پوسٹ تلاش کریں

عجمیوں کے درمیان نسب میں کفاء ت کا اعتبار نہیں:مفتی تقی عثمانی و مفتی شفیع کی جہالت!

عجمیوں کے درمیان نسب میں کفاء ت کا اعتبار نہیں:مفتی تقی عثمانی و مفتی شفیع کی جہالت!

سوال:۔ ایک آدمی نے عاقلہ بالغہ لڑکی کو اغواء کیااور اسے ڈرا دھمکاکر نکاح کرلیا، لڑکی کے والدین اس پر ناراض ہیں، کیونکہ لڑکی آرائیں قوم سے ہے اور لڑکے کا تعلق شیخ قوم سے ہے۔ (شیخ سے مراد کھوجہ قوم ہے) اور دونوں قوموں کی شرافت میں فرق ہے۔ آرائیں معزز سمجھے جاتے ہیں اور شیخ ذلیل، تو کیا اس صورت میں نکاح ہوسکتا ہے؟۔
جواب :۔ آرائیں اور کھوجہ دونوں عجمی نسلیں ہیں اور عجمیوں کے درمیان کفاء ت میں نسل کا اعتبار نہیں ہے اور مذکورہ نکاح چونکہ عاقلہ بالغہ نے اپنی اجازت ورضامندی سے کیا ہے اسلئے نکاح شرعاً منعقد ہوگیا، اب اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دار نکاح ختم کرنا چاہتے ہیں تو سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ لڑکے سے طلاق حاصل کریں ۔ قال فی الدر المختار واما فی العجم فتعتبر حرےة واسلاما (شامی ج ٢، ص ٣١٩) واللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ الجواب صحیح بند ہ محمد شفیع عفااللہ عنہ
فتاوی عثمانی جلد دوم صفحہ ٢٨٠
درج بالا سوال میں واضح ہے کہ لڑکی کو اغواء کیا گیا اور ڈرا دھمکا کر نکاح پر مجبور کیا گیا۔ جواب میں بک دیا گیا کہ آرائیں اور شیخ عجمی نسلیں ہیں اور ان میں کفاء ت کا اعتبار نہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لڑکی عربی نسل عثمانی ہوتی تو والداور اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوا۔ مولانا عبداللہ درخواستی کی قوم آرائیں ہے۔درخواستی حضرات کواسلام اور حق کیلئے کھڑے ہونا چاہیے۔
دوسری جگہ تقی عثمانی اسکے بالکل برعکس ایک اور طرح کا رباب بجاتا ہے۔
تنقیح:1:احمد کی لڑکی نے جس مرد سے نکاح کیاہے، وہ قومی اور خاندانی اعتبارسے احمدکا کفو ہے یا نہیں؟۔ یعنی دونوں خاندان میں اتنا فرق ہے کہ ایک خاندان دوسرے خاندان میں شادی بیاہ کو عرفاً عار اور عجیب سمجھتا ہو؟۔ یا اتنا فرق نہیں ہے اور دونوں خاندانوں میں بغیر کسی عار کے شادی بیاہ ہوتے ہیں۔
( اس میں سائل نے کچھ معاوضہ دیا ہوگا اسلئے عرف کا اعتبار کرلیا، دوسرے فتوے میں شیخ کھوجہ نے کچھ دیا ہوگا اسلئے معاملہ اسکے برعکس لکھا ۔عتیق گیلانی)
2:کیا دینداری کے اعتبار سے احمد کے گھرانے اور اس مرد کے گھرانے میں کوئی فرق ہے؟۔ ان دو سوالوں کا جواب لکھ کر بھیجئے ۔ محمد تقی عثمانی
جواب تنقیح: وہ مرد اور اس کے گھرانے میں اتنا فرق دینداری کے اعتبار سے ہے کہ احمد اور احمد کے گھرانے موحد ہیںاور جس مرد سے احمد کی لڑکی کا نکاح کیا گیا وہ مرداور اس کے گھرانے بدعتی ہیں، اور ان میں مشرکانہ صفتیں بھی ہیں۔ چند صفتیں یہ ہیں : حضور ۖ کو حاضر وناظر سمجھتاہے، مشکلات میں پیر کو پکارتا ہے، مرنے کے بعد عہدنامہ قبر میں دفن کرتا ہے ، نماز جنازہ پڑھ کر دائرہ بناکر اسقاط کرتا ہے، احمد ان باتوں کے خلاف ہے۔
جواب:۔ صورت مسئولہ میں احمد کی لڑکی کا نکاح جس شخص سے کیا گیا وہ احمد کا کفو نہیں ہے، فانھم قالوا لایکون الفاسق کفو لبت الصالحین (شامی ج ٢،ص ٣٢٠ باب الاکفائ)اور فسق اعتقادی فسق عملی سے اشد ہے ۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں احمد کی رضامندی کے بغیر جو نکاح کیا گیا ہے وہ باطل ہے۔ احمد کی بیٹی کو چاہیے کہ وہ فوراً اس شخص سے الگ ہوجائے۔ ولہ اذاکان عصبة الاعتراض فی غیر الکفو ما لم تلد منہ ….. شامی ج ٢ ص ٢٩٧)
جب حاجی عثمان کے معتقد کے بارے میں پہلا فتویٰ مفتی عبدالرحیم نے دیا تھا تو یہی حوالہ تھا۔جس میں ایک تو لڑکی کا باپ نکاح پر راضی تھا اسلئے کفو کا مسئلہ نہیں تھا ، دوسرا یہ کہ لڑکی والے زیادہ صالحین تھے۔ شامی میںبچے کی پیدائش سے پہلے کا ذکر ہے ، جس میں اولاد لزنا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اور یہ کہ ایک طرف عرفاً کفو کا اعتبار ہے اور دوسری طرف عجم نسل میں کفو کا انکار ہے؟۔ کیا فسق اعتقادی میں کفوء کا مسئلہ اسلئے ہے کہ اگر ولی راضی ہو تو پھر نکاح جائز ہے؟۔یہ قادیانیوں کو رشتہ دینے کیلئے راستہ ہموار کیا گیا ہے یا کچھ اور ہے؟۔
حضرت عائشہ کے بارے میں کتابیں ہیں کہ ان کی عمر نکاح کے وقت16سال اور رخصتی کے وقت19سال تھی او ر جو9سال کا کہتے ہیںتو وہ ان کی اس عمر میں بلوغت کو ثابت کرتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کا ایک اورفتویٰ دیکھ لیں۔
سوال :۔ زید بعمر5سال کا، سعیدہ بعمر2سال سے نکاح ہوا۔ بالغ ہونے پر سعیدہ نے نکاح کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، زید نے نوٹس کے ذریعے سعیدہ کی رخصتی کا مطالبہ کیا، تو سعیدہ نے نوٹس کے جواب میں زید کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیااور عدالت عالیہ سے درخواست کی کہ اسکے اس حق کو تسلیم کیا جائے اور نکاح کو منسوخ قرار دیا جائے، سات سال کی مقدمہ بازی کے بعد عدالت نے اس حق کو تسلیم کرلیا اور اس بات کی تصدیق کردی کہ نکاح منسوخ ہوگیا ہے ، اس کیخلاف اپیل کی جو مسترد ہوگئی ، اب فرمائیں نکاح شرعاً منسوخ ہوگیا یا نہیں؟۔
جواب: صورت مسئولہ میں اگر سعیدہ کا نکاح خود اسکے باپ نے کیا تھا تو اب بالغ ہونے کے بعد سعیدہ کو اسکے فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے ،تاوقت یہ کہ وہ سوئے اختیار کو ثابت نہ کرے اور اگر سعیدہ کا نکاح کرنے والا خوداس کا باپ نہیں تھا، خواہ باپ کا وکیل ہی کیوں نہ ہو تو لڑکی کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ اس صورت میں عدالت کا منسلکہ فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا۔ ولزم النکاح ولوبغبن فاش…. اوبغیر کفوء ان کان والولی ………واللہ تعالیٰ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ
سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا تھا کہ ”یہ قوالی سن کر مسلمان ہوئے ہیں ،اسلام میں حلالہ نہیں ”۔ مفتی تقی عثمانی کی شکل اور دانت بھی قوال کی طرح ہیں۔سودی نظام کو جواز دینے تک بتدریج پہنچا ہے۔ پہلے فتوے بیچتا تھا، پھر زکوٰة کا فتویٰ بیچ دیا اور پھر الائنس موٹرز کیلئے فتویٰ فروشی کا منصب سنبھال لیا۔ علم پر دنیا کو ترجیح دی تو بعلم بن باعوراء کودرجہ بہ درجہ استدراج کے ذریعے کتے کے درجہ تک پہنچادیا۔
یہ مولانا اشرف علی تھانوی کانام بدنام کرتے ہیں۔صفحہ ہٰذا کے نچلے نصف پر انتہائی گھناؤنے اٹکل پچو کا فتویٰ دیکھ لیں جس میں مولانا اشرف علی تھانوی کا فتویٰ بھی چھوڑ دیا ہے۔ حکومت وریاست کو چاہیے کہ مدرسہ ان لوگوں سے چھین کر اچھے علماء حق کے سپرد کردیں۔ یہ اب بینکوں کے موروثی ملازم اورغلام ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

3 طلاق اور اس سے رجوع پر فقہی اختلافات اور احادیث صحیحہ گدھوں کو سمجھانے کا نیا انداز

3 طلاق اور اس سے رجوع پر فقہی اختلافات اور احادیث صحیحہ گدھوں کو سمجھانے کا نیا انداز

اگرقرآن وسنت میں واضح ہے کہ تین طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے پھراحادیث ، حضرت عمر اور ائمہ مجتہدین کے ہاں اکٹھی3طلاق واقع ہونے کا کیا مطلب ہے؟

اہل تشیع اور اہلحدیث حضرت عمر کے فیصلے کو کیوں نہیں مانتے؟۔ ٹھیک کرتے ہیں یا غلط ؟۔ حنفی ومالکی کے ہاں اکٹھی تین طلاق بدعت و گناہ اور شافعی کے نزدیک سنت ومباح کیوں ہے؟

اللہ نے فرمایا:” طلاق والی عورتیں3مراحل تک انتظار کریں اور انکے شوہر اس عدت میں ان کو اصلاح پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔البقرہ:228
اللہ نے فرمایا:” طلاق دو مرتبہ ہے ۔ پھر معروف طریقہ سے رجوع کرنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے”۔ البقرہ:آیت:229۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ” قرآن میں تیسری طلاق احسان کیساتھ چھوڑنااسی آیت میں ہے”۔ جس کو مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی شرح بخاری میں بھی نقل کیا ہے۔ جب قرآن وسنت سے یہ ثابت ہے کہ تین طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے تو پھر اختلاف کیا ہے؟۔جب حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو رسول اللہ ۖکو حضرت عمر نے اس کی خبردی۔ رسول اللہ ۖ اس پر بہت غضبناک ہوگئے۔اور عبداللہ سے فرمایا کہ اس عورت کو اپنے پاس پاکی کے دنوں میں رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے اور پاکی کے دنوں میں اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے ایام میں طلاق دینا چاہتے ہو تو اس کو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دواور یہی وہ عدت ہے کہ جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم دیا ۔ (بخاری کتاب التفسیر سورہ طلاق) یہ حدیث بخاری کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں بھی ہے۔
قرآن وسنت میں یہ بالکل واضح ہے کہ تین مرتبہ طلاق ایک عدت کا عمل ہے جس کے تین مراحل ہیں اور اس سے آگے پیچھے معاملہ نہیں ہوسکتا ہے۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے حنفی ، شافعی، مالکی اور حنبلی فقہاء کیلئے اکٹھی 3 طلاق کی بدعت یا سنت کیسے اس اُمت میں جاری کردی ہے؟۔
ہماری سب سے بڑی بنیادی غلطی یہ ہے کہ حفظ مراتب کا خیال رکھے بغیر حضرت عمر کے اس فیصلے کو قرآن پر پیش کرنے کی جگہ احادیث میںڈھونڈتے ہیں۔ جب احادیث میں ڈھونڈتے ہیں تو پھر حنفی ومالکی اس کو بدعت وگناہ قرار دیتے ہیں۔ شافعی اس کو سنت ومباح قرار دیتے ہیں اور حنبلی کا قول مختلف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ سنت ومباح ہے اور دوسرا یہ ہے کہ بدعت وگناہ ہے۔
جس بات پر فقہاء آپس میں متفق نہ ہوسکتے ہوں تو اس بات پر امت مسلمہ کو کیسے متفق کیا جاسکتا ہے؟۔اگر پہلے قرآن کی طرف رجوع کرتے اور پھر اس کا حل احادیث میں تلاش کرتے تو اختلافات کا بالکل خاتمہ ہوسکتا تھا۔ دیوبندی مکتبہ فکر کے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے کافی عرصہ درسِ نظامی کا نصاب پڑھایا اور جب مالٹا میں سوچ وبچارکا موقع مل گیا تو امت کے زوال کے دو اسباب کی وضاحت کردی ۔ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت ۔ علامہ انور شاہ کشمیری نے آخری دور میں فرمایا کہ مسلکوں کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی۔ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے۔
میں نے اپنی جوانی اور صلاحیتیں الحمد للہ بہت زیادہ تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ قرآن وسنت اور دینی تعلیم میں خرچ کی ہیں اور فرقہ واریت کو ختم کرنے میں اپنا زبردست کردار ادا کیا ہے۔ میرا ماحول اور اساتذہ کرام کی تعلیم و تربیت دیوبندی مکتب والی تھی ، ہے اور رہے گی لیکن فرقہ بندی اور مسلک پرستی کو کبھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کا تعلق بھی تبلیغی جماعت اور دیوبندی مکتبہ فکر سے تھا لیکن اتحاد امت کے بہت بڑے علمبردار تھے۔
میرے اساتذہ کرام جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی،جامعہ یوسفیہ شاہو ہنگو کوہاٹ، مدرسہ عربیہ فیوچر کالونی کراچی، دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپFBایریا کراچی،انوار القرآن آدم ٹاؤن نیوکراچی، جامعہ فاروق اعظم بفر زون اور توحید آباد صادق آباد رحیم یار خان پنجاب نے میری زبردست رہنمائی وحوصلہ افزائی کی ہے۔ اللہ نے ذہن اور صلاحیت دی ہے تو اس کو بروئے کا ر لایا ہے۔
جب حضرت عمر نے ایک ساتھ تین طلاق پر میاں بیوی کے درمیان جدائی کا فیصلہ دیا تھا تو اس کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اہل حدیث نے یہ فیصلہ اسلئے مسترد کردیا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا: رسول اللہ ۖ ، ابوبکر اور عمر کے ابتدائی تین سال تک اکٹھی تین طلاق کو ایک شمار کیا جاتا تھا پھر حضرت عمر نے ایک ساتھ3طلاق کو نافذ کردیا ۔( صحیح مسلم)
اہلحدیث سمجھتے ہیں کہ جب رسول اللہ ۖ اور بعد کے ادوار میں اکٹھی تین کو ایک طلاق شمار کرتے تھے تو حضرت عمر نے یہ فیصلہ اجتہادی اور غلط کیا تھا۔
حالانکہ ذخیرہ احادیث میں ایک ساتھ تین طلاق کا ذکر بھی موجود ہے لیکن اہلحدیث نے ان روایات کو چھوڑ کر تعامل کی سنت کو قابل ترجیح قرار دیا ہے۔
اہل تشیع نے حضرت عمر کے فیصلے کو قرآن وسنت ، فقہ وحکمت کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ طلاق کاواحد طریقہ یہ ہے کہ عدت کے پہلے مرحلہ میں پہلی طلاق مکمل شرعی صیغوں کیساتھ اور اس پر دوعادل گواہ کا مقرر کرنا لازمی ہے۔ اس طرح تین مرحلے میں تین مرتبہ کی طلاق ہے اور بغیر جانے بوجھے اس طرح طلاق کا واقع کرنا شریعت کیساتھ مذاق ہے ۔ اس سے معاشرہ تباہ ہوگا۔
اہل تشیع اپنے اس مسئلے کو اپنی فہم وفراست اور اہل بیت عظام کا بہت بڑا کمال اور دوسرے مذاہب کا بہت بڑا زوال سمجھنے میں حق بجانب بھی ہیں۔ لیکن جب شیعہ اپنے فقہ ومسلک کے مطابق اس طرح سے طلاق دیتے ہیں توپھر صلح و رجوع کا دروازہ بالکل بند سمجھتے ہیں یہاں تک کہ کوئی مستقل نکاح کرلے اور پھر اتفاق سے اس کی طلاق ہوجائے اور پھر پہلے سے دوبارہ نکاح ہوجائے۔
حالانکہ شیعہ کا یہ فقہ قرآن کے مطابق نہیں بلکہ سنی مکاتب فکر کے مقابلے میں ہے۔ قرآن کی سورۂ طلاق میں عدت کے تین مراحل اور اس کی تکمیل کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کی اجازت ہے۔ اور جب اس کو معروف طریقے سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو پھر اس پر دو عادل گواہ مقرر کرنے کا حکم ہے اور اسکے بعد بھی سورۂ طلاق میں رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا گیاہے۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے جو فیصلہ کیا تھا وہ قرآن وسنت کے مطابق تھا؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل قرآن وسنت کے مطابق تھا۔
قرآن کے مطابق اسلئے تھا کہ اللہ نے عدت میں رجوع کی اجازت دی ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی اجازت دی ہے لیکن صلح واصلاح اور باہمی رضامندی کی شرط پر۔ اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہوتو شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔ تین طلاق تو بہت بڑی واضح بات ہے بلکہ ایک طلاق کے بعد شوہر کو بیوی کی رضامندی کے بغیر رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔ حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دیا لیکن یہ فتویٰ نہیں تھا اسلئے کہ حکمران فیصلے کرتا ہے اور مفتی فتویٰ دیتا ہے۔ فیصلہ دو افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ جب کوئی تنازع میاں بیوی آپس میں حل کرنے میں ناکام ہوں تو پھر معاملہ وقت کا حکمران حل کرتا ہے۔ جب شوہر نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں اور بیوی رجوع پر راضی نہیں تھی تو معاملہ حضرت عمر کے دربار تک پہنچا۔ حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دیا کہ ” شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے اور فرمایا کہ آئندہ بھی کوئی ایک ساتھ تین طلاق دے گا تو اس پر یہی فیصلہ جاری کروں گا اور اس کو کوڑے مارنے کی سزا بھی دوں گا”۔ حضرت عمر نے قرآن کی پاسداری کرنے کا ریکارڈ قائم کردیا۔ اگر صلح نہ کرنے کے باوجود بیوی کو لوٹادیتے تو قرآن وسنت کے بالکل منافی ہوتا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اکٹھی تین طلاق ایک طلاق رجعی ہے اور شوہر کو لوٹانے کا اختیار ہے تو اس سے قرآن وسنت اور فقہ کا کباڑہ کرتے ہیں اور ان کی یہ شریعت انسانی فطرت کے بھی بالکل منافی ہے اور شیعہ واہلحدیث دونوں کا فقہی مسلک اس کی زد میں سراسر غلط ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ قرآنی آیات کے مطابق محض طلاق کے بعد صلح واصلاح کے بغیر یعنی بیوی کی مکمل رضامندی کے بغیررجوع کی اجازت نہیں ہے اور یہ قرآن میں بالکل واضح ہے۔ سورہ البقرہ آیت228میں اس کی بھرپور وضاحت ہے۔
جب قرآن میں یہ واضح ہے کہ الگ الگ تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے بند نہیں کیا ہے۔ حضرت عمر نے اسلئے تین طلاق کا فیصلہ کیا تھا کہ بیوی صلح کیلئے راضی نہیں تھی تو پھر یہ بات بتادی جائے کہ حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول ۖ کو خبر دی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی ہیں ، جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ اس حدیث کا پھر کیا جواب اور پس منظربنتا ہے؟۔
یہ وہی حدیث ہے جس کو صحیح بخاری میں ابن عمر کے واقعہ میں نقل کیا گیا ہے لیکن یہاں افراد کے نام مخفی رکھے گئے ہیں اور روایات میں یہ وضاحت بھی ہے کہ جس شخص نے تین طلاق دی تھیں وہ عبداللہ بن عمر تھے اور جس نے پیشکش کی تھی اسکو قتل کرنے کی ،وہ حضرت عمر ہی تھے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں جس سے رجوع کا نبی ۖ نے حکم فرمایا تھا۔ صحیح مسلم کی وہ روایت حضرت محمود بن لبید کی روایت سے زیادہ مستند ہے۔ اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ رسول اللہ ۖ ابن عمر پربہت غضبناک ہوئے مگر رجوع کرنے کا حکم بھی دیاتھا اور پھر طلاق اور عدت کو ایک دوسرے کیساتھ لازم وملزوم بھی قرار دیا تھا جس میں ابہام پہلے بھی نہیں تھا لیکن قرآن کی وضاحت کو نبی ۖ نے کم عقلوں کیلئے بھی مزید واضح کردیا تھا۔
اب یہ ابہام ہے کہ پھر مجتہدین اور جمہور کا اجماع اس پر کیسے ہوگیا کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں؟۔حالانکہ امت کا اجماع گمراہی پر نہیں ہوسکتا؟۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اکٹھی تین طلاق کا واقع ہونا الگ بات ہے اور اس کی وجہ سے باہمی اصلاح کے باوجود رجوع کا دروازہ بند کرنا الگ بات ہے۔ جب قرآن نے باہمی اصلاح کی شرط پر اللہ نے رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے تو اس پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ ائمہ اہل بیت کا اصل معاملہ تو اس حد تک تھا کہ اکٹھی تین طلاق واقع نہیں ہوسکتی ہیں تاکہ رجوع کا دروازہ بند نہ ہو اورحلالہ کی لعنت سے امت مسلمہ کو بچایا جائے۔ لیکن بعدکا رنگ پھرشیعہ فقہاء نے خود ہی چڑھادیا ہے۔حنفی فقہاء جب طلاق سنت کی بات کرتے ہیں تو ان کا بھی مؤقف اہل تشیع کے موقف کے عین مطابق ہوتا ہے۔
البتہ احناف بالکل حق بجانب ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا مصلحت اور قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ اسلئے کہ سورۂ طلاق میں اللہ تعالیٰ نے مرحلہ وار عدت میں چھوڑنے یا طلاق دینے کا حکم دیا ہے اور سورہ بقرہ میں بھی الگ الگ مراحل میں تین مرتبہ طلاق واضح ہے اور نبی ۖ نے بھی اس کے برعکس عمل پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ کوئی بلاوجہ اکٹھی تین طلاق دیکر فارغ کرنے کا فیصلہ کرے تو طلاق وعلیحدگی ہوجائے گی لیکن یہ ناپسندیدہ عمل ہے۔ البتہ فحاشی و لعان کی صورت میں اکٹھی تین طلاق اور فارغ کرنے میں حرج نہیں ہے۔
حضرت عویمر عجلانی کی طرف سے لعان کے بعد اکٹھی تین طلاق دینے کا واقعہ صحیح حدیث میں ہے اور اس کی بنیاد پر امام شافعی کے ہاں اکٹھی تین طلاق کا فیصلہ سنت ومباح ہے۔ احناف کے نزدیک دونوں الگ الگ صورتحال ہیں۔
بڑا سوال یہ ہے کہ نبی ۖ نے رفاعہ القرظی کی بیوی کو ذائقہ چکھ لینے کے بغیر رجوع کیوں نہیں کرنے دیا؟۔جواب یہ ہے کہ وہ کسی اور کی بیگم تھی۔ بخاری کی احادیث میں تفصیلات ہیں کہ رفاعہ نے الگ الگ مراحل میں تین طلاق دیکر فارغ کیا تھا، عدت کی تکمیل کے بعد اس کی دوسرے قرظی سے نکاح ہوا جس نے بہت مارپیٹ کی تھی۔ اس خاتون نے زخموںکے نشان حضرت عائشہ کو دکھائے تھے۔ دوسرے شوہر نے انکار کیا تھا کہ وہ نامرد ہے۔ اگربخاری کی تمام روایات کو نقل کیا جائے تو تین طلاق پر حلالہ کا تصور بھی ختم ہوگا اور اس حدیث سے حلالے کا باطل استدلال بھی کوئی نہیں لے گا۔ ایک نامرد کاکیسے حکم دیا گیا کہ اس کا ذائقہ چکھ لو جیسے پہلے شوہر کا چکھا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ مجھے اور مفتی تقی عثمانی کو اکٹھے بٹھادے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کاپانی ہوجائے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے کشف الباری شرح صحیح البخاری میں لکھ دیا ہے کہ اس حدیث کی وجہ سے احناف حلالے کا حکم نہیں دیتے بلکہ قرآن حتی تنکح یعنی نکاح سے ہم جماع مراد لیتے ہیں۔ صفحہ نمبر2میں قرآنی آیات اور اس آےة کی تفصیل لکھ دی ہے۔ اس طلاق سے مراد تیسری طلاق نہیں کیونکہ تیسری طلاق تو آیت229میں ہے بلکہ یہ وہ طلاق ہے کہ جس سے پہلے نہ صرف مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کا فیصلہ کیا گیا ہو بلکہ آئندہ دونوں کے درمیان دونوں خود بھی رابطے کا کوئی ذریعہ نہ چھوڑیں اور فیصلہ کرنے والے بھی ،یہاں تک کہ عورت شوہر کی طرف سے دی ہوئی وہ چیز بھی فدیہ کردے جس کا فدیہ کرنے کو عام حالات میں قرآن نے ناجائز قرار دیا ہے۔ جب یہ کنفرم ہو کہ ان دونوں نے صلح نہیں کرنی ہے تو پھرایک غلط رسم عورت کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے کہ اس طلاق کے باوجود بھی شوہر کی طرف سے پابندی کا شکار نہ ہوجائے۔ اللہ نے اس غلط رسم کو توڑنے کیلئے زبردست تدبیر کرکے یہ حکم نازل کیا مگر اس کا غلط مطلب لیا گیا اسلئے کہ سیاق وسباق اور آگے پیچھے کی آیات چھوڑ کر فتویٰ سازی کی گئی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلام کے جعلی فتوؤں کے نام پر معصوم بچیوں سے نکاح کے نام پر بدترین کھلواڑکب تک؟

اسلام کے جعلی فتوؤں کے نام پر معصوم بچیوں سے نکاح کے نام پر بدترین کھلواڑکب تک؟

عجمیوںکی کوئی نسل ،خاص طور پر برمی بنگالی عورتوں اور بچیوں کو دلالی کے نام سے فروخت کیا جاتا تھا ، جس میں بالغ لڑکیوںاور نابالغ بچیوں کا دلال کے ذریعے نام نہاد نکاح بھی شامل تھا

دارالعلوم کراچی کے ” فتاوی عثمانی جلد دوم ، طبع جدید ستمبر2022 عیسوی” برمی کالونی کورنگی میں باقاعدہ عورتوں کی منڈی لگتی تھی ۔ ڈارک ویب اور جنسی تسکین کا دھندہ فتوؤں کی آڑ میں ہوتا تھا۔

عوام الناس کی زبان میں سادہ الفاظ کے اندر پیچیدہ معاملے کو سمجھنانے کی سخت ضرورت ہے۔پچھلے شمارے میں کچھ حوالہ جات دئیے اور اب مزید تفصیل کیساتھ کچھ دیگر معاملے کو بھی علماء حق اور عوام الناس کے سامنے لاتے ہیں۔
دنیا بھر میں معصوم بچیوں کیساتھ جنسی درندگی کا مکروہ دھندہ ہوتا ہے اور کوئی مہذب قوم ، ملک اور قانون اس کی اجازت نہیں دے سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ دھندہ کراچی کے اندر مظلوم برمی اور بنگالی عورتوں کے ساتھ جاری رہتا تھا۔ اور اس میں مولوی طبقہ دلال بن کر پیسے بٹورنے میں مصروف رہتا تھا۔
پاکستان میں16اور18سال سے کم عمر بچی کیساتھ نکاح قانوناً منع اور مجرمانہ فعل ہے جس میں پولیس کی مداخلت سے ایسے جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکتی ہے۔ ریاستِ پاکستان نے اس پر پابندی لگائی ہے۔ تاہم14اور15سال کی عمر میں بھی بچیاں جوان اور شادی کے قابل ہوتی ہیں، جس پر حکومت کی طرف سے نظر انداز کرنے کی بات سامنے آسکتی ہے۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے جن قوانین کا اجراء کیا تھا وہ معاشرے میں بڑا اچھا کردار ادا کرنے کے قابل تھے ، تب ہی دنیا کی دونوں سپر طاقتیں فارس اور روم خلافت راشدہ کے سامنے سرنگوں ہوگئیں۔ عرب زیادہ طاقتور نہیں تھے بلکہ اسلام کے فطری قوانین میں یہ صلاحیت تھی کہ دنیا نے ان کو اپنے لئے بہترین سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی اور یہی وجہ تھی کہ1924عیسوی تک کسی شکل میں خلافت کا نظام قائم تھا۔ اگرچہ بہت ساری خوبیاں دوسروں نے اپنالی تھیں اور خامیاں ہم نے اپنی بنالی تھیں اسلئے تو علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ” یورپ میں مسلمان نہیں ہے لیکن اسلام ہے اور یہاں مسلمان ہیں لیکن اسلام نہیں ہے”۔
آج بھی مسلمانوں سے دنیا میںزیادہ آبادی عیسائیوں کی ہے اور عیسائی مذہب میں اسلام کی آمد کے وقت طلاق کا کوئی تصور نہیں تھا۔چند سوسال سے بادشاہ نے ایک ترقی پسند فرقہ بناکر طلاق کو جواز بخش دیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ عیسائیوں نے معاشرتی مسائل نکاح ، طلاق ، عورت کے حقوق اور شوہر کے حقوق کیلئے جمہوری بنیادوں پر پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنا شروع کردی اور آج انہوں نے مذہبی طبقات کو عبادت گاہوں تک محدود کردیا ہے۔
اسلام ایک عظیم دین ہے اور قرآن وسنت میں اپنی اصلی حالت میں محفوظ بھی ہے۔ قرآن میں لڑکے کیلئے نکاح کی خاص عمر کا معاملہ بالکل واضح ہے۔ یتیم لڑکوں کو اس وقت ان کا مال سپرد کرنے کا حکم ہے کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ حتی اذا بلغوا النکاح ( یہاں تک کہ وہ نکاح تک پہنچ جائیں)۔
لڑکی کے ساتھ کم عمری میں نکاح بہت بڑی زیادتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں بھی بچپن کے اندر اگر کہیں رشتہ پکا کیا جاتا تھا تو رخصتی بلوغت اور نکاح کے عمر تک پہنچنے کے بعد ہی ہوتی تھی اور آج بھی یہ رسم ورواج معاشرے میںکہیں نہ کہیں موجود ہے جس میں دوستوں یا رشتہ داروں کا اچھا تعلق کارفرماہوتا ہے۔
پاکستان کے شہر کراچی اور خاص طور پر کورنگیKایریا وغیرہ میں برمی و بنگالی غریب الوطن افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد ہے۔ پہلے دارالعلوم کراچی میں بھی غربت کا سماں ہوتا تھا۔ مفتی محمد تقی عثمانی اس کو بھی بڑی سعادت سمجھتا تھا کہ کوئی امیر اس کو اپنے فوت شدہ باپ کے بدلے حج بدل کی مزدوری پر بھیج دے۔ ان لوگوں کا ایک دھندہ غریب لوگوں کو پھانس کر فتویٰ فروشی بھی ہوا کرتا تھا۔
برمی و بنگالی بچیوں و خواتین کو جب دلال دوسری قوموں کے پاس بیچ دیتے تھے تو پاکستان کے قانون کے تحت انسانی سمگلنگ کی اجازت نہیں ہوتی تھی اس کیلئے ان کو شرعی فتوے کی ضرورت ہوتی تھی۔
دارالعلوم کراچی نے یہ فتوی عام دیا تھا کہ
نابالغ بچیوں کا نکاح باپ دادا کرے تو یہ شریعت کے عین مطابق ہے۔
اور اگر نابالغ بچیوں کا نکاح دلال کرے تو بھی شریعت کے مطابق ہے۔
بالغ لڑکی کو اغواء کرکے یا خرید کر اس کو نکاح پر مجبور کرے تو بھی یہ نکاح لڑکی کی اجازت اوررضامندی کہلائے گا اور شریعت میں منعقد ہوجائے گا۔
لڑکی کا خاندان عرف میں کمتر ہو تو پھر اس میں ولی کی اجازت ضروری نہیں ہے۔ لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کرے، دلال کے ذریعے کرے یا اس کو اغواء اور زبردستی سے نکاح پر مجبور کیا جائے ، یہ سب رضامندی ہے اور شرعاً جائز ہے۔
ملک کے طول وعرض میں کتنی برمی اور بنگالی عورتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا ہے؟۔ اس کے اعداد وشمار کو اکٹھا کرنا بہت مشکل ہے۔ چھوٹی بچیوں کے سیکس کو کاروبار بنانے والے اور اس کے خریداروں پر پروگرام لوگوں نے ریکارڈ کئے ہیں۔ ڈارک ویب میں بھی ایسی مظلوم خواتین کو مظالم کے لئے استعمال کرنے کے کرتوت کو خارج ازامکان نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ بلکہ انہیں بے سہاراخواتین کے ذریعے ایسی خوفناک ویڈیوز کا رواج عمل میں آسکتا ہے۔
ٹانک شہر میں ایک برمی یا بنگالی پاگل عورت تھی ، جس کیساتھ کسی نے زیادتی کی تھی اور پھر اس کو حمل ہوا تھا اور جب اس نے بچے کو جن لیا تھا تو کسی نے بچہ اس سے چوری کیا تھا۔ ٹانک شہر پر دہشت گردی کا عذاب بھی اس انسانی المیہ کی وجہ سے آسکتا تھا۔ فتاوی عثمانی جلد دوم کے کچھ فتاویٰ جات کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ نابالغ بچیوں اور بالغ لڑکیوں کو اسلام کے نام پر کس طرح سے انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے ” شرعی نکاح منعقد ہوگیا ” کے فتوے ملوث کئے گئے ہیں؟۔ مفتی محمد شفیع تک کا اسلام یہ تھا کہ ” بیوی بیمار ہوجائے تو اس کا علاج کرنا شوہر کے ذمہ نہیں ہے”۔ مفتی تقی عثمانی نے پھر بھی اس فتوے کو بدلنے کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ جب برمی یا بنگالی عورت ٹانک شہر میں پاگل ہوگئی تھی اور اس کا علاج شوہر کے ذمہ نہیں تھا تو اس نے چھوڑ ہی دینا تھا اور جب دلال کے ذریعے عورت خرید لی جاتی ہے تو اس کا والدین کے پاس واپس جانے کا بھی کوئی خاص امکان نہیں ہوتا ہے اسلئے کہ یہ دلال کا دھندہ ہوتا ہے۔ برمی اور بنگالی قوم کو چاہیے کہ ان غلط فتوؤں کے خلاف حکومت کے سامنے پرامن احتجاج کریں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے رونا بالکل بجا ہے اسلئے کہ قوم کی بیٹی ہے لیکن ہماری مسلمان برمی وبنگالی بہنیں، بیٹیاں اورمائیں بھی خنزیرکی اولاد نہیں ہیں کہ ان کیساتھ جو کچھ بھی غیرانسانی سلوک ہو تو اس کو جواز بخشا جائے۔
برمی بنگالی بچیاں اور خواتین تو عرفاً دوسری قوموں کی برابری بھی نہیں رکھتے اور مفتی تقی عثمانی نے عرف کو بھی واضح کردیا ہے لیکن دوسری قوموںکو بھی فکر مند ہونے کی بہت سخت ضرورت ہے اسلئے کہ پختون، بلوچ، سندھی، ہندی، پنجابی اور افغانی سب کے سب عجمیوں کیلئے بھی شیخ الاسلام ومفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی کے فتوؤں میں کوئی خیر کی خبر نہیں ہے۔ جب ان پر ظالم وجابر کا تسلط ہوگا اور ان کی بہنوں اور بیٹیوں کو اغیار اٹھاکر لے جائیں۔ ڈرادھماکر ان سے نکاح کرلیں تو پھر شرعی نکاح منعقد ہوگا اوروہ ان کی بیویاں ہوں گی۔ پھر عدالتوں سے بھی انصاف نہیں لے سکیں گے۔
ایک طرف عالمی سودی نظام کو اسلامی قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف اس طرح نابالغ بچیوں اور بالغ لڑکیوں اور عورتوں کے حوالے سے بھی بدترین انداز کی غلامی کا پورا پورا پروگرام موجود ہے۔ مجھے100فیصد معلوم ہے کہ ہمارے بڑے بڑے مدارس کے بڑے بڑے علماء ومفتیان کو بھی ان غلاظت سے بھرپور فتوؤں کا علم نہیں ہے اور مولانا فضل الرحمن اور ان کے بھائیوں کو تو اس کی بھنک بھی نہیں پڑی ہے۔ جب عالمی دہشت گردوں نے مظالم کے پہاڑ گرائے تھے تو مولانا فضل الرحمن نے ان پر خراسان کے دجال کی حدیث فٹ کردی تھی۔
سوات میں لڑکیوں اور خواتین کیساتھ زبردستی سے نکاح کا معاملہ میڈیا پر سامنے آیا تھا اور انہوں نے مفتی تقی عثمانی کے فتاویٰ سے اپنے لئے جبری نکاح کا معاملہ اخذ کیا ہوگا۔ فتاوی عثمانی جلد دوم کی پہلی اشاعت جولائی2007کو ہوئی تھی۔ سوات میں طالبان کی کاروائیاں2008کے بعد شروع ہوئی تھیں اور فتاوی عثمانی جلد دوم سے جبری نکاح کے شرعی مسائل اخذ کئے ہوں گے۔
سب سے پہلے کسی چیز کے جواز اور عدم جواز پر بحث ہوتی ہے اور پھر اس کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔2008سے2013تک پانچ اضلاع کی حالت ایسی خراب تھی کہ لوگوں نے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو بیچنا شروع کردیا تھا۔ ایک قرارداد خیبر پختونخواہ کی حکومت میں متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی کہ ان پانچ اضلاع سے خواتین اور لڑکیوں کو نکاح کے نام پر بیچنے کا کاروبار بند کیا جائے اور قرار داد جمعیت علماء اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ صاحب رکن صوبائی اسمبلی نے پیش کی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ جن لوگوں کے خطرناک دانت ہم نے توڑ دئیے، ہمیں طلب کریں اور ہم صورتحال کو سمجھادیں گے۔ اگر قومی اسمبلی و سینٹ میں غلط فقہی مسائل کے خلاف بل اتفاق رائے سے منظور ہوں گے تو الیکشن میں ملک کی سطح پر جمعیت علماء اسلام و جمعیت علماء پاکستان جیت سکیں گے۔
مذہبی طبقات کو یہ گلہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور مولانا اویس نورانی نے اسلام کی تعلیمات چھوڑ کر مسلم لیگ ن کا دوپٹہ پکڑلیا ہے۔لیکن جب ان کو یہ پتہ چل جائے گا کہ خرابی مدارس کے ان فتوؤں میں ہے جن کو پان کی طرح چبایا اور چیونگم کی طرح گھمایا جاتا ہے اور اپنی مرضی سے جس ڈسٹ بن میں ڈالا جائے تو کوئی بات نہیں ہوتی ہے لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔
برصغیر پاک وہند میں عورت اور بچیوں کا تحفظ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور اس میں باطل فتوؤں کی بہتا ت نے معاملے کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔
افغان طالبان کے ہاں بھی فقہ کے بنیادی مسائل رکھ دئیے جائیں جو حنفی اصولِ فقہ کے منافی معاملات ہیں ان کو بھی سدھاردیا جائے تو اسلام دنیا کی سطح پر سب سے زیادہ محبوب اور قابل قبول دین بھی بن جائیگا۔ حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر نکاح کے وقت16سال اور جب رخصتی ہورہی تھی تو19سال تھی۔ جس پر متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں ایک حکیم نیاز احمدفاضل دارالعلوم دیوبند کی کتاب کشف الغمہ عن عمر عائشہ ہے ۔دیگر کتابیں بھی ہیں۔ بہت موٹی موٹی یہ ہیں کہ طبقات ابن سعد اور صحابہ کرام پر تاریخ کی مستند کتابوں میں موجود ہے کہ حضرت ابوبکر کی ام رومان سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں بعثت نبی ۖ سے پہلے تھے۔ جن میں حضرت عائشہ اور اسماء بنت ابوبکربیٹیاں تھیں۔ حضرت اسماء عمر میں10سال حضرت عائشہ سے بڑی تھیں۔ نبی ۖ نے بعثت کے بعد پہلے5سال دارارقم میں گزارے اور ان میں یہ دونوں بہنیں بھی موجود ہوتی تھیں۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ11نبوی کو حضرت عائشہ سے نکاح ہوا اور اس وقت ان کی عمر6سال تھی تو پھر ماننا پڑے گا کہ بعثت کے5سال بعد حضرت عائشہ پیدا ہوئیں۔ پھر مشرکین مکہ کیساتھ اتنے سخت خراب حالات کے باوجود اس عمر کے بعد ایسے دشمن سے رشتہ کیسے ہوا؟۔ حضرت عائشہ کی بہن16سالہ حضرت اسماء موجود تھیں تو خاتون نے6سالہ بچی کی پیشکش کیسے کی تھی؟۔ البتہ حضرت عائشہ کی عمر16سال اور حضرت اسماء کی عمر26سال ہو تو پھر یہ معقول بات تھی۔اللہ تعالیٰ نے مشرک کے نکاح کی اذیت سے بھی بروقت چھڑادی تھی اور جب رخصتی ہوگئی تو نبی ۖ نے فرمایا کہ ” اللہ نے مجھے خواب میںاس کی تصویر دکھائی تھی،میں نے سوچا کہ اگر خواب شیطان کی طرف سے ہوگا تو پورا نہیں ہوگا اور اللہ کی طرف سے ہوگا تو پورا ہوگا”۔ ( صحیح بخاری)۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا محمدی بیگم کو تنگ کرنا کس قدر بے غیرتی تھی؟۔ جھوٹے نبی اور سچے دجال نے یہ بھی نہیں سوچا کہ شیطان کی طرف سے ہوسکتا ہے اور جعلی وحی کی عربی بھی غلط لکھ ڈالی۔اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ” ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زباں سے”۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو وحی پنجابی میں نازل کروانی تھی؟۔ اس نے کہا کہ ” جو میری نبوت پر ایمان نہیں لاتا ہے تو وہ رنڈی کی اولاد ہے”۔ حالانکہ باپ کا کیا قصور تھا؟۔ پھر تو جو بعد میں قادیانی بن گئے تو ان کے آباء واجداد پر بھی رنڈی کی اولاد کا فتویٰ لگے گا۔
مفتی عبدالرحیم اورمفتی تقی عثمانی نے حاجی عثمان کے معتقد کیساتھ نکاح کو عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا قرار دیا۔ اس فتوے کا شکار مفتی منیراحمد اخون مفتی اعظم امریکہ سے لیکر کتنے لوگ بنیں گے؟۔مسجد الٰہیہ کا امام وہ بنے جو مفتی تقی عثمانی اور مفتی عبدالرحیم کے اس فتوے سے برأت کا اعلان کرے ۔ورنہ اس کی ذات کیلئے بھی یہ بہت بڑی بے غیرتی ہے۔؟۔اگرچہ یہ غیرت نہیں رکھتے۔
اسلام کے نام پر بڑا دھبہ یہ ہے کہ بچیوں کا نکاح باپ دادا کے ذریعے اور دلال کے ذریعے معتبر قرار دیا اور بالغ لڑکی کے اغواء اور ڈرادھمکا کر نکاح کو بھی اجازت ورضامندی قرار دیا ۔
نکاح منعقد ہونے کیلئے سب سے بنیادی شرط عورت کی رضامندی ہے ۔ لیکن مفتی تقی عثمانی اور کم عقل فقہاء نے عورت کا یہ حق اس سے چھین لیا ہے۔ نکاح کو برقرار رکھنے کیلئے سب سے بنیادی شرط بھی عورت کی رضامندی ہے۔ عورت خلع چاہتی ہو تو عورت کو نکاح میں رکھنے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ نکاح سے نکلنے کیلئے عدت ہے لیکن کم عقلوں نے عدت کاتصور ختم کردیا ہے۔ قرآن میں پہلی عدت 4ماہ کی ہے جس میں شوہر نے طلاق کا اظہار نہ کیا ہو۔ قرآن گنجلک ،بے بنیاد، غلط فقہی مسائل وتضادات سے نکلنے کا بڑاراستہ ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فوج نے پالے دو بٹیر…عمران ٹائیگر نواز شیر…دوسرے کو سزا ہوگی تربوز…گرپہلے کوڈالی گئی بیر؟

فوج نے پالے دو بٹیر…عمران ٹائیگر نواز شیر…دوسرے کو سزا ہوگی تربوز…گرپہلے کوڈالی گئی بیر؟

ایک بادشاہ نے ایک شخص کو پیچھے سے بیر ڈالنے کی سزا دی تو وہ پہلے رویا اور پھر ہنسا۔ پوچھنے پر بتایا کہ بیر ڈالنے پر تکلیف ہوئی مگر پیچھے والے کے پاس تربوز ہے ،سزا پر اس کا کیا بنے گا؟

خاتون صحافی ثمینہ پاشا کی بہادری پاکستان کیلئے قابل فخر ہے۔ مجاہد بریلوی نے کہا کہ اب میں عمران خان کے خلاف نہیں بولوں گا۔ عمران ریاض کو سزا دینا آزادی پر دھبہ ہے

سیاستدان جمہوری لڑائی جاری رکھیں لیکن ملک وقوم کو نقصان نہ پہنچائیں!۔علماء کی جعلی شریعت کو درست کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں بحث اور قانون سازی ہوگی تو بہت بڑا انقلاب آئے گا !

ایک بادشاہ اپنی اکلوتی شہزادی کے رشتہ کے پیغامات سے تنگ تھا۔ وزیر نے مشورہ دیا کہ” کوئی ایسی چیز لائے جو بادشاہ نے نہ کھائی ہو تو رشتہ ملے گا۔ اگر کھائی ہو توپھر پیچھے سے ڈالی جائے گی”۔ لوگوں نے آزمایا۔ چیز پیچھے ڈال دی جاتی توبہت شرمندگی محسوس کرتے۔ لوگوں کی بے عزتی ہوئی تو رشتہ آنا بند ہوگیا۔ پھر تماشا دکھانے کیلئے دوافراد کو تیار کرلیا۔ ایک بیوقوف اور دوسرا سادہ تھا۔ بیوقوف کو تربوز تھمادیا اور سادہ کو بیر دی گئی۔ دونوں ریس میں پہنچ گئے اور چرچا ہوا کہ اب ان میں کوئی داماد، ولی عہد اورپھر بادشاہ بن جائے گا؟۔
بادشاہ نے کہا کہ ”یہ بیر فلاں جگہ سے لائے؟” اور ذائقہ بھی بتادیا۔ پھر اپنے نوکر چاکروں کو حکم دیا کہ ”اس کو پیچھے سے بیر ڈال دو”۔ وہ بہت چیخا چلایا ، رویا دھویا اور آنسو بہائے ۔ پھر بہت قہقہ مارکر ہنسنے لگا۔ لوگوں نے کہا کہ رونا سمجھ میں آتا ہے کہ بہت تکلیف اور شرمندگی محسوس ہوئی ہوگئی لیکن یہ بتاؤ کہ” قہقہ کیوں لگایا؟”۔ اس نے کہا کہ” میرے پیچھے والے کے پاس بڑے سائز کا تربوز ہے ۔ اس کو سزا ملے گی تو کیا بنے گا؟”۔چودھری افتخار کو جنرل پرویزمشرف نے بالوں سے گھسیٹا تھا تو اس وقت ہم نے یہی لطیفہ لکھ دیا تھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ چودھری افتخار سے زیادہ پرویزمشرف کو وقار سیٹھ نے عبرتناک سزا کاحکم سنادیا۔ اگر عمران ریاض خان جانبدار صحافی ہیں اسلئے سزا کے مستحق ہیں تو پھر دوسری جانب بڑی لمبی فہرست میں جیو کا بڑا طبقہ، اسدطور،بلال غوری، عمران شفقت ، مطیع اللہ جان، افتخاراحمداورکئی سارے مشکل میں پڑیںگے۔
عمران خان پر توشہ خانہ ، عدت میں نکاح ، بیٹی کو تسلیم نہ کرنے اور القادر ٹرسٹ کے کیس چلے اور آخر میں اس کے ساتھیوں پر فوجی عدالتوں میں سزا کی تجویز ہے جس کا عمران خان کو بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن اس طرح کے کیس دوسروں پر کھلے۔ جنہوں نے توشہ خانہ سے گاڑیاں بیچ کھائی ہیں جس کی آئین میں اجازت بھی نہیں تھی۔ رنگیلا وزیراعظم نوازشریف کے بارے میں کتاب مارکیٹ میں آئی تھی۔ پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا کہ الحمدللہ میرے پاس تمام دستاویزات ہیں۔ پھر قطری خط سے جھوٹ کھلا۔ ارشد شریف نے اس پر مکمل ڈاکو مینٹری فلم بنائی ہے۔ اگر یہ سب نوازشریف کے خلاف کھل گیا اور پھر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دوسرے لوگوں کے خلاف کرپشن اور دوسری چیزوں کے معاملات کھل گئے تو بہت کچھ ہوجائے گا۔
انگریز کے نظام کی غلامی سے جان چھڑانے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ غداری کا مقدمہ، پولیس، عدالت اور سیاسی حکومت کا رویہ برداشت کے قابل نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل جلسہ عام میں کہتا تھا کہ ” ہماری شلواریں اتارکر ہرزاویہ سے تصویریں لی گئیں، کیا میں اور اعظم سواتی اب شلوار پہن لیں؟”۔ ہیرہ منڈی کی رنڈی بھی ایسی سرِ عام عصمت دری برداشت نہیں کرے گی۔ تحریک انصاف کوچھوڑ نے والی اکثریت پر عمران خان کوافسوس نہیں ہو ااسلئے کہ ہواؤں کے رُخ پر اڑنے والے موسمی پرندوں سے یہی توقع تھی۔ ایک عامر کیانی پر افسوس کا اظہار کیا جس نے کہا کہ میرے دادا نے جنگ عظیم اول میں انگریزی فوج میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل کیا ۔حالانکہ یہ غزوہ بدر اور غزوہ ہند کا معرکہ تو نہیں تھا؟۔ جنگ عظیم دوم میں میرے دادا سیدمحمد امیرشاہ کا بھانجا پیر کرم حیدر شاہ شریک ہوا تھا تواس کے زندہ سلامت واپسی کیلئے بڑا بیل نذر میں ماناتھا تاکہ مردار نہ ہوجائے۔ سلیم صافی نے امیر جماعت اسلامی کے منور حسن سے امریکیوں کے اتحادی پاک فوج کے خلاف فتویٰ پوچھا ۔پھراس کو امارت سے ہٹاکرتابعدارسراج الحق کو بنادیاگیا۔
موجودہPDMمیں ن لیگ خوش ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو پاک فوج سے لڑا دیا اور تحریک انصاف کے رہنما دھڑا دھڑ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن اس سے عمران خان مزید مضبوط ہوتا جارہاہے اور کہہ رہا ہے کہ جس کو میں ٹکٹ دوں گا ،اسی کو لوگ ووٹ دیں گے۔ فوج کے خلاف شف شف کرنے والے شفتالو نہیں بول رہے تھے اور عمران خان کے چہیتوں نےGHQ، جناح ہاؤ س لاہور اور قلعہ بالا حصار پشاور میں کاروائی کر ڈالی۔ ہماری قوم بہادروں اور مظلوموں کو بہت پسند کرتے ہیں اور چوہے سے زیادہ کمزور حافظہ رکھتے ہیں۔ پہلے تحریک انصاف کے کارکنوں ، رہنماؤں اور قیادت کو بہادری پر داد کے قابل سمجھا اور جب وہ تحریک انصاف سے علیحدگی کے اعلانات کرنا شروع ہوگئے تو مظلوم سمجھ کر پذیرائی بخشنا شروع ہوگئے۔ انور مقصود کی زبان قوم کی نبض پر رہتی ہے۔ اگر پہلے کسی پروگرام میں مدعو ہوتے تو یہ کہہ کرسامعین کو محظوظ کرتے کہ بلوچ، پشتون، اہل کراچی ، عوام اور سیاستدان ہمیشہ مار کھاتے ہیں ،ابھی تو فوج نے بھی اس کا مزہ چکھ لیا ہے۔ ابPTIچھوڑنے والوں کی مجبوریوں کی عکاسی کرتے ہوئے قوم کے حسِ مزاح کو جگارہے ہیں۔
قوم قائدین کی کتی نہیںکہ فوج سے بنے تو اچھی اور نہ بنے تو بھڑے۔ عوام مہنگائی سے تنگ ہے۔ حکومت کے متضاد کردار کارومانوی پیار دیکھ کر بھڑک جاتی ہے ۔ طالبان تو مذہب کے نام پر خود کش کرتے ہیں اور فوج ملک کیلئے قربانی پیش کرتی ہے۔اگر قوم کرپشن اور بھیک سے نکلے تو حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں ورنہ نہیں۔
اسد عمر اور زبیر عمر جیسے سیاست میں آئے توARYنیوز نے دونوں کا ایک ساتھ انٹرویو دکھایا۔ ظلے شاہ تحریک انصاف کا سرمایہ تھا مگر ایک طرف عمران خان سے ملاقات کا شرف نہیں ملتا۔ دوسری طرف موت کی وادی میں دھکیل کر مقدمہ عمران خان پر بنادیاگیا۔ تحریک انصاف میں واحد اور بے گناہ زبردست سیاسی رہنما شیریں مزاری کا سیاست کو چھوڑدینا افسوسناک ہے لیکن اس نے رہائی کے بعد وکٹری کا نشان بنایا اور ایمان مزاری نے اس کا ہاتھ زبردستی سے نیچے کردیا، پھر شیریں مزاری نے دوبارہ وکٹری کا نشان بنایا۔ حکومت نہیں ایمان مزاری نے شیریں مزاری کو سیاست چھوڑنے پر مجبور کیا۔فواد چوہدری نے اپنی بچیوں کیساتھ رہائی کے بعد ویڈیو بنائی۔عمران خان کے ایسے بیوی بچے نہیں۔ البتہ جس طرح مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل ہونے والا کارکن اور رہنما پاک صاف ہوجاتا تھا ،اسی طرح تحریک انصاف چھوڑنے پر رہائی ملے تو اس سے یہ تأثر جاتا ہے کہ اصل جرم عمران خان سے وابستگی ہے ۔
عمران خان سے والہانہ محبت رکھنے والے طالبان کی طرح ہیں، ایک عورت نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کہا کہ میرے چار بیٹے ہیں اور چاروں کو طالبان کی طرح عمران خان پر قربان کردوں گی۔شاید حکومت نے عمران خان کو اسلئے چھوڑ دیا کہ لندن میں نوازشریف بھی غیر محفوظ ہوگا۔ عام جذباتی لوگوں پر تشدد کیا جائے تو بلوچوں میں قوم پرستی، پختونوں میں طالبان پرستی کے بعدپھر پنجابیوں میں عمران پرستی اور نظریات پرستی کی بنیاد پر تشدد کا نیا راستہ کھل سکتا ہے اور اب حکومت اور ریاست پر عالمی قوتوں کا دباؤ بھی آ سکتا ہے۔
نہتے لوگوں نے کس طرح فوجی تنصیبات پر حملہ کرکے نذر آتش کیا؟۔اور جن کو گولیاں ماری گئی ہیں،ان کی حیثیت کیا ہے؟۔ غلطی اور سازش کہاں ہوئی ہے؟۔ قوم، سیاسی جماعتیں ، ریاستی ادارے اور حکومت اعتماد کھوچکے ہیں۔ اگر بروقت کسی اور طرف رُخ نہیں موڑا گیا تو نتائج بہت خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔
شیریں مزاری نے بیٹی کی خاطر سیاست چھوڑ دی۔ عمران خان کے ہزاروں کارکن خواتین و حضرات جیل میں ہیں۔ کچھ زخمی، کچھ قتل اور کچھ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلنے کا اندیشہ ہے۔10افراد کی کمیٹی بناکر عمران خان کی پیشکش قابلِ غور ہے ۔ عمران خان کو سیاست سے الگ کرنے کا نقصان ملک وقوم اور جمہوریت، ریاست اور سیاسی جماعتوں سب کو ہوگا۔ اگر فوج در گزر سے کام لے تو الزام آئیگا کہ خود ملوث تھے اور عمران خان کو راستے سے ہٹاکر دم لیا اور حکومت الیکشن کے خوف سے عدالت کو بھی معاف نہیں کرتی جس نے اس حکومت کا راستہ ہموارکیاتھا تو عمران خان کو کہاں معاف کرے گی جس سے موروثی سیاسی کاروبار ختم ہوگا اور اگرعمران خان نے فوجی عدالت یا رضاکارانہ طورپر سیاست چھوڑ دی تو سب کچھ ماند ہو گا۔ ریاست ، عدالت قوم ، حکومت اور اپوزیشن نازک موڑ پر آگئے لیکن اس کا بہت فائدہ بھی ہواہے کہ شعور کی منزل مل گئی۔
فتاویٰ عثمانی سے چند نمونے دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کے نام پر انسانیت کیساتھ کتنا بڑا ظلم ہے؟۔ لوگ اتنے جذباتی ہیں کہ کاٹلنگ مردان میں ایک مولوی کو کس طرح جذباتی انداز میں قتل کیا گیا اور پھر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اس قتل کی حمایت کررہے تھے۔ حالانکہ علماء حدیث بیان کرتے ہیں کہ ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہے”۔پھر تمام علماء کرام کو منبر ومحراب میں قتل کردیا جائے گا؟۔ نبیۖ کی طرف گناہوں کی نسبت اور علماء کو معصوم سمجھنے کا عقیدہ بلکہ قرآن کے مطابق رب بنانے کا طرزِ عمل خطرناک ہے۔ گستاخی کو غلط رنگ میں پیش کرنے سے جذباتی لوگ مشتعل ہوتے ہیں۔
قرآن کی آیت229البقرہ میں خلع کا تصور نہیں بلکہ صلح نہ کرنے کی صورت ہے۔ اس کے بعد نہ صرف آیت230البقرہ کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ حلالے کا کوئی تصور نہیں بلکہ دوسری آیات بھی سمجھ میں آتی ہیں کہ عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد صلح کی شرط پر رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔ جس سے طلاق و رجوع کے حوالے سے تمام لایعنی تضادات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔کاش علماء حق اس طرف بھی توجہ دے دیں ۔عدالتی اور مقامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک بچیوں کے حقوق کا معاملہ ہر فورم پر اٹھانا چاہیے کہ اگر کم عمری میں باپ یا دادا نکاح کردے تو بلوغت کے بعد بچی کو فسخ نکاح کا حق نہ ہو اور اگر دلال کردے تو بلوغت پر اس کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہو۔ مفتی تقی عثمانی کے دار العلوم کے پیچھے برمی بنگالی عورتوں کی منڈی لگتی تھی۔
علماء ایک طرف عورت کی مرضی ، ان کے سرپرستوں کی مرضی اور عدالتی فیصلے کے باوجود عورت کا نکاح سے جان نہیں چھوڑتے، اگرچہ دوسری جگہ اس کی شادی بھی ہوجائے ۔ دوسری طرف میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہیں اور علماء صلح کرنے نہیں دیتے ہیں۔ ان دونوں اور غیرفطری فتوؤں کی وجہ سے مسلمان تباہ ہیں اور یہ دونوں صورتحال قرآن کی تفسیر کو غلط رنگ دینے اور ناقابل تأویل آیات کو غلط رنگ میں پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ سورہ النساء آیت19میں خلع کا قانون ہے لیکن علماء نے صاف اور واضح ترجمہ اور مفہوم کے برعکس غلط مفہوم پیش کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عورت کو بالکل غیر فطری انداز میں حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ عورت حرام کاری پر مجبور کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن، درخواستی ، سندھی، لاہوری اور دیگر عجمی عوام کی بالغ لڑکیوں کو کوئی زبردستی اغواء کرلے ، ڈرا دھمکاکر نکاح کرے تو پھر عدالت میں اس لڑکی اور اسکے ورثاء کو خلع کا حق نہیں ہوگا اور اسکا ایک ہی راستہ ہوگا کہ اغواء کار سے طلاق لی جائے۔
مفتی تقی عثمانی کے بارے میں مصدقہ اطلاع تھی کہ اس کی بیٹی نے ٹیوشن پڑھانے والے سے نکاح کرنا چاہا تھا لیکن پھر اس کو مجبور کرکے دوسری جگہ شادی کرائی۔ جس طرح سندھ کے وڈیرے اور عرب بادشاہ اپنی بیٹیوں کا نکاح جائیداد کی وجہ سے مشکل سے کرتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی ایک بڑے وقف جائیداد کے مالک بن گئے ۔ ایک بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کو بھگت رہے ہیں جس کو مفتی شفیع نے گھر داماد بنالیا تھا۔ مفتی تقی عثمانی نے کمپیوٹر کی تصویر کو جائز قرار دیا تھا اور مفتی عبدالرؤف سکھروی نے اپنا تقویٰ ثابت کرنے کیلئے مریدوں سے کہنا شروع کیا کہ ”شادی بیاہ میں تصاویر کی ویڈیوز بہت خطرناک گناہ ہے۔ اس طرح لفافے کی لین دین بھی سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے”۔ پھر بینک کے سودی نظام کو بھی مفتی تقی عثمانی نے معاوضہ لیکر جواز بخش دیا ۔ ان کا فتویٰ عیاری ، ان کا تقویٰ عیاری۔ ان کی طریقت عیاری اور ان کی شریعت عیاری۔ اگر پنجابی، سرائیکی، پشتون، بلوچ، سندھی اور مہاجر لڑکی کو کوئی زبردستی اغواء کرلے اور ڈرا دھمکاکر نکاح کرے تو یہ نکاح صحیح ہو اور مفتی تقی عثمانی کی اجازت کے بغیر اسکے خاندان کی لڑکی کا نکاح دوسرے مہاجر سے غیر شرعی ہو اور یہ قوم اتنی بے غیرت بن جائے کہ اس فتوے کو قبول کرے تو ایسے بے غیرت غلامی سے نہیں نکل سکتے ۔ عربی میں غلامی بندگی کو کہتے ہیں۔ ان علماء کے یہ بندے و غلام ہیں۔ جب کمزور طبقہ سے جان نہیں چھڑاسکتے تو عالمی قوتوں سے کیسے جان چھڑائیں گے؟۔ سیاسی جلسے جلوس کیلئے جو سڑک بند کرنا جائز نہیں سمجھتے مگر دارالعلوم کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی تو سڑکوں پر طلبہ کو نکال دیا ۔ تقی عثمانی بھی اپنی فیس وصول کرکے طلبہ کو جلوسوں میں بھیج سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں جلوسوں کیلئے بھاڑہ دیتی ہیں۔PDMاور حکومت کو مولوی طبقہ احتجاج کیلئے ملتا ہے۔مدارس کو اس کیلئے استعمال کیا جائیگا۔ بنوں اور تربت میںغریب امامِ مسجد کی ماہانہ تنخواہ3ہزارہے جبکہ احتجاج میں دیہاڑی3ہزاردی جاتی ہے۔
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر بڑی میٹنگ کا اہتمام کریں اور ملک وقوم کو مشکل حالات سے نکالیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عورت اور بچی کے ساتھ اسلام کے نام پر جو مظالم ہیں وہ قرآن اور حدیث کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فقہی فتوؤں کی وجہ سے ہیں

عورت اور بچی کے ساتھ اسلام کے نام پر جو مظالم ہیں وہ قرآن اور حدیث کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فقہی فتوؤں کی وجہ سے ہیں

پٹھان، بلوچ، پنجابی ، سندھی، مہاجر ،برمی، بنگالی ہر عجمی نسل لڑکی کا اغواء اور ڈرادھمکاکر نکاح جائز !

علماء حق بالکل بھی فکر نہ کریں ، جس طرح مردہ زمین کو زندگی ملتی ہے اسی طرح اسلام کے آفاقی نظام کی نشاة ثانیہ کے ذریعے سے علماء حق اور مسلمانوں کو نئی زندگی ملے گی

___مفتی تقی عثمانی کی بالکل اچھوت والی غلط شریعت___
” جس لڑکی نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے”۔ یہ حدیث صحیح مگر قرآن حتی تنکح زوجاً غیرہ (یہاں تک کہ وہ نکاح کرے ) سے متصادم ہے”۔
حالانکہ صرف طلاق شدہ اور بیوہ کوقرآن نے خود مختار کہاہے۔فقہ حنفی میں قرآن وحدیث میں تطبیق ہو تو دونوں پر عمل ہونا چاہیے۔ حدیث میں کنواری لڑکی مراد ہے اور قرآن میں طلاق شدہ اور بیوہ کا ذکر ہے ۔
ایک طرف بلاوجہ نبی ۖ کی حدیث کو قرآن کے منافی قرار دیکر مسترد کیا ہے اور دوسری طرف اچھوت ذہنیت کے علماء وفقہاء نے خود کو جعلی عربی نسل بناکر اپنے لئے الگ معیار بنایا ہے اور عوام بیچاروں کیلئے انتہائی غیرفطری شریعت بناڈالی ہے۔ اس ظالمانہ فتوے کو دنیا کا کوئی غیرتمند انسان قبول نہیں کرے گا۔
سوال:ایک آدمی نے عاقلہ بالغہ لڑکی کو اغواء اور ڈرا دھمکا کر نکاح کرلیا۔ لڑکی آرائیں اور لڑکا شیخ ہے۔ دونوں قوم کی شرافت میں فرق ہے۔ آرائیں معزز اور شیخ کھوجہ ذلیل سمجھے جاتے ہیں تو نکاح ہوسکتا ہے؟۔
الجواب : آرائیں اور شیخ دونوں عجمی نسلیں ہیں اور عجمیوں کے درمیان کفاء ت کا اعتبار نہیں ۔ مذکورہ نکاح چونکہ عاقلہ بالغہ نے اپنی اجازت ورضامندی سے کیا۔ اگر لڑکی یا اسکے رشتہ دار نکاح کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اسکا واحد راستہ یہی ہے کہ لڑکے سے طلاق حاصل کریں۔ مفتی محمد تقی عثمانی (فتاویٰ عثمانی جلددوم صفحہ280)
اگر عثمانی لڑکی بغیر اجازتِ ولی عجمی نسل سے نکاح کرے تو شرعاً معتبر نہیں ۔کیا یہ بے غیرتی دنیا کو قبول ہے؟۔اگر لڑکا سید، صدیقی ، فاروقی ، عثمانی ہو تو بنت صالحین کاکفوء نہیں۔ صالح ہو تو مسلک وعقیدہ اور عرف میں کفوء نہیں۔ حدیث کا انکار اوراچھوت کا اعتبار؟۔ اچھوت مفتی کے فتوؤں کابڑاپوسٹ مارٹم حاضر ہے۔
٭٭

___انگریز عدالت کا فیصلہ بھی بھونڈے فتویٰ سے اچھا ___
صفحہ نمبر2پر مفتی تقی عثمانی کے ” فتاوی عثمانی” کے فتوے اور تضادات کو واضح کردیا ہے۔ پہلے یہ انفرادی فتویٰ فروشی کے دھندے میں ملوث تھے۔ اب یہ عالمی سودی نظام کے جواز پر معاوضے میں ملوث ہیں۔
یہ واضح تھا کہ عاقلہ بالغہ لڑکی کو اغواء کیا اور اس سے ڈرا دھمکاکر نکاح کرلیا مگر جواب دیا گیاہے کہ لڑکی کا یہ نکاح اپنی اجازت اور رضامندی ہے۔ یعنی اگر زبردستی سے مجبور کیا جائے اور اس کو اغواء کیا گیا ہو تب بھی نکاح منعقد ہوگیا ۔ اب اس سے خلاصی کیلئے کسی عدالت سے مدد نہیں لی جاسکتی ہے اور جب تک لڑکا اپنی مرضی سے طلاق نہیں دے گا تو لڑکی اسکے نکاح میں رہے گی۔ کچے کے ڈاکو اس فتویٰ کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام اور پاکستان، جماعت اسلامی، تحریک لبیک ، اہل سنت والجماعت (سپاہ صحابہ) و دیگر مذہبی جماعتیں پہلے مل بیٹھ کر اس جعلی شریعت کا علاج کریں جو موجودہ عدالتی نظام سے بھی بہت بدتر ہے۔
عدالت میں کیس جائیگا تواس شریعت کے مقابلے میں کھربوں گنا بہتر ہے اسلئے کہ اگر لڑکی گواہی دے کہ زبردستی سے اغواء اور نکاح کیااور جنسی زیادتی کی تو اس پر اغواء اور جبری جنسی زیادتی کے دفعات لگیں گے۔ دہشت گردی کی دفعہ بھی لگ سکتی ہے اور معاونت کرنے والوں اورسہولت کاروں کو سزامل سکتی ہے۔
قارئین ! مفتی کی اس شریعت سے انگریزی عدالت کا فیصلہ بہت اچھا ہے۔ جمہوری نظام اچھوتوں کی جعلی شریعت سے جان چھڑانے کیلئے ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑنے کی پٹی ہے۔ پاکستان نے وفاقی شرعی عدالت کو زیردست رکھاہے اسلئے کہ یہ اچھوت کی شریعت ہے جس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ حضرت محمد عربی خاتم الانبیاء ۖ کی شریعت کے خلاف قادیانی اور ان علماء ومفتیان نے سازشیں کی ہیں۔
٭٭

___اصلی اسلامی شریعت کا فیصلہ سب کیلئے قابلِ قبول___
اگر قرآن وسنت کا نظام نافذ ہوگا تو والدین کو اجازت نہ ہوگی کہ بیٹیوں کے نکاح پر فیصلہ مسلط کریں۔ کسی مسلم و غیر مسلم لڑکی کو گھر سے بھاگ کر نکاح کی ضرورت نہ ہو گی ۔ ریاست ذمہ دار ہوگی کہ کسی عورت کو نکاح پر مجبور نہ کیا جائے۔ لڑکیاں والدین کے ناجائز اور غیرفطری روئیے سے گھر بار چھوڑ کر فرار ہوتی ہیں ۔ قرآن نے حکم دیا کہ تمہاری لڑکیاں جب نکاح کرنا چاہتی ہوں تو ان کو بغاوت اور بدکاری پر مجبور مت کرو۔ جبکہ حدیث واضح ہے کہ اگر لڑکی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ اسلام نے چودہ سوسال پہلے متوازن معاشرتی نظام کی بنیاد رکھ دی جس کا اچھوت علماء نے کباڑہ کرکے رکھ دیا ۔
اسلام میںجبری جنسی زیادتی پر سرِ عام سنگساراور اسکے معاونین کو فساد فی الارض میں سولی پر لٹکانے ، ہاتھ اور پیر کو مخالف جانب کاٹنے اور قید کی سزا قرآن میں ہے۔ گوانتانا موبے میں مظالم کی انتہاکی گئی ہے ۔ اقبال نے ابلیس کی زباں سے لکھ دیا کہ: جانتاہوں میں یہ اُ مت حاملِ قرآں نہیں…ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں…جانتا ہوں کہ مشرق کی اندھیری رات میں… بے یدِ بیضاء ہے پیران حرم کی آستیں… عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف…ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں…الحذر آئینِ پیغمبر سے سو بار الحذر…حافظِ ناموسِ زن مرد آزما مرد آفریں… موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کیلئے …نے کوئی فغفور و خاقاں،نے فقیرِ رہ نشیں…کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک…منعموں کو مال ودولت کا بناتا ہے امیں…اس سے بڑھ کر کیا فکر و عمل کا انقلاب؟… پادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں…چشم عالم سے پوشیدہ رہے یہ آئین تو خوب…یہ غنیمت ہے کہ خود مؤمن ہے محرومِ یقیں ( ابلیس کی مجلس شوریٰ )

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عذاب اورکورکمانڈر ز کے گھر نذرِ آتش اورGHQپر حملہ؟

قرآن پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عذاب اورکورکمانڈر ز کے گھر نذرِ آتش اورGHQپر حملہ؟

مفتی تقی عثمانی نے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا جس سے اللہ اور اسکے رسول ۖ سے جنگ کو جواز بخشا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے امت کو حلالہ کی لعنت سے بچانے کیلئے ہمارا شرح صدر کردیا ۔ دیوبندی بریلوی علماء ومفتیان کی سمجھ میں بات آگئی لیکن مقتدر طبقہ عوام کی عزتوں کو بچانے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف تو بہانہ ہے لیکن اصل میں یہ قدرت کا نشانہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے صحافیوں نے اردو اور پنجابی زبان میں فوج کو بدنام کرنے کیلئے آخری حدیں عبور کرلیں۔ راشد مراد نے کھریاں کھریاں میں کہا کہ ” فوج نے عمران خان کو دھرنے سے باعزت اٹھانے کیلئے پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ کرایا۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کا واقعہ عمران خان اور جرنیلوں کی باہمی رضا مندی سے کتا اور کتی کے جنسی ملاپ کا تماشا ہوا،پھر لوگ پتھر مارتے ہیں”۔
جنرل عاصم منیر قرآن کے پہلے سید حافظ آرمی چیف ہیں اور حدیث میں اس حافظ کی فضلیت ہے کہ جو قرآن کے حلال و حرام کو سمجھ لے اور اس پر عمل کرے۔ آج اُمت عذاب میں مبتلاء ہے ۔ شوہر تین طلاق دیتا ہے تو جاہل مفتی فتویٰ دیتا ہے کہ حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ۔ حلالہ لعنت ہے ۔کچھ ساری زندگی جدائی گوارہ کرلیتے ہیں مگر حلالہ نہیں کرتے۔ کبچھ حرام سمجھ کر بغیر حلالہ رجوع کرلیتے ہیں اور کچھ کسی اہلحدیث یا شیعہ سے فتویٰ لیتے ہیں اور پھر رجوع کرلیتے ہیں لیکن زیادہ تر جاہل مفتی سے فتویٰ لیکر حلالہ کی لعنت کا شکار بنتے ہیں۔
اللہ نے فرمایا: وقل انی انا النذیر المبینOکماانزلنا علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسئلنھم اجمعینOعما کانوا یعملونO” اور کہہ دیجئے کہ بیشک مَیں کھل کر ڈرانے والا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اس کو بٹوارے کرنے والوں پر نازل کیا ۔ جنہوں نے اس قرآن کو ٹکڑے کرڈالا۔ سو قسم ہے تیرے رب کی ہم ان سب سے ضرور پوچھیںگے۔ وہ جو یہ عمل کرتے تھے۔ (الحجر: آیات89سے93)
اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ قرآن کے ٹکڑے کرنے والے حلالہ کیلئے قرآنی آیات کیساتھ کیا سلوک کریںگے؟۔ آیت229کے پہلے حصے کے بعدآخری حصے کو نکال کر کیسے بالکل بلاجواز آیت230کے ساتھ جوڑ دیں گے؟۔ تاکہ حلالہ کی لعنت اور امت مسلمہ کی خواتین کی عزتیں لوٹنے کیلئے راستہ ہموار ہوجائے!۔
آرمی جنرل حافظ سید عاصم منیر اور تمام کور کمانڈرز سے استدعا ہے کہ مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن اور ہمارے درمیان ملاقات کا اہتمام کرائیں۔ ہم حلالہ و سود کی لعنت سے معاشرتی اور معاشی عذاب کا شکارہیں۔ہماری معیشت اور معاشرت دونوں میں قرآن وسنت کی بنیاد پر انقلابی تبدیلی آجائے گی۔
جب اللہ اور اسکے رسول ۖ کے نام پر شادی شدہ خواتین کو عزت لٹانے پر مجبور کیا جائے تو اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے؟۔ بلوچستان، پختونخواہ، پنجاب ، اندرون سندھ اور کراچی میں قرآنی آیات ، احادیث صحیحہ، اصول فقہ اور حنفی مسلک کی درست تشریح وتعبیر سے تعلیم یافتہ اور ان پڑھ لوگوں کے دل دماغ کھولیں جائیں تو پاکستان کی عظیم قوم پوری دنیا کی امامت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیرکن کانگریس نے تفسیر آخری پارہ المقام المحمود میں سورہ القدر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” سندھ ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر ، فرنٹیئر اور افغانستان میں جتنی قومیں بستی ہیںیہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاة ثانیہ پوری دنیا میں اس علاقہ سے ہوگی۔ ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلے گا اسلئے کہ امام ابوحنیفہ بہت سارے اہل بیت کے شاگرد تھے”۔
افسوس یہ ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی نے جس مسلک حنفی کی بنیاد پر قرآن کی طرف رجوع کی دعوت دی تھی تو اس پر ذرہ برابر علماء دیوبند بھی عمل نہ کرسکے اور قرآن واسلام کا حیلہ وحلالہ کے ذریعے بیڑہ غرق کرنے والے مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ آخرکار سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے میں کامیاب ہوگئے۔
اگر سورہ بقرہ آیات222سے232اور سورہ ٔ طلاق کی پہلی دو آیات میں ان کا خلاصہ سمجھ لیا جائے تو دماغ روشن ہوگا۔ جس کمالِ ہنر سے دورِ جاہلیت کے سارے مسائل کا زبردست حل نکالا ہے اس کے بالکل برعکس فقہاء ومشائخ نے دورِ جاہلیت سے بھی زیادہ تین طلاق اور حلالہ کے عجیب وغریب مسائل نکال کر امت مسلمہ کو جاہلیت میں دھکیل دیا ہے۔ اسلام نے آخرت سنوارنے کا راستہ بتایا تھا اور علماء ومشائخ نے اسلام کو اپنی دنیا سنوارنے کا ذریعہ بنالیا ہے۔
تبلیغی جماعت کا کام مولانا محمد الیاس نے بہت خلوص سے شروع کیا تھا مگر بستی نظام الدین ہندوستان اور رائیونڈ کے تبلیغی مراکز بھی تقسیم ہوگئے ۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ایک کام ” قرآن کی طرف رجوع” کا بیڑہ مولانا عبیداللہ سندھی نے اٹھایا تھا۔ دوسرے کام ”اتحادِاُمت اور فرقہ واریت کے خاتمہ” کا بیڑہ مولانا محمد الیاس نے اٹھایا تھا۔ مولانا محمدالیاس کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف کی وفات سے 3دن پہلے کی تقریر امت کے اتحاد پر تھی۔ حاجی محمد عثمان نے حضرت شیخ الہند کے اتحاد کا مشن مولانا محمد الیاس اور مولانا یوسف کے توسل سے اٹھایا تھا۔ مسجد الٰہیہ، مدرسہ محمدیہ ، خانقاہ چشتیہ، خدمت گاہ قادریہ، یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسین کے ناموں سے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع کے درمیان توڑ کی جگہ جوڑاتحادواتفاق اور وحدت پیدا کرنے کا پروگرام تھا۔
مولانا عبیداللہ سندھی کے قرآنی انقلاب کی تعلیم بفضل تعالیٰ ہم نے خانقاہ سے شروع کردی تھی۔ شیخ الہند کی تحریک کے اصل وارث حاجی محمد عثمان تھے۔ ہم نے دیوبندیت کا نام استعمال کرنے کو اتحاد امت کے منافی سمجھا تھا۔ تقلید کے خلاف حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے جو کتاب لکھ دی تھی تو اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کے فتوے نے علماء دیوبند کو مجبور کیا تھا کہ وہ تقلید کا اعتراف کریں۔ حالانکہ یہ ایک مجبوری میں لکھی جانے والی کتاب تھی جس میں عبدالوہاب نجدی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور جب سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں نے حجاز مقدس پر قبضہ کیا تو دیوبندی اکابر نے اپنامؤقف بدل دیا کہ عبدالوہاب نجدی مقدس ہستی تھے۔ ہم نے غلط فہمی میں مخالفت کی۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” میں جہالت کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ بہت کم علم اور کم عقل انسان بھی ایسی جہالت کا مظاہرہ نہیں کرسکتا ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے ” تقلید کو بدعت ” قرار دینے کے خلاف آواز اٹھائی تھی لیکن وہ بھی ” تقلید کے متعلق ” یہ بے سروپا بکواس دیکھ لیتا تو پکار اٹھتا کہ ” یہ کیا گمراہ کن باتیں لکھ ڈالی ہیں”۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” جو احادیث موجودہ دور کے بارے میں درج ہیں وہ مفتی تقی عثمانی نے ائمہ مجتہدین کے دور کے بارے میں بطور دلیل پیش کی ہیں۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” علم آسمان پر نہیں اٹھایا جائیگا بلکہ علماء ایک ایک کرکے اٹھتے جائیں گے، جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیںگے ۔ وہ ان سے فتویٰ پوچھیں گے تو وہ بغیر علم کے جواب دیں گے اور وہ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے”۔ (متفق علیہ)
مفتی تقی عثمانی نے اس حدیث پر یہ بات لکھ دی ہے کہ” ائمہ مجتہدین کے بعد علم اٹھ چکاہے۔ اگر ان کے بعد کوئی اجتہاد کرے گا تو وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور جو اس کی بات پر عمل کریںگے تو وہ خود بھی گمراہ ہوںگے”۔ اگر مفتی تقی عثمانی کی یہ بات مان لی جائے تو سود کو جواز بخشنے پرمفتی تقی اور اس کو ماننے والے گمراہ ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے دوسری بات یہ لکھ دی ہے کہ ” عوام کا کام تقلید کرنا ہے اور اگر علماء غلط فتویٰ بھی دیں گے تو علماء کو غلطی پر ثواب ملے گا اور عوام کو نقصان نہیں پہنچے گا”۔ حالانکہ حدیث میں تو واضح ہے کہ جو ان کی مانے گا وہ بھی گمراہ ہوگا۔
مفتی تقی عثمانی نے قرآنی آیت اطیعواللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والی الرسول ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو اولی الامر ہیں ۔ اگر کسی بات میں تمہارا تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹادو” کے حوالہ سے لکھ دیا ہے کہ ”اس میں اللہ اور اس کے رسول ۖ کے علاوہ بعض لوگوں کے نزدیک حکمرانوں اور بعض کے نزدیک علماء کی اطاعت کا حکم ہے۔ زیادہ راجح یہ ہے کہ علماء ومفتیان کی اطاعت مراد ہے اور علماء ومفتیان سے عوام کو اختلاف کا حق بھی نہیں ہے ، ان کا کام صرف اطاعت ہے۔ آیت میں تنازع سے مراد علماء کے آپس کا اختلاف ہے”۔ تقلید کی شرعی حیثیت میں قرآنی آیت و احادیث کے بارے میں مفتی تقی عثمانی نے جو انتہائی غلط ، خود غرضی اور نفس پرستی پر مبنی باتیں لکھ دی ہیں وہ عوام اور علماء ومفتیان کے سامنے آجائیں تو اس کو گدھا گاڑی چلانے کے علاوہ کسی بھی علمی خدمت کے قابل ہر گز نہیں سمجھیں گے۔
قرآن میں یہودی مذہبی طبقہ کے بارے میں گدھے کی مثال اسلئے دی گئی ہے جن پر کتابیں لاد رکھی ہوں۔جب قرآن کی واضح آیات کو چھوڑ کر تقلیدی مسائل کی جستجو میں اپنا وقت ضائع کیا جائے تو مولانا انور شاہ کشمیری جیسے بڑے مخلص علماء کہیں گے کہ ہم نے قرآن وسنت کی جگہ فقہ کی وکالت میں عمر ضائع کی ہے۔ لیکن مفتی محمد شفیع جیسے لوگ اپنی اولاد کیلئے وقف مال خرید کر دین کی خدمت کو منافع بخش تجارت قرار دیں گے اور ان کی اولاد بھی اسی راستے پر چلے گی۔
مفتی شفیع و مفتی تقی عثمانی نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ جب تک حکومت ، علماء اور عوام بڑے پیمانے پر اُٹھ کھڑے نہ ہوں تو یہ اپنی غلطیاں اعلانیہ مان کر اپنی کتابوں سے نہیں نکالیں گے۔ہم نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے والی بات کو نکالنے پر مجبور کیا تو ” فتاویٰ عثمانی ” میں فتویٰ ڈال دیا ہے لیکن اس فتوے کی پوری داستان ہے اور اس کے پیچھے بڑے حقائق ہیں۔ جس دن واشگاف انداز میں حقائق سامنے آگئے تو انشاء اللہ دنیا میں مجرم کٹہرے میں الگ نظر آئیںگے۔نبی ۖ نے مختلف ادوار کا ذکر فرمایا:نبوت و رحمت کا دور، خلافت راشدہ کا دور، امارت کا دور ، بادشاہت کا دور، جبری حکومتوں کا دور اورپھر دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت کا دور جس سے آسمان وزمین والے دونوں خوش ہوں گے۔ مولانا آزاد، مولانا مودودی، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”مسلمان نوجوان” مولانامحمد یوسف لدھیانوی شہید، ڈاکٹر اسرار احمد نے خلافت کے قائم ہونے کی پیش گوئی کی ۔
نبی ۖ سے پوچھا گیا ”ہمارے پاس یہ خیر آئی۔کیا اس کے بعد شر ہوگا؟۔ فرمایا: ہاں ۔ عرض ہوا کہ اس شر کے بعد خیر ہوگی؟۔ فرمایا: ہاں مگر اس میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ ہوں گے اور اس میں دھواں ہوگا۔ (یعنی اسلام پر اجنبیت کے آثار نمایاں ہوں گے)۔ عرض ہوا کہ اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟۔ فرمایا: جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر دعوت دیں گے جو ہماری زبان اور لبادہ میں ہوں گے جو ان کی دعوت قبول کرے گا تو اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ عرض کیا : ان سے بچنے کا طریقہ کیا ہوگا؟۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے مل جاؤ۔ عرض کیا کہ اگر نہ مسلمانوں کی جماعت ہو اور نہ امام تو پھر؟ فرمایا: سب فرقوں سے الگ ہوجاؤ ، خواہ درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑجائے”۔
شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ” بدعت کی حقیقت ” میں لکھ دیا کہ ” تقلید چوتھی صدی ہجری کی بدعت ہے اور پہلے تین صدیاں خیر القرون کی ہیں ۔اسلئے تقلید کو چھوڑنا ہوگا”۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے لکھ دیا کہ ” خیرالقرون نبیۖ، حضرت ابوبکر وعمر اور حضرت عثمان کے دور تک تھا۔ حضرت علی کے دور میں فتنہ و فساد کا شر پیدا ہوگیا تھا، وہ بھی پہلے تین ادوار میں شامل نہ تھا”۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ” میں نبی ۖ کے مطابق عمل کا پابند ہوں۔ حضرت ابوبکر وعمر کے نقشِ قدم پر نہیں چلوں گا”۔ حضرت عثمان نے کہا کہ ” میں نبی ۖ ، حضرت ابوبکر وعمر کے مطابق چلوں گا”۔ حضرت عثمان اسلئے شوریٰ کی طرف سے منتخب ہوگئے۔
حضرت عثمان کی شہادت کے بعد خلافت راشدہ میں آپس کی لڑائی سے شر پیدا ہوا تھا جس نے خلافت راشدہ سے امارت تک قتل وغارت گری حضرت علی اورحضرت حسین کی شہادت تک دیکھ لی۔ پھر حکمرانوں اور عوام میں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ائمہ اہل بیت وائمہ مجتہدین جیسے اچھے لوگ بھی تھے۔ یزید اور امام ابویوسف جیسے برے لوگ بھی تھے۔ جس کا سلسلہ امارت کے دور سے جبری حکومتوں کے آخری دور تک بدستور قائم رہاہے۔ اب ایک طرف مذہبی لبادے میں فرقہ واریت اور جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر بلانے والوں کا حال ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی جماعت اور امام کے قیام کی ضرورت ہے۔
مفتی تقی ورفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق حاجی محمدعثمان کے مرید وخلیفہ تھے۔ خانقاہ میں واقعہ بتایا کہ پیر نے مریدوں کو ہاتھی کا گوشت کھانے سے منع کیا۔ جنگل میں راشن ختم ہوا۔ کچھ نے ہاتھی کا بچہ ذبح کیا اور پکاکر گوشت کھایا۔ کچھ نے نہیں کھایا۔ رات کو سب سوگئے توہتھنی نے سوتے میں ایک ایک کا منہ سونگھا۔ جنہوں نے گوشت کھایا ، گردن پر پاؤں رکھ کر ماردیا اور جنہوں نے نہیں کھایا تھا تو ان کو چھوڑ دیا”۔ مولانا خانقاہ چھوڑ کر گئے تو ”ہاتھی کا گوشت” نام پڑا تھا۔فوجیوں میں سینئر خواجہ ضیاء الدین بٹ تھا جس کو آرمی چیف بنایا گیا لیکن انتہائی ذلت اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔اسلئے کہ اللہ والے کو دھوکا دیا تھا۔
حکمرانوں کی سختیاںپہنچیں گی مگر جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر اس کیلئے زبان ،ہاتھ اور دل سے جہاد کیااور جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر زبان سے تصدیق کی اور جس نے اللہ کا دین پہچانا ،اللہ کیلئے کسی سے دل میں محبت رکھی اور کسی سے بغض رکھا ،اس کے تمام چھپانے کے باوجود وہ نجات پاگیا، اس کے علاوہ کسی میں رائی کے برابر ایمان نہیں”۔( حدیث :عصر حاضر) ایک عالم دین نے خواب دیکھا کہ جنت کے دروازے پر حسن وحسین ہیں اور صرف حاجی عثمان کی حمایت کرنے والوں کو چھوڑ رہے ہیں، مولانا فقیرمحمد کو بتایا تومولانا فقیرمحمد نے کہا کہ ” علماء کے فتوے کو چھوڑ دو۔ اپنا تعلق حاجی محمد عثمان سے قائم رکھو”۔
نبی ۖ نے ام ہانی سے مشرک شوہر کے تعلق کو حرام کاری نہیں قرار دیا تھا مگر ریورس گیر والے مفتی عبدالرحیم اور مفتی تقی عثمانی چند ٹکوں کی خاطر علماء دیوبند کی اکثریت پر کیا فتویٰ لگارہے ہیں؟۔ یہ قادیانیوںاوراسرائیل کے ایجنٹ میرشکیل الرحمن ، ڈاکٹر انوارالحق اور جنرل قمر باجوہ پر فتویٰ کیوں نہیں لگارہے ہیں؟۔
ایک گمراہ لوگ ہوتے ہیں جن کو ہدایت مل سکتی ہے اور دوسرے جن پر اللہ کا غضب ہے۔ سوئے کو نیند سے جگایا جائے توجاگ جاتا ہے لیکن جاگا ہوا جب خود کو سویا ہوا ظاہر کرے تواس کو جگانا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ ایک مذہبی طبقہ گمراہ ہوتا ہے جب اس کو ہدایت کا پتہ چلتا ہے تو راستے پر آجاتا ہے اور دوسرا وہ طبقہ ہوتا ہے جو جان بوجھ کر حق سے منحرف ہوتا ہے۔ مفتی عبدالرحیم اور مفتی تقی عثمانی کا تعلق اس طبقہ سے ہے جس نے جان بوجھ کر حق سے انحراف کیا۔ کوئی ان سے نام لیکر فتویٰ لے کہ جن فوجی افسران یا میڈیا پرسن کی بیویاں قادیانی ہیں تو کیا ان کا تعلق حرام کاری ہے؟۔ انہوں نے ہمیں کمزور سمجھ کر فتوے دئیے لیکن اللہ تعالیٰ کا بہت شکرہے کہ ہمارا مخالف طبقہ ان کو مان کرخود پر فتویٰ لگارہا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن وحدیث میں طلاق و رجوع کا مسئلہ حل کردیا اوریہ قادیانی وشیعہ کی اصلاح بھی ہے!

قرآن وحدیث میں طلاق و رجوع کا مسئلہ حل کردیا اوریہ قادیانی وشیعہ کی اصلاح بھی ہے!

مرزاغلام احمد قادیانی ملعون کذاب دجال نے نبوت کا دعویٰ کیا لیکن اس کی سب سے بڑی دجالیت یہ ہے کہ ایک طرف نبوت ومہدویت کا دعویٰ ہے تو دوسری طرف اسلام کا دامن بھی عام مسلمانوں کی طرح پکڑ رکھا ہے۔ قرآن اور سنت کے علاوہ حنفی مذہب کی فقہ بھی تھام رکھی ہے۔ جب علماء ومفتیان نے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا تو اس میں لکھ دیا تھا کہ ”شیعہ قادیانی سے بدتر کافر ہیں اسلئے کہ قادیانی ختم نبوت کی آیت میں تاویل کرتے ہیں، باقی قرآن وسنت اور صحابہ و فقہاء اور امت مسلمہ کا سارا سلسلہ مانتے ہیں جبکہ شیعہ کا قرآن وسنت ، فقہ اور نماز وغیرہ سب مسلمانوں سے جدا ہے اور صحابہ کرام کی بھی تکفیر کرتے ہیں”۔
جب اصل فقہ حنفی کے اصولوں کے مطابق قرآن وسنت سے طلاق و رجوع کا مسئلہ واضح ہوجائے گا تو قادیانی دجال کی دجالیت سے مرزائیت توبہ کرے گی اسلئے کہ جس شخص کو قرآن وسنت کے اتنے موٹے احکام بھی سمجھ میں نہیں آئے تو مہدی ونبی تو بڑی دور کی بات ہے ایک اچھا عالم دین وفقیہ بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اسی طرح شیعہ واہلحدیث ، غلام احمد پرویز، جاوید غامدی، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور انجینئرمحمد علی مرزا کے پیروکاروں کی بھی قرآن کے ذریعے اصلاح ہوجائے گی۔ اس کا سارا کریڈٹ حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری اور حضرت حاجی محمد عثمان کی شخصیات کو جائے گا جنہوں نے اہل حق کا سلسلہ باطل کے مقابلے میں قائم رکھا اور دنیا پرستی اور دین فروشی کے فتنوں سے اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی۔
فتاویٰ عثمانی میں بہت سارے دنیا پرستی اور دین فروشی کے نمونے ہیںمثلاً زکوٰة کے پیسوں سے ان کتب فروشوں سے کتابیں خرید کر غرباء میں تقسیم کردو تو یہ جائز ہے لیکن اگر تبلیغ دین کیلئے مسائل کی کتابیں زکوٰة کے مال سے چھاپ لیں تو یہ جائز نہیں ہے۔ انکے فتوے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ہوتے ہیں۔
قرآن میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق کا تصور بھی آیة229البقرہ میں ہے۔ایک صحابی نے پوچھ لیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا:” الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان (دو مرتبہ طلاق کے بعد پھر معروف طریقہ سے رجوع ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔آیت229) قرآن میں تیسری طلاق احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ وفاق المدارس پاکستان کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ سابق وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے” کشف الباری شرح البخاری ” اور تنظیم المدارس پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے ” نعم الباری شرح البخاری” میں اس حدیث کو لکھ دیا ہے۔
اصول فقہ کی کتاب ”نورلانوار: ملاجیون” میںہے کہ” فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ (پھراگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیںیہاں تک وہ کسی اور سے نکاح کرلے”۔میں مذکور طلاق کا تعلق الطلاق مرتٰن ( طلاق دو مرتبہ ہے)سے حنفی مسلک کے مطابق نہیں ہے اسلئے کہ ف تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے۔ اس کا تعلق آیت229البقرہ کے آخر فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ ( پھر ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں جو عورت کی طرف سے فدیہ کیا جائے)کیساتھ ہے۔ جس پر حنفی مسلک کے مشہور عالم، شاعر وادیب علامہ تمنا عمادی نے کتاب لکھ ڈالی کہ ” حنفی مسلک کا مؤقف یہ ہے کہ اس طلاق کا تعلق صرف خلع کی صورت سے ہے۔ خلع میں غلطی عورت کی ہوتی ہے اور سزا بھی عورت کو ملتی ہے”۔ علامہ تمنا عمادی نے غیرضروری طور پر احادیث صحیحہ کا انکار کردیا اور قرآن وحنفی مؤقف کو پیش کردیا۔ حالانکہ قرآن و حدیث اور حنفی مؤقف کا تقاضا یہ ہے کہ ” تیسری بار طلاق کو ف تعقیب بلامہلت کی وجہ سے تسریح باحسان کیساتھ ہی منسلک کیا جائے”۔جس سے آیت کا مطلب بھی واضح ہوگا، احادیث صحیحہ کا انکار بھی نہیں کرنا پڑے گا اور حنفی مؤقف کو بھی درست ماننا پڑے گا۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ ” آیت229کا مفہوم بالکل مبہم اور غیر واضح ہے اور اس کو سمجھنے کیلئے مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر میں حل تلاش کرنا ہوگا”۔ حالانکہ مولانا تھانوی کی تفسیر زیادہ مبہم اور غیر واضح ہے ۔ پشتو میںکہا جاتا ہے کہ ” بارش سے میں بھاگا اور پرنالے کے نیچے رات ہوگی”۔
جب عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض میںطلاق دی تو رسول اللہ ۖ کو حضرت عمر نے خبر کردی ۔ نبی ۖ غضبناک ہوگئے۔ پھر رجوع کا حکم دیا ، فرمایا: طہر کی حالت میں اپنے پاس رکھو ،یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر طہر کی حالت میں اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر طہرمیں چاہو تو رجوع کرلو اور چاہو توہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے قرآن میں امر فرمایا ہے۔ (بخاری کتاب التفسیر سورہ ٔ طلاق )۔ کتاب الطلاق، کتاب الاحکام اور کتاب العدت میں یہ حدیث لفظی سے اختلاف سے نقل کی گئی ہے۔
جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے قرآن وحدیث میں ثابت ہے۔ جہاں تک اس طلاق کا تعلق ہے جو آیت230میں ذکر کی گئی ہے جس کے بعد جب تک عورت کسی اور شوہر سے نکاح وجماع نہ کرلے تو پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہے۔ تو اس کا تعلق آےة229کے اس آخری حصہ سے ہے جس میں تین مرحلہ وار طلاقوں کے بعد صلح نہ کرنے کی بھرپور وضاحت ہے۔ حضرت ابن عباس نے بھی اس طلاق کو دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق کیساتھ فدیہ دینے کی صورت سے سیاق وسباق کے مطابق خاص کیا ہے۔ دیکھئے ابن قیم کی کتاب ”زادالمعاد:ج ٤باب الخلع”۔
صرف علماء ومفتیان اور عوام الناس اس واضح آیت پر اتنا غور کریں کہ اس میں خلع مراد نہیں ہوسکتا ہے اسلئے کہ دو تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا تصور کہاں سے درست ہوگا؟۔ یہاں وہ صورت ہے کہ جس میں واضح ہے کہ میاں بیوی اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے والے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ نہ صرف دونوں کی جدائی ہو بلکہ آپس میں رابطے کا کوئی ذریعہ بھی نہ چھوڑا جائے جس سے دونوں کو ناجائزجنسی تعلقات میں مبتلاء ہوکر اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔
مولانا سیدابولاعلیٰ مودودی اور جاوید غامدی نے بھی یہ غلطی کردی کہ جہاں آیت میں اللہ تعالیٰ نے طلاق کے بعد عورت کے حقوق کی حفاظت کو واضح کردیا ہے تووہاں خلع کے نام پر عورت کی مالی بلیک میلنگ کا راستہ کھول دیا ہے۔ علماء و مفتیان کیلئے میری ذات باعثِ فخر واطمینان ہے کہ مدارس اور درسِ نظامی سے ایک بندہ اللہ نے ایسا بھی پیدا کیا ہے جس نے علمائِ حق کا پرچم بلند کردیا ہے۔
دیوبند ی بریلوی جس درسِ نظامی کو اپنے مدارس میں پڑھاتے ہیں اسکے حنفی مسلک کے اصول کی جیت قرآن وسنت کی طرف رجوع اور اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ مساجد کے منبر ومحراب سے علمائِ حق عوام کو قرآنی ترجمہ وتفسیر پڑھائیںگے تو پوری دنیا کے انسان قرآن و مسلک حنفی کی طرف توجہ کریں گے۔ آیت230البقرہ سے پہلے آیات میں عدت میں صلح و معروف کی شرط پر طلاق کے بعدرجوع کی اجازت ہے اور بعد کی آیات میں عدت کے بعد بھی صلح ومعروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے۔ جس کا خلاصہ سورہ ٔ طلاق میں موجود ہے۔ البتہ تمام آیات میں باہمی صلح واصلاح اور معروف کی شرط کے بغیر طلاق کے بعدرجوع کی اجازت نہیں ہے۔ قرآن و سنت سے عوام کا بھلا ہوتا ہے لیکن مفتی تقی عثمانی جیسے علماء سوء کی مذہبی اجارہ داری اورتجارت ختم ہوجاتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی شفیع سے مفتی تقی تک کا گھٹیا کردار اور قرآن وحدیث، اجماع وقیاس اجنبیت کا شکار؟

مفتی شفیع سے مفتی تقی تک کا گھٹیا کردار اور قرآن وحدیث، اجماع وقیاس اجنبیت کا شکار؟

متحدہ ہندوستان کے حامی مولانا ابوالکلام آزاد اور تحریک پاکستان کے حامی علامہ سید سلیمان ندوی نے قرآن وسنت کے مضبوط دلائل سے ثابت کیا تھا کہ جاندار کی موجودہ تصویر مذہبی نہیں دنیاوی ہے اور یہ سابقہ اور موجودہ شریعت میں جائز ہے۔ قرآن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کیلئے تصاویر اور مجسمے بنانے کا ذکرہے ۔سابقہ شریعتوں میں بھی پوجا پاٹ کی تصاویر اور مجسموں کی ممانعت تھی ۔ یہی صورتحال امت محمدیہ میں بھی ہے۔ جن تصاویر کو کپڑوں پر نقش کیا جاتا تھا تو ان کی حیثیت پوجا پاٹ کی نہیں دنیاوی ہوتی تھی اسلئے ان کی ممانعت بھی نہیں تھی۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے ” معارف اعظم گڑھ” کے نام سے ایک موٹی کتابی شکل میں اتنے تفصیلی دلائل دئیے تھے کہ ان کے دیکھنے کے بعد کوئی شخص بھی دنیاوی تصاویر کے عدم جواز کا تصوربھی نہیں کرسکتا تھا۔
مفتی شفیع سے مفتی تقی کا سلسلہ مافیا ہے جس کے پیچھے شیطانی طاقت ہے۔ ڈاکٹر حبیب اللہ مختار نے شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ” مسلمان نوجوان” کا اردو ترجمہ کیا تھا ۔ عربی اور اردو میں یہ کتاب ناپید ہے۔ حالانکہ ”تربیت اولاد” ان کی کتابیں دستیاب ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ”مسلمان نوجوان”میں سودی نظام کے خاتمے اور خلافت کے قیام کی باتیں تھیں۔ علامہ سید محمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین ملکی سطح پر مفتی محمد شفیع سے زیادہ شہرت اور قابلیت رکھتے تھے لیکن ان کا نام اور معاشی نظرئیے کی کتابیں مارکیٹ میں نہیں۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی مقبول کتاب ” عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” غائب ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی کی ”معارف اعظم گڑھ” مارکیٹ کی زینت بنتی تو مفتی شفیع کی جہالت دنیا پر آشکارا ہوجاتی لیکن غائب کردی گئی ہے۔
جب علماء حق انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ لڑرہے تھے اور مسلمانوں کو جہالت سے نکال کر علم کی شاہراہ پر ڈالنا علماء حق کی بہت بڑی خدمت تھی۔ تب مولانا ابوالکلام آزاد اور علامہ سید سلیمان ندوی نے مولانا جمال لدین افغانی کی طرح کیمرے کی تصویر کو جائز قرار دیا اور امت کو شعور کی دہلیز پر لانے کی ہمت کی لیکن مفتی شفیع نے جہالت کا توپ خانہ کھول کر دونوں بزرگوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ زبردست دلائل کے باوجود جاہل سے الجھنے کے بجائے انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ پھر اللہ نے مفتی شفیع کو پاکستان بننے کے بعد موقع دیا کہ جس تصویر کو خدا کی خدائی میں شرکت کا خطرناک مسئلہ قرار دیا تھا تو اسلامی ریاست بننے کے بعد اس پر عمل کراتا۔ شیطان مشرکینِ مکہ کو ورغلاء کر لڑنے کیلئے لایا اور پھر گدھا کوز مارتا ہوا بھاگا اور کہا کہ جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھتے۔ مفتی شفیع نے تصویر کی مخالفت کی۔جب پاکستان بننے کے بعد تصویر کو مٹانے کا وقت آیا تو کتاب میں ترمیم کر ڈالی کہ ریاستی اور تجارتی امور کیلئے تصویر جائز ہے۔
مفتی شفیع کو پتہ تھا کہ میں نے کیا کیا گند مچایا ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے لکھ دیا کہ میں علامہ سیدسلیمان ندوی کے علمی مقام سے واقف نہیں تھا اور خود بھی عالم و طالب علمی کے درمیانے مرحلے میں تھا۔ اب میں کچھ ترمیمات کرتا ہوں۔
ہونا یہ چاہیے تھا کہ قارونی کتب فروشوں کے مالکان جہاںمولانا اشرف علی تھانوی کی ہڈیوں کا گودا نچوڑ نچوڑ کر مختلف ناموں اور نئے نئے اندازوں سے نئی نئی کتابیں چھاپتے رہتے ہیں تو ایک معارف اعظم گڑھ بھی چھاپ دیتے۔ لیکن ان کو پتہ ہے کہ اس سے ان کے آباء واجداد کی جہالتوں کا پتہ صاف ہوجائیگا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جس صحابی نے تصویر کے خلاف حدیث بیان کی تھی وہ بیمار ہوگئے اور دوسرے صحابہ وہاں عیادت کرنے گئے تو دیوار پر آویزاں گھر میں تصویر دیکھ لی۔ ایک صحابی نے کہا کہ یہ حدیث کی مخالفت ہے ۔دوسرے نے کہا کہ نہیں! اس نے الا رقمًا فی الثوب کپڑے میں نقش کوجائز قرار دیا تھا۔ مفتی شفیع نے اپنی کتاب میں حدیث کی تشریح میں بیوقوفی کی انتہاء کردی تھی۔ بخاری میں نقش تصویر کا جواز ہے۔ ائمہ اہل بیت نے بھی ان تصاویر کو جائز کہا تھا جن میں اُبھارنہ ہو اسلئے کہ ان کا استعمال مذہبی پوچا کیلئے تھا۔ مفتی شفیع نے اس کو درختوں کی تقش قرار دیا۔ ”جوہری دھماکہ” میں پیارے بچو! بلیک بورڈ پر لکھ کر اسکی نالائق ذریت کو سمجھایا تھا۔ تب وہ سمجھے۔ مفتی محمد شفیع نے مزدورکامکانات کی تعمیر کو خدا کی تخلیق میں مداخلت قرار دیا تھا تومیں نے لکھ دیا تھا کہ فارمی مرغیاں تخلیق میں زیادہ مداخلت ہیں یا بچوں کو ڈرائنگ کی کاپی پر تصویر زیادہ مداخلت ہے؟۔ اصل مداخلت کو پیٹ کے پجاری بالکل بھی حرام نہیں کہتے ہیں؟۔
درباری علماء نے ہمیشہ اہل حق کا مقابلہ کیا، مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد پر نظام کی تبدیلی کا آغاز کیا مگر مفتی شفیع اور مفتی تقی جیسے درباریوں نے ان پر کفر کا فتویٰ لگادیا۔مفتی محمود و مولانا درخواستی نے مفتی تقی ورفیع عثمانی کو سودی زکوٰة سے روکا تھا۔ حاجی عثمان کے حلقہ ارادت میں علماء ومفتیان ، تبلیغی جماعت ، اہلحدیث، شیعہ اور بریلوی، فوجی افسران ، سول بیوروکریسی، مجاہدین اور عرب وعجم اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے جوق در جوق داخل ہورہے تھے مگر مفتی تقی عثمانی حسد وبغض سے جل بھن گئے۔ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ حاجی محمد عثمان کے جانشین عتیق گیلانی سے اللہ تعالیٰ نے علماء سوء کے پیٹ سے حیلے، حلالے اور سود کی لعنت کے کیڑے گرانے کا کام لیناہے۔
دارالعلوم کراچی نے پہلا فتویٰ بڑا احمقانہ دیا اسلئے انہوں نے اپنی پشت میں چھپالیا۔ ریکارڈ چھاپنے کی ضرورت تھی۔ جرنیلوں نے قادیانی سسروں کی قادیانی بیٹیوں سے شادیاں کیں ،انکے نکاح کو ناجائز نہیں قرار دیا اور نہ ان پر حرامکاری اور اولادالزنا کا فتوی لگایا لیکن حاجی عثمان کے حلقہ ارادت پر فتویٰ لگادیا؟۔ ہمارے کچھ بے غیرت پیر بھائی پھر بھی ان کو معتبر قرار دیکر اپنا نکاح حرامکاری اوراپنے بچوں کو اولاد الزنا قرار دیتے ہیں؟۔ مفتی عبدالرحیم مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے فسٹ کزن جنرل قمرجاوید باجوہ کی اولاد پر کیا فتویٰ دیتا ہے جس کا سسر قادیانی ہے؟۔دُم کے نیچے سے دھواں نکلتا نظر آئیگا!۔انشاء اللہ

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بہشتی زیورکا مسئلہ اور مفتی سید سیاح الدین کا کا خیل کے سوال پر مفتی تقی عثمانی کا جواب!

بہشتی زیورکا مسئلہ اور مفتی سید سیاح الدین کا کا خیل کے سوال پر مفتی تقی عثمانی کا جواب!

جب میں نے قرآن واحادیث کے اندر طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی تویہ مجھے یاد ہے کہ تحریک منہاج القرآن کے سابق جنرل سیکرٹری پروفیسر علامہ دلدار احمد قادری نے مجھ سے کہا تھا کہ ” تین طلاق اور حلالہ کے مسئلے پر آپ تحقیق کریں”۔ حلالہ کا نام ایسا تھا کہ اس نام پر لکھی جانیوالی کوئی کتاب ایک شریف انسان اپنے گھر اور مہمان خانے میں بھی لے جانے میں دشواری محسوس کرتا تھا۔ حلالہ کے نام پر کبھی کوئی کتاب کتب خانے میں نظر بھی آئی ہے تو اس کو اٹھاکر دیکھنا اخلاقیات اور شرافت کے منافی لگتا تھا۔ البتہ ایک شریعت کا مسئلہ سمجھ کر قبول کرنا دین، علم اور ایمان کی مجبوری تھی۔ ہمارے کسی ساتھی کے پڑوسی کو مسئلہ پیش آیا تھا تو میں نے مشورہ دیا کہ حلالہ کے بجائے ترک تعلق بہتر ہے لیکن پھر وہ مفتی عبدالسلام چاٹگامی کا فتویٰ بنوری ٹاؤن کراچی سے لیکر دکھا گئے جس پر مجھے تبصرہ کرنا بھی اچھا نہیں لگا۔ پھر ایک عیسائی نے اسلام قبول کیا تھا اور اس کو تبلیغی جماعت والے نے اپنی بیٹی دی تھی۔ وہ گومل ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میرے ہاں آچکا تھا اور زبان سے اس نے تین طلاقیں دی تھیں اور اس مسئلے کا حل چاہتا تھا۔ میں نے مولانا فتح خان ٹانک کے مشہور اور بہت قابل عالم دین کی خدمت میں حاضری دی اور تین طلاق پر تحقیقی مسئلہ پوچھ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ” آپ کا دماغ بہت تیز ہے اور اپنے ہاں سے بہت ساری کتابیں دیں کہ مسئلہ دیکھ لو”۔
میں نے دن رات ایک کرکے اپنی بساط کے مطابق بہت کوشش کی کہ کہیں سے مسائل کے علمی دلائل کا سراغ مل جائے لیکن مسئلہ، مسئلہ ، مسئلہ اور اس پر فضول کی بحث اور عبارات کے سوا کچھ نہیں مل رہا تھا۔ مجھے اس پر غصہ بھی آرہا تھا کہ قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ کے الفاظ پر کچھ تحقیقات پر بحث اور دلائل ہوتے۔ لیکن کچھ بھی نہیں مل رہا تھا۔ اتنے میں ہمارے ساتھ مولوی شبیراحمد صاحب نے کہا کہ ” بہشتی زیور” دیکھ لو!۔ مجھے دوسروں کے علمی نام اور فضول کی بحث سے چڑ لگ گئی تھی اور کہا کہ چھوڑدو بہشتی زیور…..پھر احساس ہوا کہ مولوی صاحب کی دل شکنی ہوگئی۔ بہشتی زیورمیںدیکھا کہ ” اگر شوہر بیوی سے کہے کہ طلاق، طلاق ، طلاق تو تین طلاق ہوگئی ہیں اوراگر شوہر کی نیت ایک طلاق کی تھی توایک طلاق رجعی ہے لیکن بیوی پھر بھی سمجھے کہ اس کو تین طلاقیں ہوچکی ہیں اور شوہر کیلئے اب وہ حلال نہیں ہے”۔ مفتی تقی عثمانی نے بہشتی زیور کی بہت زیادہ تعریف لکھ دی ہے ، اگر یہی مسئلہ مفتی تقی عثمانی کو پیش ہو تو اس کے نزدیک طلاق رجعی ہوگی اور رجوع کرنے کے بعد بدستور اس کی بیوی ہوگی لیکن بیگم سمجھے گی کہ حرام ہوچکی ہے اور حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی۔ حلالہ بھی نہیں ہوسکے گا اسلئے کہ وہ تو مفتی تقی عثمانی کے نکاح میں ہوگی؟۔ حیلہ ناجزہ میں مولانا اشرف علی تھانوی نے اوربھی زیادہ خطرناک مسئلہ لکھا ہے۔ اگر مفتی تقی عثمانی نے بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیں تو اس کی بیوی اس پر مغلظہ ہوچکی ہے لیکن اگر وہ مکر جائے تو بیوی کو دو گواہ لانے ہوں گے اور اگر اس کے پاس دو گواہ نہیں ہوئے اور مفتی تقی عثمانی نے جھوٹی قسم کھالی تو اس کی بیگم کو چاہیے کہ خلع لے لیکن اگر مفتی تقی اس کو خلع نہ دے تو وہ حرام کاری پر مجبور ہوگی۔ اس قسم کے مسائل کا مجموعہ مفتی سیاح الدین کا کاخیل کے سوال میں موجود ہے۔ جس کو گھما پھرا کر بھونڈے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے علاوہ بھی ” فتاویٰ عثمانی”میں اس سے زیادہ بھیانک مسائل ہیں۔ لوگوںکو الجھنوں اور نفسیاتی بیماریوں میں اسلام کے نام پر ڈالا گیا ہے۔
جب میں نے احادیث کی کتابوں پر تین طلاق کے حوالے سے سرسری نگاہ ڈالی تو مجھے لگا کہ تین طلاق اور حلالہ کی بات پر تحقیق کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن جب قرآن کی طرف توجہ کی تو نہ صرف قرآن بلکہ ساری احادیث صحیحہ کا درست خاکہ بھی دل ودماغ میں بیٹھ گیا۔2007میں ماہنامہ ضرب حق کراچی میں طلاق پر مضامین شائع کئے تو مولانا قاری احمد حسن شکوی خطیب وامام گودام جامع مسجد ٹانک سے اپنے ساتھی کے ذریعے رائے پوچھ لی ۔ انہوں نے میرے بارے میں فرمایا کہ ” میں پیر صاحب سے عقیدت رکھتا ہوں”۔ اس کے بعد ہمارا اخبار بند ہوا اور10سال بعد نوشتۂ دیوار کے نام سے پھر شائع کرنا شروع کیا اور اس لمبے عرصہ میں مسئلہ طلاق پر زبردست تحقیقات کا موقع مل گیا۔ ”ابررحمت ” کے نام سے کتاب شائع کرنے سے پہلے کراچی کے معروف مدارس کو اس کا مسودہ بھیج دیا ۔ میری کتاب ”جوہری دھماکہ” میں جاندار کی تصویر کے جواز سے زیادہ مسئلہ طلاق پر زبردست دلائل تھے لیکن جوہری دھماکہ کو اپنے وسیع تر مفاد میں قبول کیا گیا تھا اور مسئلہ طلاق سے ان کی علمی بنیادیں ختم ہوجاتی ہیں اسلئے اس کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔
پھر ” تین طلاق کی درست تعبیر”کتاب لکھ دی مگر ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ پھر ” تین طلاق سے حلالہ کے بغیر رجوع کا خوشگوارحل” کتاب لکھ دی اور پھر ” عورت کے حقوق” میں اس مسئلے کا حل لکھ دیا لیکن بڑے ڈھیٹ لوگ ہیں۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے بانی ومہتمم میرے استاذمفتی محمد نعیم اور مدرسہ کے رئیس دارالافتاء نے بھی تائید کی تھی لیکن پھر مفتی محمد نعیم نے بتایا کہ ” مفتی تقی عثمانی نے دباؤ ڈالا کہ اس مسئلے پر بات نہ کرو”۔ استاذ جی نے بتایا کہ وفاق المدارس سے ہمارے جامعہ کا الحاق ختم کردیںگے اسلئے کھل کر تائید نہیں کرسکتا۔
قرآن وسنت میں ان تمام مسائل کا بالکل فطری حل موجود ہے اور صحابہ کرام نے اس فطری حل کی بنیاد پر اپنے دور میں مشرق ومغرب کی دونوں سپر طاقتوں کو شکست دی تھی۔ بہت سارے علماء کرام وطلباء عظام کو قرآن وسنت کے حوالے سے تین طلاق اور اس سے حلالہ کے بغیر رجوع کا مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آیا ہے لیکن طاقتور حلقوں کی طرف سے حقائق کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی ہمت کرنے کی آج بہت ضرورت ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv