پوسٹ تلاش کریں

کانیگرم سے تنگی:خوانین براستہ خواتین

کانیگرم سے تنگی:خوانین براستہ خواتین

نوشتۂ دیوار باکمال لوگ لاجواب سروس

اگربالفرض بلاول بھٹو،آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو ، آصف علی زرداری کا پورا خاندان نواب شاہ سے نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہو اور اندورنِ خانہ مشہور ہو کہ بھٹو نہیں نواب شاہ کے زرداری ہیں۔ پھر وہ مرحلہ آجائے کہ اصل بھٹو کو خطرہ لاحق ہو۔ عوام ان کو بھی زرداری سمجھنے لگیں تو بھٹو خاندان کو یہ حق ہوگا کہ یہ بتائے کہ وہ ہم نہیں یہ لوگ ہیں ۔جن پر زرداری سے بھٹو بننے کی بات لاڑکانہ سے نواب شاہ اور سکھر سے کراچی تک موجود ہے؟۔
سبحان شاہ کی اولاد سو بار تنگی بادینزئی سے سید بنے ۔دنیا سیدوں سے بھری ہے۔ ہمیں کیا؟۔ ہمارا یہ حق ہے کہ لوگوں کو بتائیں کہ جن پر بادینزئی کا الزام ہے وہ ہم نہیں آل سبحان ہیں ۔ ان کے ساتھ بھانجے ماموں والا رشتہ ہے۔ جیسے آصف علی زرداری کی اولادبھٹو اور اصل بھٹو خاندان کا ہے۔
بلاول بھٹو کو پیپلزپارٹی کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو کی وجہ سے ملی ہے۔اگر یہ منصب وراثتی ہوتا تو پھر بلاول بھٹو زرداری کی جگہ کوئی بھٹو مستحق ہوتا۔
ہمارا نانا ”خان” سے مشہور تھا۔ حتی کہ اس کا نام اور وجہ تسمیہ کسی نے معلوم نہیں کیا ۔سلطان شاہ ولد صنوبر شاہ ولد سبحان شاہ۔سبحان شاہ کے4بیٹے تھے ۔ سیداکبر شاہ، صنوبر شاہ، منور شاہ ، مظفرشاہ ۔
وزیرستان پر انگریز کا قبضہ نہ تھاتو بلوچستان طرز پراثر بڑھانا شروع کردیا۔جہاں خان، نواب، سردار کا کوئی وجود نہ تھا ۔ بلوچستان میں ”خان آف قلات” بڑی چیز تھی۔ نواب اور سردار کی قبیلے پر چلتی تھی۔ وزیرستان میں ”خان” گمنام جاسوس کے دو چہرے تھے۔ ایک انگریز سرکار کو خفیہ رپورٹ دینا اور دوسرا عوام میں اپنی اوقات کے مطابق کام۔ سید اور ملا کی عزت تھی۔انگریز نے جن کو استعمال کیا عوام کی نظر میں قابل نفرت جعلی سید اور جعلی ملا تھے اور اس کی مثال سیداکبر اور ملا سالم کا چرچا تھا۔
سیداکبر شاہ کو سید حسن شاہ بابو نے ایجنٹ قرار دیکر رشتہ نہیں دیا۔ سبحان شاہ کے باقی 3بیٹوں منور شاہ، صنوبر شاہ اور مظفر شاہ کو رشتہ دیا۔ کانیگرم کا ”خان” لاولد تھا۔ ایک بیٹی اپنے خاندان کے شخص میانجی خیل کودی اور دوسری سیداکبر شاہ کودی، پھر خان کی وراثت کا مقدمہ تنگی بادینزئی کے سیداکبر شاہ کی بیوی کے حق میں دغا بازی سے جیت لیا۔
آل سبحان میں ”خان” کی نوکری میانجی خیل ”خان” سے اس کی بیٹی کے توسط سے منتقل ہوئی۔ سیداکبر شاہ کا نواسہ اور خان کا بیٹا ”محمود” بلاول کی طرح مگر نانی کا جانشین بن گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو دو خواتین تھیں ۔ محمود سے پہلے اس کی ماں اور اس کی نانی خان تھیں اور اگر یہ سلسلہ سیداکبر سے شروع ہوتا تو پھر سب آل سبحان کا اس پر حق بنتا تھا۔ محمود کے قتل کے بعد سیداکبر شاہ کا سن ان لاء سلطان اکبر شاہ آصف علی زرداری کی طرح ”خان” بن گیا۔ سلطان صنوبر کی جگہ سلطان اکبر بن گیا۔ ”خان” کا منصب سلطان اکبر سے لیکر پیر منہاج تک مفادات کی چوسنی تھی۔
انگریز پولیٹیکل ایجنٹوں سے پاکستان بننے کے بعدآج تک بھیک کا حصول فطرت ثانی ہے۔
اے ذوق دیکھ دختر زر کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
قابض انگریز سے ظالم طالبان تک کی ٹانگوں میں لٹک کر چوسنی سے منہ لگائے رکھنے والے خان کو دنیا جانتی ہے۔جس کاسب سے گھناؤنا دھندہ سفید کاغذ پر دستخط کرکے مفادات حاصل کرنا تھا۔
جن کا جدی پشتی دھندہ یہی رہاہو تو پھر ان کا کیا کہنا؟۔ پہلے سلطان اکبر شاہ نے اپنے عزیزوں کا استحصال کیا۔ استعمال اپنے بھائیوں کو کیا۔ جو پاگل اور سادہ لوگ تھے۔ پھرماموں غیاث الدین نے استعمال کیا تھا۔ جس سے سب کی نظرمیں گرگئے۔ اب منہاج استعمال کرکے بیڑہ غرق کررہا ہے۔
میں نے بفضل خدا قرآن کی بنیاد پر مسلمانوں کے چودہ طبق روشن کئے ۔ آل سبحان پر تبصرہ حفظ ما تقدم کے طور پر منہاج کے شر سے بچنے کیلئے کردیا۔
کوئی بعید نہ تھا کہ کانیگرم میں ہمارے اور آل سبحان کے کچھ بچے زمینی تنازعہ پر ایکدوسرے کو قتل کردیتے۔ منہاج اور اسکے بچے آرام سے بیٹھتے۔ طالبان اور ہمارے درمیان یہ کھلم کھلا کھیل رہا تھا۔ شیطان اپنی منصوبہ بندی اور اپنا مکر کھیلتا ہے۔رحمن اپنے کھیل سے اس کو ناکام بنادیتا ہے۔ طالبان کی دشمنی سے تو ملک بدر نہ ہوئے ۔نثار نے رؤف سے کہا کہ” زمین کے معاملے پر ملک بدرہوں گے”۔
بھٹو کی بیوی نصرت بھٹو صدر سکندر مرزا (پوتا میر جعفر)کی بیوی کی کزن تھی۔ نصرت بھٹو کی وجہ سے بھٹو کو اہمیت ملی۔ سکندر مرزا سے غداری کرکے بھٹو نے جنرل ایوب خان کا ساتھ دیا۔ جمہوریت سے غداری کرکے شیخ مجیب کو حکومت نہیں دی ۔ پھر سن1977میں دھاندلی کرکے سیاسی قیادت کو جیل میں ڈال دیا۔ اگر کر اس بلاول بھٹو زرداری سے ذوالفقار جونیئر یا فاطمہ بھٹو کی سیاسی وراثت پر جنگ شروع ہوگئی تو بلاول کہہ سکتا ہے کہ نصرت بھٹو کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے مقام پایا جو ایرانی تھی۔ اور اگر بلاول بھٹو زردای کو ماردیا جائے تو آصف علی زرداری بھٹو بن سکتا ہے کہ وہ سن ان لاء ہے۔
سلطان اکبر شاہ جب کانیگرم میں گھر بنارہا تھا تومقامی مزدوروںنے انکار کیا۔ باہر سے مزدور لایا گیا تو بم دھماکے میں دو کشمیری مزدور مارے گئے۔ مظفرشاہ مولانا عبداللہ درخواستی کے پیر بھائی تھے۔ فیروز، کرم شاہ، سرور شاہ نے کانیگرم کا بنابنایاگھر ایک برکی سے خریدا۔کانیگرم والے سبحان شاہ کی اولاد سے نفرت کرتے تھے ، ہماری وجہ سے رعایت دی۔ نفرت کی وجہ سید اور برکی کا تعصب نہیں تھا بلکہ ان کا اپنا نامہ اعمال تھا ورنہ ہم سے کیوں عقیدت و محبت رکھتے ہیں؟۔یہ حقائق واضح کرنا فریضہ تھا۔
میرے والد نے ایک دنیا کو مالی مفاد دے کر بہت خوش رکھا لیکن بھائی بڑے بڑے عہدوں پر رہ کر قرابتداروں کو خوش نہ رکھ سکے اسلئے کہ رائل فیملی کی لالچ، بدتمیزی اور کم نیتی کی وجہ سے بھائیوں لوگ دور رہتے تھے ۔ ہم دو چھوٹے بھائیوں سے بھی یہ لالچی لوگ بڑا خار رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ نثار نے جہانزیب کو حفاظت کیلئے بھیجا تو ماموں کہہ رہا تھا کہ نثار مشترکہ گھر پر قبضہ کررہا ہے۔
نظم مگہ چوہاکی طرح آدمی کو نہیں ہونا چاہیے
اوسے پہ کندو کے یارہ غل یی پلار دے غل وو
مور دے غلچکے وہ ستا نیکہ د بدو مل وو
قوم دے حرام خور دے قبیلہ دے حرام خورہ
دہمڑ شوے پہ غوڑو پسے لکے دے تورہ سپورہ
دہستا وڑوکے خیٹہ دے ھمہ جھان مڑہ نہ کڑہ
ستا کا سیرہ تندہ د عمرونو غلا سڑہ نہ کڑہ
ترجمہ: تو غلے کے کٹھیاں میں رہتا ہے تو بھی چور ہے اور تیرا باپ بھی چور تھا، تیری ماں بھی لٹیری تھی اور تیرا آباوجداد بھی، تیری قوم حرام خور ہے تیرا قبیلہ بھی حرام خور ہے، روغن کے پیچے مر رہے ہو اسی لئے تو تمہاری دم سوگھ گئی ہے، تیری چھوٹی سی پیٹ کو دنیا بھر کے خوراک نہ بھر سکی، تیری کمینی پیاس کو تمام عمر کی چوری نہیں بجھا سکی۔
اگر عقابوں کے پر کاٹ کر نشیمن پر دھاوا بول دیا ہے اور مہمانوں سمیت بہت لوگوں کو تہہ تیغ کیا ہے تو کیا ہوا ؟۔ کوئی انجام سے نہیں بچے گا۔ انشاء اللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سیداکبر و صنوبر شاہ کا سیاہ باب اپنی قوم کے7افراد کے سازشی قتل سے شروع ہوکر ہمارے مہمانوں سمیت13شہداء تک پہنچ جاتا ہے!

سیداکبر و صنوبر شاہ کا سیاہ باب اپنی قوم کے7افراد کے سازشی قتل سے شروع ہوکر ہمارے مہمانوں سمیت13شہداء تک پہنچ جاتا ہے!

”یہ ایک ایسا کیس تھاجسے مستقبل میں ان قبائل کیساتھ ہمارے معاملات میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ محسود اور درویش خیل کی مخلوط گارسن نے گومل کھلنے کی تکمیل میںہماری ایک پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیااور ایک پختہ حملے کو پسپا کیااور اپنے ہی لوگوں کو گولیاں ماردیں قبائلی لوگ جو مسلسل خونریزی کو جنم دے رہے تھے۔ یہ ایک اچھا امتحان تھا ۔سررابرٹ سنڈمن کا اندازہ غلط نہیں تھاکہ اگر مناسب طریقے سے ہینڈل کیا جائے تووہ اعتماد اور بھروسہ کے قابل ثابت ہوں گے” ۔صفحہ207
سنڈیمین نے اس خطے کی عوام کو غلام بنانے کیلئے بلوچستان میں تجربہ کیا ۔ پھر وزیرستان میں تجربہ کرلیا۔ کس طرح سیداکبر شاہ ایک طرف اپنی قوم کے قتل میں ملوث تھااور دوسری طرف قوم کی طرف سے انگریز کا ٹاؤٹ تھا؟ ۔انگریز دور سے وزیرستان دوغلے پن کا شکار ہے ۔ایک طرف سرکاری عمائدین پاک فوج کے سامنے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور دوسری طرف طالبان کو پالتے ہیں۔ منہاج اس کی مثال ہے۔ جسکے پردادا صنوبر شاہ اور لکڑ دادا سبحان شاہ کانیگرم کے باشندئے نہیں تھے۔ قاتل صنوبر شاہ اوراسکے بھائی مظفرشاہ ومنورشاہ کے بہیمانہ قتل کے بعد سلطان اکبر اور اسکے یتیم چچازاد بھائیوںکو ہم نے کانیگرم میںپناہ دی ۔ انگریز کیلئے اپنی قوم، وطن اور اسلام سے غداری کی اور دہشتگردوں کیلئے ہمیں قتل کردیا۔ یہ سید ہیں ؟۔جسے دیکھ کر شرمائے یزید؟۔نسب نہیں کردار بناتاہے بندے کو پاک یا پھر پلید۔ انسان کو کردار کیساتھ اچھی صفت یا بری خصلت موروثی ملتی ہے۔ ہمارے ساتھ ہوا تو میںنے اپنوںکی غلطی مانی ۔ اکبر علی کی بہن ، منہاج کے بھائی کی شہادت ہوگئی تو طالبان کے سہولت کاروں نے آسمان سر پر اٹھالیا۔بدنسل اور اصیل میںیہی فرق ہے۔
٭٭٭

PAGE:207,257
انگریز اپنی اس کتاب میں لکھتا ہے

Stimulating incidents were not wanting to keep us up to the mark. The Taji-Khel section of the Derwesh-Khels of Wana, who, not without some good grounds, were discontented with the distribution of service allowances made at Appozai, in which they thought their claims had not received due consideration, threatened to attack the KajuriKach post and prevent its being built. I urged Mr. Donald to push on with all his might the finishing of the outer walls and to get the gate up. This he did, and the very day after the gate had been fixed the Taji-Ehels came down with a force some hundreds strong and attacked the post. The garrison consisted of eighty of the lately enlisted Waziri levies, Mahsuds, and Derwesh-Khels of Wana, and a few Border police. Syud Akbar Shah and his brother, Sanobar Shah, Mahsuds of Kanigoram, both non-commissioned officers in the levies, were in charge. They had a few rifles, of which they made good use, as they successfully repulsed the attack and killed seven of the Taji-Khels, including two men of note. This was one of that class of cases which, in our future dealings with these tribes, should not be lost sight of. A mixed garrison of Mahsuds and Derwesh-Khels, in fulfilment of their engagements for the opening of the Gomal, loyally defended one of our posts, repulsed a determined attack, and shot down their own tribesmen, thereby inheriting a legacy of relentless blood feuds. It afforded a good test that Sir Robert Sandeman was not mistaken in his estimate that, if properly dealt with, they would prove deserving of 4 trust and confidence. 9 I may appropriately relate here the conclusion of the affair, as I shall not have to refer to it again. Government, on my recommendation, gave handsome rewards to the defenders of the post. After a short time the Taji-Khels, who were completely crestfallen at the defeat and loss they had suffered, came in and made submission. I realised from them in cash a fine of 700 rs., and took adequate security from them for their future good conduct. I put the case of their alleged grievances before a Council of Elders of the tribe, who settled it to the satisfaction of all parties con* cerned.
٭٭٭
As I could not, therefore, hold out the threat of a punitive expedition, I was obliged to modify the terms, and content myself with inflicting heavy fines and taking security for the future good behaviour of the incriminated persons. I fined the Derwesh-Khels 10,000 rs., and the Mahsuds 9,000 rs. The surety bonds, with agreements on the part of the Maliks in regard to distribution of fines, and holding themselves responsible for the future good conduct of the prisoners, with other conditions, were then drawn up in writing ; the Maliks affixing their seals to them, and swearing on the Koran to abide by their conditions. All the arms and other Government property stolen had been previously restored. The execution of these proceedings, which were carried out in the presence of Mr. Donald and myself, was a very striking and interesting spectacle. Some three hundred Waziris were seated on the ground in a large circle in front of my bungalow at Tank. In the centre was a chair with the Koran wrapped up in a cloth placed on it. Syud Akbar, Shah of Kanigoram, and Mullah Salem, Alizai Malik, stood beside the Koran, and each of the head men of the sections, considered to be in any way implicated or responsible for the offences, and each of the prisoners who had been brought from the lock-up, went up one by one, and, having taken off his shoes, placed the Koran on his head, and had the oath administered to him by the Syud and Mullah, swearing that he would abide by the terms of the agreement. The 19,000 rs. fines were then paid in, and I released the prisoners, and made them over to the Maliks in durbar. I know some people think no good comes from such pro-ceedings, but I cannot agree in this view, and I could refer to many similar ceremonies carried out under the directions of Sir Bobert Sandeman and myself by the Brahoe, Beluch, and Pathan tribes of Beluchistan, with the most excellent results. The Governments of India and the Punjab expressed much satisfaction at the settlement I had made, and in the letter of the Secretary to the Government of India to the Punjab Government sanctioning it he wrote thus :The Governor-General in Council desires to express his cordial concurrence in the Lieutenant-Governor’s high commendation of Mr. Bruce, and the other local officers mentioned by him, especially Mr. Donald, who have been concerned in bringing this matter to so satisfactory a termination.

قوم ، وطن،اسلام کے غدارسیداکبر اور صنوبر شاہ کی کہانی انگریز کی زبانی سادات کے نام پر وہ دھبہ لگادیا ہے جو چنگڑ قوم بھی قبول نہیں کرے گی

انگریز کاترجمہ: ہمارے حوصلے بلند رکھنے کیلئے دلچسپ واقعات کی کمی نہیں تھی۔ وانا درویش خیل کا تاجی خیل سیکشن جو اپوزئی میں خدمات کے الاؤنس کی تقسیم سے ناخوش تھے، جس میں ان کے دعوؤں کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی ، نے کھجوری کچ پوسٹ پر حملہ کرنے اور اس کی تعمیر کو روکنے کی دھمکی دی۔ میں نے مسٹر ڈونلڈ پر زور دیا کہ وہ بیرونی دیواروں کی تکمیل اور دروازہ نصب کرنے کا کام پوری قوت سے جاری رکھیں۔ انہوں نے ایسا کیااور دروازہ نصب ہونے کے اگلے دن تاجی خیلز نے سیکڑوں کی تعداد میں آ کر پوسٹ پر حملہ کیا۔ گارسن میں اسی حالیہ بھرتی کیے گئے وزیر لیویز، محسود، اور وانا کے درویش خیلز اور چند سرحدی پولیس شامل تھے۔ سید اکبر شاہ اور اسکے بھائی صنوبر شاہ کانیگرم کے محسود، جو لیویز میں نان کمیشنڈ افسر انچارج تھے۔ ان کے پاس چند رائفلیں تھیں، جن کا انہوں نے بہترین استعمال کیا، کیونکہ انہوں نے حملے کو کامیابی سے پسپا کیا اور تاجی خیل کے7افراد کو ہلاک کیا، جن میں2اہم افراد شامل تھے۔ یہ ایک ایسا کیس تھا جسے مستقبل میں ان قبائل کے ساتھ ہمارے معاملات میں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ محسود اور درویش خیل کی مخلوط گارسن نے، گومل کے کھلنے کے معاہدوں کی تکمیل میں، ہماری ایک پوسٹ کا وفاداری سے دفاع کیا، ایک پختہ حملے کو پسپا کیا اور اپنے ہی لوگوں کو گولی مار دی قبائلی لوگ، جو مسلسل خونریزی کی وراثت کو جنم دیتے تھے۔ یہ ایک اچھا امتحان تھا کہ سر رابرٹ سنڈمن کا اندازہ غلط نہیں تھا کہ اگر انہیں مناسب طریقے سے ہینڈل کیا جائے تو وہ اعتماد اور بھروسے کے لائق ثابت ہوں گے۔ میں یہاں اس معاملے کے اختتام کو مناسب طریقے سے بیان کر سکتا ہوں، کیونکہ مجھے دوبارہ اس کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکومت نے میری سفارش پر پوسٹ کے محافظوں کو عمدہ انعامات دیے۔ کچھ عرصے بعد، تاجی خیل، جو شکست اور نقصان پر مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے، آئے اور تابعداری کی۔ میں نے ان سے نقدی میں700روپے کا جرمانہ وصول کیا اور ان کے مستقبل کے اچھے رویے کیلئے مناسب سیکیورٹی لی۔ میں نے ان کی مبینہ شکایات کا معاملہ قبیلے کے بزرگوں کی ایک کونسل کے سامنے پیش کیا، جنہوں نے اسے تمام فریقین کی تسلی کے ساتھ حل کیا۔
٭
چونکہ میں سزا دینے والی مہم کی دھمکی نہیں دے سکتا تھا، اسلئے میں نے شرائط میں ترمیم کی اور جرمانے عائد کرنے اور مجرموں کے مستقبل کے اچھے رویے کیلئے سیکیورٹی لینے پر اکتفا کیا۔ میں نے درویش خیلز پر10ہزارروپے اور محسود پر9ہزار روپے کا جرمانہ کیا۔ ضمانتی بانڈز مالکان کی طرف سے جرمانوں کی تقسیم کے حوالے سے معاہدوں کے ساتھ اور قیدیوں کے مستقبل کے اچھے رویے کیلئے ذمہ دار ہونے کی شرائط کیساتھ تحریری طور پر تیار کیے گئے۔ مالکان نے ان پر اپنی مہر ثبت کی اور قرآن پر حلف اٹھا کر ان شرائط کی پابندی کا وعدہ کیا۔ تمام چوری شدہ اسلحہ اور دیگر سرکاری املاک پہلے ہی بحال کی جا چکی تھیں۔ ان کارروائیوں کا انعقاد، جو مسٹر ڈونلڈ اور میرے سامنے کی گئیں، ایک انتہائی شاندار اور دلچسپ منظر تھا۔ تقریبا300وزیروں کو میرے بنگلے کے سامنے ایک بڑے دائرے میں زمین پر بیٹھایا گیا۔ مرکز میں ایک کرسی تھی جس پر کپڑے میں لپٹا ہوا قرآن رکھا ہوا تھا۔ سید اکبر شاہ آف کانیگرم اور ملا سالم علیزئی ملک قرآن کے پاس کھڑے تھے، اور ہر ایک سربراہ جو کسی بھی طرح سے جرم میں ملوث یا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا اور ہر ایک قیدی جو لاک اپ سے لایا گیا تھا، ایک ایک کر کے اوپر آتا اور اپنے جوتے اتار کر قرآن کو اپنے سر پر رکھتا، سید اور ملا کے ذریعے حلف لیتا کہ وہ معاہدے کی شرائط کی پابندی کرے گا۔پھر19ہزار روپے کے جرمانے ادا کیے گئے اور میں نے قیدیوں کو رہا کر دیا اور انہیں دربار میں مالکان کے حوالے کر دیا۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن میرا تجربہ مختلف تھا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی کارروائیوں سے کوئی فائدہ نہیں لیکن میں اس نظریے سے متفق نہیں ہوںاور میں بلوچستان کے بروہی، بلوچ، اور پٹھان قبائل کے ساتھ سر رابرٹ سنڈمن اور میرے تحت کی گئی بہت سی ایسی ہی تقریبات کا حوالہ دے سکتا ہوں جن کے بہترین نتائج نکلے ہیں۔ ہندوستان اور پنجاب کی حکومتوں نے اس تصفیے پربہت اطمینان کا اظہار کیااور حکومت ہند کے سیکرٹری نے پنجاب حکومت کو اس کی منظوری دیتے ہوئے ایک خط میں یوں لکھا:”گورنر جنرل ان کونسل، لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے مسٹر بروس اور دیگر مقامی افسروں خاص طور پر مسٹر ڈونلڈ کی اعلی تعریف میں اپنی پوری ہم آہنگی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے اس معاملے کو اطمینان بخش انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے”۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

300وزیروں کوبڑے دائرے میں زمین پر بٹھایا گیا، مرکز میں کرسی پر کپڑے میں لپٹا ہوا قرآن رکھا ہوا تھا

300وزیروں کوبڑے دائرے میں زمین پر بٹھایا گیا، مرکز میں کرسی پر کپڑے میں لپٹا ہوا قرآن رکھا ہوا تھا

Syed Akbar Shah and his brother, Sanobar Shah, Mahsuds of Kanigoram, both non-commissioned officers in the levies, were in charge. They had a few rifles, of which they made good use, as they successfully repulsed the attack and killed seven of the Taji-Khels, including two men of note.Date1900

سید اکبر شاہ اور اسکے بھائی صنوبر شاہ کانیگرم کے محسود جودونوںلیویز میں نان کمیشن افسر انچارج تھے،انکے پاس چند رائفلیں تھیں جس کا انہوں نے اچھا استعمال کیا۔انہوں نے کامیابی سے حملہ پسپا کیااور7افراد تاجی خیل کے قتل کردئیے ،خاص طور پر جن2افراد کی نشاندہی کردی گئی تھی

300وزیروں کوبڑے دائرے میں زمین پر بٹھایا گیا، مرکز میں کرسی پر کپڑے میں لپٹا ہوا قرآن رکھا ہوا تھا

سید اکبر شاہ آف کانیگرم اور ملا سالم علیزئی ملک قرآن کے پاس کھڑے تھے، اور ہر ایک سربراہ جو کسی بھی طرح سے جرم میں ملوث یا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا اور ہر ایک قیدی جو لاک اپ سے لایا گیا تھا، ایک ایک کر کے اوپر آتا

اپنے جوتے اتار کر قرآن کو اپنے سر پر رکھتا، سید اور ملا کے ذریعے حلف لیتا کہ وہ معاہدے کی شرائط کی پابندی کریگا۔19ہزار روپے کے جرمانے ادا کیے گئے ،میں نے قیدیوں کو رہا کردیا اور دربار میں مالکان کے حوالے کر دیا

انگریز مصنف نے سن1900میں کتاب لکھ کر حقائق سے پردہ اٹھادیا تھا۔ میرے سینے میں بھی بڑے راز تھے اور کچھ بہت کھلے حقائق بھی تھے۔ جس کے بوجھ نے میرے کُوب کو بہت دوبھر کردیا تھا۔ ایک عالم نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ جب وہ طالب علم تھا تو اُستاذ نے تسلے میں انگارے منگوائے۔ میرے ہاتھ جلنے لگے اور چیخنے لگا۔ عطاء اللہ شاہ بخاری نے تسلہ لیا اور جب اس سے برداشت نہیں ہوسکا تو ہوا میں اچھال کر کہا کہ تصلیٰ نارًا حامیًا (گرم آگ پہنچ گئی)۔ میں نے جو حقائق اگل دئے ہیں یہ بڑے سنجیدہ نتائج کے حامل ہیں۔

سبحان شاہ کے بیٹے سیداکبر شاہ ، صنوبر شاہ کانیگرم کے محسود لیویز کے غیربھرتی افسران تھے ۔ چند رائفلوں کا اچھا استعمال کیا اور حملے کو پسپا کیا ۔7وزیر مار دئیے جن میں2کی ان کوخاص طور سے نشاندہی کی گئی تھی۔
یہ انہوں نے بھیس بدل کر کیا ۔ دیگرکرائے کے ٹٹو استعمال کئے ۔ اندر سے حملہ ہو تو بڑا لشکر پسپا ہوتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف7افراد کو قتل کروایا تھا بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو پکڑوایا۔ ان کا یہ گھناؤنا کردار وزیرستان کی تاریخ کا پہلا سیاہ باب تھا۔ کانیگرم کے محسود تھے یا سید ؟ مگر کرداریزید کی اولاد سے زیادہ بھیانک تھا۔ جس قوم کیساتھ غداری کی تھی ،ان کو قتل کیا تھا، ان کو شکست بھی دلوائی تھی اور پکڑوایا بھی تھا تو جب ان کی رہائی کیلئے اس وقت ایک معاہدے کی کاروائی کا وقت آیا تو سید اکبر شاہ اور ملاسالم علیزئی ملک نے قرآن پر سب سے حلف لیا اورخود کو مذہب کے جھوٹے پیشوا ء کے طور پر پیش کیا۔
صنوبر شاہ کے پڑ پوتے منہاج وغیرہ کو معلوم تھا کہ انگریز سے پیسہ لیکر اسلام ، وطن اور قوم سے غداری کے سیداکبر شاہ اور صنوبر شاہ مرتکب تھے اور انہوں نے قتل کئے ہیں اور اس ظالمانہ ، بہیمانہ ، بزدلانہ اور بے غیرتی پر مبنی اقدام کو یہ لوگ اپنا پیشہ اور کمائی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اس پرمنہاج اور طاہرکو بہت بڑا فخر ، تکبر اور غرور ہے۔
ہمارے واقعہ میں بڑے پیمانے پر جامع تحقیقات کی ضرورت تھی اسلئے جلدبازی سے کام نہ لیا۔جب واقعہ کے بعد پہلی مرتبہ خیبر ہاؤس پشاور آنا ہوا تھا تو شہر یار نے کہا تھا کہ ” حملے سے پہلے طالبان کی ذہن سازی کی گئی تھی کہ یہ لوگ بڑے ظالم ہیں، لوگوں کی بیویاں اور بچے چھین لئے ہیں”۔ شہریار نے خیبر ہاؤس کے کچن کی خوشبو اور رقم ملنے کی خواہش کے ردھم میں اس بات کاتو اظہار کردیا لیکن میں نے پلٹ کر طاہر پر وار کیاتھا۔
کریم کے بیٹے عثمان نے پشاور میں آکر بتایا کہ اس حملے میں عبدالرزاق کے بیٹے ملوث تھے۔ وہاں کئی دنوں کی میٹنگ سے کریم اوراس کابیٹا کیسے لاعلم تھے؟۔ میں نے منہاج کو تنبیہ کی، جودہشتگردوں کو سپوٹ کررہا تھا ۔


جب صحافتی تحقیق کا آئینہ دکھادیا تو مجرمانہ کرتوت کی فہرست میں شامل افراد کی گھبراہٹ شروع ہوگئی۔ عثمان بدمعاشی پر اتر آیا۔ منہاج کے گھر سے ضیاء الدین کے بیٹے اور احمدیار نے انگریزی میں متفقہ ”تحریر” لکھ ڈالی، عثمان نے دھمکی ڈیلیٹ کردی تھی ۔ تحریراً مجھے طعنے دئیے اور مجھے ہی مجرم ٹھہرایا۔ مجھ سے محبت رکھنے والے جنید کو چار افراد نے مل کر زدوکوب کیا۔ پھر ایک سے فون کروایا کہ ”جنید کہہ رہا تھا کہ اورنگزیب طالبان سے ملا ہوا تھا، لوگوں کو ذبح کروایا مگر اپنے بھائی کو طالبان کے حوالے نہیں کیا،اسلئے ہم نے جنید کومارا ہے”۔ جو اورنگزیب کو شہید کرچکے تھے ان کو ٹھکانہ دیا اور جس نے بات کردی تو اس کو زد وکوب کیا؟۔ پھر جب جاکر زبانی معافی تلافی بھی کرادی۔ یہ غداروں کی اولاد کا طریقہ ٔ واردات تھا۔ میرے دادا سیدامیر شاہ کو پتھر لگا تھا تو اس کے بھتیجے نے ایک کے ہاتھ پیر توڑ کر باندھ دیا تھا کہ آئندہ پھر دیکھ کر غلطی نہیں کروگے۔ میں اپنے بھتیجوں اور بیٹوں کے غصہ کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈھال بنا ہوں ورنہ تو بہتوں کے پیچھے مرچ ڈال کرہم ایک ایک راز اگلواسکتے ہیں۔
بدر میں قریش کے3افراد کا مقابلہ کرنے ا نصارکے3آئے تو کہا کہ ہم اپنے چچیرے چاہتے ہیں۔ جس پر نبی ۖ نے فرمایا: عبیدہ بن حارث، حمزہ اور علی اُٹھو!۔ قریش کافرمگر نسلی تھے،احمدیار نسلی نہیں ۔ بدنسل اور اصیل کی صفات ہوتی ہیں۔اچھے سبحان ویل سے معذرت۔
منہاج کابہنوئی کریم کا بھانجااعجازبڑا ہمدرد بنا پھرتا ہے جو تحریروں سے ڈرتا ہے؟۔انگریز سے دہشتگردوں کے ٹاؤٹ بننے تک غیرت، حیائ، ضمیر، ایمان اور پشتو ہر چیز سے فارغ لوگوں کو راہِ پر لاناہی انقلابِ عظیم ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آپریشن کے ہاتھ عدم استحکام کا شکارہیں مولانا فضل الرحمن

آپریشن کے ہاتھ عدم استحکام کا شکارہیں مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں خطاب کیا:آپ نے عزم استحکام آپریشن کے نام سے کیا چیز کردی۔ ہم2010سے مار کھارہے ہیں انہی آپریشنوں کے ہاتھ سے دہشتگردی کیخلاف جنگ، کیا دہشتگردی کیخلاف جنگ یہ بین الاقوامی ایجنڈا نہیں؟ ۔ یہ پہلو ہم کیوں نظر انداز کررہے ہیں؟۔ باجوہ صاحب نے کہا کہ میں نے باڑ لگادیا۔ کسی کا باپ افغانستان جاسکتا ہے اور نہ آسکتا ہے۔ کوئی دہشتگرد نہیں آسکتے ۔40،50ہزار آچکے۔ معاف کیجئے بہت درد اور دکھ سے کہہ رہا ہوں، محسوس ہورہا ہے کہ اگلے دو چار مہینوں میں ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان، لکی مروت، بنوں اورکرک میں امارات اسلامیہ قائم ہو ۔ پاکستان کی رٹ نظر نہیں آرہی۔ مغرب ہوتے ہی تمام تھانے بند ہوجاتے ہیں۔ انکو حکم ہے کہ گشت پرنہیں جانا۔ یہ ہے اپ ڈیٹ۔ کہاں کھڑے ہیں ہم؟۔ فکر کی بات ہے حضرت۔ پہلے عرض کیا آج بھی کہتا ہوں یہ عزم استحکام نہیں یہ چین کو جواب دے رہے ہیں کہ جس عزم استحکام کی بات کی تھی آپ نے۔ ہم وہ استحکام لانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ عدم استحکام کی طرف ہم جارہے ہیں۔
اگر قوم کو حقوق نہیں دے سکتے توپھر کیا آپ قوم سے ٹیکس وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں؟۔ قوم آپ سے دو چیزیں مانگتی ہے۔ ایک امن جان ، مال اور عزت و آبرو، انسانی حقوق کا تحفظ اور دوسرا معاشی خوشحالی۔ عام آدمی کو یہ اطمینان ہو کہ میرے بچوں کیلئے اگلے ہفتے اور مہینے کیلئے خوراک موجود ہے۔ اس کا انتظام ہوسکتا ہے لیکن کیا ہم نہیں سمجھتے ۔ آج کئی جگہ لوگوں کی حالت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے۔

تبصرہ نوشتۂ دیوار

احادیث میں مزارعت کو سود قرار دیا۔ علماء نے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا۔ سودکی ادائیگی کی رقم ملکی ٹیکس سے بھی زیادہ ہے۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سودی نظام کو تبدیل کرنا مسئلے کا حل تھا، عوام اورریاست کا حلالہ ہورہاہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پشتوزبان کا عظیم اور مقبول انقلابی شاعر گلامن وزیر شہید کا شعر اُردو ترجمہ:اگر مظلوم کی خاطرمیرا خون بہہ گیا تو اپنوں اور پرایوں کا افتخار بن جاؤں گا۔

پشتوزبان کا عظیم اور مقبول انقلابی شاعر
گلامن وزیر شہید کا شعر اُردو ترجمہ:اگر مظلوم کی خاطرمیرا خون بہہ گیا تو اپنوں اور پرایوں کا افتخار بن جاؤں گا۔

گلامن شاعر کی المناک موت
ایک جوان پشتون شاعر گلامن وزیر کی المناک موت بہت بڑا سانحہ ہے۔ شاعر برائے شاعر قومی اثاثہ ہے۔ جب شاعر تحریک سے وابستہ ہو تو اس کا روحِ رواں ہوتا ہے۔PTMکے منظور پشتین، علی وزیر سمیت تمام رہنماؤں اور کارکنوں سے دلی ہمدردی اورتعزیت کا اظہار کرتے ہیں، ہم تمہارے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ جانثار ساتھی دنیا سے جاتا ہے تو اسکا غم ، دکھ اور تکلیف خونی رشتوں سے کم نہیں ہوتا۔ ایک ایک ساتھی کی داغ مفارقت پر پتہ ہے کہ دل کس طرح توے پر کباب بن جاتا ہے۔ عبدالقدوس بلوچ، حنیف عباسی ، جی ایم اور کئی وہ ساتھی جو ہمارے ارمانوں پر پانی پھیر کر دنیا سے گزرگئے تو ان کی یادیں آج بھی موسم خزاں کی طرح دلوں کو ویران کئے ہیں لیکن یہ دنیا تو چند دنوں کا قید خانہ ہے اور سب کو رہائی ملے گی۔
گلامن وزیراپنی چھ بہنوں کا چھوٹا بھائی اور چھوٹے بچوں کا جوان باپ اور سب سے بڑھ کر بوڑھی والدہ کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ دونوں بھائی خاندان کاایک ایک فرد بیوہ سمیت بڑی آزمائش سے گزررہے ہیں۔ اللہ تعالی سب کو صبر جمیل اور متبادل ایسی خوشیاں عطاء فرمائے کہ اس غم کو بھول جائیں۔
مزاحمتی تحریک والے اپنی لاش زندگی میں اپنے کاندھے پر اٹھائے لئے گھومتے ہیں ،جب کوئی ان کی لاش کو کندھا دیتا ہے تو سارے غم عمر بھر کیلئے دماغ سے اتر جاتے ہیں۔ قرآن میں انعام یافتہ لوگوں کی فہرست میں پہلے انبیاء پھر صدیقین پھر شہداء اور پھر صالحین کا ذکر ہے تاکہ لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ شہید بڑا رتبہ پالیتا ہے اور زندگی بھر صالح ونیک رہنے والوں سے آگے نکل جاتا ہے لیکن صدیق کا درجہ شہید سے زیادہ ہوتا ہے اسلئے کہ اس کی زندگی کا لمحہ لمحہ شہادت سے گزرتاہے۔
گلامن وزیر میں اپنی قوم سے محبت کا فطری جذبہ تھا اور یہ ایمان کا عین تقاضا ہے۔ اس کو اپنی قوم کے غموں سے فراغت اور فرصت نہیں تھی کہ دوسری قوموں کے بارے میں سوچتا اور دنیا نے دیکھا کہ جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے میدان میں اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا توPTMکی قیادت، پشتون شعراء اور سیاستدانوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ بلوچ ہے بلکہ بہت کھل کر اپنی بے پناہ عقیدت ومحبت سے نواز دیا۔ گلامن وزیر شہید کے قتل میں جو ملوث ہو اللہ تعالیٰ اس سوچ اور قوت کو تباہ کردے۔
PTMنے پشتون نوجوانوں میں سیاسی شعور کی ایک نئی لہر دوڑادی ہے۔ گلامن کی شاعری جب تک پشتون قوم اور پشتو زبان دنیا میں موجود ہے وہ لوگوں کا لہو گرماتی رہے گی۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ کس طرح شہید کو خراج تحسین پیش کروں؟۔
حبیب جالب نے زندگی جیلوں اور مشکلات میں گزاری۔ فیض احمد فیض اور سبھی انقلابی شاعروں نے قربانیاں دی ہیں۔ پشتون معاشرے میں تشدد اور انتشار ہے۔ اپنی غلطی کو دوسروں کے کاندھے پر ڈالنا آسان ہے مگر خاطر خواہ نتائج نہیں نکلتے۔ محسن داوڑ و علی وزیر کو کس سازش نے جدا کیا؟۔ گلامن وزیر اور آزاد داوڑ میں اختلاف تھا یا نہیں؟۔ ہمارا معاشرہ جنونی ہے۔ پنجابیوں نے جہاد کیا مگر اپنا صوبہ تباہ نہ کیا۔ پشتون معاشرے میں تشدد کا انکار پشتون قوم کی نفی ہے۔ جوانوں کو تشدد سے روکنا ہیPTMکا کارنامہ ہے۔ سوات سے کوئٹہ تک نوجوانوں اور مسنگ پرسن کے لواحقین کو وزیرستان لانے لیجانے پرخرچہ ہوا ہوگا؟۔ اگر بلوچ، سندھی یا پنجابی کے ہاں جانے پر خرچہ کرتے تو سمجھ میں آتا لیکن وزیرستان کے جلسے کیلئے جہاں کوئی دوسری قوم نہیں،اتنا خرچہ بہت فضول قسم کا تکلف ہے۔ اگر تحریک کے رہنماؤں نے اسلام آباد ، پشاور اور بڑے شہروں میں اپنا شغل لگانے کیلئے رہائشوں کا اہتمام کیا ہے تو مزہ ہے مگر فائدہ نہیں۔ ایکدوسرے سے حسد ہوگی اور ڈنڈے مارمار کر ہلاک کروگے تو پشتون قوم اپنے قیمتی جوانوں کا بہت بڑا اثاثہ کھو دے گی۔
ملا کو اکابر پرستی اور چندوں سے فرصت نہیں۔ ہماری تحریک اسلام کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ہے جس سے کسی قوم کا اجتماعی نظام وابستہ ہو تو تقدیر بدل جائے گی۔ منظور پشتین نے ایک اجتماع میں کہا تھا کہ” ہم من حیث القوم ایک اجتماعی ظلم کا شکار ہیں۔ بہن بیٹی پر پیسہ کھا جانا بہت بڑا اجتماعی ظلم ہے ۔ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں، جس کا اجتماعی ظلم پر اتفاق ہو۔ آج میں اعلان کرتا ہوں کہ یہ اجتماعی ظلم کو پشتون قوم سے ختم کریں گے اور میں خود اپنی بہنوں اور بیٹیوں کا ایک پیسہ نہیں لوں گا۔بلکہ جتنی میرے اندر استطاعت ہے تو اپنی طرف سے خریداری بھی کرکے دوں گا”۔ منظور پشین کی تقریر ہوا ؤںکی نذر ہوئی۔
پشتون قوم میں ایسے عناصر کی کمی نہیں کہ اگر یہ پتہ چلے کہ مفت میں بیوی ملے گی تو چار چار کریں گے اور سبقت کے چکر میں ایکدوسرے کے سر توڑیں گے۔ پھر پالنے کیلئے وہ روزگار نہ ہو تاکہ بچے پالیں تو مدارس میں ڈالیں گے اور معاشرے پر بوجھ بڑھتا جائے گا۔ پہلے لوگ مسالک چھوڑنے پر واجب القتل کا فتویٰ لگادیتے تھے اور اب خوش ہوتے ہیں کہ ایک کا بوجھ تو کسی دوسرے فرقہ کے کاندھے پر پڑگیا ہے۔
عورت کو پشتون اور پنجابی کے علاوہ دنیا کے مسلمانوں کسی ملک، قوم، فرقے، مسلک اور مذہبی معاشرے میں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ عورت کو اسلام نے خلع کا نہ صرف حق دیا بلکہ بھرپورمالی تحفظ بھی فراہم کیا ۔ قرآن کا غلط ترجمہ اور مفہوم نکال کر عورت کو نہ صرف خلع کے حق سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ اس کو جہاں اللہ نے واضح مالی تحفظ دیا ،وہاں علماء نے انتہائی غلط ترجمہ کرکے عورت کے مالی استحصال کا حق بھی شوہر کو دیا ہے۔
پشتون معاشرے میں مقتدر علماء و مفتیان موجود ہیں جن کو پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت حاصل ہو تو نہ صرف پشتون عورت کو ظلم واستحصال سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ افغانستان ، پاکستان ، سعودی عرب اور دنیا بھر کے اسلامی ممالک کی قیادت کریں گے اور پوری دنیا کے ممالک کے لوگ اسلام کے ان بنیادی حقوق کی بنیاد پر نئی دنیا آباد کریں گے۔ عورت استحصال سے نکلے گی تو اس کا شوہر، بچے، بھائی اور تمام مقدس رشتوں کا ووٹ بینک صحیح استعمال ہوگا۔
عمران خان سے جن کی جنونی وابستگی ہے اگر9مئی کے واقعات مزید ہوجائیں تو ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہوگا۔ طالبان کے تشدد اور نفرت کو لوگ بھول جائیں گے اور ایک نہیں ہزاروں گلامن کے سر ٹوٹیں گے۔ جب نظام نہیں ہوتا توMQM، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، سنی تحریک ، تحریک لبیک اور تحریک طالبان جیسی تنظیموں کو وجود میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مولانا فضل الرحمن جذباتی الفاظ استعمال کرکے اس کو گھمانے کا گر جانتا ہے۔ ایک عرصہ سے نعرہ تھا کہ قائدا شارہ کوا بیا ئے تماشا کوا” قائد اشارہ کرو،پھر تماشا کرو”۔ مولانا فضل الرحمن نے محسوس کیا کہ اب یہ نعرہ اہمیت نہیں رکھتا تو پشتو میں کہا کہ ”اوس اشارے نہ خبر تیرے سوا اوس بہ برید کوو”۔ اشارے سے اب بات آگے نکلی، اب حملہ کرنا ہے۔ انقلاب لانا ہے ۔ جس پر سامعین اور شرکاء خوش ہوگئے کہ منزل قریب آگئی لیکن مولانا فضل الرحمن نے پھر مہارت سے وہ کہا کہ رہتی دنیا تک انقلاب نہیںآسکتا ۔” سمندر نے مچھلی سے پوچھا کہ تمہارے اندر تیرنے کی کتنی ہمت ہے؟۔ مچھلی نے کہا کہ جتنی تمہارے اندر موجیں ہیں اتنی مجھ میں تیرنے کی ہمت ہے”۔ سامعین کو یہ پتہ نہیں چلا کہ ان کے انقلاب کیساتھ کیا ہاتھ ہوگیا؟۔
مفتی منیر شاکر نےPTMکے پروگرام میں اچھی تقریر کی لیکن جب پولیس والے ان کو جلسہ گاہ تک نہیں چھوڑتے تو بھی وہ نہیں جاسکتا ۔PTMکے جوانوں میں اتنی ہمت ہے کہ پولیس کیساتھ اپنی جوانی کی طاقت سے کھیل کر جان چھڑاسکتے ہیں اور یہ بھی بہت بڑی بات ہے ۔ لیکن اگر طالبان نے ناکہ لگایا ہو تو پھر وہاں سے نہیں گزر سکتے ہیں اسلئے ان کو اعلان کرنا پڑا کہ گڈ طالبان ہوں یا بیڈ سب ہمارے ہیں۔ مسنگ پرسن کا رونا بھی طالبان کے حق میں ہی رویا جاتا ہے جو اچھی بات ہے لیکن جب ان کو آزاد کیا جاتا ہے تو بھی اعتراض ہوتا ہے کہ تم نے دہشت گردوں کو رہاکرکے ہمارے اوپر چھوڑ دیا ہے۔
جب تک معاشرے کی بنیادی حقوق کی بحالی نہیں ہوگی تو ہم حق کیلئے آواز اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ مغرب نے جتنے حقوق دئیے ہیں تو اتنی آزادی اور امن بھی قائم ہے۔ ہمارے ہاں امن اور آزادی دونوں کیلئے خطرات ہیں اسلئے کہ ہمارا جہاں بس چلتا ہے تو وہاں اصلاح نہیں کرتے اور جہاں بس نہیں چلتا ہے وہاں چلو بھر کر سمندر کو پہاڑوں پر لانے کے عمل کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ انسان نفسانی خواہشات رکھتا ہے ۔ ضروریات رکھتا ہے ، اچھی بری صفت خصلت رکھتا ہے۔ اللہ نے بھی فرمایا کہ ”اپنی پاکیزگی بیان مت کرو، اللہ جس کو پاک کرنا چاہتا ہے یہ اس کی مرضی ہے”۔ یہ سب سے بڑی اور بنیادی سچائی ہے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ” جو لوگ فحاشی اور بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں مگر…….. اللمم کا لفظی ترجمہ نہیں ہے۔ یہ ایک خالی جگہ ہے جہاں انسان اپنے اپنے ماحول کے مطابق اس کو پورا کرتا ہے۔
اگر عورت کو خلع کا اسلامی حق مل جائے۔حق مہر اور خرچہ شوہر کی استطاعت کے مطابق ہو۔ طلاق اور خلع کے حقوق کی وضاحت کرکے پشتون معاشرے میں رائج کیا جائے۔ حلالہ کی لعنت سے پشتون اور عالم اسلام کو چھٹکارا دلایا جائے۔ اور ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں بھی عورت کو آدھا حق مہر دیا جائے ۔ ہاتھ لگانے کے بعد کی طلاق میں بھی وہ تمام حقوق مل جائیں جو قرآن دیتا ہے تو ایک پشتون عورت ریحام خان کی مجال نہیں تھی کہ عمران خان کے خلاف کتاب لکھ دیتی۔ جب وہ حقوق نہیں ملتے جو فطرت اور اسلام نے دئیے ہیں تو پھر معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ ایک عورت کو استعمال کرکے جب چاہو پھینک دو اور اس کے کوئی ایسے مالی حقوق نہ ہوں جس سے اس کے شوہر پر کوئی اثر پڑتا ہو تو عورت کے پاس ایک ہی ہتھیار رہ جاتا ہے کہ اپنے سابق شوہر سے جیسے ممکن ہو انتقام لے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو کمزور اور صنف نازک ضرور بنایا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کو طلاق دینے پر عرش ہل جائے بلکہ وہ شوہر ہل جاتا ہے جو اس کو طلاق دیتا ہے اسلئے کہ طلاق کے بعد شوہر کو وہ گھر عورت کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ اس کو خزانے بھی دئیے ہوں تو واپس نہیں لے سکتا ہے۔ جب شوہر بیوی کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوجائے اور وہ بیوی کسی اور شوہر سے اسی گھر میں شادی کرلے تو آسمان شوہر پر گرے گا۔ سورۂ طلاق میں اللہ نے فرمایا ہے لاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الا ان یأتین بفاحشة مبینة ”ان کو انکے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں”۔ طلاق سے پہلے بھی گھر عورت کا ہے ، طلاق کے بعد بھی گھر عورت کا ہے۔ ابورکانہ نے ام رکانہ 3طلاق سے الگ کردی۔ ابورکانہ نے اپنے لئے ددسری عورت اور گھر تلاش کیا۔ دوسری کو طلاق دی تو نبی ۖ نے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے؟۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو 3 طلاق دے چکا ہے ۔ نبی ۖنے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور سورہ طلاق کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائی۔ (ابوداؤد شریف)
خلع میں عورت کو گھر اور غیر منقولہ جائیداد سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ سورہ النساء آیت19میں اس کی بھرپور وضاحت ہے۔ لیکن منقولہ اشیاء کپڑے، زیورات، نقدی ، گاڑی اور تمام وہ چیزیں جو لے جائی جاسکتی ہیں شوہر کی دی ہوئی وہ چیزیں لے جاسکتی ہیں۔ خلع کے باوجود شوہر کو حسن سلوک کا حکم ہے۔ اور خلع کی عدت بھی ایک ماہ ہے۔ جب شوہر نے استطاعت کے مطابق حق مہر دیا ہو اور اس کے علاوہ بھی چیزیں دلائی ہوں اور عورت خوش نہ ہو تو پھر علیحدگی میں بھی مشکل نہیں ہے۔ لیکن طلاق کی صورت میں تو منقولہ اور غیر منقولہ اشیاء سب دی ہوئی چیزوں سے شوہر کو دستبردار ہونا پڑے گا۔ یہ سورہ ٔ النساء کی آیات20،21میں یہ واضح ہے۔ حلالہ کی لعنت کے بغیر قرآن نے رجوع کی اجازت دی ہےPTMغیرت کرے۔
قرآن کی متعلقہ آیات میں معاشرے کو حلالہ کی لعنت سے بچانے کی مہم چلائی گئی ہے کہ عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے اور عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعدباہمی اصلاح اور معروف طریقے کے بغیر رجوع کی گنجائش نہیں ہے۔آیت230البقرہ سے پہلے کی دو آیات اور بعد کی دوآیات میں بالکل واضح ہے اور آیت230البقرہ کا تعلق آیت229البقرہ سے ہے جس میں یہ واضح ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے اور اگلی آیت میں عورت کو اس طلاق کے بعدپابندی سے بچانے کیلئے یہ حکم لگایاہے۔ اگر پشتونوں کو حلالہ سے بچایا تو یہ انقلاب ہوگا۔اور اس کے اثرات افغانستان کے طالبان پر بھی پڑیں گے اور پشتون قوم بے غیرتی کو خیر باد کہہ دے گی۔ جس کا مثبت اثر بلوچ، پنجابی،سندھی ، مہاجر سب پر پڑے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احمد شاہ ابدالی کی پہلی دُرّانی آزاد پشتون ریاست تاریخی حقائق کی روشنی میں

احمد شاہ ابدالی کی پہلی دُرّانی آزاد پشتون ریاست تاریخی حقائق کی روشنی میں

کانیگرم میںسید اور یزید کی اولاد سُفا خیل کے درمیان معرکہ آرائی سے خلافت راشدہ کادوبارہ آغاز ہوگا؟ یزیدت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا ہوگا۔

ڈھٹائی کی اگر کوئی حد ہے تو اس سے بھی پرے ہو تم
وہی جڑ کاٹتے ہو جس کے ہونے سے ہرے ہو تم

احمد شاہ ابدالی کا تعلق ملتان سے تھا۔ جس نے پختون قوم کی پہلی آزاد ریاست قائم کی۔ ابدالی قبیلہ درانی کا حصہ تھا اسلئے احمدشاہ ابدالی نے اس کا نام درانی حکومت رکھ دیا۔ درانی قبیلہ صحابی قیس عبدالرشید کی نسل سے ہے۔ملتان کے بہادر لوگوں نے ایران اور مغل بادشاہوں کے علاوہ چنگیز خان کی مزاحمت میں بھی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ایران کے بادشاہ نادر شاہ نے ہندوستان کو فتح کیا اور پھر احمد شاہ ابدالی نے پہلی مرتبہ پختون قوم کی دنیا میں آزاد حکومت قائم کردی۔ ایک طرف روس پیش قدمی کررہاتھا اور بخارا وسمر قند اسلامی دنیا ہڑپ کرتا جارہا تھا تو دوسری طرف برطانیہ نے ”ایسٹ انڈین کمپنی ” کے نام سے اپنا اقتدار قائم کرلیا تھا۔ جب شجاع پاشا کی افغانستان میں حکومت اندورنِ خانہ چپقلش کا شکار ہوگئی تو برطانیہ کی چاہت تھی کہ ایسی حکومت افغانستان میں قائم ہو کہ روس یہاں قبضہ نہ کرسکے۔ جب ایران نے افغانستان کے ہرات پر قبضہ کرلیا تو برطانیہ نے دوست محمد خان کو پیشکش کی کہ ” اپنی افواج بھیج کر ایران کو ہرات سے نکال دیں گے”۔ افغان بادشاہ دوست محمد خان نے یہ شرط رکھی کہ راجہ رنجیت سنگھ سے خیبر پختونخواہ و بلوچستان کے علاقے وا گزار کرکے دے تو یہ پیشکش قبول ہے ۔ برطانیہ نے کہا کہ راجہ رنجیت سنگھ دوست ہے، اس کے خلاف مدد کی شرط قبول نہیں ہے اور خلیج فارس کے راستے سے اپنی افواج کو ہرات پہنچادیا اور ایران کو وہاں سے مار بھگایا۔ برطانیہ کو خطرہ تھا کہ اگر ایران نے افغانستان کو کمزور کیا تو روس قبضہ کرلے گا۔ پھر1839سے1842تک رنجیت سنگھ کی مدد سے افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کرلیا لیکن بہت بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ امیر دوست محمد خان کی چاہت تھی کہ روس اور برطانیہ کی پروکسی کا فائدہ اٹھاکر اپنا اقتدار قائم رکھے۔1863میں اس کی وفات کے بعد امیر شیر علی بادشاہ بن گیا جو برطانیہ کا سخت مخالف تھا۔1877میں محسود قبائل کا وفد سیدامیرشاہ کی قیادت میں گیا ۔ پھر چند ماہ بعد بیٹنی قبائل کا وفد سیداحمد شاہ کی قیادت میں گیا۔ امیر شیر علی نے1878میں روس کا وفد کابل بلایا اور پھر برطانوی ہند کے انگریز حکمران نے مطالبہ کیا کہ ہمارا وفد بھی آئیگا لیکن امیر شیر علی نے مستر د کردیا۔ جس کے بعد انگریز نے دوبارہ افغانستان پر قبضہ کرلیا اور پھر دوست محمد خان کے بیٹے یعقوب خان سے معاہدہ کیا۔ برطانیہ کی طرف سے سالانہ6لاکھ گرانٹ طے ہوا۔ افغانستان کی خارجہ پالیسی برطانوی ہند کی پابند بنادی۔ پھر گرانٹ12لاکھ اور آخر میں18لاکھ سالانہ کردی ، ڈیورنڈ لائن کے معاہدہ پر دستخط کرائے ۔ یہ معاہدہ1833میں رنجیت سنگھ اور شجاع پاشا کے درمیان ہوا تھا کہ رنجیت سنگھ شجاع پاشا کو افغانستان کے اقتدار پر بٹھانے میں فوجی طاقت سے مدد کرے گا اور اس کے عوض خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے ان علاقوں کو رنجیت سنگھ کے حوالے کرے گا۔ یہ مقبوضہ علاقہ رنجیت سنگھ نے طاقت کے زور سے فتح کیا تھا۔ پھر انگریز نے رنجیت سنگھ کے بعد قبضہ کرلیا۔ پشتون قوم پرست اور مذہبی طبقے میں نظریاتی کشمکش رہتی ہے جس کی بڑی بہترین ترجمانی شاعرعبدالباری جہانی نے کی ہے۔
”ملا اور پشتون” کے عنوان سے جس طرح کی شاعری کی ہے تو دل چاہتا ہے کہ ملا کی جگہ پشتون قوم پرست بہت اچھا ہے۔ ملا کے بارے میں کہا کہ بہت تقویٰ دار تھا۔ جہنم کے عذاب کا بتاتا تھا کہ کیسے بچھو اور سانپ ہوںگے۔ ایک سانپ کے70ہزار سر اور ایک سر کے70ہزار دانت ہوں گے۔ جنت میں حوروں کی فوجیں ہوں گی اور غلمان خدمت گزار کھڑے ہوں گے اور گھوڑوں کی دوڑ ختم ہوگی مگر ایک ایک جنتی کی زمین ختم نہیں ہوگی۔ملا بہت مقبول تھا ،لوگ بڑی تعداد میں اس کی بات سنتے تھے اور اس کے گرویدہ تھے۔ پشتون نے کہاکہ جب جنت میں کوئی دشمنی نہیں ہے، اپنے عزیزوں کے ساتھ اصل اور کم اصل کا جھگڑا نہیں۔ آباء واجداد پر فخر نہیں اور قتل وغارتگری نہیں ہے تو پھر جنت میں مُلا جائے گا یا مرزا ۔ یا کوئی بے غیرت ۔ پشتون کو مفت کی روٹی اچھی نہیں لگتی۔ جب تک بندوق ، گولیاں اور چیلنج کا سامنا نہ ہو تو ایسی زندگی مجھے نہیں چاہیے۔
پشتون قوم کی پہلی آزاد ریاست احمد شاہ ابدالی سے شروع ہے ۔ جو ایرانی فوج کا عام سپاہی تھا پھرقابلیت سے سپاہ سالار بن گیا اور پھر ایک آزاد افغانستان کی سلطنت قائم کردی تھی۔ افغانستان کے بادشاہوں میں دو کمزوریاں ہمیشہ رہی ہیں ایک آپس کی قتل وغارت گری اور بد اعتمادی اور دوسرا بیرون ملک سے مدد وامداد کے ذریعے اپنے اقتدار کا قیام اور اپنے لوگوں کو دبانے اور کمزور کرنے کی بدترین سازشیں۔ اسلام اور پشتون ولی کا استعمال بھی مفادات کیلئے کیا ہے۔ عبدالصمد خان شہید اور خان عبدالغفار خان کے بچوں اور عام پشتونوں میں بہت فرق تھا۔ ایک طرف تعلیم یافتہ ، مغربی تہذیب کے دلدادہ تھے اور دوسری طرف روٹی کو ترسنے والے جاہل پشتون تھے۔ لیڈر عوام میں سے نہ ہو تو پھر فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔یا توپشتون قوم کی بیٹیاں اور بیگمات بھی تعلیم وشعور میں قیادت کے درجے کوپہنچتے اور یا پھر قیادت کی اولاد بھی انہی کی طرح ان پڑھ ،جاہل اور غربت کی لیکر کے نیچے رہتے۔ اقبال نے باغی مریدکا کہا تھا کہ
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا چراغوں سے ہے روشن
اگر پشتون عورت کو حقوق اسلام اور غیرت کی بنیاد پر دئیے جاتے تو عالمی دلالوں ،مقامی قذاقوں ، بھڑوہ گیری سے نجات ملتی۔اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف اور اپنا حال درست کرنا ہوگا اور اپنے بہتر مستقبل کیلئے ایک لائحۂ عمل تشکیل دینا ہوگا۔تاریخ مرتب کرنی ہوگی کہ پختونوں سے کیا غلطیاں ہوئیں؟ ۔ ہر چیز دوسروں کی گردن پر ڈالنے سے اصلاح نہیں ہوتی بلکہ تکبر و غرور اور اکڑ پن سے زوال کی طرف معاشرہ جاتا ہے۔ اگر موٹر سائیکل ، گاڑی اور جہاز کا سیلینسر خراب ہوجائے تو اس کے ٹھیک کرنے سے موٹر سائیکل اور گاڑی چلے گی اور جہاز بھی زبردست اُڑان بھرے گا۔ عوام میں زوال کی انتہاء ہوگئی ہے لیکن جس دن ان کے سیلینسر کھل گئے تو پھر تخریب وفساد سے نکل کر تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن ہونا شروع ہوجائیں گے۔ قبض والے کو پچکاری لگے تو مرنے سے بچت ہوجاتی ہے۔
امیر امان اللہ خان نے وزیرستان میں برطانیہ پر حملہ کیا تو بھاگتے ہوئے انگریز فوج کو قتل کرنا آسان تھا مگر انکے ساز و سامان اور راشن کی طمع میں قتل نہ کر سکے۔ بدرکیلئے نبی ۖ اور صحابہ مال بردار قافلے کی غرض سے گئے لیکن وہاں اپنے سے کئی گنا لشکر کا سامنا اللہ نے کرادیا تو فتح سے نواز دیا ۔البتہ فدیہ لینے کا مشورہ دینے پر بہت سخت ڈانٹ بھی پلادی تھی۔
لاہور کے صحافی انوار ہاشمی نے وزیرستان پر کتاب لکھ دی تو ان کی مہربانی ۔ بہت حقائق بھی پیش کردئیے۔ البتہ اس کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پختونوں کو وحشی کی جگہ مفاد پرست لکھنے میں حرج نہیں لیکن جنگ عظیم دو ئم میں جرمنی کیخلاف آل انڈیا مسلم لیگ نے انگریز فوج کی غیر مشروط حمایت کی۔ کانگریس نے حمایت کیلئے آزادی کی شرط لگائی تھی۔ تاریخ سچی واضح کرنا چاہیے کہ انگریز نے کانگریس کا مطالبہ نہیں مانا اورانکے قائدین کو جیلوں میں بند کردیا مگر کیا جنگ میں فوج کی شمولیت نے آزادی دلائی ہے؟۔یا مسلم لیگ خدا واسطے انگریز کی پٹھو تھی؟
صحابہ کرام میں بدری صحابہ کے درجات بلند ہیں مگرقرآن میں ان کو ڈانٹ اسلئے پڑی کہ انہوں نے موودة فی القربیٰ کے جرم کا ارتکاب کیا تھا؟۔ موودة فی القربیٰ کیا ہے؟۔ : قل لا اسئلکم علیہ اجرًا الا الموّدة فی القربیٰ ” کہہ دو کہ میں تم سے اس پر اجر نہیں مانگتا مگر قرابتداری کی محبت”۔
اگر قریش مکہ قرابتداری کی محبت کے مطابق سلوک کرتے تو مدینہ ہجرت اور مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے حسد سے کنویں میں ڈالا۔ بدر میں نبی ۖ کے چچااور داماد کا لحاظ کرکے قتل نہیں کیا اور پھر فدیہ لیکر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو اللہ نے فرمایا: ماکان للنبی ان یکون لہ اسریٰ حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید اللہ لاٰخرة ” نبی کیلئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہائے ۔ تم لوگ دنیا کے معاملات چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔
مشرکین مکہ دشمنانِ اسلام نے فطری قرابتداری کے جذبے کا لحاظ نہیں رکھا تو اللہ نے رسول اللہ ۖ سے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ میں اپنی تحریک پر کوئی معاوضہ نہیں لیتا لیکن کم ازکم قرابتداری کی فطری محبت کا تو لحاظ رکھو۔ دوسری طرف بدر میں جب مسلمانوں نے اس فطری محبت کا لحاظ رکھا تو ڈانٹ پڑگئی۔ یہی وہ اعتدال کا جذبہ ہے جو صراط مستقیم ہے جس کو نماز کی ہررکعت میں سورہ فاتحہ کے اندر اللہ سے ہم مانگتے ہیں۔
سلطنت عثمانیہ، مغل ، خاندان غلاماں ،درانی، رنجیت سنگھ، انگریز اور موجودہ حکمران تک اعتدال کا لحاظ رکھنا ایک فرض تھا اور اُحد میں مسلمانوں کو زخم پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کا بہت سخت بدلہ لیں گے۔ اللہ نے کہا کہ ”کسی قوم کے انتقام کا جذبہ یہاں تک نہ ابھارے کہ تم اعتدال سے ہٹ جاؤ” ۔
آدمی غلطی نہیں مانتا تو اصلاح ممکن نہیں ہوتی۔ کانیگرم میں قبائلی جائیداد کا تعلق موروثی نظام سے ہے۔ جو نفع ونقصان کی بنیاد پربھی ہوتا ہے اور اخلاقی اقدار کے رہینِ منت بھی۔
کانیگرم پہاڑی علاقہ میں ہم پیروں کا آٹھواں حصہ ہے۔ سوال ہے کہ آٹھواں کب سے ہے؟۔ ہمارامرکزی کردار تھا۔ پیسوں کے لحاظ سے مضبوط تھے ، نقصان کا آٹھواں حصہ اٹھاتے تھے مگر نفع نہ اٹھاتے ۔ جنگلات کی کٹائی کھلتی تھی تو ہم لکڑیاں کاٹنے کے بجائے خریدتے۔ کانیگرم کی عوام اسلئے اپنے حدود سے زیادہ ہماری عزت وقدر بھی کرتی تھی۔ عزیزوں کی قبریں تھیں اور نہ موروثی جائیداد۔ جو کچھ ہے خریدا ہواہے یا ہماری عطا ہے۔سید تو دور کی بات برکی و پشتون روایت پر پورے نہیں اترتے۔انکے کرتوت سے ہم بھی بدنام ہوگئے ہیں۔دَم تعویذ بیچنے اور بدمعاشی کی ہر حد پارکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
میرے آباء واجداد نے گدی نشینوں کا نظام نہیں بنایا۔ جو کردارونسل کی بدولت بابائے قوم کا درجہ رکھتے تھے۔ قبائلی لڑائی کے فیصلوں پر عمائدین و علماء باقاعدہ اجرت لیتے تھے۔ ہمارے آباء واجدادنے ہمیشہ بغیر اجرت کے فیصلے کئے ہیں۔
میرے والدکی7پھوپیاں تھیں۔ سبحان شاہ کے تین بیٹے صنوبر شاہ، مظفر شاہ ، منور شاہ کی بیگمات۔ چراغ شاہ کی والدہ جو ڈاکٹر آدم شاہ کے والد تھے ۔محمد علی شاہ کی والدہ جو شیر علی شاہ، نثار (ٹاپو)اور اقرار شاہ کے والد تھے۔ باغ ماما پیر کی والدہ ۔
کانیگرم کی رہائشی پھوپیوں کو جائیداد نہ دی مگر تنگی بادینزئی پھوڑ سے آنے والی تینوں پھوپیوں کو کانیگرم میں زمینیں دیں۔ منورشاہ ،اسکے بیٹے نعیم شاہ ، پوتے پیرخالام کے پا س رہائش اور زمین تھی ۔ مظفرشاہ اسکے بیٹے میر محمد شاہ کے پاس کانیگرم کی زمین پر گھر ہے اور پیر کرم شاہ و سرور شاہ کے پاس زمینیں ہیں۔ صنوبر شاہ کے بیٹوں سلطان اکبر شاہ ، حسین شاہ اور محمد امین شاہ کو جو زمین دی تھی وہ انہوں نے چھوڑی جو ہمارے پاس ہے۔ مگرمیرے نانانوسر باز سلطان اکبر شاہ نے مرکزی گھربیچ دیا۔ تین بھائیوں کو گھر بنانے کیلئے میرے دادا سیدامیر شاہ بابا نے پیسہ دیا تھا۔ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔
کانیگرم کا ایک مشہور بدمعاش مغوب شاہ تھا ،جس نے ان بے وطن یتیموں سے لڑائی کی تو میرے پردادا سید حسن شاہ بابو نے کہاکہ اس کو کالی رات کی بلا کھائے گی اور پھر اس کی بیگم کو بھی اپنے عقد میں لوں گا اور پھر ایسا ہی ہوگیا تھا۔
سبحان شاہ کے یتیموں کو ہم نے سنبھالا تھا، پھر ان کو چوہوں کی طرح شہر کی بدمعاش بلیوں سے بچایا تھا۔ پھر جب انہوں نے اپنی جائیداد خریدی اور اپنے گھر بنانے کیلئے ہمت کی تو ہم نے بھیڑیوں سے ان کو بچایا۔ ہمارے بل بوتے پر شیر بننے والے چوہوں کی اپنی فطرت نہیں گئی ، جہاں بھی موقع ملتا ہے تو اپنے محسنوں کے پروں کو کترڈالتے ہیں۔
مظفر شاہ کے بیٹوں نے کوڑ کی زمین محمد علی شاہ کے پیسوں سے خریدی جب ان سے7ہزار کی رقم مانگ لی تو انہوں نے کہا کہ شیر علی شاہ کی تعلیم پر ہم نے خرچ کردئیے۔ ابھی تک شیر علی شاہ اور اس کے بھائی نثار ٹاپو اپنے حق کو حاصل نہیں کرسکے اور پرائے حق پر کوڑ کی زمین میں سبھی پریشان ہیں۔ فیروز شاہ نے میر ے چچاسید انور شاہ سے600روپے پہلے لئے تھے کہ سستی زمین خرید کر دیتا ہوں۔ پھر فیروز شاہ نے زمین اپنے لئے خرید لی اور پیسے یہ کہہ کر واپس کئے کہ کھلے دوں یا بندے نوٹ؟۔ سید ایوب شاہ کے پیسے پیر فاروق شاہ نے ہڑپ کرلئے جو اس کے بچوں نے اینٹ مارنے کے زور پر زمین پر قبضہ کیا۔ جہاں بھی جس کو موقع ملا اور بس چلاہے تو فراڈ اور دھوکہ دیا ہے۔
ماموں غیاث الدین نے مہمان ماموں افغان مہاجرین کو بھی نہیں بخشا۔ یہ لوگ اس کو بہادری اورکمال فن سمجھتے ہیں۔
ہمارے آباء واجداد نے چوہوں کیساتھ احسان کیاتو طاقت پرواز سے محروم ہوگئے۔ انکے کرتوت اور بداعمالیوں کے نتائج سے ہم بدنام ہوگئے اور لوگوں کی نظروں میں جو قدرومنزلت رکھتے تھے وہ سبھی کھودیا اور آخر کار ان کی بدولت طالبان نے بھی ہمیں مار دیا تھا۔ جب طالبان کو پتہ چلا کہ انہوں نے غلط جگہ ہاتھ ڈالا ہے تو پوری قوم کے ساتھ معافی کیلئے بھی آگئے۔
ایک چوہے نے پیر سے کہا کہ بلی تنگ کرتی ہے بلا بنادو۔ پیرنے شوف کیا تو چوہا بلا بن گیا۔ پھر آیا کہ کتے تنگ کرتے ہیں کتا بنادو۔ پیر نے کتا بنادیا۔ پھر کہا کہ بھیڑیا بنادو،پیر نے بھیڑیا بنادیا اور پھر کہا کہ آئندہ نہیں آؤں گا مجھے شیر بنادو۔ اس نے شیر بنادیا۔ پھر آیا کہ تم نے چوہے کو شیر بنادیا۔اب تجھے ہڑپ کرنے آیا ہوں تاکہ دوسرا شیر نہ بناؤ۔ پیر نے اس کو شوف کرکے چوہا بنادیا۔ میرا ماموں سب سے بڑا شیر تھا اور ہمارے ملنگ دادا نے اس کو چوہا بنادیا تھا۔ پھر اس نے میرے معذور بھائی جلال سے کہا کہ تم نے میرے شہتیر چوری کئے، حلف اٹھاؤ۔ اس نے محسود کا گھر بتایا کہ اس سے لئے ۔محسود نے کہا کہ میں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سرائے لیا، دوسرے افراد کو بھی بیچے ہیں ۔ پھر دوسرے بھائی ممتاز سے ٹانک میں کہا کہ دکان میں مہنگی چیز بیچتے ہو۔ ممتاز نے کہا کہ ابھی تمہاری اوجھڑی کی بد بو تجھے آجائے گی تو اس نے فرار کی راہ اختیار کی۔ پھر اسکے مزارع نے ممتاز کو بھوسہ کی پیشکش کی تو ممتاز نے کہا کہ میرے گھر کے قریب ہے مگرپہلے اپنے مالک سے پوچھ لو ، یہ نہ ہو کہ پھر وہ کوئی معاملہ اٹھائے۔ اس نے غیاث الدین ماما سے پوچھ لیا۔ ماموں نے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں۔ ممتاز بھوسہ گھر لایا تو ماموں نے پیغام بھیجا کہ بھوسہ نکالو ، مجھے لینا ہے۔ ممتاز نے کہا کہ صرف اپنی زبان سے بھوسہ کا لفظ میرے سامنے لے تو بھوسہ نہیں میری بیوی بھی اس کی ہوگئی مگر پھر اس نے ہمت نہ کی۔ ایک مرتبہ ماموں سعدالدین لالا نے ممتاز سے کہا کہ تم دو نمبر دوائی بیچتے ہو۔ اس نے دوائی کی بوتل دے ماری جس پر اورنگزیب نے ممتاز پر غصہ کیا۔ ممتاز نے کہا کہ اورنگزیب لاکھوں کا آدمی ہے مگر ماموں کے سامنے ہندو ہے۔
ممتاز سے سریر نے کہاکہ اپنے لئے گھاس اُگاؤ۔ ماموں غیاث الدین نے حاجی سریر سے کہا کہ یہ زمین مجھے دیدو۔ زمین ناکارہ تھی تو اس نے زمین دیدی۔ پھر حاجی سریر نے اپنا مکان قریب میں بنایا اور زمین کمرشل ہوگئی۔ تو کہا کہ میں نہیں دیتا۔ غیاث الدین نے کہا کہ آپ دے چکے ہو۔ سریر نے کہا کہ بدلے میں آپ نے کچھ نہیں دیا۔ غیاث الدین نے کہا کہ ابھی تک زمین کی کہیں تقسیم نہیں ہوئی ۔ حاجی سریر نے ریاض سے کہا کہ مجھ سے زمین کھیتی باڑی کیلئے مانگی ،پھر قابض ہوگیا۔ ریاض نے ماموں سے کہا کہ میں زمین کا مالک ہوں اور تمہارا قبضہ نہیں مانتا۔ ماموں نے کہا کہ زمین میں قدم رکھوتو تمہارے ساتھ…۔ پھر ریاض مشکل میں پڑا تو اشرف علی سے کہا کہ یہ زمین میرے ماموں کے بیٹوں کی ہے۔ میں نے کہا کہ اتنا حصہ تو ریاض کی والدہ کا بھی حق بنتا ہے۔ تمہارے پاس اور حاجی سریر کے پاس جتنی زمین ہے تو دونوں جگہ ہماری بہنوں کا وراثت کا اتنا حق ہے۔ میں نے نثار سے کہا :ریاض نے پیغام دیا اور میں نے یہ جواب دیا تو نثار نے کہا کہ ریاض نے یہ حربہ تلاش کیا ہے۔ پھر ممتاز پر دھاوا بول دیا تو سوچا کہ یہ کمینہ پن کی انتہاء ہے۔ پھر پتہ چلا کہ ریاض نے ممتاز سے بھی کہا تھا کہ ہم نے پیسہ نہیں دیا ، یہ زمین تم لے لو۔ پھر180ڈگری سے بدل جانا کہ ممتاز ہمارے ساتھ زیادتی کررہاہے؟۔
حسین شاہ پاگل نے اپنی بیوی اور مزدور کو قتل کردیا۔ شک تو دوسروں پر تھا لیکن پاگل بھی کمزور شکار تلاش کرتاہے۔ ممتاز بھائی کو پولیس نے ہتھکڑی لگائی تو سکون کی نیند سویا۔ چلو وہ پاگل تھا۔ اسکے دوسرے بھائی سلطان اکبر شاہ اور محمد امین شاہ نے بھی غیرت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ انگریز کی عدالت میں گھر کی بچیوں کو گواہ بنادیا کہ زنا کرتے ہوئے دیکھا ۔ حالانکہ کوئی غیرتمند، عزتدار اوربا ضمیرہوتے تو پاگل بھائی کو پھانسی دینے پر عزت بچ سکتی تھی۔ محسود بیوی تو گھر کی عزت تھی لیکن کم ازکم بے گناہ مزدور کو تو دیت دیتے لیکن اللہ نے غیرت نہیں دی۔
ماموں لوگ کہتے ہیں کہ بھائیوں کی تعلیم ان کی انویسٹمنٹ ہے۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ اور دروغ گوئی کی انتہاء ہے۔ ان کو ہمارے بھائیوں کے پیسے کھانے ہوں تو شوق سے کھائیں مگر غلط بات کرنے کا منہ توڑ جواب دینا ہمارا حق بنتا ہے۔
پہلی بار ماموں سعدالدین لالا نے3ہزار والا صوفہ سیٹ لیا تو بھائی اورنگزیب نے5ہزار والا صوفہ لے لیاتھا۔ اورنگزیب رسول کالج منڈی بہاؤ الدین میں تھا تو اسکے ایک کلاس فیلو نے حال سنایا کہ باپ سے رقم کیلئے مجھے بھیجتا تھا اور گالیاں دیتا تھا کہ اتنی زیادہ رقم کا کیا کرتا ہے؟۔ پھر پیسے دیدیتا اور کہتا تھا کہ ”اورنگزیب کو بتاؤنہیں، دریائے سندھ میں خود کشی کرے گا”۔
کانیگرم شہر میں بکری پالنا مشکل کام تھا اور میرا والد دو، دو بھینسیں زیادہ سے زیادہ دودھ دینے والی لے جاتا تھا۔ جب ایک مرتبہ پولیس والے نے زیادہ راشن لے جانے پر تنگ کیا تو اس کو دھمکی دی کہ ”تمہارے پیچھے روس لیکر آتا ہوں”۔ کوئی نیا سپاہی تھا وہ جانتا نہیں تھا اور پھر معذرت بھی کرلی تھی۔
کانیگرم اور گومل میں گھر کے خرچہ سے زیادہ مہمانوں کے خرچے ہوتے تھے۔ ان کی وفات پر دور دراز سے ایسے لوگ آئے تھے جن کی مدد کی تھی اور ان کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ ایک ملاعمر کی قوم” ہوتک” قبیلے کے شخص کو جس کو ”کوتک ” کہا جاتا تھا کانیگرم میں ایک اچھی فیملی کی خاتون سے شادی کرادی تھی۔ دوسروں کے بچے پالنے والے کے بچے کوئی اور پالتا تھا؟۔
ماموں کے ہاں پیر عالم شاہ خان بابا کے گھر کا خرچہ اٹھانے کی بھی غلط الزام تراشی کی گئی ۔ وہ ماموں لوگوں سے زیادہ خود اچھے کھاتے پیتے تھے۔ بس اور ٹرک چلتے تھے۔ ماموں کے گھر کی شفٹنگ میں گومل سے کانیگرم ان کا ٹرک استعمال ہوتا تھا تو کرایہ تو دور کی بات ہے ڈیزل کے پیسے بھی نہ دئیے ہونگے۔
نثار کی شادی پر مجھے کراچی میں بڑا گھر لینے ، بارات کا جہاز کے ذریعے آنے جانے کا اورنگزیب نے کہا تھا۔ ماموں نے کہا کہ بہن نے شادی کیلئے پیسہ مانگے۔ ماموں ، بھانجوں اور عزیزوں نے جھوٹ کا توپخانہ کھول دیا مگر حقائق حقائق ہیں۔

ہم نے کانیگرم وزیرستان سے تحریک خلافت کا آغاز1991ء سے کردیاتھا

شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنے مرشد سیدا حمد بریلوی کی قیادت میں خراسان سے خلافت کا آغاز کیا مگر سکھوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ کچھ معتقدین کا عقیدہ تھا کہ سیداحمد بریلوی زندہ غائب ہیں اور واپس آکر خلافت قائم کرے گا اور یہ عقیدہ شیعوں کا اپنے امام کے بارے میں ہے۔
میں نے مولانا اشرف خان سے تحریک خلافت کی بشارتوں کا ذکر کیاتھا تو بہت خوش ہوگئے اور کامیابی کا یقین بھی دلانے لگے۔ پھر مولانا شاداجان کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ” مولوی محمد زمان نے اگر بات مان لی تو سب ٹھیک ہوجائے گا، مجھ پر اس نے قادیانیت کا فتویٰ لگادیا تھا”۔ میں نے مولوی سے کہا کہ” ڈبل قانون فساد کی جڑ ہے۔ دو فریق میں جس کے مفاد میںہو تو وہ شریعت پر فیصلہ چاہتا ہے اور جس کے مفاد میں ہو تو پشتو پر فیصلہ چاہتا ہے۔ اگر ایک قانون ہوگا تو فساد کی جڑ ختم ہوجائے گی”۔ مولوی محمد زمان نے کہا کہ” یہ تو بڑی زبردست بات ہے۔ صرف شریعت کا قانون ہوگا تو یہ فساد کی جڑ کو ختم کردے گا”۔ میں نے کہا کہ” شریعت میں چور، زنا کار، بہتان اور ڈکیٹ کی سزائیں ہیں۔ قرآن کے مطابق سزا دیں گے تو پھر اللہ کے حکم بھی زندہ ہوجائیں گے”۔ اس پر مولوی محمد زمان کی خوش ہوگئے ۔وزیرستان آزاد تھا۔ شریعت کے نفاذ میں رکاوٹ نہ تھی۔ ریاست پاکستان کی چور ، ڈکیٹ اور بدامنی پھیلانے والوں سے جان چھوٹ جاتی۔ یہی تجربہ دیکھ کر پورے پاکستان میں بھی شرعی عدالتیں قائم ہوسکتی تھیں۔
مولوی محمد زمان نے کہا کہ” یہاں جلسہ میں میرے مدرسہ کیلئے چندے کا اعلان بھی کرنا ہوگا۔ کانیگرم سب سے آگے تھا لیکن اب علم میں پیچھے رہ گیا”۔ میں نے کہا کہ یہ تو چھوٹی بات ہے لیکن اس سے پہلے ہم نے کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ پہلا اقدام یہ ہوگا کہ پیر، مولوی اور تبلیغی جماعت والے سب سے پہلے اپنے اوپر شریعت نافذ کریں گے۔ وہ کہنے لگے کہ کیا ہم شریعت پر نہیں چلتے ؟۔ میں نے کہا کہ اگر چلتے ہوں تو اچھی بات ہے لیکن اگر نہیں چلتے ہوں تو چلیں گے۔ مولوی محمد زمان نے کہا کہ بطور مثال ۔ میں نے کہا کہ ” بیٹیوں کو بیچنا چھوڑ دیں گے۔ حق مہر زیادہ ہو یا کم لیکن اسکے رکھنے کی والد اور بھائی کو اجازت نہیں ہوگی۔ 70ہزار کی جگہ کروڑ روپے ہو مگر سارے پیسے دلہن کے ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں شریعت کے مطابق حق دیں گے۔ تیسرا یہ کہ رسمی نہیں شرعی پردہ کرنا ہوگا۔ مولانا رشیداحمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھا ہے کہ جو لوگ شرعی پردہ نہیں کرتے ۔وہ فاسق ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھ لی تو واجب الاعادہ ہوگی”۔ مولانامحمد زمان نے کہا: ”یہ تو بہت مشکل ہے”۔ میں نے عرض کیا کہ” دوسروں کو سنگسار کرنا، انکے ہاتھ کاٹنا، کوڑے مارنا آسان اور اپنی بیٹیوں کو حق دینا مشکل ہے؟۔ہم ہر جمعہ کے خطبہ میں پڑھتے ہیں کہ نبیۖ نے فرمایا: تمہارے اوپر میری سنت اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنت لازم ہے۔ ہم اس پر عمل کریں تو بات بن جائے گی”۔ مولوی محمد زمان نے کہا کہ اس پر عمل نہیں ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہم کرواکر دکھائیں گے ۔ انشاء اللہ العزیز
پھر ہمارے پڑوسی سید بادشاہ کیساتھ کچھ تبلیغی میرے گھر پر آئے۔ ایک نے پوچھا کہ” میرا بیٹا کراچی میں ٹائر پنچر کا کام کرتا ہے ۔کیا میرے لئے اس کی کمائی جائز ہے؟”۔ میں نے کہا کہ ” اگر وہ کوئی فراڈ نہ کرتا تو بالکل جائز ہے”۔ اس نے کہا کہ ”میری بیوی، بہو اور بیٹیوں نے روزمرہ کے فرائض کی تعلیم حاصل نہیں کی ۔ اگر رائے ونڈ سے مستورات کی جماعت آئے اور ہماری خواتین کو فرائض سکھائے تو جائز ہے؟۔ میں نے کہا : ”بالکل نہیں! اسلئے کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ” اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ”۔ فرائض کی تعلیم تمہارا فرض ہے اور اگر خواتین کی جماعت رائیونڈ سے آگئی اور ڈاکوؤں نے اغواء کرلیا تو پھر اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟”۔
پھر میرے خلاف انواع واقسام کے پروپیگنڈے شروع کئے گئے کہ قادیانی ہے، بریلوی ہے ، شیعہ ہے۔ آخری مہدی کا دعویٰ کیا ۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ایک دن مسجد کا امام نہیں تھا ، امامت کیلئے تبلیغی مصلہ پر کھڑا ہوا تو ظفر شاہ نے پکڑ کر پیچھے کردیا اور میرا کہا کہ یہ اتنا عرصہ سے علم کیلئے گیا تھا اور تم چلہ یا چار مہینے لگاکر پھر میڈیکل سٹور بھی کھول دیتے ہو۔ (جس میں جعلی دوائیاں بیچتے ہو) مجھے آگے کردیا تو نماز پڑھانے کے بعد میں نے اپنی زبان میں تقریر کی ۔ جو پشتو نہیں ارمڑی ہے۔ میں نے کہا کہ ” ہمارا عقیدہ بہشتی زیور کے مصنف مولانا اشرف علی تھانوی اور بانی تبلیغی جماعت مولانا محمدالیاس والا ہے۔جو ذکر کرتے ہیں یہ بھی مولانا اشرف علی تھانوی کے سلسلے کا ہے۔ یہاں لوگ کھلی ندی میں ننگے نہاتے ہیں۔ جو حرام اور غیرت کے خلاف ہے۔ سود، ملاوٹ اور دیگر منکرات میں مبتلاء ہیں۔ تبلیغی جماعت فضائل کی تبلیغ کا کام کرتی ہے، اس کا طریقۂ کار فرض، واجب اورسنت نہیں ۔یہ ایک مستحسن کام ہے۔کرلیا تو بھی ٹھیک اور نہیں کیا تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ میں وضاحت اسلئے کررہاہوں کہ تم نے میرے پیچھے نماز پڑھی اور مجھ پر لوگ بہتان لگارہے ہیں کہ قادیانی ہے، شیعہ ہے، بریلوی ہے وغیرہ لیکن یہ بہت بے غیرت ہیں جو چھپ کر یہ کام کوتی میںکرتے ہیں اور میرا گریبان نہیں پکڑتے۔ (کوتی لیٹرین کیلئے مخصوص کمرے ہیں جو بند ہوتے ہیں) تبلیغی جماعت کا نائب امیر گل ستار اٹھ گیا اور اس نے کہا کہ ”مفتی زین العابدین نے فتویٰ دیا ہے کہ تبلیغی جماعت کا کام فرض عین ہے۔ میں پہلی بارندی میں ننگا نہایا ہوں”۔ حاضرین کا اتفاق کیا کہ” جس کی بات غلط ہوگی تو اس کو کانیگرم بلکہ وزیرستان سے نکالا جائے گا”۔ میں نے کہا تھا کہ شہر کے علماء کو بلالیتے ہیں۔ لیکن تبلیغی ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ میں میرانشاہ جاؤں تو یہ یہاں علماء سے جلسہ کروائیں۔ ایک دن میں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کل میں چلا جاؤں اور پھر دوسرے دن گھر سے نہیں نکلا۔ تبلیغی جماعت نے سمجھا کہ گیا ہوں تو علماء کو جمع کرنا شروع کیا۔ میں نے بھانجے عبدالواحد اور حافظ عبدالقادر شہید کو بلایا اور ٹیپ ریکارڈر ساتھ لانے کا کہا۔ جب میں مسجد پہنچ گیا اور علماء سے کہا کہ مجھ سے بات کرنی ہے تو بتاؤ، ورنہ میرانشاہ جانے کا پروگرام ہے؟۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم مشورہ کرلیتے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا مسجد کے قریب گھر میں بات کرتے ہیں، میں نے کہامسجد میں بات کریں تاکہ سب کو پتہ چل جائے مگر وہ گھرمیں چلے گئے۔ میں نے سوچا کہ ٹیپ ریکارڈر ساتھ ہے تو بات ٹیپ کرلیتے ہیں۔ وہ ٹیپ کی اجازت نہیں دے رہے تھے تو میں نے کہا کہ میرے مرشد حاجی عثمانسے بھی علماء ومفتیان نے ملاقات کی پھر بہتان باندھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ میں نے کہا کہ تمہارا یہاں سنت کے بعد کی دعا پر مناظرہ ہوا تھا تو دونوں نے ڈھول بجاکر اپنی جیت کا اعلان کیا تھا۔میں میراثی نہیں کہ ڈھول بجاؤں۔ آپ نے اس پرقادیانی کا فتویٰ لگایا تھا؟۔ جس کا مولوی محمد زمان نے اقرار کیا اور بہت منت سماجت کی کہ جو فیصلہ بھی ہوگا اس کو ہم تحریری لکھیں گے۔ پھر پوچھا کہ آپ نے مہدی آخرزمان کا دعویٰ کیا ہے؟۔ میں نے کہا کہ وہ مدینہ میں پیدا ہوں گے ، نام محمد ، والدین کا نام آمنہ وعبداللہ اور بیت اللہ میں بیعت ہوگی۔ میں نے حجاز دیکھا بھی نہیں ہے تو یہ دعویٰ کیسے کرسکتا ہوں؟۔ البتہ شاہ اسماعیل شہید نے لکھا ہے کہ خراسان سے بھی ایک مہدی آئے گا۔ جب کتاب دکھائی تو مولوی محمد زمان نے کہا کہ یہ وزیرستان ہے خراسان نہیںہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے کہا کہ مہدی ایک ہی ہے دوسرا نہیں تو یہ بحث نہیں کہ یہ خراسان ہے یا وزیرستان؟۔ پھر انہوں تبلیغی جماعت کا پوچھا تو میں نے کہا کہ یہ مستحن کام ہے فرض نہیں۔ مولوی زمان نے اپنے ہاتھ سے میری باتیں لکھیں کہ میں نے مہدی آخرزمان کا دعویٰ نہیں کیا۔ تبلیغی جماعت کا کام مستحسن ہے۔ وغیرہ ۔ میرے دستخط کے بعد سب حاضرین نے بھی اس پر دستخط کردئیے۔ تبلیغی جماعت نے پر تکلف کھانا تیار کیا تھا وہ بھی سب نے کھالیا اور دعا خیر کے بعد رخصت ہوگئے۔بعد میں انہوں نے مشہور کیا کہ پیر صاحب کو توبہ کروایا ہے۔ میں نے کہا کہ فیصلے والے کاغذ کی فوٹو کاپی تقسیم کرلیتے ہیں۔ معاملہ تو تبلیغی جماعت کے خلاف تھا اسلئے کہ انہوں نے کہا کہ فرض عین کی بات غلط ہے۔ مولوی زمان نے وہ تحریر دینے سے انکار کیا اور لکھا کہ مسجد کی امامت کرو۔ ہمارے پاس بھی مسجد ہے۔
میں نے جواب میں لکھ دیا کہ بے غیرت ایک لکھا ہے کہ نیا دین نہیں چل سکتا اور دوسری مسجد کی امامت کا کہہ رہے ہو؟۔ نئے دین والے کے پیچھے نماز ہوتی ہے؟۔ میں مسجد نہیں دنیا کی امامت کروں گا۔جب تمام پاکستان کے اکابر علماء ومفتیان بھی حاجی عثمان کے حق میں تھے ،تب بھی تبلیغی جماعت مخالفت کرتی تھی۔ جس کی وجہ سے مفتی تقی عثمانی نے تقریر اور تحریر میں تبلیغی جماعت کے اکابرین اور اصاغرین پر فتویٰ بھی لگایا تھا کہ یہ درس قرآن کے خلاف ہیں اور تبلیغی جماعت کو کشتی نوح سمجھتے ہیں۔ بہر حال انشاء اللہ سب کے چہرے کھل جائیں گے۔

کانیگرم میں یزید کی اولاد مشہور تھی لیکن کیا وہ سفیان خیل سے سفا خیل تو نہ تھی؟ نام کیساتھ سید بادشاہ ، سید عالم شاہ یا پھر ظفر شاہ اور ظاہر شاہ سے نسلی سید مراد نہیں

امریکہ کی ریسرچ اسکالر خاتون نے لکھا:” عباسی دور میں سادات کی نسل کشی ہورہی تھی تو کچھ لوگ انکے ساتھ تحفظ کیلئے وزیرستان کے شہر کانیگرم آگئے۔”۔ سادات سے ان لوگوں کو بہت عقیدت و محبت تھی لیکن پھر بھی مشہور تھا کہ کانیگرم میں یزید کی اولاد ہیں۔ ایک طرف اس بات کی بھی شہرت تھی کہ کانیگرم میں اہل تشیع تھے تو دوسری طرف یہ بھی مشہور تھا کہ کانیگرم میں یزید کی اولاد ہیں۔ ان دونوں باتوںکا تضاد اسلئے قابل قبول تھا کہ کوفہ میں حنفی اور شیعہ موجود تھے لیکن حسین کے دشمن یزیدی بھی کوفیوں کو ہی سمجھا جاتاہے ۔حالانکہ حنفی اور شیعہ اہل بیت و سادات سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے ہیں ۔ حال ہی میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ایک فاضل نے امام ابوحنیفہ کے بارے میں کتاب لکھی ہے اور اما م اعظم کو شہید اہل بیت قرار دیا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے اسلئے یہاں سے برپا ہونے والے قرآنی حنفی انقلاب کو ایران بھی قبول کرلے گا۔
ہزارہ شیعہ اپر کانیگرم میں تھے جبکہ لوئر کانیگرم میں برکی اور پیروں میں روایتی بغض و عناد تھا۔ پیروں کی دو شاخیں ہیں ایک ہماری شاخ بابو ویل جن سے برکی قبائل بہت عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ دوسری شاخ سبحان ویل جن کو لوگ بادینزئی سمجھتے ہیں۔ جب اُلو کے پٹھے آئے ہم عزتِ سادات سے بھی گئے۔ ہمیں قتل بھی کروادیا اور قاتلوں کو صحابہ کرام کا درجہ بھی دے دیا۔ ممکن ہے کہ یزید کی اولاد نے کانیگرم کے سید کا لبادہ اوڑھا ہو اور سفیان خیل سے سفا خیل بن گئے ہوں۔
کمینہ پن ، مفاد پرستی ، خود غرضی اور اپنی طاقت کے غلط استعمال کے بھی کچھ حدود و آداب ہوتے ہیں۔ چڑھتے سورج کے پجاری ،ہر ظالم طاقتور کے ساتھی اور مظلوم کا دشمن بننا بھی بہت بڑا زوال ہے۔ کوڑ والے پیر میدان میں ظالموں کیساتھ تھے اور منہاج کی بزدلی اور نسوانیت مردِ میدان کی نہیں تھی بلکہ گھرمیں قاتلوں کی بہت خدمت کرتاتھا۔کوڑ کے پیر بجا طور پر ان لوگوں کومنافق کہتے تھے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید لکھتے ہیں :
لیت شعری کیف اُمتی بعدی حین تتبختر رجالھم و تمرح نساء ھم ولیت شعری حین یصیرون صنفین صنفاً ناصبی نحورھم فی سبیل اللہ و صنفاً عمالاً لغیر اللہ
(ابن عساکر عن رجل کنز العمال ص219،ج14)
کاش میں جان لیتا کہ کیسے میری اُمت اس حال کو پہنچے گی کہ جب انکے مرد اکڑ کر چلیں گے اور انکی عورتیں اتراتی پھریں گی۔ کاش کہ میں جان لیتا کہ جب لوگ دو قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ایک قسم ان لوگوں کی ہوگی جو اللہ کی راہ میں سینہ سپر ہوں گے اور ایک قسم ان کی ہوگی جو غیر اللہ کیلئے سب کچھ کریں گے۔ (عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں)
جب2006ء میں ہمارے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا تھا تو اس کے بعد جٹہ قلعہ میں پیر منہاج سفا خیل کی بیٹھک طالبان کے گڑھ کے طور پر استعمال ہونے لگی۔ کالے شیشے والی بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں کاروائیاں کرتے ،پھرپر تکلف کھانے ، آرام کرنے اور پراٹھے کھانے کیلئے اپنے اس ٹھکانے پر پہنچ جاتے تھے۔ عوام کا دل بے گناہوں کیخلاف دہشتگردی پر بہت دکھی ہوتا تھا لیکن خدمت گزار مرد سڑک پر اکڑ کر چلتے تھے اور ان کی خواتین ظالموں کی خدمت پر اتراتی پھرتی تھیں۔
یہ نسل سید اور پختون تو دور کی بات یزید کی بھی یہ اصلی اولاد نہیں ہوسکتی۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے تخت پر بیٹھنے سے انکار کیا تھا۔ استعارہ کے طور پر ان کو یزید کی اولاد کہنا درست ہوگا۔ بنو اُمیہ نے مظالم کے پہاڑ توڑے تو وہ ہر ممکن اپنے مفاد کا تحفظ چاہتے تھے۔ ایک کردار مستقبل میں ائمہ اہل بیت اور سادات کا ہے ،دوسرا انکے مقابل سفیانیوں کا ہے۔ طرز نبوت کی خلافت کے قیام سے پہلے سادات اور ان میں گھس بیٹھئے سفیانیوں کے درمیان امتیاز بہت بڑا مرحلہ ہے۔ حضرت ابوبکر، عمر اور حضرت بلال کا تعلق نبی ۖ کے خاندان سے نہ تھا ۔ ابو لہب نبی ۖ کا چچاتھا وہ اور اس کی بیوی شدید مخالف تھے۔ جس کا قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے نام لے کر دونوں کا ذکر کیا ہے۔
سورہ القلم میں اللہ تعالیٰ نے زبردست آئینہ دکھایا ہے کہ
” ن ، قلم کی قسم اور جو سطروں میں لکھتے ہیں ، آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں ہیں۔ اور آپ کیلئے بے شمار اجر ہے۔ اور آپ اخلاق عظیم پر ہیں۔ پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون فتنہ میں مبتلاء ہے؟۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ کون راستے سے گمراہ ہے اور وہ جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔ پس جھٹلانے والوں کا کہنا نہ مانو۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ چشم پوشی کریں تووہ بھی چشم پوشی کریں۔ اور ہر قسمیں کھانے والے ذلیل کا کہنا مت مانو۔ طعنہ دینے والا، چغلی کرکے چلنے والا، نیکی سے روکنے والا، حد سے تجاوز کرنے والاگناہ گار، گنوار پن کے علاوہ بد اصل بھی۔اگرچہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ عنقریب ہم اس کو ناک پر داغیں گے۔ بیشک ان کی مثال باغ والوں کی ہے جب انہوں نے قسم کھائی کہ ہم ضرور سویرے اس کا پھل کاٹیں گے لیکن استثناء (انشاء اللہ) نہیں کیا۔ پھر تیرے رب کی طرف سے اس پر ایک جھونکا چلا اور وہ سوئے تھے۔ پھر وہ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔ پس صبح پکارنے لگے۔ سویرے چلو اگر تم نے پھل توڑنا ہے۔ پھر وہ آپس میں چپکے چپکے یہ کہتے ہوئے چلے کہ تمہارے باغ میں آج کوئی محتاج نہ آنے پائے۔ اور وہ سویرے اہتمام کے ساتھ پھل توڑنے پر قدرت کا خیال رکھتے ہوئے چل پڑے۔ پس جب انہوں نے دیکھا تو کہنے لگے کہ بیشک ہم تو گمراہ تھے بلکہ ہم محروم ۔ان میں سے معتدل مزاج اچھے نے کہا کہ میں نے تمہیں پہلے کہا نہیں تھا کہ اگر ہم تسبیح کرتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا رب پاک ہے اورہم ہی ظالم تھے۔ پھر ایکدوسرے کی طرف متوجہ ہوکر ایکدوسرے کی ملامت کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر افسوس کہ ہم سرکش تھے ہوسکتا ہے کہ ہمارا رب اس کا بدلہ اس سے بہتر دے۔ہم اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح عذاب ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب بڑا ہے اگر جان لیں۔پس کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیں گے؟۔تمہیں کیا ہوا،کیسے حکم لگاتے ہو؟۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟۔ تمہارے لئے اس میں لکھا ہے کہ تم جو چاہو اپنے لئے مرضی کے نتائج مرتب کرو؟۔ (سورہ قلم آیت1سے38)
اس واقعہ میں حق اور باطل کا بھرپور آئینہ دکھایا گیا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون اسپیشل ایڈیشن2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر:

تاہم، دوسرے لوگ راضی نہیں ہوئے اور مارچ 1877ء میں انہوں نے امیر شاہ (کانیگرم کے سید) اور دو علی زئیوں کو کابل میں امیر شیر علی خان کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کو حمایت پیش کریں، اس امید پر کہ وہ ان کے بدلے میں کچھ کر سکیں۔ (انگریز کیخلاف باہمی تعاون :انٹیلی جنس رپورٹ )
اگست میں جنڈولہ کے چار بیٹنی کانیگرم کے سید احمد شاہ کیساتھ گئے اور ستمبر میں ایک اور محسودوں کا گروہ بھی گیا۔( انگریز انٹیلی جنسیہ نے نظر رکھی تھی)
امیر نے ان کا انتہائی مہمان نوازانہ استقبال کیا۔قبائلی لوگ ان کو پسند کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں ذاتی توجہ دیتا تھا اور انہیں اعزازی پوشاک اور نقد تحائف دیتا تھا۔(انگریز کے دل کی یہ دھڑکنیں)

Others, however, remained
unreconciled, and in March 1877 they sent Amir Shah (one of the Kaniguram Sayyids) and
two Alizais to offer their support to Amir Sher Ali Khan in Kabul, hoping that he might be
able to do something for them in return.118
In August four Bhittanis from Jandola followed with the Kaniguram Sayyid, Ahmed Shah, as
did another party of Mahsuds in September.120
The Amir treated them extremely
hospitably; the tribesmen were reported to like him because he paid them personal attention
and gave them dresses of honour and cash gifts.

سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار:

میکالے نے سوچا کہ کانیگرم کے سیدخاص کر سبحان شاہ ، اسکا بیٹااکبر شاہ جو محاصرے کے دوران کم از کم دو مواقع پر محسودوں کے جاسوس نمائندے کے طور پر کام کر چکے تھے۔ میکالے کے 1870ء وسط دہائی کے سبحان شاہ کیساتھ اچھے تعلقات تھے۔ 1874ء میں جیسا کہ ہم نے پچھلے باب میں دیکھا اس نے بہلو ل زئی کیساتھ معاہدہ کرنے میں انکا کردار تسلیم کیا اور انہیں ایک یا دو سال بعد قبائلی پولیس میں 2 نوکری دی۔ تاہم، بعد میں،میکالے نے فیصلہ کیا کہ سبحان شاہ اور اکبر شاہ کابل حکومت سے سازش میںسر گرم تھے، جن سے رابطہ قریب کے لوگر وادی کے اُرمرڑوں کے ذریعے تھا۔ مجموعی طور میکالے نے کہا: یہ سید ”بڑے سازشی و دغاباز” تھے۔( جس نے رپوٹ کیااسی کی خانی چھن گئی؟)

Macaulay thought, the Sayyids ofKaniguram, in particular Subhan Shah and his son Akbar Shah, who had acted as theMahsuds’ representative on at least two occasions during the blockade. Macaulay had beenon good terms with Subhan Shah in the mid-1870s; in 1874, as we saw in the previouschapter, he acknowledged his role in helping him to reach agreement with the Bahlolzais,and gave him two sowars in the tribal police set up a year or two later. Subsequently,however, he decided that Subhan Shah and Akbar Shah were actively intriguing with theKabul government, with which they were in communication through the Urmars settled inthe nearby Logar Valley.103 In general, he said, these Sayyids were “great intriguers and schemers”.

بادشاہ خان درانی انٹیلی جینس قومی جرنیل کی بہت عزت تھی مگر انگریز کی انٹیلی جنسیہ حقیر تھی

فریب وقت نے گہرا حجاب ڈالا ہے وہاں بھی شمعیں جلا دو جہاں اُجالا ہے
سید حسن شاہ عرف بابو میرا پردادا، سلطان اکبر ”خان” میرا نانا تھا۔بابو اور سبحان کے نام دو قبیلے۔
میرانانا میرے دادا کا بھانجا جسے حکمت سکھا ئی، تاکہ انگریزسے دور ہو۔ چچا انور شاہ کلینک کرتاتوبڑا دولتمند ہوتا،چچازاد کہتا تھا: ”ہم پر حرام نہیں لگتا” ۔ اگر سخاوت نہ کریں تو پھر ہمیں حلال بھی نہیں لگتا۔
پاکستان کاپہلا صدر سکندر مرزا افسر تھا تومیرے نانا سلطان اکبر شاہ سے جٹہ قلعہ افغانی پیر ”شیر آغا” کیلئے کرائے پر مانگا ۔ مگر نانا نے کہا کہ ”میں افغان بھائیوں کے قتل کیلئے نہیں دیتا” ۔ انگریز پولیٹیکل ایجنٹ سے نانا نے کہا کہ جو تمہیں قتل کرتے ہیں ان کو زمینیں دیتے ہو اورجوقتل نہیں کرتے تو ان کو کچھ نہیں دیتے؟۔ پھر دائر ہ دین پناہ کی زمین دی۔
گومل مٹی کا مکان سستاتھا۔ میرے والد کانیگرم مسجد کیلئے ملکہ کوہسار مری سے کاریگر لائے تھے۔
پہلی بار شامی پیر کانیگرم آیا توداڑھی نہ نکلی تھی علماء نے سمجھا کہ میم ہے۔ ڈھول بجاکر لشکر لایاتھا۔ دادا نے شامی پیر کیساتھ بٹھادیا توشرمندہ ہوگئے۔ شامی پیر انکے منہ پر سگریٹ کا دھواں چھوڑرہاتھا۔ مَرزا( بھائی کوکہتے ہیں) علی خان فقیراے پی کے خطوط سیدایوب شاہ لکھتا تھاجوBAتھا،افغانستان سے پہلا اخبار نکالا۔امیرامان اللہ خان کا بھائی پکڑا گیا جو نادر خان کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ سید ایوب شاہ پر حاسد نے غلط الزام لگایا۔ توپ سے اُڑانے کی سزا سنائی گئی پھر افغانستان سے جلاوطن کردیاگیاتھا۔
شامی پیردوسری بارآیاتو لشکر لیکر افغانستان میں رشتہ دارامیر امان اللہ خان کو اقتداردلانا چاہتا تھا۔ سیدایوب اسکا میزبان تھا پھر انگریز نے بمباری کی اور کانیگرم میں ہمارے گھرپر جہاز سے گولہ پھینکا ۔ ظفر علی خان نے 1937ء میں بمباری پر احتجاج کیا اور کانگریس کی خاموشی پر مذمتی اشعارلکھے۔ شامی پیر نے اپنا جانشین بنانا چاہا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کریں ۔دادا نے جواب دیا کہ ”میں اپنے گناہ اللہ سے معاف کرواؤں تو بہت ہیں ،تیری خلافت کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا”۔
فاضل دیوبند پیر مبارک شاہ نے سکول بنالیا۔ دادا نے کہا کہ ” انگریز کیلئے تعلیم یافتہ غلام مت بناؤ ، اب توکچھ لوگ بندوق اٹھالیتے ہیں ”۔ نانا نے کہا: ”عوام کو ہمارے گدھے چلانے سے مت نکالو”۔

” خان” کون او رکیسے؟؟:

کانیگرم کا”خان” لاولد میانجی خیل تھا۔ ایک بیٹی سیداکبرشاہ اورایک دل بند میانجی خیل کی بیوی تھی۔ دل بند اپنی بیوی کے حق کیلئے لڑا تھا لیکن 8 ایجنسیوں کے MNA شمن خیل محسود نے سید اکبر کی بیوی کے حق میں فیصلہ کرایا ۔ سید اکبر لاولد تھا۔ ایک بیٹی سے سوتیلا ماموں”محمود” اورایک بیٹی سے خالوپیرعالم شاہ ”خان بابا” تھا۔جو شامی پیرکے خلیفہ پیر اللہ دادا شاہ میانجی خیل کے فرزند تھے۔
اپر کانیگرم کا چوروں کیخلاف لشکر بن گیا۔ سید اکبر شاہ کے دوبھائی مظفرشاہ ، منور شاہ قتل ہوگئے۔ تیسرے صنوبر شاہ کو الزام لگاکر قتل کیا گیا پھر محمودکو چورنے قتل کیا ،یہ اتفاق تھایا پیچھے کوئی سازش تھی؟۔
سبحان کے پوتوں نے تنگی بادینزئی کو خیر بادکہا۔ بابو نے رہائشی مکان،زمینیں دیں۔ نانا نے مکان بیچا۔ خریدار نے کہا: ” مبارکباد دو”۔ دادا نے رقم دی اورکہا کہ صبح سامان نظر آیاتو اچھا نہیں ہوگا پھر مسجد کی قریبی زمین دلجوئی کیلئے دی۔ پیر کرم شاہ نے اٹلی سے خط لکھا کہ ”یہ گولی کی زبان سمجھتے ہیں، خان بننا ہمارا حق تھا ”۔ جٹہ قلعہ بنگلے میں فاروق شاہ سبحان شاہ کا جانشین تھا۔ یوسف شاہ کو فکرہے۔ اگر حقائق کاپتہ چلے توعناد کی جگہ الفت وموودت پیدا ہوگی۔
77ء میں رفیق شاہ شہیدخان بابا اورپیر فاروق شاہ کو بٹھاکرمیرے والد نے پیپلزپارٹی کے منو خان کنڈی کو جتوایا ۔ماموں 70ء میں قیوم ”شیر” 77ء مفتی محمودسے پرامیدتھے۔ فاروق لغاری صدر بنا تو اسے کہاکہ ”یہ کرسی نہ چھوڑنا”۔جنرل نصیر اللہ بابر دوست کو جیل میں نہیں ملاکہ سرکارناراض ہوگی۔
8قبائلی ایجنسیوں کی تمام انگریز انٹیلی جنسیہ کو یکجا کیا جائے تو عزت و غیرت میں کانیگرم کی عوامی انٹیلی جنسیہ کے بادشاہ خان اور اسکے خاندان کو نہیں پہنچ سکتے ۔ یہ شخصیت اور خاندان قابل رشک ہے۔ جنگ میں لاش اٹھانے کی ہمت شادی خان نے کی تھی مشکل ترین لمحات میں بادشاہ خان نے ساتھ دیا تھا۔لوگ عوامی انٹیلی جنسیہ کوعزت سے جرنیل کہتے مگر سرکاری انٹیلی جنسیہ کو حقیر سمجھتے ۔ 00 13 ملکان ووٹ بیچ کر MNA بناتے ۔ حمزہ نے ابوجہل سے کہا :اے چوتڑ کو خوشبو لگانے والامیرے بھتیجے کو گالی دی ہے؟۔ (الرحیق المختوم)سیدبلال کی عزت، ابولہب اور اسکی بیوی کی ذلت کردار کا انقلاب تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا

لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا

جاپان پر ایٹم بم 15اگست 1945کوگرایا ۔ برصغیر کی آزادی 15اگست رات 12بجکر ایک منٹ پر رکھی تاکہ جاپان جس دن یوم سیاہ منائے، اس دن برصغیر پاک و ہند میں آزادی کا جشن منایا جائے۔
ہندوستان میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے آزاد ہند کے سربراہ کا حلف اٹھایا۔ گدھا، پالان اور سوار وہی تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا تھا۔ پھر بھی جہاں بھارت آج آزاد ملک ہے تو وہاں کینیڈا میں برطانیہ کا حلف اٹھایا جارہا ہے۔
آزادی کا شعور لیلة القدر کافیض ہے۔ اللہ نے فرمایا :” ہم نے اس کو لیلة القدر میں نازل کیا اور تمہیں کیا پتہ کہ لیلة القدر کیا ہے؟ ۔ لیلة القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے”۔ اگر آزادی طلوع فجر کے بعد ملتی تو القدر کا فیض نہ ملتا۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے اپنی تفسیر میں لکھا کہ ”سندھ ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر،سرحد اور افغانستان میں سبھی قومیں امامت کی حقدار ہیں۔ ان کی وجہ سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا پوری دنیا میں آغاز ہوگا۔ امام ابو حنیفہ کے اساتذہ اہل بیت تھے اسلئے ایران یہ انقلاب قبول کریگا۔ قرآن کی طرف رجوع حنفی مسلک کی بنیاد ہے۔ احادیث کی کتابیں 100سال بعد لکھی گئیں۔جس کا یہ فائدہ تھا کہ سنت محفوظ ہوگئی مگر دوسری طرف اُمت مسلمہ کا عمومی رجحان قرآن سے ہٹ گیا اور امام ابو حنیفہ نے اسلئے قرآن پر بہت زور دیاتھا۔
(تفصیل سے دیکھئے تفسیر سورہ قدر المقام محمود)
میری والدہ نے اصرار کیا تومیرے دادا سید امیر شاہ نے بتایاکہ رمضان کی 27ویں لیلة القدر کو ہاتف غیب سے میں نے 3دفعہ یہ آیت سنی تھی۔
وامتازو االیوم ایھا المجرمون
”اور الگ ہوجاؤ آج کے دن اے مجرمو!”۔
حاجی محمد عثمان کو مولانا فقیر محمد نے مسجد نبوی ۖ میں الہام پر 27رمضان لیلة القدر کوخلافت دی۔ اور لکھ دیا کہ” بہت شکریہ کہ خلافت قبول فرمالی”۔
اگر پاکستان میں ہزار مہینے کے بعد بھی خلافت کے خواب کی تکمیل ہوجائے اور قرآن کی طرف قوم کارجوع ہوجائے تو بہت سستا سودا ہے۔ اب تواپنا کچھ بھی نہیں بگڑا ہے۔ ایک ایک مسئلے اور بات پر ہم ایک دوسرے کو چیلنج اور سازش کرنے کے بجائے وہ حقائق کھول کھول کر بیان کریں جن سے ہماری اور پوری قوم کی اصلاح ہوگی۔ فوج خود کو پاک سمجھ رہی تھی مگرپھرآنکھیں کھل گئیں تو سب کی کھل جائیں۔

آیت 230البقرہ میں تیسری طلاق نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا گیا ہے کہ آیت230میں تیسری طلاق مرادہے۔یہ لوگ قرآن اور نبی کریم ۖ کی حدیث کے علاوہ اپنے اپنے اکابرین اور درسِ نظامی کی تعلیمات کے بھی منکر ہیں۔ ریاضی، سائنس اور معاشرتی علوم سمجھنے والوں کو تو چھوڑئیے ،بالکل ان پڑھ لوگوں کی سمجھ میں بھی یہ بات آسکتی ہے کہ آیت 230سے مراد تیسری طلاق قطعی طور پربالکل بھی نہیں ہے۔
درسِ نظامی میں حنفی مسلک کا مؤقف یہ ہے کہ اس طلا ق کا تعلق آیت229کے شروع میں موجود الطلاق مرتان (طلاق دومرتبہ ہے) سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آیت 229کے آخر میں 230سے بالکل متصل فدیہ کی صورت سے ہے۔ درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے والے اگر بالکل گدھے نہیں ہوں تو وہ حنفی مسلک کے اس مؤقف کو سمجھتے ہیں۔
اس حنفی مؤقف کی تائید ذخیرہ احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ۖ سے صحابی نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” آیت 229میں الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔
یہ حدیث دیوبندی مکتب کے وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کتاب ”کشف الباری شرح صحیح البخاری ” اور بریلوی مکتب کے تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی کتاب ”نعم الباری شرح صحیح البخاری ” میں نقل کی ہے۔ علاوہ ازیں صحیح بخاری میں نبی ۖ نے یہ واضح فرمایا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے۔ پاکی کی حالت میں پہلی بار طلاق یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی میں دوسری بار طلاق یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت میں تیسری بارطلاق یا رجوع۔ اور نبی ۖ نے یہ واضح فرمایا کہ یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم دیا ہے۔ عدت کے مراحل اور طلاق کے مراتب ایک دوسرے کیساتھ لازم وملزوم ہیں۔ان پڑھ بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے۔

البقرہ آیة 230 کا تعلق صرف فدیہ سے ہی ہے

مشہور حنفی عالم علامہ تمنا عمادی کی کتاب ”الطلاق مرتان” میں حنفی مسلک کے مطابق آیت 230البقرہ کی طلاق کو بالکل متصل آیت 229 کے فدیہ کی صورت سے جوڑا گیا ہے۔ عام طور سبھی علماء ودانشور حضرات فدیہ کو خلع قرار دیتے ہیں۔ اگریہ بات درست مانی جائے تو پھر صرف خلع کی صورت میں حلالہ کا حکم ہوگا اور آیت 230 میں ذکر کردہ طلاق سے مراد خلع کے بعد کی طلاق ہے۔ جب علماء ومفتیان کا تعلق مسلک حنفی سے ہے تو پھر حلالہ صرف اور صرف خلع کی صورت میں ہوگا۔ پھر اگر حقیقی حنفی مسلک اور درسِ نظامی کی تعلیم کے مطابق حلالہ کو خلع تک محدود کردیا جائے تو عورت کو اپنے کئے کی سزا مل جائے گی مگر مرد کے گناہ کی سزا تو عورت کو نہیں ملے گی؟۔ علامہ تمنا عمادی نے لکھا ہے کہ حلالہ سزا ہے لیکن عورت کے فعل کی سزا ہے۔
اگر کوئی اپنی معمولی عقل وفہم سے کچھ دیر تدبر کرے تو آیت229البقرہ سے واضح ہوجائے گا کہ فدیہ سے مراد خلع ہرگز نہیں ہے اور اس کی وجہ سے مسلکوں ، فرقوں اور دانشوروں کی وہ ساری چالیں ناکام ہوجائیں گی جن کی بنیاد پر وہ مٹک مٹک کر اپنی علمیت کا جادو جماتے رہتے ہیں۔
آیت229میں اللہ کے حکم ، نبیۖ کی سنت کے مطابق پہلے طہر میں پہلی مرتبہ طلاق، دوسرے طہر میں دوسری مرتبہ طلاق اور تیسرے طہر میں پھر معروف رجوع یا تیسری مرتبہ طلاق دی گئی تو تین طلاقیں مکمل ہوگئیں۔ اور کوئی طلاق باقی نہیں۔ تین طہر میں تین مرتبہ طلاق کے بعد اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم سمجھایا ہے کہ پھر شوہر کیلئے کوئی بھی اپنی طرف سے دی ہوئی چیزواپس لینا جائز نہیں ہے۔ مثلاً 100چیزیں دی ہیں تو ایک بھی نہیں لے سکتا ۔ مگر جب دونوں اور فیصلہ والوں کو یہ خوف ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہ کی گئی تو پھر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ مثلاً موبائل کی سم شوہر نے دی اور اس سے دونوں میں رابطہ اور اللہ کی حدود توڑنے کا اندیشہ ہے تو سم کو واپس کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ اگرسم کے علاوہ اس کے شوہر نے موبائل بھی دیا ہے تو موبائل لینا جائز نہیں ہوگا ۔

عمران خان و بشری بی بی عدت کیس خلع یا طلاق؟

عدالت کے جج خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی کے درمیان فیصلہ کس بنیاد پر کریںگے؟۔عائلی قوانین میں طلاق کی عدت 3ماہ ہے، تحریری طلاق کے بعد عدت میں نکاح ہوا، جسکے گواہ اور نکاح خواں ہیں۔ پھر عدت کے بعد نکاح کے گواہ ونکاح خواں ہیں۔
عورت طلاق کے ایک دن بعد نکاح کرے اور شوہر کیس کرے تو عورت کی بات کا اعتبار ہوگا؟۔ یہ بات عورت مارچ کی ہدیٰ بھرگڑی بھی نہ مانے گی اور اگر یہ قانون بنانا ہے تو پارلیمنٹ سے منظور کرو۔
ہیرا منڈی اور دیگر برائی کے مراکز کی بات بھی نہیں بلکہ مدارس میں حلالہ کے نام پر شریف خواتین کی عزتوں کو جس طرح تار تار کیا جاتا ہے اس کا حل نکالو۔مفتی تقی عثمانی کا ”فتاویٰ عثمانی ” بیہودگی کے جن حدود کو پار کرچکاہے اس کا تدارک کرو۔ اورمدارس میں قرآن وسنت کے خلاف جو تعلیمات ہیں ان کی اصلاح کیلئے میدان میں نکلو۔ عمران اور بشریٰ کا مسئلہ بھی بالکل باعزت اور قرآن وسنت ہی کے مطابق حل ہوجائے گا۔ تحریک انصاف ریاست مدینہ کی بات کرتی ہے لیکن اس کیلئے نظام سے پہلے اسلامی تعلیمات کو پیش کرنا ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کی طرف سے ووٹ اور تلوار کا استعمال نہیں کیا گیا لیکن دنیا نے اسلامی نظام کو قبول کرلیا۔
عیسائی آج بھی مسلمانوں سے تعداد، حکومت، طاقت، تعلیم ، ترقی اور شعور میں بہت زیادہ ہیں لیکن اسلام جیت گیا اور عیسائیت ہار گئی ۔اسلئے کہ عیسائی مذہب میں طلاق کا تصور نہیں تھا لیکن قرآن سب سے زیادہ اسی معاشرتی مسئلے کو بار بار دہر اتا ہے۔ آج صرف عیسائی نہیں پوری دنیا کے ان مذاہب کو شکست ہوگئی جو شرعی طلاق کو نہیں مانتے تھے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ طلاق کی طرح کیا حلالہ بھی فطرت کا راستہ ہے؟۔ اگر نہیں تو یہ دیکھا جائے کہ قرآن نے حلالہ سے چھٹکارا دلایا ہے یا لعنت پر لگایا ہے؟۔
بشریٰ بی بی 3طلاق کے بعد گھر سے نکلنا چاہتی تھی مگر خاور مانیکا نے کہا کہ عدت گھر میں گزارلو۔ بشریٰ بی بی کا ذہن نکاح کیلئے بنا تو تحریری طلاق مانگ لی۔یہی خلع تھا اور خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ جو تحریری طلاق کے بعد پوری تھی۔

البقرہ آیة 229کا تعلق خلع سے قطعاً نہیںہے

میری بہت سارے علماء ومفتیان سے بالمشافہہ ملاقات ہوتی ہے تو سب اس بات پر دنگ رہ جاتے ہیں کہ آیت 230البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق واقعی فدیہ ہی کی صورت سے ہے اور پھر فدیہ سے خلع مراد ہوہی نہیں سکتا ہے تو کیسے علماء و مفتیان کی طرف سے قرآن سے انحراف جاری ہے اور خواتین کو حلالہ کی لعنت پر مجبور کیا جارہا ہے؟۔
مجھے عمران خان کی قیادت اور عوامی مقبولیت پر اعتراض نہیں ہے کیونکہ ایک مسجد اور مدرسہ کے علماء ومفتیان کو حق سمجھ میں آتا ہے لیکن وہ قرآن کی خاطر قربانی نہیں دیتے اور عمران خان ریاست کیخلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔ البتہ کل بھی اسی ریاست کی ٹانگ میں اس نے اپنا سر دیا تھا اور کل بھی بھروسہ نہیں ہے کہ وہ پھر نظام کے آگے مجبور ہوکر گھٹنے ٹیکے گا۔
پھر کیوں نہ وہ کام کیا جائے کہ جس کا فائدہ بھی فوری طور پر لوگوں کو پہنچے۔ کسی کی تذلیل بھی نہ ہو۔ لوگوں کی عزتیں بھی بچ جائیں اور اختیارات کے پیچھے دوڑنے والے بھی اپنی ہوس کچھ کم کرلیں؟۔
جس طرح طلاق کی حقیقت سے دنیا آگاہ ہوئی اور ہزار ،گیارہ سوسال بعد عیسائیوں کو حقیقت سمجھ میں آگئی تو اس طرح اگر مسلمانوں کو ہزار ،گیارہ سو سال بعد حلالہ کی لعنت سمجھ میں آجائے تو اچھا ہوگا۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ دنیا کو حلالہ کی لعنت کا خاتمہ اسلام نے ساڑھے 14سو سال پہلے سمجھا یا تھا اور اسی وقت سمجھ میں بھی آیا تھا جس کی وجہ سے حلالے کی لعنت کا تصور دنیا سے ختم ہوگیا۔ لیکن شاید اب بھی اسرائیل کا کٹر مذہبی طبقہ اس میں مبتلاء ہو۔اور اس میں سب سے بڑا قصور مسلمانوں کا تھا اسلئے کہ انہوں نے خود بھی حلالہ کی لعنت کا سفر جلد شروع کیا اور پھر اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا۔ مولانا مودوی ،علامہ وحیدالزمان ،جاوید احمد غامدی اور تمنا عمادی نے بھی آیت 229البقرہ سے خلع مراد لیکر عورت، معاشرہ ، فطرت اور اسلام کا بیڑہ غرق کیا۔
سورہ النساء آیت19میں خلع اور آیت 20 ، 21 میں طلاق واضح ہے۔ سنی ، شیعہ، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، جماعت اسلامی ، غامدی، پرویزی اور انجینئر علی مرزا سبھی ٹھیک ہوسکتے ہیں۔

البقرہ 228 ، 229، 231 ،232 کا خلاصہ

سورہ بقرہ کی آیات 230سے پہلے کی آیات اور بعد کی آیات میں بالکل کوئی بھی تضاد نہیں ہے ۔ طلاق سے رجوع کیلئے ”علت” باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رضامندی ہے۔ ایک عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو ایک اور دومرتبہ کی طلاق میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ آیت228البقرہ میں اللہ نے فرمایاکہ ” اور ان کے شوہر اس انتظار کی عدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگروہ اصلاح چاہتے ہوں”۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عدت کی پوری مدت میں شوہر کیلئے رجوع کی اجازت ہے۔ اس میں ایک ساتھ 3طلاق یا پھر پاکی کے مختلف ادوار میں 3مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع کی گنجائش ہے۔ لیکن اگر عورت راضی نہ ہو تو پھر ایک طلاق کے بعد بھی رجوع کی گنجائش نہیں ۔ یعنی طلاق سے رجوع کی” علت”باہمی رضامندی ہے۔ اگر رضامندی نہ ہو تو پھر رجوع کرنا حرام ہے اور یہی حکم آیت 229البقرہ میں بھی موجود ہے کہ دومرتبہ طلاق کے بعد عدت کے آخری مرحلہ میں معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے۔ معروف سے مراد باہمی اصلاح اور رضامندی ہے۔ باہمی اصلاح و رضامندی کے بغیر رجوع کرنا حرام ہے۔
آیت 230میں جس طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں ہے اس سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کی طرف سے رجوع کی گنجائش باقی نہ رہے اسلئے حکم واضح ہے ۔
آیت 231البقرہ میں یہ واضح ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کرنا درست ہے۔ یعنی باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے لیکن اگر رضامندی نہ ہو تو نہیں ہے۔
آیت 232البقرہ میں بھی واضح ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی و معروف رجوع کی گنجائش ہے لیکن باہمی رضامندی کے بغیر نہیں۔
سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی یہی خلاصہ بیان کیا گیا ہے کہ باہمی رضامندی سے عدت اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی گنجائش ہے۔ خالی بخاری میں ایک حدیث سے مغالطہ دیا گیا ہے جو کہ بخاری کی اپنی روایات اور فقہ حنفی کے منافی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری

جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری

فرمایاۖافضل جہاد جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے

قال رسول اللہ ۖ افضل الجہاد کلمة الحق عندالسطان الجائر۔
ترجمہ: ”رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ افضل جہاد جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے”۔ اور یہ ہے کہ نبیۖ نے دریافت کرنے پرفرمایاکہ ”افضل جہاد جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ عدل ہے”۔
پاکستان میں گزشتہ سال 9مئی کاواقعہ ہوا۔ اگر پاکستان کی فوج عوام کے سامنے سرنڈر ہوجاتی تو عمران خان کو امام انقلاب اور امام خمینی قرار دیا جاتا لیکن اب حالت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کا پارٹی چھوڑنے اور کارکنوں کا اذیتیں اٹھانے کے بعد ایک طرف کہا جارہاہے کہ فوج نے یہ خود کیا ہے اور دوسری طرف عوامی مقبولیت کا فائدہ اٹھاکر سوشل میڈیا پر نفرت کو فروغ دیا جارہا ہے اور پاکستان اس سے اپنے بھیانک انجام کی طرف جارہاہے۔ پاکستان وہ گدھا بن چکا ہے جس نے اونٹ نہیں ریل مال گاڑی کا بار اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کیلئے سب مل بیٹھ کر ایک ایسا لائحہ ٔ عمل تشکیل دیتے اور نفرتوں کی جگہ سنجیدگی کو فروغ ملتا۔
اگر حکومت وریاست اور مقتدر طبقات کے سامنے کلمہ ٔ عدل اور حق کی بات پیش کی جائے تو ہم موجودہ مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔ نوازشریف کے دور میں بھی سپریم کورٹ پر حملہ ہوا تھا اور عمران خان و ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکنوں نے بھی پارلیمنٹ پر حملہ اورPTVپر قبضہ کرلیا تھا۔ فوج نے جن کو ناز ونخروں سے پالا تو انہوں نے اس کا جواب اس وقت طاقت سے دیا کہ جب ان میں ہمت پیدا ہوگئی ۔ البتہ جب تک عدالت اور پارلیمنٹ نشانہ تھے تو ان کو برداشت کیا گیا۔ پہلی مرتبہ جب عمران خان اور اس کے کارکنوں کی جانب سے مقتدرہ فوج کو نشانہ بنایا جارہاہے تو وہ برداشت نہیں۔
عمران خان اور نوازشریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن بھی دی اور برا بھلا بھی کہہ دیا۔ مولانا فضل الرحمن معتدل اور متوازن شخصیت ہیں۔ 44سالوں سے آئین پر عمل کا کہہ رہے ہیں۔

فرمایا ۖ ”سواد اعظم (بڑی جماعت، پارٹی) کا اتباع کرو”

قال رسول اللہۖ اتبعواالسواد الاعظم فانہ من شذ شذ فی النار
ترجمہ:” رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ بڑی جماعت کے پیچھے چلو ،جو پھسلا وہ آگ میں پھسلا”۔
جمہور کی اصطلاح اسلامی کتب میں اسلام کے شروع دور سے موجود ہے۔ جمہور صحابہ نے ابوبکر ، عمر، عثمان اور علی کی خلافت قبول کرلی۔ لیکن سعد بن عبادہ نے ابوبکر وعمر کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھی۔
حضرت علی نے حضرت عثمان کے خلاف شکایات کا نوٹس لیا اور کلمۂ عدل بلند کیا کہ ابوبکر وعمر سے آپ کا نسب ، آپ کی اسلام کیلئے قربانی اور نبی ۖ سے قرابتداری کم نہیں ہے ۔ اگر لوگوں کو شکایت رہی اور اس کا ازالہ نہیں کیا گیا اور خلیفة المسلمین اپنی مسند پر قتل ہوا تو یہ خونریزی قیامت تک بھی نہیں رک سکے گی۔ اسلئے عوامی شکایات کا ازالہ کریں ورنہ جب لوگ بے قابو ہوں گے تو مشکل پڑے گی۔
پھر حضرت عثمان کی شہادت تک بات پہنچ گئی۔ پھر حضرت علی کے خلاف محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ امام حسن نے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کیلئے کردار ادا کیا اور خلافت سے امیر معاویہ کے حق میں خود دستبردار ہوگئے۔ مولانا یوسف لدھیانوی کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” میں ہے کہ امیر معاویہ نے3 جمعہ کی تقریر میں کہا کہ” سارا مال میراذاتی ہے جیسے چاہوں خرچ کروں”۔ تیسرے جمعہ کو ایک شخص نے کہا کہ”تم غلط کہہ رہے ہو یہ مسلمانوں کا مال ہے”۔ خدشہ تھا کہ جلاد قتل کرے گا ۔امیر معاویہ نے کہا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ حکمران ہرقسم کی الٹی سیدھی بات کریں گے مگر کوئی روکنے والا نہیں ہوگا،جن کو جہنم میں بندر اور خنزیر بناکر پھینکا جائیگا۔ اللہ اس شخص کوخوش رکھے ،جب کوئی جواب نہیں دے رہا تھا تو مجھے یقین ہوا کہ میں ان میں ہوں۔ اس شخص نے میری جان میں جان ڈال دی ”۔ آرمی چیف عاصم منیر کی چاہت ہے کہ کوئی کلمۂ عدل کہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن عمران خان کو وزیراعظم بنادے توپھر ملک کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔

فرمایاۖ” بیشک میری امت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہ ہوگی”

قال ۖ لن امتی تجتمع علی الضلالة ابدًا ، فعلیکم باالجماعة، فان یداللہ علی الجماعة ”میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی ہمیشہ ، تم جماعت کی پیروی کرو، بیشک جماعت پر اللہ کاہاتھ ہے”۔
اصول فقہ کے چار اصول ہیں۔ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔ لیکن ”نورالانوار: ملاجیون” میں لکھا ہے کہ اجماع سے مراد اہل سنت ، اہل مدینہ، ائمہ فقہ اور ائمہ اہل بیت سبھی کا اپنی اپنی جگہ الگ الگ اجماع ہے۔
مدارس کے نصاب ”درس نظامی ”کی یہ تعلیم ہے مگر جب اجماع سے الگ الگ اجماع مراد لیا جائے پھر ان الگ الگ اجماع میں تضادات ہوں تو یہ اجماع کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔علماء غور فرمائیں!۔
حد یث کا بنیادی مقصد یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ”امت میں اختلاف کا سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا کہ جب امت کا کسی اہم مسئلے پر اجماع ہوجائے”۔ امت کا اجماع تھا کہ ”خلافت قریش میں رہے گی”۔ پھر ترک کی سلطنت عثمانیہ قائم ہوگئی تو اجماع بدل گیا اور غیر قریش اور عجم خاندان کی خلافت پر اجماع ہوگیا۔ متقدمین کے ہاں قرآن پر معاوضہ جائز نہ تھا پھر متأخرین کے ہاں جائز ہوا۔ جمہوریت کو کفر مت کہو!، دین کی تحریف تو علماء نے خود کی۔حدیث سے یہ مراد ہے کہ جمہور کے مقابلے میں اقلیت حق پر ہوسکتی ہے لیکن جمہور کے اقتدار سے الگ راستہ اختیار نہ کیا جائے۔ اسلئے کہ جمہور کے اقتدار پرہی اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔
ابوبکر سے سعد بن عبادہ نے اختلاف کیا تو خلیفہ کیلئے قریش کی شرط پر اجماع نہیں ہوا بلکہ جمہور اوراقلیت میں اختلاف تھا۔علی وحسناور یزید و مروان سے آج تک جمہور اور اقلیت کا اختلاف ہے۔جمہور کو اجماع کا نام دینا غلط ہے۔ قریش ، بارہ خلفاء قریش واہلبیت کا تعلق سنی وشیعہ احادیث میں مستقبل کیساتھ بھی ہے جن پر امت مسلمہ کا اجماع ہوگا۔ امام حسین نے یزید سے اختلاف کیا مگر تلوار نہیں اٹھائی بلکہ حق اور عدل کی بات کرنے کیلئے یزید کے پاس جانے دینے کا مطالبہ کیا۔ امام حسن معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے توبعض شیعہ ، بعض بریلوی اور مرزاجہلمی اپنی دکان چمکانے کیلئے امت کو فرقہ واریت کی آگ میں مت جھونکیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جاوید احمدغامدی کا باطل نظریہ اور حقائق کاآئینہ

جاوید احمدغامدی کا باطل نظریہ اور حقائق کاآئینہ

قلابازی کے بھی آداب ہیں،انصار کے مدمقابل مہاجرین کوترجیح ملی کہ قریش تھے! یزید کا بیٹا نہ مانا تو مروان !۔ مروان و یزید کی قرابتداری ، بنوعباس و خلافت عثمانیہ کا خاندانی اقتدار قبول تھا، مگرعلی، حسن و حسین کی قرابتداری قبول نہیں ؟ یہ اجماع نہیں جمہور ہے۔ ذراسوچئے توسہی !۔جاوید احمدغامدی کا باطل نظریہ اور حقائق کاآئینہ

جاویداحمد غامدی نے کہاکہ:” حضرت نوح کے 3بیٹے تھے اور2بیٹوں کی نسل سے خلافت کا وعدہ پورا ہوچکا ہے۔ مسلمان ان میں شامل ہیں۔ اب قیامت تک یہودو نصاریٰ ہی اقتدار میں رہیں گے۔ مسلمانوں کو اقتدار کبھی نہیں مل سکتاہے”۔
انصار ومہاجرین میں خلافت پر اختلاف کا فیصلہ قریش کی بنیاد پر ہوا۔ نورالحسن بخارینے کتاب ” عثمان ذی النورین” میں لکھا کہ حضرت عثمان نے مروان بن حکم کی سزا نبی ۖ سے معاف کروائی۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے اقتدار نہ لیا تو مروان کو خلافت کی مسندپر بٹھایاگیا۔ صرف اسلئے کہ مروان حضرت عثمان کے چچازاد،داماداوراس کا تعلق قبیلہ بنوامیہ سے تھا؟۔
بنوامیہ پھر بنوعباس پر اجماع ہوا۔ چچا عباس نے اسلام قبول کیاتھا۔ کیا صرف نبی ۖو علیکے باپ کفر پرمر گئے؟۔ خلافت عثمانیہ میں عجم کی خلافت پر اجماع ہوا۔ باقی ساری دنیا کے عرب وعجم جدی پشتی مسلمان تھے مگر سادات نااہل تھے؟۔
برصغیرمیں سید، صدیقی،فاروقی، عثمانی کے بعد جاوید احمد غامدی نے ”غامدی” لکھا۔ ہم نے یاد دلادیا کہ غامدیہ کے ایک بچے کا ذکر احادیث میں ہے جس کو کھانے کی صلاحیت ملی تو اس کی ماں کو سنگسار ہوئی۔یہی نسل تو نہیں؟۔ پھر جاوید غامدی نے کہا کہ اس نے اپنے شوق سے اپنے نام کیساتھ غامدی لگادیا۔
حالانکہ شوق سے کوئی تخلص،عرف، لقب، کنیت اختیار کرنا تو سمجھ میں آسکتا ہے لیکن نسبت تو بے بنیاد نہیں ہوسکتی مگر یہاں تو آوے کا آوا بگڑچکا ہے سبھی صدیقی، فاروقی ، عثمانی بن گئے۔
روم وایران سپر طاقت تھے۔ بنی اسرائیل و قریش حضرت ابراہیم کی اولاد تو نوح کے بیٹوں کی تقسیم کی کتنی بھونڈی ہے ؟۔ جاوید غامدی نے کہا کہ علی داماد تھا جو گھرکافرد نہیں ہوتا۔ یہ ٹھیک ہے۔ نبی ۖ کا ابوسفیان ، ابوبکر، عمر ، یہودی کی بیٹی سے نکاح ہوا مگرگھر کے فرد نہیں تھے۔ ابوسفیان نے بعد میں اسلام قبول کیا اور علی خالی داماد نہیں بلکہ چچازاد تھا۔ مروان اقتدار کا حقدار یزید کی وجہ سے تھا۔اگر جاوید غامدی کے چچازاد غامدی ہوتے تو قبیلے اورخاندانی اقدار کا پتہ چلتا۔ابھی جاوید غامدی کا داماد جانشین بن رہاہے۔ دارالعلوم کراچی پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کابیٹا مفتی تقی عثمانی اور داماد مفتی عبدالرؤف سکھروی ولی وارث بن بیٹھے۔ دارالعلوم دیوبند، تبلیغی جماعت ، خانقاہ، مسجد، مدرسہ ،اقتدار، تحریک اور پارٹی کونسی چیز موروثی نہیں ہے؟۔
اگر خلفاء راشدین کو مانتے ہو تو چندوں سے بنائے ہوئے گھروندوں میں موروثی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اگر اپنا موروثی نظام نہیں چھوڑ سکتے تو پھر احادیث صحیحہ میں اہل بیت کا کردار عالمی خلافت کیلئے ماننا ہوگا۔ شیعہ فاطمہ، علی، حسن اور حسین کو احادیث کی بنیاد پرمانتا ہے اور یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی وجہ سے بدترین شیعہ بن چکے ہیں۔
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعًا لست منھم فی شی ئٍ انما امرھم الی اللہ ثم ینبئھم بما کانوا یفعلون ”بیشک جنہوں نے اپنے دین میں تفریق ڈال دی اور بن گئے مختلف گروہ ۔ آپ (اے حبیبۖ) کاان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیشک ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے ۔ پھر انہیں متنبہ کرے گا کہ جو وہ کاروائی ڈالتے تھے”۔
دارالعلوم دیوبند دو ٹکڑوں میں تقسیم اور تبلیغی جماعت بھی ۔ علی نے تین خلفائ سے بھرپور تعان جاری رکھا۔ عثمان کے آخری دور میں وہ تعاون نہیں رہا تھا جو بیعت رضوان کے وقت عثمان کی شہادت کی جھوٹی خبر پر نبی ۖ نے بیعت لی تھی تو حضرت علی مشکلات کے شکار ہوگئے۔ علی کی سازش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن اہل تشیع بہت غلو اختیار کرتے ہیں تو حسن الہ یاری کی تنقید سے خود شیعہ بھی نہیں بچ پارہے ہیں۔
حسن الہ یاری امریکہ میں بیٹھ کر شیعہ سنی اور شیعوں میں نفرت پھیلارہاہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ” محمد بن ابوبکر حضرت علی کا بیٹا تھا۔اگر چہ بظاہر ابوبکر کے صلب سے پیدا ہوا تھا مگر کافر و خبیث کے صلب سے علی کے اس طیب بیٹے کی پیدائش ہوئی”۔ وہ ابوبکر کااسلام ثابت کرنے کا کہہ رہا تھا توایک عربی شیخ نے اس کی بد تہذیبی اور بدتمیزی کا حوصلہ افزاء طریقے سے مقابلہ کرتے ہوئے پوچھ لیا کہ” اسماء بنت عمیس سے جب ابوبکر کا نکاح ہوا تھا تو وہ مسلمان تھا یا کافر؟”۔ جس پر حسن الہ یاری نے کہا کہ بظاہر ان پر اسلام کا اطلاق اور اسلامی احکام جاری ہوتے تھے۔ جس پر عربی شیخ نے کہا کہ بس بات ختم ۔ ہماری بحث ابوبکر کے اسلام پر تھی ایمان پر نہیں ۔ حسن الہ یاری اور شہریار عابدی نے سنی کتب سے جو معاملات اٹھائے اس طرح کی باتیں شیعہ کتب سے 45 سال پہلے دیکھے جو اتنے بھیانک ہیں کہ ان کا ذکرمناسب نہیں ۔ مولانا الیاس گھمن کی ایک ویڈیو شیعہ کتب سے شیعہ کے خلاف ہے اور اس کو ایڈٹ کرکے اہل سنت اور دیوبند کی طرف منسوب کردیا ۔ دونوں کی کتابوں میں گند بھرا ہواہے جس کا واحد علاج قرآن وسنت کی طرف رجوع ہے۔ شیعہ عالم نے انکشاف کیا کہ حسن الہ یاری دراصل ”امریکہ الہ کاری” ہے جس کو شیعوں نے بھگایا۔
قرآن پر شیعہ سنی متفق ہوسکتے ہیں۔ سید جواد حسین نقوی، علامہ شنہشاہ حسین نقوی ، ریاض جوہری، عابد حسین شاکری اورعلامہ حسن ظفر نقوی اور اہلسنت کے علماء کرام مفتی منیر شاکر اور سبھی حضرات قرآن پرجلد متفق ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ
ان خلقنا الانسان من نطفة امشاج ” بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے رلے نطفہ سے”۔قرآن سے یہ ثابت ہے کہ انسان ماں باپ دونوں کی اولاد ہے۔ اگرچہ شجرہ کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے لیکن جب نرینہ اولاد نہ ہوتو پھر بیٹی وارث بنتی ہے اور بیٹی کے ذریعے نواسہ بھی وارث بنتا ہے۔
ان اللہ اصطفٰی اٰدم و نوحًا وال ابرہیم وال عمران علی العٰلمین O ”بیشک اللہ نے انتخاب کیا ہے آدم اور نوح کا اور آل ابراہیم وآل عمران کو جہان والوں پر”۔
اذ قالت امرأت عمران رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررًا ”جب عمران کی عورت نے کہا کہ اے میرے رب! میں نے نذر مانی ہے تیرے لئے جو بھی میرے پیٹ میں ہے آزاد چھوڑا ہوگا ”۔ پھر اللہ نے بیٹی مریم دیدی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران علیہ السلام کو نواسہ عیسیٰ دیا تھا۔ ھنالک دعا زکریا ربہ قال رب ھب لی من لدنک ذریة طیبة انک سمیع الدعائ”زکریا نے وہیں پر اپنے رب سے دعا کی ۔کہا اے میرے رب ! مجھے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔بیشک تو دعا کو سننے والا ہے”۔(سورہ آل عمران)
اگر رسول اللہ ۖ کے بیٹے نہیں تھے تو اللہ نے نواسے حسن اور حسین دیدئیے۔ حضرت ابراہیم کی اولادبنی اسرائیل میں آل عمران کے آخری جانشین حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسٰی تھے اور بنی اسماعیل میں حضرت محمد ۖ پر نبوت ختم ہوگئی لیکن جانشینی کا سلسلہ جاری رہاہے۔ قدرت نے حضرت فاطمہ کے سلسلہ سے حسن و حسین دئیے۔ دشمن نے نبی ۖ کو ابتر کہا تھا لیکن اللہ نے دشمن کو ابتر قرار دے کر آپ کو انا اعطینا ک الکوثر ” بیشک ہم نے آپ کو( کثرت اولاد) عطاء کردی”۔
علی ،فاطمہ ، حسن، حسین کابلند مقام تھا۔ ابوبکر ،عمر ، عثمان کی خلافت علی کی تائید تھی ۔ حسن نے معاویہسے صلح کی۔ حسین نے یزیدیوں کیلئے مشکل کھڑی کی ۔ ائمہ اہل بیت نے بنوامیہ و بنو عباس کی خلافتوں کو کمزور نہیں کیا۔ البتہ کچھ نے ٹکر لینے کی راہ بھی دکھادی۔بادشاہ نہیں علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ امام ابوحنیفہ ودیگر ائمہ اہل سنت ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے۔ نبیۖ کی تائید سے اہل مکہ اسلئے گھبرایا کرتے تھے کہ کہیں ان کو اُچک نہیں لیا جائے۔ علماء حق کیساتھ یہی سنت زندہ رہی۔
حضرت یوسف نے کافر حکمران سے اچھاتعاون کیاپھر علی خلفاء راشدین و صحابہ سے تعاون نہ کرتے؟۔ نبی ۖ کو نبوت 40 سال میں ملی ۔ ابوبکر و عمر خلیفہ بنے تو علیکی عمر 33 اور 35 برس تھی۔ اقتدار کی طلب پر اللہ مدد نہیں کرتا۔بارِ امانت اٹھانے پر اللہ نے ظلوم جہول قرار دیا۔علی میں اقتدار کی بھوک نہیں تھی۔ قرآن میں لیذھب عنکم رجس سے ازواج مطہرات مرادہیں۔ ان کی تطہیر جنسی خواہشات کے گند سے کردی گئی ۔
جبکہ حدیث میں اہل بیت کیلئے یہی دعا ہے اور اس سے بارامانت اقتدار کی ہوس کے گند کو دور کرنا مراد ہے۔حسن الہ یاری جیسے ملعون شیعہ ہوتے اور قرآن میں ازواج مطہرات مراد لیتے تو اس کے منطقی نتائج 100فیصد منفی اور غلط نکالتے۔
ایک صحابی نے اپنے بیٹے کا رنگ مختلف پایا تو نبیۖکی خدمت میںعرض کیا۔ آپۖ نے پوچھا :سرخ اونٹوں کا گلہ ہوتا ہے تو اس میں کالا یا سفید بچہ کس پر جاتا ہے؟۔ صحابی نے کہا کہ اپنے گذشتہ نسلوں پر۔ نبیۖ کی بات سے وہ مطمئن ہوگئے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv