پوسٹ تلاش کریں

دنیا نئے نظام کی تلاش میں پھر جنگ کے دھانے پر؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ اور چین میں دنیا کی معاشی سرگرمی پر ایکدوسرے سے جنگ ایک نئی صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔ قرآن میں سورۂ نمل موجود ہے جو اس چیونٹی کے نام پر ہے جس نے اپنی قوم کو آواز دی کہ” اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ، سلیمان کا لشکر آرہاہے ۔وہ تمہیں کہیں پاؤں تلے روند نہ ڈالے”۔ اپنی قوم کے مفاد میں یہ تاریخی جملہ چیونٹی کی زباں سے نکلا تو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک قرآن میں اس کواتنی عزت بخشی کہ انسانوں کیلئے ایک عمدہ مثال بنادیا۔ مقتدر طبقات کی حالت اور سوچ یہ ہے کہ جب عالمی جنگ میں ہماری حیثیت چیونٹیوں کی ہے تو کس لشکر کے بوٹوں سے چمٹ کر فوجی لنگر سے کچھ بچی کھچی خوراک مل سکتی ہے؟۔ روس اور امریکہ کی جنگ تھی تو یہ امریکہ کیساتھ کھڑا تھا اور افغانستان و بھارت روس کیساتھ کھڑے تھے۔ آج امریکہ نے بھارت کو اپنا گودی بچہ بنالیا تو پاکستان کسی دوسری گود کی تلاش میں ہے۔
جب کعبہ پر ہاتھیوں سے حملہ ہورہا تھا تو رسول اللہۖ کے دادا عبدالمطلب نے کہا تھا کہ ”میں اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کررہا ہوں، کعبہ کا مالک اس کی خود ہی حفاظت کریگا ۔ میرے لئے اونٹ تلاش کرکے کوئی نہیں دے گا”۔ بت شکن ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی بنیاد پر کعبہ کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن اس میں 360بت نصب کردئیے گئے تھے۔ رسول اللہۖ کی بعثت ہوئی تو کعبہ کو بتوں سے بھرا ہوا چھوڑ کر مدینہ ہجرت اختیار کرلی۔ بدر اور احد کے غزوات کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی کیا تھا لیکن آخر فتح مکہ پر بات پہنچ گئی۔ جب عرب کو شرک کی جگہ توحید، جاہلیت کی جگہ اسلام اور انسانیت کا سبق مل گیا تو وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ہم دوسروں کی جنگ بھی قومی مفادات کے نام پر لڑتے ہیں لیکن جب بلی تھیلی سے باہر نکلتی ہے تومعاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔ افغان وار امریکی سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے لڑی لیکن پاکستان کے فوجی حکام آرمی چیف، صدر ،امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل اختر عبدالرحمن سمیت حادثے کا شکار ہوئے تو نتیجے میں کوئلے کی دلالی کی بات کرنے والے جنرل ضیاء الحق کے ہاتھ میں کیا آیا تھا؟۔ البتہ اختر عبدالرحمن نے اپنی اولاد کیلئے حق حلال کی وہ کمائی چھوڑی جو امریکہ نے جنگ کیلئے بھیجی تھی۔
ایک تبلیغی جماعت کا فرد کہہ رہاتھا کہ ”ہم کیسے مسلمان ہیں۔ امریکہ سات سمندر پار سے افغان مہاجرین کیلئے امداد اور خوراک بھیجتا ہے اور ہم یہاں کھا جاتے ہیں؟”۔ رستم شاہ مہمند اور اوریا مقبول جان ان مذہبی خطیبوں کی طرح ہیں جن کو اچھا معاوضہ ملتا ہے تو بہت اچھے جذبے ، جوش وخروش اور ایمانی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ عناصر کو اپنوں اور بیرونی امداد نہیں ملے تو پھر اس جوش سے فسادات تک بات نہیں پہنچے گی۔ ہماری ریاست نے دوسری مرتبہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ مل کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی۔ پوری قوم تباہ ہوگئی لیکن آسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کی خبر اشفاق پرویزکیانی کی بتائی جاتی ہے۔ جو پرویز مشرف کے دور میں آئی ایس آئی کا چیف تھا اور آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ مدت پوری کرنے کے بعد دوسری مدت کیلئے بھی آرمی چیف بنادیا تھا۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
قوم کو طبقاتی تقسیم میں گھسیٹنے کی بجائے اپنی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے۔جب ہماری اپنی حالت صحیح ہوگی تو ہم ہر جگہ سرخرو اور خوشحال ہوں گے۔

پچھلے 41برس سے پاک افغان تعلقات کی ایک داستان: سید عثمان الدین گیلانی

میرا تعلق پکتیا صوبے افغانستان سے ہے اور میں ایک سید خاندان سے ہوں ہمارے آباؤ اجداد کی پشتون عورتوں سے شادیاں ہوتی چلی آرہی ہیں۔ میرے بڑے چاچا کی کابل میں سپیئر پارٹس کی دکان تھی جو وہ جرمنی سے امپورٹ کرتے تھے اچھا خاصا کاروبار جاری تھا روسیوں نے جب ملک پر قدم رکھا تو دکان کم داموں میں فروخت کرکے ان کے خلاف جنگ میں لوکل عوامی لوگوں کے کمانڈر بنے پشاور میں مجاہدین کے لیڈرز کے دفاتر ہوا کرتے تھے جہاں سے ان کو اسلحہ ملتا تھا چند دفعہ وہاں جا کر ہی چاچا جو معاملات سے پتہ چل گیا تھا کہ یہاں تو لیڈرز اپنے مفاد کے بندوں کو رکھتے ہیں اور اسلحہ دینے میں اپنی چوری کرتے ہیں۔ بہرحال اس نے جنگ جاری رکھی جنگ کے دوران ہمارے خاندان نے کرم ایجنسی ہجرت کی تھی اور اللہ کے فضل سے لوکل لوگوں سے بہت اچھی دوستی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ نے عزت کے میدان میں علاقے میں شہرت بھی دی تھی۔جس کا ثبوت یہ تھا کہ سن 2000 میں جب ہم افغانستان واپس لوٹے تو دادا سے ملنے بہت سے کرم ایجنسی کے لوگ بھی آتے تھے۔ 1990 کے شروعات کے سالوں میں جب ڈاکٹر نجیب کی حکومت کا پانسہ الٹ گیا تو مجاہدین کے لیڈرز نے کابل کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے آپس میں سول وار شروع کی جن کی خودغرضی اور قتل و غارت دیکھ کر ہی میرا چاچا اس نتیجے پر پہنچا کہ جو جہاد ہم نے کیا وہ دراصل جہاد نامی فساد تھا۔ 2001 میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے میں پشاور آیا اور پڑھتے پڑھتے یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی میں” international relations ” نامی سبجیکٹ تھا جس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا۔ ہمیں 18 صدی کے فلاسفر Maciavelli کی فلاسفی متعارف کرائی گئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ مقصد حاصل کرنے کیلئے انسان کو کوئی بھی ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے خواہ وہ غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیچرز ہمیں کہہ گئے کہ تب سے بین ال اقوامی تعلقات میں ” self interest first” کی ڈپلومیسی چل رہی ہے اور افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے پر آمادگی کے لیے جنرل ضیاء نے امریکہ سے یہ عہد لیا تھا کہ جنگ جیتنے پر پاکستان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق formulate کرے جسے achieve کرنے کے لیے روس کے نکلنے کے بعد مجاہدین کو ڈاکٹر نجیب کے خلاف سپورٹ کیا گیا اور بعد میں 1996 کو طالبان موومنٹ تشکیل کیا گیا جو اسی سوچ کا تسلسل تھا۔
طالبان نے تاجک،ازبک اور ہزارہ جن کا ان سے طرز حکومت پر اختلاف تھا ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پشتون ہی صرف اسلام کی پہچان قرار پائے اور تاجک، ازبک اور ہزارہ کے ساتھ نفرت پشتونوں میں پھیل گئی۔ جس کا ثبوت یہ تھا کہ نا صرف افغانستان کے پشتونوں میں منبر کے ذریعے یہ ذہنیت پھیل گئی بلکہ پاکستان میں بھی یہی حال تھا۔ مسلمان افغانستان سے آتے ہوئے لوگوں کو جب پولیس اور ایف سی گاڑی سے اتارتے تو پشتونوں کو چھوڑ دیتے اور تاجک،ازبک اور ہزارہ کے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے۔ یہی حال شہروں میں رہنے والی ان اقوام کے افراد کا تھا نہ صرف پولیس بلکہ کچھ عوام بھی ان سے نفرت کرتی تھی۔ میں خود بھی اسی ذہنیت کا شکار تھا اور میں نے پشاور میں رہتے وقت تعلیمی اداروں میں ان کو کبھی دوست نہیں بنایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ لوگ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ امام اعظم امام ابو حنیفہ بھی ایک تاجک ہی تھے۔ یہ سلوک دیکھ کر جب 2001 میں امریکہ نے افغانستان میں ان لوگوں کی حکومت قائم کی تو انہوں نے صرف افغان پشتونوں سے بدلہ لینے کا بھرپور جذبہ دکھایا بلکہ پاکستان کے بارے میں بھی یہی حال رہا جسکا فائدہ انڈیا نے لیا۔ یہ بات درست ہے کہ افغانستان نے نہ صرف روس کے آنے سے قبل بار بار پاکستان کو دھمکیاں دیں بلکہ پاکستان بنتے وقت مخالفت بھی کی اور ان دونوں اطراف سے تلخی کی اصل بنیاد 1893 کی ڈیورنڈ لائن معاہدہ تھا جو انگریز چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے زندگی کے زیادہ تر ایام پاکستان میں گزارے ہیں اور افغانستان کو مکہ اور پاکستان کو مدینہ مانتا ہوں۔ پاکستان کے لوگ افغانستان کی نسبت زیادہ نرم طبیعت کے اور باشعور ہیں کیونکہ نہ صرف 300 سال انگریزوں کے ساتھ اور خلاف جدوجہد میں تحریکوں میں institution کا حصہ رہنے کے ساتھ ساتھ 73 سالہ پاکستانی جمہوریت سے گزرے ہیں بلکہ پاکستان زیادہ diverse اور جامع ہونے کے ناطے ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہے جبکہ افغانستان 18 صدیوں سے لیکر 1978 تک دو قبائل (درانی اور غلزائی) خاندانوں کی موروثی monarchies (شاہی حکومت)کا شکار رہا ہے اور جمہوری عمل اور سیاست سے عوام کو دور رکھا گیا تھا۔
1978 سے لے کر 2001 تک کمیونسٹ غلزائی پشتون تھے، ڈاکٹر نجیب بھی اسی قبیلے سے جبکہ ملا عمر درانی قبیلے سے تھا۔ کل اگر افغان یہ کہتے تھے کہ پاکستان پر انگریزوں نے حکومت کی ہے اس لحاظ سے ہم اس سے برتر ہیں تو خدا نے برطانوی انگریز کے کزن امریکی انگریز کی حکومت افغانوں پر قائم کر کے اسکا جواب دے دیا ہے اور حساب برابر ہوا ہے۔ اب اگر پاکستانی عوام یہ سمجھتی ہے کہ افغان آرمی مرتد ہے کیونکہ وہ یہودو نصاری کی صف میں کھڑی ہے تو انکو اس پر غور کرنا ہوگا کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف انگریزوں کی فوج میں رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر ترکی کی خلافت عثمانیہ کا تختہ بھی الٹا ہے۔ اگر وہ مرتد نہیں تھے تو یہ کیسے ہو؟؟؟ اس لیے یہ امید رکھنا بہتر ہوگا کہ حالات کچھ ایسے بن سکتے ہیں جو امریکہ کو انگلستان کی طرح جانے پر مجبور کر دے۔
افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں میں بہت زیادہ چیزوں میں مشابہت ہے اور ہونی بھی چاہیے اگر ایک قوم ہے تو۔ اسکا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ افغانستان کے علاقے خوست پکتیا اور غزنی کا رہن سہن، لباس،کھانا پینا، لہجہ اور دیگر رسومات تقریبا شمالی و جنوبی وزیرستان ، خیبر ، اورکزئی اور کرم ایجنسی سے ملتا جلتا ہے اور بہت سے قبائل بارڈر کے پار نہ صرف مشترک آباؤ اجداد کے دعوی ہیں بلکہ بارڈر کے دونوں طرف ایک قوم کے لوگ بھی رہتے ہیں جیسے منگل،وزیر اور بنگش۔ اسی طرح ننگہار (جلال آباد) کے رہائشی یوسف زئی اور قندہار اور ہلمند کے رہائشی بلوچستان کے پشتونوں کے قریب تر ہیں۔ بارڈر کے دونوں طرف روس کے حملے سے پہلے کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی کاشت نہ ہونے کے برابر تھی البتہ اسمگلنگ ہوتی رہتی تھی کیونکہ زیادہ تر بارڈر پڑوس تھا مندرجہ بالا بحث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اخذ ہوتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں جسکا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور غلطیاں دونوں طرف سے ہوئی ہیں جسکی اصل بنیاد انگریز کا چھوڑا ہو مسئلہ ڈیورنڈ لائن ہے۔ ہمیں ایک امت کے ناطے اصل اسلام جو اخوت اور بھائی چارے پر زور دیتا ہے کی طرف معاملات کو موڑنا چاہئے۔ جیسا کہ آیت ہے ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں مت پڑو ” اور حدیث ہے کہ مسلمان امت ایک جان کی مانند ہے جیسے جسم کے ایک حصے میں درد ہوتا ہے تو دوسرا بھی محسوس کرتا ہے۔

بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

عمران خان وزیرستان ، بلوچستان میں فوج کا مخالف مگرووٹ ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو دیا عدم اعتماد کی فضا ہے

نواز شریف کی انوکھی بیماری پلیٹ لیٹس کے اترنے اور چڑھنے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے جنگ مصنوعی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں خواجہ سعد رفیق کا نعرہ ….

سندھ نے پاکستان بنایا مگر پختون متحدہ ہندوستان والے تھے اگر پختون کو سندھ پنجاب پاکستان سے دھکیلا تو طالبان و فوج کے مظالم بھولیں گے

سندھی قوم نے کسی پر چڑھائی نہیں کی پختون قوم ایک طرف چڑھائی پر فخر کریں اور دوسری طرف مظلومیت کا رونا روئیں ؟ تفصیل نیچے اداریہ پر دیکھئے

اپنی صحافت اور سیاست کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کشمکش

صحافی مطیع اللہ جان کا اسلام آباد سے اغواء اور فتح جنگ کے قریب چھوڑنا موضوع بحث بنا۔ رسول بخش پلیجو نے کیا کچھ نہیں کہا مگر کرپٹ سیاستدان نہ تھے۔ بلوچ وپختون قوم پرست، سندھی ، پنجابی، مہاجر کی شکایت ملٹری ایجنسی سے ہے۔ قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلی میں فوج کیخلاف آواز اٹھ رہی ہے۔ ANP رکن اسمبلی سردار بابک نے کہا کہ 6ستمبر کو 300 توپوں 14اگست کو 500توپوں اور 23مارچ کو 200توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ F16طیارے ہیں ۔ جدید میزائل ہیں ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہیں ۔ سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن اور مولاناعبدالغفورحیدری نے افواج پاکستان کو سنائیںاور سینیٹر محمد علی سیف نے پاک فوج کا دفاع کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی بھی فوج کیخلاف تقریریں موجود ہیں۔
پاکستان اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ فوج کی مخالفت میں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، جمعیت علماء اسلام ، قوم پرست ، دانشور ، صحافی، کامریڈ، جوان طبقہ ، خواتین کی تنظیموںکااپنا اپنا انداز ہے۔ تحریک انصاف والے عمران خان سے برگشتہ نہیں تو فوج پر یہ الزام دھر تے ہیں کہ کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ اس چھوٹے سے اخبار کے ذریعے سے پورے حقائق نہیں پہنچاسکتے ہیں لیکن مہنگائی ، بیروزگاری، سیاسی و صحافتی اور ریاستی بدچلنی سے تنگ عوام اٹھی توخون کا منظرہوگا مگر یہ کسی کیلئے بھی اچھا نہیں۔ عمران خان سوشل میڈیا پراپنی ہر بات سے پھرکی کی طرح حدِ رفتار 120کلومیٹر فی گھنٹہ سے گھوم رہا ہے۔ ڈر ہے کہ اسکرو ڈھیلے ہوکر سلپ نہ کرجائیں اورپرانا فوجی ساخت ہیلی کاپٹر گر کر تباہ نہ ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ہیلی کاپٹر کو ہوا میں اڑانے والا انجن جہانگیر ترین فیل ہوکر کنارہ کش ہوااور اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔
عمران خان فوج کو گالی دیتا رہا ۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو ایکس ٹینشن کیلئے جو پاپڑ بیلنے پڑے، کفارہ چکانے کیلئے عمران خان کی نااہلیت کو چھپائیں گے تو حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے، پاکستان ایک بدترین دلدل میں پھنس چکا ۔مالی، اخلاقی، شرعی، قانونی اور ہرطرح کا بحران برپا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کو اتنی دولت کس نے دی؟۔ کرپٹ مافیا جج اور صحافی کو نہیں خرید سکتا؟۔ وکلاء نے بڑی تعداد میں عدالت کیخلاف نعرہ لگانے کے بجائے ”یہ جو دہشت گردی ہے ،اسکے پیچھے وردی ہے” کا نعرہ لگایا۔پاڑا چنار میں دھماکے کے بعد فوج پہنچی تو عوام نے پتھروں سے دوڑیں لگوادیں ۔عیدک شمالی وزیرستان میں فوج کی کانوائے کو نعروں سے ریس کرایا گیا۔ وقت ہاتھ سے نکلا تو پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ مسمار ہوجائیگا۔ ڈھانچہ مسمار ہومگر افراتفری مچے اورنہ ایکدوسرے کاہم خون بہائیں ۔
پتہ نہیں کہ جوفوج کی حمایت یا مخالفت کرتاہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟۔ رسول بخش پلیجو نے کہاتھا”پاکستان توڑنے یا پنجابیوں کو تباہ کرنے کی باتیں کرنے والوں کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ کوئی سنجیدہ سندھی پاکستان توڑنے اور پنجاب سے لڑنے کی بات نہیں کرتا۔ دو ٹکے کا آدمی کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ آرمی آئے اور ہمیں ایجنٹ ثابت کرے”۔ عمران خان وزیرستان و بلوچستان میں فوج کا مخالف مگرووٹ ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو دیا۔ امریکہ نے گڈ، بیڈ طالبان کہااور ہماری ایجنسیاں عمل پیرا تھیں مگر عوام کوحقیقت معلوم نہ ہوسکی۔ عدمِ اعتماد کی فضاء میں کوئی کسی پر اعتماد کیلئے تیار نہیں۔ طارق اسماعیل ساگرنے بلیک واٹر کے حوالے سے انکشافات کئے ۔ اس روش سے پاکستان اور ہماری عوام کا مستقبل یقیناخطرے میں ہے۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیخلاف بڑی قوت مسلم لیگ کے قائد نواز شریف اور اسکی بیٹی مریم نواز کو قرار دیا جاتا ہے۔ نواز شریف کی بڑی انوکھی بیماری پلیٹ لیٹس کے اترنے اور چڑھنے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے جنگ مصنوعی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے حق میں جج بولے تو خواجہ نے بھونڈے انداز میں نعرہ لگایا کہ
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے
خواجہ سعد رفیق سے کوئی پوچھے کہ نواز شریف کو کیا مرد نہیں سمجھتے؟ جو بیماری کا بہانہ کرکے بھاگے؟،مریم نواز مرد نہیں جو یہ شعر پڑھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف پر رحمن ملک نے اسوقت کیس بنایا جب پیپلز پارٹی کے دور میں آئی بی کا ڈائریکٹر تھا۔ لندن فلیٹ سول اداروں کے ذریعے پوری تفتیش کے بعد نواز شریف کے نکلے۔ پھر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کی گئی۔ فاروق لغاری نے کردار ادا کیا جو بعد میں ن لیگ سے ملا ۔اسکے بچے ن لیگ ، ق لیگ اور تحریک انصاف سے ہوتے ہوئے ہر سیاسی جمہوری حکومت کے کیمپوں میں کیمپیئن چلاتے ہیں۔
ن لیگ کی حکومت میںسیف الرحمن نے سرے محل سوئٹزرلینڈ کے اکاؤنٹ اور دوسرے کرپشن کے کیس پیپلز پارٹی کے خلاف چلائے۔ جنرل پرویز مشرف فضا میں تھے کہ اس کی حکومت قائم کرکے ن لیگ کا تختہ الٹ دیا گیا۔ نواز شریف دس سال کا معاہدہ کرکے سعودیہ گئے۔ پرویز مشرف کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو شہباز شریف زرداری کو چوکوں پر لٹکانے کی بات کرتا تھا۔ پھر مرکز میں ن لیگ کی حکومت آئی تو نواز شریف نے پانامہ لیکس سے پہلے پارلیمنٹ میں تحریری تقریر پڑھ کر سنائی کہ 2005ء میں سعودیہ کی اراضی اور دوبئی مل بیچ کر لندن کے یہ فلیٹ خریدے۔ حالانکہ میڈیا پر ن لیگ کے سینئر ترین رہنماؤں کے بیانات موجود تھے کہ بیس، پچیس، تیس سالوں سے یہ نواز شریف کی ملکیت ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو میاں نواز شریف نے بڑی دہائیاں دیں کہ بچاؤ لیکن جس راحیل شریف نے کرپٹ فوجیوں کیخلاف اقدامات اٹھائے تھے وہ نواز شریف کو کیوں بچاتے؟۔ جنگ اور جیو نے پیپلز پارٹی کے وزیر مذہبی امور مولانا حامد سعید کاظمی کیخلاف جھوٹی شہہ سرخیاں لگائیں کہ کرپشن کا اعتراف کرلیا لیکن نواز شریف کو بچانے کی مہم جوئی میں وکیلوں سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ بہادری کوسلام مگر مفادپرستی میں ہے کلام۔
صحافت کا نام مقدس ہے ۔ قرآن میں صحف ابراہیم و موسیٰ کا ذکر ہے۔یعنی ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفے۔ اس مقدس پیشے کا قانونی تقاضہ یہ ہے کہ کرائے کی وکالت سے صحافت کو بدنام نہ کیا جائے۔ حکومت صحافت کی قانونی اجازت اسی وقت دیتی ہے جب غیر جانبدارانہ صحافت یقینی بن جائے۔ عورت کا شوہر سے نکاح ہو تو بدچلنی اور بے راہروی کو آزادی کا نام نہیں دے سکتے۔ خرچہ پانی لیکر وکالت کرنا صحافت کی توہین ہے۔ مطیع اللہ جان کی تصویر سوشل میڈیا پر آئی تھی جس میں سلمان شہباز، حسین نواز اور حسن نواز کیساتھ بیٹھے ہیں اور کیمرے سے بچنے کیلئے نام نہاد سیاسی خانوادہ منہ چھپا رہاہے۔ ہوسکتا ہے کہ حصہ وصول کیلئے ان کو اغوا کیا گیا ہو۔ حقائق پہنچانے میں خیانت ہوتی ہے۔ عوام سیاسی خانوادوں سے تو پہلے ہی بدظن تھے مگر اب فوج کیخلاف آنکھیں بہت تیزی سے کھل رہی ہیں۔ فوج کی وکالت الطاف حسین کے پسماندگان کریں۔ سینیٹر سیف با صلاحیت ہونگے مگر سوات سے الیکشن نہیں جیتے۔ ایم کیو ایم کی حیثیت سرکٹی ہے جسکا دل تو ہوسکتا ہے مگر دماغ نہیں اسلئے سینیٹر سیف نے کہا کہ کشمیر فتح کرنے آپ آگے بڑھیں فوج آپکے پیچھے ہے۔ استحکام پاکستان اتحاد کی چیئر پرسن ساجدہ احمد کا بیان دیکھا جس میں وہ افغانی کا کہہ رہی ہیں کہ ”پشتین کے پاس شلوار کے علاوہ کچھ نہیں رہا تو اس نے کہا کہ شلوار اتارنے کے بجائے میں خود ہی بتادوں کہ گند والا بیر کھالیا ہے۔ یہ گند کھانے والے افغانی پاکستانی پختون بھائیوں کو گل خان کہتے ہیں…”۔ ساجدہ احمد کے چہرے اور آواز کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر کیا یہ پی ٹی ایم کے مبارزین کو معقول جواب ہے؟۔ مہاجرین کے نام پر اختر عبد الرحمن نے کتنا مال کمایا ؟ ۔ بیٹے سیاسی جماعتیں بدل بدل کراپنے بدن پر شلواربھی نہیں چھوڑتے ۔بدبودارو زور دار ہوا خارج کرکے پھٹی شلوار نہیں سل سکتی ۔صوبائی،قومی اسمبلی اور سینٹ میں اٹھنے والی آوازیںخطرناک ہیں۔ افراتفری پھیلی توعوام کیساتھ بڑی تعداد میں طالبان کو بھی میدان میں اتارا جائیگا۔ جنگ ومحبت میں ہر چیز کو جائز سمجھنے والی قوم حشر برپا کرے گی تو مٹک مٹک کر بیان دینے والیوں کو خوابگاہوں میں بھی آرام نہیں آئیگا۔
پختونوں نے سندھ ، کراچی ، پاکستان کی ریاست سے بہت فائدے حاصل کئے، رسول بخش پلیجو کی طرح ہم خود کو بہت تہذیب یافتہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا تو دو سال تک روپوش رہنا پڑا تھا اسلئے کہ ملا نے قتل کے فتوے جاری کئے تھے۔ یہ تو دینِ اکبری اور فتاویٰ عالمگیری مرتب کرنے والوں کا حال تھا مگر جب شاہ ولی اللہ کے صاحبزادوں نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کیااور پھر تمام زبانوں میں تقریباً تراجم ہوچکے تھے تو پنجابی پختون مکس علاقہ چھجھ کا ایک پختون عالم مولانا غرغرشتو نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کیا۔ جس پر پختون علماء نے ان پر کفر اور قتل کے فتوے لگائے۔شاہ ولی اللہ سے بھی700سال پہلے سندھی میں قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ رسول بخش پلیجونے ڈاکو کا الزام ریاست پر لگایا اسلئے کہ ریاست کیلئے ڈاکو ختم کرنا مسئلہ نہ تھا۔ سندھی قوم نے کسی پر چڑھائی نہیں کی۔ پختون ایک طرف چڑھائی پر فخر کریںاور دوسری طرف مظلومیت کا رونا روئیں؟۔ پختون کو کسی نے مجبور نہ کیا، جذبے اور مفاد کیلئے طالبان بن گئے۔محمود اچکزئی کہتا تھا کہ ریاست طالبان کو ختم کرسکتی ہے ، اقدام اٹھایا تو ظلم کا الزام لگایا؟۔انگریز سے ٹکر لینے والوں کو جرمنی سے امداد ملتی تھی۔ عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان شہید نے مزدوری کرکے بچوں کو لندن میں تعلیم نہیں دلائی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا توپھر پختون نسبتاً زیادہ بڑی ریاست سے حقوق لے سکتے تھے؟۔ علیحدگی پسندی کی تحریک سے سرحدی گاندھی اورخان شہید کی روحوں کو قرار ملے گا؟۔ سندھ نے پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا مگر پختون متحدہ ہندوستان والے تھے۔اگر پختو ن کو سندھ، پنجاب اور پاکستان سے دھکیلاگیا توطالبان اور فوج کے مظالم بھول جائیں گے۔ ڈاکٹر اسرار کی کلپ ہے کہ ”جماعت اسلامی کے میاں طفیل نے کہا کہ سندھی بزدل ہیں فوج میں بھرتی نہیں ہوتے ، جسکا جواب غلام مصطفی شاہ نے دیا کہ سندھی کوئی کرائے کے ٹٹو نہیں ”۔ اسلئے سندھیوں کو فوج میں کم ہونیکا گلہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک شریف الطبع انسان لگتے ہیں۔ دوسری مدت ملازمت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ اوریا مقبول جان کی کسی بات پر اعتماد کرنا لوگوں کیلئے بڑا مشکل ہے۔ انہوں نے کسی بزرگ کا خواب بتایا کہ” جنرل باجوہ کو رسول اللہ ۖ نے خواب میں تحفہ دیا تو باجوہ نے بائیں ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کی اور پھر حضرت عمر نے جنرل باجوہ کا دایاں ہاتھ تحفے کیلئے بڑھایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب باجوہ کے آرمی چیف بننے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا”۔
قوم کیساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے یہ بایاں ہاتھ ہی شاید استعمال ہورہا ہے۔ اب جنرل باجوہ کو چاہیے کہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد کیلئے دو ٹوک انداز میں اپنی کور کمانڈر کانفرنس بلا کر سب سے پہلے پارلیمنٹ کے سامنے شکریہ کیساتھ یہ بات رکھ دیں کہ آرمی،فضائیہ ، نیوی کے چیف کے ایکس ٹینشن کا قانون پارلیمنٹ واپس لے۔ اب ہمیں پارلیمنٹ کی اسطرح کی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوںکو عدمِ استحکام کا شکار کرنے کیساتھ ساتھ پارلیمنٹ اور فوج کے اندرونی پوزیشن کو بھی خطرات سے دوچار کرنے کا بدترین ذریعہ ہوگا۔
دوسرے نمبر پر پارلیمنٹ سے ایسی قانون سازی کروائیں کہ فوج اپنا کرپٹ طبقہ گرفت میں لانے کیلئے دنیا بھر سے پکڑ کر عدلیہ کے سامنے کھڑا کردے۔ جہاں سزا نہیںکہ ججوں کے ہاتھ قیدی کی طرح قانون سے بندھے ہیں۔ کرائے کا وکیل انصاف کی بجائے اندھیر نگری کی یاد دلادیتا ہے۔ پارلیمنٹ وہ قانون سازی کرے کہ جرائم اور کرپشن جو عوام کودکھتے ہیں جج کو بھی دکھائی دیں۔ نیب کا قانون بجا طورپر غلط استعمال ہوا مگر یہ اللہ کافضل ہے کہ تخت لاہور کے دُرِ یتیم خواجہ سراؤںکو دیکھ کر عدلیہ کے رحم مادر سے رحم کا درد تو آخر اٹھا۔ شاہ رُخ جتوئی کو دبئی سے لایا لیکن پنجاب کی بیوہ اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا مقدمہ واپس لینے پر اسلئے مجبور ہوئی کہ اس کو اپنی جوان بچیوں کی عزتوں کا خطرہ تھا۔ وہ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا احوال سنارہی تھی۔ اسکے بیٹے کو ن لیگ کے صدیق کانجو کے بیٹے نے نشے میں دھت اور بدمست ہوکر شہید کیا تھا۔ نیب بے موسم بارش کی طرح برسی اور نہ ٹڈی دل کی طرح فصلوں پر حملہ کیا بلکہ یہ کہانی ہے۔ فوج کے بریگیڈیئر اسد منیر نے نیب سے خودکشی کرلی۔ عدالت اپنا کام اپنے وجود کے وقت سے درست کرتی تو احتساب عدالت ، نیب اور ماورائے عدالت قتل کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ مکافات عمل کب تک جاری رہے گا؟۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی عدل و انصاف کا صرف نام ہی لیا۔
Kالیکٹرک اور واپڈا ظلم کی انتہا کرتے ہیں۔ چوری بھی ہوتی ہے سینہ زوری بھی لیکن سبسڈی کے نام پر بہت کچھ مل بانٹ کر کھایا جاتا ہے۔ اگر ریاست عوام کو اجازت دے تو Kالیکٹرک اور واپڈا کے تمام دفاتر اور تنصیبات نذر آتش کی جائیں گی۔ پھر وہ جو آنکھ مچولی ہوتی ہے وہ بھی نہیں رہے گی اور مشکل بڑھ جائے گی۔
ریاست اپنے فرائض منصبی پورا کرنے کیلئے اپنے ملازمین سے کام لیتی ہے اور نوکر پیشہ لوگوں کا اپنا کوئی ویژن نہیں ہوسکتا۔ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے قیادت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن قیادت نوکر پیشہ لوگوں کے ذریعے سے پیدا نہیں کی جاسکتی۔ بنت الوقت کو تخلیق کرکے مواقع دئیے گئے مگر بغاوت کرکے کورٹ میرج کرنے والی لاڈلی بیٹیوں کی طرح مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستان میں امامت کا کردار کورٹ میرج والی روبوٹ ادا نہیں کرسکتی ہیں۔
قرآن کہتا ہے کہ ” سمندر اور خشکی میں فساد برپا ہوا بسبب جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا”۔ اسٹیفن ہاکنگ نے آخری کتاب میں لکھا ”دنیاکو سب سے بڑا خطرہ روبوٹوں سے ہوگا جو انسان نے بنائے ہونگے”۔ رسول اللہۖ کی شکایت پر غور کریں کہ ” میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ گھراور معاشرے سے ہمارا نظام درست ہوگا تو عالمِ انسانیت کو نیا نظام ہم دے سکتے ہیں۔

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

رسول بخش پلیجو کا ویڈیوبیان، جنرل حمیدگل کی موجودگی میں بڑ ے تلخ حقائق
ملکیت کی اقسام ہیں ذاتی ، خاندانی، قومی ، قبیلے کی ملکیت ، بلوچستان میں مری قبیلے کی ملکیت ہے۔ کارپوریٹ پراپرٹی ، قومی اور بین الاقوامی بھی ہوتی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ ملک کے اس ٹکڑے کو میں یہ کرنا چاہتا ہوں تو دنیا کو بچانے والے کہتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کرسکتے، بالکل یہ آپکا ملک، آپ کی حدود ہیں لیکن اس میں وہ کام نہ کریں کہ جس سے دنیا کے لوگوں کا وجود اسکی بھلائی خطرے میں پڑ جائے سب لوگوں کا ایکدوسرے پر انحصار ہے اورایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ پر دنیا بنی ہے۔سندھی دنیا میں چھوٹی قوم ہے اور ہم پانچ ہزار برس سے اس علاقے پر رہ رہے ہیں اور لوگ بھی ہیں جرمن ، فرنچ ، جاپانی ۔ اگر کوئی نعرہ بلند کرے کہ دنیا انسانوں کی ہے بنی آدم علیٰ یک ود یگرم، اسلئے فرانس کے سارے وسائل سارے انسانوں کے ہوگئے تو فرانس میں لوگوں کو آنے کیوں نہیں دیتے؟ ۔ہم سے بہتر مسلمان حرمین شریفین کے محافظ ہیں یہ لیکچر انہیں کیوں نہیں پلایا جاتا کہ یہ سرزمین جہاں پر لوگ آتے ہیں غریب اور مسلمان تو ان کو تم حقوق کیوں نہیں دیتے ان کو شہریت کیوں نہیں دیتے؟۔ کہتے ہیں کہ ہم نے فیصلہ کرلیا تھا ۔ کس نے فیصلہ کرلیا تھا ہم کو پاکستانی بنانے کا؟
The bunch of rural ….. destory PakistanThe criminal gang with responsible for killing million of people
اس بنچ کو آپ نے حق دیا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ۔ یہ ہم کون ہیں جو ہماری ملکیت کا فیصلہ کریں؟ یہ سرزمین ہماری ہے۔ تو جناب! سندھ کی سرزمین کی حفاظت کیلئے ہمارے آباو اجداد نے مغلوں سے لڑائیاں کیں، افغانوں سے ، سلطانوں سے ، روس سے ، ہماری عورتیں، بچے لے گئے، ہمارے خون کی ندیاں بہیں، ہم کیوں لڑے ؟ اگر ایک دن یہ ہونا تھا کہ دنیا میں جو ملک سے غداری کرے ،ملک کے لوگوں کو خون میں نہلائے، وطن سے بے وفائی کرے وہ یہاں آکر اس سرزمین کے وسائل سے فیضیاب ہوسکتا ہے، تو پھر ہم نے یہ قربانیاں کیوں دی تھیں؟۔ پھر قومیت کیا ہے؟۔جہاں مسلمان کا حوالہ ہے تو مسلمان تو ایک قوم ہے۔ یہ کس نے ہمیں او ر آپ کو حق دیا کہ ہم کہیں کہ یہ پاکستانی قوم ہے۔ کیا قرآن میں پاکستانی قوم سے کوئی واقفیت رکھتا ہے؟۔ کیا اسلامک لاء او رشریعت محمدی کے مطابق دنیا میں کوئی واحد اسلامی ملک ہوسکتا ہے؟۔ یہاں تو ایک خلیفة المسلمین ہوتا ہے نبی کا جانشین۔ دنیا میں اگر اسلامی اور مسلمان مملکت بنی ہے تو وہ ایک ہے۔ حضور کی روش اور حضور کی سنت پچاس مملکتوں کوقبول نہیں کرتی۔ آپ یہ تو نہیں مانتے۔ اگر سارے لوگوں کو میرے ملک پر قبضہ کرنے کا حق ہے ۔میرا ذاتی، اجتماعی ، قومی وطن نہیں۔ پاکستان بننے کے دن 14اگست کو بے وطن بن گیا ، میرا مال مالِ غنیمت بن گیا، جو بھی جہاں سے آئے جس جنرل کی مرضی ہو میرے ملک ، میرے دریا، میری آباد ی ، میرے بچوں کے رزق پر قبضہ کرلے ، بانٹ دے، سخاوت کردے تو کیا اسلئے میں نے پاکستان بنایا؟، یہ تھا پاکستان کا مفہوم ؟،یہ اسلام سکھایا جاتا ہے، جو ان لوگوں نے اسلام کی تشریح کی، جس نے پاکستان کو 25برسوں کے اندر تباہ کردیا۔ آج بھی یہ دہشت گردی قائم کئے ہوئے ہیں۔آج بھی ملک کو آگ میں دھکیل رہے ہیں۔ concentration camp نازی کیمپ قائم ہیں، وہ لوگ ہمیں اسلام آئین سکھاتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کو سرِ بازار رسوا کیا، ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ان پر فخر کرو۔ بنگال میں بفضل تعالیٰ ہم سے بہتر مسلمان ہیں ۔ ہم اسلام کا ٹھیکہ اٹھائیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں۔ کیا وہ مسلمان نہیں جن کو قتل کیا گیا؟، جن کی عورتوں کو ذبح کیا گیا، جنکو کنوئیں میں ڈالا گیا۔ جنہوں نے انکو ذبح کرنے ان کی عصمت باختگی کرنے میں مدد دی ہم فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہماری طرح پاکستانی ہیں، ہم نے ریپ کیا وہ ہمارے ساتھ تھے، تو وہ ہمارے بھائی ہیں ان کو بلالو۔ This is a matte of shame…. 1940کے ریزولوشن کے تحت پاکستان میں شامل ہوئے کسی جنرل نے حکم نہیں دیا ،یہ آپ اس وقت تشریح کرتے کہ مسلمان کون ہوگا… ملک میرا ہوگا، تمہاری زمین کو میں فتح کرونگا، میں دور سے اچکوں اور بدمعاشوں کو بلا کر پورے ملک کو تقسیم کردونگا، پھر پاکستان میں شامل ہوتے توہم مجرم ہوتے۔ ہمارے ساتھ فراڈ ہوا، مس گائیڈ کیا گیا ہمیں کہا گیا کہ یہ اسلام کا ملک ہوگا، بھائی چارہ ہوگا، تمہارے حقوق کا تحفظ ہوگا، جمہوریت ہوگی، اسلام کے درخشاں اصولوں پر عمل ہو گا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ جنرل اپنی فاشسٹ آئیڈیا لوجی کے تحت حکم دینگے کہ اسلام یہ ہے۔ اسلام ہمیں کوئی نہیں سکھا سکتا۔ ہم سب سے بہتر اسلام کے طالبعلم ہیں۔ پتہ ہے کہ اسلام کی روح کیا ہے، ہم عمر کو جانتے ہیں، ہم سارے اصحاب کے کردار اور انکے نکتہ نظر سے اچھی طرح سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ہمیں یہاں لوگوں سے سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اسلام کی روح اور رول کیا ہے۔ جمہوری رول کیا ہے؟ جناب من! سندھ میں ہمارے پاس مخصوص زمین ، وسائل ہیں، اگر پشتون بھائی آتے ہیں تو یہ ہمارے ساتھ دوستی نہیں، مجبوری ہے جبر ہے۔ پاکستان بنا کر ٹریپ کرکے آپ ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں کہ جی پشتون بھی آئیگا۔ پنجابی کیوں آتا ہے؟ یعنی ایک ہمارے ساتھ زیادتی اور اس کو آپ دلیل بناتے ہیں کہ دوسری بھی ہوگی پھر تیسری پھر چوتھی بھی ہوگی۔ یہ صحیح نہیں ۔ آپ آج جو کریں کرسکتے ہیں ۔یہ جابرانہ رویہ ہے جو پاکستان بننے کے پہلے دن سے ہی اختیار کیا گیا۔ آپ پچاس لوگ لیکر کسی ملک میں گھس جائیں اور کہیں کہ ہم نے جارحیت نہیں کی ۔ آپ لوگوں کے ہجوم لیکر منگولوں کی طرح کسی ملک میں گھسیں پھر کہیں کہ ہم مسلمان بھائی آگئے۔ یہ جارحیت ہے ہم پرجارحیت ہوئی پاکستان بننے کے بعد۔ ہمارے وسائل پر قبضہ،ہمارے شہر چھین لئے، ہمارے ساتھ دھوکہ ، فراڈ، دہشت گردی استعمال کی گئی۔ آج ہم اپنے شہروں میں کیوں رہیں؟ ۔ ہم یتیم ہیں مسکین ہیں آنکھیں ہماری نیچے ہیں، ساری دنیامیں ہندوستان کے جو بدترین جراثیم تھے دہشتگردی، نفرت، مذہبی تعصب کے، جودرندوں کی طرح لڑتے ہیں، یہاں یہ روایت نہیں، یہاں کسی ہندو کو کسی نے نہیں مارا، کیونکہ ہم تہذیب یافتہ قوم ہیں۔ انسان کی عزت اور تقدس کا احساس ہے۔ ہمارے محلے میں جو آدمی رہتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے۔ ہم بچوں کو ، عورتوں کو قتل نہیں کرتے، چھاتیاں نہیں کاٹتے، اسلام اسطرح نہیں پھیلاتے۔ تبلیغ اس طرح جائز نہیں سمجھتے کہ تمconcentration campحراستی کیمپ بناؤ، ٹارچر کیمپ بناؤ، لمبی تقریریں کرو، یہ قرآن ہے؟ یہ قرآن کی بے عزتی ، قرآن کی توہین ہے۔ ایسے نا مقدس اور ناپاک کام میں ایسی مقدس چیز کا نام لیا جائے۔ ہمارے ساتھ بین الاقوامی جرم کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی جرم ہٹلر کرتا تھا اسکے پاس بھی دلائل تھے… میں جرمنی گیا سارا ریکارڈ موجود ہے، بڑی دلیلیں اس کے پاس تھیں۔ کولون میرا ہے یوگو سلاواکیہ میرا ہے۔ بس ختم اینڈ۔ اس پر میں حملہ کرونگا، اس کو ختم کرنا ہے…۔ آپ آج بوتے ہیں تو کل نتیجہ ہوگا۔ آپ بورہے ہیں طاقت کے زور پر ۔ پنجاب کے وزیر اعظم سندھ کیخلاف پہلے دن سے حرکتیں کررہے ہیں۔ ایک گٹھ جوڑ ہے سندھ کیخلاف۔ شہر کھینچ لو، شہروں میں دہشتگردی کرو، لوگوں کی جماعتیں بناؤ، اندر سے ایجنسیز بناؤ، سارا دن ایجنسیز کہتی ہیں کہ ہم بغاوت کرتے ہیں ہمارے بھائیوں میں سے سندھ میں ایجنٹ بنائے، جو سارا دن کہتے ہیں کہ ہم پنجاب کو تباہ کرینگے۔ جو کہتے ہیں ہم پاکستان کو توڑینگے۔ وہ ناچ رہے ہیں یہ کس کے ایجنٹ ہیں؟ اسلام آباد کے ایجنٹ ہیں۔ سندھ نہیں کہتا، میں چیلنج کرتا ہوں کہ سندھ میں کوئی ذمہ دار آدمی یہ کہے کہ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں یہ کونسل کا ممبر تو بن کر دکھائے۔ یہ ایجنسیز کی مہربانیاں ہیں۔ یہ آپ کی نوازشیں ہیں کہ آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں کہ پاکستان کو توڑینگے ، تاکہ آپ کو موقع ملے آرمی لائیں، آپ ہمیں پاکستان دشمن، پنجاب دشمن ، عوام دشمن، قاتل ، بھارتی ایجنٹ، را کا ایجنٹ ثابت کریں۔ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں جناب من ! ہم تعلیمافتہ ہیں جاہل نہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ آج انٹیلی جنس کی اسٹریٹیجیز کیا ہیں؟ ہم پڑھے ہوئے ہیں ہم tacticsحربے جانتے ہیں۔ ہم ڈائریکشنز جانتے ہیں۔ قطرہ قطرہ کرکے آپ ہمارے جسم میں زہر ڈال رہے ہیں۔ ایک لاکھ آگیا ،دو لاکھ آگیا، کوئی پرواہ نہیں اسلام کا دامن بہت وسیع ہے۔ آپکا دامن کیوں وسیع نہیں ؟۔ ہمارے لئے ایک نوکری نہیں چھوڑتے ۔ فوج میں ایک لیفٹیننٹ دینا نہیں چاہتے۔ آپکے دامن کی وسعتوں کو کیا ہوگیا؟۔ آپ تو ایک پرائم منسٹر کو برداشت نہیں کرسکتے کہ دو دن کیلئے وہ پرائم منسٹر بن جائے۔ ہمارے لئے تو سینٹ میں سیٹ نہیں۔ ہمارے لئے پاکستان میں کوئی جگہ ہو تو دکھائیں۔ سندھ کیلئے آپکے دامن میں کیا ہے؟، ہمیں سخاوت کاسبق پڑھارہے ہیں۔ سندھی کہتے ہیں کہ ماما کے گھر مہمان آئے تو میرے دل کو کوئی اندیشہ نہیں ۔آپ اپنے مال پر کچھ سخاوت کرکے دکھائیں جناب! تو ہم دیکھیں، ہمارے بھائی ہندوستان میں تھے، 1940 ریزولوشن میں ایک آدمی کو سندھ لانے کیلئے ایگریمنٹ نہ تھا۔ ہم ان پڑھ نہیں، وکیل قانوندان ہیں۔ آپ کی تشریح ہم نہیں مانتے۔ آپ کہاں تھے جب پاکستان بن رہا تھا؟، لوگ جیلوں میں جارہے تھے تو آپ انگریز بہادر کے سامنے اپنے فلسفے جھاڑ رہے تھے۔ آپ تو دشمن کے کیمپ میں تھے۔ آپ ان کو سبق سکھاتے تھے جو جیلوں میں تھے۔ میں بچہ تھا ، ہم لڑے جلوس نکالے ، ہم نے 1946ء آرمی ونیوی کا جو انڈین باغی تھا، جلوس نکالا تھا کراچی میں آپ کہاں تھے؟۔ آپ تمام معزز اور قابل احترام جرنیل کہاں تھے؟۔ سندھ ایگریمنٹ یہ ہے کہ ایک بھی آدمی کو سندھ کے وسائل پر متصرف ہونے کا حق نہیں دیا گیا۔ پھر راستہ بند ہوگیا کہ اس تاریخ کے بعد لوگوں کا منتقل ہونا بند ہوجائیگا۔ آپ نے وہ بھی توڑ دیا اس کے بعد۔ ہندوستان میں تو لاکھوں مسلمان ہیں ۔ دس کروڑ مسلمان ابھی ہندوستان میںہیں۔اگریہ بہاری حضرات ہمارے بھائی جنہوں نے کچھ کارہائے نمایاں اسلام اور پاکستان کیلئے انجام دیا، جو ساری دنیا میں مشہور ہیں اگر وہ حق رکھتے ہیں تو10 کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں ہیں اسلامی مملکت میں رہنے کا حق کیوں نہیں رکھتا؟۔ آپ تو کل کھڑے ہونگے کہ یہ مسلمان ہے ہمارا دامن وسیع ہے۔ پھر پنجابی حضرات آپکے رہنے کی جگہ بھی نہیں ہوگی۔ آپ سخاوتیں کریں تو آپ مینورٹی میں بدلو گے۔ اگر 10کروڑ آیا تو تم کہاں جاؤ گے؟۔ آپکے دماغ چھوٹے ہیں، تاریخ نہیں پڑھی۔ آپ توکہتے ہیں ون ٹو تھری لیفٹ رائٹ مارچ ہوگا۔ جو بڑاتیر مارا، ہم نے بنگال میں دیکھا ، آپکی فہم و فراست، آپکے مشورے کہ قہر خداوندی بن کر ٹوٹ پڑو۔ قہر خداوندی بنکر ٹوٹ پڑے پاکستان کی سالمیت اور بقاء پر ۔ پاکستان کی حدود پر آپ ٹوٹ پڑے اور پوری دنیا میں آپ نے رسوا کردیا۔ ہم کہتے ہیں ان لوگوں کو مت لاؤ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آپ اسلئے لارہے ہیں تاکہ سندھی لوگوں کو جیسے میرے بھائی نے کہا کہ آپ سزا دے سکیں۔ آپ ہمیں پاکستان میں فٹ نہیں دیکھتے ہم آپ کو نہیں بھاتے۔ ہمیں پسند نہیں کرتے۔ جس طرح بنگالیوں کو تہہ تیغ کرنے کے منصوبے اور سازشیں بنارہے تھے ،پہلے دن سے آپ سندھ کیخلاف سازشیں بنا رہے ہو۔ آپ کی ہر ادا، نظریہ آپ کی ہر دلیل آپ کی ہر تشریح بتاتی ہے کہ آپ سندھ کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہیں۔ اس کیلئے آپ نے دلائل کے ابنار لگائے اور آہستہ آہستہ ہمیں پیرالائز کررہے ہیںاور سائیکالوجیکل پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ سندھی نوکری نہیں کرتے؟۔ آپ دیں میں آپ کو پانچ ہزار نوجوان دیتا ہوں کہاں ہے نوکری؟۔ سب لے گئے آپ۔ میں دیتا ہوں نوجوان۔ لیفٹیننٹ چاہئیں میجر کیلئے کوالیفائڈ چاہیے میں۔ آپ ہمیں اقلیت میں بدلنا چاہتے ہیں۔ میں 20سال پہلے لکھ چکا ہوں ۔ اسٹیبلشمنٹ بڑی گھناؤنی سازش کرکے سندھی لوگوں کے حق پرست انسان دوست مہذب وجود کو برداشت نہیں کرتی۔ آپ اپنے آپ کو خاص مخلوق سمجھتے ہیں کہ دنیا کو فتح کرنا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ خداوند عالم نے آپ کو حاکم کا منصب عطا کردیا کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرائیں گے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے والوں میں سے ہم نہیں۔ ہم انسانی قدروں پر یقین رکھتے ہیں ، جمہوریت اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس کیلئے یہ فٹ نہیں ۔ اسلئے تہہ تیغ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ دلائل لاتے ہیں دنیا بھر سے دہشتگرد جمع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے ان کو ہتھیار بند کیا یہ سارا کھیل آپکا ہے۔ پہلے دن سے پتہ ہے کہ ہم سے یہ ملکیت لیکرکنگال اور فقیر کرکے بے وطن کررہے ہیں۔ یہ ڈاکو آپکے پالے ہیں۔ آپ طاقت کے زور پر دہشت کریں، یہ دلائل ہم جانتے ہیں؟بنگالی مسلمان نہیں؟ انکے ساتھ کیوں نہیں رہے؟ کیا ضمانت کہ ہمیں خون میں ڈبونے کیلئے نہیں آئیں گے؟۔ کیا ضمانت ہے کہ کل آپ سے ملکر ہمارے یہاں وہی حالت اور وہی ڈرامہ نہیں کرینگے جو پہلے کیا، جو آج کیا جارہا ہے؟۔ کراچی پری ویو ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ 20برس سے ٹریلر آپ دکھارہے ہیں دہشتگردی کا، آپ نے سنا، پنجاب میں ایسی کوئی بات ہو؟ جو کراچی میں ہو رہی ہے۔ عورتوں کی چھاتیاں کاٹی جاتی ہیں ؟۔ پنجاب ، سرحد ،بلوچستان، سندھ میں یہ روایت ہے؟ عورتوں کی تذلیل کی یہ روایت ہے؟ یہ ٹارچر جس میں مشینیں لیکر گھساتے ہیں یہ کون ہیں؟ یہ ہمارے زبردست آدمی ہیں جو سکھاتے ہیں کہ اس طرح سے لوگوں کو دشمن بنایا جائے۔
جناب عالی! ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سندھیوں کیساتھ ظلم، بین الاقوامی جرم ہے۔یہ مظلو م محکوم اور پر امن قوم کا وجود مٹانے کی سازش کی بہت بڑی کڑی ہے۔ ہم پنجاب کی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ غور کریں ، آج ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں کہ ہم آپ کو متاثر کرسکیں کیونکہ آپکے پاس طاقت ہے۔ پنجاب کی عوام نہیں کیونکہ آپ تو خود محروم ہیں۔ حکمران طبقوں کے پاس طاقت ہے اور انکے دماغوں میں بڑے بڑے خواب ہیں ساری دنیا پر حکومت کرنے کے۔ ہٹلرسے بڑے خواب ۔ ٹھیک ہے، آپ یہ سمجھیں اخلاقاً کہ ہم آپکے ساتھ ہوئے مشکل وقت میں پاکستان ہمارے بغیر بن نہیں سکتا تھا۔ قائد اعظم ہم نے دیا۔ پاکستان کا پہلا ریزولوشن ہم نے دیا۔ پہلا تخت گاہ ہم نے دیا،میزبانی کیلئے راستوں پر ہم کھڑے تھے۔ دیگیں ہم نے پکائی تھیں، اپنے ہم زبانوں کیلئے نہیں جیسے پنجاب میں آئے ۔ ان کیلئے جن کی زبان ہماری نہیں تھی ۔ ہم سے نفرت کرتے تھے ہمیں دراصل فتح کرنے آئے مگر ہم نے اپنے دل ان کیلئے کھول دئیے۔ یہ نہیں کہ فصاحت و بلاغت سے متاثر ہوئے لمبی دھارائی، تقریریں اور ڈانس سے ہم متاثر ہوئے۔ ہم سیدھے لوگ دیہاتی ہیں یہ تقریریں ہمارے لئے وقعت نہیں رکھتیں۔ ہم انسان کا دل دیکھتے ہیں۔ دیکھا کہ مظلوم ہیں تو اپنا دل پیش کیا۔ آج ہمارے ساتھ یہ سلوک ہورہا ہے کیا اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہوگا؟۔ آج آپ جو بورے ہیں، کیا کل نہیں کاٹیں گے؟ تاریخ میں کوئی بھی ایسا فعل نہیں ہوتا جس کا نتیجہ نہ ہو۔ آج نہ ہو تو کل ہوگا ،کل نہ ہو تو پرسوں ہوگا۔

خلافت پاکستان سے شروع ہوگی دنیا کیلئے، امریکن پروفیسر آلان کیسلر

السلام علیکم ! میرا نام ہے آلان کیسلر۔ میں امریکہ میں بیٹھ کرہمیشہ پاکستان کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ اور ہم آج خلافت راشدہ کے بارے میں بات کریں گے۔ انشاء اللہ۔ ایک دعا کریں گے حضرت محمد ۖ کو یاد کرتے ہوئے ۔ اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد ۔(درودِ ابراہیمی) ۔سب دعا کریں کہ پاکستان میں خلافت راشدہ قائم ہوجائے۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے آمین بہت اچھا۔ اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے یہ ناممکن ہے فاطمہ علی کے کمنٹس تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بنائیں گے خلیفہ۔ یہ بات مجھے بہت ہی اچھی لگی کہ یہ حقیقت ہے۔ کوئی سیاستدان نہیں بناسکتا ہے فوج بھی نہیں بناسکتی ہے صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ خلیفہ راشد کو بناسکتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا سسٹم ہوگا یہ فاطمہ علی آگے بتارہی ہے شیر اور بکری ایک جگہ پانی پی سکیں گے۔ یہ بھی مجھے بہت ہی اچھا لگااور وہ آگے بتارہی تھی کہ لوگوں کی ضرورت نہیں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے یہ صرف اللہ تعالیٰ کرسکیں گے اور وہ کرے گا انشاء اللہ۔ وہ ایسا کرے گا جو ہمارے لئے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے لیکن وہ سب کچھ کرسکتا ہے آسانی سے کرسکتا ہے۔ اس کیلئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔ پاکستان میں خلافت راشدہ قائم کب ہوگی جب ہم سب پاکستانی لوگ خود پاک بن جاتے ہیں۔ جب ہم لوگ صراط مستقیم پر چلتے ہیں تو پھر کوئی سیاستدان نہیں بلکہ ہم سب عوام، جہاں تک میں سمجھتا ہوں خلافت پاکستان سے شروع ہوجائے گی لیکن یہ پوری دنیا کیلئے ہے۔ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ہر ایک مذہب کے لوگوں کیلئے ہے۔ کیونکہ خدا ایک ہی ہے۔ آج جو سیاسی سسٹم ہے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ، جو سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اس سے کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ان سیاسی پارٹیوں میں بہت کرپشن ہے اور کرپشن سے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔ کیونکہ جو بڑے شیطانی لوگ ہیں انہوں نے یہ سسٹم بنایا ہے۔ یہ پولیٹیکل سسٹم جو آ ج ہم دیکھتے ہیں دنیا میں نام نہاد ڈیموکریسی عوام چن لیتی ہے کہ کون ہمارا لیڈر ہوگا نہیں یہ جھوٹ ہے۔ عوام نہیں چن لیتی ہے یہ الیکشن سب فکسڈ ہیں اور میں ان کو شیطان کے چمچے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو ایلومنارٹی کہتے ہیں یہ سب سیاسی پارٹیوں کو اپنے قبضے میں رکھتے ہیں۔ اور اگر کوئی ان کے قبضے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے وہ انکے خلاف بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس بے حد پیسہ ہے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں کسی بھی پارٹی کو ختم کرنے کیلئے۔ رشوت کھلاسکتے ہیں اسی پارٹی کے برے آدمیوں کو ، اسلئے میں یہ کہہ رہا ہے ہوں کہ آج جو دنیا میں یہ سیاسی سسٹم ہے اس سے خلافت راشدہ کبھی قائم نہیں ہوسکتی۔ ایک نئے سسٹم کی ضرورت ہے۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ وہ کرے گا کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔ اسلئے پاکستان کو مدینہ ثانی کہا گیا ہے۔ مدینے میں حضرت محمد ۖ نے خلافت کو قائم کیا تھا اور یہودی بھی تھے وہاں اور یہودیوں کو اپنے مذہب پر رہنے کی اجازت دی گئی وہاں ان کو مسلمان نہیں بنایا گیا تھا۔ ہاں جو بننا چاہتے تھے مگر جو نہیں بننا چاہتے تھے تو وہ اپنے مذہب میں رہے۔ یہی قائد اعظم کا بھی کہنا تھا جو کرسچن ہیں جو ہندو ہیں پاکستان میں وہ اپنے مذہب میں رہ سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کو مسلمان بننا پڑے گا۔ خلیفہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں سب کو مسلمان بناؤں گا۔ تو یہ وہی بات ہے جو میں بار بار بتارہا ہوں کہ مجھے یہ بتایا گیا تھا 1983ء میں پاکستان دا مطلب ہے او پاکستان جتھے حضور پاک اوڈے پاک مصاحف دے نال اسلام پاک پر قائم کریں گے۔ تو یہ خلافت راشدہ کا بھی جواب ہے۔ بیشک بہت سارے یزید ہیں یا دجال ہیں جو پوری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور کررہے ہیں اور جو خود خلیفہ بننا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں بن سکے گا۔ دجال کا یہی پروگرام ہے لیکن وہ فیل ہوجائے گا انشاء اللہ۔ اگر الیکشن ہوتے ہیں تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ الیکشن ووٹر لسٹ میں بہت دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اور الیکشن میں بھی دھوکہ ہوتا ہے۔ الیکشن کام نہیں دے گا۔ الیکشن میں اتنے پیسے بھی خرچ کرتے ہیں پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں دھوکہ دیتے ہیں لوگوں کو دھمکی دیتے ہیں لیکن اصلی جو خلیفہ ہوتا ہے وہ یہ چاہتا بھی نہیں کہ وہ خلیفہ بن جائے وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کو یہ نہ کرنا پڑے لیکن جب اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے تو اس کو کرنا پڑتا ہے۔ یہی ہے خلافت کا راز۔ الیکشن نہیں چناؤ نہیں لیکن جو بنے گا وہ بننا بھی نہیں چاہتا ہے۔ یہ جو نام نہا د خلافت ہوتی ہے ISIS وغیرہ دہشت گردوں کی یہ بالکل خلافت کے برعکس ہے۔ یہ دجال کی نام نہاد خلافت ہے فتنہ ہے ۔ یہ ایک لڑائی ہے ابلیس کی۔ سب سے بڑا ہتھیار ہمارے دل میں ہے کہ فیصلہ کرنا ہے کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہی کروں گا۔ جو شیطان یا ابلیس غلط راستے پر لگانا چاہتا ہے ۔ ہم بس دعا کرتے ہیں کہ اھد نا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغصوب علیھم ولا الضالین۔ تو جب ہم یہ حقیقت میں چاہتے ہیں تو اللہ ہماری مدد کرے گا کہ ابلیس سے ہمیں ایسے لڑنا ہے اور پھر سب کچھ ہوجائے گا۔ فکر نہیں کریں۔

سورۂ مدثر میں ایک بڑے انقلاب کا اشارہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کی نشاة ثانیہ کے آغاز کا وقت ہے کیا؟

قرآن کی طرف متوجہ ہوئے بغیر اسلام کی نشاة ثانیہ کے آغاز کا تصور نہیں ہوسکتا

روزنامہ مشرق پشاور میں سورۂ مدثر کی بعض آیات کا حوالہ دیا گیا کہ اس میں کورونا وائرس کا چین سے ہونے کا ذکر ہے۔ آیت8میں ناقور سے مراد کورونا اور آیت12،13میں مال کی کثرت اوراولاد کی حاضری سے مملکت چین مراد لیا گیا۔ کبھی پاکستان جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دیتاتھا مگر اب قرضہ دیتا نہیں لیتا ہے۔ اگر دنیا سے سود کا نظام ختم ہوجائے اور پاکستان کا سود معاف ہوجائے تو پاکستان کیلئے اس سے زیادہ خوشخبری کیا ہوسکتی ہے؟۔ نوازشریف نے ڈھیر سارے سودی قرضے لئے اور پھر اپنی شوگر ملوں کیلئے اربوں کی سبسڈی لی۔ شوگر مافیاپکڑا گیا تو تحریک انصاف سے زیادہ ن، ق لیگ اور پیپلزپارٹی کے بکروں کو چھرا دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ لوگ وہ سبسڈی کا مال بھی غریب عوام کو اس مشکل میں دیدیں تو غریبوں کا بھلا ہوجائے۔
جاپان نے ایک کھرب امریکی ڈالر کورونا وائرس کے خلاف پیش کردئیے ہیں۔ ہمارے پھنے خان،ننھے خان اور منے خان لوٹی ہوئی دولت بھی واپس نہیں کرتے۔ کرونا کانقارہ بج چکا ہے۔ سورۂ مدثر میں سقر سے جہنم نہیں بلکہ شکرے کی نحوست مراد ہوسکتی ہے، قرآن میں نحوست کوپرندے سے تعبیر کیا گیا ۔ لاتبقی ولاتذرO لواحة للبشر”نہ رازباقی چھوڑے اورنہ کوئی معاملہ رہنے دے۔جھلساکر انسان کو بگاڑ کر رکھ دے”۔ علماء ،سیاستدان، صحافی اور سب طبقات کیلئے یہ بڑی وارننگ ہے جو آخرت میں نہیں دنیا میں انقلاب کے حوالے سے ہے۔ ومایعلم جنود ربک الا ھو”اور کوئی نہیں جانتا تیرے رب کے لشکر کو مگر وہ، اوربشر کیلئے نصیحت ہے”۔ یہ کرونا وائرس بھی اللہ کا لشکر ہے۔جب انقلاب آئیگا تو ہر شخص اپنے کئے میں گرفتار ہوگا مگر دائیں جانب والے( اچھے لوگ )وہ جنت نظیر دنیا میں مجرموں سے پوچھیں گے کہ اس سقر(کم بختی کی نحوست میں) کس چیز نے پہنچایا؟

 

سورۂ مدثر میں ایک بڑے انقلاب کا اشارہ؟

قرآن کے رموز اور حقائق کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ ہردور میںرہنما اصول ہیں!

قرآن وسنت میں دو انقلابات کا ذکر ہے۔ پہلا انقلاب رسول اللہۖ کے دورمیں آیا۔ جسکے اثرات خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ تک قائم رہے۔ دوسرا انقلاب درمیانہ زمانے سے آخری دورحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجالِ اکبر تک قائم رہے گا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بن گیا مگر اسلام سے سیاستدان تو دور کی بات ہے علماء ومشائخ بھی ناواقف ہوگئے تھے۔ مسٹر جناح کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھی بلکہ مذہب سے دور ہونا ہی اس کا سب سے بڑا کمال تھا لیکن اسلام اور مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا کام اس سے لے لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں شیاطین اپنا مکروہ جال بنارہے تھے لیکن بہرحال انہم یکیدون کیدا واکیدکیدا
کرونا وائرس کے نقارے نے انسانیت کے دل ودماغ سے انسان دشمنی کا انتقام نکال دیا ہے۔ جہاں سورۂ مدثر میں دورِ نبوتۖ کے انقلاب کاذکر ہے وہاں پاکستان میں بھی بڑے انقلاب کی خوشخبری دے رہاہے۔ سیاست،صحافت، علماء ، مذہبی طبقے، سول وملٹری اور عدالتی بیوروکریسی سے معاملات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ مجرم اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں اور بہت قریب ہے کہ لوگ اس اسلام کی طرف متوجہ ہوں، جو قرآن وسنت کا عین تقاضہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ایک ایسی خلافت کا قیام عمل میں آئے کہ پوری دنیا اسکے سامنے سرنگوں ہو۔
روس، امریکہ اور چین سمیت بھارت واسرائیل بھی اسے قبول کرکے خوش ہونگے۔ جب یہ انقلاب برپا ہوگا تو کسی شخص اور اسکے حواریوں سے شیخ الاسلامی کا تاج اتریگا اور وہ اعتراف کر لیںگے کہ ہماری نمازیں ڈھونگ تھیں، ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، پھر ان کی کوئی سفارش بھی نہیں کرسکے گا اسلئے کہ ہر ایک اپنی بداعمالیوں کے سبب مشکلات میں گرفتار ہوگا۔ البتہ اصحاب الیمین ہر طبقے سے ہونگے اور وہ ان سے انٹرویو لیتے ہونگے۔

 

کیاسورۂ الدھر میں دنیاوی انقلاب کی خبر؟

اگر حدیث کی خوشخبری ایک عظیم انقلاب کی ہے تو پھر قرآن میں یہ خبر کیوں نہیں!

جب دنیا اس کورونا وائرس کے چیلنج سے نکل جائے گی تو پھر سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ایسے گلاس اور کپ بنائے جاسکتے ہیں جن کا مزاج کافوری ہو ؟۔ قرآن میں سورۂ قیامت کے بعد سورۂ الدھر ہے، جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ قیامت کا ذکر سورۂ قیامت میں ہے اور دھر کا ذکر سورۂ الدھر میں ہے۔ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جس کو پانچ دریاؤں کے نہروں سے ہی آسانی سے سجایا جاسکتا ہے۔ وزیرستان کا بڑا قدیمی شہر کانیگرم صدیوں سے آباد ہے لیکن پہاڑ پر بنے ہوئے اس شہر کے نیچے ندی اور نالے کے شفاف پانی کو آج تک شہر کا گند آلودہ نہیں کر رہاہے۔ پاکستان کے دریاؤں کو بھی آلودہ کیا گیا ہے۔ صنعتوں کو بلوچستان منتقل کیا جائے اور تیز رفتار ٹرینوں کے ذریعے کراچی کولاہور، پشاور،کو ئٹہ اور گوادر سے ملایا جائے۔تو ہمارے سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنا سارا جائز اور ناجائز سرمایہ واپس پاکستان لائیںگے۔
حکومت سندھ علاقہ وائز اعداد وشمار کے ذریعے امدادی رقم غریب غرباء اور مزدور طبقہ تک پہنچائے، لوٹ مار سے بچنے کیلئے رینجرز اور پاک فوج کے جوانوں کی مدد لے۔ دنیا بھر سے لوگ اس مشکل گھڑی میں انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ ایسے بُرا دن کے دیکھنے سے قبل جس کا شر بہت وسیع ہے عام لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت ضروتمند طبقے کو امدادپہنچاتے ہیں جو کسی قسم کی جزاء اور شکریہ ادا کرنے کی توقع نہیں رکھ رہے ہیں بلکہ خالص اللہ کی خاطر کرتے ہیں۔ سورۂ الدھر میں معاملات بالکل واضح ہیں۔ جب انقلاب آئیگا تو پاکستان سمیت دنیا پر نعمتوں کی ایسی بارش ہوگی کہ سورج کی تپش اور سردی کی ٹھٹر سے سب محفوظ ہونگے۔ نوجوان طبقہ بہت خوشی سے خدمت کا فریضہ انجام دے گا۔ پھلوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ خلافت کے قیام کے بعد جس قسم کی نعمتوں کا ذکر ہے وہ سورہ الدھر میں مذکور ہیں۔

قرآن میں دنیاوی عذاب کا ذکر

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ٹارگٹ کیوں؟ 

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ بھی مفتی تقی پر تکیہ اور تقیہ کئے بیٹھے ہیں!

مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں” فقہی مقالات جلد چہارم” اور” تکملہ فتح المہلم” میں لکھ دیا تھا کہ ” علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے”۔ جبکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ہم نے اسکے خلاف فتویٰ لیا تھا۔ پھر جب عرصہ بعد ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرپرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے سودکے نام پر اسلامی بینکاری کے خلاف لکھا تو ملک اجمل نے جنگ کے صحافی نجم الحسن عطاء کیساتھ ڈاکٹر صاحب کی جرأت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے حاضری دیدی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر کہا کہ ” میں نے مفتی تقی عثمانی کے خلاف کچھ نہیں لکھا ہے، پہلے بھی میرے ایک شاگرد نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف ہمارا فتویٰ شائع کیا تو مفتی تقی عثمانی ہم پر بہت برہم ہوگئے تھے۔ مفتی تقی عثمانی نے مولانا یوسف لدھیانوی پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا کہ مفتی محمود کے حوالہ سے اپنی تحریر میں پان و گولی کھلانے کا ذکر کیوں کیا تھا؟۔ طلاق کے مسئلے پر مفتی نعیم کو بھی مفتی تقی عثمانی نے ڈانٹا تھا اور مولانا انور بدخشانی مدرس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی ہی کا سکہ چلتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن بھی شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کو بڑا قابل عالم سجھ رہے ہیں

طلاق وحلالہ کے غلط فتوؤں اور درسِ نظامی کے علاوہ حال ہی میں ” آسان ترجمہ قرآن” میں فاش غلطیوں کے ارتکاب میں مفتی تقی عثمانی نے ایک سرغنہ کا کردار ادا کیا ہے۔ علماء کرام کو ثالثی کی پیشکش ہم کررہے ہیں۔ صحافی موسیٰ خان خیل شہید کے بھائی مفتی احمدالرحمن کے داماد سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ میں درسِ نظامی کے نصاب اور طلاق وحلالہ کے حوالہ سے ہماری بات ہوئی تھی لیکن جامعہ بنوری ٹاؤن کے اکابر علماء پہلے سے ہی اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے تھے ،اسلئے وہاں بحث ومباحثہ کیلئے جانا مناسب نہیں سمجھا۔ وہاں بدمعاش لوگ پہلے بھی صاحبزادہ مولاناسید محمد بنوری کو شہید کرچکے تھے اور اسکا الزام شریف النفس ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پر لگا رہے تھے۔ ہم نے ٹانک شہر میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے مقتدر علماء کرام کو بات کرنے کیلئے دعوت دی تھی تو مولانا فضل الرحمن نے اس اجتماع میں رکاوٹ کا خفیہ طور پر اظہار کیا ،پھرہم نے بالمشافہہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ،کافی لیت لعل کے بعد اس نے سید عطاء اللہ شاہ منتظم معارف شرعیہ کو جانے کا حکم دیا مگر ڈیرہ اسماعیل خان سے علماء کرام وعدے کے باوجود نہیں آئے تھے۔ ٹانک کے اکابر علماء نے میرا مؤقف سننے کے بعد کھل کر حمایت کرنے کا اعلان کیا اور پھر ایک جلسہ عام میں بھی حمایت کردی جس کو ہم نے اخبار میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا تو ڈیرہ کے علماء نے اخبار میں حمایت دیکھنے کے بعد رکاوٹ ڈالنے کا پرواگرام بنایا۔ اگلی مرتبہ جھگڑا کیا۔ پھر طے ہوا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک سے مولانا فتح خان اور مولاناعبدالرؤف بھی آئیںگے اور مولانا علاء الدین کے مدرسہ نعمانیہ میں ایک نشست رکھیںگے لیکن پھر انہوں نے حالات خراب کردئیے اور حکومت نے ٹانک کے علماء پر پابندی لگادی اور ہمیں 16ایم پی اے کے تحت گرفتار کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا

مولانا عطاء الرحمن نے مولانا شیرانی کے سامنے علمی بحث سے راہِ فرار اختیار کی

مولانا شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمیں تھے تو قصر ناز میں مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان سے بھی اچانک ملاقات کا موقع ملا تھا، وہ لوگ ریاستِ پاکستان کا مذاق اڑارہے تھے اور جب مجھ سے رائے پوچھی تو میں نے درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف کا کہا کہ جب تم لوگ قرآن کو نہیں مانتے۔ المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھی ہوئی کتاب(قرآن) مُراد نہ ہو تو قرآنی آیات اور لکھی ہوئی کتاب کا انکار لازم ہے ،جس کیوجہ سے اس کو پیشاب سے لکھنا بھی جائز قرار دیتے ہو۔جب نقل متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں تو قرآن کی حفاظت کا عقیدہ کہاں باقی رہتا ہے؟۔ جب بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی تو ذلک الکتاب لاریب فیہ پر ایمان کہاں باقی رہتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ جب بھوکے کو روٹی نہیں مل رہی تھی تو دوسرے نے کہا کہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا؟۔ ہم پاکستان کی بات کررہے تھے ، یہ اپنا مقصد قرآن لیکر آگیا۔ حامد میر جب روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے ایڈیٹر تھے توڈیرہ اسماعیل خان میں علماء کے چیلنج کو قبول کرنے کی بجائے میرے بھاگنے کی خبر اس نے لگائی تھی اور پھر دوسرے دن میرے جواب کی بھی چھوٹی سی خبر شائع کی تھی۔
اسکائپ کے ذریعے بھی الیکٹرانک میڈیا پر حقائق کو سامنے لانے کا اہتمام ہوسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں سے ” سورۂ فاتحہ ” کو پیشاب سے لکھنے کا جواز نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن اسکے بعد وزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں” مفتی سعید خان”نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس” شائع کی جس میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جوازکا دفاع کردیاہے۔
درسِ نظامی کے نصاب پر امریکہ کی طرف سے کوئی دباؤ ہے یا نہیں لیکن ہم ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیںکہ علماء ومفتیان کودرسِ نظامی درست کرنیکا فریضہ بہر صورت ادا کرنا چاہیے۔

سورۂ مدثر، سورۂ دھر کیلئے قرآن کی دوسری سورتوں کوپیشِ نظر رکھ کرہی سمجھنا ہوگا!

قرآن کی سورۂ القلم میں بسم اللہ کے بعدن والقلم ومایسطرونOوانت بنعمة ربک بمجنون O وانَّ لک لاجرًا غیرممنونO وانک لعلیٰ خلق عظیمOفستبصرویبصرونO بایکم المفتونOان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین O”ن۔ قسم ہے قلم کی اور جوسطروں میں ہے۔ نہیں آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون۔ آپ کا مشن اجر ہے نہ ختم ہونے والا۔ اور آپ اخلاق کے عظیم رتبے پر ہیں۔سو عنقریب آپ دیکھ لیںگے اور وہ بھی دیکھیںگے کہ کون مبتلا ہے؟۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ جو راہ سے ہٹا ہے اور وہ ہدایت والوں کو بھی زیادہ جانتا ہے”۔اللہ تعالیٰ قلم اور سطروں میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھارہاہے لیکن علماء کو فقہ واصول کی باطل تعلیم سے فرصت نہیں کہ قرآن کی تعریف کا غلط معاملہ سمجھ کر درست کرلیں۔ مشرکین نے نبیۖ کو مجبون قرار دیا، اور کہا کہ عنقریب آپ کا مشن ملیامیٹ ہوجائیگا۔ آپ کے اخلاق اچھے نہیںمگر اللہ نے ان کی سب باتوں کو بالکل رد کردیاتھا۔ہر بات آخرت پر نہیں چھوڑی بلکہ دنیا میں ہی نتائج سے آگاہ کردیاکہ عنقریب پتہ چل جائیگا کہ جنون اور بداخلاقی میں کون مبتلاہے اور کون ہدایت پر اور کون گمراہ ہے۔ سورۂ مدثر، سورۂ دھر میں بھی دنیاوی انقلاب ہی کا ذکر ہے مگر علماء نے اس کی غلط تفسیر کرکے آیاتِ قرآنی کے اصل معانی کو ہوا میں اڑادیا ہے۔ قرآن میں زمینی حقائق کے حوالہ سے بھی قرونِ اولیٰ اور اسلام کی نشاة ثانیہ کے انقلابات کی خبر یں ہیں۔
جب باطل قوتوں کا غلبہ ہوتا ہے تو ہتھیار کے بغیر بھی اہل حق الزامات کی زد میں ہوتے ہیں۔ شریف کو مجنون، اخلاق وآداب کے منافی قرار دیا جاتا ہے مگر پھر وہ وقت دور نہیں ہوتا ہے کہ اہل حق غالب اور باطل ناکام ہوتے ہیں۔ قرآن میں بہترین رہنمائی ہے۔

سورۂ قلم کی تفصیل سے ظاہر ہے کہ آخرت سے پہلے دنیا میں مجرموں کا پتہ چلے گا

اورارشادفرمایا:فلاتطع المکذبینOودّوالوتدھن فیدھنونO و لا تطع کل حلاف مھینOھمازٍ مشائٍ بنمیمOمناعٍ للخیرِ معتدٍ اثیمOعتلٍ بعد ذلک زنیمٍOو ان کان ذامالٍ وبنینٍOاذتتلٰی آےٰتنا قال اساطیر الاولینO سنسمہ علی الخرطومOانا بلونٰھم کما بلونآ اصحٰب الجنة اذا اقسموا لیصرمنھا مصبحینO”لہٰذا ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانو۔ یہ توچاہتے ہیں کہ آپ کچھ مداہنت کریں تو یہ بھی مداہنت کریں۔ہرگز بات نہ مانو، ہر ایک بہت قسم کھانے والے ہلکے آدمی کی، طعنہ دینے والے،چغلیاں کھانے والے کی،خیر کیلئے رکاوٹ کھڑی کرنیوالا، حدسے گزرا ہوا گناہ گار، کھاؤ پیو جھگڑالوبدخلق اور بداصل ۔گرچہ وہ مال و اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیںگے۔ ہم نے ان کو اس طرح آزمائش میں ڈالا۔ جس طرح جنت( باغ ) والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ جب انہوں نے قسم کھائی کہ ہم صبح ضرور اس کا پھل توڑیںگے”۔
سورۂ قلم کی ان آیات میں جھٹلانے والوں کے دباؤ میں آنے سے منع کیا۔ جو چاہتے تھے کہ آپۖ ڈھیلے ہوں تو وہ بھی ڈھیلے پڑیں۔ باطل گھناؤنی صفات رکھتے تھے۔ مال و اولاد کے زعم میں مبتلاسمجھتے تھے کہ آیات پرانے قصے ہیں مگر اللہ نے واضح کیا کہ” عنقریب اس کی سونڈ کو داغ دینگے” سونڈ سے مراد ناک، چہرہ ہے جو دنیاوی عزت ، جاہ وجلال ہوتاہے۔
سورہ ٔ قلم میں پھر جنت(باغ) والوں کا قصہ ہے جو اپنی نعمت کھونے کے بعد ایکدوسرے کی ملامت کررہے تھے۔ کذٰلک العذاب ولعذاب الاخرة اکبر ”ایسا ہی ہوتاہے عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے”۔دنیاوی انقلاب بالکل واضح ہے۔

پہلے رکوع کے بعد سورۂ قلم کے دوسرے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں

ان للمتقین عند ربھم جنّٰت النعیمOافنجعل المسلمین کالمجرمینOما لکم کیف تحکمونOام لکم کتٰب فیہ تدرسونOانّ لکم لما تخیّرونO ام لکم اَیمان علینا بالغة الیٰ یوم القیامة ……”بیشک پرہیزگاروں کیلئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں۔ کیا ہم حق قبول کرنے والوں سے مجرموں کا سا سلوک کرینگے؟۔تمہیں کیا ہوا ہے، کیسا فیصلہ کرتے ہو؟۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس کا تم درس دے رہے ہو؟اور اس میں تمہارے لئے ہے کہ تمہارے پاس اپنے لئے اختیار ہوگا؟۔ یا تمہارا ہمارے ساتھ کوئی عہدوپیمان ہے جو قیامت تک جو چاہو اپنے لئے فیصلہ کروالو؟”۔
فذرنی ومن یکذّب بھٰذالحدیث سنستدرجھم من حیث لایعلمون ….. ……”پس مجھے اور اس بات کو جھٹلانے والوں کو آپ چھوڑ دیں۔ ہم درجہ بہ درجہ انہیں لے جائیںگے جسکا ان کو پتہ بھی نہ چلے گا۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں اور میری تدبیر مضبوط ہے۔ کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہو،جسکے بوجھ تلے وہ دبے جارہے ہیں؟۔کیا ان کے پاس کوئی غیب ہے جس سے وہ لکھ رہے ہوں؟۔ پس آپ اللہ کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ بنیں۔جب اس نے پکارا تھا اور پھر مغموم تھا۔ اگر اپنے رب کی نعمت اس کو نہ ملتی تو چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا اور وہ دبوچا ہوا ہوتا۔ پھر اللہ نے اسے چن لیا اور اس کو صالحین میں سے بنایا۔ اور قریب ہے کہ جنہوں نے کفر کیا کہ اپنی آنکھوں سے پھسلادیںجب یہ ذکر کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیشک یہ مجنون ہے اوریہ اور کچھ نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے”۔ سورۂ قلم میں جہاں قرآن کیلئے مہم جوئی کرنیوالے متصدقین اور مخالفین مکذبین کا حال ہے وہاں دنیا میں بھی سزا اور جزاء کی بھرپور وضاحت ہے۔

عذاب وجنت سے آخرت ہی نہیں بلکہ دنیامیں بھی جزاء وسزا مراد ہوتی ہے!

قرآن میں جہاں دنیا کا عذاب یا جنت مراد ہواور اس سے آخرت مراد لی جائے تو قرآن سمجھ میں نہیں آئیگا۔ قرآن صرف آخرت کے عذاب اور جنت کی کتاب نہیں بلکہ اس کامفہوم درست پہنچانے کا نتیجہ دنیاکوجنت بناسکتا ہے اور اسے جھٹلانے کا عذاب دنیا میں مل سکتا ہے۔
قرآن کو جھٹلانے والوں کا سب سے بڑا وطیرہ دنیاوی مفادات اور آخرت کا انکار یا مفت میں اپنے لئے آخرت میں اپنی مرضی کے فیصلے۔ سورۂ قلم میں تفصیل سے اس کا ذکر ہے۔ اس کو تدبر کیساتھ پڑھنے کے بعد ذہن کھل جائیگا۔ مال اور اولاد کو ترجیح دیتے ہوئے آیات کیلئے پُرانے قصے کہانیوں کی سوچ رکھنے والے کیلئے ہے کہ ” عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے”۔ سورۂ مدثر اور سورۂ دھر کے علاوہ کئی سورتوں میں دنیاوی عذاب، قرآنی انقلاب ، اسلام کی نشاة اول اور نشاة ثانیہ کے حوالے یوم الفصل اور جزاء وسزا کابالکل بہت واضح ذکرہے۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے مال اور اولاد کیلئے بینکوں کو اپنا ٹھکانہ بنالیاہے۔ سودی نظام کو جائز قراردینے کی معصیت سے توبہ کئے بغیر قرآن وسنت کی طرف رجوع نہیں ہوسکتا۔(

 

جب قرآن وسنت فرقوں، مسلکوںاور گروہوں میں بٹ گیاتو امت کا زوال آیا!

قرآن کریم میں آخرت کا تصور تو بالکل اپنی جگہ پر واضح ہی ہے لیکن قرآن کیلئے مصدقین و مکذبین کا کردار ادا کرنے والے دنیا میں ہی فلاح پاتے ہیں یا اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔جب قرآن موضوعِ بحث تھا تو فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے والے قرونِ اولیٰ کے مسلمان پوری دنیا سے اپنے عقائد اور اعمال کی بدولت ممتاز تھے۔ البتہ جب خلافتِ راشدہ کے بعد حکومت پر بنی امیہ، بنی عباس اور ترکی خاندان سلطنت عثمانیہ کا قبضہ ہوا۔ ہندوستان میں مغل تو افغانستان میں ایکدوسرے کا خون کرنے والے بادشاہ تھے تو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا وجود نہیں تھابلکہ بادشاہوں کے مرغے شیخ الاسلامی کے عہدوںپر قاضی القضاة کا کردار ادا کرتے تھے، جو حق کہنے والوں کو گردن زدنی، جیل، کوڑوں اور جلاوطنی کی عبرتناک سزادیتے۔
اورنگزیب عالمگیر نے اپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کو قید کردیا تھا مگر جب شاہ ولی اللہکے والد شاہ عبدالرحیم سمیت پانچ سو جید،مستند، معروف اور تقویٰ وپاک دامنی کے نجوم، آفتاب و مہتاب نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کیا تو اس میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری، ڈکیتی اور ہرقسم کی حد اور سزا معاف کردی اور حیلہ یہ ڈھونڈ نکالا کہ ”بادشاہ تو خود ہی دوسروں پر حد نافذ کرتا ہے مگر اس پر کون حد نافذ کردیگا؟۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا،اسلئے بلّا دودھ پی جائے تو معاف ہے”۔ انگریز نے تسلط حاصل کیا تو آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد جن جماعتوں اور فرقوں نے ایکدوسرے کیخلاف محاذ کھولے ہیں ان میں حق وباطل سے زیاد اپنے گروہی و فرقہ وارانہ مفادات ہیں۔ بریلوی،دیوبندی، اہل تشیع، اہلحدیث ، جماعت اسلامی، پرویزی اور انواع واقسام کے نت نئے فرقے طلوع وغروب ہوتے رہتے ہیں۔ مرزائیوں کو پہلے بھی کافر سمجھا جاتا تھا مگر مولانا احمد رضاخان بریلوی تو دوسروں کو قادیانی جیسا سمجھتے تھے

 

حق وباطل کی کشمکش مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ قرآن کی بنیاد ہے

دارالعلوم دیوبند کے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا جیل سے رہائی کے بعد اُمت کے زوال کے دواسباب قرار دئیے۔ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی محمد شفیع نے کہا کہ ” یہ دراصل ایک ہی سبب ہے۔ قرآن سے دوری۔ فرقہ واریت بھی قرآن سے دور ہونے کے سبب سے ہے”۔ دارالعلوم کراچی میں مفتی شفیع کے داماد مفتی عبدالرؤف سکھروی کو جاندار کی تصویر ناجائز لگتی ہے جبکہ مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ اسکے منافی ہے۔ ایک شادی بیاہ میں تصاویر کھینچوانے پر اپنے مریدوں کو سخت ترین عذاب کی وعیدیں سناتا ہے اور دوسرے کی اپنی ویڈیوز مسجد میںبنتی ہیں۔ایک شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین کو سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیتا ہے اور دوسرے نے اسلامی نام پر سودی بینکنگ کا کاروبار اپنا مشن بنایا ہواہے۔ ایک علم آفتاب اور دوسرا تقویٰ کا مہتاب ہے۔ ماشاء اللہ چشم بد دور۔
شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کی طرف دعوت دی تو ان کو پاگل اور گمراہ قرار دیا گیاتھا لیکن آخر کار مولانا انور شاہ کشمیری نے معافی طلب کرلی اور اعلانیہ کہا کہ ”ہم نے قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی بلکہ مسلکوں کی وکالت کرکے زندگی ضائع کردی”۔ مولانا الیاس نے امت کا درد لیکر تبلیغی جماعت کے ذریعے دنیا میں دعوت کا کام عام کردیا مگر جماعت نے بستی نظام الدین مرکز سے بھی جان چھڑائی اور اب کوئی امیر بھی نہیں ہے۔ جب دارالعلوم دیوبند میں مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادوں اور قاری طیب اور مولانا انور شاہ کشمیری کے صاحبزادوں میں مہتمم کے عہدے پر جھگڑا ہوا تو دارالعلوم دیوبند دوٹکڑے ہوگیا۔ آج تک مولانا سید محمد بنوری شہید کے قاتلوں کا بھی سراغ نہیں مل سکا لیکن وہ کونسے بدمعاش ہیں جو اتنے مضبوط بن گئے ہیں؟۔کیامولانا امداداللہ مردانی بتاسکتے ہیں قاتل؟۔

 

مدارس پر بدمعاشوں اور مافیاز کے قبضے ہیں، یہی حال تبلیغی جماعت کا لگتاہے!

مولانا الیاس نے تبلیغ کا کام شروع کیا تو اپنوں سے زیادہ غیروں نے پذیرائی بخش دی تھی اور یہ بات میں رجماً بالغیب نہیں کہتا ہوں بلکہ بچپن میں جب تبلیغی جماعت میں وقت لگایا تھا تو بریلوی مساجد کے بعض ائمہ بھی تبلیغی جماعت کو غیرمتنازع کہتے تھے۔ ہمارے مرشد حاجی عثمان کراچی کی جس مسجد میں عصر سے عشاء تک بیان کرتے تھے تو اسکے خطیب وامام مشہور مبلغ مولانا شفیع اوکاڑوی تھے، جس کو تعصبات پھیلانے پر مسجد کے متولی نے بروزِ جمعہ منبر سے اتارا اور حاجی عثمان سے تقریر کرنے کاکہا اور اوکاڑوی صاحب کو بتایا کہ تقریر ان سے سیکھ لو۔ پھر آہستہ آہستہ مولانا اوکاڑوی نے بستر گول کیااور مسجد نور جوبلی رنچھوڑ لائن کو چھوڑ کر گلزار حبیب مسجد کارُخ کیا۔ جہاں سے مولانا الیاس قادری نے دعوت اسلامی کا آغاز کیا تھا۔
پہلے تو اکابر اللہ والے ہوا کرتے تھے،اب جوکروں نے مشیخت کا لباس زیب تن کیا ہے۔ تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی اور مدارس کے علاوہ تمام مذہبی جماعتوں کے نیک لوگ امت کا بہت بڑا اثاثہ ہیں مگر انکے بڑے اکابر نے دانستہ یا نادانستہ طور پر مفادات کو شغل بنایا ہے۔
ہرمکتب فکر، گروہ، جماعت اور تنظیموں میں اچھے برے لوگ ہیں۔ اچھوں کی تعداد بروں کے مقابلے میں زیادہ ہی ہوتی ہے لیکن بدمعاش طبقہ سب پر غالب رہتا ہے اور پیدا گیر قسم کا ٹولہ ہمارے شیخ حاجی عثمان کی خانقاہ پر بھی براجمان تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی حاجی عثمان کے خلیفہ سروربھائی النور والے نے دعوت کی تھی تومجھ سے جمعیت والوں نے پوچھا، میں نے کہا کہ ڈٹ کر کھاؤ، اچھا آدمی ہے۔ پھر ان کو جمعیت کا فیڈرل بی ایریا کا امیر بنانے کی تجویز آئی تو میں نے منع کردیاکہ ”یہ خبیث سدھرے گا، گدھے کی طرح کارکن بناکر اس سے کام لو”۔ میں نے کہا کہ دوسرے خلفاء بھی ایسے ہی ہیں تو سب حیران تھے مگر پھر ثابت ہوا۔

 

حاجی عثمان کے خلفاء ٹی جے ابراہیم اور الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا حال

طیب، جاوید ، ابراہیم نے 1500ر وپے سے چائے کا مشترکہ کام شروع کیا، حاجی عثمان نے دعا دی اور وعدہ لیا کہ اپنی ضروریات کے علاوہ منافع دین کیلئے خرچ کروگے۔ برکت کی انتہاء ہوگئی تو یتیم اور بیواؤں کا سرمایہ بھی شریک کرلیا۔ علماء ومفتیان نے اپنا سرمایہ بھی لگانے کی استدعا کردی۔ حاجی عثمان نے کمپنی کو شرعی قوانین مرتب کرکے اجازت دی۔ مضاربہ کی کمپنی کی یہ شرائط تھیں کہ ” 40 فیصد منافع سرمایہ کار اور60کمپنی کا ہوگا۔سرمایہ واپس لیتے وقت ایک ماہ پہلے اطلاع دینی ہوگی اور اس اطلاعی مدت کا منافع نہیں ملے گا”۔ جبکہ کمپنی کا ایجنٹ بھی سرمایہ کار سے 2فیصد منافع لیتا تھا۔ بڑے علماء ومفتیان سب ایجنٹ بن گئے تھے۔ حاجی عثمان کی خانقاہ پر جلی حروف سے لکھا تھا کہ ” رسول اللہ ۖ تشریف لائے اور فرمایا کہ حاجی محمد عثمان کا کوئی مرید ضائع نہ ہوگا،الّاا سکے جو اخلاص سے نہ جڑا۔ خلیفہ اول محمدابراہیم”۔
پھر حاجی عثمان نے تبلیغی جماعت کی طرف سے ٹی جے ابراہیم سے لاتعلقی کااظہار کرنے کے بعد کمپنی کو بند کرنے کا حکم دیا لیکن انہوں نے نام بدل کر ”الائنس موٹرز” رکھ دیا۔ پھر پتہ چل جانے سے بچنے کیلئے بڑے گر استعمال کئے اور آخر کار حاجی عثمان کو بیماری کا جھوٹ بناکر گھرمیں نظر بند کردیا گیا۔ چہیتوں نے آنکھیں پھیر یں اور بدمعاشی پر اتر آئے۔ اکابر علماء و مفتیان نے الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا ساتھ دیا، لوگوں کا سرمایہ پھنسا بیٹھے تھے لیکن سازش، اسلام کو غلط استعمال کرنیکی بھی حد ہوتی ہے، انہوں نے تمام حدود پھلانگ لئے تھے مگرحاجی عثمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تھا جو سید عتیق الرحمن گیلانی جیسا مرید بھی عطاء کیا تھا۔ ہم ان فتوؤں پر علماء ومفتیان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکیونکہ حاجی عثمان کی شخصیت کے گرد حصار ٹوٹنے سے کئی بڑوں کے چہروں سے نقاب اترا،البتہ قرآن کی طرف توجہ دینی ہوگی۔

 

سورہ المطففین کے پہلے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں

ویل للطففینOالذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفونOواذا کالوھم او وزنوھم یخسرونOالایظن اولٰئک انھم مبعوثونOلیوم عظیمOیوم یقوم الناس لرب العٰلمینOکلا ان کتاب الفجار لفی سجینOوماادراک ما سجینOکتاب مرقومO ویل یومئذٍ للمکذّبینOالذین یکذبون بیوم الدینOومایکذب بہ الاکل معتدٍ اثیمٍOاذا تتلٰی علیہ آیٰتناقال اساطیر الاولینOکلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبونOکلا انھم عن ربھم یومئذٍ لمحجوبون Oثم انھم لصالوا الجحیمOثم یقال ھٰذا الذی کنتم بہ تکذبونO”تباہی ہے کمی کرنے والوں کیلئے جب لوگوں پر بانٹنے کیلئے تولتے ہیں تو پورا پورا حساب شمار کرتے ہیں اور جب چندہ بٹورنے کیلئے ناپ یا تول کا حساب لگاتے ہیں تو اس میں گھٹانے کا کام کرتے ہیں۔ کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ ایک دن ان کی پیشی ہونے والی ہے،ایک بڑے دن کیلئے۔ جس دن لوگ کھڑے ہونگے اپنے رب العالمین کے سامنے؟۔ ہرگز نہیں،فاجروں کا حساب کتاب جیلوں میں ہوگا اور تمہیں کیا معلوم کہ جیل کیا ہے؟۔ لکھے ہوئے رجسٹر ہونگے۔ وہ دن تباہی کاہوگا جھٹلانے والوں کیلئے۔ جو جھٹلاتے ہیں ،آخرت کے دن کے ذریعے( کہ حساب کتاب وہاں ہوگا) اور اس کے ذریعے سے کوئی نہیں جھٹلاتا مگر ہر حد سے گزرا ہوا گناہگار۔ جب اسکے سامنے ہماری آیات کو تلاوت کیا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کے قصے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ انکے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ جو انہوں نے کمایا ہے اسکے سبب۔ ہرگز نہیں ،اس دن وہ اپنے رب سے حجاب میں ہونگے۔ پھر یہ جحیم میں پہنچ جائینگے اور ان سے کہا جائیگا کہ یہ وہی ہے جسکے ذریعے سے تم جھٹلاتے تھے”۔

 

آج چندہ لیاجارہاہے اور اسلامی انقلاب کے عظیم دن حساب کتاب بھی ہوگا

قرآن بہت واضح عربی زبان میں ہے۔ پوپ فرانس سے لیکر امریکی جوانوں تک مظالم کا احساس ہوگیا ہے۔ کرونا وائرس کے متاثرین کیلئے چندوں کی ضرورت ہے ،چندہ لینے والے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں نہیں آخرت میں ہم اپنا حساب کتاب دیںگے۔ وہ اپنی بداعمالیوں کو آخرت کی سزا اور جزا سے جوڑ کر اپنی جان چھڑاتے ہیں۔ برے لوگوں کا حساب کتاب جیل ہے اور انکا اعمالنامہ رجسٹر میں درج ہوگا۔ حکمرانوں ، سیاستدانوں، جرنیلوں،آفیسروں کے علاوہ این جی اوز، مذہبی وسیاسی جماعتوں اورسماجی کارکنوں میں نیک وبدکی تفریق کا حساب دنیا ہی میں سامنے آئیگا۔ نسل، رنگ، زبان، ملک اور مذہب کی تفریق کے بغیر اچھے لوگوں کی قدرومنزلت دنیا ہی میں ہوگی۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بنایا ہے۔
عالمی اسلامی نظام کی طرف دنیا کا سفر شروع ہے۔ شدت پسندی ،فرقہ پرستی اورمفاد پرستی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔ انشاء اللہ۔ زنگ آلودہ دلوں کے فتح ہونے کا وقت آگیا ہے اور سب کا اعتقاد قرآن کے مطابق بنے گا کہ ذرہ برابر شرہو یا خیر اس کو انسان دیکھے گا۔

 

سورۂ مطففین میں دنیاوی انقلاب عظیم کا بھی ذکر ہے، علماء ومفتیان غور کرینگے؟

جب رسول اللہ ۖ کے دور میں مکہ فتح ہوا، انقلاب عظیم آگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام کو قبول کرکے اسلام میں داخل ہونے لگے مگر وہ اپنے رب سے حجاب میں تھے۔ ابوسفیان و دیگر افراد کیلئے معافی عام کا اعلان نارِ نمرود سے کم نہیں تھا۔ نبیۖ کا وصال ہوا تو بہت لوگ فوج در فوج پھر اسلام سے مرتد ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام کیلئے کافروں کا فیصلہ جحیم میں ڈالنے کاتھا مگر اللہ نے آگ کو سلامتی والا ٹھنڈا بنادیا۔ نبیۖ نے فتح مکہ پر معافی دی۔ کافر ومؤمن میں یہ فرق ہے کہ کافر آگ میں جھونکتے ہیں اور مسلمان معاف کرنے کوہی اپنا شعار سمجھتے ہیں۔
کلا ان کتٰب الابرار لفی علیینO………………ھل ثوّب الکفار ماکانوا یفعلونO”ہرگز نہیں! نیکی کرنیوالوں کارجسٹر بلند پایہ مقام پر ہوگا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ بلند پایہ مقام کیا ہے؟۔ یہ ایک لکھا ہوا رجسٹر ہے جس کا مشاہدہ مقربین کرینگے۔ (اسلامی انقلاب کے بعد اعلیٰ ترین لوگ) بیشک نیکی کرنے والے مسندوں پر بیٹھ کر نظارے دیکھتے ہونگے۔ انکے چہروں پر آپ نعمتوں کا نظارہ دیکھوگے، ان کو سیل بند اعلیٰ شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی سیل ہوگی۔ اس میں رشک والے ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے۔ جسکاوصف تسنیم ہوگا، یہ چشمہ ہوگا جس سے مقرب لوگوں کو پلایا جائیگا۔ بیشک مجرم لوگ ایمان والوں پر ہنستے تھے اور جب انکے قریب سے گزرتے تھے تو اشارہ بازی کرتے تھے۔ جب وہ اپنے گھروں میں لوٹتے تھے تو مزے لیتے تھے۔ جب وہ انکو دیکھ لیتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ وہ گمراہ لوگ ہیں اور ان پر انکو نگران بناکر نہیں بھیجاگیا تھا۔ تو آج ایمان والے کفر والوں پر ہنسیں۔مسندوں پر بیٹھ کر نظارہ دیکھیں۔ کیا کفار کو ثواب مل گیا جو وہ کرتے تھے؟”۔ یہ سورة المطففین عظیم انقلاب کی خبر دے رہی ہے۔ کاش دنیا اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔

 

جس انقلاب عظیم سے زمین اور آسمان والے دونوں خوش ہوں تو اسکاذکرہے؟

سورۂ مطففین میںان ایمان والوں کا بھی ذکر ہے جس کو دیکھ کر جھٹلانے والے ہنستے تھے۔ خلافت علی منہاج النبوة کے قیام میں سیدھے سادے مگر مخلص لوگوں کا بنیادی کردار ہوگا، جن لوگوں نے قرآن کے واضح احکام کے باوجود بھی ان کو قبول کرنے سے انکار کیا ہوگا تو کفرکے معنی ہی اصل میں انکار کرنے کے ہیں۔ عربی میں منکرین کا ترجمہ الذین کفروا ہے۔جس جگہ حق کا پرچار کیا جائے تو ایک منکرین کا درجہ ہوتا ہے اور دوسرا مکذبین کا درجہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مکذبین کا مقام حاصل کیا ہوتا ہے تو وہ منکرین سے بھی سخت ہے۔
اگر دنیا میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوجائے تو پھر لوگ دو حصوں میں تقسیم ہونگے،ایک فجار(حقوق العباد کو پامال کرنے والے) اور دوسرے ابرار( حقوق العبادکیلئے خدمات انجام دینے والے)۔ ایک عذاب نبوت کی تکذیب کی وجہ سے آتا ہے۔ وماکنا معذبین حتیٰ نبعث رسولا، ”ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کوئی رسول مبعوث نہ کردیں”۔نبیۖ کی ختم نبوت کی وجہ سے اب کسی قوم پرایسا عذاب بھی نہیں آسکتا ہے۔ البتہ ظلم وزیادتی، سود اور مختلف منکرات کی وجہ سے اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ دنیا میں سودی نظام عذاب کا ذریعہ ہے۔ جب پاکستان اور دنیا میں مزارعین کو مفت زمینیں دی جائیںگی اور سودی نظام کا خاتمہ ہوگا تو پھر ایک عظیم انقلاب کی آمد ہوگی۔ جنہوں نے ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کامظاہرہ کرتے ہوئے غریب غرباء کے نام پر زکوٰة ، صدقات ، چندے بٹورے ہیں تو ان کو سونڈ پر داغا جائیگا۔ باقی اگر دنیا میں شراب کی بات ہوتو شرابی ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے اور مفتی تقی عثمانی کی طرح مفتی محمود کی طرف سے بدتر قرار دینے کے باوجود کسی کو اصرار کرکے مشروب نہیں پلائی جائے گی۔اس عظیم انقلاب کے نقشے میں دنیا کی خوشحالی ہوگی۔

 

سورۂ المطففین کے بعد متصل سورۂ انشقاق میں بھی انقلابِ عظیم کا ہی منظر ہے

اذا السماء انشقتOواذنت لربھا وحقتO…….” اور جب آسمان پھٹ پڑیگا اور اسکے رب کی طرف سے اجازت مل جائے گی اور یہی حق ہے۔اور جب زمین کھینچ جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے سب اُگل دے گی اور خالی ہوجائے گی۔اسکے رب کی طرف اس کو اجازت ہوگی اور یہی حق ہے۔ …………………”۔ یہ تو طے ہے کہ احادیث میں آتا ہے کہ انقلابِ عظیم کے دور میں زمین اپنے خزانے اُگل دے گی اور آسمان سے خوب بارشیں ہونگی مگریہاں آسمان سے پھٹ پڑنے سے مترجمین اور مفسرین نے قیامت مراد لیا ہے۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ”قرآن کی تفسیر زمانہ کریگا”۔ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔ سورۂ الشوریٰ میں آئندہ کے حالات اور آسمان پھٹنے کا پسِ منظر ہے۔ تکاد السمٰوٰت یتفطرن من فوقھن والملٰئکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھوالغفور الرحیمO ”قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے انکے اوپر سے اور ملائکہ پاکی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کیساتھ۔ اورجو زمین میں ہیں ،ان کیلئے استغفار کرتے ہیں۔خبردار! کہ بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (الشوریٰ :5)
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ” قریب ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑے”۔(آسان ترجمہ قرآن کا حاشیہ)۔حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ” مغفرت کی طرف دوڑ پڑو، جو جنت عطاء کریگا جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے”۔
اللہ نے شوریٰ میں واضح کیا ہے کہ …. اور فرقو میں مبتلاء نہ ہوئے مگر علم کے بعد آپس کی بغاوت سے۔اگر تیرے رب کی طرف سے لکھا نہ ہوتا توانکے درمیان فیصلہ کرچکا ہوتا۔ بیشک جن کو کتاب کا وارث بنایاگیاانکے بعد تو وہ شک میں پڑے ہیں شبہ کیوجہ سے

 

سورۂ انشقاق سے دنیاوی انقلاب کی خبر مرادہے جو اسکی آیات سے واضح ہے!

سورۂ شوریٰ میں بہت حقائق واضح ہیں جس میں آسمان پھٹنے اور فرشتوں کا زمین والوں کی مغفرت طلب کرنا اور اللہ کا جلال واضح ہوناکہ اگر پہلے سے لکھا نہ جاچکا ہوتا تو کتاب کے بہت نالائق وارثوں پر غضب الٰہی کا آسمان سے فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ لیکن اللہ غفور رحیم ہے۔ جب تک آسمان کے پھٹ جانے کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ظالموں کو مہلت بھی ہوگی۔ جب آسمان پھٹے گا تو پھر ظالموں کی مہلت بھی ختم ہوگی۔ زمین کے خزانے اُگلنے کی بات تقاضہ کرتی ہے کہ مؤمنوں کیلئے خوشخبری کا پیغام ہو۔اللہ نے فرمایا کہ ” اوراسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی عربی قرآن کی تاکہ آپ ڈرائیں اہل مکہ کو اور جو انکے ارد گرد ہیں اور ڈرائیں جمع ہونے والے دن کیلئے جس میں کوئی شک نہیں ہے، فریق فی الجنة وفریق فی السعیر”ایک گروہ جنت (خوشی میں ہوگا) اور دوسرا گروہ سعیر(پاگل پنے میں ہوگا) ۔ (الشوریٰ:7)
ےٰاایھاالانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً فملٰقیہO…..” اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف مشقت اٹھاکر چل رہاہے اور اس سے سامنا کرنا ہے۔ پس جس کو دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ مل جائے تو عنقریب اسکا آسان حساب لیا جائیگا اوروہ اپنے اہل کی طرف خوش ہوکر لوٹے گااورجس کو پیٹھ پیچھے اس کا اعمالنامہ دیا جائے تو وہ موت پکاریگا اور پاگل پن میں پہنچ جائیگا۔ بیشک وہ اپنے اہل وعیال میں خوش تھااور اس کا گمان تھا کہ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔جی ہاں! اللہ اس کے کرتوتوں کو بخوبی دیکھ رہاتھا۔ ( الانشقاق:آیت6تا15)
یہ دنیا میں حساب کتاب اور گھر کے سربراہ کی بات ہے، آخرت میں تو انسان اپنے بھائی، ماں باپ، بیوی اور بچوں سے بھاگے گا۔ سب کا اپنا اپنا حساب ہوگا لیکن دنیا میں گھر کا سربراہ حساب کتاب دیگا۔ بیوی بچوں ،اہل وعیال کا کوئی قصور بھی نہ ہوگاجس پر پکڑ ہو۔

 

سورۂ انشقاق کے آخری حصہ میںبھی پہلے اور درمیانہ حصے کی طرح انقلاب کی خبر!

فلآ اقسم بالشفقOوالیل وماوسقOوالقمر اذا تسق Oلترکبن طبقًا عن طبقٍOفمالھم لایؤمنونO…………” پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی اور رات کی جب وہ سمیٹ لے اور چاند کی جب وہ کامل بنے۔ تم نے ضرور ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ کی طرف سوار ہو آنا ہے۔ پس ان کو کیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے؟اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟۔بلکہ جنہوں نے انکار کیا، وہی لوگ جھٹلاتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا جمع کررکھا ہے۔ پس ان کودردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔مگر جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے صالح عمل کئے تو ان کیلئے بدلہ ہے کبھی نہ ختم ہونے والا”۔
رات کی سرخی انقلاب ہے ، جب رات کی طوالت آخری حد کو پہنچ جائے تو سب کچھ سمیٹ لیتی ہے۔ رات جل اٹھتی ہے شدتِ ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
چاند کا مکمل ہوکر طلوع ہونا بھی رات کے اندھیرے میں اچھی علامت ہے۔ حدیث میں نبوت ورحمت کے دور کے بعد امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے بعد پھر طرزِ نبوت کی خلافت کا دور ہے۔ جس کو امت مسلمہ کے سارے طبقات مانتے ہیں مگر پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ہیں؟۔ جب قرآن کی آیات سامنے آجائیں تو پھر بھی اپنے فقہی کمالات بھگارتے ہیں مگر قرآن کی نہیں مانتے ہیں۔ یہی وہ کفر کرنے والے ہیں جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا ہے۔
جب بھی انقلاب عظیم آئیگا تو بڑے بڑوں کی پول کھلے گی۔ ہوسکتا ہے کہ انقلاب زیادہ دور نہ ہو۔ سورۂ جمعہ، سورۂ واقعہ ، سورۂ شوریٰ ، سورہ ٔ مدثر ، سورۂ دھر، سورۂ مطففین، سورۂ انشقاق اور اس سے متصل سورۂ البروج کے علاوہ سورہ الفجر اور سورہ البد وغیرہ میں انقلاب عظیم کی خبر بڑی وضاحتوں کیساتھ موجود ہے مگر قرآنی احکام اور معاملات کی طرف توجہ کرنی ہوگی۔

کیا یوم انقلاب کی خبر سے بے خبر ہیں؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورہ دھر نصیحت ہے اور اس کو دیکھ کر کوئی بھی اپنے رب کا راستہ پکڑسکتا ہے!

سورہ دھر کے آخر میں اللہ نے ارشاد فرمایا:انّ ہذہ تذکرة فمن شاء اتخذ الیٰ ربہ سبیلًاOوما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیمًا حکیمًاOیدخل من یشاء فی رحمتہ والظٰلمین اعدّلھم عذابًا الیمًاO ”یہ ایک نصیحت ہے۔پس جو چاہے اپنے رب کا راستہ پکڑلے۔ مگر تم نہیں چاہ سکتے ہو جب تک اللہ نہیں چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ اور ظالموں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔ (سورۂ دھر)
جب انسان کا مطمع نظر آخرت ہو تو وہ غیب پر ایمان رکھ کر دنیا کی زندگی میں قربانیاں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم دل وجان سے مانگتا ہے۔ پھر اس کیلئے اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب ظالم نہیں چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپناراستہ نہیں دکھاتا ہے۔
ہماری زندگی بفضل تعالیٰ قربانیوں سے عبارت ہے۔ جب مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء ومفتیان نے کفر والحاد کے فتوے لگائے تھے تو شیخ الحدیث مولانا علاء الدین ڈیرہ اسماعیل خان کے صاحبزادے مولانا مسعودالرؤف میرے ہم جماعت اور کمرے کے رومیٹ تھے۔ علماء ومفتیان کے متفقہ فتوے کا اشتہار اس نے لگایا تھا اور میں نے پھاڑ ڈالا۔ اسکے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ پھر ایک نظم لکھ ڈالی جس سے فتوے کو شکست ہوئی تھی۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ میں جدوجہد کررہاتھا اور تم فتوے لگارہے تھے؟ میں تمہارے فتوے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ اکابر علماء ومفتیان نے حاجی عثمان پر فتویٰ لگایا تو بھی اللہ نے سرخرو کیا تھا۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ کے علماء ومفتیان نے مل کر ہم پر فتوے لگائے تو بھی منہ کی کھانی پڑی مگر پھر بھی ان کوشرم نہیں آئی۔ واہ جی واہ!۔

 

قرآن میں متشابہات کی تفسیر زمانہ کرتاہے مگر واضح آیات ابہام کی متحمل نہیں !

والمرسلٰت عرفاOفالعٰصفٰت عصفاOوالنٰشرٰت نشراOفالفٰر قٰت فرقاOفالملقےٰت ذکراOعذرا او نذراOانما توعدون لواقعO
”قسم ہے معروف طریقے سے بھیجی جانے والیوں کی، جوپھر طوفانی کیفیت برپا کرتی ہیں اور نشر ہوجاتی ہیں اچھی طرح سے نشر ہونا۔پھر تفریق پیدا کرتی ہیں اچھے طریقہ سے۔پھر وہ نصیحت کو (دلوں میں) القاء کردیتی ہیں۔کوئی عذر پیش کرتا ہے اور کوئی ڈرتا ہے۔ بیشک جس (یوم انقلاب عظیم)کا تم سے وعدہ ہے وہ ضرور واقع ہونے والا ہے۔(سورۂ : المرسلات)
سیدابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک والمرسلات عرفا” پے در پے بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں” ۔دوسرے العٰصفٰت عصفا” بہت تیزی اورشدت کیساتھ چلنے والیاں”۔ تیسرے النٰشرٰت نشرا” خوب پھیلانے والیاں”۔چوتھے الفٰرقتِ فرقا: الگ الگ کرنے والیاں۔ پانچویں الملقےٰت ذکرا ”یادکا القاء کرنے والیاں”۔ چونکہ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں کہ یہ کن چیزوں کی صفات ہیںاسلئے مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ پانچوں صفات ایک ہی چیز ہیں یا الگ الگ چیزوں کی۔ اور وہ چیز یا چیزیں کیا ہیں ۔ایگ گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد فرشتے ہیں۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور دوسرے دو فرشتے۔ چوتھا کہتا ہے کہ پہلے تین فرشتے دوسرے دو ہوائیں۔ایک گروہ کی رائے یہ پہلے سے مراد ملائکہ رحمت، دوسرے سے مراد ملائکہ عذاب اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں”۔تفہیم القرآن میں مختلف تفاسیر ہیںلیکن اگلے صفحات پر غور کریں۔

 

مفسرین نے قرآن کی واضح آیات کومختلف آراء کی ہواؤں کے رحم وکرم چھوڑ دیا!

مفسرین خود ہی مختلف آراء میں سرگرداں ہونگے تو عوام اور کافروں کی کیا رہنمائی ہوگی؟۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار انبیاء کرام اور انکے معاندین کا ذکر کیا ہے، انبیاء کرام کے ذریعے واضح رسالات اور پیغامات کا ذکر کیا، صحف ابراہیم و موسیٰ کا ذکر کیا ہے۔ جب بھی یہ رسالات یا پیغامات لوگوں تک پہنچی ہیں تو اس کے ذریعے سے طوفان کھڑے ہوئے ہیں اور جب یہ خوب نشر ہوتے ہیں تو حق و باطل کے درمیان تفریق وامتیاز کھڑی کردیتی ہیں۔ عوام اور خواص کے دلوں تک جب حقیقت پہنچ جاتی ہے تو اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے میں لوگوں کو عذر یا خوف در پیش ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہ دن پہنچ جاتا ہے جس میں دنیا ہی کے اند ر باطل کے عذاب اور اہل حق کی نجات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ جب تک نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رہا تو یہ رسالات وپیغامات بھی لوگوں کو معروف طریقے سے ملتے رہے لیکن جب ختم نبوت کے بعد ان رسالات کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا تو قرآن کی شکل میں قیامت تک کیلئے یہ محفوظ ہے۔ البتہ قیامت سے پہلے بھی عظیم انقلاب کی خبر ہے جس کو مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ”ا حیائے دین ” میں واضح کیا ہے اور سب مسلمان اپنے اپنے دائرے میں اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب اسلام ہربنگلہ اور جھونپڑی میں داخل ہوگا لیکن قرآن کی طرف توجہ کی ضرورت شاید کسی نے محسوس نہیں کی الاماشاء اللہ کہ اس یوم الفصل کی بات بہت واضح ہے۔
یوم موعود سے مرادقیامت نہیں بلکہ انقلابِ عظیم کا دن ہے۔قرآن آسمانی کتب و صحائف کا مجموعہ ہے اور ایک دن دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب قرآنی انقلاب کے تحت جمع ہوںگے۔ قرآن اسلئے نازل نہیں ہوا کہ نزول کے وقت کے بعد قیامت تک اسکے راز پوشیدہ رہیں بلکہ دنیا میں ایک لمبے عرصہ تک قرآن کی بنیاد پر دنیا نے ہدایت سے فائدہ اٹھاناہے۔

 

قرآن میں استعارات کی زبان متشابہات کا راز کھلے توپھریہ محکمات بنتے ہیں

جب انقلاب کا دن آجائیگا تو چاند، سورج اور ستاروں کی طرح پوجے جانے والے لوگوں کی حیثیت ماند پڑجائے گی۔ مذہب اور سیاست میں آفتاب ومہتاب کی لیڈر شپ تو ویسے نہ ہوگی مگر ستارے سمجھے جانے والے بھی اپنی حیثیت ایسی کھو دیںگے جس طرح روزانہ دن کے نکلتے ہی ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ آسمان سے خوشیوں کی بہار آئے گی اور علم کے بڑے پہاڑ سمجھے جانے والے اُڑ جائیںگے۔ فرشتوں کی مدد کا وقت آجائیگا۔ فیض احمد فیض نے جس انقلاب کا ذکر اپنے اشعار میں کیا تھا وہ منظر نقارۂ خدا بن کر عوام میں بجنا شروع ہوجائیگا۔
المرسلات میں آگے اللہ فرماتا ہے۔ فاذا النجوم طمستOواذا السماء فرجت Oواذالجبال نسفت Oواذا لرسل اقتتO لایّ یوم اجلتOلیوم الفصلOوما ادراک ما یوم الفصلO ویل یومئذٍ للمکذّبینO………… ”پھرجب ستارے ماند پڑجائیںگے اورجب آسمان سے خوشیاں آئیںگی۔ جب پہاڑ اُڑ جائیںگے۔ جب فرشتوں کی آمد کا وقت پہنچے گا۔ یہ کس دن کیلئے جلدی کررہے ہیں۔ فیصلے کے دن کیلئے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟۔ تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہ کیا اور پھر انکے بعد والوں کو انکے پیچھے (ہلاک ) نہیں لگایااور ہم ایسا ہی مجرموں کیساتھ (دنیا ہی میں )کرتے ہیں۔ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟۔ پھر ہم نے اسے بنایامحفوظ ٹھکانے میں۔ معلوم مدت تک اور ہم نے تقدیر مقرر کی اور ہم اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، تباہی ہے ہلاکت والوں کیلئے ۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والا نہ بنایا۔ زندگی اور اموات میں”۔ عربی میں فرج عام طور پرخوشی ہی کو کہتے ہیں۔انقلاب مؤمنوں کیلئے خوشیوں ہی کا باعث بنے گا۔

 

قیامت سے پہلے دنیا میں عظیم انقلاب کے ذریعے بھی قرآن کا اعجاز ثابت ہوگا

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قیامت سے پہلے دنیا میں بھی عظیم انقلاب کے ذریعے خاکہ پیش کردیا ،تا کہ لوگوں کیلئے حق اور باطل کا راستہ قیامت کے دن تک واضح رہے گا لیکن انسان پھر آخر انسان ہے اور جب تک دنیا قائم رہے ،انسان غفلت کا شکار ہوتا رہے گا۔وسعت اللہ خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے جو تحریر لکھ دی وہ جلی حروف کیساتھ ہی نہیں مرثیہ وغیرہ کی طرح میڈیا کے تمام چینلوں پر بار بار پڑھ کر سنانے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
سورۂ واقعہ میں قیامت کا پورا نقشہ ہے جس میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہونگے۔ ایک مقربین جو پہلوں میں سے بڑی جماعت اور آخرین میں تھوڑے ہونگے۔ دوسرے اصحاب الیمین جو پہلوں میں بھی بڑی جماعت ہوگی اور آخر میں بھی بڑی جماعت ہوگی۔ تیسرے کو اصحاب المشئمہ قرار دیا گیاہے۔ مقربین کو جو شراب پیش کی جائے گی تو اس سے سر چکرائے گا اور نہ عقل میں کوئی فتور آئیگا۔ دنیا میں بھی انقلاب کے ذریعے آخرت کا نقشہ سامنے آئیگا۔
مرسلات میں فرمایا: وجعلنافیھارواسی شٰمخٰت وا سقینٰکم مائً فراتاOویل یومئذٍ للمکذبینO……….”اور ہم نے اس میں بلند پہاڑ بنائے اور تمہیں میٹھا پانی پلایا اور تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ پس اب چلو،اس کی طرف جسکے ذریعے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو اس سایہ کی طرف جو تین قبیلے( اقسام) والا ہے۔ جو نہ سایہ دار ہے اور نہ شعلے سے مستغنی کرنے والا ہے۔ بیشک یہ محل کی طرح بگولے پھینکے گا۔ گویا کہ وہ سرخ اونٹ ہیں۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ یہ دن ہے جب وہ بولتے نہ ہونگے اور نہ ان کو اجازت ہوگی کہ معذرت پیش کریں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے”۔صرف طلاق و حلالہ پر تین کتابیں،کافی مضامین اور فتاویٰ لکھ دئیے مگر ڈھیٹ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

 

مجرموں کو تھوڑا فائدہ اُٹھانے کا ذکر ہے اسکا تعلق دنیا کے انقلاب ہی سے ہے!

درسِ نظامی کی بنیادی تعلیم، قرآن کی تحریف، سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے اور نبیۖ کی سخت ترین توہین کے ارتکاب سے لیکر ایک ایک چیز کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ انقلاب کا وقت آئیگا اور ہم دلائل کے آگ کے بڑے بڑے بگولے سے نشانہ بنائیںگے تو یہ بالکل سرخ اُنٹوں کی طرح نشانہ بننے کیلئے تیار ہونگے۔ پھر وہ بولیںگے بھی نہیں اور حلالہ کی لعنت کا شکار کرنے والی مخلوق اس قابل بھی نہیں ہوگی کہ ان کو معذرت کی اجازت دی جائے۔
اللہ نے مرسلات میں فرمایا: ھٰذا یوم الفصل جمعنٰکم والاوّلینOفان کان لکم کید فکیدونO ویل یومئذٍ للمکذبینO ……..’.’یہ جدائی کا دن ہے۔ہم نے تمہیں اور پہلوں کو جمع کرلیا( جیسا پہلوںکو اہل حق کے سامنے مجبور کردیا تھا ،اسی طرح تمہیں کردیا) پس اگر تم کوئی چال چل سکتے ہو تو کرکے دکھاؤ۔تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ بیشک متقی لوگ اس دن سایہ میں ہونگے اور لوگوں کی نظروں میں(چڑھے ہونگے) اور پھلوں تک ان کی رسائی ہوگی ،ان میں سے جو وہ چاہتے ہونگے۔کھاؤ ، پیو مزے سے جو تم نے عمل کئے۔ بیشک ہم اس طرح نیکوکاروں کو بدلہ دیتے ہیں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ تم بھی کھاؤ اور تھوڑا فائدہ اٹھالو بیشک تم مجرم ہو۔ تباہی اس دن جھٹلانے والوں کیلئے اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جھک جاؤ ،تو نہیں جھکتے تھے۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ اس( واضح کلام کے احکام) کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیںگے؟”۔ (سورہ المرسلات)
ہم دعوت دیتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن ، علامہ شہنشاہ حسین نقوی اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہ درسِ نظامی اور مذہبی طبقات کی طرف سے دین کو مسخ کرنے کے رویہ پر میڈیا میں ہی ہم سے بات کریں تو بھی انقلاب آجائے گا۔

 

اطلاق النار بندوق کی فائرنگ کو کہتے ہیں، قرآن زمان وکمان پر حاوی ہے

ہم نے دیکھا کہ حاجی عثمان کے ساتھ علماء ومفتیان نے کیا رویہ رکھا تھا۔ اس کی تفصیل کبھی سامنے آئے گی۔ لوگ حیران ہونگے کہ بڑے بڑوں نے کس قدر ضمیر فروشی کا مظاہر ہ کیا تھا۔ اور ہماری جیت کے باوجود کھڈے کھودنے والوں کو کتنی رعایت دی گئی۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے کس طرح مولانا فضل الرحمن کے ایماء پر کھڈا کھودا تھا مگر پھر وہ انجام کو پہنچ گئے، اس کی بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ جب کبھی موقع ملے گا اور ضرورت ہوگی تو ایک ایک بات آمنے سامنے بیان کرنے میں بہت مزہ آئیگا۔پھر وہ وقت آیا کہ طالبان نے میری وجہ سے ہمارے گھر کو نشانہ بنایا۔ میزائل، راکٹ لانچروں اور بموں کیساتھ چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں کیساتھ دھماکوں سے گونجتا رہااور بہت سے معجزانہ طور پر بچ گئے اور کئی ساروں کو شہادت کی منزل پر پہنچادیا۔ پچھلی تحریر میں سورہ الانشقاق کا ذکر کیا تھا اور اب اس سے متصل سورۂ البروج کے اندر ”یوم موعود” کے حوالے سے حقائق دیکھ لیں۔
والسماء ذات البروج Oوالیوم الموعودOوشاہدٍ ومشہودٍOقتل اصحاب الاخدودO النار ذات الوقودOاذھم علیھا قعودOوھم علی مایفعلون بالمؤمنین شہودO ومانقموا منھم الا ان یؤمنوا باللہ العزیزالحمیدOالذی لہ ملک السمٰوٰت والارض واللہ علیٰ کل شی ء شہیدOان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنات ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریقO………….”قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور جس دن کا وعدہ ہے اورگواہ اور جس کی گواہی دی جائے۔ مارے جائیں گڑھے کھودنے والے، ایندھن والی آگ کی۔جب وہ اس پر بیٹھے تھے اور مؤمنوں کیساتھ جو ہورہاتھا ،اس پر گواہ تھے۔

 

اللہ تعالیٰ نے ماضی کی طرح مستقبل کے حالات بھی قرآن میں بیان کئے ہیں!

اور ان سے انتقام نہیں لے رہے تھے مگراسلئے کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جوبڑا زبردست اور تعریف کے لائق ہے۔وہی جس کیلئے آسمان اور زمین ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بیشک جن لوگوں نے آزمائش میں ڈلا مؤمنین و مؤمنات کو اور پھر انہوں نے توبہ نہیں کی تو ان کیلئے عذاب ہے جہنم کا اور ان کیلئے عذاب ہے جلانے والا۔ بیشک جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کیلئے باغات ہیںجس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ بیشک وہ پہل کرتا ہے اور لوٹاتا ہے اور معاف کرنے والا محبت کرنے والا ہے۔ عظمت والے عرش کا مالک ہے۔جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ کیا آپ کو لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟۔ فرعون اور ثمود کی۔ بلکہ کفر کرنے والے جھٹلانے میں لگے رہتے ہیں اور اللہ نے ان کو پیچھے سے گھیر رکھا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں”۔
اللہ نے مجرموں کو معافی مانگنے کا راستہ دیا ہے لیکن انقلاب عظیم قربانیوں کے بغیر نہیں آسکتا تھا۔ نکاح وایگریمنٹ ،طلاق وخلع ، اسلامی حدود اوراسلامی خلافت کے تقاضوں سے علماء ومفتیان آگاہ کرنے پر کان دھرتے تو ہم بھی مشکلات کے شکار نہ ہوتے اور تائید کرنے والے بھی معاشرے میںاپنا بھرپور کردار اداکرتے۔ سب کے سب سرخرو ہوتے۔ جب ہم اسلام کے نام پر بینک کے سود کو اسلامی قرار دینے کے باوجود علماء ومفتیان کو شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کے القاب سے نوازیںگے تو غیر مسلموں کو کس اسلام کا سبق دیںگے؟۔ سوشلزم کے بعد دنیا میں کپٹلزم بھی ناکام ہوگیا ہے۔ اسلام واحد راستہ ہے جو دنیا کو ایک فطری نظام دے سکتا ہے۔ جمہوریت دولت کی لونڈی اور سیاستدان بھونڈے لوٹے ہیں۔ اگر درست اسلامی نظام کا معاشرتی اور بین الاقوامی ایجنڈا پیش کیا جائے تو پوری دنیا اسکاخیرمقدم کرے گی۔

 

حضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں عروج ملت کا روشن تارہ تھے

اپنے دور میںحضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں ایک روشن ستارے تھے، جن کی وجہ سے مخلوقِ خدا کو بہت فائدہ پہنچ رہاتھا۔ اعتکاف کیلئے 700آدمی بیٹھنے کیلئے تیار تھے مگر 350 افراد سے زیادہ کیلئے مسجدالٰہیہ خانقاہ چشتیہ سوکواٹر کورنگی کراچی میں جگہ نہیں تھی۔
دیوبندی ،بریلوی، جماعت اسلامی، اہلحدیث ، تبلیغی جاعت کے بڑے علماء ومفتیان اور فوجی افسران ، پولیس افسران وغیرہ سب بیعت تھے۔ سعودی عرب کے عرب بیعت تھے اور شام کے عرب بھی بیعت تھے۔آپ نے کہا تھا کہ تین قسم کے افراد میرے مرید ہیں۔ ایک تو دنیا دار ہیں، یہ تیسری جنس کھدڑے ہیں چھوڑ کر بھاگ جائیںگے۔ ایک آخرت والے ہیں جن کی حیثیت عورتوں کی ہے، ان میں مردانہ قوت نہیں ہوتی ہے۔پھر بھی بہرحال بہتر ہیں۔ تیسرے اللہ والے ہیں، یہ میدان کے مرد ہیں۔ انہوں نے اصل کام کرنا ہے۔ پھر وہی کچھ ہوا۔ کچھ لوگوں نے ہمارے ساتھ نکل کر خانقاہوں سے ادا کی رسمِ شبیری۔ماشاء اللہ
سورۂ البروج کے بعد سورۂ الطارق میں اللہ فرماتا ہے۔ والسماء والطارق Oوماادرٰک ما الطارقOالنجم الثاقبO………….”اور قسم ہے آسمان کی اور طارق کی اور آپ کو کیا معلوم کہ طارق کیا ہے؟۔ چمکتا ہوا تارہ ہے۔ ہر ایک جان پر ضرور کوئی نگہبان ہے۔ پس انسان دیکھ لے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟۔پیدا کیا گیاہے اچھلتے پانی سے۔جو پیٹھ اور سینے کے بیچ سے نکلتا ہے۔بیشک وہ اس کو لوٹانے پر بھی قادر ہے۔اس دن تو پوشیدہ راز واضح ہونگے۔تو اسکے پاس کوئی طاقت ہوگی اور نہ مددگار۔قسم ہے لوٹانے والے آسمان کی اور پھٹنے والی زمین کی۔ بیشک یہ فیصلہ کن بات ہے اور نہیں ہے کوئی مذاق۔وہ اپنی چال چلتے ہیں اور میں اپنی چال چلتا ہوں۔ کافروں کومہلت دو،ذرا اپنے حال پر چھوڑ دو”۔

دنیا میں ایک انقلابِ عظیم کی واضح خبر

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن تقویٰ والوں کیلئے بھی ہدایت کا ذریعہ ہے اور عوام الناس کیلئے بھی ہے

قرآن امت مسلمہ کیلئے قرون اولیٰ سے درمیانہ زمانے تک ھدی للمتقین اور درمیانہ زمانے سے آخری دور تک ھدیٰ للناسپوری عالم انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔دنیا کی قوموں پر زوال وعروج کے مختلف ادوار آتے رہتے ہیں۔قرونِ اولیٰ کا زمانہ بہ لحاظِ تقویٰ اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔ ایک ادنیٰ صحابی کے تقویٰ کو اولیاء کے بڑے سے بڑے گروہ بھی پہنچ نہیں سکتے ہیں، یہ اٹل بات ہے۔ پھر بتدریج تابعین، تبع تابعین دور بہ دور ، زمانہ بہ زمانہ اس طرح تقویٰ کا معیار مولانا شاہ احمد نورانی کے باپ مولانا عبدالعلیم صدیقی، شیخ الحدیث مولانا زکریا،مولانا محمد یوسف بنوریکے دور سے ہوتے ہوئے ہمارے مرشد حضرت حاجی محمدعثمان کے دورتک جا پہنچا۔ملا عمر مجاہد اور دوسرے نیک لوگوں کی جگہ اب ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تقویٰ نہیں شعور وآگہی کا دور آگیا ہے ۔ مفتی محمودکیلئے تقویٰ معیارتھا مگر مولانافضل الرحمن کو تقویٰ نہیں شعور پر گزارہ کرنا ہے۔ طالبان رہنما جو برقعہ پوش خواتین سے ڈنڈے کی زبان پر بات کرتے تھے،اب ننگی ٹانگوں والیوں کے سامنے اپنی مرضی سے بیٹھ جاتے ہیں۔

 

مساجد میںنماز باجماعت اور جمعہ کی چھٹی کا فتویٰ دینے والے پھر کیوں گئے؟

آج سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ رمضان شریف میں عوام کی روحانی غذاء مساجد میں نماز باجماعت اور تراویح کی فکر کرنیوالوں کا اپنا حال یہ ہے کہ معاوضہ حاصل کرنے کیلئے سود کو جواز دے دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن کو عوام کے تقوے کی فکر ہے؟۔یا مذہب کے نام پر کاروبار، دھندے اور مذہبی لوگوں کے جذبات کیش کرنے کا جذبہ ہے؟۔ فتویٰ تودیا تھا کہ نماز باجماعت اور جمعہ کی جگہ ظہر کی نماز باجماعت گھر میں پڑھو!۔ پاکستان میں کورونا کی شرحِ اموات بہت کم تھی تو گھروں میں نماز کا فتویٰ دیدیا اور جب شرح اموات بڑھ گئی توپھر دوبارہ لاک ڈاؤن توڑنے اور نماز باجماعت، جمعہ اور تراویح کی فکر کے جذبات اُبھرے؟۔ جب شکوک وشبہات تھے کہ بیماری ہے یا ڈرامہ ہے تو گھروں میں نماز پڑھنے کی ہدایت دی؟ اور جب یقین کرلیا کہ واقعی بیماری ہے تو عوام کی روحانی غذاء کا درد پیٹ میں اُٹھ گیا ہے؟۔
چلو اس وقت تو تمہاری فطری مجبوری تھی کہ مجاہدین طلبہ کو جہاد کے فتوے دیتے تھے مگر اپنے بچوں کو شہادت کی منزل پر پہنچانے کا اہتمام کرنے سے ڈرتے تھے؟۔ جب تک ریاست کی طرف سے دہشتگردوں کے خلاف نیک نیتی سے اقدامات اٹھانے کی فکر سامنے نہیں آئی تو تم نے مساجد،بازاروں، اداروں اور پاکستان کے چپے چپے پر خود کش حملے ، ریموٹ بم دھماکے اور چھاپہ مار کاروائیوں کے خلاف کبھی فتویٰ نہیں دیا۔ مفتی رفیع عثمانی میڈیا پر کہتے تھے کہ اس جہاد کو ہم ناجائز نہیں کہہ سکتے۔ مولانا طارق جمیل کہا کرتا تھا کہ ہماری منزل ایک ہے، صرف راستے جدا ہیں۔ طارق اسماعیل ساگر آج پاکستان میں بلیک واٹر کا انکشاف کررہے ہیں لیکن جب دنیا میں انقلاب آئے تو بہت سے رازوں سے پردہ اٹھے گا۔ سیاستدان، علماء ومفتیان اورحکمران اپنی اپنی زبانوں سے ضرورعجیب وغریب حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔

 

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ قرآن کا پہلامخاطب عرب اور دوسرا عالمگیر ہے

خواب کے نبوت کا چالیسواں حصہ ہونے سے مراد وحی کا سلسلہ نہیں غیب کی خبر!

قرآن کا اگلا دور انسانی شعور کے دور میں ایک عظیم انقلاب برپا کریگا؟۔اب تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پڑھ دورِ جاہلیت کے بدو عربوں کو ایک عظیم رہبر انسانیتۖ نے اپنے ساتھیوں کی تربیت کرکے فاتح عالم بنادیا لیکن اس وقت دنیا پسماندہ تھی۔ ظلم وجبر تھا۔بڑاانسانیت سوز معاشرہ تھا جس میں نسبتاً بہتر لوگ پذیرائی پالیتے تھے۔ خلافتِ راشدہ سے بنی امیہ وبنی عباس کے دور میں زیادہ فتوحات ہوئیں اور خلافت عثمانیہ کے دور میں تو سب سے زیادہ علاقے پر قابو پالیا گیا۔ جدید ترقی یافتہ دنیا میںانسانیت، عدل وانصاف اورجمہوریت کے اصولوں سے مالامال مغرب کو پسماندہ مسلمانوں کے زیراثر آنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن سالگتا ہے۔اب بھی امریکہ ، یورپ اور مغربی ممالک نے شعور کی کمی کی وجہ سے مسلم دنیا کو شکست سے دوچار کردیا۔ کورونا وائرس کے دور میں ہمارا کام شعور کی تحریک ہونا چاہیے۔ جب نبیۖ نے اپنی حیات طیبہ (زندگی)میں لوگوں کو وبا سے بچنے کیلئے کوئی دعا، دم اور وظیفہ تلقین نہیں فرمایا تھا؟۔ حضرت عبیداللہ بن جراح ، حضرت معاذ بن جبل اور دیگر بہت سارے جلیل القدر صحابہ نے وبا سے شہادت پائی تو مفتی تقی عثمانی کے ذریعے تبلیغی جماعت کے بزرگ کو نبیۖ نے کسی خواب کے ذریعے تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو مروانا تھا؟۔ اور مراکز بند کروانے تھے؟۔
صحابہ نے نبیۖ کے خواب کی بنیاد پر سمجھا کہ اسی سال عمرہ کرینگے توصلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنا پڑگیا۔اللہ نے فرمایا لقد صدق اللہ رسولہ الریا بالحق لتدخلن المسجد الحرام ان شاء اللہ اٰمنین محلقین رء وسکم ومقصرین لاتخافون فعلم مالم تعلموا فجعل من دون ذٰلک فتحًا قریبًاO …” بیشک اللہ نے رسول کو سچا خواب دکھایا ، تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے انشاء اللہ امن کیساتھ سرکے بال منڈاتے اور کم کرتے ہوئے۔تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ پس اللہ جانتا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ پس اللہ نے اسکے بغیر تمہیں عنقریب فتح دیدی۔ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیج دیا ہے تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ محمدۖ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کیساتھ ہیں، کافروں پر سخت ،آپس میں ایکدوسرے پر رحم کرنے والے ہیں آپ ان کو دیکھوگے رجوع ،سجود، فضل چاہنے والے اللہ سے اور اس کی رضامندی، سجود کے اثرات سے انکے چہروں پر نشان ہیں، یہ وہ جن کی صفات توراة اور انجیل میں ہیں۔ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی پھر اس کی کمربنائی ،پھر مضبوط کردی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی جو بھلی لگتی ہے کاشتکار کو،تاکہ کفار انکے پھلنے پھولنے پر غصہ کھائیں۔ وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے ان کی مغفرت اور اجرعظیم کا”۔
سورہ فتح کی ان آیات میں ایک بات یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ۖ کو سچا خواب دکھایا تھا۔ جس کی تعبیر عنقریب پوری ہوگی جس کو صحابہ نے نہیں جانا لیکن اللہ جانتاتھا۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ کی تصویر خواب میں دکھائی گئی ۔ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو پورا ہوگا اور شیطان کی طرف سے ہے تو پورا نہیں ہوگا۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ خواب رحمانی اور شیطانی دونوں ہوسکتے ہیں۔نبیۖ نے درست فرمایا کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے مگر مبشرات یعنی رویائے صادقہ۔یہ بھی فرمایا کہ سحری کے وقت میں زیادہ ترخواب سچے ہوتے ہیں اورفرمایا کہ خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے۔
اگر نبوت کا چالیسواں حصہ رہتا ہے تو ختم نبوت پر ایمان باقی رہتاہے؟۔ نبوت سے مراد وحی ، رسالت ، نبوت کا معروف معنیٰ نہیں بلکہ نبوت غیب کی خبروں کو بھی کہتے ہیں۔

 

صحابہ کے دور میں دین تمام ادیان پر غالب نہیں ہوا، یہ وعدہ پوراہوناباقی ہے!

سورہ فتح کی آیات میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق کے غلبے کا تمام دنیا اور تمام ادیان پر جو وعدہ کیا تھا ، اس کا پورا ہونا ابھی باقی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بھی یہ لکھ دیا کہ آئندہ خلافت علی منہاج النبوة قائم ہوگی تو یہ وعدہ بھی پورا ہوجائیگا۔ (ازالة الخفائ) ان آیات کی ایک بات یہ بھی ہے کہ اللہ نے صحابہ کرام کی مثال کھیتی سے دی ،پہلے کونپل نکالا، پھر کمر کس لی،پھر مضبوط کرلی ،پھر اپنے تنے پر کھڑا ہونے کا وقت آیا جس سے کھیتی والا خوش ہوا،اور انکار کرنے والوں کو جلن لگ رہی تھی۔ جلن سے گویا گندھک کی شلواریں پہنی تھیں۔ پیٹ جلتا ہے تو بار بار قضائے حاجت کیلئے جانا پڑتا ہے ، دشمن کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے۔
ہم نے دیکھا کہ ہزاروں افراد خانقاہِ چشتیہ میں نماز، ذکر واذکار، تعلیم وتعلم، تلاوت قرآن اور ایمان ویقین کے روحانی محافل میں مشغول رہتے ۔ خواب ومشاہدات کا سلسلہ بدستورتھا لیکن پھر اچانک سازش شروع ہوئی، فتوے لگ گئے اور لہلاتے کھیت نیست ونابود ہوگئے۔ جس دن انقلاب آگیا تو سربستہ راز کھل جائیںگے۔ یوم تبلی السرآئر Oفمالہ من قوة و لاناصرO”جس دن پوشیدہ رازوں سے پردہ اُٹھ جائیگا تو اس کیلئے کوئی قوت ہوگی اور نہ مدد گار ہوگا”۔ (سورۂ الطارق)۔ یوٹیوب پر مفتی تقی عثمانی کو دنیا کا پہلا نمبر طاقتور انسان قرار دیا گیاہے۔ مولانا فضل الرحمن ، مفتی منیب الرحمن، قاری حنیف جالندھری وغیرہ کو بھی وہ تخلیہ میں بٹھادیں اور کچھ معاملات واضح کردیں۔ مفادات ، شہرت، دھونس دھمکی کو چھوڑدو۔ ہم نے خانقاہ کا انتقام نہیں لینا: والذی اخرج المرعٰی Oفجعلہ غثآئً احوٰیO ”اورجس نے نباتات اُگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا بنادیا”۔ (سورة الاعلیٰ)مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق اور میرے استاذ مولانا فضل محمدسب گئے۔

 

قرآن میں جس طرح نماز جماعت کا ذکر ہے اسی طرح انفرادی نماز کا بھی ہے!

سورہ ٔالاعلیٰ اور اسکے بعد سورۂ الغاشیہ، سورۂ الفجر ، سورۂ البلداور سورۂ الشمس میں انقلاب کی زبردست خبر اوراوصاف ہیں۔ جناب علی محمد ماہی نے اپنی کتاب ”سرالاسرار المعروف یوم الفصل ”میں کیا لکھ دیا مگر ہم نے اپنی آنکھوں سے قیامت کا منظر دنیا میں اپنی گناہگار آنکھوں سے اسوقت دیکھا ،جب بڑے بڑے نام نہادعلماء وصلحاء کے چہروں سے نقاب اٹھتے دیکھے۔
سیذکر من یخشٰی Oویتجنبھا الاشقیOالذی یصلی النار الکبرٰی Oثم لایموت فیھا و لایحےٰیOقد افلح من تزکّٰی O وذکر اسم ربہ فصلّی Oبل تؤثرون الحےٰوة الدنیاOوالاخرة خیر و ابقٰی Oانّ ھٰذا لفی الصحف الاولیٰ Oصحف ابراہیم وموسٰیO”عنقریب نصیحت حاصل کریگا جو ڈرتا ہے اور گریز کریگا جو بدبخت ہے۔ جو بڑی آگ میں جائیگا، جس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ ہوگا۔ تحقیق کہ فلاح پاگیا جس نے تزکیہ حاصل کیا اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھ لی بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ یہی بات پہلے صحائف میں بھی ہے۔ ابراہیم کے صحیفوں میں اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔(سورةالاعلیٰ)۔ قرآن کریم کی آیات صرف پہلے ادواراور آخرت کیلئے نہیں بلکہ ہردور کے ہر ماحول کیلئے ہیں۔ان آیات میں نماز باجماعت نہیں بلکہ انفرادی نماز کا ذکر ہے۔اور یہ واضح ہے کہ حقیقی خوف رکھنے والا نصیحت حاصل کرلے گا اور بدبخت اجتناب کریگا۔ یہی با ت پہلے صحیفوں ابراہیم وموسیٰ کے صحیفوں میں بھی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ فلاح اس شخص نے نہیں پائی جس نے تزکیہ حاصل نہ کیا اور نماز پڑھ لی بلکہ فلاح اس نے پائی جس نے تزکیہ حاصل کیا ، پھر نماز پڑھ لی۔جعلساز دکانداروں اور مولویوں کے نماز کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہی یاد رکھئے گا۔

 

قرآن میں جہاں دوسری باتوں کا ذکر ہے وہاں کورونا عالمگیر وباکا ذکر بھی ہے!

معمولی معمولی باتوں کا ذکر قرآن میں ہے۔ کائنات پھیلنے کا ذکر ہے۔ آسمان سے لوہا اترنے کا ذکر ہے۔ پانچ چیزوں کا ذکر ہے جس کو نبیۖ نے مفاتیح الغیب قرار دیا۔ ساعة کا علم، وہ بارش برساتا ہے، جو ارحام میں ہے اس کو جانتا ہے اور تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کل کمائے گا اور کس زمین پر مرے گا۔ پہلی بات ثابت ہوگئی کہ الساعة کا علم غیب کی چابی ہے اور یہ نبیۖ نے اسلئے فرمایا تھا کہ معراج کی رات نظریہ اضافیت کا راز کھل گیا تھا۔ بارش برسنے سے آسمانی بجلی گرتی ہے جس کی وجہ سے الیکٹرک کی تسخیر نے دنیا کو غیب کی چابیوں سے آگاہ کیا اور ارحام میں صرف انسان نہیں بلکہ حیوانات ، نباتات اور جمادات سب شامل ہیں ۔ آج فارمی جانور، پرندے ،نباتات ،ایٹمی طاقت ،الیکٹرانک کی دنیا نے ثابت کردیا کہ واقعی غیب کی چابی یہی ارحام کا علم ہے۔ قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تشریح زمانے نے کردی ہے۔
کورونا ایک عالمی وبا ہے تو کیا اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہوگا؟۔ قرآن میں عذاب کا تعلق دنیا اور آخرت کیساتھ ہے۔ جب آدمی غریب ہوتا ہے اور دو وقت کی روٹی کیلئے ترستا ہے پھر خوشحالی کیلئے نذریں مانتا ہے لیکن خوشحالی کے بعد سب کچھ بھول جاتا ہے۔ مولانا مودودی اور حاجی عثمان نے ایک مشکل دور کے بعد آسانی بھی دیکھ لی ۔ ہم نے بھی غربت اور بھوک دیکھ لی تھی اور اپنا گزارہ کرنے کے علاوہ سب کچھ غریبوں پر بانٹنے کی نذریں مانی تھیں مگر وہ وعدہ کیاجو وفا ہوجائے۔ آج شکر ہے کہ بڑے پیمانے پر بینک بیلنس نہیں ورنہ پتہ نہیں قربانی سے بھی گریز کرتے۔ اللہ نے فرمایا: ” وہ نذروں کو پورا کرتے ہیںاور اس دن کے شر سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر جانب پھیلی ہے ۔کھانا کھلاتے ہیں اپنی چاہت سے مسکین، یتیم اور قیدی کو۔بیشک ہم تمہیں اللہ کیلئے کھلاتے ہیں کوئی بدلہ اور شکریہ تم سے نہیں چاہتے ہیں۔

 

علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب” ظہور مہدی” میں سید گیلانی کا ذکر کیا ہے

ہیں اپنے رب سے اس بدنما بہت لمبی مدت والے دن کے شر سے ”۔ (سورہ ٔالدھر)
یہ آیات موجودہ دور میں کورونا کے معاملے کو بہت زبردست طریقے سے اجاگر کرتے ہیں اور مساکین ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانا اس موقع پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لوگوں میں زمانے کے اس موڑ پر احساسات اجاگر ہورہے ہیں۔ جہانگیر ترین سمجھتا ہوگا کہ عمران خان کو جہازوں میں گھمانے اور خرچے کرنے کے بجائے غریب غرباء کے کام آتے۔ کاشتکاروں ہی کو حدیث کے مطابق پوری فصل دیدیتے تو ایک انقلاب اور حقیقی تبدیلی آسکتی تھی۔ انتخابات کے موقع پر ایک ہی قومی اور صوبائی حلقے میں مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کو جمعیت کے صوبائی ممبر سے ٹانک میں تین ہزار کم ووٹ ملے۔ اس نے کہا کہ میں نے خرچہ زیادہ کیا تھا۔ دونوں کے مجموعی خرچے سے ایک ایک ووٹ لاکھ لاکھ روپے کا پڑا تھا۔آج کاغریب بدحال ہے۔
ایک عظیم انقلاب سے پہلے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کا ذکر قرآن میں ہوسکتا ہے؟۔ علی محمد ماہی نے کیا لکھا تھا ؟۔ مجھے معلوم نہیں مگر اپنے خاص علم کا اظہار کرکے اس نے داد کیا پائی تھی ، مجھے یہ بھی نہیں معلوم ۔ البتہ 1988ء میں لکھی گئی کتاب ” سرالاسرار المعروف یوم الفصل ” کو قرآن کی سورتوں سے جوڑنا علم الاعداد کے حساب سے اسکا اپنا فن تھا۔ انقلاب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا نے لوگوں کو مہدی کی یاد دلائی۔ علامہ طالب جوہری نے” ظہورِ مہدی” کے حوالہ سے1987ء میں کتاب شائع کی جس میں مشرقی دجال کے مقابلہ میں حسنی سید کا ذکر ایک روایت میںہے۔ علامہ طالب جوہری نے لکھا کہ ”اس سے مراد سید گیلانی ہیں”۔
شیعہ سنی ، دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی والے سب قرآن واحادیث کی طرف متوجہ ہوں اور اسلام کے غلبے کیلئے پاکستان سے جدوجہد کا آغاز کردیں۔

 

کوروناوائرس کی شکل میڈیا پر خاردار جھاڑ کی طرح ہے۔ضریع یہی تو ہے !

فرمایا: ھل اتٰک حدیث الغاشےةOوجوہ یومئذٍ خاشعةO………’ ‘ کیا آپ کو چھا جانے والی کی خبر پہنچی ہے؟۔کچھ چہرے اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ عمل کرنے والے تھکے ہوئے ہونگے۔ ان کو چشمے کااُبلا ہوا پانی پلایا جائیگا۔ان کیلئے کھانا نہیں ہوگا مگر خاردار جھاڑ۔ جو نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے چھٹکارا دلائے گا۔بعض چہرے اس دن تازہ ہونگے اور اپنی محنت پر خوش ہونگے۔ وہ عالی درجہ باغات میں ہونگے۔ اس میں لغو بات نہیں سنیںگے۔ (جس طرح آج کل کی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا بکواسیات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں)اس میں چشمے بہتے ہونگے۔ اسکے اندر اونچی مسندیں ہوں گی اور پیالے رکھے ہونگے۔ گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہونگی۔ نفیس ماربل وٹائیل کے فرش بچھے ہوںگے۔ کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس کو کیسے پیدا کیا؟ اور آسمان کی طرف کہ کیسے اونچا کردیا ؟، اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے جمالیا؟۔اور زمین کی طرف کہ کیسے بچھادی؟۔پس آپ ان کو نصیحت کیجئے، بے شک آپ نصیحت کرنیوالے ہیں۔ان پرآپ جبری مأمور نہیں۔ (خود کش حملوں اورجمعیت علماء اور اسلامی جمعیت طلبہ کی طرح) مگر جس نے منہ موڑا اور انکار کیا تو اللہ بڑا عذاب دے گا۔ ان لوگوں نے ہماری طرف پلٹنا ہے اور ہم پر ان سے حساب لینا ہے”۔ (سورۂ الغاشیہ)
کورونا وائرس کی خار دار جھاڑ تصویر کی شکل میں میڈیا پر دکھائی جارہی ہے۔ کتنے لوگ اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلاء ہیں۔ پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ سورة کے آغاز میں جس طرح چھا جانے والی کی بات کی خبر پہنچنے کا ذکر ہے اور پھر بعض چہرے خوفزدہ ہونے اور بعض کے تروتازہ ہونے کا ذکر ہے اس کا تعلق دنیا ہی کے معاملے سے معلوم ہوتا ہے۔ دانشور وعلماء اور امت مسلمہ کے اصحاب حل وعقد مشاورت سے اپنے معاملات درست کرنے پر توجہ دیں!

قرآن کریم میں اسلام کی نشاة ثانیہ یوم الفصل اور انقلاب عظیم کی واضح خبر موجود ہے۔ عتیق گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
احادیث صحیحہ میں ایک بڑے انقلابِ عظیم کی خبر موجود ہے۔ شاعر انقلاب مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے کہاکہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے
پروفیسر باغ حسین کمال،پروفیسر علی محمد ماہی، پروفیسر احمد رفیق اختر، صوفی برکت علی لدھیانوی کے علاوہ بزرگ حضرات پاکستان کے بارے میں بڑی بڑی پیش گوئیوں کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ استحصالی نظام کے ہوتے ہوئے جس طرح پہلے پاکستان دو لخت ہوا، اب اسکا قائم رہناہی دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ گھناؤنے کردار کے مالک طبقوں کی آشیرباد پر پلنے والے بزرگوں کے دل ودماغوں کیلئے اس قدر فارغ نہیں کہ ان کی زبانوں سے نکلنے والے الفاظ کی لاج رکھ لے۔ جبری جنسی تشدد سے زیادہ مدارس میں ایک ساتھ تین طلاق کے نام پر اللہ کے کلام کی توہین اور اسکی بے گناہ بندیوں کی مذہب کے نام پر عصمت دری ہے۔
قرآن میں نکاح وطلاق کے حوالے سے نہ صرف مرد اور عورت میں بہترین توازن ہے بلکہ عورت کو شوہر کے استحصال سے بچانے میں کمال کی آخری حدوں کوچھولیاگیا ہے۔ ایک طرف مرد کی غیرت کا یہ عالم ہے کہ برطانیہ میں شہزادہ چارلس لیڈی ڈیانا کو طلاق دیتا ہے تو ڈیانا اس کا یہ انتقام لیتی ہے کہ جہاں شاہی خاندان کو ٹھیس پہنچے،وہ وہیں پر شادی کرے۔ پہلے ایک پاکستانی ڈاکٹر سے شادی کی کوشش شروع کی لیکن اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔ پھریہ قرعہ ایک عرب دودی الفہد کی قسمت میں آیا۔ ڈیانا فرانس کے شہر پیرس میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئی ،جس پر قتل کی سازش کا کیس عدالت کی زینت بن گیا۔ ترقی اور آزادی سے آراستہ برطانیہ میں مردوں کے اقدار کا حال اس آخری دور میں یہ ہو تو چودہ سوسال سے مسلمانوںمیں غیرت کا تناسب کیا ہوگا؟۔ ہمارے مشرقی اقدار کا تقاضہ کیاہے؟۔ مغرب پر تو بنی اسرائیل کی اجارہ داری ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام پر عزیز مصر کی بیگم نے ہاتھ ڈالا تھا اور پتہ چلا تھا کہ غلطی بادشاہ کی بیگم کی ہے لیکن اس کو تہہ تیغ کرنے کے بجائے حضرت یوسف کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل حضرت یوسف کے حوالے سے اس بادشاہ کے کلچر کواپنے مذہبی اقدار کی اہم بات سمجھتے تھے۔ جس کے اثرات آج بھی مغربی اقدار میں موجود ہیں۔
ہندوستان میں نوح کے بعد ہندو قوم نے ذوالکفل کو نہ مانا جسے بدھ مت والے گوتم بدھ کہتے تھے۔ عربوں میں اسماعیل کے بعد آخری نبیۖ تک کوئی نبی نہیں آئے۔ ہندو اقدار قدیم ہیں، بابِ اسلام سندھ کی اکثریت نے بدھ مت قبول کیا تھا۔ عرب قدیم اقدار کے مالک تھے۔ نبیۖ پر سورۂ نور میں لعان کا حکم نازل ہوا تو مدینہ کے اسٹیک ہولڈرحضرت سعد بن عبادہ نے کہا کہ ہم آیت پر عمل نہ کرینگے، عورتوں کو قتل کرینگے۔ نبیۖ نے انصار سے شکایت کی تو انصار نے کہا کہ یارسول اللہ ۖ درگزر کیجئے! یہ بہت غیرت والا ہے، کبھی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہ کی۔ ہمیشہ کنواری سے شادی کی ، جس کو طلاق دی تو اس کو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی۔ نبیۖ نے فرمایا: میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرتمند ہے۔ ( صحیح بخاری)
علماء نے پدرِ شاہی نظام کیلئے اس حدیث کی غلط تعبیر لکھ دی کہ نبیۖ نے حضرت سعد کی غیرت کی تعریف کی۔ حالانکہ نبیۖ نے سچ فرمایا تھا کہ وہ زیادہ غیرتمند ہیں، جبھی تو اللہ نے فرمایاکہ” آپ کی ازو اج سے کبھی بھی نکاح نہ کرو، اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے”۔ (القرآن)
نبیۖ کی غیرت کا یہ عالم تھا کہ احادیث کی کتابوں میں لکھاہے کہ آپۖ کو اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ پر اسکے ایک ہم زباں کا شک گزرا تو حضرت علی کو قتل کرنے کا حکم دیا مگر حضرت علی نے اس کو کنویں سے نکالا تو عضو ء تناسل کٹا ہوا تھا ، جس کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیا۔ لونڈی سے کئی گنا زیادہ غیرت بیگم پر ہوتی ہے اسلئے کہ قرآن میں جس طرح آزاد بے نکاح عورتوں کے نکاح کرانے کا حکم ہے، اسی طرح سے غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کرانے کا حکم ہے۔ قرآن و احادیث میں مستقل نکاح کی طرح سے ایگریمنٹ کی بھی وضاحت ہے۔ ایگریمنٹ اور نکاح آزاد عورتوں سے بھی ہوسکتا ہے اور لونڈیوں سے بھی ۔ آج مغرب اسلام کے زیادہ قریب اسلئے ہے کہ قرآن واسلام کے فطری نظام ہی کے قریب ہے اسلئے علامہ قبال کو مشرق میں مسلمان نظر آتا ہے مگر اسلام نظر نہیں آتا اور مغرب میں مسلمان نظرنہیں آتا ہے مگراسلام نظر آتا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کا انقلاب دنیا میںنشر ہونے کا اعتراف کیا اور مسلمان ہی کو محروم قرار دیا ہے۔ پدرِ شاہی نے قرآن کے الفاظ سے بالکل غلط مفہوم لیا اور ماملکت ایماکم سے نکاح کے قانونی بندھن سے آزاد ایگریمنٹ مرادلینے کے بجائے لونڈیاں مراد لیا۔ جس کی وجہ سے اسلام کے نام پر عیاشی کرنے والا بادشاہ اور اسکے مشیراوروزیر اپنی اپنی خواہشات کے مطابق کئی ہزار اور سینکڑوں دوشیزاؤں کو محل سراؤں میں رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کی سیرت طیبہ کو اعلیٰ نمونہ اسلئے قرار دیا کہ وحی کے ذریعے ہر چھوٹی بڑی بات میں رہنمائی کا اہتمام کیا۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان عظیم کا معاملہ آیا تو نبیۖ نے شک کی بنیاد پر قتل کرنے کے بجائے آپ کو گھر جانے کی اجازت دی ۔ سورۂ نور میں زناکی سزا اور پاکدامن خواتین پر بہتان لگانے کی سزا کا حکم نازل ہوا تو بہتان لگانے والوں کو 80، 80 کوڑے لگائے گئے۔
مرد گالی دینے کو عزت سمجھے تو بہتان پر سزا کیوں؟۔ قرآن نے صرف عورت کوتحفظ دیا ۔ یہ سزا اُم المؤمنین پر بہتان لگانے والوں کیلئے بھی تھی اور ایک عام غریب ونادار عور ت پر بہتان لگانے کی بھی یہ سزا تھی۔ قرآن وسنت کا یہ قانون آج نافذ ہوجائے توپھر پدرِ شاہی نظام بالکل دھڑام سے گرے گا۔ پدرِ شاہی نے جن شخصیات اور خاندانوں کی آبیاری کی، ان کی عزت عدالتوں میں اربوںکی ہے اور عوام کی ٹکے کی عزت نہیں۔ منظور پشتین مولوی بن کر نماز پڑھاتا ہے لیکن اسلام کی انصاف پر مبنی بات نہیں کرتا۔ تعصبات کو ہوا دینا پدرِ شاہی نظام کو تقویت دینے کا سبب بنتاہے۔ مذہبی ، قومی، لسانی اورملکی تعصبات پدرِ شاہی نظام کے عالمی استعمار کوہی تقویت پہنچانے کا خواب ہیںلیکن اب انشاء اللہ یہ پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان میں بلیک واٹر کا کردار تھا؟۔
لیکن اس وقت طارق اسماعیل ساگر جیسے لوگ سب سمجھ کر بھی کچھ نہیں کہتے تھے۔ اب افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کے حمایتی قتل وغارتگری کی ذمہ داری بلیک واٹر پر ہی ڈال رہے ہیں۔ دونوں طرف کے بڑے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر امریکہ کے کردار پر بات نہیں کرسکتے اسلئے ایک طرف ہندوستان دوسری طرف پاکستان کا نام لیتے ہیں۔ اور دونوں ہی شریعت،اسلام اور قرآن کا نام لیتے ہیں۔
ہندوستان کے پاس ہندوازم کا نظام نہیں تھا اسلئے عالمی استعمار کیخلاف کھڑے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ملا لیکن پاکستان کے پاس قرآن اور اسلام جیسی نعمت ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ علماء نے جس طرح اسلام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ عباسی دور میں جس طرح کی اسلام سازی سے آغاز ہوا تھا، وہ اب شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے ہاتھوں بالکل آخری حدوں کو چھورہاہے۔ ایک طرف قرض سے فائدہ ہی فائدہ اٹھانے کی بنیاد پربینکنگ کا سودی نظام جائز قرار دیا گیا اور دوسری طرف اپنا چہرہ چھپاکر ویڈیوبھی نشر کردی کہ” لوگ علت اور حکمت کا فرق نہیں سمجھتے۔ اسلئے کہتے ہیں کہ سود کا تعلق ظلم سے ہے ۔جب سود میں ظلم نہ ہو تو پھر جائز ہونا چاہیے لیکن میں کہتا ہوں کہ ظلم سود سے روکنے کی حکمت ہے مگر یہ اس کی علت نہیں ۔ سود کی علت قرض پر نفع حاصل کرنا ہے۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں کہ لال بتی میں حکمت ٹریفک حادثات سے بچنا ہے مگر اس کی علت لال بتی کا جلنا ہے۔ اگر کوئی ماحول دیکھ کر لال بتی کی خلاف ورزی کریگا تو قانون کی گرفت میں آئیگا، چاہے وہ حادثہ سے بچنے کی حکمت اختیار کرے”۔ مفتی تقی عثمانی۔
دنیا نے سود کو ظالمانہ نظام تسلیم کرلیا۔ شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”مسلمان نوجوان”کا ترجمہ ہمارے استاذ ڈاکٹر حبیب اللہ مختارپرنسپل جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن (نیوٹاؤن) کراچی نے کیا، جس میں دنیا بھر کے معاشی ماہرین کی طرف سے سودی نظام کو ظلم کہا گیاہے۔ لیکن یہ کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی اور ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کو شہید کرکے جلاکر راکھ کردیا گیا۔
میرے گھر پر حملہ کرکے بہت سوں کو شہید کیا گیا تو میرے لئے تیزاب کے بڑے بڑے کین لائے تھے۔ میری ان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی اور طالبان کے امیر نے ذمہ داروں سے قصاص لینے کا عزم بھی کیا تھا۔ قوم محسود کے نمائندے معافی تلافی کیلئے تو ساتھ آئے لیکن فیصلے کا وقت آیا تو طالبان نے ان کو کانیگرم نہیں آنے دیا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں ہندوستان کے فوجی طیارے استعمال کرکے باغی کشمیریوں کو نہیں مارتے اور پاکستان کی آرمی نے وزیرستان میں محسود قوم پر بمباری کرکے خواتین اور بچوں سمیت بہت بے گناہ افراد کو بھی شہید کردیا۔ لیکن جب دہشت گرد حملے کے بعد اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں جاتے تھے تو پوری قوم بے غیرت بن کر انکے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ مجھ پر پہلے حملہ ہوا تھا توبھی میرے ساتھ دو معصوم افراد بھی بال بال بچ گئے تھے اورپھر بھی ہمارا گھر اور ہمارے عزیز واقارب طالبان کو سپورٹ کرنے میں بے شرمی اور بے غیرتی محسوس نہیں کرتے تھے۔ کربلا کے بعد بھی طالبان کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ معاشرے میں کوٹ کوٹ کر بے غیرتی ہو تو پدرِ شاہی اور عالمی استعمار کا نام لینا حقائق سے فرار کی ایک بدترین صورتحال ہے۔
جب برطانیہ کے شہزادہ چارلس کوبھی غیرت کا سامنا تھا جس کی جھلک نجم سیٹھی کی بیگم جگنومحسن کی طرف سے ARYنیوز کے پروگرام میں نیٹ پر ملے گی تو پھر ہمارے شہروں، دیہاتوں اور قبائلی ماحول میں مردانہ غیرت اور خواتین کیساتھ مظالم کا حال کیا ہوگا؟۔ دنیا بھر میں عورت مارچ جنسی تشدد اور حقوق کیلئے آواز بلند کرتا ہے، جس نے پاکستان میں بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔
جب ریحام خان مسیج پر طلاق ملنے کے بعد بر طانیہ سے واپسی کا عزم کررہی تھی تو اس کو قتل کی دھمکیاں ملی تھیں لیکن قدرت نے اس قوم سے ایک ایسی تبدیلی کا انتقام لیا کہ عمران خان نے ایک شادی شدہ خاتون بشریٰ بی بی ہی سے خلع لینے کے بعد شادی کرلی تو قوم نے وزیراعظم بنایا اور جب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پختون کا لباس ودستار پہن کر بلاول صاحبہ پکار رہاتھا جس کو فیاض الحسن چوہان، عامر لیاقت، مراد سعید ، شہریار آفریدی اور اجمل وزیر نے بڑی داد بھی دی ہوگی لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ بشری بی بی کا نکاح بھی ایک پختون مفتی محمدسعید خان نے ہی پڑھایا تھا۔ جب بہنوں اور بیٹیوں کی قیمت وصول کی جاتی ہے تو کوئی غیرت نہیں آتی ہے لیکن جب بیگم گھر میں بیٹھ جائے تو پھر غیرت کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے؟۔ غیرت کا مسئلہ الگ ہے مگر مفادات کو غیرت کا نام دینا الگ ہے۔
ہمارے کانیگرم شہر میں پڑوسی زنگی خان نے شادی کے بعد اپنی بیگم کو بیڑیاں ڈال کر قید کیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وزیرستان میں اچانک عورت کا ریٹ بڑھ گیا ۔ اس کو فروخت کرنے والے باپ اور بھائیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ یا نئے ریٹ دو یا پھر طلاق دو اوراپنا پیسہ واپس لے لو تاکہ ہم زیادہ قیمت وصول کرکے اس کو دوبارہ فروخت کردیں۔ یہ لوگ بعد میں طالبان بن گئے اور اپنی دہشت و غیرت سے اسلام کی غیرت دنیا پر مسلط کرنے لگ گئے۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” جب دوبارہ خلافت قائم ہوگی تواسلام زمین میں جڑ پکڑے گا”۔ قرآن میں یہ انقلاب بہت واضح ہے۔ بہت ساری آیات اور سورتوں میں اس عالمگیر انقلاب کا نقشہ بہت واضح ہے۔ سورہ جمعہ، سورہ محمد اور سورہ واقعہ میں صحابہ کے بعد پھر سے ایک نئی قوم کا ذکر ہے، نئی جماعت کا ذکر ہے اور تھوڑے مقربین اور بہت ہی زیادہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھینے کوشش کی تھی کہ قوم اس طرف توجہ کرے۔ قبلہ ایاز اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین مولانا سندھی کی اس کاوش کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن نوکری اور اختیار مل جاتا ہے تو مشکلات کا سامنا کوئی نہیں کرنا چاہتا ہے۔
غلام احمد پرویز نے احادیث صحیحہ کی روح کو نہیں سمجھا تھا اسلئے قرآن کی خدمت کے باوجود قرآن فہمی سے محروم رہاتھا۔غلام احمد پرویز سے زیادہ حنفی نصاب میں احادیث سے روگردانی کا قرآن کی بنیاد پرارتکاب ہے لیکن قرآن و سنت نہیں مسالک اورنظریات کی خدمت ہورہی ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ قرآن وسنت کے تابع بننے کے بجائے مسلک پرستی اور نفس پرستی کے تابع اسلام کو بنایا جائے۔
فاذا جاء ت الصاخةOیوم یفر المرء من اخیہ Oامہ وابیہOو صاحبتہ وبنیہ O لکل امری ئٍ منھم شان یغنیہOوجوہ یومئذ مسفرةO ضاحکة مستبشرة Oو وجوہ یومئذ علیھا غبرہ Oترھقہا قترةOاُولئک ھم الکفرة الفجرةO( سورہ ٔ عبس کی آخری آیات)
جب انقلاب کی وہ آواز آئے جو دلوں کے اندھوں کو بھی سنائی دے تو آدمی اس دن اپنے بھائی سے فرار ہوگا۔ اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اپنی بیوی، اپنے بچوں سے۔ ہر ایک اپنے سردرد میں مگن ہوگا۔ انقلاب کے داعی اچھے لوگوں کے چہروں پرخوشی نمایاں ہوگی،ان پرہنستے ہوئے بشارت کے اثرات ہونگے اور انقلاب دشمن لوگوں کے چہروں پر مجنونوں کی طرح بھاگنے اور رقص کرنے کی وجہ سے گرد وغبار چڑھا ہوگا۔ ان پر سیاہی کی تہہ چڑھی ہوگی۔ یہ وہی لوگ ہونگے جنہوں نے کفر و فجور کا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ قرآنی احکام کو رد کرنے کا نتیجہ وہ بھگت لیںگے۔
اسلامی خلافت علی منہاج النبوة بعض مجرموں کو طوق وسلاسل پہنائے گی لیکن اس کی وجہ انتقام نہیں بلکہ اس دنیا کو انکے شر سے بچانا ہوگا۔ہندوؤں کا حکمران طبقہ زیادہ تر اس کا شکار اسلئے ہوگا کہ ہندوستان میں اسلام کا سورج ہی ہندوؤں کے ہاتھوں سے طلوع ہوگا۔ مودی کے تعصبات لتا حیا شاعرہ جیسے کروڑوں ہندوؤں کیلئے قابلِ نفرت ہے اور پاکستان میں ہندوؤں کیخلاف نفرت کو کوئی ہوا نہیں دی گئی ہے۔ جب پاکستان میں نفرت کی آگ بھڑ کائی گئی تو مشرقی پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھارت کو بھی نفرتوں کی آگ اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ جو لوگ امریکی عوام پر مہذب ہونے کا فتویٰ صادر کرتے تھے تو انہوں نے دیکھ لیا کہ کس طرح انسانیت دشمنوں نے بے گناہ لوگوں کو زبردست نقصان پہنچایا۔ جب تک پاکستان میں صحیح اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوتا ہے تو ہماری عوام اور ریاست بھی خطرات کی منڈیر پر طوفانوں کے گھیرے میں رہے گی اور لوگوں کو استحصالی طبقات کے غیرانسانی رویوں پر سراپا احتجاج بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ عدالتوں سے ہم انصاف کی امید نہیں رکھتے۔ سیاسی نظام کٹھ پتلی اور دلالی کا شاخسانہ ہے۔ مولوی کا اسلام فطرت کیخلاف کھڑا ہے۔ میڈیا اشتہار کیلئے مررہا ہے۔میڈیسن کا جعلی ہونا اور ڈاکٹروں کا غریب مریضوں کی کھال کھینچنا تو ایک معمول بن چکا۔ تاجر راہزن اور ٹرانسپورٹر غنڈے بن گئے ۔ ریاست اغواء برائے تاوان کیلئے غائب ہونیوالی ماں بن چکی ۔ جس کا دل دھڑکتاہوگا مگر دودھ اغواء کاروں کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن کریم جہاں آخرت کی خبر دیتا ہے اسلئے کہ سبھی نے موت کا ذائقہ چکھ لینا ہے اور ہر ایک کو قبرو آخرت سے واسطہ پڑنا ہے لیکن ساتھ ساتھ قرآن دنیاوی انقلاب سے بھی لوگوں کو آشنا کرتا ہے۔ یہود، نصاریٰ، ہندو، بدھ مت اور تمام مذاہب میں انقلاب عظیم کی خبر ہے۔ قرآن نے بھی خبردی وماھو بقول الشیطٰن الرجیمOفاین تذھبونOان ھوالا ذکر للعٰلمین ”اور یہ شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔پھر تم کہاں جارہے ہو؟۔ بیشک یہ نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے”۔(سورۂ تکویر)
بنوامیہ و بنوعباس کے دور میں سرکاری ملاکی آبیاری ہونا شروع ہوئی۔ خلافت عثمانیہ اور انگریز کے دور سے آج تک ملاؤں اور سرکاری سرپرستی میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔جمعہ کے خطبہ میں السلطان ظل اللہ فی الارض من اھان سلطان اللہ فقد اہانہ اللہ کی حدیث پڑھی جاتی ہے۔زمین میں بادشاہ اللہ کا سایہ ہے، جس نے اللہ کے سلطان کی توہین کی تو اس نے اللہ کی توہین کی۔ بادشاہ نے چاہے فرعون ونمرود جیسا ظالمانہ نظام نافذ کیا ہو۔ اللہ نور السموات والارض کا بھلے کوئی اپنا سایہ نہ ہو مگر ظالموں کا اعزاز یہی ہے کہ وہ اللہ کا سایہ ہیں۔ وہ کربلاؤں کی تاریخ رقم کریں اور ہم یہ آیت پڑھیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ملک کا مالک بنادیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک کو چھین لیتا ہے۔ ایک طرف عوام کو ظالم وجابر حکمرانوں کے سایہ میں رہنا پڑتا ہے تو دوسری طرف انکے گماشتے زمین میں مدظلہ العالی کا استحقاق رکھتے ہیں یعنی انکے سایہ کو اللہ مزید کھینچ کر لمبا کردے۔ حکمرانوں اور مذہبی طبقات کے سایوں کا عوام کو فائدہ ہو نہ ہو مگر یہ ظل الٰہی زبردستی کیساتھ بھی اپنے سایوں کو مسلط رکھنا چاہتے ہیں۔
جب انقلاب عظیم آئیگا تو دنیا میں انصاف کا بول بالا ہوگا۔ان جھوٹے سایوں سے اس دن چھٹکارا مل جائیگا۔ اس دن انکے سایہ میں پلنے والوں کیلئے سایہ نہیں ہوگا۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ لاظلیل اس دن کوئی سایہ ان مجرموں کیلئے نہیں ہوگا۔ اسی کیفیت کو سورۂ مدثر میں بتایا گیا ہے کہ وہ سقر میں پہنچ جائیںگے۔ القاموس المعجم میں ہے کہ سقر کھلے آسمان تلے اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ جب ان سے سورج کی تپش میں رکاوٹ نہ ہو۔ ان لوگوں کی اس خاص تعریف کا ذکر ہے کہ قرآنی آیات سے ایسے بھاگتے ہونگے جیسے گدھے بدک جاتے ہیں شیروں سے۔ ان کی یہ خواہش ہے کہ بس ان کی اپنی کتابیں نشر ہوتی رہیں، ان کو قرآن کی آیات عام کرنے سے کوئی غرض نہیں ۔
سورۂ دھر میں انقلاب کے بعد ادرک کے مزاج کے مشروبات کا ذکر ہے جس کی خاصیت قوتِ مدافعت اور بادی کا خاتمہ ہے۔ سورہ ٔ جمعہ میں واٰخرین منھم کا ذکر ہے جس سے اہل فارس مراد ہیں تو سورۂ الشوریٰ میں فرمایا کہ نبیۖ کو اللہ نے اہل مکہ اور آس پاس کے علاقوں کیلئے مبعوث کیا اور یوم جمع کیلئے بھی ۔ یوم جمع سے مراد اس دنیاوی انقلاب پر پوری دنیا کا جمع ہونا ہے جس کا ذکر تمام مذاہب کی کتابوں میں بہت واضح طور پرموجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ نبأء میں فرمایا کہ ” اور آپ سے پوچھتے ہیں ایک عظیم خبر کے بارے میں ۔جس میں لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیںگے، ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیںگے”۔ قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں عظیم انقلاب کی خبر دنیا سمجھ چکی ہے اسلئے کہ فارس و روم کی سپر طاقتوں کو پہلے بھی مسلمانوں نے شکست دی تھی اور کسی بھی مذہب میں یہ صلاحیت نہیں کہ اس کو اس قابل سمجھا جائے کہ کسی بڑے انقلاب کی صلاحیت رکھتا ہے۔
علامہ اقبال نے ”ابلیس کی مجلس شوری” کے حوالے سے لکھا ہے کہ شیطان کو صرف اور صرف آئین پیغمبر سے خوف ہے جو حافظِ ناموسِ زن ، مرد آزما ،مرد آفریں ہے۔
قرآن واحادیث میں ایک عظیم انقلاب کا ذکر ہے۔ اسلام نے توہمات، غلط عقیدتوں ، رسم وروایات کے غلط بندھنوںاور استحصالی معاشی نظام کو بیخ وبن سے اُکھاڑ دیا تھا اور دنیا کو حریتِ فکر کا سیاسی نظام سکھادیا تھا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں بہت بڑی تبدیلی آگئی البتہ مؤمنوں کا اپنا کردار یہود کے احبار اور نصاریٰ کے رھبان والا بن گیا تو دنیا نے چراغ تلے اندھیرے کی کیفیت دیکھ لی ہے۔
ارتغل غازی کے کردار، شخصیت اور ڈرامے کا مجھے کچھ پتہ نہیں ہے لیکن اتنا جانتا ہوں کہ شیطان نے پھر کوئی داؤ کھیل کر امت مسلمہ پر نقب لگادی ہے۔ دنیا میں ہمارا مسئلہ کفار اور مسلمانوں کی جنگ نہیں بلکہ کفر اور اسلام کے درمیان جنگ ہے۔ پہلے بھی طالبان بہت نیک نیتی کے ساتھ اچھے جذبے سے امریکہ کیخلاف کھڑے ہوگئے تھے لیکن پھر نتیجہ یہ نکلا کہ افغان اور پاکستان حکومت کیخلاف بھی جنگ کا دائرۂ کار بڑھادیا۔ جب تک ہم اپنے معاشرہ سے کفر نہیں نکالیںگے اور جب تک ہم اپنے مدارس سے کفر نہیں نکالیںگے اس وقت تک ہم نہ معاشرتی نظام کی اصلاح کرسکتے ہیں اور نہ ملکی اور بین الاقوامی نظام کی کوئی اصلاح کرسکتے ہیں۔مدارس کے نصاب کی اصلاح کیلئے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی اور مولانادرخواستی صاحب کی آل اولاد کے ارباب اہتمام و فتویٰ مجھے طلب کرلیں۔ سب کچھ دنوں میں صحیح سمت چلنا شروع ہوجائیگا۔ ہمیں اپنے اساتذہ کرام کا احترام ہے۔
اگر قرآن کی آیات میں ایک طرف عدت کے اندر طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش ہو، پھر عدت کی تکمیل کے بعد بھی گنجائش ہو اور پھر عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد تک بھی رجوع کی گنجائش ہو تویہ قرآن بہت بڑے تضادات کا مجموعہ بن جائیگا۔ علماء وفقہاء نے اس کی بالکل غلط اور لغو تطبیق کی ہے۔ قرآن میں رجوع کیلئے اصل مدار باہمی صلح ہے اور اسی کو قرآن میں معروف رجوع کا نام دیا گیاہے۔
میاں بیوی میں طلاق کے بعد کسی بھی مرحلے پر صلح کی ترغیب اور گنجائش موجود ہے۔ قرآن کی ہرایک آیت کا مقصد واضح ہے۔ دوسری طرف کسی بھی مرحلے پر صلح کے بغیر رجوع کی گنجائش نہیں ہے، اس پربھی قرآن کی ہرآیت کی بھرپور وضاحت ہے۔ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں تو قرآن کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انکے درمیان صلح میں رکاوٹ بن جائے۔ اس کی اللہ نے بار بار وضاحت بھی کی ہے۔ البتہ جب عورت جان چھڑانے پر آمادہ ہوتو پھر شوہر کیلئے اس پر زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کی راہ میں کسی اور شوہر سے نکاح کرنے میں رکاوٹ بن جائے۔ پھر کباب میں یہ ہڈی برداشت نہیں ہے جو اپنے معاشرے اور انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ منگیتر کو چھوڑنے کے باوجود اپنی مرضی سے شادی نہیں کرنے دی جاتی ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ عورت کو طلاق دی تو پھر دوسری جگہ اس کو شوہر اپنی مرضی سے شادی کرنے نہیں دیتا ہے۔ میرے والد مرحوم نے پاکستان بننے سے پہلے ایک بیوی کو طلاق دی تھی اور پھر اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی تھی کہ جہاں شادی کرنا چاہے کرسکتی ہے تو اس کو بہت بڑے انوکھے کردار کی حیثیت دی گئی تھی۔ کمزور پر ظلم نہ کرنااصلی اور نسلی ہونے کی نشانی ہے۔ جب انقلاب آئے اور قاتل ہمارے ہاتھ چڑھ جائیں اور اعتراف جرم کرلیں تو ان پر دسترس حاصل ہونے کے بعد معاف کرنے میں ہماری روح کو بڑی تسکین ملے گی۔ صحابہ کرام اور اسلاف کا فیصلہ اور فتویٰ طلاق کے حوالے سے سوفیصد درست تھاکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو شوہر کیلئے اس وقت تک حرام ہے کہ جب تک وہ عورت اپنی مرضی سے نکاح نہ کرلے۔ آیت کا مقصد میاں بیوی کو سزا دینا نہیں بلکہ عورت کی اس ظالم سے جان چھڑانا ہے جو اس کی مرضی کا لحاظ نہیں رکھتا ہے بلکہ اپنی غیرت کیخلاف سمجھ کر اس کو اپنی مرضی سے کسی دوسرے سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔
قرآن وحدیث میں تین طلاق کو تین مراحل کیساتھ خاص قرار دیا گیا ہے۔ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ میں ہے۔ پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ احسان کیساتھ چھوڑنا ہی تیسری طلاق ہے۔ نبی ۖ نے طہرو حیض کے مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے بھی تین مرتبہ طلاق کے عمل کو اس عدت کیساتھ خاص کردیا جس میں عورت کو حیض آتا ہو۔ بخاری کی کتاب تفسیر سورہ ٔ طلاق ، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں حدیث موجود ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیت229میں خلع کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد کی صورت کا ذکر ہے۔ جس میں طلاق کے بعد بیوی سے شوہر کے دئیے ہوئے مال میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ہے مگر جب دونوں کا اتفاق ہو کہ اگر وہ مخصوص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں کیلئے اللہ کی حدود پر قائم رہنا بڑا مشکل ہوگا اسلئے کہ میاں بیوی نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ۔ دونوں کی راہیں جدا ہیں، الگ الگ شادیاں دوسری جگہ ہوسکتی ہیں۔ پھر وہ چیز ملنے کا ذریعہ ہو تو پہلے سے دونوں کا ایک تجربہ رہاہے جس کی ایکسرسائز ہوسکتی ہے تو پھر وہ چیز واپس کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ معاشرے نے بھی یہی فیصلہ کیا ہو توپھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ؟۔ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد بھی عورت کو مرضی کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ اسی کو ہی آیت230 البقرہ میں بیان کیا گیا ہے۔