پوسٹ تلاش کریں

صلیبی جنگوں کے بعد عیسائی اور مسلمانوں کا کردار

صلیبی جنگوں کے بعد عیسائی اور مسلمانوں کا کردار

عیسائی حکمرانوں نے200سال صلیبی جنگیں لڑ کر مسلمانوں کو قریب سے دیکھا تو کیا بڑا سبق سیکھا؟۔

عسقلان قدیم دورسے مختلف لوگوں کے قبضہ میں رہاہے۔ معاویہ دور میں صلح سے مسلمانوں کے حوالے ہوا۔ مختلف ادوار میں عیسائیوں اور مسلمانوں میں منتقل ہوتا رہاہے۔ خلافت عثمانیہ اور انگریز قابض رہے۔ اسرائیل خریدتا اور قبضہ کرتا تھا۔2سو سال صلیبی جنگوں والے عیسائی القدس پر قبضہ چاہتے تھے۔ اُس دور میں پادری آج کے مسلمان جہادیوں کی طرح تھے جن کا حکمرانوں سے گٹھ جوڑ تھا۔ملالہ نے جب اس گٹھ جوڑ کی آواز اٹھائی تو سینیٹر مشتاق پنگوڑے میں سویا ہوا تھا۔ میں نے فجر کی آذان تھوڑی دیر سے دی تو پیر فاروق شاہ نے کہاکہ نماز نیند سے بہترکا جملہ نہ کہتے۔ چڑیا بھی جاگ چکیں۔ منظور پشتین نے دہشت گردی کے پیچھے وردی کا نعرہ لگایا تو مشتاق بھی شروع ہوگئے۔صلیبی جنگوں میں عیسائیوںنے قریب سے مسلمانوں کو دیکھا تو بہت متاثر ہوگئے۔ پادریوں کا اثر و رسوخ ختم کرکے جدید طرز تعمیر، تعلیم اور حکمرانی کواپنایا۔ پھر ترقی و عروج کی منزل پالی ۔ دنیا پر دنیاوی مفاد کیلئے حکمرانی کرنے لگے اور ان کے دل ودماغ میں مذہبی جہالت کی جگہ سیکولر ازم آگیا۔ القدس پر قبضہ کرسکتے تھے مگر مذہبی جنگ یہود اور مسلمانوں کے درمیان چھوڑدی ۔ آج عیسائیوں کے پاس ترقی یافتہ مغرب ہے۔ مسلمانوں کے حرمین کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں لیکن ان میں مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی مسلمانوں کی وجہ سے صلیبی جنگوں میں ختم ہوچکی ۔ روس کے خلاف جہادیوں کو امریکہ نے استعمال کیا۔ ولی خان نے سعادت حسن منٹو اور مولانا فضل الرحمن وغیرہ کی موجودگی میں روس کو افغانستان سے انخلاء پر امن کا ایوارڈ دینے کی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ” محترمہ خود خاتون ہو ۔ عرب پختون خواتین کو لونڈیاں بنانا چاہتے ہیں جو اپنی شلواروں کے ناڑے سروں پر باندھتے ہیں۔کیا یہ ہماری خواتین کو لونڈیاں بنائیں گے؟۔ افغانستان کابینہ (گل بدین، ربانی ،مجاہدین لیڈرز)کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہورہاہے ،اگر کل افغانستان میں پاکستانی کابینہ کا اجلاس عالمی قوتوں نے منعقد کیا تو کیا ہوگا؟۔ بینظیر کے دوسرے دورِ حکومت میں نصیراللہ بابر کے ذریعہ افغان طالبان کو لایا گیا ۔MQMکی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ۔ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاسکتے ہیں ۔اللہ نہ کرے کہ کراچی کے مہاجر کو واپس بھیجنے کا فیصلہ ہوجائے۔ اچھا کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ نام بدل دیا ۔
سندھیوں کی غلطی نہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے دارالخلافہ اور شہروں پر بھی مہاجروں کا قبضہ تھا۔افغانی مہاجر کادیہاتوں اور کچی آبادیوں پر قبضہ ہوگا؟۔ مگر پولیس والے رشوت نہ دینے پر پاکستانیوں کو بھی افغانستان بھیج رہے ہیں۔ وزیر داخلہ فوجی ہو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے ناجائز لینڈ مافیا بھاگا۔
ہفت روزہ تکبیر کراچی نے لکھا تھا کہ ”افغانستان میں مولانا فضل الرحمن کی ریاست کو ضرورت پیش آئی تو وہ بیرون ملک رفو چکر ہوگئے ”۔ جماعت اسلامی ہمیشہ اسٹیبلیشمنٹ کی اٹوٹ انگ رہی ہے لیکن پروین شاکر کی یاد تازہ کردی۔
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا عشق کے اس سفر نے مجھے نڈھال کردیا
چہرہ ونام ایک ساتھ نہ یاد آسکے وقت نے کس شبیہ کو خواب وخیال کردیا
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں میرے خواب میرے خیموں کی طرح
جماعت اسلامی سید مودودی کے مشن احیائے دین کا کام شروع کرے۔ اگر مفتی تقی عثمانی اور جماعت اسلامی کو واقعی یہود سے نفرت ہے تو وہ بینکنگ کا سودی نظام (علامہ اقبال کے بقول: فرنگ کی جان پنجہ یہود میں ہے)کوکیوں اسلامی قرار دے دیا؟۔ سیدھے سادے لوگوں سے” کوکا کولا” کے بوتل گراتے ہو لیکن خود اس کے مضبوط معاشی نظام سے تنخواہ لے کر کھارہے ہو؟۔
اگر مفتی تقی عثمانی میں ایمان ہوتا تو اپنے استاذ، پیش رو مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس کی بات مانتا اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، مفتی زرولی خان ، پاکستان بھر کے معروف علماء و مدارس کی بات مانتا ۔ مفتی محمود کی بات مانتا ۔ پان میں زہر کھلادیا اور دوسرے بھائی نے دورہ قلب کی خصوصی گولی حلق میں ڈالی جو نہ حکیم و ڈاکٹر تھا اور نہ دل کا مریض۔ مفتی محمود کی وفات کے بعد یہ تحریر لکھی کہ ”ہم بھائیوں نے چائے پینے سے منع کردیا تو مفتی صاحب نے کہا کہ میں خود زیادہ چائے پیتا ہوں مگر کوئی نہیں پیتا تو اس کو پسند کرتا ہوں۔ جس پر میں نے پان کا بٹوہ دکھایا کہ ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ یہ توچائے سے بھی بدتر ہے”۔ مولانا یوسف لدھیانوی نے لکھا ” مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلایا”۔ جس پر مفتی تقی عثمانی نے مولانا لدھیانوی شہید پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ اب بیان180ڈگری بدل دیا کہ ” مفتی صاحب سے بڑی بے تکلفی تھی ۔ کہتے تھے کہ بھیا! لاؤ، ہم تمہارا پان کھائیںگے”۔ دارالعلوم کراچی میں اپنا ذاتی گھر لیا تو مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے فتویٰ دیا کہ ” وقف مال بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ہے اور یہ بھی جائز نہیں کہ بیچنے والا خود خریدے”۔ جس پر ان کی سخت پٹائی لگائی تھی۔حالانکہ شریعت کا یہ قانون عالمی قانون بن چکا ہے۔
مفتی صاحبان افغانستان اپنے بچوں سمیت منتقل ہوجاتے تو شریعت کے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ۔ مدارس کو تجارت کا مرکز بنانا چھوڑ دیں تو القدس کا معاملہ بھی حل ہوجائے گا۔جنرل ضیاء الحق نے فٹ بال گراؤنڈ دارالعلوم کراچی کو دیا تو اس کو تجارتی گودام بنادیا گیا۔ جس کا عوام کو بہت نقصان ہے لیکن نواز شریف، عمران خان، ابھی نندن اور کلبھوشن کو قید میں رکھنے یا نہ رکھنے سے عوام کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے۔ مفتی تقی عثمانی عوام کی امانت نہیں لوٹا سکتا ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے فلسطین کی مظلوم عوام کو3لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا ہے لیکن مالدار علماء و مفتیان کی طرف سے امداد کا اعلان نہیں ہوا ؟ ۔فلسطین اور مسلمانوں کے بچوں کی مظلومیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مولانا طارق جمیل نے اپنے بیٹے پر کس قدر سوگ کا مظاہرہ کیا ؟۔ فلسطین میں گھر گھر صفِ ماتم ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عسقلان کی حدیث کے بارے میں اہم رہنمائی!

عسقلان کی حدیث کے بارے میں اہم رہنمائی!

عالم اسلام کے حکمران سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اسرائیل پر حملہ کیا تو وہی حشر دنیا کرے گی جو غزہ کا ہواہے؟

اسرائیل سے جنگ نہیں تو صلح سے غزہ کے مسلمانوں کو بچائیں،ورنہ مسلمان حکمرانوں کی پھر خیر نہیں ہے

عسقلان کا ذکر تورات میں ہے۔ جب عیسائیوں کو موقع مل گیا تو انہوں نے یہودیوں کو ارض مقدس سے بھگا دیا۔ حضرت عمر نے مشرق ومغرب کی دوسپر طاقتوں روم وفارس کو شکست دیدی اور بیت المقدس کی چابی حضرت عمر کے حوالے کردی گئی تو حضرت عمر نے یہود کو بیت المقدس آنے کی اجازت دی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے مکہ مکرمہ میں آباد کیا اور دوسرے بیٹے اسحاق علیہ السلام اور ان کی اولادجن میں انبیاء کی ایک لمبی فہرست ہے بیت المقدس میں آباد کیاجو اہل کتاب ہیں۔
اللہ نے فرمایا کہ یہوداور مشرک تمہارے سب سے بڑے دشمن ہیں ”آپ ضرور ایمان والوں کیلئے سب سے زیادہ دشمنی میں سخت یہودکو پائیں گے اور ان کوجو مشرک ہیںاور آپ ضرور ایمان والوں کیلئے سب سے زیادہ موودت میں قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں کیونکہ ان میںعلماء و مشائخ ہیں اوربیشک وہ تکبر نہیں کرتے ہیں”۔( المائدہ82:)
لیکن اللہ کا یہ حکم نہیں کہ یہود اور مشرکوں سے دشمنی رکھو۔ تب ہی تو حضرت عمر نے یہود کو ان کے اپنے قبلے کی زیارت کیلئے آنے پر پابندی ختم کردی۔ اور فلسطین کے لوگوں نے ان کو اپنی زمینیں بیچنا شروع کردیں۔ اگر مسلمانوں کی جگہ پر عیسائی ہوتے تو یہود پر پابندی بھی برقرار رہتی اور آبادی کی اجازت بھی نہ ملتی۔ اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ مشرکین مکہ سے کہو کہ”قل الا اسئلکم علیہ اجرًا الا المودة فی القربی ” جب نبی ۖ مشرکین مکہ سے قرابت داری کی موودت کے فطری تقاضے پر عمل کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں تو کیاہمارا حق نہیں بنتا تھا کہ ہم بھی قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے مشرکوں سے موودت رکھتے؟۔ نبی ۖ اور مسلمانوں نے مشرکینِ مکہ سے قرابت داری کی فطری محبت رکھی تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر اس کا اظہار بھی ہوا۔
لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رء وف رحیمOفان تولوافقل حسبی اللہ…(سورہ توبہ ) بیشک تمہارے پاس رسول آئے جو تمہاری نسل سے ہے،ان پر بھاری پڑتا ہے وہ جس سے تم مشقت میں پڑو۔ تم پر حرص رکھتا ہے اور مؤمنوں پر مہربان اور رحیم ہے۔ اگر وہ روگردانی کریں تو کہو کہ مجھے اللہ کافی ہے”۔
نتیجہ یہ ہوا کہ جہالت کے سب سے بڑے سردار ابوجہل نے گردن کٹادی مگر اسلام قبول کرنے سے زخمی نڈھال نے موت کے منہ میںبھی انکار کیاتھا۔
مسلمان حسین پر فخر کرتے ہیں کہ اپنا سر دیا مگر یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لاالہ الا اللہ است حسین
اگر جاہلیت کا قلع قمع اسلام نہ کرتا تو جاہل لوگ ابوجہل کے ترانے گاتے کہ سر داد نہ داد دست در دست محمد اپنی گردن کٹادی مگر اپناہاتھ نبیۖ کے ہاتھ بیعت کرنے کیلئے نہیں دیا۔ پھر ابوجہل کا بیٹا عکرمہ سچا پکا صحابی بن گیا۔ نبیۖ فرماتے تھے اس کے سامنے اس کے باپ کی برائی مت کرو۔ شیعہ ٹھیک کہتے ہیں کہ نبیۖ نے صحابہ سے فرمایا کہ میرے اہل بیت سے موودت رکھو ۔
نبیۖ نے یہود کے ساتھ میثاق مدینہ کیا تو فلسطین کے لوگ یہود سے میثاق مدینہ کے طرز پر معاہدہ کرسکتے ہیں۔نبی ۖ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ کیا تو پاکستان ہندوستان سے صلح حدیبیہ کرسکتا ہے۔ قائد اعظم نے اگر اسرائیل کو حرامی بچہ کہا ہے تو قائداعظم قادیانیوں کو بھی مسلمان مانتا تھا اور سرظفراللہ قادیانی کو پاکستان کا پہلا وزیرخارجہ بنایا تھا۔ انگریز نے سویت یونین کا راستہ روکنے کیلئے ہندوستان تقسیم کرکے پاکستان بنایا تھا۔ جس طرح آج ہماری اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہ کرتی ہے،اس طرح اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے جو چاہا وہ کیا ۔لیکن ان کی اسٹیبلشمنٹ فوج نہیں سول سیاسی قیادت تھی جن کے پاس دماغ اور صلاحیتیں تھیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ فوج ہے جس کا فرد واحد آرمی چیف ساری زندگی نوکری کرکے غلامانہ ذہنیت کا مالک بن جاتا ہے ، جس کا اپنا دماغ نہیں ہوتا وہ تمام سفید وسیاہ کا مالک بن جاتا ہے اور پوری قوم کو فوج کی طاقت سے ہنکاتا ہے۔ کٹھ پتلی پارٹیاں ان کے سامنے اوندھے منہ لیٹ جاتی ہیں اور جب جنرل قمر جاویدباجوہ کے ایکسٹینشن کا معاملہ آیا تو پارلیمنٹ میں قانون بھی بنادیا اور آرمی چیف کی زیادہ عمر تک مزید ایکسٹینشن کی قانونی اجازت رکھی۔
عسقلان غزہ سے صرف10کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسرائیل کے سامنے غزہ کی پٹی ایسی ہے جیسے کراچی کی کوئی کچی آبادی پاکستان کے مقابلے میں ہے۔ اگر کچی آبادی کے28لاکھ مکین ڈفینس پر حملہ کرکے مار دھاڑ کریں توجو بھگتنا پڑے گا وہ سب جانتے ہیں۔ افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو پاکستان سے54ہزار ڈرون حملے ہوئے ،4لاکھ افغانی مارے اور ہم نے پکڑ پکڑ کر لوگ امریکہ کے حوالے کئے۔امریکہ قطر ی مذاکرات سے نکلا۔فلسطین کے مظلوم عوام کی جانیں بچانے کیلئے روس اور دنیا سے رابطہ کرکے صلح کروائیں۔ اگر عسقلان کو مسلمان اپنی مرضی سے بیچ باچ کر خالی نہ کرتے اور خانقاہ بناتے تو سید عبدالقادرجیلانی کی خانقاہ نے سقوطِ بغداد کے بعدخلافت عثمانیہ قائم کرنے میں کردارادا کیاتھا۔رباط خانقاہ اور گھوڑوں کے اصطبل کو بھی کہتے ہیں۔ لیکن قرآن کا”رابطوا ”زبردست ہے جس سے ہم فلسطین اور انسانیت کی ساری نسل بچاسکتے ہیں۔ جن علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کیا،صلح سے دنیا مسلمانوں کا ساتھ دے گی۔ جس میں عیسائی، ہندو اور یہود شامل ہوں گے ۔ انشاء اللہ العزیز

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امت مسلمہ قرآن کی طرف کیسے متوجہ ہوگی؟

امت مسلمہ قرآن کی طرف کیسے متوجہ ہوگی؟

” جوچیزلوگوں کو نفع دے تو وہ زمین میں اپنا ٹھکانہ پکڑلیتی ہے”۔(القرآن)توکیا قرآن نفع بخش نہیں؟

قرآن ناظرہ، ترجمہ وتفسیر کے ساتھ اور کتابوں کے درس کی شکل میں موجود ہے لیکن عوام توجہ نہیں دیتے!

بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سورہ مائدہ میں تین فتوے لگائے گئے ہیں کہ جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ جواللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔
ڈاکٹر اسرار جدید اسلامی سکالر اور سودی بینکاری کے خلاف تھے مگر ان کا نام نہاد جانشین شجاع الدین شیخ ڈٹ کرپتہ نہیں کیا لے رہاہے کہ سودی نظام کی حمایت میں زمین وآسمان کی قلابیں ملارہاہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہ کرنے والوں پر ان تینوں حکموں کو ایک ساتھ فٹ کیا ہے۔ حالانکہ تینوں چیزوں میں بہت واضح فرق ہے۔ ہم نے پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کتابچے میں سورہ مائدہ کی ان آیات کی سن90کی دہائی میں سیاق وسباق کے ساتھ وضاحت کی تھی جس کی علماء کرام نے تائید بھی کی۔
چونکہ علماء ومفتیان کے فتوے سے دین بدلتا ہے اسلئے ان پر سب سے زیادہ سنگین کافر کا فتویٰ قرآن نے لگایا ہے۔ حکمرانوں کا تعلق عدل وانصاف سے ہے اور ان پر انصاف نہ کرنے کی وجہ سے ظالم کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔ عام آدمی کا تعلق اپنی ذات سے ہوتا ہے اسلئے ان پر سب سے کم درجہ فاسق کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔
نوشتہ دیوار کے قارئین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جن میں علماء ومفتیان، مدارس کے طلبہ، دکان دار ، سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبہ اور سرکاری اداروں کے افسران، عدلیہ کے وکیل اور جج ہمارے اخبار کو پڑھتے ہیں اور بعض سمجھتے ہیں کہ کچھ مسائل بار بار دھرائے جاتے ہیں لیکن جس دن انقلاب آئے گا تو انہی مسائل کی وجہ سے ہی آئے گا۔ جب عورت کو خلع اور میاں بیوی کو طلاق کے بعد قرآنی ہدایات اور بہت زبردست وضاحتوں کی روشنی میں حلالے کی لعنت سے چھٹکارا ملے گا۔ اکٹھی تین طلاق پر حلالے کا گھناؤنا جرم نیست و نابود ہوجائے گا۔ لوگوں کا رونا یہ ہے کہ معاشرے سے قومی اقدار کا جنازہ نکل رہا ہے لیکن ان کویہ اندازہ نہیں ہے کہ مذہب کی کتنی گہری چھاپ ہے ؟۔ اور مذہب کی وجہ سے جن معاشرتی برائیوں کا مجبوری میں سامنا ہوتا ہے اس کی وجہ سے لوگ قرآن وسنت اور اسلام ومذہب سے دور بھاگ رہے ہیں۔
ایک پختون اپنی بیٹی کا حق مہر کھا جاتا ہے تو بہت برا ہے اور ایک پنجابی جہیز مانگتا ہے تو یہ بھی بہت برا ہے اور ان رسموں کو قومی اتحاد اور اچھے انداز میں ختم کرنا بہت ضروری ہیں۔ لیکن جب میاں بیوی ملنا چاہتے ہیں اور اسلام کے نام پر ان کے درمیان حلالے کی لعنت کا فتویٰ ڈالا جاتا ہے تو ایسی بے غیرتی، ظلم ، زیادتی، جبر ، جنسی تشدد اور بدترین قسم کی بلیک میلنگ دنیا کے کسی مذہب اور قوم میں نہیں ہے۔ حالانکہ قرآن وسنت نے اس لعنت کو معاشرے سے بالکل ختم کردیا تھا۔
خلع وطلاق کے احکام سورہ النساء آیت19،20،21میں ہیں۔جب آیت19النساء میں نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا گیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عورت کو اسلئے جانے سے نہ روکے کہ شوہر اپنا دیا ہوا بعض مال واپس لے مگر کھلی فحاشی کے ارتکاب کی صورت میں بعض مال واپس لینے کی گنجائش ہے اور اس سے مراد منقولہ اموال ہیں جو لے جائی جاسکتی ہیں۔ غیر منقولہ اموال اس کو واپس کرنا ہوگا ۔جیسے مکان ، جائیداد، باغ ، پلاٹ ، دکان وغیرہ۔ البتہ طلاق کی صورت میں کچھ بھی واپس شوہر نہیں لے سکتا ہے بھلے بہت سارے خزانے دئیے ہوں۔ سورہ النساء آیات 20اور21میں اس کی بھرپور وضاحت ہے۔
جبکہ آیت229البقرہ میں صرف اور صرف طلاق کے احکام ہیں اور اس سے خلع مراد ہوہی نہیں سکتا۔ مولانا سلیم اللہ خان و علامہ غلام رسول سعیدینے اپنی اپنی بخاری کی شرح ”کشف الباری” اور ”نعم الباری” میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ ایک صحابی نے نبی ۖ سے پوچھ لیا کہ ”قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟”۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ آیت229البقرہ میں الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے”۔ احسان کے ساتھ رخصت کرنا” تسریح باحسان” ہی تیسری طلاق ہے۔پھر اس کے بعد خلع کی بات کہاں سے آسکتی ہے؟۔ علماء اور طلبہ مدارس میں فضول قسم کے فقہی اختلافات کا سلسلہ چھوڑ کر قرآن وحدیث کی طرف اپنا رخ موڑ لیں گے تو امت مسلمہ کا رخ بھی قرآن وسنت کی طرف مڑ جائے گا۔ انواع واقسام کے لایعنی اختلافات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شیخ الہندمولانا محمود الحسن مالٹا کی جیل میں جاتے ہیں تو آخری عمر میں قرآن اور فرقہ واریت کے خاتمہ کااحساس پیدا ہوجاتا ہے اور پھر ان کی بات نہیں مانی جاتی ہے جس کا گلہ مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی کیا ہے۔ پھر علامہ انور شاہ کشمیری نے آخری عمر میں اپنی زندگی ضائع کرنے کا رونا رویا تھا کہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی ، فقہی اختلافات میں اپنی زندگی ضائع کردی۔ یہ ان لوگوں کی غلطی بھی نہیں تھی اسلئے کہ ایک چلتے پھرتے ماحول میں قرآن وسنت کی طرف توجہ جاتی بھی تو وہی مسلک فرقہ واریت کا شاخسانہ ہی دکھائی دیتا۔ البتہ آج جب ہم نے سالوں محنت کرکے مختلف نہج سے مسائل کا قرآن وسنت کے مطابق واضح نقشہ نکال دیا ہے اور امت مسلمہ اس کے ذریعے عروج پر جلد ازجلد پہنچ سکتی ہے اور قرآن انسانیت کیلئے معراج بن سکتا ہے توپھر حق کے مقابلے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے سے اللہ برباد کرکے رکھے گا۔
جس طرح مفتی تقی عثمانی کی وجہ سے مدارس نے اپنے علماء حق کو چھوڑ کر سود کا نام نہاد اسلامی بینک قبول کرلیا ہے اور اس سے پہلے مفتی محمود کے مقابلے میں سودکی کٹوتی کو زکوٰة کا نام دے کرشراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل چڑھایا گیا تھا اور آخر کار پھر ماحول کا حصہ بن گیا ، اسی طرح اسلام کو مختلف ادوار میں اپنے اپنے وقت کے شیخ الاسلام اورقاضی القضاة نے اپنے مفادات اٹھاکر یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ آج اسلام کے واضح احکام بالکل اجنبی بن گئے ہیں۔
جب قرآن کا درس دینے والوں کو قرآن کی درست تعلیم کا فہم آجائے گا تو پھر یہ مخصوص حلقوں، مساجد، مدارس اور مذہبی افراد کی زبان پر نہیں رہے گا بلکہ ہر عام وخاص ، علماء ومشائخ، عوام الناس، کالج ویونیورسٹیوں کے پروفیسر و طلبہ اور اقتدار کے ایوانوں ، عدالت اور ٹی وی چینلوں پر اس کی گونج سنائی دے گی اور عالم اسلام کو پستی نکال کر عروج اور انسانیت کو پستی سے نکال کر معراج کی وہ منزل عطاء کرے گا کہ ابلیس کے سارے خواب دھرے کے دھر ے رہ جائیں گے۔ اسلام کو غیر مسلم قبول کریں یا نہ کریں لیکن اپنی مرضی اور خوشی سے قرآن کی طرف ایسی توجہ دینگے کہ ہرمعاملے میں اللہ کی کتاب اپنا لوہا منوادے گی۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس کی فطری تعلیمات کی طرف دنیا کی صرف رہنمائی کریں۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ3پر اس کے ساتھ متصل مضامین”40آیات میں اطیعوا الرسول کا حکم ہے ”
”قرآن میںاحترام انسانیت کا اعلیٰ ترین تصور”
اور ”کون کانا دجال اورکون علماء حق کا کردار ہے؟” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کون کانا دجال اورکون علماء حق کا کردار ہے؟

کون کانا دجال اورکون علماء حق کا کردار ہے؟

درس نظامی کے پختہ علماء کرام اہل حق کا وہ سلسلہ ہے جس کے ذریعے سے اسلام کا غلبہ ہوگا۔

جدید اسلامی سکالروں کا کردار کانے دجالوں کی طرح بہت گھناؤنا ہے اورانجینئرمرزا محمد علی بھی یہی ہے

مفتی تقی عثمانی نے بینکوں کے سودکو زکوٰة قرار دیا تو مفتی محمودنے اپنے آخری دم تک اس کی مخالفت کا حق ادا کیا۔ پھر مولانا فضل الرحمن اس کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتاتھا لیکن آخرکار ماحول کی مجبوری سے چاروں شانوں چت لیٹ گیا۔ آج معاشی بحران کا اصل معاملہ زکوٰة کی ادائیگی کا خاتمہ اور سود کا رائج الوقت سکہ ہونا ہے۔ اللہ نے قرآن میں واضح فرمایا ہے کہ زکوٰة میں برکت اور مال کی فروانی ہے اور سود سے معاشی نظام کو اللہ تعالیٰ مٹادیتا ہے۔
ایک آدمی کے بینک میں10کروڑ روپے رکھے ہوں اور اس کو بینک سے ایک کروڑ سالانہ سود مل رہاہو۔ اور اس کو25لاکھ زکوٰة پر دینے پڑیںتو اس کی اپنی اصل رقم10کروڑ محفوظ ہوگی۔25لاکھ زکوٰة میں نکلنے کی جگہ75لاکھ سود بھی ملے گا۔یہ کوئی ایسا فلسفہ نہیں ہے کہ جو کسی عقل مند کو سمجھ میں نہ آئے۔ پہلے لوگ بڑے پیمانے پر مدارس، غربائ، مساکین، فلاحی اداروں اورمستحق افراد کے پاس اپنی زکوٰة اپنا فرض سمجھ کر لے جاتے تھے۔ نماز کی طرح زکوٰة کا مالی فرض بھی ادا نہ کرنا بڑا گناہ تصور کیا جاتا تھا مگر جب مفتی تقی عثمانی نے جنرل ضیاء الحق کوغلط فتویٰ دیا تو زکوٰة کی ادائیگی کا معاملہ تقریباً بالکل ختم ہوگیا۔ پہلے لوگ ایک طرف زکوٰة ادا کرتے تھے اور دوسری طرف سودی رقم سے مساجد کے لیٹرین یا مقروضوں کے قرض ادا کرتے تھے لیکن اب زکوٰة بھی نہ ہونے کے برابرہے۔
مفتی تقی عثمانی نے جنرل ضیاء الحق سے مدرسہ کیلئے نقدی اور پلاٹ لئے۔ پھر مزید ہمت بڑھ گئی اور عرب ممالک کیلئے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا۔ پھر اس سے عالمی سطح کی شہرت پائی۔ مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، مفتی زر ولی خان کراچی تا خیبر ، لاہورتا مکران دیوبندی علماء حق نے سودی نظام کے خلاف متفقہ فتویٰ دے کراپنے علمی فریضے کا حق ادا کردیا لیکن مفتی تقی عثمانی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ علماء حق اور علماء سوء میں حد فاصل یہی ہوتا ہے کہ علماء سوء دنیا کی خاطر اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔ بلعم باعوراء کا بھی قرآن میں ذکرہے کہ اس نے دنیاکے بدلے میں اپنے علم کو بیچ دیا تھا اور اس کی سخت مذمت آئی ہے۔
علامہ تمناعمادی بہت قابل عالم دین تھے جنہوں نے لکھا ہے کہ مدارس میں بھی قرآن کی صرفی، نحوی، لغوی ،بلاغت اور اصول فقہ کے قواعد کے ساتھ بار بار طلبہ کو مشق کرانے کی ضرورت ہے اسلئے درسِ نظامی سے ان کو قرآن کی تعلیم صحیح طرح سے حاصل نہیں ہوتی ہے۔ علامہ تمنا عمادی پاکستان کی آزادی کے بعد مشرقی پاکستان کے ریڈیو سے درس قرآن دیتے تھے۔ ان کی ایک مشہور کتاب ”الطلاق مرتان ” دیوبندی ادارے ”المیزان” نے بھی شائع کی۔
درس نظامی کی اصول فقہ میں ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت229میں دو مرتبہ طلاق کے بعد خلع ہے ۔ حنفی مسلک کے مطابق آیت230البقرہ میں اس طلاق کا تعلق خلع سے ہے۔ علامہ تمنا عمادی نے حنفی اصول فقہ سے یہ اخذ کیا کہ عربی قواعد سے حلالہ کی طلاق کا تعلق خلع سے ہے اور کسی بھی زبان کے اسلوب میں سیاق وسباق کیساتھ معاملہ منسلک ہوتا ہے۔ شرعی، قانونی اوراخلاقی لحاظ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ جرم مرد کرے اور سزا حلالے کی عورت کو ملے؟۔اگر حنفی اصول فقہ کے مطابق فتویٰ دیا جاتا اور علامہ تمنا عمادی کی بات اس حد تک مان لی جاتی کہ حلالے کا تعلق خلع سے ہے۔ تو امت کیلئے معاملہ پھر بھی کچھ آسان ہوجاتا۔
مفتی تقی عثمانی کا خانوادہ انتہائی نالائق، مفادپرست ، بے ایمان اورخائن ہے لیکن چونکہ ایک علمی گھرانہ اور خانوادہ ہے اسلئے جدیداسلامی سکالروں کے مقابلے میں پھر بھی بہت بہتر ہے۔ سورہ بقرہ آیت229کے حوالے سے مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا کہ ” ترجمہ وتفسیر انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہے ۔مولانا اشرف علی تھانوی کے ترجمہ وتفسیر سے بڑی مشکل سے اس کا مفہوم اخذ کیا ہے”۔
جبکہ دوسری طرف جدید سکالروں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیجو ہمت اور عزم کے پہاڑ تھے، دیانت اور بہادری میں لاجواب تھے اور ذہانت میں مثالی شخصیت تھے لیکن تفہیم القرآن آیت229کے ترجمہ میں آسانی سے خلع لکھ دیا اور جاوید احمد غامدی اور دوسرے جدید سکالروں نے بھی اس کو بہت سہل سمجھ لیا۔ مفتی تقی عثمانی اور اس کے قریبی علماء ومفتیان خود کہتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کی حیثیت مکمل اسلامی نہیں ،بس خامیوں کے باوجود ایک کوشش ہے۔ اگرچہ یہ بھی نرا بکواس ہی ہے لیکن دوسر ی طرف سراج الحق امیر جماعت اسلامی تقریر کرتے ہیں کہ ملک میں سودی نظام کو ختم کرو۔ سود کا ادنیٰ گناہ اپنی سگی ماں سے36مرتبہ خانہ کعبہ کے اندر زنا کے برابر ہے۔ علماء اور جہلاء میں یہ فرق ہوتاہے۔ انجینئر محمد علی مرزا اور جاوید غامدی بھی سودی نظام کو دجال کی طرح جائز کہتے ہیں۔
سیدمودودی نے لکھاکہ کانا دجال مراد یہ نہیں کہ اس کی ایک آنکھ عیب دار ہوگی بلکہ دجال کی خیر کی آنکھ کام نہیں کرے گی اور شر کی آنکھ کام کرے گی۔ دجال معین شخص نہیں بلکہ معین اشخاص کا نام ہے۔ نبیۖ نے30ایسے دجالوں کی خبر دی ہے جو نبوت کا دعویٰ بھی کریں گے اور ان میں ایک مرزا غلام احمد قادیانی بھی تھا۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے اپنی کتاب” علامات قیامت اور نزول مسیح ” میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ دجال سے زیادہ خطرناک حکمران اور لیڈر ہوں گے۔ صحیح بخاری میں آخری خطبہ کے حوالے سے ایک ایسی حدیث کا بھی ذکر ہے کہ دجال تم سے ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اس کی تمہیں خبر نہ ہو لیکن اللہ کو اس کی خبر ہے۔ اس کی ایک آنکھ ضائع ہوگی اور دوسری انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔ اس کی خاص نشانی اسکے پیروکاروں کی طرف سے مسلمانوں کا قتل عام اور جان ، مال اور عزت کا عدم تحفظ ہے۔ جب طالبان نے یہ کام کیا تو مولانا فضل الرحمن نے سن2007میں ان کو خراسان کے دجال کی حدیث کا مصداق قرار دے دیا تھا لیکن دجالی میڈیا نے اس خبر کو شائع نہیں کیا تھا۔
دیسی اور اصلی بندوق اور کارتوس میں یہ فرق ہوتا ہے کہ دیسی سے کبھی کبھار شکار کو نشانہ بنانے کے بجائے اپنی آنکھ شکار ہوجاتی ہے۔ کانیگرم وزیرستان میں کئی لوگوں کی ایک ایک آنکھ دیسی بندوق وکارتوس کی وجہ سے اڑ گئی ہے۔ جدید دانشور طبقے کی مثال بھی دیسی بندوق وکارتوس کی طرح ہے جسکے یہ خود شکار بنتے ہیں۔ بریلوی مکتب کے مفتی خالد حسن مجددی گوجرانوالہ نے ہماری کتاب کی طلاق کے مسئلے پر ملاقات میںزبردست تائید کی۔ دیوبندی ، اہلحدیث اور شیعہ میں بھی بہت سارے علماء حضرات ہیں لیکن انجینئر محمد علی مرزا کے برف خانے والی جہلم کی درسگاہ میں حاضر خدمت ہونے کے باوجود بات سننا تک بھی جاہل نے گوارا نہیں کیا۔ اصحاب علم میں پھلدار درخت کے جھکاؤ کی طرح تواضع ہوتی ہے اور جاہل اکڑ باز ہوتاہے۔ علماء ومفتیان اور طالبان کے ہم قدر دان ہیں۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ3پر اس کے ساتھ متصل مضامین”40آیات میں اطیعوا الرسول کا حکم ہے ”
”قرآن میںاحترام انسانیت کا اعلیٰ ترین تصور”
اور ”امت مسلمہ قرآن کی طرف کیسے متوجہ ہوگی؟” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن میںاحترام انسانیت کا اعلیٰ ترین تصور

قرآن میںاحترام انسانیت کا اعلیٰ ترین تصور

اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں بھی دشمنوں سے لڑائی کے معاملے میں بزدلی نہیں بہادری سکھادی ہے

جنگ جیتنے کے بعد قیدیوں کو مضبوط باندھنے کا حکم دیا ہے اور پھر رہائی کیلئے فدیہ یااحسان کرنے کا فرمایا

دشمن جب لڑائی و جنگ پر آمادہ ہو تو اللہ نے فرمایا کہ پھر گردنوں کا مارنا ہے اور جب تم خوب خون بہا چکے تو پھر قیدیوں کو مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد ان کو احسان کرکے یا فدیہ لیکر چھوڑ دو،یہاں تک جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے۔
قیدیوں کوغلام بنانا، عمر بھر قید رکھنا اور قتل کرنا سب غیر مہذب اور غیرانسانی فعل ہے۔ قرآن نے اس آیت کے ذریعے حالت جنگ کو قائم رکھنے کیلئے نہیں بلکہ جنگ کو ختم کرنے کیلئے بہترین چارٹر عالم انسانیت کے سامنے رکھا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ ۖ نے جیسا فرمایا تھا کہ ” اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا تھا، یہ پھر عنقریب اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا۔ پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ” کے بالکل مصداق اسلام بہت ہی جلد اجنبیت کا شکار ہوگیا تھا۔ پہلے تو جب ا بن مکتوم نابینا صحابی کی آمد پر نبی ۖ کے چہرہ انور پر کچھ ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے تو سورہ عبس نازل ہوئی لیکن پھر نبی ۖ کے وصال کے بعد وحی کی رہنمائی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔ حضرت ابوبکر نے مانعین زکوٰة کیخلاف قتال کا فیصلہ کیا تو حضرت عمر نے شروع میں اختلاف کیا۔ حضرت علی نے چھ ماہ تک بائیکاٹ اور ناراضگی کا سلسلہ جاری رکھا ہواتھا اسلئے ہنگامی بنیاد پر خلافت کا فیصلہ کرنا اور باقاعدہ مشاورت کا پروگرام نہ کرنا ایک اہم معاملہ تھا۔
حضرت عمر نے آخر میں بھی فرمایا تھا کہ ”کاش ! ہم رسول اللہ ۖ سے تین باتیں پوچھ لیتے۔ مانعین زکوٰة کے خلاف قتال، آپۖ کے بعد خلفائ، کلالہ کی میراث پرمزید تفصیلات”۔ حضرت خالدبن ولید نے حضرت مالک بن نویرہ کے قتل کے بعد عدت ہی میں اس کی بیوی سے شادی کرلی تو حضرت عمر نے ان کو سنگسار کرنے کا مشورہ دیا۔ حضرت ابوبکر نے ڈانٹ ڈپٹ کو کافی سمجھا۔ جب پتہ چلا تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر بے گناہ لوگوں کے قتل سے بھی دریغ نہ کیا تو نبی ۖ نے تین بارفرمایا کہ ”اے اللہ گواہ رہنا،میں خالد کے فعل سے بری ہوں”۔
حضرت علی نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا تھامگر ام ہانی نے اپنے شوہر کیلئے نبی ۖ سے پناہ لی۔ ام ہانی شروع میں مسلمان ہوئی تھیں اور معراج کا واقعہ بھی آپ کے گھر میں ہوا تھا۔ پھر ان کا شوہر چھوڑ کر گیا تو نبی ۖ نے نکاح کا پیغام دیا مگر اس نے معذرت کرلی۔ پہلے حضرت ابوطالب سے رشتہ مانگا تھا لیکن نبی ۖ کو یہ رشتہ نہیں دیا تھا۔ یہ انسانیت کا اعلیٰ نمونہ تھا کہ جب نبیۖ کو ضرورت تھی تو رشتہ نہیں ملا لیکن جب اس کی عمر زیادہ ہوئی ، بچوں کی ماں بن گئیں اور شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیۖ نے پیغام بھیج دیا۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے اپ کیلئے ان چچا اور ماموں کی بیٹیوں کو حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی۔ پھر قرآن میں اللہ نے نبیۖ پر پابندی لگا دی کہ کوئی عورت کتنی بھلی لگے مگر اسکے بعد نکاح نہیں کرنا الا ملکت یمینک ”مگرجن کیساتھ آپ کا معاہدہ ہوجائے”۔ علامہ بدرالدین عینی نے28ازواج النبیۖ میں ام ہانی کا بھی ذکر کیا لیکن قرآن کی رو سے یہ نکاح نہیں معاہدہ ہی ہوسکتاتھا۔ شیعہ سنی اگر قرآنی آیات، احادیث صحیحہ اور ان تاریخی واقعات پر نظر ڈالیں گے تو بہت سارے پیچیدہ مسائل کا حل نکلے گا۔ جب عبداللہ بن زبیر نے کہا تھا کہ متعہ زنا ہے تو حضرت علی نے فرمایا کہ آپ بھی متعہ کی پیداوار ہیں۔ عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم خود کو خصی نہ بنالیں تو نبیۖ نے فرمایا کہ نہیں!۔ بھلے ایک یا دو چادر کے بدلے متعہ کرلو۔ لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبات ”حرام مت کرو،جو اللہ نے پاک چیزوں میں سے تمہارے لئے حلال کیا ہے”۔ (صحیح بخاری)
نبی ۖ کا آیت کی علت کا حوالہ دیکر متعہ کو حلال و طیب قرار دینا بہت بڑی بات ہے۔عبداللہ بن مسعود نے اپنے مصحف کی تفسیر میں متعہ کو حلال قرار دیتے ہوئے (الی اجل مسمٰی) لکھ دیا تھا۔ علماء ومفتیان غلط کہتے ہیں کہ وہ آیت میں اضافہ کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اگر چہ حنفی مسلک میں اضافی آیت بھی آیت ہی کے حکم ہے جو حنفی مسلک کے تضاد کی بھی بہترین دلیل ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ”پس نکاح کرو جن عورت کو چاہو دودو، تین تین ، چار چار سے اور اگر تمہیں ڈرہو کہ عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک او ماملکت ایمانکم ” یا پھر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے”۔ (سورہ النساء آیت3) اس سے مراد لاتعداد لونڈیاں نہیں بلکہ جو2،3،4عورتوں میں انصاف نہ کرسکنے کا خوف رکھتا ہو تو پھر ایک عورت یا جن سے معاہدہ ہوجائے۔یعنی جو ایک عورت رکھنے کی بھی پوزیشن میں نہ ہو تو پھر متعہ کرنے پربھی گزارہ ہوسکتا ہے۔قرآن کی تفسیر قرآن اور سنت سے بہتر نہیں ہے۔ محرمات کی فہرست کے آخرمیں دو بہنوں کو جمع کرنا منع ہے اور پھر المحصنٰت من النساء الا ما ملکت ایمانکم” مگرجن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے”۔ اس کی تفسیر پر صحابہ نے بھی اتفاق نہیں کیا۔ آج ایک سرکاری افسر ، فوجی شہید کی بیگم کو مراعات ملتی ہیں مگر جب وہ دوسری شادی کرتی ہے تو اس کی عزت اور مراعات ملیا میٹ ہوجاتی ہیں۔ ایسے میں قرآن نے بڑی مہربانی اور رہنمائی کی ہے کہ جس سے اس کی مراعات اور عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوگی اور انسانی فطرت اورضروریات کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔
قرآن میںما ملکت ایمانکم ”جنکے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ (تمہارے معاہدوںوالے) متعہ ومسیار ، غلام ولونڈی، کاروباری شراکت دار سب پر موقع محل کے مطابق اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر قرآنی آیات کا درست ترجمہ وتفسیر کی جائے تو فحاشی وعریانی بھی کنٹرول ہوگی اور جنسی تسکین کیلئے جائز و معقول اور انسانی فطرت کے مطابق مستقل نکاح یا عارضی بندھن کی بھی اجازت ہوگی۔ نکاح کے مقابلے میں متعہ ومسیار کے مالی معاملات بھی عارضی معاوضے اور باہمی رضامندی سے طے ہوتے ہیں۔ جو طے ہوجائے اس کے بعد بھی اس میں کمی وبیشی کی باہمی رضامندی سے گنجائش قرآن نے رکھی ہے۔
قرآن نے متعہ ومسیار والیوں کے مقابلے میں طلاق شدہ وبیوہ کو ہی زیادہ اہمیت دی ہے ۔ اگر طلاق شدہ وبیوہ تک بھی میسر نہ ہو تو متعہ ومسیار والیوں کے ساتھ بھی نکاح کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ فرمایا ہے کہ جیسے تم ہو ،ویسے وہ ہیں اور ان کو کمتر نہ سمجھنے کا حکم ہے اور یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ اللہ تمہارا ایمان جانتا ہے (یعنی جو اپنے لئے اور ان متعہ ومسیار والیوںکیلئے الگ پیمانہ رکھتاہے)اور پھر ان کے ساتھ دوسری عام شادی شدہ عورتوں کے مقابلے میں فحاشی کی صورت میں نہ صرف آدھی سزا کی تجویز دی ہے بلکہ فرمایا کہ اگر تمہیں مشکل میں پڑنے کا خوف نہ ہو تو بالکل درگزر کرو۔قرآن کا معاشرتی نظام بہت زبردست ہے لیکن ترجمہ وتفسیر کرنے والوں نے موٹی موٹی باتوں کو بھی خود بھی بالکل نہیں سمجھا ہے۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ3پر اس کے ساتھ متصل مضامین”40آیات میں اطیعوا الرسول کا حکم ہے ”
”کون کانا دجال اورکون علماء حق کا کردار ہے؟”
اور ”امت مسلمہ قرآن کی طرف کیسے متوجہ ہوگی؟” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

40 آیات میں اطیعوا الرسول کا حکم ہے

40آیات میں اطیعوا الرسول کا حکم ہے

نبیۖ نے فرمایا کہ قلم اور کاغذ لاؤ،تاکہ میں تمہیں ایسی وصیت لکھ کردوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو!

حضرت عمر نے کہا کہ ”ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے”۔ شور مچ گیا تو نبیۖ نے سب کونکال دیا

ڈاکٹر طاہر القادری کی ایک وڈیو کلپ دیکھ لی ، جس میں اس نے کہا ہے کہ ”قرآن میں40مرتبہ اللہ کے رسول ۖ کی اطاعت کا حکم ہے۔ 22مرتبہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ذکر ہے اور 18مرتبہ صرف رسول کی اطاعت کا حکم ہے۔ پورے قرآن میں ایک بار بھی صرف اللہ کی اطاعت کا ذکر نہیں ہے۔ تاکہ کوئی یہ نہیں کہہ سکے کہ رسول کی اطاعت کے بغیر بھی اللہ کی اطاعت ہے اور جہاں صرف رسول ۖ کی اطاعت کا حکم ہے۔ اس کی وضاحت اللہ نے خود ہی کردی ہے کہ من اطاع الرسول فقد اطاع اللہ ”جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے تحقیق کہ اللہ کی اطاعت کی”۔
ڈاکٹر طاہر القادری یقینا بہت صاحب مطالعہ ، محقق عالم اور اچھی ذہنیت کے مالک ہیں۔ اگر ماحول اجازت دیدے تو پھر شیعہ بھی بن سکتے ہیں اسلئے کہ جب رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” قلم اور کاغذ لاؤ،تاکہ میں تمہیں ایسی وصیت لکھ کردے دوں کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوجاؤ”۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ بعض نے نبی ۖ اور بعض نے حضرت عمر کے حق میں بات کی ۔ نبی ۖ کا ساتھ دینے والوں نے ناراضگی میں کہا کہ کیا نبی ۖ نعوذ باللہ کوئی ہذیان بول رہے ہیں۔ ان دونوں طبقے کے شور شرابے پر نبیۖ نے فرمایا کہ میرے پاس سے باہر نکل جاؤ۔ ( صحیح بخاری)
شیعہ کے اس سوال کا کیا جواب ہے کہ حضرت عمر نے نبی ۖ کی اطاعت قبول کرنے سے کیوں انکار کیا؟۔بڑے بڑے مدارس کے بڑے بڑے علماء کو اس حدیث کی خبر بھی نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے ایک عربی عالم کہتا ہے کہ اللہ نے جہاں جہاں قرآن میںاطاعت کا ذکر کیا ہے وہاں نبی نہیں رسول کہا ہے اور رسول کے پاس جو رسالات اپنے رب کی طرف سے آتی ہیں وہی قرآن کے احکام ہیں جو قرآن میں موجود ہیں۔اسلئے اطاعت وہاں فرض ہے جہاں قرآنی پیغام کے ذریعے سے حکم موجود ہو۔ سورۂ مجادلہ میں اللہ نے فرمایا کہ ”اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے حق میں جھگڑ رہی تھی”۔ اللہ نے فیصلہ بھی اس عورت خولہ بنت ثعلبہ کے حق میں کردیا۔جب بدری قیدیوں پر نبی ۖ نے مشاروت کی تو حضرت عمر اور حضرت سعد نے مشورہ دیا کہ جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے وہ اس کو قتل کرے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت علی نے مشورہ دیا کہ انکے ساتھ درگزر کا معاملہ کرکے فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے۔ نبی ۖ نے ان رحم کرنے والوں کے مشورے پر فیصلہ دیا۔ وحی نازل ہوئی ”نبی کیلئے یہ مناسب نہیں تھا کہ آپکے پاس قیدی ہوں ، یہاں تک آپ خون بہاتے۔ تم لوگ دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔ (القرآن)پھر جب جنگ احد میں صحابہ نے بڑا زخم کھایا۔ فتح شکست میں بدل گئی اور حضرت امیرحمزہ کے کلیجے کو حضرت وحشی نے نکالا اور حضرت ہندہ نے چبایا تونبی ۖ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ان کے70افراد سے اس طرح کا بدلہ لوں گا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” کسی قوم کے انتقام کا جذبہ تمہیں اس حد تک نہ لے جائے کہ عدل نہ کریں”۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ”جتنا انہوں نے کیا ہے،اتنا تم بھی کرسکتے ہو،اگر معاف کردو تو یہ تمہار ے لئے اچھا ہے اور معاف ہی کرو اور معاف کرنا بھی اللہ کی توفیق سے ممکن ہے”۔
اللہ نے فرمایا: یا ایھا النبی اتق اللہ ولاتطع الکٰفرین والمنافقین ان اللہ کان علیمًا حکیمًاOواتبع مایوحیٰ الیک من ربک…. ”اے نبی ! اللہ سے ڈرو۔ اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت مت کرو۔ اتباع کرو جو اللہ نے آپ کی طرف نازل کیا ہے……….(سورہ احزاب)
قرآن کے جتنے احکام ہیں وہ سب اطاعت کیلئے ہیں۔ اللہ نے نبیۖ کو مخاطب کرکے ڈاکٹر طاہرالقادری، مولانا فضل الرحمن ، عتیق گیلانی، مفتی تقی عثمانی اور ان سے پہلے اور بعد میں آنے والے تمام امت مسلمہ سے فرمایاہے کہ” اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت مت کرو۔ بیشک وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اسکی اتباع جو اللہ نے قرآن میں نبی ۖ پر نازل کیا ہے”۔
اگر کوئی کہتاہے کہ وہ عوام الناس سے نہیں ڈرتا تو اللہ نے سورۂ احزاب میں نبیۖ کو مخاطب کرکے فرمایا :وتخشی الناس واللہ احق ان تخشٰہ ”اور آپ لوگوں سے ڈر تے ہیں اور اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے” ۔
اللہ نے سورۂ مجادلہ میں فرمایا ” مائیں نہیں مگر وہی جنہوں نے انکو جنا ہے ” تو مطلب یہ نہیں کہ سوتیلی مائیں ماں کے حکم میں نہیں بلکہ بیویوں سے ظہار کیا جاتا تھا توان کو سگی ماں کی طرح حرام سمجھا جاتا تھا جبکہ سوتیلی ماں سے نکاح کو جائز سمجھا جاتا تھا۔ محرمات کی فہرست میں پہلے فرمایا : لاتنکحوا ما نکح اٰباء کم الا ماقد سلف وحرمت امہاتکم وبناتکم واخواتکم …..”نکاح مت کرو،جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا مگر جو پہلے گزر چکا۔ تمہارے پر حرام ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں…….”۔ (سورہ النساء )
محرمات کی فہرست میں اللہ نے لے پالک بیٹیوں کا بھی ذکر کیا ہے جن کو تم نے اپنے حجروں میں پالا ہے اور جن کی ماؤں کے اندر داخل کیا ہے اور اگر داخل نہیں کیا ہے تو پھر ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو۔ دخول کے لفظ سے اللہ نے ان حرمت مصاہرت کے بیہودہ مسائل کا قلع قمع کردیا ہے جو فقہ کی کتابوں میں گھڑ دئیے گئے ۔ نورالانوار میں ملاجیون نے یہاں تک لکھ دیا کہ ”ساس کی شرمگاہ کو اگر باہر سے شہوت کی نظر سے دیکھا تو اس میں عذر ہے لیکن اگر اندر سے دیکھا تو پھر بیوی حرام ہوجائے گی”۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے نبی ۖ کو اپنی بیٹیوں کی پیشکش کردی تو نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میرے لئے حرام ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان نے ابن حجر کے حوالے سے انتہائی خطرناک اور فضول بحث نقل کی ہے کہ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ ایک آدمی کی بیوی فوت ہوگئی۔ حضرت علی نے پوچھا کہ اس کی بیٹیاں ہیں ۔ اس نے کہاکہ ہاں۔ علی نے پوچھا کہ تمہارے سے ہیں یا کسی غیر سے؟۔ اس نے کہا کہ غیر سے۔ علی نے کہا کہ تمہارے حجرے میں پلی ہیں یا غیر کے؟۔ اس نے کہا کہ غیرکے!۔ علی نے کہا کہ پھر اسی سے نکاح کرلو۔ مولانا سلیم اللہ خان نے ابن حجر کے دلائل کی تعریف کی ہے کہ دوسرا مسلک مشہور نہ ہوتا تو اسی پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ مشہور بھی غلو کا شکار ہے اور یہ بھی اس سے بدتر ہے۔ قرآنی حکم کے مدمقابل افراط و تفریط چھوڑ کر علماء ومفتیان کو عوام الناس کا خوف دل سے نکالنا ہوگا۔ کہیں لکھا کہ اپنے بچے پر غلطی سے شہوت کا ہاتھ لگ گیا تو بیوی حرام ہے اور کہیں لکھا کہ اگر لڑکے سے بدفعلی کرلی تو اسکی ماں سے نکاح حلال ہے۔حالانکہ قرآن اطاعت رسول ہے اسلئے کہ اللہ نے رسول ۖ ہی کے ذریعے تمام قرآنی احکام کو پہنچایا ہے۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ3پر اس کے ساتھ متصل مضامین”قرآن میںاحترام انسانیت کا اعلیٰ ترین تصور ”
”کون کانا دجال اورکون علماء حق کا کردار ہے؟”
اور ”امت مسلمہ قرآن کی طرف کیسے متوجہ ہوگی؟” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیں خانہ کعبہ ہے

ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیںخانہ کعبہ ہے

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے حضرت آدم کے قبلے کی بنیاد پر دوبارہ نبی ۖ کیلئے کعبہ تعمیر کیا

اللہ نے فرمایا: ان اول بیتٍ وضع للناس للذی ببکة مبٰرکًا و ھدًی للعٰلمینO(آل عمران)

رسول اللہ ۖ نے مکہ مکرمہ میں بعثت کے بعد 13سال گزارے۔ جب قرآن کہتا ہے کہ پہلا گھر جو لوگوں کیلئے بنایا گیا مکہ میں ہے جو مبارک ہے اور لوگوں کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ تو مسلمانوں کیلئے یہ ہرگز مناسب نہیں کہ وہ اس کے باوجود مسجد اقصیٰ یا بیت المقدس کو قبلہ اول کہیں۔ البتہ جب رسول اللہ ۖ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو شروع میں آپ ۖ کا یہ معمول تھا کہ اہل کتاب کے مطابق ان چیزوں پر چلتے تھے جس میں اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ انبیاء کرام کی شریعتوں کا منہاج ہر دور میں بدلتا رہا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور بہت سارے انبیاء کرام حضرت داؤد ، حضرت سلیمان، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے اور ان کا قبلہ بیت المقدس تھا۔ نبی ۖ کی خواہش یہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ کو قبلہ بنایا جائے۔ جس کا قرآن میں بہت واضح الفاظ میں تذکرہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ حرم پاک خانہ کعبہ کو قبلہ بناؤ۔ جس پر شروع میں یہود و نصاریٰ کو تکلیف بھی پہنچی کہ ان کے قبلے کو کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟۔ انہوں نے بیوقوفی کرتے ہوئے سوالات بھی اٹھائے کہ کیوں قبلہ تبدیل کیا گیا ہے؟۔ جس کا اللہ نے زبردست جواب دیا ہے کہ مشرق اور مغرب کی طرف رُخ کرنا کوئی نیکی نہیں بلکہ تقویٰ اصل نیکی ہے۔ جس طرف اللہ کا حکم ہو اس کو قبلہ بنانا ہی عبادت ہے۔ یعنی اصل چیز کوئی خاص مقام نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔
جب مسلمانوں کو مشرکین مکہ کی طرف سے خطرات تھے تو اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کو مرکز بنانے کا حکم دیا۔ جونبی کریم ۖ نے فتح مکہ کے بعد بھی برقرار رکھا۔ جب مسلمانوں میں آپس کے فسادات ہوئے، حضرت عثمان کو مسند خلافت پر مدینہ میں شہید کیا گیا تو حضرت علی نے دار الخلافت کو کوفہ منتقل کیا۔ پھر بنو اُمیہ کے دور میں دار الخلافت شام کے شہر دمشق منتقل ہوا۔ اور پھر بنو عباس کے دور میں دار الخلافت عراق کے شہر بغداد منتقل ہوا۔ پھر خلافت عثمانیہ کے دور میں دار الخلافت ترکی کے شہر استنبول میں منتقل ہوا۔ سن1924میں جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو ہندوستان سے مولانا محمد علی جوہر اور انکے بھائی مولانا شوکت علی کی قیادت میں تحریک خلافت شروع ہوئی۔ جس میں ہندو بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ تھے۔ مسلمانوں اور ہندوؤں نے مشترکہ تحریک آزادی کانگریس کے پلیٹ فارم سے بھی لڑی ہے۔ انگریز نے جانے کا فیصلہ کیا تو ہندو کی اکثریت اور بہت سارے مسلمان چاہتے تھے کہ متحدہ ہندوستان تقسیم نہ ہو۔ مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان کی زیر قیادت مسلمانوں کیلئے ایک الگ اور آزاد ریاست کی تحریک چلائی جس کی وجہ سے مشرقی بنگال مشرقی پاکستان بن گیا اور سندھ ، پنجاب، پختونخواہ اور بلوچستان پر مشتمل مغربی پاکستان بن گیا۔ پاکستان بنانے کی مثال اقبال کا ایک شعر تھا۔
مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان مذہبی لوگ نہیں تھے اور جو علماء و مشائخ پاکستان کی تائید میں پیش پیش تھے ان میں ایک بڑا نام علامہ شبیر احمد عثمانی کا تھا۔ جن کے بڑے بھائی مفتی عزیز الرحمن عثمانی دار العلوم دیوبند کے رئیس دار الافتاء تھے ، جو جمعیت علماء ہند سے تعلق رکھتے تھے اور کانگریس کی حمایت کرتے تھے۔ جن کے ایک بڑے صاحبزادے مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے سن1938میں ”ندوة المصنفین” کی بنیاد رکھی۔ اور سن1964میں جمعیت علماء ہند سے الگ ہوگئے اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی بنیاد رکھی۔ جن میں دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ سب شامل تھے۔ مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی صدارت میں دیوبندی،بریلوی، جماعت اسلامی اور اہل حدیث کے بڑے علماء کرام اور دانشوروں کا ایک سیمینار ”تین طلاق” کے موضوع پر احمد آباد شہر میں سن1973کو منعقد ہوا۔ مقالات میں دیوبندی اکابرین اور جماعت اسلامی کے مرکزی عہدیداروں نے اپنی تحقیقات میں یہ انکشاف کیا کہ کوئی ایک بھی ایسی معتبر روایت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ ہونا چاہیے۔ جبکہ قرآنی آیات کی معتبر تفاسیر بھی نقل کی گئیں۔ جن میں ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ کے خلاف دلائل دئیے گئے اور اہل حدیث حضرات تو ویسے بھی اپنا یہ مسلک نہیں رکھتے۔ ایک بریلوی مکتبہ فکر کے عالم دین نے حلالہ کے حق میں بات کی لیکن وہ بھی متفقہ اعلامیہ سے اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ یہ کوئی متفقہ مسئلہ نہیں ہے۔ جبکہ یہ سیمینار پاکستان لاہور سے اہل حدیث حضرات نے کتابی شکل میں چھاپہ ہے اور اس میں علامہ پیر کرم شاہ الازہری کی کتاب ”دعوت فکر” کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مفتی عتیق الرحمن عثمانی کا سن1984میں انتقال ہوا اور اگر وہ ہماری تحقیقات کو دیکھ لیتے تو یقینا اس طرح سے تائید فرماتے جس طرح مفتی حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی بھرپور طریقے سے حق ادا فرمارہے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنے ”فتاویٰ عثمانی، جلد دوم” میں مفتی عتیق الرحمن سنبھلی کا ایک خط چھاپہ ہے اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔ خط میں لکھا ہے کہ عورت کا حق مہر شریعت میں کیا ہے؟۔ قرآن میں اس کو صدقہ بھی قرار دیا گیا ہے اور اجر بھی ۔ جس کے جواب میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا ہے کہ ”حق مہر میرے نزدیک ایک اعزازیہ ہے اور یہ میری ذاتی رائے ہے”۔ ساڑھے14سو سال سے کسی کو یہ خبر نہ ہوئی کہ حق مہر کی حیثیت شریعت میں کیا ہے؟۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کسی گاؤں میں جاہلوں کا بسیرا تھا اور اس میں ایک قدرے ہوشیار بھی رہتا تھا۔ ایک مرتبہ گاؤں میں کوئی ایسا پرندہ آیا جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ سب اس پر اپنے اپنے انداز سے عجیب و غریب تبصرے کررہے تھے۔ آخر میں ہوشیار کو بلایا گیا ۔ ہوشیار نے اپنا سر پکڑا اور اپنے ذہن پر پورا زور دینے کے بعد کہا کہ پہلے پہلے تو ہو نہ ہو لگڑ بگڑ ہے اور اگر لگڑ بگڑ نہیں ہے تو پھر جو بلا بھی ہے مجھے پتہ نہیں۔
جاہلوں میں ہوشیار پرندے کو لگڑ بگڑ سمجھ رہا تھا تو واقعی اس کی یہ بہت بڑی حماقت تھی کہ یہ پتہ بھی نہیں تھا کہ پرندہ الگ چیز ہے اور جانور الگ ۔ مفتی تقی عثمانی نے حق مہر کو اعزازیہ کہہ کر جاہلوں کے سرغنے کو بھی بڑی مات دے دی ہے اور اعزازیہ قرآن و سنت کی سمجھ کی وجہ سے نہیں کہا ہے بلکہ مدارس میں زکوٰة کے مال سے جلسہ تقسیم انعامات دیکھ کر حق مہر کیلئے اعزازیہ کا اندازہ لگایا ہے۔ حق مہر کو سمجھائیں گے تو پھر بیت المقدس کی بات بھی کچھ نہ کچھ سمجھ میں آئے گی۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ2پر اس کے ساتھ متصل مضامین”حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر”
”سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد”
اور ”حق مہر ”اعزازیہ” نہیں بلکہ گارنٹی و انشورنس ہے” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان میں اسلامی انقلاب کیسے آسکتا ہے؟

پاکستان میں اسلامی انقلاب کیسے آسکتا ہے؟

اب اس اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے کہ ریاست کی پوری مشینری ، سیاستدان اور علماء متفق ہوجائیں

علماء ومفتیان آرمی چیف، چیف جسٹس آف پاکستان اور قومی روایات و اقدارسے بھی زیادہ طاقتور ہیں!

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اورچیف جسٹس آف پاکستان فائز عیسیٰ کو پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ عہد ہ بالکل بھی اتنا طاقتور نہیں ہے اسلئے کہ آرمی چیف جہانگیر کرامت کو نوازشریف نے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا۔ جنرل پرویزمشرف کو بھی برطرف کیا تھا اور جنرل ضیاء الدین بٹ کو بھی قید کردیا گیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان سید سجاد علی شاہ کو نوازشریف نے کوئٹہ کے بینچ سے برطرف کروایا اور عدالت میں گھس کر عقب دروازے سے اپنی جان بچانے پر مجبور کیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قیوم کو شہباز شریف نے فون پر نوازشریف کا حکم سنایا تھا کہ یہ اس طرح کا فیصلہ دینا ہے۔ چیف جسٹس عطاء محمدبندیال کو آئین کے مطابق الیکشن کرانے کا حکم دینے سے روک دیا گیا ۔
جنرل پرویزمشرف نے نوازشریف کو برطرف کرکے اقتدار سنبھالا تو سپریم کورٹ نے تین سال تک پرویزمشرف کو قانون سازی کی اجازت دی۔ جب جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی جارہی تھی تو پتہ چلا کہ جس ایکٹ کے تحت فوجی جرنیل کو ایکسٹینشن دی جاتی رہی ہے وہ جرائم سے متعلق ہے۔ ریٹائرڈ فوجی کو سزا دینے کیلئے بحال کیا جاتا ہے تاکہ فوجی عدالت میں اس کو سزا دی جاسکے۔ پھر پارلیمنٹ نے نئی قانون سازی کرکے نہ صرف مدت ملازمت میں توسیع دی بلکہ ایک اور توسیع کی بھی گنجائش تھی۔DGISIندیم انجم نے بتایا کہ عمران خان جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع دینا چاہتا تھا لیکن جنرل باجوہ نے قبول نہیں کیا جبکہ عمران خان نے بتایا کہ مجھے پتہ چلا کہ اپوزیشن نے توسیع کی پیشکش کی ہے اسلئے میں نے بھی توسیع کی پیشکش کردی ۔ ہمارا مقتدر طبقہ ، اشرافیہ اور سیاسی لیڈر شپ عوام میں اپنا اعتماد کھوچکا ہے۔ مذہبی طبقہ بھی بہت بے توقیر ہوچکاہے۔
مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ جو مسجد کا امام جمعیت علماء اسلام کو ووٹ نہیں دیتا ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ اینکر نے پوچھا کہ قرآنی آیت یا حدیث سے اس کی دلیل دے سکتے ہیں؟۔ تو مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ میرے پاس مفتی کی سند ہے اور میں خود یہ اتھارٹی رکھتا ہوں کہ فتویٰ دوں کہ کس کے پیچھے نماز ہوتی ہے اور کس کے پیچھے نہیں! ۔ لوگ اس کو بہت حیران ہوکر شیئرکررہے تھے۔
ایک مفتی یہ فتویٰ دیتا ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں صلح نہیں ہوسکتی ہے اور شوہر کی ایک ساتھ تین طلاق کے بعدعورت کیلئے یہ سزا ہے کہ وہ ایک رات کسی اور کے پاس گزارے۔ تو اچھے خاصے لوگوں کو اپنی رضامندی سے اپنی عزتوں کو لٹوانا پڑتا ہے۔ یہ کام صدیوں سے جاری ہے۔ علامہ بدر الدین عینی اور امام ابن ہمام جیسے لوگوں نے ساڑھے پانچ چھ سو سال پہلے لکھ دیا ہے کہ اگر حلالہ کی نیت ہو لیکن الفاظ میں حلالے کا لفظ نہ کہا جائے تو پھر لعنت نہیں ہوگی اور اگر نیت میں دو خاندانوں کا ملاپ ہو تو ہمارے بزرگوں سے نقل ہے کہ ثواب بھی ملے گا۔
اتنی بڑی طاقت آرمی چیف، چیف جسٹس، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، کمشنر،وزیراعظم، صدر ، وزیراعلیٰ ،گورنر ، مذہبی امور کے وزیر کسی بھی ریاستی اور حکومتی منصب کے پاس نہیں کہ اسکے حکم پر کوئی بیوی کا حلالہ کرنے پر مجبور ہو لیکن ادنیٰ مفتی یہ اتھارٹی رکھتاہے۔ قرآن میں سودکو اللہ اور اس کے رسول ۖ سے جنگ قرار دیا گیا ۔نبی ۖ نے فرمایا کہ سود کے 73 گناہوں میں کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔مفتی تقی عثمانی اسکو جائز قرار دیتا ہے اور دنیا میں پہلے نمبرپرطاقتور شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ عوام نے گھاس نہیں کھائی ، اگر وہ مقتدر طبقات کو پہچانتے ہیں تو کیا مذہبی طبقات کو نہیں پہنچانتے؟۔ لوگوں میں مذہبی طبقے سے ہی نہیں مذہب اور دین سے بھی نفرت کا رحجان پیدا ہواہے۔
عورت عدالت سے خلع لے لیتی ہے تو مفتی طارق مسعود اور قاری حنیف جالندھری فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ خلع شریعت کے خلاف ہے۔ عدالت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی اور سے نکاح کرلیا تو زنا اور حرامکاری ہوگی۔ سپریم کورٹ ، آئین پاکستان ، افواج پاکستان ، سول بیوروکریسی سب سے زیادہ یہ مفتی لوگ طاقتور ہیں۔ اس سے بڑھ کر قرآن اور حدیث سے طاقتور ہیں۔
قرآن میں طلاق سے رجوع کے متعلق تمام آیات سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق پر کوئی حلالہ نہیں ہے بلکہ باہمی رضامندی اور صلح واصلاح اور معروف طریقے سے عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل کے بعد اور عدت کے کافی عرصہ بعد رجوع ہوسکتا ہے اور کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے کہ جس سے ایک ساتھ طلاق پر حلالہ کرنے کا ثبوت ہو لیکن پھر بھی مفتی حضرات اپنی من مانی کرتے ہیں۔ اگر خود کش حملہ آوروں کو پتہ چلا تو ریاست اور اسرائیل پر حملے کرنے کے بجائے مدارس کے اس دارالافتاء کونشانہ بنائیں گے جہاں سے قرآن وسنت کے منافی عزتیں لٹوانے کے فتوے جاری ہوتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام ، تحریک لبیک پاکستان ، جماعت اسلامی، اہلحدیث اور اہل تشیع سب کے سب اپنے نصاب تعلیم کو اچھی طرح چھان کر دیکھ لیں اور ان چیزوں کی اصلاح کریں جن سے مخلوق خدا کو سخت تکلیف کا سامنا ہے اور اصلاحِ حال کی ضرورت ہے۔ کسی کی طرف نفرت کے تیر کا رُخ موڑنے سے خود بہت بڑی پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ فرقہ واریت اور جماعت پرستی کا واویلا مچانے سے دوسروں کے خلاف نہیں تمہارے اپنے خلاف نفرت بڑھ سکتی ہے۔
اللہ نے قرآن میں فرمایا: وقال الرسول یا ربِ ان قومی اتخذوا ھٰذا القراٰن مھجورًا ”اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا ہے”۔ شیعہ سنی دونوں خود کو رسول اللہ ۖ کی قوم کہتے ہیں اور دونوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دیا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد عورت راضی نہ ہو تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا۔ حکمران کے پاس عوام اپنا تنازعہ لیکر جاتے ہیں۔ جب اللہ نے عدت میں ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع کا دروازہ کھلا رکھاہے تو حضرت عمر اس کو کس طرح بند کرنے کا حکم دے سکتے تھے؟۔ لیکن جب عورت راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے فاروق اعظم کا زبردست کردار ادا کیا۔ البتہ جب بہت بعد میں یہ خدشات بڑھ گئے کہ سیدھے سادے لوگوں کو حلالہ کی نیت سے شکار کیا جائیگا توپھر ائمہ اہل بیت نے سمجھایا کہ طلاق کے تینوں مراحل میں دو عادل گواہ بنالوتاکہ لوگ حلالہ کی لعنت سے بچ جائیں۔ اب شیعہ سنی فقہ میں طلاق کے مسائل قرآن کی واضح آیات کی صریح خلاف ورزی ہیں۔اس مرتبہ ہم کوشش کریں گے کہ دیوبندی بریلوی اور جماعت اسلامی والے بھی متفق ہوجائیں تو یہ نہ صرف تبدیلی کا پیش خیمہ ہوگا بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی تہذیبوں کو بھی خس وخاشاک کی طرح لے جائیگا۔انشاء اللہ

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ4پر اس کے ساتھ متصل آرٹیکل ”سپر طاقتوں قیصراورکسریٰ کو کیسے شکست دی؟” اور نقش انقلاب ”اہل سنت اور اہل تشیع کی کتابوں سے آنے والے12اماموں کی زبردست تفصیل” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سپر طاقتوں قیصراورکسریٰ کو کیسے شکست دی؟

سپر طاقتوں قیصراورکسریٰ کو کیسے شکست دی؟

روم اور فارس کی عوام کو یقین آیا کہ مسلم عرب ہمیں اپنے بادشاہوں کی غلامی سے نجات دلائیں گے

جب عوام اپنے حکمرانوں کو اپنا خادم سمجھنے کے بجائے اپنا آقا سمجھنے لگتی ہے تو آزادی کی جدوجہدکرتی ہے

اللہ نے قرآن میں فرمایاکہ وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون ”اور ہم نے جنات اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا ہے مگر اپنی عبادت کیلئے ”۔قرآن میں اصل عربی کے الفاظ لیعبدونی ہے لیکن وقف کی وجہ سے یائے نسبت متکلم لکھنے میں چھوڑ دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھیں اور اس پر غوروتدبر کریں۔ عربی میں عبدیت غلامی کو کہتے ہیں۔ جنات اور انسانوں کو اللہ نے اپنی غلامی کیلئے پیدا کیا ہے۔ مذہبی طبقہ سمجھتا ہے کہ خلافت یا پیرومرشد کے ہاتھ پر جو بیعت کی جاتی ہے تو اس کا مطلب اس شخص کی غلامی میں خود کو دے دینا ہے جس کے ہاتھ پر بیعت کی ہو۔ حالانکہ بیعت صرف اللہ کیلئے ہوتی ہے۔ گناہوں سے توبہ اور نیکی کرنے کے عزم کی بیعت مرشد کے ہاتھ پر ہو تو بھی یہ بیعت اللہ کیلئے ہوتی ہے اور خلافت کیلئے بیعت ہو تب بھی اللہ کیلئے یہ بیعت ہوتی ہے۔
بیعت کا معنیٰ بک جانا ہوتا ہے اور بکی ہوئی چیز دوبارہ اپنی قیمت وصول کرنا غیرشرعی، غیرقانونی اور غیراخلاقی سمجھتی ہے۔ ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم وامولھم بان لھم الجنة ”بیشک اللہ نے مؤمنوں سے انکی جانیں اور انکے اموال خرید لئے ہیں کہ اسکے بدلے ا ن کو جنت ملے گی”۔ (القرآن)
دنیا میں اسلام اسلئے اتنی تیزی سے پھیلا اور ایسا چھاگیاکہ سن1924تک وہ خلافت کا نظام قائم رہا جس نے اپنی ابتداء میں سپر طاقتوں کو شکست دی تھی۔ بنوامیہ ، بنو عباس اور خلافت عثمانیہ میں توسیع کا سلسلہ جاری تھا۔ سلطان عبد الحمید کی ساڑھے چار ہزار لونڈیاں تھیں جن میں ہر رنگ ونسل کی لڑکیاں شامل تھیں۔ اب اگر خلافت قائم ہوگئی تو دنیا سمجھ رہی ہے کہ بہت بڑی تعداد میں عورتیں ہوس پرست مسلمانوں کا نشانہ بن جائیں گی اور لونڈیاں بازاروں میں اپنے مختصر لباس اور جسمانی اعضاء کے نشیب وفراز کی نمود ونمائش کیساتھ فروخت ہوں گی۔
فتوحات کے بعد عورتوں کو لونڈیاں بنانے کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور مردوں کو غلام سمجھا جاتا تھا تو بڑی مشکلات کے بعد سازشیں کرکے مسلمانوں کو شکست سے دوچار کیا گیا تھا۔ عربی میں غلام لڑکے وبرخوردار کو کہتے ہیں۔ سید عبدالقادر گیلانی نے عربی مواعظ میں مخاطب کیا کہ یا غلام ! (اے برخوردار !) ہمارے ہاں صوفیاء کرام نے سمجھ لیا کہ آقا کا غلام مراد ہے۔ علامہ اقبال نے اسلئے کہا کہ ”اے کشتہ ملائی وسلطانی وپیری”۔ ان تینوں طبقات نے اسلام کو اجنبی بنادیا اورمؤمنوں کو اللہ کی غلامی سے نکال کر سلاطین ، ملا اور مرشد کا غلام بنادیا ہے۔
مسلمان ممالک آج دنیا بھر میں موجود ہیں مگرکسی ترقی یافتہ ملک کے شہری یہ خواہش رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے حکمران بھی مسلمان ہوتے؟۔نوازشریف کے خاندان ، ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کے بچوں تک ترقی یافتہ ممالک میں رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟۔ افغان طالبان سے افغانی شہری کیوں بھاگے؟ اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں کس طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا؟۔
عربی شاعر پرندے کے پنجرے میں قیدسے متعلق کیا خوب کہتا ہے کہ
الحبس لیس مذھبی وان یکن من ذھبی
” پنجرہ میرا شعار نہیں ہے ،اگر چہ وہ سونے کاکیوں نہ ہو”۔
عمران خان نے کہا کہ طالبان نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیا ہے۔ تحریک انصاف کے کارکن پاکستان میں بھی غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔
تحریک انصاف کے کارکن سمجھتے ہیں کہ ارشد شریف شہید پر ملک کے کونے کونے سے مقدمات درج کئے گئے لیکن عمران خان پر فائرنگ اور قاتلانہ حملے کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوسکا۔ کیوں؟۔ کیا ہم کسی کے غلام ہیں؟۔ نگران حکومت، سیاسی پارٹیاں ، عدالتیں اور اسٹیبلشمنٹ سب کے سب الیکشن سے اسلئے بھاگنے کے چکر میں ہیں کہ عمران خان کی مقبولیت آسمانوں کو چھورہی ہے۔ نوازشریف کو سزا یافتہ اشتہاری مجرم قرار دینے کے بجائے شاہی پروٹوکول دیا جائے تب بھی عوام کو اس میں کوئی کشش نہیں لگ رہی ہے۔ عدالت نے ایون فیلڈ لندن فلیٹ پر سن2000ہزار سے قبل باقاعدہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی لیکن قسمت کے شوم نے سن2016کے اندر پارلیمنٹ میں حلفیہ یہ تحریری بیان پڑھ کرسنایا تھا کہ”سن2005میںسعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر سن2006میں اس حق حلال کی آمدن سے لندن کے فلیٹ خریدے۔جس کو میڈیا اور عدالت کے سامنے مکمل دستاویزات کیساتھ پیش کرسکتا ہوں”۔ پھر اس سے مکرگیا اور قطری خط لکھ دیا۔ ہے تو جدی پشتی نسلی نالائق پھر اس قطری خط سے بھی مکر گیا۔ پھر مجھے کیوں نکالا کا بیانیہ گردن میںڈال کرڈھول پیٹنا شروع کردیا۔پھر باجوہ کو جب ضرورت پڑی تو ایکسٹینشن دے دی۔ پھر باجوہ کو گالیاں بکنا شروع کیں۔ پھر جنرل باجوہ سے مل کر شہبازشریف اور اسحاق ڈار کو اقتدارمیں لایا۔ جب اقتدار میں مہنگائی بڑھائی تو عمران خان کو ذمہ دار قرادینا شروع کیا۔ لوگ سمجھ گئے کہ یہ اپنے کیس ختم کرنا چاہتے تھے۔ عمران خان کوتوشہ خانہ کیس میں سزادی ، حالانکہ آپ اور آپکا خاندان اور دوسرے سیاستدان اور ذمہ داران زیادہ لتھڑے ہوئے تھے۔ پھر اپنی مقبولیت کیلئے فوج کے خلاف بیانیہ پیش کیا اور جب اشارہ ہوا تویہ جا وہ جا الٹے پاؤں اپنے بیانیہ سے توبہ کرلی۔ اب شش وپنج کی کیفیت ہے کہ کیا کیا جائے؟۔ عوام میں شعور بہت زیادہ ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے پہلے بھی کہا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کو ریاستی قوت سے ختم کرنا ممکن بھی نہیں ہے اور غلط بھی ہے۔ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو جرم کی بنیاد پر سزا دینا عدالت کا کام ہے۔
پہلے بھی کہا تھا کہ ایسی سیاست میں مجھے مزہ نہیں آتا ہے کہ مخالف جیل میں ہو اور ہم آزاد ہوکر اس کے خلاف عوامی بازار گرم کریں لیکن نوازشریف اور مریم نواز کو بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کا نوازشریف نے بڑا ساتھ دیا تھا کہ وزیراعظم تک بھی بنوانے کی کوشش کی اور عمران خان نے بھی وزیراعظم کیلئے ووٹ دیا لیکن پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مولانا فضل الرحمن کو ایسی پوزیشن دینے کی مخالفت کی ورنہ مولانا کم ازکم صدر مملکت تو بن جاتے۔جس پر بالکل بہت ہی زیادہ بیکار قسم کے لوگوں نے بھی ڈیرے ڈالے ہیں۔ لیکن پیپلزپارٹی کیلئے اتنی عزت بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ قومی اتحاد میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مفتی محمود کی صدارت میں پیپلزپارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کا مقابلہ کیا اور پھر دھاندلی سے ہرادیا گیا۔ اب لگتا یہ ہے کہ عمران خان کے مقابلے میں اگر سبھی کو اکٹھاکیا گیا تب بھی شکست کھائیں گے اسلئے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج دیکھ لئے تھے اور اب تو تحریک انصاف کی مظلومیت نے اسکی مقبولیت کو مزید چار چاند بھی لگادئیے ہیں۔ سیاسی مذہبی جماعتیں اب عوام میں اعتماد کھوچکی ہیں اور دہشتگردی کے ذریعے انقلاب واحد راستہ ہے ۔ اگرچہ بڑامشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔
****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ4پر اس کے ساتھ متصل آرٹیکل ”پاکستان میں اسلامی انقلاب کیسے آسکتا ہے؟” اور نقش انقلاب ”اہل سنت اور اہل تشیع کی کتابوں سے آنے والے12اماموں کی زبردست تفصیل” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv