پوسٹ تلاش کریں

” اس دن کسی انس و جن سے اسکے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا۔ پھر تم اپنے رب……۔ مجرم اپنے نشان سے پہچانے جائیں گے۔….پس ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ ا جائیگا۔….یہ ہے وہ جہنم جس سے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔ وہ چکر لگائیں گے اسکے اور گرمی کے درمیان اس وقت”۔الرحمن39تا44

سورہ رحمن میں مجرموں کو پیشانی اور پاؤں کے ذریعے پکڑنے کا ذکر ہے اور سورہ االاعرف میں ریاستی رجال ”عراف” کے کردار کا بھی واضح ذکر ہے۔

پاکستان قیام کے25سال بعد ٹوٹا تو فوج، سیاستدان اور لسانی تعصبات کو ذمہ دار سمجھاگیامگر اس سے بڑا واقعہ25سال بعد ریاست مدینہ میں پیش آیا ۔ خلیفہ سوم عثمان40دن محاصرے میں رہے اور گھر سے مسجد تک بھی نہیں جاسکے۔ پھرمسند پرشہید کیا گیا۔ وجوہات تاریخ میں ہیں لیکن اصل بات کی طرف دھیان نہیں گیا۔ حضرت عمر نے مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف تین گواہوں کو کوڑے لگائے اور پھر پیشکش کی کہ اگر کہہ دو کہ جھوٹ بولا تھا تو آئندہ تمہاری گواہی قبول ہوگی۔ واحدگواہ صحابی ابوبکرہ نے پیشکش کو مسترد کیا اور دوسرے دو غیر صحابی گواہوں نے یہ پیشکش قبول کی۔ امام ابوحنیفہ نے حضرت عمر کی پیشکش کو قرآن کے خلاف قرار دیکر مستردکیا اور باقی تینوں مسالک مالکی، شافعی اور حنبلی نے مسلک بنالیا۔ امام ابوحنیفہ بلاوجہ جیل میں شہید نہ کئے گئے لیکن کہانیوں میں حقیقت گم ہوگئی۔

حضرت عمر نے معاملہ کی سنگینی کو بھانپ لیا اورعدالتی نظام کو الگ کردیا۔ ایک پروفیشنل اور ذہین جج قاضی شریح کو عدالتی امور سپرد کردیں۔ حضرت عمر کے دور میں قاضی شریح سے کوئی شکایت پیدا نہ ہوئی۔ حضرت عثمان حیادار انسان تھے مگر فاروق اعظم کی طرح فتنوں کیلئے بند دروازہ نہیں تھے۔ قاضی شریح نے بڑے باریک طریقے سے ایسی ناانصافی شروع کردی کہ قانون کے اندر ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنانا شروع کردیا۔ جس پر کوئی احتجاج بھی نہیں کرسکتا تھا۔ جس کا یہ بھانک نتیجہ نکل آیا کہ حضرت عثمان خلیفہ وقت کے خلاف بغاوت ہوگئی۔

حضرت عثمان کی شہادت سے جو فضا بنی تو آج تک امت کے معاملات اپنی جگہ پر نہ آسکے۔ یزید کو حسین کے خلاف فتویٰ درکار تھا تو قاضی شریح نے پہلے منع کیا پھر رشوت سے فتویٰ دیا۔ یزید کی فوج نے بھی طمع ولالچ رکھی ہوگی لیکن اصل کردار قاضی شریح کا تھا۔ اگر کسی کو اس سے تکلیف ہے تو چاہیے کہ وہ جمعہ کے خطبہ میں ارحم امتی بامتی ابوبکرو اشدھم فی امر اللہ عمر واصدقھم حیائً عثمان واقضاھم علی میں اقضاھم علی کی جگہ اقضاھم واکبرھم قاضی شریح ”امت میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑا قاضی شریح تھا”۔ تاکہ اہل بیت سے نفرت رکھنے والوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے۔چیف جسٹس امام ابویوسف سے جسٹس مفتی تقی عثمانی تک سب نے اسلام کا بیڑہ غرق کیا ہے۔
قاضی شریح چیف جسٹس نے عدالتی نظام کا ستیاناس کردیا تھا ۔قرآن کو نہ صرف ذبح کردیا بلکہ قصائی کی طرح اس کو ایسا ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ امت نے چھوڑ دیا۔ سورہ تحریم کی واضح آیت کو چھوڑ کر بیوی کو حرام کہہ دیا تو اس پر20اجتہادی مسالک بن گئے۔ اگر قرآن کو دودھ دینے والی بھینس فرض کرلیا جائے تو کیا قصائی کے ٹکڑے کرنے کے بعد بھی اس سے دودھ نکالا جاسکے گا؟۔

ہمارے قابل استاذلورالائی کے مفتی عبدالمنان ناصرمدظلہ العالی نے بتایا تھا کہ عورتیں بغیر محرم حج کیلئے جاتی تھیں تو ان کا مرغ سے نکاح کردیا جاتا تھالیکن فتاویٰ عالمگیریہ میں بادشاہ پرچوری، قتل، ڈکیتی اور زنا کی حدیں جاری نہیں ہوتی ہیں اور مفتی تقی عثمانی نے جو سود کی حرمت ختم کردی ہے ۔دارالعلوم کراچی شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کے لین دین پر70سے زیادہ گناہوں کی حدیث سناتا تھا جس میں کم ازکم اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق نے سود پر سگی ماں سے خانہ کعبہ میں36مرتبہ زنا کا بتایا۔
قرآن وحدیث میں واشگاف الفاظ میں واضح ہے کہ ” طلاق عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ کا فعل ہے”۔ ایسا نہیںہوسکتا کہ طلاق مکمل ہو اور عدت باقی رہے اور نہ ایسا ہوسکتا ہے کہ عدت مکمل ہو اور دوطلاقیں جیب میں رہ جائیں۔ جتنی احادیث ہیں وہ سب صحیح ہیں اور ان میں تطبیق موجود ہے لیکن مولوی حلالہ کی لعنت کو ختم اسلئے نہیں کرتا ہے کہ اس میں غیرت، عزت، فطرت، انسانیت، اخلاق اور کردار سب ختم ہوچکا ہے۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوةوالسلام کے آئینہ میں” علماء ومفتیان اپنا چہرہ دیکھ

چکے تھے اسلئے مقبول کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی۔
قرآن وحدیث میں داؤد اور سلیمان کے واقعات ثبوت ہیں کہ جج کا کام ایسا اجتہاد ہے کہ انصاف کی روح معاشرے میں زندہ ہو ۔ فصل اور جانور کی قیمت برابر تھی لیکن داؤد کے فیصلے کو سلیمان نے اس انصاف پر نہیں چھوڑا اسلئے کہ ایک قوم کا معاش ختم ہوجاتا تو یہ انصاف کے خلاف تھا اور وہ چوراور ڈکیٹ بن جاتی۔ ایک قوم کو محنت پر لگادیا کہ فصل اپنی جگہ تک پہنچاؤ اور دوسری کو جانور سپرد کردئیے کہ اسکے دودھ، اون، کھاد سے جب تک فائدہ اٹھاؤ۔ دونوں کو پورا انصاف ملا ،مجرم کو سزا ہوئی اور مظلوم کو ریلیف ملا۔ پھر اپنی اپنی جگہ پر بھی آگئے۔ جو عورت بچے کی ماں تھی تو اس کو انصاف بھی اس طرح دیا کہ دونوں کی حقیقت بھی سامنے آگئی۔ قاضی شریح نے عدل کی بنیاد غلط رکھی۔ اسلئے مسلم اقتدار دنیا کیلئے قابل تقلید نہیں ہے۔ اگر اسلامی نظام کا ٹھیک خاکہ ہوتا تو اسلامی ممالک میں وہی نافذ ہوتا لیکن مولوی محکمات کی آیات کونہیں سمجھتا تو اجتہادی مسائل کا کیا بنے گا؟۔پہلے علماء میں صلاحیت نہیں تھی مگر اب نیت بھی ٹھیک نہیں ہے۔

قاضی شریح فقہ کا ماسٹر مائنڈ تھا۔کونسا فقہ ؟ جو یہود کی میراث تھا۔ سورہ تحریم میں بیوی کو حرام کہنے کا مسئلہ حل ہے لیکن بیوی کو حرام کہنے کے لفظ پر حضرت عمر سے ایک طلاق رجعی کا قول منسوب ہوا، حضرت علی سے تین طلاق کا۔ حضرت عثمان سے ظہار کا۔ بخاری کی روایات میں تضادات ہیں اور چار ائمہ کا لفظ حرام پر اختلاف ہے ۔ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے”زاد المعاد” میں اس پر20اجتہادی مسالک نقل کئے۔ قرآن کو سازشی فقہ نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ جوقرآن میں واضح ہے اور نبیۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اورعنقریب یہ پھر اجنبی بن جائے گا خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ اب اپنا مفاد اور ماحول چھوڑ کر اسلام کے صحیح فہم کا اظہار کرنا چاہیے۔ مدارس فراڈ اور گمراہی کے قلعے بن چکے ۔ جان بوجھ کر اب حق کو قبول نہیں کررہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے میری کبیرپبلک اکیڈی کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اس خاندان کے بزرگوں کی دینی خدمات ہیں اور اس میں عتیق جیسا اہل علم ہے”۔ پاکستان، افغانستان، ایران، عربستان ، ہندوستان میں علم سے انقلاب آئے گا۔ غریب فوجی اور جنگجو عناصر حالات کی بہتری کے بعد قربان نہیں ہوں گے۔
٭

ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمن)

”اور جو اپنے رب سے ڈرا تو اس کیلئے دو جنت باغ ہیں”۔(الرحمن:46)
دوبئی میں میرے ساتھی ناصر علی کی رہائش جبل علی گارڈن میں تھی۔ غریبوں کیلئے وہ بھی جنت سے کم نہیں ہے۔ گارڈن اردو میں باغ اور عربی میں جنت۔ خلافت قائم ہوگی تو دنیا بھر میں اہل لوگوں کیلئے درجہ دوم کے دودوباغ بنانے کا سلسلہ ہوگا اور اچھے اور اہل لوگوں کیلئے دنیا جنت نظیر بن جائے گی۔

ذواتآ افان ” اس کی بہت شاخیں ہوں گی”۔( سورہ رحمان:آیت48)

بغیر شاخوں کا باغ نہیں ہوتا۔ اس لفظ کے کئی معانی ہیں۔ مناسب ترجمہ ہو۔ ان میں کمال کا فن ہوگا۔ پیرس میں ”ڈنزی لینڈ” کی فن کاری کا کما ل ہے۔ دوبئی برج خلیفہ نے اونچائی سے دنیا کو نیچے دکھایا ۔ خلافت میں فن کاری کا کمال ہوگا اور معنی یہ بھی ہے کہ یہ فانی دنیا کے باغات ہیں، دائمی نہیں ہونگے۔

”ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے”۔ خوبصورتی کا حسین نظارہ ہوگا۔

” ان دونوں میں ہر پھل کی دودو قسمیں ہوں گی”۔ جیسے شوگر اور شوگر فری۔ ”وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے فرشوں پر جن کا غلاف ریشم کا ہوگااور دونوں باغوں کے جھکے ہوئے پھلوں کو توڑیںگے”۔ سورہ واقعہ میں اونچے فرشوں کو واضح کیا۔

فیھن قاصرات الطرف لم یطمثھن انس ولاجان

” ان میں ڈبہ پیک چیزیں ہوں گی جن کو کسی انس وجن نے چھوا نہیں ہوگا”۔پہلے ڈبہ پیک ان ٹچ موبائل،ٹی وی، کرارکری، گھڑی، گاڑیاں برینڈ یڈ چیزوں کا تصور نہیں تھا۔ یہ باغ کی چیزوں کی صفات ہیں۔ قاصرات الطرف (مختصرچھپی)۔ مفسرین نے ایک طرف نوعمر بچیاں لکھا تو دوسری طرف نوخیز دوشیزاؤں کی عمر33سال؟۔

قرآن اللہ نے سکھانا ہے اور ہرانسان کو کھل کر ایک ایک بات سمجھ آئے گی۔
پہلے درجہ کے جنتیوں کیلئے صحیح حدیث میں دو حوراء کا ذکر ہے۔ حور حورا ء کی جمع بھی ہے۔ معزز شہری عورت کو عرب حوراء کہتے ہیں۔ ہندوستان کے علماء نے میم کو معزز سمجھ لیا تھا اسلئے کہ انگریز حکمران طبقہ تھا اور مقامی لوگوں کو انکے مقابلہ میں اچھوت تصور کیا جاتا تھا اسلئے اس کو ”گوری عورت” کا نام دیا ہے۔

ھل جزاء الاحسان الا الاحسان ” نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہے”۔

سورہ الرحمن کی آیت60تک اصحاب الیمین کے دوباغ کا ذکر ہے جو فرش پر بیٹھیں گے۔جو بڑی تعداد میں ہونگے اور مزاج بھی فرش پر بیٹھنے کا ہوگا جبکہ دو السابقون کیلئے قالین کا ذکر ہے جو تھوڑے ہیں اور زیادہ عزت ملے گی۔

جو یہاں بیگم سے ڈر کر دوسرا نکاح نہیں کرتے ۔ حقائق کا پتہ چلے تو نہ صرف عورتوں بلکہ مرد وں کی طبیعت کا بوجھ ہلکا ہوگا۔ مولانا طارق جمیل کو چین کی120فٹ کی حوردلادیں جس کی پنڈلی کو نہ پہنچ سکے۔بہت افسوس! دنیا کی عورت کی توہین کرکے اس جنت میں جائے گا ؟جو اسی ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔

وطلح منضود ”اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے”۔ (سورہ الواقعہ آیت:29)

 

ومن دونھما جنتان(الرحمن62)

” اور ان دو کے علاوہ دوباغ اور ہونگے”۔ یہ درجہ اول السابقون کیلئے ہیں۔

”دونوں گہرے سبز ہونگے”۔ کانیگرم اور گومل کے دھتورے میں سبز رنگ کا فرق ہے۔ ” دونوں میں دو فوارے ”۔ ” دونوں میں پھل، کھجور یں اور انار ”۔
درجہ اول میں فوارے اور انار لیکن درجہ دوم میں چشمے ،بیر اور کیلے کاذکر ہے۔

فیھن خیرات حسان ” ان میں خصوصی خوبصورت چیزیں ہوں گی”۔

جیسے عمران خان کیلئے سعودی عرب نے خصوصی گھڑی تیار کرکے دی تھی جس کو بیچنے پر عدالتوں سے سزا ہوئی۔ ایک وہ چیز ہوتی ہے جو کمپنی مارکیٹ میں بیچنے کیلئے بناتی ہے۔ جس کے ڈبہ پیک ہونے کا ذکر دوسرے دوباغوں میں کیا گیا۔ دوسری ایسی چیز جومارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتی ہے۔ سورہ واقعہ میں بھی حفظ مراتب کے لحاظ سے السابقون اور اصحاب الیمین کے باغوں میں فرق ہے ۔

اگر مقربین کیلئے خاص اہتمام ہرچیز منفرد ہو۔ گاڑی، کراکری، موبائل اور الیکٹرانک والیکٹرک کی چیزوں سے عزت افزائی ہوگی جو مارکیٹ میں نہ ہونگی۔

حور مقصورات فی الخیام ” حور خیموں میں ہوں گی”۔ خیموں میں سردی کا پھل ”مالٹا ”موسم گرما میں اورگرمی کا پھل ”آم” سرمامیں مصنوعی ٹمپریچر سے پکتاہے۔ہائی بریڈ پھل یاقوت و مرجان کی طرح جھلکتا ہے۔ مشین سے کٹتا، پیک ہوتا ہے اسلئے ہاتھ نہیں لگتا۔ یہ عورتوں کی توہین ہے کہ ان کو دوسروں کے ہاتھ میں استعمال ہونے والیاں کہا جائے۔ قرآن کی درست تفسیر کی جائے ۔

حور کے معانی

1: ہلاکت۔
2:کمی:انہ فی حوروبور اسے کوئی اچھا کام نہیں آتا۔ وہ گمراہی میں ہے۔ الباطل فی حور : باطل ہمیشہ نقصان میں ہے۔

نبی ۖ نے پناہ مانگی ”کور کے بعد حورسے” خوشحالی کے بعد بد حالی سے۔ انہ فی اہلہ مسرورًاOانہ ظن ان لن یحور ”بیشک وہ اپنے اہل میں خوش تھااور سمجھا کہ خوشحالی کے بعد بدحال (حور) نہ بنے گا”۔(سورہ الانشقاق) قدرتی کے مقابلے میں ہائی بریڈ پھل اور جانور کی حالت بدلی ہوئی ہوتی ہے۔
”قالینوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو سبز اور یونیک نفیس ہوں گی”۔

سورہ رحمن آیت76تک دو اعلیٰ درجہ کے جنتوں (باغوں) کا ذکر ہے۔

عربة:

جمع عُرُب ، عربیات ۔ عربة عربی میں یوٹیوب پر کلک ۔تمام اقسام کی گاڑیاں ۔

عربًااترابًا

”قد کے برابر گاڑی”۔ عورت کیلئے عربة کا لفظ نہیں تھا۔ تفسیر ی اقوال تأویلات ہیں، عرب نے اپنی نقل مکانی پر گاڑی کا نام عربة رکھا۔ دنیا کے جنت کی طرف دھیان نہیں گیا اسلئے تفسیر نہ سمجھ سکے۔ گاڑی اور دنیا کی جنت نہیں تھی توآیت متشابہات میں تھی۔ عربة گاڑی سے تفسیر زمانہ نے کردی۔ الرحمن علم القرآن۔ رحمن نے قرآن سکھایا۔قرآنی معجزہ ہے۔ شاہ ولی اللہ کو قرآن کے ترجمہ پر واجب القتل کہاپھر انگریز کی ٹانگوں میں لٹکے۔ فقہاء نے محکم آیات کو اجنبی بنادیا ۔ غامدی بھی فراہی اور اصلاحی کی بکواسات میں لگاہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اذا وقعت الواقعةOلیس لوقعتھاکاذبةOخافضة الرافعة….وکنتم ازواج ثلاثةO(سورہ الواقعہ) جب واقع ہونے والی واقع ہوگی ۔نہیں اسکے واقع ہونے کا جھوٹ۔ پست کرنے والی بلند کرنے والی…اور تم تین قسم پر ہوگے۔

مؤمن کو قیامت کی خاص چیز دنیا میں کافرکو چھوٹا عذاب

قیامت سے پہلے دنیا میں مؤمن کیلئے

فرمایا:” اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کیلئے نکالی اور رزق میں سے پاک چیزیں۔کہہ دو کہ ایمان والوں کیلئے دنیا میں بھی وہ ہے جو اللہ نے قیامت کے دن کیلئے خاص کیاہے۔ اسی طرح ہم آیات کو تفصیل سے جاننے والی قوم کیلئے بیان کرتے ہیں”۔(اعراف:32)
1:جو زینت اللہ نے اپنے بندوں کیلئے نکالی ہے اس کو حرام قرار دینا۔
2:ایمان والوں کیلئے دنیا میں بھی وہ ہے جو اللہ نے قیامت کیلئے خاص کیا ہے۔ قرآن کی منظر کشی کو قارئیں بہت شوق اور دلجمعی سے ملاحظہ فرمائیں۔

 

بڑے عذاب سے دنیا میں چھوٹا عذاب

فرمایا:” اور ہم چھوٹا عذاب بڑے عذاب سے پہلے ان کو چھکائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ رجوع کرلیں۔ اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس کو اس کے رب کی آیات سے سمجھایا جاتا ہے پھر وہ اس اعراض کرتا ہے۔ بیشک ہم مجرموں سے انتقام لیں گے۔(سورہ سجدہ آیات:21اور22)
”اور کہتے ہیں یہ فتح کب ہوگا اگر تم سچے ہو؟۔ کہہ دو کہ فتح کے دن کافروں کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے گا۔اور نہ ان کو مہلت ملے گی۔ پس ان سے کنارہ کرو اور انتظارکرو ، بیشک وہ بھی انتظار کررہے ہیں”۔(سورہ سجدہ29،30)
٭٭

 

تین اقسام: السابقون، اصحاب المیمنہ اور اصحاب المشأمة

 

جنت والوں کی دواقسام سے کون مراد؟

پہلی قسم سبقت لے جانے والوں کی ہوگی جو پہلوں میں بہت ہوں گے اور آخر والوں میں تھوڑے ہیں۔ پہلوں میں السابقون الاولون مہاجر وانصار تھے جن کی گواہی قرآن میں اٹل ہے۔ آخر میں طرز نبوت کی خلافت قائم کرنے میں پہل کرنے اور اسلام کی نشاة میں اپنا کردار ادا کرنے والے اجنبی ہوں گے۔
دوسری قسم دائیں جانب والوں کی ہوگی جن میں فتح مکہ کے بعد صحابہ کرام کی بہت بڑی تعدادکے علاوہ تابعین، تبع تابعین اور علمائ، محدثین اور نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور آخرین میں بھی دائیں جانب والوں کی بڑی تعداد ہوگی۔

 

اصحاب المشأمة سے کون مرادہیں؟

پہلے والوں میں ظالم حکمران اور وہ مذہبی طبقات جنہوں نے انسانیت کیلئے دنیا کو جحیم بنادیا تھا۔ جو نبی اکرم ۖ کی دعوت حق اور عالم انسانیت کے منشور کی مخالفت اور تکذیب کرتے تھے اور جنہوں نے خلافت راشدہ کے عادلانہ نظام کو بدل ڈالا تھا۔ آخر والوں میں تمام ظالم وجابر حکمران، لوگوں اور دنیا پر جبر وظلم کے نظام کو مسلط کرنے والے اور انکے آلۂ کار دہشت گردوں کا ٹولہ، سیاست وتجارت کے لبادے میں مافیاز کا کردار ادا کرنے والے منشیات فروش، انسانیت کے دشمن اور اپنے مفادات کیلئے سب کچھ کرگزرنے والے سب شامل ہیں۔

 

السابقون الاولون کیلئے دنیا میں ولدان و حور عین

” لگے تختوں پرآمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے۔ ان پر24گھنٹے لڑکے طواف کرینگے۔ گلاس اور جگ اور خاص قسم جوس کے پیالے لئے ۔ نہ سر میں درد ہوگا اور نہ دماغ چکرائیگا۔ پھل جو چنیں۔ پرندوں کا گوشت جو چاہیں۔ بڑی آنکھوں والی بیویاں۔جیسے بطور مثال وہ چھپے موتی ہوں۔یہ بدلہ ہوگا بسبب وہ جو عمل کرتے تھے۔ نہیں سنیں اس میں لغو اور نہ گناہ۔ مگر سلام سلام کہنا”۔ (سورہ الواقعہ:آیات:15تا26)

فرمایا:” ” بیشک جو پرہیز گار ہیں وہ باغات اور نعمتوں میں ہونگے۔ محظوظ ہونگے جو اللہ نے ان کو عطا کیا اور انکے رب نے ان کو جحیم کے عذاب سے بچایا ۔ کھاؤ اور پیو مزے لیکر بسبب جو تم نے عمل کیا۔ تکیہ لگائے چارپائیوں پر قطاروں میں ہونگے۔ ان کا بیاہ کرینگے بڑی آنکھوں والیوں سے اور جنہوں نے ایمان لایا اور انکے پیچھے چلے ان کی اولادیں ایمان کیساتھ۔ ان کی اولاد کو بھی ہم نے ملادیا اور ہم نے انکے عمل میں کچھ کم نہ کیا۔ہر شخص اپنے کئے کیساتھ وابستہ ہے اور ہم نے مدد کی ان کی پھلوں اور گوشت سے جو وہ چاہتے تھے۔ وہ ایکدوسرے سے پیالہ پرلڑیں گے جس میں نہ لغو بات ہوگی اور نہ گناہ اور ان پر غلمان چکر لگائیں گے خدمت کیلئے جیسے چھپے موتی ہوں۔ وہ ایک دوسرے سے متوجہ ہوکر آپس میں پوچھیں گے ۔ کہیں گے کہ بیشک ہم اس سے پہلے اپنے خاندان میں مشکلات میں تھے تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں گرم لو کے عذاب سے بچایا ۔ بیشک ہم اس سے پہلے اسی کو پکارتے تھے۔ بیشک وہ نیکی کرنے والا رحم والا ہے۔ پس نصیحت کرتے رہیے! آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیںاور نہ مجنون ۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ شاعر ہے ،ہم اس پر گردش کے منتظر ہیں۔کہہ دو کہ انتظار کرو،ہم بھی ساتھ منتظر ہیں۔ کیا یہ انکا خواب ہے یاوہ سرکش قوم ؟۔ یا کہتے ہیں کہ یہ اس نے گھڑا ؟۔ بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ پس اس جیسا کلام لائیں اگر سچے ہو تم ۔ (سورہ طور:17تا35)

امام حسین کی حوراء شہربانو اور اس کی بہنوں زوجہ محمد بن ابی بکر وزوجہ عبداللہ بن عمرکی طرح فارس و روم کی فتح کے بعد صحابہ کرام اور ان کی اولاد سے اس حور وقصور کا وعدہ پورا ہوا جس کا علامہ اقبال نے شکوہ کیا اور پہلے دور میں غلامی کا دور دورہ تھا لیکن آپ دیکھ لو غلمان اتنے خوش تھے جیسے دنیا کے جہنم سے جنت آئے ہوں۔اور یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ حضرت عمر نے پابندی لگائی کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح نہیں کیا جائے اسلئے کہ وہ ”حور عین” تھیں اور عرب کی اپنی عورتوں سے پھر کون شادی کرتا۔ اب عرب کی عورتوں میں بھی خوبصورت حور عین ہیں ۔ہمارا ایک ساتھی عرب سے رشتہ مانگ تھا تو نہیں مل رہا تھا تو اس نے کہا کہ پھر تم پیش کروگے۔
اسلام کی نشاة اول میں ان کی گوشت سے مدد کی گئی جیسا ایک مچھلی پورے مہینے کھائی اور بعد میں رزق کی فروانی ہوئی۔اسلام کی نشاة ثانیہ میں السابقون الاولوں بہت کم ہونگے اور ان کو پرندوں کا گوشت اور مرضی کا پھل ملے گا۔خدمت باوردی اسٹودنٹ24گھنٹہ اپنی تنخواہ اور خوشی سے کرینگے۔جیسا دنیا میں رواج ہے۔

 

اصحاب الیمین کیلئے دنیا میں کیا انعامات ہوں گے ؟

” وہ بے کانٹوں کے بیروں میں اور تہ بہ تہ کیلوں میںاورلمبے سائے میں اور پانی کے آبشاروں میںاور بہت سارے پھلوں میںجو نہ ختم ہوں گے اور نہ ان پر روک ٹوک ہوگی اور اونچے فرشوں میں۔بیشک ہم نے ان چیزوں کی خاص نشو ونما کی اور ان کو بالکل نیا کردیا۔ ایسی سواریاں جو قد کاٹ کے بالکل برابر ہوں گی”۔ (سورہ واقعہ28تا37) ۔ نعمتوں کی فروانی کانظارہ ہو گا۔ جب شوہر اور بیوی خوشحال ہوتے ہیں تو بڈھے بھی جوان بن جاتے ہیں۔ میک اپ اور بہترین غذائیت سے بھرپور کھانے سے انسان کی دنیا بدلتی ہے۔
اب تو بڑے لوگوں کو پرندوں اور جنگی جانور مارخور، ہرن اور بارہ سینگا وغیرہ کا گوشت ملتا ہے جبکہ متوسط اور غریب طبقات فارمی مرغیوں کے گوشت کو بھی ترستے ہیں۔ اصحاب الیمین کی بہت بڑی تعداد ہوگی ۔دنیا میں انقلاب عظیم آئے گا تو وائلڈ لائف جنگلی حیات کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔ بھارت میں گائے کا گوشت نہیں کھاتے ۔ درندوں اور چرندوں کی بہتات ۔ جبکہ کئی ممالک میں درندے انسانوں سے مانوس ہوچکے ہیں۔ انقلاب عظیم کے بعد دنیا جنگلی حیات کے تحفظ کی وجہ سے درندوں ، چرندوں اور پرندوں سے آباد ہوگی۔ ایسی ترتیب سے شہروں، باغات، کھیتوں اور جنگلات کو آباد کیا جائیگا کہ روئے زمین پر ماحولیاتی آلودگیوں کا مکمل خاتمہ ہوجائے اور سائنسی ایجادات کو تباہی ، انسانوں کو غلام بنانے اور غلط مفادات حاصل کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جائیگا نفع بخش چیزیں بنانے کیلئے ماہرین اور ماہرات کو جدید ترین ایجادات پر لگایا جائے گا۔
جب ہندو، یہود، نصاریٰ ، بدھ مت، پارسی اور دنیا بھر کے مذاہب وممالک کو قرآن کے عظیم منشور کا پتہ چل جائے گا تو طرزنبوت کی خلافت قائم کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔ انشاء اللہ العزیز القدیرالمتکبر

چین سے افغانستان اور پاکستان تک دریائے سندھ میں گند کا ایک قطرہ بھی نہیں گرنے دیا جائے گالیکن ضرورت کے مطابق اس پر بڑے ڈیم اور پانی کے ذخائر ترتیب دئیے جائیں گے۔ بجلی اور پانی کی فروانی کا فائدہ یہ ہوگا کہ روشنی و ہوا کی طرح محنت کش طبقات سمیت سب کو بنیادی سہولیات فری ملیں گی۔ مزارعت اور سود کا خاتمہ کرکے رسول اکرم ۖ نے دنیا کو جنت بنانے کی بنیاد رکھ دی تھی مگر صحابہ کی خوشحال اولاد یزید اور قاضی شریح جیسے حکمرانوں اورقاضیوں نے اسلامی نظام عدل کو نفسانی خواہشات کی بھینٹ چڑھادیا تھا۔ سورہ الحدید میں لوہے کو جنگ اور نفع بخش قراردیا ۔مسلمان نفع بخش کیلئے استعمال کرینگے تو معاملہ بدلے گا۔ ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین ” کبھی ہوگا کہ کافرپسند کریں کہ وہ پہلے مسلمان ہوتے”۔
قیامت سے پہلے دنیا میں مؤمن کوجنت کا مزہ چکھائیں گے حفظ مراتب کا لحاظ ہوگا۔ تفصیل سورہ رحمن، الاعراف، الحدید،المرسلات اور دیگر سورتوں میں موجود ہیں۔” بیشک متقی لوگ چھاؤں اور چشموں میں ہوں گے اور پھلوں میں جو وہ چاہیں گے۔کھاؤ، پیو خوشی سے بسبب جو تم عمل کرتے تھے”(المرسلات41تا43)

 

اصحاب الشمال کیلئے دنیا میں کس قسم کا جہنم بنے گا؟

” وہ گرم ہواؤں اور گرمی میں ہونگے اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہونگے۔ جونہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی عزت دینے والا۔ بیشک اس سے پہلے خوشحال تھے اوربڑی کرپشن پر تسلسل سے لگے تھے”۔ ( الواقعہ:42تا45)

جنرل اختر کے بیٹوں، نوازشریف، زرداری ، مولانا فضل الرحمن ، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن وغیرہ تمام ریاستی اداروں، حکمرانوں، سیاستدانوں اور مذہبی طبقات کی خوشحالی غریب اور پسے ہوئے طبقے کی تباہی کا سبب ہے توپھر ان کا کڑا احتساب کرکے صدائے جہنم کی تخریب کاریوں سے انسانیت کو تحفظ دیا جائے۔
یوم نقول لجھنم ھل امتلأت و تقول ھل من مزیدO(سورہ ق آیت:30)

ترجمہ:”اس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تم بھر گئی ہو؟۔ اور وہ کہے گی کہ کیا مزید اور بھی ہیں”۔
مسلمانوں کی زکوٰة ،خیرات، برطانیہ ، امریکہ ، جاپان ، سعودی عرب ، دوبئی اور دنیا بھر کی امداد بھی تعلیمی اداروں سے لیکر پولیو کے قطروں تک تمام شعبوں میں کرپٹ لوگوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ سورہ واقعہ کی مندرجہ بالا آیات میںدنیا کا عذاب ہے اور پھر اسکے بعد قیامت کے عذاب کا ذکر الگ سے ہے۔ فرمایاکہ ” کہہ دو کہ پہلے گزرنے والے اور بعد والے۔ضرور اکٹھے ہیں ایک معلوم دن میں ایک جگہ پر ۔پھر بیشک تم اے گمراہو! جھٹلانے والو !۔ضرور کھاؤگے زقوم کے درخت سے ، پھر اس سے پیٹ بھرنے ہوں گے۔ پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا ۔پھر پینا ہوگا اُونٹوں کا سا۔ یہ قیامت کے دن ان کی مہمانی ہوگی” ۔(سورہ واقعہ49تا56) ”بیشک یہ قرآن عظیم ہے۔ تکوینی کتاب میں ۔ نہیں چھوتے اس کو( عمل نہیں کرتے) مگر پاک لوگ۔ رب العالمین کی طرف سے نازل ۔ کیا تم اس بات میں مداہنت کرتے ہو؟۔ اور تم بناتے ہو اپنی روٹی روزی؟۔ بیشک تم ہی جھٹلارہے ہو۔ پس جب پہنچے گی تمہارے گلوں تک اور اس کو تم دیکھو گے۔(سورہ واقعہ77تا84)

”پس اگر مقربین میں سے ہیں۔(توا ن کے کیا کہنے) راحت، خوشبو اور عیش کے باغ میں ہوں گے۔ اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے ہیں تو تیرے لئے سلام اصحاب الیمین کی طرف سے( نبیۖ پر درود اور سلام کی شاندار محفلیں جمائیں گے۔اسلئے ان کی برکت سے دنیا میں جنت مل جائے گی)پس اگر وہ جھٹلانے والوں میں سے ہیںتو ان کا ٹھکانہ گرمی میں ہوگااور جحیم میں پہنچنا ہوگا۔بیشک یہی حق الیقین ہے۔ پس اپنے رب کی پاکی بیان کیجئے جو بہت عظیم ہے”۔(سورہ واقعہ88تا96)۔ یہ تینوں طبقات کے احوال ہیں ۔
”کھاؤ اور چند روزہ فائدہ اُٹھاؤ۔بیشک تم ہی مجرم ہو۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی ہے۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو(حق کے سامنے جھکو) نہیں جھکتے تھے۔اس دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی ہے۔ پس اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیںگے”۔ المرسلات:46تا50) قرآن کی آیات میں دنیا کے اندر عذاب کا تصور الگ دیا گیا ہے اور آخرت میں الگ۔ جو لوگ تدبر کرکے بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلمان، یہودی، عیسائی، صابئین جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے قرآن میں ان کی کامیابی کی خبر

بیشک جو لوگ مسلمان ہیں اور یہودی ہیں ، عیسائی ہیں صابئین ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور درست عمل کئے توان کیلئے اجر ہے انکے رب کے پاس اور نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غم گیں ہوں گے۔(البقرہ:62)

دنیا کے بوجھ، طوق اور سلاسل سے چھٹکارا قرآن دلاتا ہے

 

رسول اللہۖ کی صفات

”اورجو اتباع کریں رسول نبی اُمی کی ،جسے تورات اور انجیل میں لکھاہوا پائیں ان کو معروف کا حکم دیتاہے اور منکر سے روکتا ہے اور حلال کرتاہے ان کیلئے پاک چیزیں ۔حرام کرتا ہے ان پر خبائث اور اُتارتا ہے ان کا بوجھ اور انکے طوقوں کو جو ان پر پڑے ہیں پس جو اس پر ایمان لائیں اور توقیر کریں اور مدد کریںاور نور کی اتباع کریں جو اسکے پاس ہے تو یہی فلاح پائیں گے”۔(الاعراف:157)
نبی ۖنے جو بوجھ و طوق اتارے اور معروف ومنکر اور حلال وحرام کی تمیز دی۔ وہ کیا کیا تھے؟
سرمایہ دارانہ جاگیردارانہ نظام بوجھ تھا۔ سود کی حرمت آئی تو نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا ۔ غلام ولونڈیوں کی انڈسٹری کا خاتمہ ۔ عیسائی طلاق میں بے اختیار۔ یہود حلالہ کا شکار ۔ نبیۖ نے سارے بوجھ ،طوق اور زنجیروں کو اتار پھینکاتھا۔
آج سودی نظام سے امریکہ، بھارت، جاپان یورپ سمیت دنیا بھر ممالک کی ٹیٹیں نکل رہی ہیں اور ٹرمپ گدھا سمیت سبھی حکمران پاگل ہوگئے مگر جن لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں انکو ذرہ برابر بھی ریلیف نہیں مل رہا اسلئے بوجھ اُتارنا ہوگا۔

 

قرآن عظیم کی یہی صفات

” کیا انسان پر وہ لمحہ آیا کہ جب قابل ذکر چیز نہ تھا؟۔بلاشبہ ہم نے اسکوملے نطفہ سے پیدا کیا۔ امتحان میں ڈالا تو سننے دیکھنے والا بنایا۔ہم نے اسکو راہ دکھائی کہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔ بلاشبہ ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں، طوقیں اور سعیر تیار کیا ہے ۔ بلاشبہ متقی ایسے کپ سے پیئیں گے جوکافوری مزاج ہوگا ڈیم ہوگا جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اوربہ آسانی نہریں نکالیںگے”۔ (الدھر1تا6)
سعیر:ظل کی ضد ہے۔ جیسے بغیر چھت رُلنا۔ حاکم اس معنی میں اللہ کا سایہ اور سعیرعذاب ہے۔ صحابہ نے بوجھ ، طوق اور زنجیروں سے آزادی لی۔ مذہبی طبقہ نے پھر وہیں لاکھڑا کیا۔ انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے خلافت عثمانیہ ، مغلیہ سلطنت ، احمد شاہ ابدالی، ایران ، شاہ ولی اللہ سے برصغیر پاک و ہند اور دنیا پر قبضہ کرلیاتھا۔ شاہ عبدالعزیز نے ہند کو دارالحرب کہا تو علماء نے اس پر سودکو جائز قرار دیا۔ مفتی تقی عثمانی نے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر جواز کا لکھا تو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے ناجائز قرار دیا لیکن ثبوت کیلئے فتاویٰ سے کوئی دلیل نہ ملی تومجوس کا ایام نوروز میں تعویذ لٹکانے کا حوالہ دیا۔
سورہ الدھر میں دنیا کی زندگی ہے۔ ناشکری کا عذاب یہیں ملا۔ نیٹو افواج نے20سالوں میں افغانستان میں اتنی مسلمان خواتین کی عزتیں نہیں لوٹی ہیں جتنی حلالہ سے پاکستان میں لٹی ہیں ۔کیا یہی شکنجہ، زنجیر، طوق اور سعیر نہیں؟۔ سستی بجلی نہیں بناسکتے، ایران سے سستاتیل وگیس نہیں خرید سکتے، غزہ کی مدد نہیں کرسکتے،دہشتگردی کے شکار ہیں!۔ مودودی نے تفسیر لکھی کہ جنت میں نہریں پاوڑے سے نہیں بلکہ آسانی سے نکالی جائیں گی۔ حالانکہ سورہ الدھرمیں دنیا کی نہریں آسانی سے نکالنے کی بات ہے۔ اب تو ایکسویٹر بھی آچکے ہیں۔فرمایا:
”اور اپنی نذروں کو پوری کرینگے اور اس دن کا خوف ہوگا جس کا شر پھیلا ہوا ہوگااور کھانا کھلائیں گے اس کی پسند پر مسکین، یتیم اور قیدی کو ۔ ہم تمہیں کھلاتے ہیں اللہ کیلئے ہم تم سے بدلہ (ووٹ) نہیں چاہتے اور نہ شکریہ (زندہ باد ) ”۔(الدھر7تا9)
آیات میں اہل جنت کی صفات ہیں جن کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت میں یتیم، مسکین ،قیدی کہاں ہیں؟۔ قرآن پرعمل ہوگیاتوطوق، زنجیروں اور دنیاوی سعیرکی جگہ دنیا میں ہمیں جنت ملے گی۔ اگر قرآن وسنت سے عورت کے حقوق بحال کئے ۔ غلط فقہی مسائل کا بوجھ ہٹادیا تو انقلاب آجائے گا۔

***

دنیا میں جنت ،دوزخ اور اعراف کا منظر (سورۂ الاعراف)

 

منافرت کا دنیامیں خاتمہ

”اور جو لوگ ایمان و درست عمل والے ہیں۔ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں ٹھہراتے۔ یہی اہل جنت ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ ہم نے نکال دی انکے دلوں سے انکے سینوں کی رنجش۔ انکے نیچے نہریں بہتی ہیں اور کہیں گے کہ اللہ کیلئے تمام تعریفیں ہیں جس نے اس دن کیلئے ہمیں ہدایت دی اورہم یہ پانے والے نہ تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔ بیشک ہمارے رب کے رسول حق کیساتھ آئے ۔ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا باغ ہے جس کے تم وارث بنائے گئے بسبب جو تم عمل کرتے تھے۔(سورہ الاعراف42،43)
خلافت قائم ہوگی تومذہبی منافرت ختم ہو گی۔ تمام اچھے لوگوں کو باغات کاوارث بنادیا جائے گا ۔ ان کے دلوں سے اسلام کی نفرت بھی نکل جائے گی اور مسلمانوں کی آپس میں فرقہ وارانہ منافرت بھی ختم ہوجائے گی۔ دہشتگردی اسی نفرت کا نتیجہ ہے۔ مذہبی لبادے والے اچھے انسان بن جائیں گے۔
البقرہ:آیت62میں صائبین کی طرح مجوسی، بدھ مت، ہندو، سکھ ، پارسی اور سبھی داخل ہیں۔ تمام مذہبی عبادتگاہوں کی بلاتفریق قدرومنزلت ہوگی۔

تمام عبادتگاہوں کا تقدس

”اور جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا مگر وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ کرتا تو ضرورمسمار کر دی جاتیں مجوسی خانقاہیں،عیسائی گرجائیں، یہودی مدارس اور مسلمانوں کی مساجدجن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے اور بے شک اللہ ضرور مدد کرے اس کی جو اس کی مدد کرے گا۔بیشک اللہ بہت طاقت والا زبردست ہے”۔ (سورہ حج:40)
مذہبی دکان چلانے والاطبقہ اپنا اقتدار، عزت اوراوقات اسلئے کھو بیٹھا کہ بلاوجہ تعصبات کا بوجھ، معاشرتی طوق اور معاشی زنجیروں میں گرفتا ہے۔

 

اعراف والے ریاستی اہلکار

” جنت والوں نے آگ والوں کو پکارا کہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا وہ ہم نے حق پایا تو کیا تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا تو تم نے بھی حق پایا؟۔ وہ کہیں گے کہ ہاں ۔پس پھر ایک آواز دینے والا کہے گا کہ لعنت ہو ظالموں پر وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے۔ پس انکے درمیان پردہ حائل ہوگااور اعراف پر کچھ لوگ ہر ایک کو نشانیوں سے پہچانیں گے اور جنت والوں کو پکاریں گے کہ سلام علیکم ۔ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے اور وہ طمع رکھیںگے( ریاستی اہلکار ) اور جب ان کی نگاہیں آگ والوں کی طرف پھر جائیں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ظالموں میں سے مت بناؤ۔ اور اعراف والے کچھ لوگوں کو پہچانتے ہوں گے، کہیں گے کہ تمہارا اکٹھا ہونا کام نہیں آیا اور نہ جو تم تکبر کرتے تھے۔ کیا وہ یہی لوگ ہیں جن پر تم قسم کھاتے تھے کہ اللہ انہیں رحمت سے نہیں نوازے گا؟۔ (جن کو کہا گیا کہ ) جنت میں داخل ہوجاؤ ۔ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم کوئی غم کھاؤگے۔ اور آگ والے اہل جنت کو پکارکر کہیں گے کہ ہمیں کچھ پانی سے فیض یاب کردو۔یا جو اللہ نے تمہیں رزق سے بخش دیاہے۔ وہ کہیں گے کہ بیشک اللہ نے کافروں پر ان دونوں کو حرام کیا ہے۔ (سورہ الاعراف:44سے50تک)
خلافت قائم ہوگی توایک قرآن کی تصدیق اور دوسرا طبقہ تکذیب کرنے والا ہوگااور درمیان میں ریاستی اہلکار” اصحاب اعراف” ہوں گے۔ عراف حاسہ کے ذریعے پہچاننے والا۔ موبائل فون پر اصحاب جنت سے اصحاب نار کا رابطہ ہوسکے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن میں منافقین کے دو گروہ اور اس کا بالکل غلط ترجمہ

قرآن میں منافقین کے دو گروہ اور اس کا بالکل غلط ترجمہ

اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی ۔ اللہ نے فرمایا کہ
”من یطع الرسول فقط اطاع اللہ …
جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے منہ موڑا تو آپ اس پر نگہبان نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے قبول کیا۔ پس جب آپ کے ہاں سے نکلتے ہیں ایک گروہ ان میں سے وہ بیان کرتاہے جوتم نے بات نہیں کہی ہوتی ہے اور اللہ لکھتا ہے جو وہ راتوں کو کرتے ہیں۔ تو آپ ان کی پرواہ نہ کریں اور اللہ پر توکل کریں اللہ کی وکالت کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر اللہ کے علاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سارا اختلاف پاتے۔ اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آئے تو پھیلادیتے ہیں۔اور اگر وہ اس کو رسول یا اپنے سمجھدار افراد کی طرف لوٹادیتے تو وہ اس کو سمجھتے اور اس کا صحیح نتیجہ نکالتے۔اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو سب شیطان کے پیچھے چل پڑتے مگر کم لوگ۔
پس (اے پیغمبر ) اللہ کی راہ میں لڑو۔ آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مؤمنوں کو اُبھارو۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ کافروں کی لڑائی روک دے اور اللہ لڑائی میں بہت ہی سخت ہے اور سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے۔ جو کوئی اچھی سفارش کرے گا تو اس کو بھی حصہ ملے گا اور جو بری سفارش کرے گا تو اس کو حصہ ملے گا۔اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو اس سے اچھی دعا دویا پھر اس کا وہی جواب دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کاحساب رکھتا ہے۔اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،ضرور بضرور تم سب کو قیامت تک جمع کردے گااور اللہ سے زیادہ سچی بات کس کی ہوسکتی ہےَ،فما لکم فی المنافقین فیئتین پس تمہیں کیا ہوگیا ہے منافقین کے دوگروہ ہیں ۔اور ان کے اعمال کے سبب ان کو اوندھا کردیا ہے ۔ کیا تمہارا ارادہ ہے کہ ہدایت دو جس کو اللہ نے گمراہ کیا ہے اور جس کو اللہ گمراہ کرے تو اس کیلئے ہرگز کوئی راہ نہ پائے گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح اللہ کے احکام کا منکر بن جاؤ، پس سب برابر ہوجاؤ، پس ان میں کسی کو دوست مت بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کرجائیں۔ پس اگروہ اپنا منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں بھی تم ان کو پاؤ۔ اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مدد گار مت بناؤ۔ مگر وہ لوگ جو ایسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں کہ جن کا تمہارا اور ان کے ساتھ معاہدہ ہے۔یا وہ جو تمہارے پاس آتے ہیں اور ان کے دل تمہارے ساتھ لڑنے سے دل برداشتہ ہیں۔ یا اپنی قوم سے لڑتے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہے تو ان کو تمہارے اوپر مسلط کردے تو ضرور تم سے لڑیں۔پس اگر وہ تم سے ہٹ کر رہیں اور تم سے نہ لڑیں اور تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان سے لڑائی کا جواز نہیں رکھا۔ ستجدون اٰخرین … عنقریب تم دوسرے دیکھو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ جب کوئی آزمائش آتی ہے تو ان کواس میں اوندھاکردیا جاتا ہے پس اگر وہ تمہارا پیچھا نہ چھوڑیں اور تم سے صلح نہ کریں اور اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں تو ان کو بھی پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی پاؤ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے تمہیں کھلی حجت دی اور مؤمن کا یہ کام نہیں کہ قتل کریں مؤمن کو مگر غلطی سے اور جس نے مؤمن کو غلطی سے قتل کیا تو اس پر ایک مؤمنہ کی گردن آزاد کرنا ہے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہادیدے مگریہ کہ وہ معاف کردیں۔ پس اگر اس کا تعلق ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہو تو ایک مؤمنہ کی گردن آزاد کرنا ہے۔ اور اگر اس کا تعلق ایسی قوم سے ہے جس کے ساتھ آپ کا معاہدہ ہے تو وارثوں کو خون بہااور مؤمنہ کی آزادی ہے۔پس اگر وہ نہ پائے تو دوماہ مسلسل روزے رکھنے اللہ کی طرف سے توبہ ہے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے اور جس نے جان بوجھ کر مؤمن کو قتل کیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اور اس کیلئے بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ نہیں برابر ہوسکتے مؤمنوں وہ لوگ جن کوتکلیف نہیں پہنچی اور اللہ کی راہ میں مجاہدین اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ اللہ نے فضیلت دی ہے مجاہدین کو ان کے اموال اور ان کی جانوں سے بیٹھنے والوں پر ایک درجہ۔ اور تمام کیساتھ اللہ نے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے فضیلت بخشی ہے مجاہدین کو بیٹھنے والوں پر بہت بڑے بدلے کی۔ ان کیلئے درجات ہیںاور مغفرت ہے اور رحمت ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک جن کی فرشتوں نے روح قبض کی جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ۔ فرشتے : تم کس کھاتے میں تھے؟۔ جواب: ہم زمین میں کمزور تھے۔فرشتے: کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی تو ہجرت کرتے اس میں۔ پس ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت برا ٹھکانہ ہے مگر وہ کمزور لوگ آدمیوں میں سے اور عورتیں اور بچے جو نکلنے کا ذریعہ نہیں رکھتے تھے اور راستہ پاتے تھے۔ پس ان لوگوں کو ہوسکتا ہے کہ اللہ معاف کرے اور اللہ معاف کرنے والا مغفرت والا ہے اور جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی تو وہ اس کے عوض بہت جگہ اور وسعت پائے گا۔ جو اپنے گھر سے مہاجر بن کر نکلا اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھر اس کوموت آگئی تو اللہ کے ہاں اس کا اجر طے ہے۔ اور اللہ غفور رحیم ہے”۔ (سورہ النسائ:80تا100)
منافقوں کی دو اقسام کا واضح ذکر ہے لیکن ترجمہ کرنے والوں نے مومنوں کے دوگروہوں قرار دئیے ہیں۔ جب قرآن کے متن کا درست ترجمہ نہیں ہوگا تو اس کی تفسیر کیسے درست ہوسکے گی؟۔
جب علماء نے خلع کو پیسوں کے ساتھ منسلک کیا ہو اور معاشرے میں عورت کو جانور کی طرح ڈیل کیا جاتا ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مومنہ عورت کی گردن چھڑانے کا اطلاق خلع پر بھی ہوگا؟۔بعض صورتوں میں بیوی کی غلامی کا تصور لونڈی سے بھی بدتر ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں قتل پر گردن کی آزادی کے حوالے سے قرآن کے بنیادی ترجمہ سے بھی علماء ، معاشرہ اور مسلم عوام آگاہ نہیں ہیں۔
ہمارے استاذ مولانا شیر محمد کے بارے میں ایک عالم دین نے بتایا کہ وہ مولانا فضل الرحمن پر ناراض ہوجاتے تھے کہ اپنی بیگم کو کہو کہ فون مت اٹھاؤ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عورت کی آواز کو بھی پردہ قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ۖ کی ازواج مطہرات جیسی حیثیت کسی کی نہیں تھی۔ جن کو حکم دیا گیا کہ اگر تمہیں خوف ہوتو نرم زبان میں بات مت کرو اسلئے کہ جن کے دل میں مرض ہے یا منافق ہیں تو وہ طمع کرنے لگ جائے گا۔ چونکہ رسول اللہ ۖ کا گھر ایک تحریک کی وجہ سے ہر قسم کے لوگوں کی آماجگاہ تھا تو ان کو خاص حکم دیا گیا۔ نبی ۖ کو حکم دیا گیا کہ ان کیلئے رحمت کے پر بچھائیں۔ چھوٹے لوگ بڑوں کی قدر بھی کرتے ہیں اور دباؤ کا شکار بھی ہوتے ہیں تو اللہ نے احکام بھی اس طرح کے جاری کئے ہیں۔
جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اگر خوف ہو کہ کسی کے دل میں مرض ہے تو اس کے ساتھ سخت لہجہ میں عورت کو بات کرنے کا حکم ہے۔ کھانے کے سلسلے میں جن افراد کو گھر میں لے جانے کی اجازت ہے یا پردے کے مسئلے میں جن لوگوں کا ذکر ہے کہ ان کو عورتوں سے دلچسپی نہیں تو پردہ بھی نہیں جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اصل مسئلہ شہوت کی نظریں ہیں جن میں برقع کے اندر بھی جھانکنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ قرآن کو سب سمجھیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآنی آیات کا درست ترجمہ اور تفسیر

قرآنی آیات کا درست ترجمہ اور تفسیر

یا ایھا الذین اٰمنوا لا تدخلوا بیوتًا حتٰی تستأنسوا وتسلموا علی اھلھا ذٰلکم خیر لکم لعلکم تذکرّونOفان لم تجدوا فیھا احدًا فلا تدخلوھا حتٰی یؤذن لکم وان قیل لکم ارجعوافارجعوا ھو ازکٰی لکم واللہ بما تعملون علیمOلیس علیکم جناح ان تدخلوا بیوتًا غیر مسکونة فیھا متاع لکم واللہ یعلم ماتبدون وماتکتمونO(سورہ النور:27،28،29)
ترجمہ”اے ایمان والو! تم داخل مت ہو گھروں میں یہاں تک کہ تم مانوس ہوجا ؤاور انکے اوراس گھروالوں پر سلام ڈال دو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اگر اس میں کسی کو موجود نہیں پاؤ تو پھر لوٹ جاؤ۔اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو پھر لوٹ جاؤ ،اس میں تمہارے لئے پاکیزگی ہے۔ اللہ جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں داخل ہو جن میں کوئی رہائش پذیر نہ ہو جن میں تمہارے لئے گزر بسر کے وسائل ہوں۔اور اللہ جانتا ہے کہ جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو”۔
جب تک مانوسی کا تعلق نہ ہو تو گھر میں داخلے سے روکا گیا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ وہی لوگ کسی کے گھر جاتے ہیں جن سے انسیت ہو۔ اگر یہ بات عام کردی جائے تو کہا جائے گا کہ بہت اعلیٰ اقدار کے تہذیب یافتہ لوگ ہیں۔ ان الفاظ کا ترجمہ اجازت کیا گیا ۔ قرآن کے مخالف عرب نے اعتراض کیا ہے کہ اذن کیلئے قرآن نے غلط لفظ استعمال کیا ہے لیکن اس حقیقت کو یہ لوگ نہیں جانتے کہ جہاں اجازت کی بات ہے تو وہاں اللہ نے اذن کی بات کی ہے اور یہ اجازت کی بات نہیں مانوس ہونے کی وضاحت ہے ۔ ترجمہ وتفسیر غلط کیا گیاہے۔
پھر اللہ نے وضاحت کردی کہ اگر مانوسی کے باوجود گھر میں کوئی نہ ہو تو داخل نہ ہو۔ اگر لوٹنے کا کہا جائے تو لوٹ جاؤ۔ جس رہائش گاہ میں کوئی نہ ہو ، جیسے کوہِ سلیمان کی چوٹی تحت سلیمان پر عوام نے سہولت کیلئے بنائی ہے اور جہاں لوگوں کا ایسا مہمان خانہ ہوتا ہے جس میں رہائش نہیں ہوتی اور استعمال کیلئے اجازت ہوتی ہے۔ تاکہ اس سے فائدہ اٹھائیں جو ان کیلئے جائز ہے۔ جائز اور ناجائز میں معمولی معمولی احساسات کا بھی پورا پورا ایمان اجاگر کرنے والا قرآن کسی کے گھر میں گھس کر اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کو کیسے بارود سے اڑاسکتا ہے؟ اس کو اسلام کا نام دینا اسلام ، انسانیت اور پشتو کی توہین ہے۔ :”اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو ”۔ تاکہ نتائج کے اعتبار سے انسان اپنا ہر عمل اللہ کیلئے کرے اور اگر ظاہر آیت پر عمل لیکن نیت خراب ہو تو بھی پکڑسے ڈرے۔
قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذٰلک ازکٰی لھم ان اللہ خبیر بمایصنعونOوقل للمؤمنات یغضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ماظھر منھا و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن ولا یبدین زنتھن الا لبعولتھن او اٰٰبآئھن اواٰباء بعولتھن ……(سورہ النور:30،31)
ترجمہ ” کہہ دو مؤمنوں کو کہ اپنی نظروں کو شہوت سے بچاؤ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔ اسی میں ان کیلئے زیادہ پاکیزگی ہے اور اللہ جانتا ہے جو وہ تدبیر کرتے ہیں۔اور مؤمنہ عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظروں کو شہوت سے بچاؤ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔اور اپنا حسن ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے شوہر کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھتیجوں کے سامنے یااپنے بھانجوں کے سامنے یا اپنی عورتوں کے سامنے یا اپنے معاہدہ والوں کے سامنے یا ان تابع آدمیوں کے سامنے جن کو عورتوں میں رغبت (شہوت )نہ ہو یا بچے کے سامنے جن کے سامنے عورت کے پوشیدہ راز عیاں نہ ہوںاور مٹک مٹک کر اپنے پاؤں نہ چلائیں کہ جس سے ان کی خفیہ زینت کا پتہ چل جائے۔ اور اللہ کی طرف سب توبہ کرواے مؤمنوں ہوسکتا ہے کہ اللہ تمیں کامیابی عطا فرمائے”۔
اللہ نے انسان کو اپنی نظریں شہوت سے بچانے کا حکم دیا جس کا تعلق پوشیدہ اور ظاہر ی جذبے سے ہے اسلئے مردوں اور عورتوں کو نظروں کیساتھ شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم ہے۔ حدیث ہے کہ آنکھ ،ہاتھ اور قدم بھی زنا کرتے ہیں۔ شہوت کی نظر اور شہوت سے چھونے کے الگ احکام ہیں۔نام نہاد مذہبی اقتدارکا ماحول ہو تو یہ حکم جانوروں، پرندوں اور حشرات الارض کو ہوسکتا ہے ، انسانوں کو نہیں۔ اللہ نے اپنے گھر کعبہ میں مخلوط ماحول کی ممانعت نہیں فرمائی بلکہ نماز، طواف، صفا و مروہ کی سعی میں مرد اور عورت شریک ہیں۔ مولانا منظور احمدمینگل کی مینگل بروزن بینگن والی ویڈیو بڑی مشہور ہے اور اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ والد ہ نے کہا کہ مردوں کے پیٹ پہلی مرتبہ مولویوں کے دیکھے ۔یعنی محترمہ نے بہت سارے مرد پہلے دیکھے اور بعد میں بھی لیکن اپنی نظروں کو غلط استعمال نہ کیا ۔ یہ اسلامی تعلیم ہے ۔ مفتی منظور مینگل قرآن کی درست تفسیر بیان کریں۔اپنی زبان میں احتیاط کریں۔ غلیظ بات کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اپنی ماں کو گالی نہ دو، صحابہ نے پوچھا اپنی ماں کو کون گالی دے گا تو نبیۖ نے فرمایا کہ کسی کو گالی دو گے تو تیری ماں کودے گا۔ انور مقصود نے مولانا فضل الرحمن کا کہا تھا کہ اس کی ماں نہیں صرف باپ ہے۔ مولانا نےPTIوالیوں کو تتلیاں قرار دیا اور کہا کہ انکے پاؤں کے تلوے گالوں کی طرح نرم ہیں اور گالوں اور پاؤں کے تلوؤں کو شہوت کی نظر سے دیکھا جائے تو پھر حسن نساء پر نظروں کی شہوت کا کیا عالم ہوگا ؟۔
نظروں اور شرمگاہ کی حفاطت مرد اور عورت کے اپنے اپنے اختیار میں ہے۔ اگر پشتون ، پنجابی، سرائیکی، بلوچ اور سندھی کا روایتی کلچر دیکھا جائے تو وہ اسلام کے عین مطابق تھا۔ سعودی عرب، ایران اور افغانستان نے مذہب کے نام پر قرآن نہیں بلکہ خود ساختہ مذہبی تصور مسلط کردیا۔ سینے پر دوپٹہ لپیٹنے کا رواج مسلمان نہیں ہندو، سکھ اور بدھ مت میںبھی تھا اور یہی اسلام کا تقاضا تھا۔ اردو میں عورت کے سینہ کو حسن النساء کہتے ہیں اور اللہ نے دوپٹہ سے اسی کو ڈھانکنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر غیرمحرم نہ ہو اور معمول کا ماحول ہوتو یہ بھی نہیں۔ اگر قرآن کا صحیح پیغام پہنچتا تو لوگ دل وجان سے قبول کرتے۔ اللہ نے مٹک مٹک کر چلنے سے روکا اور یہ بھی بالکل ایک فطری بات ہے۔
مولانا فضل الرحمن لوگوں کو بتائیں کہ شیطان نے کس بات پر قسم کھائی تھی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور وہ کونسا شجر نسب تھا ، جس کے قریب جانے سے اللہ نے حضرت آدم وحواء کو روک دیا تھا لیکن پھر شیطان نے ورغلایا اور اللہ نے اولاد آدم کو بھی اس سے دنیا میں روکا ہے جس پر جنت سے نکالا گیا تھا؟۔
فرمایا: ” اور اے آدم رہو آپ اور آپ کی بیوی جنت میں پس کھاؤ جیسے چاہو مگر اس درخت کے قریب مت جاؤ! توپھر ہوجاؤگے ظالموں میں سے پھر ان دونوں کو شیطان نے وسوسہ ڈالاتاکہ ظاہرہوںدونوں کو ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپی تھیںاور کہا کہ تم دونوں کے رب نے تمہیں نہیں روکا اس شجر سے مگر اسلئے کہ تم فرشتے بنو یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ اوردونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہارا خیرخواہوں ہوں پھر انہیں دھوکے سے مائل کیا پھر جب شجر کا ذائقہ چکھاان دونوں کو اپنی شرم گاہیں دکھ گئیں اور باغ کے پتے جوڑنے لگے اپنے اوپر تو ان دونوں کوانکے رب نے پکارا کہ کیا میں نے اس شجر سے تمہیں روکا نہیں؟ اور تمہیں نہیںکہا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔دونوں نے کہا کہ اے ہمارے ربّ! اگر آپنے ہمیں معاف نہیں کیا اور ہم پر رحم نہ کیا توضرور خسارہ پانے والوں میں ہوں گے۔فرمایا، پستی میں اترو، ایک دوسرے کے تم دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک خاص وقت ٹھکانہ ہے۔ فرمایا، اسی میں تم زندگی پاؤگے اور اسی میں مروگے اور اسی سے نکالے جاؤگے۔ اے بنی آدم! ہم نے اتارا ہے تم پر لباس جو تمہاری شرمگاہوں کوڈھانکتا ہے اور آرائش کرتا ہے اور تقویٰ کا وہ لباس بہتر ہے ۔یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔اے بنی آدم ! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالے جیسے تمہارے والدین کو جنت سے نکالا،ان سے انکے کپڑے اتراوادئیے تاکہ ان کو انکی شرمگاہیں دکھائے۔ بیشک وہ تمہیں دیکھتا ہے وہ اور اس کا جیسا جہاں تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیاطین کو ان کا حاکم بنایا جو ایمان نہیں لاتے اور جب یہ فحاشی کے فعل کا ارتکاب کردیتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی اس پر پایااور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا۔ کہوکہ اللہ نے فحاشی کا حکم نہیں دیا ۔ کیا تم اللہ پر و ہ بات کرتے ہو جوتم جانتے نہیں ؟۔ کہو کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا اور ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے کرو اورخالص فرمانبردار ہوکر اس کو پکارو۔جیسے تم تھے اللہ تمہیں ویسے لوٹائے گا۔ ایک گروہ نے ہدایت پائی اور دوسرے گروہ پر گمراہی ثابت ہوچکی۔انہوں نے شیطان کو اپنا حاکم بنا لیا اور خیال یہ کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں”۔(الاعراف:19تا30)
جماعت اسلامی کے بانی مولانا موددی نے پردہ پر کتاب لکھی اور گھر میں مرد باورچی اور کام کاج کیلئے کئی جوان رکھے تھے۔ سہیل وڑائچ نے ان کے بیٹوں کا انٹرویو کیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار نے بتایا تھا کہ بعض علماء اسلئے ان کو چھوڑ کر گئے تھے۔ اگر پاکستان میں سیاستدانوں کی بیگمات، بیٹیاں ، بہو اور سالیاں پارلیمنٹ میں آسکتی ہیں تو طالبان کو نہیں سمجھا سکتے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ختم کی جائے؟۔ جمعیت علماء ہند کی شریعت ہندوستان، جمعیت علماء اسلام کی شریعت پاکستان اور طالبان کی شریعت افغانستان میں الگ الگ ہے ؟۔
پردے کے احکام سمجھنے کیلئے مزید آیات ملاحظہ فرمائیں۔
والقواعد من النساء الٰتی لایرجون النکاحًا فلیس علیھن جناحًا ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمOلیس علی الاعمٰی حرج ولا علی الاعرج حرج ….
اور اپنی ریٹائرڈ کی عمر کو پہنچنے والی عورتیں جن کو نکاح سے کوئی رغبت نہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ کپڑے اتاریں اپنے سینوں کے ابھار کے بغیر اور اگر عفت کریں تو ان کیلئے بہتر ہے اور اللہ سنتا اور جانتا ہے۔ کسی اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے پر اور نہ مریض پر اور نہ تمہاری اپنی جانوں پرکہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر وں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں یا اپنے بھائی کے گھر وں یا اپنی بہنوں کے گھروں یا اپنے چچوں کے گھر وں یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں یا اپنے ماموؤں کے گھروں یا اپنے خالاؤں کے گھروںیا جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیںیا تمہارے دوست کے ۔ تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے کھاؤ یا الگ الگ ۔ جب گھروں میں تم داخل ہو تواپنے لوگوں پر سلام ڈالو جو اللہ کی طرف سے عمدہ مبارک دعا ہے۔اس طرح اللہ تمہارے لئے آیات کو بیان کرتا ہے ہوسکتاہے کہ تم سمجھ لو”۔ (النور60،61)
پوری دنیا میں یہ ایسے رشتے ہیں جہاں اس آیت کے عین مطابق عمل ہوتا ہے لیکن ترجمہ و تفسیر کو بگاڑنے کے عمل نے مسلمانوں کو قرآن سمجھنے سے دور کردیا ۔ بخاری کی روایت ہے کہ صحابی دلہا اور صحابیہ دلہن اپنے ولیمہ میں اپنے دوستوں کی خود خدمت کررہے تھے لیکن افسوس کہ بخاری نے اس کا عنوان دلہا ولہن کی خدمت کے بجائے برتن کے استعمال کا رکھ دیا ۔ چونکہ عوام میں اسلام پر عمل ہورہاتھا تو غلط مذہبی تصورات پرمسلم معاشرے میں کوئی عمل نہیں ہوسکا۔سید عبدالقادر جیلانی سے سیدکبیرالاولیائ اور میرے دادا پردادا اور والد بھائیوں تک کہیں شرعی پردے کا تصور نہیں تھا ، سب سے پہلے میں نے ہی اس پر عمل کیا اورپھر پتہ چلا تو سب کو حقائق سے آگاہ بھی کیا۔
ایک طرف مسلمان معاشرہ اتنا جاہل ہے کہ40سال قبل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ساس اور داماد کے ناجائز تعلق پر بے خبری کی وجہ سے فتویٰ پوچھا جاتا تھا تو دوسری طرف انتہائی بے غیرت لوگ محرمات بیٹی اور بہو پر بھی ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ آج علم، غیرت ، سزا وجزا کا قانون سبھی موجود ہوں تو معاشرہ سدھر سکتاہے۔ پہلے ایکPTVہوتا تھا پھرVCRآیا اور پھر کیبل آگیا اور اب فون سے فحاشی ہاتھوں میں پہنچ گئی جس کا علاج صرف اسلامی علم، روحانی وجسمانی ماحول اور سزا ہے۔
آج ترقی یافتہ معاشرے میں جو ماحول ہے تو لونڈیوں کی بہتات کا ماحول کیا اس سے کم تھا؟۔ جس کے کاندھے، ہاتھ بازؤں تک، پیٹ اور پیٹھ اور ٹانگیں بالکل ننگی ہوا کرتی تھیں۔
وانکحوالایامٰی منکم والصٰلحین من عبادتکم ….
” اورنکاح کراؤ اپنی طلاق شدہ وبیوہ عورتوں کا اور اپنے صالح غلاموں اور لونڈیوں کا ،اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ امیر بنادے گا اپنے فضل سے۔ اور عفت اختیار کریں جب تک نکاح نہ کرنے پائیں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے نواز کر مستغنی بنادے اور جو لوگ معاہدہ چاہتے ہیں اپنے غلاموں سے تو معاہدہ کرلو اگر اس میں تمہیں خیر نظر آئے۔ اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت (یا بدکاری) پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہیںتاکہ تم اپنے دنیاوی مفادات تلاش کرواور جس نے ان کو مجبور کیا تو اللہ ان کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے”۔ (سورہ النور32،33)
اس کا ترجمہ اور تفسیر بھی بہت غلط کیا گیا ہے۔ غلام کیساتھ بھی نکاح کی اجازت ہے اور اس کے پاس حق مہر نہیں ہوتا ہے لیکن معاہدہ لکھا جا سکتا ہے اور اس سے مال لینے نہیں اس پر مال خرچ کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ مولوی کو گنگا الٹی بہتی نظر آتی ہے۔پھر اس سے زیادہ بھیانک بات یہ ہے کہ اگر لونڈی پاک دامن رہنا چاہتی ہے تو اس کو بدکاری پر مجبور مت کرو۔ یہ اسلام نہیں بھڑوا گیری کا ماحول ہے اور اس سے بھی زیادہ بدتر ہے جو مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے حیدر آبادی ماموں کا بتایا تھا۔
یا نسآء النبی لستن کاحد من النساء ان تقین فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولن قولًا معروفًاOوقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرالجاھلیة الاولیٰ ……(سورہ الاحزاب32،33)
”اے نبی کی عورتو! تم دیگر عورتوں کی طرح نہیں اگر تمہیں خوف ہو توپھر نرم گفتگو مت کرو تواس کو طمع پیدا ہو جسکے دل میں مرض ہے اور معروف طریقے سے گفتگو کریں اور اپنے گھروں پروقت گزارو اور پہلی جاہلیت کی طرح ابھار مت اٹھاؤ ۔اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو ، بیشک اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندکو دور کردے اے اہل بیت اورتمہیں بالکل خوب پاک کردے ”۔
برج اٹھان کو کہتے ہیں۔ عورت کے سینے کا اٹھان حسن النساء ہے۔ دورجاہلیت میں سینے کو اٹھایا جاتا تھا۔ عرب ننگے طواف تک بھی کرتے تھے۔ جہاں ماحول خطرناک ہو تو پھرفرمایا:
یاایھا النبی قل ل لازاجک و بنٰتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلایؤذین ……….(سورہ الاحزاب:59سے63)
اے نبی اپنی ازاج ، بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہو کہ اپنی چادروں کا حصہ اپنے اوپر لٹکادیںیہ ادنیٰ ہے تاکہ پہچانی جائیں تو اذیت نہ دی جائے اور اللہ غفور رحیم ہے اوراگر باز نہیں آئے منافق اور جنکے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں افواہ پھیلانے والے پھر ہم تمہیں مسلط کرینگے تو پڑوس میں نہ رہیں گے مگر کم۔ ملعون جہاں ثقافت ان پر قائم ہوپکڑ ا جائے اور قتل کیا جائے۔ یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں بھی تھی جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کی سنت کو تبدیل نہیں پاؤگے۔لوگ آپ سے اس وقت کے بارے میں پوچھتے ہیں ،کہہ دو کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور آپ کو خبر نہیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ قریب آچکا ہو”۔
قیامت مراد نہیں بلکہ وہ انقلاب مراد ہے جب کوئی منافق ، دل کے مریض اور افواہیں پھیلانے والوں کو جہاں پایا جائے تو قتل کردیا جائے گا۔ فتح مکہ کے بعد لوگوں نے دیکھ بھی لیا تھا اور اسلامی انقلابِ عظیم کے بعد بھی دیکھ لیں گے۔ انشاء اللہ العزیز

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قال رسول اللہ ۖ المہدی منا اہل البیت یصلحہ اللہ فی لیلة قال ابن کثیر ان یتوب علیہ و وفقہ ویلہمہ و یرشدہ بعد ان لم یکن کذالک

قال رسول اللہ ۖ المہدی منا اہل البیت یصلحہ اللہ فی لیلة قال ابن کثیر ان یتوب علیہ و وفقہ ویلہمہ و یرشدہ بعد ان لم یکن کذالک
فرمایاۖ” مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوگا جس کی اللہ ایک رات میں اصلاح کریگا ”۔ ابن کثیر نے کہا :اس پر توبہ کریگا اور اس کو موافقت ، الہام اور رشددے گااور اس سے پہلے ایسا نہیں ہوگا۔

شجرہ سید محمد ابراہیم خلیل شہرکانیگرم وزیرستان بدست سید ایوب شاہ آغا بزبان سید محمد امیر شاہ بابا

سید ایوب شاہ عرف ”آغا”ابن سید احمد شاہ عرف ”گلا” بن سید محمد حسن شاہ عرف ”بابو” بن سید اسماعیل شاہ بن سید ابراہیم خلیل بن سید یوسف شاہ الخ سید شاہ محمد کبیرالاولیائ…سید عبدالقادر جیلانی۔
اسماعیل شاہ کا عرف ”پیاؤ شاہ ” تھا۔ بنوں میں کچھ سادات ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارا نسب کانیگرم کے سید پیاؤ شاہ سے ملتا ہے۔ اگر وہ ہمارے شجرہ کی طرف اپنی نسبت کا دعویٰ کریں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہمارے پاس شجرہ ہے اور مرکز میں بیٹھے ہیں۔ اسی طرح تنگی بادینزئی میں ”یوسف خیل” قبیلہ ہے اور اگر ان کا شجرہ ہمارے ”سیدمحمد یوسف شاہ ” سے ملتا ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ کسی اور یوسف کی اولاد ہیں تو ہمیں اس کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ سید احمد شاہ عرف گلا کا ایک ہاتھ مسلسل ہلتا رہتا تھا جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس نے اپنے باپ ”بابو” کی کرامت دیکھ کر کچھ بولا تو ”بابو” نے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے مارا تھا جس کی وجہ سے ہلنا شروع ہوا اور پھر وہ ہلتا ہی رہا کہ ”بابو” کے ضرب کی کرامت تھی اور اس کی نااہلی کا یہ ثبوت تھا کہ جس چیز کو چھپانا تھا تواس میں چھپاکر سنبھالنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ اسلئے کہا جاتا ہے کہ ”بابو” کا جانشین پھر سید محمد امیر شاہ بابا بن گئے۔ کانیگرم شہر انگریز کے خلاف بغاوت کا بڑا مرکز تھا۔1898ء میں انگریز نے جہاز سے پرچی کی شکل میں نوٹس گرائے تھے کہ شہر سے نکل جاؤ ،ہم اس کو بمباری کے ذریعے مسمار کریں گے۔
میرے نانا سلطان اکبر شاہ پوتا سبحان شاہ کا پورا خاندان اس وقت میران شاہ منتقل ہوا تھا اسلئے کہ ان کے انگریز سے اچھے تعلقات تھے ۔ میرے دادا سید امیرشاہ بابا کے خاندان نے انگریز کی دھمکی کا مقابلہ ثابت قدمی سے کیا تھا اور شہر خالی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ان کی ایک بہن پر جہاز کا گولہ بھی گرا تھا جو پھٹ نہیں سکا تھا لیکن زخمی ہوگئی تھیں اور فیروز شاہ کی والدہ تھیں۔ جس کے بیٹے اقبال شاہ اورعبدالرزاق شاہ ہیں۔پیر عبدالغفار شاہ ، حاجی لطیف ،پیر عبدالمنان اور پیر عبدالجبار شاہ فیروز شاہ کے پوتے ہیں۔ فیروز شاہ کے والد سید مظفر شاہ اور اس کا بھائی سید منور شاہ اپر کانیگرم میں چوروں کے خلاف لشکر میں قتل ہوگئے تھے۔ منور شاہ کا بیٹا نعیم اورپوتا پیرخالام تھا جسکے بیٹے عبدالرشید اور گوہر علی ہیں اور مظفر شاہ کے چار بیٹے تھے ۔میر محمد شاہ، فیروز شاہ،سرور شاہ ، پیر کرم حیدر شاہ۔مظفر شاہ مولانا عبد اللہ درخواستی کا پیر بھائی تھا۔ مولانا درخواستی نے پیر عبدالجبار کو دیکھ کرپوچھا تھا کہ مظفر شاہ کا کیا لگتا ہے؟۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ مظفرشاہ قبائلی جنگ میں قتل نہیں ہوا ہے بلکہ اس کو شہید کردیا گیا ہے۔
تیسرے بھائی صنوبر شاہ کا بھی قتل ہوا، جسکے تین بیٹے سلطان اکبر شاہ ، حسین شاہ اور محمد امین تھے۔ چوتھے سیداکبر شاہ کا انگریز کی کتابوں میںتذکرہ ہے اور یہ سید سبحان شاہ کی اولاد تھے۔ سید سبحان شاہ کی والدہ شاید کانیگرم کی سید اور دوسرے کزن یوسف خیل کی والدہ محسود ہوگی۔ سید اکبرشاہ کی بیوی کانیگرم کے ”خان” کی بیٹی تھی اور باقی تین بھائیوں منور شاہ، مظفر شاہ اور صنوبر شاہ سید حسن شاہ بابو کے داماد تھے۔ جن کے قتل کے بعد ان کی اولاد کانیگرم منتقل ہوگئی۔ سید حسن شاہ نے رہائش کیلئے مکانات اور کھیتی باڑی کیلئے زمینیں دیں اور ساتھ ساتھ اپنے نواسوں کو اپنا بھتیجا بھی قرار دیا اسلئے کہ کانیگرم میں پہاڑوں کی ملکیت کیلئے بہنوئی اور اس کی اولاد کو وراثت میں شریک نہیں کیا جاسکتا تھا اسلئے سید حسن شاہ کو سید سبحان شاہ بھائی اور اسکے بیٹوں کو بھتیجا قرار دینا پڑاتھا۔ لوئر کانیگرم کے تمام قبائل سید حسن شاہ سے عقیدت رکھتے تھے۔سب نے ایک ایک دو دو خاندان کو اپنے ساتھ قبول کیا ۔ سید حسن شاہ نے ”مرئی غلام قوم” کو بھی جائیداد کا حصہ دار بنادیا تھا۔یہ تو پھر نواسے اور جگر کا ٹکڑا تھے۔
سید سبحان شاہ کا ٹانک میں گھر تھا، حسین شاہ کی پیدائش جہاں1872ء کو ہوئی تھی۔ لارڈ میکالے کا سید سبحان شاہ سے اچھا تعلق تھا اور پھر سید سبحان شاہ اور سید اکبرشاہ پر بھروسہ نہیں رہا تھا۔ شاید اسلئے کہ باقی رشتے سید حسن شاہ بابو کی بیٹیوں سے ہوگئے تھے؟جو انگریز کا حامی کبھی ہوہی نہیں سکتاتھا؟۔

تنگی بادینزئی کے یوسف خیل اور کانیگرم کے سبحان ویل کا شجرہ ملتا ہے؟۔سبحان ویل حقائق کی روشنی میں

تنگی بادینزئی کے یوسف خیل کے ہاں یہ بات ہے کہ وہ اور کانیگرم کے سبحان ویل دو بھائیوں کی اولاد ہیں۔ ان کا تعلق کانیگرم کے ”یوسف” سے ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ان کا تعلق شاہ محمد کبیر الاولیائ کی اولاد میں ”سید محمد یوسف ” سے ہے تو پھر یہ دونوں سادات ہیں مگر بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تنگی کے یوسف خیل اپنے آپ کو بادینزئی محسود سمجھتے ہیں اور اپنے عزیز سبحان ویل کو بھی بادینزئی سمجھتے ہیں۔ کانیگرم کے برکی قبائل اور سادات اور پیر بھی ان کو بادینزئی محسود سمجھتے ہیں اور علاقہ گومل کے پڑوسی اور عام لوگ بھی ان کو سادات نہیں سمجھتے ہیں۔ جب کانیگرم کے لاوارث ”خان” کی نوکری پرنقب لگائی تو شمن خیلMNAکل قبائلی ایجنسیوں نے مدد کی پھر مظفر شاہ و منور شاہ کواپر کانیگرم لشکر میں قتل کیا گیا اورصنوبر شاہ عورت کے الزام میں قتل ہوا۔
جب گومل میں جائیداد کی تقسیم ہوئی تو بڑے بھائی صنوبر شاہ کے تین بیٹوں کو پورے تین حصے دئیے گئے ۔ مظفر شاہ کے چار بیٹوں کو مجموعی طور پر چار کی جگہ دو حصے دئیے گئے اور یہ کہا گیا کہ ان بھائیوں کو بہنوں کی طرح شمار کیا گیا۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جائیداد کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ایک حصہ ایک بھائی کے چار بیٹوں کو دیا جاتا۔ دوسرا حصہ دوسرے بھائی کے تین بیٹوں کو دیا جاتا۔ اس تقسیم نے نفاق کی بنیاد ڈال دی۔ کیونکہ شریعت اور پشتو میں کہیں اس طرح کی تقسیم نہیں ہے۔
کمزور بھائیوں نے ہندو کی زمین آباد کی تھی تو طاقتوروں نے بندوق کے زور سے قبضہ جمالیا۔ کمزوروں کو اپنی حیثیت انتہائی تذلیل آمیز لگنے لگی اور طاقت کے گھمنڈ نے طاقتوروں کو کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ اپنے عزیزوں سے معمولی مفادات کی وجہ سے ہتک آمیز سلوک روا رکھنا اور طاقت کی بنیاد پر ان کو اپنے حقوق سے محروم کرنا بری بات ہے۔
پیر غفار ولد عبد الرزاق شاہ ولد فیروز شاہ جب کانیگرم سے بلدیاتی انتخابات کیلئے کھڑا کیا گیا تو ایک طرف برکی قبائل تھے جن کی بھاری اکثریت تھی اور دوسری طرف پیر تھے جو اقلیت میں تھے۔ وانا کی طرف سے جاتے ہوئے25کلومیٹر راستہ برفباری کی وجہ سے بند تھا۔ الیکشن میں بہت کم لوگ پہنچے اور پیروں کی عزت رہ گئی۔ ضیاء الدین اور منہاج الدین نے اپنے چاچا سعد الدین لالا کے ساتھ بیٹھ کر مجھے اور ڈاکٹر ظفر علی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ پیر غفار اپنی جائیداد اور گھر وغیرہ کو بیچے اور اس میں زور زبردستی کیساتھ اس کو مجبور کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے، پیر غفار ایڈوکیٹ نہ ہوتا تو اپنے بھائی کیلئے بھی برف میں اتنا لمبا سفر نہ کرتا۔ وہ ہر خدمت میں پیش پیش ہوتا ہے اور یہ بات اسلئے ریکارڈ پر لارہا ہوں کہ ضیاء الدین کہتا ہے کہ چاچا کا دماغ بھانجوں نے خراب کیا ہے جو اس کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیںلیکن یہ بات100%غلط ہے اسلئے کہ دوسرے مواقع پر بھی میں نے ماموں سعد الدین لالا کو روکا تھا تو اس نے میری بات بھی مان لی۔ نسل در نسل بیماری منتقل ہوکر فطرت بنتی ہے اسلئے حدیث میں آتا ہے کہ اگر پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو مان لو مگر انسان اپنی فطرت سے نہیں ہٹ سکتا۔
ہمارے اپنے عزیزوں کیساتھ رشتے چٹائی کے پتوں کی طرح بُنے ہوئے ہیں۔ ہماری فطرت تحمل و بردباری ہے ۔ہمارے عزیز سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے اجداد کی طرف سے مصلہ ملا ہے اور ان کے حصے میں بہادری اور تلوار آئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارا شجرہ نسب بھی دور دور تک نہ ملتا ہو اسلئے کہ حضرت امام حسن نے امیر معاویہ کیلئے خلافت کی مسند چھوڑ دی تھی اور امام حسین نے یزید کے خلاف کربلا میں جدوجہد کی تھی۔ ہم حسنی اور یہ حسینی سید ہوں۔ لیکن اگر ہمارے اجداد نے ان کے اجداد کو کانیگرم میں جائیداد کیلئے بالکل غلط اقدام کرکے اپنے بھتیجے کے درجے پر فائز کیا ہو تو ہم اپنے اجداد کی غلطی کا ازالہ کرنے کیلئے ہر ممکن طریقہ اپنا سکتے ہیں۔
جب ڈیورنڈلائن سے افغان بادشاہ نے کانیگرم میں قلعہ تعمیر کرنے کی اجازت مانگی تھی تو ہمارے اجداد نے کہا تھا کہ مشورہ کرکے جواب دیں گے اور پھر افغان بادشاہ کو منع کردیا تھا۔اب پاک فوج کو کانیگرم کی بڑی زمین دیدی گئی ہے اور وہ زبردستی بھی شہر کے مختلف جگہوں پر قبضہ کررہی ہے۔
جب جنگ بدر میں قریش مکہ کی طرف سے ہندہ کے باپ ، چاچا اور بھائی میدان میں نکلے تو دوسری طرف سے رسول اللہ ۖ نے اپنے دو چاچا حمزہ و حارث اور چچا زاد علی کو میدان میں اتارا۔ جب ان تین مسلمانوں نے تین کفار مکہ کو ٹھکانے لگادیا تو پھر عمومی جنگ چھڑ گئی لیکن اس کی وجہ سے کفار مکہ کے حوصلے پست ہوگئے اور اللہ نے فتح عطا فرمائی لیکن مسلمانوں نے قیدیوں کو فدیہ لے کر معاف کردیا۔ ان قیدیوں میں نبی ۖ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ عبد اللہ ابن اُبی نے اپنی قمیص دی تھی تو بدلے میں نبی ۖ نے عبد اللہ ابن اُبی کو اپنا کرتا کفن کیلئے دیا تھا۔ اللہ نے قیدیوں کو فدیہ لے کر معاف کرنے پر ناپسندیدگی کا بھی قرآن میں اظہار فرمایا ہے اور پھر فتح مکہ کے موقع پر نبی ۖ نے ابو سفیان کو نہ صرف معاف کیا بلکہ بہت بڑی عزت سے بھی نواز دیا۔
اگر ابوسفیان کی عزت افزائی نہ ہوتی اور عباس کو غزوہ بدر میں تہ تیغ کردیا جاتا تو اسلام پر بنو اُمیہ اور بنو عباس کا خاندانی قبضہ نہ ہوتا۔ اسلام کی نشاة ثانیہ درمیانہ زمانے کے مہدی کے ہاتھوں ہوگی۔ اس کی صفات میں مسلسل ضربوں سے باطل کو نہ صرف پریشان کرنا ہوگا بلکہ عام فطری اخلاقی حدود سے نکل کر مجرموں کی وہ نقاب کشائی کرے گا جس کو لوگ عام طور سے گناہ اور بداخلاقی سمجھ لیں گے اور واقعتا یہ نیکی بھی نہ ہوگی۔ اسلئے انقلاب کی رات اس کی اصلاح ہوجائے گی۔ جتنے خفا لوگ ہوں گے کچھ تو اسلئے خوش ہوں گے کہ وہ انتقام نہیں لے گا اور کچھ اسلئے کہ پہلے سے ان کا حال بھی ایسا کردیا ہوگا کہ مزید ضرب کی گنجائش نہیں ہوگی۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ جب اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو اسلام زمین میں جڑ پکڑ لے گا۔ اسلئے کہ مجرموں کیلئے اپنا منہ چھپانے کی کوئی گنجائش بھی نہ ہوگی۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ نامزد کیا تو صحابہ نے عرض کیا تھا کہ کیا خدا کا تجھے خوف نہیں کہ سخت گیرعمر ہم پر مسلط کرکے جارہے ہو؟۔ حضرت ابوبکر نے کہا کہ خلافت کا بوجھ پڑے گا تو یہ خود بخود نرم ہوجائے گا۔ شاید درمیانہ زمانے کے مہدی پر خلافت کا بوجھ پڑے تو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر ضرب لگانے کی فرصت نہ ملے گی کیونکہ دنیا کے نظام میں محرومیوں کے شکار لوگوں کی داد رسی سے اس کو فرصت نہیں ملے گی اور احادیث صحیحہ کے نقشے میں یہ حقیقت ہے۔ ویسے بھی نیک سیرت اور اخلاق وکردار کا اچھا نہیں ہوگا بلکہ ایک رات میں اس کی اصلاح ہوجائے گی۔
آخری امیر اُمت محمد ۖ نیک سیرت مہدی ہوگا جس کو نشانیوں سے اللہ کے ولی اور علماء پہچان کر منصب امامت پر فائز کریں گے۔ اس کی پہلے سے اصلاح ہوئی ہوگی۔ البتہ یہ بات سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کہ درمیانہ زمانے کے مہدی کو ناک ، دانت اور جسم کے نشانیوں سے پہنچاننے کے بجائے وہ اپنا تعارف باطل پر شدید ضربوں سے کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ حق کی طرف رجوع کرلیں۔
مفتی نور ولی محسود امیر تحریک طالبان پاکستان جب طالبان کے قاضی تھے تو اس نے کہا تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے13افراد ہم نے مارے ہیں اور2موقع پر ہمارے مارے گئے تھے ۔ ہم باقی11کی نفری بھی پوری کردیں گے لیکن ان میں کچھ تمہارے اپنے عزیز بھی ہیں جنہوںنے ہمیں غلط گائیڈ کیا تھا۔ اب ان مجرموں تک پہنچنے کیلئے اللہ کی طرف سے کوئی راستہ نکلے تو جنگ کی تمنا نہیں کرنی چاہیے اسلئے کہ عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنانا بڑا تکلیف دہ عمل ہے لیکن اگر کہیں مجبوری میں ایسی ٹکر ہوجائے کہ جہاں3افراد مخالفین سے اور3میں اپنے بیٹوں کو میدان میں اتار دوں تو ہوسکتا ہے کہ طالبان کے سہولت کاروں کو بھی ٹھکانے لگانا ہماری قسمت میں آجائے۔ عنوان خواہ کچھ اور ہو ۔
اگر میرے3بیٹے قتل بھی ہوجائیں تو باقی اپنے دشمنوں سے انشاء اللہ حساب لیں گے اور شہداء کے بدلے میں مجرموں کو ٹھکانے لگانے میں دیر نہ لگے گی۔ میرا ایک پرانا شعر ہے ذرا تبدیلی کیساتھ
یا ایھا الجیش من نساء آل سبحان
ان کنتم رجال فتعالو االی المیدان
ترجمہ:” اے سبحان کی اولاد کے عورتوں کا لشکر اگر تم مرد ہو تو پھر میدان میں آجاؤ”۔جنہوں نے چھپ کر طالبان کو گمراہ کیا تو کھل کر مردوں کی طرح میدان میں کیوں نہ آئے؟۔ طالبان کے بڑے دشمن انکے وہ دوست تھے جنہوں نے حقائق جاننے کے باوجود حقائق سے آگاہ نہیں کیا تھا۔علی نے فرمایا
ان القلوب اذا تنافر ودّھا
مثل الزجاج کسرھا لا یجبر
بیشک دلوں کی جب محبت نفرت میں بدلتی ہے
شیشہ ٹوٹنے کی طرح ہے پلاسٹر نہیں ہوسکتا

مجرموں کے چہروں سے نقاب کشائی کیسے ہوگی اور ان کی معافی کیلئے کیا طریقہ ٔ واردات ہوگا؟

طالبان کے حملے کے بعد شہداء کی لاشیں اُٹھائی جارہی تھیں سب عزیز واقارب شریک تھے۔ خطرہ تھا کہ دوبارہ طالبان حملہ اور جنازے پر خود کش نہیں کریں ۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن نے نہ صر ف جنازہ پڑھایا بلکہ مسلسل3دنوں تک تعزیت کیلئے دعا میں ساتھ بیٹھے رہے۔ مولانا فضل الرحمن اگرچہ کچھ مہینے بعد دیر سے آگئے لیکن انہوں نے ٹانک سفیدجامع مسجد (سپین جماعت) میں جمعہ کی تقریر کرتے ہوئے طالبان دہشتگردوں کو ”خراسان کے دجال ”کا لشکر قرار دیا تھا۔
یہ مئی2007ء کی آخری تاریخ رات ایک بجے کے بعد کا واقعہ تھا اور یکم جون2007ء کو بڑی بڑی سرخیاں اخبارات میں لگی تھیں۔ طالبان نے کوڑ میں میٹنگ کا چند دن اہتمام کیا۔ پیرکریم کے بیٹے عثمان نے بتایا کہ پیر عبدالرزاق کے بیٹے ملوث تھے جو پیر عبدالغفار کے سوتیلے بھائی ہیں۔ پیر عبدالغفار واقعہ کے بعد مسلسل ہمارے ساتھ تھا۔ عبدالرزاق کے بیٹوں کی طرح طالبان بھی تقسیم تھے۔بیت اللہ محسود امیر تحریک طالبان کی پوری چاہت تھی کہ اس واقعہ میں ملوث قاری حسین اور حکیم اللہ محسود کو بدلہ میں قصاص کی بنیاد پر قتل کیا جائے۔ اگر طالبان یہ کرلیتے تو سرحد میں ان کی حکومت قائم ہوسکتی تھی۔
متحدہ مجلس عمل کی حکومت بالکل برائے نام تھی ۔ جب وزیراعلی اکرم خان درانی پر طالبان نے حملہ کیا تھا تو اخبار میں وزیراعلیٰ اکرم درانی نے بیان دیا تھا کہ کوئی صحافی یہ کہے کہ طالبان نے ہم پر حملہ کیا ہے تو اس کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا۔
پیر رفیق شاہ شہید ولد پیر عالم شاہ خان بابا کے بارے میں ڈاکٹر آدم شاہ کے بھائی پیر ہاشم نے مولانا فتح خان سے پوچھا کہ ”لاش کو غسل دینے کی ضرورت ہے؟ ۔” جس پر مولانا فتح خان نے فرمایا کہ ” یہ اتنے اونچے درجہ کے شہداء ہیں کہ غسل دینا تو دور کی بات ہے ،انکے چہروں سے گرد وغبار بھی مت ہٹائیں”۔ مولانا فتح خان، مولانا عبدالروف، قاری محمد حسن شکوی شہیدگودام مسجد ٹانک ،مولانا عصام الدین محسود، مولانا غلام محمد مکی مسجد امیر ضلع ٹانک مجلس تحفظ ختم نبوت، شاہ حسین محسود سپاہ صحابہ اور شیخ محمد شفیع شہید شیخ گرہ امیرجمعیت علماء اسلام ضلع ٹانک مولانا سمیع الحق گروپ سمیت تمام علماء کرام اور اکابرین ہماری حمایت کرتے تھے۔
انگریز کے نمک خوار اور پولیٹیکل انتظامیہ کے لفافہ خور پیر منہاج الدین اور سادات خان لنگر خیل عوامی سطح پر سب حقائق سے واقف تھے لیکن جب ریاست طالبان کیساتھ کھڑی تھی تو یہ لوگ بھی اپنا قبلہ نما طالبان کو سمجھتے تھے۔ ان لوگوں میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہوتی تو اپنے دوست طالبان سے کہتے کہ ”تم نے ظلم کیا ہے اور غلط اقدام اٹھایا ہے”۔
مجھے خوشی ہے کہ یہ میرے دشمنوں کے دوست تھے اور کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کرسکے۔ ورنہ جب ہمیں اللہ کوئی عزت دیتا تو سب سے پہلے کسی بڑی تقریب میں یہ بھی بیٹھتے۔ میں نے اپنا تعلق تو اب بھی برقرار رکھا ہے اور آئندہ بھی برقرار رکھ سکتا ہوں لیکن اپنے ساتھیوں، بھتیجوں اور بیٹوں کے دل ودماغ میں یہ بات بٹھادوں گا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ عزت وتوقیر سے پیش آنے کا نتیجہ آنے والی نسلوں میں خطرناک نکل سکتا ہے۔ حسن نے اقتدار امیر معاویہ کیلئے چھوڑ کر اچھا کیا اور امام حسین نے یزید کے کردار کو نمایاں کرکے بہت اچھا کیا تھا لیکن بنوامیہ اور بنوعباس نے اقتدار پر موروثی قبضہ کیا۔
پیر کریم کے بیٹے عثمان نے ضیاء الحق پر گواہی تو دیدی مگر کیا اس کا اپنا بھائی اس میں ملوث نہ تھا؟۔ مجھے100%یہ یقین ہے کہ اب اگر وہ ہاتھ پیر بھی باندھ کر ہمارے پاس لائیںگے تو ہمارا اپنا طبقہ بھی معاف کردے گا۔ البتہ ماموں سعد الدین لالا2مجرموں کو قتل کریں گے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ میں اپنے بھتیجے حسام الدین وبھانجے اورنگزیب کا بدلہ لوں گا۔قتل کیلئے ماموں نے استعمال بھی اورنگزیب کے بیٹوں کو کرنا تھا اسلئے کہ اپنے بیٹے اور بھتیجے دن رات طالبان کی خدمت کرتے رہتے تھے۔ جب تک پاک فوج ضیاء الدین کو پکڑکر لے نہیں گئی اور طالبان کی گاڑی کو بارود سے نہیں اڑا دیا تو بہت بے شرمی ، بے ضمیری ، بے حیائی اور بے غیرتی کے ساتھ نہ صرف مجرم طالبان کیساتھ کھڑے تھے بلکہ ان کے دفاع کیلئے بھی ہرممکن کوشش بڑی بے غیرتی کیساتھ کی۔ اگر ان پر فائرنگ ہوتی اور واقعہ رونما ہوتا اور میں اپنے گھر میں ان کے دشمنوں کو رکھتا اور ان کی سپورٹ جاری رکھتا تو سیدھا سیدھا مجھے اپنا دشمن قرار دیتے لیکن ان کی رگوں میں پتہ نہیں کونسا خون گردش کررہاتھا کہ جنازہ کے فوراً بعد بھی دشمن انکے گھر پر آئے اورپھر منہاج نے اسرار کیا کہ دعا کیلئے ہمارے گھر پر بیٹھیں گے۔جو طالبان گڑھ تھا اور انہوں نے کبھی احساس نہیں کیا کہ یہ غلطی ہے۔
ظلم اور ظالموں کی داستانیں ایک جیسی رہتی ہیں ،صرف شکلیں مختلف زمانوں میں بدلتی رہتی ہیں اور پھر وہ تاریخ کے پردوں میںگم ہوجاتی ہیں۔
سیدا کبر شاہ ولد سبحان شاہ نے انگریز کیلئے اپنا کردار اداکیا اور کانیگرم کے خان کی بیٹی سے شادی بھی رچائی۔ اس کے کرتوت کا خمیازہ باقی بھائیوں کو بھگتنا پڑگیا تھا۔ تینوں ساز ش سے قتل ہوئے۔ یہ کتنی مغمو م اور مذموم فضائیں تھیں کہ سبحان شاہ کے تین بیٹوں کا سایہ اپنے بچوں سے اُٹھ گیا تھا؟۔
پھر سیداکبر شاہ کے کردار کا فائدہ سلطان اکبر شاہ نے اپنے بیٹے محمود کی وجہ سے اٹھایا جو سیداکبر شاہ کا نواسہ تھا۔ محمود چوروں کے ہاتھ قتل ہوا تو پھر سلطان اکبرشاہ نے ”خان ” کی نوکری سنبھال لی۔
دوسرے چچازاد پیر فیروز شاہ ، میر محمد شاہ، سرور شاہ اور کرم حیدر شاہ کو اس پر بھی تحفظات تھے لیکن سلطان اکبر شاہ ، حسین شاہ اور محمد امین شاہ کا کھل کر مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ پولیس کی دو نوکریاں جو انگریز نے سبحان شاہ اور سیداکبر شاہ کو دی تھیں ایک مظفر شاہ کے توسط سے میر محمدشاہ اور اس کی اولاد کو منتقل ہوئی اور دوسری صنوبر شاہ کے توسط سے محمد امین شاہ اور فہیم شاہ تک منتقل ہوئی۔ سرور شاہ کے بیٹے یعقوب شاہ کی نوکری تھی اور ان کا گزر بسر بھی مناسب تھا۔ کرم حیدر شاہ کی بھی نوکری تھی اور گزر بسر اچھی تھی اور بیٹے بھی چھوٹی بڑی نوکری پر لگے۔
فیروز شاہ کے بیٹے اقبال شاہ کی بھی اچھی نوکری اور اچھا رشتہ تھا۔ پیر عبدالرزاق کی شادی اور بچے تو بیٹھ گئے اپنے ماموں کیساتھ۔ پیر عبدالرزاق نے دوسری شادی کی اور بچے بڑے ہوگئے۔ مجھے بھی کہا تھا کہ ایک بیٹا دوبئی بھیج دو۔ میں نے اپنے بھتیجے کامران کو بھی نہیں بھیجا اسلئے کہ کام چور لگتا تھا ، سچ بات ہے کہ عبدالرزاق پر رحم بھی آیا لیکن اس کے بچے بھی زیادہ قابل اعتماد نہیں تھے۔ پھر ساجد کیلئے اورنگزیب بھائی نے کہا کہ میں قرضہ لیکر بھیج دوں گا تو میں نے ساتھی کو دوبئی میں پیغام بھجوادیا کہ ایک بندہ لگانا ہے اور پھر ساجد چھوڑ کر بھی آگیا۔ ہوسکتا ہے کہ عبدالرزاق کے بچوں نے یہ بغض دماغ میں بٹھادیا ہو کہ نالائق کو بھیج دیا اور ہمیں نہیں بھیجاہے۔
عبدالرزاق نے اپنے باپ کیساتھ ہونے والی زیادتیاں بھی دل میں بٹھائی ہوں گی اور بڑی اولاد کا غم بھی دل میں رکھا ہوگا۔ جس کا ذکر اپنے بچوں سے کیا ہوگا۔ جب کانیگرم میں پیر کرم شاہ کے بیٹے اور حاجی عبدالرزاق کے بیٹے ایک دوسرے کیساتھ اسلحہ اور بموں سے لڑائی کے موڈ میں تھے تو میں اور اشرف علی گئے اور ان کو سمجھایا کہ ”اللہ نے والدین اور اقارب کیساتھ انصاف کا حکم نہیں دیا ہے بلکہ احسان کا حکم دیا ہے”۔ اگر انصاف پر عمل کا مطالبہ ہو تو ایٹم کی تقسیم بھی کرنا ہوگا جس سے ایٹم بم پٹھے گا اور پھر کسی کی بھی خیر نہیں ہوگی۔ جس پر دونوں راضی ہوگئے۔ ہم نے کہا کہ اب یہ لڑائی عدالت میں لڑو۔ جس سے فتنہ وفساد کا اندیشہ نہیں ہوگا۔ پھر الیاس کی طرف سے یہ بات آئی کہ اگر ماموں نے کیس جیتا تو اعلیٰ عدلیہ میں وہ لوگ اپیل نہیں کریں گے۔ میں نے کہا کہ ”جس پر بات ہوئی ، مزید شرائط نہیں لگائیں ، اگر قانون میں اپیل کی اجازت ہے تو پھر اپیل کی اجازت ہوگی”۔ جس پر الیاس نے کہا کہ آپ ان کی وکالت کررہے ہیں۔ مجھے پہلے منان لوگوں نے کہا تھا کہ الیاس چلا جائے تو لڑائی نہیں ہوگی۔ پھر میرا دل کٹھا ہوا ، جب لڑائی ہوئی تو موقع پر ہم پہنچ گئے۔ پیر سجاد کوزور سے تھپڑ لگائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ بھی ایک سبب بن گیا ہو کہ عبدالرزاق کے بیٹوں نے سمجھا ہو ”میری ہمدردیاں انکے دشمنوں کیساتھ ہیں اوربات دل میں بیٹھ گئی ہو”۔ جب فاروق شاہ کی زمین پر قبضہ ہورہاتھا تو بھی میرے والد نے فاروق شاہ کو تھپڑ مارے اور گالیاں دیں کہ نہیں جاؤگے ورنہ تو ماردیا جاتا۔
عین جنگ کے موقع پر گولیوں کی بوچھاڑ میں آنے والے بدخواہ نہیں خیر خواہ ہی ہوسکتے ہیں اور میرے اندر بھی صرف خیر خواہی کا جذبہ تھا۔ مجھے ان پر اعتماد تھا کہ پیر فاورق شاہ کے بیٹے کا دل کھلا ہے۔ حاجی عبدالرزاق کے بڑے بیٹوں پر بھی اعتماد تھا۔ بہر حال ہوسکتا ہے کہ چھوٹوں کے دماغ میں بات بیٹھ گئی ہو۔ جب کانیگرم میں دو خاندانوں میں ایسی لڑائی چل رہی تھی کہ پورے شہر میں بھی گولیاں برس رہی تھیں۔ مساجد میں لاؤڈ سپیکر پر اعلانا ت کئے گئے اور پورے شہر کے علماء اور بڑے پہاڑ کی اوٹ میں چھپ کر جنگ بندی کا انتظار کررہے تھے تو میں ایک فریق کے مورچے کی طرف گیا ، سب نے منع کیا کہ گولیاں لگ جائیں گی لیکن میں مورچے تک پہنچ گیا اور اسلحہ چلانے والوں کو گھسیٹ کر منع کیا تو ان کے رک جانے سے دوسرا فریق بھی منع ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ میرے مکے یا لاتیں مارنے سے یہ نہیں سمجھا ہوگا کہ ہمارے ساتھ کوئی دشمنی ہے۔
یہ1991ء کی بات ہے۔ کانیگرم کے علماء اور تبلیغی جماعت کے کردار کو بھی تفصیل سے لکھ دوں گا تو بات سمجھ میں آئے گی۔ میں تبلیغی جماعت کیساتھ مکین بھی گیا تھا۔ علماء کیساتھ بھی رعایت رکھی اور افہام وتفہیم کے آخری حدود تک پہنچادیا تھا لیکن ماموں نے سرکاری انٹیلی ایجنسیہ کا کردار ادا کرتے ہوئے مجھے جیل میں پہنچادیا تھا۔ اس نے میرے بھائیوں سے کہا تھا کہ محسود قبائل حملہ کرکے ہمیں وزیرستان میں تباہ کردیں گے۔ حالانکہ مولانا حفیظ اللہ محسود ( مکین مولانا عصام الدین کے والد) نے علماء سے کہا تھا کہ سید ہیں ، ان کے پیچھے لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ یہ گمراہ نہیں ہوسکتا ہے۔ پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، بہت خوش ہوگئے اور جن علماء نے مجھے آکر پہلے بتایا تھا تو ایک مولانا محمد ولی گر ڑائی لدھاتھا اور دوسرا مولانا محمددین تھا۔ اور دونوں فاضل جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک تھے۔ ایک میرا کراچی میں کلاس فیلو رہاتھا اور دوسرا مولانا محمد دین نرسیس میں جعلم برکی لوگوں کا امام تھا۔ مولانا حفیظ اللہ پہلے کٹر تبلیغی تھا اور بعد میں سیف الرحمن کی بیعت کرکے تبلیغی جماعت کا مخالف بن گیا۔ انکے مرید آتے تھے۔ مولانا محمد دین بھی تبلیغی جماعت کا سخت مخالف تھا۔ اس کی عقل اتنی تھی کہ مجھے کہتا تھا کہ فٹ بال مت کھیلو۔ انگریز نے امام حسین کو شہید کیا تھا اورپھر اس کے سر سے فٹ بال کھیلا تھا اور اب کربلا کی توہین کیلئے یہ کھیل ایجاد کیا گیا ہے۔
مجھے کہتا تھا کہ انگریز تمہیں پیسہ بھیجتا ہے کہ فٹ بال کھیلو اور تم سید ہوکر بھی غلط کرتے ہو۔ عربی لغت کا مولانا محمد دین بہت ماہر تھا۔ اس نے18سال تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے ایک دن مذاق میں کہا کہ میرے دسترخوان پر بیٹھے ہو اور انگریز نے پیسہ بھیجا ہے؟۔ تو کہنے لگا کہ دسترخواں تمہارے باپ کا ہے۔ مجھے اس پر بہت خوشی ہوئی کہ میرے خاندان پر کتنا اعتماد ہے؟۔ وہ مفتی فرید کے شاگرد تھے۔
کانیگرم میں ہمارے گھر کی چھت پھٹ گئی تھی۔ جس کی وجہ سے تہ خانہ بھی نکل آیا تھا، تہ خانے کی چھت کو بھی بارشوں اور برف باریوں نے گرایا تھا۔ ایک مرتبہ میں چھت کی لیکیج بند کررہاتھا کہ ایک شخص مدد کرنے آگیا۔ میں نے چائے کیلئے کہا۔ جب چائے پی کر وہ نکل گیا تو پھر لوٹ آیا۔ تہ خانے کے بارے میں معلومات لیں ۔ اس کو بتایا کہ شاید انگریز کی بمباری سے بچنے کیلئے بنایا گیا تھا اور پھر اس کو بند کردیا گیا تھا ، میں نے بھی نہیں دیکھا تھا۔ تو اس نے بتایا کہ یہاں کچھ لوگوں نے آپ کا کہا کہ یہ قادیانی ہے۔ تو میں نے کہا کہ اگر قادیانی ہے تو بھی تم سے اچھا ہے اسلئے کہ اس کا دادا ہے اور تمہارا کوئی دادا نہیں ہے۔ پھر میں نے پوچھ لیا کہ قادیانی کیا ہوتے ہیں؟۔ تو مجھے بتایا گیا کہ ” یہ آدم خور ہیں اور جب لوگ ان کے پاس جاتے ہیں تو پکڑ کر ذبح کردیتے ہیں، گوشت کھالیتے ہیں، ایک کنواں کھود رکھا ہے جس میں ہڈیاں ڈال دیتے ہیں”۔ پہلے تو مجھے یقین نہ آیا لیکن جب چائے پیتے وقت کنویں پر نظر پڑ گئی تو بہت گھبرا گیا۔ جب زندہ سلامت نکل گیا تو پھر خیال آیا کہ یہ لوگ آدم خور نہیں لگتے اسلئے تسلی کرنے کیلئے آگیا کہ یہ کنواں کس چیز کا ہے؟۔
کانیگرم میں ایک ایک گز زمین اور درخت کا پودا بہت قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ اپر کانیگرم میں محسود عورت نے لکڑیاں کاٹی تھیں۔ جھگڑے میں سیدم مارا گیا۔ صلح کے باوجود سیدم کے باپ نے موقع پاتے ہی فائرنگ کی تو آخر کار وہ سامنے آگیا تھا کہ مجھے ماردو تو پھر سیدم کے والد نے معاف کردیا۔
ہمارے ہاں قتل کی معافی ایسی ہوتی ہے کہ قاتل سرنڈر ہوکر موقع فراہم کردے تو پھر معاف ہوسکتا ہے اور قتل بھی لیکن اصل معافی یہی ہوتی ہے۔ ان محسودوں کیساتھ فائرنگ ہوئی تھی تو برکیوں کا ایک بندہ قتل ہوا تھا ۔ میرے والد سمیت کانیگرم شہر کے بڑوں نے مردہ اٹھانے کیلئے جانا چاہا تو انہوں نے فائرنگ کردی اور سب کو پیچھے بھاگنا پڑگیا تھا۔ اس وقت کانیگرم کے قومی جرنیل شادی خان نے لاش اٹھائی تھی۔ والد صاحب کہتے تھے کہ یہ میراثی نہیں ہیں بلکہ اصل درانی ہیں۔ میراثی کی خواتین ڈھول بجانے اور دیگر خدمات کیلئے مشہور ہوتی ہیں لیکن یہ خاندان سب سے زیادہ عزت دار ہے۔ ہمارا کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اگر ان کو اختیار دیا جائے کہ سبحان شاہ کے خاندان میں ہوتے تو زیادہ پسند تھا ؟۔ تو وہ یقینا کہیں گے کہ ہماری قومی جرنیلی اعزا ز ہے۔
ڈھول کی تھاپ پر جنگیں لڑی جاتی تھیں اور فوج میں بھی ڈھول کا کردار ادا کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ان کی عزت وتوقیر کا مجھے نہیں معلوم ہے البتہ میں کانیگرم کے اس درانی خاندان کی عزت ، غیرت اور حیاء کی اعلیٰ ترین روایات واقدار کو جانتا ہوں ۔ اور آئندہ کی نسل میں ان کے ساتھ رشتوں کے لین دین کو بھی اپنا اعزاز سمجھوں گا۔ حالانکہ کسی اور کیلئے یہ بات میں قطعی طور پر بھی نہیں کرسکتا ہوں۔
میرا باپ یہ دلی خواہش رکھتا تھا کہ اپنے بیٹوں کیلئے کانیگرم کے برکیوں سے رشتہ لے مگر عورتوں کی طرف سے رشتے طے ہوگئے تو باپ غصہ تھا کہ انڈیا کی جنتا پارٹی نے ہمارے گھر پر رشتوں کا قبضہ جمالیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میری اس بات سے ان کی روح کو تسکین ملے گی اور میرا یہ بھی یقین ہے کہ درانی خاندان نے ہمارے اجداد کی وجہ سے ہی یہ خدمت انجام دینے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ اس کا ازالہ کرنا بھی میں اپنا فرض منصبی سمجھتا ہوں۔
جب اسلام کی نشاة اول ہوئی تھی تونبی ۖ نے حضرت زید کے عقد میں اپنی کزن حضرت زینب کا رشتہ دیا تھا۔ لیکن پھر وہ کامیاب نہیں ہوسکا اسلئے کہ اس پر غلامی کا نام تھا۔ قرآن میں صرف حضر ت زید ہی کا نام ہے۔ میری تحریک میں کانیگرم کے صرف بادشاہ خان قومی جرنیل کا نام ہوگا۔ باقی لوگ بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ میرے نزدیک کانیگرم ، محسود،وزیر اور پختون کی قدر ومنزلت ہے اور کسی کی تحقیر نہیں۔
سب آدم کی اولاد ہیں ۔ ہابیل قابیل میں کردار کا فرق تھا اور نسل عربی عجمی میں سب برابر ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون اسپیشل ایڈیشن2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

محترم حمید اللہ حفی ایک مرد مجاہد،مرد مؤمن تھے ایک روایتی مسلمان نہیں تھے اشعار دیکھئے

محترم حمید اللہ حفی ایک مرد مجاہد،مرد مؤمن تھے ایک روایتی مسلمان نہیں تھے اشعار دیکھئے

محترم حمید اللہ حفی کی گلہائے عقیدت میں قرآنی آیات کی جھلکیاں ہیں۔ قاتلوں کی مذمت قاتلوںکے تاثرات میں جو منصوبہ سازوں کے منہ پرطمانچہ تھا۔ یہ کوئی جذباتی اشعار نہیں بلکہ واقعہ کے8ماہ بعد یہ اشعار قلم بند کئے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا : وقد مکروامکرھم و عند اللہ مکرھم و ان کان مکرھم لتزول منہ الجبالOفلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ ان اللہ عزیز ذو انتقامOترجمہ”اور بے شک انہوں نے اپنی سازش کی اور اللہ کے پاس ان کی سازش تھی اور اگرچہ ان کی سازش سے پہاڑ ٹل جائیں پس تم لوگ یہ گمان ہرگز مت کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ کی خلاف ورزی کر ے گا۔ اللہ زبردست انتقام والا ہے”۔
سورہ ابراہیم کی ان آیات46اور47میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاة ثانیہ کیخلاف سازش کرنے والوں کی چال کو مضبوط قرار دینے کے باوجود ناکام قرار دینے کی خوشخبری دی۔ اس بین الاقوامی سازش میں چھوٹی سطح سے بڑی سطح تک سب کے سب پلید لعین لوگ نمایاں ہوگئے۔ اگر مختلف مراحل کیساتھ معاملات نہ گزرتے تو بہت سے چہرے بے نقاب نہ ہوتے۔

پشتو اشعار کا ترجمہ:


پہاڑ گر گئے ہیں کیا یہ قیامت ہے کہ نہیں؟
کیا یہ دشمنوں کی شرارت ہے کہ نہیں؟
خون جو جائز قرار دے مؤمن کا تھوڑے مال پر
ایسے ملا سے تمہیں نفرت ہے کہ نہیں؟
جٹی کوٹ کے دامن کو سرخی سے ذرخیز کردیا
یہ کسی کے خون کی حرارت ہے کہ نہیں؟
ہمیشہ جب میں کھڑا ہوں مردوں کی صف میں
یہ میری سرداری کی دلیل ہے کہ نہیں؟
جو سوتے میں بھی شہادت کا مرتبہ پا لے
یہ ہر ایک نیک بندے کی حسرت ہے کہ نہیں؟
جس کی وجہ سے اسلام کا گلستان پھر رنگین ہوجائے
ایسے کردار کی اب ضرورت ہے کہ نہیں؟
تم لوگ ہمیں مردہ مت سمجھو ہم زندہ ہیں
تمہیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نہیں ؟
کالے منہ والا کیا کہتا ہے کہ مجھے کس نے ورغلایا؟
یہ اپنی جان کیساتھ اس نے کیا، ملامت ہے کہ نہیں؟
پیچھے سے وار کرے اورسامنے سے بھاگ دوڑے
یہ شیطان ملعون کی فطرت ہے کہ نہیں؟
مردود شیطان! میں تو تمہارے لئے بیٹھا تھا
تمہارے اوپر خدا نے لعنت کی ہے کہ نہیں؟
یہ میرے ساتھ نہیں تم نے اپنے آپ کیساتھ کیا ہے
میرا قاتل اب مصیبت میں گرفتار ہے کہ نہیں؟
حفی اگر کچھ اور چھپے ہوئے رازوں کو کھول دے
دوستو! تمہاری طرف سے اجازت ہے کہ نہیں؟
(6فروری2008ء ۔ بروز بدھ)

جٹی کوٹ کے شہیدوں کے نام


ایک کا ہاتھ خون سے سرخ ہے اور دوسرے نے جگر لتھڑا ہے
آپ کہہ دینا کہ وہ زیادہ طاقتور ہے کہ یہ زیادہ طاقتور ہے؟
ایک منزل سے گمراہ ہوا، دوسرے نے پھر محبت کی منزل پائی
آپ کہہ دینا کہ یہ بخت کا مالک ہواکہ وہ بخت کا مالک ہوا؟
کربلا کی یاد تازہ کردی جٹی کوٹ کے دامن میں
وہ بھی نبی ۖ کے آل تھے اور یہ بھی آل پیغمبر ۖ ہیں
وہاں حسین کا سر کٹا، یہاں (قاری)حسین کے ہاتھ میں سر تھا
کتنی عجیب مماثلت ہے اور کتنا متضاد طرح کا یہ منظر ہے؟
بہنیں سرخ لتھڑی ہوئی ہیں ،مائیں گود اجڑی کھڑی ہیں
دوام نہیں فانی زندگی ہے ، فانی زندگی پر کیا بھروسہ ہے؟
ایسی شہادت کو مبارک کہتا ہوں جو شیطان پلید کے ہاتھ سے ہو
اللہ پاک بھی اس پر لعنت بھیجتا ہے ، رسول ۖ بھی اس سے ناراض
اورنگزیب ، رفیق، ارشد ہوں یا حسام کے ساتھ9افراددیگر
ہر ایک کو دیکھ رہا ہوں کہ اپنی جگہ پر ستارے کی طرح روشن ہے
اے جٹی کوٹ کے شہیدو! بہت بڑا مقام تمہیں حاصل ہوا ہے
تمہیں گواہ بنادیا ہے جس طرف نشانِ منزل کی راہ گزر ہے
تمہیں تو ہمیشہ کی زندگی مل گئی ،کتنی خوبصورتی کی نیندتم سوگئے
یہ تو چند دنوں کی زندگانی ہے یہاں تو ہر کوئی مسافر ہے
میں ماتم نہیں کررہا بہت خوش ہوں یہ مرثیہ نہیں غزل ہے
جو شہادت تمہیں ملی میں اس کو غم میں شمار نہیں کرتا یہ عید ہے
تمہارے استقبال کیلئے اُحد کے شہداء کی آنکھیں منتظر ہیں
تمہیں ایسی روزی مل جائے جو صرف ایک اللہ کو پتہ ہے
تمہارے مقدر میں سرخروئی آئی ، ایسا راستہ تمہیں مل گیا
جو راستہ صدیق اکبر کا تھا، جو راستہ حضرت عمر کا تھا
آپ کا خون خوشبو بن گیا ہے گومل کی پوری وادی میں
کتنی خوبصورت خوشبو ہے کتنے لوگ اس سے معطر ہوگئے
ویسے بھی یہ دنیا بگڑ رہی ہے کئی طوفان ہیں زلزلے ہیں
حفی آؤ جنازے میں اندھیرا چھاجائے گا عصر کا وقت ہے
(7فروری2008ئ۔ جمعرات)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون اسپیشل ایڈیشن2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ ظلم نہیں کرتا نبیۖ کو عرب سے بھیجا ہے تو مہدی کوعجم سے بھیجے گا ۔مادا(محمد)جان برکی

اللہ ظلم نہیں کرتا نبیۖ کو عرب سے بھیجا ہے تو مہدی کوعجم سے بھیجے گا ۔مادا(محمد)جان برکی

کانیگرم میں خان، سرکاری نوکریوں اور اچھی اچھی جگہوں پر پیرلوگوں نے قبضہ کیا ہے۔ برکی قوم کے جوانو! خوب تعلیم حاصل کرواور ہنر مند بن کر آگے بڑھو۔روشن مستقل کیلئے اپنی اولاد کو اچھی تعلیم وتربیت دو۔ پیچھے رہ گئے ہو

اے برکی قوم !باقی سب چیزوں میں پیر لوگ آگے نکل گئے تھے ، ایک دین رہ گیا تھا لیکن اب اصل چیز پیروں نے لے لی ہے۔ اب تم زندگی بھر بستر اور لوٹے گھماؤ، جماعتوں میں جاؤ مگر تمہیں کچھ نہیں ملے گا

کانیگرم کی معروف شخصیت مادا (محمد) جان اُڑمڑ گئی ایک اچھے انسان تھے۔ جب طالبان اور فو ج کا وزیرستان میں کوئی عمل دخل نہیں تھاتو کہتا تھا کہ ایسا وقت آتا ہوا دیکھ رہاہوں کہ کانیگرم شہر کی ندی پار کرنے کیلئے بھی کارڈ دکھا کر جانا پڑے گا۔
اس کو اپنی برکی قوم سے بہت محبت تھی۔ وہ کہتا تھا کہ پیروں نے کانیگرم کی خانی، اچھی نوکریوں اور اچھی جگہوں پر قبضہ کرلیا ہے اور تم پیچھے رہ گئے ہو۔ محنت کرو، تعلیم حاصل کرو اور پیروں سے آگے نکل جاؤ ، پیر ہر چیز میں تم سے آگے ہیں۔
اس کی قوم کا ذوق اتنا مضبوط تھا کہ برملا کہتا تھا کہ اللہ ظالم نہیں کہ نبیۖ کو عرب سے بھیجاہے تو مہدی کو بھی عرب سے بھیجے گا اور وہ عادل باشاہ ہے ۔مہدی اب عجم سے بھیجے گا۔
جب میرا پتہ چلا کہ اس نے تحریک خلافت شروع کی ہے تو اپنی قوم کے افراد سے کہا کہ پیروں نے دین کو چھوڑ دیا تھا اور تمہارے اندر دینداری تھی لیکن اصل چیز اب پیروں نے لے لی اور اب تم بستر اور لوٹے گھماؤ !۔ اب تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔
میرا بھائی نثار میرا سخت مخالف تھا لیکن اس کو چھیڑنے کیلئے کہا کہ اگر یہ اپنے مشن میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ کانیگرم کی بھی پگڑی ہے؟۔یعنی عزت افزائی کا ذریعہ ہے۔ مادا جان نے کہا کہ یہ صرف کانیگرم کی پگڑی نہیں بلکہ پورے عجم کی پگڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اب اس کوکامیاب کرے تاکہ ہمارا سر بلند ہو۔
ہمارے پاس تو آباء واجداد سے کانیگرم شہر میں جو جگہ تھی تو وہی تھی لیکن تنگی بادینزئی سے آنے والوں نے خانی پر بھی قبضہ کیا ، نئی جگہیں خرید لیں اور اچھی جگہوں پر مکان بنالئے تو اس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جلن تھی۔ پھر برکی قوم کے جو کمزور افراد تھے ان کیساتھ بھی زیادتی کرلی تو بغض بڑھ گیا۔ میرے بھائی نثار نے برکی قوم سے کہا کہ اللہ نے تمہارے اندر ساری خوبیاں پیدا کی ہیں۔ بہادر ہو، ذہین ہو، مہمان نواز ہو، کوئی خوبی ایسی نہیں جو تمہارے اندر موجود نہ ہو لیکن ایک خامی ہے کہ تمہاری نیت خراب ہے ،کسی کی ترقی اور اچھائی برداشت نہیں کرتے۔ انہوں نے مان لیا کہ واقعی یہ خامی ہے لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کہ تمہارے نانا سلطان اکبرسے یہ خامی منتقل ہوئی ہے اسلئے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتاہے۔
یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ کوئی تمہارے غم میں شریک ہو لیکن یہ بڑی بات ہے کہ کوئی تمہاری خوشی پر خوش ہو۔ پشتون قوم ہی نہیں دوسری قوموں حتٰی کہ مغرب میں یہ خامی موجود ہے۔
میرے برکی دوست نے کہا کہ محسود دوست نے کہا کہ ”تم برکی شیعہ کی طرح بہت قومی تعصب رکھتے ہو!۔ جب سے پیروں کیساتھ طالبان نے واقعہ کردیا ہے تو کانیگرم کے لوگ اب بہت نفرت کرنے لگے ہیں”۔جس کے جواب میں برکی دوست نے کہا کہ ”ہم تو شیعہ ہیں ۔تعصبات تورکھتے ہیں”۔
برکی قوم کے سردار حاجی قریب نے کہا تھا کہ میرا دل جلتا ہے ۔ ایسا ظلم تو کربلا میں یزید کے لشکر نے بھی نہیں کیا تھا”۔ کچھ لوگوں کا دل پھر بھی ہم پر ٹھنڈا نہیں ہوا ۔ طالبان کیساتھ ان کی دوستی بڑھ گئی تھی۔ ان کے دل کی جلن ہند ہ کی طرح بڑھ گئی اور بس نہیں چلا ،ورنہ ہمارا کلیجہ چبانے پر بھی ٹھنڈا نہ ہوتا۔
ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک اڈے پر کسی نے کہا کہ ”میں اسکا عزیز ہوں علماء نے فتویٰ لگایا تھا، میرا نام جنگل کا بادشاہ ہے”۔ میرا کوئی بے غیرت عزیز نہیں ہوسکتا یہ کسی گیدڑ کا بچہ ہے۔ اور موقع پر موجود افراد نے بھی اس کو کہا کہ تم شکل سے پیر نہیں لگتے اور ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں نے پیسے کھاکر قتل و غارت کی ہے۔

جون2007ء کا واقعہ اور بفضل تعالیٰ ہمارا بڑاکردار

ہم پر2006ء میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ جس میں بفضل تعالیٰ ہم تینوں افراد بال بال مگر مکمل بچ گئے۔ ایک عبدالوہاب کو تین گولیاں لگی تھیں مگر ہلکی خراش تھی ۔ ارشد حسین کے سر کے بال جل گئے تھے۔ہم نے اپنے اخبار ضرب حق میں اس کا تذکرہ تک بھی نہیں کیا۔ ماموں ، منہاج موقع پر پہنچ گئے جس میں ان کی جان بھی جاسکتی تھی۔ نثار بھائی کیساتھ پڑوسی غفار بھی آیاتھا۔ بسا اوقات بزدلی کی وجہ سے لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں جس میں وہ معذور ہوتے ہیں لیکن حسد کی وجہ سے کرتوت قابل مذمت ہیں۔
روزنامہ جنگ میں2001ء کو جو آواز اٹھائی اخبار نے کماحقہ نہیں پھر بھی بہت کچھ شائع کیا تھا۔ پھر2004ء کو جیو میں پروگرام کیا تھا جو نشر نہیں کیا گیا۔ اس وقت صحافتی آداب یہ تھے کہ کسی اور اخبار اور اس کے صحافی کا نام لینا پیشہ وری کے خلاف تھا۔
اگر سارا ریکارڈ شائع کیا جائے تو آج پاکستان اور طالبان دونوں اس بات پر متفق ہوں گے کہ میرا کردار ، رہنمائی اور تجاویز بالکل درست ہوتی تھیں۔ اصول کی وجہ سے خود کو طاقتور ، ان کو کمزور سمجھتے تھے۔ الحمد للہ آج ہم اپنی جگہ پر کھڑے ہیں۔نبیۖ نے فرمایا” دین خیرخواہی کا نام ہے”۔ کینسر کے مریض کو کیمو لگتا ہے جس سے اسکے بال جھڑ جاتے ہیں مگر اس کی زندگی بچانے کیلئے اسکے بغیر چارہ نہیں ہوتاہے۔

22اگست2003ء کو ”مذہبی انتہا پسندی اور پاکستان کا مستقبل” کے عنوان سے جنگ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار

شرکائ: پروفیسر غفور احمد (نائب امیر جماعت اسلامی)، سید عتیق الرحمن گیلانی (سربراہ ادارہ اعلاء کلمة الحق)، برجیس حسن خان (سابقہ سفیر) ڈاکٹر طاہرہ شاہد خان (اسکالر تجزیہ نگار)، فادر آر چی ڈی سوزا (مسیحی مذہبی رہنما) تصاویر (ایم آئی انصاری)، میزبان (محمد اکرم خان) روزنامہ جنگ کراچی31اگست2003ء جنگ فورم انٹرنیٹ

آج اگر صحافی سیاستدانوں کی دلالی چھوڑ کر اہم معاملات کی طرف قوم کو متوجہ کریں تو قوم بدل جائے گی۔ صحافت علم وشعور کی دولت عطا کرتی ہے اور دنیا میں شعور سے زیادہ کوئی بڑی نعمت نہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو قرآن وسنت سے علم وشعورملتا ہے مگر ہمارے کم بخت جدید اسکالرز بھی پہلے سے اجنبیت کے شکار اسلام کے چہرے پر مزید لپائی سے نقاب ڈال رہے ہیں۔ اگر کانیگرم اور وزیرستان کی عوام کو اسلامی تعلیم سادہ الفاظ میں سمجھادی تو تقدیربدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ حلالہ کی لعنت کا خاتمہ بھی بڑا انقلاب ہے جس میں عوام، خاص طورپر تبلیغی لوگوں کی عزتیں لٹتی رہتی ہیں۔ مفتی عزیز الرحمن جیسے لوگ باریش صابر شاہ کو نہیں چھوڑ رہاتھا تو کیا حلالہ چھوڑ سکتا ہے۔ جو لوگ پانی کا گلاس نہیں پی سکتے ہیں وہ سمندر کو پہاڑوں پر نہیں چڑھا سکتے ۔ ہوشیار بنو۔

تین آوازیں

فیض احمد فیض

ظالم

جشن ہے ماتمِ اُمید کا آؤ لوگو
مرگِ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگو
عدمِ آباد کو آباد کیا ہے مَیں نے
تم کو دن رات سے آزاد کیا ہے مَیں نے
جلوۂ صبح سے کیا مانگتے ہو؟
بسترِ خواب سے کیا چاہتے ہو؟
ساری آنکھوں کو تہِ تیغ کیا ہے مَیں نے
سارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے مَیں نے
اب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حِنا
فصلِ گُل آئے گی نمرود کے انگار لئے
اب نہ برسات میں برسے گی گُہر کی برکھا
ابر آئے گا خس و خار کے ابنار لئے
میرا مسلک بھی نیا راہِ طریقت بھی نئی
میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئی
اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چومیں گے
سر و قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے
فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہُوا
عرش پر آج ہر ایک بابِ دُعا بند ہُوا

مظلوم

رات چھائی تو ہر اِک درد کے دھارے چھوٹے
صبح پھوٹی تو ہر اِک زخم کے ٹانکے ٹوٹے
دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہُو برسایا
دن ڈھلا، خوف کا عفریت مقابل آیا
یا خدا یہ مری گردانِ شب و روز و سحر
یہ میری عمر کا بے منزل و آرام سفر
کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے؟
ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے؟
وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر ایک ظُلم سے ہے
وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظُلم تیرے حکم سے ہے
گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟
ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟

ندائے غیب

ہر ایک اُولی الامر کو صدا دو
کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اُٹھے گا جب جمعِ سر فروشان
پڑھیں گے دار و رسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچالے
جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی
یہیں عذاب و ثواب ہوگا
یہیں سے اُٹھے کا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہوگا

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون اسپیشل ایڈیشن2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv