پوسٹ تلاش کریں

اَلا کل شیئٍ ما خلا اللّٰہ باطل وکل نعیم لامحالة زائل نبیۖ کا یہ پسندیدہ شعر تھا اور مفتی منیر شہید اس کی تصویر تھے

محمد بن قاسم نے سندھ عورت کی عزت کیلئے فتح کیا اور اکبر بگٹی نے سندھی مہمان ڈاکٹر شازیہ خالد کی عزت کیلئے بلوچ راج کو ریاست پاکستان سے ٹکرادیا جس کے شعلے آج بھی بھڑک رہے ہیں

اللہ شہید مفتی منیر شاکرکی قبرکو جنت الفردوس کا باغیجہ بنادے اور لواحقین کو صبرجمیل عطاء فرمائے۔ مردان کے شاعراور صحافی شعیب صادق کے توسط سے ایک ملاقات میں کچھ مختصر باتیں ہوگئی تھیں۔ پھر ڈاک سے کتابیں بھیج دیں۔گزشتہ رمضان میں فون آیا۔ طلاق کے مسئلے پر کچھ وقت مانگا۔ کچھ دیر بات کے بعد میں نے کہا کہ پشاور آجاتا ہوں۔ ہم پہنچے توکوئی افغانی مریض لایا تھا۔ اس نے بتایا کہ ہم پہلی مرتبہ آئے اور ساتھ اندر داخل ہوا۔ پوچھا: مفتی صاحب دم کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ دم کے مخالف ہیں۔ اس نے کہا کہ مفتی کا چاہنے والا ہوں۔ مفتی صاحب آگئے تو اپنے خادم پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ میرے کمرے میں بٹھاتے۔ ہمارے ساتھ افغانی بھی آیا۔ مفتی صاحب نے مجھے کہا کہ آپ ایک موضوع پر ٹکتے نہیں۔افغانی نے اپنی استدعا کی۔ مفتی شہید چونک گئے اور مجھ سے کہا کہ آپ کا ساتھی نہیں؟۔ میں نے کہا کہ یہ مریض دم کیلئے لایا ہے اور میری خاطر باہر دم کرنا پڑے گا۔ مفتی صاحب اسکے ساتھ باہر گیا ۔تو میرے بھتیجے کا رنگ بگڑا تھا۔ میں نے کہا کہ کیا ہوا؟۔ اس نے کہا کوئی فون آیا تھا۔ میں نے کہا کہ اپنا موڈ ٹھیک کرو نہیں تو مفتی صاحب سمجھے گا کہ مجھ پر غصہ ہے۔

پھر مفتی صاحب نے اپنے درس کی چھٹی کا اعلان کیا اور ظہر سے عصر تک نشست رہی۔ہم باہر گئے تو بھتیجے نے کہا کہ مجھے اسی پرغصہ آیا کہ اس نے آپ سے ایسی بات کی ۔ میں نے کہا کہ اس نے جو سمجھا وہی کہا اور بہت لوگوں کو یہ شکایت ہے۔

مفتی صاحب نے اس مہمان کا دل رکھنے کیلئے دم کیا۔ مفتی شہید کا کلپ ہے کہ ” تم اپنی انا توڑدو یا میراسر توڑدو۔ خطرہ ہے اسلئے تلاشی لیتے ہیں”۔

عبداللہ شاکرکااللہ حافظ وناصر۔ایک طرف پنج پیری ساتھی ،دوسری طرف پشتون ۔ہاتھ اٹھانا دعا کی رسم ہوتب بھی گناہ نہیں۔منافق کی قبر پر کھڑا ہونا منع ہے مؤمن کے نہیں۔ مفتی زندہ ہوتے تو تعزیت کرنے والوں کیساتھ ہاتھ اٹھاتے ۔

شاہ اسماعیل شہیدسے مرشد سیدبریلوی نے کہا کہ نماز کا رفع یدین فرض نہیں سنت لیکن لوگوں کو غلط فہمی سے بچانا فرض ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان پر حملہ کیا گیاکہ کوئی نیا دین لائے ہیں اور علماء دیوبند نے ہندوستان اور پنجاب میں سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیامگر سندھ، پختونخواہ، بلوچستان اور افغانستان میں علماء دیوبند آتے تو سرینڈرتھے۔ دیوبندی اور پنج پیری اسلئے الگ الگ ہوگئے۔ مفتی منیر شہید اب اس دوڑ سے آگے نکل چکے تھے۔

میں نے قرآن کے حوالہ سے کچھ معاملات بتائے۔تو مفتی صاحب نے کہا کہ ایک دن افطاری میں آجاؤ پھر رات کو اطمینان سے بات کریںگے۔ چنانچہ افطاری کے بعد سے سحری تک پہلے طلاق کے مسئلے پر اور اسکے بعد مختلف مقامات سے قرآنی آیات کا میں نے بتایا کہ اس کا یہ ترجمہ و تفسیر ہے۔ مفتی صاحب نے پوچھا کہ آپ نے کونسی تفسیر پڑھی ہے؟۔ میں نے کہا کہ اصل معاملہ تفاسیر نے خراب کیا ہے۔ اس نے کہا کہ امام ابوبکر جصاص رازی حنفی بہت اچھے ہیں ۔ میں نے اس کی وکالت میں بھی تضاد کی نشاندہی کردی۔ میں نے کہا کہ قرآن کا متن بہت واضح ہے۔ پھر پوچھا کہ عربی پر مہارت کیسے حاصل کی ہے میں نے کہا کہ عربی لٹریچر سے۔

مفتی شہید توحید پرست تھا۔ رسول اللہ ۖ نے عربوں میں سب سے اچھا شعر لبید کا قرار دیا:

اَلا کل شیئٍ ما خلا اللہ باطل
وکل نعیم لامحالة زائل

”خبردار! ہر چیز اللہ کے سواء باطل ہے۔
اور ہر نعمت لامحالہ زائل ہوکر رہے گی”۔

بریلوی، شیعہ علماء سے مفتی شہید کی دوستی کرانی تھی۔ توحیدی گدھے نے لکھا کہ نماز میں نبیۖ کا خیال آنے سے گدھے کا خیال بہتر ہے۔ گدھا یہ نہیں سمجھتاتھا کہ نماز سنت طریقہ ہے۔ درودشریف بھی نماز میں پڑھتے ہیں تو خیال کیسے نہ آئے گا؟۔

امام ابوحنیفہ پر بھی منکر حدیث کافتویٰ لگاتھا۔ ابویوسف اور عبداللہ بن مبارک امام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے۔ ابویوسف فرمانبدار با ادب شاگرد اور ابن مبارک باغی وگستاخ مگر ہزار ابویوسفعبداللہ بن مبارک کے پیروں کی خاک پر قربان ہوں۔ کہاں ایک مرد مجاہد، کہاں ایک حیلہ ساز اور دین فروش؟۔ کبھی بھی دونوں برابر نہیں ہوسکتے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیر شاکردونوں مولانا سلیم اللہ خان کے شاگرد۔ ایک مجاہد اور دوسرادین فروش کہاں برابر تھے؟۔ معارف القرآن اور مفتی عبدالرؤف سکھروی اور دارالعلوم کراچی گواہ ہے کہ شادی بیاہ میں لفافہ کی لین دین کو سود قرار دیا اور 70 سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دیا۔ لیکن پھر معاوضہ لیکر سودکا عالمی نظام کو جائز قرار دیا اور اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خان اور میرے استاذ ڈاکٹر عبدالررزاق سکندر وفاق المدارس کے صدر کی بات نہیں مانی جو اس کے پیشروتھے اور سبھی علماء کا فتویٰ مسترد کیا۔

مولانا عبدالحق ثانی کو اللہ جزائے خیر دے کہ مولانا طیب طاہری تعزیت کیلئے جامعہ اکوڑہ خٹک گئے تو نمازمغرب کی امامت کروائی۔ علماء دیوبند کیلئے یہ سنگ میل ہے اور مولانا حامدالحق شہید نے مولانا فضل الرحمن کو جامعہ میں خطاب کی دعوت دیکر عظیم اتحاد کی بنیاد رکھ دی۔ مولانا فضل الرحمن نے مفتی منیر شاکرشہید کے بچوں پر دست شفقت رکھ کرحق ادا کیا اور مولانا یوسف شاہ کی قیادت میں حقانیہ اور مولانا عطاء الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کے وفد نے مفتی منیر شاکر کی تعزیت کی اور علامہ خضر حیات بھکروی نے مولانا حامدالحق کیلئے دعائے مغفرت کرنے پر مولانا طیب طاہری کو منافق قرار دیا اور بہت برا بھلا کہا۔ یہ اس کا حق تھا اور جو اس نے ٹھیک سمجھا وہ اس نے کیا۔ اگر علماء نے افہام وتفہیم کا ماحول نہیں بنایا تو یہ غلطی ہوگی۔

نبیۖ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھایا۔ نبیۖ نے ابن ابی رئیس المنافقین کا جنازہ پڑھایا۔ پھر اللہ نے حکم دیا: ولاتصل علٰی احدٍ منھم مات ابدًا ولاتقم علی قبرہ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم فاسقون ( سورہ التوبة:84)

” اور ان میں سے کسی پر جنازہ نہ پڑھنااور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک انہوں نے اللہ اور اسکے رسول کی ناشکری کی اور فاسقی میں مرگئے”۔

یہ حکم نبیۖ کیلئے خاص تھا اسلئے کہ منافقین کے عزیزواقارب بھی تھے۔ عبداللہ بن ابی کے بیٹے سچے صحابہ تھے۔نبیۖ نے بارہ منافق کے نام حذیفہ بن یمان کو بتائے۔ نبیۖ نے امت میں بھی بارہ منافق کابتایاتھا۔(صحیح مسلم کی روایات)

مفتی شہید کو جب طلاق کی قرآنی آیات سمجھ میں آئیں تو کہا کہ 50 سال بعد مسلمان کردیا۔

خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات کہاں تک پہنچیں گے ؟۔ مذہبی طبقے نے ہتھیار بھی اُٹھایا ہے اور علماء شہید بھی ہورہے ہیں۔ قوم پرستوں نے ہتھیار بھی اٹھائے ہیں اور احتجاج بھی چل رہا ہے۔ جمہوریت کے بس کی بات ہے اور نہ ڈکٹیٹر شپ یہ مسئلہ حل کرسکتی ہے۔اگر ہم اپنے مسائل چھوڑ کر یہ فیصلہ کرلیں کہ پاکستان کو عوام اور تمام طبقات کیلئے سورہ رحمن کے مطابق جنت نظیر بنائیں گے اور قوم کی اصلاح کریں گے تو بہتر ہوگا۔ مفتی منیر شاکر کی شہادت سے پہلے قریب میں چار پائی کے مسئلے پر پانچ افراد نے ایک دوسرے کو قتل کیا۔ پشاور متھرہ میں ایک خاتون کی لاش ملی جو حلالہ کے بعد پہلے شوہر کے پاس جانے سے مکر گئی تھی۔ بونیر میں شاہ وزیر نے بتایا کہ کسی کو 3 طلاق کا مسئلہ پیش ہوا تھا تو مسجد کے مولانا نے اپنے اخبار کی وجہ سے بغیر حلالہ کے رجوع کا فتویٰ دے دیا ہے۔ مفتی منیر شہید سے مسئلہ طلاق پر میٹنگ کرنی تھی۔

قیام کے بعد مشرقی پاکستان کی آبادی 54 فیصد اور مغربی پاکستان کی 46 فیصدتھی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی کچھ آبادیوں کو پنجاب میں شامل کیا جس سے پنجاب کی آبادی تین صوبوں کے مقابلے میں 60 فیصد ہوگئی۔ اگر تینوں صوبے ایک طرف اور دوسری طرف پنجاب ہو تو حکومت پنجاب کی ہی بن سکتی ہے۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو پھر شاید اس سے بھی بڑا مسئلہ ہوتا اسلئے کہ بھارت کا پنجاب بھی اس میں شامل ہوتا۔ انگریز نے نہری نظام صرف پنجاب میں بنایا تھا۔ دانشمندی یہ ہوتی کہ پنجاب کا کچھ حصہ بلوچستان ، پختونخواہ اور سندھ میں شامل کیا جاتا۔ اگر بلوچستان میں پشتون ، بلوچ ، بروہی ، ہزارہ اور کرد قبائل تھے تو سرائیکی بلوچ بھی اسی کا حصہ ہوتے۔ انگریز وطن کا نہیں ریاست کا وفادار تھا اور ہماری ریاست ہمیں انگریز سے ورثہ میں مل گئی۔ ہم نے ریاست کیلئے مشرقی پاکستان قربان کردیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ریاست اور وطن پرستی کا جذبہ کیا ہے؟۔ اللہ تعالیٰ سب کو جلد ہدایت عطا فرمائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ رحمن میں عظیم خوشخبری

رحمن سکھاتاہے!

الرحمٰنOعلّم القراٰن

”رحمان نے قرآن سکھایا”۔(الرحمن:1،2)

سوال : اللہ رحمن نے قرآن کیسے سکھادیا؟۔

جواب:

1: تلاوت میں ترتیل وتدبرمگرغلوسے بچنا۔ الرحمن

Oآیت بسملہ اور فاتحہ میں الرحمن ….. الرحیم اور ایک ایک لفظ کو وقف کیساتھ پڑھ سکتے ہیں۔

فی بحرٍلُّجِّیٍّ یَّغشٰہُ

قرأت معانی نہیں ترنم کیلئے مگر کتنی مشکل؟

آسان:

فی بحرٍ…لُجّیٍ…یغشٰہُ وقف سے پڑھنا۔

من یقول ائذن لی من۔۔یقول..اِئذن..لی

تبت..یدا…ابی لھب… و… تب

الرحمٰنOالگ تاکہ تلاوت اور معانی دونوں فطری وآسان۔مدارس اور سکول کالج کے طلبہ کیلئے نہ صرف قرآن آسان ہوگا بلکہ بہترین عربی سیکھ لیں گے۔ اللھم …صلِ… علی…محمد…بغیر تنوین وملاپ۔ زیدو عقیل وجعفر بغیرتنوین واؤ ملائے پڑھنا فطری سہل ہے۔ علی گڑھ ” محمڈن کالج” تنوین سے تھا۔ اللہ نے کئی سارے علوم سکھائے۔

2: محکم آیات واضح ہیں۔ عبداللہ بن عمر طلاق کو نہ سمجھ سکے تونبیۖ نے غضبناک ہوکر سمجھادیا۔

3: متشابہ آیات زمانہ کیساتھ پہاڑ جیسے جہاز، لھوالحدیث ،عربة گاڑی اور سائنسی علوم وغیرہ۔

4: برزخ ، قیامت، انقلابی الساعہ جیسے فتح مکہ اور انبیائ کے ادوارمیں انقلابات آئے۔ قرآن پھر انقلاب عظیم کی خبر دیتاہے۔ 1924 تک خلافت تھی۔ انقلاب دنیا کی قیامت۔

5: موبائل کا نیٹ بولتی کتاب اور اس سے زیادہ کتاب ینطق قرآن بولتا ذرہ ذرہ کی خبردیتا ہے۔

قال ۖ انہ لاتقوم الساعة حتی یکلم الرجل فخذہ بماصنعہ اہلہ وحتی تکلم الرجل عذبة سوطہ بماصنعہ اہلہ (ترمذی)
”بیشک قیامت نہیں آئے گی حتی کہ آدمی اپنی ران سے باتیں کرے گا۔جو اس کی اہل کیساتھ ہوا اور حتی کہ آدمی اپنے ہینٹر سے بات کرے گا جو اس کی اہل کیساتھ ہوا”۔ وائرلیس جدید سائنسی ترقی۔

عالمی کانفرنس میںانٹیلی جینس ٹیکنالوجی خطرہ سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق ہواہے۔
دنیا کو درپیش مسائل میں تباہ کن ہتھیار ہیں۔جو ایمن الظواہی کو کابل ، اسماعیل ہنیہ کو تہران اور حسن نصراللہ کو لبنان میں نشانہ بناسکتے ہیں۔ دنیا کو خوف ہے کہ ایٹمی اور جدید ہتھیار اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھ میں نہ لگ جائیں۔ اگر یقین ہو کہ مسلمان اس کے شر بچنے کا روحانی، قانونی، اخلاقی تدارک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو دنیاامام بنالے۔
دنیا کو درپیش مسائل میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی میں طوفانی ہواؤں، بارشوں، خشک سالیوں ، سخت گرمی اور سخت ٹھند کا سامنا کرناانتہائی خطرناک معاملہ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت پورے ملک کے گٹر اور حیات آباد پشاور کارخانو کا کیمیکل سمیت پورے ملک کی فیکٹریوں کا کیمیکل یا تو پینے کے صاف پانی دریاؤں میں جارہاہے یا پھر زیر زمین پانی کے ذخائر کو تباہ کررہاہے۔ ہندوستان اور چین کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ پروفیسر اورنگزیب حافی نے اس پر بڑا علمی کام کیا ہے جس کو ملک وقوم اور خطے کیلئے سب سے زیادہ تباکن قرار دیا ہے۔
کراچی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، لاہور، کوئٹہ اور تمام شہری زندگی آلودگی کا شکار نظر تی ہے۔ ایران کو اپنا دارالخلافہ تہران سے ایرانی بلوچستان مکران میں منتقل کرنا پڑرہاہے۔ جب زلزلہ آتا ہے توتباہی مچ جاتی ہے۔ قدرتی آفات اب اللہ کا عذاب نہیں۔ ہمارے اعمال کے نتائج ہیں۔ پہاڑ گنجے کردئیے۔ اسلام آباد میں25ہزار درختوں کی کٹائی کی شکایت وزیرداخلہ محسن نقوی سے کی گئی ہے۔

 

ولاتخسروا المیزان

اللہ تعالیٰ نے سورہ رحمان اور دیگر سورتوں میں میزان کا ذکر کیا ہے۔ انسانی فطرت اور کائنات کی ہر چیز میں اعتدال اور توازن ہے۔ جس کو بگاڑنے سے روکا گیا ہے۔ انسان میں طاقت ہو تو پھر ہاتھ سے منکر کو بدل سکتا ہے اور اگر اتنی طاقت نہ ہو توپھر زبان کی طاقت سے منکر کو بدل سکتا ہے اور اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل کی طاقت سے بدل سکتا ہے اور اس کے بغیر رائی کے دانہ کی طرح بھی کسی میں ایمان نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاتھ کی طاقت سے کسی منکر کو بدلنے کی مثال طاقتور ترین حکمران طبقے کی ہے۔ زبان سے منکر کوبدلنے کی مثال ایک طاقتور اپوزیشن اور طاقتورصحافی حضرات وغیرہ ہیں۔ دل سے بدلنے کی مثال ایک بالکل ہی کمزور طبقہ ہے۔

حضرت داؤد کی99بیویاں تھیں اور اس کے مجاہد اوریا کی ایک بیوی تھی۔ انسان کمزورہے اور اس کا دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ داؤد کا دل جب مجاہد کی بیگم پر آگیا تو اس نے نیت کرلی کہ مجاہد سے کہنے کی دیرہے۔ فرشتے اچانک محراب میں داخل ہوگئے، حضرت داؤد پر گھبراہٹ طاری ہوئی، انہوں نے کہا فکر مت کرو مسئلہ پوچھنے آئے ہیں۔یہ میرا بھائی ہے اور باتوں میں مجھ پر بھاری ہے۔اسکے پاس99دنبیاں اور میرے پاس ایک دنبی ہے ۔ یہ ایک بھی مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے۔ داؤد نے کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو بڑی زیادتی ہے اور اکثر شرکاء یہ کام کرتے ہیں مگر مؤمنوں میں سے کم لوگ۔ پھروہ سمجھ گئے اور اللہ سے اپنی مغفرت مانگ لی تو اللہ نے اس کو معاف کردیا۔(سورہ ص آیات20تا24تک )

جب حکمران کے پاس طاقت ہوتی ہے تو اس کو بسا اوقات اپنی غریب رعایا کے حقوق کا خیال تک نہیں آتا ہے اور سب کچھ چھین لینے سے بھی وہ بھرتا نہیں ہے۔ بیویاں تک بھی چھین لیتا ہے ۔اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی ہیں کہ ایک کی بیوی پسند آگئی تو اس کو سفیر بناکر دور بھیج دیا اور خود جہاز میں پھر اس کی بیوی سے رنگ رلیاں منا تا رہا اور پائلٹ کو اس کے نشہ میں ٹن ہونے کی وجہ سے جہاز فضا میں ہی کافی دیر تک رکھنا پڑا ۔ آج پاکستان کی عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر سچ تو سچ جھوٹ پھیلاکر بھی نفرت کا بازار گرم کیا جاتا ہے اسلئے کسی سے معمولی بھی زیادتی کے بجائے سب کا دل جیت لینا وقت کی ضرورت ہے ۔ جہاں بڑی مشکل ہو تو بجائے حکمران پر کھلی تنقید کرنے کے اس طرح اپنے اوپر بات رکھ بھی ظلم بدلنے کیلئے ایک زبردست کردار ادا ہوسکتا ہے۔ جہاں صحافی حامد میر کہے گا کہ شرٹ اتاری۔ پھر پینٹ اتاری اور آخر میں ایک نیکر رہ گئی تھی، جب اس کو اتارنے لگے تو میں نے کہا کہ سورس بتاتا ہوں ، یوں بچ گیا تھا۔

تحریک انصاف کے رہنما، کارکن، خواتین اور بزرگ بہت رونا روئیں گے۔ شہباز گل جلسہ عام میں جھوٹ یا سچ مگر کہے گا کہ ہمارے مخصوص اعضاء کی تصویریں زوم کرکے نکالی گئیں اور کیا میں اور اعظم سواتی اب شلوار پہن لیں؟ ۔ بلوچ ، سندھی ، پشتون ، مہاجر اور سرائیکی اپنا رونا روئیں گے۔

پھر ہتھیار اٹھانے والوں کو مذہبی اور قومی جذبہ کی بنیاد پر بہت لوگ مل سکیںگے۔ اگر کرایہ پر بھی کافی لوگوں کو بھرتی کریں تو جس طرح فوجی جوان ، کشتی میں مرنے اور کنٹینروںمیں گھٹنے والے اپنی مجبوری سے خطرات مول لیتے ہیں تو جہاں غریبوں کو کچھ ملتا ہو تو پھر بھرتی ہوجاتے ہیںاسلئے کہ پاک فوج کے جوانوں سے زیادہ وہ محفوظ ہوتے ہیں۔
بڑے لوگوں کو قتل وغارت کی قیمت کا پتہ اسلئے نہیں چلتا کہ ان کے اپنے بچے نہیں مرتے۔اپنے بچے مرتے تو پھر یہ جنگیں کب سے ختم کردیتے۔

 

یرسل علیکما شواظ من نارٍ ونحاس فلا تنصران

اللہ نے عالمی قوتوں کو ایٹمی جنگ سے ڈرایا کہ: ”تم پر ایک دوسرے پر برسنے والے بغیر دھویں کے آگ کے شعلے بھیجے جائیں گے اور دھواں ! پھر تمہاری دونوں کی مدد نہیں ہوگی۔(الرحمن:35)

ایٹم بم سے پہلے بغیر دھویں کی آگ پھر دھواں پھیل جاتاہے۔ قرآن ذرہ برابرظلم وجبر کا روادار نہیں۔ہر بے اعتدالی اور عدم توازن کو روکتا ہے۔
وکنتم علی شفا حفرةٍ من النار فانقذکم منھا ” اور تم آگ کے گڑھے کے کنارہ پرتھے تو اس نے تمہیں نکال دیا اس سے” (آل عمران:103) ہم سیاسی، معاشی، معاشرتی ، ریاستی، لسانی، مذہبی، بین الاقوامی اور علا قائی دہشتگردی کے شکار ہیں۔

رسول اللہ ۖ اورحضرت ابوبکر نے ضرورت سے زیادہ مال نہیں رکھا۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا خرچ کریںتو اللہ فرمایا” کہہ دو ضرورت سے زیادہ”۔ حکمرانوں کو چھوڑو، علماء نبیۖ اور خلفاء راشدین کے جانشین بھی غریب غرباء کی زکوٰة خیرات سے بڑی بڑی گاڑیوں اور جائیداد کے مالک بن گئے۔اشرافیہ پر ناجائز دولت اور طاقت کے حصول کا بھوت سوار ہو تو معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ پھر غریب انکے نقش قدم پر چلتا ہے ۔ مملکت خداداد پاکستان تو شروع دن سے اس راہ پر گامزن ہے اور معاملہ دہشتگردی تک پہنچ چکا ہے۔

علاج قرآن وسنت میں سود ، مزارعت کا خاتمہ ہے ۔ منصب کے بھوکے کو محروم کرنے کی احادیث ہیں۔اسی نے قوم کو تباہ کیا ہے۔
نبیۖ نے مزارعین کی دنیا جنت بنائی اور انکی دولت نے تاجروں کو بادشاہ بنادیا۔ شاہ عنایت کو سندھ میں ہزاروں ساتھیوں سمیت اسلئے شہیدکردیا گیا کہ یہ نعرہ لگایا تھاکہ” جو بوئے گا وہ کھائے گا”۔

مبارک علی نے کہا: ”یوپی کے ملازم اور سندھ کے جاگیردارطبقہ نے مفاد کیلئے پاکستان کو سپورٹ کیا تھاتاکہ اقتدارتک رسائی اور جاگیرمحفوظ ہو”۔

رسول اللہ ۖ نے سود کو ختم کرنے کا خطبہ حجة الوداع میں اعلان فرمایا۔ سب سے پہلے چچا عباس کاسود ختم کردیا۔ ایک عورت دونوں ہاتھ اور پیروں سے کھلی جگہ ناچ رہی تھی۔تماش بینوں میں نبیۖ شریک ہوگئے۔ عمر کی آمد پر عورت بھاگی تو نبیۖ نے فرمایا: شیطان عمر سے بھاگتا ہے۔(مشکوٰة)

منبر پرچندہ کیلئے اسلام کا حلیہ بگاڑنے والوں سے بہتر تومغرب کی سڑکوں پرڈانسر بھکارن ہیں۔

اگر سود ختم ہوا تو امریکہ، روس، چین، بھارت، جاپان سب اسی خاتون کی طرح رقص کریں گے۔ پھر ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سبھی اپنی خدمات انجام دیں گے اور دو دوباغ والے گھر، سردی گرمی سے بچاؤ کیلئے عالم انسانیت دنیا کو جنت بنانے پر متفق ہوجائے گی۔
بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم اور ہر شعبہ زندگی کے ماہرین دنیا کی تباہی وبربادی نہیں فلاح وبہبود کیلئے اپنی اپنی صلاحیتوں کا استعمال بھی کریں گے اور دنیا و آخرت میں عزت پائیںگے۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہوگا۔ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ کیلئے قرآن نے حقوق دئیے ۔ مفتی طارق مسعود نے کہا ” بیوی کسی اور سے منہ کالا کرتی ہے اور پھر عدالت سے خلع لیتی ہے”۔کوئی اتنا بھی دلا ، بے غیرت ہوگا کہ بیوی کسی اور سے منہ کالا کرے یا اس کو یقین یا گمان ہو اور پھر بھی بیوی سے چمٹارہے؟۔ بیوی کو عدالت نہیں ویسے اسلام نے خلع کا حق دیا ہے۔
سورہ النسائ19تا21میں خلع وطلاق کا اختیار اورعورت کے حق کو مالی تحفظ دیا گیاہے ۔اسرائیل فلسطین کیساتھ وہ ظلم وجبر روانہیں رکھتا ہے جو عورت سے اسلام کے نام پر فقہاء نے جاری رکھاہواہے۔ قرآن چھوڑ کر علماء بھول بھلیوں میں پھنس گئے ۔

 

لمن خاف مقام ربہ جنتان

قدرتی نظام میں پانی کا60فیصد سمندر کو جانا چاہیے ۔ موسمیاتی تبدیلی کے شکار40ملین سال کی جگہ ہم2سوسال میں پہنچے۔ اثریٰ حق و احمد سعید کیساتھ آبی ماہر ڈاکٹر حسن عباس کو سن لیں۔ چین، بھارت، پاکستان اورافغانستان کو سونے سے زیادہ قیمتی دریائے سندھ اور اس کی شاخوں سے وسط ایشا تک کوجنت بنایا جاسکتاہے۔اگر پائپ سسٹم سے دریا سے پانی نکالا جائے توپانی کا40فیصد چین، بھارت، افغانستان اور پاکستان کے علاوہ دریائے سندھ سے وسطی ایشائی ممالک کی تمام ضروریات نہ صرف پوری ہوں گی بلکہ بڑے ڈیم کی تمناؤں کو بھی زبردست طریقے سے پورا کیا جاسکتاہے۔

اگر سورہ رحمن کے مطابق پائپ نظام سے دودو باغ دودو چشموں اور دو دوفواروں والے گھروں کو ڈیزائن کرکے آبادی کو منصوبہ بندی سے پھیلائیں اور ترتیب کیساتھ زرعی زمین، باغات اور جنگلات کے بعد انڈسٹریل زون ہوں تو بغیر موٹر کے پانی ٹینکوں میں چڑھایا جاسکتاہے۔
جدید تعمیراتی نظام سے سردی گرمی سے بچاؤ ، بجلی کا کم سے کم استعمال، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان دنیا میں امام بن سکتاہے۔ ملازمین اور ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے دیانت اور قربانی کی بدولت اعلیٰ کوالٹی کے مستحق ہوں ۔ غریب ،باصلاحیت اور مخلص لوگ ریاست کیخلاف پھر ہتھیاررکھ دیںگے۔

مولانا فضل الرحمن نے افغانستان ، قبائلی علاقہ جات اور خیبرپختونخواہ میں دو قسم کی معدنیات کا ذکر قومی اسمبلی میں کیا۔ ایک پیٹرول، گیس، چاندی اور سونا وغیرہ۔ اور دوسری دھات جو خلائی شٹل میں بھی استعمال ہوتی ہے جو ساڑھے4سو کی ہیٹ پر تحلیل نہیں ہوتی اور اتنی ہی ٹھنڈ میں منجمد نہیں ہوتی۔ جس دن سب کو اچھے حال اور مستقبل کی نوید سنادی گئی تو ہتھیار سے لیس طبقہ بھی ہتھیار رکھ دے گا اور سرکاری ملازمین بھی دلجمعی کیساتھ کام کریں گے اور ہرشعبہ زندگی کے افراد کے مردہ جسم میں نئی روح آجائے گی۔مردہ زمین کی طرح شادابی آتی ہے۔

تسخیر کائنات کا داعی قرآن خلائی شٹل سے دنیا کو زمین اور آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کا پیغام سلطان سے دے گیا۔ پاکستان میں کہیں تو ایک شہر کی زمین اسکوائر فٹ میں لاکھوں تو کہیں کوڑیوں کے بھاؤ ہے۔جب گھروں کو پھیلایا جائے تو پورا پاکستان سونے کی قیمت کا ہوگا۔ بحریہ ٹاؤن نہیں پورا پاکستان امریکہ سے زیادہ قیمتی بن جائے گا۔ ڈیفنس کراچی میں پانی ٹینکروں سے جاتا ہے لیکن جب ہر گھر کے دوباغ اور دو فوارے یا چشمے ہوں گے ۔تو ملیر اور لیاری کی ندیاں شفاف دریاؤں کی طرح بہہ رہے ہوں گے۔

جب پانی کا نظام صحیح ہوگا تو وافر مقدار میں بجلی بھی پیدا ہوگی اور ٹریفک کا سارا نظام پیٹرول کی جگہ الیکٹرک پر کردیا جائے تو فضائی آلودگی ختم ہوجائے گی۔ پھر قدرت کا پورا نظام دوبارہ لوٹ آئے گا۔

زمین پر فضا میں سات زون ہیں اللہ نے فرمایا: وجلعنا فوقکم سبعًا شداد”اور ہم نے تم پر سات سخت(زون) بنادئیے ہیں”۔(سورہ نبائ)

1: ٹروپو: زمین پر8سے15کلومیٹرتک ہے جہاں موسمی نظام بادل بارش طوفان ہوتا ہے۔

2: سڑیٹو: 15سے50کلومیٹر خطرناک سورج کی شعاعوں کو جذب کرتی ہے۔اس طرح مزید

ٹروپواورسٹریٹو پر اثرات:کاربن ڈائی اکسائیڈ، میتھین اور دیگرگرین ہاؤس گیسیزکی زیادتی کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہاہے۔ کلوروفلورو کاربنز اور دیگر کیمیکلز کی وجہ سے جلد

کے کینسر اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہے۔

 

و من دونھما جنتان

نبی ۖ نے خلافت کی پیشگوئی فرمائی جس پر آسمان اور زمین والے دونوں خوش ہوں گے۔
پاکستان کی سیاسی ، فوجی، مذہبی، قومی، لسانی اور تعلیمی لیڈر شپ کے علاوہ تمام ماہرین فن کو میدان میںلاکر تعمیر نو کا اعلان کریں۔ کسی ایک بندے کو اپنا خلیفہ مقرر کیا جائے۔ جس کو بھلے مغرب میں رکھیں تاکہ کسی کو خدشات اور خطرات لاحق نہیں ہوں۔

پھردنیا کے تمام مسلم ممالک اور غیرمسلموں کیلئے خلافت میں شمولیت کی اوپن ممبر شپ رکھی جائے۔ مسلم سالانہ2.50فیصد زکوٰة اور غیرمسلم اتناہی ٹیکس دیں۔ مزارعت میں سالانہ20اور10فیصد خمس وعشر وصول کیا جائے۔کراچی کے میمن نے کہا کہ ہم تربوز،کیلا، مالٹا اور سبزیاں خریدتے ہیں تو انکے چھلکے3سے10فیصد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ پھرسالانہ ڈھائی فیصد زکوٰة میں کیا مشکل ہے؟۔ امیروں سے غریبوں کے کھاتے میں جائے گاتو پھر غریب غریب بھی نہیں رہے گا ۔ دنیا میں زکوٰة لینے والا ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔

اگر خلافت راشدہ کے دورمیں مسلمانوں کے اندر فتنہ وفساد اور لڑائی جھگڑے نہ ہوتے ۔ خلافت مورثیت میں نہ بدلتی تو اسلام غلامی کو ختم کردیتا۔

جب سود کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تونبی کریم ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ جس کی وجہ سے جاگیردار محنت کش بن گیا اور محنت کے ہاتھ میں دولت آگئی۔ غیر آباد زمینیں بھی آباد ہوگئی تھیں۔ جس نے نبیۖ سے زمین مانگ کر لی اور آباد نہیں کی تو حضرت عمر نے اس سے وہ زمین چھین لی۔ مفتی منیر شاکر کی ایک ویڈیو میں ہے کہ میراث کی آیات قرآن میں ہیں اور حضرت ابوبکر نے نبیۖ سے سنا کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی تو قرآن کو چھوڑ کر نبیۖ کی خبر واحد پر عمل کیا تھا۔

حالانکہ احناف کا مسلک یہ ہے کہ خبر واحد پر بھی قرآن کو نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اور ہونا یہ چاہیے کہ قرآن سے متصادم میں خبر متواتر کی بھی حیثیت نہیں ہو اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نبیۖ قرآن کی مخالفت کریں؟۔ اس پر قرآن میں واضح وعیدیں ہیں۔

جب قرآن کو معیار بنایا جائے گا اور حدیث اس کی تائید وتشریح کیلئے ہو تب مسلمانوں میں تفریق و انتشار بھی ختم ہوگا اور قرآن پر عمل بھی ہوگا۔ اگر کوئی بڑی ڈاڑھی رکھ کر آنسو بہاتا ہو لیکن جھوٹ، تعصب اور بدکرداری میں غرق ہو تو وہ اللہ سے نہیں ڈرتا۔ حقوق العباد کا تحفظ کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔

جب اچھے کردار والے تمام لوگوں کو دنیا میں دو دوباغات کے گھروں کا مالک بنایا جائے گا تو پھر یہ ماحولیاتی آلودگی کو قابو کرنے میں زبردست معاون ثابت ہوگا۔ سورہ رحمان میں جن نعمتوں کا ذکر ہے ، سورہ واقعہ میں بھی اصحاب الیمین کیلئے بہت سی نعمتوں کا ذکر ہے جن میں قد کے برابر گاڑی ہیں۔

زمین پر سات زون کا ذکر قرآن میں بھی ہے ۔

3:میسو: یہ50سے85کلومیٹر کی بلندی پر ہوتی ہے۔اس میں درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے اور زیادہ تر شہاب ثاقب اسی میں جل جاتے ہیں۔

4:تھیریمو: 85 سے600کلومیٹر کی بلندی پر اس کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوسکتا ہے اسلئے کہ سورج کی شعاعیں براہ راست اس پر پڑتی ہیں۔ اس میں آئنو شامل ہوتی ہے جو ریڈیو ویوز کو

نعکس کرتی ہے۔

5: ایکسو: 600سے10,000کلومیٹر۔یہ آخری تہہ یہاں ہوا کے ذرات کم ہیں۔ جو خلا میں تحلیل ہوتی ہے۔ اضافی طور پر دواور زون شامل ۔

6: آئنو: 60سے1000کلومیٹر، برقی چارج ذرات ریڈیو سگنلز کی مدد گار۔

7: میگنیٹو یہ زمین کے مقناطیسی اثر کا علاقہ ہے۔جو زمین کو شمسی طوفافوں اور مہلک تابکاری سے بچاتاہے۔

 

یعرف المجرمون بسیما

”مجرم اپنے نشان سے پہچانے جائیں گے تو ان کو پکڑلیا جائے گا پیشانی کے بالوں اور قدموں سے”
پوری دنیا مجرموں کے مجرمانہ جرائم سے تنگ ہے لیکن عدالتی نظام مجرموں کو طاقت اور پیسوں کی بنیاد پر کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے سہولت کار بن چکا ہے۔ ایسے میں غریب طبقات کے مجرم بھی سہولت پالیتے ہیں۔ مجرم مجرم ہوتا ہے خواہ وہ کوئی طاقتور ہو، امیر ہو یا پھرغریب ۔مفتی منیر شاکر شہید کو آج بھی ایک مولوی اس بنیاد پر واجب القتل کہتا ہے اور اس کا قتل غیرت کا تقاضہ سمجھتا ہے کہ حضرت عائشہ کی6سالہ عمر میں نکاح اور9سال میں شادی کو کیوں نہیں مانتا؟۔ اگر انصاف کی عدالت قائم ہو تب بھی یہ پتہ نہیں چل سکے گا کہ دہشت گردی کے قتل میں اس کے خیالات اور جذبات مجرمانہ ہیں یا صداقت کا تقاضہ ؟۔لیکن کوئی نظام انصاف ہوتا تو پھر دلائل وبراہین سے گفتگو ہوتی اور جرم کو پکڑنے کیلئے جدید نظام کا سہارا لیا جاتا۔ قرآن نے دنیا کی زندگی میں بھی رو بہ عمل ہونا ہے۔

جب پوری دنیا میں بااثر اور چھپے ہوئے مجرموں کو بھی کٹہرے میں لایا جائیگا۔ کسی کو طاقتور ملک اور ریاستی ادارے کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ مذہب کے نام کوئی اپنی مجرمانہ سر گرمیوں کو معصومیت کے لہجے میں نہیں چھپا سکے گا۔ کونے کھانچے سے بھی مجرم کو نکالا جائے اور اس کو قرار واقعی سزا دی جائیگی اور کرپشن کا راستہ مکمل رک جائے گا۔ پھر ان کے ٹھکانے دنیا میں انڈیسریل زون میں ہوں گے۔

جب دنیا کی آبادی تین حصوں میں تقسیم ہوگی ۔ دوقسم ایک ایک گھر کے دودو باغ اور تیسری قسم کے لوگ انڈیسٹریل زون میں رہیں گے تو موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے علاوہ جزا اور سزا کی زبردست تعبیر بھی سامنے آجائے گی۔

گاڑیوں سے دھویں کے اخراج اور فیکٹریوں سے نکلنے والے آلودہ ذرات سے اسموگ بنتی ہے۔ جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ جس کا حل یہ ہے کہ صاف توانائی (شمسی،ہوا اور ہاہیڈرو پاور) کا استعمال بڑھایا جائے۔ گاڑیوں اور فیکٹریوں کے اخراج کیلئے سخت قوانین بنائے جائیں۔اور درختوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ تعمیرات میں ایسی جدت لائی جائے جہاں سردی اور گرمی سے قدرتی طور پر زیادہ سے بچنے کا انتظام ہو۔کم آلودگی والی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔

الیکٹرک گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور کم سے کم انرجی لینے والی گاڑیوں کا استعمال یقینی ہو۔

باغات اور جنگلات اور جنگلی حیات کا بہت بڑا ماحول بنایا جائے۔ اور ماہرین فن کے ذریعے نئی نئی تحقیقات اورایجادات سے فضائی آلودگی اور آنے والی نسلوں کو نت نئی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے اور پانی کی مقدار، رفتار اور کوالٹی کو بھی یقینی بنانے میں ایک زبردست نظام تشکیل دیا جاسکتاہے۔

غسل خانوں اور گٹر لائن کو الگ کیا جائے تو پھر گٹر کو صاف کرنے والے کیڑوں کی بقاء سے گٹر کا پانی بھی خودکار انتظام سے صاف رہتا ہے۔ سبزی اور جنگلات کیلئے گھروں سے نکلنے والے پانی کا بھی زبردست انتظام ہوسکتا ہے۔ کانیگرم وزیرستان کی بڑی آبادی کا ایک قطرہ بھی آلودہ پانی نالے اور ندی میں نہیں جاتا تھا ۔پاکستان کو واقعی پاک بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر ہر چیز میں پاکیزگی لانی ہوگی۔

جب کھانے پینے اور ہگنے موتنے کا نظام ایک ہوجائے تو کہاں سے اچھی ذہنیت والے لوگ پیدا ہوں گے؟۔ جب اپنے محلات، بینک بیلنس، ھل من مزید کی حرص، بیرون ملک اثاثے کی دوڑاور زمینیں اور جائیدادیں بڑھانے کی حرص دل ودماغ پرسوار ہو تو قوم وملک کی ترقی کا خواب پورا نہ ہوگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الطامة الکبرٰی انقلاب عظیم

سورہ نازعات کے پہلے رکوع میں فتح مکہ اور دوسرے رکوع میں پاکستان کی سرزمین سے انقلاب عظیم کی خبر

اثریٰ حق و احمد سعید اور ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس کا پورا پروگرام قارئین دیکھیں جس میں ترقی وعروج کا واحد راستہ ہے اور پھر قرآن کریم کی تفسیر کی روشنی میں دنیا کی ترقی و عروج کا انقلاب عظیم دیکھ لیں۔

دورِ جاہلیت میں کافروں کیلئے فتح مکہ سے سپر طاقتوں فارس و روم کو شکست اور1924تک خلافت کا قائم رہنا سمجھ سے بالاتر تھا لیکن موجودہ دور میں انقلاب عظیم کی خبر وہ سائنس ہے جس کو سمجھنا مشکل نہیں

 

فتح مکہ:اذا جاء ت الصاخہ

النازعات غرقاً لڑائیوں میں غرق پہلے اور موجودہ دور میں انسانوں کی بدترین کیفیت ہے۔

والناشطات نشطاً انقلاب کے وقت تمام جاہلانہ تعصبات کے بندھن کھلنے کی کیفیت ہے۔
والسابحات سبحاً فضاؤں میں موجودہ آلودگی ہے۔ جس کا عنقریب خاتمہ ہوگا۔ انشاء اللہ

فاسابقات سبقاً قرون اولیٰ اور آخرین دور میں سبقت لے جانے والی دو جماعتیں ہیں۔

فالمدبرات امراً عالمی انقلابات کیلئے تدبیر کرنے والے فرشتوں کی جماعتیں مراد ہیں۔

یوم ترجف الراجفة جس دن فتح مکہ کے پہلے مرحلے میں مشرکین مکہ پر لرزہ طاری ہوگا ۔ تفسیر و تعبیر کیلئے فتح مکہ کا پورا منظر مطالعہ کریں

تتبعھا الرادفة جس کے بعد دوسرا لرزہ آئے گا جس میں نبی ۖ نے فتح مکہ کا عظیم خطبہ دیا۔

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ صدق وعدہ و نصر عبدہ، و ھزم الاحزاب وحدہ۔الا ! کل ماثرةٍ او دمٍ او مالٍ یدعٰی فھو تحت قدمی ھاتین۔(فتح مکہ کا خطبہ)
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا و تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا وعدہ سچا ثابت ہوا، اس نے اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور محض اسی نے تمام گروہوں کو شکست دی۔خبردار! ہر موروثی استحقاق ، ہر خون اور مال جس کا دعویٰ کیا جائے وہ میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔

قلوب یومئذٍ واجفة کئی دل جس دن دھڑک رہے ہوں گے۔(سردارانِ قریش کے)

ابصارھا خاشعة ان کی آنکھیں خوفزدہ ہونگی

یقولون ء انا لمردودون فی الحافرة

کہتے ہیں کہ کیا ہم کھڈوں میں لوٹیں گے۔
ااذا کنا عظاماً نخرة کیاجب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے ؟۔ قالوا تلک اذًا کرة خاسرة کہا انہوں نے کہ یہ تو پھر اس وقت خسارے کا لوٹنا ہوگا۔ فانما ھی زجرة واحدة بیشک وہ تو ایک ہی ڈانٹ ہے۔

فاذا ھم بالساھرة  جب وہ میدان میں ہوں گے

فتح مکہ میں قیامت صغریٰ کا مظاہرہ

(پھر فتح مکہ کے بعد کیسے حاضر ہوگئے؟)پھر اللہ نے مزید فرمایا۔

”کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے؟۔ جب اس کو پکارا اپنے رب نے وادی مقدس طویٰ پر جاؤ فرعون کی طرف بیشک وہ سرکش ہوچکا ہے، پس کہو کہ کیا تیرے لئے مناسب ہے کہ تو پاک ہو؟۔ اور میں تجھے تیرے رب کی طرف رہنمائی کروں تو آپ کچھ خوف کرو۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ تو اسے جھٹلایا اور نافرمانی کردی۔ پھر وہ مڑا کوشش کرتا ہوا ، تو اس نے جمع کیا پھر پکارا، پس کہا کہ میں تمہارا رب ہوں اعلیٰ درجے والا۔ پس اس کو اللہ نے پکڑ لیا آخرت اور پہلی فرصت میں۔ بیشک اس میں عبرت ہے اس کیلئے جو خوف رکھتاہے”۔

 

انقلاب عظیم : الطامة الکبرٰی

اانتم اشد خلقاً ام السماء بناھا تم زیادہ سخت ہو تخلیق میں یا آسمان؟۔ ہم نے اس کو بنایا۔

زمین سے فضا میں سات زون ہیں ۔ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں تباہ کن ہیں ، جس پر قابو پانے کیلئے دنیا میں تدابیر ہیں اور مزید دریافت کیلئے کوشش جاری ہے۔ امریکہ خود کو خدا سے زیادہ طاقتورسمجھتا ہے لیکن اس کی قوت خاکستر ہوگی۔ اسی طرح دنیا کو تباہ کرنے والوں کا حال ہوگا۔ انشاء اللہ

رفع سمکھا فسواھا اس کی فضائی آلودگی کو اٹھایا پھر اس کو ٹھیک کردیا۔ (فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے یہ خطہ پہل کرے گاتو دنیا متوجہ ہوگی)

و اغطش لیلھا و اخرج ضحاھا اور اس کی رات کو تاریک تر کردیا اور نصف النہار کو نکالا ۔
(ہمارا نقش انقلاب چڑھتے سورج کو ذرا دیکھ)

والارض بعد ذلک دحاھا اور زمین کو اس کے بعد پھیلادیا۔ (تین قسم کے افراد پر دنیا کو تقسیم کیا جائے گا۔ دو قسم کیلئے دو دو باغات ہونگے)

اخرج منھا ماء ھا و مرعاھا اس سے اس کا پانی نکالا اور بقائے حیات کیلئے بڑے خزانے۔

والجبال ارساھا اور پہاڑوں کو خوب جمادیا

دریائے سندھ کے متاثرہ بہاؤسے جو موسمیاتی تبدیلی40ملین سال بعد آتی وہ انگریز کے نہروں کی وجہ سے200سال میں آگئی۔ کراچی سے کشمیر تک زیر زمین پانی کی سطح متاثر ہوئی ہے۔ زلزلوں کا سامنا اسی وجہ سے ہے۔ کراچی کینٹ اسٹیشن سے تیزی کے ساتھ بھاگتا ہوا سمندر عبد اللہ شاہ غازی کو کراس کرتا ہوا پیچھے جارہا ہے۔2050-60کے درمیان کراچی سمندر برد ہونے کا تخمینہ ہے۔

جب منصوبہ بندی سے نیا آبادی نظام ہوگا تو یہ سب کچھ بروقت بدل جائے گا۔ زیر زمین پانی کی سطح بھی بلند ہوگی اور پہاڑ خوب جم جائیں گے۔ قرآن اور ڈاکٹر حسن عباس کی مہارت کا نتیجہ ہوگا۔

متاعاً لکم ولانعامکم تمہارے لئے گزر کا سامان اور تمہارے چوپاؤں کیلئے۔ (بھلے کینگرو)

فاذا جاء ت الطامة الکبرٰی پس جب وہ عظیم انقلاب آئے گا ۔ (طرز نبوت کی خلافت)

یوم یتذکر الانسان ماسعٰی جس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے دوڑ دھوپ کی ہے۔

وبرزت الجحیم لمن یرٰی اور ظاہر ہوگی انڈسٹریل ایریا کی دوزخ کرپٹ مجرم پیشہ کیلئے۔

”سو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تو دوزخ اس کا ٹھکانہ ہے۔اور سوجو اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشا ت سے روکا تو بیشک وہ جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ آپ سے پوچھتے ہیں انقلابی گھڑی کا کہ کب آئے گی؟۔ آپ کا اس کے ذکر سے کیا ؟۔ تیرے رب کی طرف اس کی انتہا ہے بیشک آپ ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے۔ گویا اس دن دیکھیں گے کہ نہیں رہے مگر ایک شام یا صبح”۔ (النازعات)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شکوہ وجواب شکوہ لاجواب : پیر عابد

گزشتہ سے پیوستہ: شاہ صاحب کا شکوہ وجواب شکوہ لاجواب ہے۔ دور جبروت کے بعد ہی دورِ نبوت (کی طرز پر خلافت) نے آنا ہے۔ اجنبی اور نامعلوم میں بڑا فرق ہے۔

حدیث میں اجنبی کا ذکر ہے اور ایف آئی آر نامعلوم کے خلاف درج ہے۔ہم ایک پراکسی جنگ کی طرف دھکیل دئیے گئے ہیں۔ دشمن نامعلوم ہے اور الزام اجنبی پر ہے۔ تاریخ سے کوئی قاضی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ابھی ہم یہ فیصلہ نہیں کرپائے کہ ہمارا مستقبل امریکہ یا اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔جٹہ واقعہ سے بہت زیادہ ظلم غزہ کے مظلوم فلسطینی بچوں پر ہواہے اور ہورہا ہے۔ جذبہ شہادت سے سرشار شامی وفلسطینی بچے اس دور کے امام مہدی ہیں۔اگر کوئی نہیں مانتا تو نہ مانے ، ہمارے بچے پراکسی جنگ کا حصہ بن جائیں۔قومی عصبیت کے نام پرایک دوسرے کی گردن دبانا اور عزت تار تار کرنا یہ اگر سعادت ہے یا دین ہے یا غوثیت یا قطبیت یا مہدیت ہے تو لعنت ہے ایسے دین پر اور اس کے پیروکار پر۔ اسلام امن وسلامتی سے نکلا ہے ۔ دینِ ابراہیمی کی بنیاد وحدت اور سلامتی پر ہے۔خانہ کعبہ کی بنیاد رکھتے ہوئے ریاست کا وجود نہیں تھالیکن دعا میں ایسی ریاست مانگی جہاں باہم محبت ، اخوت، مساوات ، معاشی ترقی اور امن ہو ۔ ایک دوسرے کو صدق دل سے معاف کردو اور آپس میں امت پناہ بن جاؤ۔یہ قرآن کا تصور اور سنت کی راہ ہے،نہیں تو فتنہ وشر نہ پھیلاؤ،اپنے گناہوں کی اجتماعی معافی اللہ پاک سے مانگیںاور ظلم کو پاک رب پر چھوڑدو۔وہی بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ یا اللہ کی رضا کیلئے معاف کردو یا پھر شریعت مطہرہ کے مطابق شرعی ثبوت کے ساتھ ریاست کے حوالہ کردو اور مطمئن ہوں۔

پہ خیر راغلے ہر کلہ راشہ،دغہ دغہ بیابیابیا

عابد بھائی ! آپ بھی منیر نیازی کے پنجابی اشعار لکھتے کہ

کُج اونج وی رَاہواں اَوکھیاں سَن
کُج گَل وِچ غم دا طوق وِی سی
کُج شہر دے لوک وِی ظالم سَن
کُج مینوں مَرن دا شوق وِی سی

شاہ صاحب کا شکوہ جواب شکوہ لاجواب ہے لیکن پھر بھی جناب کے زیر عتاب ہے؟۔آپ نے خود ہی ہمیں سبحان شاہ کا غلام بنادیا۔ اپنے لئے بھی غلام ابن غلام لکھ دیا مگر تمہیں فرق کیا پڑتاہے؟۔ غلام کو عربی میں ”عبد” کہتے ہیں۔ اس کی تانیث کو اَمة کہتے ہیں۔ مرد غلام توعورتیں لونڈیاں یا کنیزیں!۔ شیعہ تو کلب علی اور کنیز فاطمہ (علی کا کتا، فاطمہ کی لونڈی) شوق سے نام رکھتے ہیں۔ ہمیں اللہ اپنا کتا نہیں بلکہ اپنابندہ بنادے۔

جب کانیگرم میں شیعہ ماتم کرتے تھے تو یوسف شاہ کا والد آپ کے دادے کا بھائی میرمحمد شاہ بھی جوش وخروش سے ماتم کرتا تھا۔ کانیگرم کے لوگ کہتے تھے کہ تم شیعہ ہو یا پھر مسلمان؟۔ شاید اسی وجہ سے یوسف شاہ کے باپ کو کوئی رشتہ بھی نہیں دیتا ہوگا اور سوات کی منڈی سے اسکی ماں لانی پڑی۔

اس میں کوئی عیب کی بات نہیں کہ اماں جان لونڈی ہو۔ حضرت اسماعیل کی والدہ بھی لونڈی تھیں لیکن نبیۖ تک یہ خاندان اسی کی بدولت چلا۔ کسی نبی کی بعثت کی ضرورت بھی پیش نہ آئی۔ یہود، نصاریٰ اور مشرکین مکہ سب ابراہیم کی ملت کے دعویدار تھے۔ قریش کو عرب نے تلوار کی زور پر مکہ سے بھی بے دخل کیا تھا لیکن جب ایک قریشی کی بنوخزاعہ کی عورت سے شادی ہوئی تو پھر ماموں کے توسط سے دوبارہ قریش مکہ مکرمہ میں آباد ہوگئے۔ اسلئے بنوخزاعہ نے جب اسلام قبول نہیں کیا تو بھی مسلمانوں کے ہمدرد اور حلیف تھے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی بنوخزاعہ کے خلاف بنوبکر کی قریش مکہ نے مدد کی تو ٹوٹ گیا اور اگر میرا ننھیال طالبان کو پال کر میری صحیح پوزشن بتاتے تو اس حملے سے طالبان بھی اتنے بدنام نہ ہوتے۔ چلو میری مخالفت کرتے تو مردوں کی طرح میدان میں کھڑے ہوجاتے ۔

آپ نے اچھا کیا کہ شرعی گواہ اور حکومت کی عدالت میں اس کے مطابق مقدمہ کرنے کی تجویز پیش کردی۔ آپ نے یہ کہا تھا کہ مجھے بھی معلوم ہے کہ اس واقعہ میں کون کون ملوث ہیں ۔ ابھی مشکل بڑھ سکتی ہے اسلئے وقت آنے پر بتادوں گا۔ جہاں تک شرعی گواہ کا تعلق ہے تو بیوی کو تین طلاق دو اور مکر گئے تو گواہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ حرام کاری پر مجبور؟۔ اس سے بھی بڑھ کر امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہے کہ ”اگر کسی کی بیوی کو چھین لیا اور عدالت میں اس پر گواہ بنادئیے تو وہ حقیقی بیوی کی طرح جائز ہے”۔ جبکہ دوسرے اس کو حرام کاری سمجھتے ہیں۔ اسی شریعت کے غلط تصورات کو ٹھیک کرنے کی جدو جہد ہے۔

پہلے شہر کو آگ لگائیں نامعلوم افراد
اور پھر امن کے نغمے گائیں نامعلوم افراد
لگتا ہے انسان نہیں ہیں کوئی چھلاوا ہیں
سب دیکھیں پر نظر نہ آئیں نامعلوم افراد
ہم سبھی اسی شہر ناپرساں کے باسی ہیں
جس کا نظم و نسق چلائیں نا معلوم افراد
لگتا ہے کہ شہر کا کوئی والی نہ وارث
ہر جانب سے بس دھوم مچائیں نامعلوم افراد
پہلے میرے گھر کے اندر مجھے قتل کریں
اور پھر میرا سوگ منائیں نامعلوم افراد
ان کا کوئی نام نہ مسلک ، نہ ہی کوئی نسل
کام سے بس پہچانے جائیں نامعلوم افراد
شہر میں جس جانب بھی جائیں ایک ہی منظر
آگے پیچھے دائیں بائیں نامعلوم افراد

جب عمران خان کے عروج اور اقتدار کا دور تھا تو مجھے اس وقت ایک ساتھی بہت اصرار کرتا تھا کہ اس کی حمایت کروں۔ ایک دن اس نے کہا کہ ” صرف ایک خوبی تو عمران خان کی بتاؤ تو پھرمیں نے کہا کہ خاور مانیکا بے غیرت سے بیوی چھین کر بڑا اچھا کیا ہے”۔ پھر جب عمران خان پر زوال آیااور دوسرے ساتھی نے کہا کہ ”آئندہ وزیراعظم نوازشریف ہوگا۔ اگر نہیں بنا تو میں بکرا کھلاؤں گا اور بن گیا تو آپ کھلا دیں” ۔ میں نے کہا کہ یہ یک طرفہ شرط رکھتا ہوں کہ اگر نوازشریف بن گیا تو میں کھلاؤں گا اور نہیں بنا تو آپ مت کھلانا”۔ عوام کے موڈ کو ہم سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے کہ ہمارے ساتھی اخبارات کو عوام میں بیچ رہے ہوتے ہیں۔

عابد بھائی!

میں خورشید کا تربور (چچیرا) ہوں ۔ اس نے کالج میں مخالف پر دوسری منزل سے چھلانگ لگائی تو وہ بیہوش ہوگیا اور اس کے پیر میں چھوٹ آئی۔ میں نے کہا کہ نیچے اترکر لڑتے تو اس نے کہا کہ میں نے سوچا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لڑائی ختم ہوجائے اور کوئی بیچ بچاؤ کرادے۔ میں نے بھی سوچا کہ صلح کی ہوا چلنے سے پہلے کچھ تاریخی حقائق لکھ دوں تاکہ نسلوں میں بھی جھوٹ پھیلانے کی کبھی جسارت نہیں ہو۔ اپنے قریبی بزرگ کی قبر وں کا پتہ نہیں اور ابوبکر ذاکر کی قبر پر بھی جھوٹی کہانی گھڑ دی؟۔اللہ نے فرمایا:” قتل ہو انسان ، کیوں ناشکری کرتا ہے؟ اس کو کس چیز سے پیدا کیا؟۔ نطفہ سے۔ اس کو پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر بنائی، پھر اس کا راستہ آسان کیا۔پھر اس کو موت دی اور پھر قبر دیدی ”۔ سورہ عبس:آیت:17تا21)اس میں قبر کو بھی احسان کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ عالم برزخ کی حیات کا تصور الگ ہے۔ کبیرالاولیاء سے میرے پردادا سید حسن شاہ بابو تک کی کچی قبریں تھیں۔ دادا سیدامیر شاہ کی قبر میرے والد کو شاید اسلئے پکی کرنی پڑی کہ سبحان شاہ کے پوتوں کو اپنے باپوں کی قبر کا خیال آئے۔ میں نے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب پڑھ لی تو1976میں بہت چھوٹا تھا۔ کدال اٹھائی کہ پکی قبر جائز نہیں ۔ اس کو توڑوں گا۔ میرے والد نے مجھ پر غصہ کیا کہ” قبر سے کون مانگتا ہے؟۔ جب تک پکی قبر نہ ہو تو کوئی دعا بھی نہیں کرتا ہے۔ میں نے اسلئے قبر پکی کردی ہے”۔ کسی یونیورسٹی کی لڑکی نے پوچھ لیا کہ قبر کو سجدہ کرنا، بوسہ دینا اور جھکنا جائز ہے تو مولاناشاہ احمدنورانی نے جواب دیا کہ ” صاحب قبر کیلئے فاتحہ پڑھنا اور دعا کرنا جائز ہے باقی کچھ بھی جائز نہیں ہے”۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے قبر پرستی کی بہت سخت مخالفت کی ہے لیکن جب عمران خان نے بشریٰ بی بی کے کہنے پر پاک پتن کی راہداری کو بوسہ دیا تو علامہ کوکب نورانی اور توحیدپرستی کا دعویٰ کرنے والے یکساں تائید کررہے تھے اسلئے کہ توحید ومسلک سے زیادہ لوگ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتے ہیں۔

ہمارے ایک ساتھی حافظ شارق کا خاندان بریلوی اور کچھ اہل حدیث ہیں توان کی بہن امریکہ میں زیادہ عمر گزارنے کی وجہ سے مزید کٹر اہل حدیث بن گئی۔ گھر میں شدت کا مذہبی اختلاف تفریق کا باعث تھا۔ میں نے بتایا کہ میراDNAبھی وہابی والا ہے اسلئے کہ ہمارے اجداد سید عبدالقادر جیلانی سے حنبلی مسلک کے تھے اور امام احمد بن حنبل کوفقہاء نہیں محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔ باقی رفع الیدین وغیرہ علاقائی رسم ہیں۔ جب عبدالقادر جیلانی حنفی ماحول میں تھے تو حنفی تھے ۔پھر حنبلی بن گئے۔جب ہمارے اجداد حنفی ماحول میں آئے تو حنفی تھے۔

جب خاتون کے سامنے یہ بات رکھی کہ شرک قرآن نے سکھایا ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کوئی دیکھے گا تو وہ شرک ہی کرے گا کہ اس سے بڑا مشکل کشا کیا ہوگا کہ جو مٹی کا پرندہ بنادے اور پھونک سے روح ڈال دے۔ ابرص کا مرض ٹھیک کردے اور مردے کو زندہ کردے۔ میں خود تو وہابی ہوں لیکن دم درود سے کسی کو صحت مل جائے تو اس کو شرک نہیں کہتا۔ اسلئے کہ پھر قرآن بھی شرک کی تعلیم والا ہے۔ خاتون پھر بیٹے کو امریکہ سے لائیں اور کسی اہل حدیث دم درود والے سے روحانی علاج بھی کروایا۔ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم کی کتاب ”اذکار مسنونہ” میں یہ وضاحت ہے کہ پہلے نبیۖ نے منع فرمایا لیکن پھر اجازت دیدی کہ اگر کوئی شرکیہ کلمات نہ ہوں اور فائدہ پہنچتا ہو تو ٹھیک ہے۔ بریلوی علماء ومشائخ نے جرأت نہیں دکھائی ورنہ مشرک وہ بھی نہیں تھے۔ دیوبندیوں کی جرأت نے بڑی تبدیلی لائی ہے ۔ مفتی منیب الرحمن مفتی اعظم پاکستان وغیرہ بھی درگاہوں کے رسوم کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں لیکن اس سے بڑی مصیبت فقہاء کی ان عبارات پر فتوے ہیں جن سے علماء ومفتیان بھی پہلے اتنے واقف نہیں تھے اور اگر تھے تو اس کو عوامی سطح پر اور علماء کی سطح پر عام نہیں کیا۔ اب اسکے خلاف طبل جنگ بجانا بہت بڑا جہاد اور ایمان کی محنت ہے۔

عابد بھائی!

آپ کی باتیں علم، عمل، تاریخ اور حقائق سے جوڑ نہیں کھاتی ہیں۔ اپنی صلاحیت کو درست استعمال کرو۔اپنا وقت ضائع مت کرو۔ آپ کے خلوص ومحبت میں شک نہیں۔ میراشکوہ جواب شکوہ پسند نہیں ہے اسلئے لعنتیں بھیجی ہیں حالانکہ اس بہتر تھا کہ میںبھی پھر ثقیل برکی کی تک بندی کرتا کہ

پورے وورے تکے شجہ وغیاں دے کاٹکے
اس پار اس پار چٹانیں اور بیوی چودھ دوں کاٹکے کی

جس کے جواب میںثقیل کو مقابلے کیلئے بلایا کہ مقابلہ کرو۔ کاغذ پر اشعار لکھے ہوئے تھے اور ثقیل کے خلاف پڑھا کہ

ووینا دیر ووخلا پہ ووینا کشے مخ کاتلائی نہ شے
طانبل دیر ووخلابے طانبل پائسے گاٹلائی نہ شے
آئینہ اُٹھاؤ آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ نہیں سکتے
کشکول اٹھاؤ ، بغیر کشکول کے پیسہ کما نہیں سکتے
ثقیل برکی نے دوبارہ سنانے کا کہا اور پھر فی البدیہہ کہا
بے طانبل پائسے گا ٹلائی نہ شہ پہ وویناکشے مخ کاتلائی نہ شہ
مور دے زاڑہ خوردے پہ شل زرہ کاولئی ن شہ
کشکول کے بغیر پیسہ کما نہیں سکتاآئینہ میں چہرہ دیکھ نہیں سکتا
تیری ماں بوڑھی ہے تیری بہن کو20ہزار میں خرید نہیں سکتا

 

عابد بھائی!

کاٹکے برکی کے بیٹے نے گالی کا جواب بہت ہی مہذب انداز میں منہ توڑ دیا اسلئے کہ ثقیل برکی پاگل تھا ،اس کا کوئی کاروبار تھا نہیں تو لوگ اس کی کچھ امداد بھی کردیتے تھے اور اس کی شکل بھی واقعی کوئی قابل رشک نہیں تھی تو کاٹکے کے بیٹے نے گالی کا جواب بہت زبردست انداز میں دیا لیکن جب ثقیل برکی نے جوابی شعر میں پہلے سے زیادہ بڑی گالی دی تووہ نہ صرف سرنڈر ہوااورکاغذپر لکھے ہوئے اشعار چھوڑ دئیے بلکہ ثقیل کا500روپیہ جرمانہ بھی دے دیا کہ بس آگے اور اشعار مت بناؤ۔ یہ کانیگرم کی ہزار سالہ مہذب قوم کی تاریخ ہے ،اس قابلیت، غیرت ، شرافت اور صلاحیت کو دنیا دادبھی دے گی ۔

 

عابد بھائی!

جب اسرائیل فلسطین پر بے تحاشا بمباری کرتا تھا تو آپ کو فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں تھی اور مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کروں تو کیا کروں؟۔ان کی بچیوں کے گلے شکوے سے دل پھٹ رہاتھا۔ مشہور عربی ڈاکٹر خالد الفجرنے میری تجویز پر درس قرآن دینا شروع کیا تھا تو اس نے سورہ الناس سے شروع کیا۔ میں نے اس کو تجویز دی کہ قرآن کو تجویدوقرأت کے قواعد سے پڑھنے کے بجائے سادہ زباں کی ادائیگی میں پڑھو۔ اس نے سورہ فلق کی تفسیر عام مفسرین کی طرح کی تو میں نے اس کی ویب سائٹ پر یہ بھی لکھ دیا کہ

تمہاری صلاحیت اور فصاحت وبلاغت بہت اچھی ہے۔ قل اعوذ برب الفلقOمن شرمن ماخلق …

فلق سے طلوع فجر کے علاوہ پھول کھلنے سے لیکر کائنات کی توسیع میں تمام تغیرات مراد ہیں۔ جن میں کوئی شر ہو تو اس سے پناہ مانگی ہے۔ اس سے مفسرین بہت ساری وہ توہمات بھی لیتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ فلسطین پر بم اور میزائل گرتے ہیں تو پھٹنے والے شر کی زد میں جس طرح سے وہ آتے ہیں تو ان کو اس سورة کا صحیح معنوں میں ادراک ہے۔ بندوق کی گولی سے وہ زہریلے بم جو بڑے پیمانے پر پھٹ کر بڑی تباہی مچاتے ہیں۔ جسے ڈاکٹر خالد الفجر نے بہت سراہا تھا۔

میں نے اس میں مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار کا بھی ٹچ دے دیا تھا کہ من شر نفٰثٰت فی العقد سے وہ گروہ اور جماعتیں مراد ہیں جو قوموں میں اقدار کو توڑنے کی مہم جوئی ، سازش اور معاشرے میں فتنہ وفساد برپا کرتے ہیں۔

مشرکین عرب کا معاشرہ حضرت اسماعیل کے بعد بھی انہی اقدار کی وجہ سے قائم تھا۔ بنی اسرائیل میں ہزاروں ابنیاء کرام بھیجے گئے۔حضرت یوسف کے والد، دادا، پردادا انبیاء کرام اعلیٰ نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن یوسف کو پھربھی بھائیوں نے قتل یا کنویں میں پھینکنے کی ترتیب لڑائی۔ بھیڑئیے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔ آخر کار یوسف کی قسمت نے پہلے انکے جھوٹ سے پردہ اٹھایا کہ انہوں نے کہا کہ اگر یوسف کا بھائی چور ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چور تھا۔ پھر جب پہچان لیا توکہا کہ کیا آپ یوسف ہیں؟۔ پھر معاف بھی کردیاتھا۔

طالبان نے اپنی غلطی مان لی اور معافی کیلئے بڑی عزت بھی بخش دی۔ مہمان نہ ہوتے تو ہم معاف کرچکے ہوتے۔جو یہ کہتے ہیں کہ اورنگزیب شہید نے بھائی کو بچانے کیلئے سب کو قربان کردیا تو وہ اسلام، قبائل ، انسانیت، علی کی اولاد اور فطری غیرت سے نابلد ہیں اور جب تک اقدار کے نشیب وفراز سے یہ لوگ واقف نہیں ہوں گے تو اگر ہمارے والے ان کو سارادن بھی کاندھے پر گھمائیں گے تو یہ کہیں گے کہ ہماری چوتڑیں توڑ دی ہیں۔میں واقعہ کی نہیں دراصل اقدار کی جنگ لڑرہاہوں۔

عابد! سرنڈرکو وہاں سلنڈرکہتے ہیں ۔سر+نڈر نہیں۔ سلنڈر میں زیادہ گیس ہو تو پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ آپ نے اچھا کیا کہ اپنی بیہودہ معلومات پر سلنڈر بن گئے۔ ممکن ہے کہ پھٹنے کے ڈر سے یہ ہوا چھوڑی ہولیکن اپنی کاوش جاری رکھو۔

آپ نے کانیگرم کو اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز اور سیاست کا محور بتایا اور شیخ الہند اور مجدد سبحان شاہ کی بنیادپر سیاست کو محور بناکر اس بات کا اظہار کیا کہ مہدی کی شخصیت بقیہ صفحہ ھذا نیچے بڑی ہے اور منصور کا کام تم نے کرنا ہے اور خود ساختہ پیران پیر بن گئے۔ آپ غلام قرار دو ، جھوٹی تاریخ لکھو توٹھیک اورمجھے سچ بولنے پر لعنت اور تعصبات ؟۔

شیخ الہند کی سیاست کے پہلوان مولانا فضل الرحمن کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے استاذ شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی مولانا سبحان محمود نے ”اخبار الاخیار” کا ترجمہ کیا اور میں نے اس کا ایک فتویٰ میں صرف حوالہ دیا تو اس نے اپنا نام بدل کر سحبان محمود رکھ دیا۔جس سے اس نے خود کو بہت بڑا جاہل ثابت کیا کہ ساری زندگی ایک ناجائز نام رکھا ہوا تھا۔

سبحان شاہ کی اولاد جھوٹی کہانی دم توڑنے پربغیر ماں باپ والے اکاؤنٹ سے گالیاں بک رہی ہے۔ پتہ نہیں چلتا کہ لڑکے ہیں لڑکیاں؟۔ حالانکہ شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ سچ کی وجہ سے انسان توبہ کرتا ہے اور تکبر اور دھوکے میں نہیں رہتا۔ عابد بھائی ! آپ ان کی وکالت ضرور کریں مگر کچھ حق بھی بولیں۔

سبحان شاہ کے بیٹوں مظفرشاہ و صنوبر شاہ کے پوتے زندہ ہیں۔ دادوں کی قبر تلاش نہیں کرسکتے اور ابوبکر ذاکر کی قبر اور قتل پر بیہودہ60خوارج کے بدلے میں قتل کی جھوٹی کہانی بناؤ اور پھر انہی برکی قبائل کو خوارج بھی قرار دے دو؟۔ چلو شجرہ اور قبروں تک رسائی نہیں تو اکاؤنٹ پر نام لکھ سکتے ہو۔ وہ بھی نامعلوم ۔FIRتو نامعلوم کے خلاف ہی درج ہوتی ہے ۔

مولانا قاسم نانوتوی نے ایک کارنامہ انجام دیا کہ بیوہ اور طلاق شدگان کیلئے شاہ اسماعیل شہید کے طرز پر تحریک چلائی مگر اپنی ایسی بوڑھی بہن کو قربانی کی دنبی بنایا جس کی عمر قرآن کے مطابق نکاح سے گزر چکی تھی۔ نوشہرہ میں مولانا گل حلیم شاہ نے بتایا کہ ایک شخص اپنی بوڑھی ماں کو ٹوکری میں لئے قرآن پر عمل کیلئے نکاح کرانا چاہتا تھا تو میں نے یہ سمجھادیا کہ غلط کررہا تھا ۔ جہاں کسی نے دہشت گرد پالے تھے تو بہادری کے باوجود بھی خواتین بچانے کیلئے بازو تڑوانے کا قصہ ہے۔ میری خواہش تھی کہ ضرورت ہو تو عمر کا لحاظ رکھے بغیر مرد حضرات قربانی دیں اور سب سے پہلے میں ، میرے بچے ، بھائی اوربات ماننے والے پیرعبدالوہاب ، عبدالرحیم ، عبدالواحد وغیرہ تیار کردئیے تھے لیکن ماموں سعدالدین نے کہا کہ یہ مشکل کام ہے۔

جنڈولہ سے وانا کے راستے میں آپ لوگوں کی بڑی زمین ہے۔ جس قبیلہ نے بیچی تھی تواس نے پھڈہ کھڑا کردیا۔ جب اس پربڑا جرگہ بٹھادیا تو معمول کیمطابق ایک طرف ہمارے والے بیٹھ گئے اور دوسری طرف وہ بیٹھ گئے۔ ثالثوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے زمین بیچی ہے لیکن اس کا پانی نہیں بیچا ہے۔ میرے والد نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھے کہہ رہاہے کہ میں نے عورت بیچ دی ہے لیکن اس کی پیشاب گاہ کو نہیں بیچا ہے۔ پانی کے بغیر زمین ایسی ہے جیسے عورت کی وہ چیز نہیں ہو۔ ثالثوں نے ان سے کہا کہ ”پیر صاحب کی بات ہم مجمع عام نہیں بتاسکتے۔ کچھ افراد الگ ہوجاؤ تو ان کو بتادیں گے لیکن انہوں نے زور لگایا کہ اب تو خواہ مخواہ بھی بتاؤ گے۔ جب بتایا تو کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہوئے کہ معاملہ ختم ہے۔

کبھی صرف بات کرنے سے بہت بڑے فساد ٹل جاتے ہیں۔ میرے بھائیوں نے والد کی زندگی میں والد کو بے خبر رکھ کر مینک برکی کی غلط ڈیمانڈ پر فیصلہ کیا کہ یا ہم قرآن کا حلف اٹھائیں تو210کنال میں105ہماری ہے۔ یا وہ حلف اٹھائیں گے کہ ہماری70کنال ہے۔ ماموں غیاث الدین کی موجودگی میں ہمارے بھائیوں نے ان کو حلف اٹھانے کیلئے کہہ دیا۔ ایک جھوٹے حلف پر ہم35کنال سے محروم ہوگئے تو ہمارے رشتہ داروں کو اس پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ لالچ کی جگہ زمین کی قربانی دیدی۔ ہماری مخالفت میں اس پر فضا بنائی گئی کہ جیسے ہم نے مینک برکی سے حلف اٹھواکر بڑا ظلم کردیا۔

اس کے پیچھے پھر حلف کا معاملہ تھا کہ وہ اٹھاتے اور زمین بھی لیتے اور بدنام بھی ہمیں کرتے۔ میں نے مولانا سبحان محمود کاواقعہ بھی بہت مختصر نقل کیا ہے جو دارالعلوم کراچی والوں کا دادا اور بنوری ٹاؤن والوں کا ننھیال تھا اسلئے کہ مفتی تقی عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر دونوں اسکے شاگرد تھے۔ بنوری ٹاؤن کراچی کے اکثر اساتذہ پہلے دارالعلوم کراچی میں تھے۔ اپنی ننھیال سبحان شاہ کے معاملات بھی ضروری حد تک بیان کیے لیکن تفصیل کی ضرورت آئے تو آسرا نہیں کروں گا ۔ بڑے مقاصد کے حصول کیلئے چھوٹی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بہت لوگ کچھ نہیں سمجھتے اور خدا کرے کہ کچھ نہ سمجھے کوئی اور بڑا مقصد بھی مل جائے۔ قدرت بڑی مہربان ہے۔ اگر یہ مد بھیڑ نہ ہوتی تو پھر سورہ سبا اور دیگر سورتوں کی تفسیر سمجھنے میں بھی مشکل ہوتی۔

مولانا پیر گل حلیم شاہ نے کانیگرم کے جلسہ میں میری والدہ کا نام لیا تو ماموں نے اپنی بہن اور بھائی نے اپنی والدہ کی بے حرمتی پر اس کو پکڑنے کے بجائے مجھے ہی جیل میں ڈال دیا۔ حالانکہ مولاناگل حلیم شاہ کو ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹا جاتا تو لوگ بھی کہتے کہ غلط کیا تو بھگتے بھی۔ پھر میں نے اس پر پہلے اتمام حجت کی اور اپنی کتابوں کا کہا کہ دیکھو اس میں کیا غلطی ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے پتہ نہیں مولانا فتح خان سے پوچھ لو۔ تو میں نے کہا کہ جب پتہ نہیں تو پھر مخالفت میں بولو بھی مت۔ پھر اس کی حقیقت سے”نیولے اور ٹرانسفارمر ” نقاب کشائی کی۔

نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے
ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے
اب ایک رات اگر کم جئے تو کم ہی سہی
یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جئے

مجاہد شا ہ ولی مروت ، شین مینار مسجد کے مولانا عنایت اللہ محسود اور سپاہ صحابہ کے شاہ حسین گواہ ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن سمیت ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء اور کلاچی کے قاضی، کراچی کے مدارس اور حاجی عثمان کے مریداور ضرب حق دیکھ لو۔

ابوسفیان کی بہن ام جمیل ابولہب کی بیوی تھی ۔ قرآن کی مذمت پر قریش نے نبیۖ پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔ ولید بن مغیرہ کو ترجمان بنایا۔اللہ تعالیٰ نے بھرپور جواب دیا ۔ فرمایا:

”ن قلم کی قسم اور جو اس سے لکھتے ہیں۔آپ اپنے رب کی نعمت سے دیوانہ نہیں ہیںاور آپ کیلئے بیشمار اجر ہے۔ اور بے شک آپ تو اخلاق کے عظیم مرتبہ پر ہیں۔ پس عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم سے کون فتنہ میں مبتلا ہے؟۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ کون راستے سے گمراہ ہے۔ اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ پس آپ جھٹلانے والوں کا کہا مت مانو۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی چاپلوسی کرو تو وہ بھی چاپلوسی کریںاور ہر قسم کھانے والے ذلیل کا کہنا نہ مانیں۔جو طعنے دینے والا چغل خور ا، نیکی سے روکنے والا، حد سے گزرا، گناہ گار۔ بدتمیز اور پھرناجائز نسبت والا ۔ اگرچہ وہ مال واولاد والا ہے ۔جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ عنقریب ہم اس کو سونڈ پر داغ دیں گے۔بیشک ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا، جیسا کہ ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا۔جب انہوں نے قسم کھائی کہ ہم صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ دیں گے اور انہوں نے استثناء نہیں کیا۔ پھر ایک گھومنے والاتیرے رب کی طرف سے آیا اور وہ سوئے ہوئے تھے۔پھر وہ باغ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح تھا”۔ (سورہ القلم آیت1تا21)

حضرت خالد بن ولید کے والد ولید بن مغیرہ بہت تیز طرار ، چالاک، عقل ودانش کے پیکر قریش مکہ کے ترجمان نے زبان کی تیزی دکھائی اور نبیۖ پر ڈھیر ساری بداخلاقی اور عزتوں کو تار تار کرنے کا الزام لگادیا تو سورہ قلم کی ان آیات سے خالق کائنات نے جواب دیا تھا۔ بعض مترجمیں نے ”زمیم” کا ترجمہ” ناجائز اولاد” کیا ۔ اس سے خالد بن ولید کی شخصیت اور نسب پر کتنا برا اثر پڑا؟ ۔جس کا بھائی ولید بن ولید مسلمان تھا۔ خالد بن ولیدمسلمان ہوا تو یہ آیات سنانے کا مطالبہ کیا جو اس کے باپ کی مذمت میں نازل ہوئی تھیں۔ پٹھانوں کو پتہ ہوتا تو وہ کبھی خود کو خالد بن ولید کی اولاد نہ کہتے۔ جب کچھ لوگوں نے سازش کی اور ہمارے ساتھی خانقاہ کے امیر شفیع بلوچ کو میرے سامنے کھڑا کیا تو اس نے کہا کہ ہم بلوچ بھی امیر حمزہ کی اولاد ہیں۔ پھر میںنے کہا کہ اگر میں تجھے مجمع میں چیلنج کرتا اور پھر یہ کتاب دکھاتا کہ امیر حمزہ لاولد تھے تو کیا حشر ہوتا؟۔ اس نے شکریہ ادا کیا کہ مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ طاہر شاہ نے لکھا کہ ”کیا دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی کہ مہدی کو دریافت کرسکے”۔ مہدی کی نسبت روحانی ہے اور سائنس ابھی روحانیت تک نہیں پہنچ سکی ہے لیکن طاہر شاہ ایک ویڈیو میں اپناتشخص، تعارف اور شجرہ نسب دنیا کے سامنے رکھ دیں۔ یہ تو وہ شخص ہے جو کہتا تھا کہ ”وزیرستان کا سپر خاندان ہم ہیں۔ انگریز نے بتادیا ہے”۔

یہ بد قماش جو اہل عطا بنے ہوئے ہیں
بشر تو بن نہیں سکتے خدا بنے ہوئے ہیں
میں جانتا ہوں ایسے عظیم لوگوں کو
جو ظلم سہہ کے سراپا دعا بنے ہوئے ہیں
وہ مجھ سے ہاتھ چھڑا لے تو کچھ عجب بھی نہیں
اسے خبر ہے کہ حالات کیا بنے ہوئے ہیں
لڑھکتا جاؤں کہاں تک میں ساتھ ساتھ ان کے
مرے شریک سفر تو ہوا بنے ہوئے ہیں
تو خلوتوں میں انہیں دیکھ لے تو ڈر جائے
یہ جتنے لوگ یہاں پارسا بنے ہوئے ہیں
کبھی کبھار تو ایسا گماں گزرتا ہے
ہمارے ہاتھ کے ارض وسما بنے ہوئے ہیں
ہمیں سے پہنچنا ہے تم کو منزل تک
گزر جانا کہ ہم راستا بنے ہوئے ہیں
ہزاروں لوگ بچھڑتے ہیں مل مل کر
سو زندگی میں بہت سے خلا بنے ہوئے ہیں
کسی سے مل کے بنے تھے جو زرد لمحوں میں
وہ سبز خواب میرا آسرا بنے ہوئے ہیں

عابد بھائی!

میں نے تو بارہایہ کہا کہ مجرم کوئی اور نہیں ہم خود ہیں ۔ دہشتگرد قوم کو نقصان پہنچارہے تھے تو ہم نے پالا۔ اگر اس کی سزا اس سے زیادہ ہے جو ہمیں ملی ہے توقبول ہے ۔

ہماری مسجد کے امام حافظ عبدالقادر شہیدکے گاؤں میں یہ بات پھیلائی گئی کہ اس کی موت حرام کی ہوئی ہے۔ جب اسکے بھانجے کو پتہ چلا کہ حرام کی موت نہیں ہوئی ہے تو بہت خوش ہوا کہ اس کی آخرت خراب نہیں ہے۔ یہ کس کس کا پروپیگنڈہ تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا؟۔ مجھے شہداء کیلئے کچھ حقائق سے پردہ اٹھانا ہوگا۔ منہاج کا ماموں پیر سجاد بھی یہ تشہیر کرتا تھا اور مجھے اس پر گرفت کی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہمارے شہداء کے وارث پریشان ہوں اور لوگ اپنی کم عقلی یا کمینگی سے غلط پروپیگنڈہ کریں۔

قاتل کو زعم چارہ گری ، اب دردِ نہاں کی خیر نہیں
اترا وہ خمار بادۂ غم ، رندوں کو ہوا ادراک ستم
کھلنے کو ہے مے خانے کا بھرم، اب پیرمغاں کی خیر نہیں
اب تک تو کرم کی نظروں نے، فتنۂ دوران روک لیا
اب دوش پہ زلفیں برہم ہیں، اب نظم جہاں کی خیر نہیں
سوچا ہے شکیل انکے دلوں کو میں فتح کروں گاسجدوں سے
یا میری جبیں کی خیر نہیں، یا کوئے بتاں کی خیر نہیں

مولانا فتح خان سے کوئی پوچھتا کہ” نامعلوم نے ہمارے آدمی کو قتل کیا تو یہ شہید ہے یا نہلائیں؟”۔ تو مولانا فتح خان جواب دیتے تھے کہ احتیاطاً نہلانے میں حرج نہیں ۔ شہادت نہلانے سے خراب نہیں ہوتی ہے۔ لیکن جب حاجی رفیق شاہ شہید کیلئے مولانا فتح خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ”یہ اس اونچے درجہ کے شہید ہیں کہ نہلانا تو دور کی بات چہرے پر گرد پڑا تو اس کو بھی مت ہٹاؤ”۔ پھر یہ کون ہیںجنکے نزدیک حافظ عبدالقادر شہید حرام کی موت مرا؟۔ اسکے بھانجے کو بتادیا کہ حرام کی موت نہیں مرا تو بڑا خوش ہوا۔ اورنگزیب شہید کی تصویرپر ڈیرہ میں یہ کہاگیا کہ” ہمارا عزیز تھا یہ غلط تھا”۔تو عام آدمی نے اس سے کہا کہ” تصویر سید کی ہے تم سید نہیں لگتے ”۔

جس طرح فلسطین کے مجاہد بچے مہدی ہیں اسی طرح جن مجاہدین نے امریکہ کے خلاف جہاد کیا تو وہ بھی مھدی ہیں۔ مجھے مجاہدین کی ان ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کو دکھ اور تکلیف پہنچنے کا جٹہ قلعہ کے واقعہ سے زیادہ احساس ہے جن کا اپنا کوئی گناہ نہیں تھا اور وہ بے گھر اور بے عزت کئے گئے ۔ اگر میں موجود ہوتا تو اپنے سکول اور گھروں میں ان کو ضرور بساتا اور ان کیلئے جتنا ہوسکتا تو خرچے کا بندوبست بھی ضرور کرتا۔

مجھ سے پیر طارق شاہ نے کہا کہ ” پیر یعقوب شاہ سے آپ بات کرلو تو صلح پر راضی ہونگے”۔ میں نے کہا کہ اس کیلئے کچھ ایسی تجویز ہو جو بخوشی سے قبول کریں۔ پھر اس بات کا اظہار کیا کہ پیرغفار لوگوں نے زندگی ماموں کے گھر میں گزاردی اور اب گھر چھوڑنے کی قیمت پر صلح کیلئے یہ بات بڑھانی ہوگی۔ پیر غفارجٹہ قلعہ آئے تو میں نے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ حالانکہ بظاہر یہ بالکل غلط تھا لیکن اس کا اتنا بڑا دل ہے کہ مجھ سے ناراضگی کی وجہ پوچھ لی۔ میں نے کہا کہ تم صلح نہیں کرتے۔ اس نے کہا کہ آپ کو ہر طرح کا اختیار ہے۔ میں نے کہا کہ اگر کسی اور دشمن کیلئے بات ہوتی تو میں کبھی نہیں بولتا۔ برکی قبائل کیلئے محسود ملک دینائی نے بندے مارنے کے بعد وطن چھوڑا تو عار بن گیا مگراپنے عزیزوں کیلئے یہ قربانی کوئی بے عزتی نہیں۔ وہ بالکل تیار تھا اور پھر دوسرے بھائیوں سے مشورہ کرکے بھی بتایا کہ ٹھیک ہے لیکن پھر پتہ نہیں کس ابلیس نے مشورہ دیا اور مجھے کہا کہ ”گھر چھوڑنے والی بات پر ہم سوچ میں پڑگئے”۔

اگر اس وقت معاملہ حل ہوجاتا تو مجھے یقین ہے کہ یعقوب شاہ بہت خوش ہوتے اور پہلے کوڑ چھوڑنے کیلئے اپنے ڈیرے کا گھر دیتے اور پھر اپنے ساتھ ڈیرہ سے ان کو واپس لاتے کہ بھئی اپنی چیز خود سنبھال لینا۔اچھوں کی کمی نہیں تھی مگر ماحول بہت تیزی سے بگڑ گیا اسلئے کچھ ضربیں برداشت کرو۔

نمازکی امامت پر میری کوشش ہوتی تھی کہ تاخیر سے جاؤں تاکہ کوئی اور امامت کرے۔ ایک دن حاجی بدیع الزمان مجھے آگے کررہے تھے اور میں اس کو امامت کی دعوت دے رہاتھا۔ ڈاکٹر آفتاب نے اس کو کہا کہ آپ پڑھائیں مگر اس نے مجھے آگے کیا۔ میرے دل میں ڈاکٹر آفتاب سے محبت بڑھی کہ اس نے اقدار اور چھوٹے بڑے کا بڑا خیال رکھا۔ آج بھی دل میں اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہوں۔ حاجی یونس شاہ نے ہمیشہ اپنی گاڑی دوسروں کی غم شادی میں پیٹرول سے بھری انکے گھر پر کھڑی کرکے رکھی تو میں نے کہا تھا کہ سب سے اچھی گاڑی حاجی صاحب کیساتھ ججتی ہے جبکہ ماموں سعدالدین نے مسجد میں حاجی شاہ عالم کے بھائی دین حاجی سے ہاتھ ملایا تو پوچھا کہ کون ہے۔ صمد نے بتایا کہ مزیانی ہے ، تواس نے کہا کہ گم ہوجائے۔ صمد نے کہا کہ دبئی سے آیا مہمان ہے تو اس نے کہا کہ دبئی سے بھی گزرے۔چھوٹے ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ ۔

حاجی یونس شاہ الیکشن کمپین کا خرچہ دیتا تھا اور بدتمیز مخلوق مذاق اڑاتی تھی۔ میرا کتا بس نے ماردیا تو ڈرائیور نے کہا کہ آدمی کی دیت دوں گا۔ حاجی یونس شاہ نے کہا : چائے پیتے ہوتو پلادیتا ہوں ،کتے کا کون پوچھتا ہے جاؤ۔ یہ ہوتا ہے معیار !۔

منہاج اور شہریار کی غیرت کتے کی غلطی کو معاف نہیں کرتی لیکن مہمان اور عورتوں سمیت جمع غفیر پر کبھی غیرت نہیں آئی۔
پیر طارق شاہ بہت اچھا تھامگر اللہ نے مجھ سے کام لیاہے۔ ”اللہ فاسق سے بھی دین کی خدمت لیتا ہے”۔(حدیث) گالی کھانا اور دینا اچھا نہیں مگر مجبوری ہوتو علی سے ابوسفیاننے کہا: ہماراجدایک عبدالشمس تھا تو علی نے کہا کہ صخر ابوطالب کی طرح تھا،نہ حرب عبدالمطلب اورنہ ہی امیہ ہاشم کی طرح۔ نبیۖ نے سچ فرمایا:انانبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب اللہ کا کلینڈر شاہکارہوتا ہے تعصبات نہیں۔فارمی نہیں سمجھ سکتا۔

عابد! آپ اور مولانا آصف میری تعلیم کو پہنچاتے تو سبحان شاہ ، مظفرشاہ ، سرورشاہ اور جلیل شاہ کا نام بھی روشن ہوتا اور مولانا فضل الرحمن اور اس کے ٹبر سے بھی بہت ہی آگے نکلتے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بیٹی کو شہوت سے زبردستی آلہ تناسل پکڑایا اگرانزال نہ ہوا تو بیوی حرام اور انزال ہوگیا تو بیوی حرام نہیں ہوگی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی جہالت سے بھرپور حماقتوں سے دل دہلانے والے حنفی فقہاء کی خباثتوں کا فتویٰ

(حرمت مصاہرة کے غلط مسائل سے جان چھڑانے کا قرآنی حل آخر میں پڑھیں)

دار الاافتاء جامعة العلوم علامہ بنوری ٹاؤن
ویب سائٹ لنک
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/hurmat-e-musaaharat-ki-sharaet-o-ahkaam-144603102755/28-09-2024

https://www.banuri.edu.pk/questions/fasal/hurmat-e-musaharat

 

کیا سوتیلا نانا (یعنی سوتیلی ماں کا والد)محرم ہے؟

محارم ، بہو اور سالی کو شہوت سے چھونا اور مصافحہ کا حکم….

نو سال سے کم بیٹی کو برہنہ دیکھنے کی صورت میں حرمت کا حکم

ساس سے زنا کرنے کی صورت میں بیوی سے نکاح ……

امام ابوحنیفہ اورامام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک حرمت……

بیٹی کیساتھ زنا سے آدمی پر اپنی بیوی حرام ہوجاتی ہے۔

بھتیجی کو شہوت سے چھونے کے بعد اس کیساتھ بیٹے کا نکاح

بیٹے کا ماں کو شہوت سے چھونے سے حرمت کب ہوگی؟۔

ہم بستری کے وقت بیوی کی والدہ کا تصور کرنے سے نکاح.

حرمتِ مصاہرت کی شرائط و احکام

عورت کو چھونے کے بعد انزال سے حرمت مصاہرت کا حکم

بھانجی کیساتھ ہم بستری کرنے پر ماموں کے نکاح کا حکم….

سوتیلی بیٹی کے ہاتھ میں زبردستی آلہ تناسل پکڑوانے…..

ساس کے پستان کو چھونے سے حرمت مصاہرت کا حکم

سسر کا بہو کو شہوت کے ساتھ چھونا

……بقیہ (بکواسات)

 

حرمت مصاہرت کی شرائط و احکام

سوال:1۔ اگر داماد ساس کو شہوت کی نظر سے دیکھے یا چھوئے تو کیا اس سے بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام ہوجاتی ہے؟ اسی طرح اگر سسر اپنی بہو کو شہوت کی نظر سے دیکھے یا چھوئے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

2۔اگر باپ پیار و شفقت سے اپنی بالغ بیٹی کابوسہ لے اور اسے پیار سے چومے تو کیا بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام ہوجاتی ہے؟۔ راہ نمائی فرمائیں۔ جواب

(1) واضح رہے کہ مرد کے کسی عورت کو محض شہوت سے دیکھنے یا چھونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، شرعا چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

6۔شہوت سے دیکھنے یا چھونے کی صورت میں اس وقت انزال نہ ہوا ہو، اگر اسی وقت انزال ہوگیا تو حرمت ثابت نہ ہو گی۔

(2) اگر باپ پیار و شفقت کی بنا پر اپنی بالغ بیٹی کو بوسہ دے اور اسے پیار سے چومے تو بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام نہیں ہوگی البتہ اگر بوسہ دیتے یا چومتے وقت شہوت پیدا ہوجائے یا

بوسہ دینا اور چومنا شہوت کیساتھ ہو اور اگر پہلے شہوت تھی تو وہ بڑھ گئی ہو تو اس سے بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام ہوجائے گی، نیز اگر بوسہ دیتے یا چومتے وقت شہوت کا غالبِ گمان ہو تو اپنی بالغ بیٹی کو چومنا یا بوسہ دینا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی:(وأصل ماستہ وناظرة الی ذکرہ والمنظور الی فرجہا) المدور (الداخل).. …(قولہ : فلاحرمة) لانہ بانزال تبین أنہ غیرمفض الی وط ء ھدایة…. فان أنزل لم تبت والا ثبت لا انھا ثبت بالمس ثم بالانزال تسقط ؛ لأن حرمة المصاہرة اذا تثبت لاتسقط أبدا ایچ ایم سعیدکمپنی

فتاوی عالمگیری :ووجود الشھوة من احدھما یکفی وشرطہ أن لاینزل حتی لوانزل عندالمس أو النظر لم تثبت بہ حرمت المصاہرةکذا فی التبیین . قال صدر الشہید وعلیہ الفتویٰ کذا فی الشمنی شرح النقایة : ولومس فأنزل لم تثبت بہ حرمة المصاہرة فی الصحیح لانہ تبین بالانزال انہ غیر داع الی الوط ء .کذا فی الکافی۔ ( ج:1مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

 

عورت کو چھونے کے بعد انزال سے حرمت مصاہرت کا حکم

سوال :اگر کوئی شخص کسی عورت کو شہوت کیساتھ ہاتھ لگائے یا گلے لگائے یا گلے لگاتے ہی انزال بھی ہوجائے لیکن اس میں برہنہ کچھ نہیں کیا ہو تو کیا اس عورت کے بچوں کیساتھ اس مرد کی شادی ہوسکتی ہے؟۔یا اس عورت کے بچوں کے ساتھ اس مرد کے بچوں کی شادی ہوسکتی ہے؟۔

جواب: واضح رہے کہ حرمت مصاہرت جس طرح نکاح سے ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح زنا اور شرائط معتبرہ کیساتھ دواعی زنا ( شہوت کیساتھ چھونے اوردیکھنے) سے بھی ثابت ہوجاتی ہے،مس یعنی چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہونے کیلئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ شہوت ختم ہونے سے پہلے انزال نہ ہوگیا ہو۔اگر انزال ہوگیا تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

 

سوتیلی بیٹی کے ہاتھ میں زبردستی آلہ تناسل پکڑوانے…..

سوال :ایک شخص نے مطلقہ سے شادی کی۔ شادی کے بعد اس مطلقہ بیوی کی تیرا سالہ بیٹی کے پیٹ کو چھوا،اوراس کے ہاتھ میں زبردستی اپنا آلہ تناسل پکڑوادیا، تو کیا اس شخص کا نکاح اس مطلقہ سے برقرار رہا یا ٹوٹ گیا؟۔

جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی اپنی بیٹی ( چاہے سوتیلی ہو یا سگی)………… صورت مسئولہ میںاگر سوتیلے باپ کو اس وقت انزال نہ ہوا ہو تو حرمت مصاہرةقائم ہوگئی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے اور دونوں کا مزید ساتھ رہنا شرعاًدرست نہیںہے جس کی وجہ سے شوہر پر لازم ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر یا نکاح سے خارج کرنے کے الفاظ کہہ کر اس سے علیحدگی اختیار کرے۔

 

ساس کے پستان کو چھونے سے حرمت مصاہرت کا حکم

سوال:ایک شخص نے دھوکہ سے ساس کے پستان کو پکڑلیا،شہوت کا پایا جانا توظاہر ہی ہے ………چانچہ فتاویٰ ہندیہ میں: ولو اخذ ثدیھا وقال ما کان شھوة لا یصدق لان الغالب خلافہ وکذا فی الشامی، البحر والمیط (اور اگر اس کو پستان سے پکڑلیا اور کہا کہ شہوت نہیں تھی تو تصدیق نہ ہو گی اسلئے کہ یقینِ غالب اسکے خلاف ہے)۔اس جزیہ میںفقہاء نے لفظ اخذ استعمال…
جواب: …. لمس کے بجائے ”اخذ ” کا تذکرہ عرف کی وجہ سے ہے۔ ….

فتاوی دارالعلوم دیوبند :زید شہادت دیتا ہے کہ عمر اپنے فرزند کی زوجہ ہندہ کیساتھ برہنہ لیٹا ہوا تھااور زوجہ کے پستان پکڑے ہوئے تھا ، خالد شہادت دیتا ہے کہ عمر نے فرزند کی زوجہ کا بوسہ لیا، حرمت مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں؟

الجواب: پستان کا پکڑنا شہوت کیساتھ تھا یا نہیں؟۔ اسی طرح بوسہ میں بھی شہوت کا ذکر نہیںہے اور بوسہ دینا ایک گواہ کا بیان ہے اور پستان پکڑنا ایک شخص کا بیان ہے ۔دوگواہ امر واحد پر متفق نہیںلہٰذا حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔
٭٭

 

حرمت مصاہرة کے غلط مسائل سے جان چھڑانے کا قرآنی حل

سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہۖ نے ”حرمت مصاہرت” پر ایسا بیہودہ درس نہیں دیا۔فرمایا: ”تم بھی اہل کتاب کے نقش قدم پر چلوگے ۔ اگر ان میں کوئی گو کے سوراخ میں گھسا ہوگا یا کسی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو تم میں بھی ایسے افراد ہونگے”۔ قرآن نے اہل کتاب کے مذہبی طبقے کا بتایا کہ” اس کی مثال گدھے کی ہے جس پر کتابیں لادی گئی ہوں”۔ اور یہ بھی ” اس کی مثال کتے کی طرح ہے ، جس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے اور چھوڑ دو تو بھی ہانپے”۔ ( الاعراف:176۔الجمعہ:5)

حرمت علیکم امہاتکم …….وامھات نسائکم وربائبکم الاتی فی حجورکم من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ماقد سلف ان اللہ کان غفورًا رحیمًا

”تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں………اور تمہاری عورتوں کی مائیںاور تمہاری وہ لے پالک جو تمہارے حجروں میں پلی ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگرتم نے ان کے اندر نہیں ڈالا ہے تو تمہارے اوپر حرج نہیں اور تمہارے سگے بیٹوںکی عورتیں۔اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے سے گزر چکا ہے۔بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (سورہ النسائ:23)

قرآن نے حضرت آدم وحواء کا قصہ ایسے الفاظ میں ذکر کیا کہ” لوگوں کو آج تک یہ پتہ نہیں چل سکاکہ وہ کوئی درخت تھا یا شجرہ نسب ؟جس سے منع کیاگیا”۔ مشرکوں کا فرمایا کہ ”پھرجب مرد نے اس کو چادر اُوڑھادی تو اس کو ہلکا حمل ٹھہرا، جس کو لیکر وہ چلتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی کہ ہمیں تندرست بچہ دیا تو ہم شکر گزار ہوں گے۔ پھر دونوں کو تندرست بچہ ملا تو دونوں اس کا شریک ٹھہرانے لگے”۔(الاعراف:189،190)

ایک توطلاق کے مسائل کی قرآن نے بھرپور وضاحت کی ہے جسے علماء نے نظرانداز کیااور دوسرا حرمت مصاہرت کے مسائل کو قرآن نے بہت واضح کردیا تاکہ سادہ لوح عوام کو انسانوں کی شکل میں گدھے اور کتے ورغلا نہیں سکیں۔

نکاح کے بندھن کیساتھ اپنی عورت میں ڈالنے کی وضاحت اور نہ ڈالنے کی صورت میں جائز ہونے کا تصور حنفی شافعی مسالک کو ملیامیٹ کردیتا ہے۔ایک طرف شافعی مسلک کی گنجائش نہیں بنتی اسلئے کہ نکاح سے زیادہ اہم ڈالنا ہے اور دوسری طرف حنفی مسلک کے بیہودہ مسائل کو بالکل ملیامیٹ کردیا کہ نکاح اور ڈالنے کی صریح وضاحت کردی ہے۔جس کے بعد شہوت سے چھونے اور فرج داخل کو دیکھنے وغیرہ کے بکواسات کی قطعی طور پر گنجائش نہیں رہتی ہے۔

عن زید بن براء عن ابیہ قال: لقیت عمی ومعہ رایة فقلت لہ این ترید ؟، قال: بعثنی رسول اللہ ۖ الی رجلٍ نکح امرأة أبیہ فأمرنی ان اضرب عنقہ واخذ مالہ ”زید بن برائ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ میری اپنے چچاسے ملاقات ہوئی اور میں نے کہا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟۔ اس نے کہا کہ رسول اللہۖ نے میری تشکیل کی ہے ایسے شخص کی طرف، جس نے اپنے باپ کی عورت سے نکاح کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اس کی گردن ماردوں اور اس کا مال لے لوں”۔سنن ابی داؤد ۔ شیخ الالبانی اورشیخ زبیر علی زئی نے صحیح لاسناد قراردی۔

دارالعلوم کراچی نے شادی بیاہ میں نیوتہ لفافہ کے لین دین کو سود اور کم از کم گناہ اپنی ماںسے زنا کے برابر حدیث سے قرار دیا اور پھر عالمی سودی بینکاری کو جواز فراہم کردیا۔ کہاں حدیث میں محارم پر قتل کا حکم اور کہاںیہ حیلہ سازیاں؟۔

امام ابوحنیفہ نے بادشاہ کی خواہش پوری نہیں کی اسلئے جیل میں زہر سے شہید کردئیے گئے۔ امام ابویوسف نے معاوضہ لیکر باپ کی لونڈی بادشاہ کیلئے جواز کا حیلہ نکال دیا۔ پھرامام ابوحنیفہ پر تہمت باندھی کہ شہوت کیساتھ چھونا بھی حرمت مصاہرت قرار دیا ہے۔پھر ساس کی داخلی شرمگاہ تک شہوت کی نظر سے دیکھنے پر حرمت مصاہرت کے مسائل پہنچاکر دم لیا۔ جس میں بیہودہ پن کی انتہاکردی ۔ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کشف الباری میں علامہ ابن حجر عسقلانی کے دلائل کو وزنی قرار دیکر حنفی بیہودہ مسائل سے جان چھڑانے کی بنیاد ڈالی ۔ایک مدرسہ کے بڑے مفتی نے بتایا کہ” اکابرعلماء نے حرمت مصاہرت کے مسائل سے جان چھڑانے کیلئے میٹنگ کی تھی”۔مفتی تقی عثمانی جان چھڑانے کیلئے نہیں مان رہا؟۔

” ایک شخص کی عورت فوت ہوگئی ۔ علی نے پوچھا کہ اس کی بیٹی ہے؟۔وہ شخص: ہاں۔ علی: تم سے ہے یا کسی غیر سے ؟۔ شخص: غیر سے ہے۔ علی: تمہارے حجرے میں پلی ہے یا باہر؟۔ شخص: باہر۔ علی : پھر اس سے نکاح کرلو”۔ ( مصنف عبدالرزاق ،ابن حجر عسقلانی۔کشف الباری) یہ شافعی مسلک والوں کا من گھڑت غلو ہے جس میں سوتیلی بیٹی کیساتھ شادی کے جواز کا قصہ گھڑا گیا ہے۔ دوسری انتہاپر حنفی مسلک نے امام ابوحنیفہ پربیہودہ تہمتوں کے انبار لگادئیے ہیں۔

ایک طرف انڈیا کے فلموں ، ڈراموں اور معاشرے کی بدترین صورتحال سے لوگ اسلامی ، قومی اور اخلاقی غیرت کھوگئے ہیں تو دوسری طرف شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن لاہوراور شیخ الحدیث مولانا نذیرفیصل آباد جیسے اسکینڈل زدہ علماء کے شاگرد مسند افتاء وارشاد پر انتہائی بیہودہ فتوے جاری کررہے ہیں۔ مذہب ایک کاروبار بنادیا گیا ہے اسلئے غیرت ایمانی مسلمانوں سے رخصت ہورہی ہے۔

جاوید احمد غامدی نے ”مرد وعورت کا مصافحہ” پر کہا کہ ”ہندمیں رواج نہیں۔ ملائشیا میں شافعی خواتین کا ماحول مذہبی ہے وہ مصافحہ کرتی ہیں”۔غامدی کو حنفی نزاکت کا پتہ نہیں ہوگا کہ حنفی فقہ کے مسائل میں کیا قباحت اور خباثت ہے ؟۔

میں نے37اور40سال پہلے فقہ واصول فقہ اور تفسیر پڑھی تھی تواللہ والے اساتذہ تھے۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے فرمایا کہ” فقہ، اصول فقہ اور تفسیر کی کتابوں اور درسِ نظامی کوآپ درست کرسکتے ہو”۔ آج ایسے نالائق افتاء کی مسند پر بیٹھے ہیں جن کو صرف اپنی نوکری اور مدارس میں گاہک پکڑنے سے غرض ہے۔ جبکہ مفتی محمود اور مولانا سیدمحمد بنوری کے قاتلوں کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے۔
٭٭

مشہور شیخ الحدیث اور مفتی نے سنایا: ”فقہاء نے حلالہ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیااسلئے کہ جب بادشاہ ، اور سردار کی بیوی کا حلالہ کردیتے تھے تو وہ آنکھ نہیں اٹھاسکتا تھا۔ ایک نواب کی بیوی ایک مولانا کو پسند آئی تو اس نے کہا کہ پیشاب کرتے ہوئے تیرا رُخ قبلہ کی طرف تھا،بیوی طلاق ہوگئی۔ پھر تجویز دی کہ اس کا نکاح مجھ سے کردو، کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ نواب نے دیکھا کہ ایک دن مولانا نے پیشاب کرتے ہوئے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا تو کہا کہ بیوی تجھ پر طلاق ،تو اس نے کہا کہ میں نے چیز کا رخ موڑ ا تھا”۔ مولوی حضرات عوام الناس کے خاندانوں کو تباہ کرتے ہیں لیکن جب اپنا مسئلہ ہو تو پھر دیانت سے کام لینا تو دور کی بات ہے۔ ننگے لیٹے پستان کو پکڑنے کیلئے بھی لکھا کہ شہوت کا ذکر نہیں اور گواہ متحد نہیں۔اللہ نے فرمایا یا اھل الکتٰب لا تغلوافی دینکم غیر الحق ”اے اہل کتاب دین میں ناحق غلو مت کرو”۔یہ غلیظ مسائل اہل کتاب نے چھوڑ دئے فقہاء نے رائج کردئیے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

درباری علماء کے سرکاری مدارس VS علماء حق کا مساجد میں درس

فقہ وفتاویٰ اور مدارس میںدرباری علماء کا کردار کچھ اور تھا

 

دنیا کامشہور مدرسہ ”جامعہ الازہرمصر”

اسماعیلی شیعہ فاطمی حکومت نے قائم کیا تھا ۔ پھر جب صلاح الدین ایوبی نے فاطمی حکومت کا خاتمہ کردیا تو جامعہ الازہر سنی مکتب کے زیر اثر آگیا۔1960تک خالص مذہبی مضامین مختلف فقہی مسالک اور عربی علوم کے فنون پڑھائے جاتے تھے لیکن1961میں اس کے اندر جدید تعلیم بھی شروع کی گئی۔

خطہ بہاولپورصدیوں تہذیب کا مرکز ،تاریخی قصبہ اُوچ دینی تعلیمی اداروں کا گہوارہ رہا ۔مشرق وسطیٰ ،سینٹرل ایشیاء سے آنے والے تشنگانِ علم کی آبیاری کرتا رہا۔ ریاست بہاولپور نے جامعہ پنجاب،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، ندوة العلماء اعظم گڑھ ، طیبہ کالج دہلوی ، اسلامیہ کالج پشاور،کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کی امداداور معاونت کی ۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی بنیاد1879میں مدرسہ دینیات کے طور پر رکھی گئی۔1925میں مدرسہ عباسیہ کی بنیاد رکھی گئی۔1963میںفیلڈ مار شل جنرل ایوب نے جامعہ کا دورہ کیا۔
نواب سر صادق عباسی30ستمبر1904کو بروز جمعہ پیدا ہوئے۔ 2سال کی عمر میں والد کیساتھ اکلوتے فرزند نے سفر حج کیا۔ والدکی وفات پر15مئی1907کو سرصادق کو حکمران بنانے کا اعلان کیا گیا مگر ریاست کے انتظام اور سرصادق کی تعلیم وتربیت کیلئے حکومت برطانیہ نے آئی سی ایس آفیسر سررحیم بخش کی سربراہی میں کونسل آف ریجنسی قائم کی۔ ابتدائی عربی، فارسی اور مذہبی تعلیم نامور علمی شخصیت علامہ مولوی غلام حسین قریشی سے حاصل کی ۔3سال کی عمر میں تخت نشین ہونے والے شہزادے کی شخصیت نکھارنے کیلئے مذہبی ، تعلیمی ، فوجی اور انتظامی تربیت کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ صرف 7سال کی عمر میں اپنی فوج کی کمان کرتے ہوئے شہنشاہ برطانیہ جارج پنجم کے سامنے دہلی میںپیش ہوئے۔

 

حرمین شریفین حجاز اور برصغیرپاک وہند

فاطمی خلافت اسماعیلی شیعہ مگرشیعہ امامیہ عباسی خلافت کیساتھ ، مامون الرشید کے امام رضا جانشین تھے۔ خادم الحرمین شریفہ مکہ اسماعیلی تھا پھر خلافت عثمانی کے زیر تسلط آیا۔برصغیر کی مساجد میں کہیں عباسی ، کہیں فاطمی خلافت کا خطبہ تھا۔1906آل انڈیا مسلم لیگ کا پہلا صدر محمد شاہ آغا خان سوم اسماعیلی نذاری تھا۔
1908میں ندوة العلماء لکھنوکو نواب کی والدہ نے50ہزار روپیہ مالی امداد دی، علامہ شبلی نعمانی کے شکریہ کا خط محکمہ دستاویزات بہاولپور میں آج محفوظ ہے۔
کچھ تعلیمی و فلاحی اداروں کی نواب صادق نے مستقل سرپرستی و مالی معاونت کی۔ انجمن حمایت اسلام لاہور، علیگڑھ یونیورسٹی، ندوة العلماء لکھنو، دارالعلوم دیوبند،مظاہرالعلوم سہارنپور،جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، گنگ ایڈورڈ کالج لاہوراور انجینئرنگ کالج لاہوران میںخاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

 

1935 میں کوئٹہ زلزلہ زدگان کیلئے امدادی ٹرین روانہ کی ۔اسی سال حج کیلئے تقریباً100افراد اور سامان کیلئے فوجی گاڑیاں، کاریں بحری جہاز پرساتھ لے گئے جو سعودی حکومت کو بطور تحفہ دیں۔ مسجد نبویۖ میں قیمتی فانوس لگوائے۔ اسی سال جامع مسجد دہلی کے طرز پر ”جامع مسجدالصادق” کی ازسرنو تعمیر کی۔ جو اس وقت پاکستان کی چوتھی بڑی مسجد ہے۔ جمعہ المبارک کا سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد الصادق میںمنعقد ہوتا اور بلاتخصیص مسلک سب لوگ اس میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی تمام عمر جمعہ کی نماز جامع مسجد اور عیدین کی نمازمرکزی عیدگاہ میں (باوجودمسلکی فرق کے) آخری شاہی خطیب حضرت مولانا قاضی عظیم الدین علوی کی امامت میں ادا کرتے رہے۔ قائداعظم اورعلامہ اقبال نواب صادق کے قانونی مشیر تھے ۔
٭

 

مساجد میں درس و تدریس والے علماء حق کا کردار کچھ تھا!

 

امام مالک، جعفر صادق،ابوحنیفہ، شافعی
جن ائمہ کے نام سے مختلف ومتضاد فقہی مسالک منسوب ہیں یہ سبھی علماء حق درباری علماء نہیں تھے ۔ انہوں نے درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور ان میں قرآن واحادیث پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ انکے نام پر درباری علماء نے اپنی طرف سے فقہی مسالک بناکر امت مسلمہ کو قرآن سے دور کردیاہے۔
تیسری صدی ہجری تک کوئی تقلید نہ تھی۔ چوتھی صدی ہجری میں تقلید کے نام پر مستقل اور قرآن وسنت سے منحرف مسالک کی ترویج کی گئی لیکن علماء حق نے درس وتدریس اور قرآن وسنت کی تعلیم کا سلسلہ باقاعدہ جاری رکھاہے۔

 

امام ابوحنیفہ نے عباسی خلیفہ کا دل اپنے باپ کی لونڈی پر آنے کے بعد نکاح کی اجازت نہیں دی تو قاضی ابویوسف نے معاوضہ لیکر جواز بخش دیا۔ پھر حرمت مصاہرت کے نام پر ایسے بکواس من گھڑت مسائل بنائے گئے جن سے ابوحنیفہ کو بدنام کرنا مقصد تھا۔ جس کی مثال یہ بن سکتی ہے کہ1990کی دہائی میں کچھ اخبارات میں ” خلائی مخلوق کی انسانوں سے ملاقات” کی خبریں چھپتی تھیں۔ مغرب کے اخبارات میں لکھا ہوتا تھا کہ یہ مزاحیہ دل لگی کی باتیں ہیں لیکن پاکستانی اخبارات خبریں بناکر چھاپتے تھے۔ اسی طرح مسائل امام ابوحنیفہ کی شخصیت کا مذاق اڑانے کیلئے گھڑے گئے لیکن کم عقل فقہاء نے سچ سمجھ لیا تھا۔

اورنگزیب عالمگیر نے ملا جیون جیسوں کو رکھا۔ فتاویٰ عالمگیریہ اور نورالانوار کو رائج کیا۔ جب اورنگزیب بادشاہ نے ایک عالم حق کو خطیررقم پیش کی تو اس نے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں ۔ جب اصرار بڑھ گیا تو عالمِ ربانی نے کہا کہ مزارع طبقہ سے جو ٹیکس وصول کرتے ہو ،جتنا مجھے ہدیہ دینا چاہتے ہو اتنا کم کرلو۔ تاکہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بال بچوں کو درست طریقے سے پال سکیں۔

 

کانیگرم وزیرستان میں ہماری مسجد درس
کانیگرم میں ہماری مسجد کا نام درس پڑا۔ سید کبیر الاولیاء سے دادا سیدامیر شاہ امام وخطیب نے درس دیا۔پھر مولانا اشرف خان فاضل دارالعلوم دیوبند آگئے۔ جس کی دکان تھی اور درزی تھے اور مولانا الیاس کاندہلوی سے بھی ملاقات تھی۔ میرے والد پیر مقیم شاہ نے کہاکہ ”مولوی اشرف بہت اچھا آدمی ہے مگر ساری زندگی یہ کہا کہ نبی کریمۖ نے فرمایا …. مگر کیا فرمایا ؟ یہ کسی نے سنا اور نہ سیکھا ”۔

سیل استاذ برکی کانیگرم میں ناظرہ پڑھاتا تھا۔ اپنے لئے اپنی زبان میں اپنا درود شریف ایجاد کیا تھا ، بیٹے کا نام جاجت تھا۔بچے بلند بہ آوازبلند پڑھتے۔
جاجت پہ برکت ،خدایا استاذ کم ریری، تہ جنت الوئی نیامت ۔
جاجت پر برکت ہو ۔ یا خدا! میرے استاذ کو دیدے ۔جنت کی بڑی نعمت ۔

 

سیل استاذ برکی کی آنکھیںTTPامیر مفتی نور ولی محسود سے ملتی تھیں۔ درس نظامی کی لغو کفریات کو سمجھنے اور بیان کرنے سے علماء ومفتیان آج بھی قاصر ہیں۔ جب تک دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ مدارس چندے کھانے کا گڑھ نہیں بنے تو عوام کو علماء حق درس وتدریس کے ذریعے اسلام سے روشناس کراتے رہے۔ پھر سعودیہ و امریکہ نے کرایہ کے جہاد اور مدارس کو عروج بخشا تو علماء دمدار ستارے کی طرح ڈنک پھیلانے کی طرف آگئے ۔ خوارج کی ذہنیت نبیۖ کے دور میں تھی مگر خروج حضرت علی کے دور میں ہوا۔ ملاعمر کی حکومت قائم ہونے سے پہلے میری کتاب ”ضرب حق ” میں تبلیغی جماعت پر خوارج کی احادیث کو اسلئے فٹ کیا کہ ان کی ذہنیت خوارج کی تھی۔ دہشتگرد عوام کو مارہے تھے تومولانا طارق جمیل نے سلیم صافی سے کہا ” ہم اوروہ ،ہماری منزل ایک ہے، راستہ جدا ہے”۔ آج نظام الدین مرکز اور رائیونڈ مرکز ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔
٭

 

درباری علماء کا ہمیشہ سے طریقۂ واردات ایک رہاہے
حضرت سید عبدالقادر جیلانی پر فتویٰ لگایا کہ مسلک حنفی کو تبدیل کرکے حنبلی بن گیا۔ یہ جھوٹ بھی پھیلا دیا کہ فاطمی خلیفہ عبیداللہ مہدی نے ان کی لاش کو مسجد کے احاطہ سے نکال کر دریا میں بہادیا تھا۔ کراچی کے درباری علماء ومفتیان نے فتویٰ دیا: ”جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم کوووٹ دینا فرض ہے”۔ لیکن حاجی محمد عثمان نے فرمایا کہ ”فتویٰ پر مت جاؤ۔ اگر ضمیر نہیں مانتا توووٹ مت دو”۔مولانا فضل الرحمن پرMRDمیں شمولیت کی وجہ سے ”متفقہ فتویٰ” کے عنوان سے کفر کا فتویٰ لگایا۔مولانا علاء الدین کے فرزند مسعودالرؤف سے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دارالاقامہ میں فتویٰ پر لڑائی ہوئی تھی۔جو میں نے اشعار لکھ کر دفن کردیا۔ جب مدارس کے اساتذہ اور طلبہ نے مولانا فضل الرحمن کا طویل دورے کے بعد اپنے قید علماء چھڑانے کیلئے ائیرپورٹ پر استقبال کیا تھا تو انصارالاسلام فورس کا وجود نہ تھا اور فورس کی ڈیوٹی اکیلے میرے سپرد تھی۔ حاجی عثمان پر فتویٰ لگا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ” یہ70کا فتویٰ لگتا ہے علماء ومفتیان نے پیسہ کھایا ہوگا”۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے فتوے میں شکست کھائی تو مولانا فضل الرحمن شرمندہ ہوکر گھر پر پہنچ گئے۔

 

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا ورنہ خود دار مسافر ہوں گزر جاؤں گا

 

درباری سے کاروباری تک مگر پھر درس کا اہتمام کرو!
مدینہ : شہر ۔ یثرب: مدینہ ۔ حاجی عثمان یثرب پلازہ کے باسی۔ کانیگرم شورہ: شہر ۔ کوفہ وبصرہ مکاتب فکر یونانی علم الکلام سے بن گئے تھے۔ اصحاب صفہ سے کانیگرم درس تک فرائض غسل، وضو ، نماز اور بسم اللہ پرکوئی اختلاف نہیں تھا نہ یہ کہ تحریری قرآن کلام اللہ نہیں؟۔ مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ نے مجھے کہا کہ ” باتیں بالکل درست لیکن اتنی خطرناک کہ اگر مقتدر ہ کو پتہ لگا تو غائب یا چھٹی کرادی جائے گی”۔ اسلامی نظر یاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور قبلہ ایاز بھی بات سمجھ گئے لیکن جرأت نہ کرسکے۔ تنظیم فکر شاہ ولی اللہ کے مولانا عبدالخالق اور مفتی عبدالقدیر کی جان نکل گئی۔ ڈاکٹر اسرار نے کہا تھاکہ ”امام ابوحنیفہ نے اہل بیت کی خاموش حمایت کی، خاموش حمایت کروں گا” ۔ مولانا فتح خان ٹانک اور علامہ شاہ تراب الحق قادری کراچی نے کہا تھا کہ” درس نظامی کی تعلیم غلط مگر جرأت نہیں”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے کئی ممالک کے سفر،قیام حرم اور طویل جلاوطنی کے بعد واپسی پر فرمایا کہ” درس نظامی کی جگہ شہروں میں غریب بچوں کو سکول کی تعلیم کیلئے رہائش، کھانا اور درس قرآن دو۔پھر یہی لوگ حکومت اور ریاست کا ڈھانچہ بن کر اسلام کو نافذ کریں گے”۔

حاجی عثمان نے ایمان کی تجدید کی ۔ علم نہیں بدلتا ہے ۔البتہ بگڑے ہوئے فہم کی تشکیل جدید ہوتی ہے۔
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا لا الٰہ اللہ

 

علماء نے لاؤڈ اسپیکر کے مسئلے پر خیانت سے کام لیا

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ تھا کہ ”لاؤڈاسپیکر پر نماز، آذان اور اقامت نہیں ہوتی” پھر گاجروں کے لطیفے پر عمل کیا۔ کسی نے جنگل میں گاجر وں پر پیشاب کیا، بھوک لگی تو ایک طرف کے گاجر کھا گیا کہ اس پر پیشاب نہیں کیا۔ پھر بھوک لگی تو دوسری طرف اور آخر سب کھا گیا۔ لاؤڈاسپیکر دھیرے دھیرے جائز قرار دیا لیکن تبلیغی جماعت کو70سال تک پتہ نہ چلا۔ میں نے1991میں ”تصویر کے عدم جواز”پر لکھا کہ ”اگر علماء و مفتیان مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مودودی کھینچواتے ہیں تو ان کا فعل جواز نہیں نافرمانی ہے”۔ تصویر کی کھلے عام مخالفت سے مذہبی طبقے کا رُخ بدل گیا ۔ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا کہ ”گروپ فوٹو نہیں کھینچوائیں گے”۔جب میرا دماغ کھلا تو ”جوہری دھماکہ” میں تصویر کے جواز پرلکھا۔پھر فضا ایسی بدل گئی کہ تبلیغی جماعت، علماء اور طالبان بدل گئے۔ اکابرکی بھی تصاویر منظر عام پر لائی گئیں۔ مفتی شفیع نے کہا تھا کہ ”مدارس بانجھ ہیں”۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسکے بانجھ پن کا علاج ہو مگر اتنے بے غیرت نہیں کہ اسلام کو بدلیں۔

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

اقبال سود کو جواز بخشنے پر مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمن، جاوید غامدی، انجینئرمحمدعلی مرزا، شیعہ علماء اور ذاکر نائیک کو بے توفیق کی جگہ” زندیق” کہتا۔جیسے حضرت مولانا مدنی کو ابولہب قرار دیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وَبدَّلنَاھُم بِجَنَّتَیھم جَنَّتَین ذَوَاتَی اُکُلٍ خَمط واَثلٍ وشَی ئٍ مِن سِدرٍ قَلِیل ”اور ہم نے انکے دو جنت کو بدل دیا ،دو ایسے جنت بے ذائقہ پیلو اور کریرہ والے اور کچھ کم تعداد بیروں کی ”۔( سورہ سبا:16)

سورہ الرحمن، الاعراف ، المرسلٰت ،الحج، الواقعہ اور سورہ الدھر میں انقلاب عظیم کی خبر اور خلافت کا گزشتہ شمارہ میںبتایا۔ فارس، خراسان، ہند، سندھ اور مشرق کی احادیث ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے سورہ القدر کی تفسیرمیں لکھا کہ ” اسلام کی نشاہ ثانیہ کیلئے قرآن ضروری ہے۔پنجاب، کشمیر ،سندھ، بلوچستان، فرنٹیئراور افغانستان میں جو قومیں بستی ہیں یہ امامت کی حقدار ہیں۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلہ میںلائے توبھی ان علاقوں سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے۔ نشاہ ثانیہ کا یہی مرکز ہیں۔( المقام المحمود) فرنٹ لائن پاکستان کی فرزانہ علی توجہ دیں۔

کانیگرم وزیرستان اورگومل ڈیرہ اسماعیل خان قوم سبا کے مصداق ہیں۔ جہاں کا امن وامان دہشت گردی میں بدل گیا۔ لذیذ باغ کے بدلے پیلو کے پھیکے چیونگم اور کریرہ کے پھل اور بیری کے چند درخت نشان ہیں۔

وزیرستان میں دہشتگردی کی بنیاد ڈیڑھ سوسال پہلے پڑی۔ وزیرستان کا امن وامان بہت مثالی تھا۔ برطانیہ نے دہشتگردی کے واقعات کو1900میں کتاب میں شائع کیا۔ قبائلی ملکان کوقابل شرم وظیفہ کچھ عرصہ پہلے تک دیتاتھا۔ پھرحکومت پاکستان نے غالباً بینظیر انکم سپوٹ کے تحت اپنے ذمہ لیا ۔
وزیراعظم متحدہ ہندوستان جواہر لال نہرو نے جب باچا خان کیساتھ جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا تو قبائلی ملکان سے کہا کہ چند ٹکے سے انگریز کے ہاتھوں مت کھیلو۔ جس پر یہ کہہ کر ورغلایا گیا کہ تمہیں گالی دی گئی ہے۔

اگرگالی تھی توپھرچند ٹکوں کے لفافے آج کھانا بند کیوں نہیں کئے؟۔ یہ زکوٰة و خیرات غریب غربائ، مساکین فقراء اور بیوہ و یتیم بچوں کا حق ہے جو خان و ملک کھارہے ہیں۔
قبائلی مستحکم اقدار کو ملکان نے تہس نہس کیا اور قومی اسمبلی میں بکنے کا رواج بھی انہوں نے ڈالا۔ پچ کے دونوں طرف دہشگردی کا بازار گرم کرنے میں بھی انہی کابڑاکردار تھا۔
جب ملک منہاج کے بھائی ضیا ء الدین نے بتایا کہ گوانتا ناموبے کی قید سے آزادی پر عبداللہ محسود نے سب ملکان کو رلادیا تو میں نے اس وقت لکھا کہ” ملکان خدا کیلئے تو کبھی روئے نہیں۔اسکے پیچھے بھی لفافوں کا چکر لگتا ہے”۔ ملکان فوج و طالبان کے درمیان ڈبل گیم کھیلتے تھے۔ مصطفی نواز کھوکھر نے فرزانہ علی کو بتایا کہ وزیرستانی کو فوج نے سند دی کہ ”اسکے دوبیٹے فوج کی طرف سے طالبان سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے”۔ لیکن پھر بھی فوج نے اس کا شناختی کارڈ بلاک کردیا تھا۔

سورہ سبا میں سیل العرم سے شدت پسندی اوردہشت گردی کی لہر مراد ہے۔

 

سیل کے معنی لہر ، طوفان ، سیلاب اور عرم کے معنی شدت ، تیزی اور سختی کے ہیں۔ پانی کاسیلاب، چوہے اور ٹڈی سے امن وامان کے مقابلے میں بدامنی نہیں آتی اسلئے وہ لہر ہی مراد ہوسکتی ہے جو امن کے مقابلہ میں ہو اور اثل کا معنی بے ذائقہ پھل ہوسکتا ہے جبکہ اس سے سایہ دار درخت مراد نہیں لیاجا سکتا۔ پہلی بار دنیا کے سامنے سیل العرم اور اثل کا درست ترجمہ اور تفسیر آئے گی ۔ انشاء اللہ

 

خلافت کی عظیم پیش گوئی قرآن میں وزیرستان اور گومل کے امن وامان کے بعد دہشتگردی کی لہرکا بڑاواضح تذکرہ

 

بیشک قوم سبا کے شہر میں نشانی ہے، دو باغ تھے دائیں بائیں جانب۔ کھاؤ اپنے رب کا رزق اور اسکا شکر ادا کرو، پاک شہر اور بخشنے والا ربّ۔توپہلوتہی برتنے لگے تو ہم نے ان پردہشت گردی کی لہر بھیجی اور ہم نے بدل دیا انکے دو باغ کو ، دوباغ بے ذائقہ پیلو اورکریرہ والے اور کچھ چند بیری کے درخت۔ یہ ہم نے ان کو بدلہ دیا ان کی ناشکری کا اور ہم ناشکروں کو برا بدلہ دیتے ہیں اور ہم نے انکے اور برکت والے گاؤں کے درمیان بہت گاؤں ظاہری آباد کردئیے تھے اور ہم نے ان میں کئی ٹھہرنے کی منزلیں مقرر کی تھیںکہ اس میں دن اوررات امن کیساتھ چلو،تو کہنے لگے اے ہمارا رب! ہماری اسفاردستاویز میں دوری کردو اور ظلم کیا اپنی جانوں پر، پس ہم نے انہیں کہانیاں بنادیا۔ اور ہم نے ان کوچیرپھاڑ کر تہس نہس کردیا۔
بیشک اس میں صبر شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں اور بیشک ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچ کر دکھایاتو سب اسکے تابع ہوگئے سوائے ایمان والے ایک گروہ کے۔ حالانکہ ان پر اس کا کوئی زور نہیں تھا مگر یہی کہ تاکہ ہم جان لیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس سے شک میں ہے؟اور تیرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے”۔ (سورہ سبا:15تا21)

٭

چچا کے گھر کے نیچے کھنڈرجگہ پر باغیچہ تھا اور دوسراباغ ہماری موجود ہ زمین پر تھا۔گھروں کی راہ میں دائیں بائیں کبھی یہی دو باغ تھے۔ان دونوں باغوں کا اجڑ نابھی بڑا تاریخی واقعہ تھا۔

یہ میرے پردادا سید حسن بابو نے نواسوں کو دئیے جو میرا ننھیال تھا اور انہوں نے1923میں جٹہ قلعہ علاقہ گومل خریدلیا تو اس میں دو پھیکے باغ تھے۔ جو ذائقہ دار نہ ہونے کی وجہ سے بعد میں ختم کردئیے گئے۔اور کچھ بیر کے درخت مزیدار تھے جو کافی عرصہ تک بڑی یادگار تھے۔
دل بند،مظفرشاہ، منور شاہ کا قتل ، حسین شاہ کا کان کٹنا، صنوبرشاہ کا قتل، حسین شاہ کا بیوی سمیت دوافراد کا قتل پھر محمود کا قتل7وزیرانقلابی افرادکے بدلے میں بڑی دہشتگردی کی لہرتھی۔

کانیگرم اولیاء کا پاک شہر تھا،1920سے پہلے روڈ نہیں تھا۔ ٹانک اور کانیگرم کے درمیان کئی رات پیدل چلنے کی منزلیں تھیں۔ جہاں خانہ بدوش سفر میں پڑاؤ ڈالتے تھے اسلئے کہ سامان، عورتوںاور بچوں کیساتھ پیدل سفر تھا۔ بعد میں پھر یہی گاؤں بس سٹاپ بھی بن گئے۔ وزیرستان امن وامان کا بہترین مرکز تھا۔ ٹانک اور کانیگرم تک کاسفرپر امن تھا۔پھر انہوں نے دستاویزکی تبدیلی سے دل بندشاہ کی نوکری پر قبضہ کیااور شجرہ نسب بدلا۔ ( اسفار سورۂ جمعہ آیت:5والا) انہوں نے خودپر ظلم کیا ،دواپنجہ کی تقسیم ، زمین پرجبری قبضہ کیا۔دہشتگردی میں ملوث ہوگئے اور اللہ نے ان کو کہانیاں بنا ڈالا اوران کے دل ودماغ پھاڑ کر تہس نہس کردیا۔

صبر شکر کرنے والوں کیلئے یہ عبرت ہیں ۔ جن بے گناہ لوگوں کو مظلوم بنایا تھا تو وہ ان کے اپنے کمزور عزیز ہی تھے۔ جب دہشتگردی کے مسئلے پر انتہائی منافقانہ کردار ادا کیا تو ابلیس نے اپنے گمان کے مطابق ان کو بالکل سچا پایا ہے اور یہ سب ابلیس ہی کے تابع ہوگئے۔البتہ ان میں ایمان والا اچھا گروہ بھی ہے جو ابلیس کی چالوں میں نہیں آیا۔اگر اتفاق ہو۔ افغان طالبان،TTPاور ہمارے ریاستی ادارے دہشتگردی کیلئے میٹنگ کرنے والوں کو بے نقاب کریں تو امت مسلمہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ ابلیس کیلئے استعمال ہونے پر مجبور نہ تھے۔ اللہ نے پرکھا کہ کس کا آخرت پر ایمان ، کون شک میں ہے۔ حضرت محمدۖ کے رب کی نگہبانی ماننی ہوگی۔
٭

 

خلافت کیلئے احادیث صحیحہ کا استدلال ہے لیکن قرآن میں اتنی بڑی خبر کا ذکر نہیں ؟۔اللہ نے فرمایا:
”اورکافر کہتے ہیں کہ ہم پر انقلابی لمحہ نہیں آئے گا۔ کہہ دو کہ کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم کہ تم پر ضرور آئے گاجو عالم الغیب ہے۔ اس سے غائب نہیں آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابرچیز۔ نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر کھلی کتاب میں موجود ہے۔ تاکہ ایمان اوردرست عمل والوں کو بدلہ دے۔ یہی لوگ ہیں جن کیلئے مغفرت اور عزت والی روزی ہے اور جو ہماری آیات کو عاجز بنانے کی کوشش کریںان کیلئے عذاب ہے مذموم دردناک اور جن لوگوں کو علم دیا، وہ دیکھتے ہیں جو تیری طرف تیرے رب سے نازل ہوا کہ وہ حق ہے۔اور وہ ہدایت دیتا ہے زورآور تعریف والے کی راہ کی طرف۔ اور کہتے ہیں جن لوگوں نے کفر کیا کہ کیا ہم اس شخص کی نشاندہی کردیں جو کہتا ہے کہ ہمارے تہس نہس کے بعد بھی ہماری نشاة ثانیہ ہوگی؟۔ یہ اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے یا اس پر جنات ہیں؟۔بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے تو عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں۔ (سورہ سبا:3تا8)

مکہ مکرمہ کے شرارتی لوگ نبیۖ کے خلاف سازش کرکے اس وقت کے دہشتگردوں کو بتاتے کہ ایسا شخص جو حجاز کے عربوں کا کہتا ہے کہ تمام ادیان پر اس کا غلبہ ہوگا۔ یہ انقلاب کبھی نہیں آئے گا اور حضرت عمر جیسے بہادروں کو نبیۖ کے خلاف خسرے سردار ابوجہل اور دوسرے سردار ورغلاتے تھے۔ امیرحمزہ نے ایک دفعہ ابوجہل سے کہا کہ اے چوتڑ پر خوشبو لگانے والا!تیری ہمت کیسے ہوئی کہ میرے بھتیجے محمد کو گالیاں دیں؟۔ شیخ القرآن مولانا طاہر پنج پیری نے آیت کا ترجمہ پشتو میں یوں کیا کہ ” ان کا سابقہ پڑتا ہے تو تمہیں گانڈ دکھاتے ہیں کہ ہماری یہ مارو۔ ہم کونہ مارو”۔شیخ اپنے مخالف دیوبندی علماء کو بھی مشرک اور گانڈو کہتے تھے۔

اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو اچھے اور بدکردار دنیا کے سامنے آئیںگے۔ مولانا شاداجان پنج پیری نے کانیگرم میں دیوبندی مسلک کے مطابق سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں مانگی تو مولوی محمد زمان نے قادیانیت کا فتویٰ لگادیا۔غلط فتویٰ لگانے پر پھر گالی پڑتی ہے اور کریکٹر لیس بھی سمجھا جاتا ہے۔

ایک طرف اسامہ بن لادن کوتلاش میں کانیگرم تک انگریزوفد لیکر جانا ۔ دوسری طرف دہشتگردوں کو میری نشاندہی کرنا کہ اسلام کی نشاة ثانیہ اور دنیا میں انقلاب کی خبر دینے والا یہ شخص ہے اور اس مشن میں خاتون کا کردارسوالیہ نشان ہے ۔امریکی بلیک واٹر کیلئے کام کرنے والا طبقہ ایک طرفTTPکے لوگوں سے گہرا تعلق رکھتے تھے تو دوسری طرف ان کا مذہبی بیک گراؤنڈ نہیں ہوتا تھا۔ فتنہ الدھیماء کا ذکر حدیث میں ہے۔ دھیما ء کا معنی چھوٹی کالک ہے۔ گرہن کو ”دھن” کہتے ہیں۔ سورج اور چاند گرہن کو دھن سیاہ کی وجہ سے کہتے ہیں۔ اللہ نے آگے فرمایا:

”اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کیلئے بشارت دینے والااور ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ کہو کہ تمہارے لئے مقررہ وقت ہے جس سے تم ایک لمحہ پیچھے ہوسکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔ اور کافر کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اس پر جو ہاتھ کامعاملہ ہے۔ اورجب آپ دیکھوگے کہ ظالم اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑے ہیں۔ بعض بعض کی بات کو رد کریں گے۔ جو کمزور ہوں گے وہ متکبر سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لاتے۔ تکبر والے کمزور وں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی؟۔ بلکہ تم خود ہی پہلے مجرم تھے اور کمزور کہیں گے تکبروالوں کو کہ بلکہ تمہارا رات دن کا فریب جاری تھا جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کیلئے کسی کو شریک (کسی سے مدد لینے کیلئے)ٹھہرائیںاور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو بہت پشیمان ہونگے ہم طوق کافروں کی گردنوں میں ڈالیں گے۔ وہ اپنے کئے کا بدلہ پائیں گے اور ہم نے کسی بھی گاؤں میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجے مگر ا س کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو تم لائے ہو ہم اسے نہیں مانتے۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد میں زیادہ ہیں اور ہم کوئی عذاب کھانے والے نہیں ہیں ۔(سبا:28تا35)

جو بے غیرت طبقہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتا ہے ان کو زیادہ ندامت ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز

فرمایا:پس آج بعض بعض کو نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ نقصان اور ہم کہیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا کہ آگ کے عذاب کا مزہ چکھو بسبب جو تم جھٹلاتے تھے۔ اور جب ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی تھیںتو کہتے تھے کہ یہ اور کچھ نہیں بس اس شخص کا ارادہ ہے تمہیں ان سے ہٹادے جن کو تمہارے آباء پوجتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ نہیں مگر جھوٹ ہے تراشا ہوا ۔اور کافروں نے کہا ہمیشہ جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ کھلا جادو ہے۔ اور ہم نے ان کو کچھ کتابیں نہیں دیں جن کا یہ درس دے رہے تھے اورجھٹلایا ان سے پہلے لوگوں نے اوریہ لوگ تو اس کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تو انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا۔پس میری پکڑ کیسی ہوگی؟۔ کہہ دیجیے کہ میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوںکہ تم اللہ کیلئے دو دو اور ایک ایک کھڑے ہوجاؤپھر غور کرو کہ تمہارے ساتھی کو جنون ہے؟۔وہ نہیں ہے مگر تمہارے لئے ڈرانے والااس سخت عذاب سے ڈرانے والاجو ہاتھوں میں ہے۔ کہہ دیجیے کہ اگر میں تم سے کچھ بدلہ مانگتا ہوں تو وہ تمہارے لئے ہے۔ میرا اجر اللہ پر ہے۔وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ کہہ دیجیے کہ میرا رب حق پھینک مارتا ہے جو غیب خوب جانتا ہے۔کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل جو ابتداء کرتا ہے اور جس انتہا ء کو لوٹتا ہے۔ کہہ دیجیے کہ اگر میں گمراہ ہوں تو اپنے لئے اور اگر ہدایت پاگیا ہوں تو جو میرے رب نے مجھ پر وحی کی ہے۔ وہ سننے والا قریب ہے اور اگر آپ دیکھ لیتے کہ جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں پس نہ ہوگی ان کی بچت اور دھر لئے جائیں قریبی جگہ سے اور کہیں کہ ہم ایمان لائے اس پر ۔لیکن ان کیلئے پل کے نیچے بہت پانی بہہ چکا دور جگہ تک ۔ جبکہ پہلے وہ انکار کرچکے اور دور کی جگہ سے غیب پھینکتے تھے۔ اور ان میں اور ان کی چاہت میں حائل کیا جائے گا۔ جیسا انکے جیسوں سے پہلے ہوتا رہا ہے۔ بیشک وہ شک میں شک سپلائی کرتے تھے۔(سبا:42سے آخر )

جیسے آئینہ میں ہر شخص کو اپنا چہرہ نظر آتا ہے اور نیٹ پر معلومات حالات کے مطابق ملتی ہیں اور دنیا بھر کے جدید آلات سے رگوں تک پہنچنا ممکن ہے اس سے کہیں زیادہ قرآن میں انسان کو روحانی ، جسمانی، تاریخی حقائق کی روشنی میں بھرپور طریقے سے آگاہی ملتی ہے۔ آج کل جرائم پیشہ عناصر کے ڈیٹا سے بہت کچھ برآمد ہوتا ہے۔قرآن کا یہ کمال ہے کہ منافقین کے دلوں تک پہنچتا ہے۔ اگر منافق کو خود پر بھروسہ ہوتا ہے تو اللہ ایسا ماحول بنادیتا ہے کہ منافق سمجھ جاتا ہے کہ فضول کا دلا ہے۔ اللہ منافقوں کو بے نقاب کردے اورہونگے۔ انشاء اللہ

ماموں نے کہا کہ اگر انقلاب آیا تو میری قبر پر پیشاب کرنا مگر دہشتگردی کی میٹنگ کہاں ہوئی؟۔ یوسف شاہ کا کردار کیا؟۔ عورت پر غیرت ؟ اور بہن کی بات آئی تو سائڈ لائن یا کرائم کے پیچھے لگا؟۔

 

وزیرستان اورقوم سبا کے امن وامان کی بنیاد کیاتھی؟، ظالم ظلم سے توبہ نہیں کرتا یا کرائے پر استعمال ہوتو ضمیر بھی مرتا ہے

 

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

 

وزیرستان صدیوں سے امن وامان کا گہوارہ تھا اور باوجود اسکے کہ وزیرستان میں حکومت،حکمران اور ریاست کا کوئی تصور نہیں تھا۔ پھر امن وامان کی ایسی مثالی صورتحال کیسے ممکن ہوسکی ہے؟۔

 

1:شخصی آزادی:

کا وہ تصور جس کی پوری دنیا میں کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔ مشہور شخصیت عارف خان محسود کتابوں کے مصنف اور زام پبلک سکول کے پرنسپل نے وزیرستان میں جلسہ عام کیا تھا جس میں اس نے اعلان کیا کہ ”جس خدا کے کان، ناک اور سر ، پیر وغیرہ نہیں یہ تو پھر ایک بوتل ہے”۔
لوگوں کے ہاتھ اپنے کانوں تک گئے لیکن کسی نے عارف خان محسود کے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالا اور جب تک اس نے خود اپنی مرضی سے توبہ نہیں کی تو اس پر ذرہ برابر کوئی دباؤ کسی نے نہیں ڈلا تھا۔

جب کانیگرم کے لوگوں نے مشاورت سے فیصلہ کیا تھا کہ جو رمضان کا روزہ نہیں رکھے گا تو اس پر جرمانہ ہوگا تو کچھ جوانوں کا روزہ تھا لیکن انہوں نے دن دیہاڑے روزہ نہیں رکھنے کا اعلان کرکے کھلی جگہ کھانا پکایا تھا۔

جہاد کشمیر سے1948میں کوئی مجاہد ایک ہندو چھوٹی بچی لایا تھا تو معروف قبائلی رہنما فرمان اللہ خان عرف خنڈائی شمن خیل نے حکم دیا کہ کہ سیدھا میرے پاس لاؤ۔ پھر اس نے دو افراد مقبوضہ کشمیر بھی بھیج دئیے تاکہ ورثا مل جائیں مگر ورثا نہیں ملے اور پھر ہندو بچی کو اختیار دیا کہ مسلمان ہونا چاہتی ہو یا ہندو بن کر رہنا چاہتی ہو۔یہ تمہاری مرضی ہے۔
بچی نے ہندو بن کر رہنا پسند کیا اور خندائی نے اس کو اپنی بیٹی بناکر پالا۔ جب جوان ہوگئی تو ایک ہندو سے مشتہ وزیرستان میں اس کی شادی کردادی اور پھر اس کا شوہر فوت ہوا تو دوسرے ہندو سے اس کی شادی ہوگئی۔ پھر کافی عرصہ بعد جب دوسرا ہندو شوہر بھی فوت ہوگیا تو فرمان اللہ خان کی ہندو بیٹی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔ پھر مسلمان سے اس کی شادی ہوگئی۔ طویل عمر پائی۔ تقریباً چار سال پہلے اس کا ڈیرہ اسماعیل خان میں انتقال ہوگیا اور وہیں پر تدفین عمل میں آئی۔ اس کا نام میرو تھا۔
وافی :خنڈائی شمن خیل : امین اللہ شمن خیل شیر عالم برکی کیساتھ یوٹیوب پر دیکھ لیں۔ خنڈائی اس وقت بھی ننگے سر نماز پڑھتاتھا۔ انگریز کے خلاف انہوں نے اس وقت دیسی توپ کا استعمال بھی کیا ہے جو ابھی وانا کیمپ میں نمائش کیلئے موجود ہے۔

 

قوم سبا میں بھی شخصی آزادی ہوگی اسلئے کہ شخصی آزادی کے بغیر امن وامان کا قیام انسانوں کی جگہ جانوروں کی طرح ہے۔ اقبال نے درست کہاکہ

افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

 

2:مشاورت کا عمل

:جب کوئی بھی اہم فیصلہ ہو تو اس پر پہلے مشاورت کا قرآن میں بھی ذکرہے۔
وزیرستان کے امن وامان میں سب سے بڑی بنیادمشاورت کا عمل تھا ۔ مکمل شخصی آزادی کے بغیر مشاورت کا تصور بھی بے کار بن جاتا ہے لیکن جب تک مشاورت نہ ہو تو قوم کے اجتماعی نظام کا تصور نہیں بنتا ہے۔ حضرت ابوبکر کی خلافت ہنگامی تھی۔ حضرت عمر نامزدگی سے خلیفہ بن گئے ۔ جبکہ حضرت عثمان کی مشاورت میں چندا افراد تھے اور انصار بھی شامل نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ23سال نبیۖ کی محنت سے دنیا کی تاریخ کی سب سے بہترین اور مقدس جماعت صحابہ کے25سالہ دور خلافت میں حضرت عثمان مسند خلافت پر شہید کردئیے گئے اور پھر حضرت علی کے دور میں عشرہ مبشرہ کے صحابہ نے بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔
وزیرستان صدیوں امن وامان کا مرکز تھا ،جب کوئی وزیرستان کی حدود میں داخل ہوجاتا تھا تو وہ اپنی جان، مال اور عزت کا تحفظ پالیتا تھا۔ صحابہ نے اسلام کیلئے قربانی دی تھی۔ حضرت سعد بن عبادہ انصارکے سردار خلافت کے مسئلہ پر ناراض ہوئے اور شام دمشق کے قریب ایک گاؤں میں زندگی کے بقیہ لمحات گزارنے گئے لیکن وہاں بھی جنات نے شہید کردیا تھا۔ جو انسانی جنات بھی ہوسکتے ہیں۔

قوم سبا کے پاس13پیغمبر آئے اور آخر میں وہ دہشت گردی کا شکار ہوئے تو عذاب سے ہجرت کرنی پڑگئی۔ قوم یونس نے کفر کے باوجود جب یہ مانگا کہ آپس میں لڑائی کا عذاب ہم پر نہیں آئے تو اللہ نے ان کفار اور نافرمان قوم سے عذاب کا فیصلہ بھی ٹال دیا اور عذاب کی خبر پر حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں دعا مانگنی پڑگئی کہ لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ۔ ”کوئی الٰہ نہیں مگر تو پاکی تیری بیشک میں ظالموں میں تھا”۔ امت مسلمہ کو صرف آپس کے لڑنے کا عذاب ہوگا۔

 

3:ظلم کیخلاف متفقہ اقدامات کا کرشماتی تصور

وہ زبردست بنیاد ہے جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال بہت مشکل سے مل سکتی ہے۔ ایک عربوں نے اس وقت حلف الفضول کا معاہدہ کیا تھا جس میں ظلم حد سے بڑھ گیا تھا اور قوم سبا کی بھی یہ صورت ہوگی۔

وزیرستان میں ظلم کے خلاف قوم کا اجتماعی قدم وہ بنیاد تھا جس نے امن وامان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ایک عورت رونقہ کو کسی نے برائی کی دعوت دیتے ہوئے جبر کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ میں خود آتی ہوں۔ وہ بندوق لے کر آئی اور اس کو قتل کیا۔ عورت کا خاندان کمزور تھا ، مقتول کے خاندان نے اسکا محاصرہ کیا تو قوم نے نہ صرف اس خاتون کا دفاع کیا بلکہ اس کیلئے ایک اعزازی قلعہ بھی تعمیر کردیا۔ پھرکون ظلم کی جرأت کرسکتا ہے۔
بیرون ملک سے کوئی شخص آیا تو کسی نے اس کو خاندان سمیت قتل کردیا۔ پڑوسیوں کو تفتیش سے پتہ چل گیا کہ مجرم کون ہے؟۔ میدان میں سب کو اکٹھا کیا اور ایک بوڑھے کو رونے کیلئے چھوڑ کر باقی سب کو قتل کیا اور ان کی لاشیں پل کے نیچے لٹکادیں اور کئی دنوں کے بعد بغیر جنازہ کے دفن کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وزیرستان میں پہلے تو کوئی ظلم کرتا نہیں تھا اور جس نے غلطی سے ظلم کیا تو اس نے بھگتا ۔

یہ تو پچھلے25،30سال قبل کے واقعات ہیں لیکن وزیرستان کے اقدار کبھی اس طرح کی حرکت کی اجازت نہیں دیتے۔آزادمنش قوم کی تباہی اس وقت شروع ہوگئی کہ جب مشیران نے عوام کے فیصلوں میں تاخیر، زیادتی اور ظلم کے عنصر کو شامل کردیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ چوری اور ڈکیتی سے ہوتے ہوئے معاملہ دہشت گردی تک اس وقت پہنچ گیا کہ جب طالبان کا دور دور تک بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ پہلے راستے میں بم رکھے گئے اور پھر قومی مشیران کے گھروں کے دروازے بھی بموں سے اڑائے گئے تھے۔ انگریزی ملکان نے ماحول کو خراب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

 

4:علاقہ اور قوم کے لوگ اپنے اپنے علاقے پر کسی بھی قسم کے جرم کی اجازت نہیں دیتے تھے

اور جب کوئی جرم کرتا تو علاقہ کے لوگوں کیلئے وہ جواب دہ ہوتا تھا۔ مثلاً برکی قوم بہت تھوڑے لوگ ہیں اور وزیرستان میں ان کا علاقہ بھی زیادہ نہیں ہے لیکن وہ کسی کو اپنے علاقہ میں دشمن مارنے کی کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اسی طرح ہرعلاقہ کے لوگ اپنی اپنی حدود میں جرم کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اگر کسی نے اپنے دشمن کو قتل کرنا ہوتا تو وہ اپنے علاقہ ہی میں قتل کرسکتا تھا۔ اگر کسی اور کے علاقہ میں اپنا دشمن قتل کیا تو جس سے دشمنی کا حساب تھا تو اس کے علاوہ جس علاقہ میں قتل کیا تو اہل علاقہ بھی اس کو پھر اپنا مجرم سمجھتے تھے اور اس کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا۔

 

5:کسی مجرم کی سہولت کاری بھی جرم تھا۔

ایک مجرم کو رہائش، ہتھیاراور کسی طرح کی مدد کرنے پر سہولت کار بھی جرم میں برابر کا شریک تصور ہوتا تھا اور اس کو مکمل طور پر اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا تھا۔

 

اگر کسی کے ہاں کسی کے دشمن نے سہولت کاری حاصل کرلی تو دشمن پھر کوئی مجرمانہ واردات کرنے کی جسارت اسلئے نہیں کرتا تھا کہ اس کو تین طرح کا سامنا ہوتا تھا۔ سہولت کار بھی اس کے خلاف خود بھی مدعی بن جاتا تھا کہ اگرجرم کرنا تھا تومیرا سہارا کیوں لیا۔ ان چیزوں کا دشمن اور دوست سب خیال رکھتے تھے۔ جس طرح اپنی پچھاڑی چھپانے کیلئے کسی سے مدد لینے یا معاوضہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تو اس طرح قبائلی رسم واقدار بھی غیرت کا مسئلہ تھا۔

 

6:فیصلہ کرنے کیلئے مکمل آزادی ہوتی تھی

کہ جو فریقین شریعت یا علاقائی رسم پر کسی کو اختیار دیں۔ جب ایک مرتبہ فیصلے کا اختیار دے دیا جاتا تھا تو پھر اس کو نہیں ماننے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اور اس پر فائدے اور نقصان کو نہیں اپنی غیرت، عزت اور وقار کو دیکھا جاتا تھا۔ بسا اوقات جگہ کم قیمت کی ہوتی تھی لیکن اس سے کئی گناہ زیادہ نقصان فریق کو صلح کے مراحل اور معزز مہمانوں کی دعوت میں خرچ کرنے پڑتے تھے۔ بکری اور دنبی نہیں بلکہ بکرے اور نبے کھائے جاتے تھے۔ جس کا گوشت اچھا ہوتا تھا اور مہنگا پڑتا تھا۔ وزیرستان کے لوگوں کاDNAاقدار کے تحفظ کیلئے اصیل مرغوں کی طرح ہوتاتھا۔

 

کٹ مر سکتے تھے لیکن اپنی روایت سے وہ نہیں ہٹ سکتے تھے۔ پھر ہم نے بچپن میں اپنے ماموں کے ہاتھوں مولوی کو فیصلہ بدلنے کیلئے رشوت دیتے دیکھ لی۔ وانا سے معزز مہمانوں کیلئے بکروں کی جگہ بکریاں لائی گئیں تو میرے والد کو ان پر بہت غصہ آیا تھا۔ اصل میں وزیرستان کے اندر ان کی دوسری پشت تھی ۔ پہلے ٹانک میں رہتے تھے اور خانہ بدوش بن کر محسود ایریا میں گرمیاں گزارتے تھے۔

 

7:مکان کی تعمیر میں دشمن کو مزدور سے روکنا۔

وزیرستان کی خمیر میں یہ بڑا زبردست رسم ورواج تھا کہ جب کسی تعمیر کی اجازت نہیں دیتے تھے تو پھر وہ مزدور کو بیچ سے ہٹا دیتا تھا۔ کیونکہ قتل کا مسئلہ آتا تھا اور قتل کیلئے مزدور کو استعمال کرنا بھی بے غیرتی تھی اور اس کو مارنا بھی بے غیرتی تھی۔ اسلئے یہ اقدار کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر تو اس سے بڑی مشکلات کا تصور ہوگا کہ مزدور پر بھی پابندی لگائی جائے لیکن جب مالک خود کام کرے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے؟۔ نہیں پھر ہر صورت میں اس کو قتل ہی کرنا پڑتا ہے اور اگر مزدورکو روک لیا اور مالک کو کام کرتے وقت قتل نہیں کیا تو نسلوں تک بھی کلنگ کا بہت بڑا ٹیکہ ہے۔ ایسی غلطی کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ البتہ یہ ہمارے ماموں غیاث الدین نے توڑ دیا تھا۔ علامہ اقبال نے جو کہاہے کہ

اے میرے کہستاں تجھے چھوڑ کر جاؤں کہاں؟
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب وجد کی خاک

 

اس کے پیچھے فطریDNAکا بہت بڑا فلسفہ ہے۔ ہمارے جن چچیرے کزنوں نے سامنے کی طرف سے وہ لپائی کی تھی جس سے مزدور پر کام بند کیا تھا تو وہ ان میں ایکMBBSڈاکٹر تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ کوئی رد عمل نہیں آرہاہے تو پھر آواز لگاکر کہا کہ ”تربور ( چچیرے) کیسی لپائی کی ہے؟”۔ پشتو میں والد کی طرف سے کزن کا الگ اسٹیٹس ہے اور والدہ کی طرف سے الگ ہے۔ عربی میں بھی چچیرے کے الفاظ ہیں۔ انگلش میڈیم نے کزن دونوں کی طرف سے استعمال کرکے فرق کو مٹادیا ہے۔ حالانکہ وزیرستان اور پشتون کلچر کا اہم حصہ ہے۔ جیسے علماء ومشائخ میں معاصرت کا لفظ مخصوص معنوں میں دشمنی اور عصبیت کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔اسی طرح تربور کے لفظ کی بھی خاص چاشنی ہے۔ دوسرے ماموں سعدالدین نے کہا کہ یہ لوگ ڈرپوک ہیں تو میں نے کہا کہ کانیگرم پر اتنی بڑی تہمت مت باندھو۔ اگر واقعی میں وہ بزدل ہوتا بھی تو وزیرستان کی مٹی کے روایات میں یہ گولی مارنے کے برابر ہے لیکن جب حقائق اس کے منافی ہوں تو پھر کسی کی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 

8:وزیرستان کے محسود اور وزیر کے قانون میں یہ فرق ہے کہ محسود میں کمزور وقتی طور پر فیصلہ کرلیتا ہے اور جب اس کو موقع ملتا ہے تو اپنا بدلہ لیتا ہے اور دیت واپس کردیتا ہے لیکن وزیر پہلے فیصلہ نہیں کرتا لیکن جب ایک دفعہ فیصلہ کرلیا تو پھر بدلہ نہیں لیتا ہے۔ جیسے شریعت اور پشتو قانون الگ الگ ہیں ایسے قوموں کے رسم ورواج میں بھی فرق ہے۔

 

9:کسی پر عورت سے تعلق کا الزام لگاکر قتل کیا جائے تو مقتول کا بدلہ وارث نہیں لیتے

لیکن یہ اتنی عار کی بات ہے کہ نسلوں تک بھی عورت کے الزام پر قتل عورت والوں ہی کو بھاری پڑتا ہے۔ اگر خمیر میں مٹی کا ضمیر نہیں ہو تو پھر الزام لگاکر قتل میں بے غیرت کو فرق نہیں پڑتا ہے لیکن ایسا کرنیوالا صرف اور صرف ایمان نہیں بلکہ غیرت ، ضمیر، انسانیت ، پشتو اور ہر طرح کی اخلاقیات سے نکل جاتا ہے۔

 

10:کسی بندے کو مارنے کا بدلہ خاندان کے کسی بھی ایسے شخص سے لیا جاسکتا ہے جس کو مقتول کے وارث اپنی پسند سے منتخب کرلیں۔
یہی وجہ ہے کہ قتل میں پہل کرنے سے لوگ بہت پرہیز کرتے ہیں کہ کوئی ریڑھ کی ہڈی جیسا شخص بدلے کرکے تشریف کے بل بٹھادے گا۔
واضح رہے کہ چند مثالیں عرض کردی ہیں ورنہ تو بہت بڑا موضوع ہے اور وزیرستان کی کہانی جاپان کی کہانی سے زیادہ مزیدار ہے۔ بہت سخت دشمنی کی حالت میں بھی عورت کو قتل نہیں کیا جاتا۔ تعزیت کا سلسلہ چل رہا ہو تو دشمن ایک دوسرے کو قتل کرنا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ رات کی تاریکی میںسوتے وقت حملہ بے غیرتی اور کسی کو قتل کرنے کیلئے معقول وجوہات نہ ہوں تو اسکا قتل کرنا بہت بڑا عار ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ قاتل کی ماں ،بہن، بیٹی اور بیوی پر چڑھا ہوگا۔اسلئے کوئی اس قسم کی غلطی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور لالچ کی بنیاد پر قتل تو انگریز نے ہی شروع کرایا جس کی سزا آج قوم بھگت رہی ہے

 

یہی اقدار ہی امن کی ضمانت تھے۔قوم سبا میں امن وامن کیلئے اس قسم کی صفات ہوں گی۔

 

1991میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں ایک محسود کو اپنے والد نے اسلئے بند کرایاتھا کہ اس نے کہا تھا کہ2ہزار روپے میںکسی کیلئے قتل کروں گا۔ اسی سالBBCکا نمائندہ سیلاب محسود میڈیا سے خبر شیئر کرنے جیل میں آیا تھا۔ امان اللہ کنڈی کیلئے جب وزیرستان کے گاؤں پر فوج نے ٹینک توپوں سے چڑھائی کی دھمکی دی تو عوام ڈھول کی تھاپ پر ناچ کر کہہ رہی تھی کہ ہمیں مارو۔ کنڈی حوالہ نہ ہوگا اور پھر مذاکرات میں حکومت سے کہا گیا کہ ہمارے اجداد نے تمہارے اجداد انگریز سے معاہدہ کیا تھا تو اسمیںکسی بھی پناہ گزیں کو حوالہ نہ کرنا شامل تھا۔ پھر یہ خبر چھپی کہ کنڈی کو جیل میںوہ مراعات حاصل ہونگی جو فرار سے پہلے حاصل تھیں۔امریکہ کے حوالہ نہیں کیا جائے گااور اس کیلئے بطور ضمانت ایک اس درجہ کا امریکی شہرت یافتہ شخص ہم مہمان رکھیں گے۔ پھر یہ خبر اخبارات کی سرخی بن گئی کہ رشدی کو ہمارے حوالہ کرو ،کنڈی تم لے لو، رشدی سے زیادہ بڑا مجرم کنڈی نہیں۔تو اس حوالہ سے خبروں پر مکمل پابندی لگی۔ اس وقت میں جیل میں ہی قیدی تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن نے قرآنی آیت کی بہت کھل کرتحریف کردی ،مذہبی طبقے کی خاموشی جہالت ہے یا مفاد پرستی؟،فوری توبہ اور اصلاح کا اعلان کریں ورنہ پھر مجبوراً عدالتی کیس کرنا پڑے گا

مولانا فضل الرحمن کا اصل بیان آخر میں ہے جس پر تبصرہ کیا گیا ہے۔

تبصرہ : سید عتیق گیلانی

مولانا فضل الرحمن پریہ ضرب المثل فٹ ہے کہ ”چور چوری سے جائے ،ہیراپھیری سے نہ جائے”

اسلام کا بیڑہ غرق کردیا۔ مولانا فضل الرحمن کا نونہال ٹبر مالا مال اور نہال ہوا مگر ہیرا پھیری کی عادت نہیں جارہی ہے۔ اندھے پن کی انتہا ہے کہ شور مچانے کی بھی غلط تشریح کی اور قرآنی آیت کے ظاہری الفاظ تک میں تحریف کا ارتکاب کردیا ہے۔
سری نماز اور جہری نمازکا مسئلہ دنیا جانتی ہے مگر اس میں شور مچانے ، چیخنے اور چلانے کی بات کہاں سے آگئی؟۔ اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ ” اللہ کسی کا بولنا برائی سے پسند نہیں کرتا مگر جس پر ظلم ہوا ہو”۔ ہدف جہر نہیں بلکہ ”برائی ” ہے۔ مثلاً مولانا فضل الرحمن نے قرآن پر ظلم کیا تو برائی سے تذکرہ کرنا جائز اس کو اللہ پسند کرتا ہے۔ جہر نہیں بلکہ برائی مقصد ہے۔ مولوی جمعہ کے دن کتنا چیختے ہیں ؟۔کس نے ان پر ظلم کیا؟۔ مولوی ڈھیٹ بن گئے یا مستقل مزاج؟۔ فیصلہ عوام اور خداکو اپنے کٹہرے میں کرنا ہے۔

ہوا کے خارج ہونے کیلئے بھی سری اور جہری کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ بھلے بالکل ہلکی آواز ہو۔
جب جمعیت علماء اسلام اور متحدہ مجلس عمل کے ہاتھ میں پختونخواہ کا اقتدار تھا تو وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات آج سے بدتر تھے۔ مولانا اپوزیشن لیڈر ، کشمیر کمیٹی چیئر مین اور پختونخواہ میں پورا اور بلوچستان میں آدھااقتدار مل گیا تھا تو منہ سے لڈو پھوٹتے تھے۔2006میں ریاست کو بلیک میل کرنا تھا توبجٹ کی تقریر دیکھو۔2014میں ن لیگ کی حکومت میں شامل اور افغانستان کے دورے سے واپسی پر امتیازعالم نے انٹرویو لیا تو اس میں واضح کیا کہ حکومت بچاری مجبور ہے۔IMFقرضہ اور بجٹ بناکر دیتی ہے۔زرداری کیساتھ کیا چین کے مغربی روٹ کا افتتاح نہیں کیا؟۔پھر نواز کے سامنے ڈٹ کیوں نہیں گئے کہ بلوچوں کو ورغلایا کہ سوئی گیس تمہیں نہیں دی پنجاب کو دی؟، پھر وہی حرکت جو چین اور پاکستان کے مفاد میں نہیں؟۔

مگر مولانا کو حکومت کی چوسنی اور چاشنی ملتی ہے تو سویلین بالادستی کے ڈھول نہیں بجاتے ہیں۔ عمران خان کے دور میں میراISIکے کرنل نے فون نمبر مانگا تھا جو اجمل ملک نے نہیں دیا۔ جب کراچی آیا تو کرنل سے ملنے گیا۔ اس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت چلے۔ مولانا فضل الرحمن سے اگر آپ کا تعلق ہے اور کہہ دیں کہ ابھی احتجاج نہیں کریں۔ میں نے کہا کہ مولانا کے پیچھے تو تم لوگ نہیں کھڑے ہو؟۔ اس نے کہا کہ ملک کی حالت ایسی ہے کہ حکومت کو چلنے دیا جائے۔ جب مولانا فضل الرحمن تیاری کررہے تھے تو شاید عمران خان کو ڈرایا گیا تھا کہ احتیاط کرو۔ چنانچہ عمران خان تقریر میں مولانا کے خلاف بات دبا گیا تو اس کا منہ بھی ٹیڑھا ہوگیا۔ ہم نے اس کی وہی تصویر چھاپی ۔ مولاناکے احتجاج کی بڑی خبر لگائی۔ جب مولانا اسلام آباد پہنچ گئے۔ پشاور موڑ سے شاہ فیصل مسجد تک جانے پر بھی تیار نہیں تھے۔ محمود خان اچکزئی سے ملاقات میں کہا کہ کچھ اسلامی نکات اٹھاؤ۔ بنی گالہ ایسے کنٹینر لگائے گئے تھے جیسے بڑا حملہ ہو رہا ہو۔DGISPRجنرل آصف غفور نے بیان دیا کہ ہم آئندہ الیکشن میں بھی نہیں آئیں گے۔ جیسے مولانا کے دباؤ سے کوئی آسمان پھٹ رہاہو۔ پھر پتہ چلاکہ نوازشریف کیلئے یہ سیاست کی گئی۔ نواز شریف کی آنیاں جانیاں بھی ایک سیاستدان کا کرشمہ ہے ۔ ظلم بھی عدلیہ نے کیا اور ازالہ بھی اس نے کیا۔ عدالت کا یہ رخ بھی دیکھ لیا۔ سیاستدان کا بھی رخ دیکھ لیا۔ عمران خان بھی کس کی مدد سے آئے، کس کے عدم تعاون سے گئے اور کس کیلئے ترس رہے ہیں؟۔ جب سبھی وردی کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں تو کتنے نکاح اور کتنے حلالے کرکے سیاستدان خود اس حصار سے باہر نکلیںگے؟۔

سیاستدان دن رات کی طرح بدلتے ہیں جس کی وجہ سے عوام نے ان کو پہچان لیا ہے۔ کار کنوں اور عوام کی مقبولیت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ عمران خان جس دن اقتدار میں آیا تو فوج کے بوٹ کے نیچے اپنا کردار بہت خوشی سے ادا کرنے پر تیار ہوگا۔ رہنمااورکارکن تو پنجاب میں اپوزیشن نہیں کرسکتے۔

منظور پشتین نے ساری مذہبی سیاسی جماعتوں کو مشاورت میں بلاکر فوج اور طالبان سے نکلنے کا بڑا مطالبہ کیا۔ پولیس نے احتجاج کیا کہ فوج نکلے اور اب واویلا ہے کہ فوج نہیں ہے اور پولیس محصور ہے اور حکومت کو خبر نہیں ہے؟۔ سیاسی قائدین کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اقتدار کے بغیر بھی امن وامان کو قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اقتدار ملتا ہے تو پھر مزید بہتری پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور جب سیاستدان اقتدار کی بھوک کے مریض بن جائیں تو عوام کیساتھ ان کا رابطہ نہیں ہوسکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن جنرل ضیاء الحق کے دور میں بندوق اٹھانے کی بات کرتا تھا کہ نظام کیلئے بندوق ضروری ہے اور جب1990کے الیکشن میں اس کو ناکامی ملی تھی تب بھی عوام سے بندوق اٹھانے کی بات کرتا تھا۔1997میں الیکشن ہارا تو باقاعدہ انقلابی سیاست کا فیصلہ جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے بھاری اکثریت سے کیاتھا۔
اب یہ کہنا کہ اگر ہمیں قبائل میں جانے دیا جاتا تو لوگ بندوق نہ اٹھاتے؟۔ قبائل میں جمعیت ہی کےMNAتھے۔ جب جنرل فیض حمیدنے لانے کا فیصلہ کیا تو مولانا صالح شاہ نے ویلکم کیا تھا۔
جس طرح مولانا فضل الرحمن نے آیت کا غلط مطلب پیش کیا تو کل اس پر قانون سازی ہوگی کہ کس کو چلانے اور چیخنے کا حق ہے اور کس کو نہیں؟۔ اسی طرح فقہاء نے فقہ اور اصول فقہ کے نام پر بھی بڑا گند کیا ہے۔ جس دن یہ گند ہٹ گیا تو لوگ پھر اسلام کے گرویدہ بن جائیں گے۔

مولانا نے بلوچستان کے کچھ اضلاع کی بنیاد پر کمال کی بلیک میلنگ کی ہے۔ جو دل سے زیادہ یہ پیٹ کا درد لگتا ہے۔ اقوام متحدہ کو اگر مدد کرنی ہوتی تو کشمیر کی کرتا جو عالمی قوتوں کا ایجنڈا ہوسکتا ہے۔

رسول اللہ ۖ نے مدینہ میں بغیر کسی مستقل ریاست ، عدالت ، فوج ، پولیس، سول بیوروکریسی ، انتظامیہ اور باقاعدہ حکومت کے کس طرح مسلم قوم کو منظم کیا ، یہود کے ساتھ میثاق مدینہ اور مشرکین کے ساتھ صلح حدیبیہ کی بہترین داخلی و خارجی پالیسی سے دنیا کو روشناس کرایا؟۔ سیاسی قیادت کا کمال یہ ہونا چاہیے کہ اقتدار سے دور رہ کر بھی امن و امان کا قیام یقینی بنائیں۔ وزیرستان کی سینکڑوں سال کی تاریخ اعلیٰ ترین معاشرے کی ایک بڑی مثال ہے لیکن سیاستدان صرف اقتدار کا فیڈر مانگتے ہیں۔

اللہ چیخ چیخ کر بولنے کو پسند نہیں کرتالیکن مظلوم کی چیخ وپکار کو اللہ سننے کیلئے تیارہے ”لایحب اللہ الجھر”مولانا فضل الرحمن

میں پہلے یہ بات کہہ چکا اور دوبارہ جاننا چاہوں گا۔ ملک کی سا لمیت کے حوالے سے بند کمروں میں ماورائے حکومت، سیاست، پارلیمان پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں ۔ ہمیں ایک لمحے کیلئے اجازت نہیں کہ ریاست کی بقا ء ، سالمیت پر بات یا تجویزدے سکیں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں مسلح گروہوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ دو صوبوں میں حکومت کی رٹ نہیں۔ آج وزیراعظم یہاں ہوتے تو بصد احترام عرض کرتا کہ قبائل ، متصل اضلاع، بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ تو شاید وہ کہتے کہ مجھے علم نہیں۔ اگر میرا حکمران اتنا بے خبر ہے اور مجھے یاد ہے ایک زمانہ میں ہم نے مل کر کام کیا۔ افغانستان ہمارے جرگے جاتے تھے اور میں نے پوچھا تو ان کو علم نہیں تھا۔ کون ، کہاں فیصلے کیے جاتے ہیں؟، ذمہ دار تو کل پاکستان ،اپوزیشن اور پارلیمان ہوگا عوام کی نظر میں ہم ذمہ دار ہیں۔ حقیقت میں کوئی سویلین اتھارٹی نہیں۔ نظریاتی سیاست نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے بند کمروں میں فیصلہ پرحکومت کو انگوٹھا لگانا پڑتا ہے۔ نکلنا ہوگا یا انہی دبیز پردوں کے پیچھے سیاست کرنی ہوگی؟۔ ہم نے ملک کو چلانا ہوگا ۔جناب اسپیکر! میرے علاقے میں ایسے ایریاز ہیں جو فوج ، پولیس خالی کر چکی تھی۔ ایوان کو بتانا چاہتا ہوں۔ جہاں پر جنگ ہو ،پولیس اور فوج نہ ہو تو کس کے قبضے میں اور کس کارٹ ہوگا؟۔ اور دل پہ ہاتھ رکھ کر انتہائی دردِ دل کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت بلوچستان کے 5سے 7 اضلاع اس پوزیشن میں ہیں کہ اگر وہ آزادی کا اعلان کر دیں اگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کر لیا جائیگا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا ۔کہاں کھڑے ہیں ہم لوگ ؟، میری گفتگو کو جذباتی نہ سمجھا جائے ۔ حقائق تک پارلیمنٹ اور حکومت کو بھی پہنچنا ہوگا۔ اس وقت صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں چوکیوں میں پولیس عملہ محصور ہے۔ سڑکیں، علاقے اور گلیاں مسلح قوتوں کے ہاتھ میں۔ آج کوئی بقاء کا سوال پیدا کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو برا منایا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت بھی چیخ چیخ کر بولنے کو پسند نہیں کرتا لیکن مظلوم کی چیخ و پکار کو اللہ بھی سننے کیلئے تیار ہے۔لا یحِب اللہ الجہر بِالسوء ِ مِن القولِ اِلا من ظلِمکوئی شخص بھی اونچی آوازاور چیختی آواز کیساتھ بات کرے اللہ کو پسند نہیں ہے سوائے اس آدمی کے جس پر ظلم ہوا، جس کیساتھ زیادتی ہو رہی ہے جو مضطرب پریشان ہے ۔یہاں قانون سازیاں کی جا رہی ہیں۔ پہلے ریاست اور رٹ کو تو مضبوط کرو۔ قانون پاس ہوتے ہیں۔ پورا ملک آپ کے ہاتھ میںہوگا تو نافذ العمل ہوگا۔ قانون کس کیلئے ؟۔ صوبائی اسمبلیاں عوام کی نمائندہ نہیں ہیں۔ بغاوتیں پیدا ہوتی ہیں عوام نکلتے ہیں تو کوئی منتخب نمائندہ پبلک کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں خواہ کتنی اچھی پوزیشن کیوں نہ ہو ۔ سیاست میں جنگ نظریات کی نظریات کیساتھ ہوتی ہے۔40سال پروکسی جنگ لڑی فوج نے اپنی ریاست کو جنگوں میں دھکیلا۔ دنیا کہتی تھی کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔ ہم سارا غصہ افغانستان پر نکالتے ہیں لیکن اپنی کمزور پالیسیوں سے لوگوں کی آنکھیں دوسری طرف پھیرتے ہیں تاکہ قوم ہماری غلطیوں پر بات نہ کر سکے اور پڑوسی کو ہی مجرم سمجھتے رہیں۔ نام نہاد عالمی دہشتگردی کے خلاف امریکہ اور ناٹو کے اتحادی بن گئے۔ ہمارے اڈوں سے ہوائی جہاز اڑتے، افغانستان میں بمباری کرتے۔ کیا کبھی افغان طالبان نے کہا کہ امریکہ کے جہاز آپ کی ایئرپورٹ سے کیوں اڑ رہے ہیں۔ ہم پہ بمباری کر رہے ہیں؟۔ ……..ہماری معیشت بین الاقوامی اداروں کے حوالے کر دی گئی۔ آج ہماری معیشت کو آئی ایم ایف اور اے ٹی ایف اور قرضے دینے والے ادارے کنٹرول کرتے ہیں ہمیں ایک طرف قرضوں میں جکڑا ۔ سارا بوجھ دو طبقوں پر آتا ہے ایک کاروباری اور دوسرا سیاستدان تاکہ ایک حکومتی پارٹی کو بدنام کیا جائے دوسرے کو اس کی جگہ دی جائے اس مقصد کیلئے بین الاقوامی ادارے مداخلت کر رہے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ میرا پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ لیکر مغرب چلا جاتا ہے۔ میرے نظام سے تنگ یورپ کاروبار اور تجارت کر تا ہے۔ یہ وہی بات ہوئی کہ انڈیا کا پیسہ انگریز لے گیا اس نے گلستان کو آباد کیا اور ہمیں بھوکا چھوڑ دیا ۔دفاعی معاملات پہ جائیں حضرت ایٹم بم ، میزائل میرا ہے لیکن بین الاقوامی ادارے مجبور کر رہے ہیں اس پہ دستخط کرو اور مجھے بین الاقوامی معاہدات پر دستخط کرنے کے بعد یہاں پہنچایا جا رہا ہے کہ ایٹم بم، میزائل، طیارہ ، لڑاکا سامان میرا ہوگا لیکن استعمال کرنے کا اختیار بین الاقوامی معاہدات کے تحت ان کو ہوگا۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن یا بینک اکانٹس کا ایک قانون بین الاقوامی اداروں کیلئے تحفظ کا باعث ہے۔ عالمی جنگ :روس آیا امریکہ نے قوت استعمال کی۔ دریائے آمو یہاں کی معدنیات پر قبضہ کرنے کیلئے افغانوں نے لڑ کر نکال دیا۔آج چائنا بھی رسائی چاہتا ہے۔ افغانستان اور ہمارے فاٹا اور پختونخوا کے علاقوں میں دو قسم کے معدنیات ہیں ایک وہ جس کیساتھ عام لوگوں کی معیشت کا تعلق ہے گیس کوئلہ تیل چاندی سونا کاپر وغیرہ۔ کچھ پتھر جو خلا میں جانے والے راکٹوں ، میزائلوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ جو ساڑھے 4 سو کی ہیٹ پر بھی تحلیل نہیں ہوتے اس سے الٹا جائیں تو اتنی ہی سخت سردی میں بھی وہ منجمد نہیں ہوتے۔ اگر ہمارا ایوان حکومت ، اپوزیشن سنجیدہ خود اعتمادی کیساتھ وطن عزیز کیلئے سوچ کر فیصلے کرے ویژن، دلیل، رائے اور تحقیق موجود ہے ہم اس ملک کو بہتربنا سکتے ہیں۔ ہم اس حد تک گر چکے کہ ایک قدم اٹھاتے ہیں تو بھی اشارے کے محتاج ہیں کیا کسی لمحے ہمارے ضمیر پر کچھ گزرتی ہے یا نہیں؟۔ سال میں باجوڑ جہاں ہم90لاش بیک وقت اور روزانہ دو دو تین تین جنازے اٹھ رہے ہیں۔ ہر ایجنسی سے لڑائیاں جاری ہیں۔ ایک ایجنسی ایسی نہیں رہی کہ جن کے لوگ میرے گھر نہ آئے ہوں۔ایک بھیک مانگ رہے ہیں کہ امن دو۔ میں کہاں سے امن دوں؟۔ پارلیمنٹ کی نہیں سن رہا۔ ایک فضل الرحمن کی کون سنے گا، ابھی پشاور میں تمام قبائل کا جرگہ ہوا ایک ہی بات کہ خدا کیلئے ہمیں امن دو، دربدر ہیں2010سے وہ مہاجرہیں بھیک مانگ رہے ہیں ۔ قبائل اپنی روایات رکھتے ہیںخواتین گھروں سے نہیں نکلتی آج وہ گلی کوچوںمیں بھیک پر مجبور ہیں ۔ پشتونوں کی روایات اور عزت کا لحاظ نہیں۔ بلوچوں کی عزت کا لحاظ نہیں ۔حوالے کرو صحیح لوگوں کے تاکہ معاملات بہتری کی طرف جائیں ہم ملک کیلئے سب کچھ قربان اور پوری طرح تعاون کیلئے تیار ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلام کی نشاة ثانیہ اور کانیگرم :گزشتہ

کانیگرم خضر کا مرکزہے بحوالہ تاریخ پیرروشان انصاری … سید کبیرالاولیاء کی آمد، ابوبکر ذاکر کی خوارج کے ہاتھوں …کانیگرم قبائل نے لگ بھگ60خوارج قتل کرکے بدلہ …مدفون اسکا مرید ہے نہ کہ ابوبکر ذاکر …تاریخ درست رکھنا … پیر اورنگزیب شاہ کی شہادت ایک واقعہ کربلا…جس نے قبائل کی سیاست کا نقشہ تبدیل کردیا…اگر قوم و قبیلہ کو حکمرانی کی طرف لیجانے والا مجدد سبحان شاہ … تو جنکے آباو اجداد نے بدن زئی کی غلامی قبول کی ۔… ہم سادات کے غلام ابن غلام ہیں۔ بس دلوں سے نفرت کا بیج ختم کرنا ہے،نہ کہ بجھتی چنگاریوں کو پھونکیں مار کے نفرت کا شعلہ جلانا، شاہ صاحب محترم سے معافی کا خواہشمند ہوں۔میدان جنگ میں بدن زنی کو ہر اول دستہ پائیں گے۔ آپ کے اولاد پر ہماری جان بھی قربان ، ہم ہیں تو کیا غم ہے۔شاہ صاحب اشارہ کوا بیایہ تماشا کوا۔ پیران پیر

تبصرہ2:آستانہ ابلیس ننھیال کو جواب

موخو شہ کہ ولے کانی ومہ غازہ ولے

(میں تو تمہیں ٹھیک کررہا تھا مگر افسوس کہ یہ تو تجھے لٹادیا )
جن کو ہر رنگ میں جینے کا کمال آتا ہے
ان کے آئینۂ دل میں کہیں بال آتا ہے
یوں تو منصور بنے پھرتے ہیں کچھ لوگ
ان کے ہوش اُڑ تے ہیں جب سر کا سوال آتا ہے
ہم کہ آزاد ہیں خوش باش پرندوں کی طرح
کچھ بھی ہوتا رہے کب دل میں ملال آتا ہے
کیوں انہیں خبط محبت کا ہے جن کے آگے
جینے مرنے کا محبت میں سوال آتا ہے
جن کے محتاج شہنشاہ بھی ہیں اے عاقل
ہم فقیروں کو اک ایسا بھی کمال آتا ہے

سبحان شاہ کے وزیرستان میں خیمہ تھے گھرنہیں۔ کانیگرم سے مغرب کی جانب منور شاہ و مظفر شاہ کاقتل، لاشوں کو مشرق بادینزئی لے گئے؟۔ گھر اورقبرستان تھا تو صنوبر شاہ دوسری جگہ کیوں قتل اور دفن ہوتا؟۔ خورشید کا بیٹا اعزاز شیرخواری میں ماں کے حوالہ ہوا تو اجداد تک آ گیا ۔ ساؤتھ افریقہ سے شیر نواز برکی کی لاش لائی گئی۔ بادینزئی ہوتے تو انگریز کیلئے کاروائی وہیں کرتے؟۔ وزیر انقلابیوں کو گومل ڈیم کے مقام پر قتل کرایا ؟۔ جٹہ قلعہ توبعد میں لیا۔ سلیمانی ٹوپی پہنے منہاج کو پتہ ہے کہ کرایہ کے ٹٹو تھے ۔ خالد نے اثاثہ بیچ کر ٹھیکہ لیا تو میں نے اورنگزیب کو بتایا کہ چوری ہے تو کہا کہ لاکھ روپیہ انعام اگر جہانزیب نے ضیاء الدین سے4آنا چوری کیا ۔ اگر کہتا کہ یہی ہے توبھائی خفاہوجاتے۔یہی اعتماد شہادت کا باعث بن گیامگر خالد ذاتی گھرپر اور یہ سسرال کے در پر۔ کوئی جئے کھلے جگر پر ، کوئی کھیلے چھپے کنہ بر پر۔ہمیں سیدامیرسیدکبیر پر شکر۔ تم کروفخر سیدا کبر پر!
عابد سرکٹا شجرہ دکھاؤ۔ ہمارا تو قبول نہ تھا۔ اوچ شریف سید ایوب شاہ کیساتھ جو گئے تو جعلی شجرہ نسب بنانے پر زور دیا تھا۔ سیدایوب شاہ نے کہا کہ ”میرا اپنا ٹھیک ہے”۔ تمہارے والوں نے بات اڑائی کہ ”بابوویل کا شجرہ بھی جعلی نکلا”۔ہم پر کوئی اخلاقی دباؤ نہیں تھا اسلئے پرواہ نہ تھی مگر تھے ہم تم الگ الگ۔
سندھ کے قصائیوں نے فیصلہ کیا کہ ”ہم آئندہ خود کوقریشی کہلوائیںگے”۔ انجمن قریشاں کی تنظیم ہے۔ مجھے کوئی غرض نہیں کہ تم بادینزئی ہو کہ سید؟۔ یہ تم طے کرو۔ مشکوک ریلے کی پیداوار فالتو کتاہوتاہے لیکن بغیر ماں باپ کے فیک اکاؤنٹ سے بھونکنے والو کو سمجھاؤ ورنہ تو پھر روئیں گے۔انشاء اللہ العزیز

 

فیک اکاؤنٹ میں گرم لڑکیوں یا انکے بھائیوں کو تکلیف؟ گواہ ہے کہ شرعی نکاح کی تجویز دی ۔ منہاج غلط بکتاہے کہ میرا والد چرس پی کراس کی پھوپھی کا نام لیکر پہاڑ میں جھومتا تھا۔
ولاتھنوا فی ابتغاء القوم ان تکونوا تألمون فانھم یألمون کما تألمون و ترجون من اللہ مالایرجون وکان اللہ علیمًا حکیمًا (النسائ:104)
”اور رنج نہ کروقوم کی گالی دینے پر،اگر تمہیں درد پہنچا تو ان کو بھی درد پہنچا جیسے تمہیں پہنچا۔ تم اللہ سے وہ اُمیدیں رکھتے ہو (انقلاب کی) جو وہ نہیں رکھتے ہیں اور اللہ علیم حکیم تھا ”۔

عابد بھائی !کانیگرم کے محسود،بادینزئی ،سفیان خیل سے لیکر سید گیلانی تک گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا غلطی نہیں تمہارے پردادا مظفر شاہ کو قتل کرواکردادا سرور شاہ کو بچپن میں یتیم بنادیا۔ فراڈ کمپنی نے جوبھی کہانی گھڑی ہے کسی نے پوچھاتک نہیں؟۔ یہ توپاکستان ہے یہاں قائداعظم کے جعلی پوتے بھی بنتے ہیں۔

BBCرپوٹ:کراچی نارتھ ناظم آباد میں اسلم جناح ساٹھ سالوں سے کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔
حکومت پاکستان نے اسلم جناح نامی شخص جو بانی پاکستان محمد علی جناح کا پڑپوتا ہونیکا دعویٰ کرتے ہیںانکو نقد انعامات، وظیفے ، ایک گاڑی اور سرکاری رہائش گاہ فراہم کی ہے۔ کراچی سے جب اسلم جناح اپنی بیگم اور معذور بیٹی کیساتھ گزشتہ دنوں اسلام آباد ائیرپورٹ پر پہنچے تو کئی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے پھولوں اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے استقبال کیا۔ انہیں قومی اسمبلی لے جایا گیا ، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انہیں خوش آمدید کہا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے انہیں گاڑی کی چابی اور چھ لاکھ روپے کا چیک دیا۔…BBC:2014
صحافی بلال غوری نے بتایا کہ اسلم کھتری نے اسلم جناح تک کا سفرکیسے طے کیا؟۔ حمید نظامی بانی نے یہ تجویز دی تھی۔

 

عابد! تیرے باپ نے کبیرالاولیائکے مزار کی تعمیر کے نام پر سرکاری پیسہ کھایا ۔احمد یار معذور بیٹی کو لیکر سویڈن سیاسی پناہ لیتا تو کہتاکہ ہم نے دہشتگردوں کا بے جگری سے مقابلہ کیا۔ سیداکبراورملاعلیزئی کی طرح منہاج اور مولانا آصف تقریب کی زینت بنتے۔ حالانکہ دلوں کا گھر گڑھ تھااورISIنے گاڑی پکڑ کربارود سے اُڑائی تھی۔منہاج میرا نقش انقلاب امریکن سینٹر میں دیکھ آیا تھا۔CIAنے اسلامی انقلاب کا راستہ روکا۔

اکبر علی کی بات کو شہرت مل گئی کہ نوید کے سسر منظور برکی کو کہا کہ خود کو پیر مت کہو ،پیر وہ ہوتا ہے جس کی ماں پر پیر چڑھا ہو۔ پولیس افسر جیل چیف شیخ سے قاری اختر نے میراکہاکہ پیرہیں ، مشقت نہ کرائیں۔ چیف نے کہا کہ اگر یہ مجھے بھی پیر کہے تو مشقت نہ کرے۔ میں نے کہا کہ پیر کی3 اقسام ہیں۔بوڑھا، پیر طریقت اور جس کی ماں پر پیر چڑھا ہو، تجھے کونسا پیر کہوں؟۔اس نے سخت ترین مشقت پر لگایا ،ایک انچارج نے انکار کیا تو دوسرا مجھے کہنے لگا کہ ناراض نہ ہونا مجبوری ہے گالیاں دوں گا۔ میں نے کہا کہ دانت نہ تڑواؤ۔قصوری بنوں تو شیخ کے توڑوں گا اور چوتھی قسم تعویذ فروش اور پانچویں حسد ہے۔ احمدیار کا مہدی منظور پشین ہے۔اگر مولانا آصف کو مان لیا تو حلالہ اور حرمت مصاہرت سے پشتو اور دینی غیرت کھونے کا بیڑا غرق ہوگا۔

 

فتویٰ : چند لوگوں نے ……اور خودساختہ گیلانی سید بن گئے۔ کچھ افرادنے عدالت میں کیس کیا تو طاہرالقادری کے پیر کا شجرہ پیش کیا تو جعلسازی پکڑی گئی مگر باز نہیں آئے۔ خود ساختہ گدی نشین تعویذات کا کام کرتے ہیں۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں فتویٰ سے مستفید فرمائیں کہ ان جلعسازوں پر شریعت میں کیا حکم نافذہوتا ہے؟۔ سائل:صاحبزدہ عمراویس شاہ اسلام آباد تاریخ اشاعت28فروری2020ء

جواب : اسلام میں نسب تبدیل کرنا سختی سے منع اور سخت وعید آئی ۔ نبی کریم ۖنے فرمایا:لیس من رجلٍ ادعی لغیر أبیہ وھو یعلمہ الا کفر ومن ادعی قومًا لیس لہ فیھم فلیتبوأ مقعدہ من النار ”جو شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی جانب منسوب کرے تو اس نے کفر کیا اور جوایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں سے نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے”۔

(صحیح بخاری اورصحیح مسلم) عن ابن عباس قال قال رسول اللہۖ من انتسب الی غیر أبیہ او تولّی غیر موالیہ فعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس اجمعین جس نے اپنے باپ کے غیر سے نسب ظاہر کیا یا اپنے آقا کے غیر کو اپنا آقا بنایا تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ (ابن ماجہ، کتاب الحدود )

درجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ جان بوجھ کراپنا نسب بدلنا اور خود کو اپنے اصلی نسب کی بجائے کسی اور سے منسوب کرنا حرام ہے۔ سوال میں مذکور شخص نے بھی اگر واقعتا جان بوجھ کر اپنا نسب تبدیل کیا ہے تو حرام عمل ہے۔ جس پر خدا کے حضور جواب دہ ہے۔ اس کی دیگر جعلسازیاں بھی قابلِ مذمت اور ناجائز ہیں۔ مفتی عبدالقیوم ہزاروی۔ منہاج القرآن لاہور

 

طاہر منکر حدیث بن جائے گا اسلئے قرآن بھی دیکھو۔

ادعوھم لاٰباھم ھو اقسط عنداللہ فان لم تعلموا اٰبائھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم ولیس علیکم جناح فیما اخطأتم بہ ولٰکن ماتعمدت قلوبکم وکان اللہ غفورا رحیماO(سورہ الاحزاب:آیت:5)
”انہیں انکے اصلی باپوں کے نام سے پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک پورا انصاف ہے۔ اگر انکے اصلی باپوں کا پتہ نہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اورتمہارے دوست ہیں۔اور اگر تم نے غلطی سے ایسا کیا تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں مگر یہ کہ تمہارے دلوں نے جو جان بوجھ کارنامہ انجام دیا اور اللہ غفور رحیم ہے”۔

 

عابد ! سبحان شاہ کی اولاد اورکرار خیل ہمار ے دینی بھائی اور دوست ہیں مگرسیدکبیر الاولیاء کی اولاد نہیں ۔ جب تک پتہ نہیں تھاتو خیر تھا ۔ جب پتہ لگا تو فیک اکاؤنٹ والے جو ہیں سو ہیں لیکن جو اچھے ہیں وہ ہمارے شجرہ کی طرف نسبت نہ کریں۔ پہلے میرا حقائق کی طرف دھیان نہیں گیا تو میری غلط فہمی کی وجہ کچھ اورتھی لیکن روایتی درایتی ذرائع اور ٹھوس حقائق یہی ہیں۔

دیانتداری کیساتھ سبحان شاہ کی اولاد میں آپس کی نفرت ختم کرنے کیلئے واضح کیا تھا کہ خانی سبحان شاہ کی وراثت نہیں تھی بلکہ لاوارث میانجی خیل سے عورت کے رشتہ سے منتقل ہوئی۔ تاکہ محروم افسوس نہیں کریں اوربراجمان اس پرفخر نہیں کریں۔

 

جاسوسیہ نے انگریزی خط میں جن جذبات کا اظہارکیا کہ خاندان دہشتگردوں کے حملے سے بدنام ہوگیا تو پردہ اٹھتا گیا ۔ جھوٹ کے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑگئے ۔ اگر بغیرماں باپ والے اکاؤنٹ باز نہ آئے تو پھر سچ بہت رُلانہ دے۔

پردے میں رہنے دو پردہ نا اُٹھاؤ
پردہ جو اُٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا
اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو
چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو
تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے
احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو
وہ ہاتھ میں آتا ہے اور ہاتھ میں نہیں آتا
سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو
گہرائی میں خطروں کا امکان تو زیادہ ہے
دریائے تعلق کو پایاب ہی رہنے دو
یہ مجھ پہ کرم ہوگا حصے میں مرے اے دوست
اخلاص و مروت کے آداب ہی رہنے دو
ابہام کا پردہ ہے تشکیک کا ہے عالم
تم ذوق تجسس کو بیتاب ہی رہنے دو
مت جاؤ قر یب اس کے ایک گہن بن کر
گھر میں اسے اپنا مہتاب ہی رہنے دو
جب تک وہ نہیں آتا اک خواب حسیں ہوکر
تم اپنے شبستاں کو بے خواب ہی رہنے دو
وہ برف کا تودہ یا پتھر نہ بن جائے
ہر قطرۂ اشک سیلاب ہی رہنے دو
وہ بحر فنا میں خود ڈوبا ہے تو اچھا ہے
فی الحال ظفر اس کو غرقاب ہی رہنے دو

 

عابد! آپ منہاج کیساتھ پشاور آئے اورمشترکہ خانقاہ کی استدعا کی جومیں نے مسترد کی۔ آپ کے والد نے آپ کے بھائی مولانا آصف کیلئے خواہش کا اظہار کیا کہ حیات آباد پشاور میں کوئی بڑی اور اچھی تنخواہ والی مسجد مل جائے۔ گھرکے قریب علماء مسجد پر لڑرہے تھے تو اگر میں امیرالدین سے کہتا کہ میرے لئے قبضہ کرنا توبھائی میری اتنی پٹائی لگاتا کہ نسلیں یاد رکھتیں۔ تعویذ، مسجد، مدرسہ اور سیاست کسی بھی عنوان سے مذہب کا دھندہ غلط ہے۔ میرے والد نے کہا: ”اگر عالم دین بن گئے تو میرے لئے اس سے زیادہ فخر کی کوئی بات نہیں لیکن اگر سحری کا کتا بن گئے تومیرے لئے بڑی شرمندگی کا باعث ہوگا”۔

سنگی مرجان محسودنے پرائیویٹ سکول سرکاری فنڈ کیلئے بلایا اور میری اکیڈمی شرائط پر پوری تھی۔6لاکھ میں3لاکھ کی واپسی لمبی مدت اورآسان اقساط پر تھی ،3لاکھ امداد تھی۔ اپنی ریاست تھی اور قوم کے بچوں کی خدمت کا پیسہ تھا لیکن سود ی معاملہ بھی شامل تھا اسلئے نہیں لئے۔ سنگی مرجان نے کہا کہ3لاکھ نقد میں سود نہیں۔ تو میں کہہ دیا معاہدہ پر دستخط نہیں کرنے۔ یہ تکبر نہیں تھا بلکہ ا ن کا اپنے دل میںبڑے بھائی کی طرح احترام تھا۔

 

عابد !گمشدہ قبریں، تن کے بغیر شجر اور فیک اکاؤنٹ مسائل کا حل نہیں۔ چند غیرتمند اور سنجیدہ افراد کو بٹھاکر ان کے نام کیساتھ ایک ایک مسئلے پر بات کرو اور تاریخ کو درست کرو۔

عابد!جن بجھتے چنگاریوں کو بجھانے کی تجویز ہے تو کس نے شہداء کے خون سے بجھانے پر میٹنگ کی ؟۔ ہماری بہن اپنے بچوں کیساتھ بیٹھ گئی تو ہمارے اور پشتو رسم میں فرق تھا اور جن کو طعنہ ملا کہ بے غیرت کی غیرت مزیدخراب کی گئی تو طعنہ زن کی بیویاں بٹھاکر100درجہ زیادہ بے غیرت بنادیا۔ ان کی بہن اور بچوں کے ذریعے پھر سبق بھی سکھادیا۔ پٹھان غیر مند قوم ہے جب پریکٹیکل داستانوں کا پتہ چلے گا تو معاشرتی انقلاب بھی آجائے گا اسلئے کہ غیرت اور بے غیرتی کی تمیز آئے گی۔

 

یوسف شاہ کو اگر بتاتا کہ طعنہ زنوں کی کتیا والی کردی توپورا مطمئن ہوجاتا۔دوسرا مسئلہ پیرشفیق کا ایک ملاقات کی مار ہے۔ اسکے والد نے قدر کی ۔اسکے بھائی نےPIAجہاز میںمیری عزت افزائی کی۔ پشتو فیصلہ کیا تو مسئلہ غیرت کا نہیں دھوکہ تھا۔ دھوکہ باز گلٹی وہ گلاٹیاں کھائے کہ سر و پچھاڑی کا پتہ نہیں چلتا۔ بے غیرتی پر ساتھ نہ دیتا ۔ قاری حسن شہید نے بتایا کہ دھوکہ اور غلط کیا ۔ حاجی رفیق شاہ نے کہا کہ میں نے بے عزتی سے بچایا اوروہ جانتا تھا۔حاجی عبدالرزاق نے کہا کہ اللہ سے عزیزوں کی دشمنی قہر مانگتاہوں۔ جس پر ڈاکٹر ظفر علی شاہ کانوں کو ہاتھ لگارہاتھا۔ لیکن کیوں کہا؟۔ لوگ تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔

 

وقت کرتا ہے پرورش بر سوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

 

پتہ تھا کہ اوقات نہ دکھائی تو شرہوگا۔ اگر دل بند ، مظفر شاہ اور منور شاہ کو دھوکہ سے قتل کروادیا تو طعنہ دھوکہ کھانے والے کو نہیں جاتا۔ دھوکہ باز ڈوب مرے۔جو شریعت، پشتو، فطرت، انسانیت، اخلاقیات سے عاری من شرما خلق ہیں اور من شرحاسد میں مبتلا ہیں۔ لالچ بری بلا ہے، لالچی بڑا دلا ہے۔ پرائے گو پر پدو مارنے والا نہیں جانتا کہ اپرکانیگرم میں ایک خان اور تھا لیکن اسکا نام وشان نہیں ۔تم چپکتی ڈھیٹ مٹی ہو۔

مظفرشاہ کے یتیموں کو کانیگرم کی خانی میں شریک کیا جاتا تو قربانی کا ازالہ ہوتا۔ پھر اس کی اولاد یہ تشہیر نہ کرتی کہ مظفرشاہ بہادری پر قتل ہو اور صنوبر شاہ بدکاری پر ۔پھرصنوبر شاہ کی اولاد نے مظفر شاہ کی اولاد کوبالکل اچھوت بناکر ہی دم لیا تھا۔

سیداکبر کا ایک نواسہ محمود اور دوسرا خان بابا پیرعالم شاہ تھا۔ محمود کے بعد خانی پیرعالم شاہ کو لوٹادیتے مگر اس کو داماد بنادیا۔ جو اپنی بس کی کمائی اپنے چچا پیرمبارک شاہ کے سکول کیلئے دیتا تھا۔ مونچھ لالا کی اولاد سے ماں جھوٹ بولتی بقیہ صفحہ ھٰذا نیچے ہے کہ خان بابا کی اولاد کا سوئی دھاگہ تک خرچہ اٹھاتے تھے۔
وزیر قوم کو انگریز کے نمک خوارنے بدنام کیا کہ امید خور ہیں لیکن انگریز کی لکھی کتاب میں نیٹ پر ہے کہ ”سید اکبر اور صنوبر شاہ نے بھاڑہ لیکر7 وزیر انقلابیوں کو شہید کیا تھا۔جن میں دو خاص افرادتھے”۔ ضمیر فروشوں کا ذکرہے مگر انقلابیوں کا نہیں۔ انگریز نے ہماری تہذیب وتمدن اور تاریخ کو مسخ کیا ۔ قرآن میںتاریخی واقعات واشگاف ہیں۔ بریت لالا، بغیر بریت لالا سے بے غیرتی کے عروج تک پہنچنے کی داستان ہے ۔الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی بے غیرتی اوربے حیائی ختم کرنی ہوگی۔

 

کیا سلطان اکبر نے قاتل پر جھوٹا الزام لگایا کہ ”عورت سے تعلق پر صنوبر شاہ کو قتل کیا؟”۔ تاکہ بدلہ نہ لینا پڑے اور پھر محسود عورت سے حسین شاہ کی شادی بدلہ لینے کیلئے کرائی تھی؟۔ سلطان اکبر کی اولاد جیسے استعمال کررہی ہے اور حسین شاہ کی اولاد جیسے استعمال ہورہی ہے تواسDNAسے یہی لگتا ہے۔

سبحان شاہ سے انگریز ناراض ہوا اسلئے اچھا ہوگا ۔ سیداکبر نے باپ سبحان شاہ اور بھائی صنوبرشاہ کو استعمال کیا تو صنوبر شاہ اچھا ہوگا۔ منورشاہ ، مظفرشاہ اور حسین شاہ نے قربانی دی اسلئے یہ سبھی اچھے اور نعیم شاہ کو سسرسلطان اکبر نہ روکتا توقربانی دیتا۔ سلطان اکبر کو سسر نے روکا ہوگا اور محمدامین شاہ اس وقت چھوٹا تھا لیکن انکے بعد جو تاریخ رقم ہوئی ہے تو اس کا کیا بنے گا؟۔

جھوٹ گاؤں کے گاؤں نہیں تاریخ بہاکر لے جاتا ہے۔

 

غیرت تو جٹ میں پشتون سے کم نہیں لیکن ایک دوسرے کا ماحول نہیں سمجھتے۔ احمد خان کھرل نے انگریز سے کہا: ” ہم اپنی زمین، اپنی عورت اور اپنا گھوڑا کسی کو نہیں دیتے”۔ اس غیرت پر یوسف رضاگیلانی اور شاہ محمود قریشی کی نسلیں قربان ہوں۔
حسین شاہ کو ماں نے والدصنوبر شاہ بریت لالاکے قاتلوں کا پیچھا کرنے سے پکڑلیاجسکے بیٹے گل امین نے والد اور چچوں کا خرچہ اٹھایا۔ بجلی بل تک چار گھروں کا مشترکہ خرچہ تھا تو پھر کیسے بول دیا کہ ”خان کیلئے ایک جوتا لایا تھا جو نہیں پہنا؟”۔ کانیگرم اور گومل میں شاندار گھر اور گاڑی تھی۔ اگر خرچہ نہ اٹھاتا توبڑی جائیدادخریدتا۔ محمدامین شاہ نے کنکریاں اٹھاکر کہا تھا کہ گل امین کے پیسوں کا شمارکرنااس طرح ممکن نہیں۔ حسین شاہ عبادت میںماموں بابا پرگیا۔ اس کی غیرت مثالی تھی لیکن بیٹے عبدالرؤف اور پوتے اسرار شاہ کوکیسے استعمال کیا گیاہے؟۔

 

شہریار دلے کی جان پر آئے تو کہے گا کہ بیوی نے قتل کروایا تاکہ بدعمل مو نچھ لالا سے جان چھوٹ جائے ۔ قاتل پر ملی بھگت کا بھی بہتان بعید ازقیاس نہیں۔ یوسف شاہ نے ٹھیک کہاتھا کہ قبضہ کے پیچھے سعدالدین تھا جو ثابت بھی کردیا ہے۔

 

ڈاکٹر ظفر علی تو بھائیوں سے زیادہ اچھا ہے۔ بھتیجی کے نکاح پر بغیر پوچھے وکیل بن گیاتوارشد شہیدکا نکاحOK۔جبکہ میری بھتیجی کا نکاح میں نے بھتیجے سے کرایا تو دوبارہ پڑھادیا۔ ڈاکٹر کے والداور میرے والد کی3،3 بیگمات کے رشتے چٹائی کے تنکے کی طرح ہیں۔ سعدالدین اپنی بیگم اور اس کی اولاد کو لوہار کہتاہے۔ عبدلائی کو میراثی قراردیا اور برکی کو ہلکا سمجھتا ہے۔

کانیگرم میںایک ہی محسود خاندان عبدلائی ہے جس نے سیدم برکی کو عورت کی بے عزتی اور غیرت پر قتل کیا۔ دیت کے بعد اس پر فائرنگ کی تو” تان قاتل محسود” سیدم کے والدکے سامنے آیا کہ چاہو تو قتل کرو اور چاہو تو معاف کردو۔ پھر سیدم کے غیرتمند باپ نے قتل کے بجائے معاف کردیا تھا۔محسود اور برکی قوم کی اسی فطرت پر علامہ اقبال نے شاعری کی ہے کہ

 

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
جو فقر ہوا تلخیٔ دوران کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی

ضیاء الدین نے کہا کہ زیب لالا کی وجہ سے پالتا تھا لیکن جب تھریٹ تھی تو کیا کیا؟۔ بعدمیں کیوں رکھا؟۔ اگر ہم ان کو پھینکتے تو کوئی نہ پوچھتا لیکن ہم نے چمٹائے رکھا تو وہ تعلق خراب کرتے؟۔ سردارامان الدین پروگرام میں آئے۔ منہاج نے کہا کہ آپ کی صفائی پیش کی کہ خود آیا تھا؟حالانکہ ضرورت نہ تھی ، ایک غلط خانی دلائی اورابھی تک باجگزاری نہیں چھوڑی۔ لیکن واقعہ کے بعد کیوں رکھا؟۔کیا صفائی پیش ہوسکتی ہے؟۔

عیب کا تعلق کردار ، ایمان، غیرت ، بے حیائی اور لالچ سے ہے ،نسل سے نہیں۔ پیر یونس نے سعودیہ کی نوکری چھوڑ دی اور چائینہ کمپنی کی پیشکش مسترد کی ۔ مفتی محمود کی غلط سفارش پر اہلیت کے باوجودپیر نواز ایک مرتبہ نوکری سے رہ گیا تو ساری زندگی سرکاری نوکری نہیں کی ۔ جبکہ دوسری طرف نوکری کیلئے بس نہیں چلتا ۔ مجھ سے بیٹوں کی نوکری کیلئے سبیل پوچھی گئی۔

 

میرے والد کہتے تھے کہ نماز پڑھ لی تو اچھا لیکن نماز پڑھنے سے اللہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور حاجت مند کی ضرورت پوری نہیں کی تو پکڑے گا اسلئے کہ اللہ اترکر بھوکے کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اسی طرح ظالم ، لالچی و کمینے لوگوں کا ہاتھ روکنا بھی ذمہ داری ہے اور اس پر ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔انشاء اللہ

 

وھو القاہر فوق عبادہ و یرسل علیکم حفظة ً حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لایفرطون ” وہ اپنے بندوں پر قاہر ہے اور تم پر محافظ بھیج دیتا ہے جب کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے فرشتے اس کو مار دیتے ہیں اور وہ رعایت نہیں کرتے”۔ (سورہ الانعام:61)

 

عزائیل کی طرح یہ کام اللہ انسان سے بھی لیتا ہے کہ جب کسی کی اخلاقی موت کا وقت آتا ہے تو ظالم کا کچومر اتارنے کیلئے اللہ کسی بندے کو کھڑا کرتا ہے۔ ایک بزدل ، لالچی، متکبر، ظالم ، بے حیاء اور بے غیرت جو قرار واقعی کی سزا کے مستحق ہیں اور دوسرے وہ جن پرلوگ دلوں کے آبلے پھوڑ رہے ہیں۔
ماموں کا جہاں بس چلا توکسی کی تذلیل میں کسر نہ چھوڑی۔ میں کمینہ لوگوں کی تذلیل میں آخری حد تک گزر تا ہوں اسلئے کہ انسان فطرت سے مجبورہوتا ہے۔ ماموں سعدالدین نے کہا:”میں غیرت اور خون بہانے میں اپنی ماں پر گیا ہوں”۔ مگراس نے اپنے ماموں سے کبھی تعلق نہیں رکھا۔غیرتمند ماموں کو چھوڑ دیا اور بے غیرت ہماری جان نہیں چھوڑتا۔ دوسراماموں ہوتا تو شہداء پر فخرکرتااور اپنے گھرپر کتوں کے ریلے کبھی نہ بٹھاتا۔

 

ان دلّوں اور دلّالوں نے ایک طرف خیبر ہاؤس میں ڈیرہ ڈالا تودوسری طرف شہداء کے40ویں پربھی نہ آئے ؟۔ خوف ولالچ کی ذلت سے مرنا بہتر تھا لیکن اب قعر مذلت کا کوب اپنی پیٹھ پرلئے گھومتے پھریں ۔ کہاں وہ شخص جو بارود لیکرحملہ کرنا چاہے اور کہاں وہ جو پالتاتھا؟۔ دونوں ایک نسل اور نسب کے لیکن ایک فخرابابیل اور دوسربڑاادلابادلیل اور ذلیل۔کوئی بھی جرگہ، عدالت، فورم اور میدان ہو ثبوت دوں گا۔انشاء اللہ

 

سنبیعکم ولٰکن لمن ؟یا مقطوع الدبرو الانف والذقن
ما علاقة بناالا الختن لستم نسل الکبیروالجیلی والحسن ان کیدکم بعون اللہ وفضلہ من بیت العنکبوت اوھن
کیف انسٰی یدور فی ذہنی دماء الضیوف الشہداء اثخن

”ہم تمہیں بیچیں گے مگرکس کو؟۔ اے کٹے ہوئے دبر، ناک اور ٹھوڑی والو!۔ تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں مگر عورتوں کے رشتے والا۔ تم کبیرالاولیائ ، جیلانی اورحضرت حسن کی نسل نہیں ہو۔ بیشک تمہارا مکر اللہ کی مدد اور فضل سے مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ کیسے بھول جاؤں،میرے ذہن میں مہمان شہداء کا خون گردش کررہاہے جو بہت زیادہ بہایا گیا” ۔

 

عابد ! پڑوسی نے عورت کے مسئلے پر تین افراد کو قتل کیا۔ یوسف نے کریم کا رشتہ چھین لیا تو افسوس کی جگہ سبحان شاہ کی اولاد خوشی منارہی تھی۔ الیاس و عبدالمنان کسی نتیجہ پر پہنچ گئے۔ میرا جس طبقے سے واسطہ پڑا۔ یہ بے غیرتی، لالچ، طعنہ زنی، الزام تراشی ، حسد وبغض ، گالی اور غرور وتکبر سے لداہواہے۔

دوا پنجہ کی تقسیم میں ہماری50کنال زمین تھی۔ایک بے غیرت سے کہا کہ والد نے2کنال مسجد کیلئے دی تو اس نے کہا کہ ہم30کی جگہ32دیں گے۔جبکہ ان کی کل30کنال تھی ،20کنال یوسف کی تھی، مسجد کی کاٹ کر18واپس کی ۔ بھوک ، بھیک اور لالچ سے بھی مرتے ہیں اور تکبر بھی ہے۔جو کچھ انکے ساتھ ہوا ،میں تو صرف تاریخی آئینہ دکھارہا ہوں۔

30 میں ریاض کا حق ساڑھے7کنال مگر3ملی ۔ چچا انور شاہکی دن کی کمائی تنخواہ کے برابر تھی۔1500کنال سرکاری ریٹ پر زمین میرے والد کو واپس کردی۔ لالچ ہوتی تو جاگیر بناتا یازیادہ قیمت پر بیچ دیتا۔ بیوہ بہن کے ہاں عارضی گھر شاید اسلئے بنایا کہ کوئی زرداری کٹ نہ مارلے۔ قسمت خان نے گھر کیلئے مفت زمین کی پیشکش کردی ۔خریدی اسلئے نہیں کہ شفہ کا خوف بجا تھا ۔کوئی بے شرم بلا تھا۔اس نے انگریز میجر کی پٹائی لگائی تھی اور شرافت کا پیکر کہتا تھاکہ” یہ فیڈر پر چلتے ہیں، جس دن فیڈر بند کیاتو چلائیں گے”۔ ان کے پیٹ کا مروڑ اب بھی میں جانتا ہوں۔گالیوں کے ذریعے بے نقاب اسلئے کررہا ہوں کہ جو نہیں پہچانتے وہ اس دفعہ ان کو خوب پہچان لیں۔

 

اگر کبھی تیرے آزار سے نکلتا ہوں
تو اپنے دائرۂ کار سے نکلتا ہوں
کبھی اس کے مضافات میں نمود میری
کبھی میں اپنے ہی آثار سے نکلتا ہوں
وداع کرتی ہے روزانہ زندگی مجھ کو
میں روز موت کے منجدھار سے نکلتا ہوں
رکا ہوا کوئی سیلاب ہوں طبیعت کا
ہمیشہ تندیٔ رفتار سے نکلتا ہوں
اسے بھی کچھ مری ہمت ہی جانیے جو کبھی
خیال و خواب کے انبار سے نکلتا ہوں

 

دوا پنجہ کی تقسیم۔ یہ الٹی گنگا دیکھئے گا

ریاستی ادارے عدالت، پولیس، فوج ، سول بیوروکریسی اور علماء کے کردار پر بحث کے بجائے اپنے گھر کا معاملہ تو ٹھیک کریں۔
مظفر شاہ کم بخت لالا صنوبر شاہ بریتو لالا منور شاہ چشم بدورلالا

4بیٹے 4حصے 3بیٹے 6حصے 1بیٹا 5حصے

کانیگرم میں سبحان شاہ کی اولادنے یہی زمین موروثی مال سے خریدی۔ منور شاہ کابیٹا نعیم،پوتا خالام ۔ گومل و کانیگرم میں مظفر شاہ کے بیٹوں ،پوتوں پرظلم کیامگر ہمارے شیرسے کانیگرم میں مٹی پلید کرادی توبہانہ کیاکہ میں سمجھا بیٹھک ہے۔ پھر اسی پر قبضہ ہوا تو غیرت سلیمانی ٹوپی میں چھپادی۔ قصائی نے کسی کو گالی دی تووہ گاہک کو مارنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں نے تو گالی نہیں دی؟۔ وہ کہنے لگا کہ اسکے ہاتھ میں ٹوکا ہے۔ جہاں غیرت کا تقاضہ تھا اور ٹوکا بھی نہیں مگر وہاں منافقت کھیلی گئی۔

 

عابد!تمہاری سیاست قسمت خان تک کنڈیکٹری گالی تھی1970قیوم خان ،1977مفتی محمود ،طالبان ،PTMہرچڑھتے سورج کے پجاری چمٹتے تو چماٹ ماری ۔ جب تک سورج چاند رہے گا، لالچ کا ستارہ ماند رہے گا۔ مظفر شاہ اور اس کی اولاد قربان ہوئی۔ حسین شاہ نے قربانی دی۔ محمدامین شاہ نے کشمیر کا جہاد لڑا۔پھر دواپنجہ کی تقسیم اورمزیدقبضے کااصل کردار سعدالدین اور دعویداریوسف شاہ تھا۔ میں نے عبدالوہاب سے کہا:”اس ظلم کے بدلے اپنی زمین نہیں لو” ۔ پیر داؤد سے جو زمین لی ہے تویہ شریعت اور نہ ضرورت بلکہ بری لالچ اورکھلی بدمعاشی ہے ۔ علی نے فرمایا کہ الطمع رقی مؤبد ”لالچ ہمیشہ کی غلامی ہے”۔اگر کہہ دیاکہ علی کی اولاد ہو تو زمین واپس کرو۔ توکہیں گے کہ یزید کی سہی مگر واپسی نہیں ۔ امام علی نے فرمایا:3سے دوستی نہ کرو۔ لالچی بیچ دے گاتو پتہ بھی نہ چلے گا۔ بزدل چھوڑ دے گا اور کم عقل فائدے کی جگہ نقصان پہنچائے گا۔

 

لالچ کے سمندر میں ایماں کی کشتی ہے
ہر قوم زمانے میں یہ دیکھ کے ہنستی ہے
جس قوم نے بھی اپنی تہذیب مٹا ڈالی
وہ قوم زمانے میں عزت کو ترستی ہے
گرد لالچ کی جمی ہے کس قدر افکار پر
کون جانے کیا لکھا ہے وقت کی دیوار پر
کاٹ ڈالا باغباں نے کتنے ہی اشجار کو
آشیانے تھے پرندوں کے انہی اشجار پر

اپنے ہاں بھانجے اور نواسے کی بچپن پر شرم آتی تھی۔ شہریار عطاء اللہ شاہ کا سوتیلا بھانجا تصویرکھنچواتے وقت کاندھے پر رکھا تو بڑا غصہ کیا ۔ جہانزیب کی پیدا ئش پر نانا اقدار کے مطابق قطعاًنہ آتااوربات چیت بھی بند تھی۔ہماری ہمدردی مظلوم مامی کیساتھ تھی۔ ماموں دوسری بیگم کا زن مریدتھا مگر جونہی پتہ چلا کہ چائے کے ڈبے نہیں پیسہ آیا تو گھر پہنچا ۔ بجلی نئی آئی تھی ، میٹر ہماری وجہ سے ماموں نے بہت اندر لگایا۔ہم نے جانا تھا اور میٹر لگانا نہیں تھا۔پل پل میں آنکھ بدلتی دیکھی۔پیرفاروق کے والدکو چکی والاتذلیل سے کہتے۔ پھراس کی چکی سے جٹہ بجلی پہلے آئی۔ عزت وذلت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بے شرموںکا جھوٹ بھی تذلیل کا ہے شکر ہے کہ ریاض سے میں نے پوچھا۔

 

ماما کی پارٹنری کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ گنا کاٹنا مسئلہ نہ تھا مگر انکے کھیت کو ہاتھ لگانا بڑا جرم تھا۔ لڑائی پر معانی مانگنے آتے دیکھ کر نثار نے علاء الدین سے خود آگے بڑھ کر معافی مانگی کہ وہ عمر میں بڑے تھے۔ علاء الدین، عطاء اللہ، عالمگیرشاہ اور ڈاکٹر ظفر علی سبھی اچھے ہیں ۔البتہ ہنڈلروں نے کام خراب کیا تھا۔ اگر میں نہ ہوتاتو پیر غفار کو مجبور کیا جاتا کہ الیکشن ہاراتو گھر بار بیچو اور خود چھپتے اور دیگر کو استعمال کرتے ۔اگر یہ دلے نہ ہوتے تو رشتہ دار ،پڑوسی کانیگرم ، گومل میں سبھی قابلِ فخر تھے۔ایک مچھلی تالاب کو گندا کرتی ہے تواگر ہاتھی گرجائے تو؟۔ فیک اکاؤنٹ سے جتنی زیادہ بدبو آئے گی ، بزدلی اور کمینگی سامنے آئے گی۔

 

میں نے پڑوسی عبدالرحیم کا ٹریکٹر لگایا اور پھر خیال آیا اس کی دوسرے پڑوسی سے رشتہ کے معاملہ میں دشمنی تھی تو اس سے کہا کہ میں نے غلطی کی کہ آپ کولگایا۔ وہ ڈرتا تھا مگر میری وجہ سے کام کیا پھر بعد میں اس کو بھائی اور دوست سمیت قتل کردیا۔ یہ ہیں اقدار کہ مجھے بھی احساس تھا اور میرا بھی لحاظ رکھا گیا۔ لیکن مجھ پر فائرنگ کے بعد میرے بچے اور دوست خطرے میں تھے اور دشمن پل رہا تھا۔ جو کمینہ پن کی انتہا تھی اور میں نے منہاج سے کہا تھا کہ مجھے کچھ ہوا تومیرے بچے نقاب پوش نہیں پالنے والے سے بدلہ لیںگے۔ پھر واقعہ کے بعد بھی یہ گھرانہ پالنے میں تھوڑی شرم نہ کھاتا اور دوسری طرف رقم اور مفادات بٹورنے کیلئے چمٹا رہتا۔ ابھی ایک اشارہ پر مفاد کیلئے دوڑتے آئیں گے لیکن مفاد نہ ہو تو آنکھیں پیشانی پر رکھ لیتے ہیں۔ مظفر شاہ کی اولادکا طالبان بننا فطری تھا اسلئے کہ انقلابی پیر کے مرید تھے۔ محمد امین شاہ جہاد کشمیر اور تبلیغی جماعت میں گئے۔ حسین شاہ نیک تھے مگرماموں لوگوں کا تو دینداری اور پشتو سے کوئی تعلق نہیں۔ کہاں3افراد کا قتل کہ رشتہ لیاہے توپھردیتے کیوںنہیں ہو ؟۔ کہاں یہ جلن کہ بیٹی تھوپی ہے تو پھر بہن لیتے کیوں نہیں ہو؟۔ سورہ قلم میں خالد بن ولید کے باپ ولیدبن مغیرہ کو کتنی گالیاں پڑیں؟۔رئیس المنافقین کردار نمایاں تھا۔ سبحان شاہ کی اولاد مجھے اپنے چچازاد بھائیوں سے کم نہیں لگتی ۔ میرے کہنے پرTVنکال دئیے۔ سبحان شاہ کی غیرتمندبیٹی نے اپنے لخت جگر کے خون سے اپنا منہ دھویا اور اگر لوگ یہی کردار اپناتے توپھر فوج اورطالبان سے یہ گلے کا ترانہ نہ گاتے کہ ”ہمارے جوان قتل ہورہے ہیں ۔ہمارے گھر گر رہے ہیں”۔ قرآن نے حکمران کی اصلاح سکھائی کہ میرے پاس ایک دنبی اور اسکے پاس99دنبیاں۔ وہ ایک بھی چھینا چاہتاہے ۔اگر صحیح کردار پر آئیں توپھر امن وامان بھی قائم ہوجائیگا۔ انشاء اللہ

گالی پر نام لکھو!تو5ب بیوی، بہن، بھائی ، بیٹی ، باپ سے اپنے کرتوت کے باعث یاد گار بسم اللہ دیکھو۔ پھر احسان بھی بتادوں گا جس کو تم مانوگے اور انقلاب بھی آئے گا۔انشاء اللہ

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کے ناؤ پر
تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv