید کیا گیا ہے۔ جب ان کو گھر سے رہا کرکے خانقاہ لایا گیا تو الائنس موٹر والے دار العلوم کراچی پہنچے۔ دار العلوم کی طرف سے الاستفتاء کے نام سے ایک سوالات اور انکے جوابات کا فتویٰ مرتب کیا گیا۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”سود کھانے والے ایسے اٹھیں گے جیسا کہ جنات کی طرف سے بدحواس کئے ہوئے افراد اٹھتے ہیں”۔ مفتی تقی عثمانی کا یہ کارنامہ تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے جب زکوٰة کے نام پر سود کی رقم کاٹنی شروع کی اور مفتی محمود سمیت تمام علماء کرام و مفتیان عظام نے اس کی مخالفت کی تو مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی نے اس سُودی رقم کو ہتھیانے کیلئے فتویٰ دے دیا۔ یہ سُودی رقم الائنس موٹر میں بھی لگائی گئی جہاں پر حرام کا مال لینا ممنوع تھا۔ لیکن ان علماء پر اعتبار کرکے یہ مال لیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ کمپنی پر کتیا کی طرح مستی چڑھ گئی اور اس کے پیچھے کتوں کے ریلے لگ گئے۔ شرافت کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
بدحواس اور خرمست دار العلوم کراچی کے مفتیوں نے پہلا سوال یہ لکھ دیا کہ کیا فرماتے ہیں علماء شرع مبین اس پیر کے بارے میں جس کے خلیفہ اول کا کہنا ہے کہ مجھے حاجی عثمان بار بار مجبور کرتے تھے کہ تم نبی ۖ کو دیکھتے ہو یا نہیں؟۔
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی پیر اپنے مرید سے کہے کہ میں نبی ۖ کو خود نہیں دیکھ سکتا لیکن تم زبردستی سے ڈنڈے کے زور پر دیکھتے ہو یا نہیں؟۔ حالانکہ اس کا پیر بہت ضعیف العمر اور کمزور ہو اور خلیفہ جوان اور صحتمند ہو۔ یہ تو ممکن ہوتا ہے کہ اگر پیر کہتا کہ مجھے مشاہدہ ہوتا ہے اور آپ کو نہیں ہوتا لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کہے کہ تم زبردستی سے دیکھتے ہو یا نہیں؟۔ یہ سُود خوری کا پہلا نتیجہ تھا جس نے جن کی طرح مفتی صاحبان کو بدحواس کرکے رکھا تھا۔ پھر ہمیں معلوم تھا کہ انہوں نے پیری مریدی کی الف ب کو بھی نہیں سمجھا ہے۔ جن لوگوں میں درس نظامی کی تعلیم سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو وہ ایک ایسے شعبے کے بارے میں کیا جانتے ہیں جس کا ان سے دور دور کا بھی واسطہ نہ ہو؟۔ ہم نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، شاہ ولی اللہ ، شیخ الحدیث مولانا زکریا اور علامہ محمد یوسف بنوری کے حوالے سے مستند کتابوں کے کچھ واقعات نقل کئے جن میں ایک عبارت کا تعلق مولانا عبد الحق محدث دہلوی کی کتاب ”اخبار الاخیار” سے تھا۔ جس کا ترجمہ مولانا سبحان محمود نے کیا تھا ۔ جس نے عمر کے آخری حصے میں اپنا نام سحبان محمود کردیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ جب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی وعظ کرتے تھے تو تمام انبیاء کرام بھی تشریف فرما ہوتے اور نبی کریم ۖ بھی جلوہ افروز ہوتے تھے۔ دار العلوم کراچی سے اس کا ترجمہ ہوا تھا ۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اس پر فتویٰ لگایا تھا اور مولانا سلیم اللہ خان ، مفتی ولی حسن ٹونکی نے بھی دستخط کئے تھے۔ دار العلوم کی طرف سے اس پر دستخط کرنے سے انکار کیا گیا تو ان سے ہم نے کہا کہ آپ اس کی تائید کریں یا تردید کریں۔ لیکن انہوں نے دونوں سے انکار کردیا تھا۔ جب ہم نے عبارات کے حوالہ جات لکھے تو سب بہت پریشان ہوگئے لیکن حاجی محمد عثمان نے فتویٰ شائع کرنے سے منع کردیا۔ جمعیت علماء اسلام ف اور س دونوں کے علماء کرام اس وقت حاجی صاحب کی تائید کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے اگر ان بکروں کو ذبح کردو اور یہ ٹانگ ہلائیں تو ہم پکڑ لیں گے۔ جب کورٹ کی طرف سے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا نوٹس بھیجا گیا تو مفتی تقی عثمانی نے ساری خدمت اپنے ذمے لی اور نوٹس کا یہ جواب دیا کہ ہم نے حاجی عثمان کے خلاف نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا ہے۔
پھر ایک شخص نے الگ الگ الفاظ سے فتویٰ طلب کیا جس کے جواب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء و مفتیان نے لکھا کہ ”نکاح بہرحال جائز ہے اور جو باتیں حاجی صاحب کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اگر وہ ان میں نہیں ہیں تو فتویٰ بھی نہیں لگتا ہے”۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی کے شاگردوں مفتی عبد الرحیم وغیرہ نے لکھا کہ نکاح جائز نہیں ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی سے یہ پوچھا گیا تھا کہ نکاح منعقد ہوجائے گا کہ نہیں ؟۔ جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ نکاح منعقد ہوجائے گا۔ بہتر ہے کہ انکے حالات سے آگاہ کریں۔
پھر سوال جواب ایک قلم سے مفتی عبد الرحیم نے مرتب کئے اور اس میں لکھا کہ ”اس نکاح کا انجام کیا ہوگا عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا”۔ اس پر مفتی تقی عثمانی و رفیع عثمانی نے نوٹس لکھا کہ ”نکاح جائز نہیں گو منعقد ہوجائے”۔
جس پر میں نے دارالعلوم کراچی کی مسجد میں نماز مغرب کے بعد ان کو چیلنج کیا تو وہ سارے بھاگ کر گھروں میں گھسے۔ میں نے ان سرمایہ داروں کے ایجنٹوں کے خلاف ان کی مسجد میں تقریر کی اور طلبہ نے حق زندہ باد کے نعرے لگائے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء و مفتیان اور مولانا سلیم اللہ خان صاحب اس سازش پر پشیمان تھے ۔دار العلوم کراچی والوں کے ہاتھ میں استعمال ہونے کا افسوس کرتے تھے۔ مولانا عبد اللہ درخواستی کے نواسے مولانا انیس الرحمن درخواستی اس فتوے کے بعد حاجی عثمان صاحب سے بیعت ہوئے تھے۔ مولانا محمد مکی حجازی اور مولانا سیف الرحمن جامعہ صولتیہ مکہ مکرمہ والے بھی حاجی عثمان کی اس فتوے کے بعد بھی حمایت کرتے تھے۔ مولانا سلیم اللہ خان مسجد الٰہیہ بھی اس کے بعد تشریف لائے تھے۔MNAقاری گل رحمن سے بھی مولانا سلیم اللہ خان نے کہا تھا کہ علماء نے اس فتوے پر بہت پیسے کھائے ہیں۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کہا تھا کہ امام مالک پر فتویٰ لگانے والوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے لیکن امام مالک کو دنیا جانتی ہے۔ اسی طرح تاریخ میں حاجی عثمان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان پر فتویٰ لگانے والے مٹ جائیں گے۔
آج اللہ تعالیٰ نے ہم سے وہ کام لیا ہے جس کی وجہ سے دینی نصاب کی بھی بہت بڑے پیمانے پر اصلاح ہونے والی ہے۔ دوسری طرف مفتی تقی عثمانی نے عالمی سُودی نظام کو معاوضہ لے کر جائز قرار دیا ہے اور اپنے چہرے پر وہ کالک ملی ہے جس سے نہ صرف مفتی تقی عثمانی فرعون کی طرح یادگار بنارہے گا بلکہ اس کے وہ اسلاف بھی تاریخ میں از سر نو عوام کے نوٹس میں آجائیں گے جنہوں نے حیلہ سازی کے ذریعے سے ہمیشہ درباری بن کر علماء سوء کا کردار ادا کیا ہے۔ جب مفتی محمود کے بارے میں ان کی وفات کے بعد مشہور ہوا کہ ان کوپان میں زہر دے کر شہید کیا گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کہ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تحریر میں لکھ دیا تھا کہ ہم دونوں بھائیوں کو مفتی محمود نے زکوٰة کے مسئلے پر جامعہ بنوری ٹاؤن بلایا تھا اور چائے کی پیشکش کی تو ہم نے کہا کہ دن میں ایک مرتبہ سے زیادہ ہم چائے نہیں پیتے۔ جس پر مفتی محمود نے کہا کہ میں خود زیادہ چائے پیتا ہوں لیکن جو نہیں پیتا تو میں اس کو پسند کرتا ہوں۔ ہم نے پان کا بٹوا دکھایا کہ ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ جس پر مفتی محمود نے فرمایا کہ یہ تو چائے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ پھر معمول کی گفتگو لکھی اوریہ تحریر پڑھنے کے بعد مجھے لگا کہ کتنا بڑا جھوٹ گھڑا گیا ہے۔ اس تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ مفتی محمود کو پان کھلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر جب اقراء ڈائجسٹ کا” بنوری و محمود نمبر” چھپا تو اس میں مفتی تقی عثمانی کی یہ تحریر بھی تھی جو البلاغ میں شائع ہوئی تھی ۔مولانا یوسف لدھیانوی کی تحریر بھی تھی جو بینات میں شائع ہوئی تھی۔ مولانا لدھیانوی نے یہ بھی لکھا تھا کہ” پھر مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے مفتی محمود کو پان کھلایا اور جب تھوڑی دیر کے بعد ان پر دورہ پڑا تو مفتی رفیع عثمانی نے ان کے حلق میں دورہ قلب کی خصوصی گولی ڈال دی ”۔ اس پر ہم نے اپنی کتابوں اور اخبار میں معاملہ اٹھایا تو مولانا یوسف لدھیانوی نے بتایا کہ مجھے مفتی تقی عثمانی نے ڈانٹ پلائی ہے کہ اس کے لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟۔ اب بدحواسی میں مفتی تقی عثمانی نے ایک آڈیو بیان جاری کیا کہ مفتی محمود سے میری بے تکلفی تھی اور وہ مجھے کہتے تھے کہ بھیا اپنا پان ذرا کھلائیے ۔ انشاء اللہ وہ وقت آئے گا کہ مفتی تقی عثمانی سے جھوٹ اور فتوؤں کا حساب مانگا جائیگا۔ انقلاب آئیگا اور سربستہ راز کھلیں گے۔ عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاک فوج کے سپاہیوں کوسبز سلام

پاک فوج کے سپاہیوں کوسبز سلام
یوم مئی کے مزدوروں کو سرخ سلام

عید پر چھٹی نہ ملنے پر رینجرز کے جوان نے گھر والوں کی یاد میں کمال نظم لکھ دی۔

صحافی حنا نیازی اور سپاہی زکریا
سپاہی سے محبت ایمان کا تقاضا؟
اس وقت میرے ساتھ موجود ہیں سپاہی زکریا۔ انہوں نے ایک بہت ہی خوبصورت نظم لکھی ہے۔ پہلے تو پس منظر جانتے ہیں کہ کیوں لکھی ہے یہ نظم؟۔
حنا نیازی سنو نیوز: السلام علیکم! کیسے ہیں آپ؟۔
وعلیکم السلام! الحمد للہ میں ٹھیک ہوں۔
حنا نیازی : مجھے یہ بتائیں کہ جو نظم آپ نے لکھی ہے وہ کیوں لکھی اور کب لکھی؟۔
سپاہی زکریا: یہ ایسا ہے کہ جب بھی کوئی تہوار آتا ہے عید کا موقع آتا ہے یا کوئی خوشی کا موقع آتا ہے تو ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہم لوگ بھی گھر جائیں۔ گھر والوں کے ساتھ اپنی خوشیاں شیئر کریں۔ ان کے ساتھ خوشیاں بانٹیں۔ تو ایسا ہی کچھ ہوا پچھلے سال میرے ساتھ میری چھٹی نہیں ہوسکی کسی وجہ سے۔ میں ڈیوٹی پر بیٹھا ہوا تھا تو ہمارے بھی جذبات ہوتے ہیں تو ہمارے ساتھ ایسا واقعہ ہوا تو وہاں بیٹھ کر میں نے یہ نظم لکھی تھی۔
حنا نیازی سنو نیوز: اچھا چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے لگاتار دو بار آپ کو چھٹی نہیں ملی تو آپ تو آپ تھوڑے سے اموشنل ہوگئے اور آپ نے یہ پوئم لکھی؟۔
سپاہی زکریا: جی بالکل ، یہ نظم اس طرح ہے کہ جیسے میں بیٹھا ہوا تھا ادھر اور ایک سولجر چھٹی پر نہیں گیا تو کوئی بندہ جاکر اس کا حال پوچھتا ہے کہ کیا حال ہے کیسا محسوس کررہے ہیں؟۔ کیسے عید گزر رہی ہے؟۔ تو میں نے وہ اس موضوع پر لکھی تھی کہ
کیا پوچھتے ہو ہم سے
کیسے گزری عید ہماری
صبح سویرے نکالی وردی
ڈیوٹی کی کی تیاری
دل میں ارمان بہت تھے
اس بار تو گھر چھٹی جاؤ ں گا
ماں باپ بہن بھائی عزیزوں کے ساتھ عید مناؤ ں گا
دل میں ارمان بہت تھے
مگر یہ فرض بھی نبھانا تھا
سرحد پہ تھی میری ضرورت بہت
آخر مجھے جانا تھا
وردی پہن کر کی تیاری
رائفل کو سینے سے لگایا
آنکھوں پہ نمی لبوں پہ ہنسی لے کر
سرحد پر چلاآیا
اب کیا بتاؤں یارو کہ کیسے گزری یہ عیدہماری
ہم کھڑے رہے سرحدوں پہ
خوشیاں مناتی رہی دنیا ساری
سدا سلامت رہے تو اے وطن
تیرا اونچا مقام کرجاؤں گا
ایک عید کیا اے وطن
لاکھوں عیدیں تجھ پر قربان کر جاؤں گا
حنا نیازی: واہ واہ واہ۔ زبردست۔ بہت خوبصورت نظم لکھی۔ اس میں جو آپ کے اموشنز تھے اور بہت ہی زبردست آپ کی پوئٹری تھی اور ہم بھی وہ اموشنز محسوس کررہے تھے۔ اچھا مجھے یہ بتائیں اس بار چھٹی ملی ہے؟۔
سپاہی زکریا: نہیں۔ اس بار بھی چھٹی نہیں ملی۔
حنا نیازی: اوئے ہوئے ہوئے ہوئے۔ یہ تو ہیٹ ٹرک ہوگئی ہے بھئی۔
جواب: نہیں ایسی کوئی بات نہیں یہاں بھی گھر کے جیسا ماحول ہوتا ہے۔ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں بہت پیار سے بہت خلوص سے ہم یہاں رہتے ہیں۔ اور ہمیں یہاں پر بھی بہت زیادہ مزا آتا ہے۔ اور زیادہ فیل نہیں ہوتا بس دل میں ارمان ہوتے ہیں لیکن یہاں پر جب ہم آپس میں گپے شپے لگاتے ہیں تو ہمارا ماحول گھریلو جیسا ہوجاتا ہے پھر ہمیں کچھ زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔ ہم یہاں پر مل کر رہتے ہیں پھر گھر والوں کے ساتھ بھی بات ہوتی ہے۔ کال پر ان کو وش کرتے ہیں۔
حنا نیازی: تو اس دفعہ کوئی نظم لکھنے کا ارادہ ہے؟۔
سپاہی : اس دفعہ ہم ایک اور نظم لکھیں گے انشاء اللہ۔
حنا نیازی: چلیں جب میں اگلی بار آؤں گی تو میں آپ سے یہ نظم سنوں گی۔ ویسے کہا جاتا ہے کہ درد میں آپ اچھا کچھ لکھ سکتے ہیں تو کیا جب وہ اموشن ہوتے ہیں جب وہ درد ہوتا ہے تکلیف ہوتی ہے تو آپ اچھا لکھتے ہیں؟۔
سپاہی زکریا: ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی لکھنے والا ہوتا ہے تو الفاظ اس کی کیفیت بیان کرتے ہیں۔
حنا نیازی: ارے واہ واہ الفاظ کیفیت بیان کرتے ہیں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ۔ تو تیسری دفعہ آپ کچھ غمگین ہی لکھنے والے ہیں؟۔
سپاہی زکریا:نہیں انشاء اللہ اچھا بھی لکھیں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کے معاشی بحران کا حل کیا؟

پاکستان کے معاشی بحران کا حل کیا؟

پاکستان کے وسائل کیا ہیں؟ اور اخراجات کیا ہیں؟۔ جب تک وسائل اور اخراجات میں توازن قائم نہیں ہوتاہے تو پاکستان کے معاشی بحران کا حل نکالنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ بڑا المیہ یہ ہے کہ مسائل کاسامنا کرنے کے بجائے ہم اس سے فرار کی راہ اختیار کرتے ہیں۔پاکستان میں کونسے ایسے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ہیں جن سے وسائل پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے؟۔
پاکستان کو گردشی سودی قرضوں کی مد میں کتنی سالانہ رقم دینی پڑ رہی ہے؟۔35ارب ڈالر!۔ اتنی بڑی رقم ادا کرنے سے بدلے میں ہمیں کیا ملتا ہے؟۔ اس کا جواب کیا ہے؟۔ بالکل زیرو!۔ اس سے بچنے کا راستہ کیا تھا؟۔ اللہ نے سود کی حرمت قرآن میں نازل کی ہے اور اس کو اللہ اور اسکے رسول ۖ کیساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ اس سے راہِ فرار کیسے اختیار کرتے ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ”اس کو اسلامی بینکاری کا نام دیدیں۔ بھلے اسکے بدلے میں ہم35ارب کی جگہ37ارب ڈالر ادا کریں ”اسلئے کہ شیخ الاسلام کی بھی اس میں فیس ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مفتی محمد تقی عثمانی کو شیخ الاسلام اور مفتی قرار دینے کی جگہ اسلامی بینکاری کانفرنس میں کہا کہ ” تقی صاحب سے میں نے کہا تھا کہ آپ اسلامی بینکاری کو کامیاب کرنا چاہتے ہو تو پھر عام بینکوں سے شرح سود2%زیادہ کیوں رکھی ہے؟۔ اس طرح کون اسلامی بینکوں کی طرف آئے گا؟۔ پچھلی حکومت میں انہوں نے مہربانی کی تھی اور پھر شرح سود تھوڑی کم کی تھی”۔ پروگرام میں مولانا فضل الرحمن اور مدارس کے علماء ومفتیان بھی شریک تھے۔
پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ حکومت اسلامی بینکوں سے وعدے وعید کرے کہ زیادہ شرح سود کی بنیاد پرعلماء ومفتیان کے اس کاروبار کو فائدہ پہنچائے لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کھلے الفاظ میں کہہ دیا کہ زیادہ شرح سود کی بنیاد پر ریاست کو نقصان پہنچانا ہوگا تو ہمیں بھی کچھ نہ کچھ دینا ہوگا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سودی نظام کو اسلامی بناکر تم مولوی اپنے فائدے حاصل کرو اور ہمیں کچھ نہیں دو؟۔
ایک اسلام کے نام پر دھوکہ ؟۔ دوسرا شرح سود زیادہ ؟۔ تیسرا مولانا فضل الرحمن اور اسحاق ڈار کی کمیشن ؟۔بدلے میں کیا حکومت کی تائید کیلئے علماء کرام کی حاضری! کیا اس سے ہمارے معاشی نظام میں بہتری آئیگی یا ابتری؟۔ اس طرح حکومت نے سول بیوروکریسی کے مختلف اداروں میں اپنے دلال رکھے ہیں اور ان کا کام ریاست کو نقصان پہنچانے کیلئے سہولت کاری ہوتی ہے۔ اس نظام کی اصلاح کیلئے بہت بڑے پیمانے پر ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی۔ پاک فوج نے سمجھ لیا کہ ملک کو سول بیوروکریسی نے کھالیا ہے اسلئے اس نے بھی اس گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کردئیے ہیں۔کسٹم، اینٹی نارکوٹس اور سمگلنگ کے معاملات میںگنگا کے ساتھ ساتھ جمنا نے بھی ڈیرے لگالئے ہیں۔ افغانستان کے نام پر مال بک ہوتا ہے اور پہلے افغانستان جانے کے بعد واپس آجاتا تھا اور اب اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔ جس بوری میں محصولات جمع کئے جارہے ہوں اور وہ ہرطرف سے پھٹا ہوا ہو تو پھر مال جمع کہاں سے ہوسکے گا؟۔ پاکستان میں سول بیوروکریسی گنگا اور ملٹری بیوروکریسی جمنا کا کردار ادا کررہے ہوں تو محصولات قومی خزانے میں جمع ہونے کے بجائے قومی اداروں کے ناک سے نزلے کی طرح بہہ رہے ہوں گے اور کوئی ناک صاف کرنے کیلئے کہے گا تو اس گستاخی پراس کی جان بھی جاسکتی ہے۔ جب معاشی بحران کے حل کی تجاویز پر جان، مال اور عزت جانے کے خطرات ہوں تو کون پاگل یہ رسک لے گا؟۔ جب محافظ رہزن بن جائیں تو پھر دلال قسم کے سیاستدان ہی کام کریں گے۔
کرنل انعام الرحیم کی مانیٹرنگ
پاک آرمی کے کرنل انعام الرحیم میڈیا پر جس طرح کی اصلاحات بتاتے ہیں ، اس سے پاکستان میں آرمی کے اندر بہترین سسٹم کا اجراء ہوسکتا ہے۔ جب پاکستان میں دلال قسم کے سیاستدانوں سے قومی خدمات لی جائیں گی اور پوری قوم ان کو ہیرو کے طور پر دیکھے گی تو پاکستان معاشی بحرانوں سے کبھی نہیں نکل سکے گا۔ ہر نئی حکومت اور نیا سیاسی لیڈر ایک نیا طوفان لے کر آئے گا۔
عمران خان ، نوازشریف، آصف علی زرداری ، مولانا فضل الرحمن ، شیخ رشید اور پرویزالٰہی وغیرہ نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا نہیں کیا ہے۔ کرنل انعام الرحیم جیسے لوگوں کی قیادت میں ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جن کا کام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہو۔ جو سول وملٹری بیوروکریسی کے اندر اچھے لوگوں کی تائید اور برے لوگوں کو برائی سے روک لیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ
” اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ جو خیر کی طرف دعوت دیںاور معروف کا حکم دیں اور برائی سے روکیں”۔ جب ایک مستقل جماعت اس کارِ خیر کیلئے وقف ہوگی تو میڈیا کی بلیک میلنگ ،اشتہارات ، قوم کو تفریق اور انتشار کا شکار بنانے سے ریاست اور حکومت کو چھٹکارا مل جائے گا۔ شفاف کام کے بعد غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر سے کوئی خوف نہیں ہوگا۔ حامد میر کی طرف سے اتنا کہناکافی ہوتا ہے کہ” میڈیا آزاد نہیں ہے۔ جب درست باتیں کریںگے تو پھر چینل بند ہوجائے گا”۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا طوفان برپا کیا ہوا ہے ہماری فوج نے جس میں زبان کھل گئی تو سب زمین بوس ہوگا ؟۔
عدالتی بحران میں جب قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ، جس میں وزیراعظم اور سول وملٹری قومی قیادت نے شرکت کی۔ حامد میر نے خبر دی کہ عمران خان کی مخالفت میں سب کچھ پک کر تیار ہوچکا ہے۔ جس سے چیف جسٹس پر دباؤ ڈالنا اور عمران خان کے حامیوں کی حوصلہ شکنی مقصود تھی۔ لیکن جب حکومت نے اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ” الیکشن کمیشن کو پیسے ریلیز کرنے ہیں یا نہیں؟۔ تو اس سے حامد میر کی خبر بالکل جھوٹی ثابت ہوگئی ، جو گوگلی نیوز نے بہت سجاکر پیش کی ہے”۔ اس سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف منسوب اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ” حامد میر جھوٹ بہت بولتا ہے”۔ صحافت ریاست اور حکومت کیلئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ ہوتا ہے۔ حامد میر کا بھائی عامر پیپلزپارٹی کے رہنما سے ایک صحافی کیسے بن گیا؟۔ جس نے صحافی کی حیثیت سے عبوری حکومت میں وزارت کا حلف اٹھایا ہے؟۔ جب جیو اور مسلم لیگ ن ایک پیج پر تھے اور پیپلزپارٹی حریف جماعت تھی تو حامد میر جیو سے باہر دوسرے میڈیا چینل پر مسلم لیگ ن کی مخالفت بھی کرتے تھے۔ اب پیپلزپارٹی مسلم لیگ کی حلیف جماعت ہے اور عامر میر کو بھی عہدہ مل گیا ہے تو حامدمیر جھوٹ بولنے سے دریغ نہیں کرتا ہے۔ حامد میر نے پہلے شہباز گل کے بارے میں جھوٹی خبر دی کہ اس کو ننگا کرکے اس کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔ لیکن جب شہباز گل اور عمران خان کو فوج کیساتھ لڑانے کی دلالی میں کامیابی مل گئی تو حامد میر نے اس پر کبھی لب کشائی تک نہیں کی۔ جیو ٹی چینل کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جگہ مریم نواز اورPDMنے یہ فریضہ سونپ دیا تھا کہ عمران خان اور فوج کو لڑانا ہے۔ حامد میر کی کامیاب وارداتوں کے بعد جیو ٹی وی کے ہیرو اور بہت اہم تجزیہ نگار بن گئے۔تاہم کھلے دلال صحافیوں کے مقابلے میں حامد میرپھربھی بہترین ہیں۔
صحافت پر پابندی ریاست و حکومت اور ملک وقوم کا ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن جب صحافت بلیک میلر بن جائے تو پھر ریاست اور حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اچھے لوگوں کی قیادت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ بنائیں اورقوم کے اعتماد کو برقرار رکھنے کا سامان کریں اور اپنے اندر کی کالی بھیڑوں سے جان چھڑائیں۔معاشی بحران کے حل کیلئے بلیک میلنگ سے نکل کر شفافیت کے ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جس سے درست اور غلط کی نشاندہی ہوسکے۔
پنجاب کی45ہزار ایکڑ زمین کا مستحق؟
پنجاب کی عبوری حکومت نے پنجاب کی45ہزار ایکڑ زمین کو پاک فوج کے حوالے کردیا ہے۔ کیا قانونی طور پر اس کو یہ مینڈیٹ حاصل ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھائے؟۔ کل جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے اور پاک فوج سے یہ زمین واپس لینے کیلئے کیس دائر کیا جائے گا اور اس سے پاک فوج کو اخلاقی نقصان اور فائز عیسیٰ کو فائدہ پہنچے گا تو لوگ کس کیساتھ کھڑے ہوں گے؟ اور اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے؟۔ یہ کبھی سوچا ہے؟۔
بلوچستان میں ایران سے پیٹرول سمیت کئی اشیاء کی سمگلنگ ہوتی ہے اور اس سے بلوچ قوم اور سرکاری اداروں کے لوگ مستفید ہوتے ہیں لیکن ریاست کو نقصان پہنچتا ہے۔ افغانستان سے کوئٹہ اور پشاور میں سمگلنگ سے پشتون قوم اورسرکاری اداروں کے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ جس سے سرکار کو نقصان پہنچتا ہے۔ جب باقاعدہ ٹیکس اور کسٹم کا سسٹم قائم کیا جائے تو بلوچ اور پشتون بھی اس سے خوش ہوں گے اور ایک صحت مند تجارتی تحریک سے شریف لوگ زیادہ فائدہ اٹھا سکیںگے۔ پختونخواہ ، بلوچستان کے علاوہ سندھ میں بھی کراچی کا سی پورٹ ہے جس سے تجارتی سرگرمیوں میں بہت مدد مل رہی ہے۔ اندرون سندھ اچھے ہوٹل ہوتے تو سندھیوں کیلئے یہ بھی بہت بڑا روزگار تھا اور وہ اس میں دکانیں اور اچھے کاروباری مراکز بھی کھول سکتے تھے۔ آنے جانے والے سبزیوں اور پھلوں سے لیکر سندھ کے بہترین سوغات اور مصنوعات بھی خریدتے۔
پنجاب کو مطعون کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ محنت کش لوگ پنجابی ہیں۔ غربت کی وجہ سے جنسی بے راہرویوں کے شکار پنجابیوں کو روزگار کے موقع اس وقت بالکل بھی حاصل نہیں ہیں۔ ہندوستان کی سرحد پر سندھ اور بھارت کی فوج میں دوستی کا ماحول ہے لیکن پنجاب میں سخت دشمنی کے مناظر ہیں۔ بھارت کی سرحد کو تجارت کیلئے کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بھارت کا گندم ، تیل، ادویات اور بہت ساری چیزیں دوبئی سے ہوکر آتی ہیں یا افغانستان سے پہنچتی ہیں تو بہت مہنگی پڑجاتی ہیں۔ پنجاب حکومت بھی اس میں اپنا جائز منافع رکھے۔ عوام کو بھی استفادہ اٹھانے کا موقع دے۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال مرحوم کی یادگار باتوں سے پاکستانی قوم کی تقدیر بھارت کیساتھ کوئی اچھے مراسم قائم کرنے سے بدل سکتی ہے تو اس میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔
پنجاب کی عبوری حکومت نے جو45ہزارایکڑ زمین فوج کو دی ہے وہ ان مزارعین میں تقسیم کی جائے جو پرائی زمینوں پر غلامی سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ جب سود کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ پاکستان اس حال کو پہنچ گیا ہے کہ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں لیکن ہمارے حکمران آپس کے مراعات پر لڑرہے ہیں۔ جب غریب کے منہ سے اس کا ایک نوالہ بھی چھین لیا جائے تو اللہ رحمت کی جگہ لعنت ہی برسائے گا۔ ہماری قوم کی حالت بدسے بدتر اسلئے ہورہی ہے کہ مال پر مراعات یافتہ طبقہ قابض اور غریب لوگوں کی عزتیں لُٹ رہی ہیں۔ جب پنجاب میں مزارعین کو مفت زمین مل جائے گی تو سندھ شاہ عنایت شہید کی دھرتی ہے جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسلئے جام شہادت نوش کیا تھا کہ ”اس نے اسلامی نعرہ لگایا تھا کہ جو فصل بوئے گا وہی کھائے گا”۔ شاہ عناعت شہید شاہ عبداللطیف بھٹائی کے خلیفہ تھے اور جس وقت یہ نعرہ لگایا تھا تو اس وقت کارل مارکس پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امراء کے در ودیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہوروزی
اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو
غیرسودی بینکاری اور خلافت کا نظام
پاکستان عالم اسلام اور پوری دنیا کی سطح پر خلافت کا آغاز کرنے کیلئے ایک غیرسودی بینکاری نظام متعارف کرائے۔جس میں0%سود ہو۔ پوری دنیا سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک بہت بڑی تعداد عالمی سودی نظام سے چھٹکارا پانے کیلئے اس میدان کے اندر نکل سکتے ہیں۔ سودی نظام سے صرف ہمارا پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا متأثر ہورہی ہے۔ مذاہب کا سود کی حرمت پر اتفاق ہے۔جو سود کی حرمت کو تسلیم کرتا ہے وہ مسلم ہے اور جو سودی معاملات سے اپنے آپ کو بچاتا ہے وہ مؤمن ہے اور جو سود کی حرمت کا منکر ہے وہ کافر ہے اور جو سود کی حرمت کو حلال کرنے میں تبدیل کرتا ہے وہ دجال ہے۔ آج ہمارامذہبی طبقہ ایمان اور اسلام کی سرحدات سے نکل کر کافر نہیں بلکہ دجال کا کردار ادا کررہا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے اسلامی بینکاری کو بالکل سود قرار دے دیا تھا مگر تنظیم اسلامی کا امیر شجاع الدین شیخ اسلامی بینکاری کا دلال بن گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کسی دور میں بینکوں کی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتا تھا لیکن اب سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے سے بھی شرم محسوس نہیں کرتا ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی وفاق المدارس پاکستان کے بورڈ کے صدر ہیں اور دوسرے بورڈ کی نکیل جامعة الرشید کے ہاتوں میں ہے۔ دونوں اسلامی بینکاری کے نام پر عالمی سودی نظام کے دلال بن گئے ہیں۔ جن علماء ومفتیان نے کراچی اور پاکستان کی سطح پر مزاحمت کی تھی وہ سب اکابر دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ جو باقی رہ گئے ہیں وہ رام کرلئے گئے ہیں۔
مغرب اور دنیا کی سطح پر درست اسلام کی تبلیغ ہو جائے تو نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر نفرتوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کے سیاسی واخلاقی دباؤ پر حکومتوں کی پالیسیاں بھی پاکستان کی ریاست ، اسلام اور مسلمانوں کیلئے بہترین ہوجائیں گی۔ عمران خان اور دوسرے سیاستدان جب اپنی لابنگ کیلئے امریکہ وغیرہ میںفرم ہائیر کرتے ہوں اور معروف یہودی زلمے خلیل زاداس کی وجہ سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہو تو معاملات میں بہتری نہیں آئے گی۔ بیرون ملک رہنے والوں کی اپنے ملک سے محبت ایک فطری بات ہے لیکن جب بیرون ملک سے پاکستان آنے والوں کیساتھ ہماری پولیس، کسٹم اہلکار اور دوسرے اداروں کا سلوک بدترین ہوگا تو وہ اس محبت کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟۔
حال ہی میں ایک سندھی پروفیسر اجمل نے اپنی سندھ دھرتی کیلئے قربانی دی اور بیرون ملک سے بھاری تنخواہ چھوڑ کر سندھ کی غریب عوام کو پڑھانے آیا اور پھر خاندانی اورقومی اور نسلی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ محسن داوڑ کو حکومت نے فنڈز دے دئیے تو نوازشریف کیلئے قرار داد پیش کردی۔ یہ وہی نوازشریف ہے جس نے طالبان اور فوج کا ساتھ دیکرANPکے رہنماؤں اور کارکنوں کے قتل کو امریکہ کی حمایت کے کھاتے میں ڈالا تھا؟۔ علی وزیر بھی شاید فنڈز لگانے کی جیل میں کہیں نظر بند ہواہے؟۔ جب نفرت کی سیاست کی جاتی ہے تو اس کے اثرات علاقائی سطح پر خاندانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ محسن داوڑ اور علی وزیر بہت اچھے اسپیکر اور متحرک شخصیات ہیں ،ان کی مثبت سرگرمیوں سے پاکستان ، عالم اسلام اور عالم انسانیت کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ علی وزیر کا خاندان حکومت کی خدمت یا فوج کی حفاظت اور طالبان کاز کی مخالفت سے قربانی کی بھینٹ نہیں چڑھا تھا بلکہ کالج لائف سے علاقائی سطح تک بدمعاشی اور ذاتی رنجشوں کا نتیجہ تھا اور جو ڈاکٹر گل عالم وزیر بیت اللہ محسود کا سہولت کار تھا وہی ابPTMکیلئے اور علی وزیر کیلئے سہولت کاری کی خدمات انجام دیتا ہے۔
وزیر قوم نے ایک فرد کے تحت اپنی زبردست تنظیم بناکر ترقی وعروج کی راہ ڈھونڈ لی ہے جو دوسروں کیلئے قابلِ تقلید ہے اور عالمی سطح پر پاکستان اس طرز عمل سے فائد ہ اٹھا سکتا ہے۔ خوبی اور خامیاں سب میں ہوتی ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اداروں کا قیام ہر سطح پر قوم کی رہنمائی کیلئے ضروری ہے۔
اوریا مقبول جان نے سچ اُگل دیا؟
سچ بات یہ ہے کہ ”ہم نے نوشتۂ دیوار کے صفحات پر تجویز پیش کی تھی جو ریکارڈ کا حصہ ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد تحریک طالبان پاکستان کو معافی تلافی کے ساتھ واپس پاکستان لایا جائے۔ بہت سارے وہ لوگ ہیں جن کا جذبہ جہاد تھا اور ایک ماحول کی رو میں بہہ کر پاکستان کی ریاست اور عوام کے دشمن بن گئے۔ اگر کوئی ناقابل اصلاح ہو تو اس کا الگ بندوبست ہوسکتا ہے مگریہ لوگ کب تک افغانستان میں رہیںگے؟۔ افغان طالبان پر بھی بوجھ ہوں گے”۔
ہماری اس تجویز کے بعد فیس بک نے ہمارے پیج کو بھی اڑادیا تھا۔ جس پر ہمارا بہت قیمتی مواد اور سرمایہ تھا اور بہت لوگ اس سے وابستہ تھے۔ اب جب یہ راز اوریا مقبول جان نے کھول دیا ہے کہ ”یہ افغان طالبان کا مطالبہ تھااور وہ اس تحریک طالبان کے پچاس ہزار افراد کیلئے نوکری ، روزگار اور دشمنوں سے بچت کا راستہ بھی چاہتے تھے اور اس مذاکرات میں اوریا مقبول جان خود بھی شریک تھے تو اس کو صرف عمران خان اور سابقہ فوجی قیادت کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے”۔
مذاکرات میں پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان بھی شامل تھے اور ان سے اس وقت صحافی نے انٹرویو بھی لیا تھا ۔ جس میں اس نے اچھی امید ظاہر کی تھی۔ آج طالبان کی وہ مقبولیت اور طاقت نہیں رہی ہے جو کسی دور میں تھی اور قوم کے ہیرو شمار ہوتے تھے اور حضرات ان پر فخر کرتے تھے اور خواتین اتراتی تھیں، اسلئے کہ ملک وقوم کا ماحول ایسا تھا۔ اب ماحول بدل گیا ہے ، لوگ نفرت کرنے لگے ہیں اور پاکستان میں ایک منظم قوت فوج اور اس کے مضبوط ادارے ہیں۔ کشمیریوں نے کشمیر فتح نہیں کیا ہے اور بلوچوں نے بلوچستان کو آزاد نہیں کیا ہے جس میں قومی یکجہتی بھی موجود ہے تو طالبان کس طرح طاقت کے زور پر ریاست سے یہ لڑائی جیت سکتے ہیں ؟۔ جبکہ قوم پرست بھی ان کے سخت خلاف ہیں؟۔
جب ملاعمرامیرالمؤمنین کی موجودگی میں امریکہ اور نیٹو نے حملہ کرکے کئی سالوں تک قبضہ جمائے رکھا۔ افغان دوشیزاؤں کی امریکی اور نیٹو افواج کی گود میں کھیلتے ہوئے ویڈیوز سے خون بھی کھولنے لگتا ہے اور سر بھی شرم سے جھکتا ہے لیکن جب تک اپنی غلطیوں سے قومیں سبق نہیں سیکھ لیتی ہیں تو قدرت کی طرف سے ان کو بار بارعذاب اور مار پڑنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ شکر ہے کہ پھر بھی امریکی اور نیٹو افواج طویل عرصہ کے بعد یہاں سے نکل گئی ہیں۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور میں بھی افغان قوم کے اتحاد سے امریکہ اور نیٹو کی فوج نکلنے میں زیادہ دیر نہ لگاتے۔ امن میں خواتین کی عزتوں اور حضرات کی جانوں کو اس قدر نقصان ہرگز نہیں پہنچتا ہے جتنا بدامنی کی صورت میں پہنچتا ہے۔ ڈھائی ہزار امریکی22سالہ جنگ میں طبعی موت بھی مرسکتے تھے لیکن افغانیوں کیساتھ جتنے مظالم ہوئے ہیں اس بھیانک جنگ میں افغانی افغانی کو ماررہے تھے۔
افغان طالبان تصویر، زبردستی کی داڑھی اورنماز سے دستبردارہوگئے ہیں جو خوش آئند ہے۔ خواتین کے پردے اور تعلیم کے مسئلے پر بھی نرمی کا مظاہرہ کریں اور اپنی قوم کو قوم لوط کے عمل سے بچائیں۔ اللہ قرآن میں نظروں کو نیچے رکھنے کی تلقین کرتا ہے لیکن افغانستان میں قرآن کے حکم پر عمل کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ جس طرح عورت کو حیض کی حالت میں نماز کی تقلین کرنا جہالت ہے اس طرح غیرمسلم اور مسلم عورتوں کو پردے پر مجبور کرنا جہالت ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کو آزادی ملے ۔ طالبان اپنی نظر اور عورت کی عزت کو تحفظ دیں تو پوری دنیا میں اسلام سربلند اور افغان قوم کابھی سر عزت سے بلند ہوگا۔جب مکہ میں اس طرح کا پردہ حج وعمرہ میں ممکن نہیں ہے تو افغانستان میں کیوں؟۔
پیر افضل قادری کا فتویٰ اور انعام؟
پیرافضل قادری کے اپنے بیٹے ، بھانجے ، بھتیجے اور قریبی عزیز واقارب ہیں یا بس ایک فرد واحد ہیں؟۔ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کیا اور اس کے یتیم بچے اور بیوہ کس حالت میں ہوں گے؟۔5لاکھ نہیں5کروڑ کیلئے ممتاز قادری اپنی بیگم کو بیوہ اور اپنے بچوں کو یتیم بناتا؟۔ پیرافضل قادری نے5لاکھ بہت کم قیمت رکھی اور اس کیلئے کون اپنی جان کی قربانی دے گا؟۔
سلمان تاثیر کے قتل کی جھوٹی خبر اور سازش رؤف کلاسرا نے اپنی کتاب میں شائع کی تھی۔ مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف اور انصار عباسی کے گرد وہ کہانی گھومتی ہے جس کو ناول کی شکل دی گئی ہے۔ آصف علی زرداری اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر پراس وقت خواجہ شریف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس سازش کو پولیس کے ایک غریب سپاہی نے غلط گواہی سے انکار کرتے ہوئے ناکام بنایا تھا۔ اگر اس وقت سازشی کہانی گھڑنے پر انصار عباسی کو شہازشریف کروڑوں روپے کے فنڈز سے ذاتی گھر تک روڈ بناکر نہ دیتے اور اس کو قرار واقعی سزا بھی مل جاتی تو پنجاب میں سازشوں کا ایک حد تک خاتمہ ہوجاتا۔
انجینئر محمد علی مرزا نے چیف جسٹس عمر بندیال اور آرمی چیف کے درمیان سے عمران خان کونکلنے کی تجویز دے کرجتنا نقصان عمران خان کو پہنچایا ہے اس کی تو کوئی مثال ہی نہیں ملتی ہے اسلئے چیف جسٹس نے ہی عمران خان کو حق دلا دیا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پنجاب کے لوگ جذباتی ہیں اور وہ اپنے کان کو نہیں دیکھتے کتے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے کہ پیرافضل قادری کو انصار عباسی ٹائپ کے لوگوں نے شہبازشریف کے ساتھ مل کر ایسا فتویٰ دینے کیلئے تیار نہیں کیا ہو ،جس سے ایک طرف عمران خان کے حامی کو ٹھکانے لگایا جائے اور دوسری طرف تحریک انصاف کے کارکنوں اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کی جائے۔ ملک وقوم میں افراتفری پھیلانے والوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا اور معاشرے پر ریاست وحکومت کا قابو نہیں ہے ؟۔ یا جان بوجھ کر نااہلی کے ذریعے سے حالات خراب کئے جارہے ہیں؟۔
پیرافضل قادری کو چاہیے کہ پہلے مدارس کے نصاب کا درست جائز ہ لیں اور اس پر اپنے خاندان ، عقیدت مندوں اور احباب کے علاوہ ملک وقوم کیلئے اچھی تجاویز مرتب کریں۔ اپنا فتویٰ بھی واپس لیں۔ ہندوستان میں اسلام تصوف اور اہل اللہ کے ذریعے پھیلا ہے۔ اگر یہاں تشدد کی فضاء قائم کرنے میں پیروں نے اپنا کردار ادا کیا تو پھر خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مولاناالیاس قادری کی تحریک بہت مقبول ہے اور تعصبات سے بھی بھرپور ہے لیکن اپنے کارکنوں کو تشدد پر نہیں اکساتے ہیں۔ اگر تشدد پر اکسایا تو شناخت تبدیل ہوجائے گی۔
رسول اللہ ۖ نے صلح حدیبیہ میں کیسے شرائط پر معاہدہ کیا تھا؟۔ اصل دین کا یہی تقاضا ہے اور اس کو اللہ نے قرآن میں فتح مبین قرار دیا ہے۔ صلح حدیبیہ کی برکت سے ہی حضرت خالد بن ولید نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔
انجینئر محمد علی مرزا کی شخصیت بڑی متضاد ہے لیکن وہ علمی محاکمے سے ہی ختم ہوسکتی ہیں۔ حنفیوں کیلئے محمد علی مرزا ایک بڑی غنیمت اسلئے ہیں کہ احادیث میں وہ کمزور ہیں اور مرزا کی وجہ سے ان کو اچھی سپورٹ ملتی ہے۔ مرزا صاحب شیخ زبیر علی زئی اہل حدیث کے مرید ہیں جو ایک ساتھ تین طلاق کے قائل تھے اور اس وجہ سے مرزا صاحب بھی ایک ساتھ تین طلاق کے قائل ہیں۔ شیخ زبیر علی زئی بھی اسلاف کے مشاہدات کو جھوٹ قرار دیتے تھے لیکن ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگاتے تھے اور مرزا صاحب بھی اسی اعتقاد کا اظہار کرتے ہیں۔ شیخ زبیر علی زئی نے مرزاغلام احمد قادیانی کو اجماع امت کی وجہ سے کافر قرار دیا تھا اور مرزا نے بھی اجماع امت کی وجہ سے مرزاغلام احمد قادیانی کو کافر قرار دے دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر تقلید کیا ہوسکتی ہے؟۔ لیکن قرآن مرزا کے دماغ کو کھول سکتا ہے۔
طلاق اور صلح ورجوع کا درست تصور
اللہ نے طلاق کے مسائل پہلی مرتبہ سورۂ بقرہ میں بیان کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کردی کہ ” اپنے قول وقرار کو اللہ کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی کرواور تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ”۔ البقرہ آیت224
جس طرح سے نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی ممانعت بنام خدا نہیں ہوسکتی ہے تو کیا میاں بیوی کے درمیان صلح کرانا کوئی کم تقوی ہے؟ اور کوئی کم نیکی ہے؟۔ کوئی کم صلح ہے؟ ۔قرآن کا کمال یہ ہے کہ نہ صرف برائی کو جڑ سے ختم کردیتا ہے بلکہ اس کے غلط اثرات سے بھی مکمل تحفظ دیتا ہے۔
علماء ومفتیان کو یہ غلط فہمی ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیات224،225،226کا تعلق طلاق سے نہیں بلکہ حلف ویمین سے ہے۔ حالانکہ یمین کا اطلاق جس طرح سے حلف پر ہوتا ہے ،اسی طرح سے اس کااطلاق نکاح و طلاق پر بھی ہوتا ہے۔فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ” ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو توتجھے طلاق ۔بیوی نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہوتو میری یہ لونڈی آزاد۔ اگر وہ دونوں کھڑے ہوں تو مرد کی طلاق ہوگی اور عورت کی لونڈی آزاد نہیں ہوگی اور اگر وہ دونوں بیٹھے ہوں تو پھر عورت کی لونڈی آزاد ہوگی اور شوہر کی طلاق نہیں ہوگی ۔ اسلئے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں عورت کی اور بیٹھنے کی حالت میں مرد کی شرمگاہ زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ اگر مرد بیٹھا ہو اور عورت کھڑی تو پتہ نہیں کہ کیا ہوگا؟۔ ابوبکربن فضل نے کہا کہ مناسب کے دونوں کے یمین واقع ہوں”۔
اس عبارت میں طلاق اور لونڈی کی آزادی کو یمین کہا گیا ہے۔ علماء و فقہاء نے خود ہی طلاق کے مسئلے کو مذاق بنارکھا ہے جو حنفی فقہ کیلئے ماں کی حیثیت رکھنے والی فتاویٰ قاضی خان میں لکھا گیا ہے۔ اگر اٹھک بیٹھک سے فتویٰ بدلتا ہو تو کتنی عجیب بات ہوگی؟۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس پر بات کرنا چاہیے۔
اللہ نے ان آیات میں یہ واضح فرمایا کہ ” طلاق کی ایک عدت ہے اور اس عدت میں باہمی صلح سے رجوع ہوسکتا ہے”۔ پھر یہ بھی واضح کیا ہے کہ ”عدت کی تکمیل کے بعد بھی باہمی صلح سے رجوع ہوسکتا ہے”۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ صلح میں رکاوٹ نہیں ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت230میں پھر حلال نہ ہونے کا ذکر کیوں ہے جس میں دوسرے شوہر سے نکاح کو ضروری قرار دیا گیا ہے؟۔اس کا بالکل واضح جواب یہ ہے کہ آیت229میں اس سے پہلے اس صورت کا ذکر ہے کہ جب شوہر نے الگ الگ مراحل میں تین مرتبہ طلاق دی ہو اور دونوں کا آئندہ رابطے نہ رکھنے کیلئے کوئی چیز بھی درمیان میں نہ چھوڑیں اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہی خوف ہو کہ رابطے کا کوئی ذریعہ نہ چھوڑا جائے تو پھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ کیونکہ رجوع نہ کرنے کا انہوں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔البتہ یہ خدشہ ہے کہ عورت پر اس کا شوہر ایسی پابندی نہ لگادے کہ اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔ اسلئے اللہ نے قرآن میں اس کی صراحت کیساتھ زبردست وضاحت فرمادی ہے۔
جہاں تک باہمی صلح اور رضامندی سے رجوع کا تعلق ہے تو آیت230سے پہلے عدت میں باہمی صلح اور معروف طریقے سے رجوع کی وضاحت تھی اور آیت231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد بغیر حلالہ کے واضح طور پر صلح ورجوع کی گنجائش بلکہ ترغیب کا ذکر ہے۔ اگر علماء ومفتیان یہ سادہ بات سمجھ لیں تو انجینئر محمد علی مرزا ، شیخ زبیر علی زئی ، مفتی محمود، مفتی محمد شفیع اور بڑے بڑے لوگ بھی ماحول زدگی کا شکار نہ بنتے اور آج بھی قرآن کی طرف رجوع ہوسکتا ہے۔
طلاق کا مسئلہ کیا پہلی مرتبہ تم نے سمجھا؟
بعض لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ طلاق کا مسئلہ پہلی مرتبہ آپ نے سمجھاہے اور اتنے لمبے عرصہ تک کوئی اس کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکا ہے؟۔
نبی ۖ نے افتتاحی خطبہ میں فرمایا کہ ” تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ ہم اس کی تعریف کرتے ہیں،اس سے مدد مانگتے ہیں۔ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے نفسوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیںاور اپنے اعمال کی برائیوں سے۔ وہ جس کو ہدایت دے تو اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا ہے اور جس کو گمراہ کرے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے”۔ اگر ایک طویل عرصہ سے قوم نے قرآن کی تعلیمات سے منہ پھیر رکھا ہے اور وہ قرآن کو چھوڑنے کا مصداق بن گئی ہے تو یہ قوم کی اپنی تقدیر ہے۔ میرا اس سے کیا واسطہ ہے؟۔ اگر اللہ نے مجھے ہدایت کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے تو مجھے اللہ سے یہی حسنِ ظن رکھنے کا حق بھی ہے۔
جب قوم اس پر لگ گئی کہ حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کی بدعت ایجاد کی ہے یا یہ سنت ہے ؟ ۔اورقرآن کی طرف توجہ نہیں کی تو اس نے گمراہ ہونا ہی تھا۔ امام شافعی نے کہا کہ ایک ساتھ تین سنت ہے اور امام ابوحنیفہ وامام مالک نے کہا کہ بدعت ہے۔ سوال تو ان پر بنتا ہے جو حضرت عمر کے دفاع میں قرآن کو بھول گئے۔ حالانکہ حضرت عمر نے خود بھی قرآن وسنت کے عین مطابق فیصلہ کیا اسلئے کہ جب میاں بیوی میں ایک طلاق ہو یا تین طلاق ؟ یا پھر سرے سے کوئی طلاق نہ ہو بلکہ ناراضگی ہو تو حکمران اور عدالت کے جج کو یہ دیکھنا ہوگا کہ بیوی صلح کیلئے تیار ہے تو رجوع کی قرآن نے واضح اجازت دی ہے اور عورت صلح نہیں کرنا چاہ رہی ہو تو قرآن رجوع کی گنجائش نہیں دیتا ہے۔ حضرت عمر کے دربار میں معاملہ پہنچ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ عورت صلح کیلئے راضی نہیں تھی۔ حضرت علی نے بھی ایک جھگڑے کا یہی فیصلہ کیا کہ جب شوہر نے حرام کہہ دیا تو عورت رجوع پر آمادہ نہیں تھی اور حضرت علی نے فتویٰ دیا کہ عورت رجوع نہیں کرسکتی ہے ۔ جبکہ حضرت عمر کے پاس مسئلہ آیا کہ شوہر نے حرام کہا ہے اور اس کی بیوی رجوع پر آمادہ تھی تو حضرت عمر نے رجوع کا فتویٰ دیا۔صحابہ کے اندر تضادات نہیں تھے لیکن بعد والوں نے بنائے۔ فقہاء نے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں اس پر بحث کی تھی کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع ہوتی ہیں یا نہیں؟۔ لیکن اس کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا ہے کہ قرآن میں رجوع کی گنجائش کن کن آیات میں کس کس طرح وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔
احادیث صحیحہ کا بھی قرآن سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ ایک صحیح حدیث عویمر عجلانی اور ان کی بیگم کے درمیان لعان کے بعد ایک ساتھ طلاق کی ہے اور اس میں قرآن کی سورہ طلاق کے مطابق فالفور عورت کو چھوڑنے کی فحاشی کی صورت میں گنجائش ہے۔ ایک اور روایت محمود بن لبید کی ہے جس میں ایک ساتھ تین طلاق پر نبی کریم ۖ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا اور ایک شخص نے کہا تھا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ یہ شخص حضرت عمر تھے اور آپ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کے بارے میں نبی ۖ کو اطلاع دی تھی کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہیں۔ ایک ساتھ تین طلاق کا ذکر اس سے زیادہ مضبوط روایت میں صحیح مسلم کے اندر بھی موجود ہے۔ اور جہاں تک غضبناک ہونے کا تعلق ہے تو نبی ۖ کے بارے میں اس سے زیادہ مضبوط روایت میں صحیح بخاری کی کتاب التفسیر سورہ الطلاق میں بھی موجود ہے۔ نبی علیہ السلام نے عبد اللہ ابن عمر کو عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا معاملہ سمجھایا تھا۔ کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس میں نبی ۖ نے رجوع سے منع کیا ہو۔ رفاعہ القرظی کی بیگم نے جب دوسرے سے شادی کی اور اس پر نامرد کا الزام لگایا تو بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ وہ بری طرح مارتا تھا نامرد نہیں تھا۔ رفاعہ القرظی نے مختلف ادوار میں طلاق دی تھی اور وہ کسی اور کی بیگم بن چکی تھی۔ کوئی ایک بھی ایسی ضعیف روایت بھی نہیں کہ نبی ۖ نے کسی کو عدت گزارکر حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دیا ہو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ بدلے میں مسکین کو کھانا کھلائیں روزہ نہ رکھیں۔ ہاہاہا

جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ بدلے میں مسکین کو کھانا کھلائیں روزہ نہ رکھیں۔ ہاہاہا

تفسیر عثمانی آیت184البقرہ کے ترجمہ اور تفسیر میں بدترین تحریف۔ اگر مزدور طبقے کو بھی پتہ چل جائے اور عوام کو بھی تو کوئی بھی طاقت رکھنے کے باوجود روزہ نہیں رکھے گااگر فرض نہ ہو تو!

پشاور سے کراچی جانے والی پرواز فلائی جناح کے بہت سارے مسافروں نے کافی دیر تک یکم رمضان کے چاند کا مظاہرہ دیکھا اور اسکی اطلاع بھی دی تھی۔ یہ طریقہ قابل عمل ہوسکتا ہے۔

29شعبان کو مغرب کے وقت پشاور سے فلائی جناح ایئر لائن کراچی کیلئے روانہ ہوئی تو راستے میں مسافروں کی ایک بڑی تعداد نے کافی دیر تک رمضان کا چاند دیکھ لیا۔ چیئر مین ہلال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد کے بھائی مولانا عبد المعبود آزاد کو اس کی اطلاع بھی دی گئی اور انہوں نے چیئر مین صاحب کو بات پہنچائی بھی۔ پہلے ایک مرتبہ شاہین ایئر لائن کے مسافروں کی گواہی پر چیئر مین ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے عید کا اعلان کیا تھا۔ یہ بھی مولانا صاحب کو بتادیا۔
اگر ہلال کمیٹی کے چیئر مین یا ارکان چاند دیکھنے کیلئے جہاز کے مسافر وں سے رابطے میں رہیں یا پھر مسافروں کو رابطہ کرنے کا پابند بنایا جائے تو چاند کے مسئلے میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام و مفتیان عظام اوراپنا اپنا ذوق رکھنے والے اختلافات کا شکار نہیں ہوں گے۔ ہم نے پہلے بھی اس مسئلے پر مختلف شماروں میں کچھ معلومات قارئین سے برسوں پہلے شیئر کی تھیں۔
دنیا میں چاند کی پیدائش ایک دن میں ہوتی ہے۔ امریکہ اور پاکستان کا بڑا فاصلہ ہے۔10گھنٹے کا فرق ہے۔ پھر بھی ایک ہی دن میںرمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی کے چاند نظر آجاتے ہیں۔ اگر پوری دنیا میں طرز نبوت کی خلافت قائم ہوجائے تو ایک ہی دن میں رمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ قمری مہینوں کی تاریخ بھی ایک ہی ہوگی۔ اگرکچھ افراد افغانستان و پاکستان یا ایران و پاکستان کے سرحدی علاقے میں رہتے ہیں ۔ایک طرف والوں کو چاند نظر آجاتا ہے اور دوسری طرف والوں کو نہیں آتا ہے تو کیا شرعی روزہ بدل جائے گا؟۔ نہیں بلکہ رمضان اور عید کا تعلق کسی ملک سے نہیں بلکہ چاند دیکھنے سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ماہ صیام رمضان کے بارے میں دو آیات کے اندر بڑی حکمت عملی کے ساتھ اُمت مسلمہ کو روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پہلے یہ فرمایا کہ یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (183)اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہ فِدْیَة طَعَامُ مِسْکِیْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْر لَّہ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْر لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (184)
”تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض کئے گئے تھے ہوسکتا ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ گنتی کے دن پس تم میں سے اگر کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس کی گنتی ہے دیگر دنوں میں۔ اور جن لوگوں کو اس کی طاقت ہے تو فدیہ دیں کھانا مسکین کا اور جو اس سے زیادہ نیکی (خیرات) کرے تو اس کیلئے بہتر ہے اور اگر تم روزہ رکھو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے”۔
اس آیت میں اس مریض اور مسافر کیلئے حکم ہے ایک مسکین کو ایک روزے کے بدلے کھانا کھلانے کا جس میں کھلانے کی طاقت ہو۔ اگر اس سے زیادہ بھی دے تو اور بہتر ہے۔ کیونکہ سفراور مرض کے بعد ضروری نہیں کہ زندگی ساتھ دے اور مرض و سفر میں روزے کو آئندہ کیلئے ملتوی کرنے کی سہولت کا یہ کفارہ کسی پر بھی مشکل نہیں ہے۔ البتہ اگر اس کے پاس استطاعت نہیں ہے تو وہ فدیہ دینے کے بجائے فدیہ لینے کا مستحق ہوگا۔ اگر زیادہ دے سکتا ہے تو اللہ نے اس کو دینے والے کیلئے بہتر قرار دیا ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مرض یا سفر کا بہانہ کرکے روزہ چھوڑ دیں، اسلئے فرمایا کہ ”اگر تم روزہ رکھ لو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو”۔ جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ روزہ چھوڑنے کی سہولت کا ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ۔ اللہ نے کاہلوں کو تنبیہ فرمائی ہے اور روزہ چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسلئے کہ مجبوری میں چھوڑے جائیں تو پھر ان کی قضاء کا بھی اللہ نے بہت واضح الفاظ میں حکم دیا ہے۔
کمال اور عجیب تماشہ ہے کہ تفسیر عثمانی میں اس کا ترجمہ یوں ہے کہ
” اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلہ ہے ایک فقیر کا کھانا”۔
یعنی جو نہ سفر میں ہیں اور نہ مریض اور نہ کمزور بلکہ بالکل صحت مند اور ہٹے کٹے ہیں جو روزے کی مکمل طاقت رکھتے ہیں وہ روزے کے بدلے میں ایک فقیر کو کھانا کھلائیں! ۔اگر اعلان کیا جائے تو کون روزہ رکھے گا؟
اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”مطلب یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی تو طاقت رکھتے ہیں مگر ابتدا ء میں چونکہ روزہ کی بالکل عادت نہ تھی اسلئے ایک ماہ کامل پے در پے روزے رکھنا ان کو نہایت شاق تھا۔ تو اس کیلئے یہ سہولت فرمادی گئی تھی کہ اگر چہ تم کو کوئی عذر مثل مرض یا سفر کے پیش نہ ہو مگر صرف عادت نہ ہونے کے سبب روزہ تم کو دشوار ہو تو اب تم کو اختیار ہے چاہو روزہ رکھو ، چاہو روزے کا بدلہ دو۔ ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلاؤ۔ کیونکہ جب اس نے ایک دن کا کھانا دوسرے کو دے دیا تو گویا اپنے نفس کو ایک روزہ کے کھانے سے روک لیا۔ اور فی الجملہ روزے کی مشابہت ہوگئی۔ پھر جب وہ لوگ روزے کے عادی ہوگئے تو یہ اجازت باقی نہ رہی۔ جس کا بیان اس سے اگلی آیت میں آتا ہے۔ اور بعض اکابر نے طعام مسکین سے صدقة الفطر بھی مراد لیا ہے۔ معنیٰ یہ ہوں گے کہ جو لوگ فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کے کھانے کی مقدار اس کو دے دیں جس کی مقدار شرع میں گیہوں کا آدھا صاع اور جو کا پورا صاع ہے۔ تو اب یہ آیت منسوخ نہ ہوگی۔ اور جو لوگ اب بھی یہ کہتے ہیں کہ جس کا جی چاہے روزہ رمضان میں رکھ لے اور جس کا جی چاہے فدئے پر قناعت کرے خاص روزہ ہی ضررو رکھے یہ حکم نہیں وہ جاہل ہیں یا بے دین”۔ (تفسیر عثمانی: البقرہ : آیت184)
حالانکہ یہ سراسر بکواس ہے اس لئے کہ آئندہ کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ” اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر مشکل نہیں چاہتا ہے”۔ دونوں آیات میں قضائی روزے کا حکم ہے اور گنتی کے دنوں کو پورا کرنے کا حکم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔
جب ہندوستان کی اشرافیہ مغل بادشاہ ، راجے اور مہاراجے ، رانیاں اور مہا رانیوں کے ہاں روزے کا تصور نہیں تھا۔ علامہ وحید الدین خان کے بڑے بھائی علامہ وحید الزماں خان نے صحاح ستہ کی احادیث کی کتابوں کا ترجمہ کیا تھا بدأ الاسلام غریباً فسیعود غریبا ًفطوبیٰ للغرباء ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا تھا ، یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹے گا ، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ لکھ دیا تھا کہ اسلام غریبوں سے شروع ہوا تھا اور یہ پھر غریبوں کی طرف لوٹ جائے گا۔ پس خوشخبری ہے غریبوں کیلئے۔ اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ پہلے زمانے میں بھی غریبوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اب بھی غریبوں میں اسلام باقی رہ گیا ہے۔ امیر روزہ نماز اور پردہ وغیرہ کا کوئی تصور نہیں رکھتے ہیں۔ اسلئے حدیث میں آخری دور کے اندر بھی غریبوں کیلئے خوشخبری ہے۔ (دیکھئے علامہ وحید الزمان کی کتابوں کا ترجمہ اور تشریح)۔
علامہ اقبال نے بھی اسی وجہ سے جواب شکوہ میں اشعار کہے تھے کہ روزہ رکھتا ہے تو غریب، پردہ کرتا ہے تو غریب، نماز پڑھتا ہے تو غریب۔ (جواب شکوہ)
جب قرآن کا ترجمہ و تفسیر کیا گیا تو ہندوستان میں اشرافیہ کے ہاں اسلام پر عمل کا کوئی تصور نہیں تھا اسلئے تفسیر عثمانی میں ان چندہ دینے والے مہربان اشرافیہ کیلئے قرآنی آیات کے ترجمے اور تفسیر میں بہت بڑی تحریف کی گئی۔ علامہ اقبال نے علماء و مفتیان کی ان حرکتوں کو دیکھ کر بہت صحیح کہا تھا کہ
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجے فقیہان حرم بے توفیق
قومی اسمبلی میں پیر پگارا کی پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون سائرہ بانو کو اگر پتہ چلے تو اسمبلی میں باقاعدہ قرآن کی ان آیات کا یہ ترجمہ اور تفسیر بھی پیش کردے گی۔ جس سے تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ قرآن صرف اشرافیہ کیلئے نہیں ہے بلکہ مزدوروں، نوکر پیشہ، مزارعین، صحافیوں اور تمام طبقات کیلئے یہ سہولت موجود ہے کہ روزہ چھوڑ کر ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ ایک دہاڑی دار مزدور بھی خوشی خوشی سے روزہ چھوڑ کر ایک مولوی مسکین کو کھانا کھلادے گا۔ اور اس کو اوور ٹائم ملے یا نہ ملے لیکن یہ سہولت بھی بہت کافی ہے کہ وہ طاقت رکھنے کے باوجود بھی روزہ چھوڑ دے۔ مولویوں نے یہ مسائل اپنے چندہ دینے والے امیر طبقات کیلئے چھپا کر رکھے ہیں۔ صحابہ کرام کے اندر کوئی ایسا اشرافیہ نہیں تھا جن میں طاقت کے باوجود روزہ نہ رکھنے کا تصور بیٹھا ہو۔ یہ تکلف بھی غلط ہے کہ شروع میں عادت نہیں تھی۔ کیونکہ عادت نہ ہونے سے طاقت نہ رکھنے کا تصور بھی ابھر سکتا ہے۔ جبکہ قرآن میں واضح الفاظ کے اندر طاقت رکھنے والوں کیلئے یہ سہولت دی گئی ہے۔ اگر طاقت رکھنے والوں کو یہ سہولت ہے تو پھر مریضوں اور مسافروں کو قضائی روزے رکھنے کی اذیت کیوں دی گئی ہے۔
یہ تو شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور علامہ شبیر احمد عثمانی کا حال ہے موجودہ دور کے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی تو اس سے بھی بہت گئے گزرے ہیں۔
تکاد السمٰوٰت یتفطرن من فوقھن والملٰئکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھوالغفور الرحیمO”قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے انکے اوپر سے اور ملائکہ پاکی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کیساتھ۔ اورجو زمین میں ہیں،ان کیلئے استغفار کرتے ہیں۔خبردار! کہ بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (الشوریٰ:5)
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ”قریب ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑے”۔(آسان ترجمہ قرآن کا حاشیہ)۔حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ”مغفرت کی طرف دوڑ پڑو، جو جنت عطاء کریگا جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے”۔
سورہ بقرہ کی آیت184میں بھی فرض روزوں کا حکم ہے اور اس میں مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑ کر آئندہ دنوں میں رکھنے کی سہولت ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ روزہ رکھنے میں تمہارے لئے زیادہ بہتری ہے۔
اگلی آیت میں ان صوفی مزاج لوگوں کو اعتدال میں لانے کی طرف اشارہ ہے جو یہ سمجھ کر کہ مرض یا سفر کی حالت میں روزہ معاف ہے لیکن بہتر روزہ رکھنا ہے تو ان کو واضح کیا گیا ہے کہ خود کو مشکلات میں مت ڈالو۔
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَوَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (185)
ترجمہ: ” رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔ لوگوں کیلئے ہدایت ہے اور دلائل ہیںہدایت کے اور صحیح و غلط میں تفریق کے۔ پس جو تم میں یہ ماہ پالے تو اس میں روزہ رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں اس کی قضاء پوری کرلے ۔اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر مشکل نہیں چاہتا ہے۔ تاکہ تم گنتی کے دن پورے کرلو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزار بن جاؤ”۔
اللہ کو پتہ تھا کہ گدھوں نے اس کا دین بگاڑنا ہے جس طرح سے یہود اور نصاریٰ نے دین میں تحریف کی تھی اور بہت واضح الفاظ میں اس بات کی تکرار کی ہے کہ مرض اور سفر میں روزہ نہ رکھنے کی سہولت اور آئندہ دنوں میں اس کی قضاء بھی تمہارے لئے آسانی ہے اور مشکل نہیں ہے۔ لیکن طاقت کے باوجود روزہ نہ رکھنے کا کوئی تصور اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا ہے۔ علماء کھل کر وضاحت کریں۔
علماء کرام و مفتیان عظام اور قارئین قرآن کے عربی الفاظ اور ان کے معانی کو غور سے دیکھیں اور اس میں معنوی تحریف کرنے والوں کے خلاف کھل کر بولیں۔ اگر غلطیوں کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو اس سے آئندہ کی نسلیں بگڑیں گی۔
قرآن کریم کا سب سے پہلے ترجمہ حضرت شاہ ولی اللہ نے فارسی میں کیا تھا۔ پھر ان کے صاحبزادگان نے حضرت شاہ عبد القادر نے قرآن کا با محاورہ اور شاہ رفیع الدین نے لفظی ترجمہ کیا۔ تفسیر عثمانی میں شاہ عبد القادر کا ترجمہ ہے۔ اور اردو کے جتنے تراجم ہوئے ہیں وہ سب کے سب اسی سے چوری ہوئے ہیں لیکن الفاظ اور مفہوم میں اور اسلوب میں تھوڑا تھوڑا فرق رکھا گیا ہے۔
عربی اور اردو کے تکلیف میں فرق ہے۔ اردو میں تکلیف کا معنی اذیت ہے۔ جبکہ عربی میں تکلیف کا معنی اختیار کا ہے۔ اگر کسی کے پیٹ میں درد ہو تو وہ اردو میں کہہ سکتا ہے کہ میرے پیٹ میں تکلیف ہے لیکن عربی میں اس کو تکلیف نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اگر چھٹی کا دن ہو اور کوئی نوکر پیشہ اپنی مرضی سے ڈیوٹی کرنا چاہتا ہو یا پھر نہیں کرنا چاہتا ہو تو اس کو عربی میں تکلیف کہتے ہیں۔ یعنی اس کا اختیار ہے کہ ڈیوٹی کرے یا نہ کرے۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مکلف ہے اور یہ مکلف اسی تکلیف سے ہے۔ اگر انسان کو اچھا اور برا کام کرنے کا اختیار حاصل ہو تو اس کو مکلف کہتے ہیں یہ مکلف اسی تکلیف سے ہے۔ غرض عربی کی تکلیف الگ چیز ہے ۔
سورہ بقرہ کی آخری آیت میں اللہ نے فرمایا:
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِہ وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا ، اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (286)
ترجمہ: ” اللہ کسی نفس کو مکلف نہیں بناتا ہے مگر اس کی وسعت کے مطابق۔ اس کیلئے ہے جو اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا جو اس نے کمایا۔ اے ہمارے رب! ہمارا مواخذہ نہ فرما اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں ۔ اے ہمارے رب! ہم پر نہ لاد بوجھ جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوںپر آپ نے لادا۔ اور ہم پر نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہماری مغفرت فرمااور ہم پر رحم فرما۔ آپ ہمارے مولا ہیں پس ہماری مدد فرما کافر قوم کے خلاف ”۔
جس کی جتنی بڑی ذمہ داری ہوگی اس سے اسی کے مطابق پوچھا جائے گا۔ کوئی چیف جسٹس ہے یا وزیر اعظم ہے یا آرمی چیف ہے یا مفتی اعظم ہے یا پھر ایک چوکیدار اور چپڑاسی ہے۔ ہر ایک جان اپنی اپنی وسعت کے مطابق ذمہ دار ہے۔ جس نے کوئی اچھے کام کئے تو بھی اپنے لئے کئے اور جس نے کوئی برے کام کئے تو ان کی بھی اس سے پوچھ گچھ ہوگی۔
علماء نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اللہ گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اور کسی نے یہ کیا ہے کہ طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ حالانکہ اگلے جملوں میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اس کی نفی کردی ہے اور فرمایا ہے کہ پہلے لوگوں کو بھی ان کی بد اعمالیوں کے سبب ان کو زیادہ بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ جس سے تم پناہ مانگو۔ اور یہ دعا سکھائی کہ طاقت سے زیادہ بوجھ ہم پر نہ لاد۔
قرآن میں اتنا بڑا تضاد کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف اللہ کہے کہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور دوسری طرف دعا سکھائے کہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا۔ کچھ تو عقل سے بھی کام لینا چاہیے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا انا علینا جمعہ بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا انا علینا جمعہ بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا ہے

قرآن کی حفاظت کے مسئلے پر شیعہ سنی دونوں انتہائی منافقت سے کام لیتے ہیں۔ شیعہ کتابوں میں آیات کا حوالہ آتا ہے تو اس میں تحریف کا دعویٰ کربیٹھتے ہیں اسلئے ان پر کفر کا فتویٰ لگاتھا

اللہ نے فرمایا: اور رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ (الفرقان:آیت17)شیعہ مہدی غائب اور سنی اپنے علماء کے چکر میں بیٹھے ہوئے ہیں؟

بریلوی دیوبندی دونوں اپنے اصول فقہ کی کتابوں میں یہ حنفی مسلک پڑھاتے ہیں کہ” احناف کے نزدیک قرآنی آیت کے مقابلے میں خبر واحد کی صحیح حدیث معتبر نہیں ہے،البتہ خبر واحد یا مشہور کی آیت معتبر ہے جس کا حکم دو سری آیت کے برابر ہے”۔ جبکہ امام شافعی کے نزدیک ” قرآن کی خبر واحد یا مشہور کی آیت معتبر نہیں ہے ،البتہ خبر واحد کی حدیث معتبر ہے”۔ (نورالانوار : ملاجیون)
اس قاعدہ کلیہ سے حنفی مسلک کے کم عقل وکم علم علماء وفقہاء اس احساس کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم قرآن کے اس قدر عاشق ہیں کہ موجودہ صحیح ومتواتر قرآن کے علاوہ ہم ان آیات کو بھی قرآن مانتے ہیں جن کا خبر احاد یا مشہور میں کہیں ذکر آیا ہے اور وہ اس قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ نرم الفاظ میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش بھی کام نہیں آئی ہے تو اس مرتبہ تھوڑے سخت الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ کچھ غیرت آئے اور ہمت کرکے اپنی غلط تعلیمات کی تردید کردیں۔ اگر کوئی مردکہے کہ میں اپنی بیوی پر اس قدر عاشق ہوں کہ اس کے غیر قانونی یاروں سے بھی مجھے محبت ہے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟۔ ہر کوئی اس پر لعنت ملامت کرے گا۔ اس سے زیادہ بڑا کفر اور بے غیرتی یہ ہے کہ موجودہ قرآن کے مقابلے میں دوسری آیات کو بھی اللہ کی کتاب مان لے ۔ اس بات کو اچھی طرح دل نشین کرکے قرآن کی تحریف کی تردید کردیں۔
امام شافعی نے بالکل ٹھیک کیا ہے کہ ” حدیث میں اخبار احاد کو دلیل مانا ہے اور قرآن میں اخبار احاد کی آیات کو دلیل سمجھنے کی بجائے اس کو کفر قرار دیا ہے”۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ امام شافعی پر رافضی کا فتویٰ لگایا گیا تھا۔ حالانکہ امام شافعی نے امام ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد سے درست عقیدہ سیکھ کر قرآن کی حفاظت کے حوالے بالکل صحیح مؤقف اپنایا تھا۔ امام ابوحنیفہ نے قاضی القضاة ( چیف جسٹس ) کا عہدہ ٹھکرادیا اور سقراط کی طرح زہر کھاکر ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے تھے۔ جنہوں نے امام ابوحنیفہ کے نام پر تحریف قرآن کا عقیدہ گھڑ لیا اور بادشاہوں کیلئے دین کو تحریف کا شکار کیا انہوں نے نام ونمود،فائدے اور منصب کیلئے ایمان بیچ ڈالا تھا۔
حدیث لکھنے کیلئے قلم اور قرطاس (کاپی اور کاغذ) تھالیکن قرآن درخت کے پتوں، ہڈیوں ، پتھروں اور چمڑوں کے ٹکڑوں پر لکھا جاتا تھا؟۔ زبور،توراة، انجیل اور افلاطون کی کتابیں موجود تھیں لیکن قرآن محفوظ نہیں تھا۔ بکری کے کھا جانے کیلئے اس کی آیات کو درخت کے پتوں پر لکھنے کا عقیدہ بھی ضروری تھا؟۔ العیاذ باللہ اسلئے کہ سنگسار کرنے اور بڑے کو دودھ پلانے کی دس آیات نبیۖ کی وفات کے وقت چارپائی کے نیچے موجود تھیں اور بکری نے کھاکر ضائع کردیں۔ ابن ماجہ۔ اور حضرت عمر نے فرمایا کہ ” اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ قرآن میں اضافہ کا الزام لگادیں گے تو سنگسار کرنے والی آیات قرآن میں لکھ دیتا۔ صحیح مسلم۔
ابن عباس نے کہا کہ علی نے فرمایا کہ ” نبی ۖ نے ہمارے پاس قرآن مابین الدفتین کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا تھا”۔ ( صحیح بخاری) ۔ مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس پاکستان نے لکھا ہے کہ ” بخاری نے اس روایت کو اسلئے نقل کیا ہے تاکہ شیعہ پر رد ہو کہ تم قرآن کے قائل ہو اور علی نہیں تھے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اسلئے حضرت عثمان سے ناراض تھے کہ مجھے قرآن جمع کرنے میں شریک کیوں نہیں کیا۔ (کشف الباری ۔ شرح صحیح البخاری)۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے بھی یہ لکھا ہے کہ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے”۔ فیض الباری ۔ فتاویٰ دیوبند پاکستان مفتی فرید اکوڑہ خٹک ۔ اصول قفہ کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ ”لکھائی کی شکل میں قرآن اللہ کا کلام نہیں۔ فتاویٰ قاضی خان اور فتاویٰ شامیہ میں سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا، حالانکہ قرآن کی کتابت کو اللہ نے اپنا کلام قرار دیا اور فرمایا : ولوانزلنٰہ فی قرطاس لمسوہ ” اگر ہم اس کو کاغذ کی کتابی شکل میں نازل کرتے اور یہ لوگ اس کو ہاتھ لگاکر چھوتے ، تب بھی کہتے کہ یہ کھلا جادو ہے”۔ علماء نے بڑی تعداد میں شیعوں پر تحریف قرآن اور کفر کا فتویٰ لگایا۔ جب اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا تو اُلٹے پاؤں لوٹ گئے۔دونوں فرقوں کا قرآن کی طرف لوٹنے میں نجات ہے ورنہ ضرورمرجائیں گے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل سے پہلے ”جمع قرآن میں اختلاف! عرفان رمضان نشریات میں علماء کا علمی مکالمہ!GTVنیوز” عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv