پوسٹ تلاش کریں

ہم نے ایک ماہ میں‌ووہان کا ریکارڈ توڑا اور نمبر 2 پر آگئے. ہدیٰ بھرگڑی

ہدیٰ بھرگڑی:

رات کے ساڑھے 12بج رہے ہیں،آپ میں سے کئی لوگ نیند میں ہونگے۔ شاید کافی لوگ جاگ رہے ہونگے ۔ آج کے دن میں ہم نے ووہان سٹی کا ریکارڈ پاس کرلیا۔اور دنیابھر میں پاکستان اس وقت دوسرے نمبر پر ہے۔ پچھلے ایک مہینے کے اندر 500%کیسز کی تعداد بڑھی ہے۔ میں اس وقت اسلام آباد میں ہوں اور میرے گھر کی ساتھ والی گلی جو کہ 11-E میں ہے وہ سیل ہوچکی ہے اور آہستہ آہستہ ہم سب کی محفوظ پناہ گاہیں کورونا پوزیٹیو کے گھیرے میں آرہی ہیں۔ مجھے اس وقت 24سے 26ہزار لوگ فالو کرتے ہیں ۔ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ۔ میرے ساتھ ہر قدم پر رہے ہیں، میری بات کو آپ نے اہمیت دی، آپ نے مجھ سے اختلاف رائے بھی رکھا ہوگا میری باتوں پر مجھے سپورٹ بھی کیا ہوگا۔لیکن اس وقت ملک میں جس چیز کی کمی ہے اور جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے ایک پالیسی ریفارم کی او رابھی تک ہمیں یہاں کوئی پالیسی میں اصلاحات بالکل بھی نظر نہیں آرہی ہیں۔ 2020یہ سال جس میں ہم رہ رہے ہیں اس نے ہماری نظریں اور ہمارا دماغ کھول دیا ہے اور ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ جو فیصلے ہم نے کئے ہیں اپنی حکومت سازی کیلئے وہ تمام فیصلے بہت بری طریقے سے فیل ہوچکے ہیں۔ میں کام کے سلسلے میں راولپنڈی اسلام آباد گئی ہوں ، میںہسپتالوں میں بھی جاچکی ہوں کام کے سلسلے میں اور چونکہ سوشل ورکر کے طور پر کووڈ رسپونس پر کام کرہی ہوں تو میرا اپنا تجزیہ اور آنکھوں دیکھا تجربہ ہے جو میں نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ ہم سب کے سب Death Row پر آرہے ہیں اور Death Row کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کے سب بس اب موت کے انتظار میں ہیں۔ ایک ماہ میں 500%کیسز کا بڑھ جانا ، عید کے دنوں میں لاک ڈاؤن کو چھوڑنا اور اس وقت جو صورتحال ہے کہ آپ کے بڑے بڑے شہروں میں تو پالیسی ہے دکانیں بند ہورہی ہیں پولیس چل رہی ہے سب کچھ ہورہا ہے لیکن اگر آپ چھوٹے چھوٹے شہروں میں چلے جائیں جیسا کہ راولپنڈی ہے جہاں میرا ایک دو دن پہلے چکر لگا تھا تو آپ اکا دُکا لوگوں کو ماسک پہنا ہوا دیکھیں گے ، اِکا دُکا لوگ سوشل ڈسٹنسنگ کررہے ہیں ۔ ہر چیز، ہر مارکیٹ، ہر روڈ، ہر بازار ، ہر راستہ بالکل معمول کے مطابق چل رہا ہے جیسا کہ کچھ غلط اس ماحول میں ہے ہی نہیں۔ ہم اس طرح سے دکھاوا کررہے ہیں اور اس طرح کے Denialمیں ہیں کہ ہمیں کچھ ہوگا ہی نہیں، ہم بچ جائیں گے۔ آسمان سے کوئی قوت اتریگی کچھ ہوگا کہ ہم پاکستانیوں کو اس پوری صورتحال سے بچالے گی۔ میرا اس ویڈیو کے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سب لوگ جنہوں نے مجھے ہمیشہ سنا ہے ، مجھے سپورٹ کیا ہے، میری بات کو کچھ اہمیت دی ہے میں آپ سے درخواست کرتی ہوں ، اپیل کرتی ہوں کہ کل شام (5جون)آپ سب لوگ 5بجے سے لیکر 7بجے تک Twitterکے اوپر #ImposeCompleteLockdownکے ہیش ٹیگ کے ساتھ اس ٹویٹر کیمپیئن میں حصہ لیں اور اس سوشل میڈیا کو ٹول بنائیں تاکہ ہم اپنے اس احتجاج کو ریکارڈ کرسکیں کہ خدارا اس ملک کے اندر مکمل لاک ڈاؤن کو نافذ کیا جائے۔ اب اس کیلئے دلیل یہ دی جائے گی کہ ڈیلی ویجز کو کام نہیں ملے گا۔ ڈیلی ویجز کے پاس پیسے نہیں ہونگے۔ تو اس کا جواب بس اتنا سا ہے کہ جو10 بلین جمع کئے تھے پاکستان کی عوام نے ڈونیشن دیکر پیسے دیکر تاکہ ان سے کورونا وائرس کے جو متاثرین ہیں ان کو کسی قسم کی کوئی مددفراہم کی جائے ان 10بلین پاکستانی روپے سے Circular Deathہے وہ چکایا گیا ہے۔ تومطلب یہ ہے کہ ڈیلی ویجز اور غریب کوپیسے تو آپ نے ویسے بھی نہیں دینے تو کم سے کم انہیں موت کا تحفہ تو نہ دیں۔ غریب کی تو آپ نے مدد نہیں کرنی ۔ آپ نے تو صرف اور صرف سرمایہ داروں اور فیکٹری مالکان کو سہولت دینی ہے۔ آپ نے صرف Big Giant بڑے بڑے دیو جو کہ اشرافیہ ہیں اس ملک کے آپ نے تو ان کو سہولت دینی ہے ۔ جب آپ نے غریب کو کچھ دینا نہیں تو کم سے کم ان کو مرنے کی اتنی چھوٹ تو نہ دیں۔ اس طرح آزاد تو کم سے کم نہ پھرنے دیں۔ اگر کچھ دے نہیں سکتے تو اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے آپ ان کو شکار اورر چارے کے طور پر کمزور حالت میں چھوڑیں۔ یہ کس طرح کا پالیسی ریفارم ہے؟ یہ کوئی پالیسی بھی ہے کہ نہیں ؟ میں عام انسان ہوں، ایک عام اسٹوڈنٹ، ایکٹیوسٹ ہوں، میرے پاس اتنا زیادہ پاور نہیں لیکن کم سے کم دماغ ہے اور دماغ یہ دلیل دے رہا ہے کہ ہماری حکومت کر کیا رہی ہے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ یہ کیا پالیسی چینج ہوگا ؟ آپ نے ایک مہینے میں ووہان کا ریکارڈ توڑ دیا اور نمبر 2پر آگئے ہیں۔ آخر کیا ہے جو آپ کو سمجھ میں نہیں آرہا؟۔ تو میں تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں اس سے پہلے کہ موت کا شکار ہوں، موت کی لکیر کے قریب پہنچ جائیں ، زندگی کی بقاء ا س ملک میں نا ممکن ہوجائے ، اب یہ وقت ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ چھوٹے بچوں کو … پرائیویٹ اسکول تو اسکول کھولنے کی باتیں کررہے ہیں ظاہر سی بات ہے انہیں فیس چاہئے۔ ان کو پیسے چاہئیں ان کو کوئی پرواہ تھوڑی ہے کہ چھوٹے بچوں کو کچھ ہوتا ہے اگر وہ ہلاک ہوجاتے ہیں تو ہوتے رہیں ۔ سرمایہ داری کا بس پہیہ نہیں رکنا چاہیے،جو سرمایہ مارکیٹ ہے بس وہ چلتا رہنا چاہے بیشک وہ مارکیٹ کا پہیہ غریب عوام کے خون پر ہی کیوں نہ چلے مگر اسے چلانا چاہیے۔ اگر یہ اس وقت کی پالیسی ہے تو بہت ضروری ہے کہ ہم اس پالیسی کو رد کریں اور ہم اپنی آواز اٹھائیں۔ مجھے پتہ ہے کہ ہم اسوقت بہت ہی زیادہ انتشار کا شکار ہیں ۔ ہمارے سامنے روزانہ سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی نیا پروپیگنڈہ آجاتا ہے جس میں ہم سوشل میڈیا کو استعمال کرکے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ہماری بقاء اور مزاحمت کی جنگ ہے۔ اب جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ کیا آپ خود کو ، اپنے گھر والوں کو، اپنے بوڑھوں کو بزرگوں کو بچاسکتے ہیں یا نہیں بچاسکتے؟۔ میں ان تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں جو مجھے فالو کرتے ہیں اور ان سے بھی جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں صرف ایک بار صرف ایک بار ہمیں یہ فیور دیں کہ ہمیں جائن کریں اور ملک میں کل(5جون( سے مکمل لاک ڈاؤن کی حمایت کریں۔ برائے مہربانی ہماری اس کیمپئن میں شامل ہوجائیں اور ٹویٹر پر 5بجے سے 7بجے تک ایک طوفان کھڑا کردیں۔ کم سے کم ہمیں یہ دکھ نہیں ہوگا کہ ہم نے اپنی طرف سے یا اپنا احتجاج حکومت وقت کے سامنے نہیں رکھا۔ آپ لوگوں نے مجھے ہمیشہ سپورٹ کیا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ اس وقت بھی آپ مجھے سپورٹ کرینگے۔آپ مجھے سپورٹ کریں میری خاطر نہیں بلکہ اپنی خاطر۔ اپنے مستقبل کی بقاء کیلئے، ان لوگوں کیلئے جن کو آ پ تحفظ دینا چاہتے ہیں ،اپنے بچوں کیلئے، اپنے ان پیاروںکیلئے جن کی آپ تدفین بھی نہ دیکھ سکیں۔

پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغازمگرسمجھو توسہی! عتیق گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اسلئے نازل نہیں فرمایا کہ یہ مذہبی طبقے کا ایک کاروبار بن جائے۔ مسٹنڈے لوگ فرقہ واریت کے نام پر ایکدوسرے کی مخالفت کا بازار گرم کرکے نفرتوں کے بیج بوتے رہیں اور اپنا کاروبار چمکائیں اور عوام رشد وہدایت کی دولت سے محروم رہے ۔یہ تو قیامت تک لوگوں کی ہدایت کا آخری ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبیۖ سے فرمایا کہ انک لاتھدی من احببت ” بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں”۔روایت میں ابوطالب نے آپۖ کی چاہت کے باوجود اسلام قبول نہ کیا۔ نبی ۖ نے عمر بن خطاب و عمرو بن ہشام عمروین میں ایک کیلئے ہدایت مانگی جو عمر بن خطاب کے حق میں قبول۔ عمرو بن ہشام ابوجہل ہی رہا۔ عرب دو الگ ناموں کوایک کرتے ۔ حسنین کا معنی دو حسن ہیں اور مراد حسن و حسین ہیں۔ عمرو اور عمر دو الگ نام ہے۔ آخر میں واؤ لگانے سے عمر و کا تلفظ اردومیں عمروعیار غلط مشہور ہے۔ یہ عَمر ہے اور بغیر واؤ کے عُمر ہوتا ہے۔
رسول اللہ ۖ کے ذریعے اللہ نے اقدار دکو بدل دیا تھا۔ نسب وسرداری اور دنیا داری ومالداری کو سب کچھ سمجھنے والے ابوجہل، ابولہب، امیہ، عتبہ اور ابوسفیان وغیرہ کے مقابلے میں بلال حبشی، صہیب رومی، سلمان فارسی اور حضرت ثوبان وغیرہ کے کردار نے عزت اور جگہ بنالی۔ حضرت ابوبکر و عمر ، حضرت عثمان و علی اور حضرت حسن نے خلافت راشدہ کا اعزاز حاصل کیا۔ اہلسنت اور اہل تشیع دونوں نے حضرت حسن کی شخصیت کو خاص وہ اہمیت نہ دی، جسکے وہ مستحق تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”خبردارظلم نہ کرنا، خبردارظلم نہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا ! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔جنگ جمل وصفین میں ایک دوسرے کی گردنیں ماریں ۔آج تلخ یادوں کو مختلف انداز میں زندہ کیا جارہا ہے اور نبیۖ نے فرمایا تھا کہ میرے بیٹے حسن کے ذریعے اللہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروادے گا۔ حضرت حسن کے کردار سے خونریزی رُک گئی مگر طرزِ خلافت امارت میں بدل گیا۔ بنوامیہ پھر بنوعباس نے اقتدار کوخاندانی بنیاد پر قابو میں رکھا۔
جب خلافت کے استحقاق پر بحث چل پڑی تو دیندارطبقہ بنوعباس سے زیادہ اہلبیت کو حکومت کا حقدار قرار دیتاتھامگر ابن الوقتوں نے فیصلہ کیا کہ اہلبیت نبی ۖ کے چچازاد علی کی اولاد ہیںاور بنوعباس نبیۖ کے چچا عباس کی اولاد ہیں جس کی وجہ سے بنوعباس خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔ حضرت ابوطالب کو غیرمسلم قرار دینے کیلئے کہانی گھڑی گئی یا حقیقت تھی؟ مگر بنوعباس کے خلفاء کو سپورٹ کیا گیاتھا۔ پھر یہ بھی بھول بیٹھے کہ چچا اور بھتیجے کی اولاد کی بنیاد پر خلافت کے استحقاق کا مسئلہ بنتا تھا تو پھر حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی خلافت کا کیا بنتا ہے جو چچاتھے اور نہ چچازاد بلکہ بنی ہاشم کے خاندان سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے؟۔ ڈھیرسارا مواد سیدھے سادے طریقے سے فرقہ واریت کی پیچیدگیوں کیلئے زبردست ایندھن بن گیا۔ شیعہ ، اہلسنت، معتزلہ اور بہت سے غالی اور عالی گروہوں نے جنم لیا تھا۔
احادیث کی کتب میں فضائل اہلبیت اور فضائل صحابہ کے حوالہ سے بڑا مواد تھا مگر معاملہ کسی نتیجے پر نہ پہنچتا۔ محققِ عصرِ رواں علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی کی ضخیم تصنیف” تفتازانیہ” میں درسِ نظامی کے حوالہ سے ایک بڑی معروف شخصیت علامہ سعدالدین تفتازانی کے حوالے سے بحث ہے کہ وہ صحیح اہلسنت کے نمائندے تھے یا اہل تشیع سے متأثر تھے؟۔ درسِ نظامی کے طلبہ ہی نہیں فرقہ وارانہ ، مسلکانہ اور مذہبی معاملات سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ بڑا تحفہ ہے۔ اعتدال و توازن کی بنیادپر باکمال لوگ لاجواب سروس کی عمدہ کوشش ہے۔ تاہم انسان میں ماحولیاتی کمزوری ہوتی ہے اور اس سے کسی نہ کسی حد تک سب متأثر ہوتے ہیں اور کوئی اس سے مبرا نہیں ہوتا ہے لیکن مخالف بھی اس علمی گفتگو اور اسکے اندازِ بیان کو داد ضرور دیں گے۔
میرے نزدیک تو فرقہ واریت کی بھول بھلیوں اور پگڈنڈیوں سے نکلنے کیلئے یہ کہنے میں بھی حرج نہیں کہ اسلام کا یہ حشر کیا گیا ہے کہ جس طرح تفتازانیہ میں کتاب کی تمام علمی مباحث کو چھوڑ کر تفتازان اور تفتازانی کی نسبت کو چھوڑ کر” تفتا”کے لفظ کوالگ اور” زانی” کے لفظ کو الگ کرکے صاحبِ تصنیف کا مذاق اڑایا جائے۔ جس کا وہم وگمان بھی علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی کے افکار میں نہیں۔ سہیل وڑائچ نے ایک دن جیو کیساتھ علامہ اقبال سے خاص شغف رکھنے والے کا انٹرویو لیا۔ نیٹ پر موجود ہے جس میں وہ علامہ اقبال کی فارسی شاعری سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”ہم پر علماء ومشائخ کا بڑا احسان ہے جن کے توسط سے اسلام ہم تک پہنچا ہے، مگر اللہ اور رسول ۖ اور جبریل حیران ہونگے کہ ہم جو اسلام لائے تھے اور ان لوگوں نے اسلام کا جوحال بنارکھا ہے اسکا اس اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ”۔
مفتی سیدشاہ حسین گردیزی نے لکھاہے کہ ” قرآن حکیم ہے لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری دیتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا فرمان اذا وسد الامر الیٰ غیر اہلہ تنظر الساعة جب معاملہ غیر اہل کے سپرد ہوجائے تو پھر قیامت ہی کا انتظار کیا جائے، انصاف وہیں ملے گا، اس نظام اور اس دنیا میں اس کی امید عبث ہے”۔ تفتازانیہ، صفحہ:13
اگر علامہ شاہ حسین گردیزی مولانا مودودی، مولانا احمدرضاخان بریلوی اور مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ سمیت قرآن کے تمام معروف مترجمین کا اسی آیت پر محاسبہ یا اصلاح کرتے تو یہ تفتازانیہ کی ابحاث سے زیادہ مفید ہوتا ۔سورہ بقرہ کی اس آخری آیت کا اتنا غلط ترجمہ مشہورکیا گیا ہے کہ اللہ کے کلام قرآن پاک کے اندر بھی تضاد نظر آتا ہے اور انسانی فطرت سے بھی اس کا مفہوم قطعی طورپر ہم آہنگ نہیں لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ اللہ ہم سے کیا کہہ رہا ہے بلکہ ہم بہت خشوع وخضوع کیساتھ اپنے اوپر جھوٹی رقت طاری کرکے تلاوت کے ثواب کو ہتھیانے کے درپے ہوتے ہیں۔ فلم اور ڈرامہ کے اداکاروں کی طرح عوام کو کسی حد تک انٹرٹین کرکے اپنی دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے کے گر سمجھ گئے ہیں۔
میری سکینڈ وائف ( دشتی بلوچ تربت ) نے مجھ سے فون پر کہا کہ ” اللہ بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اس نے قرآن میں کہا ہے کہ میں انسان کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر میں نے دیکھ لیا کہ مجھ پر میری طاقت سے زیادہ بوجھ آپ کی ڈانٹ سے پڑگیا تھا”۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ قرآن کو سمجھنا اب مشکل نہیں رہا، جب سوال اٹھتا ہے تو جواب آتا ہے۔ درسِ نظامی کی تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قرآن سمیت ہر معاملے پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مفاد پرست ٹولے نے درسِ نظامی پر آج قبضہ کررکھا ہے۔ ذلک الکتٰب لاریب فیہ فاتحة الکتاب کے بعدالبقرہ کا الم کے بعد پہلا جملہ ہے۔ جس پر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ذٰلک اسم اشارہ دور کیلئے ہے جبکہ کتاب قریب ہے لہٰذا ھذا الکتاب ہونا چاہیے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے روایت نقل کی، جو ضروری علم کے حوالہ سے ہے، فرمایا کہ ” علیکم بالعلم وعلیکم بالعتیق تم پر علم کی پیروی لازم ہے اور تمہارے اوپر عتیق کی پیروی لازم ہے”۔ نبیۖ نے فرمایا: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین”تمہارے اوپر میری سنت کی پیروی لازم ہے اور رشدوہدایت والے خلفاء کی پیروی لازم ہے”۔خلفاء راشدین نے مہدیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے خلافت کو خاندان کی لونڈی نہیں بنایا تھا۔ بخاری کے استاذ نعیم بن حماد نے یہ روایت چار مرتبہ اپنی کتاب ”الفتن” میں نقل کی ہے کہ عن عبداللہ بن عمروقال : قال رسول اللہ ۖ اذا ملک العتیقان عتیق العرب و عتیق الروم کانت علی ایدیھما الملاحم
حدیث نمبر1315،1349،1358،1417، عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ دوعتیقوں کوجب اقتدار ملے گا تو انکے ہاتھوں سے جنگیں جاری ہونگی ، عتیق العرب اور عتیق الروم ۔ قیامت تک بہت سی شخصیات کا احادیث میں ذکر ہے۔کئی مہدیوں اور دجالوں کا ذکر ہے۔ اگر میں اپنے بارے میں کہوں کہ میں وہ عتیق ہوں جسکا ذکر مولانا یوسف لدھیانوی کی کتاب میں ہے تو کوئی کم عقل یہ سوال اٹھائیگا کہ میں وہ ہوں کا جملہ غلط ہے اسلئے کہ وہ دور کیلئے آتا ہے ،آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ میں یہ عتیق ہوں۔ اردو کے اہل زبان یہ سمجھتے ہیں۔ قرآن کی آیت ذلک الکتاب لاریب فیہ پر ابوجہل وابولہب نے سوال نہ اٹھایا کہ عربی غلط ہے مگر جو لوگ گرائمر کی مدد سے عربی سیکھتے تھے انکے ذہن میں سوال اٹھ گیا۔ درسِ نظامی میں سوال وجواب رٹے رٹائے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ”اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے”۔ ترجمہ کرنیوالوں نے اپنا غلط رنگ جمایا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ ” اللہ کسی نفس کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ نفس پر اس کی طاقت سے بڑا بوجھ پڑتا ہے جبھی تو اس کی روح پرواز کرتی ہے۔ اگر اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو پھر کیا اللہ کوئی کم عقل مولوی ہے؟۔ جو سکھائے کہ ربنا ولاتحمل علینا اصرًا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا لاتحملنا مالا طاقة لنا بہ”اے ہمارے ربّ! ہم پروہ بوجھ نہ ڈال جس طرح ہم سے پہلوں پر آپ نے بوجھ ڈالا تھا ،اے ہمارے ربّ! ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا”۔ اللہ تعالیٰ انسان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھر اسی آیت کی یہ دعا بے معنیٰ ہوگی۔ اللہ نے یہ فرمایا :اللہ ہرنفس کو وسعت کے مطابق مکلف بناتا ہے( یعنی دائرہ اختیار کے مطابق اس سے پوچھ گچھ ہوگی) آرمی چیف ، وزیراعظم اور سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم کیلئے ناک رگڑوائی ۔ایران امریکہ کی جنگ چھڑنے کے خدشے پر پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم بلاسوچے سمجھے کر ڈالی مگر جس آئین میں قرآن و سنت کا سب سے اہم اور بنیادی کردار قرار دیا گیا ہو ،اسکے ترجمے میں بہت بڑی غلطی کو برداشت کرنا اسلام اور پاکستان دونوں کیساتھ غداری ہے۔ پارلیمنٹ کا مقصد اقتدار کیلئے ایکدوسرے کی ٹانگ کھینچنا ہی رہ گیا ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کا دور ہے شعور کا راستہ روکا گیا تو بڑا تصادم ہوسکتا ہے۔
مفتی شاہ حسین گردیزی نے حدیث لکھی کہ ”معاملہ نااہلوں کے سپردہوجائے تو پھر ساعہ کا انتظار کیا جائے”۔ ساعة سے مراد قیامت نہیں بلکہ دنیا میں دوبارہ خلافت علی منہاج النبوة کے قیام کی خوشخبری بھی ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ، مودی، عمران خان اور دنیا بھر کے موجودہ حکمرانوں پر تاریخ کے بدترین نااہلی کا گمان نہیں یقین ہے اور اس سے بڑی نااہلی کیا ہے کہ عمران خان کرپشن کیخلاف آیااور کہتا ہے کہ حکومت نے ناجائز سبسڈی دی اور ذمہ دار حکومت سے باہر جہانگیرترین ہے جس نے جہاز بھر بھرکر لوٹوں کے ذریعے لوٹوں کی مخالفت کرنے والے کی حکومت قائم کی۔ مودی کے دور میں ہندوستان، ٹرمپ کے دور میں امریکہ جل رہاہے اور سعودی عرب بدترین کرائسس میں ہے۔ایران نے جہاز گرانے کے بعد حقائق کا انکار کیا پھر اعتراف بھی کرلیا۔ یہ حکمرانوں کی نااہلی کی انتہاء ہے جو دنیا پر مسلط ہیں۔
قرآن میں باربار پڑھی جانے والی سات آیات پر مشتمل سورۂ فاتحہ اور قرآن کا خاص طور پر ذکر ہے۔ بعض مصاحف میں فاتحہ کی آیات کے نمبر دینے سے اجتناب کیا گیا ہے اور بعض میں آیت کے گول نشانOکے بغیر ہی غلط نمبر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ ایک گول نشان کااضافہ کرنے کی جرأت بھی کسی سے نہیں ہوئی ہے۔ یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے کہ 114سورتوں میں صرف ایک توبہ کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں ہے تو کسی نے جرأت نہیں کی ہے کہ اسکا اضافہ کردیتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح سورتوں کے اپنے نام ہیں،اسی طرح عام زباں میں سورہ کی ابتدائی آیت سے مراد بھی وہی سورت لی جاتی ہے۔ جیسے سورة الاخلاص اور قل ھواللہ احد سے مراد ایک ہی سورت ہے۔ چونکہ بسم اللہ سورتوں کے آغاز میں موجود ہے اسلئے بسم اللہ کو چھوڑ کر بعض روایات میں آیا ہے کہ ہم نے نماز کی ابتداء پر الحمدللہ رب العٰلمین سنا ہے جس کا مقصد یہی تھا کہ صحابہ کرام سورۂ فاتحہ سے نمازکا افتتاح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں کم عقل اور متعصب طبقات نے اس کو دوسرا رنگ دیدیا کہ صحابہ بسم اللہ کے بغیر ہی نماز پڑھتے تھے۔پھر اس بحث کو مزید الجھاؤ کا ذریعہ بنادیا گیا کہ کس کے نزدیک بسم اللہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی؟، کس کے نزدیک فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں؟۔ کس کے نزدیک دونوں کی گنجائش ہے؟۔ پھر یہ تعلیمی نصاب کا حصہ بنادیا گیا کہ امام شافعی کے نزدیک بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا حصہ ہے اور امام مالک کے نزدیک قرآن کا حصہ بھی نہیں ہے۔ احناف کے نزدیک اصل اور درست بات یہی ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شک ہے اور شبہ اتنا قوی ہے کہ اگر قرآن کی کسی آیت پر شک کیا جائے تو بندہ کافر بن جائیگا مگر بسم اللہ پر شک کرنے یا اس کا انکار کرنے سے کوئی کافر نہیں بنتا۔ بریلوی دیوبندی نصابِ تعلیم کی کتابوں ”نوالانوار” اور ” توضیح تلویح” میں یہی تعلیم دی جارہی ہے۔
پڑھایا جاتاہے کہ کتابت کی صورت میں قرآن نہیںاور فقہ وفتوے کی کتابوں میں مسائل ہیں کہ قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا اور سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے۔مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن امتحان میں ناکامی کی وجہ سے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی چھوڑ کر گئے تھے اور بفضل تعالیٰ مجھے پہلے سال کے ابتدائی مہینوں میں علم الصرف اور قرآن کی کتابت پر بحث کرنے میں ایک معتبرمفتی کو بدترین شکست دینے کی وجہ سے علامہ تفتازانی کا خطاب مل گیا تھا۔
علماء ومشائخ سب کے سب نیک وصالح ضرور گزرے ہیں اور مجھے عربی کے اس شعر کو دل سے بہت عقیدت کیساتھ گنگنانے میں بڑا زبردست لطف آتا ہے۔
احب صالحین ولست منھم لعل اللہ یرزقنی صلاحا
ترجمہ:” میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں مگر خود ان میں سے نہیں ہوںشاید کہ اللہ تعالی ان سے اس محبت کی برکت سے میری بھی اصلاح فرمادے”۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الا بذکراللہ تطمئن القلوب ” خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے”۔ آیت کے سیاق وسباق میں واضح ہے کہ یہاں آیت میں ”ذکر”سے مراد قرآن پاک ہے۔ کافروں کو اعتراض تھا کہ اللہ کی آیات ہمارے لئے اطمینان بخش نہیں اسلئے دوسری آیات نازل ہونی چاہییں۔ انکے جواب میں اللہ نے ایمان والوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ آیات سے مطمئن ہیں۔
ہم نے علماء وصوفیا کی زباں سے سن کر یقین کرلیا کہ ذکرکے وظائف مراد ہیں اور اس پر کسی دور میںخوب عمل بھی کیا بلکہ ہماری وجہ سے طلبہ اور علماء میں تصوف ہی کے ذریعے دینداری کی ایک نئی لت بھی پڑگئی۔تصوف اور تشدد دونوں کو بنیاد فراہم کرنے کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم بفضل تعالیٰ میں نے ہر میدان میں عتیق ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔ جب ہماری خانقاہ کے علماء ومشائخ تصوف کی دنیا میں مست تھے تو ہم نے ان کو جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاست سکھائی اور جب ہمارے شیخ حاجی عثمان پر فتوے لگے تو بڑے بڑے علماء ومشائخ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے تھے اور ہم نے طوفانوں کارخ بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگائی تھی۔
طوفان کررہاتھا میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے
جب مجاہدین امریکہ کیلئے لڑبھی رہے تھے اور شکایت بھی تھی تو ان کو خلافت کے راستے سے ہم نے پہلی بار آشنا کیا تھا۔ تصویر کو ناجائز سمجھا تو ایک دنیا کو اس کا مخالف بنادیا اور جب بات کھل گئی تو لگی لپٹی کے بغیر نام نہاد مفتیان اعظم کا پول کھولنے میں کوئی دیر نہیں لگائی ۔ نتیجے میں تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے جو لاؤڈاسپیکر پر نمازو آذان دینے کے قائل نہیں تھے،سرِ عام ویڈیو کے ذریعے اپنے بِلوں سے باہر آگئے۔ وہ پختون اور علماء جو کسی کو بھی مہدی کا نام لینے پر قتل کرتے تھے ،کسی حدتک پختون قبیلے کے ملاعمرسے بھی خراسان کے مہدی کا گمان کرنے لگے۔
مولانا یوسف بنوری کے شاگرد نے ” مہدی منتظر” پر کتاب لکھی۔ اپنے سے بڑا نام مولانا بنوری کا لکھ دیا ، دور سے لگتاہے کہ مولانا بنوری کی کوئی کتاب ہے۔ جس میں تفصیل سے مہدی کی حکومت قائم ہونے کے بعد کئی شخصیات اور انقلابات کا ذکر ہے۔ پھر ان کے بعد منصور کا ذکر ہے اور اس کو بھی مہدی قرار دیا گیا ہے۔ موصوف نے تمام تفصیلات کا ذکر کرنے کے باوجود لکھ دیا کہ ”ملاعمر وہی منصور تھا”۔ جب وہ مہدی آیا ہے اور نہ اسکے بعد انقلابات آئے ہیں تو پھر منصور کیسے آگیا؟۔
پاکستان میں نظام ہے، عدالت ہے، ریاست ہے، میڈیا ہے، حکومت اورعلماء ہیںبلکہ اب تو ایک سوشل میڈیاکا بھی بہت بڑا کردار ہے۔اپنا مثبت پیغام عوام تک اور اہل اقتدار تک پہنچانا بہت آسان ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے بارہ خلفاء کا ذکر احادیث کے حوالے سے کیا ہے اور لکھ دیا ہے کہ ابھی تک یہ بارہ خلفاء نہیں آئے ہیں جن پر امت کا اجماع ہوگا اور یہ سب قریش سے ہونگے۔ حضرت علامہ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف (مرشد سیدعطاء اللہ شاہ بخاری) نے اپنی تصنیف ”تصفیہ ما بین شیعہ وسنی” میں لکھ دیا ہے کہ ”یہ بارہ خلفاء ابھی تک نہیں آئے ہیں جن پر امت کا اجماع ہوگا”۔ ہم نے نقشِ انقلاب، اخباراور کتابوں میں حدیث صحیحہ کا نقشہ بھرپور طریقے سے واضح کیا جس کی تمام مکاتب کی معروف شخصیات نے بھرپور حمایت کی، ڈاکٹر اسرار، پروفیسر غفور،جے یوآئی کے امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف، علامہ طالب جوہری ، مولانا عبدالرحمن سلفی اور اتحادا لعلماء کے مولانا عبدالرؤف۔
کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز” میں سینکڑوں علماء کی تائیدات تھیں۔میرے استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالیٰ نے لکھا کہ ” اسلام کی نشاة ثانیہ والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھنا ہوگا کہ اس امت کی اصلاح اسی طرح سے ہی ہوسکتی ہے جس طرح اس کی ابتداء میں اصلاح ہوئی تھی یعنی پہلے تعلیم تربیت اور پھر نظام کی طرف آنا ہوگا” ۔ مولانا فضل الرحمن کی نوشہرہ دیوبند کا نفرنس میں امام کعبہ کی آمد پر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے بھی عربی میں خیر سگالی کے کلمات کہے تھے اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے بھی کلمات کہے تھے۔ دونوں کی عربی ، علم واستعداد اور لہجے اور قابلیت کا اندازہ اس مختصر آزمائش سے لگایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالی نے عربی کی تقریر میں پاکستان ، پاکستانیوں کی لاج رکھ لی اور مفتی تقی عثمانی کو مولانافضل الرحمن نے شاید اپنے باپ کا بدلہ لینے کیلئے سب کے سامنے ایکسپوز کردیا تھا۔بالکل جاہل پختون اس سے زیادہ اچھی اردو بول لیتے ہیں جو ایک عالم فاضل عربی بول رہا تھا۔
کچھ تو مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة اور بینکاری کے نظام کیلئے خالصتاًمفاد کی خاطر بھی اپنے فتوے دئیے ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ بھی لگتاہے کہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہاہے جس کے ہمارے پاس دستاویزی ثبوت بھی ہیںاور ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بڑا نالائق ہے۔ قرآن کے ترجمے کی جو ریڑ ھ ماری ہے اور جو تفسیر لکھی ہے تو اس سے اسکی نالائقی پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے۔ جب بھی ان سے سنجیدہ رابطے کی کوشش کی ہے تو انکار کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ڈنڈے کے زور پر ہم انکے خلاف بول نہیں سکتے۔ ہماری تحریرات میں لٹھ مار کی کیفیت نمایاں ہے لیکن انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور ہمارے پاس ان کی بہت کمزوریاں ہیں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ہمارے مرشد حاجی عثمان نے شدید مخالفت کے دور میں ہمارے ساتھیوں کا کوڈ نام رکھا تھا، میرا نام ڈنڈے مار رکھا تھا۔ مولانا یوسف بنوری کے شاگرد نے مہدی کے حوالے سے جو کتاب میں پاکستان کے ڈنڈے والی سرکار کی طرف سے کردار کا ذکر کیا ہے۔اگر پاکستان کے اصحاب حل وعقد ہمیں کوئی کردار دیں تو پھر وہ دن دور نہیں کہ قرآن وسنت اور پاکستان کے جمہوری آئین کی مدد سے دنیا بھرمیں ایک عظیم انقلاب برپا ہوجائیگا۔ علامہ اقبال کی شاعری کو پھر ہر پاکستانی گائے گا۔
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے تو فیق
مولانا ابوالکلام آزاد نے حضرت علی ، حسن علیہ السلام اور فاطمہ علیہا السلام لکھ دیا تو کل مولانا آزاد پر شیعہ کی طرف راغب ہونے کا فتویٰ لگ سکتا ہے اور صحیح بخاری کو بھی اسی بنیاد پر شیعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مرزائی، شیعہ بریلوی کا فتویٰ لگانے والے اس بات کو سمجھ لیں کہ ختم نبوت اور سپاہ صحابہ کے مرکزی قائدین بھی ہمارے شانہ بشانہ ہونگے۔ صرف اس سے بھی قادیانی اور شیعہ پر بڑی زد پڑتی ہے کہ احادیث صحیحہ میں بارہ خلفاء قریش میں آئندہ ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا۔
پاکستان میں دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کا تعلق حنفی مسلک سے ہے اورمذہبی تعلیمی نصاب” درسِ نظامی ” دونوں کا ایک ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھ دیا ہے کہ ”سندھ ، بلوچستان، پنجاب، فرنٹئیر(پختونخواہ) ، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز یہی خطہ ہے ۔اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئے تو ہم اس سے دستبردار نہ ہونگے۔ حنفی مسلک کے بنیادی اصول قرآن کی طرف رجوع سے یہ انقلاب آئیگا۔ ایران کے شیعہ بھی اس کو قبول کرینگے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اہلبیت کے شاگرد تھے۔ حنفی مسلک کے علاوہ یہاں کے لوگ کسی بات کو قبول نہیں کرینگے”۔ مولانا سندھی کی تحریر قرآن کی آخری پارے کی تفسیر ”المقام المحمود” میں سورة القدر کی روشنی میں ہے اور اتفاق کی بات یہ کہ مولانا سندھی مسلم لیگ کے نہیں کانگریس کے رکن تھے اور ان کا کسی ایک خطے اور قوم پر توجہ دیکر قرآنی انقلاب برپا کرنے کی تحریک پاکستان سے پوری ہوسکتی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو بھی مسلم اکثریت والے علاقوں میں ہم قرآنی انقلاب برپا کرکے ہندوستان بلکہ دنیا کو جہالتوں کے اندھیروں سے نکال سکتے تھے۔ اسلام نفرتوں اور تعصبات کا خاتمہ کرکے انسانی بنیادوں پر انقلاب کا داعی ہے لیکن سرکاری مولوی حضرات ہمیشہ دوسروں کے آلۂ کار بن کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اسٹیبلشمنٹ کے پیداوار نوازشریف کی چشم وچراغ مریم صفدر نواز کے پیروں کے ناخن پر منظور پشتین کو قربان کردیں گے اور قوم پرستوں اور ملاؤں نے ہی اسلام، جمہوریت اور اپنی قوم کا بیڑہ غرق کیا ہے۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی اکثریت تھی، جہاں پختونوں اور اسلام کا اقتدار قائم ہوتا مگر قوم پرستوں اور ملاؤں نے مل کر عطاء اللہ مینگل کووزیراعلیٰ بنادیا تھا اور صوبہ سرحد میں قوم پرستوں کی اکثریت تھی مگر مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔ یہ لوگ نہ تو جمہوری ہیں ، نہ قوم پرست ہیں اور نہ اسلام کے وفادار بلکہ پرائے گو پر پادمارکر شرم بھی نہیں کھاتے ہیں۔ قوم ،وطن اور اسلام سے محبت ایمان کا تقاضہ ہے لیکن اس سے بھی کوئی بڑی منافقت نہیں کہ پہلے ہندوستان کو اسلام کے نام پر دولخت کردیا کہ وطن سے محبت بولہبی ہے پھر اسلام کو وطن پر قربان کیا کہ سب سے پہلے پاکستان۔
دَ خپلے خاورے لُٹے وی کہ کانڑی
ما تہ خکاری د جنت د گلو پانڑی
مرگ پہ ژوند زما لہ چا گلہ نشتہ
کہ دے نہ کرل غنم بیا بے وانڑی
جناور ڈیر دی خو یو سپیی بل خر
پریدہ کہ سوک غاپی کہ سوک ہانڑی
د اللہ سرہ د بندگانو سہ کمی دہ؟
پہ خپل فضل زمونگ قام چھانڑی
اصلی خبرہ د تقویٰ و دکردار دہ
بے خوی سید نہ اعلیٰ یو خہ کٹانڑی
چرتہ ابولہب وابوجہل چرتہ بلال
داسے قریش نہ خلق حبشی خہ گانڑی
وینہ د پلار آدم، مینہ د مور حواء دہ
کزشہ دے تعصب لہ بالا مانڑی
پنجاپی تہ ولے وای تور شاہین
پختون دے پڑے کڑو د زانڑی
ملا پہ خپل جنت ھم اُور لگہ وی
کہ مومی بُٹی د اخزی او لانڑی
دَ وران نصاب کہ اصلاح اُو نہ شوہ
نو ورک بہ شئی د جماعت ملوانڑی
داہل حق دتاریخ بدلہ مے واخستہ
دفتوے ماہر بربنڈ دی تنڑپتانڑی
دانقلاب پہ کنڑ غرب بہ زر پوہ شے
ماگڑدولی دی دکفر ڈیر چپانڑی
عتیق ستانہ غٹ غٹ شیخان زغلی
تہ کارمہ لرہ پہ چنڑی چانڑی
” اپنی مٹی کے ڈھیلے ہوں یا پتھر، مجھے جنت کے پھولوں کے پتے دکھتے ہیں۔ موت و زندگی پرمیرا کسی سے گلہ نہیں، اگر گندم بوؤ نہیں تو پیسوگے۔ جانور دنیا میں بہت ہیںایک گدھا،دوسرا گھوڑا،چھوڑدو کوئی بھونکے یا کوئی ڈھینچو ڈھینچو کرے۔ زمین پر اچھے بندوں کی کیاکمی مگر اللہ نے فضل سے ہماری قوم کا انتخاب کیا۔ اصلی بات تقویٰ وکردار کی ہے، بد خصلت سید سے اعلیٰ وارفع اچھا خانہ بدوش ہے۔ خون باپ آدم کا محبت ماںحواء کی ہے، اُتروتعصب کے بلند مورچہ سے۔ پنجابی کو کیوں کہتے ہو کالے شاہین، پختونوں کو بنادیاہے کونجوں کی رسی۔ملا پھر اپنی جنت کو بھی آگ لگاتا ہے، اگر اسے کانٹے دارجھاڑیاں یا لائیاں مل جائیں ۔بگڑے نصاب کی اگر اصلاح نہ کی تو مسجدکے ملوانڑے( مُلے) صفحہ ہستی سے غائب ہونگے۔میں نے اہل حق کی تاریخ کا بدلہ چکادیا، فتوے کے ماہر ننگے تتر بتر ہوگئے ہیں۔انقلاب کی گھن گرج کو جلد سمجھ جاؤگے، میں نے کفر کے کافی چیتھڑے اُڑادئے ہیں۔ عتیق تم سے بڑے بڑے شیخ علماء بھاگتے ہیں،آپ غرض نہ رکھو ،ان طلبہ ملبہ سے”۔
جب خان عبدالغفار خان ، عبدالصمد خان اچکزئی شہید نے گاندھی ، نہرو اور سردار پٹیل سے نہ صرف محبت رکھی بلکہ افغانستان کو چھوڑ کر بھارت کیساتھ متحدہ ایک ہندوستانی قومیت کا راگ الاپا توہم سندھی، بلوچ اور پنجابیوں سے پختونوں کو کیسے جدا کرسکتے ہیں؟۔ جمعیت علماء اسلام کو ہندوستان میں جمعیت علماء ہند کابھارت میں سیکولر اسلام پسند ہے تو پاکستان طالب زدہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ ہم تو وہ ہیں کہ اپنے وطن کے ڈھیلوں اور پتھروں کو بھی جنت کے پھولوں کی پتیاں سمجھتے ہیں۔ جس طرح نوح علیہ السلام کی بیٹے کنعان اور ابراہیم علیہ السلام کی باپ آذر سے محبت فطرت کا تقاضہ تھی اسی طرح اپنے قبیلے، شہر، علاقے، ملک اور براعظم سے محبت فطرت کا تقاضا ہے۔جب عقیدے اور نظرئیے میں دورنگی آتی ہے تو پھر ہمیشہ انسان قوتِ پرواز سے محروم رہتا ہے۔ منافق ادھر کا رہتاہے اور نہ ہی ادھر کا۔ لا الی ھا اولاء ولا الی ھا اولاء وابتغ بین ذٰلک سبیل ” نہ وہ ادھر کے ہوتے ہیں نہ ادھر کے ،دونوں کے بیچ میں راستہ تلاش کرتے پھرتے ہیں”۔
حضرت امام ابوحنیفہ کے مسلک کی بنیاد پر جو اصولِ فقہ کی تعلیم دی جارہی ہے تو اس کی بنیادی روح یہ ہے کہ قرآن کی واضح آیات کے مقابلہ میں احادیث صحیحہ کو بھی بالکل رد کردیا جائے، کیونکہ قرآن کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہیں ہوسکتی ہے اور اگر حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو پھر میرے مسلک کو دیوار پر دے مارا جائے۔ جو حدیث صحیحہ ہی میرا مذہب ہے۔ علامہ اقبال نے ہندوستان کے بارے میں کہا تھا کہ ”میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے یعنی ہندوستان” مگر اپنے مؤقف سے پھر رجوع کرلیا تھا۔ امام ابوحنیفہ اپنے مؤقف پر ڈٹے تھے۔ احناف کا سب سے اچھا اور اہم اصول یہ بھی ہے کہ ضعیف احادیث میں تضاد ہوتو بھی رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ جہاں تک ممکن ہو تطبیق دی جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلکِ حنفی کے نام پر قرآن کو بھی تضادات کا مجموعہ بنادیا گیا اور یہ سب جہالتوں کا ہی نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا کی قید سے رہائی پائی تھی تو امت کے زوال کے دواسباب بتائے ،قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی۔ مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان نے لکھا کہ ” فرقہ پرستی بھی قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے”۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے کہا کہ ” ہم نے مسلکوں کی وکالت کرتے ہوئے اپنی زندگی ضائع کردی، قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے”۔ جنہوں نے زندگی بھر درسِ نظامی کی خدمت کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا وہ نصابِ تعلیم کو سمجھتے تھے کہ اس کا کیا کردار ہے؟مگر جن نالائق در نالائق در نالائقوں نے اس کواپنا سہل ذریعہ معاش سمجھ رکھا ہے انکے دل میں نہیں بلکہ پیٹ کی اوجھ اور دماغ کی رگ میں درد اُٹھ رہاہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی عصر حاضر میں مساجد کے علماء و مقتدی اور مدارس کے مفتیان اپنا حال دیکھ سکتے ہیں۔ سیاسی مذہبی علماء اور مذہبی لبادے والے فرقے ، جماعتیں اور تنظیموں کو اپنا عکس دکھائی دے سکتا ہے۔ سود کو حلال کرنے کیلئے تقلید کی بھی ضرورت نہیں ہے اور باقی ہر اس کام میں تقلید کی ضرورت ہے جن کو سود کی طرح مختلف ادوار حیلے باز اور سرکاری ملاؤں نے بدل ڈالا تھا۔ احادیث میں تو مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دیاگیا ہے اور امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا مزارعت کے ناجائز اور سود ہونے پر اتفاق تھا مگر جنہوںنے اس حکم کو بدل ڈالا تھا تقلید ان حیلہ سازوں کی ہورہی ہے جن کا مسلک سرکار کی سرپرستی کیوجہ سے ہر دور میں سکہ رائج الوقت رہا ہے۔ مفتی محمود سے مولانا فضل الرحمن تک اور مفتی زرولی خان،مولانا سلیم اللہ خان ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور پاکستان کے مدارس نے مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کی طرف سے پہلے زکوٰة اور سودی بینکاری پر کسی کی بات نہیں مانی لیکن سکہ رائج الوقت سرکارکی سرپرستی کی وجہ سے عثمانی برادران ہی رہے ہیں۔ آنیوالے دور میں تاریخ کے تمام سرکاری مرغوںشیخ الاسلاموں کی طرح مفتی تقی عثمانی اور انکے فرزندوں کا ہی نام رہے گا۔ مولانا آزاد کی کتاب” تذکرہ” میں شیخ الاسلاموں کی اہل حق کے خلاف حقائق کی تاریخ پڑھ سکتے ہیں لیکن اس دور کے شیخ الاسلام کچھ کچھ قابلیت بھی رکھتے تھے اور حکومت نے باقاعدہ ان کو عہدے کا اہل سمجھ کر شیخ الاسلام کا منصب سونپا ہوتا تھا۔ یہ لوگ تو اپنے آپ ہی شیخ الاسلام بنے پھرتے ہیں۔ ان سے کوئی اپنا پوچھ ہی لے کہ بھیا شیخ الاسلام کس نے بنایا ہے؟۔
پہلی بات یہ ہے کہ طلاق و حلالہ کے حوالے سے قرآنی آیات اور احادیث میں کوئی تضاد نہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی کے علاوہ تمام صحابہ میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ائمہ اربعہ کا مسلک درست تھا اور چوتھی بات یہ ہے کہ طلاق وحلالہ کے حوالے سے درسِ نظامی کی تعلیم کا تقاضہ یہی ہے کہ باہمی صلح کی بنیاد پر معروف طریقے سے عدت میں، عدت کی تکمیل پر اور عدت ختم ہونے کے عرصہ بعد بھی رجوع ہوسکتا ہے اور باہمی صلح اور معروف طریقے کے بغیر عدت کے اندر بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔ جن احکام کو قرآن وسنت و اسلاف نے پیش کیا ان کو غلط رنگ دیا گیا،وہ غیرمسلم کیلئے بھی قابلِ قبول ہیں۔

قرآن کریم عظیم الشان انقلاب کی ہی خبر دے رہا ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
دنیا میں اسلام کا تعارف مذہب ہے مگراسلام دینِ فطرت ہے۔ شیعہ وسنی علماء وذاکرین نے مذہب کو اپنا ذریعہ معاش بنارکھا ہے اور سیاست کے علمبردار اسلام کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔شیعہ کیلئے بڑی بات حدیثِ قرطاس کی ہے۔ نبیۖ نے تحریری وصیت لکھناچاہی کہ خلیفہ و امیرالمؤمنین علی ولی اللہ کو بنایا جائے۔ حضرت عمرنے کہا کہ” ہمارے لئے قرآن کافی ہے”۔ حنفی مسلک کا سارا اصولِ فقہ اسی سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں صحیح احادیث قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نبیۖ کو اپنا جانشین نامزد کرنے کا اس سے زیادہ حق تھا جس طرح حضرت ابوبکر نے اپنا جانشین حضرت عمر کو نامزد کیا تھا۔ البتہ جانشین نامزد کرنے پر اختلاف جائز تھا اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے وامرھم شوریٰ بینھم و شاور ھم فی الامر کی آیات میں اصول وضع کردیا ہے ۔صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اہل مغرب کو قیامت تک حق پر قائم ہونے کی خبر دی گئی ہے اور اس سے مغرب کا جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے۔ اسلام ہی نے دنیا کو جمہوریت سکھائی ہے اور جمہوریت کے ذریعے سے خلافت کا قیام دنیا میں آئیگا تو اس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ انصار وقریش،قریش واہلبیت کے درمیان خلافت کے استحقاق کی مہم نے اسلامی سیاسی نظام کی جڑوں کو اتنا کمزور کردیا تھا کہ حضرت ابوبکر وعمر کے بعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمان کو مسند پر شہید کردیا گیا اور پھر خونریزی ، عدمِ اعتماد اور اسلام کی روح مفقود ہونے کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ اہل تشیع کی اکثریت کو قرآن اسلئے اچھا نہیں لگتا ہے کہ علی اور حسین کی اسمیں کھل کرتائید نہیں ہے اور اہلسنت کو قرآن سمجھنے کا شوق نہیں مگر اسلئے اچھا لگتا ہے کہ ہردور کے فرعون کیلئے بھی آیات پڑھی جاتی ہے کہ ” جس کو اللہ عزت دے اور جس کو ذلت دے ، جسے چاہے ملک کا اقتدار دے اور جس کو چاہے اس سے اقتدار چھین لے”۔ خلافت راشدہ کے بعد امیہ ، بنو عباس، خلافت عثمانیہ اور انگریز سرکار تک قرآن کی آیات کا سہارا لیا گیا۔ جسکے ہاتھ میں ڈنڈا تھا، اسکے گن گانے کی فقہ ایجاد کی گئی۔ ائمہ مجتہدین کے نزدیک دینی فرائض پر کوئی معاوضہ لینا جائز نہیں تھا ، احادیث صحیحہ میں زمین کو مزارعت یا کرائے پر دینا ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ سُود کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ۖ نے زمینوں کو مزارعت پر دینا بھی سُود قرار دیا۔ ائمہ مجتہدین امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام مالک کے نزدیک متفقہ طور پر زمین کو مزارعت پردینا سُود اور ناجائز تھا پھر بعد میں بعض حنفی علماء نے اپنا مؤقف بدل دیا اور زمین کو مزارعت پر دینا جائز قرار دیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی حضرت مولانا یوسف بنوری کے داماد حضرت مولانا طاسین صاحب نے بھی حقائق پر مبنی بڑی تفصیل کے ساتھ اپنا نکتہ نظر پیش کیا جس کو جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن سمیت بہت سے معتبر علماء نے بہت سراہا لیکن وہ گوشہ گمنامی کا شکار ہوئے اور مفتی تقی عثمانی نے پہلے سودی رقم سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا اور پھر بینکنگ کے سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دیا۔ آج کی طرح ہر دور میں علماء حق کا کردار پسِ منظر میں چلاگیا اور اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے والے شیخ الاسلام بن گئے۔ دیوبندی مکتبہ فکر کی مشہور شخصیت حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب نے بتایا کہ ایک بڑے تاجر نے یہاں آکر کہا کہ تم لوگ اپنا حق ادا نہیں کررہے ہو، سُود کو مفتی تقی عثمانی نے جائز قرار دیا ہے اور آپ لوگ کھل کر ان کی مخالفت نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ ”ہماری سنتا کون ہے؟ ”۔ مولانا قاری اللہ داد صاحب مدظلہ العالی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت آپ مجھے بڑے یاد آئے۔
حیدر آباد میں مفتی تقی عثمانی کے ایک شاگرد نے الزام لگایا ہے کہ طلاق و حلالہ کے حوالے سے مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ العالی پر دباؤ ڈالا گیاتھا۔ یہ بھونڈے الزام کسی کام کے نہیں ہیں۔ قرآن و سنت اور تمام مکاتب فکر کے ہاں اسلام کے غلبے کا تصور موجود ہے۔ اسلام کا غلبہ فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات کی بنیاد پر نہ ہوگا بلکہ اسلام آفاقی دین ہے جو انسانی فطرت کا بہترین شاہکار ہے۔ پاکستان کی سرزمین سے قوم ملک سلطنت کے ذریعے تمام مذہبی طبقات کی یکجہتی سے اللہ کا دین نافذ ہوگا اور پوری دنیا اسلام کو دیکھ کر اسکے سیاسی ، معاشی ، اخلاقی ، معاشرتی اور مذہبی معاملے کو قبول کرے گی۔ اسلام میں نسلی تعصبات نہیں، وطنی تعصبات نہیں، لسانی تعصبات نہیں ، قومی تعصبات نہیں، فرقہ وارانہ اور مذہبی تعصبات نہیں بلکہ انسانیت کا بہترین نظام موجود ہے۔ دین میں زبردستی کا کوئی تصور نہیں اور ظالمانہ نظام کسی طرح سے بھی کہیں بھی قابل قبول نہیں۔ کوئی انسان ایسا نہیں جو ظلم کو اپنی فطرت کے مطابق صحیح سمجھتا ہو۔ البتہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جب وہ بالادست ہوتے ہیں تو کمزور پر ظلم کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ جب عدل کا نظام قائم ہوگا تو کوئی ظالم اپنی ہٹ دھرمی پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ اسلام نے دنیا سے غلط اور باطل عقائد اور عقیدتوں کا جنون و جمودتوڑا تھا مگر آج فرقہ پرستی کی بنیاد پر لوگ پھر اسی جنون و جمود کا شکار ہوئے ہیں۔
غلطیاں سب سے سرزد ہوئی ہیںاور غلطیوں سے توبہ کا دروازہ موت تک بالکل کھلا ہے۔ ہم بہت سے تضادات کا زبردست شکار ہیں جب مذہبی طبقات حلال اور حرام کا تصور لیتے ہیں تو اس میں اپنے لئے گنجائش نکالتے ہیں اور دوسروں کیلئے راہ تنگ کردیتے ہیں۔ تصویر کو ناجائز سمجھتے ہیں مگر شوق سے ویڈیو بنواتے ہیں۔ پردے کو ضروری سمجھتے ہیں مگر اپنے اور پرائے کے درمیان اپنے کردار کا بہت تضاد رکھتے ہیں۔ کوئی سُود کو جائز قرار دے تو یہ رائے کا اختلاف ہے اور جوحقوق کی جنگ لڑے تو وہ اسلام کا باغی اور مرتد قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان امریکہ کی مدد کرے تو مجاہد لیکن افغان حکومت امریکہ کی آشیر باد لے تو کافر و گمراہ۔ یہ تضادات چلنے والے نہیں۔
ISIکے سابق افسر طارق اسماعیل ساگر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں بلیک واٹر کو کھلی چھوٹ ملی تھی جس نے مذہبی دہشتگردوں کو پیدا کیا۔ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ میں جب دہشتگردوں سے ملتا تھا تو اس وقت پوری دنیا ان کی حمایت کرتی تھی۔ سوشل میڈیا پر دونوں بیانات موجود ہیں۔ جب مشرکین مکہ کو جہالت ، سابقہ کفر اور اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرنا معاف ہوگیا تو ہم بھی مختلف جہالتوں سے گزرے ہیں اور توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ سب کو معاف کرسکتا ہے۔ جو ہوا سو ہوا مگر اب آئندہ کیلئے کوئی درست لائحہ عمل تشکیل دیں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہوجائے۔
رسول اللہ ۖ نے حضرت ابو طالب کیلئے ہدایت کی دعا مانگی تھی مگر اہل سنت کے بقول قبول نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ۖ نے حضرت امیر معاویہ کیلئے دعا مانگی تھی کہ اللہ ان کو ہادی اور مہدی بنادے۔ حضرت امیر معاویہ کے حق میں یہ دعا قبول تھی یا نہیں مگر ان کے دورِ حکومت کو خلفاء راشدین مہدیین میں شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ اور سنی سادات ہی نہیں اہل تشیع کیلئے بھی معاویہ کے نام سے کوئی بغض نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ یزید کے بیٹے معاویہ نے اہل بیت کی وجہ سے اقتدار چھوڑ دیا تھا۔ مگر معاویہ کا معنیٰ عربی میں ٹھیک نہیں ہے۔ اسلئے یہ نام نہیں رکھا جاتا ہے۔ صاحب کشاف تفسیر کے امام جار اللہ زمحشری نے لکھا ہے کہ معاویہ اس کتیا کو کہتے ہیں جو کتوں کو شہوت پر ابھارنے کیلئے آواز نکالتی ہے۔ بھیڑئے اور لومڑی کے بچے کو بھی معاویہ کہتے ہیں۔ حضرت علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی نے اپنی کتاب ”تفتازانیہ” میں ساری تفصیل لکھ دی ہے جو حال میں چھپی ہے اہل ذوق دیکھ سکتے ہیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام آباد عورت آزادی مارچ 2020

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وہ بھیانک دور جب دہشتگرد دندناتے پھرتے تھے اور سرکاری عمارتوں ، گاڑیوں اور شخصیات کے علاوہ مساجد اور امام بارگاہوں کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بناتے تھے۔ لیکن ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالتا تھا۔ عمران خان کھلاڑی نے جب ڈاکٹر طاہر القادری کیساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو ایک طرف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن شروع کیا تھا تو دوسری طرف عمران خان پنجاب پولیس کے گلوں بٹوں کو طالبان کے حوالے کرنیکی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس وقت حیاء مارچ کی نمائندگی ڈاکٹر طاہر القادری کی خواتین کررہی تھیں اور میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی عمران خان کا دھرنا کررہا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے حیاء مارچ کی نمائندگی کرنے کے بعد ایک ضمنی سیٹ کا الیکشن ہارا تو بعد ازاں اس سیاست کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ جبکہ میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی کرنے والے عمران خان کو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ سیٹیں اور ووٹ مل گئے۔ یہ کس کا کرشمہ تھا ؟ لیکن انہی خواتین نے جب پدرِ شاہی نظام کے خلاف علم بلند کردیا تو حکومت ، ریاست ، سیاست اور مذہبی طبقات کی طرف سے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی ایم کا تعلق بھی پی ٹی آئی والوں سے ہی تھا۔ جب کوئی انصاف طلب کرتا ہے تو اس کو ملک دشمن اور اسلام دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین روزانہ کی بنیاد پر جرنیلوں کو قبضہ کرنے کی دعوت گناہ دیتا تھا تو اس کی تمام دہشتگردی اور اجارہ داریوں کو برداشت کیا جاتا تھا۔
ہمارا ریاستی نظام امریکہ سے زیادہ کمزور ہے لیکن کوئی واقعہ جب امریکہ کے وائٹ ہاؤس سے صدر ٹرمپ کو بھگا سکتا ہے تو کوئی تحریک ہمارے نظام کو بھی تتر بتر کرسکتی ہے۔ جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں بینظیر بھٹو آئی تھیں تو نظام کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ حبیب جالب نے کہا تھا کہ
ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے
عورت آزادی مارچ والوں نے پدرِ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھائی تو ہر طرف سے لوگ اور ان کی جعلی لیڈر شپ انکے خلاف ہوگئی۔ نوشتہ ٔ دیوار کی ٹیم نے ثابت قدمی کے ساتھ ان نہتی خواتین کی حفاظت کا فریضہ پورا کرنے کی کوشش کی جن کو ریاست کی پولیس پر بھی اعتماد نہ تھا۔ درج بالا تصویر میں نوشتہ دیوار کی ٹیم نمایاں ہے جو خواتین پر پتھراؤ کے بعد پریس کلب سے ڈی چوک کی طرف کے سفر میں بالکل ساتھ ہے۔ سید شاہجہان گیلانی ، بلال خان ، علی خان نے بہت جرأت مندی کے ساتھ ظالموں کیخلاف مظلوموں کا ساتھ دیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سوشل میڈیا کے ورکر مرد میدان نہیں ہوتے لیکن یہ تصور غلط ثابت ہوا ہے۔
بلوچ نژاد سندھی ہدیٰ بھرگڑی وہی خاتون ہیں جس کی پہلی تقریر امریکہ کے خلاف اور طالبان کے حق میں تھی لیکن وزیرستان میں طالبان کیلئے سب سے زیادہ ایکٹو قوم محسود کے سرنڈر طالبان کو ایک مخصوص لباس پہنا کر پاکستان کا قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا جاتا ہے جس پر پاک فوج کو دل کی گہرائی سے سلام پیش کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ بے ضمیر قومی جذبات کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنی پشت میں بارود دبا کرملکی اثاثوں اور اپنی عوام کو تباہ کررہے تھے۔ ذیل میں ہم نے شہباز تاثیر اور قاری سعد اقبال مدنی کے بی بی سی پر نشر ہونے والے انٹرویوز بھی دئیے ہیں۔ اسلام کی خاطر قربانی دینے والے طبقات میں اگر درست شعور اجاگر ہو تو پھر بعید نہیں کہ ہماری ریاست ، ہماری سیاست اور ہمارا نظام بھی بدلے اور اس کیلئے صنف نازک خواتین کی طرح صرف اور صرف آواز اٹھانے کی قربانی اللہ کے ہاں قبول ہوجائے۔

 

اسلام مشرق و مغرب کی تہذیب سے بالاتر دین ہے: عتیق گیلانی

 

جب دنیا میں جہالت کی اندھیر نگری تھی تو خانہ کعبہ کا ننگا طواف کیا جاتا تھا۔ لونڈیوں کا لباس ناف سے رانوں تک اور حسن نساء (سینے کے ابھار) تک محدود ہوا کرتا تھا۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا غیرت کا تقاضہ سمجھتے تھے ۔ مظالم کی کوئی حد طاقتور لوگوں کیلئے نہیں ہوتی تھی۔ فرقہ پرستی اور قوم پرستی نے انسانیت کا بٹوارہ کر رکھا تھا۔ عرب عجم، سفید فام و حبشی اور کالے گورے کی بنیاد پر نسل آدم تقسیم تھی۔
اسلام نے لوگوں کے اقدار بدل دئیے۔ رسول ۖ نے فرمایا کہ لوگ چار وجوہات کی بنیاد پر اپنے لئے بیگمات کا انتخاب کرتے ہیں۔1: نسل و نسب کی بنیاد پر ۔ 2: مال و دولت کی بنیادپر۔ 3: حسن و جمال کی بنیاد پر ۔ 4: کردار کی بنیاد پر۔ تیری ناک خاک آلودہ ہو آپ کردار کو ترجیح دو۔
یہ روایت صحیح بخاری میں ہے اور وفاق المدارس کے صدر محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان بانی جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھ دیا ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ یہ چاروں خوبیاں عورت میں موجود ہونی چاہئیں ۔ (کشف الباری)۔ حالانکہ اس حدیث میں لوگوں کے فطری رجحانات کا ذکر ہے۔ کوئی مالی کمزوری کو دور کرنے کیلئے مالدار عورت کو ترجیح دیتا ہے تو کوئی حسن و جمال کو ترجیح دیتا ہے، کوئی نسب کو ترجیح دیتا ہے اور کوئی کردار کو ترجیح دیتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ تمہیں کردار کو ترجیح دینی چاہیے۔ جب کردار کو ترجیح دی جائے گی تو مالدار ، حسن و جمال اور اعلیٰ نسب والے اپنے کردار کو ہی بدلیں گے۔ جس سے معاشرے کی اقدار بدل جائیں گی۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسلام کی درست تشریح کریں گے وہی اسلام کی تعلیمات کا بیڑہ غرق کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں جب علم ہی درست نہ ہوگا تو کردار سازی کہاں ہوگی؟۔ مگر جب علم درست ہوگا تو کردار سازی کیلئے مضبوط بنیادیں ہم فراہم کرسکیں گے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مذہبی طبقات کی ہی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ ہم مذہبی طبقات کی جہالتوں پر تنقید کرکے اپنی جانوں کے سروں کیساتھ کھیل رہے ہیں۔
جو لوگ ”میرا جسم میری مرضی” کے نام پر خواتین کے خلاف مہم جوئی کررہے ہیں وہ اپنی دانست میں درست ہی کررہے ہونگے۔ لیکن جو خواتین اپنے حقوق کا علم بلند کئے ہوئے ہیں انکی بات کو غلط رنگ دینے کے بجائے درست توجیہہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو عورت چیخ رہی ہے، چلا رہی ہے اور غیظ و غضب کا اظہار کررہی ہے کہ مجھے رستے میں آتے جاتے تاڑ کر مت دیکھو، کہنیاں مت مارو، ریپ مت کرو، ریاست ہمیں تحفظ دے تو اسکے خلاف یہ کہنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ہم لوگوں کو اپنا جسم ہی پیش کرکے دنیا میں رہنا چاہتی ہیں۔ مینار پاکستان پارک لاہور کے قریب ہیرا منڈی ہے اور وہاں آئے روز مذہبی و سیاسی لوگ جلسے جلوس کرتے رہتے ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی انہوں نے ہیرا منڈی کے خلاف آواز اٹھائی ہو۔ اب تو یہ معاملہ فیس بک کے آن لائن شاپوں سے بڑے بڑے عالی شان بنگلوں تک کھلے عام پھیلا ہوا ہے۔ ایک عورت بگڑتی ہے تو آس پاس کا پورا معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔ کیونکہ عورتوں میں قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی حفاظت کا بڑا مادہ رکھا ہے۔ قرآن میں اس کو اللہ کی حفاظت کا نام دیا ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا گیا تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفی جتوئی ہی تھے۔ نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے اور اس اتحاد کے نتیجے میں میاں نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا وہ اسکینڈل اخبارات کی زینت بنا جس سے علماء اور اسلامی جمہوری اتحاد کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔ میاں نواز شریف پر بھی طاہرہ سید ایکس وائف نعیم بخاری رہنما پی ٹی آئی کے حوالہ سے اسیکنڈل تھا۔ رہ گئے موجودہ امیر المؤمنین عمران خان نیازی تو ریحام خان کی طلاق کے بعد صحافیوں نے پوچھ لیا کہ تیسری شادی کا ارادہ ہے؟، عمران خان نے کہا کہ ہاں ! پھر صحافی نے پوچھا کوئی نظر میں ہے؟ ۔ عمران خان نے پھر جواب دیا کہ ہاں!۔ صحافی نے کہا کہ اسکے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں کہ وہ کون ہے؟۔ عمران خان نے کہا کہ نہیں!۔ صحافی نے پھر پوچھا کہ کنواری ہے، طلاق شدہ ہے یا بیوہ؟ مگر عمران خان نے اس پر مسکرا کر جواب ٹال دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ بی بی بشریٰ نے خلع لیکر نکاح کرلیا۔ جیو کے تحقیقی صحافی نے میڈیا پر بتایا کہ اس وقت وہ عدت میں تھی۔ اب اس سے بڑھ کر ”میرا جسم میری مرضی” کا تصور ہوسکتا ہے؟ مگر طاقتور کیلئے قانون کچھ اور کمزور کیلئے کچھ اور ہے۔
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے اور سعودی عرب و دیگر ائمہ مجتہدین کے نزدیک حدیث پر عمل ہوتا ہے لیکن احناف اس حدیث کو قرآن سے متصادم سمجھ کر رد کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث قرآن سے متصادم نہیں ہے اور حنفی اصولوں کے مطابق بھی احناف کیلئے قطعی قابل قبول ہونا چاہیے۔ جس کے مضبوط دلائل بھی ہیں۔
میر شکیل الرحمن نے روزنامہ جنگ میں مولانا حامد سعید کاظمی کے خلاف بالکل جھوٹی خبر لگائی تھی اور پھر کاظمی نے ایک بے گناہ قید بھی کاٹی ۔ جنگ اور جیو کے ملازمین اس گناہ کا کیا کفارہ ادا کریں گے؟ ۔ میر شکیل الرحمن کی قید ؟ ۔ وکالت کیلئے وکیل کے پاس قانونی لائسنس ہوتا ہے مگر صحافی کیلئے کسی کی وکالت یا کسی کی بے جا مخالفت صحافت پر بڑا دھبہ ہے جو قانون کیخلاف ہے۔ صحافت کا کام قوم کا شعور بیدار کرنا ہے نہ یہ کہ بلیک میلنگ کے ذریعے سے اپنے اشتہارات کے مسائل حل کرنا۔ جن صحافتی اداروں پر ذرہ برابر بھی جانبداری کا شبہ ہو تو ان کو قانون کے شکنجے میں لاکر بند کردینا چاہیے۔ کیونکہ صحافت کیلئے یہی قانون ہے۔ ہمارا کام قوم ، ملک ، ریاست اور حکومت میں شعور بیدار کرنا ہے۔

کوئی پانچ سال کی بچی نہیں چھوڑتا، پدر شاہی بلا بن چکی جو عورت کے خون پر پلتی ہے، عصمت شاہجہان

پریس کلب میں عصمت شاہجہان کا خطاب
( (بلال خان، علی خان، شاہجہان ،عبید خان، اسفند یار وزیر ) کامریڈ عصمت شاہجہاں صدر وومین ڈیموکریٹک فرنٹ، عورت آزادی مارچ 2020اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کہا : سلام دوستو! ساتھیو! آپ سب کی جرأت کو لال سلام۔ آج دہشت و وحشت کے خوف کو جو آپ لوگوں نے توڑا آپ سب کو لال سلام۔ اور آج سیکولر پاکستان کا فیصلہ ہوگیا!۔

اسلام آباد،  پاکستان کا پولیٹکل سینٹر اسٹیج ہے اور پھر یہ پریس کلب پر لڑائی پانچ دن سے جاری رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ این او سی ہمیں بھی دی گئی اور ان کو بھی دی گئی۔ یہ کیوں کیا گیا؟ان سوالات پر میں بعد میں آؤں گی لیکن آج جشن کا دن ہے اپنی بات رکھنا چاہوں گی اس مارچ کے حوالے سے۔ سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتی ہوں ان تمام آرگنائزرز کا جنہوں نے ہمیں مکمل سپورٹ دی۔ ساتھ میں جو آرگنائزنگ کمیٹی ہے جنہوں نے دن رات کام کیا ان کی محنت کو اس خوف کو توڑنے کیخلاف آج نکلنے پر ان کو سلام پیش کرتی ہوں۔ میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اسلام آباد کی ایڈمنسٹریشن کو خط لکھا کہ ان کو این او سی دیدیں ،میں باقی جو اسلام آباد کی لیفٹ  کی پارٹیاں ، وومن ایکشن فورم خاص طور پر ہمارے ساتھ کھڑی رہی اور عوامی ورکر پارٹی کی ٹیم انتھک ہمارے ساتھ کھڑی رہی۔ بھلے وہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہو یا بینر پوسٹر ہو، یا گاڑی ہو، ہر جگہ وہ کھڑے رہے اورر ساتھ ہی ساتھ لیفٹ کی جن پارٹیوں اور تنظیموں کے لوگ آئے ہیں انکا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں،  اور تمام لوگ جو آج یہاں اکھٹے ہوئے۔پورے پاکستان کو جو آج یہاں سے پیغام جارہا ہے ان سب کو میں ایک بار پھر لال سلام پیش کرتی ہوں۔

ساتھیو! یہ آج پہلی بار نہیں کہ پاکستان میں عورت نکلی ہے، پاکستان میں دہائیوں سے عورت مزاحمتی سیاست میں ہے اور سڑکوں پر ہے۔ بھلے وہ ایوب خان کے دور میں طاہرہ مظہر علی خان کی ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن ہو جسکا ہم تسلسل ہیں،  یا وہ ویمن ایکشن فورم ہو جس نے ضیاءکی  آمریت کو للکارا۔یا ہیلتھ ورکرز ہوں اور لیڈی ٹیچرز ہوں جنہوں نے پاکستان میں  آئی ایم ایف  کی کٹوتیوں کیخلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔یا ہماری بلوچ بہنیں ہوں جو مسخ شدہ لاشوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کھڑی رہی ہیں۔ یا ہماری پشتون بہنیں ہوں، جنکے گھروں میں لیویز کے اہلکار گھس جاتے ہیں۔ بہت ساری مزاحمتی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور ہم انہی مزاحمتی تحریکوں کا تسلسل ہیں۔ریاست پاکستان نے نہ صرف ان مزاحمتی تحریک کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ عورتوں، محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کے زخموں کے اندر پنجے گاڑے بیٹھی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی، کیوں کی گئی ؟ جو پیچھے نظر آرہا ہے وہ کیا ہے؟

ہم سمجھتے ہیں کہ رائٹ ونگ جب عورت کو موبیلائز کرتا ہے یہ بنیادی طور پر پدر شاہی مفادات کیلئے کرتا ہے۔ تو پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی کیونکہ جنگی مفادات کیلئے ایک جنگجو اور ظالم لڑنے والا مرد چاہئے تھا۔ وہ masculinity (مردانگی) اس ریاست نے تشکیل دی۔ اس جنگ کے لئے  جو لٹریچر، مواد ، کتابیں، ویڈیوز، نظرئیے اور ہتھیار لائے گئے وہ نظریئے، ہتھیاراور کتابیں اب چلتے چلتے چلتے ہماری گلی اور محلوں میں پہنچ چکی ہیں۔ اور اب کوئی پانچ سال کی بچی بھی نہیں چھوڑتا۔ اب پدر شاہی ایک جنونی عفریت اور بلا بن چکی ہے جو عورت کے خون پر پلتی ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ جو لوگ اس عورت کے جسم سے مماثلت رکھتے ہوں ان کی بھی خیر نہیں چاہے وہ صنف آزاد ہمارے خواجہ سرا بہن بھائی ہوں یا نابالغ بچے ہوں۔ تو تاریخ کے اس پڑاؤ میں ہم یہاں پہنچے ہیں کہ جنگ کیلئے جس پدر شاہی کو تشکیل دیا گیا اب وہ ایک عفریت بن چکی ہے۔ اور اس عفریت کے پیچھے ایک اور عفریت کھڑی ہے اور وہ ہے جنگی اقتصاد اور اسکے پیچھے سامراجی عفریت کھڑی ہے۔ اب یہ کئی جنگیں ہیں جو ہمیں لڑنی ہیں۔

ہم تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہم نے ایک راستہ چننا ہے۔ یا صنفی انقلاب کا یا جنسی اور پدر شاہانہ بربریت کا۔ میں اسلام آباد کے اس اسٹیج سے پورے پاکستان کو پیغام دیتی ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ ہم نے وہ راستہ چننا ہے، ایک راستہ ہم کو چننا ہے اور ہم کو سخت فیصلہ کرنا ہے اور ہم کو منظم تحریکیں چلانی ہوں گی۔ یہ وقتی اور کبھی کبھار کی ون ڈے مارچ سے کچھ نہیں ہونے والا۔ منظم تنظیموں میں آئیں اور کام کریں جو بھی آپ کے نظرئیے کے قریب ہو اس میں ضرور آئیں۔

میں اسلام آباد میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا میں اس کی بھی کہانی سنانا چاہتی ہوں۔ آج کے دن ہمیں بتایا گیا کہ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے یونٹس میں تحریک لبیک ،شریعت کونسل اور جمعیت علماء اور سپاہ صحابہ کے لوگ گئے،  اور انہوں نے کہا کہ” اگر آپ گئے، تو آج پھر آپ ادھر رہیں گے کیسے”؟ تو انہوں نے ہمیں فون کئے ، کہ ہم نہیں آسکتے، کیونکہ ہمیں یہاں رہنا ہے۔ منصوبہ یہ تھا ،کہ محنت کش آبادی سے عورتوں کو نہ نکالو۔ اور اس مارچ کو بدنام کرو کہ یہ تو مڈل کلاس این جی او مافیا ہے۔ تو محنت کش عورتوں کو آج نہیں آنے دیا گیا ۔ہم اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ ہماری گاڑیوں  کے ڈرائیوروں کو مارا گیا ،اور یہ ہماری چوتھی گاڑی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں دھمکیاں دی گئیں ، ویڈیو ز بھیجے گئے۔ اور ہمیں پیغام دیا گیا کہ اگر آپ نکلیں گے،تو ہم دو بجے وہاں ہوں گے، یہ کردیں گے ،وہ کردیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں۔ خوش اس بات پر ہیں کہ آج آپ وہ بات کررہے ہیں جو ہم کرتے رہے ہیں۔ آج آپ کو عورت کے سوال پر بولنا پڑ رہا ہے۔ ہم اتفاق کرتے ہیں جماعت اسلامی نے جو چارٹر ریلیز کیا ہے  کہ ہم یہ چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں ،عورت کو جائیداد میں حصہ دو۔

ہم آخر میں کچھ میڈیا کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں ۔پاکستان کے میڈیا نے پچھلے مارچ کے دو پوسٹر اٹھائے،  تقریباً ہر شو میں ایک مولوی کو بلایا مولوی   ہاتھ نہ آیا،  تو ملوانی کو بلایا ،اور ان   پربات کی۔ایک وطیرہ بنایا ہے ،پاکستان کی ریاست اور اس کے میڈیا نے ۔کہ سوشلسٹوں کو  کفار کہو، قوم پرستوں کو غدار کہو اور عورتوں کو بدچلن کہو۔ یہ کلنک لگانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔اور میڈیا بھی یہ سن لے کہ آپ چار اشتہار چلاتے ہیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فیمنسٹ تحریک کی عورتیں آئیں گی اور آپ کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اسی سے چلے گی کہ  ایک پوسٹر پر بات ہوگی۔ دیکھ لیں گے آج عورتیں کیا کہہ رہی ہیں۔ اور یہ پوسٹر پڑھ لیں۔ اور خبردار جو کسی نے اب پوسٹر کی بات کی!

آخری بات کہنا چاہتی ہوں کہ یہ ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ پاکستان کی ریاست اور اسٹبلشمنٹ بھی سن لے۔ جو پچھلے چار پانچ دن سے ہمارے اوپر کریک ڈاؤن اور ہمارے اعصاب کو جو پیرالائز کرنے کی کوشش کی گئی ،وہ سن لیں کہ یہ سب ساتھ ہیں ،ہم سب ساتھ ہیں،ہم سب ساتھ ہیں،  ہم سب ساتھ ہیں۔

 آخر میں  بس  کہنا  چاہتی ہوں کہ یہ جو این جی اوکی فنڈنگ کا برا الزام لگا ہے، اور جو لوگ یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ یہ فنڈنگ کس کی ہے؟ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ  پہلے یہ بتائیں کہ  آپکی فنڈنگ کس کی ہے؟۔ تو میں نے کہا کہ فنڈنگ تو آپ لیتے ہیں ۔تینتیس ملین ڈالر کی  جنگ کے لئے فنڈنگ آپ نے لی، غیرممالک سے خیرات آپ نے لی،دنیا بھر سے قرضے آپ نے لئے۔ اور جب ہم لوگ اس  فنڈنگ کے  خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو آپ بولتے ہو کہ فنڈنگ کس نے کی؟  ہم نے ہزار پانچ پانچ دو دو سو روپے جمع کرکے یہ سارا انتظام کیا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو این جی او کا ڈرامہ کرکے ہم پر الزام لگارہے ہیں۔ ہم مزاحمتی تحریک ہیں کان کھول کر سن لیں سب۔ آئندہ کسی نے یہ کہا کہ ہم این جی او ہیں ، این جی او کی فنڈنگ ہے، یا فارن فنڈنگ ہے، سب کو اطلاع  عامہ ہے،کہ ایک دھیلا بھی ہم نے کسی سے لیا ہو۔آج اسٹیج پر یہ بتارہی ہوں۔ اور یہ این جی او کی فنڈنگ کا الزام جو ہے ،   "پروجیکٹ جہاد” کا یہ خود کھاتے رہے ہیں۔ اور این جی اوز کا بھی کھلاتے رہے ہیں۔ وہ بھی پروجیکٹ جہاد کی وجہ سے آج یہاں تھیں۔ کچھ تو ہیومن رائٹس کے نام پر آگئیں۔ لیکن مذہبی این جی اوز کی جو فنڈنگ ہوئی وہ تو بالکل ہی مطلب ……۔ تو ہم ان کو ایکسپوز کرنا چاہتے ہیں ۔ہماری کوئی فنڈنگ نہیں ہے۔ آخری بات رکھنا چاہتی ہوں کہ ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے جدوجہد جاری رہے گی!

 اور ہم ایک ہی ڈیمانڈ رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان پاکستان میں "عورت ایمرجنسی ڈکلیئر کرے۔ جب تحریک لبیک سے بات ہوسکتی ہے ، سپاہ صحابہ سے بات ہوسکتی ہے تو فیمنسٹ تحریک سے کیوں بات نہیں ہوسکتی؟ ہم سے بات کرو ہم تنگ ہیں۔ ہمیں مارا جارہا ہے۔ ہم لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔

عورت آزاد،سماج آزاد۔ عورت آزاد،  سماج آزاد۔ جب تک عورت تنگ رہے گی ، جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔ عورت آزادی مارچ،  زندہ باد،زندہ باد۔

تبصرۂ تیز وتند قدوس بلوچ

ہمارا مقصد کمزوروں کو تحفظ دینا ہے۔محترمہ عصمت شاہجہان کا یہ خطاب پچھلے شمارے کے فرنٹ پییج پر مین لیڈ کیساتھ لگا تھا۔ اس شمارے میں بھی ہم نے شائع کیا۔ محترمہ عصمت نے ٹی وی اینکروں کو بڑی درست نشاندہی کی کہ پچھلے سال کے ایک دو پوسٹر پر بات کی گئی لیکن اس مرتبہ تو یہ پوسٹر بڑی تعداد میں تھے اور زیادہ قابلِ اعتراض تھے۔ بھگدڑ مچ گئی تو غلط پوسٹر اٹھانے والے بھاگ بھی گئے۔ جب ہم خالی دوسروں پر تنقید کو اپنا وطیرہ بنانے کے بجائے اپنی بھی اصلاح پر توجہ دیںگے تو بات مؤثر ہوگی۔ ہم نے خواتین کے حقوق کیلئے جو آواز اُٹھائی تو یہ تاریخ کا بڑا روشن باب ہے اور اسی سے انقلاب کا رستہ کھلے گا۔اور یہ افراد نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔

 

 

قرآن،پاکستان اور عالمی پیشین گوئیاں

علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کی انتہائی بدترین اور بہت ہی قابلِ رحم حالت

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے علماء ومفتیان کا بڑا نمائندہ اجلاس طلب کیا اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کیلئے کراچی پریس کلب میں میڈیا کے صحافیوں کے سامنے اپنے انتہائی بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا۔ تحریری اعلامیہ مفتی تقی عثمانی نے پڑھ کر سنایا تو اس میں ایک مطالبہ رکھا گیا تھا کہ مساجد سے لاک ڈاؤن کی پابندی ختم کی جائے۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ آج سے لاک ڈاؤن ختم ہے۔ Continue reading "قرآن،پاکستان اور عالمی پیشین گوئیاں”

وزیراعظم آج تک اپنا کوئی وعدہ پورانہ کرسکا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

لاہور ،اسلام آباد اور ملتان میں ”میٹروبس” کو تنقید کا نشانہ بنانے والے عمران خان نے پشاور کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیاہے۔ ملتان میں میٹروپر فلائی اوور کی وجہ سے سستے علاقے بھی متأثر نہیں ہوئے جبکہ پشاور میں واحد اور مہنگاترین یونیورسٹی روڈ تباہ کرکے رکھ دیا گیا۔ پختونخواہ پولیس کے بلند دعوے کئے گئے مگر پختونخواہ میں فوج تعینات کی گئی۔
آئی ایس پی آر نے میڈیا، علمائ، میڈیکل اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون کا شکریہ ادا کرکے بڑا اہم پیغام قوم کو دیدیا کہ ” کرونا جیسی آزمائش سے پہلی مرتبہ واسطہ پڑا ہے”، یہ کریڈٹ پاک فوج کو ہی جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ذریعے وائرس اتنا جلدی نہیں پھیل رہاہے جتنا دنیا میں پھیل گیا۔ یہ حکومت کی غفلت ہے کہ ایران و دوسرے ممالک سے وائرس امپورٹ ہوا، خارجہ وداخلی پالیسی غلط نہ ہوتی تو لاک ڈاؤن کا سامنا نہ کرناپڑتا۔ علماء اور تبلیغی جماعت کو ڈنڈے کے زور پر نہ روکا جاتا تو یہ رُکنے والے نہ تھے۔ قرآن میںنمازِ خوف واضح ہے جس سے وائرس پھیلنے کا اندیشہ نہیں رہتالیکن سودی نظام کو جواز بخشنے والے مفتی اعظموںاور شیخ الاسلاموں کو آیت البقرہ239دکھائی نہیں دی۔
ایران، تبلیغی جماعت اورعلماء و مفتیان اپنی اپنی جہالت پراوروائرس پھیلانے کے ذمہ دار طبقے اپنی غفلت پر معافی مانگیں۔ وزیراعظم، زلفی بخاری ، شاہ محمود قریشی اور ذمہ دار طبقات مجرمانہ غفلت پر صرف معافی ہی نہ مانگیں بلکہ جرمانہ اداکریں۔ پوری قوم لاک ڈاؤن کی سزا اسلئے بھگت رہی ہے کہ وائرس زدہ افراد کو لایا گیا اور اس شر سے بچنے کی تدبیربھی نہیں کی گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے مذہبی حلقوں کی اصلاح کے بجائے تعصبات کا رنگ دیدیا ،وہ خود بھی جاہل ہے،اسلئے عمران خان جیسے لوگ برسراقتدار آگئے ہیں۔

پاکستان دنیا کی امامت کرسکتاہے لیکن کیسے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج، عدلیہ،بیوروکریٹ، سیاستدان، صحافی، علمائ، عوام الناس اور تمام طبقات میںاستعدادو صلاحیت،اچھائی اورشعور وآگہی کی کمی نہیں۔انسانیت،اسلام اور اپنی قوم سے والہانہ محبت میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں لیکن ان کو وہ مواقع نہیں ملتے ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ پارلیمنٹ میں پہنچنے کے ذرائع پیسہ، اقرباء پروری،فرقہ وارانہ رنجش، لسانی تعصبات اور طاقت کے سرچشموں کی اشیرباد ہے۔ دولت کمانے کے جائز ذرائع مفقود ہیں تو ناجائز ذرائع لامحدود ہیں۔ جعلی فتوؤں، جعلی تعلیم، جعلی ادویات، جعلی اشیاء خورد ونوش اور جعلی ڈگریوں سے لیکر جعلی سیاستدانوں اور علماء ومفتیان تک سب نے قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔لوٹوں کے ذریعے وزیراعظم اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور ناکارہ پارلیمنٹ وایوانِ بالا کے ذریعے آرمی چیف کی مدت میں توسیع سے لیکر اُوپر سے نچلی سطح تک آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ عدالتی نظام ہرسطح پر بالکل ناکام ہے۔نوازشریف ملک سے باہر گیا مگر وزیراعظم کچھ نہیں بتاسکتا ہے کہ کس کے کہنے پر گیا؟۔ کل لاک ڈاؤن یا کرونا کے پھیلاؤ سے نقصان ہوگا تو اس کی ذمہ داری ایکدوسرے پر ڈالی جائے گی۔ عمران خان نیازی اینڈ کو لمٹیڈکمپنی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے جس نے اس نالائق نوازشریف کی قدر لوگوں کو یاد دلادی جس نے کھل کر پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے اور قطری خط پیش کرکے اس سے انکار کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ کرونا کے کریک ڈاؤن میں غائب رہنے والے سیاستدانوں کو قوم جان چکی ہے کہ انتخابات کے دور میں کس طرح برساتی مینڈکوں کی طرح ٹراتے نظر آتے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کی افادیت بالکل ختم ہوچکی ہے لیکن ریاستی نظام بھی عوام کو فائدے پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اسلئے نظام کی تبدیلی کے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا ہے۔

حکومت، عدالت اور ہماری پیاری ریاست!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حکومت پر براجمان حکمران اپنا حکم جاری کرتے ہیں کہ ” ناجائزمنافع خوری پر دکانداروں کو قید وجرمانہ کی سزا دی جائے”۔ مجسٹریٹ ریڑی بان، چھابڑی فروش اور جھگی نمادوکانوں پر چھاپہ شریف مارتے ہیں اور بہت ہی مشکل حالات میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے والے ناکام امیدوار نے بھی پونے دوکروڑ روپے خرچ کئے تھے اور کامیاب ہونے والے نے یقینا زیادہ خرچہ کیا تھا لیکن اس الیکشن میں نوازشریف نے آئی ایس آئی سے 95لاکھ وصول کئے تھے۔
پھر جب نوازشریف کی حکومت کرپشن پر ختم کردی گئی اور پیپلزپارٹی نے بدنام لندن فلیٹ کاکیس بنایا۔ پھر ن لیگ کو اقتدار میں لایا گیا اور پیپلزپارٹی پر کیس بن گئے۔ پرویزمشرف کی حکومت میں بھی لندن فلیٹ کا کیس چلا، پھر سعودیہ جلاوطن ہونے کے بعد کیس ختم ہوا۔ جب پھر زرداری کی حکومت آئی تو شہبازشریف نے چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹ گھسٹ کر مال نکالنے کی جذباتی تقریریں کیں۔ پھر ن لیگ کی حکومت آئی اور نوازشریف نے میڈیا کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی اپنے تحریری بیان میں 2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدنے کا ٹوپی ڈرامہ رچایا۔ پھر قطری خط پیش کیا اور پھر قطری خط سے بھی لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ایسے میں قوم اور ہماری ریاست نے مل جل کر عمران خان کوہی اقتدار کے لائق سمجھ لیا اور عدالت نے صادق امین کے طور پر اندھوں میں راجہ سمجھ کر قبول کیا۔
آج ہماری پیاری ریاست نے پھر سے چینی اور آٹا بحرانوں میں قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی تبدیلی سرکار کے چہیتوں کو طشت ازبام کردیا ہے۔ پرویزمشرف کے دور سے اب تک جہانگیر ترین، خسروبختیار اور مونس الٰہی سب وہی چہرے ہیں چشم بد دور۔واہ نیازی واہ!