پوسٹ تلاش کریں

Why I was expelled? Pay respect to vote! Nawaz Shareef. Why I was expelled? Pay respect to Mufti. Mufti Aziz-ur-Rehman.


Mufti Aziz-ur-Rehman, Mufti, Nawaz Shareef, Pay respect to vote, Mujhe q nikala, Nawaz Shareef, Nawaz Shareef, Pay respect to vote, Mujhe q nikala..

مجھے کیوں نکالا؟ ۔ ووٹ کو عزت دو: نواز شریف
مجھے کیوں نکالا؟۔ مفتی کو عزت دو: مفتی عزیز الرحمن

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
نوازشریف نے پارلیمنٹ میں ایون فیلڈ کااعتراف کیا مگر عدالت میں مکر گیا، مفتی عزیز Mufti Aziz-ur-Rehman الرحمن نے اعترافِ جرم کیا اب دیکھنایہ ہے کہ مفتی عزیز بھی یہ واویلا کرتا ہے کہ نہیں کہ
مجھے کیوں نکالا؟ داڑھی کو عزت دو

ویڈیوکے بعد یہ حکم دیا گیا:پس نکل جا !جامعہ منظور ال so اسلامیہ، جمعیت علماء اسلام، وفاق المدارس سے، بیشک تو مردود ہے۔ استاذ ملائکہ ابلیس سے کہا گیا تھاکہ فاخرج انک رجیم

so ابلیس جنت میں فرشتوں کیساتھ تھا ۔ اللہ کی نافرمانی پر شیطان سے کہا گیا کہ فاخرج انک رجیم ”پس نکل جا! بیشک تو مردود ہے”۔ نافرمانی پر اللہ نے آدم و حواء کو بھی جنت سے نکالا۔ قرآن نے حکم so کو اتنی رازداری سے بیان کیا ہے کہ لوگوں کو یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ درخت گندم کا تھا یا کسی اور چیز کا؟۔ مفتی عزیز الرحمن so اگر گناہ سے باز آتااورمدرسہ چھوڑ دیتا تو مدارس و داڑھی والوں کو بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن یہ ضد کہ ”مجھے so عہدے پربحال رہنا ہے” نے اس کو بدنام کردیا اور پھر وفاق المدارس پاکستان ،جمعیت علماء اسلام اور جامعہ منظورالاسلامیہ لاہور کینٹ نے اس کو نکال دیا۔

Mufti Aziz-ur-Rehman

ابلیس کی وجہ سے فرشتوں کو بدنام کرنا غلط ہے اور حضرت آدم و حوا so سے نافرمانی ہوئی تھی۔ البتہ انہوں نے جنت سے نکالنے پر جھوٹ نہیں بولا بلکہ اپنے گناہوں so پر اللہ سے معافی مانگی تھی۔ مدارس مذہبی تعلیم ہی Mufti Aziz-ur-Rehman کا نہیں بلکہ پاکستان اور دنیا میں خواندگی اورناداروں کی کفالت کی لاجواب (NGO,S)ہیں۔ کسی شخص یا چند افراد کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام کرنے کی روایت غلط ہے ۔ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔ so حامد میر نے جنرل رانی کا ذکر کیا تو الیکٹرانک میڈیا میں اس پر پابندی لگ گئی ۔

Mufti Aziz-ur-Rehman

سوشل میڈیا پر so جنرل رانی کی کہانی عرصہ سے چل رہی تھی۔مولانا سمیع الحق کو Mufti Aziz-ur-Rehman سبزی کی چھریوں سے شہید کیاگیا لیکن ان کو اتنی اہمیت نہ ملی۔ مذہبی طبقے سمیت چند افراد کی وجہ سے کسی بھی طبقے کو نشانہ بنانا غلط ہے ۔ تنقید سے کوئی so بالاتر نہیں اور جس کا جتنا بڑا درجہ اور عہدہ اس کی نالائقی پر اسکے Mufti Aziz-ur-Rehman خلاف نفرت کا اظہار معمول کی بات ہے۔ عزازیل کی ڈھٹائی نے ابلیس کو

test

لعین so بنادیا اور آدم کی توبہ نے شرافت کے اعزاز کودوچند کردیا۔ صفحہ Mufti Aziz-ur-Rehman نمبر2اور دیگر صفحات پر حقائق دیکھ لیں۔
میرے وطن میرے بس so میں ہو، تو وزیر کو تختہ دار کردوں
میں کھینچ کر حاکموں so کو در در شہر شہر سنگسار کردوں
میرے وطن میرے بس میں ہو، گر میری ریاست کی سربراہی
پولیس کو جیلوں میں لاکے رکھوں عدالتیں مسمار کردوں
یہاں پہ قانون بک رہا ہے یہاں پہ مظلوم جھک رہا ہے
لگائے انصاف کی نہ بولی، میں بند یہ کاروبار کردوں
میری حکومت کو موت آئے تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش
کرپٹ لیڈر کے قلب میں خنجروں کا لشکر سوار کردوں
یہاں درندوں کی بھوک کلیوں کو لمحہ لمحہ مسل رہی ہے
میں ان سبھی وحشی ظالموں قاتلوں کے ٹکڑے ہزار کردوں
جو آج مظلومیت پہ احسن فقط سیاست رچا رہے ہیں
میں ان پلیدوں پہ ان غلیظوں پہ لعنتیں بے شمار کردوں

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

In Bathroom, all remains nude but in swimming pool ML (N) absolutely becomes nude.

کسی بھی حمام میں تو سبھی ننگے ہوتے ہیں لیکن اس سوئمنگ پول میں مسلم لیگ ن بالکل ننگی تڑنگی ہے۔ ملک کی سیاست کا جائزہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

میڈاِن اسٹیبلشمنٹ نواز لیگیوں کا (PTI)کو سلیکٹڈ کہنانری بلیک میلنگ کے سوا اور ہو بھی کیاسکتاہے؟
شہبازشریف وزیراعظم اور حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ بن سکتے تھے لیکن مریم کی راجدھانی کوخطرہ تھا

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورنے کہا تھا کہ اگر میڈیا آزاد ہوتا اور مشرقی پاکستان کی شکایات سے فوج کوآ گاہ کرتا تو یہ ملک نہ ٹوٹتا۔ حامد میر نے کہا کہ پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتاہوں اور پھر یہ پوچھتا ہوں کہ (PTM) کو یہ شکایت ہے کہ ہمیں میڈیا پر کیوں نہیں آنے دیا جاتا ہے؟۔ آپ نے الزام لگایا ہے کہ اس کو را فنڈنگ کرتی ہے۔ میں بھی اسلام آباد کے دھرنے میں گیا تھا ، وزیراعظم عمران خان بھی (PTM) کے دھرنے میں شریک ہوا تھا۔ پھر (PTM) کو کھلم کھلا میڈیا پر دعوت کیوں نہیں دیتے؟۔ آصف غفور نے لمبا جواب دیا تھا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کو اور وزیراعظم کو پتہ ہوتا کہ رانے فنڈنگ کی ہے تو آپ نہ جاتے۔ میڈیا پر اگر یہ نعرہ لگانے دیا جائے کہ ”یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے” تو پھر ان شہداء کے لواحقین کے کیا تأثرات ہونگے جنہوں نے جانوں کے نذرانوں کی قربانیاں دی ہیں؟۔ تفصیل یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ کیا را کی فنڈنگ کے ثبوت کو میڈیا پر سب کے سامنے واضح طور پر لانا ممکن نہیں ؟۔
آرمی چیف جنرل باجوہ نے کہا کہ علی وزیر کو بس سٹینڈ پر قبضہ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ پولیس نے پھر سندھ پولیس کے حوالے کیوں کیا تھا؟۔ جبکہ بس سٹینڈ پر سندھ میں قبضہ نہیں کیا تھا؟۔ اس کا جواب یہ ہوگا کہ” سندھ میںاپنے غصے کا اظہارجرم بن گیا ہے”۔
کھریاں کھریاںکا ریموٹ نوازشریف ہے، وہ جوالزام لگاتا ہے تو کیا آرمی چیف اور (DGISI)کو بلیک میل کرکے نوازشریف پر پارلیمنٹ، میڈیا اور عدالت میں ثابت شدہ جرائم کوکلین چٹ دینے پر مجبور کر رہا ہے؟۔سیاسی مسئلے کا نچوڑ یہی ہے لیکن اس مسئلے کا حل بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
سب سے پہلے پارلیمانی سیاست کو بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ جب شاہد خاقان عباسی کا نام (ECL)سے نکال کر بیرونِ ملک جانے دیا گیا تھا تو اس وقت سوشل میڈیا پرنوازشریف کے ذاتی حجام لگنے والے سیدعمران شفقت نے کہا تھا کہ ”ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوگئی ہے۔ اب عمران خان کو مدت پوری کرنے دی جائے گی۔ کبھی عمران خان اور کبھی اسٹیبلشمنٹ پرحملے ہونگے مگر یہ سیاست چلتی رہے گی”۔ مولانا فضل الرحمن کے قریبی صحافی شاکر سولنگی نے خبر دی تھی کہ اب نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کا نام لیکر مخالفت نہیں کرینگے اور وہی ہوا۔
مریم نواز نے مولانا فضل الرحمن کو لگادیا تھا کہ حکومت گرانے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ مولانا نے چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف بیان داغ دیا اور پھر پیپلزپارٹی سے مطالبہ کیا کہ پنجاب اور مرکز میں اپنے پتے شو کریں۔
ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن کے علاوہ ایک عام تأثر یہی تھا کہ یوسف رضا گیلانی کو حفیظ شیخ کے مقابلے میں جیتنا ممکن نہیں لیکن جب گیلانی جیت گیا تو ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن کی روحیں پریشان ہوگئیں۔ مریم نواز نے کھل کر کہا کہ پنجاب میں ہم عثمان بزدار کی حکومت نہیں گرائیںگے۔ مرکز میں بھی وہ عمران خان کی حکومت کو نہیں گرانا چاہتی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کھلم کھلا شہباز شریف کو وزیراعظم اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی پیشکش کردی لیکن مریم نواز کو اپنی راجدھانی کی فکر پڑگئی۔ یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدے پر ہرادیا ۔پیپلز پارٹی کو (PDM) سے باہر دھکیل دیا گیا کیونکہ شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو بھی اقتدار کی دہلیز پر پہنچانے سے روکنے کیلئے یہ نوازشریف اور مریم نواز کیلئے ضروری تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ”میں70سال کا بوڑھا ہوں۔ پہلے بھی علاج کی غرض سے لندن جانے کے بعد واپس آیا ہوں”۔ اور یہ بیان دراصل نوازشریف کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ تھا لیکن میڈیانے اس کوبالکل اہمیت نہیں دی تھی۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی ن لیگ کو جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے اور اس کی مثال اس بچے کی ہے جو دوسرے بچے سے کہتا ہے کہ تمہارے منہ میں لالی پاپ بہت خراب ہے ۔ جب وہ بچہ لالی پاپ کو پھینک دیتا ہے تو وہ خود مٹی سے اٹھاکر اپنے منہ میں ڈال لیتا ہے۔ ن لیگ خود اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے لیکن تحریک انصاف کو سلیکٹڈ کہہ کر اپنی راہ ہموار کررہی ہے اور دوسری طرف پاک فوج پر الزامات لگاکر اس پر اپنا دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ اگر (RMtv)لندن کھریاں کھریاں میں راشد مراد یہاں تک کہتا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو بھی پاک فوج نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے شہید کروایا تھا تو پھر پختون، سندھی، بلوچ، مہاجر، پنجابی اور سرائیکی پاک فوج کے بارے میں کیا سوچیں گے؟۔ جب نوازشریف کے دور میں عمران خان کا دھرنا ختم کرنے کیلئے راحیل شریف نے آرمی پبلک سکول کے پختون بچوں کو قتل کرنے کی سازش کی ہو توپھر لوگوں کا دماغ پنجابیوں، پاک فوج اور تختِ لاہور کے خلاف نہیں بھڑکے گا؟۔ فوج مخالف عناصر کو یہ کون سمجھائے کہ پاک فوج ایک طرف عمران خان کا دھرنا کروائے؟ اور دوسری طرف دھرنے کو ختم کرانے کیلئے معصوم بچوں کا بے گناہ خون کیوں بہائے ؟ ۔پھر تو وزیراعظم نوازشریف پر بھی لعنت ہو۔ لیکن میڈیا لوگوں کا شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا ہے۔
فوج میں ہزار خامیاں ہیں لیکن قومی سلامتی کا یہ واحد ادارہ ہے۔ہماری قوم تعلیم وتربیت اور حکمت وشعور سے بالکل عاری ہے۔ ہم کسی بڑے حادثے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ نوازشریف کا فوج سے ان خامیوں پر کوئی اختلاف نہیں ہے جو قابلِ اصلاح ہیں بلکہ وہ اپنے جرائم پر پاک فوج کو پردہ نہ ڈالنے کی سزا دینا چاہتا ہے کہ ” مجھے کیوں نکالا؟”۔حالانکہ گیلانی کو بھی نکال دیا گیا تھا۔
اگر(1993عیسوی) میں کرپشن کے ذریعے لندن فلیٹ لینے پر فوج نے مجبور کیا اور (2013عیسوی) میں منتخب وزیراعظم بننے کے بعد فوج نے پارلیمنٹ میں جھوٹا تحریری بیان پڑھنے اور پھر قطری خط لکھنے اور اس سے لاتعلقی پر مجبور کیا تھا تو نوازشریف خالی لندن سے بیان جاری کردے اور فوج سے نمٹنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے لیکن اپنے جھوٹ، لوٹ اور کھسوٹ کی سزا افواجِ پاکستان کو دینا ملک ، قوم اور سلطنت کی کیا خدمت ہے؟۔ جنرل راحیل شریف کو خود لائے تھے اور اس دور میں فوج کے اہلکاروں کو کرپشن پر سخت سزائیں دی گئیں تو آپ کو کرپشن سے بچانے کا ٹھیکہ اس نے کیوں لینا تھا؟۔ پھر جنرل باجوہ کو میرٹ کی خلاف ورزی کرکے آرمی چیف بنالیا۔ اس پر بقول انصار عباسی کے شبہ تھا کہ قادیانی ہے تو اس کی وجہ سے قومی اسمبلی اور سینٹ میں شرمناک بل پاس کرنے کی کوشش کی ۔ جب اس بل کے خلاف تحریک لبیک والے کھڑے ہوگئے تو اس کا الزام بھی پاک فوج پر ہی لگادیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیوی کے نام سے جو جائیداد لی تھی تو اسکا حقِ نمک بھی فائز عیسیٰ نے ادا کردیا؟۔
ن لیگ کی سیاست کا محور یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ(2023عیسوی) کے الیکشن میں اس کو حکومت میں آنے کا موقع دے۔ اس نے پیپلزپارٹی کو (PDM)سے باہر کیا۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ کردیا ۔ الیکٹرانک ، سوشل اور پرنٹ میڈیا کے کئی صحافیوں کو بھی خرید لیا۔ حکومت اس کی تجارت و بادشاہت کے خواب ہیں۔ عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو ہی غلط نہیں قرار دیا بلکہ خصوصی عدالتوں کے وجود کو بھی انصاف کے منافی قرار دیا۔ پھر وہ وقت بھی دور نہیں کہ نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف عدالتی فیصلوں کو عدالت کالعدم قرار دے دے گی۔ ساری برائیاں فوج کے کھاتے میں اس طرح ڈال دی جائیںگی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید کے یہ کرتوت تھے۔ قوم خوش ہوگی کہ پنجابی قیادت نے فوج سے جان چھڑائی ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کہتے تھے کہ مجھے ان لوگوں سے بھی پیار ہے جنکے کتے انگریز کو بھونکتے ہیں۔ فوج مخالف سیاستدانوں اور مذہبی وقوم پرست پارٹیوں کو کتے راشد مراد سے بھی پیار ہوگاجو تہمینہ دولتانہ قسم کی عورت کی اولاد ہے جو جوانی سے بڑھاپے تک نواز شریف پر قربان ہیں۔
نظریاتی اختلاف کی جنگ رحمت ہے اور مفادپرستی اور تکبر کی جنگ زحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے حضرت انسان کی پیدائش پر فرشتوں نے اختلاف کیا تھا اور شیطان نے اس کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ ایک اختلاف محمود اور دوسرا مذموم تھا۔ پاک فوج سول حکومت کے ہرکاروبار میں شریک ہے جس نے پوری قوم کو فوج سے بدظن کردیا ہے۔ روڈ بنانے اور پانی سپلائی سے ٹول ٹیکس کا ٹھیکہ لینے تک ہر چیز پر قبضہ کرنے کے تأثرات نے بہت خراب فضاء بنائی ہوئی ہے۔
جب پرویزمشرف نے ن لیگ کی حکومت ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو قوم جشن منارہی تھی لیکن ہم نے اپنے اخبار کے اداریہ میں لکھ دیا تھا کہ فوج کی تعلیم و تربیت اپنے لوگوں پر حکومت کیلئے نہیں بلکہ دشمن سے انتقام کیلئے ہوتی ہے اور یہ فوج اور قوم کے مفاد میں ہرگز بھی نہیں کہ پاکستان پر فوجی اقتدار قائم ہوجائے۔ پرویزمشرف کے بعد پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف باری باری اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن بقول شاعر افکار علوی کے ” مقاصد تو حل ہوئے مسائل نہیں ہوئے”۔ پاکستان جس طرح چل رہاہے ہماری قوم اس کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمارا اسلام، ایمان، قومی غیرت، اقدار اور سب کچھ جعلی بن چکا ہے۔ تحریک انصاف کے بعد ن لیگ کو لانے کیلئے گٹھ جوڑ کا یہ ملک ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ حکومتوں کو لانے اور حکمرانوں کو ہنکانے کیلئے لوٹوں کی فوج ظفر موج ہر وقت تیار رہتی ہے۔ طوفانوں میں ہواؤں کے دوش پر چلنے کے قائدین ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوتے ہیں جو آبادیوں کو سہارا نہیں دے سکتے ہیں بلکہ کھیتوں اور کھلیانوں ،جانوروں اور انسانوں کو نقصان پہنچادیتے ہیں۔ ایسے وقت میں چٹانوں سے زیادہ مضبوط انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کو ندی نالے بہاکر نہیں لائے ہوں بلکہ قدرت کے عظیم شاہکار ہوں۔
عام انسانوں کیلئے کاروبار، تعلیم اور مزدوری کے دروازے بند کئے جارہے ہیں۔ سود اور ٹیکسوں کے ذریعے سے ریاست اپنی عوام پر وہ بوجھ بنتی جارہی ہے کہ اب سایہ دار درخت بننے کے بجائے عوام کی کمر توڑ رہی ہے۔ سیاسی اشرافیہ کو اپنی حکومت، تجارت اور بادشاہت کی فکر پڑی ہے۔ فوج سے جنگ اپنے مفادات کیلئے ہے مگر عوام کی خاطر کسی کے اندر کوئی سوچ نہیں ہے۔ علامہ اقبال کے اشعار کی گونج” آوازِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو”اب بنتی جارہی ہے کہ
اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امراء کے در ودیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو
پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا لیکن سود کے بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کو بھی اسلامی بینکاری کے نام پر جائز قرار دیا گیا ۔ مذہبی طبقے مذہبی لبادے میں سراپا شیاطین ہیں۔ اسلام کی ایک ایک بات کو مٹانے میں ان کا بہت بنیادی کردار ہمیشہ سے رہاہے۔ اگر سود کو اسلامی قرار دیا جائے تو پھر زنا، چوری، ڈکیتی اور کونسی ایسی چیز ہوگی جو غیر اسلامی ہوگی؟۔ رسول اللہۖ نے زنا بالجبر پر ہی سنگساری کی سزا دی تھی۔ علماء ومفتیان نے زنا بالجبر کیلئے بھی چار عینی گواہوں کی شرط رکھ کر اس پر اسلام کے اندر زنا کے اطلاق سے انکار کردیا۔ حالانکہ نبیۖ نے ایک عورت کی گواہی کو قبول کیا اور یہ نہیں دیکھا کہ زنا بالجبر کرنے والا شادی شدہ ہے یا کنوارا ہے؟۔ خواجہ محمد اسلام کی کتاب ”موت کا منظر” میںبھی زنا بالجبر کی سزا لکھی ہوئی ہے مگرکہیں اس کو کتب خانوں سے غائب نہ کردیا جائے۔
قرآن میں تورات کے حوالے سے اللہ نے فرمایا ہے کہ ” جان کے بدلے میں جان ہے، دانت کے بدلے میں دانت ہے،کان کے بدلے میں کان ہے، ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ ہے اور زخموں کا بدلہ ہے اور جو اللہ کے حکم پر عمل نہیں کرتا تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔ پاکستان میں سرمایہ دارنہ اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے آج تک قرآن وسنت کے مطابق آئینِ پاکستان کے تحت قانون سازی نہیں کی گئی۔ کیونکہ یہاں ہمیشہ عدالتوں میں انصاف بٹ نہیں بک رہا ہے۔
مولوی کو زکوٰة خیرات اور سیاستدانوں کی کاسہ لیسی سے فرصت ملے تو اسلام کیلئے قانون سازی کی بات کریں؟۔ ریاستِ مدینہ میں یہود اور دشمن منافق طبقے کو اسلام کے معاشرتی اور اقتصادی نظام نے شکست سے دوچار کردیا تھا مگر ہمارے ہاں شیطان نے ایسی پود تیار کررکھی ہے جن کو دیکھ کر شرمائے یہود۔
جب سود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہۖ نے زمین مفت میں کاشت کیلئے دینے کا حکم دیدیا۔ زمین کا اصل مالک اللہ ہے اور اس پر اختیار بھی اسکے حکم سے چلتا ہے۔ اسلام نے زمین کی ملکیت سے محروم نہیں کیا بلکہ زمین کو مزارعت ، کرایہ ، بٹائی پر دینے سے روکا تھا۔ امام ابوحنیفہ ، مالک اور شافعی سب متفق تھے کہ زمین کو بٹائی پر دینا حرام ہے۔ اگرمسلمان اصل اسلام پر چلتے تو دنیا میں جاگیردارانہ نظام کیوجہ سے غلام اور لونڈی کا نظام بھی کب کا ختم ہوجاتا۔ مارکس کو بھی کوئی نظریہ گھڑنے کی ضرورت پیش نہ آتی جس کیلئے علامہ اقبال نے بھی شاعری کی اور چین وروس میں یہ نظام عروج پر پہنچنے کے بعد ختم بھی ہوگیا۔
جب مدینہ کے لوگوں کو مفت میں زمینیں مل گئیں تو ان محنت کشوں میں قوت خرید بہت بڑھ گئی جس کی وجہ سے مدینہ کے تاجر وں نے دن دگنی رات چگنی ترقی کی۔ کسی شیعہ نے شکایت کی کہ آپ فقہ جعفریہ کا نام نہیں لیتے تو میں نے کہا کہ شیعہ کی تقلید کا یہ حال ہے کہ مجھ سے ایک شیعہ نے کہا کہ سمندر کی جن مچھلیوں کو ہم نہیں کھاتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان ہیں جن کو مسخ کیا گیا ہے اور یہ حضرت علی کا فرمان ہے۔ دوسری طرف شیعہ کے اجتہاد کا یہ عالم ہے کہ یہاں تک لکھ دیا ہے کہ سؤر کے گوشت کو قرآن میں جس وجہ سے حرام کیا گیا ہے اگر وہ چیز نکال لی جائے تو پھر سؤر بھی حلال ہے۔ ہم اپنے فقہاء سے ہی جان چھڑا رہے ہیں جنہوں نے بعد میں اسلام کو مسخ کیا ہے تو اگر مزارعت کے مسئلے میں احادیث کو لیا جائے پھر شیعہ باغ فدک کی کئی گھڑی کہانیاں بھول جائیں گے۔
پاکستان میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے۔ حنفی مسلک کا تعلق مسخ شدہ مسائل نہیں بلکہ امام ابوحنیفہ ہی کا مسلک ہے۔اگر زمینوں کو محنت کش مزارعین کو مفت میں صرف فصل اُگانے کیلئے دی جائے تو ہوس پرست اور حرام خور طبقہ حرام سے بڑی بڑی جائیدادیں بھی نہیں خریدے گا اور زمین سستی ہوجائے گی اور محنت کش طبقے کو اپنی پوری پوری اُجرت مل جائے گی تو یہ انقلاب کا وہ آغازہوگا جس سے مدینہ کی بہت چھوٹی سی ریاست پوری دنیا پر چھا گئی تھی۔ پاکستان بھی اس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا اور ہمیں اسی کی طرف جلد یا دیر سے آنا ہی پڑے گا۔
مولانا فضل الرحمن مریم اور حمزہ کے گلے لگانے ،مولانا عزیز الرحمن کی مذموم حرکت کو بھی اسلام اور مشرقی اقدار کا لبادہ پہنادے تو یہ اسلامی سیاست ہوگی؟۔

خاص خاص باتیں:
بلاول بھٹو نے شہباز شریف کو وزیراعظم اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی پیشکش کردی مگر یہ طے ہوگیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو مدت پوری کرنی دینی ہے اور اس کا اظہار شاہد خاقان عباسی کا نام (ECL) سے نکال کر لندن جانے کی اجازت دیتے ہوئے نوازشریف کے ذاتی حجام لگنے والے سوشل میڈیا صحافی سید عمران شفقت اور شاکر سولنگی نے بہت پہلے کردیا تھا جس پر عمل ہورہاہے

راشد مراد(MRtv)لندن نے کھریاں کھریاں میںالزام لگایا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو فوج نے شہید کیا،اگر عمران خان کا دھرنے کو ختم کرنے کیلئے قدم اٹھایا گیا تھا تو وزیراعظم نوازشریف اور فوج کے بارے میں پنجابی، بلوچ، پختون، سندھی اور مہاجرکیا سوچیںگے؟۔ نوازشریف ذاتی مفاد کیلئے کتے کو لگاکر قوم کا بیڑا غرق کر رہا ہے۔ کیا ہمارا اپنا میڈیا اب اپنی قوم کو شعور دے رہاہے؟
قرآن میں جان کے بدلے جان، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کے بدلے کا حکم ہے مگر مولوی کو زکوٰة خیرات ، سیاستدانوں کی کاسہ لیسی سے فرصت ملے تو اسلام کیلئے قانون سازی کی بات کرے ؟ ریاستِ مدینہ کے معاشی اور معاشرتی نظام نے یہود اور منافق طبقے کو انکے عروج کے دور میں شکست سے دوچار کیا،مولوی نے اب سود کے عالمی نظام کو بھی جائز قرار دیا
جب سود کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہۖ نے زمین کو مزارعت، کرایہ اور بٹائی پر دینے کو سود قرار دیا اور امام ابوحنیفہ، مالک اور شافعی سب متفق تھے کہ زمین کو بٹائی پر دینا ناجائز ہے۔ مولانا فضل الرحمن مریم و حمزہ کے گلے ملنے اور مولانا عزیز الرحمن کی بیہودہ حرکت کو بھی اب ناجائز قرار دینے کی بجائے سازش قرار دے تو یہ اسلامی اور مشرقی اقدار ہیں تو یہ بعید از قیاس بالکل بھی نہیں ہے!

Nature of problem of Baitul Muqaddas one who is companion of USA, Israel and Saudia he is considered believed to be traitor. Huda Bhurgri speech.

Keywords: Huda Bhurgri , Baitul Muqaddas, Afghan War, Afghan Jihad, Taliban, Women Rights

فلسطین میں ہونے والے ظلم کے خلاف بات کریں افغانستان میں ہونے والے ظلم……. ہدیٰ بھرگڑی

جب کسی گورے کا قتل ہو اگر کوئی گوری ماں کا بچہ مرے تو وہ قتل ہے کیا فلسطینی عورت کے بچے بچے نہیں ہوتے۔ کیا فلسطینیوں کے گھر گھر نہیں ہوتے۔ کیا فلسطینیوں کے لوگ انسان نہیں ہوتے۔ یہ جو پورے کا پورا بحران ہے یہ جو ایمپیریلسٹ نظام ہے اس نظام کا خاتمہ صرف اور صرف تب ہوگا جب ہم صرف فلسطین کے مسئلے پر نہیں بلکہ افغانستان میں ہونے والے اس ظلم کے خلاف بھی بات کریں۔ ہم برما میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھی بات کریں۔ ہم کشمیر میں بھی ہونے والے ظلم کے خلاف بات کریں۔ ہم ان تمام مظالم کی بات کریں جوکہ شام میں ہوئے جو کہ عراق میں ہوئے جو کہ یمن میں ہورہے ہیں۔ جب گھر ٹوٹتا ہے جب گھروں سے جنازے اٹھتے ہیں جب عیدوں کے دن عید کی نماز کے بجائے جنازہ کی نمازیں پڑھنی ہوتی ہیں تب دلوں سے یہ آواز نہیں نکلتی کس کا کیا مذہب تھا۔ تب صرف یہ آواز نکلتی ہے کہ کیا یہ انسان تھے کہ نہیں تھے۔ ہم اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی طرف سے خصوصا پاکستان کی عورت آج کھڑی ہے آج فلسطینی بہنوں کے ساتھ شامی بہنوں کے ساتھ عراقی بہنوں کے ساتھ۔ افغانستانی بہنوں کے ساتھ کشمیری بھائیوں کے ساتھ کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم عورتوں کے جسموں کو استعمال کیا جاتا ہے ایک (collateral damage) سمجھ کر عورتوں کو استعمال کیا جاتا ہے ایک ڈیموکریٹک تھریٹ سمجھ کر۔ کئی عورتیں آج بھی اسرائیل میں ایسی ہیں جن کے مس کیرج ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کو پانی نہیں ملتا کیونکہ ان کو میڈیکل کی سہولتیں نہیں ملتیں۔ کیونکہ ان کو لیبر کے دوران اسرائیلی چیک پوسٹوں کے پاس کئی کئی گھنٹے انتظار کرایا جاتا ہے تاکہ ان کی نسلیں تباہ ہوجائیں۔ ہم اس اشو کو ایک فیمنسٹ اشو سمجھتے ہیں اور ہم اس جدوجہد کو ایک فیمنسٹ جدوجہد سمجھتے ہیں۔ آپ سب میرے ساتھ اس نعرے کا جواب دیں گے۔ ہمیں اس دور کے اندر یہ یاد رکھنا ہوگا کہ غداری کس نے کی ہمارے ساتھ۔ کون ہے جو ہمارے ساتھ نہیں کھڑا۔ ہم آج بات کریں کہ ان غداروں کی۔ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ اسرائیل کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ سعودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Ten Question from Mubashir Ali Zaidi raised by Atheist and reply thereof by Syed Atiq Ur Rehman Gilani, Is it-true that Abdul Muttalib was Mushrik? The solution regarding establishment of Shia Sunni Block be also studied here.

Keywords: Shia Sunni Block, Sipa e Sahaba, Mubashir Ali Zaidi, Atheist, Londi, Halala, Nikah, Women Rights in Islam, Talaq, Divorce, Khula, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam

ملحدین کے ایک گروپ کے چند سوالات کا ترجمہ رقیب اللہ محسود کی تجویز پر مفصل جواب دیا گیا ہے

معروف صحافی امریکہ میں مقیم جنگ گروپ کے مبشر علی زیدی (Mubashir Ali Zaidi)کی طرف سے چند سوالات۔
کوئی بتاسکتا ہے کہ دین ابراہیمی کیا تھا؟
کیا یہ توریت، زبور اور انجیل آنے کے باوجود برقرار رہا؟
پچھلی شریعت کو اگلی منسوخ کردیتی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟
درست ہے تو دین ابراہیمی کیسے برقرار رہا؟
تاریخ طبری کے مطابق رسول کے دادا عبدالمطلب مشرک تھے؟
تاریخ طبری غلط ہے تو کیا عبدالمطلب دین ابراہیمی پر تھے؟
عبدالمطلب دین ابراہیمی پر تھے تو ان کی زندگی میں ان کا بیٹا ابولہب کیسے مشرک ہوگیا؟
عبدالمطلب کے کون کون سے بیٹے دین ابراہیمی پر تھے اور کون کون مشرک ہوا؟

Mubashir Ali Zaidi


کیا رسول پاک ولادت کے دن سے نبی تھے یا نبوت کے اعلان کے دن یہ اعزاز ملا؟
نبوت کے اعلان والے دن نبی بنے تو وجہ تخلیق کائنات کیوں کہا جاتا ہے؟
ولادت کے دن سےso نبی تھے تو نبی کا نکاح کافر یا مسیحی نے کیسے پڑھایا؟
بی بی خدیجہ کلمہ پڑھ کے مسلمانso ہوئی تھیں۔ وہ دین ابراہیمی پر یا مشرک تھیں؟
کیا دین ابراہیمی والوں کو مسلمان ہونے کے لیے کلمہ پڑھنا پڑتا تھا؟اگر اسلام دین ابراہیمی کا تسلسل ہے تو کلمہ کیوں پڑھنا پڑتا تھا؟
اگر دین ابراہیمی دوسرے مذاہب جیسا تھا تو اس. کے ماننے والوں نے soمشرکوں، کافروں اور یہودیوں کی طرح اسلام کی مزاحمت کیوں نہیں کی؟

test


نوٹ: وزیرستان کے صحافی. رقیب اللہ محسود کی تجویزso پر جواب لکھا گیا ہے اور نئی نسل کو باطل مذہبی انتہا پسندی اور باطل الحاد پسندی کے رحجانات سے بچانا اور. اسلام کیso درست تصویر کو پیش کرنا ایک فریضہ ہے۔ آج ہمیں پھر جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے جس میں پختون مورچہ اورپاکستان میدان بنے گا، خدانخواستہ۔
الجواب۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

Mubashir Ali Zaidi


سوال کرنے والا دین وشریعت کی بنیادی تعلیمات سے نابلد ہے۔
دین اور شریعت میں بہت بڑا بنیادی فرق ہے۔ حضرت آدم. سے لیکرپیغمبر آخر زمان حضرت محمدۖ سب انبیا کرام کا دین ایک ہی ہے اور اس کی قرآنی آیات میں متعددso مرتبہ بہت زبردست. وضاحت ہوئی ہے۔ البتہ ہر ایک نبی کی شریعت اور منہاج میں فرق ہے۔ پاکستان کا آئین ایک ہے لیکن اقتدار. کیso دہلیز تک پہنچنے والی مختلف پارٹیوں کا منشور اور طریقہ کار اپنا اپنا ہوتا ہے۔ جب ایک آئین کے اندر رہتے ہوئے ایک وقت میں مختلف پارٹیوں کی گنجائش ہے تو ایک ہی دین میں مختلف ادوار کے انبیا کرام کیلئے مختلف شریعتوں اور طریقہ کار کی گنجائش کیوں. نہیں ہوسکتی ہے؟۔ اگر کوئی اس بات پر اعتراض کرے گا کہ ایک آئین کے تحت مختلف منشور رکھنے والی پارٹیوں کو. باری باری کیسے برسراقتدار میں آنے کی گنجائش ہوسکتی ہے

test


تو اس کو جدید دور کے جدید. ماحولso سے بالکل جاہل ہی تصور کیا جائے گا لیکن جب ایک دین میں مختلف شریعتوں کی گنجائش کا مسئلہ آتا ہے تو جس کو بات سمجھنے. کی بجائے انکار کی عادت ہو تو وہ حقیقت نہ مانے گا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں جو شریعت تھی،اسکے منہاج میںso تعظیم کیلئے سجدے کی گنجائش تھی لیکن رسول اللہۖ نے اپنی شریعت میں اس کی گنجائش ختم کردی۔ امریکہ میں پہلے غلاموں لونڈیوں کی خرید وفروخت کی گنجائش تھی اورابراہم لنکن نے اس قانون کا خاتمہ کردیا۔ تورات میں ہفتے کے دن مچھلی کے شکار پر پابندی تھی اور قرآن میں نہیں۔

Mubashir Ali Zaidi

اگر کوئی قانون کسی قوم کے .مخصوصso حالات کے پیشِ نظر تشکیل دیا جاتا ہے اور پھر دوسرے نبی کے دور میں حکم بدل جاتا ہے تو اس کی وجہ سے انسانوں پر اچھے اثراتso ہی مرتب ہوئے ہیں۔ اس مختصر تمہید کے بعد ایک ایک بات کا جواب دیکھ لیں۔دین ابراہیمی وہی تھا جو آدم سےso محمدۖ تک سب کا تھا۔توریت، زبور، انجیل اور قرآن تک بالکل بھی دینِ ابراہیمی برقرار تھا اور ہے۔ البتہ شرعی احکام اور منہاج میں وقت کیساتھ ساتھ ہر دور میں فرق آیا ہے۔

Mubashir Ali Zaidi


قرآن میں بھی واضح ہےso کہ .یہود ونصاری اور مشرکین سب کا دعوی ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں لیکن اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم یہودی، نصرانی اور مشرکso نہ. تھا بلکہ دین حنیف کا پیروکار تھا۔ جس طرح آج مختلف فرقوں کے لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور اہلحدیث سب. مسلمان ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں ہوسکتا ہے کہ نبیۖ کا تعلق ان فرقوں سے نہیں تھا۔
یہودی، عیسائی اور مشرک سبھی خود کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے۔

test

انفرادی اور اجتماعی طور پر. ان سب میں ایسے لوگso بھی تھے جن کا عقیدہ اور ایمان بالکل سلامت اور ٹھیک تھا اور ایسے لوگوں کی بھی بڑی اکثریت تھی .جن کے عقیدے اور ایمان soبگاڑ کا شکار ہوچکے تھے اور اس کی تفصیل قرآن میں بہت وضاحت کیساتھ موجود ہے۔ آج کے غالی .فرقہ پرستوں اور سلامتso ایمان وعمل والے مسلمانوں میں بھی دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں اور قرآن وسنت میں یہ واضح ہے .کہ کچھ عرصہ کے بعد پہلے soبھی لوگ بگڑتے رہے ہیں اور اس میں اچھے لوگوں اور بروں کے نمونے اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔

test


تاریخ طبری عقیدے کی کتابso نہیں ہے لیکن. جس طرح ابلیس فرشتوں کی فہرست میں شامل ہوگیا تھا، حالانکہ وہ جنات میں سے تھا۔ اسی طرح مشرکین کی اکثریت کیso وجہ. سے تاریخ طبری. میں حضرت عبدالمطلب کو soمشرکین سے منسوب کیا گیا ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عبدالمطلبso کا عقیدہ بھی بگڑ چکا تھا۔ اگر آذر کا بیٹا حضرت ابراہیمso موحد ہوسکتے تھے، حضرت آدم کا بیٹا قابیل بے عمل اور حضرت نوح کا بیٹاso کافر ہوسکتا .تھا تو عبدالمطلب کے بیٹے کا مشرک ہونا کونسی بڑی بات ہے؟۔ ایک پارسی کا بیٹا پونجا جناح ہوسکتا ہے. اور قائد اعظم .محمد علی جناح کی. بیٹی دینا جناح پارسی کیساتھ مذہب چھوڑ کر شادی کرسکتی تھی تو ابولہب کیلئے کیسے سوالso ذہنوں میں اٹھ گیا ہے؟۔ لادینوں کے بیٹے دیندار اور دینداروں کے بیٹے کیا موجودہ دور میں لادین نہیں ہیں؟۔

Mubashir Ali Zaidi

قرآن میں اللہ نے واضح کیا: وما کنا معذبینso حتی نبعث رسولا ”اور ہم عذاب. نہیں دیتے یہاں تک کہ کسی رسول کو مبعوث نہ کردیں”۔ القرآن حضرت عبدالمطلب، حضرت عبداللہ، حضرت آمنہ اور نبیۖکی بعثت سے. جو بھی پہلے فوت ہوگئے ، ان پر اتمامِ حجت نہیں ہوئی تھی۔ اگر ان کا عقیدہ soاور عمل اچھا تھا تو وہ دینِ ابراہیمی پر ہی تھے۔ صحابہ کرام میں حضرت ابوبکر اور کچھ دیگر لوگ بھی شروع سے بتوں کے پجاری نہ تھے اسلئے کسی تامل کے بغیر ہی انہوں نے رسول اللہۖ کے دین کی تصدیق کی۔ آج بھی مختلف فرقوں اور ہندوں تک میں بھی ایسے لوگ ملیں گے جن کے شرکیہ عقائد نہیں ہیں۔

test


ابولہب مشرک تھا یا نہیں لیکنso کافر ضرور تھا اسلئے کہ رسول اللہۖ کی دعوت کا انکار کردیا۔ حضرت عباس کی نبیۖسے مکمل ہمدردی تھی لیکن بظاہر مشرکوںso کا شروع میں اس .وقت ساتھ دیا جب غزوہ بدر ہوا تھا۔ ابوطالب نے نبیۖ کا کھل کر ساتھ دیا اور مشہور یہ ہے کہ آخر میں soدینِ ابراہیمی پر ہونے کا اقرار .کیا تھا اور اللہ نے مسلمانوں کے بھی دینِ ابراہیمی پر قرآن میں ہونے کی وضاحت ہے۔ حضرت علی کے خلاف بغض رکھنے والوں نے حضرت ابوطالب کی بھی زبردست مخالفت کی تھی۔

Mubashir Ali Zaidi


نبیۖ ولادت سے پہلے نبی تھے، دو مرتبہso آپ کا شق صدر ہوا تھا۔ جب تک نبوت کیلئے وحی کے نزول اور تبلیغ کرنے کا حکم نہیں ملا تھا تو نبوت جس مقصد کیلئے ہوتیso ہے اس. کا اظہار نہیں ہوا تھا۔ کائنات کی ترقی وعروج کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی پرائمری سکول میں soداخلہ لیتا ہے، مڈل اور ہائی. سکول کے بعد کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر اپنے فرائض منصبی کے ادائیگی شروع کرتا ہے تو کہا جاسکتا ہے. کہ جس بچہ یا بچی کا داخلہ جس نصب العین کیلئے پہلے دن سکول میں داخلے کے وقت تھا اس کا مقصد اس وقت سے شروع ہوا۔

Mubashir Ali Zaidi


کائنات کی پہلے بھیso اہمیت اپنی جگہ پر. تھی لیکن حضرت ابراہیم سے پہلے اور بعد میں جتنے مراحل سے یہ دنیا گزری ہے اور پھر نبیۖ کی بعثت اور قرآن کےso نزول سے آج تک اور آج ک.ے بعد قیامت تک جس فرائض منصبی سے آشنا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اگر ہم نے قرآن اور فطرت سے درستso آگہی لے لی تو پھر ہمارے. لئے نبی ۖ کا وجہہ کائنات ہونا زیادہ مشکل نہیں لگے گا۔ جب پاکستان اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے درست ہوگا تو پاکستان. کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا ہی نہیں بلکہ ہندوستان بھی ضم ہونے میں انشا اللہ دیر نہیں لگائے گا۔

test


بی بی خدیجہ دین ابراہیمیso پر ہوں یا مسیحی ہوں مگر عقیدہ سلامت تھا جب ہی تو نبیۖ کا انتخاب کیا۔ جو تثلیث کے قائل اورنہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ نکاح پڑھانے کا soمروجہ طریقہ تو نبوت کی بعثت کے بعدبھی نہیں تھا۔ اسلام. کی بنیادی تعلیم میں یہی بات ہے کہ جب میاں بیوی بننے کیلئے ایجاب. و قبول ہوجائے اور کچھ لوگوں کو اعلانیہ پتہ چل جائے کہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے ہیں تو یہ نکاح ہے۔ نکاح مولوی سے پڑھانsoے کا مروجہ طریقہ بہت بعد میں رائج ہوا ہے۔ وزیرستان کا ایک جدیدتعلیم یافتہ پاگل تھا۔ وہ ایسی حالت میں کسی گاں میں پہنچا کہso داڑھی بڑھ چکی تھی تو گاں والوں نے مولوی سمجھ کر کہا کہ ایک نکاح پڑھانا تھا اور شکر ہے کہ آپ آگئے۔

test

اس کو نکاح پڑھانا نہیں آتا تھاso اور لڑکی اور لڑکے .کو آمنے سامنے بٹھاکر لڑکی سے پوچھا کہ تم نکاح کیلئے راضی ہو؟ اور پھر لڑکے سے کہا کہ. تمہیں قبول ہے۔ رضامندیso کے اظہار اور قبول کرنے کے بعد لڑکے سے کہا کہ تم اس کیساتھ .یہ کام کروگے اور لڑکی سے کہا کہ تمہیں بھی اس طرح یہ کام کرناso پڑے گا۔ پھر دعا کرائی۔ لڑکی کے .باپ کو غصہ آیا اور کہا کہ تم لال کتاب سے مسئلے نہ بتاتے تو اس کے قابل ہوتے کہ تمہیں مار مارso کر تمہاری پسلیاں توڑ دی جاتیں۔ یہ لطیفہ نہیں حقیقی واقعہ ہے، جس کو پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔

test


وزیرستان کے جاہلوں کو بھی نکاح ک.ے بنیادی چیزوں کا پتہ ہے لیکن مولوی نے جو ماحول بنایا ہے تو وہ مذہبی جہالتوں کو نہیں سمجھتا ہے۔ امام حسن کے نزدیک نکاح کیلئے. دوگواہ بھی ضروری نہیں ہیں اگر پہلےso باہمی رضامندی سے نکاح ہو اور بعد میں اس کا اعلان ہوجائے تو بھی ٹھیک ہے۔ اہل تشیع. کا جاہل مذہبی طبقہ یہ سوال اٹھاتا ہے soکہ اگر ابوطالب مسلمان نہیں تھے تو پھر نکاح پڑھایا تھا وہ کیسے درست ہوا تھا؟۔ حالانکہ. جس مذہب میں متعہ اور لونڈی کا تعلق بھی درست ہو تو اس میں اس قسم کے سوالات اٹھانا جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

Mubashir Ali Zaidi

اسلام میں تمام مذاہب. اور انسانوںso کی طرف سے جو بھی شریعت و قانون میں نکاح ہو وہ جائز ہے اور ملحدین مذہب کو نہیں مانتے لیکن ان کا بھی نکاح جائز ہوتا ہے۔ اسلام میںso داخل ہونے سے پہلے جو دین ابراہیمی پر نہیں بھی تھے تو ان کا نکاح جائز ہے۔ اگر اسلام یہ تصور رکھتا کہ نکاح کیلئے. کوئی دوسرا soمذہب قابلِ قبول نہیں تو کوئی اسلام میں داخل ہونے کی کوشش بھی نہ کرتا اسلئے کہ وہ ناجائز آبا واجداد کی اولاد کہلاتا۔

Mubashir Ali Zaidi

ایک قادیانی مذہب ایسا ہے جس. میںso یہ مشکل موجود ہے اسلئے مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا کہ جو مجھے نہیں مانتا ہے وہ رنڈیوں کی اولاد ہیں۔ جن کےso باپ دادوں. نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانا تھا اور پھر وہ قادیانی بن گئے تو اپنے مذہب کے مطابق ان کے باپ دادا کے soنکاح پر اس کا بہت. برا مذہبی اثر پڑے گا۔ ملحدین قادیانیوں کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے مذہبی عقائد اور شریعتوں کے بارے میں نئے افکار کے مالک بن رہے ہیں۔

test

کلمہ پڑھنے کیلئے تو ہمارے. مسلمانوںso کو بھی سکھانا پڑھتا ہے لیکنso عربوں کی زبان میں بتوں اور دوسرے معبودوں کا انکار اور اللہ کے معبود ہونے کا اقرار. کلمہ تھا۔ عربیso جملہ آج زبانوں پر نہیں چڑھتا۔ وزیراعظم عمران خان کیلئے حلف کے الفاظ تک پڑھنے مشکل تھے۔ یہ جہالت والی باتیں ہیں۔
آج بھی بہت سے .لوگوں کے عقائدso مشرکوں، یہود ونصاری اور مجوسیوں سے بھی زیادہ بگڑے ہوئے ہیں لیکن کلمہ گو بھی ہیں۔دین ابراہیمی کا تسلسل. بھی یہودso ونصاری اور مشرکین کے ہاں موجود تھا لیکن غالی لوگوں نے عقائد اور ماحول کو بگاڑنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اگر تسلی ہوگئی تو فبہا ورنہ پھر دیکھیں گے۔


www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

On occurrence of Bahria Town Karachi Incident the agitation of Sindhi Nationalist was not against Muhajir Community but in fact it was against Asif Ali Zardari and Malik Riaz: Huda Bhurgri Speech.

Keywords: Sindhi Nationalist, Bahria Town Karachi, Asif Ali Zardari, MQM, Muhajir, Malik Riaz, Huda Bhurgri

بحریہ ٹاؤن کے خلاف میڈیا آواز کیوں نہیں اٹھاتا؟ آگ اندر سے کسی اور نے لگائی ہے ۔ہدیٰ بھرگڑی

کل کراچی بحریہ ٹاون (Bahria Town Karachi)کے باہر سندھی قومی (Sindhi Nationalist) جماعتوں ، دوسری پروگریسو پولیٹیکل پارٹیز کے رہنماں نے اور انکے فالورز نے بھر پور احتجاج کیا اور پورے سندھ کے لوگ منظم نظر آئے اس مسئلے پر کہ کراچی اور بحریہ ٹاؤن انٹرنل جس طرح لینڈ گریبنگ کر رہا ہے جس طرح غریبوں کی زمینیں ہڑپ کررہا ہے کیونکہ اسے سیاسی استثنی (Politica Impunity) حاصل ہے اسے سیاسی سرپرستی (political patronage)حاصل ہے پیپلز پارٹی کی۔ کل سندھ کی عوام سراپا احتجاج تھی اور انہوں نے بھرپور طریقے سے مذمت کی بلکہ وہ فرنٹ پر آئے اور انہوں نے کہا کہ جو آبائی (Native)ہیںسندھ کے وہ انکے ساتھ یہ سراسر زیادتی ہے کہ انکا گھر اجاڑا جائے انکے اپنوں کی قبریں اجاڑی جائیں ،انکے مال مویشیوں کا جو پورا فلور آٹ آنس ہے جو بھی انکا تعلق ہے وہ تمام کا تمام ختم کر کے کسی کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ پھینک دیا جائے اور پھر ان سے امید کی جائے کہ یہ مزاحمت بھی نہ کریں یہ سراسر نا انصافی ہے ۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پہلے یہ خاموشی کیوں، اب اتنا زیادہ مذمت ہے پروٹیسٹرز کی وہ کیوں ؟ اور پروٹیسٹرز کو یہ کہا جارہا ہے کہ یہ جاہل ہیں یہ دہشت گرد ہیں یہ لوٹ مار والے لوگ ہیں اور اس طرح کے القابات سے ان کو نوازا جا رہا ہے جو کہ ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں ہو رہا ہے سوال یہ ہے کہ آخر ہم یہ کیوں سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب آپ کشمیر میں ہونے والے جرم کی بات کرتے ہیں جب آپ فلسطین میں ہونے والے جرم کی بات کرتے ہیں ۔….
کس طرح سے وہ لوگ جنکے پاس لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے سوا کچھ نہیں تھا وہ آگ لگانے میں کیسے کامیاب ہوئے کس طرح سے سٹرکچر جو اتنا بڑا ہے بہریہ ٹاون کا اس میں آگ لگ گئی آگ لگنے کے بعد وہ سارا کا سارا تباہ ہو گیا اس طرح کے کیمیکلز وہاں پر پروٹیسٹرز نہیں لائے ہوئے تھے ۔آپ کو یہ لگتا ہے کہ غریب کی زمینوں پر امیر کے عیاشی کے پارک بنیں عیاشی کے لیے بڑے بڑے روڈ بنیں مانیومینٹس بنیں اور آپ لوگوں کی جگہ ایک چرائی ہوئی زمین پر بنانی چاہیے اور اگر اسطرح کی ڈیویلپمنٹ کو آپ سمجھتے ہیں کہ کراچی اور پاکستان کے لیے ایک پروگریسو سٹیپ ہے اور اس سے پاکستان اور کراچی کی ترقی ہوگی تو آپ کو شرم سے ڈوب کر مر جانا چاہیے تو آپ کو فلسطینیوں کے حق میں بھی بات نہیں کرنی چاہیے تو آپ کو کشمیریوں کے حق میں بھی بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ کسی بھی غریب کی زمین کے ٹکڑے کے اوپر جہاں پر اس نے اپنی پوری زندگی گزاری ہو جہاں پر اسکے پیاروں کی قبریں ہوں جہاں پر اسکا مال مویشی چرتا ہو جہاں پر وہ اپنے کمانے کا اپنے روزگار کا انتظام کئی سالوں سے کرتا آرہا ہو وہاں سے آپ اسکا سب کچھ اکھاڑ کر ایک زبردست قسم کی گیٹڈ کمیونٹی بنا دی۔…….. کراچی کے بیچوں بیچ کہیں بھی رہ سکتے ہیں لیکن انہوں نے اس جگہ کو اسلیے خریدا کہ اس میں سیکیورٹی اسکا انفرا سٹرکچر اور خوبصورتی اس میں پھول لگے ہوئے ہیں اس میں پارک بنے ہوئے ہیں یہ ایک وہ آئیڈیا ہے جو سرمایہ داروں نے اپنے لئے ایجاد کیا ہے ۔
مجھے پتہ ہے اور کئی لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ آگ ان احتجاج کرنے والوں نے نہیں لگائی وہ مار پیٹ پروٹیسٹرز نے نہیں کی وہ ان لوگوں نے کی ہے جن کے پاس ایکسز تھا گیٹ کے اس پار کا کیونکہ پوراگیٹ سیل تھا خاردار تاریں تھیں تو پولیس کی موجودگی میں لوگ کس طرح وہاں جا سکتے ہیں پھر آخر میں جیسے ہی یہ احتجاج ختم ہوا تمام پولیٹیکل پارٹیز جو کہ کل احتجاج میں موجود تھے اور انہوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا ان لوگوں کے ساتھ جو وہاں موجود تھے اسکے باوجود بھی وہ پولیٹیکل ریپریزنٹیٹیوزجو کہ کل کے مارچ اور احتجاج میں تھے ہی نہیں ان کے خلاف بھی جھوٹی ایف آئی آردرج کی گئی ہیںانکو گرفتار کیا گیا ہے اس وقت صنعان خان قریشی گرفتاری میں ہیں اسکے علاوہ ایاز لطیف پلیجو کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے اسطرح کی جو سیاست کی گئی ہے اور آگ لگانے کا جو ڈرامہ بنایا گیا سیاسی تو یہ بالکل تھا۔
نوٹ: احتجاج میں شریک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ اندر کوئی شخص مظاہرین میں سے نہ گیا ہے اور نہ جاسکتا تھا ۔ اس کی اعلی سطح پر تحقیقات کروانے کی ضرورت ہے کہ ایسے مذموم مقاصد کس کے ہوسکتے تھے؟۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

National Agencies must keep an eye on movement of Molana Modudi party Jamat e islami. : Editor Nawishta e Diwar Malik Ajmal

Keywords: Jamat e Islami, Molana Modudi, Siraj ul Haq, mansoora lahore, Afghan Jihad

ملکی ایجنسیاں جماعت اسلامی پر نظر رکھیں۔ اجمل ملک ایڈیٹرنوشتہ دیوار

(1952 )میں یعنی میری پیدائش سے بھی پہلے منصور دادا نامی ایک پاکستانی نے جماعت اسلامی کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ نے جماعت اسلامی کو مالی امداد دینے کا یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں مولانا مودودی صاحب کی کتابیں خرید کر امریکہ منگواتا ہے اور پھر ان کتابوں کو یہاں سمندر میں پھینک دیتا ہے لیکن اس کے عوض جماعت اسلامی کو لاکھوں ڈالرز کی ادائیگی کرتا ہے۔
اگر تاریخی حقائق پر ایک نظر ڈالی جائے تو امریکہ کی جماعت اسلامی سے یاری بہت پرانی ھے (1976 )میں اسوقت کے امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے پاکستان آ کرہمارے اسوقت کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کو یہ دھمکی دی کہ اگر تم نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ہم تمہیں دنیا میں عبرت کی مثال بنا دینگے اور پھر (1977 )میں ہی انتخابات میں دھاندلی کا بہانہ بنا کر انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور پھر پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور اس سارے کھیل میں جماعت اسلامی سب سے آگے تھی اور بھٹو یہ بات جانتا تھا لہذا وہ اس دوران منصورہ مولانا مودودی کو سمجھانے بھی گئے کہ یہ سب امریکن گیم ہے تم ایسا مت کرو لیکن جماعت اسلامی باز نہ آئی۔
پھر (1979 )میں امریکہ نے افغان جہاد کا ڈرامہ شروع کیا اسکی بھی تفصیل دیکھیں تو وہاں بھی جماعت اسلامی نے ہزاروں مسلمان بچوں کو امریکی مفاد کے لیئے شہید کروا کر اربوں روپئے کمائے دوسری طرف آپ پاکستان کی سیاست پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو واضع طور پر نظرآئے گا کہ پاکستان کے عوام نے جماعت اسلامی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اب انہیں عوام ووٹ تک نہیں دیتے اور یہ سوچنے کی بات ہے جو عوام انہیں ووٹ تک دینا پسند نہیں کرتی تو کیا وہ انہیں نوٹ دیتی ہوگی لیکن آج بھی اس جماعت کا اربوں روپے سالانہ خرچہ ہے اتنے بڑے بڑے ادارے چل رہے ہیں ہزاروں ملازمین ہیں جنہیں یہ جماعت تنخواہیں دیتی ہے اور اب یہی ملازمین ان کے کارکن کہلاتے ہیں اور اب یہی بیچارے تنخواہ دار ان کے جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں بعض اوقات شدید حیرت ہوتی ہے کہ آخر اس جماعت کے پاس اتنا پیسا کہاں سے آ رہا ہے جو یہ ہر چھوٹی بڑی بات پر ملک بھر میں بینر لگا دیتے ہیں جلسے جلوس شروع کر دیتے ہیں حالانکہ یہ جماعت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ لوگوں میں ہمیں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ صرف دکھاوے کے لئے ایسا کرتی ہے تاکہ لوگ انہیں سیاسی نظام کا حصہ سمجھیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس جماعت کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں اور ان کا اصل ٹارگٹ تعلیمی ادارے اور ان کے ہاسٹل ہیں اور یہ چاہتے ھیں کہ تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز پر ان کا تسلط رہے جو جرائم پیشہ لوگوں اور غیر ملکی دہشت گردوں کے لئے سب سے محفوظ پناہ گاہیں ہوتی ہیں ۔
ہمیں یقین ہے کہ( GHQ )سمیت اس ملک کی جتنی بھی اہم تنصیبات پر حملے ہوئے ہیں انہیں گرائونڈ سپورٹ اور پناہ جماعت اسلامی جیسی تنظیموں نے دی ہوگی ورنہ بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک، القائدہ، طالبان اور داعش جیسی تنظیمیں جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کی سپورٹ کے بغیر کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتیں میرے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کچھ سادہ لوح دوستوں کو یقینا یہ بات بری لگے گی کیونکہ میں ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو انتہائی اخلاص اور اسلام کی محبت سے سرشار ہو کر اس جماعت کا ساتھ دیتے ہیں میں انکی دل آزاری پر معذرت خواہ ہوں اور ان کیلئے اس مختصر مضمون میں صرف اتنا لکھنا چاہوں گا کہ جماعت اسلامی والے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں آپس میں بات چیت کرتے ہوئے لڑکے اور لڑکی پر تو حملہ آور ہو کر ڈنڈوں کی بارش کر دیتے ہیں لیکن آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ مسجد میں معصوم بچوں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہوئے پکڑے جانے والے کسی مولوی کی خلاف جماعت اسلامی کے لوگوں نے کوئی معمولی سا احتجاج ہی کیا ہو جماعت اسلامی کے لوگ جگہ جگہ درس قرآن دیتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی عوام کو سورہ البقرہ کی آیت نمبر (222 سے 234 )تک کی آیات کا صحیح ترجمہ نہیں بتایا کیونکہ ہمارا مولوی ان آیات کے ترجمے کو چھپا کر مسلمانوں کی بہن بیٹیوں کیساتھ ناجائز حلالے کر رہا ہے لیکن ذرا ذرا سی بات پر فحاشی کا شور مچانے والی جماعت اسلامی معصوم بہن بیٹیوں کی عصمت دری پر خاموش ہے کیونکہ وہ مولوی کے غلط کام پر اعتراض کرے گی تو اسے معلوم ہے کہ پھر وہ بھی آگے سے جواب دے گا لہذا جماعت اسلامی اس ڈر کے مارے یہاں حق سچ بیان نہیں کرتی اور ویسے بھی جماعت اسلامی کا اصل ایجنڈہ وہی ہے جو ان کے سابق امیر جناب منور حسن صاحب نے بیان فرمایا تھا کہ اگر
فوج اور طالبان آمنے سامنے ہوں تو مرنے والا پاکستانی فوجی ہلاک اور مرنے والا طالبان شہید ہوگا لیکن پھر روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں امارت سے ہٹا دیا گیا۔
آج امریکہ ہم سے اڈے مانگ رہا ہے اور اگر اسے اڈے دیئے یا نہیں دئیے تو پھر وہ ہمیں بلیک میل کرنے کیلئے اپنے پالتو طالبان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروائے گا جس میں جماعت اسلامی ان کی مدد گار ہوگی۔ہماری ایجنسیوں کو چاہیے کہ اسلام کی چادر میں چھپی اس ملک دشمن اور دہشت گرد تنظیم کے بارے میں مکمل تحقیقات کروائے کہ ان کے پاس فنڈ کہاں سے آرہاہے؟۔ اور خصوصا ہاسٹلوں میں پناہ لئے ہوئے جماعت اسلامی کے لوگوں پر کڑی نظر رکھے۔
چند ماہ قبل الطاف حسین کے ایک بیان کے ردعمل میں ریٹائرڈ جنرل شعیب امجد صاحب نے کہا کہ الطاف حسین انڈین ایجنسی را کا ایجنٹ ہے اور برطانوی خفیہ ایجنسی (MI-6 )کا بھی ایجنٹ ہے اور اب بھی (MI-6)اسکو سپورٹ کرتی ہے ۔ ہماری جنرل صاحب سے عرض ہے کہ جس طرح الطاف حسین اپنی تحریک کے دوران غیر ملکی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے اسی طرح جماعت اسلامی بھی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اس وقت مکمل طور پر غیر ملکی ایجنسیوں کے مفاد کیلئے کام کرتی دکھائی دے رہی ہے، اس نے اپنے اوپر جو اسلام کا خول چڑھا رکھا ہے اسے نہ دیکھیں اور اس خول کے اندر چھپی اصل جماعت اسلامی کو تحقیقات کر کے بے نقاب کریں۔ اور اسلام کے نام پر اس جماعت کیلئے استعمال ہونے والے نوجوانوں سے صرف اتنی عرض ہے کہ آپ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھیں ساری بات خودبخود آپ کو سمجھ آ جائے گی۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Examined the Journalism of Hamid Mir and review of PDM politics fundamental role of Habib Jalib, Khan Abdul Wali Khan, Further study circumstances of Dr. Shahid Masood Ataul Haq Qasmi.

Keywords: Habib Jalib, Khan Abdul Wali Khan ANP, Nawaz Sharif, Hamid Mir, Ataul Haq Qasmi, Habib Jalib, Habib Jalib, Habib Jalib, Khan Abdul Wali Khan ANP, Nawaz Sharif, Nawaz Sharif, Nawaz Sharif, Nawaz Sharif, Ataul Haq Qasmi, Ataul Haq Qasmi, Ataul Haq Qasmi, Ataul Haq Qasmi, Ataul Haq Qasmi,

حامد میر(Hamid Mir)کی صحافت اور (PDM)کی سیاست سے بین الاقوامی سازش تک. کا جائزہ اور اسلامی نقطہ نظر سے اس کا حل: حبیب جالب (Habib Jalib)اور خان عبدالولی خان (Khan Abdul Wali Khan ANP)کی اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیٹر شپ سے امریکہ تک کیخلاف بڑا اہم اور بنیادی کردار
کیاآج ایک ایسا ماحول بنایا جارہاہے. کہ پاک فوج کے خلاف سیاستدان ، صحافی، قوم پرست، مذہبی عناصر ، عدالتیںاور جہادی تنظیمیں سبھی مشترکہ محاذ بناکر افراتفری کی فضا بنائیں؟۔

Hamid Mir


کیا ہم یہ مان لیں کہ جن سیاسی جماعتوں. نے فوج کی ٹانگوں میں سر so رگڑ رگڑ کر اپنے سارے بال گرا دئیے ہیںیہ لوگ اب جمہوری جدوجہد اور قانون کی حکمرانی پر پورایقین رکھتے ہیں؟

TEST


جب so جنرل ضیا الحق نے پاکستان میں اسلام اور جہاد کی بات کی تو حبیب جالب (Habib Jalib)کے لیڈر خان عبدالولی. خان (Khan Abdul Wali Khan ANP)نے کہا کہ جنرل صاحب ؟ اگر آپ اسلام کو چاہتے ہیں تو سب so سے پہلے اپنا منصب چھوڑ دیںاسلئے کہ آپ نے حلف اٹھایا ہے کہ سیاست میں. مداخلت نہیں کروگے۔ so اسلام میں اسی طرح اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاکر قبضہ کرنا جائز نہیں ہے۔ پہلے وردی اتار لو اور پھر الیکشن کے ذریعے so عوام سے ووٹ مانگو اور اگر لوگوں نے آپ کو منتخب کرلیا تو ٹھیک ہے۔
اور یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان میں روس کے خلاف جہاد ہورہاہے تو سب سے پہلے آپ جہاد کا اعلان کردو۔

TEST

آپ کے پاس ایٹم بم، جہاز، میزائل اور سب. طرح کا اسلحہ جہاد ہی کیلئے تو ہے لیکن یہ کونسا جہاد ہے کہ آپ کہتے ہو کہ مجھے کوئی خبر ہی نہیں. ہے کہ جہاد ہے اور آپ کے ماننے والے دوسروں پر جہاد سے انکار کا فتوی لگارے ہیں؟۔ ولی خان (Khan Abdul Wali Khan ANP)کا یہ مقف مسلسل رہا تھا اور حبیب جالب (Habib Jalib) نے ان کے اس مقف کی ہمیشہ حمایت. کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔

TEST


اگر ولی خان (Khan Abdul Wali Khan ANP)کی بات اس وقت مان لی جاتی تو. اسلامی حکومت so بھی قائم ہوتی اور امریکہ کیلئے جہاد کے. نام پر بھاڑہ لیکر جعلی مجاہدین بھی پیدا نہ ہوتے۔ جہاد so ایک زبردست فرض ہے اور جہاد کے وقت قرآنی آیات میں نماز کے رکوع وسجود اور قیام وقاعدہ کے مروجہ معاملات بھیso نہیں ہوتے ہیں علما. و مفسرین نے کبھی جہاد لڑا ہے اور نہ آیات کا درست مطلب سمجھا ہے۔

Hamid Mir

اللہ نے فرمایا: حفظوا علی الصلوت والصلو الوسطی وقوموا للہ قنتینO فان خفتم فرجالا او رکبانا فاذا امنتم. فاذکروا اللہ کما so علمکم مالم تعلمونO ” نگہداہشت کرو ،نمازوں پر اور خاص طور پر درمیان so کی نماز کی۔ اور اللہ کیلئے ادب سے کھڑے ہوجا۔اور اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ چلتے چلتے پڑھ لو یا سوار ی so پر پڑھ لو۔ اور جب تمہیں امن مل جائے تو اللہ. کا ذکر کرو جس طرح تمہیں (نماز کے طریقے میں(میں معمول کے so مطابق سکھایا گیا ہے۔ جس کو پہلے تم نہیں جانتے تھے)سورہ البقرہ آیات (238،239)
یہاں پر ان آیات میں اللہ تعالی نے معمول کی نمازوں اور خوف کی نماز کو بالکل واضح کردیا ہے۔

Hamid Mir

معمول کی نمازسے حاضر وقت کی نماز کی زیادہ so تاکید ہے اور یہی درمیان کی نماز ہے۔ خوف کی نماز میں رکوع وسجود اور قیام وقاعدے کے خلاف چلتے چلتے اور سواری. پر صرف so اللہ کے ذکر ہی کا حکم دیاہے۔

علامہ اقبال کو اس آیت کی تفسیر کا درست پتہ ہوتا تو اشعار نہ گاتا کہ
آیا جب عین لڑائی so میں وقت نماز قبلہ رو ہوکے سربسجود ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے so ہوگئے محمود وایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا so من الصلو و ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا (النسا :101)
اور جب. تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں کہ کچھ کم so کرو نماز میں سے۔ اگر تم کو ڈر ہو کہ کافر تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے بیشک کافر تمہارے صریح دشمن ہیں۔ (سور النسائ: آیت101)

TEST


اس آیت میں ایک طرف اللہ. تعالی نے سفر کی نماز کا حکم بیان so کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ سفر کی. حالت میں نماز کو مختصر کرنے پر تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ان الفاظ میں بہت so بڑی بلاغت ہے۔ اگر یہ حکم ہوتا کہ سفر میں so نماز قصر کرو تو مقیم امام کے پیچھے مسافر مقتدیوں .کو اپنی so نماز مختصر کرنی پڑتی۔دوسرا. یہ کہ اگر مقیم مقتدیوں کی بڑی تعداد ہو اور امام مسافر ہو تو امام ان کی خاطر اپنی نماز پوری پڑھ so سکتا ہے۔ اگر فقہا کو یہ بنیادی نکات سمجھ میں آتے تو خود کو مشکل میں نہ ڈالتے۔
اس آیت میں دوسری طرف. اللہ تعالی نے نماز خوف so کا حکم بیان کیا ہے اور نماز خوف کا حکم قرآن میں پہلے بھی بیان ہوچکا ہے۔

Hamid Mir

نماز خوف کا تعلق صرف اور صرف حالت جنگ سے نہیں ہے بلکہ خوف کی so کوئی بھی صورت. ہوسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالی نے اس کے بعد آیت (102 )النسا میں واضح فرمایا ہے. کہ اگر کافروں کی طرف سے so خفیہ یلغار کا خوف ہو اور نبی کریم ۖ مسلمانوں میں بنفس نفیس موجود ہوں اور آپ با جماعت نماز پڑھانا چاہیں تو ایک گروہ. آپ so کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور وہ اپنا so اسلحہ بھی اپنے ساتھ رکھے۔ جب وہ سجدہ کرلیں تو وہ پیچھے کی طرف ہوجائیں۔ اور دوسرا گروہ آجائے so جس نے نماز نہیں پڑھی ہو۔ soاور وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھ لے اور اپنے بچا کا خیال اور اسلحے کو بھی تھامے رکھے۔ کافر چاہتے ہیں. کہ so کسی طرح آپ لوگ اپنے اسلحہ اور سامان سے غافل ہوجائیں اور یہ آپ پر یکبارگی حملہ کردیں۔

TEST

اور اس وقت تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ اگر تمہیں .کوئی so تکلیف ہو بارش سے یا بیماری سے so کہ آپ اپنا اسلحہ رکھیں۔ اور اپنی حفاظت کو خاطر جمع رکھیں۔ بیشک اللہ تعالی نے تیار کر رکھا ہے so کافروں کیلئے ذلت آمیز عذاب۔ پھر soجب تم نماز پڑھو تو اللہ کا ذکر کرو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے۔ پھر جب تمہیں اطمینان حاصل so ہوجائے تو نماز قائم کرو۔ بیشک so نماز مسلمانوں پر اپنے مقررہ وقت کے مطابق فرض کی گئی ہے۔ (النسائ:102)

Hamid Mir


اس آیت میں میدان جنگ کے اندر نماز کا ذکر نہیں ہے بلکہ. so عام سفر کا ذکر ہے اور سفر کی حالت میں نماز خوف کا ذکر ہے۔ اگر نبی ۖ خوف کے سفر میں نماز باجماعت نہ پڑھائیں تو یہ so معمول کا معاملہ تھا۔ اور اگر so پڑھائیں تو پھر اس کی بھرپور وضاحت ہے کہ کس طرح دو گروہوں میں تقسیم ہوکر باری باری so آپ کے پیچھے. نماز پڑھیں اور so نماز پڑھنے والے بھی حفاظت کو خاطر جمع رکھیں اور اسلحے کو ساتھ رکھیں۔

TEST

میدان جنگ میں با جماعت so نماز اور سجدوں کی گنجائش so نہیں ہوتی۔ خوف کی حالت میں بھی نماز کو خلاف معمول پڑھنے اور کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے اللہ کے ذکر so کو نماز کا .قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔ اور جب اطمینان کی حالت ہو تو پھر معمول کے مطابق نماز قائم .کرنے کا اپنے مقررہ اوقات میں حکم ہے۔

TEST


یہ آیات ہم نے صرف نمونے کے طور پر پیش کی ہیں۔ اسلام کے احکام so کا جس طرح خود ساختہ مسائل so کے ذریعے سے حلیہ بگاڑا گیا ہے وہ بالکل بھی عمل. کے قابل so نہیں ہے۔ علامہ اقبال جیسے پڑھے لکھے بھی جہالت کا شکار ہوگئے۔
محترم حامد میر صاحب (Hamid Mir)نے اپنے so لئے استاذ کا درجہ رکھنے والے دو افراد کو پیش کیا ہے۔

TEST

ایک so عطا الحق قاسمی (ataul haq qasmi)جس نے حامد میر (Hamid Mir)کیلئے مستقبل میں بڑے صحافی کی پیشگوئی کی تھی so جو حامد میر (Hamid Mir) کیلئے بقول اس کے so ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔ یہی پیشگوئی بلکہ اس سے زیادہ عطا الحق قاسمی (ataul haq qasmi)نے ڈاکٹر شاہد مسعود(Dr. Shahid Masood) کیلئے بھی کی ہے۔

TEST

جس کو حامد میر (Hamid Mir) ایک صحافی so ماننے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ حامد میر (Hamid Mir)نے اپنے دوسرے استاذ کا نام حبیب جالب (Habib Jalib)لیا ہے۔ حبیب جالب (Habib Jalib) کی زندگی سے حامد میر کو کیا واسطہ ہے ؟ ذرا سوچئے so تو سہی!۔ جب نجم so سیٹھی جیو نیوز میں اپنا پروگرام کرتے تھے تو نواز شریف (Nawaz Sharif)اور شہباز شریف کی مرکزی اور so صوبائی حکومتوں. کی طرف سے ایسے اشتہارات کی بھرمار ہوتی تھی کہ ایک so ایک وقفے میں ایک ہی اشتہار مسلسل so بار بار آخر تک ریپیٹ ہوتا تھا۔ جیو کو شرم so نہیں آتی تھی کہ سرکار کا پیسہ اتنا بے دریغ کیسے لگایا جارہا ہے۔ لیکن ہم جیسے لوگ شرماجاتے تھے۔ جس پر ہم نے باقاعدہ تبصرہ بھی اسی وقت کیا تھا۔ ریکارڈ دیکھا جاسکتا ہے۔

Hamid Mir


لندن فلیٹ (Nawaz Sharif)کی کہانی بینظیر بھٹو کی. دوسری حکومت کے بعد سے شروع soہوئی اور اس پر ن لیگ کے تمام رہنماں نے میڈیا میں تصدیق بھی کی ہے۔ عدالت میں بھی so یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔ پارلیمنٹ اور میڈیا پر نواز شریف (Nawaz Sharif)کے جھوٹے بیانات اور عدالت میں. قطری خط اور پھر اس سے soلاتعلقی کے اعلان کی کہانی پوری قوم کو ازبر ہوچکی ہے۔ اگر کسی کو نہیں پتہ تو وہ زرخرید صحافی ہیں جو نواز شریف (Nawaz Sharif)کو اس آخری عمر میں بار. بار انقلابی اور انقلاب so سے توبہ کرکے مفاہمتی سیاست کے گیت گاتے ہوئے نہیں شرماتے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ آسمان سے اترا ہوا فرشتہ نہیں ۔

TEST

وہ بھی سیاستدانوں کے کرتوت سے متاثر ہوکر اپنی ملازمت کی مدت میں توسیع کے پیچھے لگ گئے۔ جب سیاستدان اپنے خاندان کو حکمران بنانے کیلئے ایسے. بن جائیں جیسے کڑک مرغی انڈوں اور بچوں کیلئے ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف عوام پر بلکہ ریاستی اداروں پر بھی پڑتے ہیں۔

TEST


جنرل ضیا الحق نے .جمہوریت کے خلاف اسلامی بنیادوں پر کتابیں لکھوائی تھیں لیکن اسلام میں ڈکٹیٹر شپ اور قبضہ مافیا کہاں ہے؟۔ جمہور کی اصطلاح دنیا میں سب سے پہلے اسلامی نظام اور اسلامی علم نے متعارف کرائی ہے۔ آج بھی جمہور صحابہ کرام ، جمہور تابعین، جمہوری تبع تابعین، جمہور فقہاء ، جمہور ائمہ، جمہور محدثین، جمہور علما اور جمہور عوام کی اصطلاح اسلامی کتب کی مرہون منت ہے۔ رسول اللہ ۖ کو اللہ نے دنیاوی امور میں مشاورت کا حکم دیا تھا۔

اور مسلمانوں کی باہمی صفت بھی یہی بیان کی گئی تھی کہ ان کے امور مشاورت سے طے ہوتے ہیں۔ مشاورت میں رائے کا اختلاف اور اکثریت و اقلیت کا تصور بھی ہوتا ہے۔ سورہ مجادلہ میں ایک عورت کی طرف سے رسول اللہ ۖ سے اختلاف رائے کا ذکر ہے جس میں وحی بھی عورت کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

TEST


بدر کے قیدیوں کے معاملے پر رسول اللہ ۖ نے اکثریت کی رائے پر اپنا فیصلہ دیا۔ اقلیت میں صرف حضرت عمر اور حضرت سعد شامل تھے۔ اللہ تعالی نے اکثریت کی رائے پر عمل ہونے دیا لیکن صائب رائے اقلیت کی قرار دی۔ جس سے جمہوریت کی بہت بڑی بنیاد ثابت ہوگئی۔ ایک طرف اکثریت کی رائے پر عمل کا اہتمام اور دوسری طرف اقلیت کی رائے کو درست قرار دینے کی آیت اور حدیث جمہوریت کیلئے سب سے بڑی سند ہے۔ اگر قوم میں اسلامی جمہوریت کی بنیاد پڑ جائے تو ہر معاملے میں اکثریت پر فیصلہ اوراقلیت کا مکمل احترام بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ ہمارے ہاں کی جمہوریتیں ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار ہیں۔

Hamid Mir

آج جمہوریت کا تعلق عوام کی رائے سے نہیں حرام کے پیسے سے ہے۔ جب یہ فیصلہ کیا جائے کہ جمہوریت میں ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار پر مکمل پابندی ہوگی ، پیسے کا استعمال ممنوع ہوگا اور لوٹوں کی کوئی اوقات نہیں ہوگی تو نام نہاد جمہوریت سے پاکستانی قوم کو چھٹکارہ ملے گا اور دنیا کو جمہوریت سمجھ میں آجائے گی۔

TEST


راجن پور سرائیکی بیلٹ اور پاکستان کا خطرناک ترین علاقہ ہے لیکن وہاں رسول پور کے نام سے ایک شہر آباد ہے جس میں کرائم زیرو فیصد ہے۔ کوئی قتل یا کسی قسم کا کوئی جرم اس شہر میں نہیں ہوتا ہے۔ (99%)آبادی پڑھی لکھی ہے اور تعلیم کیلئے کم از کم معیار میٹرک ہے۔ اگر اس کو پوری دنیا میں واحد ایسے شہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا مقابلہ کہیں پر بھی نہیں ہے تو اس سے یہ سبق حاصل کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور پوری دنیا کو جرائم سے پاک کیا جاسکتا ہے ۔ جبکہ امریکہ میں ایک ایسی عیسائی مذہبی ریاست ہے جہاں پر ہر قسم کے جدید سائنسی آلات اور آسائش ممنوع ہیں۔ اسلام سلامتی سے ہے اور ایمان امن سے ہے۔

Hamid Mir

جب سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات اچھے ہوتے ہیں تو پھر سعودیہ کی بڑی تعریف کی جاتی ہے اور جب تعلقات میں خلل آتا ہے تو سوشل میڈیا پر اس کی ایسی کی تیسی کردی جاتی ہے۔ طالبان کے بارے میں بھی عوام کا پہلے رویہ بڑا مختلف تھا۔ لوگوں کو ان کی زندگی اور شہادت میں صحابہ کرام کا عکس دکھائی دیتا تھا اور جب لوگ ان سے بدظن ہوگئے تو پھر تاثرات بھی بہت بدل گئے ۔
اللہ تعالی نے قرآنی تعلیمات میں امت مسلمہ کو عدل و اعتدال اور درمیانی امت قرار دیا ہے ۔ یہود و نصاری افراط و تفریط کی وجہ سے گمراہی کا شکار ہوگئے تھے۔ آج ہماری حالت ان کے احبار و رہبان سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔

Hamid Mir

مذہبی طبقات فرقہ وارانہ اور مسلکانہ روش کو چھوڑ کر قرآن کی فطری تعلیمات کو اپنا لائحہ عمل بنائیں تو وہ بہت جلد نہ صرف اپنی حالت بلکہ پوری دنیا کی حالت کو بھی بدل سکتے ہیں۔ صحافیوں ، سیاستدانوں ، مذہبی طبقات ، سول و ملٹری بیوروکریسی ، عدالتیں اور حکومت و ریاست کے تمام ذمہ دار ادارے اور عوام اپنی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ صحابہ کرام ان پڑھ ، مشرک اور کافر سے مسلمان ہوگئے تو دنیا بدل ڈالی اور ہم مادر زاد مسلمان ہیں ، تعلیم یافتہ دور ہے ، سائنس ترقی کی انتہا پر پہنچی ہے لیکن انسانیت مفقود ہے اور ہم قرآن کے ذریعے سے بہت اچھے انسان اور مسلمان بننے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔ ملحدین کو اپنی سوچ اور طرز فکر میں قرآن کی بنیاد پر تبدیل کیاجاسکتا ہے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Leadership of PTM Mohsin Dawar and Ali Wazir, Taliban Leader Hakimullah Mehsud and statement of Molana Modudi party Jamat-e-islami, Universal Islamic Banking System are based on Interest and may also refer time tenure of Imam Mehdi.

Keywords: PTM, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Ali Wazir, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Jamat-e-islami, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Hakimullah Mehsud, molana fazal rehman, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen,


فیس بک پر( PTM)نے حکیم اللہ محسود(Hakimullah Mehsud) کی دوتقریریں لگائی ہیں۔ جماعت اسلامی (Jamat e Islami)کو قوم پرست قرار دیکر اسکی کسی مذہبی. بات پر اعتماد نہ کرنے کی قسم کھائی ہے اور پاکستان کیلئے اپنے سابقہ اکابرین کے طرزپر قربانی دینے کا اعلان بھی کیا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلان
ہماری دانست کے مطابق( PTM)اور تحریک طالبان (TTP)میں ایکدوسرے کے بہت ہم خیال اورایکدوسرے. سے بڑے تضادات رکھنے والے دونوں قسم کے لوگ بڑی تعداد میں موجودہیں
جن علما نے (PTM)کی تائید کی تھی وہ سردار عارف شہیدso کی قبر پر موم بتی کیوجہ سے ناراض ہوگئے اور محسن داوڑ (mohsin
dawar)نے بھی اپنا الگ راستہ اپنایا۔ محسود(Mehsud)، وزیر(Wazir) اور داوڑ کے حالات بڑے مختلف ہیں

SUBHEADING

ہم نے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ. بننے کی soکبھی کوشش نہیں کی ۔ جب بھی کسی پر مشکل وقت آیا تو ہم نے بفضل تعالی تعاونوا علیso البر کی. بنیادso پر ساتھ دینے کی اپنی سی کوشش کر ڈالی۔ جب افغانستان میں روس کے خلاف جہاد (Afghan Jihad)ہورہا تھا تو مجاہدین کی صفوںso میں پہنچ گیا. لیکن جب پتہ چل گیا کہ ایک طرف روس ہے اور دوسری طرف امریکہ تو قبائلی علاقہ جات میں خلافتso کا مرکز قائم کرنے کے حوالے سے مجاہدین کو راضی بھی کرلیا ۔ پھر دیکھا کہ مرشدحاجی عثمان پر فتوی لگایا گیا ہے تو اس میدان میں کام کیا۔ اس سے پہلے اور بعد میں جمعیت ف (molana fazal rehman JUI)کو ہمیشہ سپورٹ. بھی کیا اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔( PTM)وجود میں آئی تو اس کو بھیso سہارا دیا۔ عورت مارچ میں مظلوم عورتوں کو بھی سپورٹ کیا۔ اگر( PTM)تحریک ہے تو

SUBHEADING

اس کا نام پشتون تحفظ موومنٹ سے زیادہ مظلوم تحفظ موومنٹ موزوں تھا۔ ہماری بات مان لی جاتی تو اس کے تین قائد منظور پشتین(Manzoor Pashteen)، علی وزیر (Ali Wazir)، محسن داوڑ (mohsin dawar)بھی ذاتی اختلافات اور چپقلشso کا شکار نہ ہوتے۔ تحریک کی بنیاد منظور پشتین(Manzoor Pashteen) نے محسود تحفظ موومنٹ سے رکھی تھی اسلئے کہ محسود. قوم کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔

SUBHEADING

سوات سے. وزیرستان اور ژوب سے کوئٹہ پشین تک پشتون قوم نے بھرپور ساتھ دیا لیکن (PTM)کی قیادت نے صرف فوج soوپنجابی قوم اور پشتون قوم کے درمیان منافرت پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اگریہی مسئلے کا حل ہوتا توپھر (PTM)کی مرکزی قیادتso خود کیوں بکھر گئی ہے؟۔ تحریک کے نام پرکچھ مشکلات برداشت کرنے بعد شہرت اور آسائشوں کا شکار ہونا ایک فطری بات ہے۔ پہلے بھی اس بات پر اختلاف تھا کہ (PTM )قائد علی وزیر یا منظور پشین (Manzoor Pashteen)کو ہونا چاہیے؟ اور پھرso محسن داوڑ (Mohsin Dawar)نے اپنی طرف سے ہلہ بول دیا کہ میں نے (PTM)بنائی ہے۔ علی وزیر(Ali Wazir)کو اپنے خاندانی بیک گراؤنڈso کی وجہ سے .وزیروں نےso قیادت کیلئے زیادہ موزوں قرار دیا لیکن علی وزیر نے اس چھوٹی بات کو مسترد کردیا تھا۔

SUBHEADING

محسن داوڑ نے اے این پیso کی خاص. ونگ کی کمان پہلے بھی سنبھالی تھی اور زیادہ بڑا سیاسی ورکر ہونے کی وجہ سے اپنے اندر اہلیت بھی دیکھتا تھا مگرso وزیرستان میں. وزیر ومحسود قوم کے غلبے کی وجہ سے اس کی خواہش قبائل میں نہیں پنپ سکتی تھی اسلئے ایک سیاسی. جماعت کا اعلان کردیا۔ جب علی وزیر (Ali Wazir)اور محسن داوڑ نے الیکشنso میںآزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کرلیso تو منظور پشتین نے. اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا جس کی ہم نے تھوڑی بہت گوشمالی بھی کی تھی۔ (MNA)بننے کے باوجود قائدین نے( PTM)سے وابستگی جاری رکھی تو اس نظریاتی اختلاف نے ایک دن نظر آتا بننا ہی تھا۔

Imam Mehdi

میرانشاہ اور وانا میں جتنے بڑے جلسے (PTM)نے کئے تھے وہ. محسود ایریا (Mehsud Area)میں اس کا تصور بھیso نہیں کرسکتے تھے۔ جب. منظور پشتین،علی وزیراور محسن داوڑ ارمان لونی شہید (professor arman loni) کا جنازہ پڑھ کربلوچستانso سے لوٹ آئے تو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک وزیر. شہید کی برسی ہورہی تھی۔ علی وزیر کیساتھ محسن داوڑ(Mohsin Dawar) soنے شرکت کی مگر منظور پشتین کو شرکت کی بھی اجازت نہ مل سکی تھی۔ ہم نے ان معاملات پر. متنبہ کیا لیکن ہماری گزارشات کو دشمنی پر محمول تصور کیا گیاتھا۔ واناso میں وزیر وں کے علاقے میں ایک بھی فوجی آپریشن نہیں. ہوا ۔ وزیروں کو کبھی ہجرت پر مجبور نہیں کیا گیا ہے تو وہ پاک فوج کے soخلاف نعرے کیوں لگائیںگے؟۔ علی وزیر جوزبان کراچی میں. فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے وہ وانا میں کامیاب نہیں ہے۔

Imam Mehdi

وزیر اپنے کاروبار، امن وامان اور ڈسپلن کو کبھی بھی خراب نہیں ہونے دیں گے۔ جبکہ محسودوں (Mehsud Tribe)کا بیڑہ غرق اورso تباہ وبرباد ہوگیا ہے۔ وزیر وں میں جن کا تعلق (PTM )سے ہے وہ کبھی soاپنے ایسے مجاہد کی تقریر اور کردار پر. فخر کی کوشش بھی نہیں کرتے جو. کبھی بھی وزیرقوم کیلئے مسئلہ نہیں بنے ہیں۔ لیکن محسودوں میں جنکا تعلق (PTM )سے ہے وہso حکیم اللہ محسود (Hakimullah Mehsud)کی تقاریر پر بھی فخر کرتے ہیں۔

Imam Mehdi
Keywords: PTM, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Ali Wazir, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Jamat-e-islami, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Hakimullah Mehsud, molana fazal rehman, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen,

یہ وہی حکیم اللہ محسود(Hakimullah Mehsud) ہے جوپرائی گاڑیوں کی کنڈیکٹر ی کرکے. ڈرائیور بن گیا تھا اور اس کا باپ دیہاڑی دار مزدور ہے۔ اپنے گاں کوٹکئی میں. شریف فیملی کے سربراہ خاندان ملک کو اس دن شہید کیا تھا جس دن علی وزیر کے والد محترم میرزا عالم وزیرکو شہید کیا گیا تھا۔وزیر اسلئے طالبان ہیروز کو اپنے ہیروز نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث رہے ہیں اور حکیم اللہ محسود (Hakimullah Mehsud)نے پھر اس خاندان ملک کی پوری فیملی کو. شہید کردیا تھا جن میں ایک حافظہ بچی بھی شامل تھی۔ بچے. کچے کے انتقام سے بچنے کیلئے کچھ افراد کو بطور ضمانت تحریک طالبان میں رکھاتھا تاکہ وہ انتقامی کاروائی سے اپنے خاندان. کو بچا سکے جب ہمارا واقعہ ہوا تھا تو نعرہ تکبیر کیساتھ آنے والوں نے اپنے مردے بھی چوروں اور ڈکیتوں کی طرح رات کی تاریکی میں دفن کئے تھے۔

Imam Mehdi

ہمارے خاندانso میں جو کچرہ اور کچرے ٹائپ کے لوگ ہیں وہی طالبان بن گئے تھے۔ کسی کے اصیل اور کم اصل ہونے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے soکہ جب اس کو طاقت. مل جاتی ہے تو پھر اپنی اوقات دکھاتا ہے۔ خاندان ملک محسود کے خاندانی خاندان کو موقع مل جائے تو وہ حکیم اللہ محسود (Hakimullah Mehsud) کے غریب باپso سے انتقام بھی نہیں لے. گا اور یہی حال ہمارا اپنے خاندان کے لوگوں سے انشا اللہ ہوگا۔ جب(1991) میں مجھے( 40FCR)کے تحت ڈیرہso اسماعیل خان جیل میں. سزا کاٹنی پڑ رہی تھی تو مجھے پہلے احاطہ نمبر(3)میں رکھا گیا تھا جہاں محسودوں (Mehsud Tribe)نے میری مہمان soنوازی کی۔ وہ قرآن کا .ترجمہ دوسروں کو پڑھا رہے تھے اورso پھر پتہ چلا کہ چوری اور ڈکیتی میں. پکڑے گئے ہیں اور بچپن میں غربت کی وجہ سے والدین نے مدرسہ میں داخل کیا تھا جہاں تھوڑا بہت قرآن کا ترجمہ سیکھ لیا تھا۔ جب جیل کے سرکاری قاری کو پتہ چل گیا کہ میری تھوڑی بہت دینی اور دنیاوی تعلیم ہے تو مجھے احاطہ نمبرایک میں منتقل کردیا گیا۔

Imam Mehdi

کچھ عرصہ پہلے بھی جب (PTM)کے کراچی میں جلسےso ہوئے تھے اور بڑی سخت. زبان استعمال کی گئی تھی تو ہم نے شہہ سرخی میں منظور پشتین (Manzoor Pashteen)کو اپنی طرف سےso بچانے کی بھرپور کی کوشش کی تھی۔ اس نے گلہ بھی کیا تھا کہ اب آپ ہمیں کوریج نہیں دیتے ہیں۔ ساتھیوں کو بلانے کی دعوت پر( PTM)کے ایک پروگرام میںso بھی میں نے شرکت کی تھی. اور خطاب بھی کیا تھا جو آرمی پبلک سکول کے شہدا کے حوالے سے تھا۔ اگر میں چاہوں تو (PTM)سے زیادہ بڑیso تعداد میں محسودقوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاso کرکے بفضل تعالی دکھا سکتا ہوں۔ وقتی تحریکیں جھاگ کی طرح ابال کھاکر بیٹھ جاتی ہیں اور میں کسی جھاگ کا حصہ نہیں بنناso چاہتا ہوں۔ اگر میں چاہتا تو بڑی سیاسی. اور مذہبی جماعتوں. میں ہی شامل ہوکر اپنے لئے بڑی جگہ بناسکتا تھا لیکن میں بھی دوسروں کی طرح آخر کار ان میں تنکے کی طرح بہہ جاتا۔

SUBHEADING

اگر میں تدریس soاور فتوے کی راہ اختیار. کرتا تو بھی ایک بڑا مقام بناسکتا تھا لیکن مجھے ایسا مقام نہیں چاہیے۔ میں کسی ایک فرقے کا مناظر بنso کر سامنے آتا تو بھی سستی شہرت اور دولت کماسکتا تھا۔ ادب و صحافت کے میدان میں اپنا نام بناسکتا تھا ۔ لڑکپن سے ادھیڑso عمر تک اپنی عمر کی( 40)بہاریں. گزار دیں اور اپنی نااہلی ونالائقی کیساتھ کچھ نہ کچھ تجربات بھی حاصل کرلئے مگر جب قرآن soکی آیات کی طرف دیکھتا ہوں. تو سمجھتا ہوں کہ عمر رائیگاں گزار دی۔ قرآن کی آیات میں وہ فصاحت وبلاغت ہے جس کو انسان soآخری حدتک اگر گدھا بھی بن جائے .تب بھی سمجھ سکتا ہے اور دنیا میں زیادہ تر انسانی فطرت کی وجہ سے ان پر عمل بھی ہورہاہے ۔ البتہ مذہبی گدھوں نے زبردستی سے خودکو اندھا بنالیا ہے۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ ” بیشک اندھا وہی ہے جو دل کا اندھا ہے”۔

SUBHEADING

مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman JUI)سے لیکر چھوٹے بڑےso علما تک سب کیساتھ میرے اچھے ہی مراسم رہے ہیں۔ مدارس میں. جو نصابِ .تعلیم پڑھایا جاتا ہے. وہ کوئی حتمی چیز نہیں ہے بلکہ مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman)نے کہا ہے کہ اکابر نے صرف انگریز کے. وقت میں دین کو زندہ رکھنے کیلئے یہ تشکیل دیا تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن (sheikh ul hind malta)جب مالٹا کی جیل سے رہا ہوگئے تو سب سے پہلے. امت کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے پر زور دیا تھا اور مولانا عبیداللہ سندھی (maulana ubaidullah sindhi)نے اس کو. مشن کے طور. پر اپنایا تھا لیکن مولانا اشرف علی تھانوی (molana ashraf ali thanvi)نے شیخ الہند کے قول. سے استدلال لیا تھا کہ ”اب امت. کی اصلاح نہیں ہوگی۔ ہر آنے والی تحریک میں فساد. مزید بڑھے گا ، یہاں تک کہ اس طرف سے امام مہدی(Imam Mehdi) کا ظہور ہوجائے”۔ خراسان (khorasan)کی طرف اشارہ کرکے یہ بات کہی تھی۔

SUBHEADING

شیخ الہند (sheikh ul hind malta) کے شاگرد مولانا انورشاہ کشمیری (molana anwar shah kashmiri) .جو علامہ یوسف بنوری، مفتی اعظم پاکستان مفتی. محمد شفیع ، مولانا سید محمد میاں ، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا عبدالحق اور بہت بڑے بڑے علما کے استاذ تھے وہ شروع میں. مولانا سندھی سے متفق نہ تھے لیکن آخر میں اقرار کیا کہ میں نے ساری زندگی فقہی مسالک کی خدمت میں ضائع کردی اور قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی۔

SUBHEADING

قرآن وحدیث کی. خدمت کیلئے فقہ حنفی مشعلِ راہ ہے جس میں تقلیدکی کوئی گنجائش اسلئے نہیں ہے کہ اصولِ فقہ کی ساری کتابوں. میں احادیث صحیحہ کو قرآن کی آیات سے ٹکراکر ناقابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔ بعض علما کرام نے ملاعمر (mula muhammad umar)کو بھی مہدی قرار. دیا ہے جن میں ایک علامہ یوسف بنوری کے نالائق شاگرد بھی شامل ہیں اور اس کی کتاب کو پڑھ کر علما کی کم عقلی کا .بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ پرانی روایت ملاجیون کے لطیفوں سے مسلسل چلی آرہی ہے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman)نے تحریک طالبان پر خراسان سے نکلنے والے دجال (Dajjal)کی بھی حدیث فٹ کردی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر شاہد مسعود ()نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف بہت کچھ بکا تھا لیکن حامد میر نے بھی مولانا کا ساتھ نہیں دیا تھا۔

SUBHEADING

عمران. خان، شہباز شریف ، نوازشریف اور دیگر عناصر کو طالبان اپنا نمائندہ نامزد کررہے تھے اور مولانا فضل الرحمن (mula muhammad umar)پر خود کش حملے. ہورہے تھے۔ (2023 )کے انتخابات کی لالچ میں مولانا فضل الرحمن ن لیگ سے دھوکہ کھائیں گے لیکن اگر اپنے اکابر کی خواہش کے مطابق عوام کو قرآن. وسنت کی طرف مائل کرنے پر آگئے تو یہ دیکھو انقلاب بالکل سامنے آیا چاہتا ہے۔ کوئی ریاست، حکومت اور عالمی قوت اس میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی ہے۔ وزیرستان کے حالات پہلے کتنے قابلِ رشک تھے اور اب وزیرستان کا کیا حال ہوگیا ہے؟۔ دھماکوں، غربت اور جبری نظام. سے تنگ عوام پھر ایک ایسی راہ پر نکل کھڑے ہوسکتے ہیں جو پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوںگے۔

SUBHEADING

اگر مولانا انورشاہ کشمیری (molana anwar shah kashmiri)نے اپنی زندگی اسلئے .ضائع کرنے پر افسوس کاا ظہار کیا تھا کہ تعلیمی نصاب کاقرآن وسنت. سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو اس بیہودہ نظام کو مزید عملی طور پر زندہ رکھنے کے بجائے حضرت شاہ ولی اللہ (shah waliullah)کے الہام فک النظام پر انقلاب نہیں لانا چاہیے؟۔ عالمی سودی بینکنگ کے نظام کواسلامی (Islamic Banking)بنانے کیلئے ہمارے. اکابر سرپر پاں رکھ کر دوڑ. رہے ہیں لیکن قرآن کی طرف رجوع کرنے کیلئے امام مہدی کا انتظار کررہے ہیں؟۔
ہم نے اپنا راستہ چن لیا ہے۔ بہت سارا سفر طے کرکے. منزل بھی پالی ہے اور قرآن سے عوام وخواص کے ایک بڑے طبقے کو بھی متعارف کردیا ہے۔ باقی ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہم اپنی اور امت کی اصلاح کے منتظر ہیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

CIA Team had a secret visit of Pakistan? Comments on Googly News, Asad Toor, Hamid Mir, President of ANP Khan Abdul Wali Khan, Habib Jalib, Shah Ahmed Noorani and Prof. Abdul Ghafoor.

Keywords: Googly News, Asad Toor, Hamid Mir, ANP, Khan Abdul Wali Khan, Habib Jalib, Jamat e Islami, Imran khan


سوشل میڈیا پر یہ خبر دیکھ کر دل باغ باغ ہوا کہ امریکی (CIA)کے چیف نے پاکستان کا خفیہ دور ہ کیا، آرمی چیف اور (DGISI)سے ملاقاتیں کیں مگر وزیراعظم نے ملنے سے انکار کیا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پھرGoogly News سوشل میڈیا پر دوسری خبر اس حوالے سے دیکھ لی کہ امریکی (CIA)کے چیف نے آرمی چیف اور(DGISI)سے ملاقات کی مگروزیراعظم کو ایک عارضی مہرہ سمجھ کر ملنے سے انکار کیا

ایک خبر میں وزیراعظم کے بلند مورال کو پیش کرکے آرمی (Pak Army)کی حیثیت کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور وزیراعظم کو بہادر ثابت. کیا گیا اور دوسری خبر میں وزیراعظم کو بے حیثیت بنایا گیا

جب گوگلی نیوز (Googly News)سوشل میڈیا پر خبر سنی کہ ” امریکی سی آئی اے کے چیف نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا اور اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور (ISI )کے چیف سے خفیہ ملاقاتیںso کیں اور. وزیراعظم عمران خان نے( CIA)کے چیف سے ملاقات کو اپنے پروٹوکول کے خلاف قرار دیا کہ ایک وزیراعظم کیلئے یہ Googly News ممکن نہیں ہے کہ کسی غیر ملکی ادارے اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات کرے تو بہت ہی زیادہ خوشی ہوئی کہ وزیراعظم عمران خان so(Imran Khan)نے کریڈٹ کا حق ادا کردیا کہ واقعی بڑا بہادر ہے اور اسso کو بہادر کہنے والوں کا ایک اچھے اور ضرورت کے وقت اس نے حق بھی ادا کردیا ہے۔

Asad Toor

میں نے پروگرام بنایا کہ اسپیشل شمارہso شائع کرکے اپنے اخبار کے ذریعے پوری قوم کو خبردار کیا جائے کہ ایک بہادر وزیراعظم عمران خان (Imran Khan)کو سب کی. طرف سے خراج تحسین Khan Abdul Wali Khan پیش کی جائے۔ حکمرانوں کے قصیدےso لکھنا ہمارے مزاج کے خلاف ہے۔ حضرت عمر (Hazrat Umar)نے رسول اللہ ۖ کی تعلیم وتربیت اورso اللہ تعالی کی. طرف سے وحی کے ذریعے جو مزاج پایا تھا وہ نبیۖ کے دور میںso بھی اپوزیشن کا بہترین کردار Googly News تھا۔ حضرت عمر نے کفر کی حالت میں بھی تلوار لیکر نبیۖ کو سرِ عام قتل کرنے کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا تھا۔ جس کی بدولت اللہ تعالی نے Khan Abdul Wali Khan ہدایت سے بھی نواز دیا تھا۔ اللہ تعالی کو منافقت کفر سے زیادہ بدتر لگتی ہے اسلئے فرمایا کہ ”منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہونگے”۔

Asad Toor


مجھے صحابہ کرام میں حضرت عمر ہی کا مزاج سب سے زیادہ پسند ہے جب اپوزیشن کی تو سرِ عام قتل کرنے کی راہ پر چل نکلے اور جب پتہ چلاکہ معاملہ اپنے گھر سے ہی خراب Khan Abdul Wali Khan ہے تو پہلے اپنی بہن اور بہنوئی. کا رخ کیا۔ جب اسلام کو. قبول کیا تو پھر اعلانیہ آذان اور اعلانیہ ہجرت کرکے فاروق اعظم کے لقب سے Googly News نوازا گیا۔ ہیکل نے نبیۖ کو پہلی پوزیشن پر اپنی کتاب میں رکھا اور. مسلمانوں میں دوسرا نام صرف اور صرف حضرت عمر ہی کا شامل کیاتھا۔ سوبڑے انسان: ہیکل(The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History)

پھر سوشل میڈیا پر اسدطور (Asad Toor)کا ویلاگ سن لیا ،اس نے کہا ہے کہ ”اپریل کے آخری ہفتے میں امریکی (CIA )کاچیف آیا اور اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ (Qamar Javed Bajwa) .اور( DGISI)سے ملاقاتیں. کیں لیکن وزیراعظم عمران خان (Prime Minister Imran Khan)سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ اس کو اپنے. ذرائع سے معلوم ہوا ہوگا کہ وزیراعظم کے دن تھوڑے ہیں اسلئے طویل المدت معاہدے کیلئے اس کی کوئی حیثیت نہیں ”۔

TEST


گوگلی نیوز(Googly News) اور اسد طور(Asad Toor) کیso خبروں میں بہت بڑا تضاد ہے اوریہ نہیں پتہ Khan Abdul Wali Khan چلتا کہ. کس کی بات درست اور کس کی غلط ہے۔ البتہ ایک میں وزیراعظم عمران خان (Prime Minister Imran Khan) کی بہادری اور دوسری خبر میں اس کوبہتso بے وقعت بنایا گیا ہے۔ دونوں خبروں میں اس تضاد سے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟۔ پہلی خبر میں وزیراعظم کی تعریف ، سول قیادت کی اہمیت اور فوج(Pak Army) کی بے بسی اور بے توقیری soکا اظہار کیا گیا ہے. اور دوسری خبر میں وزیراعظم کی حیثیت کا ستیاناس کردیا گیا ہے۔

دونوں خبروں کیso تشہیر کے الگ الگ مقاصد ہیں۔ پہلی خبر میں اس بیانیہ کا اظہار ہے کہ سول قیادت ہی اس ملک کو خفیہ سازشوں سے Googly News بچانے میں اپنا بنیادی کردارso ادا کر رہی ہے اور دوسری خبر میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آرمی قیادت ایک جزو لاینفک ہے لیکن اسکے ساتھ عمران خان(Imran Khan) .کی جگہ نوازشریف (Nawaz Sharif PML-N)اور شہباز شریف(Shahbaz Sharif) کا جوڑ بنتا ہے،عمران خان (Imran Khan)کا نہیں۔ یہ نوازشریف (Nawaz Sharif PML-N) کا مقدمہ ہے soتاکہ جمہوریت کے نام پر صحافی مافیہ بھاڑا لے کر اپنا نمک اور کھایا پیا حلال .Habib Jalib کرے۔

Asad Toor


اسد علی طور (Asad Toor) وہ صحافی ہے جس کو حال ہی میں مار پڑی تھی اور Habib Jalib مارنے والوں نے اس کو بتایا تھا کہ ہمارا تعلق پاک فوج (Pak Army)کی خفیہ ایجنسی (ISI)کیساتھ ہے۔ جس پر حامد میر .(Hamid Mir)نے وائس آف امریکہ (voice of america)کو انٹرویو دیا تھا کہ ”پاک فوج کی ایجنسیاں اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں اور گھروں میں گھس کر مارنا شروع کیا تو پھر ہم بھی انکے گھروں میں گھسیںگے۔

یہ بے غیرت سامنے Habib Jalib نہیں آتے ہیں بلکہ چھپکے وار کرتے ہیں، اگر ان میں. اتنی جرات ہو تو ہمارے سامنے آجائیں ۔ یہ بزدل ہیں، کبھی سامنے نہیں آئیںگے۔ ان کے پاس بندوقیں ہیں،ہمارے پاس بندوق نہیں ہے مگر یہ ہمارے گھروں میں گھسیںگے تو ہم بھی ان کے گھروںمیں گھس. جائیں گے اور بتائیںگے کہ کس جنرل کی بیوی نے کس جنرل کو اپنے گھر میں گولی ماری تھی”۔

Asad Toor

سوشل میڈیا پر حامد میر (Hamid Mir)کو مخالف اور حامی طبقات کی طرف Habib Jalib سے بڑی پذیرائی مل گئی۔ جیو نیوز پر اس کو کیپٹل ٹاک (geo news capital talk)کرنے سے روک دیا گیاہے۔ (PDM )کے قائدین مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman JUI)اور ن لیگ وغیرہ کے رہنما بھی اسد طور کے. پاس اظہار یکجہتی کی غرض سے گئے اور ساتھ ساتھ ابصار عالم کے پاس بھی پہنچے ،جس نے صحافت چھوڑنے اور ن لیگ میں Googly News شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ کچھso سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ابصار عالم ن لیگ میں شامل ہوچکا تھا جس کو گولی لگی تھی لیکن (PDM)اور ن لیگ کی قیادت ان تک Habib Jalib پہلے کیوں. نہیں پہنچی تھی؟۔ اسدطور (Asad Toor)کو زدوکوب کیا گیا تھا اور اس پر معاملہ اتنا اٹھایا گیا ہے؟۔

Asad Toor

Googly News حامد میر(Hamid Mir) نے ایک بچے سچل پر بھی ویڈیو بنائی ہے جس کے صحافی باپ…………………. کواغوا کیا گیا تھا اور اس وقت اس کی عمر صرف چھ ماہ تھی۔ اب اس کی. تیس سالہ ماں بھی فوت ہوچکی ہے جس نے اقوام متحدہ میں اپنے شوہر کیلئے سوال اٹھانا تھا۔ جس Habib Jalib پر سازش کے تحت مارنے کے خدشے کا اظہار. بھی کیا گیا ہے اور تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیاہے۔

اسد طور (Asad Toor)نے اپنی ایک وڈیو میں جنرل باجوہ (Qamar Javed Bajwa)کا یہ بیان بالکل مسترد کردیا تھا کہ نوازشریف اپنے ہی بوجھ سے گرے تھے۔ حالانکہ پارلیمنٹ کے .بیان، قطری خط لکھنے اور پھر اس سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے بعد غیر جانبدار اور بھاڑہ لینے سے پاک صحافی یہ کبھی نہیں کہہ سکتا ہے۔

TEST

لیکن خدشہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے خاموش مفاہمت ہی کے نتیجے میں اسد طور(Asad Toor) اور حامد میر (Hamid Mir)کا ایک ڈرامہ ترتیب دیا گیا ہواور اس اسکرپٹ میں عمران خان .(Imran Khan)کے طیش و غضب سے بچنےso اور جعلی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کیلئے (PDM)کو موقع فراہم کیا گیا ہو؟۔ اسلئے کہ( PDM )کےso قائدین نے ابصار عالم (Senior journalist Absar Alam)کو نہیں پوچھامگر اب کیسے بہادر بن گئے ہیں؟۔

جب (PDM)نے مفاہمت کی راہ اپنائی تھی تو مولانا فضل الرحمن .(molana fazal rehman JUI)نے کافی عرصہ بعد ظفراللہ خان جمالی (Zafarullah Khan Jamali)کی تعزیت کی تھی اور soاب احتجاجی جلسے جلوسوں اور تحریک انصاف کی. حکومت کو گرانے کے بجائے بات اسد طور (Asad Toor)سے لیکر ابصار عالم (Senior journalist Absar Alam)پر ختم ہوگئی ہے۔ یہ soٹھنڈی ٹھار پالیسیاں علامتی اور مفاہمتی عمل ہے جو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

TEST

حامد میر (Hamid Mir)نے پیپلزپارٹی (PPP)کو مشورہ دیاکہ بھٹو (Bhutto)کی وہ کتاب چھاپ لیں جس. میں سردار عطا اللہ مینگل (sardar attaullah mengal)کے بیٹے پر مجرمانہ خاموشی کاso اعتراف ہے۔ کسی بھی. سیاستدان اور صحافی کا سچ سچ نہیں بلکہ ایک کہانی ہے جو ایک. طویل عرصہ ضائع ہونے کے بعد منظر عام پر آئے۔صدر سکندر مرزا(sikandar mirza president pakistan)اور ذوالفقار علی بھٹو (zulfiqar ali bhutto)نے قوم کو جن کہانیوں سے لوگوں کو آگاہ کیا ہے. وہ معتبر تب ٹھہرتیں جب اپنے وقت پر اس کا اظہار ہوتا۔ کربلا میں حضرتso حسین یزید. کی بیعت کرنیکے بعد کسی جیل میں کوئی کہانی لکھتے تو یہ. بکواس کے علاوہ کچھ ہوتا حبیب جالب (Habib Jalib)نے وقتso کے حکمرانوں کے خلاف جب بولنا شروع کیا تو ہردور جیل میں گزارا تھا۔

آج سچ کیلئے مشکلات نہیں بلکہ خریدے گئے صحافیوں کی کھلی یلغار کا معاملہ ہے۔حامد میر (Hamid Mir)جس باپ کا بیٹا ہے تو اسکا بھائی عامر میر (Amir Mir)بھی اسی باپ کا بیٹا ہے۔ وہ نوازشریف (Nawaz Sharif PML N)پر پیپلزپارٹی (PPP)کے پلیٹ فارم سے سخت تنقید کیوں کرتا ہے؟۔ جس کو جنگ گروپ وجیو جمہوریت کا بہت بڑا معصوم چیمپئین بناکر پیش کررہا ہے؟ یہ رائے اور تجزئیے کا اختلاف نہیں ہے بلکہso سہیل وڑائچ اگر اپنی غیرجانبدارانہ. صحافت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے تو اس کو کھلا تضاد قرار دیتے۔
عوامی نیشنل پارٹی (ANP)کے صدر خان عبدالولی خان (Khan Abdul Wali Khan)کیso جماعت میں حبیب جالب (Habib Jalib)شامل تھے۔

TEST

افغان امریکی جہاد (Afghan Jihad)کیلئے چندہ مانگنے والےso مولوی نے جب مردان کے خان کی. شادی میں شرکت کی تو جہاد کیلئے چندہ مانگنے کی نیت سےso اس خان کو تنگ کرنا شروع کیا کہ .دین کی زندگی میں کوئی خدمت نہیں کی۔ خود جہاد میں گئے اورنہ کسی اور کو بھیجا تیری قبرتباہ ہے اور آخرت کا عذاب یقینی ہے۔ اسلام کی کوئی علامت تجھ میں نہیں ہے اور نہ اسلام کی جانی مالی خدمت کی ہے۔

ولی خان (Wali Khan)نے انگریزی میں اس خان سے کہا کہ مولوی(Molvi) کوso میرے پاس بھیج دو۔ جب ولی خان (Wali Khan) کو اس نے دیکھا تو اس کا رنگ پھیکا پڑگیا اور کہنے لگا کہ ولی خان (Wali Khan) تو بہت عالم آدمی ہیں۔اس کی داڑھی ہے اور نہ. مونچھ لیکن پارلیمنٹ میں مولانا مفتی محمود(Mufti Mehmood JUI)، مولانا شاہ. احمد نورانی(Moulana Shah Ahmed Noorani) ، پروفیسر غفور( Prof. Abdul Ghafoor Jamat e Islami) سب سیاسی مذہبی جماعتوں کے امام ہیں۔

TEST

خوشامد کرکے کوشش کی کہ کسی طرح جان کی خلاصی پالے۔ ولی خان (Wali Khan)نے کہا کہ آج تک کسی مولوی نے پہلی مرتبہ. سچ بولا ہے مگر یہ تو بتا کہ رسول اللہۖ نے خود جہاد کیا یا چندہ کیا تھا؟۔ مولوی نے کہا کہ آپۖ جاتے تھے۔ولی خان (Wali Khan)نے کہاکہ آپ کبھی گئے ہو یا صرف چندےso پر اکتفا کرتے ہو؟۔ اس نے کہا کہ گیا نہیں مگر آئندہ دیکھتا ہوں۔ ولی خان نے اس خان سے کہا کہ کل اس کو اسلحہ. گولیاں خرید کر دیدو اور لنڈی کوتل افغان سرحد پر جہاد کیلئے چھوڑ آ۔ تو مولوی (Molvi)آئیں بائیں اور شائیں کرتا ہوا رفوچکر ہوا۔ اس خان نے کہاکہ مولوی نے کھانا بھی چھوڑ دیا؟۔

ولی خان (Wali Khan)نے کہاso کہ کھانا کیا وہ میری. باتوں کا سامنا کرے تو جنت کو بھی چھوڑ دے گا۔ ولی خان (Wali Khan)کہتا تھا کہ نبیۖ کے دور میں جہادso ہوتا تو مالِ غنیمت سب میں برابر تقسیم ہوتا تھا لیکن یہ کونسا جہاد ہے جو افغانستان میں ہورہا ہے اور مالِ غنیمت منصورہ لاہور میں بٹ رہاہے۔

TEST

جب ولی خان (Wali Khan)کا انتقال ہوا تو حامد میر (Hamid Mir)نے جیو (Geo TV)میں کرائے کے جہاد کی فیکٹریوںso کو. مقبول بنانے کا ٹھیکہ اٹھارکھا تھا۔ مفتی نظام الدین شامزئی (mufti nizamuddin shamzai)سے بھی کہاتھا کہ اگر یہ لوگ واشنگٹن. سےso براستہ رابطہ عالم اسلامی (rabita alam e islami )مکہ مکرمہ ڈالر (Dollar)لینے اور علما کو خریدنے سے باز نہیں آئے.

تو انso کا بھانڈہ بیچ چوراہےso پھوڑ دینا مگر ولی خان کی وفات پرپروگرام میں جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد ( Prof. Abdul Ghafoor Jamat e Islami) ، ایم کیوایم ڈاکٹر فاروق ستار (Muhammad Farooq Sattar MQM)اور کسی soمسلم لیگی (PML N)کو دعوت دی تاکہ ولی. خان کو وفات کے بعد بھی معاف نہ. کیاso جائے لیکن حیرت انگیز طور پر جب سب مخالف مہمانوں نے اعلی ظرفی کا بہت بڑا مظاہرہ کرتے ہوئے ولی خان کی خوبیوں کو بیان کیا تو حامد میر(Hamid Mir) کا رنگ ایسا فق ہوگیا تھا جیسے کسیso اغوا شدہ دلہن کو زبردستی سے نکاح پڑھایا جائے۔

حامد میر (Hamid Mir)اچھے انسان اور صحافی. ہیں لیکن وہ جسso ماحول کے پروردہ ہیں اس میں اچھائی اور برائی کے احساسات کا شاید پتہ نہیں چلتا ہے۔ اگر واقعی اپنے گزشتہ نامہ اعمال سے توبہ کرکے سچائی کی راہ چلے ہیں تو ہم اپنی طرف سے شاندار الفاظ میں خیر مقدم بھی کریںگے۔ صحافت اور شرارت میں فرق ہے۔ البتہ وہ شریف آدمی ہیں اور اغیار کے ایجنٹ نہیں ۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Reaction of PTI Senator Dost Muhammad Mehsud, PTM leader Alamzeb Mehsud and Hayat Preghal on existence of land mines within Mehsud area of Waziristan.

Keywords: waziristan, ptm, ttp, dost muhammad mehsud, mehsud tribe, landmine blast in south waziristan, ptm

پی ٹی آئی کے سینیٹر دوست محمد محسود، پی ٹی ایم کے رہنما عالم زیب محسود اور حیات پریغال کا جنوبی وزیرستان میں لینڈ مائنز کے خلاف احتجاج۔and

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جنوبی وزیرستان محسودعلاقہ (South Waziristan Mehsud Tribe)کے صدر مقام مکین میں لینڈ مائنزand کا ایک اور واقعہ۔ اب تک لینڈ مائنز کے( 174)واقعات ہوچکے ہیں اور ان dost muhammad mehsudواقعات میں معذور افراد کی تعداد (235)ہے۔
یہ شام کشمیرand یا فلسطین کا بچہ نہیں ہے یہ اسلام کے نام پر بننے والے خونخوار ریاست کفرستان کے علاقے وزیرستان (Waziristan)میں پیدا ہونے کی سزا کاٹ رہا ہے اور اس سب کی وجہ بننے والے دہشت گرد اور محترمand ادارے فرشتہ صفت ہے ہاں اس بچے کو خاموش رہنا ہے یہ آہ بھی کریگا تو غدار اور وطن فروش ٹھہرایا جائیگا۔

dost muhammad mehsud

وزیرستان(South Waziristan Mehsud Tribe)کے محسود علاقےso میںبچھائی گئیdost muhammad mehsud باروردی سرنگوںand لینڈ مائنزسے آئے روز دھماکے ہوتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے کانیگرم ( Kaniguram South Waziristan)میںso متعدد ایف سی اہلکار شہید(Soldier martyred in landmine blast near kani gram area of South Waziristan) ہوگئے اور مکین میں تینand بچےso شہید اور چند معذور ہوگئے۔ مکین میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ مکین بریگیڈ کے سامنےand کیا گیا اورزبردست دھرنا دیا گیا۔ جبso سول انتظامیہ نے چاروں مطالبات تسلیم کرلئے تو مظاہرین منتشر ہوگئے۔

dost muhammad mehsud

شہدا کو دفنانے. کے بعد قبائلیand مشران اور عوامی نمائندوں نے سخت غمso وغصے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روز روز اس طرح مرنے سے اچھا ہے کہ ایک ہی مرتبہ میں ہم سب مرجائیں۔ صبر کا پیمانہ سب کا لبریز ہوچکا ہے اور اپنی آواز مقتدر طبقات تک پہنچانے کیساتھ ساتھ کسی. وقتso حالات بے قابو بھیso ہوسکتے ہیں۔ جب قریبی فوجی چوکی سے سول وردی میںdost muhammad mehsud کچھ افراد نے شہدا کے قبروں کی ویڈیو بنانی شروع کردی تو مشتعل لوگوں نے ان پر ہلہ بول دیا مگر( PTM)کے رہنماں عالم زیبso محسود، حیات پریغال اور دیگر نے کوئی ناخوشگوارso حادثہ نہیں ہونے دیا۔ ایک جوان شدت جذبات کے بعد مشکلوںso سے روکنے پر بیہوش بھی ہوگیا۔ حکام بالا محسود ایریا کو امن دینے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔

TEST

تحریک انصاف کے سینیٹر دوست محمد محسود(Dost Muhammad Mehsud)،( PTM)کے قائدین، رہنما، کارکن اورso آزاد. صحافت کے نام سے بہت مثبت کام کرنیوالے .نوجوان سب کے سب حالات سے بہت زیادہ نالاں اورso معاملات کو سلجھانے میں سنجیدہ نظرآتے ہیں لیکن حالات بدستور خرابی کی طرف. جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ اب تو پختونخواہ کے سیٹل ایریا میں مرج ہوچکا ہے۔ فوجی آپریشنوں اور طالبان گردی (TTP)کے مسلسل زد میں ہونے کی وجہ سے. بہت لوگ سختand soگرمیوں کے باوجود بھی اپنے آبائی علاقے خوشگوار موسم جنت نظیروادیوںso میں جانے سے گریزاں ہیں اور جو وہاں جانے پر مجبور ہوتے ہیں تو ان کے بچے بارودی سرنگوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ جب کوئی دھماکہ، ٹارگٹ کلنگ یا. سیکیورٹیand اہلکاروں پرso حملہ ہوتا ہے تو soعلاقے میں رہنے والوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟۔

TEST


مقتدر طبقات اور عوامی نمائندے soاس کا حل نکالنے میں مکملso طور پر ناکام ہیں. اور اشتعال انگیزی بھی مسائل کا حل نہیں بلکہ محسود(Mehsud)قوم کومزید مشکلات کی طرفso دھکیلنے کے مترادف ہے. اور خاموشی کیساتھdost muhammad mehsud سہنے کی حدیں بھی ختم ہوچکی ہیں ۔اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے کیلئے ایسی قیادتso کی ضرورت ہے جس میں علاقہ کے عوام کی. محبت، اصلاح کاجذبہ اور دلدل سے نکالنے کی زبردست صلاحیت ہو۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv