پوسٹ تلاش کریں

مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی؟

مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی؟

حنفی مسلک کے علمائِ حق کی جیت بالکل یقینی ہے لیکن اصولوں کے عین مطابق چلنا ہوگا!

بسااوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ اہل تشیع کا فقہ میں طلاق کے حوالے سے سب سے بہترین مؤقف موجود ہے۔ ایک شخص اپنی بیگم کو اچانک تین طلاق دیتا ہے اور پھر جب اہل سنت سے رجوع کرتا ہے تو فتویٰ ملتاہے کہ ” حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔ شیعہ نے فقہ میں یہ قانون درج کردیا ہے کہ تین طلاق کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ پاکی کے ایام میں شوہر باقاعدہ طلاق دینے کے شرعی صیغے ادا کرے گا، جیسے نکاح میں ایجاب و قبول ہوتا ہے اور اس پر دو عادل شرعی گواہ بھی مقرر کرنے ہوں گے۔ پھر جب حیض آجائے تو دوبارہ پاکی کے دنوں میں شرعی گواہوں کے سامنے شوہر دوبارہ طلاق دے گا اور پھر تیسری مرتبہ پاکی کے دنوں میں تیسری بار طلاق دے گا۔ اس طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اہل سنت نے جس طرح حلالہ کی لعنت کا دروازہ کھول دیا تھا تو اس کے مقابلے میں شیعہ مؤقف حلالہ کی لعنت سے بچانے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ جب لوگوں کے ذہنوں میں یہ آئیگا کہ ایک ساتھ تین طلاق کی بدعت گناہ ہے۔ حضرت عمر نے اس بدعت کو امت میں جاری کیا ہے تو یقینا لوگ شیعہ بننے کی طرف راغب ہوں گے۔ لیکن جب حقائق لوگوں کو سمجھادئیے جائیںگے تو شیعہ بھی حضرت عمر اور حنفی مؤقف کوتسلیم کرلیںگے۔
شیعہ سنی کاقرآن ایک اور احادیث وروایات کی کتابوں میں اتفاق بھی ہے اور اختلاف بھی۔سورۂ طلاق میں عدت کے مطابق مرحلہ وار طلاق دینے کا حکم ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کرنے یا معروف طریقے الگ کرنے کا حکم ہے۔ جب معروف طریقے سے الگ کرنے کا فیصلہ ہوتو پھر دو عادل گواہ مقرر کرنے کا حکم ہے مگر اسکے باوجود اللہ نے سورۂ طلاق میں اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے اس مشکل طلاق وجدائی کے حصار میں پھنسنے سے نکلنے کی نوید سنائی۔ گویا شیعہ طریقہ سے دوگواہ ہرمرحلے پر مقرر کئے ہوں یا پھر طلاق کے عمل میں بغیر گواہوں کے یہ عدت گزاری ہو۔ عورت کیلئے انتظار کی مدت بہت بڑی چیز ہے، بھلے اس پر مرحلہ وار تین مرتبہ کے دو گواہ مقرر کئے ہوں یا نہ کئے ہوں کیونکہ قرآن کا تقاضہ یہ ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کرنے یا جدا کرنے کے بعد گواہوں کی تقرری ضروری ہے۔ شیعہ نے سنی کے حلالہ کے مقابلے میں اچھے شرائط رکھے ہیں لیکن قرآن سے ان کا مسلک جوڑ نہیں کھاتا بلکہ قرآن کے بالکل برعکس ہے اسلئے کہ قرآن جہاں پہنچنے کے بعد رجوع کا دروازہ کھولتا ہے وہاں شیعہ مسلک بند گلی میں پہنچادیتا ہے۔ سنیوں کیلئے اپنے مسلک کیخلاف جانا آسان ہے مگر شیعہ اس معاملے میں لچک نہیں رکھتے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ایک فاضل دوست نے اس بات کا اظہار کیا کہ” علماء ڈرتے ہیں کہ عوام شیعہ نہ بن جائیں”۔ اسلئے راہِ حق میں آنے سے ہررکاوٹ دور کرنے کیلئے اپنا مؤقف بہت وضاحت کیساتھ پیش کررہاہوں۔
اہل تشیع میں اعتدال پسند بھی ہیں اور شدت پسند بھی۔ دونوں چیلنج کو میں خوش اسلوبی کیساتھ قبول کرنے کو تیار ہوں۔ مجھے اپنے قریبی عزیز، پڑوسی اور احباب ” رحمن” کے نام سے جانتے ہیں اور سکول کے ماحول کی بات کروں تو مجھے ” عتیق” کہتے تھے۔ عتیق الرحمن پورا نام ہے۔ رحمان اللہ کا نام ہے اور اللہ ہی رحمن ہے اور کوئی نہیں ہے۔ البتہ نبی کریم ۖ کو اللہ نے مؤمنوں پرالرؤف الرحیم قرار دیا ہے۔ اہل تشیع شدت پسندانہ خیالات کااظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور نبی ۖ کی صفت رحیمی کی خلافت کا حق ادا کرنے کے بجائے جس قہر کی شدت برساتے ہیں تو پاکستان میں اس بھڑکتی آگ کے شعلوں کا شکار بھی خود بنتے ہیں۔
جس طرح اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ سورۂ رحمن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ الرحمٰنOعلم القرآنO”الرحمن جس نے قرآن سکھایا” سے مراد مری ذات ہے نعوذباللہ یا فلیطوفوا بالبیت العتیق ”پس عتیق (قدیم)گھر کا طواف کرو” سے مراد میرا گھر ہے۔ شیعہ علماء پتہ نہیں کتنی مرتبہ حضرت علی کیلئے قرآن سے الفاظ نکالتے ہیں جس پران کے عوام خوش ہوتے ہیں۔ دلائل اور براہین ایسے ہونے چاہییں جو فریق مخالف کیلئے بھی قابلِ قبول ہوں۔ نبیۖ کیلئے عتبہ، ولید،ابولہب اور ابوجہل میں رشتہ داری کے لحاظ سے فرق تھا لیکن قرآن میں صرف چچاابولہب اور اس کی بیوی کا نام ہے اور باقی کسی دشمن کا نہیں ہے۔ صحابہ کرام سے محبت رکھنے والوں کے سامنے اس بات کا ذکر کافی ہے کہ یزید صحابی نہیں تھا اور حضرت حسین صحابی تھے۔باقی یہ ہے کہ سنی ابوطالب کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ادب کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مہدی غائب کا وجود نہیں مانتے لیکن شیعہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کیلئے مغلظات نہیں بکتے۔ اہل تشیع کے مقتدر علماء کا فتویٰ ہے کہ سنی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنا حرام ہے۔ ذاکر اپنے علماء کے فتوؤں کا لحاظ رکھیں تاکہ قتل وغارتگری کا راستہ رک جائے۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی” اور ” مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟” کے عنوانات کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صحافی جمہوریت کو ربڑ بینڈ سے باندھ کر سیاستدانوں کا گند ریٹائرڈ جنرل پر ڈال رہے ہیں ۔

صحافی جمہوریت کو ربڑ بینڈ سے باندھ کر سیاستدانوں کا گند ریٹائرڈ جنرل پر ڈال رہے ہیں ۔

نوازشریف نے پانامہ لیکس کے بعد پارلیمنٹ میں تحریری جھوٹ بولا، پھر عدالت میں قطری خط پیش کیا ، پھر اس سے مکر گیا، ایون فیلڈ لندن کے فلیٹ پرتو بے شرم کو سزا تک ہوچکی تھی

دھمکی خط میں مداخلت کا اعتراف اور سازش کا انکار تھا۔ توشہ خانہ کے مجرم صرف عمران خان نہیں بلکہ ایک لمبی فہرست ہے ،لاہور ہائیکوٹ کے حکم کے خلاف وفاقی حکومت نے اپیل کردی

1: پانامہ کا انکشاف ہوا تو نوازشریف نے جھوٹ بولا کہ2005میں سعودی اور دبئی مل بیچ کر 2006ء میں ایون فیلڈ کے فلیٹ خریدے۔2:حالانکہ ان فلیٹ پر پیپلزپارٹی نے1994میں کیس بنایا۔ پھر عدالت میں قطری خط پیش کیا گیا اور اس سے پھر لاتعلقی کا اظہار بھی کیا۔
نوازشریف کے سفید جھوٹ کو سچ ثابت کرنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مسلسل پروپیگنڈہ کرتی نظرآتی ہے جس میںسارا ملبہ فوج پر گراتے ہیں، کیا ISIنے پارلیمنٹ میں سفید جھوٹ بولنے اور قطری خط لکھنے پر مجبور کیا تھا؟۔ یہ وضاحت کریں!۔
1:پہلے کیپٹن صفدر نے کہا تھا کہ ”ہم بلیک میل نہیں ہوںگے، جس کے پاس جو ویڈیو ہے وہ جاری کرے، ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے”۔
2: عمران خان کے حامی سوشل میڈیا پر کہتے ہیں مریم نواز کی جنرل قمر باجوہ کیساتھ ویڈیو ہے جس کی وجہ سے جنرل باجوہ بلیک میل ہورہاہے۔
عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کا ریکارڈ عام کرنے کا حکم دیا تو وفاقی حکومت نے مخالف اپیل دائر کردی۔تحائف کو بیچنے اور استعمال کرنے کی قانون میں اجازت نہیں بلکہ عجائب گھر کی طرح رکھنا ہوتا ہے۔اس حمام میںسب ہی ننگے ہیں۔

___انقلابِ نوازشات دھوبی گھاٹ___
جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس فائز عیسیٰ نے نوازشریف کے خلاف فوج اورISIکے دباؤ کا ذکر کیاتھا لیکن پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو لندن میں بیٹھ کر نوازشریف نے کیوں ایکسٹینشن دی تھی؟، کیا جاوید چوہدری یہ بتائیگا کہ اڈیالہ جیل میں شیو کا بلیڈ دکھا کر منے نوازشریف کو ڈرایا دھمکایا گیا کہ” اگر ایکسٹینشن نہیں دی تو تجھے ذبح کردینگے؟”۔ کیا جنرل راحیل شریف نے زبردستی سے پارلیمنٹ کے جھوٹے بیان پر مجبور کیا تھا؟۔کیا جنرل باجوہ نے مجبور کیا تھا کہ جھوٹاقطری خط لکھو اور پھر اس کا انکار کردو؟۔ عدالت نے اتنے بڑے بڑے جھوٹ پکڑنے کی جگہ اقامہ پر سزا دی تو اس سے بڑی اور کیا رعایت ہوسکتی تھی ؟۔ لیکن الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر تسلسل کیساتھ صحافیوں کی ایک بہت بڑی اور انتہائی جھوٹی ٹیم نوازشریف اور اسکے ٹبر کے کپڑے دھو دھو کر دھودھو کر دھو دھوکر اسکا سارا گند فوج اور جنرل باجوہ پر ڈال رہی ہے۔ کیا ان تمام صحافیوں نے کبھی نوازشریف اور اسکے ٹبر سے پوچھا ہے کہ پارلیمنٹ میں اتنا بڑا جھوٹ بولنے اور قطری خط لکھنے پر فوج نے مجبور کیا تھا؟۔ بکاؤ مال کا تسلسل کیساتھ ایک ہی بیانیہ قوم کے ذہن میں ڈالاجا رہا ہے کہ نوازشریف کیساتھ فوج نے بہت بڑا ظلم کیا اور اس کا یہ کہنا درست تھا کہ ”مجھے کیوں نکالا اور ووٹ کو عزت دو”۔ شرم سے ڈوب مرنا چاہیے!۔

___انقلاب ِعمرانیات دھوبی گھاٹ___
جو صحافی فوج اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماموں، چچا اوربھتیجے بنے تھے اورعمران خان بیساکھی جہانگیر ترین اور علیم خان سے محروم ہوا ۔لوٹے کھوٹے ہو گئے ۔PDMبھی زرداری کیساتھ مل کر حکومت گرانے پر آمادہ ہوگئی تو عمران خان نے فوج کو کہاکہ مجھے کیوں گرایا یا پھر بچایا کیوں نہیں؟۔ جنرل باجوہ کو سب نے مل کر ایکسٹینشن دی ۔ جنرل آصف غفور نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے دوران کہا کہ فوج ہر حکومت کو سپورٹ کریگی جو جمہوری بنیاد پر اقتدار میں آئے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام تنگ تھی ۔ نوازشریف نے جنرلوں کے نام لیکر خوب تذلیل کی اور پیپلزپارٹی،ANPکو بہانہ بناکرPDMسے نکالا حالانکہPDMکا پہلا اجلاس پیپلزپارٹی نے بلایاتھا،جہاں مولانا فضل الرحمن نے غلط پرچی پڑھ کر سنانا شروع کی،ارشد شریف فوج کے پیچھے لگ کرانقلابی بن گئے، مولانا حق نواز جھنگوی نے عابدہ حسین کو نامزدکیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا جھنگوی کا قاتل نواز شریف اورعابدہ حسین کو قرار دیاپھر نوازشریف اور سپاہ صحابہ نے ملکر بیگم عابدہ حسین ،مولانا ایثارالحق کو جھنگ سے مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں جتوایا تھا۔مولانا جھنگوی کے بیٹے کی پراسرار موت ہوئی ، اب دوسرے بیٹے کو جھنگ سے ٹکٹ بھی نہیں دیا جاتا اور اپنوں کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے پختونخواہ کو تباہ کردیا،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ اصغر خان اچکزئی

جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے پختونخواہ کو تباہ کردیا،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ اصغر خان اچکزئی

آج پورا پشتونخواہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے فورسز غیر محفوظ ہیں ۔ طالبان نے افغانستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی۔

ANP کے اصغر خان اچکزئی نے ایوان کے در و دیوار ہلادئیے۔ ویڈیو بیان
اصل میں اس طرح کے معاملات میں قرار دادلانا اور پھر اس کی حمایت یا مخالفت میں بات تب ہوسکتی ہے جب ایک چیز معلوم ہو۔ ہمیں تو آج تک ان واقعات کے اصل محرکات کا پتہ نہیں کہ جھگڑا کس بات کا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ اکثر مسئلے مسائل ہوتے ہیں دونوںکے دفتر خارجہ اسٹیٹمنٹ جاری کرتے ہیں کہ یہاں پر اس طرح کی زیادتی ہوئی ہے۔ یہاں پر دونوں طرف سے خاموشی ہے اور ابھی ہم حمایت میں یا مخالفت میں بات کریں اور کل پھر وہ پرسوں ترسوں ایک دوسرے کو بٹھائیں اور چائے پلائیں بس معاملہ ختم ہوگیا۔ اصل میں اس جرم کے مرتکب دونوں طرف ہیں۔ جناب اسپیکر! قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ جنگ اور یہ جھگڑا کس بات پر ہے۔ جس طرح آج یہاں پر دوستوں نے بات کی ہے کہ” آج کے اس ماحول کیلئے اور افغانستان کو بنانے کیلئے ہم نے کم و بیش40سال محنت کی ہے”۔ اپنے افغانوں اورانکے ملک کو اپنی جگہ چھوڑ دیں ۔ ان کی جو حالت ہم نے یہاں سے کردی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ لیکن آج کے اس موجودہ رجیم کیلئے افغانستان میں ہم نے اپنے ہی ملک کو نہ صرف فرقہ واریت سے دوچار کیا ۔ یہاں پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیا، ٹارگٹ کلنگ، منشیات کلچر، اسلحہ کلچر ، دنیا جہاں کے جرائم کو ہم نے اس پالیسی کی وجہ سے اپنے ہی ملک میں فروغ دیا۔ ایسا کوئی جرم دنیا میں کہیں پر نہیں جو یہاں پر ابھی نہیں ہورہا ہے؟۔ ہر لحاظ سے۔ یہ سارا سب کچھ ہم نے صرف کابل کو فتح کرنے کیلئے کیا۔ ہمیں یاد ہے جب مجاہدین کی حکومت بن گئی ۔ جنرل ضیاء الحق اس وقت زندہ نہ تھے تو نواز شریف کابل گئے کہ آج ہمارے لئے افتخار کا دن ہے اور اسکا خواب جنرل ضیاء الحق نے دیکھا تھا کہ میں پل خشتی مسجد میں دو رکعت نفل بطور فاتحانہ انداز میں ادا کرلوں۔ ایک وہ وقت تھا اور ایک جب یہ ٹیک اوور ہوا تو جس طرح بھائی نے بات کی اسی طریقے سے جنرل فیض نے کابل میں فتح کا جشن کابل منایا۔ ابھی مسئلہ یہ ہے کہ جھگڑا کس بات پر ہے؟۔ ابھی جب میں یہاں پر آیا تو ہم نے بشیر بلور کیلئے فاتحہ خوانی پڑھی۔ اس کی کیا دشمنی تھی؟ یہ دہشتگردی ہمارے ملک میں کس کیوجہ سے پھیلی؟۔ جسکی نذر عوامی نیشنل پارٹی سے لیکر ہماری فورسز ، جرنیلوں، پولیس کے سپاہیوں، لیویز، سیاسی ورکرز، وکلاء تک سب ہوئے، 8 اگست کا واقعہ سامنے ہے۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات میں ہمارا خون پانی کی طرح بہایا، ہمارے سیاسی ورکر سے لیکر ہماری قیادت تک کسی کو نہیں بخشا گیا یہاں تک کہ ہمارے علماء کرام بھی اس کی نذرہوگئے۔ ابھی آپ کے توسط سے پوچھنا چاہتا ہوں ۔ جمعیت علماء اسلام کے اس ایوان میں کافی سینئر ساتھی بیٹھے ہیں۔ مولانا حسن جان جیسا بندہ بھی اس دہشت گردی کی نذرہوا۔ اس دہشت گردی کی مولانا نور محمد، مولانا معراج الدین اورباجوڑ کے علماء نذر ہوئے۔ اسی دہشت گردی کی نذر کرنے کیلئے مولانا فضل الرحمن پر ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں حملے ہوئے۔ زندگی دینے والا تو اللہ ہے اور لینے والا بھی اللہ ہے یہ اپنی جگہ اور اس دہشت گردی کی وجہ سے ہمارا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جو کسی نہ کسی طریقے سے متاثر نہ ہوا ہو۔ جناب اسپیکر! اس میں کوئی گڈ او ربیڈ نہیں ۔ یہ سب ایک جیسے لوگ ہیں۔ آج بھی ان پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا پورا پختونخواہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ آپ کے تھانے، سی ٹی ڈی کے تھانے قبضہ ہورہے ہیں۔ پھر انکے لئے پلے گراؤنڈ کس نے بنایا؟۔ جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے۔ کوئی بات نہیں کرسکتا کہ فیض اور بیرسٹر سیف کون ہے کہ وہ پشتونوں کی زمینوں اور دھرتی کا فیصلہ کرلے۔ انہوں نے خود کہا کہ میں نے مذاکرات کئے اور افغانستان سے انتہا ء پسند اور دہشتگردوں کو اپنے علاقے حوالہ کردئیے اور جس طرح کسی کے ماموں کا بیٹا ہوتا ہے ، کسی کی خالہ کا بیٹا ہوتا ہے اس طرح لوگوں کو لاکر کسی کو دیر حوالے کیا، کسی کو بونیر حوالے کیا، کسی کو سوات حوالے کیا۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے ہمارے ملک کے سیکورٹی اداروں کا اسٹیٹمنٹ تھا ڈیڑھ مہینے پہلے کی پالیسی جو یہاں پر مذاکرات کے نام پر بنائی گئی تھی اس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ ہر دو مہینے کے بعد ہم پچھلے دو مہینے کے اعمال پر پشیمان ہوتے ہیں اور یہ تو40سال کی پالیسی ہے۔
میں یہاں پر دہشت گردی کی رواں لہر پر بات کررہا تھا کہ آج پورا پشتونخواہ اس کی لپیٹ میں ہے۔ پورا بلوچستان ان ڈائریکٹلی لپیٹ میں ہے۔ فورسز غیر محفوظ ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات اور واردات ہم دیکھ رہے ہیں ۔ یہ سارا انہی کا تسلسل ہے اور انہی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ آج افغانستان پر جب ہم بات کرتے ہیں ایک عجیب و غریب، پرسوں ترسوں انہوں نے ایک فرمان جاری کیا کہ اوور آل پورے افغانستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں پر پابندی ہے۔ یہ دنیا پر کہیں آپ نے دیکھا ؟ اگر اسکا درس اسلام دیتا ہے تو کوئی اس کی نشاندہی کردے۔ کوئی ہماری رہنمائی کرے۔ گائڈ لائن دیدے کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم پر یونیورسٹی لیول پر پابندی ہے۔ یہ حکومت ہماری ریاست نے وہاں پر براجمان کردی ،افغان تو تباہ و برباد تھے ان کی پالیسیوں اور حکمرانی کی وجہ سے بلکہ اس کے تسلسل میں ہم یہاں پر دربدری سے دوچار ہیں، غیر محفوظ ہیں، ہر لحاظ سے ہمارے یہاں پر منفی اثرات اُدھر کے اِدھر پڑ رہے ہیں۔
جناب اسپیکر! ہمارے حکمرانوں کو آج ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ یہ تو ہم نے دیکھا کہ ہم نے بلوچستان کیساتھ زیادتی کی۔ ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی پالیسیوں کو اپنا کر اس ملک کو تباہ و برباد کیا۔ یہ ہم نے دیکھا کہ یہاں پر انہوں نے معافی مانگی ہے کہ ووٹ پر ہم نے ڈاکہ ڈال کر اس ملک کو دو لخت کیا۔ آج بھی ہم کہتے ہیں کہ خدارا ! دہشت گردی کی اس پالیسی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ اس کو ری ویو کردیں۔ جو پالیسی آپ کوخون بہنے ، دربدری اور تباہی کے سوا کچھ دے نہیں پارہی ہے تو اس پالیسی کو اپنا کر آپ دھرتی پر رہنے والی مختلف اقوام کو کیا میسج دیں گے؟ اس کا نتیجہ پھر کیا ہوگا؟۔ تو جناب اسپیکر ! میں کہتا ہوں کہ بجائے اسکے کہ کوئی قرار داد کی حمایت اور مخالفت پر بات کرے ، اس پر بات کرنی چاہیے کہ واقعہ کیوں ہوا؟۔ دونوں طرف یہ بحث ہونی چاہیے اور محرکات سامنے لانے چاہئیں کہ اصل واقعے میں پس پردہ وجوہات کیا ہیں؟ جب تک یہ سامنے نہیں آئیں گے ہر دوسرے تیسرے دن اِ س نے اُس کو مارا اُس نے اِس کو مارا، یہاں پر بم پھٹا، وہاں پر بم پھٹا۔ اور نتیجہ یہ کہ دو دن کے بعد پھر مذاکرات ۔ کہتے ہیں گفتاً ، نشستاً برخاستاً، لوگوں کی جانیں گئیں، گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے اور ہم پانچ دن کے بعد پھر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ حل ہے تو اس طرح سے مسئلے حل نہیں ہوتے اور نہ اس قرار داد کی حمایت یا مخالفت سے کوئی اثر پڑے گا۔ وہاں پر ان چیزوں کو دیکھنے والے کوئی بیٹھے ہوئے ہیں؟۔ ان چیزوں کا اثر لینے والے کوئی بیٹھے ہوئے ہیں؟، وہاں پر تو ایسی رجیم بٹھادی گئی کہ نہ تو ان کو اپنی خواتین، بچیوں ، اپنی بہنوں اور ماؤں کے علم اور مستقبل کا کوئی سوال انکے ذہن میں ہے، نہ اپنی ڈولپمنٹ کا کوئی سوال انکے ذہن میں ہے۔ سوائے مارا ماری کے، خون بہانے کے ، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے ان کو آتا کیا ہے؟۔ اور ان سب کی قصور وار ہماری ریاست ہے ، ریاستی ادارے ہیں، جسکے بل بوتے پر یہ لوگ وہاں پر بیٹھ گئے۔ ابھی یہ ہمارے اداروں کا کام ہے کہ کیسے ان مسائل ، انتہاء پسندی اور دہشتگردی سے اپنے آپ کو نکالیں اور وہاں پر لوگوں کی حمایت ، تمام افغانوں کی حمایت سے ایک ایسی حکومت ہم کیسے تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں کہ جس پر سب کا اتفاق ہو ، جو تمام افغانوں کو قابل قبول ہو۔ اور یہ عجیب مذاکرات ہوئے جناب اسپیکر! یہاں پر بات ہورہی ہے اصل فریق تھا جو کابل کا وہ کابل میں بیٹھا تھا اور دوحہ میں مذاکرات پاکستان، طالبان اور امریکہ کے درمیان ہورہے تھے۔ اصل فریق ادھر بیٹھا تھا اور سب نے مل کر جس طریقے سے اس کو ہٹایا آج کے موجودہ افغانستان اور اس ریجن کی ذمہ دار دنیا ہے بالخصوص ہمارا اپنا ملک ہے جس نے نہ صرف وہاں کے حالات کو اس نہج پر پہنچادیا بلکہ اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں اس وقت جو صورتحال ہے ان سب کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں ۔
بلوچستان اسمبلی میں نصراللہ زیرے کی تقریر بھی اس قسم کی تھی کہ کابل سرینا ہوٹل میں جنرل فیض حمید کی تصویر نے دنیا کو کیا پیغام دیا؟۔ چمن میںNLCکو جگہ دینے کیلئے یہ جھگڑا مصنوعی طریقے سے اٹھایا گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

امریکہ، برطانیہ،اسرائیل ،آسٹریلیا کو فتح کیا جائے توجہاز میں لونڈیاں بھر لانا جائز ہوگا؟

نکاح کے نام پر عورتیں پسِ پردہ بیچ دو ؟،انہیں اجنبی اٹھالیجائیں؟ ۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ نے سعودیہ، ایران پھر افغانستان میںانقلاب کے نام پراسلام کیخلاف سازش مسلط کی ہے؟

افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی اسلام اور افغانی غیرت کاتقاضہ ہے تو کیا حلالہ کی لعنت اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضہ ہے؟،علماء کو اسلام کا پتہ نہیں توطالبان بالکل ہی معذورہیں

قرآن وسنت میں نکاح وطلاق ،وضوونمازکے لایعنی مسائل ، لغو اجتہادات کی گنجائش نہیں بلکہ تسخیرِ کائنات کیلئے جدید علوم پر زور ہے۔ ام عمارہکے پورے جسم پر تیروتلوار کے نشان تھے

افغان طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگائی، علماء ومفتیان اور اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا سے سخت ردِ عمل آیا۔ اگر طالبان کو دینی علوم کے پیرائے میں نہ سمجھایا جائے تو وہ مجبور ہونگے ۔ عمران خان اور ٹیرن وائٹ کی کہانی کا پتہ تھا مگر اقتدار میں لایا گیا۔ گیلے کا کچھ گیلا نہیں ہوتا۔ دختر قائداعظم دینا جناح، بیگم راعناقائد ملت لیاقت اورجنرل رانی سے لیکر میڈم طاہرہ مولانا سمیع الحق ، رنگیلاوزیرِ اعظم نواز شریف اور صابر شاہ و مفتی عزیزالرحمن تک داستانیں ہیں۔ منفی پروپیگنڈے اور سیاست بہت ہوچکی ، قوم کو مثبت اقدام کی طرف لائیں۔ طالبان سے اپیل ہے کہ پہلے قوم امریکہ کے مقابلے میں ساتھ کھڑی تھی لیکن اب دنیا بدل چکی ۔ ہم نے آواز لگائی تھی کہ جاندارکی تصویر جائز نہیںجاندار کی تصویر کو مٹادو۔ پردہ کرنا فرض ہے، شریعت کے مطابق پردہ کرو۔ داڑھی منڈانا جائز نہیں ،شریعت کے مطابق داڑھی رکھو۔ اب ہم نے بھی قرآن وسنت اور علماء حق کی تحقیقات کے مطابق اپنی رائے بالکل بدل دی۔تصویر اور داڑھی پر تم نے بھی اپنی رائے بدلی ہے لیکن خواتین کی تعلیم سے جن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہیں۔ حضرت آدم و حوا نے ممنوع ہونے کے باوجود شجر کا ذائقہ چکھ لیا جس سے بے لباس ہوگئے۔ بنی آدم کو قرآن نے اپنے ماں باپ کی طرح بے لباس ہونے سے بچنے کا حکم دیاہے۔ اسلام میں باجماعت نماز کی صفوں میں خواتین کا بھی حق ہے۔طواف، صفا ومروہ کی سعی میں شانہ بشانہ ہوتی ہیں۔ جدید تعلیم اسلام کا تقاضا اور عروج کا ذریعہ ہے۔ ان پڑھ معاشرے میں اسلامی لحاظ سے جتنی عورت مظالم کا شکار ہے ،پڑھی لکھی خواتین کو اسکے مقابلے میں بہت زیادہ تحفظ حاصل ہے،مدارس کا نصاب درست کرو۔
فقہ کی کتابوں میں ہے کہ ” باجماعت نماز کی صف میں پہلے مرد، بچے، پھر بچیاں اور عورتیں کھڑی ہوں گی”۔ جب لوگ پانچوں وقت گلی ،محلے، گاؤں دیہات اور شہروں میں مساجد کے اندر لوگ فیملی کیساتھ نماز باجماعت میں شرکت کریں ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” اپنی عورتوں کو نماز باجماعت اور مساجد میں آنے سے مت روکو”۔ یہ واضح ہے کہ اگر مسلمانوں کی بیگمات یہودونصاریٰ ہوں تو ان کو بھی اپنی عبادتگاہ میں جانے سے مت روکو۔ اگر افغان طالبان اپنی امارت اسلامی افغانستان میں ان اسلامی احکام پر عمل کریںگے تو پھر وہ خود بخود خواتین کو فیملی پارک، شاپنگ مال اور تعلیمی اداروں میں جانے سے نہیں روکیں گے۔ نماز کی طرح طواف اور صفا ومروہ کی سعی میں مردوں اور خواتین میں صفوں کی ترتیب بھی نہیں ۔ قرآن نے ہمیں ملت ابراہیم پر قرار دیا تو حضرت حاجر ہ اور چھوٹے بچے حضرت اسماعیل کو وادیٔ غیرآباد مکہ میں چھوڑنا کیسا تھا؟۔کوئی محرم مرد پاس تھا؟۔ پھر ان کی سنت صفا ومروہ کی سعی کا فریضہ کیوں ادا ہوتا ہے؟۔ اگر کسی کی بیوی ، بہن، بیٹی اور ماں گھر سے باہر جائے تو اس کو پولیس والے اُٹھاکر لے جائیں؟، یہ کونسی عربی، ایرانی اور افغانی غیرت کا تقاضا ہوسکتا ہے؟۔
طالبان جنگجو ہیں۔ حضرت نُسیبہ( ام عمارہ) بہادر انصاری صحابیہ وہ تھیں، جب بہت مرد احد میںبھاگ چکے تھے تو نبی ۖ نے فرمایا کہ ” جب میں دائیں دیکھتا تھا تو نُسیبہ ہے، بائیں دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے، سامنے دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے”۔پانی لانے کی خدمت پر مأمور تھیں۔ جب دشمن کے حملوں کا زور دیکھا تو نبیۖ کا ہر طرف سے دفاع کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں بھی بہت سی جنگوں میں حصہ لیا اور جب فوت ہوگئیں تو غسل دینے والی خاتون نے کہا کہ ”جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں پر تیر یاتلوارکے زخم کا نشان نہ ہو”۔
اگر افغان طالبان اپنی غیرت کو پسِ پشت ڈال کر ملاعمر کے دور میں بھی افغان لڑکیوں اور خواتین کو نہ صرف جدید تعلیم سے آراستہ کرتے بلکہ بہترین قسم کی جدید فوجی ٹریننگ بھی دیتے تو امریکہ اور نیٹو کے ناجائز حملوں کے بعدبہت ساری تعداد میں حضرت ام عمارہ کی جانشین خواتین نہ صرف شانہ بشانہ لڑنے کی پوزیشن میں ہوتیں بلکہ جن خواتین کی عصمت دری کی گئی اور جن جوانوں کو سزا کیلئے گوانتاناموبے کی ابوغریب جیل میں پہنچایا گیا تو اس کی بھی نوبت نہ آتی۔ اور مذاکرات کی بجائے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے ایسے بھاگتے کہ عراق و لیبیا کا رخ بھی نہ کرتے۔ دنیا کے دل ودماغ میں یہ تھا کہ افغان خواتین کو یرغمال بنایا گیا اور اس میں امریکہ ، پیپلزپارٹی اورISIکا بھی عمل دخل ہے۔ کیونکہ نصیراللہ بابر کی کہانی منظر عام پر ہے۔ پاکستانیISIسے محبت رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو کو ہم نے افغانستان میں لاکر شکست دی ۔ امریکیCIAسے خطرہ محسوس کرنیوالے اس کو پاکستان کے خلاف کامیاب سازش سمجھتے ہیں۔ طالبان کس جگہ کھڑے ہیں؟۔ کیا ان کو پھر سب مل کر قربانی کا بکرا بنائیں گے؟۔ ہم نے یہ لکھا تھا کہ ” تحریک طالبان پاکستان کو پرامن راستہ دیا جائے” ۔ نظام کی تبدیلی صرف جنگ سے نہیں بلکہ ایک صالح معاشرہ قائم کرنے سے ممکن ہے۔
جب روس آیا تو افغانستان سے آنے والے خاندانوں نے بڑے شہروں میں پاکستانیوں کا حال مزید خراب کردیا تھا۔ اب طالبان کے ہاتھوں جو افغانی خاندان دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں کیا یہ اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضا ہے؟۔ روس افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آیا اور امریکہ ونیٹو بھی افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آئے۔ پاکستان کو کوئلے کی دلالی میں اپنا منہ کالا کرنے کے سواکچھ نہیں ملا۔ اگراب پھر دنیا نے افغانستان کے اہم مراکز پرB52طیاروں سے بمباری کرکے قلع قمع کیا توپاکستان خفیہ مدد کی ہمت نہ کریگا۔ افغان جانے اور طالبان جانے کی پالیسی اپنائے گا۔ ایران، ازبکستان اور تاجکستان بھی محتاط رہیںگے۔ قوم پرست افغانیوں کے ہاتھ میں بڑا زبردست موقع ہاتھ آئیگااور افغانی اپنے دشمنوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں؟۔ وہ سب جانتے ہیں۔
مولانا منظور مینگل کی ویڈیو احمد رفاعی کے نام سے سوشل میڈیا پر ہے جس میں یہ بھی بتایاہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی شہید اچھا مطالعہ رکھتے تھے اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ہدایہ سمیت فقہ کی معتبر کتابوں میں امام ابوحنیفہ وامام شافعی کی طرف منسوب باتیں بالکل بعد والوں نے فروعات گھڑ کر ان کی طرف منسوب کردی ہیں۔ جو اصولی طور پر غلط اور فروعات ہیں۔
فقہ حنفی میں نماز کے چودہ فرائض میں آخری فرض یہ ہے کہ ” اپنے ارادے کیساتھ نماز سے نکلنا”۔ بھلے اپنی ریح خارج کرکے نکلے۔ طالب علمی کے دور میں اساتذہ اور مفتی اعظم پاکستان تک سے مسائل پوچھے مگر کسی کے پاس جواب نہ تھا۔ سوال یہ تھا کہ سلام سے نماز کی تکمیل واجب اور ارادے سے تکمیل فرض ہے تو ریح خارج کرکے ایسے نماز کے فرض کی ضرورت کیوں آئی کہ جو واجب الاعادہ بن جائے؟۔ پھر علامہ ابن رشد کی کتاب میں دلیل دیکھی کہ عبداللہ مغربی نے کہا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ” جو نماز کے آخری قعدے میں ہو اور اس نے ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی”۔ عربی الفاظ میں خارج ہونے کی جگہ خارج کرنے سے یہ مسئلہ اخذ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص انتقال کرگیا اور یہ بھی کہ فلا ں فوت ہوگیا یا اس کاانتقال ہوگیا۔ ریح خارج ہونا یا کرنا ایسی بات نہیں کہ اس کی بنیاد پر اتنا بڑا مسئلہ ایجاد کیا جاتا۔ آخری قاعدے تک محنت کی ہو اور پھر ریح خارج ہوجائے تو حدیث کی بنیاد پر ازسرِ نو مشقت اٹھانے سے بچنے کے علاوہ شرمندگی سے بھی بچا جاسکتا ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ کوئی جانتا ہو کہ کون پاس سے رفو چکر ہوا ہے۔ تربت میں میری گھر والی کے چچا نے بتایا کہ نماز میں مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ساتھ میں ایک خاتون کھڑی ہوگئی۔ جب سلام پھیرا تو پتہ چل گیا کہ کوئی مرد غلطی سے اپنی بیگم کی شلوار پہن کر آیا تھا۔
غسل اور وضو میں بھی بالکل لایعنی اور لغو فرائض پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر قرآنی آیات کو دیکھا جائے تو جنابت سے غسل، نہانے کا حکم ہے اور وضو کے مقابلے میں نہانے میں مبالغہ ہے۔ اسلئے مبالغے پر فقہی مسالک کے اختلافات بالکل لغو اور لایعنی ہیں، اسی طرح وضو میں سر پر مسح کے حوالے سے جس بنیاد پر اختلاف ہے تو اللہ نے اختلافات والوں کا منہ کالا کرنے کیلئے تیمم میں بھی انہی الفاظ کیساتھ چہرے پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس میں اختلافات ممکن نہیں تھے۔ اسلئے سر کے مسح میں فرائض کی طرح تیمم کے مسح میں اختلاف نہیں ۔
اجتہاد شریعت سازی نہیں بلکہ قاضی اور جج کا فیصلہ ہے۔ قرآن و حدیث میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے اجتہادات کی مثالیں موجود ہیں۔ فصل اور مویشی کا فیصلہ قرآن میں اور بچے کو بھیڑیا کے کھانے بعد دوسرے بچے پر دوعورتوں کے جھگڑنے کا فیصلہ حدیث میں ہے۔اجتہاد کی تقلید نہیں اسلئے کہ بچے کو ایک مرتبہ جس حکمت عملی سے اپنی حقیقی ماں کے حوالے کیا گیا تو دوسری مرتبہ لوگ اجتہاد کے حقائق سمجھ کر یہ فیصلہ نہ کراتے۔ حضرت سلیمان نے مویشی اور فصل میں دونوں کے معاشی صورتحال کا لحاظ رکھ کر فیصلہ دیا تھا مگر قرآن و حدیث کی حکمتوں اور معاشی ومعاشرتی معاملات سے ہمارے علماء بہت دور ہیں۔
نکاح وطلاق کے حوالے سے اتنے مضحکہ خیز مسائل گھڑے گئے کہ اگر ان کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تو علماء کو شریف بھی سمجھنے سے قاصر ہونگے۔ اصول ِ فقہ کی کتاب ”نورالانوار” میں ساس کی شرمگاہ پر اندر سے شہوت کی نظر پڑنے کو نکاح قرار دیا گیااور باہر سے عذر قرار دیا گیا ۔ عدت میں عورت پر نظر پڑنے کو نیت کے بغیر بھی رجوع قرار دیا ۔ اگر ہاتھ کا لگنا اور شہوت کی نظر کا پڑنا واقعی نکاح ہے جس طرح کہ حنفی اصول فقہ میں ہے تو تعلیمی اداروں اور بازاروں کا واقعی جو فیصلہ طالبان نے خواتین کے بارے میں کیا وہ درست ہے اسلئے کہ ٹچ اور نظر کی شہوت سے تباہی کے مسائل پیدا ہونگے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تصنیف شدہ کتاب ” تین طلاق کے مسائل ” میں بھی بکواسات کو شرعی مسائل کا نام دیا گیا۔ مدارس کے نصاب کے کفریات کا اندازہ عوام کیلئے مشکل ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے ایک مولوی نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ” ایک شخص نے اپنی بیٹی کے بدلے ایک بیوی خرید لی، عورت نے خدمت کی لیکن وہ بیمار تھا اور مباشرت نہیں کرسکااور فوت ہوگیا۔ اب اس کا بیٹا اپنی اس سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے؟۔ ایک طرف قرآن میں اپنے آباء کی منکوحہ عورتوں سے نکاح کو منع کیا گیا ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ اگر ان عورتوں میں دخول کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے اور اگر دخول نہیں کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے؟”۔
میں نے جواب دیا کہ ” عرب میں باپ کی منکوحہ کو وراثت کا مال سمجھ کر جو نکاح کیا جاتا تھا، یہ بھی وہی صورت ہے۔ اسلام تو دور کی بات ہے انسانیت کے بھی یہ منافی ہے کہ عورت کو جانور کی طرح خریدا اور بیچا جائے۔ اللہ نے باپ کی منکوحہ اور بہو کو حرام قرار دیا ہے اور ساس کو حرام قرار دیا ہے اور سوتیلی بیٹی سے بدکاری کے خدشے سے روکنے کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے ۔یہ نہیں ہوتا کہ کوئی جوان بیٹی کو چھوڑ کر زیادہ عمر والی ساس سے نکاح کرے اسلئے کافی تھا کہ تمہاری بیگمات کی مائیں۔ حلائل ابناء کم تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔ لیکن جن عورتوں سے شادی کی اور ان کی پہلے شوہر سے بیٹیاں ہوں تو کم بخت انسان ان لڑکیوں کو شکار کرسکتا تھا اسلئے اللہ نے واضح فرمایا کہ” جن سوتیلی بیٹیوں کو تم نے اپنے حجروں میں پالا ہے اور جن کی ماؤں میں تم نے ڈالا ہے ،اگر نہیں ڈالا تو پھر ٹھیک ہے”۔ قرآن کی اس وضاحت سے بدبختوں کو شرم دلائی گئی کہ یہ سوچ غلط ہے۔ قرآن نے جنسی تعلق کا ذکران الفاظ میں کیا ہے کہ ” جب اس نے ڈھانپ لیا اور پھر اس کو خفیف حمل ٹھہر گیا، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے صالح (سلامت) اولاد کی دعامانگی اور جب اللہ نے بیٹا دیا تو پھر اللہ سے شرک کرنے لگے”۔ قرآن نے سخت الفاظ سختی سے منع کرنے کیلئے ارشاد فرمائے۔
محرمات کی آیات سے جو چوتھے پارے کے آخر میں ہیں، جہاں پر محرمات اورحرمت مصاہرت کی بھرپوروضاحت ہے وہاں پر سخت الفاظ سے یہ بھی واضح کردیا گیاہے کہ فقہ حنفی میں حرمت مصاہرت کے نام پر جو گالیاں اوربکواسات لکھے گئے ہیں ان کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ جب ان بکواسات کو علماء اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کریںگے تو ان کے شاگرد طالبان کی بھی اسلام کے حوالے سے آنکھیں کھل جائیں گی۔ کیونکہ مخلوط فضاء میں کس کا ہاتھ کس کا چھوا ہے اور کس کی نظر کس پر شہوت سے پڑی ہے، سب ایکدوسرے کیلئے حرمت مصاہرت کی وجہ سے محرمات اور عجوبہ روزگار بن جائیںگے۔
قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی اصولی تعلیم میں باہمی صلح سے رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا اور حلالہ اسلامی اور افغانی غیرت کے منافی ہے لیکن اس کے خاتمے کا اعلان بھی پہلے علماء کو کرنا پڑے گا۔ یہ قرآن کے لعان کے قانون سے زیادہ سندھی، بلوچی، افغانی اور پنجابی غیرت کے منافی ہے لیکن افسوس کہ قرآن کے لعان والے قانون کو نہیں مانتے اور فقہ کی لعنت حلالے کے قانون کو اپنے کلچر کا حصہ بہت منافقت سے بنائے ہوئے ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے بھی ماننے سے انکار کردیا تھالیکن منافقت نہیں کی تھی۔ اکبر بگٹی نے ماننے سے انکار کیا تھا لیکن منافقت نہیں کی تھی۔ علماء ومفتیان اور طالبان تو صحابہ کرام کی طرح نہیں ہیں بلکہ غیرت سے عاری منافقین کا کردار ادا کررہے ہیں۔
اگر داعش خراسان نے افغانستان پر قبضہ کرکے عالمی خلافت کا اعلان کردیا اور پھر امریکہ، روس، اسرائیل، فرانس ، برطانیہ، جرمنی ، آسٹریلیا اور چین وغیرہ کو فتح کرلیا تو کیا جہازوں میں لونڈیاں بھر بھر کر لانا جائز ہوگا کہ نہیں ہوگا؟۔ محرم کو ساتھ میں لایا جائے گا کہ نہیں؟۔ کیا اس طرح کا اسلام دنیا نافذ کرنے دے گی؟ یا پھر مسلمانوں کی خواتین کوبھی سہولت کاری فراہم کرکے لیجائیں گے؟۔ عثمانی خلیفہ نے ساڑھے چار ہزار لونڈیا ں اپنے پاس رکھی تھیں۔ کیا قرآن وسنت سے اس کی اجازت ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تم نکاح کرو، جن عورتوں کو تم چاہتے ہو دو دو، تین تین ، چار چاراور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہ کرسکوتو پھر ایک یا جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ ان سے لونڈیاں مراد نہیں اسلئے کہ لونڈیوں کابھی نکاح کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ان سے مراد ایگریمنٹ والی ہیں جس کو شیعہ متعہ اور سعودی عرب والے مسیار اور اہل مغرب گرل فرینڈز، اہل مشرق رکھیل اور داشتہ کہتے ہیں۔قرآن وسنت میں متعہ کا تصور موجود ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ ” اگر اس پر پابندی نہ لگائی جائے تو قیامت تک کوئی زنا نہیں کریگا مگر بدبخت”۔ عبداللہ ابن مسعود نے قرآن کی تفسیر میں متعہ کو جائز قرار دیا تھا۔ ان پر اضافی قرآن کا بہتان قرآن اور ابن مسعود کے خلاف سازش ہے۔ جبکہ بخاری میں ابن مسعود سے حدیث منقول ہے۔افغانی اصطلاح میں آشنا رکھنا جائز نہیں ۔ قوم لوط پر عورتوں کی جگہ مردوں سے بدفعلی کرنے پر تباہی آئی تھی۔ یہ جو کچھ افغانستان میں تباہی ہورہی ہے یہ عذاب کی ایک زبردست شکل ہے۔
اگر عمران خان نے سیتاوائٹ کیساتھ ایگریمنٹ کیا تو باقی داستان اس کی اپنی ہے، قانونی جرائم کیا ہیں اور کیا نہیں ؟۔ اس سے ہماری کوئی غرض نہیں البتہ ٹیرن وائٹ بالکل جائز بیٹی ہے۔ اسلام نے لونڈی کیساتھ نکاح کا حکم دیا تھا تو ایگریمنٹ سے لونڈی مراد نہیں ہوسکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ لونڈی اور غلام کو بھی ایگریمنٹ کا درجہ دیا گیا۔ کیونکہ انسان کسی انسان کی ملکیت نہیں ہوسکتا اور نہ اسلام نے عبدیت کا جواز چھوڑا۔ صحابہ کہتے تھے کہ ہمارا کام بندوں کو بندوں کی بندگی (غلامی) سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی کی طرف لانا ہے۔ عبدیت اور غلامی ایک بات ہے ۔ اسلام غلام اور لونڈی بنانے کیلئے نہیں آیا بلکہ آزادی دلانے کیلئے آیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کوقتل اور عورتوں کی حیاء (عصمت) لوٹتے تھے”۔ جنگی قیدی کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے، کلبھوشن اور ابھی نندن سے گھر کی خدمت نہیں لی جاسکتی ۔ عزت کے درپے ہوجاتے۔ بدر میں70قیدی بنائے گئے ،کسی کو غلام نہیں بنایا گیا اور نہ ممکن تھا۔ غلام بنانے کا اصل ادارہ مزارعت کا نظام تھا۔ جاگیردارانہ نظام سے غلام اور لونڈیاں بن کربازاروں میں منڈیاں لگتی تھیں۔ نبیۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو بھی سود قرار دیا۔ معاشرے میں دو طبقات ہوتے تھے، ایک زمیندار ، وڈیرے، جاگیردار، خان، نواب اور دوسرے مزارعین۔ مزارعین کی حیثیت غلاموں کی طرح تھی۔ وہ اپنا پیٹ نہیں پال سکتے تھے مگر جاگیرداروں کو پورے خاندان سمیت زمین میں اپنی محنت کی آدھی کمائی دیتے تھے۔ ہمیشہ جاگیرداروں کے مقروض اور غمی شادی ، بیماری میں محتاج ہوتے تھے۔ جوانکے خوبصورت بچوں اور بچیوں کو خرید کر منڈیوں میں بیچ ڈالتے تھے۔ جوئے اور سود میں بھی لوگ اپنے بچے ، بچیاں اور بیویاں کسی کے حوالے کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔آج سودی نظام کی وجہ سے خاندان نہیں پورے ملک غلام بنائے جارہے ہیں۔پاکستان کوبھی بنادیا گیا۔غلامی کے اس نظام سے ادیان نجات دلانے کیلئے آتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اہل فرعون سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ یوسف علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی یہی خدمات تھیں۔ قرآن میں اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ” اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے” اسلام عوام کو آزادی دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بت پرستی غلام رہنے اور بنانے میں مذہبی جذبے کے تحت تسکین دیتی تھی کہ جیسے وہ کررہے ہیں اور جیسے وہ ہیں اسی طرح سے رہنے میں عافیت ہے۔ دین کا کام اس جمود کو توڑنا ہوتا تھا۔ جب کوئی بھی نبی اپنے وقت میں اللہ مبعوث کردیتا تھا تو ملاء قوم یعنی قوم کے سردار انبیاء کرام کی سخت مخالفت کرتے تھے اسلئے کہ حالت بدلنے میں ان کو اپنی آسائشوں کی موت نظر آتی تھی، خوشحال لوگ جمود توڑنے کا ہمیشہ مخالف طبقہ ہوتا تھا۔ غریب غرباء حضرات انبیاء کرام کی حمایت کرتے تھے اور جن اچھے لوگوں کی فطرت سلامت ہوتی تھی تو وہ امیر اور سردار ہوکر بھی وقت کے نبی کی حمایت میں پیش پیش ہوتے تھے۔
معروف صحابی حضرت اسود بہت سخت کالے رنگت کے غلام تھے۔ دور دراز سے سفر طے کرکے نبیۖ کی آغوش میں اسلئے پہنچے کہ غلاموں کو عزت ملتی تھی۔ جیسا سنا تھا ویسا بلکہ اس سے بڑھ کر پایا۔ ایک دن نبی ۖ کی خدمت میں عرض کیا کہ ساری مرادیں اور خواہشات پوری ہوگئیں، ایک آرزو ہے کہ شادی بھی ہوجائے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” بنو کلب کے سردار کے پاس جاؤ، اور کہو کہ مجھے نبی نے آپ سے بیٹی کا رشتہ طلب کرنے کیلئے بھیجا ہے”۔ حضرت اسود نے اتنی ہمت صرف حکم کی تعمیل کیلئے کردی ۔ سردار نے اعزاز واکرام کیساتھ استقبال کیا کہ نبی ۖ نے اپنا نمائندہ بھیجا ہے ۔ پیغام سن لیا تو ہکا بکا ہوگئے اور تعمیل حکم سے معذرت کرلی۔ حضرت اسود جانے لگے تو سردار کی بیٹی نے نبیۖ کا پیغام سن لیا تھا اور اپنے باپ کو بلایا اور کہا کہ میرا رشتہ مانگا ہے، میں تیار ہوں۔ باپ نے بیٹی کی رضامندی کا سن کر حضرت اسود سے اپنی بیٹی کا رشتہ طے کرلیا۔ حضرت اسود نے تیاری کیلئے بازار کا رخ کیا تو جہاد کی منادی سنی۔ان پیسوں سے جہاد کا سامان خریدا ۔ قافلے سے تھوڑے فاصلے پر چلے تاکہ پہچان کر واپس نہ کیا جائے اور چہرے پر نقاب ڈال کرجہاد میں بہادری سے لڑکرشہید ہوئے تو نقاب اٹھانے کے بعد پتہ چلا کہ دولہا اسود ہیں اور نبیۖ کی آنکھیں آنسو ؤں سے ڈبڈبا گئیں۔ اشکبار آنکھوں سے صحابہ نے لحد میں بہت عزت سے اتارا تھا۔
نبیۖ نے اپنی کزن حضرت زینب حضرت زید سے بیاہ دی ۔ حضرت زید غلام نہیں تھے بلکہ بردہ فروشوں نے چوری کرکے بیچ ڈالا تھا۔ چچا وغیرہ آئے اور نبیۖ کو منہ مانگی قیمت کی پیشکش کی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کوئی پیسہ نہ دو مگر زبردستی نہ لے جاؤ ۔ حضرت زید نے جانے سے انکار کردیا تو چچا نے طعنہ دیا کہ آزادی پر غلامی کو ترجیح دی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ یہ غلام نہیں میرا بیٹا ہے۔ منہ بولے بیٹے کی بیگم اپنے شوہر سے غلامی کے دھبے کی وجہ سے خوش نہ تھی تو حضرت زید نے اس کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا۔ نبیۖ نے بہت منع کیا کہ ایک طرف پہلے اس خاتون نے قربانی دی اور پھر طلاق دی جائے تو اس کی حیثیت مجروح ہوگی اسلئے کہ طلاق شدہ اور وہ بھی غلامی کا دھبہ والے شخص کی طرف سے؟۔اس لئے دل میں سوچا کہ یہ روگ کو ختم کرنے کیلئے خود شادی کرلیتے تو ازالہ ہوجاتا مگر خوف تھا کہ لوگ اس کو حقیقی بہو کی طرح نکاح حرام سمجھتے تھے۔ سورۂ احزاب میں بہت بہترین انداز میں پورا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اگر نبیۖ کسی آیت کو چھپاتے تو اس کو چھپاتے۔ (صحیح بخاری)
حضرت داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری اور مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی اپنی کتابوں میں حنفی مسلک کے عین مطابق غلط فہمی کی بنیاد پر لکھ دیا ہے کہ جب نبی ۖ کی نظر حضرت زینب کے جسم پر کپڑے بدلتے ہوئے شہوت سے لگ گئی تو وہ حضرت زید کے نکاح سے نکل کر نبیۖ کے نکاح میں آگئیں۔ جیسے داؤد کی نظر مجاہد اوریا کی بیوی پر پڑگئی تو وہ اوریا پر حرام اور حضرت داؤد کی بیگم بن گئی۔ ان خرافات کیخلاف سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے علماء ومفتیان کی طرف سے مذمت میں کتاب ”اسلام کے مجرم” پر تائیدی تأثرات آئے ہیں۔
نبیۖ نے فرمایا تھا کہ ” اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہواہے اور یہ پھرعنقریب اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا۔ پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔
امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی سب متفق تھے کہ مزارعت سود اور ناجائز ہے۔ مدینہ منورہ کی معاشی ترقی کیلئے مزارعت کا خاتمہ بنیاد بن گیا۔ جب محنت کشوں میں قوت خرید کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو بازاروں میں تاجر وں کو خاطر خواہ کامیابی مل گئی۔ عبدالرحمن بن عوف کہتے تھے کہ ”مٹی بھی سونا بن جاتا ہے”۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ، مولانا محمد یوسف بنوری اور دوسرے اکابر ین اپنی بیگمات کو ایکساتھ رکھ کر ان کی خدمت پر حاجی محمد عثمان کی ڈیوٹی لگاتے تھے کہ یہ بے نفس انسان اللہ والے ہیں۔ مولانا غلام اللہ خان حاجی عثمان کیلئے کہتے تھے کہ ”یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی طرح ہیں”۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، مفتی احمدالرحمن اور ختم نبوت نمائش کا دفتر اپنی اپنی گاڑیوں کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر حاجی محمد عثمان کے مریدوں نے الائنس موٹرز کے کاروبار سے سب کو گاڑیوں سے نواز دیا تھا۔ پھر تصوف کی الف ب سے ناواقف علماء ومفتیان نے بھی پیری مریدی کا لبادہ اُوڑھ لیا اور مذہب کے نام پر تجارت اور کاروبار پیشہ بن گیا۔
پاکستان ،افغانستان، ایران ، ہندوستان، روس ، امریکہ، چین اور دنیا بھر کی ترقی وعروج کا راز اس بات میں پنہاں ہے کہ مزارعت کیلئے لوگوں کو مفت میں اور باغات کیلئے آسان لیز پر زمینیں دی جائیں۔ انسانی بھوک وافلاس کا خاتمہ ہوگا اور چرندے، درندے اور پرندے بھی انسانوں سے محبت کرنے لگیں گے۔
اگر اسلام کی بنیاد پر مزارعت دنیا سے ختم ہوجاتی تو کارل مارکس کو نیانظام بنانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ علامہ اقبال نے کہا کہ ” کارل مارکس پیغمبر نہیں تھا مگر صاحبِ کتاب تھا”۔ ائمہ اربعہ کا تعلق عباسی دور سے تھا۔ بنی امیہ کے بعد بھی امام ابوحنیفہ ، امام مالک اور امام شافعی کا مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دینا اہل حق کی نشانی تھی۔ ویسے تو شہید کربلا حضرت حسین کے دور میں خلافت ملوکیت میں بدل چکی تھی۔ بے گناہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے خون سے حکمرانوں کے ہاتھ رنگے ہوئے تھے۔ حجاج بن یوسف جیسے لوگوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرکے کئی دنوں تک اس کی لاش کو لٹکا دیا تھا۔ حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق کو پتہ چلا توسوسالہ نابینا ماںبیٹے کی لاش کے پاس آئی اور فرمایا کہ ”شہسوار ابھی تک سواری سے نہیں اترا ہے؟۔ حجاج نے اس حوصلے کو دیکھ کر بڑا غصہ کیا اور کہا کہ میں نے تیرے بیٹے کی زندگی تباہ کردی۔ حضرت اسماء نے فرمایا کہ ”سودا بہت سستا ہے۔ میرے بیٹے نے تمہاری آخرت تباہ کردی ہے”۔
عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو حضرت علی نے کہا کہ ”آپ خود بھی متعہ کی پیدوار ہیں” (زادالمعاد۔ علامہ ابن قیم)۔ ابو طالب نے نبی ۖ کو ام ہانی کا رشتہ دینے سے منع کیا، فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی نے اپنی ہمشیرہ ام ہانی کے شوہر کو قتل کرنا چاہا، نبی ۖ نے اسکے شوہر کو پناہ دی۔ مگر وہ عیسائی بن کر نجران گیا۔ نبیۖ نے ام ہانی کورشتے کی پیشکش کردی تو امام ہانی نے منع کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تمہارے لئے وہ چچا کی بیٹیاں حلال ہیں جنہوں نے ہجرت کی ہے آپکے ساتھ”۔ پھر آئندہ شادی سے قرآن میں ہمیشہ کیلئے روک دیا لیکن ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ علامہ بدر الدین عینی نے ام ہانی کو ازواج مطہرات میں شمار کیا ہے حالانکہ ان سے نبی ۖکا نکاح نہیں متعہ ہوسکتا تھا۔
حضرت اسمائ73ھ میں فوت ہوگئیں جوحضرت عائشہ سے عمر میں15سال بڑی تھیں ۔ ناممکن تھا کہ21سالہ اسمائ کے ہوتے ہوئے نبیۖ6سالہ عائشہ حضرت ابوبکر سے مانگتے۔ اس وقت حضرت عائشہ کی عمر16سال تھی جبکہ حضرت اسماء کی عمر31سال تھی اور ایسی عمر تک پہنچنے کے بعدکسی عورت سے نکاح کی رغبت نہیں رہتی ۔نبی ۖ نے40سالہ حضرت خدیجہ سے بھی پچیس سال کی عمر میں نکاح کرلیا تھا اور جب تک وہ زندہ رہیں تو دوسرا نکاح نہیں کیا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ خواب میں حضرت عائشہ کی تصویر دکھائی گئی کہ یہ آپ کی بیگم ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہو تو پورا ہوگا ۔ شیطان کی طرف سے ہو تو پورا نہیں ہوگا”۔( صحیح بخاری) چونکہ مسلمانوں کی سخت ترین مخالفت کا دور تھا اور حضرت عائشہ کی منگنی مشرک سے ہوچکی تھی جو مظالم کے پہاڑ بھی توڑسکتا تھا۔ اللہ نے اس سے حضرت عائشہ کی نجات کیلئے یہ خواب دکھایا ۔
16سال کی جگہ غلطی سے6سال کی روایت نقل کی گئی تو اس پر فقہ کے یہ مسائل گھڑلئے گئے کہ ” اگر باپ اپنی نابالغ بچی کو اس کی مرضی کے بغیر کسی کے نکاح میں دیدے تو یہ جائز ہے”۔ مثلاً حنفی طالب یا مفتی محمد تقی عثمانی اپنی بیٹی کا نکاح نابالغ ہونے کے باوجودبار بار کرتا ہے، دس بار طلاق ہو تو جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔ یہ سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔ جب بالغ ہوتو لڑکی جہاں چاہے اپنا نکاح خود کرسکتی ہے جس میں ولی کی اجازت کا دخل نہ ہوگا۔ ایسے میں افغانستان میں نابالغ بچیوں کیلئے یہ قانون بنانا پڑے گا کہ انکے باپ ان کو کسی کے نکاح میں دیدیں اور بالغ لڑکیاں اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہیں بلکہ شہوت سے ان کا کسی لڑکے سے بوس وکنار بھی حرمت مصاہرت کی وجہ سے حنفی نکاح ہوگا۔
علماء ومفتیان پہلے اپنے درسِ نظامی کے نصاب کو درست کرلیںاور اسلام کو نافذ کرنے کی بات بعد میں کریں۔ پاکستانی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کا کوئی قانون نہیں بنا ہے لیکن جس سود کو علماء ومفتیان اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر گناہ قرار دیتے تھے اس کو اسلام اور حیلے کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، تنظیم اسلامی ، جمعیت علماء پاکستان اور اب وہ مدارس بھی شامل ہیں جنہوں نے مخالفت میں فتوے اور کتابیں لکھی تھیں۔ اسلام کو جس طرح پہلے چٹنی اور اچار بنایا گیا تھا اس کا خلاصہ اب پھر سامنے آیا۔ جب سود اور حیلے کی بنیاد پر اس کا جواز اور اپنی ماں سے زنا تک بات پہنچادی گئی ہے تو اس سے زیادہ کہاں تک اسلام ثریا کے پیچھے ان کم بختوں سے چھپے گا؟۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ علینے فرمایا کہ ” رسول اللہۖ نے دوجلد (دو گتوں)میں قرآن کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے”۔ (بخاری) وفاق المدارس کے صدرمولانا سلیم اللہ خان نے اس کی تشریح میں کہا ہے یا پھر مولانا نورالبشر برمی نے خود خیانت کرکے لکھ دیا کہ ” حضرت علی کے اس قول کو صحیح میں امام اسماعیل بخاری نے اسلئے نقل کیا ہے کہ شیعوں پر رد ہو کہ تم تحریف قرآن کے قائل ہو لیکن تمہارے علی اور ابن عباساس تحریف کے قائل نہ تھے۔ اصل میں قرآن کے اندر تحریف ہوئی اور امام بخاری قرآن کی تحریف کے قائل تھے ، جب حضرت عثمان نے قرآن کو جمع کیا تو عبداللہ بن مسعود کے پاس مصحف تھا لیکن ان کو حضرت عثمان نے جمع قرآن کے معاملے میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ جب عبداللہ ابن مسعود کیلئے حضرت عثمان نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی پیشکش کردی تو بھی اس نے ناراضگی کی وجہ سے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ (کشف الباری شرح صحیح البخاری مولانا سلیم اللہ خان مرتب : مولانا نورالبشر)
مولانا سلیم اللہ خان نے پہلے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے نہیں لگایا۔ پھر مولانا سلیم اللہ خان نے شیعہ پر کفر کا فتوے سے رجوع کرلیا تھا۔ مولانا نورالبشر برمی کو چاہیے تھا کہ مولانا سلیم اللہ خان نے اگر بات کی تھی تو بھی اس کو لکھنا نہیں چاہیے تھا۔ جب دارالعلوم کراچی سے مولانا انورشاہ کشمیری کی فیض الباری شرح صحیح البخاری کی عبارت پر علامہ غلام رسول سعیدی نے حوالہ دئیے بغیر فتویٰ لیا ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے۔لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے مغالطے سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا ہے”۔ تو اس پردارالعلوم کراچی کی طرف سے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔فیض الباری کی اس عبارت کا قاضی عبدالکریم کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان نے مفتی فرید اکوڑہ خٹک کو خط لکھا تو یہ جواب دیا کہ ”یہ مولانا انور شاہ کشمیری کی تحریر نہیں ۔ کسی نے ان کی تقریر کو نوٹ کرکے اپنی طرف سے لکھ دیا ہے”۔ میں نے مفتی زرولی خان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مولانا انورشاہ کشمیری کی طرف اس عبارت کو منسوب کرنا غلط ہے۔ اب مولانا سلیم اللہ خان کی بات تو اس سے بھی بہت زیادہ خطرناک ہے۔ جب میں نے پشاور کی ایک مجلس میں اکابر علماء کے سامنے اس کا حوالہ دیا تو درویش مسجد کے خچر نے کہا کہ ” مولانا سلیم اللہ خان کی تحقیق کو یہاں پیش نہیں کرنا چاہیے تھا”۔ درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف میں علماء ومفتیان تحریف قرآن کا عقیدہ پڑھاتے ہیں۔ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبة ” جو لکھا ہوا ہے مصاحف میں ، جو آپ سے نقل کیا گیا ہے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔ تشریح میں لکھ دیا کہ ” لکھے سے مراد لکھا نہیں کیونکہ لکھا ہوا نقش کلام ہے اور یہ نہ لفظ ہے نہ معنی۔ قرآن لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ متواتر کی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں جیسے خبر احاد اور مشہور ۔ بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک ہے ”۔
قرآن کی اس غلط تعریف کی وجہ سے فقہ کی بڑی کتابوں میں لکھا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے۔ جب تحریر لفظ ہے اور نہ معنی ہے تو پھر کلام اللہ نہیں ہوا ۔ جب کلام اللہ نہیں ہے تو پھر اس کو پیشاب سے لکھنے کا جواز بھی بنتا ہے؟۔ پیشاب سے لکھنے کی زیادتی بھی اپنی جگہ ہے لیکن قرآن کی لکھی ہوئی شکل کا انکار کرنا اس کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ پھر اس میں مزید اضافی آیات کا عقیدہ رکھنا اور بسم اللہ کو مشکوک قرار دینا بہت بڑی بکواس ہے۔
افغان طالبان پہلے اس نصاب کو دیکھ لیں جس کو وہ پڑھ کر عالم بنتے ہیں اور جن علماء ومفتیان کی صلاحیت پر وہ بھروسہ کرتے ہیں ان کی حقیقت کو سمجھیں۔ پھر ان کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کفریہ تعلیم پر پابندی لگائیں اور دوسرا کام یہ ہوگا کہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے ادارے طلبہ وطالبات کیلئے کھول کر ان سے یہ مطالبہ بھی کردیں کہ ہمارے عقائد اور مسالک کو درست کرنے کیلئے آپ ہمارا ساتھ دیں۔ طالبان اسلامی نظام اور جہاد کیلئے جو قربانیاں دے رہے ہیں ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا تھا کہ ” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ نبیۖ نے آیت میں جن پانچ چیزوں کو غیب کی چابیاں قرار دیا ہے اس کی تفسیر زمانے نے کردی ہے۔ الساعة سے مراد وقت ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ جب ملائکہ اور روح چڑھتے ہیں تو ان کے ایک دن کی مقدار50ہزار سال کے برابر ہے۔ نبیۖ نے معراج میں اس کا مشاہدہ کیا تھا اور آئن سٹائن نے ریاضی سے اس کا ثبوت دیا کہ نظریہ اضافیت میں وقت کی مقدار کا تعین تیز رفتاری کی بنیاد پر کافی مختلف ہوتا ہے مثلاً یہاں کے چند لمحات وہاں کے کئی سال بارش کے ذریعے سے بجلی کا مشاہدہ تھا اور اب بجلی کی تسخیر سے دنیا تبدیل ہوگئی ہے۔ یہ علم غیب کی دوسری چابی تھی۔ تیسری جب ارحام کا علم ہے۔ جو ایٹم بم کو توڑنے، ایٹمی صلاحیت ، الیکٹرانک کی دنیا سے لیکر فارمی مرغیاں، پرندے اور جانوروں تک بہت ساری چیزوں کا اہم ذریعہ ہے۔ قرآن میں دین کی بھرپور وضاحت ہے۔ فقہ کے نام پر ناسمجھ طبقے کی فضولیات اور بکواسات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں اس کا اہم کردار ہے اور جدید سائنسی تعلیم تسخیرکائنات کے ذریعے سے ہی ہوسکتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کے ذریعے سے قوموں کو عروج اور اس کو چھوڑنے کی وجہ سے قوموں کو زوال ملے گا۔ مغرب نے قرآن کے نظریہ تسخیرکائنات پر عمل کر کے جو عروج حاصل کیا ،آج اس کا نتیجہ ہے کہ طالبان امریکہ سے معاہدہ کرکے اپنے ملک میں داخل ہوسکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے اندر یہ غلط فہمی دور کرنی ہوگی کہ مدارس سے جو فضاء بن رہی ہے یہ دین کا تقاضا ہے۔ میرے سکول کا افتتاح مولانا فضل الرحمن نے کیا اور ٹانک کے تمام اکابر علماء نے تائید کی تھی۔ بیت اللہ محسود نے میری کتاب ”آتش فشاں ”دیکھ کر کہا کہ ” ہماری یہ علمی حیثیت نہیں کہ اس پر تبصرہ کریں”۔ کچھ عزیز وں نے طالبان کو ورغلایا کہ ” یہ ایسا گھرانہ ہے جو کسی کی بیوی بھگا کر کسی سے شادی کرائی۔ کسی کو بیوی بچے نہیں دیتے”۔ طالبان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بدکاری کروائی تھی اور ایسے لوگ اپنی پشت میں بارود بھر کر یامزید مظالم کرکے اپنے ان گناہوں کاازالہ چاہتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

علماء کرام و مفتیانِ عظام کون ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے اورامام مہدی کون ہیں اور حقیقت کیا ہے؟

علماء کرام و مفتیانِ عظام کون ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے اورامام مہدی کون ہیں اور حقیقت کیا ہے؟

امام مہدی کون ہیں؟، کب آئیںگے اور اس کا علماء کرام ومفتیانِ عظام سے کیا اختلاف ہوگا اور اس کو مہدی کیوں کہا جائیگا، علماء کرام ومفتیان عظام اور عام تعلیم یافتہ میںکیا فرق ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ علماء کرام ومفتیان عظام کون ہیں اور یہ کس طرح علماء ومفتیان بنتے ہیں؟۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے زندگی قرآن کریم پڑھنے ، پڑھانے اور خلافت قائم کرنے میں گزاردی لیکن عالم دین نہیں کہلائے اور نہ خود کو وہ عالم دین سمجھتے تھے اور نہ وہ عالم دین تھے۔ ایسے کئی سارے مذہبی اسکالر ہیں۔ ایک آدمی قرآن کے ترجمہ وتفسیر کو سمجھتا اور سمجھاجاتا ہے مگر عالم دین نہیںہے۔ ایک آدمی احادیث صحیحہ علماء ومفتیان سے زیادہ سمجھتا ہے اور تبلیغ بھی کرتا ہے لیکن پھر بھی عالم دین نہیں ہے اور ایک آدمی قرآن کے ترجمہ وتفسیر کو بھی سمجھتا ہے اور احادیث صحیحہ کو بھی لیکن پھر بھی وہ عالم دین نہیں ہے۔ اگر ایک آدمی فقہی مسائل کو علماء دین سے زیادہ ازبر کرلیتا ہے اور قرآن وحدیث کو بھی علماء دین سے زیادہ سمجھتا ہے تب بھی اس کو عالم دین نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ عالمِ دین کیلئے بنیادی چیز درس نظامی ہے اور اصولِ فقہ ہے جس میں قرآن ، حدیث، اجماع اور قیاس کو فرقِ مراتب اور ائمہ کے اختلافات کیساتھ پڑھایا جاتا ہے۔
برصغیر پاک وہند کے علاوہ جامعہ ازہر مصر اور مدینہ یونیورسٹی میں بھی کافی عرصہ سے اصول فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ جس نے اصول فقہ سے قرآن واحادیث کی بنیادوں اور حفظ مراتب کو نہیں سمجھا تو وہ عالم دین نہیں ہے اور اس بات میں کوئی ابہام بھی نہیں ہے۔ اصولِ فقہ ایک بنیادی علم ہے۔
پاکستان میں دیوبندی بریلوی مکتبۂ فکر کا تعلق حنفی مسلک سے ہے اور ان کا تعلیمی نصاب ”درسِ نظامی ” ایک ہے ۔ مسلک حنفی اور دیگر فقہی مسالک کے حوالے سے دونوں مکاتب فکر کا یکساں مؤقف ہے۔ دونوں کے اکابرنے ایک ہی طرح کی کتابوں اور اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی ہے۔
اصولِ فقہ چار ہیں۔پہلا کتاب اللہ ، دوسرا حدیث ، تیسرا اجماع ہے اور چوتھا قیاس ہے۔ کتاب سے مراد سارا قرآن نہیں بلکہ500آیات جو احکام سے متعلق ہیں۔ باقی کتاب وعظ اور قصے ہیں جن کا احکام سے تعلق نہیں ہے۔
مولانا عبیداللہ سندھی کے مرشد بھرچنڈی شریف والے تھے جس کے اب جانشین بریلوی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کا تعلق بھی دیوبندی مکتبۂ فکر سے تھا لیکن پہلے مرشد حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف تھے۔ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خلفاء میں دیوبندی اور بریلوی دونوں تھے۔
اگر دونوں مل کر قرآن کریم کی ان500آیات کو نکالتے ،جن سے احکام نکلتے ہیں تو ان پانچ سو آیات کی برکت سے دونوں فرقہ واریت میں تقسیم ہونے کے بجائے متحد ومتفق رہنے میں اپنی عافیت سمجھتے۔500آیات ان سب کیلئے رشد وہدایت کا بہترین ذریعہ ہوتیں۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے بھی ان کے اس نصاب سے بھرپور ہدایت حاصل کرتے اور ہدایت عام ہوتی۔
ہوتا کیا ہے کہ اصول فقہ کی تعلیم میں ایک طرف آیت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے جس کے سیاق وسباق سے اصول فقہ پڑھنے والا طالب علم اور پڑھانے والا استاذ دونوں ناواقف ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک طرف قرآنی آیت کا ایک ٹکڑا حتی تنکح زوجاً غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ دوسری طرف حدیث ایماامرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل ” جس بھی عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ حنفی مسلک یہ ہے کہ قرآن میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے کہ ”یہاں تک کہ وہ نکاح کرے” تو حدیث صحیحہ خبر واحد کا اس قرآنی حکم پر اضافہ نہیں ہوسکتا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث ناقابل عمل ہے۔ عورت کو ولی کی اجازت کے بغیر بھی مسلک حنفی میں نکاح کا حق حاصل ہے۔ وہ بھاگ کر اور کورٹ میرج سے نکاح کرسکتی ہے۔ جبکہ جمہور مسالک شافعی، مالکی ، حنبلی، اہلحدیث اور جعفری میں حدیث صحیح ہے اور اگر عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ یہ نکاح نہیں حرامکاری ہے۔
حنفی مسلک والے کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ حدیث صریح وصحیح اور جمہور فقہی مسالک کے مقابلے میں حنفی مسلک قرآن کے مطابق ہے اور باقی باطل ہیں۔ یہ پختہ ذہن بنتا ہے کہ قرآن کی باقی آیات ،احادیث صحیحہ ،دیگر مسالک کے دلائل اور نئی اجتہادی فکر کی طرف دیکھنے کے بجائے بس حنفی مسلک کی تقلید ہی نجات ، رشد وہدایت اور کامیابی وکامرانی کا ذریعہ ہے۔
طالب علمی کے دوران جب ایک واضح حدیث کو اسلئے رد کردیا جائے کہ وہ قرآن کے منافی ہے۔ بھلے قرآنی آیت کے سیاق وسباق کو جانتا ہے یا نہیں ؟۔ اور بہت سارے طلبہ کوتو یہ بھی پتہ نہیں چلتا ہے کہ قرآن کا جو مفہوم اصولِ فقہ کی کتاب میں لکھا ہے وہ کیا ہے اور کس طرح حدیث سے ٹکراتا ہے؟ لیکن انہوں نے یہ رٹا لگانا ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کے خلاف ہے اسلئے اس کو قابلِ عمل نہیں سمجھا جاسکتاہے۔ پھر احادیث کے ذخائر سے بھی ان کا اعتمادبالکل اٹھتاہے ۔ اصول فقہ میں حنفی مسلک کی بڑی پریکٹس احادیث کو رد کرنے کی ہوتی ہے۔
اصولِ فقہ میں ہے کہ طلاق کی عدت ثلاثة قروء ” تین ادوار ہیں”۔ لفظ تین خاص ہے۔ طلاق کیلئے عدت میں عورت کے پاکی کے دن اور حیض کے دن ہوتے ہیں۔ شریعت میں پاکی کے دنوں میں طلاق دینے کا حکم ہے۔ جب پاکی کے دنوں میں طلاق دی جائے تو جس طہر میں طلاق دی جائے ،اس کا کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ طہر ادھورا ہوگا۔ تین طہر شمار کئے جائیں تو ایک طہر ادھورا ہونے کی وجہ سے ڈھائی بن جائیںگے اسلئے قرآن کے لفظ خاص ”تین” پر پورا پورا عمل کرنے کیلئے عدت کے تین ادوار سے ”تین حیض ” مراد لئے جائیں۔ تاکہ قرآن پر عمل ہو۔ جبکہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” طلاق کی عدت میں تین قروء سے تین اطہار مراد ہیں”۔ عربی میں گنجائش ہے کہ قروء سے تین حیض مراد لئے جائیں یا تین طہر ۔ حضرت عائشہ نے تین اطہار مراد لئے ۔ جمہور نے بھی حضرت عائشہ کی وجہ سے تین اطہار مراد لئے ہیں لیکن حنفی مسلک قرآن کے مطابق ہے اسلئے حضرت عائشہ ، صحابہ ، جمہور فقہاء اور سب کے مقابلے میں حنفی مسلک کی تقلید قرآن کا تقاضاہے۔ امام ابوحنیفہ کیلئے نبیۖ نے فرمایا کہ ”فارس میں سے ایک شخص ہوگا ، اگر دین، ایمان اورعلم ثریا پر پہنچ جائے تب بھی وہاں سے واپس لے آئیگا”۔قرآنی آیت واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم ”اور ان میں سے آخرین جو ابھی پہلوں سے نہیں ملے ہیں” (سورہ جمعہ)
اصول فقہ میں ہے کہ فان طلقہا کا تعلق اپنے ماقبل سے متصل فدیہ سے ہے ۔ لغت میں ف تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے۔ اس طلاق کا تعلق اسلئے خلع سے ہے۔شافعی مسلک میں فدیہ یعنی خلع جملہ معترضہ ہے۔ تاکہ دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق بھی واقع ہوسکے۔ جبکہ فدیہ خلع بذات خود طلاق ہے اور تیسری طلاق کے بعدچوتھی طلاق بن جائے گی۔
جس امام ابوحنیفہ کے نام پر احادیث اورحضرت عائشہ کی علمی حیثیت نہ ہو اسلئے کہ قرآن ، عربی لغت اور ریاضی کے حساب سے امام ابوحنیفہ نے علم کو ثریا سے واپس لوٹا یا ہو توکسی اسلامی سکالر کی کیا حیثیت رہتی ہے جس نے اصول فقہ کی گہرائی نہ پڑھی ہو اور قرآن وحدیث کا ترجمہ کیاہو؟۔جب درسِ نظامی میں ترجمہ قرآن، تفسیر، احادیث ، فقہ ،اصول فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے تو سب کے اپنی اپنی جگہ پر اپنے فن کی مہارت رکھتے ہیں اور جو کتاب بار بار پڑھاتے ہیں وہ بھی طلبہ کو اچھی طرح سمجھانے کی صلاحیت بھی مشکل سے حاصل کرتے ہیں۔ ایک علم کا دوسرے علم سے کوئی ربط بھی نہیں ہوتاہے۔ فقہی مسائل کے انبار ہوں تو ان کا اصول فقہ سے تعلق نہیں ہوتا اور اصول فقہ میں آیات کے ٹکڑوں کا تفسیر وترجمہ سے کوئی ربط نہیں ہوتا ہے اور قرآن کی آیات کا احادیث سے ربط نہیں ہوتاہے۔
اساتذہ کرام فرماتے تھے کہ درسِ نظامی میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں وہ صرف ان علوم وفنون پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہیں اس کاہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ فارغ التحصیل بن گئے ہیں۔ گویا عالم بننے کی صلاحیت درسِ نظامی سے پیدا ہوتی ہے۔ اسلئے درسِ نظامی کے بڑے علماء کرام ہمیشہ خود کو ایک طالب علم ہی قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ علم پر گرفت حاصل کرنا بہت زیادہ مطالعہ و صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔ درس نظامی کا پڑھا ہوا نہیں ہوتا ہے تو انجینئر محمد علی مرزا، جاوید احمد غامدی اور غلام احمد پرویز کی طرح یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس جیسا کوئی دوسرا پیدا نہیں ہواہے۔
اصول فقہ کی کتابیں ہمیں شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان نے پڑھائی تھیں۔ جوجامعہ بنوری ٹاؤن سے پہلے دارالعلوم کراچی اور مفتی تقی عثمانی کے استاذ تھے۔ مفتی محمد شفیع جب دارالعلوم کراچی میں طالب علم تھے تو شیخ الہند مولانا محمودالحسن حدیث کے استاذتھے۔شیخ الہند چار سال مالٹا کی جیل سے رہا ہوکر آئے تو مفتی شفیع اس وقت درسِ نظامی سے فارغ ہوکر دارالعلوم دیوبند میں استاذ تھے مگر مفتی محمد شفیع نے اپنی ویڈیو میں کہا ہے کہ وہ شیخ الہند کی باتیں سمجھنے سے قاصر تھے۔
جب میں ساتویں، آٹھویں، نویں ، دسویں جماعت میں تھا تو آزادی ہند، قادیانیت اور سیاسی جماعتوں کی تحریکوں کو نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ انقلابی ذہن بھی بن گیا تھا۔ بریلوی دیوبندی اور شیعہ سنی مناظرانہ کتابوں میں بھی دسترس حاصل کی تھی ۔ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا تو نصاب کی کتابوں پر ایسے سوالات کا ریکارڈ بنایا کہ ہمارے چھوٹے اساتذہ اپنے بڑے اساتذہ کے پاس جواب کیلئے بھیج دیتے تھے لیکن ان کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ہوتا تھا تو مجھے دادملتی تھی۔ اور اساتذہ نے یہ کریڈٹ دیا کہ نصاب کی اصلاح تم خود ہی کرلوگے۔
مولانا بدیع الزمان کے سامنے جب میں نے یہ بات رکھی کہ فقہ حنفی کا مسلک یہ ہے کہ جب قرآن وحدیث کی تطبیق ہوسکے تو دونوں کو قابلِ عمل بنایا جائیگااور آیت اور حدیث میں مسلک حنفی کے اس اصول پر عمل ہوسکتا ہے۔ قرآن میں طلاق شدہ عورت کو بااختیار قرار دیا گیا ہے اور حدیث میں کنواری کیلئے ولی سے اجازت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ استاذ کی آنکھوں میں خوشی کی چمک پیدا ہوئی اور آئندہ کیلئے اس پر مزید تصفیہ کی طرف جانے کاارشاد فرمایا۔ قرآن میں بیوہ کو بھی عدت کے بعد مزید زیادہ وضاحت کیساتھ خود مختار قرار دیا گیا ہے۔ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ قرآن کی دھیمی اور کھلی وضاحت کے باوجود طلاق شدہ اور بیوہ پر ولی کی اجازت لازم ہے اور یہ احناف کے مقابلے میں زیادہ گمراہی کی بات ہے اور کنواری ہی کا ولی ہوتا ہے ۔ شادی کے بعد طلاق یافتہ اور بیوہ خود مختار ہوجاتی ہے۔ اسلئے حدیث میں ولی کی اجازت کا تعلق کنواری سے ہے ۔ قرآن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ الایامیٰ یعنی طلاق شدہ وبیوہ کا نکاح کراؤ۔ اور اپنی کنواری لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو،اگر وہ نکاح چاہتی ہوں۔ اگران پر جبر کیا گیا تو پھر اللہ ان کے جبر کے بعد غفور رحیم ہے۔ معاشرے میں کنواری کیلئے جبر کا تصور عام ہے۔ اللہ نے ایک طرف ان کو بغاوت سے منع کیا ہے اور ان کی مرضی کے مطابق شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور دوسری طرف اگر ان کو مجبور کیا گیا تو بغاوت کی طرح جبر بھی غلط ہے۔ لیکن اس پر حرام کاری کا اطلاق نہیں ہوتا۔
بفضل تعالیٰ قرآنی آیات میں زبردست تفصیل ہے جس سے حدیث صحیحہ کی مزید توثیق بھی ہوتی ہے لیکن بغاوت اور جبر پر حرامکاری کا بھی اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ اگر ایک وسیع مشاورت قائم ہوجائے تو پھر مدارس و عوام کیلئے مشترکہ اور متفقہ مسائل کا حل نکالنے میں بھی کوئی دیر نہیں ہوگی۔اسی طرح ثلاثة قروء میں3کے لفظ کی ریاضی کے حوالے سے بالکل غلط نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس طہر میں طلاق دی ہے اور پھر اس کے بعد تین حیض شمارکئے جائیں تو عدد ساڑھے3سے بھی بڑھ جائے گا۔ یہ سوال بھی زمانہ طالب علمی میں اپنے اساتذہ کرام کے سامنے اٹھایا تھا۔ اب اپنی کتاب اور اخبارمیں یہ مسائل ایسے حل کردئیے ہیں کہ کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا ہے جومیرے اساتذہ کرام کیلئے اعزازہے۔
جہاں تک ف تعقیب بلامہلت سے تیسری اور دومرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا تعلق ہے تو اس پر بھی تشفی بخش جوابات دیکر مسئلہ حل کردیا ہے۔ حنفی مسلک اور عربی قاعدے کا تقاضا ہے کہ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ ف تعقیب کی وجہ سے فامساک بمعروف او تسریح باحسان کیساتھ ہو۔جو حدیث میں بھی واضح ہے اور اس کے بعد خلع کا کوئی ذکر بنتا بھی نہیں ہے جس کی تفصیل صفحہ نمبر2پر دی گئی ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس معاملے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ اگر قرآنی آیات کا فطری ترجمہ سیاق وسباق کیساتھ کیا جائے توپھر اس گمراہی کے دلدل سے بہت جلد نکل سکتے ہیں۔ جب اصول فقہ کی کتابوں کا درست مفہوم بھی سمجھ نہیں آتا ہو اور قرآن کا ترجمہ وتفسیر بھی الٹاسیدھا کیا جائے تو اس کے نتائج ہدیت کی جگہ پر گمراہی والے ہی نکل سکتے ہیں۔البقرہ آیت229کاترجمہ ومفہوم سب نے غلط لکھا ہے اور یہ ایک دوسرے سے نقل کرنے کا نتیجہ ہے۔ اس میں خلع کا ذکر نہیں ہے۔ خلع کا ذکر سورہ النساء آیت19میں ہے اور اس کا بھی بالکل غلط ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کی تفسیر بھی غلط لکھی گئی ہے۔
جب تک سنی یا شیعہ کا امام مہدی آئے تو اس سے پہلے پہلے غلطیوں کا ازالہ اور گمراہی کا خاتمہ اچھی بات ہے بلکہ فرضِ عین ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے بیہودہ فقہی مسائل تضحیک کا نشانہ بننے سے پہلے باہمی مل کر ان کو درست کرینگے تو ایک بہت بڑا معاشرتی اسلامی انقلاب برپا ہوجائے گا۔ بڑے علماء ومفتیان سود کو حلال کرکے حرمت سود سیمینار سے بھی نہیں شرماتے تو قرآن واحادیث سے ہدایت حاصل کرنے میں کیا چیز حائل ہوسکتی ہے؟۔ درس نظامی میں قرآن کریم کی جو تعریف کی گئی ہے وہ اگر اسلامی اسکالروں کو سمجھ میں آگئی تو علماء ومفتیان کو آڑے ہاتھوں لینے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ ان کو پتہ نہیں اسلئے جاہل ہیں۔
قرآن کی500آیات درج کرنے کے بجائے یہ تعریف کی گئی ہے
المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلاً متواتر بلا شبة ” لکھا ہوا ہے جو قرآنی نسخوں میں نقل کیا گیا ہے جوآپ(ۖ ) سے متواتر بلاشبہ”۔ یہ بہت عمدہ اور بہترین تعریف ہے اسلئے کہ قرآنی نسخوں میں کسی بھی حرف اور زیر،زبر،پیش کا بھی معمولی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن یہ جان کر قارئین حیرت کی انتہاء کو پہنچیںگے کہ اس تعریف کی یہ تشریح کی گئی ہے کہ ” نسخوں میں لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا قرآن نہیں ہے کیونکہ یہ محض نقوش ہیں۔ متواتر کی قید سے مشہور اور خبر احاد کی آیات نقل گئی ہیں ۔ اگر چہ وہ بھی اللہ کی کتاب ہیں لیکن اس تعریف میں شامل نہیں ہیں۔ بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ بھی اللہ کا کلام ہے لیکن اس میں شبہ ہے اسلئے کتاب اللہ کی تعریف سے خارج ہوگئی”۔ اگر مساجد کے منبروں پر عوام کو قرآن کی یہ تعریف پڑھائی جائے کہ لکھا ہوا نسخہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔ اسلئے فتاویٰ قاضی خان، صاحب ہدایہ اور فتاویٰ شامیہ نے سورۂ فاتحہ کو علاج کی غرض سے پیشاب سے لکھنے کو جائز قرار دیا ہے۔ جب لکھائی کی شکل میں اللہ کا کلام نہیں تو پھر پیشاب سے لکھنے میں حرج کیا ہوسکتاہے؟۔ یہ کتنی بڑی حماقت ، جہالت اور گمراہی ہے کہ لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں ہے؟۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ مولوی سے کہا جائے کہ تمہارے باپ سے مراد تمہارا باپ نہیں بلکہ تمہاری ماں کا آشنا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ کے کلام کو اسکے بارے میں یہ غلاظت پڑھائی جائے کہ لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں ہے۔ قرآن کتب یکتب کتاباسے لکھنے کی بات کرتا ہے۔ قلم اور سطروں میں موجود کلام کی قسم کھاتا ہے لیکن گمراہ مولوی اس بات پر ڈٹا ہواہے کہ میں اس گمراہی کو پڑھاؤں گا اور اس کی غرض اللہ کے کلام کی حفاظت نہیں ہے بلکہ اپنے پیٹ پوجا کی وجہ سے مدرسے کی روٹیاں توڑ رہاہے۔ قرآن سے باہر کوئی آیات نہیں ہیں۔ رجم و رضاعت کبیر کی آیات بکری کھاجانے والی ابن ماجہ کی روایت بالکل لغو اور بکواس ہے۔ بسم اللہ کے قرآن ہونے میں کوئی شبہ نہیں جو یہ عقیدہ پڑھاتا ہے تو اس کے اپنے نسب میں شک وشبہ ہوسکتا ہے۔
ہمارے اساتذہ کے سامنے یہ حقائق کبھی نہیں آئے اور اگر آتے تو وہ ضرور اپنے نصاب سے ان خرافات کو نکلوانے کیلئے میدان میں اترتے۔ امام مہدی کا بھی اس سے بڑا کردار اور کیا ہوسکتا ہے کہ قر آن کی حفاظت کیلئے مدارس کی اس غلط تعریف سے جان چھڑادے۔ صدیوں سے الجھے ہوئے گمراہانہ مسائل سے امت مسلمہ کے گمراہ فرقوںمیں مبتلاء مذہبی طبقات کو ہدایت کی طرف لائے؟۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں میں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ لیکن درمیانہ زمانے میں کجرو جماعت ہوگی وہ میرے طریقے پر نہیں ہے اور میں اسکے طریقے پر نہیں ہوں”۔
علامہ جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ نبیۖ نے بارہ خلفاء قریش کی خبردی ہے جن میں سے ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا اور اب تک ان میں سے کوئی بھی خلیفہ نہیں آیا ہے۔ اور یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ مہدی کے بعد جابر، سلام اور امیرالعصب ہوں گے۔ یہ روایت بھی درج کی ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ قحطانی امیر مہدی کے بعد ہوں گے۔ جس کی تشریح میں یہ روایت نقل کی ہے کہ مہدی چالیس سال تک رہیںگے۔ پھر قحطانی امیر منصور ہوںگے جن کے دونوں کانوں میں سراخ ہونگے۔ وہ بھی مہدی کی سیرت پر چلیںگے۔ اس کے بعد امت محمدۖ کے آخری امیر ہوں گے جو نیک سیرت ہوںگے اور ان کے دورمیں حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا۔ مفتی محمد رفیع عثمانی نے اپنی کتاب ” علامت قیامت اور نزول مسیح ”میں یہ روایات نقل کی ہے لیکن کجروی کا یہ عالم تھا کہ ایکطرف درمیانہ زمانے کے مہدی کی روایت کو نقل کرنا اور دوسری طرف جس مہدی کا قحطانی امیر سے پہلے ذکر ہے اور ساتھ میں اس روایت کو بھی نقل کرنا کہ مہدی کے بعد قحطانی منصور اور پھر امت محمد ۖ کے آخری امیر ۔ لیکن پھر بھی عوام کو اپنی کج رو ی کے سبب حقائق سے آگاہ نہ کرنا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی مہدی ، قحطانی امیر منصور اور پھر آخری امیر کی یہ روایت علامہ جلال الدین سیوطی سے نقل کی ہے لیکن الگ الگ مہدیوں کا تصور نہیں بتاتے ہیں۔
جس دن مذہبی طبقات، سیاستدانوں ، حکمرانوں اور عوام الناس نے اسلام کے فطری نظام ، درس نظامی کی طرف سے اسلام کے بگاڑے ہوئے حلیہ ، آخری امیر اُمت محمد ۖ سے قبل مہدی اور گیارہ خلفاء کے سلسلے کی طرف توجہ دے دی تو علم کی درستگی سے بھی بہت بڑا انقلاب آجائے گا۔ بارہ خلفاء قریش کی حدیث کے بارے میں مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ مہدی کے بعد پانچ افراد اہل بیت کا تعلق حضرت حسنکی اولاد سے ہوں گے اور پانچ افراد حضرت حسین کی اولاد سے ہوں گے اور آخری فرد پھر حضرت حسن کی اولاد سے ہوگا۔ پیر مہرعلی شاہ گولڑہ شریف نے اپنی کتاب ”تصفیہ مابین الشیعہ والسنی” میں یہی لکھا ہے کہ بارہ خلفاء قریش آئندہ آئیںگے اور اہل تشیع کی کتابوں میں بھی یہ روایت موجود ہے کہ مہدی کے بعد گیارہ مہدی اور آئیںگے جو حکومت بھی کریںگے۔ لیکن پھر اس روایت پر سند کی صحت کا نہیں صرف عقلی اعتبار سے ایک خدشے کااظہار کیا گیا ہے کہ اگر مہدی کے بعد گیارہ افراد حکومت کرینگے تو پھر مہدی آخری امیر کیسے ہوںگے؟۔ جس کا جواب یہی بن سکتا ہے کہ جب ان سے پہلے ہوں گے تو پھر اس کے آخری امیر امت میں کوئی شک نہیں رہے گا اور اہل تشیع نے یہ بھی لکھا ہے کہ درمیانہ زمانہ کے مہدی سے حضرت عباس کی اولاد کے مہدی بھی مراد ہوسکتے ہیں ۔ (الصراط السوی فی الاحوال المہدی )
علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب ”ظہور مہدی ” میں لکھا کہ ” مشرق کی طرف سے دجال نکلے گا تو اہل بیت کا فرد قیام کرے گا”۔ اس قیام قائم سے مراد آخری امیر مہدی غائب نہیں ہیں ۔ آخری امیر سے پہلے مختلف قیام قائم کا ذکر ہے۔ مشرق کے دجال کے مقابلے میںقیام قائم حضرت حسن کی اولاد سے ہوگا اور اس سے مراد ”سید گیلانی ” ہے جس کی تفصیلات روایات میں موجود ہیں۔ اہل سنت کی روایات میں بھی ایک دجال کا تعلق خراسان سے ہے جس کی مختلف اقوام ہتھوڑے اور ڈھال جیسے چہرے رکھنے والے لوگ پیروکار ہونگے۔اس طرح ایک مہدی کا تعلق بھی خراسان سے ہے۔ جس کا شاہ اسماعیل شہید نے ذکر کیا ہے۔ جب ہم پر تحریک طالبان پاکستان نے حملہ کیا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے تعزیت کے موقع پر جمعہ کی نماز میں خطاب کرتے ہوئے تحریک طالبان پر ہی خراسان کے دجال کی حدیث فٹ کی تھی ۔ مولانا عطاء الرحمن نے سیکیورٹی فورس کو فتویٰ جاری کیا تھا کہ ان دہشت گردوں کومارنا صرف سرکاری نہیں بلکہ مذہبی فریضہ بھی ہے۔ مولانا عطاء الرحمن کا فتویٰ مشرق پشاور نے شائع کیا تھا مگر مولانا فضل الرحمن کا بیان پریس نے شائع نہیں کیا۔اس وقت ہماری ریاست یا میڈیا کی پالیسی ان لوگوں کو سپورٹ کرنا تھا اور اب حقائق سامنے لانے ہوں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سراج الحق، سعد رضوی، مولانا فضل الرحمن بمقابلہ زرداری، نواز شریف، عمران خان: اوریا مقبول جان

سراج الحق، سعد رضوی، مولانا فضل الرحمن بمقابلہ زرداری، نواز شریف، عمران خان: اوریا مقبول جان

سیاسی جماعتیں بمقابلہ مذہبی جماعتیں کس نے بدترین گالی بریگیڈ پالا ہے؟ اوریا مقبول جان اور عرفان صدیقی

پاکستان کی سیاسی زندگی گذشتہ50سال سے اس قدر تلخ ہو چکی کہ یہاں اپنا نقطہ نظر بیان کرنا خود کو خوفناک جنگل میں اتارنا ہے۔ طعن و تشنیع، گالی گلوچ، ذاتیات ، اہلِ خانہ تک کی کردار کشی جیسی بلائوں کا سامنا کرنا پڑیگا، عرفان صدیقی جیسے صاحبِ علم اور حسنِ کردار سے آراستہ شخص کو سراج الحق کے بیان پر مخالفانہ تبصرہ کرنا پڑا، تو انہوں نے کالم کے آغاز میں ہی سراج الحق کی تعریف و توصیف کر کے خوبصورت پیش بندی کی، انیس کے شعر کو نثری قالب میں ڈھالا۔
خیالِ خاطر احباب چاہئے ہر دم انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
سراج الحق کی درویشی اور قلندری کا تذکرہ کرکے انہیں ”عالی مقام”کے منصب پر سرفراز کرنے کے بعد ہی اپنے لئے ان سے اختلاف کی گنجائش نکالی۔ عرفان صدیقی کیساتھ میرا احترام و محبت کا رشتہ ہے،ان کی نفاستِ طبع کا مداح ہوں۔مجھے مکمل ادراک ہے کہ سراج الحق خود نہ بھی چاہیں، مگر انکے بیان سے اگر کوئی اختلاف کی جرات کرے تو پھر جماعتِ اسلامی کی ”جدید سوشل میڈیائی ذریت”اس ”ناہنجار”کے ساتھ ”ہولناک”سلوک کرتی ہے۔جماعتِ اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم تو ایک ”لفظ ”بھی زبان سے نکالنے کی معافی نہیں دیتی۔ آپ نے خواہ انکے حق میں لکھتے ہوئے ایک عمر گزاری ہو مگر وہ ایکدم آپ کے گذشتہ کئی دہائیوں کے تعلق پر پانی پھیرتے ہوئے، سیدھا سیدھا ”منافق”، بِکائو اور گمراہ کے القابات سے نواز دینگے۔ ان کی دشنام طرازی کی ”لغت”میں جو فصاحت و بلاغت ہے پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اورن لیگ کے جدید”لونڈوں”کو یہ ”دولتِ علم” میسر ہی نہیں ۔ عبداللہ بن ابی کے نقشِ جدید تک یہ سب کچھ کہہ ڈالتے ہیں۔یہ المیہ صرف جماعتِ اسلامی کو درپیش نہیں بلکہ ہر وہ مذہبی سیاسی جماعت درجہ بدرجہ اس مرض کا شکار ہے جو انتخابی سیاست کی ”غلاظت نگری” میں اتر چکی۔ سب سے کم عمر جماعت تحریکِ لبیک پاکستان ہے۔ آپ انکے سوشل میڈیا پر نظر دوڑا کر دیکھ لیں تو آپ کو اور کچھ نیا ملے نہ ملے، مگر آپ کی گالیوں کے ذخیرہ الفاظ میں خاطر خواہ اضافہ ضرور ہوگا۔
یہی عالم مولانا فضل الرحمن کے عقیدت مندوں کا ہے۔ ان ”علما ء و فضلائ” کی گالیوں کا ذخیرہ الفاظ تو عربی و فارسی لغت سے ”مرصع” ہے۔ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی والوں کو ایسی ”علمی بصیرت”واقعی میسر نہیں جس میں یہ تمام مذہبی جماعتیں بدرجہ اتم کمال رکھتی ہیں۔ یہ”مذہبی سیاسی میڈیا ماہرین” انتہائی آسانی سے کسی پر کافر، قادیانی، یہودیوں کا ایجنٹ، کے فتوے لگا سکتے ہیں۔اس طرح کے فتوے پی ٹی آئی، ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے ”کارندے” لگانے کی جرات نہیں کر پاتے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر ایسا فتوی لگایا تو مقابلے میں ان تمام مذہبی جماعتوں کے دارالافتاء کھل جائیں گے، جسکے نتیجے میں کئی”سرفروش” اگر جوش میں آ کر ان کی جانب بندوقیں تان لیں، تو پھر موت یقینی ہے۔
عرفان صدیقی کے کالم کا پہلا پیرا انکے اسی خوف کی عملی تصویر نظر آتا ہے۔ میں نے منور حسن امیر جماعتِ اسلامی سے دست بستہ کہا تھا کہ جماعتِ اسلامی کو کم از کم 5سال کیلئے تمام تر سیاسی سرگرمیاں ترک کر کے صرف اپنے اراکین کے تزکیہ پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے تاکہ جماعتِ اسلامی کا سنہرادور لوٹ آئے کہ جب خلقِ خدا کہتی تھی کہ ہم جماعتِ اسلامی والوں کو ووٹ دیں یا نہ دیں ہم ان کے اخلاق، حسنِ سیرت، کردار اور ایمانداری کی گواہی ضرور دے سکتے ہیں۔
مذہبی سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا جنگجوئوں کا عالم اس قدر غضب ناک ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن، سراج الحق یا سعد رضوی کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالیں، ان کی پالیسیوں پر بھی تنقید نہ کریں، بالکل خاموش رہیں، مگر ایک غلطی سرزد ہو جائے کہ آپ ان کے انتخابی مخالف مثلا ”عمران خان”کے ہی کسی موقف کے حق میں کوئی بات کہہ دیں تو پھر دیکھیں”میڈیا کے مذہبی جرنیل” فوراً آپ پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دینگے، کردار کشی شروع کر دینگے اور پھر ان کا ہر کارکن ثواب سمجھ کر اس میں شریک ہو جائیگا۔ان سے پوچھو کہ میں نے کیا آپ کے اکابرین کو کچھ کہا، کیا آپ کی کسی پالیسی پر تنقید کی تو یہ ایک دم آگ بگولا ہو کر بولیں گے تم نے”فلاں ابن فلاں”کا ساتھ دیا، اس لئے اب ہمارے نزدیک تم بھی ”فلاں ابن فلاں”ہو۔ کاش!یہ تمام مذہبی جماعتیں اپنے تمام سوشل میڈیا محبان کو اپنے ”پیجز”اور اکائونٹس پر رسول اکرم ۖ کی یہ حدیث اور قرآنِ پاک کی یہ آیت لکھنے کا حکم دیں تو عین ممکن ہے یہ سدھر جائیں۔
رسول اکرم ۖ نے فرمایا،”مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے”(صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ اس کے ساتھ ہی اگر قرآنِ پاک کی یہ آیت بھی تحریر ہو جائے، ”بے شک اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا”(المنافقون:6)۔ یعنی آپ گالی دینے سے فاسق ہو جاتے ہیں تو پھر آپ ہدایت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں آخرت پر ایمان رکھنے والوں کے لئے یہ آیت اور حدیث کافی ہے۔
اس موضوع پر بہت کچھ ہے جو ضبطِ تحریر میں لانا لازمی ہے۔ فساد خلق سے ڈر کر اگر مذہبی سیاسی جماعتوں کی نسلوں کی غلطیوں کی طرف اشارہ نہ کیا تو روزِ حشر ہم سب لکھنے والے جواب دہ ہونگے، یہ وبا زہر کی طرح تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے نوجوانوں میں سرایت کر چکی ہے۔ لیکن اس دفعہ میری مشکل بہت آسان ہے کیونکہ مجھے سراج الحق کے بیان اور اسکے جواب میں عرفان صدیقی کے کالم دونوں میں سے مجھے سراج الحق کے بیان کا دفاع کرنا ہے، اس لئے عین ممکن ہے اس دفعہ میں جماعتِ اسلامی کی گولہ باری سے بچ جائوں گا۔
رہا عرفان صدیقی کا معاملہ تو انکے نہ تو پروانے اور فروزانے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی سوشل میڈیا سیل ہے، جسکا ”گالی بریگیڈ” ان کے دفاع پر مامور ہو۔ اسلئے مجھے کوئی خوف نہیں۔ ویسے بھی ان جیسے وسیع القب اور عالی ظرف لوگ تو پاکستانی معاشرے کا جھومر ہیں۔ شریف خاندان سے تمام محبتوں اور وابستگیوں کے باوجود ان کی مجھ سے محبت میں کمی نہیں آئی۔ بلکہ عین ان ایام میں جب میں شہباز شریف کے زیرِ عتاب تھا تو ان کے حج کے سفر نامے کی کتاب شائع ہوئی، جس پر پاکستان ٹیلی ویژن نے ان سے انٹرویو کا اہتمام کرنا تھا۔عرفان صدیقی نے ٹیلی ویژن والوں کو ہدایات دیں کہ اس کتاب پر صرف اوریا مقبول جان کو انٹرویو دوں گا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ارباب حل و عقد مشکل میں پڑ گئے کہ مجھے کیسے بلائیں؟، تو انہوں نے کہاکہ اوپر والوں کی ناراضگی کی فکر مت کرو، میں سنبھال لوں گا۔ اس رشتے اور تعلق کی نزاکت اور عرفان صدیقی کی محبتوں کے احترام کیساتھ میں ان سے اختلاف اور سراج الحق کے بیان کی حمایت کی جسارت کر رہا ہوں، جو خالصتاً علمی، تاریخی اور نظریاتی ہے۔
سراج الحق نے ایک اساسی اور بنیادی نوعیت کا مشورہ دیا، جس میں مملکتِ خداداد پاکستان کی لاتعداد سیاسی و انتظامی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ آرمی چیف کی تقرری کیلئے وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ختم ہونا چاہئے اور یہ تقرری چیف جسٹس آف پاکستان کی طرح (سنیارٹی کی بنیاد)پر ہونی چاہئے۔میں نے آغاز میں ہی سراج الحق کے اس بیان کی مکمل حمایت کر دی تاکہ کالم میں دلائل کی یکسوئی قائم رہے۔ مکمل حمایت کے باوجود مجھے اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ سراج الحق کی یہ خواہش کم از کم موجودہ عالمی اور ملکی حالات کے تناظر میں پوری نہیں ہو سکتی مگر اچھی خواہش امید کو سینوں میں پروان چڑھانے میں کیا حرج ہے۔75سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ”قانوناً” پاکستانی فوج کے سربراہ کو تعینات کرنے کا اختیار بظاہر گورنر جنرل، صدر یا وزیر اعظم کو حاصل رہا ہے لیکن یہ اختیار کچھ ”ناقابلِ بیان” عوامل کی رسیوں میں ہمیشہ جکڑا رہا۔
لیاقت علی خان26مئی کو امریکہ کے ڈھائی ماہ کے دورے سے واپس لوٹے تو ان کی”زنبیل” میں لاتعداد وعدوں کے کھلونے تھے، جن کی قیمت ملک نے آہستہ آہستہ ادا کرنا تھی۔ امریکی اس دوران منظورِ نظر کا انتخاب کر چکے تھے جس نے آئندہ حقیقت میں(De’-fecto) سربراہ بننا تھا۔ ”حقیقت میں حکمران” اسلئے لکھا کہ تمام امریکی صدور خفیہ خط و کتابت میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کو ہی اصل حکمران لکھتے رہے اور اب تو یہ تمام خط و کتابت امریکی سکیورٹی آرکائیوز نے طشت ازبام کر دی ہے۔ اس بڑے عالمی کردار کے علاوہ گزشتہ کافی عرصے سے کچھ دوست و مربی ممالک کا کردار بھی اب ڈھکا چھپا نہیں رہ گیا۔ ان ممالک سے ہم مصیبت کی گھڑی میں مدد حاصل کرتے ہیں۔
ویسے بھی جدید سیاسیات میں ریاست کا اہم ترین جزو”اقتدارِ اعلی” ہوتا ہے اور دنیا متفق ہے کہ کمزور ریاستوں کا کوئی”اقتدارِ اعلی” نہیں ہوتا،پاکستان ان میں ایک ہے۔ اسی لئے جو بھی مقتدر یا ”حقیقت میں حکمران”ہوتا ہے، اسے مسند پر بٹھانے اور اتارنے دونوں صورتوں میں عالمی طاقتیں خصوصا امریکہ ضرور شریک ہوتا ہے۔اس عالمی جکڑ بندیوں کے اندر رہتے ہوئے اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کی فوج کا سربراہ ان کی ”رینک اینڈ فائل” سے ویسے ہی آئے گا، جیسے تمام لیفٹیننٹ جنرل ترقی کرتے ہوئے پہنچتے ہیں اور ان ترقیوں کا کسی سیاسی سربراہ کو علم تک نہیں ہوتا، تو پھر شاید یہ مسئلہ عمر بھر کیلئے حل ہو جائے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ایسی ہی شفاف تعیناتی خود سپریم کورٹ نے اپنے مشہور” ججز سنیارٹی کیس”کے فیصلے سے حاصل کر لی۔ الجہاد ٹرسٹ کیس والا یہ فیصلہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ، اجمل میاں، فضل الٰہی خان، منظور حسین سیال اور جسٹس میر ہزار خان کھوسہ نے دیا۔ جس میں یہ اصول طے کر دیا کہ جو جج سینئر ہوگا، وہی چیف جسٹس بننے کا حق دار ہوگا۔ بینچ کے سربراہ خود سجاد علی شاہ کو بینظیر بھٹو نے جونیئر ہونے کے باوجود اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس لگایا تھا۔ بہت معرکہ خیز دور تھا۔ اسی سجاد علی شاہ کے خلاف نواز شریف کی مسلم لیگ سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑی تھی اور ججوں کو جان بچانے کیلئے چیمبرز میں گھسنا پڑا تھا۔ ججز سنیارٹی کیس کو بنیاد بنا کر کوئٹہ میں سپریم کورٹ رجسٹری کے تین ججوں ناصر اسلم زاہد، خلیل الرحمن اور ارشاد حسن نے اپنے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو سنیارٹی کی بنیاد پر نااہل قرار دیا تھا۔ اسی دوران ناراض نواز شریف نے فاروق لغاری سے سجاد علی شاہ کو برطرف کر کے قائمقام چیف جسٹس لگانے کیلئے کہا لیکن شریف النفس فاروق لغاری عزت سمیٹے مستعفی ہو گئے۔ رفیق تارڑ صدر منتخب کر لئے گئے جنہوں نے سپریم کورٹ رجسٹری کوئٹہ کے فیصلے کے مطابق سجاد علی شاہ کو23دسمبر1997کو برطرف کر کے اجمل میاں کو چیف جسٹس لگا دیا۔آج پچیس سال گزرنے کے بعد قوم کم از کم دوبارہ کبھی اس بحران سے نہیں گزری کہ آئندہ چیف جسٹس کون ہوگا اور وہ کس کا منظورِ نظر ہوگا۔ عرفان صدیقی نے عدلیہ کے متنازعہ فیصلوں کو جواز بنایا ہے۔ کاش وہ ان تمام ججوں کے کیریئر پر ایک نظر دوڑائیں اور پھر ان کو ہائی کورٹ کا جج لگانے والے ایسے تمام وزرائے اعظم کے دستخط ملاحظہ فرمائیں تو انہیں اپنے ممدوح نواز شریف کے دستخط سب سے زیادہ ملیں گے۔
تمام وزرائے اعظم نے اپنی پارٹیوں سے سیاسی وابستگی رکھنے والے وکلا کو جج لگایا اور پھر ان سے جیسی توقعات وابستہ کی تھیں، اگر انہوں نے اسکے برعکس کام کیا تو انہی کو مطعون کر دیا جیسے کوئی غلام حکم عدولی کرے تو بہت غصہ آتا ہے۔ ججوں کی تقرری کی خشتِ اول اقربا پروری، سفارش اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہ رکھی جاتی تو آج آپ یہ گلہ کبھی نہ کرتے۔ آج بھی اگر ججوں کی تعیناتی کا نظام سول سروس کی طرح براہِ راست میرٹ پر ہو اور اعلی عدالتوں میں وکلا کا کوٹہ مکمل ختم کر دیا جائے تو پاکستان کی عدلیہ میں ایک سنہرا دور لایا جا سکتا ہے۔
سیاسی مداخلت اور وزیر اعظم کے صوابدیدی اختیار نے ملک کے سب سے قابل ادارے سول سروس کو جس طرح تباہ و برباد کیا، اس کی کہانی المناک ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر1973تک ملک پر جو بھی سیاسی افتاد آئی، حکومتیں بدلیں مارشل لاء آئے لیکن سول سروس کے مضبوط ڈھانچے نے ملک کو جو1947میں پسماندہ اور بے یار و مددگار تھا، دنیا میں ایسے مقام پر کھڑا کیا کہ انگلینڈ کی گریجویشن میں ترقیاتی معاشیات (Development Economics)کے کورس کی کتاب میں پاکستان صنعتی اور زرعی ترقی کو مثال کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ چودہ اگست1947کو سول سرونٹ جو کامن پن نہ ہونے کی وجہ سے جھاڑیوں سے کانٹے چن کر فائلیں مرتب کیا کرتے تھے انہی کی شبانہ روز محنتوں نے صرف25سال میں پاکستان کو دنیا بھر میں صنعتی، زرعی اور اقتصادی شعبے میں روشن مثال بنا دیا اور پاکستان پر کل قرضہ صرف3.5ارب ڈالر تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے1973میں جو متفقہ آئین دیا اس میں وہ تمام آئینی ضمانتیں ( Guarantees)ختم کر دیں جو ایک سول سرونٹ کو حاصل تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنی ایمانداری کو برقرار رکھ سکتا تھا۔ ۔بھٹو کے آئین نے سول سرونٹس کو سیاسی آقائوں کے رحم و کرم پر ڈال کر انہیں ان کا غلام بنا دیا ۔ آج ادارے کی تباہی بربادی سب کے سامنے واضح ہے۔ ناکام، ناکارہ، سیاسی آقائوں کے اشارے پر چلنے والی سول سروس جس میں نہ ایمانداری ہے اور نہ اخلاق، نہ خود پر یقین ہے اور نہ ہی اپنے مستقبل پر بھروسہ۔پاکستان کی افواج ابھی تک صرف ایک آرمی چیف کی تعیناتی کے علاوہ باقی ہر معاملے میں کسی بھی قسم کے تنازعے سے پاک ہیں۔ یہ عہدہ بھی اس لئے متنازعہ ہوا کیونکہ طالع آزما جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے متنازعہ بنایا۔75 سال انکی نرسری میں سیاستدان دانا دنکا چگتے رہے۔ یہ خود برسراقتدار نہیں ہوتے تو جسکے سر پر انکا ”ہما”بیٹھ جاتا وہ اقتدار میں آ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں گزشتہ50سالوں میں ایک ایسی تباہی پھیلی، ایسا زوال آیا کہ اب چاروں اور ماتم برپا ہے۔
جب تک سیاستدان اس مرکز طاقت کو رام کرنے کے چکر میں رہیں گے، یہ وہ خواہ اس کا سربراہ لگا کر کریں یا ان سے مدد کی بھیک مانگ کر، اور جب تک سول بیوروکریسی کبھی سیاستدانوں اور کبھی فوجی سربراہوں کی دستِ نگر، زیرِ سایہ اور محتاجِ محض رہے گی یہ ملک نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی پرامن رہ سکتا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ کی تعیناتی ویسا معمول کا عمل ہونا چاہئے جیسے چیف جسٹس کی تعیناتی ہے ورنہ ہر تین سال بعد رونق تو خوب لگتی رہے گی۔

__اوریا مقبول جان کی تحریر پر تبصرہ__
پہلے تو اوریا مقبول جان سے معذرت کہ صاحب کا لفظ اور کچھ جملے کو مختصر کرنے کی وجہ سے کاٹنا پڑگیا۔ دوسرا یہ کہ جب تحریر یا تقریر سے جان جاتی ہو توپھر خود کش اور بندوق وپستول کے حملوں سے کتنی جان جاتی ہوگی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اوریامقبول جان طالبان ، تحریک لبیک، تحریک ختم نبوت، ناموس رسالت اور مذہب کے نام پر چلنے والی جماعتوں کے واقعی بڑے ہمدرد بلکہ نجأت کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اب معلوم ہواکہ معاملہ کچھ اور ہے۔ آرمی چیف کے معاملے کو متنازعہ بنانے کا دکھ اچھی بات ہے لیکن اس میں اوریا مقبول جان اور ان چہیتی سیاسی جماعتوں نے کتنا کردار ادا کیا اور مذہبی جماعتوں کا کتنا کردار تھا؟۔ جبکہ عمران خان نے سب سے پہلے سینئر موسٹ کو لگانے کی بات کی تھی ۔نوازشریف نے کسی خاص کی نفی کرتے ہوئے سب کو یکساں قرار دیا مگرتماشا تو اوریامقبول جان جیسے لوگوں نے ہی لگایا تھا۔ آرمی چیف کی تقدیر کا فیصلہ وزیراعظم کا اختیار ہے لیکن کوئی آرمی چیف اس بنیاد پر کسی کا داماد تو نہیں بن جاتا ہے۔ اس کی ایک سروس ہوتی ہے اور اپنا ادارہ اور اس کی خیرخواہی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
پہلے اوریامقبول جان نے ایک بہت سنسنی پھیلائی تھی کہ حافظ سید عاصم منیر شاہ کسی صورت بھی آرمی چیف نہیں بن سکتے۔ اب جب بن گئے تو سراج الحق کو ٹوپی سے پکڑلیا کہ ” سنیارٹی کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہیے” تاکہ یہ تأثر پھیل جائے کہ موجودہ سینارٹی لسٹ کے مطابق تعیناتی پر اور یا مقبول بھی بہت خوش اور متفق ہیں۔ عرفان صدیقی کے دامن کو پیچھے سے پکڑلیا کیونکہ اب آرمی چیف ن لیگ کی خواہش کے مطابق تعینات ہوا ہے اور عرفان صدیقی بھی اس ٹیم کا ایک حصہ ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ عرفان صدیقی کی تجویز پر منتخب کیا گیا تھا لیکن عرفان صدیقی کو اسی کے دور میں جیل کی ہوا کھانی پڑگئی تھی اور جنرل باجوہ کی تائید میں اوریا مقبول جان نے ایک خواب بھی میڈیا پر بتایا تھا۔ لوگوں کو اس کے مشرف دور کے پروگرام یاد ہیں کہ فوج کے حق میں کہتا تھا کہ” بڑے معصوم فوجی جرنیل ہمیشہ اچھے رہے اور سول بیوروکریسی تمام خرابیوں کی جڑ رہی ہے”۔ اب فوج بری لگ رہی ہے اور بیوروکریسی کا کردار زبردست ہوگیا؟۔
عرفان صدیقی اپنے لہجے میں مٹھاس اور نزاکت خیزی کی جگہ حق کی خاطر بہت کڑوے بلکہ گالی برگیڈ بن جائیں لیکن معاشرے میں زہر گھولنے کیلئے کوئی جھوٹ مت بولیں۔ جب عرفان صدیقی نے کہا کہ ”رفیق تارڑ پر پانچ جرنیلوں نے بندوق تان کر دباؤ ڈالا کہ استعفیٰ دو لیکن رفیق تارڑ ڈٹ گئے ”۔ جس پر حامد میر نے بڑے مذاحیہ لہجے میں کہا کہ ” رفیق تارڑ نے ”۔ محترم قاری اللہ داد صاحب سے کہا کہ ” قرآن نے زانیوں پر لعنت نہیں بھیجی لیکن جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجی ہے”۔ عرفان صدیقی لال کرتی کے بدنام مکانات میں جاتے مگر نواز شریف کیلئے جھوٹ نہ بولتے ۔ ن لیگ جماعت اسلامی ،سپاہ صحابہ، مولانا سمیع الحق اورطالبان کیساتھ کھڑی ہوتی تھی اور اب مولانا فضل الرحمن کیساتھ کھڑی ہوگئی لیکن جونہی پیپلزپارٹی سے اتحاد ناگزیر ہوگیا اور تحریک لبیک سے خطرہ پیدا ہوگیا تو عرفان صدیقی نے بہت باریکی سے مذہبی طبقے پر وار کیا۔ اوریا مقبول جان کو مذہبی اسٹیج پر بولنے کا موقع ملتاتھا لیکن مرد کے بچے نے نصیحت نہیںکی؟۔
آخرت کو سنوارنے کیلئے اسلام کے بنیادی معاشرتی معاملات پر علمی گفتگو کرنی چاہیے تاکہ حلالہ کی لعنت اور عورت کی حق تلفی کے مسائل کا خاتمہ ہو۔ اگر مذہبی طبقہ طاقت میں آتا تواوریا مقبول اور عرفان صدیقی کو طالبان بنتے دیکھا ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

ہمارا جمعیت علماء اسلام نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔

جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ ہے کہ وہ جو کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی آگے لیکر آیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے

جمعیت علماء اسلام جنوبی وزیرستان اور ضلع ٹانک کے معروف رہنما عالم دین مولانا عصام الدین محسود نے کثیر تعداد میں قومی مشیران کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو خیر باد کہہ دیا ہے ۔ جن میں نامور شخصیات ملک محمد ہاشم خان، ملک سیف الرحمن، حاجی کرامت خان، ملک نعیم جان، ملک گل کرام خان، ملک عبد الحمید خان، ملک رحمت اللہ (رام تل)،ملک سلطان خان، حاجی محمد اقبال خان، نور محمد برکی، ملک بہرام خان، دارو خان، حاجی شاہ محمود خان، ملک فیض اللہ خان اور ڈاکٹر عبد المجید خان وغیرہ شامل ہیں۔ قوم شمن خیل ، لاتعداد عبدالائی، منزائی وغیرہ محسود قوم کی اکثریت نے مولانا عصام الدین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے مولانا عصام الدین محسودنے دکھ بھرے لہجے میں40سالہ رفاقت کو چھوڑنے کی مجبوری پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا:

ٹانک شہر میں مولانا عبد الحق ، قاضی عطاء اللہ اور مولانا فتح خان جمعیت علماء اسلام کی خدمت کررہے تھے۔ جب1983میں مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام کی خدمت کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ مولانا عبید اللہ انور، مولانا عبد اللہ درخواستی پیچھے ہٹے ۔ مولانا فضل الرحمن آگے آئے تو چونکہ ہماری جوانی تھی ۔ ہم نے ساتھ دیا ، ہر محاذ پر بہت قربانیاں بھی دیں۔ اس نے ہمارا ذہن یہ بنایا تھا کہ لنخرج العباد من عبادة العباد الیٰ عبادة رب العباد ہمارا جمعیت نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔ ان لوگوں کی غلامی جن کا اپنا ذہنی میلان غلامی کا ہے ۔ مجھے جو دکھ درد پہنچا، اس کا میں مکمل اظہار نہیں کرسکتا اسلئے کہ میرا دل بہت کمزور ہے۔ آج جب میں جمعیت کو چھوڑ رہا ہوں تو میرے لئے کوئی خوشی کی بات اور اچھا دن نہیں۔ آج جیسا میں مرچکا اور ختم ہوچکا ہوں۔ پارٹی کی آپ40سال خدمت کرو اور اس کو خیر باد کہو تو یہ بہت بڑی بات ہے۔KPKکی لیڈر شپ اوراختیارات مولانا نے ایک ایسے آدمی کو دئیے جو میری موجودگی میں تین مرتبہ مجلس عمومی کے اجلاس سے کرپشن اور بدنامی کی بنیاد پر نکالا گیا۔ اس کو میٹنگ میں آنے سے منع کرتے تھے۔ آج اس کو خیبر پختونخواہ کا گورنر لگایا۔KPKمیں جتنے پرانے علماء کرام اور قربانیوں کے لوگ ہیں سب کو چھوڑ دیا۔ رشتے دار بیٹی کے سسر کو گورنری دی۔ میں جمعیت علماء اسلام کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ مجھ پر بھاری، تکلیف دہ ہے اسلئے کہ یہ جھنڈا میرے باپ نے بھی گھمایا ۔ مفتی محمود کے وقت میں میرے والد قبائل کی ساتوں ایجنسی کے صدر تھے۔ اس جمعیت کی بنیاد وزیرستان میں میں نے رکھی ۔ سراروغہ میں انصار الاسلام سے جمعیت کو منتقل کیا پھر کل قبائل جمعیت بھی الحمد للہ میری کوششوں سے وجود میں آئی تھی۔ بڑے جلسوںاور پروگرام کا اہتمام میرے گھر سے ہوتا تھا۔ وہ نظریہ جو مولانا نے متعارف کرایا تھا اسکے خلاف مولانا خود چل پڑے۔ اسلئے اپنی سیاسی وابستگی سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہوں اور مستقبل کیلئے میں اپنی قوم اور عوام کی رائے سے قدم اٹھاؤں گا۔ میرا گلہ ہے کہ مولانا صاحب بہت سارے علماء نے آپ کیساتھ بڑی قربانیاں دیں ۔ جنکے باپ دادا جمعیت میں بوڑھے اور فوت ہوگئے۔DIخان کو دیکھیں! مولانا علاؤ الدین ، مفتی عبد القدوس اور کلاچی کے قاضی عبد الکریم یہ جتنے علمی گھرانے تھے مولانا فضل الرحمن کی کوشش سے جمعیت کی قیادت سے نکلے بلکہ انکے نام کو مٹانے کی کوشش کی۔ ٹانک میں مولانا قاضی عطاء اللہ، مولانا عبد الحق مولانا فتح خان، مولانا عبد الرؤف کی جماعت کیلئے قربانیاں تھیں۔ ان کی اولاد کو کسی شمار و قطار میں نہیں سمجھتا بلکہ ان کی بے عزتی کی کوشش کرتا ہے۔ میں ڈرتا تھا کہ میری بے عزتی نہ ہوجائے۔KPKمیںمولانا جمعیت کو وراثت میں تبدیل کرچکا ۔ ڈی آئی خان میں اس کی خاندانی ، بنوں میں اکرم درانی اور پشاور میں غلام علی کی بالادستی ہے۔ علماء کو چاہیے کہ آج اٹھ جائیں اور اپنے آپ کا خود پوچھ لیں اگر وہ پوچھیں نہ تو ان کیلئے یہ وقت نقصان دہ ہوگا۔ اللہ کرے کہ جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اس طرح سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ وہ کس طرف جارہے ہیں؟۔ کس کیساتھ جارہے ہیں؟ اور کس لئے جارہے ہیں؟۔
صوبے کے علماء سے مطالبہ ہے کہ اٹھ جاؤ اور اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں لو ۔ آج جمعیت سرمایہ داروں کے ہاتھ میں گئی۔ میں نے اس دن استعفیٰ دیا تھا جس پر امیر اور جنرل سیکریٹری گواہ ہیں کہ جس دن ساؤتھ وزیرستان محسود ایریا سروکئی تحصیل اور لدھا تحصیل کے میئر کے نام آگئے تو اس دن میں نے دستخط کردئیے اور کہا کہ اسکے بعد مولانا صاحب میں کابینہ میں ساتھ نہیں ہوں گا۔ اس نے کہا کہ کیوں؟ ۔ میں نے کہا اسلئے کہ محسود ایریا کے لوگ جمعیت علماء اسلام کو مفت میں ووٹ دیتے تھے۔ آپ نے سرمایہ داروں کوآ گے کردیا اور ان کو ٹکٹ دیا۔ مولانا صاحب نہیں چاہتا کہ کوئی غریب عالم بھی آگے آئے۔ حالانکہ علماء کی اکثریت ہے اور اب بھی پوچھ سکتے ہیں کہ میئر کیلئے اکثریت علماء کے حق میں تھی کہ ٹکٹ علماء کو ملیں لیکن جب بات مولانا تک پہنچی تو مولانا سرمایہ دار کے حق میں فیصلہ کرتا تھا۔ اس طرح مولانا صالح شاہ کے بیٹے کو ٹکٹ دیا۔ اس دن بھی آپ لوگوں نے مجھے داد دی تھی اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو کامیابی عطا فرمائے۔ اس کے علاوہ کی باتیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے دوستوں کے ساتھ مشورہ کروں گا۔ اگر سیاست کیلئے دل چاہا تو جماعتیں بہت ہیںاور اگر نہیں چاہا تو بھی اپنے لئے لائحہ عمل بناؤں گا۔ جمعیت موروثی جماعت بن گئی، علماء کی جماعت نہیں ، ان پڑھ لوگوں میں بھی صرف مالداروں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ میں جماعت کیلئے یہ گناہ سمجھتا ہوں اور اسکے بعد میں شامل نہ ہوں گا، و آخر دعوانا ان الحمد للہ ۔
سوال: مولانا صاحب یہ بتاؤ کہ گورنری کیلئے جمعیت علماء اسلام سے کوئی مشاورت ہوئی تھی؟۔ یا ایسے ہی نامزد کردیا؟۔ اور لوگوں نے اتفاق کرلیا؟۔
جواب: مولانا ہر بات میں مشاورت کرتا ہے لیکن پہلے کارکنوں کا یہ ایسا ذہن بناتا ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ایک رسمی مشاورت ہوتی ہے۔
سائل: مطلب ہے کہ پہلے سے کسی ایک کیلئے ذہن بنایا ہوتا ہے۔
جواب: ہاں بالکل! جس کیلئے مولانا چاہتے ہیں اسی کو لاتے ہیں۔
سوال: کیا یہ بات جماعت کی مرکزی اور صوبائی سطح پر پہلے بھی آپ نے کبھی اٹھائی ہے کہ ہمیں یہ شکایات ہیں؟ یا پہلی مرتبہ یہاں بیان کررہے ہیں؟ ۔
جواب: میں نے بالکل پہلے بھی کی ہے لیکن جو لوگ ان کے گھر سے باہر کے تھے تو وہ کہتے تھے کہ اگر ہم نے یہ بات کی تو ہمیں عہدوں سے ہٹادے گا۔ عصام الدین صاحب یہ مہربانی کرو کہ چند سال مجھے اس عہدے پر رہنے دو۔ اگر آپ مخالفت کرو تو پھر آپ کی جگہ جماعت میں نہیں ہے۔
سوال: جس طرح پاکستان میں گرما گرمی بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے ایسے میں بنیادی رکنیت سے آپ کا مستعفی ہونا تو کیا کسی سیاسی جماعت میں کوئی جانے کا فیصلہ کیا ہے؟۔ یا پھر آپ خاموش رہیں گے؟۔
جواب: اگر میرے مفاد کی بات ہوتی تو غلام علی کو میں بہت عرصہ سے جانتا ہوں جب وہ کونسلر بھی نہ تھا پھر میں استعفیٰ نہ دیتا بلکہ گورنر سے مفادات اٹھاتا۔ لیکن الحمد للہ کہ میں نے پہلے بھی کبھی جماعت میں مفادات نہیں اٹھائے ہیں۔ اور نہ آئندہ کسی اور پارٹی سے میرے مفادات کا خیال ہے۔ ہر بندے کا حق ہے کہ سیاست کرے لیکن وہ اپنے لئے اس پارٹی کو چنے گا کہ جس میں میرے دوستوں ، میری قوم کے لوگوں اور میرے علاقے کے لوگوں کو پسند ہواور اس میں میری عزت ہو، بے عزتی نہ ہو۔ میں جمعیت فضل الرحمن کو چھوڑ رہا ہوں تو مجھے اپنی عزت کا خطرہ ہے۔ یہ تین چار سال سے جو ہورہا ہے کہ انہوں نے مجھے اپنا سرپرست بنایا ہے تو میں نے جو کچھ بھی دیکھا، اس کو سر عام بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے40سال گزارے اسلئے میں وہ باتیں نہیں کرسکتا کہ کیوں جماعت کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکنKPKکے گورنر سے مجھے یقینی طور پربہت تکلیف پہنچی۔ اسلئے میں نے آج نو دس بجے ہنگامی فیصلہ کیا کہ آج تمام علماء ، پرانے دوستوں کو نظر انداز کرکے سسرالی رشتہ دار کو گورنری دی تو کیا کوئی اس کی اہلیت نہیں رکھتا تھا؟۔ میں نے بتایا کہ ہمارے وقت میں اس کو تین دفعہ اجلاس سے نکال دیا گیا تھا۔ بس یہ میرے لئے برداشت کے قابل بات نہیں تھی۔
سوال: اس نے تو ایم پی اے کا ٹکٹ بھی بغیر داڑھی والے کودیا ہے جو جماعتی فرد نہ تھا۔ اسی طرح گلستان بھی ایساتھا اور… بیٹنی بھی ۔
جواب: ہاں اسکا رویہ یہی ہے جوMPAاسکےMNAکا خرچہ برداشت کرتا ہے اسی کو ٹکٹ دیتا تھا۔ جو علماء ، کارکن خرچہ نہیں اٹھاسکتے تو ٹکٹ نہیں دیتا تھا۔ گلستان اور جس کو ابھی ٹکٹ دیا ہے وہ صرف اسلئے دیا کہ وہ خرچہ اٹھاتا ہے۔
سائل: یعنی جو مالی طور پر مولانا کے خرچے کو اٹھاسکتا ہے جماعتی طور پر نہیں!
جواب: ہاں بالکل۔ جماعت برائے نام معاملہ ہے ۔ آپ کا جماعت سے کوئی تعلق نہ ہو تو ٹکٹ بھی مل جائیگا جب دولت ہو تو۔ اگر دولت نہ ہو تو پھر آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ میرے گھر مولانا فضل الرحمن اورمولانا عطاء الرحمن نے بہت راتیںگزاری ہیں۔ جماعت کا کوئی لیڈر نہیں جس نے اس بیٹھک میں رات نہ گزاری ہو۔ یہ جماعت اولیاء اللہ کی جماعت تھی اور اچھے لوگوں کی جماعت تھی۔ مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا احمد علی لاہوری اور یہ مفتی محمود کی جماعت ہے۔ اس جماعت کو اس طرف نہ لے جاؤ جس میں علماء کی بے قدری ہو اور سرمایہ دار کی عزت ہو۔ اللہ ہم پر رحم کرے اور ہماری جمعیت علماء کے پرانے ساتھیوں کو یہ فکر دے کہ آخر ہم کس طرف جارہے ہیں۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان سرمایہ داروں کو بھی جماعت میں شامل کریں گے اور ٹکٹ دیں گے تو پھر ؟ ۔
جواب: سرمایہ دارں میں جو لوگ جماعت کیلئے قربانی دیتے ہیں ان کو بھی ٹکٹ دینے کا حق پہنچتا ہے ایسا نہیں کہ کوئی سرمایہ دار ہے اور وہ جماعت میں نہیں آسکتا ہے۔ جماعت میں بہت سرمایہ دار لوگ ہیں ان کی قربانیاں ہیں۔ وہ بچپن سے جماعت کیلئے قربانیاں دیتے آئے ہیںاور ان کی داڑھیاں نہیں ہیں لیکن ان کا نظریہ جمعیت علماء اسلام کا ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا ہے کہ جسکا تعلق جماعت سے ہے لیکن کردار جماعت کیخلاف ہے تو اس کی مخالفت ہم کرتے تھے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ سرمایہ دار کو ٹکٹ نہ دیا جائے مگر اقرباء پروری نہ ہو جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ کمال ہے کہ وہ جو بھی کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی اور آگے لیکر آگیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے اور یہ غلام علی پشاور نہیں دیر کا ہے ۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام سے مولانا محمد خان شیرانی اور مولانا گل نصیب خان وغیرہ کو نکال دیا گیا کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے لگے ہوئے ہیں تو کیا اس وقت آپ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت کے فیصلے سے متفق تھے؟۔
جواب: مجھ پر کوئی یہ ثابت نہیں کرے گا کہ میں نے کبھی مولانا شیرانی اور مولانا گل نصیب خان کی مخالفت کی ہو۔ بلکہ میں کسی بھی عالم کی مخالفت کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ شیرانی صاحب کی جو قربانیاں جماعت کیلئے ہیں وہ مولانا فضل الرحمن نے آنکھوں سے بھی نہیں دیکھی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جو کیا ،اپنی لیڈر شپ کیلئے کیا اور مولانا شیرانی نے جو قربانیاں دیں وہ جماعت کیلئے دی ہیں کسی اور کیلئے نہیں دی ہیں۔ اس نے ہر موقع پر مولانا شیرانی کے خلاف جماعت کو استعمال کیا ہے اور میں اس میں بھی اس کے ساتھ متفق نہیں تھا۔ اگر میری کوئی آئی ڈ ی دیکھ لے تو میرا اس میں اس وقت بھی بیان موجود ہے کہ جو جماعت نے ان لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے یہ بہت دلخراش ہے۔ اس کو آپ دیکھ لیں میرا مؤقف اس وقت بھی یہ تھا کہ ان علماء کو جماعت سے نکالنا درست نہیں ۔ یہ اختیار بھی غلط ہے کہ اتنے بڑے بڑے علماء کو جماعت سے نکالو۔ مجھے آج کے اس احتجاج سے یہ امید ہے کہ آئندہ الیکشن میں علماء اپنے لئے کچھ سوچیں گے۔

__تبصرہ__

سوسالہ تاریخ میں جمعیت علماء اسلام کو چند خاندانوں تک محدود کرنے کی کوششوں اور اکابر کی جانب سے مختلف ادوار میں اصلاح کی طویل جدوجہدکے
نشیب وفراز
حالات وواقعات کے زبانی اندرونی حقائق پہلی مرتبہ کارکنوں کے لئے منظر عام پرلانے والی کتاب ، جس کو پڑھنے کے بعد ہر کارکن جمعیت علماء اسلام کی دوبارہ احیاء کی مخلصانہ مساعی کا دست وبازو بننے کا آرزو مند ہوگا۔
مصنف :محمد اسماعیل الحسنی (بلوچ)
ناشر: دارالبصیرة کوئٹہ۔ تاریخ اشاعت2022صفحات720
فون :03217888483تعداد:1100قیمت850
انتساب : جمعےة علماء اسلام کے ان بے لوث اکابرین اور بے غرض کارکنوں کے نام جو مختلف ادوار میں اپنی ہی جماعت میں مظلوم اور معتوب ٹھہریں۔
مختصر تبصرہ:ازنوشتۂ دیوار:کتاب پر مولانا گل نصیب خان کی تقریظ ہے۔ مولانا محمد اسماعیل الحسنی نے دار العلوم دیوبند کا ایک انقلابی نظریہ اور دوسرا سرمایہ دارانہ استحصالی نظریہ پر بہت گرانقدر موادپیش کیا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی و مولانا فضل الرحمن ، مولانا غلام غوث ہزاروی و مفتی محمود کی چپقلش پر تحقیق ہے۔
محمد اسماعیل الحسنی ”لیفٹیننٹ گورنر سر جیمس کی دار العلوم آمد اور مہتمم کو اعزاز” کے عنوان سے لکھتے ہیں : شمس العلماء مولانا محمد احمد (مہتمم دار العلوم دیوبند) انگریز کے وفادار اور بہی خواہ تھے۔ اسکے بدلے میں انہیں خصوصی سند ، زمین، وظیفہ اور حیدر آباد دکن میں ایک عالیشان ملازمت بطور احسان عنایت کئے گئے بحکم ھل جزاء الاحسان الا الاحسان شمس العلماء نے بھی انکے احسان کا نقد بدلہ مولانا عبید اللہ سندھی کے دیوبند سے اخراج اور شیخ الہند کو گرفتار کرواکر ادا کیا تھا بانیان دیوبند کی اولاد غیرت دینی و حمیت ملی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انگریز گورنر کو سپاسنامہ پیش کرکے دار العلوم کی لائبریری میں خوشامدانہ جذبات کا اظہار کررہے تھے۔ گورنر انکے چہروں پر نظر حقارت ڈال رہے تھے۔ صفحہ81

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نکاح وطلاق کی غلط فہمیاں اور وضاحتیں

نکاح وطلاق کی غلط فہمیاں اور وضاحتیں

نمبر1:اللہ تعالیٰ نے نکاح کے بعد طلاق کا حق مرد کو اور خلع کا حق عورت کو دیا ہے۔ عورت خلع لے تو اس کو دئیے ہوئے گھر، جائیداد اور تمام غیرمنقولہ اشیاء سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ لیکن دی ہوئی چیزیں کپڑے، زیورات،گاڑی، پیسہ اور تمام غیرمنقولہ اشیاء میںبعض بھی شوہر واپس نہیں لے سکتا ہے۔ جب شوہر طلاق دے تو پھر دی ہوئی منقولہ وغیرمنقولہ تمام چیزیں چاہے بہت سارامال دیا ہو ، کوئی چیز بھی واپس نہیں لے سکتا۔ یہ دونوں باتیں سورۂ النساء کی آیات19،20اور21میں بالکل واضح ہیں۔ خلع وطلاق میں مالی حقوق کا فرق ہے۔ خلع عورت کا مکمل اختیار اور طلاق مرد کامکمل اختیار ہے۔علماء ومفتیان آج ہماری معیشت کو سودی نظام میں بدلنے کی خوشخبریاں سنارہے ہیں تو پہلے یہ ہمارے معاشرتی نظام کو بھی اپنی کم عقلی ، مفاد پرستی اور ہوس پرستی سے تباہ کرچکے ہیں۔
اگر سید پیر مہر علی شاہ ، سید علامہ محمد انور شاہ کشمیری ،سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، سیدابوالحسنات قادری، سید ابولاعلی مودودی اور سید علامہ یوسف بنوری نہ ہوتے توان غیر سادات نام نہاد علماء ومفتیان مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو بھی قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ پاکستان کے مرزائی وزیرخارجہ سرظفر اللہ قادیانی نے خود قائداعظم محمد علی جناح کے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی ،اگر وہ شرکت کرنا چاہتا تو شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع روکنے کی جرأت تو بہت دور کی بات ہے اس کا والہانہ استقبال کرتے۔ ان لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں تھا۔ مولانا ابولاکلام آزاد اور سید سلیمان ندوی کو تصویر کے جواز کا فتویٰ دینے کے بعد اپنی کم علمی وکم عقلی سے مجبور کیا لیکن جب حکومت پاکستان کے قیام میں سرکاری اور درباری بن گئے تو شرک اور اللہ سے مقابلے والی تصویر کو بھی حکومت اور تجارت کی غرض سے جائز قرار دیدیا۔ اپنے اکابر مفتی محمود ، مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا عبداللہ درخواستی سے حاجی عثمان تک انتہائی لغو، دروغ گوئی ، جہالت اور مفادپرستی پر فتوے دئیے لیکن سرکاری اور درباری ملاؤں نے قادیانیوں ، شیعہ اور مودودی کے خلاف کبھی زبان اسلئے نہیں کھولی کہ جب تک ریاست کی طرف سے اشارہ نہ ہو یہ نہیں ہوسکتا تھا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی مرضی سے طلاق وحرامکاری کے فتوے دئیے۔
جب یہ واضح ہے کہ طلاق کا حق شوہر اور خلع کا حق عورت کو حاصل ہے اور دونوں صورتوں میں مالی حقوق کا فرق پڑتا ہے۔ خلع میں صرف دی ہوئی منقولہ جائیداد اور طلاق میں عورت کو منقولہ وغیرمنقولہ سب دی ہوئی چیزیں اس کا حق ہے تو اگر عورت دعویٰ کرے کہ شوہر نے اس کو طلاق دی ہے اور شوہر انکار کرے تو یہ ممکن ہے کہ عورت نے زیادہ سے زیادہ مالی حقوق کے حصول کیلئے جھوٹا دعویٰ کیا ہو۔ اسلئے طلاق کے مالی حقوق لینے کیلئے اس کو قاضی یا جج کے سامنے دو گواہ لانے پڑیںگے۔ گواہ بھی معقول اور قابلِ قبول۔ اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوئے تو شوہر حلف اٹھائے گا۔ اگر شوہر نے حلف اٹھالیا تو پھر قاضی یا جج طلاق کا حکم جاری نہیں کرے گا۔ اگر عورت چاہے تو خلع لیکر الگ ہوسکتی ہے لیکن اگر علیحدگی نہیں چاہتی ہو تو پھر طلاق بھی نہیں ہوگی۔ نکاح میں جڑے رہ سکتے ہیں۔
مفتی تقی عثمانی کا یہ فتویٰ ہے جو اس نے مولانا اشرف علی تھانوی کے نام پر ”حیلہ ناجزہ” میں شائع کیاکہ ایسی صورت میں عورت شوہر سے حرامکاری پر مجبور ہوگی اسلئے کہ اگر ہوسکے تو جتنا مال شوہر مانگ رہا ہو ،اس کو خلع کے نام پر دیدے اور اگر شوہر پھر بھی خلع نہیں دینا چاہتا ہو تو عورت پھر نکاح میں بھی رہے گی اور یہ تعلق بھی حرامکاری کا ہوگا۔ جب شوہر جماع کرے تو عورت لذت نہ اٹھائے ورنہ گناہ گار ہوگی۔ جس جعلی اسلام میں عورت کو خلع کا حق نہ ہو اور وہ حرامکاری پر مجبور ہو تو یہ اللہ اور اسکے رسول ۖ کا اسلام نہیں ہوسکتا ہے بلکہ درباری علماء کی طرف امت میں رائج ہوا ہے۔ درباریوں کا فقہ ہمیشہ رائج الوقت سکہ رہا ہے۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں مغل بادشاہ اورنگزیب کیلئے بھائیوں کے قتل کا قصاص معاف کیا تھا اور یہ سلسلہ کربلا کے میدان سے لیکر موجودہ دور تک اہل حق کے خلاف چل رہاہے لیکن اب ان کے چہروں سے اسلام کا جھوٹا نقاب اٹھانا پڑے گا۔
نمبر2:اللہ تعالیٰ نے کسی صورت میں بھی طلاق کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کا راستہ نہیں روکا ہے لیکن جب عورت راضی نہ ہو تو پھر ایک طلاق اور ناراضگی کی صورت میں بھی شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیا ہے۔ فقہی مسائل میں طلاق صریح وکنایہ کے ذخیرۂ الفاظ کا فائدہ فقہاء حق نے عورت کو پہنچایا ہے اور حضرت عمر وحضرت علی اور ائمہ مجتہدین کا طلاق ورجوع کے حوالے سے آپس میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن بعد والے درباری شیخ الاسلاموں نے مسائل کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ جتنے جھوٹے انقلابی منظور پشتین وغیرہ عورت کے حقوق کی پاسداری میں مذہبی طبقے کیساتھ کھڑے ہیں انکے نعروں سے کبھی انقلاب نہیں آسکتا ہے۔ انقلاب معاشرے ، گھروں اور افراد کی حقیقی آزادی سے آتا ہے۔ خاتم الانبیاء والمرسلینۖ نے جو انقلاب برپا کیا تھا اس کی وجہ سے دنیا بھر کی ظالم سپر طاقتوں قیصر روم اور کسریٰ ایران کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
نمبر3:نکاح وطلاق کے غلط مذہبی رسوم ورواج کا قرآن نے خاتمہ کیا تھا لیکن درباری طبقات نے اسی جگہ معاملہ پہنچادیا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔ اللہ نے ان مذہبی علماء کو گدھوں سے تشبیہ دی جنہوں نے کتابیں لاد رکھی ہوں۔ اور چالاک وعیار قسم کے مفادپرست علماء کو کتے سے تشبیہ دی تھی۔ کتے گدھے ہنکانے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں لیکن گدھوں کو پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ کہاں سے کہاں ان کو ہنکایا جارہاہے۔ کل سارے مدارس ”حرمت سود” پر متفق تھے اور آج ”حرمت سود” کے نام پر سیمینار میں ” حلت سود” میں گدھوں کو کھڑا کردیا گیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے بڑے فائدے اٹھالئے لیکن جن کو بلایا گیا تھا ان کو بھی چارہ ، بھوسہ اور کرائے کے نام پر کچھ جیب گرم کی ہوگی۔ سود کی حرمت کو چھوڑ کر علماء ومفتیان نمازجنازہ میں فاتحہ پڑھنے کے پیچھے لگے۔
نمبر4:قرآنی آیات، احادیث صحیحہ ، خلفاء راشدین اور ائمہ مجتہدین میں طلاق ونکاح کے حوالہ سے کوئی حلال وحرام کا اختلاف نہیں تھا حضرت عمر کی طرف سے عورت کو ”حرام ” قرار دینے پر اسلئے رجوع کا فتویٰ دیا گیا کہ عورت راضی تھی اور حضرت علی کی طرف سے ” حرام” کے لفظ پر اسلئے رجوع کا فتویٰ نہیں دیا گیا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ بعد والوں نے عجیب وغریب اقسام کے تضادات سے اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا ہے اسلئے آج اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کی چاہت تھی کہ امام ابوحنیفہ کے اصل مسلک قرآن کی طرف رجوع سے انقلاب لایا جائے لیکن علماء ومفتیان اور مولانا مودودی تک کسی نے بھی انقلاب کی تائید نہیں کی بلکہ مولانا عبیداللہ سندھی پر کفر، الحاد ، گمراہی اور دماغی خلل کے الزامات لگادئیے۔ اسلئے انہوں نے بہت سختی کی وجہ سے لکھا تھا کہ ” جس طرح ابوجہل و سرداران قریش مسلمان انقلابی نوجوانوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے،اسی طرح ہم بھی جب تک ان مقدس ہستیوں کو قتل نہیں کریںگے جو انقلاب اور اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہیں کبھی یہ عوامی سطح پر اسلام کی طرف رجوع اورانقلاب کو کامیاب نہیں ہونے دیںگے”۔ مولانا عبیداللہ سندھی کے دور میں سوشل میڈیا نہیں تھا اور موجودہ دور کی طرح تعلیم یافتہ معاشرہ بھی نہیں تھا اسلئے سختی کی وجہ سے قتل اور قتال کی باتیں ایک مجبوری ہوسکتی تھی۔ آج بہت آسانی سے انقلاب آسکتا ہے۔ جن خود کش حملہ آوروں کو درباریوں کے خلاف استعمال ہونا چاہیے تھا وہ ہمارے خلاف استعمال ہوگئے لیکن انشاء اللہ خلافت کے قیام کا مشن کامیاب ہوگا۔
نمبر5:اسلام کے نام پر حلالے کی لعنت قرآن واحادیث صحیحہ سے انحراف اور علماء ومفتیان کی کم عقلی وہوس پرستی کا نتیجہ ہے۔ بڑے مدارس کے بڑے علماء و مفتیان اور انکے دارالافتاء میں بیٹھے ہوئے چھوٹے مفتیان کو بات سمجھ آگئی ہے لیکن اپنی انانیت اور ہوس پرستی کی وجہ سے غریب اور جاہل طبقے کو حلالہ کے نام پر لعنت کا نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ اب خود کش کے نشانہ بننے کے قریب ہیں۔

شرعی پردہ اور شرعی حدود کا درست تصور
ایران میں ایک لڑکی کو سر کے کچھ بال کھلے ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا توبہت بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ طالبان نے کابل ائیر پورٹ پر پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کا استقبال کیا تو اسکے کچھ بال کھلے ہوئے تھے۔ طالبان ملاعمر کے دور سے بہت بدل چکے ہیں جہاں وہ داڑھی نہ ہونے پر سزائیں دیتے تھے اور بااثر لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ علماء ومفتیان کو بھی اپنے غلط نصاب تعلیم کی وجہ سے درست اسلام کا پتہ نہیں ہے تو طالبان بھی کم علم اور شعور سے عاری ہونے کی وجہ سے معذور ہیں۔ اس جہالت سے کبھی ہمارا بھی گزر ہوا ہے لیکن اب جس طرح طالبان کے شعور میں اضافہ ہوا ہے اس طرح ہمارے شعور نے بھی تھوڑی بہت ترقی کرلی ہے۔
طالبان اعتدال کا راستہ اپناتے ہوئے نہ تو خواتین کو نقاب اٹھانے پر مجبور کریں اور نہ لگانے پر مجبور کریں۔ اسلام کا سب سے بڑا مرکز مکہ مکرمہ میں حج و عمرے کے دوران مردوں نے واجبی لباس احرام پہنا ہوتا ہے اور عورتوں کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا نہیں ہوتا ہے۔ حرم کعبہ میں نماز، طواف اور صفا ومروہ کی سعی میں خواتین و حضرات شانہ بشانہ چلتے ہیں۔ چودہ سوسال سے اسلامی فریضے کی ادائیگی میں جتنی روشن خیالی اسلام نے سکھائی ہے ،کسی دوسرے مذہب میں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔ لونڈیوں کا ستر لباس بھی بہت مختصر ہوتا تھا۔
شرعی پردے کا حکم عورتوں کو اللہ نے دیا ہے لیکن زبردستی سے مسلط کرنے کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے۔ غیرمسلم عورتوں کیلئے تو اس کا تصور بھی نہیں ہے اور اگر طالبان اعلان کردیں کہ بدھ مت کے پیروکاردنیا بھر سے افغانستان میں آسکتے ہیں تو چین، جاپان، شمالی وجنوبی کوریا، برما، تھائی لینڈ ، بھارت اور یورپ وامریکہ وغیرہ سے بڑے پیمانے پر بدھا کے آثارقدیمہ دیکھنے کیلئے لوگ آئیں گے اورافغانستان کے سفارتی تعلقات کے علاوہ بڑے پیمانے پر سیاحوں کی آمد سے عوام کی غربت بھی ختم ہوجائے گی۔ جس برقعہ کا افغانی عورتوں کو پابند بنایا جارہاہے یہ افغانستان اور پشتونوں کا لباس نہیں ہے بلکہ پنجاب کا لباس ہے اور اس کو پشتونوں کے کلچر میں متعارف اور رائج کرنے والا بھی ہمارا خاندان ہے۔ یہ میرے بچپن اور یاد اشت کی بات ہے ، وزیرستان سے سوات تک کہیں بھی یہ برقعہ نہیں تھا۔ شرعی پردے کا جو تصور علماء ومفتیان نے اپنی طرف سے ایجاد کیا تھا اس پر علماء ومفتیان نے کبھی خود بھی عمل نہیں کیا ہے اسلئے مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” اشرافیہ کا یہ پردہ ترک کردیا جائے کیونکہ یہ شرعی پردہ نہیں ہے اور اس کی وجہ سے معاشرے میں قوم لوط کا عمل بڑھتا ہے”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے اسلام قبول کیا تھااور علماء کے علم وعمل کو دیکھا اور سمجھا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جب اپنے ماں باپ، بھائی ، بہن، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی اور اپنے دوستوں کے گھروں میں انفرادی اور اجتماعی کھانے کی ااجازت ہے جس پر صحابہ کرام سے لیکر میرے آباء واجداد (جو سید عبدالقادر جیلانی کی آل تھے اور علماء ومشائخ تھے ) تک فقہاء کے غلط اور خود ساختہ شرعی پردے کا کوئی تصور نہیں تھا تو مجھے بھی ان کی جہالتوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن میں نے کسی دور میں اس پر عمل کرکے بھائی، ماموں ، چچا اور قریبی رشتہ داروں سے شرعی پردے کے نام پر عمل کرکے اپنے خاندان اور دوستوں میں دوریاں پیدا کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ جب معلوم ہوا تو اپنی جہالت سے نکل گیا ۔ مولانا عبیداللہ سندھی شرعی پردے کے درست تصور کو جانتے تو شریعت چھوڑنے کی دعوت نہ دیتے۔
یہ مولانا عبیداللہ سندھی کی توہین نہیں بلکہ اسلام کی اجنبیت کی دلیل اور ان کی توثیق ہے۔ اگر اسلام کی حقیقت شرعی پردے کے نقاب میں غائب نہ ہوتی تو امام انقلاب مولانا سندھی کیلئے اپنا مشن بہت آسان ہوجاتا۔ رسول اللہ ۖ کی رہنمائی وحی کے ذریعے سے ہوتی تھی لیکن آپۖ کے وصال کے بعد وحی کی ہر معاملے میں رہنمائی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ حضرت ابوبکر نے مانعین زکوٰة کے خلاف قتال کیالیکن حضرت عمر پہلے بھی تشویش میں تھے اور آخر میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اگر حضرت ابوبکر کے ساتھ مل کر حضرت عمر نے مانعین زکوٰة کیخلاف جہاد کیا اور اپنے دور میں اس کو غلط قرار دیتے تو یہ اجتہادی خطاء تھی۔ طالبان نے بھی ملاعمر کے دور میں جو اقدامات کئے اور اب ان کو صحیح نہیں سمجھتے تو ان کیلئے اس اجتہادی غلطی کی زیادہ گنجائش ہے۔ رسول اللہ ۖ نے وحی کی رہنمائی سے قبل بیت المقدس کا پہلا قبلہ بنایا تھا اور جب تک وحی نازل نہیں ہوئی تھی تو اہل کتاب کے حکم کے مطابق مسلمان وکافر اور مرد وعورت پر سنگساری ، کوڑے وجلاوطنی کے احکام جاری کردئیے۔ جب زانی مرد وعورت کیلئے سورۂ نور میں100کوڑوں کی سزا کا حکم واضح ہوا تو تورات کے مطابق حکم پر عمل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اسلئے کہ اللہ نے واضح فرمایا تھا کہ تورات میں تحریف ہوئی ہے اور قرآن محفوظ ہے۔ اگر یہودی بھی تورات کے مطابق فیصلہ کروانا چاہتے ہوں تو ان کو منع کردو اسلئے کہ اپنی کتاب سے بھی فتنہ میں ڈال دیںگے۔ حضرت علی سے یہ منسوب ہے کہ اگر آپ اقتدار کرتے تو سب پر انکی کتابوں کے مطابق سزاؤں کا حکم جاری کرتے ۔ حالانکہ یہ قرآن کے منافی ہے۔ حضرت عمر نے مسلمانوں پر بھی تورات کے مطابق باہمی رضامندی سے زنا میں پکڑے جانے پر سنگساری کا حکم جاری کرنے کا اعلان کیا مگر جب بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہ پر چار افراد گواہی کیلئے آگئے تو مسئلہ اتنا خراب کردیا گیا کہ آج تک لوگوں کا دماغ سن ہے۔ حنفی اور جمہور فقہاء کے نزدیک الگ الگ مسالک اس پر بن گئے اور بخاری وغیرہ میں گواہوں کے نام اور ملزم کو بچانے کیلئے عجیب طریقے کا ذکر ہے اور ان پر حدِ قذف جاری کرنے کی وضاحت ہے۔ مولانا مودودی نے لکھ دیا کہ” وہ تو حضرت مغیرہ کی اپنی بیگم تھی”۔ حالانکہ ام جمیل کوئی اور عورت تھی۔
اگر تین تین افراد کی گواہی پر حدقذف لگے تو طالبان بے پردگی پر سزا کیسے دے سکتے ہیں؟۔ مولانا فضل الرحمن بھی ووٹ مانگنے کے دور میں کہتا ہے کہ تین چشم دید گواہ مردعورت کو ننگے بدکاری کرتے ہوئے دیکھ لیں اور گواہی دیں تو پھر ان تینوں پر حدِ قذف لگے گی۔ علماء ومفتیان افغانستان کے طالبان کو مشکل سے نکالنے میں مدد کریں اور اپنے شرعی قوانین کی غلط تشریح کو بھی درست کرلیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اپنے پر آتی ہے تو حد کیلئے تیار ہونا مشکل کام ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے مفتی عزیز الرحمن اور صابرشاہ کو مینارِ پاکستان سے گرانے کی باتیں ہورہی تھیں کہ اس کی شرعی سزا ہے ۔ حالانکہ قرآن میں دونوں مردوں کو اذیت دینے کا حکم ہے اور جب وہ توبہ کرلیں تو ان کا پیچھا چھوڑنے اور طعنہ نہ دینے کا حکم ہے۔ قوم لوط کے فعل کو قرآن نے غیرفطری قرار دیا ہے کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آتے ہو؟۔ حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کرنے والے ہو”۔ مدارس میں طلبہ کیساتھ بدفعلی ہیرامنڈی میں عورتوں سے تعلق کے مقابلے میں زیادہ بری ہے۔
سعودی عرب میں پردے کی سخت پابندی تھی تو گھروں میں حالات بہت خراب ہوگئے تھے۔ محرموں کے آپس میں معاملات بگڑنے کی خبریں تھیں۔ اگر طالبان بر وقت اپنی طرف سے ان پابندیوں کو اٹھادیں جو نہ اسلام کا تقاضاہے اور نہ افغانستان کے اپنے کلچر کا تو اس کی وجہ سے یہ قوم بہت سے اندرونی وبیرونی مسائل سے بچ سکے گی۔ جب افغانستان میں اسلامی تعلیم کا درست نقشہ پیش ہوگا تو پوری دنیا میں اسلام کے فطری دین کو پھیلنے کا موقع ملے گا۔ مولانا سندھی نے پاکستان بننے سے پہلے وفات پائی اور انکاتعلق جمعیت علماء اسلام، مسلم لیگ، جمعیت علماء ہند میں سے کسی کے ساتھ بھی نہیں تھا بلکہ کانگریس کے رکن تھے۔ انہوں نے اپنی تفسیر المقام المحمود میں سورةالقدر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” پنجاب، سندھ، بلوچستان، کشمیر ، سرحد اور افغانستان میں بسنے والی قومیں امامت کی حقدار ہیں ۔ حنفی مسلک اور قرآن کے احکام سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی۔ اگر پوری دنیا کو ہندو ہمارے مقابلے میں لائے تو ہم یہا ں سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ اسلام کی نشاة کا مرکزی خطہ یہی ہے اور ایران بھی اس انقلاب کو قبول کریگا”۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حرمت سُود نہیں حلت سُودسیمینار

حرمت سُود نہیں حلت سُودسیمینار

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سود کو حرام قرار دیا تو رسول ۖ نے مزارعت کوبھی سُود قرار دیا۔ نبی ۖ نے فرمایا ”جب یہ اُمت شراب کو مشروب ، سُود کو منافع اور رشوت کو تحفے کے نام سے حلال کرے اور زکوٰة سے تجارت کرنے لگے گی تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا گناہوں میں زیادتی کے سبب”۔ کنز العمال، دیلمی
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے یہ حدیث اپنی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” نقل کی ۔مفتی تقی عثمانی نے ”حرمت سُود سیمینار” کے نام پر ”حلت سُود ” کاارتکاب کیا۔ مولانا سلیم اللہ خان ، ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مفتی زر ولی خان، مفتی عبد المجیددین پوری شہید ، مفتی شیخ حبیب اللہ، مولانا یوسف لدھیانویاور مفتی نظام الدین شامزئی کے بعد اندھوں میں کانا راجا مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں سُود کو حلال قرار دیا گیا۔ سودی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دینے والے مولانا فضل الرحمن نے عالمی سودی نظام کے اسلامی ہونیکی حمایت کرکے حد کردی ہے۔ نبی ۖ کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی۔
چاروں فقہی امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل متفق تھے کہ مزارعت سود اور حرام ہے لیکن پھر بعد کے شیخ الاسلاموں نے اسلام کو جس اجنبیت کی طرف دھکیل کر حیلے سے مزارعت کے سود کو جائز قرار دیا تھا آج اس کی انتہا ہوگئی ہے۔ اسرائیل و امریکہ کے سودی معاشی نظام کو اسلامی قرار دینے کے بعد اسرائیل و امریکہ کے ممالک اور ان کے نظام کو مشرف بہ اسلام قرار دیں اور خنزیر کو بھی اسلام کے نام پر حلال قرار دیں تو کیا حرج ہے؟۔ جبکہ اضطرارکی حالت میں خنزیر کے گوشت کو حلال سمجھے بغیر اور دوبارہ کھائے بغیر گنجائش ہے اور اللہ اور اسکے رسولۖ کے ساتھ اس کو سود کی طرح جنگ نہیں قرار دیا گیا ہے۔ اور نا ہی اس کو حدیث کی طرح70گناہوں سے زیادہ میں سے کم از کم اپنی ماں کے ساتھ زنا کے برابر جرم قرار دیا گیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی و مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ اپنی غلطی سے توبہ کرکے ملک و ملت میں اخلاق باختگی کا قلع قمع کریں۔ اصل جنگ تو یہود و نصاریٰ نے سودی نظام کے ذریعے سے اسلامی معاشی نظام کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ ان طبلہ بجانے والے مراثیوں نے اس کو حیلے سے حلال قرار دے کر اپنے خبث باطن کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اللہ ہدایت دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv