پوسٹ تلاش کریں

اللہ نے قرآن میں یہودن کیساتھ نکاح کو جائزرکھا

اللہ نے قرآن میں یہودن کیساتھ نکاح کو جائزرکھا

فلسطینی قاسم وسلیمان کی طرح یہود کے بھانجے ہوتے تو اسرائیل کبھی اس طرح انسانیت سوزمظالم نہ کرتا

ہمارامذہبی طبقہ یہود سے بدتر ہے، مشعال خان کیساتھ کیا کیاتھا؟۔اسرائیل کو امریکہ ہی استعمال کرتاہے!

اسرائیل کو واضح الفاظ میں سمجھانا ضروری ہے کہ امریکہ ، برطانیہ اورفرانس نے جاپان وجرمنی پر ایٹم بم گرائے اور اینٹ سے اینٹ بجادی ۔کمیونزم کیخلاف اسلامی جہاد اور پاکستان کو استعمال کرکے روس کو پارہ پارہ کردیا۔ اب اسرائیل کو اسلام کے خلاف استعمال کرکے یہود کو نفرت کا نشان بنانا منصوبہ بندی ہے۔ خود کش حملہ آوروں نے رُخ کیا تو یہود سکون کی زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ امریکہ نے مجاہدین کو روس کیخلاف استعمال کیا ۔ پھر افغانستان،عراق کو نشانہ بنایا اور اب اپنے کرتوت کا خمیازہ خود بھگتنے کے بجائے اسرائیل و یہود کو نشانہ بنانا چاہتاہے۔ قل یاایھاالکتٰب تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم ألا نعبد اِلااللہ ولانشرک بہ شیئًا ولایتخذبعضنابعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوافقولوااشھدوا بانا مسلمونO” کہہ دو! اے اہل کتاب آؤ،اس بات کی طرف جو ہمارے اور آپ کے درمیان برابر ہے کہ ہم عبادت نہیں کرتے مگر اللہ کی۔اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے اور نہ بناتے بعض بعض کو اللہ کے علاوہ ارباب۔پس اگر یہ پھر جائیں تو کہو کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسلمان ہیں ”۔(آل عمران:آیت64)۔ اس پر نصاریٰ سے زیادہ یہود پورا اترتے ہیں۔ عیسائی شرک یہود آج توحید کے علمبردار ہیں لیکن مسلمانوں کی اپنی حالت آج کے نصاریٰ سے بھی بدتر ہے۔ یہود کو لڑانے والی شیطانی قوت سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ یہودن جمائما کے بچے قابل قبول ہیں تو دشمنی کس بات کی ہے؟۔ اگر فلسطینی مائیں یہودن ہوتیں تو اسرائیلی ماموں بنتے۔ قرآن نے رشتہ کی اجازت دی تو بھرپور فائدہ اٹھاتے۔ قرآن مولوی نے نہیں لکھا بلکہ اس میں بڑی حکمت عملی ہے۔ نفرتوں پردکان چمکانے والے مذہبی طبقے کااسلام سے کوئی تعلق نہیں جو انسانوں سے نفرت کرتے ہیں اور شیطانی سود کو اسلامی کہتے ہیں جس نے عالم انسانیت میں غربت کی بدترین تباہی وبربادی پھیلا رکھی ہے۔
نوازشریف نے جمعیت علماء اسلام کے بانی مولانا احمد علی لاہوری کے ایک پوتے اور جانشین مولانا محمداجمل قادری کو دودفعہ اسرائیل بھیجا تھا۔ نوازشریف ماضی میں تین مرتبہ وزیراعظم اور چوتھی مرتبہ بھی اس کی بانچھیں کھل چکی ہیں۔ مولانا عبیداللہ انور، مولانا درخواستی، اور مولانا سمیع الحقکی جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نوازشریف کی دم چھلہ رہ چکی ہیںاور اب مولانا فضل الرحمن ، جمعیت اہلحدیث وغیرہ دم چھلہ ہیں۔ جبکہ باقی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی اور اے این پی وغیرہ ویسے بھی مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرتی ہیں۔
تبلیغی جماعت کو اسرائیل میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ دعوت اسلامی کو بھی مل سکتی ہے اور اگر جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کو اسرائیل میں کام کا موقع ملے تو سرپٹ گھوڑے پہنچ جائیں گے۔ بھارتی ہندو کیساتھ کام کرنا اسرائیل کے یہود سے بدتر نہیں بلکہ قرآن وسنت کے لحاظ سے قریب تر ہے، یہود اصحاب قبلہ ہیں۔ ہندؤوں کا قبلہ نہیں ۔بھارت ہماری مذہبی جماعتوں کی جنم ماتا ہے اور آج بھی سب بڑی شدومد اور وفاداری کیساتھ وہاں موجود ہیں۔ جہادی طبقے کو تو ویسے دہشت گرد قرار دے چکے ۔ اب عوام کو دھوکہ نہیں دیا سکتا ہے۔
مختلف ادوار میں پاکستان نے اسرائیل سے خفیہ رابطہ استوار کیا ۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دور میں اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے کوئی درپے تھا لیکن اس کی بات واضح ہے کہ پاک فوج کے جنرل تھے کوئی اور نہ تھا۔ ترکی،مصر ،دیگر عرب نے اسرائیل سے سفارتی تعلق رکھا تو پاکستان کا کیا؟۔ یہودی لڑکیوں سے شادی کرکے قابل اولاد کی ضرورت ہے۔ ہماری نالائق قیادت نے ایک بہترین پاکستان کو اپنی نالائق اولاد کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔
ہماری حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت مریم علیہا السلام سے بڑی عقیدت ومحبت ہے۔اسلئے عیسائی دل وجان سے یہود کے مقابلے میں مسلمان سے زیادہ محبت وموودت رکھتے ہیں۔ داعش نے شام وعراق میں یزیدی اور کرد خواتین کو بھیڑ بکریوں کی طرح بازاروں میں بیچ دیا تو دنیا کو مسلمانوں سے نفرت ہوگئی۔ مغرب شاید اپنی حکمت عملی کا سہارا لیکر اسرائیلی یہود سے اس روئیے کا مظاہرہ دنیا کو دکھائیں تاکہ مسلمان سے دنیا نفرت کرے اور اسلام کا راستہ رک جائے۔ اسلئے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسلام کی درست تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں اور اگر یہود عیسائی خداؤں کے بارے میں انتہائی گھناؤنا عقیدہ رکھتے ہیں اور عیسائی انتقام کے درپے ہیں تو مسلمان امریکہ اور برطانیہ وغیرہ کے آلۂ کار نہ بنیں۔ کیونکہ اسلام ہی نے دنیا میں مذہبی آزادی اور جبرکے خلاف درست تصور دیا تھا۔ جو آج مؤمن اس سے خود غافل اور دوسری قوتوں کا آلہ کار بناہوا ہے۔
ہماری نفرت یہود ونصاریٰ سے نہیں سودی نظام سے ہے جس نے نہ صرف ہمارا بلکہ عالم انسانیت کے معاشی نظام کو غربت وتنگدستی کی آخری حد تک پہنچادیا۔ ہمارا مذہبی طبقہ ایک طرف ان کے سودی نظام کو حیلے سے اسلامی قرار دیتا ہے اور دوسری طرف دُم اٹھاکر نفرت کے پدو مارتا ہے۔ جس دن تھوڑی فضا بن گئی تو پھر یہی طبقہ یہود سے بھی بانہیں کھول کر محبت کرے گا۔
یہود کے ذہن میں یہ غلط بٹھادیا گیا ہے کہ تابوت سکینہ مسجد اقصیٰ کے نیچے دفن ہے ۔ اس غلط فہمی کا ازالہ کرنے کیلئے دنیا کے تمام سٹیک ہولڈرزکے سامنے مسلمان یہ تجویز رکھیں کہ بیت المقدس کو تہہ خانوں سمیت ازسر نوتعمیر کیا جائے تاکہ ایک عظیم الشان مسجد، عیسائیوں کا گرجا اور یہودیوں کی عباد ت گاہ بنانے کا مشن پورا ہو۔ پوری دنیا سے تمام لوگوں کو وہاں پہنچنے اور عبادت کرنے کی حوصلہ افزائی ہو۔ جمعہ کے دن مسلمانوں کے سپرد ہو ، ہفتہ کے دن یہودیوں اور اتوار کے دن عیسائیوں کے سپرد ہو۔ مذہب کے نام پر سیدھے سادے لوگوں کو لڑانے کی جگہ مذہب کی بنیاد پر یک جہتی اور محبت کیلئے دنیا میں اپنا کردار ادا کریں۔
غزہ و فلسطین کے مسلمانوں کو یہود کے قہر وغضب سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے۔ امریکہ نے9/11کے حادثے کیلئے اسلامی دنیا کو تباہ کیا۔ اب یہود نے10/7کیلئے غزہ کیساتھ بہت ظالمانہ سلوک کیا۔ جس کا ازالہ ممکن نہیں اور بدلے کی سکت بھی نہیں ہے اور ہو تو اپنے سے زیادہ بدلہ لینے کو قرآن نے منع کیا ہے اور معاف کرنے کی ترغیب دی۔ بلکہ معافی کا فرمایا۔9/11میں مطلوب اسامہ بن لادن کیلئے امریکہ نے گوانتاناموبے کے ٹارچر سیلوں میں بے گناہ لوگوں کیساتھ کیا نہ کیا؟۔ اسرائیل کی سازش ہے کہ مغرب کو مسلمانوں کیساتھ لڑادیا جائے۔ مسلمانوں نے کسی اورکی سازش میں آکر فلسطینیوں کو ظالم اسرائیل کے رحم وکرم پرکسی صورت بھی نہیں چھوڑنا ہے۔ہم آگاہی مہم چلائیں۔ اسلام کی انسانیت واضح کرکے دنیا بھر کے یہودونصاریٰ کو اپنے ساتھ ملائیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

انوکھی کہانی

انوکھی کہانی

سوشل میڈیا پر یہ انٹرویو ایک مسلمان عورت کا ہے جسے پشتو میں ہندوؤں کی چھوٹی عید ہولی کے موقع پر لیا گیا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ اس کا مسلمان باپ اکبر علی اسکے ہندو باپ چوہدری سکھ لال کا دوست تھا۔ وہ تین مہینے کی تھی کہ مسلمان باپ نے دوستی میں ہندو کے حوالے کی۔ سکھ لال نے بیٹی کو مسلمان کی طرح پالا،7سال میں قرآن ختم کرایا، نماز سکھائی اور مسلمانوں کی طرح تربیت کی۔ پھر ایک مسلمان سے اس کی شادی بھی کردی۔ یہ انوکھی کہانی بہت عجیب ہے اور اس سے ایک ہندو مخلص دوست کی وہ فطرت نمایاں ہے جو دیانت کے اعتبار سے اللہ نے انسانوں کے دلوں میں رکھی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شرعی احکام میں قرآن کی مثالی رہنمائی سے شعور وآگہی

شرعی احکام میں قرآن کی مثالی رہنمائی سے شعور وآگہی

اللہ نے طلاق کے مقدمہ میں فرمایاکہ ” اللہ کو اپنے عہدوپیمان کیلئے ڈھال نہ بناؤ کہ تم نیکی کرواور تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں میں صلح کراؤ”۔البقرہ:224
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میاں بیوی صلح چاہتے ہوں اور اللہ کو مذہب کے نام پر ان کے درمیان ڈھال کی طرح کھڑا کیا جائے؟۔ طلاق صریح وکنایہ کا کوئی لفظ بھی اللہ کی طرف سے پکڑ کا ذریعہ نہیں۔ فرمایا:” اللہ تمہیں لغو عہدوپیمان سے نہیں پکڑتامگر جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے اس پر پکڑتاہے”۔ البقرہ:آیت225
البتہ اگر عورت صلح نہ چاہتی ہو تو پھر طلاق کے صریح وکنایہ الفاظ نہیں حلف و ناراضگی اور ایلاء پر بھی پکڑسکتی ہے جس میں طلاق کا اظہار بھی نہ ہو۔ طلاق میں عورت کے حقوق زیادہ ہیں اور خلع میں کم۔ عورت چاہے تو خلع لے سکتی ہے مگر طلاق میں اسکے مالی حقوق زیادہ ہیں اسلئے عورت چاہے تومذاق میں طلاق کا لفظ پکڑلے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ تین چیزوں طلاق ، عتاق، رجوع میں سنجیدگی اور مذاق معتبر ہے۔ مگر مطلب یہ نہیں کہ میاں بیوی صلح چاہیں تب بھی اللہ رکاوٹ بن جائے اور یہ بھی نہیں ہے کہ بیوی رجوع نہ چاہتی ہو اور شوہر کو پھر بھی حق ہو۔
فرمایا: جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء لاتعلقی اختیار کرتے ہیں تو ان کیلئے4ماہ ہیں۔پس اگر پھر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے۔ البقرہ:226
جمہور کے نزدیک چار ماہ نہیں عمر بھر تک عورت کی جان نہیں چھوٹ سکتی ہے کیونکہ شوہر نے اپنا حق طلاق کا اظہار استعمال نہیں کیا ہے اور حنفی مسلک ہے کہ چارماہ تک شوہر کا بیوی کے پاس نہ جانا اپنے حق کا استعمال ہے اسلئے طلاق ہوگئی لیکن اگر دونوں طبقے سوچتے کہ یہ4ماہ عورت کی عدت ہے ،اسکی مرضی ہے کہ وہ عدت کے اندر رجوع چاہتی ہے یا نہیں؟ تو اختلاف کی بنیاد ہی ختم ہوجاتی۔
جب رسول اللہۖ نے ایلاء کے ایک ماہ بعد رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا: ”ان کو اختیار دیدو، اگر وہ علیحدہ ہونا چاہتی ہیں تو ان کی مرضی ہے”۔ طلاق تو دور کی بات ہے ناراضگی میں بھی عورت کو اختیار مل جاتاہے۔ البتہ طلاق میں اس کی عدت تین ماہ اور ایلاء میں چار ماہ ہے اسلئے اگر طلاق کا عزم ہواور اس کااظہار نہ کیا جائے تو یہ دل کا گناہ ہے جس پر اسلئے پکڑہوگی کہ ایک ماہ عدت کو بڑھایا۔
فرمایا:” اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو اللہ سننے جاننے والا ہے” البقرہ:227یعنی اللہ اس عزم کو بھی سنتا اور جانتا ہے جو دل کا گناہ ہے جس پر پکڑتا ہے۔
اگر ان آیات کے درست ترجمہ وتفسیر اور احکام پر عمل ہوجائے توعورت کی بڑی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔اور فقہ واصول فقہ میں مسائل پر اختلافات کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ شیعہ بھی فقہ جعفریہ سے جان چھڑاکر قرآن سے رہنمائی حاصل کریںگے۔ چاروں فقہاء کے اختلاف کو رحمت قرار دیا جائے گا کہ ان کی وجہ سے امت نے اعتدال کا راستہ اپنایا اور قرآن وسنت کی طرف رجوع کیا۔ عورت کو ناراضگی وطلاق میں صلح کرنے اورنہ کرنے کااختیار مل جائے گا۔چار ماہ یا تین ماہ کی عدت میں ان کو تمام حقوق بھی مل جائیں گے۔ خلع میں عورت کی عدت ایک ماہ یا ایک حیض ہے۔ قرآن نے خلع میں بھی عورت کو مالی تحفظ دیا ہے لیکن طلاق کے مقابلے میںکم مالی حقوق ہیں۔ اگر ترقی یافتہ دنیا کے سامنے قرآن کے دئیے ہوئے عورت کے حقوق کا درست نقشہ پیش کردیا تو پورا یورپ اور مغرب اپنا آئین معطل کرکے اسلامی معاشرتی حقوق رائج کردیں گے۔
اگر دانشوروں اور پڑھے لکھے طبقے نہیں بلکہ علماء و مشائخ کے سامنے بھی وہ فقہ اور اصول فقہ کے احکام پیش کردئیے جن میں قرآن و حدیث اور انسانی فطرت کو بہت بری طرح سے سبوتاژ کیا گیا ہے تو سب سے پہلے علماء ومفتیان ہی اس کے خلاف عَلم بغاوت بلند کردیںگے کیونکہ ان کی فطرت ایسی مسخ شدہ بھی نہیں کہ اس کو قبول کرنے پر بالکل مجبور ہوں۔ چند مفاد پرستوں کو چھوڑیں جنہوں نے دنیا کو قبلہ بنالیا اور اسی طرح کچھ ناسمجھ گدھے بھی ہوسکتے ہیں۔
فرمایا:” طلاق شدہ عورتیںخود کو3ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی اللہ نے کے رحموں میں پیدا کیا ہے کہ اس کو چھپائیں اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اس میںانکے شوہر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں بشرط یہ وہ اصلاح چاہتے ہوںاورعورتوں کیلئے وہ حقوق ہیں جو مردوں کے ان پر ہیں اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے”۔ البقرہ:228
زمانہ جاہلیت میں ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ ہوتا تھا تو اللہ نے طلاق کے بعد پوری عدت میں باہمی اصلاح کی بنیاد پر حلالہ کی لعنت کا قلع قمع کردیا۔ دوسری طرف عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی کا قلع قمع کردیا۔عورت راضی نہ ہوتو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا، پھر طلاق کے بعد کیسے ہوسکتا ہے؟
اللہ نے سورہ النساء آیت19میں عورت کو خلع اور آیات20،21میں مرد کو طلاق کا اختیار دیا اور دونوں صورتوں میں عورت کو مالی تحفظ دیا ہے تو پھر عورت سے خلع کا حق چھین لینے اور شوہر کو طلاق رجعی کا یکطرفہ اختیار دینے کے کتنے بھیانک نتائج ہیں؟۔ شوہر اپنی بیوی کو تین طلاق دے، پھر مکر جائے اور اگر عورت کے پاس گواہ نہیں اور شوہرقسم اٹھالیتا ہے تو عورت خلع لے اور اگر شوہر خلع نہ دے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔( حیلہ ناجزہ:مولانا اشرف علی تھانوی)
مفتی تقی عثمانی نے اپنی بیگم سے کہا کہ طلاق، طلاق، طلاق۔ اگر نیت ایک طلاق کی تھی اور رجوع کرلیاتووہ بدستور اسکے نکاح میں ہے لیکن بیگم صاحبہ پھر بھی سمجھے کہ اس کو تین طلاقیں ہوچکی ہیں۔ (بہشتی زیور۔ مولانا اشرف علی تھانوی)
پھر تو عورت حلالے سے بھی حلال نہیں ہوگی؟۔ آج کل بھی دیوبندی اور بریلوی مدارس میں اس پر فتوے چل رہے ہیں۔ اسلام کو اللہ اور اسکے رسول ۖ نے ان مذہبی طبقات کو ٹھیکے پر نہیں دیا ہے، اگر دین کی حفاظت نہیں کرسکتے تو علی وابوطالب اور نبی ۖ کی اولاد اٹھے اور اپنے ناناۖ کے دین کی حفاظت کرنا شروع کردے۔ اب تو آرمی چیف عاصم منیر بھی ایک حافظ سیدزادہ آیا ہے۔
فرمایا:طلاق دومرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں کچھ بھی واپس لو مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے ۔ اور اگر تمہیں خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں وہی دی ہوئی چیزعورت کی طرف سے دینے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان سے تجاوز مت کرو۔ جو تجاوزکرے تووہی ظالم ہیں۔البقرہ:آیت229
طلاق کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق ہے۔ اگر رجوع کرنا ہو تو معروف طریقے سے یعنی صلح واصلاح کی شرط پر رجوع کرسکتے ہیں۔ اگر عدت کے تینوں مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا فیصلہ کیا تو پھر تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ واپس لو۔ مگر جب دونوں اور فیصلہ کرنے والے یہ خوف رکھیں کہ اگر مخصوص دی ہوئی چیز واپس نہیں کی تو رابطہ کا ذریعے بنے گا اور دونوں اپنے رازدارانہ تعلقات کی بناء پر اللہ کی حدود توڑ دیںگے تو پھر اس چیز کو واپس کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ خلع نہیں بلکہ صلح نہ کرنے کی وضاحت ہے۔ جب یہ واضح ہوگیا کہ کسی صورت صلح نہیں کرنی ہے تو اللہ نے فرمایا: پس اگر پھر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ آیت230َ۔ اگر صلح کرنی ہے تو پھر عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع ہوسکتا ہے ۔آیات231،232۔ سورہ طلاق میں بھی یہی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

درس نظامی کے نصاب میں غلطی اورنشانِ منزل کا آئینہ

درس نظامی کے نصاب میں غلطی اورنشانِ منزل کا آئینہ

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلے سے پہلے دارالعلوم کراچی میں داخلہ لیا تھا جب میں نے کہا کہ زکوٰة کا مال مجھ پر جائز نہیں اور بلامعاوضہ اسلام کی خدمت کروں گا تو میرا داخلہ معطل کردیا۔ پھر جامعہ بنوری ٹاؤن آیا تو وہاں سے دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا کا راستہ بتایا گیا۔ رمضان میں نصیر آباد جامع مسجدالفلاح میں مولانا یوسف لدھیانوی کا درس سننے جاتا تھا۔ انہوں نے شرعی مسئلے کا ذکر کیا کہ قرآن کا مصحف اللہ کا کلام نہیں اس پر حلف نہیں ہوتا مگر زبانی کہا جائے کہ قرآن یا اللہ کے کلام کی قسم تو پھر حلف ہوتا ہے۔ میں حیران ہوا کہ جاہلوں اور علماء میں کتنا فرق ہے۔ جاہل جس چیز سے ڈرتے ہیں وہ تو حلف ہی نہیں۔ ہماری کسی کیساتھ210کنال مشترکہ زمین تھی، اس نے کہا کہ میں قرآن اٹھاتا ہوں کہ تمہاری ایک تہائی ہے یا تم کہو کہ ہماری آدھی ہے۔ ہم نے کہا کہ تم اٹھاؤ۔ اس نے قرآن پر قسم کھاکر ہمیں110کنال کی جگہ70کنال دی اور35کنال کا نفع کمایا لیکن پھر بھی ہم سے ناراض تھا کہ قسم اٹھوائی ہے۔
اگلے ماہ شوال میں بنوری ٹاؤن میں داخلہ ملا اور استاذ مفتی عبدالسمیع شہید سے بحث ہوگئی تو اس نے قرآن منگوایا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ؟۔ میں نے کہا کہ نہیں!۔ تو اس نے کہا کہ کافر ہوگئے!۔ میں نے کہا کہ پھر مولانا لدھیانوی بھی ہیں،ان سے سنا ہے۔ تو انہوں نے ناراضگی کا اظہارکیا کہ سب کچھ پڑھا ہے۔ عوام اور علماء دونوں کو ایک جیسا پایا۔ علماء نے کتابوں میں پڑھا مگر سمجھا نہیں ۔ ہم علماء کو اس گمراہی سے نہیں نکالیں گے تو امت مسلمہ کی اصلاح کیسے ہوگی۔ مولانا محمد خان شیرانی، مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان سے بھی اس پر بات ہوئی تھی۔
مولانا بدیع الزمان پہلے دارالعلوم کراچی کے مدرس تھے اور پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمارے استاذ تھے۔ علم نحو ، ترجمہ قرآن وتفسیر اور اصول فقہ اصول الشاشی اور نورالانوار اور حدیث کی کتابیں پڑھاتے تھے۔اصول فقہ میں حنفی مسلک یہ ہے کہ ضعیف حدیث کو بھی حتی الامکان رد نہیں کیا جائے لیکن قرآن کے مقابلے میں صحیح حدیث ہو تب بھی اس کو رد کیا جائے۔ مثلاً حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے”قرآن ہے۔ جس میں عورت کو اپنے نکاح کیلئے خود مختار قرار دیا گیا ہے کہ ”وہ اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ جبکہ حدیث میں ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ قرآن سے تضاد کی وجہ سے یہ حدیث مسترد ہے۔ میں نے مولانا بدیع الزمان سے عرض کیا کہ یہ آیت طلاق شدہ سے متعلق ہے اورحدیث کو حنفی مسلک کے مطابق مسترد ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔حدیث سے کنواری مراد لی جائے۔ استاذ کے نورانی چہرے کی پیشانی پر نور کی مزید چمک آئی اور فرمایا کہ ” جب آپ اگلی کتابیں پڑھ لو تو پھر اس کا حل تلاش کرو، امید ہے کہ آپ حل نکالنے میں بھی کامیاب ہوگے”۔
جمہور فقہاء ومحدثین نے کنواری، طلاق شدہ ،بیوہ تمام عورتوں کو ولی کا پابند قرار دیا ۔ حالانکہ بیوہ کیلئے طلاق شدہ سے زیادہ اپنے فیصلہ کا اختیارقرآن میں واضح ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا: اللہ نے قرآن سے امت کو وجعلناکم امة وسطًا معتدل بنایا۔ جو تخلیق کے اعتبار سے افراط وتفریط والی ہے ۔ حالانکہ تخلیقی اعتبار سے نبی ۖ نے فرمایا کہ ”ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے مگر پھر اس کو والدین یہودونصاریٰ بنادیتے ہیں”۔ السماء رفعھا و وضع المیزان الا تطغوا فی المیزان ”آسمان کو اونچا کردیا اورمیزان کو قائم کیا ۔ خبردار! میزان کے ا عتدال کو خراب مت کرو”۔ جب خاندانی بنیاد پر یزید بنوامیہ اور بنوعباس کو خلافت پر قبضہ کرنے دوگے اوراہل بیت کے نام پر شیعہ اعتدال کو چھوڑ دیں گے تو امت تفریق وانتشار کا شکار ہوگی۔ حدیث میں بکراور الایم یعنی کنواری اور طلاق شدہ وبیوہ کے احکام الگ الگ بیان کئے گئے ہیں مگرحنفی علماء نے حدیث اور قرآنی آیات کے معانی میں بھی مسلک سازی کا ارتکاب کیا۔
حنفی وشافعی مسلک سازی میں بے اعتدالی سے مسائل گھڑے گئے ہیں۔ اللہ نے طلاق کے بعد رجوع کیلئے صلح واصلاح، معروف ، باہمی رضامندی کے حوالے سے تمام آیات میں وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن حنفی نے مسلک بنایا کہ غلطی سے شہوت کی نظر پڑگئی ، نیند میں دونوں میاں بیوی کا ہاتھ لگا تورجوع ہوجائے گا اور شافعی کہتے ہیں کہ نیت کے بغیر مباشرت سے بھی رجوع نہ ہوگا۔ اللہ نے عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد طلاق سے رجوع کی وضاحت کی ہے اور فتاویٰ شامیہ میں لکھا ہے کہ ” عورت نے اگر نصف سے کم بچہ جنا ہو تو رجوع ہوسکتا ہے اور نصف سے زیادہ بچہ باہر آگیا تو رجوع نہیں ہوسکتا”۔ اگر نصف میں رجوع ہوگا تو پھر کیا بنے گا؟۔ اتنی فضول کی بکواسیات ہیں کہ اگر عوام کو پتہ چل گیا تو مولوی منہ چھپاتے پھریںگے۔ پنجاب کا شعور بیدار ہواتو فرقہ واریت و مسلک پرستی کے خاتمے میں دیر نہیں لگے گی۔ علماء دیوبند کے امام مولانا سرفراز خان صفدر نے گھکھڑمنڈی میں پیشکش کی تھی کہ گوجرانوالہ جامعہ نصرت العلوم کو اپنا مرکز بنالو۔ مگرہم نے معذرت کی کہ فرقہ کی طرف منسوب نہیںہونا تو بہت خوش ہوگئے اور کامیابی کا مژدہ بھی سنادیا۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ پاکستانی14اگست مناتے ہیں اور میلادالنبیۖ نہیں مناتے تو میلاد بدعت ہے۔ کیا سودکو جائز قرار دینا سنت ہے؟۔ فرقہ واریت میں ملوث رنگ رنگیلے لوگوں کے سینگ نہیں ہوتے۔ جماعت اسلامی کے ایک پروگرام میںمفتی رفیع عثمانی نے کہا کہ میں نیا نیا مدرس بنا تو اپنا نام مفتی محمدرفیع دیوبندی لکھا تو والد نے کہا:اس میں فرقہ واریت کی بدبو ہے، دیوبندی مت لکھو۔ جس پر ایک دیوبندی عالم نے کہا کہ مفتی شفیع کے معارف القرآن کی جلد اول چھپ گئی ،مفتی شفیع دیوبندی لکھا ہے۔ تو مفتی رفیع عثمانی نے بات کا رُخ موڑا کہ آپ کی تقریر اچھی ، میری اچھی نہیںتھی۔ یہ لوگ بعد میں عثمانی بن گئے۔ پچھلے شمارے میں غلطی ہوئی۔ مفتی عتیق الرحمن عثمانی بن مفتی عزیز الرحمن عثمانی بن مولانا فضل الرحمن عثمانی کا دیکھا کہ دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں سے تھے۔ شیخ الہند کے والد ذوالفقار علی دیوبند کے بانیوں میں تھے۔میں نے مغالطہ کھایا اور علامہ شبیراحمد عثمانی برادر مفتی عزیز الرحمن عثمانی کو شیخ الہند کے بیٹے سمجھ لیا۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب موجود ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اصول فقہ میں قرآن سے ٹکرانے کی بنیاد پر حدیث کو رد کیا گیا ہے جو خوش آئند ہے اسلئے کہ قرآن مقدم ہے ، اگرچہ حدیث کی بڑی تأویل ہے ۔ اور یہ ایک حدیث نہیں بلکہ200احادیث ہیں جن پر حد تواتر تک پہنچنے کا دعویٰ ہے۔ علاوہ ازیں اللہ نے فرمایا کہ ”مشرک سے نکاح مت کرو اور اپنی عورت کا مشرک سے نکاح مت کراؤ”۔ اور فرمایا ”زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے”۔ ان میں احادیث صحیحہ کی تائید ہوتی ہے۔ دوسری طرف مسئلہ کفو میں جعلی عثمانی لڑکی کا نکاح باپ کی اجازت کے بغیر ہندوستانی عجم کے نسل سے ناجائز قرار دیا گیا کہ نسل میں برابر نہیں ۔حالانکہ قرآن وسنت میں سبھی کو بنی آدم کہا ہے ۔ عجم وعرب ، کالے گورے اور ہر قسم کی نفری تفریق کا خاتمہ ہے۔ ہندو میں برہمن اور اچھوت کا تصور ہے۔ یہودی خود کو اعلیٰ نسل سمجھتے ہیں مگرعمران خان کو جمائما دیدی۔ پارسی نسل سولہ سالہ لڑکی کا باپ قائداعظم کو نہیں دینا چاہتا تو18سال کی عمر میں رتن بائی سے کورٹ میرج کرلی۔نصاب کی درستگی سے علماء کا دماغ درست ہوگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ادارہ منہاج القرآن لاہور میں اجلاس بلالیں

ادارہ منہاج القرآن لاہور میں اجلاس بلالیں

کتابت اورکتاب میں قرآن اللہ کا کلام ہے۔ امام ابوحنیفہ نے علم الکلام کی گمراہی سے توبہ کی تو اس کو اصول فقہ میں پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟، مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ کیمرے کی تصویر میں عکس کو جمادیا جاتا ہے اسلئے یہ وہ تصویر نہیں جس کی حدیث میں مخالفت ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی نے اچھے خاصے دلائل دئیے مگر مفتی شفیع کو ان کا مقام معلوم نہیں تھا اسلئے جہالت کا مظاہرہ کردیا اور ان لوگوں نے ہتھیار ڈال دئیے، جو مولانا آزاد انگریز کے سامنے ڈٹ جاتا تھا وہ جاہل کے سامنے بے بس تھا۔ جاہل ہمیشہ اپنا تھوکا ہوا چاٹتاہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اب کہا کہ ” موبائل میں لکھا ہوا قرآن پڑھنا بھی جائز ہے مگر ثواب اصل قرآن میں پڑھنے کا ملے گا کیونکہ موبائل میں اصل نہیں عکس ہے۔ اصل قرآن تو وہ جو مصاحف میں ہے”۔ جاہل کواتنی تمیز بھی نہیں کہ جو کتابوں میں چھپے ہوئے قرآن ہیں یہ بھی پہلے کمپیوٹر میں عکس بنتے ہیں اور پھر اس کی پلیٹیں بھی عکس ہی بنتی ہیں اور پھر یہی عکس چھپائی میں بھی عکس ہی ہوتا ہے۔ مولانا آزاد کی بات تصویر کے حوالے سے تھی اور اس نے یہاں کوئی اور بات بنالی۔
جب المکتوب فی المصاحف ” مصاحف میں لکھے ہوئے” سے مکتوب لکھائی مراد نہیں تو پھرمکتوب لکھنے کی ضرورت کیا تھی؟۔ الذین یکتبون الکتٰب بایدیھم ثم یقولون ھٰذا من عنداللہ ”جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے”۔ عربی میں مکتوب لکھی ہوئی چیز کوکہتے ہیں ۔الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبًا عندھم فی التورٰة والانجیل یأمرھم بالمعروف و ینھٰھم عن المنکرو یحل لھم الطیبٰت ویحرم علیھم الخبٰئث”جو لوگ اتباع کرتے ہیں اس رسول نبی امی کی جس کو وہ اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں توراة اور انجیل میں ۔ان کو معروف کا امر کرتا ہے اور منکر سے روکتاہے اور حلال کرتا ہے ان کیلئے پاک چیزوں کو اور حرام کرتا ہے ان پر خبائث کو”۔
ولوانزلنا علیک کتابًا فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھٰذا سحر مبین ”اگر ہم آپ پر کتاب کو کاغذ میں اتارتے پھر کافر اس کو چھوتے اپنے ہاتھوں سے تو کہتے کہ یہ کھلا جادو ہے”۔
قرآن میں اللہ نے اپنے کلام کو بار بار کتاب قرار دیا ۔ مصحف و کتاب کا مطلب ہی کاغذ پر لکھے ہوئے صفحات کا مجموعہ ہے ۔ والقلم ومایسطرون ”قسم ہے قلم کی اور جو سطروں میں لکھا ہوا ہے”۔ قرآن اس سے بھرا ہواہے۔ علامہ اقبال نے ”ابلیس کی مجلس شوریٰ ” میں الٰہیات کا ذکر کیا ہے کہ
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مرگیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذاتِ حق حق سے جدا یا عین ذات؟
کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم؟
امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات!
کیا مسلمان کے لئے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہٰیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
تم اس سے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تابساطِ زندگی اس کے سب مہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے تاقیامت رہے مؤمن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
اقبال نے اس الٰہیات علم الکلام کا ذکر کیا جس سے امام ابوحنیفہ نے توبہ کرکے فقہ کا رُخ کیاتھا مگر اقبال کو اس فقہ واصول فقہ کا پتہ نہیں جو گمراہیوں سے مالامال ہے جس سے توبہ کرکے امام غزالی نے تصوف کا رُخ کیا۔
عربی میں اسماء کیساتھ الف لام بھی لگتا ہے۔ رحمن ، رحیم اور الرحمن الرحیم۔ یہ بھی مدارس میں ہے کہ اللہ اصل الہ سے ال کی وجہ سے اللہ بن گیا۔ دوسری طرف یہ بھی کہ یہ اللہ کا اسم ذات ہے اور باقی صفاتی نام ہیں۔ نالائق طبقے نے اب یہ کہنا شروع کردیا کہ خدا نہیں اللہ کہنا چاہیے۔ کیونکہ ہندی و دیگر زبانوں میں اللہ کے نام کی جگہ انکے اپنے معبودوں کا ذکر ہے، حالانکہ جب اللہ نے تمام قوموں کے رسول انکی اپنی زبانوں میں بھیجے توپھر سب میں اللہ ہوتاکیونکہ نام تو زبان کیساتھ نہیں بدلتا۔ عبرانی، سنسکرت ، ہندی سب زبانوں میں الگ الگ نام نہ ہوتے؟۔لولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعضٍ لھدمت صوامع وبیع وصلٰوٰت ومساجد ذکر اللہ فیہ اسم اللہ کثیرًا” اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریع دفع نہ کرتا تو گرادی جاتیں خانقاہیں، کلیسے، گرجے اور مساجد جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے”۔(سورة الحج آیت:40 )
مسجدالا قصیٰ بیت المقدس کو یہود منہدم نہیں کرسکتے ،اسلئے کہ صرف مسلمان نہیں بلکہ بعض یہود ، اکثرنصاریٰ اور دیگر لوگ اسکے دفاع کیلئے موجود ہیں۔مگر موجودہ دور کے مسلمانوں سے دنیا خوفزدہ ہے کہ اگر خلافت قائم کرلی تو سب کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کو لونڈیاں بنادیں گے۔ جب تک مسلمانوں کی جہالت وتشددکا خوف دنیا کے دلوں سے ہم نکالنے میں کامیاب نہیں ہوجائیں تو وہ ہمیں ہمیشہ اپنی حدود اور فتنہ وفساد میں مبتلاء رکھیںگے۔
جب اللہ نے رسول ۖ کے دور میں اعرابیوں سے کہا کہ تم مؤمن نہیں بلکہ مسلمان ہو تو ہم بھی اپنے اوپر نظر ثانی کریں؟ جو اہل زبان بھی نہیں ہیں!۔ قالت الاعراب اٰمنا قل لم تومنوا ولٰکن قولوااسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم وان تطیعوااللہ و رسولہ لایلتکم من اعمالکم شیئًاان اللہ غفور رحیمO” اعرابی بولے ہم ایمان لائے۔ آپ فرمادیں کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ ہاں یوں کہو کہ ہم اسلام لائے اور ابھی تک تمہارے دلوں میں اسلام داخل نہیں ہوا ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو تمہارے اعمال میںکسی عمل کوکم نہیں کرے گا۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔
ہماری عوام اور جاہل گنوار تو اپنی جگہ مذہبی طبقہ بھی فقہاء کے7طبقوں کی ظلمات بعضھا فوق بعضٍ” اندھیر نگریاں ہیں ایک دوسرے کے اوپر” کو پار کریں گے تو اللہ اور اس کے رسول ۖکی اطاعت کی بات آئے گی؟۔ ہم نے خود ساختہ مذاہب کے نام پر جس طرح اسلام کو مسخ کیا ، فرقہ واریت کی بنیاد پر ایک دوسرے کیلئے بلکہ دنیا اور انسانیت کیلئے بھی بدترین لوگ بن چکے ہیں۔ مساجد کے ائمہ، مدارس کے مفتی، سیاسی علماء اور مذہب کے نام پر دعوتی اور تنظیمی کا م کرنے والوں کی حالت کتاب ”عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں: مولانا یوسف لدھیانوی شہید” میں دیکھ سکتے تھے جو مارکیٹ سے غائب کی گئی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مذہبی طبقات کا قرآن سے بدترین انحراف اور نشاندہی!

مذہبی طبقات کا قرآن سے بدترین انحراف اور نشاندہی!

مدینہ منورہ کے ایک کتب خانے میں دوعرب علماء سے بات ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ قرآن کی تحریف کے قائل ہیں۔ میں نے کہا کہ تم نہیں ہو؟۔ اپنی کتاب ابن ماجہ دکھاؤ۔ ان کو رضاعت کبیر کی روایت دکھائی کہ وہ آیات جن میں رجم اور بڑے آدمی کو دودھ پلانے کا حکم تھا، جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو بکری کے کھا جانے سے وہ آیات ضائع ہوگئیں۔ میں نے کہا کہ میں شیعہ ہوں اور نہ سنی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی شیعہ ہیں اور نہ سنی۔ یہ عرب علماء کا حال ہے ۔
مدینہ یونیورسٹی کے پاکستانی بلوچ طالب علم( روضہ رسولۖ پر ڈیوٹی اور فراغت میں چند ماہ تھے ) نے اپنے ایک بلوچ استاذ سے ملاقات کرائی۔ کچھ اور طالب علم اور افراد بھی ساتھ تھے۔ جب میں نے کہا کہ اصول فقہ میں قرآن کی جو تعریف پڑھائی جاتی ہے تو کیا یہ عوام اور علماء کیلئے قابل قبول ہوسکتی ہے؟۔ جب ان کا ذہن حقائق کی طرف گیا تو کہنے لگے کہ” یہ اتنا خطرناک مسئلہ ہے کہ اگر یہاں انتظامیہ اور حکومت کو پتہ چل گیا تو ہمیں یہاں سے نکال دیںگے یا غائب کردیںگے”۔اسلئے پاکستان میں اس پر بحث کرنا زیادہ موزوں ہے۔
فقہ حنفی کے امام ابو حنیفہ اور شاگردوں کے درمیان قرآن پر اختلاف تھا۔ امام ابوحنیفہ فارسی میں نماز جائز سمجھتے تھے اسلئے کہ قرآن عربی الفاظ اور اس کا فارسی یا اپنی زبان میں مفہوم قرآن ہے۔ درس نظامی کی کتاب ” نورالانوار” میں ہے کہ” امام ابوحنیفہ بڑے ولی اللہ تھے اسلئے عربی زبان میں قرآن کے الفاظ کی سجاوٹ کو بندے اور خدا کے بیچ میں حجاب اور رکاوٹ سمجھتے تھے”۔ امام ابوحنیفہ پہلے علم الکلام کی گمراہی میں بھٹکے تھے اورپھر توبہ کی تھی۔ قرآ ن میں اللہ نے فرمایا ” ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اسکی قوم کی زبان سے تاکہ وہ اسکے ذریعے اللہ کا پیغام واضح کریں”، امام ابوحنیفہ نے انسانی فطرت کے مطابق اپنی زبان میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا تھا۔ سندھ میں قرآن کاسندھی ترجمہ محمد بن قاسم کی آمد سے بھی پہلے کیا گیا تھا اور سندھ میں جمعہ کا خطبہ بھی عربی کی جگہ سندھی زبان میں پڑھاجاتا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اے ایمان والو! نماز کے قریب مت جاؤ ، جب تم نشے کی حالت میں ہو۔ یہاں تک کہ تم سمجھو کہ جو کہتے ہو”۔(قرآن)نماز میں قرآن کے عربی الفاظ مفہوم کے بغیر بھی نشہ میں پڑھنے کی طرح ہی ہیں۔
جب شاہ ولی اللہ نے فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا تو علماء نے کفر کا فتویٰ لگایا اور ان کو کچھ سال روپوش رہنا پڑا تھا۔ سوال یہ تھا کہ قرآن کا ترجمہ کلام اللہ ہے یا نہیں؟۔یہ بھی ایک عقیدے کی جنگ تھی۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھاہے کہ ”قرآن کے عربی الفاظ قرآن کا اعجاز ومعجزہ نہیںبلکہ قرآن کا وہ مفہوم ہی قرآن کا اعجاز اور معجزہ ہے جس کی وجہ سے مردہ قوم میں نئی زندگی پیدا ہوجائے”۔
اصول فقہ میں قرآن کی تعریف یہ ہے ہو اسم لنظم والمعنی جمیعًا ”قرآن نام ہے عربی الفاظ اور معنی سب کا”۔یعنی اللہ کا کلام نہ صرف عربی کے الفاظ ہیں معانی کے بغیر اور نہ صرف معانی ہیں عربی کے الفاظ کے بغیر۔ بلکہ ان دونوں الفاظ اور معانی کا نام اللہ کا کلام ہے۔ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبة ” جو لکھا ہوا ہے مصاحف میں اور جو نقل کیا گیا آپۖ سے متواترنقل بغیر کسی شبہ کے”۔ اس کی شرح میں ملاجیون نے لکھا ہے کہ ” مکتوب سے مراد لکھا ہوا نہیں کیونکہ لکھا ہوا محض نقش ہے ،اللہ کا کلام نہیں۔ نقل متواتر سے وہ آیات نکل گئیں جو اخبار احاد یا اخبار مشہور ہیں اور بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ اگر چہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے لیکن اس میں شبہ ہے ”۔ (نورالانوار) توضیح تلویح میں لکھا ہے کہ” اگرچہ کسی آیت کا انکار کرنے سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے لیکن بسم اللہ میں شک اتنا زیادہ قوی ہے کہ اس کے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بنتاہے”۔(درسِ نظامی کی تعلیمات)
نمبر1:جب قرآن کے معانی کو اللہ کا کلام نہیں سمجھا جائے تو پھر اخبارات اور کتابوں میں اردو کے اندر فرمان باری تعالیٰ لکھنا درست ہوگا؟۔
نمبر2:جب عربی میں لکھا ہوا بھی قرآن نہیںبلکہ نقش ہے تو پھر اس کی توہین قرآن کی توہین ہوگی؟۔ جس پر مسلم دنیا میں کہرام مچ جاتا ہے؟۔ حالانکہ فتاویٰ قاضی خان ، صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس، فتاویٰ شامیہ میں سورہ ٔ فاتحہ کو علاج کی غرض سے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا گیا ہے اسلئے کہ جب لکھائی کی صورت میں اللہ کا کلام مانتے نہیں توپھر پیشاب سے لکھنے میں کیا حرج ہے؟۔
نمبر3:متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں مگر نورالانوار میں ہے کہ حنفی فقہ میں قرآن کی خبرواحد بھی آیت ہے جبکہ شافعی یہ تحریف قرآن سمجھتے ہیں۔ حنفیوں کے نزدیک فکفارتہ……صیام ثلاثة ایام قرآن کے ساتھ متتابعات اگرچہ متواتر نہیں بلکہ خبر واحد ہے لیکن پھر بھی قرآنی آیت ہے۔اسلئے متواتر تین دن روزے رکھنا ضروری ہیں۔ جبکہ شافعی یہ آیت اور قرآن نہیں مانتے ہیں۔
نمبر4:جب بسم اللہ کو صحیح آیت ماننے کے باوجود بھی شبہ کی وجہ سے قرآن میں داخل نہیں کیا تو اللہ نے فرمایا کہ ذلک الکتٰب لاریب فیہ ” یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی ریب نہیں ہے”۔ ریب شک کے بہت ادنیٰ درجے کو کہتے ہیں اور جب قرآن کی ابتداء میں قرآن پر اتنا بڑا حملہ کردیا تو یہ حماقت نہیں ہے؟۔ امام شافعی کے نزدیک جہری فرض نماز میں جہر سے پڑھنا فرض ہے ۔ اسکے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ مسلک مالکی میں فرض نماز میں خفیہ بسم اللہ پڑھنا بھی جائز نہیں۔ حنفی مسلک میں صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا جزء ہے مگر اسمیں شک ہے ۔
نمبر5:” عبداللہ بن مسعود نے آخری دو سورتوں سورہ الفلق وسورہ الناس کی قرآن کا انکار کیا تھا”۔ تفہیم القرآن:مولانا مودودی، تفسیر عثمانی علامہ شبیراحمد عثمانی اور تبیان القرآن علامہ غلام رسول سعیدی میں تفصیل دیکھ لیجئے گا۔
اصل بات یہ تھی کہ ابن مسعود کے مصحف کا پہلا اور آخری صفحہ پھٹ چکا تھا۔ جس نے مصحف کی زیارت کی تو اس نے بتایا کہ سورۂ فاتحہ و معوذتین نہیں تھے۔ مفتی حسام اللہ شریفی کے پاس اورنگزیب بادشاہ کے ہاتھ لکھا ہوا قرآن ہے اور اس میں فاتحہ اور آخری پانچ سورتیں نہیں۔ باقی پھراپنی کہانیاں گھڑی گئی ہیں۔
نمبر6:اصول فقہ میں جتنی آیات کے ٹکڑے لکھے گئے ہیں وہ پڑھنے والے طالب علم اور پڑھانے والے استاذ خود بھی نہیں سمجھتے۔ وہ احادیث صحیحہ اور صحابہ وجمہور فقہاء ومحدثین کے مذاہب سے ٹکرانے کیلئے ہیں اور ان کے ضمن میں حنفی اماموں کے درمیان آپس میں بھی گھمبیر اختلافات ہیں۔
نمبر7:جب فقہ کے بنیادی احکام میں قرآن کی واضح آیات پر اتفاق نہیں تو پھر حدیث، اجماع اور قیاس پر اتفاق کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے حنفی فکر پر ایران کے متحد ہونے کا بھی لکھا ہے اور انشاء اللہ ضرور ہوگا۔
نمبر8:ایک طرف فضول قسم کے تضادات کا خاتمہ ضروری ہے اور دوسری طرف مسلک حنفی اقرب الی الحق ہے اور یہ نہ ہوتا تو سب کچھ ملیامیٹ ہوجانا تھا اور ایک ایک بات ہم انشاء اللہ بہت احسن انداز میں ثابت بھی کریں گے۔
نمبر9:اکثر معاملات کا حل بھی مختلف شماروں میں پیش کردیا ہے اور سب کیلئے اطمینا ن بخش بھی ہے۔ درس نظامی کا محور ٹھیک ہے مگرمحور سے ہٹنا غلط ہے۔
نمبر10:کفارے کیلئے شہرین متتا بعین پر قیاس کرتے ہوئے تین دن میں بھی متتابعات کی تفسیر درست ہے۔ اگر حنفی اخبار احاد کو آیات سمجھتے تو ابن مسعود کے مصحف میں متعہ کو بھی آیت قرار دیکر جائز سمجھتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تجھ سے فتویٰ مانگتے ہیں،کہہ دو!اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے

تجھ سے فتویٰ مانگتے ہیں،کہہ دو!اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے

قرآن میں اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ آپ سے یہ لوگ فتویٰ مانگتے ہیں اور اللہ انہیں خودفتویٰ دیتا ہے!

یستفتونک قل اللہ یفتیکم ”آپ سے فتویٰ مانگتے ہیں کہہ دو اللہ تمہیں فتوی دیتا ہے”۔(القرآن)

سورہ نساء میں اللہ نے فرمایا: یستفتونک قل اللہ یفتیکم ” یہ لوگ آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں ۔ کہہ دیں کہ اللہ فتویٰ دیتا ہے”۔ النسائ:176
جب فتویٰ اللہ کی طرف سے ہوگا تو قرآن میں موجود ہوگا اور نبیۖ نے فتویٰ دیا ہوگا تو احادیث صحیحہ میں موجود ہوگا ۔ حضرت عمر نے بھی قرآن کے عین مطابق فتویٰ دیا تھا لیکن مسلکی وکالت میں بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں ہوئی ہے۔
ایک شخص پاکستان اور دنیا بھر میں تمام مسالک شیعہ ، اہل حدیث اور حنفی کے بڑے مدارس اور بڑے بڑے دارالافتاء سے یہ فتویٰ طلب کرتا ہے کہ
میں نے اپنی بیوی سے کہا ہے کہ تجھے تین طلاق۔ اب بیوی کہتی ہے کہ مجھے اس طلاق کے بعد علیحدگی اختیار کرنی ہے۔ میں نہیں چاہتی ہوں کہ شوہر مجھ سے پھر رجوع کرے اور ازدواجی تعلقات استوار کرے۔ لیکن میں رجوع چاہتا ہوں۔ قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی کیجئے۔ جزاک اللہ فی الدارین۔
حضرت عمر کی عدالت کا فیصلہ یہ ہوگا کہ اب رجوع نہیں ہوسکتا ہے ۔ جب عدت پوری ہوجائے تو عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔ کیا حضرت عمر نے یہ فیصلہ قرآن کے منافی کردیا ہے؟۔اگر نہیں تو پھر اس کی دلیل کیا ہے؟۔
المطلقٰت یتربصن بانفسھم ثلاثة قروء ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علھین درجة البقرہ:آیت228
ترجمہ :”طلاق شدہ عورتیں تین ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں۔اور ان کیلئے حلال نہیں ہے کہ اس کو چھپائیں جو اللہ نے پیٹ میں پیدا کیا ہے ، اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں۔ اوراس مدت میں ان کے شوہر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کرناچاہتے ہوں۔ اور ان عورتوں کے بھی ایسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے معروف طریقے سے ہیںاور ان پر مردوں کا ایک درجہ ہے”۔ (سورةالبقرہ:آیت228)
قرآن میں اللہ نے عورت کو طلاق کے بعد اختیار دیا ہے کہ اگر رجوع نہیں کرنا چاہتی ہو تو اس کو یہ حق حاصل ہے کہ صلح سے انکار کردے۔ اور عورت کی طرف سے انکار کی صورت میں شوہر کو رجوع کا کوئی حق اللہ نے نہیں دیا ہے۔
حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دیا تھا۔ اگر حضرت عمر نے یہ فیصلہ نہیں دیا ہوتا تو پھر لوگ گمراہی کا شکار ہوکر طلاق کو کھلواڑ بنادیتے ۔اگر شیعہ اور اہل حدیث کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے غلط فیصلہ کیا ہے تو صحابہ کرام، تابعین عظام ، تبع تابعین ذی احترام اور ائمہ اربعہ اصحاب مقام ہی نہیں پوری دنیاکے تمام ممالک کی عدالتوں میں حضرت عمر اور قرآن کا یہ فیصلہ پیش کردو۔ سب اس کے درست ہونے کی تصدیق کردیں تو پھر برائے مہربانی اہل سنت کو کہنے دیں کہ حضرت عمر واقعی فاروق اعظم تھے اور اپنے اپنے مسلک اہل حدیث و اہل تشیع کو بھی قرآن اور حضرت عمر کے فیصلے کے مطابق درست کرنے کا اعلان کریں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں یا نہیں؟۔ بلکہ اصل معاملہ یہ تھا کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دیتا ہے تو بیوی پھر رجوع کیلئے راضی نہیں ہے تو کیا شوہر کو پھر رجوع کا حق حاصل ہے یا نہیں ؟۔ حضرت عمر نے اقتدار کی کرسی پر فتویٰ نہیں دینا تھا بلکہ میاں بیوی کے درمیان حق اور نا حق کا فیصلہ کرنا تھا۔ حضرت عمر نے بالکل قرآن وسنت اور فطرت کے عین مطابق فیصلہ کیا۔ اگر نبی ۖ کے سامنے بھی ایسا تنازعہ آتا تو یہی فیصلہ دینا تھا۔ قرآن میں بھی یہی فیصلہ قیامت تک رہنمائی کیلئے موجود ہے۔
فتویٰ تو رسول اللہ ۖ کے بعد حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کا نہیں ہمارے حضرت علامہ مولانامفتی علی ہی کا چلنا تھا۔اسلئے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا: انامدینة العلم علی بابھا ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے”۔ ایک شخص نے حضرت علی سے فتویٰ لیا کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا ہے کہ آپ مجھ پر حرام ہو اور وہ اب میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے ۔ حضرت علی نے فتویٰ دیا کہ:”اب آپ کو رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے”۔یہ فتویٰ بھی قرآن کی روشنی میں تھا کہ جب عورت راضی نہیں ہو تو شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہے۔
سب سے بڑی مصیبت اور جہالت یہ ہے کہ عرب وعجم نے ایمان، علم اور دین کو اختلافات ، فرقہ واریت اور مسلک پرستی کی نذر کرتے ہوئے آسمان اور ثریا تک پہنچادیا ہے۔ اتنی سادہ سی بات بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ اللہ نے قرآن میں باہمی اصلاح کی صورت میں رجوع کی اجازت دی ہے اور باہمی اصلاح کے بغیر رجوع کی اجازت نہیں دی ہے۔ یہ امت مسلمہ یہود ونصاریٰ کی طرح افراط وتفریط کا شکار ہوگئی۔ ایک طبقہ شیعہ اور اہل حدیث اس انتہاء کو پہنچ گیا ہے کہ اگر ایک ساتھ عورت تین طلاق کے بعد راضی نہ ہو تب بھی طلاق نہیں ہوئی اور شوہر کو مکمل طور پر رجوع کا حق ہے اور دوسرا طبقہ مقلدین مغلظین ضالین اور ظالمین کا اس انتہاء کو پہنچ گیا ہے کہ باہمی اصلاح کے باوجود بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزتوں سے کھلواڑ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔جیسے زنا ایک جرم ہے اور اس کو سزا کے ذریعے سے ہی روکنا ممکن ہے،اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر حلالہ کی لعنت بہت بڑا جرم ہے اور اس سے روکنے کیلئے زنا سے بھی سخت سزا دینے کے بغیر یہ نہیں رک سکتاہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنماسینیٹر مشاہداللہ خان مرحوم اورایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے بیانات میں بہت کھل کر حلالہ کی مخالفت کی تھی لیکن جب تک کوئی سیاسی جماعت اس کی طرف درست توجہ نہ دے تو یہ مسئلہ اجاگر کرنا بہت مشکل ہے اسلئے کہ بڑے مدارس میں بدمعاش اور مافیا طبقہ مسلط ہے اور ان کی وجہ سے چھوٹے علماء کرام اور مفتیان عظام بھی سامنے آنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ حلالہ پیٹ بھرنے کیلئے اور نفسانی خواہشات جھڑنے کیلئے مذہب کے نام پرایک زبردست ڈھال ہے ۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی ویڈیو وائرل ہوگئی تو اس کی وجہ سے کتنی خفت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا لیکن حلالہ کی ہزار ویڈیوز بن جائیں تو ان کو بالکل بھی فرق نہیں پڑے گا بلکہ ہتک عزت کا دعویٰ کریں گے۔
بہت مساجد ومدارس والے کہتے ہیں کہ ہم حلالہ کے قائل نہیں مگر بڑے مدارس ملوث ہیں تو ان سے فرق نہیں پڑتا ۔ قرآن نے یہودونصاریٰ کیلئے کہا کہ ”انہوں نے اپنے احبار و رھبان کو اللہ کے علاوہ اپنا رب بنالیا”۔ نبی ۖ نے فرمایا:”یہ امت بھی انکے نقش قدم پر چلے گی”۔ سیاسی جماعتیں پاکستان کو حقیقی ریاست مدینہ بنانے کیلئے حلالہ کی لعنت کیخلاف بڑے فرعونوں سے ٹکر لیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حنفی فقہاء کے 7طبقات اور نتیجے میں اپاہج یہ علماء ومفتیان؟

حنفی فقہاء کے 7طبقات اور نتیجے میں اپاہج یہ علماء ومفتیان؟

پہلا طبقہ مجتہد فی الدین: ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل ۔ مجتہدفی اصول و فروع ۔ دوسرا طبقہ مجتہد فی المذہب :ابوحنیفہ کے تمام شاگرد: اصول و فروع میں امام سے اختلاف تھا۔ تیسرا طبقہ مجتہد فی المسائل : اصول وفروع میں مقلد۔ جن مسائل کی تصریح نہ ہو،ان میں اجتہاد ۔ چوتھا طبقہ اصحاب تخریج: مسائل کو ائمہ کی کتابوں سے نکالنا۔ پانچواں طبقہ اصحاب ترجیح: راجح و مرجوح ، فاسد و صحیح اقوال کی پہچان۔ مسئلے میں دو قول یا دو احتمال ہوں تو ایک درست، دوسرا غلط قرار دینا۔ چھٹا طبقہ اصحاب تمیز : اقوال میں صحیح واصح ، اولیٰ و غیر اولیٰ کی تمیزکرنا مگر صحیح و غلط کی تمیز نہیں رکھنا ۔ ساتواں طبقہ مقلدین محض: اندھی نقل کرنا۔ مقلد محض ابن عابدین شامی نے2سو سال قبل ان طبقات کا ذکر کیاہے ۔ درس نظامی میں ”قدوری ” اور فتاویٰ میں قاضی خان کا مقام اصحاب ترجیح ہے۔ قدوری420ھ کی تصنیف ہے۔ درس نظامی میں ”کنزالدقائق” اور ” ہدایہ ” کا مقام اصحاب تمیز ہے۔
” علاج کیلئے ناک کے خون سے سورۂ فاتحہ کو پیشانی پر لکھنا جائز۔ پیشاب سے لکھنا بھی جائز ہے، اگر یقین ہو کہ علاج ہوجائیگا”۔ (رد المختار) علامہ سعیدی نے لکھا کہ” علامہ شامی کو قرآن سے محبت تھی لیکن بال کی کھال اتارنے کے چکر میں غلطی سرزد ہوگئی۔ اگر سورج نکلنے کی طرح یقین ہو تب بھی فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے سے مر جانا بہتر ہے”۔( شرح صحیح مسلم) علامہ غلام رسول سعیدی کے ہاں ہم نے حاضری دی تو فرمایا کہ ” اس بات پر میرا علماء نے گریبان پکڑ لیا تھا کہ تمہاری یہ جرأت کیسے ہوئی کہ علامہ شامی کے خلاف یہ جسارت کرلی ہے؟”۔
الحمد للہ ہماری کاوش سے مفتی تقی عثمانی پر جب دباؤ پڑا تو اپنی کتابوں سے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کو نکالنے کا اعلان کردیا۔ اللہ خیر کرے گا۔
علامہ شاہ تراب الحق قادری نے مسئلہ بیان کیا کہ ” اگر روزے میں پاخانہ کیا اور پاخانہ کرتے وقت آنت کا ٹکڑا نکلتا ہے جو پھول نما ہوتا ہے۔ اگر وہ پھول دھونے کے بعد کپڑے سے خشک نہیں کیا اور اندر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا”۔
شاگردابوحنیفہ عبداللہ بن مبارک نے ابویوسف کیخلاف لکھا کہ ”عورت کی گواہی ناکافی قرار دیکربادشاہ کیلئے باپ کی لونڈی جائز قرار دی”۔ یہ شکر ہے کہ سورۂ مجادلہ کا حوالہ نہیں دیا کہ ” ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے”۔پھر یہ مذہبی اجتہاد بنتا کہ” سوتیلی ماں جائز ہے”۔ سوتیلی بیٹیوں کیلئے مصنف عبدالرزاق کی روایت ابن حجرنے نقل کی کہ اگر حجرات میں نہ پالی ہوں تو علی نے جائز قرار دیا۔مولانا سلیم اللہ خان نے کشف الباری میں یہ دلیل مضبوط قرار دی۔ ام المؤمنین ام حبیبہ نے نبی ۖ کو بیٹیاںپیش کیںتو نبی ۖ نے فرمایا: ”یہ میرے لئے حرام ہیں”(بخاری)۔مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا: ”بیٹے سے بدفعلی کی ہو تو اسکی ماں بالاتفاق جائز ہے”۔اگراپنے بچے پرشہوت کا ہاتھ غلطی سے لگا تو بیوی حرام اورکسی اور بچے سے بدفعلی کی تو اسکی ماں حلال ہو؟۔ مولانا منظور مینگل نے کہا: ”میری ماں نے جامعہ فاروقیہ میں گالی دی کہ عورت کی طرح علماء کو بھی پیٹ ہوجاتاہے”۔شافعی وحنفی مسالک میں حرمت مصاہرت کے انتہائی تضادات کے باوجود بیٹے اور ماں کے شکاریوں کا اتفاق عجیب ہے اور وہ گالیاں تو اسلئے کھائیں گے کہ اسکے مستحق ہیں۔ سود کے گناہ کو کم ازکم ماں سے زنا کے برابر قرار دینے والے سود کو جائز قرار دیں تو کیا حیا باقی ہوگی؟۔
اگرقرآن پر توجہ دیتے دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن ”اگرتم نے ان میںڈالا اور اگرتم نے نہیں ڈالا ہے …. ”۔ تو حرمت مصاہرت پر متضاد بکواس کی ضرورت نہ پڑتی۔مثلاً ”اگر ساس کی شرمگاہ پر باہر سے شہوت کی نظر پڑگئی تو معاف ہے اگر اندر پڑگئی تو بیوی حرام ہوگئی”۔( نورالانوار ملا جیون) ڈاکٹر اسرار نے کہا : ” یہ قرآن کاپی ہے، اصل کوصرف پاک چھوسکتے ہیں”۔ امام ابوحنیفہنے لامستم النسائمس سے جماع مرادلیاکہ اس لونڈی کوبادشاہ جائز نہ سمجھے پھر بیوقوف فقہاء نے مسائل کے نام پر وہ سرکس لگائی کہ الحفیظ والامان۔ ان حقائق سے مدارس کے علماء ومفتیان بدک کر گدھوں کی طرح بھاگتے ہیں۔
14 فرائض میں حنفیوں کا آخری فرض ”اپنے ارادہ کیساتھ نماز سے نکلنا، بھلے ریح خارج کرکے نکلے”۔ جبکہ لفظ سلام سے نکلنا دوسروں کے ہاں فرض اور حنفی کے ہاں واجب ہے۔میرا سوال تھا کہ ریح خارج کرکے نماز سے نکلے تو نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ وضو ٹوٹے تو سجدہ سہو نہ ہو گا؟۔ یہ کیسا فرض ہے؟۔ جس کاجواب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی سے بھی مجھے نہیں مل سکا تھا۔
ابن رشد کی کتاب ”بدایة المجتہد نہاےة المقتصد” میںحدیث ہے ”آخری قاعدہ میں ریح خارج کردی تو نماز مکمل ہوگئی”۔ حدث ریح خارج ہونا،احدث ریح خار ج کرنا۔ احدث ” ارادةً ریح خارج کرنے کو فرض بنادیا”۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ فوت ہوایاانتقال کرگیا۔ ارادةً روح نکالنا مراد نہیں۔ جیسے انتقال کیلئے اختیار اور بے اختیاری مراد نہیں ہوتی ہے ۔اسی طرح ریح کے الفاظ کا حال ہے۔ اگرحدیث صحیح ہو تو مطلب یہی ہے کہ جس نے آخری قاعدہ تک نماز کے سارے ارکان ادا کرلئے تو پھر ریح نکل گئی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی ہے۔
دیوبندی بریلوی اختلاف کا خاتمہ قاری محمد طیب ( مہتمم دارالعلوم دیوبند) کی اس نعت سے کم کریں۔ یہ غزوہ ہند یا غزہ نہیں بلکہ دیوبند کی داخلی لڑائی تھی۔
نبی اکرم شفیع اعظمۖ دکھے دلوں کا پیام لے لو
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا ، نظر سے روپوش ہے کنارا
کوئی نہیں ناخدا ہمارا ، خبر تو خیر الانام لے لو
قدم قدم پہ ہے خوف رہزن، زمین بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہوا ہے ہم سے بدظن، تم ہی محبت سے کام لے لو
کبھی تقاضا وفا کا ہم سے، کبھی مذاق جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفا ہے ہم سے، خبر تو عالی مقام لے لو
یہ کیسی منزل پہ آگئے ہم، نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا، تمام اپنے غلام لے لو
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزار اقدس پہ جاکے اک دن
سناؤں ان کو میں حال دل کا کہوں میں ان سے سلام لے لو

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم شیعہ سنی اختلافات کی شدت کو کیسے کم کر سکتے ہیں؟

ہم شیعہ سنی اختلافات کی شدت کو کیسے کم کر سکتے ہیں؟

ہمارے امام ابوحنیفہہیں جن کے دور میں بنوامیہ اور بنوعباس کے جو حکمران گزرے ان کو پہچانتے نہیں؟

کیا اہل تشیع کو یہ حق نہیں کہ اپنا امام علی کوبنائیں اور انکے آگے پیچھے کے حکمرانوں کو بالکل بھی نہ پہچانیں؟

نبی ۖ نے فرمایا: ” جس نے اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچاناوہ جاہلیت کی موت مرا”۔ امام ابوحنیفہ نے بنوامیہ و بنوعباس کے حکمرانوں کا زمانہ پایاتھا۔ لیکن ہم ان حکمرانوں کو نہیں پہچانتے ہیں ۔امام ابوحنیفہ ہمارے امام اعظم ہیں۔ امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل3امام بھی برحق ہیں۔ خلفاء راشدین حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علیچار یارہم حق مانتے ہیں۔
شیعہ3خلفاء اور چاروں امام کو نہیں مانتے۔ حضرت علی اور امام جعفر صادق کی فقہ جعفریہ کو مانتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل نے حدیث قدسی بیان کی کہ ”رسول اللہ ۖ نے فرمایا: اللہ نے مجھ سے فرمایا: تیرے چار یار ہیں ۔ ان میں سے علی ایک ہے ۔ علی، ابوذر، مقداد اور سلمان۔” شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امام کا تعلق زمانے کیساتھ ہوتا ہے۔ حضرت علی، حسن اور حسین کے بعد باقی9امام اپنے دور کے امام تھے جن میں سے آخری مہدی آج تک غیبت کی حالت میں ہیں۔ سنی نہیں سمجھتے کہ امام کا تعلق زمانے سے ہے لیکن چار امام کی الگ الگ تقلید کرتے ہیں ۔البتہ امام جعفر صادق سے پہلے اور بعد میں ائمہ اہل بیت ہیں تو فقہ جعفریہ بالکل بے معنی ہونا چاہیے۔ قرآن میں اولی الامر کی اطاعت کا ذکر ہے اور اس کا تعلق وقت کے امام کیساتھ ہے۔ اہل سنت کے ہاں امام سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ شیعہ کے نزدیک امام معصوم ہوتا ہے اختلاف کی گنجائش نہیں۔
سپاہ صحابہ کے قائدعلامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہیدنے کہا تھا کہ ہمارا شیعہ سے اصل اختلاف قرآن پر نہیں ۔ صحابہ پر بھی نہیں ۔ ہمارا ان سے اصل اختلاف عقیدہ ٔ امامت پر ہے۔ شیعہ بھی اصل اختلاف مسئلہ امامت کو سمجھتے ہیں۔
شیعہ اور سنی کو قریب لانے کیلئے کچھ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ۖ نے حجر اسود پر مکہ کے سرداروں کو خون خرابے سے بچایا تھا اور اس وقت نبوت کی بعثت بھی نہیں ہوئی تھی۔ مفتی محمد شفیع نے کہاتھا کہ ”پہلے القاب نہ تھے لیکن علم تھا۔ علامہ، مولانا، مفتی ، شیخ الحدیث وغیرہ کچھ نہ تھا۔ شیخ الہندمولوی کہلاتے تھے”۔ ان کے استاذ مولانا رشیداحمد گنگوہی فتویٰ دیتے تھے مگر مفتی نہیں کہلاتے تھے۔ مفتی اور مولانا کے القاب شیخ الہند کے بعد کی چیزیں ہیں۔
علماء کوہم ” مولانا” کہتے ہیں جس کامطلب ” ہمارا مولا”۔ اگر سنیوں کے اتنے ”مولانا” ہوسکتے ہیں تو کیا شیعہ کو مولا علی کی اجازت نہیںدے سکتے ؟۔
اہل سنت کے چاروں ائمہ کے نزدیک زکوٰة کیلئے قتال نہیں ۔ امام مالک وامام شافعیکے نزدیک بے نمازی کی سزاقتل ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک زد وکوب اور قیدکا حکم ہے یہاں تک کہ توبہ کرلے۔ ملاعمر نے حنفی مسلک پر عمل کیا لیکن موجودہ امیر المؤمنین صبغت اللہ اخوند نے اس پر عمل کرنے کو ترک کردیا۔
پنجاب میں مسافر بسیں نماز کیلئے کھڑی نہیں ہوتی ہیں اور شافعی مالکی مسلک سے تعلق رکھنے والے داعش کے مجاہد ان پر خودکش بھی کرسکتے ہیں۔
مفتی محمد شفیع نے معارف القرآن میں سورہ توبہ کی آیت سے بے نمازی اور زکوٰة کیلئے سزا کے حکم کو شریعت قرار دیا ۔ اگر نماز پڑھنے پر کسی کو مجبور کیا جائے تو کیا پتہ چلے گا کہ وہ غسل میں ہے یا بے وضو ؟۔ فائدہ کیا ہوگا جو ڈنڈے کے زور پر پڑھی جائے؟۔ بادشاہوں کی طرف سے جبری بیعت کا سلسلہ شروع ہوا تو مسجد کے اماموں نے بے نمازیوں کیلئے بھی سزائیں تجویز کرنا شروع کردیں۔ آج ہمارے ”مولانا صاحبان” نے فقہی مسائل کے ذریعے اپنا اقتدارقائم کیا ۔ عدالت سے عورت کو ”خلع” مل جاتا ہے لیکن مولوی اس کو بالکل نہیں مانتا ۔
عمر نے علی سے رہنمائی لی تو فرمایا لولاعلی لھلک عمر ” اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا”۔ فتح مکہ کے موقع پر علی نے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا۔ اگر رسول ۖ نہ ہوتے تو علی بہن و بہنوئی کو نقصان پہنچاتے۔ رسول اللہ ۖ صحابہ کے مولاتھے۔ خولہ بنت ثعلبہ نے شوہر کی بات پر فتویٰ پوچھا تو نبیۖ نے فرمایا: ” اس پر حرام ہوچکی ہو”۔ عورت بحث وتکرار کررہی تھی کہ مجھے حرام….اللہ نے سورہ مجادلہ نازل فرمائی ۔ قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا…”اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی…” ۔ اللہ پھر سب کا مولا ہے۔
اگر فرقوں اور مسلکوں سے کوئی بھول ہوئی ہے تو سورہ بقرہ کی آخری آیت پڑھ کر اللہ سے معافی مانگ لیں ۔ پھر کافروں کے خلاف بھی مدد ہوجائے گی۔
” اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ لاد جس کی ہمیں طاقت نہیں اورہم سے درگزر فرما اور ہمیں معاف فرما اور ہم پر رحم فرما ۔ آپ ہمارے مولا ہیں ”۔
حسن و حسین امیر معاویہ اور یزید سے سنی کے ہاں بہت بہتر ہیں ۔ تو شیعہ کے نزدیک ابوبکر، عمر، عثمان سے علیکی بلندی مسئلہ نہیں۔ ابوسفیان نے ابوبکر کے خلاف اجازت مانگی لیکن علی نے اجازت نہیں دی۔ شیعہ علی کی جگہ ابوسفیان کے پیروکارنہ بنیں۔ علی نے اپنا حق سمجھنے کے باوجود تین خلفائ سے تعاون کیا۔ حسن معاویہ کے حق میں دستبردار اور حسین نے تین باتیں رکھی تھیں۔ واپس مدینہ یا سرحد پر یا یزید کے پاس جانے دیا جائے۔ کربلا کوفہ سے شام کی طرف27کلومیٹرہے تو یہ یزید کی طرف جانے کا ثبوت ہے۔ البتہ ناحق شہیدکردئیے گئے مگر اس کی ایسی تعبیر کہ حسن و علی اور باقی سب کی امامت بھی داؤ پر لگ جائے دانشمندی نہیں ۔پھر تو مہدی غائب کا نکلنا بھی مشکل ہوگا۔اگر شیعہ ان واقعات کو منبرومحراب پر بیان کریں جو قرآن وسنت اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں اور ان سے اختلاف کی گنجائش نہیں تو شیعہ علی کے عقیدہ الوہیت سے تھوڑانیچے اتریںگے۔ پھر شیعہ علماء کیلئے بھی اپنے جاہلوں سے مکالمے میں آسانی ہوگی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم مل بیٹھ کر اپنا گھر پاکستان بچائیں :محمود خان اچکزئی

ہم مل بیٹھ کر اپنا گھر پاکستان بچائیں :محمود خان اچکزئی

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز وہ پرندے ہیں جہاںبیٹھ جاتے ہیں وہ جگہ کھنڈر بن جاتی ہے۔

کس الیکشن کی بات کررہے ہیں ۔ دو سال وزیر اعظم تیسرے سال اس کو ہتھکڑیاں لگاؤ الٹا لٹکاؤ، گالیاں دو، کھینچو ۔ یہ جمہوریت ہے ؟۔ مصلحت پسندی زندگی میں نہ کی ہے انشاء اللہ اور نہ آگے کریں گے۔ الیکشن کیا بلا ؟ پھر پاکستان کے الیکشن۔ اگر آپ تین الیکشن کرادیتے ہیں تو ملک بن جاتا۔75سال میں ہم اقتدار میں نہیں رہے۔75سال میں پاکستانی قوم تشکیل نہیں دی، پاکستانی قوم ملت تشکیل کرنے میں ناکام رہے۔ کیا75سال اور انتظار کریں گے آپ کا؟۔
ظاہر خان:آپ کےPDMنے عمران خان کا خاتمہ اور نواز شریف لانے میں پشتونوں کو ساتھ لیا ، پشتونوں کی مشکلات پرPDMخاموش کیوں ہیں؟۔
محمود خان اچکزئی:PDMمیرے ساتھی ہیں۔ میں اس گناہ بے لذت میں شریک نہیں تھا۔ چیخ چیخ کراپنی بساط کے مطابق سبھی کو کہا: کھائی میں گررہے ہو۔ لاڑکانہ اور کراچیPDMکے جلسے میں کہا کہ عمران خان کی دشمنی میں یہاں تک جانا …PDMانتہائی جمہوری پروگرام تھالیکن میں کچھ نہیں کہتا…ہم سیاسی کارکن ہیں ہمارا ضمیر مطمئن ہے۔ ہماری پارٹی چھوٹی سہی، جو بڑی ہے۔ ہم اللہ اور پاکستان کی عوام کے سامنے سرخرو ہیں کہ انگریز سے لیکر اب تک نہ ہم نے کسی جرنیل کا ساتھ دیا ۔ ہر وقت مارشل لاؤں کی مخالفت کی۔ شہید عبد الصمد خان اچکزئی بھی قیدی بنے ۔ ہر غیر جمہوری بات کی ہم نے مخالفت کی ۔ یہ ہمیں پڑھایا گیا پاکستان کی بقاء کیلئے یہ ضروری سمجھتے ہیں۔ آج درخواست کرتا ہوں(toYou)کہ خدا کیلئے اس ملک پر رحم کریں۔ انتخابات کا اعلان کردیا ۔ دو انتخابات ماضی میں ہوئے پہلا سن1970، پاکستان بڑا مضبوط ملک تھا، پتہ نہ تھا کہ خدا نخواستہ حادثات ہوں گے۔ شیخ مجیب نے بنگال سوئپ کیا۔ پنجاب سندھ میں پیپلز پارٹی ، پشتون بلوچ علاقوں میں نیشنل پارٹی جیتی۔ الیکشن کے نتائج کو ماننے سے انکار کیا۔23مارچ کو مارشل لا ء لگا۔16دسمبر کو ہماری تاریخ کا سب سے خطرناک حادثہ ہوا۔9مہینے پور ے نہ ہوئے۔ لوگوں کو مارنے خریدنے سے کام نہیں بنتا۔ ہمارا ملک ٹوٹا۔ دوسرا سن1977ذوالفقار علی بھٹو دورمیں انتخابات۔ دھاندلی ہوئی قومی اتحاد بنا۔ رزلٹ نہ مانا، مردہ باد زندہ باد، مارشل لاء لگا۔ بھٹو کوپھانسی ہوگئی۔ اب اگر خدانخواستہ پرانی روش اختیار کی پتہ نہیں ہمارا کیا ہوگا۔ ہم مملکت پاکستان کیلئے درخواست کرتے ہیں کہ جو جیتے اس کو جیتنے دو۔ یہ فصلی بٹیرے ، یہ ایور گرین درخت اگر اچھے ہوتے تو محمد علی جناح کے کام آتے۔ لیاقت علی، غلام محمد ، جنرل ایوب ، یحییٰ کو سنبھالتے۔ پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ، یہ وہ پرندے ہیں کہ جہاں بیٹھتے ہیں وہ جگہ کھنڈر بن جاتی ہے۔ ان کو چھوڑئیے ۔ آئیں پاکستان کو بچائیں۔ جب سے یہ حالات ہوئے۔ ہم نے بار بار یہ بات کی کہ خدا کیلئے ملک بحرانوں میں ہے گول میز کانفرنس بلائیں۔ اس میں ملٹری والے، ججز، جرنلسٹ، پڑھے لکھے لوگ، دانشور، تاجر ، معیشت کے ماہر سب ہوں۔ ہم اکھٹے بیٹھ کر حل نکال لیں گے۔ دنیا نے کیا۔ ممکن کام ہے۔ بحرانی حالت میں لوگوں نے اپنے ملکوں کو بچایا، جاپان جرمنی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا جہاں کی پابندیاں لگائی گئیں ۔ سارے ملک انکے برباد ہوئے، ایٹم بم گرے ان پر، انسانوں نے بسم اللہ کیا۔ آج جاپان جرمنی کہاں ہیں؟۔ ہم بھی انسان ہیں کرسکتے ہیں۔ پرانی روش بدلنی ہوگی۔ دنیا کی طرز پر جمہوری پاکستان کی تشکیل کرنی ہوگی۔ معافی چاہتا ہوں لوگ پتہ نہیں اس کو برا مان لیں گے۔ خدانخواستہ ہماری کم علمی پر۔ پاکستان ہمارا گھر ہے پاکستان ایک کمرہ ہے۔ اس کمرے کو ہم جانتے ہیں، دیواروں کو چوہوں نے سوراخ کرکے برباد کردیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی چھت کے شہتیروں (لکڑی کے بیم) کو دیمک کھاچکی ہے۔ انتظار نقصان دہ ہے گر جائے گا ۔ ہمیں اس کی تشکیل نوکرنی ہے۔ تشکیل نو وہی کہ آئین کی بالادستی ہوگی۔ ہر ادارہ آئین کے دائرہ کار میں ہوگا۔ منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی۔ اب میں کیا کہوں؟ میں نہیں کہہ سکتا توبہ، بالکل سرکاری فنڈ کھانا شیر مادر کی طرح جائز ہے پھر کہاں ملک بنے گا۔ ہم جتنے مقروض ہیں ؟ میں اپنے ذہن میں یہ بالکل لا نہیں سکتا کہ ہم کتنے ہزار ملین ڈالر مقروض ہیں؟۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ توبہ کرنی ہے توبة النصوح ہم سب سیاسی ہوں فلاں ہوں۔ کل سے آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے پرانے ساتھی کیا کہہ رہے ہیں۔PDMسمیت میرے دوست اور ساتھی میں ابھی تک ان کیساتھ ہوں ۔ ہم نے مصلحت پسندی سے کام کرکے اس ملک کو بربادی کے راستے پر ڈال دیاہے۔

_____تبصرہ نوشتہ دیوار_____
پاکستان کا یہ خطہ عالم اسلام کے مسلمانوں کیلئے مرکز ہے۔ محمود خان اچکزئی سب سے سینئر اور بے داغ سیاستدان ہیں۔ اگر بلوچستان و پختونخواہ سے الیکشن جیت بھی جائیں تو مرکز میں ان کی حکومت نہیں بن سکتی ہے۔ اپنے عزیر ساتھی عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال کاکڑ کی قیادت میں اپنے دیرینہ ساتھیوں نے ان کی رفاقت چھوڑ دی ۔ اگر پنجاب سے نجم سیٹھی کی بیگم جگنو محسن، جاوید ہاشمی،چوہدری سرور، ڈاکٹر طاہرالقادری اور سندھ وکراچی، پشتون و بلوچ علاقہ سے انقلابی اور نظریاتی لوگوں کا اتحاد کرکے ایک مختصر منشور پر اکٹھا کیا جائے تو پاکستان کو بحران سے نکالے۔مصطفی نواز کھوکر، لشکری رئیسانی ، ڈاکٹر قادر مگسی، شاہد خاقان عباسی کی خدمات درکار ہوں گی۔MQM، جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام، تحریک انصاف ، تحریک لبیک وغیرہ سب جماعتیں اور شخصیات صرف مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر سب اس منشور کے تحت اتحادمیں شامل کی جائیں۔
سہیل وڑائچ نے کہا تھا کہ” اگلا الیکشن پنجاب میں بڈھے شیر نوازشریف اور ٹائیگر عمران خان کے درمیان ہوگا”۔ شیر چیتے نہیں گدھوں کی لڑائی دکھ رہی ہے۔ نوازشریف سندھ میں زرداری کو مولانا فضل الرحمن،MQM،GDAسے مل کر شکست دے گا اور زرداری اس کو وزیراعظم نہیں بننے دے گا؟۔ عسقلان کی اس حدیث اور قرآن سے پاکستان اور عالمی سطح پر بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے۔آئین پاکستان علماء اور سیکولر طبقے نے مل کر بنایامگر عمل نہ کرسکے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv