پوسٹ تلاش کریں

بیت المقدس کی فتح سمیت پوری دنیا میں عالمی خلافت قائم ہونے کا وقت بالکل آن پہنچا ہے!

ان ھٰذا القراٰن یھدی للتی ھی اقوم ویبشر المؤمنین الذین یعملون الصٰلحت ان لھم اجرًا کبیرًاO
بیشک یہ قرآن رہنمائی ہے زیادہ اقامت کی اور بشارت دیتا ہے مؤمنوں کو جو صالح عمل کرتے ہیںبڑے اَجر کا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان فرقہ واریت کے لحاظ سے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے صحیح کردار ادا کیا تو بیت المقدس کی فتح سمیت پوری دنیا میں عالمی خلافت قائم ہونے کا وقت بالکل آن پہنچا ہے!

اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو پورا ہندوستان دین فطرت کی سب سے زبردست آماجگاہ بن جائیگا۔ پاکستان میں ملحد طبقہ اسلام دین فطرت کو سمجھنے کے بعد روس کی اشتراکیت کو چھوڑ دیگا۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا:”پاک ہے وہ جو لے گیا رات کو اپنا بندہ، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ارد گرد کو اس نے برکت دی ہے۔ تاکہ ہم آپ کو اپنی نشانیوں میں سے دکھائیں۔بیشک وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کو بنایا بنی اسرائیل کیلئے ہدایت۔ خبردار! میرے علاوہ کسی کو وکیل مت بناؤ۔ یہ نسل تھی جن کو ہم نے نوح کیساتھ سوار کیا۔ بیشک وہ شکرگزار بندہ تھا۔ پھر ہم نے بنی اسرائیل کیلئے کتاب میں فیصلہ لکھا کہ تم ضرور دو مرتبہ فساد کروگے اور اپنی بہت بڑی بڑائی کامظاہرہ کروگے۔ جب تمہارے (فساد برپا کرنے کا) کا پہلا وعدہ آئے ،تو ہم تم پر سخت جنگجو قوم بھیج دیںگے ، پس تمہارے دیار میں ہر طرف پھیل جائیںگے۔ اور گویا کہ وعدہ پورا ہوچکا ہے۔ پھر اس کی گیند کو انکے خلاف تمہاری عدالت میں ڈال دیںگے۔ اور تمہاری امداد کریںگے، اموال اور بیٹوں سے اور تمہیں واضح مؤثراکثریت سے نوازیں گے۔پھر اگر تم اچھائی کروگے تو اپنے لئے کروگے اور اگر برائی کے مرتکب ہوگے تو اس کا نتیجہ مرتب ہوگا۔پھر جب دوسرا وعدہ آجائے تاکہ تمہارے چہروں کو سیاہ کردے۔ تاکہ وہ مسجد میں داخل ہوں جیسے وہ پہلے داخل ہوچکے تھے تاکہ مسمار کریںتم نے جو بڑائی اختیار کررکھی تھی اچھی طرح سے مسمار کرنا۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر اپنی روش کی طرف لوٹوگے تو ہم بھی لوٹیںگے۔ اور ہم نے جہنم کو کافروں کیلئے چٹائی بنارکھا ہے۔ بیشک یہ قرآن رہنمائی کرتا ہے اس راہ کی جو سب سے زیادہ اقامت والا ہے۔ اور بشارت دیتا ہے مؤمنوں کو جو صالح عمل کرتے ہیں،بیشک ان کیلئے بڑا اجر ہے۔ اور بیشک جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہے ،ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔
سورۂ بنی اسرائیل کے اس پہلے رکوع میں بہت کچھ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا ماحول دکھایا توروم یورپ اس وقت ایک سپر طاقت تھی اور دوسری سپر طاقت ایران تھی۔ جس طرح روس وامریکہ دو سپر طاقت تھیں۔ قیصر روم بڑا اچھا بادشاہ تھا ،اگر رسول اللہۖ کی دعوت قبول کرنے کیلئے اس کے مشیراور وزیر اور قوم کے افراد مان جاتے تو ان کی طاقت تہس نہس نہ ہوتی۔ پھر ان کا سابقہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق اعظم ، حضرت علیفاتح خیبر اور حضرت خالد بن ولید جیسے لوگوںسے کردیا تھا۔ نبیۖ کے غلام حضرت زید ، حضرت بلال، حضرت عمر کے غلام ابولؤلو فیروز، حضرت علی کے غلام اشتر سے لیکر محمود غزنوی کے غلام ایاز تک مسلمانوں کا بہت شاندار ماضی علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں بیان کیا ہے۔
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
اگر چہ تاریخ میں مسلمانوں کے مدوجزر اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہاہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو زمین پر اجارہ داری کا ٹھیکہ نہیں دیا ہے،جب اصولوں کی خلاف ورزی ہو،تو عروج والی قوم کو ذلت ورسوائی کی شکست کا سامنا ہوتاہے۔
متعصب سنی شیعہ اسلامی تاریخ اور صحابہ کرام واہل بیت کے حوالے سے پاکستان میں فضاؤں کو آلودہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اور حکومت کیلئے اپنے وزن پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا ہے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ تقاریر، جلسے جلوس، سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ علامہ سیدجواد حسین نقوی و دیگر حضرات نے برطانیہ کی ایم سولہ (MI6)کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور ایران وسعودی عرب پر بھی الزامات لگائے جاتے ہیں۔
ہمیں صرف شیعہ سنی فسادات کا ہی راستہ نہیں روکنا ہے بلکہ دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث کے اختلافات کو بھی ختم کرنا ہے۔ دیوبندی دیوبندی، شیعہ شیعہ، اہل حدیث اہل حدیث اور بریلوی بریلوی کو بھی آپس میں کھلا چھوڑ دیا جائے تو فسادات کی حد تک بات پہنچ سکتی ہے۔ اگر ہم نے قرآن وسنت کی راہ اپنائی تو مسلمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین کو بھی اتحاد واتفاق اور وحدت کی راہ پر ڈالا جاسکتا ہے۔ ہندو، سکھ اور بدھ مت کے لوگوں سے بھی مسلمان امن وسلامتی کا رشتہ قائم کرسکتے ہیں۔
سورۂ بنی اسرائیل میں امن وسلامتی کابڑا پیغام ہے۔ رحمت للعالمینۖ سے فرمایا کہ” میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بات کریں جو اچھی ہو۔ بیشک شیطان انکے درمیان تنازعہ کھڑا کرنا چاہتا ہے اور بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے”۔( آیت53)
یہاں غلط بات سے روکا گیا تا کہ باہمی تنازعہ اور فتنہ وفساد اُبھرنے کا اندیشہ نہ ہو۔ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والے قرآن کے پیغام کو اچھی طرح سے سمجھیں۔ موجودہ دور سے لیکر صحابہ واہل بیت تک ایسی فضاء بنانے سے گریز کرنے کی سخت ضرورت ہے جس کی وجہ سے فتنے وفسادات ، جھگڑے اور باہمی نفرتوں کے اندیشے ہوں۔
اگلی آیت میں یہ پیغام مزید زبردست اور بہت واضح ہے کہ ” تمہارا رب تمہیں زیادہ جانتا ہے ، اگر وہ چاہے تو تمہارے اوپر رحم کرے یا چاہے تو تمہیں عذاب دے، اور ہم نے آپ کو ان پر وکیل بناکر نہیں بھیجا ہے”۔ (بنی اسرائیل آیت54)
سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ادوار سے لیکر آج تک اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہے کہ وہ تمہیں زیادہ جانتا ہے اور چاہے تو رحم کرے یا عذاب دے۔ اس بات سے ہمیں یہ پتہ چلنا چاہیے کہ کونسا فرقہ ، جماعت اور گروہ اللہ کے نزدیک برحق ہے یہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ نہ ہمیں آپس میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت ہے اور نہ صحا بہ کرام و اہل بیت اور اکابرین یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کیلئے اللہ کے رحم اور عذاب کے ہم ٹھیکہ دار ہیں۔ جب رسول اللہۖ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کا کام کسی کی وکالت کرنا نہیں ہے۔ یعنی صرف حق کا پیغام پہنچانا ہے۔ تو پھر ہماری کیا اوقات ہے کہ کسی کی وکالت یا مخالفت کرکے تنازعات کھڑے کرنے شروع کریں؟۔ جب انسان کو اپنا مفاد ملتا ہے تو فرقہ وارانہ اور مذہبی تنازعات کو پیٹ کیلئے ترجیح دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:” اور تیرا رب خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔اور بیشک کہ ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد کو زبور دی۔ کہہ دیجئے کہ پکارو،ان لوگوں کو جن کو تم اسکے علاوہ کچھ سمجھتے ہو ۔پس وہ قدرت نہیں رکھتے تم سے تکلیف اٹھانے اور نہ بدلنے کی۔ یہ تو وہی ہیں جو پکارتے ہیںتلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ ۔ کون ان میں زیادہ قریب ہے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور عذاب سے ڈرتے ہیں۔بیشک تیرے رب کا عذاب تھا ڈرنے کے لائق۔ اور بیشک کوئی ایسی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم نے ان کو ہلاک کرنا ہے یا سخت عذاب دینا ہے۔ یہ پہلے سے کتاب میں لکھا ہے۔ اور ہمیں نہیں روکا نشانیاں بھیجنے سے مگر یہ کہ پہلے لوگ اس کو جھٹلا چکے ہیں۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی تو اس پر انہوں نے ظلم کیا۔ اور ہم نے نشانیاں نہیں بھیجیں مگر لوگوں کو ڈرانے کیلئے۔ اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کااحاطہ کررکھا ہے۔ اور ہم نے اس خواب کو نہیں بنایا جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور قرآن میں شجر ہ ملعونہ کو۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں ان میں اضافہ نہیں ہوتا مگر بڑی سرکشی کا۔ اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے۔ اس نے کہا کہ کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو مٹی سے بنایا ہے؟۔ پھر بولا: کیا آپ نے اس کو دیکھا ہے ،یہ وہی ہے جس کو مجھ پر عزت دی ؟۔ اگر آپ مجھے مہلت دیں قیامت کے دن تک تو اس کی نسل کشی کرکے رکھ دوں گا مگر ان میں سے تھوڑے۔ فرمایا کہ جاؤ جس نے ان میں سے تیری اطاعت کی تو بیشک جہنم تمہارا بدلہ ہے ،بھرپور طریقے کا بدلہ۔ تو ان میں جس کو پھسلاسکتا ہے اپنی آواز سے، اور ان کو کھینچ لا اپنے سواروں اور پیادوں سے ۔اور ان کو شریک کر اموال واولاد میں اور وعدہ کر ان سے۔ اور ان سے شیطان کا وعدہ نہیں ہے مگر دھوکے کا۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا بس نہ چلے گااور تیرے رب کی وکالت کافی ہے”۔( بنی اسرائیل آیت55سے65 )
ان آیات میں امت مسلمہ کیلئے بڑے زبردست حقائق ہیں۔ بعض انبیاء کرام کو بعض پر فضیلت دی ۔ حضرت داؤد کو زبور دی تھی۔ حضرت داؤد وسلیمان کو منصبِ خلافت وبادشاہت بھی عطاء کیا گیا اور نبوت بھی۔ فضیلت کا اصل معیار تخت شاہی نہیں بلکہ منصب نبوت ہے۔ خلفاء راشدین و اہل بیت کی فضیلت پر جھگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن شخصیات کو اللہ کے علاوہ پکارا جاتا ہے تو ان کو نعرے لگانے دو لیکن وہ ان کی مشکلات کو ختم نہیں کرسکتے ہیں ۔ وہ خود اپنے لئے رحمت کا وسیلہ اور عذاب سے بچنے کا خوف رکھتے تھے۔ جو اپنے لئے اللہ سے رحمت کی امید اور عذاب کا خوف رکھتا ہو تو اس کو پکارنے سے کیا ملے گا؟۔مشرکینِ مکہ نے حضرت ابراہیم کے نام پر بت نصب کررکھا تھا۔ بنی اسرائیل بھی شخصیت پرستی اور شخصیت سوزی کا شکار تھے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ سے دلی عقیدت رکھتے تھے لیکن یہود مقابلے بازی میں حضرت عیسیٰ کی توہین کرکے حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ حالانکہ یہود کے پاس حضرت موسیٰ ، حضرت سلیمان، حضرت یوسف جیسی شخصیات بھی تھیں۔ جو علماء دیوبند رسول اللہۖ کی ولادت کا دن نہیں مناتے ہیں وہ یوم صدیق اکبر اور یوم فاروق اعظم مقابلے میں مناتے ہیں اور اگر یہی حال رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ ابوسفیان وہندہاور مروان ویزیدکے دن بھی منانا شروع کریںگے۔
خلافتِ راشدہ،بنوامیہ ،بنوعباس کے بعد مکہ ، مدینہ، کوفہ، بغداد اور (1857ئ) کی جنگِ آزادی میں برصغیرپاک وہند کے بہت سے شہروں کو تخت وتاراج کیا گیا۔ پھر امریکہ نے افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کردیا۔ اس سے پہلے بیروت اور دیگر شہروں کی خونریزی کی تاریخ بھی موجود ہے۔ شیطان نے جس طرح انسانوں کی نسل کشی کا عہد کیا تھا وہ اس پر عمل پیرا ہے اور نسلِ انسانی ہی اس کی آلۂ کار بنتی ہے۔ اگر انسانوں کو شیطانی دھندے سے خبردار نہیں کیا گیا تو یہ سلسلہ بہت تیزی کیساتھ بڑھے گا اور ہمارے خطے کے علاوہ دنیا میں دوسرے ممالک اور قوموں کی بھی خیر نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبیۖ کو خواب دکھانالوگوں کی آزمائش قرار دیا اور اسی طرح شجرہ ملعونہ کو بھی آزمائش قرار دیا جس کا ذکر قرآن میں ہے ۔بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا ذکر ہے۔ جہاں ارد گرد کا نورانی ماحول اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا۔ پھر وہ بھی مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ جب مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں نے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کی سپر طاقت کو شکست دیکر فتح کیا تھا۔ آنے والے وقت میں پھر توقع ہے کہ مسجد اقصیٰ پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے فتح ہوگی لیکن اس مرتبہ بنی اسرائیل کیساتھ اللہ کی مہربانی سے رحم کا سلوک کیا جائے گا۔
جس طرح نبوت کیلئے معاشرے کے شریف ترین خاندان سے تعلق فطری بات تھی، اسی طرح اگر حضرت ابوسفیان کی بات کو مثبت انداز میں لیا جاتا کہ قریش کے کمزور ترین خاندان سے حضرت ابوبکر کے مقابلے میں بنوہاشم کے حضرت علی منصبِ خلافت پر فائز ہوں تو اسکے نتیجے میں شاید حضرت عثمان کی اتنی جلد تختِ خلافت پر شہادت، مسلمانوں کا آپس میں قتل و غارتگری میں مبتلا ء ہونا اور خلافت پر بادشاہت کیلئے خاندانوں کا قبضہ ہونا ممکن نہ ہوتا۔ہمیں ایک طرف اس بات کو اجاگر کرنا ہوگا کہ حضرت ام ہانی نے حضرت محمدۖ کے رشتے کو فتح مکہ کے بعد بھی قبول نہیں کیا تو یہ بنی ہاشم کی نسل میں سرداری کے جینز تھے اور یہ بھی سراسر غلط ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت صرف چھ (6)سال اور رخصتی کے وقت فقط نَو (9)سال تھی۔ اس سے یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کے قبیلے کی کوئی حیثیت بالکل بھی نہیں تھی اسلئے کہ اتنی کم عمری میں لڑکی کا بیاہ کرنا کسی خاندان کی گراوٹ ہے۔ہم نے ناقابلِ تردید تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت سولہ (16)سال اور رخصتی کے وقت اُنیس (19)سال تھی۔ جس سے حضرت ابوبکر کا سردار ہوناہی ثابت ہوتا ہے اور قبیلے میں کسی نقص کا احساس نہیں ہوتا ۔ حضرت عائشہ نے تیسری زوجہ ہونے کی حیثیت سے نبیۖ کے گھر میں اُنیس (19)سال کی عمر میں قدم رکھا تھا۔ میری اپنی ماں نے بھی اسی کے لگ بھگ عمر میں تیسری بیگم کی حیثیت سے میرے والد کے گھر میں قدم رکھا تھا اور میرے نانا کانیگرم کے خان اور میرے والد کے قریبی عزیز بھی تھے۔
بنی اسرائیل خاندانی وجاہت میں شیطان کی طرح مبتلاء ہوگئے تو ان پر ذلت اور مسکنت مسلط کردی گئی۔ وزیرستان کے محسود ، برکی اور پیر بھی جب امن وامان کی نعمت کے ناشکرے بن گئے تو ذلت ورسوائی کے مقام پر پہنچ گئے۔ اب سنورنے کا موقع ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

موجودہ ججوں کا ساراکچرا افتخار محمد چوہدری کی بے اصولی اور نالائقی کا کرشمہ ہے !

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

میثاق جمہوریت میں پی سی او (PCO)کے ججوں کی عدم بحالی تھی، افتخارمحمد چوہدری کی بحالی بلٹ سے ہوئی ۔اپنے آپ کو معاف کرکے چیف جسٹس نے دوسروں کونکال دیا،موجودہ ججوں کاساراکچرا اسی بے اصول نالائق کا کرشمہ ہے !

چیف جسٹس آف پاکستان نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو میثاق جمہوریت سے پھر جانے کو افسوسناک قرار دیا ہے لیکن عدالت کے سامنے ایک یاد داشت پیش کرنے کی ضرورت ہے!

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میثاق جمہوریت کے منافی پیپلزپارٹی کی بزدلی کا فائدہ اُٹھاکر پی سی او (PCO)جج افتخار محمد چوہدری کو بحال کروایا ، موجودہ ججوں کا سارا ملبہ اسی اقدام کا نتیجہ ہے

چیف جسٹس آف پاکستان نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کامیثاق جمہوریت سے ہٹ جانے پر بہت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لیکن چیف جسٹس اور موجودہ ججوں کے سامنے ایک یادداشت پیش کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جو اصولوں کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کیلئے ایک بہت بڑی بنیاد بن سکتی ہے۔ ہمارا ملک اخلاقیات سے زیادہ اصولی بحران کا شکار نظر آرہاہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے دائرے سے باہر سیاسی معاہدے کی طرف جھانک رہے ہیں۔ جس کا اپنا کام قانون کی وضاحت اور آئین کی تشریح ہے۔
افتخار محمد چوہدری نے نہ صرف پی سی او (PCO)کے تحت حلف اٹھایا تھا بلکہ ججوں کے اس فیصلے میں بھی شامل تھے جس میں پرویز مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف و صدرمملکت کی حیثیت سے تین سال تک اپنی من مانی کے مطابق قانون سازی کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ جس کے ضمیر نے ایک منتخب حکومت کو ختم کرنے پر ٹھنڈا ٹھار ستوکا شربت پی لیا تھا لیکن جب اسکی اپنی نوکری کی بات آئی تو پولیس والے سے بال نوچوائے لیکن اس کیلئے تیار نہیں ہوا تھا۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان میثاق جمہوریت میں یہ طے ہوا تھا کہ آئندہ کسی پی سی او (PCO)جج کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ جب افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا معاملہ آیا تھا تو میثاق جمہوریت کا تقاضہ تھا کہ پی سی او (PCO)کا حلف اٹھانے والے جج افتخار محمد چوہدری کو بحال نہ کیا جائے لیکن چوہدری اعتزاز احسن اور نوازشریف کی قیادت میں لاہور سے وکلاء کا جلوس اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کررہاتھا تو آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے صدر مملکت آصف علی زرداری اوروزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر دباؤ ڈال کر افتخارمحمد چوہدری کو بحال کروالیا۔ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو چیف جسٹس بحال نہیں ہوسکتاتھا۔
میثاق جمہوریت کو توڑتے ہوئے افتخار محمد چوہدری کی بحالی نے عدالت میں بلٹ کا بارود بھی بھر دیا تھا۔ اس نے انتہائی بے شرمی ، بے غیرتی ، بے ضمیری، بے حیائی اور اورپتہ نہیں کس کس چیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کی طرف سے بالکل میرٹ پر بھرتی ہونے والے سارے ججوں کو نہ صرف فارغ کردیا بلکہ انتہائی ذلت امیز سلوک کرتے ہوئے ان کی ناک رگڑوانے کی بھی پوری پوری کوشش کی تھی جس پر محترمہ عاصمہ جہانگیر نے بھی بہت سخت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ پرویزمشرف نے جس طرح ڈاکٹر عطاء الرحمن کو کراچی یونیورسٹی کا وائس چانسلر میرٹ پر لگایا تھا اور ڈاکٹر منظور احمد کو اسلامک انٹرنیشنل کا وائس چانسلر میرٹ پر لگایا تھا۔ ڈاکٹر عامر طاسین کو مدرسہ بورڈ کا چیئرمین میرٹ پر لگایا تھا اسی طرح سے عدالت کے جج بھی میرٹ پر لگائے تھے اپنے مامے چاچے نہیں لگائے۔
افتخارمحمد چوہدری نے مسلم لیگ ن کیساتھ مل کر عدلیہ کو اپنی مرضی سے بالکل گند سے بھر دیا ہے جس کی سزا آج پوری قوم کو مل رہی ہے۔ چیف جسٹس کے داماد کو کراچی میں جب میرٹ کے خلاف شادی حال کا ٹھیکہ نہیں ملا تھا تو اس کا سارا نزلہ فوجیوں پر گرادیا۔ جسٹس شوقت صدیقی اور جسٹس فائز عیسیٰ نے نوازشریف کیلئے کیا کچھ نہیں کیا ہے؟۔ جس طرح نوازشریف کیلئے اتوار کے دن بھی عدالت لگتی تھی تو اس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ میں ملتی ہے؟۔ وزیراعظم عمران خان کو جلاب لگ گئے تھے کہ اگر نوازشریف کو نہیں چھوڑا تو توہین عدالت کے کیس میںوزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرح نااہل ہوجاؤں گا۔ ججوں کی اکثریت وکالت کی پریکٹس کرنے کے بعد جج بنتی ہے ۔ وکیلوں میں کوئی کوئی تو بہت اچھا بھی ہوتا ہے لیکن ایسے بھی بہت ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اس کی ماں یا بیوی کو آغواء کرلے اور آغواء کار اس کو اس کی ماں کے خلاف بھی وکیل رکھ لے تو پیسہ کمانے کیلئے اس سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔ یہی بے غیرت، بے شرم ، بے ضمیر اور بے حیاء وکیل بھی جب جج بن سکتے ہیں تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔
جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنا جرم پی سی او (PCO)کے تحت حلف اُٹھانا اور تین سالوں تک پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دینا معاف کیا اور جنہوں نے عدلیہ میں نوکری کی خاطر حلف اٹھایا،کوئی خلافِ قانون کام نہیں کیا اور کسی کو کوئی ریلف بھی نہیں دی تھی لیکن ان کو صرف نوکری سے ہی نہیں نکالا گیا بلکہ توہین آمیز رویہ بھی اختیار کیا گیا تھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے محکمے میں بھرتی ہوتے تو پھر عدلیہ اس کو اس طرح خلاف قانون فارغ کرنے پر لامحالہ بحال بھی کرتی۔ جن کو اپنے ذاتی بغض وعناد کی وجہ سے فارغ کیا اور پھر موجودہ ججوں کو نظریہ ضرورت کے تحت نوکری پر رکھا گیا ، آج وہی جج پاکستان کی عدلیہ میں بیٹھے ہیں؟۔ علی احمد کرد، عاصمہ جہانگیر اور دوسرے وکلاء نے جس طرح ججو ں کی بحالی کیلئے قربانی دی تھی وہ ججوں کی حالتِ زار دیکھ اپنے کردار کا رونا روتے تھے۔ چوہدری اعتزا ز احسن نے تو نوازشریف کو اس وقت دوبارہ بری کروادیا تھا کہ جب کورٹ میں دوبارہ کیس چیلنج کرنے کی قانونی مدت بھی بالکل ختم ہوگئی تھی۔
بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کو لندن کی عدالت نے جتنے ارب جرمانہ کرکے رقم پاکستان کو بھیج دینی تھی اتنی ہی رقم کا یہاں اس پر جرمانہ لگایا گیا اور پھر وہ رقم اس جرمانے کی مد میں قبول کی گئی۔ گویا بالکل مفت میں بحریہ ٹاؤن کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی بنانے کیلئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیاسی چال کی عدالت نے اپنی بدترین بد چلنی دکھادی۔ جب یوسف رضا گیلانی کہہ رہا تھا کہ میں صدر کے خلاف خط اسلئے نہیں لکھ سکتا ہوں کہ اس کو آئین نے تحفظ دیا ہے تو اس کو نااہل قرار دیا گیا تھا اور جس پرویزمشرف کی آئین میں ملک پر قبضے کا کوئی قانون نہیں تھا اس کو تین سال تک آئین سازی کا حق دیا گیا۔
ریکوڈک پر جتنا جرمانہ پاکستان پر عائد کیا گیا ہے اس کی ذمہ دار نااہل عدلیہ ہے اور ججوں سے جرمانے کی تمام رقم وصول کرنے کیلئے زبردست اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھ لیا جائے کہ ججوں کی بیگمات نے کس طرح سے کن دھندوں کے تحت اتنے پیسے کماکر بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں؟۔ شاہ رُخ جتوئی اور مصطفی کانجو کا ایک طرح کیس تھا تو شاہ رخ جتوئی کو راضی نامے کے باوجود نہیں چھوڑا گیا اور مصطفی کانجو ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا تھا جو سپریم کورٹ کے سامنے کہہ رہی تھی کہ مجھے اپنی جوان بچیوں کی عصمت دری ہی کا خوف ہے اسلئے اس کیس سے پیچھے ہٹ رہی ہوں۔ اگر انقلاب کیلئے دنیا میں جہنم تیار کی گئی تو دوسرے سنگین مجرموں کو بھٹہ خشت میں ڈالا جائے گا لیکن ججوں اور وکیلوں کو اسٹیل مل کے لوہے میں ایندھن کے طور پر ڈالا جائے گا کیونکہ ان کی وجہ سے انصاف کا فقدان ہے۔

شیعہ سنی مسئلہ کا دانشمندانہ حل اور قرآن کی طرف اُمت کابڑازبردست رجوع!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن ان الشیطٰن ینزع بینھم ان الشیطٰن کان للانسان عدوًا مبینًاO
ربکم اعلم بکم ان یشأ یرحمکم او ان یشأ یعذبکم وما ارسلنٰک علیھم وکیلًاO ا لقراٰن

اور(اے رسول ۖ) میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بات کریں جو بہتر ہو ۔ بیشک شیطان انکے درمیان تنازع کھڑا کرنا چاہتاہے اور بیشک شیطان انسان کیلئے کھلا دشمن ہے۔

تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہارے اوپر رحم کرے یا وہ چاہے تو تمہیں عذاب دیدے اور ہم نے آپ کو ان پر وکیل بناکر نہیں بھیجا ہے۔بنی اسرائیل (53،54 )

اہل تشیع کی چار معروف شخصیات ہیں۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام، حضرت مولیٰ علی علیہ السلام ، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام۔
حضرت ابوطالب اہل مکہ کے مسلمانوں اور مشرکین کے اندر مشترکہ عزت کے نقیب تھے۔ رسول اللہۖ نے اللہ کے حکم سے مزاحمتی تحریک شروع کردی تو حضرت ابوطالب کا کردارحضرت محمدرسول اللہۖ کیلئے سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ شعب ابی طالب میں تین سال تک مشرکینِ مکہ کا بائیکاٹ برداشت کیا۔ رات کو سونے کے بعد حضرت علی اور نبیۖ کی جگہ تبدیل کرواتے تاکہ حملہ آور حضرت رسول خداۖ کی جگہ پر حضرت علی کو شہید کردے۔ اپنے سب سے چہیتے بیٹے کو رسول خداۖ پر قربان کرنے کے جذبے سے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو سبق کیا ملتا ہے؟۔
رسول اللہۖ کا ایک مشن تھا اور اس مشن کیلئے حضرت ابوطالب نے فرزند کی قربانی دینا گوارا کرنے کی ٹھان لی تھی۔ یہ سبق حضرت ابراہیم کا اپنے فرزنداسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے ملا تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ نے اس خواب کی تعبیر کیلئے حکم دیا کہ حضرت اسماعیل کو اپنی والدہ محترمہ کیساتھ وادی غیرذی زرع مکہ میں چھوڑ آنا تو حضرت ابراہیم نے حکم کی تکمیل کردی۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے فرزند حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب اور پوتے حضرت یوسف کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت داؤد و حضرت سلیمان اور حضرت موسیٰ وحضرت عیسیٰ تک بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء آئے لیکن حضرت اسماعیل کی نسل میں کوئی نبی، خلیفہ اور بادشاہ و حکمران نہیں آیا ،یہاں تک کہ اسلام نے پوری دنیا کو نور سے رونق بخش دی۔
حضرت یوسف کو بھائیوں نے ویران کنویں میں ڈال دیا مگر حضرت محمدۖ کیساتھ چچا ابوطالب نے اپنے بیٹے سے زیادہ محبت دینے کا ثبوت پیش کیا۔ایثار کا یہ جذبہ قریش کو وراثت میں ملا تھا۔ آج علماء کرام کیلئے مدظلہ کی دعا کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور نبیۖ کیلئے حضرت ابوطالب کا سایہ ٔ عاطفت ابر رحمت تھا۔ ابوطالب نے نبیۖ کی جو پرورش کی تھی ،اس کا اثر حضرت علی میں اتنا ہرگز نہیں تھا۔ نبیۖ نے صلح حدیبیہ کی تمام شرائط صرف اسلئے مان لیں کہ یہ ابوطالب کی مفاہمت کی تربیت تھی۔ حضرت علی نے انکار کیا کہ محمد سے رسول اللہ کے لفظ کو نہیں کاٹوں گا۔ حضرت عمر اور تمام صحابہ سراپا احتجاج تھے ۔ وحی کی رہنمائی بھی نہیں ملی تھی۔ حضرت ابوطالب نے جس تربیت کا اہتمام کیا تھا اس کا نتیجہ فتح مبین کی صورت میں اللہ نے دکھادیا۔
حضرت ابوطالب کی صاحبزادی ام ہانیکا نبیۖ نے رشتہ مانگاتو حضرت نے انکار کردیا۔ بیٹے علی سے زیادہ بیٹی ام ہانی کی قربانی نہ تھی۔ لیکن ابوطالب نے درست سمجھ لیا تھا کہ نبیۖ کو مالدار خاتون کی ضرورت ہے جس کی کفالت کیلئے کام کی ضرورت نہ ہو۔حضرت ام ہانی کا نکاح جس مشرک سے کردیا ،وہ فتح مکہ کے بعد بھی مسلمان نہیں ہو ۔ ام ہانی کی اپنے شوہر سے وفاداری کا یہ عالم تھا کہ ہجرت بھی نہیں کی اور جب شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیۖ کا رشتہ پھر بھی قبول نہیں کیا تھا۔
صلح حدیبیہ کے وقت قریش مکہ کا حلیف قبیلہ بنوبکر اور مسلمانوں کا حلیف قبیلہ بنو خزاعہ تھا۔ معاہدے میں حلیف قبائل کو بھی شامل کیا گیا، جب قریشِ مکہ نے اپنے حلیف قبیلے کا ساتھ دیکر معاہدہ توڑ دیا تو مسلمانوں نے اپنے حلیف قبیلے کی وجہ سے حضرت ابوسفیان کی طرف سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ قائم رکھنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔ جب صلح حدیبیہ قائم تھا تو ہجرت کرکے آنے والی خواتین کو واپس کرنے سے انکار کیا گیا،تاکہ ان پر کوئی تشدد نہ ہو۔ مسلمانوں کو حق مہر ادا کرکے نکاح کی اجازت دی گئی اور انکے کافر شوہروں کو ان کا حق مہر لوٹانے کا حکم دیا گیا۔ پھر مسلمان مردوں کو یہ حکم دیا گیا کہ کافر عورتوں کو تم اپنے نکاح میں مت رکھو۔ ان سے حق مہر واپس لے لو ،جیسا کہ کافر مردوں کو چھوڑ کر آنے والی عورتوں کا حق مہر لوٹانے کا حکم ہے اور یہ تمہارے ہی درمیان اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر تمہاری کافر عورت تمہیں حق مہر نہ لوٹائے تو اس کا بدلہ نہ لو اور جو عورتیں اپنے شوہروں کو چھوڑ کر آئی ہیں ان کو انکے مثل واپس کرو۔ اللہ سے ڈرو۔( سورہ ٔ الممتحنة)
علماء نے قرآن کی تفاسیر میں ڈنڈیاں ماری ہیں۔ قرآن نے جس اعلیٰ معیار کا اخلاق پیش کیا آج ہندوستان کے ہندو، سکھ اور بدھ مت کو ان اعلیٰ اقدار سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ مشرکینِ مکہ کی بیگمات مسلمان بن کر آرہی تھیںتو یہ جاہلانہ غیرت کیلئے بڑا چیلنج تھا لیکن اللہ نے مسلمانوں کو اپنی کافر بیگمات چھوڑنے کا حکم دیکر جاہلانہ غیرت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کویہ حکم نہیں دیا کہ اپنے کافر شوہروں کو چھوڑ کر ہجرت کرو۔ پاکستان کے جاہل مسلمانوں کی غیرت اسلام نہیں جہالت کی وجہ سے ہے ۔ قائداعظم کی بیگم رتن بائی پارسی تھیں۔
مالدار علماء کی اکثریت اپنی بیٹیوں کا مستقبل روشن کرنے کیلئے دنیا دار کو دیتے ہیں لیکن نبیۖ کے غریب جانشینوں کو نہیں دیتے ، یہ ابوطالب کی سنت پر عمل ہے۔
جب انصار و قریش میں خلافت پر تنازعہ کھڑا ہوا لیکن حضرت ابوبکر کے حق میں فیصلہ ہوگیا تو حضرت ابوسفیان نے حضرت علی سے کہا کہ خلافت قریش کے کمزور قبیلے میں گئی، اگر آپ کہیں تو سواروں اور پیادوں سے میدان بھر دوں؟۔ حضرت علی نے اس شیطانی پیشکش کو یکسر مسترد کردیا۔ اگر حضرت علی نے تعاون نہ کیا ہوتا تو پھر قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست نہیں دی جاسکتی تھی۔ حضرت علی نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ جنگوں میں بذاتِ خود تشریف نہ لیجائیں۔ حضرت عمر کی وفات پر حضرت علی نے حضرت عمر کی زبردست تعریف کی تھی۔حضرت عثمان کی شہادت کے وقت چالیس یا ستر دن تک محاصرہ ہوا تھا لیکن بنی امیہ کے افراد نے خلیفۂ سوم کو بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ حضرت علی اور حسن وحسین کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں جس طرح حضرت علی کے کردار کو نمایاں حیثیت حاصل تھی ، اسی طرح بنوامیہ کا اقتدار حضرت حسن کے کردار سے ہی ممکن ہوسکا تھا۔ پھر یزید کے دور میں امام حسین کا کردار سب سے نمایاں تھا۔
امام زین العابدین سے امام حسن عسکریاور پھر امام محمد مہدی کی غیبت صغریٰ و کبریٰ تک ائمہ اہلبیت ظاہری خلافت کے منصب سے محروم رہے ہیں۔ آئندہ آنے والا وقت بتائے گا کہ مہدیٔ غائب کے ظہوراور حضرت عیسیٰ کے نزول کا وقت کب آئے گا؟۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شاہ ایران کے خلاف آیت اللہ خمینی نے انقلاب برپا کردیا تھا مگر ہمارے والے شاہ سعود کی گائے کا دودھ پی پی کر ابھی تک جوان نہیں ہوئے ہیں۔
اہل تشیع جن شخصیات کو اپنا سرمایۂ دین وملت سمجھتے ہیں یہ اہل سنت کیلئے بھی ویساہی سرمایۂ دین وملت و افتخار ہیں۔ جن ذاکرین عزاداری نے مذہب کیساتھ ساتھ اپنامعاشی معاملہ بھی بنارکھا ہے یہ ان کا حق ہے لیکن جن اہل تشیع نے اسلام کو اپنا مشن سمجھ رکھاہے وہ زیادہ لائق تحسین وافتخار ہیں۔ علامہ سید حیدر نقوی کی مجالس میں ذاکرین جایا کریںگے تو ان میں اعتدال بھی آئے گا اور مزاحمت ومفاہمت کی منزل بہت بہتر انداز میں حاصل کر سکیں گے۔اگر انہوں نے ہمیشہ اپنوں کو پٹوانے اور مروانے کا سلسلہ اپنے مفادات کی خاطر جاری رکھا تو پھر یہ امت تنزلی کی مزید منازل سر کرتی رہے گی۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

پاکستان میں بیلٹ کی سیاست کو بُلٹ سے جدانہ کیا تو منافقت کی انتہاء ہوگی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جس سینیٹ کے چیئرمین کیلئے کھلی دھاندلی قابلِ قبول تھی ،جس سینیٹ کے ارکان کھلی دھاندلی سے پہلے ہی منتخب ہوکر آئے، جس قومی وصوبائی الیکشن میں قانون سے زیادہ رقم خرچ کرکے الیکشن جیتا تو بحث خوش آئند ہے؟

جس ملک کی عدلیہ الیکشن کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو، فوج کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو، پٹواری کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو اور الیکشن کمیشن بھی بالکل بے بس ہو!

جہاں سیاسی جماعتیں غنڈے استعمال کرتی ہوں، جہاں ریاست کے خلاف غنڈہ گردی کرنے والے اقتدار اور اپوزیشن میں قابلِ اعتماد ہوں، کوئی عدلیہ پر کوئی پی ٹی وی (PTV)پر چڑھ دوڑے!

پاکستان ایک ایسا خوش بخت لیکن بہت بڑا کم بخت ملک ہے کہ جو ایک طرف اپنے مصورعلامہ اقبال کے انقلابی اشعار کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے جس میں انقلاب کی تبدیلی آجائے تو یہ چار سو بدل جائے۔ تیری دعا ہے کہ دنیا بدل جائے، میری دعا ہے کہ تُو بدل جائے۔ اگر تیری ذات بدل جائے تو کیا عجب کہ چارسو بدل جائے۔ دوسری طرف بڑاکم بخت اس لئے ہے کہ ”مجموعۂ اضداد ہے اقبال نہیں ہے” کی طرح تضادات ہی تضادات کا وہ مجموعہ ہے کہ اس عجیب الخلقت قسم کے ملک کی مثال انسانی ہی نہیں حیوانی تاریخ میں بھی نہیں ملے گی اور حیوانی اسلئے کہ جہاں طاقت کا قانون ہوتا ہے وہاں جنگل کے جانور ہی کا قانون ہے۔ جبکہ ایسے ممالک بھی ہیں کہ جہاں قانون کی جگہ طاقت کی حکمرانی ہے۔ جہاں قانون کی حکمرانی کو اسلام اور طاقت کی حکمرانی کو کفر قرار دیا جائے تو بیچ کی حکمرانی کی مثال اس منافقت سے پوری طرح مماثلت رکھتی ہے جسکے انجام کو قرآن ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار ” منافقین کاا نجام آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوگا” قرار دیا ہے۔

ہم خوش قسمت قوم اسلئے ہیں کہ” رنگ بدلتا ہے آسماںکیسے کیسے” کی وجہ سے ہمارے قومی شعور میں بہت تیزی کیساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی اور زبردست اضافہ ہورہاہے۔ وہ دیکھو ! سینیٹ کا چیئرمین جناب صادق سنجرانی کے سرپر بخت کا نایاب پرندہ ہما بیٹھ گیا۔ جس شخص میں مجھے نہیں پتہ کہ یونین کونسل اور ضلعی کونسل سے لیکر صوبائی وقومی اسمبلی کی کوئی نشست جیتنے کی صلاحیت تھی یا نہیں؟۔ لیکن چیئرمین سینیٹ بننے کی صلاحیت ہرگز بھی نہیں تھی۔ مسلم لیگ ن کے دور میں بلوچستان حکومت سے تبدیلی کا آغاز ہونا شروع ہوا تو بڑا واضح ماحول دیکھنے میں آیا کہ تحریک انصاف کے عمران خان، جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمن اور پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری تثلیث کا مقدس زوایہ بناکر پاکستان میں بلٹ کی میگزین صاف کرکے چمکا رہے ہیں اور بلوچستان کی حکومت پر جمہوری رنگ بُلٹ سے فائر کرکے عوامی نمائندوں کی محبوبہ امن کی فاختہ کو زخمی کرکے چاروں شانے چت زمین پر ڈھا رہے ہیں۔ اس فاختہ کا ایک پَر بلوچستان کی قوم پرست جماعت تھی جسکا وزیراعلیٰ انتہائی اچھے سیاسی کارکن اور شریف آدمی عبدالمالک بلوچ تھے۔ جسکے دوسرے ساتھی ان سے بھی شریف اور شریف زادے میرحاصل خان بزنجو تھے۔ جمہوری فاختہ کے دوسرے پَر مسلم لیگ ن کے ثناء اللہ زہری تھے۔ اس فاختہ کے دل کی دھڑکن اور پروں کی پھڑکن کا اہم ترین حصہ ملی پشتون خوا عوامی نیشنل پارٹی کے محمود خان اچکزئی تھے جنکا بھائی گورنر تھا ۔

بلوچستان میں جمہوریت کی تثلیث کی مقدس گائے کو صلیب پر چڑھانے کے بعد تبدیلی سرکار کے بلٹ پروف عمران خانیہ اینڈ آصف زرداریہ نے باہمی اتفاق رائے اور بغل میں بغل بانہوں میں باہیں ڈال کر صادق سنجرانی کو چیئرمین بنادیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس الیکشن کے دوران جماعت اسلامی کے معزز رکن کو ایوان سینٹ ہی میں گلہ دبوچنے کی کاروائی بھی کر ڈالی۔ خیر زیادہ دلچسپ معاملات کے باوجود طوالت کے خوف سے قصہ مختصر یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کے بلٹ میں اقتدار کا نشہ بھی شامل ہوگیا، جب اپوزیشن کے بلٹ میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا اتنا بڑا جادو تھا تو اقتدار میں آنے کے بعد اس میں کس قدر اضافہ ہوگا؟۔ اپوزیشن کی واضح اکثریت نے بلٹ پروف چیئرمین کو چیلنج کرنا شروع کیا تو امجد شعیب سمیت تمام دفاعی تجزیہ نگاروں کی یہی متفقہ رائے تھی کہ ”خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں”۔ دیکھنا نتائج جمہوریت کے برعکس بلٹ اور بلٹ پروف والوں کے حق میں سوفیصد آئیں گے۔جب نتیجہ آیا تو

دنیا ہوئی حیران یہ کیسا پاکستان ہے یہ کیسا پاکستان؟۔ بلٹ کے زور پر یہ چلتا ہے یہ میرا پاکستان ہے یہ تیراپاکستان ۔ یہ اسلام کی پہچان ہے ، یہ اوریا مقبول جان ہے۔ بڑی شدت اس کا نشان ہے ، یہ منافقت کا قبرستان ہے۔ منافق یہاں بڑا مسلمان ہے۔یہاں جمہوریت کا دسترخوان ہے ، یہاں ڈکٹیٹر شپ کا یہ پکوان ہے۔ یہاں سیاست کا خاندان ہے ، یہاں متبادل نظام طالبان ہے۔ کوئی بندہ رحمان ہے ،کوئی بندہ شیطان ہے۔ یہاں گیٹ نمبرچار (4)کی داستان ہے۔ یہاں پیٹ نمبرون کا ایک گمان ہے۔

ایک دن میں ایک سے چار چار ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کرنے والے صابر شاکر اور عمران خان ایک طرف فوجی حکام کی جانب سے وارننگ دیتے ہیں کہ خبردار اگر بلٹ والے کو بلٹ پروف سیاست میں ملوث کیا تو خیر نہیں ہوگی،تو دوسری طرف یہ دعوے بھی کرتے ہیں کہ فوج سے فلاں فلاں کے رابطے ہیں، فلاں فلاں نے معافی تلافی کردی۔ سوشل میڈیا کے اینکرپرسن جس انداز میں گھن گرج سے آسمانی بجلیاں گراتے ہیں اس کی چمک اور احساس ان کو بالکل واضح طور پر ہوجاتا ہے جو بالکل اندھے بہرے نہ ہوں۔ یہ سوشل میڈیا کے کارندے پرانی گاڑیوں سے دھویں چھوڑنے کی طرح ماحولیاتی آلودگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اندھوں بہروں کو بلٹ اور لاٹھی سرکار سے ڈرا دھماکر منہ کالا کرنے والے سیاہ دھویں اور کان پھاڑنے والی آواز کو بارانِ رحمت اور باد صبا کہنے پر مجبور کرنے کی بہتیری کوشش بھی کرتے ہیں۔خدارا ، عقل کے ان اندھوں اور فکر کے ان بہروں کو سرِ عام معافی دے دی جائے۔ ان کے سننے اور بولنے سے ملک کے مفادِ عامہ کا کوئی کام ہونے کے بجائے اچھے خاصے باشعور لوگوں کو مزید بگڑنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ مکھی بننے والے سے یہ کیا کہنا کہ تیری دُم بہت اچھی لگ رہی ہے۔ ماشاء اللہ چشم بدور۔ بس صرف تیری موتی جیسی آنکھوں کی چمک کیساتھ تیرے سر کو اگر سرکارِ ملت نے کلغی سے بھی سجایا ہوتا تو بہت خوب ہوتا۔ کھانے پینے کی کوئی فکر مت کرو ، یہ مرغا بننے کا اعزا ز دنیا میں کسی ملک کو حاصل نہیں ہے یہ بلٹ سرکار کی نذرِ کرم اور پٹھو گرم کا کھیل ہے جو بڑے نصیب والوں کو ملتا ہے۔ مرغا بننے والے کو بات معقول سی اسلئے لگتی ہے کہ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں مرغا بننے سے واقعی بات آگے نکل گئی ہے اور اگر ہماری قوم کی گردن میں جان ہے تو جہاں ہے ،یہ میرا اور آپ کا پاکستان ہے۔

جب پارلیمنٹ کا بلبل نما کبوتر کوئے کی طرح بہت تیزی سے کائیں کائیں کرنا شروع کردیتاہے تو اپنے اپنے گھروں میں ٹی وی دیکھنے والے سامعین کے نوالے ان کے حلق میں اٹکنے لگ جاتے ہیں۔ پھر جب قادر پٹیل شاہین کی طرح جھپٹ کر مراد سعید پر حملہ آور ہوجاتا ہے تو غلطی سے سوشل میڈیا پر کسی خراب سین کے منظرنامے کی طرح دلچسپ لیکن انتہائی شرمناک وارداتیہ بن کرسامنے آتا ہے۔ یہ جمہوریت کا حسن ہے یاپارلیمنٹ کا کوئی بازارِ حسن؟۔ ہمیں تو زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن قارئین کو دلچسپی ہو تو کتابوں کی شکل میں بھی ایک ایک چیز کی تفصیل مارکیٹ سے مل سکتی ہے ۔ خاص کر اردو بازار لاہور یا کراچی سے۔ مگر اچھا ہے کہ اس دھندے کی طرف توجہ نہ کی جائے جس کی اہمیت حق مہر عندالطلب جتنی بھی نہیںہے۔فضاؤں میں پرانی گاڑیوں کی آلودگیوں کو موسم بہار کی بارش کون کہہ سکتاہے؟ اور یہ شعر وشاعری اور ادب سے دلچسپی کا باعث مشاہداللہ خان کی وجہ سے پھر بھی تھی!۔وہ بھی اپنی بہادری کے تکلف کے باوجود سیاسی وفاداری سے اپنی صلاحیت کو ضائع کرگئے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم (PDM)کو کمزور کرنے کا سارا الزام ن لیگی میڈیا پیپلزپارٹی پر لگارہاتھا لیکن اب ہم نے جب معاملہ کچھ طشت از بام کردیا تو بلاول بھٹو زرداری پی ڈی ایم (PDM) کو بھٹو کی طرح زندہ قرار دیتا ہے اور مریم شریف نے اپنا ٹائر برسٹ کرکے دکھادیا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani

صحابہؓ اور اہل بیتؓ کے تنازع سے لے کر شیعہ سنی اور حنفی اہل حدیث کے ایک ایک مسئلے کا حل

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا فضل الرحمن،مولانا طارق جمیل، مولانا مسعود اظہر، مولانا معاویہ اعظم، انجینئر محمد علی مرزا، پروفیسر احمد رفیق اختر، مفتی منیب الرحمن، علامہ سعد حسین رضوی، علامہ سیدجواد نقوی ، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ ساجد میرمتحد ہوں!

صحابہ کرام اور اہلبیت عظام میں تنازع سے لیکر موجودہ دور کے شیعہ سنی اور حنفی اہلحدیث ایک ایک مسئلے کا ایسا حل جو سب کیلئے قابلِ قبول نہ ہو تو مجھے گمراہ قرار دیکر پابندی بھی لگائیں

ریاست اور حکومت کی طرف سے انتظام ہو تو نہ صرف پاکستان ،عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا کے تمام مسائل کاسب کیلئے قابلِ قبول حل بھی قرآن وسنت میں موجود ہے۔آؤ ذرا دیکھو!

فلسطین اور کشمیر کے مسئلے سے لیکر پاکستان کی پارلیمنٹ کے مسئلے تک اور حضرت ابوبکر و حضرت علی کے اختلاف سے لیکر موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر بھونکنے والے شدت پسندوں تک ایک ایک مسئلے کا حل قرآن وسنت میں ہے لیکن افسوس کہ اجتماعی حیثیت میں ہمارا قرآن کی طرف دھیان تک نہیں گیا۔
دنیا بھر میں حلف اور حق کی گواہی کی ایک تسلیم شدہ حیثیت ہے۔ اللہ نے شیطان کی جماعت کو واضح کیا ہے کہ وہ جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور جھوٹے حلف اٹھاتے ہیں۔ اللہ کی جماعت کو واضح کیا ہے کہ وہ حق کی گواہی میں اپنے باپ، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ہیں۔ ہم حلف اٹھانے کو اجتماعی حیثیت میں کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران تک کو حلف اُٹھانے میں الفاظ کی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اہمیت حلف کے معانی نہیں بلکہ الفاظ کی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اصل بات حلف نامے میں معانی کی ہوتی ہے۔
جن پر کرپشن کے الزامات ہیں تو نیب اور عدالتوں کو چھوڑ کر ان سے لائیو چینلوں پر حلف لیا جائے۔ نوازشریف پارلیمنٹ کے بیان اور قطری خط کی بھی وضاحت کرے۔ پھر اسکے خاندان اور پارٹی میں موجود ان لوگوں سے گواہی طلب کی جائے جن کی صداقت سے وہ حزب اللہ میں شامل ہوجائیں۔ مسئلے کا یہ ایسا حل ہے جس کا ذکر سورۂ مجادلہ میں قیامت اور دنیا کے حوالہ سے ہے۔
حضرت ابوبکر نے خلافت کا منصب انصار سے اس بنیاد پر جیت لیا تھا کہ امام قریش میں سے ہونگے۔ پھر خلافت راشدہ کا خاتمہ ہوا تو بنی امیہ کا اقتدار پر قبضہ ہوا، بنی امیہ کا دھڑن تختہ بنوعباس نے کیا۔ عباسی اسلئے خلافت کے حقدار قرار دئیے گئے کہ حضرت عباس نبیۖ کے چچا اور علی چچازادتھے، ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیاتھا حالانکہ خلفاء ثلاثہ اور بنوامیہ بھی چچا تھے نہ چچا زاد۔ پھر چنگیز خان کی اولاد ہلاکو خان نے بنوعباس کا دھڑن تختہ کیاتو اسکے بعد ترک عثمانی سلطنت نے خلافت کا منصب سنبھال لیا جو قریش بھی نہیں تھے۔ ترکی بھی خلافت کی بحالی کیلئے پر تول رہا ہے۔ ملاعمر بھی امیر المؤمنین بنے تھے اور داعش، حزب التحریر اور دوسری جماعتیں بھی خلافت کی بحالی چاہتی ہیں۔ جبکہ ایران میں آیت اللہ امام خمینی کا اسلامی انقلاب ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کوٹلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک دفعہ کشمیر کو مکمل آزاد کردیںگے اور پھر وہ خود فیصلہ کرینگے کہ آزاد رہنا ہے یا پاکستان کیساتھ؟۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر طارق اسماعیل ساگر نے اس کو عالمی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سارا خرچہ رائیگاں جائیگا۔
اگر عالمی طاقتوں نے کشمیر کو آزاد کرنے کا فیصلہ کرلیا تو بھارت پیچھے ہٹ جائیگا اور امریکہ ونیٹو اور اقوام متحدہ کی افواج کشمیرمیں دفاعی امداد کے نام پر اپنے مشن کو پورا کریںگی۔ چین کا راستہ روکا جائیگا۔ اگر پاکستان اسلامی مزارعت کی بنیاد رکھ دے تو بھارتی پنجاب کے سکھ ، مسلمان اور ہندو بھی اسلامی نظام کا مطالبہ کرینگے اور بھارت کو مجبوری میںاس کوتسلیم کرنے کا فیصلہ بھی کرنا پڑیگا۔ جب بھارت کے باسی یقین کرلیںگے کہ اسلام نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے تو پھر وہ محمد شاہ رنگیلا کی عیاشیوں کو دل سے نکال کر اسلام کے گرویدہ بنیں گے۔ پھر بھارت اور پاکستان کی صلح ہوگی اور عالمی قوتیں مداخلت نہیں کرسکیں گی۔
مزارعت سے غریب عوام کو خوشحالی مل جائے گی تو عالمی قوتوں کو فرقہ پرستی اور شدت پسندی کے نام پر استعمال ہونے والا خام مال نہیں ملے گا۔ جب ان کی قوتِ خرید بڑھ جائے گی تو ملز اور فیکٹریاں چلنا شروع ہونگی۔ روزگار ملے گا تو کرپٹ عناصر اپنے نالائق بچوں کیلئے کرپشن سے باز آجائیں گے۔ جب شہری اور دیہاتی زندگی میں خوشحالی کی روح دوڑے گی تو شیطان چھٹی کرلے گا اور زمین پر بسنے والے محنت کش دو حصوں میں تقسیم ہونگے۔ دیہات دنیاوی جنت اور انڈسٹریاں دنیاوی جہنم کا مظہر نظر آئیں گی۔ کاشتکار باغات اور سہولیات سے مالا مال ہونگے تو اسلام کی تعلیم اور نظام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے نبیۖ پر سلام بھیجیںگے۔ اور جن کرپٹ عناصر سے کرپشن کی رقم چھن جائے گی وہ بادِسموم ، گرمی کی شدت اور ملوں میں کام کرنے کی وجہ سے کالے دھوئیں سے لتھڑے ہونگے ، یہ دھواں ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی فرحت بخش۔ یہ وہ لوگ ہونگے جنہوں نے مسلسل بڑی بڑی کرپشن پر بڑے ہاتھ صاف کرنے پر مسلسل اصرار کیا ہوگا۔ سورۂ واقعہ میں اس کی زبردست تفصیل ہے اور پھر ان کو دوسرے کافروں سمیت دعوت دی جائے گی کہ یہ دنیا کا عذاب تو بہت کم ہے اور آخرت کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ جب شجرہ زقوم سے تواضع ہوگی ،جس سے پیٹ بھرے گا اور نہ بھوک مٹے گی۔پھر گرم پانی سے خاطر مدارات ہوگی اور اونٹ کی طرح لیٹ کر پانی پینا پڑے گا۔ جہاں تک سبقت لے جانے والوں کا تعلق ہے تو ان کا کیا کہنا۔ روح اور ریحان ہیں۔یہ صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین میں بہت تھے لیکن اسلام کی نشاة ثانیہ میں بہت تھوڑے سے ہونگے۔جب انقلاب آئے گا تو یہ حضرات چارپائیوں پر بیٹھ کر آمنے سامنے گپ شپ لگائیں گے۔ پوری دنیا سے کچھ بھی نہیں مانگا جائے گا۔البتہ اہل لوگوں کو انکا اپنا اپنا منصب دے دیا جائیگا۔ ان کوپھلوں کا جوس نبیز پلایا جائیگا جس سے وہ خمار ہونگے لیکن نہ تونشہ آئیگا اور نہ سر چکرائے گا۔ ان کی اپنی بیگمات حیاء دار اور باپردہ ہوں گی۔ جن کا سورۂ رحمن میں بھی ذکر ہے۔
جہاں تک اصحاب الیمین ہیں تو ان میں غریب امیر بہت بڑی تعداد میں ہونگے اوراصحاب الیمین نبیۖ کوبہت خوشی سے سلام بھیجیںگے۔ ان کی بیگمات بھی بہت اچھی ہوں گی۔ خوشحالی اور فراوانی کے سبب اللہ تعالیٰ ان کو کنواریوں کی طرح بنادینگے۔ دنیا بھر سے جو مہمان فیملیاں آئیں گی ، وہ بہت شریف النفس اور اچھے لوگ ہوں گے اور ان کے بارے میں فحاشی وعریانی پھیلانے کے کوئی تصورات نہیں ہونگے۔ ان کو کسی انسان اور جن نے ناجائز انداز میں کبھی چھوا تک بھی نہیں ہوگا۔ پاکستان جنت نظیر بن جائیگا تو دنیا بھر سے اتنے سیاح آئیں گے کہ ان کو بکنگ کا موقع بھی مشکل ہی سے ملے گا اور دنیا بھر سے جو اچھے لوگ آئیں گے تو اصحاب الیمین کے ہاں ان کیلئے آنے کی گنجائش ہوگی۔ پورے پاکستان کو باغات اور بہتی ہوئی نہروں سے مالا مال کیا جائے گا۔ البتہ انڈسٹریل زون بھی مناسب طور پر ان علاقوں میں بنیں گے کہ جہاں پر شہری آبادیوں کو مناسب روزگار اور دنیا میں ترقی وعروج کے مواقع مل سکیںگے۔
قرآن جب نازل ہوا تھا تو کفار اس پر کبھی یقین نہیں کرسکتے تھے کہ مکہ ومدینہ میں جہاں دریا، نہروں، ندی نالوں اور بہتے ہوئے چشموں کا کوئی تصور نہیں تھا کہ ایک دن وہ بھی آئے گا کہ مسلمان قوم ہمیشہ کیلئے دنیا میں جنت نظیر باغات،دریاؤں، نہروں اور بہتے ہوئے چشموں کے مالک بنیںگے۔ حالانکہ جب سپر طاقتوں کو خلفائ نے شکست دی تھی تو یورپ سے ایشاء تک مسلمان ہمیشہ کیلئے باغات اور نہروں کے مالک بن گئے اور پہلے کوئی کافر اور منافق اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھاکہ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر صرائے حجاز کے رہنے والے مسلمان کیسے باغات اور نہروں کے مالک بن جائیںگے؟۔ حضرت علی نے زمینوں کو آباد کرکے لوگوں کو مفت دینے کا بڑا مشن اپنے سر لیا تھا۔ جب حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے والد صالح جنگی دوست کو بہتے ہوئے پانی میں ایک سیب مل گیا تو بے تکلف کھالیا پھر سوچا کہ کسی کے باغ سے نہر میں گرا ہوگا۔ اور اس باغ کے تعاقب میں نکل گئے۔ جب باغ کے مالک سے اپنی غرض پیش کی کہ سیب کیلئے معافی چاہتا ہوں تو مالک نے کہا کہ اس شرط پر معاف کر سکتا ہوں کہ میری ایک لولی، لنگڑی، اندھی اور بہری بیٹی ہے اس سے شادی کرنا پڑیگی۔
صالح جنگی دوست نے مجبوری میں ہاں کردی لیکن جب دیکھا تو وہ صحیح سلامت بہت خوبصورت لڑکی تھی۔ واپس آکر بتایا کہ میں غلط جگہ پہنچا تھا لیکن اس کو بتایا گیا کہ یہی ہے۔ یہ صفات استعارہ کے طور پر آزمائش کیلئے ذکر کئے تھے۔ اس کے قدم کبھی غلط جگہ کی طرف اُٹھے نہیں، غلط چیز کو ہاتھ نہیں لگا۔ غلط آواز سنی نہیں، غلط چیز دیکھی نہیں ہے۔ حدیث میں ہاتھ ، پیر ، کان اور آنکھ کی بدکاری کا بھی صراحت کیساتھ ذکر ہے۔ حضرت آدم اور حضرت حواء سے اللہ نے فرمایا کہ اس شجرہ کے قریب مت جاؤ۔ یہ شجرۂ نسب کا استعارہ تھا۔ پھر وہ قریب گئے اور عذر پیش کیا کہ ہم بے بس تھے، منصوبہ بندی سے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ قرآن میں اکلا کا ذکر ہے جو کھانے کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے اور کنگھی کیلئے بھی۔ لامستم النساء کے معنی بھی مباشرت کے واضح ہیںلیکن بعض بیوقوف ائمہ فقہ نے اس سے عورت کے اوپر محض ہاتھ لگنا قرار دیا تھا۔اس وقت حضرت آدم و حواء کی غلطی سے قابیل کی پیدائش ہوئی اور انسانوں میں فرشتوں سے بڑھ کر انسان بھی ہوتے ہیں اور شیطان سے بڑھ کر ابلیس بھی ہوتے ہیں۔ قرآن کے آخری الفاظ میں ایسے خناس کا ذکر ہے جو جنات اور انسانوں میں سے ہیں۔
جو سیب غلطی سے صالح جنگی دوست نے کھایا وہ طاقت بن کر شاید سید عبدالقادر کی شکل میں دنیا میں آیا۔ آپ کی ماں حسینی اور باپ حسنی سید تھے۔ طالب جوہری نے لکھ دیا ہے کہ ” دجالِ اکبر سے پہلے مشرق سے دجال آئیگا جسکے مقابلے میں حسنی سید ہوگا اور اس روایت سے مراد سیدگیلانی ہیں”۔ (ظہور مہدی : علامہ طالب جوہری)
جب ہمارے آبا واجداد نے کانیگرم جنوبی وزیرستان کو آباد کیا تو ہماری زمینوں اور پہاڑوں کے نیچے ندیاں بہہ رہی تھیں اور انہوں نے اس میں انواع واقسام کے بڑے باغات لگائے۔ جو آج بھی زندہ و تابند ہ ہیں۔ ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ پہلے کانیگرم میں کالے گلاب بھی تھے۔ ہمارے بچپن میں میرے والد صاحب نے بھی گلاب کے پھولوں کی باڑ اور باغ جٹہ قلعہ علاقہ گومل میں لگایا تھا۔ بھائی نے گھر میں گلاب کے ایسے پودے لگائے تھے جو پاکستان ہی نہیں بلکہ فرانس کے شہر پیرس کے ڈزنی لینڈ پارک میں بھی نظر نہیں آئے تھے۔ ہم نے دیوبندی بریلوی علماء کو بلایا تھا کہ عرس، جلسہ ،اجتماع جس نام سے جمع ہونا تمہیں پسند ہو ،آجاؤ اور متحد ہوجاؤ۔ جس کی گواہی اب بھی زندہ رہنے والے دیوبندی اور بریلوی علماء کرام دیں گے۔
مولانا فضل الرحمن کو ہم نے صرف اس بات پر ‘ تنبیہ ‘ کردی تھی کہ اپنی جماعت پر خلافت اور مسلمانوں کی اس جماعت کے بارے میں ان احادیث کو فٹ مت کرو جن میں الگ ہونے کی صورت میں آگ اور جہنم کی وعیدیں ہیں۔ انہوں نے ہماری بات مان بھی لی اور اسکے بعد ان وعیدوں کا ذکر بھی نہیں کیا اور نہ اپنی جماعت پر ان احادیث کا اطلاق کرنے کی جرأت کی لیکن جمعیت علماء اسلام کے علاوہ سپاہ صحابہ کے کارکنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء ومفتیان کو بھی ہمارے پیچھے لگادیا۔ ٹانک کے مجاہدین کو بھی ہمارے پیچھے لگادیا تھا لیکن آخر کار ہرمحاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر ہمارے گھر پر تشریف لائے تو اس کو یہ خوف بھی تھا کہ کھلی کھلی باتیں سننے کو ملیں گی۔ اس کو پتہ نہیں تھا کہ اس کی جماعت کے افراد نے اس کی ساری پسِ پردہ کار گزاری مجھے بتائی ہے اور میں نے اپنے اس بھائی تک کو بھی کچھ نہیں بتایا جو اسکا کارکن رہ چکا تھا، آج بھی محض انقلاب کیلئے معاملات کا انکشاف کرنا پڑرہاہے اور کچھ چھپا ہوابھی نہیں ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

پچپن (55) منٹ تک گالیاں دیکر میرا دل چھلنی کردیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب پچپن (55)منٹ کی ویڈیو میں مولانا طارق جمیل نے انتہائی معذرت خواہانہ لہجہ اپنایا اور بلال شہید کو مطمئن نہ کرسکے تو اس پر بہت مدلل اور بیباک انداز میں بات کی جائے۔ تاکہ آئندہ غلطی نہ ہو۔اگر صاف اور دو ٹوک مؤقف نہیں آتا تو معاملہ بنے گا نہیں!۔
بلال شہید کا مؤقف تھا کہ آپ شیعہ کو مسلمان کیوں سمجھتے ہیں؟۔ تحریف قرآن، صحابہ پر کفر کا فتویٰ لگانے، عقیدۂ امامت والے کافر نہیں؟۔ مولانا طارق جمیل مسلسل کہتے رہے کہ تبلیغی جماعت کا طریقہ فتویٰ لگانا نہیں۔ یہ علماء ومفتیان کاکام ہے۔ اکابر کے فتوؤں سے متفق ہوں۔ میرا تعلق علماء دیوبند سے ہے۔ ہمارا اپناطریقہ کارہے ، ہم سب کے پاس جاتے ہیں اور میری وجہ سے بریلوی اور شیعہ علماء دیوبند کے قافلے میں شامل ہوئے ہیں۔ بلال شہید نے مولانا طارق جمیل کے ہر عذر کو ”عذر گناہ بدتر ازگناہ ” قرار دیکر مسترد کردیا۔
بلال شہید کے بھائی کمیل احمد معاویہ نے بتایا کہ مولانا طارق جمیل نے منع کیا تھا کہ اس ویڈیو کو وائرل نہ کیا جائے لیکن کچھ دوستوں کو بطور امانت یہ ریکارڈ کیلئے دی گئی تھی اور اب میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ میرے سامنے یہ بات چیت ہوئی تھی۔
اب مولانا طارق جمیل صاحب کو چاہیے کہ ایک اور فون کرکے معاویہ صاحب سے گفتگو کریں اور پھر اس کو وائرل بھی کردیں تاکہ معاملات بالکل واضح ہوجائیں۔
میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کا تعلق بھی تبلیغی جماعت اور علماء دیوبند سے تھا۔ بعض اکابر نے حاجی صاحب پر فتوے بھی لگائے تھے۔ ان فتوؤں کے باوجود مولانا عبداللہ درخواستی کے گروپ اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت والے حاجی عثمان کی حمایت کرتے تھے۔ غالبًا سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے حاجی عثمان پر فتوؤں کی اخبارات میں مذمت بھی کی تھی۔ میرے مشکوٰة شریف کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نواسۂ مولانا عبداللہ درخواستی فتویٰ کے بعد بیعت ہوئے تھے۔ جب مولانا حق نواز جھنگوی کو شہید کیا گیا تو حاجی عثمان نے خبر سنتے ہی میرے سامنے چائے کا کپ چھوڑ دیا اور کہا کہ ” ایک ہی حق اور صحابہ کرام کا دفاع کرنے والے عالمِ دین رہ گئے تھے ان کو بھی ظالموں نے شہید کردیا۔ بہت زیادہ اس خبر پر دکھی ہوگئے تھے۔
جہاں تک شیعہ کو کافر قرار دینے کا معاملہ ہے تو مولانا حق نواز جھنگوی شہید نے بہت قربانیاں دیکر اس مشن کو اُٹھایا تھا۔ جب ایرانی انقلاب کی وجہ سے لٹریچر میں بڑا مواد صحابہ کرام کے خلاف آنا شروع ہوا تو انجمن سپاہ صحابہ واقعی اس کے ردِعمل میں سامنے آئی تھی اور پہلے وہ جمعیت علماء اسلام ف کی ہی ذیلی تنظیم تھی۔ بلال شہید نے جو معلومات سامعین کو دی ہیں، ان میں غلطیاں ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ مفتی محمود کی وفات کے بعد جمعیت دو گروپ میں اسلئے تقسیم ہوگئی کہ مولانا درخواستی نے مفتی محمود کی جگہ مولانا عبید اللہ انور صاحبزادہ مولانا احمد علی لاہوری ہی کو جمعیت کا جنرل سیکرٹری بنانا چاہا اور اکثریت نے مولانا فضل الرحمن کے حق میں فیصلہ دیا۔ جمعیت ف نے ایم آر ڈی (MRD)میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ درخواستی گروپ جنرل ضیاء الحق کا سپورٹر تھا۔قاری طیب دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اپنا بیٹا مقرر کرنا چاہتے تھے اور شوریٰ مخالف تھی جس کی وجہ سے قاری طیب کے بیٹے نے دارالعلوم دیوبند وقف کی بنیاد رکھی۔ اگر درخواستی کی بات مان لی جاتی تو آج مولانااجمل قادری جمعیت کے قائد ہوتے ، جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلائی تھی۔
زندگی جہد مسلسل ہے کوئی تماشہ تو نہیں
وہی جیتے ہیں جو لڑتے ہیں طوفانوں کی طرح
مولانافضل الرحمن نے مولانا سمیع الحق اور قاضی عبدالطیف کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کو جب مسترد کردیا تو میرے مرشد حاجی عثمان نے بہت جلال میں آکر جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ کر کہا کہ ایک بڑے اللہ والے مفتی صاحب کے بیٹے نے علماء حق کا شریعت بل مسترد کیا ہے تو اس کا نکاح کہاں باقی رہا؟۔ لوگوں کی چیخ نکلی کہ ”اللہ” لیکن میری بے ساختہ ہنسی نکل گئی۔ میں نے مرشد کو سمجھایا کہ شریعت بل سے نہیں آئے گی، شریعت نظام ہے اور مارشل لاء الگ نظام ہے۔ تو مرشد نے کہا کہ بھیا! ہم تو جاہل ہیں ، مجھے کیا پتہ تھا۔ مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت ف پنجاب کے نائب امیر تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ریفرینڈم کیا تو کراچی کے اکابر علماء نے ریفرینڈم کے حق میں فتویٰ دیا لیکن مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کی تھی۔ مجھے میرے استاذمولانا فضل محمد استاذ حدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ آپ اکابرعلماء ومفتیان کی مخالفت کررہے ہیں تو حاجی صاحب آپ کو خانقاہ سے نکال دینگے۔ میں نے کہا کہ سیاست مفتی اور پیر کا کام نہیں ہے۔ مولانا فضل محمد مرشد کے خلیفہ بھی تھے۔ پھرمرشد سے سوال پوچھاگیا کہ مفتیان کا فتویٰ ہے کہ ریفرینڈم کے حق میں ووٹ فرض ہے۔ مرشدنے جواب دیا کہ فتوے پرنہ جاؤ۔ آٹھ (8)سالوں سے تم نے آزمایا ،اگر یقین نہیں ہے تو ووٹ نہ دو، میرا گمان ہے کہ اسلام نافذ نہیں کریگا۔
مولانا حق نوازجھنگوی نے زندگی جمعیت ف میں گزاری۔جمعیت کے اسٹیج سے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگایا۔ مولانا محمد مکی حاجی صاحب کے پاس فتوؤں کے بعدبھی آتے تھے۔ مولانامکی نے راز سے پردہ اٹھایا کہ مولانا حق نوازجھنگوی سے کہا کہ یا توسیاست کرو یا پھر مذہبی نعرہ لگاؤ۔ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مولانا حق نوازجھنگوی سے کچھ راز کی بات ہوئی تھی لیکن اب میں بتانہیں سکتا۔ جمعیت ف کا کہنا تھا کہ جھنگوی نے سپاہ صحابہ کو جمعیت ف میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جھنگوی شہید کے بعد علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید مولانا فضل الرحمن کے حامی تھے لیکن مولانا ایثارالحق قاسمی نے آئی جے آئی (IJI) کے ٹکٹ پر جھنگ کے حلقے سے الیکشن لڑا۔جبکہ دوسرے حلقے سے عابدہ حسین آئی جے آئی (IJI)کے ٹکٹ پر کھڑی تھیں ۔ جمعیت ف کو تشویش تھی کہ اتنے دفاتر اور اتنا پیسہ کہاں سے آرہاہے؟۔ مولانا ایثارالحق قاسمی نے سعودی، قطر، عراق اور عرب امارات وغیرہ کے دورے کئے اور اسمبلی میں بیان دیا کہ” ایرانی انقلاب کا راستہ ہم نے روکا ہوا ہے”۔
مولانا اعظم طارق کا دور آیا تو مولانا فضل الرحمن نے بیان دیا کہ سپاہ صحابہ دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے۔ سپاہ صحابہ نے مولانا سمیع الحق سے اتحاد کیا۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا اجمل خان مولانا فضل الرحمن سے مل گئے۔ مولانا اعظم طارق اور مولانا مسعود اظہر ایک تھے ،پھر مقابل آئے تو وجہ مولانا فضل الرحمن نہیں ہوسکتے تھے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی یہ سیاست مان گیا ہوں کہ سپاہ صحابہ سے جان چھڑائی ۔
ملی یکجہتی کونسل میں سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ نے ایکدوسرے کی تکفیر نہ کرنے پر دستخط کئے ۔ جمعیت ف کا فعال کردار نہیں تھا اسلئے کونسل کامیاب نہ ہوسکی۔اگر حافظ حسین احمد کے ذریعے مولانا اعظم طارق نے مولانا فضل الرحمن سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو جمعیت ف کو شبہ تھا کہ حافظ حسین احمد کا کرداربھی مشکوک تھا۔ مولانا اسکے ذریعے ظفر اللہ جمالی کی جگہ وزیراعظم بن سکتے تھے مگر مولانا نے ملنا گوارا نہیں کیاتو تفصیل حافظ حسین احمد بتائیں۔ یہ جمعیت ف کیلئے اعزاز ہے یا ندامت ؟۔ مولانا فضل الرحمن نے اکابر کو چھوڑ کر ایم آر ڈی (MRD)کو ترجیح دی اور پھر عمران خان اور ن لیگ کے ووٹ لیکر وزیراعظم بننا پسند کیا لیکن مولانا اعظم طارق کی حمایت نہیں لی؟۔ بینظیر بھٹو سے لیکر مریم نواز تک اتحاد کے سفر میں مولانا نے اپنی جہدمسلسل جاری رکھی۔ مولانا سمیع الحق کو سبزی والی چھریوں سے شہید کیا گیا اور بلال شہید بھی موت کے گھاٹ اتاردئیے گئے۔ کون جادۂ حق کا مسافر ہے اور کس نے کس مشن کیلئے اپنی زندگی کی کیسے قربانی دی ہے؟۔یہ فیصلہ کون کرے گا؟۔
اگر مولانا طارق جمیل بلال شہید سے اتنا کہہ دیتے کہ میرا شیعہ کو کافر کہنے یا نہ کہنے سے کیا اثر پڑسکتا ہے؟۔ سعودی عرب کی حکومت شیعہ کو حرم میں داخل ہونے دیتی ہے اور یہ سلسلہ چودہ سوسال سے جاری ہے پھر سعودی عرب کے خلاف مہم کیوں نہیں چلاتے ؟۔ مولانا طارق جمیل کے اس جواب سے بلال شہید کا لہجہ ٹھیک ہوجاتا لیکن مولانا طارق جمیل نے معذرت خواہانہ لہجہ جاری رکھا تو بلال شہید نے اپنے مؤقف کو مزید زیادہ مضبوط سمجھ لیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران سے سپاہ صحابہ نے اتحاد کیا اور زلفی بخاری کو عمران خان نے اپنی سوتیلی بیٹی بھی دی ۔ مولانا طارق جمیل سے الجھنے والے اگر سعودی عرب اور عمران خان کی طرف دیکھتے تو شاید شدت میں بہت کمی آجاتی۔ متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیم المدارس میں شیعہ سنی مذہبی اور سیاسی اتحاد کا مولانا طارق جمیل نے حوالہ دینا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے متحدہ مجلس عمل کے نام پر ووٹ لئے تو مولانا اعظم طارق کے کہنے پر علامہ ساجد نقوی کو کیسے چھوڑسکتے تھے؟۔ ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا تو مشہور شیعہ عابدہ حسین کے شوہر فخر امام کو مشرف دور میں قومی اسمبلی کا اسپیکر بنادیا گیا تھا۔ مولانا اعظم طارق نے شیعہ اسپیکر کو ووٹ دیا تو مولانا فضل الرحمن توقع رکھتے؟۔ شیعہ کو کافر نہ کہنے پر مولانا فضل الرحمن کو کافر کہنے والے سعودی عرب والوں کو کافر نہ کہیں تو پھربات مذہب نہیں مفادات کی بن جاتی ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت کو نہیں مانا اور نہ انکے پیچھے نماز پڑھی تو کیا ان پر کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے؟۔اور جس مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف فتویٰ لیا تھا تو اس کا بیٹا مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اب اس فتویٰ کے خلاف کھڑے ہیں۔ جس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا تھا ،اس نے پھر متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیمات المدارس کے حق میں فتویٰ دے دیا تھا۔
شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”منصب امامت” میں وہی عقیدہ لکھا ہے جو اصولی طور پر شیعہ کا ہے تو کیا ان کو کافر قرار دیا جائیگا؟۔ جہاں تک قرآن کی تحریف کا معاملہ ہے تو شیعہ سے زیادہ سنی اصولِ فقہ اور حدیث کی کتب میں تحریف کا عقیدہ موجود ہے۔ جب شیعہ پر بنوری ٹاؤن اور پورے پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت کے معروف مدارس نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا تب بھی دارالعلوم کراچی کے مفتی رفیع عثمانی اور مفتی تقی عثمانی نے اس فتوے کی حمایت نہیں کی تھی لیکن اسکے باوجود جب مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے شیعہ کے حق میں بیان دیا تھا تو مولانااحمد لدھیانوی نے اس کو دبایا تھا۔ دیوبندی جب بریلوی کو مشرک سمجھتے ہیں تو کیا مشرک مسلمان ہوسکتا ہے؟۔ مفتی زر ولی خان نے تو مولانا منظور مینگل پر مولانا خادم حسین رضوی کی حمایت اور اس کیلئے مغفرت کی دعا کرنے والوں کیلئے نکاح کی تجدید کا فتویٰ بھی جاری کردیا تھا۔
جس طرح امام حسین یا امام حسن پر ہم اہلسنت کے فقہ ، حدیث، تفسیر، تصوف ، تاریخ اور مساجد کے تمام ائمہ کو قربان کرسکتے ہیں ،اسی طرح شیعہ کے تمام مجتہدین اور موجودہ دور کے تمام افراد کو حضرت ابوبکر یا حضرت عمر پر قربان کردیںگے۔ اگر شیعہ ابوبکرو عمر سے نفرت کریں یا ان کی تکفیر کریں تو سپاہ صحابہ والے شیعہ کی تکفیر کریں ،ہماری ہمدردیاں ظاہر ہے کہ سپاہ صحابہ کیساتھ ہوں گی۔ لیکن کیا طوطے کی طرح کافر کافر کے فتوے لگانے سے شیعہ پر کوئی اثر پڑتا ہے؟۔ اگر ہم نے ان کو کافر قرار دیا تووہ آزاد ہونگے۔لیکن اگر ہم نے ان کے ذہن صاف کردئیے تو ہمیشہ کیلئے معاملہ حل ہوجائے گا۔ جس زبان میں بلال خان نے مولانا طارق جمیل سے بات کی تھی ،یہ تو پھر بھی بہت مجبوری اور غنیمت والا لہجہ تھا لیکن جس زباں میں علامہ سید جواد نقوی کو اہل تشیع نے گالیاں دی ہیں وہ تو انتہائی غلیظ ذہنیت سے علامہ جواد نقوی کی جان کے دشمن اور خون کے بالکل ہی پیاسے نظر آتے ہیں۔
علامہ طالب جوہری نے کہا تھا کہ امام ابوحنیفہ سے لیکر مفتی نظام الدین شامزئی تک سنی مکتبۂ فکر میں سید عتیق الرحمن گیلانی کی طرح کا بڑا عالم نہیں آیا ہے۔ اس نے گھبرا کر لکھا تھا کہ گیلانی صاحب اتحاد کی بات کریں انضمام کی بات نہ کریں۔ اور یہ بھی کہاتھا کہ سپاہِ صحابہ تو کچھ بھی نہیں ہے، یہ اتنا خطرناک ہے کہ کوئی شیعہ شیعہ نہیں رہے گا۔ ہم نے اسکے باوجود بھی اپنا ناطہ نہیں توڑا۔ اسکے منہ پر بولا کہ رسول اللہۖ سے قرآن میں اختلاف کی اللہ نے اولی الامر کی حیثیت سے گنجائش رکھی ہے اور تم اپنے ائمہ کیلئے بھی نہیں سمجھتے ہو۔ جسکا مثبت جواب آیا تھا۔ سپاہ صحابہ میرے ساتھ ہوتی تو معاملہ کب کا حل بھی ہوچکا ہوتا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

لا اسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ کی تفسیر میں پہلے مشرکینِ مکہ مخاطب اور بعد میں مسلمان مخاطب

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

صلح حدیبیہ سے پہلے نبیۖ پر ذنب بوجھ کا کیا مطلب تھا، فتوحات کے دروازے کھلنے کے بعد ذنب بوجھ کا کیا مطلب تھا؟

فرقہ وارانہ جہالتوں سے مسلمانوں کو نکالنے کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں علم وتحقیق کی روشنی میں قراردادیں پیش کرینگے؟

سورۂ فتح میں فرمایا: انافتحنا لک فتحًا مبینًاO لیغفرلک اللہ…..
”بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطاء کی ۔تاکہ آپ کا اگلا پچھلابوجھ آپ سے ہٹادے۔ اور آپ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرکے رکھ دے۔ اور آپ کو سیدھا راستہ دکھا دے۔اور آپ کی مدد کرے زبردست مدد۔ وہ اللہ ہے جس نے مؤمنوں کے دلوں پر سکینہ نازل کیا،تاکہ ایمان کا اضافہ ہو،ان کے ایمان کیساتھ۔اور اللہ کیلئے آسمانوں اور زمین کے سب لشکر ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے اور حکمت والا ہے۔ تاکہ مؤمنوں اور مؤمنات کو داخل کردے ایسے باغات میں جس میں ہمیشہ رہیں اور ان کی برائیوں کو ان سے دُور کردے۔ اور یہی اللہ کے نزدیک عظیم کامیابی تھی۔ اور منافق مرد،عورتوں اور مشرک مرد ، عورتوں کو عذاب دے جو اللہ سے برا گمان رکھتے ہیں۔ ان کے اوپر برائی کا گھیراؤ مسلط ہے۔ اور اللہ کا غضب ہے ان پر اور ان پر اس نے لعنت کی ہے اور ان کیلئے جہنم مہیا کررکھی ہے۔ اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اور آسمانوں وزمین کے سب لشکر اللہ ہی کیلئے ہیں۔ اور اللہ تو تھا ہی زبردست حکمت والا۔ بیشک ہم نے آپ کو بھیجا گواہی دینے والااور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا۔ تاکہ اے لوگو! تم ایمان لاؤ اللہ اور اسکے رسول پر۔ تاکہ تم اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر کرو۔اور تم اللہ کی پاکی صبح وشام بیان کرو۔ بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں ،بیشک یہ لوگ اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ انکے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ پس جو عہد کو توڑیگا تو اپنے نفس کیخلاف عہد کو توڑے گا۔ اور جو اس عہد کو پورا کریگا جس بات پر اس نے اللہ سے عہد کیا ہے تو اس کو عنقریب بہت بڑا اجر دے گا۔(پہلا رکوع)
اسلام میں ایک دور مشکلات کا اور دوسرا دور فتوحات کا ہے۔ رسول اللہۖ کی بعثت سے ہجرت تک ، غزوۂ بدر،غزوہ اُحد وغیرہ اورصلح حدیبیہ تک مشکلات کا دور تھا۔ ان مشکلات کے دور میں بھی رسول اللہۖ پر بہت بڑا بوجھ تھا۔ دین کی تبلیغ اور اسلام کے غلبے کا خواب پورا ہونے کیلئے جس ماحول کی ضرورت تھی وہ میسر نہیں تھا۔ مشرکین مکہ اصل دشمن تھے جنہوں نے حبشہ پہنچ کر نجاشی سے مسلمانوں کی دشمنی کی انتہاء کردی تھی۔ جب قیصر روم کو رسول اللہۖ کے دشمن کی زباں سے حالات معلوم ہونے پر یقین تھا تو رسول اللہۖ کو اپنی تحریک کی کامیابی پر کتنا یقین ہوگا؟۔ تاہم جن مشکلات کا سامنا خاص طور پر اہل مکہ کی طرف سے تھا وہ بہت بڑا بوجھ تھا اور اس بوجھ کو سورۂ فتح میں ذنب کہا گیا۔ جب کوئی انسان کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے تو وہ اس کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ بس اللہ میرے گناہ معاف کردے لیکن اس گناہ سے مراد اس طرح کا گناہ نہیں ہوتا جس طرح کے عام گناہوں کا تصور ہے۔ علماء حضرات ایک عام محاورے کی زبان سمجھنے کے بجائے گناہ کاترجمہ کرتے ہوئے نبیۖ کی لغزش، کوتاہی اور گناہ کی مقدار کا پیمانہ لیکر کھڑے ہوگئے۔
رسول اللہۖ کی سیرت اسوۂ حسنہ کو اسلئے اعلیٰ اور مثالی نمونہ نہیں قرار دیا کہ رحمة للعالمینۖ کی زندگی میں کوئی لغزش تھی۔ فلاتمن تستکثر ”آپ احسان اسلئے نہ فرمائیں کہ خیر کثیر کا بدلہ ملے گا” بلکہ بھلائی کے بدلے مشرکینِ مکہ نے جانی دشمن بننا ہے۔ عام قاعدہ جزاء لاحسان الا حسان ہے لیکن جب انسانی زندگی کے معیارات میں فرق ہوتا ہے تو پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں اور اللہ نے فرمایا کہ ”ہم تمہیں ضرور بضرور آزمائیں گے خوف میں سے کچھ چیز پر، اموال اور جانوں کی کمی سے اور ثمرات کی کمی سے۔ بشارت دو صبر کرنے والوں کو”۔
ثمرات پھل اور خشک میوے نہیں وہ تو اموال میں شامل ہیں بلکہ تحریک کا اچھا نتیجہ نکلنا ثمر ہوتا ہے۔ نبیۖ کو مکہ میں شعب ابی طالب میں کتنے سال اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قل لااسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ ”کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تحریک پر کوئی صلہ نہیں مانگتا مگر قرابتداری کی محبت چاہتا ہوں”۔ قریشِ مکہ نبیۖ کے قرابتدار ، پڑوسی، ہم زبان ، قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے تھے تو اس میں فطری محبت کا لحاظ ہوتا ہے۔ نبیۖ سے فرمایا کہ اہل مکہ سے اس کا مطالبہ کرو۔ جب صلح حدیبیہ ہوگئی تو نبیۖ نے اطمینان کا سانس لیا کہ دشمن سے خوامخواہ کے خطرات ٹل گئے۔ مسلمان مکہ سے ہجرت کرگئے مگر مدینہ میں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا گیا۔ اس کی مثال پاکستان اور بھارت کی ہے۔ اگر ہندوستان سے ایسا معاہدہ ہوجائے کہ ہماری جان چھوٹ جائے تو اس سے پاکستان اطمینان کا سانس لے گا۔ دنیا کے ہر کونے میں پاکستان کا پیچھا کیا جاتا ہے۔
صلح حدیبیہ کو اللہ نے فتح مبین کہا، ابوجندل کو حوالے کرنا دل گردے کا کام تھا مگر صلح حدیبیہ سے بوجھ نبیۖ کا ہٹ گیا اور اس بوجھ کو ذنب کہا۔ فتوحات کا دروازہ کھل گیا تو انصار، مہاجرین اور اہلبیت نے خلافت پر فائز ہوکر دنیا کا نظام سنبھالنا تھا۔ اگر قریش وانصار نے خلافت کے استحقاق کیلئے نبیۖ کے کفن دفن کو پسِ پشت ڈال کر اس فتنہ انگیزی سے نمٹنا تھا تو نبیۖ کو اس کی فکر بھی ضرورتھی۔نبیۖ نے اسلئے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تمہارے لئے اس مودة فی القربیٰ سے مراد میرے اہلبیت ہیں۔جن میں علی وآل علی شامل تھے۔
نبیۖ پر اسلامی فتوحات کے بعد اپنے خلفاء اور تخت نشینوں کا قرآن و سنت کے اعلیٰ ترین مشن سے پھر جانے کا بوجھ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کو سورۂ فتح میں یہ بوجھ اترنے کی بھی خوشخبری دیدی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا ہے کہ جسکے کچھ جانشین اسکے مشن پر چلتے ہیں، پھر ناخلف جانشین آتے ہیں جس کام کا ان کو حکم ہوتا ہے وہ نہیں کرتے، جس کا حکم نہیں ہوتا وہ کرتے ہیں۔ نبیۖ کے اس بوجھ کو اللہ نے فتوحات کے حوالے سے ہٹا دیا تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تھا تو پھر شمع بجھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ پھر علی و حسن کے دَور تک معاملہ چلتا رہا۔ پھر حسن نے صلح کرکے امیرمعاویہ کی امارت پر امت کو متفق کردیا ۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے اقتدار چھوڑ دیا۔ ابوسفیان کی اولاد سے اقتدار منتقل ہوکر مروان بن حکم اور اس کی اولاد کا دور شروع ہوا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز نے خلافتِ راشدہ کا دور تازہ کیا۔ پھر بنو اُمیہ سے خلافت چھن گئی اوربنو عباس نے خلافت سنبھال لی۔
علی کی اولادکو اسلئے محروم کیاگیا کہ عباس چچا اور علی چچازاد تھا مگر علی کا باپ مسلمان نہیں۔ سلطنت عثمانیہ نے اقتدار سنبھالا تو الائمة من القریش بھول گئے جو انصار کے مقابلے میں ابوبکر و عمر نے پیش کی تھی۔ رسول اللہۖ نے ان ادوار، جبری حکومتوں اور پھر رسول اللہ ۖ نے طرزِ نبوت کی خلافت کا ذکر فرمایا جو پوری دنیا میں قائم ہوگی۔ شیعہ سنی ہی نہیں یہودونصاریٰ اور زمین وآسمان والے سب اس سے خوش ہونگے۔ اسلئے رسول اللہۖ پر آنے والے ذنب بوجھ کو بھی اللہ نے سورۂ فتح میں ختم کردیا تھا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

شیعہ سنی، ملحد مسلمان، پی ٹی ایم (PTM)اور ہماری ریاست کے اندر جو منافرت ہے اس کا علاج باہمی بات چیت ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

طالبان دہشت گردوں نے جس ماحول میں جو کچھ کیا تھا ،اس میں کمزوری اور نااہلی کا اعتراف براڈ شیٹ کی طرح واضح ہے؟

اگر فوج بعد میں اپنا مثبت کردار ادا نہ کرتی تو پختونوں کا حشر القاعدہ، طالبان، داعش، ازبکوں نے آخری حد تک برا کرنا تھا۔

ایک انسان کا بے گناہ قتل گویاپوری انسانیت کا قتل ہے۔ قرآن کاواضح پیغام ہے۔ کچھ افرادکا بے دریغ قتل ہوا جہاں نبیۖ نے کچھ لوگوں کی سرکوبی کا فریضہ انجام دینے کیلئے خالد بن ولید کی سربراہی میں لشکر بھیجا تھا۔ پھر نبیۖ کو زیادتی کا پتہ چلا تو فرمایا کہ ”اے اللہ ! گواہ رہنا میں خالد کے فعل سے بری ہوں”۔ لوگوں نے زکوٰة سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر نے خالد بن ولید کی سربراہی میں لشکر تشکیل دیا۔ صحابی مالک بن نویرہ کو بھی ظالمانہ طریقے سے قتل کرکے اس کی بیوی کیساتھ زبردستی شادی رچالی۔ جس پر عمر فاروق اعظم نے کہا کہ خالد بن ولید پر سنگساری کی حد نافذ کی جائے۔ لیکن حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ابھی ہمیں خالد بن ولید جیسے بہادرکی ضرورت ہے اور ڈانٹ ڈپٹ اور تنبیہ پر اکتفاء کیا تھا۔ یہ سارے معاملات ہمارے سنیوں کی کتابوں میں درج ہیں۔
اگر کہا جائے کہ حضرت خالدبن ولید کی قیادت میں پٹھانوں نے قتل عام کیا تو پختون اس پر فخر کرینگے ۔ جب طالبان کی شکل میں محسودوں نے لوگوں پر ظلم کا پہاڑ توڑا تو محسود طالبان پر فخر کرتے تھے۔ اگر منظور پشتین گودی بچہ تھا تو سارے محسود تو گودی بچے نہیں تھے۔ ٹانک سے لیڈی ڈاکٹر رضیہ بیٹنی کو اغواء کرکے تاوان کی رقم وصول کی گئی اور بہت کچھ کیا۔ اگر فوج جان نہ چھڑاتی تو محسودوں سے ہی طالبان، داعش، القاعدہ ،ازبک عورتیں اٹھاکر لے جاتے مگر محسودوں کی اکثریت سمجھ رہی ہے کہ ریاست نے تحفظ نہیں دیا یا کسی نے لوٹ مار کی تو ہم بھی غلطی پر ہی تھے۔
حقائق اجاگر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے حالات میں بھی نرم گوشہ پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے اپنے لشکر کے سپاہ سالار کو بدلے میں قتل کیوں نہ کیا؟۔ مسلمان تأویل کریگا کہ فوجی مہم میں زیادتی ہوتی ہے لیکن ملحد یہ کبھی نہیں مانے گا۔ اگر ملحد سے کہا جائے کہ اللہ عذاب سے پہلے بے گناہوں کو نکال دیتا ہے اور پھر مجرموں کو نشانہ بناتا ہے تب بھی ملحد کہے گا کہ میں نہ مانوں۔ زلزلوں، طوفانوں میں کتنے بے گناہ مارے جاتے ہیں؟۔ اللہ ظالموںکو کیوں نہیں مارتا ہے؟۔ لیکن انبیاء کرام کی دعوتِ حق سے انکار کے سبب اللہ کا عذاب الگ ہے اور قدرتی طوفانوں اور زلزلوں کی بات الگ۔ عربی عالم دین ابوالعلاء معریٰ نے ہزارسال قبل کہا تھا کہ طوفان اندھی اونٹنی کی طرح بے گناہ اور گناہگار کو یکساں کچل دیتا ہے لیکن جس طرح انسانوں کے فعل میں فرق ہے۔ ٹارگٹ کا معاملہ جدا ہے۔ دھماکوں کا جدا ہے جس میں وہ بھی مارے جاتے ہیں جو ٹارگٹ نہیں ہوتے۔ فوجی آپریشن کا معاملہ جدا ہے۔ رسول اللہۖ نے فوجی آپریشن میں بے گناہ افراد کے قتل سے برأت کا اعلان کیا تو وہ الگ بات تھی ۔ ابوبکر کے دور میں خالد بن ولید سے درگزر کا معاملہ ہوا تو اس پر حضرت عمر نے اختلاف کیا ۔ حضرت عمر نے اظہارکیا کہ ”نبیۖ سے کاش ہم زکوٰة نہ دینے والوں کیخلاف قتال کا حکم پوچھ لیتے؟”۔ پھر ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہوا کہ زکوٰة پر قتال نہیں ہوسکتا لیکن ان کم عقلوںنے پھر نماز کی سزا پر اختلاف کیاتھا۔
ابوبکر و عمرکے بعد حضرت عثمان کی المناک شہادت کا معاملہ بالکل جدا تھا۔ علی کا مدینہ چھوڑکر کوفہ میں شہید ہونا، پھر حسن کا خلافت سے دستبردار ہونا اور پھر یزید کی نامزدگی اور کربلا میں حسین کی بڑی بے دردی سے شہادت، عبداللہ بن زبیر کی حرم کعبہ میں المناک شہادت وہ سلسلہ ہے جس کے بعد تاریخ کے اوراق داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ علامہ اقبال ایک انقلابی شاعر تھے اور انہوں نے پیش گوئی اوردعاؤں سے بھی ہمیں نوازا ہے۔
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
ہمارا وزیرستان،خیبر پختونخواہ سوات تک جس طوفان سے آشنا ہوا ہے اس پر دنیا گواہ ہے۔ اب اللہ نہ کرے کہ پنجاب کی سرزمین اس طوفان سے آشنا ہوجائے۔
مرچ کھا کر قہر خطاب برساؤ پنجابی!
راوی و چناب میں کیوں انقلاب نہیں؟
منظور پشتین بچہ ہوگاجب سردار امان الدین شہید نے مجھے، مولانا اکرم اعوان اور مولانا نور محمد شہید ایم این اے (MNA) جنوبی وزیرستان کو انکے علاقے میں جلسہ کیلئے بلایا تھا۔ مولانا اکرم اعوان نے کہا تھا کہ ”میں کاشتکار ہوں۔ جب کاشتکار فصل اٹھاتا ہے تو کچھ گندم بیچ کر قرضہ چکا تا ہے، اخراجات پورے کرلیتا ہے اور کچھ غلہ پسائی کیلئے دیتا ہے اور جو سب سے بہترین گندم ہوتی ہے اس کو فصل کیلئے رکھ دیتا ہے۔ میں قسم کھاکر کہتاہوں کہ وزیرستان کے لوگوں کو اپنے مالک اللہ نے سب سے قیمتی سمجھ کر فصل کیلئے رکھا ہے۔ دنیا میں امامت کا کام ان سے لینا ہے”۔
یہ تو سچ ہے کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے۔ مجاہد لنگر خیل محسود حمید اللہ نے مجھ سے کہا کہ جہادی تنظیم کے پاس ڈیڑھ کروڑ ریال پڑے ہیں، وہ وزیرستان میں مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ ان کو صرف آپ پر اعتماد ہے۔ میں نے کہا کہ میں کسی کیلئے استعمال نہیں ہوسکتا ہوں۔ پھر حامد میر نے مفتی نظام الدین شامزئی کا انکشاف لکھاکہ ایک جہادی تنظیم واشنگٹن سے بواسطہ رابطہ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ پیسے منتقل کرکے علماء کو خرید رہی ہے۔ اگر یہ باز نہیں آئے تو چوراہے میں ان کا انکشاف کردوں گا۔ طارق اسماعیل ساگر نے بھی انہی سالوں کے حوالے سے قبائلی علاقہ میں امریکی ڈالروں کا بہت بڑا انکشاف کیا ہے۔
جب مجھے اسلام آباد میں پی ٹی ایم (PTM)کے پروگرام سے خطاب کا موقع مل گیا توان کا حوصلہ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ لیا تھا۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یابندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی
میں نے تقریر میں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ قبائل امامت کے لائق ہیں۔ گلے شکوے کرنا مردوں کا کام نہیں۔ ریاست ماں ہے تو اسکے سامنے اُف نہ کرو۔ ہماری سیاسی لیڈر شپ کورٹ میرج والی باغی بیٹیوں کی طرح ہے ،البتہ یہ نہیں پڑھاکہ:
جو فقر ہوا تلخئی دوران کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
اگرپی ٹی ایم (PTM)ہمارے مشن کو سمجھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتی تو آج پاکستان میں تمام مظلوم قومیں اس کے پیچھے چل رہی ہوتیں۔آج پختون سیاسی ومذہبی قیادت کی سرخیل مریم نوازشریف ہیں جس کی ہڈیوں کا گودا بھی اسٹیبلشمنٹ کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔ محمود خان اچکزئی ، میاں افتخار حسین اور مولانا فضل الرحمن بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کیساتھ پریس کانفرنس کرکے خوش ہوتے ہیں کہ چشم ما روشن دل ماشاد مولانا نے ہی قیادت کامنصب سنبھال رکھا ہے۔ماشاء اللہ چشم بد دور۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

اہل تشیع دوسروں کے اکابرین پر کھلے دل سے تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں مگر جاہلوں کو برداشت کا درس نہیں ملتا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ن لیگ کے دور میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے شخص نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خوب باتیں سنائی تھیں!

عمران خان میں اپوزیشن کیساتھ بیٹھنے کی سکت نہیں، جب اسمبلی میں واپس آیا تو خواجہ آصف نے کوئی شرم بھی ہوتی ہے….سنایا

شیعہ سنی مسئلہ آج کا نہیں بلکہ یہ تاریخ کے ہر دور میں گھمبیر رہا ہے۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ، عمر، عثمان ، معاویہ ، بنی امیہ کے اکثر خلفاء صرف معاویہ بن یزید اور عمر بن عبدالعزیز کو چھوڑ کر ، بنوعباس، سلطنت عثمانیہ کے خلفاء ،صلاح الدین ایوبی ، مغل سلطنت ، جنرل ضیاء الحق و فضل الحق اور اسٹیبلشمنٹ ان کو منصوبہ بندی سے نشانہ بنا رہی ہے۔ جنرل پرویزمشرف، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور عمران خانی دور میں ظلم وزیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جب ہزارہ برادری کے پاس ن لیگی دورمیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ گئے تو ہزارہ سے تعلق رکھنے والے شہری نے آرمی چیف کو کھلی کھلی سنائیں۔ جلیلہ حیدر کا مؤقف واضح تھا، سوشل میڈیا پر اے آر وائی (ARY)چینل کا کلپ ہے جس میں کاشف عباسی سے وزیراعظم عمران نے کہا کہ ”سپاہ صحابہ والے خودمیرے پاس آئے کہ شیعہ سے ہماری صلح کروادو۔ آئی ایس آئی (ISI) والے ہمیں ان سے لڑادیتے ہیں اور ہماری خوامخواہ کی ان سے دشمنی بن گئی ہے”۔
بلوچستان میں مچھ شدت پسند سپاہ صحابہ والوں کا گڑھ ہے۔ پاکستان کی آبادی میں شیعہ یا سنی شدت پسند ہوں تو ان کو ریاست تباہ نہیں کرسکتی ہے۔ حکومت و ریاست کا تعلق اسی معاشرے سے ہے۔ شیعہ سنی سب ریاستی اداروں میں شامل ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ادارہ کسی شدت پسند کی حمایت کرے لیکن افراد میں انفرادی طور پر شدت پسندی کے جراثیم ہوسکتے ہیں۔
پاک فوج نے اپنے افسران کو جاسوسی کے ثبوت میں سزائے موت اور قید کی سزا دی۔ انفرادی حیثیت میں چھپ کر جیسے قادیانی مذہب سے لگاؤ کا مظاہرہ کرکے کسی سازش میں انفرادی طور پر ملوث ہوسکتے ہیں، اسی طرح شیعہ اور سنی اہلکار، افسر بھی اپنے ذاتی اثر ورسوخ سے کوئی کام دکھاسکتے ہیں۔ یہاں ایران و سعودیہ کی پراکسی وار چلی آج بھی یہ خارج از امکان نہیں مگراسکا تعلق اداروں کے ساتھ ہرگز نہیں، سعودیہ میں میرے شیعہ دوست کا بیٹا پاک فوج کی طرف سے ڈیوٹی پر تعینات تھا۔ اگر فوج میں شیعہ سنی مسئلہ ہوتا تو پھر ایک شیعہ کو سعودی عرب کیسے بھیجتے؟
کچھ عرصہ قبل دوبئی سے شیعہ کو نکالا گیا۔میرے سنی ساتھی ناصر علی کو نام کی وجہ سے دوبئی ائرپورٹ پر مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ وہ برسہابرس سے دوبئی میں رہائش پذیر تھا اور آسٹریلیا کا نیشنل تھا، اب آسٹریلیا میں ہے۔ اسلام آباد میں شیعہ دوست کے جاننے والے کی دکان دیکھی جو دوبئی سے نکالا گیا تھا۔ ہمارا شیعہ سنی مسئلہ قدیم دور سے چلا آرہاہے اور یہ حکومتوں کے بس کی بات نہیں اور جب تک اصل مسائل کے حل کی طرف توجہ نہیں دی جائے ، خطرے کی تلوار سب کی گردن پر ہمیشہ لٹکی رہے گی۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ جن صحابہ کے احترام پر ان کو مجبور کیا جاتا ہے ان کی عزت وتوقیر انکے ایمان کے منافی ہے اور اہلسنت سمجھتے ہیں کہ ان اکابر کی توہین ہمارے عقیدے پر ضرب کاری ہے اور اہل تشیع بھی اپنے اکابر کی ذرا بھی توہین کیا اختلاف بھی برداشت نہیں کرتے ہیں ۔
قرآن میں نبیۖ کی طرف ”ذنب” کی نسبت کو سنی مکتبۂ فکر کے معتبر علماء نے اجتہادی خطاء یا لغزش قرار دیا ہے مگر اس پر کسی نے شور نہیںکیا۔ حضرت آدم کا جنت میں ممنوعہ درخت کے پاس جانا بھی علماء کے نزدیک خطاء ہے لیکن اہل تشیع نے کبھی اس پر نہ شور کیا اور نہ غور کیا لیکن دوسروں کے اکابرکی توہین کرکے دل چھلنی کرنیوالا طبقہ خود علمی بحث بھی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ جس طرح وہ اپنوں کو چارج کرتے ہیں اسی طرح دوسرے بھی اپنوں کو ان سے زیادہ چارج کرنے کا بھرپور حق بھی رکھتے ہیں۔
تحریک لبیک کے علامہ آصف جلالی نے یہ کہا کہ حضرت بی بی فاطمہ نے حضرت ابوبکر کے مقابلے میں اجتہادی خطاء کی تھی تو شیعہ نے طوفان کھڑا کیا اور کافی عرصہ اس کو جیل میں گزارنا پڑا ۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے عالم دین نے کہا کہ ”علامہ آصف جلالی کمال کا علم رکھتے ہیں لیکن ان کا طریقہ درست نہ تھا ”۔ جب کسی کی جان پر پڑے تو سب اسی کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ جنید جمشید کی جان پر پڑگئی تو مولانا طارق جمیل نے برأت کا اعلان کیا تھا۔ ہمارے گھر پر طالبان نے حملہ کرکے ظلم کی اس حد تک انتہاء کردی کہ ”طالبان رہنماؤں نے کہا کہ اتناظلم تو یزید نے کربلا اور یہود نے فلسطین میں بھی نہیں کیا جتنا سخت ظلم طالبان نے یہاںکیا۔ اور تو اور خاندان کے لوگ بھی طالبان کو صحابہ اورمجھے غلط ٹھہرارہے تھے، بھائی اورنگزیب شہید نے گھر میں گھسنے والے امیرطالبان کوتھپڑ مارا کہ یہ ہمت کیسے ہوئی ،جس کی جرأت کو زمین کے جنات اور آسمان کے فرشتے سلام کرتے ہونگے لیکن اپنے خاندان والے نے کہا کہ یہ تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔
میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں تھا تو ہمارے استاذپرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ناظم تعلیمات تھے، جامعہ کی چھٹی بھی نہیںکرائی تھی ۔ سواداعظم کے اکابر مولانا سلیم اللہ خان ، مولانا اسفندیارخان اپنے مدارس سے طلبہ لیکر آئے تھے کہ ہم شیعہ کے جلوس کو یہاں سے گزرنے نہ دینگے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ” فسادی آئے ہیں”۔ مولانا یوسف بنوری ماتم کے جلوس کے شرکاء کیلئے مسجد کے مٹکے پانی سے بھرواکر رکھتے تھے۔ شیعہ کے جلوس کو روکنا ہمارے مدرسے کی روایت کے خلاف ہے۔ آپ لوگ ان فسادیوں سے دور رہو”۔
جامعہ فاروقیہ وغیرہ کے طلبہ نے مسجد کی دکانوں کی چھت پر چڑھ کر پتھر مارنا شروع کئے تو پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے۔پھر لوگ بیہوش ہونا شروع ہوگئے تو ہم نے مدد کی۔ دوسرے دن ڈاکٹر صاحب نے مجھے مخاطب کرکے ڈانٹا کہ تم لوگ منع نہیں ہوئے۔ ہمارے یہاں بال بچے ہیں۔سب کو تکلیف میں ڈال دیا”۔ ہم میں صفائی پیش کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔
پھر جامعہ سے شیعہ کو قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دینے کافتویٰ کتابی شکل میں جاری ہوا، پھر مجھے پتہ چلا کہ حاجی محمد عثمان پر فتویٰ لگایا گیا تو جامعہ والے اسکے خلاف تھے لیکن فسادی اصلاح والوں پر غالب تھے۔ پھر مولانا سید محمد بنوری کو گھر میں شہید کیا، پہلے جنگ اخبار میں خود کشی کی خبر چلی جب شہادت ثابت ہوگئی تو ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب پر الزام لگاناشروع کیا۔ ہم نے لکھا تھاکہ استاذ جی نے کبھی مکھی نہیں ماری۔شرپسند مدرسہ پر قبضہ چاہتے ہیں۔ شہید بنوری کا تعلق جمعیت ف سے تھا۔ مولانا فضل الرحمن سے انہوں نے کہا تھا کہ مجھے قتل کردیا جائیگا مگرمولانا نے کہاکہ” تم ڈرامہ کر رہے ہو”۔ خود کشی کی خبرجنگ میں شائع کرنیوالا مفتی جمیل خان اس وقت مولانا فضل الرحمن کیساتھ تھا۔ آج نواز شریف خرچہ اٹھا رہاہے،اس وقت مفتی جمیل خرچہ اُٹھاتا تھا۔اسلئے مولانا محمد خان شیرانی نے پاکستان کو کرائے کا چوک قرار دیا تھا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

سورۂ حدید میں مسلمانوں کیساتھ دو حصوں کا وعدہ ہے، پہلا حصہ فتح روم کا دیکھ لیا اور اب دوسرے کی باری ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ، تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے دیگا اور تمہارے لئے روشنی بنادیگا۔

تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنا فضل دیتا ہے۔ الحدید

جب قیصرروم نے ابوسفیان سے نبیۖ کے متعلق اس وقت سوالات دریافت کئے تھے جب ابوسفیان نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ قیصر روم نے اوصاف سن کر کہا تھا کہ سچے نبی کے یہی اوصاف ہوتے ہیں۔ سچا، صادق اور امین ۔ سب سے زیادہ شریف خاندان سے تعلق رکھنے والا اور جنگوں میں کبھی فتح اور کبھی شکست اہل حق کی نشانی ہے اور توحید اورمعاشرتی برائیوں کے خاتمے کی دعوت بھی ایک صحیح اور سچے نبی کی علامات ہیں۔ غریب پرور اور غریبوں سے محبت کا ناطہ بھی اہل حق کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
جب رسول اللہۖ نے قیصرروم کو خط بھیج دیا تو قیصر نے اپنے دربار میں اپنے وزیروں اور مشیروں کو بلایا کہ اس کی دعوت قبول نہیں تو ایک دن یہ تخت ان کے قدموں کے نیچے ہوگا۔ پھر جب وزیر اور مشیر مشتعل ہوگئے تو اس نے کہا کہ میں تمہاری صرف آزمائش کرنا چاہتا تھا۔
اسلام کی نشاة اول گزرچکی ہے ۔ رسول اللہۖ نے اسلام کی نشاة ثانیہ کی بھی خبر دی ہے۔ اللہ نے سورۂ الحدید کی آخری دو آیات میں مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول پر ایمان کی دعوت دی ہے اور یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ ان کو دو حصے عطاء کرے گا۔ پہلا حصہ اسلام کی نشاة اول میں گزر چکا ہے اور اہل کتاب پر یورپ اور افریقہ میں مسلمان غالب آگئے تھے اور اب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو ترقی وعروج کی راہیں کھولی ہیں۔ اس میں بھی اگر ہم اللہ سے ڈرے اور اسکے رسول حضرت محمدۖ پر ایمان لائے اور ایمان لانے کا حق ادا کردیا تو آج پھر مسلمانوں کو غلبہ مل سکتا ہے۔ قرآن وسنت میں بھرپور نشاندہی موجود ہے۔
یوم تری المؤمنین والمؤمنات یسعٰی نورھم بین ایدھم و بایمانھم بشرٰکم الیوم جنٰت تجری من تحتھا الانھٰر خالدین فیھا ذٰلک ھو الفوز العظیمO یوم یقول المنٰفقون والمنٰفقٰت لذین اٰمنوا انظرونا نقتبس من نورکم قیل ارجعوا ورآء کم فالتمسوا نورًا فضرب بینھم بسور لہ باب باطنہ فیہ الرحمة و ظاہرہ من قِبلہ العذابO ینادونھم الم نکن معکم قالوا بلٰی و لکنکم فتنتم انفسکم وتربصتم وارتبتم وغرتکم الامانی حتی جآء امر اللہ و غرکم باللہ الغرورO فالیوم لایؤخذمنکم فدیة ولا من الذین کفروامأوٰکم النار ھی مولٰکم و بئس المصیرO
” انقلاب کے دن تم دیکھو گے کہ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی روشنی ان کے آگے اور دائیں ہاتھوں میں ہوگی۔ آج کے دن تمہیں بشارت ہے۔ ایسے باغ کی جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور اس میں ہمیشہ زندگی بھر رہیں گے۔ یہ ہے وہ بہت بڑی کامیابی۔ اس نقلاب کے دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف بھی توجہ کریں تاکہ تمہاری روشنی سے کچھ ہم بھی حاصل کرلیں۔ کہا جائیگا کہ لوٹ جاؤ، اپنے پیچھے کی طرف اور کوئی روشنی پکڑو۔ اس دوران ان کے درمیان ایک قلعہ کی دیوار کھینچ دی جائے گی۔ جس کا دروازہ بھی ہوگا۔ دروازے کا اندرونی حصہ رحمت ہوگا اور باہر سے بظاہر بہت تکلیف دہ دکھائی دیتا ہوگا۔ وہ پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟۔ وہ کہیںگے کہ ہاں کیوں نہیں! لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنے میں ڈال دیا اور انتظار میں لگ گئے۔اور شک میں پڑگئے اور اُمیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈالا۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آیا اور تمہیں دھوکے باز نے اللہ سے دھوکے میں ڈالے رکھا۔ آج کے دن تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائیگا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تمہارا آقا آگ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔”۔( الحدید آیات12سے 15)
یہ دنیا کے انقلاب کا ذکر ہے جہاں اچھے لوگوں اور منافقوں کے درمیان ایک دن تفریق ہوگی۔ ایک قلعہ نما دیوار کے پیچھے ایک دوسرے تک بات پہنچے گی اور ان کو انکے کرتوت سے آگاہ کیا جائیگا ۔ آخرت میں فدیہ دینے کا کوئی تصور نہیں ہوگا ۔ انقلاب کے بعد منافقین کہیں گے کہ ہم بھی کچھ پیسے دینا چاہتے ہیں لیکن ان سے کہا جائیگا کہ تم سے فدیہ قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کافروں سے فدیہ لیا جائیگا۔ پہلے ادوار میں مصنوعی بجلی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے ایسے تصورات نہیں تھے جس طرح سے پہاڑ جتنے بڑے بحری جہازوں کا تصور نہیں تھا۔ حقائق اس وقت سمجھ میں آئیں گے جب انقلاب برپا ہوجائیگا۔
بچوں کیلئے رہائشی سکول بنے ہیں جن کے گیٹ پر باہر سے لکھا ہوتا ہے کہ ” مار نہیں پیار” اور اندر لکھا ہوتا ہے کہ ”پیار نہیں مار”۔ ہٹ دھرم منافقوں سے پیچھا چھڑانے کے دروازے کے باطن اور ظاہر کا فرق ہتھیار ہوگا۔
یہاں پر بات اللہ نے ختم نہیں کی ہے بلکہ اسکے بعد اچھی طرح سے مؤمنوں کو سمجھادیا ہے کہ اُٹھ جاؤ۔
الم یأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ و مانزل من الحق ولایکونوا کالذین اوتوالکتٰب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم وکثیر منھم فٰسقونO اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قد بینالکم الاےٰت لعلکم تعقلونO (الحدید آیات16، 17)
”کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکرکیلئے ڈر جائیں اور جو اللہ نے حق کیساتھ نازل کیا۔ اور ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ، جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی تھی۔ پھر ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں اکثر فاسق تھے۔ تم لوگ جان لو! کہ بیشک اللہ زمین کوزندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد ۔ تحقیق ہم نے اپنی آیات کو واضح کردیا ہے ہوسکتا ہے کہ تم عقل سے کام لے لو”۔
اللہ نے آگے فرمایا کہ ”
لقد ارسلنا رسلنا بالبینٰت و انزلنا معھم الکتٰب والمیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ بأس شدید و منافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ ورسلہ بالغیب ان اللہ قوی عزیزO
” بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلائل کیساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی اور میزان تاکہ لوگوں میں انصاف کیساتھ قیام کریں۔ اور ہم نے لوہا اتارا ،جس میںبہت سختی ہے اور اس میں لوگوں کیلئے منافع ہیں۔ اور تاکہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اسکے رسول کی کون غیب کے باوجود مدد کرتا ہے۔ اللہ بہت طاقت والا زبردست ہے۔ (الحدید آیت25)
اہل کتاب نے افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کردیا لیکن مسلمانوں کی حکومت آئے گی تو لوہے کو صرف منافع بخش چیزوں کیلئے دنیا میں استعمال کریں گے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ معاشی، معاشرتی اور تعلیمی کسی قسم کا انصاف ہم نے قائم نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ سے امت مار کھارہی ہے اورغریب اور امیر کے درمیان دیواریں کھڑی ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana