پوسٹ تلاش کریں

فرقہ وارانہ دلائل کی یک طرفہ وکالت سے معاملہ پیچیدہ بنا مگر حل نہیں ہوسکا۔

فرقہ وارانہ دلائل کی یک طرفہ وکالت سے معاملہ پیچیدہ بنا مگر حل نہیں ہوسکا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شیعہ سمجھتے ہیں کہ وہ خود کچھ بھی ہیں لیکن انکے بارہ ائمہ اہل بیت بنوامیہ وبنوعباس کے ادوار میں بھی مظلوم تھے اور خلافت راشدہ کے دور میں بھی انکے ساتھ ظلم وزیادتی ہوئی ہے!
جب شیعہ کے وہ موٹے موٹے دلائل منبر ومحراب پر بیان ہوں جن سے صرفِ نظر ممکن بھی نہیں تو اہل تشیع کی شدت میں خاطر خواہ کمی آئیگی اور اتحاد واتفاق کی راہ بھی ہموارہوگی
جب سنی اپنی اصلاح کریں اور شیعہ کو چھوڑ دیں تو دنیا میں خلافت کانظام قائم کرنے کے اہل بن جائیںگے۔پھر شیعہ بھی صحابہ کرام کا پیچھاچھوڑکر اپنی اصلاح کرنے لگیںگے!

علی سے یہودی نے سوال کیا کہ تمہارے نبی (ۖ) کا انتقال ہوا تو غسل دینے ،کفنانے اور دفنانے سے پہلے تم جانشینی پر لڑے اور فتنے کا خدشہ پیدا ہوا ؟، تفریق وانتشار کے اختلاف کا کیا جواز تھا؟۔ اس پر ذرا بھی شرمندگی کا احساس نہیں ؟۔ حضرت علی نے تاریخی جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا فروعی مسئلے پر اختلاف ہے۔ اولی الامر کیساتھ اختلاف کی گنجائش اللہ نے رکھی ہے۔ خلافت کا مسئلہ عقیدے کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ انتظامی مسئلہ ہے جس میں اختلاف کی گنجائش بھی ہے لیکن تمہارے تو ابھی دریائے نیل سے پیر بھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیھماالسلام کی موجودگی میں سامری کی سازش سے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا۔ جس پر یہودی بہت زیادہ شرمندہ ہوگیا تھا۔
آج ہم نے اپنے عقیدے ومسلک کا دفاع نہیں کرنا بلکہ اپنی اصلاح کرنی ہے۔ اقبال نے کہاکہ” علماء و مشائخ کا احسان ہے کہ ہم تک دین اسلام پہنچایا مگر جس اللہ نے جبرائیل کے ذریعے حضرت محمدۖ پر یہ دین نازل کیا تھا جب وہ اس کی حالت دیکھیں گے تو حیران ہوں گے کہ کیا یہ وہی اسلام ہے؟۔
یہ انتہائی خطرناک ہے کہ اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کا کردار بھیانک پیش کرکے اپنی غلطی پر پردہ ڈالا جائے۔ بارہ ائمہ اہل بیت کی بدولت شیعہ بہتر ہوتے مگر بے جا تنقید نے ان کو دنیا کے سامنے تماشا بنادیا ہے۔ رسول اللہ ۖ کی وفات پر انصار کے سعد بن عبادہ نے اپنا لشکر جمع کرکے نبیۖ کا جانشین بننے کا اعلان کرنا تھا تو یہ درست تھا؟ اور اس کی وجہ سے بعد میں بھی حضرت سعد بن عبادہ نے کبھی حضرت ابوبکر و عمر کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھی۔ کیا یہ ٹھیک تھا؟۔ حالانکہ حضرت سعد بن عبادہ السابقون الاولون کی پہلی صف میں کھڑے تھے۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کے بیٹے مولانا محمد یوسف نے اپنے وفات سے تین دن پہلے ”اُمت پن” کے نام سے اتحاد امت کیلئے آخری تقریر کی تھی جس میں انتہائی دردناک اور غم آمیز لہجہ ہے۔ اس میں سعد بن عبادہ کے کردار کا ذکر ہے جس نے امت میں توڑ پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اسلئے ان کو جنات نے قتل کردیا، جب اللہ نے صحابی پر رحم نہیں کیا تو امت میں انتشار پیدا کریںگے تو ہماری خیر ہوگی؟۔ مولانامحمد یوسف کی یہ تقریر بہت مشہور ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ قلم اور کاغذ لیکر آؤ ۔ میں تمہیں ایسی چیز لکھ کر دیتاہوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہوجاؤ۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ (صحیح بخاری ) اگر انصار نے اپنی خلافت کیلئے ایک مجلس کا اہتمام کیا اور حضرت ابوبکر و عمر نے وہاں پہنچ کر اپنا مؤقف پیش کیا کہ ” خلافت قریش کا حق ہے اور نبی ۖ نے فرمایا: الائمة من القریش (امام قریش میں سے ہوں گے)” ۔ توسوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نبیۖ نے مجمع عام میں یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح کردینی تھی۔ جب نبیۖ کی وصیت لکھوانے کی ضرورت نہیں تھی اور قرآن کافی تھا تو پھر یہ حدیث انصار مان سکتے تھے؟۔ لیکن انصار کی اکثریت نے بات مان لی اور حضرت ابوبکر سے ہنگامی بنیاد پر بیعت قابلِ قبول قرار دے دی گئی۔ صحابہ کرام نے نبیۖ کی تدفین پر خلیفہ مقرر کرنے کا مسئلہ مقدم کردیا لیکن وہ خود فرماتے ہیں کہ ابھی قبر کی مٹی ہمارے ہاتھوں میں تھی کہ خود کو فتنوں میں مبتلا محسوس کررہے تھے۔حضرت علی و ابن عباس اور کچھ دیگر صحابہ نے بھی اس اقدام کو ناگوار سمجھا کیونکہ عام قریش کے مقابلے میں اہل بیت کو زیادہ حق دارسمجھتے تھے۔ اہل بیت کے فضائل کی احادیث بھی ہیں اور ابوسفیان نے بھی علی سے کہا تھا کہ اگر آپ چاہو تو ابوبکر سے یہ مسند چھین لیتے ہیں لیکن علی نے نہیں مانا۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ نامزد کردیا اور حضرت عمر نے خلافت کیلئے جو شوریٰ بنائی تھی اس میں ایک بھی انصاری نہ تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عثمان کا 40دنوں تک محاصرہ ہوا۔ پانی پہنچانے میں رکاوٹ اور نماز کیلئے نہیں جاسکتے تھے۔ حضرت علی نے کوفہ کو دارالخلافہ بنالیا ۔
پاکستان میں محمد علی جناح، لیاقت علی خان ،محمد علی بوگرہ، خواجہ نظام الدین ، حسین شہید سہروردی اور سکندر مرزا کا تعلق ہندوستان یا بنگال سے تھا۔فیروز خان نون اور ایوب خان کا تعلق پنجاب و پختونخواہ سے تھا۔ 75سالوں سے جو پاکستان کیساتھ ہوا اورسواچودہ سو سال سے جو اسلام کیساتھ ہوا، دونوں کی کہانی ایک ہے۔ قرآن میں انصار ومہاجرین کے مقام ومرتبہ میں فرق نہیں تھا مگر جس طرح سامری نے بچھڑے کو معبود بناکر حضرت موسیٰ وہارون کی موجود گی میں بنی اسرائیل کو آزمائش میں ڈال دیا اور اس کی وجہ سے حضرت موسیٰ نے پیغمبر بھائی حضرت ہارون کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑ لیا۔ اسی طرح سقیفہ بنی ساعدہ کی میٹنگ نے صحابہ کرام میں ایک وسیع تر مشاورت کا موقع گنوادیا تھا۔
فتح مکہ سے پہلے اور بعدکے صحابہ کرام میں قرآن وسنت نے فرق رکھا تھا۔ 30سالہ خلافت راشدہ کے بعد فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہونے والے حضرت حسن و حسین اور دوسرے صحابہ کی موجودگی میںفتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے امیرمعاویہ نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ حضرت علی کیلئے باقاعدہ بیعت غدیر اور پھر حدیث قرطاس سے انحراف کا معاملہ سنی شیعہ کے درمیان متنازع فیہ ہے۔بنوہاشم پر حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی ترجیح پہلا مرحلہ تھا لیکن اس وقت خاندانی بنیاد پر قبضہ نہ تھا۔ بنوامیہ کے بعد بنوعباس واہل بیت کے درمیان ترجیحات کی بات آئی تو فیصلہ علی ، حسن اور حسین کی اولاد کے حق میں نہیں ہوابلکہ بنوعباس کے حق میں ہوا۔ دلیل یہ دی گئی کہ حضرت عباس نبیۖ کے چچا اور علی چچازاد تھے اور چچا کے ہوتے ہوئے چچا زاد وارث نہیں بن سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ پھر حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور بنوامیہ کا کیا بنے گا جو چچا تھے اور نہ چچازاد تھے؟۔ پھر جب سلطنت عثمانیہ قائم ہوگئی تو قریشی کی شرط بھی نظرانداز کی گئی تھی۔
اگر غدیر خم پر علی کی بیعت کا لحاظ رکھا جاتا۔ صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق قرآن کیساتھ دوسری بھاری چیز اہل بیت کو تھام لیا جاتا جس کی وضاحت ہے کہ اہل بیت سے ازواج مطہراتیہاں مراد نہیں تو بھی بات ہوتی، حدیث قرطاس لکھنے دی جاتی تو بھی معاملہ بن جاتا۔ خلافت راشدہ کے دور میں عثمان کی تخت خلافت پر شہادت ، علی کا دارالخلافہ چھوڑ دینا اور پھر بنوامیہ وبن عباس کا خاندانی بنیاد پر قبضہ کرنا بالکل بھی معقول بات نہیں تھی لیکن بعد میں جب سلطنت عثمانیہ، مغلیہ سلطنت، بادشاہوں ،خانقاہوں ،مدارس ، درگاہوں اور جماعتوں کی روش بھی موروثی بن گئی تو ایک طرف خلافت راشدہ سے زیادہ بنوامیہ کا دفاع کیا گیا اور دوسری طرف خلافت راشدہ پر ایمان کو متزلزل کردیا گیا۔ حالانکہ ایران میں امام آیت اللہ خمینی کے بعد اس کی اولاد کوجانشین نہیں بنایا گیا۔ جب اہل بیت کے چھٹے امام جعفر صادق کی اولاد اورماننے والوں میں انکے بڑے بیٹے اسماعیل اور چھوٹے بیٹے امام موسیٰ کاظم کے درمیان خلافت کے مسئلے پر اختلاف ہوا تھا تو شیعہ دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ اسماعیلی شیعہ جماعت خانے میں نماز کو ممنوع قرار دیتے ہیں اور اثناعشریہ کی جگہ سنی مکتبۂ فکر کی مساجد میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب امام جعفر صادق کو اقتدار نہیں ملا تھا تب بھی ان کے انکے پیروکار اور اولاد تقسیم ہوگئے تو پھر صحابہ کیلئے بھی ان کو نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ جب علی، حسن، حسیناور دیگر ائمہ اہل بیت کے قریبی ساتھیوں سے شیعہ خوش نہیں تھے تو نبیۖ کے ساتھیوں سے بھی خوش نہیں ہوسکتے ہیں۔
ہمیں ایک نکتہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جب ائمہ اہل بیت کو مظلوم سمجھنے کے باوجود بھی اہل تشیع کا ایک بڑا طبقہ اپنے ہی دوسرے طبقے کو مشرک اور نصیری کہتا ہے تو پھر اگر ان کو خلافت ملتی تو سبھی نصیری بن جاتے۔ جس پیریڈ میں بنی اسرائیل بچھڑے کو معبود بنانے سے گمراہ ہوگئے تھے تو اس میںوہ حضرت ہارون کی صحبت میں تھے۔ حضرت موسیٰ نے ان کو مشرک بنتے دیکھ کر حضرت ہارون کی داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑلیا تھا۔قدرت نے مہربانی کی کہ امت مسلمہ کی تقدیر میں شرک کی جگہ تفریق کا بیج بودیا تھا۔نبیۖ نے فرمایا کہ کسی قسم کا عذاب امت پر نہیں آئے گا لیکن آپس کی تفریق وانتشار سے بچانے کا اللہ نے وعدہ نہیں کیا ہے۔ تبلیغی جماعت کے مرکز بستی نظام الدین انڈیا میں مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد اور رائیونڈ کے درمیان بھی انتشار ہے اور مولانا حق نواز جھنگوی کے بیٹے کو بھی سپاہ صحابہ نے سائیڈ لائن پرلگادیاہے۔
حضرت علی نے فرمایا تھا کہ ” مور مرغ کی طرح مورنی پر چڑھتا ہے” لیکن مور حرام ہے یا حلال ہے؟۔ اس پر شیعہ اثناعشریہ کے مجتہدین کا اتفاق نہیں ہے اور دونوں اپنی اپنی روایات ائمہ اہل بیت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ بہت سارے دیگر مسائل وفرائض میں بھی اہل تشیع میں حلال وحرام اور جائز وناجائز کا اختلاف ہے۔ حالانکہ تین سو برس تک ائمہ اہل بیت کا سلسلہ موجود تھا۔ سنی مکتبۂ فکر کے ائمہ بھی اہل بیت کے شاگرد تھے۔ ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلانے سے زیادہ اپنی اصلاح اور حقائق کی طرف رُخ کرنے سے معاملہ بنے گا۔ جب خمینی کے بعد ایران میں جمہوریت ہے اور نبیۖ کے بعد خلافت راشدہ نے جمہوری انداز میں خلفاء مقرر کئے تھے تو اس پر بات ہوسکتی ہے کہ کونسی جمہوریت بہتر ہے اور کونسی بہتر نہیں ہے لیکن جمہوری نظام کے ذریعے بیعت خلافت سے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔ مذہبی جماعتوں ، مدارس اور خانقاہوں نے دو دو انچوں کے گھروندے بناکر اپنے بال بچوں کی روزی کا بندوبست کر رکھا ہے اور ہر فریق اپنے عیش وعشرت اور اللے تللے پر خوش ہے لیکن امت مسلمہ کی اجتماعیت کی کوئی بھی فکر نہیں کرتا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیں گے ”۔ (صحیح مسلم)۔ امریکہ میں جمہوری نظام کے ذریعے سے بارک حسین اوبامہ ایک سیاہ فام اجنبی مسلمان کا بیٹا دو مرتبہ صدر بن سکتا ہے۔ لندن کا میئر ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کا بیٹا بن سکتا ہے تو حق کی روایت اسلام نے دنیا میں ڈالی تھی جب بڑے بڑے سرداروں سے سیدنابلال حبشی کا مقام بڑا تھا۔
پاکستان نے جنرل ایوب خان سے پہلے میر جعفر کے پڑپوتے سکندر مرزا سے پہلے جن لوگوں کو اپنا حکمران تسلیم کیا وہ بھی بڑی قربانی اور اچھائی تھی اور پھر ایوب خان سے پرویزمشرف تک فوجی حکمرانوں اور انکے کٹھ پتلی سیاستدانوں کو آج تک برداشت کررہے ہیں تو بھی بڑی بات ہے لیکن اب عوام کے جم غفیر کو نکل کر خانقاہوں سے رسم شبیری ادا کرنا ہوگی۔ بیعت کے ذریعے سے سچوں کو پارلیمنٹ تک پہنچانا ہوگا ۔ اللہ نے حکم دیا کہ یا ایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین ”اے ایمان والو! اللہ کیلئے تقویٰ اختیار کرو اور سچو ں کیساتھ ہوجاؤ”۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹے اور سچوں میں تفریق کرنا اب کوئی مسئلہ نہیں رہاہے۔ نبیۖ نے اقتدار پر قبضہ نہیں کیا تھا، کسی سے زبردستی سے زکوٰة نہیں لی تھی اور نہ کسی کو زبردستی سے نماز پڑھنے پر مجبور کیا تھا اور افغان طالبان نے بھی ملاعمر کے وقت سے اپنے اندر بہت تبدیلی پیدا کرلی ہے اور اب مزید بھی بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگائیںگے۔ انشاء اللہ العزیز۔
پاکستان کا ماحول ، ریاست، علماء ومشائخ اور سیاستدان وسیاسی کارکن اور عوام دنیا بھر میں بہت زبردست اور الگ تھلگ ہیں۔ یہ سبھی امامت کے حقدار ہیں لیکن اب بہت نااہل بھی بن گئے ہیں۔JUIکے سابق سینٹر صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا کہ ” مولانا فضل الرحمن نے اسرائیل مردہ باد کا نعرہ لگایا ہے اسلئے مسلمان نہیں رہا۔ اسرائیل یعقوب کا نام تھا”۔جن چرواہوں اور نوابزادوں کو جمعیت میں شامل کیا گیا پھر ان کا کیا ہوگا؟، ذرا سوچئے توسہی!۔
یزیدکے دور میں شہداء کربلا کیساتھ کیا ہوا تھا؟۔ اور خان عبدالقیوم نے بھی بابڑہ میں ایک کربلا برپا کیا تھا۔ روس کی مخالفت کے نام پر پیسے لیکر مجاہد پیدا کئے اور امریکہ سے پیسہ لیکر مجاہدین کو سپرد کیا۔ بیرونِ ملک جائیدادیں بنائیں۔ اب سو چوہے کھا کر بلی حاجن بن گئی ہے۔ کہیں لگڑ بگاکے شکار نہ ہوجائیں۔ وقت کی مہلت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتاہے تو ”لمحوں نے خطاء کی ہے صدیوں نے سزا پائی ” کے مصداق بھی بن سکتے ہیں۔ اگر فتح مکہ کے بعد صحابہ کرام مقدس تھے تو فتح مکہ سے پہلے تھوڑے لوگوں کی وجہ سے سب اچھے بن گئے۔ پاکستان کا تھوڑا اشرافیہ ٹھیک نہیں، عوام اور اداروں کی اکثریت بڑی اچھی ہے اور جب خوشگوار انقلاب آجائے گا تو پوری دنیا کی کایا بھی پاکستانی پلٹ دیں گے اور افغانستان، ایران، بنگلہ دیش اپنے بلاک کا حصہ بنیںگے اور عرب ہمارا ساتھ دیں گے۔ ہندوستان دوستی سے مسلمان ہوجائیگا اور روس نظام سے دوست بن جائیگا۔ کچھ اچھاکرکے ہی اچھا بن سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ملک اور غریب کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا۔اسلام کی یہی خوبی سب سے زیادہ دنیا کیلئے قابل قبول ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جیسے دوسرے مذاہب مسخ کردئیے گئے اسی طرح اسلام بھی مسخ کردیا گیا۔

جیسے دوسرے مذاہب مسخ کردئیے گئے اسی طرح اسلام بھی مسخ کردیا گیا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کی ایسی حالت مولوی نے کردی جیسے لاوڈ اسپیکر پر خراب سبزی اور پھل ریڑی پر بیچنے کی ہوتی ہے کہ کچھ لاچار وغریب لوگ اسکے خریدار ہوتے ہیںمگراور کوئی نہیں پوچھتا

تازہ پھل خوش رنگ، خوش ذائقہ اور صحت بخش ہوتے ہیں لیکن جب ان کا حلیہ بگاڑ دیا جائے، باسی ، بدرنگ اور بدذائقہ ہوجائیں تو وہ مضر صحت بن جاتے ہیں۔ فیروز بھائی نے بتایا کہ بھارت میںان کا گاؤں غریب تھا، سبزی والا پکارتا تھا کہ خراب سبزی لے لو۔ آج مختلف فرقوں، جماعتوں، مسلکوں اور دانشوروں کا اسلام انسانوں کیلئے قابلِ التفات نہیں ۔ایک مولوی نے گاؤں میں نمازِجمعہ کی تقریر کرنے سے گریز شروع کردیا۔ عربی خطبہ پڑھ لیتا تھا، پہلے لوگ خوش تھے کہ جلد جان چھوٹ جاتی ہے لیکن پھر ان میں مولوی صاحب کی سریلی آوازنے تشنگی کا احساس پیدا کردیا۔ ہاتھ جوڑ کر لوگوں نے فرمائش کی کہ مولوی صاحب کچھ ہمیں بتائیں، وعظ کریں، نصیحت کریں،ہماری تعلیم وتربیت کریں۔ جب مولوی صاحب نے دوبارہ منبر پربیٹھ کر تقریر کرنیکا فیصلہ کیا تو جمعہ کے دن عوام سے مسجد کھچاکھچ بھر گئی۔ مولوی صاحب کے دل ودماغ پر یہ بات چھاگئی تھی کہ یہ لوگ مردہ ضمیر بن چکے ہیں۔ ان کی آنکھیںہیں مگر اس سے دیکھتے نہیں۔ انکے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں۔ ان کے دل ہیں مگر اس سے سمجھتے نہیں۔ ان کی مثال جانوروں کی بن چکی ہے بلکہ ان سے بھی یہ لوگ بدتر حالت پر پہنچے ہیں۔ چنانچہ مولوی صاحب نے جب تقریر شروع کی تو لوگ ورطہ حیرت میں پڑگئے۔ فرمایا : حاضرین مجلس! میری بات غور سے سن لو!۔ دوسروں تک بھی میرایہ پیغام پہنچادو۔ آج کے بعد زنا کرو، قوم لوط کا عمل کرو، قوم ثمود اور قوم عاد کا عمل کرو۔ جو غلط کام جی میں آئے ،بالکل بلاسوچے سمجھے کر گزرو۔ چوری ، ڈکیتی، قتل، رشوت اور جس گناہ کا بس چلے تو موقع ہاتھ سے مت جانے دو۔ مولوی نے وہ ایک ایک برائی گن گن کر اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے اپنی تقریر ختم کی تو لوگ بہت حیران تھے۔ نمازِ جمعہ کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آج آپ کو کیا ہوا تھا کہ ساری باتیں الٹ کررہے تھے؟۔ مولوی نے کہا کہ تمہیں معلوم تھا کہ یہ سب باتیں غلط ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ بالکل ۔ کچھ تو پہلے سے پتہ تھیں اور کچھ آپ سے سنی تھیں کہ غلط ہیں۔ مولوی نے کہا کہ پھر تمہارا عمل کیا تھا؟۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان سب منکرات میں ملوث ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ جب آپ کو سب معلوم ہے اور منع نہیں ہوتے تو خوامخواہ مجھے کیوں بھونکواتے ہو؟۔
جب انسانوںپر برائی کے کاموں سے موت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے تو اللہ بھی قرآن میں کبھی بنی اسرائیل سے فرماتا ہے کہ ” اپنے نفسوں کو قتل کرو”۔ کبھی قرآن کے مخالف دشمنوں سے فرماتا ہے کہ ” اپنے غصے کے سبب مرجاؤ”۔ انسانی ضمیر مردہ ہوجاتا ہے تو اس کو جگانے اور بیدار کرنے کیلئے حکمت عملی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اسلام نے انسانوں کو جان ، مال اور عزت کا تحفظ دیا ہے لیکن جب اسلام پر عمل نہیں ہوگا تو جان ، مال اور عزت کو تحفظ نہیں مل سکتا ہے اور آج کشمیراور فلسطین کے مسلمانوں کی بات صرف نام کی حد تک ہے۔ مسلمان دہشتگردوں سے مسلمانوں کی جان ، مال اور عزتوں کو تحفظ حاصل نہیں تو امریکہ کے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی کاروائی پر کیا ماتم کیا جائے؟۔سراج الحق کہتا ہے کہ سود کو اللہ نے اپنی ماں سے 36مرتبہ زنا کے برابر گنا ہ قرار دیا ہے۔
لاہور کے مولانا محمد مالک کاندھلوی نے کہاتھا کہ ” جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء اسلام کے مطابق ہے۔ پہلا مارشل لاء حضرت ابوبکر صدیق نے لگایا تھا”۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جبری زکوٰة لینے کا حکم نافذ کیا تھا اور چاروں فقہی ائمہ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے جبری زکوٰة کو ناجائز قرار دیا لیکن جبری نماز پڑھانے کو فرض قرار دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے زکوٰة کے حکم پر عمل کو زندہ کیا یا اس کو مزید ملیامیٹ کرکے رکھ دیا؟۔ جب جنرل ضیاء الحق نے بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا حکم جاری کیا تو اہل تشیع نے احتجاج کیا جس کی وجہ سے شیعہ کے اکاؤنٹ سے زکوٰة کی کٹوتی روک دی گئی اور پھر ایسے دیوبندی عالم کو بھی ہم جانتے ہیں جس نے اپنی بیگم کو جھوٹ سے شیعہ لکھ کر اکاونٹ کھولا، تاکہ اس کی زکوٰة نہیں کٹے۔ شیعوں کی اس تحریک سے لوگوں نے سمجھا کہ شاید وہ زکوٰة کے منکر ہیں۔ حالانکہ زکوٰة کے منکر کو کون مسلمان سمجھ سکتا ہے؟۔
اسلام کے اجنبی بننے کی کہانی تو بہت پہلے شروع ہوئی تھی۔ جن ائمہ فقہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے جبری زکوٰة پر اختلاف کیا اور نماز کیلئے جبری تصور گھڑ لیا وہ ہدایت کے مقابلے میں گمراہی کی بڑی سیڑھی پر چڑھ گئے تھے۔ جنرل ضیاء الحق اور اس کی تائید کرنے والے مفتی محمد تقی عثمانی ومفتی محمد رفیع عثمانی نے اسلام کو اجنبیت کی آخری حد تک پہنچانے میں زبردست کردار ادا کیا۔ سود اور زکوٰة ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ 10لاکھ کی رقم پر سالانہ 25ہزار زکوٰة بنتی ہے۔ اور اگر 10لاکھ پر بینک سے ایک لاکھ سود ملے تو یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی بالکل اُلٹ اور ضد ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے جب بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا حکم جاری کیا تو 10لاکھ پر ایک لاکھ سود کی رقم ملتی تھی اور 25ہزار زکوٰة کے نام سے کٹتے تھے۔ نتیجے میں اصل رقم 10لاکھ اپنی جگہ پر محفوظ رہتی تھی اور 75 ہزار مزید سود کی رقم بھی ملتی تھی اسلئے زکوٰة کی ادائیگی کی جگہ سود میں تھوڑی کمی تھی۔
ایک پانچویں جماعت کے بچے اور ان پڑھ شخص کو بھی یہ معاملہ سمجھ آسکتا تھا اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کو سمجھایا بھی تھا لیکن جب انسان کے دل ودماغ پر مفادات کے پردے پڑجائیں تو اس کی آنکھیں، کان اور دل سب چیزیں کام کرنا چھوڑدیتی ہیں اسلئے کہ دماغ میں اپنا مفاد اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ کہاں حضرت ابوبکر کی طرف سے جبری زکوٰة کی ہدایت؟ اور کہاں سود کے نام سے زکوٰة کی کٹوتی اور زکوٰة کی عدم ادائیگی کی بڑی بدترین گمراہی ؟،دونوں مارشل لاء میں آسمان وزمین کا فرق تھا۔ مولانا فضل الرحمن کہتا تھا کہ ”مدارس یہ زکوٰة نہ لیں ، یہ آب زم زم کے لیبل میں شراب کی بوتل ہے”۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے کروڑوں روپے ، مدرسے کی لائبریری اور ایک بہت بڑا پلاٹ لیکر فتویٰ جاری کردیاتھا۔ جب بات مالی مفادات کی آتی ہے تو اس پر علم وفہم کے اختلاف کی بات کرنا بھی فضول ہے۔حاجی عثمان ایک بڑے اللہ والے تھے اور ان کے مریدوں کا صاف ستھرا کاروبار تھا لیکن جب مفتی محمد تقی عثمانی نے اس میں یہ گندے پیسے ڈال دئیے تو کاروبار سودی لین دین میں بدل گیا۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے ان کے ساتھ مل کر انتہائی بیہودہ اور ناممکن الزامات بھی لگا دئیے تھے۔ پہلے مالدار لوگ زکوٰة کو فرض سمجھ کر ادا کرتے تھے تو غریبوں کو اس کا بہت فائدہ پہنچتا تھا۔ دیندار لوگ بینکوں کا سود بھی علماء کو لیٹرین بنانے کیلئے دیتے تھے۔پھر جب زکوٰة کی ادائیگی بھی نہیں رہی اور حکومت کے مختلف اداروں میں زکوٰة کے نام پر وہ سودی رقم بھی حرام خوری کیلئے استعمال ہونے لگی تو پاکستان سے دینداری کا نام ونشان بھی ایک خول کی طرح رہ گیا لیکن اس میں مغز نہیں رہا۔ اب یہ معاشرہ بے روح وجان لاش کی طرح بن کررہ گیاہے۔
پھر کرائے کے مجاہدین نے روس کے جانے کے بعد افغانستان میں بڑی بدمعاشی اور غنڈہ گردی قائم کی جس کے خلاف طالبان میدان میں آگئے تھے۔ طالبان نے جبری نماز کے فقہی مسئلے پر عمل کرکے جس کو اسلام کی نشاة ثانیہ سمجھ لیا تھا وہ تصور بھی مزید دنیا میں اسلام کا تماشا کرگیا۔ اسی طرح سنگساری کرنے کا مسئلہ دنیا کیلئے بالکل ناقابلِ قبول تھا۔ جس کی وجہ سے طالبان کے مثالی امن کو بھی ایک خوف کی علامت قرار دیا گیا۔ تصاویر پر پابندی بھی دنیا کیلئے عجوبہ تھی۔ زبردستی داڑھی رکھوانے کا عمل بھی تاریخ اسلامی کی پہلی نادر چیز تھی۔ عورتوں پر زبردستی سے شٹل کاک کی پابندی اور بچیوں کی تعلیم پر پابندی بھی ناقابل فہم تھی۔
افغان طالبان نیٹو افواج کے انخلاء اور برسر اقتدار آنے کے بعد اگرچہ کچھ تو بدل گئے ہیں لیکن جدت اور قدامت پسندی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان اور دارلعلوم دیوبند کے اساتذہ کے درمیان ایک اعتماد کا رشتہ ہے اور پاک فوج سے بھی افغان طالبان کو زبردست مدد ملتی رہی ہے۔ کچھ کم بختوں نے اپنے مفادات اٹھائے اور بے ضمیری کے ریکارڈ قائم کئے لیکن ایسے لوگ ہر معاشرے، طبقے اور جگہ میں ہوتے ہیں۔ جب نیٹو کی سپلائی کراچی سے کابل جاتی تھی تو پاکستان کے حدود میں ان کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔قطر سے ڈرون اُڑ سکتے ہیں تو قطر سے طالبان کابینہ نے بھی پرواز کرکے افغانستان کے اقتدار تک پہنچنے تک براستہ پاکستان اڑان بھری۔ اسامہ بن لادن پرحملہ کیا گیا تو امریکہ کو پاکستان اپنی سرزمین پر کاروائی سے نہیں روک سکا۔ بھارت نے میزائل چھوڑ دیا تو پاکستان نہیں روک سکا۔ امریکہ کے خلاف جو جنگ طالبان نے افغانستان میں لڑی ہے وہ دراصل پاکستان ہی میں لڑی گئی ہے۔ پاکستان کا ایک ایک فرد سرکاری ،غیر سرکاری، مرد ، عورت، بوڑھا، جوان اور بچہ نے کھل کر طالبان کا ساتھ دیا۔ اس کی سزا بھی قوم نے بھگت لی۔ اب اگر طالبان کوپاک فوج سے لڑایا گیا جس کے بھرپور خدشات ہیں تو پھر اس خطے کے باسی نیٹو لڑائی کو بھول جائیںگے۔ شیروں ، چیتوں، بھیڑیوں اور لگڑ بگھا کی لڑائی میں جنگل کے معصوم جانوروں کی خیر نہیں ہوگی۔ فضائی حملوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں آبادیوں کو نقصان پہنچانے میں جو ہولناک مناظر ہوں گے اس کا فائدہ انہی قوتوں کو جائے گا جن کا منصوبہ ہے کہ یہاں کے وسائل پر قبضہ جمایا جائے ۔
اسلام دشمن طاقتوں کو سب سے بڑا خطرہ اصلی اسلام سے ہے اور طالبان بھی اصلی اسلام کا نام لینے سے نہ صرف ڈرتے ہیں بلکہ مکمل توبہ بھی کرچکے ہیں اور اصلی اسلام پوری دنیا میں خلافت کے نظام کا قیام ہے۔اغیار دہشت گردوں سے خوف زدہ نہیں بلکہ دہشت گرد پیدا کرتے ہیں۔ دہشت گردی پر مجبور کرتے ہیں تاکہ مسلمان آپس میں لڑ جھگڑ کر عالمی اسلامی خلافت کے قیام سے پہلے نابود ہوجائیں یا اس قابل نہیں رہیں کہ وہ خلافت نافذ کرسکیں۔ ان کے نزدیک دشمنی کی بنیاد یہ ہے کہ مسلمان زبردستی سے اسلام قبول کرنے پر مجبور کریںگے یا جزیہ لیںگے اور اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں مانی جائے تو عورتوں کو لونڈیاں اور مردوں کو غلام بنایا جائیگا۔ جب تک مسلمان اس تصور سے دستبردار نہیں ہوتے ہیں اس وقت تک غیر مسلموں نے اسلام اور مسلمان دشمنی کا تصور قائم رکھنا ہے۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ برمودہ ٹرائی اینگل سے امام مہدی غائب برآمد ہوں گے اور وہ اصلی اسلام کو دنیا میں نافذ کریںگے اور سنی سمجھتے ہیں کہ کوئی عام مسلمان خلافت قائم کرکے امام مہدی کا کردار ادا کریںگے۔ اغیار نے یہ تصور نوٹ کرلیا ہے اور شیعہ سنی تفریق کے علاوہ ممالک ، علاقوں ، قوم پرستی اور مختلف بلاکوں میں بٹے رہنے کو غنیمت سمجھ رکھا ہے۔ اگر چہ کسی بھی ملک میں خلافت کے قیام کی ہمت نہیں ہے اور ترکی وغیرہ نے اسرائیل تک کو تسلیم کیا ہے لیکن طالبان کو تسلیم کرنے سے بھی اسلامی ممالک کتراتے ہیں اور طالبان کو بھی مسلم ممالک سے زیادہ اغیار کے تسلیم کرنے کا فائدہ لگتا ہے۔ جب طالبان کو سعودی عرب، عرب امارات اور پاکستان نے تسلیم کیا تھا تب بھی امریکہ ونیٹو نے کیا حشر کیا؟۔ عراق ولیبیا، شام ویمن اوردیگر ممالک کا کیا حشر ہوا؟۔ پاکستان کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہوا لیکن پھر بھی کیا حشر ہوا؟۔ اگر دیکھا جائے تو اسلامی ممالک کی عوام کو بھی اسلامی نظام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ طالبان اس خوف سے انتخابات بھی کرانے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان میں مذہبی پارٹیاں اپنے اسلام کو چھوڑ جائیں تو بھی عوام کیلئے ان کا کردار قابلِ قبول نہیں ۔ عورت کی آواز کو پردہ کہنے والوں کی خواتین کو قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں اور ٹی وی اسکرین پر دیکھ کر طالبان کو عبرت پکڑنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اب بھی علماء خود کو محکوم سمجھتے ہیں۔ جب سود کے طاغوتی نظام کے خلاف ناکامی ہوئی تو سود کو اسلامی قرار دے دیا۔
امت مسلمہ پر پوری دنیا میں موت کی سی کیفیت طاری ہے۔ ان میںروح دوڑانے کیلئے ایسے اقدام کی ضرورت ہے کہ جس سے ان میں زندگی کی رمق دوڑ جائے۔ انڈوں کو مہینوں، سالوں اور صدیوں محفوظ کرکے رکھ لو تو وہ مردہ ہی رہیں گی لیکن جس دن اس کو مطلوبہ حرارت مل جائے اور پھر اس کو مسلسل قائم بھی رکھا جائے تو ٹھیک 21دن بعد چلتے پھرتے ، کھاتے پیتے اور دوڑتے ہوئے چوزیں دکھائی دیں گے۔ جن برائیوں کا پتہ ہونے کے باوجود بھی لوگ اس کے مرتکب بنتے ہیں تو وہ وعظ ونصیحت اور تلقین وتقریر سے نہیں نظام بدلنے سے رک سکتے ہیں۔ حلالہ ایک ایسی لعنت ہے کہ جو پوری دنیا کے کسی مذہب، ملک اور قوم کیلئے قابل قبول نہیں لیکن طالبان کے اساتذہ اس کے مرتکب ہیں۔ جب فیصلہ ہوجائے کہ حلالے کا تصور غلط ہے اور قرآن نے حلالے کے بغیر رجوع کو واضح کیا ہے تو اُمت میں زندگی کی حرارت پیدا ہوجائے گی اور پھر عورت کے حقوق کے حوالے سے سب چیزیں اجاگر ہوں گی تو امت مسلمہ اٹھ کھڑی ہوگی۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے 9/11کے 5دن بعد 16ستمبر 2001کو علماء و مشائخ اور صحافیوں کو بلایا تو مجھے بھی دعوت دی۔ میں نے کہا کہ(1) جب تک طالبان پر جرم ثابت نہ ہو تو ان کو سزا دینا غلط ہے۔ یہی بات دوسروں نے بھی کی تھی۔ (2) امریکہ کے کہنے پر ہم نے طالبان کو بنایا ۔ وہ بینظیر کا دور تھا اور نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ تھے۔ تو اب ہمارے لئے یہ بے غیرتی بھی ہے کہ ان کے کہنے پر طالبان سے لڑیں۔ (3) یہ اسلام کے خلاف ہے کہ مسلم ملک پر غیر مسلم کا اتحادی بن کر لڑیں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ امریکہ ہمیں کشمیر دلادے گا اور ایٹمی پروگرام میں مدد کرے گا۔ میں نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن امریکہ کے پیچھے اسرائیل ہے اور اسرائیل پاکستان کا اصل دشمن ہے اسلئے ایک دن ہماری باری بھی آئے گی۔ ڈاکٹر اسرار نے اپنی آنکھیں نکال نکال کر بہت تفاخر کے ساتھ یہ باتیں کہیں لیکن کہنا یہ چاہیے تھا کہ امریکہ کے کہنے پر جہاد بھی بے غیرتی تھی، طالبان کو کھڑا کرنا بھی بے غیرتی تھی اور اب اس بے غیرتی کے تیسرے مرحلے میں پہنچنا بھی بے غیرتی ہے۔ ہندوستان کیخلاف امریکہ کا اس طرح ساتھ دینا بھی بے غیرتی ہے۔ اپنے مفادات کیلئے دوسروں کو قربان کرنا اگر بے غیرتی نہیں ہے تو غیرت پھر کس چیز کا نام ہے؟۔ علامہ اقبال نے کہا تھا
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
اقبال کے شاہینوں نے خود کو طوفان سے آشنا کرنے کے بجائے دوسروں کو آزمائش میں ڈال کر اپنی بچت کا سامان کیا ہے۔ جب شہر میں بارش زیادہ ہوتی تو نبی ۖ فرماتے کہ ہم پر نہیں ہمارے ارد گرد پر بارش برسا۔ ہمارے کم عقل یہ دیکھ رہے تھے کہ ارد گرد والے ڈوب رہے ہیں پھر بھی یہی دعا کررہے تھے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بینظیر بھٹو صاحبہ سے کہا عرب افغان عورتوں کو لونڈی بنانا چاہتے ہیں۔ خان عبد الولی خان

بینظیر بھٹو صاحبہ سے کہا عرب افغان عورتوں کو لونڈی بنانا چاہتے ہیں۔ خان عبد الولی خان

عبدالولی خان قائدANPکی تقریر نیٹ پر ہے جس میں قومی قائدین، منٹو صاحب اور محمودخان اچکزئی وغیرہ سے خطاب کیا کہ جنرل ضیاء الحق سے میں نے کہا کہ ” تم لوگوں کی اس ملک سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اپنے باپ دادا کے ملک کو چھوڑ آئے ہو اور باہر جائیدادیں بنائی ہیں، جب تم پر مشکل پڑے گی ، بات نہیں بنے گی تو آپ اس ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔مرنا اور جینا توہم نے ہے ، ہمارے بچوں نے یہاں پررہنا ہے اسلئے جن کا ملک ہے ،انہوں نے اس کا سوچنا ہے۔میں نے وزیراعظم صاحبہ (بینظیر بھٹو) سے پو چھا کہ ہمارے ملک کے اتنے مسائل ہیں۔ روٹی نہیں،کپڑا نہیں، تعلیم نہیں ، صحت نہیں۔ میں نے کہا کہ پینے کا پانی نہیں ہے۔اسلام آباد شہر میں لوگ قمقموں کے نیچے اور غاروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ شرم آنی چاہیے ہم کو اپنے مسائل کی فکر نہیں ہے اور ا.فغانستان کی فکر پڑگئی ہے۔ میں نے ادب سے پوچھا کہ حضور ! کیا افغانستا.ن ہمارا پانچواں صوبہ ہے؟۔ایک خود مختار حکومت ہے۔ تو کہنے لگے کہ ہم تو اس میں انوال نہیں ۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے کہا: اس دن میں اسلام آباد گیا تو پتہ لگا کہ اسلام آباد میں دو پارلیمنٹیرین بیٹھے ہوئے تھے ۔ تومیں نے پوچھا کہ میں کونسی پارلیمنٹ میں کھڑا ہوں ۔ دوسرا پارلیمنٹ کہاں ہے؟۔ تو کہنے لگے کہ جی بھول جائیے،وہ تو کابل کا پارلیمنٹ بیٹھا ہے اسلام آباد میں۔ کبھی ایسی چیز دیکھی کہ کابل کا پارلیمنٹ اسلام آباد میں بیٹھے؟۔ اگر یہ بات آپ چلائیںاس کیلئے جواز ڈھونڈیں تو کل اگر کابل میں پاکستان کا پارلیمنٹ بیٹھے۔ اگرکل آپ کا پارلیمنٹ ایران میں بیٹھے اور سب سے خطرناک بات ہے کہ کل آپ کا پارلیمنٹ دلی میں بیٹھے تو آپ کی کیا حالت ہوگی؟۔
اس نے کہا کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟۔ میں نے کہا کہ ان باتوں کا آپ کو سنجیدگی سے نوٹس لینا پڑے گا۔یہ جو ہم نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں پارلیمنٹ میں میں نے کہاکہ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ جب گدھے کا سامنا شیر سے ہوتا ہے تو گدھا اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اور سمجھتاہے کہ اگر گدھا شیر کو نہیں دیکھتا تو شیر بھی اس کو نہیں دیکھتا ہے لیکن اس کا نتیجہ جو ہوگا وہ ظاہر ہے۔
آج اس ملک میں دو واضح مسلک قوم کے سامنے آئے ہیں۔آپ نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ ضیاء الحق نے اسلام آئیزیشن کے سلسلے میں اور امریکہ کے کہنے پر اپنی خارجہ پالیسی کو صرف اور صرف انقلاب روس اور انقلاب ا.فغانستان کے خلاف یعنی انقلاب روس اور انقلاب افغانستا.ن کے خلاف ایک ہی اسلحہ ہے انکے پاس اور وہ اسلام کا اسلحہ ہے اوریہ اسلامی نہیں ہے کیونکہ میں نے پہلے پوچھا تھا ۔جنرل ضیاء نے مجھ سے کہا کہ میں سچا پکا متقی پرہیزگار مؤمن ہوں۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بناکر روس کا خاتمہ کروں گا۔ میں نے کہا کہ حضور ! آپ روس کے خلاف ہیں یا اس کے نظرئیے کے؟۔ اس نے کہا کہ میں اس کے نظرئیے کا مخالف ہوں۔ میں نے کہا کہ پھر چین کا نظریہ بھی وہی ہے لیکن چین کے اعلیٰ وفد آتے ہیں تو تم انکے سامنے دخترانِ اسلام کو نچواتے ہو؟۔تمہیں امریکہ نے جو حکم دینا ہے اسی پر عمل کرنا ہے۔ اب توروس بھی افغا.نستان سے گیا اور چین وروس کی دوستی ہورہی ہے اب تمہارا کیا بنے گا؟ اور روس کے خلاف کیا لڑوگے ، بھارت سے پہلے پنجہ آزماچکے ہو۔ دس ہزارکے سامنے ایک لاکھ فوجیوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور تمہاری پتلونیں وہیں رہ گئیں، اب قوم واضح لکیر میں تقسیم ہے ۔ ایک وہ ہیں دلی کے لال قلعے پرجھنڈا لہرانے کی بات کرتے ہیں اور دوسر ے جو ہندوستان سے صلح کی بات کررہے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ” ولی خان کو غلط فہمی ہوئی ہے، ہم ا.فغانستان کے جہا.د نہیں اسلام کے جہاد کی بات کررہے ہیں اور تاشقند بھی فتح کریںگے”۔ یہ جو فاتح کا جشن منارہے ہیں، ان سے اب کمانڈرز نہیں سنبھل رہے ہیں۔اسلئے کہ امریکہ اب براہ راست کمانڈروں کو اسلحہ دے رہاہے۔ اب یہ لوگ جہاد بھی نہیں کریںگے اسلئے کہ مال ملنا بند ہوگیا تو جہاد کو کیا کرنا ہے؟۔ عالمی سامراجی قوتیں کسی پر بکتی نہیں ہیں بلکہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور اس کے ساتھیوں کو استعمال کیا اور جب ضرورت نہیں رہی تو ان کو ساتھیوں سمیت راستے سے ہٹادیا۔ استعمال ہونے والوں کیساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ تاریخ کے ہر دور میں عبرت کا نشان بنتے ہیں۔پاکستان کو اسلئے نہیں بنایا گیا کہ انگریز کو اسلام اور مسلمانوں سے ہمدردی تھی بلکہ سوشلزم کے نظرئیے کا راستہ روکنے کیلئے بنایا گیاہے۔
ایک معتبر اخبار دی مسلم (انگریزی) میں یہ خبر چھپی ہے کہ ا.فغانستان میں آئے ہوئے عربوںنے فتویٰ دیا ہے کہ ا.فغانستان کے جو لوگ جہاد نہیں کرتے وہ کا.فر ہیں ،ان کی جائیداد مال غنیمت ہے ۔ ان کی خواتین بھی مالِ غنیمت ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ نے اس خبر کی تصدیق بھی کی ہے۔ وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو سے میں نے کہا کہ ”آپ خود بھی ایک خاتون ہیں۔ ہماری بہو بیٹیوں کیلئے جس قسم کے منصوبے بن رہے ہیں آپ ان کو کیوں سپورٹ کررہی ہیں؟”۔
مجھے کسی نے کہاکہ ”یہ عرب اسرائیل میں کیوں نہیں لڑتے؟”۔ میں نے کہا کہ ” یہ ہم پشتونوں کومسلمان بنانے آئے ہیں۔ ان کی شلواریں اسرائیل میں رہ گئی ہیں اور ازاربند اپنے سروں پر باندھ کر ہمیں مشرف بہ اسلام کرنے کیلئے آئے ہیں۔ چلے جاؤ پہلے اپنی شلواروں کا پتہ کرو ، پھر ازار بند سروں پر باندھ کر ہمارے پاس آجاؤ”۔ہم پشتونوں سے زیادہ اچھے مسلمان کون ہوسکتے ہیں؟۔
قاضی حسین احمد اور اس طرح کے لوگ تاشقند اور دلی فتح کرنے کی باتیں کررہے ہیں ۔ اپنے بچے بھوک سے مررہے ہیں۔ بجلی جن لوگوں کو دی ہوئی تھی ان کو بھی پوری نہیں ہورہی ہے۔ بجلی پیدا کرنے کی فکر نہیں اور دئیے جارہے ہیں۔ داخلی اور خارجہ امور دونوں کا پتہ نہیں ہے۔ ملک وقوم کو کس طرف لے جارہے ہیں؟۔ ہندوستان سے جنگ کی بات صرف اسلئے ہورہی ہے کہ فوج کو زیادہ سے زیادہ اسلحہ ملے گا ۔ مراعات ملیں گی اور وہ خوشحال ہوںگے لیکن قوم کا کیا بنے گا ؟۔ اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ایکF16طیارے کی قیمت پرپورے بلوچستان میں زرعی انقلاب آسکتا ہے جس سے بلوچستان کے عوام کی غربت ختم ہوجائے گی۔ ترقی پسند پارٹیوں کے متحد ہونے کا وقت آگیا ہے ،اسلئے کہ ملک وقوم کی بربادی کیلئے بیرونی قوتوں نے یلغار شروع کردی ہے اور بروقت قوم کو بیدار کرنا ہوگا۔ پشتون قوم آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں جب بیرون سے خطرات کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اپنی چھوٹی موٹی لڑائی پر پتھر رکھ دیتے ہیں۔ یہ اپنے اختلافات پر پتھر رکھنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر ہم بادشاہ خان کے سچے پیروکار ہیں تو پھر امن کیلئے کام کرنا پڑے گا۔ امن کے ایوارڈ کیلئے روس کے صدر گورباچوف کا انتخاب ایک اچھا اقدام ہے۔ میں مبارکباد پیش کرتا ہوں اپنی ضلعی انتظامیہ کو کہ ملکی وقومی سطح پر ایک بہترین کانفرنس کا اہتمام کردیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خلافت کی اب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ

خلافت کی اب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ

ہم نے جہادکے نام پر بہت بڑے طبقے کو انتہا پسند بنادیا، انہیں اسلحہ اورسیاسی طاقت دیکر مضبوط کیا،انہیں ہم ایسے نہیں چھوڑ سکتے، ہم نے 40سال میں جو بویااب کاٹ رہے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جنرل قمر جاوید باجوہ کو انتہاپسندی کیخلاف جنگ لڑنے پر دنیا میں اعزازی تمغوں سے نوازا جارہاہے۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف،عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی انتہاپسندی کے خاتمے میں برابر کی شریک ہیں۔APSپشاور واقعہ کے بعد ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں نے مل کر قومی ایکشن پلان بنایا۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاویدباجوہ نے دہشتگردانہ ماحول کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن خلافت کی روک تھام پر جنرل باجوہ کو بیان دینا اسکے اپنے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ایک فوجی کی تعلیم و تربیت کا مخصوص ماحول ہوتا ہے وہ اپنے ماحول کے مطابق بات کرنے میں مخلص ہے لیکن جہالت قوم کی کشتی کو ڈبوسکتی ہے۔40سال تک امریکہ کے کہنے پر دہشت گردی کی فصل تیار کرنا غلط تھا اور 40سال تک اسکے کہنے پر فصل کاٹنا بھی غلط ہے۔ آزادی ہند کی تقدیر کا فیصلہ خدا نے کیا اور تدبیر کا فیصلہ سیاسی قائدین نے۔ فوج کا اس میں کوئی کردار نہ تھا۔ وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ بھیک مانگنے والا ملنگ کہتا ہے کہ ” تمہاری خیرات سے ہماری توبہ ہے لیکن اپنے کتوں کو روک لو”۔ جنرل باجوہ اپنے پالے ہوئے دہشتگردوں کو روک لے جو ان کیساتھ مل کر بھتہ خوری اور فکری آزادی کو دبانے پر لگے ہیں۔ یہ پالیسی بہت ہی خطرناک ہے عوام اور سیاستدانوں کیلئے ہر گز قابلِ قبول نہیں۔
پشاور سے مشہور صحافی وادیب خالد خان کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر آیا کہ اسکے پاس میجررستم بٹ کے نام پرایک کروڑ روپیہ بھتہ کیلئے فون آیا اور اس نے اس کو جوک سمجھا۔ پھر ٹھیک ٹائم پر کالی گاڑی میں لوگ آئے۔ جس میں ایک وہی میجر اور دوسرا ایک پٹھان تھا۔ جس کا مخصوص حلیہ تھا۔ اسکے پاس30بور کی پسٹل تھی اور مجھے تھپڑ مارے کہ اگر یہ رقم نہیں دی تو بال بچوں سمیت مار دیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرے پاس اتنی رقم کہاں سے آئے گی؟۔ ایک قلم کار ہوں اور مشکل سے گزارہ ہوتاہے۔ میرے ساتھ پولیس اور ملٹری انٹیلی جینس نے بہت خوش اسلوبی کیساتھ تعاون کیا اور یہ پیشکش بھی ہوئی کہ حفاظت کیلئے پولیس دیدیتے ہیں۔ یہ تلقین بھی ہوئی کہ اپنے گھر کی چاردیواری بلند کرکے اس پر خار دار تار لگادو۔ مگر میں اپنی حفاظت کیلئے اتنے خرچے نہیں کرسکتا اور ایک شریف آدمی ہوں ،اسلئے اپنے ساتھ گارڈز بھی نہیں گھماسکتا ہوں۔ اور نہ ا نکے کھانے پینے کے خرچے اٹھاسکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہوا کہ آفتاب خان شیرپاؤ اور شیخ الحدیث مولاناادریس کو بھی بھتے کی دھمکیاں ملی ہیں۔ مجھے دشمن کا پتہ نہیں بتایا گیا ہے ، حالانکہ ٹیلی فون نمبر اور گاڑی کی تصاویر بھیCCTVکیمروں کی مدد سے پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ خالد خان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے دشمن نہیں بتائے گئے جو بہت افسوسناک بات ہے۔
جب عمران ریاض خان کہتا ہے کہ ” میری ماہانہ آمدن کروڑوں میں ہے تو پھر بھتہ خور صحافیوں کا تعاقب کریں گے”۔ جب مولویوں نے زکوٰة خیرات کے علاوہ سودی بینکاری سے بھی کمانا شروع کردیا ہے تو بھتہ خور بھی اپنا حصہ وصول کریں گے۔ بھتہ خور کس کس سے بھتہ وصول کریںگے؟۔ اور وہ کن کن طاقتور لوگوں کے مرہون منت ہوں گے ؟۔ یہ بھی ایک مشترکہ کاروبار ہوسکتا ہے؟۔ اگر ان کو40سال تک اپنا پٹھو بناکر ہتھیار اور طاقت سے نوازا گیا اور اب ان کو40سال تک کسی دوسرے دھندے پر لگاکر بدنام کیا گیا کہ بھتہ خور معاشرے میں اخلاقی طاقت کھو بیٹھیں تو یہ ان کو تنہا نہ چھوڑنے اور اپنے انجام تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہوسکتا ہے اور یہ وسائل پر قبضہ کرنے کی اچھی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے مگرکیا قوم یہ بوجھ برداشت کرسکتی ہے؟۔ یہ بھی ایک سوال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بھتہ خوروں کو کھلم کھلی آزادی ملنے اور شکایت لگانے کی جگہ عوام ٹھکانے بھی لگانا شروع کردیں۔ جب ایک مرتبہ قومی سطح پر لوگ اُٹھ جائیں تو مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بھی بالکل صلاحیت سے محروم ہے۔ قومی ایکشن پلان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اتنا تعمیری کام بھی نہیں کیا جتنا پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے چندنوجوانوں نے قیام امن کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کیا۔ لیکن اس کا کوئی زیادہ فائدہ اسلئے نہیں ہوا کہ تعصبات کے رنگ میں نعرے لگائے گئے۔ پشتون قوم پرست اور مذہب پرست کے نام سے آج آمنے سامنے ہیںاگر پھر ان میں قتل وغارتگری کا سلسلہ جاری ہوا جس کے شدید خطرات ہیں تو بھی قوم وملک کا نقصان ہے اوراگر متحد ہوکر ریاست کے خلاف کھڑے ہوگئے تو بھی ملک وقوم کا نقصان ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے آرمی چیف ہیں جس کو آئین کے تحت توسیع مل گئی اور پونے دو سال تک مزید توسیع کی بھی گنجائش ہے۔ ملک جس سیاسی دہرائے پر کھڑا ہے ،اس کو کٹھ پتلی سیاستدانوں کے رحم وکرم پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اور کسی نئے نظام کا نیا تجربہ بھاری پڑنے کا اندیشہ ہے۔ پرانے نظام کو چلانا بھی ممکن نہیں رہاہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ حکومت واپوزیشن جنرل قمر باجوہ کو ایک مزیدتوسیع دینے کا فیصلہ کریں تو بھی برا نہیں۔ اوریا مقبول جان نے یہ خواب بیان کیا تھا کہ پہلے نبیۖ کی طرف سے تحفہ ملتا ہے تو جنرل قمر باجوہ اس کو بائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور پھر حضرت عمر کے سمجھانے پر دائیں ہاتھ سے لیتے ہیں۔ اسلام کے بنیادی احکام کو معاشرے تک پہنچایا جائے تو ہمارے ملک وقوم کا بھلا ہوسکتاہے۔خلافت کی تشریح جنرل باجوہ اور دہشتگردوں کو سمجھ میں آئے تو دنیا میں خلافت کے نفاذ کا راستہ بھی ہموار کرینگے اور لوگ بھی خوش ہونگے۔

www.zarbehaq.comا
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tvCaliphate has no place in society anymore. General Qamar Javed Bajwa

شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی اہلحدیث، پاکستانی، افغانی، ایرانی قرآن کی طرف توجہ کریں توانقلاب آئے گا۔

شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی اہلحدیث، پاکستانی، افغانی، ایرانی قرآن کی طرف توجہ کریں توانقلاب آئے گا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن میں اللہ نے طلاق کے مقدمہ میں خواتین کے حقوق کی وضاحت کو ترجیحات میں شامل کرکے جاہلیت کی تمام رسوم کو ملیامیٹ کردیا ہے لیکن جہاں سے چلے تھے آج پھر وہیں کھڑے ہیں ۔ جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی۔
آیت222البقرہ میں دو چیزیں واضح ہیں۔ اذیت اور گند۔ حیض عورت کیلئے اذیت ہے اور گند بھی۔ اللہ نے اذیت سے توبہ اور گند سے پرہیز والوں کو پسندیدہ قرار دیا۔ آیت222سے228تک قرآن کا ایک رکوع ہے اور پھر آیت229سے231تک دوسرا رکوع ہے ، پھر232سے تیسرا رکوع شروع ہوتا ہے۔ آیت222میں اذیت کا ذکر ہے جس کا تسلسل بھی سورۂ بقرہ کے تینوں رکوع میں جاری ہے۔ آیت نمبر232میں اللہ نے فرمایا کہ ” طلاق شدہ عورتوں سے رجوع میں تمہارے لئے زیادہ تزکیہ اور زیادہ طہارت ہے”۔ اذیت سے دور ی معاشرے کیلئے تزکیہ اور گند سے دوری طہارت ہے۔
اذیت سے توبہ کی بات سمجھ میں آتی تو عمل آسان ہوتا ۔ اللہ نے سچ فرمایا: وماجعل علیکم فی الدین من حرج ”اور تمہارے لئے دین پر چلنے میں کوئی مشکل نہیں رکھی ہے” ۔ ملاؤں کی نا سمجھی نے دین پر عمل مشکل ترین بنادیا۔
کسی عربی چینل میں شیعہ عالم نے سنیوں کے اعتراض کا جواب دیا کہ ”شیعہ عورت کیساتھ پیچھے کی طرف سے مباشرت کو مکروہ سمجھتے ہیں تو یہ تمہاری احادیث کی کتب میں ہے کہ عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ بیوی سے پیچھے کی طرف سے مباشرت کے جواز کیلئے آیت223نازل ہوئی کہ جہاں سے چاہو آگے پیچھے سے مباشرت کرسکتے ہو،جس کا ذکرصحیح بخاری میں ہے اور فقہ کی کتابوں میں امام مالک کی طرف بھی اس کی نسبت ہے جو مکروہ بھی نہیں سمجھتے تھے”۔
شیعہ ایرانی نژاد امریکن خاتون نے کتاب لکھی جس میں یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں عورت کے کوئی حقوق نہیں ۔ لونڈی ہو تو نکاح کی ضرورت نہیں۔ نکاح میں ہو تو اس کی جسم پر مرضی نہیں۔ شوہر چاہے تو اس کی مرضی کے بغیر پیچھے سے مباشرت کرے۔ متعہ میں استعمال ہونے والی عورتوں کی حیثیت بدکار عورتوں کی ہے۔ یہ واقعہ بھی لکھا ہے کہ ایک شخص نے 40ہزار تمن میں ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اس کو پیچھے سے جماع کی علت تھی اور اس کی بیوی کی جنسی تسکین کا حق ادا نہیں کرتا تھا۔ بیوی نے خلع کا مطالبہ کیا اور وہ خلع دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ پھر بیوی نے 50ہزار تمن دینے کی پیشکش کردی تو اس نے طلاق دے دی ۔
نکاح سے عورت بلیک میل ہو تو کتنا براہوگا؟۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے فقہی مسئلہ لکھا اورحنفی مدارس آج فتویٰ دیتے ہیں کہ ” اگر شوہر نے بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دی اور اس کا کوئی گواہ نہیں تھا تو بیوی اس پر حرام ہوگی اوربیوی کو جان چھڑانے کیلئے دو گواہ پیش کرنے ہونگے۔ اگر دو گواہ نہ تھے اور اگر شوہر قسم کھائے تو عورت حرام ہوگی لیکن بیوی رہے گی اور عورت پر فرض ہوگا کہ وہ ہر قیمت پر خلع لے اور اگر شوہر خلع پر راضی نہ ہو تو عورت حرامکاری پر مجبور ہوگی۔ جب شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو وہ لذت نہ اٹھائے ورنہ گناہگار ہو گی”۔ یہ بکواس، یہ اذیت اور گند مولوی نے خود گھڑا ہے، اسلام سے اس کا تعلق نہیں۔
عربی ، اردو اور انگلش میں اثاثہ کے دو معانی ہیں۔ ایک مال، مویشی، کھیتی اور دوسرا زندگی کا نچوڑ اور انسان سے جدا نہ ہونے والا رشتہ۔ اللہ نے فرمایاکہ ”تمہاری بیویاں تمہارے لئے اثاثہ ہیں”۔ مولوی نے اس کا ترجمہ کھیتی کردیا۔ جب عورت کے گدھی کی طرح حقوق بھی نہ ہوں تو مولوی نے اس کا ترجمہ کھیتی کرکے درست کیا ۔ کھیتی پاؤں تلے روند ی جائے تو یہ عربی میں وطی کہلاتا ہے۔ قرآن وسنت اور عربی میں عورت سے مباشرت کیلئے کہیں بھی وطی کا لفظ نہیں مگر فقاء نے مباشرت کو وطی قرار دیا۔ جب عورت کھیتی ہو تو اس میں وطی پر اختلاف بھی ہوگا کہ حل کہاں چلایا جائے اور کہاںنہیں ۔ فقہ میں یہی اختلاف ہے۔
اگر آیت222البقرہ میں اذیت اور اس سے توبہ کی درست تفسیر ہو تو پھر آیت223البقرہ میں پیچھے کی مباشرت پر اختلاف اور بکواس بھی نہ ہوتی۔ اس اختلاف کو قرآن نے بغےًا بینھم آپس کی بہت فحش غلطی کا نام دیا ہے ۔
آیت224میں اللہ نے جوہری بات طلاق کے مقدمے میں فرمائی کہ ”اللہ کو اپنے عہدکیلئے ڈھال نہ بناؤ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرواور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ”۔ آیت میں یمین سے مراد قسم نہیں بلکہ طلاق کے جملہ الفاظ صریح وکنایہ مراد ہیں اسلئے کہ یہ آیت طلاق کامقدمہ ہے ۔ یمین عربی میں عہد وپیمان کو کہتے ہیں۔ بیگم کو چھوڑنا بھی یمین ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ ”اگر شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق اور بیوی نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد۔ اگر دونوں بیٹھے ہوں تو لونڈی آزاد اور دونوں کھڑے ہوں تو عورت کو طلاق ہوگی کیونکہ کھڑے ہونے کی صورت میں عورت کی شرمگاہ خوبصورت اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کی شرمگاہ خوبصورت ہے۔ اور اگر مرد کھڑا ہو اور عورت بیٹھی ہو تومجھے پتہ نہیں لیکن امام ابوبکرالفضل نے کہا ہے کہ مناسب ہے کہ دونوں کے یمین نافذ ہوں اسلئے کہ اس صورت میں دونوں کے حسن کی زیادتی ثابت نہیں ہوگی”۔فتاویٰ تاتار خانیہ۔اشاعت کوئٹہ بلوچستان
یہ عبارت اللہ کے احکام کامذاق اور فقہاء کاخبث باطن بغےًا بینھم ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یمین سے طلاق کے الفاظ مراد ہیں۔ اللہ نے مذہبی بنیاد پر عورت کو طلاق دینے کے الفاظ اور آپس کی صلح میں رکاوٹ کا تیاپانچہ کردیا ۔اور جب اللہ نے خود صلح کیلئے اللہ کو اپنے یمین کو ڈھال نہ بنانے کا حکم دیا ہے تو اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ اگر علماء ومفتیان قرآن کو چھوڑنے کے بجائے اس کی طرف رجوع کرتے تو تمام گھمبیر مسائل سے ان کی جان چھوٹ جاتی۔
آیت225البقرہ میںجاہلیت کی رسم کا خاتمہ کردیا کہ اللہ طلاق میں الفاظ کے عہدوپیمان پر نہیں پکڑتا بلکہ دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ یہ طلاق صریح وکنایہ کے جملے الفاظ اور گنتی کا توڑ ہے کہ اللہ نے صلح پر کوئی پابندی نہیں لگائی کہ جب میاں بیوی راضی ہوتو الفاظ سے صلح کا راستہ نہیں رُک سکتاہے۔
سوال ہے کہ پھر نبی ۖ نے کیوں فرمایا کہ طلاق ، رجوع اور لونڈی وغلام کی آزادی میں سنجیدگی اور مذاق دونوں معتبر ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان تینوں کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ جب شوہر طلاق دے اور عورت اپنے حق کے حصول کیلئے اس پر ڈٹ جائے تو مذاق کی طلاق بھی طلاق ہے اسلئے کہ طلاق میں شوہر کو منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے محروم ہونا پڑتاہے اور خلع میں عورت کی غیرمنقولہ دی ہوئی جائیداد گھر ، دکان اور باغ وغیرہ واپس کرنا پڑتا ہے۔ جب عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اس کو دو گواہ لانے پڑیں گے اگر دو گواہ نہیں لاسکے تو شوہر کو قسم اٹھانا پڑے گی اور جب شوہر قسم اٹھالے گا تو پھر جج کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ یہ خلع ہے اور عورت کو خلع کے حقوق ملیںگے۔ اسلام اندھا نہیں بلکہ اندھے فقہاء نے اس کو سمجھا نہیں اسلئے گمراہی پھیلا ئی ہے۔ اگر اسلام کی سمجھ ہوتی تو عورت کو حرامکاری پر مجبور کرنے کی گمراہی نہ پھیلتی۔قرآن نے ایک ایک رسم جاہلیت کی اصلاح کردی بلکہ گمراہی اور اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے کا کوئی موقع بھی نہیں چھوڑا تھا۔ سب سے زیادہ سخت ترین طلاق یہ تھی کہ جب کوئی شوہر اپنی بیوی کی پیٹھ کو اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دیتا تھا۔ سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب میں اس کی نزاکت کو دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا: ” ان کی مائیں نہیں ہیں مگر وہی جنہوں نے ان کو جنا ہے”۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ سوتیلی ماں جس نے اس کو جنا نہیں، ماں نہیں ۔ باپ کی منکوحہ کو جائز سمجھا جاتا تھا تو اللہ نے محرمات کی فہرست میں کہا : ولاتنکحوا مانکح آباء کم من النساء الاماقد سلف ”اور نکاح نہ کرو،جن عورتوںکیساتھ تمہارے آباء نے نکاح کیا مگر جو گزر چکا ”۔ غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا گیا اور اس کو زنا سے بدترقرار دیا گیا ہے لیکن غیبت کی سزا نہیں اور بہتان کی سزا80کوڑے اور زنا کی سزا 100کوڑے قرآن میںہے تو ظاہر بات ہے کہ زنا حقیقت میں غیبت سے کہیںزیادہ بڑا جرم ہے۔
جاہلیت کی ایک رسم یہ تھی کہ عورت کو طلاق کے بغیر زندگی بھر رکھا جاتا تھا۔ اللہ نے اس کی عدت چار ماہ رکھ دی اور اگر اسکا طلاق کا عزم تھا تو پھر اس کا دل گناہگار ہے اسلئے کہ عدت میں ایک ماہ کا اضافہ کردیا اور اگر طلاق کا اظہار کرتا تو عدت تین ماہ ہوتی۔ سورۂ بقرہ کی آیات 225، 226 اور 227میں دل کے گناہ کا مطلب واضح ہے اور یہ بھی کہ ناراضگی میں عورت چار ماہ تک کی عدت کی پابند ہے اسکے بعد وہ دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے اور اس کو طلاق کے مالی حقوق ملیںگے کیونکہ ناراضگی مرد کی طرف سے ہے۔ ناراضگی کے بعد عدت میں اور عدت ختم ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کرسکتے ہیں۔ فقہاء نے تو ان آیات کے واضح مفہوم میں بگاڑ ، اختلاف اور تضاد پیدا کرکے فطری اسلام کا بیڑہ غرق کردیا۔ احناف کے نزدیک چار ماہ کی مدت گزر جائے تو عورت کو طلاق ہوگی اور جمہور فقہاء کے نزدیک زندگی بھر بھی عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ یہ تضاد قرآن کے طالب علم کے ذہنوں کو قتل کرکے مفلوج کرکے رکھ دیتا ہے۔
عورت خلع لے تو صحیح حدیث کے مطابق اس کی عدت ایک حیض ہے اور اس پر سعودی عرب میں عمل ہے۔ شوہر کی ناراضگی کو عربی میں ایلاء کہتے ہیں۔ نبیۖ نے ایک ماہ ایلاء کے بعد رجوع کرلیا تو اللہ نے فرمایا کہ ” ان کو طلاق کا اختیار دیدو”۔ شرعی مسائل قرآن وسنت میں واضح ہیں۔ اگر ایلاء کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد عورت کو اختیار دیا جاتا تو تضادات پیدا نہ ہوتے ۔ اللہ نے عورت کو اذیت سے بچانے کیلئے یہ احکام بیان کئے لیکن فقہاء نے عورتوں کا سارا حق سلب کرکے رکھ دیا۔ جس طرح آیت228میں انتظار سے مراد عدت ہے ، اسی طرح آیت226البقرہ میں بھی انتظار سے مراد عدت ہے۔ سورہ بقرہ آیات225، 226، 227 میں عورت کو تحفظ تھا ۔ فقہاء نے عورت کے حقوق کو نظر انداز کردیا۔ جسکے نتیجہ میں عجیب و غریب تضادات کا شکار ہوگئے۔ کوئی کہتا تھا کہ چار ماہ بعد طلاق ہوگئی اور کوئی کہتا تھا کہ چارماہ بعد بھی طلاق نہیں ہوئی۔
آیت228میں جاہلیت کی دو اہم رسم کا خاتمہ ہے۔ اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کی لعنت تھی اور شوہر جتنی مرتبہ چاہتا تو عورت کی رضا کے بغیر رجوع کرتا۔ اللہ نے واضح کیا کہ ” طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے ہے عدد سے نہیں۔ باہمی اصلاح سے ہے ،شوہر کے اختیار سے نہیں”۔ حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کے نفاذ کا فیصلہ اسلئے کیا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہ تھی اور یہی فیصلہ ایک طلاق کے بعد عورت کے رجوع کیلئے راضی نہ ہونے کی صورت میں ہوتا۔ قرآن نے باہمی رضاسے رجوع کی وضاحتوں کو سورہ بقرہ اور سورۂ طلاق میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد بہت اچھے انداز میں واضح فرمایا ۔
آیت229میں یہ واضح کیا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق اس عدت سے ہے جسکے تین مراحل ہیں اور تیسری مرتبہ طلاق کے بعد شوہر نے جو کچھ بھی دیا بیوی سے کچھ واپس لینا جائز نہیں۔ جاہلیت کی یہ رسم تھی کہ عورت سے خلع کیلئے مال کا مطالبہ کیا جاتا اور طلاق میں عورت کو دئیے ہوئے اشیاء سے محروم کردیا جاتا تھا۔ سورۂ النساء آیت :19 میں خلع کی صورت میں عورت کو مالی تحفظ دیا گیا ہے اور آیات:21، 22 میں طلاق کی صورت میں عورت کو مالی تحفظ دیا گیا ہے۔
جاویداحمد غامدی نے آیت229البقرہ کا انتہائی گمراہ کن ترجمہ کیا۔ ایک طرف طلاق کے بعد عورت سے شوہر کے دئیے مال میں سے کچھ بھی واپس لینے کو ناجائز قرار دیاگیا اور دوسری طرف اسی آیت سے خلع بھی مراد لیا ہے جس میں عورت کو حق دینے کے بجائے الٹا بلیک میل کرنے کاحق شوہر کو دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کے جتنے حقوق بیان کئے ہیں وہ سب فقہاء ومفسرین نے اپنی طرف سے غصب کئے ہیں۔ اللہ نے ایک ،دواور تین مرتبہ طلاق کے بعد معروف ، اصلاح کی شرط اور باہمی رضامندی سے رجوع کی بار بار وضاحت کردی ہے لیکن شافعی وحنفی فقہاء اس بات پر تضادات کا شکار ہیں کہ طلاق سے رجوع کیلئے نیت شرط ہے یا نہیں؟۔ شافعیوں کے نزدیک نیت نہ ہوتو مباشرت سے رجوع نہیں ہوگا اور حنفیوں کے نزدیک غلطی سے شہوت کی نظر پڑجائے تو بلانیت رجوع ہے۔ معروف کی جگہ فقہ میں منکر رجوع نے لے لی۔ عورت کے حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اسلام کو اجنبیت کا شکار کیا گیاہے۔
اللہ نے آیت 229میںواضح کیا کہ 3مرتبہ طلاق کے بعد دی ہوئی چیزوں میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں مگر جب دونوں اور فیصلہ کرنیوالے بھی متفق ہوں کہ اگر کوئی خاص چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو پھر اس خاص دی ہوئی چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں یہی وہ صورتحال ہے کہ میاں بیوی اور فیصلہ کرنیوالے نہ صرف جدائی پر متفق ہوں بلکہ رابطے کیلئے بھی کوئی چیز درمیان میںنہ چھوڑ یں۔ اس صورتحال کی وضاحت کے بعد سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوجائیگا بلکہ ایک دوسری معاشرتی برائی کی اصلاح اللہ نے فرمائی کہ طلاق کے بعد عورت کو اس کی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ اس جاہلیت کا خاتمہ کرنے کیلئے فرمایا کہ ” اگر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ عورت اپنی مرضی سے کسی اور سے نکاح کرلے”۔ اس کا تعلق تین مرتبہ طلاق سے نہیں ہے بلکہ عورت کو اپنی رضامندی سے دوسرے شوہر سے نکاح کا حق دلانا ہے اور یہ رسم آج بھی معاشرے میں موجود ہے۔ لیڈی ڈیانا کو بھی اسلئے قتل کیا گیا۔
اگر اللہ نے باہمی رضا ، اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کا راستہ روکنا ہوتا تو پھر آیات231، 232میں عدت کی تکمیل کے فوری بعد اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعدباہمی رضامندی سے رجوع کی وضاحت کیوں کرتا؟۔ سورۂ طلاق میں بھی عدت میں ، تکمیل عدت کے بعداور تکمیل عدت کے کافی عرصہ بعد اللہ نے رجوع کا دروازہ باہمی صلح سے کھلا چھوڑ نے کی وضاحت فرمائی۔ اس مسئلے پراحادیث صحیحہ کا قرآن سے کوئی ذرا بھی تصادم نہیں ہے ۔
مغرب کو بڑا خطرہ خلافت سے یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی عورتوں کو انکے اسلامی حقوق نہیں دئیے تو اگر ان کی خواتین کو لونڈیاں بنایا گیا پھرکیا ہوگا؟۔ خلافت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید نے ساڑھے چار ہزار لونڈیا ں ہر رنگ ونسل کی رکھی تھیں۔ حالانکہ غلام و لونڈی پیدا کرنے کا ادارہ جاگیرداری نظام تھا جس کو نبی ۖ اور فقہ کے چاروں ائمہ نے سُود قرار دیا تھا۔ آج بھی مزارعین میں غلامی کی روح ویسے کی ویسی ہے۔ فقہاء نے حیلہ کرکے مزارعت کو حلال کردیا۔
قرآن نے جس طرح آزاد عورت کیساتھ نکاح کا تصور دیا ہے اسی طرح سے لونڈی سے بھی نکاح کا حکم دیا ہے۔ جس طرح آزاد عورت اور مرد میں ایک معاہدہ یا ایگریمنٹ ہوسکتا ہے جس کو ایرانی متعہ اور سعودیہ ومصر والے مسیار کے نام سے جواز بخشتے ہیں۔ نکاح میں عورت کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے ۔ دوسری صورت میں عورت کی پوری ذمہ داری مرد کے ذمہ نہیں ہوتی۔ اسلئے نکاح محدود عورتوں کیساتھ اس شرط پر ہوسکتا ہے کہ جب ان کو عدل فراہم کیا جاسکے ، نہیں تو پھر ایک ہی پر اکتفاء کرنے کا حکم ہے۔ جبکہ لونڈیاں لاتعداد ہونے کی وضاحت قرآن میں قطعی طور پر بھی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایگریمنٹ والیاں ہیں اور مغرب نے اس تصور کو کچھ زیادہ ہی فحاشی وآزادی کیساتھ رائج کردیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایک عالم ہے ثنا خواں آپ ۖ کا۔ مغرب کے دانشوروں کا رحمہ للعالمین ۖ کو خراج عقیدت

ایک عالم ہے ثنا خواں آپ ۖ کا۔ مغرب کے دانشوروں کا رحمہ للعالمین ۖ کو خراج عقیدت

”ایک عالم ہے ثناخواں آپۖ کا”
مغرب کے دانشوروں نے رحمت للعالمین ۖ کے بارے میں ایک عرصے تک سخت معاندانہ رویہ اختیار کیے رکھا ، مگر بالآخر آج وہ اعترافِ حقیقت پر مجبور ہوگئے ہیں۔ان کی حقیقت بیانیوں کا نچوڑ پہلی مرتبہ پیش کیا جارہا ہے ۔
مرتب :ستارطاہر۔موسم اشاعت: نومبر1995ء تعداد: ایک ہزار
دوست پبلی کیشنز ۔8۔ اے ، خیابان سہروردی پوسٹ بکس نمبر2958 ۔

”آربیل”
محمد(ۖ) نے پوری زندگی میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ معجزہ کر دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔آپۖ نے اس حوالے سے اپنی کوئی ”علامت” بھی قائم نہ کی۔ آپۖ ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ تمام علامتیں اور نشانیاں اللہ کی ہیںاور خدا کے کلام کا ان پر نزول سب سے بڑا معجزہ ہے۔

” جارج برناڈ شا”
از منہ وسطیٰ میں عیسائی راہبوں نے جہالت و تعصب کی وجہ سے اسلام کی نہایت بھیانک تصویر پیش کی۔ یہ سب راہب اور مصنف غلط کار تھے،کیونکہ محمد(ۖ)ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ تھے۔
محمد(ۖ) کے مذہب کو میں نے ہمیشہ اسکی حیران کن قوت اور صداقت کی وجہ سے اعلیٰ ترین مقام دیا۔ میں نے اس کی حیران کن اور صداقت کی وجہ سے اعلیٰ مقام دیا ہے۔میرے خیال میں محمد (ۖ)کا مذہب دنیا کا واحد مذہب ہے جو ہردور کے بدلتے ہوئے تقاضوں کیلئے کشش رکھتا ہے۔میں نے اس حیران کن انسان (ۖ) کا بغور مطالعہ کیااور اس سے قطع نظر کہ انہیں ” مسیح کا دشمن” قرار دیا جاتا ہے۔محمد (ۖ) ہی انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔میرا ایمان ہے کہ اگر آپ (ۖ) جیسا شخص دنیا کا حکمران ہوتا تو ہماری دنیا کے سارے مسائل حل ہو چکے ہوتے اور یہ دنیا خوشیوں اور امن کا گہوارا بن جاتی۔محمد(ۖ) کے مذہب کے بارے میں میں یہ پیش گوئی کرتا ہوں کہ یہ کل کے یورپ کیلئے بھی اتنا ہی قابل قبول ہے جتنا آج کے یورپ کے لیے ۔۔۔جو اسے قبول کرنے کا آغاز کر چکا ہے۔میری خواہش ہے کہ اس صدی کے آخر تک برطانوی ایمپائر کو محمد(ۖ) کی تعلیمات مجموعی طور پر اپنا لینی چاہییں۔انسانی زندگی کے حوالے سے محمد (ۖ) کے افکار و نظریات سے احتراز ممکن نہیں۔

”آرلی روژ”
انسانی تاریخ کو سامنے رکھیے اور اس کا بغور مطالعہ کیجئے تو ایک زبردست حقیقت کا انکشاف ہوگا ۔ یہ محمد(ۖ) تھے جو پہلے سماجی بین الاقوامی انقلاب کے بانی تھے،جن کا حوالہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے۔ آپۖ سے پہلے کی تاریخ میں کوئی ایسا نہیں ملتا جو بین الاقوامی سماجی انقلاب کا بانی ہو۔
آپ نے ایسی ریاست قائم کی کہ جب تک پوری دنیا کی ریاستیں اور حکومتیں اس کی تقلید نہیں کرتی ہیں ،عالمی امن قائم نہیں ہوسکتا اور سماجی انصاف فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ آپۖ نے انصاف اور جود وسخا کے جو قوانین مرتب اور نافذ کیے ،جب تک دنیا انہیں نہیں اپناتی ،یہ نہ تو خوشحال ہوسکتی ہے اور نہ پرسکون۔ آپۖ نے بین الاقوامی مساوات کا نظریہ دیااور دنیا کے سب انسانوں کو برابر ٹھہرایا۔ آپ ۖنے درس دیا کہ انسان کو انسان کی مدد کرنی چاہیے۔

”ای بلائیڈن”
محمد(ۖ) کے دین کا پورا سسٹم دو بنیادوں پر استوار ہے اور یہی قرآن کی روح ہے۔ جزا اور سزا کے ستون۔ ………اچھے کام کی جزا اور برے کام کی سزا….. امید اور خوف۔ امید کہ اچھائی باثمر ہوگی اور خوف کہ برائی کا ارتکاب ہوا تو سزا ملے گی۔ ایسا مکمل نظامِ حیات دنیا کے کسی مذہب نے پیش نہیں کیا۔
ولیم پین، پادری جارج وائٹ فیلڈ، صدر ایڈورڈز ،……. یہ سب لوگ کئی اہم کتابوں کے مصنف تھے اور ان کی شہرت عالمگیر ہے۔ مسیحی دینیات کی دنیا میں انہیں ممتاز مقام حاصل ہے۔ یہ سب کیسے انسان تھے؟ سب غلامی کے حامی تھے اور سینکڑوں غلام ان کی ملکیت تھے۔حبشی ان کے نزدیک انسان تھے ہی نہیں بلکہ وہ انہیں ”شیطان کی اولاد” سمجھتے ہوئے ان سے نفرت کرتے اور ان پر ہر ظلم روارکھنا جائز سمجھتے تھے۔ کتنی صدیوں نے ظلم کا بازار دیکھا ، صرف اسلئے کہ یہ دیندار، نیک طینت ،سفیدفام اس نظرئیے پر یقین رکھتے تھے کہ خدا نے انہیںیہ حق دیا ہے کہ وہ افریقہ کے حبشیوں کو اپنا غلام بناسکتے ہیں۔
ان عیسائی عالموں کا خدا محمد(ۖ) کے خدا سے کتنا مختلف ہے!
محمد(ۖ) نے انسانوں کو بتایا کہ حبشی اور کالے بھی انسان ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی جانیں اور روحیں ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس دینداروں اور کلیسا کے عہدیداروں نے حبشی غلاموں کو بتایا تھاکہ ” تمہیں جان لینا چاہیے کہ تمہارے جسم بھی تمہارے اپنے نہیں،بلکہ تمہاری جانوں اور روحوں کے مالک بھی وہی ہیں جنہیں خدا نے تمہارا آقا بنایا ہے”۔
اور پھر اسلام اور محمد(ۖ) پر گھٹیا باتیں کرنے والے بہت کچھ جان بوجھ کر بھلا دیتے ہیں…… ڈاکٹر میکلر ہمیں بتاتا ہے کہ پروشیا میں اسلاف کی توہم پرستی اس حد تک گہری ہوچکی تھی کہ ہر شخص کو تین شادیاں کرنے کا حق حاصل تھااور ان بیویوں کی حیثیت کنیزوں اور باندیوں سے زیادہ نہ تھی۔اور پھر جب ان کا خاوند مرجاتا تو اس کی بیواؤں سے یہ توقع رکھی جاتی تھی کہ وہ اسکے ساتھ جل مریں۔ اگر وہ یہ توقع پوری نہیں کرتی تھیں تو مرنے والے کے لواحقین قتل کردیتے تھے۔
محمد (ۖ) نے حکم دیا: جب تک تمہیں اپنی پہلی بیوی کی اجازت حاصل نہ ہو اور جب تک اس کی کوئی جائز شکایت نہ ہو اور جب تک دوسری بیوی کے ساتھ ساتھ پہلی بیوی کی کفالت نہ کرسکو اور دونوں میں انصاف کا توازن برقرار نہ رکھ سکو ،تمہیں دوسری شادی کی اجازت نہیں ۔
سچا اور اصلی اسلام ….. جو محمد (ۖ) لے کر آئے ۔اس نے طبقۂ اناث کو وہ حقوق عطا کیے جو اس سے پہلے اس طبقے کو انسانی تاریخ میں نصیب نہیں ہوئے تھے۔اس کے بعد …… اسلام نے انسانیت کو متحد کیا ۔ اسلام صرف عربوں تک محدود نہیں تھا ۔ محمد(ۖ) کا مشن پوری انسانیت کیلئے تھا۔
مسیح کے نام لیواؤں نے انسانیت کو جس قعر مذلت میں دھکیل دیا تھا، محمد (ۖ) نے اس انسانیت کو امن ومسرت اور مساوات کی فضا میں جینے کا برابر حق دیا ۔افریقہ میں اسلام اور محمد(ۖ) کے شیدائیوں نے جمہوری حکومتیں قائم کیں۔ مسلم فتوحات کی روشنی میں کالے خطے میں اسلام کی روشنی پھیلی اور تعلیمات محمدی ۖ نے انسانوں کو جینے اور سر اٹھانے کا حق بخشا۔ عیسائیت جہاں بھی گئی وہاں انسانوں کو غلام بنایا گیا اور طاقت اور جارحیت کے ذریعے ان پر حکمرانی کی گئی۔ محمد(ۖ) کا دین جہاں بھی پہنچا وہاں حقیقی جمہوری حکومتوں کا قیام معرض وجود میں آیا۔ محمد (ۖ) کے دین اور انۖ کی تعلیمات کو کن الفاظ میں سراہا جاسکتا ہے ۔………حقیقی انقلاب جو ذہن بدل دے، دل بدل دے، اس کی تعریف کیسے ممکن ہے؟۔شمالی افریقہ میں مسلمانوں کی فتوحات کے بعد ، جنوبی افریقہ میں اسلام ….. تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ مدرسوں، کتابوں، مسجدوں باہمی شادیوں ، رشتہ داروں اور تجارت کے ذریعے پہنچا۔ محمد(ۖ) کی روحانی فتوحات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
محمد(ۖ) کے ساتھ ہی اس جمہوریت اور مساوات نے جنم لیا جو اس سے پہلے دنیا میں موجود نہیں تھی۔ اب دولت اور حسب نسب کے پیدائشی دعوؤں کی کوئی اہمیت نہ رہی۔ غلام …مسلمان ہوکر آزاد ہوجاتا۔ دشمن ….اسلام قبول کرکے خون کے رشتے دار سے زیادہ عزیز سمجھا جاتا۔ اور کافر …..اسلام قبول کرنے بعد دین کا مبلغ بن جاتا۔ محمد (ۖ) نے ایک حبشی بلال کو موذن بنادیا کیونکہ وہ اسلام لے آئے تھے۔ اور ان کے ہونٹوں سے خوبصورت کلمات سنائی دیے۔” نماز نیند سے بہتر ہے”۔محمد (ۖ) نے خوابیدہ انسان کو بیدار کردیا۔ انسانی بیداری کی یہ صدا آج بھی دنیا کے ہر ملک میں سنی جاتی ہے۔محمد(ۖ) نے دھتکارے ہوئے غلاموں کو آقا بنادیا۔

”ڈبلیو ڈبلیو کیش”
عیسائیوں کو یہ حقیقت قبول کرلینی چاہیے کہ اسلامی اخلاق مسیحی اخلاقیات سے بدرجہا بہتر اور قابلِ عمل ہیں۔ ………..
محمد(ۖ)! یہ آپ ۖ کا دَین ہے کہ اسلامی دنیا میں انسانوں کی راہ میں اوج کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مناصب تک پہنچنے کیلئے حسب نسب حائل ہوتا ہے نہ رنگ، غربت، امارت، بلکہ اسلام نے تمام نسلوں کو مواقع فراہم کیے ہیں کہ وہ ایمان لائیں اور ایسی جمہوریت اور مساوات کا حصہ بن جائیں جس میں کسی قسم کی اونچ نیچ سرے سے موجود نہیں !۔ آج کے دور میں محمد(ۖ) کی تعلیمات ہی کا یہ اثر ہے کہ ایشیا و افریقہ میں ایسی بیداری کی لہر دکھائی دے رہی ہے جس سے مغرب کا خدا کو نہ ماننے والا لزراں وترساں ہے۔

”ای ڈرمنگھم”
عرب بنیادی طور پر انارکسٹ اور انتہا پسند تھے ۔ محمد(ۖ) نے زبردست معجزہ دکھایا کہ انہیں متحد کردکھایا۔ بلاشک وشبہ دنیا میں کوئی ایسا مذہبی رہنما نہیں گزرا جسے محمد (ۖ) جیسے سچے اور جانثار پیروکار ملے ہوں۔ اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ محمد(ۖ) نے عربوں کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ اس سے پہلے طبقۂ اناث کو کبھی وہ احترام حاصل نہیں ہوا تھا جو محمد(ۖ) کی تعلیمات کے نتیجے میں ملا۔ جسم فروشی، عارضی شادیاںاور آزادانہ محبت ممنوع قرار دئیے گئے۔ لونڈیاں اور کنیزیں جنہیں اس سے پہلے محض اپنے آقاؤں کی دل بستگی کا سامان سمجھا جاتا تھا،وہ حقوق ومراعات سے نوازی گئیں۔ غلامی کا ادارہ بوجوہ اس دور میں باقی رہا لیکن غلام کو آزاد کرنے والے کو سب سے بڑے نیکوکار قرار دیا گیا۔ غلاموں کیساتھ برابری کا سلوک روا رکھا جانے لگااور غلاموں نے دین کی تعلیم سے فیضاب ہوکر اعلیٰ مناصب حاصل کیے۔ ……….

” کتاب کے مندرجات پر تبصرہ”
کتاب میں موجود تمام مغربی دانشوروں کے تبصرے اس قابل ہیں کہ ان کو تمام مسلمانوں تک پہنچایا جائے۔تاہم اس بات کو بھی ذہن نشین ہونا چاہیے کہ جس انسانیت کا مظاہرہ رسول اللہ ۖ اورصحابہ کرام کے بعد مسلمانوں نے کیا ہے،وہ غیر مسلموں کے ہاں بھی قابلِ قبول اور بہترین رویہ قراردیا گیا ہے۔ اور یہ بات پیشِ نظر رہے کہ سلطان عبدالحمید خلافت عثمانیہ کے بادشاہ نے اپنے حرم میںساڑھے چار ہزار کنیزیں رکھی تھیں اور محمد شاہ رنگیلا نے محل کے بالاخانہ تک سیڑھیوں پر ننگی لڑکیوں کا اہتمام کیا تھا جن کے سینوں کو پکڑ پکڑ کر وہ زینے چڑھتا تھا اور انفرادی وااجتماعی زیادتیوں اور قتل وغارتگری سے تاریخ بھری پڑی ہے۔
یہاں اسلام ، مسلمانوں اور نبی کریم ۖ کے دفاع کیلئے نہیں بلکہ پوشیدہ حقائق تک عالم انسانیت کی فکر ونظر اور اسکے دل ودماغ تک کچھ حقائق پہنچارہا ہوں۔ حضرت حسین کی زوجہ محترمہ شیربانو شاہ ایران کی صاحبزادی اور شہزادی کو کس طرح مالِ غنیمت میں تقسیم کرکے پیش کیا گیا؟۔ غلامی ولونڈی کا سسٹم کیوں بوجوہ باقی رکھا گیا؟۔ جب ایران کے ظالم بادشاہ کا تخت الٹ گیا تو اپنے لوگوں میں بھی اسکے خاندان کیلئے کوئی جگہ اور نرم گوشہ نہیں تھا۔ایرانی انقلاب کے بعد اگر ایران کی شہزادی کا ایسی معزز شخصیت سے رشتہ ہوتا تو لوگ اس کو معیوب بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اصل بات یہ تھی کہ غلام ولونڈی بنانے کا ادارہ جاگیردارانہ نظام تھا۔ نبی ۖ نے مزارعت کو سود قرار دیکر عالم انسانیت سے غلام ولونڈی بنانے کی فیکٹریاں ختم کرنے کا اقدام فرمایا تھا لیکن مسلمانوں نے حیلہ کرکے جواز نکالا تھا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ قرآن میں ملکت ایمانکم سے کہیں لونڈی و غلام مراد ہیں اور کہیں ایگریمنٹ۔ جو خواتین خرچے کا بوجھ خود اٹھاسکتی ہوں تو ان کیلئے نکاح کی جگہ ایگریمنٹ کی اجازت بھی ہے۔ نکاح میں نان نفقہ ، گھربار سب کچھ شوہر کے ذمے ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ معاشرے میں شدت سے اس کی ضرورت ہو لیکن اس کی جگہ بدکاری نے لے لی ہے۔ لونڈی وغلام کی حیثیت بھی جانور کی طرح ملکیت اور عبدیت کی نہیں رہی بلکہ ایگریمنٹ کے مطابق جب بھی کوئی مطلوبہ رقم ادا کردے تو مالک اس کو اپنے ہاں رکھنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔
تیسری اہم بات جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ ایک طرف دہشت گردی کی فضاء پیدا کرکے مسلمانوں کو انتہاپسند بنایا گیا اور دوسری طرف عالمی سطح پر سودکی منڈیوں میں پھنسی ہوئی دنیا کیلئے ایسے شیخ الاسلام پیدا کئے گئے ہیں کہ اب عالمی صہیونیت کے ظالمانہ معاشی نظام کے صف اول میں مسلمانوں کو بھی کھڑا کیا گیا ہے۔ جو اسلام جاگیردارانہ نظام کو ختم کررہاتھا وہ خاندانوں کو ہی نہیں پورے پورے ملک وخطے کو غلام اور بڑی بڑی قوموں کولونڈیاں بنار ہاہے تو اس سے بڑھ کر اسلام ، مسلمانوں اور خاتم الانبیاء ۖ کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمیں غرور کی جگہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی ہوگی۔
چوتھی بات یہ ہے کہ فقہ اور مسلکوں کے نام سے قرآن وسنت کا جو حلیہ بگاڑا گیا ہے،جب تک ان کی طرف توجہ نہیں دی جائے مسلمانوں کا حال کسی طرح سے بھی دوسری قوموں کے مقابلے میںاچھا نہیں ہوسکتا اسلئے کہ انہوں نے اپنا مذہب چھوڑ کر جمہوریت کے ذریعے سے اپنے قوانین بنانے شروع کئے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ کتاب میں بعض جگہ حضرت عیسیٰ کی ذات پر رکیک حملہ کئے گئے ہیں جن کا تعلق عیسائیت کی بگڑی ہوئی تحریف سے ہوسکتا ہے۔ ہم رسولوں میں تفریق کے قائل نہیں،البتہ اللہ نے انبیاء ورسل میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس فضیلت کا اقرار غیر مسلموں کی زباں سے زیادہ اچھا تھا لیکن ہمیں اپنے اعمال اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق ٹھیک کرنے ہونگے اور پھر دنیا میں ہرکوئی نبیۖ کی تعریف کرتا پھرے گا اور اللہ نے قرآن میں جو مقام محمود کا ذکر کیا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ نبیۖ کی تعریف کی جائے۔
جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے علاوہ اسلام کا معاشرتی نظام اہمیت کا حامل ہے اور اس کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ پاکستان، افغانستان کے طالبان اور ایران کے علاوہ سعودی عرب، مصر، عرب امارات، قطر، سوڈان، عراق،ملائشیا، انڈونیشیا، افریقہ ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا،روس سمیت دنیا بھر میں اسلامی احکام کو پہنچانے میں ابھی دقت نہیں ۔

دعا زہرہ کیس کو اگر اسلامی تعلیم کے مطابق حل کیا گیا تو نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا بھرکی خواتین کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

دعا زہرہ کیس کو اگر اسلامی تعلیم کے مطابق حل کیا گیا تو نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا بھرکی خواتین کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ولاتکرھوھن علی البغاء ان اردن تحصنًا ” اور ان کوبدکاری (خفیہ تعلق رکھنے پر)یا بغاوت ( کھل کربھاگ کر نکاح )پر مجبور مت کرو،اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں”۔

حدیث میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا گیاہے۔ قرآن کی آیت میں مسلکی اختلافات اور بہت پیچیدہ صورتحال کا بہترین حل ہے لیکن قرآن کی طرف توجہ نہیں

ہمارے معاشرے میں ایک طرف والدین بچیوں اور بچوں کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کردیتے تھے اور دوسری طرف بچے اور بچیاں بھی اپنے والدین کی مرضی کے بغیر رشتہ ازدواج میںخود کو جوڑ لیتے ہیں۔ اسکے نقصانات کیاہیں؟۔
مغرب اور ترقی یافتہ دنیا نے نکاح کے حقوق کو قانونی تحفظ دیا ۔طلاق وخلع میں مشترکہ جائیدادبرابر برابر تقسیم ہوتی ہے۔ جائیدا د کی تقسیم کے خوف سے گرل و بوائے فرینڈز کا کلچر بن گیاہے۔اور یہ بھی ہے کہ جب تک شناختی کارڈ نہیں بنتا تو قانونی نکاح نہیں ہوسکتا ہے اسلئے کہ کم عمری میں طلاق کے قوانین جائیداد کی تقسیم کا معاملہ سخت ہے لیکن اس عمرتک پہنچنے سے پہلے جنسی آزادی دی گئی ہے۔
ہمارے ہاں مشرقی مسائل ہیں لیکن قرآن سورۂ نور میں اللہ نے واضح کردیا کہ اسلام پر مشرق ومغرب کا ماحول اثر نہیں ہے۔ اس کی مثال طاق میں رکھے چراغ سے دی جو شیشہ میں بند ہو۔ مشرقی اور مغربی ہواؤں سے محفوظ ہو۔
عیسائیوں میں طلاق کا تصور نہیں تھا،پھر اجتہاد سے طلاق کی اجازت دی۔ ہندو بیو ہ عورت ستی کردی جاتی تھی۔ انگریز نے بیوہ کو زندہ جلانے پر قانوناًپابندی لگاکریہ رسم ختم کی۔ اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے بیوہ کو نہ صرف کھل کر حق دئیے بلکہ انسانی معاشرے کو ترغیب دی کہ بیوہ وطلاق شدہ خواتین اورنیک غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کراؤ۔ عربی میں الایم(بیوہ وطلاق شدہ) کے مقابلے میں بکر (کنواری )آتا ہے۔ بخاری کی حدیث میں بھی اس کی وضاحت ہے کہ شوہر دیدہ طلاق شدہ وبیوہ سے زبانی وضاحت پوچھ کر اس کا نکاح کیا جائے اسلئے کہ وہ شرماتی نہیں اور کنواری کی اجازت خاموشی کافی ہے۔ کنواری کو عربی میں فتاة اور شوہر والی کو محصنة کہتے ہیں۔ قرآن اور عربی کی عام زبان میں فتاة لونڈی اور محصنة پاکدامن کو بھی کہتے ہیں۔نوکرانی کی ضرورت ہو تو ”لڑکی چاہیے” سے مراد نوکرانی ہے اور ” ہماری لڑکیاں ” سے مراد بیٹیاں ہیں۔ نکاح کیلئے لڑکی چاہیے تو اس سے مراد کسی اور کی لڑکی ہے اور جہاں لونڈیوں کا ماحول ہو تو وہاں لڑکیوں سے لونڈیاں بھی ماحول کے مطابق ہیں۔
ساڑھے چودہ سو سال پہلے بیوہ وطلاق یافتہ ، لونڈی ، غلام اور اپنی کنواری لڑکیوں کا جس طرح قرآن وسنت نے معاملہ حل کیا اگر اس پر عمل ہوتا تو پھر ہمارے معاشرے کو یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتے کہ خود بھی پریشان ہیں اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ ہم تماشہ بن گئے اور دنیا ہمارا تماشہ دیکھ کر عبرت پکڑ رہی ہے۔ پہلے یورپ میںہمارا جیساہی ماحول تھا لیکن آج ان کی پوزیشن بالکل مختلف ہے اور ہم آج ان کیلئے قابلِ رشک بھی نہیں ہیں لیکن وہ بھی اپنے ماحول سے مطمئن نہیں ہوسکتے ہیں۔ قرآن وسنت نے ہمیں جو بالکل فطری اسلام دیا تھا وہ تمام مسائل کا دنیا بھر کیلئے زبردست، بہترین اور واحد حل ہے۔
ایک طرف نبیۖ نے فرمایا کہ ” زبردستی سے عورت کا نکاح کرانا بالکل جائز نہیں ”۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے لڑکیوں کانکاح زبردستی سے کردیا تو اس نکاح اور اسکے اولاد کی حیثیت کیا ہے۔ جائز یا ناجائز؟۔ اس کا جواب قرآن نے بہت عمدہ انداز میں دیاہے کہ عورت پر اس کی ذمہ داری نہیں ہوگی اور اس کی مجبوری کی وجہ سے یہ نکاح جائز اور اس کی اولاد درست ہے لیکن اس پر جبر والے معاشرے کی پکڑ ہوگی۔ اس کی زندگی اجیرن بنانے کے اثرات سے وہ دنیا وآخرت میں خلاصی نہ پاسکیں گے۔ ہمارے معاشرے کا بھیانک پہلو یہ ہے کہ آج تک یہ مجرمانہ فعل موجود ہے اور اس کا ذمہ دار طبقہ صرف دنیاداراشرافیہ اور جاہل طبقہ نہیں بلکہ مولوی بھی ا سکا حصہ ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی بیٹی کا واقعہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل عالم نے بتایا تھا۔ مسئلہ بتانا نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کرنا ہوتاہے، معاشرے میں بیماری عام ہو تو خواص حصہ ہوتے ہیں۔ مولانا یوسف بنوری کی صاحبزادی ڈاکٹر حبیب اللہ مختار پرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن کی بیوہ کا کسی رانگ نمبر پر رابطہ ہوا، پھر معاملہ ضد کرکے شادی تک پہنچ گیا۔ اقارب نے سمجھایا کہ نوسر باز ہوسکتا ہے اور مدرسہ والوں نے سب کچھ سے تحریری طور پر اس کو دستبردار کروانے کے بعد اجازت دی تو اس کو زیادتی کرکے قتل کیا گیا تھا۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے”۔ اس حدیث کو حنفی مسلک والے قرآنی آیت سے متصادم قرار دیکر رد کرتے ہیں لیکن اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کے خلاف عمل کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔جب علماء نے قرآن وسنت کو مسلک سے منسلک یا رد کرنے کو اپنا پیشہ بنالیا تو قرآن وسنت دل ودماغ سے نکل گئے اور ایک اچھے ماحول کی تشکیل کیلئے قرآن وسنت کورہنمائی کا ذریعہ نہیں بناسکے۔ میرے آباء واجدادمیں سید عبدالقادر جیلانی اور اوپر تک میں علماء ومشائخ آئے ہیں۔ ہمارا ماحول بھی عوام سے مختلف نہیں ہے۔ جب قرآن وسنت کے علوم کو پورے معاشرے میں رائج نہیں کیا جائے تو ایک گھر اور گھرانے میں اس کو رائج کرنے کا رواج ایک بہت مشکل کام ہے۔
اصل بات موضوع سے متعلق یہ ہے کہ ” جب ایک عورت یا کنواری لڑکی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے تو اسکا قرآن وسنت میں کیا حکم ہے؟ اور دعا زہرہ کے نکاح پر کیا شرعی رہنمائی ہوسکتی ہے؟”۔ جب یہ بات مسلمہ ہے کہ لڑکی یا عورت پر زبردستی سے اپنی مرضی مسلط کرنے کا حق ولی کو نہیں ہے توپھر سب سے پہلے اس بات کو ثابت کرنا ہوگا کہ لڑکی پر زبردستی مسلط نہیں کی گئی ہے اور کھلی عدالت میں ججوں کے سامنے معروضی حقائق کی روشنی میںحق بات تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اگرلڑکی کا دعویٰ ہو کہ زبردستی مسلط کی گئی تھی تو آزاد ماحول میں حقائق تک پہنچنا مشکل نہیں ہے۔ لڑکی کیلئے دور استے ہیں۔ ایک یہ کہ ولی اجازت نہیں دیتا ہو تو وہ نکاح کے بغیر خفیہ تعلق رکھے اور بدکاری کرے اور دوسرا یہ کہ وہ کھل کر بغاوت کردے اور نکاح کرلے۔ دعا زہرہ نے بغاوت کا راستہ اختیار کیا ہے ، اس پر حرامکاری کا فتویٰ نہ لگاؤ۔اسکا اچھا اثر ہمارے ملکی قوانین پر بھی پڑیگا۔ متأثرہ لڑکی اور اس کے تمام متعلقین پر بھی پڑے گا۔ بغاوت جائز اور ناجائز ہوسکتی ہے لیکن حرامکاری جائز اور ناجائز نہیں ہوسکتی ہے۔
جہاں تک شیعہ مسلک کا تعلق ہے اور قانون کا معاملہ ہے تو قانون میں کھل کر والد صاحب کی طرف سے دعا زہرہ کو اجازت مل سکتی ہے کہ وہ جہاں چاہے رہ سکتی ہے۔ والد کی اجازت نہ ہو تو قانونی عمر تک پہنچنے کا دارلامان میں انتظار کرنا پڑیگا۔شیعہ کے ہاں متعہ کی بھی اجازت ہے ۔ جب والدراضی ہوگا تو والد مذہبی اور قانونی طور پر دعا زہرہ کو ظہیر کیساتھ جانے کی اجازت دے سکتا ہے۔
سورہ نور کی آیت:32میں بیوہ وطلاق شدہ خواتین ، لونڈیوں اور غلاموں کا حکم بیان ہوا ہے اور پھر آیت33کے آخر میں جوان کنواری لڑکیوں کا بیان ہے ولا تکرھوا فتےٰتکم علی البغآء ان اردن تحصنًا لتبتغواعرض الحےٰوةالدنیاومن یکرھھُّن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیمO”اور اپنی لڑکیوں کو بدکاری یابغاوت پر مجبور مت کرو۔ اگر وہ خود نکاح کرنا چاہتی ہوں اسلئے کہ تم دنیا کی زندگی چاہو۔ اور ا گر کسی کو ان لڑکیوں میں سے مجبور کیا گیا تو اللہ ان کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے۔ (سورہ نور آیت33)
آج اگر دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی نے اپنا ، سندھ حکومت اور شیعہ کی کمیونٹی کاپورازور استعمال کرتے ہوئے دعا زہرہ کی مرضی کے بغیر نکاح کردیا تویہ غلط اور قرآن کی خلاف ورزی ہوگی لیکن دعا زہرہ کیلئے اس میں گناہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ مجبور کی گئی ہوگی۔ اگر دعا زہرہ شادی کرنا چاہتی تھی اور اس کو اجازت نہ ملتی تو پھر چھپ کر تعلق کرنا بدکاری تھا اور اس کا ذمہ دار ولی بھی ہوتا۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ دعا زہرہ نے کھل کر بغاوت سے نکاح کیا تو اس پر بدکاری کا نہیں بلکہ بغاوت کا اطلاق ہوتا ہے۔ البغاء لفظ کی تفسیر میں دونوں معانی اپنی اپنی جگہ پر مراد ہوسکتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مفسرین اور مترجمین نے اس آیت میں بہت بڑی معنوی تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔ لکھا ہے کہ ” اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی لونڈیوں کو زبردستی سے بدکاری پر مجبور نہ کرو”۔ جبکہ اس سے ایک آیت پہلے اللہ نے فرمایا کہ لونڈیوں کا نکاح کراؤ۔ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ آزاد مشرک مرد اور عورت سے نکاح کیلئے مؤمن غلام اور لونڈی بہتر ہے۔ مہدی علی کاظمی کے دکھ ، درد اور مشکلات کو ہر انسان سمجھ سکتا ہے اور دعا زہرہ پوری قوم کی بیٹی ہے،اس کی عزت پوری انسانیت کی عزت ہے۔ بیٹی اور بہو دعا زہرہ پر شیعہ سنی علماء حرامکاری کے نہیں بغاوت کے فتوے لگائیں۔ جج کا کام قانون کا پاس کرنا ہوتا ہے اور شریعت کی رہنمائی کرنا علماء کرام کا کام ہے۔
اگر معاشرے میں اسلام رائج ہوتا۔ بیٹیوں کو نکاح کیلئے بغاوت یا چھپ کر معاملہ نہ کرنا پڑتا تو ہم قابل رشک ہوتے۔ ایک طرف حدیث میں ایسے نکاح کو باطل قرار دیا گیا جو ولی کی اجازت کے بغیر ہو اور دوسری طرف قرآن نے اس کو بغاوت قرار دیا ۔ بغاوت و باطل کے الفاظ میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ ایسے میں لڑکی اپنے خاندان کی بہت بڑی سپورٹ سے محروم ہوجاتی ہے۔ خاندانوں میں مشترکہ بچوں کی مٹھاس کا مزہ کر کرا ہوجاتا ہے۔ پوتے اور نواسے اپنے دادا،دادی، نانا،نانی، چچا،پھوپھی، ماموں، خالہ اور اپنے مشترکہ رشتہ داروں سے محروم ہوں تو اس سے بڑھ کر باطل اور بغاوت کیا ہوسکتی ہے؟۔ قرآن وسنت نے صرف بغاوت سے نہیں روکا بلکہ اسکے اسباب کو ختم کیا ہے۔ جب لڑکی اورعورت پرمرضی مسلط نہیں کی جائے گی تو بغاوت اور باطل نکاح کی نوبت نہیں آئے گی۔ فقہ کی کتابوں میں ہے کہ ” اگر لڑکی اپنے خاندان سے نیچے کے طبقے میں شادی کرے تو اس کا نکاح ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ اگر ولی مان گیا تو نکاح درست اور نہیں مانا تو نکاح نہیں ہوگا”۔ عدالت اس اونچ نیچ کو تسلیم نہیں کرتی۔ جن فقہاء نے ہمیشہ طاقتوروں کا ساتھ دیکر کمزوروں کے ہاتھ مزید باندھ دئیے ہیں ان کی اجتہادی صلاحیت بھی کسی کام کی نہیں ہوتی ہے۔ ان کے چیلے چپاٹے اور عقیدت مند ومرید بھی چمگادڑوں کی طرح اندھیر نگری میں رہنے کو پسند کرتے ہیں اور سورج کی روشنی کی طرح قرآن کے نور سے بھی ان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی کے مدرسے میں اس کا بہنوئی مفتی عبدالروف سکھروی خلیفہ مفتی محمد شفیع مریدوں کو تعلیم دیتا ہے کہ کیمرے کی تصاویر پر احادیث کی یہ یہ وعیدیں ہیں جبکہ مفتی محمد تقی عثمانی نے تصاویر کیلئے اپنے دانت نکلوادئیے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی عالمی سودی بینکاری کو جواز فراہم کررہا تھاتو مفتی عبدالروف سکھروی شادی بیاہ میں لفافے کے لین کو سود قرار دیکر اسکے کم ازکم گناہ کو اپنی سگی ماں سے زنا کرنے کے برابر قرار دیتا تھا جس کی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ اسلامی معاشرے کو ان کے ٹھیکے پر نہیں دیا جاسکتا ہے ورنہ مجھے قبر اور آخرت میں اپنے نانا جان رسول اللہ ۖ کا سامنا کرنے میں مشکل ہوگی جبکہ قرآن نے واضح کیا کہ آپ ۖ ہم پر اور ہم لوگوں پر گواہی دیں گے۔
جب راضی خوشی لڑکی کی شادی کرادی جاتی ہے تو بھی اسکا مستقبل غیرمحفوظ ہوتا ہے۔ اسلام نے نکاح کے بعد طلاق یا خلع کی صورت میں صنف نازک عورت کے مالی حقوق محفوظ بنائے مگر ملاؤں نے عورتوں کے تمام حقوق غصب کردئیے ہیں۔ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” بہت بہترین کتاب ہے جو مارکیٹ سے غائب کردی گئی ہے جس میں لکھا ہے کہ ” جب علماء اٹھ جائیں گے تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے جو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے”۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت ” میں لکھ دیا ہے کہ ” اس حدیث کا اطلاق ائمہ مجتہدین کے بعد ہوتا ہے”۔ اسلئے تقلید کرنا ضروری ہے۔ امام ابوحنیفہ نے علم الکلام کی گمراہی سے توبہ کی تھی پھر کیوں اصول فقہ میں قرآن کے مصاحف کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار پڑھایا جاتا ہے؟۔مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتابوں ”فقہی مقالات جلد چہارم” اور” تکملہ فتح الملھم” سے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جوازکا مسئلہ نکال دیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاضی ابویوسف، صاحب الھدایہ، فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامیہ نے لکھا کیوں ہے؟ عمران خان کے نکاح خواں مفتی سعیدخان نے2008میں کتاب ”ریزہ الماس” شائع کی ہے تو اس میں بھی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ضرورت کے وقت سؤر کھانا بقدر ضرورت حلال ہے جو جسم کا حصہ بنتاہے تو سورہ فاتحہ پیشاب سے لکھنا جسم کا حصہ بھی نہیں بنتا”۔
امام ابوحنیفہ کی تقلید کرنے والوں کو ساری بکواسات سے توبہ کرنا چاہیے یہ بعد کی خرافات ہیں اور اب سودی بینکاری کے جواز تک بات پہنچادی گئی ہے۔
معاشرے میں زبردستی کی شادی کا رواج ختم ہوگا تو کوئی لڑکی گھر سے بھی نہیں بھاگے گی اور جب قرآن وسنت کے مطابق نکاح کے بعد عورت کو حقوق مل جائیںگے تو بیٹیوں کا رشتے دینے میںکسی قسم کے تحفظات نہیں ہوںگے اور عورت جب چاہے گی نہ صرف خلع لے سکتی ہے جس کی عدت صحیح حدیث کے مطابق ایک حیض یا ایک مہینہ ہے اور شوہر کی طرف سے دی ہوئی ہر لے جانے والی چیز بھی اس کی ہوگی البتہ غیرمنقولہ جائیداد گھر، فلیٹ، پلاٹ، باغ اور زمین وغیرہ سے دستبردار ہونا پڑے گا اور طلاق کی صورت میں شوہر کے اس گھر سمیت جس میں اس کو رہائش دی تھی تمام دی ہوئی جائیداد میں سے کچھ واپس نہ ہوگا۔

حضرت اماں عائشہ کی عمر نکاح کے وقت 16 سال اور رخصتی کے وقت 19 سال تھی۔

ضرت اماں عائشہ کی عمر نکاح کے وقت16سال اور رخصتی کے وقت19سال تھی۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بھارتBJPکی نوپور شرما کو حقائق معلوم ہوجائیں تو گستا.خانہ لہجے میں مسلمانوں کو چیلنج کرنے کے بجائے اسلام قبول کرلے
اماں کی پیدائش نبوت کی بعثت سے5سال قبل ہوئی تھی ،11نبوی16سال کی عمر میںنکاح ہوا
1ہجری کو حضرت اماں عائشہ صدیقہ کی عمر رخصتی کے وقت19سال تھی جو مستند تاریخی حقائق ہیں۔
قاضی محمد یونس انور خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہور نے کہا ہے کہ بخاری و مسلم میں بدقسمتی سے6سال میں نکاح والی روایت آگئی ہے جو رسالت مآب ۖ کے نا.موس پر حملہ. ہے اور حضرت عائشہ وحضرت ابوبکر پر بھی حملہ. ہے۔
پاکستان کا آئین قرآن و سنت کا پابند ہے۔ اگر6سالہ بچی سے نکاح اور9سالہ بچی کی رخصتی سنت ہو تو اس پر کیسے پابندی لگ سکتی ہے؟۔ جب اللہ نے قرآن پاک میں لڑکوں کیلئے نکاح کی عمر تک پہنچنے کی وضاحت کی ہے حتیٰ اذا بلغوا النکاح (یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں)۔ پاکستان میں لڑکوںکے نکاح کیلئے کم از کم عمر18سال ضروری ہے۔ نبی ۖ نے25سال کی عمر میں شادی کی تھی۔ قرآن کے واضح الفاظ سے اس بات کا تعین ہوگیا ہے کہ لڑکوں کیلئے بھی نکاح کی عمر تک پہنچنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک پیمانہ رکھا ہے۔ لڑکیوں کیلئے بھی فطری بات یہی ہے کہ ان کے نکاح کی عمر تک پہنچنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک پیمانہ رکھا ہے۔ اگر واقعی مذہبی طبقات کو اس بات کا یقین ہوتا کہ بچی کا6سال کی عمر میں نکاح اور9سال کی عمر میں رخصتی سنت ہے تو پگڑیوں سے لیکر ٹخنوں کے اوپر شلوار رکھنے والے اس سنت پر ضرور عمل کرتے۔ حدیث کیلئے بنیادی علم سیرت النبوی کی کتابیں اور علم الرجال کا علم ہے۔ حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰة المصابیح کے ساتھ علم الرجال کی کتاب ”الاکمال فی اسماء الرجال” چھپی ہوئی ہے۔ جس میں اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر نبی ۖ کی بعثت کے وقت5سال ہی ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ کی مستند کتاب طبقات ابن سعد میں بھی ہے کہ ”بعثت کے بعد5نبوی تک دارِ ارقم میں چھپ کر تبلیغ ہوتی تھی۔ دارِ ارقم کے محدود افراد میں اسماء بنت ابی بکر اورعائشہ بنت ابی بکرشامل تھیں۔ ابوبکر کی4اولادکی پیدائش حضرت عائشہ سمیت قبل از نبوت ہوئی۔ (طبقات ابن سعد)۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت اتری بل الساعة موعدھم و الساعة ادھیٰ و امر تو اس وقت میں چھوکری تھی اور کھیلا کودا کرتی تھی۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب التفسیر)۔ یہ سورہ قمر ہجرت سے5سال پہلے نازل ہوئی۔ جس میں شق القمر کا واقعہ ہے۔ اس وقت حضرت اماں عائشہ کی عمر13سال تھی۔ کیونکہ سورہ قمر8نبوی کو نازل ہوئی تھی یعنی بعثت کے8سال بعد اور حضرت عائشہ کی پیدائش بعثت سے5سال قبل تھی۔ دارِ ارقم میں حاضری کے وقت بعثت کے بعد5سال کے بعد سے10سال تک حاضر ہوتی تھیں۔
حضرت اماں عائشہ صدیقہ کا نکاح بعثت نبوت کے بعد11نبوی میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر ٹھیک16سال تھی۔5سال بعثت سے قبل اور11سال بعثت کے بعد ٹھیک16سال بنتے ہیں۔
اگر بالفرض محال یہ مان لیا جائے کہ حضرت اماں عائشہ کی عمر11نبوی کو6سال تھی تو اس کاواضح مطلب یہ ہوگا کہ آپ کی پیدائش5نبوی کو ہوئی تھی۔ لیکن جب یہ بہت واضح تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے بعثت کے بعد5سال چھپ کر دارِ ارقم میں تبلیغ کی اور اس میں حضرت عائشہ ان لوگوں میں شامل تھیں جو دارِ ارقم میں موجود تھے۔ تو کیا پیدائش سے قبل حاضر ہوسکتی تھیں؟۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ بعثت نبوی اور5سال دارِ ارقم کی تبلیغ کے بعد ہی حضرت اماں عائشہ کی پیدائش ہوئی تھی تو بعثت کے5تا11سال تک کتنا کٹھن مرحلہ مسلمانوں کیلئے تھا؟۔ کیا اس وقت حضرت ابوبکر صدیق جیسے اولین جانثاروں میں شامل صحابی کی بیٹی سے ایک سال سے6سال تک کی عمر میں کوئی دشمن رشتہ لینے کا تصور کرسکتا تھا؟۔ جب رسول اللہ ۖ نے حضرت ابوبکر کو بیٹی حضرت اماں عائشہ کیلئے نکاح کا پیغام بھیجا تو حضرت ابوبکرصدیق نے عرض کیا کہ اس کا رشتہ بچپن سے جبیر بن مطعم کو دے چکا ہوں۔ ان سے پوچھ کر حال بتاتا ہوں۔ جب حضرت ابوبکر نے جبیر کے باپ مطعم کے سامنے بات رکھی کہ جبیر کے رشتے کا کیا پروگرام ہے؟۔ مطعم نے کہا کہ آپ لوگ جب اپنا دین ہی بدل چکے ہو تو میں اپنے بیٹے کیلئے تمہاری بیٹی کا رشتہ بالکل بھی نہیں لوں گا۔
غور کرنے کی بات ہے کہ جب جاہل اس بات پر اصرار کریں گے کہ اماں عائشہ کی عمر نکاح کے وقت11نبوی میں6سال تھی تو مخالفت کے عروج کے دور میں وہ پیدا ہوئی تھیں۔ پھر مطعم نے اپنے بیٹے کا رشتہ کیسے کرنا تھا؟۔ بعثت کے5سال بعد جب رسول اللہ ۖ نے کھل کر تبلیغ شروع کی تھی اور اس وقت کے بعد اگر حضرت عائشہ کی پیدائش ہوئی تھی اور مطعم نے اپنے بیٹے کا رشتہ کردیا تھا تو وہ کیسے کہہ سکتا تھا کہ تم لوگوںنے اپنا دین بدل دیا ہے اسلئے رشتہ ختم ہے؟۔
ان تمام حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائش بعثت سے5سال قبل ہوئی تھی اور مطعم نے دوستی میں اپنے بیٹے کیلئے رشتہ مانگا تھا۔ حضرت ابوبکر نے حامی بھرلی تھی۔ جیسا کہ پہلے بھی رواج تھا اور آج بھی ایسا ہوتا ہے۔
پھر بعثت نبوی کے بعد حضرت عائشہ کی عمر5سال تھی۔5سے10سال تک دارِ ارقم میں خفیہ تبلیغ ہوتی تھی تو بھی اس میں موجود ہوتی تھیں۔ پھر جب8نبوی کو شق قمر کا واقعہ ہوا اور سورہ قمر نازل ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر اس وقت13سال تھی۔ پھر جب11نبوی کو نبی کریم ۖ نے حضرت ابوبکر کو نکاح کا پیغام حضرت عائشہ صدیقہ کیلئے بھیجا تواس وقت آپ کی عمر16سال تھی۔
حدیث کی مشہور کتاب ”مشکوٰة المصابیح ” کے ساتھ علم الرجال کی کتاب ”الاکمال فی اسماء الرجال” میں حضرت عائشہ صدیقہ کی بڑی بہن حضرت اسماء بنت ابی بکر کا ذکر ہے جس کی فوٹو کاپی اخبار کے صفحہ2پردی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ”اسماء بنت ابی بکر الصدیق :جس رات نبی ۖ ہجرت کیلئے روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے کمر بند کے دو ٹکڑے کر کے ایک سے دسترخوان اور دوسرے سے مشکیزہ باندھا۔ اس لئے انہیں ذات النطاقین، یعنی دو کمر بندوں والی کہا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن زبیر آپ ہی کے فرزند ہیں، مکہ میں شروع ہی میں مشرف با اسلام ہوئیں۔ کہا گیا ہے کہ آپ نے سترہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ اپنی بہن اُم المؤمنین سیدہ عائشہ سے دس سال بڑی تھیں اور اپنے بیٹے عبد اللہ بن زبیر کی شہا.دت سے دس یا بیس دن بعد فوت ہوگئی تھیں۔ جب ان کے بیٹے کو پھانسی کی لکڑی سے اتارا گیا تھا اس وقت ان کی عمر سو سال تھی۔ آپ کی وفات مکہ میں ٧٣ ھ میں ہوئی۔ آپ سے بہت لوگوں نے روایت کی۔ (مشکوة المصابیح۔ مع الاکمال فی اسماء الرجال۔ فصل صحابیات) ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ آپ اپنی بہن اُم المؤمنین سیدہ عائشہ سے10سال بڑی تھیں۔ اپنے بیٹے عبد اللہ ابن زبیر کی شہادت سے10یا20دن بعد فوت ہوئیں۔ جب ان کے بیٹے کو پھانسی کی لکڑی سے اتارا گیا تو اس وقت ان کی عمر100سال تھی۔ آپ کی وفات73ہجری میں ہوئی۔ آپ سے بہت لوگوں نے روایت کی۔
حضرت اسمائ کی وفات 100سال کی عمر میں 73ہجری کو ہوئی ۔ جب 72سال مکمل ہوتے ہیں تو پھر73واں سال شروع ہوتا ہے۔ اگر72سال ہجرت کے بعد کے نکالے جائیں تو100سال کی عمر سے72سال نکلیں گے۔ جس کابالکل واضح حساب یہ آتا ہے کہ حضرت اسمائ کی عمر ہجرت کے وقت28سال تھی۔ پھر حضرت اسمائ کی عمر کے13سال مکی دور کے نکالے جائیں تو آپ کی عمر بعثت کے وقت15سال بنتی ہے۔ حضرت اماں عائشہ صدیقہ سے10سال بڑی تھیں تو حضرت اماں عائشہ کی عمر بعثت کے وقت ٹھیک5سال تھی۔
عام اصطلاح میں لوگوں کے درمیان جو زبان استعمال ہوتی ہے تو اس میں مختصر الفاظ بولے جاتے ہیں۔ جہاں بکروں کی قیمت ہزاروں میں ہوگی تو اس کیلئے صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ20میں لیا ہے،40میں لیا ہے۔ اور مراد20اور40ہزار ہوگا۔ گنتی کے ان الفاظ سے20اور40روپے مراد نہ لئے جائیں گے اور نہ ہی20اور40لاکھ مراد لئے جائیں گے۔ اسی طرح گھروں کی قیمت لاکھوں میں ہوگی یا کروڑوں میں ہوگی تو20اور30سے مراد عام اصطلاح کے مطابق جہاں لاکھوں میں گھر ہوں گے تو لاکھ مراد لئے جائیں گے اور جہاں کروڑوں میں گھر ہوں گے وہاں اتنے کروڑ مراد لئے جائیں گے۔
نکاح کی عمر1سے10سال کے بچپن میں نہیں ہوتی۔ عربی میں بنت لڑکی کو کہتے ہیں اور لڑکی کی عمر14سال سے20سال تک تقریباً ہوتی ہے۔ عربی کی گنتی11سے19تک احدعشر، اثنتا عشر، … ستة عشر…، تسعة عشر ظاہر بات ہے کہ6سے9سال تک کی بچی نکاح کی عمر میں نہیں ہوتی اور اگر بالفرض اس کا نکاح بچپن میں6سال کی عمر میں کردیا جاتا اور رخصتی9سال کی عمر میں ہوتی تو پھر اس کیلئے عربی میں بنت کی جگہ طفلة کا لفظ استعمال ہوتا۔ بخاری کی روایت میں بنت ست سینین سے مراد16سال کی لڑکی ہے نہ کہ6سال کی بچی ۔ورنہ پھر طفلة ست سینینآتا۔جس طرح چلڈرن اور بوائز اینڈ گرلز اسکولوں کاالگ الگ تصور ہے اسی طرح عربی میں اطفال اور بنین و بنات کا الگ الگ تصور ہے۔ ”عورت کے حقوق ”نامی کتاب میں یہ تحقیق لکھ دی ہے جس کی تائید مفتی حسام اللہ شریفی ، مفتی خالد حسن مجددی اور قاری اللہ داد وغیرہ کرچکے ہیںاور شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان نے بھی اس کتاب کو پسند کیا تھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

قرون وسطی کے امام مہدی کے بعد گیارہ مہدی آئیں گے۔

عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں: مولانا محمد یوسف لدھیانوی

مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
اس کتاب میں تمام طبقات حکام ، عوام، علمائ، تجار اور سب کی نشاندہی ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مردوں اور عورتوں کی آوارگی


”کاش میں جان لیتا کہ میرے بعد میری اُمت کا کیا حال ہوگا۔ جب انکے مرد اکڑ کر چلا کریں گے اور ان کی عورتیں اتراتی پھریں گی۔ اور کاش میں جان لیتا جب میری اُمت کی دو قسمیں ہوجائیں گی ایک قسم تو وہ ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں سینہ سپر ہوں گے۔ اور ایک قسم وہ ہوگی جو غیر اللہ کیلئے سب کچھ کریں گے۔ (ابن عساکر عن رجل کنز العمال، صفحہ219، جلد14، عصر حاضر صفحہ14)۔
جب دہشت گردی کے عروج کا دور تھا تو بدکردار دہشت گرد اکڑ کر چلتے تھے اوران کی عورتیں اتراتی پھرتی تھیں۔ ایک وہ لوگ تھے جو ان دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور ایک وہ تھے جو غیر اللہ کیلئے سب کچھ کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پھر ان لوگوں کی ایسی درگت بنائی کہ الحفیظ و الامان۔

خدا کی زمین تنگ ہوجائے گی


”رسول اللہ ۖ نے فرمایا : آخری زمانہ میں میری اُمت پر انکے حاکموں کی جانب سے ایسے مصائب ٹوٹ پڑیں گے کہ ان پر خدا کی زمین تنگ ہوجائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد سے ایک شخص (مہدی علیہ السلام) کو کھڑا کریں گے جو زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح و ہ پہلے ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہوگی۔ ان سے زمین والے بھی راضی ہوں گے اور آسمان والے بھی۔ ان کے زمانے میں زمین اپنی تمام پیداوار اُگل دے گی اور آسمان سے خوب بارش ہوگی وہ ان میں7یا8یا9سال رہیں گے۔(ترمذی)

انسانی لباس میں شیطان


حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ لوگ آنحضرت ۖ سے خیر کی باتیں پوچھا کرتے تھے اور میں آپۖ سے شر کے بارے میں تحقیق کرتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مجھے لاعلمی کی وجہ سے پہنچ جائے۔ فرماتے ہیں میں نے (ایک دفعہ) عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت اور شر میں پھنسے ہوئے تھے ۔ حق تعالیٰ نے (آپ کی بدولت) ہمارے پاس یہ خیر بھیج دی (یعنی اسلام)۔ تو کیا اس خیر (نبوت و رحمت کے دور )کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟۔فرمایا: ہاں! (جب خلافت راشدہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی کی شہادت ہوئی )میں نے عرض کیا اور اس شر کے بعد بھی کوئی خیر ہوگی؟۔ فرمایا :ہاں!مگر اس میں کدورت ہوگی۔ (خلافت راشدہ کی جگہ امارت و بادشاہت لے لے گی)۔ میں نے کہا: کدورت کیا ہوگی؟۔ فرمایا: کچھ لوگ ہوں گے جو میری سنت کے بجائے دوسری چیزوں کی تلقین کریں گے ۔ ان میں نیک و بد کی آمیزش ہوگی۔ (حدیث کے عربی الفاظ میں دخن یعنی دھواں مذکور ہے جس کا سلسلہ نقش انقلاب میں واضح کیا گیا ہے)۔ میں نے کہا کہ اچھا۔ اس خیر کے بعد بھی کوئی شرہوگا؟ فرمایا : ہاں جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو ان کی دعوت پر لبیک کہے گا اسے جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ذرا ان کا حال تو بیان فرمائیے۔ فرمایا: وہ ہماری ہی قوم سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے (یعنی مسلمان اور مذہبی لبادے میں ہوں گے)۔ میں نے عرض کیا: اگر یہ برا وقت مجھ پر آجائے تو آپ مجھے کیا ہدایت فرماتے ہیں؟۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے چمٹے رہنا۔ میں نے کہا اگر اس وقت نہ مسلمانوں کی جماعت ہو اور نہ امام تو پھر؟ ۔فرمایا: پھر ان تمام فرقوں سے الگ رہو خواہ تمہیں کسی درخت کی جڑ میں جگہ بنانا پڑے۔ حتیٰ کہ اسی حالت میں موت آجائے۔ (مشکوٰة ، صفحہ461، بخاری صفحہ1049، ج2، عصر حاضر صفحہ76)۔
اس حدیث میں صفحہ نمبر4پر نقش انقلاب کی تصویر کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں علماء ، مفتیان، مساجد کے ائمہ ، سیاسی علماء کے تمام احوال عصر حاضر کی مختلف احادیث میں تفصیل کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں۔

سنت کے مفہوم میں مغالطہ اندازی


عبد اللہ ابن مسعود فرماتے تھے کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ فتنہ تم میں سرایت کرجائے گا ، ادھیڑ عمر کے لوگ اس میں بوڑھے ہوجائیں گے اور بچے جوان ہوجائیں گے اور لوگ اسی فتنے کو سنت قرار دے لیں گے کہ اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو کہا جائے گا کہ سنت چھوڑ دی گئی۔ عرض کیا گیا کہ ایسا کب ہوگا؟ فرمایا: جب تمہارے علماء جاتے رہیں گے اور (پڑھے لکھے) جاہلوں کی کثرت ہوگی ، تم میں حرف خواں زیادہ اور فقیہہ کم ہوں گے۔ امیر زیادہ اور دیانتدار کم ہوں گے۔ آخرت والے اعمال سے دنیا سمیٹی جائے گی۔ اور بے دینی کیلئے اسلامی قانون پڑھا جائے گا۔ (الدارمی ۔ عصر حاضر، صفحہ95)۔
درمیانہ زمانے کے مہدی کے مقابلے میں حدیث میں ایک کج رو جماعت کا ذکر ہے جس کا نبی ۖ نے فرمایا کہ وہ میرے طریقے پر نہیں اور میں اس کے طریقے پر نہیں۔ یہ مشکوٰة شریف کی روایت ہے۔ جہاں تک دنیا کیلئے اسلامی قانون پڑھنے کی بات ہے تو جامعة الرشید میں سُودی معیشت کیلئے اسلامی قانون پڑھانے کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔ مذہبی مدارس بھی تجارتگاہیں ہیں۔

قرآنی دعوت کا دعویٰ


عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ انہ قال علیکم بالعلم قبل ان یقبض و قبضہ ان یذھب باصحابہ علیکم بالعلم فان احدکم لا یدری متی یفتقر الیہ او یفتقر الی ما عندہ انکم ستجدون اقواما یزعمون انہم یدعونکم الی کتاب اللہ و قد نبذوہ و را ظہورھم فعلیکم بالعلم و ایاکم اتبدع و ایاکم والتعمق و علیکم بالعتیق۔ (سنن دارمی ، صفحہ50، جلد1۔ عصر حاضرحدیث نبوی کے آئینہ میں،ص93)
”حضرت عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ہیں علم کے اٹھ جانے سے پہلے پہلے علم حاصل کرلو۔ علم کا اُٹھ جانا یہ ہے کہ اہل علم رخصت ہوجائیں۔ خوب مضبوطی سے علم حاصل کرو۔پس تم میں سے کوئی نہیں جانتا ہے کہ اس کو کب علم کی ضرورت پیش آجائے یا دوسروں کو اس کی ضرورت پیش آئے جو اس کے پاس ہے۔ بیشک تم ایسے اقوام کو پاؤ گے جو یہ گمان رکھتے ہوں گے کہ وہ آپ کو اللہ کی کتاب کی طرف بلارہے ہیں اور بیشک انہوں نے اس کو پس پشت ڈالا ہوگا۔ پس تمہارے اوپر علم کی اتباع ضروری ہے۔ اور تم خبردار ! بدعت سے پرہیز کرو۔ اور خبردار! تم فضول کی موشگافیوں میں مت پڑو۔ اور تمہارے اوپر عتیق کی اتباع ضروری ہے”۔ مولانا یوسف لدھیانوی صاحب نے عتیق کا ترجمہ پرانا راستہ کیا ہے لیکن یہ تمام گمراہ فرقوں کیلئے مشعل راہ نہیں بلکہ مزید گمراہی کا سامان ہے۔
عربی سوشل میڈیا کے چینل اسلامHDمیں مختلف علماء نے اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ جبری حکومتوں کے بعد خلافت علیٰ منہاج النبوة کا دور آگیا ہے۔ اس کے بعد منصور ، سلام، امیر العصب اور مہدیٔ دم وغیرہ کے بعد بالکل آخر میں آخری مہدی کا ظہور ہوگا جس کے دور میں دجا ل اکبر کا خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ مہدی کے بعد قحطانی امیر منصور کے بعد دوسرے مہدیوں کا تصور علامہ جلال الدین سیوطی نے الحاوی للفتاویٰ میں بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ، شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی مہدی کے بعد قحطانی امیر اور پھر آخر میں آخری امیر کا تذکرہ اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ اُمت مسلمہ پر اگر واضح کیا جائے تو شیعہ سنی اور تمام مکاتب فکر کے علماء ، مذہبی اور سیاسی طبقات ایک خلیفہ مقرر کرنے پر اتفاق کرسکتے ہیں۔ ہم نے مجلہ97، میں بہت تفصیل کے ساتھ سنی شیعہ کتب سے مختلف مہدیوں کے مدلل ثبوت پیش کئے ہیں۔ درمیانے زمانے کے مہدی کے بعد11مہدی اور آئیں گے تو اس پر نہ صرف شیعہ سنی کتابوں میں بلکہ عملی طور پر بھی اتفاق رائے قائم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اُمت مسلمہ کو جمہوری بنیادوں پر تمام ممالک کی رضامندی سے خلافت پر متحد و متفق کیا جاسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

ظہور امام مہدی و فتنہ دجال: مولانا بشیر احمد حصاروی

ظہور امام مہدی و فتنہ دجال: مولانا بشیر احمد حصاروی

تلمیذ رشید : محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ العزیز

2014میں یہ کتاب چھپی ہے اور اس میں پاکستان کیلئے خوشخبری ہے۔

مہدی کی پہچان


ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”مہدی میری اولاد میں سے ایک شخص ہے” اور حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ مہدی کی اصلاح ایک رات میں کریں گے”۔ (الفتن 203)
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا ”مہدی کا نام میرے نام پر اور ان کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا ”۔ (الفتن ، 206)۔ قتادہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ مہدی واقعی حق ہے ؟ انہوں نے فرمایا واقعی حق ہے۔ میں نے کہا وہ کن میں سے ہے؟۔ فرمایا ! قریش میں سے۔ میں نے کہا قریش کے کس خاندان سے؟۔ فرمایا بنی ہاشم سے۔ میں نے کہا بنو ہاشم کے کس گھرانے سے ؟۔ فرمایا عبد المطلب سے۔ میں نے کہا عبد المطلب کے کس کنبے سے ہے؟۔ فرمایا! فاطمہ سے۔ (الفتن 207)۔ حضرت ابو طفیل سے رسول اللہ ۖ نے فرمایا : مہدی کی زبان میں لکنت ہوگی ، جب بات کرنے میں رکاوٹ پڑے گی تو دایاں ہاتھ بائیں ران پر مارے گا۔ (الفتن 205) ۔

کینیڈا کا لنگڑا مہدی کے آنے کی علامت


کعب احبار سے روایت ہے کہ علامةخروج المہدی الویة تقبل من المغرب علیھا رجل اعرج من کندة (الفتن 186)۔” مہدی کے منظر عام پر آنے کی علامت بہت سے جھنڈوں کا آنا ہے جو مغرب کی طرف سے آئیں گے، ان کا کمانڈر کینیڈا کا ایک لنگڑا شخص ہوگا”۔ یہ روایت ہرمجدون کے مصنف نے بھی اپنی کتاب میں درج فرمائی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس وقت افغانستان میں اتحادی فوجوں پر کمانڈر انچیف رچرڈ مائرز کینیڈا کا لنگڑا ہے جو بیساکھیوں پر چلتا ہے۔ الفتن کی روایت میں ہے ثم یظہرالکندی فی شارة حسنة (الفتن 163) ”پھر منظر عام پر آئے گا کنیڈین خوبصورت بیجوں والی وردی میں”۔ ظہور امام مہدی و فتنہ دجال ، مولانا بشیر حصاروی، بقیہ صفحہ2نمبر4

بقیہ نمبر4…ظہور امام مہدی و فتنہ دجال، مولانا بشیر احمد حصاروی

روایت کا دوسرا پیرا حسب ذیل ہے:


شام کے علاقے عراق میں ایک جابر نامی حکمران ہوگا … اور … سفیانی کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے اس کا نام صدام ہے اور وہ اپنے ہر مخالف سے ٹکرائے گا۔ پوری دنیا اس کے خلاف کوت (کویت) میں جمع ہوگی۔ سفیانی کسی کے فریب میں آکر کویت میں داخل ہوجائے گا۔ سفیانی کی بھلائی اسلام سے وابستہ رہنے میں ہوگی۔ وہ خیر بھی ہے اور شر بھی۔ تباہی اس کیلئے ہے جو حضرت مہدی سے خیانت کرے گا۔
1400ہجری گزرنے پر دو تین دہائی کے بعد حضرت مہد ی امین منظر عام پر آئے گا ۔ وہ ساری دنیا سے جنگ کرے گا۔ تمام گمراہ اور اللہ کے پھٹکارے ہوئے اس کے خلاف جمع ہوجائیں گے۔ منافقت کے چیمپیئن بھی ان کے مقابلے میں گمراہوں کے ساتھ ہوں گے۔ یہ سب لوگ مجدون پہاڑ کے گرد جمع ہوں گے ۔ دنیا بھر کی مکار ملکہ امریکہ ان کے مقابلے میں نکلے گی۔ اور وہ پوری دنیا کو گمراہ کرنے اور کفر میں مبتلا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس زمانے میں ساری دنیا کے یہود ترقی کے آسمان پر اڑتے ہوں گے۔ بیت المقدس ان کے قبضے میں ہوگا۔ دنیا بھر کے ممالک مقابلے کیلئے جمع ہوجائیں گے۔ مہدی دیکھے گا ساری دنیا اپنے ناپاک عزائم میں طرح طرح کی سازشیں سجا کر مقابلے میں صف آراء ہیں۔ اور وہ دیکھے گا کہ اللہ کی تدبیر سب پر حاوی ہے۔ کائنات اللہ کی ہے سب کو اس کے حضور لوٹ کر جانا ہے …ان پر کربناک تیر پھینکے گا۔ آسمان سے آفتیں برسیں گی ۔ زمین والے کافروں پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ تعالیٰ کفر کو مٹادینے کا حکم دیں گے۔ (ہرمجدون اردو ترجمہ 36 ، ظہور امام مہدی صفحہ57)
مشہور یہودی ماہر فلکیات نوسٹرا ڈیمس … پیشین گوئی کی ہے … تیسری عالمی جنگ21ویں صدی کے شروع میں پیش آئے گی۔ جو بہت خوفناک ہوگی اور ایک بھیانک طاعون کا مرض جو جوانوں ، بوڑھوں اور مویشیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا … ہرمجدون کے مصنف نے اس نجومی کی ایک رباعی کا ترجمہ اپنی کتاب میں درج کیا ہے ، ہرمجدون مترجم اردو سے اقتباس مندرجہ ذیل ہے،
”نئی صدی کے سال2001ء میں آسمان سے موت کا عظیم فرشتہ اترے گا اور65درجہ حرارت سے فضاء گرم ہوجائے گی۔ آگ بہت نیو شہر (نیویارک) کے قریب ہوگی ایک ہولناک انہدام ہوگا، افرا تفری کے عالم میں د و جڑواں عمارتیں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی۔ قلعہ کے گرنے سے ایک بڑا قائد بھی گر جائے گا اور بڑی عالمی جنگ شروع ہوجائے گی۔ جبکہ بڑا شہر جل جائے گا۔ (صفحہ59)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا لا تقوم الساعة حتی یخرج رجل من قحطان یسوق الناس بعصاہ (الفتن 214)
”قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک بنو قحطان کا ایک آدمی نہیں آئے گا جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا”۔ یہ روایت صحیح بخاری کی ہے اور دوسرے محدثین نے بھی ذکر کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قحطانی ایک عادل مگر سخت گیر حکمران ہے۔ گویا اس نے مزاج فاروقی سے کچھ حصہ پایا ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کی عف و درگزر کی احسانی روش سے حوصلہ پاکر شیطانی مزاج کیٹگری مہدی کے بعد منظر عام پر آجائے گی۔ دراصل مغرب کے بے خدانظام اور ننگِ انسانیت معاشرت اور چنگیز خانی ظلم و جور پر مہدی نے رولر پھیر دیا ہے ۔ سنت نبوی کے سانچے میں ڈھلا سیاسی، معاشرتی، معاشی ، تعلیمی اور اخلاقی نظام اپنی ہمہ گیر خوبیوں کے ساتھ نافذ کردیا ہے۔ لیکن مغربی غلامی کی دو صدی کی نفسیات میں پڑی گندگی اتنی جلد نکل جائے ؟ ممکن نہیں لہٰذا قحطانی کا چابک فاروقی اس غلاظت کا صفایہ کرے گا اور سینوں کو نورِ ایمانی سے چمکائے گا۔
لہٰذا حضرت مہدی کے احسانی نظام سیاسی کے تحفظ کی خاطر فاروقی خصوصیات کا حامل حکمران مطلوب ہے وہ قحطانی ہے۔ مغرب کے ناپاک ابلیسی نظام کی ڈیڑھ دو صدی کی ملحدانہ تربیت جو امت کے80،90فیصد طبقے کی نفسیات میں رچ بس گئی ہے نظام کے اصلاح پذیر ہوجانے سے حقوق و مطالبات میں عدل احسانی کی کارفرمائی یقینا جاری و ساری ہوجائے گی۔ لیکن اس سے اس بات کی ضمانت نہیں ملتی کہ طبیعتوں میں رچی بسی ملحدانہ آلودگیاں بھی دُھل جائیں گی۔ حضرت مہدی کے ناقابل اصلاح بگڑے ہوئے حالات کو سنوار دینا اور الجھے ہوئے مسائل کی گتھی سلجھادینا ، معاشرے کو صحیح راہ پر ڈال دینا اور پورے عالم اسلام پر اثر انداز ہونا یہ معجزے سے کم نہیں ہے۔ لیکن جن دلوں پر ابلیس نے کالک مل دی ہو اس کالک کا مداوا کرنا یہ کام عرصہ دراز مانگتا ہے۔ جبکہ حضرت مہدی کو صرف7سال ہی ملیں گے۔ اور قحطانی کے بارے میں ہے کہ ”مہدی کے بعد ایک قحطانی شخص ہے جس کے کانوں میں سوراخ ہیں وہ حضرت مہدی کی سیرت کا حامل ہے اور اس کا عرصہ20سال ہے ، پھر وہ شہید کیا جائے گا ، پھر نبی ۖ کے اہل بیت ہی کا ایک فرد حسین سیرت منصب خلافت پر فائز ہوگا۔ اسی کے زمانے میں دجال آئے گا اور اسی کے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے”۔ (الفتن 228)۔
پھر قحطانی کے بعد مہدی ثانی خلیفہ ہوں گے۔ جو روم سے جنگ کریں گے انہیں شکست دیں گے ، قسطنطنیہ فتح کریں گے اور وہاں قیام پذیر ہوں گے۔3سال4مہینہ اور10دن پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ لہٰذا یہ خلافت ان کے سپرد کردیں گے۔ (الفتن 221)۔ کعب احبار سے روایت ہے وہ شخص جو نصرت یافتہ ہوگا وہ بھی ایک مہدی ہے جس پر آسمان اور زمین والے اور آسمان کے پرندے رحمت کی دعائیں کریں گے انہیں رومیوں کے خلاف جنگ میں اور دوسری جنگوں میں آزمایا جائے گا۔ پھر وہ ملحمة الکبریٰ (جنگ عظیم) میں شہید ہوجائیں گے۔ اور ان کے ساتھی2ہزار ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک امیر ہوگا ، علمبردار ہوگا وہ سب شہید ہوجائیں گے ۔ ان کی شہادت اہل اسلام کیلئے اتنی بڑی مصیبت ہوگی کہ رسول اللہ ۖ کے بعد مسلمانوں نے ایسی مصیبت نہیں دیکھی ہوگی۔ (الفتن 253)۔
اس روایت کا مصداق طالبان اور ان کے امیر مُلا عمر ہی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ملحمة الکبری شروع ہے اور عالم کفر کا ہدف صرف اور صرف طالبان ہیں۔ عالم کفر کی طرف سے44ملکوں کی فوجیں ہیں اور ملت اسلامیہ کی طرف سے مقابل میں وسائل سے تہی دست نہتے طالبان ہیں جن کا پوری اُمت میں کوئی حامی نہیں ہے۔ بلکہ اُمت مسلمہ کے تمام وسائل اور سیاسی قوت بھی عالم کفر کے ہمدوش ہے۔ پھر مُلا عمر ہی غالب ہے تو کیوں نہ ان کا نام ”المنصور” ہو۔ اور آسمان و زمین والے کیوں نہ ان پر درود بھیجیں، اور کیوں نہ ان کی شہادت اُمت کیلئے رسول اللہ ۖ کے بعد سب سے بڑی مصیبت قرار پائے۔ اس میں شک نہیں کہ طالبان علامات قیامت میں سے ایک بڑی نشانی ہیں۔ مُلا عمر خود علامات قیامت میں سے ہیں۔ اُمت کو ان کی قدر ان کے اُٹھ جانے کے بعد ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اور شاید تقدیر کی طرف سے ان کا اٹھالیا جانا اس وقت ہوگا جب کفر ذلت آمیز شکست سے ہمکنار ہوجائے گا۔ کیونکہ موجودہ حالات میں عالم کفر پوری دنیا کے جدید ترین عسکری وسائل سے مسلح ہے اور زمین کے خزانے جیسے انہی کے حوالے کردئیے گئے ہوں۔ اور مسلم اُمہ خود بھی ان کی دست راست ہے لہٰذا نہتے طالبان ہی ہیں جو باطل کے سیل ہلاکت آفریں کے سامنے سد ذو القرنین بنے ہوئے ہیں۔ (ظہور امام مہدی 91)۔

ڈنڈے والی سرکار


نوائے وقت سنڈے میگزین میں2009ء کو ایک مضمون ڈاکٹر نذیر احمد قریشی متوفی13نومبر1990ء کی پیش گوئیاں درج ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کسی روحانی بزرگ سے فیض یافتہ ہیں ۔ پروفیسر محمد یوسف عرفان فرماتے ہیں کہ مورخہ28دسمبر1979ء کے دن ڈاکٹر صاحب مرحوم نے فرمایا : روسی افواج افغانستان سے شکست کھاکر واپس جائیں گی ، روسی شکست و ریخت کے بعد امریکی بالادستی اور سپر پاور ہونے کا دورانیہ مختصر ہوگا۔ … پاکستان کے حالات انتہائی دگرگوں ہوجائیں گے۔ قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں رہے گی۔ قتل و غارت معمول بن جائے گا۔ جو جس کو چاہے گا قتل کرتا پھرے گا۔ کوئی مقدمہ نہیں ہوگا۔ پور ا ملک لاقانونیت کی لپیٹ میں ہوگا مگر ڈنڈے والی سرکار دنوں میں حکومتی رٹ قائم کردے گی۔ مذکورہ سرکار کو غیر ملکی امداد نہیں ملے گی۔ اور وہ ملکی وسائل اور پاکستان لوٹنے والوں کی دولت واپس لے کر پاکستان کا نظام کامیابی سے چلائے گی۔ سرحدیں سیل کردیں گے اور ذرائع ابلاغ مسدود کردیں گے۔ پاکستان کے اندر ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت ختم کردی جائے گی۔ پاکستان کو لوٹنے اور نقصان پہنچانے والوں کا قلع قمع کردیں گے۔ پاکستان میں امن و سکون ، سلامتی اور قانون کی بالادستی ہوگی۔ نا انصافی کا تصور بھی نہیں ہوگا۔ مساجد بھی یک رنگ ہوں گی۔ یعنی اذانیں مختلف نہیں ہوں گی۔ ڈنڈے والی سرکار سے پہلے پاکستان پارلیمان مچھلی منڈی بن جائے گی۔ وزیر اعظم ادلتے بدلتے رہیں گے۔ سیاسی جوڑ توڑ زوروں پرہوگا۔ کشمیر خود مختار بن چکا ہوگا جو کبھی پاکستان اور کبھی بھارت سے الحاق کرتا پھرے گا۔ بالآخر ڈنڈے والی سرکار کشمیر کا پاکستان سے حتمی الحاق کرے گی۔ نئی حکومت افغانستان کے معاملات پاکستانی مفادات کے مطابق سنوارے گی۔ پاکستان بلکہ خطے میں بھارتی مداخلت کے خاتمے کیلئے بھارت سے کامیاب جنگ کرے گا۔لال قلعہ پر پاکستانی جھنڈا لہرائے گا مگر بین الاقوامی دباؤ کے تحت پاکستان دلی چھوڑ دے گا۔ مگر اجمیر شریف بٹھنڈا پاکستان کا حصہ بن جائے گا۔ پہلی جنگ کے نتیجے کے طور پر بھارتی پنجاب میں پاکستان کی حلیف سکھ خالصہ حکومت بن جائے گی۔ جس کا وجود پاکستانی ڈنڈے والی سرکار کی خوشنودی پر منحصر ہوگا۔ جنوبی بھارت میں مسلمان ، اچھوت قومیں دیگر اقلیتیں متحد ہوکر آزاد ریاست بنانے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ شمالی بھارت کے برہمن ہندو یوپی کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کریں گے۔ ڈنڈے والی سرکار بھارت سے دوبارہ جنگ کرے گی اور کائنات سے ہندو ریاست و حکومت نام کی چیز ہمیشہ کیلئے ختم کردے گی۔
(ظہور امام مہدی و فتنہ دجال ۔صفحہ160، مولانا بشیر احمد حامد حصاروی )

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022