پوسٹ تلاش کریں

ڈیرہ بگٹی، چولستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں پینے کا پانی نہیں شرم کا مقام ہے کہ رات کا وقت آتا ہے تو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف جلسے کرتی ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی کے ہردلعزیز رہنما کامریڈ عاصم سجاد اختر

ڈیرہ بگٹی، چولستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں پینے کا پانی نہیں شرم کا مقام ہے کہ رات کا وقت آتا ہے تو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف جلسے کرتی ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی کے ہردلعزیز رہنما کامریڈ عاصم سجاد اختر

ابھی گرمیوں میں پانی نہیں تو سردیوں میں کیا عالم ہوگا؟ جہاں جنگل ہوتا تھا وہاں پہاڑ بالکل ننگا نظر آئیگا۔ یہ کیوں ہے دوستو! یہ قدرتی آفات نہیں ہیں، یہ انسانوں کا بنایا ہوا نظام ہے۔

اسکے پیچھے ہوس ، منافع خوری ، طاقت ہے، تمام تر آنے والی نسلوں کا بھی حق اور روزگار مارنے کا یہ نظام ہے۔کبھیPTIکی ڈگڈگی کے پیچھے چل پڑتے ہیں …

عوامی ورکرز پارٹی کے ہردلعزیز رہنماکامریڈ عاصم سجاد اخترنے اسلام آباد پریس کلب میں ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نعرہ:جبFWOاورNLCقبضے کرتے ہیں (جواب: دھرتی کا دم گھٹتا ہے۔ )۔ نعرہ: جب لوٹ مار کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ (جواب: دھرتی کا دم گھٹتا ہے )۔ یہاں پر ایک عجیب منظر ہے میں نے کبھی اتوار کے روز دیکھا نہیں ہے۔ایک طرف آپ کو سامراجی جنگ کا شکار عوام یہاں پر تقریباً پچھلے30دن سے پڑے ہوئے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔دوسری طرف ہمارے مذہبی لوگ بھی ہیں لیکن بہرحال وہ بھی ایک سامراجی جنگ کا حوالہ دے کر فلسطین کے عوام کے حوالے سے مظاہرہ کررہے تھے۔ چلو اچھی بات ہے وہ تھوڑا سا دور چلے گئے ہیں اب ہمیں ایک دوسرے کو سننے کا موقع ملے گا۔ لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ ہمارے حلقوں میں بھی کئی لوگ ایسے ہوں گے جن کو لگتا ہوگا کہ یہ جو ماحول کی بات ہورہی ہے یہ بس ایک درخت لگانے کی بات ہے تھوڑا سا پلاسٹک استعمال نہ کرنے کی بات ہے۔ یا پانی کی قلت کی بات ہے۔ یہ ساری سیاسی اور معاشی باتیں ہیں۔ اور یہ سارے اس عالمی نظام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جس کے ساتھ ہم جکڑے ہوئے ہیں۔ جسکو آپ سامراج کا نام بھی دے سکتے ہیں، بقیہ صفحہ 2نمبر1پر

  بقیہ نمبر1… کامریڈ عاصم سجاد اختر

سرمایہ داری کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ یہاں پر فوجی قبضے کا نام دے سکتے ہیں۔ اس میں کئی کئی شاخیں ہیں اس کی کئی کئی قسمیں ہیں۔ کئی کئی اس کی علامتیں ہیں۔ کسی نے کہا کہ قیامت یا جہنم یہاں پر کھڑے کھڑے آسمان پر آپ دیکھیں کہ کوئی دھوپ نظر نہیں آرہی لیکن40ڈگری یہاں پر موسم ہے اور آندھی چل رہی ہے۔ اور پچھلے مہینے سے آپ چولستان جائیں ، آپ ڈیرہ بگٹی جائیں، آپ سندھ کے ساحلی علاقوں میں جائیں ، لوگوں کے پاس پینے کا صاف پانی تک نہیں ہے۔ یعنی کہ جدید ریاست ہے ہمارے حکمران ایک دوسرے کیخلاف شرم کا مقام ہے کہ رات کا وقت آتا ہے تو جلسے کرتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف۔ کوئی لندن جاکر ہدایت لے کر آرہا ہوتا ہے لیکن کسی کو اس چیز سے غرض نہیں ہے کہ آپ ڈیرہ بگٹی جائیں وہاں پینے کا پانی میسر نہیں ہوتا ہے… آپ ساحلی علاقوں میں جائیں ہزاروں سال سے ماہی گیر جو ہیں جن کا تاریخی روز گار ہے وہاں پر ہم بڑے بیرونی ٹرالروں کو ٹھیکے ضرور دے سکتے ہیں لیکن وہاں پر مقامی ماہی گیروں کے روزگار کی ہمیں تھوڑی سی بھی پرواہ نہیں ہے۔یہاں پر گوادر پورٹ کی بڑی خوبصورت تصویروں کے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلتے ہیں لیکن وہاں پر مقامی لوگوں کی حالت کسی کو پتہ ہو تو ان کی طبیعت صاف ہو کہ یہ کونسی ترقی ہے؟۔ روڈ کٹتے ہیں پہاڑ کاٹے جاتے ہیں سونے پر سہاگہ گلگت بلتستان میں ہمیں ہر روز کبھی عمران خان کہتا ہے تو کبھی شہباز شریف کہتا ہے کہ وہاں پر جاکر ٹور ازم کریں۔ کیا ٹورازم کریں؟ وہاں پر آئے روز سیلاب آتا ہے پل کے پل گرجاتے ہیں ، گلیشئر دربدر پگھلتے چلے جارہے ہیں اور پھر بھی مائننگ کے کانٹریکٹرز اور منافع خور جن کے سب سے زیادہ خاکی والے ان کی بس ہی نہیں ہوتی کہ پہاڑ کاٹتے چلے جاتے ہیں کان بناتے چلے جاتے ہیں اور گلیشئر پگھل رہے ہیں۔ اور آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہاں پر یہ جو بچے ہیں کہ اس ملک کا تمام پانی ، پانچ کے پانچ دریا کا جو پانی ہے اور اوپر سے لے کر کراچی تک دریائے سندھ کے خاتمے تک پانی آتا ہے وہ تمام کا تمام گلگت ، بلتستان اور کشمیر کی پہاڑیوں سے نیچے اتر کر آتا ہے۔ اور وہ پانی گلیشئر پگھلنے کی نتیجے میں جب یہاں سردیوں میں پانی کا سیزن نہیں ہوتا تو وہی پانی ہمیں پینے کیلئے بھی سہولت فراہم کرتا ہے اور زراعت میں بھی۔ لیکن آپ دیکھیں کہ اس گرمیوں کے موسم میں گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ابھی گرمیوں میں پانی نہیں ہے تو سردیوں میں کیا عالم ہوگا؟۔ اس کی مثالیں ان گنت ہیں۔ کئی مثالیں تو میں آپ کو دے بھی نہیں سکتا۔ آپ میرے خطے میں جائیں ہزارہ میں، سوات میں جائیں پورے پورے پہاڑ ننگے ہوگئے ہیں۔ جہاں پر جنگل ہوتا تھا وہاں پر پہاڑ آپ کو بالکل ننگا نظر آئے گا۔ یہ کیوں ہے دوستو!۔ جسے کہتے ہیں نا کہ قدرتی آفات۔ یہ قدرتی آفات نہیں ہیں، یہ انسانوں کا بنایا ہوا نظام ہے۔ اس نظام کے پیچھے ہوس ہے، منافع خوری ہے ، طاقت ہے، اگر میں طاقتور ہوں تو میں غریب کا حق مار کر اس کا روزگار مار کر تمام تر آنے والی نسلوں کا بھی حق اور روزگار مارنے کا یہ نظام ہے۔ تو اس پر آپ غور کریں اس پر آپ سوچیں کہ کبھی ہمPTIکی ڈگڈگی کے پیچھے چل پڑتے ہیں تو کبھی کسی اور کی۔ مہینہ پہلے ایسا لگا تھا کہ یہاں پر جمہوریت کے دودھ اور شہد کی نہریں نکل آئی ہیں۔ کہ یہاں پر ایک نئی حکومت حالانکہ نئی کونسی وہ بھی پرانی حکومت ہے ۔ کبھی کوئی نیا آتا ہے جو کہتا ہے کہ میں پرانے کو گرانے کیلئے آیا ہوں اور نیا چلاجاتا ہے تو وہ پرانا آجاتا ہے۔ اور نیا پھر ڈگڈگی بجاتا ہے۔ وہ ہمیں سامراج کی باتیں بیچتا ہے چورن ، لیکن وہ یہ نام نہیں لیتا کہ یہ قبضے کون کرتا ہے زمینوں پر، کارخانوں پر، جنگلات پر، پانی پر، یہ سارا کچھ ادھر ہی ہورہا ہے اور یہ سارا کچھ آنے والے وقت میں ایک بہت بڑے عذاب کی شکل اختیار کرے گا۔15کروڑ نوجوان ہیں اس ملک میں جن کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اگر اس طرح کی سیاست کے اندر ہم جکڑے رہے تو کوئی ہمارا پرسان حال نہیں ہوگا۔ تمام دوستوں سے گزارش ہے ان ساتھیوں سے بھی گزارش ہے اس طرف والے بھی اور اُس طرف والے بھی جب آپ نہیں ہوتے تو ہم ہی ان سڑکوں پر آپ کی باتیں کررہے ہوتے ہیں۔ جب اسرائیل کے خلاف نعرہ لگانے والا کوئی اور نہیں ہوتا تو ہم ہی نعرے لگارہے ہوتے ہیں۔ اور وہ چیزیں جو کوئی بھی نہیں کہتاوہ ہم ہی کہتے ہیں۔ یہاں پر ایک حکومت آتی ہے اور جاتی ہے مگر ملک ریاض کے خلاف کوئی چوں نہیں کرتا۔ ایک حکومت آتی ہے اور جاتی ہے لیکنFWOاورNLCکے ٹھیکے ختم نہیں ہوتے۔ یہاں پر ایک حکومت آتی ہے اور جاتی ہے لیکن کبھی کوئی واشنگٹن سے جاکرIMFسے بھیک مانگ رہا ہوتا ہے ، کبھی ریاض جاکر سستے تیل کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ تو کبھی چین سے سستے قرضے مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ملک قرضوں پر چلتا ہے ،قرضے عوام برداشت کرتے ہیں، اور آنے والے کل کے بعد جب ماحولیاتی تباہی اس نہج تک پہنچ جائے گی تو پھر یہ قرضوں والا نظام بھی نہیں چل سکے گا۔ تو اپنے جیسے نوجوانوں کو سمجھائیں کہ ہوش کے ناخن لیں نعروں کے پیچھے نہ جائیں۔ عقل اور شعور والی سیاست کا ساتھ دیں۔ کیونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہے۔ اور ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں۔ ہم ایک طلبہ تنظیم ہیں ہم ایک عورتوں کی تنظیم ہیں، ہم اس نظام کے خلاف اور اس نظام کی تبدیلی کیلئے سیاست کرتے ہیں۔ ہم کچھ چھوٹے موٹے مفادات کیلئے نہیں کرتے۔ تو سب اپنے دوستوں کو یہ نعرہ بتائیں ، ہاتھوں میں لے کر ہاتھ چلو، آؤ ہمارے ساتھ چلو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

وزیرستان محسود ایریا میں مکمل امن ہے، گرمیاں گزارنے کیلئے آئیں، مولانا صالح شاہ قریشی اور عالم زیب خان کی محسود عوام سے اپیل۔

وزیرستان محسود ایریا میں مکمل امن ہے، گرمیاں گزارنے کیلئے آئیں، مولانا صالح شاہ قریشی اور عالم زیب خان کی محسود عوام سے اپیل۔

جنوبی وزیرستان مکین شہر میں تین محسود قبائل کے گرینڈ جرگہ سے جمعیت علماء اسلام کے سابق سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے کہا کہ آج یہاں پر جو جرگہ ہوا ہے، انکے بلانے پر میں یہاںآیا ہوں اور میں نے یہ بات کی کہ محسود قوم میں کراچی ، ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان اور جہاں پر بھی محسود رہتے ہیں یہ پروپیگنڈہ ہوا ہے کہ یہاں امن نہیں ہے ۔ بدامنی ہے، آپریشن ہے، یہ الٹی سیدھی باتیں میرے وزیرستان کے خلاف پروپیگنڈہ ہے۔ یہ پروپیگنڈہ غلط ہے۔ آج جب میں اس جرگے میں آرہا تھا تو سامنے ایک شخص نے مجھے چائے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ کراچی سے ہمیں فون آیا ہے کہ جنڈولہ سے مکین کی طرف توپوں سے گولہ باری کی جارہی ہے۔ بھائی یہ سب ہمارے امن کے خلاف پروپیگنڈے ہیں۔ میری محسود قوم اگر تم یہاں مکین میں ہو یا کراچی میں ہو یا پنڈی اور اسلام آبا د میں ہو ، میں تمہیں وزیرستان سے امن کا پیغام دیتا ہوں۔ میں وزیرستان سے خیر کا پیغام دیتا ہوں۔ اپنا خوف مٹا دو ، یہاں والوں کو بھی کہتا ہوں اور جو باہر ہیں ان سے بھی کہتا ہوں اکا دُکا واقعہ پر آپ اپنے وطن کو چھوڑتے ہو تو پھر ٹانک کو بھی چھوڑ دو۔ پھر کراچی بھی چھوڑ دو اور کل ہی کراچی میں دھماکہ ہوا ہے۔ اگر تم ان واقعات کی وجہ سے وطن چھوڑتے ہو تو پشاور میں بھی ہوتے ہیں اسلام آباد میں بھی ہوتے ہیں ، پنڈی میں بھی ہوتے ہیں ، ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ہوتے ہیں، بلوچستان میں بھی ہوتے ہیں۔ جب سارا وطن کسی نے ایک بم یا توپ سے نہیں چھوڑا ہے تو تم اپنا وطن کیوں چھوڑتے ہو۔ آج امریکہ میں8افراد مرے ہیں کیا امریکی وہاں سے نکلے ہیں۔ روس میں روزانہ یہ واقعات ہوتے ہیں ۔ قوم کایہ پیغام دیتا ہوں کہ گرمیوں سے خود کو مت مارو، جو مکین ، کڑمہ، خیسور، شکتوئی اور جہاں کا رہائشی ہے اپنی جگہ پر آئے۔ ہمارا وطن سکول، ہسپتال اور کسی چیز سے آباد نہیں ہوتا ہے بلکہ محسود قوم سے ہوتا ہے۔
جبکہPTMکے ہر دلعزیز رہنما عالم زیب خان محسود نے کہا ہے کہ ہم اپنی پوری قوم کو مکین شہر سے میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ قوم اپنے علاقہ میں آجائے۔ جو بھی ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان اور دوسرے شہروں میں رہتے ہیں جو ہرسال روٹین میں گرمیاں گزارنے کیلئے آتے تھے ،ان کو یہ پیغام ہے اور ان سے ہماری یہ درخوست ہے کہ اپنے علاقے میں آجائیں اوران علاقوں کو آباد کریں۔ یہ امن تمہارے ساتھ وابستہ ہے ، جب تم یہاں ہوگے تو امن ہے اور اگر تم یہاں نہ ہو تو امن نہیں ہے۔ ویسے بھی جو جگہ خالی ہوجاتی ہے تو وہاں خاموشی چھا جانے سے بھی دہشت پھیل جاتا ہے اور دہشت ایسی چیز ہے کہ اس کی کوئی مخصوص شکل ہو۔ یہ خاموشی اور تنہائی بھی جب کچھ بھی موجود نہ تو یہ بھی ایک دہشت اور وحشت ہے۔پس تمہارے آنے کی وجہ سے امن اپنی جگہ پر آجائے گا۔ تمہیں یہ انتہائی درخواست ہے کہ ان علاقوں کو آباد کرو۔ یہ اچھا موسم اور یہ میٹھی ہوائیں ان سے اپنے بچوں کو محروم نہ کریں۔ سب آجائیں اور ایسا میں اپنی بات کروں گا ہم نے بھی اپنی فیملی یہاں لائی ہے۔ اس طرح سب سے یہ درخواست ہے کہ اپنی اپنی فیملیاں لائیں تاکہ ہم مستقل اپنے وطن کو آباد کردیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

14سالہ دعا زہرا کو نااہل ، بد فطرت اور بد نیت جج نے قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے خلاف اغواء کار کے حوالے کردیا ہے۔

14سالہ دعا زہرا کو نااہل ، بد فطرت اور بد نیت جج نے قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے خلاف اغواء کار کے حوالے کردیا ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

دعا زہرا کے والدین نے اپنے نکاح نامہ اور دعا زہرا کے فارم ب اور پاسپورٹ میں درج عمر بھی میڈیا کے سامنے بتائی لیکن اندھے جج نے نادرا کا ریکارڈ چیک کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔

عام طور پر جب خاندان کی باہمی رضامندی سے بھی کم عمری میں شادی کرادی جاتی ہے تو پولیس دولہے دلہن اور انکے والدین کے علاوہ نکاح خواں کو بھی گرفتار کرلیتی ہے مگر یہاں ایسا کیوں نہیں؟

سوشل میڈیا پر مختلف چینلوں سے چرچے ہورہے ہیں کہ دعا زہرا کے اغوا کے پیچھے بچیوں کو ورغلانے میں ماہر ایک طاقتورگینگ ملوث ہے جس نے اندرون و بیرون ملک دھندا بنایا ہے۔

دعا زہرا جیسی بہت ساری دکھ بھری داستانیں ہیں۔BBCکو معلوم ہوا ہے کہ دس اور بارہ سال کی بچیوں کو بھی سیکس ٹریفکنگ میں استعمال کیا جارہا ہے اور اس مقصد کیلئے انہیں رومانیہ سے برطانیہ سمگل کیا جارہاہے ۔ برطانوی پولیس سیکس ٹریفکنگ روکنے میں کیوں کامیاب نہیںہوپارہی ہے۔تفصیل اس رپورٹ میں۔ شناخت چھپانے کی غرض سے رپورٹ میں شامل چند نام تبدیل کئے گئے ہیں۔ ویڈیو کا عنوان ہے:” بچوں کی سیکس ٹریفکنگ۔ مجھے روزانہ10،20مردوں کیساتھ سونا پڑتا ہے”۔ BBC, URDU:19 jan
لاہور، کراچی ، حیدر آباد اور اسلام آباد کے علاوہ چھوٹے بڑے شہروں میں دعا زہرا کی طرح کتنی داستانیں ہوں گی ؟۔ جب ہماری حکومت نے سندھ اور ملک بھر میں لڑکے اور لڑکی کی شادی کیلئے18سال کی عمر کیلئے شناختی کارڈ رکھ دیا ہے اور نکاح کیلئے بھی شناختی کارڈ شرط ہے تو پھر دعا زہرا کا نادرا میں ریکارڈ اور ب فارم چیک کرنا چاہیے تھا۔ پہلے بتایا گیا کہ لڑکے ظہیر کی عمر21سال ہے اور پھر سترہ، اٹھارہ سال بتائی جارہی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو اس پر فوری ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر ظہیر کے چچوں اور بھائیوں کو بھی مجرمانہ فعل کا عادی مجرم بتایا گیا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے”۔ تمام فقہی مسالک حنبلی، شافعی، مالکی، جعفری اور حنفی کے امام کہتے ہیں کہ اگر ہماری کوئی بات حدیث کے خلاف ہو تو اس کو دیوار پر دے مارو۔بقیہ صفحہ3نمبر2

بقیہ… دعا زہرا
جس طرح آج کل بعض حنفی مسلک والوں نے سودی بینکاری کو قرآن وسنت کے منافی جائز قرار دیا ،اسی طرح سے بعض کم عقل اور کم علم لوگوں نے صحیح حدیث کو قرآن سے ٹکرا دیا ہے۔ حالانکہ قرآن میں حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ نکاح کرے کسی اور شوہر سے”کا تعلق طلاق شدہ عورت سے ہے اور ولی کی اجازت کا تعلق کنواری سے ہے ۔ جمہور فقہاء ومحدثین نے حدیث کی وجہ سے طلاق شدہ اور بیوہ کو بھی ولی کی اجازت کا پابند بنایا ،حالانکہ قرآنی آیات میں طلاق شدہ اور بیوہ کی مکمل آزادی اور اختیار کی وضاحت ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ فرمایا کہ ”طلاق شدہ وبیوہ خواتین الایامی اور اپنے صالح غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کراؤ”۔ وہاں اس بات کی بھی وضاحت کردی ہے کہ ” اپنی جوان لڑکیوں کو بغاء پر مجبور مت کرو،اگر وہ نکاح کے بندھن میں جانا چاہتی ہوں”۔ عربی میں بغاء بغاوت اور بدکاری کو کہتے ہیں۔ جب والدین کے سامنے کوئی لڑکی کسی لڑکے سے نکاح کی ضد کرے تو اللہ نے اس معاشرتی برائی کا ذمہ دار والدین کو ہی ٹھہرایا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”اگر کوئی ولی زبردستی سے اپنی لڑکی کا نکاح کرائے تو اس کا نکاح نہیں ہوا”۔ فقہاء و محدثین نے مسالک کے چکر میں قرآن وسنت کے اصل،واضح اور کھلے مفہوم کو چھوڑ کر اپنے من مانے معانی نکالے ہیں جس کی وجہ سے قرآن وسنت کے مفہوم کو عوام میں بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ جمہور اور حنفی مسلک کا اختلاف امت مسلمہ کیلئے اعتدال کا باعث ہے ۔ دونوں اپنے اپنے طور پر اعتدال سے ہٹ کر مخالف انتہاؤں پر پہنچے ہیں۔
ولی کی اجازت کا معاملہ نظر انداز کرنے سے نہ صرف صحیح حدیث کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ خاندانوں میں رشتہ داری کی بنیاد بھی دوستی کی جگہ دشمنی پر بنتی ہے۔ اغواء کار داماد بنے تو یہ کتنی بڑی عجیب بات ہوگی؟۔ قرآن کی آیت میں اس غلط رسم کا خاتمہ مقصود تھا کہ شوہر طلاق کے بعد بھی عورت کو اس کی اپنی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تھا، جس ولی کی اجازت کا دور دور تک بھی کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ جب ایک مسلک کے کم عقل فقہاء نے حدیث کو رد کردیا تو دوسرے مسلک کے کم عقل فقہاء نے اس سے زیادہ کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرآن کو قرآن سے ٹکرادیا کہ وانکحوا الایامیٰ منکم …اور نکاح کراؤ اپنوں میں سے طلاق شدہ وبیوہ عورتوں کا۔ آیت میں زبردستی سے نکاح کرانے کا حکم نہیں بلکہ فطری ترغیب ہے۔
نبی ۖ نے فرمایا کہ ” نکاح پر دو صالح گواہ مقرر کردو”۔ ایک بھاگی ہوئی لڑکی کیلئے صالح گواہ کہاں سے لائے جائیں تو کم عقل احناف نے دو فاسق گواہوں کو بھی کافی قرار دے دیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ دف بجاکر نکاح کا اعلان کردو۔ کم عقل فقہاء نے کہا کہ دو خفیہ گواہ بھی نکاح کا اعلان ہے۔ جب علماء نے معاشرے کو بگاڑنے کا راستہ دے دیا تو طاقتور طبقات نے ہمارے دین فطرت اسلام اورہمارے معاشرتی اقدار کیساتھ کھیلنا بھی شروع کردیا۔ججوں اور قانون کے رکھوالوں نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ قانون ساز اداروں میں قبضہ مافیا نے ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔ اقتدار اور دولت کے پجاریوں نے کبھی اسلام اور اچھے معاشرے کے قیام کی کوشش کی طرف توجہ نہیں دی۔ ایک دعا زہرا نہیں بہت ساری داستانیں ہیں۔
اسلام نے جب طلاق کا قانون دنیا کو بتایا تھا تو اس سے صدیوں بعد عیسائیوں نے طلاق کے قانون کو صرف اسلئے مان لیا کہ برطانیہ کے بادشاہ کو چند صدیوں پہلے طلاق کی ضرورت پڑی تھی تو اس نے کچھ حیلہ ساز پادریوں کو اپنے حق کیلئے کھڑا کیا تھا۔ آج مغرب نے عورت کو نکاح کے بعد آدھی جائیداد کا مالک بنادیا ہے ۔ کم عمری میں قانوناً نکاح پر پابندی لگادی تاکہ مالی نقصان بچوں کواٹھانا نہ پڑجائے۔ ہمارے ہاںعورت کو نکاح کے بعد وہ حقوق میسر نہیں ہیں جو اسلام نے دئیے ہیں۔ جب عورت کو استعمال کرکے پھینک دیا تو شوہر کی مرضی ہے اور شوہر پر کوئی مالی جرمانہ بھی نہیں بنتا ہے اور جب عورت خلع لے تو عدالت نے عورت کو خلع کا حق دیا ہے لیکن مولوی نے قرآن و سنت کے خلاف عورت کو خلع کے حق سے بھی محروم کیا ہے۔
ایک لڑکی بھاگ کر شادی کرتی ہے اور پھر ایک مافیا اس کو بدکاری میں استعمال کرنے کیلئے حقوقِ زوجیت سے محروم کردیتا ہے تو عورت خود بدکاری کا دھندہ کرنے کیلئے بھی راضی ہوجاتی ہے اور مذہبی طبقہ فتویٰ دے کہ اللہ نے بدکاری پر زبردستی سے مجبور کرنے سے منع کیا ہے لیکن اپنی رضامندی سے دھندہ کرتی ہو تو اس کی اجازت دی ہے۔ تو اس معاشرے کا کیا حال ہوگا؟ جس میں مذہب کو غلط استعمال کیا جاتا ہو؟۔ وہی جو پاکستان کا ہواہے کہ تما م ائیرپورٹ اور موٹرویز اسلامی بینکاری کے تحت اغیار کے ہاتھوں میں گروی کرکے رکھ دئیے گئے ہیں۔ جب عالمی قوتیں پاکستان کو سودی قرضوں کی وجہ سے قبضہ کرنے میں دلچسپی لینا شروع کریں تو ریاست مدینے والا اور مولوی طبقہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر محمود وایاز بن جائیں گے۔
دعا زہرا ہماری اور پوری قوم کی بیٹی ہے اور روشن مستقبل اس کا اور اس کے والدین کا حق ہے۔ شریعت، معاشرتی اقدار اور قانون کا تقاضہ ہے کہ اس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر پوری دنیا کیلئے ایک بہت بڑے انقلاب کا ذریعہ بنائیں۔ اگر مساجد میں واقعی اس کا اعلان کرنے سے اسلئے انکار کیا گیا کہ وہ ایک شیعہ ہے تو ان مساجد سے ائمہ اور ذمہ دار لوگوں کو فارغ کردیا جائے اور اگر یہ جھوٹا پروپیگنڈہ ہے تو جھوٹوں پر لعنت کی جائے اور اس کے پیچھے گینگ ہے تو گینگ کو پکڑا جائے اور اگر والدین کا غلط رویہ ہے تو اس کو درست کیا جائے۔ اس بدمزگی کا بہت خوشگوار حل اس وقت نکل سکتا ہے کہ جب قرآن وسنت کی صحیح وضاحت کی جائے۔ عدالت کے قانون میں کوئی غلطی ہے تو وہ بھی درست کردی جائے اور معاشرے میں خرابی ہے تو اس کا سدِ باب کیا جائے۔ سوشل میڈیا کی غلط کہانیاں ہیں تو اس پر بھی سخت پکڑ کی بہت ضرورت ہے۔
دعا زہرہ کی طرح جتنے بھی پاکستان بھر میں کیس ہیں تو ان کیلئے قرآن وسنت کی تشریحات اور باہمی افہام وتفہیم سے ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی انسان دعا زہرہ اور اسکے والدین اور ظہیر اور اس کے خاندان والے کسی غلط روش کا شکار نہ ہوں اور سبھی خوشی کی زندگی گزارنے کے حقدار بنیں۔ ہمارے معاشرتی مسائل کیلئے قرآن وسنت اور اسلام مشعل راہ ہے۔ عورت خود بھی اپنے سے کم تر خاندان کی بیوی اور بہو بننا پسند نہیں کرتی ہے اسلئے فقہ کی کتابوں میں کفو کے مسئلے کا ذکر ہے لیکن جب اس کو خلاف شرع کسی ناپسندیدہ شخص سے شادی پر مجبور کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ انتہائی قدم بھی اٹھالیتی ہے۔ ایک ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف لڑکی اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کی رکھوالی کرے اور دوسری جانب لڑکی کے جذبات کا بھی بھرپور لحاظ رکھا جائے۔ قرآن و سنت میں اسکا بہترین آئینہ پیش کیا گیا ہے۔ مگر اس سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ قرآنی آیات کی نہ صرف غلط تشریح کی گئی ہے بلکہ قرآنی آیات کو آپس میں بھی متضاد بنایا گیا ہے اور احادیث صحیحہ سے بھی متصادم قرار دیا گیا ہے۔ جب عوام کو قرآن وسنت کا درست مفہوم سمجھایاجائے تو تمام فرقوں کے علماء ومفتیان کے علاوہ دنیا بھر کے کافر بھی قرآن وسنت کے معاشرتی نظام کیلئے راضی ہوجائینگے۔ اب انکا ہٹ دھرم مذہبی طبقہ ختم ہوگیا ہے جن کو عوام نے اپناارباب بنالیا تھا اور جنہوں نے مذہب کی شکل بگاڑ کر رکھ دی تھی اور آج ہمارا یہ حال بن گیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اسلام میں نہ صرف جمہوریت کی گنجائش ہے بلکہ دنیا میں جمہوریت کا حقیقی سہرا قرآن وسنت اور اسلام کے سرپر ہے!

اسلام میں نہ صرف جمہوریت کی گنجائش ہے بلکہ دنیا میں جمہوریت کا حقیقی سہرا قرآن وسنت اور اسلام کے سرپر ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگایا اور پھر کچھ عرصہ بعد جنرل ضیاء الحق کے مخالفین نے تحریک شروع کردی تو لاہور میں دیوبندی مکتبۂ فکر کے بہت بڑے عالم دین مولانا محمد مالک کاندھلوی نے کہا تھا کہ ” پہلا مارشل لاء حضرت ابوبکر صدیق نے لگایا تھا”۔ موصوف کے والد مولانا ادریس کاندھلوی بڑے درجے کے عالم تھے لیکن اتنے سادہ لوح تھے کہ بیٹا محمد مالک اپنے باپ مولانا ادریس سے سائیکل چلانے کیلئے پیٹرول کے نام پر پیسے لیتا تھا۔ ملاجیون سے لیکر بہت بڑے بڑے علماء کی سادہ لوحی کے قصے زبان زد عام ہیں، اسلئے ملادوپیازہ کے نام سے بھی لطیفوں کی کتابیں مارکیٹ کی زینت بنتی رہی ہیں۔
اسلام کا بنیادی کردار یہی تھا کہ اولی الامر سے قرآن نے اختلاف کی گنجائش رکھی ہے جس سے جمہوری ذہن کا راستہ ہموار ہواہے۔ قرآن میں حضرت موسیٰ کا بہت زیادہ ذکر ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر سے اختلاف کیا تھا۔ حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کی داڑھی اور سر کے بال پکڑے تھے اور فرشتوں نے آدم کو زمین کا خلیفہ بنانے پر اعتراض اٹھایا کہ زمین میںخون بہائے گا اور فساد پھیلائے گا۔ جب اسلام نے اختلاف کے تقدس کا دنیا میں ڈنکا بجادیا تو اختلاف کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جانے لگا۔ رسول اللہ ۖ کی سیرت طیبہ اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ جب نبی ۖ نے بدر کے قیدیوں پر مشاورت فرمائی تو اکثریت کی رائے فدیہ لیکر چھوڑ دینے کی تھی اور حضرت عمر اور حضرت سعد نے مشورہ دیا کہ ان کو قتل کردیا جائے۔ نبیۖ نے اکثریت کا مشورہ مان کر فدیہ لیکر چھوڑ دینے کا فیصلہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اس فیصلے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کی تدبیر فرمائی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن میں اقلیت کے مشورے کی زبردست الفاظ میں تائید بھی فرمادی تھی، جس کی درست تفسیر کرنے سے ہمارے علماء بالکل قاصر نظر آتے ہیں اور اول فول باتیں بکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک طرف ان آیات کے ذریعے سے اکثریت کی رائے کو صائب اختلاف کے باوجود بھی قابلِ عمل ٹھہرا دیا تھا تاکہ قیامت تک ایک طرف کثرت رائے اور جمہوریت کی بنیاد پڑ جائے اور دوسری طرف افراد کے اختلاف کو اقلیت کے باوجود بھی بالکل کم اہمیت کا حامل نہ سمجھا جائے۔ بلکہ اس بات کا سوفیصد امکان رہے کہ اقلیت کی بات درست اور اکثریت کی بات غلط بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن میں سیرت النبیۖ کے ذریعے بہترین جمہوریت کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ شیعوں کے اسلام اور نظریۂ امامت میں جمہورکی گنجائش نہیں ہے اسلئے اپنے بارہ اماموں کے مثبت کردار کو بھی منفی پروپیگنڈے سے بڑا بدنام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ائمہ اہل بیت کے مثبت اور صائب کردار نے اُمت کو جمہوری مزاج پرقائم رکھنے کا کردار اداکیا۔ اگر حضرت علی چاہتے تو ابوسفیان کی پیشکش قبول کرکے حضرت ابوبکر کی خلافت کو ناکام بناتے۔ پھر حضرت عمر کی نامزدگی اور حضرت عثمان کی مختصر شوریٰ میں کثرت رائے کے ذریعے انتخاب بھی ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ حضرت علی کے کردار پر ماتم کرکے سینہ کوبی اور زنجیر زنی کی جگہ فخر کرنے کی ضرورت ہے۔ علامہ سیدجوادحسین نقوی ایک کٹر شیعہ ہیں اور اس طرح کے دیگر بہت سارے شیعہ علماء بھی ہیں جو ائمہ اہل بیت کے درست تشخص کو اجاگر کرکے ان اہل تشیع کی اصلاح کررہے ہیں جن کو جہالتوں نے بگاڑ دیا ہے۔ تاریخ کی کتابوں سے شیعہ اور خوارج کا ایک دوسرے کے خلاف استدلال پکڑنے میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا ایک دوسرے کے خلاف نقصان ہے۔ ہمارے ایک دوست کے دوست فرمان ایک کٹر شیعہ ہیں۔ ایک طرف وہ کہتا ہے کہ حضرت خدیجہ بالکل کنواری اور جوان تھیں جب نبیۖ نے شادی کی تھی اورچاروں بیٹیاں حضرت خدیجہ سے تھیں،کیونکہ یہ نبیۖ کی شان کے خلاف ہے کہ خود کنوارے ہوں اور کسی بیوہ سے شادی کریں۔ دوسری طرف اس کو جب بتایا کہ شیعوں کا یہ مؤقف ہے کہ حضرت فاطمہ کے علاوہ نبیۖ کی اور کوئی حقیقی صاحبزادی نہیں تھی تواس نے کہا کہ یہ شیعوں کا مؤقف نہیں ہے۔
اہل سنت اور اہل تشیع دونوں اپنے بادام اور اخروٹ کے مغز کو چھوڑ کرچھلکوں کیساتھ کھیل رہے ہیں۔ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دین کے مغز پر قائم تھے اور لوگ فرقہ فرقہ اور چھلکا چھلکا کھیل رہے ہیں اور فرقہ واریت کی آگ کوانہی چھلکوں سے بھڑکارہے ہیں۔ میں جاہل خطیبوں کی جہالت بھری خطابت پر اپنا وقت ضائع نہیں کرتا لیکن ساہیوال کے ایک گاؤں میں گیا تھا اور وہاں میرے ساتھ مولانا منظور احمد نے بھی خطاب کیا تھا۔ان کا یوٹیوب پر نام دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ وہی صاحب ہیں یا کوئی اور ہیں؟۔ اس نے تقریر میں صحابہ کرام کے متعلق قرآنی آیات سے زبردست استدلال پیش کیا اور پھر ان کے اتباع پر اپنے لئے بھی خوشخبری کی بات قرآن سے سنائی اور ساتھ میں قرآن کے الفاظ کو بھی بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا کہ ” اے اللہ ! جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ ان کیلئے ہمارے دل میں کھوٹ پیدا نہ فرما”۔ پھر آخر میں عبادت گزار لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے چوہدریوں کی بھی تعریف کی جن کی مدد سے مساجد اور مدارس میں علماء وطلبہ کی روزی روٹی چل رہی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ”ان چوہدری کی مخالفت کرکے نمک حرام مت بنو”۔
پھر علامہ جعفر حسین قریشی پر نظر پڑی تو اس کی تقریر بھی سن لی جو بہت زیادہ پیاری لگی۔ جب میں نے اوکاڑہ میں تقریر کی تھی تو نعت خوانوں کی نعتوں میں اہل سنت کا رنگ نظر نہیں آرہا تھا۔ علامہ جعفر حسین قریشی نے اپنوں کا یہ رنگ دیکھ کر فرمایا ہے کہ یہ ہماری کمزوری ہے۔ جس کی تقریر کے ایک حصے کو سنیوںاور دوسرے حصے کو شیعوں نے کاٹ پیٹ کر لگایا ہے۔ میری تقریر کے بعد سامعین میں سے کسی نے پوچھا تھا کہ یہ شیعہ تو نہیں؟۔ جبکہ مجھے ان میں سنیت کا احساس اجاگر ہونے پر خوشی ہوئی۔ کسی محلہ دار اہل تشیع نے میری تقریر سن کر کہا تھا کہ پہلی مرتبہ کسی اچھے علمی شعور والے بندے کو لائے ہو۔ اقبال نے پنجابی مسلمان کے نام سے خوب لکھا ہے کہ ”تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا” ۔
مولانا منظور احمد نے میری تقریر کے بعد جلسہ عام سے خطاب میں کہا تھا کہ ”میں نے آج تک ایسے علمی نکات نہیں سنے ہیں لیکن عوام کو یہ باتیں سمجھ میں مشکل سے آتی ہیںاسلئے کہ وہ خطیبوں کی سریلی آوازوں کی زبان سمجھتے ہیں”۔
علامہ عابد رضاعابدی کینیڈا سے سوشل میڈیا پر اہل سنت کی کتابوں سے بڑا مواد پیش کررہے ہیں اور اگر وہ ایک مہربانی کریں کہ حضرت علی کی بہن حضرت ام ہانی کی پوری کہانی بھی اہل تشیع کی کتب سے پیش کردیں ۔ جس نے ہجرت نہیں کی تھی اور حضرت علی فتح مکہ کے بعد اس کے شوہر کو قتل کرنا چاہتے تھے ۔ پھر اس نے نبیۖ سے اپنے شوہر کیلئے پناہ لی تھی۔ جو اولین مسلمانوں میں سے تھیں۔ جب نبیۖ نے ان کے شوہر کے جانے کے بعد نکاح کی دعوت دی تو اس نے اپنے مشرک شوہر سے محبت اور اپنے بچوں کی خاطر انکار کردیا۔ نبیۖ نے اس پر ان کی تعریف کی۔حضرت ام ہانی کا رشتہ حضرت ابوطالب سے پہلے بھی نبیۖ نے مانگا تھا لیکن حضرت ابوطالب نے اپنی لڑکی کا رشتہ نہیں دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ” اے نبی! ہم نے آپ کیلئے حلال کیا ہے ان چچا اور خالہ کی بیٹیوں کو جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے”۔ حضرت ام ہانی کا نام علامہ بدرالدین عینی نے نبیۖ کی ازواج میں داخل کیا ہے۔ حالانکہ اللہ نے قرآن میں نبیۖ کو ام ہانی سے رشتے کو منع کرنے کے بعد دوسری بھی تمام خواتین سے رشتہ کرنے کو منع کردیا اور پھر ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ قرآن کی ان آیات اور حضرت علی اور آپ کی بہن حضرت ام ہانی کے واقعہ سے اہل تشیع کی کتابیں ساقط نہیں ہوں گی اور اس سے اہل تشیع کے لوگوں میں بہت شعوروآگہی اور علم وفہم پھیلے گا۔ ان کے آپس کے جھگڑے بھی اس سے ختم ہوجائیں گے۔ اماموں نے اپنی ساری زندگی جمہوری طرز پر گزاردی لیکن کاروباری چالاک لوگوں نے مذہب کو دھندہ بناکر اپنا اُلو بھی سیدھا کرنا تھا۔
جمہوریت کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو منع کردیا کہ مشرکات سے نکاح نہ کریں ،ان سے مؤمنہ لونڈیاں اچھی ہیں اگرچہ وہ مشرکات تمہیں بھلی لگیں اور مؤمنات کا مشرکوں سے نکاح نہ کریں،ان سے غلام مؤمن اچھے ہیں اگرچہ وہ مشرک تمہیں بھلے لگیں۔ پھر اللہ نے ہجرت کا حکم دیا۔ حضرت ام ہانی نے اپنے مشرک شوہر سے اپنا نکاح برقرار رکھا اور دین کے حکم پر ہجرت بھی نہیں کی لیکن اس کے باوجود ان کی عزت وتوقیر کرنا ایک فرض ہے اور قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کی درست توجیہات کو توہین و بے توقیری سے مشہور کرنا انتہائی غلط اور بددیانتی ہے۔ ایک شیعہ شاید یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ حضرت علی نے اپنے مشرک بہنونی کو قتل کرنے کا کوئی پروگرام بنایا ہو اور پھر نبیۖ نے حضرت ام ہانی کی سفارش پر منع کیا ہو۔ یہ ان کو امام کی عصمت کے خلاف لگتا ہے۔ وہ اپنے مؤقف کو اپنی کتابوں سے پیش کریں تو ہم وہ شائع کر دیں گے۔ قرآن میں اولی الامر کیساتھ اختلاف کی گنجائش ہے۔ نبیۖ کی سیرت اور قرآن کا یہ معجزہ تھا کہ اولی الامر کی حیثیت سے نبیۖ سے صحابہ کرام نے اختلاف کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ سورۂ مجادلہ، بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے اور دیگر مسائل پر قرآنی سورتوں میں واضح آیات ہیں۔ جب نبیۖ سے بھی قرآن میں اختلاف کی گنجائش کا واضح ذکر ہے تو کوئی اولی الامر کیسے ایسا ہوسکتا ہے کہ جس سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہو؟۔ حالانکہ قرآنی آیت میں اولی الامر کیساتھ اختلاف کی گنجائش بالکل زبردست طریقے سے واضح کی گئی ہے۔
نبیۖ سے حدیث قرطاس کے معاملے پر حضرت عمر کے اختلاف کا واقعہ قرآن اور سیرت النبی میں کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ قرآن وسنت نے قیامت تک جمہوریت کی روح عالم انسانیت کو سکھادی ہے۔ جمہوریت میں سب سے بڑا فائدہ رائے کی آزادی اور ووٹ کے حق کا آزادانہ استعمال یقینی بنانا ہے۔
آج نام نہاد اور بے روح کاروباری جمہوریت کا یہ حال بن چکاہے کہ قوم ، حکومت، ریاست اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان بدترین تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ ایک حدیث ہے کہ اتبعوا السواد الاعظم ” اعظم جماعت کا اتباع کرو” جس سے اکثریت کے پیچھے چلنے کیلئے سمجھا جاتا ہے۔ اچھے علماء نے لکھا ہے کہ ”اس سے مراد اکثریت نہیں کیونکہ عربی میں اقل کے مقابل اکثر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد زیادہ عظمت والی جماعت ہے”۔ وزیروں کی اکثریت ہوتی ہے لیکن وزیراعظم ایک ہی ہوتا ہے اور ایک ہی کی بات مانی جاتی ہے۔
جب مختلف پارٹیوں اور جماعتوں میں ہر ایک کو اپنے اپنے ذہن کے مطابق عظمت والی جماعت کو ووٹ دینے اور اس کے پیچھے چلنے کی آزادی ہو تو یہی اس جمہوری نظام کو کہتے ہیں جو موجودہ دور میں رائج ہے۔ اسلام میں جمہوریت نہیں ہوتی تو مختلف فرقے بھی نہیں بن سکتے تھے اور فرقوں پر پابندی لگائی جاتی تو اس کو مذہبی آزادی اور جمہوریت کی روح کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کاروبار ی شکل نہ اختیار کرتی اور مذہب وسیاست کے نام پر کاروبار نہ ہوتا تو پاکستان سے انسانیت کیلئے عالمی انقلاب کا آغاز ہونے میں دیر نہ لگتی۔
شیعہ سنی افکار اور سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن جب تک ایک مضبوط بیانیہ حکومت، اپوزیشن، ریاست اور عوام کے سامنے نہیں آتا ہے تو یہ ملک وقوم تباہی کی طرف بہت تیزی سے جارہے ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر کا بیانیہ شروع سے یہ تھا کہ ہماری35سیٹیں اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں ہروائی ہیں اسلئے کہ اگر ہم اتحادی بیساکھیوں کے بغیرحکومت بناتے تو پھر اسٹیبلشمنٹ سے ہماری محتاجی ختم ہوجاتی۔ جن میں ایک سیٹ وہ فیصل جاوید کے مقابلے میں خواجہ آصف کی بتاتے ہیں۔35پنچر سے بڑا معاملہ یہی ہے۔ دنیا دیکھ رہی تھی کہ اتحادیوں کے سہارے کھڑی تحریک انصاف کی حکومت ایک اشارے سے گر سکتی ہے اور PDMنے اسٹیبلشمنٹ میں آرمی چیف اورDG آئی ایس آئی کا نام لے لے کر عوام میں تقریریں کیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ ہم غیرجانبدار ہیں۔ پھرDGISIپر حکومت اور فوج میں ناراضگی کا معاملہ آیا تھا۔ مسلم لیگ ن کے اندورنی اختلافات کی وجہ سے مرکز اور پنجاب میں تبدیلی ممکن نہیں ہوسکی تھی اور الزام پیپلزپارٹی پر لگایا گیا کہ استعفے ، لانگ مارچ کے بعد اس کا دھرنے دینے پر اتفاق نہیں ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی قابل اعتبار نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کا فارمولہ تھا کہ پہلے تحریک عدم ِ اعتماد کا آئینی فارمولہ آزماتے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب اور شہبازشریف کو مرکز سپرد کریں گے۔ پھرجب PDMنے ایک لمبی مدت 23مارچ کی دیدی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے خوف سے لانگ مارچ کرسکتے تھے اور نہ اپنی بات سے پھر سکتے تھے اسلئے تحریک عدم اعتماد کا شوشہ چھوڑ کر جھوٹے دعوے شروع کردئیے۔ خرید وفروخت کے ذریعے یہ ممکن بھی تھا اور مشکل بھی تھا لیکن PDMکی قیادت سنجیدہ نہیں لگ رہی تھی۔ اسلئے کہ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے ارکان کو بغاوت پر اکسانے اور یقین دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جبکہ ن لیگ پنجاب میں وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کو دینے میں گومگو کا شکار تھی۔ اب سندھ ہاؤس اسلام آباد سے بھانڈہ پھوٹ چکا ہے۔
عمران خان نے 10لاکھ کا اجتماع D چوک پر کرنے کا اعلان کیا تو PDM نے بھی23مارچ کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا۔ جس پرکور کمانڈر کانفرنس میں تلخ پیغام دیا گیا اور شیخ رشید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ماؤزے تنگ نہیں ایک عالم دین ہیں ، مولا جٹ بننے کی کوشش کاسودا مہنگا پڑسکتا ہے۔ مریم نواز اور شہباز کی قیادت میں لاہور سے نکلنے والے جلوس اورPDMنے23مارچ کی جگہ25 مارچ کا اعلان کردیا کہ غیرملکی مہمانوں کا ہمیں بھی احترام ہے لیکن اصل خوف ریاست کے میزبانوں سے ہے۔ دیکھئے سیاسی دنگل کا آخری نتیجہ کچھ تو نکلے گا۔
ہڑتال و احتجاج کی کال سے عوام کو باخبر رکھا جائے تو عوام اپنے مفاد میں اس کو کامیاب بناتے ہیں۔ سیاسی حکمت اور غیرت کا بھی یہی تقاضہ ہے۔ عوام کو ان کی مرضی کے بغیر مشکلات میں ڈالنا انتہائی درجے کی بے غیرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے جب سے پیشگی کال کے بغیر کارکنوں کے ذریعے عوام کو تکلیف دینا شروع کی ہے توعوام کو ان جماعتوں اور قائدین سے نفرت ہونے لگی ۔ اچانک روڈ اور تجارتی مراکز بند کرانے سے بچے اور خواتین بھی پھنستے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ریاست عوام کے حقوق کی حفاظت نہ کرسکتی ہو تو تنگ آمد بجنگ آمد لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سڑکوں کو بند کرنیوالے سیاسی کارکنوںکو مارنے کیلئے اپنی گاڑیوں میں سرئیے ، ڈنڈے اور اسلحے رکھنے شروع کردیں۔ ایک مرتبہ نوشہرہ اور دوسری مرتبہ کراچی میں لوگوں کو جمعیت علماء اسلام کے احتجاج پر بہت گندی گندی گالیاں دیتے ہوئے سنا ۔ عاقل کو اشارہ کافی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مفتیان عظام اور جدید اسکالروں سے دو ٹوک انداز میں ایک ہی سوال اور اس کا جواب

تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مفتیان عظام اور جدید اسکالروں سے دو ٹوک انداز میں ایک ہی سوال اور اس کا جواب

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں سورہ توبہ کی آیات کی تفسیر میں لکھا ہے کہ مشرکوں ، زکوٰة نہ دینے والوں اور نماز نہ پڑھنے والوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے
بریلوی مکتبہ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی تفسیر ”تبیان القرآن” میں لکھا ہے کہ مفتی شفیع نے حنفی مسلک کے خلاف یہ تفسیر لکھی ہے اسلئے کہ بے نمازی کا قتل کرنا جائز نہیں ہے۔
جب بریلوی دیوبندی ایک دوسرے کو گستاخ اور مشرک کہتے ہیں اور گستاخوں اور مشرکوں کو قتل کرنا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے تو دہشت گردوں کو دہشت گردی کا جذبہ ٹھیک لگتا ہے۔

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کے والد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی تفسیر ”معارف القرآن” میں سورہ توبہ کی آیات کے ضمن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو قرآن میں قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن جب وہ ایمان لائیں ، نماز ادا کریں اور زکوٰة دیں تو اس صورت میں ان کو معاف کرنے کا حکم ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز نہ پڑھنے والے اور زکوٰة نہ دینے والے مسلمان بھی واجب القتل ہیں۔
بریلوی مکتبہ فکر کے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کے ساتھی حضرت مولانا غلام رسول سعیدی نے اپنی تفسیر ”تبیان القرآن” میں مفتی محمد شفیع کے اس مؤقف کو حنفی مسلک کیخلاف قرار دیا ہے۔ لکھا ہے کہ حنفی مسلک میں بے نمازی کو قتل کرنے کی سزا نہیں ہے۔ شافعی مسلک والے حضرت ابوبکر صدیق کے اس اقدام کو دلیل بناتے ہیں کہ زکوٰة نہ دینے والے صحابہ کرام کو قتل کیا گیا تھا مگر زکوٰة کے مانعین کو قتل کرنے کے اقدام سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں اور بے نمازی کو قتل کرنے کا مسلک رکھتے ہیں ۔ شافعی علماء کے نزدیک نماز نہ پڑھنے سے مسلمان مرتد ہوجاتا ہے اور مرتد کی سزا اسلام میں قتل ہے۔ جبکہ مالکی علماء کے نزدیک نماز نہ پڑھنے کی سزا قتل ہے۔ حنفی علماء کے نزدیک بے نمازی کو زدوکوب اور قید کی سزا ہے، اسلئے مفتی شفیع کا استدلال غلط ہے۔ (تبیان القرآن)
طالبان نے افغانستان میں حکومت قائم کرنے کے بعد حنفی مسلک کے مطابق بے نمازیوں کو زدوکوب کی سزائیں دی تھیں لیکن اب وہاں بھی مسلک حنفی پر عمل درآمد کو معطل کردیا گیاہے۔ دہشت گردوں کی ذہنی تربیت کا مرکز ہی تبلیغی جماعت تھا۔ مولانا طارق جمیل کی یہ تقریر آج بھی دوران سفر بسوں میں بڑی بڑی داڑھی والے ڈرائیور عادل شاہ کوچ میں ڈیرہ اسماعیل خان تا کراچی چلاتے ہیں کہ لوگ صرف جمعہ کی نماز پڑھنے کیلئے وہ بھی بہت کم تعداد میں آتے ہیں۔ نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم ہے۔ نماز کا چھوڑ دینا زنا سے بڑا جرم ہے۔ نماز کا چھوڑ دینا چوری سے بڑا جرم ہے۔ نماز کا چھوڑ دینا شرک سے بڑا جرم ہے۔ شیطان نے ایک سجدے کا ہی تو انکار کیا تھا۔ کیا شیطان نے کوئی قتل کیا تھا؟، کیا کوئی زنا کیا تھا؟، کیا شیطان نے کوئی چوری کی تھی؟، کیا شیطان نے کوئی ڈکیتی کی تھی؟،کیا شیطان نے کوئی شرک کیا تھا؟۔ شیطان سجدے کا انکار کرکے ہمیشہ کیلئے مردود ہوا تھا اور آپ لوگ روزانہ سجدوں کے حکم کی خلاف ورزی کرکے شیطان کی طرح دن میں کئی بار مردود نہیں ہوجاتے؟۔
مولانا طارق جمیل نے سلیم صافی کے پروگرام میں کہا تھا کہ میں دہشتگردوں کی مذمت نہیں کرسکتا۔ ہماری منزل ایک ہے لیکن راستے جدا جدا ہیں۔ ایک خمیر اور ایک عقیدہ و نظریہ سے تعلق رکھنے والے ایک طرف معزز بن کر حکومتوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ ریاست ان کو اداکاراؤں کے ساتھ قومی اعزازات سے صدر مملکت عارف علوی کے ذریعے سے نوازتی ہے اور دوسری طرف اس کا رویہ دہشت گردوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت والا ہوتا ہے۔ احسان اللہ احسان کو ریاستی پروٹوکول میں رکھ کر فرار کروادیا جاتا ہے۔ جس نے دہشت گرد تنظیم کی دہشتگردانہ کاروائیوں کی الیکٹرانک میڈیا پر بار بار ذمہ داری قبول کی تھی۔ پاک فوج میں نچلی سطح کے سپاہی اور افسران ہمیشہ دہشتگردوں کیخلاف فرنٹ پر لڑتے ہیں۔ کسی قومی ، مذہبی اور سیاسی قیادت کے ہاں اتنی جرأت نہیں ہے کہ دہشت گردی کی فضاؤں میں اپنے بچوں کو فوج میں بھرتی کریں۔ منظور پشتین نے علی وزیر کیلئے کراچی میںدھرنا دیا تو اسکے قریبی ساتھی نور اللہ ترین اور منظور پشتین کی موجودگی میں مولانا قاضی طاہر محسود نے کہا کہ ”جو نعرہ لگائے کہ یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے وہ ہمارا ساتھی نہیں بلکہ دشمن ہے”۔ آج جو پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ہیں تو یہ بھی فوج کی پیداوار ہیں۔ ”یہ جو سیاست گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے”۔ کا نعرہ کیوں نہیں لگتاہے ؟۔
ہم نے پی ٹی ایم اسلام آباد کے پہلے دھرنے میں واضح طور پر جو بات سمجھادی تھی تو آج پی ٹی ایم اسی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ دہشتگردی کے پیچھے سیاست گردی اور ملا گردی کا بھی ہم نے نعرہ لگایا تھا۔ نواز شریف ، شہباز شریف اور عمران خان کے علاوہ مولانا فضل الرحمن ، تبلیغی جماعت ، جماعت اسلامی اور کالعدم سپاہ صحابہ کی وہ ذہنیت بھی دہشت گردی کے پیچھے تھی جس کی سزا پوری قوم نے اچھی طرح سے بھگت لی۔ جب تک پوری قوم کو سورہ توبہ کا درست ترجمہ اور تفسیر نہیں سکھائی جائے گی تو یہ خطہ دہشت گردی سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ مسلمانوں نے برصغیر پاک و ہند میں 800 سال تک حکومت کی لیکن کسی ہندو مشرک اور عیسائی مشرک کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ سورہ توبہ میں قتل کا حکم جنگ بندی کی مدت ختم کرنے کے بعد دیا گیا ہے اور اس میں گرفتار کرنے کا حکم بھی ہے۔ جس سے صرف قتل کرنے کی بھرپور نفی ہوتی ہے۔ اور پھر اسکے بعد کی متصل آیت میںیہ حکم دیا گیا ہے کہ” جب کوئی مشرکین میں سے پناہ لینے آئے تو ان کو پناہ دے دینا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کی آیات کو سن لیں۔ اور پھر ان کو وہاں پر پہنچادیا جائے جہاں ان کے امن کے ٹھکانے ہیں۔ اسلئے کہ یہ قوم علم نہیں رکھتی ہے”۔ (سورہ توبہ)۔ اللہ تعالیٰ کے اس واضح حکم کی جس طرح غلط تفسیر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور دیگر مفسرین کے ہاں کی گئی ہے جب تک اس کا درست ترجمہ و تفسیر جاہل دہشت گردوں کو اچھی طرح سے سمجھا نہ دیا جائے اس وقت تک یہ دہشتگردی کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھیں گے اور اپنی پشت میں بارود بھر کر بازاروں ، مساجد ، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خود کش کرینگے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچ طلبہ کی آواز کو دبانا بغاوت قرار دیا۔ ایمان مزاری مقدمہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچ طلبہ کی آواز کو دبانا بغاوت قرار دیا۔ ایمان مزاری مقدمہ

(نوٹ: خبر کے آخر میں تبصرہ ٔ نوشتہ دیوار( تیزوتند)قدوس بلوچ پڑھئے۔ یہ ہمارے ببر شیر قدوس بلوچ کی زندگی کا آخری تبصرہ ہے۔)

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری سمیت بلوچ طلبہ کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کا بڑا فیصلہ
چیف جسٹس نے کہا کہ بغاوت کا مقدمہ ان کے خلاف ہونا چاہیے جو طلبہ کی آواز کو دباتے ہیں۔یہاں پر ایک آئین ہے،عدالت تنقیدی آوازیں دبانے کی کوشش برداشت نہیں کریگی
اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بیٹھنے پر درج FIR کے مطابق یکم مارچ کوپولیس پر پتھر برسائے۔ کیمپ دادشاہ، ایمان مزاری ،قمربلوچ اور200طلبہ بلوچ اسٹودنٹ کونسل نے لگایا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو ایمان مزاری سمیت بلوچ طلبہ کی گرفتاری سے روک دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ بغاوت کے مقدمے تو ان کے خلاف ہونے چاہئیں جنہوں نے ان طلبہ کی آواز دبائی، یہاں پر ایک آئین ہے اور عدالت تنقیدی آوازیں دبانے کی کوشش برداشت نہیں کرے گی، ایس ایس پی صاحب آپ اس کیس میں کسی کو گرفتار نہیں کریں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی بیٹی اور وکیل ایمان مزاری کی درخواست پر پولیس کو آئندہ سماعت تک گرفتاریوں سے روک دیا۔وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے گزشتہ روز نیشنل پریس کلب پر احتجاج کرنے والے بلوچ طلبہ اور ایمان مزاری سمیت 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس کے خلاف ایمان مزاری نے آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔جس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی آر درج ہوئی ہے؟ جس پر ایمان مزاری کی وکیل نے آگاہ کیا کہ ہماری معلومات کے مطابق ایف آئی آر درج کر کے سیل کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایس ایس پی صاحب اس عدالت کے دائرہ اختیار میں کیا ہو رہا ہے، احتجاج کرنے والے بلوچستان کے طلبا کی بات سنی جانی چاہیے۔طلبا کے احتجاج پر آپ بغاوت کے مقدمے درج کر دیتے ہیں، بغاوت کے مقدمے تو ان کے خلاف ہونے چاہئیں جنہوں نے ان کی آواز دبائی۔ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کے احتجاج میں پولیس کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت یہ سب برداشت نہیں کرے گی کہ اس کی حدود میں کسی کی آواز دبائی جائے، کسی کی بھی بالخصوص بلوچستان کے طلبا کی آواز دبانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزیدکہا کہ طلبہ کی آواز دبانا درحقیقت بغاوت ہے، ساتھ ہی استفسار کیا کہ کتنے طلبا زخمی ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ یہ عدالت ایک کمیشن تشکیل دے، یہاں پر آئین ہے اور عدالت تنقیدی آوازیں دبانے کی کوشش برداشت نہیں کریگی، ایس ایس پی صاحب آپ اس کیس میں کسی کو گرفتار نہیں کرینگے۔ ضروری نہیں کہ پولیس ہر ایک کو گرفتار کرے، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔بعدازاں سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تینوں افسران 7 مارچ کو عدالت کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک پولیس کو مقدمے میں گرفتاریوں سے روک دیا اور صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سے معاونت طلب کر لی۔
وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی وکیل ایمان مزاری نے اندراج مقدمہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے FIRکی کاپی فوراً فراہم کرنے اور اسکا آپریشن معطل کرنے کی استدعا کی اور استدعا کی گئی کہ FIRسیل کرنا اور کاپی فراہم نہ کرنا قانون کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا جائے اور FIRکی کاپی اور وقوعہ کا تمام ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواست میں ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ سیل کی گئی FIRکا آپریشن معطل کیا جائے تاکہ کوئی زیر التوا کیس کے دوران ہراساں نہ کرے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیاکہ بلوچ طلبا پر پریس کلب کے سامنے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور پھر مجھ سمیت سب پرFIR درج کی۔ان کا کہنا تھا کہ پریس کلب کے باہر طلبہ جبری گمشدگیوں کیخلاف اور اپنے حقوق کیلئے احتجاج کر رہے تھے، آزادی رائے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے پریس کلب کے باہر طلبہ کے احتجاج میں گئی تھی۔ پریس کلب کے باہر پولیس نے پرامن طلبہ پر لاٹھی چارج کیا پھر میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ FIRمیں بغاوت کی دفعات شامل ہیں، پولیس FIRکی کاپی فراہم کرنے سے بھی انکاری ہے اور مجھے گرفتاری کا بھی خدشہ ہے۔ درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو فریق بنایا گیا۔
اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دھرنے پر بیٹھے طلبہ پر FIR درج کی گئی تھی،FIR کے مطابق مظاہرین نے یکم مارچ کو نیشنل پریس کلب کے سامنے اور کیمپ کے باہر پولیس پر پتھر برسائے، کیمپ داد شاہ، ایمان مزاری اور قمر بلوچ کی سربراہی میں بلوچ اسٹوڈنٹ کونسل نے لگایا تھا جس میں 200 طلبہ شریک تھے۔طلبہ میں زیادہ تر کا تعلق قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تھا جو خضدار سے اپنے ساتھی حفیظ بلوچ کی پراسرار گمشدگی کیخلاف احتجاج کررہے تھے۔
مقدمے میں کہا گیا کہ پولیس کے انتباہ کے باوجود مظاہرین نے ٹینٹ لگایا جو پولیس کو بزور طاقت اپنے قبضے میں لینا پڑا جسکے نتیجے میں جھڑپ ہوئی۔بعد ازاں طلبہ پولیس کو دھکیلتے ہوئے چائنا چوک پہنچے اور دھرنا دے دیا جہاں ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا۔پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین گتھم گتھا ہوگئے جس کے بعد ایس ایس پی آپریشنز اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے موقع پر پہنچ کر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے طلبہ سے مذاکرات کیے۔پولیس اور طلبہ کی جھڑپ کے دوران 6 طالب علم اور انسداد فسادات یونٹ کے 2 افسران بھی زخمی ہوئے۔

تبصرہ ٔ نوشتہ دیوار( تیزوتند)قدوس بلوچ
یہ ہمارے ببر شیر قدوس بلوچ کی زندگی کا آخری تبصرہ ہے۔ قدوس بلوچ کی زندگی پرامن احتجاج کے ذریعے ظالم کے خلاف مظلوم کے حق میں آواز اٹھانے سے عبارت ہے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے ظالم بادشاہوں کیخلاف پہلے مرحلے میں پرامن طریقے سے کلمہ حق بلند کرنے کے ذریعے سے جدوجہد کی تھی اور نبی کریم ۖ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ زندگی بھر کیلئے کیا تھا لیکن مشرکینِ مکہ نے اس کو توڑ دیا۔ فتح مکہ میں حضرت خالد بن ولید کے ذریعے قیس عبدالرشید کی قیادت میں پختون قبائل کے لشکر نے بھی مدد کی تھی لیکن جب خالد بن ولید کے ظالمانہ طرزِ عمل کا پتہ چلا تو نبی کریمۖ نے تین دفعہ آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ”اے اللہ !میں خالد کے فعل سے بری ہوں”۔ پختونخواہ کے کوہ سلیمان کی چوٹی سلیمان تخت پر قیس عبدالرشید کی قبر آج بھی موجود ہے۔
قدوس بلوچ کی زندگی تضادات کا بالکل بھی شکار نہیں تھی۔ وہ بلوچوں کیلئے اگر مسلح جدوجہد کے حامی ہوتے تو زبانی جمع خرچ سے حمایت کرنے کے بجائے سرماچاروں کیساتھ بذات خود بھی شریک ہوتے اور اپنے بچوں اور احباب کو بھی شریک کرنے کی پوری کوشش کرتے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ ” افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا ہے”۔ بلوچ اسلام کیلئے کبھی عرب گئے تھے لیکن امام حسین کی شہادت سے بد دل ہوگئے تھے۔ آج بھی عرب میں البلوشی کے نام سے بلوچ موجود ہیں جن کا بڑا نمایاں تاریخی کردار ہے۔عراق کے عرب البوشی نے ہی پہلی مرتبہ سرعام بازاروں میں کربلا کے شہداء کیلئے اس احتجاج کی جرأت کی تھی ورنہ تو پہلے چاردیو اریوں کے اندر احتجاج ہوتا تھا۔
منظور پشتین نے آواز لگائی کہ ”جو بھی ظلم کرے ، ہم اس کے خلاف ہیں”۔ قدوس بلوچ کی خواہش تھی کہ بلوچ بھی مسلح جدوجہد چھوڑ کر اپنے حق کیلئے بہت پرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔ قدوس بلوچ کا پروگرام تھا کہ 15مارچ سے اسلام آباد میں اپنی تحریک کے ساتھیوں اور احباب کیساتھ مشن کیلئے مستقل کام کریں۔ قدوس بلوچ نے بلوچ اسٹودنٹ کی طرف سے پرامن جدوجہد کے نتیجے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو ایک بہت مثبت پیش رفت قرار دیا ۔ آپ نے یہ مہینہ انقلاب کیلئے فیصلہ کن بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ اپنے بھانجے احسن بلوچ کو بھی دعوت دی کہ اسلام آباد میں ڈیرہ لگانے کیلئے ساتھ چلوگے۔
قدوس بلوچ کی علالت کے سبب عورت مارچ سے پہلے نوشتۂ دیوار کراچی کیلئے لاہور ، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں باقاعدہ جماعتیں نکالنے کا کام نہیں ہوسکا۔ امید تھی کہ قدوس بلوچ صحت یاب ہوکر جماعت کی قیادت بھی کریں گے۔ ہمارے ساتھی جمہوری طریقے سے امیر منتخب ہوتے ہیں اور جب تک اس کی کوئی شکایت یا سست روی کا رویہ سامنے نہیں آئے تو اس کو عہدے پر برقرار رکھا جاتا ہے۔ قدوس بلوچ کی خواہش تھی کہ بلوچ اپنے اور پرائے ظالم کی کھل کر مخالفت کریں تاکہ منزل آسان ہو اور بے گناہ مشکلات کا شکار نہ ہوں۔ صحافت کے ذریعے مخصوص طبقے کی حمایت اور مخالفت صحافت کے تقدس پر بہت بڑا دھبہ ہے۔ اچھی صحافت سے ملکوں اور قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پشاور شیعہ مسجد میں دہشت گردی کے بعد انجینئر محمد علی مرزا کے چینل پر دیوبندی عالم دین کا بیان

پشاور شیعہ مسجد میں دہشت گردی کے بعد انجینئر محمد علی مرزا کے چینل پر دیوبندی عالم دین کا بیان

دیوبندی عالم کیساتھ مرزا محمد علی نے اپنے چینل پر مفتی محمد تقی عثمانی کی تصویر بھی لگائی ہوئی ہے۔جسکا کہنا تھا کہ پشاور بم دھماکے میں ہماری ہمدردیاں شیعوں کیساتھ ہیں لیکن وہ کافرہیں!
سوال یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل، آئین پاکستان اور سعودی عرب میں حرم کے حدود میں داخل ہونے والے شیعہ کے بارے میں کیا رائے ہے؟۔لوگوںکو ضرور آگاہ کیا جانا چاہیے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علامہ سید جواد نقوی جامعہ عروة الوثقٰی لاہور کے ہاں دیوبندیوں کے امام مولانا سرفراز خان صفدر کے فرزندعلامہ زاہدالراشدی، بریلوی اور اہلحدیث جاتے ہیں۔ ایک طرف شیعہ شدت پسند عناصر علامہ سید جواد نقوی پر شیعہ سے خارج ہونے اور دیوبندی ہونے کا فتویٰ لگارہے ہیں تو دوسری جانب دیوبندی شدت پسند عناصر کا رویہ شیعوں کے معاملے میں سخت ہے۔ جب سپاہ صحابہ کے شدت پسندوں کے عروج کا دور تھا تو جمعیت علماء اسلام کے تمام دھڑے اور اکثر دیوبندی مکتب کے مدارس مولانا حق نواز جھنگوی اور مولانا ایثارالحق قاسمی کیساتھ کھڑے تھے۔بنوری ٹاؤن اور مدارس کا متفقہ فتویٰ آج بھی موجودہے۔
ہواؤں کا رُخ دیکھ کر بدلنے والے علماء ومفتیان کے تیورحالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں لیکن شیعہ شدت پسندوں اور دیوبندی شدت پسندوں کو ایک مؤقف پر اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک غلط فہمیاں دور نہیں ہوتی ہیں توکم ازکم دہشتگردی کے خلاف اتفاق رائے بہت ضروری ہے کیونکہ دہشت گرد مسلک وفرقے سے بالاتر سبھی کونشانہ بناتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے محسود اور وزیر علماء ایم این ایز مولانا نور محمد وزیر اور مولانا معراج الدین محسود کو شیعہ نے نہیں دیوبندی دہشتگردوں نے نشانہ بنایا تھا۔اگر شیعہ کافر ہیں تو آئین پاکستان پر ان کی اتفاق رائے ضروری تھی؟ اور آج اسلامی نظریاتی کونسل میں دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث علماء اہل تشیع کیساتھ کیوں بیٹھتے ہیں؟۔ کیاقادیانیوں کیساتھ بھی بیٹھ جائیں گے؟۔ اگرشیعہ کافر ہیں تو حرم کے حدود میں کافروں کا داخلہ ممنوع ہے۔ پھر کیوں شیعوں پر حرم کے حدود پابندی نہیں ہے؟۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے مولانا فضل الرحمن کے پلیٹ فارم سے شیعہ کا فر کا نعرہ نہیں لگایا۔ مولاناحق نواز جھنگوی کے بعد سپاہ صحابہ جے یو آئی ف سے علیحدہ ہوگئی اور پھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے شیعہ بیگم عابدہ حسین کی حمایت سے مولانا ایثار الحق قاسمی نے وہ سیٹ جیت لی جس پر بیگم عابدہ حسین نے مولانا حق نوازجھنگوی کو شکست دی تھی۔ کیا اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے سپاہ صحابہ کا اہل تشیع کے ساتھ اتحاد درست تھا؟۔ ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل میں شیعہ سنی ایک پلیٹ فارم پر کیوں متحد تھے؟۔ کیا قادیانی بھی ہوسکتے ہیں؟۔ اتحاد تنظیمات المدارس میں دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ کیوں اکٹھے ہوگئے تھے؟۔
علامہ سیدجواد نقوی کہتے ہیں کہ ”مشرک شیعہ نصیری کافر ہیں۔ ان کو شیعوں کی صفوں سے نکالو”۔ دارالعلوم دیوبند کے قاری طیب نے رسول ۖ سے استدعا کی تھی کہ میرے دیوبندی دشمن سے انتقام لے لو تو کیا ا ن پر شرک وکفر کا فتویٰ لگتا ہے، بریلویوں پر لگتا ہے؟۔ کس کس پر لگتا ہے بتائیے گاضرور!
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ سارے فرقہ پرستوں کا ایکدوسرے کو کافر کہنے پر اتفاق ہے لیکن ریاستی ایجنسیاں اس کا نوٹس نہیں لیتی ہیں۔ شیعہ پر کفر کا فتویٰ تین وجوہات سے لگایا گیاتھا۔ قرآن کی تحریف، صحابہ کی تکفیر اور عقیدۂ امامت۔ جب تک بڑے پیمانے پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر قرآن سے متعلق سنی شیعہ دونوں طرف کی مستندکتابوں پر بحث نہیں ہوگی تو کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔
شیعہ سنی اختلافات بہت پرانے ہیں۔ سپاہِ صحابہ وسپاہ محمد نے اتنے شیعہ سنی علماء وعوام کو نہیں مارا ہے جتنے حضرت علی کے دور میں جنگ جمل وصفین میں قتل و غارتگری ہوئی تھی۔پہلے دور میں ہمارا عقیدہ ہے کہ ان جنگوں میں خلوص تھا لیکن آج فرقہ پرستی کا ماحول، ذاتی مفادات اور عالمی قوتوں کی مداخلت کا بھی معاملہ ہے۔ درسِ نظامی میں قرآن وسنت کی تعریف اور احکام میں حنفی ، شافعی اور مالکی مسالک کے درمیان فرق کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو پھر اصلاح کی طرف لوٹنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ علامہ جواد نقوی اپنوں کو ذوالجناح و زنجیر سے نکال رہے ہیں ۔ ہم بھی ذرا سوچیں تو سہی!۔ مالکی مسلک میں بسم اللہ قرآن کا حصہ نہیں اور شافعی مسلک میں بسم اللہ قرآن کا بھی حصہ ہے اور سورۂ فاتحہ کا بھی۔ حنفی مسلک میں خبر آحاد کی آیات قرآن کا حصہ اور شافعی مسلک میں قرآن پر اضافہ اور کفریہ عقیدہ ہے۔ حنفی مسلک میں بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے لیکن اس میں شبہ ہے جس کی وجہ سے اس کامنکر کافر نہیں ۔ اگر بسم اللہ مشکوک ہو اور قرآن کے باہر آیات کو مانا جائے تو قرآن میں شک اور کمی بیشی کا عقیدہ پیدا ہوتاہے۔اگر قرآن پر صحابہ کے اختلاف کا عقیدہ رکھا جائے توپھر سنی شیعہ کس بات پر لڑیںگے؟۔کیا سنی مل بیٹھ کر قرآن اور اسکے واضح احکام پرا تفاق اور عمل کیلئے تیار ہیں؟۔جب سنی اپنی خرافات کو چھوڑ کر قرآن پر عمل کرینگے تو شیعہ بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جن کو پنجتن سے پیار نہیں ان کے کلمے کا اعتبار نہیں

جن کو پنجتن سے پیار نہیں ان کے کلمے کا اعتبار نہیں

ایک شعر صدیق اکبر کی تعریف میں بھی پڑھ لیتے ۔شرم نہیں آتی حضر ت اماں عائشہ لباس ہیں آمنہ کے لعل ۖکا۔

ایک گھنٹہ ہوگیا ہے کہ میں بیٹھا ہوں اور آنے کیساتھ ہی پرچی مل گئی کہ یہ پڑھنا ہے۔ میں نے دیکھا کہ تم لوگ ذکر بہت پیاراکرتے ہو۔ یہ نہیں کہ علی علی ہم کرتے ہیں تو دوسروں کاذکر ہمیں نہیں آتا۔ یہ ہماری کمزوری ہے کہ علی علی کرتے ہیں ۔ ابھی آپ مجھے ہوٹل پر لیکر گئے تو وہاں کئی قسم کے کھانے تھے سب حلال تھے، چاول بھی تھے، قیمہ بھی تھا، کباب بھی تھے۔ سارے ہی کھائے نا ۔ ہم حضور ۖ کے یاروں کے بھی نوکر ہیں اور پانچ بارہ کے بھی نوکر ہیں۔ مجھے گھنٹہ ہوگیا آپ سب کے نام لے رہے ہو ایک شعر نعت خوان صاحبان صدیق اکبر کا بھی پڑھ لو۔ اگر تمہیں واہ واہ نہ ملے اور پیسے نہ ملیں تو ایک ہی کام میں لگے رہو گے؟۔ مہربانی کرو، رازق خدا ہے۔کمال ہے تمہارا یہ نہ کرو ،ون سائڈڈ مت ہو۔ یہ نہ عابد کا عقیدہ ہے نہ طفیل مرحوم کا عقیدہ تھا۔ ہومیو پیتھک بھی رہتا ہے ماناوالا میں، ایلوپیتھک بھی رہتا ہے، قرشی والا بھی ہے۔ جن کو قرشی سے شفاء ملتی ہے وہ ہومیوپیتھک کو گالیاں نہیں دیتا۔ اس کو ڈاکٹر مانتا ہے، جو قطرے پیتا ہے وہ ٹیکہ لگانے والوں پر فتوے نہیں لگاتا ۔ جہاں سے شفاء ملتی ہے تم وہیں لگے رہو کسی کو ڈی گریڈ نہ کرو۔ ان کو اگر علی مل گیا تو یہ ان کی اپنی قسمت ہے علی بھی شان والا ہے اور انکے یار بھی شان والے ہیں۔ نعرہ رسالت (یا رسول ۖاللہ)۔ بیکار مت بنو ۔اپنا عقیدہ اچھے انداز میں بیان کرو، مجھے ایمانداری سے بتاؤ کہ جو قرآن کا غلاف ہے وہ پاک ہے یا نہیں؟ اگر قرآن کا غلاف میلا ہو تو قاری صاحب بچے کو کہتا ہے کہ اس کو دھو کر آجاؤ ۔ تو اس کی امی پہلے غلاف کو چومے گی اور پھر چھت پر لے جائے گی۔ پھر اس کو اسپیشل سرف سے دھوئے گی۔ اس کو واشنگ مشین میں نہیں ڈالے گی۔ کیونکہ یہ کپڑا اور ہے اور وہ کپڑے اور ہیں۔ شرم نہیں آتی ہے اللہ فرماتا ہے کہ ھن لباس لکم و انتم لباس لھن تمہاری بیویاں لباس ہیں تو تم بیویوں کے لباس ہو۔ تیری بیوی تیرا لباس ہے میری بیوی میرا لباس ہے اماں عائشہ میرے نبی ۖ کا لباس ہیں۔ ایمان سے بتاؤ اماں عائشہ لباس ہیں آمنہ کے لعل کا۔ یہ میرے سامنے رحل پڑی ہے خدا کی قسم آپ اس کو لاکھ میں بھی نہیں بیچیں گے کیو نکہ اس میں قرآن رکھا ہے۔ میرا نبی جب دنیا سے جارہا تھا ،جس طرح رحل پر قرآن ہے اسی طرح اماں عائشہ کی جھولی میں میرے نبی کا سر مبارک تھا۔ الحمد للہ ہم حضورۖ کے بھی نوکر ہیں اور حضور کے یاروں کے بھی نوکر ہیں۔ مجھے وہ بندہ سنے جو حضور کے یاروں کے ساتھ پیار کرتا ہے ، حضور کے خاندان کے ساتھ پیار کرتا ہے۔ میرے ہاتھ میں قرآن ہے اگر مجھے عابد پیارا ہے تو اس کا باپ بھی پیارا ہے، اسکے یار بھی پیارے ہیں۔ عابد کے دوست ملتان آئیں گے تو میں ان کو رہائش بھی دوں گا اور یہ بھی کہوں گا کہ کوئی خدمت ہے تو بتاؤ۔ مہربانی کرو جن کا کلمہ پڑھا ہے ان کے بھی یار ہیں۔ بیٹا آپ سبحان اللہ کیوں نہیں کہہ رہے ہیں؟۔
اس کا مطلب ہے کہ جو حق چار یار ہیں وہ بھی تمہیں پتہ ہیں خم غدیر کیا ہے ؟ ولیوں کا پیر کیا ہے؟ ۔اللہ نے اس خاندان کو بڑا حسن دیا ہے۔ محمد کریم بھی بہت سوہنا، علی بھی سوہنا، حسن بھی سوہنا، حسین بھی ، سجاد بھی، باقر بھی، جعفر صادق بھی علی رضا بھی، علی تقی بھی، علی نقی بھی، حسن عسکری بھی۔ مسجد میں نبی کے منبر پر بیٹھا ہوں، نیشا پور ایران میںامام علی رضا جب آئے تھے تو آپکے چہرے پر نقاب تھا، چالیس ہزار عالم قلم لیکر کھڑا تھا کہنے لگے علی رضا ذرا چہرے سے کپڑا تو اٹھاؤ، تجھے دیکھیں تو سہی تو کتنا حسین ہے؟۔ جب علی رضا کا چہرہ دیکھ لیا تو چالیس ہزار بندہ بے ہوش ہوگیا۔ جب علی رضا اتنا سوہنا ہے تو مصطفی کتنے سوہنے ہونگے؟۔
لوہا ر مشہور ہیں لوہے کی وجہ سے، سنار مشہور ہیں سونے کی وجہ سے، مستری مشہور ہیں تعمیر کی وجہ سے، کمہار مشہور ہیں برتنوں کی وجہ سے، تو میرے نبی ۖ کا خاندان کیوں مشہور ہے میں تم سے نہیں پوچھتا قرآن سے پوچھتا ہوں۔ میں مولوی سے کیوں پوچھوں ؟ ہوسکتا ہے وہ صدقے کا بکرا کھا کر کسی اور طرف لے جائے۔ میں کسی مجتہد سے نہیں پوچھتا ہوسکتا ہے وہ فنڈ شنڈپی کے ہونٹ نہ ہلائے۔ میں اندھا نہیں ہوں کیونکہ میرا علی قرآن کیساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔ میں قرآن کے پانچویں پارے سے پوچھتا ہوں نمازیں پانچ ہیں، پاکوں کی تعداد پانچ ہے، حواس خمسہ پانچ ، اسلام کے بنیادی ارکان پانچ ہیں۔
جن کو پنجتن سے پیار نہیں ان کے کلمہ پر بھی اعتبار نہیں
پارہ ہے پانچواں، سورت ہے نسائ، آیت نمبر ہے 54، پہلے لکھو گے 5پھر 4، اسکا مطلب ہے کہ پانچ کے نوکر اور چار کے نوکر ہیں۔ اللہ میرے نبی کے خاندان کی تعریف بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے کہ ان سے جلو مت، ام یحسدون الناس علیٰ ما اتاہم اللہ من فضلہ اے لوگو! جو میں نے فضل کیا ہے ابراہیم کے خاندان پر تم جلتے کیوں ہو؟۔ میں نے نبی کے خاندان پر ابراہیم کی آل پر فضل کیا ہے تم جلتے کیوں ہو؟۔ فضل میں نے کیا ہے جلتے تم ہو۔
اللہ کیوں فرماتا ہے ؟ فرمایا وقد اٰتینا اٰل ابراہیم الکتاب و الحکمة و اٰتیناھم ملکًا عظیمًاہم نے ابراہیم کی آل کو کتاب اور حکمت دی ہے اور ہم نے ملک عظیم کی بادشاہی بھی دی ہے۔ بیٹا میری طرف دیکھو! بندے بابر اعظم کا چوکا مس نہیں کرتے تم نبی کی آل کا ذکر مس کررہے ہو۔ میرا تجربہ ہے اندھے کو شیشہ دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ گنجے کو کنگا دینے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ بھینگے کو سرمہ لگانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ لنگڑے سے دوڑ لگوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ منکر کو اہل بیت کا ذکرسنانے کا بھی کوئی بقیہ صفحہ 3نمبر1پر

بقیہ نمبر1 … مولانا جعفر حسین قریشی
فائدہ نہیںہے۔خدا کی قسم نبی کے خاندان کو اللہ پاک نے پانچ چیزیںایسی بخش دی ہیں جو کسی کو نہیں دی ہیں۔ میں میٹرک اس وقت کرسکتا ہوں جب دس سال لگاؤں گا، FAاس وقت کرسکتا ہوں کہ جب بارہ سال لگاؤں گا۔BA اس وقت کرسکتا ہوں جب کہ چودہ سال لگاؤں گا۔MA اس وقت کرسکتا ہوں جب سولہ سال لگاؤں گا۔ جب تک میں اسٹڈی نہیں کروں گا پڑھ نہیں سکوں گا۔ یہ ہے علم کسبی۔ اللہ نے پانچ چیزیں خود دی ہیں۔ بتاؤ پہلی چیز کیا دی ہے؟۔ پہلی چیز اللہ نے حسن دیا ۔ یوسف علیہ السلام حسین تھے۔ اور جس کو دیکھ کر قدم رک جائیں اس کو یوسف کہتے ہیں، اور جس کو دیکھ کر یوسف خود رک جائیں اسے محمد کہتے ہیں۔ جس کو دیکھتے ہوئے عورتیں انگلیاں کاٹ ڈالیں اسے یوسف کہتے ہیں، اور جسے دیکھ کر گردنیں کٹ جائیں اسے آمنہ کا لعل کہتے ہیں۔ میرا نبی سوہنا، میرے نبی کا بابا عبد اللہ کتنا سوہنا تھا؟ بیٹا تقریر تحفہ ہے اسے قبول کرو۔ آپ کا بابا تھا مکے کا چاند، عبد اللہ کا نکاح جب بی بی آمنہ کیساتھ ہوا تو مکے کی دو سو کنواری بچیاں مر گئیں کہ ہائے یہ ہمارا دولہا ہوتا۔ دوسری چیز اللہ نے نبی کے خاندان کو دی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو علم عطا فرمایا ہے۔ ابرہہ جب ہاتھی لیکر آیا تھا تو سارا مکہ تھر تھر کانپ رہا تھا کہ آگیا آگیا۔ حضور کے دادا نے کہا کہ آگیا تو پھر کیا ہوا میں ہوں ناں۔ یمن کا بادشاہ ہاتھیوں کیساتھ آیا خانہ کعبہ کو گرانے کیلئے تو آپ ابراہہ کے پاس چلے گئے۔ جب ابرہہ نے حضور کے دادا کو دیکھا تو اٹھ کھڑا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں تو اس نے کہا کہ میں بادشاہ نہیں اسکے چہرے سے نور ٹپک رہا ہے یہ بادشاہ ہے۔ ابرہہ اس طرح سے کانپ رہا تھا۔ اگر ڈی سی کے سامنے کوئی جائے تو ساری باتیں بھول جاتا ہے۔ عبد المطلب سامنے گیا اور فرمایا ابرہہ ! کہا جی! ۔ فرمایا میرے اونٹ مجھے واپس کر۔ یہ ہے علم ۔ گاڈ گفٹ جن کو وہ پڑھائے، یونیورسٹیوں میں یہ علم نہیں ملتا۔ ابرہہ نے کہا کہ لو جی بابے کے کام دیکھو۔ میں آیا ہوں کعبے کو گرانے کیلئے اور تم اپنے اونٹ مانگ رہے ہو؟ ۔ یہ ہے علم۔ آپ نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ اے ابرہہ! اونٹ میرے ہیں کعبہ ہے خدا کا ، تو مجھے میرے اونٹ دے۔ کعبہ جانے اور کعبے کا خدا جانے۔ جب نجاشی کے دربار میں جعفر خطبہ دے رہے تھے۔ یہ کونسا آکسفورڈ کا پڑھا ہوا تھا۔ یہ کونسا ایچی سن کالج کا پڑھا ہوا تھا؟۔ نجاشی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور کہا کہ مکہ کے چوہدریوں چلے جاؤ اپنے تحفوں سمیت ، جعفر بھی ٹھیک ہے اس کا نبی بھی ٹھیک ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

عورت مارچ 2020 پر مولوی طبقے نے ہلا بول دیا

عورت مارچ2020پر مولوی طبقے نے ہلا بول دیا

اسلام آباد میں عورت مارچ والوں اور ان کی مخالفت میں مذہبی جوشیلے طبقے کو جس طرح ایک ٹینٹ کے کپڑے کی آڑ میں قریب قریب رکھا گیا تھا اور جوش وجذبات سے بھرپور مذہبی طبقے کے جلسہئ گاہ کے پاس ہی روڈ کے دوسرے سائیڈسے عورت مارچ والوں نے گزرنا تھا۔ پولیس کو چھوٹی چھوٹی سٹک دی گئی تھیں جو کسی تصادم سے بچانے کیلئے کافی نہیں تھیں۔ عورت مارچ کی خواتین نے بہت بہادری کیساتھ وہاں سے گزرنے کی جرأت کرلی۔ اگر بڑے بڑے پھنے خان جرنیل بھی ہوتے تو کنٹینروں کی آڑ میں بھی اس طرح غیرمسلح ہوکر گزرنے کی جرأت مشکل سے کرتے۔ دہشت گردی کی فضاء کا خوف توڑنے میں عورت مارچ نے اپنے اس اقدام سے بہت بڑا کارنانہ انجام دیا تھا۔ ایک مولوی نے ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ عورت مارچ والوں نے اس کو اینٹ ماری ہے۔ مذہبی طبقے کی پھینکی ہوئی چیزوں کو خواتین مارچ کے جلوس پر مأمور مردوں نے واپس پھینکا تھا اور اس سے زخمی ہونے والے مولوی کو شرم کھاکر ایف آئی آر درج نہیں کروانی چاہیے تھی۔
بلوچ سٹودنٹ کی طرف سے احتجاجی کیمپ لگانے پرسخت لاٹھی چارج کا احوال ایمان مزاری نے حال ہی میں ڈان نیوز کے پروگرام میں سنایا۔ اگر حکومت پابندی لگاتی تو عورت مارچ اور اس کے مخالفین پروگرام نہیں کرسکتے تھے لیکن ایک طرف حکومت نے بین الاقوامی میڈیا کے خوف سے عورت آزادی مارچ والوں کو بددلی سے اجازت دی تھی اور دوسری طرف مذہبی شدت پسند طبقے کو بھی کھڑا کردیا تھا۔ مذہبی امور کے وزیر مولانا نور الحق قادری نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی کیخلاف ویلاگ کرنے والی ہدیٰ بھرگڑی اور اس کی ساتھی عورتوں پر پابندی بھی لگ جائے۔ میڈیا پر بھی مراد سعید کی وجہ سے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اگرعورت کے اسلامی حقوق کا معاملہ اجاگر کیا جائے توپھرتصادم سے نکلا جاسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

آج نیوز کی اینکر سدرہ اقبال نے ماہین بلوچ کو مدعوکیا

آج نیوز کی اینکر سدرہ اقبال نے ماہین بلوچ کو مدعوکیا

کراچی کے علاقہ لیاری کی عوام کی تقدیر کو اپنی تعلیم وتربیت سے بدلنے والی ماہین بلوچ نہ صرف ملک و قوم بلکہ پوری انسانیت کیلئے قابلِ فخر ہیں۔ایک دن آئے گا کہ جب ملالہ یوسفزئی نے جس طرح آدھا نوبل انعام حاصل کیا تو ماہین بلوچ کواکیلے نوبل انعام سے نوازا جائے گا۔ مفادپرستی اور مزاحمت پرستی کے داؤ پیچ کھیلنے والے پیچھے رہ جائیں گے اور مثبت انداز سے معاشرے کی تقدیر بدلنے والی ماہین بلوچ سب کوہی پیچھے چھوڑ دے گی۔ پسماندہ طبقات کے بال بچوں پر محنت کرکے عروج تک پہنچانے والی ماہین کوسرخ وسبز سلام!

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv