پوسٹ تلاش کریں

کراچی یونیورسٹی میں چینی خواتین اساتذہ پر اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ کا خود کش حملہ

کراچی یونیورسٹی میں چینی خواتین اساتذہ پر اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ کا خود کش حملہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پہلی مثبت با ت یہ ہے کہ افراتفری کی سیاست میں یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے ایماء پر پاک فوج نے خودکش بمبار شاری بلوچ کے ذریعے سے پاک چین دوستی کو نشانہ بنایا ہے!

دوسری مثبت بات یہ ہے کہ جہاں دنیا میں عورت کا کردار جنسی جذبات بھڑکانے کیلئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال ہورہا ہے وہاں شاری بلوچ نے اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد کیلئے قربان کیا!

تیسری مثبت بات یہ ہے کہ ہماری فوج اور اشرافیہ کی خواتین میں بھی شاری بلوچ کے جذبے سے اپنے ملک ، دین اور ایمان کیلئے مشکل وقت آنے پر خودکش بمبار بننے کا جذبہ پیدا ہوجائیگا

دہشت گردی ، انتہا پسندی اور خودکش حملوں کی اگر اسلام میں اجازت ہوتی تو رسول اللہ ۖ ، شیر خدا علی، اسد اللہ و اسد رسولہ سید الشہداء امیر حمزہ ، فاروق اعظم عمر اور تمام بہادر اور جلیل القدر صحابہ کرام مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بجائے مشرکین مکہ پر دہشتگردانہ حملے کرتے۔ جان و مال اور عزت کے تحفظ سے زیادہ بڑی بات کچھ بھی نہیں ہوسکتی۔ بلوچستان اور وزیرستان کے حالات ملتے جلتے ہیں۔ وزیرستان کے کچھ لوگوں نے مذہبی دہشتگردی کا ارتکاب کیا تو لوگ اپنی عظیم روایات اور اقدار سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ نوجوان خود کش بمبار سے متاثر ہوگئے تو گھروں ، بازاروں اور مساجد تک بے گناہ لوگوں کو اڑانے سے دریغ نہ کیا۔ جب فوج نے آپریشن کیے تو بھی زیادہ تر اسکے جیٹ طیاروں کی بمباری کا نشانہ عوام بنے۔پھر ریاست کیخلاف نفرت کی فضاء بن گئی۔ آج بھی افغانستان میں موجودTTPاور پاک فوج کی لڑائی میں عام لوگ زبردست خوف و ہراس کا شکار ہیں اور اسی صورتحال کا بلوچستان میں بلوچوں کو سامنا ہے ۔
شاری بلوچ پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے علاوہ بلوچستان اسمبلی میں بھی اچھی خاصی بحثیں ہوچکی ہیں اور اس اقدام سے انتہاء پسندوں اور دہشت گردوں میں نئی روح شاری بلوچ نے پھونک دی ہے ۔ عید سے پہلے جو خاتون غربت کی وجہ سے اپنے تین بچوں سمیت کراچی کے سمندر میں چھلانگ لگا کر خود کشی کررہی تھی جس کو بچالیا گیا مگر اس خبر کو اہمیت نہیں ملی لیکن شاری بلوچ نے مہمان بے گناہ چینی خواتین کی بھی جان لے کر پوری دنیا میں دھوم مچادی اسلئے اسکے پیچھے ایک قوم کی کہانی ہے۔
ہاجرہ یامین نے اپنی ویڈیو جاری کی ہے کہ کراچی کی بربادی کی وجہ بہت ہی خاندانی اور معصومانہ ہے، گھر میں بن بلائے مہمان آجاتے ہیں اور جانے کا نام نہیں لیتے تو آپ کیا کرتے ہیں؟۔خالہ آپ کے وزن پر کمنٹ کرتی ہیں تو آپ چپ رہتے ہیں۔ تو یہ ناانصافی کیخلاف چپ رہنے کا جو کلچر ہے وہ لائف اسٹائل بن گیا ہے ہمارا۔ سڑک ایک طرف سے ٹوٹ گئی چپ کرکے راستہ بدلو ، فون چھن گیا چپ کرکے نیا فون لے لو، پولیس والے نے رشوت مانگی چپ کرکے پیسے دیدو۔ چینی مہنگی ہوگئی چپ کرکے پھیکی چائے پی لو۔ اب کراچی والوں کا چپ رہنے کا جو رویہ ہے نا یہ دیکھ کر کسی عقلمند کو بہت شاندار آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا ایک ایسا علاقہ بناتے ہیں جس میں جتنے بھی امیر لوگ ہیں ان کو اکھٹا کرتے ہیں اور ان سے ان کا سب کچھ چھین لیتے ہیں یہ زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے ؟ چپ رہیں گے۔ تو یہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا جو آئیڈیا تھا یہ بہت سکسس فل رہا۔ لوگوں سے بجلی چھین لی تو انہوں نے جنریٹر لگوالئے، پانی بند کردیا تو انہوں نے ٹینکر ڈلوالئے، پانی بند کردیا لیکن پانی کا بل بھیج دیا تو انہوں نے بل ادا کردیا۔ چوری اور ڈکیتی بڑھ گئی تو لوگوں نے پرائیویٹ گارڈ ہائر کرلئے۔ تو ظلم کے خلاف کوئی کچھ نہ بولا اور سب لوگ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے رہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ تم نے چپ رہنا کب سیکھا ؟۔ تب جب بچپن میں تمہیں سوال کرنے سے روکا گیا یا شاید تب جب تمہیں احساس ہوا کہ دیواروں پر پان کی پیکوں کے بیچ معصوم خون بھی ہے۔ یا شاید تب جب تمہارے سر پر کسی نے پستول رکھ دی
بقیہ صفحہ3نمبر2

بقیہ … شاری بلوچ خودکش بمبار
اورتمہاری جان اور مال کے بیچ میں سے ایک چننا پڑا۔ میں نہیں جانتی کہ آپ نے کب چپ رہنے کا فیصلہ کیا لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اب وہ لمحہ ہے وہ موقع ہے جب آپ کو بولنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ میں نہیں جانتی کہ آپ کے بولنے سے کتنا فرق پڑیگا؟ لیکن اتنا تو اب آپ بھی جانتے ہیں کہ ایک قطرے میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ قطرہ قطرہ ملا کر دریا بن ہی جاتا ہے۔
خود کش بمبارشاری بلوچ نے اپنے وطن اور اپنی قوم کے نام پر جو قربانی دی ہے ،اس کی مذمت تو اسکے شوہر کے خاندان نے بھی کردی ہے۔ اپنے خاندان نے بھی اس پر حیرت کا جس طرح اظہار کیا ہے اس کو ڈان نیوز نے شاری بلوچ کے پڑھے لکھے چچا سے انٹرویو لیکر قابلِ قبول نہیںقرار دیا ہے کیونکہ صحافی وسعت اللہ خان نے پوچھا کہ آج سے20سال پہلے ہم نے تربت میں آپ سے پوچھا تو آپ نے نشاندہی کی کہ ارباب اختیار جانتے بوجھتے ہوئے جذبوں کے تلاطم خیزموجوں سے آنکھ بند کئے ہوئے ہیں۔ کیا یہ اس کی ایک شکل نہیںہے ؟۔
بلوچ ہمارے بہت معزز بھائی ہیں اورخود کش بمبار شاری بلوچ ہماری بہن تھیں۔ مریم نواز نے کہا تھا کہ” اپنی والدہ کے انتقال سے زیادہ دُکھ بلوچ مسنگ پرسن کی تکلیف کو دیکھ کر پہنچا ہے”۔ میری ایک گھر والی تربت کی بلوچ ہے اورپہلے اس کو بھی شدت پسندوں سے دلی ہمدردی تھی۔ اس کے کئی رشتہ دار بھی مارے گئے اور جنہوں نے جہاز اغواء کیاتھا اور پھانسی لگی تھی۔ شبیراور شاہ سوار ۔ شبیر چاچی کا سگا بھائی تھا۔ پھر شدت پسندوں سے بہت سخت نفرت ہوگئی۔ بہت قریبی رشتہ داروں نے خوف سےBLAکو چھوڑ دیا۔ جبPCہوٹل گوادر پر حملہ کیا گیا تو اس کو سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر دُکھ تھا اسلئے کہ اپنی روٹی روزی اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے نوکری کررہے تھے اور شدت پسند تو گئے ہی مرنے کیلئے تھے۔ یہ اس کی ذہنیت تھی۔ گوادر میں دہشتگردوں سے اسلئے نفرت پھیل گئی کہ خودکش نے چینیوں کو اڑایا تو کئی بہنوںاور والدین کا اکلوتہ بھی شہید ہوا۔ایک انسان کے بے گناہ قتل کو قرآن نے پوری انسانیت کا قتل قراردیا۔ شاری بلوچ نے خود کش کردیا تو میری بلوچ گھر والی نے کہا کہ اس کو کسی طرح بلیک میل کیا ہوگا۔ ایک عورت اپنے بچوں کو چھوڑ کرایسا کیسے کرسکتی ہے؟۔ اور بے گناہ چینی خواتین اساتذہ کے قتل پر سخت غصہ بھی آگیا۔
جب میں نے یوٹیوب یا فیس بک سے مسنگ پرسن کیلئے آواز اٹھانے والی ایک لڑکی کی تقریر سنائی جو یہ کہہ رہی تھی کہ ہم گھروں سے اپنے پیاروں کی تلاش میں عرصہ سے نکلے ہیں اور لوگوں کی نظریں جب ہم پر پڑتی ہیں تو بہت چھبتی ہیں۔ پھر شاری بلوچ کی جاری کردہ بلوچی زبان میں ویڈیو دیکھ لی جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ دشمن کو ہماری عزتوں پر ہاتھ ڈالنے کی بھی پرواہ نہیںہے اسلئے میں نے یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پھر میری گھر والی نے سمجھ لیا کہ اس میں بلیک میل ہونے کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مشن کیلئے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایجنسی والے اب اس کو چھوڑیں گے نہیں،آخری حد تک سراغ لگاکر ایک ایک کردار کا بہت برا حشر کریںگے۔ پھر میں نے بتادیا کہBBCکی ویب سائٹ پر شاری کے شوہر کے گھر والوں نے اس کی سخت مذمت کردی ہے۔ یہ ڈرنے کی وجہ سے کی ہوگی۔ تو اس نے کہا کہ نہیں ، وہ اپنی ایک لڑکی کے اس طرح نمایاں ہونے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور غیرت کے خلاف لگتا ہے کہ ایک عورت اس طرح سے نمایاں ہو۔
سوشل اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑے پیمانے پر آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ بلوچوں کیساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں۔ ان کے مسنگ پرسن کو آزاد کیا جائے اور یہ سلسلہ بڑے عرصے سے چل رہاہے۔ قومی اسمبلی میں تین ماہ پہلے سرداراختر مینگل نے کہا تھا کہ پہلے ہمارے نوجوانوں کو اٹھایا جارہاتھا، پھر بوڑھوں کو بھی اٹھایا جانے لگا اور اب خواتین اور بچوں کو بھی اٹھایا جارہاہے۔ آپ نے ہمیں غدار قرار دیا۔ ہماری نسلوں کو ختم کردیا اورہماری خواتین کی عزتوں کو بھی نہیں چھوڑا لیکن ہم نے ہمیشہ تمیز کی حد میں رہ کر آواز بلند کی ہے اور کبھی گالی تک بھی نہیں دی ہے۔ کس کس کو غدار نہیں کہا؟۔ فاطمہ جناح، ولی خان، نوازشریف اور الطاف حسین سمیت جو بھی اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھا وہ غدار کہلایا اور کل تحریک انصاف والے اپوزیشن بینچ پر ہوںگے اور ہم اس طرف بیٹھے ہوں تو پھر وہ غدار کہلائیںگے۔ جب میں وزیراعلیٰ تھا تو چاغی میں ایٹمی دھماکوں پر مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا اور جب مجھے پتہ چلا تو احتجاج کرنے پر مجھے برطرف کردیا گیا تھا۔ جس کی غلطی کا اعتراف نوازشریف نے بھی کیا ہے۔
نوازشریف نے سوئی گیس سے بلوچستان کی محرومی کا ذکر بھی کیا تھا لیکن جب حکومت مل گئی توسی پیک کے مغربی روڈ کا رُخ کوئٹہ اور پشاور سے موڑ کر لاہور کی جانب کردیا تھا۔ جس کی وجہ سے بلوچوں کے گاؤں مسمار کردئیے گئے اور محرومیوں کا احساس مزید بڑھادیا گیا۔ خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والی شاری بلوچ کے خود کش حملے کو جس طرح کی پذیرائی ملی ہے وہ خطرناک صورتحال تک معاملات کو پہنچاسکتی ہے۔ طالبان کی دہشت گردی کو اہمیت نہیں دی گئی لیکن پھرGHQپر قبضے سے لیکر ہماری ریاست ، حکومت، مذہبی طبقات او ر پوری اشرافیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ بلوچ قوم کو عزت دینے کے نام پر رام کرنا بہت آسان ہے ، پٹھانوں کو غیرت کے نام سے رام کرنا آسان ہے اور سندھیوں کو محبت کے نام سے رام کرنا بہت آسان ہے اور پنجاب کو شعور کے نام سے رام کرنا بڑا آسان ہے۔ بھانڈوں ، جوکروں، مسخروں اور بدتمیزوں وبد تہذیبوں کے رحم وکرم پر پاکستان کو چھوڑدیا گیا ہے۔
منظور پشتین نے وزیرستان میں یہ بہت کام کی بات کہہ دی ہے کہ ” پختون غیرتمند قوم ہے۔اگر دشمنی ہو تو پھر چوک اور چوراہے پر للکارتے ہوئے اپنے دشمن کو ماردیتے ہیں ، کسی کی آڑ لیکر چھپ کر وارکرنا غیرت وحمیت کے خلاف ہے”۔
اگر وزیرستان میں فوجیوں کے قتل کیلئے بھی اسی غیرت ہی کا پیمانہ رکھا جائے اور عوام اور طالبان کیلئے بھی اسی غیرت کے ترازو سے کام لیا جائے تو امن وامان قائم ہونے میں دیر نہیں لگے گی لیکن اگر فوجیوں کا قتل اس بنیاد پر جاری رہے کہ پاک فوج جانے اور شہداء جانیں تو پھر یہ سلسلہ جاری رہے گا اور طاقت کے استعمال کے اس کھیل میں فساد اورقتل وغارتگری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بلوچ ہیومن رائٹ کے معروف رہنما وہاب بلوچ نے بتایا کہ ”بلوچوں سے سب سے زیادہ ہمدردیوں اور عملی تعاون کا مظاہرہ پنجابی کرتے ہیں”۔ سندھی قوم پرست جب منظور پشتین کے کسی بیان سے ناراض تھے تو وہاب بلوچ نے ان میں صلح صفائی کروائی تھی۔ وہاب بلوچ نے کہا کہ سب سے زیادہ مؤثر کردار مذہب کی بنیاد پر ادا ہوسکتا ہے لیکن مذہبی لوگوں نے اس کو غلط استعمال کرکے کارگر نہیں بنایا ہے۔
پاکستان میں جس طرح مذہبی لوگوں نے مذہب کے نام پر تباہی مچائی ہوئی تھی ۔ مولانا نورمحمدسابق ایم این اے اور معراج الدین ایم این اے کو بھی شہید کردیا گیا تھا۔مساجد میں خود کش حملوں سے لیکر بازاروں ، سکولوں ، گھروں اور سرکاری ، سیاسی اور مذہبی لوگوں پر اٹیک تک بہت کچھ کیا گیا۔ خاتون ڈاکٹر بھی اغواء برائے تاوان کیلئے لے گئے تھے۔ اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ دوغلی پالیسی کھیل کر اس حلیے اور لبادے میں اپنے اپنے طالبان اور دہشت گرد پالنے کی غلطی نہ کرتے تو عوام ہی نے ان کا قلع قمع کردینا تھا۔ اسماعیل ساگر نے بتایا تھا کہ اس وقت ہمارے اندر اتنی جرأت نہیں تھی کہ کھل کر آواز اٹھاتے مگر امریکہ کے بلیک واٹر نے اربوں روپے سے قبائل میں لوگ پیدا کئے تھے۔ راولپنڈی کے قریب روات میں ان کا ٹریننگ سینٹر تھا۔جہاں کورٹ مارشل اور جرائم پیشہ فوجی اہلکاروں اور پولیس کو بھاری رقوم دے کر بھرتی کیا جاتا تھا۔
خود کش حملہ آور کرائے پر ملتے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ”200ڈالر ماہانہ تنخواہ پر افراد بھرتی کئے جاتے ہیں”۔ ایسا کھیل کھیلا گیا کہ فیض احمد فیض اور احمد فراز کی شاعری زندہ کی گئی تھی۔ شریف ، شرافت اور اشرافیہ سب کا جنازہ نکل گیا تھا۔ جہاں غربت تہذیب کے آداب بدل دیتی تھی وہاں خود کش اور ٹارگٹ کلنگ کی دہشتگردی نے تہذیب کے آداب بدل ڈالے تھے۔ مونچھوں والا بدمعاش یونہی دلّا اور بے غیرت لگتا تھا اور چوتڑ تک بال رکھنے والے کی دہشت چھا گئی تھی۔
ریاست پاکستان ، مذہبی طبقات کے فتوؤں ، سیاسی قائد کے بیانات بالکل غیرمؤثر تھے۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اکرم خان درانی نے ہنگو میں شیعوں کے جلوس میں دھماکہ کرنے پر کہا تھا کہ ”یہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں ”، تو ان کے قریبی لوگوں پر حملہ کرکے شہید کردیا گیا تھا اور پھر اکرم خان درانی کو یہ بیان دینا پڑا تھا کہ ” اگر کسی نے کہا کہ ہم پر طالبان نے حملہ کیا تو اس کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا”۔ جب قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کی تقریر میں حضرت ابوبکر صدیق اکبر سے منقول ابن ماجہ کی حدیث کا حوالہ دیا کہ” طالبان خراسان کے دجال کا لشکر ہیں اوران میں حدیث میںموجود تمام نشانیاں پائی جاتی ہیں ” تو میڈیا نے مولانا فضل الرحمن کے بیان کو شائع نہیں کیا۔
قوم کا یہ حال تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ وزیرستان کے غریب عوام کی عزتیں اس جنگ میں خراب اور پامال ہونگی ۔ کرائے کے لوگ اسلام کیلئے نہیں مفادات کیلئے لڑرہے ہیں اور جذباتی طبقہ اور عوام غلط استعمال ہورہے ہیں۔ تو ایک بھائی نے کہا تھا کہ ”مجھے ان کے خلاف اُٹھ کر جہاد کرنا چاہیے” ۔ جس پر میں نے عرض کیا تھا کہ ”پھر سب سے پہلے اپنے بھائیوں کے خلاف جہاد کرنا پڑے گا اسلئے کہ وہ دل سے اس جہاد کے حامی ہیں”۔ جس طرح آج عمران خان کیلئے لڑنا بعض لوگ امریکہ کے خلاف جہاد سمجھتے ہیں اسی طرح سے دہشتگرد بلیک واٹر کے ایجنٹوں کی دل سے ، ڈر سے اور ایمان کے جذبے سے لوگ تائید کرتے تھے۔ منصوبہ بندی کے تحت ہمارے ریاستی ادارے اور عوام پیسے اور جذبے میں استعمال ہورہے تھے۔
پھر ایک موقع آیا کہ ” پہلے طالبان نے میرے بھائی کا پیچھا کیا تھا اور پیسوں والے افراد کو لوٹنا اور دہشت گردی سے ڈرانا ان جرائم پیشہ افراد کا وطیرہ بن چکا تھا”۔ پھر مجھ پر حملے کا بہانہ مل گیا اور اس واردات میں اصل ہدف میں تھا اور گھر کے اسلحے اور مال وزیورات کو لوٹنا تھا تو13افراد شہید کردئیے گئے اور اپنے بھی کچھ مردے اٹھا کر لے گئے اور چوروں اور ڈاکوؤں کی طرح رات کی تاریکی میں دفن کردیا۔ حالانکہ نعرہ تکبیر لگاکر حملے کرنیوالے اپنے مردوں کو شہید سمجھ کر دھوم سے دفن کرتے تھے ، مردار جانوروں کی طرح چھپ کر نہیں دفناتے تھے۔
مجھ سے کہا گیا کہ اب موقع ہے کہ ان کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے کیونکہ اب تو عوام میں بھی ان کے خلاف بڑی نفرت پھیل گئی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ علی کا پوتا ہوں، جس نے کافر دشمن کو لٹادیا تھا اور تلوار کے وار سے ختم کرنا تھا مگر جب اس نے علی کے چہرے پر تھوک دیا تو علی نے معاف کردیا ،اس نے کہا کہ غصہ زیادہ بڑھ جانا چاہیے تھا تو علی نے فرمایا کہ جب ذاتی رنجش اس میں شامل ہوگئی تو پھر یہ اللہ کی راہ میں جہاد نہیں رہاہے۔ اب ذاتی رنجش کے بعد جہاد کرنا اسلام نہیں ہے۔
پھر ایک وقت آیا کہ وزیرستان سے طالبان کااثر ورسوخ اتنا بڑھ گیا کہ سوات سے کراچی تک محسود قوم کے افراد بہت دندناتے گھوم رہے ہوتے تھے۔ کراچی میں بھی طالبان نے باقاعدہ فیصلے کرانے اور بھتے لینے شروع کئے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ وزیرستان سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کچھ پیسے مل جائیں تو حکیم اللہ محسود، قاری حسین وغیرہ کو ہم نشانہ بنالیں گے۔ میں نے کہا کہ پیسے ضرور دیں گے لیکن وہ ہمیں اپنے ہدف تک پہنچا دیں۔ میری سندھی گھر والی اور اپنے بچوں سے خود کش کرانے کا میں نے فیصلہ کرلیا اور مشاورت بھی ہوگئی اور میں نے طے کرلیا کہ اب مجرم کی تلاش کو چھوڑ کر محسود قوم کو پنجاب، سندھ ، کراچی ، کوئٹہ اور پختونخواہ میں گوریلا طرز پر نشانہ بنایا جائے۔ جب وہ محفوظ ہیں اور دہشت گرد بھائی ، بیٹوں اور رشتہ داروں کو محفوظ پناہ گاہیں دیتے ہیں اور رائیونڈ کا مرکز انکا سہولت کار ہے تو پھر قرآن نے من حیث القوم لڑنے کیلئے افراد کے مقابلے میں افراد کے قتل کی اجازت دی ہے جن میں آزادمرد اور عورت اور غلام سب شامل ہیں۔ ایم کیوایم ، شیعہ، بریلوی اور سب کو ان کے خلاف منظم کرنے کا فیصلہ کرلیا لیکن بھائیوں نے اس کی مخالفت کی کہ بے گناہوں کا خون بہہ جائے گا۔
اگر اس وقت راست اقدامات اٹھائے جاتے تو دہشت گردوں کا خاتمہ محسود قوم نے اپنے مفاد اور نقصان سے بچنے کیلئے بھی کرنا تھا لیکن جب فوج نے آپریشن کرکے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو بہت بے گناہ بھی مارے گئے اور ان کی عزتوں کی بھی تذلیل ہوگئی اورآج تک ان کا رونا نہیں جاتا ہے۔ جب آگ جلتی ہے تو خشک لکڑیوں کیساتھ گیلی بھی جل جاتی ہیں۔
شاری بلوچ اور عمران خان کے جذبات میں کیا فرق ہے اور دونوں ریاست کی غلامی سے جان چھڑانے کی بات کررہے ہیں ۔ عمران خان الفاظ کیساتھ کھیلتا ہے کہ میر جعفر اور میر صادق کون ہیں ؟۔ لیکن شاری بلوچ نے خود کش بمبار بن کر فیصلہ کیا کہ آزادی کی تحریک افغانستان کے طالبان کی طرح اس طرح سے چلائی جاسکتی ہے۔ جو فوجی اہلکار دل وجان سے عمران خان کی حمایت کررہے ہیں ،ان کیلئے شاری بلوچ شان و عظمت کی نشانی ہے۔ اگر جنرل حمیدگل کے بیٹے، بیٹیاں اور بیوی خود کش حملہ کرنے والوں میں شامل ہوتیں اور اسطرح ہمارے اشرافیہ کے تمام جرنیل، سیاستدان اور سول بیروکریسی اور علماء ومفتیان میں طالبان کے حامی اور انکی خواتین خود کش کی قربانیاں دیتیں تو جنگ بھی جلد جیت جاتے اور نقصان بھی نہیں اٹھانا پڑتا۔
بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن میں شامل ہوگئے ہیں اور کسی کے حکم سے شامل ہوئے ہیں تو شاید مفتی محمد تقی عثمانی کو بھی دعوت ملی ہوگی کہ اب عمران خان کے خلاف جہاد کرنے کیلئے آپ بھی جمعیت علماء اسلام کا ساتھ دیں۔ شاید اسلئے اس نے مولانا مفتی محمود کی وفات کے بارے میں اپنا جھوٹا بیان بھی ریکارڈ کروادیا لیکن جب اسلام آباد میںجہاد کے عمل کی بات سامنے آئی ہوگی تو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے کہا ہوگا کہ بھیا ! میں نے اپنے بدنمادانت اکھڑوا دئیے ہیں اسلئے مجھ پر قربانی نہیں ہوتی ہے، اسلئے پھر عید پرصلح صفائی کیلئے بیان بھی دیدیا۔
سلمان تاثیر کو ممتاز قادری سے قتل کروانے سے پہلے جنگ گروپ کے صحافی انصار الاسلام عباسی نے جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی گھڑی تھی جس پر رؤف کلاسرا نے ایک کتاب ”وہ قتل جو ہو نہ سکا”لکھ دی تھی۔اب یہ سلسلہ چل رہاہے کہ نوازشریف نے ممتاز قادری کو پھانسی سے نہیں بچایا اور عمران خان نے آسیہ کو فرار کروایا۔ جنہوںنے سازش کے جال بن لئے تھے وہ خود اپنے دام میں پھنس رہے ہیںمگر وقت انکے انتظار میں ذلت کا ہار پہنانے کیلئے بے تاب کھڑا ہے ۔
جب1965ء میں لوگ ہندوستان کے ٹینکوں کے آگے اپنے جسم پربم باندھ کر لیٹ جاتے تھے تو وہ خود کش حملہ ہی ہوتا تھا۔ افغانستان میں نیٹو کے خلاف جہاد کیلئے خود کش کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ کرائے کے خود کش نے جہاد کو بدنام کردیا ہے لیکن شاری بلوچ کو کرائے پر استعمال کرنے کا بھی کوئی نہیں سوچ سکتا ہے۔ اس کے پیچھے ریاست بھی نہیں ہوسکتی ہے اور اس کو جنت کے حور وقصور کی لالچ بھی نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس میں ظالم ومظلوم اور اپنی قوم اور وطن سے محبت کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن اس راستے سے بلوچ قوم پرست کی قیمتی جانیں ضائع ہوں گی اور اس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں پرامن زندگی کی خواہش رکھنے والوں کی مشکلات بھی بڑھ سکتی ہیں۔ قربانی کے پیچھے تالی بجانے سے بات نہیں بنتی بلکہ اپنی خواتین کو بھی اس مقصد کیلئے قربان کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا اور جب اپنے لئے اس کو پسند نہ کیا جائے تو دوسروں کو اس کی تبلیغ اخلاقی طور پر کوئی اچھی بات نہیں ہوسکتی ہے۔ شاری بلوچ کے شوہر کو شاری کے خاندان کے سامنے جانے سے بھی ہچکچاہٹ ہوگی۔ عورت نے قربانی دی ہو اور شوہر زندہ ہو تو یہ ایک عار کی بات ہے۔ البتہ شاری بلوچ نے اپنے دل ودماغ سے جو فیصلہ کیا وہ دوسروں کیلئے مشعل راہ بھی بن سکتا ہے، حسن وحسین دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور جنت میں کوئی بوڑھا ہوگا بھی نہیں اور حسن و حسین کے درمیان فرق اسلئے تھا کہ حسن کے مقابلے میں معاویہ اور حسین کے مقابلے میں یزید تھا۔ یزیدی کردار پر حسینیت کی قربانی بنتی ہے اور سب میں اتنا بڑا دل نہیں ہوتا۔
شاری بلوچ کی عقل وفکر اور فطرت وعمل سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن علماء ومفتیان، مذہبی وسیاسی طبقات اور تمام قوم پرستوں کیلئے اس کی قربانی سے مثبت نتائج نکالے جاسکتے ہیں اور اس کی قربانی سب کیلئے مشعل راہ بن سکتی ہے۔ جان کی اگر قربانی نہیں دے سکتے ہیں تو حق بات کیلئے زبان کی قربانی دیں اور حاجرہ یامین کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ظلم اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی قربانی دیں۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کی ریاست ، حکومت، علماء ومفتیان ، مذہبی طبقات اور عوام الناس اب اپنے مفادات کو چھوڑ کر قربانی دینے کی پوزیشن پر آگئے ہیں۔ کیونکہ اگر اب نہیں بدلے تو بہت برے حالات کا شکار ہوجائیں گے اور اس خوف کا تقاضا ہے کہ ہم سدھر جائیں۔
قیادت کی پیاس اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ عمران خان جیسے آزمودہ اور نالائق انسان پر بھی لوگ اعتماد کرکے کہتے ہیں کہ آزادی کیلئے ہر قربانی دینی ہے۔ جب پیاس لگتی ہے توآدمی کو سراب بھی پانی نظر آتا ہے۔ عمران خان کا سراب بھی متأثر کن بن گیا ہے۔ عمران خان گھڑی گھڑی اپنے بیانات بدلتا رہتا ہے۔ پہلے اس نے امپائر کی انگلی اٹھنے کی بات کہی تھی اور پھر کہا تھا کہ امپائر سے مراد میں نے اللہ لیا تھا۔ پھر جانور سے بھی مشکل لگنے پر کچھ اور مراد لیا اور میرجعفر اور میر صادق سے بھی کچھ اور مراد لیا۔ حضرت حسین نے کربلا کا راستہ چن لیا تھا تو پھر شہادت کی منزل تک کوئی بیان تبدیل نہیں کیا۔ پہلے سے یہ تجاویز رکھ دی تھیں کہ واپس جانے دیا جائے۔ سرحد پار جانے دیا جائے ۔ یزید سے براہِ راست بات کرنے دی جائے لیکن یزید کی بیعت پر آخری وقت تک راضی نہیں تھے۔
عمران خان ایا ک نعبد وایا ک نستعین سے پہلے اور بعد کی آیات کو بھی سمجھ کر تلاوت کرتا تو نرگسی اور خود پسندی کا شکار نہ ہوتا بلکہ تمام تعریفیں اللہ کیلئے قرار دیتا اپنے لئے نہیں اور رحمن و رحیم کی صفات سے مخالفین کیلئے بھی رحم دلی کاجذبہ رکھتا اور مالک یوم الدین کے بعد خود کو انقلاب کے دن کا بھی بادشاہ سمجھنے کی غلطی نہ کرتا۔ پھر اللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت بھی مانگتا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے جن پر نہ غضب ہوا اور نہ گمراہ ہوئے۔ عمران خان کبھی طالبان بن جاتا تھا اور کبھی پاک پتن کے مزار کی راہداری کو چومتا تھااور کبھی مدینہ میں جوتے اتارنے کا ڈرامہ کرتا۔PDMکی بانی جماعتوں کی نالائقی سے عمران خان پروان چڑھ گیا اور عمران خان کی نالائقی نےPDMکی قیادت کو پھر زندہ کردیاہے حالانکہ ان کی فاتحہ بھی لوگ پڑھ چکے تھے اور اب پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ گئے تو انکی وجہ سے عمران خان پھر زندہ ہوگیا۔
شاری بلوچ کی قربانی کو ہلکا نہ لیا جائے، مسنگ پرسن کے لواحقین اور ان کی خواتین نے خود کش دھماکے شروع کردئیے تو عمران خان اور نوازشریف کی باتوں سے ڈرنے والوں کیلئے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ باتوں کا جواب باتوں سے دیا جاسکتا ہے لیکن خود کش بمبار کا کوئی علاج معالجہ نہیں ہے۔
جب گوادر کے مولانا عنایت الرحمن کا بیان میری بلوچ گھر والی نے سنا تو اس نے شدید غصے کا اظہار کیا کہ اب اس کو دیکھو کہ اپنے معمولی مفاد کیلئے اس شاری بلوچ کی قربانی کا ذکر کررہاہے۔ مٹھی بھر بلوچ اپنی قوم اور اپنے وطن کی آزادی کیلئے اٹھے ہیں اور اب ان کو ناراض بلوچ کہنے کی بات بھی گالی لگتی ہے لیکن ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ان سے دل وجان سے محبت کریں۔ عمران خان کو بندر کی طرح کاندھے پر چڑھا کر اقتدار میں لایا گیا اور جب اپنی نالائقی سے اتر گیا تو ملک میں بدتمیزی کا طوفان برپا کرکے حقیقی آزادی کے نام پر بھونچال برپا کردیاہے۔ اگر غوث بخش بزنجو سے لیکر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ تک کسی قوم پرست بلوچ کو پاکستان حوالے کیا جاتا تو مشرقی پاکستان کے بنگالی بھی ہم سے جدا نہ ہوتے۔ بلوچ دوسروں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ غلامی قبول نہیں کرتے ہیں۔ جب نوازشریف نے جنرل کاکڑ کو آرمی چیف بنایا تو غلام اسحاق خان اور نوازشریف دونوں کو فارغ کردیا گیا۔ آج عمران خان اور شہبازشریف کی جگہ پر مرکز میں منظور پشتین، علی وزیر، محسن داوڑ ، اختر مینگل، سرفراز بگٹی ، شاہ زین بگٹی ، خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار سیاست کررہے ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پاکستان کی ریاست و سیاست میں خطرہ440وولٹ کے خدشات پیدا ہوگئے ۔

پاکستان کی ریاست و سیاست میں خطرہ440وولٹ کے خدشات پیدا ہوگئے ۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریک انصاف بمقابلہ امریکہ ، شہبازحکومت یا اسٹیبلشمنٹ؟ ۔ عمران خان کو سیاسی شہید بناکر زندہ کرنیوالے کون ، کون اور کون ہیں؟
جو صحافی حضرات عمران ریاض خان گوگی اور سمیع ابراہیم وغیرہ کل تک تحریک انصاف اور پاک فوج کی حمایت کررہے تھے آج وہ ان کو لڑانے کے زبردست کرتب دکھارہے ہیں

پاکستان انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ جب اسرائیلی وزیرنے دوبئی کا دورہ کیا اور باچاخان مرکز پشاور میںANPکے نمائندے اور مولانا فضل الرحمن نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے روایتی سخت مؤقف کا اظہار کرکے دوبئی کے حکمران کو بے حیثیت کٹھ پتلی قرار دیا اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کے مؤقف کو امت مسلمہ کی نمائندگی قرار دیا تھالیکن صحافی عمران خان عرف گیلا تیتر بلکہ گوگی خان نے مولانا فضل الرحمن پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دوبئی میں چندہ بند ہونے کے خدشے پر اتنا دروغ گوئی سے کام لیا تھا کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی اتنا جھوٹ بھی بول سکتا ہے؟ سوشل میڈیا پروقارملک بھی کھلم کھلا بہت کچھ کہتا ہے اور اس نے یہ جھوٹی خبر دی کہ کراچی میں مرغی کے گوشت کی قیمت ہزارروپے فی کلو ہے، عمران ریاض خان نے ایک مرتبہ آرمی چیف جنرل باجوہ پرکسی مافیا کی پشت پناہی کا بتایا اور پھر معافی مانگ لی لیکن بشری بی بی کی فرنٹ مین فرح گوگی پر کوئی رپورٹ نہیں دی۔ کٹھ پتلی صحافیوں اور سیاستدانوں نے ہمیشہ جھوٹ اور بدتمیزی سے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے میں بڑا کردار ادا کیا اورآج پوری قوم اور وہ پاک فوج اس کی سزا بھگت رہی ہے۔جو پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاکراپنے مخالفین کو ہرقسم کی تنقید،تضحیک اور جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ بناتے تھے اور سستی شہرت کماتے اور مفادات اُٹھاتے تھے۔اس میں شک نہیں کہ یہ جمہوریت کا تحفہ ہے کہ ملک وقوم پر ایسی حکومت مسلط ہوگئی ہے جس طرح جنگلی جانورپہلے کوئی شکار کرکے کھالیتے ہیں۔ پھر باقی ماندہ پر لگڑ بگڑ جھپٹتے ہیں اور آخرکار گدھ کا نصیب جاگ جاتاہے اور یہ لگڑبگڑ اور گدھ شرم بھی نہیں کھاتے ہیں۔ بقیہ صفحہ3نمبر1

بقیہ… خطرہ440کے خدشات
صحافی عمران خان، سمیع ابراہیم اور صابر شاکروغیرہ نے ہمیشہ پاک فوج اور عمران خان کی تائید میں صحافت کی بجائے کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا ہے۔ سمیع ابراہیم نے فواد چوہدری سے ایک بڑا زبردست مکا بھی کھایا تھا جس کی وجہ سے اس کے چشمے بھی بدل گئے تھے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کم ازکم فواد چوہدری سے معافی طلب کرنے کی بات کرتا تو بھی مناسب ہوتا لیکن جب سمیع ابراہیم کو اپنے چہرے پرمکا کھانے کی پرواہ نہیں ہے تووہ دوسروں کی عزت اور ان کو نقصان پہنچنے کا کیا غم کھا سکتا ہے؟۔
عمران احمد خان نیازی نے میانوالی سے حقیقی آزادی کے نام سے تحریک شروع کردی لیکن کیا وزیراعظم بننے کے باوجود بھی اسٹیبلشمنٹ کا غلام تھا؟۔ عوام کی عرصہ دراز سے یہ خواہش رہی ہے کہ عالمی ومقامی اسٹیبلشمنٹ کی غلامی سے حقیقی آزادی ملنی چاہیے اسلئے عمران خان کی بھرپور تائید ہورہی ہے۔ شدت پسندی ، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو پروان چڑھانے میں امریکہ مخالف پالیسی کا بڑا ہاتھ رہاہے جس میں لوگوں کیساتھ ڈبل پارٹ ہوتا تھا۔ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواری خود امریکہ سرکار کی پالیسیوں پر عمل در آمد کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے تھے کہ یہ امریکی ایجنٹ ہیں۔
محمود خان اچکزئی،مولانا فضل الرحمن ،محسن داوڑ، منظور پشتین،سردار اختر مینگل اور عمران خان کے بیانیہ میں اب کوئی فرق نہیں رہا کہ ہماری ریاست نے ڈالروں کی خاطر افغان جنگ لڑی اور اس خطے کے امن کو تباہی کے کنارے پر پہنچادیا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف نے اپنی مدتِ ملازمت میں امریکہ اور اپنی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل جل کر وہی کیا جس کی توقع ایک تابعدار ملازم سے ہونی چاہیے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ کی نام نہاد جمہوریت کو دھچکا پہنچایا۔ عمران خان نے پاکستان کی نام نہاد جمہوریت کا بھانڈہ پھوڑ دیا اور مودی سرکار بھارت کی جمہوریت کا بیڑہ غرق کرنے میںلگی ہوئی ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ 75سالوں سے عوام کی خواہش تھی کہ فوج نیوٹرل ہوجائے تو اب دوسال سے ہم نیوٹرل ہیں۔ عمران خان قصائی نیوٹرل فوج کو جانور کہتا ہے اور بکرے کو چھرا نظر آتا ہے تو اپنی خیر مناتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوج کو نیوٹرل رہنا چاہیے تھا اور اگر پہلے نہیں تھی تو اس کی ذمہ داری موجودہ فوج پر نہیں ڈالنی چاہیے۔ عمران خان کہتا ہے کہ جب امریکہ نے سمجھ لیا کہ میں پاکستان کو نیوٹرل رکھنا چاہتا ہوں تو مجھے ہٹادیا گیا۔ اگر عالمی سطح پر نیوٹرل رہنے سے عمران خان جانور نہیں بنتا تو نیوٹرل فوج کو بھی جانور کہنا درست نہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اورسابقہDGISIجنرل فیض حمید کو نوازشریف نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ن لیگ کے وکلاء وغیرہ نے” یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے” کے نعرے لگائے تھے۔ حالانکہ ان کا نعرہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ”یہ جو سیاست گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے”۔ نوازشریف لندن میں بیٹھا تھا اسلئے کھل کر بات کی ۔ عمران خان نے اشارہ دیا تھا کہ اگر مجھے باہر کردیا گیا تو زیادہ خطرناک ہوجاؤں گا لیکن وہ میر جعفر اور میر صادق نوازشریف اور زرداری کو کہتا تھا اور اس سے مراد وہ لیتا تھا جس کازبان پر نام نہیں لے سکتا تھا۔ اسلئے کہ کٹھ پتلی صحافی مارکہ غنڈوں کے بیچ میں رضیہ پھنس گئی تھی۔
بجلی میں خطرہ440وولٹ یہ ہے کہ جب220،220وولٹ دو تاروں کے ٹچ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تو اس سے بڑی تباہی مچ جاتی ہے۔ انسان کے بچنے کے امکانات نہیں رہتے۔ گھروں میں فریج، پنکھے، بلب وغیرہ سب کچھ جل جاتے ہیں لیکن جب ایک220وولٹ کا مثبت تار اور دوسرا منفی تار ہو تو پھر بجلی کا نظام بہترین چلتاہے۔ جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کا کردار بھی مثبت اور منفی دونوں پہلو کا ہو توبہترین چلتا ہے ۔جب اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف میںدراڑ پیدا ہوگئی اور دونوں کی حمایت کرنے والے صحافیوں نے دونوں طرف کی سپلائی جاری رکھی تو اس سے خطرہ440کا خدشہ پیداہوگیا۔
امریکہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں افغان جہاد کیلئے بنیاد رکھ دی تھی لیکن بھٹو نے روس کے ذریعے اسٹیل مل کی بھی بنیاد رکھی اور اسلامی سوشل ازم کا نعرہ بھی لگایا۔ پھر جنرل ضیاء الحق اورISIچیف اختر عبدالرحمن نے اس کی تکمیل کردی۔ کرائے کے مجاہدین کا داد اامریکہ تھا اور نانیCIAتھی۔ کرائے کاباپ جنرل ضیاء الحق اور ماں جماعت اسلامی تھی۔ پھر بے نظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر کے ذریعے طالبان لائے گئے۔ پھر اسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف امریکہ آنے لگا تو کرائے کے مجاہدین کا سوتیلا باپ مولانا فضل الرحمن بن گیا۔ غیرجماعتی انتخابات سے اسلامی جمہوری اتحاد اور پیپلزپارٹی ومسلم لیگ کے درمیان اپنی اپنی باری کا سلسلہ پرویزمشرف کے دور سے پہلے بھی تھا اور پھر بعد میں بھی بن گیا اور پھر تحریک انصاف کو لایا گیا اور اب پھر باریوں کا چرچاہے۔ عمران خان کباب میں ہڈی ہے۔ جس طرح ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی تیسری بیگم کی علیحدگی کا چرچہ ہے اسی طرح وسعت اللہ خان کے بقول دو بیویوں کے بعد تیسری سے اسٹبیلشمنٹ کی لڑائی کا سلسلہ اب عروج پر پہنچ رہاہے۔ یہ جمہوریت نہیں بلکہ خاندانی قسم کے مسائل میں عوام کو الجھایا جارہاہے۔ خوفناک تصاد م کا بھی خطرہ ہے اور عزت سادات بھی گئی کا مسئلہ نظر آتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

ہمارا ریاستی اور سیاسی نظام اور محمد علی جناح کا دیا ہوا پاکستان

ہمارا ریاستی اور سیاسی نظام اور محمد علی جناح کا دیا ہوا پاکستان

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مغرب کا مقابلہ حقیقی اسلام سے کرنا ہوگا۔ افغانستان، سعودی عرب اور ایران نے جو اسلام سرکاری سطح پر پیش کیا وہ اسلام کی بگڑی ہوئی شکل ہے لیکن پاکستان میں اسلام کی شکل سرکار نے نہیں مولوی نے بگاڑ ی ہے ۔ پاکستان کے آئین میں اقتدار اعلیٰ اللہ کیلئے اور قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کی وضاحت ہے۔ ہم نے75سال میں آزاد خارجہ پالیسی نہیں اپنائی۔ اگر قرآن کے مطابق چور کی سزا ہاتھ کاٹنا قرار دیتے تو بڑے بڑوں کے ہاتھ کٹ جاتے اور وہ اپنی انگلیاں لہرالہرا کر عوام کو ورغلانے کیلئے تقریریں پھر نہیں کرسکتے تھے اوراگردنیا سعودی عرب کو اجازت دیتی ہے توہمیں کیوں نہیں دیتی؟۔اپنا مقتدر طبقہ چور ہے اسلئے پارلیمنٹ میں اسلامی قانون سازی نہیں کرتا۔ جب اسلام دنیا میں نازل ہوا توعیسائی مشرکانہ عقیدہ رکھتے تھے کہ تین خدا ہیں۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے توہین آمیز نظریہ رکھتے تھے۔ اسلام نے اہل کتاب کی خواتین کیساتھ نکاح کی اجازت دی لیکن آج ہماری جہالتوں کا حال یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میںالجامعة الاسلامیہ الفلاح للبنات کی19سالہ معلمہ کو توہین مذہب، بھونڈے خواب اور مفادات کی بھینٹ چڑھا کر چند خواتین نے چھریاں مارمارکر ذبح کرکے شہید کردیا۔ وفاق المدارس سے ملحق مدرسے کے مہتمم مولانا شفیع اللہ کے بیان کو دیکھ لیا جائے تو وہ معلمہ کا دفاع بھی جرأتمدانہ انداز میں کرنے سے عاری دکھائی دیتا ہے۔ وفاق المدارس ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے چندوں کے تحفظ کی خاطر جو بیان دیا، وہ بھی شرمناک ہے۔ مولانا سیدمحمد بنوری جب گھر میں شہید کئے گئے تھے تو مولانا فضل الرحمن سے استدعا کی تھی کہ مجھے قتل کردیا جائیگا۔مولانا فضل الرحمن مفتی جمیل خان کو ساتھ لئے گھوم رہے تھے جس نے روزنامہ جنگ میں خود کشی کرنے کی جھوٹی خبر چلائی تھی۔ مدارس کے علماء کو چوڑیاں پہنادیں اور خواتین عالمات اپنی کسی رہنما کی قیادت میں اس معلمہ کے بہیمانہ قتل پر ملک گیر احتجاج کا حق ادا کریں۔ایک انسان کا بے گناہ قتل تمام انسانیت کا قتل ہے۔ اگر یہ فتنہ نہیںروکا گیا تو مولانا فضل الرحمن، عمران خان، شہبازشریف، بلاول بھٹو، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، علامہ حافظ سعد رضوی ، اسفندیار ولی ، جنرل قمر باجوہ ، چیف جسٹس عطاء محمد بندیال اور بہت مرد اورخواتین کو بھی خوابوں کی بنیاد پر قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ان خواتین کو ایسی عبرت ناک سزائیں دی جائیں کہ آئندہ کسی دوسرے کو ایسے خواب نظر نہ آئیں۔ اشرافیہ کو غریبوں پر ظلم دکھائی نہیں دیتا ہے۔
قرآن میں توراةکے حوالے سے اللہ نے جان کے بدلے جان، دانت، آنکھ، ناک، کان اور ہاتھ وغیرہ کے بدلے میں دانت ،آنکھ، ناک، کان اور ہاتھ وغیرہ کا حکم دیا ہے۔ اگر پاکستان میں اس پر عمل کرنا شروع کریںگے تو دنیا بھر کے مذہبی جنونی یہودی بھی ہمارا ساتھ دیں گے جن کے پنجے میں فرنگیوں کی شہہ رگ ہے۔ عیسائیوں کے انجیل میں شرعی حدود کا ذکر نہیں لیکن وہ تورات کے احکام کو تسلیم کرتے ہیں اسلئے عیسائی بھرپور ساتھ دیں گے۔ جرائم پرقابو پانے اور چوری کا خاتمہ کرنے کیلئے دنیا بھر کے مالیاتی ادارے پاکستان کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیںگے۔ جب ہماری عدالتیں چور کو سزائیں دیتی ہیں تو چور قید سے نکل کر اپنی معصومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے میں شرم محسوس نہیں کرتا ہے۔ پارلیمنٹ چوروں کیلئے قرآن کے مطابق ہاتھ کاٹنے کی سزا کو قانونی شکل دیتی تو کتنااچھا ہوتا؟ لیکن بلی کو مچھلی کی چوکیداری سونپ دی گئی ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ زخموں کا قصاص یعنی بدلہ ہے۔ اگر قتل اور اعضاء کاٹنے اور تیزاب پھینکنے کی سزاؤں پر تین دن کے اندر اندر عمل ہو تو جرائم کی شرح زیرو ہوسکتی ہے۔ سالوں سال بعد مظلوم اپنی جان، مال اور عزت پر کھیل کر انصاف حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے۔ انصاف میں دیر بھی انصاف کا قتل ہے۔ ظالموں کو موقع دینے کیلئے جتنے تاخیری حربوں کو قانون کا حصہ بنایا گیا ہے وہ سب ایک خود مختار پارلیمنٹ کے ذریعے ختم کئے جائیں۔ ہندوؤں کے پاس اپنا کوئی قانونی نظام نہیں ۔ قرآن وسنت کے ٹھوس قوانین کی شکل بگاڑ دی گئی۔ ریمنڈ ڈیوس کیلئے فوج، صوبائی اور مرکزی حکومت نے اسلام کو سہولت کاری کیلئے استعمال کیا تھا۔ بیوہ عورت نے اکلوتے بیٹے کا خون عدالت کی دہلیز پر اسلئے معاف کیا کہ اس کو خطرہ تھا کہ جوان بیٹیوں کی عزت لٹ جائے گی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو اور شارخ جتوئی کے کیس میں فرق و امتیاز نہ ہونے کے باوجود عدالت نے الگ الگ انصاف دیا تھا۔
فائز عیسیٰ کی بیگم کی بیرون ملک جائیداد پر اپنے پیٹی بند جج بھائیوں کو دھمکی ملتی ہے کہ تمہارا بھی بھانڈہ پھوڑ دیں گے تو اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عمران خان کی حکومت کو اس کی بے دریغ حمایت کرنے والے سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ڈبودیا ہے اور مسلم لیگ ن کا بیڑہ اس کی حمایت کرنے والا میڈیا غرق کررہاہے۔ قطری خط اور دھمکی خط میں دونوں طرف کی میڈیا نے جس طرح کی شرمناک مہم جوئی کی، ان کو صحافت کی جگہ کوئی اورپیشہ اپنانا چاہیے۔ معتدل، سچے اور غیرجانبدار میڈیاہاؤس اور صحافیوں کو بڑا کریڈیٹ جاتا ہے لیکن کرائے پر مہم جوئی کرنے والوں کابھی فائدہ ہے۔ معتدل اس طرح سے جرأتمندی کا مظاہرہ نہیں کرسکتے جس طرح فواد چوہدری کے سامنے مطیع اللہ جان کھڑے ہوگئے ۔حالانکہ فواد نے مبشر لقمان اور سمیع ابراہیم کو تھپڑ تک رسید کردئیے۔
قراردادمقاصد اور آئین پاکستان میں اقتدارِ اعلیٰ کا حق اللہ اور خلافت کا حق حکمران کاہے۔ آدم کو زمین میں خلیفہ بنایا تھا۔ جس شجر سے اللہ نے روکا ۔ شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ کیا میں ہمیشہ والا شجر بتادوں اور ایسی بادشاہت جونہ ختم ہونیوالی ہو؟۔ حضرت آدم کو شیطان نے ورغلایا۔اقتدار حقیقت میں اللہ کیلئے ہے اور جب کوئی اس کو اپنے لئے دائمی اور خاندانی سمجھنے لگتاہے اور اس کی حرص میں مبتلا ء ہوجاتا ہے تو یہ وہ شیطانی کھیل ہے جس کی وجہ سے آدم وحواء ننگے ہوگئے تھے ۔ قرآن میں اللہ نے بنی آدم سے کہا کہ تمہیں شیطان ننگا نہ کردے کہ جیسے تمہارے آباء کو ننگا کردیا تھا۔ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کو زبردستی قیامت تک اپنی دائمی بادشاہت قائم رکھنی تھی ۔پھر عوام نے ان کو ایسے عبرتاک انجام سے دوچارکردیا تھا کہ کربلا کے مظالم بھی لوگ بھول گئے تھے۔ تین سفیانوں کے مقابلے میں تین مہدیوں کا ذکر ہے اوراچھے برے شجرے کی حقیقت آخر کار پھر عوام کے سامنے ضرور آئے گی۔مولانا الیاس گھمن کے ساتھی مفتی رضوان کا نیٹ پر انٹرویو دیکھا ۔اس نے کہا کہ” حضرت حسن و حضرت حسین ہمارے ایمان کا حصہ ہیں اور یزید تاریخ کا حصہ ہے۔ تاریخ کو ہم ایمان پر مقدم نہیں رکھ سکتے۔ یزید واقعہ کربلا میں خود ملوث تھا یا نہیں ؟۔ اس پر ہمارے اکابر نے سکوت اختیار کیا”۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ”ا گر دریائے فرات کے کنارے کتا پیاس سے مرے تو ذمہ دار عمر ہوگا”۔یزید کی حکمرانی میں واقعہ کربلا ، اہلبیت کے بچے ، بیمار اور خواتین کو زنجیروں میں باندھ کر اور امام حسین کے کٹے ہوئے سر کو یزید کے دربار میں پیش کیا اور یزیدنے دانت مبارک اپنی تلوار سے کٹکٹائے کہ مقابل نہ آتا تو یہ انجام نہ ہوتا۔ اور اس پر سکوت اختیار کیا جائے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت راشدہ کا عدل وانصاف نہیں چاہیے بلکہ جن کو شیطان نے اپنے دائمی حکومت کی خوہش سے ننگاکیا تھاوہی اقتدار چاہیے۔ بقیہ صفحہ 2نمبر2

بقیہ : ہمارا سیاسی وریاستی نظام اور محمد علی جناح کا دیا ہوا پاکستان
قرآن میں کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال شجرہ خبیثہ سے دی گئی اور بنوامیہ، بنوعباس، خلافت عثمانیہ، مغل سلطنت، فاطمی خلافت، خاندانِ غلاماں اور ایران، سعودی عرب اور افغانستان کے علاوہ تمام خاندانی بادشاہتیں در اصل شجرہ خبیثہ کی طرح تھیں، ہیں اور رہیں گی جو بھی ان کے نقش قدم پر چلتا رہے گا۔ حضرت علی کے بیٹے حسن نے مسنداقتدار کو چھوڑ کر شجرہ طیبہ کی مثال قائم کردی۔ آدم کے بیٹے قابیل نے شجرہ خبیثہ کی بنیاد رکھ دی اور ہابیل نے شجرہ طیبہ کا نقشہ بتادیا کہ قدرت رکھنے کے باوجود ظالم بننے کی جگہ مظلومیت کو ترجیح دے دی۔ نوازشریف، شہبازشریف سے لوگ اسلئے نالاں تھے کہ ایک بھائی وزیراعظم اور دوسرا پنجاب کا وزیراعلی بنتا تھا اور اب حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ پنجاب اور شہباز شریف کی وزیراعظم کی خواہش نے پھر شجرہ خبیثہ کی یاد تازہ کردی۔ کوئی عقلمند شجرہ خبیثہ سے تعلق رکھتا تو بھی مسلم لیگ ن میں نئی شامل ہونے والی منتخب آزادرکن اسمبلی محسن جگنو کووزیراعلیٰ بناتا مگر حمزہ شہباز کو بنانے سے گریز کرتا۔ اسلئے کہ کسی بھی عوامی جماعت پر خاندان کی اجارہ داری شرمناک ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنے بیٹے کی جگہ جماعت کے کسی سینئر رکن پارلیمنٹ کو آگے نہیں لاسکتا تھا تو سگے بھائی مولانا عطاء الرحمن کوہی آگے لاتا۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں خاندانی اقتدار کا دوام کھلی غلط خواہش ہے جس کی وجہ سے حضرت آدم کو بھی شیطان نے وسوسہ ڈال کر جنت سے نکلوادیا تھا۔ محمود خان اچکزئی کی بات سوفیصد درست تھی کہ ”کم بختو! قیادتیں بنائی نہیں جاتی ہیں بلکہ پیدا ہوتی ہیں”۔ بھٹو، نوازشریف اور عمران خان ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویزمشرف کے کالبوت میں رکھ کرہی بنائے گئے تھے اور قیادتوں کیلئے خاندانی کاشت فرعون کی شجرہ خبیثہ ہوسکتی ہے۔ خلافت راشدہ کا معیار خاندانی امتیاز نہیں بلکہ کردار اور عوامی رائے کا معاملہ تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے بجائے قریش سے نبیۖ کی بعثت ہوئی تو اس میں خاندانی اجارہ داری کی جگہ نبوت کا شجرہ طیبہ کا معاملہ تھا اور نبیۖ کے بعد بنوہاشم کی جگہ بنوتمیم سے حضرت ابوبکر صدیق اکبر کی خلافت بھی شجرہ طیبہ سے تعلق رکھتا تھا۔ حضرت علی بنادئیے جاتے تو قیامت تک خاندانوں کی فرعونیت کا معاملہ اسلام کے گردن میں فٹ کرنے کی کوشش کی جاتی۔
مولانا فضل الرحمن حدیث سناتاہے کہ ”جس حکمران نے عوامی رائے کے بغیر خود کو زبردستی سے مسلط کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہو”۔ ایک حدیث جمعہ کے خطبات میں پڑھی جاتی ہے کہ ” سلطان زمین پر خدا کا سایہ ہے اور جس نے سلطان کی توہین کی اس نے اللہ کی توہین کی ”۔ اس حدیث کو بھی جمعہ کے خطبے کا حصہ بنادیا جاتا کہ زبردستی سے اقتدار پر قابض ہونے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔ جہاں بھی سازشوں، خاندانی قبضہ مافیا اور ڈکٹیٹر شپ سے کسی کو اقتدار ملتا ہے تو مولوی حسنِ قرأت سے آیت پڑھتا ہے کہ ” اللہ ملک کا مالک ہے وہ جس کو چاہتا ہے ملک عطاء کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتاہے اور جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے”۔ اگر فرعون کے زمانے میں حضرت موسیٰ کو بھاگتے اورہمارامولوی موجودہوتا تب یہ آیت پڑھتا۔
قائداعظم محمد علی جناح اور انکے ساتھیوں نے اپنی مادر وطن ہندوستان سے وفاداری نہیں کی تھی بلکہ دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر مادروطن ہندوستان کو تقسیم کرکے قربان کیا تھا اور مولانا حسین احمد مدنی کو وطن پرست ہونے کی بنیاد پر علامہ اقبال نے ابولہب قرار دیا تھا۔ نبیۖ نے مکہ مکرمہ سے یثرب ہجرت کرنے پر ترجیح دی تھی اور حضرت اسماعیل کوبھی حضرت ابراہیم نے بچپن میں ہجرت کی راہ پر ڈالا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے بھاگ کر جان بچائی تھی ۔پھر اپنی قوم کو دریا پار لے گئے تھے۔ پاکستان بنا تو مہاجرین اور قائدین نے ہجرت کی تھی اور جن علاقوں نے پاکستان اور نظرئیے کو ووٹ دیایہاں تشریف لائے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن علاقوں نے پاکستان کو ووٹ دیا تھا اور جس میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بھی شامل تھا۔ جب وہاں کی پارٹی جیت گئی تو اس کو ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں نے اقتدار سپرد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کئے۔ جس کی وجہ سے ملک ٹوٹ گیا تھا۔
آج بنگلہ دیش کی کرنسی ہماری کرنسی سے زیادہ حیثیت رکھتی ہے۔ ہماری تمام حکومتوں نے ڈالر کی قیمت کے سامنے اپنے روپیہ کو بے وقعت بناتے بناتے آخر یہاں تک پہنچادیا ہے کہ بنگالی ٹکے نے بھی روپیہ سے سبقت لے لی ہے۔ تیس سال سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی ذمہ دار تھے اور اب پونے چارسال سے تحریک انصاف نے اسی پگڈنڈی پر چل کر تنزلی کا سفر جاری رکھا ۔ صحافی نے شہباز شریف سے پوچھا کہ آپ کیا بہتری لائیں گے تو اس کا جواب یہ تھاکہ عمران خان سے پوچھ لو جو کہتا تھا کہ ہرچیز کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے۔
ہماری حکومت اور ریاست واقعی اللہ کا سایہ ہے اور اللہ باقی رکھے کیونکہ جس طرح دہشتگردی کا مقابلہ ہماری پاک فوج اور پاک پولیس نے کیا عوام مقابلے کی صلاحیت سے محروم تھی۔ البتہ گڈ طالبان اور بدمعاش بھی ریاست اور حکومت پالتی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں تمام قسم کے جرائم بھی بڑی ڈھڑلے سے ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ جبری جنسی زیادتی اور اغواء برائے تاوان سے لیکر ہیروئن ، چرس ،افیون ،چائے، ایرانی تیل،کپڑے،ادویات اورصاف شفاف پانی تک کی سمگلنگ ہورہی ہے اور ان کے پیچھے کس کس کا ہاتھ ہے؟۔ یہ کسی بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ کے صدیق کانجو کے بیٹے اور جام عبدالکریم کے ہاں غریبوں کا قتل اور مجبوری میں معافی میڈیا میں بھی زیادہ نہیں اچھالا جاتا ہے اور جب میڈیا مجید اچکزئیMPAکے قتل کو اچھالتی ہے تب بھی ایک غریب ٹریفک پولیس کے اہلکار شہید کو انصاف نہیں ملتا ہے۔
جب بلاول بھٹو زرداری کے والدین کی شادی نہیں ہوئی تھی اور بینظیر بھٹو آنسہ کہلاتی تھی تو میں نے1984میں جمعیة اعلاء کلمة الحق کے نام پر جماعت بنائی تھی اور کوشش کی تھی کہ جماعت کا امیر کسی دوسرے کو بنایا جائے مگر اس میں کامیاب نہیں ہوسکا تھااور جب عمران خان کرکٹ کھیلتا تھا اور ورلڈ کپ بھی نہیں جیتا تھا تو میں نظام کی تبدیلی کیلئے ڈیرہ اسماعیل خان1991میں ایک سال بامشقت جیل کی سزا کاٹ رہا تھا۔ جب نواز شریف جنرل ضیاء الحق کا کٹھ پتلی تھا تو بھی نام نہاد اسلامی جمہوری اتحاد کی جگہ میں نے مولانا فضل الرحمن کو باقاعدہ اپنا شاختی کارڈ بنواکر ووٹ دیا تھا۔ حالانکہ میں نے اپنا شناختی کارڈ تصویر کو جائز نہ سمجھنے کی وجہ سے ضائع بھی کردیا تھا۔ مولانا عبدالکریم بیرشریف نے بھی شناختی کارڈ کیلئے اپنی تصویر نہیں کھچوائی تھی جو جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر تھے اور اس سے پہلے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا سراج الدین دین پوری نے جمعیت چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن جمعیت میں حیثیت عہدے کی نہیں شخصیت کی ہے اوریہ فطری بات ہے لیکن شخصیت کو اپنے خاندانی تسلط قائم کرکے یزید سے بدتر کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ۔یزید کے بیٹے معاویہ نے خاندانی قبضہ کرنے کے بجائے اقتدار کو چھوڑ دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کے کارکن جن لوگوں سے مولانا کیلئے لڑرہے تھے انہی کو مولانا نے کارکنوں پر مسلط کر دیا ہے۔ بہتر ہے کہ جمعیت علماء اسلام عوام سے کھلواڑ کرنے کے بجائے مریم نواز کی جماعت میں باقاعدہ ضم ہوجائے۔ مولانا نے حافظ حسین احمد کے مدِ مقابل مولانا غفور حیدری کو سپورٹ کرکے کٹھ پتلی جنرل سیکرٹری بنادیا تھا اور ابھی تک اپنی نااہلی کے باوجود اسی کی پشت پناہی سے مسلسل منتخب ہورہاہے۔
جب عمران خان کے کارکنوں کی طرف سے ہلڑبازی کا خدشہ تھا تو مریم نواز نےPDMکے پلیٹ فارم کو چھوڑ کر ن لیگ کے کارکنوں کو لاہور میں روک دیا تھا اور مارکٹائی کرنے اور کھانے کیلئے جمعیت علماء اسلام کے کارکن پہنچائے گئے تھے۔ جب ایک جماعت ہوگی تو کم ازکم فرنٹ لائن کا کردار تو ادا نہیں کریںگے اور جب مار کھانی اور کھلانی ہوگی تو سب ایک جگہ جینے مرنے کا دم بھریں گے۔ جب قومی اسمبلی میں ختم نبوت کی شقوں کے خلاف ن لیگ کی حکومت نے بڑی سازش کی تھی تو مولانا فضل الرحمن بھی اس کے اتحادی تھے۔ قومی اسمبلی سے بل پاس ہوگیا تھا اور سینٹ میں حافظ حمداللہ نے اس کی نشاندہی بھی کی تھی لیکن جب اتفاق سے سینٹ میں بل پاس نہ ہوسکا تو سینٹ وقومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں بل پیش کیا گیا۔ شیخ رشید چیخ چیخ کرجمعیت علماء اسلام کو سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی قربانیاں یاد دلاتے رہے لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہاتھا۔ پھر علامہ خادم حسین رضوی نے فیض آباد دھرنہ دیا تھا۔ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام اور دوسری چھوٹی بڑی پارٹیاں بھی خاموش تھیں۔ صرف اور صرف جماعت اسلامی نے شیخ رشید کی دھائی سن لی تھی اور آواز اٹھائی تھی۔
جمعیت علماء اسلام کی تو سیاست ہی ختم نبوت کا دفاع ہے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری اتنا کم عقل ہے کہ جلسے میں قاری محمد حنیف جالندھری کی موجودگی میں کہہ رہاتھا کہ ”میرا دل بیٹھا ہوا تھا کہ اگر سینٹ سے یہ بل پاس ہوجاتا تو مجھے چیئرمین سینٹ کی غیرموجودگی میں چیئرمین کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑتے لیکن شکر ہے کہ بل پاس نہیں ہوسکا تھا”۔ شاید نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو قادیانی سمجھ رکھا تھا اور اس کی خوشنودی کیلئے یہ ترمیم کی جارہی تھی۔ اللہ اور اسکے رسول ۖ کیلئے تو یہ خدمت نہیں ہوسکتی تھی۔یہ بات کرتے ہوئے سادہ لوح ، کم عقل اور بیوقوف انسان اتنا بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ رنگے ہاتھوں اعتراف جرم کررہاہوںاور ساتھ ساتھ یہ کہنے پر نہیں شرمارہاتھا کہ” ہم اسمبلیوں میں دین کے تحفظ کیلئے بیٹھے ہیں”۔ تقریب میں قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ ”کورٹ سے خلع لینے کا تصور غلط ہے اور اسکے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلائیں گے”۔ کہا جاتا تھاکہ مفتی محمود نے جنرل ایوب خان سے ایک لاکھ روپیہ لیکر عائلی قوانین کے خلاف مزاحمت نہیں کی تھی جن میں عدالت سے عورت کو خلع مل گیا ۔ مفتی محمود نے فقہ کے غلط مسائل دیکھ کر عدالتی خلع کی مزاحمت نہیں کی ہوگی۔ مولانا اشرف علی تھانوی جس اسلام کیلئے تقسیم ہند کی حمایت کررہے تھے تو اس کی وجہ خلع کے غیرفطری مسائل فقہ کا حصہ تھے لیکن مولانا حسین احمد مدنی نے ان فقہی مسائل کی تقلید کے مقابلہ میں متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں اور سکھوں کیساتھ مل کر سیکولر ریاست بنانے کو ترجیح دی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو کو اسلامی دنیا نے اسلئے ترجیح دی تھی کہ وہ پاکستان جیسے ملک کا وزیراعظم تھا، بھٹو کی شخصیت سے ملک کابڑا عمل دخل تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی بھی اسلامی دنیا میں بڑی حیثیت تھی۔ عمران خان کو ترکی ، ایران، ملائشیا اور دیگر ممالک نے اہمیت دی لیکن سعودی عرب نے اشارہ کیا تو بیٹھ گیا تھا۔ یہ اسلامی ممالک کو دوبلاکوں میں تقسیم کرنے کاا یجنڈہ تھا۔
اسلام نے پنجاب کے بھانڈ اور سندھ کے مداری پیدا کرکے دنیاکی قیادت نہیں کی تھی بلکہ عملی طور پر مساوات کا راسخ عقیدہ دیا تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو بہتان لگانے والوں کیلئے اسی اسی کوڑوں کی سزا کا حکم دیا گیا اوریہ حکم امہات المؤمنین کیساتھ خاص نہیں ہے بلکہ عام درجے کی خاتون پر کوئی بہتان لگائے تو اس کیلئے بھی وہی سزا ہے جو نظریہ ٔ ضرورت کے تحت بدل نہیں سکتاہے۔ جب قیصرو کسریٰ کے شاہی تختوں اور درباروں میں اس انصاف ، قانون اور عقیدے کی گونج پہنچ گئی تو بادشاہ، ملکہ اور درباری ہل کررہ گئے۔
آج مریم نوازجمعیت علماء اسلام کے جن کارکنوں میں اسٹیج کی رونق بنتی ہے وہ کارکن اپنی بیگمات اور ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو کسی قیمت پر اس طرح اسٹیج پر نہیں لائیں گے لیکن عدالت میں معزز خواتین کی ہتک عزت کی کیا قیمت ہے ؟ اور مریم نواز کی ہتک عزت ہوجائے تو اس کی کیا قیمت ہے؟۔ مریم نواز اربوں میں دعویٰ کرے گی اور ان غریب اور عزت دار خواتین کو عدالتوں سے اتنا بھی معاوضہ نہیں ملے گا جتنے معاوضے پر وہ عدالت اور وکیل کی فیس بھر سکیں۔ اگر مریم نواز پر کروڑوں کی ہتک عزت کا دعویٰ ہوجائے تو وہ پل بھر میں ادا کردے گی۔ کیونکہ اس کا شوہر عام کیپٹن نہیں ہے بلکہ شریف خاندان کا داماد ہے جس نے ملک لوٹ لیا ہے لیکن اگر کبھی جمعیت کے غریب کارکنوں کوایک لاکھ کے جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑے تو انکے پاس یہ رقم نہیں ہوگی۔ موجودہ غیر اسلامی اور غیر عوامی ہتک عزت کے قوانین میں انصاف کہاں ہے؟۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کو آئین میں اسلام کی فکر نہیں بلکہ اپنے مفادات کی فکر ہے۔ اگر عوام اور اسلام کا خیال ہوتا تو ہتک عزت میں80،80کوڑوں کی سزاؤں کو نافذ کیا جاتا جو سب کیلئے یکساں ہے اور پاکستان میں اس پر عمل ہوجاتا تو عرب بادشاہوں کی شلواریں بھی گیلی ہوجاتیں۔ اس قانون کے نفاذ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کا ڈنکا بجے گا۔ عزت جان اور مال پر بھی مقدم چیز ہے۔
قرآن میں توراة کے حوالے سے جان کے بدلے جان کی بات ہے لیکن پھر یہودیوں نے توراة سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے یہود کے بدلے میں کسی غیر یہودی کو قتل کرنا ٹھیک قرار دیا لیکن یہودی کو غیر یہودی کے بدلے میں قتل کرنا غلط قرار دیا۔ آج اسرائیل میں اللہ نے ان کا اصل چہرہ عوام کو دکھانا تھا اور امریکہ نے گوانتاناموبے میں جو مظالم مسلمانوں کیساتھ روا رکھے وہ بھی پوشیدہ نہیں ہیں۔ مسلک حنفی نے کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کرنے کا اسلام باقی رکھا لیکن باقی تین مشہورفقہی مسالک مالکی، شافعی اورحنبلی کے ہاں کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کرنے کی یہودی تحریف اسلام میں داخل ہوئی۔ پاکستان میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے اور اپنے بگڑے ہوئے مذہبی مسائل کو درست کرکے پاکستان کو عالم انسانیت کی قیادت پر پہنچایا جاسکتا ہے۔عربوں اور امریکہ میں تکبر ورعونت کے باعث ابلیس کی صفات داخل ہوگئی ہیں اور ہمارا پاکستانی معاشرہ تکبر ورعونت کی صفات سے پاک ہے اسلئے پاک فوج کا موجودہ سپاہ سالارجنرل قمر جاوید باجوہ بھی تواضع وانکساری کی ایک تصویر نظر آتا ہے۔ البتہ اوریا مقبول جان جیسے لوگوں سے بچ کے رہنا چاہیے۔ غلط اعداد وشمار سے قوم کو دھوکے میں رکھنے سے زیادہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اصل اسلام کے احیاء سے پاکستان میں ایک انسانیت کا انقلاب آسکتا ہے جو بحرانوں سے نکال دے گا۔
رضاربانی نے روتے ہوئے ووٹ کو پارٹی کی امانت قرار دیکر ضمیر کے خلاف دیا توان کی دیانتداری مانی گئی لیکن حلف میں کہا جاتاہے کہ ”میں ملک اور اسلام کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اپنے ذاتی ، گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر استعمال کروں گا”۔ آئین وحلف اورقول وفعل میں بلا کے تضادات ہیں۔
عمار علی جان اور عروج اورنگزیب با صلاحیت شخصیات ہیں اور ان کے ساتھی بھی جذبات سے بھرپور ہیں۔ اسلام نے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کا مکمل خاتمہ کیا تھا۔ عورت کو زبردست آزادی اور تحفظ فراہم کیا تھالیکن سب کچھ مذہبی طبقات نے اپنے موٹے موٹے پیٹ میں تباہ کردیا۔صحیح احادیث میں ہے کہ جب سود کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو نبیۖ نے پھر زمین کی مزارعت کو بھی سود قرار دیکر پابندی لگادی تھی۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل سب متفق تھے کہ زمین مزارعت پر دینا سود ہے لیکن جس طرح آج کے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے سودی بینکاری کو حیلے سے جواز بخشا ہے ،اسی طرح پہلوں والوں نے مزارعت کو جواز بخش دیا تھا۔ ججوں، سیاستدانوں، جرنیلوں ، علماء ومفتیان ، صحافیوںاور معاشرے کے کسی بھی طبقے اور شخصیات کو برا بھلا کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سب ایک ماحول کا حصہ ہیں اورمثبت اسلامی اور انسانی معاشرے کو ہرکوئی پسند کرے گا۔ جب گڑ سے اس باطل نظام کی روح ماری جاسکتی ہے تو زہر کھلانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ کسی ایک طبقے کو بر ابھلا کہہ کر اپنے نمبر بنانے کی کوشش کا رواج اور رحجان بھی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہوا میں تیر چلانے کا کیا فائدہ ہے؟۔ معاشرے میں افراتفری پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں جسکا بڑا نقصان ہے۔وقت پر تیر نشانے پر مارا جائے تو بات بن جائیگی۔ انشاء اللہ ۔عتیق گیلانی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مفتی محمد تقی عثمانی چالاک پرندے کی طرح دونوں پیروں سے پھنس گئے

مفتی محمود کی وفات کا واقعہ
بٹوہ لیتے تھے کہ لاؤ بھئی پان کھائیں گے تمہارا!پھرایکدم یہاں ہاتھ رکھا اور ختم؟
مفتی محمد تقی عثمانی چالاک پرندے کی طرح دونوں پیروں سے پھنس گئے

مفتی تقی عثمانی نے اپنی سابقہ تحریر اور مولانا یوسف لدھیانوی کی تحریر کے برعکس جھوٹ بولا۔زکوٰة کا مسئلہ اسلام کو بدلنا اور غریبوں کا بڑا قتل تھا

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے یوٹیوب کے تازہ آڈیو بیان میں کہا ہے کہ
حضرت مولانا مفتی محمود جوبہت مشہور عالم ہیں اور بڑی شہرت اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اور بڑا کام کیا انہوںنے، تو ایک مرتبہ زکوٰة کا ایک مسئلہ تھا جس میں ہماری طرف سے جو فتویٰ جاری کیا گیا تھا اس میں اور حضرت مفتی محمود نے جو فتویٰ جاری کیا تھا اس میں کچھ اختلاف ہوگیا کہ ہمارا فتویٰ کچھ اور تھا ان کا کچھ اور تھا۔ حضرت مفتی صاحب سفر کرکے عمرے کیلئے تشریف لے جارہے تھے۔ اور یہاں بنوری ٹاؤن کے مدرسے میں تشریف فرما تھے ، اگلے دن عمرے کو جانا تھا۔ تو انہوں نے اپنی شفقت سے ہمیں بلایا کہ بھئی آکر ذرا اس موضوع پر بات کرلیں آپس میں۔ اور جو تمہارا مؤقف ہے تم بیان کردو جو ہمارا ہے ہم بیان کردیں پھر دیکھیں کوئی راستہ اتباع کرنے کے لائق۔ تو بھائی صاحب حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب اور میں ہم دونوں گئے بنوری ٹاؤن۔ حضرت مفتی صاحب کا معاملہ بڑا شفقت کا تھا۔ اور اتنا پیار تھا یعنی گفتگو میں اور ہر چیز میں تو انہوں نے، وہ بھی پان کھاتے تھے۔ ہم بھی پان کھاتے تھے۔ اور مفتی صاحب بعض اوقات اپنی بے تکلفی میں میرے پاس پان کا وہ ہوتا تھا نا ڈبہ بٹوہ، چھوٹا سا ہوتا تھا ، اب تو وہ کم ہوگیا ہے معاملہ۔ پہلے تو بہت کھاتا تھا میں تو اس وجہ سے اس میں رکھ کر لے جاتا تھا کہیں جانا ہوتا تھا تو۔ تو حضرت مفتی صاحب کی عادت تھی یعنی شفقت کی وجہ سے کہ خود ہی ہاتھ بڑھا کر وہ بٹوہ لے لیتے تھے۔ لاؤ بھئی پان کھائیں گے تمہارا۔ اس طرح بالکل یعنی خوش بخوش اور بہت ہی نشاط طبع کوئی طبیعت میں ادنیٰ بھی کوئی کمزوری نہیں تھی۔ اور پان بھی لیا اور اس کے بعد پھر بات چیت بھی شروع کی۔ اور بات چیت شروع کرتے کرتے ایک دم سے یہاں ہاتھ رکھا اور ختم۔ ایک دم سے یہاں ہاتھ رکھا اور گر گئے۔ ہم لوگ اٹھا کر لے کر گئے ہسپتال تو ہسپتال میں کہا گیا کہ یہ تو ختم ہوچکے ہیں۔ بیٹھے بیٹھے بات کرتے ہوئے ، عمرے کا سفر تیار اور یعنی آدمی اگر بیمار ہو تو عمرے کا سفر تو نہیں کرے گا نا۔ لیکن کوئی بیماری نہیں تھی کوئی پریشانی نہیں تھی اور بیٹھے بیٹھے ختم ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اب ہم دیکھتے ہی رہ گئے کہ بات کرتے کرتے کرتے اچانک ، ہاتھ یہاں رکھا سر پر بس اور گر گئے۔
مفتی محمود کی وفات پر مشہور تھا کہ مفتی محمود کو علماء نے پان میں زہر دیکر شہید کردیا ۔کراچی جلسۂ عام میں مفتی محمود نے جنرل ضیاء الحق کو رئیس المنافقین قرار دیا تھا۔ قاری شیرافضل خان نے نعرہ لگایا کہ مرزائی نواز مردہ باد۔ تو مفتی محمود نے کہا کہ ”مرزائی نواز مت کہو ،مرزائی کہو”۔ مولانا انس نورانی نے اسلام آبادPDMکے جلسے میں جنرل ضیاء الحق کو رئیس المنافقین قرار دیا ۔جنرل ضیاء الحق نے مفتی تقی عثمانی کو لائبریری کیلئے خطیر رقم اور دارالعلوم کراچی کے مغرب کے سائیڈ کا بہت بڑا پلاٹ دیا ۔ جنرل ضیاء نے بینکوں کے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کا حکم جاری کیا تو مفتی محمود سمیت پاکستان بھر کے علماء نے مخالفت کی تھی۔ رئیس المنافقین اور مرزائی قرار دیا لیکن سرکاری مرغوں مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی نے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا۔اس وقت ان دونوں بھائیوں کی حیثیت مفتی محمود کے سامنے بچوں کی طرح تھی۔ مفتی محمودنے زکوٰة کے مسئلے پر ان کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی بلایا اور مسئلے میں کوئی ابہام بھی نہیں تھا۔ اگر دس لاکھ پر سالانہ ایک لاکھ سود ملے ۔ دس لاکھ محفوظ اور75ہزار سود ملے اور25ہزار زکوٰة کے نام پر کٹ جائیں تو زکوٰة کی ادائیگی کہاں سے ہوگی؟۔ مولانا فضل الرحمن جلسوں میںمدارس کیلئے اس زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتا تھا۔ختم نبوت کے نام پر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور ملک بھر کے علماء کرام نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک چلائی تو جنرل ضیاء کو” امتناع قادیانیت آڈرنینس ”نافذ کرنا پڑا تھا۔جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا شیر محمد دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا مفتی تقی عثمانی پر برہم رہتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالحی سے قادیانی جنرل رحیم الدین کی لڑکی کا جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح پڑھوایا اور مفتی محمود کو پان میں زہر دیکر قتل کردیا تھا۔ جب البلاغ دارالعلوم کراچی میں مفتی تقی عثمانی کی وہ تحریر پڑھی تھی جو اس نے مفتی محمود کی وفات پر لکھی تھی تو مجھے اپنے استاذ مولانا شیرمحمد سمیت سب لوگوں پر بہت غصہ آیا تھا کہ اتنا بڑا جھوٹ کیسے مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی پر لگادیا ہے اسلئے کہ اس تحریر سے پان کھلانے کا شائبہ تک بھی ختم ہوجاتا تھا۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا تھا کہ ” جب ہم دونوں بھائی مفتی محمود کے ہاں بنوری ٹاؤن پہنچے تو ہمیں چائے پیش کی گئی ۔ میںنے کہا کہ ہم دونوں بھائی دن بھر میں ایک مرتبہ چائے پیتے ہیں ، پھر سارا دن نہیں پیتے۔ مفتی محمود نے کہا کہ میں خود زیادہ چائے پیتا ہوں لیکن اگر کوئی کم چائے پیتا ہو تو میں اس کو پسند کرتاہوں۔ میں نے پان کا بٹوہ دکھایا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہے۔ مفتی محمود نے کہا کہ یہ تو چائے سے بہت بدتر ہے۔ پھر مفتی محمود نے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا تو تھوڑی دیر بعد ان پر غشی طاری ہوگئی۔ فلاں نے ہاتھ اور فلاں نے پیر ملے اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا تھا”۔ مفتی تقی عثمانی کی اس تحریر کے پڑھنے کے بعد کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلایا ہوگا۔ میزبان کی چائے کی دعوت ٹھکرانے ،پان کو علت اور بدتر قرار دینے کے بعد ایک برخودار جیسی حیثیت رکھنے والا مفتی تقی عثمانی کس طرح مفتی محمود جیسے بزرگوار کوپان کھلانے کی پیشکش کرسکتا تھا؟۔ اسلئے پان کھلانے کی ساری کہانی بہت بھونڈی حرکت لگی تھی۔ پہلے یقین اسلئے کیا تھا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو بھی پان میں زہر کھلایاگیا تھا۔ البتہ جب اقراء ڈائجسٹ مفتی محمود وبنوری نمبر میں نہ صرف مفتی تقی عثمانی کی یہ تحریر چھپ گئی بلکہ مولانا یوسف لدھیانوی کی بھی وہ تحریر شائع ہوئی جو مفتی محمود کی وفات پر انہوں نے لکھی تھی۔ جس کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ اس میں مفتی تقی عثمانی کا پھر اصرار کرکے پان کھلانے کا بھی لکھ دیا تھا اور ساتھ میں دوسرے بھائی مفتی رفیع عثمانی کادورۂ قلب کی خصوصی گولی حلق میں ڈالنے کا بھی لکھ دیا تھا۔ جب ہم نے اپنی تحریرمیں یہ معلومات شائع کردیں تو مولانا یوسف لدھیانوی نے فرمایا تھا کہ ” مفتی تقی عثمانی سے مجھے ڈانٹ پلوادی ہے کہ کیا ضرورت تھی پان کھلانے اور گولی حلق میں ڈالنے کی بات لکھنے کی ؟۔ مجھے پھنسا دیا ہے”۔ مولانا یوسف لدھیانوی خوش تھے اسلئے کہ حاجی محمد عثمان پر فتویٰ لگانے سے بھی وہ سخت ناراض تھے اور ان کی طرف جھوٹا فتویٰ لکھ کر منسوب کیا گیا تھا۔ حاجی عثمان کے وکیل نے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا تو مفتی تقی عثمانی نے سارا جھوٹ اپنے سر لیا تھاکہ ” ہم نے نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا ہے”۔ اب تو اپنے بیان سے بالکل رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔
سودی نظام کو حیلے سے اسلامی قرار دینے پر مدارس کے علماء و مفتیان نے مفتی تقی عثمانی کو انفرادی فتویٰ جاری کرنے سے روکنے کیلئے اپنا اجتماعی کردار ادا کیا لیکن بینکوں سے معاوضے لینے والوں نے اپنے مفاد کی خاطر اپنے اساتذہ اور بڑوں کی سنی ان سنی کردی۔بڑی غلط بیانی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے یہ کی کہ ”مفتی محمود پان کھاتے تھے اور مجھ سے پان کا بٹوہ لیتے تھے کہ لاؤ بھئی ہم تمہارا پان کھائیںگے”۔حالانکہ پان اور نسوار میں بڑا فرق ہے۔ پان چھپا کر کھانے کی گنجائش نہیں جبکہ نسوار کی گنجائش ہے۔ باپ بیٹا ، استاذ شاگرد اور بڑا چھوٹااکٹھے پان کھائیں تو ان میں شرم و حیاء اور ایکدوسرے سے تکلف نہیں ہوتا۔ نسوار میں ایکدوسرے سے چھپ چھپاکر حیاء وشرم اور لحاظ رکھاجاسکتا ہے۔
پہلے رمضان کے مہینے میں لوگ نماز، روزہ کی طرح زکوٰة کو فرض سمجھ کر اپنی ذمہ داری پوری کرتے تھے۔ بڑے پیمانے پر امیر لوگ غریب ومستحق لوگوں میں زکوٰة کی رقم تقسیم کردیتے تھے۔ جبکہ بعض لوگ سود کی رقم کو بھی بینک سے نکال کر غریبوں میںتقسیم کردیتے تھے اور مولوی حضرات اس سے مساجدو مدارس کے غسلخانے اور لیٹرین بناتے تھے۔ حکومت کے کارندے زکوٰة کی رقم بھی بڑے پیمانے پر کھا جاتے ہیں اور اس کی ذمہ دار ی مفتی تقی عثمانی پر عائد ہوتی ہے۔مفتی تقی عثمانی کے فتوے نے پہلے غریبوں پر زکوٰة کی رقم کا راستہ بند کردیا۔ پھر سودی رقم کیلئے اسلامی منافع کا نام دیکررہی سہی کسر بھی پوری کردی۔جس کی وجہ سے لوگوں میں زکوٰة کی ادائیگی اور سود کی حرمت کا تصور بھی ختم ہوگیا۔ اسلام کو بدل ڈالااور غریبوں کو بھوک کی طرف دھکیل کرانکا معاشی قتل عام کیا۔ پھر لوگوں نے مدارس، فلاحی اداروں ، تنظیموں اور مختلف ذرائع سے زکوٰة، خیرات اور صدقات کے نام سے اپنے لئے منافع بخش کاروبار شروع کردیا۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے پہلے علامہ سید سلیمان ندوی اور مولانا ابوالکلام آزاد کی طرف سے کیمرے کی تصویر کو جائز قرار دینے کے خلاف فتویٰ دیاپھر پاکستان بننے کے بعد ریاست، تجارت اور دیگر معاملات کیلئے جائز قرار دیدیا۔مولانا شیرمحمد دار العلوم کراچی میں پڑھتے تھے تو مفتی شفیع نے مفتی تقی عثمانی اورمفتی رفیع عثمانی کیلئے دارالعلوم کراچی کی وقف شدہ زمین میں مکان خریدے تھے اور مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اسکے خلاف فتویٰ دیا تواسکی زبردست پٹائی لگوا دی تھی۔
٭٭٭

مدارس کے نصاب کو تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کا بیان
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے تازہ بیان میں مفتی محمود کی وفات پر تبصرے کے علاوہ مدارس کے نصاب کی تبدیلی کی ضرورت پربھی زور دیکر کہا ہے کہ وفاق المدارس پاکستان کے پہلے صدر مولانا شمس الحق افغانی نے تقریباً50یا60سال پہلے کہا تھا کہ مدارس کا موجودہ نصاب مغربیت کا مقابلہ نہیں کرسکتاہے ۔
فاضل دارالعلوم دیوبند پیر مبارک شاہ نے کانیگرم جنوبی وزیرستان میں سکول کھولا۔ اکوڑہ خٹک کا دینی مدرسہ بعد میں بنا۔مولانا عبدالحق نے پہلے سکول کھولا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے1920میں مالٹا کی رہائی کے بعد اپنی وفات سے پہلے حکیم اجمل خان کی یونیورسٹی کا افتتاح کیا۔ جب مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے تو ملک بھر سے علماء کی میٹنگ بلائی تھی کہ مدارس کے نصاب تعلیم کو تبدیل کرنا ضرور ی ہے ،جس سے علمی استعداد نہیں بنتی، اس نصابِ تعلیم کی وجہ سے ذہین لوگ کوڑھ دماغ بنتے ہیں۔1983میںجو طلبہ فاروق اعظم مسجد ناظم آباد مولانا قمر قاسمی کے ہاں جمعہ کے دن میٹرک پڑھنے جاتے تھے تو دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاؤن اورجامعہ فاروقیہ شاہ فیصل نے ان کو خارج کردیا تھا۔ دارالعلوم کراچی میں ایک کمر شل سکول بھی موجودہے۔ جامعة الرشید نے یونیورسٹی کے طرز پر بینکاری وغیرہ کی تعلیم شروع کردی ہے اور مفتی تقی عثمانی کے بیٹے بھی میزان بینک کے اسلامی ڈائریکٹر بنے ہوئے ہیں۔
٭٭٭

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی درس نظامی کے نصاب میں تبدیلی کیوں چاہتے ہیں؟

شاہ ولی اللہ نے قرآن وسنت کی طرف امت کو متوجہ کیااور ناجائز تقلیدکی مخالفت کی اور شاہ اسماعیل شہید نے تقلید کو بدعت قرار دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھاکہ ” اصولِ فقہ کی کتابوں میں ایسے نقا ئص ہیں کہ جس دن کسی عقلمند کی اس پر نظر پڑگئی تو سب کچھ ملیا میٹ ہوجائیگا”۔ (تذکرہ : مولانا آزاد)شیخ الہند اورمولانا سندھی نے قرآن پر زور دیا اور آخر میں مولانا کشمیری نے بھی کہا کہ ”میں نے اپنی زندگی فقہی مسالک کی وکالت میں ضائع کردی۔قرآن و سنت کی خدمت نہیں کی”۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے نصاب کی تبدیلی نہیں تسہیل پر زوردیا۔ بہشتی زیور ، حیلہ ناجزہ اور بہت سارے مواعظ اور کتابیں دلیل ہیں۔
علامہ اقبال نے کہا تھا کہ اجتہاد اچھا لیکن تمہارے اجتہاد میں تقلیدِ فرنگی کا جذبہ نظرآتا ہے۔مفتی محمد تقی عثمانی نے اکابرین کے برعکس بینک کے سودی نظام کو اسلامی بنانے کا حیلہ ایجاد کرلیا تو کیا یہ مغربیت کا مقابلہ ہے؟۔ مغربیت کے بڑے فتنے میں تو امت مسلمہ کو ڈبودیا اور اب اس کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ مغرب کا دینی مدارس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کا ذکر مولانا فضل الرحمن نے کیا اور مولانا فضل الرحمن کو وفاق المدارس کا صدر بنایا جارہاتھا پھر مفتی تقی عثمانی کو بنایا گیا۔ ٹھیک ٹھاک پیسوں سے علماء ومفتیان کو خریدلیا گیا۔جامعة الرشید اور دارالعلوم کراچی کی تلاشی لی جائے ۔ جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعیم کے اکاونٹ میں5ارب ساڑھے34کروڑ روپے تھے۔ صحافی حامد میر نے مفتی نظام الدین شہید سے امریکہ کی طرف سے علماء کو خریدنے کی خبر نقل کی تھی۔ پھر جہاد کے نام پر80ہزار پاکستانی شہید کئے گئے۔ مولانا فضل الرحمن نے نصاب کی تبدیلی پر مثبت بیان دیا لیکن ڈھیٹ علماء ومفتیان اس میںرکاوٹ ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کے بیان پر

محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کے بیان پر
تبصرہ تلخ و شیریں : فاروق شیخ

لیاقت باغ پنڈی میں پشتون شہید کروائے گئے تو اس میں فوج کا ہاتھ نہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پنجابی پشتون فسادات کرانے کیلئے یہ گھناؤنی حرکت کی تھی۔ نہ جانے پھرجدی پشتی مسلم لیگی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیوں خوش تھا؟۔ البتہ جب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف طالبان سے کہہ رہا تھا کہ پنجاب میں دھماکے نہ کرو۔ امریکہ کیخلاف ہم اور آپ ایک ہیںتو پشتون قوم پرستوں کو اُڑانے پر شاہد خاقان کو خوش ہونا چاہیے تھا۔ن لیگ کو مولانا فضل الرحمن اسلئے امریکہ کا ایجنٹ لگتا تھا کہ اس نے کہا تھا کہ مارگلہ تک طالبان پہنچ چکے ہیں۔ نوازشریف اور عمران خان کو طالبان نے اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا توPPP،ANPاورJUIپر خودکش حملے ہواکرتے تھے۔
بلوچستان کو سوئی گیس سے محروم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والا نوازشریف تختِ لاہور کیلئے سی پیک کا مغربی روٹ بدل دے اور شاہد خاقان کرک پیٹرول کو اٹک منتقل کرے تو پختون اور بلوچ قوم پرست ن لیگ پر اعتماد کریں؟۔ جج فائز عیسیٰ کی بیوی کی طرح مالامال ہو تو تب علی وزیر کو رہا کرینگے ؟۔جسکے خاندان کے18افرادشہید کئے۔ قومی اسمبلی توڑنے پرافراتفری کاکوئی خطرہ نہ تھالیکن آرمی چیف کی برطرفی پر آسمان وزمین دھماکے سے پھٹ بھی سکتے تھے؟ قطری خط پر رونے والو!سچ کا پتہ نہیں ؟ نوازشریف ڈکارلینے لندن پہنچے۔ماڈل ٹاؤن لاہور میں طاہر القادری کے14افراد شہیدکردئیے، ذمہ داری وزیر اعظم عباسی نے کسی پر ڈالی!آنکھوں میں دھول تونہ جھونکو! ،سچ بول نہیں سکتے تو بھونکو!چپ رہ بھی نہیں سکتے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے!
٭٭٭

پاکستان کو بچانے اور چلانے کیلئے ہمارے پاس ٹائم بہت تھوڑا ہے۔ محمود خان اچکزئی
دواسٹنڈر نہیں چلیںگے کہ ایک آدمی کو اسلئے ستاؤ کہ وہ اصولوں کی خاطر کھڑا ہے اور دوسرے کو کرپٹ کرو
اسے کروڑوں روپے دو،اس کو وزیراعلیٰ بناؤ، وزیراعظم بناؤ، فلانا بناؤ، اس ملک سے کھلواڑ بند ہونا چاہیے
محمودخان اچکزئی،اسلام آباد: عبدالصمد خان کی کتاب ”My Life & Times”کی تقریب رونمائی سے خطاب
پاکستان واقعی مشکل میں ہے۔ میں گنوار آدمی سیاسی کارکن ہوں۔ پاکستان کو بچانے اور چلانے کیلئے ٹائم بہت تھوڑا ہے۔ اور ہم ایک بڑی خطرناک ظالم دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ عراق تباہ ہوا۔ لیبیا فارغ ہوا، شام کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ بہانے جو بھی تھے مگر اصل مسئلہ ریسورسز کا تھا۔ خوش قسمتی اور بد قسمتی سے ایسی نشانیاں ہیں کہ ہمارے ملک میں دنیا جہاں کی نعمتیں ہیں۔ مثلاً اٹک میں گیس اور پیٹرول، ہمارا پانی، افغانستان اور اسکے ریسورسز، ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے خطے کے گلے پڑیں۔ تو ہم لازماً اپنے ملک کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔ جب سے ملک بنا ہے اس میں آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ یہاں بڑے بڑے وکیل بیٹھے ہیں، رضا ربانی ، حامدخان ،بار کے پریزیڈنٹ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں انسان صرف144کی خلاف ورزی پر مارے گئے ملک کیسے چلے گا کہ بنیادی ہیومن رائٹس پر بات کرنے والے لوگوں پر گولیاں چلائیں گے144کی خلاف ورزی میں۔ اور آئین کو پھاڑنے اور اسکے ساتھ کھلواڑ کرنے پر آپ کسی سے نہیں پوچھیں گے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا کہ افواج پاکستان کیلئے ہے یا پاکستان افواج کیلئے ہے؟۔ یہ بنیادی سوال ہے۔ اگر افواج پاکستان کیلئے ہے مشاہد بھائی ہم گارنٹی دیتے ہیں192ملک ہیں،ہم گھاس کھاکرگزارہ کرینگے بہترین افواج بنانے میںاور اگر آپ نے پاکستان افواج کیلئے بنایا ہے تو بابا میں اور یہ بلوچ غریب سندھی یہ غریب پنجابی یہ (feudal lord )کے مارے ہوئے چوہدری ہم یہ کبھی برداشت نہیں کرینگے۔ خاقان عباسی بھائی، قاضی صاحب اور حامد خان سے میں یہ درخواست کروں گا کہ کون یہ کارِ خیر کریگا کہ ہمارے ملک کے دانشوروں، عالموں، سیاستدانوں، فوجیوں ، ججوں پر مشتمل گول میز کانفرنس بلائی جائے۔ جس میں سپریم جوڈیشری کے جج ، جرنیل ، پریس والے ہوں، ہم جیسے غریب غرباء سیاسی کارکن ہوں۔ ہم مل بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ اس ملک کو کس طرح چلانا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہوا اور یہ لڑائی غریبوں کو سڑکوں پر لڑنی پڑی جس طرح ترکوں نے کیا پھر ملک کا تیاپانچا ہوجائیگا۔ لوگوں کو اس طرف مت دھکیلو۔ میں اتنا بڑا آدمی نہیں ہوں۔ یہاں سندھی ، بلوچ ، پنجابی دوست بیٹھے ہیں، ذاتی طور پر کسی انسان سے فاصلے اس بنیاد پر ناپنا کہ اس کی زبان کیا ہے؟، وہ کس مذہب کا ہے؟ ، وہ کس علاقے کا ہے؟، وہ کس براعظم کا ہے؟، ہم اس کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان ہمارا ملک ہے، پنجابی، پشتون، سندھی ، سرائیکی ، بلوچ اپنی اپنی زمینوں پر رہ رہے ہیں۔ ہم آپ سے کہتے ہیں کہ ہم اس بقیہ صفحہ 3نمبر2

بقیہ … محمود خان اچکزئی
ملک کو چلانا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے کم سے کم اتنا تو کردیجئے کہ اللہ پاک نے جو نعمتیں سندھی ماڑوں کی زمین پر پیدا کی ہیں ، بلوچوں ، سرائیکی اور پنجابیوں کی زمینوں پر پیدا کی ہیں کم سے کم اتنے بنیادی حقوق تسلیم کرلیں کہ وہ دنیا جہان کی مزدوریاں چھوڑ کر اس ملک میں رہ سکیں۔ ان کی زبانوں کا احترام کیجئے، قرآن کریم کو ماننے والے لوگ ہیں آپ۔ قرآن کریم میں محمد ۖ سے اللہ پاک مخاطب ہیں کہ محمد ! میں نے قرآن کریم بہت سادہ کتاب آپ کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے تاکہ آپ لوگوں کو سمجھا سکیں۔ اللہ جس جس قوم سے مخاطب تھا اسی قوم کی زبان میں کتابیں بھیجیں۔ آپ21ویں صدی میں لوگوں کی زبان پر تالے لگارہے ہیں، کراچی اور لاہور کے تھانے دیکھے، سینکڑوں پشتون اس بنیاد پر لاہور کے تھانے میں ہونگے کہ اسے اردو نہیں آتی۔ کہاں کے رہنے والے ہو؟ ، کاکڑ ہوں۔ کہاں کے کاکڑ ہو؟، فلانے علاقے کا۔ نام کیا ہے؟ اسے اردو نہیں آتی۔ تم افغانستان سے ہو۔ ملک کے بچانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ یہاں بالادستی منتخب پارلیمنٹ کی ہوگی، آئین کی ہوگی یا بعض لوگوں کی ہوگی؟۔ دنیا جس طرح چلاتی ہے یہ ملک چل سکتا ہے بہترین ملک ہے۔ دنیا جہان کے مسائل ہیں۔ ہم یہ کرسکتے ہیں ، بلوچ، پشتون، سندھی آپ نے جتنا مارا ہے زندہ باد۔ جتنی جیلیں دی ہیں زندہ باد، معاف آپ کو۔ آئیں ملک کو انسانوں کی طرح سیدھا سادہ ڈیموکریٹک، اسلامک فیڈریشن آف پاکستان بنائیں۔ میں گارنٹی دیتا ہوں، میں سندھیوں ، بلوچوں اور سرائیکیوں کا ماما ہوں، ہم لکھ کر دینے کو تیار ہیں۔ لیکن خدا کو مانیں اسکے غلط معنی نہ نکالیں ، ہم غلاموں کی طرح رہنا نہیں چاہیں گے۔ آپ لکھے پڑھے لوگ ہیں یہ ہمارے جسٹس ہیں، محمد خان بیٹھاہوا ہے، سوئی گیس60کی دہائی میں بلوچ علاقے سے نکلی تھی بگٹی سے۔ آج تک مری بگٹی عورتیں روٹی خس و خاشاک پر پکاتی ہیں، انکے ریسورسز دس سال بعد ختم ہوجائیں گے۔ جب بلوچوں کی سوئی گیس کا یہ حشر کرینگے تو کوئی بلوچ پاگل ہے کہ آپ کو اپنے علاقے میں ڈرل کیلئے چھوڑے گا، کوئی پشتون پاگل ہے کہ آپ کو اپنے علاقے میں نکالنے کیلئے چھوڑے گا، کوئی خٹک پاگل ہے کہ آپ کو اپنے تیل و گیس حوالے کرے گا۔ رحم کریں اس ملک پر ہم پر نہ کریں ملک پر رحم کریں۔945میں لیگ آف نیشن بنی مشاہد بھائی آپ سے بہتر کون جانتا ہے۔ آزاد ملکوں کی تعداد صرف60تھی۔100سال پورے نہیں75سال ہوئے۔ وہ60ملک ٹوٹتے ٹوٹتے193بن گئے۔ ان بے انصافیوں نے ملکوں کو توڑا ہے اور یہ بے انصافیاں ایک دفعہ ہمارے ملک کو توڑ چکی ۔ اللہ کیلئے اس ملک پر رحم کریں۔ فوجیوں کو ہماری باتیں نقصان نہیں پہنچاتیں۔ جو نقصان ایوب خان کی مارشل لاء نے پہنچایا دس سال وہ بیٹھا رہا درجنوں نہیں سینکڑوں جرنیل فارغ ہوگئے۔ بریگیڈئر رینک کے جنہیں آگے آنا تھا وہ فارغ ہوئے۔12سال دوسرا بیٹھا رہا11سال تیسرا بیٹھا رہا ۔33سال کے نتیجے میں یہ پاکستان ملا۔ اسکے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے۔ ربانی صاحب آپ آتھر ہیں (18th Amendment کے bicameral) پارلیمنٹ ہے پاکستان میں۔ مہربانی کریں سینٹ کو وہ اختیار دیں جو قومی اسمبلی کو دیے گئے ہیں۔ جہاں قومیتوں کی برابری ہے۔ یہ ملک آسانی سے چل جائیگا ۔ میں بلوچوں، سندھیوں اور سرائیکیوں کی طرف سے کہتا ہوں کہ ہمیں انسان سمجھو۔ ہمارے وسائل پر اتنا ہمارا حق سمجھو کہ ہمارے بچے بھوکوں نہ مریں۔ ہم پاکستان اچھا چلائیں گے۔ اگر کسی پاگل کا خیال ہے کہ بندوق کے سائے میں ملک چلایا جاسکتا ہے ۔ آپ نے سوویت یونین کا حشر دیکھا جسکے اسلحہ خانوں میں اتنے خطرناک بم ہیں کہ اس براعظم کو تباہ کرسکتا ہے۔12،16ملک فارغ ہوجائیں گے خدا حافظ۔ چھوٹا سا ملک میں نام نہیں لیتا، حساس حالات ہیں40دن ہوگئے لڑائی کو مگر بندوق کے زور پر اس پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ مشاہد بھائی ! یہ بندوق ہماری ہیں، یہ توپ ہماری ہیں ، جہاز ہمارے ہیں، اس فوج میں آبادی کی بنیاد پر ہمیں حصہ دو۔ بلوچ کو دو، سندھی کو دو، پٹھان کو دو، آپ کو دو، اوریہاں جج صاحب بیٹھے ہیں جس طرح آئین کہتا ہے کہ جو آدمی فوجی ہوگا وہ سیاست میں حصہ دار نہ ہوگا۔ اس پر آئیں۔ دعا کرتے ہیں یہ ملک بہترین ہے ۔ ہم درخواست کرتے ہیں اگر یہ کام آپ نہیں کرسکتے ہیں تو آنے والی پارلیمنٹ بادشاہی چلانے سے پہلے مہربانی کرلے کہ فوجیوں، ججوں اور سب پر مشتمل ایک کانفرنس بلائے ، ہمیں نہ بلائے اس میں ، شریف لوگ وہاں بیٹھ کر کوئی آئینی حکمرانی کی بنیاد رکھ سکیں گے۔ ورنہ آپکے پاس ٹائم نہیں، ہمارے پاس ٹائم نہیں۔ مفت میں ہمارا یہ بہترین ملک خدانخواستہ خدانخواستہ مشکلات میں پھنس جائیگا۔ میں آپ لوگوں کا بہت مشکور ہوں۔ پی ڈی ایم ہم نے بنائی تھی۔ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہورہا ہے ، میں اس پارلیمنٹ میں ہوں یا نہ ہوں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آئندہ والی پارلیمنٹ کم سے کم تین چار باتیں کرلے۔ ایک یہ کہ جن جج صاحبان نے مختلف ادوار میں اصولوں کی خاطر فوجیوں کیلئے حلف نہیں اٹھایا نوکریاں چھوڑیں اور گمنامی میں فارغ ہوئے اگر وہ مرگئے تو انکے بچوں کو انعام دیدیں کہ ڈیموکریسی کے جج یا ایمانداری کے جج، اس پارلیمنٹ میں کم سے کم یہ کام کردیں۔ سینکڑوں لوگMRDاورARDمیں سندھیوں نے کوڑے کھائے، شہید ہوئے ان کیلئے پارلیمنٹ کچھ کرلے۔ انہیں شہدائے جمہوریت ڈکلیئر کردے۔ لوگ بیٹھے ہیں کوئی ناراض ہوجائیگاPCOکے تحت حلف اٹھانے والے پھر کیا کرینگے ہمارے جج؟۔ بار بار حلف لیا جاتا ہے کہ ہم آئین کی حفاظت کرینگے۔ ہم نے آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے۔ کس طرح ہم دفاع کریں؟۔ ربانی صاحب میری رہنمائی کریں۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ گلیوں میں لڑنا ہے پشتونخواہ پارٹی آپکے ساتھ ہے، بلوچ آپکے ساتھ ہیں سندھی آپکے ساتھ ہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں لڑنا ہے یا کوئی گول میز کانفرنس بلانی ہے کہ اس ملک کو آئین کے تحت چلایا جائے پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو۔ وہی داخلی اور خارجہ پالیسی کا سرچشمہ ہو۔ ہمارا فوجیوں سے نہ کوئی بغض ہے نہ فوجیوں سے ہماری کوئی لڑائی ہے۔ اگر وہ سیاست کرنا چاہتے ہیں بسم اللہ کریں۔ وردیاں اتار لیں پھر دیکھیں کہ سیاست میں الیکشن کیسے جیتا جاتا ہے۔ کیسے ممبر بنایا جاتا ہے۔ یہ دو اسٹینڈرڈ نہیں چلیں گے۔ ایک آدمی کو اسلئے ستاؤ کہ وہ اصولوں کی خاطر کھڑا ہے اور دوسرے کو اپنی طرف سے کرپٹ کرو کروڑوں روپیہ دو اسے وزیر اعلیٰ بناؤ ، وزیر اعظم بناؤ فلانا بناؤ یہ نہیں چلے گا۔ اس ملک سے یہ کھلواڑ بند ہونا چاہیے۔ آپ سب کی بڑی مہربانی۔ آپ سب کو خدا لمبی عمر دے۔ آپ نے ہم پر احسان کیا خدا آپ کو خوش رکھے۔ شکریہ
٭٭٭

پنڈی میں پشتون شہید ہوئے تو سمجھا کہ غداروں پر فتح حاصل کرلی ہے۔ شاہد خاقان عباسی

ملک کی تاریخ مسخ کی گئی،جن کو ہم محب وطن سمجھتے تھے وہ دشمن نکلے اورجو دشمن تھے وہ محب وطن نکل نکلے

محمود خان سے میرے دوست، بزرگ اور محسن ہیں۔ ان سے بہت کچھ سیکھا۔ اصولوں پر سیاست اور آئین کی بالادستی سیکھی

میں محمود خان اچکزئی کا بہت مشکور ہوں ان کا ہم پر احسان ہے کہ انہوں نے اس کتاب کا ترجمہ کی۔ میں دسویں جماعت میں پشاور میں پڑھتا تھا جب عبد الصمد خان کی شہادت ہوئی۔ اس وقت ہم سمجھتے تھے کہ یہ ملک کے غدار ہیں۔ عبد الولی خان غدار، عبد الصمد خان اچکزئی بھی غدار اور مجھے کچھ یاد آرہا ہے تو اس سے کچھ عرصہ پہلے یا اسی عرصے میں لیاقت باغ پنڈی میں بہت سے ہمارے پشتون بھائی افراسیاب صاحب کو یاد ہوگا شہید ہوئے اور ہم نے اس وقت یہ سمجھا کہ ہم نے غداروں پر کوئی فتح حاصل کی ۔ اسی زمانے میں اگر میری میموری درست ہو تو اکبر بگٹی صاحب شاید گورنر تھے بلوچستان کے اور تقریباً23سال بعد ان کو بھی اسی طرح شہید کیا گیا جس طرح ماضی میں ہم کرتے رہے اور آج بھی ہم اس ملک کے تاریخی حقائق سے واقف نہیں جو کسی نے بتایا نہیں ۔ ہم وہ واحد ملک ہیں جس کی تاریخ ہی مسخ کردی گئی ۔ یہ پتہ ہی نہیں کہ کس نے کیا کیا؟، کون محب وطن تھا؟، کون وطن کا دشمن تھا؟۔ جن کو ہم محب وطن سمجھتے ہیں وہ وطن کے دشمن نکلے ،جو دشمن تھے وہ محب وطن نکلے۔ میں محموداچکزئی کا بہت مشکور ہوں ہمیشہ یہ سیاست میں میرے دوست ہیں، محسن ہیں، بزرگ ہیں اور بہت کچھ میں نے ان سے سیکھا ۔ دو باتیں سیکھی ہیں ۔ اُصولوں پر سیاست سیکھی اور آئین کی بالادستی سیکھی ہے۔ عبد الصمد خان صاحب کا میں نے مقدمہ ابھی دیکھا ہے جو حامد صاحب نے دیا تھا تو یہی باتیں اس میں بھی لکھی ہوئی ہیں تو میں سب کو کہتا ہوں کہ یہ جوPDMبنی جو مقصد حاصل کرے جو اس کا مطلب تھا لیکن ایک بات اس میں کم از کم جو مجھ پر واضح ہوئی کہ وہ لوگ جن کو ہم غدار کہتے تھے ہم نے سولی پر بھی لٹکایا وہ آج آئین کی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے یہی ایک قدم ہے آئین کی بالادستی کیلئے۔ جس کیلئے ہم سب کوشش کرتے رہے۔ کسی نے کم کی کسی نے زیادہ کی۔ آج سے تقریباً ساڑھے تین چار سال پہلے ہم نے ایک غیر آئینی تجربہ کیا۔ ایک حکومت کو لیکر آئے۔ اس نے جو ملک کا حشر کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ آج وہ تجربہ ناکام ہوگیا اور یقین کریں ملک کے حالات اتنے تشویشناک تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے۔ تو آج پھر سے ملک کے معاملات کو درست کرنا پڑے گا۔ ری بلڈ کرنا پڑے گا اور سب نے ملکر کرنا ہے اور اس کی ہدایت بنیادی اصول آئین ہے۔اگر آئین سے انحراف کرینگے ، ملک آگے نہیں چل پائیگا۔ یہ حقیقت کم از کم مجھ پر عیاں ہے ۔ آج ہر پاکستانی پر عیاں ہونی چا ہیے کہ اگر آئین درست نہیں بدل لیں۔ جو تبدیل کرنا ہے کہ ہمیں یہ تبدیلی چاہیے مگر ملک میں دو نظام نہیں ہوسکتے۔ ملک اس طرح نہیں چلتے۔ ابھی افراسیاب بقیہ صفحہ 3نمبر3

بقیہ… شاہد خاقان عباسی
نے بات کی تھی کہ ایک امریکن پروفیسر نے مجھے یہ بات کی تھی کہ میںنے چالیس سال ہسٹری پڑھی اور پڑھائی ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا ملک نہیں جس کی اکثریت اس کو چھوڑ کر گئی ہو۔ ہمیشہ اقلیت علیحدہ ہوتی ہے۔ یہاں بنگالی جو اکثریت میں تھے اس ملک کو چھوڑ کر چلے گئے اپنا نام بھی ہمیں دیکر گئے ملک کا نام بھی نہیں لیا انہوں نے۔ یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے تھا مگر ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ آج ہماری مشکلات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمیں تاریخ کا علم نہیں ۔ میں بار بار یہ بات کرتا ہوں کہ(truth commission )ہونا چاہیے کسی کو سزا نہیں دینی حقائق تو سامنے آئیں ہوا کیا ملک کیساتھ؟۔ افراسیاب صاحب کو میں بچپن سے دیکھ رہا ہوں یہ پشاور میں یونیورسٹی کے صدر تھے میرے خیال میں73میں، بہت سے لوگ جب چلے جائیں گے تو پتہ نہ ہوگا کہ حقیقت ہے کیا؟۔ یہاں پر کیا ہوتا رہا ہے؟ آپ یقین کریں کہ جس دن ملک کے سیاستدان یہtruth commissionبنانے کے قابل ہوئے وہ دن اس ملک کی سیاسی ترقی میں بہت بڑا دن ہوگا۔ بد نصیبی ہے کہ اتنے کمزور ہیں(truth commission) ہم نہیں بناسکتے۔ عدلیہ اتنی کمزور ہے کہ وہ اس کی بات نہیں کرسکتی۔یہ صرف سیاستدانوں کا کام نہیں۔ صرف سیاستدان اس ملک کو درست نہیں کرسکتے ، صرف فوج نہیں کرسکتی، عدلیہ نہیں کرسکتی، بیوروکریسی صرف نہیں کرسکتی، سب کو ملکر بیٹھنا پڑیگا اور راستہ بنانا پڑیگا کہ ہم نے کیسے وہاں جانا ہے اور کیسے پہنچنا ہے۔ عبد الصمد خان کی جو تھوڑی بہت کتاب پڑھی ہے بات قربانیوںسے بنتی ہے اگر ایک شخص نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ جیلوں میں د یا ہو ، پھر بھی اصولوں پر قائم رہا ہو یہ ہم سب کیلئے سبق ہے۔ اس کتاب کا یہی سبق ہے اور یہی بات ہمیں یہاں سے حاصل کرنی چاہیے۔ یہاں پر مجھے عثمان کاکڑ صاحب کی یاد ضرور آتی ہے۔ وہ نوجوان ان اصولوں پر قائم رہے جو عبد الصمد خان صاحب نے سکھائے تھے۔ میں آپ سب کا بہت مشکور ہوں اور امید ہے کہ ہم سب یہاں سے کچھ سبق حاصل کرینگے۔ اور کم از کم اصولوں پر رہ کر اس ملک کو آئین کے مطابق چلانے کی کوشش کرینگے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جھگڑا یہ ہے کہ سرکار عالی! جب دو بیویاں آپ کی خدمت کررہی تھیں تو پھر تیسری لانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ وسعت اللہ خان

Wusatullah Khan, Wusatullah Khan, Wusatullah Khan, Wusatullah Khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Pakistan Army, Pakistan Army, Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI,PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI,PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI,

جھگڑا یہ ہے کہ سرکار عالی! جب دو بیویاں آپ کی خدمت کررہی تھیں تو پھر تیسری لانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ وسعت اللہ خان

صحافی مطیع اللہ جان ایک زبردست اور اچھے صحافی ہیں لیکن مسلم لیگ کی جس طرح حمایت کرتے ہیں اور نوازشریف کو ذوالفقار علی بھٹو بنانے پر جس طرح سے ناجائز انداز میں تلے ہیں اسکا منہ بولتا ثبوت حسین نواز اور سلمان شہباز کیساتھ یاد گار تصویر ہے جس میں کیمرے کی آنکھ سے منہ چھپانے کی عجیب وغریب طرح کی بے ساختہ کوشش ہورہی ہے۔
وسعت اللہ خان صاحب وزیر اعظم عمران خان سے متعلق مطیع اللہ جان کے ساتھ MJTV

test

سوال: وزیر اعظم عمران خان بطور وزیر اعظم ، بطور سیاستدان اس وقت کس قسم کی ذہنی صورتحال سے دوچار ہوں گے ؟۔
جواب: اس سے پہلے میں آپ کو بتادوں جب بی بی Wusatullah Khan شہید تھیں اس زمانے میں پھر نواز شریف وزیر اعظم بنے پھر عمران خان وزیر اعظم بنے تو کسی سے کسی نے کہا کہ تینوں وزرائے اعظم کو ایک لائن میں ڈسکرائب کریں۔ تو انہوں نے کہا کہ بی بی جو ہیں وہ سمجھتی تھیں لیکن سنتی نہیں تھیں۔ نواز شریف سنتا تھا سمجھتا نہیں تھا، یہ بھائی صاحب جو ہیں ان کا ایک ایڈوائزر ہے۔ اور اس ایڈوائزر سے یہ روزانہ صبح میں ملتے ہیں جب یہ شیشے کے سامنے بال بنانے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ جو کہتا ہے سارا دن اسی پر عمل کرتے ہیں۔

test

ہمارے وزرائے اعظم کے کرائسس کی جڑ یہ نہیں کہ اتحادی الگ ہوگئے یا اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ رکھ دیا ہے یا اٹھالیا ۔ ان کا جو( span of attention)ہے کسی بھی معاملے میں وہ مجھے لگتا ہے کہ پانچ دس سال کا جو بچہ ہے اسکے برابر ہے۔ مثلاً اگر کوئی میٹنگ ہورہی ہے فرض کریں تو پرائم منسٹر کا کام یہ ہے وہ ایک ایک چیز دھیان سے سنے اسلئے کہ بالآخر اسکے سائن یا اس کی حتمی رائے سے پالیسی بنے گی یا فیصلہ ہوگا یا معاہدہ ہوگا۔ یہاں یہ ہوتا ہے کہ جو انہوں نے پیلی روشنائی سے حاشئے کھینچ دیے وہ پڑھا۔

آخری پرائم منسٹر جسکے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ جو اخبار پڑھتا تھا اور اس کی نیند ہی تین چار گھنٹے کی تھی وہ تھا ذو الفقار علی بھٹو۔ آخری پرائم منسٹر جو ڈائریکٹ Wusatullah Khan عوام میں جاتا تھا نورا کچہریاں نہیں لگاتا تھا،اوریجنل کھلی کچہری لگاتا تاکہ یہ جو ایڈوائزروں کا آسیبی گھیرا ہے اس. سے ہٹ کر بھی عوام کی بات سننے کی کوشش کرے وہ تھا ذو الفقار علی بھٹو۔ لیکن وہ روایتیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔ گھیرا غیر محسوس طریقے پر تنگ ہوتا رہتا ہے۔ اس فضاء میں عمران خان کچھ نہیں آئن اسٹائن بھی بیٹھا ہو تو اس کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آئیگا۔ یہ گھیرا آدمی کا گلا گھونٹ کر اس کی سیاست کو مار ڈالتا ہے ۔

test

سوال: آسیبی گھیرے سے بھی بڑے بڑے آسیب اور جن ہیں ، تو آپ نہیں سمجھتے کہ آج کل وہ جن نیوٹرل ہوگئے ہیں؟۔
جواب: یہ بات سننے میں آتی ہے کہ وہ. نیوٹرل ہوگئے ہیں یا پہلے انہوں نے سسٹم کو نیوٹرالائز کیا ہوا تھا اور ایک لفظ ہوتا ہے نیوٹل وہ بھی ہے۔ سیاستدان پر کسی طرح کی. مصیبت اور پریشر آسکتا ہے۔ گھمبیر مسئلے میں پھنس سکتا ہے۔ اس کا امتحان ہی تب ہے جب سارے پریشرز ہیں. اوپر نیچے دائیں بائیں ، نارتھ ساؤتھ سب سے۔ اس میں اپنا کام جتنا کرسکتا ہے کرکے دکھادے۔

test

اگر سارا کچھ پلیٹ میں رکھ کر دینا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی نیوٹرل ہوجائے اپوزیشن فاصلے پر رہے ایڈوائزر بھی اسکے ذہین ہوں تو پھر بھائی صاحب جس ویٹر نے یہ چکن تکہ ابھی Wusatullah Khan پیش کیا ہے وہ بھی بہت اچھا پرائم منسٹر بن سکتا ہے۔ پھر آپ کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ لے کر چلنا چاہ رہے ہیں مثلاً کسی نے کہا کہ میں اس کو ایک نیا پاکستان بنانا چاہ رہا ہوں۔

یہ پچھلے75سالوں میں تیسرا نیا .پاکستان بن رہا ہے۔ تو اس کیلئے آپ کے پاس کوئی بلیو پرنٹ ہے یا ایڈوائزر نہیں ہے ، وہ جو کہتے ہیں نا کہ عمران خان تو چنگا ہے یا. نواز شریف تے چنگا سی، ہر ایڈوائزر تو چنگا نئی ساں … تا یا ر ان کو ایڈوائزر کس نے رکھا؟ ان کو قریب کس نے آنے دیا؟۔یا وہ خود بخود Wusatullah Khan آگئے .تو یہ جو بہانے ہوتے ہیں ۔ شوق بہت ہوتا ہے بچپن سے مثلاً مجھے بھی شوق ہے کہ میں اس ملک کا پرائم منسٹر بنوں لیکن پھر؟ اچھا. میں بیٹھ گیا کرسی پر آگے؟ تو یہ جو تیاریاں ہوتی ہیں یہ اگر نا ہوں اور آپ بیساکھیوں کے محتاج ہوں ، آپ الیکٹیبلز کے محتاج ہوں۔ آپ کسی مامے کی انگلی پکڑنے کے بقیہ صفحہ 3نمبر 1

test

بقیہ … وسعت اللہ خان
عادی ہوں ، آپ ہر وقت یہی دیکھتے رہے ہیں کہ قالین ابھی آپ کے پاؤں کے نیچے ہے یا نہیں؟ اور آپ کی دو آنکھیں تو سامنے دیکھ رہی ہوں اور ایک آنکھ آپ کو. پیچھے Wusatullah Khan بھی چاہیے ہو کہ پشت سے تو کوئی وار نہیں کررہا ہے۔ تو ساڑھے تین چار یا پانچ سال جو آپ کے ہیں وہ تو اسی میں گزر جائیں گے نا۔ اسی میں اپنے آپ کو بچاتے ہوئے کہ کھاؤں کدھر کی چوٹ، بچاؤں کدھر کی چوٹ میں اگر گزر گئے پھر تو آپ گزر. گئے۔ تو ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ اس ملک کے75سال میں چوتھا سال بڑا منحوس ہوتا ہے۔

اول تو اس ملک میں تین مہینے کے بھی Wusatullah Khan وزیر اعظم رہے ہیں۔ ساڑھے تین سال اور پونے چار سال کے بھی۔ چوتھے سے پانچویں میں جمپ نہیں لگاپایاآج تک ذوالفقار علی Wusatullah Khan بھٹو سمیت۔ تو یہ چوتھے سال کی نحوست ہے یہ کیسے پیدا ہوتی ہے یا تو وہ اپنے آپ کو وزیر اعظم سمجھنا شروع کردیتا ہے ۔ یا اسے یاد نہیں. رہتا ہے کہ اصل میں وہ ایک کمپنی کے سی ای او کے طور پرمنتخب کیا گیا ہے جسکا مالک کوئی اور ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ. جتنی پاور مالک کے پاس ہے سی ای او کے پاس اتنی ہونی چاہیے۔ یا اس کرسی میں نحوست ہے کہ چوتھے سال وہ اس کیلئے اجنبی ہوجاتی ہے۔ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ چوتھا سال پاکستان میں کراس کیوں نہیں ہوسکتاہے؟۔

Wusatullah Khan

سوال: یہ شخص جیسا تھا وہ ہوگا اسکے بعد Wusatullah Khan کی جو قیادت ہے اس کو آپ کیسے دیکھ رہے ہیں؟۔ اور اس وقت جو اپوزیشن کا کردار ہے، شہباز شریف صاحب قومی حکومت کی. بات کررہے ہیں۔ اور بلاول بھٹو کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کا ہوگا۔ تو کیسے دیکھ رہے ہیں اپوزیشن کے کردار کو تمام معاملات میں؟۔


جواب: پرانی60،70کی دہائی کی انڈین. فلمیں دیکھی ہیں؟ جس میں ایک مل کا مالک ہوتا تھا اور ایک مزدور لیڈر ہوتا تھا اور ایک پاکٹ یونین بھی ہوتی تھی۔ اب تو یونین .نہیں تو پاکٹ یونین بھی نہیں۔ ایک تو مجھے وہ سلسلہ یاد آتا ہے ، دوسرا یہ جھگڑا اس وقت سیاسی جھگڑا نہیں میرے حساب سے۔ جھگڑا یہ ہے کہ سرکار عالی ! جب دو بیویاں آپ کی اچھی طرح سے خدمت کررہی تھیں تو پھر تیسری بیوی لانے کی کیا ضرورت. تھی؟۔ چھوٹی بیگم لانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ ہم کیا مرگئے؟ ہم سے ایسی کیا غلطی ہوگئی۔ تو ڈیموکریسی بچانے کایا جمہوریت مضبوط کرنے کا، یا پارٹی سسٹم یا الیکٹرال ریفارم ،یہ ہیں مارکیٹنگ کی چالیں۔

اصل جھگڑا یہ ہے کہ اسی مرگئی سی، ہم Wusatullah Khan تھے نا۔ تو یہ کیوں لے آئے ؟ اور اب کسی حد تک ان کی یہ بات شاید صحیح لگ رہی ہے جو حالات ہیں اس میں کہ یار یہ دو .جو ہیں ان کو پتہ تھا اچھے برے کا۔ تیسری شوق میں شادی کرتو لی گئی لیکن یہ چل نہیں پارہی۔ تو دوبارہ ظاہر ہے ان بیویوں سے رجوع کیا جائے گا۔

test

مطیع اللہ جان: لیکن یہ بالکل وہی بیویویاں ہیں بھی یا نہیں؟۔
وسعت اللہ خان: میاں بھی تو وہ نہیں ۔ کبھی کبھی Wusatullah Khan اس پس منظر میں میں دیکھتا ہوں سیاست میرے ذہن سے مائنس ہوجاتی ہے کہ یہ ایک طرح کا گھریلو قسم کا. جھگڑا ہے۔ اس میں ووٹر کہیں دور دور تک نہیں۔ عام آدمی کہیں دور دور تک نہیں۔ مہنگائی کسی بھی زمانے میں منتخب Wusatullah Khan حکومت. ہو یا غیر منتخب ایشو رہا ہی نہیں۔ اصل ایشو یہ ہے کہ جو طاقت موجود ہے اس کو ہر قیمت پر چاہے اس کیلئے لیٹنا بھی پڑے چنڈ مار کے پیری بیپیڑاں پوے۔

Wusatullah Khan

ہمارے ہاں باسی کڑی میں کبھی. کبھی اُبال آتا ہے۔ اچانک سے ایک لیڈر جسکے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے اچانک سے لگتا ہے یہ. تو لینن اور ماؤزے تنگ کے لیول پر جانے کی کوشش کررہاہے۔ دو منٹ کا انقلابی ہوتا ہے وہ۔ تیسرے منٹ میں. وہ پھر سیٹ ہوجاتا ہے لیکن اب ہم اسے دیکھ دیکھ کر اتنے اکتاچکے کہ اسکی ریٹنگ بھی نہیں آرہی۔

Wusatullah Khan

سوال: آپ کہتے ہیں کہ یہ ووٹروں. کا معاملہ Wusatullah Khan نہیں،یہ سارا گھریلو ازدواجی قسم کا جھگڑا ہے طاقتوروں کے درمیان تو پھر ہم جیسے دانشور جو ضمانتوں کے چکر میں اندر ہوگئے کیلئے کیا حکم ہے؟۔
جواب: یہ تو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ. دانشور ہیں۔ باقی لوگ کیا آپ کو دانشور یا صحافی سمجھتے ہیں؟۔….. آپ یہ سمجھتے ہیں وزیر اعظموں کی طرح کہ یار ہمارے. پاس بھی Wusatullah Khan کوئی طاقت ہے۔ بلکہ بنیادی طور پر انکے اصل کاروبار کی شیلڈ ہیں آپ۔ وہ آپ کو سامنے رکھ کر جو انکے اوریجنل کاروبار. ہیں اوریجنل سودے بازی ہے اور اوریجنل انہیں جو اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا ہے مزید سودے بازی کیلئے کہ Wusatullah Khan سانو وی پچھاڑن لیا جائے یہ بنیادی سلسلہ ہوتا ہے میڈیا کا۔ اور میڈیا اب کوئی ایشو نہیں ۔

میڈیا اب ایک فیکٹری کی طرح. ہے Wusatullah Khan جس میں نپے تلے سانچے انہوں نے بنادیے ہیں۔ اور انہی سانچوں میں وہی را مٹیریل ڈلے گا جو ڈلنا ہے۔ اس کی مکسنگ وہی ہوگی .جو ہونی ہے۔ اسکے ڈبے پر وہی لکھا جائیگا جو لکھا جائیگا۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ انڈیا میں ہوتا ہے یا نہیں Wusatullah Khan حالانکہ انڈیا کا حال. میڈیا کے حساب سے ہم سے بھی بہت برا ہے۔ لیکن اب تو مجھے حیرانی ہوئی کہ ٹکر بھی Wusatullah Khan امپورٹنٹ ہے کہ ایک ایشو پر بارہ چینلوں پر ایک. طرح کا ٹکر چل رہا ہے تو میں چونک گیا۔ خود کو صحافی سمجھنا چھوڑ دیں ۔ فیکٹری ہے اس میں 9سے 5 تک نوکری کرنی ہے ایک مشین پر کھڑ ا ہوکر صابن پر مہر لگانی ہے اور اس کی پیکنگ کرنی ہے۔

Wusatullah Khan

سوال: جو کہا جارہا .ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے، بڑی معروف یونیورسٹی ”لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز”LUMSوہاں پر سات گھنٹے نیوٹریلیٹی پر ایک کورس. کروایا ہے نوجوان نسل کو۔ اس کورس کے جو لیڈ کنسلٹنٹ تھے ہماری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ، تو اس کورس کا کیا فیوچر ہے؟۔

Wusatullah Khan


جواب: جب تبصرہ کرسکتا ہوں کہ Wusatullah Khan سات گھنٹے میں کیا کیا باتیں ہوئیں ؟، کیا سوال جواب ہوئے؟ ، کیا انہوں نے بریفنگ دی؟ ، اور اس کا ان پٹ اور آؤٹ پٹ کیا ہے؟ ۔ وہ ابھی. تک ہمارے سامنے نہیں، صرف قیاس آرائیوں کا سلسلہ ہے۔ لیکن میں اس ٹرینڈ کو اچھا سمجھتا Wusatullah Khan ہوں۔ کیونکہ جو ریاست کے انتہائی. ذمہ دار لوگ ہیں جنکے پاس وہ انفارمیشن ہے جو ہمارے پاس ممکن ہی نہیں کہ ہو اور ان میں دو یا تین فیصد بھی شیئر کرتے ہیں. تو میرے حساب سے بڑی بات ہے۔ یونیورسٹیاں بنیادی طور پر کالج اور Wusatullah Khan اسکول سے مختلف ہوتی ہیں کالج اور اسکول میں منظور شدہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں علم سازی ہوتی ہے۔

کھلا پن ہوتا ہے بحث ہوتی. ہے کریٹی ویٹی Wusatullah Khan کا راج ہوتا ہے۔ تھیوریز ضائع بھی ہوتی ہیں اور نئی تھیوریز بھی بنتی ہیں۔ آئیڈئل یونیورسٹی کی میں بات کررہا .ہوں اور اس میں آپ یہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی بھی آکر طلباء سے گفتگو کرسکے تو پھر ایسا ہی کریں کہ کوئی Wusatullah Khan .بھی آکر گفتگو کرسکے۔ جنرل صاحب موسٹ ویلکم، عمران خان موسٹ ویلکم، لیکن اگر ماما قدیر کو بھی طلباء Wusatullah Khan سننا چاہیں تو اسے. بھی اتنا ہی موقع ملنا چاہیے اور کسی نیشنلسٹ کو بھی اتنا ہی موقع ملنا چاہیے اور کوئی سیاستدان جو باہر ہے یا اندر ہے لیکن وہ. کوئی اسکالرلی کام کررہا ہے یا ملک کیلئے کنٹری بیوٹ کررہا ہے تو اس کو بھی اتنا موقع ملنا چاہیے۔ اس میں پھر ہر ایک کو ویلکم کرنا چاہیے۔……

test

سوال: بچوں سے سنا جارہا ہے. اور میڈیا سے رپورٹ ہوا ہے کہ فلٹریشن ہوئی ہے باقاعدہ سیکورٹی کلیئرنس ہوئی ہے اور مخصوص بچوں کو صرف لیکچر اٹینڈ کرنے. کا موقع Wusatullah Khan دیا گیا۔ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے؟ اور اس کی تردید نہیں ہوئی اب تک۔
جواب: کیا پہلے فوج. کے سربراہ گئے کسی یونیورسٹی میں؟ انہوں نے وقت گزارہ ہے اس طرح سے کیا آپ کے علم میں ہے؟۔(NUSTمیں جاتے رہتے ہیں: مطیع اللہ جان) نہیںNUSTتو ان کا اپنا ادارہ ہے نا: وسعت. اللہ خان۔ (لیکن ہر یونیورسٹی میں Wusatullah Khan تو نہیں جاسکتے: مطیع اللہ جان)۔ لیکن اگر یہ کسی نئے ٹرینڈ کا نکتہ آغاز ہے تو اچھا ہے۔

شروع میں ظاہر ہے. کہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے فلٹریشن بھی ہوئی ہوگی ۔ سب کچھ ہوا ہوگالیکن اب میں امید کروں گا کہ جنرل صاحب کراچی. یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، خیرپور Wusatullah Khan یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی بھی جائیں ۔ اور نہ صرف خود جائیں بلکہ باقی جو لوگ ہیں. انہیں بھی Wusatullah Khan اجازت ہو کہ یونیورسٹی جس کو چاہے مدعو کرسکے تاکہ طلباء کو ہر طرف کا شعور یا ہر طرف کا مؤقف مل سکے۔ جب ان. کی تجزیہ کرنے کی استعداد بڑھے گی تب کوئی نئی ایسی چیز کھل کر Wusatullah Khan سامنے آئیگی جو ہمارے لئے بھی اور ملک کیلئے بھی فائدہ مند ہو۔ اگر یہ معاملہselectiveہے تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Wusatullah Khan

سوال: عدم اعتماد کی تحریک سے. پہلے بہت کچھ ہوچکا ہے اسلام آباد میں۔ عمران خان اور انکے وزراء کہہ رہے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک میں انکے منحرف اراکین. کووٹنگ Wusatullah Khan کو اجازت نہیں دی جائے گی یا ان کا ووٹ کاؤنٹ نہیں کیا جائے گا۔ یا پھر سپریم کورٹ سے پوچھا جارہا ہے کہ ان Wusatullah Khan کی .نا اہلی تا حیات ہوگی یا ایک دفعہ کی ہوگی؟۔ اس صورتحال میں اگر آپ ایک وزیر اعظم ہوتے یا ایک سیاستدان ہوتے تو آپ کیا کرتے؟۔


جواب: پہلی بات یہ ہے کہ میں. پان کھاتا، اسلئے کہ پان کھانے سے منہ بند رہتا ہے۔ دوسری بات میں یہ کہتا کہ میری پوری کابینہ ترجمان نہیں ۔ کابینہ میں. فلاں کی بات Wusatullah Khan ترجمان کے طور پر تسلیم کی جائے۔ تیسری بات میں یہ کرتا کہ ضروری نہیں کہ میں جس عہدے پر بیٹھا ہوں Wusatullah Khan تو میں .قانون دان بھی ہوں۔ یہ جن کا کام ہے انہیں ہی کرنا چاہیے۔ آپ کے پاس پوری لاء منسٹری ہے۔ پورا نیشنل اسمبلی کا سیکریٹیریٹ ہے۔ الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدالتیں ہیں۔

Wusatullah Khan

جو مسئلہ ہے متعلقہ ادارے کو بلا کر کہیں Wusatullah Khan کہ یہ جو شقیں ہیں آئین کی ان کا کیا مطلب ہے؟۔ اور یہ کس طرح لاگو ہوتی ہیں۔ جب وہ بریفنگ دیدیں Wusatullah Khan جو ٹیکنکل. اور پروفیشنل بریفنگ ہو اسکے بعد آپ اپنا منہ کھولیں۔ اور آپ کی جو بھی خواہش ہے بیان کرسکتے ہیں۔ یہاں ہوتا یہ ہے کہ پہلے آپ. نظریہ اضافیت پیش کردیتے ہیں اور اسکے بعد آپ کہتے ہیں کہ چونکہ میں نے یہ با ت کہہ دی ہے Wusatullah Khan لہٰذا اس کی وجہ سے یہ جو متعلقہ. شقیں ہیں ان کو سیدھا یا الٹا کیا جائے۔ اس طرح کام نہیں چلتا۔ مثلاً میں جتنا بھی طاقتور ہوں آج کی دنیا میں مگر آئین کو میں اپنی مرضی سے توڑ مروڑ تو نہیں کرسکتا۔

میری خواہش تو ہے کہ Wusatullah Khan میں بارہ صفحے. کی کتاب کہہ کر اسے پھاڑ دوں لیکن ایسا کر نہیں سکتا۔ اچھا جب میں کر نہیں سکتا تو متعلقہ Wusatullah Khan لوگوں سے پوچھ لوں کہ اس ایشو .پر آپ کی ٹیکنیکل رائے کیا ہے؟ اور پھر اس رائے کے حساب سے آپ عوام سے مخاطب Wusatullah Khan ہوں اور اپنے خیالات کو واضح کریں۔ اس وجہ .سے اس طرح کی فالتو کی الجھنیں ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے اپوزیشن بھی بھڑکتی ہے خود حکمران پارٹی بھی کنفیوژ ہوتی ہے۔ اور تماشائی دم سادھے کھڑے رہتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے۔

Wusatullah Khan

سوال: آپ کے خیال میں27مارچ کو کیا ہونے والا ہے؟۔
جواب: مجھے نہیں معلوم۔ مجھے. لگتا ہے Wusatullah Khan اور شاید یہ میری خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے کہ عین وقت پر یہ اجتماعات واپس ہوجائیں۔ کوئی راستہ نکل آئے، عدالت. ، اسٹیبلشمنٹ، بیچ کے لوگوں کی مدد سے، ورنہ تو شاید نابینا بھی جانتا ہے کہ کیا ہوسکتا ہے۔ تو میرا نہیں خیال کہ Wusatullah Khan اگر ایک بھی .عاقل آدمی موجود ہے خصوصاً حکومتی کیمپ میں وہ یہ چاہے گا کہ اس طرح کی نوبت آئے۔ اس Wusatullah Khan طرح کی نوبت آنے کا مطلب یہ ہے. کہ ساری کرسیاں الٹیں گی ، میزیں الٹ جائیں گی اور اسکے بعد آپ پھر روتے پھریں۔ پہلے اپنے سر پر آپ ڈنڈا مارتے ہیں اور پھر آپ. چیختے ہوئے گھومتے ہیں کہ یار میرے سر پر یہ گومڑا کس ڈنڈے سے نکلا ہے۔ حالانکہ ڈنڈا آپ نے ہی چلانے کی کوشش کی ہے۔

test

سوال: شیخ رشید کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے؟
جواب: شیخ رشید اپنی Wusatullah Khan باتوں کو خود سنجیدگی سے نہیں لیتے توہم کون ہوتے ہیں ان کی باتوں پر تبصرہ کرنے والے۔

سوال: یہ جو .ممبران نے پارٹی کی وفاداریاں تبدیل کی ہیں تو ان کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟۔
جواب: یہ کوئی نئی بات ہے کیا؟ Wusatullah Khan حیرت. کیوں ہے ؟ کیا پاکستان میں پہلی بار ایسا ہوا ۔ کیا50کی دہائی میں ایسٹ پاکستان میں وفاداریاں. تبدیل نہیں ہوئی تھیں۔کیا ری پبلکن پارٹی مسلم لیگ کے پیٹ سے نہیں نکلی تھی۔

test

کیا کنونشن مسلم لیگ نہیں Wusatullah Khan بنی تھی .اور اس میں کون کون لوگ آگئے تھے۔ پھر جب کنونشن مسلم لیگ فوت ہوئی تو کوئی جماعت اسلامی میں چلا گیا کوئی .پیپلز پارٹی میں چلا گیا۔ کیا جو ضیاء الحق کے زمانے کی غیر جماعتی اسمبلی تھی اس میں مسلم لیگ نہیں پیدا ہوئی Wusatullah Khan تھی؟۔ اس .میں کون کون آیا اور کون کون نہیں گیا تھا۔ کیا پھر اسی مسلم لیگ نے تین یا چار بچے نہیں دئیے۔ کیا90کی دہائی میں آپریشن مڈ نائٹ. جیکال اور مہران گیٹ وغیرہ نہیں ہوا ۔ کیا2002میں مسلم لیگ ق نہیں بنی ۔ مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں ، سب اچھی طرح معلوم ہے۔

سوال: کیا وزیر اعظم Wusatullah Khan عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ تک مقابلہ کرنا چاہیے یا ایک دن پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے؟۔
جواب: خان صاحب کی جو نیچرہے وہ میرے خیال میں آخر تک فائٹ کریں گے۔ اور آخر تک فائٹ کا ایک فائدہ ہے اگر وہ شہید ہوتے ہیں تو پھر اس میں بھی فائدہ ہے۔

Wusatullah Khan

سوال: ان اسپورٹ مین اسپرٹ ہے شہید ہونے کے بعد؟۔
جواب: شہید ہونے کے بعد پھر تو. وہ کھل کھلا کر آجائیں گے لیکن یہاں مجھے حضرت علی کا ایک قول یاد آرہا ہے کہ کوئی فیصلہ تم غصے کی حالت میں نہ کرو۔ اسلئے. کہ غصہ کا اختتام پشیمانی پر ہوتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، اور بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ، پانی وانی پیو۔ جب اعصاب بالکل نارمل ہوجائیں تو فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آؤ۔ غصہ بہت بڑا دشمن ہے۔ خان صاحب اگر کسی. طرح اس کا کوئی حل دیکھ لیں کہ کس طرح اس پر قابو پایا جاسکتا ہے یا اس کو پاور کی شکل میں فریز کرکے ٹکڑوں. ٹکڑوں میں کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے تو یہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کیلئے اچھا رہے گا۔

Wusatullah Khan

سوال: سیاستدان اس وقت صحیح .معنوں میں سیاستدان بنتے ہیں جب وہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لیتے ہیں۔ تو کیا عمران خان بھی اب صحیح معنوں میں سیاستدان بننے جارہے ہیں؟۔
جواب مثالیں دیں پچھلے. 75سال میں جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی ہو۔ پھر سوال کا جواب دوں گا۔ کوئی دو نام بتادیں۔
مطیع اللہ جان: بھٹو نے فیلڈ مارشل کے دورمیں پارٹی قائم کی سڑکوں پر آکر ۔ (half-heartedکوشش کی۔ نتیجہ آپ نے. دیکھ لیا۔ وسعت اللہ )۔پھر99کے بعد نواز شریف نے بھیhalf-heartedکوشش کی ۔ کیاعمران خان کم. از کم نواز شریف کے لیول پر آجائیں گے اگر بھٹو نہ بھی سہی۔


جواب: نہیں معلوم کہ وہ آئیں. گے یا نہیں لیکن خان صاحب خان صاحب ہیں۔ ان کا اپنا اسٹائل ہے اور اپنے نمونے سے چیزوں کو ڈیل کرنے کی کرینگے اور اب اس میں. کتنے کامیاب یا ناکام ہوتے ہیں ابتدائی طور پر انہیں بیابان میں گھومنا پڑے گا۔ اسلئے کہ جو آدمی ساڑھے تین سال میں لیڈر آف. اپوزیشن سے پارلیمنٹ کے فلور پر ہاتھ ملانے کو تیار نہ ہو علیک سلیک کرنے پر تیار نہ ہو ، جو کہ منتقم مزاج ہو ، جو ایک گول جب .سیٹ کرلے تو ادھر اُدھر نہ دیکھے کہ باقی جو گول ہیں وہ اگنور ہورہے ہیں یا نہیں ہورہے تو یہ فراق بڑا مشکل گزرے گا۔.

test

سوال: جو کچھ2018کے الیکشن میں ہوا اس سب کا قومی مجرم کون ہے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا وہ قدرتی جمہوری عمل تھا؟۔
جواب: پہلے تو میں یہ طے کروں کہ. یہ جرم ہے۔ قدرتی جمہوری عمل اس ملک میں کب ہوا ؟۔ پھر تم سے یہی سوال پوچھوں گا۔70کی مثال دیتے ہیں نا۔70میں بھی کونسا. قدرتی جمہوری عمل ہوا۔ (اس وقت کے بھی کوئی مجرم تھے ، اِس وقت کے کون مجرم ہیں آپ کے خیال میں: مطیع اللہ جان)۔ یہ فوری طور پر طے نہیں ہوسکتا۔ جب پوراepisodeمکمل ہوجائیگا70کی طرح اسکے بعد. جو جواب ہوگا وہ آپ کو بھی شرمندگی سے بچائے گا اور. مجھے بھی۔ ابھی تو پارٹی چل رہی ہے بیچ پارٹی میں ہم کیسے کہہ دیں کہ اینڈ میں کون لُڑھکے گا اور کون اپنے پیروں پر کھڑا رہے گا۔ اتنی بے صبری اچھی نہیں ہوتی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

امریکہ کی مخالفت کے نام پر جہاد سے جتنے افغانی. اور پاکستانی مارے گئے کیا اب سیاست کے نام پر یہی ہوگا؟

Jihad, Jihad, Jihad, Jihad, USA, USA, USA, Politics of Pakistan, Politics of Pakistan,, imported government, imported government, Pakistan Army, Pakistan Army

امریکہ کی مخالفت کے نام پر جہاد سے جتنے افغانی. اور پاکستانی مارے گئے کیا اب سیاست کے نام پر یہی ہوگا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کی تائید سے افغانستان پر حملہ کیا تو پرویز مشرف Jihad کے صدارتی ریفرنڈم میں عمران خان پیش پیش تھا عدالت نے پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دی

Jihad

روس نے. یوکرین پر حملہ کرکے بہت سے لوگوں کو Jihad افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام کی طرح دربدر کردیا، امریکہ کے مظالم کیساتھ کھڑا ہونا. غلط تھا اورروس کے مظالم کیساتھ کھڑا ہونا بھی غلط ہی ہے

Jihad

سفید ہاتھی امریکہ اپنے مفادات کی خاطر دوغلی پالیسیاں اختیار کرتا ہے اور مسلمانوں. اور دوسرے انسانوں کو آپس میںوحشی جانوروں کی طرح لڑاتا ہے، اچھے انسان اور مسلمان بن جائیں!

اسلام کا چہرہ. مذہبی طبقات نے خود مسخ کرکے Jihad رکھ دیا ہے اگر اسلام کے درست نظام کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو ہندوستان، امریکہ ، اسرائیل ، یورپی یونین اور دنیا کیلئے قابل قبول ہوگا

Jihad

Test

پیپلزپارٹی دورِحکومت میں میموگیٹ. پرسپریم کورٹ نوازشریف آرمی چیف کیساتھ کالا کوٹ پہن کر گیا ۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز منتخب صدر زرداری کو. سڑکوں پر گھسیٹنے، پیٹ چاک اور چوکوں پر لٹکانے کی بات کرتا. تھا اور اب تحریک انصاف کے وزیر غلام سرور اور شہر یارآفریدی نے پارلیمنٹ پر خود. کش، مراد سعید نے غداروں کو ڈی چوک پر لٹکانے کی بات کردی۔

پہلے نوازشریف اور بینظیر بھٹو ایکدوسرے کوامریکہ واسرائیل. کا ایجنٹ کہ, تے تھے اور اب عمران خان اور. متحدہ اپوزیشن ایکدوسرے کو امریکہ و اسرائیل کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ امریکی نام پر مذہبی ماراماری کے بعد سیاسی ماراماری ہوگی۔ قطری Jihad خط کے بعد مجھے کیوں نکالا؟ اور دھمکی خط کے بعد مجھے کیوں نکالا؟۔ قوم پرستانہ .جذبے میں لڑائی کی جان نہ تھی تو سیاسی نظریات اور مفادات کے نام پر ایکدوسرے کیخلاف. لہو گرمایاجارہا ہے۔ عمران خان نے سوشل میڈیا کے خلاف جو ذہن بنایا تھااب اسکے خود شکار ہیں۔
٭٭

Test

ہرکٹھ پتلی صحافی ماحول بناتا رہا کہ” آرمی چیف کو برطرف نہ کردیا جائے”۔ صابر شاکرنے کہاکہ ”بزدار کی برطرفی سے معاملات ٹھیک ہوگئے ”۔ شف شف کرتا عمران شفتالونہیں بول سکا۔ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا گیا تو اعلانیہ کہتے تھے کہ سینیٹرز ضمیر کے مطابق. فیصلہ کرینگے۔ عمران خان کے ہاتھ کے طوطے اُڑ ے تو فوج کو جانور کہہ دیا۔ اگر سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا دانہ عمران خان نہ چگتے اور Jihad جانبدار وں کو فارغ کیا ہوتا تو اپنی. حکومت کو اوچھے ہتھکنڈے سے ہٹانے اور اقتدار سے ہاتھ نہ دھلتے ۔

ایرانی گیس و پٹرول سے عوام کیلئے امریکہ کو ناراض کیا ہوتا تو قوم ساتھ کھڑی ہوتی۔ بھارت اور چین بھی ساتھ دیتے ۔جمعیت کے کارکن Jihad اسلام آباد نہ پہنچتے تو عمران خان نے ہنگامہ کھڑا کرتا تھا۔طوطا حمزہ شہباز ، مینا مریم نوازنے حالات کی نزاکت کو دیکھ کرPDMکو چھوڑ کر لاہور میں رُکنے. کا فیصلہ کردیا اوریہ مولانافضل الرحمن کیساتھ دھوکہ تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

قطری خط کے بعد دھمکی خط : ہاہاہاہاہاہا

Imran Khan, Threatening khat Imran Khan, Threatening khat Imran Khan,Threatening khat Imran Khan,,Threatening khat Imran Khan,,Threatening khat Imran Khan, PTI, PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI, PTI, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM

قطری خط کے بعد دھمکی خط : ہاہاہاہاہاہا Imran Khan
جمہوری شکنجوں کے نام پر ہیں بدترین ہتھکنڈے Imran Khan

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شہبازشریف پہلے وزیراعظم بنتا Imran Khan ، مریم نواز نے کہا تھا کہ عمران خان کو شہید نہ ہونے دینگے ،PDMنے استعفیٰ نہ دیااورPTIنے دیدیا

زرداری کو باپ پارٹی کا بیٹا کہنے والی مریم نواز بھگوڑے باپ کی جگہ باپ کو باپ بنانے پر خوش ہے اسلئے ایاز صادق نے کہا: ”باپ کے کردارکادعویدار خالدمگسی عمر میں مجھ سے3 سال چھوٹا ہے”۔

Test

قطری خط کے بعد دھمکی خط آیا ۔مجھے کیوں نکالا کی رٹ اور چھانگا مانگا کی سیاست جاری ہے۔ عدالت پر حملہ اور سیاست پر آئی ایس آئی کے تحت قبضہ کرنیوالا آئینے میں اپنی شکل نہیں دیکھتا۔ ناظم جوکھیو کی بہیمانہ تشدد سے شہادت جیسے مسائل سے سرکاری اور سیاسی اشرافیہ کاکوئی سروکار نہیں ۔عمران خان نے فسٹ کزن طاہر القادری کیساتھ پارلیمنٹ پر حملہ،PTVپر قبضہ کیا۔27مارچ کو انصار الاسلام کے تیل میں بھگوئے ڈنڈوں .سے ڈرایا نہ ہوتاتو ہلچل مچادیتا۔ طاہرالقادری جہاز سے نہیں اُتر رہاتھا۔ عمران خان اقتدار کے کیکر پرچڑھ کر اُترنہیں رہاتھا۔ صحافی عارف حمید بھٹی نے پوچھا کہ عمران خان نے کس طرح جانے کا فیصلہ کیا؟۔

Test

خبروں میں کچھ صداقت تھی؟۔ توفواد چوہدری کا کہنا تھا کہBBCنے جھوٹ پھیلایا۔ عارف حمید نے پوچھا کہ یہ Imran Khan فیصلہ عمران خان نے کیا یا میرے جیسے کسی. دوست نے مشورہ دیا؟۔ فوادچوہدری کے لمبے آنوں اور زبانی اقرار نے اس کی تصدیق کردی کہ جبرہوا ہے اوراس کوقبول بھی کیا ہے۔ جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو،جنرل ضیاء الحق، نوازشریف، جنرل پرویز مشرف ، عمران خان کے بعد اب متحدہ اپوزیشن نے دائمی .حکومت کا خواب دیکھنا شروع کردیا مگراپنے ماضی سے کچھ بھی سبق نہیں سیکھا۔ تحریک انصاف اور دوسروں.کو عوام کی فکر ہے اور نہ عوام ان کی سیاسی لڑائیوں پرمررہی ہے۔ بقیہ صفحہ 3 نمبر4

Test

بقیہ… قطری خط کے بعد دھمکی خط ہاہا ہاہا……
اسلام اس ملک کی بنیاد ہے اور Imran Khan اسلام کو جتنا غیرفطری بنادیا گیا ہے. وہ ہمارے معاشرے کا ایک روگ ہے۔ مذہب کارڈ کواسی لئے سیاست میں گالی. سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد سے لیکر آج تک عوام کیساتھ کھلواڑ ہوتا رہاہے۔ بڑی تعداد میں عوام کاگھر بار، کاروبار ، رشتہ. داروں، قبیلوں ، جانوں اور عزتوں کی قربانی دیکر ہجرت کرنا مذاق نہ تھا لیکن اسلام کے نام پر عاشق نامراد کی طرح صرف ایمانی. جذبوں کی خاک چھانتے رہے۔ جب تک ان بنیادی ایشوز کی طرف قوم کو متوجہ نہیں کیا جائے جن کی وجہ سے مسائل کا شکارہیں تو بات نہیں بنے گی۔


دھمکی خط کسی سیکرٹ ایکٹ کے. تحت لوگوں کو دکھانے کا نہیں لیکن تحریک لبیک کا معاہدہ قوم کو نہیں دکھایا گیا۔ قطری خط کی جگہ عدالت نے اقامہ پر فیصلہ دیدیا. تو بھی نوازشریف روتا پھر رہا تھا؟۔ پارلیمنٹ میں جو تحریری دستاویزات پڑھ کر سنائی تھی وہ دوبارہ پارلیمنٹ میں سنائیں ۔ قطری. خط اور اس کی حقیقت کو دیکھ لیں اگر پھر ثابت ہوجائے کہ نوازشریف کیساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ ہونا چاہیے لیکن سچ کا پتہ چلناچاہیے۔

Threatening khat Imran Khan

_ وزیراعظم کا بہت بڑا حلف نامہ_
صدر عارف علوی کے بارے میں میڈیا پر اطلاعات تھیں. کہ وہ اپنے ضمیر اور منصوبے کے مطابق نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف سے حلف نہیں لیں گے۔سابق وزیراعظم عمران خان کا ذاتی اور جماعتی Imran Khan احسان تھا کہ عارف علوی کو صدر .مملکت بنایا گیا تھا۔ جب صدر مملکت عارف علوی. نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اسمبلی توڑنے کی تجویز میں حلف کی پاسداری کی تھی؟۔ شہباز شریف سے Imran Khan حلف لینے کے بجائے بیماری کا بہانہ کیا تو کیا یہ اپنے حلف کی پاسداری ہے؟۔ ایسے حلف اٹھانے کا کوئی فائدہ ہے؟۔


حلف نامہ کے الفاظ اتنے گہرے. اور مشکل ہوتے ہیں کہ بسا اوقات حلف لینے والا اور جس سے حلف لیا جاتا ہے دونوں اس کا درست تلفظ پڑھنے سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ حلف سے زیادہ شیروانی اور اچکن پر توجہ دی جاتی ہے۔ حلف کے اندر جو عہدلیا جاتا ہے ،اس میں آئین، قانون، دستور اور اسلام کی بار بار تکرار ہوتی. ہے اور اپنے ذاتی، گروہی اور ہر قسم کے انتقامی جذبے سے بالاتر ہوکر اپنے فرائض کے انجام دینے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں .کو بروئے کار لانے کے جو جملے ادا کئے جاتے ہیں ،ان پر عمل در آمد تو بہت ہی دور کی بات ہے۔ ان کا تصور اور خیال بھی دل ودما غ سے بہت. مشکل سے گزرتا ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ آئین وقانون اور اسلام کی آپس میں بھی کوئی مطابقت نہیں ہے۔.

Threatening khat Imran Khan

کیا آئین اسلامی جمہوری ہے؟
آئین پاکستان1973کو جماعتوں نے اکثریت سے بناڈالا تھا۔ لیکن اس آئین کو اسلام کے مطابق بنانے کی کوشش کس نے کی اور کب کی ہے؟ اور جب قرآن نے چور کی سزا ہاتھ کاٹنے کی رکھی ہے تو ہماریImran Khan اعلیٰ عدالتوں میں اس کیلئے کوئی گنجائش بھی ہے؟۔ عدالتیں چور کو جیل بھیج دیتی ہیں لیکن قرآن میںچور کے ہاتھ کاٹنے کاحکم ہے۔ تمام ارکان پارلیمنٹ، صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ ، سپیکر، چیف جسٹس،آرمی چیف جب آئین کی پاسداری کا. حلف آئین ، قانون اور اسلام کے مطابق لیتے ہیں تو کیا انہیں قانون اور اسلام میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ہے؟۔ جاہل ہوتے ہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر جاہلیت، ہٹ دھرمی اور ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہیں؟۔


اگر ہمارا عدالتی نظام اسلام کے مطابق ہے تو سپریم کورٹ اور شریعت کورٹ جدا جدا کیوں ہیں؟۔ جب قانون اور اسلام میں تضادات ہیں تو آئین کو ٹھیک کرنے کی کوشش کس کی ذمہ داری ہے؟۔ پارلیمنٹ کے ممبروں میں اسلام اور قانون کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی ہے تو وہ اسلام کے مطابق قانون. سازی کس طرح سے کرسکتے ہیں؟۔ کفر اور اسلام کے درمیان ایک بیچ کی چیز منافقت ہے جو کفر سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ ہمارا پورانظامImran Khan منافقانہ ہے اور اس کوکفرو نفاق سے نکال کراسلامی آئین اورقرآن وسنت کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے۔

Threatening khat Imran Khan

اسلامی اور عام قوانین میں فرق
قرآن وسنت میں قتل، اعضاء کاٹنے، چوری، زنا، زنابالجبر، فسادفی الارض ، خواتین پر بہتان اور جن چیزوں کی سزائیں واضح ہیں۔ پارلیمنٹ کا کام یہ تھا کہ ان پر جوں کے. توں قانون سازی کرکے عمل کیا جاتاتاکہ ریاست مدینہ کا ماڈل پاکستان کے ذریعے پوری دنیا کے بھی سامنے آجاتا اور ہمارا اشرافیہ اور حکمران طبقہ عوام کی دہلیز پر عدل وانصاف پہنچانے کا پابند ہوتا اور عوامی جذبات سے کھیلنے کے روز روز ڈرامے نہ ہوتے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج اور سول بیوروکریسی اپنے اپنے حدود میں اپنے اپنے فرائض انجام دیتے۔ طبلے بجابجا کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی خوشامد اور مخالفت کی کوئی ضرورت بھی نہ پڑتی۔Imran Khan
جن چیزوں کا تعلق قانو

ن سے ہے تو جس طرح صلح حدیبیہ کا معاہدہ قانون تھا، یہود کیساتھ میثاق مدینہ قانون تھا۔ اسلام سے پہلے حلف الفضول اہل مکہ کا قانون تھا۔ آج بین الاقوامی ممالک. کیساتھ ہمارے روابط کے قوانین ہیں اور ہمارے مختلف ادارے اپنے سرکاری قوانین کے مطابق چل رہے ہیں اور دنیا میں جتنے سڑک کے. ٹول ٹیکس، ایکسپورٹ ایمپورٹ کے قوائد وضوابط اور قوانین ہیں وہ ہم بھی اسلام کے آئینے میں اپنے لئے بناسکتے ہیں اور جو داخلی. اور خارجہ پالیسی ریاست مدینہ نے بنائی تھی تو اس نے دنیا کی دو سپرطاقتوں ایران وروم کو شکست سے دوچار کیا تھا تو اس کے اصول عوامی تھے۔

Threatening khat Imran Khan

جیسے عوام ہیں ویسے ان پر حکمران ہیں
جس طرح چور، ڈاکو، سود خور، دھوکے باز اور حرام خور اپنے بال بچوں کے پالنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں اسی طرح سے ہماری حکومت وریاست نے پاکستان کی عوام پر احسانات. کرکے ان کی زندگی میں بہت زیادہ آسانیاں پیدا کی ہیں۔خود ہر قسم کی مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرکے پاکستان کو ایک .ترقی یافتہ ملک سے بھی زیادہ اوج ثریا پر پہنچا دیا ہے۔ اشرافیہ نے بڑی کرپشن کی لیکن نچلے طبقے غریب غرباء تک جس کا جہاں تک بس چلا ہے اس نے اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق بہت مشکل سے اس ملک کو بخشا ہے۔ اسلئے حلف ناموں اور شخصیت کے کردار میں تضادات کا بھی پتہ نہیں چلتا ہے۔ Imran Khan


ہر آنے والی حکومت کے دور میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہوئی ہے اور ہر آنے والے نے پہلے سے بہت زیادہ سودی قرضہ لے کر ملک اور قوم کا بیڑہ غرق کرنے میں بہت زیادہ کردار. بھی ادا کیا ہے۔ سیدھے طریقے سے تلاشی دینے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہوتا ہے لیکن ڈرامے اور ڈھکوسلے سے دوسروں کی تلاشی. لینے میں ہر حکمران اور اپوزیشن قائدخوامخواہ میںپیش پیش ہوتا ہے۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے بھانڈ اور. مداری کا کردار ادا کرنے میں بھی سیاسی قیادت کو ذرا بھی شرم نہیں آتی ہے۔ جو ہواہے سو ہواہے لیکن آئندہ کیلئے بہت زبردست انقلابی اقدامات کی اب ضرورت ہے۔ Imran Khan

Threatening khat Imran Khan


دنیا کو اسلامی قانون قابلِ قبول ہوگا؟Imran Khan
سورۂ نور میں اللہ نے عورت پر بہتان لگانے کی سزا80کوڑے مقرر کی ۔ کیا اس سزا کو دنیا وحشیانہ اور جنگل کا قانون قرار دے سکتی ہے؟۔ اسکے اثرات دنیا پر کیا مرتب ہونگے؟ اور ا سکے ردِ عمل میں کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟۔کیا اس کی وجہ سے ہم معاشرہ پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے؟۔

حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تھا تو سورۂ نور کی یہ آیات. نازل ہوئی تھیں اور نبی کریم ۖ سے مسلمانوں کا جذباتی لگاؤ آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے بھی .تھا اور آج بھی ہے۔ اس بہتان کے ردِ عمل میں جذبات کا سمندر اتنابھی موجزن ہوسکتا تھا کہ بہتان لگانے والے افراد کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے جلادیا .جاتا اور تاریخ میں ان لوگوں کو بدترین سزا دے کر عبرت کا نشان بنادیا جاتالیکن اللہ تعالیٰ نے ایک طرف عورتوں کو تحفظ فراہم کیا اور دوسری طرف بہتان لگانے والے کمزور لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کیا۔ جبکہ ہماری عدالتوں میں طاقتور اور کمزورکو انصاف دینے کا معیار جدا جدا ہے۔ اسلام کا یہ قانون دنیا اور پاکستانی مسلمانوں میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کردے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

سیاست کاتقاضہ اور دستور کابڑا بنیادی نکتہ!

سیاست کاتقاضہ اور دستور کابڑا بنیادی نکتہ!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

معراج محمد خان مرحوم تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری تھے تو عمران خان پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی حمایت اور معراج محمد خان مخالفت کررہے تھے اور اس دوران یا اس سے پہلے یا بعد میں میری ان سے ایک نشست ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ کہاں آپ اور کہاں عمران خان ؟۔ یہ عجیب اتفاق نہیں ؟۔ جس پر انہوں نے گردش دوران کی اس مجبوری پر اپنا سر سرور سے دھنا تھا۔ پھر وہ تحریک انصاف چھوڑ چکے تھے تو ایک بار پھر ان سے ملاقات کا شرف ملا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری اماں پٹھان تھیں اور میں علماء حق کے پیروں کا غبار اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں لیکن علماء سو سے میری نہیں بنتی ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں آپ کی پارٹی کیلئے ایک دستور (آئین) لکھ دیتا ہوں۔ تحریک انصاف کا دستور بھی میں نے لکھا ہے اور خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کو میں نے بہت کارکن اور رہنما دئیے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی مہربانی لیکن عمران خان نے بھی شاید اس دستور کو پڑھا اور سمجھا تک بھی نہ ہو۔ میرے پاس قرآن وسنت ہی کے ایسے آئینی نکات ہیں جس کو پڑھ اور سمجھ کر بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے۔
جب لوگوں اور لوٹوںکو پیسوں سے خریدا جائے اور اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر چلنا دشوار ہو تو پھر پنجہ آزمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کافی عرصہ سے میرے ذہن میں تمام پارٹیوں کیلئے قرآن وسنت کے مشترکہ نکات اٹھانے پر اتفاق رائے کی خواہش تھی لیکن کسی پارٹی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔
عمران خان نے پارٹی اور ادارے بنانے کی بات کی تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ واقعی وہ پاکستان کو پولیس اسٹیٹ اور ایجنسی اسٹیٹس سے نکال کر ایک بہت بڑا صاف شفاف نظام بنائیں گے۔ لیکن پہلے اس نے معراج محمد خان ، جاویدہاشمی، بڑے وکیل رہنما اورجسٹس وجیہہ الدین وغیرہ کو کھودیا اور پھر اپنی نئی ٹیم سے بھی محروم ہوتے گئے۔ اب فوج کو نیوٹرل ہونے کے بعد خصی جانور کہنے کے چرچے ہیں۔ اتحادیوں سے بے نیاز اب اتنے نیاز مند ہوگئے ہیں کہ اتحادیوں کی خاک چاٹ رہے ہیں۔ جمہوریت بہترین انتقام کیساتھ ساتھ تزکیہ نفس کابھی بہت بڑا چارہ بن گیا ہے۔ اسلئے جمہوریت زندہ باد اور اسے برباد کرنے والے مردہ باد۔
جب مولانا فضل الرحمن نے جنرل سیکریٹری کی جگہ جمعیت علماء اسلام کا امیر بننا چاہا تو پہلے امیر کی جماعت میں کوئی زیادہ حیثیت نہیں تھی۔اسلئے کہ جماعت کاقائد جنرل سیکریٹری کہلاتا تھا۔ جیسے پاکستان میں وزیراعظم کی حیثیت ہے اور صدر کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے اور جب صدر مضبوط ہوتا تھا تو پھر وزیراعظم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔ جیسے پرویزمشرف اور جنرل ضیاء الحق دور میں۔
قرآن وسنت اور سیرت وتاریخ کی کتابوں کا معالعہ ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم نے نبیۖ کے حوالے سے کئی باتوں میں اپوزیشن جیسا کردار ادا کیا اور نبیۖ نے ان کی حوصلہ شکنی نہیں حوصلہ افزائی فرمائی تھی اور اللہ نے بھی قرآن میں حوصلہ افزائی کی آیات نازل کیں۔ نبیۖ اگر اپنے باصلاحیت ساتھیوں کو کنارے لگادیتے تو قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو فتح کرنا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ جب قائد اپنا بیٹا، بیٹی، بھائی ، بہن اور اپنے قریبی عزیز کوکھڑا کردے یا پھر اپنا وزن کسی ایک کٹھ پتلی کے پلڑے میں ڈال دے تو کارکنوں کا برین واش کرنا بھی جمہوریت کی نفی ہے۔ مشاورت کا وسیع میدان ہو اور جس کی اکثریت ثابت ہو، اس میں خفیہ رائے شماری بھی اسلئے ہوتی ہے تاکہ کوئی کسی کا لحاظ رکھنے کے بجائے اپنی مخلصانہ رائے سے کسی کا انتخاب کرے۔
مختلف پارٹیوں میں بہت مخلص سیاسی رہنما اور کارکن ہیں لیکن ان کی کوئی بات چلتی نہیں ہے۔ اگر ایک ایسی پارٹی تشکیل دی جائے جس میں انتخابات کی روح کے مطابق کارکنوں میں الیکشن ہوجائے اور پھر مختلف سطح پر قیادتیں ابھر کر آجائیں تو ایک مضبوط پارٹی وجود میں آسکتی ہے اور اس کے مقابلے میں مختلف پارٹیاں بھی اپنے رویوں کو درست کرکے میدان میں کھیل سکتی ہیں۔ عوام کو کس قسم کی تکالیف کا سامنا ہے؟۔ روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ لگانے اور اسٹیبلشمنٹ کی زیادہ سے زیادہ خدمت اور حمایت کرنے سے بات ابھی کافی آگے نکل چکی ہے اور عوام کو مایوسی سے نکالنے کیلئے ان کے ضمیر خریدکر تسلیاں دینے سے کام بالکل بھی نہیں چلے گا۔ پارٹی بنانے کا طریقۂ کار اور ایک ایسے منشور کی ضرورت ہے کہ جس سے عوام کو حکومت میں آنے سے پہلے بھی بہت زیادہ ریلیف مل جائے۔
حضرت عمر نے جب یہ قانون بنایا کہ عورت کا حق مہر کم ہوگا تو ایک عورت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تم کون ہوتے ہو۔ ہمارے لئے قانون بنانے والے؟۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کوئی قانون نہیں بنایا۔ حسن نثار معروف صحافی نے کہا کہ” الماس بوبی ( لاہور میںہجڑوں کی معروف شخصیت) کے پیٹ میں رسولی ہوسکتی ہے لیکن بچہ نہیں ہوسکتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد کیا ہوگا؟۔ اگر کامیاب ہوجائے تو اپوزیشن کے آزمائے ہوئے قائدین سے کیا انقلاب کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ سب ایک چیز ہیں۔ جب امریکہ سے واشروم کی سینٹری کا سامان آیا تھا تو بنگال مشرقی پاکستان نے کہا کہ کچھ ہمیں بھی دینا ۔ جس پر ہمارے والے ہنستے تھے کہ تم نے واشروم کی سینٹری کو کیا کرنا ہے؟۔ باتھ روم کی ضرورت صرف ہمیں ہے۔ تمہارے ہاں کھیتی اور جنگلات ہیں وہاں فارغ ہونے کیلئے چلے جایا کرو۔ آج وہ کہاں کھڑے ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟۔ بہت زیادہ وہ ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے پاس ایک فوج کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ہماری فوج کو دنیا میں نمبر ایک مانا جاتا ہے۔ باقی ہر چیز میں تنزلی ہورہی ہے۔ فوج کو بالکل بھی غیرجانبدار نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ابھی ہم اس قابل نہیں ہیں۔ جب ہم اس قابل بن جائیں گے تو پھر اس کو غیرجانبدار بننا چاہیے”۔
حسن نثار ایک جذباتی اور فلاسفر ٹائپ کے اچھے صحافی ہیں۔ کسی دور میں وہ الطاف حسین، آصف علی زردای کی بھی تعریف کرتے تھے۔ پیپلزپارٹی کیلئے اس نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جیل بھی کاٹی ہے۔ عمران خان کی بہت تعریف اور بڑی مذمت بھی کرچکے ہیں۔ ایک طبقے کا خیال یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش نے اپنی جان اس فوج سے چھڑائی ہے تبھی تو اس نے ترقی کی ہے۔ اگر وہ اپنی کمزور فوج سے ترقی کرسکتے ہیں تو ہم ایک مضبوط فوج کے سائے میں محرومیاں کیوں دیکھتے رہ جائیں۔ بلوچستان، پختونخواہ اور سندھ میں پہلے بھی شعور تھا اور اب تو پنجا ب بھی جاگ چکاہے۔ ایسے صحافیوں کے بارے میں اب لوگوں کی رائے یہ بن رہی ہے کہ الماس بوبی بچہ نہیں جن سکتی ہے لیکن بعض لوگوں کو ان کی ماؤں نے پیچھے کے راستے سے جن لیا ہے۔ یکطرفہ بولنے پر وہ صحافی نہیں رہتا ۔مظہر عباس معروف صحافی نے کہا کہ ” صحافی نظر آنا چاہیے کہ وہ غیرجانبدار ہے”۔
نبیۖ نے سود کے حرام ہونے کی آیات کے نزول کے بعد کاشتکاروں کو بٹائی، کرایہ اور ٹھیکے پر زمین دینے کو سود قرار دے دیا۔ فرمایا کہ مفت زمین دو، یا پھر اپنے پاس فارغ رکھ لو۔ اس سے مدینہ میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوگیا ،جس نے مشرق ومغرب کی سپرطاقتوں ایران وروم کو فتح کرنے میں بھرپور کردارا دا کیا تھا۔ مدینہ کے محنت کش غریب لوگوں میں قوت خرید پیدا ہوگئی تو مدینہ کے بازار عالمی منڈی کا سماں پیش کررہے تھے۔ تاجر کہتے تھے کہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو سونا بن جاتا ہے۔ غزوہ بدر میں 70دشمن قیدی بنائے گئے لیکن کسی نے بھی ان کو غلام بنانے کی تجویز پیش نہیں کی۔ اور نہ ہی دشمنوں سے غلام کا کام لیا جاسکتا تھا۔ کلبھوشن اور ابھی نندن کو کون اپنے گھرمیں غلام کی طرح رکھ سکتا تھا؟۔
مزارعت ہی غلام اور لونڈیاں بنانے کا واحد نظام تھا۔ جس کی جڑ ہی اسلام نے کاٹ دی تھی۔ چاروں فقہ کے امام حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل اس بات پر متفق تھے کہ مزارعت سود اور حرام ہے لیکن اپنے اپنے دور کے بعض مفتی اعظم اور شیخ الاسلام نے جس طرح آج سودی نظام کو جائز قرار دیا ہے جس سے کارخانے، فیکٹریاں، ملیں اور کمپنیاں غلام بنائے جاتے ہیں بلکہ پورے پورے ملک بھی غلام بنائے جاتے ہیں اور قرآنی آیات اور دوسرے علماء ومفتیان کے فتوؤں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سے وقت کیساتھ ساتھ مزارعت کو بھی جوازفراہم کیا گیا تھا۔ اگر قرآن واحادیث اور ائمہ کے متفقہ فتوؤں سے انحراف نہ برتا جاتا تو غلامی کے نظام کو ختم کرنے کاکریڈٹ اسلام کو جاتا۔ آج روس اس پر ہمارے ساتھ کھڑا ہوجائے گا۔جاگیردار اگر کاشتکاروں اور مزارعین کو مفت زمین نہیں دیں تو ان کا ووٹ بھی قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ مجبور اور غلام کی اپنی کوئی رائے بھی نہیں ہوتی ہے۔ جب لوگ خوشحال ہوکر زمینوں کی کاشت کو چھوڑ رہے تھے تو یہ المیہ بن رہاتھا کہ پھر اناج کا کیا بنے گا۔ آخر کار غیر مسلموں کو یہ کام سپرد کردیا گیا تھا۔ مسلمان زکوٰة وعشر کے نام پر حکومت کو کچھ حصہ دیتے تھے اور غیرمسلم ٹیکس وجزیہ کے نام سے وہی کچھ دیتے تھے۔ جاگیردار آج اپنی زمینیں خود کاشت کرنا شروع کریں تو اللہ کے ولی اور حبیب بن جائیں گے۔ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ الکاسب حبیب اللہ ”محنت کرنے والا اللہ کا حبیب ہے”۔بہت لوگوں کیلئے کاشتکاری کے ذریعے سے نہ صرف روزی کے دروازے کھل سکتے ہیں بلکہ دنیا کی تقدیر بھی بدلی جاسکتی ہے۔ امیر اور سرمایہ دار تو کام کریں گے نہیں۔
حضرت عمر نے اپنے دور میں پابندی لگائی تھی کہ کوئی اپنا پیشہ نہیں چھوڑے گا تاکہ معاشرے میں کسی چیز کی کمی نہ ہو اور ترقی کا سفر جاری رہے۔ حضرت داؤد بھی زرے بنانے کی صنعت سے وابستہ تھے۔ اگر نوازشریف اور شہبازشریف کو جرنیل سیاست میں لانے کے بجائے اتفاق ٹریکٹر بنانے دیتے تو آج وہ ترقی کرکے پورے ملک میں ریل گاڑی اور جہاز بنانے کے کارخانے بھی بناتے اور ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں زبردست کردار ادا کرتے۔ اسی طرح آصف زرداری ، عمران خان اور مختلف محکموں سے ریٹائرڈ ہونے والے حضرات بھی سیاست میں آنے کی جگہ اپنی اپنی فیلڈ میں کام کرتے۔ لیکن سیاسی جماعتوں نے اپنے باصلاحیت کارکنوں کو کنارے لگاکر نالائقوں کیلئے دروازہ کھولنے میں اپنا کردار اداکیا اور طلبہ تنظیموں کی سیاست پر پابندی لگائی گئی۔
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگادو کاخِ امراء کے درو دیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو
مفت میں زمینیں کاشت کیلئے مل جائیں گی تو بڑے بڑے جاگیرداروں کی ضرورت نہیں رہے گی کہ وہ پانی پر اپنا ناجائز قبضہ جمائیں۔ عدل وانصاف سے پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل ہوگا۔ پھر اتنے باغات اُگائے جائیں گے کہ پاکستان کی تمام زمینیں باغ ہی باغ اور جنت کا منظر پیش کریں گی اور اس میں محنت مزدوری کرنے والوں کو بھی روز گار ملے گا۔ جب کھیت میں پوری پوری محنت کا پوراپورا صلہ مل جائے گا تو مزدور کی دیہاڑی بھی خود بخود دگنی ہوجائے گی۔ پھر سب سے پہلے سودی قرضوں کا خاتمہ ضروری ہوگا کیونکہ ہماری ریاست کی آمدن سے بھی زیادہ پیسے سودکی ادائیگی میں جارہے ہیں۔ جب محنت کشوں کو درست معاوضہ ملے گا تو وہ تعلیم وتربیت کیلئے اپنے بچے بھیجنا شروع کریں گے جن سے بہت ہی لائق قسم کے ڈاکٹر، فوجی، سائنسدان اور ہر شعبے میں مہارت رکھنے والے پیدا ہوںگے۔ نالائق سیاستدانوں ، ججوں، جرنیلوں اور افسروں کے نالائق بچوں کو کھیتی باڑی اور محنت مزدوری میں مزہ بھی آئے گا اور صحت بھی اچھی رہے گی۔
سفارش کی جگہ میرٹ اور افراتفری کی جگہ ڈسپلن اس قوم کا پھر شعار بن سکتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے یہ فلسفہ پیش کیا تھا کہ ” جو قومیں اپنے ان افراد کو محنت مزدروی کے کام پر لگاتی ہیں جن میں ذہنی صلاحیت ہوتی ہے اور جن میں ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی ہے ان کو دماغی کام پر لگادیتی ہیں تو وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔ اور جو لوگ ذہنی صلاحیتوں سے مالامال لوگوں کو ذہنی صلاحیتوں کی ذمہ داریوں پر لگادیتی ہیں اور ہاتھ پیر کی صلاحیت رکھنے والوں کو مزدوری اور ہاتھ پیروں کے کام پرلگایا جائے تو وہ قوم بہت ترقی کرتی ہے”۔ جب تک قوم کو مواقع فراہم نہ کئے جائیں تو ایسا کرنا اگرچہ ناممکن نہیں ہے مگر بہت ہی مشکل ضرور ہے۔ جب زمینداری کے مسئلے میں اسلام کے اصل حکم کو عملی جامہ پہنایا جائے تو پھر بہت ہی تیزی کیساتھ معاشرے میں محنت کشوں کی کایا پلٹ جائے گی۔ معیشت کیلئے یہ ایک بہت بڑا بنیادی فلسفہ ہے اور پاکستان میں اس پر عمل کرنابڑا آسان ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

حقیقی جمہوری اسلام اور اسلامی جمہوری پاکستان کے نام سے تاریخ ، شخصیات ، پارٹیاںاور موجودہ سیاسی حالات :حقائق کے تناظرمیں

حقیقی جمہوری اسلام اور اسلامی جمہوری پاکستان کے نام سے تاریخ ، شخصیات ، پارٹیاںاور موجودہ سیاسی حالات :حقائق کے تناظرمیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عربی میں عبد غلام کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوکسی دوسرے کی غلامی کیلئے پیدا نہیں کیا ہے بلکہ اپنی خلافت کیلئے پیدا کیا ہے۔ زمین میں انسانوں کی خلافت کیا ہے؟۔ بیوی بچوں ، جانور، پرندے اور درخت کھیتی وغیرہ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھاناروئے زمین میںاسلامی خلافت کا ایک چھوٹا ساآئینہ ہے۔ حضرت عمرفاروق اعظم نے فرمایا کہ ” اگر دریا کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مرجائے تو اس گناہ کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے”۔ حضرت ابوبکر صدیق اکبر نے ایک چڑیا کو دیکھ کر فرمایا کہ ” یہ کتنی خوش قسمت ہے کہ جوابدہی کے غم سے آزاد ایک جگہ سے دوسری جگہ اُڑتی پھرتی ہے”۔ اپنے بال بچوں کی ذمہ داری اٹھانا کتنا مشکل ہے لیکن پورے ملک وقوم کی ذمہ داری اٹھانا پھر کتنا مشکل کام ہے؟۔
اگر موجودہ جمہوری سیاست میں اسلام کی روح ہوتی تو کیا اقتدار کے حصول کیلئے قائدین اس طرح اپنی الٹی سیدھی حرکتیں کرکے مررہے ہوتے؟۔ حضرت سعد بن عبادہ انصار کے سردارنے خلیفہ بننا چاہا تو حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے بہت خطرناک رحجان کو دیکھ کرثقیفہ بنی سعدمیں یہ اقدام اٹھانے سے روک دیاتھا اورہنگامی بنیاد پر حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر حضرت عمر نے بیعت کرلی۔ جس کے بعد انصار و مہاجرین کی اکثریت بھی ان کی خلافت پر متفق ہوگئی۔ حضرت سعد بن عبادہ نے آخری عمر تک نہیں مانا اور حضرت علی وابن عباس اور اہل بیت کے افراد کو بھی اس اقدام پرایک عرصہ تک بہت سخت قسم کے تحفظات تھے۔
پھر حضرت عمر نامزدہوئے اور حضرت عثمان کا انتخاب چند برگزیدہ ہستیوں نے کثرت رائے سے کردیا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علیکا فیصلہ بھی ہنگامی صورتحال میں کیاگیا تھا۔ چاروں خلفاء راشدین کی نامزدگی جمہوری نظام کے تحت نہیں ہوئی تھی لیکن ان کے فیصلے مشاورت سے ہواکرتے تھے۔پھر اس کے بعد خلافت کا نظام خاندانی اقتدار میں بدل گیا۔ پھربنوامیہ کی حکومت جبر سے ختم کی گئی اور ان کے افراد کو عبرتناک انجام تک پہنچایا گیا۔ پھر بنوعباس کا بھی کافی عرصہ بعد حشر نشر کیا گیا اور پھرسلطنت عثمانیہ کا قیام عمل میں آیا اور پھر اس کا بھی خاتمہ 1924ء میں کردیا گیا۔ برطانیہ وامریکہ اور مغرب نے جمہوری نظام کا آغاز کیا جس میں خون خرابے کے بغیر انتقالِ اقتدار کو ممکن بنایا جاتا ہے۔
کیا جمہوری نظام غیراسلامی ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ” اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے ، یہاں تک کہ قیامت آجائے”۔ (صحیح مسلم )
مغرب نے دنیا کو جس طرح کا جمہوری نظام دیا ،اگرجمہوری روح کے مطابق اسلامی دنیا میں اس پر عمل ہوجائے تو یہی اسلام کا تقاضہ ہے۔ جب دنیا میں پرامن انتقال اقتدار کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا تو انقلابی جدوجہد میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوجاتی تھی۔ ایرانی بادشاہت خونریزی سے ختم ہوئی اور عرب و دیگر بادشاہتوں کو تصادم اور خونریزی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں انتقال اقتدار کیلئے جمہوریت ہے اور ڈکٹیٹروں نے ریفرینڈم بھی کرائے ہیں۔ مکہ خونی تصادم کے بغیرفتح ہوا تھا اور اس سے پہلے صلح حدیبیہ کا زبردست معاہدہ ہوا تھا۔
خلافت راشدہ کے دور میں جمہوری نظام نہیں تھا لیکن جمہوریت کی روح موجود تھی ۔ حضرت عثمان اورحضرت علی کی شہادت کے بعدآخری خلیفۂ راشد امام حسن نے حضرت امیرمعاویہ کے حق میں دستبردار ی اختیار کرلی اور پھر امارت کا دور شروع ہوا۔ جس کے بعد جب تک خاندانوں کو نیست ونابود کرکے نہیں رکھ دیا جاتا تھا اس وقت تک خاندانی بادشاہتوں کا سلسلہ جاری رکھا جاتا تھا۔
آج پاکستان میں جمہوریت ہے مگر جماعتوں میں جمہوریت کی روح نہیں ہے۔ ڈکٹیٹروں کی پیداوار قیادتوں سے جمہوری مزاج اور جمہوری نظام کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے؟۔ خاندانوں اور خانوادوں کی سیاست ہے اور اس سے بدتر حالت قائدین اور قیادتوں کی ہے۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم گورنر جنرل بن گئے اور قائدملت وزیراعظم بن گئے اور اپنی بیگم راعنا لیاقت علی خان کو اعزازی فوجی جرنیل کا عہدہ دے دیا۔ پھر کون کون اور کس طرح وزیراعظم بن گیا؟۔ اس کی ایک بہت بھیانک اور مخدوش تاریخ ہے۔ سول و ملٹری بیوروکریسی کا اقتدار پر قبضہ تھا۔ آخر کار جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جمہوریت کی بنیاد رکھ دی۔ عوام پہلے انگریز کے جس نظام اور جن لوگوں کی غلام تھی تو انگریز سرکار کے تشریف لے جانے کے بعد اس کی باقیات کا قبضہ جوں کا توں تھا۔
جنرل ایوب خان کے مقابلے میں مادرملت فاطمہ جناح نے الیکشن لڑا تھا تو مشرقی ومغربی پاکستان کی زیادہ تر سیاسی و قومی جماعتوں نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا لیکن اس کو دھاندلی سے شکست دے دی گئی تھی۔ جنرل ایوب خان کی کوکھ سے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے جنم لیا تھا۔ پھر جب جنرل یحییٰ خان نے الیکشن کرایا تو مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کی پارٹی نے اکثریت حاصل کرلی لیکن بھٹو نے جرنیلوں کیساتھ مل کر مجیب الرحمن کو جمہوری بنیاد پر قتدارسپرد نہیں کیا جس کی وجہ سے سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بننے کا سانحہ پیش آیا تھا۔ پھر بھٹو نے پاکستان میں سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھال لیا ۔ بنگلہ دیش میں پاک فوج سے ہتھیار ڈالوانے سے پہلے اقوام متحدہ کی فوج بھی تعینات ہوسکتی تھی لیکن بھٹو نے پاک فوج کو ذلیل کرکے اقتدار پر اکیلا مسلط ہونے کیلئے اقوام متحدہ کی اسمبلی میںاس قراردادکے کاغذ پھاڑ دئیے تھے۔ جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جگہ بھارت نے بنگلہ دیش پر قبضہ کرکے پاک فوج اور سول بیوروکریسی کے 93ہزار قیدی بنالئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تمام پارٹیوں کی مدد سے ایک اسلامی جمہوری آئین تشکیل دیا تھا لیکن اس کوخود معطل کرکے بھی رکھ دیا تھا۔ لاڑکانہ سے کوئی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ بھٹو کے مقابلے میںاپنے کاغذات بھی کوئی داخل کراتا۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی نے انتخابی دنگل میں لاڑکانہ سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو اس کو بھٹو نے کمشنر خالد کھرل کے ذریعے اغواء کیا تھا۔ یہ وہ خالد کھرل تھا جس کے دادا نے برصغیر پاک وہند کے سب سے بڑے انگریز مخالف انقلابی قائد احمد خان کھرل کی مخبری کرکے نقدی اور سرکاری اراضی کا انعام کمایا تھا۔
بھٹو نے پنجاب وسندھ کو قابو کیا ۔ پہلے پنجاب اور ہندوستان کے مہاجروں کا عوام پر راج ہوتا تھا۔ بھٹو نے ہندوستانی مہاجروں کی سول بیوروکریسی کی ایک بڑی تعداد کو جبری ریٹائرڈ کرکے سندھ اور پنجاب کے اقتدار کی بنیاد رکھ دی تھی۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے صوبوں میں اپنااقتدار حاصل کیا تھا۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام نے زیادہ بڑی اکثریت حاصل کرلی تھی اور خیبرپختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ جس میں خان عبدالولی خان، محمود اچکزئی کے والد عبدالصمد خان اچکزئی ، بلوچ قیادت نواب خیربخش مری، سردارعطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجوتمام قوم پرست تھے۔ لیکن قوم پرستوں نے جمہوریت کے سر کے بال اور جمعیت علماء اسلام نے اسلام کی داڑھی مونڈھ دی تھی اسلئے کہ جہاں بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کو اسلام کے نام پر عوام نے بھاری اکثریت سے جتوایا تھا وہاں اقلیت والے سردار عطاء اللہ مینگل کو وزیرااعلیٰ بنادیا گیا تھا اور جہاں سرحد(خیبرپختونخواہ )میں نیشنل عوامی پارٹی کو قوم پرستی کے نام پر بھاری اکثریت سے جتوایا تھا وہاں اقلیت والے مولانا مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا تھا۔جس سے اسلام اور جمہوریت دونوں کی بیخ کنی کی گئی تھی۔اگر وزیراعلیٰ بلوچستان جمعیت علماء اسلام سے بنادیا جاتا تو بلوچستان ہمیشہ کیلئے اسلام اور جمعیت علماء کا قلعہ بن جاتالیکن جعل سازی اور سودابازی کے ذریعے بلوچ قوم پرست سردارعطاء اللہ مینگل کو بنایا گیا تو آج تک بلوچستان کی سیاست ، حکومت اور بلوچ عوام اس کے مضراثرات کے متأثرین ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ سرحد(خیبر پختونخواہ) اس وقت مفتی محمود کی جگہ کسی قوم پرست کو بنادیا جاتا تو خیبر پختونخواہ سازشی علماء اور دہشت گردوں کی جگہ قوم پرستوں کا مرکز بن جاتا۔
پنجاب مسلم لیگ بلکہ موسم لیگ اور سندھ پیپلزپارٹی کا قلعہ ہوسکتا ہے تو پھر بلوچستان اسلام اور جمعیت علماء اسلام اور خیبر پختونخواہ قوم پرستوں کا مرکز کیوں نہیں بن سکتا تھا؟۔ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ اپوزیشن کی سیاست کا مرکز تھے ۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی نام نہاد جھوٹی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تو قوم پرستوں کے سہارے کھڑے وزیراعلیٰ مفتی محمود کو بھی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ پھر بھٹو کے مقابلے میں قومی اتحاد کے نو ستاروں کی تحریک چلی تھی جس میں جعلی قوم پرست اورجعلی اسلام پرست شامل تھے اور اس کوتحریکِ نظام مصطفی کا نام دیا گیاتھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی پہلے جمعیت علماء اسلام کے قائد کی حیثیت سے ایک مودودی سو یہودی کے نعرے لگواتے تھے لیکن پھر اس کی توپوں کا رُخ مفتی محمود کی طرف ہوگیا تھااور ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دے رہے تھے۔بعض علماء اس 9قومی ستاروں کے اتحادکو ان 9افراد کا ٹولہ قرار دے رہے تھے جن کا قرآن میں ذکر ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلارہے تھے۔
پھر جب اس قومی تحریک کے نتیجے میں مارشل لاء لگا تو کچھ عرصے تک جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا گیا لیکن پھر جماعت اسلامی مارشل لائی بن گئی اور کچھ دیگر جماعتوں نےMRDکے نام سے بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی ۔ جمعیت علماء اسلام کا فضل الرحمن گروپ اسکا حصہ بن گیا اور درخواستی گروپ مخالف بن گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا غلام غوث ہزاروی کی قبر پر اپنے باپ کے رویے پر معافی مانگی تھی کہ بھٹو کیخلاف جماعت اسلامی کیساتھ ہم غلط استعمال ہوگئے تھے۔ پھر جب جنرل ضیاء الحق حادثے کا شکار ہوگئے تو MRD میں شامل جماعتوں نے1988ء کے الیکشن میں فیصلہ کیا کہ قائدین کو اسمبلی تک پہنچانے کیلئے کسی کو بھی کھڑا نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن ، ولی خان وغیرہ کوسب نے مل کر جتوایا تھا لیکن بینظیر بھٹو کیخلاف ڈاکٹر خالد محمود سومرونے جمہوری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الیکشن لڑا تھا،جس سے مولانا فضل الرحمن کی ناک کٹ گئی تھی۔ ڈاکٹر خالد سومرو ایک طرف جے یوآئی کا نمائندہ تھا تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی اشیرباد پر پیپلزپارٹی کیخلاف قوم پرستوں کا مہرہ تھا۔ مفتی محمود اور ولی خان بھائی بھائی تھے تو ڈاکٹر خالد سومرو اور سندھی قوم پرست بھائی بھائی کیوں نہیں بن سکتے تھے؟۔پھر بینظیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو مسلم لیگ سے وزیراعظم عمران خان کے موجودہ سسر کے باپ غلام محمد مانیکا وغیر ہ بک گئے تھے۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے نیشنل پیپلزپارٹی ، جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور جمعیت علماء اسلام درخواستی گروپ وسپاہ صحابہ وغیرہ نے حصہ لیا اور جب اگلی باری پھر پیپلزپارٹی کی آئی تو مولانا فضل الرحمن بھی حکومت کا حصہ بن گئے تھے۔
PDMمیں پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام ساتھ تھے تو بھی گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں مریم نواز سمیت PDMکے تمام قائدین نے شرکت کی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن نے علامہ راشد محمود سومرو کی وجہ سے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔ ایک طرف جمعیت کے سومرو برادران لاڑکانہ میں تحریک انصاف کے اتحادی تھے تو دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان میں باپ کی اتحادی تھی۔ پیپلزپارٹی کی چاہت تھی کہ شہبازشریف کو وزیراعظم اور پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے لیکن ن لیگ نے اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کیلئے اسمبلیوں سے استعفیٰ اوراسلام آباد لانگ مارچ کے بعد دھرنا دینے کا بہانہ بناکرپیپلزپارٹی اور اے این پی کو PDMسے آوٹ کردیا تھا۔
پھر جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ نے اسلام آباد لانگ مارچ اور دھرنے کی ایک لمبی مدت کے بعد23مارچ کی تاریخ دیدی۔ جس میں PDM نے لانگ مارچ کیساتھ دھرنا بھی دینا تھا اور اسمبلیوں سے استعفے بھی دینے تھے۔ جب مارچ آگیا تو پھرPDMنے اپنے وعدوں سے مکر جانے کیلئے جھوٹا شوشہ چھوڑ دیا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے ہمارے نمبر پورے ہیں۔پیپلزپارٹی سے بھی رابطہ کرلیااور چوہدری برادران سے بھی رابطے کرلئے لیکن اصل مقصد لانگ مارچ، اسلام آباد دھرنے اور استعفیٰ دینے کے وعدوں سے توجہ ہٹانی تھی۔ مسلم لیگ ن نے میڈیا ٹیم کے ذریعے سے یہ افواہیں چھوڑ دیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو 3طلاق دیدئیے ہیں اور ن لیگ سے درپردہ حلالہ بھی ہوگیا ہے اسلئے مریم نواز خاموشی سے اپنی حکومت آنے کا انتظار کررہی ہیں۔دوسری طرف تحریک عدم اعتماد سے گھبرا کر عمران خان نے اول فول بکنا شروع کردیا۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے کی بات پر حسن نثار جیسے صحافیوں نے کہا کہ فوج بالکل غیرجا نبدار نہ رہے، ہماری جمہوریت اس کی متحمل نہیں یہاں خریدوفروخت کی چھانگا مانگا میں منڈیاں لگتی ہیں۔ وزیراعظم عمران نے کہا کہ ”غیر جانبدار تو جانور ہوتا ہے”۔ پہلے کہاتھا کہ ایمپائر کی انگلی اٹھے گی ، پھر کہا کہ ایمپائر سے مراد اللہ تھا۔ اب کہہ سکتے ہیں کہ ”غیر جانبدار جانور سے آرمی چیف نہیں ڈائنوسار مراد تھا”۔
قائداعظم گورنر جنرل تو آرمی چیف انگریز ، وزیرقانون ہندو اوروزیر خارجہ قادیانی اور پاکستان کا آئین اسلامی اور جمہوری نہیں تھا۔ پھر جنرل ایوبی کوکھ سے ذوالفقار علی بھٹو قائدعوام اور محمد خان جونیجو قائدِ جمہوریت کہلایا ۔ جنرل ضیاء الحق کی کوکھ سے جنم لینے والا نوازشریف جمہوری قائد بن گیا ۔عمران خان کو ٹی وی کے اسکرین پر مرغا بن کر اعلان کرنا چاہیے کہ اپنے بچوں کی ماں جمائما خان کو چھوڑ کر پرائے بچوں کی ماں بشریٰ بی بی کو اپنی بیگم بنایااور یہ جائز تھا لیکن اپنے ٹائیگروں کو چھوڑ کر دوسرے کے بھگوڑوں کو ٹکٹ دینا بہت بڑی غلطی تھی۔ معافی مانگتا ہوں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv