پوسٹ تلاش کریں

سورہ یٰسین قرآن کا دل ہے

یٰسینOوالقراٰن الحکیمOانک لمن المرسلینOعلی صراطٍ مستقیمٍOلتنذرقومًا ما انذراٰباؤھم فھم غافلونO(سورہ یٰسین آیت1سے6)

رسول اللہ ۖ اصل سید سردار ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے سید! قسم ہے حکمت والے قرآن کی بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں سیدھی راہ پر ، نازل کیا گیاہے زبردست غلبہ والے رحم والے کا۔تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے آباء نہیں ڈرائے گئے اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں”۔

سورہ جمعہ میں صحابہ کرام اور اس دور کے عوام کیلئے بھی یہی الفاظ ہیں اسلئے کہ ان کے آباء واجداد غفلت ہی میں پڑے تھے اور
واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم
کا بھی ذکر ہے۔ جنہوں نے موجودہ دور میں پیدا ہونا تھااور آخر میں تھوڑے سے لوگوں نے
السابقون السابقون
سورہ واقعہ کے مطابق
قلیل من الاخرین
کی خبر کا مصداق بننا تھا۔ سورہ انعام میں ان جانوروں کا بھی ذکر ہے جو صحابہ کرام واہل بیت عظام سے نفرت رکھتے ہوں کہ اگر ان کی جگہ پر یہ دلے ہوتے تو بڑے تیر مارتے بہت ہی بے شرم اور بے ضمیر مخلوق ہیں۔

لقد حق القول علی اکثرھم فھم لایؤمنونOانا جعلنا فی اعناقھم اغلالًا فھی الی الاذقان فھم مقمحونO
” تحقیق ان میں سے اکثر پر قرآن کا حق قول ثابت ہوچکا ہے لیکن وہ ایمان نہیں لاتے ہیں۔ بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں پس وہ ٹھوڑیوں تک ہیں سو اوپر کو سر اٹھائے ہوئے ہیں”۔( یٰسین:7،8)

جب ابوجہل اور ابولہب وغیرہ کی یہ حالت تھی تو کبھی لالچ دیتے تھے کہ نبیۖ کو شہید کردیا جائے اور کبھی میٹنگ کرتے اور کبھی سارے ایک دم حملہ آور ہونے کی ترکیبیں لڑاتے لیکن اصل مقصد ٹھوڑیوںتک طوق کے مطلب کی وضاحت ہے اور مفتی تقی عثمانی نے1970ء میں جمعیت علماء اسلام پر بھی فتویٰ لگایا ۔1987ء میں حاجی عثمان کے خلاف سازش کی لیکن اب وہ قرآن کے حلالہ کے خلاف دلائل سے طوق کے اندر کہاں تک پہنچے ہیں؟۔ سودی نظام کو حلال کرنے میں سونے سے دلہن کی طرح لد گیا لیکن ہماری تحریک سے کیا حال ہوا ہے؟۔

وجعلنا من بین ایدیھم سدًا ومن خلفھم سدًا فاغشیناھم فھم لایبصرونO(سورہ یٰسین:9)
اس آیت کا بامحاورہ عام فہم ترجمہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم نے بند گلی میں کھڑا کردیا ہے، شیعوں پر قادیانیوں سے بدتر کافر کا فتویٰ لگادیا مگر پھر پتہ چلا کہ تحریف قرآن کی تعلیم تو خود اپنے درس نظامی میں دے رہے ہیں۔ صحابہ پر اکسایا تو خود ہی اپنے دام میں صیاد آگیا ہے۔ لیکن انہوں نے سودی نظام کو حلال کرنا بھی گوارا کیا اور اس کے خلاف فتوے بھی متفقہ دئیے ہیں۔

وسواء علیھم ء ا انذرتھم ام لم تنذرھم لایؤمونO
”اور ان پر برابر ہے کہ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ایمان نہیں لائیں گے ”۔ (سورہ یٰسین:10)
لوگوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں۔ عقیدت مندوں کی طرف سے راز کھلنے پر خدشات ہیں لیکن ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ صورتحال پہلے بھی ضمیر سے عاری لوگوں کی رہی ہے۔

انما تنذر من اتبع الذکر و خشی الرحمن بالغیب فبشرہ بمغفرةٍ و اجرٍ کریمٍO (یٰسین:11)
”بیشک آپ اس کو ڈراسکتے ہیں جو قرآن کے پیچھے چلے اور رحمان سے غیب کے اندر ڈرے تو اس کو بشارت دو مغفرت کی اور عزت والے بدلے کی ”۔
نبیۖ نے ایسے لوگوں کی خبر دی ہے جن کا ایمان عجیب ہوگا اور انہوں نے نبی ۖ کی صحبت بھی نہیں اٹھائی ہوگی اور فرشتے بھی نہیں دیکھے ہوں گے ۔قرآن بھی ان کے سامنے نازل نہیں ہوگا لیکن صحابہ کی طرح قرآن پر ایمان رکھتے ہوں گے اور ایک کو50افراد کا بدلہ ملے گا۔صحابہ نے پوچھا کہ ان میں سے؟۔ فرمایا کہ تم میں سے50کا ۔

اہل تشیع مہدی غائب پر یقین رکھیں لیکن جب صحابہ کے بارے میں بدظن ہوں گے تو50کا بدلہ تو خطرناک ہوگا؟۔

انا نحن نحی الموتٰی و نکتب ما قدموا و اٰثارھم و کل شی ئٍ احصیناہ فی امامٍ مبینٍO(یٰسین:12)
” بیشک ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیںجو وہ آگے بھیجتے ہیں اور جو پیچھے چھوڑتے ہیںاور ہم نے ہر چیز کا محاصرہ کررکھا ہے کھلے امام کے اندر ”۔

شیعہ سمجھتے ہیں کہ بارویں آیت بارواں امام ؟لیکن امام کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ کم ازکم لوگوں کے کرتوت تو سامنے لائے؟۔

واضرب لھم مثلًا اصحاب القریة اذ جاء ھا المرسلونOاذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالثٍ فقالوا انا الیکم مرسلونO(یسین:13،14)
”اور انکو مثال دو اس بستی والوں کی جب ان کے پاس رسولوں کا سلسلہ آتا رہا ۔پھر جب انکے پاس دو رسول آئے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلادیا ۔پھر ہم نے تیسرے کو مضبوط کردیا اور انہوں نے کہا کہ بیشک ہم سب آپ کی طرف بھیجے گئے ”۔

آج دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ ابراہم ایکارڈ سے یہودونصاریٰ اور مسلمانوں کو ایک کرنے کی بات ہورہی ہے۔ اللہ نے پہلے بہت سارے رسول بھیجے۔پھر موسیٰ و عیسیٰ کے بعد تیسر ے حضرت محمد ۖ سے دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دے کر انسانیت کے عروج کا راستہ ہموار کیا لیکن نتیجہ کیا ہے؟۔

قالوا ما انتم الا بشر مثلنا و ماانزل الرحمن من شی ئٍ ان انتم الا تکذبوںO(یٰسین:15)
آج ابراہم اکارڈ اور مذاہب ماننے والے بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ وہ ہماری طرح بشر تھے اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا مگر سب جھوٹ بولتے ہو۔ لیکن ان کی صدائیں آرہی ہیں کہ

قالوا ربنا یعلم انا الیکم لمرسلونOوماعلینا الا البلاغ المبینO
” کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے۔ہمارا کام کھلا پہنچانا” ۔ (یٰسین16،17)

قالوا انا تطیرنا بکم لئن لم تنتھوا لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب الیمO
بکنا شروع ہوگئے کہ ہم تو تمہیں اڑن طشتریوں کی طرح سمجھتے ہیں اور اگر تمہاری دعوت کا سلسلہ نہیں رکا تو میزائل مارکر گرادیں گے اورہماری طرف سے سخت عذاب تمہیں پہنچے گا۔
قالوا طائرکم معکم ائن ذکرتم بل انتم قوم مسرفونO
جواب بزبان حال آیا کہ تمہارے خلائی شٹل اور ہوائی جہاز تمہارے پاس رہیں ۔ کیا تم نصیحت پکڑو گے بلکہ اسراف کرنے والے ہو۔ (یٰسین18،19)

وجاء من اقصا المدینة رجل یسعٰی قال یاقوم اتبعوا المرسلونOاتبعوا من لایسألکم اجرًا و ھم مھتدونOومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعونOء اتخذمن دونہ الٰھة ان یردن الرحمن بضرٍ لاتغن عنی شفاعتھم شیئًاولاینقذونOانی اذًا لفی ضلالٍ مبینٍOانی امنت بربکم فسمعونO
اسی اثنا میں مغربی اور مشرقی ثقافتوں سے آشنا امام مہدی میدان میں اترتا ہے
اور کہتا ہے کہ اے قوم اپنے اپنے رسولوں کی اتباع کرو۔ان کی اتباع کرو جو انتہائی شاندار نظام کا بھی تعارف کراتے ہیں اور چارج بھی نہیں کرتے مفت کی سکیم اور منصوبہ بندی بتاتے ہیں اور وہ ہدایت پر بھی ہیں۔ اور مجھے کیا ہے کہ اس کی عبادت نہ کروں جس نے انسانی فطرت سے مجھ کو نواز دیا اور تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کیا میں اس کے علاوہ کسی کو معبود بناؤں اگر رحمن میرے لئے نقصان کا ارادہ کرے تو تمہاری سفارش مجھے کام نہیں آئے گی اور نہ مجھے اس مشکل سے نکالنے والے ہیں۔ پھر تو میں کھلی ہوئی گمراہی میں ہوں ۔ بیشک میں ایمان لایا اس پر جو تم سب کا مشترکہ رب ہے پس میری بات سن لو۔ (یٰسین:20سے25)

قیل ادخل الجنة قال یالیت قومی یعلمونOبما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمینO (یٰسین26،27)
اس سے کہا جائے گا کہ اس خیالی پلاؤ کے جنت میں تم خود داخل ہوجاؤ۔ کہے گا کہ کاش میری قوم سمجھ لیتی۔جو کہ میرے رب نے مجھے معاف کردیا ہے اور عزتداروں میں بنادیا”۔
یہ امام معصوم کا کام نہیں ہے بلکہ گناہگار کا کام ہوسکتا ہے۔

وما انزلنا علٰی قومہ من بعدہ من جندٍ من السماء و ماکنا منزلینOان کانت الا صیحةً واحدةً فاذاھم خامدونO
” اور ہم نے اسکے بعد اسکی قوم پر کوئی لشکر نازل نہیں کیا آسمان سے اور نہ ہم نے نازل کرنا تھا یہ تو بس ایک کڑک ہے تو وہ اس سے بجھ گئے”۔(یٰسین28،29۔ )

یا حسرةً علی العباد مایأتیھم من رسولٍ الا کانوا بہ یستھزئوںOالم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انھم الیہم لایرجعونO
اے افسوس بندوں پر۔ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان سے پہلے ادوار میں کتنے ہلاک کردئیے جو انکے پاس نہیں لوٹتے۔(یٰسین30،31)

وان کل لما جمیع لدینا محضرونO(یٰسین32)
”اور سب نے ہمارے ہاں حاضر ہونا ہے” اس آیت میں عالمی اسلامی انقلاب کی زبردست خبر ہے جو پوری ہونی ہے۔

وایة لھم الارض المیتة احییناھا واخرجنا منھا حبًا فمنہ یأکلونOو جعلنا فیھا جناتٍ من نخیلٍ واعنابٍ و فجرنا فیھا من العیونOلیأکلوا من ثمرہ وما عملتہ ایدیھم افلا یشکرونOسبحان الذی خلق الازواج کلھا مما تنبت الارض و من انفسھم و مما لایعلمونO
ان کیلئے خاص نشانی مردہ زمین کی ہے جس کو پھر اللہ نے زندہ کیا ۔جس میںاناج پیدا کیا جس سے وہ کھاتے ہیںاور کھجور اور انگور کے باغات پیدا کئے اور اس میں چشمے اگائے تاکہ اسکے پھل کھائیں اور یہ انکے ہاتھوں نے نہیں کیا تو کیا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ کی پاک ذات ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے جن میں زمین سے اُگتی ہیں اور ان کی جانوں میں سے اور وہ جو یہ نہیں جانتے ہیں۔ (یٰسین33تا35)

کانیگرم وزیرستان پہلے خشک سالی سے مرگیا تھا۔ قبرستان کی قدیم نشانیاں واضح ہیں اور یہی حال گومل ٹانک کا بھی تھا لیکن پھر اللہ نے اس مردہ زمین کو قدرتی نشو نما سے پانی اور بارشوں کے سبب آباد کیا۔ ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان کے لوگ ان حقائق کو اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔

وآیة لھم اللیل نسلخ منہ النھار فاذاھم مظلمونOوالشمس تجری لمستقرٍ لھا ذٰلک تقدیر العزیز العلیمOوالقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیمOلا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا اللیل سابق النھار وکل فی فلکٍ یسبحونO(سورہ یٰسین37سے40)
یہاں پر عجیب منظر بیان کیا گیا ہے کہ ان کی نشانی رات ہے جس سے دن لفٹ کرگیا ہے۔ مہدی کے اصلاح کی رات مراد ہے۔ جیسے سورہ الفجر میں واللیل اذا یسر ہے رات کی قسم جب وہ آسان ہوجائے۔ ان مع العسر یسرًا مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔مشکلات کی وجہ سے رات کے طویل قسم کے اندھیرے سے طلوع صبح پھوٹ پڑتی ہے اسلئے کہ سورج کو اپنی منزل کی طرف بہر صورت پہنچنا ہوتا ہے۔ مہدی کی مثال بھی سورج کی طرح ہے۔ ستارے اور افق کے چانداپنی ساکھ کھود یتے ہیں ۔ علماء دیوبند نہیں آتے تو مولانا احمد رضا خان کا مخلص مگر جاہل طبقہ سورج اور چاند گرہن کا وقت سے پہلے پتہ چلنے کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ۔ حالانکہ جب سائنس کو پتہ نہیں تھا تب بھی قرآن نے گردشوں کا بتایا تھا۔

وایة لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحونOوما خلقنا لھم من مثلہ مایرکبونOوان نشاء نغرقھم فلا صریخ لھم ولاھم ینقذونOالا رحمةً منا ومتاعاً الی حینٍOواذا قیل لھم اتقوا مابین ایدیکم وما خلفکم لعلکم ترحمونOوما تأتیھم من ایةٍ من اٰیات ربھم الا کانوا عنھا معرضینO(سورہ یٰسین41سے46)
عالمی اسلامی انقلاب کی نشانی ان کیلئے کشتی نوح ہے۔جس میں ان کی ذریات کو اللہ نے طوفان کے وقت بچایا تھا اور اب ترکی میں اس کشتی پر ماہرین نے کام شروع کردیا ہے لیکن اللہ کہتا ہے کہ اس جیسی سواری تو اب بہت تمہارے پاس موجود ہیں اور وہ چاہے تو ایکسیڈنٹ میں غرق کرسکتا ہے لیکن ایک وقت تک تمہیں موقع ہے۔ ہماری رحمت کے سبب ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہار ے ہاتھوں میں حلالہ اور سود کی لعنت سے بچاؤ کی اتھارٹی ہے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی اس سے وابستہ ہے تو یہ ہر آیت سے اعتراض برتتے ہیں۔

واذا قیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ قال الذین کفروا للذین اٰمنوا انطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ ان انتم الا فی ضلالٍ مبینٍO(یٰسین47)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر کی دولت سے خدا نے تمہیں نوازا، سیر سپاٹے کرلئے،دلے اور دلالوں کو بھی گھمایا تو غریبوں اور مسکینوں کا بھی خیال کرو تو جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کچھ خرچہ کرو۔ تو کافر کہتے ہیں ایمان والوں کو کہ ان غریبوں کو کھلائیں جن کو اللہ چاہتا تو کھلاتا تم تو کھلی گمراہی میں ہو۔

ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صادقینOماینظرون الا صیحةً واحدةً تأخذھم و ھم یخصمونOفلا یستطیعون توصیة ًو لا الی اھلھم یرجعونOیٰسین48تا50 … تاآخر قارئین دیکھ لیں!

کہتے ہیں کہ یہ انقلاب کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔ وہ نہیں انتظار کرتے مگر ایک کڑک کا۔ وہ دھر لئے جائیں گے اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔ پس ان کو وصیت کا موقع بھی نہیں ملے گا اور نہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے……

صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنے فارم ہاؤسوں سے دوڑے چلے آئیں گے۔کہیں گے کہ ہائے ہم پر افسوس کس نے ہمیں اپنی آرام گاہوں سے اٹھادیا ہے ۔یہ وہ ہے جو رحمن کا وعدہ ہے اور رسولوں نے سچی خبر دی تھی۔ یہ تو بس ایک کڑک ہوگی تو وہ سب ہمارے پاس حاضر ہوجائیں گے۔ تو آج کے دن کسی بھی جان پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا اور نہ تمہیں بدلہ ملے گا مگر جو تم نے کیا ہے ۔ بیشک جنتی لوگ شغل میں دل بہلا رہے ہوں گے ، وہ اور ان کی بڈھیاں سائیوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان کیلئے پھل ہوں گے اور جو مانگیںگے ملے گا۔ رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کا قول ۔ آج کے دن اے مجرمو تم الگ ہوجاؤ۔ اے بنی آدم کیا میں نے تم سے عہد الست نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت مت کرو۔بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری غلامی کرو۔یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور تم سے بہت سوں کو ان کی جبلت نے گمراہ کیا کیا تم نہیں سمجھتے۔ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ تھا۔ آج اس میں پہنچ جاؤ جو تم کفر کرتے تھے آج ان کے مونہوں پر ہم سیل لگادیتے ہیں اور ہم سے ان کے ہاتھ بات کریں گے اور پاؤں گواہی دیں گے جو انہوں نے کمایا ہے۔ انٹرنیٹ سے سارا ریکارڈ نکلے گا۔ اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹا دیتے کہ اب راستہ ڈھونڈو تو کیسے دیکھتے اور ہم چاہتے تو ان کو مسخ کردیتے ان کی جگہوں پر ۔پھر نہ وہ آگے نکل سکتے اور نہ لوٹ سکتے۔ جس کو ہم زیادہ عمر کا کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق میں کمزوری کردیتے ہیں۔کیا یہ نہیں سمجھتے؟۔ اور ہم نے اسکو شعر نہیں سکھایا اور نہ اس کیلئے یہ مناسب تھا مگر وہ تو ذکر اور کھلا قرآن ہے۔تاکہ اس کو ڈرائے جو زندہ ہے اور کافروں پر حجت قائم ہوجائے۔…انہوں اللہ کے علاوہ معبود بنائے کہ شاید ان کی مدد کریں۔انکی مدد نہیں کرسکتے۔ وہ ان کیلئے ایک لشکر ہے جو ان کی حاضری کا سبب بنیں گے۔ پس آپ کو ان کی بات غمزدہ نہ کرے ہم ان کے چھپے اور اعلانیہ کو جانتے ہیں۔ …جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔اسکے ہاتھ ہر چیز کا ختیار ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عبداللہ محض ومحمد نفس زکیہ پر شیخ حسن جابری کی انتہائی سخت تنقید اپنی شیعہ ذہنیت سے؟

نوٹ:
شیخ حسن جابری کی اس تحریر کے آخر میں سید عتیق الرحمن گیلانی کا شیخ حسن جابری کو مندرجہ ذیل عنوان سے جواب پڑھیں۔
(١) ہم حسن مثنیٰ کی راہ پر
(٢) دیوبندیو! تم نہ ناصبی للو بنو نہ ہی رافضی پنجو

الجابری کی عربی میں عبداللہ شاہ غازی کے والدمحمد نفس زکیہ پربہت تنقیداور عبداللہ محض پر تنقید جو ہمارے جدامجد بھی ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
پچھلی قسط عبد اللہ محض کی شخصیت کے بارے میں تھی۔
آج انکے بڑے بیٹے پر ہے جن کا نام محمد بن عبد اللہ محض بن الحسن المثنی بن الحسن المجتبیٰ بن امیر المؤمنین علیہ السلام ہے۔

محمد کا لقب ”ذو النفس الزکیہ”ہے، یہ لقب اسلئے ملا کہ دعوی کیا کہ وہی امام مہدی ہیں۔ اسکے والد نے ترویج کی، بنو ہاشم نے اس نظریے کو فروغ دیا، بنو عباس کے ابو جعفر المنصور اور السفاح اس پر متفق ہوئے کہ بنو ہاشم کے کسی شخص کی بیعت کی جائے۔ چنانچہ انتخاب محمد بن عبد اللہ المحض پر آکر ٹھہرا، کیونکہ اس پر ایک روایت موجود تھی جس کا ذکر ہم نے پچھلی رات کیا ۔

بنو عباس و بنو ہاشم نے محمد ذو النفس الزکیہ کی بطور امام بیعت کی اور امام جعفر صادق علیہ السلام کو مجبوراً کیا کہ آپ پر لازم ہے کہ محمد ذو النفس الزکیہ کی بیعت کریںلیکن امام نے بیعت سے معذرت چاہی۔ عیسی بن زید الشہید اٹھے اور امام سے کہنے لگے: ”اسلم تسلم”اسلام لاؤ یا اطاعت کرو تاکہ سلامت رہو۔

امام صادق علیہ السلام گفتگو فرما رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی نبوت کے بعد کوئی نئی نبوت لائے ہو؟ ”اس نے کہا: ”نہیں۔ لیکن یہ بیعت ہے؛ آپ، آپ کے اہل خانہ، آپ کی اولاد اور آپ کا مال سب سلامتی پائیں گے، اور ہمیں جنگ سے بچائیں”یعنی بیعت کر لیں اور ہمیں جنگ سے چھٹکارا دیں، اگر بیعت نہیں کریں گے تو جنگ ہوگی، آپ کو اور آپ کی اولاد کو قتل کر دیا جائے گا اور آپ کا تمام مال و اسباب جاتا رہے گا۔
امام علیہ السلام نے کلام فرمایا اور بیعت سے انکار کر دیا۔

یہاں امام صادق علیہ السلام نے محمد (ذو النفس الزکیہ) سے فرمایا:”اے محمد!گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مقتول(زمین پر) گرائے ہوئے اور تمہارا لباس تک لوٹا ہوا ہے”۔

اس پر محمد بن عبد اللہ المحض نے امام صادق کو قید کرنے کا حکم دیا۔ حاضرین میں ایک شخص نے امام صادق کو پیچھے سے دھکا دیا، اور انہوں نے امام صادق علیہ السلام کو جیل میں ڈال دیا۔

پھر وہ اسماعیل بن عبد اللہ بن جعفر الطیارکو لائے۔ عبد اللہ جن کی شادی سیدہ زینب سلام اللہ علیہاسے ہوئی تھی تو وہ انکے بیٹے زین کو لائے۔ انہوں نے بھی بیعت سے انکار کر دیا، اور وہ ایک جلیل القدر انسان تھے۔ میری تحقیق کے مطابق مجھے یہ معلومات نہیں مل سکیں کہ کیا وہ بھی سیدہ زینب کے بیٹے تھے یا نہیں؟ اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ بہرحال انہوں نے بھی بیعت سے انکار کیا اور انہوں نے ان کو شہید کر دیا۔ بنو ہاشم میں سے انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے اس کام کی نگرانی کی۔ پھر بنو امیہ کیخلاف تحریک اٹھی اور اموی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

امام صادق علیہ السلام نے عبد اللہ المحض اور محمد ذو النفس الزکیہ کو پہلے ہی آگاہ کیا کہ بنو عباس تم سب کو قتل کر دیں گے اور خلافت انہیں مل جائے گی، تم لوگوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

اور واقعی یہی ہوا۔بنو عباس نے خلافت پر قبضہ کر لیا اور اقتدار میں آتے ہی پہلے دن کہنے لگے کہ ہم امام حسن اور امام حسین کی اولاد کو قتل کریں گے۔ چنانچہ حسن و حسین علیہما السلام کی اولاد فرار ہو گئی، جن میں محمد ذو النفس الزکیہ بھی تھے جو بھاگ نکلے اور مدینہ منورہ میں قیام کیا۔

انہوں نے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور یمن پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ چنانچہ ایک لشکر بھیجا، وہ اس جنگ میں مارے گئے اور ان کا سر قلم کیا، اسی طرح ا نکے بھائی ”ابراہیم” کیساتھ ہوا۔

ابراہیم سے معصوم امام کے خلاف کوئی برائی یا نا زیبا حرکت سرزد نہیں ہوئی۔ اہل بصرہ نے بیعت کی، نیز معتزلہ اور زیدیوں نے بھی ساتھ دیاتھا۔ پھر وہ اہواز گئے اور وہاں بھی ایک بڑی تعداد ان کے گرد جمع ہو گئی۔ عباسی خلافت نے ان کی طرف بھی لشکر روانہ کیا۔ وہ فتح کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، فتح حاصل ہونے ہی والی تھی اور عباسی لشکر کو شکست ہو چکی تھی، لیکن ایک خیانت ہو گئی؛ کسی نے ابراہیم بن عبد اللہ المحض کو ایک تیر مارا جسکے چلانے والے کا پتہ نہ چل سکا، اور یوں وہ بھی شہید ہو گئے اور ان کا سر بھی قلم کر دیا گیا۔یہ واقعہ 145ہجری میں پیش آیا تھا۔والحمد للہ رب العالمین۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
ہم اس قسط میں ”عبد اللہ بن الحسن المثنیٰ بن الامام الحسن المجتبیٰ کی سیرت اور شخصیت پر بات کر رہے ہیںاور عراق میں انہیں ”عبد اللہ ابو نجم” کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ ان کی والدہ گرامی ”سیدہ جلیلہ فاطمہ بنتِ امام حسین علیہ السلام”تھیں۔

”المحض” لقب اسلئے کہ نسب میں خالص ہاشمی تھے۔ دادا والد کی طرف سے ”حسن مجتبیٰ علیہ السلام” اور والدہ کی طرف سے ”حسین علیہ السلام” تھے۔ وہ بنو ہاشم کے بزرگ اور نہایت معزز و محترم شخصیت تھے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بنو ہاشم اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کے ہاں ان کا ایک بڑا مقام تھا، لیکن عبد اللہ المحض کے کچھ خاص عقائدی اور فقہی نظریات تھے جو ”امام جعفر صادق علیہ السلام” کے خلاف تھے۔

اس کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کو بہت آزار پہنچایا، بالخصوص انکے بیٹے نے (جس کا ذکر پہلے لکھ دیا ہے)۔ عبد اللہ محض نے اموی حکومت خاتمے کے بعد امام صادق کو قید میں ڈالا، بنو عباس کیساتھ مل کر لوگوں کو ”محمد بن عبد اللہ المحض”کی بیعت کی دعوت دی، جن کا لقب ”محمد ذو النفس الزکیہ”تھا، اور انہوں نے یہ ادعا کیا کہ وہی امام مہدی ہیں۔

ایک من گھڑت روایت کا سہارا لیا ”ان کا نام میرے نام پر ہے( نبی اکرمۖ کے نام )”انکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہے”۔ خود ساختہ روایت تھی۔ بنو عباس اور عبد اللہ المحض یہ تبلیغ کرنے لگے کہ محمد بن عبد اللہ المحض امام مہدی ہیں۔ پھر وہ امام صادق علیہ السلام کے پاس آئے تاکہ آپ ان کی بیعت کریں، لیکن امام علیہ السلام نے انکار کر دیا اور ان پر واضح کیا کہ اس دور میں ایسا نہیں ہوگا، وہ امام مہدی نہیں ہیں، اور بنو عباس تمہیں دھوکہ دیں گے اور تم سب کو قتل کر دیں گے۔

اس پر عبد اللہ المحض نے امام صادق علیہ السلام کو جواب دیتے ہوئے کہا:”آپ تو صرف ان سے حسد کر رہے ہیں”۔

انہوں نے امام صادق علیہ السلام پر حسد کی تہمت لگائی یہ اس شخصیت کے بارے میں پہلا اعتراض اور پہلی تہمت ہے۔ دوسری بات یہ کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے یہ بیان کرنا شروع کیا کہ ”امیر المؤمنین (علی علیہ السلام)امام نہیں تھے”۔

یہ روایات ایسے مصادر میں موجود ہیں جنہیں میں ان شا اللہ ویڈیو کے ساتھ آپ کو فراہم کروں گا۔ وہ خود امامت کا دعوی کرتے تھے اور امام صادق علیہ السلام کی امامت کے منکر تھے۔

ان کے اور امام صادق علیہ السلام کے درمیان ایک مناظرہ اور گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے انتہائی بے باکی کے ساتھ امام صادق علیہ السلام سے کہا: ”امام حسین علیہ السلام امامت کو تمہاری نسل میں کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟” عبد اللہ المحض (ابن الحسن المثنیٰ بن الحسن المجتبیٰ، جو عراق میں نجف کے راستے میں مدفون ہیں اور عبد اللہ ابو نجم کے نام سے معروف ہیں)نے امام حسین علیہ السلام پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ”امام حسین نے کس بنیاد پر امامت علی السجاد علیہ السلام کے سپرد کی؟ امامت کا حق تو ہم بڑے بھائیوں کی اولاد کا بنتا تھا”۔

امام علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ: ”امامت کوئی ایسی چیز نہیں جسے بیچا یا خریدا جا سکے، اور نہ ہی یہ امام حسین یا امام حسن علیہما السلام کے اختیار میں تھی، بلکہ یہ اللہ تبارک وتعالی کے دستِ قدرت میں ہے”یہ تیسرا نقطہ ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کے برعکس فتوی دیا کرتے تھے، اور اس بات کی وضاحت ”آیت اللہ سید خوئی”نے بھی کی ہے، اور ان کے اور امام صادق علیہ السلام کے اصحاب کے درمیان گفتگو بھی ہوئی تھی جیسا کہ روایات میں موجود ہے۔

یقینا روایات بہت زیادہ ہیں۔ میں اختصار کیساتھ پیش کر رہا ہوں۔ ”کتاب الکافی”،صفار کی کتاب ”بصائر الدرجات ” اور سید خوئی کی ” معجم رجال الحدیث”کی طرف رجوع کر سکتے ہیں سید خوئی معجم رجال الحدیث جلد11میں عبارتاً فرماتے ہیں:

”ان کی مذمت میں اور انکے خود کو امامت کیلئے پیش کرنے کے بارے میں متعدد روایات ہیں، لوگوں کو احکامِ الٰہی کے خلاف فتوی دیتے تھے، وہ مجروح اور مذموم ہیں اور ان کی وثاقت (قابلِ اعتماد ہونا)یا اچھا ہونا ثابت نہیں ہے”۔ کتاب ”قاموس الرجال”کے التستری”فرماتے ہیں:

بلکہ ان کی مذمت و قدح کی خبریں مستفیض بہت زیادہ ہیں، جبکہ ان کی مدح میں آنے والی خبریں شاذ کمزوراستثنائی ہیں مستفیض سے مراد تواتر کے قریب تر روایات ہیں۔

یہ شخص امیر المؤمنین، امام حسین اور امام صادق علیہما السلام کیساتھ اپنی مخالفت وعداوت کی وجہ سے مشہور و معروف تھا۔

جی ہاں!کچھ روایات ایسی ہیں کہ امام صادق نے ان کی مدح کی یا شہادت/قتل پر روئے لیکن وہ روایات سنداً ضعیف ہیں۔ علما نے جواب دیا کہ یہ روایات ضعیف اور شاذ ہیں، اور امام صادق علیہ السلام کا رونا ان کی مدح کی دلیل نہیں بن سکتا۔

ہاں!ابن طاؤس نے ایک صحیح روایت نقل کی ہے، لیکن سید خوئی فرماتے ہیں کہ اگرچہ یہ ایک روایت صحیح ہے، لیکن ان کی مذمت میں آنے والی کثیر اور متواتر روایات کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور یہ ساقط ہو جاتی ہے۔

چنانچہ عبد اللہ المحض پر لگنے والے یہ تمام الزامات اور حقائق تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ان کی زیارت کیلئے جائیں۔ اگر کوئی ان کی زیارت کیلئے جاتا ہے تو شاید اس سوچ سے جائے کہ انہوں نے آخری دنوں میں توبہ کر لی ہو یا ایمان لے آئے ہوں وغیرہ۔ ہر انسان زیارت کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہے، اور ان کی زیارت مومنین پر واجب یا فرض نہیں ہے کہ ہم اس مسئلے میں الجھ کر رہ جائیں۔

ان شا اللہ میں تمام مصادر ویڈیو میں پیش کر دوں گا۔
ــــــــــ

ہم حسن مثنیٰ کی راہ پر
کانیگرم وزیرستان: سید حسن شاہ سے شاہ محمود حسن دیداری سید ابوبکر ذاکر ، شاہ محمد کبیرالاولیا ء تک12پشتوں کی قبریں حسن مثنی بن امام حسن کی قبر کے مطابق ہیں۔ دارالعلوم دیوبند، امروٹ سندھ ، دینپور خانپور رحیم یارخان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبریں ویسی ہیں ۔1976ء میں تقویة الایمان پڑھی تو اپنے دادا سیدامیر شاہ کی پکی قبر کیلئے کدال اٹھائی تو والد پیر مقیم شاہ نے ڈانٹا کہ قبر سے کون مانگتاہے؟۔پکی قبر نہ ہو تو لوگ دعا بھی نہیں کرتے۔ دادا کاآزادی سے پہلے انتقال ہوا، ان کی جگہ فاضل دارالعلوم دیوبند ہماری مسجد کے امام بنے۔ میرے اساتذہ گورنمنٹ ہائی سکول لیہ میں دیوبندی اولیاء اللہ تھے۔ دیوبندی مدارس کے اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی اور مرشد حاجی محمد عثمان دیوبندی تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میراDNAمجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی سے پہلے جوں کا توں ہے جبکہ شاہ ولی اللہ کے بعد دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث بنے ہیں۔ حیاتی مماتی کی تقسیم شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی تفسیر عزیزی اورجامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ اورموجودہ دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی و زبیراشرف عثمانی تک پہنچ چکی ہے۔

ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کے
مدارس ، خانقاہوں اور مذہبی جماعتوں کوبھی تجارت بنادیا۔
ــــــــــ

دیوبند یو! تم نہ ناصبی للو بنو اور نہ ہی رافضی پنجو
احتساب ناصبیت دیوبندی اکابر کا مجموعہ مگر

شیعہ شیخ حسن الجابری کوجواب دینا تھا مگر مولانا اللہ وسایا کی کتاب ”احتسابِ ناصبیت ” مماتی ، حیاتی ، ناصبی یزیدی کے نام پر سوشل میڈیا کے اندر زبردست جنگ چھڑ گئی ہے۔

مولانا حسین علی کے شاگرد مولانا سرفراز خان صفدر ، مولانا غلام اللہ خان ، مولانا طاہر پنج پیری وغیرہ تھے جو میرے دادا سید محمد امیر شاہ کی طرح پاکستان سے کچھ برس پہلے فوت ہوگئے۔

حسن مثنیٰ کے بیٹے عبداللہ محض نے خلفاء راشدین سے علی کی طرح عقیدت و محبت کا اظہار کیا تو ناصبی للواور رافضی پنجو تھے۔ ہم بتاتے ہیں تمہیں اولی العلم قائمًا بالقسط کون تھے۔

بلوچستان و پختونخواہ کی بہترین مثال مفتی عبدالمنان ناصر اور سندھ وپنجاب کی بہترین مثال قاری اللہ داد صاحب ہیں۔ دیوبندی علماء ومفتیان کی الحمدللہ بھاری ایسی اکثریت ہے۔ یہی حال دیگر مکاتب فکر کا ہے مگر کچھ لوگ وکالت و جہالت مالی مفادات کیلئے کرتے ہیں۔ علامہ عطاء اللہ بندھیالوی ، علامہ ساجد خان نقشبندی بہت مخلص ہیں مگر انجینئرمحمد علی مرزا نہیں۔

کوئی کہہ سکتاہے کہ دو اتنہاپسند وں کو مخلص اور اہل بیت سے محبت کرنے والے علمی کتابی کو نہیں کہتا تویہ ناانصافی ہے؟۔ میں نے دونوں حضرات کو نہیں دیکھا اور انجینئر سے ملا ہوں۔

امیر معاویہ کے خلاف زہر پھیلانے والے کو پتہ ہے کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عباس اور حضرت علی کے درمیان لڑائی ہوئی تو عباس نے حضرت عمر سے کہا کہ فقال یا امیر المؤمنین ! اقضی بینی وبین ھٰذا الکاذب الاٰثم الغادر اے امیرالمؤمنین! میرے اور اس جھوٹے ، گناہ گار، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کریں۔فقال القوم اجل یاامیر المؤمنین ! فاقض بینھم وارحمھم فقال مالک بن اوس یخیل الیّ انھم قد کانوا قدمموھم لذالک”پس قوم نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین !آپ انکے درمیان فیصلہ کریں، ان پر رحم کریں۔مالک بن اوس نے کہا کہ مجھے خیال ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں کو اپنے سے پہلے خود ہی بھیجا تھا”۔ آگے طویل ہے اور حضرت عمر یاد دلاتے ہیں کہ تم لوگوں نے نبیۖ کی ساری احادیث وراثت کے بارے میں سنی تھیں لیکن ابوبکر کی خلافت کے وقت بھی ان کو جھوٹا ، گناہ گار، عہد شکن اور خائن کہا اور مجھے بھی یہی کہا تھا۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر4577)

انجینئرمحمد علی مرزا اور جاویداحمد غامدی کی مثال ان پالتو کی ہے ۔طوطا کہتا تھا کہ ایک روپیہ دو۔ مینا کہتی تھی کہ دیدو ناں!۔ ایک علمی کتابی انتشاری اور دوسرا یزیداور امریکہ کا وفاداری ہے اور علماء ومفتیان بھی زوال کا آخری حد تک شکار ہیں اسلئے میں اپنا فرض سمجھ کر امت مسلمہ کو اس دلدل سے نکال رہا ہوں۔

شیعہ شیخ حسن جابری نے جھوٹ بولا یا سچ؟لیکن اس کی کتاب اور زبان اس کی گمراہی کو ختم کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے کہ عیسی بن زید شہید نے ”امام جعفر صادق” سے کہا کہ اسلم تسلم ! اور جواب میں امام جعفر صادق نے کہا کہ ”کیا تم محمد (ۖ) کے بعد نبوت لائے ہو؟”۔ عیسیٰ بن زید نے کہا کہ” نہیں” ۔

شیعہ کو تین وجوہات سے قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا۔ پھر ختم نبوت کانفرنس میں شیعہ کو بلایا اور سپاہ صحابہ کے قائدین کو نہیں۔ ناصبیت کی کتاب وہی شاخسانہ ہے۔

یونیورسٹیوں کے اسکینڈلز آتے ہیں۔ سکول و کالج کے بعد مخلوط نظام اچانک لے ڈوبتا ہے۔ مذہبی طبقات کا ماحول بھی ایسا ہے ۔ مولانا یوسف بنوری کے شاگرد ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے اپنے استاذ سے رابعہ بصری تک کی کچھ کہانیاں پڑھ لیں توآپے سے باہر ہوکر سب کو کافرومشرک قرار دیا۔ پنج پیری اور مماتیوں نے تو وہ حدیں کراس نہیں کیں۔احتسابِ ناصبیت نے دیوبندیوں کی اپنے اکابرسے اچانک واقفیت و عدم برداشت نے کہیں کا نہ رہنے دیا۔ اس سے زیادہ شیعہ کو بہت بڑی کوفت کا سامنا ہے،اہل حدیث اور بریلوی بھی اب آپس میں ایک دوسرے سے بالکل نفرتوں میں مبتلا ہوگئے ۔

جب امام جعفر صادق نے اسلم تسلم پر فرمایا کہ ” کیا محمدۖ کے بعد نبوت کا دعویٰ ہے ”اور عیسیٰ بن زید نے کہا کہ” نہیں ” تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امامت کو نبوت کی طرح ارتداد کیلئے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے پھر خلفاء راشدین پر ارتداد کے فتوے بھی فقہ جعفریہ اورامامیہ والے بالکل ہی غلط لگارہے ہیں اور یہی بات علامہ سید کمال حیدری بھی شیعہ قوم کو سمجھارہے ہیںمگر ایران نے نظر بند کررکھا ہے۔ اس سے اچھاہے پاکستان بھیج دیں۔

رسول اللہ ۖ نے کفار کو خطوط میں لکھا :”اسلم تسلم” اس کا مطلب جبری اسلام نہ تھا ورنہ حبشہ کے بادشاہ کیلئے کیوں آخری خطبہ میں فرمایا کہ” ان سے کوئی تعارض مت کرنا جب تک وہ تم سے تعارض نہ کریں”؟۔پھر صلح حدیبیہ میں کس چیز کا مظاہرہ ہوا؟۔ قرآن میں مجبوری کی نفی ہے اور صحابہ نے مشکل سے مانا تھا۔ سورہ توبہ کی تفسیر مفتی محمد شفیع نے معارف القرآن میں غلط کی، جس کی نشاندہی علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی کی ہے۔

جب مفتی نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کے پاس معارف القرآن اور مجاہدین ہوں گے توانکے ہاں مفتیان کا فتویٰ پولیس کسٹڈی میں قیدی کے اعتراف جرم اور ناقابل قبول ہوگا۔

قل یا ایھا الکتٰب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبدالا اللہ ولا نشرک بہ شیئًا ولا یتخذبعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھددوا بانامسلمونO(سورہ آل عمران64)
” کہہ دو کہ اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر ہے کہ ہم عبادت نہ کریں مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے بعض اپنے بعض کو رب نہیں بنائیں اللہ کے سوا۔پس اگر وہ پھر جائیں تو تم لوگ کہو کہ گواہ رہنا کہ بیشک ہم مسلمان ہیں”۔

قرآن میں ایک کلمہ کو مختلف جہتوں سے پیش کیا گیا ہے۔ عدی بن حاتم نے کہا کہ عیسائی اپنے علماء ومشائخ کو اپنا رب نہیں بناتے تھے تو نبیۖ نے فرمایا کہ ان کے حلال کردہ خود ساختہ فتوؤں کو حلال اور حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے تھے؟۔ عدی نے عرض کیا کہ یہ توکرتے تھے۔ فرمایا یہی تو رب بنانا ہوا۔

بینک سے سالانہ ایک کروڑ پر10لاکھ سود میں ڈھائی فیصد زکوٰة کٹے اور ساڑھے7لاکھ سود ملے تو زکوٰة کیسے ادا ہوگی؟۔
مفتی محمود اس مسئلے پر شہید ہوگئے ۔ مولانا فضل الرحمن شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل کہتا تھا۔
پھر ٹینکی بھرنے کو اونٹ کی طرح گھٹنے کے بل حوض کوثر سمجھ کر پینے لگا۔
فشاربون شرب الہیم
پھر وہ اونٹ کی طرح پئیں گے۔ (سورہ اقعہ آیت:55)

شیعہ بارہ امام کے نام مسجد نبویۖ پر کندہ ہیں، مجددالف ثانی نے مکتوبات وہی لکھا جو شیعہ سمجھتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے ان بارہ کو اصل اور تصوف کے سلسلوں کو ان کی فرع قرار دیا ۔

ابن تیمیہ نے چار مسالک کو فرقہ اور شرک قرار دیا لیکن اس کے شاگردابن قیم نے بیوی کو حرام کہنے کے لفظ پر20اقوال کو نقل کرکے سورہ تحریم کی آیت کی20بوٹیاں بنادی ہیں۔

ابن حجر مکی نے شیعہ کے خلاف ”صوائق محرقہ” لکھ کر سنیوں پر بجلیاں گرائیں۔ مجدد الف ثانی نے ابوبکر و عمر کے گستاخ کو قتل کا حکم دیا مگر خود ایک قتل نہ کیا البتہ انکے خلفاء میں برکی تھے پھر کانیگرم کا ایک ہزارہ شیعہ خاندان قتل ہوا لیکن محرم کے اندر شیعہ ماتم کی رسم عرصہ تک زندہ تھی۔ تقاریر مولانا مسعود اظہر کی اور خون پٹھانوں کا؟۔ بہالپور میں حلالہ کا جہاد ہے۔ تہاڑ جیل سے ضرب مؤمن کی تحریروں کو امریکی سازش قرار دیاتھا۔

امام حسن نے صلح کا کردار ادا کیا اور ان کی اولاد نے بھی۔ مگر شیعہ کتابوں میں انکے خلاف مواد ہے۔
1:مسنداحمدو شیعہ روایت ہے کہ آدم سے عبدالمطلب تک نبی اور علی کا نور ایک تھا لیکن پھر امام حسن سے نور امام حسین کی طرف منتقل ہوگیا؟۔ اللہ کی سنت تبدیل نہیں ہوتی۔
2:امام حسین سے” حر ”ملا مگر کوفی غدارنکلے۔
3:معاویہ بن یزید نے زین العابدین کو خلافت پیش کی ۔
4:حسن مثنیٰ نے کربلاکاجہاد کیا اور زخمی بیہوش ہوا تو کوفہ میں ہوش آیا اور زین العابدین نے دمشق میں جمعہ کا خطبہ دیا۔
5:زید کا بھائی جعفر نے ساتھ نہیں دیا۔
6:زین العابدین کی والدہ کی وجہ سے ایرانیوں کا کردار تھا۔ زین العابدین نے نہیں مانا تو محمد بن حنفیہ کو کھڑا کیا۔ زید کے پیچھے ایرانی ہاتھ تھا اور امام جعفر کو بنانا تھا لیکن اس نے نہیں مانا۔ پھر بنوعباس کا سفاح آیا پھر ابوجعفرمنصور تو محمد نفس زکیہ اوراسکے بھائی ابراہیم نے قیام کیا تو انہوںنے حسن و حسین کے کردار کو زندہ کیا۔
7:حسینی سید بنوعباس کے ساتھ تھے اور مامون الرشید کا داماد امام الرضا ایک روضہ میں مدفون ہیں اور الزام حضرت حسن کی اولاد پر لگاؤ؟۔

شیعہ تنہا جیسے یہودی تنہا ۔ بارہ امام مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں ہیں ۔علامہ جلال الدین سیوطی نے الحاوی للفتاویٰ ،پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے ”تصفیہ مابین شیعہ وسنی ” میں ان کا ذکر کیا ہے اور شیعہ کتاب الصراط السوی فی احوال المھدی میں اپنی روایات اور قرآنی آیات پر گمراہ کن اضطراب موجود ہے۔

قرآن اور اہل بیت جدا نہیں ہوسکتے ہیں تو اہل بیت کے غائب ہونے سے قرآن بھی غائب ہے؟۔علامہ حسن اللہیاری جیسے انتہائی لوظ کردار کے لوگوں سے ایرانی لیڈروں کا بھی کباڑا کردیا اور اس کا اپنا پتہ نہیں چلتا کہ قوم لوط کا کوئی کردار ہے؟۔

رسول اللہ ۖ اور خلفاء را شدین نے جبر نہیں کیا ، یزید نے جبر کیا۔ یزید کا بیٹا جبر سے ہٹ گیا ۔ عبداللہ بن زبیر کے مقابلے میں مروان بن حکم اور بنوزرقاء نے قبضہ کیا اور وہی کام پھر ایرانیوں کی پشت پناہی پر بنوعباس نے کیا پھر خاندان غلاماں اور پھر ترکی میں خلافت عثمانیہ اور ایران میں چنگیزیوں کا قبضہ ہوا جو بعد میں مسلمان اور پھر حلالہ سے بچنے کیلئے شیعہ ہوگئے۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے اکٹھی3طلاق پر اور علی المرتضیٰ الاقضٰی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ کیا تو دونوں قرآن کے عین مطابق تھے۔ معروف کی شرط پر رجوع ہے جس کا معنی عورت راضی ہو اور تنازعہ میں عورت راضی نہیں ہو تی ۔

جاویداحمد غامدی کی آنت میں ناصبیت کا ناسور ہے اسلئے اسکے نزدیک حضرت عمر کے اجتہادکو شریعت کا درجہ حاصل تھا اور حضرت علی خلیفہ نہیں تھے اسلئے اس کافیصلہ قابل قبول نہیں۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ دونوں کا فیصلہ بالکل درست تھا۔

المطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO
”اور طلاق والی عورتیں تین ادوار تک اپنی جانوں کو انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں جو اللہ نے انکے پیٹوں میں پیدا کیا کہ اس کو چھپائیںاگر وہ اللہ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ اصلاح کرنا چاہتے ہوں اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو ان پر مردوں کے معروف طریقے سے ہیں اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اوراللہ زبردست غلبے والا کمال کی حکمت والا ہے ”۔ (سورہ البقرہ آیت:228)

اس آیت میں عورت کو انتظار کا پابند بنایا گیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی واضح ہے کہ شوہر عدت میں رجوع کا زیادہ حقدار ہے مگر اصلاح کی شرط پر اور عورت کو انکار کا معروف حق ہے۔

رافضی بغض عمر میں قرآن سے دور پھٹکار کا مستحق ہے اور ناصبی بغض علی میں قرآن سے دور پھٹکار کا مستحق ہے۔ توبہ اور اصلاح کے بعد سمجھ میں آئے گا کہ ایک طلاق کے بعداور ایلاء وناراضگی کا بھی یہی حکم ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاؤا فان اللہ غفور رحیمO(البقرہ آیت:226)
”چار مہینے کا انتظار ہے جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کریں پس اگر وہ آپس میں مل گئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔

رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا اور29دنوں میں رجوع فرمایا تو اللہ نے حکم دیا کہ تمام ازواج مطہرات پر علیحدگی کے اختیار کو واضح کردیں۔ تاکہ واضح ہوجائے کہ ناراض ہونا شوہر کا اختیار ہے لیکن پھر رجوع کیلئے راضی ہونا یا نہ ہونا بیوی کا اختیار ہے۔

وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنیٰ القی الشیطٰن فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطٰن ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمO
”اور ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کیا تواللہ مٹاتا ہے شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اپنی آیات کو مستحکم کرتا ہے اور اللہ بہت جاننے والا بڑا حکمت والا ہے”۔ (الحج:52)

عبداللہ بن عمر نے طلاق دی تو نبیۖ غضبناک ہوگئے۔ قال رسول اللہ ۖ ان الغضب من الشیطان ” بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہے”۔ (ابوداؤدحدیث4784) سالم بن عبداللہ بن عمر ، قاسم بن محمدبن ابی بکراور زین العابدین بن حسینتینوں خالہ زاد بھائی تھے۔ قاسم بن محمد نے کہا: غضب کا معنی یہ ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ زین ا لعابدین نے کہا کہ
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان
سے بالکل واضح ہے کہ اکٹھی تین طلاق کا منعقد ہونا ممکن نہیں ہے۔ عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق ہے۔

فقہاء مدینہ میں سعید بن مسیب ، عروہ بن زبیر،ابوبکر بن عبدالرحمٰن،قاسم بن محمد، عبیداللہ بن عبداللہ،سلیمان بن یسار اور خارجہ بن زیدتھے ۔محمد بن یوسف بن خضر نے اشعار لکھے۔

اذقیل من فی العلم سبعة ابحر
مقالتھم لیست عن الحق خارجہ
فقل ھم عبیداللہ عروہ قاسم
سعید ابوبکر سلیمان خارجہ
الا ان من لایقتدی بائمة
فقسمتہ ضیزی عن الحق خارجہ
فقل ھم عبیداللہ عروہ قاسم
سعید ابوبکر سلمان خارجہ

”جب کہا جائے کہ کونسے علم کے7 سمندر ہیں۔ تو اس کی بات حق سے کبھی نکلی ہوئی نہ ہوتو کہو عبیداللہ ، عروہ ، قاسم، سعید، ابوبکر، سلیمان ، خارجہ ۔ خبردار ! جو ان ائمہ کی تقلید نہیں کرتا تو اس کی قسمت بہت حیران کن طریقے سے حق سے خارج ہے”۔

بنوامیہ وبنوعباس نے حضرت عمر و حضرت علی کے درمیان جوفاصلہ اس کی بنیاد پر پیدا کردیا تو اسکے نتائج مل رہے ہیں۔

لیجعل اللہ مایلقی الشیطٰن فتنة للذین فی قلوبھم مرض والقاسیة قلوبھم وان الظٰلمین لفی شقاقٍ بعیدٍO
” تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو اللہ فتنہ بنا دے ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم دور کی کم بختی میں ہیں”۔ الحج:53

جاویدغامدی ،انجینئر محمد علی مرزا، تبلیغی جماعت کے اکابر اور مفتی تقی عثمانی وغیرہ جیسے لوگوں کا دل کسی نے چیرپھاڑ کر تو نہیں دیکھا لیکن اللہ نے اس پیمانے کے ذریعے نشاندہی فرمادی۔

ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھادالذین الی صراطٍ مستقیمٍO
”اور تاکہ جن کو علم دیا گیا ہے وہ سمجھ لیں کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے اور اس پر ایمان لائیں۔ پس اس کیلئے ان کے دل جھک جائیںاور بیشک اللہ اہل ایمان کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے”۔ (الحج:54)

یہ اہل علم کا معتدل طبقہ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ سب میں موجود ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تعریف بیان کی:

الصابرین والصادقین والقانتین والمنفقین و المستغفرین بالاسحارOشھداللہ انہ لاالٰہ الا ھو والملائکة واولوالعلم قائمًا بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیمOان الدین عنداللہ الاسلام و ما اختلف الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم و من یکفر باٰیات اللہ فان اللہ سریع الحسابO(سورہ ال عمران آیات17، 18،19)
”وہ صبر والے ،سچے،فرمانبردار،خرچ والے اور رات کے پچھلے پہر استغفار والے۔اللہ نے گواہی دی کہ بیشک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور اہل علم نے جو انصاف پر کھڑے ہیں، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ زبردست حکمت والا۔ بیشک اللہ کے نزدیک دین سرتسلیم خم ہے اور جن کو کتاب دی گئی انہوں نے علم آنے کے بعد اختلاف نہیں کیا مگر آپس کی ضد سے اور جو اللہ کی آیات کا انکار کرے تو وہ جد حساب والا ہے”۔

عبداللہ بن عمر کی صحیح ترین روایت یہی ہے کہ ” اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو نبی ۖ مجھے رجوع کا حکم نہ فرماتے ”۔ (صحیح بخاری) عبداللہ بن عمر نے100فیصد درست کہامگر شیطان کو قرآن میں مداخلت کاموقع ملا۔ حالانکہ مرحلہ وار 3طلاق پر بھی قرآن نے رجوع کا راستہ نہیں روکا ۔ سورہ طلاق نے عبداللہ بن عمر کے واقعہ کے بعد مزید واضح کیا۔ آیت228البقرہ ،229اور231،232البقرہ میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف کی شرط پر باہمی رضامندی سے رجوع میں رکاوٹ ڈالنا منع ہے۔

امام ابوحنیفہ کا مسلک درس نظامی میں ہے کہ230البقر ہ کا تعلق فدیہ سے ہے جس میں فیصلہ کرنے والوں کے بعد کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں۔ عورت رجوع کیلئے رضامند نہ ہو تو تمام آیات میں واضح ہے کہ پھر شوہر کو رجوع کا کوئی حق نہیں۔ ائمہ اربعہ نے شیعہ کے مقابلے میں کہا کہ اکٹھی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ باہمی رضامندی سے رجوع نہیں ہوسکتا۔ بنومروان اور بنوعباس نے بطور ہتھیار حلالہ کی سزا کا استعمال کیا تھا۔جیسے دارالعلوم کراچی والے ایک طرف نیوتہ کی رسم میں لفافے کی لین دین کو سود اور ماں کے ساتھ زنا کی طرح حرام قرار دیتے تھے ،اتنے تقویٰ دار اور دوسری طرف عالمی سودی بینکاری کو جواز فراہم کیا اتنے ساہوکار۔ فتوے کی زدپر حاجی عثمان کاپیروکار،کتنے خبیث مفتی نا ہنجار۔ ایک استاذ کے شاگردوں میں عقائداور کردار کا جو فرق ہوتا ہے تو امام ابوحنیفہ کے شاگردوں امام محمد اور ابویوسف میں بھی تھا۔

سالم بن عبداللہ بن عمر دو متضاد خالہ زاد بھائیوں کا تیسرا تھا جو سات فقہاء مدینہ میں نہ شامل تھا نہ خارج بلکہ بین بین تھا۔ اسلئے کہ ہشام نے سالم کو کسی شخص کو قتل کا حکم دیا۔ سالم نے پوچھا تم مسلمان ہو ؟ کہا: ہاں!، سالم: فجر کی نماز پڑھی ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ سالم نے ہشام کو تلوار واپس کردی کہ مجھ سے مسلمان کو قتل کرواتے ہو جس نے فجر کی نماز پڑھی ہے؟۔ ہشام نے کہا کہ نماز پڑھنے کی وجہ سے نہیں معاونین قتل عثمان میں تھا پھر سالم نے کہا کہ عثمان کے اپنے اقارب ہیں۔عبداللہ بن عمر نے کہا کہ سالم نے بہت دانشمندی سے کام لیا ۔ ہشام نے کہا کہ مجھ سے جو بھی مانگو تو دوں گا۔ سالم نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ حرم کی مسجد میں اللہ سے بھی مانگوں اور تجھ سے بھی۔

جبکہ قاسم بن محمد بن ابی بکر اور عروہ بن زبیر دونوں تابعین مدینہ کے7 فقہاء میں شامل سرینڈر تھے اسلئے کہ محمد بن ابی بکر اور عبداللہ بن زبیرکے بعد دونوں نے عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں اور کارندوں کے رحم و کرم پر زندہ رہنا تھا۔ عروہ کا محل ” قصرعروہ” کے نام سے آج بھی موجود ہے اور ہشام بن عروہ نے حکمرانوں سے مدد مانگنا اور احادیث گھڑنے کی فیکٹری کو اپنا کاروبار بنایا ہوا تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ کی وفات کے بعد پیدا ہوا اور بنوعباس کے دور میں پہلی مرتبہ حضرت عائشہ کے حوالے سے کم عمری کی شادی والی روایت گھڑ دی تھی۔ امام ابوحنیفہ کے بارے میں ابن خلدون نے لکھا ہے کہ صرف17احادیث مانتے تھے۔ امام ابوحنیفہ نہ ہوتے تویہ قرآن کی صحت بھی من گھڑت احادیث کی نذر ہوجاتی ۔ علماء ومفتیان نے شکر ہے دورہ احادیث میںاحادیث پڑھی نہیں بلکہ پھانکی ہیں ۔40سال بخاری کا درس دینے والا نہیں جانتا ہے کہ بخاری میں قرآن مخالف اور آپس کا کتنا تضاد ہے؟۔

صحیح مسلم میں کتنے کمال فن سے بچکانہ روایت عباس وعلی پر گھڑی گئی؟۔
عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کو بیان کرنے کی اجازت کیا دی؟کہ راویوں نے کایا ہی بالکل پلٹ دی۔

یہودی قبیلہ بنوقریظہ سے تعلق رکھنے والے رفاعة القرظی اور عبدالرحمن بن زبیر القرظی سے صرف حلالہ کی متضاد قسم کی چند روایات ہیں ۔
جو عروہ بن زبیر اور قاسم بن محمد کے علاوہ کسی سے بھی روایت نہیں ہیں اور یہ پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ ان کی جان بخشی کی یہ قیمت ہو۔ باقی بنوقریظہ کے ان افراد کا کوئی اور کہیں پر بھی کسی طرح کا تذکرہ بالکل بھی موجود نہیں ہے۔

محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس نے لکھا ہے کہ ”احناف کے نزدیک یہ روایات اس قابل نہیں کہ حتی تنکح زوجًا پر جماع کابھی اضافہ کیا جائے ۔اسلئے ہم تنکحسے ہی جماع مراد لیتے ہیں”۔( کشف الباری)

حضرت سعید بن جبیر نے کہا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے جب صرف نکاح کا ذکر ہے تو اس پر جماع کا اضافہ خوامخواہ میں کرنا بالکل غلط ہے۔ حجاج بن یوسف نے کہا کہ علی کو جہنمی بولو۔ سعید نے کہا کہ میں جہنم میں نہیں گیا ہوں ۔ وہ مکالمہ دیکھنے کے قابل ہے جس کے بعد95ھ میں بہت سفاکی کیساتھ شہید کردیا۔

محمود بن لبید نے کہا کہ ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے بیوی کو تین طلاق دی ۔جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے اور فرمایا : میری موجودگی میں تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟” (نسائی)

محمود بن لبید وفات97ھ میں نام چھپائے پھردو سال بعد99ھ سے101ھ تک عمربن عبدالعزیز نے ممنوعہ احادیث سے پابندی ہٹائی تو حسن بصری بول پڑا کہ عبداللہ بن عمر نے3طلاق دی تھی۔ یہ بات تو حکمرانوں کا کھیل ختم کردیتی لیکن عمر بن عبدالعزیز پھر زہر سے شہید کردئیے گئے۔ یزید ثانی بڑا ہی عیاش تھا ،اس نے حسن بصری کو گرم لوہا دکھایا کہ اپنی بات کا ازالہ کردو نہیں تو آنت باہر ہوگی۔ حسن بصری21ھ میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا تھا اور حضرت علی اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام سے ملاقاتیں رہی تھیں لیکن اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کیلئے بولا کہ ”مجھے20سال پہلے ایک مستند شخص نے بتایاکہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور پھر کوئی دوسرا مستند شخص نہیں ملا جو اس کی ترید کرتا۔ پھر20سال بعد زیادہ مستند شخص ملا تو اس نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے ایک طلاق دی تھی”۔ (صحیح مسلم)

یزید بن عبدالملک نے کہا کہ اس پر معافی نہیں ملے گی اور مجھے ایپسٹین جزیرے کا سرپرائز دینا پڑے گا۔ حسن بصری نے کہا کہ چھوٹی بچیوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔ علامہ ثاقب رضا مصطفائی نے کہا کہ حسن بصری دنیا دار تھا۔ ایک عورت کو بازار میں دیکھا تو اس کے پیچھے پڑگیا اور گھر تک پہنچا تو عورت نے کہا کہ میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے؟۔ حسن بصری نے کہا کہ تیری آنکھیں بہت پسند ہیں۔ عورت نے ٹرے میں آنکھیں نکال کر بھیج دیں اور کہا کہ اللہ کا ذکر و۔ حسن بصری نے رات کو توبہ کی اور صبح عورت سے معافی مانگنے گیا تو عورت کا جنازہ نکل رہاتھا۔ وہ مرچکی تھی۔ حسن بصری اس کے بعد صوفی بن گئے۔

مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے ”حسن بصری نے کم عمر بچیوں کا نکاح جائز قرار دیا تھا”۔ اگر اس کے ساتھ یہ نسخہ بھی ہوتا کہ اگر حکمران اور ظالم کو بچی کی آنکھیں پسند ہوں تو نکال دینا۔

پھر ہشام بن عبدالملک نے سوٹا اٹھایا کہ جو گند تم نے بویا ہے اس کا ازالہ اس سے نہیں ہوگا کہ مستند اور زیادہ مستند نے یہ کہا تو حسن بصری نے کہا کہ بعض مجتہد ین کے نزدیک حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے۔ اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ سے گزارہ چلے بلکہ حلالہ کروانا پڑے گا۔ (صحیح بخاری)

ہشام نے کہا کہ ”ہونڑ گل کیتی” الآن جئت بالحق۔
سورہ تحریم میں عورت کو حرام قرار دینے کے بعد واضح تھا کہ
قدفرض اللہ تحلة ایمانکم
”اللہ نے تمہاری طرف سے عورتوں کو حرام قرار دینے کے عہدوپیمان کو حلال کردیا ہے ”۔

سورہ البقرہ میں طلاق کے مقدمہ میں اللہ نے واضح کیا کہ
لاتجعل اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناسOلایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکمO
اللہ کو طلاق کیلئے حرمت کے الفاظ میں رکاوٹ مت بناؤکہ تم نیکی ، تقویٰ اور میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ ڈالو۔ وہ تمہیں ایسے الفاظ پر سرے سے پکڑتا ہی نہیں ہے۔ دل کے گناہ سے پکڑتا ہے اور دل کا گناہ یہ ہے کہ طلاق کا عزم تھا لیکن اس کا اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے عورت کی عدت ایک ماہ بڑھ گئی۔ سورہ بقرہ کی آیات224،225،226،227

اللہ نے ایک ماہ عدت بڑھانے پر دل کا گناہ قرار دیا ہے اور آیت228میں واضح کیا ہے کہ عدت تین ادوار یا تین مہینے ہے لیکن ایک طرف کتوں کی طرح آیات کو بوٹی بوٹی بنادیا گیا اسلئے کہ ایک طبقہ کہتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق دی تو باہمی رضا مندی سے بھی رجوع نہیں ہوسکتا اور دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ دو مرتبہ رجوع سے جتنی چاہو عدت بڑھاؤ اور چاہے پھر طلاق نہ دو۔

یہ شیعہ سنی دونوں اب اسلام کے تاجر بن گئے ہیں جہاں پر اچھی روزی ملتی ہے وہاں مسلک اور مذہب بدل دیتے ہیں۔

ابن خلدون کے بقول خلیفہ ابوجعفر منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص شیعیت کی جانب میلان رکھتا تھااور محمد بن نفس زکیہ کا فرزند عبداللہ اشتر المعروف عبداللہ غازی400افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ سندھ آئے تو انہیں خاصے احترام سے نوازا گیا ۔اس کی خبر عباسی خلیفہ منصور کو پہنچی توان کے تعاقب میں ہشام بن عمر ثعلبی کو سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور انکے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبداللہ شاہ غازی شہید ہوگئے اور ان کے ساتھی اس علاقے میں بکھر گئے۔(ابن خلدون)۔ذہبی اور ابوالفرج اصفہانی نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے ۔طبری نے یہ واقعہ768ئ151ھ میں نقل کئے ہیں۔ (گوگل )

اصل میں عبداللہ شاہ غازی دہشتگردی سے شہید کئے گئے۔
امام زید کی والدہ سندھی تھیں اور ان کی وجہ سے شیعہ سندھ میں پھیل گئے۔ البتہ عبداللہ شاہ غازی کی وجہ سے حنفی مسلک بھی پھیل گیا۔ امام ابوحنیفہ نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی اور نبیۖ اس پر غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا۔ جس سے مسئلہ واضح ہے کہ عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو رجوع ہوسکتا ہے اور عورت راضی نہ ہو تو نہیں ہوسکتا اور یہی امام ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد شیبانی نے کتاب الآثار میں امام ابوحنیفہ کے مذہب کو نقل کیا۔

رکانہ کے والد عبد بن یزید نے مرحلہ وار تین طلاق دئیے اور عدت کے بعد دوسری شادی کرلی اور پھر اسے بھی طلاق دی تو نبیۖ نے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ کیونکہ وہ نبیۖ کے قریبی عزیز تھے۔ بنومطلب بن ہاشم کے پوتے جسکے نام پر نبیۖ کے دادا چھوٹے بھائی عبدالمطلب تھے۔ شعب ابی طالب میں بھی ساتھ دیا تھا۔

سورہ الطلاق میں پورا روڈ میپ پیش کیا گیا ہے
کہ جب بھی طلاق دو تو عدت کیلئے دو اور عدت کو گن کر پورا کرو۔ اس میں عورت کو اس کے گھر سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلے مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کرے۔اور یہ اللہ کی حدود ہیں جس نے ایسا کیا تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تمہیں کیا ہے کہ اللہ اسکے بعد کوئی موافقت کی صورت نکال لے۔پس جب عدت پوری ہوجائے تو معروف طریقے سے رجوع کرو یا معروف طریقے سے اس کو الگ کردو۔اور اپنوں میں سے دو گواہ بھی اس پر مقرر کرو اور گواہی اللہ کیلئے قائم کردو۔ یہ ہے جسکے ذریعے سے اس کو وعظ کیا جاتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اللہ راہ نکال دے گا”۔
سورہ الطلاق اور البقرہ کی آیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عتیق آپ کو اللہ نے منتخب کرلیا ہے شکر ادا کریں۔ مولانا فتح خان

عتیق آپ کو اللہ نے منتخب کرلیا ہے شکر ادا کریں۔ مولانا فتح خان

شیخ سعدی نے کہا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی حکمت ہوتی ہے کہ وہ ایک ہی آدمی کو لوگوں کے فائدے کیلئے منتخب کرلیتا ہے، ہمارا اخلاص کیساتھ آپ سے تعاون ہوگا

سید عتیق الرحمن نے جو کام شروع کیا ہے یہ آپ لوگوں کیلئے ایک زریں موقع ہے، جس سے آپ جہاد کے اندر بڑا حصہ لے سکتے ہو، ہوسکتا کہ افغانستان کی طرح جہاد کرنا پڑے

مولانا عبد الرؤف ، مولانا غلام محمد، مولانا عصام الدین اور پیر عالم شاہ کی باتیں بہت اہمیت کے لائق ، سردار امان الدین کی جہاد کے بارے میں باتیں جیسے دودھ پر گھی ڈالا جائے

ٹانک (نمائندہ ۔ مئی1998) کبیر پبلک اکیڈمی جٹہ قلعہ گومل تحصیل و ضلع ٹانک کے دوسرے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات سے استاذ العلماء حضرت مولانا فتح خان نے خطاب میں فرمایا: میرے عزتمند مسلمان بھائیو، حضرات علماء کرام، پیر صاحبان، اکیڈمی کے اساتذہ حضرات ! میں نئی بات نہیں کرسکتا۔ اکیڈمی میں مولانا عبد الرؤف نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا فقط مولانا کی تقریر کافی تھی۔ مولانا غلام محمد کی تقریر کافی شافی تھی۔ مولانا عصام الدین اور پیر عالم شاہ صاحب کی باتیں سن لیں۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ پر اہمیت کے لائق تھیں۔ سردار امان الدین کی جہاد کے بارے میں بات گویا جیسے دودھ پر گھی ڈالا جائے۔ میں علم کی فضیلت پر بات کروں گا اللہ نے سورہ رحمان میں فرمایا الرحمن علم القرآن خلق الانسان علمہ البیان۔

حضور ۖ نے فرمایا: ہر ہر چیز کی زینت ہے ۔ قرآن کی زینت سورہ رحمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن سکھانے کیلئے انسان کو پیدا کیا اسلئے انسان کو بیان سکھایا۔ بیان کا معنی یہ ہے کہ خود بھی سمجھے ، دوسروں کو بھی سمجھاسکے۔ جس نے قرآن سیکھا اس کو یہ فخر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے شاگردوں کا شاگرد ہے۔ رسول اللہۖ اللہ تعالیٰ کے پہلے شاگرد ہیں۔ آپۖ کے شاگرد خلفاء راشدین، صحابہ کرام ہیں، پھر تابعین، تبع تابعین اس طرح سلسلہ وار یہ شاگردی کا سلسلہ ہم اور آپ تک پہنچا ۔ اللہ تعالیٰ نے بار امانت کو آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن کوئی اس بار امانت کو قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمر باندھ لی۔ اس نے بار امانت کو قبول کرلیا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تعلیم کیلئے پیدا کیا ہے۔

امام غزالی اور انکے بھائی بچپن میں یتیم ہوگئے تو انکے والد کے دوست نے بھوک سے بچنے کیلئے مدرسہ میں داخل کرادیا۔ امام غزالی کو علم کی وافر مقدار اور بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ امام غزالی کا ذکر اسلئے کررہا ہوں کہ کتاب احیاء العلوم لکھی۔ انکے زمانہ کا ایک عالم کتاب کو تنقید کا نشانہ بناتا رہتا تھا۔ غزالی نے خواب دیکھا کہ رسول اللہ ۖ اور چاروں خلفاء راشدین حرم میں طواف کی جگہ پر ہیں۔ غزالی نے عرض کیا کہ یارسول اللہۖ! میری کتاب میں غلطی ہو تو مجھے بتادیں ، اس پر فلاں عالم تنقید کرتا رہتا ہے۔ جس سے مجھے بڑی روحانی اذیت پہنچتی ہے۔ حضور ۖ نے چاروں خلفاء کو ایک ایک کرکے کتاب دکھائی تو انہوں نے عرض کیا کہ اس کتاب میں جو افکار جو نظریات اور جو مسائل لکھے ہوئے ہیں یہ سب درست ہیں۔ تو آپ ۖ نے دریافت فرمایا کہ اس عالم کی پھر کیا سزا ہے؟۔ چاروں خلفائ نے فیصلہ کیا کہ اتنے دُرے اس کو مارے جائیں۔ وہ مولوی دور دراز علاقہ کا تھا اور بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ رسول اللہ ۖ نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ اس عالم کو اتنے دروں کی سزا دو۔ عالم کو اسکے گھر میں حضرت علی نے دُرے مارنا شروع کردئے۔ ایک دُرا مارا، دوسرا مارا، تیسرا مارا، چوتھا مارا تو خلفاء راشدین نے سفارش کی کہ یہ عالم ہے اس کے علم کی لاج رکھی جائے۔ چنانچہ تادم مرگ اس عالم کے جسم پر ان دُروں کے نشانات اور درد کے اثرات تھے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ بعض بچے دنیا کی غرض سے مدرسوں میں داخل کرادئیے جاتے ہیںلیکن پھر اللہ کے بن جاتے ہیں۔ فعلمنا علماً لغیر اللہ لیکن العلم ان یکون الا اللہ۔ ہم نے علم غیر اللہ کیلئے سیکھا لیکن علم نے انکار کیا کہ وہ اللہ ہی کیلئے ہوگا۔ دوسرے مقاصد کیلئے نہیں۔

امام رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا کہ عقل کی مثال بیج کی، علم کی مثال درخت کی اور عمل کی مثال پھل کی ہے۔ علم سے مراد یہ نہیں کہ بہت ساری کتابیں پڑھ لو۔ رحمان بابا نے کہا کہ اگر علم ہو اور عمل نہ ہو تو جیسے گدھے پر بار لادا جائے۔ دوستو! علم کے ساتھ عقل کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ فہم کا درست ہونا بصیرت ہے۔ صحیح عقل آدمی کو مجبور کردیتی ہے کہ وہ اللہ کے احکام کو مان لے۔ اللہ کے احکام کو ماننا ہدایت ہے اور عمل کے ذریعہ خدا کا مقرب بننا رحمت ہے۔ عتیق الرحمن سے ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا، تھوڑے عرصہ سے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہوا تو جس طرح مولوی صاحب نے کہا کہ وتعاونوا علی البر و التقویٰ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اچھے کام اسلام میں بہت ہیں۔ میں سردار امان الدین صاحب کی بات پر تھوڑا تبصرہ کروں گا۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ جاھدوا باموالکم و انفسکم و السنتکم تم جہاد کرو اپنی جانوں سے، اپنے مالوں سے اور جہاد کرو اپنی زبانوں سے۔ صحابہ کرام نے جانوں اور مالوں سے جہاد کیا۔ زبان کا جہاد یہ ہے کہ باطل کے مقابلے میں دلیل پیش کی جائے تاکہ باطل باطل اور حق حق ثابت ہوجائے۔ علماء کرام تلوار سے جہاد نہیں کرسکتے۔ مال ان کے پاس نہیں کہ اسکے ذریعہ جہاد کریں لیکن وہ زبانوں سے ہر وقت جہاد میں مشغول رہتے ہیں۔ دوستو! جہاد کے تین درجے ہیں۔جو تلوار سے جہاد کرے تو اس سے تعاون کرنا چاہئے جو مال کے ذریعہ جہاد کرے اس سے بھی تعاون کرنا چاہئے اور اگر زبان کا جہاد کوئی کرے تو اس سے بھی تعاون کرنا چاہئے۔

سید عتیق الرحمن نے جو کام شروع کیا یہ آپ کیلئے ایک زریں موقع ہے آپ جہاد میں بڑا حصہ لے سکتے ہو۔ یہ جہاد کا ایک سلسلہ شروع ہوچکا۔ ہم مسلمان شریعت کے پابند ہیں۔ جیسے گلے میں رسی ڈالی جائے ،ویسے شریعت نے پابند بنایا۔ شریعت جس طرف ہمیں لے جائے ہمیں ادھر جانا پڑے گا۔ شریعت نے ہمیں اجازت دی کہ جہاد زبان اور مال سے کرو ۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا دور آجائے جیسے افغانستان میں آیا کہ بندوق سے جہاد کا حکم ہو، ہم تو بہت کمزور ہیں ہمارے اساتذہ بھی ابھی زندہ ہیں اور ہمارے اساتذہ کے استادوں کا درجہ رکھنے والے لوگ بھی ابھی موجود ہیں۔ شاید کہ پاکستان میں ابھی وہ وقت نہیں آیا ہو کہ جس میں بندوق والا جہاد شروع کرنے کا حکم ہو۔

میں عتیق الرحمن گیلانی کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ نے جہاد شروع کردیا ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے لیکن ساری باتیں ایک دن میں نہیں ہوسکتیں۔ سارا قصہ ایک دن میں پورا نہیں ہوسکتا۔ امام غزالی جب مدرسہ میں داخل ہورہے تھے تو وہ چھوٹے سے طالب علم تھے۔ اس وقت وہ امام غزالی نہ تھے پھر وہ وقت آیا کہ اللہ نے امام غزالی بنادیا۔ آپ بھی ہمت نہ ہاریں۔ ہم آپ کیساتھ تعاون کریں گے۔ اگر ہمیں اسی طرح بلاتے رہے تو ہم آپ کے پاس آئیں گے۔ مشوروں کی ضرورت ہوگی تو مشورہ دیں گے۔ آپ تسلی رکھیں ہم آپ کو دھوکہ نہیں دیں گے۔ ہمارا اخلاص کیساتھ آپ سے تعاون ہوگا۔ اللہ آپ کو برکت دے یہ تو اللہ کے کام ہیں۔ شیخ سعدی نے فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک خصوصی حکمت ہے کہ وہ ایک ہی آدمی کو لوگوں کے فائدے کیلئے منتخب کرلیتا ہے۔ آپ کو اللہ نے منتخب کرلیا ہے آپ اللہ کا شکر ادا کریں ۔ آپ کے بارے میں جو بشارتیں، خواب اور الہام ہیں اس کا مظہر اور مصداق یہ مدرسہ ہے۔ یہی بچے پھر زبان سے بھی جہاد کریں گے۔ مال سے بھی جہاد کریں گے اور تلوار سے بھی جہاد کریں گے۔ میں علماء کرام کی طرف سے آپ کو یہ تسلی دیتا ہوں کہ ہمارا تعاون سید عتیق الرحمن گیلانی کے ساتھ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ملک میں اسلام اور نظام مصطفی نافذ فرمادے۔
ــــــــــ

مولانا فتح خانکے بیان پرتبصرہ:
پاکستان میں دیوبندی کے علاوہ دوسرے فرقوں کے بڑے بڑے علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتا تھا تو مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ،مولانا ادریس میرٹھی صدر وفاق المدارس پاکستان ، شیخ التفسیرمولانا بدیع الزمان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ، مولانا یوسف لدھیانوی ودیگر حضرات تھے پھر مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسروں سے بھی ملاقات ہوئی لیکن مولانا فتح خان سے زیادہ سمجھ دار اور علم کا ذخیرہ میں نے نہیں دیکھا ۔ شیعہ کے خلاف مناظرہ پڑھانے مولانا عبدالستار تونسوی، بریلوی کے خلاف علامہ خالد محمود برطانیہ ،اہلحدیث کے خلاف مولانا امین اکاڑوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں آتے تھے ۔

مولانا فتح خان نے مفتی محمود سے مولانا فضل الرحمن تک ہمیشہ اخلاص سے الیکشن کی کامیابی کیلئے ساتھ دیا مگر اسکے باوجود مولانا فتح خان کبھی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کی قومی اسمبلی کی ایک نشست تھی اور ٹانک کی صوبائی نشست الگ تھی۔ جمعیت کو شکست ہوتی تو بھی ٹانک میں لیڈ ہوتی ، جیت میں بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ووٹ کم ہوتے۔ وجہ منافقانہ طرز سیاست تھی۔ ٹانک ہی نہیں بلکہ بنوں لکی کی ایک سیٹ تھی تو جمعیت کا اپنے امیدوار کیخلاف بیگم کلثوم سیف اللہ ، سیف اللہ برادران سے اتحاد ہوتا تھا۔ بنوںکے امیدوار مولانا احمد جان نے مفتی محمود سے مطالبہ کیا کہ آپ مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں تو میرے لئے ووٹ کیوں نہیں مانگتے ہیں؟۔ ان کو پتہ تھا کہ جمعیت کے اپنے ان سے منافقت کررہے ہیں ۔

جنرل ظہیرالاسلام عباسی آئے توPTIکے ایوب خان بیٹنی نامزد صوبائی امیدوارسے پوچھا کہ یہودی کے ٹکٹ پر؟۔ جواب میں نے دیا کہ مولانا فتح خان کی مسجد اس کا دفتر تھاجو ناراض بیٹنی قوم کو منانا چاہتے تھے ۔ جمعیت کے لوگوں کو مختلف امیدواروں کیساتھ ملاکر ٹانک کی صوبائی نشست قربانی کی بکری بنتی۔

مولانا فضل الرحمن تقریر کرتا کہ بندوق اٹھاؤگے؟، انقلابی جذبہ جس سرمایہ دار اور نواب کے خلاف بیدار کرتا تو انہی مخالفین سے چائے پانی اور بیٹھک کی خاطر مل گئے۔ ٹانک کی سرزمین شاہد عدل ہے۔یہ دہشتگردی اسی بے شعوری کانتیجہ ہے۔ مولانا فتح خان کے مقابلے میں ضلعی سرکاری خطیب مقرر کرنے پر بھی کوئی شرم، غیرت ، حیانہیں آئی اسلئے کہ ضمیر نام کی چیز نہیں تھی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں تو اپنے اتحادی کو ہرانے کیلئے مولانا فضل الرحمن نے اپنا بھائی ناراض کرکے کھڑا کیااور متحدہ محاذ کے ٹکٹ ہولڈر مستی خیل نورانی گروپ کو شیعہ کاظمی سے ہروایاتھا اور آج مولانا نورانی کا بیٹا تنہا ہے۔ جب اکرام اللہ گنڈہ پورنے مولانا کی حمایت کا اعلان کیا تو امتیاز بلوچ نے اسٹیج پرہنستے ہوئے کہا کہ میں کھڑا ہوں تاکہ جو لوگ اکرام اللہ گنڈہ پور کو کسی صورت میں ووٹ نہیں دینا چاہیں تو انکے ووٹ ضائع ہوں۔

جب26ویں آئینی ترمیم سے پہلے مولانا فضل الرحمن نے سخت تقریریں شروع کیں تو مجھے لگا کہ وہی سیاسی کھلواڑہے پھر شک میں پڑجاتا تھا لیکن آخر پھر وہ ہوا جس کا کہ ڈر تھا۔

اسلامی زکوٰة ، ختم نبوت اور سودی نظام کو اسلامی قرار دینے پر جب قوم کیساتھ فراڈ ہواہے تو پھر کس اسلامی نظام کی توقع رکھنے کی گنجائش مولانا فضل الرحمن سے رکھ سکتے ہیں؟
۔مولانا بجلی گھر کی پشتو میں تقریر ہے جس پر غلام احمد بلور کے مرغا ذبح کرنے کی بات اور تصویر ہے۔ مجھ سے مولانا محمد امیر بجلی گھر نے فرمایا تھا کہ ”آپ جوان ہیں اپنی کوشش جاری رکھیں لیکن مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کو بھی متحد نہیں کرسکتے ”۔ تصویر کوجب ہم حرام قرار دیتے تھے تو مولانا بجلی گھر کی فرمائش پر یہ شعر ڈالا۔

بت پرستی دین احمدۖ میں کبھی آئی نہیں
اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

جب میں نے ”جوہری دھماکہ” لکھا تو مولانا فتح خان کو اسکا مسودہ پڑھنے کیلئے دیاتو فرمایا کہ اس کو پڑھنے میں وقت لگے گا۔ جب ہم نے چھاپ دیا تو مولانا فتح خان نے فرمایا کہ میں نے اسی رات پڑھ لیا تھااور اتنی مزیدار کتاب ہے ۔ اس پر علامہ اقبال کے شعر کی تصحیح اور ایک دوسری غلطی تھی۔ایک کی اصلاح کی تھی اور شعر میں غلطی بھی باقی رہ گئی تھی۔ جوہری دھماکہ میں مفتی تقی عثمانی کو جو خط لکھا وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ اس کتاب نے افغان طالبان سے بستی نظام الدین تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی ، علماء ومشائخ کو تبدل کیا تو اس سے زیادہ عوام اور خواص میں حلالہ کی لعنت کے حوالے سے بھی تبدیلی آئی ہے الحمدللہ رب العالمین والصلوٰة وا لسلام علی من لانبی بعدہ رحمت للعالمین وعلی آالہ و صحبہ اجمعین

نبی اکرمۖ نے کتاب کی تعلیم ، تزکیہ اور حکمت سکھائی۔ کتاب کی تعلیم کیلئے مدارس ہیں۔تزکیہ اہل اللہ کا کام ہے اور حکمت سیاست ہے لیکن سیاسی منافقت میں نبیۖ کی سنت نہیں بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کی سیاسی وراثت ہے۔

سب کی حمایت ہمارا جرم تھا؟ اسلئے مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردی اور فتوے بازی کروائی اور ناکامی پر گھر میں آکر کہا کہ میں تو ہمیشہ حمایت کرتاہوں ۔منافقت کی حدکا راز کھلے گا؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وترٰی کُل اُمةٍ جاثیةٍ کُل اُمةٍ تُدعٰی الٰی کتابھا الیوم تُجزون ماکنتم تعملون( الجاثیةآیت:28)

وترٰی کُل اُمةٍ جاثیةٍ کُل اُمةٍ تُدعٰی الٰی کتابھا الیوم تُجزون ماکنتم تعملون( الجاثیةآیت:28)

اس دن ہر جماعت کو گھٹنے کے بل دیکھوگے ،ہر جماعت اپنے اعمال نامے کی طرف بلائی جائے گی آج بدلہ ملے گا جوتم نے کیا!

قرآن فقط آخرت نہیں دنیامیں بھی قیامت کی خبر دیتاہے۔آؤمماتیو! قرآن سے رہنمائی لو

حٰمoتنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیمOان فی السماوات والارض لاٰیاتٍ للمؤمنینOوفی خلقکم ومایبث من دابةٍ آیات لقوم یوقنون O

آیت1سورہ جاثیہ میںح م کے اندرکیا راز ہے ؟۔یہ اللہ جانتا ہے۔ درس نظامی کی آخری تفسیر بیضاوی میں الم کا بالکل متضاد اور حماقت پر مبنی مفہوم لیا جاتاہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب میں نے مستر د کیا تو استاذ جی نے تائید فرمائی تھی۔

آیت2یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو بہت زبردست حکمت والا ہے۔ (اس کو سنی ان سنی مت کردینا)
آیت3میں آسمانوں اور زمین میں مؤمنوں کیلئے نشانیاں آج کی معلومات میں کھربوں کہکشاں اور ایک کہکشاں میں کھربوں ستارے، ہرایک کا مدار میں تیرنا اور بلیک ہول سے ایٹم کے گرد الیکٹران کاتیرنا قرآن کی صداقت کو واضح کرتا ہے جن میں
ولایحیطون بشی ء من علمہ الا بماشاء ، انہ لقسم لو تعلمون عظیم ،فی فلک یسبحون
اور جدید دور کی معلومات اور اس میں ترقی سب شامل ہے۔
آیت4:اور تمہاری تخلیق میں اور جانورکے بڑھنے میں نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو یقین رکھتے ہیں۔
موجودہ دور میںDNAکے کمالات اور میڈیکل کی ترقی میں خدا کی تخلیق کا علمی کمال واضح ہے؟۔ فارمی مرغی اور جانوروں کی بہتات سے انسان کو اس آیت میں متوجہ کیا گیا ہے۔

واختلاف الّیل والنھار واما انزل اللہ من السماء من رزقٍ فا حیا بہ الارض بعد موتھا و تصریف الریاح اٰیات لقوم یعقلونOجاثیہ:5
”اور رات اور دن کا اختلاف اور جو اللہ نے آسمان سے رزق اتارا ،تو اسکے ذریعے زمین کو زندہ کردیا اس کی موت کے بعداور ہواؤں کی تبدیلی میں عقل مند قوم کیلئے نشانیاںہیں”۔

مردہ زمین کی طرح مردہ انسانوں کو بھی اللہ تعالیٰ سرسبز و شاداب کرتا ہے۔ سردیوں میں گندم بونا،تبدیل ہواؤں کے آغوش میں کونپل اور پکنے کٹنے کی عمر تک پہنچتا ہے۔ رات کے سناٹے میں خراٹے یا سکون سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور پھر دن کے اندر اس کو عملی جامہ پہنانے کا مشن بڑی نشانی ہے۔ جہاں دن بھر کا ہارا تھکا انسان بھرپور صلاحیتوں سے ایک نئی صبح کے آ غاز کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہوتاہے۔

تلک اٰیات اللہ نتلوھا علیک بالحق فبای حدیثٍ بعد اللہ واٰیاتہ یؤمنونO(الجاثیہ:6)
”یہ اللہ کی آیات ہم حق سے تلاوت کرتے ہیں ۔پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیں گے”۔

قرآن کی یہ دعوت دائمی جاری ہے جس کا اطلاق ہر زمانے کے ہر ماحول پر ہوتا ہے لیکن ہر ایک اپنے اپنے ماحول کا عکس اس میں دیکھ سکتاہے۔AIسے زیادہ یہ سچا آئینہ دکھا رہاہے۔

ویل لکل افاکٍ اثیمٍO(سورہ جاثیہ آیت:7)
” ہر بہتان طراز جھوٹے کے لئے تباہی ہے”۔

مذہبی فرقے اور جماعتیں قرآن کے مقابلے میںبہت ہی ڈھٹائی کیساتھ حلالہ کی لعنت اور خواتین کے حقوق کو اپنے جھوٹے فقہی مکاتب کی وجہ سے مسترد کررہے ہیں۔

یسمع اٰیات اللہ تتلٰی علیہ ثم یصرُّ مستکبرًا کان لم سمعھا فبشرھ بعذابٍ الیمٍO(الجاثیہ:8)
”جو اللہ کی آیات کو سنتا ہے جو اس پر تلاوت کی جاتی ہیں پھر ناحق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے کہ گویا اس نے وہ سنی نہیں ہیں تو درد ناک عذاب کی خبر دو”۔

تسلسل سے حلالہ کے ذریعے عزتوں کا لنڈا بازار لگانے والوں کو مطلع کیا جاتا ہے لیکن یہ سنی ان سنی کردیتے ہیں۔

واذا علم من اٰیاتنا شیئًانِ اتخذھا ھزوًا اولئک لھم عذاب مھینO(سورہ جاثیہ:9)
”اور جب ہماری آیات میں کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق بنادیتا ہے،انہی کیلئے ذلت کا عذاب ہے”۔

حلالہ کی لعنت سے چھٹکارا یا کسی آیت کا علم آنے پر مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے دنیا میں ذلت کا عذاب چکھ لینا ہے۔

من ورائھم جھنم ولا یغنی عنھم ما کسبوا شیئًا ولا ما اتخذوا من دون اللہ اولیاء ولھم عذاب عظیمO(سورہ جاثیہ :10)
” اسکے پیچھے جہنم ہے اور جوچیز انہوں نے کمائی ہے تو وہ ان کو بچا نہیں سکے گی اور نہ انہوں نے جو اللہ کے علاوہ مولانا پکڑ رکھے ہیںاور ان کیلئے برا عذاب ہے”۔

یہ جہنم برزخ کے علاوہ دنیا کے اندر لپیٹ میں لے گی۔

1990ء کی دہائی میں عارف بھوجانی نے رنچھوڑ لائن کا کیس بتایا اور منتیں کیں کہ حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دوں تو میں نے سختی سے انکار کیا۔ وہ پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے رئیس دار الافتاء مفتی عبدالسلام چاٹگامی کا فتویٰ لایا جس میں طلاق کا اختیار عورت کے پاس رہنے کا حلالہ کے حوالہ سے فتویٰ تھا۔

مجھے پتہ چلا کہ مدارس نے کاروبار بنادیا اور حلالہ کیلئے پہلے عورت کو پاس بلاتے ہیں پھر اس کا فیکٹری ، ملوں کے مالکان اور تاجروں سے سودا کرتے ہیں۔ جو چند دنوں کیلئے حلالہ کے نام پر عورتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ کچھ عورتوں کے شوہروں کو پھر طلاق کیلئے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ مدارس اور سرمایہ داروں کا حلالہ کی انڈسٹری میں بہت بڑا اشتراک ہے۔

ھٰذا ھدًی والذین کفروا باٰیات ربھم لھم عذاب من رجزٍ الیمO(سورہ الجاثیہ آیت:11)
”یہ ہی ہدایت ہے جو لوگ اپنے رب کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو ان کیلئے زبانی دشنام کا دردناک عذاب ہے”۔

اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری الفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلمکم تشکرونO
” اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس میں اسکے حکم سے کشتی چلے اور تاکہ تم اسکے فضل کو تلاش کرو اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزار بن جاؤ ”۔ (سورہ جاثیہ:12)

ایک آدمی کہے گا کہ میں نے زندگی بھر سمندر دیکھا نہیں اور نہ میں مچھیروں کی اولاد ہوں تو میرا سمندر سے کیا کام ہے؟۔

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی وجہ سے بنی نوع انسان کو اللہ نے بچایا اور آیت میں کشتی نوح سے تو انکار ممکن نہیں ہے۔

وسخر لکم ما فی السماوات و مافی الارض جمیعًا منہ ان فی ذٰلک لاٰیاتٍ لقومٍ یتفکرونO
”اور تمہارے لئے مسخر کردیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے اندر ہے سب میں سے۔بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو لوگ فکر کرتے ہیں”۔ (سورہ جاثیہ آیت:13)
موجودہ دور میں تسخیرکائنات کا بہت بڑا نمونہ موجود ہے۔

قل للذین اٰمنوا یغفروا للذین لایرجون ایام اللہ لیجزی قومًا بما کانوا یکسبونO(الجاثیہ:14)
”کہہ دو ان لوگوں سے جوایمان لائے ہیں کہ معاف کردو ان لوگوں کو جو اللہ کے دنوں (انقلاب ) کی امید نہیں رکھتے تاکہ اس قوم کو بدلہ مل جائے جو انہوں نے کمایا ہے”۔

جب تک انتقام کا جذبہ اور کوسنے کا سلسلہ جاری رہے گا تو انقلاب نہیں آسکے گا اسلئے ان کو معاف کرنے کا حکم ہے تاکہ جو اچھے یا برے عمل کرنے والے ہیں وہ اپنااپنا بدلہ پاسکیں۔

من عمل صالحًا فلنفسہ و من اساء فعلیھا ثم الی ربکم ترجعونO(سورہ الجاثیہ آیت:15)
”جس نے اچھا عمل کیا تو اپنے لئے کیا اور جس نے برا عمل کیا تو اپنے سر لیا پھر تم کو سب اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ”۔

ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتاب والحکم والنبوة و رزقناھم من الطیبات و فضلناھم علی العالمینOواٰتیناھم بیناتٍ من الامر فما اختلفوا الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیًا بینھم ان ربک یقضی بینھم یوم القیامة فیما کانوا فیہ یختلفونOجاثیہ:16،17
”اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکم اور نبوت دی اور پاکیزہ چیزوں کی روزی اور ان کو جہانوں پر فضیلت دی ۔اور انہیں کھلے احکام دئیے۔پھر انہوں نے علم آنے کے بعد باہمی ضد سے اختلاف کیا ۔بیشک ان کے درمیان اللہ انقلاب کے دن فیصلہ کرے گا جس کے اندروہ اختلاف کرتے تھے ”۔

بنی اسرائیل کو فضیلت اپنے دور کے لحاظ سے دی تھی ۔ سورہ بنی اسرائیل میں شیطان کیساتھ قیامت کے دن تک وعدہ ہے لیکن جب شیطان نے یوم البعث تک استدعا کی تو اللہ نے کہا کہ یوم وقت معلوم تک وعدہ ہے۔ اسلئے کہ قیامت دنیا میں بھی برپا ہوگی اور انشاء اللہ عالمی انقلاب سے ابلیس مرجائے گا۔

ثم جعلناک علی شریعةٍ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھواء الذین لایعلمونOانھم لن یغنوا عنک من اللہ شیئًا وان الظالمین بعضھم اولیاء بعضٍ وللہ ولی المتقینO(سورہ الجاثیہ آیات:18،19)
”پھر ہم نے آپ کو شریعت کے احکام کا وارث بنادیا ہے تو اس کی اتباع کریںاور اتباع نہ کریں جو لوگ نہیں جانتے ہیں۔ بیشک وہ تمہیں اللہ سے نہیں بچاسکتے ہیں اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے سرپرست ہیں اللہ پر ہیزگاروں کا ولی ہے”۔

ھٰذا بصائرللناس و ھدًی ورحمة لقوم یوقنون
” یہ لوگوں کیلئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کیلئے جو یقین رکھنے والے ہیں”۔ (الجاثیہ:20)

مولانا یوسف بنوری ماہنامہ کے اداریہ پر آیت کا ٹکڑا لکھتے تھے تو مولانا یوسف لدھیانوی کے کہنے پرلکھنا چھوڑ دیا۔

ام حسب الذین اجترحوا السئیاتِ ان نجعلھم کالذین اٰمنوا و عملوا الصالحات سوآئً محیاھم ومماتھم ساء مایحکمونO(الجاثیہ:21)
”کیا گمان رکھتے ہیں جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے کہ ہم ان کو ایمان والوں اور عمل صالح والوں جیسے بنائیں گے ۔برابر ہوں گے انکے زندہ ومردہ یہ برا فیصلہ کرتے ہیں”۔

جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن والے ایک دوسرے کے ساتھ زندہ اور مردے کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟۔

و خلق اللہ السماوات والارض بالحق ولتجزٰی کل نفسٍ بما کسبت و ھم لا یظلمونO
”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا حق کیساتھ تاکہ ہر نفس کو اسکے کئے کا بدلہ ملے اور ان پر ظلم نہ ہوگا”۔ جاثیہ:22
یہ اس دنیا میں انقلاب اور بدلہ دینے کی خبر بھی ہے۔

افرایت من اتخذالھہ ھواہ واضلہ اللہ علی علمٍ و ختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشاوة فمن یھدیہ من بعداللہ افلا تذکرونO
” کیا تو نے اس کو دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنادیا ہے اور اس کو اللہ نے علم کے باوجود گمراہ کیا اور اس کی قوت سماعت اور دل پر مہر لگادی اور اس کی قوت بصری پر پردہ ڈال دیا تو کون ہے جو اللہ کے بعداس کو ہدایت دے سکتا ہے۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ”۔ (جاثیہ:23)

مفتی تقی عثمانی نہ تو سومنات کا پجاری ہے ،نہ قبر پرست ہے اور نہ تصاویر کو پوجتا ہے ۔البتہ اپنی نفسانی خواہش کوپوچتا ہے اور لگتا ایساہے کہ اس پر علم کے باجود گمراہی کا غلبہ آگیا ہے۔

وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا ومایھلکنا الا الدّھر و ما لھم بذٰلک من علمٍ ان ھم الا یظنونO
”اور کہتے ہیںکہ اور کیا ہے مگر ہماری اس دنیا کی زندگی جس میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں نہیں مارتا ہے مگر زمانہ اور ان کو اس کا علم نہیں ہے اور وہ نہیں ہیں مگر صرف گمان پر چل رہے ہیں”۔ (سورہ جاثیہ:24)

1984ء میں قاری مفتاح اللہ سے پوچھا کہ تفسیر عزیزی میں عذاب قبر کا انکار ہے؟۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی سے پوچھنے کا حکم ملا تو انہوں نے کہا کہ آپ پنج پیری ہو؟۔

دارالعلوم کراچی کے مولانا زبیر اشرف عثمانی کے پاس اس کی فرصت نہیں تھی یا نالائق ہے؟۔لیکن تفسیر عزیزی کا جدید اور سلیس ترجمہ و تفسیر واضح کرکے شائع کیا ہے۔ جب عذاب قبر کا انکار ہو تو بعثت کی جواب دہی کا خوف بھی ختم ہوجاتا ہے۔

احتساب ناصبیت میں مماتی جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہیں مگر ٹھوس حقائق سے فضابدلے گی ۔انشاء اللہ ۔

مفتی منیر شاکر شہید کا ایک انٹرویو دیکھا جس میں اس نے مفتی رشیداحمد لدھیانوی سے بہت کچھ سیکھنے کا کہتے ہوئے بتایاکہ ”فتاویٰ عالمگیریہ” کو حوالہ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور یہ بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے ناجائز قرار دینے کیلئے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کو فتوؤں کی کتابوں میں کوئی حوالہ نہیں ملا تو ایام نوروز میں دروازوں پر تعویذ لٹکانے کوغیروں سے مشابہت کا حوالہ دیا۔ مفتی تقی عثمانی نے سرینڈر کیا۔جب ایک نومسلم نے بیوی کو کراچی میں تین طلاق دی تومولانا فتح خان نے مجھے فقہ اور فتوے کی کتابیں تھمادیں مگر اس میں کچھ نہیں مل رہا تھا تو مولوی شبیر صاحب نے کہا کہ بہشتی زیور میں دیکھوں۔ پہلے مجھے غصہ آیا کہ بڑے بڑوں نے کچھ نہیں لکھا تو پھر دلجوئی کیلئے بہشتی زیور دیکھی اس میں ان سے بھی زیادہ تضادمل گیا اسلئے کہ مسائل کا خلاصہ لکھا ہوا ہے۔ پھر جب2007میں قرآن کی طرف دیکھا تو دماغ کی شریانیں کھلیں اور مسئلے کے حل سے دل کھل گیا۔الحمدللہ بہت لوگ مان گئے۔

واذا تتلٰی علیھم اٰیاتنا بیناتٍ ماکان حجتھم الا ان قالوا ائتوا باٰبائنا ان کنتم صادقینO
”اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کیلئے کوئی دلیل نہیں ہوتیں مگر یہ کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو لے کر آجاؤ اگر تم سچے ہو”۔ (سورہ جاثیہ آیت:25)

قل اللہ یحییکم ثم یمیتکم ثم یجمکم الی یوم القیامة لاریب فیہ و لٰکن اکثر الناس لایعلمونOوللہ ملک السماوات والارض و یوم تقوم الساعة یومئذٍ یخسر المبطلونO(سورہ جاثیہ:26،27)
”کہہ دو کہ وہ تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن کی طرف جس میں شبہ نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور اللہ کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں و زمین میں ہے اور انقلاب کی گھڑی قائم ہوگی پھر اس دن وہ لوگ نقصان اٹھائیں گے جنہوں نے اس کو باطل قرار دیا ”۔

وتری کل امةٍ جاثیةً کل امةٍ تدعٰی الی کتابھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون O(الجاثیہ:28)
”اور آپ اس دن ہر جماعت کو گھٹنوں کے بل دیکھیں گے ہر جماعت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی ۔آج کے دن تمہیں اس کا بدلہ مل جائے گا جو تم کرتے رہے ہو”۔
اردو میں اس کو مرغا بننا کہتے ہیں۔ یہ مجرموں کیلئے ہے۔

ھٰذا کتابنا ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ماکنتم تعملونOفاماالذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت فیدخلھم ربھم فی رحمتہ ذٰلک ھو الفوز المبینOواما الذین کفروا افلم تکن اٰیاتی تتلٰی علیکم فاستکبرتم وکنتم قومًا مجرمینO(جاثیہ:29،30،31 )
”یہ ہماری کتاب تم پر حق کیساتھ بولتی ہے ،بیشک ہم نسخے لکھتے تھے جو تم عمل کرتے تھے پس جو ایمان اور عمل صالح والے ہیں تو ان کا رب انہیں رحمت میں داخل کرے گا ،یہ کھلی کامیابی ہے اور جو لوگ انکار والے ہیں تو کیا تم پر ہماری آیات نہیں پڑھی جاتی تھیں تو تم نے تکبر کیا اور مجرم قوم ہو”۔

واذا قیل ان وعداللہ حق والساعة لاریب فیھا قلتم ماندری ما الساعة ان نظن الا طنًا و ما نحن بمستیقنینO
”اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور انقلاب کی گھڑی میں شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ انقلاب کیا گھڑی ہے ، ہم تو گمان رکھتے ہیں مگر گمان رکھنا اور ہمیں خلافت کے قیام کا یقین نہیں ہے”۔ (الجاثیہ:32)
یہ بے غیرت امام مہدی اور خلافت سے دھوکہ دیتے تھے۔

وبدالھم سیئات ماعملوا و حاق بھم ماکانوا بہ یستہزئونO
”پھر ان کے کرتوت انکے سامنے آگئے اور ان کو گھیرے میں لے لیا جس کا مذا ق اڑاتے تھے”۔ جاثیہ:33

وقیل الیوم ننساکم کما نسیتم لقاء یومکم ھٰذا وماواکم النار و مالکم من ناصرینO
”اور ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم نے تمہیں بھلا دیا جیسا کہ آج کے دن کی ملاقات تم بھلا چکے تھے اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے۔اور تمہارے کوئی مدد گار نہیں ہیں ”۔ (جاثیہ:34)
عربی میں نار گولی کو بھی کہتے ہیں جن کی تم نے حلالہ سے حجامت کرائی ہے تو وہ گولی ماریںگے یا پھرمدد کریں گے؟۔

ذٰلکم بانکم اتخذتم اٰیات اللہ ھزوًا و غرتکم الحیاة الدنیا فالیوم لایخرجون منھا ولاھم یستعتبون
”یہ اسلئے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنادیا اورتمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈالا۔توآج تمہیں نہ نکالا جائے گا اور نہ تم سے توبہ کرنے کا کوئی مطالبہ کیا جائے گا”۔ (جاثیہ:35)
البقرہ231میں اللہ نے طلاق کیلئے بڑا واضح کیا کہ اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ کہ سادہ لوح کے حلالہ کروانے بیٹھو۔

فللہ الحمد رب السماوات ورب الارض رب العالمینOو لہ الکبریاء فی السماوات والارض و ھو العزیز الحکیمO
”اللہ کیلئے تمام تعریفیں جو آسمانوںکا رب ہے اور زمین کا رب ہے۔بڑائی اسی کیلئے آسمانوں میں و زمین میں وہ زبردست حکمت والا ہے”۔ (الجاثیہ:36،37)
ہمارے اساتذہ کرام مولانا بدیع الزمان ، مفتی عبدالمنان ناصردامت برکاتہم العالیہ ،شیخ الحدیث قاری مفتاح اللہ ، مولانا شبیراحمد وغیرہ نے زمانہ طالب علمی میں اصول فقہ، فقہ اور تفسیر کی کتابیں پڑھاتے ہوئے یہ سبق نہیں دیا کہ صاحب کتاب کو اہمیت دو بلکہ اللہ کی بات کو اور حق بات کو بڑا قرار دیا۔

آج مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن وغیرہ نے خود کو خداکے سامنے بڑا بنارکھا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور اسکے باپ نے جاندار کی تصویر پر مولانا ابوالکلام آزاد ، علامہ سید سلیمان ندوی سے توبہ کروایا اور بچوں کی بنائی تصویر اور مزدور کی بنائی عمارت کو بھی خدا کی خدائی میں مداخلت قرار دیا اور بچیوں کے کان چھیدنے کو بھی خدا کی تخلیق میں مداخلت اور اپنے دانت نکلوالئے۔

قرآن یہود ونصاریٰ کے اختلافات کو ختم کرتا ہے لیکن اس دور کا مسلمان خود ہی مختلف مفادات واختلافات میں پھنس گیا۔ رسول اللہ ۖ نے خبردی کہ ”وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں ، اس کا درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ”۔

شیعہ پنج تن پاک کا عقیدہ رکھتاہے اور سنی یک تن پاک کا عقیدہ ۔جو حضرت ابوبکر صدیق کی صحابیت کو قرآن سے ثابت کرتے ہیں اور ان کا منکر نص کا منکر اور کافر قرار دیتے ہیں۔

ومالاحدٍ عندہ من نعمةٍ تجزٰیOالا ابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰOو لسوف یرضٰیO(سورہ لیل 19،21)
”اور کسی ایک کیلئے بھی ممکن نہیں ہے کہ اس کے پاس جو بھی نعمت ہے کہ اس کا بدلہ دے سکے مگر یہ اپنے رب کی رضا جوئی کی تلاش میں لگا رہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا”۔

آیت کا معنی تو بالکل واضح ہے کہ اللہ نے انسانوں کو بہت زیادہ نعمتوں سے نواز ہے اور کسی ایک کیلئے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ اس کی ایک نعمت کان، آنکھ، زبان، دل ، دماغ، ہاتھ پیر اور جہاں سے وہ پوٹی اور پیشاب کا اخراج کرتا ہے کہ اس کا بدلہ دے سکے لیکن بس اپنے رب اعلیٰ کی رضاجوئی کیلئے لگا رہے یہ اس کا فرض ہے اور عنقریب اللہ اس کو خوش بھی کردے گا۔

پاکستان کے وزیراعلیٰ پنجاب، پختونخواہ، سندھ ، بلوچستان اور آرمی چیف اور وزیراعظم وغیرہ سے لیکر جماعتوں کے قائد ، رہنما اور مختلف سر پنچوں کی رضاجوئی کیلئے لوگ کیا نہیں کرتے؟ تو اللہ نے مخلوق خدا کو اپنی رضا جوئی کا حق ادا کرنے کا کہا ہے۔

آیت کی تفسیر میں اہل سنت کے مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر ہیں۔ جبکہ رسول اللہ ۖ کی حدیث ہے کہ میں بھی اللہ کی نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا اور اللہ کے فضل پر چلتا ہوں لیکن احمق طبقے کو پتہ نہیں کہ آیت میں کسی ایک فرد کا استثناء مراد نہیں ہے اگر کسی فرد کا استثناء مراد ہوتا تو پھر شخصیت مراد لی جاتی لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیر عزیزی میں لکھ دیا تو یہی ان کیلئے بس ہے۔

جب مولانا طاہر پنج پیری ایک مرتبہ کراچی میں تقریر کرنے آئے تو مولانا مسعود الدین عثمانی کی کتاب توحید خالص کے بارے میں پوچھا لیکن اس کے شاگردوں نے نہیں چھوڑا تھا۔

قرآن کے بارے میں ایک عقیدہ یہ ہے کہ قرآن”نظم و معنی” کی جمع ہے جیسے درس نظامی ”نورالانوار” میں ہے ،دوسر ا یہ ہے کہ صرف ”معنی و مفہوم ” قرآن ہے ، الفاظ نہیں ۔ جیساکہ امام بخاری اور شاہ ولی اللہ کا عقیدہ امام احمد بن حنبل کے خلاف تھا۔ معتزلی کے نزدیک قرآن کے الفاظ حادث تھے ،امام احمد بن حنبل پر اسلئے کوڑے برسائے گئے کہ وہ قرآن کے الفاظ کو قدیم مانتے تھے۔ قرآن کے مخلوق کا فتنہ پیدا ہوا تھا وہ جوں کا توں ” سیرت قرآنیہ رسول عربی ۖمحمد اجمل خان” الفیصل ناشران و تاجران کتب غزنی سٹریٹ اردوبازار لاہور نے بھی دوبارہ جنوری2023ء میں شائع کردیا ہے ۔

مصنف کتاب کے مقدمہ کے آخر میں لکھتا ہے کہ اہل حق کا یہ بھی فرض ہے کہ جہاں تک ان کا بس چلے علم اور دولت پر جبراً اور مفلسوں کا قبضہ دلائیں ۔اسی کیساتھ ساتھ جملہ حق پرستوں یعنی اہل اللہ یا اہل کتاب کے ساتھ رواداری برتیں ۔وہ سب مسلم ہیں بشرط یہ کہ کل نبیوں کو مانیںاور صرف اپنے نبی کو دوسری قوموں کے رسولوں سے بڑا نہ سمجھیں۔یعنی مساوات قائم کریں اور محبت سے نسلی تفوق اور غلامی کا خاتمہ کریں۔

ہمیں امید ہے کہ سیرت کا یہ تاریخی مطالعہ عام انسانیت کو ترقی دینے میں مدد دے گااور جو لوگ اسلام کی ذہنی ومعاشی و روحانی ترقی تک پہنچنا چاہیں گے انہیں قرآن کی تاریخی ترتیب سے مکمل روشنی حاصل ہوجائے گی ۔
محمد اجمل خان (نئی دہلی) دوشنبہ۔20جون1955ئ
یوم الاثنین۔27شوال1374ھ

علامہ اقبال نے ابلیس کی مجلس شوریٰ میں لکھا کہ
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات

مماتی دیوبندی اس وجہ سے اشاعت التوحید کے صوبائی امیر پنجاب کی طرف سے مولانا سر فراز خان صفدر کے ساتھ رحمة اللہ علیہ کہنے پر اپنے کارکنوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بن گئے کہ ایک مشرک کیساتھ رحمة اللہ علیہ کہہ کر بڑا کفر کردیا۔

دوسری طرف شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نے اپنے استاذ مولانا حسین علی کی تفسیر بلغة الحیران میں یہ لکھ دیاہے کہ ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ گررہے تھے تو میں نے تھام لیا اور سہارا دیکر گرنے سے بچالیا”۔ تو مماتی اس پر شرک کا فتویٰ نہیں لگاتے اسلئے کہ یہ تھوڑی کہا کہ مجھے بچالیا ہے؟۔

عمران خان سے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے دورانِ تقریر کہا کہ ”مذہبی ٹچ بھی دو”۔ بس ٹچ ہونا چاہیے کہ بدعت کی بہت سخت مخالف ہے۔ مدد لی نہیں دی ہے ۔ دیوبند کی شاخوں اور ایک استاذ کے شاگردوں اور ایک پیر کے مریدوں کا یہ حال ہوگا تو جاویداحمدغامدی کے ہاں ڈاکٹر عمار خان ناصر پناہ نہیں لے توکیا کرے؟۔ مفتی تقی عثمانی علامہ زاہدالراشدی کو دارالعلوم کراچی میں دعوت دے گا تو کیوں آئے گا؟۔

مولانا محمد امیر بجلی گھر رحمان بابا کی کرامت بعدالموت کے واقعہ کا چشم دید گواہ بنے گا اور مماتی رحمان بابا کے مزار کو اڑانے کی کوشش کریںگے؟۔ مولانا بجلی گھر کہے گا کہ عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی کی روح لڑرہی ہے اور مجاہدین یزیدی مذہب کی عورتوں کو لونڈیاں بناکر بیچیں گے؟۔

اہل حدیث سے کہہ دو کہ ابن ماجہ میں ہے کہ قرآن کی کچھ آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئی ہیں تو قرآن کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور حدیث کا دفاع کرتے ہیں۔ حنفی مسلک کو قرآن کے نام پر جعلی آیات بھی درست لگتی ہیں اور شافعی کے سامنے حدیث آجائے تو قرآن کی واضح آیت کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ یہ وہ غلو ہے جس نے سابقہ اقوام کا بیڑہ غرق کیا ۔

مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی پیدائش19نومبر1692ء وفات11فروری1761ء نے سندھی میں آخری پارہ عم کا ترجمہ و تفسیر لکھا ۔شاہ ولی اللہ پیدائش1703ء وفات1762ئ۔ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی پیدائش1746وفات1823۔ ملا احمد جیون پیدائش12جنوری1637ء وفات1718ئ۔ شاہ عبدالرحیم محدث دہلویپیدائش1644وفات1718۔

ملا جیون نے نورالانور میں لکھا کہ ”امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز فارسی میں پڑھنا عربی زبان پر قدرت کے باوجود افضل تھی اور اس کی دو وجوہات ہیں ،ایک نبیۖ کافارسی پر تلفظ فرمانا اور دوسرا عربی کلام کی خوبصورتی خدا اور بندے میں رکاوٹ”۔

نورالانوار آج بھی درس نظامی کا حصہ ہے۔ شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی کے ہم عمر نے فارسی میں امام ابوحنیفہ کے ہاں نماز کو عربی سے افضل قرار دیا لیکن جب شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ان پر قتل کے فتوے جاری کئے گئے۔

سورہ النباء میں نباء العظیم سے قیامت پر اختلاف مراد نہیں بلکہ دنیا کے انقلاب پر اختلاف مراد ہے۔ جس کی ایک جھلک فتح مکہ اور سپر طاقتوں کی شکست کے بعد لوگ دیکھ چکے ہیں اسلئے کفریہ طاقتیں اسلام اور مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں۔

ان یوم الفصل کان میقاتًاOیوم ینفخ فی الصور فتأتون افواجًاO(سوہ النبائ:آیات17،18)
”بیشک فیصلہ کن دن کی سرحد طے ہوچکی ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم فوج درفوج آؤگے”۔
یدخلون فی دین اللہ افوجًاO
کے مناظر رسول اللہ ۖ کے دور میں بھی فتوحات کے بعد لوگ دیکھ چکے۔ جلوسوں سے تبدیلی آتی ہے۔
ان جھنم کانت مرصادًاOللطاغین ماٰبًاOلٰبثین فیہا احقابًاO
” بیشک جہنم گھات میں ہے۔سرکشوں کیلئے ٹھکانہ ہے۔ اس میں کئی80سال رہیںگے”۔ النبا21تا23

جیسے دہائی10سال کی ہوتی ہے ویسے حقب80سال کا ہوتا ہے۔ ابوجہل و ابولہب کو80کے حساب سے کتنا عرصہ ہوا ہے؟ اور ان کیلئے جہنم گھات میں تھی اور قرآن سچا ہے یانہیں؟۔

فمن یعمل مثقال ذرةٍ خیرًا یرہOومن یعمل مثقال ذرةٍ شرًا یرہO(سورہ الزالزال آیات7،8)
”جو ذرہ برابر بھلائی کرے تو دیکھے گا اور جو ذرہ برابر شرکرے گا تو دیکھے گا”۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ۖ کی عید میلاد کے موقع پر لونڈی آزاد کرنے کی وجہ سے ابولہب کو اسکے بدلے میں پیر کے دن راحت پہنچنے کی درست خبر نبیۖ نے دی ہے۔ اگر سود بھی جائز قرار دیا اور زکوٰة بھی معطل کردی اور عذاب قبر نہ ہونے کا عقیدہ بھی گھڑ ا تو دین کی خدمت نہ ہوگی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مجھے خواب میں جنت کے دروازے پر باڑھ نظرآئی تو لوگ واپس جارہے تھے۔امام حسن وامام حسین جب آئے تودروازہ کھلا۔ حاجی عثمان کا عالیشان مکان تھا اور فرمایا کہ میں نے مریدوں کو اندر لانے کیلئے بھیجا۔

مجھے خواب میں جنت کے دروازے پر باڑھ نظرآئی تو لوگ واپس جارہے تھے۔امام حسن وامام حسین جب آئے تودروازہ کھلا۔ حاجی عثمان کا عالیشان مکان تھا اور فرمایا کہ میں نے مریدوں کو اندر لانے کیلئے بھیجا۔

خلافت کیلئے علماء عتیق گیلانی سے تعاون کریںسید حسین مبارک فاضل دیوبند

میرے مرشدحاجی عثمان اکثر کہا کرتے تھے کہ میرے مرید افغانستان میں جہاد کررہے ہیں اور یہاں (مسجد الٰہیہ ،خانقاہ چشتیہ،مدرسہ محمد یہ کراچی) سے عالمی خلافت کیلئے تحریک اٹھے گی

عالمی تناظر میں مسلمانوں کی دگرگوں صورتحال پرانتہائی تشویش ہے۔ قرآن سے دوری امت مسلمہ کی زبوں حالی کی واحد وجہ ہے، سب سے بڑا جہاد قرآن کی روشنی میں امت کا اتحادہے

جب میں نے مولانا فقیرمحمد کو خواب سنایا تو اس نے کھڑے ہوکر مجھے گلے لگایا اور دیر تک روتے رہے۔اسوقت صوبائی وزیراوقاف مولانا سعیدالرحمن اور مفتی احمدالرحمن موقع پر موجود تھے

کراچی ( انٹرویو)فاضل دارالعلوم دیوبند بانی و سرپرستِ اعلیٰ جامعہ فاطمة الزہرہ لاشاری پاڑہ، علی اکبر شاہ گوٹھ ابراہیم حیدری ضلع ملیر کراچی مولانا سید حسین مبارک نے نمائندہ نوشتہ دیوارسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تناظر میں ملت اسلامیہ کی دگرگوں صورتحال پر انتہائی تشویش ہے۔ مسلمانوں کی قرآن سے دوری ہی امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کی واحد وجہ ہے ، اسلئے امت متحد نہیں ہو سکتی۔ اس وقت سب سے بڑا جہاد امت مسلمہ کو قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں متحد کرنا ہے۔ میرے پیر و مرشد حضرت حاجی محمد عثمان اکثر کہا کرتے تھے کہ میرے مرید افغانستان میں جہاد کر رہے ہیں اور یہاں (مسجد الٰہیہ) سے عالمی خلافت کیلئے تحریک اٹھے گی۔ اسی عالمی سوچ و فکر کی وجہ سے حاجی محمد عثمان کے خلاف سازش کی گئی اور مولانا فقیر محمد کے ذریعے خلافت واپس لی گئی۔

میں ان دنوں افغان روس جنگ کے حوالے سے پشاور پبی آفس میں تھا۔ سحری کے وقت سلسلے کے ذکر میں مصروف تھا۔ حافظ نور البشرنے پوچھا کہ کس سلسلے کا ذکر ہے؟۔ میں نے بتایا کہ حاجی محمد عثمان سے بیعت ہوں۔ حافظ نور البشر نے کہا کہ انکے خلاف فتویٰ ہے۔ مجھے بہت غصہ آیا۔ میں نے کہا کہ خلافت چھیننے کے حوالے سے انکے خلاف سازش ہے۔ میرے ساتھ کل چلو مولانا فقیر محمد سے ملوں گا پھر پوری دنیا کو ماننا پڑے گا کہ حاجی محمد عثمان حق پر ہیں۔ مگر دوسرے دن حافظ نور البشر پھسل گئے اور نہیں گئے۔

ایک اور عالم دین کو لیکر میں مولانا فقیر محمد کے ہاں پہنچا ۔ مولانا فقیر محمد کے بیٹے مولانا عبد الرحمن نے مجھے کمرے میں بٹھایا۔ وہاں مفتی احمد الرحمن (مہتمم جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ) اور وفاقی وزیرِ اوقاف حافظ سعید صاحب دونوں سگے بھائی پیر صاحب کے پاس حاضری دینے آئے تھے۔ کچھ دیر بعد مولانا فقیر محمد تشریف لائے، ان کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے حاجی محمد عثمان کو بغیر بیعت کے خلافت کیسے دی؟۔ تو فرمایا کہ میں مدینے میں تھا تو نبی کریم ۖ نے ”ورود”کے ذریعے حکم دیامگر میں نے توجہ نہیں دی ۔ دوسری مرتبہ ”ورود”ہوا اور مجھے تاکید کے ساتھ کہا گیا کہ حاجی محمد عثمان کو خلافت دو۔ پھر ”ورود”کی وجہ سے حاجی محمد عثمان کو خلافت دی ۔ میں نے دریافت کیا کہ خلافت واپس لی ہے تو کیا آپ کو ”ورود”ہوا؟۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ مفتی احمد الرحمن، مفتی رشید لدھیانوی اور مفتی سبحان محمود نے فتوی دیا تو میں نے خلافت واپس لی۔ میں نے سوال کیا کہ کیا میں ان سے بیعت ختم کر دوں؟۔

میں نے انہیں بتایا کہ میں نے دورہ حدیث پڑھا اور پڑھایا تو اس وقت تک نبی کریم ۖ کی خواب میں زیارت نہیں ہوئی مگر جب حاجی محمد عثمان سے بیعت ہوا تو متعدد مرتبہ نبی کریم ۖ کی زیارت نصیب ہوئی۔ پھر آپ نے ان لا علم اورناسمجھ کے کہنے پر کیسے عمل کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ آپ بیعت رہیے فتوی ظاہری چلتا ہے مگر باطنی معاملات اللہ اور روحانیت کیساتھ ہیں آپ بیعت ختم نہ کریں۔

اس وقت حاجی محمد عثمان حیات تھے۔ میں نے مولانا فقیر محمد کو اپنا خواب سنایا کہ میں نے دیکھا کہ ساری خلقت جنت کی طرف رواں دواں ہے میں بھی جا رہا ہوں مگر آگے دیکھا کہ جنت کا دروازہ بند ہے۔ دیوار اور کانٹے دار باڑ ھ دیکھ کر لوگ واپس آ رہے ہیں۔ میں بند دروازے پر پہنچا تو اندر سے امام حسن و امام حسین ،نمودار ہوئے تو تمام دروازے اور دیواریں ختم ہو گئیں۔ اندر بہت سارے عالیشان مقام دیکھے ۔ ایک بہت زیادہ عالی شان مقام میں حضرت حاجی محمد عثمان آرام کر رہے ہیں میری حاجی محمد عثمان سے بات ہوئی تو فرمایا کہ آپ لوگ آ نہیں پا رہے تھے میں نے انہیں مریدین کو لینے بھیجا۔ یہ خواب میں نے فقیر محمد کو سنایا تو انہوں نے کھڑے ہو کر مجھے گلے لگایا اور بہت دیر تک روتے رہے۔

سید عتیق الرحمن گیلانی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حضرت حاجی محمد عثمان کے قول کے مطابق ان کے مریدوں میں قابل ترین اور ممتاز شخصیت سید عتیق الرحمن گیلانی ہیں۔ آپ عالمی خلافت کے قیام کی جو کوششیں کر رہے ہیں وہ زبردست ہیں۔ علما کرام ان کے مشن میں تعاون اور عملی کردار ادا کریں۔ میں سید عتیق الرحمن گیلانی دامت برکاتہم العالیہ کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور ان کے ساتھ ہوں۔

تبصرہ :عتیق الرحمان گیلانی
مولانا فقیرمحمد نے27رمضان کو مسجد نبویۖ میں مرشدکا مرشد قرار دیا۔ پھر خلافت واپس لی تھی جس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ مفتی احمدالرحمن وغیرہ نے کہا کہ مشورہ سے شرعاً خلافت واپس نہیں لی جاسکتی تو لیٹرپیڈپرلکھا کہ خلافت قائم دائم ہے اور پھر اسی لیٹر پیڈ پر انہی علماء نے مشورہ دیا کہ” وہ خلافت واپس لو”۔

ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری جواں مرد کی ضربت غازیانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب یہ چچھم چکوروں کی دنیا مرا نیلگوں آسماں بیکرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں کہ شاہیں بناتا نہیںآشیانہ
ــــــــــ

منہاج الشریعت سراج الطریقت معراج ھٰذہ الامت حاجی محمد عثمان

کلما اغلق الناس بابًا فی وجھی
فتح اللہ لی بابًا لم اکن اراہ
وکلما خذلنی من ظننتہ سندًا
کان اللہ اقرب الیَّ من انفاسی
فعرفت ان القلب الذی یسکنہ اللہ
لاتھزمہ الخیبات

” جب بھی لوگوں نے میرا دروازہ بند کیا تواللہ نے میرے لئے ایسا دروازہ کھولا جومیں نے نہیں دیکھا جب بھی مجھے دھوکہ دیا جس کو سہارا سمجھا تو اللہ ہوگیامیرے لئے میری سانسوں سے زیادہ قریب ۔پس میں جان گیا کہ وہ دل جس میں اللہ کی سکونت ہوتو اس کو مایوسیاں کبھی شکست نہیں دے سکتی ہیں”۔

حاجی عثمان شاہ ولی اللہ کے فک النظام کا عملی نمونہ تھے اور دیوبندی حیاتی مماتی ، اہل حدیث، بریلوی اورشیعہ تک بیعت تھے۔ISIاور آرمی چیف جنرل ضیاء الدین، کورکمانڈر نصیر اختر کے علاوہ فوجی پولیس افسران،مفتی تقی عثمانی کے اساتذہ مولانا عبدالحق ،مولانا اشفاق ، مدینہ وشام کے عرب بیعت تھے لیکن اب تبلیغی جماعت بھی تقسیم ہے اور ایک افراتفری کی فضا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv