پوسٹ تلاش کریں

ہمارا مسئلہGHQحل کردے۔ وزیرستان

ہمارا مسئلہGHQحل کردے۔ وزیرستان

عوام کو فوج کی سکیورٹی کا ذمہ دار قرار دینا غلط ہے قومی جرگہ عالمزیب محسود

امن عوام کی ذمہ داری نہیں: ناخوشگوار واقعات پر عوام کو تنگ کرنا، چیک پوسٹوں پرظالمانہ رویہ اورعوام کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرنا غیرقانونی ہے

عالم زیب خان محسود نے کہا کہ آج یہاں پر جنتہ تحصیل سراروغہ جنوبی وزیرستان میں ہم موجود ہیں۔ یہاں ہماری قوم کا جرگہ ہوا ہے اور یہ جرگہ اس حوالے سے تھا کہ چند دن پہلے یہاں پر ایک ناخوشگوار واقعہ سامنے آیا کہ یہاں پر آرمی اہلکاروں کے اوپر حملہ ہوا۔ تو پھر آرمی نے ان لوگوں کو بلا کر ان کو یہ کہا ہے کہ بھئی یہ تو آپ لوگ ہمارے ذمہ دار ہیں۔ آپ لوگوں نے یہ خیانت کی ہے آپ اس کا جواب ہمیں دیں۔ اس طرح کے واقعات اور بھی جگہوں پر سامنے آرہے ہیں۔ جس طرح کہ یہ ساری صورتحال مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اور اس پر ہمارے قومی جرگے ہوئے ہیں اور اس پر ہمارا قومی بیانیہ بنا ہے۔ اور وہ قومی بیانیہ ہم نے یہاں پر بھی پیش کیا ہے یہی بیانیہ یہاں پر ان کے جتنے بھی آرمی یونٹس ہیں اور ہمGHQتک بھی اپنی آواز پہنچانا چاہتے ہیں کہ یہاں پر لوگوں کے اوپر اس طرح کا تشدد کرنا یا یہ اجتماعی ذمہ داری ان کے اوپر ڈالنا یہ قطعاً غیر انسانی اور غیر قانونی ہے۔ سیکورٹی کی ذمہ داری یہاں پر آرمی کی ہے وہ اپنی ذمہ داری کو خود ہی انجام دے۔ یہاں پر لوگ اس کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ یہاں پر ان کو یہ کہا جارہا ہے کہ آپ لوگ ہمارے خلاف بندوق اٹھائیں تو لوگوں کو اس طرح کی بات کہنا ، یہاں پر دنیا کو کیا سمجھایا جاتا ہے یہاں پر یہ ہمارے قبائلی عوام ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں اور دوسری طرف یہاں پر لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے خلاف بندوق اٹھائیں۔ یا یہاں پر یہ کہنا کہ آپ لوگ ہمارے لئے بندوق اٹھائیں لوگوں کیساتھ لڑیں۔ دنیا میں کہاں پر ایسا ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو اس طرح کی ذمہ داری دے کر ان کو یہ کہنا کہ بھئی آپ لوگ ذمہ دار ہو آپ لوگ ہماری سیکورٹی کریں۔ سیکورٹی ادارے اسلئے ہوتے ہیں ان کو تنخواہ ہی اسلئے دی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کا زمین کا تحفظ کریں۔ باقی یہ لوگ آپ کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ ان کے گھر بار بازار سب کچھ تباہ و برباد ہوچکے ہیں اور یہ اب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو تو تنخواہ بھی ملتی ہے آپ کو تو بجٹ بھی ملتے ہیں۔ہماری اتنی تباہی کرنے کے باوجود بھی یہاں پر اگر آپ امن قائم نہیں کرسکے تو یہ نااہلی تو آپ کی ہے۔ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا آخر قصور کیا ہے؟۔ کب تک ہم اس طرح کی جہنم کی صورتحال میں رہیں گے۔ ہم نہ کوئی نیا کاروبار یہاں شروع کرسکتے ہیں۔ یہاں ہماری زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ تو آخر کب تک یہ سب کچھ چلے گا؟۔ سوال تو آپ سے بنتا ہے۔ یہاں پر اگر ایک فائر بھی ہوتا ہے اسکے ذمہ دار آپ ہیں۔ آپ جواب دیں گے نا کہ آپ ہمیں جوابدہ اس کیلئے ٹھہراتے ہیں۔ اسکے بعد یہاں پر لوگوں کو یہ بھی کہا گیا کہ آپ کایہ جو علاقہ ہے پھر ہمارے لئے خالی کردیں۔ یہ قوم کا اجتماعی فیصلہ ہے اور دیگر جرگوں میں بھی یہ سامنے آیا ہے کہ اگر ہم سے یہاں اس طرح کا مطالبہ ہوتا ہے تو غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔ اس کیلئے اگر واقعی یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی ایک گاؤں یا ایک علاقے کو خالی کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے تو پھر ہمیں لکھ کر دیا جائے کہ انہوں نے جتنے بھی ملٹری آپریشن کئے ہیں اس میں یہ ناکام یا نااہل رہے ہیں۔ ہمیں لکھ کر دیں گے اسکے بعد ہم صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ پورا وزیرستان آپ کیلئے خالی کردیں گے۔ تاکہ جو بھی آپ لوگ کرسکتے ہیں پھر آپ کریں۔ لیکن آپ ہمیں لکھ کر دیں گے جو دنیا کو آپ نے بتایا تھا کہ یہاں پر آپ کو ایک کارتوس تک نہیں مل سکتا تو پھر یہ سارے حالات کس طرح خراب ہورہے ہیں۔ یہ تو آپ کی نااہلی ہے پھر آپ ہمیں لکھ کر دیں کہ آپ جو کچھ ہمیں ماضی میں کہتے رہے وہ سب جھوٹ تھا یہاں پر علاقے میں کوئی امن و امان نہیں اور آپ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بالکل ناکام ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ جو یہاں پر لوگوں کو اب تنگ کیا جارہا ہے یہاں پر جیسے ایک چیک پوسٹ ہے وہاں پر ان کو یہ کہہ رہے ہیں کہ نہیں اب تو یہ کیمرہ بھی انہوں نے لگادیا ہے کہ یہاں پر ایک ایک بندہ آئیگا اور اپنا اپنا شناختی کارڈ دکھائے گا اور انٹری کروائے گا اور ساتھ میں یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اگر زنانہ بھی ہوگی تو ان کے پاؤں چیک کرکے ہمیں یہ بتائیں گے۔ پہلے تو یہ انتہائی بے غیرتی والی ان لوگوں کیلئے بات ہے کہ آپ اس طرح کے ان سے مطالبے کررہے ہیں۔ جو ان لوگوں کیلئے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ یہ بہت حساس معاملے کے اوپر آپ لوگ ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ اس کی حساسیت کو لیکر آپ لوگ پھر بھی یہاں پر امن و امان قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس طرح کا غیر انسانی سلوک بالکل بند کیا جانا چاہیے۔ یہاں کی چیک پوسٹوں پر کوئی دہشتگرد کوئی پاگل ہی ہوگا جو یہاں پر آکر انٹری کرکے دے گا۔ وہ جو طالب ہے یا جنہوں نے بندوق اٹھائی ہے وہ کبھی بھی چیک پوسٹوں پر نہیں آتے، نا وہاں پر انٹری کرواتے ہیں۔ وہاں پر عام عوام بالکل نہتے لوگ آتے ہیں اور پھر آپ ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ ان کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ قانونی سسٹم میں آپ نے ان کو رکھا ہوا ہے۔ اس طرح کے چیک پوسٹوں کا کوئی معنی بنتا نہیں ۔ تو اس طرح کے واقعات کے بعد اس طرح کی سختی لوگوں کے اوپر کرنا جنہوں نے کچھ کیا ہوتا ہے وہ تو کھلے عام یہاں پر گھومتے ہیں۔ آپ تو خود بھی یہ کہتے ہو کہ ان کا سب کچھ ہمیں پتہ ہے کہ کہاں پر جارہے ہیں اور کہاں پر ہیں لیکن عام عوام کیلئے پھر آپ نے چیک پوسٹیں بنائی ہوئی ہیں ان کے گھروں میں آپ گھستے ہیں ان کو آپ زدوکوب کرتے ہیں تو یہ چیزیں، ڈرون ان کے گھروں کے اوپر چادر اور چار دیواری ، پردے کے جو مسئلے ہیں سامنے آرہے ہیں یہ کبھی بھی ماننے والی چیزیں نہیں ہیں ۔ جو صاحب اقتدار لوگ ہیں ان کو سوچنا چاہیے لوگوں کو بے وجہ تنگ کرنا بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اوریہ یہاں پر آج ہمارا فیصلہ ہوا ہے۔
محسود علاقے کے مسائل اور ان کا حل
انسان اپنی کوتاہی تسلیم نہیں کرتا تو اس کی جان نہیں چھوٹ سکتی ۔ نماز پڑھنے سے پہلے وضو اور وضو میں پہلے استنجاء کرنا پڑتا ہے۔ جب تک اپنا گند کوئی نہیں دھوئے تو نہ اس کی اپنی نماز ہوتی ہے اور نہ کسی اور کو نماز کی امامت کراسکتا ہے۔
غفار خان پر جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد نے کفر کا فتویٰ لگایا، جس پر ولی خان کی اخبارات میں سرخی چھپ گئی تھی کہ ” اگر تمہارے آباء کو ہمارے آباء مسلمان نہ کرتے تو آج تمہارا نام میاںطفیل محمد نہیں بلکہ طفیل سنگھ ہوتا”۔
پشتون قوم تعصبات پر اترتی ہے تو مولانا فضل الرحمن، مولانا بجلی گھر، ایمل ولی خان، منظور پشتین، شاعر گلامن پنجابی تہبند کو بے غیرتی سمجھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے سوتیلے بھائی مروت قوم کے بھانجے ہیں اور مروت قوم کا قومی لباس تہبند تھا۔ رسول اللہ ۖ نے زندگی بھر بچپن سے آخری لمحہ تک تہبند پہنا۔ بہت پیشین گوئیاں قرآن واحادیث میں ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی پنجابی تھے جو اس خطے کو کراچی سے کشمیر تک سندھ سمجھتے تھے جس میں دریا سندھ اور اس کی دوسری چار شاخیں پنجاب کے دریا ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، سرحد، کشمیر اور افغانستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی۔ المقام المحمود
اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبرمیں پختون کا کردار نمایاں ہے، تعصبات کا عنصر خطرناک اور حساس ہے۔ رسول اللہ ۖ کی طرف سے حج وعمرے کیلئے آنے والوں کو اپنی اپنی شلواریں اُتار کر کعبہ میں تہبند پہنا پڑتا ہے ۔احرام اتنا مقدس ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاسپورٹ چھین لیا گیا تو مولانا نے70کلفٹن بینظیر بھٹو سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت ان کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔میں بنوری ٹاؤن میں پڑھتا تھا۔ یہ بات پھیلائی جارہی تھی کہ مولانا نے احرام کی توہین کردی ۔ میں نے کہا کہ ” یہ کیا کم عقلی ہے۔ جب مردوں نے احرام پہنے ہوتے ہیں تو عمرے و حج میںخواتین نہیں ہوتی ہیں؟”۔
پنجاب کے لوگ سندھی، بلوچ اور پشتون سے زیادہ مظلوم ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ والے مہاجر میں پھنس گئے تو پھر نام اور کام بدلنے کے باوجود دلدل سے نہیں نکل سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی قوم پرستی کے دلدل میں پھنس گئی تو بہت محدود ہوگئی۔ حبیب جالب ،غوث بخش بزنجو اور بنگال کے مولانا بھاشانی اسمیں شامل تھے۔اب حال اسلام اور قوم پرستی کے تعصب کا طبل بجانے کے باوجود بھی اے این پی اور جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخواہ کی ان تینوں سیٹوں سے مل کر بھی عمران خان نیازی سے ہار گئے جس نے اسمبلی میں جانا بھی نہیں تھا۔
وزیرستان کا محسود علاقہ پہلے بھی ایک مرتبہ دہشت گردی کا گڑھ تھا۔ عالم زیب خان شمل خیل ہے اور میرا ایک دوست مولانا محمد امیربھی شمل خیل ہے۔ جنتہ کا غالباً رہائشی ہے۔ افغانستان جانے والوں میں ایک وہ بھی تھا۔ مجھے اس نے طالبان کا پہلا تحریری منشور دکھایا تھا جس پر میں نے اختلاف بھی کیا تھا۔ تحریک طالبان سے پہلے اس نے پیشکش کی تھی وہ میرے مشن پردوسرے علماء سے مناظرے کرے گا۔ بیت اللہ محسود سے ملاقات کا پروگرام تھامگر پھر مجھ پر حملہ ہوا۔ وہ مولانا عبدالرحیم کے چچازاد ہیں۔ طالبان میں مختلف عناصر ہیں۔ جب ہمارا واقعہ ہوا تھا تو بیت اللہ محسود کی اجازت کے بغیر یہ کام کیا گیا تھا۔
میرے بھائی طالبان کے حامی تھے۔ مجھ پر حملہ کے بعد بھی انہی کو سپورٹ کرتے تھے۔ ہم پر حملہ ہوا تو اسکے بعدISIنے طالبان کی گاڑی میرے ماموں کے گھر سے پکڑ کر بارود سے اڑادی تھی۔ ہم سے کچھ فاصلے پر ہمارے عزیز ہیں۔ پیرکریم کے بیٹے طالبان ہیں اور بھتیجا مولانا آصف طالبان کے سامنے جہاد کے فضائل بیان کرتا ہے۔ اس کا داماد میرا ماموں زاد منظور پشتین کو اپنا مہدی کہتا ہے۔ فوج کو یہ پتہ نہیں کہ کس کی کس سے کیا رشتہ داری اور ہمدردی ہے؟۔ کریم کے بیٹے نے ہمیں بتایا تھا کہ حملہ عزیزپیر عبدالرزاق کے بیٹوں نے کرایا ہے۔ طالبان بھی جاسوسی کرنے کے نام پر ہمارے شہداء کے بدلے ان کو مارنا چاہتے تھے لیکن ہم نے نہیں مانا اسلئے کہ کمزور اور طاقتور میں تفریق غیرت کیخلاف تھا۔ طالبان نے قاری حسین اور حکیم اللہ محسود کو قصاص میں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر قاری نے گاؤں والوں سے کہا کہ ہم کمزور ہیں، آپ ساتھ کھڑے ہوجائیں تو ہمیں نشانہ نہیں بناسکتے ۔ پھر اپنامدعا پیش کیا کہ ملک خاندان اور اس کو فیملی کو ہم نے بیت اللہ محسود کے حکم پر قتل کیا تھا۔ اگر ہم بے گناہ کے قتل میں قصاص ہوں تو بیت اللہ محسود بھی تیار ہوجائے۔ جس کے بعد طالبان نے اپنا پینترا بدل دیا۔13افراد کے بدلے11افراد قتل کرنے کی پیشکش کی۔ اسلئے کہ 2 افراد حملہ کے موقع پر قتل ہوچکے تھے۔ ہماری دانست میں زیادہ تھے لیکن کچھ لوگ اپنی شناخت چھپارہے تھے۔11انہوں نے غریب غرباء پکڑ کر قتل کردینے تھے۔ پیرعبدالرزاق کی دوسری بیگم سے بیٹے ہمارے ساتھ تھے۔اب افغانستان سے طالبان آئے تو پیرکریم کے بیٹوں نے طالبان کی کانیگرم میں دعوت رکھی تھی ۔ میرے ماموں نے کہا تھا کہ ”میں دوافراد کا بدلہ لوں گا۔ ایک اپنے شہیدبھتیجے اور دوسرے بھانجے میرے شہید بھا ئی کا”۔ باقی رہتے ہیں9افراد۔ تو نامعلوم میں ایک ضرور شامل ہے۔ باقی بچے8افراد۔ میرے اپنے8بیٹے ہیں۔ بدلے تک نوبت پہنچی تو میرے بیٹے انشاء اللہ ضروربدلہ لیں گے۔
ٹانک میں ہمارے رشتہ دار ہیں جس کے ہاں ہمارے عزیز پیر عبدالرزاق کی ایک بیٹی بیاہی ہے۔ جب اسکے بیٹے نے شرانگیزی شروع کردی تو اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ماردیا۔ اگر وہ نہ مارتے تو اپنے لوگوں سے اور فوج سے بھی دشمنی ، روز روز گھروں میں کودنے اور بے عزتی کا سلسلہ جاری رہتا۔ میں اپنے عزیزوں کوجانتاہوں تو مجھے فوج پر الزام تراشی کی ضرورت نہیں اور ان سے خود ہی نمٹ لوں گا۔ انشاء اللہ ۔اس طرح تمام محسود اپنا اپنا ملبہ جانتا ہے ۔ اگر کوئی مقامی اور بین الاقومی سازش ہے تو پہلے اپنا گند صاف کرو اور جن پر الزام تراشی ہے ان سے مطالبات کرنا ویسے بھی قرینِ قیاس نہیں ہے۔ فوج معاملہ حل نہیں کرسکتی یا کرنا نہیں چاہتی ہے تو دونوں صورتوں میں نقصان تو بہر حال اپنا ہے۔
محسود کی ایک رسم ہے کہ عورت کی عزت پر قتل کا بدلہ نہیں لیتے اور نامعلوم کو بھی نہیں مارتے۔ میرے پرناناکے قتل کو عورت کی عزت سے جوڑ دیا گیا تھا اور ماموں محمودشاہ بھی نامعلوم کے ہاتھوںقتل ہوا تھا۔محسود عام ا علان کریں کہ
1:جن طالبان نے قتل کیا تھا اور وہ کسی کے ہاتھ سے بھی قتل ہوئے ہیں تو حساب بالکل برابر ہے۔ نامعلوم قاتل نامعلوم کے کھاتے میں چلے گئے ہیں۔
2: جو پہلے کمزور تھے اور اپنے قتل یا عزت خراب کرنے کا بدلہ نہیں لے سکتے تھے اور طالبان کی شکل میں ان کے پاس طاقت آئی اور بدلہ لے لیا تو اچھا ہوا۔
3:جن طالبان نے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا ہے وہ کھلے دل سے مقتول کے لواحقین سے معافی مانگ لیں اور جو چاہے تو معاف کردے یا بدلہ لے لے۔
4: طالبان دہشت گردوں کی صورت میں جنہوں نے کسی سے قتل کا بدلہ لیا ہے یا اپنی عزتوں کا بدلہ لیا ہے تو اس پر طالبان کے سر پر عزت کی پگڑی نہیں ۔
5: جنہوں نے اپنی عزت لٹنے کا نام لئے بغیر بدلہ لیا ہے تو ان کی غیرت کا مسئلہ تھا اسلئے وہ طالبان اور دہشت گرد اپنے جرم میں بالکل معذور تھے۔
عالم زیب خان اور منظور پشتین وغیرہ تو میرے بیٹوں کے ہم عمر ہیں۔ ان کو سیاست اور قوم کی خیرخواہی کا الف ب بھی پتہ نہیں ۔ فوج پر بگاڑ کے الزام لگاؤگے تو ان سے مطالبات کرکے شر سے کیسے نکلوگے؟۔ ان کو نااہل کہنے کی جگہ اپنی اہلیت ثابت کرکے اپنی قوم اور فوج دونوں کو اس شر سے بچاؤ تو بات ہے۔
پاکستان میں کسی وقت محسود علاقہ پوری دنیا کا سب سے بڑا پُر امن علاقہ تھا اور مہمان اپنے آپ کو ہر طرح سے محفوظ پاتا تھا۔ آج اس کو پھر اپنے اقدار کے مطابق مثالی امن قائم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شخصیات اور جماعتوں کی لڑائیوں سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے اور نا پاکستان اور وزیرستان میں۔ ہر علاقے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے اور بروں کی تمیز کیلئے دنیا میں عدل و انصاف کے پیمانے بھی ہیں۔ دو فریق ایک دوسرے کیخلاف اپنی حد سے تجاوز کرسکتے ہیں لیکن جن کو فیصلے کیلئے کردار دیا جائے وہ دونوں کو اعتدال پر لاسکتے ہیں۔ صحافت کا کام حقائق بیان کرنا اور معاشرے میں عدل و انصاف کی بنیاد پر امن و امان کا قیام ہے۔ حال ہی میں عمران خان کے اوپر حملہ ہوا تو اس پر بھی جیو نیوز کی طرف سے ایسی رپورٹنگ کہ لوگ بھاگ رہے ہیں مناسب نہیں تھی۔ عمران خان کے حامیوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں انصاف کیلئے پر امن جدوجہد کو یقینی بنائیں اور کسی قسم کی افراتفری پھیلانا خود انکے اور سب کے مفاد میں نہیں۔ حکومت اپنا دل بڑا کرے اور سیاسی اعتدال کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بہادر ارشد شریف شہید

پاکستان میں افراتفری پیدا کرنے کا بڑا نقصان ہوگا ، سیاسی جماعتوں کے قائدین اور صحافی ملک و قوم کی رہنمائی کیلئے مثبت کردار ادا کریں ورنہ تو حالات خراب سے خراب تر ہوتے جائیں گے

عمران خان پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے کو قرار واقعی سزا دی جائے اور پس پردہ حقائق منظر عام پر لائے جائیں اور قاتل کو پکڑنے والے بہادر جوان کو خراج تحسین اور انعام سے نوازا جائے

شہید ارشد شریف پہلے صحافی ہیں جن کو اپنی شہادت کی وجہ سے ملکی ، قومی، حکومتی، عوامی، صحافتی، ریاستی اور بین الاقوامی سطح پر اتنی بڑی عزت ملی ہے جس سے صحافیوں کا حوصلہ بلند ہوا

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابرافتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے پریس کانفرنس کرکے ارشد شریف کی شہادت کوARYکے مالک کے کھاتے میں ڈالا جس میں وہ مخلص یا جوابی الزام تراشی ہوسکتی ہے اسلئے کہ یہ ماحول بن گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کایہ کہنا کہDGISIنے مجھ سے اجازت لیکر پریس کانفرنس کی ہے تو اس پر ہا ہاہاہا ہا……. ہی ہوسکتا ہے۔ اس کو یہ اعتراف جرم کرنا چاہیے تھا کہ نالائق اور نااہل حکومت نے ترجمانی کا حق ادا نہیں کیا اسلئے بے چاروں کو خود میدان میں اترنا پڑا ہے جس پر ہم شرمندہ ہیں۔
فوج سیاست کیلئے نہیں دشمن سے دفاع کیلئے ہوتی ہے۔ الزام تراشی کی وجہ سے تفتیشی ٹیم سےISIکا نمائندہ نکال دیاگیا۔ عمران ریاض، سمیع ابراہیم، صابر شاکر ، چوہدری غلام حسین بھی منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ کی طرح اب محبانِ فوج نہیں تھے لیکن وہ قتل نہیںہوئے۔البتہ حامد میر اورابصار عالم کو گولیاں لگیں۔عمرشہزادشہیدہوا ،مطیع اللہ جان اغواء اور پٹ چکا، اسد علی طور پٹ چکا۔ ایاز امیر پٹے۔ ارشد شریف کی شہادت نے بڑی جگہ بنالی اور اس پر یقینا بہت تشویش، رنج ، غم و غصہ کی لہر بنتی ہے اسلئے کہ آلودہ فضاؤں میں معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے۔ارشد شریف شہید کے قاتلوں کا سراغ لگانا ضروری ہے لیکن اندھا دھن ایسی الزام تراشی کرنا جس سے ملک وقوم کو نقصان پہنچے اور کوئی بے گناہ زد میں آئے تو یہ انتہائی غلط ہے۔ صحافتی ، ریاستی، حکومتی اور اپوزیشن کی فضا آلودہ ہے ۔ کس کے گلے کی یہ ہڈی اور کس کا یہ فالودہ ہے؟۔ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹواورفاروق لغاری نے مرتضیٰ بھٹو کا قاتل آصف علی زرداری کو سمجھاتھا۔ زرد صحافت یا ریاست مکافاتِ عمل کا شکارہے؟ ،جائزہ لیں! ۔
صحافی وسعت اللہ خان نے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا اصل جھگڑا فوج سے نظریاتی نہیں بلکہ گھر یلو اور خاندانی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں فوج سے کہتی ہیں کہ جب ہم دو بیویاں تھیں تو تحریک انصاف کو کیوں لے آئے؟۔ مطیع اللہ جان نے نواز شریف کو فوج کے مقابلے میں نظریاتی کردار ایک بھٹو کے طور پر پیش کرنے کے سوال پریہ جواب وسعت اللہ خان نے دیا تھا۔
ارشد شریف پرGEOاورARYمیں سوکناہٹ کا مسئلہ ہے۔ اگریہ کہا جائے کہGEOکا کردار جمائماخان اورARYکا ریحام خان کی طرح بن گیا ہے تو بات زیادہ آسانی سے سمجھ میں آجائے گی۔اب فوجی حکام نے24نیوز کو اپنی پریس کانفرنس کیلئے مدعو کرکے بی بی بشریٰ کا درجہ دیا ہے اور اس میں شبہ نہیں ہے کہ24نیوز نے زیادہ آزادانہ صحافت کا کردار ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا چلانے والے انواع واقسام کے لوگ صرف طوائف کی طرح یوٹیوب پرپیسے کمانے کیلئے ہرقسم کے بے وسروپا جتن کرتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ ان کے پرکشش اورانتہائی سنسنی خیز عنوانات سے گناہ بے لذت حاصل کرنے کے بجائے ان لوگوں کو سنیں جو معتبر صحافی ہیں جیسے رؤف کلاسرا۔ رؤف کلاسرا کا تعلق لیہ شہر پنجاب سے ہے اور وہاں میں نے ابھرتی ہوئی جوانی کے کچھ سال گزارے ہیں۔ اس وقت پرائیوٹ سکول کا رواج نہیں تھا اور وہ ہم سے سینئر بھی تھے اور گورنمنٹ ہائی سکول بھی الگ الگ تھے۔ ارشد شریف کا نام رؤف کلاسرا کی وجہ سے پہلی مرتبہ ان لوگوں کی فہرست میں آیا جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اچھے ہی ہوں گے۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ارشد شریفARYپر فوجی حکام کی تعریفوں میں سر گرم رہتے ہیں اور روف کلاسرا کو مین اسٹریم میڈیا سے کیوں غائب کردیا گیا ہے؟۔ لیکن نیک گمان اپنی جگہ تھا۔
محمد مالک سے ایک ملاقات ہوئی ہے ۔ رؤف کلاسرا اپنے سوشل میڈیا کے چینل پر محمد مالک کو لیتے رہتے ہیں۔ رؤف کلاسرا کیساتھ محمدمالک کے شو کو معتبر سمجھ کر دیکھا تو اس میں تین قسم کے امکانات کا ذکر کیا گیا جن پر مسلسل الزامات لگ رہے ہیں۔ ایک ہماری اسٹیبلشمنٹ، دوسرےARYوالے اور تیسرے کینیا پولیس اور اس کی حکومت۔ جتنی بات کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے تو اس میں قتل کرنے والوں تک پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ارشد شریف کی اہلیہ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ کینیا میں ارشد شریف کے میزبان وقارلوگوں کو تنگ نہیں کیا جائے۔ وقار نے کہا ہے کہ اگر ہمیں یہ کام کرنا ہوتا تو اس کے اور ہزاروں طریقے ہوسکتے تھے ، اس طرح کیوں کرتے؟۔ کینیا پولیس بدنام ہے ۔ اس کا اپنی ذمہ داری کو قبول کرنا بھی عجیب ہے۔ ہماری ریاست کیوں کسی کو قتل کرنے کی حد تک سازش میں ملوث ہوگی؟۔ کسی پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں لیکن تحقیقات کے ذریعے جو اصل مجرم ہیں ان تک پہنچا جائے جو مشکل ہے۔
محمد مالک نے یہ سوال اٹھایا کہDGISIکا یہ کہنا سمجھ سے بالاتر ہے کہ ارشد شریف کو خطرہ نہیں تھا۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ کینیا میں اب ویزے کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ ارشد شریف کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے کینیا مدعو کیا گیا تھا۔ محمد مالک نے کہا کہ کاشف عباسی کی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ اس کو دبئی حکام کی طرف سے جانے پر مجبور کیا گیا تھا؟۔ سوالات اٹھانا اور جوابات دیناکسی پر الزام تراشی کیلئے نہیں بلکہ اصل حقائق تک پہنچنے کیلئے ہونا چاہیے۔
خاتون کے جذبات اور کیڈٹ کالج کے فاضل ڈاکٹر کے جذبات بھی غلط وکالت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کا ایک آئینہ ہیں۔
یہ تو ممکن ہے کہ ارشد شریف کی شہادت کسی گہری سازش کا نتیجہ ہو اور اس میں بین الاقوامی سے لیکر مقامی مافیاز سازش تک کچھ بھی بعیداز امکان نہیں ہے لیکن بڑے معروضی حقائق کو نظرانداز کرنا بھی صحافت کیساتھ بڑی زیادتی ہے۔
ہمیں شوق نہیں کہ پاکستان کے طاقتور ادارے فوج کی وکالت کا کردار ادا کریں لیکن حق بات کہنے میں عوامی جذبات کی جگہ فکر وشعور کی افزائش اور مشکلات میں پھنسے لوگوں کی درست مدد کرنا ضروری ہے۔ جن کو پاک فوج نے اپنے کاندھے پر چڑھاکر میڈیا میں آنے کی کلیرنس دی ہو تو ان کی طرف سے سیاسی جماعت کی طرح فریق بن کر فوج کے خلاف بیانیہ بنانا قابلِ غور ہے؟۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کو قتل کرنا جرم نہیں ہے لیکن اتنی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی ہے کہ جن طوطوں کی اپنے ہاتھوں سے آبیاری کی ہو ،اگر وہ اپنے محسن کو ایسے چوراہے پر گالیاں بکنا شروع کردیں تو جتنا ان کا بس چلے گا اتنا وہ اپنا زور بازو استعمال کرکے اس کو خاموش یا رویہ تبدیل کرنے پرمجبور کریں گے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جہاں کہیں اس کو حادثہ ہوجائے تو اس کو اسی کھاتے میں ڈالا جائے۔ پاکستان میں کیس الگ بات ہے اور باہر الگ معاملہ ہے۔ دونوں کو ایسا جوڑ دینا کہ اس پر فیصلہ کیا جائے بہت بڑی زیادتی ہے۔
یہ ماحول کیوں بنا ہے؟۔ حامد میر نے جنرل رانی سے لیکر ارشد شریف کے قتل سے ایک دن پہلے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں یہاں تک کہا کہ منظور پشتین کو میڈیا پر کیوں نہیں آنے دیا جاتا ہے؟۔ اگر وہ دہشت گرد ہے تو پھر ہم سب دہشت گرد ہیں۔ ایک بلوچ شاعر سمیت کچھ افراد کی ضمانت وزیرقانون اعظم تارڑ ، وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ اور ایڈوکیٹ مرتضیٰ نے دی تھی کہ ان کی لاش کو نہیں پھینکا جائے گا۔ اور اس وجہ سے بلوچ خواتین نے مسنگ پرسن کا50دنوں سے دھرنا ختم کیا تھا۔ جن کا مطالبہ تھا کہ ان قیدیوں کو رہا بھی مت کرو، عدالت میں بھی پیش مت کرو، بس صرف ان کی لاشیں مت گراؤ، لیکن ایک شاعر کی لاش کو پھینک کر ان سب لوگوں کے منہ پر تھپڑ مارا گیا ہے۔ بلوچ شاعر اور ارشدشریف میں یہ فرق ضرور تھا کہ بلوچ اپنے قوم کے حقوق کیلئے لڑرہاتھا اور ارشد شریف کی لڑائی نہ صرف عمران خان کیلئے تھی بلکہ رجیم چینج آپریشن میں عمران خان نے ہی امریکہ کیلئے جب میرجعفر اور میر صادق کسی کو قرار دیا تھا تو اگلے دن ہی وضاحت کردی تھی کہ نوازشریف اور زردای مراد ہیں۔ ارشد شریف نے ”وہ کون تھا؟” کے ایک پروگرام سے میرجعفر اور میر صادق جنرل قمر جاوید باجوہ اورجنرل ندیم انجم کو ثابت کرنے کی پوری پوری کوشش کی تھی۔ اس پر بھی انکے خلاف مقدمات نہیں بنے۔ البتہ شہبازگل اور مطیع اللہ جان کی طرف سے مجبور کرنے کے بعد جو سوالات کے جوابات دئیے تھے تو اس پر مقدمات قائم کئے گئے تھے۔ شہباز گل کیساتھ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا لیکن قتل تو نہیں کیا گیا، پھر ارشد شریف کو کیوں قتل کیا جاتا؟۔ مطیع اللہ جان کیساتھ بھی جو ہونا تھا وہ ہوا مگر قتل نہیں کیا گیا۔ پھر ارشدکے قتل کی سازش کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا مگر قتل ہوا اسلئے سوال پیدا ہوگیا۔
مشورہ ہے کہ جنرل عاصم منیر کی امامت میں کور کمانڈر ز دو رکعت نمازشکرانہ ادا کریں کہ عمران ریاض، سمیع ابراہیم، صابر شاکراور چوہدری غلام حسین وغیرہ مخالف کیمپ میں ہیں اسلئے کہ سب اپنے اپنے طرز پر نہ صرف ارشد شریف کے قتل کو جائز قرار دیتے بلکہ دنیا کے دوسرے کونے میں اس کو نمبر ون کا کارنامہ بھی کہتے۔ پاک فوج کو انہی لوگوں نے اپنے غلط ماحول کی وجہ سے اس حدکو پہنچادیا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان سے سخت بدظن ہے اور ان کو صفائی دینی پڑرہی ہیں اور یہ لوگ بھی شکر ادا کریں کہ تھوڑے بہت عتاب میں آگئے اور گناہ دھل گئے۔
شمالی وزیرستان میں ایک چیک پوسٹ پر پاک فوج کے جذباتی سپاہیوں نے فائرنگ کرکے16افراد شہید اور45افراد کو شدید زخمی کردیا تھا جن کو بعد میں معاوضے بھی دئیے گئے۔ ارشد شریف شہید نےARYنیوز پر خبردی کہ دو پارلیمنٹ کے ممبر علی وزیر اور محسن داوڑ نے چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس میں5سکیورٹی اہلکار زخمی اور کچھ حملہ آور مارے گئے۔ کیا ان لوگوں کے والدین نہ تھے؟ اور بیوی بچے ، خاندان اور دوست احباب نہیں تھے؟۔ ارشد شریف کے والد کی طبعی موت ہوئی تھی اور بھائی فوج میں ڈاکٹر تھے اور حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ ایک گھر سے دو جنازے اُٹھانے والوں کا احساس بڑا احساس ہے ؟۔ ہمارے گھر پر حملہ ہوا تو13افراد کی شہادت ہوئی تھی۔ الجزیرہ کے علاوہ کوئی پاکستانی میڈیا چینل موقع پر نہیں آیا۔ اسلئے نہیں بتارہاہوں کہ کوئی گلہ شکوہ ہے کیونکہ
جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
مجھ پر اس سے ایک سال پہلے 2006ء میں فائرنگ ہوئی جس جگہ پولیس کا ناکہ ہوتا تھا اور اس دن پولیس موقع سے غائب تھی۔ ڈارئیور والا دروازہ ایسا کٹ گیا تھا جیسے کلہاڑی سے چیر دیا ہو لیکن ہم تینوں افراد معجزانہ طور پر بچ گئے۔ ساتھ میں بیٹھے ہوئے فرنٹ پر میرے بھتیجے کے سرکے کچھ بال اڑ گئے تھے اور پچھلی نشت پر بیٹھے ہوئے عزیز کو تین گولیاں لگی تھیں لیکن بالکل ہلکے نشان تھے۔2007میں گھر پر حملہ ہوا تو بھتیجے ارشد کے سر کا بھیجا درخت پر چپک گیا تھا۔
کینیا پولیس پر سوالات اٹھانے سے پہلے ماڈل ٹاؤن لاہور میں14افراد کی شہادت پر کیا نتائج نکالے ہیں؟۔ کیا وہ انسان نہیں تھے؟۔ ہماری صحافت کا معیار وکالت اور دلالی نہیں ہونا چاہیے۔ ارشد شریف کی شہادت ایک بڑا سانحہ ہے۔ جنازے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے اور اس بات کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان سے بڑا جنازہ علامہ خادم حسین رضوی کا تھا۔جنکے ساتھ صحافی برادری ، فوجی حکام کے دستے اور تحریک انصاف کا جنون بھی نہیں تھا۔تاہم یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اپنے پرائے سبھی ان کے اخلاق اور کردار کے معترف تھے۔ اتنی عزت کسی کسی نصیب والے کو موت کے بعد ملتی ہے جومریم نواز کی طرح قابل عبرت نہیں بلکہ بہت قابلِ رشک ہے۔
میں رؤف کلاسرا کو صحافت کا دماغ اور ارشد شریف کو صحافت کا دل سمجھ رہا ہوں۔ دل سے کبھی عشق وجنون کی غلطی سرزد ہوتی ہے جو قابلِ گرفت نہیں بلکہ قابلِ درگزر ہوتی ہے۔ ارشد شریف کو پاک فوج سے عشق تھا اور ہمارے گھر کو طالبان سے عشق تھا۔ ارشد شریف کی شہادت نے فوج کے مورال کو خراب کردیا اور ہمارے گھر کے واقعے نے طالبان کو عوام کی نظروں سے گرادیا تھا۔ ہمارے واقعہ کو طالبان مان گئے تھے لیکن ان کے ہاتھ سے شریعت اور پشتو دونوں ہی نکل گئے اور میرا غالب یقین ہے کہ ارشد شریف کی شہادت میں پاک فوج کا بالکل بھی ایسا کردار نہیں ہے جس میں ان کو ملوث کرنے کی زبردست کوشش ہے۔
جب کسی بھی بے گناہ پر قتل کا غلط الزام لگ جائے تو مقتول سے ہمدردی کا رواج عام ہے لیکن بے گناہ پر کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ مشکل ہے۔2006میں جب مجھ پر حملہ ہوا تو مجھے پولیس افسر نے کہا کہ کس کیخلاف آپFIRدرج کروگے؟۔ میں نے کہا کہ ریاست کیخلاف ریاست کے تھانے میںFIRدرج کرنا کم عقلی کے سوا کیا ہے؟۔ اس نے وضاحت مانگی تو میں نے پوچھا کہ اسلحہ بردار نقاب پوش گھومتے ہیں تو ان پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں؟ ان کو ریاست نے اجازت نہیں دی ؟۔ تو اس نے کہا کہ میں ذاتی طور پر کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں، اپنے پہنچ رہے ہیں۔میرے بھائی ، ماموں ، ماموں زاد اور ایک پڑوسی تھوڑی دیر میں پہنچ گئے۔ پھر میں چند دن آنے والوں کیلئے بیٹھ گیا اور پھر دوبئی دوست کے ہاں گیا۔ پھر واپس آکر اپنے اخبار کا کام شروع کیا۔ جب2007میں واقعہ ہوا تو دوبئی گیا۔ طالبان کے اس حملے کے بعد میری خواہش تھی کہ بیرون ملک کسی جگہ سیاسی پناہ لے لوں۔ جرمنی ، فرانس، ناروے اور سویڈن جانے کا موقع بھی ملا لیکن مجھے یہ خوف تھا کہ کہیں میری تگ ودو سے تحریک طالبان اور پاکستان کو نقصان نہ پہنچے اسلئے کہ نیٹو کی افواج نے نہ صرف افغانستان بلکہ عراق اور لیبیا کو بھی تباہ کردیا تھا۔ حالانکہ میری دانست میں فرانس وغیرہ کے خبرنامے پر ہمارے واقعہ کی خبر پڑی ہوئی تھی لیکن مجھے اس طرح پناہ نہیں لینی تھی کہ جان بچے اور اغیار اپنے فوائد اٹھائیں۔ پاکستان میں پاک فوج کے جرائم میں نواز شریف اور عمران خان کو بھی ڈال دیں تو اس کو ڈوب مرنا چاہیے لیکن تاہم یہ چندا فراد کی خواہش اور کم عقلی کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور قوم کے اجتماعی مفاد کیلئے پاک فوج کا بڑا رول ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہماری پولیس، عدالتیں ،سیاستیں اور زندگی میں ایک ریاست کے مزے ان کی مرہون منت ہیں۔ ریاست تومشرکینِ مکہ کی جیسی تیسی تھی لیکن رسول اللہ ۖ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ ان سے بھی کیا تھا۔ آج سعودی عرب کی ریاست نے جس طرح انسانی حقوق کو پامال کیا ہے تو وہ مشرکینِ مکہ کے دور سے بھی زیادہ بدتر ہے جس میں جان ،مال اور عزت کے علاوہ آزادی کو تحفظ نہیں دیا گیاہے۔ پاکستان میں آزادی کا جتنا تصور ہے وہ ہمارے صحافی اپنی دلالی اور وکالت کے ذریعے زیادہ خراب کرتے ہیں ورنہ اچھے اچھے صحافیوں کا کھل کر بولنا بہت بڑی غنیمت ہے۔ اگر سب کو اپنی وکالت اور چینل مالکان کی پالیسیوں کے مطابق بکنے دیا جائے تو بہت خرابی پیدا ہوگی۔ قرآن میں دو بڑے جرائم ہیں ۔ایک عورت پر ہاتھ ڈالنا اور دوسرا افواہ سازی سے معاشرے میں انتشار پیدا کرنا۔ دونوں کی سزا قتل ہے۔ کسی فرد پر بہتان سے زیادہ ریاست پر بہتان تراشی کا نقصان ہے لیکن ہمارے ہاں یہ تو ادنیٰ درجے کی بات بلکہ دلیری سمجھی جاتی ہے۔
ارشد شریف پہلے جس اعتماد کیساتھ فوج کی حمایت کررہے تھے آخر میں اس اعتماد کیساتھ مخالفت کررہے تھے۔ پہلے دل فوج کو دیا ہوا تھا اور پھر عمران خان کو دل دے دیا تھا۔ ان کی فکرسے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کا جذبہ سچا تھا۔ اگر دوست احباب یہ مشورہ دیتے کہ ایاز امیر ، ابصار عالم اور مشتاق منہاس نے جب ن لیگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو صحافت کو خیرباد کہہ دیا۔ آپ بھی اگر سیاسی ڈگر اختیار کرنا چاہتے ہیں تو پھر صحافت چھوڑ دیں۔ صحافی کیلئے کسی سیاسی جماعت کی وکالت کرنا قانونی، اخلاقی اور شرعی اعتبار سے منع ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عرفان صدیقی جیسے صحافی ن لیگ کو سپورٹ کرتے ہیں تو جانبداری میں اس حد تک کہتے ہیں کہ رفیق تارڑ نے پانچ جرنیلوں کے سامنے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا جس پر حامد میر نے صرف اتنا کہا تھا کہ” تارڑ نے”۔جب مظہر عباس سے ن لیگی جھرمٹ صحافیوں نے کہلوانا چاہاکہ بھٹو، نوازشریف اور عمران خان تینوں کرکٹرکو فوج سیاسی میدان میں لائی ہے تو مظہر عباس نے کہا کہ ” بھٹو صاحب کا بھی سیاست میں آنے سے پہلے ایک بیک گراؤنڈ تھا۔ عمران خان کا بھی ایک بیک گراؤنڈ تھا لیکن نوازشریف کو گورنر ہاؤس جنرل جیلانی کے پاس لایا گیا تو اس نے جم کے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے۔ پوچھا کہ کام کیا کرتے ہو؟۔ اور پھر اس کووزیر خزانہ بنادیا۔نوازشریف اور اس کے خاندان کو سیاست میں لانا اب تک میری سمجھ میں نہیں آیا ہے”۔ عمران خان کی کامیابی یا بگاڑ کا ایک بنیادی سبب شریف خاندان کی عجیب وغریب طرز سیاست بھی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہر جگہ 20 سال سے فورسز ہیں مگر امن نہیں کیوں؟۔ مولانا صالح شاہ قریشی

ہر جگہ 20سال سے فورسز ہیں مگر امن نہیں کیوں؟۔ مولانا صالح شاہ قریشی

جنوبی وزیرستان کے MNAجمعیت علماء اسلام کے مولانا جمال الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج محسود قوم کا امن جرگہ جو کوٹ کئی کے مقام پر ہوا اس کا مقصد وزیرستان اور پورے پاکستان میں امن کی فضا قائم کرنا ہے۔ یہ امن چاہتے ہیں ،دعویٰ کرتے ہیں کہ اب تک امن کی آواز بلند کی ۔ بد امنی کا ہم کبھی حصہ نہیں رہے ۔ ہمیشہ ہم نے امن کا ساتھ دیا اور ہم امن مانگ رہے ہیں ہم ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں۔مگر ہمیں بھی امن و ترقی کی زندگی ملے۔ 16تاریخ کو ہم سارے بزرگوں اور جوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ امن کے جرگے میں شرکت کریں۔سابق سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے کہا کہ MNA صاحب نے کہا امن ۔میرے وزیرستان میں 20 سال سے ہر پہاڑ کی چوٹی اور دامن میں فوج پڑی ہے، FCپڑی ہے چیک پوسٹ ہر روڈ پر بنے ہیں یہ کس کیلئے ہیں؟۔ یہ پہاڑوں میں سونا نکال رہے ہیں ، درے اور دامانوں میں معدنیات نکال رہے ہیں؟، یہ فورسز امن کیلئے ہیں۔ ایک بھائی نے پوچھا کہ 20سال ہوئے کہ مذاکرات ہی ہورہے ہیں لیکن قوم کو کیا فائدہ پہنچا؟۔ میں اسکے جواب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ 20سال ہوئے کہ آپریشن، لاٹھی کا استعمال ہوا تو کیا نتیجہ نکلا؟۔ نتیجہ تو مثبت نہیں نکلا۔ امن وہ ہے کہ ریاست اور حکومت چاہتی ہو، صوبہ، مرکز چاہتا ہو۔ ساری دنیا امن چاہتی ہے۔ امن عوام یامشیران کی ذمہ داری نہیں۔ امن ریاست ، حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب ڈگریاں ملتی ہیں اور پروموشن ملتی ہے تو یہ کس بات کی ملتی ہیں؟۔ جو وزیرستان آتے ہیں تو 6ماہ جیسے کارگل میں گزارے ہوں۔ اس کو پروموشن جلدی ملتی ہے۔ پھر میری مٹی پر جب اتنی ترقی ملتی ہے تو ہماری توقع اور مطالبہ ہے کہ جب تم امن کیلئے آئے ہو توآپ ہمارے لئے امن قائم کرو۔ یہ ذمہ داری میری ،قوم، مشران، جوان کی نہیں ۔ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مطالبہ کریں۔ جب میں امن دیکھ لوں تو اسکے بعد یہ مطالبہ کروں گا کہ اسکول دو ، ہسپتال بناؤ، یہ یہ اور وہ وہ کرو۔ جب امن نہ ہو تو اسکول، ہسپتال، مارکیٹ کوئی چیز آباد نہیں ہوتی ہے۔ ہمارا دو تہائی وزیرستان غیر آباد ہے۔ اس میں کوئی نہیں رک سکتا ہے ، جب باہر سے کسی کو دعوت دو ، کراچی اور اسلام آباد والے کو رہنے کی اور آنے کی دعوت دو تو وہ کہتے ہیں کہ دلدل کیلئے بلارہے ہو وہاں تو یہ ہے وہاں تو وہ ہے۔ ایک تو ہم دنیا میں بدنام ہوگئے سب تو بدنام نہیں ، سب تو دہشت گرد نہیں۔ نہ ہم نے بندوق اٹھائی ہے ۔ اب MNAصاحب نے بات کی ہم نے تو کسی قوت کیخلاف بھی بندوق اٹھائی ہے اور نہ اٹھائیں گے۔ نہ فوج کیخلاف اور نہ طالب کیخلاف۔ ہاں اس مطالبے سے کوئی نہیں روک سکتا کہ تم امن مت مانگو۔ یہ ہر فرد کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ جو جرگہ ہوا اس کی دوسری تاریخ 16تاریخ سروے کائی پر ہے۔ اس میں بزرگ اور جوان سب آئیں ہماری یہ کوشش ہوگی کہ ہم اس میں مشران کو بلائیں اور تم یہ کوشش کرو کہ اس میں جوان طبقہ بہت کثرت کیساتھ حاضر ہو۔ یہاں رحمت شاہ نے بات کی کہ شک توئی کیلئے سب نے ہاتھ اٹھائے ۔ جب یہ نارتھ وزیرستان کیساتھ بات کرلیں تو 20کی ضرورت ہو یا 100 کی ہم جائیں گے اسلئے کہ وزیر بھی ہمارے بھائی ہیں اور محسود ہیں تو وہ بھی ہمارے بھائی ہیں تاکہ ان میں صلح اور امن لائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم 1ریاست مانتے ہیں۔ شہزاد احمد وزیر

ہم 1ریاست مانتے ہیں۔شہزاد احمد وزیر

را، NDS، روس، افغانستان کو نہیں صر ف فوج کو مانتا ہوں

اگرکوئی قصوروار ہو تو پولیس، سول انتظامیہ اور عدالت ہے

امن سیمینار شوال23ستمبر 2022، پشتون تحفظ موومنٹ

شہزاد احمد وزیرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بد امنی کیوں آئی ؟۔ کس نے پیدا کی ؟ کس طریقے سے پیدا کی ؟۔ امن کس کی ذمہ داری ہے؟یہ جو بیس تیس سال سے وزیرستان پر بہت برا دن گزرا ۔ وجہ یہ تھی کہ وانا پر برے دن آتا تو محسود خاموش ہوتے ۔ محسودپر وزیر خاموش ہوتا۔ جنوبی پر شمالی ،وزیرستان پر باجوڑ خاموش ہوتا۔ ہر گھر میں غم پہنچا ۔ کوئی جاسوس ، منافق ، قومی مشر، گڈ، بیڈ، سلنڈر کے نام پر مرا۔ مرے اس مٹی کے لوگ ۔ پشتون مائیں بچوں سے پشتون بہنیں بھائیوں سے خوار ہوگئیں۔ جو ہم پر بیتی اورجو نقصان ہوا، ان کو تو ہم واپس نہیں لوٹاسکتے جو پالیسیاں ہیں ہم پر بہت برا وقت آرہا ہے۔ ہر علاقہ میں جنگ کی سمجھ بوجھ دینا اور عوام کو جنگ سے روکنا پشتون تحفظ موومنٹ کی ذمہ داری ہے فوجی کہتاہے کہ قبائل ہمارے ساتھ ہیں، طالب ویڈیو بناتا ہے کہ ہمارے ساتھ ہیں۔ طالبان نہ فوج کیساتھ ہیں۔ اپنی مٹی اپنے لوگوں کیساتھ ہیں۔ جنرل فیض و باجوہ کی کوشش تھی کہ محسود اور وزیر کو جرگے کا نام دیں کہ یہ طالبان کے پیچھے کابل گئے ، انکے دلوں کے بڑے ٹکڑے ہیں لیکن قوم کے جوانوں نے ہر تحصیل پر جرگے کئے اور کہا کہ جنرل فیض و جنرل باجوہ! مذاکرات ہمارا کام نہیں ۔ آپ اور طالب طاقتور ہو۔ جنگ کرو یا مذاکرات ۔ قوم نے انکار کیا۔ چند لوگ گئے۔ بے نقاب ہوگئے۔ طالب! اگر اسلام کا غم ہے تو پنجاب جاؤ۔ کہتے ہیں کہ پٹھان جانے رمضان جانے۔ ان کو اسلام کی ضرورت ہے۔یہاں ایک قلعے میں فوجی ہمیں بلاتا اور جھنجھوڑتا ہے۔ دوسری پولیس مسلط ہے جن کو پولیس کا معنی نہیں آتا۔ لیکن جو اپنے حقوق کی بات کرتا ہو تو MIیا ISIکا لکھا ہوا FIR تھماکر ہم پر درج ہوتا ہے۔ تیسرے طالبان بلاتے ہیں کہ علاقے کے ہم خیر خواہ ہیں، تمہارے مسئلے حل کرینگے۔ آئندہ قوم نہ کسی کے پاس کھڈے میں جاؤ اور نہ کسی پر جرگے کراؤ۔ ہم 10 نہیں ایک ریاست مانتے ہیں۔ طالب تنگ کریگا تو ذمہ دار فوج ہے۔ سلنڈر تنگ کرتا ہے، فورس تنگ کرے تو ذمہ دار فوج ہے۔ 8شاخ کے مشران و جوانوں سے کہتا ہوں کہ وقت دور نہیں کہ تم کبھی روڈ پر جھگڑو یا کسی اور بات پر ۔ کوئی اس قوم کے بڑوں کو جھنجھوڑتا ہے تو دوسری قوم خوش ہو کہ بڑی بہادری دکھائی کہ جیل میں ڈلوادیا۔ دوسری قوم کو کوئی بے عزت کرے تو یہ قوم خوش ہو کہ امیر یا کرنل صاحب نے بہادری دکھائی۔ ان کا مقصد ہے کہ 8شاخ 8الگ راستوں پر چلیں۔ جنگل میں 3گائے تھیں۔ سفید ، کالی اور زرد۔ شیر کا سب پر بس نہ چلتا تھا تو سفید اور کالی کو کہا کہ تم خوبصورت ہو! زرد نے بدنام کیا ،اسے کھاجاؤں؟۔ انہوں نے کہا ٹھیک۔ کھالیا تو سفید سے کہا کہ تم خوبصورت ہو، کالی کھاؤں۔ سفید نے کہا ٹھیک ۔ کالی کو کھالیا اورپھر سفید کو بھی کھالیا۔ ہر قومی مشر ، ہر عالم اور ہر جوان سوچ لے۔ جو کسی کو بے عزت کرے تو اتفاق کرو۔ فوجی قلعے پر دھرنا دو، مسئلہ حل نہ ہو تو وزیرستان میں جہاں بڑا قلعہ یا بریگیڈ ہو۔ وعدہ ہے پورے وزیرستان کی PTM ساتھ بیٹھیں گے کہ فوج تم چوکیدار ہو!۔ یہاں نہ طالب مانتا ہوں نہ NDS ، نہ را، نہ روس اور نہ افغانستان کو مانتا ہوں۔ جو مجھے گھسیٹے، مارے وہ تم لاتے ہو، تم ہی ہمارے پیچھے لگاتے ہو اور تم جوابدہ ہو تم سے پوچھوں گا۔ یہی تمہاری خلاصی کا راستہ ہے۔ اگر کوئی قصوروار ہو تو پولیس ، سول انتظامیہ ، عدالت ہے، اسکے مطابق کاروائی ہو۔ کیا بات ہے کہ کبھی اِس درّے میں لوگ کسی پر چیمبر لوڈ ، کہیں اُس درّے میں مشران پر چیمبر لوڈ کریں؟۔ شوال کی عوام سے کہتا ہوں جو بندوق برداروں کے ہاتھ سے بے عزت ہو، آواز دے ہم آئیں گے۔ اگر کوئی ہمیںذبح یا قتل کرتا ہے یا کچھ بھی کرتا ہے توہم نے PTM کے آئین کا حلف اٹھایا کہ ہر ظالم کی مخالفت ہر مظلوم کی حمایت کرینگے۔ PTM چندمطالبات۔ 1:نورمحمد18ماہ سے جیل میں ہے۔ فوج بندوقیں تقسیم کرتی ہے، پیسے دیتی ہے۔ شوال میں ایک ڈانگہ (ندی پر حفاظتی دیوار) بندوق برداروں کو رشوت دئیے بغیر نہیں بن سکتا۔ کیا فوجی کو خبر نہیں کہ ٹھیکیدار 3،3 کروڑ روپے بندوق برداروںکو دیتا ہے تاکہ مستی آئے اور تمہیں گھسیٹے؟۔ ہم کہتے ہیں کہ بندوق برداروں کیساتھ جو کرنا ہو کرو، ان سے نہ انکے بھائیوں کی لگتی ہے ، نہ باپ کی اور نہ چاچا کی۔ نور محمدکاFIRعدالت میں پیش کرو ۔ ہم گناہگار کے حامی نہیں۔
2: PTM کا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ جلد مائن ہٹادیں۔ یہ احسان نہیں بلکہ انکے اپنے بوئے ہوئے مائنز ہیں۔ اور ان کا فرض بنتا ہے کہ یہ ہم سے ہٹادیں۔ 3: یہاں باڑ لگائی، امریکہ اور چین سے اربوں ڈالر لئے۔ اسکے باوجود ہمارے اسکولوں ، گھروں ، ہسپتالوں پر قبضہ کیا ، سول سرکاری ادارے یا عام لوگوں کے گھر جلدخالی کریں۔اگر خالی نہ کریں تو لوگ فوجی قلعوں کے آگے دھرنا دینگے۔ 4: چیک پوسٹوں پرغیر انسانی رویہ ہے ،کل ہم آرہے تھے تو پہاڑ کی چوٹی سے لائٹ جلارہے تھے ہم آہستہ ہوگئے تو اوپر سے آوازیں لگارہا تھا کہ ڈرائیور کا نام کیا ہے؟۔ خداکے نام پر حلفیہ بتاؤ کہ اس طرح دہشتگرد پکڑے جاسکتے ہیں؟۔ ہم پر سیکھتے ہیں اور ہمیں بے دست و پا کررہے ہیں۔ ہر فورم پر آواز بلند کرینگے۔ 5: جنکے گھر یا دوکانیں گرے بیوہ ، غریب کو، نہیں ملے تو معاوضے دئیے جائیں۔ 6:یہ اور طالب کبھی آپس میں بھائی ، کبھی ایکدوسرے کے دشمن اور ایکدوسرے پر فائرنگ کرتے ہیں تو عوام پر تشدد کرتے ہیں۔ اگر آئندہ ایک بے گناہ کو اٹھایا، طالب لیجائے یا فوجی تو اتفاق سے گھیراؤ کرو اور کہو کہ پہلے بھائی اسکا گناہ بتاؤ۔ اگر گناہ کیا تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اگر گناہ نہیں تو میری خاندانی دشمنی ہو تو میں پنجابی کو اپنا عزیز نہیں دیتا کہ تشدد کرے یا گھسیٹے یا لیجائے۔یہی راستہ ہے۔ 7:آخر میں طالب کو منت کرتا ہوں کہ آپ نہ تو سیالکوٹ کے ہو نہ فیصل آباد کے، نہ تمہارے کارخانے ہیں۔ تمہارا گھر جنگ میں تباہ ہوا ہوگا۔ تمہاری ماں پریشان ہوئی ہوگی۔ تم پریشان ہوئے ہوگے۔ خدا کیلئے اپنی خواتین پر رحم کرو۔ اپنے لوگوں پر رحم کرو۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم سے اچھی طریقے سے ہمیں مروائے۔ جب تم سے ہمیں خوب تنگ کروائے اور ہمیں تمہاری جان انتہائی بری لگے تو آخر میں وہ تمہیں لٹادیتا ہے۔ پھر سب لوگوں کوبھی تمہاری موت پر خوشی ہوتی ہے کہ اچھا ہوا کہ اس دنیا پر سے ایک بوجھ کم ہوگیا۔ کابل کی پوری بادشاہی انہوں نے لے لی لیکن تمہیں چوکیداری بھی نہیں دیتا ۔ تمہیں پنجابی کے منہ پر بھگا رہا ہے ۔ افغانستان کا اسلامی ملک کہتا ہے کہ باجوہ میرا دوست ہے۔ اس پر تم فائرنگ کرو تو میری زمین پر رہ نہیں سکتے۔ نہ تمہیں کوئی پنجاب میں چھوڑتا ہے ۔ تم نے رہنا ہے تو اپنے لوگوں میں رہ سکتے ہو۔ لیکن یہاں گیم شروع ہے کہ یہاں تمہیں بٹھایا اور وانہ سے گڈ طالبان کو اٹھایا جارہا ہے بندوق دے رہا ہے ، گڈ طالب پر بیڈ کو مروارہا ہے اور بیڈ پر گڈ کو ، گڈ کو بیڈ سے بے عزت کروارہا ہے اور بیڈ کو گڈ سے ۔ سلنڈر کو دوسرے طالب سے۔ بس جو تم نے کرنا تھا کرلیا۔ انشاء اللہ ہم تمہارے لئے دو دو رکعت نفل پڑھیں گے کہ اللہ جنت میں پہنچادے۔ خدا جنت لے جائیگا لیکن خدا کی قسم کہ ہمارے مارنے اور بے عزت کرنے پر تم جنت جاؤ!۔ خدا کے واسطے ا سکے بعد نوافل ، اذکار، تراویح کے ذریعے جنت کماؤ جس طرح ساری دنیا کے لوگ جنت کماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ”ماروں گا میں اپنے عزیز کو وہ لائق ہے قتل کا”۔ خدا کیلئے کہ اسکے بعد اپنے عزیزوں کو مت مارو،اب ان پر رحم کرو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ابھی افغان طالبان کے ذبیح اللہ مجاہد ثالثی کرنے چلے ہیں۔ وہ ہوتے کون ہیں ثالثی کرنے والے۔ سلیم بخاری

ابھی افغان طالبان کے ذبیح اللہ مجاہد ثالثی کرنے چلے ہیں۔ وہ ہوتے کون ہیں ثالثی کرنے والے۔ سلیم بخاری

ہم طالبان کیلئے خون کے آنسو روتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ انڈیا سے فوجی ٹرینگ لیںگے!

ہم افغانستان کیلئے اپنا بیڑہ غرق کرچکے ، طالبان خون کے آنسو روتے ہیں اورانہوں نے ابھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ انکی فوج کی ٹریننگ انڈیا میں ہوا کرے گی۔ ذرا آپ ملاحظہ فرمائیے کہ یہ کیا ہورہا ہے پاکستان کے ساتھ؟۔ ذبیح اللہ مجاہد احسان کررہے ہیں ہم پر کہ وہ ثالث کا کردار ادا کرینگے TTPاور پاکستان کی حکومت کے بیچ۔ ہمیں اب ریئلائز کرنا چاہیے کہ افغانستان سے روایت کے عین مطابق میں وہ مثالیں دینا نہیں چاہتا جو افغانوں کے بارے میں مشہور ہیں نہ میرا مقصد کسی قوم کی تضحیک کرناہے مگر وہ احسان مند کسی کے نہیں ہوئے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ احسان فراموش ہیں۔ لیکن ہم نے جتنی بھی قربانیا ں ان کیلئے دیں ،اپنا بیڑہ غرق کیا، اپنی جانوں کی 80ہزار شہادتیں ان کیلئے پیش کیں۔ پچھلے 40سال سے 40لاکھ افغانیوں کے وہ ہوسٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس کاہمیں کوئی فائدہ نہیں ۔ ٹیرارسٹ ضرور آجاتے ہیں۔ جواب میں کلاشنکوف کلچر آیا، نارکوٹکس آئی۔ ہمارے ملک میں یہ ہمیں ان سے ملا ۔ اب وہ ہمارے ملک میں ثالثی کرنے چلے ہیں۔ ہوتے کون ہیں وہ ثالثی کرنے والے۔ ان کیساتھ مذاکرات کرنے کے بجائے اپنے بارڈرکو بند کرنا چاہیے۔ جتنے حملے اس بیان کے بعد ہوچکے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین افغانستان کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے میرے خیال میں کوئی دو درجن واقعات ہوچکے ہیں ٹیرر ازم کے۔ اس میں بے پناہ شہادتیں ہوئی ہیں ہماری سیکورٹی کے لوگوں کی۔
افتخاراحمد صحافی: میںبخاری صاحب سے متفق ہوں میں سمجھتا ہوں کہ کچھ خاص قوتیں ہیں جو اپنی پراکسیز کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں یہی تو مصیبت ہے۔ سیاستدانوں کو تو ہم برا کہتے ہیں لیکن یہ معاملہ ہم سیاستدانوں کے سامنے پیش کرنے کو تیار نہیں کہ جو فیصلہ ہم کرنے جارہے ہیں اسکے نتائج کیا نکلیں گے؟۔ اگر خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا تو جاوید جیسے لوگ سیاستدانوں کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے کہ سیاسی پاٹیاں ناکام ہوگئیں ، نالائق تھیں۔ اس وقت سوال کیوں نہیں اٹھایا جب ذبیح اللہ مجاہد یہ کہہ رہا تھا۔ بخاری صاحب نے کتنی بڑی بات کی کہ سپن بولدگ میں جو ہم آہنگی ہے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کا اور ان کی خفیہ ایجنسی کا وہ ہم جانتے ہیں۔ واقعات ہورہے ہیں ، آج بھی ایک واقعہ ہواہے۔ سلیم بخاری: بلوچستان انسرجنسی کے تمام ٹریننگ کیمپ سپن بولدگ میں ہیں۔ جاویداقبال :ٹھیک ہے یہ سب 8ہزار لوگ ہیںمگر ہم سے کنٹرول نہیں ہوتے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شہباز شریف منافقت چھوڑ دو۔ جن اقوام نے ہم پر ظلم کیا تھا تم نے ان کا ساتھ دیا!۔ جنرل مبین افغان

شہباز شریف منافقت چھوڑ دو۔ جن اقوام نے ہم پر ظلم کیا تھا تم نے ان کا ساتھ دیا!۔ جنرل مبین افغان

شہباز شریف نے اقوم متحدہ میں ظالموں کے سامنے ہمیں بدنام کیا لیکن کشمیر کیلئے نہیں بولا؟

جنرل مبین افغان : اگر ہم بھوک سے مریں یا سختیوں سے مریں آپ سے نہیں مانگتے۔ آپ ہمارے ساتھ تعاون نہ کرو۔ تم یہ منافقت نہ کرو کہ سارے معیوب الزامات کے بعد اقوام متحدہ میں یہ بات کرتے ہو کہ افغان طالبان کے اثاثے بحال کردو۔ افغانیوں کے پیسے آزاد کرو۔ ہمیں تمہاری آواز نہیں چاہیے تم رذالت اور منافقت نہ کرو۔ میں پاکستان کے علماء سے کہتا ہوں ، عوام سے کہتا ہوں ، بااختیار طبقہ سے کہتا ہوں کہ تمہاری پالیسی خطے کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ تمہاری یہ زہریلی زبان پاگل وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان کے حق میں خطرناک میسج ہے افغانوں کیلئے۔ یہ تمہارے اور افغانوں کے درمیان جنگ کا اعلان ہے۔ تم نے اقوام متحدہ میں ان ظالموں اورجابروں کے سامنے جنہوں نے ہمیں 20سال تک مارا ۔ ان کو راستہ تم نے دیا ، تیل تم نے دیا اور سہولت کاری تم نے کی۔ پھر ہمیں قربانی کا دنبہ مت بناؤ۔ ہمارے ہاتھ باندھ کر ہمیں ظالموں کے حوالے نہ کرو۔ اب ہمارے زخموں پر مزید نمک نہ چھڑکو۔اب ہم میں برداشت نہیں ہے۔ ہم نے 40سال جنگ لڑی ہے۔ اب بھی ہمارے بچے بچے کے زخموں سے خون ٹپک رہا ہے ہمیں اپنا خون چاٹنے کیلئے چھوڑو۔ ہمیں چھوڑ دو تاکہ ہم اپنے زخموں پر مرہم رکھیں۔ہمیں مزید اپنی اقتصادی بہتری کیلئے استعمال نہ کرو۔ تمہاری یہ منافقت کی سیاست مزید افغانیوں کیلئے برداشت نہیں یہ فیصلہ تم نے کرنا ہے کہ تم ہمارے دوست ہو یا پھر ہمارے دشمن۔ اگر شہباز شریف میں غیرت ہوتی تو اقوام متحدہ میں کشمیریوں کیلئے آواز اٹھاتا!۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تحریک طالبان پاکستان سیاسی جماعت ہے۔ تمہارا خیال ہے کہ یہ کاروباری ہیں؟۔ صحافی ہارون الرشید

تحریک طالبان پاکستان سیاسی جماعت ہے۔ تمہارا خیال ہے کہ یہ کاروباری ہیں؟۔ صحافی ہارون الرشید

ڈی ایس پی پولیس ، کیپٹن اور میجر کو پکڑلیا تو ان کو جرگہ نے رہائی دلادی!ہارون الرشید

پاک فوج کیخلاف لڑے تو سمندر ،زمین اور پہاڑوں کو انکے خلاف فوج گرم کرسکتی ہے

صحافی ہارون الرشید نے کہا کہ طالبان ایک سیاسی جماعت ہے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ کاروباری ہیں؟۔ ایک طالب نے کہا کہ اوپر اللہ نیچے پہاڑ ہیں۔ انکے ساتھ مذکرات میں یہ طے ہوا تھا کہ اسلحہ کے بغیر اپنے خاندان سے مل سکتے ہیں لیکن شاید یہ درپردہ اسلحہ سمیت آئے ہیں۔ دیر کیساتھ افغانستان کی سرحد لگتی ہے اور یہ سوات کے پہاڑی علاقہ میں موجود ہیں۔ ایک زخمی ڈی ایس پی دو فوجی افسر کیپٹن اور میجر کوطالبان نے گرفتار کیا تھا جن کو جرگہ کے ذریعے رہائی دلائی گئی۔ مولانا فضل الرحمن کے یہ ہم مسلک ہیں اسلئے متحدہ مجلس کی حکومت نے ان کو کھلے عام اسلحہ کیساتھ گھومنے کی اجازت دی تھی۔ خاتون میزبان اینکر نے پوچھا کہ مولانا فضل الرحمن نے دھمکی دی تھی کہ ہم فوج کے خلاف زمین گرم کردیںگے؟۔ تو اسکے جواب میں کہا کہ یہ گیدڑ بھبکی ہے۔ یہ مدارس کے ذریعے جلوس نکال سکتے ہیں ، مسلح جدوجہدکرنا انکے بس میں۔ فوج چاہے تو زمین،پہاڑ اور سمندر کو گرم کرسکتی ہے۔ پہلے بھی تین ماہ میں علاقہ خالی کرواکر طالبان کو مار بھگایا اور پھر لوگوں کو اپنے علاقوں میں واپس بھیج دیا تھا۔یہ محض الزام ہے کہ عمران اور صوبائی حکومت طالبان سے ملی ہوئی ہے۔ اگر بس چلے تو عمران خان پر یہ الزام بھی لگادیں گے کہ امریکہ ہیروئن سمگلنگ میں ملوث ہے۔ روس نے امریکہ پر الزام لگایا کہ داعش کو جہازوں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کیا اور اس میں صداقت بھی ہے کہ داعش کو امریکہ نے سپورٹ کیا۔ افغان طالبان کو بھی داعش سے خطرہ ہے۔ ہارون الرشید کا یہ بیان وسط اگست میں الیکٹرانک میڈیا پر آیا تھا۔ سلیم صافی اور سلیم بخاری اور جنرل مبین کے بیان بھی دئیے ہیں تاکہ اہل علم ودانش کڑی سے کڑی ملاکر نتائج کیلئے تدبیر سوچیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گدھیڑی سیاسی، مذہبی قیادت اور صحافت ایک دن فوج کے سامنے دُم ہلاتی ہے اور پھر پیشاب کرکے وہ دُم کس کر اسکے منہ پر ماردیتی ہے!

گدھیڑی سیاسی، مذہبی قیادت اور صحافت ایک دن فوج کے سامنے دُم ہلاتی ہے اور پھر پیشاب کرکے وہ دُم کس کر اسکے منہ پر ماردیتی ہے!

جب عمران خان کے منہ سے بات نکلتی ہے تو میڈیا اس کو ایسی یلغار دکھاتا ہے کہ جیسے انتہائی باعزت پاکیزہ کنواری کو آنکھ ماری ہو بلکہ جبری جنسی زیادتی کرکے اسکی بکارت ختم کی ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عمران خان کی مقبولیت زرداری اور نوازشریف سے عوام کی مایوسی اور عربی کہاوت کل جدید لذیذ ” ہر نئی چیز لذیذ ہوتی ہے” اسٹیبلیشمنٹ نے نئی نویلی دلہن بناکر پیش کیا۔ تبدیلی نہ آئی اور نالائقی کا ریکارڈ توڑا گیا تو مایوسی پھیل گئی۔ عمران خان کھل کر کہتا تھا کہ ” میں اور باجوہ ایک پیج پر ہیں اور فوج کیلئے ڈھال کا کردار ادا کروں گا”۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت سنھبالتے ہی فیصلہ کیا تھاکہ باجوہ کو ایکس ٹینشن دینی ہے۔ایوب، ضیاء ،مشرف اورکیانیX10ہوتے رہے اوریہX10”یاد ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا” تھا۔ عمران خان نے رومانس کا اظہار کیا تو عدالت نے سیاسی قیادت کو امتحان میں ڈالا، عمران خان کی چوتڑ پر فوج کی مہر لگی تھی۔ نوازشریف اور زرداری نے آرمی چیف کیX10کا فیصلہ کیا تو فیصل واوڈا نے میز پر بوٹ رکھا کہ یہ چاٹو۔ سیاسی رہنما کو اپنی بے عزتی کا احساس ہوا تو واوڈا نے کہا کہ ” بے عزتی تو ہوئے گا”۔
پھرPDMکی گدھا گاڑی پر پیپلزپارٹی سمیت کئی پارٹیوں کے نام تھے۔ نوازشریف نے پہلے جلسے میں فوج کیخلاف ڈھینچو ڈھینچو کرنا شروع کیا تو زرداری نے کہا کہ ہماری یہ مجال نہیں، لاڈ پیار والا طبقہ جو بولے تو یہ آپس کی بات ہے۔ مریم نواز کا دروازہ توڑا گیا تو سندھ پولیس کے احتجاج سے آرمی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بلاول مریم کی دوستی گڑھی خدابخش تک جاپہنچی۔ قریب تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی کووزیراعلیٰ اور شہبازشریف کو وزیراعظم بنادیا جاتا مگرمریم نوازکو یہ قبول نہ تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے دونوں ایجنٹ پنجاب اور مرکز پر قبضہ کریں۔مولانا فضل الرحمن کو پرویزالٰہی اور زرداری کے پیچھے لگادیا ۔ پیپلزپارٹی اورANPکوPDMسے نکالا ۔ مولانا اور مریم نواز نے اسمبلی سے استعفیٰ دلانا تھا۔ زرداری اورANPپر اسٹیبلشمنٹ ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ جیو ، جنگ اور سوشل میڈیا پر تماشہ لگادیا کہ اصل جنگ کٹھ پتلی عمران خان سے نہیں فوج سے آزادی لینی ہے۔ پھر زرداری نے کایا پلٹی کہ اصل کو چھوڑ دو، کٹھ پتلی سے جان چھڑاؤ۔ اقلیت کو جوڑ کر حکومت بنائی ، جعلی اپوزیشن لیڈر چن لیا ، جو بیانیہ فوج سے آزادی کا بنایا وہ ہتھیار عمران خان کے ہاتھ میں آیا۔ کل تک جو نکھٹو ایکدوسرے کو چور، غدار اور مودی کا یار کہتے تھے توآج مجموعہ اضداد مذاق بن گئے ۔ مہنگائی کا شور مگرساڑھے3سال میں اتنی مہنگائی نہ تھی جتنی گدھیڑوں نے4ماہ میں کردی۔ ایک آنکھ کام نہ کرے تو دجالی بیلنس خراب ہوگا۔حکومت و اپوزیشن کی دو آنکھوں سے بیلنس قائم ہوتا ہے۔ مشاورت میں مختلف رائے سامنے نہ ہوں تویہ مشورہ نہیں ہے۔ نزول وحی کے دور میں مشاورت کا عمل تھا اور وحی بند ہوئی تو مشورہ وحی کا نعم البدل ہے لیکن حکومت کوچلنے نہیں دیا جاتا اور اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا جاتا ہے۔پہلی مرتبہ جنرل باجوہ کی قیادت میں فوج نے فیصلہ کیا کہ سیاسی مداخلت نہیں کرنی لیکن اب کمبل ان کو نہیں چھوڑ رہاہے۔کسی نے دریا میں ریچھ کو کمبل سمجھ کر پکڑنا چاہا تھا تو ریچھ نے اس کو پکڑلیا ۔یہاں تو75سال گزرنے کے بعدفیصلہ کیا گیاہے۔ اگر پاک فوج نے بہت زیادہ حکمت عملی سے کام نہ لیا تو مشرقی پاکستان سے بھی زیادہ برا حشر ہوگا اسلئے کہ اندر باہر سبھی کواپنا دشمن بنایاہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ایوب نے جنم دیا، جب سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھٹو کو بقیہ پاکستان کا اقتدار مل گیا تو آئین بنا لیکن آئین پر عمل نہ ہوا۔ بلوچستان کی جمہوری حکومت کاخاتمہ کرکے گورنر راج لگایا۔سردار عطاء اللہ مینگل کے19سالہ بیٹے اور اسکے دوست کو اغواء کرکے قتل کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر بغاوت کے مقدمات قائم کرکے پھانسی گھاٹ میں رکھا۔ لاڑکانہ میں بھٹو نے جماعت اسلامی کے رہنما کو الیکشن کے کاغذات جمع کرانے پر اغواء کیا تھا۔ پھر جنرل ضیاء نے جماعت اسلامی کو کڑک مرغی کے انڈوں کی طرح رکھا لیکن نواز شریف کو جنم دیا۔ جنرل ضیاء الحق ساتھیوں سمیت حادثے کا شکار ہوا توMRDکی مدد سے بینظیر بھٹو اقتدار میں آئی لیکن بینظیر بھٹو نے صدارت کیلئے نوابزادہ نصراللہ خان کی جگہ جنرل ضیاء الحق کے جانشین غلام اسحاق خان کو صدر بنوایا۔ پھر جب اس کی حکومت ختم کی گئی تواسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے نوازشریف کو اقتدار میں لایا گیا۔پھراس کو کرپشن کی بنیاد پر اقتدار سے باہر کیا گیا۔ بینظیر اقتدار میں آئی تو پھر اسکے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتارا گیا اور حکومت بھی ختم کی گئی۔ پیپلزپارٹی کا جیالا صدر فاروق لغاری بھی ن لیگ سے مل گیا۔ پھر انتہائی بے شرمی اور بے غیرتی کیساتھ نہ صرف نوازشریف اقتدار میں آیا بلکہ اپوزیشن کی زیادہ ترسیاسی قیادت پارلیمنٹ سے باہر کی گئی۔
پرویزمشرف نے نوازشریف کاتختہ الٹا تو سپریم کورٹ نے اس کو تین سال تک قانون سازی کی اجازت دیدی۔ جب متحدہ مجلس عمل نے صوبہ سرحد میں سرکاری زبان اردو کو نافذکردیا تو سپریم کورٹ رکاوٹ بن گئی۔ صحافی عمران ریاض نے عید قربان کی وجہ سے چند دن کی داڑھی رکھی تو جج نے کہا کہ ” آپ کیساتھ داڑھی اچھی نہیں لگتی ”۔ عمران ریاض نے الزام لگایا تھا کہ مطیع اللہ جان کو فوجیوں نے ریپ کیا اور پھر عمران خان نے الزام لگایا کہ ” شہزاد گل سے جنسی زیادتی ہوئی ”۔ حامد میر کی طرف سے جنرل رانی کے طعنہ سے لیکر نواز شریف کی طرف سے تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہونے تک کیا کیا الزامات فوج پر کس نے نہیں لگائے ہیں لیکن سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے۔
اس سے پہلے کہ ضابطہ اخلاق کی تمام رسیاں ٹوٹ جائیں تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ مخرب الاخلاق الزامات کہاں سے شروع ہوتے ہیں اور یہ کون لگاتا ہے؟۔ جب نوازشریف فوج کے کیمپ میں خرکار تھا تو بھٹو کے باپ پر انگریزوں کے کتے نہلانے کا الزام لگاتا تھا۔ زیادہ دور کی بات نہیں ، جب پنجاب میں زرداری کی مدد سے شہبازشریف پنجاب میں اقتدار میں آیا تب بھی لغت میں ایسی گالی نہیں تھی جس کی پریکٹس جلسوں میں شہبازشریف نے نہ کی ہو۔ پاک فوج زندہ باد کے نام سے چینل دوسروں کی خواتین پر بہتان سے دریغ نہیں کرتے۔ARYاور بول نیوز کے صحافی دم ہلا کر فوج کو سلام کرتے تھے ۔ پھر اپنی دم پیشاب میں ڈبولی تو فوج کے منہ پر مارنا شروع کردی۔ نوازشریف اور عمران خان کو بھی جس لاڈ سے پالا تھا اسی لاڈ سے پیشاب میں دُم بھگو کر فوج کے منہ پر ماری۔
نوازشریف کی زرخرید میڈیا جیو، جنگ گروپ اور سوشل میڈیا کے صحافیوں نے یکطرفہ طور پر عمران خان کا چہرہ بھیانک دکھانا شروع کیا جس کی وجہ سے فوج کے ترجمان نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ جب نوازشریف اور دوسرے رہنماؤں کے کلپ دکھائے تو پھر عمران خان کے الفاظ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتے ۔ جنرل ضیاء کو ذوالفقار علی بھٹو نے عاجز اور کمزور سمجھ کر منتخب کیا تھا لیکن فوج کی طاقت نے اس کو مضبوط کردیا ۔ جب آئینی شق نہ تھی تب بھی آرمی چیف اپنی مدت میں خود توسیع کرتا تھا،جو جرنیلوں کی صلاحیت پر عدم اعتماد کا اظہاریا مفادپرستی تھی؟۔ پارلیمنٹ نے صدر اور وزیراعظم کی توسیع کیلئے قانون نہ بنایا تو آرمی چیف کیلئے بھی نہیں بنانا چاہیے تھا جہاں ایک کی جگہ پانچ پانچ چھ چھ اہلیت رکھتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کی وجہ سے عمران خان اور ن لیگ نے یہ عہدہ بے شرمی کیساتھ متنازع بنادیا۔ فوجی جرنیل نیچ لوگوںکو مفاد کیلئے قوم کی تقدیر کا مالک بنائیں گے تویہی ہوگا۔احسان فراموشی اور احسان کے بدلے برائی کمینہ پن ہے جس کو کم نسل کامیاب سیاست سمجھتے ہیں جو ایکدوسرے کیساتھ بھی جاری رکھتے ہیں۔
پرویزمشرف نے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی ،افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو ننگا کرکے امریکہ کے حوالے کردیا۔ عدالت نے سزا سنائی تھی توISPRنے فیصلے پر افواج پاکستان کو ایک فیملی قرار دیتے ہوئے غم وغصے کا اظہار کیا۔ کیا ریاست یہ ہوتی ہے کہ فوج اور عدالت جو کرے ٹھیک ہے، سب کچھ برداشت کیا جائے؟۔ ایسی ریاست پر آسمان و زمین والے دونوں صبح وشام لعنت بھیجتے ہیں جو عوام کو اپنا مالک سمجھنے کے بجائے اپنا غلام سمجھے۔ ریاستی کسٹڈی میں ریپ برداشت ؟۔ اپنے خلاف گیدڑ بھبکی پر معذرت قبول نہ ہو؟۔ ریٹارئرڈ غیرسیاسی جج اقبال کی بہو کا دروازہ رات کی تاریکی میں توڑ کر ہراساں ہو تو ٹھیک اور مجرم فیملی کی فرد مریم نواز کے ہوٹل کا دروازہ توڑنے پر سندھ پولیس فوج کو جھکنے پر مجبور کرے؟۔ عمران خان مرغا بنتا تو بھی اس سے زیادہ معذرت نہ ہوتی جو اس نے عدالت میںرویہ اختیار کیا۔ اچھا تھا کہ غیرمشروط معافی مانگ لیتا۔ علی وزیر کو رہائی بہت مبارک ہو۔ اسکے وکیل نے پشتو کی تقریر کا غیرپشتون کی مدد سے غلط ترجمہ کرنے کی بات کرکے بہت اچھا پینترا بدل دیا ہے لیکن ایسی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جس پر بندہ کھڑا رہنے کی سکت نہ رکھتا ہو۔
افغانستان میںامریکہ جیسا حشر کرنے کی دھمکی پر دُم دبائی جائے۔ تگڑے آرمی چیف کی بات پر ناراضگی ظاہر کی جائے؟۔ جوISIاور آرمی چیف کا نام لیکر تمام خرابیوں کی جڑ کہے تو ٹھیک ؟۔ عمران خان نے کہا کہ نیب کا مجرموں کو پکڑنے اور چھوڑنے کا سلسلہ تھا تو مجھے پتہ نہ تھا کہ یہ مال بنانے کا ذریعہ ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے نیب سوالنامے پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پر شدید الزامات لگاکر دیگر جرنیلوں اور عمران خان کے کیسوں کا جواب مانگا اور کہا کہ نیشنل احتساب بیورو کی جگہ سیاسی یا اپوزیشن احتساب بیورو نام رکھاجائے۔
لمبی فہرست ہے جس میں تضادات، نالائقی، مفاد پرستی اور انتہائی گھناؤنے صفات ، کرتوت اور نظام کی ناکامی کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔ میڈیا کا سب سے زیادہ گھناؤناکردار ہے جو ابلیس بن کر تماشۂ حیات اچھے اچھوں کی نظروں سے چھپا دیتا ہے۔ لائق اور نالائق صحافیوں کی اکثریت جس طرح کی گھناؤنی حرکتیں کررہی ہے لگتا ہے کہ قیامت سے پہلے قیامت آجائے گی لیکن کچھ اچھے صحافی بھی ہیں جن کی زبان میں معیاری صحافت ہے دلالی کا ڈھول نہیں بج رہاہے۔
پاکستان میں سندھی، پختون، بلوچ، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، گلگت و بلتی، کوہستانی،ہزارہ اورمہاجر کے علاوہ ایک ایک قوم میں بھی انواع واقسام کے قبائل ہیں۔ جیسے افغانستان میں پختون، ہزارہ، تاجک اور ازبک ہیں ۔ حال ہی میں جب پاکستانی نے افغانی کرکٹ ٹیم کو ہرایا تو کوئٹہ کے پختون افغانیوں پر ہوٹنگ کررہے تھے جس پر ہمارے کوئٹہ کے ساتھی عبدالعزیز نے ان کو روکا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ گھر، محلہ ، علاقہ ، ضلع ، صوبہ اور ملک ٹھیک نہیں کرتے، بین الاقوامی حالات پر لگے رہتے ہیں۔ جب ہمارا معاملہ درست ہوگا توبین الاقوامی اور خطے کے حالات بھی ٹھیک ہونگے۔ اسلام نے عورت کے حقوق سے انسانیت کے تمام حالات ایسے درست کرنے کی بنیاد ڈالی ہے کہ ابلیس بھی اسی سے ڈرتا ہے۔ علامہ اقبال نے ابلیس کی مجلس شوریٰ میں سب مشیروں کے بعد ابلیس کا لکھ دیا:
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
حافظِ ناموسِ زن مرد آزما مرد آفریں
پاکستان دنیا میں واحد ایسا ملک ہے کہ جہاں عورت کیساتھ بہت زیادہ بڑی زیادتیاں ہوتی ہیں۔ ان کے حقوق پامال ہیں۔ عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔ معاشرے میں انکو حقوق میسر نہیں۔ علماء ومفتیان نے انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔چوکیدار ، بدمعاش ، بااثرطبقات سبھی کی طرف سے ان پر مظالم ہوتے ہیں اور سکول، کالج، بسوں، راستوں، سڑکوں، بازاروں، گلی کوچوں، گاؤں دیہات اور شہروں میں ، دفاتر میں اور گھروں میں ان کے ساتھ ہرقسم کے مظالم ہیں لیکن پاکستانی قوم پھر بھی عورت کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ سندھی، پنجابی اور پشتون ،بلوچ کے علاوہ ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجروں کے کلچر میں بھی یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور عورت کی ناموس پر لوگ جان تک قربان کرتے ہیں۔
بہت لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ طلاق اور حلالہ کے علاوہ کوئی دوسرا موضوع نہیں ملتا؟۔ یہ دیکھ دیکھ آنکھیں جام ہوگئی ہیں اور سن سن کر کان پک گئے ہیں اور ان کی اس بات میں بڑا وزن بھی ہے لیکن جن خواتین، خاندانوں اور علماء حق کو اس حساس معاملے کا سامنا ہوتا ہے اور پھر وہ بیباک ہوکر اس لعنت سے چھوٹ جاتے ہیں تو عزت بچانا ان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ قرآن کی آیات سے اور احادیث صحیحہ سے اور فقہ حنفی کے دلائل سے جس طرح آج لوگوں کی عزتیں لُٹنے سے بچ رہی ہیں وہ بہت بڑا سرمایہ اسلئے ہیں کہ بنام اسلام جن کی عزتیں نیلام ہورہی تھیں،آج بنام اسلام ان کی عزتوں کو تحفظ مل رہاہے۔ اگر دنیا میں ہمارے چند ساتھی کوئی دوسرا کام نہ بھی کرسکیں تو یہ بھی بہت ہے۔
حنفی مسلک کی بنیاد کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ابن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع نے کہاتھا کہ ” حنفی مسلک میں85فیصد مسائل امام ابوحنیفہ کے خلاف اور15فیصد انکے مطابق ہیں”۔ یہ بھی علماء کرام ، مفتیان عظام اور عوام قابل احترام کی اکثریت کو پتہ نہیں کہ امام مالک اورامام شافعیکی طرح احناف کے نزدیک امام ابوحنیفہ کے شاگرد بھی اپنی اپنی جگہ مستقل امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ اصول میں اختلاف کی وجہ سے اصحابِ تخریج ایک دوسرے سے متضاد مسائل نکالتے ہیں۔ فقہاء کے7طبقے ہیں۔حنفی فقہاء کا ایک طبقہ اصحاب تخریج ہے جن کا کام اماموں کے اصولوں سے مسائل نکالنا ہے۔ مثلاً ”نورالانوار” میں حرف” ف” تعقیب بلامہلت کے عنوان سے لکھاہے کہ ” اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے توجملے میں فاء کے حرف کے استعمال سے کس امام کے نزدیک کون کونسی طلاق واقع ہوگی؟۔ اور پھر اصولوں کے اعتبار سے مختلف مسالک لکھے ہیں۔ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف کے اپنے اپنے اصولوں کے مطابق کیا مسائل بن جائیںگے؟۔ کسی کے نزدیک پہلی اور تیسری طلاق واقع ہوگی اور دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی اور کسی کے نزدیک دوسری ہوگی پہلی اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی اور عجیب و غریب قسم کے لایعنی بکواسات ہیں جو پڑھائے جارہے ہیں ۔ ایک ہی کتاب بیس بیس سالوں تک پڑھانے کے باوجود اساتذہ کو خود بھی سمجھ میں بات نہیں آتی ہے کہ کیا پڑھ اور پڑھارہے ہیں؟۔مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ” اگر کسی عقل والے کی نظر ان پر پڑگئی تو اصول فقہ کی کتابیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور سب کم عقلی اور بے اصولی کے راز فاش ہوجائیں گے”۔
سمجھانا یہ مقصود ہے کہ ” جو15فیصد فقہ حنفی کے مسائل امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہیں وہ بھی دوسروں نے نکال کر ان کی طرف منسوب کئے ہیں”۔ علامہ غلام رسول سعیدی بریلوی مکتب اور فقہ حنفی کی معتبر شخصیت تھے ۔ کئی بڑی جلدوں پر مشتمل شرح صحیح مسلم اور شرح صحیح بخاری لکھی اور کئی جلدوں میں قرآن کی تفسیر ”تبیان القرآن” بھی لکھ دی ۔جب وہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع پر تنقید کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ مفتی محمد شفیع فقہ حنفی سے بالکل نابلد تھے۔ لیکن علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ ” اگر سورۂ بقرہ کی آیت230میں ف تعقیب بلامہلت کی بات نہ ہوتی تو پھر شریعت میں اکٹھی تین طلاق کا جواز نہ ہوتا”۔ حالانکہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں دومرتبہ طلاق سے اس طلاق کو جدا کرکے فدیہ سے تعقیب بلامہلت کی وجہ سے جوڑ ا ہے۔ حدیث، تفسیر اور فقہ کے مسائل کا بیڑہ غرق کیا گیا ۔ اتنے متضاد مسائل ومعاملات بنائے گئے کہ تفسیر، حدیث اور فقہ کی شرح بھی آپس میں کوئی جوڑ نہیں رکھتے ۔ علماء کے فکری انتشار کی وجہ سے ڈاکٹر اسرار احمدMBBS، جاوید احمد غامدی، سابق کلین شیو صحافی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور انجینئر محمد علی مرزا جاہلوں پر راج کررہے ہیں۔
علماء کی ٹیم تشکیل دی جائے جس میں حنفی دیوبندی بریلوی علماء شامل ہوں، میری خدمات حاضر ہیں۔ کچھ عرصہ میں جامع نصاب سے انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ میں نے اطلاع دیکر محمد علی مرزا علمی کتابی کی مجلس میں شرکت کی تھی۔اس نے ساتھ تصویر کھینچوانے کیلئے آواز لگائی جس کی میں نے ضرورت نہ سمجھی ، شاید اس وجہ سے اس کی آنکھوں میں ذرا بھینگا پن آیا۔ میرے سوال کا جواب نہ دیا اور سوالات نہیں کرنے دئیے۔ مجھے ان سے مسئلہ نہیں، جس طرح بھی عوام میں دین کا شعور بڑھ جائے تو میں اس رحجان کے حق میں ہوں لیکن دین کو اجنبیت سے نکالنا ہوگا۔ جب علماء واضح نقشہ پیش کریںتو معاشرے میں اس پر عمل کی رغبت پیدا ہوگی اور پھراسکا راستہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ جب گھروں اور معاشرے میں دین کا معاملہ مضبوط ہوگا تو اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔پھر منبر ومحراب کا بھی عوام میں بہت مؤثر کردار ہوگا۔
ایک طرف شیعہ صحابہ کرام کی ایسی گھناؤنی تصویر پیش کرتے ہیں کہ علی ، حسن ،امام حسین اور زین العابدین کے کردار پر بھی سوالات اُٹھ جاتے ہیں اور دوسری طرف اہل بیت کی مخالفت پر کمربستہ ایسے لوگ ہیں کہ عربی سوشل میڈیا پر ایک ویلاگ دیکھا جس میں علیکو ایک فرضی اور افسانوی کردار قراردیا گیا ہے۔
قرآن میں اللہ اور اسکے رسول ۖ کی اطاعت کا حکم ہے۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ رسول اللہ ۖ اولی الامر تھے تو بھی خواتین سے لیکر بڑے صحابہ ، ذوالخویصرہ سے لیکر رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی اور نبوت کے دعویدار دجال ابن صاید تک سب کیلئے نبیۖ سے اختلاف کا دروازہ کھلا تھا۔ پاکستان کی دھرتی میں ریاست مدینہ کی یاد تازہ ہوسکتی ہے اسلئے کہ پاکستان میں اگرچہ جمہوریت نہیں لیکن جمہوری روح عوام وخواص ، سرکاری سطح پر اور مذہبی حوالوں سے یہاں موجود ہے۔جس کا ہم نے بالکل فائدہ نہیں اٹھایا ۔ کسی بھی مذہبی وسیاسی جماعت کے پاس اپنا پیش کرنے کیلئے کچھ نہیں لیکن دوسروں کی مخالفت پر کمربستہ رہنے کی کوشش میں اپنی زندگی کا مقصدسمجھتے ہیں۔ شیعہ ایک حسین کو چھوڑ کر باقی ائمہ اہل بیت کو ایسا پیش کرتے ہیں کہ موجودہ دور کے لوگ ان ائمہ سے کہیں بہتر ہیں؟۔ معذور ومجبور اور انتہائی بے بس، مظلومیت کی تصویر اور بالکل ہی معاشرے میں بے توقیر؟۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن شیعان علی نے اپنی صلاحیتین ائمہ اہل بیت کی رفعت وعظمت کی جگہ صحابہ کرام کی مخالفت اور دشمنی پر مرکوز کردی ہیں اور دشمنی بھی ایسی کہ خود ائمہ اہل بیت کے فضائل ومناقب پر بھی ایمان نہیں رہتا ۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کی ایک ویڈیو سن کر بڑا مزہ آیا۔ امام حسن نے اپنی وفات سے قبل وصیت کی کہ اگر اماں عائشہ اجازت دیں تو مجھے روضہ رسول میں دفن کردیں اور اگر کوئی رکاوٹ کھڑی کرے تو جھگڑا نہ کریں ،جنت البقیع میں دفن کردیں۔ حضرت عائشہ نے اجازت دی اور جب مروان بن حکم نے رکاوٹ ڈالی تو جھگڑا نہ ہونے دیا۔ یہ وفات سے پہلے بصیرت کا فیصلہ تھا۔ مروان بن حکم کو پتہ تھا کہ اگر امام حسن کی تدفین روضہ رسول میں ہوئی تو بنوامیہ کے مقابلے میں اہلبیت مضبوط ہونگے۔ پروفیسر احمد رفیق اخترصاحب اپنے اعتدال کی وجہ سے بڑارتبہ اور مقام رکھتے ہیں۔
اصحاب شرع و طریقت زیغ وضلالت سے ہٹ کر کردار ادا کریں۔ صوفی یہ نہیں کہ سرمایہ دار مریدمل گئے تو مسلک کی وکالت شروع کی، یہ ایمان نہیں پیسہ بولتا ہے۔ اگر تمام قومیتوں و مسالک کو شعور و کردار کا درس ملا تو شعور کے نور سے ظلمت کا اندھیرا ختم ہوگا۔زمین کا اصل سورج اور آدمی کا اصل نور ہے اور سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کانور پیدا کیا۔سورۂ تین میں ہے کہ احسن تقویم سے انسان کی تخلیق ہوئی پھراسفل السافلین کی مٹی ہوا مگرایمان وعمل صالح والے!۔
انسان ماں باپ کے سفلی جذبات اور نطفۂ امشاج سے پیدا ہواہے تو اپنی شخصیت کیلئے ایمان اور عمل صالح کے علاوہ علوالمرتبت کا کوئی راستہ نہیں دیکھتا ۔ نجات اسی میںہے۔ تواضع کیلئے اپنی تخلیق کی یاد دہانی بہت زیادہ کافی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

محمود خان اچکزئی کے جرگہ سے صحافی رضیہ محسود کا لیڈران کو بہت جھنجھوڑنے والا خطاب

محمود خان اچکزئی کے جرگہ سے صحافی رضیہ محسود کا لیڈران کو بہت جھنجھوڑنے والا خطاب

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سب سے پہلے ہمارے بڑے محمود خان اچکزئی ،یہاں بیٹھے دوسرے بڑے ، ہمارے بھائی اور ہماری بہنیں جو بیٹھی ہیں۔ سب کو السلام علیکم کہتی ہوں۔ میں آج اپنے بڑوں اور بھائیوں کے سامنے کھڑی ہوں تو مجھے بہت فخر محسوس ہورہا ہے۔ بہت خوش ہوں کہ ہمارے پختون بھائی سب جرگہ میں شامل ہیں اور اپنی رائے پیش کررہے ہیں۔ اپنے بڑوں اور بھائیوں کی تقاریر سن رہی تھی تو میں معذرت کیساتھ ہم ان لوگوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو اچھی تقریر کرسکتا ہو، بلند آواز کیساتھ جذباتی باتیں کرسکتا ہو ، اس طرح کہ اسٹیج ہلے۔ ہم اس کو بہت زیادہ داد دیتے ہیں۔ ابھی تک جو ہم برباد ہوئے اور پسماندہ رہ گئے،ان تقاریر اور جذباتی باتوں سے ہم برباد ہوئے ۔ اگر چھوٹے بچے کو یہاں کھڑا کردو تو وہ بڑی اچھی اچھی باتیں کرلے گا مشکلات کو بھی بہت اچھے اندار میں بیان کریگا۔ ہماری مشکلات کا دنیا اور ہر ایک کو پتہ ہے لیکن عملی اقدامات نہیں۔ ہمارے جو بڑے اور بھائی بیٹھے ہیں اگر ان میں آدھے بھی گراؤنڈ پر صحیح کام کرلیں تو بہت زیادہ تبدیلی آئے گی۔ یہاں ہمارے علماء بیٹھے ہونگے آج میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ قبائلی علاقے کے لوگ دنیاوی تعلیم زیادہ پسند نہیں کرتے وہ دینی تعلیم پسند کرتے ہیں۔ ہمارے بچے زیادہ تر دینی مدارس میں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہم امریکہ کو فتح کرینگے بڑی باتیں کرینگے مگر ہماری بہنیں جدید تعلیم سے بھی محروم ہونگی اور ٹیکنالوجی سے بھی محروم ہونگی ۔وہ دنیا کیساتھ چل نہیں سکیں گی۔ جب تک ہم اپنی فکر تبدیل نہ کرلیں اور حقیقت تسلیم نہ کرلیں کہ ہمیں صرف باتیں نہیں کرنی چاہیے ، باتیں بہت کرلیں اور باتیں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ ہمیں عملی اقدامات چاہئیں۔ زنانہ کے حوالے سے بات کروں گی۔یہاں اگر ہم دیکھ لیں تو کس تعداد میں ہمارے بڑے اور بھائی موجود ہیں اور کتنی تعداد میں خواتین ہیں؟۔6،7افراد ہیں۔ اس سے بھی اندازہ لگتا ہے کہ ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو کتنا محروم رکھا ہے۔ ہم نے ان کو حقوق نہیں دئیے ۔ یہاں پر ایسے بڑے بیٹھے ہیں جن کو میں جانتی ہوں جن کے گھر میں ان کی بیٹیاں تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کی اتنی ہمت نہیں کہ گھر کے پاس نزدیک لڑکیوں کا سکول فعال بنادے، ہم اس پر کبھی نہیں سوچتے۔ ہمارے ہاں بڑوں میں علماء بہت زیادہ ہیں مفتی بہت زیادہ ہیں اور ایسے لوگ بھی بہت زیادہ ہیں جو عبادات میں بہت آگے ہیں ۔ لیکن اگر انکے معاملات کی طرف دیکھیں تو ہم بہت پیچھے رہ گئے ۔ ہم بیٹیوں ، بہنوں کو وہ حقوق نہیں دیتے جو اسلام نے دئیے ۔ اس میں تعلیم شامل ہے۔ اسلام نے کہا ہے کہ اپنی بہنوں بیٹیوں کو تعلیم کی روشنی دو۔ جائیداد کا حق ہم قبائلی علاقے میں بہنوں اور بیٹیوں کو نہیں دیتے ۔ جب اس پر کوئی بات کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری روایات نہیں۔ رسم و رواج میں یہ بات نہیں، کس پختون نے بیٹیوں اور بہنوں کو حق دیا ہے؟۔ افسوس ہے کہ مفاد کی بات آتی ہے تو پھر ہم اسلام کو آگے لاتے ہیں۔ جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر اپنی بہن بیٹی کو حق دیا تو یہ ہمیں نقصان ہے کیونکہ وہ بہن بیٹی کسی اور گھر میں جارہی ہے۔ اگرچہ وہ نقصان نہیں لیکن اپنے مفاد کیلئے ہم رسم و رواج کو پیش کرتے ہیں۔ بڑا افسوس ہے کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں اور جہاں گراؤنڈ پر دیکھتی ہوں تو عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ یہ جو جذباتی تقریریں ہیں یہ جو داد ہم وصول کرتے ہیں جس پر واہ واہ لوگ کررہے ہوتے ہیں لیکن جب اس شخص کے عمل کو دیکھیں تو اس میں وہ خود کو شمار نہیں کرے گا۔ ہم کس سے گلہ کریں گے؟۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں اردو میں کہتے ہیں کہ ایک بار آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا بیوقوفی ہے۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کون ہمارے ساتھ کررہا ہے اور کس طریقے سے کررہا ہے۔ ہم پھر بھی ان سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے ترقیاتی کام کریں گے؟ وہ ہمیں حقوق دیں گے؟۔ ہم کبھی بھی اس طرح گلے شکوے سے اپنی پسماندگیوں کو ختم نہیں کرسکتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے حالات خود نہیں بدلیں اور اپنے آپ کو نہ پہچان لیں۔ پہلے خود کو پہچانو کہ ہم میں کونسی ایسی خصوصیات ہیں کس طرح سے ہم اپنے لوگوں کو اپنے علاقے کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں؟۔ ہم اس پر کام کریں۔ ہم تعلیم پر کام کریں کہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو تعلیم کی روشنی دیں۔ میں نے بہت دیکھا کہ قبائلی علاقے میں جب کوئی اِکا دُکا کیس ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ موبائل کا نتیجہ ہے جب موبائل بیٹیوں اور بہنوں کو دیا تو یہ ہوگا۔ ہم ٹیکنالوجی کو الزام دیتے ہیں۔ جب سیاحت کی بات ہوتی ہے کہ باہر سے لوگ آئیں گے جو وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں کی خوبصورتی دیکھیں تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیں نہیں چاہئیں۔ اسلئے کہ خوف ہے کہ اگر یہ آگئے تو ہماری خواتین راستے سے ہٹ جائیں گی۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ اپنی خواتین کو تعلیم اور تعلیم کیساتھ ان کو ایک پختہ فکر دیں، پختہ فکر اچھی تربیت سے ملے گی۔ وہ خالی گھر کے کاموں تک محدود نہ ہوں بلکہ ایک ایسی سوچ دی گئی ہو کہ وہ جس طرح کے حالات بھی ہوں تو اس پر اثر انداز نہ ہوں۔ کب تک ڈریں کہ وہ آگئے اور ہماری خواتین کو راستے سے ہٹادیا۔ ہم ٹیکنالوجی پر الزام لگاتے ہیں۔ چیخ کر چھلانگیں لگائیں گے کہ انٹر نیٹ نہیں چاہئے اسلئے کہ اس کی وجہ سے ہماری عورتیں یا کوئی اور ایسا کام ہوگا جس کی وجہ سے بدنامی ہوگی۔ یہ موبائل یہ انٹرنیٹ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جیسے استعمال کرنا چاہیں اگر ہماری سوچ مثبت ہو تو نیٹ سے ہم علاقے کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔ اگر ہم اچھے نہ ہوں اور ہماری سوچ اچھی نہ ہو تو پھر نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ مجھے موقع ملا ہے کہ اپیل کروں کہ تم اپنی بہنوں ، بیٹیوں پر اعتماد کرلو۔ ان کو تعلیم دو ان کیساتھ کھڑے ہوجاؤ یہی بہنیں بیٹیاں تمہاری طاقت بنیں گی۔ ہمیں شرم آتی ہے کہ اپنی بہنوں ،بیٹیوں کیساتھ جائیں کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ اس کی بیوی یہ بیٹی ہے کہ لوگ کیا باتیں کریں گے۔ اسی نے ہمیں پسماندہ رکھا ہواہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟۔ یہاں بیٹھے لوگ ایک بھی گراؤنڈ پر کام کرے تو وہ تبدیلی لاسکتا ہے۔ میں اس حق میں نہیںکہ ہم شور کریں، چلائیں اور گلے کریں۔ ہمیں شعور چاہئے۔ ہمارے پاس ڈگری والے بہت ہیں لیکن ہمیں نہیں چاہئیں۔ ہمیں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ چاہئیں۔ قبائلی علاقوں کے بڑے جن کا تعلق حکومت سے ہو جنکے پاس پاور ہو۔ ان سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے اسکولوں کو عورتوں اور بچیوں کیلئے فعال کریں ۔ اگر ہسپتالوں کو دیکھیں تو ہم جنگوں میں اتنے نہیں مرے، جتنے غیر فعال ہسپتالوں کی وجہ سے خواتین وبچے فوت ہوتے ہیں، ہمیں عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ علماء سے خاص درخواست ہے کہ دینی مدارس میں بچیوں کودینی تعلیم کیساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دو۔ جدید ٹیکنالوجی سکھاؤ تاکہ ہر پہلو میں مکمل تربیت یافتہ ہوں۔ بیت الاسلام تلہ گنگ مدرسہ میں دینی تعلیم کیساتھ جدیدتعلیم اور ٹیکنالوجی پر کام ہوتا ہے ،ایسے مدرسہ سے بچیاں فارغ ہوں تو وہ ہماری طاقت ہونگی۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور بہنوں کوتعلیم دینی ہوگی۔ ہمیں ان کی طاقت بننا چاہیے اور ان کا سہارا بننا چاہیے۔ پھر وہ طاقتور مائیں بنیں گی اور طاقتور قوت بنیں گی اگر تمہاری سپورٹ ہو اور محبت ہو اور تمہاری ہر طرح سے ان پر نظر ہو اور ان کو ایک پختہ سوچ دو اور اچھی تربیت کرو ۔ میں بہت شکریہ ادا کرتی ہوں میں زیادہ وقت بھی نہیں لیتی بس یہ میری ایک سوچ تھی اور میں نے سمجھا کہ تمہارے ساتھ شیئر کروں اور میں اُمید رکھتی ہوں کہ یہ جو ہمارے بڑے ہیں اور جو ہمارے بھائی ہیں تو وہ ہماری بہنوں کیلئے کچھ سوچیں گے اور ان کیلئے کچھ راستہ ہموار کریں گے۔ بہت بہت شکریہ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔

ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔

عمار :یہاں جو ہیرو بنائے جاتے ہیں ۔سعدیہ بلوچ : چھوٹا سا ہی آنسر دونگی ہم نے تو انہیں ہمیشہ قاتل کی نظر سے دیکھا ہے ہمارے تو وہ محافظ کبھی تھے ہی نہیں۔
منظور پشتین :ہمارے وطن پر خود کو طاقتور سمجھنے والے آئے لیکن آج وہ نہیں ہیں اور ہم ہیں۔ چنگیز سے انگریز تک اور فرنگ سے اورنگ تک سب واپس گئے۔

پروگرام کا تعارف صحافی منیزے جہانگیر: ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے ان لوگوں کو لیکر آئیں جن کی آواز آپ نے مین اسٹریم میڈیا پر کبھی نہیں سنی۔ عمار جان آپ کا بہت بہت شکریہ اور اپنا پروگرام اب شروع کریں۔ عمار جان نے کہا کہ اس وقت یوتھ کا سوال صرف ایج سے نہیں جڑا ہے بلکہ وہ اس سے بھی جڑا ہے کہ کیا مستقبل ہے برصغیر کا؟ اور اوور آل ساؤتھ ایشیاء کا؟۔ کیونکہ ایسا لگ رہا ہے کہ انکے جو آج سے15،20سال پہلے بہت سارے خواب تھے ۔نوجوان کیا سوچ رہے ہیں، ایک لہر ہے جو ہراول دستہ ہے وہ چاہے آپ سری لنکا میں چلے جائیں ، چاہے آپ نیپال میں چلے جائیں یا آپ ہمارے یہاں فاٹا میں چلے جائیں، بلوچستان میں چلے جائیں تو وہ نوجوان ہی ہیں جو اس وقت مزاحمت کررہے ہیں۔ میں پہلے سعدیہ بلوچ کو دعوت دوں گا جو کہ ایکٹی وسٹ ہیں اور خاص طور پر مسنگ پرسنز کے حوالے سے انکا بہت کام ہے اور بلوچ اسٹوڈنٹ رائٹس کے حوالے سے۔ یہاں پر لاہور میں صحیح طرح پتہ نہیں چلتا یہاں پر بجلی کا مسئلہ یا مہنگائی کا مسئلہ ہوتا ہے ، بلوچ خواتین کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو سیاست میں ایکٹو ہیں ۔
سعدیہ بلوچ: میرا تعلق بلوچستان سے ہے اور مسنگ پرسن کیلئے کام کرتی ہوں۔ مسنگ پرسن میں90فیصد سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان اور طالب علم ہیں جو ٹارچر سیلوںمیں ہیں ، زندانوں میں ہیں اور غائب ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے پاس ڈگریاں ہوتیں تو ہمیں استحکام ملتا۔لیکن جونہی ہمیں ڈگریاں ملتی ہیں تو ہماری مائیں فکر مند ہوتی ہیں کہ میرے بیٹے کو کہیں لاپتہ نہ کردیں یا اسکی لاش نہ گرادیں۔ ہمارے یہاں یہ سلسلہ چلتا ہے۔ اب میں بلوچ خواتین کی بات کرتی ہوں جو اس وقت سیاسی طور پر ایکٹو ہیں۔ میں ابھی50دنوں کے دھرنے سے اُٹھ کر آئی ہوں ، فلڈ کی وجہ سے بھی ہمارے لئے مشکلات ہیں۔ بلوچ عورتیں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ اسٹیٹ کا ٹارچر برداشت کرتی ہیں ، دھمکیاں اور خوف و ہراس بھی۔ اگر آج میرا بھائی لاپتہ ہے تو اس کو بچانے کیلئے میں نہیں آؤں گی تو کون آئیگا۔ اگر سمی نکلتی ہے تو پیچھے سیما آئیگی اور سب کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیںکہ اگر ایک جدوجہد ہورہی ہے تو سب کا حصہ ہوتا ہے ۔
عمار جان: آپکا شکریہ ۔ آپ لوگوں کو آئیڈیا ہوگیا ہوگا کہ کس قسم کے مسائل کا یہ لوگ سامنا کررہے ہیں۔ جبری گمشدگی کی تحریک کی خاصیت یہی ہے کہ اس میں خواتین لیڈنگ رول ادا کررہی ہیں۔ چاہے وہ آمنہ جنجوعہ پنجاب میں ہوں یا بلوچستان میں سعدیہ، سمی اور ماہ رنگ ہیں۔ اس طرح بہت ساری خواتین ہیں۔ پھر منظور کو دعوت دی اور کہا کہ امید ہے کہ آپ منظور احمد پشتین کو جانتے ہوں گے اور اگر نہیں جانتے تو پھرARYنیوز پر کافی ساری معلومات ان کے متعلق مل جائیں گی۔ قہقہہ۔جب منظور احمد نے تحریک شروع کی2018میں تو اس وقت ملک میں قبرستان جیسی خاموشی تھی۔ اور اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں پر شہری آزادی پر بات کرنا مشکل ہوجائے گا اور ان کا نام لینا مشکل ہوجائیگا جو ہمارے اصل حکمران ہیں۔ اس تحریک نے نہ صرف اس ادارے کو بے نقاب کیا جو75سال سے حکمرانی کررہا ہے اور ایک طرح سے ہم پر انہوں نے ذلت نافذ کی ہوئی ہے اس کیخلاف یہ بغاوت تھی ۔ لاہورمیں بھی جلسے ہوئے، کراچی میں بھی ہوئے اور جہاں جہاں منظور گئے ہزاروں لوگوں نے انکا استقبال کیا۔ آپ سے سوال ہے کہ نوجوانوں کا اس تحریک میں کیا کردار تھا سوشل میڈیا کا کیا کردار تھاBOLاورARYآپ کو کوریج دیتے تھے اسکے علاوہ کوئی نہیں دیتے تھے۔ اور وہ کس قسم کی دیتے تھے آپ کو معلوم ہے۔ اور علی وزیر کے بارے میں بھی کچھ بات کریں جو اس وقت جیل میں ہیں۔
منظور پشتین: میں یوتھ کی بات کروں گا ،یوتھ کا مطلب میل اور فی میل دونوں۔ فی میل پر تو پہلے ہی روایات اور دوسرے ناموں سے ایک قسم کی پابندی ہے اور جرنل سیاست کی بات کروں گا،اس پر بھی پابندی ہے۔ ریاست نے ایک فریم بنایا ہے اسکے اندر اگر کوئی سیاست کرنا چاہے تو ایک حد تک اجازت ہے کہ یہاں تک جاسکتے ہیں اور یہاں تک نہیں جاسکتے۔ ایک آئین ہے اور باقی انکے اپنے ریڈ لائنز ہیں۔آئین کی بات تو نہیں، بات ہے اصل میںانکے ریڈ لائنز کی۔اس ریڈ لائن کے اندر فریم بنادیا گیا۔ اس ریڈ لائن سے باہر اگر کسی نے بھی سیاست کرنا چاہا تو پھر تشدد ہے، مسنگ پرنسز ہے اور لاپتہ کردیا جاتا ہے یا اسکو مار دیا جاتاہے۔ میں کس کی مثال دوں؟، آپ کی مثال دوں گا کہ جبPTMنے بالکل آئینی حقوق مانگے آپ نے ساتھ دیاتو آپکے اوپر چھاپے اورFIRکاٹی گئی آپ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ نہ آپ نے کسی کو تھپڑ مارا تھا اور نہ کوئی غیر قانونی کام کیا تھا۔ انسانی حقوق مانگے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ ایک قوم کے اوپر سیاست ہوتی ہے اور ایک قوم کیلئے سیاست ہوتی ہے۔ قوم کے مفادات اور انکی زندگی کیلئے سیاست کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ یہاں پر اسٹوڈنٹس ہونگے ان کو پتہ ہے کہ جو قوانین بنتے ہیں اور برٹش دور میں جو قوانین بنائے گئے تھے وہ اپنی کالونیاں بنانے کیلئے انہوں نے بنائے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو سیاسی آزادی تو یہ بلاسٹ ہوجائیں گے۔ آپ نے بات کی کہ وہی علاقے جن کی آواز ممنوع ہے وہاں پر تویہ بہت مشکل ہے ۔پہلے تو تعلیم نہیں، سیاست کو سمجھنے کیلئے تعلیم بہت ضروری ہے۔ پھر نہ کالج ہیں نہ یونیورسٹیاں ہیں، تعلیم نہیں ہے تو ایک جو دوکاندار ہے ، جو ریڑھی والا ہے ، ایک نوجوان ہے وہ اس کو اس سیاست اور اپنے لیول میں بہت فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری تعلیم نہیں میں سیاست کو کیا کروں گا۔ جب میں نے تحریک شروع کی تو میری عمر23سال تھی۔ آج میری27سال ہے شناختی کارڈ بلاک ہے، پاسپورٹ بلاکFIRبہت سارے۔ECLمیں نام ہے۔اور ایک سم کارڈ رہ گیا تھا وہ بھی چند مہینے پہلے بند ہوگیا۔ یہ یہاں پر سیاست میں حصہ لینے کے ثمرات ملتے ہیں۔ آپ نے یہاں ”ساؤتھ ایشیاء میں پارٹی سپیشن ”کے موضوع پر بات رکھی ، ہم آپس میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے۔ میرے بلوچستان جانے پر پابندی ہے، کشمیر جانے پر پابندی ہے۔گلگت بلتستان پر پابندی ہے۔ آپ لوگوں نے نوٹیفکیشن دیکھیں ہوں گے سوشل میڈیا پر۔ بونیر سے لیکر کرم ضلع تک پابندی ہے۔ یہ جو آپ لوگ ساؤتھ ایشیاء کی بات کررہے ہیں اس میں کسی بھی ملک کا نام بھی لیا تو آپ غدار ہیں۔ نہیں لیا تو بھی آپ کواسکے ساتھ جوڑ کر غدار بنادیں گے۔ اتنی مشکل سچویشن میں جو آپ نے عنوان رکھا اس کا نام لینا بھی جرم ہے۔ یہاں تو بلوچ کا نام نہیں لے سکتے ، اگر پاکستان کے اندر کے کشمیر میں یوتھ سے آپ نے بات کی تو آپ کو انداز ہ لگ جائیگا۔میرا مطلب سیاست سے اگر آپ اس سے ہٹ کر بات کررہے ہو تو وہ غداری ہے وہ ایک ایسی ناروا حرکت ہے جس کا معاشرے میں کوئی تصور نہ کرے۔ اور پھر ایسی سزائیں دی جاتی ہیں کہ لوگوں کیلئے مثال بن جائے۔ مجھے یقین ہے کہ لاہور میں کافی نوجوان ہونگے جوPTMکو چاہتے ہونگے مگرPTMکیساتھ اپنے کو ایفی لیٹ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اس کیلئے مثال بنادی گئی عمار علی جان کی طرح نوکری چلی جائے گی اورFIRہونگے وغیرہ وغیرہ۔ بیروزگاری میں رکھ کر بے تعلیم معاشرہ رکھ کر تشدد کے ذریعے یہ جو نظام چلایا جارہا ہے اس میں اگر کوئی عوام کیلئے حقیقی سیاست کرنا چاہے جو صرف سیٹ جیتنے کی بات نہیں کررہے بلکہ عوام کو کچھ دینے کی کوشش کررہے ہیںتو ان میں کافی مشکلات ہوتی ہیں لوگ مسنگ پرسن بن جاتے ہیں۔ سعدیہ بلوچ بیٹھی ہیں۔ کافی سارے بلوچ ایکٹیوسٹ ڈاکٹر ہیں ابھی وہ کیا کرے کونسے پیشنٹ کی بات کرے معاشرہ ابھی ایک مریض بن چکا ہے اور پورے معاشرے کی بات کرنا انتہائی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔
عمار علی جان: ہندوستان پنجاب میں کسانوں کی بڑی مشہور تحریک نے دلی جاکر دھرنا دیا۔ نئی بڑی عام آدمی پارٹی وجود میں آئی۔ چیف منسٹر کا جو کینڈیڈیٹ تھا اسکے خلاف صفائی کرنیوالے کا بیٹا موبائل شاپ پر کام کرتا تھا چند ہزار روپے لگا کر الیکشن جیت گیا۔ یہ بڑی کامیابی تھی۔ سعدیہ بلوچ یہ بتائیں کہ بلوچستان میں سیلاب سے کیا تباہی آئی ہے؟ اور کل پرائم منسٹر گئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہم مسنگ پرسن پر کوئی کاروائی کریں گے۔ اس سے کیا آپ کو کوئی امید ملی ہے اور بلوچ موومنٹ کے کیا تاثرات ہیں؟۔
سعدیہ بلوچ: ماضی میں بھی بہت سارے پرائم منسٹر اور کمیٹیاں ہمارے پاس آئی ہیں ، کمیشن بنے ہیں ، ری کنسی لیشن تک بات پہنچی ہے۔ قرآن پر بھی ہاتھ رکھا ہے بہت کچھ ہوا ہے لیکن جب بلوچ کی بات ہوتی ہے تو جو اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ ہے وہ چاہتی نہیں کہ مسئلہ حل ہو یا اس پر کام کیا جائے۔ جب تک اُن کی مرضی نہ ہوگی میرا نہیں خیال کہ کوئی پرائم منسٹر ، کمیٹی، جوڈیشل کمیٹی یا کوئی بھی ادارہ کچھ کرسکتا ہے جب بات بلوچ مسنگ پرسن کی ہو۔ بلوچ مسنگ پرسن کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا ہمیں دکھتا ہے ، مسنگ پرسن کے ٹیک ٹکس کو بلوچ یوتھ میں خوف پھیلانے، ایک ٹریلر دینے کیلئے استعمال کیا گیا۔ جو ٹیک ٹکس اسٹیٹ نے اپنایا وہ اتنی آسانی سے کبھی نہیں چھوڑے گا۔ بلوچ نوجوان آج سے نہیں سالوں سے سیاست کررہے ہیں،ریڈیکل نیشنلسٹ پالیٹکس بھی کررہے ہیں۔ اسٹیٹ نے ہر پالیسی اپنائی کہ یوتھ کو خوفزدہ کریں۔ میں اس جنریشن سے ہوں جوایک جنریشن کی ماس کلنگ کے بعد آئی ۔ ہمارے رہنما ذاکر بلوچ ، زاہد بلوچ لاپتہ ہیں۔ بہت سارے رہنماؤں کو مارا گیا، لاپتہ کیا گیا۔ ہم شاید اسی لئے بچ گئے کہ تب ہم بچے تھے۔ بڑے ہوئے تو دیکھا کہ ہمارے پاس گراؤنڈ میں کچھ نہیں بچا ۔ ہمارے دانشور ، اسٹوڈنٹس لیڈر ، رہنما سب کی ماس کلنگ ہوئی صرف اسلئے کہ وہ بلوچ قوم کیلئے سیاست و بات کررہے تھے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ ریاست کے اندر ریاست کبھی چاہے گی کہ بلوچ مسنگ پرسن یا بلوچ مسئلے پر بات یا کام ہو، تب تک پرائم منسٹر کچھ نہیں کرسکتے۔ خیر پرائم منسٹر کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم بلوچ ہیں بلوچی نہیں۔ سیلاب پر بات ہوتو بلوچستان میں نقل و حرکت اسلئے زیرو ہوئی کہ برٹش کا انفرااسٹرکچر چلا گیا۔ ہم کنگ کا انتظار کریں کوئن تو چلی گئی ۔ ہر10سال بعد سیلاب آتا ہے یہ نئی بات نہیں لیکن جہاں ریاست ہمیں مار رہی ہے وہاں کلائمیٹ چینج ہمارے لئے اسی طرح خطرناک ہے۔ میرا تعلق جھل مگسی سے ہے، ہیٹ ویو ہر سال بڑھتی ہے۔ نہیں لگتا کہ ریاست کچھ کام کریگی۔ جو ریاست سیدھا روڈ بناتی ہے وہ پانی لیجاتا ہے تو کلائمیٹ چینج پر کیا کام کریگی؟۔ بلوچستان کے گرین بیلٹ جہاں پر سیلاب نے زیادہ متاثر کیا وہاں پر اسٹیٹ کے تعاون سے قبائلی اشرافیہ پیدا کیاگیا، اشرافیہ کبھی نہیں چاہے گی کہ وہاں کے عام کسان ، عام بلوچ تک کچھ پہنچے۔ قبائلی اشرافیہ اپنا اسٹاک جمع کررہی ہے، پی ڈی ایم اے انہیں دے رہی ہے۔ انکے ویئر ہاؤسز تو ابھی تک بھرگئے، لوگوں تک تو خیر ریلیف نہیں پہنچا مگر سوشل میڈیا کی مدد سے ہم ڈونیشن وصول کررہے ہیںہم رضاکارانہ طور پر کام کررہے ہیںاور اس پر بھی کل گورنمنٹ نے پابندی لگادی ہے کہNOCکے بغیر کوئی بھی رضاکارانہ طور پر کام نہیں کرسکتا۔
عمار علی جان: بالکل ٹھیک بات کی کہ ریاست ایکٹو ہونے کی علامت ملتی ہے وہviolenceکے ذریعے سے لیکن جب لوگوں کے خیال رکھنے کا ٹائم آتا ہے تو کافی عرصے سے ریاست غائب ہے بلکہ آپ کو بتاتے چلیں کہ جولائی میں یہ فلڈ شروع ہوچکے تھے۔ میڈیا ، سوشل میڈیا پر ماسوائے حمزہ شہبازبمقابلہ چوہدری پرویز الٰہی ، شہباز شریف بمقابلہ عمران خان جی ٹی روڈ کی جو سیاست تھی اسکے علاوہ کوئی بات نہ ہوئی۔23اگست کو پہلی دفعہ ایک ٹی وی چینل پرفلڈ کے حوالے سے ہیڈ لائن آتی ہے تب تک ڈھائی کروڑ لوگ متاثر ہوچکے تھے۔ اس لیول کی سنسر شپ ہے میڈیا پر کہ بہت بڑا سیلاب آیا مگر توجہ نہ دی گئی، جی ٹی روڈ کی سیاست ہی چلتی رہی۔ اب میں منظور پشتین کی طرف آؤں گا۔PTMپہلی موومنٹ دیکھی ہے پاکستان میں جس میں کوئی خان ، سردار، وڈیرہ اس کو لیڈ نہیں کررہا۔ آپ کے والد صاحب ایک ٹیچر ہیں۔ اور آپکے ارد گرد کے لوگ بھی کچھ مڈل کلاس، کچھ ورکنگ کلاس سے ہیں۔ اتنی جلدی یوتھ کو آرگنائز کیسے کرلیا۔ ایک تو ہمارے پاسARYکا بیانیہ ہے کہ کوئی سازش چل رہی تھی۔ علی وزیر کیلئے ہم ادھر کیا کرسکتے ہیں اورPTMکو کس طرح سپورٹ کرسکتے ہیں؟۔
منظور پشتین: لوگ تنگ تھے ان کو ایک آواز چاہیے تھی ۔ ایک دن بحث تھیKPKمیں کہ فلانی پارٹی طالبان کو بھتہ دیتی ہے۔ فلانی پارٹی کے لیڈرز کو کال آتی ہیں مگر بھتہ نہیں دیتے۔ موقع نہیں ملا مگر میں یہ بات کرناچاہتا تھا کہ ہمارے کسی لیڈر یا ورکر کو کال نہیں آتی۔ وہ یہ چار آنے ہم پر ضائع نہیں کرنا چاہتے کہ انکے پاس کیا ہے جو ہمیں دیں گے۔ انتہائی غریب طبقہ ہے۔PTMکے پاس وسائل نہیں اگرچہ افرادی قوت انتہائی زیادہ ہے۔ انتہائی قابل، ایم فل، پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹ ہیں۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ آواز اٹھائی تو مار دئیے جائیں گے مگر انہوں نے اتنا مارا کہ لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اگر آواز نہ اٹھائی تو مار دیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگ اینٹی اسٹیٹ ہو۔ بھائی کوئی اسٹیٹ کو کنٹرول کرے وہ ہمیں مار رہے ہیں ہم ان کو نہیں مار رہے۔ کس اسٹیٹ کے ہم اینٹی ہیں یہاں تو اسٹیٹ اور نظام نہیں سچ پوچھو تو مکمل غنڈہ گردی ہے۔ آج بات کرو آپ کے پیچھے ویگو ڈالا آئیگا ، قانون حرکت میں آجائیگا ، آئین وغیرہ یہ نہیں بتایا جائیگا۔ یہ غنڈہ گردی ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔ کونسا نظام؟ نظام ہے ہی نہیں۔ ابھی تو ہمیں فوج کے علاوہ باقی سارے نان اسٹک ایکٹرز لگتے ہیں۔ جیسا چاہیں وہ ان سے کام لیں۔ علی وزیر پارلیمان کو مان رہا تھا۔ سیاسی پارٹیاں پارلیمان کو نہیں کسی اور کو مان رہی ہیں۔ ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ؟ ریاست پارلیمنٹ کو نہیں مان رہی۔ ابھی وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ میں مسنگ پرسنز کو رہا کردوں گا۔ بھائی آپ علی وزیر کے پراڈکشن آرڈر نہیں جاری کرسکتے ہو تو مسنگ پرسنز کو کیسے رہا کرو گے؟۔ اختلاف نہیں مگر یہ حقیقت ہے مخصوص لوگ ہیں ، مخصوص مائنڈ سیٹ ہے۔ وہی برطانیہ کی غلامی، جہاں سے جیسے ہو آج تک ان کو مراعات مل رہی ہیں۔ آج تک وہی خان، وہی سردار، وہی وڈیرے ہیں۔ انکے بچے کوئی جرنیل ہے تو کوئی سیاستدان۔ لیکن ملک کے بڑے وہی ہیں۔ عام عوام کی بات کیا کہیں۔ ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ اگر فلانا کرسی سے ہٹ گیا اور فلانا آگیا تو پھر حقوق ملیں گے ۔ سب آگئے سب چلے گئے کچھ نہیں ملا ہمیں تو۔اگر پاکستان کی عدالتوں کے نظام کو اسٹڈی کرنا ہو تو پھر علی وزیر کے کیس کو اسٹڈی کریں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ130نمبر پر عدالتوں کی جو بات ہورہی ہے تو اتنا اچھا گریڈ کیسے ملا ان کو؟۔ وہ تو بیٹھے ہیں کہ کب اشارہ ملنا ہے اسلئے تاریخ پر تاریخ دیتے ہیں۔ یہ جو محکوم و مظلوم لوگ ہیں انکے ساتھ جو مذاق سیاسی طور پر کیا گیا وہ تاریخی ہے۔ انتہائی بے اختیار لوگوں سے ہم سن رہے ہیں کہ مسائل حل کریں گے۔ سچ میں اگر ان کو الگ سے بٹھا کر پوچھیں کہ آپ کے کیا کیا مسائل ہیں تو ہم سے زیادہ انکے اپنے مسائل ہونگے۔ تو آرگنائزڈ ہونے کے سوا ہمارے پاس راستہ نہیں۔ مسائل حد سے زیادہ غنڈہ گردی انتہاء پر ہے مگر ایک بات سنیں شاید یہ بات آپ کو جھوٹی لگ رہی ہو ہمیں مکمل یقین ہے انقلاب کا، ہم لائیں گے ضرور لائیں گے۔ ابھی جدوجہد کا وقت ہے مصائب تو آتے ہیں ہمیں جلدی نہیں جو لوگ ظلم جبر بربریت کررہے ہیں یا کروڑوں کی تعداد میں جو لوگ ہم کو کمزور اور خود کو طاقتور سمجھ رہے ہیں ہم ان کو اتنا کہتے ہیں کہ ہماری سرزمین پر دنیا کی ہر طاقت آئی ہے چنگیز سے لیکر انگریز تک، اورنگ سے لیکر فرنگ تک، ہم کو کمزور سمجھتے تھے اپنے کو طاقتور۔ آج ہم اپنی سرزمین پر رہ رہے ہیں وہ نہیں ۔ ٹرائی کرلیں جتنا ظلم کریں اتنا ری ایکشن ہوگا۔ ری ایکشن ان آرگنائز اور غنڈہ گردی پر مبنی نہ ہوگا انسانی حقوق کا لحاظ رکھا جائیگا۔ علی وزیر کو جیل میں رکھا اگر وہ کمزورتھا اب اتنا (طاقتور) ہوگیا۔ اس کو تقویت ملی ہے۔ ایک بارمظلوم اُٹھ گیا، صدا بلند کی اسکے بعد ظالم کا ہر طریقہ کار اسکی ناکامی کی طرف لیکر جائیگا۔ وہ ہمیں محدود کرنا چاہتا تھا، ہم نے اسکی سوچ کو محدود کیا۔ ہمارا سوچ پھیلا، مزید پھیلے گا۔ عوامی، سیاسی نظرئے کو طاقت سے کوئی نہیں دبا سکتا۔
سوال نمبر1:میں لاء کا اسٹوڈنٹ ہوں۔ سعدیہ بہن نے کہا کہ بلوچستان میں ہر دس سال بعد فلڈ آتا ہے ،بھائی نے کہا کہ انتشار بہت گندی سیاست ہے پاکستان میں۔ اگر ہم نے اسٹینڈ نہ لیا تو یہ آگے بھی چلتا رہے گا۔ تو آپ کالاباغ ڈیم بنانے پر بات کیوں نہیں کرتے جس سے تینوں صوبوں کو فائدہ ملے گا؟۔
سوال نمبر2:میرا نام عباس علی، ڈیجیٹل میڈیا کا اسٹوڈنٹ ہوں پنجاب یونیورسٹی لاہورمیں۔ آپ نے مسنگ پرسن کی بات کی تو آپ کیلئے کتنا مشکل ہوتا ہے اپنے وطن پاکستان کے محافظوں کیخلاف آپ کو لڑنا پڑتا ہے۔ جنکے ہم ترانے سنتے ہیں23مارچ کو۔ دوسرا سوال منظور سے ہے کہ آپ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ کو فارن فنڈنگ خصوصاً انڈیا کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ اورKPKاور بلوچستان کی جتنی بھی آرگنائزیشن ہیں ان پر را سے فنڈنگ کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ تو یہ فارن فنڈنگ ہے یا ویسے ہی الزام لگایا جاتا ہے؟۔
منظور پشتین کا جواب: اب ”را” والے اتنے پاگل ہیں کہ پاکستان کے آئین کو مضبوط کرنے کیلئے ، حقوق مانگنے کیلئے کسی کو پیسے دیں گے کہ آپ وہاں امن کی بات کریں ، آپ لینڈ مائنز کو نکالنے کی بات کریں، مسنگ پرسنز کی بحالی کی بات کریں، پاکستان میں کوئی ایکسٹرا جوڈیشنل کلنگ نہ ہو اس کیلئے پیسے دیں کسی کو، یہ کونسی بات ہے۔ اگر پاکستان کے اداروں کو واقعی یہ لگ رہا ہے کہ یہاں پر آئین کی بالادستی کیلئے سب سے زیادہ کام انڈیا کی ایجنسی ”را” کررہی ہے۔ تو پھر وہ ڈائریکٹ ججز کو پیسے دیں باقی جو اسٹیٹ چلانے والے ہیں انکو پیسے دیں کیونکہ وہ زیادہ انوال ہیں۔ فارن فنڈنگ والی بات میرے خیال میں یہ33بلین ڈالر لینے والے لوگ کررہے ہیں۔ آج تک انہوں نے پیسے لئے ۔ ایک بادشاہ کی بیٹی بھوکی تھی تو بادشاہ نے کہا بیٹی کیا حال ہے اس نے کہا کہ پورا شہر بھوکا ہے۔ اس کو کھلایا پھر پوچھا کہ کیا حال ہے تواس نے کہا کہ شہر کو اب بھوک نہیں۔ یہ جو خود کھارہے ہیں ان کو لگ رہا ہے کہ سب کھا رہے ہیں۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ فارن فنڈنگ ہم پر ثابت کردیں جو بھی سزا مجرم کی ہو وہ ہمیں دیں مگر ہم ثابت کرینگے اس پر فارن فنڈنگ دنیا کے ہر ملک سے لیا۔
عمار جان: مختصر سا جواب دے دیجئے کہ کیا یہاں پر جو ہیروز بنائے جاتے ہیں وہ وہاں پر اس طرح کی ایکٹی ویٹیزکرتے ہیں۔
سعدیہ بلوچ: چھوٹا سا ہی آنسر دوں گی ہم نے تو انہیں ہمیشہ قاتل کی نظر سے دیکھا ہے ہمارے تو وہ محافظ کبھی تھے ہی نہیں۔
عمار : سوال جو کالاباغ ڈیم پر کیا تو کوئی ایکسپرٹ اس پر بات نہیں کررہا۔ چھوٹے ڈیم کیساتھ جو آپکا ریئل اسٹیٹ ہے اس کو ریور بیلٹ سے دور کیسے کرنا ہے۔ کالاباغ ڈیم سے پاکستان کے تمام مسائل کیا حل ہو جائینگے ۔ ایک نے سوال کیا کہ ٹائم لگے گامگر انقلاب آئیگا۔ ہم نے دیکھا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہو تو ناکام ہوئے، کووڈ آیا تو ایکسپوز ہوئے۔ تخت سلیمان کے جنگلات میں آگ لگی تو ایران سے جہاز آئے آگ بجھانے کیلئے۔ ریاست ایکسپوز ہوئی۔ فلڈ آیا تو ریاست ایکسپوز ہوئی سسٹم ایکسپوز ہوا کام نہیں کررہا۔ تو سر وہ کونسا ٹائم ہے کہ عوام اس حد تک بھر جائے گی کہ پھر انقلاب آئیگا۔ یہ منظور سر سے سوال ہے۔
سعدیہ بلوچ: جب تک جوڈیشری کو آزاد نہیں کیا جائے گا مجھے نہیں لگتا ہے مسنگ پرسنز کا معاملہ حل ہوسکے۔ ایک اور بات ہمیں ضرور کرنی چاہئے چاہے جتنی خطرناک ہو مگر حقیقت ہے کہ بلوچستان میں تنازعہ ا ور شورش ہے جب تک اس پر بات نہیں ہوگی اس وقت تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
منظور پشتین: سوال تھا کہ کب آئیگا چینج؟ دیکھو! جب تک عوامی شعور نہ ہو ، جب تک قومیں بیدار نہ ہوں، تب تک اگر انقلاب آئے بھی تو انقلاب کے ثمرات پر ایکدوسرے کیساتھ لڑیں گے۔ اس کیلئے باشعور طبقہ چاہیے۔ ہم پہلے دن سے ایک ہی سوچ میں ہیں کہ ہم وہ مورچے نہیں لے سکتے ہیں ہم نے یہی مورچے لینے ہیں(دماغ کی طرف اشارہ کرکے کہا)۔ یہاں اگر سوچ مضبوط ہو، تقویت ہو، شعور ہو عوام میں پھر انقلاب آسانی سے آسکتا ہے۔ ظالم لوگوں کیلئے5،10بندوقیں کنٹرول کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا مگر قومیں بیدار ہوجائیں باشعور ہوجائیں اس کو کنٹرول کرنا ان کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ جدید فلاسفی بھی یہی کہتی ہے کہ انقلاب عوام کی فکر ی تبدیلیوں میں آتا ہے۔ تو ہم نے کوشش کرنی ہوگی کہ عوامی سطح پر شعور زیادہ ہوجائے اور پڑھے لکھے لوگ ہوں۔ اور ہمارے دوست زیادہ ہوجائیں۔ ہماری تعداد بڑھ جائے۔ دوسرا سوال یہاں پر پی ٹی ایم غیر سیاسی ہے۔ ایک توPTMغیر سیاسی نہیں۔ میرے خیال میں اس وقت بہترین سیاستPTMہی کررہی ہے۔ عوام کو شعور دلانا ہوگا، اگر اسٹیبلشمنٹ کو پریشرائز رکھنا ہو، اگر اس کو کوئی سیاست کہتا ہے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ، عوام کو اجتماعی کام میں لگا کر اجتماعیت کیساتھ محبت پیدا کردینا۔ لوگوں کو لیڈر شپ کا احساس دلانا کہ جہاں بھی مسئلہ ہو آپ انکے ساتھ ہو۔ اگر یہی سیاست ہے تو میرے خیال میںPTMبہترین سیاست کررہی ہے۔PTMغیر سیاسی نہیں غیر پارلیمانی ہے۔PTMکے غیر پارلیمانی رہنے کے کچھ اُصول ہیں۔ عوام میں نفاق پارلیمانی سیاست کی وجہ سے ہے۔ اس وجہ سے وہ ایکدوسرے کیساتھ لڑتے ہیں۔ ہم نے وہ عنصر سائڈ پر کردیا۔ پی ٹی ایم سیاسی ہم آہنگی قائم کرتی ہے۔ اتحاد و اتفاق میں لوگوں کو زیادہ لانا یہ کام بھی اس سے ہوجاتا ہے۔ البتہ میں گرینڈ الائنس کا جو اتحاد ہے اسکے حق میں ہوں۔ جتنی بھی محکوم قومیں ہیں ان کا ایک ساتھ چلنااور ایک ساتھ جدوجہد کرنا انتہائی فائدہ مند سمجھتا ہوں۔
سوال: میرا آپ سے سوال ہے کہ جتنے بھی لاہور یں لیفٹ ونگ کی تنظیمیں ہیں، مارکسسٹ ہیں، بائیں بازو کی تنظیمیں ہیں وہ آپ کا ساتھ دینے کیلئے بالکل تیار ہیں آپ لاہور میں ممبر شپ اسٹارٹ کریں۔ اگر آپ کو براہ راست یا کھلے عام ایکٹی ویٹیز کرنے میں مسئلہ ہے تو آن لائن ممبر شپ اسٹارٹ کریں۔
منظور پشتین: پنجاب کے جو دوست کہہ رہے تھے کہ ہم بھی ساتھ ہیں۔ پورے پنجاب نے اٹھنا ہوگا سب نے ساتھ دینا ہوگا۔ محکوم لوگوں کے جو مسائل ہیں اس سے کم از کم لوگوں کو آگاہ کریں۔ لوگوں کا مائنڈ بنادیںتاکہ عوامی سطح پر یکجہتی پیدا ہوجائے۔ڈیرہ اسماعیل خان پولیس سب سے زیادہ ٹارگٹ کلنگ میں ماری جارہی ہے۔ سرائیکی بیلٹ سب سے زیادہ مشکل میں ہے۔ آپ خود سرائیکی ہو آپ بتاسکتے ہیں یہاں شرکاء کو کہ مدینہ کالونی میں جو طالبان رہ رہے تھے کیا وہ فوج کے انڈر نہیں تھے؟۔ سچ بتائیں یار(قہقہے)۔ دہشتگردی کو اگر اسٹڈی کرنا ہو تو ڈی آئی خان کا چکر لگائیں اگر میں نے ان کو نہیں بتایا کہ یہ جو کالے شیشوں میں گاڑی کینٹ سے آرہی ہے اس میں نوکنگ کرو اندر کون بیٹھا ہے پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ جو ہم باتیں کررہے ہیں کیوں کررہے ہیں اسکی وجوہات ہیں؟۔ ڈی آئی خان کے شہری اٹھیں کیوں اپنے نوجوانوں پر خاموش ہیں؟۔ ڈی آئی خان اور دوسرے شہروں میں مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر مختلف گروپس بنادئیے گئے جو لوگوں کو مار رہے ہیں۔ ہم آواز اٹھائیں گے اور ڈی آئی خان والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے۔
سعدیہ: اگرآپ بڑے لیول پرہمارے لئے کچھ نہیں کرسکتے توکم از کم احساس رکھیں درد کا۔یہ بھی بہت بڑا رشتہ ہے اور یہی ہمارے لئے کافی ہے۔
عمار جان: بہت بہت شکریہ۔ اسکے ساتھ ہم پروگرام کا اختتام کرتے ہیں اس امید کیساتھ کہ جو منظورکی جدوجہد ہے، سعدیہ صاحبہ کی، پرابودھا(سری لنکا) کی، سدھو صاحب کی ، ہمارے پنجاب کے لیبر لیڈر بابا لطیف، یہ تمام لوگ جو یہاں پر موجود ہیں وہ ایک بہتر ساؤتھ ایشیاء کی بنیاد بھی رکھیں گے اورپاکستان کو مضبوط کریں گے اور جس طرح سعدیہ نے بہت خوبصورت بات کی کہ دکھوں کا رشتہ ہے اگر دکھ ملیں گے تو یہ مزاحمتیں بھی انقلاب میں بھی تبدیل ہوں گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv