پوسٹ تلاش کریں

فلسطین واتحاد امت کاایک فقیدالمثال اسلام آباد کانفرنس؟

فلسطین واتحاد امت کاایک فقیدالمثال اسلام آباد کانفرنس؟

اتحاد امت اجتماع نہیں بلکہ نظریاتی اتحاد سے ہوسکتا ہے ۔ ہم اپنی تاریخ سے سبق سیکھ کر توبہ کرینگے؟
جب تک خواتین کو لونڈیاں بنانے کی خواہش انگڑائی لے گی تو دنیا چوہے پر رحم کھاسکتی ہے لیکن ہم پر نہیں

علامہ زاہد الرشدی نے اسلام آباد علماء کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ
1: قائداعظم محمد علی جناح رحمة علیہ نے فرمایا کہ اسرائیل برطانیہ کا ناجائز بچہ ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف یہ تھا کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا ہے۔ کب سے یہ تبدیلی آئی ہے کہ اسرائیل وفلسطین کا دو ریاستی حل نکالا جائے؟۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو بھی ایک مستقل ریاست تسلیم کیا جائے۔
2: عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولہ ہے۔ دو ریاستی فارمولے پر کب عالمی طاقتوں نے عمل کیاہے؟۔ یہ تو در حقیقت ڈیڑھ ریاستی حل پر عمل ہورہاہے ۔یہ منافقانہ پالیسی کیسے کب تک جاری رہے گی؟۔ کیونکہ فلسطین کو مکمل آزادی نہیں دی جارہی ہے بلکہ نیم آزادی دی گئی ہے۔
جمعیت علماء اسلام مفتی محمود پر ایک فتویٰ1970میں لگا تھا جس کی بنیاد یہ تھی کہ کمیونزم کیلئے نرم گوشہ رکھا جارہاہے اور ذوالفقار علی بھٹو کو کافر کیوں نہیں کہا جاتا ہے جو سوشلزم کا نعرہ لگارہاہے۔ پھر1977میں قومی اتحاد کے نام سے مفتی محمود صدر اور جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور جنرل سیکرٹری بن گئے۔ اس تبدیلی کے محرکات کیا تھے؟۔ جس میں بھٹو کو پھانسی پر چڑھادیا گیا تھا؟۔
پھر جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن پر ایک فتویٰ1984میں لگا کہ وہMRDمیں شامل ہے جس میں پیپلزپارٹی ہے۔ پیپلزپارٹی کا منشور کفر ہے۔ علماء کے اس متفقہ فتوے کے روح رواں بھی علامہ زاہدالرشدی تھے۔ پھر اسلامی جمہور ی اتحاد نیشنل پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئی کی صدارت میں بن گیا۔
پیپلزپارٹی کے منشور کی وجہ سےMRDمیں شمولیت پر مولانا فضل الرحمن کو کافر قرار دیا ،اسی منشور کے غلام مصطفی جتوئی اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر بن گئے؟۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں تھا؟۔ برطانیہ اور امریکہ نے پاکستان اور اسرائیل کو بنایا۔ پاکستان کو اسلام اور اسرائیل کو یہودیت کے نام پر اور پاکستان کے مخالف جمعیت علماء ہند اور مذہبی سیاسی طبقات تھے اور اسرائیل کے مخالف یہودی مذہبی طبقات ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے وزیر قانون ہندو، آرمی چیف انگریز اور وزیرخارجہ سرظفر اللہ قادیانی کو بنادیا تھا۔قائداعظم کا آدھا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ آدھا پاکستان ٹوٹنے کے بعد باقی ماندہ پاکستان نے1973کا آئین بنایا۔1974میں مرزائیوں کو کافر قرار دیا گیا پھر نوازشریف کے دورِ حکومت میں( جس میں مولانا فضل الرحمن اتحادی تھے) مرزائیوں کے حق میں ترمیم پیش کی گئی۔ جو علامہ خادم حسین رضوی کے احتجاج کا کرشمہ تھا کہ واپس لی گئی اور وزیرقانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑگیا تھا۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے دور میں نواز شریف نے علامہ زاہدالراشدی کے ساتھی مولانا احمد علی لاہوری کے پوتے مولانا اجمل قادری کو اسرائیل بھیج دیا تھا اور بینظیر بھٹو نے نوازشریف کو اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے علماء ومفتیان کو پوچھنا ہوگا کہ شیعہ پر متفقہ کفر کا فتویٰ کیوں لگایا، پھر واپس کیوں لیا؟۔مفتی تقی عثمانی نے اسلامی بینکاری کے نام سے جواز کا فتویٰ دیا تو علماء ومفتیان نے متفقہ فتویٰ کے عنوان سے مخالفت کی ۔ پھر علماء ساتھ ہوگئے کیوں ؟۔اسلام کو بازیچہ اطفال بنانے پرکو ئی شرم نہیں آتی ؟ ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فلسطین کے مسلمان خود کیا چاہتے ہیں؟۔ وقت بدلنے کے ساتھ معاملات بدلتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے مکہ سے ہجرت بھی کی۔ پھرصلح حدیبیہ بھی کیا اور مکہ فتح بھی کیا۔ بدلتے حالات کے تقاضے بدلتے ہیں۔ اگر مشرکینِ مکہ مظالم کے پہاڑ نہ توڑتے تو نبی ۖ مکہ سے ہجرت کیوں کرتے؟ اور اگر مشرکین مکہ اپنی شرائط نہ رکھتے تو نبی ۖ صلح حدیبیہ کیوں کرتے؟۔ لیکن جب مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو فتح مکہ کا موقع اللہ نے دیا۔ فلسطین میں غزہ پٹی کے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ نے کہا کہ اگر پاکستان دباؤ ڈالے تو اسرائیل جنگ بند کرسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کرنا غلط ہے ، ہمارا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ عورتوں اور بچوں کو نہ مارو، لیکن یہ جنگ اسرائیل کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ سوشل میڈیا پر صحیح یا غلط یہ پروپیگنڈہ ہورہاہے کہ اقوام متحدہ میں120ممالک نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور20نے جنگ بندی کی مخالفت کی اور45ممالک نے حصہ نہیں لیا ۔ ان20ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفتی تقی عثمانی کابھی وہی مؤقف ہے کہ جنگ بندی نہیں ہونی چاہیے اور اگر کل اقوام متحدہ اور سفارتی تعلقات سے فلسطین کو آزادی بھی ملتی ہے تو علماء نے اس کی مخالفت کرنی ہے؟۔
علامہ جواد حسین نقوی نے گلہ شکوہ کیا کہ دیوبندی مکتب نے کسی شیعہ کو بھی اپنے پاس نہیں بلایا؟۔ علامہ عارف کاظمی نے کہا کہ عمر نے یہودی سازش سے بیت المقدس کو عیسائیوں سے آزاد کیاتھا۔ علامہ انور نجفی نے کہا کہ صلاح الدین ایوبی نے یہود کو فلسطین میں آباد کیا۔ مصر کی فاطمی حکومت ختم کرکے لاکھوں شیعہ قتل کئے ۔ اور حکومت کو بھائی اور بیٹوں میں بانٹ کر خلافت کے ٹکڑے کئے۔
جب شیعہ سنی بھی انتشار کا شکار ہیں اور شیعہ شیعہ اور سنی سنی بھی انتشار کے شکار ہیں۔ ایک فکر ، نظریہ اور عقیدہ رکھنے والوں کا آپس میں ایک دوسرے پر بھی اعتماد نہیں ہے تو فلسطین کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟۔ حالانکہ فلسطین کے مسئلے کا حل بڑا آسان ہے۔ پہلے مسلمانوں نے کافروں پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو آپ کی بیٹیوں، بہنوں ، بیگمات اور ماؤں کو ہم لونڈیاں نہیں بنائیں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کرنا ہے تو پھر وہ چوہے اور نیولے پر رحم کھا سکتے ہیں لیکن مسلمانوں پر نہیں۔ پھر ان کی انسانیت کا رونا مت رؤوبلکہ اپنی روش پر نظرثانی کرلو۔ ہمارے خیال میں قرآن وسنت اسکے بالکل برعکس ہے مگر مذہبی طبقات کی اپنے ائمہ سے عقیدت اور ماحولیاتی آلودگی کا بہت ہی بڑا مسئلہ ہے ۔
علامہ جار اللہ زمحشری نے لکھ دیا ہے کہ ”ایران کو سعد بن ابی وقاص نے فتح کیاتو شہنشاہ ایران کی تین صاحبزادیوں کو عمر نے نیلام کرنے کا حکم دیا۔ علی نے مشورہ دیا کہ ایک کی عبداللہ بن عمر، دوسری کی محمد بن ابی بکر ، تیسری کی حسین سے شادی کرادیتے ہیں، اسلئے ان تینوں افراد کی اولاد آپس میں خالہ زاد تھے”۔
اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت میں سے امام موسیٰ کاظم کی ماں بھی لونڈی تھیں۔ حضرت اسماعیل کی ماں بھی لونڈی تھیں۔اہل سنت کے چاروں فقہی مسالک کی کتابوں میں آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے احکام ، مسائل اور لباس میں فرق ہے اور لونڈی وغلاموں پر پہلے ابراہم لنکن نے امریکہ میں پابندی لگائی اور پھر اقوام متحدہ نے پوری دنیا میں پابندی لگائی۔ بلوچ قوم میں آزاد اور غلام قوم کا تصور ہے اور ہمارے ہاں بھی غلام نسل کا تصور ہے۔خاندانِ غلاماں کا اقتداربھی تھا۔ پنجاب،سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ میں انگریزوں کے تنخواہ دار خاندانوں کی بات ہوتی ہے لیکن ہمارے تمام ادارے فوج، عدلیہ ، پولیس ، سول انتظامیہ سب کے سب انگریز کے نوکر اور باقیات ہیں ۔1947میں برصغیر پاک وہند نے غلامی سے تو آزادی حاصل کی تھی۔اس سے پہلے30لاکھ سکھوں نے7کروڑ مسلمانوں اور دیگر اقوام ہندو، بدھ مت ،پارسی اور عیسائیوں پر حکومت کی تھی۔
حالانکہ سکھ مذہب نے اسلام اور ہندومت کے بیچ سے نکل کر نئے دھرم کی شکل اختیار کرلی تھی۔ سندھ کی مساجد میں خلافت عثمانیہ یا فاطمی خلافت کے خلفاء کا نام جمعہ کے خطبوں میں لیا جاتا تھا۔ شیعہ سنی تفریق کا زیادہ عمل دخل نہیں تھا اور خلافت عثمانیہ کے خلفاء سنی تھے اور فاطمی خلفاء اسماعیلی شیعہ تھے جو بعد میں آغا خانی اور بوہرہ فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ امامیہ یا اثنا عشریہ شیعہ فاطمی خلفاء پر سنی خلافت عثمانیہ کو ترجیح دیتے تھے۔ خلافت عثمانیہ نے مدینہ منورہ مسجد نبوی ۖ پر خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ کی ائمہ اہل بیت کے بارہ اماموں کے نام لکھے۔ اثنا عشریہ شیعہ اسماعیلی شیعہ کو ایسا سمجھتے تھے جیسے ہم مرزائیوں کو سمجھتے ہیں۔ اب بھی آغا خانیوں کو یہ حکم ہے کہ اپنی مساجد بنانے کی جگہ سنی مساجد میں سنی اماموں کے پیچھے نماز پڑھو۔فرقہ واریت اور دہشت گردی نے معاملہ خراب کردیا ہے۔
بوہری فرقہ تو بالکل صوفی ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا آئینہ لگتے ہیں۔ ہم نے شرعی پردے کی آواز لگائی تو بوہری فرقہ نے عمل کرنا شروع کیا۔ ان کی خواتین بھی مساجد میں نماز پڑھتی ہیں۔ فقہی کتابوں میں مساجد کے اندر باجماعت نماز کامسئلہ پڑھایا جاتا ہے کہ پہلے مردوں کی صف، پھر بچوں، پھر بچیوں اور پھر خواتین کی صف بنائی جائیںلیکن اس پر عمل نہیں ہوتا ہے۔ جب مساجد میں اسلام وفقہ پر عمل نہ ہو تو چوکوں اور عدالتوں میں کہاں ہوگا؟۔ لونڈیوں کا مختصر لباس جبے والے مولوی بھی پہن کر شرمندہ ہوجائیں گے لیکن ہمارے مدارس کے نصاب اور علماء کے عمل میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔
جب خلافت قائم ہوگی تو مساجد میں مردوں کیساتھ بچے، خواتین اور بچیاں بھی پنج وقتہ نماز پڑھیں گی۔ کعبة اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی بھی اس خاص ترتیب سے ہوگی کہ حجر اسود چومتے ہوئے اجنبی مرد اور خواتین ایکدوسرے کو چٹنی نہیں بنائیںگے۔ عزت واحترام اور فاصلہ برقرار رکھنے کا معاملہ ہوگا۔ اب تو غیرت مند غریب حج وعمرے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور امیروں میں غیرت کا فقدان ہے اسلئے حجراسود میں عورتوں کو غیرمردوں سے کشتی کرنے دیتے ہیں اور ان کے ایمان ، غیرت اور ضمیر پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور ماحولیاتی آلودگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کیا بیت المقدس کی آزادی کے بعد یہود ونصاریٰ کیساتھ مل کر مسجد اقصیٰ کی زیارت کریں گے تو ان سے آداب انسانیت سیکھ لیںگے یا ان کی خواتین کو لونڈیاں بناکر نیم برہنہ کرکے مزیدہم بگڑجائیںگے؟۔
آج دنیا سمجھ رہی ہے کہ مسلمانوں میں بہت خوبیاں ہیں لیکن اگر ان کے ہاتھوں میں دنیا کی خلافت آگئی تو اسلام کے نام پر ہمارا کباڑ خانہ بنارکر رکھ دیں گے اور ان کی اس ذہنیت میں بہت وزن بھی ہے۔ جب حامد میر ہمارے حکمران طبقے کی عیاشیاں اور عوام پر مظالم کی داستان بیان کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر جس طرح کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ کس طرح ہیرہ منڈی کی ایک لڑکی سے مصطفی کھر نے شادی کرکے گورنر ہاؤس کی زنیت بنادی اور اس کی خوشی کا دن بھی ہیرہ منڈی میں منایا گیا۔ جنرل رانی کا کیا کردار تھا؟۔ نواب آف کا لا باغ کے کیا کرتوت تھے؟۔ حبیب جالب نے اداکارہ ممتاز پر کیسی شاعری کی تھی کہ بھٹو نے زبردستی سے نچوانے کا اہتمام کرایا تھا۔ لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانہ چلو۔
بنوامیہ، بنوعباس ، خلافت عثمانیہ ، مغل اور خاندانِ غلاماں سمیت ہندوستان پر حکمرانی کرنے والے لوگوں کی عیاشیاں اور مظالم کی ایک بڑی تاریخ ہے۔پھر شیعہ حضرات تو خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کی تاریخ کا بھی منفی پہلو پیش کرتے ہیں ۔ اس میں بھی شک وشبہ نہیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں کو آپس کے جنگ وجدل اور قتل وغارت سے بہت نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ امام حسن کی قربانی کے بعد صلح ہوگئی اور امیرمعاویہ کی قیادت میں حسن وحسینسب نے اسلامی فتوحات کا شاندار دور دیکھا لیکن پھر یزید کے ہاتھوں کربلا، مکہ اور مدینہ پر چڑھائی اور پھر اس کے مرنے کے بعد عبداللہ بن زبیر کی مکہ میں شہادت کا المناک واقعہ تاریخ بن گیا۔ حقائق کو دیکھا جائے تو بنوامیہ کا خاتمہ بنوعباس نے بھی بہت ظالمانہ طریقے سے کیا لیکن ذاتی ظلم یا عدل اس دور کی بات تھی۔ حضرت عمربن عبدالعزیز نے خلافت راشدہ اور مہدی کی یاد تازہ کردی تھی۔
پشتو فلموں اور گانوں میں ناچتی ہوئی لڑکی گاتی ہے کہ ” اے دلبر آجاؤ، مجھے ظالم رلارہے ہیں اور میدان میں نچارہے ہیں”۔ اردو، پنجابی، پشتو اور سندھی فلموں اور ڈارموں میں سماج کا نقشہ پیش ہوتا تھا مگر بلوچوں نے فلم پر سینما کو بھی آگ لگائی تھی کہ ہمارے کلچر کی بڑی توہین ہے،حالانکہ اداکار بلوچ نہیں تھے۔ تربت میں بالاچ بلوچ شہید کی بڑی عمر والی بہن نے اپنے پڑوسی کونسلر سے کہا کہ آج تک آپ نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا، میں بھی غیرتمند بلوچ ہوں لیکن بھائی کی بے گناہ شہادت نے گھر سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ تربت میں عورتوں کا بہت بڑا جلوس جہاں بلوچ کے کلچر کو بدل رہاہے وہاں ریاست پر بھی اثر انداز ہے۔
جب ایک کھیتران بلوچ لڑکی نے فون سے ویڈیو وائرل کردی تاکہ مظلوم مری خاندان مظالم سے بچ جائے تو وہ جنسی زیادتی کے بعدکنویں میں ڈال دی گئی۔ مری قبائل نے بلوچستان اور سندھ سے بڑی تعداد میں کوئٹہ کے اندر دھرنا دیا تو جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دوسری جماعتوں اور قوموں کے لوگ بھی وہاں پہنچتے رہے اسلئے کہ تیار جھمگٹے سے خطاب کرنے کا مزہ ہے۔ پھر مری قبائل کے افراد بازیاب ہوگئے اور جو ناقابلِ شناخت لاش کی لڑکی لیکر مری بیٹھ گئے تھے۔ پھر وہ لڑکی کھیتران نکلی اور ایدھی نے لاوارث دفن کردیا۔
(کالعدم سپاہِ صحابہ) کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری جماعت نے پاکستان میں ناموس صحابہ کے تحفظ کیلئے12ہزار کارکنوں کی شہادت پیش کی۔ فلسطین کیلئے ایک لاکھ کارکن ہماری جماعت کی طرف سے قربانی و جہاد کیلئے حاضر ہیں۔ الحمد للہ کہ یہ دوسری بات ”اتحاد امت” کی قیادت اس حال میں جمع ہے۔ اس سے پہلے یہی اکابرین ”تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت بل” کیلئے اکھٹے ہوگئے تھے۔
علامہ احمد لدھیانوی سے ایک عرض یہ ہے کہ شیعہ پر کفر کے فتوے میں مفتی تقی عثمانی نے پہلے بھی دستخط نہیں کئے تھے اسلئے کہ دار العلوم کراچی متفق نہیں تھا۔ جماعت اسلامی بھی شیعہ کیساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل، اتحاد تنظیمات المدارس میں شیعہ شامل ہیں اسلئے جنہوں نے فتوے دئیے وہ بھی الٹے پاؤں پھر گئے۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے کھل کر کہا تھا کہ مجھے شیعہ ووٹ نہ دیں ۔ وہ عابدہ حسین سے1988میں جمعیت مولانا فضل الرحمن کی سیٹ ہار گئے تھے۔1990کے الیکشن میں سپاہ صحابہ کے مولانا ایثار الحق قاسمی اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر بیگم عابدہ حسین کے اتحادی تھے اسلئے شیعہ ووٹ کی وجہ سے سیٹ جیت گئے۔ پھر سپاہ صحابہ نے نعرہ لگایا کہ ”کافر کافر شیعہ کافر جو نہ بولے وہ بھی کافر”۔ حرمین میں کافروں کا داخلہ ممنوع ہے۔ شیعہ کو مسلمان سمجھ کر داخلہ سعودی عرب کے حکمران اجازت دیتے ہیں۔ سپاہ صحابہ کے نعروں کا نشانہ سعودی عرب نہیں مولانا فضل الرحمن ہوتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کو عمران خان اور نواز شریف نے وزیر اعظم کا ووٹ دیا مگر مولانا اعظم طارق کے ایک ووٹ سے مولانا فضل الرحمن ہار گئے اور ظفر اللہ جمالی (ق لیگ) جیت گئے۔ مولانا اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں تقریر میں کہا تھا کہ” بیشمار نوجوان میری جذباتی تقاریر کی وجہ سے جذبہ جہاد سے اس جنگ میں مارے گئے، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہوا”۔کاشف عباسی سے عمران خان نے کہا کہ ” سپاہ صحابہ والوں نے مجھ سے کہا کہ شیعہ سے صلح کراؤ”۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورة الحجرکی ان آیات میں قوم لوط اور دیگر اقوام کا ذکر ہے جن پر عذاب کا وقت آگیا اصحاب حِجرعقل والوں کو کہتے ہیں۔

سورة الحجرکی ان آیات میں قوم لوط اور دیگر اقوام کا ذکر ہے جن پر عذاب کا وقت آگیا اصحاب حِجرعقل والوں کو کہتے ہیں۔

قال ھٰؤلآء بناتی ان کنتم فاعلینOلعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھونOفاخذتھم الصیحة مشرقینO فجعلنا عالیھا سافلھا وامطرنا علیھم حجارة من سجیلٍOان فی ذٰلک لاٰیات للمتوسلینOوانھا لبسبیل مقیمOان فی ذٰلک لاٰےةً للمؤمنینOوان اصحاب الایکة لظالمینOفانتقمنا منھم وانھا لبامام مبینOولقد کذب اصحاب الحجر المرسلینOواٰتینا ھم اٰیاتنا فکانوا عنھا معرضیںOوکانوا ینحتون من الجبال بیوتًا اٰمنینOفما اغنٰی عنھم ما کانوا یکسبونOو ما خلقنا السمٰوٰت والارض و ما بینھما الا بالحق وان الساعة لاٰتیة فاصفح الصفح الجمیلOان ربک ھو الخلاق العلیمOولقد اٰتیناک سبعًا من المثانی و القرآن العظیمOولاتمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجًا منھم و لاتحزن علیھم واحفض جناحک للمؤمنینOوقل انا النذیر المبینOکما انزلنا علی المقتسمینOالذین جلعواالقرآن عضینOفو ربک لنسئلھم اجمعینOعما کانو یعملونOسورة الحجرکی ان آیات(87تا97)
”(حضرت لوط نے شرپسندوں سے ) کہا کہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کرنے والے ہو۔ (اے محبوب خداۖ) تیری زندگی کی قسم ! کہ بیشک یہ لوگ نشے میں بالکل اندھے ہوچکے تھے۔ پھر صبح کے وقت ان کو عذاب کی چیخ نے پکڑلیا۔ ان کے اُوپر والوں کو نیچے تلپٹ کردیااور ان پررجسٹرڈ سے پتھروں کی بارش کردی۔ ( جس طرح اللہ نے فرمایا کہ کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ کتاب میں لکھا ہوا موجود ہوتا ہے)اس میں وسیلہ پکڑنے والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں( اللہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرواور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، ہوسکتا ہے کہ تم فلاح پاؤ۔ المائدہ آیت35)اور بیشک یہ راستے پر قائم ہے۔ بیشک اس میں مؤمنوں کیلئے ضرور نشانی ہے۔ اور بے شک زر خیز باغات والے بھی ظالم تھے۔ پس ان سے ہم نے انتقام لیا اور وہ مین سڑک پر تھے۔اور اہل عقل ودانش نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔اور ہم نے انہیں آیات دی تھیں لیکن انہوں نے اس سے اعراض کیا۔ اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے، امن میں رہتے ہوئے۔ (تورابورا بنکروں کی طرح)لیکن جو انہوں نے حاصل کیا تھا وہ ان کے کام نہیں آیا۔ اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں نہیں بنائی مگر حق کیساتھ۔ اور بیشک وقت (انقلاب آنے والا ہے۔ مکہ فتح ہوگا اور سپرطاقتوں کو شکست ہوگی) آنے والا ہے۔پس در گزر کرو ،بہت اچھے انداز کا درگزر۔ ( فتح مکہ کے دن کسی کی ملامت اور بے عزتی نہیں فرمائی) بیشک تیرا رب زیادہ علم رکھنے والا پیدا کرنے والا ہے ( اس نے مؤمنوں ، صدیقوں اور کافروں و جھٹلانے والوں کی شکلیں حکمت سے بنائی ہیں) اور ہم نے آپ کو7(آیات سورہ فاتحہ ) دہرائی جانے والی اور قرآن عظیم عطاء کردیا ہے۔ اور آپ اپنی آنکھیں مت پھیلائیں جو ہم نے ان کو دنیاوی نعمتیں دی ہیں بیگمات ان میں سے۔( یہ سورة مکی ہے۔ نبی ۖ کے پاس ایک زوجہ حضرت خدیجہ ہی تھیں) اور ان پر غم مت کھاؤ ( کافروں کیلئے زیادہ غم کھانے کی ضرورت نہیں کہ حق کو کیوں قبول نہیں کرتے) اور مؤمنوں کیلئے اپنے پر بچھا دیجئے۔اور لوگوں سے کہہ دیں کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔ جیساکہ ہم نے بٹوارہ کرنے والوں پر نازل کیا ہو۔ جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کردئیے۔ ( یہ قرآن میں آئندہ والوں کو خبر دی گئی ہے ۔ مثلاً طلاق وخلع کی آیات کا کباڑہ کردیا۔ سورۂ تحریم کے ہوتے ہوئے بیوی کو حرام کہنے پر متضاد مسالک بنالئے۔نبی ۖ نے صحابہ سے فرمایا کہ قرآن میں پہلوں کی خبریں بھی ہیں اور آپ کی بھی ہیں اور بعد میں آنے والوں کی بھی ہیں ) پس تیرے رب کی قسم کہ اب سب ضرور پوچھیں گے کہ وہ کیا عمل کررہے تھے؟۔
قرآن کی اس سورہ حجر میں پہلے والوں کا نقشہ بھی ہے کہ جن کو عقل آگئی تھی مگر آیات کو جھٹلایا اورحجر عقل کو کہتے ہیں۔ آج امت مسلمہ نے عقل کی بنیاد پر بہت ترقی کرلی ہے اور اللہ کی آیات کو سمجھنا ان کیلئے مشکل نہیں مگر پھر بھی اعراض کررہے ہیں۔ جس کا منطقی نتیجہ انقلاب کی صورت نکلے گا اور اچھے درگزر کی تلقین بھی ہوگی۔ انشاء اللہ

اسلام کی نشاة اول میں مشرق کی سپر طاقت فارس اور مغرب کی سپر طاقت روم کو ہم نے فتح کیا تو آزاد خواتین کو بھی بہت سارے حقوق سے مالامال کردیا اور غلاموں اور لونڈیوں کو بھی بہت سارے حقوق دیدئیے تھے جس کی بدولت ہم دنیا میں واقعی نمبر1سمجھے جاتے تھے۔ لیکن اب یہودونصاریٰ اور ترقی یافتہ گلوبل ویلج نے مذہب اوررسم وروایت کے نام پر خواتین کش مسائل کا خاتمہ کردیا ہے اور مسلمان اب بھی مذہب اور علاقائی رسم وروایات کے نام پر عورت کیساتھ وہی مظالم روا رکھے ہوئے ہیں جن سے اسلام نے چودہ سوسال پہلے آزادکیا تھا۔
امام ابوحنیفہ و دیگر ائمہ مسالک نے فقہ وعقائد میں اختلاف رکھا اور قرآن وسنت کی حفاظت ایک بازیچہ اطفال بن کررہ گیا۔امام ابن تیمیہ نے چارمسلک کو فرقہ واریت قرار دیا لیکن ان کے شاگرد علامہ ابن قیم نے ”بیوی کو حرام کہنے کے لفظ پر”20اقوال کا اختلاف نقل کیا۔ کوئی اس کو ایک طلاق کہتا، کوئی اس کو تین طلاق، کوئی ظہار اور کوئی حلف کہتا تھا۔ حالانکہ قرآن وسنت میں تحریم کا مسئلہ بالکل واضح تھا لیکن پھر اتنے سارے مذاہب اور فقہی اختلافات کیسے آگئے ؟۔
سورة الحجرکی ان آیات(87تا97)میں قوم لوط اور دیگر اقوام کا ذکر ہے جن پر عذاب کا وقت آگیا۔ اصحاب حِجرعقل والوں کو کہتے ہیں۔ یہ سورة عقل والوں کے نام پر ہے۔ عقل والوں نے اللہ کی آیات سے اعراض کیا۔ یہ لوگ اتنی عقل ومہارت والے تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر امن کیساتھ گھر بناتے تھے۔ لیکن پھرفجر میں چنگھاڑ نے گرفت میں لیا۔ اللہ نے ان آیات میں امت مسلمہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ جب تم اپنی عقل اور کسی دور میں ترقی پر پہنچ جاؤ اور پھر بھی آیات کی طرف دھیان نہ دو تو پھر گرفت میں آسکتی ہے۔ جب لوگوں کے پاس عقل وترقی نہ تھی تو اپنی کم عقلی کے بدولت اس قرآن کے ٹکڑے کردئیے جس کی7آیات نماز کی رکعتوں میں دھراتے تھے۔ اللہ نے اسلئے واضح فرمادیا کہ
” جیسے ہم نے بٹوارہ کرنے والوں پر نازل کیا ہو ، جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کردئیے۔پس تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ جو انہیں یہ عمل کئے تھے”۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”قرآن میں پہلے والوں کی خبریں بھی ہیں اور آپ کی خبریں بھی ہیں اور بعدمیں آنے والوںکی خبریں بھی ہیں”۔
جب اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے ہوگی تو لوگ فرقہ واریت اور قرآن کا بٹوارہ کرنے والوں کو چھوڑ کر قرآن وسنت کو زندہ کریں گے۔ یہی عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگا۔ جب شاہ فیصل، قذافی ،صدام حسین،خمینی اور بھٹو جیسے لوگ موجود تھے تب بھی اسرائیل کو شکست نہیں دے سکے ۔ اب مفتی تقی عثمانی جو ایک مرغی ہے اس کے آذان دینے سے بھی فلسطین آزاد نہیں ہوگا۔ سودی نظام چھوڑ کر قرآن وسنت کی طرف متوجہ ہونے اور ان پر عمل سے خلافت قائم ہوگی۔
مولانا مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب ” سوانح قاسمی ” میں مولانا قاسم نانوتوی کی حیثیت ”امام الکبیر” کی قرار دی ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی کہتے تھے کہ میں نے حضرت امداد اللہ مہاجر مکی سے تقویٰ نہیں علم سے متأثر ہوکر بیعت کی ہے۔ مولانا رشیداحمد گنگوہی نے کہا کہ میں حاجی امداد اللہ کے علم سے نہیں تقوی سے متأثر ہوں۔ دارالعلوم دیوبند کی دونوں بڑی جلیل القدر ہستیاں تھیں۔
مولانا قاسم نانوتوی نے اہل تشیع کے عام لوگوں کا اسلام کے بارے میں عقیدہ وعمل کو بالکل سچا اور درست قرار دیا مگر بعض خواص کے بارے میں بد عقیدہ اور گمراہی کی نشاندہی بھی فرمائی اور اس کیلئے زبردست حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا اسلئے کہ مغل بادشاہوں اور علماء کے خاندان میں شیعہ سنی کی رشتہ داریاں تھیں۔ جس حکمت عملی سے ہوسکے کہ اہل حق کا عقیدہ بھی محفوظ ہو اور شیعہ اپنے گمراہانہ عقائد بھی نہیں پھیلائیں کیونکہ بہت سارے شیعہ کا اعلان نہیں کرتے مگر عقیدہ وہی رکھتے تھے۔ جبکہ مولانا رشیداحمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھ دیا ہے کہ شیعہ سے سنی لڑکی کے نکاح میں دو فتوے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں ۔ ان سے نکاح جائز نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان سے نکاح جائز ہے اور نکاح کا حکم دونوں صورتحال کے مطابق ہوگا۔میری رائے پہلی والی ہے۔
آج دیوبندی مکتب دو فرقوں میں تقسیم ہے۔ پختونخواہ میں مناظروں نے ماحول کی عجیب کیفیت بنارکھی ہے۔ مولانا رشیداحمد گنگوہی کے ایک شاگرد مولانا حسین علی تھے ۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور مولانا طاہر پنج پیری ان کے شاگرد تھے۔ دونوں حضرات نے قرآن کے تراجم عام کرنے کی بڑی خدمت کی ہے لیکن شرک کے فتوؤں سے غیر تو غیر اپنوں کو نہیں چھوڑا ہے اور یہی اچھی بات ہے لیکن مولانا حسین علی کی تقریری تفسیر مولانا غلام اللہ خان نے ”بلغہ الحیران” کے نام سے لکھی ہے۔ وہ مولانا غلام اللہ خان جس نے توحید کا ڈنکا بجادیا تھا مگر اس تفسیر میں لکھا ہے نعوذ باللہ من ذٰلک کہ ” میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ گر رہے ہیں اور میں نے آپ ۖ کو تھام لیا”۔ اگر یہی بات کوئی اور لکھتا بلکہ اس طرح بھی لکھ دیتا کہ ”میں گر رہا تھا اور نبی ۖ نے مجھے تھام لیا ”تو اس پر شرک کا فتویٰ لگادیتے۔ اپنی غلط روش کو تبدیل کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
عقیدہ توحید اور معجزات وکرامات میں کوئی تضاد نہیں ہے لیکن یہ دنیا کی ہی پل صراط ہے۔ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معجزات سے نوازنے کا ذکر ہے لیکن وہ پھر بھی اندر اندر سے خوفزدہ اور فرعون سے بھاگ رہے تھے؟۔ کوئی مشرک ہوتا تو پھر فرعون سے بھاگنے کی ضرورت ختم کردیتا اور توحید کے منافی یہ معجزہ ہوتا تو پھر اللہ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بہت سارے معجزات کا ذکر کیوں فرماتا؟۔ شرک سے بڑا گناہ نہیں۔ اہل تشیع جب حضرت علی اور ائمہ اہل بیت کو مظلوم سمجھتے ہیں تو شرکیہ عقیدہ گنجائش ختم کردیتا ہے۔ معجزہ اور کرامت کا عقیدہ بھی شرک نہیں ہے ۔ حضرت ابراہیم نے مطالبہ کیا کہ مجھے مردہ زندہ کرکے دکھاؤ تو اللہ نے پرندوں کو ٹکڑے کرنے کا حکم دیا اور پھر زندہ کرکے دکھا دئیے۔ توحید اور معجزہ سے عقیدت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔غلام احمد پرویز نے احادیث کے چکر میں قرآنی آیات کی وہ تأویل پیش کردی کہ اس سے قرآن کی آیات بالکل واضح انکار کرنا بھی کم نہیں تھا۔
علماء دیوبند میں مولانا اشرف علی تھانوی نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کا مشن آگے بڑھایا اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مولانا قاسم ناتوتوی کا مشن آگے بڑھایا تھا۔ شیخ االہند کے مشن کو مولانا محمد الیاس نے تبلیغی جماعت کی شکل میں ہی آگے بڑھایا تھا۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا نے تصوف کا سلسلہ آگے بڑھایا لیکن شیخ الحدیث کے خلفاء اور تبلیغی جماعت میں بہت دوری آگئی۔ تبلیغی جماعت کے مراکز رائیونڈ اور بستی نظام الدین بھی تقسیم ہوگئے۔ مولانا محمد الیاس اور مولانا اشرف علی تھانوی کے باقیات صالحات میں حضرت حاجی محمد عثمان کی حیثیت بھی بالکل ریڑھ کی ہڈی کی تھی۔ حاجی محمد عثمان سے تبلیغی جماعت، دیوبندی ، اہلحدیث ، بریلوی اور شیعہ سبھی متأثر تھے۔ خانقاہ میں لوگوں کے عقائد ونظریات بالکل صحیح ہورہے تھے۔ پنج پیری بھی آپ سے عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ پاک فوج کے بڑے افسران بھی بیعت تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فضلاء اور کراچی وپاکستان کے مدارس ومساجد سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی بیعت تھی اور مدینہ منورہ کے سرکاری عربی افسران اور شام کے عرب بھی بیعت تھے اور مصر کے عربی عالم بھی بڑی عقیدت ومحبت سے فتوؤں کے بعد حاجی عثمان کے محافل سے استفادہ کردہ کرتے تھے اور انہوں نے کاغذات عربی میں منتقل کرنے کا بڑا کام بھی کیا۔ جب فتوؤں کے بعد حاجی عثمان عمرے پر تشریف لے گئے تو جامعہ صولتیہ مکہ کے مولانا سیف الرحمن نے ائیرپورٹ پر استقبال کیا اور کہا کہ خواب میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے حکم دیا کہ حاجی محمد عثمان ائیر پورٹ پر آرہے ہیں ،ان کا استقبال کرو۔ حاجی عثمان کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
وہ پر کیف جلوے کے رنگین مناظر نظر میں سمایا تو اچھا نہ ہوگا
گزر جا ہر اک شئے سے دامن بچاکر کہیں دل لگایا تو اچھا نہ ہوگا
غم نیستی ہو کہ نیرنگ مستی تخیل پہ چھایا تو اچھا نہ ہوگا
کوئی بھی نقش ہو عالمِ ما سواء کا تصور میں آیا تو اچھا نہ ہوگا
جھکایا ہے جس سر کو در پہ ہمارے کہیں پر جھکایا تو اچھا نہ ہوگا
کہیں بھول کر غیر کے نقش پاکو جبیں سے لگایا تو اچھا نہ ہوگا
حقیقت کی پنہاں سی بھی ایک جھلک کو فسانہ بنایا تو اچھا نہ ہوگا
ہم ہی ہم ہیں باطن میں لیکن ظاہر یہ پردہ اٹھایا تو اچھا نہ ہوگا
وہ نغمہ جو پچھلے پہر ہم نے سنایا کسی کو سنایا تو اچھا نہ ہوگا
وہ جلوہ جو چھپ کر کبھی ہم دکھائیں تعین میں لایا تو اچھا نہ ہوگا
کسی ڈھنگ سے رہ ، کسی حال میں رہ اگر ہمیں بھلایا تو اچھا نہ ہوگا
ہماری عطا کی ہوئی بے خودی سے کبھی ہوش آیا تو اچھا نہ ہوگا
ہزاروں مصائب ہیں راہ طلب میں اگر ہچکچایا تو اچھا نہ ہوگا
ہو کچھ بھی ہو جو قدم اُٹھ گیا ہے وہ پیچھے ہٹایا تو اچھا نہ ہوگا
تجھے کیا ملا، کیوں ملا، کس نے بخشا کہیں ذکر آیا تو اچھا نہ ہوگا
جو ظاہر میں باطن کی کیفیتوں کا اشارہ بھی پایا توا چھا نہ ہوگا
یہ کہہ کر انہوں نے مجھے راز سونپا کسی کو بتایا تو اچھا نہ ہوگا
جو آنکھوں سے ظاہر ہوا توہی جانے جو ہونٹوں تک آیا تو اچھا نہ ہوگا
علامہ اقبال نے کہا: ”دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلادے”۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟

تبلیغی جماعت لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم بتاتی ہے ” اللہ کے حکمو ں میں کامیابی اور غیروں کے حکموں میںناکامی کا یقین آجائے ۔ نبی ۖ کے طریقوں میں کامیابی اور غیروں کے طریقوں میں ناکامی کا یقین ہمارے دلوں آجائے”۔
تبلیغ کی بدولت مدارس اور خانقاہیں آباد ہیں ۔ چراغ سے چراغ جلتے ہیں۔ بہت سارے خواجہ سراؤں کو عزت ،انسانیت اور دین کی خدمت کا موقع ملا ہے۔ کچھ خرابیاں انسانوں کی اجتماعیت میں افراد سے سرزد ہوجاتی ہیں ۔ نبیۖ کے دور میں ذوالخویصرہ، ابن صائد ، رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اور بے ایمان قسم کے اعرابی بھی تھے تو انکی وجہ سے صحابہ کی مقدس جماعت کو برا کہنا کتنا برا ہے؟۔
علماء دیوبندنے مدارس، آزادی، تبلیغ اورخانقاہی نظام میں اسلام کی بہت خدمت کی ہے ۔ ہماری تعلیم وتربیت بھی علماء دیوبند سے منسلک ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا : وعصٰی اٰدم ربہ ”اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی”۔ تاکہ قیامت تک انسان کو اپنی غلطی کو صحیح کہنے پر اصرار نہ کرے ۔بہتر ہے کہ اپنی اصلاح پر زیادہ اور دوسروں کی تردید پر کم توجہ دی جائے ۔ نبی ۖ نے صحابہ کرام کے تزکیہ ،کتاب و حکمت کی تعلیم میں نبوت کا فرض اداکیاتھا۔
چمن کے مولانانے تبلیغی جماعت کے خلاف کہا کہ ” رائیونڈ کے فاضل نے گواہی دی ہے کہ یہ اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم پیغمبروں والا کام کرتے ہیں۔ ایک تبلیغی نے کہا کہ انبیاء سے زیادہ ہم تکالیف اٹھاتے ہیں ۔ یہ لوگ قادیانیوں سے بدتر ہیں۔ ایسی بے غیرت جماعت مسلمانوں کی تاریخ میں بھی نہیں گزری ہے”۔ان بیچاروں کو حلالہ کی لعنت کا شکار بناکر بے غیرت بنایا گیا جو علماء کا قصور ہے۔ ایک اہلحدیث عالم نے بھی گل چاہت معاویہ کی ویڈیو کا کلپ دکھایا کہ ” میرے ساتھ پیغمبری راستے میں زیادتی کی گئی ، جن میں بڑے اکابر بھی شامل تھے لیکن ان کا نام نہیں لوں گا”۔ پھر دیوبندیوں کو برا بھلا کہہ دیا۔
تبلیغی جماعت کے کارکنوں سے علماء کے مدارس، مساجد، مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی تعداد کم نہیں ہے لیکن انہوں نے کونسا تیر مارا ہے؟۔ جو فرائض اور واجبات علماء ومفتیان نے بتائے ہیں تبلیغی جماعت اس پر عمل کرتی ہے۔غسل، وضو اورنماز کے فرائض ، واجبات ، سنتیںاور مستحبات علماء ومفتیان پڑھ کر بالکل بھول جاتے ہیں لیکن تبلیغی جماعت کے کارکن بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ علماء دیوبندجن چیزوں کو بدعات قرار دیتے ہیں تبلیغی جماعت نے نہ صرف عوام الناس بلکہ فضلاء دیوبند کو بھی ان بدعات سے روکنے کی بڑھ چڑھ کر کوشش کی۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے ایک ضخیم کتاب لکھ ڈالی کہ” سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا بدعت ہے”۔ ہمارے آبائی شہر کانیگرم جنوبی وزیرستان میں جب دیوبندی عالم مولانا شاداجان نے سنت کے بعد دعا کو بدعت قرار دیا تومولانامحمد زمان نے اس پر قادیانی کا فتوی لگایا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولوی اشرف خان ہماری مسجد کے امام سنتوں کے بعد اجتماعی دعا مانگتے تھے۔
ہماری مسجد کا نام ”درس” تھا اسلئے کہ میرے اجداد طلبہ کو یہاں درس دیتے تھے۔ اب تبلیغی جماعت نے رائیونڈ میں اس کو گلزار مدینہ کے نام سے متعارف کیا ہے۔جب میں نے وہاں تقریر کی کہ تبلیغی جماعت فضائل کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کا طریقہ کار چار مہینے، چلہ، سہ روزہ، جمعرات کا اجتماع اور گشت وغیرہ ایک مستحسن عمل ہے ۔ یہ فرض ، واجب اور کوئی سنت نہیں ہے تو تبلیغی جماعت کا امیر گل ستار اُٹھا اور کہنے لگا کہ مفتی زین العابدین نے کہا کہ ” تبلیغی جماعت کا کام فرض عین ہے”۔ اس پر یہ طے ہوا کہ علماء کرام کی محفل بلاکر فیصلہ کیا جائے گا اور پھر میری غیر موجودگی کی خبر پاکر شہر کے علماء کو بلایا گیا۔ جب وہ ہماری مسجد میں جمع ہوگئے تو میں بھی ٹیپ ریکارڈر ساتھ لیکر اپنے ساتھیوں کیساتھ پہنچ گیا۔ جس سے وہ گھبرا گئے اسلئے کہ انہوں نے یکطرفہ ٹریفک کا کھیل سمجھ رکھا تھا۔ بہر حال وہ بہت لمبی بات ہوجائے گی۔ علماء نے میری طرف سے لکھ دیا کہ” میں نے آخری مہدی کا دعویٰ نہیں کیا ہے اور تبلیغی جماعت کا کام مستحسن ہے”۔ جس پر سب نے دستخط کئے۔ جب حاجی محمد عثمان کے خلاف تبلیغی جماعت نے پروپیگنڈہ شروع کیا کہ آپ تبلیغی جماعت کے خلاف ہیں تو دارالعلوم کراچی سے مفتی تقی عثمانی اور جامعة الرشید کے مفتی عبدالرحیم و مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے دارلافتاء ناظم آباد سے تبلیغی جماعت کے خلاف فتویٰ دیا تھا۔ فتویٰ لینے والے تبلیغی جماعت کراچی کے امیر بھائی امین کے بیٹے مولانا زبیر شیخ الحدیث مولانا زکریا کے خلیفہ تھے مگر انہوں نے عبداللہ کے نام سے فتویٰ لیا تھا۔ جب تبلیغی جماعت کے مرکزی مدنی مسجد کے امام نے ہمارے ساتھیوں سے ملاقات کی تو اس بیچارے کو امامت سے نکال دیا گیا تھا۔ ہماری تبلیغی جماعت سے ہمدردیاں ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ۔
کئی تبلیغی جماعت کے افراد نے حلالہ کے حوالہ سے ہمارا فتویٰ دیکھ کر بڑی خوشی کا اظہار کیا اور حلالہ کے بغیر رجوع بھی کرلیا ہے۔ سیدھے سادے لوگوں کی عزتیں حلالہ کے نام پر لٹوانے کے بجائے تبلیغی جماعت کو اعلانیہ اللہ کے احکام کی تبلیغ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ قرآن کے واضح احکام میں صلح اور معروف کی شرط پر حلالہ کے بغیر بار بار رجوع کی گنجائش واضح ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

ہمارا مسلسل مطالبہ تھا کہ ریاستِ مدینہ کی طرح مزارعین کو مفت زمین دی جائے۔ الحمد للہ یہ خبر بڑی حوصلہ افزا ہے کہ حکومت پنجاب نے صحرائے چولستان کے رہائشی27ہزار خاندانوں کوزمین فراہم کردی ۔ آخری مرتبہ1978میں صحرائے چولستان کے لوگوں کو لیز پر زمین دی گئی تھی۔ ہر آنے والا حکمران زمین دینے کے دعوے کرتا رہا مگر ان بیچاروں کو زمین نہیں دے سکا۔ شہباز شریف نے10سال بہت کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کام نہیں ہوسکا۔PTIنے اپنی ساڑھے3سالہ دور میں 6مرتبہ کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ پرویز الٰہی نے اپنے7مہینے کی مدت میں کمیٹیاں بنائیں اس سے بھی کام نہیں ہوسکا۔ بالآخر وہ تمام کام نگران حکومت کے ہتھے چڑھا انہوں نے تھوڑا ساکام تیز کیا اور41ہزار میں سے27ہزار خاندانوں کی درخواستوں کو قبول کیا گیا وہ لوگ جن کے شناختی کارڈ چولستان کے مقامی ہیں۔ فی خاندان ساڑھے12ایکڑ زمین الاٹ کی گئی۔ کل ملا کر3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ5سال کیلئے لیز پر دیا گیا ہے۔ یہ وہاں کاشتکاری کرسکیں گے اور5سال بعد پھر اوپن آپشن ہوگا۔ اگر مناسب سمجھاگیا تو میرٹ پر اگلے5سال کیلئے بھی انہی کو یہ زمین دے دی جائے گی۔ اکثر لوگ لیز پر زمین لیکر اس پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ زمین ریاست کی ہوتی ہے۔ صحرائے چولستان64لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔20لاکھ رقبہ ہموار ہے جہاں ریت کے ٹیلے نہیں۔ ہریالی سے بھی بارشیں برستی ہیں۔ اب انشاء اللہ پاکستان کے صحراؤں ، جنگلات اور پہاڑوں کوبھی آباد کیا جائیگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا رشید احمد گنگوہی نے غیرتمند دیوبندی مدارس کیلئے بڑا الگ فتویٰ جاری کیا ۔بے غیرتوں کیلئے الگ فتویٰ جاری کیا

مولانا رشید احمد گنگوہی نے غیرتمند دیوبندی مدارس کیلئے بڑا الگ فتویٰ جاری کیا ۔بے غیرتوں کیلئے الگ فتویٰ جاری کیا

فتویٰ نمبر1غیرتمندوں کیلئے
جب علماء خود حلالہ سے بچنے کیلئے دلیل طلب کریں تو یہ فتویٰ دیتے ہیں۔
کتاب الطلاق کے مسائل
ایک مجلس میں تین طلاقِ مغلظ ہیں
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء محققین شریعت بیضاء اس مسئلہ میں کہ طلاق ثلاثہ جلسۂ واحدہ میں دفعتہ واحدہ یک لخت کے عند الشرعہ ملت بیضاء میں حرام و ممنوع و بدعت ہے۔ اگر کوئی شخص بایں ہیبت دیوے تو رجعت حالت مذکورِ بالا میں احادیث صحیحہ ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ یا باقاعدہ فقہاء ائمہ احناف رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کہ عند الضرورت بہ حسب مذاہب دیگر رجوع کیا جاتا ہے چنانچہ مواقع کثیرہ عدیدہ میں یہ امر مسلم اور جاری ہے۔ خاص کہ مسئلہ ھٰذا میں بھی۔ کذا افتاہ مولانا محمد عبد الحئی المرحوم الکھنوی فی مجموعة الفتاویٰ و کذا فی مسک الختام فی شرح البلوغ المرام نقلہ عن الائمة الحنفیة الرحمہم اللہ تعالیٰ بینوا بالحق و الصواب تواجرو بیوم الفتح و الحساب (اسی طرح مولانا عبد الحئی مرحوم لکھنوی نے مجموعہ فتاویٰ میں فتویٰ دیا ہے اور اسی طرح مسک الختام شرح بلوغ المرام میں ہے۔ جس کو ائمہ احناف رحمہم اللہ تعالیٰ سے نقل کیا ہے۔ حق اور صواب بیان فرمائیے اور روز فتح و حساب اجر حاصل فرمائیے)۔
جواب: ایک مجلس میں تین طلاق دے کر خاوند رجوع کرسکتا ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح ہے کہ آنحضرت ۖ اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کے شروع زمانہ خلافت میں بھی دستور تھا چنانچہ ابن عباس کی حدیث مندرجہ ذیل صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں۔ کان الطلاق علیٰ عہد رسول اللہ ۖ و ابی بکر و سنتین من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر بن خطاب ان الناس قد استعجلوافی امر کانت لہ فیہ اناء ة فلو امضیناہ علیھم فامضاہ علیھم ”حضرت عمر نے جو تینوں کو تین طلاق قرار دیا تو یہ حکم ان کا سیاسی تھا شرعی نہ تھا۔ کیونکہ حضرت عمر کو منصب شریعت نہ تھا۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ راقم ابو الوفاء ثنا ء اللہ کفا اللہ امرتسری، ثناء اللہ محمودی الجواب صحیح، ابو تراب محمد عبد الحق۔ جمہور کا تو مذہب یہی ہے کہ تین طلاق پڑ جاتی ہیں مگر بعض محققین جن میں بعض صحابہ، بعض تابعین بھی شامل ہیں فرماتے ہیں کہ تین نہیں بلکہ ایک ہی طلاق ہوگی۔ ان کی دلیل قوی ہے پہلوں کے ساتھ کثرت رائے ہے۔ احمد اللہ ابو عبید محدث امرتسری۔ یہ فتویٰ موافق مذہب بعض اہل علم ازصحابہ و تابعین و محدثین و فقہاء کے ہے۔ جمہور علماء از صحابہ کرام و تابعین و محدثین و فقہاء اس فتویٰ کے خلاف ہیں۔ جمہور کا مذہب اسلم ہے ۔ احتیاط کی رُو سے اور پہلا مذہب قوی ہے دلیل کی رُو سے۔ عبد الجبار بن عبد اللہ الغزنوی
فتاویٰ رشیدیہ (کامل)، صفحہ نمبر461۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی

فتویٰ نمبر2بے غیرتوں کیلئے
جب تبلیغی جماعت والے فتویٰ مانگتے ہیں تو بے غیرت بنانے کیلئے یہ فتویٰ دیتے ہیں
سوال: زید نے اپنی عورت کو حالت غضب میں کہا کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی۔ پس اس تین بار کہنے سے طلاق واقع ہوں گی یا نہیں؟ ۔ اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی میں مثلاً واقع نہ ہوں تو حنفی کو شافعی مذہب پر اس صورت خاص میں عمل کرنے کی رخصت دی جائیگی یا نہیں؟ وھو المطلوب اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک تین طلاق ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح درست نہ ہوگا مگر بوقتِ ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور مفاسدِ زائدہ کا خطرہ ہو۔ تقلید کسی اور امام کی اگر کرے گا تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا۔ نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوجہ مفقود و عدت ممتدة الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت قول مالک پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں چنانچہ رد المختار میں مفصلاً مذکور ہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ وہ شخص کسی عالم شافعی سے استفسار کرکے اس کے فتوے پر عمل کرے۔ حررہ محمد عبد الحئی لکھنوی۔ ابو الحسنات عبد الحئی
جواب:تین طلاقیں اس صورت میں واقع ہوگئیں سوائے حلالہ کے کوئی تدبیر اس کی نہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد عفی عنہ گنگوہی
فتاویٰ رشیدیہ (کامل) ، صفحہ نمبر462،حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی
محمد علی: کارخانہ اسلامی کتب ، خان محل۔1151/9، دستگیر کالونی۔ کراچی
تبلیغی جماعت اپنے مراکز میں اعلان کردیں کہ مولانا الیاسکے پیر مولانا رشیداحمد گنگوہی کے فتاویٰ رشیدیہ کے پہلے فتوے پر عمل کریں گے اسلئے کہ حلالہ وہ لعنت ہے جس میں بہت بڑی بے غیرتی ہے اور اس میں اللہ کا حکم اور کامیابی کا یقین نہیں نظر آتا ہے۔پورا اخبار پڑھ کر پوری دنیا میں علم کی روشنی عام کریں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احتجاجی قافلہ تربت، کوئٹہ ، بارکھان سے ڈیرہ غازیخان تک اسلام آباد کیلئے پر عزم

احتجاجی قافلہ تربت، کوئٹہ ، بارکھان سے ڈیرہ غازیخان تک اسلام آباد کیلئے پر عزم

اگر ان ماؤں کو گرفتار کرنا ہے تو14سال سے لاپتہ بیٹوں کے پاس لے جائیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ1:تمام لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے۔2:بلوچوں کو قتل نہ کیا جائے،3:بالاچ کے قاتلوں کو سزا دی جائے4:ڈیتھ اسکواڈ کو ختم کیا جائے5:نجی جیلوں کو ختم کیا جائے ۔ بارکھان خطاب میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
GHQمیں گھسنے اور جناح ہاؤس لاہور کو جلانے پر گرفتاری کاردِ عمل کیا ہے؟۔ اور برسوں سے مسنگ پرسن پربلوچ قوم کس قدر مہذب انداز میں بغیر گالی گلوچ کے تحریک چلارہے ہیں۔ واہ بلوچ واہ بلوچ

ریاست ماں ہے۔ پاگل کتا کاٹے تو بھی ماںنہیں مارتی۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے کہا کہ ریاست ہماری سگی نہیں سوتیلی ماں ہے۔ ان کا بھائی سراج رئیسانی بم دھماکے میں200افراد کیساتھ شہید ہوگئے۔ اسٹیبلشمنٹ کا بندہ تھا۔ بڑے لوگوں کی قربانیاں بڑی ہوتی ہیں۔ نوابوں کا حوصلہ بڑا ہے۔ لشکری رئیسانی پاکستان کی ریاست کیلئے بڑا فکر مند رہتا ہے۔ بیشک اپنی بلوچ قوم کی لاشوں کیساتھ ان کا دل دھڑکتا ہے۔لاشوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
شہید کربلا امام حسین کیلئے صدیوں سے نوحہ جاری ہے ۔ بلوچ قوم پرستوں کے احتجاج ، دھرنے ، لانگ مارچ ، نوحہ خوانی ، ماتم اور مطالبات جاری ہیں۔ کسی مظلوم کا ساتھ دینا فرض ہے۔ دل دکھی انسانیت کیساتھ دھڑکتا ہے ۔ بلوچوں کے دکھ درد میں اپنی استطاعت کے مطابق ہمیشہ حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ وہ دن بہت جلد لائے کہ جب کوئی بھی دکھی نہ ہو اور ایک خوشحالی والا ایسا ماحول بن جائے کہ کوئی ماں بہن اور بیٹی دکھی نظر نہ آئے اور جو دکھ سہہ چکے ہیں وہ بھی اس کا بہترین نعم البدل اور غموں کو خوشیوں میں بدلنے کے دن دیکھ لیں۔ صرف بلوچ نہیں، پختون ، سندھی ، پنجابی ، مہاجر غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ہمارے حکومتی ادارے ، خان ، نواب سب غلام ہیں۔ آزادی میں انسانوں کیساتھ فارمی مرغیوں کی طرح سلوک روا نہیں رکھا جاتا ہے کہ خون سے ہر وقت زمین رنگین ہو۔ غلامی سے آزادی کا رونا کس نے نہیں رویا ہے؟۔ نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری، الطاف حسین، ولی خان، محمود خان اچکزئی اور سبھی مذہبی وسیاسی جماعتیں مگر بلوچ نے بندوق اٹھالی اور بندوق اٹھانا مشکل کام ہے۔76سالوں میں کسی نے آزادی کی خوشحالی نہیں دیکھی ہے اور نہ تو اس ملک میں عدل وانصاف کا نظام قائم ہوا ہے اور نہ ہی اسلام آیا ہے تو پھر وہ لوگ ضرور ناراض ہوں گے جو عدل وانصاف اور اسلام چاہتے ہیں۔
بلوچ ماؤں بہنوں کی طرح دوسری اقوام سے تعلق رکھنے والے مسنگ پرسن کا بھی یہی حال ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے اپنے شوہر کی تلاش میں عمر گزاردی اور اب اس کی بیٹی عائشہ باپ کیلئے آواز اٹھارہی ہے۔ گم شدگی کا غم کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ جب تحریک انصاف اورPDMدست وگریباں تھے تو ہم نے استدعا کی تھی کہ یہGTروڈ کی لڑائی لاہور اور اسلام آباد کے درمیان ہے۔ اس میں سندھ ، کراچی، بلوچستان ، پختونخواہ حصہ نہ لیں ۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ بلوچستان و پختونخواہ میں کافی لوگ گولیوں سے مار دئیے گئے لیکنGHQمیں داخل اور جناح ہاؤس لاہورجلانے والوں کو خراش بھی نہیں آئی ۔ ہماری بات مان لی جاتی تو کوئٹہ ، پشاور ،باجوڑ کو جانی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ البتہ یہ دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ جناح ہاؤس لاہور نذر آتش کردیا لیکن کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچایا گیا بلکہ کسی کو خراش تک نہ آئی۔ اگر یہ پنجابیوں کی جگہ سندھی، پشتوں ، بلوچ اور مہاجر ہوتے تو کور کمانڈر کے گھروالے مشکل سے زندہ بچ پاتے۔ پختون مذہبی لوگ جنت کی لالچ میں خود کش حملہ کرتے تھے۔ بلوچ خواتین نے بھی خود کش کئے ۔ ریاستی اداروں کے اہلکار ظالم تو ظالم بزدل بھی ہیں۔ جب خواتین تک خود کش حملہ آوروں کا خوف بھی ہوتو اس کے نتیجے میں بے گناہ لوگوں کا قتل بالکل جائز نہیں بنتا ۔ بے گناہوں کے قاتلوں کو سزا ملے گی تو ریاست کے خلاف آگ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ گناہگار کیلئے لوگ نہیں نکلتے ،بے گناہ کیلئے نکلتے ہیں۔ ذکری کا جنازہ پڑھنے سے کچھ ملاؤں نے روکنے کا اعلان کیا مگر اسکے باوجود بھی تربت کی تاریخ کا یہ بڑا اجتماع تھا۔ ذکریوں اور نمازیوں نے شرکت کی۔ ذکری جنازہ دعا ہے۔ رسول ۖ کا جنازہ کس نے پڑھایا؟۔ذکری عاشقان رسول ۖ ہیں اور دعا سے جنازہ کی سنت کو زندہ کیا۔ جنازہ اصل میں نماز نہیں دعا ہے۔نبیۖ کی دعا سے ابوطالب نچلے جہنم سے اُوپر آگئے(صحیح بخاری) نبیۖ نے فرمایا: ” کوئی نماز سورہ فاتحہ کے بغیر نہیں”۔عربی ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوان کی عربی کتاب ”مسلمان نوجوان” کا ترجمہ ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے کیا جس میں لکھا کہ ”ایک جماعت کہتی ہے کہ ہم ابھی مکی دور میں ہیں ،مدنی مرحلہ میں حکومتی احکام اور جہاد کریںگے توان پر مکی نہیں مرتد ہونے کے مرحلے کا اطلاق ہوتا ہے”۔ ذکری نے نماز چھوڑ دی۔ مولوی نے سال سے ایک دن پہلے مال بیوی کو ہبہ کرکے زکوٰة چھوڑ دی ۔مفتی نے معاوضہ لیکر سود کو اسلامی قرار دیا۔ حاجی عثمان پر 35سال تبلیغی جماعت کی خدمت اور علماء ومفتیان کے مرشد ہوکر بھی نہ صرف بد عقیدہ واہل کفارکا فتویٰ لگاتھا بلکہ ان کے حلقہ ارادت والوں کے نکاح کا انجام بھی عمر بھر کی حرام کاری اور اولادالزنا قرار دیا گیا۔
نبی ۖ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھایا تھا۔ بابائے جمہوریت غوث بخش بزنجو کا تعلق تربت سے تھا۔ کمیونسٹ کافر بنادیا گیا۔ فاطمہ جناح پر تہمت لگائی گئی ، حالانکہ قائداعظم کا خاندان آغا خانی مسلمان تھا۔ علامہ شبیراحمد عثمانی نے نماز جنازہ پڑھایا۔ حال میں پارسی مذہب کی معتبر شخصیت نے یہ جھوٹ قرار دیا کہ” پارسی مذہب میں بہن بھائی کی شادی جائز ہے”۔ اور تعجب کی بات ہے کہ پارسی نے کہا کہ” ہمارا پیغمبر تھا اور ہم اللہ کی پنج وقتہ نماز پڑھتے ہیں۔ مسلمان مغرب یا مشرق میں ہوتے ہیں تو قبلہ رو ہوتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں قبلے کا رخ سورج کیساتھ ہوتا ہے۔ ہم پڑھے لکھے تھے اسلئے ہندو راجہ نے ہماری تبلیغ پر پابندی لگائی تھی۔ ہمارے مذہب کے تین بنیادی اصول:
1:اچھے نظریات پیش کرو۔
2:بھلائی کی فکر رکھو۔
3:بھلائی کے کام کرو”۔
قرآن نے اہل کتاب کیساتھ مشترکہ باتوں پر متحد ہونے کا حکم دیا ۔ جھوٹے پروپیگنڈوں نے ماحول بڑا آلودہ کررکھا ہے۔مذہب ، سیاست اور قوم پرستی کی بنیاد پر نفرتوں کا خاتمہ انصاف کا نظام لانے سے ہوگا۔ کراچی میں رینجرز اہلکار نے غلطی سے گولی چلنے کی وجہ سے ایک ڈکیٹ کو قتل کیا تھا تو اس کو سپریم کورٹ سے سزائے موت ہوئی۔ بالاچ مولانا بخش بلوچ شہید کے قاتلوں کو انصاف کی عدالت میں کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ لواحقین اور عوام الناس کا اس ریاست سے عدالتی انصاف مانگنا مثبت اقدام ہے ۔دوسرا راستہ خطرناک ہے۔ ایک انسان کا ناحق قتل تمام انسانیت کا قتل ہے ۔ اسلام آباد سے حق کا مطالبہ نہ صرف بلوچ بلکہ ریاست کیلئے بھی مثبت نتائج کا حامل ہے۔ ریاست ظلم کرے یا مولوی حلالہ کی لعنت کرے یا سود کو جائز قرار دے تو حقائق کو اجاگر کرنا بنتا ہے۔اکرم زہری نے کہا کہ ذکریوں کے پیشوا نے بلوچوں کو سست سمجھ کر نماز کی جگہ ذکر پر لگادیا یہ لوگ مہدی جونپوری کے پیروہیں جس کی مولانا آزاد نے تعریف کی ہے۔قائد اعظم کے مسلک آغاخانی کے ہاں جماعت خانہ ہوتا ہے ۔ وہ جماعت خانہ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے اور مسجد میں تو آتے نہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دو اصول قرآن وسنت پر اتفاق ہوتو باقی دو پر ہوجائیگا

دو اصول قرآن وسنت پر اتفاق ہوتو باقی دو پر ہوجائیگا
پہلا:قرآن دوسرا:سنت تیسرا:اجماع چوتھا:قیاس

جاء البرد والجبات ”سردی آئی جبوں کیساتھ” ۔شیعہ کے امام غائب ہیں اپنی کتاب کیساتھ۔اسلئے شیعہ خود متفق نہیں ہوسکتے۔ البتہ یہ بالکل غلط ہے کہ پہلے اپنا مسلک پیش کیا جائے اور پھر قرآن وسنت کو اس پر قربان کیا جائے۔
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق؟
ابن عباس نے کہا کہ رسول اللہ ۖ وابوبکر کے دور اور عمر کے ابتدائی دو سال میں اکٹھی تین طلاق کو ایک سمجھاجاتا تھا۔ پھر عمر نے اکٹھی تین طلاق پر تین کا حکم جاری کیا۔ صحیح مسلم کی اس روایت کو امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور محدثین، صوفیائ، مجاہدین اور فقہائ میں بڑا رتبہ رکھنے والے عبداللہ بن مبارک نے صحیح سند سے نقل کیا۔ حنفی مسلک کواس پر عمل کرنا چاہیے؟۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور علماء دیوبند کے حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب نے اپنی کتاب ” تقلید واجتہاد” میں لکھا ہے کہ حنفی مسلک کا اصل یہ ہے کہ کسی ضعیف حدیث کو بھی مسترد کرنے کے بجائے حتی الامکان اس کی تأویل اور تطبیق کی راہ نکال لی جائے۔
صحیح مسلم کی اس حدیث میں ایک بہت بڑے تضاد کی نشاندہی ہے کہ اکٹھی تین طلاق پر حضرت عمر نے ایک بہت بڑی بدعت کا آغاز کیا ۔ اس تبدیلی کے ثبوت کیلئے قرآن وسنت کی گردن مروڑنے کی جگہ تطبیق کی راہ نکال لی جائے۔
جب حنفی مسلک کے زعماء حضرت عمر کی تائید کرنے پر آتے ہیں تو قرآن کی گردن مروڑنے میں بھی شرم وحیاء ، غیرت وحمیت اور ضمیر کے نقاب سے لیکر اپنا چڈھا تک اتارلیتے ہیں اور الف ننگے ہوکر کھلی ندی میں قرآن کو قمیض اور سنت کو اپنی شلوار سمجھ کر دھوبی کی لکڑی سے کوٹتے ہیں۔ اللہ ان کو غرق کرے ۔ بہت غلط کرتے ہیں۔ تفسیر قرطبی وغیرہ میں اس قسم کے بدبودار گل کھلائے گئے ہیں۔
حالانکہ حنفی مسلک کا اصل تقاضا یہی تھا کہ نبی ۖ، حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے دور میں اس تفریق اور تضاد کو دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کرلیتے۔ کیا ان میں تطبیق نہیں ہوسکتی تھی؟۔ آئیے ہم تمہیں تطبیق بفضل تعالیٰ بتادیتے ہیں۔
رسول اللہ ۖ کے دور سے حضرت عمر کے ابتدائی دو سال تک جیسا مسئلہ بتایا گیا ہے ویسے ہی تھا کہ اکٹھی تین کو ایک سمجھا جاتا تھا۔ حضرت عمر نے تبدیلی کا آغاز کیا اور اس آغاز کی وجہ سے حضرت عمر اس لائق ہیں کہ دوست دشمن سب فاروق اعظم کا خطاب دل وجان سے دیں۔ یہ حق وباطل کا زبردست امتیاز تھا۔ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی کو اکٹھی تین طلاق دیتا تھا اور دونوں رجوع کیلئے راضی ہوتے تو تین طلاق ایک سمجھی جاتی تھی۔ عدت میں مرحلہ وار تین طلاقیں دی جاتی تھی مگر جب حضرت عمر کے دور میں ایک شخص نے تین طلاقیں دیں اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ فیصلہ عمر کے دربار میں آیا تو حضرت عمر نے فیصلہ دیا کہ اب رجوع نہیں ہوسکتا۔ تین طلاقیں ہوچکی ہیں۔ اگرحضرت عمر یہ فیصلہ نہ دیتے تو عورت کی کسی صورت شوہر سے جان نہیں چھوٹ سکتی تھی۔
قرآن میں تو اللہ نے واضح فرمایا کہ طلاق کے بعد عدت میں باہمی صلح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دیا۔ جو کہتے ہیں کہ عورت کی رضا کے بغیر رجوع ہوسکتا ہے وہ قرآن کو ذبح کررہے ہیں۔ شیعہ ،اہلحدیث یہ مسئلہ قرآن وسنت ، اجماع وقیاس پر پیش کریں تو ان کو شکست فاش ہوگی۔ نبی ۖ نے تین طلاق تو دور کی بات ہے، ایک طلاق پر بھی شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق نہیں دیا ہے۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلاق میں شوہر چھوڑتا ہے اور خلع میں عورت چھوڑتی ہے۔ طلاق کے بعد عورت صلح کیلئے راضی ہو تو شوہر کو صلح واصلاح ، معروف طریقے اور باہمی رضامندی سے عدت کے اندر، عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی گنجائش اللہ نے بار بارواضح کی ہے۔ اگرعورت راضی نہ ہوتو شوہر مذاق کی طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں کرسکتا۔ اسلئے کہ خلع اور طلاق میں عورت کے حقوق میں بڑا فرق ہے اور یہ مالی معاملہ ہے۔
کسی نے حضرت عمر پر حملہ کیا کہ حج وعمرہ کے اکٹھے احرام پر قرآن و سنت کے برعکس پابندی لگادی تو حنفی و شافعی مخالف و موافق ہوگئے۔حالانکہ یہ شرعی مسئلہ نہیں تھا بلکہ پسینہ کی بدبو سے بچنے کا معاملہ تھا لیکن اسلام کو اجنبی بنادیا گیا۔
روافض نے کہا کہ عمر نے قرآن کے منافی 3 طلاق کو ایک کرنے کی بدعت جاری کردی۔شافعی نے کہا کہ اکٹھی تین طلاق سنت، مباح اور جائز ہیں۔ دلیل یہ پکڑی کہ عویمر عجلانی نے لعان کے بعد تین طلاق دیں۔ حنفی ومالکی نے کہا کہ اکٹھی تین طلاق بدعت، گناہ اور ناجائز ہیں۔ محمود بن لبید کی روایت ہے کہ کسی نے نبی ۖ کو خبر دی، فلاں نے بیوی کو اکٹھی تین طلاق دی تو نبیۖ غضبناک ہوکرکھڑے ہوگئے ،فرمایا: میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔
روایات میں واضح ہے کہ طلاق والے عبداللہ بن عمر اورخبر دینے والے اور قتل کی پیشکش کرنے والے حضرت عمر تھے۔ بخاری کی کتاب التفسیر سورۂ طلاق میں نبی ۖ کا غضبناک ہونا اور رجوع کا حکم دینا واضح ہے ۔سارا گند صحیح بخاری کے مصنف نے امام ابوحنیفہ کی مخالفت کی وجہ سے ڈالا۔ کہ رفاعہ القرظی کی طلاق کو اکٹھی تین طلاق اور حلالہ کیلئے گمراہی کی بنیاد بنادیا۔ حالانکہ اکٹھی تین طلاق اور حلالہ کی لعنت کا اس سے دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔ کیانامرد حلالہ کرسکتا ہے؟۔
حسن بصری نے کہا۔پہلے شخص نے کہا کہ ابن عمر نے تین طلاق دی، پھر دوسرے نے20سال بعد کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔( مسلم) رائے بدلنے کی وجہ یہ تھی کہ جب لفظ حرام تیسری طلاق ہے تو ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے بھی بیوی کو حرام ہی ہونا چاہیے؟۔ نبی ۖ نے اسلام کے عنقریب اجنبی ہونے کی نشاندہی فرمائی تھی تو یہ تصدیق تھی کہ قرآن کو چھوڑ کر رائے عامہ اختلافات کا شکار ہوگئی۔ائمہ اہل بیت نے سمجھادیا تھا کہ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق پر گواہ بناؤ تاکہ حلالہ کی لعنت کا نام ونشان نہ رہے۔مگر بعد کے شیعہ حضرات نے طلاق کے مسئلے کو غلط رنگ دیا۔ اہل سنت سدھر جائیں گے تو شیعہ بھی سدھریں گے۔
اصل بات یہ ہے کہ عویمر عجلانی کی روایت میں لعان کے بعد رجوع معاملہ نہیں تھا اور محمود بن لبید کی روایت میں بھی رجوع کی کوئی وضاحت نہیں ہے اور جہاں تک نبی ۖ کے غضبناک ہونے کا تعلق ہے تو اس سے زیادہ مستند روایت صحیح بخاری میں نبیۖ کے غضبناک ہونے کے باوجود بھی عبداللہ بن عمر سے رجوع کا حکم فرمانا ہے۔ اور ساتھ ساتھ تین مرتبہ طلاق کو عدت کے تین مراحل کیساتھ مخصوص کرنے کی بھی نبیۖ نے وضاحت فرمائی لیکن قرآن وحدیث کی طرف رجوع اسلئے نہیں ہورہاہے کہ مذہب تجارت بن گیا ہے۔ لوگ مذہبی سیاست کو تجارت سمجھتے ہیں لیکن اس کے علاوہ مدارس بھی کاروبار بن گئے ہیں۔
مولانا عبیداللہ سندھی قرآن کی طرف رجوع چاہتے تھے اور علماء دیوبند نے قرآن وسنت کو زندہ کرنا چاہا مگر مولانا احمد رضا خان بریلوی نے حسام الحرمین سے تقلید پر مجبور کردیا،آج دیوبندی بریلوی مل کر اسلام کا نام روشن کرسکتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اہل سنت کے اتحاد کیلئے قرآن وسنت سے رہنمائی !

اہل سنت کے اتحاد کیلئے قرآن وسنت سے رہنمائی !
امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد حنبل

اہل سنت والجماعت چاراماموں کی تقلید کرتے ہیں۔دیوبندی بریلوی کاان پر اتفاق ہے۔ اگرقرآن وسنت کا ایسا آئینہ دکھا دیاجائے کہ جس پر صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین کے درمیان مسلکی اختلافات کا معاملہ ختم ہوجائے تو پھر دیوبندی، بریلوی، جماعت اسلامی اور اہل حدیث اتفاقِ رائے سے متحدو متفق اور وحدت کے راستے پر چل نکلیں گے۔ پھر اس پر شیعہ کے فرقوں کا اتحاد بھی ہوجائیگا اور دنیا کے سامنے قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل ہوگا تو رشدوہدایت کا راستہ کھلے گا۔
سعودی عرب سے شائع ہونے والی کتاب ”اجتہاد الخلفاء الراشدین ” کے اندر یہ لکھا ہے کہ ”اگر کوئی اپنی بیوی کو حرام کہے تو حضرت عمر کے نزدیک یہ ایک طلاق ہے اور حضرت علی کے نزدیک یہ تین طلاقیں ہیں”۔ جب خلفاء راشدین نے اس پر اختلاف کیا ہو ،ائمہ اربعہ نے بھی آپس میں اس پر اختلاف رکھا ہو، تابعین نے بھی اس پر اختلاف کیا ہو اور صحیح بخاری میں بھی اس پر اختلافات ہوں تو کیا یہ حق نہیں بنتا کہ قرآن وسنت کی طرف اچھی طرح توجہ کی جائے؟۔
پھر اگر قرآ ن وسنت سے تمام اختلافات ختم ہوں اور صحابہ کرام کے درمیان بھی اختلاف کی جگہ اتفاق ہوجائے تو امت مسلمہ کیلئے خوشحالی کا مقام نہیں ہوگا؟ اورکیا پھربھی شیر سے بدکے ہوئے گدھوں کو بھاگنے کی کوئی ضرورت ہوگی؟۔
قرآن نے ایلاء اور طلاق کے بعد رجوع کیلئے باہمی صلح کو شرط قرار دیا۔ عورت راضی نہ ہو تو قرآن نے بار بار کہا ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ۔ رجوع کیلئے باہمی رضا ، باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع شرط ہے۔ نبی ۖ نے ایلاء کے بعد رجوع کیا تو اللہ نے حکم دیا کہ رجوع سے پہلے اپنی ازواج کو طلاق کا اختیار دے دیں۔ اگر وہ رجوع نہیں کرنا چاہتی ہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ۔
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ”اور انکے شوہر اس عدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ اصلاح چاہتے ہوں ”۔ (سورة البقرة:آیت:228) یہاں اللہ نے عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کو واضح کیا۔ الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ” طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ ( سورة البقرة:آیت:229) یہاں اللہ نے معروف کی وضاحت کیساتھ رجوع کو واضح کیا ہے ۔ اصلاح کی شرط اور معروف کیساتھ رجوع میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یعنی عورت کی رضامندی ضروری ہے۔
مسلکِ حنفی صحابہ کرام کے فتوؤں میں تطبیق پیدا کرنا ہے۔حضرت عمر نے دیکھا کہ جب شوہر نے اپنی عورت سے حرام کہااور پھر عورت رجوع کیلئے راضی ہے اسلئے رجوع کا فتویٰ دیا اور حضرت علی نے دیکھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہے اسلئے رجوع کا فتویٰ نہیں دیا ۔ عمرو علی میں مسئلے پر اختلاف نہیں تھا۔
قرآن کی سورۂ تحریم میں اللہ نے فرمایا: یاایھاالنبی لم تحرم ما احل لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیمOقدفرض اللہ تحلة ایمانکم واللہ مولاکم وھو العلیم الحکیمO’ ‘ اے نبی ! آپ اس کو اپنے لئے کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا ہے؟، آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اللہ نے حلال کیا ہے تمہارے عہد کو۔ اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ جاننے والا حکمت والا ہے”۔
جب نبی ۖ نے ماریہ قبطیہ اپنی ازواج کی وجہ سے حرام قرار دے دی اور اللہ نے قرآن سے یہ غلط مذہبی رسم ختم کردی کہ بیوی حرام قرار دینے سے حرام نہیں ہوتی تو پھر حضرت علی نے کیسے اس کو تین طلاق قرار دے دیاتھا؟۔ آج مفتی تقی عثمانی کیسے کہتا ہے کہ حرام کہنے پر بیوی کو طلاق بائن ہوجاتی ہے؟۔ جس میں نئے نکاح کی ضرورت ہوگی؟۔علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے کہاں سے اس پر20اجتہادی مذاہب نقل کرکے مسائل کے ڈھیر لگادئیے؟
صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ بیوی کو حرام کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ نہ قسم ،نہ طلا ق اور نہ کفارہ۔ یہی نبیۖ کی سیرت کا تقاضا ہے۔
صحیح بخاری میں حسن بصری نے کہا کہ ” حرام سے جو نیت کی جائے وہی حکم نافذہوجاتا ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ بیوی کو حرام کہنا تیسری طلاق ہے ۔ اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں ہے۔ کیونکہ کھانے پینے کو حرام قرار دینے کے بعد وہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجاتی ہیں۔ تیسری طلاق سے بیوی حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوتی ہے۔ (بخاری میں یہ دو نوں متضادروایات موجود ہیں )
حسن بصری تابعی تھے اور حضرت علی کی شاگرد ی کا شرف حاصل تھا یا نہیں؟ مگر علماء کی طرف اس اجتہاد کے منسوب کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حضرت علی کے شاگرد مجتہدین علماء سے یہ نقل کررہے ہیں کہ ” بیوی کو حرام کہنا تیسری طلاق ہے”۔ اسلئے کہ حضرت علی کی طرف منسوب ہے کہ وہ تین طلاق سمجھتے تھے۔
اگر شیعہ اور ان کے ائمہ حضرت علی کی طرف یہ نسبت کرتے تو ان کے پھر مولا علی وہی تھے اور تقلید کے پابند تھے لیکن اہل سنت کا مولا قرآن میں اللہ ہے اور اللہ نے جو فیصلہ کیا ہے ، امام ابوحنیفہ نے بھی فرمایا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں صحیح حدیث کو بھی نہیں مانیں گے اور جب صحیح حدیث کی قرآن کے مقابلے میں تقلید نہیں ہے تو پھر کسی صحابی اور امام مجتہد کی تقلید کیسے جائز ہوسکتی ہے؟۔
اگر اللہ کی کتاب کے مقابلے میں حرام و حلال یہودونصاریٰ تبدیل کریں تو ان پر اتخذوھم احبارھم ورھبانھم اربابًا من دون اللہ کا اطلاق ہوتا ہے تو کیا ہم پر نہیں ہوگا کہ اگر اللہ کی کتاب کے مقابلے میں مولانا تقی عثمانی یا کسی بھی مولانا کی بات قرآن وسنت کے مقابلے میں حلال وحرام کا معیار بنالیں؟۔
حسن بصری ایک مخلص تابعی ، راوی تھے مگر کیاان کی بات غلط نہیں ہوسکتی؟ یہ تو کوئی نہیں کہتا!۔ حسن بصری نے کہا کہ” ایک مستند شخص نے بتایاکہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں( جس پر رسول ۖ نے رجوع کا حکم دیا )20سال تک کوئی اور مستندشخص نہیں ملا ، جو اس کی تردیدکرتا۔20سال بعد ایک اور زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی”۔( صحیح مسلم)
جب حضرت علیکے شاگردوں کی طرف سے یہ بات مل گئی کہ حرام کے لفظ کو تیسری طلاق قرار دیا تو پھر کسی اور مستند شخص کی بات بھی حسن بصری نے مان لی کہ رسول اللہ ۖ نے اکٹھی تین طلاق پر عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم نہیں فرمایا ہوگا بلکہ وہ ایک طلاق دی تھی۔ایک روایت ہے کہ حضرت علی کے بعد امام حسن کو خلافت پر اس کی بیوی نے مبارک باد دی تو امام حسن نے کہا کہ تجھے تین طلاق ۔ پھر فرمایا کہ اگر میں نے اپنے نانا ۖ سے نہ سنا ہوتا کہ رجوع نہیں ہوسکتا تو میں رجوع کرلیتا۔پیرکرم شاہ الازہری نے اپنی کتاب ” دعوت فکر” میں نقل کیا ہے کہ اس کا راوی رافضی ہے جسکے بارے میں لکھا گیا کہ جرو کلب یعنی کتے کا بچہ۔ اگر سنی علماء نے صرف توجہ کی تو مسائل کے حل نکالنے میں ایک رات لگے گی ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بھٹو نے کہا تھا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔عمران خان بھی فائز عیسیٰ سے کہے گا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس

بھٹو نے کہا تھا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔عمران خان بھی فائز عیسیٰ سے کہے گا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس

وکیل رہنما ربیعہ باجوہ نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور تمام عدلیہ کے ججوں کو میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ جب بھٹو اس ہائیکورٹ میں اپنی پروسیڈنگ سے نکلے تھے تو انہوں نے کہا تھا نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔ ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے، مجھے آج بھٹو یادآرہا ہے تو کیا جوڈیشری آج یہ چاہتی ہے کہ کل عمران خان کہے نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس۔
جب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر اخبار میں لگی تھی تو ایک شخص نے ساہیوال میں پیپلز پارٹی کے کارکن کو یہ خبر سنائی اور اس نے دوکان سے پسٹل اٹھا کر خبر دینے والے کو قتل کردیا۔ لوگوں نے خود کو آگ تک لگائی تھی۔ وکیل رہنما ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے مظالم کی انتہاء کی تھی لیکن وہ بھی کسی خاتون کی تذلیل نہیں کرتا تھا۔ آج خواتین کی تذلیل کی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کا کارکن کہہ رہا تھا کہ بلوچستان سے قتل اور مسنگ پرسن کا معاملہ شروع ہوا اور وزیرستان تک پہنچ گیا اور اب پنجاب میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
جذباتی باتوں کے نتائج سمندر کے جھاگ کی طرح آخر کار بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو سزا ملتی کہ پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا اورPTVپر قبضہ کیا تھا توGHQمیں گھسنے اور جناح ہاؤس لاہور کو جلانے تک معاملہ نہ پہنچتا لیکن کل نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن پاک فوج کو برا بھلا کہہ رہے تھے عمران خان دفاع کررہا تھا اور آج معاملہ الٹ ہے۔
خاور مانیکا کے نوکر نے عدالت میں بشریٰ بی بی کیخلاف چشم دید گواہی دی ہے اور عدالت نے دوسرا گواہ طلب کیا تو ملزم کی طرف سے خاور مانیکا کو دوسرا گواہ بتایا گیا ۔سزا کیلئے دو افراد کی گواہی کا جج نے مطالبہ کیا ہے۔ اخلاقی طور پر گواہ اس وقت ہی سامنے آنا چاہیے تھا کہ جبDNAٹیسٹ ہوسکتا تھا۔ اب تو حضرت عمر کے دور میں بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہ پر3گواہوں کے بعد چوتھے گواہ زیاد کی عجیب ناقص گواہی کی وجہ سے3گواہوں کو80،80کوڑے لگائے گئے۔ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق ، مفتی تقی عثمانی اور دیگر مذہبی رہنما شریعت کا حکم جاری کرنے کیلئے ایک مطالبہ کریں گے تو ماحول میں بڑی زبردست تبدیلی آئے گی۔ وکیل رہنماؤں کو چاہیے کہ عدت کی قرآن و سنت کی مدت اور گواہوں پر شریعت کے مطابق سزا کا مطالبہ کریں تو ملک میں ایک انقلاب عظیم رونما ہوجائے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

داتا کے نام پر سواریاں بٹھاکر گامے شاہ اتارنے والے منافق ابو طالب کا ایمان ثابت کریں۔پیر سید سیف اللہ قادری

داتا کے نام پر سواریاں بٹھاکر گامے شاہ اتارنے والے منافق ابو طالب کا ایمان ثابت کریں۔پیر سید سیف اللہ قادری
تبصرہ پڑھ کر پیر سیف اللہ داتا صاحب کے بجائے ہیرہ منڈی میں چھپ کر ہی نہ بیٹھ جائے:از طرف نوشتۂ دیوار

امیر البیان ، مفسر قرآن، شارح ادب المفرد مفتی پیر سید سیف اللہ قادری: متفق علیہ مسئلے ہیں آج14سو سال بعد وہ کہہ رہے ہیں کہ نہیں نہیں ابوطالب نبیوں کے بعد سب سے اعلیٰ ہے۔ آخر پہلے بھی تو پوری ملت گزری ہے ناں۔ نہ کسی دیوبندی کو، نہ بریلوی کو، نہ اہلحدیث کو، نہ مالکی، نہ شافعی، نہ حنبلی ، نہ حنفی کو ،14سو سال میں پوری اُمت کویہ یاد نہیں ہے۔ وہ جو ملا دو ٹکے کے ملا ایرانی زرخرید، اور چرسیوں کے چیلے، بھنگیوں کے چیلے بھنگیوں سے مانگ کر کھانے والے، وہ جناب گلی گلی کہہ رہے ہیں کہ یہ تو قرآن سے ثابت ہے۔ یعنی پوری اُمت اندھی آئی ہے۔ حضور ۖ فرمارہے ہیں کہ اس کو جہنم کی جوتیاں پہنائی جائیں گی۔ دماغ یوں کھولے گا جیسے ہڈیاں کھول رہی ہیں۔ اور یہ سمجھ گیا قرآن کو معاذ اللہ حضور نہیں سمجھے؟۔ جن پر قرآن نازل ہوا ہے۔ حضرت علی اپنے سگے باپ کو فرمارہے ہیں انہ مات مشرک یا رسول اللہ ۖ وہ مشرک مرا ہے۔ حضرت علی کو نہیں پتہ تھا کہ قرآن کہاں نازل ہوا ہے؟۔ یہ آج ان کو پتہ چل گیا جن کی کوئی اوقات نہیں جو نہ گھر کے ہیں نہ گھاٹ کے۔ نہ ادھر کے نہ اُدھر کے ، جنہوں نے لبادہ اہلسنت کا اوڑھا اور جو داتا صاحب کے نام پر سواریاں بٹھا کر گامے شاہ اتارنے والے ۔ وہ منافق اور کذاب ان کو آج یہ مسئلہ سمجھ آیا ہے۔ اور قرآن و حدیث کا صحابہ کو اہل بیت کو، میں چیلنج کررہا ہوں میرے سامنے قرآن پڑا ہے۔ حضرت علی کی کسی اولاد کا فرمان دکھاؤ جو ابوطالب کی شان میں آیا ہو۔ نہیں سمجھے آپ سوئے ہوئے ہیں۔ حضرت علی کے بیٹے ہیں امام حسن ہیں امام حسین ہیں، امام زین العابدین ہیں، آگے امام جعفر صادق ہیں،امام موسیٰ کاظم ہیں، امام نقی ہیں ، امام تقی ہیں، یہ سارے مولیٰ علی کی اولاد ہیں۔ اور ابوطالب ان کے سگے دادا ہیں۔ ان میں سے کسی ایک امام کا فرمان دکھاؤ جنہوں نے ابوطالب کے ایمان پر قول کیا ہو۔ وہ نہیں بولے تو دو نمبر سیدوں1947کے بعد بننے والے کذابوں تمہیں یہ پتہ چل گیا کہ ابوطالب علیہ الصلوٰة و السلام تھا۔13سو آیات اتری ہیں۔ اور یہ ہوا ہے وہ ہوا ہے اور آج پھر تعلی اور تحدی کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ بارہ اماموں میں سے کسی ایک امام کا قول ایمان ابوطالب پر دکھا دو۔ امام حسن کا دکھادو، امام حسین کا دکھادو، چلو مولیٰ علی کا دکھادو۔ مولیٰ علی کے بھائی جعفر کا دکھادو۔ کسی ایک کا دکھادو۔ ہم تمہارے ساتھ چلیں گے بھی نعرہ بھی لگائیں گے اور تمہارے آگے ہاتھ جوڑ کر تم سے بھی معافی مانگیں گے رب اور اسکے رسولۖ سے بھی مانگیں گے۔ اور اگر یہ نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجار کہ ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن پتھر اور تم جیسے انسانوں کو بنایا ہے۔ باز آجاؤ اس حرکت سے اہلسنت کے ایمان اور عقائد خراب نہ کرو اور قرآن و سنت سے یہ کھلواڑ نہ کرو۔ اللہ کہہ رہا ہے والذین سعوا باٰیاتنا اور جو لوگ کوشش کررہے ہیں ہماری آیتوں کی تردید میں اس خیال سے کہ معٰجزین فیھا وہ ہمیں ہرادیں گے قرآن و حدیث کو نیچا دکھلادیں گے اؤلئٰک اصحاب الجحیم یہی لوگ پکے دوزخی ہیں۔ میں نے کہا تھا اسی ڈاکٹر کو رات کو میسج کیا تھا اس کا مجھے میسج آیا کہ میں عرس ابی طالب پر خطاب کرنے لگا ہوں۔ تو میں نے کہا ڈاکٹر صاحب ایک دعا کرتے ہیں اللہ تیرا حشر ابوطالب کے ساتھ کرے ہمارا مولیٰ علی کے ساتھ کرے۔ میں نے کہا جہاں ابوطالب جائے اللہ کرے تو وہیں جائے۔ اور جہاں مولیٰ علی جائے ہم وہاں جائیں۔ ابھی تک اس کو آمین کہنے کی جرأت نہیں ہوئی اور ہوگی بھی نہیں۔ نہیں آئے میرے ساتھ مباہلہ کرلے جو ایمان ابی طالب کے نعرے لگارہے ہیں میرے ساتھ مباہلہ کرلیں چیلنج کررہا ہوں۔ آئیں ابھی پتہ چل جائے گا۔ وہ پنڈی کا نام نہاد قریشی ہو وہ یہ ہو وہ ہو، ادھر ہو اُدھر ہو۔ اور جتنے نمبر سیانے ہیں ایمان ابی طالب کی آڑ میں حضرت امیر معاویہ پر بھونک رہے ہیں۔ ان سب کو چیلنج کرتا ہوں آؤ ہم اہلسنت تھے جو اعلیٰ حضرت کے ماننے والے ہیں۔ جہاں تمہارا دل چاہے ہمارے ساتھ مباہلہ کرلو اور فیصلہ رب کردے گا۔

____تبصرہ : نوشتہ دیوار____
کچھ لوگ ابوطالب کی مخالفت کی خبط میں مبتلاء ہیں کہ آپ نے اسلام قبول کیا تو نبیۖ نے نام کیوں نہیں بدل دیا؟۔جس کا نام مشرکانہ ہوتا تھا، جیسے عبدالکعبہ کا نام بدل دیا جاتا تھا۔ ابوبکر، عمر ، عثمان،علی، خالد اور سعد بن ابی وقاص کا نام بدلا؟۔ کبھی پوچھنے کی جرأت ہوئی ہے کہ جب قائداعظم کی بیگم رتن بائی نے اسلام قبول کیا تو اس کا نام کیوں نہیں بدلا؟۔
ابوطالب سے اسلئے عقیدت نہیں کہ نبیۖ کے چچا تھے ۔ چچا تو ابولہب بھی تھا جو کفر پر مرا ۔ جس کو انگلی سے پیر کے دن راحت ملتی ہے کہ نبی ۖ کی پیدائش کی خوشی میں لونڈی آزاد کی تھی۔ صحیح بخاری کی یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں اسلئے کہ اللہ نے فرمایا: ” جو ذرہ خیر کرے گا وہ اس کو دیکھے گااور جو ذرہ شر کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا”۔ جبکہ ابوطالب نے تو زندگی نبیۖ کیلئے وقف کی تھی؟۔ بخاری کی حدیث میں آیا کہ ابوطالب جہنم کے نچلے درجے میں تھا اور نبی ۖ کی سفارش سے اوپر آگیا؟۔ اللہ نے مشرک کی سفارش قبول نہیں کرنی تو ابوطالب کی سفارش قبول کی؟۔ ابوجہل جہنم کے نچلے حصے میں نہیں پہنچا اسلئے کہ کافر تھا منافق نہیں تو ابوطالب کیسے پہنچا؟۔ اللہ نے فرمایا کہ” منافقین جہنم کے نچلے حصہ میں ہوں گے؟”۔ منافقت کا ماحول تو مدینہ کی ریاست بننے کے بعد قائم ہوا تھا یا پھر آج ہے۔ ابوطالب نے اپنی بیٹی ام ہانی کا رشتہ کیوں نبیۖ کی جگہ مشرک کو دیا تھا؟۔ تو صلح حدیبیہ کے بعد حضرت عمر نے اپنی دو کافر بیگمات کو اللہ کے حکم پر چھوڑ ا ،اس طرح دیگر صحابہ نے اسلئے کہ پہلے مشرکینِ مکہ سے رشتے ناطے ہوتے تھے۔ بعد میں بھی ان مؤمنات کی وضاحت ہوئی جو مکہ سے بھاگ کر مدینہ پہنچ گئیں کہ ان کو واپس مت لوٹاؤ ، وہ ان مشرک شوہروں کیلئے حلال نہیں اور نہ مشرک شوہر ان کیلئے حلال ہیں۔ لیکن ام ہانی بھاگ کر نہیں آئی تھیں اسلئے ان پر فتح مکہ تک بھی اس کا اطلاق نہیں ہوا۔ اگر ابوطالب کے کفر پر سنی کو اپنا ماحول رکھنے کا حق ہے اسلئے کہ بنوامیہ وبنوعباس نے جو آلودگی پھیلائی تھی تو اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا تو شیعہ کو اپنے ماحول کی مجبوری کا پورا پورا حق ہونا چاہیے کہ کس کو مسلمان اور کس کو کافر سمجھیں؟۔
جب نبی ۖ نے فرمایا کہ ” قلم اور کاغذ لاؤ۔ایسی چیز لکھ کر دیتا ہوں کہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہوگے”۔ حضرت عمر نے کہا کہ ”ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے”۔ اگر نبی ۖ وصیت میں یہ لکھ دیتے کہ میرے بعد ابوطالب پر کوئی جھوٹ مت بناؤ لیکن پھر بھی کم بختوں نے اپنی حرکات سے باز نہیں آنا تھا۔ اس میں کوئی شبہ کی بات اسلئے نہیں کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انک لا تھدی من احببت ” آپ اس کو ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہتے ہوں”۔ پھر یہ آیت حضرت ابوطالب پر فٹ کی گئی ہے۔ قرآن میں یہ آیت جہاں ہے وہاں ابوطالب کے حوالہ سے بھی غور کرو اور ابوسفیان اورامیر معاویہ دونوں کوبھی دیکھ لو اور پھر ایمانداری سے بتاؤ کہ کون کہاں اور کس آیت میں نشانہ بن رہاہے؟۔
ولقد وصلنا لھم القول لعلھم یتذکرونOالذین اٰتینٰھم الکتٰب من قبلہ ھم بہ یؤمنونOو اذا یتلٰی علیھم قالوا اٰمنا بہ انہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمینOاولٰئک یؤتون اجرھم مرتین بما صبروا ویدرء ون بالحسنة السیئة و مما رزقناھم ینفقونOو اذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ و قالو لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلٰم علیکم لا نبتغی الجٰھلینOانک لا تھدی من احببت ولٰکن اللہ یھدی من یشآء وھو اعلم بالمھتدینOو قالو ان نتبع الھدٰی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرماً اٰمناً یجبیٰ الیہ ثمرٰت کل شی ئٍ رزقاً من لدنا ولٰکن اکثرھم لا یعلمونOوکم اھلکنا من قریة بطرت معیشتھا فتلک مسٰکنھم لم تسکن من بعدھم الا قلیلاً و کنا نحن الوٰرثینOوما کان ربک مھلک القرٰی حتیٰ یبعث فی اُمھا رسولاً یتلوا علیھم اٰیٰتنا وما کنا مھلکی القرٰی الا و اھلھا ظالمونOوما اوتیتم من شی ئٍ فمتاع الحیٰوة الدنیا و زینتھا وما عند اللہ خیر و ابقٰی افلا تعقلونOافمن و عدنٰہ وعدًا حسنًا فھوا لاقیہ کمن متعنٰہ متاع الحیٰوة الدنیا ثم ھوا یوم القیٰمة من المحضرینOویوم ینادیھم فیقول این شرکآ ء ی الذین کنتم تزعمونOقال الذین حق علیھم القول ربنا ھٰولآ ء الذین اغوینا اغوینٰھم کما غوینا تبرانا الیک ما کانوا ایانا یعبدونOو قیل ادعوا شرکآ ء کم فدعوھم فلم یستجیبوا لھم وراو العذاب لو انھم کانو یھتدونOو یوم ینادیھم فیقول ماذا اجنتم المرسلینOفعمیت علیھم الانبآء یومئذٍ فھم لا یتسآء لونOفاما من تاب و اٰمن و عمل صالحاً فعسیٰ ان یکون من المفلحینOو ربک یخلق ما یشآ ء و یختار ماکان لھم الخیرة سبحٰن اللہ و تعٰلٰی عما یشرکونOوربک یعلم ما تکن صدورھم وما یعلنونOوھواللہ لا الہ الا ھوا لہ الحمد فی الاولیٰ و الاٰخرہ ولہ الحکم و الیہ ترجعونO
اور البتہ ہم ان کے پاس ہدایت بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جب ان پر پڑھا جاتا ہے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ ہمارے رب کی طرف سے یہ حق ہے، ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکے صبر کی وجہ سے دگنا بدلہ ملے گا اور بھلائی سے برائی کو دور کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیرلیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لئے ہمارے اعمال تمہارے لئے تمہارے اعمال، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔ بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔ اور کہتے ہیں اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت پر چلیں تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں، کیا ہم نے انہیں حرم میں جگہ نہیں دی جو امن کا مقام ہے جہاں ہر قسم کے ثمرات کا رزق ہماری طرف سے پہنچایا جاتا ہے۔ لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے۔ اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کرڈالا جو اپنی معیشت پر نازاں تھے، سو یہ ان کے گھر ہیں کہ ان کے بعد آباد نہیں ہوئے مگر بہت کم، اور ہم ہی وارث ہوئے۔ اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں۔ اور جو چیز تمہیں دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے، جو چیز اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے، کیا تم نہیں سمجھتے۔ پھر کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو سو وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کے برابر ہے جسے ہم نے دنیا کی زندگی کا فائدہ دیا پھر وہ قیامت کے دن پکڑا ہوا آئے گا۔ اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا میرے شریک کہاں ہیں جن کا تم دعویٰ کرتے تھے۔ جن پر الزام قائم ہوگا وہ کہیں گے اے رب ہمارے! وہ یہی ہیں جنہیں ہم نے بہکایا تھا، انہیں ہم نے گمراہ کیا تھا جیسا کہ ہم گمراہ تھے، ہم تیرے روبرو بیزار ہوتے ہیں، یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔ اور کہا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو پھر انہیں پکاریں گے تو وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور عذاب دیکھیں گے، کاش یہ لوگ ہدایت پر ہوتے۔ اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا تم نے پیغام پہنچانے والوں کو کیا جواب دیا تھا۔ پھر اس دن انہیں کوئی بات نہیں سوجھے گی پھر وہ آپس میں بھی نہیں پوچھ سکیں گے۔ پھر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کئے سو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہوگا۔ اور تیرا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہے پسند کرے، انہیں کوئی اختیار نہیں ہے، اللہ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔ اور تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے، اور اسی کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (سورة القصص :70-51)
ان آیات میں پہلے اہل کتاب کے بارے میں مقدمہ باندھا گیا ہے کہ ان میں بھی بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں جو حق کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ یہ کلام ہمارے رب کی طرف سے ہے اور ہم تو پہلے سے ہی مسلمان تھے۔ان اہل کتاب کی دو خوبیوں کی وجہ سے ڈبل اجر کے مستحق قرار دئیے گئے ہیں۔ پہلی خوبی ان میں صبر کی اعلیٰ ترین صفت اور دوسری برائی کا بدلہ نیکی سے دینا۔ اس مقدمہ کو پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر اصل مقصد کی بات واضح کردی ہے کہ جہاں اللہ کسی نبی کو مبعوث فرماتا ہے تو اس میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو جاہلوں سے تصادم کی شکل اختیار کرنے کے بجائے فضول کے بکواسات سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم پر سلام ہو ، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔ دوسری طرف بڑا مفاد پرست ٹولہ ہوتا ہے اور اس کی صفت یہ ہوتی ہے کہ اگر ہم نے حق کو قبول کرلیا تو پھر اس کی پاداش میں ہم اپنی زمین سے اٹھالئے جائینگے۔ حضرت ابوطالب اور حضرت ابوسفیان دونوں میں سے کون کس صف میں کھڑا تھا؟۔ حضرت ابوطالب نے تو شعب ابی طالب میں تین سال کی مشکلات گزار کر ثابت کیا کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو حق کو اسلئے قبول نہیں کررہے تھے کہ اگر حق کو قبول کیا تو اپنی زمین سے اٹھالئے جائیں گے۔ البتہ ابوسفیان جب تک مکہ فتح نہیں ہوا تو اس دوسری صف میں ہی کھڑا تھا۔دوسری صف کے سرداروں میں زیادہ تر ابوجہل و دیگر مارے گئے اور انہی سرداروں کو چھوٹے مشرک پکڑیں گے کہ تم لوگوں نے ہمیں ورغلایا تھا۔ بت تو کسی کو ورغلانے سے رہے۔ ابوطالب اور ابوجہل بالکل الگ الگ صفوں میں کھڑے تھے اور قرآن کی ان آیات کو بار بار فجر کے وقت تازہ دماغ کیساتھ پڑھ کر دیکھو۔ نبی ۖ نے ابوجہل و عمر بن خطاب کیلئے دعا مانگی تھی۔ اور سردارانِ قریش کیلئے خواہش تھی کہ وہ ایمان لائیں۔ ان پر آیات سے روشنی ڈالنے میں ادھر سے ادھربات نہیں جاسکتی ہے۔ البتہ فتح مکہ کے بعد حضرت ہندہ ، حضرت ابوسفیان ، حضرت معاویہ نے اسلام قبول کیا تو اللہ نے ان الفاظ میں نشاندہی فرمائی ہے۔فاما من تاب و اٰمن و عمل صالحاً فعسیٰ ان یکون من المفلحین ” پس اگر کسی نے توبہ کرلی اور ایمان لایا اور نیک اعمال کئے تو پھر ہوسکتا ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوجائے” لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خلافت کو امارت میں بدل دے اور یزید کو بھی مسلط کرے اور خلافت کو بنوامیہ یا بنوعباس کی لونڈی بنائے تو یہ عمل صالح ہے۔
حضرت امیر معاویہ نے خود اس خدشے کا اظہار کیا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ ایسے حکمران ہوں گے جو ہرقسم کی الٹی سیدھی ہانکیں گے لیکن کوئی خوف سے ان کو جواب نہیں دے سکے گا۔ وہ بندر اور خنزیر کی شکل میں جہنم رسید ہوں گے ۔تین جمعہ میں مسلسل کہا کہ بیت المال میرا ذاتی ہے اور اس پر کسی کا حق نہیں ۔ جب تیسرے جمعہ میں کسی نے کہا کہ آپ کا نہیں عوام کا ہے تو ان کی جان میں جان آگئی اور دعائیں دیں کہ اس شخص کی وجہ سے میں وعید سے بچ گیا۔ورنہ مجھے یقین ہوچکا تھا کہ میں ان میں شامل ہوں۔ (عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں ۔مصنف: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید)
والذین اٰمنوا و ھاجروا و جٰھدوا فی سبیل اللہ و الذین اٰووا و نصروا اولٰئک ھم المؤمنون حقاً لھم مغفرة و رزق کریمO(انفال74:) نبی ۖ سے اللہ نے فرمایا کہ الم یجدک یتیمًا فآویٰ ” کیا ہم نے آپ کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانہ دیا”۔ نصرت اور ٹھکانا دینے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا تو قرآن کی آیت میں سچے مؤمنوں میں بھی ابوطالب سر فہرست ہیں۔ بخاری میں رفع الیدین کی روایات مسترد کرتے ہو کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” گھوڑے کی دم کی طرح نماز میں ہاتھ مت ہلاؤ” پھرعید کی نماز میں پاگل گائے کی طرح دم ہلانے سے نہیں شرماتے؟۔ فیصل آباد میں کار والا گدھا گاڑی والے سے کہہ رہا تھا کہ نوازشریف کو ہٹاؤ۔ اس نے دم اٹھاکر دکھائی کہ تیری بہن بینظیر ہے۔ یہ نہ ہو کہ دوسروں کو جعلی سید کہنے والا سیف اللہ قادری خود میراثی نکل آئے۔ علم اورشکل کیساتھ طرزِ گفتگو سے لگتا ہے کہ یہ ہیرہ شیعہ بن کر منڈی میں چھپ جائیگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv