پوسٹ تلاش کریں

قرآنی آیات کا درست ترجمہ اور تفسیر

قرآنی آیات کا درست ترجمہ اور تفسیر

یا ایھا الذین اٰمنوا لا تدخلوا بیوتًا حتٰی تستأنسوا وتسلموا علی اھلھا ذٰلکم خیر لکم لعلکم تذکرّونOفان لم تجدوا فیھا احدًا فلا تدخلوھا حتٰی یؤذن لکم وان قیل لکم ارجعوافارجعوا ھو ازکٰی لکم واللہ بما تعملون علیمOلیس علیکم جناح ان تدخلوا بیوتًا غیر مسکونة فیھا متاع لکم واللہ یعلم ماتبدون وماتکتمونO(سورہ النور:27،28،29)
ترجمہ”اے ایمان والو! تم داخل مت ہو گھروں میں یہاں تک کہ تم مانوس ہوجا ؤاور انکے اوراس گھروالوں پر سلام ڈال دو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اگر اس میں کسی کو موجود نہیں پاؤ تو پھر لوٹ جاؤ۔اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو پھر لوٹ جاؤ ،اس میں تمہارے لئے پاکیزگی ہے۔ اللہ جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں داخل ہو جن میں کوئی رہائش پذیر نہ ہو جن میں تمہارے لئے گزر بسر کے وسائل ہوں۔اور اللہ جانتا ہے کہ جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو”۔
جب تک مانوسی کا تعلق نہ ہو تو گھر میں داخلے سے روکا گیا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ وہی لوگ کسی کے گھر جاتے ہیں جن سے انسیت ہو۔ اگر یہ بات عام کردی جائے تو کہا جائے گا کہ بہت اعلیٰ اقدار کے تہذیب یافتہ لوگ ہیں۔ ان الفاظ کا ترجمہ اجازت کیا گیا ۔ قرآن کے مخالف عرب نے اعتراض کیا ہے کہ اذن کیلئے قرآن نے غلط لفظ استعمال کیا ہے لیکن اس حقیقت کو یہ لوگ نہیں جانتے کہ جہاں اجازت کی بات ہے تو وہاں اللہ نے اذن کی بات کی ہے اور یہ اجازت کی بات نہیں مانوس ہونے کی وضاحت ہے ۔ ترجمہ وتفسیر غلط کیا گیاہے۔
پھر اللہ نے وضاحت کردی کہ اگر مانوسی کے باوجود گھر میں کوئی نہ ہو تو داخل نہ ہو۔ اگر لوٹنے کا کہا جائے تو لوٹ جاؤ۔ جس رہائش گاہ میں کوئی نہ ہو ، جیسے کوہِ سلیمان کی چوٹی تحت سلیمان پر عوام نے سہولت کیلئے بنائی ہے اور جہاں لوگوں کا ایسا مہمان خانہ ہوتا ہے جس میں رہائش نہیں ہوتی اور استعمال کیلئے اجازت ہوتی ہے۔ تاکہ اس سے فائدہ اٹھائیں جو ان کیلئے جائز ہے۔ جائز اور ناجائز میں معمولی معمولی احساسات کا بھی پورا پورا ایمان اجاگر کرنے والا قرآن کسی کے گھر میں گھس کر اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کو کیسے بارود سے اڑاسکتا ہے؟ اس کو اسلام کا نام دینا اسلام ، انسانیت اور پشتو کی توہین ہے۔ :”اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو ”۔ تاکہ نتائج کے اعتبار سے انسان اپنا ہر عمل اللہ کیلئے کرے اور اگر ظاہر آیت پر عمل لیکن نیت خراب ہو تو بھی پکڑسے ڈرے۔
قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذٰلک ازکٰی لھم ان اللہ خبیر بمایصنعونOوقل للمؤمنات یغضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ماظھر منھا و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن ولا یبدین زنتھن الا لبعولتھن او اٰٰبآئھن اواٰباء بعولتھن ……(سورہ النور:30،31)
ترجمہ ” کہہ دو مؤمنوں کو کہ اپنی نظروں کو شہوت سے بچاؤ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔ اسی میں ان کیلئے زیادہ پاکیزگی ہے اور اللہ جانتا ہے جو وہ تدبیر کرتے ہیں۔اور مؤمنہ عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظروں کو شہوت سے بچاؤ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔اور اپنا حسن ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے شوہر کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھتیجوں کے سامنے یااپنے بھانجوں کے سامنے یا اپنی عورتوں کے سامنے یا اپنے معاہدہ والوں کے سامنے یا ان تابع آدمیوں کے سامنے جن کو عورتوں میں رغبت (شہوت )نہ ہو یا بچے کے سامنے جن کے سامنے عورت کے پوشیدہ راز عیاں نہ ہوںاور مٹک مٹک کر اپنے پاؤں نہ چلائیں کہ جس سے ان کی خفیہ زینت کا پتہ چل جائے۔ اور اللہ کی طرف سب توبہ کرواے مؤمنوں ہوسکتا ہے کہ اللہ تمیں کامیابی عطا فرمائے”۔
اللہ نے انسان کو اپنی نظریں شہوت سے بچانے کا حکم دیا جس کا تعلق پوشیدہ اور ظاہر ی جذبے سے ہے اسلئے مردوں اور عورتوں کو نظروں کیساتھ شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم ہے۔ حدیث ہے کہ آنکھ ،ہاتھ اور قدم بھی زنا کرتے ہیں۔ شہوت کی نظر اور شہوت سے چھونے کے الگ احکام ہیں۔نام نہاد مذہبی اقتدارکا ماحول ہو تو یہ حکم جانوروں، پرندوں اور حشرات الارض کو ہوسکتا ہے ، انسانوں کو نہیں۔ اللہ نے اپنے گھر کعبہ میں مخلوط ماحول کی ممانعت نہیں فرمائی بلکہ نماز، طواف، صفا و مروہ کی سعی میں مرد اور عورت شریک ہیں۔ مولانا منظور احمدمینگل کی مینگل بروزن بینگن والی ویڈیو بڑی مشہور ہے اور اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ والد ہ نے کہا کہ مردوں کے پیٹ پہلی مرتبہ مولویوں کے دیکھے ۔یعنی محترمہ نے بہت سارے مرد پہلے دیکھے اور بعد میں بھی لیکن اپنی نظروں کو غلط استعمال نہ کیا ۔ یہ اسلامی تعلیم ہے ۔ مفتی منظور مینگل قرآن کی درست تفسیر بیان کریں۔اپنی زبان میں احتیاط کریں۔ غلیظ بات کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اپنی ماں کو گالی نہ دو، صحابہ نے پوچھا اپنی ماں کو کون گالی دے گا تو نبیۖ نے فرمایا کہ کسی کو گالی دو گے تو تیری ماں کودے گا۔ انور مقصود نے مولانا فضل الرحمن کا کہا تھا کہ اس کی ماں نہیں صرف باپ ہے۔ مولانا نےPTIوالیوں کو تتلیاں قرار دیا اور کہا کہ انکے پاؤں کے تلوے گالوں کی طرح نرم ہیں اور گالوں اور پاؤں کے تلوؤں کو شہوت کی نظر سے دیکھا جائے تو پھر حسن نساء پر نظروں کی شہوت کا کیا عالم ہوگا ؟۔
نظروں اور شرمگاہ کی حفاطت مرد اور عورت کے اپنے اپنے اختیار میں ہے۔ اگر پشتون ، پنجابی، سرائیکی، بلوچ اور سندھی کا روایتی کلچر دیکھا جائے تو وہ اسلام کے عین مطابق تھا۔ سعودی عرب، ایران اور افغانستان نے مذہب کے نام پر قرآن نہیں بلکہ خود ساختہ مذہبی تصور مسلط کردیا۔ سینے پر دوپٹہ لپیٹنے کا رواج مسلمان نہیں ہندو، سکھ اور بدھ مت میںبھی تھا اور یہی اسلام کا تقاضا تھا۔ اردو میں عورت کے سینہ کو حسن النساء کہتے ہیں اور اللہ نے دوپٹہ سے اسی کو ڈھانکنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر غیرمحرم نہ ہو اور معمول کا ماحول ہوتو یہ بھی نہیں۔ اگر قرآن کا صحیح پیغام پہنچتا تو لوگ دل وجان سے قبول کرتے۔ اللہ نے مٹک مٹک کر چلنے سے روکا اور یہ بھی بالکل ایک فطری بات ہے۔
مولانا فضل الرحمن لوگوں کو بتائیں کہ شیطان نے کس بات پر قسم کھائی تھی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور وہ کونسا شجر نسب تھا ، جس کے قریب جانے سے اللہ نے حضرت آدم وحواء کو روک دیا تھا لیکن پھر شیطان نے ورغلایا اور اللہ نے اولاد آدم کو بھی اس سے دنیا میں روکا ہے جس پر جنت سے نکالا گیا تھا؟۔
فرمایا: ” اور اے آدم رہو آپ اور آپ کی بیوی جنت میں پس کھاؤ جیسے چاہو مگر اس درخت کے قریب مت جاؤ! توپھر ہوجاؤگے ظالموں میں سے پھر ان دونوں کو شیطان نے وسوسہ ڈالاتاکہ ظاہرہوںدونوں کو ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپی تھیںاور کہا کہ تم دونوں کے رب نے تمہیں نہیں روکا اس شجر سے مگر اسلئے کہ تم فرشتے بنو یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ اوردونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہارا خیرخواہوں ہوں پھر انہیں دھوکے سے مائل کیا پھر جب شجر کا ذائقہ چکھاان دونوں کو اپنی شرم گاہیں دکھ گئیں اور باغ کے پتے جوڑنے لگے اپنے اوپر تو ان دونوں کوانکے رب نے پکارا کہ کیا میں نے اس شجر سے تمہیں روکا نہیں؟ اور تمہیں نہیںکہا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔دونوں نے کہا کہ اے ہمارے ربّ! اگر آپنے ہمیں معاف نہیں کیا اور ہم پر رحم نہ کیا توضرور خسارہ پانے والوں میں ہوں گے۔فرمایا، پستی میں اترو، ایک دوسرے کے تم دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک خاص وقت ٹھکانہ ہے۔ فرمایا، اسی میں تم زندگی پاؤگے اور اسی میں مروگے اور اسی سے نکالے جاؤگے۔ اے بنی آدم! ہم نے اتارا ہے تم پر لباس جو تمہاری شرمگاہوں کوڈھانکتا ہے اور آرائش کرتا ہے اور تقویٰ کا وہ لباس بہتر ہے ۔یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔اے بنی آدم ! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالے جیسے تمہارے والدین کو جنت سے نکالا،ان سے انکے کپڑے اتراوادئیے تاکہ ان کو انکی شرمگاہیں دکھائے۔ بیشک وہ تمہیں دیکھتا ہے وہ اور اس کا جیسا جہاں تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیاطین کو ان کا حاکم بنایا جو ایمان نہیں لاتے اور جب یہ فحاشی کے فعل کا ارتکاب کردیتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی اس پر پایااور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا۔ کہوکہ اللہ نے فحاشی کا حکم نہیں دیا ۔ کیا تم اللہ پر و ہ بات کرتے ہو جوتم جانتے نہیں ؟۔ کہو کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا اور ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے کرو اورخالص فرمانبردار ہوکر اس کو پکارو۔جیسے تم تھے اللہ تمہیں ویسے لوٹائے گا۔ ایک گروہ نے ہدایت پائی اور دوسرے گروہ پر گمراہی ثابت ہوچکی۔انہوں نے شیطان کو اپنا حاکم بنا لیا اور خیال یہ کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں”۔(الاعراف:19تا30)
جماعت اسلامی کے بانی مولانا موددی نے پردہ پر کتاب لکھی اور گھر میں مرد باورچی اور کام کاج کیلئے کئی جوان رکھے تھے۔ سہیل وڑائچ نے ان کے بیٹوں کا انٹرویو کیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار نے بتایا تھا کہ بعض علماء اسلئے ان کو چھوڑ کر گئے تھے۔ اگر پاکستان میں سیاستدانوں کی بیگمات، بیٹیاں ، بہو اور سالیاں پارلیمنٹ میں آسکتی ہیں تو طالبان کو نہیں سمجھا سکتے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ختم کی جائے؟۔ جمعیت علماء ہند کی شریعت ہندوستان، جمعیت علماء اسلام کی شریعت پاکستان اور طالبان کی شریعت افغانستان میں الگ الگ ہے ؟۔
پردے کے احکام سمجھنے کیلئے مزید آیات ملاحظہ فرمائیں۔
والقواعد من النساء الٰتی لایرجون النکاحًا فلیس علیھن جناحًا ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمOلیس علی الاعمٰی حرج ولا علی الاعرج حرج ….
اور اپنی ریٹائرڈ کی عمر کو پہنچنے والی عورتیں جن کو نکاح سے کوئی رغبت نہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ کپڑے اتاریں اپنے سینوں کے ابھار کے بغیر اور اگر عفت کریں تو ان کیلئے بہتر ہے اور اللہ سنتا اور جانتا ہے۔ کسی اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے پر اور نہ مریض پر اور نہ تمہاری اپنی جانوں پرکہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر وں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں یا اپنے بھائی کے گھر وں یا اپنی بہنوں کے گھروں یا اپنے چچوں کے گھر وں یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں یا اپنے ماموؤں کے گھروں یا اپنے خالاؤں کے گھروںیا جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیںیا تمہارے دوست کے ۔ تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے کھاؤ یا الگ الگ ۔ جب گھروں میں تم داخل ہو تواپنے لوگوں پر سلام ڈالو جو اللہ کی طرف سے عمدہ مبارک دعا ہے۔اس طرح اللہ تمہارے لئے آیات کو بیان کرتا ہے ہوسکتاہے کہ تم سمجھ لو”۔ (النور60،61)
پوری دنیا میں یہ ایسے رشتے ہیں جہاں اس آیت کے عین مطابق عمل ہوتا ہے لیکن ترجمہ و تفسیر کو بگاڑنے کے عمل نے مسلمانوں کو قرآن سمجھنے سے دور کردیا ۔ بخاری کی روایت ہے کہ صحابی دلہا اور صحابیہ دلہن اپنے ولیمہ میں اپنے دوستوں کی خود خدمت کررہے تھے لیکن افسوس کہ بخاری نے اس کا عنوان دلہا ولہن کی خدمت کے بجائے برتن کے استعمال کا رکھ دیا ۔ چونکہ عوام میں اسلام پر عمل ہورہاتھا تو غلط مذہبی تصورات پرمسلم معاشرے میں کوئی عمل نہیں ہوسکا۔سید عبدالقادر جیلانی سے سیدکبیرالاولیائ اور میرے دادا پردادا اور والد بھائیوں تک کہیں شرعی پردے کا تصور نہیں تھا ، سب سے پہلے میں نے ہی اس پر عمل کیا اورپھر پتہ چلا تو سب کو حقائق سے آگاہ بھی کیا۔
ایک طرف مسلمان معاشرہ اتنا جاہل ہے کہ40سال قبل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ساس اور داماد کے ناجائز تعلق پر بے خبری کی وجہ سے فتویٰ پوچھا جاتا تھا تو دوسری طرف انتہائی بے غیرت لوگ محرمات بیٹی اور بہو پر بھی ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ آج علم، غیرت ، سزا وجزا کا قانون سبھی موجود ہوں تو معاشرہ سدھر سکتاہے۔ پہلے ایکPTVہوتا تھا پھرVCRآیا اور پھر کیبل آگیا اور اب فون سے فحاشی ہاتھوں میں پہنچ گئی جس کا علاج صرف اسلامی علم، روحانی وجسمانی ماحول اور سزا ہے۔
آج ترقی یافتہ معاشرے میں جو ماحول ہے تو لونڈیوں کی بہتات کا ماحول کیا اس سے کم تھا؟۔ جس کے کاندھے، ہاتھ بازؤں تک، پیٹ اور پیٹھ اور ٹانگیں بالکل ننگی ہوا کرتی تھیں۔
وانکحوالایامٰی منکم والصٰلحین من عبادتکم ….
” اورنکاح کراؤ اپنی طلاق شدہ وبیوہ عورتوں کا اور اپنے صالح غلاموں اور لونڈیوں کا ،اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ امیر بنادے گا اپنے فضل سے۔ اور عفت اختیار کریں جب تک نکاح نہ کرنے پائیں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے نواز کر مستغنی بنادے اور جو لوگ معاہدہ چاہتے ہیں اپنے غلاموں سے تو معاہدہ کرلو اگر اس میں تمہیں خیر نظر آئے۔ اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت (یا بدکاری) پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہیںتاکہ تم اپنے دنیاوی مفادات تلاش کرواور جس نے ان کو مجبور کیا تو اللہ ان کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے”۔ (سورہ النور32،33)
اس کا ترجمہ اور تفسیر بھی بہت غلط کیا گیا ہے۔ غلام کیساتھ بھی نکاح کی اجازت ہے اور اس کے پاس حق مہر نہیں ہوتا ہے لیکن معاہدہ لکھا جا سکتا ہے اور اس سے مال لینے نہیں اس پر مال خرچ کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ مولوی کو گنگا الٹی بہتی نظر آتی ہے۔پھر اس سے زیادہ بھیانک بات یہ ہے کہ اگر لونڈی پاک دامن رہنا چاہتی ہے تو اس کو بدکاری پر مجبور مت کرو۔ یہ اسلام نہیں بھڑوا گیری کا ماحول ہے اور اس سے بھی زیادہ بدتر ہے جو مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے حیدر آبادی ماموں کا بتایا تھا۔
یا نسآء النبی لستن کاحد من النساء ان تقین فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولن قولًا معروفًاOوقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرالجاھلیة الاولیٰ ……(سورہ الاحزاب32،33)
”اے نبی کی عورتو! تم دیگر عورتوں کی طرح نہیں اگر تمہیں خوف ہو توپھر نرم گفتگو مت کرو تواس کو طمع پیدا ہو جسکے دل میں مرض ہے اور معروف طریقے سے گفتگو کریں اور اپنے گھروں پروقت گزارو اور پہلی جاہلیت کی طرح ابھار مت اٹھاؤ ۔اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو ، بیشک اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندکو دور کردے اے اہل بیت اورتمہیں بالکل خوب پاک کردے ”۔
برج اٹھان کو کہتے ہیں۔ عورت کے سینے کا اٹھان حسن النساء ہے۔ دورجاہلیت میں سینے کو اٹھایا جاتا تھا۔ عرب ننگے طواف تک بھی کرتے تھے۔ جہاں ماحول خطرناک ہو تو پھرفرمایا:
یاایھا النبی قل ل لازاجک و بنٰتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلایؤذین ……….(سورہ الاحزاب:59سے63)
اے نبی اپنی ازاج ، بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہو کہ اپنی چادروں کا حصہ اپنے اوپر لٹکادیںیہ ادنیٰ ہے تاکہ پہچانی جائیں تو اذیت نہ دی جائے اور اللہ غفور رحیم ہے اوراگر باز نہیں آئے منافق اور جنکے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں افواہ پھیلانے والے پھر ہم تمہیں مسلط کرینگے تو پڑوس میں نہ رہیں گے مگر کم۔ ملعون جہاں ثقافت ان پر قائم ہوپکڑ ا جائے اور قتل کیا جائے۔ یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں بھی تھی جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کی سنت کو تبدیل نہیں پاؤگے۔لوگ آپ سے اس وقت کے بارے میں پوچھتے ہیں ،کہہ دو کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور آپ کو خبر نہیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ قریب آچکا ہو”۔
قیامت مراد نہیں بلکہ وہ انقلاب مراد ہے جب کوئی منافق ، دل کے مریض اور افواہیں پھیلانے والوں کو جہاں پایا جائے تو قتل کردیا جائے گا۔ فتح مکہ کے بعد لوگوں نے دیکھ بھی لیا تھا اور اسلامی انقلابِ عظیم کے بعد بھی دیکھ لیں گے۔ انشاء اللہ العزیز

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مشہور افغانی طالبان رہنما شیخ القرآن والحدیث عبدالحمید حماسی نے حلالہ کے مرتکب کو گناہ کبیرہ میں ملوث قرار دیا

مشہور افغانی طالبان رہنما شیخ القرآن والحدیث عبدالحمید حماسی نے حلالہ کے مرتکب کو گناہ کبیرہ میں ملوث قرار دیا

افغان عالم مشہور مدرس شیخ القرآن والحدیث معتدل مزاج عبدالحمید حماسی نے اپنے درس میں کہا
بعض کے نزدیک سارے گناہ کبیرہ ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں کسی کو گناہ صغیرہ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن ان کے نزدیک بھی گناہ صغیرہ کاانکار نہیں بلکہ وہ اس کے قائل ہیں کہ گناہ کبیرہ کی بہ نسبت گناہ صغیرہ بھی ہیں۔ طالبو! یہ بات زندگی میں پہلی بار ہی سن رہے ہوں گے کہ حلالہ کرنے والا اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے تو اس پر رسول اللہ ۖ نے لعنت فرمائی ہے اور یہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔ آج شیخ عبدالحمید حماسی نے ایک طر ف حلالہ کو حدیث کے مطابق لعنت قرار دیا اور حلالہ کرنے والا اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے تو دونوں کو گناہ کبیرہ کا مرتب قرار دیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بات کا بھی کھل کر اظہار کردیا کہ ”علماء اور طالبان یہ بات پہلی مرتبہ سن رہے ہوں گے”۔
برصغیر پاک وہند کے علماء ومفتیان نے حلالہ کی لعنت سے خاندان تو بہت جوڑ دئیے لیکن عزتوں کا بھی لنڈا بازار لگادیا ۔ معروف حنفی محمود بن احمد بن موسیٰ شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی (پیدائش30جولائی1361، وفات14 دسمبر1451) نے اپنے بزرگوں کے حوالہ سے لکھ دیا کہ ”اگردل میں نیت یہ ہو کہ اس حلالہ کے ذریعے دو خاندان مل جائیں گے توپھر یہ کارِ ثواب ہے”۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حلالہ بڑاگناہ بھی ہو اور اس کو کارِ ثواب بھی قرار دیا جائے تو علماء و مفتیان کے اس تضاد کا کیا نتیجہ نکلے گا؟، دیوبندی بریلوی اور پنج پیری ودیوبندی کے علماء کا مختلف معاملات پر اختلاف ہے۔ ایک چیز کوایک ٹولہ بدعت اور دوسراکارِ ثواب قرار دیتاہے، مذہبی طبقات کی یہ روش بہت پرانی ہے۔ مالکی وحنفی مسلک میں اکٹھی تین طلاق دینا ناجائز، گناہ اور بدعت ہے اور شافعی مسلک میں اکٹھی تین طلاق دینا جائز ،مباح اور سنت ہے۔ امام اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب ”صحیح البخاری” میں اپنا زیادہ تر رحجان امام ابوحنیفہ کے خلاف اور امام شافعی کے حق میں ظاہر کیا ہے۔
چنانچہ اکٹھی تین طلاق کے جواز پر ”من اجاز الطلاق الثلاث”باب کا عنوان لکھ دیا ہے اور اس میں آیت: الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان کو نقل کیا ہے ۔
حالانکہ امام بخاری کا اس عنوان کے تحت یہ نقل کرنا100فیصد غلط ہے ۔آیت میں مرحلہ وار الگ الگ مرتبہ میں طلاق دینے کی وضاحت ہے ۔جس کی صحیح بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب التفسیر، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میںنبیۖ کی طرف سے بہت بھرپور الفاظ میں وضاحت ہے۔
اگر طالبان قرآن کی صحیح تفسیراور حدیث کی صحیح تشریح عوام اور دنیا کے سامنے رکھ دیں گے تو اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوجائے گا۔ بہت سارے دیوبندی اور بریلوی علماء ومفتیان نے حقیقت کو سمجھ لیا ہے لیکن وہ کسی خوف یا مصلحت کا شکارہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے لاؤڈاسپیکر پر نماز و آذان کو ناجائز قرار دیا تو تبلیغی جماعت100سال بعد بھی اسی پر چلتی رہی اسلئے کہ علماء کا طرز منافقانہ تھا اگر کھل کر کہتے کہ ہمارا فتویٰ غلط تھا تو تبلیغی جماعت مشکلات کا شکار نہ بنتی۔ مولانا فضل الرحمن کہے گا کہ تصویرحرام ہے اور قطعی حرام ہے مگر کیمرے کی تصویر میں اختلاف ہے اور ہم اس اختلاف کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں تو پھر وہی حال ہوگاجس طرح ایک گروہ حلالہ کو لعنت قرار دیتا ہے اور دوسرا کارثواب قرار دیکر عزتوں کی لوٹ بازار سے لطف اُٹھارہاہے۔
ہم نے جاندار کی تصویر کی مخالفت کو شرعی حکم سمجھا تو کھل کر مخالفت کا فرض انجام دیا۔ شرح صدرہوا تو ”جوہری دھماکہ ”کتاب اور اخبار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغی جماعت والے لاؤڈ اسپیکر کے برعکس ویڈیو بنانے پر جلد آمادہ ہوگئے۔
شیخ حمیداللہ حماسی ایک اچھے اور معتدل مزاج شخصیت ہیں لیکن صوفیوں کی مخالفت اور سعودیہ پر مرتد کا حکم لگانا اچھی بات نہیں ہے۔ اس کے برعکس اس کو یہ بات کرنے کی جرأت کرنی چاہیے کہ علماء نے بخاری کی پہلی حدیث ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” کے مفہوم میں بگاڑ پیدا کردیا ہے۔ اسلئے کہ علامہ ابن ہمام اور علامہ بدر الدین عینی جیسے بڑے حنفی علماء نے حلالہ کے فعل کو ثواب کی نیت سے کارِ ثواب قرار دیا ہے۔ حماسی صاحب اس بات کا بھی اعتراف کریں کہ ملاعمر مجاہد اور انکے ساتھیوں میں علم کی بہت کمی تھی اسلئے تصویر پر پابندی لگائی تھی اور یہ بہت بڑا تضاد تھا کہ افغانستان میں میڈیسن کے ڈبوں پر تصویر کی پابندی تھی لیکن اسامہ بن لادن کو شادی بیاہ کی تقریب میں ویڈیو بنانے کی اجازت تھی۔ جس کی وجہ سے افغانستان اور اس خطے پر بڑا عذاب آیا اور اس آزمائش سے بہت نقصان پہنچا۔
شیخ عبدالحمید حماسی نے کہا پانی میں حس ہے اور سمندر کی لہریں خوبصورت آدمی کی طرف زور لگاتی ہیں اور بدصورت کی طرف نہیں جاتی ہیں۔ حالانکہ پانی ہاہیڈورجن اور آکسیجن کا مجموعہ ہے اور جس کی اپنی جوڑی دار ہو تو بادل سے پانی برسنے کا نظارہ بھی دکھائی دیتا ہے لیکن تاثیر بہرحال الفاظ میں بھی ہے اور نظر میں بھی تو پانی کی حس بھی بڑی بات نہیں ۔
اسامہ پاکستان نکل گیا، ملاعمر گھر میں چھپ گیا اورافغانی لڑکیوں اور خواتین کیساتھ امریکہ اور نیٹو نے جبراً یا برضاورغبت انتہائی برا کیا جس کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر چلیں اور خواتین نے شکایت بھی کردی۔ اب دوبارہ ایسی صورتحال کی طرف جانے سے طالبان افغانستان کو بچائیں۔ ایسا ماحول قائم کریں کہ دنیا بھر سے اپنی بچیوں اور خواتین کو لوگ تعلیم کیلئے افغانستان بھیجیںاسلئے کہ ان کی جان اور عزت کی حفاظت اور اس کیلئے سخت ترین اسلام کے قوانین کارآمد ہیں۔ پاکستان میں قرار واقعی سزا نہ ہونیکی وجہ سے بہت برے واقعات اپنے رشتہ داروں و پڑوسیوں کے ہاتھوں ہورہے ہیں جن کی مذمت کرنے سے بالکل بھی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
افغانی آپس میں بھی ایک دوسرے کو طعنے نہیں دیں اور دوسروں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں اور علم وشعور کو اجاگر کرکے اصلاحِ احوال کا زبردست ماحول بنائیں۔ اپنی تعریف اور دوسروں کی مذمت سے زیادہ اپنی اصلاح پر توجہ دیں، تنقید کو مثبت لیں تو پھر یہ خطہ بالکل جنت نظیر بن جائے گا۔
٭٭

صدیوں سے نالائقوں کا علمی مسندوں پر تسلط اورقرآن کی غلط تفسیر اور احادیث کی غلط تشریح کی زبردست نشاندہی

اللہ نے قرآن کی واضح آیات سے انسانوں کو روشنی دی اورنبیۖ نے اپنی سنت کی وضاحتوں سے رہنمائی فرمائی ہے لیکن اسکے باوجود مسلمانوں پر دنیا میں اندھیر نگری بدترین راج کررہی ہے۔
جب انسان کی پوٹی اور پیشاب کا فطری راستہ بند کردیا جائے تو مصنوعی نالیاں لگانی پڑتی ہیں۔ یہی کچھ مسلمانوں نے اسلام کے فطری نظام کے ساتھ اپنی ڈاکٹرائن سے کیا ہوا ہے۔ پاکستان میں مختلف مقتدر طبقات کے سربراہوں کے ڈاکٹرائن مشہور ہیں جن کی غلط پالیسوں کی وجہ سے ملک میں امن وامان، تعلیم وتربیت، معیشت ومعاشرت اور سیاست وعدالت کا نظام تباہی وبربادی کا شکارہے لیکن اسلام کے خلاف صدیوں سے طبع آزمائی کا مشق ستم جاری ہے اور کسی کو احساس تک نہیں ؟۔
قرآن کی سورہ مجادلہ، البقرہ، النسائ،الاحزاب اور سورہ الطلاق میں بھرپور طریقے سے وضاحتیں موجود ہیں کہ شوہر طلاق دے تو اللہ نے باہمی صلح اور معروف طریقے سے رجوع میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔ جاہلیت کی ایک ایک رسم کو انتہائی ضرر رساں کیڑے مکوڑوں کی طرح چن چن کر ختم کردیا ہے اور دنیا کی تمام اقوام اس پر عمل پیرا ہیں لیکن مسلمان اس سورج کی روشنی سے محروم ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی (پیدائش18فروری1372۔وفات2فروری1449ئ)کا تعلق شافعی مسلک سے تھا اور بخاری کے شارح تھے۔
ہمارے پیر عبدالوہاب شاہ ابھی ریٹارئرمنٹ کو پہنچ گئے۔ جب جمرود خیبر پشاور میں ٹیچنگ کے ٹریننگ سینٹر میں تھے تو پورا حال ٹیچروں سے بھرا تھا اورایک ٹیچر نے بورڈ پر پڑھایا کہ ” خریدنا کے معنی فروخت کرنا”۔عبدالوہاب کو ساتھ والے نے کہا کہ چلو یہ تو جو ہے سو ہے لیکن پورا حال بھرا ہواہے وہ بھی ایسے ہی دیکھ رہے ہیں اور سمجھ نہیں رہے ہیں کہ کیالکھ رہاہے؟۔ ہم نے رمضان کی نشریات میں آنے والے اسلامی سکالر سید بلال قطب کو اپنی کتاب ”ابر رحمت ” پیش کردی تو اسکے ساتھی نے کہا کہ یہ بڑا اسکالر ہے کتاب کی ضرورت ہے؟۔ پھر چند سالوں بعد رمضان نشریات میں سید بلال قطب نے پوچھا: ”اگر شوہر مرجائے تو پھر بیوہ کیا اپنے سسر سے شادی کرسکتی ہے؟”۔مولانا طارق جمیل کی کاپی مولانا آزاد جمیل نے جواب دیا کہ ”ہاں! اگر دوسرا رشتہ نہیں ملتا ہو تو کرسکتی ہے”۔ یہ دونوں جاہل تھے لیکن ساتھ میں مختلف مکاتب فکر کے علماء ومفتیان بھی بیٹھے تھے وہ بھی جاہل تھے اور سننے والے محفل میں شریک اور ٹی وی پر دیکھنے والا بڑا طبقہ بھی جاہل تھا۔ نشرمکررپر بھی یہ پروگرام چلا۔ پھر ہم نے اخبار میں اس جاہلیت کی تردید کردی۔
صحیح بخاری میں قرآن کی آیت229کا بالکل غلط حوالہ دیا گیا ہے جو قرآن کی روح اور ظاہر کے بالکل منافی ہے لیکن اس سے بڑی جہالت پھر ابن حجر عسقلانی نے کی ہے کہ ” دو طلاق اکٹھی ہوسکتی ہیں تو پھر تین بھی اکٹھی ہوسکتی ہیں”۔ پھراسی طرح جہالت کا مظاہرہ بدرالدین عینی نے بھی کیا ہے کہ ”دو طلاق رجعی پر تیسری طلاق کواکٹھا کرنے کا قیاس غلط ہے اسلئے کہ وہ مغلظہ ہے”۔ حالانکہ اس حقیقت کو دنیا کا احمق ترین انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ نے الطلاق مرتانسے الگ الگ مرتبہ طلاق کی وضاحت فرمائی ہے۔ میری اس پر نظر گئی تو چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم 5منٹ میں قائل ہوگئے تھے۔
نوازشریف اور عمران خان کی وکالت کرنیوالا طبقہ جس بے شرمی کیساتھ حقائق کو نظر انداز کرتاہے تو مذہبی طبقے کو بھی انہی پر قیاس کرلیجئے گا۔ قرآن کو دنیا پرست کتوں نے نوچ نوچ کر بوٹی بوٹی بنادیا۔ سودی عالمی نظام کو اسلامی قرار دے دیا ہے تو آخر پھر کیا رہ گیا ؟۔ پچھلے شمارے میں مختلف معاملات خاص کر طلاق کی وضاحتیں کردی تھیں۔
شیخ عبدالحمید حماسی کا حلالہ کو گناہ کبیرہ قرار دینا بھی بہت زبردست بات ہے لیکن اگر قرآن سے درست استفادہ کیا جائے تو میں دعوے سے یہ کہتا ہوں کہ اربوں عیسائی ، ہندو اور مغرب کے علاوہ ترقی یافتہ دنیا پکار اٹھے گی کہ طلاق کے حوالے سے یہ تبدیلی اسلام کا کارنامہ ہے کہ عورت کیلئے صلح میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اور اہلحدیث سمیت باقی مسالک حنبلی، مالکی ، شافعی اور شیعہ سبھی اپنے کھلے دل سے بھرپور اعتراف کریں گے کہ حنفی مسلک کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں ضعیف نہیں صحیح احادیث کو مسترد کرکے بہت ہی اچھا کیا تھا اور یہ اسی محنت اور جدوجہد کا صلہ ہے کہ امت مسلمہ کا قرآن کی طرف رجوع ہوگیا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ مولوی نے نیت سے معاملہ خراب کردیا ہے۔ تبلیغی جماعت نے بھی اس وجہ سے تصحیح نیت کی رٹ لگائی۔ حالانکہ اچھے اعمال میں ریا کاری ہو۔ شہید، عالم اور سخی جہنم میں نیت کی وجہ سے جائیں گے لیکن حلالہ کی نیت کارثواب کیسے ہوسکتی ہے؟۔ ایک آدمی قتل ، زنا، چوری اور ڈکیتی کرتا ہے اور نیت ثواب کی ہو تو کیا نیت کام آئے گی؟۔ تصوف کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ ایمان دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے اور پھر نیت بھی صحیح ہوجاتی ہے اور عمل بھی صحیح ہوجاتا ہے۔
انگریز نے لکھا کہ سیدامیر شاہ کی قیادت میں وزیرستان سے محسود قبائل کا نمائندہ وفد گیا تھا کہ انگریز کیخلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور پھر سیداحمد شاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل کا وفد اسی سال1877میں افغان بادشاہ امیر شیر علی کے پاس گیا تھا۔ انگریز نے وزیرستان کو بھی غلامی سے ہمیشہ کیلئے آزاد قرار دیا ہے۔سرکاری ملکان کی حیثیت گدھا کرائے پر چلانے والی جتنی بھی نہیں تھی۔ افغانستان بھی جن کو وظیفہ دیتا تھا تو وہ عوام کے سرکاری نمائندے بالکل بھی نہیں تھے۔
انگریز نے پاک وہندکو قبضہ کیا اور افغانستان کے حکمران کو بھی گرانٹ دیتا تھا۔ ڈیورنڈلائن کے معاہدہ کی اصل تاریخ1833تھی جو سکھ کیساتھ ہوا تھا اور60سال بعد انگریز نے واخان کو افغانستان کا بھی حصہ بناکر روس کی نظر اندازی کو روکا جس کا نقشہ میں املتاس کے پلی کی حیثیت ہے جس کو پشتو میں ہمارے ہاں خر غنڑ کہتے ہیں۔ افغانستان چین کوریڈور کی وجہ سے ڈیورنڈلائن معاہدے کا اصل فائدہ افغانستان ہی کو پہنچا ہے جو سمجھنے کی بات تھی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ رحمن الرحیم اورنبی رحمت للعالمینۖ لیکن مسلمان فرقے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کو چھوڑ کر ظالم ترین ہیں

اللہ رحمن الرحیم اورنبی رحمت للعالمینۖ لیکن مسلمان فرقے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کو چھوڑ کر ظالم ترین ہیں

سنی شیعہ ، دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث کے علاوہ اب ایک ایک فرقہ بھی کئی کئی فرقوں اورگروہوں میں تقسیم ہے۔ جن کا دھندہ ایک دوسرے پر اپنے اپنے مسلک سے انحراف کے فتوے ہیں۔1957میں دیوبندی مکتبہ فکر کی ایک جماعت ”اشاعت التوحید و السنة”کے نام سے وجود میں آئی جس نے دیوبندی اکابر پر بھی شرک و بدعت کا فتویٰ لگانا شروع کیا۔ پھر یہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور مولانا طاہر پنج پیری میں تقسیم ہوئے۔1970کی دہائی میں کانیگرم وزیرستان میں ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان فاضل دار العلوم دیوبند تھے۔ جبکہ اپر کانیگرم میں مولانا محمد زمان دیوبندی کا خاندان تھا اور درمیان میں ایک پنج پیری عالم مولانا شاداجان آئے جس نے سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کوبدعت قرار دیا۔ مولانا محمد زمان نے اس پر کفراور قادیانیت کافتویٰ لگادیا۔ مولانااشرف خان خود تو سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتے تھے لیکن مولانا شاداجان کو بھی کافر وقادیانی نہیں قرار دیتے تھے۔
پھر میرے والد نے فیصلے کیلئے باہر سے علماء کو بلایا تو انہوں نے دونوں کی بات سن کر فارسی میں اپنا فیصلہ سنایا۔ لوگ منتشر ہوگئے اور علماء چلے گئے تو مولانا محمد زمان نے اپنے حامیوں کے ذریعے ڈھول کی تھاپ پر روایتی ناچ گانے سے اپنی جیت کا اعلان کیا۔ دوسری طرف مولانا شاداجان کے حامیوں نے بھی ڈھول کی تھاپ پر روایتی ناچ گانے سے اپنی جیت منائی۔
مولانا محمد زمان بعد میں500علماء کی شوریٰ کے سربراہ بن گئے۔ مولانا محمد زمان نے کہا کہ ”منگنی نکاح ہے جس میں طے ہوجاتا ہے کہ ایجاب و قبول ہوگیا”۔ اور ان کی یہ بات بالکل درست ہے۔ پشتون خانہ بدوشوں کی یہ روایت ہے کہ منگنی کے بعد شوہر رخصتی سے پہلے اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتا ہے۔ لیکن یہ کاکردگی چھپ کر دکھانی پڑتی ہے۔ اگر موقع پر پکڑا جائے تو بیوی کے خاندان کی طرف سے زبردست قسم کی پٹائی ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتا ہے تو پھر حمل کے بعد رخصتی کردیتے ہیں۔ پھر نکاح کیلئے دلہن اجازت نہیں دیتی اور خوب مارپیٹ یہاں تک کہ گرم سلاخوں سے بھی داغنے کی نوبت آتی ہے تاکہ شرمیلی دلہن اپنے نکاح کی اجازت کیلئے زبان کھولے۔ اگر منگنی کو نکاح نہ قرار دیا جائے تو پھر سارا معاملہ شریعت کے خلاف ہوگا۔ یہ خانہ بدوش سردی گرمی میں کابل سے دہلی اور ڈھاکہ تک ہمیشہ سفر میں ہوتے تھے۔
مولانا فضل الرحمن کے آباء و اجداد بھی خانہ بدوش تھے اور افغانستان ، پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ان کی آزاد نقل و حمل کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سب سے پہلے چاروں ملک مولانا فضل الرحمن اور تمام خانہ بدوشوں کو اپنی اپنی شہریت دیں اور اس خطے کی تاریخی روایات کو برقرار رکھیں۔ مولانا بڑے ہی زیرک سیاستدان ہیں۔ طالبان ، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے نہ صرف دیوبندی مکاتب فکر میں اتحاد و اتفاق کی فضاپیدا کریں گے بلکہ دیگر مسالک ، فرقے اور ادیان کے لوگوں کو بھی متحد و متفق کرنے میں اپنا بڑاکردار ادا کریں گے۔ خاص طور پر بھیڑوں جیسی شریف تبلیغی جماعت کے متحارب گروپوں کو بنگلہ دیش ، ہندوستان اور دنیا بھر میں بھی متحد کریں گے۔ مولانا کو اس بات میں خاص مہارت حاصل ہے کہ افغانستان میں طالبان ، پاکستان میں جمعیت علماء اسلام اور ہندوستان میں جمعیت علماء ہند کا اسلام ایک دوسرے سے انتہائی تضادات رکھنے کے باوجود بھی مولانا چونا لگا دیتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے26ویں آئینی ترمیم میں سب کو خوش کیا اور کس کس کالے سانپ کے دانت توڑ دئیے؟۔ جب مولانا نے قومی اسمبلی میں گرجدار تقریر کی تھی کہ کسی جج ، جرنیل اور بیوروکریٹ کی ہم ایکسٹینشن قطعی نہیں ہونے دیں گے لیکن اداروں کی اصلاح کی بات ہوگی تو ہم ساتھ دیں گے۔
اس تقریر کو سن کر پاکستان کے سیدھے سادے عوام بہت خوش ہوئے کہ مولانا سیاست کے مسیحا بن گئے۔ نواز شریف کی خواہش پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ کو مزید توسیع نہیں ملے گی جس پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف خوش تھے لیکن نواز شریف نے کہا کہ ”ایک آدمی کا گھوڑا دوڑ میں سب سے پیچھے تھا تو اس کو پوچھا گیا (پنجابی میں )کہ تیرا گھوڑا کہاں ہے؟۔ اس نے کہا کہ وہ جس نے سب کو اپنے آگے لگایا ہوا ہے”۔ مطلب یہ تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی چند سیٹیں ہیں اوراس کی کوئی اہمیت نہیں مگر سمجھتا ہے کہ میں نے سب کو آگے لگایا ہوا ہے۔ اگر اس وقت سرکاری ملازمت کو توسیع مل جاتی تو سارے ملازمین کو ایکسٹینشن مل جاتی۔ جن میںISIچیف ندیم انجم اورفائز عیسیٰ وغیرہ سب شامل تھے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کا قانون تو پہلے سے موجود تھا جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید توسیع کی بھی پیشکش ہوئی تھی جس کا اعتراف عمران خان نے کیا تھا۔ البتہISIچیف جنرل ندیم انجم کو توسیع مل جاتی تو جنرل عاصم منیر مزید کافی عرصہ تک ایک با اختیار آرمی چیف نہ ہوتے۔ بڑی مشکل سے نواز شریف نے ضد کرکے آرمی چیف بنوادیا۔ لیکن جب تک اپنے اعتماد کاISIچیف نہ ہو تو آرمی چیف کچھ نہیں کرسکتا۔ جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنا دیا تھا تو اس وقت باخبر صحافی انصار عباسی نے کہا تھا کہ جو ہورہا ہے اس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مرضی شامل نہیں۔ پہلی مرتبہISIچیف زیادہ طاقتورہوگئے۔ ن لیگ کی حکومت کے خلافISIسازش کررہی ہے۔
انصار عباسی اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ صحافی شمار ہوتا تھا۔ لیکن پہلی مرتبہ اس کی ہمدردیاں واضح طور پر ن لیگ کے ساتھ تھیں اوروجہ شہباز شریف نے پنجاب حکومت کی طرف سے اسکے گھر تک کروڑوں روپے کا روڈ بنوایا تھا جو ابھی اربوں میں ہوگا۔
کوٹ نواز گومل ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میں چوری ہوئی تو کتا لایا گیا اور سب پریشان ہوگئے کہ کتا ہے کیا پتہ چلتا ہے کہ کس کی ناک کاٹ دے۔ لیکن جب وہ چلتے ہوئے ایسی راہ پر گامزن ہوا کہ اس طرف مشہور چور کا گھر تھا تو سب کو پتہ چل گیا کہ کتا کہاں جارہا ہے؟۔ اور پھر وہی ہوا کہ کتے نے چور کو پکڑ لیا اورچور نے بھی مانا اورلوگ بھی مطمئن ہوگئے۔
26ویں آئینی ترمیم میں اصل ہدف سید منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔ باقی سارے معاملات حلوے کے ساتھ اضافی تھے۔ سمجھ رکھنے والوں نے پہلے سے اظہار کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو جو ہدف دیا گیا ہے اس کو پورا کرکے دم لیں گے۔ باقی لوگ خوشیاں منارہے تھے کہ آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں اورآخر کار بروقت وہی کام کردیا جس کا ڈر تھا۔ لیکن اس کا فائدہ کیا ہوا؟ ۔ بلوچ خواتین سینیٹروں پر دباؤ تھا یا نہیں ؟۔ ووٹ زبردستی ڈلوانے کیلئے ممبر کی بیوی اورجواں بیٹی اغواء کی گئی یا نہیں؟۔ مولانا کے بندے مسنگ ہوگئے یا نہیں ؟ ۔ تحریک انصاف کے غائب ارکان خود غائب تھے یا نہیں؟۔ مگر عوام کے اندر یہ فضا بن گئی کہ مولانا کے بندوں سمیت خواتین کے اغواء تک جبری نظام پہنچا تو یہ کونسا جمہوری نظام ہے؟۔
ایک آدمی روزہ توڑنا چاہتا تھااور کفارہ سے بچنا چاہتا تھا تو اس نے گاؤں کے لڑکوں سے کہا کہ تم مجھے زبردستی روزہ تڑوادو اور اس کا روزہ بھی ٹوٹ گیا اورکفارہ بھی نہیںدینا پڑا۔ لیکن اس سے روزہ دار بدنام ہوگئے اور روزے اور کفارے کی اہمیت بھی ٹوٹ گئی۔ مولانا فضل الرحمن نے جنرل ندیم انجم کے دانت بھی توڑ دئیے، فائز عیسیٰ کے بھی دانت توڑدئیے، عمران خان اور نوازشریف کے بھی دانت توڑدئیے لیکن پیپلزپارٹی کے نہیں توڑے جس کے بعد جوبلی سرکس کا تماشا لگ گیا۔ جس میں دو بونے لڑتے تھے، پھر ایک مرجاتا ہے اور دوسرا اس کو سیدھا کرتا تھا ، جب اس کا دھڑ سیدھا کرنے کی کوشش میں ٹانگیں سیدھی کرتا تو پیچھے سے وہ اپنا سر اٹھالیتا تھا ،جب سر کو لٹاتا تو پیر اٹھاتا اور کچھ دیر کارٹون کی طرح یہ سلسلہ جاری رہتا اور آخر پیچھے سے اس کو چوتڑ پر دانتوں سے کاٹ لیتا تھا جس پر وہ اپنی چوتڑ بہت زور سے درد مٹانے کیلئے اسی تختے پر ملنا شروع کردیتا تھا اور لوگ اس کو دیکھ بہت لطف اٹھاتے تھے۔ مولانا کو صدر زرداری نے گفٹ دیا تھا اورپھر بونوں کی کچھ لڑائی بھی شروع ہوگئی۔
چیف جسٹس بندیال نے رات کو عدالت کھول کر صحیح وقت پر عمران خان کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر مجبور کیا۔ پھر اس نے جب آئین کے مطابق تین ماہ کی مدت میں نگراں حکومت کو حکم دیا کہ انتخابات کراؤ تو مولانا فضل الرحمن دفعہ144کے باوجود عدالت کی چاردیواری میں کود گیا اور مریم نوازشریف کو بھی ساتھ لیا اور عدالت وسیاست کا بیڑہ غرق کردیا۔ اگر آئینی مدت میں الیکشن ہوجاتا تو نظام پرآج اتنی بد اعتمادی نہ ہوتی ۔
مولانا کو اپنی کنڈیشن کا پتہ تھا اسلئے بلوچستان سے حصہ لیا۔ مولانا نے کہا کہ میرے پاس چشم دید گواہ ہیں کہ وڈیرے کو حکم دیا گیا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کو اپنی مرضی کے خلاف ووٹ دو اور سندھ میں جب دھاندلی کا پروگرام تھا تو کچھ نہیں بولامگر وہ مشن ناکام ہوا تب مولانا بول پڑے۔ مولانا نے کہا کہ الیکشن میں اگر دھاندلی نہیں ہوئی ہے تو9مئی کا بیانہ پٹ گیا اور اگر تم نے دھاندلی کی ہے تو پھر مان لو کہ ہم نے دھاندلی کی ہے۔
مولانا اسٹیبلشمنٹ کو9مئی کے بیانیہ پٹنے کی دھمکی صرف پختونخواہ کی حد تک دیتا تھا مگر پنجاب میںPTIسے دھاندلی کا اعتراف بھی تھا اور اس سے9مئی کا بیانیہ نہیں پٹتا تھا ؟۔
مولانا کی یہ سیاست اصول فقہ کی کتابوں میں پہلے اصول ”قرآن” کی تعریف سے سمجھ آجائے گی ۔ گذشتہ شمارے میں جس کی وضاحت کی تھی کہ کتنے تضادات اور جہالت ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن مدارس سے حدیث کو بھی ادھورا بیان کررہے ہیں کہ رسول اللہ ۖ یقول نضراللہ امرا سمع منا حدیثا فحفظہ حتی یبلغہ غیرہ فرب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ و رب حامل فقہ لیس بفقیہ
”رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اللہ یہ معاملہ تروتازہ رکھے کہ مجھ سے کوئی حدیث سنے تو اس کو یاد کرے اور دوسروں تک پہنچائے۔ بسا اوقات پہنچانے والے سے وہ زیادہ سمجھ رکھتا ہے جس کو حدیث پہنچائی جائے اور بسااوقات پہنچانے والا خود سمجھ سے عاری ہوتا ہے”۔ یہ حدیث مختلف الفاظ میں نقل ہے اور اصل حدیث کا دوسرا حصہ ہے کہ کسی بندے تک دین پہنچے جو سمجھدار ہو اور یہ دین کو انقلاب عظیم کا بہت بڑا ذریعہ بنادے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب سیاست کی وجہ سے میں قاسم العلوم میں پڑھانے کا وقت نہیں دے سکتا تھا تو تدریس چھوڑ دی اور پھر روزگار کیلئے مدرسہ بنادیا۔ مہتمم حضرات کیلئے مدارس ایک بہترین کاروبار ہے جس سے انکا چہرے نہیں بلکہ بہت کچھ تروتازہ رہتا ہے لیکن دین کو سمجھ کرقبول نہیں کرتے۔ جس کو موقع ملتا ہے تو مادر علمی چھوڑ کر اپنی دکان بنالیتا ہے۔ مولانا منظور مینگل نے کہا کہ” مولوی مرجائے گا لیکن کسی اور کو چندہ دینے والا سیٹھ نہیں بتائے گا”۔جب استاذالعلماء مولانا سلیم اللہ خان کے سیٹھوں پر منظور مینگل قبضہ کرے گا تو یہ کون غلطی کرسکتا ہے کہ مدرسہ کے وسائل پر قبضہ کرنے دے؟۔
اللہ نے فرمایا: الرٰ کتاب احکمت اٰیاتہ ثم فصلت من لدن حکیم ٍ خبیرٍO”ال ر۔کتاب جس کی آیات کا فیصلہ کیا گیا ۔ پھر حکمت والے خبر رکھنے والے کی طرف سے اس کی ساری تفصیلات بیان کی گئی ہیں”۔(سورہ ہود آیت:1)
اللہ کہتا ہے کہ یہ کتاب میری طرف سے ہے اور علماء نے علم لدنی کسی اور بلا کا نام رکھ دیا ہے۔ اللہ نے واضح کردیا ہے کہ
” یہ کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ کی ۔ بیشک میں تمہارے لئے اس کی طرف ڈرانے والا اور خوشخبری والا ہوں اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو۔پھر اس کی طرف توبہ کروتو تمہیں مقررہ مدت تک فائدہ پہنچائے گا اور ہر صاحب فضیلت کو اس کا فضل دیدے گا۔ لیکن اگر یہ پھر گئے تو میں تمہیں عذاب کبیر کے دن سے ڈراتا ہوں۔ اللہ کی طرف تمہارا ٹھکانہ ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ خبردار ! یہ اپنے سینے چوڑے کررہے ہیں تاکہ چھپ جائیں اس سے۔ خبردار ! جب تم اپنے کپڑے ڈھانکتے ہو تو وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو۔ وہ سینوں کی بات جانتا ہے۔ اور کوئی زمین پر چلنے والا نہیں مگر اللہ پر اس کا رزق ہے۔اور وہ اس کے ٹھکانے کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جائے گا اس کو بھی جانتا ہے۔ ہر چیز کھلی کتاب میں ہے۔ اور وہ وہی ہے جس نے چھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کو بنایا ۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے۔ اور اگر آپ کہیں کہ تم نے موت کے بعد مبعوث ہونا ہے تو کہیں گے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔ اگر ان سے عذاب مؤخر کردیں ایک محدود گروہ تک تو ضرور کہیں گے کہ کس چیز نے اس کو (عذاب دینے سے )قید میں رکھا۔خبردار ! جس دن ان پر (عذاب) آئے گا ۔الایوم یأتیھم لیس مصروفًا عنھم وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزئونOوہ اس سے مصروف نہیں ہوگا اور ان کو عذاب اپنے گھیرے میں لے گا۔ جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ (سورہ ہود آیت:2سے8)
جس طرح زمین مرتی ہے اور پھر بارش سے اس کی نئی نشو و نما ہوتی ہے ،اسی طرح انسانوں کے ضمیر بھی مرتے ہیں تو نئی نشوونما ہوتی ہے۔ کافر اصل میں نئی بعثت انقلاب کے منکر تھے کہ فتح مکہ کے انقلاب کی خبر کھلا جادو ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اتنی جنگیں ہوئیں۔ بدر، احد اور خندق لیکن جو اکابرین ابوجہل اور ابولہب وغیرہ مرگئے تو کس چیز نے اس انقلاب کو روکاہے؟۔ اللہ نے کہا کہ جب وہ دن آئے گا تو پھر دوسری مصروفیت نہیں ہوگی۔ علماء نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ عذاب ٹلے گا نہیں اور یہ ترجمہ بنتا ہے لیکن سورہ رحمان میں اللہ نے فرمایا کہ عنقریب ہم تمہارے لئے فارغ ہوں گے اے ثقلان!۔ تو وہ مصروف کا معاملہ اسلام کی نشاة اول اور فتح مکہ سے تھا جب ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ، ابوسفیان او ر اس کی بیوی ہند وغیرہ کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا اور اسی کو وہ جادو سمجھتے تھے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمارے استاذ مولانا بدیع الزماں وغیرہ کے چہروں کو اللہ نے ترو تازہ رکھاتھا اور ان کو فضیلت بھی بخشی تھی۔ اسلئے کہ حق بات کو سمجھ کر اس کو قبول کرلیتے تھے۔ آج مفتی محمود ، مفتی شفیع ، مولانا شفیع اوکاڑوی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، پروفیسرغفوراحمد، مولانا مودودی، علامہ طالب جوہری، امام خمینی، علامہ احسان الٰہی ظہیراور تمام مکاتب فکر کے علماء ربانی موجود ہوتے تو حق کو قبول کرتے۔ مگر مردہ ضمیر اسلام کی نشاة ثانیہ کو محض جادو سمجھتے ہیں اور اللہ کی کھلی آیات کو قبول کرنے سے منکر ہیں۔
اہل حل و عقد کو چاہیے کہ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا ہے تو اس کی طرف پیش قدمی کریں ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے پھر ان حالات کا سامنا ہو کہ خدانخواستہ کچھ نہ ہوسکے۔ انشاء اللہ پاکستان کی تقدیر میں دنیا کا انقلاب کبیر ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لیلیٰ خالد کا مختصر تعارف اور جمال عبد الناصر کے ساتھ مولانا یوسف بنوری کی دوستی اور ان کے ساتھ تصویر نہ لینے کا قصہ اور مزیدار تبصرہ

لیلیٰ خالد کا مختصر تعارف اور جمال عبد الناصر کے ساتھ مولانا یوسف بنوری کی دوستی اور ان کے ساتھ تصویر نہ لینے کا قصہ اور مزیدار تبصرہ

لیلیٰ خالد نے ابتدائی زندگی سے اسرائیل کے خلاف جہاد کیلئے بندوق اٹھائی اور اپنے چہرے کی سرجری کرواکر متعدد بار جہاز ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔ ایک مرتبہ کامیاب اور دوسری مرتبہ وہ شدید زخمی حالت میں گرفتار اور دوسرا ساتھی قتل ہوا۔ ابھی زندہ ہیںمگر گمنام۔CIAاور بلیک واٹر کے مجاہدین کی شہرت ہے کرایہ کے مجاہدین اور جماعت اسلامی اس کا نام نہیں لیتے ہیں۔
لیلیٰ خالد نے جہاز اغواء کیا تو پہلے اسرائیل پھر وہاں سے اپنے گاؤں کا جہاز سے نظارہ کیا اور اپنے فوت شدہ بزرگوں کا تخیل کرکے کہا کہ ہم واپس آئیںگے پھر دمشق لے جاکر مطالبات منوائے۔ دوسری مرتبہ جہاز اغواء کرنے کی کوشش ناکام ہوئی اسلئے کہ دو ساتھیوں کو سیٹ نہیں مل سکی تھی۔ دوسرا ساتھی مارا گیاتو افسوس کا اظہار کیاکہ یہ ہماری مدد کیلئے آیاتھا، جہاز لندن میں اتارا گیا۔ جیل میں پڑھنے کیلئے خواتین کے رسالے لینے سے انکار کیا۔ اخبار میں جمال عبدالناصر کی وفات کی خبر پڑھی تو رونے لگی کہ فلسطین کی آزادی کی آخری امید تھے۔ پھر جہاز اغواء کرکے لیلیٰ خالد کو رہائی دلائی گئی۔ جمعیت علماء اسلام ،جماعت اسلامی اور دیگر فلسطین کے حامی جماعتوں کو اب تو چاہیے کہ لیلیٰ خالد کو پاکستان کی دعوت دے کر اپنی جماعتوں اور عوام کو خواتین کی جدوجہدسے آگاہ کریں۔ یہ وہ مجاہدہ ہے جس نے امریکیCIAکیلئے کام نہیں کیا تو ا س کو دہشتگرد سمجھاجاتا ہے۔ نیٹ پر باکمال مجاہدہ سے آگاہی حاصل کریں۔
٭٭

فوٹو کی حرمت علامہ بنوری
غالبا مارچ میں راقم الحروف پاکستانی مندوب کی حیثیت سے مجمع البحوث الاسلامی کی پانچویں کانفرنس میں شرکت کے لیے قاہرہ گیا تھا، کانفرنس کے اختتام پر سابق صدر جمال عبدالناصر مرحوم نے گورنمنٹ ہاوس میں مندوبین کو ملاقات کی دعوت دی۔ جس شاہانہ کر و فر کا مظاہرہ ہوا اور جو بظاہر مصری حکومت کا خصوصی امتیاز ہے، اس کا ذکر مقصود نہیں۔ ترتیب کے مطابق ہر شخص ملاقات کیلئے جاتا، مصافحہ کرتا اور اسے کچھ کہنے کی خواہش ہوتی تو دوچار باتیں بھی کرلیتا۔ ملاقات اور مصافحہ کے بعد مرحوم نے مندوبین کے اعزاز کیلئے فوٹو گرافروں کو حکم دیا کہ ہر مندوب کا انکے ساتھ الگ الگ فوٹو لیا جائے۔آج کل جلسوں، کانفرنسوں اور عام اجتماعات میں فوٹو اتارنے کا مرض وبا کی شکل اختیار کرچکا ، یہ فتنہ اتنا عام ہوگیا کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی بچنا چاہے، نہیں بچ سکتا، پھر یہ معصیت اتنی پھیل گئی کہ لوگ اسے گناہ ہی نہیں سمجھتے، دورِ فتنہ نے معروف کو منکر اور منکر کو معروف بناڈالا، گناہوں کی گندگی سے قلب و ذہن مسخ ہوگئے اور کتنے ہی گناہ معاشرے میں ایسے رچ بس گئے کہ لوگوں کے دلوں سے گناہ کا تصور و ادراک ہی ختم ہوگیا۔مصر تو فوٹو کی وبا میں ہم سے بھی چار قدم آگے ہے، مدت ہوئی، وہاں کے ایک عالم شیخ محمدبخیت نے جو شیخ الازہر تھے، اسکے جواز میں رسالہ لکھ کر اس معصیت کو اور بھی عام کردیا۔ اسی رسالہ سے متاثر ہوکر حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے بھی معارف میں اسکے جواز پر مضمون لکھا تھا، امام العصر حضرت مولانا علامہ سید انور شاہ کشمیری کے حکم سے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اس پر ایک تردیدی مضمون لکھا جو القاسم میں شائع ہوا اور بعد میں التصویر لحکام التصاویر کے نام سے مستقل رسالہ کی صورت میں چھپ چکا ہے۔ الحمد للہ حضرت علامہ سید سلیمان ندوِی صاحب مرحوم نے اپنے مضمون سے اور فوٹو کے جواز سے رجوع فرما لیا تھا اور صاف اعلان کردیا تھا کہ: اب میں اسے حرام سمجھتا ہوں۔
خیرعرض یہ کرنا ہے کہ صدر مرحوم کی طرف سے جب اس خواہش کی تکمیل کا اظہار ہوا تو اس عزت افزائی پر مندوبین خصوصا عرب مندوبین کو بڑی خوشی ہوئی کہ جمال عبد الناصر کیساتھ ہمارا یاد گار فوٹو لیا جائیگا۔ ہر ایک نے باری باری صدر کی بائیں جانب کھڑے ہوکر فوٹو کھنچوائے، میں کوئی اِتنا صالح، متقی اور پارسا نہیں ہوں کہ ایسے مواقع میں بھی ان معصیتوں سے بچ سکوں، چنانچہ عام مجمعوں میں بہرحال فوٹو گرافر فوٹو لیتے رہتے ہیں لیکن صدر کیساتھ خصوصی فوٹو اتروانے کیلئے میری باری آنے لگی تو صف سے نکل کر اندر جاکر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اِتفاق سے صدر میرے سامنے تھے اور مجھے خوب دیکھ رہے تھے، جب میری باری آئی تو صدر نے دو ازہری علماء سے جو اس وقت ان کے سامنے تھے، کہا کہ جاؤ اور پاکستانی شیخ کو بلاؤ، وہ آکر فوٹو کھنچوائے۔ الحمد للہ اس وقت میری دِینی غیرت جوش میں آئی، دِل نے کہا آج اپنے اکابر کے مسلک پر جمے رہو اور اس اعزاز کو ٹھکرا دو!۔ آج اس حدیث نبوی پر عمل کرنا ضروری ہے: لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق۔ یعنی معصیت میں کسی امیر کی اطاعت جائز نہیں، امیر کی اطاعت بس جائز امور میں ہے۔ ان حضرات نے مجھ سے کہا: سیادة الرئیس یدعوک لاخذ الصورة معک، جناب صدر آپ کو اپنے ساتھ فوٹو بنوانے کیلئے بلاتے ہیں۔ میں نے کہا: لاحب ذلک، ولیست للصور عندی قیمة دینیة، فلا احبھا میں اسے درست نہیں سمجھتا، نہ میرے نزدیک اس کی کوئی دینی قدر و قیمت ہے۔
(بصائر و عبر، حصہ اول، ص٢٧٢)
تبصرہ: عتیق گیلانی
علامہ سید محمد یوسف بنوری درباری عالم نہیں تھے۔ جنرل ایوب کے دور میں جمال عبدالناصر پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو علامہ بنوری کو بھی بلایا تھا۔ علامہ بنوری نے جنرل ایوب کی ذرا بھر بھی پرواہ نہیں کی تھی ۔ جمال عبدالناصر مصری صدر نے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس سے نہر سوئیز کی ملکیت واپس لی تھی اور فلسطینی اور عربوں کے قومی ہیرو تھے۔ مولانا بنوری کا تقویٰ، خلوص اور دینی غیرت کمال کی تھی۔ مفتی شفیع کا رسالہ انتہائی نامعقول ، حماقت اورمفاد پرستی پر مبنی تھا۔ انگریز کا دور تھا تو تصویر ناجائز ، شرک ، ناقابلِ معافی جرم اور خدا کی تخلیق میں مداخلت لیکن جب ریاستِ پاکستان میں اس پر عمل کا معاملہ آیا تو قطع وبرید کی انتہا کردی کہ ریاست کیلئے جائز ہے، کرنسی پر بھی اجازت ہے، تجارت کیلئے بھی جائز ہے۔ جوہری دھماکہ کتاب میں اس مفادپرستی اور حماقتوں پر وہ گرفت کی ہے کہ درباری علماء کا جنازہ نکل گیاتھا جس میں لکھا تھا کہ ”مزدور کا گارے مٹی کا مکان بنانا بھی اللہ کی تخلیق میں مداخلت ہے لیکن معاف ہے ”۔ نرسری کا بچہ بطخ کا بچہ بنائے تو خدا کی تخلیق میں مداخلت اور فارمی مرغی، گائے، پرندے کوئی مداخلت نہیں؟۔ دنیا میں کتے کی بریڈ الگ الگ مقاصد کیلئے بن رہی تھی تو قرآن واحادیث کے واضح احکام کی انتہائی غلط تشریح کررہے تھے۔
علامہ بنوری کی روح کو تسکین پہنچی ہوگی جب انکے مدرسہ کے طالب نے تصویر کیخلاف بھرپور مہم چلائی اور افغان طالبان نے حکومتی سطح پر تصویر پر پابندی لگائی ۔ علماء حق و درباری ملاؤں میں یہی فرق ہے لیکن جب جوہری دھماکہ میں علم کا جوہر دکھایا تو تبلیغی ، صوفی ، علماء ومفتیان اور سب تصویر کے قائل ہوگئے۔حلالہ کی لعنت، تصویر کی حرمت اور نیوتہ کی رسم کو سود قرار دینے کا مسئلہ علامہ بنوری نے مفتی شفیع جیسے لوگوں پر چھوڑ دیا تھا اور ہم نے بھی شروع میں ان پر اعتماد کیا تھالیکن علامہ بنوری کا مقصد مدرسہ کھولنے سے روایتی علماء پیدا کرنا نہ تھا بلکہ قرآن وحدیث کی سمجھ اور اس پر عمل تھا اور الحمد للہ مجھے اللہ نے شرف بخش دیا کہ انکے مشن کی تکمیل کروں۔فاما بنعمة ربک فحدث ”پس اپنے ربک کی نعمت کو بیان کریں”۔
بنوری ٹاؤن میں حضرت مولانا بدیع الزمان کی شخصیت پر کوئی حرف نہیں تھا۔ جب حاجی عثمان پر مفادپرست ،دین فروش ، احمق اور مجذوب طبقے نے فتویٰ لگایا اور میں نے بفضل تعالیٰ ناکوں چنے جبوائے تو مولانا بدیع الزمان میرے اس کردار پر بہت خوش ہوئے تھے اور پوچھا تھا کہ وہ طالب علم جو چائے زیادہ پیتا تھا۔ پھر میں نے گھر پر حاضری دی تھی۔ ان کا بیٹا اور بھتیجا میرے کلاس فیلو تھے۔
تخصص کا کورس مولانا بنوری نے شروع کرایا تھا جس میں عربی لغت، قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ علماء کو پڑھائے جاتے تھے ۔ دارالعلوم دیوبندکے نصاب میں طلب الکل فوت الکل تھا۔ مولانا کے بھتیجے نے ڈاکٹر حبیب اللہ مختار سے کہا کہ مفتی سمیع تو وہ غصہ ہوگئے کہ دار الافتاء میں مفتی سمیع ہے؟۔ اس نے کہا کہ مولوی سمیع۔ ڈاکٹر مختار نے غصہ میں کہا کہ مولانا نہیں کہہ سکتے؟۔ دار العلوم دیوبند میں مولوی شیخ الہند تھے اور پھر مولوی کو توہین سمجھا گیا۔ پہلے مولوی فارغ پھر مفتی بھی فارغ۔ جس جہالت کا ماحول ہے اس کو مدارس کے علماء و طلباء خوب سمجھتے ہیں۔ انشاء اللہ اب سب سمجھیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان امام کا کردار ادا کرے تو نہ صرف ایشیاء ، یورپ، افریقہ اور امریکہ بلکہ مشرق و مغرب کی حالت بدل سکتی ہے

پاکستان امام کا کردار ادا کرے تو نہ صرف ایشیاء ، یورپ، افریقہ اور امریکہ بلکہ مشرق و مغرب کی حالت بدل سکتی ہے

سنگاپور ،تھائی لینڈ ، میانمار ، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈیا اور چین کو ایران ،عرب ممالک، ترکی، روس اور یورپ سے ملانے کا پاکستان زمینی راستے کا بہت زبردست جنکشن ہے۔ صرف ٹول پلازوں سے ریاست اور ہوٹل وغیرہ سے پاکستان امیر ترین ملک بن جائیگا۔

پاکستان بھارت سے بنگلہ دیش ،میانماراور تھائی لینڈ تک رسائی کے بدلے بھارت کو ایران اور افغانستان تک رسائی دے۔ میانمار کے مسلمانوں کو سکون کا سانس ملے گا اور بدھ مت والے ٹیکسلا ، بونیر اورافغانستان وغیرہ بدھا کے تاریخی اور مذہبی مقامات دیکھنے کیلئے آئیں گے تو معاشی طور پر کاروبار ِزندگی رواں دواں ہوگا۔ افغانستان اور ایران اسکے بدلے میں عرب ممالک، ترکی ،روس اور یورپ تک رسائی دینگے اور چین اورایران کے ملاپ سے بھی پاکستان نعمتوں سے مالامال ہوگا جو ہماری ضرورت ہیں۔
٭

برطانوی ہندنے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت افغانستان کو بدلے میں واخان کاعلاقہ روس اوربرطانوی ہند کے درمیان بفر زون بنانے کیلئے دیا تھا۔ جب روس نے افغانستان میں قدم رکھے تو پوری دنیا نے پاکستان سے اسکے خلاف مزاحمت کی۔ اب پاکستان کو نفرتوں سے پاک کرکے محبتوں اور امن و امان کی آماجگاہ بنانے کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کو تاجکستان اورسمندر تک رسائی دیں تو پھر دونوں ممالک یکجان دوقالب بن جائیں گے اور تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں گے۔
٭

دنیاکا71.9حصہ پانی اور29.1حصہ خشکی ہے۔ پانی کا50%بحر الکاہل30%بحر ہند اور20%بحراوقیانوس ہے۔250سال قبل امریکہ ، فرانس اور برطانیہ نے نہر سوئیز کے101میل کے ذریعے4ہزار کلومیٹر کا سمندری راستہ کم کرکے بحر الکاہل اور بحر ہند کو ملادیا۔ مصر کے عظیم لیڈر جمال عبد الناصر نے1960کی دہائی میں نہر سوئیز کی ملکیت واپس لی تو اسرائیل کے ذریعے جنگ مسلط کی گئی ، سید قطب کامحاذبھی کھڑا کیاگیاجو فلسطینی مجاہدہ ہائی جیکر لیلیٰ خالد مدظلہا العالی کی آزادی کیلئے آخری امید تھے۔
٭

ڈاکٹر ہود بائی نے اپنے تازہ بیان میں کہاہے کہ پاکستان میں10سے15،20صوبے کی ضرورت ہے۔ فقط کراچی کی آبادی اسرائیل سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دفاع کوچھوڑ کر باقی انتظامی معاملات علاقائی سطح پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور دوسرے ممالک نے اپنے صوبے بڑھادئیے ہیں۔ ہسپتال ، اسکول اوردوسری ضروریات جب تک چھوٹے یونٹوں میں منتقل نہیں ہوں گے تو لوگ سہولیات سے محروم رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس میں رکاوٹ کون ہے؟۔ ہود بائی نے جواب دیا اسلام آباد اورلاہور کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ انکے ہاتھوں سے عوام نکل جائیں۔
ہودبائی کی بات ٹھیک ہے لیکن مرکز ، صوبے اور ضلعی حکومتیں بیرونی قرضوں پر چل رہے ہیں۔ جب تک صوبوں اور ضلعوں کی عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ کیا جائے توصوبے بنانے سے خدشات کا سامناہوسکتا ہے ۔ اگر آزا د کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اعتمادکے ساتھ نقل و حمل کی اجازت ہو ، اسی طرح ہندوستان اور پاکستان کے پنجاب کو تجارت اور آسانی کے ساتھ نقل و حمل کی اجازت ہو ، سندھ کو بھارتی راجستھان کے ساتھ اور ایرانی بلوچوں کو پاکستانی بلوچوں کے ساتھ اور پختونوں کو ایران ، افغانستان اور چین کے ساتھ آزادانہ نقل و حمل اور تجارت کی اجازت ہو تو مقامی سطح پر لوگ معاشی طاقت بن جائیں گے۔ ایک صوبے سے دوسرے صوبے کے درمیان مرکزی ٹیکس کا نظام نافذ کردیا جائے تو لوگ بھی خوشحال ہوں گے اور مرکز بھی بڑا مضبوط ہوجائے گا۔ جب پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہترین بن جائیں گے تو بیرونی مداخلت کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔ اگر یورپی ممالک فرانس اور جرمنی اپنی دشمنی ختم کرسکتے ہیں تو برصغیر پاک و ہند میںپاکستان اور ہندوستان کیوں نہیںکرسکتے ؟۔
ہندوستان پاکستان کے شر سے ڈرتا ہے اور پھر پاکستان ہندوستان سے خوفزدہ ہے۔ افغانستان پر پاکستانی مداخلت کا خوف طاری ہے اور پاکستان کو افغانستان سے خطرہ ہے۔ یہ خطہ حضرت آدم و حوا کی اولاد اور انسانیت کی میراث ہے یا پھر یہاں پر درندے اور گزندے رہتے ہیں؟۔ ایسا کچھ نہیں اور پاکستان ایک طرف انسانیت کے رشتے سے پوری دنیا مشرق و مغرب کے ساتھ وابستہ ہے تو دوسری طرف اسلام کے نام پر مسلمانوں اور تمام مذاہب کے ساتھ اخوت و محبت کا رشتہ ہے۔ تیسری طرف اپنے قریبی پڑوسی ممالک کے ساتھ زبان ، کلچر اور مختلف قومیتیوں سندھی، پنجابی، کشمیری، پشتون، بلوچ اور مہاجر حضرات پر مشتمل ہے۔ جن کے وجود سے ایک خوشگوار انقلاب آسکتا ہے۔
ایران کے تیل و گیس سے صوبہ بلوچستان اپنی حالت درست کرسکتا ہے اور اپنے بھائی صوبوں کو سستا تیل وگیس اورایرانی اشیاء فراہم کرسکتاہے۔ افغانستان کے پھلوں کو بلوچستان اورپختونخواہ اپنا بہت بڑا اثاثہ بناسکتے ہیں۔ جب چرس ، ہیروئن، شیشہ اوردنیابھر کی منشیات گلی محلوں سے لیکر لڑکیوں کے اسکولوں اورکالجوں تک دستیاب ہوں اور پھل فروٹ پر پابندی ہو تو انسانوں کی شکل میں انسان نہیں درندے اور گزندے ہی پنپیں گے۔
بچوںاور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں ، قتل ، اغواء اورگمشدگی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کی جعلی ادویات اورتعلیم کے نام پر جعلسازی سے لیکر اس قوم کے شاندار مستقبل کو کس طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ریاست کا تحفظ بہت بڑا سرمایہ ہے کیونکہ ریاست نہ ہو تو بڑی سطح پر انارکی انتہا نہیں رہے گی۔ لیکن ریاست گردشی سودی قرضہ پر پل رہی ہو ، عوام پر مہنگائی کا بوجھ لاداجارہا ہو اور بیروزگاری ہو، تعلیم ، صحت ، انصاف، تجارت اور تحفظ کا ستیاناس ہو تو پھر عوام کو حکومت اور ریاست سے کیا ہمدردی ہوگی؟۔ہماری مقتدر طبقات سے التجا ہے کہ خود کو بھی بدلیں اور پوری قوم کو بھی بدلیں تاکہ ہم کسی بھی خوفناک انجام سے بچ جائیں۔
٭٭٭

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ رحمان میں گھر، معاشرے، ملک ، خطے اور بین الاقوامی دنیا کو امن وامان کے قیام کا بہت ہی زبردست پیغام ہے

سورہ رحمان میں گھر، معاشرے، ملک ، خطے اور بین الاقوامی دنیا کو امن وامان کے قیام کا بہت ہی زبردست پیغام ہے

الرحمنOعلّم القراٰنO”رحمان نے قرآن نے سکھایا۔انسان کو پیدا کیا، اس کو بیان سکھایا،سورج و چاند حساب پر ہیں۔ بیل ودرخت سجدہ کرتے ہیں۔ آسمان کو بلند کردیا ،میزان کو قائم کیا۔ پس وزن انصاف کیساتھ قائم کرو ۔ میزان کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ زمین کو ہم نے مخلوق کیلئے بنایا ۔اس میں پھل و غلاف والی کھجور ہیں اور اناج ہے خوشوں و خوشبو والی۔ پس دونوں اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟۔ انسان کو ٹھیکری کی بجتی مٹی سے پیدا کیااور جن کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا……..”۔ سورہ رحمان کی آیات دیکھ لیجئے

اللہ تعالیٰ انسان کو براہِ راست قرآن سکھانے کی وضاحت کرتا ہے

بحری جہاز مغرب نے بنائے ۔ اللہ نے قرآن سکھایا کہ سمندر میں پہاڑ جیسے جہازہیں؟۔ سورج چاند کا حساب ، گرہن کا قبل ازوقت پتہ چلنا ہر تعلیم یافتہ براہ راست سمجھ لیتا ہے ۔
اللہ نے قرآن میں سورج ،چاند ، بادل اور ہر چیز کو انسان کیلئے مسخر کرنے کی وضاحت فرمائی۔ مسلمان کا سائنس میں بڑا کردار تھا لیکن مذہبی طبقہ خود ساختہ فرائض اور حلال وحرام میں لگ گیا۔ مذہب اچھا دھندہ تھااسلئے دانشور بھی گھس بیٹھے؟۔
اللہ نے نظام کائنات میں توازن رکھا ۔ ایک آسمانی میزان وتوازن ہے، دوسرا زمینی نظام کا میزان اور عدم توازن ہے۔ اللہ نے زمینی نظام کا توازن قائم کرنے کا ہمیں حکم دیا۔ توازن بگاڑنے سے نقصان ہوتا ہے۔ اللہ نے زمین مخلوقات کیلئے بنائی اور جب کوئی دوسرے کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کی وجہ سے توازن میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اوربڑا نقصان پہنچتا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی کیساتھ روکا ۔ اگر مسلمانوں اور دنیا بھر کے انسانوں کو قرآن سمجھ میں آگیا تودنیا جنت بن جائے گی اور اگر اپنی خصلت سے باز نہیں آئے تو پھر دنیا جہنم بنے گی۔ سورہ رحمان میں ہائی بریڈ اناج، پھل اور جانوروں سے اللہ نے منع نہیں کیا بلکہ تسخیرکائنات کی ترغیب دی ہے لیکن یہ بھی واضح کیا کہ توازن میں بگاڑ پیدانہ کرو۔ مثلاً اناج کو خوشے اور خوشبو دار بنایا ۔ اگر ہائی بریڈ گندم منرل اور خوشبو سے محروم ہو تو نقصان اور بگاڑ ہے۔والحب ذوالعصف والریحان ” اور اناج کو خوشے دار اور خوشبودار بنایا ”۔(یہ صحیح ترجمہ ہے) فارمی مرغی کو اللہ نے تخلیق میں مداخلت نہیں قرار دیا ،یہی تسخیر کائنات ہے۔ تخلیق کا توازن اہم ہے۔ اگر اچھے انسانوں کے ہاتھ میں یہی چیزیں آجائیں تو کاروباری مقاصد سے زیادہ انسانی صحت اور انسانیت بلکہ تمام مخلوقات کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔
انسان کی پیدائش کا اللہ نے مختلف آیات میں ذکرکیا ہے کہ اس کو کمزور پیدا کیا گیا، جلدبازی سے پیدا کیا گیا۔ زندگی پانی سے پیدا کی اور انسانوں میں ہوا،پانی، مٹی اور آگ سبھی ہیں۔ بجتی ہوئی مٹی آگ کی تپش سے بنتی ہے جیسے مٹکے وغیرہ اور اس میں عمل سے ردِ عمل کی خاصیت ہوتی ہے۔ جیسا کہ اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے تو جواب میں بجنے کی آواز آتی ہے۔ انسان کو اللہ نے بیان سکھایا اور ہر ایک کو عمل کا ردِ عمل دے سکتا ہے۔
اس عمل اور ردِ عمل میں اسکا ہمزاد شیطان شریک ہے۔ جس کی خاصیت آگ کا شعلہ ہے۔ لاس اینجلس تباہ ہوا۔ غزہ کی لڑائی سے تباہی مچی۔ افغانستان، عراق ، شام ، لیبیا اور پاکستان میں کتنا نقصان ہوا۔ میاں بیوی، رشتہ دار ، پڑوسی ، فرقہ وارانہ اور قوم پرستی سے بین الاقوامی سطح تک ماحولیاتی آلودگیوں سے عالم انسانیت غرق ہے اور عدالت، جج اور صحافیوں سے لیکر سیاستدانوں اور حکمرانوں تک عدم توازن کی شکار دنیا کو ہر لحاظ سے اعتدال وتوازن کی طرف لانا سورہ رحمن کا بڑامشن ہے۔
ویل لکل ھمزة لمزہOالذی جمع مالًا وعدّدہOیحسب ان مالہ اخلدہO” ہر طعنہ زن پیٹھ پیچھے باتیں لگانے والا ہلاک ہو، جس نے مال جمع کیا اور اس کو گنتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ زندہ رکھے گا”۔
وقل رب اعوذ بک من ھمزات الشیٰطینOواعوذبک رب ان یحضورونO” اور کہو کہ اے میرے رب! میں شیطانی طعنوں سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری پناہ چاہتا ہوں کہ ان کا سامنا کرنا ہو”۔(المؤمنون: 97، 98)
چھوٹی سطح سے لیکر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک انسان نماان شیطانوں سے پناہ کی تلقین ہے جو طعنہ زنی اور پس پشت باتیں بنانے اور مال اکٹھا کرنے کے حریص ہیں۔ رشتہ دار، پڑوسی، صحافی، سیاستدان،حکمران، اپوزیشن ، مذہبی طبقات اور دنیا بھر کی تمام قوتوں میں آگ لگانے اور لڑانے کا حربہ طعنہ زنی اور پس پشت جھوٹی باتیں بنانے اور مال بنانے کی وجہ سے ہیں۔
ہر عمل کا ردِ عمل بگاڑ فساد فی الارض ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: ”لوگو!دشمن کا سامنا کرنے کی تمنانہ کرواور اللہ سے عافیت مانگو اور جب ان سے سامنا ہوتو صبر سے ثابت قدم رہو اور جان لو! کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے”۔ قرآن عبادت کو مالی معاملات اور انسانی حقوق سے الگ نہیں کرتا۔لالچی وبدفطرت لوگوں کا راستہ روکنا زمین کو فساد فی الارض سے بچانا ہے۔سورۂ رحمن اور قرآن سے یہی سبق ملتا ہے لیکن مسلمان غور نہیں کرتا۔ انسان قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دنیا کی ترقی سے قرآن سمجھ میںبڑی اچھی طرح آسکتا ہے۔
٭٭

یرسل علیکما شواظ من نار ونحاس فلا تنتصران ،الرحمن:35

قرآن میںایٹمی جنگ کا تذکرہ

دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر ایٹم بم گرایاگیا ۔ قرآن کے اعجاز میں عربی عالم عبدالدائم الکحیل نے سورہ رحمان کامعجزہ عدد کے اعتبار سے اسی آیت35کو قرار دیا ہے۔
اللہ مشرق ومغرب کا رب ہے۔ تعصبات تخریب ہے۔ اگر دنیا کے نظام کو عدمِ توازن کا شکار بنایا تو معاشرتی سطح سے بین الاقوامی سطح تک خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ پاک افغان یا بھارت جنگ ہو۔ شیعہ سنی، ہندو مسلم، پشتون پنجابی، بلوچ پنجابی ، بریلوی دیوبندی، حنفی اہلحدیث، داعش طالبان جنگ ہو یا پھر قبائل، ملکوں اور بین الاقوامی ہر قسم کے دو متحارب گروہوں نے اعتدال سے ہٹ کر توازن کو بگاڑ دیا تو خسارہ مقدر بنے گا۔
تبلیغی جماعت اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین بتاتی ہے لیکن اللہ کے احکام کا پتہ علماء کو نہیں تو جہلاء کو کیسے ہو گا؟۔
” میں تمہارے لئے عنقریب فارغ ہوں گا اے دوبھاری گروہ! تم دونوں اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے۔اے جنوں اور انسانوں کا معاشرہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکلو۔تم نہیں نکل سکتے ہو مگر سلطان کیساتھ۔تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟۔ تم پر آگ کے گولے بغیر دھویں والے اور دھواں بھیجا جائے گا تو پھر تمہاری مدد نہیں کی جاسکے گی”۔ (الرحمان:31تا35)
آج انسان میں شعور آگیا اور اللہ بھی فارغ ہے۔ انسان اور جن جہازوں اور خلائی شٹل سے زمین اور آسمانوں کی حدود پر جاتے ہیں اور یہ سلطان ہوسکتا ہے۔اگر جاپان پر تجربہ کے بعد بھی روس، امریکہ، فرانس، اسرائیل، ہندوستان، چین اور پاکستان ایٹمی جنگ کی طرف گئے تو کوئی مدد نہیں ہوسکے گی۔
دنیا تیسری جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے اور اللہ انقلاب عظیم کی دعوت دیتا ہے جس سے تمام مذاہب و ممالک کے اچھے لوگ دنیا میں جنت پائیں اور مجرم بلا امتیاز جہنم پائیں۔
اسرائیل وفلسطین سمیت دنیا بھر کے اچھے لوگ اپنی اچھائی کا بھرپور صلہ پائیں ،جرائم پیشہ انجام کو پہنچیں ۔ مذہبی تعصبات کی جگہ انسانیت لے لے۔ مجرموں کی لڑائی سے معصوم لوگ اذیت کا شکار ہوں تو پاکستان،افغانستان ، امریکہ اوردنیا بھرکا حکمران طبقہ ہمیشہ سخت سیکیورٹی کی اذیت کا شکارہی رہے گا۔
٭٭

مرج البحرین یلتقیانOبینھما برزخ لایبغیانO”دو سمندروں کے بیچ میں آڑ ہے جو حدود سے تجاوز نہیں کرتے” ۔
عربی میں بحر، بحیرہ،دریا، نہر اور ندی سبھی کو بحر کہتے ہیں۔ برزخ درمیان کی چیزہوتی ہے جیسے دنیا وآخرت میں عالم برزخ ہے۔
فاذاانشقت السماء فکانت وردة کالدھانOپس جب آسمان پھٹ پڑے اور ہوجائے گلاب کا پھول جیسے چاول کی فصل ہو۔ (الرحمن:37) امریکی آفت غزہ پر مظالم کی وجہ سے آسمانی تحفہ سمجھا جانے لگا۔ جو تنبیہ یا مخالفین کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔

طالبان اور امریکی اہلکار مفتی عبدالرحیم کا بہت احترام کرتے تھے؟

2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی قرار داد پیش کی تو بھارت نے اس کی مخالفت کی تھی۔ہم نے اسی وقت بھارت کو خراج تحسین اور کلبھوشن یادیو کی رہائی کی تجویز پیش کی تھی۔آج بھی پڑوسی ممالک سے تعلقات کی بہتری ترجیح ہونی چاہیے۔
جاوید چوہدری نے لکھا: طالبان اورافغانستان میں امریکی نژاد حکومت کے اہلکار دونوں مفتی عبدالرحیم کا بہت احترام کرتے تھے۔(7مارچ2023جامعة الرشید میں ایک دن)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان طالبان اور امریکی نژاد افغانستان میںحکومتی اہلکاروں میں یہ حسن اتفاق کس بات کا کرشمہ تھا؟۔ ارشد شریف شہید نے کہا تھاکہ آئندہ آرمی چیف بننے کیلئے سب سے زیادہ موزوں اور پہلے نمبر پر سید عاصم منیر کا نام ہے اور بہت زیادہ تعریف کی تھی اور مسلم لیگ ن کے حامی صحافی راشد مرادMRلندن ٹی وی نے بھی بہت پہلے یہی پیش گوئی کی تھی کہ عاصم منیر کو آرمی چیف بنایاجائے گا۔ مگر اس نے اس کو گہری سازش قرار دیا تھا۔ یہ اللہ کا بہت بڑا کرشمہ ہے کہ عاصم منیر کی تعیناتی پر دونوں طرف کا معاملہ سراسر مختلف تھا۔
جمہوری و مذہبی قوتوں کے پیچھے سازشیں لیکن جب تک اپنی اصلاح نہیں کریںگے تو کوئی واویلا کام نہ آئیگا۔اگر ہوش کے ناخن نہیں لئے تو تباہی اور غلامی بھی مقدر بن سکتے ہیں۔
اللہ نے دعوتِ فکر دی کہ دو سمندر حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ پاکستان ، خطے اور دنیا کو خطرات کا سامنا ہے۔ جہاز ، ہیرے جواہرات ، قیمتی اشیاء تیل وگیس کی دریافت اور اس کو نفع بخش بنانے کی ضرورت ہے لیکن اس پر قبضہ کرنے کی سازش کرکے دنیا کو تباہ وبرباد کرنے کے نتائج بہت خطرناک ہوسکتے ہیں۔
پانامہ میں بھی امریکہ نے دو بحر میں راستہ نکالا تھا ۔جس سے1970کے دہائی میں امریکہ نے پانامہ کے حوالے کیا۔ ٹرمپ کی بات پر شور مچا۔تو اس کو سورہ رحمان بتائیں۔ کراچی کی لیاری اور ملیر ندی شفاف پانی سے مالا مال تھیں جن کو آلودہ کردیا گیا۔کانیگرم شہر وزیرستان کے دونوں طرف بھی ندیاں ہیں۔ عربی میں سمندر، دریا، نہر اور ندی کو” بحر” کہتے ہیں۔اور برزخ آڑ اور حقائق کے تناظر میں تاریخی واقعات ہیں۔
تکاد السماوات یتطفطرن من فوقھن ” قریب ہے کہ تمام آسمان پھٹ جائیںان کے اوپر سے”۔ شوری:4
مفتی تقی عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا کہ ”فرشتے اتنی تعداد میں عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں”۔ حالانکہ مظالم ، سود کو حلال اور حلالہ کی لعنت سے عزتیں برباد، قتل وغارت اور نا انصافی و نافرمانی کے باعث فرشتے اجازت مانگتے ہیں کہ ان دلّوں اور دلّالوں کو عذاب دیں ۔ جیسے طائف میں نبیۖ کو اذیت دینے پر فرشتوں نے اجازت مانگی تھی۔
وماتفرقوا الا من بعد ما جائتھم العلم بغیًا بینھم ولولا کلمة سبقت من ربک الیٰ اجلٍ مسمًی لقضی بینھم وان الذین اورثوا الکتاب من بعد ھم لفی شکٍ منہ مریبٍ ” اورانہوں نے تفریق نہیں ڈالی مگر جب انکے پاس علم آیاباہمی فحاشی (حلالہ سینٹروں) کی وجہ سے اور اگر اللہ مقررہ وقت (خلافت ) تک پہلے لکھ نہ چکا ہوتا تو انکے درمیان فیصلہ کردیتا اور جن کو انکے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا تواس سے شک میں پڑگئے”۔ سورہ الشوریٰ آیت:14
قرآن کی رہنمائی سے حالات درست ہوجائیں گے اور عالم انسانیت کے تمام اچھے لوگ بھی ساتھ کھڑے ہوں گے۔
سورہ رحمن کی آیات کا ایسا ترجمہ ہوگا کہ اللہ انسان کو براہِ راست قرآن سکھائے گا۔ ابن عباس نے درست فرمایا تھا کہ ”قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ علماء نے محکم آیات کا بیڑہ غرق کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تو متشابہات کی آیات کو اللہ نے ہرگز ان کے ذمہ نہیں چھوڑنا تھا۔ جب دنیا میں قرآن کے ذریعے طرز نبوت کی خلافت قائم ہوجائے گی تو فسادات کا ماحول امن وامان میں بدل جائے گا اور دنیا کو چار چاند ہی نہیں بلکہ چار جنت لگ جائیں گے ۔ جنتان دوجنت ہوں گے اور ذواتا افنان دونوں فن پارے کا عظیم نمونہ ہوںگے۔ مصنوعی ایجاد سے مزین ڈزنی لینڈ کے پارکوں کو پیچھے چھوڑ دیںگے۔ ومن دونھا جنتان ان دو کے علاوہ دو اور جنت ہوں گے۔
قیامت کے بعد جنت کا تصور بالکل دوسرا ہوگا اور اس دنیا میں چار جنتوں کی بات عظیم انقلاب کی بنیاد ہوگی۔ پاکستان کو اللہ سورہ الدھر کا مصداق نعمتوں اور ملک کبیرکا مرکز بنادے۔
٭٭٭

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کچھ جہالتیں اور اسکے شاندار جوابات

ڈاکٹر ذاکر نائیک
نے مروت پختون لڑکی کے سوال کا بڑا جاہلانہ جواب دیا تھا
فرقہ کی بنیاد پرطلاق کا جواب جاہلانہ تھا

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کچھ جہالتیں اور اسکے شاندار جوابات

لکی مروت کی ایک پشتون حافظہ یتیم لڑکی نے مذہبی طبقے کے کردار پر تضاد کا سوال اٹھایا توڈاکٹر ذاکر نائیک نے انتہائی جاہلانہ جواب دیا تھا۔ اس کا قرآن سے درست جواب یہ تھا۔ اللہ نے فرمایا:
قدافلح المؤمنونOالذین ھم…….
”بیشک مؤمنین کامیاب ہوگئے۔ وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشیت رکھتے ہیںاور وہ جو لغو چیزوں سے پہلو تہی برتتے ہیںاور وہ جو زکوٰة دیتے ہیں اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اپنی بیویوں پر اور جن سے معاہدہ ہوچکا ہے۔ پس بیشک ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ جو اس کے علاوہ ڈھونڈے تو وہی لوگ اپنی حدوں سے تجاوز کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد وپیمان کی پاسداری کرتے ہیں۔ وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ فردوس کے وارث ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیںگے”۔المؤمنون۔1تا11
ڈاکٹر ذاکر نائیک جواب میں قرآن کی آیات پڑھ دیتا تو نہ صرف لکی مروت کے پختون بلکہ ہمارا حکمران، سیاستدان، تاجر، صحافی اور دنیا بھر کا ایک ایک مسلمان قرآن کے آئینہ میں اپنے کردار کو بھی ٹٹولتا اور اصلاح کی کوشش بھی کرتا۔ خاص طور پر ہمارا وہ مذہبی ٹٹو طبقہ جو اسلام کے پیچھے چھپتا ہے۔
پاکستان میں دیوبندی دیوبندی کو مشرک قرار دیتا ہے، بریلوی کو مشرک قرار دیتا ہے۔ کسی پر کفر، کسی پر گستاخی، کسی پر توہین اور کسی پر شرک ، کسی پر بدعت کے فتوے لگاتا ہے۔ خیبر پختونخواہ کا ایک مشہور عالم دین جو جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھتا ہے اس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آمد سے پہلے کہا تھا کہ میں اس کو ایسا ماروں گا……..”۔ بریلوی کا حال اس سے بھی دو انگلی آگے ہے اور اہل حدیث اور شیعہ اس سے بھی بہت آگے ہیں۔ لیکن پھر بھی فرقوں سے بالاتر رشتہ داریاں ہیں۔ آرمی چیف سنی اور بیگم شیعہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ اگر فلاں عورت کا شوہر دوسرے فرقہ سے ہے تو پہلے توبہ اور پھر طلاق بنتی ہے۔ حالانکہ پہلی بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر ذاکر نائیک سے عیسائی نے سوال کیا کہ نبیۖ سے کہا گیا تھا کہ ہم اپنے علماء اور مشائخ کو نہیں پوجتے تھے تو اب مسلمانوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے تو ڈاکٹر ذاکر نائیک نے انتہائی جاہلانہ جواب دیا کہ ”مسلمانوں میں کوئی ایسا نہیں جو اپنے پیروں کو پوجتا ہو۔ میں نے تو نہیں دیکھا، اگر آپ کو معلوم ہو تو بتادیجئے”۔ حدیث کا جواب یہ تھا کہ ”نبیۖ نے فرمایا: اپنی طرف سے حلال و حرام کرنا اور اس کو ماننا ہی رب بنانا ہے”۔ واقعی جو علماء ومفتیان سود کو حلال قرار دے رہے ہیں اور ان کی بات کو مسلمان مان رہے ہیں تو یہودونصاریٰ ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر ایک کاروباری مذہبی شخصیت اور جاہل ہیں اسلئے سوال کا درست جواب نہیں دیا۔ البتہ قرآن نے اسکے باوجود اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے پارسی عورت سے شادی کی تو اس کی بیٹی نے بھی پارسی سے نکاح کیا تھا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کہتا ہے کہ اگر ہندو اپنی کتابوں ویدوں کو مان لیں تو مسلمان اور ہندو میں پھر کوئی فرق نہیں ہے جس کا مطلب ہندو بھی اہل کتاب ہیں۔ شاعرہ لتا حیا کہتی ہیں کہ ”جو نوح پر نازل ہوا اسلام وہی تو ہے”۔ یعنی ہندو بھی حضرت نوح کی امت ہیں۔ جب اہل کتاب سے نکاح کی اجازت ہے اور مسلمانوں میں کوئی مشرک بھی نہیں ہے تو ڈاکٹر ذاکر نائیک جاہل کے کہنے پر کوئی عورت اپنے شوہر کو نہیں چھوڑے۔ ریاست ہی نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو مدعو کیا تھا اسلئے اس کا فرض بنتا ہے کہ جو گند اس نے پھیلایا ہے اس کو صاف کرے۔ ورنہ تو لوگوں کے دلوں میں بہت زیادہ خدشات ہوں گے کہ نکاح صحیح یا غلط؟۔ جبکہ نبیۖ نے ام ہانی کو مشرک سے نہیں چھڑایا تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فمایکذّبک بعد بالدین ”انقلاب عظیم کے بعد کون آپ کو جھٹلائے گا”

فمایکذّبک بعد بالدین ”انقلاب عظیم کے بعد کون آپ کو جھٹلائے گا”

الیس اللہ باحکم الحاکمین کیا اللہ احکم الحاکمین نہیں؟

سورہ التین کا ترجمہ اور تفسیر بہت آسان ہے مگر اسلام کے اجنبی ہونے کی وجہ سے واضح آیات کے معانی سمجھنے سے علماء کرام بالکل قاصر تھے۔ اللہ نے عیسیٰ کی جائے پیدائش القدس میںانجیرو زیتون، موسیٰ کو جہاں نبوت ملی طور سینین اور نبی ۖ نے فتح مکہ سے جس شہر کو امن کا گہوارہ بنایا یہ انسانیت کیلئے بہترین کلینڈر ہے۔ جو مختلف ادوار میں انبیاء کی بعثت ہوتی رہی اور پھر مختلف قومیں عاد ، ثمود اور ارم عماد والے، فرعون میخوں والا اسفل السافلین کو پہنچے۔ مگر ایمان و عمل صالح والے بچے۔ فرعون کے غرق کی طرح فتح مکہ واضح تھا۔ نبوت کا دروازہ بند ہے اور انقلاب عظیم کی بھی خبر ہے۔ جس کے بعد نبی ۖ کو کوئی نہیں جھٹلائے گااور دنیا مان جائے گی کہ اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین ہے۔ سورہ حدید میں اس امت کے دو حصوں کاذکر ہے اوربشارت ہے کہ اہل کتاب کے عروج کے بعد پھر معاملہ بدلے گا۔
سورہ المؤمنون کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں حضرت نوح سے حضرت عیسیٰ تک انبیاء کرام اوران کے منکرین کی بڑی وضاحت کے بعد فرمایا:
یا ایھاالرسل کلوا من الطیبٰت واعملوا صالحًاانی بماتعملون علیمO…
” اے رسولو! کھاؤ پاکیزہ اور عمل کرو صالح، بیشک میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہواور یہ تمہاری امت ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس مجھ سے تقویٰ اختیار کروپھر وہ ٹکڑے ٹکڑے کر بیٹھے اپنا حکم۔ہر گروہ خوش ہے جو اسکے پاس ہے۔ پس ان کو چھوڑ و مستی میں مقرر وقت تک۔ کیا وہ گمان رکھتے ہیں کہ انہیں مال و اولاد میں ترقی دے رہے ہیں؟اور انہیں جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں؟۔ بلکہ یہ شعور نہیں رکھتے اور جو لوگ اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور جو دیتے ہیں عطا میں سے اور انکے دل ڈرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ یہی درست کام میںجلدی کرتے ہیں اور اس کیلئے سبقت لیجاتے ہیںاور ہم کسی کو مکلف نہیں بناتے مگر اپنی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق بولے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔ بلکہ انکے دل مدہوش ہیں اسکے سوا انکے پاس کرنے کے کچھ اور کام ہیںجن کووہ کرتے ہیں۔یہاں تک کہ جب ہم انکے مالداروں کو عذاب میں پکڑیں گے تو وہ چلائیں گے۔( المؤمنون51تا64)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو مخاطب کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ تم کھاؤ پیو حلال چیزیں اور تمہاری یہ اُمت ایک ہی تھی۔ پھر انہوں نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر فریق کے پاس جو ہے اس پر خوش ہے۔ ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو بولتی ہے حق کو۔ آج قرآن کے مختلف زبانوں میں تراجم چل رہے ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ قرآن کا مفہوم بدل دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے غیر مسلم کیا مسلمان بھی اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔
نبی ۖ نے تمام انبیاء کی امامت کی ۔ عیسیٰ کی آمد ہوگی۔ شہداء کو برزخ میں رزق دیا جاتا ہے۔ نبیۖ کا پوچھا جائے گا: ماتقول فی ھٰذا الرجل؟۔تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ جو سلیم الفطرت انسان ہوگا تو بلاتفریق مذہب کہے گا کہ یہی اللہ کے رسول ہیںاور جو بدفطرت ہوگاتو بلاتفریق مذہب کہے گا کہ میں نہیں جانتا۔ابوجہل و ابولہب نے پہلے بھی نبی ۖ کا انکار کیا تھا اور اب بھی اس فطرت کے لوگ نہیں پہچانیں گے۔یاد رکھو کہ ہندو کاخفیہ کلمہ اسلام ہے ۔ اگر دیوار گریہ سے لپٹا یہودی محمد محمد (ۖ) پکارتاہے۔ اسرائیل اور سودی نظام کی مذمت کرتا ہے تو یہ درست عمل ہے۔ اور ہمارامولوی طبقہ سودی نظام کو جواز بخش دیتا ہے تو اللہ مکلف انسان کو اس کی وسعت کے مطابق پکڑے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا؟یا مولوی کو باطل عمل پر نجات اور یہودی کو حق پر عذاب دے گا؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیادنیا اسلام سے خوفزدہ ہے کہ خلافت قائم ہوگی تو کفار کی بیویوں، بیٹیوں، ماؤں اور بہنوں کو لونڈیاں بنالیا جائیگا؟

جس مرد میں طاقت نہ ہو تو بیوی اس کو قریب نہیں چھوڑتی اور دوسری سے نکاح بھی نہیں کرسکتا۔ مگر ایک سے زیادہ نکاح کرسکتا ہو تو اس کو چار تک محدود کرنا اور اگر انصاف نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر” ایک بیوی یا جن سے معاہدہ ہو”۔
سوال یہ ہے کہ معاہدہ والیوں سے کیا مراد ہے؟۔
سلطنت عثمانیہ کے ایک بادشاہ کی4500لونڈیاں تھیں۔ کیا اللہ نے آیت میں لاتعداد لونڈیوں کی اجازت دی ہے؟۔ نہیں ہرگز بھی نہیں!۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عثمان نے عبداللہ بن مسعود سے کہا کہ ایک عورت سے نکاح کرادیتا ہوں تو ابن مسعود نے منع کردیا۔ ابن مسعود نے اپنا شغل قرآن کی تعلیم کو بنایا ۔ نبیۖ نے ان سے سیکھنے کی تلقین بھی فرمائی تھی۔ ایک عورت سے نکاح کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے تھے۔ کھانا، کپڑے، بچوں کی پیدائش اور ان کا خرچہ ۔ اس کیلئے مستقل کام کرنا پڑتا۔
ابن مسعودایک لونڈی کے فرزند تھے ۔ صحابہ نے نبیۖ سے کہا کہ کیا ہم خود کو خصی بنالیں؟۔ نبیۖ نے فرمایاکہ نہیں ایک دو چادرپر کسی سے جنسی تعلق رکھ سکتے ہو۔ لاتحرموا الطیبات ما احل اللہ لکم ”طیبات کو حرام مت کرو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں”۔قرآن۔( صحیح بخاری)
کوئی عورت نہیں رکھ سکتاتو کم حق مہر میں نکاح کرسکتا ہے۔ جو بیوہ ، طلاق شدہ ،کنواری ہوسکتی ہے جسے جنسی تعلق کیلئے شوہر کی ضرورت ہو لیکن وہ اپنا خرچہ خود اٹھاسکتی ہوں۔ قرآن میں یہ معاہدہ والیاں ہیں۔ اگر غریب یا نفسیاتی مریض ایک عورت کو انصاف نہیں دے سکتاتو معاہدے کا نکاح بھی کرسکتا ہے۔ قرآن نے معاہدے والی کا بغیر نکاح نہیں کہا۔ بلکہ ایک عورت سے نکاح یا کسی ایک معاہدے والی سے بھی نکاح مراد ہے۔
اللہ نے مرد کو مردانی کا ایک درجہ عورتوں پر دیاہے اسلئے کسی بھی صورت میں شوہر اپنا بوجھ اپنی بیوی پر نہیں ڈال سکتا ہے اور جب عورت اپنا بوجھ خود اٹھاسکتی ہو تو اپنی مرضی کا شوہر بھی اپنے لئے منتخب کرسکتی ہے ۔ مریم نواز کو صفدر عباسی پر فوقیت ہے۔ رسول اللہۖ نے چچاابوطالب سے بیٹی ام ہانی کا رشتہ مانگا۔ حضرت ابوطالب نے انکار کردیا۔ حضرت خدیجہ کی پیشکش کوابوطالب کی اجازت سے آپۖ نے قبول فرمالیا۔
لونڈی اور غلام سے بھی اللہ نے نکاح ہی کا حکم دیا ہے۔
وانکحوا الایامٰی منکم والصٰلحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیم O (سورہ النور آیت 32)
”اور نکاح کراؤ تم میں سے جو طلاق شدہ بیوہ ہیں اور صالح غلام اور لونڈیوں کا۔ اگر وہ غریب ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو مالدار بنادے گا۔ اور اللہ وسعت رکھنے والا علم والا ہے”۔
ماریہ قبطیہ سے نبیۖ کے بیٹے، حاجرہ سے اسماعیل تھے اور کون گمراہ کہے گا کہ یہ لونڈیاں تھیں ، نکاح کرانے کا حکم تھا؟۔
خلافت عثمانیہ کے بادشاہ کو پتہ ہوتا تو اتنی لونڈیاں نہ رکھتا۔ اتنی بکریوں پر ایک بکرا بھی کوئی نہیں رکھتا۔ خواتین کو درباری قسم کے علمائ،فقہائ، شیخ الاسلام، قاضی القضاة اور مفتی اعظم نے ہی جانوروں سے بدتر سمجھ رکھا تھااور انہی کا سکہ رائج الوقت تھا۔ امام ابوحنیفہکی جگہ حنفی مسلک شاگردابویوسف نے تشکیل دیا۔
غلام کے پاس حق مہر کیلئے کچھ نہیں ہوتا توپھر کیا ہوگا؟۔
ولیستعفف الذین لایجدون نکاحًا حتی یغنیھم اللہ من فضلہ والذین پبتغون الکتاب مما مملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علتم فیھم خیرًا واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتاکم ….. (سورہ النور آیت33)
”اور پاکیزگی اختیار کرلیں جو نکاح نہیں پائیں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے مستغنی بنادے۔اور جو لوگ غلاموں سے معاہدے کی لکھت چاہتے ہیں تو اگر ان میں خیر دیکھو تو ان سے تحریری معاہدہ کرواور ان کو وہ مال دو جو اللہ نے تمہیں دیا”۔
اگر کوئی بہن بیٹی کا رشتہ غلام سے چاہتے ہیں تو اگر ان میں خیر نظر آئے تو معاہدہ کرو اور اپنا مال ان پر خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں دیا ۔ اس آیت کا ایسا غلط مفہوم نکالا کہ غلام آزادی چاہتا ہو اور اگر تمہیں اس میں خیر نظر آتا ہو تو پھر اس کے ساتھ آزادی کیلئے معاہدہ کرو۔ غلام اور آزادی میں خیر؟۔ اس کا جوڑ نہیں بنتا!۔ اللہ نے مال طلب نہیں خرچ کرنے کا واضح حکم دیا۔
آگے مزید دیکھو ! اللہ کے قرآن کا کیا حشر کیا گیاہے؟۔
ولاتکرھوافتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصن لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ بعد اکراھن غفور رحیمO (سورہ نور آیت:33)
” اور اپنی کنواری لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو۔ اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم اپنے دنیاوی مقاصد کو انکے ذریعے تلاش کرواور اگر کسی نے ان کو مجبور کیا تو اللہ ان کی مجبوری کے بعد مغفرت کرنیوالا اوربہت رحم کرنے والا ہے”۔
ان آیات میں طلاق شدہ وبیوہ ، غلام ولونڈی اور کنواری کے نکاح کا مسئلہ حل ہے اور ذمہ داری بااثر افراد پر ڈالی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں نے طویل عرصہ حکومت کی مگر اکبر کے ”دین الٰہی” سے اورنگزیب کے” فتاویٰ عالمگیریہ” تک جس میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری ، فساد فی الارض پر سزا نہیں تھی اور پھر ایسٹ انڈین کمپنی نے ہندوستان پرقبضہ کرلیا۔
قائداعظم محمد علی جناح نے پارسی رتن بائی سے کورٹ میرج کی اور اس کی بیٹی دینا جناح نے پارسی سے کورٹ میرج کی تھی اور قرآن وسنت کو علماء نے فروغ نہیں دیا جس سے انگریز ی عدلیہ کو عدل وانصاف اور فطرت کے مطابق بہتر سمجھتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید سے مولانا قاسم نانوتوی تک دینداری یہ تھی کہ جوان بیوہ بہنوں کا نکاح نہیں کیا جب وہ نکاح کی عمر سے گزر گئیں تو اپنے وعظ میں تاثیر لانے کیلئے بہنوں کی منت کی کہ اپنی ضرورت کو چھوڑدو ۔ہمارے لئے نکاح ثانی کرلو۔
لڑکی کو کسی سے محبت ہوگئی اور وہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اللہ نے حکم دیا کہ اس کو بدکاری یا بغاوت پر مجبور مت کرو کہ لڑکا ہمارا کفوء نہیں۔ خاندان کی عزت خاک میں ملے گی۔ اپنی دنیاوی اغراض کو تلاش مت کرو۔ لیکن اس کو کسی اور سے نکاح پر مجبورکیا گیا تواگرچہ اس کی اجازت نہیں لیکن مجبور عورت پر ناجائز اور حرام کاری کا فتویٰ نہیں لگایا جائے بلکہ اللہ غفور رحیم ہے۔
مفتی تقی عثمانی کی بیٹی نے ٹیوشن پڑھانے والے سے نکاح چاہا مگر مارپیٹ کر کسی اور نکاح پر مجبور کیا گیا۔اللہ نے اس جبر کو ناجائز قرار دیا لیکن حرام کاری نہیں اسلئے کہ لڑکی مجبور ہے۔
معاشرے میں ظالمانہ اقدام میں علماء بھی ملوث ہیں۔اور وجہ قرآن کامسخ مفہوم ہے۔ اس آیت کا یہ ترجمہ بیان کیا گیاکہ ”لونڈیوں کو زبردستی سے دھندے پر مجبورنہ کرو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں اور اگر ان کو مجبور کیا گیا تو اللہ غفور رحیم ہے”۔
عورت کی مرضی کے بغیر ولی نکاح نہیں کراسکتا(حدیث) بالغ لڑکی کا نکاح اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا تو چھوٹی بچی کا نکاح جبراً ہوسکتا ہے؟۔ مینا، طوطا اور کونج بچپن سے پالا ہو تو اس کا بھی حق ہے کہ مرضی کے بغیر حوالے نہ کیا جائے چہ جائیکہ اپنی نابالغ بچی کسی جنسی درندے کودی جائے؟۔ مفتی تقی عثمانی کے ”فتاویٰ عثمانی جلد2” میں ظالمانہ غیرانسانی فتاویٰ جات کو دیکھ کر علماء کی غیرت جاگنی چاہیے تھی۔ اس کے کچھ فتاویٰ پہلے شائع کرچکا ہوں۔ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت6سال اور رخصتی کے وقت9سال معروضی حقائق کے بالکل منافی ہے جس پر تحقیقاتی کتابیں ہیں ۔ ہم نے خاصا مواد شائع کیا ہے۔
مفتی طارق مسعود نے کہا کہ بچی شوہر کی امانت ہے ۔ بچپن سے تعلیم کا خرچہ شوہر اٹھالے۔ فائدہ سسرال نے لینا ہے تو میکے والے نقصان کیوں بھریں؟ ۔PTVکی ماہ پارہ صفدر نے کہا کہ ”دورِ جاہلیت میں بعض قبائل اپنی بیٹیوں کو اس خوف سے ماردیتے تھے کہ دشمنی میں مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں سیکس کیلئے بنایا جاتا تھا۔ مفتی طارق مسعود بیٹیوں کو سیکس ورکر کی طرح بچپن میں دوسروں کے ذمہ لگانے پر تلا ہوا ہے” ۔
قرآن میں یتیم لڑکوں کیلئے حتی بلغوا النکاح کا ذکر ہے جس سے لڑکوں کا نکاح کی عمراور ذمہ داری اٹھانے کی حد تک پہنچنا واضح ہے۔ جاہلوں نے قرآن کے لفظ لم یحضن سے بالکل غلط استدلال کیا ہے کہ اس سے وہ بچی مراد ہے جس کو ابھی حیض نہیں آیا ہو۔ یہ سورہ اخلاص لم یلد کی نفی ہے کہ اللہ نے کسی کو جنا نہیں مگر مستقبل میں بچہ جن سکتا ہے نعوذ باللہ۔
الیکشن1937میں جمعیت علماء ہند نے مسلم لیگ کیساتھ اتحاد کیا کہ بچپن کی شادی ختم کرانے کیلئے قانون سازی ہوگی۔ مجلس احرارالاسلام نے قادیانی ٹکٹ ہولڈر وں کا مقابلہ کیا اور الیکشن میں ایک دوسرے کی مخالفت بھی ہوئی جس پر مولا نا مدنی سیدعطاء اللہ شاہ بخاری سے ناراض ہوگئے۔ بخاری نے مدنی کی پرواہ نہیں کی توپھر مولانا سیدحسین احمد مدنی منانے گئے۔
احمد نورانی نے اپنے ویلاگ میںدوبئی میں ایک18سالہ لڑکے کا17سالہ لڑکی سے جنسی تعلق پر سزا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں18سال نکاح کی قانونی عمر ہے اور اس سے کم عمر یا عمروں میں زیادہ فرق کیلئے عدالت سے اجازت لینا ہوگی۔
مغرب نے بھی نکاح کے قوانین رکھے ہیں اور اسلام نے بہت پہلے رکھے تھے لیکن فقہاء نے اپنی جہالت یا مفادات کی خاطر عورت کے حقوق کا خاتمہ کردیا۔ اگر حقوق نہ ہوں توپھریہ قانونی مسئلہ واقعی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اگر حقوق ہوں گے توپھر قانونی معاملات کیلئے والدین کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی کیونکہ طلاق میں مالی حقوق کا تعین کرنا پڑے گالیکن حلالہ کی لعنت کے مرتکب نکاح و طلاق کے حقوق کو کیا سمجھیں گے؟۔
دیوبندی ، بریلوی، شیعہ ،اہلحدیث مدارس بورڈ1982کو منظور ہوگئے۔ مولانا مودودی مدارس کی افادیت کے سخت مخالف تھے لیکن جاوید غامدی کی خانقاہ کی طرح پھرجماعت اسلامی نے رابطہ المدارس بورڈ1987میں رجسٹرڈ کرایا۔
غزوہ حنین کی مشکلات میں نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ
انا نبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب
”میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ،میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں”۔
میدان جنگ اللہ نے سجدے و رکوع کا حکم نہیںدیا تھا اور نہ حضرت حسین نے اس پر عمل کیاتھا۔ علامہ اقبال نے کہا کہ
آگیا عین لڑائی میں وقت نماز
قبلہ رو ہوکے زمین بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
لڑائی میں سر بسجود ہوں تو کون محمود وایاز زندہ رہیں گے؟۔ قرآن میں حالت جنگ نہیں حالت خوف کی نماز کا سورہ البقرہ آیات238،239میںحکم ہے۔ پھر سورہ النساء میں فرمایا :
” جب تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ کفر والے لوگ تمہیں آزمائش میں ڈالیں،بیشک کافر تمہارے لئے کھلے دشمن تھے۔ اور جب آپ(ۖ) خود ان میں ہوں اور نماز پڑھانا چاہیں ان کیلئے تو ان کا ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو اوراپناہتھیار ساتھ رکھیں۔جب وہ سجدہ کر چکیں تو وہ پیچھے ہوجائیں۔دوسرا گروہ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔پس وہ آپ کیساتھ نماز پڑھ لیںاور وہ بچاؤ کیلئے اپنی حاضر دماغی اور اپنا اسلحہ تیار رکھیںاور کافروں کو پسند ہے کہ اگر اپنے اسلحہ اور سامان سے غافل ہوں تو وہ ایک حملہ میں کام تمام کردیں۔ اور تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ تمہیں کوئی تکلیف ہو بارش سے یا تم بیمار ہو کہ اپنا اسلحہ رکھ لو اور اپنی حاضر دماغی بچاؤ کی رکھو۔ بیشک اللہ نے کافروں کیلئے ذلت کا عذاب مقرر کررکھا ہے۔ جب تم نماز پڑھ چکے تو اللہ کو یاد کرو اٹھتے ،بیٹھتے اور اپنی کروٹوں پر۔پس جب مطمئن ہوجاؤ تو پھر نماز قائم کرو۔ بیشک نماز مؤمنوں پر اوقات کے مطابق فرض کی گئی ہے۔ (سورہ النسائ:101،102،103)
سفر میں نماز قصر کی اجازت ہے تاکہ مولوی اپنی دو رکعت کی نماز پڑھ کر مقتدیوں کی ایک بڑی تعداد کو شتر بے مہار کی طرح نہ چھوڑے۔ جب حالت یہ ہو کہ حنفی مسلک میں مقتدی کو بقیہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کی اجازت نہ ہو اور عوام کو پتہ نہ ہو۔ مجد د الف ثانی کا یہ حال ہو کہ حدیث میں فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور میں حنفی ہوں مگر نماز کی امامت کرتا ہوں تاکہ اپنی نماز ہوجائے۔( مقتدی بھاڑ میں جائیں)۔ حج کے اجتماع اور سفر میں نبیۖ ظہروعصر اور مغرب وعشاء کی نماز یں جمع کرتے۔
تبلیغی جماعت و جمعیت علماء اسلام کا لاکھوں کا اجتماع مگر زیادہ تر اوقات لیڑین ،انتظار اور وضو خانہ میں گزرتے ہیں۔ سورہ النساء میں سفر کی نماز کا حکم ہے اور نبیۖ کیلئے حساسیت بیان کی گئی اسلئے کہ کفار موقع کی تلاش میں تھے۔ صحابہ کرام نے دل وجان سے نبی ۖ کی حفاظت کی۔ شیعہ کی یہ عادت بری ہے کہ اختلاف کے علاوہ دوسروں کو حرامی تک بولتے ہیںلیکن طرز عمل کا اختلاف تو ائمہ اہل بیت اور ان کی اولاد میں بھی تھا۔ آج میڈیا کے باوجود کیا سے کیا پروپیگنڈے نہیں ہوتے؟۔
سورہ البقرہ کے پہلے دو رکوع میں مؤمنین ، کفار اور منافقین کی صفات ہیں۔فرمایاکہ” بیشک جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے برابر ہے کہ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ایمان نہیں لائیںگے۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور انکے سننے پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے”۔ کفر وانکار کی خصلت جن میں ہوتو وہ پیغمبروں کی بعثت پر عذاب کا شکار بنتے ہیں مگر ہردور میں اپنی خصلت سے پہچانے جاتے ہیں۔ نبی ۖ کے والدین کفر کی صفات نہیں رکھتے تھے۔ نبی ۖ کی بعثت سے پہلے جن کا ایمان تھا ان کو قرآن نے اسلام پر دوہرے اجر کا مژدہ سنایا۔ نبی ۖ کی بعثت سے پہلے کسی کاانتقال ہوا تو کس جرم میں جہنم کا عذاب ہوگا؟۔ اب جو قرآن نہیں مانتے وہ مسلمان ہیں؟۔
بعض لوگوں پر منافقین کی صفات صادق آتی ہیں۔ قرآن کا آئینہ موجود ہے جس میں مؤمن، کافر اور منافق کا ایمان وکردار دیکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ اللہ نے عورتوں کا حق مہر شوہر کی استعداد پر فرض کیا ۔ قد علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم وماملکت ایمانھم (الاحزاب:50)
”اور ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے ان پر بیویوں اور معاہدہ کرنے والیوں پر (حق مہر)فرض کیا ہے”۔ اللہ نے فرمایا کہ لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقترہ قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المحسنینOوان طلقتوھن من قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضة فنصف مافرضتم الا یعفون او یعفوا الذی بیدہ عقدة النکاح وان تعفوا اقرب للتقویٰ ولاتنسوا الفضل بینکم ان اللہ بما تعملون بصیرًاO(البقرہ آیات236،237)

ترجمہ:” کوئی گناہ نہیں ہے تم پر اگر عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی یا کوئی حق مہر مقرر کرنے سے پہلے۔ پس ان کو خرچہ دو وسعت والے پر اپنی قدرت کے مطابق اور فقیر پر اپنی قدرت کے مطابق معروف طریقے سے خرچہ ہے۔حق ہے اچھوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی اور ان کیلئے حق مہر بھی مقرر کیا تھا تو پھر مقرر کردہ کا آدھا دینا فرض ہے الا یہ کہ جن عورتوں کا حق ہے وہ چھوڑ دیں یا جن کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے وہ آدھے سے زیادہ کا درگزر کرلیں۔ اگر مردوں تم درگزر سے کام لو یعنی آدھا سے زیادہ دو تو یہ تقویٰ کے قریب ہے اور آپس میں ایکدوسرے پر فضل کرنا نہ بھولو۔ بیشک کہ جو کچھ بھی تم کررہے ہو ۔اللہ اس کو دیکھ رہاہے ”۔
اللہ تعالیٰ ان آیات میں واضح کررہاہے کہ مردوں پر حق مہر ان کی استعداد کے مطابق ہے۔ کھرب پتی اور فقیر دونوں پر اپنی اپنی قدرت کے مطابق حق مہر اللہ نے فرض کیا ہے۔
اللہ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق پر آدھا حق مہر فرض کیا مگر عورتیں رعایت کریں یا مرد اور مردوں کی رعایت تقویٰ کے زیادہ قریب ہے جن کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے۔
ایک عام آدمی حیران ہوتا ہے کہ ہاتھ لگائے بغیر بھی طلاق میں عورت کو آدھے حق مہر کا تحفظ دیا گیاہے؟۔ پھر رعایت کی بھی دو طرفہ گنجائش ہے لیکن مردوں کی طرف سے ہی رعایت کو زیادہ تقویٰ کے قریب قرار دیا گیا ہے اسلئے کہ طلاق کا اقدام بھی وہی اٹھارہے ہیں تو اپنے کئے کا بدلہ انہی کو اٹھانا چاہیے۔ شیخ چلی پن کی انتہاء یہ ہے کہ فقہاء نے اس سے یہ مراد لیا کہ ”طلاق صرف مرد کا حق ہے اور عورت کو خلع کا حق نہیںہے”۔
حالانکہ یہاں مالی حق کا مسئلہ ہے اور طلاق کا اقدام مرد ہی اٹھارہاہے تو یہ وضاحت ہے کہ مرد کو رعایت دینی چاہیے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کو اختیار سے محروم کردیا گیا۔ جب شوہر طلاق کے بعد عورت کو اس کے مالی حقوق سے محروم کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا:
وکیف تأخذونہ وقد افضٰی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقًا غلیظًاO (النسائ:آیت:21)
”اور اس سے کیسے لیں گے اور تحقیق وہ ایک دوسرے سے قربت کرچکے ہیں اور ان عورتوں نے ان سے سخت عہد لیا”۔
اس آیت میں عہد کی نسبت عورت کی طرف ہے تاکہ اس کو محروم نہیں کیا جائے ۔ آیت237البقرہ میں مردوں کی طرف نسبت ہے تاکہ عورت سے رعایت کیلئے تقاضے میں شرمائے۔
فقہاء کی حماقت اور شیخ چلی پن کی انتہاء ہے کہ قرآن کو رائج تو نہ کیا لیکن اپنی حماقت سے اسکے مفہوم میں معنوی تحریفات سے بالکل بخرے کرکے رکھ دئیے ہیں۔صدر وفاق المدارس پاکستان استاذ العلماء محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا:
” عورت کا فرض حق مہر مختلف فقہی مسالک میں الگ الگ ہے ۔ جتنی رقم پر چور کا ایک عضو ہاتھ کٹتا ہے تو اتنی رقم میں شوہر عورت کے ایک عضو شرمگاہ کا مالک بن جاتا ہے۔10درہم،3درہم ، درہم کا چونی اور ایک پیسہ وغیرہ پر مختلف اماموں کے ہاں چور کا ہاتھ کٹتا ہے۔ (کشف الباری شرح صحیح البخاری)
قرآن نے شوہر کی استعداد پر عورت کے حق مہر کا معاملہ رکھا ہے اور حدیث میں نبیۖ نے شوہر کے استعداد پر حق مہر کا معاملہ واضح کیا ہے۔ ایک عورت نے نبیۖ کو خود کو ہبہ کیا نبیۖ نے اسے دیکھا پھر ایک صحابی نے کہا کہ آپۖ کو ضرورت نہ ہو تو مجھے نکاح میںدیں، نبیۖ نے پوچھ لیا کہ آپکے پاس دینے کیلئے کیا ہے؟۔ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چادر ہے ،اگر اس کو دوں گا تو خود کیا کروں گا؟۔ جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ گھر میں دیکھ کر آؤ ۔ بھلے لوہے کی انگھوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے دیکھا اور واپس آکر کہا کہ کچھ بھی نہیں ملا۔ نبیۖ نے پوچھا کہ قرآن کی کچھ سورتیں یادہیں؟۔ اس نے کہا کہ ہاں! نبیۖ نے اسے سورتوں کی تعلیم ذمہ لگادی۔
یہ اس فقیر کا حال تھا جس کی کل مالیت نبیۖ نے حق مہر میں دے دینی تھی لیکن اس کے پاس تن پر کپڑے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اللہ نے قرآن میں واضح کردیا کہ ” نبی کیلئے یہ خاص ہے کہ کوئی عورت خود کو ہبہ کردے،اگر نبی کا ارادہ نکاح کا ہو”۔ تاکہ آنے والے دور میں قیامت حیلہ بازمولوی ہبوں میں اپنی اولاد کیلئے مریدوں اور اپنے لئے عورتیں لیناشروع نہ کریں۔
مفتی تقی عثمانی نے بھتیجے کیلئے مرید کی بیٹی لے لی۔ اس نے بچوں کو بڑا کیا تو پھر جب وہ گھر گئی تو پیچھے سے طلاق بھیج دی۔ جس قوم کے افراد بیوی سے جہیز کا مطالبہ کریں اور بیٹی کو حق مہر کے نام پر بھاری رقوم سے فروخت کردیں تو اس میں ملا کہاں سے غیرتمند پیدا ہوسکتے ہیں؟۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ”جمہور کے نزدیک نکاح سے پہلے عورت کا چہرہ ہتھیلیاں دیکھ سکتے ہیں تاکہ خوبصورتی اور نرمی کا پتہ چلے۔ امام اوزاعی کے نزدیک شرمگاہ کے علاوہ پورا جسم دیکھ سکتے ہیں امام داؤد ظاہری کے نزدیک شرمگاہ بھی دیکھ سکتے ہیں”۔ (کشف الباری)
کاش !علماء اپنے نصاب کو ٹھیک کرنے کی طرف توجہ دیں۔
”اے ایمان والو! نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ سمجھو کہ جو کچھ تم بول رہے ہو اور نہ جنابت میں مگر مسافر یہاں تک کہ غسل کرو….تیمم….”۔(النسائ:43)
جو بغیر نشے بھی نماز سمجھ کر نہیں پڑھتے تو وہ خود کو بے نمازیوں سے افضل نہ سمجھیں۔ہرنماز کی ہر رکعت میں صراط مستقیم کی دعا مانگنے والوں کا خود کو ہدایت پر دوسروں کو گمراہ سمجھنا بیوقوفی ہے۔
حضرت عمر نے کہا: سفر میں تیمم سے نماز نہ پڑھی۔نبیۖ نے فرمایا: اچھا کیا۔حضرت عمار نے کہا: زمین میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی۔ فرمایاۖ: ہاتھ و چہرے پر مسح کرنا کافی تھا۔
قرآن واضح ہے کہ نماز کی مسافر کو تیمم سے اجازت ہے اور تیمم سے نہ پڑھی تو صحیح۔ عمر نے عمل کیا، نبیۖ کی تصدیق مل گئی۔ عمار نے تیمم کا واضح مسئلہ نہ سمجھا تو نبیۖ نے سمجھادیا۔
نبی ۖ نے فرمایا کہ بنوقریظہ پہنچ کر عصر کی نماز پڑھو۔ کچھ نے راستے میں پڑھی اور کچھ نے مغرب کیساتھ پہنچ کر پڑھ لی۔
” نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی۔اللہ کیلئے عاجزی سے کھڑے ہو۔اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ یا سوار ہوکر۔ پس جب امن میں آجاؤ تو ویسے اللہ کو یاد کرو (نماز پڑھو) جیسے تمہیں سکھایا گیا جو تم نہیں جانتے تھے”۔ البقرہ238،239
یہ حکم جنگ نہیں حالتِ خوف کا ہے۔ فقہاء ، قصہ گو واعظین، مصنفین اور طاغوتی شعراء نے امت مسلمہ کو قرآن وسنت سے دور کرکے اپنا اور ہم سب کا بیڑہ غرق کرنے میں کردار ادا کیا۔
آیت میں جنابت کیلئے غسل کا حکم واضح ہے ۔و ضو کیلئے اللہ نے فرمایا کہ ” جب تم نماز کیلئے اُٹھو تو اپنے چہروںو ہاتھوں کو دھو ؤ اور مسح کرو اپنے سروں کا اور اور اپنے پاؤں کو دھوؤ اور اگر تم جنابت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ (المائدہ:6)
صحابہ کرام وضو کرتے اور نہاتے تھے مگرانہوں نے اس میں مختلف اور متضاد فرائض ایجاد نہیں کئے۔ فقہاء نے فضول کے اختلافات کئے کہ ”خوب پاکی حاصل کرو” سے کیا مراد ہے؟۔ وضو کے مقابلے میں غسل کرنا خوب پاکی ہے۔ کوئی کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض قرار دے ، کوئی نافرض اور کوئی پورے جسم کو مل مل کو دھونا فرض قرار دے اور کوئی نہیں لیکن ایک فرض پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ یہی حال وضو میں سر کے مسح کا ہے ۔ کوئی چوتھائی فرض قرار دے تو کوئی بال برابر اور کوئی بال برابر بھی رہ جائے تو فرض ادا نہیں ہوگا۔ اگر یہ پتہ ہو کہ چہرہ دھونا ہے، ہاتھ کہنی تک دھونے ہیں تو سر کا مسح نہ بھی کہا جائے تو کرلیںگے۔
قرآن قیامت تک انسانوں کیلئے ہے۔ مولانا سیدابوالحسن علی ندوی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں جمعہ کی تقریر میں فرمایا کہ ” ایک یہودی نے اعتراض کیا کہ قرآن میں ان ھٰذا لشئی عجاب عربی جملہ نہیں ہے تو ایک دیہاتی عرب کو بلاکر چندبار اٹھک بیٹھک کرائی گئی اور پھر کہا کہ جاؤ تو اس نے کہا:ان ھٰذا لشئی عجاب جس پر یہودی مان گیا۔ ومن یشتری لھوالحدیث (اور جو لغو بات خریدتا ہے) تو جب آڈیو نہیں تھا تو بات خریدنے کا کوئی امکان بھی نہیں تھا مگر قرآن میں موجودہ دور کیلئے اللہ نے یہ فرمایا ہے”۔
حدیث ہے کہ” آدمی اپنے ہاتھ کی چیز سے دور رہ کر بھی اپنا گھر دیکھے گا اور بیوی کے جوتے کے تسمہ پر (کیمرہ) لگائے گا تو سب ریکاڈنگ دیکھ سکے گا”۔ ملحدین قرآن واحادیث کے عجائب نہیں مانتے تھے لیکن سائنسی ترقی ثابت کررہی ہے۔
قرآن نے چاند، سورج ، بادل اور کائنات کی تسخیر سے دنیا کو منافع بخش بنانے کا حکم دیا تھا اور علماء ومفتیان اور مذہبی طبقہ غسل، وضو اور استنجے کی تسخیر پر قوم کی زکوٰة وخیرات کا پیسہ بہت ضائع کررہے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ایٹم بم بنادیا اور مفتی تقی عثمانی ومفتی منیب الرحمن نے سود کو اسلامی نظام قرار دیدیا۔ مذہبی طبقات کی مصیبت یہ ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے لیکن قرآن کو ٹکڑے کرنے میں سب مل کر ٹوکے اٹھالیتے ہیں۔ یہ رویہ اب بدلنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
قرآن میں اللہ نے محرمات کی فہرست کے آخر میں 5ویں پارہ کے ابتداء میں فرمایا: والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم کتب اللہ علیکم واحل لکم مارواء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسٰفحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتو ھن اجورھن فریضة ً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO(النسائ:24)
اس آیت پر بھی صحابہ وجمہور میں اتفاق نہیں ہوسکا تھا جس کا اصل میں تعلق بعد کے ادوار سے تھا۔ سب سے بڑی حرمت شادی شادہ عورت سے نکاح کی ہے۔ عربی، اردو، انگلش اور تمام زبانوں میں عورت کیلئے بیگمات کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اگر عورت کا شوہر مرچکا ہو تب بھی اسکے احترام میں بیگم صاحبہ ہی بولا جاتا ہے۔ ایک بڑے فوجی شہید افسر کی بیگم صاحبہ اپنے شوہر کے نشان حیدر یا مراعات قربان کرکے کسی اور شوہر سے نکاح اپنی توہین اور اپنے مفادات کے خلاف سمجھ رہی ہوتی ہے اسلئے اس کو نکاح کا پیغام دینا محرمات کے درجہ میں ہے۔
لیکن اگر اس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت جنسی تعلق قائم کیا جائے جس سے اس کے مفادات بھی متاثر نہ ہوں اور ایک معقول جنسی ذریعہ بھی مل جائے جیسے سعودی عرب میں بھی مسیار کا مسئلہ چل نکلا ہے تو اس سے معاشرے کی بہت خرابیوں پر قابو پانے میں زبردست مدد مل سکتی ہے۔ سورہ احزاب:50میں اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ ” وہ چچا کی بیٹیاں آپ کیلئے ہم نے حلال کی ہیں جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ہے”۔ اور پھر سورہ احزاب آیت51میں نبی ۖ کو کسی سے بھی نکاح کرنے سے اللہ نے منع فرمایا کہ چاہے کسی عورت کا حسن کتنا اچھا لگے تو نکاح نہیں کرسکتے اور نہ کسی کو چھوڑ کر بدلے میں کسی اور عورت سے نکاح کی اجازت ہے مگر جس سے معاہدہ ہو”۔
حضرت علی کی بہن ام ہانی نے ہجرت نہیں کی ۔ بدرالدین عینی نے ام ہانی کو نبیۖ کی28ازواج میں شمار کیا۔ حالانکہ وہ بیوی نہیں بن سکتی تھی۔ معاہدے کا نکاح ہوسکتا تھا۔ جس نے پہلے نبیۖ کی دعوت نکاح قبول کرنے سے معذرت کی کہ میرے بچے بڑے ہیں۔ پھر اللہ نے بھی منع کردیا اور ظاہر ہے کہ نبیۖ کی ازواج امہات المؤمنین کی شہرت رکھتی ہیں۔ معاہدہ والی ایک ام ہانی ہیں۔ام المؤمنین ام حبیبہ نے بیٹوں کی پیشکش کی نبیۖ نے فرمایا یہ مجھ پر حرام ہیں۔(صحیح بخاری)
اگر مغرب میں اس نکاح کو قانون بنایا جاتا تو سیتا وائٹ کی بیٹی ٹیرن کو صاحبزادی کی عزت مل جاتی اور کیس کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ اسلام کی افادیت دنیا مان سکتی ہے۔
عبداللہ بن زبیر نے متعہ کو زنا قرار دیا تو حضرت علی نے کہا کہ آپ بھی متعہ کی پیداوار ہو۔ (زادالمعاد :علامہ ابن قیم ) اور شیعہ علماء کہتے ہیں کہ ابوطالب کے اسلام کو نہیں ماننے والے تو نبی ۖ کے حضرت خدیجہ سے نکاح پر حملہ آور ہیں۔ حالانکہ حضرت ابوطالب نے ام ہانی کا رشتہ ایک مشرک کو دیا تھا۔ شیعہ علماء وذاکرین نفرتوں کو دلوں سے نکال باہر کریں اور اسی میں ان کا اور سب کا فائدہ ہے۔ ہم اپنوں کو سدھاریں گے۔
نکاح اور معاہدے میں یہ فرق ہے کہ نکاح میں عورتوں کو اپنا پورا پورا حق ہر لحاظ سے ملتا ہے جبکہ معاہدے میں باہمی رضا مندی کا معاملہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں مروجہ معاملہ نکاح نہیں معاہدے والا ہے اسلئے کہ نکاح میں جو حقوق قرآن وسنت نے عورت کو دئیے تو وہ تمام حقوق سلب ہیں۔ بلکہ معاملہ بہت بدتر ہے ۔ اسلئے مرتدجرمنی میں سعودیہ کی خواتین کو سپلائی کرتا تھا۔ قرآن و سنت کے فطرتی احکام سے سعودی عرب، افغانستان، پاکستان، بھارت اور دنیا بھر کی مسلمان خواتین کو درست حقوق ملتے تو پھر خواتین کیساتھ روز ناجائز حدود پار کرنے کی خبریں سوشل والیکٹرانک میڈیا پر نہ آتیں بلکہ غیر مسلم بھی بہت تیزی کیساتھ اپنا ماحول اسلامی معاشرتی نظام سے ہی لے لیتے۔
اگر عورت سے کئی بچے جنواکر نہ صرف اس کو گھر سے نکالنا شوہر کا حق ہو بلکہ اس سے بچے چھین لینے کا بھی حق ہو تو یہ نکاح کہاں ہوسکتاہے؟۔ سورہ الطلاق میں واضح طور پر گھر کو عورت کا قرار دیا گیا ہے۔ لاتخر جوھن من بیوتھن ”ان کو انکے گھروں سے مت نکالو”۔(الطلاق) ام رکانہ سے طلاق پر ابورکانہ نے گھر نہیں چھینا تھا بلکہ وہ اپنے بچوں کیساتھ گھر میں رہی تھیں۔ ٹانک گل امام کے مشہور عالم دین مولانا عبدالرؤف نے بیوی کو طلاق دی تھی تو اپنا گھر بیوی بچوں کیلئے چھوڑ دیا تھا۔
قانون اور اخلاقیات میں اتنا فرق نہیں ہوتا کہ ایک طرف بیوی سے کئی بچے جنواکر اس کو گھر اور بچوں سے محروم کیا جاسکتا ہو اور دوسری طرف اخلاقی بنیاد پر ان کو گھر سپرد کیا جاتا ہو؟۔ طلاق کے بعد عورت کے اصل حقوق کا پتہ چلتا ہے۔ حق مہر اور خرچہ عورت کا حق ہے۔ نبیۖ کے وصال کے بعد حضرت عائشہ ودیگر ازواج مطہرات اپنے گھروں کی مالک تھیں۔
علماء کہتے ہیں کہ میاں بیوی میں ایک فوت ہوجائے تو ایک دوسرے کیلئے اجنبی۔ نبیۖ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ پہلے فوت ہوگئیں تو میں غسل دوں گا، حضرت ابوبکر کی میت آپ کی بیوی اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ مفتی کی بیوی20سال بعد مرتی ہے تواس کا بیٹا اپنی ماں کی قبر پر اجنبی شوہر کی تختی لگا دیتا ہے کہ زوجہ مفتی اعظم فلاں۔
اللہ نے فرمایا:” اور اگر یہ طاقت نہ ہوکہ بیوہ وطلاق شدہ کو نکاح میں لاسکو تو پھر مؤمنات معاہدے والیاں تمہاری لڑکیوں میں سے ۔اللہ تمہاراایمان جانتا ہے ۔بعض تم خود بعض سے ہو ، پس ان سے نکاح کرو انکے اہل کی اجازت سے۔ انکوانکا حق مہر دو معروف طریقے سے۔ نکاح کی قید میں لاکر نہ فحاشی سے اور نہ چھپی یاری سے۔جب نکاح میں لاؤ اور پھر وہ فحاشی کریں تو ان پر بیگمات کی آدھی سزا ہے۔یہ اس کیلئے ہے جو تم میں سے مشکل میں پڑنے کا خوف رکھے اور اگر صبر کرو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے”۔ (سورہ النساء : آیت25)
بدکاری پر100اور50کوڑے کی سزا قرآن کے مطابق ہوتی تو عمل بھی ہوتا۔ سورہ نسائ:15میں عورت پر4گواہ کے بعد گھر میں تاموت قید کا حکم ہے یا کوئی راستہ اللہ نکالے۔ یعنی نکاح ہوجائے۔ مفتی شفیع و مفتی ولی حسن ٹونکی نے سنگساری مراد لیا اور پھر اللہ نے دو مرد کو بدکاری پر اذیت کا حکم دیا اور اگر توبہ کریں تو طعنے سے روکا ۔ (النسائ:16) علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کو مینار پاکستان سے گرایا ؟۔
مااصاب من مصیبةٍ فی الارض ولافی انفسکم الا فی کتابٍ من قبل ان نبرأھا ان ذٰلک علی اللہ یسیرOلکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولاتفرحوا بما اتاکم واللہ لایحب کل مختالٍ فخورٍOسورہ الحدید
”جو مصیبت زمین اور خود تم کو پہنچتی ہے تو کتاب میں پہلے سے ہوتی ہے ہمارے پیدا کرنے سے۔یہ اللہ کیلئے آسان ہے تاکہ تم نقصان پر افسوس اور عطاء پر فخر نہ کرو۔اللہ پسند نہیں کرتا ہر اترانے فخر والا”۔مولانا منظور مینگل نے کہا کہ سُود ، زنا اور قتل شرعاً و عقلاً ناجائز ہیں، شیعہ زنا کو جائز کہتے ہیں۔ اگر ہندو اور یہودی شرعاً سُود کو حرام اور ہمارا مفتی حلال سمجھے تو پھر؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv