پوسٹ تلاش کریں

پروفیسرشیرعلی کا علماء کے نرغے میںجبری اقرار ڈاکٹرتیمور کااس پر تبصرہ

پروفیسرشیرعلی کا علماء کے نرغے میںجبری اقرار ڈاکٹرتیمور کااس پر تبصرہ

ڈاکٹر تیمور رحمان نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پروفیسر شیر علی کا وہ ویڈیو جو شاید آپ لوگوں نے بھی دیکھا ہو میرے ذہن میں کئی روز سے گردش کررہا ہے۔ اس ویڈیو میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں ناقل العقل ہیں اور یہ بات حرف آخر ہے۔ پروفیسر شیر علی نے کہا”صنف عورت کی عقل صنف مرد کی عقل سے کم ہے لہٰذا اس بات کو حرف آخر سمجھتا ہوں”۔ یہ بات مجھے عجیب سی اسلئے بھی لگی کہ میں دو بیٹیوں کا باپ بھی ہوں اور میں اپنی بیٹیوں سے بے انتہاء پیار و محبت کرتا ہوں۔ اور میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ کیا میری بیٹیاں ناقص العقل ہیں؟۔ دوسرا میں ایک استاد ہوں بچیوں اور بچوں کو پڑھاتا ہوں جن بچیوں کو پڑھاتا ہوں کیا وہ ناقص العقل ہیں؟۔ اور تیسرا کیا یہ اسلام کا نقطہ نظر ہے کہ خواتین بحیثیت جنس مردوں کے مقابلے میں ناقص العقل ہیں؟۔ میں نے سوچا کہ پروفیسر شیر علی سے بھی یہ سوال کروں آپ سے بھی۔ اب میں یہ تو ماننے کیلئے تیار ہوں کہ ویسٹ کی فلسفے کی تاریخ میں ، رومن اور چرچ کی ہسٹری میں مسلسل وہ یہ بات کہتے آئے ہیں کہ خواتین ناقص العقل ہیں لہٰذا انہیں کسی قسم کی ریاست اور چرچ میں کوئی ذمہ داری نہ دی جائے۔ انکے فلاسفر، وکیل اور چرچ کے فادر بھی یہ بات کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پرPlato(پلیٹو) کہتے ہیں ”وہ مرد حضرات جو بزدل تھے جو کہ حق سچ پر کھڑے ہونے کیلئے تیار نہیں تھے اور بے ایمان تھے وہ اپنی اگلی زندگی میں جب دوبارہ پیدا ہوکر آئیں گے تو وہ عورتیں بن چکی ہوں گی”۔ اسی طرح Aristotle(ارسٹوٹل) کا یہ کہنا تھا Woman is an unfinished man
یا Infertile males۔ عورت نامکمل مرد ہے ۔ اور وہ یہ کہتے تھے ۔
"The male is higher, the female lower, that the male rules and the female is ruled.”
اسٹوٹل کا یہ کہنا تھا کہ مرد اور عورت کا وہی تعلق ہے جو کہ آقا اور غلام کا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمRoman Lawکو دیکھتے ہیں تو بیوی کو شوہر کی مکمل طور پر ملکیت سمجھا جاتا تھا رومن لاء کے اندر۔ جی ہاں! جس طرح میرے پاس کوئی کتا اور بلی گائے بھینس وغیرہ میری ملکیت ہے اسی طرح میری بیوی بھی اگر میں رومن ہوتا تو ان کے قانون کے مطابق تو وہ باقاعدہ میری ملکیت ہوتی اور میرے بچے بھی۔ اسی کو ہم پدرِ شاہی کی کہتے ہیں۔ جس کو ہم اردو میں پدرانہ نظام کہتے ہیں۔ مزید وہ یہ کہتے تھے کہ چونکہ عورت ناقص العقل ہے تو لہٰذا ہم اس کو کسی قسم کا کوئی پبلک آفس نہیں دے سکتے ۔ کوئی پبلک آفس اس کے پاس نہیں ہوگا ریاست میں اس کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ قانون کہ کٹہرے میں جب وہ آئے گی نہ تو وہ گواہ بن سکتی ہے نا کوئی کانٹریکٹ سائن کرسکتی ہے۔ نہ وہ خود کوئی کورٹ کیس کرسکتی ہے۔ اس کی طرف سے شوہر آئے گا تو کورٹ کیس ہوگا۔contractsignہوگا اس کی اپنی گواہیصفر بھی نہیں تھی۔ اسکے کوئی اپنے LegalRightsہی نہیں ہیں اندازہ کریں آپ۔ چرچ نے بھی رومن نکتہ نظر کو آگے پہنچایا مثال کے طور پر کہتے ہیں
"Both nature and the law place the woman in a subordinate condition to the man. Irenaeus”
مرد حاکم ہے عورت محکوم ہے۔ اسی طرح سینٹ آگسٹن کہتے ہیں:
"men should bear rule over women. Augustine”
جو کہ فاؤنڈنگ فادر میں شامل ہیں۔ اسی طرحEpiphanius کہتے ہیں :
"women are a feeble race, untrustworthy and of mediocre intelligence.”
عورت کمزور ہیں، ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور یہ ناقص العقل ہیں۔ لہٰذا ان کو کسی قسم کی ہم نے کوئی پوزیشن نہیں دینی۔Tertullianکا تو یہ بھی کہنا تھا کہ :
"men is made in the image of god, and women is not made in the image of god”
اسی لئے عورت کو اپنا سر ڈھکنے کی ضرورت ہے۔
"Women must cover their heads, because they are not the image of God. Ambrosiaster”
یہ میرا نکتہ نظر نہیں ہے چرچ کے فادرز کا نکتہ نظر تھا۔ اسی طرح سےThomasAquinasکہتے ہیں کہ
"a female is deficient and unintentionally caused.”
عورت نہ صرف نقص سے بنی ہوئی ہے بلکہ غلطی سے بن گئی ہے۔ ان کے قانون آپ دیکھیں جو سن1140سے لیکر سن1916تک یعنی تقریباً آج سے100سال پہلے تک قائم رہے۔اس قانون میں
1:Woman signifies weakness of mind.
پہلی بات تو یہ ہے کہ عورت ناقص العقل ہے۔
2:In everything a wife is subject to her husband because of her state of servitude.
دوسری بات یہ ہے کہServitudeکا مطلب ہے غلامی۔ کیونکہ وہ ناقص العقل ہے اور اپنے خاوند کی ماتحت ہے تو ہر چیز میں وہ اپنے خاوند کے ماتحت ہے پراپرٹی کے معاملے میں۔ طلاق کی تو اجازت ہی نہیں تھی آپ جانتے ہوں گے۔ شادی اور ہر فیصلے کے معاملے میں ۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ عورت خدا کی صورت میں نہیں بنائی گئی مگر مرد بنایا گیا ہے۔
3:Woman is not created in the image of God.
4:Wives are subject to their husbands by nature.
5:Women may not be given a liturgical office in the church.
6:Women cannot become priests or deacons.
7:Woman may not teach in church.
8:Women may not teach or baptize.
عورتیں نہ تو پادری بن سکتی ہیں نہ ڈیکن بن سکتی ہیں۔ کوئی آفیشل پوزیشن وہ چرچ میں نہیں رکھ سکتیں مگر نن بن سکتی ہیں۔ مگر کوئی ذمہ داری وہ نہیں لے سکتیں کیونکہ وہ ناقص العقل ہیں۔ یہ چرچ کا نکتہ نظر تھا میرا نہیں جو انہوں نے گریکو رومن سویلائزیشن سے حاصل کیا اور1916تک چرچ کا یہ نکتہ نظر رہا۔ اور ہم نے بچپن سے یہ پڑھا کہ اس بالکل یہ بات درست ہے کہ یہ سب قوانین جو ویسٹ نے کبھی خواتین کو نہیں دئیے وہ ہم نے دئیے مسلمانوں نے دئیے۔ یہ بات آپ نے پڑھی ہوگی کہ جو فلاسفر نہیں قبول کرنے کیلئے تیار تھے جورومن لاء نہیں قبول کرنے کیلئے تیار تھا جو چرچ نہیں قبول کرنے کیلئے تیار تھا وہ قوانین اور حقوق اسلام نے دئیے۔ حضور پاک ۖ نے جدوجہد کی اور دور جاہلیت سے انسانیت کو نکالا۔ آپ دیکھیں کہ قرآن کریم میں لکھا ہے :بسم اللہ الرحمن الرحیم
"and when the girl child that was buried alive is made to ask for what crime she had been slain. Quran 81:8-9″.
یہ اتنی ہلادینے والی آیت ہے جس کا حد حساب کوئی نہیں۔ کہ جس بچی کو دفن کیا گیا وہ پوچھے کی روزِ آخرت کو کہ مجھے کیوں دفن کیا گیا؟۔ اور دفن سے مراد میں تو یہ بھی لیتا ہوں کہ کچھ لوگوں کو تو زندہ گاڑھ دیا گیا زمین کے اندر اور کچھ لوگوں کوزندہ ہی دفن کردیا گیا اس سینس میں کہ ان کی زندگی برباد کردی گئی ان سے سارے حقوق چھین لئے گئے ان کو غلام بنادیا گیا۔ وہ بھی تو ایک طرح کیBuriedAliveوالی ہی بات ہے۔ تو اسلام نے کیا کیا؟۔ اسلام نے کہا کہ بچیوں کو بھی حصہ ملے گا باپ کی جائیداد میں سے۔
1:Right to inheritance.
2:Property.
اسلام نے پراپرٹی کا حق دیا ۔ خواتین خود پراپرٹی کی مالک ہوں گی کوئی ان سے چھین نہیں سکتا کوئی لے نہیں سکتا۔
3:Social and marriage rights.
اسلام نے سماجی اور نکاح کے حقوق دئیے۔ اسلام نے کہا کہ کسی خاتون کی زبردستی شادی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مزید یہ کہ
4:Right to initiate divorce.
دیا جس کی عیسائیت میں اجازت نہیں ہے۔ عیسائی مذہب میں خاتون طلاق نہیں لے سکتی۔ گریکو رومن ورلڈ میں خاتون طلاق نہیں لے سکتی تھی۔ مگر اسلام کے اندر یہ اجازت تھی کہ خاتون خلع لے سکتی ہے۔اوروہ صرف اس وجہ سے بھی خلع لے سکتی ہے کہ وہ کہے کہ میں خوش نہیں ہوں اپنے مرد کے ساتھ۔ وہ مجھے مطمئن نہیں کرسکتا اسلئے میں طلاق لے رہی ہوں۔ اور آپ بھی جانتے ہوں گے اچھی طرح دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کئی خواتین اسلامک ہسٹری میں کئی آفیشل پوزیشن پر قائم رہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ میں کسی وقت پوری لسٹ آپ کو بناکر دوں گا۔
5:Many women have had leading roles in Islam.
تو یہ باتیں ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں ۔ اگر ہم خواتین کو اتنے حقوق دے رہے ہیں تو اس کا مطلب تو یہی ہے کہ ہم شاید یہ نکتہ نظر نہیں رکھتے خواتین کوئی ایسی جنس ہے جو بھیڑ بکریوں کی طرح ہے جوجانوروں کی طرح ہے باتوں کو سمجھ نہیں سکتا ۔ ان کو گواہی کا بھی حق ہے اور بہت سارے حقوق ہیں اسلام کے اندر تو آج ہمیں کیا ہوا ہے؟۔ اب اس حوالے سے میرے ذہن میں تین سوال ہیں۔ الٹ ہوگیا ہے ایک طرح سے کہ ویسٹ خواتین کے حقوق کی بات کررہا ہے جو پہلے بالکل خواتین کے حقوق کے خلاف تھا۔ اور ہم جو بالکل خواتین کے حق میں تھے ، الٹ ہوگیا ہے معاملہ۔ وہ خواتین کے حقوق میں بات کررہے ہیں اور ہم وہ کہہ رہے ہیں جو پہلے کسی زمانے میں وہ کہتے تھے کہ خواتین تو ناقص العقل ہیں لہٰذا انہیں کسی قسم کے حقوق نہ دئیے جائیں۔ اگر خواتین واقعی ناقص العقل ہیں تو میرے ذہن میں سب سے پہلا سوال تو یہ ہوتا ہے کہ
How come they study in the same class and get the same grades.
میری کلاس کے اندر خواتین مرد دونوں ہیں اور دونوں تقریبا ً ہم عمر ہوتے ہیں ۔چلو ایک کلاس میں نہ ہوں تو ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں چلو یونیورسٹی میں نہ ہوں تو ایک ملک کے اندر ہوتے ہیں۔ کوئی خواتین کی یونیورسٹیز ہوتی ہیں کوئی مردوں کی ہوتی ہیں۔ ایک ہی سلیبس ہم ان کو پڑھاتے ہیں۔ کلاس ون سے لے کر یونیورسٹی تک ایک سلیبس ہوتا ہے ۔ ہم تو نہیں تفریق کرتے کہ یہ تو خاتون ہے تو اس کاBAکا سلیبس تھوڑا آسان ہونا چاہیے ۔ اور دنیا چل رہی ہے اس میں کوئی پرابلم نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ایجوکیشن اسٹینڈرڈ چاہے خاتون ہو یا مرد ہو دونوں کے ایک ہی ہیں۔ ایک ہی امتحان دیا جاتا ہے اور وہ امتحان خواتین بھی لیتی ہیں اور مرد بھی لیتے ہیں۔ اور چونکا دینے والے اعداد شمار یہ بتاتے ہیں حقیقت میں دنیا کے اندر الٹ ٹرینڈ چل رہا ہے خواتین زیادہ کالج جارہی ہیں زیادہ پڑھائی کررہی ہیں اور زیادہ گریجویٹ کررہی ہیں۔ اور مرد ، لڑکے کھلنڈرے ہوتے ہیں آپ کو پتہ ہی ہے اگر کالج جاتے ہیں پڑھائی اپنی مکمل نہیں کرتے۔ خواتین مردوں کے مقابلے میں کالج ختم بھی کررہی ہیں اور بہتر رزلٹ لے رہی ہیں۔ اور بھی پروفیسر آپ کو یہ بات بتاچکے ہیں ڈیٹا آپ کے سامنے ہے۔
Women Outnumber Men in College. Women earned 45.1 percent of bachelor’s degrees in business in 1984-5 and 50 percent by 2001-2, up from only 9.1 percent in 1970-1.
یعنی مجموعی طور پر عورت اوپر آرہی ہے ، جیسے ہی موقع دیا ہے خواتین کو ویسٹ نے تو وہ مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔ کتنی چونکا دینی والی بات ہے۔ یہ دیکھیں مزید اعداد و شمار ہیں۔
In 39 out of the 47 UNECE countries with data, more than 55 per cent of tertiary graduates are women.
صرف ازبکستان میں کم ہیں باقی تمام ہی ممالک میں50فیصد سے زیادہ گریجویٹس خواتین ہیں۔ اور کچھ ممالک میں تو جیسے
Iceland, Cuprus, Polandمیں تو65%فیصد گریجویٹس خواتین ہیں اور35%گریجویٹس صرف مرد ہیں۔ تو عورتیں ایجوکیشن میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں پیچھے تو نہیں رہ رہیں۔ اگر وہ ناقص العقل ہوتیں تو یہ ڈیٹا کیسے ہوسکتا ہے؟۔
دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جب ان کو موقع دیا گیا ہے، ویسٹ کے اند ر کتنی صدیوں سے ان کو یہ موقع فراہم نہیں کیا گیا ہے اب ان کو موقع ملتا ہے کہ وہ ایجوکیشن میں حصہ لیں، یونیورسٹی جائیں، وہ گریجویٹ کریں، وہ سائنٹسٹ بنیں، وہ ڈاکٹرز بنیں، وہ انجینئر بنیں، ٹیچرز بنیں، اسکالرز بنیں، شاعر بنیں جو بھی۔ سب موقع ملا ہے تو اب وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیجئے کہ یہ ڈیٹا ہے میرے پاس کہ1901سے لیکر2023تک یعنی کہ پچھے122سالوں کے اندر64عورتوں کو نوبل پرائز ملا ہے۔ یہ صرف پیس پرائز کی بات نہیں کررہا جو ملالہ یوسفزئی کو ملا ہے۔ ان میں” نوبل پرائز ان فزکس” ہے، بڑی مشکل مشکل چیزیں یہ کررہی ہیں ۔ کوئی ”الیکٹران ڈائنامک ان میٹر” کررہا ہے کوئی ”سینٹر آف اور گلیکسی” کررہا ہے ۔ کوئی ”الٹرا شارٹ آپٹیکل پلسز” کو سمجھ رہا ہے کوئی ”شیل اسٹرکچر” کو سمجھ رہا ہے ، کوئی ”ریڈی ایشن” کو سمجھ رہا ہے ۔ اتنی مشکل مشکل چیزیں ہیں۔Merie Curieنے تو دو دفعہ نوبل پرائز لیا ہے۔ نوبل پرائز فزکس میں وہ پرائز ہوتا ہے جس سے دنیا بدل جاتی ہے اس سال کی سب سے بڑی یہ ڈسکوری ہوتی ہے ۔
اسی طرح آپ دیکھیں۔ یہ ہے ”نوبل پرائز ان کیمسٹری”۔ میں تو ان کا نام بھی نہیں پڑھ سکتا جو لکھا ہے
"bioorthogonal chemistry”
”بائیو آرتھوگونال کیمسٹری”۔ قسم ہے خدا کی مجھے پتہ ہی نہیں کہ وہ ہے کیا چیز۔ اور اس میں انہوں نے نوبل پرائز حاصل کیا ہوا ہے۔
genome-editingمیں،evolution-of-enzymesمیں، function-of-the-ribosomeمیں،اب مجھے نہیں پتہ کہ ری بو سوم کیا ہوتا ہے۔ biochemical-substancesمیں ، x-rey-techniquesمیں، radioactive-elementsمیں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ نوبل پرائز لے رہی ہیں کیمسٹری کے اندر وہ خواتین جو کہ ناقص العقل ہیں۔
یہ ”فزیالوجی اور میڈیسن” میں اتنے سارے نوبل پرائز کی لسٹ ہے۔Malariaکے اوپر، positioning-of-brainکے اوپر،telemersکے اوپر، telomers-and-enzymeکے اوپر، immunodeficiency-virusکے اوپر جسے ہمHIVکہتے ہیں،olfactory-systemکے اوپر، embryonic-developmentکے اوپرکیا کچھ ہے،COVID-vaccinesکے اوپر، میں تو اسکے مقابلے میں جانتا ہی نہیں۔drug-treatmentکے اوپر،growth-factorsکے اوپر،mobile-genetic-elementsکے اوپر،radioimmunoassas of peptide harmonesکے اوپر خدا جانے یہ کیا چیز ہوتی ہے۔catalytic conversion of glycogenکے اوپر ، واقعی سنجیدگی سے میں کچھ نہیں جانتا کیمسٹری کے بارے میں۔ تو یہ ناقص العقل عورتوں نے پتہ نہیں کس طرح نوبل پرائز حاصل کرلیا ہے اس فیلڈ کے اندر۔
یہ ”نوبل پرائز ان لٹریچر” ہے۔ کئی مختلف نوبل پرائزز ہیں لٹریچر کیلئے۔ میں مزید تفصیل میں نہیں جاتا تو64خواتین نے پچھلے100سالوں میں نوبل پرائز حاصل کیا ہے۔
آخری سوال میرا یہ ہے کہ اگر عورتیں ناقص العقل ہیں تو بنگلہ دیش جہاں پر شیخ حسینہ صاحبہ پرائم منسٹر ہیں پچھلے14سال سے اور1990سے سیاست کررہی ہیں بنگلہ دیش میں ۔ مگر وہ پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔ یہ کیسے ہوگیا ہے؟۔ اگر تو وہ ناقص العقل پرائم منسٹر ہیں یا کسی ناقص العقل انسان کو انہوں نے پرائم منسٹر بنایا ہے تو بنگلہ دیش ہم سے آگے کیسے نکل گیا ہے؟ یہ بات مجھ سے ہضم نہیں ہورہی جبکہ ایک ناقص العقل خاتون ان کو لیڈ کررہی ہیں۔
تو میری مدد کیجئے میں کافی کنفیوسڈ آدمی ہوں آپ کو پتہ ہے۔ خاص طور پر میں پروفیسر شیر علی صاحب سے مخاطب ہورہا ہوں کہ میرے ذہن میں جو ابہام ہے وہ یہ ہے کہ کیا خواتین واقعی ناقص العقل ہیں۔ اور کیا یہ حرف آخر ہے اور کیا معاملہ کچھ یہ ہے کہ درحقیقت تاریخ میں خواتین کو مواقع ہی نہیں دئیے گئے ۔
They will deprived of opportunity?
ان کو تعلیم سے محروم رکھا گیا، ان کو عہدوں سے دور رکھا گیا ، ان کو ذمہ داریوں سے دور رکھا گیا، ان کو یونیورسٹیوں، کالجوں ، علم کی دنیا سے دور رکھا گیا، اسی لئے وہ پیچھے رہ گئیں دنیا کی دوڑ کے اندر۔ اور جیسے ہی ان کو موقع ملا کہ وہ تعلیم حاصل کرسکیں کہ وہ ذمہ داریاں لے سکیں گھر سے باہر بھی چاہے وہ حکومت کی ذمہ داریاں ہوں، وہ چرچ کی ذمہ داریاں ہوں، وہ کوئی اور ذمہ داریاں ہوں کسی بھی قسم کی۔ دنیاوی ذمہ داریاں جس کو ہم کہتے ہیں انہوں نے جب لیں تو اس کے اندر انہوں نے یہی ثابت کیا کہ وہ بھی اتنی ہی قابل ہیں جتنے مرد قابل قابل ہیں۔ اور کبھی کبھار تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ کچھ چیزوں میں شاید ہم سے زیادہ ہی قابل ہوں کیونکہ ہم تھوڑے کھلنڈرے ہوتے ہیں۔ تو بہرحال یہ میرے ذہن میں کچھ سوال ہیں تین موٹے موٹے۔
1: اگر وہ ناقص العقل ہیں تو تعلیمی شعبے میں کس طرح سے مردوں کے مقابلے میں پرفارم کررہی ہیں؟۔
2: اگر وہ ناقص العقل ہیں تو اتنے سارے نوبل پرائز انہوں نے کیسے جیت لئے؟۔
3: اگر وہ ناقص العقل ہیں تو وہ ممالک جہاں وہ لیڈ کررہی ہیں تو انہیں پیچھے جانا چاہئے تھا مگر ہمیں ایسے نظر نہیں آرہا بنگلہ دیش کی مثال بھی ہے، اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ جب وہ ہیڈ آف اسٹیٹ بنیں شیخ حسینہ تو ملک نے اتنی ترقی کی جس کی نتیجے میں پاکستان بھی پیچھے رہ گیا۔ پلیز! میری مدد کیجئے۔ کنفیوسڈ آدمی ہوں کچھ نہیں جانتا ان چیزوں کے بارے میں آپ ہی بہتر مجھے گائڈ کرسکتے ہیں۔ آپ کی گائیڈنس کا منتظررہوں گا۔ شکریہ۔ ڈاکٹر تیمور رحمان

تبصرہ نوشتہ ٔ دیوار
ڈاکٹر تیمور! پروفیسر شیر علی کو علماء کرام نے مجبور کیا کہ لکھی ہوئی تحریرسنائے! 200احادیث ہیں: ”جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے” ۔ مگر علماء مسلک کی وجہ سے منکر ہیں؟ شاہ عبدالعزیز نے لکھاہے ”اگرکوئی حدیث کا انکاراپنی عقل کی وجہ سے کرے تو اس پر فتویٰ نہیںلگتاہے”۔ پروفیسر شیرعلی پر قاتلانہ حملہ ہوچکا۔PTMپنجابی فوج پر الزام کی جگہ پشتون علماء کا کرداردیکھ لے ۔ اگر علماء کو زبردستی کوئی مجبور کرے گا تویہ مکافاتِ عمل ہوگا؟۔
اگر اسلام کی درست تعلیمات کوPTMکے جوان عام کریں گے تو پشتون معاشرے میں ایک بہت بڑا انقلاب آجائے گا۔ فوج سے زیادہ خطرناک علماء و مفتیان کا وہ کردار ہے جن کی وجہ سے لوگ حلالہ کی بے غیرتی پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر تیمورنے اگر قرآن وسنت کی طرف توجہ دی توواقعی بہت بڑا انقلاب آجائے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہزار سال میں تاریخ کا مختصر ترین خطبہ

ہزار سال میں تاریخ کا مختصر ترین خطبہ

صعد المنبر و قال: لقمة فی بطن جائع
خیر من بناء الف جامع…
و خیر ممن کسا الکعبة و البسھا البراقع
و خیر ممن قام اللہ راکع۔۔۔
وخیر ممن قام للکفر بسیف مھند قاطع
وخیر ممن صام الدھر و الحر واقع۔۔
واذا نزل الدقیق فی بطن جائع
لہ نور کنور الشمن ساطع
فیا بشریٰ لمن اطعم جائع

شیخ عبدالقادر جیلانی نوراللہ مرقدہ منبر پر چڑھے اور فرمایا:
ایک لقمہ بھوکے کے پیٹ میں ہزار جامع مسجد بنانے سے بہتر ہے۔اور اس سے بہتر ہے جو کعبہ پر غلاف اور برقعے چڑھاتے ہیںاور اس سے بہتر ہے جو اللہ کیلئے قیام ورکوع کرتے ہیں۔اور اس سے بہترہے کہ جو اللہ کی راہ میں کفر کے خلاف چمکدار تیز تلوار سے کھڑے ہوتے ہیںاور اس سے بہتر ہے جو زمانہ میں روزہ رکھتے ہیں گرمی کی حالت میں۔ جب کچھ بھوکے کے پیٹ میں اترتا ہے تواس کیلئے نور چمکتا ہے جیسے چمکدار سورج کی روشنی چمک رہی ہوتی ہے۔
اے خوشخبری! جو بھوکے کو کھانا کھلائے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

2سالہ یحییٰ نے قرآن حفظ کرکے بڑا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

2سالہ یحییٰ نے قرآن حفظ کرکے بڑا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ایک شخص نے خواب میں مجھ سے کہا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص تجھے بلارہے ہیں ۔ یحییٰ کی والدہ

انتہائی پروقارابوبکر صدیق کا بتایا تو مجھ پر ہیبت طاری ہوئی،سیدنا سعد نے فرمایا یہ موتی تمہارا ہے یہ لو!۔

اس بچے کی عمر صرف 2سال ہے۔ افریقی عرب ملک الجزائر میں جنم لینے والے اس بچے کی دنیا میں دھوم مچ چکی ہے۔ اس کو قدرت کی عظیم نشانی اور زندہ معجزہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ سب سے کم عمر حافظ قرآن کا اعزاز حاصل کرچکا۔ اس کا نام یحییٰ ہے جو الجزائر کے چھوٹے علاقہ البلیدہ کا رہنے والا ہے۔ یہ قرآن کا پکا حافظ ہے۔ یہ سوائے قرآن، مختصر احادیث اور مسنون دعاؤں کے ایک لفظ نہیں بول سکتا۔ اخباری رپورٹس کے مطابق اگر یحییٰ سے کہا جائے کہ سائیکل یا چاکلیٹ کہوتو وہ یہ الفاظ ادا نہیں کرسکتامگر روانی سے قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ الجزائراور عرب ممالک کے اخبارات اور ٹی وی چینلز یحییٰ کی زندگی پر اسٹوریز نشر کررہے ہیں۔ اسکے والدین اور خاندان کے انٹرویوز لئے جارہے ہیں۔ اس کے گاؤں کے لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ ہم یحییٰ کے گاؤں میں رہتے ہیں۔ قرآن کی برکت سے 2سالہ بچہ اپنے گاؤں کی پہچان اور فخر بن چکا ۔ لوگ بچے کو ٹی وی پر کلام کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔ جبکہ اسکے متعلق پڑھنے والے بھی حیران ہونے کیساتھ ساتھ چونک جاتے ہیں۔ الجزائر کا سب سے بڑا اخبار ”الشروق” ہے۔ اس اخبار نے معجزاتی بچے اور اسکے والدین سے ملاقات کرکے خصوصی رپورٹ چھاپی ۔ جس میں یحییٰ کی اسٹوری کو چونکا دینے والی اور سمجھ میں نہ آنے والی قرار دیا۔ یحییٰ کے والدین بہت دیندار، پنج وقتہ نمازی ،پرہیزگار اور بااخلاق اور حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ اللہ اپنے نیک لوگوں کو اسی طرح انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ ”الشروق” اخبار کو یحییٰ کی والدہ نے انوکھی بات بتائی کہ یہ بچہ میرے پیٹ میں تھا تو عجیب و غریب خواب دیکھا۔ ایک اونچی اور خوبصورت جگہ صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہے۔ میں بہت خوبصورت آواز میں قرآن کی تلاوت کرتی ہوں۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص تجھے بلارہے ہیں۔ جب وہ خواب میں اس طرف چل پڑیں تو اسی شخص نے ایک انتہائی پروقار بزرگ شخص کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ سیدنا ابوبکر صدیق ہیں۔ یہ سن کر مجھ پر ہیبت طاری ہوگئی۔ جب میں سیدنا سعد بن ابی وقاص کے پاس پہنچی تو وہاں ایک سفید رنگ کی دیوار تھی۔ جس کے اندر ایک انتہائی چمکدار موتی جڑا ہوا تھا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص نے مجھ سے فرمایا کہ یہ موتی تمہارا ہے اسے لے لو۔ انکے کہنے پر میں نے اس موتی کو دیوار سے نکال لیا۔ جسکے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ میں خواب کے متعلق کسی اچھے عالم دین کے پاس جانے کا سوچ رہی تھی کہ اسی دوران ایک اور خواب دیکھا کہ میں کعبہ شریف کے سامنے مطاف میں ہوں۔ وہاں سب لوگ میرے لئے جگہ بنارہے ہیں۔ مجھے بڑے احترام سے کعبہ شریف میں لیجایا جاتا ہے۔ اسکے بعد بچے کی ولادت کے دن قریب آئے تو خواب میں مجھے کسی نے ندا ء دی جس میں سورہ مریم کی 7ویں آیت مجھے سنائی گئی۔ اس آیت کا ترجمہ یوں ہے ”اے زکریا! ہم آپ کو ایک بیٹے کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا ”۔ یحییٰ کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ آیت پہلے انہیں یاد نہیں تھی۔ خواب میں سننے کے بعد ذہن میں آگئی اور پھر وہ بچے کی پیدائش تک اس آیت کو پڑھتی رہیں۔ بچہ پیدا ہوا تو خواب کے مطابق اس کا نام یحییٰ رکھ دیا۔ بچے کے دائیں ہاتھ کی6انگلیاں ہیں۔ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ اضافی انگلی کیساتھ یحییٰ کا سیدھا ہاتھ ایسا لگتا ہے جیسے اللہ کا بابرکت نام اللہ لکھا ہے۔ یحییٰ کی خالہ کا کہنا ہے کہ یہ عام بچوں کی طرح روتا ہے لیکن جیسے ہی قرآن کی تلاوت اسے سنائی جاتی ہے یہ فوراً خاموش ہوجاتا ہے۔ یحییٰ کے اہل خانہ اس وقت حیرت میں مبتلا ہوئے جب اس کی عمر 1برس ہوئی تو اس نے دیوار پر لگے فریم کی جانب اشارہ کیا اور اس پر لکھے کلمہ طیبہ کو پڑھنے لگا۔ اسکے بعد یحییٰ قرآن کھول کر آیات سجدہ ڈھونڈ کر پڑھنے لگا۔ یحییٰ 2سال کا ہوچکا تھا لیکن وہ بہت زیادہ تیز ہے۔ اسے اپنے ہم عمر بچوں کی طرح کھلونوں سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اگر ننھے عاشق قرآن کو کلام پاک یا کوئی کتاب نہ ملے تو وہ ٹی وی پر قرآن کی تلاوت سنتا رہتا ہے۔ اگر کوئی یحییٰ کے سامنے تلاوت کرتے ہوئے غلطی کرجائے تو اس کی گویا شامت آجاتی ہے۔ یہ پیدائشی حافظ اس سے لپٹ جاتا ہے اور اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک اس سے غلطی کی اصلاح نہ کرالے۔ حفظ قرآن کیساتھ رفتہ رفتہ یحییٰ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ وہ اب مشہور قراء اور مشائخ میں فرق کرنے لگا ہے۔ جبکہ اسے قرآن کی مکی اور مدنی سورتیں بھی اچھی طرح معلوم ہیں۔ اسکے سامنے کسی سورہ کا نام لیں اور وہ عمدہ انداز اور قواعد و تجوید کا بھرپور لحاظ رکھتے ہوئے اپنی توتلی زبان سے کلام پاک پڑھنے لگتا ہے۔ کسی آیت کا ایک لفظ پڑھا جائے تو وہ آگے پڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ یحییٰ نے اگرچہ کسی سے سیکھا نہیں ، نہ سیکھنے کی عمر ہے مگر ہر سورہ کے شروع میں بسم اللہ پڑھتا ہے۔ لیکن سورہ توبہ بغیر بسم اللہ کے پڑھتا ہے ۔ یحییٰ خاموش رہتا ہے مگر اپنی ماں کیساتھ قرآن کی ان آیات کی تلاوت شروع کردیتا ہے جن میں عذاب سے ڈرایا گیا ہو۔ یا نعمتوں کی خوشخبری سنائی گئی ہو۔ اس کی یہ عجیب حرکات دیکھ کر اس کی ماں کو تشویش لاحق ہوئی کہ اس کا بچہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار تو نہیں۔ وہ اسے نفسیاتی امراض کے ماہرین کے پاس لے گئی۔ مگر ڈاکٹروں نے تسلی دی کہ بچے کو کوئی بیماری لاحق نہیں۔ ماں بچے کو مشہور عامل کے پاس لے گئی کہ کہیں اس پر جنات کا سایہ تو نہیں۔ عامل نے کہا کہ اس پر جن کا اثر نہیں۔ یہ قدرت کا بہت بڑا معجزہ ہے۔ والدہ معجزاتی بچے کو دین کا علم سکھانا چاہتی ہے ۔ یقین ہے کہ بیٹے سے دین حنیف کی غیر معمولی خدمت لی جائے گی۔الجزائر کے 3سالہ حافظ قرآن عبد الرحمن الفارع نے پوری دنیا میں دھوم مچائی تھی۔ دوبئی حفظ قرآن کے مقابلے میں پہلی پوزیشن دیکر دنیا کا کم عمر ترین حافظ قرار دیا گیا تھا۔ مگرگذشتہ ماہ الجزائر میں ہونیوالے مقابلے میں یحییٰ کو دنیا کا نوعمر ترین حافظ قرار دیکر اسے ایوارڈ سے نوازہ گیا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دھرتی ماں اور فرقے کی رٹ چھوڑ کر حقائق اپنائیں؟

دھرتی ماں اور فرقے کی رٹ چھوڑ کر حقائق اپنائیں؟

رسول فرمائیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا( قرآن کا پیغام)

دھرتی ماں ،دھرتی ماں، دھرتی ، دھرتی ماں ……….کی رٹ لگانے والوں کو اپنی دھرتی سے واقعی اتنی محبت ہوتی تو آرمی چیف سید عاصم منیر کے والدین نے اپنی دھرتی ماں ہندوستان سے کیوں ہجرت کرکے لال کرتی کے پسماندہ علاقہ میں تنگ وتاریک مکان اور گلیوں کا انتخاب کیا؟۔ یہ نیک والدین ہی تھے جنہوں نے لال کرتی طارق آباد میں مسجد بنائی اور دوسری طرف بہت خراب ماحول تھا۔ سینیٹر عرفان صدیقی کا تعلق بھی لال کرتی سے ہی ہے لیکن اس نے جب کہا تھا کہ ”نواز شریف کو برطرف کرنے کے بعد 5جرنیلوں نے صدر رفیق تارڑ پر بندوق تان لی کہ استعفیٰ دیدو مگر بہادر صدر مملکت نے انکار کردیا”۔ جس پر حامد میر نے بڑی شرارت کے ساتھ خوشگوار انداز میں پوچھا کہ ” رفیق تارڑ نے ”۔ مقصد کھلا جھوٹ بے نقاب کرنا تھا۔ رفیق تارڑ میں اتنی جرأت بھی نہیں تھی کہ احتجاجاً بھی استعفیٰ دیتا۔ جب پرویزمشرف نے چاہا تو استعفیٰ دے دیا تھا۔
جب نوازشریف اور جنرل عاصم منیر کے درمیان عرفان صدیقی جیسے لوگ رابطے اور اعتماد کا ذریعہ ہوں تو اللہ ہی اس ملک کا حافظ وناصر ہو۔ حضرت علی سے کسی نے کہا کہ ”آپ کے دور میں فتنہ وفساد اور بداعتمادی ہے جبکہ پہلے خلفاء کی خلافت میں سکون واعتماد کی زبردست فضاء موجودتھی،اس کی کیا وجہ ہے”۔ علی نے جواب دیا کہ ” ان کا مشیر میں تھا اور میرے مشیر آپ ہیں”۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی صفت مشاورت بیان کی تھی۔ وامرھم شوریٰ بینھم ” وہ اپنے امور باہمی مشاورت سے طے کرتے ہیں”۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ سے فرمایا : وشاورھم فی الامرفاذا عزمت فتوکل علی اللہ ”اور ان سے مشورہ لیا کریں خاص امور میں ،جب عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں”۔ جب نبیۖ نے فرمایا: قلم اور کاغذ لاؤ، ایسی چیز لکھ کر دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے”۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ ” ہمارے لئے اللہ کی کتاب قرآن کافی ہے”۔ بخاری
رسول اللہ ۖ نے اپنی بات کو صحابہ پر مسلط نہیں فرمایا۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت پر صحابہ نے رضامندی ظاہر نہ کی ہوتی تو حضرت علی سرتسلیم ہونے کے بجائے اس طرح نکلتے جیسے حضرت حسین یزید کیخلاف نکلے ۔ حضرت عثمان اور حضرت علی کے درمیان جس شوریٰ نے فیصلہ کیا اس میں اکثر کی رائے حضرت عثمان کے حق میں تھی جس کو حضرت علی نے بھی قبول فرمایا۔ پھر حضرت علی کے بعد حضرت حسن نے مسلمانوں کے اتحاد کیلئے حضرت معاویہ کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔ جب حضرت معاویہ نے یزید کو نامزد کردیا تو اس سے امت مسلمہ میں تفریق وانتشار کی فضا پیداہوئی۔ ابوسفیان ومعاویہ دونوں صحابی تھے اور جب یزید کے بعد اس کے بیٹے معاویہ کی باری آئی تو اس نے پھر تخت پر بیٹھنے سے انکار کردیا۔ پھر مروان بن حکم نے اقتدار سنبھالا۔ ان دونوں باپ بیٹے کو نبی ۖ نے ملک بدر کردیا تھااور بنو امیہ کی بادشاہت کا سلسلہ یہاں سے چلا تھا۔ ان کی نسل میں عمر بن عبدالعزیز تھے جن کی سنی وشیعہ تعریف کرتے ہیں۔ پھر بنوعباس اور سلطنت عثمانیہ کا سلسلہ چلا۔ پھر 1924ء سے خلافت ختم ہوگئی اور اس کوختم کرنے میں عربوں کا بڑا عمل دخل تھا۔ انگریز نے خلافت عثمانیہ کے ہوتے ہوئے ہندوستان پر قبضہ کیا۔ خلافت عثمانیہ کے ہوتے ہوئے اسرائیل کی داغ بیل پڑچکی تھی۔ شیعہ حضرت علی سے مہدی غائب تک اپنا اعتقاد رکھیں۔
چلو ہم نے مان لیا کہ حضرت عمر نے غلط کیا، رسول اللہ ۖ کی بات مانتے اور وصیت لکھنے دیتے۔ وصیت یہی ہوتی کہ بارہ امام علی سے مہدی غائب تک مان لو۔ صحابہ، تابعین ، تبع تابعین اور مہدی غائب تک مسلمانوں نے نبیۖ کا وصیت نامہ نہیں مانا۔اہل تشیع کے گیارہ اماموں کی مجموعی عمر 550سال ہے اور صرف مہدی غائب کی عمر1174سال ہے۔ رسول اللہ ۖ شروع سے ہی نبی تھے لیکن منصب نبوت کا فریضہ 40سال بعد شروع ہوا۔ حضرت ابوبکر وعمر کے دور میں حضرت علی 40سال کے نہیں تھے۔ حضرت عثمان کے بعد خلافت ملی۔
شیعہ کا مؤقف درست تسلیم کرلیا تو پھر آج کی صورتحال کیا ہے؟۔ فلسطین کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف سب متحد ہیں ، فرقہ واریت کا سب خاتمہ چاہتے ہیں۔ نبیۖ نے فرمایا ”جس نے اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا”۔ شیعہ سنی متفقہ قرار داد پیش کریں کہ امام زمانہ تشریف لائیں۔ اگر تشریف نہیں لاتے تو مسلمانوں نے کیا کرنا ہے؟۔ شیعہ اپنے احادیث کے ذخائر کو بھی مکمل طور پر صحیح نہیں مانتے تو پھر قرآن کی طرف توجہ کرنی پڑے گی؟۔ قرآن میں کچھ ذمہ داری عوام پر ہے تو پھر کچھ ذمہ داری امام پر نہیں؟۔ اگر ہزار سال سے زیادہ ہوا کہ امام غائب تو سابقہ اماموں کے کردار کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ اگر امت کا نہیں گھرکے افراد کا بھی آپس میں اتفاق نہیں تھا تو پھر ؟۔ اگر گیارہ میں سے کسی ایک نے بھی امت مسلمہ کو کشتی نوح کی طرح نجات نہیں دلائی تو پھر بارویں کا انتظار کیسے کریں گے؟۔ مفتی زرولی خان، مفتی اعظم امریکہ مفتی منیر احمد اخون کو جب حضرت خضر کے فیوض وبرکات سے استفادہ مل سکتا ہے تو شیعہ بھی امام مہدی غائب پر جس طرح چاہیں ایمان رکھیں لیکن فی الحال امت کے مسائل کا حل نکالنے کیلئے قرآن کی طرف توجہ کریں گے تو معاملہ حل ہوجائے گا۔
جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے تحفظ صحابہ واہل بیت بل پیش کیا تھا۔ مولانا مودودی کی کتاب ” خلافت وملوکیت” پر ایمان رکھنے والے جب سمجھتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے بعد امیرمعاویہ کی وجہ سے خلافت ملوکیت میں بدل گئی تھی۔ ناصبی سمجھتے ہیں کہ حضرت حسن و حضرت حسین کے درجات امیر معاویہ ویزید سے بلند تر تھے۔ مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فتح مکہ کے بعد اسلام میں داخل ہونے والوں سے وہ افضل تھے جو بعد میں داخل ہوئے تو یہ بھی سب مانتے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے خلافت کو ملوکیت میں بدلنا درست نہیں تھا۔ جب خلافت کو ملوکیت میں بدلنا درست نہیں تھا تو اہل تشیع کو بھی یہ پورا پورا حق پہنچتا ہے کہ وہ خلافت راشدہ میں بھی حضرت علی کو زیادہ حقدار مان لیں۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ کے پیروکاروں کو بھی حق تھا کہ وہ انصار کی حقداری کے معتقد ہوتے اسلئے کہ جس صحابی کی بھی اقتداء کی جائے تو ہدایت پر ہونے کی حدیث پیش کی جاتی ہے۔ ذوالخویصرہ بھی نبیۖ کا ایک صحابی تھا۔ آج کل بہت لوگوں کی اکثریت اس کی اقتداء کرتے نظر آتے ہیں اور اپنے ہی کو ہدایت پر سمجھتے ہیں۔ ان ساری باتوں کو چھوڑ کر قرآن کی طرف آنا پڑے گا۔
جب قرآن کی موٹی موٹی باتوں کی طرف شیعہ سنی آجائیں گے تو پھر بہت بڑا احساس ہوگا کہ جس قرآن کے بارے میں رسول اللہ ۖ نے قیامت کے دن امت مسلمہ کی شکایت کرنی ہے اس کو تو دونوں نے چھوڑ دیا۔ کچھ کی مثال تو یہود کی طرح ہے جو سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود بھی اللہ کا ان پر غضب ہے ۔ قرآن کے واضح احکام اور حق سے انحراف کررہے ہیں اور کچھ کی مثال نصاریٰ کی طرح ہے جن کی سمجھ کم ہے اور وہ گمراہ ہیں۔ نبیۖ نے اس کی نشاندہی فرمائی تھی۔ شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، مودودی اور اہلحدیث قرآن کی طرف توجہ کریں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

محنت اورایمانداری سے عروج ملتا ہے۔ ڈاکٹر اسدمحمود

محنت اورایمانداری سے عروج ملتا ہے۔ ڈاکٹر اسدمحمود

درسِ نظامی کا نصاب علماء ومفتیان بنانے کیلئے نہیں ہے بلکہ علوم و فنون میں صلاحیت حاصل کرنے کیلئے ہے۔ فاضل اور فارغ التحصیل کا لفظ جہالت ہے۔ طلب علم کی تشنگی دور اسلئے نہیں ہوسکتی ہے کہ فوق کل ذی علم علیم (ہر علم والے پر بڑا عالم ہے )کی حقیقت موجود ہے۔ درس نظامی کے مدارس، خانقاہیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں اور تبلیغی تنظیمیں اسلام کی بقاء میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور انہی کے فیوض وبرکات سے دین کے خدوخال اور نقوش وچھاپ موجود ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب دین وایمان کم اور پیٹ کا مسئلہ زیادہ ہے۔
سکول، کالج ، یونیورسٹی، مدرسہ کے باوجود ترقی وعروج نہیں مل رہاہے بلکہ ہم پستی وخواری کی جانب گامزن ہیں۔ موٹیویشن اسپیکر ڈاکٹر اسد محمود کی یہ بات بھی بہت اچھی لگی کہ فٹ پاتھ پر جوتے گانٹھنے والے موچی نے بڑے دانشور سے پوچھا کہ مجھے عروج مل سکتا ہے؟۔ تو دانشور نے جواب دیا کہ بالکل !۔ پہلی شرط یہ ہے کہ تم محنت کرو۔ صبح سویرے سے رات دیر تک محنت کرو تو کامیابی مل سکتی ہے اسلئے کہ 30فیصد لوگ سستی کی وجہ سے نا کام اور 30فیصد لوگ محنت کی وجہ سے کامیاب ہیں۔ مسلسل محنت کرنے اور سستی چھوڑنے سے تم 30فیصد ان لوگوں میںشامل ہوجاؤگے جو کامیاب ہیں۔ گویا 30فیصد کامیابی تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے جو محنت سے مل سکتی ہے۔ 50فیصد کامیابی ایمانداری سے مل جاتی ہے۔ دنیا میں 50فیصد لوگ ایماندار ی کی وجہ سے کامیاب زندگی گزارتے ہیں ۔ ایمان دار بن جاؤ تو محنت وایمانداری کی وجہ سے 80فیصد عروج ملے گا۔ ایمانداری یہ ہے کہ وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو۔ جھوٹ نہ بولو ،جھوٹ سے نفرت کرو۔ عہد شکنی مت کرو، دھوکہ مت دو اور سچ بولو، سچ سے محبت کرو اور سچ کا بھرپور ساتھ دو۔ محنت اور ایمانداری کی بدولت 80فیصد کامیاب اور عروج پانے والوں کی فہرست میں شامل ہوجاؤگے اور باقی 20فیصد ہنر سے کامیابی مل جائے گی اور ہنر کوئی بھی ہو تواس کی زیادہ سے زیادہ اہمیت 20 فیصد ہے۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایاہے الکاسب حبیب اللہ ” محنت کش اللہ کا دوست ہے”۔ اور فرمایا کہ ”سچے تاجروں کا حشر انبیائ، صدیقین، شہداء ، صالحین کے ساتھ ہوگا”۔ ہمارے مذہبی طبقہ ایماندار نہیں تو دنیادار کیسے ہوگا؟۔
مذہبی طبقہ محنت اور ایمانداری سے کام لیں تو 100فیصد نہیں ہزار فیصد ان کی کامیابی یقینی ہے اسلئے کہ جب رسول اللہ ۖ نے دورِ جاہلیت کی بے ایمانی اور تعصبات کو ختم کردیا تو نبیۖ کے جانشینوں کیلئے موجودہ دور میں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ پوری دنیا سودی نظام کی وجہ سے غربت کا شکار ہے۔ سودی نظام محنت کشوں، ایمان داروں اور مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
دنیا کے بینکوں اور اسلامی بینکاری سے صیہونی عالمی مالیاتی اداروں کو جوسود ملتاہے اسی سے امریکہ واسرائیل نے دنیا اور عالم اسلام کو گرفت میں لیا ہے۔ مدارس میں فاضل اور فارغ التحصیل تیار ہورہے ہیں لیکن مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی صدروفاق المدارس پاکستان اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صدر تنظیم المدارس پاکستان دیوبندی بریلوی اسلامی سودی بینکاری کی تائید کررہے ہیں۔ ایمانداری گئی بھاڑ میں اور محنت اور فن بھی گئے جھاڑ میں۔اسلام اور مذہبی طبقات سے اسلئے نفرت بڑھ رہی ہے کہ آج یہ آلۂ کار بن گئے ہیں۔
صرف دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگ مولانا مناظر احسن گیلانی کی ایک کتاب ”تدوین القرآن” سے استفادہ کرکے علماء کرام اور طلباء عظام میں عام کردیں اور اپنے نصاب کے دائرے میں داخل کردیں تو ان کی محنت کارُخ درست بلکہ تندرست ہوجائے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عتیق گیلانی ڈرتا نہیں ہے لیکن غلط کہتے ہیں۔میں بالکل ڈرتا ہوں۔ اسلام اسلئے نہیں تھا کہ نبی ۖ نے فتح مکہ کے بعد جن لوگوں کو معاف کیا تھا ،وہ بنی امیہ فتح مکہ سے پہلے والے مسلمانوں کو اپنے تابع بناکر یزید اور بنومروان کو حکومت سونپ دیں یا بنوعباس اور ترکی خلافت عثمانیہ کی بادشاہت کھڑی کردیں اور اب مدارس، پیری مریدی ، سیاست و جہاد کے نام پر دنیاوی مفادات کیلئے اپنی اپنی فنکاریاں کریں۔ اس کیلئے اگر حسن نے زہر سے شہادت پالی اور حسین نے کربلا کے میدان ساتھیوں اور بچوں سمیت اپنی جان دیدی تو ان کو بھی قربانی کا شوق نہیں تھا لیکن مجبور کیا گیا تھا۔ صرف یزید کی بیعت قبول نہیں کی تھی ۔پھر ہم یزید کے مذہبی دکانداروں کے ہاتھ پر کیسے بیعت کرسکتے ہیں؟۔ بیعت انسانوں کے ہاتھ پر انسانوں کی ذات کیلئے نہیں ہوتی ہے بلکہ انسانوں کے ہاتھ پر اپنی اصلاح اور اجتماعی فریضے کیلئے ہوتی ہے۔
بیعت اللہ کیلئے ہوتی ہے۔ کسی ظاہری خلیفہ کے ہاتھ اللہ کے احکام کی بجا آوری کیلئے کی جائے یا کسی مرشد کے ہاتھ پر اپنی اصلاح کیلئے کی جائے تو اس کا مطلب اللہ کے لئے اپنے فرائض یا اپنی اصلاح کرنا ہوتی ہے۔ نبی ۖ اصلاح کیلئے بیعت فرماتے تھے اور لوگ اپنی اصلاح اور اللہ کیلئے بیعت ہوتے تھے۔ بیعت خلافت حضرت ابوبکر سے شروع ہوئی اور بیعت اصلاح حضرت علی اور ائمہ اہل بیت کے ہاتھ پر لوگ کرتے تھے۔ شریعت کے ظاہری وباطنی امور سے انسان اللہ کے نظام اور اپنی اصلاح کی طرف جائے تو بہت اچھا ہے۔
نبی ۖ نے جہاد کیلئے بیعت رضوان میں درخت کے نیچے بیعت لی تھی اور اب اطلاعات یہ ملتی ہیں کہ پاکستان کے خلاف طالبان نے جہاد کی بیعت لے لی ہے۔ جب ہمارے گھر پر طالبان نے اٹیک کیا تھا تو میٹنگ کوڑ قلعہ کے پاس ہمارے عزیزوں کے ہاں ہوئی تھی۔جہاں سے پاک فوج کے سپاہی قریب قلعہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حملے کے بعد بھی ایک طرف فوج ڈیوٹی دے رہی تھی اور دوسری طرف حملے میں ملوث لوگ دندناتے پھررہے تھے۔ عوام اسلئے فریق کا کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں کہ گڈ اور بیڈ کی تمیز بھی لوگوں کے پاس نہیں ہے۔
دیوبندی مکتب ضلع ٹانک کے سارے علماء جمعیت علماء اسلام (ف + س) مجلس تحفظ ختم نبوت ، سپاہ صحابہ اور سبھی کے بڑے میرے دوست اور حامی تھے۔ محسود اور وزیر علماء بھی حمایت کرتے تھے۔ واقعہ کے بعد بیت اللہ محسود نے قاری حسین اور حکیم اللہ محسود کو قصاص میں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہوں کہا کہ ہم بھی قصاص ہوں گے کہ بے گناہوں کو قتل کیا ہے اور تم بھی ہوگے اسلئے کہ ملک خاندان اور اس کی فیملی کو تمہارے حکم پر بے گناہ قتل کیا ہے جس کی وجہ سے بیت اللہ محسود کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ منظور پشتین سے زیادہ شرافت کی شہرت رکھنے والے پالم خان ٹھیکیدار بھی طالبان کیلئے پھررہاتھا کہ اگر ان سے صلح ہوگئی تو پختونخواہ کی حکومت طالبان کو مل جائے گی۔ ہمارے عزیز پیر زبیر شاہ امریکن کو اسامہ کے پیچھے ڈھونڈنے کیلئے کانیگرم لے گیا تھا اور جب سوات میں طالبان نے ایک اور صحافی سرمرو کیساتھ پکڑلیا تو اسی وقت طالبان کے ترجمان نے چھوڑنے کا مژدہ ٹی وی اسکرین پر سنادیا تھا۔ امریکہ ریفری تھا اور کھلاڑیوں کو اپنی مرضی سے ہی میدان میں کھیلنے کا حکم دیتا ہے۔مدارس اور علماء ومفتیان کی اکثریت کو اسلام کی طرف آنا ہوگا ورنہ وہ بھی ایک دن مکافات عمل کا پھر شکار ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر اسد محمود نے ”لارڈ میکالے” کا بتایاکہ تباہی کیلئے1835ء سے یہ نظام تعلیم آج تک کامیابی سے چل رہاہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ شامی نے ہی مسلمانوں کا بیڑہ غرق کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟۔ جس کا شاہ ولی اللہ نے بجا فرمایاتھاکہ فک النظام ”اس نظام تعلیم کی کایہ پلٹ دو”۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی طرف رجوع فرقہ واریت اور مسائل کا حل؟

قرآن کی طرف رجوع فرقہ واریت اور مسائل کا حل؟

خلفاء راشدین ، ائمہ مجتہدین اور حنفی مسلک کی بھرپور تائیداور اہل تشیع و اہلحدیث کی طرف سے حمایت؟

اس سے بڑھ کر کیا چاہیے کہ قرآن کی طرف رجوع بھی ہو اور اہل سنت کا مؤقف تمام فرقے مان لیں؟

قرآن ، سنت ، اجماع اور قیاس اصول دین کے چار بنیادی اجزاء ہیںاور اس میں قرآن کو متن اور سنت کو شارح کی حیثیت حاصل ہے۔ اجماع اور قیاس بھی معیار بنائے گئے ہیں۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبلنے اجماع کیا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق منعقد ہوجاتی ہیں ۔ جبکہ شیعہ و اہل حدیث کی طرح امت مسلمہ میں پہلے بھی ایسے لوگ تھے جو اس اجماع کو نہیں مانتے تھے۔ اس میں حق پر کون اور باطل پر کون تھے؟۔ نتائج ملاحظہ فرمائیں!۔
سیدجواد حسین نقوی نے اپنی بیگم سے کہا کہ تجھے تین طلاق۔ اب یہ تنازعہ عدالت میں پہنچ گیا۔ علامہ جواد نقوی رجوع کرنا چاہتا ہے اور اس کی بیوی راضی نہیں کہ رجوع ہوجائے۔ اہل سنت کے چاروں فقہی مسالک کا اجماع ہے کہ ”اب رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔ شیعہ واہلحدیث کے ہاں علامہ جواد نقوی کو حق حاصل ہے کہ وہ رجوع کرلے ،اسلئے کہ یہ ایک طلاق رجعی ہے۔ حضرت عمر کے اجتہاد کو اہل تشیع اور اہل حدیث درست نہیں سمجھتے ہیں۔
عورت کا فائدہ اہل سنت کے اجماع میں ہے اور شوہر کا فائدہ شیعہ مسلک میں ہے۔ دونوں کے پاس دلیل اہل سنت اور اہل تشیع کے مسلک کی ہے۔
اہل سنت کہتے ہیںکہ ایک ساتھ تین طلاق دینا اچھی بات نہیں ہے مگر نافذ ہوجاتی ہیں ۔ رسول اللہ ۖ کے سامنے عویمر عجلانی نے لعان کے بعداپنی بیوی کو تین طلاق دئیے۔ ایک شخص کی اطلاع دی گئی کہ اس نے بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے۔اسلئے اکٹھی3طلاق پر3طلاق ہی کا حکم لگتا ہے۔ حضرت عمر نے قرآن وسنت کے خلاف اجتہاد نہیں کیا ہے۔
اہل سنت نے اپنے مؤقف پر فقہ کی دنیا میں بڑی بڑی کتابیں مرتب کردی ہیں اور اہل تشیع نے اپنا مسلک یہاں تک پہنچادیا کہ عدت کے تین ادوار میں بھی صیغہ طلاق اور دو دو گواہوں کے بغیر طلاق نہیں ہوتی ہے۔ البتہ اگر ہر مرحلے پر دو دو گواہ بناکر طلاق دے دی تو پھر حلالہ نہیں ہوگا بلکہ مستقل نکاح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکے گا۔ سنی اور شیعہ دونوں نے ایک دوسرے سے اس مسئلے پر شدت کا اختلاف کیا ہے۔ فقہی مسالک کی درسی کتابوںاور فتاویٰ کے سمندر میں غرقاب علماء ومفتیان نے مسلک پرستی کے پیچھے قرآن کو بھی چھوڑ دیا ہے۔ قرآن وسنت اہل سنت کیلئے بنیاد تھے اور اہل تشیع کیلئے قرآن واہل بیت بنیاد تھے۔ اہل سنت نے فقہاء کے7طبقات میں خود کو قرآن وسنت سے دور کردیا ہے اور اہل تشیع کی نظروں سے بھی ائمہ اہل بیت کے آخری امام مہدی1174سالوں سے غائب ہوگئے۔ قرآن پر دونوں فرقوں کا اتفاق تھا مگر قرآن کی طرف توجہ چھوڑ دی۔
نتیجے میں اہلسنت نے اکٹھی 3 طلاق پر باہمی صلح و اصلاح کے باوجود حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دیکر شادی شدہ خواتین کی عزتوں کو چھلنی کرنا شروع کردیا۔
بادشاہوں کے دربار میں لونڈیوں کی جھرمٹ ہوتی تھی اور درباری مفتیان حلالے کی لعنت سے اپنے منہ کالے کرتے تھے۔ جس طرح سادات ، صدیقی، فاروقی، عثمانی ، علوی و انصاری وغیرہ نسل اور شجرۂ نسب کی بنیاد پر ہوتے تھے اس طرح کچھ درباری خاندان خود کو خلافت عثمانیہ کی طرف منسوب کرکے عثمانی کہلانا پسند کرتے تھے۔لیکن ان کا شجرۂ نسب حضرت عثمان سے نہیں ملتا تھا ۔علامہ شبیر احمد عثمانی مولانا فضل الرحمن عثمانی کے فرزند تھے اور ان کا شجرہ نسب بھی حضرت عثمان تک موجود تھا لیکن مفتی تقی عثمانی شجرۂ نسب والا نہیں درباری عثمانی ہے۔
بڑے چھوٹے مدارس کے علماء ومفتیان حلالہ کے خلاف ہیں لیکن مفتی تقی عثمانی کے خوف سے کھلم کھلا تائید سے گھبراتے ہیں۔ مفتی نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کے بانی ومہتمم میرے استاذ تھے اور بالمشافہہ ملاقاتوں میں طلاق کا مسئلہ سمجھنے کے بعد علماء ومفتیان سے بات کرنے کا کہا لیکن پھر مفتی تقی عثمانی نے ان کو خوفزدہ کردیا۔ مفتی محمد نعیم نے بتایا تھا کہ میںخود فتویٰ دینے کی جرأت نہیں کرتا ہوں۔ اہلحدیث سے فتویٰ لینے کیلئے لوگوں کو بھیج دیتا ہوں، دارالعلوم کراچی کے مفتی صاحبان نے بھی حلالہ سے بچانے کیلئے کچھ افراد کو ہمارے پاس بھیجا تھا۔
دورہِ جاہلیت میں اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کرنا پڑتا تھا۔ قرآن نے باہمی اصلاح اور رضامندی سے رجوع کی بار بار وضاحت کرکے اکٹھی تین طلاق پر حلالے کی لعنت کو بیخ وبنیاد سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ قرآن نے خلع کا حق عورت کو دیا تھا اور مرد کو طلاق کا حق دیا تھا۔ خلع میں بھی عورت کے مالی حقوق تھے مگر طلاق میں خلع کی نسبت سے زیادہ تھے۔ اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرے اور شوہر انکار کرتا ہو تو مالی حقوق کی وجہ سے عورت کو طلاق کیلئے گواہوں کی ضرورت ہے ۔ گواہ نہ ہوں تو شوہر کو طلاق کے مالی حقوق سے عورت کو محروم کرنے کیلئے حلف اٹھانے کا شرعی حکم ہے۔ کیونکہ خلع اور طلاق مالی معاملہ ہے اسلئے دوسرے مالی معاملے کی طرح اس کو بھی حل کرنا انہی اصولوں کے مطابق ضروری ہے۔
جس طرح حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق پرفیصلہ عورت کے حق میں کیا تھا،اسی طرح جب ایک شخص نے حضرت علی کے سامنے لفظ حرام کہنے پر مقدمہ پیش کیا تو حضرت علی نے فیصلہ دیا کہ شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔ جب عورت راضی ہو تو حضرت عمر کے نزدیک حرام کہنے پر رجوع ہوسکتا تھا۔ یہ تضاد کتابوں میں لکھا ہے لیکن یہ تضاد نہیں قرآن وسنت کے عین مطابق فیصلہ اور فتویٰ ہے۔ ہم بار بار اسلئے توجہ دلارہے ہیں کہ اس وجہ سے غیرتمند،ایمان اور فطرت کے محافظ علماء ومفتیان بڑے پیمانے پر قرآن وسنت اور فطرت کی طرف رجوع کرنا شروع ہوجائیں گے تو فرقہ واریت سے بیزار اور ملحد بھی اسلام کی آغوش میں آجائیں گے اور امت مسلمہ میں ایک نئی روح اور انقلاب کا آغاز ہوگا۔
ویستفتونک فی النسآء قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلیٰ علیکم … (النسائ:127) ”اور تجھ سے فتویٰ پوچھتے ہیں عورتیں کے بارے میں کہہ دو کہ اللہ فتویٰ دیتا ہے انکے بارے میں اور جو تم پر تلاوت کی جاتی ہے ”۔
قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کے بارے میں مختلف حوالہ جات سے اتنے فتوے موجود ہیں کہ کسی قسم کا بھی کوئی واقعہ ہو تو اس کی بھرپور رہنمائی اللہ نے قرآن میں براہ راست کی ہے۔ جہاں رجوع کیلئے عورت راضی ہو تو پھر شوہر کی طرف سے اصلاح کی شرط پر رجوع کا فتویٰ ملے گا۔ اور جہاں عورت کی رضامندی نہ ہو تو وہاں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رجوع کی قطعی طور پر اجازت نہ ہوگی۔ عدت کے شروع میں، عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کے کافی عرصہ بعد عورت کی رضامندی کی وضاحت ہے۔ جب مسلمان طلاق کے غلط اور غلیظ فتوؤں کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھ کر مسترد کردیں گے تو ان میں اتنی وسعت قلبی آجائے گی کہ انسانیت کو وہ رحمة للعالمین کے اُمتی لگیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آج شیعہ سنی اختلافات کا خاتمہ بالخیر کیسے کرسکتے ہیں؟

آج شیعہ سنی اختلافات کا خاتمہ بالخیر کیسے کرسکتے ہیں؟

اصل مسئلہ صحابہ کرام و اہل بیت کی توہین ہے؟یا خلافت وامامت پر اختلاف یا یہ عقائد پر اختلاف ہے؟

مسجد وامام بارگاہ اور خانقاہ کے منبرسے اورپرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے ہرفورم پر حل پیش کرنا ہوگا

پارلیمنٹ سے تحفظ صحابہ واہل بیت بل منظور ہوا مگر کیا3سال سے بڑھاکر سزا10کی گئی تومسئلہ حل ہوا؟۔ عشرہ مبشرہ ، بدری صحابہ ،السابقون الاولون کے مہاجرین وانصار، حضرت علی و حضرت عائشہ نے ایک دوسرے سے جنگیں لڑی ہیں جس کی متتازع تاریخ احادیث کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ کیا اختلافات کو بیان کرنا بھی توہین ہے؟۔ پھر تو قرآنی آیت پر پابندی لگائی جائے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑلیا ؟۔کیا آیت بیان کرنا پیغمبروں کی توہین ؟۔ اگر ایک فرقہ حضرت موسیٰ اوردوسرا حضرت ہارون کے نام پر بنتا تو پھر روایات ،تفسیر،تاریخ کی کتابوں میں یہ معاملہ کہاں سے کہاں تک پہنچادیاجاتا؟، اس کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
صحابہ کرام کی تعریف وتوصیف قرآن میں بھی موجود ہے اور اہل سنت مکتبہ فکر میں بھی نسل در نسل ان کی عظمت وتوقیر کی عقیدت ہے۔ اگر ان کی کوئی توقیر نہیں ہو تب بھی توہین اسلئے اہل تشیع کے مراجع اور مجتہدین نے حرام قرار دی ہے کہ اس سے مسلمانوں میں نفرت کو ہوا ملتی ہے اور نتیجہ قتل وغارت تک پہنچ جاتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں باطل معبودوں کو بھی اسلئے برا بھلا کہنے کی ممانعت کردی ہے کہ وہ پھر معبود برحق کو بھی برا کہنا شروع ہوجائیں گے۔
کیا اہل تشیع اس بات کو برداشت کرسکتے ہیں کہ ان کے امام زمانہ غائب مہدی کو اہل سنت برا بھلا کہیں؟۔ ہرگز نہیں۔ سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق نے جب مہدی غائب کی توہین کی کہ وہ اہل سنت کے امام نہیں شیعہ کے ہیں تو اس پر کتنے قاتلانہ حملے ہوگئے؟۔ آج تک سپاہ صحابہ کے کسی قائد میں پھر توہین کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ جب شیعہ اپنے مقدسات کی توہین برداشت کرنا گوارا نہیں کرتے تو اہل سنت سے کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ برداشت کریں؟۔
اگر انصار ومہاجرین اور قریش واہلبیت میںمسئلہ خلافت پر اختلاف تھا تو امام حسین کے بیٹے زین العابدین کے بیٹوں امام زید اورامام باقر میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا۔ حضرت زید نے امام حسین کے راستے پر چل کر مزاحمت کی لیکن امام باقر نے امام حسن کی طرح مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ پھر امام جعفر کی اولاد میں بھی مسئلہ امامت وخلافت پر اختلاف آیا۔ ایک طرف امام اسماعیل کے بیٹے سے موجودہ آغا خانی اور بوہرہ فرقوں نے جنم لیا ، جنہوں نے فاطمی خلافت قائم کی تھی اور دوسری طرف امام باقر سے امامیہ نے جنم لیا جس کی شیعہ اکثریت ہے۔
اسماعیلی آغا خانی اور بوہری امام حسن کی امامت کے قائل نہیں جو خلافت سے دستبردارہو چکے تھے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ امامت وہ نور ہے جو نسل در نسل منتقل ہوا ہے۔ حضرت علی سے حضرت حسین، پھر موجودہ آغا خان یا بوہری کے امام تک۔ اگرچہ آغا خانی اب پھنس چکے ہیں اسلئے کہ بیٹا بھی نااہل ہے اور بیٹی کو امام بنائیں تو بھی مسئلہ ہے اور بوہریوں میں بھی کچھ عرصہ پہلے مسئلہ کھڑا ہوا تھا کہ بیٹے یا بھائی کو امام بنایا جائے ؟۔دوسری طرف شیعہ امامیہ کا عقیدہ ہے کہ بارہ امام کو نور امامت ایک دوسرے سے پشت در پشت منتقل ہوتا رہاہے۔ البتہ حسن سے یہ نور پھر حسین اور ان کی اولاد میں کیسے منتقل ہوا؟۔ اس کا جواب حسن الہ یاری نے خوب دیا کہ محمد بن ابی بکر اصل میں علی کے بیٹے تھے ،جس کو ابوبکر کے شجرہ خبیثہ سے شجرہ طیبہ میں منتقل کیا گیا۔ غیر مہذب گفتگو علامہ شہریار رضا عابدی کا بھی کرتا ہے کہ ابوبکر کے باپ کی اپنی بھتیجی سے شادی ہوئی تھی لیکن تاریخی مغالطوں کو توڑ مروڑ کرمنطقی نتائج نکالنا غلط ہے۔ اگر کوئی ملحد ابراہیم کے خلاف توہین آمیز منطق بنائے کہ دو باپ تھے ۔ایک آذر اور دوسرا تارخ۔تو چچا بھی باپ تھا اور باپ بھی باپ تھا؟۔ عبد المطلب اپنے بھائی مطلب کا بھائی نہیں غلام تھا اور ہاشم کا پوتا نہیں شیبہ کو کہیں اور سے لایا گیا تھا؟۔یا نکاح نہیں متعہ کی اولاد تھا؟۔ تو ایسی توہین آمیز گفتگو اور منطقی نتائج سے سادات اور بنوہاشم کو کتنی تکلیف ہوگی؟۔ اگر ابوطالب علیہ السلام اور حضرت عبداللہ علیہ السلام پیدائشی مسلمان تھے جو بالکل ہوں گے اسلئے کہ اہل کتاب کو بھی قرآن میں پہلے سے ہی مسلمان قرار دیا گیا ہے تو یہودونصاریٰ کی طرح مشرکین عرب میں بھی مسلمان تھے۔مگر ابوطالب نے اپنی بیٹی ام ہانی کا رشتہ طلب کرنے کے باوجود بھی نبی ۖ کو نہیں دی اور حضرت ابوبکر نے اپنی16سالہ کنواری بیٹی کا رشتہ مشرک سے توڑ کر نبیۖ کو دیا تھا۔ حسن الہ یاری کی بات درست ہو تو حضرت ابراہیم کیلئے آذر یا تارخ کے بیٹے کا مسئلہ نہیں بنتا ہے جو اہل تشیع بناتے ہیں؟۔جب شیعہ کے ائمہ کے گھرسے ہی اختلافات اٹھے ہیں اور بارہ ائمہ پر ان کا آپس میں بھی اتفاق نہیں ہے تو بہتری اس میں ہے کہ سب مل جل کر چلیں۔ توہین وتذلیل کی جگہ عزت وتوقیر کی راہ پر خود بھی چلیں اور دوسروں کو بھی گامزن کریں۔ شیعہ کے سنی بننے اور سنی کے شیعہ بننے سے فرق نہیں پڑے گا بلکہ خطیبوں کامزید بوجھ بڑھے گا۔ اپنے خطیبوں کا بوجھ نہیں اٹھتا تو دوسرے کے چاچا خوامخواہ نہ بنیں۔
جہاں تک بارہ امام اور خلفاء کا تعلق ہے تو اہل تشیع سے زیادہ اہل سنت کے پاس اس کا نقشہ موجود ہے۔ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے اپنی کتاب ” تصفیہ ما بین شیعہ وسنی” میں لکھا بھی ہے کہ ”یہ بارہ خلفاء آئندہ آئیں گے، جن پر سب کا اتفاق واتحاد ہوگا اور ان کو حکومت بھی ملے گی ”۔ علامہ جلال الدین سیوطینے یہ اپنی کتاب ”الحاوی للفتاویٰ” میں واضح کردی تھی ۔ مشکوٰة کی شرح ”مظاہر حق” میں بھی واضح ہے کہ ان خلفاء کا تعلق نہ صرف قریش بلکہ اہل بیت حضرت حسن و حضرت حسین کی اولاد سے ہوگا۔ اہل تشیع کی کتابوں میں بھی درمیانہ زمانے کے مہدی اور مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کو حکومت ملنے کی بڑی وضاحت ہے لیکن اہل تشیع اپنی کتابوں سے بھی امت مسلمہ کو اتحادواتفاق اور وحدت کا درس نہیں دیں گے اور اختلافات کو اچھالیں گے تو دہشتگردی کے سوا کیا ملے گا؟۔
سب سے زیادہ خطرناک نصیری فرقہ علی کو خدا مانتا ہے۔جب ایک طرف علی، حسن ، حسین کی انتہائی مظلومیت کا عقیدہ رکھا جائے اور دوسری طرف علی ہی کو خدا اور مشکل کشا مانا جائے تو اس بڑے تضاد کو دور کرنے کی کوشش میں بھی جاہل نصیری سے لیکر مناظرانہ صلاحیت رکھنے والوں کی بڑی اصلاح ہوسکتی ہے ۔ پھر شیخ احمدسرہندی المعروف مجدد الف ثانی سے شاہ ولی اللہتک اور حضرت شاہ اسماعیل شہید سے علامہ یوسف بنوری تک کے عقائد سے اہل تشیع کو بہت بڑی ڈھارس مل سکتی ہے۔ فتویٰ لگاکر دیکھ لیا۔ قتل و غارتگری بھی ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں بل پاس کرلیا اور اب ایک خوشگوار فضاء بھی بنائی جائے تو کیا حرج ہے؟۔ عباسی خلیفہ مامون الرشیدکے داماد اور جانشین امام رضا شہیدشیعہ امام تھے تو اب اتحاد و اتفاق اور وحدت کی راہ میں کونسی رکاوٹ باقی رہ گئی ہے؟۔آئیے بسم اللہ کیجئے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سوات سے وزیرستان ، بلوچستان کے آزاد علاقہ جات

سوات سے وزیرستان ، بلوچستان کے آزاد علاقہ جات

انگریز نے جب افغانستان کیساتھ ڈیورنڈلائن کا معاہدہ کیا تو یہ علاقہ جات پہلے سے خودمختار اورآزادتھے

وزیرستان پر تو کبھی کسی کا بھی باقاعدہ اقتدار نہیں رہاہے۔پاکستان سے محبت نے اقتدار کو تسلیم کیا ہے؟

سوات کے بزرگ رہنما حاجی زاہد خان نے تفصیل سے ان علاقوں کی آئینی حیثیت سوشل میڈیا پر بتائی ہے کہ یہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔مسلم لیگ ن سندھ کے صدر سابق ڈی جیFIAکے گھی مل پر مقدمہ تھاجس میں نام کو غلط استعمال کرنے کا مسئلہ تھا۔ جس کو وزیرستان سے رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ جب وزیرستان کے اپنے باشندے نقل وحمل نہیں کرسکتے تھے تو ان لوگوں نے گھی کے مل لگائے تھے؟یا پھرمتأثرین میں گھی کی تقسیم کا جب معاملہ چل رہا تھا تو ان لوگوں نے گھی تقسیم مفت تقسیم کرنے والوں سے پیسہ بٹورنے کیلئے ایک پروگرام بنایا تھا؟۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ڈیورنڈ لائن سے پہلے بھی افغانستان میں شامل نہ تھے۔انگریزنے روڈ،قلعے اور کیمپ بنائے۔لوگوں کو نوکریاں دیں اور انگریز کے جانے کے بعد پاکستان کے ساتھ آزادی کی خوشی منائی ۔معین قریشی کے دور عبوری حکومت تک پارلیمنٹ کانمائندہ بالغ حق رائے دہی نہیں13سو ملکان کے ووٹوں سے منتخب ہوتا تھا۔سرکاری نوکریوں،سکول،ہسپتال اور کوٹہ سسٹم سے لوگوں کو بہت فوائد پہنچے۔ انگریز کے وقت سے حساب کتاب ہو تو پھر اس کی بھاری قیمت بنتی ہے ۔لیکن اسکے عوض جتنی خدمات انجام دی ہیں اس کا معاوضہ بھی کم نہیں بنتا ہے۔اگر قوم نے فیصلہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف سے اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کرنا ہے تو بہت مشکل میں پڑ جائیں گے اسلئے کہ ہم شمالی اور جنوبی وزیرستان کو ایک کرنے کی بات بہت دور کی ہے جنوبی وزیرستان کے محسود اوروزیرقبائل کو اکٹھا کرنا بھی بہت مشکل کام ہے۔
لیکن اگرحکومت وریاست کی پالیسیوں نے مجبور کیا اور قوم اٹھ کھڑی ہوئی توسنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔وزیرستان کی پرامن فضائیں ریاستی پالیسیوں سے بدامنی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔فوج نے امریکہ کا ساتھ دیا اور امریکہ کے خلاف ایک طرف طالبان کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی۔اور دوسری طرف عوام آپریشن سے متأثر ہورہے تھے۔ جس کی وجہ سے فوج اورطالبان کو ایک صف میں پانے والے لوگ دونوں سے بدظن ہوگئے اسلئے کہ ایک طرف طالبان کے ہاتھوں وہ مررہے تھے اوردوسری طرف فوج کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ عوام میں اس بات نے قبولِ عام کا درجہ حاصل کرلیا تھا کہ” طالبان اور فوج صحابہ کرام اور انبیاء عظام ہیں بس کا فر تو عام عوام ہیں ان کو قتل کرو”۔
سابقMNAعلی وزیر نے قومی اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ ”ہمارا خاندان پاک فوج کیلئے قربان ہوچکا ہے”۔سابقMNAمحسن داوڑ نے کہا تھا کہ ”پروگرام یہ تھا کہ خیبرپختونخواہ میں تحریک طالبان پاکستان کی صوبائی حکومت قائم کی جائے اور پھر افغان حکومت کے خلاف یہاں سے پروکسی لڑی جائے لیکن پھر قطر میں مذاکرات کی وجہ سے معاملہ بدل گیا ”۔طالبان کی پاک فوج سے قربتیں کوئی مخفی بات نہیں تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے قریب سیاسی جماعتوں کو بھی طالبان نے کبھی نشانہ نہیں بنایا۔ مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف کے بعدPTMکو بھی طالبان نے نشانہ نہیں بنایاتواس کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے اسلئے کہ یہ عام بات تھی کہ فوج اپنے مخالفین کو طالبان کے ذریعے نشانہ بناتی ہے۔PTMنے طالبان کے مسنگ پرسن کیلئے بڑا کام کیا ہے اور ”یہ جو دشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” کانعرہ لگانے والے خود بھی اچھے رابطہ کار کی طرح تھے۔
نوازشریف کوگوجرانوالہ کے جلسہ اور مریم نواز کو بلوچی کپڑے پہن کرفوج کے خلاف آواز اٹھانا پڑتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور سیاسی قیادت پا رلیمنٹ سے باہراور نوازشریف کوسن1997میں بھاری مینڈیٹ کیساتھ حکومت ملتی ہے تو جمعیت علماء اسلام انتخابی سیاست چھوڑکر انقلابی سیاست کا اعلان کرتی ہے اور جب مولانا فضل الرحمن کو ضرورت پڑتی ہے توفوج کو دھمکی دیتے ہیں کہ امریکہ جیسا حشر کردیں گے۔ پیپلزپارٹی سندھ کارڈاورMQMمہاجر کارڈاستعمال کرتی ہے لیکن کیا قبائلی علاقہ جات ، سوات اور بلوچستان کے آزاد علاقوں سے بغاوت کا علم بلند کرنے کا خوف نہیں ہوسکتا ہے؟۔جن پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا ہے؟۔ لیکن یہ لوگ بہت سنجیدہ اور سمجھدار ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ پاکستان کے میدانی علاقے، حکومت پاکستان کی حکومت وریاست ہمارے لئے مفید ہے۔
جہاں تک افغانستان سے ملنے کا تعلق ہے تو افغانستان میں ابھی تک کوئی ایسی حکومت قائم نہیں ہوئی ہے کہ خود افغانی اس سے مطمئن ہوں۔افغانی بھی خود افغانی کے دشمن ہیں تو پاکستان کے افغان سے ملنے کی امید رکھنا ایک مشکل کام ہے۔اللہ کرے کہ پاکستان ،طالبان اور سارے افغان مل کر اس خطے کو جنت نظیراوراسلام کا قلعہ بنادیں۔اگر تعصبات اور نفرتوں کو ہوادی گئی تو کابل کو لاہور اور لاہور کو کابل فتح کرنا مشکل بھی ہوگا مگر ہمیں چکی کے دوپاٹوں میں پیسنے کا عمل جاری رہے گا۔ وزیرستان کے لوگ آزاد تھے اور سوات کی اپنی حکومت تھی اور آج وزیرستان سے سوات تک لوگ بدحالی کا شکار ہیں۔ سوات کے لوگوں کی خوشحالی اور روزگار چھن گیا اور وزیرستان کے لوگوں کی آزادی چھن گئی ہے۔
تصویر کا پہلا رُخ یہ ہے کہ حامد میر نے میرانشاہ معدنیات کا کہا کہ اس سے پورا پاکستان چل سکتاہے۔بلوچستان کے ذخائر سے پاکستان چل سکتا تھا لیکن ہمارا مقتدر طبقہ سیدھی نہیں ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے کا عادی مجرم بن چکا ہے۔ ہندوستان و چین اور اپنے آپ کو ایران کے سستے تیل وگیس سے مالامال کرتا اور افغانستان پر قبضہ کرتا کہ احمدشاہ ابدالی کے ظلم اور محمود غزنوی کا سومنات لوٹنے کا بدلہ لینا ہے ،علامہ اقبال نے کہا کہ میں سومناتی ہوں اور افغانستان کی عوام کو بھی سکون مل جاتا کہ وہاں جمہوریت سے خواتین کو تعلیم کا موقع ملے گا۔ جب انگریز سے مجبوری میں افغانی معاہدے کرسکتے ہیں تو پنجاب اور پاکستان کے لوگ وہی مسلمان ہیں جنہوں نے40سال سے40لاکھ افغانیوں کو پناہ دی اور کبھی ان کی روس کے خلاف مدد کی اور کبھی امریکہ کی مدد کرکے بھی ان پر احسان کیا؟۔
تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ” اگر صرف امریکہ کا منصوبہ ہے اور چین کو گوادر سے بھگانے کے بعد افغانستان میں بھی راستہ بند کرنا ہے تو یہ تیسری مرتبہ کی غلطی ہوگی ۔ روس کے خلاف جہاد کے نام پہلی غلطی کرچکے ہیں، دوسری مرتبہ امریکہ کو اڈے دیکرافغان سفیر تک بھی حوالے کرچکے ہیں ۔ یہ Uٹرن نہیں بلکہ پہلے بھی امریکی راہ پر چل رہے تھے اور پھر دوسری مرتبہ امریکہ نے موٹر وے پر لگایا تھا۔ تیسری مرتبہ پھر امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں چین کا پیچھا کیا تو بہت بڑی غلطی ہوگی۔ ہماری پاکستان اور خطے سے محبت ہے ۔اللہ مشکلات سے بچائے۔ لیکن پاکستان قرضوں میں خود کو بھوک سے مارے یا اس جنگ کی پاداش میں امریکہ کو وزیرستان وغیرہ کے معدنیات پر قبضہ کرنے کا موقع فراہم کردے؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان اور فلسطین کے مسائل کا حل حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں مگر مذہبی طبقہ بھی محروم ہے

پاکستان اور فلسطین کے مسائل کا حل حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں مگر مذہبی طبقہ بھی محروم ہے

پاکستان اور اسلام کو غلط استعمال کرکے روسی کمیونزم کو شکست دی گئی اور اب فلسطین کو استعمال کرکے اسرائیل اور مغربی دنیا سے اسلام اور مسلمانوں کو شکست دینے کا شیطانی منصوبہ ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے

پاکستان ، افغانستان ،ایران اور سعودی عرب اپنے ہاں درست اسلامی نظام نافذ کردیں تو اسرائیل وامریکہ سمیت پوری دنیا اسکے سامنے سرنگوں ہوجائے گی اور خلافت کا نظام پھر سے پوری دنیا میں نافذ ہوجائیگا

جرمنی اورجاپان کو شکست کے بعد پاکستان سے روسی کمیونزم کو شکست دی گئی ۔ اب اسرائیل سے اسلام کو شکست مقصود ہے۔فلسطین اور افغان مہاجرین کیساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ انسان نہیں درندوں کیساتھ بھی جائز نہیں ہے مگر کیوں ؟اس صورتحال کو پہلے سمجھ لیں، پھر اس سے نکلنے کی ضرورت پرسب مل کر زور دیں!

اقبال نے کہا:
اُٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امراء کے درودیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو
اقبال نے اپنے شاہینوں کو ”فرشتوں کا گیت” کے ذریعے کمیونزم کا انقلاب لانے کا کہا تھا مگر پاکستان کی ریاست ، حکومت اور مذہبی طبقات اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔شاعرفیض احمد فیض، حبیب جالب ، حسن ناصر شہید،بائیں بازو کے شعراء و سیاستدان چلاتے رہے مگر لاالہ الااللہ کے نام پر معرض وجودمیں آنے والا پاکستان سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کیلئے استعمال ہوگیا۔جمعیت علماء اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی، مفتی محمود، مولانا عبیداللہ انور اور مولانا عبداللہ درخواستی پر وہ مرکزی جمعیت علماء اسلام فتویٰ لگارہی تھی جس کے بانی علامہ شبیراحمد عثمانی تھے اور جو ہندوستان میں شیخ الہند کی جماعت جمعیت علماء ہندکے مقابلے میں بنائی گئی تھی۔ معراج محمد خان بھی کہتے تھے کہ وہ علماء حق کے پیروں کی خاک ہیں اور ان کی والدہ خالص پشتون تھی جس نے مذہب کی محبت ان کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی کہتے تھے کہ میں خالص یوسفزئی پٹھان ہوں۔ علامہ اقبال نے ”محراب گل افغان” کے نام سے ایک اچھا تخیل پیش کیا تھا۔ نسل پرستی کی بنیاد پر لوگوں کی نفرت کا فائدہ ظالم طبقات کو ہی پہنچتا ہے۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری اور سیدابوالاعلیٰ مودودی دونوں سادات بھی تھے اور پنجابی بھی۔ دونوں کی آپس میں بنتی بھی نہیں تھی۔ جب کشمیر کے جہاد کا مسئلہ آیا تو سیدعطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ” مجھے مولانا حسین احمد مدنی سے عقیدت ومحبت ہے لیکن اگر وہ بھی سامنے آگئے تو کشمیر میں وہ اپنے وطن کا دفاع کررہاہوگا اور میں اپنے وطن کا۔ اس کے سینے میں گولی اتاردوں گا”۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے کہا تھا کہ ” اسلامی جہاد پرائیویٹ تنظیم کا کام نہیں بلکہ ریاست کا شرعی فریضہ ہے۔ اگر ریاست جہاد نہیں کرتی تو پھر یہ جہاد نہیں کٹ مرنے کی بات ہے”۔ بعد میں جماعت اسلامی نے مولانا سید مودودی کی وفات کے بعد اپنی ساری زندگی ہی کشمیر اور افغانستان کے نام پر پرائیویٹ جہاد میں گزار دی۔ ولی خان کہتا تھا کہ” میں جہاد مانتا ہوں پاکستان کے پاس فوج، جہاز اور میزائل ہیں ،اپنی قوت کو افغانستان میں روس اور کشمیر میں بھارت کے خلاف استعمال کرے لیکن یہ کونسا جہاد ہے جو ہمارے ہاں ہورہاہے اور مال غنیمت منصورہ لاہور میں بٹتا ہے؟۔ جنرل ضیاء الحق کہتا ہے کہ اگر تم اسلام مانتے ہو ؟۔ تو مجھے وردی میں صدر بناؤ۔ میں کہتا ہوں کہ اسلام کا تقاضا ہے کہ تم وردی اتاردو اور لوگوں کو اپنا حکمران منتخب کرنے دو۔ وہ اسلام کو نافذ کردیں گے”۔ بھٹو کے خلاف قومی اتحاد اور نظام مصطفیۖ کے نام پر مشترکہ تحریک چلائی گئی تو جمعیت علماء اسلام کے مولانا غلام غوث ہزاروی نے اس کو فراڈ قرار دے دیا تھا۔
علامہ اقبال نے کہا:
جانتا ہوں یہ امت حامل قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندہ مؤمن کا دیں
جانتا ہوں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِ بیضاء ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذر آئینِ پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظِ ناموسِ ،زن مرد آزما، مرد آفریں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر وعمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں
چشم عالم سے پوشیدہ رہے یہ آئیںتو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مؤمن ہے محرومِ یقیں
ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے
مذہبی و جہادی طبقے کا دین سرمایہ داری تھا ۔فلسطین کے ڈاکٹر عبداللہ عزام نے عرب کو اسرائیل سے لڑانے کے بجائے سعودیہ کے اسامہ اور مصر کے ایمن الظواہری کو روس سے لڑا دیا۔ پاکستان بن رہاتھا تو پختونخواہ میں باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان کانگریس کی حکومت تھی۔ پنجاب میں مخلوط حکومت تھی ، بلوچستان آزاد اورسوات آزاد ریاست تھی ۔باجوڑ سے وزیرستان تک 7ایجنسیاں قبائلی علاقہ جات آزادو خودمختار تھے۔ سندھ کے5میں سے3ارکان کی حمایت اور2کی مخالفت تھی۔ گویا سندھ کے ایک ووٹ سے یہ پاکستان انگریز اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر وجود میں آیا۔ امریکہ کو اڈے دینا۔4لاکھ افغانی،80ہزارپاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتارنا ۔57ہزار ڈورن اور جہازوں نے یہاں سے اڑکر بمباری کردی توجائزتھا۔ ہم نے بھی مختلف ادوار میں بڑی زیادتیاں کی ہیں۔
ایک افغانی نے کہا کہ میں نے14سال روس کیخلاف جہاد کیا ،اب سوچتا ہوں کہ اگر ہم صدر نجیب اللہ کو مارنے اور اس کی ریاستی مشینری کو ختم نہ کرتے اور اس طرح اشرف غنی کی ملی اردو کو اپنے ساتھ رکھتے تو آج پاکستان ہمارے ساتھ زیادتی نہ کرتا۔ ایک گنڈہ پور کو اپنے بیٹے کی نالائقی کی شکایت تھی تو اس نے کہا کہ کاش یہ میری بیٹی ہوتی اور کوئی اس کے اوپر دل کے آبلے تو پھوڑ لیتا۔ یہی افغان مجاہد ین سے کہنا پڑے گا کہ کاش! تم افغانی لڑکیاں ہوتیں اور اس طرح اپنی قوم کیخلاف غلط استعمال ہونے کے بجائے دوسروں کیلئے دل کے آبلے پھوڑنے کا ذریعہ بنتیں تو اتنا برا نہ ہوتا۔
نوازشریف مغربی کوریڈورگوادر کا راستہ نہ بدلتا تو چین عرب سے کنکٹ ہوتا۔ پاکستان ٹول ٹیکس سے قرضہ واپس کرچکا ہوتا۔ایران سے تیل وگیس کی سپلائی ہوتی تب بھی حالات بدلتے۔ جو پاکستان اپنا بھلا خود نہیں چاہتا ہے تو اس سے کسی اور کو کیا امید ہوسکتی ہے۔ ڈنڈا مار سیاست کی جگہ پر درست جمہوری عمل ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پنجاب، بلوچستان، پختونخواہ، سندھ اور کراچی کا سیاسی ماحول ڈنڈے کے زور سے بگاڑا گیا ہے لیکن سیاسی قوتوں کا بھی بالکل مزہ نہیں ہے۔
اسرائیل کو برطانیہ نے پاکستان کے9ماہ بعد جنم دیا تھا۔ اسرائیل کے ذریعے مغرب نے اسلام کوصفحۂ ہستی سے مٹانے کا پروگرام بنایا ہے۔ غزہ کی پٹی اوربیت المقدس کے پاس بڑے فلسطین کی حیثیت ایک تجربہ گاہ کی ہے۔ حماس نے مجاہد یا دہشتگرد کا روپ دھارلیا اور محمود عباس نے ہیجڑہ طرز پر مسلمان حکمرانوں کا روپ دھارلیا ۔ جس سے مسلمانوں کی درست عکاسی دنیابھر میں ہورہی ہے۔
علامہ اقبال نے ”ابلیس( اپنے مشیروں سے)” میں اس کی خوب ترجمانی کررکھی ہے۔
ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ وبو
کیا زمیں، کیا مہر وماہ ،کیا آسماں توبتو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب وشرق
میں نے جب گرمادیا اقوامِ یورپ کا لہو
کیا امامانِ سیاست ،کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بناسکتی ہے میری ایک ہو!
کارگاہ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام وسبو
دست فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزد کی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈراسکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار،آشفتہ مغز، آشفتہ ہو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحرآ گاہی سے جو ظالم وضو
جانتا ہے ،جس پر روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنہ فردا نہیں ،اسلام ہے
امریکہ نے افغانستان، عراق ، لیبیا کا جو حشر کیا تو کس اسلامی ملک نے مدد کی؟۔ داعش نے یزیدی و کرد خواتین کی عصمت دری کرکے بھیڑ وں کی طرح بیچ دیا، میڈیا پر تشہیر ہوئی تو کس مفتی نے کیا فتویٰ دیا؟۔آج کون فلسطین پر رحم کھاکر میدان میں اُترے گا؟۔دہشتگرد خود کوئی کم ظالم ہیں؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا سید شبیہ الرضا زیدی اور علامہ حسن الہ یاری کی بحث پر تبصرہ

مولانا سید شبیہ الرضا زیدی اور علامہ حسن الہ یاری کی بحث پر تبصرہ

علامہ حسن الہ یاری نے کہا ہے کہ موجودہ شیعہ مقلدین اور مجتہدین دونوں اہل بیت کی تعلیمات سے برگشتہ ہیں۔ اگر مہدیٔ غائب آئے تو شیعہ خود اس کو نہیں چھوڑیں گے۔جس کے جواب میں مولانا شبیہ الرضا زیدی نے کہا کہ حسن الہ یاری امریکہ میں بیٹھ کر شیعوں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔ قرآن میں اللہ اور اس کے رسولۖ دونوں کی اطاعت کا حکم ہے۔ اولی الامر کے ساتھ اختلاف کی گنجائش ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا فلولا نفر من کل فرقة منھم طآئفة لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم ”پس اگر ہر فرقے میں سے ایک جماعت دین کی سمجھ حاصل کرے اور اپنی قوموں کو ڈرائے جب ان کی طرف وہ لوٹیں”۔ ان آیات سے فقہاء کی تقلید کا ثبوت ملتا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیت۔ امام کی غیبت کے بعد ہم کس سے مسائل پوچھیں گے؟۔ حضرت علی، حسن مجتبیٰ ، حسین سے گیارہویں امام علیہ السلام تک یہ سلسلہ پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ فقہاء کی تقلید کریں جو مخالف ہوں اپنی نفسانی خواہشات کے اور دین کے محافظ ہوںاور وہ مولیٰ کے مکمل اطاعت کرنے والے ہوں۔ مولیٰ اللہ کو بھی کہتے ہیں، مولیٰ رسول کو بھی کہتے ہیں، مولیٰ علی کو بھی کہتے ہیں۔ اس ایک لفظ کے ذریعے سے اللہ ، الرسول اور اہل بیت کا مطیع و فرمانبردار ہو۔ امام نے بھی فرمایا کہ فقیہ کے پاس جانا ہے جاہل کے پاس نہیں جانا ہے۔ کتاب کے پاس نہیں جانا ہے بلکہ آپ کو فقیہ کے پاس جانا ہے۔
علامہ صاحبان کی گفتگو کا مختصر خلاصہ یہاں پیش کردیا۔ جس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ اہل بیت کا معاملہ غیبت میں ہے اور کتاب کی طرف نہیں جانا بلکہ فقہاء کی تقلید کرنی ہے۔ اہل بیت غیبت میں ہوں اور کتاب کی طرف جانا نہیں ہو تو اس کا انجام کیا ہوگا؟۔ اہل تشیع میں اجتہاد و تقلید کا سنجیدہ اختلاف اسلئے ہے کہ گیارہ اماموں تک تقلیدکا کوئی تصور نہیں تھا۔ امام کو تقلید کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ امام کی غیبت کے بعد اجتہاد و تقلید پر اہل تشیع دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔
زیدی شیعہ اور اسماعیلی (آغاخانی و بوہری) اثناء عشریہ یا امامیہ سے زیادہ اہل سنت کو اپنے قریب سمجھتے تھے۔ اہل سنت یہ تشہیر کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں قرآن اور سنت۔ اہل تشیع قرآن اور اہل بیت کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ قرآن کو دونوں طبقات نے چھوڑ دیا ہے اور رسول اللہ ۖ قیامت کے دن اپنی قوم کے خلاف اللہ تعالیٰ سے قرآن چھوڑنے کی ہی شکایت فرمائیں گے۔ کیونکہ اہل سنت کے پاس سنت نہیں ہوگی اور اہل تشیع کے پاس اہل بیت نہیں ہوں گے۔ دونوں نے کتاب کو چھوڑ رکھا ہے۔ اہل سنت فقہاء کے سات طبقات میں الجھے ہوئے ہیں۔
سن2008کے الیکشن میں محمود خان اچکزئی، قاضی حسین احمد، عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری اور نواز شریف نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر پھر نواز شریف نے وعدہ خلافی کرکے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ اگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے علاوہ باقی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو سن2024کے الیکشن کیلئے آمادہ کرلیا جائے تو سیاسی،لسانی اور فرقہ وارانہ منافرت میں ایک زبردست کمی آسکتی ہے۔
شیعہ شیعہ سے ، دیوبندی دیوبندی سے، بریلوی بریلوی سے، اہل حدیث اہلحدیث سے نفرتوں کے بازار میں برسرپیکار ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی حالت ان سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اگر بیت المقدس کیلئے ایک نمائندہ وفد کے ساتھ لشکر تشکیل دیا جائے تو اس آگ کو بجھانے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی جو اسرائیل نے عسقلان پر حملے کے بعد غزہ کی پٹی میں لگائی ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے پر جن مظالم کا سامنا غزہ کے لوگ کررہے ہیں یہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اس طرح ایک بڑا وفد افغانستان اور ایران کیلئے بھی تیار کرکے بھیجا جائے جس سے مسائل کے حل میں آسانی ہو۔ بلکہ ہندوستان اور چین کے علاوہ عرب ممالک کو بھی افہام و تفہیم کے مسائل میں شریک کیا جائے۔ اسلام جس انسانیت کا درس دیتا ہے وہ صرف اپنے فرقوں اور مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار یہود و نصاریٰ اورہندوؤں کے علاوہ دنیا کے تمام مذاہب اور انسانوں تک پھیلا ہوا ہے۔
بلوچستان سے سینئر ترین سیاستدان محمود خان اچکزئی، لشکر ی رئیسانی اور سندھ سے رسول بخش پلیجو ، ڈاکٹر فاروق ستار، پنجاب سے نجم سیٹھی کی بیگم محسن جگنو ، مصطفی نواز کھوکھر اور پختونخواہ سے سراج الحق ،مولانا فضل الرحمن اس طرح مختلف صوبوں اور مذہبی جماعتوں سے معروف لوگوں کو وفد میں شامل کیا جائے اور دیوبندی، بریلوی ، شیعہ، اہل حدیث کے نمائندوں کو مختصر مگر انقلابی منشور پر اکھٹا کیا جائے۔ انقلابی سے مراد یہ نہیں کہ صرف دوسروں کے نیچے زمین کو گرم کیا جائے بلکہ اس میں قرآن کی طرف رجوع اور اپنی اصلاح کا زبردست اہتمام ہو اور سب کے جذبات ، عقائد اور ذہنیت کا خیال رکھتے ہوئے مثبت انداز فکر سے ایسی تبدیلی لائی جائے جس میں معاشرے کی تمام تلخیاں ختم ہوجائیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مٹھاس رکھی ہے جس سے جاہل سے جاہل تر انسان کو بھی ہدایت مل سکتی ہے۔ سورہ نور کی چند آیات پر عالم انسانیت کو اکھٹا کرنا ممکن ہے۔ قرآن وہ نور ہے جس پر مشرق و مغرب کی ہواؤں اور سایوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ جس میں رتی بھر تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ جس میں اللہ کی طرف سے گارنٹی ہے کہ و انزل الکتاب تبیانًا لکل شیء ”اور ہم نے کتاب کو نازل کیا ہے ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے”۔ صرف قرآن کی طرف مسلمانوں کی توجہ ہی کی دیر ہے۔ عرب و عجم اور شیعہ و سنی سب نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ عتیق گیلانی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv