پوسٹ تلاش کریں

لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا

لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا

جاپان پر ایٹم بم 15اگست 1945کوگرایا ۔ برصغیر کی آزادی 15اگست رات 12بجکر ایک منٹ پر رکھی تاکہ جاپان جس دن یوم سیاہ منائے، اس دن برصغیر پاک و ہند میں آزادی کا جشن منایا جائے۔
ہندوستان میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے آزاد ہند کے سربراہ کا حلف اٹھایا۔ گدھا، پالان اور سوار وہی تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا تھا۔ پھر بھی جہاں بھارت آج آزاد ملک ہے تو وہاں کینیڈا میں برطانیہ کا حلف اٹھایا جارہا ہے۔
آزادی کا شعور لیلة القدر کافیض ہے۔ اللہ نے فرمایا :” ہم نے اس کو لیلة القدر میں نازل کیا اور تمہیں کیا پتہ کہ لیلة القدر کیا ہے؟ ۔ لیلة القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے”۔ اگر آزادی طلوع فجر کے بعد ملتی تو القدر کا فیض نہ ملتا۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے اپنی تفسیر میں لکھا کہ ”سندھ ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر،سرحد اور افغانستان میں سبھی قومیں امامت کی حقدار ہیں۔ ان کی وجہ سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا پوری دنیا میں آغاز ہوگا۔ امام ابو حنیفہ کے اساتذہ اہل بیت تھے اسلئے ایران یہ انقلاب قبول کریگا۔ قرآن کی طرف رجوع حنفی مسلک کی بنیاد ہے۔ احادیث کی کتابیں 100سال بعد لکھی گئیں۔جس کا یہ فائدہ تھا کہ سنت محفوظ ہوگئی مگر دوسری طرف اُمت مسلمہ کا عمومی رجحان قرآن سے ہٹ گیا اور امام ابو حنیفہ نے اسلئے قرآن پر بہت زور دیاتھا۔
(تفصیل سے دیکھئے تفسیر سورہ قدر المقام محمود)
میری والدہ نے اصرار کیا تومیرے دادا سید امیر شاہ نے بتایاکہ رمضان کی 27ویں لیلة القدر کو ہاتف غیب سے میں نے 3دفعہ یہ آیت سنی تھی۔
وامتازو االیوم ایھا المجرمون
”اور الگ ہوجاؤ آج کے دن اے مجرمو!”۔
حاجی محمد عثمان کو مولانا فقیر محمد نے مسجد نبوی ۖ میں الہام پر 27رمضان لیلة القدر کوخلافت دی۔ اور لکھ دیا کہ” بہت شکریہ کہ خلافت قبول فرمالی”۔
اگر پاکستان میں ہزار مہینے کے بعد بھی خلافت کے خواب کی تکمیل ہوجائے اور قرآن کی طرف قوم کارجوع ہوجائے تو بہت سستا سودا ہے۔ اب تواپنا کچھ بھی نہیں بگڑا ہے۔ ایک ایک مسئلے اور بات پر ہم ایک دوسرے کو چیلنج اور سازش کرنے کے بجائے وہ حقائق کھول کھول کر بیان کریں جن سے ہماری اور پوری قوم کی اصلاح ہوگی۔ فوج خود کو پاک سمجھ رہی تھی مگرپھرآنکھیں کھل گئیں تو سب کی کھل جائیں۔

آیت 230البقرہ میں تیسری طلاق نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا گیا ہے کہ آیت230میں تیسری طلاق مرادہے۔یہ لوگ قرآن اور نبی کریم ۖ کی حدیث کے علاوہ اپنے اپنے اکابرین اور درسِ نظامی کی تعلیمات کے بھی منکر ہیں۔ ریاضی، سائنس اور معاشرتی علوم سمجھنے والوں کو تو چھوڑئیے ،بالکل ان پڑھ لوگوں کی سمجھ میں بھی یہ بات آسکتی ہے کہ آیت 230سے مراد تیسری طلاق قطعی طور پربالکل بھی نہیں ہے۔
درسِ نظامی میں حنفی مسلک کا مؤقف یہ ہے کہ اس طلا ق کا تعلق آیت229کے شروع میں موجود الطلاق مرتان (طلاق دومرتبہ ہے) سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آیت 229کے آخر میں 230سے بالکل متصل فدیہ کی صورت سے ہے۔ درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے والے اگر بالکل گدھے نہیں ہوں تو وہ حنفی مسلک کے اس مؤقف کو سمجھتے ہیں۔
اس حنفی مؤقف کی تائید ذخیرہ احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ۖ سے صحابی نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” آیت 229میں الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔
یہ حدیث دیوبندی مکتب کے وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کتاب ”کشف الباری شرح صحیح البخاری ” اور بریلوی مکتب کے تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی کتاب ”نعم الباری شرح صحیح البخاری ” میں نقل کی ہے۔ علاوہ ازیں صحیح بخاری میں نبی ۖ نے یہ واضح فرمایا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے۔ پاکی کی حالت میں پہلی بار طلاق یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی میں دوسری بار طلاق یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت میں تیسری بارطلاق یا رجوع۔ اور نبی ۖ نے یہ واضح فرمایا کہ یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم دیا ہے۔ عدت کے مراحل اور طلاق کے مراتب ایک دوسرے کیساتھ لازم وملزوم ہیں۔ان پڑھ بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے۔

البقرہ آیة 230 کا تعلق صرف فدیہ سے ہی ہے

مشہور حنفی عالم علامہ تمنا عمادی کی کتاب ”الطلاق مرتان” میں حنفی مسلک کے مطابق آیت 230البقرہ کی طلاق کو بالکل متصل آیت 229 کے فدیہ کی صورت سے جوڑا گیا ہے۔ عام طور سبھی علماء ودانشور حضرات فدیہ کو خلع قرار دیتے ہیں۔ اگریہ بات درست مانی جائے تو پھر صرف خلع کی صورت میں حلالہ کا حکم ہوگا اور آیت 230 میں ذکر کردہ طلاق سے مراد خلع کے بعد کی طلاق ہے۔ جب علماء ومفتیان کا تعلق مسلک حنفی سے ہے تو پھر حلالہ صرف اور صرف خلع کی صورت میں ہوگا۔ پھر اگر حقیقی حنفی مسلک اور درسِ نظامی کی تعلیم کے مطابق حلالہ کو خلع تک محدود کردیا جائے تو عورت کو اپنے کئے کی سزا مل جائے گی مگر مرد کے گناہ کی سزا تو عورت کو نہیں ملے گی؟۔ علامہ تمنا عمادی نے لکھا ہے کہ حلالہ سزا ہے لیکن عورت کے فعل کی سزا ہے۔
اگر کوئی اپنی معمولی عقل وفہم سے کچھ دیر تدبر کرے تو آیت229البقرہ سے واضح ہوجائے گا کہ فدیہ سے مراد خلع ہرگز نہیں ہے اور اس کی وجہ سے مسلکوں ، فرقوں اور دانشوروں کی وہ ساری چالیں ناکام ہوجائیں گی جن کی بنیاد پر وہ مٹک مٹک کر اپنی علمیت کا جادو جماتے رہتے ہیں۔
آیت229میں اللہ کے حکم ، نبیۖ کی سنت کے مطابق پہلے طہر میں پہلی مرتبہ طلاق، دوسرے طہر میں دوسری مرتبہ طلاق اور تیسرے طہر میں پھر معروف رجوع یا تیسری مرتبہ طلاق دی گئی تو تین طلاقیں مکمل ہوگئیں۔ اور کوئی طلاق باقی نہیں۔ تین طہر میں تین مرتبہ طلاق کے بعد اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم سمجھایا ہے کہ پھر شوہر کیلئے کوئی بھی اپنی طرف سے دی ہوئی چیزواپس لینا جائز نہیں ہے۔ مثلاً 100چیزیں دی ہیں تو ایک بھی نہیں لے سکتا ۔ مگر جب دونوں اور فیصلہ والوں کو یہ خوف ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہ کی گئی تو پھر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ مثلاً موبائل کی سم شوہر نے دی اور اس سے دونوں میں رابطہ اور اللہ کی حدود توڑنے کا اندیشہ ہے تو سم کو واپس کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ اگرسم کے علاوہ اس کے شوہر نے موبائل بھی دیا ہے تو موبائل لینا جائز نہیں ہوگا ۔

عمران خان و بشری بی بی عدت کیس خلع یا طلاق؟

عدالت کے جج خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی کے درمیان فیصلہ کس بنیاد پر کریںگے؟۔عائلی قوانین میں طلاق کی عدت 3ماہ ہے، تحریری طلاق کے بعد عدت میں نکاح ہوا، جسکے گواہ اور نکاح خواں ہیں۔ پھر عدت کے بعد نکاح کے گواہ ونکاح خواں ہیں۔
عورت طلاق کے ایک دن بعد نکاح کرے اور شوہر کیس کرے تو عورت کی بات کا اعتبار ہوگا؟۔ یہ بات عورت مارچ کی ہدیٰ بھرگڑی بھی نہ مانے گی اور اگر یہ قانون بنانا ہے تو پارلیمنٹ سے منظور کرو۔
ہیرا منڈی اور دیگر برائی کے مراکز کی بات بھی نہیں بلکہ مدارس میں حلالہ کے نام پر شریف خواتین کی عزتوں کو جس طرح تار تار کیا جاتا ہے اس کا حل نکالو۔مفتی تقی عثمانی کا ”فتاویٰ عثمانی ” بیہودگی کے جن حدود کو پار کرچکاہے اس کا تدارک کرو۔ اورمدارس میں قرآن وسنت کے خلاف جو تعلیمات ہیں ان کی اصلاح کیلئے میدان میں نکلو۔ عمران اور بشریٰ کا مسئلہ بھی بالکل باعزت اور قرآن وسنت ہی کے مطابق حل ہوجائے گا۔ تحریک انصاف ریاست مدینہ کی بات کرتی ہے لیکن اس کیلئے نظام سے پہلے اسلامی تعلیمات کو پیش کرنا ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کی طرف سے ووٹ اور تلوار کا استعمال نہیں کیا گیا لیکن دنیا نے اسلامی نظام کو قبول کرلیا۔
عیسائی آج بھی مسلمانوں سے تعداد، حکومت، طاقت، تعلیم ، ترقی اور شعور میں بہت زیادہ ہیں لیکن اسلام جیت گیا اور عیسائیت ہار گئی ۔اسلئے کہ عیسائی مذہب میں طلاق کا تصور نہیں تھا لیکن قرآن سب سے زیادہ اسی معاشرتی مسئلے کو بار بار دہر اتا ہے۔ آج صرف عیسائی نہیں پوری دنیا کے ان مذاہب کو شکست ہوگئی جو شرعی طلاق کو نہیں مانتے تھے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ طلاق کی طرح کیا حلالہ بھی فطرت کا راستہ ہے؟۔ اگر نہیں تو یہ دیکھا جائے کہ قرآن نے حلالہ سے چھٹکارا دلایا ہے یا لعنت پر لگایا ہے؟۔
بشریٰ بی بی 3طلاق کے بعد گھر سے نکلنا چاہتی تھی مگر خاور مانیکا نے کہا کہ عدت گھر میں گزارلو۔ بشریٰ بی بی کا ذہن نکاح کیلئے بنا تو تحریری طلاق مانگ لی۔یہی خلع تھا اور خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ جو تحریری طلاق کے بعد پوری تھی۔

البقرہ آیة 229کا تعلق خلع سے قطعاً نہیںہے

میری بہت سارے علماء ومفتیان سے بالمشافہہ ملاقات ہوتی ہے تو سب اس بات پر دنگ رہ جاتے ہیں کہ آیت 230البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق واقعی فدیہ ہی کی صورت سے ہے اور پھر فدیہ سے خلع مراد ہوہی نہیں سکتا ہے تو کیسے علماء و مفتیان کی طرف سے قرآن سے انحراف جاری ہے اور خواتین کو حلالہ کی لعنت پر مجبور کیا جارہا ہے؟۔
مجھے عمران خان کی قیادت اور عوامی مقبولیت پر اعتراض نہیں ہے کیونکہ ایک مسجد اور مدرسہ کے علماء ومفتیان کو حق سمجھ میں آتا ہے لیکن وہ قرآن کی خاطر قربانی نہیں دیتے اور عمران خان ریاست کیخلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔ البتہ کل بھی اسی ریاست کی ٹانگ میں اس نے اپنا سر دیا تھا اور کل بھی بھروسہ نہیں ہے کہ وہ پھر نظام کے آگے مجبور ہوکر گھٹنے ٹیکے گا۔
پھر کیوں نہ وہ کام کیا جائے کہ جس کا فائدہ بھی فوری طور پر لوگوں کو پہنچے۔ کسی کی تذلیل بھی نہ ہو۔ لوگوں کی عزتیں بھی بچ جائیں اور اختیارات کے پیچھے دوڑنے والے بھی اپنی ہوس کچھ کم کرلیں؟۔
جس طرح طلاق کی حقیقت سے دنیا آگاہ ہوئی اور ہزار ،گیارہ سوسال بعد عیسائیوں کو حقیقت سمجھ میں آگئی تو اس طرح اگر مسلمانوں کو ہزار ،گیارہ سو سال بعد حلالہ کی لعنت سمجھ میں آجائے تو اچھا ہوگا۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ دنیا کو حلالہ کی لعنت کا خاتمہ اسلام نے ساڑھے 14سو سال پہلے سمجھا یا تھا اور اسی وقت سمجھ میں بھی آیا تھا جس کی وجہ سے حلالے کی لعنت کا تصور دنیا سے ختم ہوگیا۔ لیکن شاید اب بھی اسرائیل کا کٹر مذہبی طبقہ اس میں مبتلاء ہو۔اور اس میں سب سے بڑا قصور مسلمانوں کا تھا اسلئے کہ انہوں نے خود بھی حلالہ کی لعنت کا سفر جلد شروع کیا اور پھر اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا۔ مولانا مودوی ،علامہ وحیدالزمان ،جاوید احمد غامدی اور تمنا عمادی نے بھی آیت 229البقرہ سے خلع مراد لیکر عورت، معاشرہ ، فطرت اور اسلام کا بیڑہ غرق کیا۔
سورہ النساء آیت19میں خلع اور آیت 20 ، 21 میں طلاق واضح ہے۔ سنی ، شیعہ، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، جماعت اسلامی ، غامدی، پرویزی اور انجینئر علی مرزا سبھی ٹھیک ہوسکتے ہیں۔

البقرہ 228 ، 229، 231 ،232 کا خلاصہ

سورہ بقرہ کی آیات 230سے پہلے کی آیات اور بعد کی آیات میں بالکل کوئی بھی تضاد نہیں ہے ۔ طلاق سے رجوع کیلئے ”علت” باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رضامندی ہے۔ ایک عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو ایک اور دومرتبہ کی طلاق میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ آیت228البقرہ میں اللہ نے فرمایاکہ ” اور ان کے شوہر اس انتظار کی عدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگروہ اصلاح چاہتے ہوں”۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عدت کی پوری مدت میں شوہر کیلئے رجوع کی اجازت ہے۔ اس میں ایک ساتھ 3طلاق یا پھر پاکی کے مختلف ادوار میں 3مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع کی گنجائش ہے۔ لیکن اگر عورت راضی نہ ہو تو پھر ایک طلاق کے بعد بھی رجوع کی گنجائش نہیں ۔ یعنی طلاق سے رجوع کی” علت”باہمی رضامندی ہے۔ اگر رضامندی نہ ہو تو پھر رجوع کرنا حرام ہے اور یہی حکم آیت 229البقرہ میں بھی موجود ہے کہ دومرتبہ طلاق کے بعد عدت کے آخری مرحلہ میں معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے۔ معروف سے مراد باہمی اصلاح اور رضامندی ہے۔ باہمی اصلاح و رضامندی کے بغیر رجوع کرنا حرام ہے۔
آیت 230میں جس طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں ہے اس سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کی طرف سے رجوع کی گنجائش باقی نہ رہے اسلئے حکم واضح ہے ۔
آیت 231البقرہ میں یہ واضح ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کرنا درست ہے۔ یعنی باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے لیکن اگر رضامندی نہ ہو تو نہیں ہے۔
آیت 232البقرہ میں بھی واضح ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی و معروف رجوع کی گنجائش ہے لیکن باہمی رضامندی کے بغیر نہیں۔
سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی یہی خلاصہ بیان کیا گیا ہے کہ باہمی رضامندی سے عدت اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی گنجائش ہے۔ خالی بخاری میں ایک حدیث سے مغالطہ دیا گیا ہے جو کہ بخاری کی اپنی روایات اور فقہ حنفی کے منافی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری

جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری

فرمایاۖافضل جہاد جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے

قال رسول اللہ ۖ افضل الجہاد کلمة الحق عندالسطان الجائر۔
ترجمہ: ”رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ افضل جہاد جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے”۔ اور یہ ہے کہ نبیۖ نے دریافت کرنے پرفرمایاکہ ”افضل جہاد جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ عدل ہے”۔
پاکستان میں گزشتہ سال 9مئی کاواقعہ ہوا۔ اگر پاکستان کی فوج عوام کے سامنے سرنڈر ہوجاتی تو عمران خان کو امام انقلاب اور امام خمینی قرار دیا جاتا لیکن اب حالت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کا پارٹی چھوڑنے اور کارکنوں کا اذیتیں اٹھانے کے بعد ایک طرف کہا جارہاہے کہ فوج نے یہ خود کیا ہے اور دوسری طرف عوامی مقبولیت کا فائدہ اٹھاکر سوشل میڈیا پر نفرت کو فروغ دیا جارہا ہے اور پاکستان اس سے اپنے بھیانک انجام کی طرف جارہاہے۔ پاکستان وہ گدھا بن چکا ہے جس نے اونٹ نہیں ریل مال گاڑی کا بار اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کیلئے سب مل بیٹھ کر ایک ایسا لائحہ ٔ عمل تشکیل دیتے اور نفرتوں کی جگہ سنجیدگی کو فروغ ملتا۔
اگر حکومت وریاست اور مقتدر طبقات کے سامنے کلمہ ٔ عدل اور حق کی بات پیش کی جائے تو ہم موجودہ مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔ نوازشریف کے دور میں بھی سپریم کورٹ پر حملہ ہوا تھا اور عمران خان و ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکنوں نے بھی پارلیمنٹ پر حملہ اورPTVپر قبضہ کرلیا تھا۔ فوج نے جن کو ناز ونخروں سے پالا تو انہوں نے اس کا جواب اس وقت طاقت سے دیا کہ جب ان میں ہمت پیدا ہوگئی ۔ البتہ جب تک عدالت اور پارلیمنٹ نشانہ تھے تو ان کو برداشت کیا گیا۔ پہلی مرتبہ جب عمران خان اور اس کے کارکنوں کی جانب سے مقتدرہ فوج کو نشانہ بنایا جارہاہے تو وہ برداشت نہیں۔
عمران خان اور نوازشریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن بھی دی اور برا بھلا بھی کہہ دیا۔ مولانا فضل الرحمن معتدل اور متوازن شخصیت ہیں۔ 44سالوں سے آئین پر عمل کا کہہ رہے ہیں۔

فرمایا ۖ ”سواد اعظم (بڑی جماعت، پارٹی) کا اتباع کرو”

قال رسول اللہۖ اتبعواالسواد الاعظم فانہ من شذ شذ فی النار
ترجمہ:” رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ بڑی جماعت کے پیچھے چلو ،جو پھسلا وہ آگ میں پھسلا”۔
جمہور کی اصطلاح اسلامی کتب میں اسلام کے شروع دور سے موجود ہے۔ جمہور صحابہ نے ابوبکر ، عمر، عثمان اور علی کی خلافت قبول کرلی۔ لیکن سعد بن عبادہ نے ابوبکر وعمر کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھی۔
حضرت علی نے حضرت عثمان کے خلاف شکایات کا نوٹس لیا اور کلمۂ عدل بلند کیا کہ ابوبکر وعمر سے آپ کا نسب ، آپ کی اسلام کیلئے قربانی اور نبی ۖ سے قرابتداری کم نہیں ہے ۔ اگر لوگوں کو شکایت رہی اور اس کا ازالہ نہیں کیا گیا اور خلیفة المسلمین اپنی مسند پر قتل ہوا تو یہ خونریزی قیامت تک بھی نہیں رک سکے گی۔ اسلئے عوامی شکایات کا ازالہ کریں ورنہ جب لوگ بے قابو ہوں گے تو مشکل پڑے گی۔
پھر حضرت عثمان کی شہادت تک بات پہنچ گئی۔ پھر حضرت علی کے خلاف محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ امام حسن نے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کیلئے کردار ادا کیا اور خلافت سے امیر معاویہ کے حق میں خود دستبردار ہوگئے۔ مولانا یوسف لدھیانوی کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” میں ہے کہ امیر معاویہ نے3 جمعہ کی تقریر میں کہا کہ” سارا مال میراذاتی ہے جیسے چاہوں خرچ کروں”۔ تیسرے جمعہ کو ایک شخص نے کہا کہ”تم غلط کہہ رہے ہو یہ مسلمانوں کا مال ہے”۔ خدشہ تھا کہ جلاد قتل کرے گا ۔امیر معاویہ نے کہا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ حکمران ہرقسم کی الٹی سیدھی بات کریں گے مگر کوئی روکنے والا نہیں ہوگا،جن کو جہنم میں بندر اور خنزیر بناکر پھینکا جائیگا۔ اللہ اس شخص کوخوش رکھے ،جب کوئی جواب نہیں دے رہا تھا تو مجھے یقین ہوا کہ میں ان میں ہوں۔ اس شخص نے میری جان میں جان ڈال دی ”۔ آرمی چیف عاصم منیر کی چاہت ہے کہ کوئی کلمۂ عدل کہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن عمران خان کو وزیراعظم بنادے توپھر ملک کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔

فرمایاۖ” بیشک میری امت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہ ہوگی”

قال ۖ لن امتی تجتمع علی الضلالة ابدًا ، فعلیکم باالجماعة، فان یداللہ علی الجماعة ”میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی ہمیشہ ، تم جماعت کی پیروی کرو، بیشک جماعت پر اللہ کاہاتھ ہے”۔
اصول فقہ کے چار اصول ہیں۔ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔ لیکن ”نورالانوار: ملاجیون” میں لکھا ہے کہ اجماع سے مراد اہل سنت ، اہل مدینہ، ائمہ فقہ اور ائمہ اہل بیت سبھی کا اپنی اپنی جگہ الگ الگ اجماع ہے۔
مدارس کے نصاب ”درس نظامی ”کی یہ تعلیم ہے مگر جب اجماع سے الگ الگ اجماع مراد لیا جائے پھر ان الگ الگ اجماع میں تضادات ہوں تو یہ اجماع کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔علماء غور فرمائیں!۔
حد یث کا بنیادی مقصد یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ”امت میں اختلاف کا سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا کہ جب امت کا کسی اہم مسئلے پر اجماع ہوجائے”۔ امت کا اجماع تھا کہ ”خلافت قریش میں رہے گی”۔ پھر ترک کی سلطنت عثمانیہ قائم ہوگئی تو اجماع بدل گیا اور غیر قریش اور عجم خاندان کی خلافت پر اجماع ہوگیا۔ متقدمین کے ہاں قرآن پر معاوضہ جائز نہ تھا پھر متأخرین کے ہاں جائز ہوا۔ جمہوریت کو کفر مت کہو!، دین کی تحریف تو علماء نے خود کی۔حدیث سے یہ مراد ہے کہ جمہور کے مقابلے میں اقلیت حق پر ہوسکتی ہے لیکن جمہور کے اقتدار سے الگ راستہ اختیار نہ کیا جائے۔ اسلئے کہ جمہور کے اقتدار پرہی اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔
ابوبکر سے سعد بن عبادہ نے اختلاف کیا تو خلیفہ کیلئے قریش کی شرط پر اجماع نہیں ہوا بلکہ جمہور اوراقلیت میں اختلاف تھا۔علی وحسناور یزید و مروان سے آج تک جمہور اور اقلیت کا اختلاف ہے۔جمہور کو اجماع کا نام دینا غلط ہے۔ قریش ، بارہ خلفاء قریش واہلبیت کا تعلق سنی وشیعہ احادیث میں مستقبل کیساتھ بھی ہے جن پر امت مسلمہ کا اجماع ہوگا۔ امام حسین نے یزید سے اختلاف کیا مگر تلوار نہیں اٹھائی بلکہ حق اور عدل کی بات کرنے کیلئے یزید کے پاس جانے دینے کا مطالبہ کیا۔ امام حسن معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے توبعض شیعہ ، بعض بریلوی اور مرزاجہلمی اپنی دکان چمکانے کیلئے امت کو فرقہ واریت کی آگ میں مت جھونکیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جاوید احمدغامدی کا باطل نظریہ اور حقائق کاآئینہ

جاوید احمدغامدی کا باطل نظریہ اور حقائق کاآئینہ

قلابازی کے بھی آداب ہیں،انصار کے مدمقابل مہاجرین کوترجیح ملی کہ قریش تھے! یزید کا بیٹا نہ مانا تو مروان !۔ مروان و یزید کی قرابتداری ، بنوعباس و خلافت عثمانیہ کا خاندانی اقتدار قبول تھا، مگرعلی، حسن و حسین کی قرابتداری قبول نہیں ؟ یہ اجماع نہیں جمہور ہے۔ ذراسوچئے توسہی !۔جاوید احمدغامدی کا باطل نظریہ اور حقائق کاآئینہ

جاویداحمد غامدی نے کہاکہ:” حضرت نوح کے 3بیٹے تھے اور2بیٹوں کی نسل سے خلافت کا وعدہ پورا ہوچکا ہے۔ مسلمان ان میں شامل ہیں۔ اب قیامت تک یہودو نصاریٰ ہی اقتدار میں رہیں گے۔ مسلمانوں کو اقتدار کبھی نہیں مل سکتاہے”۔
انصار ومہاجرین میں خلافت پر اختلاف کا فیصلہ قریش کی بنیاد پر ہوا۔ نورالحسن بخارینے کتاب ” عثمان ذی النورین” میں لکھا کہ حضرت عثمان نے مروان بن حکم کی سزا نبی ۖ سے معاف کروائی۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے اقتدار نہ لیا تو مروان کو خلافت کی مسندپر بٹھایاگیا۔ صرف اسلئے کہ مروان حضرت عثمان کے چچازاد،داماداوراس کا تعلق قبیلہ بنوامیہ سے تھا؟۔
بنوامیہ پھر بنوعباس پر اجماع ہوا۔ چچا عباس نے اسلام قبول کیاتھا۔ کیا صرف نبی ۖو علیکے باپ کفر پرمر گئے؟۔ خلافت عثمانیہ میں عجم کی خلافت پر اجماع ہوا۔ باقی ساری دنیا کے عرب وعجم جدی پشتی مسلمان تھے مگر سادات نااہل تھے؟۔
برصغیرمیں سید، صدیقی،فاروقی، عثمانی کے بعد جاوید احمد غامدی نے ”غامدی” لکھا۔ ہم نے یاد دلادیا کہ غامدیہ کے ایک بچے کا ذکر احادیث میں ہے جس کو کھانے کی صلاحیت ملی تو اس کی ماں کو سنگسار ہوئی۔یہی نسل تو نہیں؟۔ پھر جاوید غامدی نے کہا کہ اس نے اپنے شوق سے اپنے نام کیساتھ غامدی لگادیا۔
حالانکہ شوق سے کوئی تخلص،عرف، لقب، کنیت اختیار کرنا تو سمجھ میں آسکتا ہے لیکن نسبت تو بے بنیاد نہیں ہوسکتی مگر یہاں تو آوے کا آوا بگڑچکا ہے سبھی صدیقی، فاروقی ، عثمانی بن گئے۔
روم وایران سپر طاقت تھے۔ بنی اسرائیل و قریش حضرت ابراہیم کی اولاد تو نوح کے بیٹوں کی تقسیم کی کتنی بھونڈی ہے ؟۔ جاوید غامدی نے کہا کہ علی داماد تھا جو گھرکافرد نہیں ہوتا۔ یہ ٹھیک ہے۔ نبی ۖ کا ابوسفیان ، ابوبکر، عمر ، یہودی کی بیٹی سے نکاح ہوا مگرگھر کے فرد نہیں تھے۔ ابوسفیان نے بعد میں اسلام قبول کیا اور علی خالی داماد نہیں بلکہ چچازاد تھا۔ مروان اقتدار کا حقدار یزید کی وجہ سے تھا۔اگر جاوید غامدی کے چچازاد غامدی ہوتے تو قبیلے اورخاندانی اقدار کا پتہ چلتا۔ابھی جاوید غامدی کا داماد جانشین بن رہاہے۔ دارالعلوم کراچی پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کابیٹا مفتی تقی عثمانی اور داماد مفتی عبدالرؤف سکھروی ولی وارث بن بیٹھے۔ دارالعلوم دیوبند، تبلیغی جماعت ، خانقاہ، مسجد، مدرسہ ،اقتدار، تحریک اور پارٹی کونسی چیز موروثی نہیں ہے؟۔
اگر خلفاء راشدین کو مانتے ہو تو چندوں سے بنائے ہوئے گھروندوں میں موروثی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اگر اپنا موروثی نظام نہیں چھوڑ سکتے تو پھر احادیث صحیحہ میں اہل بیت کا کردار عالمی خلافت کیلئے ماننا ہوگا۔ شیعہ فاطمہ، علی، حسن اور حسین کو احادیث کی بنیاد پرمانتا ہے اور یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی وجہ سے بدترین شیعہ بن چکے ہیں۔
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعًا لست منھم فی شی ئٍ انما امرھم الی اللہ ثم ینبئھم بما کانوا یفعلون ”بیشک جنہوں نے اپنے دین میں تفریق ڈال دی اور بن گئے مختلف گروہ ۔ آپ (اے حبیبۖ) کاان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیشک ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے ۔ پھر انہیں متنبہ کرے گا کہ جو وہ کاروائی ڈالتے تھے”۔
دارالعلوم دیوبند دو ٹکڑوں میں تقسیم اور تبلیغی جماعت بھی ۔ علی نے تین خلفائ سے بھرپور تعان جاری رکھا۔ عثمان کے آخری دور میں وہ تعاون نہیں رہا تھا جو بیعت رضوان کے وقت عثمان کی شہادت کی جھوٹی خبر پر نبی ۖ نے بیعت لی تھی تو حضرت علی مشکلات کے شکار ہوگئے۔ علی کی سازش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن اہل تشیع بہت غلو اختیار کرتے ہیں تو حسن الہ یاری کی تنقید سے خود شیعہ بھی نہیں بچ پارہے ہیں۔
حسن الہ یاری امریکہ میں بیٹھ کر شیعہ سنی اور شیعوں میں نفرت پھیلارہاہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ” محمد بن ابوبکر حضرت علی کا بیٹا تھا۔اگر چہ بظاہر ابوبکر کے صلب سے پیدا ہوا تھا مگر کافر و خبیث کے صلب سے علی کے اس طیب بیٹے کی پیدائش ہوئی”۔ وہ ابوبکر کااسلام ثابت کرنے کا کہہ رہا تھا توایک عربی شیخ نے اس کی بد تہذیبی اور بدتمیزی کا حوصلہ افزاء طریقے سے مقابلہ کرتے ہوئے پوچھ لیا کہ” اسماء بنت عمیس سے جب ابوبکر کا نکاح ہوا تھا تو وہ مسلمان تھا یا کافر؟”۔ جس پر حسن الہ یاری نے کہا کہ بظاہر ان پر اسلام کا اطلاق اور اسلامی احکام جاری ہوتے تھے۔ جس پر عربی شیخ نے کہا کہ بس بات ختم ۔ ہماری بحث ابوبکر کے اسلام پر تھی ایمان پر نہیں ۔ حسن الہ یاری اور شہریار عابدی نے سنی کتب سے جو معاملات اٹھائے اس طرح کی باتیں شیعہ کتب سے 45 سال پہلے دیکھے جو اتنے بھیانک ہیں کہ ان کا ذکرمناسب نہیں ۔ مولانا الیاس گھمن کی ایک ویڈیو شیعہ کتب سے شیعہ کے خلاف ہے اور اس کو ایڈٹ کرکے اہل سنت اور دیوبند کی طرف منسوب کردیا ۔ دونوں کی کتابوں میں گند بھرا ہواہے جس کا واحد علاج قرآن وسنت کی طرف رجوع ہے۔ شیعہ عالم نے انکشاف کیا کہ حسن الہ یاری دراصل ”امریکہ الہ کاری” ہے جس کو شیعوں نے بھگایا۔
قرآن پر شیعہ سنی متفق ہوسکتے ہیں۔ سید جواد حسین نقوی، علامہ شنہشاہ حسین نقوی ، ریاض جوہری، عابد حسین شاکری اورعلامہ حسن ظفر نقوی اور اہلسنت کے علماء کرام مفتی منیر شاکر اور سبھی حضرات قرآن پرجلد متفق ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ
ان خلقنا الانسان من نطفة امشاج ” بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے رلے نطفہ سے”۔قرآن سے یہ ثابت ہے کہ انسان ماں باپ دونوں کی اولاد ہے۔ اگرچہ شجرہ کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے لیکن جب نرینہ اولاد نہ ہوتو پھر بیٹی وارث بنتی ہے اور بیٹی کے ذریعے نواسہ بھی وارث بنتا ہے۔
ان اللہ اصطفٰی اٰدم و نوحًا وال ابرہیم وال عمران علی العٰلمین O ”بیشک اللہ نے انتخاب کیا ہے آدم اور نوح کا اور آل ابراہیم وآل عمران کو جہان والوں پر”۔
اذ قالت امرأت عمران رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررًا ”جب عمران کی عورت نے کہا کہ اے میرے رب! میں نے نذر مانی ہے تیرے لئے جو بھی میرے پیٹ میں ہے آزاد چھوڑا ہوگا ”۔ پھر اللہ نے بیٹی مریم دیدی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران علیہ السلام کو نواسہ عیسیٰ دیا تھا۔ ھنالک دعا زکریا ربہ قال رب ھب لی من لدنک ذریة طیبة انک سمیع الدعائ”زکریا نے وہیں پر اپنے رب سے دعا کی ۔کہا اے میرے رب ! مجھے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔بیشک تو دعا کو سننے والا ہے”۔(سورہ آل عمران)
اگر رسول اللہ ۖ کے بیٹے نہیں تھے تو اللہ نے نواسے حسن اور حسین دیدئیے۔ حضرت ابراہیم کی اولادبنی اسرائیل میں آل عمران کے آخری جانشین حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسٰی تھے اور بنی اسماعیل میں حضرت محمد ۖ پر نبوت ختم ہوگئی لیکن جانشینی کا سلسلہ جاری رہاہے۔ قدرت نے حضرت فاطمہ کے سلسلہ سے حسن و حسین دئیے۔ دشمن نے نبی ۖ کو ابتر کہا تھا لیکن اللہ نے دشمن کو ابتر قرار دے کر آپ کو انا اعطینا ک الکوثر ” بیشک ہم نے آپ کو( کثرت اولاد) عطاء کردی”۔
علی ،فاطمہ ، حسن، حسین کابلند مقام تھا۔ ابوبکر ،عمر ، عثمان کی خلافت علی کی تائید تھی ۔ حسن نے معاویہسے صلح کی۔ حسین نے یزیدیوں کیلئے مشکل کھڑی کی ۔ ائمہ اہل بیت نے بنوامیہ و بنو عباس کی خلافتوں کو کمزور نہیں کیا۔ البتہ کچھ نے ٹکر لینے کی راہ بھی دکھادی۔بادشاہ نہیں علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ امام ابوحنیفہ ودیگر ائمہ اہل سنت ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے۔ نبیۖ کی تائید سے اہل مکہ اسلئے گھبرایا کرتے تھے کہ کہیں ان کو اُچک نہیں لیا جائے۔ علماء حق کیساتھ یہی سنت زندہ رہی۔
حضرت یوسف نے کافر حکمران سے اچھاتعاون کیاپھر علی خلفاء راشدین و صحابہ سے تعاون نہ کرتے؟۔ نبی ۖ کو نبوت 40 سال میں ملی ۔ ابوبکر و عمر خلیفہ بنے تو علیکی عمر 33 اور 35 برس تھی۔ اقتدار کی طلب پر اللہ مدد نہیں کرتا۔بارِ امانت اٹھانے پر اللہ نے ظلوم جہول قرار دیا۔علی میں اقتدار کی بھوک نہیں تھی۔ قرآن میں لیذھب عنکم رجس سے ازواج مطہرات مرادہیں۔ ان کی تطہیر جنسی خواہشات کے گند سے کردی گئی ۔
جبکہ حدیث میں اہل بیت کیلئے یہی دعا ہے اور اس سے بارامانت اقتدار کی ہوس کے گند کو دور کرنا مراد ہے۔حسن الہ یاری جیسے ملعون شیعہ ہوتے اور قرآن میں ازواج مطہرات مراد لیتے تو اس کے منطقی نتائج 100فیصد منفی اور غلط نکالتے۔
ایک صحابی نے اپنے بیٹے کا رنگ مختلف پایا تو نبیۖکی خدمت میںعرض کیا۔ آپۖ نے پوچھا :سرخ اونٹوں کا گلہ ہوتا ہے تو اس میں کالا یا سفید بچہ کس پر جاتا ہے؟۔ صحابی نے کہا کہ اپنے گذشتہ نسلوں پر۔ نبیۖ کی بات سے وہ مطمئن ہوگئے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ریاست ہو ماں کی جیسی اور ماں ہوپھر کھدڑی جیسی؟،پاکستان کی حد ہوگئی !

ریاست ہو ماں کی جیسی اور ماں ہوپھر کھدڑی جیسی؟،پاکستان کی حد ہوگئی !

قرآن وسنت کو دیکھا جائے تو صحابہ کیلئے رسول اللہ ۖ سے اختلاف کی گنجائش تھی جس میں مذہبی فتوے اور اقتدار سے متعلق معاملات ہے۔ سورہ ٔ مجادلہ اوربدری قیدیوںپرفدیہ لیکر معاف کرنے پر حضرت عمر و سعد کے اختلاف کی توثیق ہے اور حضرت عمر نے حدیث قرطاس اور حضرت علی نے محمد رسول اللہ سے صلح حدیبیہ رسول اللہ کے لفظ کو کا ٹنے سے اختلاف کیا تھا۔
یہ علامہ طالب جوہری کاخطیبانہ غلو تھا کہ” رسول اللہ ۖ نے خود رسول اللہ کا لفظ کاٹ دیا اوراگر علی یہ کاٹ دیتا تو زمین و آسمان میں اسلام تلپٹ ہوجاتا”۔ قرآن وسنت جہالت کی دنیا کا نام نہیں ہے بلکہ علم وعمل کا وہ خزانہ ہے جس پر کافروں کا عمل ہوجائے تووہ بھی دنیاپر امامت وخلافت کا حق ادا کرسکتے ہیں۔
اسلام کیلئے اقتدار لازم۔ اسلام اسکے بغیر نافذ نہیں ہوسکتا۔ ہندوستان میں اسلامی اقتدار کا تصور نہیں تھا۔ پاکستان اسلامی اقتدار کیلئے بنا۔ جس کی بنیاد نظام عدل ہے۔ اقتدار کفر کیساتھ چل سکتا ہے ظلم کیساتھ نہیں۔ انگریز گیا نظام نہیں۔ تاجکستان، افغانستان، پاکستان ، انڈیا گیس پائپ لائنTAPIپر امریکی اجارہ داری کا کوئی جواز نہیں ۔ چین،روس، ایران، افغانستان، ہندوستان،پاکستان اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان، افغانستان ، انڈیااور ایران اتنے خطرناک نہیں ہیں جتنا روس و چین سے مل کر امریکہ کو نکالنا ہے۔مذہب، دہشتگردی، قوم پرستی ،سیاسی پارٹی کے نام سے امریکہ اپنا کھیل کھیلتا ہے۔ جمہوریت کی جگہ اسلامی امارت اور عام بینکاری کی جگہ اسلامی سودی بینکاری اس کھیل کا حصہ ہیں۔ افغان طالبان اگر قرآن کا حقیقی نظام پیش کریں گے تو مغرب جمہوری طالبان بنے گا۔
جمہوریت کی وجہ سے جو میڈیا آزاد ہے ، اگر خلافت کے نام پر اس کا گلہ دبایا گیا تو جس طرح مارشل لاء بدنام ہے اسی طرح خلافت بدنام ہوگی۔اسلام کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹ مولوی خود ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے منشور میں جب کسان اور مزدور کے حق کی بات رکھی گئی تو علماء نے بڑی تعداد میں سن1970میں یہ فتویٰ دیا کہ” جمعیت کے اکابراسلام سے خارج ہیں”۔ حاجی عثمان نے جنرل ضیاء کا ریفرینڈم غلط قرار دیا تو مرید خلفائ، علماء اور جرنیلوں نے بغاوت کردی۔ مفتی تقی عثمانی نے زکوٰة کی بنیاد کو جڑ سے ختم کردیا اور سود کو اسلامی قرار دیا تو شیخ الاسلام بن گیا۔ جمہوریت میں اس سے بڑا کفر کیا ہوگا کہ سود اور اللہ ورسول ۖ سے جنگ کو جائز قرار دیا جائے؟۔
مولانا فضل الرحمن کہتا ہے کہ” اللہ نے دین کی تکمیل کردی اور نعمت کا اتمام کردیا۔ جس کی تفسیر یہ ہے کہ اب نیا دین نافذ نہیں ہوسکتا ہے اور حکومت بھی ملے گی”۔حالانکہ مدارس وعلماء نے دین کو مسخ کردیا اور اقتدار کی جب زکوٰة ملتی ہے توپھر خوش رہتے ہیں۔ یزید ومروان کو اقتدار مل گیا تو سعید بن المسیب و دیگر فقہاء کو بکریوں کی طرح ذبح کردیا گیا۔ امام ابوحنیفہ قید میں اور اسلام کو مسخ کرنے والا ابویوسف چیف جسٹس بن گیا تھا۔
جمہوریت اور مارشل لاء بہت بدنام ہوچکے ہیں۔ سب سے پہلے علماء ومفتیان کو قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ اسلامی قانون سازی کی روح ہیں۔ اس طرح دورِ جاہلیت کا حلف الفضول بھی۔
البتہ مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے قطع تعلق کیلئے جو بھی جمہوری معاہدہ کیا تھا جس کی وجہ سے شعب ابی طالب میں3سال مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ بھی غلط مگر قابل قبول تھا اور جمہوریت کی یہی خوبصورتی ہے کہ اچھائی سے رکاوٹ کے تصورات نہیں بن سکتے ہیں۔ اگر طالبان سرکاری سطح پر نہ سہی مگر لڑکیوں کے سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی پرائیوٹ بھی اجازت دے دیں تو افغانستان کی خواتین کو بیرون ملک در در کی ٹھوکریں نہیں کھانی پڑیں گی۔ اگر خواتین کیلئے بہترین طرح کی یونیورسٹیوں کا بندوبست کیا گیا تو کرغستان کے بجائے کئی لوگ اپنی بچیوں کو افغانستان میں پڑھانا پسند کریں گے۔
پاکستان چین اور ہندوستان کو بحری اور بری راستے سے راہداری دے ۔ امریکہ ان پر پابندیاں نہیں لگاسکتا ہے۔ جب ایران کے گیس وتیل سے چین وہندوستان کو استفادہ ملے گا تو پاکستان بھی اس کے فیوض وبرکات سے محروم نہیں رہے گا۔
نبی کریم ۖ کے مختلف معاملات پر اختلاف اور اس کی توثیق سے جمہوری نظام کو تقویت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش رکھی ہے تو حضرت ابوبکر وعمر سے بھی سعد بن عبادہ نے اختلاف کیا تھا جس کو جنات نے ماردیا تھا؟ یا پھر ریاستی جنات کا مسئلہ اس وقت شروع ہوا تھا؟۔
نبی ۖ نے ابن صائد دجال کو مارنے کی اجازت بھی نہ دی جس نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں اور میں تمام جہاں والوں کیلئے رسول ہوں۔ریاست پہلے ماں تھی جس کو سینے سے لگاتی تھی ،وہ خوش ہوتا تھا، جس کو دور کرتی تھی تو وہ چیخناچلانا شروع کردیتا تھا۔ اب کھڈری ماں بن چکی ہے جو سینے سے لگانے والے کو بھی خوش نہیں رکھ سکتی۔اقتداراور اپوزیشن والے سبھی اس سے نالاں ہیں جو مکافات عمل ہے۔

فرنٹ لائن ڈیفینڈرسمی بلوچ کو مبارکباد بلوچوں کے حقوق کیلئے ان کی مسلسل جدوجہد مظلوم بلوچ قوم کیلئے حوصلے کی علامت ہے۔ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ

بلوچ قوم خاص طورپر بلوچ خواتین نے بلوچوں کے حقوق کیلئے جس حوصلے کیساتھ جدوجہد کی، اس کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ سمی دین بلوچ مسنگ پرسن ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بہادر بیٹی ہیں۔ فرنٹ لائن ڈیفنڈر ایوارڈ جیتنے پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مبارکباد پیش کی ۔جو ظالم ریاست اور مظلوم عوام کی عکاسی کرتا ہے لیکن پاکستان کو دیگر برادر اسلامی ممالک سے بھی جدا کرتا ہے۔جہاں یہ آزادی اور اس کیلئے جدوجہد کا تصورنہیں!

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمرایوب مولانا فضل الرحمن کو ایوان کا متفقہ اپوزیشن لیڈربنادے تو بہترہوگا

عمرایوب مولانا فضل الرحمن کو ایوان کا متفقہ اپوزیشن لیڈربنادے تو بہترہوگا

قرآن میں بار بار اللہ اور اسکے رسولۖ کی اطاعت کا حکم ہے۔ اللہ نے فرمایا: لا اکرہ فی الدین ” دین میں زبردستی (جبر) نہیں ہے”۔من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر ”جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے تووہ کفر کرے”۔
رسول اللہ ۖ نے قرآنی آیات پر عمل کیا تھا۔ یہود کیساتھ میثاق مدینہ اور مشرکین مکہ کیساتھ صلح حدیبیہ بھی عملی تفاسیر ہیں۔ جس کو پاکستان، افغانستان، ایران ، سعودی عرب عام کریں۔ جمہوری و آمرانہ ممالک قرآن وسنت کے پیمانے پر خود کو تولیں توافغان طالبان کا سخت گیر رویہ ملاعمر کے دور میں اسلامی نہ تھا۔ آج طالبان ملاعمر کی روش کو چھوڑ چکے ۔ اور بہت اچھا کیا ہے مگر اب بھی پاکستان کا جمہوری رویہ طالبان کے سخت گیرآمرانہ روش کے مقابلے میں زیادہ اسلامی ، اخلاقی اور انسانی ہے۔
اس اقتدار کا جواز نہیں، جب حکمران عوام اور عوام حکمران پر اعتمادنہ رکھے، پھر رویہ آمرانہ ہوتا ہے۔ افغانستان میں حنفیوں کی اکثریت اور جمہور کا مذہب رائج کردیا۔ ملا کی دوڑ مسجدتک اور طالبان کی دوڑ حنفی مسلک تک؟۔مولانا فضل الرحمن جمہوری بنیاد پر جتنی جرأت سے بولتا ہے افغانستان، سعودیہ اور ایران میں اس کا تصور نہیں ۔ بینظیر بھٹو سے اختلاف اپنی جگہ مگرکراچی میں حملہ ہوا،150افراد شہید ہوگئے ۔پھر میدان میں نکل کر شہید ہوگئی۔ ملاعمرسے عقیدت مگر گھر میںمرا ۔اسامہ مارا یا اٹھایا گیا؟۔یہ خبرمغربی میڈیا پرہی منحصر ہے جمہوری ملک میں تبدیلی کیلئے خونریزی کی ضرورت نہیں۔ عراق اور لیبیا میں آمریت تھی ۔ دوسری عرب بادشاہتوں میں بھی آمریت ہے۔ اسلام میں نہ تو آمریت ہے اور نہ ہی اس طرح کی جمہوریت۔جس میں عوام کی رائے خریدنے وتبدیل کرنے کیلئے پیسوں کا استعمال ہو ۔ سیاست منافع بخش کاروبار بن جائے۔البتہ آمریت کے مقابلے میں جمہوری نظام کو اسلام کے قریب اسلئے قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس میں آزادی کا بہترین تصور ہے۔ جبکہ آمریت میں عوام کی بدترین غلامی کے تصورات ہیں۔صحیح مسلم کتاب الامارة میں ہے۔
باب قولہ ۖ ” طائفة من اامتی لا تزال من امتی ظاہرین علی الحق لایضرھم من خالفھم ”۔ ”میری امت میں ایک گروہ کے لوگ ہمیشہ حق کی بنیاد پر غالب رہیں گے،ان کو نقصان نہ پہنچاسکیں گے جو انکی مخالفت کریںگے”۔
علماء جب تک حلالہ کی لعنت کا دھندہ نہیں چھوڑ تے تو بد سے بدتر حالت میں رہیں گے۔ کھانا پینا اور نفسانی خواہشات تو جانوروں کی بھی پوری ہوتی ہیں۔ مغربی جمہوری نظام سے بھی اسلامی احکام کو قبول کرنے کی توقع ہے مگر علماء ہٹ دھرم ہیں۔
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے پہلے اور آپ کے بعد حاجی محمد عثمان تک ایک گروہ کی تاریخ ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مولانا فقیر محمدجو مجذوب اور معذور شخص تھے۔ کھانے، پینے اور نماز وغیرہ میں مسلسل روتے تھے مگر باربار الہام ہوا کہ حاجی عثمان کی خدمت میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خلافت پیش کی جائے۔ حاجی عثماننے منع کردیا کہ مجھے شرح صدر نہ ہو تو قبول نہیں کرسکتا۔ مسجد نبوی ۖ27رمضان المبارک کو مولانا فقیر محمد کے ورود نے شدت کی انتہاء کردی تو حاجی عثمان نے خلافت قبول کرلی۔جس میں حاجی عثمان کو مولانا فقیر محمد نے مولانا تھانوی کے نہیں بلکہ دادا پیر حاجی امداد اللہ مہاجر کے بہت مشابہ قرار دیا۔ حالانکہ حاجی عثمان کے مقابلے میں حاجی امداداللہ مہاجر مکی کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔پھرمولانا فقیر محمد نے بہک کر خلافت واپس لی تو اسکا اتنا اثر نہ پڑا ، جتنا فقیر کشکول رکھے اور واپس لے۔ کمال یہ تھا کہ مفتی احمد الرحمن مہتمم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی اور مفتی محمد جمیل خان جنگ گروپ نے مولانا فقیر محمد سے پوچھا کہ خلافت ورود سے دی یا مشورہ سے؟ مولانا فقیر محمد نے کہا کہ ورود سے۔ پوچھا کہ ورود سے واپس لی یا مشورہ سے؟۔ مولانا فقیر محمد نے کہاکہ مشورہ سے۔ علماء نے بتایا کہ” شریعت میں آپ کو مشاورت سے خلافت واپس لینے کا حق نہیںہے”۔ مولانا فقیر محمد نے جامعہ بنوری ٹاؤن کے لیٹر پیڈ پر لکھ دیا کہ ”میں نے حاجی محمد عثمان کو ورود کی نسبت سے جو خلافت دی تھی وہ تاحال دائم اور قائم ہے”۔ اس پر ان علماء ومفتیان کے دستخط ہیں۔ پھر انہی علماء کی طرف سے مولانا فقیر محمد کو خط لکھ دیا کہ ”حاجی عثمان سے خلافت واپس لینے کا ہم مشورہ دیتے ہیں”۔ کفر وگمراہی کا فتویٰ لگے تو مشورہ نہیں فتویٰ ہوتا ہے کہ ”ورود باطل ہے، تم پیری کے لائق نہیں ہو، پہلے اپنی اصلاح کرلو”۔ ان علماء کی شریعت بھی کاروباراور طریقت بھی کاروبارہی تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے مجھے کہا تھا کہ ” کراچی کے معروف علماء ومفتیان کو آپ نے بکرے کی طرح لٹادیا ہے ،چھرا ہاتھ میں ہے،اگر ذبح کرلیا تو ہم بھی ان کی ٹانگیں پکڑ لیں گے”۔
میری تحریک انصاف کے عمرایوب سے گزارش ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کو ”حزب اختلاف کا متفقہ اپوزیشن لیڈر”ہی بنادے۔ محمود خان اچکزئی کو صدارتی الیکشن لڑانے میں قربانی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ،جب پارٹی کو کامیابی کا یقین نہیں ہوتا ہے تو اپنے قائد کو بھی وزیراعظم کا الیکشن نہیں لڑاتے۔ مولانا فضل الرحمن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہی نہیں خطے اور بین الاقوامی سیاست میں بھی اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ پہلے بھی عمران خان اور نوازشریف نے وزیراعظم کا ووٹ دیا تھا اور اپوزشن لیڈر بن گئے تھے تو پرویزمشرف کے خلاف اہم کردار ادا کیا تھا۔
قال رسول اللہ ۖ : لایزال اہل غرب ظاہرین علی الحق حتی تقوم الساعة ” صحیح مسلم کتاب الامارة”
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”اہل غرب ہمیشہ غالب رہیں گے حق کی بنیاد پریہاں تک کہ قیامت کھڑی ہوجائے”۔ آج مغرب میں فسلطین کیلئے مظاہرہ میڈیا دکھاتا ہے اور اسلام آباد میں فلسطین کے حق میں مظاہرے کو میڈیا کوریج نہیں دیتا بلکہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے ساتھیوں کو گاڑی سے کچلا گیا۔ وہ علماء ومفتیان، جماعت اسلامی، سیاسی جماعتیں جوجنرل ضیاء الحق کیBٹیم تھے آج جمہوریت کے علمبردار بن گئے۔ عمران خان کا صدارتی پروجیکٹ ناکام ہونے کے بعد سعد نذیر کے ذریعے جمہوریت کو کفر قرار دینے کا نیا پروجیکٹ شروع ہوگیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شہید غیرت پیکر حمیت پیر اورنگزیب شاہ کی شہادت کو17سال ہوگئے ۔ تحقیقاتی صحافت کا ایک نیا آئینہ

شہید غیرت پیکر حمیت پیر اورنگزیب شاہ کی شہادت کو17سال ہوگئے ۔ تحقیقاتی صحافت کا ایک نیا آئینہ

علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے
گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر ستم یہ کہ مگر کوفیوں میں گزری (ڈاکٹر عبد القدیر خان)

اخبارضرب حق کراچی سن1997سے مئی سن2007تک سیاسی، مذہبی، بین الاقوامی موضوع اور تائیدات۔ سن1991سے تصانیف ، ملک بھر میں فروخت ،خطبہ حجة الوداع کے الفاظ کی لاؤڈ اسپیکر پر سبھی زبانوں اُردو، سندھی، پنجابی، بلوچی ، پشتو میں تبلیغ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکرکا فرض پورا کردیا تھا۔
اے لوگو! وہ باتیں سن لو جس سے تم ٹھیک زندگی گزار سکو گے۔ خبردار ! ظلم نہ کرنا ،خبردار ! ظلم نہ کرنا ، خبردار ! ظلم نہ کرنا ۔
مسلمانو! تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں حرمت والی ہیں …میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو…مسلمانو! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی پرستش کریں لیکن وہ تمہارے درمیان رخنہ اندازی کرے گا۔ …مسلمانو! اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مضبوط تھام لو تاکہ تم سیدھی راہ سے ہٹ کر گمراہ نہ ہو۔ …کسی مسلمان شخص کے مال میں سے کچھ لینا جائز نہیں ہاں اگر وہ راضی ہو۔ …جاندار کی تصویر جائز نہیں جاندار کی تصویر کو مٹادو۔…پردے کا اہتمام کرنا فرض ہے ، پردے کا اہتمام کرو۔ …داڑھی منڈوانا جائز نہیں شریعت کے مطابق داڑھی رکھو۔…گانا بجانا حرام ہے گانا مت بجاؤ۔
نماز، روزہ، زکوٰة اور حج بیت اللہ کی علمی اور عملی ذمہ داری پوری کرو۔ …اپنے نفس، معاشرے اور پوری عالم کی اصلاح کیلئے جدوجہد کرو۔ …اللہ کی راہ میں جہاد کرو اورپوری دنیا پر چھاجاؤ۔ …اللہ اور اسکے رسولۖ کی اطاعت میں وہ طاقت ہے جسکے ذریعے کمزور سے کمزور تر جماعت فاتح عالم بن سکتی ہے۔
نقش انقلاب مہدی آخرزمان سے قبل11خلفاء قریش، ہر ایک پر اُمت کا اجماع۔ مہدی امیر اول پھر5افراد کا حسن ،5افراد کا حسین کی اولاد سے، آخر پھر حسن کی اولاد سے ہوگا۔ (مظاہر حق شرح مشکوٰة ) علامہ جلال الدین سیوطی نے لکھا کہ12خلفاء میں ہر ایک پر اُمت کا اجماع ہوگا۔مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑہ نے اپنی کتاب ”تصفیہ مابین شیعہ و سنی” میں لکھاکہ ”وہ 12خلفاء قریش آئیں گے جن پر اُمت کا اجماع ہوگا”۔ شاہ اسماعیل شہید نے ”منصب امامت” میں مہدی خراسان کا ذکرکیا اورکتاب ”الاربعین فی احوال المہدیین” لکھی ہے ۔
نبی ۖ نے فرمایا: وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول مَیں ہوں، اسکا درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ ۔ شیعہ مصنف نے اپنی کتاب ”الصراط السوی فی احوال المہدی” میں لکھا کہ ”اس سے مہدی عباسی مراد ہوسکتا ہے ، حدیث میں مہدی کے بعد11مہدی جن کو حکومت بھی ملے گی لیکن پھر مہدی آخری امیر کیسے ہوں گے؟”۔جواب یہ ہے کہ آخری مہدی سے قبل11مہدی اور کئی قیام قائم ہوں گے۔ حسنی، سیدگیلانی ، حسینی امام مجہول کا ذکر طالب جوہری نے اپنی کتاب میں کیاہے۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا: قحطانی مہدی کے بعد ہوگا اور وہ اس جیسا ہوگا۔ ارطاة نے کہا: مجھے خبر پہنچی کہ مہدی40سال زندہ رہے گا۔ پھر اپنے بستر پر مر جائے گا۔ پھر قحطان سے ایک شخص سوراخ دار کانوں والانکلے گا،جومہدی سے الگ نہ ہوگا۔ 20سال رہے گا پھر اسلحہ سے قتل ہوگاپھر اہلبیت نبیۖ سے نیک سیرت مہدی نکلے گا، شہرقیصر پر جہاد کرے گا اور وہ اُمت محمد ۖ کا آخری امیر ہوگا۔ اسی دور میں دجال نکلے گا اور عیسیٰ کا نزول ہوگا۔ یہ سارے آثار میں نے نعیم بن حماد کی کتاب الفتن سے اخذ کئے ہیں وہ ائمہ حفاظ اور بخاری کے شیوخ میں ایک ہیں۔( الحاوی للفتاویٰ ، جلد دوم ، صفحہ80:علامہ سیوطی )
بونیرعلاقہ چملہ اگارے میں شاہ وزیر کو محمد سعید نے کہا کہ تم گمراہی پھیلاتے ہو۔ شاہ وزیر نے کہا کہ کتاب میں شریعت کیخلاف بات ہو تو چوک پر گولی ماردو۔ مولانا عبد الرحمن کے پاس گئے۔ مولانا نے کہا کہ ”کتاب میں گمراہی کی بات نہیں ۔ خوشی کی بات ہے کہ موجودہ دورمیں یہ ایسے عزم والے ہیں”۔ مولانا کے بیٹے مولانا اسحاق اورمولانا زبیر جامعہ بنوری ٹاؤن کے فاضل ہیں اور انکے بھتیجے دار العلوم کراچی کے فاضل ہیں ۔
جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور نے ہماری تائید کی اور لکھا کہ ”فرقہ کی جڑیں ختم کردیں۔ اب گدھ فرقہ واریت کی چوٹی پر بیٹھ کر مردار کی ہڈیاںنوچتے رہیں”۔ ڈاکٹرعبدالرزاق سکندر نے قرون اولیٰ کی طرح اصلاح کیلئے ہماری رہنمائی فرمائی ۔
ڈاکٹر اسرار احمدکی عالمی خلافت کانفرنس2001میں تقریر کی۔ لاالہ الااللہ، افرأیت من اتخذ الہ ھواہ ”کیا تو نے اس کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنایا”۔ کیا اس کو دیکھا جس نے امریکہ کو اپنا معبود بنایا؟۔آج غلامی کی زنجیریں توڑنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ مجھے سن1991میں جیل جانا پڑا تھا۔ جب طالبان کی مقبولیت آسمان کو چھورہی تھی تو میں لکھتا تھا کہ دوسروں پر خودکش کی جگہ خود پر حدشرعی جاری کرو تو پوری دنیا میں اسلام کے نفاذ کا مشن کامیاب ہوگا۔
طوفان کررہا تھا میرے عزم کا طواف دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے
واقعہ کے بعد خیبر ہاؤس پشاور پہنچا تو ماموں زاد شہر یار نے بتایا کہ ” باقاعدہ میٹنگ میں طالبان کی ذہن سازی کی گئی کہ یہ گھر بڑا ظالم ہے، لوگوں سے بیویاں اور بچے چھین لئے ہیں، بدمعاش ہیں ، طالبان کوبڑا اُکسایا گیا”۔

بھونڈے مظالم کی وضاحتیں :

اورنگزیب نے حملہ آور طالبان پر وار کردیا تو بھی کہا گیا کہ اس کی غلطی تھی۔ طاقتور کے سامنے سرنڈر ہونا بے عزتی تھی۔ امام حسین کی دنیا میں عزت سرنڈر نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔
ہمارا کلچر مختلف ہے۔ لوگ رشتہ نہ دینے پر اور ہمارے والا طبقہ رشتہ نہ لینے پر ناراض ہوتا ہے کہ دیا ہے تولیا کیوں نہیں؟۔
ضیاء الدین نے رشتہ لیا، شہریار نے انکار کیا اور اورنگزیب کی داماد ی مزید بگاڑتھا۔ اسفندیار ازالہ کرتا مگر تپش بڑھادی۔ احمد یار آخری تھاجو آگ بجھا تا اسلئے میںواقعہ کی رات طالبان گڑھ ماموں کے گھر گیا۔تاکہ ماموں احمد یار کے رشتے سے شہریار کے رشتے کا ازالہ کردے۔ جس سے ماموں کے گھر میں لگی آگ بجھ سکتی تھی۔ یہ اتنا گھمبیر مسئلہ تھا کہ ضیاء الدین کی شادی تھی اور دلہا دلہن کی ماں بہنوں کی بات چیت نہ تھی۔ میں نے مامی سے پردہ توڑ کر صلح کرائی تھی۔ ضیاء الدین نے یہ زندگی کیسے گزاری ہوگی؟۔ اس کی مغفرت کیلئے یہی کافی ہے۔
حاجی اورنگزیب نے بتایا کہ ”طالبان اسکے پیچھے ایک بار گھر پر آئے تھے اور دوسری مرتبہ گلاب کے بیٹے سے پوچھا تھا کہ کہاں ہے تو اس نے بتایا کہ ضیاء الدین کیساتھ ہے”۔ واقعہ سے پہلے مشکوک گاڑی کھڑی تھی۔ ضیاء الدین نے کہا طالبان نے کہا کہ ”اسلحہ جمع کررہے تھے۔ مطمئن رہو”۔ اورنگزیب کو ضیاء الدین پر اعتماد تھا۔ اسلحہ رکھااور بے خوف سوگئے ؟۔
منہاج نے کہا تھا کہ معافی کیلئے آنا منع کردواور ضد کی کہ میرا بھائی بھی مرا ہے تو نثار نے کہا : ” آپ کا بھائی ایسا مرا جیسے مہمان مارے گئے ”۔ منہاج نے مہم جوئی کی کہ” نثار نے کہا کہ آپ کا بھائی پڑوسیوں کی طرح مرا ہے اسلئے ہم الگ ہیں”۔ ریاض نے کہا کہ” نثار نے درست کہا، معاملہ تو ان کا ہے”۔
منہاج نے بتایا کہ قاری حسین اکیلا تمہارے سکول کے پاس کھڑا تھا۔ ہماری کوڑ میں ملاقاتیں تھیں ۔ چائے روٹی کا پوچھا مگر وہ انجان بن گیا۔ کوڑ کا پیر کریم ماجراء بتا سکتا ہے۔ عثمان نے بعد میں دوسروں پر گواہی دی توپہلے کیوں نہ بتایا؟۔
بیت اللہ محسود نے قاری حسین ، حکیم اللہ محسود پر قصاص کا حکم کیا۔ طالبان نے معافی مانگتے ہوئے واضح کیا کہ” ایسا ظلم اسرائیلی یہود فلسطین میں بھی نہیں کرتے ”۔پھر قاری حسین و حکیم اللہ نے بیت اللہ محسود سے کہا کہ ” تیرے حکم پر خاندان ملک اور اسکی فیملی ماردی پھرتو تم بھی قصاص کیلئے تیار ہوجاؤ”۔ جس کی وجہ سے بیت اللہ محسودانکے قصاص سے پیچھے ہٹ گیا۔

ممکنہ ڈھونگ مظالم کی بنیادیں :

ہمارابہنوئی سعودی عرب میں تھا۔ اسکے بھائی نے اپنی سالی سے اس کی شادی کرائی اور میری بہن کو نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔
ہمارا الگ کلچر ہے۔ یوسف شاہ سے کہا کہ تمہارے بھانجے بھانجیاں تمہارے گھر اور تمہارے بھتیجے اور بھتیجیاں انکے ماموں کے گھرکے افراد تھے۔ یہی حال ہماری بھابھی کا بھی تھا۔ہمارا کوئی محسود ، وزیر اور بیٹنی کلچر نہیں تھا ۔ جس پر وہ خوش ہوگئے۔
پیرکریم سے پوچھا تھا کہ ایک طرف آپ کا بھانجا پیر شفیق اور دوسری طرف میرا بھانجا عبدالرحیم ہے۔کیا کہتے ہو؟۔ تو اس نے کہا کہ میرا بھانجا غلطی پرہے۔ میں نے بیٹے کیلئے بھائی جلیل کی بیٹی مانگی ، اس نے انکار کردیا توکیا میں اس پر پابندی لگاتا؟۔ میں نے کہا کہ تیری نسلوں میں بھی رشتہ نہیں لوں گا۔ بعد میں طالبان نے ایسی غلط بندشوں کو توڑ کر بہت اچھا کیا ۔
عبدالرحیم نے شادی کی ٹھانی تو میں نے کہا کہ کھل کر نہیں چھپ کر لائیں ۔ وہاں پہنچے تو خالدنے نور علی، ضیاء الدین اور فیاض کوبھی پہنچادیا تھا۔وہاں چاروں گھروں کی نمائندگی تھی۔
ماموں نے رشتے کے مسئلہ پر کہا کہ مجھ میں محسود کا رگ ہے۔ اپنا خون بہاتا ہوں اور دوسروں کا بھی۔ میں نے کہا کہ ”محسود کامفاد ہوتاہے۔ لاکھوں پر بیٹی بیچے تو کیسے بٹھادے؟۔ محسودکی غیرت بڑے ماموں میںتھی ،اگروہ ہوتے تو ہم پر فائرنگ کے بعد کم ازکم کوئی بھی طالبان کو یہاں نہ بساتا ”۔
کانیگرم میں میرے والد کے چچازاد عرف ملنگ دادا کے گھر سے قریب ایک محسودکی بیوہ نے قبضہ کیا۔جو برکی کی بہن ہے۔ منہاج کے والد نے ملنگ دادا کولپائی سے منع کیا تھا مگر اپنوں نے ساتھ نہیں دیا تو ماموں نے لپائی پر پشتو غیرت کی ہمت نہ کی اور کہا کہ میں سمجھ رہا تھا کہ بیٹھک بنارہاہے۔ ملنگ داداکو لایاپڑوسی کو دبانے کیلئے اور پھر اپنی عزت وغیرت ختم کرادی۔

فوجی لیز کی30کنال کا ماجراء :

نانا کے بھتیجے گل امین نے نوکری میں پیسے کمائے اور اپنے باپ اور چاچوں پر خوب پیسہ لٹایا۔انہوں نے اس کو جائیداد کا چوتھا حصہ دیکر بھائی بنادیا۔ آخر میں گل امین بیمار تھا ۔ بہن محمود کی بیوہ تھی۔محمود کے بعد اسکے باپ سلطان اکبر شاہ نے خانی کا نمبر پورا کیا۔ ماموں خان بن گیا تو گل امین نے مسئلہ اٹھادیا۔ جس پر ماموں نے کہا کہ میں چوتھا بھائی بھی نہیں مانتاہوں ۔
محمود کی اکلوتی بہن کی اکلوتی بیٹی کا بیٹا ایوب شاہ گریڈ21میں ریٹائرڈ ہوا۔ محمود کی بیوہ گل امین کی بہن تھی۔ گل امین بیمار تھا اور چاہتا تھا کہ خان کی نوکری کا بھاڑہ اسکے بیٹے ریاض کو مل جائے۔ریاض نےCSSمیں قبائل کے اندر پہلی پوزیشن لی اور اگر انٹرویو میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف بات نہ کرتا تو پھر کمشنر انکم ٹیکس کی جگہ انتظامیہ کے کمشنر سے بھی زیادہ ترقی کرتا۔ انٹرویو میں پوچھا گیا کہ جنرل ضیاء الحق میں کتنی خامیاں ہیں؟، توریاض نے کہا کہ اسلام کے نام پر جمہوریت کو معطل کرکے مارشل لاء لگانے سے لیکر بے شمار خامیاں ہیں۔ خوبیاں پوچھو۔ اس نے کہا کہ خوبیاں کونسی ہیں۔ ریاض نے کہا کہ کوئی نہیں۔ اگر پاکستان میں حق گوئی کی سزا نہیں دی جاتی تو ملک ترقی کرتا اورحالات یہ نہ ہوتے ۔ میرے بھائی امیرالدین ایکس کمشنر بنوں نےCSSکیا تھا اور7میں سے پانچواں نمبر تھا مگر اس کو پھر بھی چھوڑدیا گیا۔ عدالت میں جج نے کہا کہ فوج سے ہمارا مقابلہ نہیں ہوسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا بھائیPTCLسےDMGگروپ میں پہنچ کر کمشنر بن گیا۔
گل امین باپ کی زندگی میں فوت ہوتا تو یتیم بچوں کا دادا کی میراث میں حصہ نہیں تھا۔ علماء نے خود ساختہ شریعت بنائی۔
أفرأیت الذی یکذب بالدین فذالک الذی یدع الیتیم ” کیاآپ نے اس کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے پس یہ وہی ہے جو یتیم کو چھوڑ دیتا ہے”۔(مولوی کی نشاندہی)
گل امین نے جو خرچہ کیا تھا وہ قانون اور شریعت میں اپنا کیس ہارتا اور جائیداد سے مکمل محرومی کا سامنا تھا۔ اسکے بچے میرے والد کے بھانجے ہیں۔ گل امین نے دعویٰ کیا کہ لیز کے پچاس کنال کی قیمت میں نے دی ۔ حالانکہ مشترکہ زمین تھی اور اس کی کوئی متعین قیمت ہوتی تو بھی دونوں مالکان کی مرضی سے طے ہوتی اور دونوں کو برابرکے پیسے بھی ملنے تھے۔
30کنال سے گل امین کی چوتھائی کا مسئلہ حل ہوتا تو والد کیلئے یہ بڑی چیز نہیں تھی۔ اس نے کہا تھا کہ غیاث الدین کو قسم نہیں اٹھواتا ،بس صرف اتنا کہہ دے کہ پیسہ دیا ہے تو مجھے پہنچ گئے ہیں۔وہ تو خاموش بھی گل امین کے فائدہ میں ہوا تھا۔
جب گل امین کا مسئلہ30کنال لیز پر حل نہیں ہوا بلکہ قوم نے نانا کی قبر پر جانور ذبح کئے ۔ زمین ہماری اکیلی بھی نہیں تھی تو پھر اس کے بعد معاملے میں الجھاؤ کا کوئی مسئلہ نہیں رہا تھا۔
میرے باپ کو نیلام میں سستی بندوقیں ملیں ،مارکیٹ قیمت چار گنا تھی۔ گل امین سے کہا کہ ایک تمہارے لئے لی ہے۔ اس نے کہا کہ1500میں آپ نے لی اور میں2500لوں گا۔ دونوں مجھے دینا۔ ماموں کیساتھ جھگڑا چل رہاتھا۔میرے والد چاہتے تھے کہ بندوق گل امین کوملے اور گل امین نے چاہا کہ ماموں کو نہ ملے۔ دوسری بندوق6000ہزار میں بیچ دی۔
جلال کو گل امین نے گھر کے سودا کیلئے رقم دی اور کہا کہ سریرالدین، علاء الدین اور سعدالدین کو نقدی کی ضرورت ہو تو دینا۔ جب دوسرے دن کاپی کا لکھاہواحساب گل امین کو دکھایا تھا توجب سعد الدین کا نام آتا تھا تو ایک گالی بھی دیتا تھا۔
زمین پر پیر جمیل اور شوکت کو قید کیا گیاتھا۔ مینک کے بیٹے کو زد وکوب و قید کرنا کس کی غلطی تھی؟۔ اکبر علی اور نواز حاجی آئے کہ مینک کے مسئلے پر بلایا ہے۔ حاجی بدیع الزمان نے کہا کہ مینک نے دھونس دیا کہ فوج سے بلڈوز کروں گا۔ نثار نے کہا کہ مینک سے کہو کہ پارٹنر سے بات کرو۔ اس نے قسمت خان سے50کنال کا تبادلہ کیاتھا ۔ یہ50ہمارے حساب میںآگئی۔
پھر منہاج نے کہا کہ ہماری مینک سے بات ہوگئی ۔ ہم ایک کنال کے بدلے اس کو سوادو کنال دیں گے۔ پھر اس کے ساتھ جھگڑا کیا تو یہ کس کا قصور تھا؟۔ یہ سب طے ہونا چاہیے۔
مجھے یہ دکھ تھا کہ سب نے بھائی ممتاز کے گھر پر دھاوا بولا تھا اسلئے نثار سے کہا تھا کہ اب تصفیہ بہرحال ہونا چاہیے اور اگر تم نہیں کرتے تو میں آخری حد تک جانے کو تیار ہوجاؤں گا۔
پھر نثار بھائی نے کہا کہ مینک کو بے عزت کیا اور اس نے یہ شرط رکھی ہے کہ علی باچہ کی زمین پر صلح کروں گا۔ اسکے بدلے جٹہ میں ہندو والی زمین دیںگے۔ فیصلہ ہوگیااور بعد میں نثار بھائی نے کہا کہ ہمیں دوسری زمین دی ۔ میں نے کہا کہ حقائق سے تو آگاہ کرتے ۔ نثار نے کہا کہ ان کو واپس کردینی ہے۔10کنال واحد10داؤد اور10گلبہار کی والدہ کو۔
پہلے اشرف علی سے ریاض لالانے کہا تھا کہ ہمیں پیسے نہیں ملے اور میرا باغ لے لیں۔ میں نے کہا تھا کہ جتنی زمین ریاض کے پاس ہے تو یہ وراثت میں پھوپھی کا حق ہے۔ داؤد اور واحد کی والدہ کا اتنا حق ہے جتنی زمین پر بیٹھے ہیں۔ ماموں سے حساب نہیں۔ بہر حال یہ زمین دیں بھی تو ہم نہیں لیں گے ۔
اگر زمین کا پیسہ دینے کے بعد میرا باپ مکر گیا تو دوسری مرتبہ پارٹنر کو دیتا جسکے نام کاغذ تھے؟ ۔ واحد اور داؤد سے کہا کہ پرائی زمین دینے کا کیافائدہ ؟۔ جہانزیب نے بتایا کہ بہن مجھ سے ناراض تھی۔ بہنوں کو زمین دیں تو اچھی دیں ۔2کنال شبیر کو راستہ ملے۔7کنال داؤد،7واحد اور7نوبہار کی والدہ کو مل جائے۔ ساڑھے تین کنال ریاض کی والدہ اور ساڑھے تین ملازئی کی پھوپھی کودیںتوپھر دل کو بھی تسلی مل جائے گی۔
ریاض نے بتایا کہ عالمگیر نے کہا کہ ”ہماری زمین تھی لیکن نور علی نے کہا کہ ماموں ہیں”۔ ہر چیز کی وضاحت ضروری ہے۔ عالمگیر کے بچوں کا حق ہم کیوں کھائیں گے؟۔اگرسب باتیں ریکارڈ پر نہیں ہوں گی تو ظالم اور مظلوم کا کوئی پتہ بھی نہیں چلے گا اور غلط فہمیاں بارودی سرنگیں بن جاتی ہیں۔
میرے والد کا ہاتھ تنگ تھا تو زمین قائم میاں خیل کو بیچی۔ دوست نعمت زرگر نے رقم دی کہ آپ دیں نہیں تو بیٹے دیں، نہیں تو یہ میری ہوگی۔ پھر گلزار احمد خان نے سرکاری ریٹ پرزمینوں کا مالک بنادیا۔ حاجی تامین کی منافع بخش زمین نعمت کو دینے کا فیصلہ کیا مگر دماغ خراب تھا اسلئے انکار کردیا۔
ماموں اور علاء الدین نے کہا کہ ہمیں دیدو۔ والد نے کہا کہ مجھے بھی پیسوں کی ضرورت ہے اگر تم بیچتے ہو تو نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم رکھیں گے ، پھر ممتاز نے ان سے کہا کہ یہ زمین میں لیتا ہوں لیکن انہوں نے کہا کہ فائدے کی چیز ہم بھی جانتے ہیں۔ پھر انہوں نے اچھی خاصی قیمت پر بیچ دی۔ اور کمال یہ کیا کہ والد نے علی خان کی زمین پر شفہ کا دعویٰ کیا تھا کہ میں خریدوں گا اور علاء الدین نے کم قیمت میں وہ خرید لی۔ اکبر علی نے کہا تھا کہ” علی خان کی زمین کیلئے تمہارے پاس پیسے نہ تھے تو اس کی ملحقہ زمین آپ کیلئے خریدی”۔ پروپیگنڈہ مہم پریکطرفہ ٹریفک چلے تو پھر نتائج بھی بھیانک نکلتے ہیں۔
میرے والد نے کوٹ اعظم روڈ پر کتنے لوگوں کو سرکاری ریٹ پر آباد کیا ؟۔ چاچاانور شاہ کو بٹیاری میں زمین دلائی تھی لیکن وہ وسواسی تھے اور آخر میں اسکے پیسے پھینک دئیے تھے۔
مینک نے کہا تھا کہ تم قسم اٹھاؤ اور آدھی زمین لے لو یا پھر میں قسم اٹھاتا ہوں کہ ایک تہائی تمہاری ہے۔ میرے بھائیوں نے والد کو بتائے بغیر اس کو قسم کیلئے کہہ دیا اور35کنال کم زمین لی۔ جب مینک کیلئے35کنال چھوڑ سکتے تھے تو30کنال اپنوں کیلئے چھوڑنے میں کونسا مسئلہ تھا؟۔حاجی تامین کی زمین اسکے10گنے سے زیادہ کا معاملہ تھا۔2سوکنال تھی ۔
ریاض نے کہا کہ” لیز کی زمین کیلئے فیروز راضی نہیں تھا اور آپ کی والدہ نے دوپٹہ پھیلاکر استدعا کی تو اس نے قبول کی۔ مینک کیساتھ بھی آپ نے زیادتی کی ، قسم اٹھوائی۔ آپ کا باپ پیچھے آیا تھا ،ہم نہیں گئے تھے۔ مینک سے بھی ہمیں لڑا دیا”۔
منہاج نے کہا کہ ریاض کو چھوڑ دو، خان کی بیٹی دوپٹہ نہیں پھیلاسکتی تھی؟۔ خان کا بیٹا حاجی تامین کی زمین مانگ سکتا تھا بیوی کیلئے بہن سے ناراض تھا، جب ماموں کو پتہ چلا کہ پیسہ آیا ہے تو راضی ہوگئے۔35ہزار اور نگزیب لائے تھے۔23ہزار میں بس خرید لی جو مشترکہ بن گئی اور پھر گم کھاتے میں چلی گئی۔
منہاج کے دل کا آپرشن تھا تو ڈاکٹر ظفر علی ، منہاج اور میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ زندگی اور موت کا بھروسہ نہیں ہے سارے متنازعہ معاملات نمٹالیں گے۔ یوسف شاہ نے بتایا کہ ہماری زمین پر قبضہ کرلیا تھا۔ اب بھی10کنال ہمارے نام کی زمین قبضہ میں ہے۔18شبیر کو دی ہے وہ بھی ملکیت کی ہے۔

اخلاقیات کا کوئی معیار ہے؟:

سید حسن شاہ بابو نے نواسوں کو گھر اور زمینیں دیںاور قوم کی مختلف شاخوں میں پیروں کاایک ایک گھر ایڈجسٹ کیا۔ پھر میرے والد نے آٹھواں یکجا کردیا۔ اعظم گل سے لڑائی تھی تو زمین کی سیدھ میں پہاڑ کا حق تھا۔ جو معطل کیا گیا۔ ایسا اصول کھڑا کیا کہ جسکے بعد کوئی ذرا اونچا مکان نہیں بناسکتا ہے؟۔ حالانکہ پورے شہر کی آبادی اوپر نیچے ہے۔ مجھے اعظم گل کے بیٹے نے کہا کہ ہماری یہاں بہت بے عزتی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کہیں تو میں بھائیوں کو منع کردوں گا۔ اسلئے کہ اگرآپ راضی نہ ہو توہم بھی نہیں آتے؟۔ اس نے کہا کہ آپ سے بڑھ کر پڑوسی تو ہمیں چاہیے نہیں!۔ دل خوش ہوا کہ انکے دل سے پتھر ہٹادیا جو بوجھ سمجھ کر آخری امید لیکر آیاتھا ۔

شریعت کے پر خچے اڑادئیے؟:

جب غلام نبی سے معمولی بات پر لڑائی شروع کردی تو وہ نہیں لڑنا چاہ رہاتھا مولانا عین اللہ محسود کو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کیلئے بلایا۔ ماموں راستہ بند کرنا چاہتاتھا اور وہ توسیع چاہتا تھا۔ مولانا عین اللہ نے فیصلہ دیا کہ” شریعت میں راستہ وسیع کرنے کیلئے مسجد اور قبرستان کو بھی مسمار کرسکتے ہیں لیکن راستے کو تنگ اور بند کرنے کی گنجائش نہیں ہے”۔
پھر مولانا عین اللہ کو بلایا۔ مولانا غلام محمد نے کہا تھاکہ میں مناظرہ نہیں کرتا۔ پیر جذباتی ہیں، فتنے کا خطرہ ہے۔ تو مولانا عین اللہ نے کہا ”پھر اجرت دوبارہ دیناہو گی”۔ مولانا غلام محمد نے کہا کہ ”اجرت ڈبل لے لو”۔ پھر اس نے نیا فیصلہ لکھ دیا کہ ”شریعت میں گدھے اور اونٹ کا راستہ ہے لیکن گاڑی کاراستہ نہیں”۔ مشہورہوا کہ ”پیروں نے مولوی کو رشوت کھلادی ”۔
قوم نے کہا کہ” یہ راستہ قومی بنالیتے ہیں”۔ ماموں نے کہا کہ ”پہلے میں قوم سے لڑوں گا”۔ میرے والد نے کہا کہ قوم کی بات مانو۔ بدلے میں پیچھے بانڑاں کا راستہ ذاتی بن جاتا تواس میں عزت اور فائدہ تھا مگرانسان کو ضداندھا بنادیتی ہے۔
ماں کا دوپٹہ پھیلانا ، باپ کا مکر ناثابت ہو تو طالبان ایسوں کا قتل جہاد سمجھیں گے مگر باتیںحقائق کے منافی ہوں تو اصلاح ضروری ہے۔ لوگ اپنے قاتل بھائی، باپ کو جیل یا پھانسی سے بچانے کیلئے نہ مظلوم مقتولین کا خیال رکھیں اور نہ خاتون خانہ کی عزت کا پاس توکچھ بھی کرسکتے ہیں۔ عبادت اورذاتی کردار اپنی جگہ لیکن حقوق العباد اسی دنیا میں ضروری ہے اور انقلاب اسی سے آسکتا ہے۔ ابوطالب نے نمازنہیں پڑھی ۔ کافر قرار دیا گیا لیکن ان کی عزت اسلئے تھی کہ ظالم اور غاصب نہیں تھے۔

مشہورٹھیکیدارحاجی پالم خان محسود:

پیر اورنگزیب شہیدC&WکےSDOتھے۔ میں نے کہا کہ مغرب نے ترقی اسلئے کی کہ قوم وملک کاپیسہ اپنی ذات سے زیادہ قومی اشیاء پر لگاتے ہیں، بھائی اورنگزیب نے کہا کہ وانہ روڈ میں پہاڑ کی کٹائی اور کارپٹ سرکارکی ڈیمانڈ سے میں نے زیادہ کام کروادیا تو چیف نے کہا پھر ہم کیا کھائیں گے؟۔ حاجی پالم خان ٹھیکدار تھا مگر بھائی نے کہا کہ میں بلڈنگ وروڈ بنانے کا پورا پورا خیال رکھتا ہوں تاکہ اس میں کوئی نقص نہ ہو۔ اس نے کہا کہ جوپیسہ چین وغیرہ کو دیا جاتا ہے اگر اسکے آدھے پیسے بھی ہمیں ملتے توہم ان سے زیادہ بہتر سڑکیںبنالیتے۔

پشتو اشعار کا ترجمہ:
جب تمہارے اوپر پیچھے سے وار ہوگا
یہ تمہارا اپنا ہی کوئی رشتہ دار ہوگا
یا تو تمہارا دوست ہوگا یا پھر تمہارا یار ہوگا
جس پر تمہارا بہت ہی زیادہ بھروسہ ہوگا
جب حق کی بات کو حق کہو گے
تو تمہیں گالی بھی اذیت دینے کیلئے دی جاتی ہے
جب تم اے عابد ! سفید کپڑے پہنو گے
تو اس کام پر بھی ان کو تمہارے اوپر غصہ آتا ہے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟

رسول اللہ ۖ نے آخری خطبے میں سب سے پہلے اپنے چچاکا سود قتل معاف کرنے کا اعلان کیا تو پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب آگیا جسکے اثرات1924خلافت عثمانیہ تک موجود تھے

امریکہ سودی نظام کی وجہ سے بالکل کھوکھلا ہے ، یورپ اور آسٹریلیا سمیت پوری دنیا سودی نظام کی وجہ سے تباہی کے کنارے پر کھڑی ہوگئی ہے ۔حالانکہ سارے مذاہب نے سود کو حرام قراردیا ہے

صرف پاکستان سودی نظام کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑا نہیں ہے بلکہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی ، آسٹریلیا ، بھارت اورپوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان اور سسٹم ناکام ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوان کی کتابیں ”تربیت اولاد” وغیرہ عربی اور ان کا اردو ترجمہ مارکیٹ میں دستیاب ہے لیکن ان کی ایک کتاب ”مسلمان نوجوان” عربی اور اس کا اردو ترجمہ کافی عرصہ ہواہے کہ مارکیٹ سے غائب کردیا گیا ہے۔ جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار اس کتاب کا ترجمہ کرنے کی وجہ سے شہید کردئیے گئے تھے اور اس میں عالمی معاشی ماہرین کی رائے لکھی گئی تھی کہ معیشت کیلئے سودی نظام ایک ناکام نظام ہے۔ دوسری طرف مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن کے ذریعے سودی نظام کو جواز بخش دیا گیا اوردونوں کے مکروہ چہروں کو دیوبندی اور بریلوی وفاق المدارس پاکستان اور تنظیم المدارس پاکستان کا صدر بنایا گیا ہے۔ حالانکہ دونوںہی سب سے بڑے جرم کے مرتکب ہیں۔عالمی شیطانی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دے دیاہے۔
دنیا کے تمام مذاہب یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ مت اور پارسی سبھی کے ہاں سود حرام ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں کی آواز پر دنیا کے تمام مذاہب سود کے خاتمے کیلئے زبردست کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ مزارعت کے ذریعے مزارعین کے خاندانوں کو غلامی میں جکڑا جارہا تھا اور سودی نظام کے ذریعے سے دنیا کے ملکوں اور قوموں کو غلامی میں جکڑا جارہاہے۔ امریکہ اور دنیا میں شرح سود پاکستان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ہمارے تیل، گیس ، سونے و دیگر معدنیات کے خزانوں پر قبضہ مارنے کا خواب دیکھنے والے ہماری عوام اور حکمرانوں کو آخری حدتک پہنچانے کے درپے ہیں۔ قانون، اخلاقیات، مذہب، اقدار، روایات اور انسانیت کو ہمارے ہاں سے ملک بدر کیا جارہاہے لیکن ان کی تمام چالوں کو اللہ کی مدد سے ہم ناکام بناسکتے ہیں۔
ہمارے پاس وافر مقدار میں پانی کے بہاؤ کا نظام ہے۔ جس سے ہم سستی بجلی، کھیتی باڑی، باغات اور جنگلات اُگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہماری زمینیں معدنی ذخائر سے بہت مالامال ہیں۔ ہمارے پاس صحراؤں اور پہاڑوں کا بڑا سلسلہ ہے۔ ہمارے پاس محنت کش عوام ہیں اور ہمارے پاس دنیا کی بہترین صلاحیتوں والے دماغ ہیں۔ ہمارے پاس ایک اچھی خاصی افرادی صلاحیت ہے۔ کچے کے ڈاکو اور طالبان سے ہی بڑا کام لیا جاسکتا ہے۔ جب لوگ معاشی اعتبار سے مجبور ہوتے ہیں تو ہر غیراخلاقی کام پر کم معاوضے اور جان پر کھیل کر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جب ملک وقوم پر سودی قرضوں کا بوجھ زیادہ سے زیادہ ہوگا تو ملک کے ادارے بھی کرپٹ بننے پر ہی مجبور ہوںگے۔ بے روزگار افراد بھی ڈکیتی کا راستہ اختیار کریںگے اور اچھے سے اچھے لوگ بھی برے سے برا بننے پر مجبور ہونگے۔
اگر بے کار لوگوں کو اچھا معاوضہ ملنے لگے تو وہ سب کارآمد بن جائیں گے۔ جب انسانوں کے دماغ اور ہاتھ پیر استعمال ہونا شروع ہوجائیں گے تو ملک وقوم میں دولت کی بہتات بھی ہوجائے گی۔ لوگوں کو دولتمند بنانے کیلئے چند کام کرنے ہیں۔
1:ایرانی تیل کی سمگلنگ کو رشوت کے بغیر قانونی جواز دینا ہوگا۔ پیٹرول سستا ہوگا تو بجلی کی پیداوار اور آمدورفت میں عوام وخواص کو فوری ریلیف ملنا شروع ہوجائے گا۔ مل، فیکٹری اور دیگر معاملات سستے چلنا شروع ہوں گے تو بیرون ملک کی مارکیٹوں میں ہمارا مال بکنا شروع ہوجائے گا اور ڈالروں سے ملک مالامال ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایک بہت بڑے طبقے کو روزگار ملے گا۔ چین اور ہندوستان کو بھی سستا پیٹرول ہم دیں گے تو ان سے دوستی بھی مضبوط ہوجائے گی۔ جب لوگوں کے پاس کمائی ہوگی تو ریاست کو چلانے کیلئے عوام خود ٹیکس دے گی اور بیرون ملک کشکول لیکر نہیں گھومنا پڑے گا۔سودی قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی اور ملک پر بوجھ کم ہوجائے گا۔
2:ملک میں زمینوں کو مزارعت پر نہیں بالکل فری دینا شروع کریں گے تو ایک بہت بڑا محنت کش طبقہ خط غربت سے اوپر آجائے گا۔ بہت بڑے پیمانے پر وہ سبزی ، اناج اور گنے وغیرہ اُگانا شروع کردیں گے۔ باغات اور جنگلات اگانے کی طرف بہت لوگ مائل ہوجائیں گے اور پاکستان جنت نظیر بن جائے گا۔ کچے کے ڈاکو اور طالبان ایک اچھے شہری کی زندگی گزاریں گے اور بدمعاشوں سے شریف لوگوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ جنگلات اور باغات اگائیں گے اور دنیا بھر میں مزے سے سیر سپاٹے بھی کرسکیں گے۔ ان کے بچوں کو تعلیم وتربیت کی زندگیاں نصیب ہوں گی۔ کسی طاقتور طبقے کے پھر کبھی ٹاؤٹ کا کردار بھی ادا نہیں کریں گے۔ اسلام و انسانیت سے محبت کریں گے اور غلطیوں کی لوگوں سے معافی مانگیں گے اور ملک میں بیرون ملک سیاح بھی آسکیں گے۔
3:بہاولپور میں ایک بہت بڑا ہوائی اڈہ قائم کریں گے جو سستے پیٹرول کیلئے ایک مثالی مرکز ہوگا۔ دوبئی اور بھارت سے زیادہ بڑا کاروبار ہمارے ہاں چلے گا۔ دنیا کا بہترین بحری بندر گاہ گوادر اور بہترین ہوائی اڈہ بہاولپور کا ہے۔ صرف اس کو چالو کرنے کی ضرورت ہے۔ درآمدات وبرآمدات کیلئے پاکستان سے بہتر دنیا میں کوئی ملک نہیں ہے۔ بحری اور ہوائی راستوں کا معاملہ بھی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور بری راستے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ ہندوستان ، برما ، بنگلہ دیش ، بھوٹان، تھائی لینڈ ، نیپال وغیرہ کو ٹرین اور سڑک کے ذریعے عرب اور یورپ کو ملایا جاسکتا ہے۔ دوبئی نے سمندری سرنگ کے ذریعے بھارت کیساتھ ملنے کا پروگرام بنایا ہے لیکن جب پاکستان کے ذریعے بائی روڈ و ٹرین راہداری قائم ہوگی تو ایک بہت بڑا کاروبار ہمیں ملے گا اور پاکستانیوں کوپوری دنیا عزت کی نظر سے دیکھے گی۔ صرف راہداری کے ٹیکس سے بھی ریاست اورحکومت کے تمام اداروں کو چلانے میں مشکل نہیں ہوگی۔
4:ہندوستان ، افغانستان اور ایران کے اشیاء کی خرید اور فروخت کا کاروبار شروع ہوجائے تو پاکستان کے اندر اور باہر ہمارے لوگ بہت بڑے پیمانے پر تجارت کرسکتے ہیں۔ مہنگائی اس وقت مسئلہ ہوتا ہے جب لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے لیکن جب پیسہ آتا ہے تو 5ہزار روپے کلو دودھ بھی لوگ خوشی سے لیں گے۔ بھینسوں کا پیشاب اور گوبر صاف کرنے، چارہ کھلانے اور نہلانے دھلانے اور دودھ نکالنے والوں کو بہت اچھا معاوضہ ملنا چاہیے۔ لوگوں کے پاس پیسہ ہوگا تو مہنگائی کے رونے والے نہیں ملیں گے ۔ روزگار کے مواقع ہوں گے تو پھر بدمعاشی ، چوری چکاری اور ڈکیٹی کی جگہ شرافت والی زندگی ہی گزاریں گے۔ پھر لوگوں کو سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کی فرصت بھی نہیں ہوگی ۔ ان کے اخلاق اور کردار بھی شرافت سے مالامال ہوجائیں گے۔
5:سولر بنانے کے کارخانے پاکستان میں آجائیں گے۔ اور دنیا بھر کو یہاں سے آسانی کیساتھ سپلائی ہوسکے گی۔ ساتھ دریاؤں پر ڈویژن ، ضلع اور تحصیل کی سطح پر بجلی بنانے کے ایسے ٹربائن لگائیں گے جس میں بڑے پیمانے پر سستی بجلی کی سپلائی ممکن ہوسکے۔ دور دراز سے کھمبوں اور تاروں کی ضرورت بھی نہ پڑے اور واپڈا کے محکموں کے ملازمین کو مقامی سطح پر تنخواہیں بھی دی جائیں۔ جس سے درآمدات کا سلسلہ کم اور برآمدات کا سلسلہ خود بخود بہت بڑھ جائے گا۔ یہ صرف مثال پیش کررہا ہوں ، باقی مشاروت سے ماہرین بہت زبردست تجاویز پیش کرسکتے ہیں اور نت نئے معاملات بھی سامنے آجائیں گے اور ڈیموں میں بڑے پیمانے پر مچھلیوں کا کاروبار بھی ہوسکتا ہے۔ دریاؤں کو مغلظات پھینکنے سے بھی صاف کرنے کا بندوست کرنا ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کو نہروں سے بھی مالامال کرنا ہوگا۔
پانی کو صاف کرنے کیلئے ریت کے ٹیلوں سے گزارنے کا طریقہ کار بھی بنانا ہوگا۔ قدرتی بارشوں اور ماحولیات کیلئے بھی بڑے پیمانے پر کام کی ضرورت ہوگی اور اس میں کافی لوگ بھی روزگار حاصل کریںگے۔
6:قرآن وسنت کے معاشرتی ، معاشی اور سائنسی آیات کیلئے بہترین تعلیمی ادارے بنانے پڑیں گے۔حضرت مولانا انور بدخشانی فرماتے تھے کہ ”مدارس میں فقہ نہیں فقہ کی تاریخ پڑھائی جارہی ہے”۔تسخیرکائنات کیلئے قرآنی آیات میں بڑا زور دیا گیا ہے، ہمارے تعلیمی اداروںمیں تسخیر استنجاء اور فرائض و آداب گھڑنے اور اختلافات پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
پسماندہ علاقوں میں بچوں کی وہ پود ہوتی ہے جن میں کافی صلاحتیں ہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں وہ قیمتی ہیرے مزارعت کی دنیا میں دفن ہوجاتے ہیں۔ڈکیت ، بدمعاش اور طالبان بن جاتے ہیں۔ جب اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آئے گا اور قرآن وسنت کی درست تعلیمات سے یہ دنیا آگاہ ہوگی تو پھر پاکستان امامت کرے گا اور اسلامی ممالک اور باقی دنیا اس کے اقتداء میں کام کرنا شروع کریں گے۔
آج بھی پاکستان کی عوام اور خواص میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کچے کے ڈاکوؤں اور طالبان دہشت گردوں کی کتنی اچھی منجمنٹ ہے؟۔ لڑائی اور بدکرداری کی بدولت بہت کچھ ضائع ہوگیا ہے اور آئندہ بھی ضائع ہوتا رہے گا اسلئے آج ہمیں اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی۔ تیار مدارس اور سکول وکالج کا نظام بھی درست کرلیں تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ انشاء اللہ
7:کچے کے ڈاکو اور طالبان سے زیادہ بدتر ہمارے اپنے وہ مستحکم ادارے ہیں جہاں سے مدارس کے نام پر تعلیم دی جاتی ہے، جہاں عدالتوں میں انصاف کا ستیاناس ہوتا ہے۔ جہاں پولیس کے تھانوں میں انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے ۔ جہاں پر تعلیمی اداروں میں باصلاحیت افراد کو ضائع کیا جارہاہے ۔ اور جہاں فوج اور اس کے اداروں کے حالات دگرگوں ہیں۔ کوئی بھی ایسی قابل سیاسی جماعت نہیں ہے جس کے ذریعے کوئی کردار سازی کی جائے۔ ہر پرائیوٹ اور سرکاری ادارے میں چلتی کا نام گاڑی ہے مگر اب گاڑیوں کی مدت بھی ختم ہوگئی ہے اور اگر بروقت اچھے اقدامات نہیں اٹھائے تو بہت بگاڑ آسکتا ہے۔ صرف اگر اسلامی نظریاتی کونسل درست کردار ادا کرے تو بھی ایک انقلابی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے لیکن ہرکسی کو اپنی نوکری کی فکر ہے۔ اگر مجھے اس ادارے میں خدمت کا موقع دیاگیا تو قوم کے رحجات بدلتے ہوئے دکھائی دیں گے،مجھے کوئی عہدہ بھی نہیں چاہیے لیکن میری مفت خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔

اسلامی انسانی انقلاب
اسلامی خلافت کا قیام عمل میںآئے تو دنیا سے سودی نظام کا خاتمہ کریگا جس کی تائید تمام مذاہب کے مخلص طبقات بہت ایمانی غیرت کیساتھ کریں گے۔ امریکہ بھی سودی نظام میں بڑا ڈوبا ہواہے وہ تائید کرے گا۔ یورپی ممالک اور بھارت کا بھی قرضوں سے برا حال ہے وہ بھی تائید کریں گے۔ روس اس کی سب سے پہلے تائید کرے گا اسلئے کہ کمیونزم اور سوشلزم مذہب کے خلاف ہیں لیکن سودی نظام کے خاتمے کو خوش آئند قرار دینا اس کا نظریاتی مسئلہ ہے ۔ چین کی بھی اصل بنیاد وہی ہے۔
یہود کا مذہبی طبقہ بھی شیطان اور صہیونی سودی نظام سے دنیا کی جان چھڑانے کیلئے پیش پیش ہوگا۔ اسرائیل بھی فلسطین پر مظالم بند کردے گا۔ مسلمانوں کو دنیا میں دشمن نہیں سب سے اچھا دوست اور انسان تصور کیا جانے لگے گا۔ مزارعت پوری دنیا میں فری ہوگی۔ سودی نظام نابود ہوجائے گا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کوتکلیف ضرور ہوگی کہ اچھا خاصا سودی بینک کا معاوضہ مل رہاتھا اور اب محنت مزدوری کرکے بچوں کی پرورش کرنی پڑے گی۔ پاکستان میں حشر کی عدالت لگے گی اور دنیا میں حساب کتاب ہوگا۔ علماء ، جرنیل، جج ، بیوروکریٹ، صحافی اور سیاستدان کے علاوہ تمام طبقات سے ناجائز دولت کا پوچھا جائے گا۔ اچھے لوگوں کیساتھ آسان حساب ہوگا لیکن بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر مسلسل اصرار کرنے والوں کا محاسبہ ہوگا۔ عدالتوں میں مہنگے وکیل ان کی سہولت کاری نہیں کرسکیں گے ۔
قرآن میں اس بڑے انقلاب کا جا بجا تفصیل اور اجمال کیساتھ ذکر موجود ہے۔ جب دنیا میں معاشرتی، تعلیمی ، عدالتی اور حکمرانی کا طرزعمل درست ہوگا اور اقتصادی نظام کی درستگی کیلئے سود اور مزارعت کا نظام ختم ہوگا۔ سمگلنگ اور رشوت کے نظام کا خاتمہ ہوجائے گا تو تمام دنیا کے لوگ اس مثالی خوشی میں شریک ہوں گے اور پاکستان سے اپنے اپنے ممالک کیلئے ایسی منجمنٹ مانگیں گے جو ان کے ہاں بھی نظام کو درست کریں۔
عالمی اسلامی خلافت کے قیام میں دنیا بھر کے لوگ ہمارا ساتھ دیں گے۔ روس کا نظام بھی ناکام ہواہے اور امریکہ نے بھی مظالم کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے ۔ اسلام کا انسانی انقلاب نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ تمام انسانیت کیلئے ہی ہوگا اور باقی مخلوقات جانور وںاور پرندوں کو بھی تحفظ دے گا۔ اجارہ داری نہیں ہوگی بلکہ ہرشعبہ میں بلاتفریق اہلیت کو ترجیح دی جائے گی۔ عدل اور اہلیت اس کی اصل بنیاد ہوگی ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

طلاق کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقے کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی؟

طلاق کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقے کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی؟

جب شوہر کا عورت سے نکاح ہوجاتا ہے تو اس رشتے کی باریکی اور مضبوطی کا تعلق دو طرفہ بنیادوں پر اللہ نے رکھاہے۔
شوہر کا انتقال ہوجائے تو عورت عدت پوری ہونے کے بعد زندگی بھر اس نکاح کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس کی قبر پر اسکے شوہر کے نام کی تختی لگتی ہے کہ زوجہ فلاں۔ جنت میں بھی قرآن کہتا ہے کہ لوگ اپنی ازواج اور اولاد کے ساتھ ہوں گے۔
لیکن اگر عورت عدت پوری ہونے کے بعد کسی اور شوہر سے نکاح کرلیتی ہے تو اس کا بھی عورت کو مکمل اختیار دیا گیا ہے اور اس کے بعد وہ دوسرے شوہر کی بیوی بن جائے گی۔ پہلے سے اس کا تعلق قائم نہیں رہے گا۔ قرآن وحدیث اور صحابہ سے ان چیزوں کا بھرپور ثبوت ملتا ہے لیکن مذہبی طبقات نے اس معاملے کو اپنی جہالتوں سے بہت بگاڑ دیا تھا، جس کی اصلاح ایک حد تک ہماری تحریرات سے الحمدللہ اب ہوچکی ہے۔
قرآن میں پہلی بار عدت کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت226اور طلاق کا پہلی بار ذکر سورہ بقرہ کی آیت227میں ہے۔
انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ ”پہلا امپریشن ہی آخری امپریشن ہوتا ہے”۔ فقہاء اور مسالک کے علمبرداروں نے پہلے ذکر کا ستیاناس کرکے رکھ دیا ہے۔ قصور قرآن کا نہیں ہے بلکہ جہالت کے اندھیرے میں پھنسے ہوئے ائمہ کا قصور تھا۔
اللہ نے طلاق سے پہلے طلاق کا مقدمہ بیان کردیاہے۔ سورہ البقرہ آیت:224میں واضح کردیا ہے کہ ”تم اپنے عہدو پیمان کو رکاوٹ نہ بناؤ کہ نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور عوام کے درمیان صلح کراؤ”۔ جب عوام الناس کے درمیان اللہ کے نام پر صلح کیلئے رکاوٹ بننا ممنوع ہے تو پھر جب میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں تو اللہ اور مذہب کو کیسے رکاوٹ بناسکتے ہیں؟۔
اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے کسی بھی حال میں میاں بیوی کے درمیان کوئی ایسا فتویٰ نہیں دیا ہے جس میں وہ صلح چاہتے ہوں اور اللہ اور مذہب اس میںرکاوٹ بنتا ہو۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ البقرہ آیت230میں اللہ نے کیوں فرمایا ہے کہ ”پھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر کیساتھ نکاح کرلے”۔
اس کا جواب سیدھے سادے الفاظ میں بالکل واضح ہے کہ جب تک سیاق وسباق کو نہ دیکھا جائے تو آیت کا مفہوم سمجھ میں کبھی نہیں آسکتا ہے۔البقرہ آیات231اور232میں یہ واضح ہے کہ ”جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ گئی تو معروف طریقے سے رجوع کرو یا معروف طریقے سے اس کو چھوڑ دو۔ ان کو اسلئے مت روکو تاکہ تم ان کو ضرر پہنچاؤ”۔ اور ” جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور اپنی عدت کو پہنچ گئی تو ان کو مت روکو کہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں ،اگر وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں”۔
جب اللہ تعالیٰ آیت230کے بعد کی دو آیات میں حلالہ کے بغیر عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کی اجازت دیتا ہے تو پھر آیت230کا معاملہ اور پس منظر کیا ہے؟۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے آیت228البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہروں کو ان کے لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیا تھا۔ جب عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دی ہے تو پھر درمیان کی بات بھی حقائق سمجھ کر دیکھنے کی کوشش کریں تو ذرا تدبر سے معاملہ سمجھ آجائے گا۔
سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دے دی ہے۔ جس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے۔
جہاں تک آیت230البقرہ کا تعلق ہے تو اس سے پہلے آیت229میں بھرپور وضاحت ہے کہ
” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ ان کو دیا کہ اس میں سے کچھ واپس لے لو مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو کہ دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے کہ عورت کی طرف سے اس چیز کو فدیہ کردیا جائے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ،ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔
اگر اس وضاحت کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو پھر کوئی ابہام بھی باقی نہیں رہتا ہے۔ اس آیت میں چند وضاحتیں یہ ہیں۔
البقرہ228میں عدت کے تین مراحل واضح ہیں۔البقرہ آیت229میں تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق واضح ہے۔ مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں یہ حدیث لکھ دی ہے کہ نبی ۖ سے صحابی نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے۔ جس کے جواب میں نبی ۖ نے فرمایا کہ آیت229البقرہ میں دو مرتبہ طلاق کے بعد احسان کے ساتھ رخصت کرنا تیسری طلاق ہے۔ علاوہ ازیں بخاری کتاب التفسیر سورہ طلاق میں ہے کہ حضرت عمر نے نبی ۖ کو بتایا کہ عبداللہ نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی ہے ۔ جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے اور عبداللہ سے رجوع کیلئے کہا اور فرمایا کہ طہر کی حالت میں اپنے پاس رکھویہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر طہر یعنی پاکی کے دن آجائیں اور پھر حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت آجائے تو اگر طلاق دینی ہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو اور رجوع کرنا ہو تو اس میں رجوع کرلو۔ یہی وہ ہے عدت ہے جس میں اس طرح اللہ نے طلاق کا امر دیا ہے۔ یہ کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں بھی ہے لیکن بخاری نے ان میں صرف غضبناک کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اگر صحیح بخاری کی تمام کتابوں میں غضبناک ہونے کے الفاظ کا ذکر ہوتا تو اس کا نتیجہ کچھ اور نکلتاکیونکہ اس سے مسئلے کی وضاحت میں بھرپور مدد ملتی
محمود بن لبید کی روایت ہے کہ رسول اللہۖ کو ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو اس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو۔ جبکہ میں تمہارے درمیان میں موجود ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل کروں؟۔
اس روایت سے احمق لوگ یہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع ہوسکتا تھا تو نبی ۖ غضبناک نہ ہوتے بلکہ رجوع کا حکم دیتے۔ حالانکہ اس سے زیادہ مضبوط روایت میں ہے کہ نبی ۖ نے غضبناک ہونے کے باوجود بھی رجوع کا حکم دیاتھا جو بخاری میں ہے اور محمود بن لبید کی روایت بخاری ومسلم میں نہیں ہے۔ روایات میں یہ بھی موجود ہے کہ قتل کی پیشکش کرنے والے حضرت عمر تھے اور یہی واقعہ ہے جس میں عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔
محمود بن لبید کی روایت سے زیادہ مضبوط روایت صحیح مسلم میں ہے کہ حسن بصری نے کہا کہ مجھ سے ایک مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیں۔20سال تک کوئی دوسرا مستند شخص نہیں ملا جس نے اس کی تردید کی ہو۔20سال بعد ایک اور زیادہ مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے ایک طلاق دی تھی۔ صحیح مسلم کی اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ بعد میں لوگوں کا رحجان بدل گیا تھا۔رحجان کی تبدیلی کی ایک وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت کے2سال بعد ایک ساتھ تین طلاق پر رجوع نہ کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔جس پر اہل علم کے مناظرانہ اور مسلکانہ وفرقہ وارانہ رنجشوں کی وجہ سے امت مسلمہ میں زبردست قسم کی تقسیم آگئی۔
پھر حضرت علی کے شاگردوں کی طرف سے بھی یہ بات سامنے آگئی کہ کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے۔ جس پر حضرت علی نے فتویٰ دیا کہ اب رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ جس میں ایک ساتھ تین طلاق کے واقع کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا اور حضرت عمر و حضرت علی کے ماننے والے ایک ہوگئے ۔
کاش! یہ لوگ روایات اور اقوال کی طرف دیکھنے کی جگہ قرآن کے بنیادی آیات سے بھی کچھ استفادہ کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن قرآن کو روایات میں کھو دیا گیا۔ خلفاء راشدین کی طرف منسوب کیا گیا کہ اگر بیوی کو حرام کہہ دیا جائے تو پھر سب کا فتویٰ اور فیصلہ الگ الگ تھا۔ حضرت عمر ایک طلاق رجعی قرار دیتے تھے۔ حضرت علی تین طلاق مغلظہ قرار دیتے تھے اور حضرت عثمان اس کو ظہار کے حکم کے مترادف کہتے تھے۔
علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے” زادالمعاد” میں چار خلفاء راشدین اور چار ائمہ مجتہدین کے علاوہ حرام کے لفظ پر دوسرے فقہاء کیساتھ20اجتہادات کا ذکر کیا ہے۔اس کا ذکر صحیح بخاری میں حسن بصری نے کیا ہے کہ ” بیوی کو حرام کہا تو جو نیت کی جائے۔ بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ یہ تیسری طلاق ہے۔ جس کے بعد عورت حلال نہیں ہوتی جیساکہ کھانے پینے کی اشیاء کو حرام قرار دینے کے بعد کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجاتی ہیں”۔ بخاری میں ایک روایت چھوڑ کر حضرت ابن عباس کے قول کو بھی نقل کیا گیا ہے کہ بیوی کو حرام قرار دینے پر کچھ بھی واقع نہیں ہوتا نہ طلاق ، نہ قسم اور نہ کفارہ اور یہی رسول اللہ ۖ کی سیرت کا تقاضہ ہے۔ حضرت ماریہ قبطیہ کیلئے فرمایا کہ مجھ پر حرام ہے اور اس کا سورہ تحریم میں ذکر ہے مگر یہ توفیق مسالک کے انبار لگانے والوں کو بخاری سمیت کسی کو بھی نہیں ملی ہے کہ قرآن کی سورہ تحریم کا حوالہ دے دیتے اور بس کرتے۔
آیت کا دوسرا حصہ ہے۔ جس میں مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد اللہ نے فرمایا ہے کہ ” اور تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر دونوں قائم نہیں رہ سکیں گے۔ جب تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے اس کو فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیںہے اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو ان حدود سے تجاوز کرے گا تو یہی لوگ ظالم ہیں”۔ آیت229
اس میں واضح ہے کہ تیسرے مرحلے میں طلاق کا فیصلہ کیا تو تمہارے لئے حلال نہیں کہ ان کو جوکچھ بھی دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔ یعنی شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیز بھی واپس نہیں لے سکتے مگر کوئی ایسی چیز ہو جو رابطے کا ذریعہ ہو اور اس کی وجہ سے دونوں کو اور فیصلہ کرنے والوں کو یہ خوف ہو کہ وہ واپس نہیں کی گئی تو پھر وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے یعنی اس چیز کی وجہ سے رابطہ اور تعلق بن سکتا ہے اور دونوں کے جنسی تعلقات کا اندیشہ ہو۔ مثلاً شوہر نے موبائل کی ایک سم دی ہے اور وہ سم شوہر کیلئے واپس لینا حلال نہیں ہے مگر وہ دونوں اور فیصلہ کرنے والے خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر یہ ”سم” واپس نہیں کی گئی تو اس کی وجہ سے گڑ بڑ ہوسکتی ہے ۔ پھر اس سے بچنے کیلئے وہ ”سم” عورت کی طرف سے دینے میں کوئی حرج دونوں پر نہیں۔ علاوہ ازیں مکان یا کوئی بھی ایسی چیز ہوسکتی ہے جس پر سب کا اتفاق ہوجائے کہ یہ خطرناک ہے۔
حنفی مسلک نے بھی اپنے اصول فقہ میں اسی صورتحال کی بنیاد سے اگلی آیت230البقرہ کی طلاق کو جوڑ دیا ہے اور یہی بات علامہ ابن قیم نے ابن عباس کے حوالے سے بھی لکھ دی ہے اپنی کتاب ”زاد المعادجلد4باب خلع” میں اور اسی بنیاد پر علامہ تمناعمادی نے اپنی کتاب ”الطلاق مرتان” لکھ دی ہے۔ لیکن اس سے خلع مراد لینا غلط ہے اسلئے کہ دو اور تین مرتبہ کی طلاق کے بعد خلع کی کوئی صورت نہیں بنتی ہے۔ حدیث میں تو خلع کی عدت بھی ایک حیض ہے۔ طلاق مرد کی طرف سے ہے اور خلع عورت کی طرف سے ہے۔
آیت230میں طلاق کی وہ صورت ہے کہ جس میں یہ طے ہوجائے کہ دونوں نے صلح نہیں کرنی ہے اور آئندہ رابطے کیلئے بھی کوئی صورت نہیں چھوڑنی ہے۔ اور یہی صورتحال ہی تمام آیات میں واضح طور پر موجود ہے۔ چنانچہ آیت228البقرہ میں اصلاح کی شرط پر عدت میں رجوع کی اجازت دی گئی ہے۔ آیت229میں معروف کی شرط پر عدت میں رجوع کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر اصلاح اور معروف کی شرط کے بغیر شوہر رجوع کرے گا تو اس پر رجوع کرنے کے بجائے اسی طرح حلال نہ ہونے ہی کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور اگر اصلاح اور معروف کی شرط ہو تو عدت میں بھی رجوع کی وضاحت ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی سورہ البقرہ کی آیات231،232میں رجوع کی وضاحت موجود ہے اور اسی کا خلاصہ سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی موجود ہے۔
احادیث صحیحہ ، صحابہ کرام اور ان کے شاگردوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ عبداللہ بن عباس نے ٹھیک فرمایا کہ حضرت عمر کے دور سے پہلے تین طلاق کو ایک سمجھا جاتا تھا۔ طلاق ایک فعل ہے ، جس طرح روزہ دن میں ایک مرتبہ رکھا جاتا ہے اور نکاح ایک بار میں ایک ہی ہوسکتا ہے اسی طرح عدت کے ایک مرحلے میں ایک ہی مرتبہ طلاق ہوسکتی ہے ۔ روزہ اور کھانے پر ہزار بار بھی کہا جائے تو ایک ہی روزہ اور ایک ہی مرتبہ کھانا کھانا مراد ہوگا۔ حضرت عمر نے فیصلہ اسلئے دیا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پررجوع نہ کرنے کا فتویٰ اسلئے دیا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ حضرت ابن عباس کے جن شاگردوں نے ایک ساتھ کو تین طلاق قرار دیا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہ تھی اور جن شاگردوں نے تین طلاق کو ایک قرار دیا تو اس میں رجوع کیلئے عورت راضی ہوتی تھی۔
طلاق کا اظہار تو بڑی بات ہے جب نبی ۖ نے ایلاء کیا اور آپ ۖ کو معلوم تھا کہ رجوع پر امہات المؤمنین بہت ہی خوش ہوجائیں گی لیکن اللہ نے فرمایا کہ رجوع نہیں کرسکتے۔ پہلے ان کو طلاق کا اختیار دے دو اور پھر وہ چاہیں تو رجوع ہوسکتا ہے۔ یہ صرف قرآن میں عورتوں کے حق کی رہنمائی کیلئے تھا۔
طلاق ونکاح کے نام پرمسالک اور فرقہ واریت نے جس طرح کے بدبودار لیٹرین اور گند کیا ہے اگر عوام کو پتہ چلے گا تو بڑے بڑوں کی بالکل خیر نہیں ہوگی۔ جب حضرت عمر سے کہا گیا کہ عبداللہ بن عمر ہی کو اپنا جانشین بنالو۔ تو حضرت عمر نے کہا کہ اس کو طلاق کے مسئلے کا پتہ نہیں اور اتنی بڑی ذمہ داری کے قابل اس کو سمجھوں گا؟۔ یہ خلافت کیلئے نااہل ہے۔
ابوسفیان اور حضرت عمر میں اس کے علاوہ بھی بہت فرق تھا لیکن جب امام حسن اور امیر معاویہ نے آپس میں صلح کرلی تو شیعہ سنی اہل بیت وصحابہ پر نہیں لڑیں۔ یزیداور مروان بن حکم کے دور میں حضرت حسین اور عبداللہ بن زبیر جب شہید کئے گئے تو حکمران غیر صحابی اور شہداء صحابی تھے۔ صحابہ کی توقیر دل میں ہو تو حسین و عبداللہ بن زبیر کے مقابلے میں یزید ومروان کی کوئی حیثیت نہیں ہوسکتی ہے۔ البتہ یزید ومروان سے زیادہ قرآن کے مقابلے میں مسالک اور فرقے بنانے والے مجرم ہیں۔ پہلے تو لوگ بہت سادہ تھے ۔ ملاجیون اور اس کو ماننے والا طبقہ سادگی کے باعث اچھے لوگ تھے۔ اب تو سودی بینکاری کو جواز بخشنے والے اور زکوٰة کو کالعدم قرار دینے کے فتوے والوں کو چالاک وعیار لوگ پہنچانتے بھی ہیں مگر ………….؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

نکاح کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقات کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی

نکاح کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقات کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی

قرآن میں غلام کو ”عبد” اور لونڈی کو”اَمة” کہا گیا ۔ عبد اور لونڈی کو بھی نکاح کا حق دیا گیا ہے۔ بلکہ طلاق شدہ وبیوہ کا جس طرح نکاح کرانے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح غلاموں اور لونڈی کے نکاح کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
قرآن نے غلام اور لونڈی کا اسٹیٹس تبدیل کردیا ہے اور مالکانہ حق کی جگہ ملک یمین کا تصور دیا ہے۔ جس کا مطلب ایک ایگریمنٹ ہے۔ جتنے میں غلام یا لونڈی کو خریدا گیا ہے تو اس پر حق ملکیت کا تصور باطل قرار دیا گیا۔اسلئے کہ انسان جانور کی طرح کسی کی ملکیت نہیں ہوسکتا ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت گروی کی قرار دی گئی ہے۔ جب بھی مطلوبہ رقم میسر ہوگی تو لونڈی اور غلام کو آزادی مل جائے گی لیکن دنیا میں غلام بنانے کے طریقے سبھی حرام قرار دئیے گئے۔ جن میںسود، مزارعت،، جنگوں میں غلام بنانا، جوا،بردہ فروشی اور بدمعاشی وغیرہ شامل ہیں۔
نکاح اور ملکت ایمانکم میں فرق یہ ہے کہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے اور ملکت ایمانکم ایگریمنٹ ہے جس کا اطلاق غلام اور لونڈی پر بھی ہوتا ہے اور آزاد عورت اور آزاد مرد کا ایک وقتی تعلق بھی ہوسکتا ہے۔ تجارتی معاہدہ بھی ہوسکتا ہے۔ قرآن میں جہاں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہاں سیاق اور سباق کو دیکھ کر پتہ چل سکتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے؟۔
مثلاً سورہ نساء کی ابتداء میں اللہ نے فرمایا: فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنٰی وثلاث ورباع وان خفتم ان لا تعدلوا فواحدہ او ماملکت ایمانکم ”پس نکاح کرو،عورتوں میں سے جن کو چاہو،دودو، تین تین، چار چار اور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہیں کرسکوگے تو ایک یا جن کے مالک تمہارے معاہدے ہوں”۔ (النساء آیت3)
یہاں لونڈی اور غلام مراد نہیں بلکہ مستقل نکاح کی جگہ وقتی ایگریمنٹ ہے۔ جس میں مالی اور جنسی اتنی طاقت نہ ہو کہ وہ ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ عدل کرسکے تو پھر ایک عورت یا ایگریمنٹ پر گزارہ کرے۔حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ صحابہ نے نبی ۖ سے عرض کیا کہ کیا ہم خود کو خصی بنالیں؟۔ نبیۖ نے منع کیا اور ایک یا دو چادر کے بدلے ایگریمنٹ کی اجازت دے دی اور فرمایا : لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت ”حرام مت کرو جن پاک چیزوں کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے”۔(صحیح بخاری)
جس میں ایک بیوی رکھنے کی بھی صلاحیت نہ ہو تو وہ اس طرح ایگریمنٹ پر گزارہ کرسکتا ہے۔ عبداللہ بن مسعود کی بیگم نہیں تھی اور حضرت عثمان نے کسی عورت سے نکاح کی پیشکش کردی تو عبداللہ بن مسعود نے اس کا انکار کردیا۔ مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس پاکستان نے بخاری کی شرح میں اس پیشکش کو مسترد کرنے کی وجہ انتہائی غلط لکھ دی ہے کہ قرآن کو جمع کرنے کے مسئلے پر ناراض تھے کہ ان کو شریک کیوں نہیں کیا گیا۔ اس سے بہتر تھا کہ وہ لکھتے کہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ جب بازار میں دودھ ملتا ہو تو بھینس رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ قرآن کی تحریف کو تقویت دینا انتہائی بڑے درجے کا کفر ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھ دیا ہے کہ ” صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حضرت علی نے کہا کہ ” رسول اللہ ۖ نے ایک دو گتوں کے درمیان قرآن کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا ہے”۔ اور یہ بخاری نے شیعوں کے مؤقف کو رد کرنے کیلئے لکھ دیا ہے کہ تم قرآن کی تحریف کے قائل ہو لیکن تمہارے علی تحریف کے قائل نہیں تھے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ علی کی یہ بات غلط ہے ۔ قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ (کشف الباری :مولانا سلیم اللہ خان)
مولانا سلیم اللہ خان کی اس بکواس کو اس کے نالائق اور جاہل شاگردوں نے مرتب کرکے بہت غلطی کی ہے اور اس کی اعلانیہ تردید اور اس سے توبہ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ البتہ صحیح بخاری میں امام ابوحنیفہ کے مؤقف کو غلط ثابت کرنے کیلئے ایک ساتھ تین طلاق کی روایت غلط نقل کی گئی ہے۔اسی طرح سے فتح خیبر کے حوالہ سے گھریلو گدھوں اور متعہ کی حرمت شیعہ کے مؤقف کو غلط ثابت کرنے کیلئے نقل کی گئی ہے جس کوبخاری کے اندر کے تضاد کی وجہ سے رد کرنا ضروری ہے اسلئے کہ متعہ کو جواز فراہم کرنے والی روایت مرفوع ، زیادہ معتبر اورواضح ہے اور فتح خیبر تک گھریلو گدھوں کا کھانا بھی انتہائی غلط ہے۔
عبداللہ بن مسعود پر الگ مصحف کا الزام بھی غلط ہے جس شخص نے ابن مسعود کے مصحف کی زیارت کی اور اس میں اس نے سورہ فاتحہ اور آخری دوسورتوں کو نہیں پایا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلا اور آخری صفحہ پھٹ کر ضائع ہوچکا تھا۔ جیسا مساجد میں بہت قرآن ہوتے ہیں لیکن اس پر کہانیاں گھڑی گئی ہیں۔ جہاں تک فما اسمتعتم منھن کے ساتھ الی اجل مسمی کے اضافے کی بات ہے تو وہ عبداللہ بن مسعود نے جلالین اور تفسیرابن عباس کی طرح تفسیر لکھ دی ہے۔ اگر یہ اضافی آیت ہوتی تو حنفی مسلک کے نزدیک خبر واحد کی آیت بھی آیت ہی کے حکم میں ہے ،پھر تو احناف کے نزدیک متعہ جائز ہونا چاہیے اسلئے کہ خبرواحد کی آیت سے ثابت ہے۔ حالانکہ یہ غلط ہے ۔
آج اگر ہم لکھ دیں کہ عبداللہ بن مسعود، بخاری ومسلم، اصول فقہ میں قرآن کی تعریف ، مولانا انورشاہ کشمیری کے فیض الباری اور مسلک حنفی میں قرآن کی تحریف ثابت ہے تو لوگ ڈنڈے لیکر پیچھے پڑجائیں گے کہ تم تحریف کے قائل ہو؟۔ مگر جب ہم ان کی تردید کررہے ہیں تو کوئی حمایت نہیں کرتا ؟۔
بیوہ کو خاوند کے مال کا1/8ملتا ہے نبیۖ نے درہم و دینار کی وراثت نہیں چھوڑی تو حضرت عائشہ و دیگرنبی ۖ کی ازواج مطہرات اپنے اپنے حجروں کی مالک بن گئی تھیں۔اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ گھر کی مالکن عورت ہی ہوتی ہے۔ فرمایا: لاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الا ان یاتین بفاحشة مبینة ” ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیںمگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں”۔ سورۂ طلاق
سویڈن قانون کے مطابق جب میاں بیوی میں جدائی ہو تو ان کا مشترکہ گھر دونوں میں تقسیم ہوگا۔ ہم سویڈن میں ایک شخص کے مہمان تھے جس کی بیوی سے جدائی ہوگئی تھی اور اس نے بتایا کہ اس نے سارا گھر بیوی کو دے دیا اسلئے کہ عورت پر اسے رحم آیا اور قانون کے مطابق اس نے اپنا حق نہیں لیا۔
اسلام میں عورت پر یہ احسان نہیں ہے کہ اس کو طلاق دی جائے اور گھر اس کیلئے اور اس کے بچوں کیلئے چھوڑد یا جائے۔ بلکہ یہ طلاق کے بعد عورت کا اپنا حق ہے۔ اس نے جب نکاح کرلیا تو اپنی ساری کشتیاں جلا ڈالیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس کو صرف مرد کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا ہے۔ اس کے ایسے حقوق رکھے ہیں کہ جب انسانیت کو پتہ چل جائے تو پھرسارا انسانی معاشرہ ہی بدل جائے گا۔ گھر بھی اسی کا ہے۔ خرچہ بھی شوہر ہی کی ذمہ داری ہے۔ شوہر کی وسعت کے مطابق حق مہر بھی اس کا حق ہے۔ آج پوری دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ فقہاء نے لکھ دیا ہے کہ بیوی کا علاج معالجہ شوہر کے ذمے فرض نہیں ہے۔ حالانکہ کھانے پینے کی طرح علاج معالجے کی اہمیت ہے اور اس کیلئے بیوی کس کے پاس جائے ؟۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بڑا کمال کردیا کہ اپنے اکابر ین سے انحراف کرکے لکھ دیا ہے کہ ”علاج کرنا بھی شوہر کی اخلاقی ذمہ دای ہونی چاہیے”۔
مولانا محمد منظور نعمانی کے بیٹے مولانا عتیق الرحمن سنبھلی خط لکھ کر مفتی تقی عثمانی سے پوچھتے ہیں کہ ”حق مہر کی شریعت میں حیثیت کیا ہے؟”۔ جس کے جواب میں لکھ دیا کہ ” یہ اعزازیہ ہے”۔ اعزاز میں تو ایک چونی کا انعام بھی بہت ہوتا ہے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ” جس کے نزدیک چور کا ہاتھ جتنی رقم میں کٹتا ہے ، اتنی کم ازکم رقم حق مہر میں دینی فرض ہے۔اسلئے کہ جتنی رقم میں چور اپنے ایک عضوء سے محروم ہوتا ہے اتنی رقم میں شوہر اپنی بیوی کے ایک عضوء کا مالک بنتا ہے”۔
حالانکہ قرآن نے واضح کردیا ہے کہ امیر پر اپنی وسعت اور غریب پر اپنی حیثیت کے مطابق حق مہر فرض ہے۔ جب کسی صحابی نے نبی ۖ سے اس عورت کا رشتہ مانگا تھا جس نے خود کو نبیۖ کیلئے ہبہ کردیا تھا تو نبی ۖ نے مالی حیثیت پوچھ لی اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ ایک لوہے کی انگوٹھی سے بھی حق مہر ادا ہوسکتا ہے بلکہ اس صحابی کی پوری ملکیت یہی تھی۔ اور وہ ایک گھر کا مالک تھا۔ اس کے باوجود اللہ نے فرمایا کہ نبی کے علاوہ کسی اور کا یہ حق نہیں کہ کوئی عورت خود کو اس کوہبہ کردے۔
ایک آدمی کھرب پتی ہے یا ارب پتی ہے یا کروڑ پتی ہے یا لکھ پتی ہے یا مسکین ہے۔ تو اگر اس نے نکاح کرلیا اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی تو اپنی حیثیت کے مطابق اس پر حق مہر کا نصف دینا فرض ہے۔ یہ اس کی مرضی پر نہیں بلکہ اس کی مالی حیثیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔
بیوہ کو1/8ملتا ہے اور وہ گھر کی مالکن بھی بنتی ہے تو حق مہر اس کی حیثیت کے مطابق سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ عام حالات میں بیوی خود کواپنے شوہر کے مال کا مالک سمجھتی ہے اور وہ ایک حد تک مالک ہوتی بھی ہے ۔ لیکن جب جھگڑا یا طلاق کا مسئلہ آتا ہے تو اس کو ہر چیز سے محروم کردیا جاتا ہے۔
قرآن وسنت اور فطرت نے جو حقوق ایک بیوی کو دئیے ہیں وہ طلاق کی صورت میں ہر چیز سے محروم کردی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسکے بچے بھی چھن جاتے ہیں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے۔ یہ قرآن وسنت اور اسلام نہیں ہے بلکہ علماء وفقہاء کے خود ساختہ مسالک ، فرقے اور مذاہب ہیں۔
مسلمانوں میں رائج نکاح میں جب عورت کو نکاح کے حقوق حاصل نہیں ہیں تو اس کو کیا نام دیا جاسکتا ہے؟۔ یہ جائز ہے یا ناجائز حرام کاری ہے؟۔ اللہ نے واضح کیا ہے کہ طلاق کے بعد شوہر کیلئے حلال نہیں ہے کہ عورت سے کچھ بھی واپس لے،اگرچہ اس کو بہت سارا مال دیا ہو اور نہ ہی مال واپس لینے بہتان طرازی کرنے کی اس کو اجازت ہے۔ (النسائ:20)
ہمارے ہاں رائج نکاح پر نکاح کا نہیں بلکہ ایگریمنٹ کا اطلاق ہوتا ہے اسلئے کہ نکاح کے قانونی حق سے عورت بالکل محروم ہوتی ہے۔ اسلام سے قبل لونڈی کیساتھ بھی وہ ناجائز نہیں ہوتا تھا جو علماء ومفتیان نے نکاح کے نام پر عورت کے ساتھ زیادتیوں کی اجازت دی ہے۔ بیوی سے شوہر کہتا ہے کہ تجھے تین طلاق ۔ پھر اپنی بات سے مکر جاتا ہے تو اس پر بیوی کو حرام قرار دیا گیا ہے اور بیوی کیلئے وہ شوہر حرام قرار دیا گیا ہے اسلئے عورت کو خلع لینے کا حکم ہے لیکن اگر شوہر خلع نہیں دیتا ہے تو عورت حرام کاری پر مجبور ہے۔ عورت اس کے ساتھ حرامکاری کی مباشرت کرے لیکن لذت نہیں اٹھائے۔ دوسری طرف یہ بکواس مسئلہ بھی بتایا ہے کہ اگر چندازواج میں سے کسی ایک کو طلاق دیدی جائے اور یہ تعین نہ ہو کہ کس عورت کو طلاق دی ؟۔ تو باری باری سب سے مباشرت کرے ، جس میں زیادہ لذت ہوگی وہی طلاق ہوگی اسلئے کہ حرام میں لذت زیادہ ہوتی ہے۔
نکاح ، طلاق اور خلع کے مسائل میں قرآنی آیات سے انحراف کرکے وہ گل کھلائے ہیں،جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنا فضل کیا ہے اور دین کی سمجھ دی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی سے بھی اس دور میں ملاقاتیں کی تھیں اور قبلہ ایاز صاحب سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں سرکاری سطح پر سبھی فرقوں اور مسالک کی نمائندگی ہوتی ہے اور اس میں مزید اچھے لوگوں کو بھی دعوت دے کر آج مسائل کا حل کرسکتے ہیں۔
ایلاء کی عدت چار ماہ اور طلاق کی عدت تین ماہ ہے۔ بیوہ کی عدت 4ماہ10دن اور خلع کی عدت ایک ماہ ہے۔ طلاق میں عورت سے دی ہوئی منقولہ وغیرمنقولہ اشیاء واپس نہیں لے سکتے ہیں لیکن خلع میں عورت کو گھر چھوڑنا پڑتا ہے اور غیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے بھی دستبردار ہونا پڑتا ہے۔
مذاق اور سنجیدگی میں طلاق اس وقت معتبر ہے کہ جب وہ رجوع کیلئے راضی نہ ہو اسلئے کہ طلاق میں اس کے زیادہ حقوق ہیں۔ طلاق صریح اور طلاق کنایہ کے تمام الفاظ بھی عورت کے حق کو تحفظ دینے کیلئے ہیں۔ اگر شوہر نے ایلاء کیا جس میں کوئی صریح طلاق نہیں ہوتی ہے تو شوہر یکطرفہ رجوع نہیں کرسکتا ہے بلکہ رجوع سے پہلے عورت کو طلاق کا اختیار دینا ضروری ہے۔ اگر طلاق کا عزم تھا تو اللہ اسے پکڑے گا اسلئے کہ یہ دل کا گناہ ہے اور اس کی وجہ سے عورت3کی جگہ4ماہ تک انتظار کرے گی۔ اس ایک ماہ کی زیادہ عدت پر بھی شوہر کی پکڑ ہوگی۔
جب طلاق کا اقدام یا علیحدگی کے اسباب شوہر نے پیدا کئے ہوں گے تو عورت کو طلاق کے حقوق ملیں گے اور جب خلع عورت کی طرف سے ہوگا تو پھر عورت کو گھر اور منقولہ جائیداد سے دستبرداری اختیار کرنی پڑے گی۔ اگر قرآن وسنت کے یہ قوانین مسلمان معاشرے میں رائج ہوتے تو مغرب اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بیوی و شوہر کیلئے جمہوریت کی قانون سازی نہیں کرنی پڑتی۔ عیسائیوں میں 3سو سال پہلے تک طلاق کی شرعی اجازت نہیں تھی۔ عیسائیوں نے قرآن سے ہی متاثر ہوکر اپنے ہاں طلاق کیلئے قانون سازی کردی ہے۔
اگر مسلمانوں میں نکاح اور ایگریمنٹ کے حقوق واضح ہوتے تو عیسائی اور ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اسلام ہی کو رائج کرتے۔ نکاح کے بعد طلاق و خلع کے حقوق جدا ہوتے اور اگریمنٹ میں بھی عورت کسی ایک شخص کے ساتھ پابند ہوتی۔ جس سے اولاد کی شناخت کو تحفظ ملتا اور عدت کی پابندی سے ایڈز وغیرہ کی بیماریاں بھی دنیا میں نہیں پھیل سکتی تھیں۔
قرآن وحدیث سے بھی مذہبی طبقہ ناواقف ہے اور نکاح وطلاق اور خلع کے احکام کے بارے میں بھی غفلت میں ہے۔ جس دن مذہبی طبقے کا رخ پھر گیا تو بہت بڑا انقلاب آجائیگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv