پوسٹ تلاش کریں

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کا سوشل میڈیا پر مختصربیان ہے کہ جب عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ نے اپنے بینک کو عالمی بینک کے تابع کردیا جب سلطنت عثمانیہ کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو عالمی قوتوں نے اپنے بینکوں سے بھی پیسہ نہیں لینے دیا جس کی وجہ سے ایک عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ جس کی حکومت عرب سے افریقہ تک پھیلی تھی۔ اتنی بڑی سلطنت بینکوں کے نظام کی وجہ سے گرگئی تو پاکستان کی کیا حیثیت ہے؟۔ پچھلے عرصے میں جب میں نے کہا تھا کہ پاکستان جب عالمی اداروں کا مقروض ہوگا تو پھر عالمی قوتوں کی کالونی کے علاوہ پاکستان اور کچھ نہیں ہوگا۔ جس پر ایک صحافی اینکر نے ٹوئٹ کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اتنا بے خبر ہے؟۔ پاکستان تو عالمی قوتوں کی کالونی بن چکا ہے اور اس کی خبر مولانا فضل الرحمن کو کیا نہیں ہے؟۔

تبصرہ: نوشتۂ دیوار …عبدالقدوس بلوچ
وزیر اعظم عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کیلئے پٹرول سستا کیا تھامگر مولانا فضل الرحمن کو بلدیاتی انتخابات کی واضح جیت مبارک ہو۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء تھا تو مولانا کہتے تھے کہ فوج آنکھوں کی پلکیں ہیں جو ملک کی زینت اور حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ پلکوں کا بال آنکھ میں گھسے تو برداشت نہیں ہوتا۔ اب تو تمام پلکیں گھس گئیں۔ یہ دلیل نہیں کہ ملک کی حفاظت فوج کرتی ہے تو حکمرانی کا حق بھی اسی کو ہے۔ چوکیدار کو تنخواہ اور اسلحہ دیا جائے اور وہ قابض ہوجائے تو یہ بدمعاشی ہے۔ مفتی محمود کی وفات کے بعدMRDمیں شمولیت کو علماء ومفتیان نے کفر قرار دیا، اسلئے کہ اس میں پیپلزپارٹی شامل تھی۔1985ء نشتر پارک کراچی میںMRDکے جلسے کاBBCنے کہا تھا کہ ”یہ جمعیت علماء اسلام کا جلسہ لگ رہا تھا”۔88ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے غلام اسحاق خان کو صدارت کیلئے ووٹ دیا اور جمعیت علماء نے نوابزادہ نصراللہ خان کو۔ پھر جب نوازشریف کو تحریک عدم اعتماد کیلئے اسامہ بن لادن کی طرف سے رقم مل گئی تو چھانگا مانگا میں منڈی لگائی، پیپلزپارٹی نے ارکان کو سوات کے ہوٹل میں رکھاتھا ۔ جے یو آئی ف کے ارکان اسمبلی کھلے عام اسلام آباد میں گھوم رہے تھے ،ان کو خریدنے کا تصور نہیں ہوسکتا تھا۔ بشریٰ بیگم کا سسر غلام محمد مانیکا وغیرہ نے مسلم لیگ کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ مولانا فضل الرحمن کو لیبیا کے صدر قذافی نے اسلامی یونیورسٹی جامعہ معارف الشرعیہ کیلئے رقم دینی تھی اور دھمکی دی کہ اگر تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا تو رقم نہیں ملے گی۔ مولانا کو اپنوں نے مشورہ دیا کہ یونیورسٹی بنانا زیادہ بہتر ہے لیکن مولانا نے اپنا ضمیر نہیں بیچا اور تحریک عدم اعتماد میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے آج تک یونیورسٹی کی بلڈنگ ادھوری ہے جس میں ایک چھوٹا مدرسہ چل رہاہے۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو نوازشریف کو لایا گیا اور اصغر خان کیس کا 16سال بعد فیصلہ ہونا تھا مگر اس کی فائل بند کردی گئی۔ پرویزمشرف وردی کو اپنی کھال قرار دیتاتھا مگر متحدہ مجلس عمل سے معاہدے کے تحت وردی اترگئی۔ اگر پیپلزپارٹی نہ ٹوٹتی تو مولانا فضل الرحمن کئی ووٹوں سے وزیراعظم بنتے۔ ق لیگ نے ایک ووٹ سے ظفراللہ جمالی ، چوہدری شجاعت اور شوکت عزیزکو وزیراعظم بنادیا تھا۔ پیپلزپارٹی میں جمہوری غیرت ہوتی توق لیگ کے مقابلے میں مولانا کو ووٹ دیتی۔ ایک سیٹ جیتنے والا کم عقل انسان عمران خان وزیراعظم بن گیا تو مولانا فضل الرحمن کیوں نہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی طرح آخری وقت میں مسلم اُمہ کو قرآن سے استفادہ اور فرقہ پرستی سے کنارہ کشی کا واضح پروگرام دینا چاہیے شاہ ولی اللہ سے مولانا عبیداللہ سندھی تک کی روح قرآن و سنت سے زندہ کرسکتے ہیں۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء ومفتیان کو حق کیلئے ایک پلیٹ فارم پر لانا اور بڑے پیمانے پر ووٹ لیکر نظام بدلنااور وزیراعظم بنناکوئی مشکل نہیں ہے ۔
خیبر پختونخواہ تبدیلی اور انقلاب کی علامت ہے لیکن اس سیاست میں عوام حصہ دار نہیں ،یہ پارٹیوں کا مسئلہ ہے۔ نوازشریف نے زرداری کے مقابلے میںIMFسے ڈبل قرضہ لیکر دفاعی بجٹ سے سودڈیڑھ گنا زیادہ کیا ،جس کی ہم نے نشاندہی کی تھی۔ عمران خان نے سودی رقم نوازشریف سے بھی دگنی کرکے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تین گنا کردی ۔ جب ٹیکسوں کے تمام محصولات کے قریب سود ہو تو ملک کا نظام کیسے چلے گا؟۔ جن جرنیلوں ، سیاسی قائدین ورہنماؤں ، ججوں، سول بیوروکریسی کے افسران اور صحافیوں نے یہاں سے بے تحاشا پیسہ کماکر بیرون ملک انویسٹ کردیا، وہ اپنی آدھی رقم سودی قرضہ چکانے میں دیں اور آدھی پاکستان کی تعلیم وترقی میں لگائیں جس کی بنیاد پر یہاں امن امان کی فضاء قائم ہوگی اور ہماری ترقی بھی مثالی ہوگی۔ اگرIMFکے سودی قرضے کو اسلامی بینکاری کے اصولوں سے حیلہ کرکے نام نہاد اسلامی بنایا جائے تو کیا قوم و ملک کو ریلیف ملے گا؟۔ ہرگز نہیں! تو پھر اسلام کو کیوں بدنام کیا جا رہاہے؟۔ سودی نظام سے زکوٰة کی کٹوتی کو مفتی محمود سود اور مولانافضل الرحمن اس کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے۔ نام نہاد اسلامی بینکاری کے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن کم ازکم وفاق المدارس اور تنظیم المدارس کے سربراہ کے اہل نہ تھے۔ مدارس کو ڈکٹیٹرنہیںجمہوری اندازمیں چلانا تھا۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی حیلے کی اسکے استاذ مولانا سلیم اللہ خان سابق صدر وفاق المدارس اورعتیق گیلانی کے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سابق صدر وفاق المدارس پاکستان سمیت شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان اور تقریباً سب دیوبندی مکتب کے علماء نے مخالفت کی تھی۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر کہتے تھے کہ ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ ” خورے قیامت شو”۔ بہن قیامت ہوگئی۔ دوسری نے کہا کہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ ” ابا میں ملک شو” کہ میرا باپ ملک بن گیا۔ یعنی قحط الرجال آگیا کہ گاؤں والوں کو دوسرا چوہدری نہیں ملا تو میرا باپ چوہدری بنادیا گیا اور یہ قیامت کی نشانی ہے۔ مفتی محمود کے دور میں مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی محمد رفیع عثمانی نے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا تو دونوں کی حیثیت نہ تھی۔ پھر سودکو جواز بخشا تو سب مخالف تھے۔ اگر مذہبی حیلہ سازوں کو آگے لایا جائے اور سیاسی اعتبار سے دوسری سیاسی جماعتوں جیسی روش اپنائی جائے تو پھر اسلام کے نام پر علماء ومفتیان سے لوگ نفرت کریں گے۔
موجودہ مذہبی،ریاستی اور سیاسی نظام ناکام ہے اور پاکستان سے انقلاب کیلئے ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے کہ اگر حکومت نہ بھی ملے تو معاشرے میں مذہبی و معاشی بنیادپر انقلاب برپا ہوجائے لیکن جب سود اسلامی ہوجائے تو پھرکیا چیز غیر اسلامی ہوگی؟۔ جمعیت علماء ہند کے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے ضخیم کتاب لکھ کر سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا۔ اندرون سندھ جمعیت علماء اسلام کے مراکز ہالیجی شریف، امروٹ شریف اور بیرشریف میں اسی بدعت پر عمل ہے۔ راشد محمود سومرو کے باپ دادا تذبذب کا شکار تھے کہ کیا سنت اور کیا بدعت ہے؟۔ خیبرپختونخواہ ، بلوچستان میں بھی دیوبندی اس بنیاد پر ایکدوسرے پر بدعتی اور قادیانی کے فتوے لگاتے تھے اور افغانستان میں بھی اس بدعت کا فتویٰ قبول نہیں کیا گیا تھا۔ تبلیغی جماعت والے رائیونڈ اور بستی نظام الدین میں ایسے تقسیم ہیں کہ ایکدوسرے کو اپنے مراکزمیں نہیںچھوڑتے اور دیگر ملکوں کی مساجد میں بھی ایکدوسرے کو نہیں چھوڑ تے ۔ فرقہ وارانہ جماعت بندی اور گروہ سازی کا راستہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے سے رُک سکتا ہے۔
سود کی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا۔ جاگیر دار اپنی زمینوں کو خود کاشت کریں تو حرام خوروں کی صحت ٹھیک ہو گی اور کاشتکاروں کو مفت زمین ملے تو غربت وبیروزگاری بھی ختم ہو گی۔ قرآنی آیات سے ہماری دنیا روشن ہوسکتی ہے۔ سودی نظام کے خلاف آگ چھوئے بغیر بھی قرآنی آیات کا چراغ بھڑک کر جل اٹھ سکتا ہے۔ ندیم احمدقاسمی کا شعر ہے کہ
رات جل اٹھتی ہے شدت ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
تاریخ کا تاریک ترین اندھیرا ہے۔ مذہبی روایات ، تعلیمات،معاشیات، ریاستی معاملات، سیاسیات اور اخلاقیات سب کچھ انتہائی درجہ تباہ ہیں۔مفتی تقی عثمانی کے اکابر مولانا درخواستی اورجمعیت علماء اسلام کے رہنما کہتے تھے کہ انگریز نے تنخواہ دیکر اپنے جاسوس مولانا احتشام الحق تھانوی کو پڑھایاکہ معلوم کریں کہ دارالعلوم دیوبند میں بغاوت کی تعلیم دی جاتی ہے؟اس جاسوس نے لکھا کہ مجھے نااہل سمجھو یہاں بغاوت کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ پھریہ مشن ملا کہ دارالعلوم دیوبند کی ہر تحریک کی مخالفت کریں۔
حضرت مولانا مفتی محمود فرماتے تھے کہ دنیا کی امامت کیلئے دنیاوی اور دینی تعلیم دونوں ضروری ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا دینی تعلیم یافتہ طبقہ دین اور دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ اپنی فنی تعلیم سے بھی جاہل ہے اور اب جہالت کا غلبہ بڑھتا جارہاہے اسلئے کہ پہلے قابلیت پر ڈگری ملتی تھی اور اب پیسوں سے ڈگریاں لی جاتی ہیں۔ قومی اسمبلی کے کئی مرتبہ ممبر رہنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پاس ڈاکٹر کی ڈگری نہیں لیکن ڈاکٹر اسکے نام کیساتھ اس کی شناخت ہے۔
تین طلاق اور حلالہ کے حوالے سے عتیق گیلانی نے دھیان نہیں دیاتھا تو کئی واقعات پیش آئے مگر حلالہ کی لعنت کا فتویٰ نہ دیا، ایک ساتھی عیسائی سے مسلمان ہوا تھا اور اسکے چھوٹے بچے تھے۔ ایک نے اہلحدیث سے رجوع کا فتویٰ لیا تھا تو تنقید نہ کی لیکن کراہت تھی کہ اس نے اچھا نہیں کیا۔ ایک نے حلالے پر اصرار کیا تو اس کو منع کردیا لیکن اس نے پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فتویٰ لے لیا اس فتوے میں لکھا تھاکہ ” طلاق کا حق عورت اپنے پاس رکھے تاکہ جب طلاق لینا چاہے تو اس شوہر کو چھوڑ سکے”۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتوے میں طلاق کا اختیار حلالہ کرنے والے لعنتی مولوی کے پاس رہتا ہے جس سے عورت کوجتنا مرضی وہ بلیک میل کرسکتا ہے اور خواتین اور حلالے کروانے والے اسکے شوہر اس کی بدمعاشی کا شکار ہونے کے بعد کسی سے اس کا تذکرہ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی مخالفت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی قندھاری نے کی تھی۔ دارالعلوم دیوبند سے نمازکی سنتوں کے بعد دعا بھی بدعت قرار دی گئی تو مولانا احمدرضاخان نے اس تحریک کو اکابر کیخلاف زہرقرار دیا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے ”بدعت کی حقیقت”میں فقہی تقلید کو بدعت قرار دیا۔ اس وقت حجاز پر وہابیوں کی حکومت نہیں تھی اسلئے مولانا احمدرضا خان بھی حرمین کے علماء سے فتویٰ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ دیوبند کے اکابر نے اس فتوے کے خوف سے اپنی دُم ایسی گھسیڑدی کہ آج تک نہ نکال سکے۔ بریلوی سے مفتی تقی عثمانی کا باپ اور استاذ دیوبند کیلئے زیادہ خطرناک تھے ۔70ء میں جمعیت علماء اسلام پر بھی کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید دراصل دارالعلوم دیوبند کا مدِمقابل اور ضد ہیں۔اسلامی شعار کی حفاظت کیلئے دارالعلوم دیوبند کا وجود ناگزیز تھا لیکن اب سودتک بھی حلال کردیا گیاہے۔
جب نوازشریف کے دور میں دفاع کے بجٹ سے ڈیڑھ گنا صرف سودی رقم بڑھ گئی تھی تو فوج نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ لینا بھی چھوڑ دیا۔ پھر فوج نے ٹول ٹیکس وغیرہ کے ٹھیکے لینا شروع کردئیے۔ اگر نوازشریف سی پیک کے مغربی روٹ کو نہ بدلتا جو مولانا فضل الرحمن نے زرداری کیساتھ مل کر چین کیلئے طے کیا تھا تو آج اس پر گوادر سے چین کیلئے ٹریفک ہوتی۔ جس سے بڑی تعداد میں ٹول ٹیکس کی مدمیں بھی پیسہ آنا شروع ہوجاتا۔ اور ایران کیساتھ جو گیس پائپ لائن کا معاہدہ زرداری نے کیا تھا، اگر اس پر نوازشریف کے دور میں عمل درآمد ہوجاتا تو پاکستان کو بھی قطر سے مہنگی اور وقتی گیس لینے کی ضرورت نہ پڑتی اورہندوستان کوبھی گیس پاکستان کے راستے سے جاتی ۔ ایرانی گیس و تیل سے ہندوستان کو بھی امریکہ کے مقابلے میں اپنے قریب کیا جاسکتا تھا۔ آج روس سے بھارت نے دفاعی سسٹم خرید لیا ہے جس سے ہمارے میزائل کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

تبلیغی جماعت پر سعودی عرب کی طرف سے پابندی اور اس پرتبلیغی جماعت سمیت مختلف لوگوں کا ردِ عمل لیکن اصل بات اور اسکے اصل حقائق!

تبلیغی جماعت پر سعودی عرب کی طرف سے پابندی اور اس پرتبلیغی جماعت سمیت مختلف لوگوں کا ردِ عمل لیکن اصل بات اور اسکے اصل حقائق!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
چیف ایڈیٹر: اخبار نوشتہ دیوار کراچی

سعودی عرب نے تبلیغی جماعت اور دوسری تنظیموں پر کھلم کھلا اعلان کرکے نہ صرف پابندی لگائی ہے بلکہ جمعہ کے خطبات میں تبلیغی جماعت پر شدید الزام تراشی بھی کی ہے۔ شرکیہ عقائد کی تشہیر ، قبرپرستی، قرآن وسنت اور علماء حق سے دوری کے علاوہ ضعیف احادیث اور جھوٹے قصے کہانیاں سے عقائد بگاڑنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ تبلیغی جماعت کے نصاب میں پہلے فضائل درود شریف شامل تھا جس کا مولانا زکریا نے اپنی ”آپ بیتی” میں لکھا ہے کہ ” رسول اللہ ۖ نے خواب میں فرمایا کہ زکریا اپنے معاصرین میں فضائل درود کی وجہ سے سبقت لے گیا ہے”۔
تبلیغی جماعت نے سب سے پہلے سعودی عرب کے علماء اور حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے اپنے نصاب سے فضائل درود کو نکال دیا اور تبلیغی نصاب کی جگہ اس کا نام بھی ” فضائل اعمال ” رکھ دیا۔ مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت کے ایک بہت اہم ساتھی مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے تبلیغی جماعت میں نہ صرف بہت ساتھ دیا تھا بلکہ ان کی کتاب ” موجودہ پستی کا واحد علاج ” بھی نصاب کا حصہ تھا ۔ جب مولانا الیاس کے انتقال کے بعد آپ کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف کاندھلوی کو تبلیغی جماعت کا امیر بنایا گیا تو صاحبزادہ حضرت جی مولانا یوسف نے جماعت میں کوئی وقت نہیں لگایا تھا لیکن اچھے عالم دین تھے اور جب وہ مولانااحمد علی لاہوری کے پاس گئے تو مولانا لاہوری نے ان سے فرمایا تھا کہ ” جس دن اس جماعت نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ دین کا بس صرف یہی کام ہے ۔ مدارس، خانقاہوں اور دوسری مذہبی وسیاسی جماعتوں کو اہمیت دینی چھوڑ دی تو اس کا زوال شروع ہوجائے گا”۔
حضرت جی مولانا محمد یوسف کے دور میں تبلیغی جماعت اپنی روح پر کاربند تھی لیکن جب مولانا انعام الحسن کو امیر بنایا گیا تو تبلیغی جماعت نے اپنے اصل کام سے انحراف شروع کردیا۔ مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے سب سے پہلے مخالفت شروع کردی اور یہ لکھ دیا کہ ” پہلے بہت ساری چیزوں کی پابندی کیساتھ جماعت کو اس کام کی شریعت میں اجازت تھی لیکن اب بہت ساری خرابیاں کی وجہ سے تبلیغی جماعت اس بات کی اہل نہیں رہی ہے کہ شریعت میں اس ترتیب کیساتھ اس کو کام کرنے کی اجازت ہو”۔ مولانا احتشام الحسن کاندھلوی مولانا الیاس کے ساتھی اور خلیفہ تھے۔علماء دیوبند کے اکابر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے مرید وخلفاء تھے اور بریلوی دیوبندی اختلافات میں 7اہم اور بنیادی مسائل پر انہوں نے کتاب بھی لکھی تھی جو دیوبندی وبریلوی دونوں مکتبۂ فکر کیلئے قابل قبول تھی۔ دیوبندی فکر کے لوگ ان سات مسائل کو بدعت اسلئے سمجھتے تھے کہ ” شریعت میں ان کا جواز تھا لیکن بہت سارے لوگوں نے ان کو فرض وسنت کا درجہ دے رکھا تھا”۔ جب تبلیغی جماعت کا بھی وہی حال ہوا تو مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے اس جماعت کے خلاف بھی شریعت کا تقاضہ سمجھ کر آواز اُٹھائی تھی لیکن تبلیغی جماعت نے اس آواز کو دبا دیا۔ اگر دیانتداری سے یہ آواز تبلیغی جماعت کے اکابر اور کارکن حضرتات عوام تک پہنچادیتے تو شاید تبلیغی جماعت بے اعتدالی سے ہٹ کر اعتدال پر آجاتی۔
جب تبلیغی جماعت اپنے ہٹ پر قائم رہی تو شیخ الحدیث مولانا زکریا اور آپ خلفاء نے تبلیغی جماعت کی اصلاح کیلئے کوشش شروع کردی۔ مولانا محمدالیاس کے اس قول کی تشہیر ایک خط کے ذریعے سے شروع کردی کہ ” اس جماعت کے دو پَر ہیں،ایک علم اور دوسرا ذکر۔ اگر جماعت میںعلماء ومشائخ کے کام کی اہمیت نہ رہے تو پھر اس کا مٹانے والے مولانا الیاس کے اصل نمائندے ہوں گے”۔ آج مولانا زکریا کے خلفاء اور مریدوں کی اکثریت تبلیغی جماعت کی سخت خلاف ہے۔
تبلیغی جماعت کے ایک اکابر مولانا جمیل احمد صاحب نے ایک مسجد کے امام کو اس پر بات پر اپنے فون پر بہت ڈانٹا ہے کہ” تمہارا عقیدہ علماء دیوبند کا نہیں ہے اسلئے کہ علماء دیوبند اس بات کے قائل ہیں کہ رسول اللہ ۖ اپنی قبر میں اس دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں اور آپ برزخی حیات کے قائل ہیں اسلئے تمہارا عقیدہ علماء دیوبند کے خلاف ہے اور علماء دیوبند کے لبادے میں چھپ کر تمہیں مسجد کے انتظامیہ کو ہٹادینا چاہیے۔ تمہارے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی ہے”۔
مولانا منظور مینگل نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ” حاجی عبدالوہاب کے سامنے ایک تبلیغی عالم نے کہا کہ حاجی عبدالوہاب کی روح عزائیل نے نکال دی توحاجی صاحب سے فرشتوں نے سوال کیا کہ تمہارا رب کون ہے؟، رسول کون ہے؟ اور تمہارا دین کیا ہے؟۔ حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ مجھے مولانا الیاس، مولانا یوسف اور مولانا انعام الحسن کے پاس بستی نظام الدین پہنچادو۔ جس پر فرشتے بھی لاجواب ہوگئے اورحاجی صاحب کو انہوں نے دوبارہ زندہ کردیا”۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” المر ء مع من احب :آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اس کی محبت ہوتی ہے”۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ قبر میں نبیۖ کی زیارت کرائی جائے گی اور پوچھا جائے گا کہ وماتقول فی ھٰذا الرجل ” اور اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہو؟”۔ مسلمان اس نبیۖ کو پہچان کر گواہی دے گا کہ خاتم النبین رحمة للعالمینۖ ہیںاور غیرمسلم کہے گا کہ” لاادری : میں نہیں جانتا ہوں” ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حاجی عبدالوہاب پر ایک کیفیت یہی طاری کردی ہو کہ موت کے بعد رب، نبی اور دین کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اس کو بستی نظام الدین بھارت کے اکابر کے علاوہ کچھ بھی سوجھائی نہیں دیتا ہو تاکہ وہ زندگی میں اپنا قبلہ درست کرلے اور تبلیغی جماعت کے اکابر اور اسکے کارکن اس سے عبرت پکڑ لیں۔ جب مولانا منظور مینگل نے بھی تبلیغی جماعت کے اہم ترین اکابر حاجی عبدالوہاب اور انکے اردگرد کے ماحول کے بارے میں یہ نشاندہی کی تھی تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے تھی کہ موت کے بعد دنیاوی حیات نہیں برزخی حیات شروع ہوتی ہے۔ اگر دنیاوی حیات ہوتی تو پھر نماز ، وضو، پوٹی پیشاب اور کھانا کھانے کی گنجائش بھی قبر میں چھوڑدی جاتی اور تعففن سے شاید عقیدہ بھی درست ہوجاتا ۔
سعودی عرب کے وہابی علماء کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ۖ اپنی قبر میں دنیاوی حیات نہیں بلکہ برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں تو تبلیغی جماعت اپنا عقیدہ سعودی عرب میں کیوں چھپاتی ہے؟۔ پہلے تبلیغی جماعت نے فضائل درود کی وجہ سے بہت سارے بریلوی مکتبۂ فکر کے لوگوں کو اپنا شکار بنایا لیکن جب سعودیہ سے خوف کھانے کی وجہ سے اپنے نصاب سے ” فضائل درود ” کو نکال دیا تو مسلمانوں کی مشترکہ جماعت کی جگہ اس پر دیوبندی فرقے کا لیبل لگ گیا۔ بریلوی نے پھر اپنی دعوت اسلامی بنائی اور اہلحدیث نے بھی اپنی نئی تبلیغی جماعت بنائی۔
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر ہے جس میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا، ابرص کے مریضوں اور مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کرنا بھی شامل تھالیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ قرآن شرک کی تعلیم دیتا ہے اور اگر یہ قرآنی آیات نہ ہوتی تو محمد بن عبدالوہاب کے جاہل پیروکار اس کو بھی شرکیہ اعتقادات سمجھ کر قرآن کے واقعات پر پابندی لگوانے سے دریغ نہ کرتے۔ دیوبند کے اکابرین نے پہلے محمد بن عبدالوہاب کی سخت مخالفت کی تھی لیکن جب سعودیہ کی حکومت قائم ہوگئی تو ان کے علم ، کشف اور شرح صدر کا محور بدل گیا تھا۔ اگر اسلام میں قبر کی مخالفت ہوتی تو نبیۖ اور پہلے دو خلفاء حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی قبر کا حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے میں ہونا ہی اسلامی احکام کی بیخ کنی ہوتی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جس طرح انسان کی پیدائش، تخلیق اور اس کیلئے راستہ آسان ہونے کو احسان کے طور پر جتلایا ہے ، اسی طرح فاماتہ و اقبرہ اور اس کو پھر موت دیدی اور قبر دیدی کو بھی احسان کے طور پر شمار کیا ہے۔
تبلیغی جماعت کتنی پرامن اور غیر مضر ہے؟ ۔تو اس کا حال تبلیغی جماعت کے اندر ہی سے لیا جائے۔ ہندوستان میں اس کا عالمی مرکزبستی نظام الدین میں ہے۔ پاکستان میں اس کا مرکز رائیونڈ میں ہے۔ افریقہ میں بھی رائیونڈ کی جماعت والے بستی نظام الدین مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد کی جماعت والوں وہاں کام نہیں کرنے دیتے ہیں جہاں ان کا بس چلتا ہے۔ جب یہ ایکدوسرے کے مراکز میں خود ایکدوسرے کو نہیں چھوڑتے ہیں اور جس مسجد میں ان کا غلبہ ہوتا ہے وہاں پر قرآن کا درس بھی نہیں ہونے دیتے ہیں تو دوسروں سے گلہ کرنے کے بجائے پہلے اپنے طرزِ عمل پر بھی غور کریں۔ بستی نظام الدین اور رائیونڈ کے مراکز میں اختلاف کے باوجود جس تبلیغی جماعت کے اکابر اور کارکنوں کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں تو یہ سچ قرآن میں اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ” اصل اندھا وہ ہے جو دل کا اندھا ہے”۔
سعودی عرب کے نمک خوار سعودیہ کی حمایت اپنے مفادات کی وجہ سے کرتے ہیں ، اگر دین کی بنیاد پر حمایت ہوتی تو حکومتی سطح پرفحاشی پھیلانے کے اقدامات کی سخت مخالفت کی جاتی ۔ اگر دین کی سمجھ ہوتی تو سعودی عرب میں جس طرح انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے غیرملکی مزدوروں کیساتھ بہت ناروارویہ رکھا جاتا ہے اور پاکستانیوں کیساتھ بہت زیادتیاں ہوتی ہیں تو پاکستان کی دینی جماعتیں اعلان کرتیں کہ مغرب اور مشرق میں سب سے بدتر ین لوگ یہی ہیں جو مسافرمجبور عوام کے حقوق کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں بلکہ قانونی طور پر اجنبی لوگوں کو اپنے انسانی حقوق سے محروم کررکھا ہے اور ان کا پیسہ بھی غلط طور پر کھاتے ہیں۔
جب سعودی عرب اہلحدیث والوں کو پیسہ دیتے تھے اور مساجد ومدارس بھی بناکر دیتے تھے تو بہت سارے حنفی دیوبندی خاص طور پر اور بریلوی عام طور پر اپنے مسلک اور عقیدے کو بدل رہے تھے۔ مولانا انورشاہ کشمیری کے پوتے نے بھی اپنا مسلک تبدیل کرکے اہلحدیث کا مسلک اختیار کرلیا۔ جب ایرانی انقلاب کے بعد شیعہ سنی اختلافات کو ہوا مل گئی تو جمعیت علماء اسلام ف کے نائب صوبائی امیر مولانا حق نواز جھنگوی نے انجمن سپاہ صحابہ کے نام سے ایک نئی جماعت بناڈالی۔ سعودیہ نے ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے علماء سے شیعہ کے کافر ہونے کا فتویٰ بھی لگوادیا اور پھر جب سپاہ صحابہ کی مرکزی قیادت مولانا حق نواز جھنگوی، ضیاء الرحمن فاروقی اور دوسرے رہنما ہاتھ میں نہیں آرہے تھے تو مرکزی قیادت کو راستے سے ہٹادیا گیا اورپھر بات نہیں بن رہی تھی تو لشکر جھنگوی تشکیل دی گئی۔ جس رفتارسے لشکر جھنگوی نے ترقی پائی تھی ،اگر ہماری ایجنسیاں ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے توشاید دہشت گردی اس رفتار سے نہ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ عمران خان نے جب ایران کا دورہ کیا تھا تو اپنی ریاست کے اس کرتوت کا ذکر بھی افسوس کیساتھ کیا تھا۔
ایک آدمی نے شکایت کی تھی کہ میرا گدھا بہت سست چل رہاہے، اس کو تیزی کا کوئی نسخہ کھلا دو۔ حکیم صاحب نے گدھے کو پیچھے سے مرچ ڈال دی تو گدھا بہت تیز بھاگنے لگا تھا۔ گدھے کے مالک نے شکایت کی کہ اب گدھا بہت تیز بھاگ رہا ہے لیکن میں پہنچ نہیں پاتا ہوں۔ میرا بھی علاج کردو۔ حکیم صاحب نے اس کو پیچھے سے مرچ ڈال دی تو وہ بھی تیز بھاگنے لگا تھا۔ پھر ان کو پتہ چل گیا کہ یہ نسخہ کارآمد نہیں بلکہ بہت بیکار تھا۔ پہلے ہمارے ملک میں سعودی عرب کے خلاف بولنے کی بھی اجازت نہیں تھی لیکن اب حکیم صاحب کے نسخے کی کھل کر بہت مخالفت ہورہی ہے۔ چلو در آید درست آید۔ پاکستان کو فتنوں سے بچانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
شیعہ، سنی، حنفی اہلحدیث اور بریلوی دیوبندی کے علاوہ تحریک طالبان ، داعش اور تحریک لبیک کی شکل میں مذہبی انتہاء پسندی کا دروازہ کبھی بھی ملک وقوم میں فساد برپا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سختی اور پابندی مسائل کا حل نہیں ہے۔ ڈالی ہوئی مرچیں بھی نکالنا ضروری ہیں اوراس پر مکھن لگانے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ ہمارا صحافی طبقہ صرف پیسہ کھاکر اپنے ملک اور اغیار کیلئے کام کرنا جانتا ہے اور کچھ نہیں۔
پرویزمشرف اور فوج کے خلاف جتنی باتیں کی جائیں کم ہیں لیکن کیا کوئی ایک بھی ایسا کلپ ہے کہ نوازشریف سے کسی نے پوچھا ہو کہ پارلیمنٹ میں لندن کی پراپر ٹی کے حوالے سے تحریری بیان جاری کیا تھا تو وہ کس کے کہنے پر کیا تھا؟۔ پھر اس کی تردید کیلئے جھوٹا قطری خط اور پھر اس سے دستبرداری کیسے اختیار کی تھی؟۔ جیو نیوز کا نوازشریف سے بہت اچھا تعلق ہے ، شاہ زیب خانزادہ نوازشریف کی صفائی میں اپنی صحافت کھپاتا ہے تو کم ازکم ایک سوال تو نوازشریف سے بھی بنتا تھا؟۔
ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب اور دیگر لوگ سوشل میڈیا پر پاک فوج کا دفاع نہیں کرتے ہیں بلکہ اُلٹا باشعور لوگوں میں نفرت کو بڑھاتے ہیں۔ اگر بنگلہ دیش کا ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن اور جنرل یحییٰ خان تھے تو پھر پاک فوج زندہ باد کا نعرہ نہیں بنتا ہے۔ اگر کسی کاقتل ہونا ہی اس کا برے انجام کو پہنچنا ہے توپھر جنرل ضیاء الحق کا حادثہ اور جنرل پرویزمشرف کا اپنے ملک میں نہ آسکنا کیا ہے؟ ۔ یزید کو پھر کہنے کا حق تھا کہ نبیۖ کے خانودے حضرت علی اور حسن و حسین اور کربلا کے لوگوں کا کیا انجام ہوا تھا۔ یہ کتنی کم عقلی کی بات ہے کہ ایک طرف ایک جنرل کو اسلئے سزا دی جاری ہے کہ اس نے امریکہ کو غلط معلومات فراہم کرکے بے گناہ قائلیوں کا خون کیا تھا اور ریٹائرڈمنٹ کے بعد امریکہ کا ایجنٹ بن گیا اور دوسری طرف ایک جنرل پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کو خفیہ معلومات فراہم کیں ؟۔ حالانکہ عدالت میں اس نے جنرل بلال اکبر کے واٹ سیپ پیش کئے کہ اعتماد میں لیاتھا اورجس کا الزام ہے وہ پہلے سے سب میڈیا پر موجود تھا اسلئے خفیہ معلومات پہنچانے کی بات بالکل غلط ہے۔ ایک باعتماد قیادت کی بہت ضرورت ہے۔ ہمارے سارے سیاسی قائدین بشمول وزیراعظم عمران خان آج کل عوام کو نوسر باز لگتے ہیں۔ اگر فوج اور ریاست سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو ریاست میںافراتفری کی فضاء سے عوام کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔ ریاست کو اپنا کردار کو درست کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
امجدشعیب نے اچھا کیا کہ بتادیا کہ ہندوستان نے بنگلہ دیش سے93ہزار صرف فوجی نہیں پکڑے تھے بلکہ31ہزار فوجی اور62ہزار سیولین تھے جن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ریاستی اداروں کے پاکستانی ہندوستان کے حوالے کئے گئے تھے۔ پہلے بہت سے باشعور لوگوں سے ہم سنتے تھے کہ فوج نے طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا۔ اللہ ہندوستانی فوج اور طالبان سے پاکستانی فوج کو سخت ترین شکست سے دوچار کرے۔ اب طالبان کے حامی پھر یہ کہتے ہیں کہ طالبان کی حمایت ہم فوج کی وجہ سے کررہے تھے۔ اللہ کرے کہ افغانی طالبان اور ہندوستان کے فوجیوں کے ہاتھ سے ہمارے فوجی چٹنی بن جائیں اور ان کی بیگمات ہمارے لئے رہ جائیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی زندگیاں مسلم لیگ اور ملا کی حمایت میں گزری ہے اور ب پیپلزپارٹی کے حامی بن گئے ہیں۔
امجد شعیب کی باتوں سے فضاء بدلنے والی نہیں ہے کیونکہ بنگلہ دیش آج اتنا مقروض نہیں ہے، جتنا پاکستان مقروض ہے۔ ہم سے پسماندہ بنگلہ دیش بھی آگے نکل گیا ہے۔ اگر ہماری ریاست نے ٹھان لی ہے کہ پنجاب کو مشرقی پنجاب سے ملا دینا ہے ، آدھے بلوچستان اور پختونواہ کو افغانستان کے حوالے کرنا ہے اور سندھ کو آزاد کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی قرضوں سے اس کی جان چھوٹ جائے تو عوام کو اعتماد میں لیکر شائستگی سے یہ کام کریں لیکن اگر پاکستان کو باقی رکھنا ہے تو اپنا رویہ بھی بدلیں۔ عوام پر قرضوں اور قبضوں کا بوجھ لادنے کے بجائے ان کوخوشحال بنائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سری لنکن شہری کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ مشال خان کی شہادت پر مذہبی جماعتوں کا رویہ کیا تھا؟

 

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
چیف ایڈیٹر: اخبار نوشتہ دیوار کراچی

سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل پرآرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا پہلا ردِ عمل خوش آئندتھا اور کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ بھی خوش آئندہے ورنہ یہ دلّے اور دلّال کیپٹن صفدر اور سراج الحق پھر اپنی سیاست چمکانے کیلئے نیچ حرکت کرتے؟

ایک وقت وہ تھا کہ جب مردان میں انتہائی وحشیانہ اور بہیمانہ طریقے سے ایک غریب کے قابل ترین بیٹے کو محض حسد وکینے اور جرمِ ضعیفی کی سزا دیکر شہیدکیا گیا تھا۔ جیونیوز اورARYنیوز سب میڈیا نے اس کی مذمت کی تھی اور مفتی محمد نعیم نے اس کو شہید بھی قرار دیا تھالیکن مسلمان، پختون اور مذہبی وسیاسی طبقات کی بزدلی نے مشعال خان کے جنازے اور تعزیت کے معاملے کو بھی بہت زیادہ شرمناک حدتک قابلِ مذمت بنایا ۔ عام لوگوں نے اُٹھ کر جب کلاشنکوف اٹھائی اور بندوق کی نوک پر جنازہ اور تدفین کردی تو پولیس اس کی قبر کی حفاظت کیلئے بھی تعینات کردی گئی۔ آج جس طرح سری لنکن شہری کے قتل پر فضاء بدل گئی تو اس کاکریڈٹ کس کو جاتا ہے؟۔ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت مشعال خان کی بہیمانہ شہادت پر اسی طرح یہ کردار ادا کرتے تو مذہبی بہروپئے جنازے کیلئے نہیں تو تعزیت کیلئے ضرور مشعال خان کے گھر پہنچ جاتے اور وقت کا حکمران اس وقت بہادری کی تصویر بننے والے فرد کے کردار پر اس کو تمغے سے بھی نوازتے۔
اس وقت جب جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مہم چل رہی تھی کہ قادیانی ہے اور اس کا باپ قادیانیوں کے قبرستان میں دفن ہے تو اوریا مقبول جان نے ایک شخص کا خواب بیان کیا کہ رسول اللہ ۖ نے جنرل باجوہ کو اس وقت ایک تحفہ سپرد کردیا جب آرمی چیف بننے کا کوئی چانس بھی دکھائی نہیں دیتا تھااور جنرل باجوہ نے وہ تحفہ پہلے بائیں ہاتھ سے لیا اور پھر حضرت عمر کی رہنمائی سے جنرل باجوہ نے اس تحفے کو دائیں ہاتھ میں لیا تھا۔
خواب کی اصل تعبیر تو تعبیر کے ماہرین ہی بتاسکتے ہیں لیکن آرمی چیف بننے کیلئے نوازشریف نے اس وقت منتخب کیا تھا جب نوازشریف کے سامنے اس پر قادیانیت کا الزام بھی تھا لیکن پھر دوسری مرتبہ عمران خان ، نوازشریف اور بڑی تعداد میں جمہوریت کے دعویداروں نے جنرل باجوہ کو دوبارہ ایکس ٹینشن دی۔ پہلی مرتبہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اس تحفے کو بائیں ہاتھ میں لینے کے بجائے قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے عرض کردیتے کہ مجھ سے زیادہ اہلیت رکھنے والے دوسرے جنرل زیادہ حقدار ہیں تو یہی جنرل باجوہ کیلئے بہتر تھا اسلئے کہ جنرل راحیل شریف کے دور میں جس طرح فوج نے دہشتگردی اور کرپشن کے خلاف بہت زبردست مؤقف اپنایا تھا اگر دہشت گردی کیساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف بھی مہم جاری رہتی تو آج پاکستان سودی نظام کے بھاری بھرکم گردشی سودی قرضوں کے تحت اتنا زیادہ مصیبت میں گرفتار نہیں ہوسکتا تھا۔
تین دفعہ ملک کا وزیراعظم بننے والے ٹاؤٹ نوازشریف نے کہا کہ” سری لنکن شہر ی کا قتل فیض آباد دھرنے میں ایک ایک ہزار روپیہ بانٹنے والے جنرلوں کے کھاتے میں جاتا ہے”۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اس وقت شیخ رشید کی بات پارلیمنٹ میں سن لی جاتی اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے ہی اس بل کے خلاف پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مؤقف سامنے آتا تو فیض آباد دھرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ پھر اگر نوازشریف کے چہیتے داماد کیپٹن صفدر جیسے لوگ تقریریں نہ کرتے کہ جنرل ضیاء الحق نے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ختم نبوت کیلئے کردار ادا کرنے پر سزا دی ہے تو فیض آباد دھرنے میں جان نہیں پڑ سکتی تھی۔ جب فیض آباد دھرنے کے وقت حکومت ن لیگ کی تھی اور پاک فوج کو کردار کیلئے آمادہ کرنا بھی اسی کا کام تھا تو دھرنے کے شرکاء کو واپسی کا کرایہ دینے میں کتنا خرچہ ہوا ہوگا؟۔ اور پھر اسکے ذمہ دار کون تھے؟۔ اگر نوازشریف کے دور میں پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ واقعی بقول نوازشریف کے ٹاؤٹ راشد مراد کھریاں کھریاںMRٹی وی برطانوی فوج نے خود کروایا تو پھر نوازشریف اس وقت خوشی سے نہال کیوں تھا؟۔ فیض آباد دھرنے اور آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعہ کے وقت گدھے کی کھال پہنے ہوئے گیدڑ نوازشریف کی حکومت تھی جو ببر شیر بننے کا دعویدار ہے۔
اصل کہانی اس وقت شروع ہوئی تھی جب پیپلزپارٹی کی مرکز میں حکومت تھی اورپنجاب میں شہبازشریف کی حکومت تھی۔ بقول انتہائی جھوٹا اور مکار شخص پرویزمشرف دور کے وزیراطلاعات ق لیگ محمد علی درانی ”انصار عباسی واحد ایک ایماندار صحافی ہیں”۔ شہبازشریف نے انصار عباسی کے گھر تک مری میں سڑک بناکر اس پر کروڑوں کا خرچہ کیا تھا۔ انصار عباسی کہتا تھا کہ ” ہمارا آئین اسلامی ہے اور اسلام میں صدر آصف علی زرداری کے استثناء کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی مثال خلفاء راشدین کے طرزِ عمل کی ہے”۔ جب اس سے کہا جاتا تھا کہ پاک فوج پر تنقید ہوسکتی ہے تو انصار عباسی کا اسلام بدل جاتا تھا اور کہتا تھا کہ ”آئین نے فوج کو استثناء دیا ہے اسلئے ان پر تنقید کرنا غلط ہے”۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب چوہدری نثار اور شہبازشریف چپکے چپکے رات کی تاریکی میں ہی آرمی چیف جنرل پرویز کیانی سے ملاقات کرنے جاتے تھے۔ اس وقت خواجہ شریف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف قتل کی سازش کا انصار عباسی نے انکشاف کیا تھا جس میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر ، آصف علی زرداری وغیرہ کو ملوث قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ سارا پلان ناکام ہواتھا۔ اگر اس وقت انصار عباسی کو کٹہرے میں لاکر قرارِ واقعی سزا دی جاتی تو اب دوبارہ انصار عباسی کو اس قسم کی نئی نئی باتوں پر کورٹ میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ نذیر ناجی نے اس وقت کہا تھا کہ ”یہ سب کتے کا بچہ انصار عباسی ہے”۔ حالانکہ دونوں کا ایک ہی جنگ گروپ اور جیونیوز سے تعلق تھا۔ جب گورنر سلمان تاثیر کو خواجہ شریف کے قتل میں ملوث کرنے کی سازش ناکام ہوگئی جس پر رؤف کلاسرا نے ایک کتاب بھی لکھی ہے کہ ” ایک قتل جو ہونہ سکا”۔پھر سلمان تاثیر کے قتل، اسکے بیٹے شہبازتاثیر کے اغواء سے موجودہ دور کے سفر تک مسلم لیگی رہنما ؤں اور قیادت کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
تحریک لبیک اور وزیراعظم عمران خان کا بھی چولی دامن کا ساتھ تھا۔ جب تک قوم کا اجتماعی کردار درست نہیں ہو توپھر مذہبی وسیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ قوم کے اجتماعی شعور کی بیداری کا اثر پاک فوج کی قیادت اور مذہبی وسیاسی رہنماؤں اور قائدین پر بھی پڑتا ہے۔ سلیم صافی نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے بات کا آغاز کرتے ہوئے یہ کریڈٹ بھی دیا کہ سب سے پہلے سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل کی مذمت اسی نے کی ہے۔ سراج الحق نے بتایا کہ وہ عیسائی جوڑے اور دوسرے افراد کی بھی پہلے تعزیت کرچکے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دین ہمیں ایسا کرنے کاحکم دیتا ہے۔ کسی بھی انسان کو اس طرح وحشیانہ انداز میں قتل کی اجازت رحمت للعالمینۖ کا دین ہمیں نہیں دیتا ہے۔ کاش سلیم صافی سراج الحق سے یہ بھی پوچھنے کی جسارت کرتا کہ مشعال خان کیساتھ جو وحشیانہ اور بہیمانہ بربر یت کی گئی تھی اورتم لوگ اس وقت قاتلوں کے حق میں پشاور شہر میں جلسہ کررہے تھے تو تم اس کردار پر شرمندہ ہو یا نہیں؟۔ یا اس وقت رحمت للعالمین ۖ کی جگہ زحمت اسلامی کا دین جدا تھا؟۔ جب تک اس کردار سے جماعت اسلامی کھل کر توبہ نہیں کرتی ہے لوگوں کے دل ودماغ میں اس کے ڈھانچے پر منافقت کے نقوش قائم رہیں گے۔ پہلے جماعت اسلامی ن لیگ کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی اور اب مولانا فضل الرحمن پر بھی ن لیگ کے منافقانہ تضادات کے کردار کا اثر پڑاہے۔
فیض آباد دھرنے میں ہزار ہزار روپے واپسی کا کرایہ بانٹنااتنی بڑی بات نہیں تھی جتنا اسلامی جمہوری اتحاد بنانے کے حوالے سےISIنے لاکھوں روپے اس وقت نوازشریف کو وزیراعظم بنانے کیلئے دئیے تھے۔ اگر نوازشریف نے سعودیہ کی جلاوطنی کے بعد سے اب تک اپنا دو رخی اور متضاد کردار ترک کیا ہوتا تو بھی کوئی بات ہوتی لیکن ن لیگ اور ش لیگ کی نورا کشتی سے قوم کو دھوکہ دینے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔مولانا فضل الرحمن اس جرم میں ملوث ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کورکمانڈرز ایک مرتبہ حلالہ کے خلاف بھی اپنا بیانیہ واضح کردیں تو علماء حق خواتین کی عزتیں بچانے میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے اور ان مذہبی بہروپیوں سے اسلام اور عوام کی جان بھی چھوٹ جائے گی جو اسلام کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی بحالی افغانستان کے طالبان نے اسلامی بنیاد پر شروع کردی ہے لیکن یہاں پاکستان کے نام نہاد علماء ومفتیان اور مذہبی سیاسی قیادت اب تک کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں، جب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور کورکمانڈرز اپنی طرف سے حلالہ کی لعنت کے خلاف اور خواتین کے حقوق پر اپنی پالیسی واضح کریںتو غیر اسلامی مذہبی انتہاء پسندی کے خاتمے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔آج راست اقدام سے جنرل باجوہ دائیں طرف والوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔
سری لنکن شہری کو بہیمانہ اور وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے والوں کو سری لنکا کی حکومت کے حوالے کیا جائے اور وہی سزا دی جائے جو کچھ انہوں نے کیا ہے۔ جب مشعال خان کو شہید کیا گیا تھا تو ہم نے لکھا تھا کہ سزاؤں سے بچنے کیلئے یہ نام نہاد عاشقانِ رسول اب اپنی پشت میں اپنی دُم گھسیڑنے کے بجائے کھل کر اعترافِ جرم کریں۔ نبی رحمت ۖ کے نام پر کسی کو قربان کرنا عشق رسول نہیں ہے بلکہ خود کو قربانی کیلئے پیش کرنا اصل عشق رسول ہے۔
تحریک لبیک کا جو جتھہ تیار ہے جس کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کی قبر پر مولانا طارق جمیل نے گل دستے پیش کئے اور اہلحدیث نے بھی ان کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ یہ یاد رکھا جائے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت کا تعلق اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی سے ہے جو دیوبندی اور اہلحدیث کو گستاخان رسول اور قادیانیوں کی طرح کافر سمجھتے تھے۔ اگر تشدد کی فضاء بن گئی تو پھر سری لنکن شہری کی طرح دیوبندی ، اہلحدیث اور جماعت اسلامی کے لوگ بھی عتاب میں آسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو خوف تھا کہ احسن اقبال کی طرح وہ بھی تحریک لبیک کے کارکنوں اور جذباتی عوام کا نشانہ نہ بن جائے اسلئے پہلے سری لنکن کے قتل کی ذمہ داری میں ریاست کو شامل کیا اور پھر احسن اقبال کی طرف سے کھراپیغام آنے کے بعد اپنے روئیے کو بدل دیا۔
افسوس، مذمت اور کیفر کردار تک پہنچانے کے بیانات کچھ نہیں۔ جب تک اسٹیج سے من سبّ نبےًا فقتلوہ ” جس نے نبیۖ کو گالی دی تو اس کو قتل کردو” کا نعرہ ایسے لوگوں کے ہاں سے بلند ہوگا جو دوسروں کو گستاخ بھی سمجھتے ہیں تو پاکستان میں بڑے پیمانے پر شدت پسندی کی بنیاد پر قتل وغارت کا خدشہ باقی رہے گا۔ علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے نے اسکا فیصلہ کردیا تھا۔ دوسری طرف جب تحریک طالبان پاکستان کو موقع مل گیا تو بریلوی لوگوں کو نہ صرف قتل کیاگیا بلکہ سوات جیسے پرامن اور شریف لوگوں کی فضاء میں مینگورہ شہر میںایک پیر کی لاش قبر سے نکال کر کئی دنوں تک چوک پر لٹکائی گئی تھی۔اس وقت امن کی نام نہاد فاختہ مولانا طارق جمیل کہتا تھا کہ ” ہماری اور طالبان کی منزل ایک ہے ، صرف طریقہ واردات جداجدا ہے”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے دہشتگردی کے خلاف فتویٰ دینے سے انکار کیا تھا۔جماعت اسلامی کے رہنما ؤں نے خاص طور پر اور جمعیت علماء اسلام کے بعض رہنماؤں نے عام طور پر دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے کا ٹھیکہ اٹھارکھا تھا اور پھر آخر میںعلماء نے دہشتگردی کے خلاف فتویٰ دیا۔ مسلم لیگ ، دیوبند اور بریلوی کی تحریکیں ہندوستان سے آئی ہیں۔ سول ملٹری بیورو کریسی پہلے متحدہ ہندوستان کا حصہ اور انگریز کی غلام تھی۔
انگریزہندو مسلم فسادات کے ذریعے ہندوستان کی عوام کو کنٹرول کرتا تھا۔ ہماری سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی سنی وہابی ، شیعہ سنی تفریق و انتشارایک غنیمت سے کم نہیں کیونکہ مختلف گروہوں کو ایکدوسرے سے خطرات ہوں گے تو نااہل ریاست کیلئے عوام پر اپنا ناجائز اقتدار مسلط کرنے میں مشکل نہ ہو گی۔ بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ میں بہت ٹاؤٹ قسم کی مخلوق ملے گی۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ٹاؤٹ کا کردار ادا کیا ۔ مسلم لیگ ن، ق، جونیجو، ضیاء اور وہ کونسی سیاسی جماعت ہے جس نے بقول شیخ رشید کے فوجی گملے میں پرورش نہ پائی ہویا پھر اس کیGHQکے گیٹ نمبر چار سے رسم وراہ نہیں ہو؟۔
محمود خان اچکزئی نے درست کہا کہ ” کم بختو! قائد پیدا ہوتے ہیں بنائے نہیں جاتے ”۔ لیکن کیا نوازشریف قائد پیدا ہوا تھایا بنایا گیا ؟۔ ایک وہ قیادت ہے جو مصنوعی طریقے سے بنائی گئی اور دوسری وہ ہے جنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ قیادت کوئی خانوادہ ہوتا ہے۔ نبیۖ نے تحریک چلائی تو حضرت ابوبکر،عمر، عثمان ،علی ،معاویہ ، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، خالد بن ولید قیادت کیلئے ایک جماعت تیار ہوئی۔ یزید قائد نہ تھا بلکہ باپ کی وجہ سے امارت پر قابض ہوا تھا۔ بنوامیہ اور بنوعباس نے موروثی خا نوادے کی بنیاد پر قیادت سنبھال لی تھی ۔
میرے مرشد حضرت حاجی محمد عثمان نے تبلیغی جماعت میں بہت وقت لگایا تھا اور وہ جب اسٹیج پر تقریر کرتے تو اکابرین میں ہوتے تھے اور جب سامعین میں ہوتے تھے تو عوام کے پنڈال میں بیٹھتے تھے۔ کھانا پینا ، نشست وبرخاست اور جماعت کے نظم کے مطابق ہفتے میں دوگشت، مہینے میں سہ روزہ،سال میں چلہ اور زندگی میں چار مہینے کے نصاب پر عمل پیرا تھے۔35سالوںتک جماعت کے نظم کی پابندی اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھاہوا تھاتو ان کی مقبولیت سے گھبرا کر بعض مفادپرستوں نے اندرونِ خانہ انکے خلاف پروپیگنڈہ کیا جو جماعت کے نصاب کی دعوت دیتے تھے لیکن خود خواص بن کر نصاب کے مطابق نہیںچلتے تھے ۔ قول وفعل کے تضاد نے اکابرکو متکبر اور رذائل کی آماجگاہ بنادیا۔ حاجی عثمان پر یہ الزام تھا کہ ” ان کی وجہ سے جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے”۔
ایک دن حاجی عثمان نے تبلیغی جماعت کے مرکز میں یہ اعلان کروایا کہ اس اتوار کی نشست میں تبلیغی جماعت کے لوگ شریک ہوسکتے ہیں۔حاجی عثمان نے بیان کا موضوع یہ رکھا کہ جماعت شخصیت سازی کی بنیاد ہے اور اگر جماعت شخصیات پیدا نہ کرے توپھر یہ جماعت نہیں بھیڑ ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کو کیسٹ بھیجی گئی اور شیخ الحدیث نے تبلیغی اکابرین کو بیان سنادیا اور فرمایا کہ ” ان کی بات سو فیصد درست ہے”۔ آج مرکز بستی نظام الدین بھارت میں مولانا الیاس کا پڑپوتا مولانا سعد اور دوسری طرف رائیونڈکی نام نہادشوریٰ ہے۔ جماعت دو حصوں میں اسلئے بٹ گئی ہے کہ ایک متفقہ امیر کے چناؤ پر اتفاق نہیں ہورہا تھا۔ حالانکہ کیا تبلیغی جماعت اور کیا اس کی امارت کے مفادات؟۔
ہماری ریاست اور سیاسی پارٹیوں نے انقلابی پیدا نہیں کئے بلکہ مصنوعی اور موروثی لیڈر شپ سے عوام نے دھوکہ کھایا۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی وشیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی سے زیادہ اہلیت ڈاکٹراقبال اوروکیل قائداعظم محمد علی جناح میں تھی۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو ایوب خان فیلڈمارشل ، ذوالفقار علی بھٹو قائد عوام، جنرل ضیاء الحق امیر المؤمنین اور محمد خان جونیجو قائدجمہوریت ، نوازشریف اینٹی اسٹیبلیشمنٹ اور علامہ شبیراحمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع سے لیکر موجودہ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کاوجود بھی نہ ہوتا۔ موروثی اور مذہبی قیادت نے جنرل ایوب خان یا فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا۔ اگر پاکستان نہ ہوتا تو نہ مسٹرجناح قائداعظم اورنہ نوابزادہ لیاقت قائد ملت بنتے اور پھر ان کی باقیات فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت بھی نہ ہوتیں۔ سول وملٹری اسٹیبلیشمنٹ کے پنجے بھی مضبوط نہ ہوتے اور نہ ہی مصنوعی اور موروثی قیادتوں سے یہ ملک وقوم اور سلطنت شادآباد کے بجائے یوں تباہ وبرباد ہوتے۔
علماء ومشائخ ، سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ادارے اور سیاسی قیادتیں پاکیزہ اور قابلِ احترام ہیں مگر جب یہ اپنے مقصد سے ہٹ کر دوسرے کاموں پر لگ جائیں تو پھر ادارے، سیاسی جماعتیں اورقیادتیں بھی کرپٹ بنتی ہیں اور ملک و قوم اور سلطنت کو بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ جب علماء ومشائخ دین سے ہٹ کر اپنا ذاتی ایجنڈا اپنے عقیدت مندوں پر مسلط کرتے ہیں تو یہ فرقہ واریت کی چھتری کے نیچے تعصبات کی سانسیں لیکر ہی جی سکتے ہیں۔
لسانیت ، غیرانسانیت اور جاہلیت کے نام پر بہت زیادہ معاشرے میں ظلم و زیادتیاں ہوتی ہیں مگرمذہبی لوگ بارود کے ڈھیرپر بیٹھتے ہیں۔ توہین رسالت و توہین مذہب کے نام پر کسی وقت بھی یہ بارود پھٹ کر نہ صرف کسی انسان کا وہ حال کرسکتا ہے جو مشعال خان کا ہوا، ایک بینک منیجر کا ہوا اور کئی مثالوں کے علاوہ اب سری لنکن شہری کا ہوا۔ اس انجام سے ہماری سول،ملٹری ،مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادتیں بہت خوف کھاتی ہیں۔ درود والے بھی بارود کے ڈھیر پر بیٹھے رہتے ہیں اور بارود والے بھی درود والوں کو نہیں چھوڑتے ہیں۔اہل بیت وصحابہ کے نام پر بھی غلیظ ترین کردار کے مالک اپنی غلاظت کو چھپاتے ہیں۔
سورۂ نور کی روشنی خود چمک کراُٹھ سکتی ہے۔ قرآن کی لوگ دنیا کے چپے چپے پر تلاوت کرتے ہیں، ان کا ضمیرکسی وقت جاگ سکتا ہے کہ رسول اللہ ۖ کی حرم ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو قرآن و سنت نے قتل کی اجازت نہیں دی اور بہتان پر وہ سزا دی گئی جو کسی بھی محترمہ پربہتان لگانے کی ہے۔ حضرت حسان،مسطح اور حمنہ بنت جحش نے اماں عائشہ پر بدکاری کا بہتان لگایا ۔ حسان ایک نعت خواں تھے۔ مسطح حضرت ابوبکر کے قریبی رشتہ دار تھے اور حمنا حضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش کی بہن تھیں۔ رسول اللہ ۖ کو اس واقعہ سے بڑی اذیت کسی بھی واقعہ اور بات سے نہیں پہنچ سکتی تھی۔
نبیۖ نے صحابہ کی بارود کے ڈھیر پر بٹھانے کی تربیت نہیں کی۔ وحی کے ذریعے سے رہنمائی ہوتی تھی ،جب افک عظیم کا واقعہ پیش آیا تو یہ وحی نازل نہیں ہوئی کہ ان بہتان طرازوں کی بوٹیاں کرکے ہڈیاں توڑ دو اور پھر ان کو جلادو۔ نبیۖ کو اس سے بڑی گالی اور کیا ہوسکتی تھی؟۔ اللہ نے صحابہ سے فرمایا کہ” تم اگر کہہ دیتے کہ یہ بہتان عظیم ہے”۔ ابوبکر نے عہدوپیمان کیا کہ اپنے رشتہ دار مسطح پر آئندہ کوئی مالی احسان نہ کروں گا تو اللہ نے فرمایا کہ ” تم سے جو مالدار ہیں ان کیلئے مناسب نہیں کہ اپنے عزیزوں کیساتھ احسان نہ کرنے کا عہد کریں ”۔ مذہبی تنظیمیں ، سیاسی جماعتیں اور ہماری میڈیا کے صحافی سورۂ نور کی آیات کو بھی چھپاتے ہیں اسلئے کہ یہ سب لوگ غلام احمد پرویز کی گمراہانہ فکر سے متأثر ہیں۔ غلام احمد پرویز سورۂ نور کی احادیث صحیحہ کی تفسیر کا منکر تھا۔وہ کہتا تھا کہ صحیح بخاری و مسلم میں یہ واقعہ اہل تشیع نے حضرت عائشہ کے خلاف گھڑ ا ہے۔ سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں پرویزی فکر کی وجہ سے شیعہ کے خلاف زیادہ غم وغصہ اسلئے ہے کہ وہ اماںعائشہ پر حملہ آور ہیں ۔ علماء ومشائخ نے قرآن کی تفسیر اور احادیث صحیحہ کو دیکھنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ جاہلیت کے روپ دھارے جبے قبے پہننے سے کوئی عالم اور شیخ طریقت نہیں بن سکتا ہے۔ تحریک لبیک کے علماء ومشائخ سورۂ نور کی آیات کا اپنی گرم محافل میں صرف حوالہ دیں تو جاہلیت کی اندھیر نگری سے ان کی اپنی جماعت اور پوری قوم نکل آئے گی۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” جن لوگوں پرعلم وسمجھ کی زیادتی ہے لیکن اس پرعمل نہیں کرتے ہیں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور یہود کی طرح ہیں اور جن میں عمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے لیکن علم وسمجھ نہیں ہوتی ہے وہ گمراہ ہوتے ہیں اوروہ عیسائیوں کی طرح ہیں۔ یہود ونصاریٰ کی طرح ہمارے فرقوں کا بھی وہی حال ہے ”۔ دیوبندیوں پر یہود کی طرح خدا کا غضب ہے اور بریلوی کا طبقہ عیسائیوں کی طرح گمراہ ہے۔ عربی میں ضال کے معانی گمراہی کے بڑے درجے سے لیکرآخری درجے میں حق کی راہ میں سرگردان کے آتے ہیں اسلئے قرآن میں اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ ووجدک ضال فھدیٰ ”ہم نے آپ کو سرگرداں پایا تو راہ ہدایت کی رہنمائی کردی”۔ عیسائیوں میں ایسے ایمان رکھنے والے بھی بہت تھے جنہوں نے حق کی آواز سنی تو کہنے لگے کہ ” ہم تو پہلے ہی سے مسلمین ( حق کو ماننے والے)تھے”۔ جس طرح سونے والا مؤمن جب آذان کی آواز سنتا ہے اور نیند سے بیدار ہوتا ہے تو نماز کی طرف لپکتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں میں ایمان پر قائم طبقے نے جب قرآن کی آواز سن لی تو حق تسلیم کرلیا۔ نیند میں مگن شخص کو نیند سے اٹھایا جاسکتا ہے لیکن جب اپنے اوپر زبردستی کوئی نیند طاری کرلے تو اس کو نیند سے اٹھانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔
یہود وہ تھے جن پر اللہ کا غضب تھا اور ان کی اکثریت جانتے بوجھتے حق کے مخالف تھی۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے دیوبندیوں کی اکثریت کو بھی یہود ہی کی طرح قرار دیا ہے جو سب کچھ سمجھنے کے باوجود بھی حق کی مخالفت کرتے ہیں۔
اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سری لنکن شہری کے قتل پر یہ بیان جاری کرتا کہ ” فرانس تک ہماری پہنچ نہیں ہے لیکن پاکستان میں کسی مسلم اور غیر مسلم کو توہین مذہب پر جوکوئی سزا دے گا تو اس کو ہم بچا نہیں سکیں گے ”توساری مذہبی و سیاسی جماعتیں سیالکوٹ کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتیں اور جس کو تمغۂ جرات سے نوازا گیا ہے وہ کسی غیر ملک میں بھاگ کر پناہ لینے پر مجبور ہوجاتا۔ باجوہ کو بھی سب خراج عقیدت پیش کرتے اور سیاسی ومذہبی جماعتیں توہین مذہب پر اپنے اپنے حصے کا ووٹ پانے کیلئے پنجاب میں بڑے بڑے جلسے کرتیں۔ عمران خان بھی کہتا کہ ” سری لنکن شہری کے قتل سے دنیا کو ایک اچھا پیغام گیا ہے”۔
جنرل قمر جاویدباجوہ اور کور کمانڈرز کانفرنس نے جونہی اپنے رویے کا اظہار کردیا تو سب کے سب میں جرأت وبہادری کی روح دوڑ گئی ہے۔ قومی ایکشن پلان کیلئے قرآن وسنت کے اصل کردار کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہے اسلئے کہ حیلے کے نام پر سود کو حلال کرنے سے قومی معیشت کو کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے اور جن شیخ الاسلاموں اور مفتی اعظموں پاکستان نے حیلے کے نام سے سودی نظام اور حلالہ کے نام سے عورتوں کی عزتیں لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے یہ بدمعاش ہماری میڈیااور ہماری ریاست وحکومتوں نے مسلط کئے ہیں۔
نبیۖ نے فرمایا کہ الکاسب حبیب اللہ ” محنت کرکے کمانے والا اللہ کا دوست ہے”۔ موچی، لوہار، نائی اور تمام کسب والے مزدور ہمارے سروں کے تاج ہیں اسلئے کہ نبیۖ نے ان کو اللہ کا حبیب قرار دیا ہے اور اس سے بڑی عزت کرپٹ سیاستدان ،دین فروش مولوی، جرنیل ، بیوروکریٹ ، خان ونواب کی نہیں ہوسکتی ہے لیکن عوامی اصطلاحات کی وجہ سے دورِ جاہلیت کی ایک مثال سے سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک بادشاہ نے اپنی بیٹی دوسرے بادشاہ کے بیٹے کو بیاہ دی۔ بادشاہ کی بیٹی نے اپنے باپ سے کہا کہ ویسے تو بہت اچھے لوگ ہیں اور دنیا کی ہرسہولت وہاں موجود ہے لیکن مجھے یہ شکایت ہے کہ جس سے شادی کروائی ہے وہ اصل بادشاہ نہیں بلکہ ذات کے موچی ہیں۔ بادشاہ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ اس کی فکر نہ کرو اور ہاتھ کے اشارے سے استرا چلاتے ہوئے کان میں بتایا کہ میں بھی ذات کانائی ہوں۔ سیاسی جماعتیں ایکدوسرے پر الزام لگاتی ہیں کہ کون کس کی ممی ڈیڈی ہے اور کس کو کس نے پالا ہے مگر سب ایک جیسے ہیں۔
جب اسلام کی حقیقت سامنے آگئی تو انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ یکے وتنہاء رہ گئے اور قریش کے ایک کمزور ترین قبیلے بنوتمیم کے حضرت ابوبکر مسندِ خلافت پر بیٹھ گئے۔ حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علیو حسن، حضرت معاویہ سب کو اپنی اپنی باریاں مل گئیں لیکن پھر خلافت راشدہ ملوکیت میں بدل گئی، جس نے ادیبوں سے عوام کو ورغلانے کیلئے لیلیٰ مجنون کی کہانی لکھوا ئی ،تاکہ عوام عشق ومحبت کے سانچوں میں ڈھل کر اقتدار سے بے نیاز بن جائیں اور دوسری طرف اپنا مذہبی طبقہ بھی پیدا کیا جو اقتدار کے کاروبار میں انکے ساتھ شریک تھا۔ اسلام نے نام نہاد شیوخ پیدا نہیں کئے بلکہ حکمرانوں نے شیخ الاسلام اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے بنا ڈالے۔ اسلام کا شیخ کون ہوسکتا ہے؟مگر جنہوں نے اسلام کی بیخ کنی شروع کی تھی وہ اہل اقتدار کی طرف سے شیخ الاسلام کے منصب پر فائز کردئیے گئے۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے اپنے حکمرانوں سے سزائیں کھائیں اور شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں نے اسلام بیچ کر شیخ الاسلامی کا منصب حاصل کرلیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب ”تذکرہ” میں تاریخ کے اوراق سے کچھ اسباق کا ذکر کیا ہے۔
آج اگر سورۂ نور کی آیات سامنے لائی جائیں تو عوام اور حکمرانوں کی عزتوں کافاصلہ اور جمود ٹوٹ جائے گا۔ ابوجہل کے بیٹے حضرت عکرمہ کی طرح لیڈروں کے بچے لیڈر بننے کے بجائے اچھے مجاہد بن جائیں گے۔ یزیدیت کا شاخسانہ بھی ختم ہوجائے گا اور حضرت حسین کی طرح لوگوں کو قربان کرنے کے بجائے قیادت اور اقتدار کی منزل تک نیچے سے اوپر تک ہر جگہ پہنچایا جائے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

نواز شریف کو بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر لانا پارٹ ون اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا آڈیو اور ویڈیو سکینڈل پارٹ ٹو ہے۔

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ دسمبر2021۔ سوشل میڈیا پوسٹ
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

جب برطانیہ نے نوازشریف سے کہا کہ صحت کی بنیاد پر ویزے میں مزید توسیع نہیں دے سکتے تومردہPDMمیں دوبارہ جان ڈال دی گئی ، مفاہمت اور مزاحمت کا فیصلہ نوازشریف کی آمد اور مفاد کیلئے کیا جائیگا، پیپلز پارٹی کو اسلئے باہر کردیا گیا کہ پھرنوازشریف اپنے مفاد کی سیاست کھل کر نہیں کھیل سکتا تھا۔ بیماری کا جھانسہ دیکر باہر جانا پارٹ ون اور ویڈیوز اسکینڈل پارٹ ٹو ہے۔ریاست اور سیاست کی منافقت نے اب عوام کے اعتماد کو ہر چیز سے اٹھادیاہے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ عدالت، فوج، سیاست، سول بیوروکریسی، پولیس، انتظامیہ،مذہبی لوگ، سوشلسٹ اور پاکستان کی تما م عوام میں عظیم لوگوں کی کوئی کمی پہلے بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے لیکن حالات کچھ اس طرح سے ہیں کہ عظیم نہیں بن پارہے ہیں۔ پاکستان کا قومی ترانہ ”ترجمانِ ماضی، شانِ حال اور جانِ استقبال ” کو سوچے سمجھے بغیر ہمارے بچے ، جوان اور بوڑھے پڑھتے ہیں۔
مسلمانوں کا شاندار ماضی وہی تھا جس میں اسلام کی بنیاد پر نبی رحمت ۖ کے دور کی بھی خلافت علی طرز نبوت نے دنیا کی دو سپر طاقتوں مشرق میںایران اور مغرب میں روم کو شکست سے دوچار کردیا تھا۔ جب قومی ترانے کے الفاظ میں” ترجمانِ ماضی ” پڑھا جاتا ہے تو ہمارا ذہن اپنے شاندار ماضی کی طرف نہیں جاتا ہے۔ اگر ترجمانِ ماضی کی طرف ذہن نہیں جاتا ہے تو پھر ”شانِ حال ” کا بھی پتہ نہیں چل سکتا ہے اور ” جانِ استقبال” کا بھی پتہ نہیں چل سکتا ہے۔
جب پاکستان سے دوبارہ طرز نبوت کی خلافت کا آغاز کیا جائے تو پھر اس کو ”شانِ حال ” کہہ سکتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل کا یہ کہنا خوش آئند ہے کہ عمران خان ریاستِ مدینہ کی بات کرتا ہے تو بھی بہت اچھا ہے۔ حدیث میں جہاد ہند سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ایک نظام کی نشاندہی ہے۔ جس میں شانِ حال اور جانِ استقبال کا پورا پورا نقشہ موجودہے۔ اگر پاکستان میں ریاستِ مدینہ قائم ہوگئی تو نہ صرف مشرقی پاکستان دوبارہ مل جائیگا بلکہ پورے کا پورا ہندوستان بھی اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے اسلام قبول کرلے گا اور جو متعصب ہندو پھر بھی ہندو بن کر رہنا چاہتے ہوں تو ان پر کوئی زور وزبردستی اور جبر نہیں ہوگا مگر اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام ان کیلئے بھی مسلمانوں کی طرح قابلِ قبول ہوگا۔ سکھ بھی ہمارے ساتھ مل جائیں گے اور کشمیری بھی مظالم سے بچ جائیں گے۔
عدالت، ریاست ، اپوزیشن ،سیاسی اورمذہبی جماعتوں کا حال یہ ہے کہ نواز شریف کا اسلامی جمہوری اتحاد دراصل انتقامی جرنیلی انتشار تھا۔1988ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کو پہلی مرتبہIMFکا مقروض بنایا اور نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو صدر بنادیا۔جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی دو لخت ہوگئی۔ میرمرتضیٰ بھٹو شہید نے موجودہ پیپلزپارٹی کو اس وقت زرداری لیگ قرار دیا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کابانی جنرل حمید گل تھا اور تحریک انصاف کا اصل بانی بھی جنرل حمیدگل تھا۔
جنرل حمید گل نے اپنی وفات سے چند دن پہلے ہمیں بتایا کہ دوشخصیات سے وہ متأثر ہیں۔ ایک قائداعظم محمد علی جناح اور دوسرے امیرالمؤمنین ملا عمر۔بس جب وہ اپنے مشن کیلئے کھڑے ہوگئے تو پھر اس کی تکمیل کرکے ہی چھوڑا تھا۔
علامہ اقبال نے کہا کہ” مجموعۂ اضداد ہوں اقبال نہیں ہوں”۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا: ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافًا کثیرًا ”اگریہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سارے تضادات وہ (مخالف) پاتے ”۔ انسان وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا ہے اور اس کے کردار میں بہت سارے تغیرات اور تضادات نمایاں طور پر موجود ہیں اور ہم پاکستان کو مملکتِ خداداد کہتے ہیں لیکن اس کی تشکیل اور وجود میں بھی بڑے تضادات ہیں۔ دوقومی نظرئیے کے تحت پاکستان بن گیا لیکن بنگالی اور سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچ پھر مشرقی اور مغربی پاکستان کی ایک قوم کی جگہ دو الگ الگ قومیں بن گئیں۔ ایک بنگلہ دیشی قومیت اور دوسری پاکستانی قومیت۔ کیاوجہ تھی کہ پاکستان و ایران کے بلوچ، پاکستا ن وافغانستان کے پختون، پاکستان و ہندوستان کے پنجابی الگ الگ قومیت اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کشمیری اب بھی ایک قوم ہیں؟۔ بنگلہ دیش و پاکستان کے لوگ ایک قوم تھے لیکن ایران و افغانستان اور عرب ممالک کے ساتھ پوری دنیا سمیت پاکستان کے لوگ ایک مسلم قوم نہیں تھے؟۔ متحدہ ہندوستان کی قومیت کا نعرہ لگانے والے کانگریس اور جمیعت علماء ہند کے علماء کرام پر علامہ اقبال سے لیکر جاہل مسلم لیگی کارکنوں تک نے ابولہب اور کافر کے فتوے لگائے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان اچکزئی نے متحدہ ہندوستان کی ایک قومیت کا نعرہ لگایا تھا لیکن وہ افغانستان کیساتھ اکٹھا ہونے کیلئے تیار نہیں تھے؟۔ آج لر وبر یوافغان کا نعرہ جو لوگ لگارہے ہیں وہ اپنے قائدین سے انحراف کررہے ہیں۔
الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مریم نواز کی طرف سے ویڈیوز کے انکشافات کا سلسلہ جاری رکھنے کا معاملہ موضوعِ بحث ہے جس کی بنیاد پر کیسوں اور سزاؤں کو جھوٹا اور انتقامی قرار دیا جارہاہے لیکن میڈیا یہ کام کیوں نہیں کرتا کہ نوازشریف کی پارلیمنٹ کی تقریر جس میں2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر2006ء میں لندن کے ایون فیلڈ لندن کے فیلٹ خریدنے کا نیا انکشاف تھا ۔ حالانکہ بینظیر بھٹوکے دوسرے دورِ حکومت میں اس پر اٹل ثبوتوں کیساتھ کیس چلے تھے اور غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو اسی کرپشن کی وجہ سے ختم کیا تھااورنوازشریف کوISIنے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پرپیسے بھی دئیے تھے اور یہ سب چیزیں عدالت، ریاست ، میڈیا اور عوام کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
یہ کس قدر ناکام نظام کی بات ہے کہ اگر اتنے واضح ثبوتوں کے باوجود بھی اسٹیبلشمنٹ کو زور لگانا پڑجائے کہ نوازشریف کو سزا دی جائے؟۔ یہ بھی پتہ نہیں چلتا ہے کہ جسٹس قیوم اورملک ارشد کی طرح جسٹس ثاقب نثار بھی نوازشریف کیساتھ اندورن خانہ ملے ہوں اور ایک ویڈیو بھی بنادی ہو۔ جب انکار کرنے کے بعد پوری قوم ثاقب نثار کی پشت پر کھڑی ہوجائے اور پھر وہ پیسے کھاکر اسکا اعتراف کریں کہ مجھ پر نوازشریف کو نکالنے اور عمران خان کو لانے کیلئے دباؤ تھا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عدلیہ اور فوجی اسٹییبلشمنٹ دونوں کو ایک ساتھ رگڑا دینے کیلئے ثاقب نثار کی ویڈیوز کو استعمال کیا جائے۔ جیسے حامد میر نے امریکی اخبار کیلئے ایک کالم میں نیا انکشاف کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایجنسیوں نے عمران کی چھٹی کرانے کا فیصلہ کیا ہو ۔ گوگلی نیوز میں یہی خبریں دی جارہی ہیں۔
جس طرح ایک وکیل پیسے کھاکر اپنی قانونی پوزیشن مجرم کی حمایت یا مخالفت میں بدلنے کیلئے کوئی شرم نہیں کھاتا ہے ،اسی طرح بڑی رقم ملنے کے بعدآن ڈیوٹی اور ریٹائرڈ جج بھی اپنی اخلاقیات بیچ کر امیروں میں شامل ہونے کیلئے وہ سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے جو ایک عام انسان کا خاصا ہوتا ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس ختم ہونے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کے نام پر لندن میں پراپرٹی برآمد ہونے کاکیا نتیجہ نکل سکا تھا؟۔ جب جج، جرنیل اور سیاستدان اپنی اپنی جائزاولادوں اور بیگمات کو بھی اپنے سے الگ کرکے ترقی یافتہ ممالک کے آزاد شہری قرار دیتے ہوں اور بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیکر منی لانڈرنگ کا معاملہ جاری ہو تو کون کس سے کیا پوچھے گا؟۔ مجرم قانون سے بچنے کے تمام طریقے جانتے ہیں اور عوام پر سودی قرضوں کی وجہ سے مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جارہاہے۔
عمران خان اور نوازشریف کے تضادات اور ڈھیٹ پن کا نام سیاست رکھ دیا گیاہے۔ اگر نوازشریف کے خلاف لندن ایون فیلڈ کیس کا تاریخی جائزہ بھی لیا جائے اور ملک ارشد اور ثاقب نثار کی ویڈیوز پر اس کو معصوم اور بے گناہ قرار دینے کی تحریک کا بھی جائزہ لیا جائے تو عوام و خواص سب اس نظام سے مایوس ہوں گے اور عمران خان کی تمام ویڈیوز اور موجودہ کردارکو دیکھا جائے تو بھی سبھی اس نظام سے مایوس ہوں گے۔ جس نظام نے نوازشریف کا کچھ نہیں بگاڑا اور جس نظام کے ذریعے اتنے وعدوں کے باوجود عمران خان ، اس کی پشت پناہی والے کچھ نہیں کرسکے بلکہ اس مدت میں سودی گردشی قرضے ڈبل کردئیے ۔ زرداری سے پہلے پرویزمشرف نے قرضہ اتارنے کے بعد پھر قرضہ لیا۔ پھر زرداری اور نوازشریف اور عمران خان نے اس سلسلے کو جاری رکھا اور اب بات یہاں تک ہی پہنچ گئی ہے کہ جتنا گردشی قرضے کے عوض ہم سود دیتے ہیں ،وہ ہمارے ٹیکس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ نوازشریف کے دور میں دفاعی بجٹ سے سود زیادہ ہوگیا تھا اور اب سود اسکے ڈبل تک پہنچ کر ہمارے ٹیکس کی کل مقدار تک پہنچ گیا ہے۔
اسلامی انقلاب کے ذریعے سب سے پہلے ہم اپنی اصلاح کرسکیں گے اور جس طرح امریکہ اور نیٹو کو افغانستان میں اسلامی جذبے نے شکست دی تھی اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی ظالم فوج کو بھی ہم شکست دے سکتے تھے۔ ہماری ریاست غریب کو انصاف دینے میں مکمل ناکام ہے ۔ بڑے لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچانا ممکن نہیں ہے ۔ چور ہیں سب چور ہیں کا شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا ، اپنے نظام انصاف کو درست کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ اور جمہوری ذرائع سے انتخابات بھی تجارت ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میںکروڑوں کے اندر ایک ایک ووٹ کی قیمت لگنے سے پتہ چلتا ہے۔ پیسوں کیساتھ کھیلنے والے اس نظام کے کرتے دھرتے اور کرتوت ہیں۔ نظریاتی سیاست کا کوئی نام ونشان تک نہیں۔
سندھ ، پنجاب، مہاجر ، بلوچ اور پختون کارڈ کھیلنا کوئی نظریہ نہیں ۔ پنجاب میں برادری ازم کارڈ کھیلا جاتا ہے اور جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو تعصبات اور پیسوں کی جیت ہوتی ہے۔ ایسا ملک اور ایسی قوم کبھی بھی کوئی اچھا وقت نہیں دیکھ سکتی ہے۔ طاقتور طبقات لینڈ مافیا اور بدمعاشوں کی سرپرستی کررہے ہوں اور مظلوم اور کمزور طبقات کو خدا کے سہارے پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ فلسطین ومقبوضہ کشمیر کے حالات ہمارے ہاں بھی کم عقل لوگوں کی بیوقوفیوں سے بنتے جا رہے ہیں۔ عمران خان اداروں کو مضبوط کرنے نکلے تھے لیکن ادارے اپنے مضبوط کردار کی بدولت ہی مضبوط بن سکتے ہیں۔ نوازشریف پر بہت زبردست اور سچے کیس بن گئے تھے اور عمران خان بھی پشاورBRTسمیت کئی کیسوں کی نذر ہوسکتے ہیں۔ زرداری اینڈ کمپنی پر ہمارے ناقص نظام کی وجہ سے کوئی چیز ثابت کرنا مشکل ہے اور جو بے قاعدگیاں ہمارے ریاستی اداروں اور اہلکاروں کی طرف سے کی جاتی ہیں تو بڑے بڑے مجرم بھی معصوم لگنے لگتے ہیں کہ یہ توآوے کا آوا بگڑا ہواہے اور سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ قانون کی بالادستی کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
کراچی میں نسلہ ٹاور کے علاوہ بہت سارے غیرقانونی قبضے چھڑائے گئے لیکن شاہراہ فیصل اور اس کی ملحقہ سڑکوں پر سروس روڈوں پر بھی قبضے کئے ہوئے ہیں اور ائرپورٹ کے سامنے شاہراہ فیصل پر ریلوے کی زمین پر ناجائز بلڈنگ سمیت پوری شاہراہ فیصل پر کہاں کہاں قبضے ہوئے ہیں ان سب کا جائزہ لیکر اس اہم شاہراہ کی توسیع کردی جاتی تو سبھی لوگ خوش ہوتے کہ قانون کی واقعی اس ملک میں بالادستی ہے۔ کراچی کا پانی مافیا بیچ رہاہے۔ کراچی کے تھانے بکتے ہیں اور کراچی بلڈنگ مافیا کھلے عام ندی نالوں پر قبضہ کرکے فلیٹ بیچ رہے ہیں اور کراچی میں لیز کی تیس سالہ زمینوں پر بلڈنگ مافیا غریب کو دھوکہ دے رہاہے۔ ہماری حکومت اور ریاست کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے ۔ لوگوں کو حکمران طبقے سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ کسی حکمران طبقے کی شکل بھی کسی کو اچھی نہیں لگ رہی ہے لیکن مجبوری اور مظلومیت کی فریاد عرش تک بھی نہیں پہنچائی جارہی ہے اسلئے کہ مخلوق اور خالق کے تعلقات بھی بہت خراب نظر آتے ہیں۔ امیر طبقے سے بھی زیادہ غریب ظالم بنتا جارہاہے، دو ٹکوں کیلئے کسی کی جان لینا بھی بڑی بات نہیں سمجھتے ہیں۔ پوری قوم کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کرپشن پر بڑے بڑے ہاتھ مارتے ہیں اگر یہ سیدھے ہوگئے تو لوگوں کو جائز روزگار ملے گا اور پھر ڈکیتی اور چوریوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ یہ ملک کہیں ہاتھ سے نہ نکل جائے۔
مذہبی طبقات کا حال یہ ہے کہ مفتی عزیزالرحمن نے اپنے باریش طالب علم صابرشاہ کو امتحان میں پاس کرنے کی لالچ پر جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا اور پہلے یہ ظالم کا طرۂ امتیاز ہوتا تھا کہ وہ مظلوم کی ویڈیو بناکر ڈراتا تھا کہ تمہارا جنسی معاملہ آشکار کرکے لوگوں میں بدنام کرکے رکھ دوں گا لیکن اب مظلوم نے بھی اپنی ہی ویڈیو بناکر یہ تماشا دنیا کو دکھا دیا کہ یہ ہو کیا رہاہے؟۔جب پاس کرنے کی لالچ میں صابرشاہ جیسے لوگ یہ کام کرسکتے ہوں تو پھر دہشت گردی، مفادپرستی اور دیگر معاملات میں کہاں سے کہاں اور کیا سے کیا لوگ نہیں کرتے ہوں گے؟۔
امام حسن کو زہر دے کر شہید کیا گیا تھا اور امام حسین کو کربلا میں شہید کیا گیا تھا لیکن اب کالعدم سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نوازجھنگوی شہید کے بیٹے مولانا اظہار الحق جھنگوی کی لاش پہلے ہوٹل میں مردہ حالت میں ملی تھی جس کا کوئی بھی سراغ نہیں لگ سکا تھا اور اب دوسرے صاحبزادے مولانا مسرورجھنگوی کوبھی باغی قرار دیا جارہاہے۔ کہیں سانحہ کربلا پیش نہ آجائے۔ مولانا حق نواز جھنگوی کا تعلق جمعیت علماء اسلام ف سے تھا اور انہوں نے1988ء میں جمعیت ف کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور جمعیت ف کے صوبائی نائب امیر بھی تھے لیکن جب ان کو شہید کیاگیا تو مولانا ایثارالحق قاسمی نے بیگم عابدہ حسین شیعہ کے ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے اتحاد کرکے جھنگ کی سیٹ شیعوں کے ووٹوں سے جیتی تھی۔ مولانا حق نوازجھنگوی کے بچے اس وقت بہت چھوٹے تھے لیکن آج مولانا حق نواز جھنگوی کا بیٹا اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چل کر مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دے رہاہے تو اس کو کالعدم سپاہ صحابہ کا نہیں صحابہ کرام کا بھی باغی قرار دیا جارہاہے۔ مولانا سید محمد بنوری شہید نے بھی مولانا فضل الرحمن کیلئے اپنی جان کی قربانی دیدی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن نے اس کا پھر ساتھ نہیں دیا تھا۔
مذہبی اور سیاسی انتشار اور بے اعتمادی سے پہلے ایسی فضاء کی ضرورت ہے کہ جب بنوامیہ اور بنوعباس کی طرح ناجائز لوگ خاندانی بنیاد پر قبضہ کرکے اہل بیت پر مظالم کے پہاڑ اسلئے توڑیں کہ ان کی حیثیت چیلنج ہورہی ہو تو ایسے مظالم کی فضاء نہ بننے دی جائے۔ آج تبلیغی جماعت والے اپنے بانی مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد اور اپنے مرکز بستی نظام الدین کے پیچھے پڑگئے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کا مستقبل روشن ہے یا تاریک یہ وقت کا فیصلہ ہے۔ لیکن ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ دسمبر2021۔ سوشل میڈیا پوسٹ
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

آج ہندوستان کے شہروں سے کوہ ہندوکش تک اور بھارت کی ہندی زباں سے پختونخواہ کے شہر ٹانک ،اس کے مضافات اور پشاور تک ہندکو زباںوالے ایک تہذیب وتمدن ، ایک وطن اور ایک جیسے ملتے جلتے لوگ تھے۔مسلمان اور ہندوکے درمیان سکھ مذہب اور رنجیت سنگھ کی پنجابی حکومت تاریخ کا روشن یا سیاہ باب ہے؟، روشن مستقبل یاتاریک سے تاریک تر حالات ہونگے؟،یہ فیصلہ وقت نے کرنا ہے لیکن ہم نے اپنا فرض منصبی ضروراداکرنا ہے !

یہاں انگریز آیا، تقسیم بنگال ، تقسیم ہند،مسئلہ کشمیر، ڈیورنڈ لائن اور انگریزکی سیاسی، انتظامی، انتقامی، تعلیمی، نوابی، فوجی اور عدالتی باقیات اس قوم کی اندھیر نگری میں ایک مؤثر کردار کا سبب آج تک ہیں اور اندھیرنگری ہے میرے آگے

انگریز نے ایسٹ انڈین کمپنی سے مضبوط تجارتی مراکز بناکر ہندوستان کے طول وعرض پر قبضہ کیااور پھر اپنی باقیات کے ذریعے یہاں کی عوام کو مکمل غلامانہ نظام کے سپرد کردیا۔ مزاحمت کرنے والوں کو آپس میں اُلجھا دیا۔ہندو اور مسلم کے درمیان تفریق ڈالنے کیلئے بنگال کو بنیادبنا دیا۔ ہندوؤں نے انتظامی بنیاد پر مشرقی بنگال کو علیحدہ صوبہ بنانے کی مخالفت کی تو مسلمان اس کی حمایت میں کمربستہ ہوگئے۔ یوں انگریز کی یہ چال کامیاب ہوگئی کہ ہندو اور مسلمان کو آپس میں دشمن بنادیا۔ انگریز مخالف ہندو اور مسلمانوں کی ایک مشترکہ تحریک آل انڈیا کانگریس کی بنیاد پڑگئی اور اس کے مقابلے میں انگریز سے راز ونیاز رکھنے والے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ نواب وقار الملک ، سر آغا خان اور دیگر اسلام ناآشنا لوگوں نے ایک مسلم قومیت اور دوسری ہندو قومیت کی بنیاد پر ایک تحریک کا آغاز کردیا۔ ایک قومی نظریہ اور دو قومی نظریہ کے میدانِ جنگ کیلئے زمین ہموار ہوئی۔ کانگریس کے قائداور رہنما ہندوستان کے ایک قومی نظریے اور مسلم لیگ کے قائدین اور رہنما دوقومی نظریے پر زور دیتے تھے۔قائداعظم محمد علی جناح کی ابتداء کانگریس سے ہوئی اور وہ وکیل کی حیثیت سے چاہتے تھے کہ ہندوستان کی غلام عوام کوبھی ویسے شہری حقوق مل جائیں جو برطانیہ اور یورپ کے آزاد شہریوں کو اپنے وطن میں حاصل ہیں۔یورپ کا مذہب عیسائی تھا لیکن انتظامی اعتبار سے وہ مختلف ممالک برطانیہ، جرمنی، فرانس ، اٹلی، سوئٹزر لینڈ، اسپین، ناروے ، سویڈن اور دیگر چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم تھا۔مذہب کی بنیاد پر ملکوں کی تقسیم کاکوئی ماحول دنیا میں موجود نہ تھا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ” بہترین نظم بھی لکھی لیکن جب ہند و مسلم کے درمیان نفرت کی فضاء بن گئی تو تقسیم ہند کی ناگزیری پر شاعرِ مشرق اقبال اور قائداعظم بھی مفکر پاکستان اور بانی پاکستان بن گئے۔ دونوں کی قابلیت، خلوص اور انسانیت پر شک نہ تھا لیکن اپنی یوٹرن سے اپنی اپنی پوزیشن کو ایسا بدل ڈالا کہ اس سے اس خطے کی تاریخ میں بھی نمایاں تبدیلی آگئی۔
ہندو،مسلم، سکھ، بدھ مت اور عیسائی سے تعلق رکھنے والے سب ہندوستانی لوگ ایک طرح کی ملتی جلتی صوفیت کے نظام سے وابستہ تھے۔عیسائیت نے بھی رہبانیت کی بدعت خود ایجاد کرکے اس کی ابتداء کی لیکن پھر وہ اس کی پاسداری نہ کرسکے۔ ہندو اور بدھ مت بھی بہت قدیم مذاہب تھے اور انکا تاریخی پسِ منظر صوفیت کی یاد گار تھا۔ اسلام اور مسلمانوں پر بھی ہندوستان میں تصوف کی چھاپ تھی۔ سکھ مذہب نے بھی صوفیت کے دامن سے جنم لیا۔اس مزاج کی وجہ سے تاریخ کے اندر تمام خونخواروں نے جب بھی برصغیرپاک وہندکا رُخ کیا تویہاں کے پُر امن صوفی مذہب لوگوں نے کوئی مزاحمت نہیںکی۔ جس طرح نیم حکیم خطرۂ جان نیم ملا خطرۂ ایمان مشہور ہے اسی طرح نیم صوفی خطرہ ٔ امن اور امان بھی ہوتاہے۔ انگریز نے ایسٹ انڈین کمپنی سے ہندوستان پر قبضے کی جو ابتداء کی تھی تو وہ جاتے جاتے ہندوستان کو بہت سے مسائل کی آماجگاہ بناکر چھوڑ گیا تھا اور اب باتIMFکی غلامی تک پہنچ گئی ہے۔ علماء کی اکثریت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور صوفیوں کی اکثریت نے حمایت کی تھی لیکن پنجاب کے پانچ دریاؤں کے علاوہ تقسیم ِ ہند کے وقت ایک چھٹا دریا انسا نیت کے خون سے بھی بہہ گیا تھا، جس کا مولانا ابوالکلام آزاد کہتے تھے کہ ” آزادی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے لیکن اتنا خون بہنے کی قیمت پر آزادی بھی قبول نہیں ہے”۔
دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان اور پاکستان ایک ہی تاریخ، وقت اور لمحے میں ایک ہی اعلان کیساتھ آزاد اور دولخت ہوگئے لیکن مسئلہ کشمیر کی بنیاد پر یہ دونوں ممالک دو جڑواں بہنوں کی جگہ دو سوکن بن گئیں۔ مقبوضہ کشمیر سے قبضہ تو نہیں چھڑایا جاسکا ،البتہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش سے ہم نے ضرورہاتھ دھو لئے اور 74سال بعد بھی اپنے غلامانہ نظام سے جان چھڑانے کا رونا رو رہے ہیں۔ انڈوں پر بیٹھنے کی وجہ سے کڑک مرغی کا سینہ پروں سے گنجا ہوجاتا ہے لیکن آخری عمرتک دیسی مرغیوں کے سرکے بال نہیں گرتے ۔جبکہ فارمی مرغیوں کے سر بھی آخر میں گنجے ہوجاتے ہیں۔پاکستان میں برسراقتدار آنے والے سیاسی حکمران فارمی مرغیوں کی طرح مصنوعی طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف اپنے اپنے وقت کی زندہ مثالیں ہیں۔PPP،PMLNاورPTIایک دوسرے سے اس بات پر اُلجھ رہی ہیںکہ کس پارٹی کو کس کس جنرل نے جنم دیا ہے۔جب تقسیم ہند کے وقت ہندو پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان چلے گئے تو ان کی جگہ بھارت سے آنے والے مسلمانوں نے لے لی۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں تمام کے تمام پوش علاقوں، تجارتی مراکز اور بڑی بڑی زمینوں کے مالک ہندو تھے ، جب وہ یہاں سے رخصت ہوئے تو جائز اور ناجائز کی تمیز کئے بغیر ان املاک کے مالک ہندوستان سے آنے والے مہاجر بن گئے۔ علاقائی اور مقامی مسلمان اسلئے خوش تھے کہ انگریزوں اور ہندوؤں کی جگہ مقامی حکمرانوں اور مہاجر مسلمانوں نے لی ، جو خوش آئند تھی لیکن جب خوشحال طبقہ مفاد پرست بن جائے تو علاقے کی عوام کبھی خوشحالی نہیں پاسکتے ہیں۔سول وملٹری بیوروکریسی میں میٹرک کرنے والے جن کی حیثیت متحدہ ہندوستان میں کلاس فور کی نوکری سے زیادہ نہیں تھی وہ یہاں آکر بڑے بڑے افسر بن گئے۔ جو درمیانے درجے کا طبقہ تھا اس نے میرٹ کی بنیاد پر ملک وقوم کی باگ دوڑ سنبھال لی۔ جو جنرل اور سیکٹری لیول کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے تو وہ بڑے بن گئے۔ فوج اور سول اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کا اقتدار سنبھال لیا تو گورنر جنرل قائداعظم اوروزیراعظم لیاقت علی خان کی لڑائی کا شاخسانہ یہ تھا کہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کی نہیں بنتی تھی اور قائد اعظم اسلئے لیاقت علی خان سے ناراض تھے کہ بھوپالی مہاجرین کو کراچی میں آباد کرکے اپنا حلقہ انتخاب بنانا چاہتے تھے۔ جب نووارد جمہوری لیڈروں کے پاس انتخابی حلقے تک بھی نہیں تھے تو وہاں سے اس میں جمہوریت کی بحالی کیلئے کوئی کام کرسکتے تھے اسلئے ہمارے ہاں جمہوریت کے بانی جنرل ایوب خان بن گئے ۔ جس کی کوکھ سے ذوالفقار علی بھٹو قائدعوام نے جنم لیا تھا۔
انورمقصود نے بہت اچھا نقشہ کھینچاہے کہ مہاجر کو پتہ چل گیا کہ سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور پختونخواہ کے لوگ سید سے محبت کرتے ہیں تو انہوں نے اپنے شجرے بھی تبدیل کر ڈالے۔ جب لوگ نسلوں کی تبدیلی پر آگئے تو قصائی سید کا درجہ نہیں حاصل کرسکتے تھے لیکن قریشی بننے تک پہنچ گئے۔ جولاہے انصاری، تیلی عثمانی بن گئے۔ کوئی صدیقی،فاروقی اور علوی بن گیا۔ معروف اسلامی اسکالر جاویداحمد غامدی نے اسی روش میں غامدی کہلانے کا شوق پال لیا لیکن جب اس کو توجہ دلائی گئی کہ جب ایک صحابیہ غامدیہ پر سنگسار کرنے کا حکم جاری کیا گیا تو اس کا بچہ دودھ روٹی کھانے کے لائق بن گیا تھا اور اس بچے کی نسل سے غامدی کی نسبت ہوسکتی ہے تو جاوید احمدغامدی نے واضح کردیا کہ ”میرا عرب قبیلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے محض شوق کیلئے غامدی نسبت اختیار کرلی ہے”۔
جاوید احمد غامدی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ ”عرب میں داماد کو اہل بیت قرار نہیں دیا جاتا ہے اور حضرت علی نبیۖ کے داماد تھے”۔ نبیۖ ابوسفیان کے بھی داماد تھے اور حضرت ابوبکر وعمر کے بھی داماد تھے۔ سسرالی رشتے کا کسی قوم کی تاریخ میں بھی اہل بیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ یہودونصاریٰ کی خواتین کی بھی مسلمانوں میں شادیاں ہوئی ہیں اور نبیۖ کی چھ ازواج مطہرات کا تعلق قریش سے تھا اور چار کا دیگر قوموں سے تھا اور ایک کنیز ماریہ قبطیہ کا تعلق عرب سے بھی نہیں تھا۔ عرب نہیں عجم میں بھی داماد اور سسر ایک دوسرے کے اہل بیت نہیں ہوتے ہیں۔حضرت علی نبیۖ کے چچازاد بھائی تھے، جب بنی امیہ سے خلافت کی مسند چھڑائی گئی تو بنوعباس نے خلافت پر اسلئے قبضہ کیا کہ وہ نبیۖ کے چچا کی اولاد ہیں۔ بنو امیہ کا طاقت اوربنوعباس کا نبیۖ سے قرابتداری کی بنیاد پر مسندِ خلافت کرنے کی تاریخ سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے اور ان ادوار میں نبیۖ کے اہل بیت حسنی اور حسینی سادات پر مظالم کے پہاڑ ڈھانے کی وجہ بھی صرف یہی تھی کہ یہ لوگ اقتدار تک نہ پہنچ پائیں۔ بنی فاطمہ نے بھی اقتدار کا قبضہ سنبھالا تھا جو آغاخانی اور بوہری کی شکل میں آج موجود ہیں۔ امامیہ شیعہ نے پہلی مرتبہ ایران میں امام خمینی کی قیادت میں اقتدار حاصل کیا ہے اور اس سے پہلے ان کے ائمہ کہتے تھے کہ ”ہم میں سے جو خروج کریگا وہ ایسے طائر کا بچہ ہوگا جس کو اغیار نے پالا ہوگا”۔ امام حسن نے خون کے دریا کو روکنے کیلئے امیر معاویہ کی امارت کو تسلیم کرلیا لیکن پھر اقتدار ظالم بادشاہت میں تبدیل ہوگیا۔ اسلام اور پاکستان کی کہانی بھی ایک دوسرے سے بالکل ملتی جلتی ہے۔اللہ خیر کرے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نواز شریف نے آئی ایم ایف سے اتنا قرضہ لیا کہ سود کی مد میں ادا کی جانی والی رقم ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ دسمبر2021۔ سوشل میڈیا پوسٹ
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کے اسلامی اسکالرکو انٹرویو میں کہا ہے کہ ریاست مدینہ کی فلاحی ریاست کا ماڈل بنانے کیلئے میں نے سیاست میں قدم رکھا۔آج امت مسلمہ کے قائدین میں طاقت و دولت کی دوڑ لگی ہوئی ہے، ان میں آزادی اور غیرت کا فقدان ہے، ہم نے جو جدوجہد کی ہے اس کے اثرات ہزاروں سال بعدتک مرتب ہوںگے، میرے سامنے مافیاز تھے،جنہوں نے میری20سال تک کردار کشی کی مگر آخر کار وہ ناکام ہوگئے !

وزیراعظم عمران خان ! اگر ایک طرف گردشی قرضوں کے سود کی رقم ہمارے ٹیکس کے محصولات سے بھی زیاہ ہو جس کا سارا بوجھ عوام پر مہنگائی کی صورت میں پڑے اور دوسری طرف لنگر خانے کھولے جائیں تو یہ ریاستِ مدینہ ہے؟

وزیراعظم عمران خان ! پاکستان کو مدینہ کی ریاست کا ماڈل بنانے کیلئے جس طرح بیٹنگ اور بالنگ آپ کررہے ہیں، اس پرذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔
جب نوازشریف نےIMFسے اتنے قرضے لے لئے کہ ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ سود میں دی جانے والی رقم تھی تو ہم نے جلی حروف سے نشاندہی کردی تھی کہ نوازشریف بڑے سودی قرضے لیکر ملک میں خوشحالی نہیں بدحالی کے مرتکب بن رہے ہیںلیکن ہماری بات کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ جب رونا رویا جارہاتھا کہ دفاعی بجٹ نے پاکستان کو غریب اور بدحال بنادیا ہے تو ہم نے بتادیا کہ اصل تباہی گردشی سودی رقم کی ہے جس کا ہمیں بہت جلد خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ دفاعی بجٹ کا تعلق اپنے دشمن کا سامنا کرنے کیلئے ہوتا ہے اور گھر میں بھی جس طرح کے حالات ہوتے ہیں ،اسی طرح سے اسلحہ وغیرہ کا اہتمام بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایک آدمی کو اپنے دشمن سے اپنی جان اور اپنی عزت کے خطرات کا سامنا ہو اور دوسری طرف وہ اسلحہ رکھنے کے بجائے قیام وطعام اور حلوے مانڈے کھانے پر بہت سارا مال خرچ کرے اور اپنے پاس بندوق پِسٹل نہیں رکھے۔ یہ غیرفطری بات ہوگی۔ جب مشرقی پاکستان میں ہماری فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان کے اہل اقتدار نے ایٹم بم بنانے کا ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔
اگر ایک گھر کا سربراہ یا تجارتی کمپنی کا چیف اپنے اثاثے پر سود لینے کا سودا کرے اور وہ نقصان ہی نقصان میں جارہا ہو تو ایک دن اپنے سارے اثاثوں سے بھی ہاتھ دھو لے گا۔ یہ بہت خسارے ، شرمندگی اور بوجھ کی تجارت ہوگی۔ ہمارے اصحابِ اقتدار اپنے ملک میں یہی تجارت کررہے ہیں۔پہلے اپنے ملک کو چلانے کیلئے سودی قرضے لینے پڑتے تھے کیونکہ ٹیکس چوری کی وجہ سے ملک کا نظام نہیں چل سکتا تھا۔ کسٹم اور انکم ٹیکس کے محکموں میں نوکریاں سب سے زیادہ فائدہ مند اسلئے سمجھی جاتی تھیں کہ ان میں چوری کا پیسہ بہت زیادہ ہوتاتھا۔ سیاسی خاندان بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ بڑے تاجروں نے بھی ٹیکس چوری کرنے کے طریقۂ واردات کا پورا پورا فائدہ اٹھانا سیکھ لیا تھا۔ ٹیکسوں پر مملکت کا نظام چلتا تھا۔ ریاست چلانے کیلئے ٹیکس ناکافی تھا تو سودی قرضہ مجبوری تھا۔
جب سودی قرضے لینا شروع ہوئے تو پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بڑی بڑی رقم کی منتقلی اور جائیدادوں کی خریداری بھی سامنے آگئی۔ بہت بڑے پیمانے پر سیاستدانوں ،سول وملٹری بیوروکریسی کے اہم اہلکاروں اور ان کے آلۂ کار تاجروں نے بلیک منی سے اپنے منہ کالے کرلئے تو اچھائی اور برائی کی تمیز بھی ختم ہوگئی۔ اشرافیہ کو قرآن میں مترفین کہا گیا ہے جن کو خوشحال لوگ سمجھا جاتا ہے۔ ہردور میں اہل حق کی مخالفت اور اہل باطل کی حمایت ان لوگوں کا محبوب مشغلہ رہاہے۔ جب ہم نے مولانا فضل الرحمن، کراچی کے اکابر علماء اور بہت سارے لوگوں کو دیکھا تھا تو خوشحالوں کی فہرست میں شامل نہ تھے۔ مولانا فضل الرحمن ، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا عبداللہ درخواستی،مفتی محمد نعیم، مفتی رشیداحمد لدھیانوی، مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا اسفندیار خان،مفتی زرولی خان،مولانا حق نواز جھنگوی ،مولانا مسعود اظہر، مولانا اعظم طارق اور بہت سارے مذہبی لوگ غریبوں کی فہرست کا حصہ تھے لیکن آج یہ لوگ اور ان کی اولاد اور جماعتوں کے رہنما خوشحال ہیں۔ خوشحال سے مراد روحانی اور ذہنی خوشحالی نہیں ہے بلکہ مال واسباب کی خوشحالی ہے ۔
ججوں، بیوروکریٹوں، جرنیلوں ، سیاستدانوں اور تاجروں اور مذہبی طبقات کی غربت کم ہوگئی ہے اور یہ خوش آئند ہے لیکن ملک وقوم کی بدحالی کے ذمہ دار کون ہیں؟۔سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیںاور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے غریب عوام بدحال ہیں اور یہ لوگ خوشحال ہیں یا معاملہ کچھ دوسرا بھی ہے؟۔ کسی نے کسی کے منہ سے روٹی کا نوالہ نہیں چھینا ہے مگرپھر بھی مڈل کلاس ختم ہوگئی ہے ۔ایک طرف امیر طبقات ہیں جو ساتویں آسمان تک پہنچ چکے ہیں اور دوسری طرف غریب غرباء ہیں جو زمین کے ساتویں طبق میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ جب مڈل کلاس کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے تو غریب کس حال پر پہنچے ہوں گے؟۔ آنے والے حالات زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔
اس سے پہلے پہلے کہ عدالت، فوج، سیاستدانوں، سول انتظامیہ، پولیس، بدمعاشوں اور غنڈوں کے ہاتھوں سے تمام حالات نکل جائیں اور غریب بہت بڑا طوفان برپا کردیں جس سے ایسی افراتفری پھیل جائے کہ سب کا سکون بھی غارت ہوجائے ،کوئی ایسا فارمولہ قوم وملک اور سلطنت کو دیا جائے جس سے ہم ایک اچھے نتیجے پر پہنچنے کی امید کرسکیں۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ہمارا تمام ٹیکس تقریباً سود کے مد میں جاتا ہے اور ریاست وحکومت کو چلانے کیلئے مزید سودی قرضے بھی لینے پڑتے ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی طرف سے ایک کروڑ نوکری کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ تمام ریاستی اداروں کو بے روگاز کیا جائے گا۔
کامریڈ لعل خان نے کہا تھا کہ ” ہماری فوج میں اب یہ صلاحیت باقی نہیں رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کیلئے لڑسکے۔ اس میں مارشل لاء لگانے کی صلاحیت بھی ختم ہوچکی ہے اسلئے کہ اس کا کردار پٹواری، آڑھتی اور دلالوں کی طرح ہے۔ یہ انتہائی کرپٹ ہوچکی ہے۔ کرپٹ لوگوں میں عزت کی خاطر لڑنے مرنے کا کوئی جذبہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اب یہ پیسے بنانے میں لگ چکی ہے”۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اسلامی سکالر کے سامنے علامہ اقبال کے شاہین کا ذکر کیاہے ۔ ہمارے وزیرستان میں ایک طرف ہماری فوج اور طالبان کے لوگ سرکاری کاموں میں بھتے وصول کرنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف چیک پوسٹوں پر فوجی جوان دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان بہت بڑا سانحہ تھا لیکن اس وقت بھی غیرت کا مظاہرہ ہماری فوج نے اسلئے نہیں کیا تھا کہ اپنے بنگالی بھائیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے پیپلزپارٹی اور سیاسی جماعتوں کو غیر مؤثر بنانے کیلئے لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات کیلئے راہ ہموار کردی اور کٹھ پتلی سیاستدان متعارف کرائے تھے۔ جنرل حمیدگل نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر انتقامی جرنیلی انتشار تشکیل دیا تھا اور عمران خان کی تحریک انصاف کے بانی بھی وہی تھے۔
نوازشریف اور عمران خان ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ دونوں نے پاک فوج کا بیڑہ غرق کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظھر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدی الناس ”خشکی وسمندر میں فساد برپا ہوگیا بسبب لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے”۔یہ سب کرتوت ہماری ایجنسیوں کے ہی اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کھو دیا۔ کشمیر کو آزاد نہیں کراسکے مگر روس اور امریکہ کو شکست دینے سے لوگوں کو ورغلارہے ہیں۔ ایک طرف میڈیا کا ایک مافیا نوازشریف کو سپورٹ کرنے کیلئے جھوٹ کے طوفان کھڑے کرتا ہے اور دوسری طرف کا میڈیا مافیا پاک فوج کے سر پر جھوٹ کے ہما بٹھا رہاہے۔
لعنت اللہ علی الکاذبین ” جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو” کا جملہ قرآن کی تلاوت میں مسلمان بڑے پیمانے پر پڑھتے ہیں اور اللہ کے فرشتے دن رات جھوٹوں پر لعنت بھیج کر ان کو اپنے انجام تک پہنچانے کا انتظار کررہے ہیں۔
پاکستان کے ہر طبقے میں اچھے لوگوں کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔ جنہوں نے ملک وقوم کا بیڑہ غرق کیا ہے اس میں کوئی خاص طبقہ سول وملٹری بیوروکریسی اور سیاستدان ملوث نہیں ہے بلکہ سب کو اللہ تعالیٰ نے مواقع دئیے ہیں اور سب میں اچھے اور برے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔سب کو اپنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ عمران خان ایک کرکٹر ہے اسلئے فلسفے جھاڑنا اس کی فیلڈ نہیں ہے۔
قوم کو سودی قرضے بڑھانے اور لنگر خانے کھولنے سے غیرتمند نہیں بنایا جاسکتا ہے۔جاوید ہاشمی سینئر سیاستدان ہیں ۔ جماعت اسلامی سے مسلم لیگ اور پھر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے۔ ہاشمی صاحب کہتے تھے کہ ہم اپنے سیاسی قائدین کے مزارع نہیں ہیں۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک مزدور ، نوکر اور مزارع میں کیا فرق ہوتا ہے۔ افغانی ایک دوسرے کو طعنہ دیتے ہیں کہ” تم پنجاب کے مزدور ہو”۔ ” امریکہ کے نوکر ہو”۔ اپنے ملک وقوم کی مزدوری اور نوکری میں ہر کوئی فخر محسوس کرتا ہے لیکن اغیار کی مزدوری ونوکری میں عار محسوس کرتا ہے۔ پاکستان کے بعض مردہ ضمیر لوگوں کی بات میں نہیں کرتا ہوں جو ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم نے نیٹو کو شکست دی ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے نیٹو کیلئے صف اول کی خدمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن میں منافقوں کیلئے فرمایا ہے کہ ” نہ یہ ادھر کے ہیں ،نہ ادھر کے۔ بس درمیاں میںتذبذب کا شکار ہیں”۔ لیکن مزارعت گھناؤنا فعل ہے جو بہت زیادہ مجبور نہ ہو تو وہ کسی کا مزارع نہیں بن سکتا ہے۔ اسلام نے مزارعت کو ختم کیا تھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ درس نظامی پر کوئی ایسی وحی نہیں ہے جسے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اس خاندان میں عتیق جیسے علماء موجود ہیں۔

مولانا قریشی کو بہت وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ مولانا سمیع الحق شہیدکا بیان تھا” درسِ نظامی کوئی وحی نہیں کہ تبدیلی نہ ہوسکے” ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ” اس خاندان میں عتیق جیسے اہل علم ہیں”

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ نومبر۔ صفحہ نمبر1
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

درسِ نظامی کا بہت بڑا فائدہ ہے کہ قرآن ناظرہ تجوید،قرآت اور اسکا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے۔ درسِ نظامی کا پہلا اصول قرآن ہے۔ مسئلہ قرآن میں موجود ہو تو احادیث کو تلاش کرنے کی ضرور ت نہیں اور اگر حدیث قرآن کے خلاف ہو تو اس کو ناقابلِ عمل سمجھا جائے گا۔ درسِ نظامی کے اس بنیادی اصول نے آج تک امت مسلمہ کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔
مگرافسوس کہ علماء اور گمراہ مذہبی طبقے نے یہ اصول کماحقہ امت کے سامنے پیش نہیں کیا۔ جاہلوں نے اپنے اصول بنالئے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ جاویداحمد غامدی تک نے بھی اپنی طرف سے اصول بناڈالے اور میڈیا پر اس کی مسلسل تشہیر کررہاہے لیکن قرآن کی طرف امت کو متوجہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور یہی حال غلام احمد پرویز اور دوسرے جدید جاہل مفکرین اسلام کا رہا ہے۔
مثلاً قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کے حوالے سے تفصیلات واضح ہیں۔ اگر ان پڑھ لوگوں کے سامنے اس کا سادہ ترجمہ بھی رکھا جائے تو اس میں ایسی رہنمائی ہے کہ پڑھا لکھا، ان پڑھ ، عالم ، جدید دانشور اور مسلم وغیرمسلم اور عرب وعجم ہر ایک اس کے بہت سادہ اور واضح احکامات کو سمجھ سکتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے مختلف زبانوں میںاور مختلف زمانوں میں انبیاء کرام کے بھیجنے کی نشاندہی قرآن میں فرمائی ہے تو مذہبی طبقات اور قوم کے سرداروںنے کس طرح انبیاء کرام کی مخالفت کی تھی؟۔ سب ادیان کا بیڑہ انکے علماء ومشائخ نے غرق کیا ہے لیکن رسول اللہ ۖ آخری نبی ہیں اور قرآن آخری کتاب ہے اسلئے قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے لیا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کی لفظی تحریف مذہبی طبقات کیلئے ممکن نہیں تھی لیکن پھر بھی بعض مذہبی طبقات نے اپنا عقیدہ بگاڑ دیا کہ قرآن میں لفظی تحریف بھی ہے اور معنوی تحریف کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ تو سلامت ہیں لیکن اس کے معانی بگاڑ دئیے گئے ہیں۔ فتویٰ دیوبند پاکستان میں ڈیرہ اسماعیل خان کلاچی کے قاضی عبداالکریم کا ایک سوال چھپ گیا جس کا جواب مفتی اعظم پاکستان مفتی فریدحقانیہ اکوڑہ خٹک نے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ” مولانا سیدانور شاہ کشمیری کی شرح فیض الباری میں یہ عبارت دیکھ کر پاؤں سے زمین نکل گئی کہ قرآن میں معنوی تحریف تو بہت کی ہے لیکن لفظی تحریف بھی کی ہے یا تو مغالطے سے یا عمداً کی ہے۔ کیونکہ کفار کی طرف اس بات کی نسبت نہیں ہوسکتی ہے اور صحابہ کرام پر یہ تہمت لگتی ہے”۔ جس کا جواب مفتی فرید نے غیر تسلی بخش دیا ہے کہ ”فیض الباری مولانا انورشاہ کشمیری کی تحریر نہیں ہے، کسی نے ان کی تقریروں کو لکھ کر ان کی طرف منسوب کیا ہے”۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے کہ ” مولانا انورشاہ کشمیری نے عمر کے آخری حصے میں فرمایا کہ میں نے اپنی زندگی ضائع کردی کیونکہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اُلجھ کر ساری زندگی ضائع کی”۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر میں لکھ دیا ہے کہ ” مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ترجمہ وتفسیر لکھی ہے۔ بعض احباب کے اصرار پر شاہ عبدالقادر کے ترجمہ وتفسیر میں مغلق الفاظ کی تسہیل کی کوشش کررہاہوں”۔ پھر اس کی تفسیر علامہ شبیراحمد عثمانی نے مکمل کی ہے جس کو تفسیر شیخ الہند کے بجائے بجا طور پر تفسیر عثمانی ہی کہا جاتا ہے۔
تفسیر عثمانی علماء دیوبند کی سب سے زیادہ سہل، بہترین اور مستند تفسیرہے لیکن پھر بھی اردو زبان کی تبدیلی کی وجہ سے اس میں مزید گنجائش پیدا ہوگئی ہے ۔ جبکہ مولانا سیدابولاعلیٰ مودودی کے ترجمے وتفسیر کو زیادہ آسان فہم سمجھا جاتا ہے۔
علماء نے قرآن کے ترجمے اور تفاسیر میں فقہی مسالک کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا تھا اسلئے ان کی تفاسیر عوام کی سمجھ سے بالاتر رہیں اور مولانا سیدمودودی نے عوام کا بھی خیال رکھا ہے اورعلماء کے ترجمہ وتفسیر کو زیادہ سے زیادہ عام فہم بنایا ہے۔
سورۂ طلاق میں ہے کہ اذاطلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن ”جب تم عورتوں کو چھوڑنا چاہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو” ۔عربی میں طلاق عورتوں کے چھوڑنے کو بھی کہتے ہیں۔ یہ بالکل سادہ زبان میں اس کا ترجمہ ہے لیکن جب اس کو فقہی مسالک میں ڈھالنے کی کوشش کریںگے تو پھر ہر فقہ کا اپنا ترجمہ ہوگا۔
فقہ میں پہلا اختلاف یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک عورتوں کی عدت سے مراد ان کے پاکی کے ایام ہیں اور احناف کے نزدیک ان کے حیض کے ایام ہیں۔
فقہ کا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا سنت اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا بدعت ہے۔اور اہل تشیع کے نزدیک ضروری ہے کہ ہرطہر یعنی پاکی کے ایام میں ایک بار طلاق دی جائے اور اسکے الفاظ شریعت کے مطابق ہوں اور اس پر دوگواہ مقرر ہوں۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے بخاری کی اپنی شرح ”کشف الباری ” میں لکھا ہے کہ ” عدت کی دو قسمیں ہیں ایک عدت الرجال یعنی مردوں کی عدت، جس میں مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورت کی پاکی کا زمانہ ہے اور دوسری قسم عدت النساء ۔یعنی عورتوں کی عدت۔ جس میں عورتوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے اور وہ عورتوں کے حیض کا زمانہ ہے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے حنفی فقہاء کی بات نقل کی ہے جو لوگوں کو زیادہ قابل فہم لگتی ہے کہ شوہر عورت کو ایسے پاکی کے دنوں میں طلاق دیں کہ جس میں جماع نہیں کیا ہو اور عورتیں حیض تک انتظار کریں تو معاملہ لوگوں کو ناقابلِ فہم نہیں لگتا۔
لیکن جب علما ء اپنی فقہ کے مطابق قرآن کا ترجمہ کرتے ہیں تو عوام کو قرآن نہیں سمجھا سکتے ہیں اسلئے انہوں نے ایک طرف اپنے دانتوں میں اپنی فقہ کو بھی مضبوط پکڑا ہوا ہوتا ہے اور دوسری طرف قرآن کا ترجمہ بھی عوام کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ جب قرآن اور فقہ دونوں میں کوئی جوڑ نہیں دیکھتے تو ایک تماشا بنتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں پہلی مرتبہ ترجمہ کیا تھا تو آپ کو دوسال تک روپوش ہونا پڑا اسلئے کہ سمجھدار علماء نے محسوس کیاتھا کہ ہم اس کی وجہ سے بہت مصیبت میں پڑسکتے ہیں۔ پھر شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کیا۔ شاہ رفیع الدین نے لفظی اور شاہ عبدالقادر نے بامحاورہ ترجمہ کیا۔ پھر دیوبندی مکتب کے مولانا اشرف علی تھانوی اور بریلوی مکتب کے مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اپنے اپنے ترجمے کردئیے تھے لیکن سمجھدار علماء نے پھر بھی اپنی اور عوام کی تشفی کیلئے قرآن کے ترجموں کا سلسلہ جاری رکھاہے۔
قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ” جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کو ان کی عدت تل کیلئے طلاق دو”۔ جب طلاق کا ایک مخصوص قسم کا فقہی مذہب کے مطابق کوئی تصور آتا ہے تو بندہ قرآن کے ایک ایک لفظ پر خوب غور کرتا ہے کہ کس طرح سے کوئی ایسا معنی کشید کرے کہ جو اس کے فقہی مسلک سے متضاد بھی نہ ہو اور قرآن کی بھی بالکل غلط وکالت نہ کرے۔ جہاں تک قرآن اور فقہی مسلک کے مطابق قرآن کے ترجمے کا تعلق ہے تو اس میں بہت بڑا تضاد ہے اسلئے کہ قرآن میں عورتوں کی عدت کے مطابق طلاق دینے کا حکم دیا گیا ہے اور اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں عورتوں کی عدت کا زمانہ ان کے حیض کا دور ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق ترجمہ کیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ”جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کو حیض کے دور میں طلاق دو”۔ مسلک حنفی میں یہ ترجمہ بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ہے اسلئے کہ ” مسلک حنفی میں یہ واضح ہے کہ مردوں نے طہر یعنی پاکی کے ایام میں طلاق دینی ہے”۔
قرآن کے الفاظ میں مردوں نے عورتوں کی عدت میں طلاق دینی ہے توپھر عدت الرجال اور عدت النساء کے الگ الگ تصور کا فقہی مسلک بھی بالکل ہی غلط ثابت ہوگا۔ ایک طرف قرآن اور دوسری طرف فقہی مسالک کی حفاظت کا معاملہ سامنے آئے گا تو دونوں کام نہیں ہوسکیں گے اسلئے علامہ سید انورشاہ کشمیری نے ٹھیک کہا کہ” میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی” ۔ یہ اللہ والے ہوسکتے تھے مگر عالم نہیں۔
شیخ الہند مولانا محمودالحسن یوبندی کے ترجمے کی تفسیر عثمانی میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے لکھا کہ” عورتوں کی عدت کا زمانہ انکے حیض کا زمانہ ہے اور قرآن کے الفاظ کا معنی یہ ہے کہ ”عورتوں کے حیض سے تھوڑ ا پہلے طلاق دو ”۔ حالانکہ قرآن کے الفاظ کے یہ معانی قطعی طور پر نہیں بن سکتے ہیں۔
جب طلاق کاایک مسلکی اور شرعی تصور آئیگا تو پھر فرقہ ومسلک کی ترجمانی بھی کرنی پڑے گی اور جب فقہ ومسلک اور قرآن میں کسی ایک ہی کا انتخاب کرنا پڑے تو انسان کی مرضی ہے کہ قرآن سے استفادہ کرے یا پھر مسلک کی پیروی کرے۔ مسلک کی پیروی نے اگر قرآن سے دور کردیا تو پھر مسلک دین میں معنوی تحریف کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور مولانا سید محمدانور شاہ کشمیری نے اس بات کی نشاندہی کردی کہ قرآن میں معنوی تحریف کا بہت ارتکاب ہواہے۔
اکثرپڑھے لکھے لوگ اسلئے علماء کے تراجم اور تفاسیر کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں اور جدید مذہبی اسکالرز اوردینی مفکرین سے استفادہ کرتے ہیں۔حالانکہ یہ لوگ بھی انہی مذہبی مسلک اور تراجم سے تھوڑے بہت اختلاف کیساتھ وہی کچھ لکھتے ہیں جو قرآن کے تراجم اور تفاسیر میں پہلے سے لکھا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے پیارے نبی! جب آپ لوگ عورتوں کو چھوڑ و تو ان کو ان کی عدت کیلئے چھوڑ دو۔ اور عدت کا شمار رکھ کر اس کا پورا پورااحاطہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو،جو تمہارا رب ہے۔ ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود سے گزر جائے تو تحقیق کہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔اس کو خبر نہیں کہ شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی راہ پیدا کرلے”۔ (سورہ الطلا ق آیت1)
آیت میں فقہی مسائل ومذاہب سے بے خبر اس وقت سادہ لوح عوام کو یہ حکم دیا گیا کہ جب مدارس وجامعات اور سکول وکالج اور یونیورسٹیوں کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ ایک آدمی قرآن کے اس پیغام کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتا تھا۔
قرآن اور عام زبان میں عورت کی عدت کا مفہوم بالکل واضح ہے اور عدت تک چھوڑنے اور عدت کو شمار کرکے اس کا پورا پورا احاطہ کرنے تک کی بات بھی بالکل واضح ہے اور اس کو اسکے گھر سے نہ نکالنے اور نہ خود نکلنے کی بات بھی بالکل واضح ہے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں اور اس سے نہ نکلنے کا پیغام بھی واضح ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو اس واضح پیغام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پھر اس کا نقصان کیا ہے؟۔ اللہ نے اس کو بھی واضح کیا ہے کہ اگر یک دم اس کو چھوڑ دیا اور گھر سے نکال دیا تو یہ اپنے ساتھ ظلم ہے اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ پھر اس کے بعد اللہ کوئی دوسری صورت نکال دے۔یعنی آپس میں صلح ہوجائے ۔ اسلئے قرآن کے واضح پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے میں کوئی مسئلہ کسی کیلئے بھی نہیں ہے۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لکھا ہے کہ ” ہوسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے کوئی نیا حکم نازل ہوجائے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تک نہیں بنتاہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگر ایک ساتھ تین طلاق دے دی تھیں یا پھر عورت کو گھر سے نکال دیا تھا، یا پھر عدت کے تین مراحل میں الگ الگ تین مرتبہ طلاق دی تھی اور پھر اس پر اہل تشیع کی طرح تمام مراحل میں گواہ بھی بنالئے تھے تو پھر حنفی، اہلحدیث اور شیعہ کا کیا فتویٰ ہے اور قرآن کا کیا حکم ہے؟۔ اپنے اپنے مسلک کا جواب سب فرقوں اور مسالک نے خود دینا ہے لیکن قرآن نے مسلمانوں کیلئے پہلے سے سب کیلئے بہترین راستہ تجویز کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ
” جب وہ عورتیں اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے الگ کرلو۔ اور اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی اس پر مقرر کرلو۔ اور اللہ کیلئے گواہی کو قائم کرو۔ یہ وہ قرآن ہے جس کے ذریعے سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کیلئے اس مشکل سے نکلنے کیلئے راہ بنادیتا ہے”۔ (الطلاق :2)
قرآن کی اس آیت میں یہ بات بھی واضح ہے کہ عدت مکمل ہونے کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے بند نہیں کیا ہے۔ جب عورتوں کی عدت مکمل ہوجائے تو پھر معروف طریقے سے رجوع کی بہت واضح وضاحت کے بعد یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر معروف طریقے سے عورت کو الگ کردیا تو پھر دو عادل گواہ بھی مقرر کرلو۔ اور گواہی بھی اللہ کیلئے قائم کرو۔ اب اگر عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد عدت کی تکمیل کے بعد عورت سے معروف طریقے سے رجوع کا فیصلہ کرنے کے بجائے معروف طریقے سے اس کو الگ کردیا اور اس پر دو عادل گواہ بھی بنالئے توپھر بھی اللہ تعالیٰ نے رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ بلکہ جس نے اللہ کا خوف کھایا اور اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں عورت کے تمام حقوق ادا کرتے ہوئے طلاق یا جدائی کا فیصلہ کیا توپھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس مشکل صورتحال سے نکلنے اور رجوع کا راستہ کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جن مذہبی طبقات کے نرغے سے قرآن کریم نے عوام کو نکال دیا تھا افسوس کہ انکو پھر ان گدھوں نے اپنے حصار میں لے لیا ہے اور منکوحہ عورتوں کو گدھی سمجھ کر گدھے حلال کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کرنیکی زحمت اور ہمت نہیں کرتے ۔ اگر فقہ کی ایک ایک بات کی درست اور سب کیلئے قابلِ قبول وضاحت نہ کروں تو اپنا مشن چھوڑدوں گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

معاونت حضرت مولانا قاری محمد طیب قریشی خطیب تاریخی مسجد مہابت خان پشاور اور پاکستان کا سیاسی و مذہبی منظر نامہ

حضرت مولانا محمد طیب قریشی خطیب مسجد مہابت خان کی خدمت میں بھی وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ یہ شمارہ محکمہ اوقاف کے چیف خطیب کے توسط سے تمام ائمہ مساجد اور خطباء کے نام ہے اور سب کو سلام

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جنرل ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے سول بیوروکریسی کی حکومت تھی۔ پاک فوج کا اس میں کردار بالکل ضمنی تھا ۔ جنرل ایوب خان نےADاورBDکے انتخابات کے ذریعے پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد رکھ دی۔ جنرل ایوب خان کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے بعد پاکستان میں جمہوریت اور پاک فوج کی قیادت میں کشمکش شروع ہوگئی ۔جنرل ایوب خان کے جانے کے بعدشفاف الیکشن ہوگئے تو مشرقی پاکستان کے مجیب الرحمن کو واضح اکثریت مل گئی لیکن سول اور فوجی قیادت نے سمجھا تھا کہ اگر اقتدار مجیب الرحمن کے حوالے کیا گیا تو مشرقی پاکستان ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پارلیمنٹ مغربی پاکستان میں تھا لیکن جمہوریت کی جگہ منافقت کا عمل جاری تھا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کا مشرقی حصہ بنگلہ دیش بن گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے پاکستان سے صوبہ پنجاب نوازشریف کی وجہ سے بھارت کی مدد سے الگ ہوجائے۔ بنگلہ دیش میں93ہزار کے ہتھیار ڈالنے کے ذمہ دارجنرل نیازی اور ذوالفقارعلی بھٹو تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اتوار کی جگہ جمعہ کی چھٹی دی، اسلامی جمہوری آئین دیا اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔ بھٹو ایک عرب بادشاہ کے طرز پر ایک سویلین ڈکٹیٹر حکمران بننے کا زبردست خواہاں تھا۔
قادیانی تعداد میں کم لیکن فوج میںسب سے زیادہ طاقتور تھے۔پھر بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کے طرز پرمگرفوجی امیر المؤمنین بننے کی کوشش کی۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے کراچی میں جلسۂ عام سے خطاب میں جب جنرل ضیاء الحق کی مرزائی نوازی کے دلائل دیناشروع کردئیے ،تو قاری شیرافضل خان نے نعرہ لگایا کہ ” مرزائی نواز مردہ باد”۔ مفتی محمود صاحب نے کہا کہ ”مرزائی نواز نہیں مرزائی بولو”۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیرمولانا عبدالکریم بیرشریف نے زندگی بھر جنرل ضیاء الحق کو قادیانی قرار دیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں مفتی محمود نے مفتی تقی عثمانی اور مفتی محمد رفیع عثمانی کو بینک کے سودسے زکوٰة کی کٹوتی پر بحث کی دعوت دی۔ دونوں بھائیوں نے مفتی محمود کی طرف سے چائے کے کپ کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ہم دن میں ایک بار چائے پیتے ہیں پھر دن بھر نہیں پیتے۔ مفتی محمود نے کہا کہ میں چائے خود زیادہ ہی پیتا ہوں لیکن اگر کوئی کم پیتا ہے تو مجھے یہ پسند ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے پان کا بٹوا دکھادیا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی محمود نے کہا کہ یہ تو چائے سے بھی بدتر ہے۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلادیا ۔ تھوڑی دیر بعد مفتی محمود پر غشی طاری ہوگئی اور مفتی محمد رفیع عثمانی نے دورۂ قلب کی خاص گولی حلق میں ڈال دی ۔ پھر مفتی صاحب ہسپتال پہنچنے سے پہلے شہید ہوگئے۔
مفتی محمود کی وفات کے بعد مفتی تقی عثمانی نے ماہنامہ البلاغ دارالعلوم کراچی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید نے ماہنامہ البینات جامعہ بنوری ٹاؤن میں جو مضامین لکھے تھے ، ان کو ایک ساتھ اقراء ڈائجسٹ کراچی نے شائع کیاتھا۔ مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے مضامین میں صرف یہ فرق تھا کہ مفتی تقی عثمانی نے اصرار کیساتھ پان کھلانے اور مفتی رفیع عثمانی نے جو گولی حلق میں ڈالی تھی ،اس کا ذکر نہیں کیا۔ وفاق المدارس پاکستان اور جمعیت علماء اسلام ان دونوں تحریرات کو شائع کرکے مساجد ومدارس میں تقسیم کریں۔
مثلاًایک شخص نے10لاکھ بینک میں رکھے ہیں۔ اس کو سالانہ ایک لاکھ سود اس پر ملتا ہے۔ اس کی کل رقم11لاکھ بن گئی اور اس میں سے27ہزار پانچ سو زکوٰة کے نام پر کٹ گئے۔ جس کے بعد اس کی بینک میں10لاکھ72ہزار پانچ سو روپے بچ گئے۔ پہلے اس کی کل رقم10لاکھ تھی اور اب اس میں ایک لاکھ سود کی جگہ72ہزار پانچ سو کا اضافہ بھی ہوگیا تو پھر زکوٰة کی رقم کیسے ادا ہوگئی؟۔ زکوٰة کے نام پر یہ رقم تو بالکل سود کی ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمودنے کہا تھا کہ” اس سودی رقم سے زکوٰة ادانہیں ہوسکتی ہے۔ زکوٰة ایک فرض ہے اور اس کا ادا کرنا انتہائی اہم ہے۔ عوام کو اس اہم فرض کی ادائیگی سے روکنا بہت بڑا جرم ہے۔ سرکار کی اس حرکت سے سر سجدے میں ہے اور چوتڑ دغا بازی میں ہے”۔
مولانا فضل الرحمن اپنے جلسے جلوسوں میں کہتے تھے کہ ” مدارس زکوٰة کے نام پر سود کھارہے ہیں۔ یہ شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ہے”۔ پہلے مدارس کی طرف سے یہ حیلہ کیا گیا تھا کہ زکوٰة کے نام پر اس سودی رقم سے لیٹرین بنائے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر انہوں نے پینترا بدل دیا کہ روزی روٹی بھی تو آخر کار معدے میں جاکر لیٹرین میں بدل جاتی ہے۔ حکومت کی سودی زکوٰة کی نحوست سے لوگوں کی زکوٰة کھانے اور اس سے تجارت کرنے کی طرف بھی پھر یہ لوگ بہت زبردست طریقے سے مائل ہوگئے۔ پھر تو جس کا بس چلتا گیا اس نے اپنے پاؤں میں حلال وحرام زکوٰة کے ذریعے اپنے پاؤں میں زنجیر یں ڈالنا شروع کردیں۔ ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں کی جگہ پھر تو ہم تو مائل بہ جرم ہیں کوئی پائل ہی نہیں نے لے لی ۔
جب قوم سے کہا جائے کہ تمہارے پاس ایسا فتویٰ آیا ہے کہ سود کی رقم کا بھی اضافہ ہوگیا اور زکوٰة بھی ادا ہوگئی اور عوام کو زکوٰة کے نام پر سود کھلایا جائے تو پھر دونوں کا اپنا اپنا فائدہ نظر آئے گا۔ سرمایہ دار کہے گا کہ سود بھی ملا اور زکوٰة بھی ادا ہوگئی تو اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ اس سود خور کو ویسے بھی زکوٰة سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟۔ جو سود لیتا ہے وہ زکوٰة کیا دے گا؟۔ دوسری طرف لالچ کی وجہ سے جس کو زکوٰة کے نام پر سود ملتا ہے اس کو بھی اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کیا حلال ہے ؟ اور کیا حرام ہے؟۔ بس اس کو مفت میں پیسہ ملتا ہے تو یہ زیادہ سے زیادہ اپنے مفاد ہی کی بات ہے۔ اور اپنا فائدہ کون چھوڑ تا ہے۔
پہلی بلا پاکستان پر یہ نازل ہوئی کہ زکوٰة کا فریضہ ساکت ہوگیا اور سود خور کو شرف مل گیا کہ سود بھی مل رہاہے اور زکوٰة بھی ادا ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سود کو انسانوں کا اللہ اور اس کے رسول ۖ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ جب ہم نے اللہ کیساتھ جنگ کو بھی زکوٰة کی ادائیگی کا فرض اور اپنی ضرورت کیلئے جائز کہا تو شیطان نے علماء ومشائخ کو لوریاں دیکرخواب غفلت کی بڑی نیند سلانا شروع کردیا۔ تحریک طالبان پاکستان اور تحریک لبیک نے اسلام کے نام پر دہشتگردی اور شدت پسندی کو زبردست فروغ دینا شروع کردیا۔ اللہ اور اسکے رسولۖ سے جنگ کے نتائج ہم مختلف عذاب کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی جلسے جلوسوں میں جتنا تاجروں اور عوام کا نقصان ہوتا ہے اور جو ان پر خرچے ہوتے ہیں ، یہ سب سودی منافع سے زیادہ قوم کے نقصانات ہیں ۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی اب قوم کے دونوں بھائی یاجوج ماجوج بن گئے ہیں۔ پہلے سودی زکوٰة کے نام پر مدارس کا بیڑہ غرق کردیااور اخلاق وکردار کی بلندیوں سے مذہبی طبقات کو پستیوں کی جانب دھکیل دیا۔ جمعیت علماء اسلام کے بلند کردار کے مالک اس کے سامنے مضبوط بند ثابت ہونے کے بجائے خس وخاشاک کی طرح بہہ گئے۔ پھر دونوں بھائی یاجوج ماجوج نے بینکوں کے سودکو بھی اسلامی قرار دے دیا۔ مدارس کے بلند کردار کے مالکان مولانا سلیم اللہ خان ، مفتی زر ولی خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سمیت سارے مدارس کے سارے علماء ومفتیان دونوں بھائیوں یاجوج ماجوج کے سامنے کھڑے ہوگئے لیکن آخر کار مفتی محمد تقی عثمانی نے سب کو شکست دیدی اور پھروفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر بھی بن گئے ہیں۔
پاکستان1947ء سے1988ء تک آئی ایم ایف کے سود کی قید سے آزاد تھا۔ کراچی اور ملک بھر کے جید علماء کرام اور مفتیان عظام حضرت حاجی محمد عثمان کے مرید یا دوست تھے۔ بڑے پیمانے پر فوجی افسران بھی حاجی محمد عثمان کے مرید تھے۔ پھر الائنس موٹرز کے نام پر مضاربة کا کاروبار سود میں بدل گیا تو اپنے مرید و خلفاء کی بغاوت اور معروف علماء ومفتیان کے فتوؤں نے ایک اللہ والے کو نشانہ بنایا۔نبی ۖ نے فرمایا کہ” اللہ کہتاہے کہ جس نے میرے ولی کو اذیت دی تو میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کرتا ہوں”۔ ایک طرف جنرل ضیاء الحق کا جہاز تباہ ہوا تو دوسری طرف معروف علماء ومفتیان نے حاجی محمد عثمان سے مغالطہ کھاکر شیخ عبدالقادر جیلانی ، شاہ ولی اللہ ، مولانا محمدیوسف بنوریاور شیخ الحدیث مولانا زکریا پر بھی فتوے لگادیئے۔ ہفت روزہ تکبیر کراچی نے پہلے لکھا تھا کہ اس طرح کے عقائد رکھنے والے پیر کی خانقاہ پر حکومت کو پابندی لگانی چاہیے جو سید عتیق الرحمن گیلانی نے ایک مخلص مریدکی حیثیت سے لئے ہیں لیکن جب حقائق کا پتہ چل گیا تو سال بعد ہفت روزہ تکبیر کراچی نے لکھ دیا کہ اگر علماء ومفتیان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو غلط بیانی کے بجائے اپنی غلطی کا کھل کر اعتراف کریں اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن غلط بیانی سے ان کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔
پھر وہ وقت آیا کہ بینظیربھٹو کی حکومت آئی اور پھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر مسلم لیگ کے میاں نوازشریف وزیراعظم بن گئے۔دو دو باریاں دونوں نے لے لیں لیکن1989ء سے2004ء تک پاکستان کوIMFکے شکنجے میں پھنسادیا۔آصف علی زرداری کے گھوڑوں کو مربے کھلانے ،اسکے سرے محل اور نوازشریف کے ایون فیلڈلندن کے فلیٹ اسی ادوار کی یادگاریں ہیں۔ کرپشن کی زیادہ ابتداء سیاسی قیادتوں نے آئی ایم ایف کے سودی قرضوں سے کی ہے لیکن پرویزمشرف کے دور میں2004ء سے2008ء تک پاکستان نے پھرIMFکے چنگل سے آزادی حاصل کرلی تھی۔پھر کرپٹ آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف نے باری باری حکومتیں کرکے پاکستان کو زیادہ سے زیادہIMFکے چنگل میں دیدیا اور جب نوازشریف کے دور میں ہم نے اپنے اخبار میں پورے فیگر لکھ دئیے تھے کہ گردشی سودی قرضہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ دفاعی فنڈز سے سود کی رقم زیادہ ہے لیکن ہماری بات پر کسی ذمہ دار طبقے نے کان نہیں دھرے۔ پھر عمران خان نے اس سے بھی زیادہ سودی قرضے لئے۔ پاکستان میںIMFکی حکومت ہے۔ یہ ہم اللہ اوراسکے رسولۖ سے جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
یاجوج ماجوج کا لشکر جامعة الرشیدکراچی کی طرف سے مدارس کے نئے بورڈ مجمع علوم اسلامی میں بھی تیار ہورہاہے اور وفاق المدارس العربیہ کی چوٹی پر بھی گدھ کی طرح مفتی تقی عثمانی بٹھادئیے گئے ہیں۔ اب یہ ہربلندی سے پستی کی طرف سفر کرکے سب چیزوں کو چٹ کر جائیں گے۔ سود، زکوٰة ، صدقہ، خیرات اور چندے غریبوں سے بھی چھین لینے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے جونہی وفاق المدارس پاکستان کی صدارت کا منصب سنبھال لیا تو دارالعلوم کراچی میں بجلی پیدا کرنے کی مشینری کیلئے کروڑوں اور اربوں کے چندے کا اعلان کردیا ہے۔ یاجوج ماجوج نے سب کچھ چٹ کئے بغیر بلندوادیوں سے پھسلتے ہوئے گہری گھاٹیوں میں بہتے ہوئے اپناسفر کرنا ہے اور ہرقسم کا دانہ بھی انہوں نے چگنا ہے اور یہ مظاہرہ انسانوں نے دیکھنا ہے۔ وفاق المدارس پاکستان کے سابق صدر مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے جس طرح یاجوج اور ماجوج کے سودی نظام کو اسلامی قرار دینے کی تردید کردی ہے وہ قابل تحسین ہے لیکن مچھلی کی چوکیداری کیلئے بلی کو مقرر کرنا بھی بہت ہی بڑی زیادتی ہے۔
جس دن مساجد کے ائمہ اور خطیب حضرات نے قرآنی آیات اور سنت سے عوام کی رہنمائی کرنا شروع کردی تو بہت زبردست انقلاب میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ بس ہمت وجرأت ، علم وتقویٰ اور ایمان وکردار کی سخت ضرورت ہے۔ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور مدارس کے نئے بورڈمجمع علوم اسلامی کی سربراہی ان علماء ومفتیان کو دی جائے جو اپنی قدامت پسندی، حق پرستی اور سود کے عدم جواز کی روش پر قائم ہیں۔ جنہوں نے اللہ ، اسکے رسول ۖ ، اپنے اکابرو اسلاف سے بغاوت اور انحراف کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے ان کو ذمہ عہدوں سے سبکدوش کردیا جائے۔ وفاق المدارس کے اجلاس مدعو کرنے کی بات تو بہت دُور کی ہے حق کی آواز اٹھانے والی بہت بڑی اکثریت کو اجلاس میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے۔ مدارس کی سطح پربھی مجلس شوریٰ کے نام پرایک استحصالی طبقہ مسلط ہوگیا ہے اور مخلص لوگوں کو اجلاس میں برداشت کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا ہے۔ مفتی عزیزالرحمن اور صابر شاہ کا اسیکنڈل منظر عام پر نہ آتا تو اس قسم کے لوگ ایکدوسرے کے وارث بنتے ہیں اور اس سے پہلے جامعہ امدایہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذراحمد کے حوالے سے بھی بڑا بھیانک اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا۔
یہی دہشت گرد بنتے ہیں تو مساجد ومدارس پربھی خود کش حملے کرنے کروانے سے دریغ نہیں کرتے ۔ جن کی نظر میں نام نہاد مقدس شخصیات کی فی الواقع کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی ہے ۔مذہبی سیاسی جماعتوں میں ان کو کردار کی وجہ سے نہیں بلکہ بے ضمیری کی وجہ سے کوئی بڑا مقام بھی مل جاتا ہے۔ اسلام انسانیت کے کردار کو درست کرنے کا زبردست ذریعہ ہے لیکن اسلام کی حقیقت کو مفاد پرست ٹولوں نے مختلف ادوار میں ایسا بدل کر رکھ دیا ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے فارسی اشعار میں کہا ہے کہ ” علماء ومشائخ کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ جن کی وجہ سے اسلام ہم تک پہنچا۔ اگر اللہ، رسول اللہۖ اور جبریل اس اسلام کو دیکھ لیں گے تو حیران ہوں گے کہ کیا یہ وہی اسلام ہے”۔ علماء ومشائخ کو کھویا ہوا مقام پانا ہے تو اسلام کو واپس لانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور علم کو زندہ کرنے پر لگانا ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تحریک لبیک اور حکومت میں لڑائی، مذہبی انتہا پسندی اور ریاستی منافقت کا علاج

تحریک لبیک اور حکومت کی لڑائی؟__

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

آج اوریامقبول جان کہتا ہے کہ تحریک لبیک کے مطالبات میں فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مطالبہ شامل نہیں ہے۔ وزیرداخلہ شیخ رشید کہتا پھرتا ہے کہ فرانس کے سفارت خانے کو ہم بند نہیں کرسکتے ہیں اور یہ کہ فرانس کا سفیر پاکستان میںموجود نہیں ہے۔ اوریا مقبول جان کہتا ہے کہ ان کے تین مطالبات ہیں۔ سعد رضوی اور دیگر ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔ کالعدم کا لیبل ہٹایا جائے اور عدالتوں میں قائم مقدمات واپس لئے جائیں۔
حکومت اور اپوزشن کی نااہلی اور مفاد پرستی نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پہنچادیا ہے۔ حکومت کی طرف سے فرانس کے سفیر کو نکالنے کی قرارداد پیش ہونا تھی تو ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن تحریک لبیک کیساتھ کھڑے ہوگئے تھے۔ اور ان کا مقصد تحریک انصاف سے اپنا بدلہ چکانا تھا۔ جب دونوں نے اپنی مشترکہ حکومت میں قادیانیوں کے حق میں ترمیمی بل پاس کیا تھا تو تحریک انصاف نے تحریک لبیک کا ساتھ دیا اور شیخ رشید گھیراؤ جلاؤ کی باتوں میں شریک تھا۔ اب ان کی سمجھ میں بات نہیں آتی ہے کہ تحریک لبیک کیساتھ کیا کیا جائے؟۔حالانکہ معاملہ بہت ہی آسان ، سادہ اور قابلِ حل ہے۔
پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ” گرفتار ملزموں کو رہا کیا جائے”۔ موجودہ حکومت مجرم نوازشریف اور مریم نواز کو رہائی دے سکتی ہے تو تحریک لبیک کے ملزموں کو رہا کرنا کونسا مشکل کام ہے؟۔ پہلا مطالبہ حکومت مان سکتی ہے کہ جب طاقتور طبقہ پشت پر ہو تو ضمانت پر رہائی ملنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ دوسرا مطالبہ دونوں کے درمیان50،50فیصدکا معاملہ ہے۔ جب تک حکومت سپریم کورٹ میں کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر نہیں کرتی ہے تو حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دینے کا معاملہ ویسے بھی ادھورا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اسلئے تحریک لبیک کو کراچی کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا تھا۔موجودہ حکومت نے جمعیت علماء اسلام کی ڈنڈا بردار فورس انصار الاسلام پر پابندی کا علان کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا۔ ریاست نے تحریک لبیک کو تحریک طالبان اور انصار الاسلام جیسی تنظیموں کے مقابلے میں زندہ رکھنا ہے۔ اسلئے آدھا مطالبہ خود حکومت نے پہلے سے تسلیم کیا ہے اور باقی آدھے پر بھی عمل کرے تاکہ حکومت اپنے دوغلے پن سے باہر نکل آئے۔ تیسرا مطالبہ عدالتوںسے کیس واپس لینے کا ہے تو اس سے تحریک لبیک دست بردار ہوسکتی ہے اسلئے کہ عدالت کرپشن اور ریپ کے کیسوں میں شواہد نہ ملنے کا رونا روکر ملزموں کو باعزت رہا کروارہی ہے تو مقدمات چلنے میں کیا حرج ہے؟۔ لیکن حکومت وریاست نااہل ہے یا اس کی نیت درست ہے یا غلط ہے مگر ہے کچھ اور۔ اسلئے کہ مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان سے بہت زیادہ تحریک لبیک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اسلئے کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے دیوبندی، اہلحدیث، جماعت اسلامی ، شیعہ اور دیگر فرقوں اور غیرمسلم قادیانیوں کو برابر سب کو گستاخ بھی قرار دیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے ان تین چھوٹے مطالبات کیلئے پولیس والوں کو جان سے مار سکتے ہیں تو پھر عشق رسول ۖ کے نام پر گستاخوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کرسکتے ہیں؟۔ اوریامقبول جان اسلام کی روح اور سیاست کو سمجھنے کے بجائے ریاستی پالیسی کی روح رواں کو سمجھنے کیلئے اپنی ذہنیت بوسیدہ کرچکا ہے۔

_ مذہبی شدت و ریاستی نفاق کا علاج! _
جب حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو ایک عرصہ تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ افواہوں کی گردش نے نبیۖ اور صحابہ کو بہت بڑی آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ جب وحی نازل ہوئی تو افواہ پھیلانے والوں کی سرزنش کی گئی اور افواہوں سے متأثر ہونے والوں سے کہا گیا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ بہتان عظیم ہے؟۔ اور بہتان لگانے والوں کو اسی اسی کوڑے مارنے کی سزا دی گئی۔
جب تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں کا خون بہایا جارہاتھا ، جارحیت کے ارتکاب میں زیادہ تر ہندو اور سکھ ملوث تھے اسلئے کہ وہ گائے ماتا کی طرح وطن کی تقسیم کو بھی ناقابلِ قبول سمجھتے تھے جبکہ مسلمانوں کی اکثریت نے ان سے چھٹکارا پانے کیلئے تقسیم ہند کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ جب قائداعظم نے دیکھا کہ مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں تو فرمایا کہ ”مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے ”۔ ہندو شدت پسندوں نے مہاتماگاندھی کو بھی اسلئے قتل کیا کہ گاندھی نے مسلمانوں کے حق میں ہندو قوم کی شدت پسندی کے خلاف بھوک ہڑتال کا اعلان کررکھا تھا۔
ہندوؤں کے پاس اپنا کوئی نظام نہیں تھا اسلئے وہ حکومت برطانیہ کے نظام کو قائم رکھنے پر مجبور تھے لیکن پاکستان میں مسلمانوں کے پاس اسلام کانظام قرآن وسنت کی شکل میں موجود تھا۔ خاتون اول ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان کی سزا قرآن میں 80کوڑے کا حکم نازل ہوا تھا اور اس میں ایک غریب عورت کیلئے بھی وہی سزا تھی جو ام المؤمنین کے خلاف بہتان لگانے کی تھی۔ غلام احمد پرویز نے احادیث صحیحہ کا انکار کردیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ام المؤمنین پر بہتان لگانے کی سزا صرف80کوڑے ہو۔ اس کی سزا تو قتل ہونا چاہیے تھا، یہ کوئی عام عورت تھی جس پر بہتان لگایا گیا تھا اور یہ اس کی سزا تھی۔ آج پنجاب میں پرویز کی فکر نے شدت پسندی میں نہلے پر دہلا کردیا ہے۔ اگر قرآن وسنت کی درست تعبیر دنیا کے سامنے پیش کی جائے تو نہ صرف شدت پسندی کا خاتمہ ہوگا بلکہ اس سے دنیا میں غریب وامیر کے درمیان تفریق کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔
ایک20اور22گریڈ کے افسر اور غریب کی آدمی کی بیگمات میں بہتان لگانے کے حوالے سے اسلامی قانون کے مطابق کوئی فرق نہیں ہے ، اسی طرح کرپٹ سیاستدانوں اور غریب پارٹی کارکنوں کے درمیان عزت اور قتل کے حوالے سے اسلام نے کوئی فرق نہیں رکھا ہے لیکن ہمارا سارا ماحول بدل گیا ہے۔ ہمارا مذہبی اور سیاسی طبقہ بھی اپنے آپ کو کرپٹ نظام کے ذریعے ترقی اور عروج کے نام پر ایک الگ ماحول بنارہاہے۔80کوڑے کی سزا امیر وغریب کیلئے یکساں ہے لیکن ہتک عزت کے دعوے میں اربوں روپے اور کوڑیوں کے دام کا فرق ہے۔ غریب کی عزت کوڑیوں کی نہیں ہوتی اور کرپٹ لوگوں کی عزت اربوں میں ہوتی ہے۔ غریب کیلئے چند ہزار بڑی سزا ہے اور امیر کیلئے لاکھوں اور کروڑوں کی سزا میں بھی مشکل نہیں ہے۔
المیہ یہ ہے کہ سول وملٹری بیوروکریسی، کرپٹ سیاستدان اور آلۂ کار کے طور پر استعمال ہونے والے مذہبی لوگوں میں سے کسی کو بھی طبقاتی تقسیم کا خاتمہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ قرآن وحدیث سے بھی کوئی غرض نہیں ہے اور امن وسلامتی سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے۔ بس صرف اپنی نوکری پکے کرنے اور زیادہ سے زیادہ مفادات اٹھانے کے چکر میں زمانے کے بدترین گرداب کے شکار نظر آتے ہیں۔ اس سے پہلے پہلے کہ کوئی حادثہ پورے معاشرتی اور ریاستی نظام کا خاتمہ کرکے رکھ دے۔ ہم سنجیدگی سے اپنی ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ ہمارے بدلنے سے پوری دنیا کے تبدیل ہونے میں بھی دیر نہ لگے گی۔ ہم صرف خیرخواہی میں مفت کے مشورے دے سکتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تحریک لبیک کے پیچھے کون ہے؟ اس کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟

تحریک لبیک کے پیچھے کون ہے؟ اور اس کی مقبولیت کاراز کیا ہے؟، جب ن لیگ کے دور میں ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی سازش ہوئی تو کس کس کو اس سازش کا پتہ تھا؟لیکن اس کھیل کو کیا رنگ دیا جارہاہے اور اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے؟۔وزیراعظم اور آرمی چیف کی طرف سے آپس کے اختلاف میں صحیح اور غلط کون ہے؟اور اس رسہ کشی کے نتیجے میںPDMکی ن لیگ اور جے یو آئی کس ڈگر پر چل رہی ہیں؟۔آئیے کچھ حقائق سمجھ لیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

آج کا وزیراعظم عمران خان اور شیخ رشید وہی ہیں جو2017ء میں تحریک لبیک کی حمایت کرتے تھے یا بدلے ہیں؟
عمران خان نے کنٹینرپر چڑھ کر اپنی ریاست بنارکھی تھی،18گریڈ کے پولیس افسر کی پٹائی بھی لگائی ۔حافظ حمد اللہ

حافظ حمداللہ کی طرف کئی اہم سوالات
بول نیوز پر اینکرامیر عباس کے پروگرام میں جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ صاحب نے تحریک لبیک کی موجودہ صورتحال پر کئی زبردست سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ میں پوچھتا ہوں کہ یہ وہی عمران خان ہے جو2017ء میںتحریک لبیک کی حمایت کررہاتھا؟ یا پھر بدل گیا ہے؟۔عمران خان نے اس وقت اپنے کارکنوں سے تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے میں شرکت کا کہا تھا اور شیخ رشید وحدہ لاشریک اسلئے کہہ رہا ہوں کہ ون مین شو ہے، اس وقت خود دھرنے میں بیٹھا تھا، آج وہی عمران خان اور وہی شیخ رشید ہیں یا بدل گئے؟۔
میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ تحریک لبیک ٹھیک ہے یا غلط ہے ،یہ میرا کام نہیں۔ اس وقت جو صورتحال پیدا ہوئی ، اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر پڑتی ہے۔ اگر چہ میں اس حکومت کو حکومت بھی نہیں مانتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ جب نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت تھی تو تحریک لبیک کی حمایت عمران خان اور شیخ رشید نے کی تھی، اس وقت دھرنے کے شرکاء میں پیسے بھی بانٹے گئے تھے، (شرکاء کو واپس جانے کیلئے کرایہ دیا گیا تھا۔اینکرپرسن امیر عباس کی وضاحت) لیکن دہشت گردوں میں پیسے نہیں بانٹے جاتے ہیں۔ نیک محمد اور بیت اللہ محسود کو مارا گیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک لبیک والوں کو مارو، یہ مسلمان ہیں اور جو پولیس والے مارے جاتے ہیں وہ بھی شہید ہیں اور تحریک لبیک کے کچھ لوگ بھی شہید ہوئے ہیں۔ ان سب کی ذمہ داری عمران خان اور اس کو لانے والوں پر ہی پڑتی ہے۔ عمران خان نے کنٹینر پر عدالت کے سامنے اپنی ریاست بنا رکھی تھی۔18گریڈ کے پولیس افسر کی پٹائی لگائی۔اس نے کیا نہیں کیا؟۔ لیکن لاڈلے کو حکومت میں لایا گیا۔ آج اس کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں اور اپنے اعمال نامے کی جزا وسزا کیلئے اپنی ذمہ داری بھی پوری کریں۔ کل تحریک لبیک ،عمران خان اور شیخ رشید ایک پیج پر تھے تو آج کیوں بدل گئے ہیں؟ کیا یہ ہے تبدیلی سرکار؟۔

حافظ حمد اللہ کو حقائق کا کراراجواب
ایک معروف شخصیت نے کہا تھا کہ میں بیل سے ڈرتاہوں۔ دوستوں نے کہا کہ شیر، چیتے اور لگڑبگڑ سے ڈرنے کا کیوں نہیں کہتے؟۔ اس نے جواب دیا: جنگلی جانور سے ڈرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے،ان سے تو سبھی ڈرتے ہیںمگر بیل سے ڈرنے کی بات اسلئے کرتاہوں کہ بیل کے سر پر سینگ ہوتے ہیں لیکن دماغ نہیں ہوتا۔ معروف شیعہ عالم علامہ سید جواد حسین نقوی نے کہا کہ مذہبی طبقہ بھی دماغ نہیں رکھتا ہے اسلئے ان سے مجھے ڈرلگتا ہے۔ آج شیعہ مذہبی طبقہ علامہ سید جواد کے پیچھے پڑگیا ہے۔ تحریک لبیک کی قیادت سے کوئی اتنا پوچھے کہ فرانس کا سفیر جب نہیں نکالا گیا تو پہلے اس پر آپ حضرات نے اتنے عرصے خاموشی کیوں اختیار کررکھی تھی؟۔ ناموس رسالتۖ کسی خاص گروہ کے مفادات نہیں تو پھر اتنے عرصے تک منظر سے غائب ہونے کا کیا جواب ہے تمہارے پاس؟۔
جب نواز شریف نے طاہرالقادری کے مرکز میں گولیاں برساکر14افراد کو قتل کردیا تھا تو اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ڈی چوک کے دھرنے میں پولیس افسر کی پٹائی کا معاملہ اٹھاسکے۔ نوازشریف نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو قادیانی سمجھ کر منتخب کیا تھا اسلئے قومی اسمبلی میں قادیانیت کے حق میں ترمیمی بل لایا گیا۔ اس حکومت میں حافظ حمداللہ کی جماعت اور اس کی قیادت بھی شریک تھی۔ جب شیخ رشید نے اسمبلی میں آواز اٹھائی تو سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کے نام پر بھی حافظ حمد اللہ کی جماعت اپنے کولہے ہلانے کیلئے تیار نہیں تھے،البتہ جماعت اسلامی کو غیرت آگئی تھی۔ قومی اسمبلی سے وہ بل پاس ہوکر پھر سینٹ سے پاس نہیں ہوسکا تھا جس پر مولانا عبدالغفور حیدی نے کہا تھا کہ ”مجھے خوف تھا کہ اگر یہ بل سینٹ سے پاس ہوا تو مجھے قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑیں گے”۔
علامہ خادم حسین رضوی نے استقامت دکھاکر بل کے محرک کو ذمہ داری سے ہٹانے پر حکومت کو مجبور کیا ، جنرل فیض حمید نے صلح میں اپناکردار ادا کیا تھا۔

طاقت کو غلط استعمال کرنا چھوڑدو
جب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے حق میں بل پاس کرنے کا انکشاف ہوگیا تو پنجاب بھر میں تحریک لبیک نے علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں بڑازور پکڑ لیاتھا۔ عمران خان بھی اس میں کود پڑا تھا اور مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ” علامہ خادم حسین رضوی کو چاہیے تھا کہ ہمیں بھی اعتماد میں لیتے،یہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ختم نبوت کے خلاف ہم کسی کو سازش نہیں کرنے دیں گے”۔
جب شیخ رشید اکیلا اسمبلی میں سب کو چیخ کر للکار رہاتھا تو جمعیت علماء اسلام حکومت میں شریک تھی اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی بت بن کر خاموشی کا لطف اٹھارہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے ارکان بھی سکوت اختیار کئے ہوئے تھے مگر جب پنجاب میدانِ جنگ بن گیا تو سب نے ختم نبوت کیلئے جان دینے تک کی بات کرنا شروع کردی تھی۔ ہماری سیاست ایک منافقت سے تعبیر ہوسکتی ہے۔ جب طالبان اور تحریک لبیک والے جذبات اور اشتعال کا ماحول بناتے ہیں تو یہ لوگ مذہبی بن جاتے ہیں اور جب ان کی دُم کے نیچے کوئی انگل ہوتی ہے توپھر ان کا رُخ کسی دوسری طرف ہوجاتا ہے۔ باشعورپاکستانیوں نے اگر اُٹھ کر کوئی کردار ادا نہیں کیا تو افغانستان کا عالمی قوتوں اور ان کی پروردہ قوتوں نے جو حال کیا ہے ،پاکستان کی ریاست اور اس کی سیاسی ومذہبی قیادت اپنے کرتوت کے باعث اس انجام کو پہنچ سکتے ہیں کہ جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ہیں۔
یہاں مہاتماگاندھی کو قتل کرنے والے ہندؤوں سے زیادہ مسلمانوں کے درمیان آپس کی فرقہ واریت اور نفرت ہے۔ یہاں لسانی تعصبات ہیں۔ یہاں سیاسی قائدین کی بھڑکائی ہوئی نفرتیں ہیں۔ اپوزیشن لیڈرشہباز شریف بھول رہا ہے کہ کل وہ کس قسم کی گفتگو کرتا تھا لیکن عمران خان کو یاد دلاتا ہے۔یہاں صرف اور صرف مفادات ہیں۔ صحافی ملک وقوم اور عوام کیلئے نہیں کسی مفادپرست لیڈر اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور راستہ ہموار کرتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv