سعودی عرب کی بادشاہت، ایران کی اسلامی جمہوریت اور افغانستان کی امارت اسلامی کو کس چیز کا نام دیا جائے؟۔ کیاایک وہابی اسلام ہے، دوسرا شیعہ اسلام ہے اور تیسرا حنفی اسلام ہے؟۔
کس اسلام کو قبول کرنے کیلئے عالم اسلام اور عالم انسانیت تیار ہے؟۔ اگر یہ مسلمان اور انسان کیلئے رول ماڈل نہیں بن سکتے تو پھر سوچنا چاہیے کہ اس کا متبادل کیا ہے جس کو نہ صرف مسلم ممالک بلکہ پوری دنیا اپنا رول ماڈل تسلیم کرلیں؟۔اگر کسی ملک کو اپنی عوام پر بھروسہ نہ ہو اور عوام اپنے حکمران پر بھروسہ نہ رکھ سکیں تو دوسروں کیلئے وہ قطعی طور پر بھی رول ماڈل نہیں بن سکتے ہیں۔
محمد بن عبدالوہاب نے توحیدو شرک اور مذہبی رسوم کے حوالہ سے اسلام کا جو تصور پیش کیا تھا تو سعودی عرب نے اسی کو اسلام سمجھ لیا۔ اسلامی انقلاب ایران نے شیعہ کے اسلام کو اسلام سمجھ لیا اور امارت اسلامی افغانستان نے حنفی اسلام کو اصل اسلام اور اس کا نظام سمجھ لیا ہے۔ ان تینوں ممالک کی سب سے بڑی خرابی آزادیٔ رائے پر پابندی ہے۔ جس نظام میں آزادیٔ رائے کیساتھ عدل نہیں ہو وہ اسلام کے علاوہ کوئی بھی نظام ہوسکتا ہے لیکن اسلامی نظام قطعی طورپر نہیں ہوسکتا ہے۔
جب رسول اللہ ۖ نے غزوہ بدر کے قیدیوں پر مشاورت کی تو اکثریت کا مشورہ یہ تھا کہ فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ ہدایت پا جائیں اور اگر ہدایت نہیں پاتے تو پھر دوبارہ ہم ان کو پکڑ کر مار سکتے ہیں۔ 70سرکردہ لوگ مارے جاچکے تھے ،70قیدی بنالئے گئے تھے اوربقیہ اپنی جان بچاکر بھاگ چکے تھے جن کی تعد اد مسلمانوں کے مقابلے میں پھر بھی بہت زیادہ تھی۔
حضرت عمر اور سعد بن معاذ کی رائے یہ تھی کہ جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردے۔ فلاں میرے حوالے ہو ۔ عباس کو علی تہہ تیغ کردے۔ ابوبکر، عثمان اپنے اقارب کو تہہ تیغ کردیں۔ نبیۖ نے فرمایا کہ عمر کی رائے حضرت نوح کی طرح ہے اور ابوبکر کی رائے ابراہیم کی طرح ہے اور مجھے ابراہیم کی رائے پسند ہے اور رحم دلی کے مطابق فیصلہ فرمادیا۔ ارشادفرمایا کہ ”میری امت میں سخت ترین انسان عمر اور رحم دل ترین انسان ابوبکرہیں”۔
پھر آیات اُتریں کہ ماکان لنبیٍ ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یریدالاٰخرة واللہ عزیز حکیم O” نبی کیلئے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ زمین میں خوب خون نہ بہادے ۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے”۔(سورہ انفال :آیت67)……
اس آیت میں نہ صرف آزادی ٔ رائے کی تائید ہے بلکہ ایک طرف صحابہ کرام کا جمع غفیر تھا اور دوسری طرف دو صحابی تھے۔ نبی اکرم ۖ کی رائے بھی جمع غفیر کیساتھ ہی تھی لیکن یہ آیت آزادیٔ رائے کی جس انداز کی تائید کررہی ہے اس کی مثال دنیا لانے سے بالکل قاصر ہے۔حالانکہ انسانی فطرت بھی قیدیوں کو تہہ تیغ نہیں کرتی۔قرآن نے بھی پھر روک دیا لیکن یہاں کئی محرکات تھے۔
نبی کریم ۖ نے حدیث قرطاس لکھنے کا فرمایاتو حضرت عمر نے منع کردیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب قرآن کافی ہے۔ قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کی زندگی آزادیٔ رائے سے عبارت ہیں اور اس کے اثرات جب تک مسلمانوں پر قائم رہے تو مسلمان قرآن کی روح کے مطابق عمل پیرا تھے۔ حضرت ابوبکر نے باغ فدک کے معاملہ میں اور حضرت عمر کی نامزدگی کے مسئلے میں اس آیت کی روح پر عمل کرکے دکھادیا۔ حضرت عمر نے اپنے بعد اپنے بیٹے پر پابندی لگاکر اقرباء پروری کی بنیاد کو ختم کردیا۔ بنوامیہ اور بنوعباس کا خاندانی نظام اس آیت کی روح کے برعکس تھا اور شیعہ فرقہ تو اقرباء پرستی کا شاہکار ہے۔ آزادیٔ اظہار رائے اور آیات کی درست تفسیرعوام کے سامنے رکھی جاتی تو پھر اسلامی نظام کی طرف زبردست پیش قدمی ہوسکتی تھی لیکن اس طرف دھیان نہیں ہے۔ ٭٭
سورہ انفال کی آیات کی درست تفسیر و تبلیغ میں نجأت
جاوید غامدی کے دادا استاذ حمیدالدین فراہی کا استاذ شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی تھا۔ جس نے کئی کتابیں الفاروق اور سیرت النبیۖ لکھی ہیں۔
شبلی نعمانی نے اہل سنت کے علماء کو مشورہ دیا تھا کہ حدیث قرطاس کا انکار کیا جائے تو شیعوں سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس سے حدیث کا انکار لازم آئے گا۔ خیانت اور دیانت کی بڑی کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے اور سرسیداحمد خان نے بھی کچھ معجزات کا انکار اسلئے معتزلہ کے افکار پر کیا تھا کہ غیر مسلموں کے سخت اعتراضات کا سامنا کرنے سے بچ جائیں لیکن یہ قدامت پسند علماء کرام کا کمال تھا کہ کسی کا اعتراض خاطر میں لائے بغیر بالکل ڈٹ گئے تھے۔
معجزات کا انکار آخر کار وحی و بعثت تک پہنچا کر ہی دم لیتا۔اللہ تعالیٰ نے علماء حق سے دین کے تحفظ کا بہت بڑا کام لیا ہے ۔جن کے ہم شکر گزار ہیں۔
معجزات پر ایمان بالغیب رکھنا قرآن کا تقاضہ ہے لیکن فقہ وشریعت اور سیاست وحکمت میں قرآن کی رہنمائی سے جاہل ہونا بہت بڑی بد بختی ہے۔ فقہ وشریعت میں غسل، وضو، نماز اور نکاح وطلاق کے احکام میں فرائض اور حلال وحرام پر اختلافات اور ڈھیر سارے تضادات ہیں۔ جن کو متحد ومتفق اور وحدت کی راہ پر گامزن ہوکر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر رسول اللہ ۖ نے ماحول کا فتویٰ وحی اور خاتون کی رائے سے چھوڑنے کا سبق دیا لیکن کوئی فرقہ ومسلک کی تقلید کو قرآن وسنت کے مقابلے میں قربان نہیں کرسکتا تو یہ بہت بڑی بے راہ روی ہے۔دیوبندی بریلوی فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات پر متحد ومتفق ہیں مگر مستحسن پر جنگ و جدل کا بازار گرم کیا ہواہے۔ مثلاً غسل ، وضو ، نماز اور نکاح وطلاق کے احکام ایک ہیں لیکن سنت نماز کے بعد دعا مستحسن ہے یا بدعت ؟۔ اس پر ایک دوسرے کو معاف کرنے کیلئے تیار نہیں، حالانکہ بریلوی مکتب کے مولاناامجد علی نے لکھ دیا ہے کہ ” غسل، وضو اور نماز وغیرہ کے فرائض ظنی ہیںاور دلیل کی بنیاد پر اختلاف کرنا جائز ہے”۔(بہار شریعت)شافعی ، مالکی ، حنبلی سے حنفی مسلک کے یہ اختلافات ہیں۔ شریعت میں اختلافات کی بھرمار ہے تو سیاسی حکمت میں اختلاف کو ناقابل برداشت سمجھنا جہالت ہے۔
سورہ انفال کی آیت میں سیاسی مسئلے پر اختلاف کی نشاندہی ہے۔ اکثریت کی رائے تھی کہ فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمر کی رائے برعکس تھی اور نبیۖ نے اکثریت کی رائے پرہی عمل کیا تھااور یہ شرعی نہیں سیاسی حکمت عملی ہی کا اختلاف تھا۔
نبیۖ کی رائے کو سیاسی بنیاد پر اللہ نے بالکل نامناسب قرار دے دیا ۔ جس سے حلال وحرام اور جائز وناجائز کا تصور قائم نہیں ہوتا۔ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی رائے میںاختلاف تھا لیکن اللہ نے حضرت نوح کی رائے کو قبول فرمایاتھا۔
سورہ انفال کی آیت میں اللہ نے جس بنیاد پر مخالفت کی تھی تو اس میں نیت کا مسئلہ تھا۔ حضرت ابوبکر کے بیٹے نے کہا کہ آپ میری تلوار کی زد میں آگئے لیکن میں نے چھوڑ دیا اور حضرت ابوبکر نے کہا کہ میری تلوار کی زد میں آتے تو تجھے نہ چھوڑتا۔ عبدالرحمن نے للکارا تھا تو ابوبکر مقابلے کیلئے نکلے مگر نبیۖ نے روک دیا اور عبدالرحمن نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اسلام کو قبول کیا تھا۔ ابوبکر نے نبیۖ کی محبت میں آپۖ کے رشتہ داروں کو قتل سے بچانے کیلئے فدیہ لیکر چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا اور صحابہ کرام کی اکثریت بھی ایسی تھی لیکن کچھ اقرباء کی وجہ سے بھی یہ مشورہ دے رہے تھے ۔اللہ نے فرمایا: لو لا کتاب من اللہ ابق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم O اگر اللہ پہلے سے لکھ نہ چکا ہوتا تو جو تم نے لیا ہے اس پر بڑا عذاب پکڑ لیتا۔ پس جو تمہیں غنیمت میں حلال وطیب ملا ہے اس کو کھاؤ۔اور اللہ سے ڈرو !، بیشک اللہ بخشنے والا رحم والا ہے۔ اے نبی! جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں خیر ہے تو اس سے بہتر عطا فرمائے گاجو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری مغفرت بھی کردے گا۔ اللہ معاف کرنے والا رحم والا ہے۔اور اگر ان کا ارادہ خیانت کرنے کا ہو تو پھر یہ پہلے بھی خیانت کرچکے ہیں پھر ان میں بعض کو گرفتار کرادیا ہے اور اللہ علم حکمت والا ہے۔(الانفال :68تا 71 )
ان آیات میں مسلمانوں کو مال کی محبت اور اقرباپروری کے ناجائز جذبے کیساتھ اس بات سے بھی ڈرایا گیا کہ نبیۖ کی قرابتداری کی بنیاد پر نبیۖ کی ذاتی محبت نہیں بلکہ دین کی بنیاد پرمحبت کا تعلق ہونا چاہیے۔ جیسے اسماعیلی اور امامیہ شیعہ بھی یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔
ان آیات میں سیاست شرعیہ کا ایک تقاضا مسلم سیاستدانوں کو سمجھا نا تھا اور دوسری طرف دشمنوں کو بھی پیغام دینا تھا کہ چھوٹ جانے کے بعد یہ مت سمجھو کہ اللہ کی دسترس سے نکل جاؤگے۔ سیدھے رہو گے تو اللہ اس ذلت اور مالی نقصان کی جگہ بہتر بدلہ دے گا اور نہیں سدھروں گے تو پھر دوبارہ معافی کی توقع بھی مت رکھنا۔ کاش علماء آیات کو سمجھتے اور لوگوںمیںانکی روح اچھی طرح پھونک دیتے۔
غزہ کی روتی بچی یا اللہ، یااللہ پھر چیختی ہوئی یااللہ یہ بے بسی
غزہ کو مشکلات سے نکالنے کا سنجیدہ حل کیا ہوسکتا ہے؟
غزہ کے نام پر دولت بنانا بند کیا جائے۔ 150ارب پاکستان میں غزہ کے نام پراکھٹے ہوئے! غزہ کے اندر ایک سوئی نہیں پہنچ سکتی تو یہ امداد کا ڈرامہ کیوں؟۔ جلال الفرائ
غزہ کی بچی یااللہ یا اللہ کرتے ہوئے چلتی ہے اور آخر کا ر چیختے ہوئے یااللہ جس انداز میں پکارتی ہے تو انسان کا کلیجہ یہ آواز سن کر منہ کوآتا ہے۔
اللہ نے فرمایاکہ ” اور تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی راہ میں نہیں لڑتے۔ اور کمزور مرد ، عورتیں اور بچے کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں اس شہر سے نکال دے جسکے باشندے ظالم ہیںاور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنادے”۔ (النسائ:75)
غزہ والوں کو پڑوسی ممالک جگہ دینے کیلئے بھی تیار نہیں۔ حامدمیر کے پروگرام میں خواجہ آصف نے برما کے مسلمانوں کیلئے کہا تھا کہ” ہم نے جہاز تیار کھڑے کررکھے ہیں بس اجازت مل جائے”۔ سیاستدانوں اور صحافیوں کا جھوٹ بازار لگتاہے۔
مفتی تقی عثمانی نے جب کہا تھا کہ اللہ ہمارا رب ہے امریکہ ہمارا رب نہیں تو لوگوں نے بہت پسند کیا تھا لیکن آیت کا ترجمہ بھی عوام سے چھپادیا تھا ،اب میزان بینک فلسطینی اکاؤنٹ نہیں کھول رہاہے۔
مذہبی اور فوجی خانوادوں نے 40سال روس وامریکہ کے خلاف جہاد لڑنے کا سہرا اپنے سر باندھا لیکن کسی ٹبر کا بیٹا شہادت کا دولہا نہیں بن سکا ہے۔ سیاستدان کرپٹ تھے، ملاؤں اور جرنیلوں نے بھی بیرون ملک اثاثوں کیلئے صف اول کی دوڑلگائی ۔
حافظ سیدعاصم منیر آرمی چیف نیک والدین کا بیٹا ہے۔ اس نے حالیہ بیان میں کہا کہ مدینہ طیبہ کی ریاست کے 14سوسال بعد پاکستان کی ریاست لاالہ الا اللہ کے نام پر بنی ہے۔ ریاست مدینہ کے والی نبی اکرم ۖ پر وحی نازل ہوتی تھی لیکن وحی کی برکات سے امت مسلمہ استفادہ نہیں کرتی ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ” سبقت لے جانے والے پہلوں میں سے انصارو مہاجرین اور وہ لوگ جنہوں نے بھلائی کیساتھ ان کی پیروی کی ۔اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔اور اللہ نے ان کیلئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے”۔(سورہ توبہ:100)
قرآن کی یہ خوشخبری صحابہ کرام کے بعد بھلائی کیساتھ ان کا اتباع کرنے والوں کیلئے ہے۔ قائد اعظم نے کہا :”میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں”۔ سیاستدان،سول وملٹری قیادت کا ٹریک ریکارڈ بیکار نہیں ہوتا تو پاکستان سورہ رحمن کا عملی نقشہ ہوتا۔ مایوسی، انارکی،جاہلیت، بداعتمادی، جھوٹ ، فریب وغیرہ کی جگہ ایمان داری میں ہم شاندار ہوتے۔
اللہ نے فرمایا: اقیموالوزن بالقسط و لا تخسروا المیزان ” توازن کو انصاف کیساتھ قائم رکھو اور میزان کو خسارے میں مت ڈالو”۔
ہمارا محنت کش طبقہ بیرون ملک سے خاندانوں کو پالنے کیلئے زرمبادلہ بھیجتاہے اور ہمارا اشرافیہ اپنے بچوں کو پالنے کیلئے پاکستان کا زرمبادلہ بیرون ملک بھیجتاہے ۔ یوں توازن قائم رکھا ہوا ہے۔ آرمی چیف بذات خود کوئی ہیرو نہیں ہوتا مگر طاقت اس کو ہیرو کی شکل میں ظاہر کرتی ہے۔ چڑھتے سورج کے کم بخت پجاری اسکے طلوع ہوتے ہی اس وقت تک اس کو پوجتے ہیں جب تک چاروں شانوں چت اسکے غروب ہونے کا وقت نہیں آجاتاہے۔
رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا توپھر محنت کش طبقہ نے یثرب کومدینہ بنادیا تھا۔ سندھ کے شاہ عنایت شہید نے ”جو بوئے گا وہ کھائے گا” کا نعرہ لگاکر اسلامی نشاة ثانیہ کی بنیاد رکھ دی تھی۔جو ہوکررہے گی اور ظالم نیست و نابودہوگا ۔انشاء اللہ
غریب غریب تر ہورہاہے اور امیر بیرون ملک دربدر ہورہاہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو افغانی نے فرانس میں بڑی گندی گالیاں دیں اور چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنا حلیہ تبدیل کرلیا ہے۔ پاکستان کے جاگیرداروں نے مسلم لیگ کا ساتھ جاگیریں بچانے کیلئے دیا اسلئے کہ کانگریس نے انگریز کی دی ہوئی جاگیروں کو ضبط کرنے کا اپنا منشور بنایاہوا تھا۔ وہ وقت آنے کو ہے کہ ملک میں جاگیریں ضبط کرلی جائیں گی۔ بھارت میں گنا مہنگا، چینی سستی اور پاکستان میں گنا سستا اور چینی مہنگی ہے پھر بھی شوگر مافیا سبسڈی لیتا ہے ۔ لوٹ مارمافیا ایک دوسرے سے سبقت کے چکر میں عوام کو پریشان کررہاہے۔
پاکستان سے نہ صرف خلافت قائم ہوگی بلکہ یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے کہ 7براعظموں کا خزانہ اللہ نے پاکستان میں چھپایا ہے جس پر سب کا حق ہے اور انشاء اللہ تمام ممالک اور مذاہب کو پاکستان اپنی خوشی کے ساتھ شریک کرکے نوازدے گا۔ ہمارا وزیرستان کاخزانہ پاکستانیوں ،پڑوسی ممالک، عالم اسلام اورپوری دنیا کی تقدیر بدلے گا۔ انشاء اللہ
حجاز مکہ اورمدینہ صحراء تھا جسکے باسیوں سے اللہ نے وعدہ پورا کیا اور ان کوباغات کا مالک بنادیا جس کے نیچے نہریں بہتی تھیں۔ فارس وروم فتح ہوگئے۔
اگرہم نے دیانتداری دکھائی توپھر فتوحات کی ضرورت نہ ہوگی۔ معدنیات کی ادنیٰ قیمت سے بھی سارے پاکستانیوں کو ترتیب سے ایک عجیب نقشے کیساتھ ایسے گھروں کا مالک بنایا جائے گا کہ جہاں ہر گھر کے دو دو باغ ہوں گے۔ جنکے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور دو دو چشمے اور فواروں کا نظام ہوگا۔
جیسے گنے کا کاشتکار بھوکوں مرتا ہے اور شوگر مل مالکان عیاشی کرتے ہیں،ویسے بلکہ اس بھی زیادہ معدنیات کا خام مال بیچنے والوں پر غربت کا سایہ ہوتا ہے اور معدنیات کے خام مال کو سونا بنانے کے کارخانوں کے امیرکبیر موج مستی کرتے ہیں۔
اگر تھوڑا شعور دیا جائے تو ہمارا اشرافیہ سارا اثاثہ جات بیچ کر معدنیات کے خام مال کیلئے فیکٹریاں لگادیں گے اور خود کو بھی خوشحال بنائیں گے اور ملک وقوم کی خوشحالی میں بھی ضروراہم کردار کریں گے۔
بہت بڑے پیمانے پر ہمارے معدنیات چین کو منتقل ہوگئے مگرہماری تقدیر نہ بدل سکی۔ تجربہ سے بندہ سیکھ لے تو نقصان فائدہ میں بدل جاتا ہے۔ اگر ایک دو جگہ معدنیات کی صفائی کے کارخانے لگانے سے بات بن جائے تو ہمارا فائدہ ہوگا اور سرمایہ کاری کرنے والوں کا بھی۔ قرآن میں اللہ نے مال غنیمت کا فرمایا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول اور مستحقین کیلئے خمس ہے۔ ہم مختلف ممالک کے غریب غرباء کیلئے ایک مقدار مقرر کردیں اور اپنے ملک کے نقشے میں سب سے پہلے غرباء کے گھروں کا بندوبست کریں تو پھر قرآن کی زبان میں یہی زبردست نجات یافتہ تجارت ہوگی۔ اللہ نے فرمایا:
” اے ایمان والو! کیا میں ایسی تجارت تمہیں بتاؤںجو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے؟ تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اسکے رسول پر اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو اپنے اموال اور اپنی جانوں کیساتھ، یہ تمہارلئے بہتر ہے اگر تم جان لو۔ تمہارے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور پاک جگہیں ہمیشہ کے باغات میں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (سورہ ا لصف : 10، 11،12)
اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ واضح فرمایا ہے کہ ” بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیںاور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیںوہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی۔تاکہ ہم ان کو پورا بدلہ دیں اور اپنے فضل سے مزید اضافہ کرکے دیں۔ بیشک وہ بخشنے والا قدردان ہے”۔(فاطر:29،30 )
امریکی جیوش کانگریس کو پیشکش کریں تو وہ غزہ سے معافی مانگ لیں گے اور مسلمانوں کے حالات بہتری کی طرف آئیں گے ۔ اگر عیسیٰ نے یہود اور خنزیز کو قتل کرنا ہے تو یہ انہی پر چھوڑ یں۔ قرآن نے ہمیں واضح احکام دئیے ۔ اہل کتاب سے ہم انہی کے مطابق سلوک کے پابند ہیں۔پاکستان کا ممبر اسمبلی اسپیکر سے کہتا ہے کہ ”ہم لوگوں سے ووٹ لیکر اسمبلی میں پہنچے ہیں ،کسی کے ٹٹے نہیں پکڑے” اور امریکی صدر بھی جیوش کے ٹٹے پکڑ کر ایوان صدر میں پہنچتے ہیں۔ امریکہ کے مسلمانوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا لیکن ٹرمپ ان کے خلاف چل پڑا ہے۔ جیسے ہمارے مذہبی اور سیاستدان اپنے طاقتوروں کا ناڑہ پکڑ چلتے ہیں لیکن ذلت کے ادوار سے گزرتے ہیں یہی حال امریکیوں کا بھی ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ ”فرنگ کی جان رگ پنجہ یہود میں ہے” ۔
ہم معدنیات کا دنیا کی بہتری کیلئے اعلان کریں تو یہودی سودی بینکاری کا خاتمہ کرنے کیلئے کردار ادا کریں گے۔دنیا کا اشرافیہ لالچ سے مررہا ہے لیکن جب اس کے سامنے ایک اچھی مثال آجائے گی تو دنیا بھر کے لوگوں میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔
اکبر بادشاہ کا دین الٰہی، شاہجہاں کی تعمیرات کا کمال ، اورنگزیب کی نام نہاد دینداری اور محمد شاہ رنگیلا کی رنگین مزاجی مغل سلطنت کے زوال کا راستہ نہیں روک سکی۔ نظام کا ایکسپائر پرزہ سیاستدان ، جرنیل اور دانشور اپنی ذاتی گھمنڈ پر کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا۔ رسول اللہۖ نے اجتماعی ضمیر کی آزادی و مشاورت سے انقلاب برپا کیا تو راستہ روکنے میں دنیا کی کوئی قوت کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی۔
رسول اللہ ۖ نے یہود کیساتھ میثاق مدینہ اور مشرکینِ مکہ کیساتھ صلح حدیبیہ کا معاہد ہ کیا جو بلاشبہ اسلام اور رسول اللہۖ کے بدترین دشمن تھے ۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وفاق نے قبائل کو صوبے میں ضم کیا اور 18ویں ترمیم میں معدنیات کی ملکیت صوبائی حکومتوں کی ہے۔ لیکن وفاق نے قبائلی علاقہ وفاق کیساتھ معدنیات کے معاملے میں ضم کردیا جو صوبے سے زیادتی ہے اور یہ ہم کبھی نہیں کرنے دیں گے۔ حافظ حمداللہ نے کہا کہ آئین میں پیٹرول وگیس کے علاوہ تمام معدنیات صوبے کی ملکیت ہیں ،گیس وتیل میں بھی50 فیصد صوبے کا ہے، طاقت کے زور پر قوانین کو تبدیل کیا جارہا ہے اور ایمل ولی خان نے کہا کہ معدنیات امریکہ کو ہی بیچی جارہی ہیں اور اس کیلئے ہم بغاوت کرینگے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس خطے کو خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان ، چین اور ایران مل کر جب افغانستان کو بچائیں گے تو خطرات ٹل سکتے ہیں ۔
بھارت کے مسلمانوں اور غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت تعصبات کو ہوا دینے سے ممکن نہیں ہے۔ اگر ہم نے قرآن پر عمل کیا تو اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہارا جانی دشمن بھی گرم جوش دوست بن جائے گا۔
اگر افغان طالبان اور پاک فوج جیسے جگری یار ایک دوسرے کے دشمن بن سکتے ہیں یا پھر TTP کو پاکستان فتنہ خوارج قرار دے سکتا ہے تو حماس و اسرائیل کی دشمنی کیسے ختم ہوگی؟۔ لیکن سب کو نارمل کرنا پڑے گا۔ اشرف غنی حکومت اور طالبان کی دشمنی کتنی زیادہ خطرناک تھی لیکن آخر کارایک افغانی ہونے پر اکٹھے ہونگے۔ اسی طرح اب پاکستان ہی نہیں اسرائیل وفلسطین میں بھی جنگ کی روک تھام کیلئے بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے۔
غزہ کے مسلمانوں کو مشکلات کی طرف دھکیلنے کی نہیں مشکلات سے نکالنے کی ضرورت ہے اور ان کو مروانے کا سلسلہ جاری رکھاتو القدس کی آزادی بھی ایک خود غرضی ہے۔ جب پاکستان کی معدنیات سے آمدن شروع ہوجائے تو بیت المقدس کی تعمیر نو کیلئے صرف اعلان کرنے پر ہی مذاہب عالم میں اتحاد، اتفاق اور وحدت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ القدس میں مسلمان، یہودی ، عیسائی اور دنیا بھر کے انسان جائیں گے تو معراج کی تعبیر ہوگی کہ نبیۖ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ پنجہ استبداد یہود سے عیسائیوں کو نکالنے کیلئے مسلمانوں کا خود مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ہم اسلام کو روندکر مذہبی جذبے کے غلط استعمال کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
سوشل میڈیا پر خبر ہے کہ 100ڈالرکمانے کی خاطر سرائیکی کا جھنڈا اٹھانے والے لڑکے پر حملے سے مجاہد نے فلسطین کا حق ادا کردیا۔اگر جذبہ جہاد کو غلط استعمال کریںگے تو اسکے نتائج اچھے نہیں نکل سکتے۔ غزہ مظلوم کے پیچھے امریکی CIAنہیں تھی۔ اسلئے مجاہدین نے غزہ کا رخ نہ کیا۔ اسامہ کا استاد عبداللہ عزام غزہ کااورایمن الظواہری مصری تھا۔ رسول ۖ کے جد حضرت ہاشم کی قبر غزہ میں ہے۔ فلسطینی بھی وطن پرست ہیں۔ یہاں جنگ و جدل کی فضا بنانا غزہ کے نام پر انتہائی تشویشناک ہے اور حقائق سے جاہل لوگ مفاد پرست ہوتے ہیں۔
حضرت نسیبہ ام عمارہ انصاریہ نے اپنی زندگی غزوات میں گزاری اور ان کی میت کو غسل دینے والی نے کہا کہ جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جہاں پر تیر یاتلوار کے زخم کا نشان نہیں ہو۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے غزہ میں جہاد کو فرض عین قرار دیا۔ کیا کشمیر کے مظلوم مسلمانوں اور افغانستان پر امریکہ کے قبضہ کے وقت جہاد فرض عین نہیں تھا؟۔ لیکن ہوا کیا؟۔
مشرف کیساتھ مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد ، عمران خان ہوتے تھے۔ غزہ سے کئی گنا زیادہ افغانستان میںB52 نے تباہی مچائی تھی۔ پاکستان اپنے میڈ امیرالمؤمنین ملا عمر کی حمایت نہ کرسکا تو غزہ بچائے گا؟۔ جلسے جلوسوں سے امریکہ کو دئیے گئے اڈے بھی پاکستان سے نہ ہٹاسکے مگر جماعت اسلامی نے امیر منور حسن ہٹادیا۔ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں 22 سالہ طالبہ کے قتل سے لیکر روز کیا مظالم نہیں ہوتے مگر کبھی احتجاج کیا؟۔ سود کو اسلامی کہنے کا فتویٰ ہی واپس لیجئے گا!۔ مصنوعات پر تشدد میں ملوث جذباتی عوام کو پتہ چلے کہ تم نے یہودی بینکوں کے سود کو حلال کیا تو تمہارا کیا حشر کرینگے؟۔
ہم نے ملا عمر وشیخ اسامہ میں شرعی فیصلہ کرایاپھر 9|11ہوا، جس نے افغانستان،عراق اور لیبیامیں اتنی بڑی تباہی پھیر دی۔ مفتی عبدالرحیم
(نوٹ: اس پوسٹ کے آخر میں پڑھیں:تبصرہ نوشتہ ٔ دیوار:سید عتیق الرحمن گیلانی)
2009 کو 3دن کمرے میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، مفتی تقی عثمانی…..،تو میں نے تفصیل سے بتایا کہ بازاروں میں دھماکے اورمدرسوں کو نقصان ہوگا تو ان لوگوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا ، اگر علماء اپنے طلبہ کے خوف سے نکلیں کہ اگر ہم نے یہ بات کہہ دی کہ یہ خوارج مفسدین ہیں ،انکے وہی احکام ہیں جو متاثرین میں سے ہیں تو ان کی طرف سے کیا ردِ عمل ہوگا؟۔
سوال: طالبان نے دفاعی جہاد کیا؟۔ جواب: چاروں فقہوں کا اجماع ہے کہ جہاں حکومتی نظم موجود ہو تو وہاں کوئی جہاد نہیںہوسکتا اس پر بعد میں بتاؤں گاکیونکہ وہاں ایک نظم بہر حال موجود تھا۔ سوال: شیخ اسامہ نے بغاوت کی؟۔جواب:بغاوت نہیں اجتہادی خطاء تھی۔چیچنیانے آزادی کی جنگ جیتی مگر عرب مجاہدین نے روس پر خودکش کیا پھر روس نے چیچنیا کودوبارہ اپنا غلام بنالیا۔
شیخ اُسامہ بن لادن اور مُلا عمر کا اختلاف
شاگرد:ملا عمر صاحب نے اپنے دور میں کس طرح سے دوسرے ملکوں میں مداخلت سے روکا حالانکہ اس وقت تو بہت سارے ملکوں کی قیادت وہاں جمع تھی اور عسکری لوگ تھے وہاں پہ ؟۔
مفتی عبد الرحیم: ملا عمر کے دورمیں40 عسکری تنظیمیں افغانستان میں تھیں سارے امیراور بڑے وہیں تھے ۔ میں نے مفتی رشید احمد کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ وہاں جو میں تنظیموں کو دیکھتا ہوں ان کا اپنا اپنا ایجنڈہ ہے اپنے اپنے ملکوں کیساتھ جنگ ہے ۔وہ دھماکے کرنے کا مشورے کرتے ہیں وہاں ٹریننگ ہو رہی ہے تویہ پورا خطہ خدانخواستہ تباہی سے دوچار ہوگا۔ حضرت اگر مجھے دو مہینے کی اجازت دیں تو میں اسی کام پہ جاتاہوں۔ تو میں نے وہاں دو مہینے گزارے۔ ملا عمر اور ان کی کچن کیبنٹ تھی ہانڈی وال جسے کہتے ہیں، میں نے اس کی فہرست بنائی۔ دوسرے انکے کمانڈروں کی فہرست بنائی تیسرے جو ان کی شوریٰ کے ممبران، وزراء اور گورنر جو اہم اہم لوگ تھے ۔ میں نے سب سے یہ بات کی یہ تنظیمیں پوری دنیا کی اپوزیشن آپ نے اکٹھی کی ہے اور یہ آپ کی مصلحت، ریاست اورامارت سے ہٹ کر اپنا ایک ایجنڈا رکھتے ہیں اور ان کو کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے اور خود کفیل ہیں ان کو پابند کریں کہ یہ باہر دھماکہ نہ کریں آپ کی اطاعت کریں۔ لمبی تفصیلی دو مہینے ایک ایک سے میں ملا۔ پھر انہوں نے فیصلہ کیا سب تنظیمیں توڑیں ملا عمر نے سب کے لیڈرز کو بلایا اور کہا کہ آج کے بعد کسی تنظیم بازی ، باہر حملہ کرنے کی اجازت نہیں۔ سب پر امیر مقرر کیا ملا جمعہ خان، پھر مسئلہ ہوا کہ یہ تو پورے افغانستان میں پھیلے تھے تو فیصلہ ہوا کہ سب کو دارالامان کابل میں اکٹھا کیا جائے۔ وہ کابل کے جنوب میں بڑا خراب علاقہ تھا تو وہاں بستیاں بنائی گئیں۔ کروڑوں روپے خرچ کر کے افغانستان کے تمام تنظیمی لوگوں کو وہاں اکٹھا کیا۔ پھریہ مسئلہ کھڑا ہوا کہ ان لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا تھا یعنی ویسے تو چونکہ حکم تھا ملا صاحب کا لیکن نظریاتی لحاظ سے یہ قائل نہیں تھے اس پہ کافی ملا عمر اور اسامہ بن لادن میںاختلافات بھی ہوئے بہت زیادہ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم پر جہاد فرض عین ہے اور ملاعمر کہتے تھے کہ ہماری اجازت کے بغیر نہیں جہاد کر سکتے۔ تو آخر میں ملا عمر نے ہمارے حضرت کو پیغام بھیجا کہ مفتی صاحب کومیرے پاس بھیجیں اور ہم ارجنٹ بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں گیا تو انہوں نے کہا کہ میں بالکل مایوس ہو گیا ہوں اور آپ مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں، آپ بتائیں کیا کریں؟، وہ تو نہیں رک رہے ۔ میں نے ملا عمر سے کہا کہ قرآن میں آتا ہے فان تنازعتم فی شیئٍ فردوہ الی اللہ و الرسول تو ہم لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں تو آپ اور اسامہ بن لادن میں اختلاف ہے آپ یہ کہتے ہیں باہر حملے جائز نہیں اور وہ کہتے ہیں فرض ہے تو اگر ہم شریعت سے پوچھ لیں 3 علما آپ دیں 3 علماء شیخ دے دیں وہ 6علما ء فیصلہ کردیں کہ شریعت کا کیا حکم ہے اور پھر سب مانیں اس کو۔ تو ملا عمر نے کہا کہ میں اس کیلئے تیار ہوں ۔میں پھر شیخ اسامہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ جھگڑا میں علماء کو حکم بنا دیں اور فان تنازعتم فی شیئٍ فردوہ الی اللہ و الرسول اگر ہم نہیں مانیں گے تو کون مانے گا؟۔ تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ ملا عمر نے 3 علماء کے نام دیئے مولانا شیر علی شاہ شیخ الحدیث دارالعلوم حقانیہ، مولانا نور محمدامیر جمعیت علما اسلام بلوچستان، تیسرا میرا نام تھا ۔شیخ اسامہ نے اپنے 3 دیئے ابو… مصری جو انکے نائب اول تھے اور ابو…مریطانی جو حیات اور موریطانیہ میں ہیں۔اگر کوئی بات کرنا چاہے تو میرے پاس ٹیلی فون نمبر ہے اور تیسرے موریطانی کے نائب ابوعف مریطانی دار الافتاء کے صدر مفتی تھے۔ ہم 6 کے 6 اکٹھے ہو گئے اور ایک ہفتہ ہماری بحث ہوئی فقہ حنفی شافعی، حنبلی، مالکی اور سلفی چونکہ یہ لوگ سلفی ہیں تو پانچوں پربات ہوئی اور پانچوں میں ثابت ہوا کہ اس پر اتفاق اور اجماع ہے کہ جہاں ریاست کا نظم موجود ہو تو انفرادی طور پہ کوئی جہادی تنظیم بنا کر کسی ملک پر حملہ کر دے اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بات لکھی گئی، اسامہ بن لادن اور ملا عمر اور ہم سب کے دستخط ہوئے ۔ملا عبدالجلیل نگران تھے اور وہ حیات ہیں۔ عبدالاحد جہانگیروال بھی حیات ہیں وہ بھی شریک تھے ان کو پورا پتہ ہے کہ ملا عمر نے مجھ سے بات کی تھی تو وہاں کافی لوگ ملا غازی، ملا عبدالسلام حیات ہیں وہ بھی موجود تھے اور حاجی لالا تھے۔ اتنے سارے لوگوں کے نام میں اس لیے بتا رہا ہوں کہ یہ کھل کر ہوا تھا تو اس میں سب کے دستخط ہوئے۔ اور بہت لوگوں کو اطمینان ہوا کہ شریعت کا فیصلہ ہوگیا۔ لیکن ہماری تنظیموں کے لوگوں نے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور پھر بالآخر وہ ہوا11 ستمبر کے جو واقعات ہوئے اور نتیجے میں جو کچھ ہوا سب نے دیکھا۔ ان حضرات سے بات کی ملا صاحب سے تو جب سب سے میں نے بات کر لی۔ کمانڈو، وزراء اور شوریٰ کے لوگوں سے تو دو مہینے کے بعد میں آخری میٹنگ ملا صاحب سے تھی تاکہ میں سب کا حوالہ دے سکوں تو میں نے ملا صاحب سے کہا کہ میں پشتو سمجھ تو لیتا ہوں لیکن بول نہیں سکتا تو مجھے آپ لامحدود وقت دیں تاکہ میں کھل کر بات کرسکوں تو انہوں نے کہا کہ آپ فجر کی نماز میرے گھر پہ پڑھ لیں۔ تو فجر کی نماز ہم نے پڑھی انہی کیساتھ ۔ میٹنگ میں مفتی معصوم افغانی، طیب آغا، میں اور ملا صاحب۔ مجلس فجر کے بعد شروع ہوئی اور کوئی گھنٹے بعد ہم نے چائے پی جو افغانوں کا ناشتہ ہے بڑا سادہ سا۔ پھر میٹنگ ہوئی پھر ظہر کی نماز پڑھی، کھانا کھایاپھر میٹنگ ہوئی عصر کی نماز پڑھی۔ عصر کے بعد چائے کی پیالی پی پھر میٹنگ شروع ہوئی مغرب تک۔ تو فجر سے مغرب تک میں نے فقہی، شرعی، سیرت اور تاریخی حوالے سے تمام چیزیں ملا صاحب کو بتائیں کہ ساری تنظیمیں یہاں موجود ہیں تو ان کو باقاعدہ اس کا پابند کریں۔ تو الحمدللہ وہ اس پہ قائل ہوئے۔ پھر وہ کہتے تھے کہ ہمارا کوئی پروگرام نہیں باہر کسی ملک کو نقصان پہنچانے کا تو لوگ ہمیں کیوں نقصان پہنچائیں گے ؟۔میں نے کہا تھا کہ 14 سوسا ل بعد علماء کی حکومت آئی ۔ مجدد الف ثانی نے کوشش کی تھی۔افغانستان میں 70-60-50ہزار طلبہ علماء شہید ہوئے اتنی بڑی قربانی کی مثال نہیں۔ انگریز نے جو پھانسیاں دی تھیںوہ 35ہزار علماء تھے تو یہاں تو 70-60 ہزار علماء شہید ہوئے۔ تو یہ ختم ہو جائے گا آپ ان کو سنبھا لیں۔ یہ بیک گراؤنڈ ہے۔ یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ طالبان کے بانی مؤسس امیر اول تھے اور انہی کے نام پہ سب کچھ چل رہا ہے، جب انہوں نے شرعی فیصلہ کیا اور سب کے دستخط ہوئے تو پھر کیا گنجائش ہے کہ آپ مخالفت کریں؟۔ ابھی جو کچھ وہاں سے زمین استعمال ہو رہی ہے یہ شریعت کے خلاف ہے جو فیصلہ خود طالبان کے امیر نے علما ء سے کروایا اور سب کے دستخط کے ساتھ اور وہ تحریر انکے پاس ہوگی ۔کیونکہ وہ تو بہت بڑی تحریر تھی تو یہ تحریر ان کے پاس ہوگی افغانستان میں کسی جگہ رکھی ہوگی اس کو جا کے دیکھ لیں اور اگر وہ نہیں ہے تحریر یعنی جنگوں میں کوئی چیز ضائع ہو جاتی ہیں تو جتنے نام میں نے بتائے ہیں وہ تو حیات ہیں پوچھ لیں ۔دوسری بات یہ کہ جو دوحہ میں معاہدہ کیا پوری دنیا کیساتھ تو معاہدے پر عمل کرنا فرض ہے۔ حضور اکرم ۖاور خلفائے راشدین صحابہ کرام نے 250 معاہدے کئے، کسی ایک معاہدے کی بھی خلاف ورزی نہیں کی اور معاہدے کی خلاف ورزی پر اتنی سخت وعیدیں ہیں کہ آپس میں اختلاف ہوگا اور مخالفت ہوگی اللہ دشمنوں کو باہر سے مسلط کر دے گا اور باقی جو آخرت میں اس کی سزا ہے دنیا میں سزا ہے اللہ تعالیٰ سمجھ دے۔ دعا کرتا ہوں کہ افغانستان میں سارے طالبان نہیں۔ حکومت میں وہ لوگ جو پاکستان میں جنگ کو صحیح جائز سمجھتے ہیں ان کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ شریعت کا فیصلہ تو ہوا تھا اور ایک ہفتے کی مسلسل کتابیں دیکھنے کے بعد اور اس میں سب کے سائن ہوئے تھے اور اسکے اور بہت سارے گواہ مل جائیں گے تو میرے خیال میں ابھی بھی ان کو ایسے ہی کرنا چاہیے اور جیسے اس معاہدے کی خلاف ورزی پر افغانستان برباد ہوا تباہ ہوا اور 20 سالوں میں لاکھوں لوگ شہید ہوئے اور اس کی وجہ سے عراق بھی گیا شام بھی گیا لیبیا بھی گیا ابھی جو کچھ ہو رہا ہے دوبارہ پھر اسی کو دوہرارہے ہیں۔ اس سے پاکستان ،افغانستان ،امارت اسلامیہ ،شریعت کو بھی نقصان ہو گا،افغانوں اور مہاجرین اور انکے مستقبل کو انتہائی نقصان ہوگا۔ اس لیے افغانستان امارت اسلامیہ کے جو ذمہ دار لوگ ہیں ان کو اپنے شرعی فیصلے کا پاس کرنا چاہیے جو انہوں نے خود فیصلہ کیا۔ سوال:ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑی سطح پہ قتل عام ہے عام لوگ مررہے ہیں شہادتیں ہورہی ہیں علماء لپیٹ میں آرہے ہیں جنگ کا دائرہ کار پھیلتا چلا جارہا ہے تو ایک عالم دین مفتی اور جیسے آپ کا تجربہ رہا پوری زندگی کا تو آپ ہم دونوں حضرات کو اور اس فتنے کو ختم کرنے کیلئے کیا تجاوزدیں گے؟۔
مفتی عبد الرحیم: دیکھیں ہمارے بیشترعلماء کرام کا کلچر ہے پڑھنے پڑھانے کا اس میں ریسرچ نہیں۔ یہ بات نہیں پڑھائی نہیں جاتی کہ ریاست کے کیا احکام ہیں ریاست کی کیا ذمہ داری ہے۔ اور 200 سال سے علماء کرام بالکل الگ کیے ہوئے ہیں تو ان کو ریاست سے متعلق جو احکام ہیں وہ بار بار بتانے پڑتے ہیں ان کو جھنجھوڑنا پڑتا ہے پھر جا کر ان کو سمجھ میں آتا ہے حالانکہ وہ پڑھ رہے ہیں پڑھا رہے ہیں۔ در س نظامی میں ”ابواب السمع و الطاعہ ” ریاست کی بات کو دھیان سے سننا اور اطاعت کرنا یہ تو متواتر ہے اتنی زیادہ یہ کیا موجود نہیں ہے؟۔ کیا ریاست کے احکام موجود نہیں ہیں؟۔ کیاہمارے دین میں ائمة الجور کا باب نہیں کہ بخاری ومسلم شریف میں کہ اگر حکمران ظالم ہوں تو تمہیں کیا کرنا ہے صراحتا ًنبی کریمۖ کے ارشادات موجودہیں۔ کیا فتنوں سے متعلق ابواب الفتن موجود نہیں کہ فتنے آئیں گے اور وہ کس کس شکل میں ہوں گے اس میں قتل و قتال ہے، ریاست کے خلاف بغاوت ہے ،خوارج کی علامتیں بھی ہیں اور بہت ساری چیزیں ہیں، فساد فی الارض کا ذکر ہے۔ جو علامات قیامت ساری صحاح الستہ میں ہیں لیکن ہمارا نظام 200سال سے اس قسم کا ہے کہ باقاعدہ جو پریکٹس میں نہ ہو اور اصول ضوابط جو کتاب میں ملتی ہیں کہ ڈرائیونگ کے اصول آپ زبانی یاد کر لیں گاڑی آپکے پاس نہ ہو آپ کو کہا جائے گا؟۔ تو میں سمجھتا ہوں علماء کرام اس حوالے سے معذور ہیں کہ ہماری حکومتوں نے علما ء کو دور کر دیا تو وہ ابواب جن کا تعلق ریاست،جہاد کے احکام سے تھا ہمارے علماء براہ راست اسکے متعلق رہے ہی نہیں اسلئے انکے پاس سنی سنائی معلومات ہیں۔ دوسری بات یہاں چیزیں اس انداز سے چلائی گئی ہیںکہ سیاست اور اپنے ذاتی مفادات، معلومات اور نظریات خلط ملط ہو گئے ہیں کہ اس پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ میں 20-15سال سے اس پر بات کر رہا ہوں جب بھی علما ء سے بات کی تو انہوں نے میری بات کو کہا کہ آپ صحیح کہتے ہیں۔ مثال بتا دیتا ہوں ایک دفعہ دارالعلوم کراچی میں میٹنگ ہوئی۔ مفتی رفیع عثمانی ، مفتی تقی عثمانی اور حنیف جالندھری اور بھی دو تین حضرات تھے، میں نے اسی موضوع پہ بات کی تومولانا رفیع عثمانی نے مولانا تقی عثمانی سے کہا کہ مفتی صاحب نے آج ہماری آنکھیں کھول دیں اور ہمیں ایک لمبی میٹنگ کرنی چاہیے انکے ساتھ۔ تو میں نے عرض کیا کہ اگر 10بڑے حضرات مل جائیں اور ہم کھل کر بات کر لیں یہاں کے حالات اورمسائل پر تو اسکے بعد پھر یہ 2009یا 10کی بات ہوگئی، جامعہ اشرفیہ میں اجلاس ہوا تین دن تو وہ آف دی ریکارڈ تھا کمرے میں ہم 10 لوگ تھے مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا سلیم اللہ خان ، مولانا تقی، مولانا رفیع، مولانا عبد الرزاق اسکندر، حنیف جالندھری، مفتی کفایت اللہ بھی تھے جمعیت کے۔ تین دن اسی موضوع پر بات ہوئی اور بہت تفصیل سے میں نے افغانستان ، عراق اور سب چیزیں بتائیں کہ جوہورہی ہیں نوجوانوں میں اور یہ بازاروں میں دھماکے ہوں گے سب ہمارے ذمے پڑے گا اورمدرسوں کو بہت نقصان ہوگا۔ تو ان لوگوں نے بہت شکریہ ادا کیا تو میں نے جب بھی بات کی ہے علماء کرام سے تو کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں، بلکہ صحیح کہہ رہے ہیں توعلماء کرام سے اگر باقاعدہ کھل کر بات چیت کی جائے اور ان کو خوف نہ ہو، تھوڑے اپنے خوف سے نکلیں۔ خوف کس چیز سے؟۔ ان کو اپنے طلبہ سے خوف ہے کہ اگر ہم نے کہہ دیاکہ یہ بغاوت ہے یہ خوارج ہیں یہ مفسدین ہیں اور انکے اوپر وہی احکام جاری ہونے چاہئیں تو بہت سے طلبہ ایسے ہیں جو متاثرین میں سے ہیں تو ان کی طرف سے کیا رد عمل ہوگا؟۔پھر دوسری بات یہ کہ جو لوگ یہاں لڑ رہے ہیں انکے پاس فوجی طاقت اتنی ہے کہ کتنے علماء کو انہوں نے شہید کیا ۔مولانا حسن جان نے 55 مرتبہ بخاری پڑھائی اس کو شہید کیا۔ مولانا معراج الدین اتنے بڑے عالم تھے ان کو شہید کیا،مولانا نور محمد کو شہید کیا جو پاکستان میں پہلے عالم تھے جنہوں نے جہاد پر کتاب لکھی، پہلا شخص وانا والے بڑی جہادی زندگی گزری ہے ان کی۔ ابھی مولانا حامد الحق کا واقعہ ہوا کتنا افسوسناک ہے کہ عالم دین کو مدرسے میںوہ مدرسہ جس کی تاریخ ہے اور نام اتنا بڑا ہے اسلامائزیشن، جہاد، اس ملک کی خدمت کے حوالے سے کہ آپ کا سر نیچا ہو جائے گا سن کر۔ تو وہاں ان کو شہید کیا۔ ابھی مفتی شاہ میر دارالعلوم کراچی اور بنوری ٹاؤن کے فاضل تھے اور افتاء جامعة الرشید سے کیا تھا ان کو نماز کے اندر شہید کیا۔ مفتی فرمان اللہ کو ابھی کرم میں شہیدکیا اور بھی بہت سارے علما ء کو شہید کیا جارہا ہے۔ یہ خطرناک ہے تو ہمیں کھل کر بات کرنی چاہیے اور انکے نظریات پر ہمیں بات کرنی چاہئے۔ ان نظریات کے مقابلے میںمولانا فضل الرحمن اگر آجائیں تو ان پر چار خود کش حملے ہوئے اب تک اللہ نے بچایا ہے ان کو۔ قاضی حسین احمد پرخودکش ، مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ ہوا، حاجی عبدالوہاب، مولا طارق جمیل ، قاری حنیف جالندھری اورمولانا تقی عثمانی کو دھمکیاں دی گئیں۔ تو وہ نظریہ ہے جو مائنڈ سیٹ ہے اس کیلئے مولانا طارق جمیل ہوں، کوئی بہت بڑا بزرگ ہو، شیخ الاسلام ہو، مفتی اعظم ہو ، مسجد ہو ،مدرسہ ہو ،کوئی سجدے میں ہو، تفسیر پڑھا رہا ہو ، جمعہ ہو، یا رمضان ہو، لیلة القدر ہو، وہ سب کا خون مباح سمجھتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے ، اگلی دفعہ مستقل بات کر لیں 22احادیث ہیں اس بارے میں۔ تو ان کو کون بیان کرے گا؟۔ اب تو یہ جنگ یہاں تک پہنچ گئی۔ اسلئے میں سمجھتا ہوں کہ نظریات پر بات کرنی چاہیے اور جب اس پہ بات کریں گے تو آپ کو احادیث قرآن کی آیتیں اور پوری سیرت تاریخ اور تمام فقہی حوالے اور عقائد کی کتابیں آپ کو مل جائیں گی۔
سوال: 11 ستمبر کا واقعہ اس معاہدے کے فوراً بعد ہوا تو ملا صاحب کا کیا ریکشن تھا؟۔ جو شیخ اسامہ یا وہ جو ایک پوری خلاف ورزی ہوئی توپھر ؟۔
مفتی عبد الرحیم: ان کو اندازہ تھا ۔ دلیل یہ ہے کہ انہوں نے شوریٰ کے ساتھی ملا عبدالقیوم شہیدکو بھیجا میرے پاس کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ سنگاپور کی طرف ان عرب کا پروگرام ہے تو تحقیق کرنا چاہتا ہوں تو آپ کے پاس وسائل ہیں اگر ملا عبد القیوم کو وہاں تک بھیج دیں تو بہت آپ کی مہربانی ہوگی۔ اورملاعبد القیوم نے مجھے بتایا کہ ملاعمر بہت زیادہ پریشان ہیں کہ اس فیصلے کو قبول نہیں کیا انہوں نے اور مجھے اطلاعات مل رہی ہیں کہ سنگاپور میں کچھ چیزیں ہو رہی ہیں۔ تو ضیاء الدین ہاکی کے پلیئر تھے نا۔ نام اسلئے بتا رہا ہوں تاکہ پتہ چل جائے۔ تو انکے بھائی علاء الدین ہمارے حضرت سے بیعت تھے ، ضیاء الدین بھی حضرت کی مجلس میں آتے تھے اور مولانا راحت علی ہاشمی کے ضیاء الدین بہنوئی ہیں۔بڑا اچھا خاندان ہے ماشااللہ، میں نے ان کو بلایا اور کہا کہ آپ لوگ سنگاپور میں کام کرتے ہیں تو یہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا بالکل ٹھیک ۔تو ضیاء الدین خود گئے ملا عبدالقیوم کو ساتھ لے کر۔ پھر کیا ہوا نہ پوچھا کہ کوئی چیز ملی نہیں ملی ،بیچ میں شیخ نے پیغام بھیجا، تو میں گیا شیخ کے پاس ، بالمشافہ ان سے بات کی۔ تو اس نے کہا کہ میں پریشان ہوں کہ مجھے ملا عمر نے بالکل بٹھا دیا، تو میں نے اتنی بڑی قربانی بیٹھنے کیلئے تو نہیں دی تھی۔ تو میں ملا صاحب سے ملا اور مولانا مسعوداظہر بھی میرے ساتھ تھے۔ تو ہم نے جا کے ملا صاحب سے بات کی کہ اس طریقے سے وہ بہت پریشان ہو رہا ہے تو ملا صاحب نے کہا کہ سب نے مل کر شریعت کا فیصلہ کیاشریعت کے آگے سر جھکانا چاہیے۔ تو ان کا خیال یہ تھا کہ جہاد فرض عین ہے اپنے طور پر اور فرض عین کیلئے اب نماز پڑھنے کیلئے میں ملا عمر سے پوچھوں؟۔ لیکن یہ غلط تھا کیونکہ چاروں فقہوں میں جہاں ریاست کا نظم ہو وہاں انفرادی یا گروپ کیلئے اجازت نہیں کہ کسی ملک میں حملہ کرے۔پوری ہماری اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی مثالیں موجود نہیں ہیں۔
سوال: یہاں اقدامی جہاد کی بات ہو رہی ہے یعنی وہ اقدامی جہاد کو بھی فرض عین … کیونکہ جہاد تو ویسے بھی طالبان نے کیا ہی ہے وہ دفاع میں تھا۔
مفتی عبد الرحیم: اس پر بھی الگ بات کرنے کی ضرورت ہے کہ جہاں ریاست موجود ہو تو وہاں اقدامی ہو یا دفاعی ہو ؟۔تو وہ ایک جو نظم بنا ہوا ہے ان کے ذمے ہوتا ہے۔ کیا پاکستان میں کسی کرنل کو کسی جنرل کو اپنے طور پہ اختیار ہے کہ وہ جا کے جنگ چھیڑ دے؟۔ جنگ کوئی معمولی چیز تو نہیں ہے؟۔ تو اتنی بڑی بڑی ہماری خلافتیں گزری ہیں تو ایک باغی کس کو کہتے ہیں؟۔ تو باب البغا کو دیکھ لیں نا وہاں سارے احکام موجود ہیں اس پر میں آگے چل کے پھر بات کروں گا کہ ان کو ہم کیا کہیں گے۔ چونکہ میرا آنا جانا بہت زیادہ تھا۔ باقی کوئی حنبلی تھا کوئی سلفی تھا ،شیخ عبد الولید مصری حنفی اچھے صحافی اور نائب ثانی تھے انکے ۔تو میں ویسے چلا گیا کابل میں انکے گھراور کہا سناہے آپ ناراض ہو کر آگئے ہیں؟ اس نے کہا کہ جب آپ نے یہ فیصلہ کیا تو کچھ دن بعد میری 7-6سال کی بیٹی کو خواب میں زیارت ہوئی نبی کریمۖکی اور فرمایا کہ اسامہ سے کہو کہ ملا عمر کے ہاتھ پر بیعت کرے۔ تو میں نے شیخ کو بتایا جبکہ میری بیٹی کو پتہ نہیں اور نبی ۖکی حدیث من رآنی فقد رانی فان الشیطان لا یتمثل بی ”جس نے مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان کو قدرت نہیں کہ میری شکل اختیار کرے”۔ تو میں نے شیخ سے کہا کہ آپ بیعت کریں تو اس نے کہا ٹھیک ہے ۔پھر میری بیٹی نے یہ خواب دیکھا اور تیسری مرتبہ یہ خواب نظر آیا تو میں دوپہر میں گیا اورشیخ کو سوتے میں جگایا اور کہا کہ تیسری مرتبہ کے بعد میرے پاس گنجائش نہیں، آپ کو چھوڑ دوں گا۔ تو انہوں نے کہا کہ میں کر لوں گا پھر نہیں کی تو میں وہاں سے واپس آیا۔ شیخ عبدالولید ابھی حیات ہیں وہ تہران میں رہتے ہیں اور ان سے رابطہ کر کے کوئی پورا پتہ لگا سکتا ہے اب بچی کافی بڑی ہو گئی ہوگی۔
سوال: اکثر آپ سے سنتے ہیں کہ لیبیا شام، عراق یہ تو دور کی باتیں ہیں جو اتنی ریاست ریاست ریاست تو ایک ہماری بالکل پڑوس کی ریاست جس نے اتنی مشکلوں سے اپنا وجود پایا اور وہ ایک بغاوت کی نظر ہو گئی اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا ۔
مفتی عبد الرحیم: یہ بغاوت نہ تھی صحیح لفظ ہمیں استعمال کرنا چاہیے۔ جو ریاست سے لڑے اس کو باغی کہیں گے اگر ریاست کی اطاعت نہیں کی تو یہ نافرمانی کی۔ یہ اجتہادی معاملہ ہے جو فرض عین سمجھتا تھا تو اتنی گنجائش آپ ان کو دے سکتے ہیں۔ چیچنیا کی پہلی جنگ میں ان کو فتح حاصل ہو گئی تھی تو اسکے بعد دوبارہ جنگ ہوئی تو زیلم خان بانی تھے تو میرا ان سے رابطہ تھا ۔میں نے کہا کہ افغانستان تشریف لائیں ۔اس نے کہا: آذر بائیجان آجائیں تو میں نے کہا میں نہیں آ سکتا ،آپ یہاں آجائیں، تو افغانستان آئے تو میں نے پوچھا کہ یہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟۔ اس نے کہا کہ ہم نے جنگ لڑی جو آزادی کی تحریک تھی اور جوہردودایوف تو میرے کہنے پر آئے جو جنرل تھے فوج میں۔ 15 ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ اور جن سے لڑائی تھی وہ1 کروڑ 71لاکھ مربع کلومیٹر ۔اور اللہ نے ہمیں فتح عطا فرمائی ۔ وہاں ادارے بننا اور اسکول کھلنا شروع ہو گئے سب چیزیں۔تو عرب مجاہدین کے کمانڈر عمر خطاب نے کہا کہ ہماری فتح ہو گئی ،روسیوں کو ماریں گے۔ ہم نے بہت سمجھایا کہ اتنی مدت کے بعد ہمیں آزادی ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انکے گھر میں ہم ماریں گے۔ غالبا 1995-94میں پھر ایک گاڑی بارود سے بھری ماسکو میں خودکش حملہ کیا400 سے زیادہ روسی مارے گئے۔ رد عمل میں انہوں نے چڑھائی کی اور دوبارہ قبضہ کیااور ابھی تک۔ تو یہ وہ زخم ہے جو شریعت و جہاد کے احکام کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے جذباتیت سے چیزیں ہورہی ہیں اور جب تک بندوبست نہ ہوگا تو یہ چیزیں نکلتی رہیں گی اور مسلمان ریاستوں کو نقصان پہنچتا رہے گا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں شیرافضل مروت نے کہا کہ فلسطینیوں نے جو پاکستان میں رہتے ہیں مظلوم فلسطینیوں کیلئے NGOکھولی لیکن میزان بینک سمیت سب نے اکاؤنٹ کھولنے سے منع کردیا۔ ٭٭٭
تبصرہ نوشتہ ٔ دیوار سید عتیق الرحمن گیلانی
مفتی عبدالرحیم کا انٹرویو تین اقساط میں آگیا۔ ا شیخ اسامہ اور ملاعمر کے درمیان مصالحت، فیصلے اور جنگ میں بنیادی کردار مفتی صاحب کارہا۔ ایک طرف شرعی فیصلے پر پانچوں فقہ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور سلفی متفق کہ حکومتی نظم ہو توانفرادی گروہ جہاد نہیں کرسکتا، دوسری طرف شیخ اسامہ کی خلاف ورزی بغاوت نہیں اجتہادی خطا تھی، طالبان کا امریکہ کیخلاف دفاعی جہاد نہ تھا اسلئے حکومتی نظم تھا۔
مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، مولانا سلیم اللہ خان 10علماء کو یہ سمجھانا کہ جوان بازاروں میں دھماکے کرینگے اور مدارس کا نقصان ہوگا۔ جس پر جاہل اکابرنے مفتی عبدالرحیم کا شکریہ ادا کیا اور طالبان پر خوارج مفسدین کے احکام جاری ہوتے تھے مگر علماء کواپنے طلبہ سے رد عمل کا خوف تھا؟۔
علماء نے 2018ء میں فتویٰ دیا، جب جنرل راحیل شریف و جنرل قمر باجوہ نے امن قائم کیا ۔ وزیرستان کی کہاوت ہے: داموتے مے دیر پوتے خو چہ نورے نہ کہ موتے ۔”جو برتن تم نے توڑ دئیے ہیں وہ تو میں چھوڑ دیتا ہوں لیکن مزید مت توڑدو”۔ امریکہ کی جنگ میں مسلمان مارے گئے۔ اسرائیل کے نام پر دوبارہ کوئی کھیل نہیں کھیلا جائے۔مفتی عبدالرحیم کے انٹرویو میں خطرناک تضادات موجود ہیں۔ جس سے علماء کی حیثیت زیرو اور TTP اور بلوچ قوم پرستوں کو بڑی تقویت ملے گی۔یہ انتہائی جاہلانہ سازش کی عکاسی بھی ہے۔
پاکستان کی ریاست کا ایک قانون ہے اور وکیل اپنے اپنے کلائنڈ کے حق میں مخالف کے مقابلے کی دلیل نکالتے ہیں۔ انگریز کے دور سے موجودہ دور تک اس میں اصلاحات کی بجائے پیچیدگیاں ڈالی گئی ہیں اور جہاں صفائی کیساتھ کوئی بات تھی تواس کو بھی دھندلا کردیا گیا ہے۔ مثلاً پاکستان کا آئین پاک فوج کے سربرہ کے ایکسٹینشن کی گنجائش نہیں دیتا تھا لیکن فوج سے متعلق ایک دفعہ تھا کہ اگر کوئی فوجی ریٹارئرڈ تھا اور پھر اس پر کوئی جرم ثابت کرنا ہو تو اس کو نوکری پر بحال کرکے فوجی ڈسپلن کے تحت سزا دی جائے گی۔ اس دفعہ کے تحت کسی آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
لیکن جنرل ایوب ، جنرل ضیائ،جنرل پرویز، جنرل اشفاق تک اسی قانون کے تحت ایکسٹینشن دی گئی۔ نواز شریف نے زرداری کی مخالفت کی تھی کہ فوجی جرنیل کو ایکسٹینشن دینا انتہائی غلط بات ہے اور مسلم لیگ ن کبھی اسکی حمایت نہیں کرے گی۔
پھر عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ دامت برکاتہم العالیہ کو ایکسٹینشن دی تو کسی کم بخت نے کہا کہ آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ کورٹ میں اس کے خلاف پٹیشن داخل کردی۔ جس طرح جب پارلیمنٹ کااجلاس کوئی ڈھبر ڈوس کرنا چاہتا ہے تو وہ کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کردیتا ہے اور تعداد پوری نہ ہونے پر اجلاس ملتوی ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اگر معلوم ہونے کے باوجود اس کی نشاندہی نہیں ہو تو اجلاس چلتا ہے اور قانون سازی بھی ہوجاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے مسجد کا امام پاد یا پوسی مار دے اور جب تک کوئی نشاندہی نہ کرے تو نماز چلتی رہے۔ اس سے عوام کو معاملہ سمجھنا آسان ہوگا۔
بعض لوگوں نے یہ مسائل گڑھ رکھے ہیں کہ اگر شوہر بیوی کو تین طلاق دے اور لوگوں میں تشہیر نہیں ہو تو پھر طلاق نہیں ہوگی۔ بعض دلے بے غیرت وہ ہیں کہ باپ نے اس کی بیوی کو ہاتھ مارا ہو مگر جب تک اس کا بھانڈہ نہ پھوڑا جائے تو وہ شریعت پر عمل کرکے بیوی چھوڑتا ہے اور نہ بے غیرت باپ کو وہ کچھ کہہ سکتا ہے۔ معاشرے میں المیہ چلتا ہے۔
خیر جب جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ایک نشاندہی ہوگئی تو پھر اس پٹیشنر نے اپنی پٹیشن واپس لے لی لیکن چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان ڈٹ گیا کہ اب بال میری کورٹ میں ہے ۔ اس پر پارلیمنٹ قانون سازی کرے۔ عمران خان، نواز شریف اور زرداری نے منٹوں میں بھاری اکثریت سے قانون سازی کرکے ایکسٹینشن دی۔
موجودہ حکومت نے آرمی چیف کو متفقہ آئین کے تحت 3سال کی ایکسٹینشن دینے کے بجائے بہت ہی متنازعہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت بھی مدت ملازمت نہیں بڑھائی بلکہ اس کے بعد متنازعہ ترین قرار داد کے ذریعے 2سال کا اضافہ کردیا۔ سوال یہ ہے کہ جنرل سید حافظ عاصم منیر نے دباؤ ڈالنا تھا تو 3سال تک مدمت ملازمت میں اضافہ کراتے؟ اور آزمائش کی آواز بھی ایک ، دو، تین ہوتی ہے لیکن ایک اور دو تک کیوں؟۔ وہ بھی متازعہ قانون کے تحت ؟۔ صحافی احمد نورانی جسکے دو بھائی اغواء ہوئے تھے ۔ اس نے بھی کہا کہ یہ اضافہ فوج کی خواہش پر نہیں ہوا تھا بلکہ فوجی قیادت نے مخالفت کی تھی اور یہ صرف نوازشریف کی ضد تھی اور اس کے نتیجے میں یہ اضافہ کیا گیا ہے۔
اس لمبی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ پارلیمنٹ اور قانون کی بادلاستی کا راگ الاپتے ہیں تاکہ ان کو گدھے کی اس بلبلوں کی مانند جعلی دُم کا پتہ چلے کہ کس طرح ہوائی فائرنگ سے یہ اُڑتی رہتی ہے؟۔
اب آتے ہیں مفتی عبدالرحیم کے انٹرویو کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ ایک طرف اسامہ بن لادن نے نہ صرف شریعت کے متفقہ بلکہ اپنے فیصلے کی بھی بہت بڑی نافرمانی کردی اور دوسری طرف رسولۖ کا خواب میں آنا بھی بار بار نہیں مانالیکن چونکہ اسامہ کو آزادی دلانے میں مفتی عبدالرحیم بھی کچھ نہ کچھ اپنا کردار ادا کررہاتھا اسلئے اس کا وہ اقدام جس نے افغانستان ،عراق، لیبیا اور پاکستان کا بیڑہ غرق کیا لیکن اسکے باوجود چونکہ وہ اس کو فرض عین سمجھتا تھا اور اس پر بغاوت نہیں اجتہادی خطا کا اطلاق ہوتا ہے ۔ جیسے چیچنیا نے روس کے خلاف جنگ آزادی لڑی اور ٹھیک تھی مگر عرب مجاہد عمرخطاب نے روس پر حملہ کرکے دوبارہ معاملہ خراب کردیا تھا۔
مفتی عبدالرحیم کشمیری مجاہدین کیلئے بھی راستہ نہیں نکال سکے۔ جب امریکہ کی افغانستان میں حکومت تھی تو بھی اس نے طالبان کے جہاد کو جہاد کہنے سے متفقہ فیصلے کی وجہ سے انکار کردیا اسلئے کہ وہاں ایک حکومتی نظم بہر حال موجود تھا۔ جس کی مفتی عبدالرحیم نے تفصیل سے وضاحت کرے گا۔
TTP اور بلوچ قوم پرست مفتی عبدالرحیم کے انٹرویو سے کیا سبق لیں گے کہ متفقہ فیصلے کے بعدجو اسامہ بن لادن جہاد کو فرض عین سمجھتا تھا اور چیچن کا حریت پسند آزادی کیلئے لڑاتو ان پرکیا حکم ہوگا؟۔
مفتی عبد الرحیم نے ایک چھوٹی بچی کو خواب کے ذریعے رسول اللہ ۖ کا پیغام بار بار شیخ اُسامہ تک پہنچانے کا ذکر کیا ہے۔ کیا رسول اللہ ۖ اُسامہ کو براہ راست خواب میں حکم نہیں فرماسکتے تھے؟۔
جب 9/11کا واقعہ ہوا تو بنوں کے ایک مجاہد نے خواب دیکھا کہ رسول اللہ ۖ نے امریکہ کو تباہ کرنے کی اللہ سے فریاد کی ہے۔ ہم نے اسی وقت خصوصی شمارے کی مین لیڈ بنائی تو پہلے علماء نے اس کو کہا کہ تم سستی شہرت چاہتے ہو، پھر بالوں والے اٹھاکر لے گئے کہ اگر پھر تم یہاں نظر آئے تو تمہاری خیر نہیں۔بلیک واٹر کا کمال تھا کہ ڈھائی ہزار امریکی 20سال میں مرے اور لاکھوں افغانی اور ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے مگر پھر بھی وہ شکست کھاگئے ؟
آرمی چیف سید عاصم منیر کے بارے میں کہا جاتاہے کہ شروع سے دہشتگردوں کے سخت مخالف تھے۔ پہلی مرتبہ DGISIایک PHDڈاکٹر ہیں جو ان کی خواہش پر اس منصب پر لائے گئے ہیں۔
مفتی عبدالرحیم ریاستی حقوق کا درست حوالہ دیتا ہے لیکن اس سے مراد غلط لیتاہے۔ حضرت علی نے خوارج کا فرمایا کہ ”بات ٹھیک کہتے ہیںلیکن اس سے مراد غلط لیتے ہیں”۔ رسول اللہ ۖ نے بجا حکم فرمایا کہ حکمرانوں کی سنو اور اطاعت کرو، اگرچہ وہ تیرامال لوٹ لیں یا پھر تیرے پیٹھ پر کوڑا ماریں۔
مفتی عبدالرحیم اس سے یزید ، حجاج بن یوسف اور بنوامیہ وبنوعباس کے ظالم حکمرانوں کی فضیلت اور شرعی حق کو بیان نہیں کریں بلکہ اس کو مصلحت اور اپنی عزت بچانے کیلئے کارگر نسخہ کے طور پر پیش کریں۔ کیونکہ جس حکمران دلے اور بے غیرت میں اتنا کمینہ پن ہو کہ لوگوں کا مال بھی لوٹیں اور ان کی پیٹھ پر کوڑے بھی برسائیں تو ان سے عزتوں کو لوٹنے کے بھی خدشات بعید از قیاس نہیں ہوتے۔
جبرمیں کلمہ کفر کی بھی جائز ہے۔ اگر علماء احساس کرلیں کہ اگر اللہ اکبر کی جگہ العسکراکبر نہیں کہا تو جان ومال اور عزتوں کا خطرہ ہے تو کلمہ کفر بکنا جائز ہے جب اس کا دل ایمان پر مطمئن ہومگر اس کی وجہ سے شریعت کو بدنام کرنا بھی انتہائی حماقت ہے۔
علماء و مفتیان اگر فوج اور اسلام کے سر پر ٹوپی رکھنے کے بجائے خود کو سدھاریں تو بہت اچھا ہوگا۔ عوام کو شریعت کے نام پر دھوکے میں نہ رکھیں اور اس کیلئے ہم بار بار ٹھوس رہنمائی کررہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو کسی میدان میں ہمیں وہ پیچھے نہیں پائیںگے۔ سیاست و شریعت، جہاد و تصوف کو ہم نے ان سے زیادہ قریب سے دیکھا ہے۔
اگر قادیانی ، شیعہ، اہلحدیث، پرویزی اور تقلید کے سارے فتنوں کو مات دینی ہے تو قرآنی آیات کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن جب آخری سال مالٹا سے رہا ہوئے تو قرآن کی طرف توجہ دینے کی بات کردی لیکن تھانوی اور مدنی گروپ اتنے پھیل چکے تھے کہ اس تجویز پر عمل کہاں ہوسکتا تھا؟۔ پھر شیخ الہند کے شاگرد مولانا انور شاہ کشمیری نے عمر کے آخری حصہ میں فرمایا کہ ”میں نے قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی ہے بلکہ فقہی مسالک کی وکالت میں زندگی تباہ کی” لیکن آخری عمر میں کیا ہوسکتا تھا؟ ۔ پھر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے آخری عمر میں اپنے استاذ شیخ کشمیری اور استاذالاساتذہ شیخ الہندکے اقوال کو نقل کیا تاکہ خاتمہ بالخیر ہوجائے۔
عرب خلافت وامارت اور گورنری پر لڑمررہے تھے اور بقول علامہ امین مصری کے دیار غیر سے آنے والے عجم نے مسند علم کو سنبھالا۔ امام ابوحنیفہ ، امام بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی ،ابوداؤد صحاح ستہ کے مصنف عجم تھے۔ فقہ وحدیث اور تفسیر کے ذریعے دین ہم تک پہنچا۔ قرآن کو براہ راست نہیں دیکھا اور ترجمہ وتفسیر میں مختلف مسالک کا بہت بڑا ملغوبہ تھا جس کو دین کا نام دیا گیا ہے۔
پاکستان اور دنیا کے آئین میں تضاد ہوسکتا ہے اور بخاری کو اللہ کی کتاب کے بعد صحیح ترین کتاب کا درجہ دیا گیا ہے لیکن اس میں بھی بہت تضادات ہیں اور تضادات بھی چھوٹے چھوٹے نہیں بلکہ بہت ہی بڑے بڑے تضادات ہیں۔ مثلاً یہ بھی ہے رفاعہ القرظی نے اکٹھی تین طلاقیں دیںاوریہ بھی کہ الگ الگ تین طلاقیں دیں۔ یہ بھی کہ حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بھی حرام کالفظ کوئی طلاق نہیں اور نہ اس کا کفارہ ہے اور کچھ بھی نہیں۔ یہ بھی ہے کہ رسول اللہۖ کی مکی زندگی بعثت کے بعد13سال اور مکی زندگی 10سال تھی اور یہ بھی کہ مکی دور بھی10سال اور مدنی دور بھی 10سال۔ کئی تضادات موجود ہیں ۔
أفلا یتدبرون القرٰٰن ولوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافًا کثیرًا ”کیا قرآن پر غور نہیں کرتے؟اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت تضادات پاتے”۔
رسول اللہۖ ، ابوبکر اور عمر کے ابتدائی دور میں اکٹھی تین طلاق ایک تھی ۔ پھر حضرت عمر نے ایک ساتھ تین طلاق پر تین کا فیصلہ جاری کردیا۔
اس روایت کے پس منظر میں روافض نے عمر کے خلاف توپوں کے دھانے کھول دئیے کہ قرآن وسنت کے خلاف طلاق بدعت ایجاد کرلی۔ شافعی مسلک نے زور لگادیا کہ یہ طلاق سنت ہے۔ حنفی و مالکی مسلک نے اس کو طلاق بدعت قرار دیا لیکن یہ ثابت کرنے کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑگئے کہ ایک ساتھ تین طلاق بدعت ہیں مگر واقع ہوجاتی ہیں۔
فرقہ واریت کا خمار شراب کے نشے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بریلویوں نے مولانااشرف علی تھانوی کا ماموں ڈھونڈ نکالا۔ ”ماموں صاحب بولے کہ میں بالکل ننگا ہوکربازار میں نکلوں،اس طرح ایک شخص تو آگے سے میرا عضو تناسل کو پکڑ کر کھینچے اور دوسرا پیچھے سے انگلی کرے ،ساتھ میں لڑکوں کی فوج ہواور وہ یہ شور مچاتے جائیں بھڑوا ہے رے بھڑوا ،بھڑواہے رے بھڑوا،اس وقت میں حقائق ومعارف بیان کروں کیونکہ ایسی حالت میں کوئی گمراہ تو نہ ہوگا سب سمجھیں گے کہ کوئی مسخرہ ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت: جلد9صفحہ212)
بریلوی مکتب کے مفتی کامران شہزاد نے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کی تائید کردہ کتاب کا حوالہ دیا کہ ” اس میں لکھا ہے کہ ایک پیر نے اپنا عضوتناسل نکالا، جو ایک ڈیڑھ گز لمبا ہوا۔ پھر مرید کی اس سے پٹائی لگادی ،پھر غائب ہوا”۔
شیعوں کی بھی انتہائی خطرناک بکواسات ہیں۔
یہ سب قرآن کو چھوڑنے کا نتیجہ ہے۔ اگر مسلم کی روایت کو قرآن پر پیش کرتے تو حضرت عمر کے فیصلے کی بھی تصدیق ہوجاتی اور امت مسلمہ اختلاف کا شکار بھی نہیں بن جاتی۔ آیت228البقرہ میں طلاق والی عورت کو عدت کے تین ادوار تک انتظار کا حکم ہے اور اس میں اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا زیادہ حق دار قرار دیا ہے۔ حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ کیا اسلئے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی اور قرآن میں صلح واصلاح شرط ہے۔
جب عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو تین طلاق ایک شمار ہوتی ہے اسلئے کہ روزے کی طرح عدت کا ایک مرحلہ ایک مرتبہ کی طلاق ہے۔ دوسرا مرحلہ پھر دوسرے مرتبہ کی طلاق ہے اور تیسرامرحلہ تیسرے مرتبہ کی طلاق ہے۔ جب شوہر عدت میں روزے کی طرح عورت سے پرہیز کرتا ہے تو یہ طلاق کا فعل ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ کی طلاق قرآن اور احادیث صحیحہ میں بالکل واضح ہے۔ اور باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع بھی واضح ہے۔
حضرت علی کے دور میں شوہر نے بیوی سے کہا کہ مجھ پر حرام ہو۔ عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی تھی تو علی نے عمر کی طرح فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ دونوں کا فیصلہ قرآن کے مطابق تھا۔ علامہ حسن آلہ کاری دنیا بھر کی بکواس کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ حضرت علی سے امام غائب تک قرآن غائب کیا گیا ہے۔ ارے جب قرآن ہی غائب ہے تو ماں کی قبل سے نکلے ہو اور دبر میں چلے جاؤ۔ پھر کیوں تم لڑانے کیلئے کتابوں سے بکواس کرتے ہو؟۔
علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے ارشاد بھٹی سے کہا کہ حضرت علی نے قرآن کی تفسیر کی اور امام غائب کے پاس وہی ہے۔ تفسیر میں متشابہ آیات کی تفسیر ہو تو زمانہ بھی یہ کام کررہاہے لیکن محکمات کی تفسیر قرآن خود کرتا ہے۔ طلاق کے مسئلہ پر شیعہ سنی بیٹھ جائیں اور قرآن کے عین مطابق اللہ کی ہدایت پالیں۔
طلّق وجہہ اس کا چہرہ خوشی سے کھل گیا۔ اتکلم العربیة بالطلاقة میں کھل کر عربی بولتا ہوں اور انتم طلقاء تم آزاد ہو۔ طلاق بری بلا نہیں۔
اللہ نے فرمایا: ”یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو چھوڑنا چاہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو”۔
قرآن کا ترجمہ بھی شریعت کے نام نہاد مفتی اور مولانا نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ طلاق ایک ملکیت ہے اور شوہر تین طلاق کا مالک ہوتا ہے۔
مثلاً ایک طلاق دیدی تو عدت کے بعد دوسری دو طلاقیں باقی رہ گئی ہیں۔ پھر تو عدت کیلئے طلاق کی ملکیت کا خرچ کرنا باطل ہوگا۔ ایک روپیہ ایک وقت تک کیلئے خرچ نہیں ہوسکتاہے۔ توپھر طلاق کو عدت کیلئے قرآن کے مطابق کیسے خرچ کرینگے؟۔
ولی خان نے جنرل ضیاء الحق سے کہا تھا کہ میں جہاد مانتا ہوں لیکن توپ، جہاز، جنگی ٹریننگ ، ٹینک اور سب کچھ تمہارے پاس ہے جہاد تم نے کرنا ہے! یہ کونسا جہاد ہے کہ مجاہد افغانستان اور پختونخواہ میں شہید ہوتا ہے اور مال غنیمت منصورہ لاہور میں بٹ رہاہے؟۔کیا آج مولوی اسی بات پر آگئے ہیں؟۔
کتنے لوگ جہاد کے نام پر ماردئیے اور جب خود پر مسئلہ آیا تو معاملہ بدل گیا؟۔ اس میں فوجی کا قصور نہیں وہ تو صرف اور صرف لڑائی کو سمجھتاہے؟۔وہ شریعت، معیشت، سیاست اور تعلیم کوئی شعبہ نہیں سمجھتا ہے۔ علماء ومفتیان نے تین وجوہات پر شیعہ کو قادیانی سے بدتر قرار دیا تھا۔ پھر مشرف بہ اسلام کردیا لیکن بہت اموات اور فسادات کے بعد۔
مفتی عبدالرحیم کہتا ہے کہ جنگ کے وقت پاک فوج کیساتھ کھڑا ہونا چاہے اور اگر اس کی کوئی غلطی ہے تو اس پر تنبیہ اور اصلاح کرنی چاہیے۔
مفتی عبد الرحیم سے سوال:افغان طالبان پر ہندوستان نے براہ راست جنگ مسلط کی ، ایران کا 70ہزار طالبان کی شہادت میں ہاتھ ہے تو کیا پھر پاکستان کی غلطی اتنی بڑی ہے کہ سب کو چھوڑ کر اس نے پاکستان کی طرف رُخ کرلیاہے؟۔
مفتی عبد الرحیم: نہیں نہیں میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں پاکستان کے افغانوں پر طالبان پر اتنے بڑے احسانات ہیں کہ قیامت تک اس کا بدلہ نہیں دے سکتے۔ سالانہ 54ہزار زخمیوں کا یہاں علاج ہوتا تھا۔ 500کمانڈر مع بچوں کے ان کے یہاں رہتے تھے۔ 16انکے وزراء یہاں رہتے تھے۔ 30گورنر رہتے تھے۔ 3لاکھ لوگوں کا روزانہ آنا جانا ہوتا تھا۔ کس حالت میں وہ آئے تھے سوائے چادر کے اور کچھ نہیں تھا۔ دنیا یہ کہتی ہے کہ اتنی بڑی جنگ یہاں سے لڑی گئی تو میں نہیں سمجھتا کہ ان کے پاس ذرہ بھی شرعی، اخلاقی اور جو انہوں نے معاہدہ کیا قطر میں کوئی جواز ہے کہ پاکستان سے لڑیں۔
اگر مفتی عبد الرحیم ادھر اُدھر کی بجائے مفتی ولی خان مظفر سے طلاق کا معاملہ حل کروائیںتو بہتر ۔
من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتةً جاہلیة:جس نے اپنے امام زمانہ کو نہ پہچانا تو جاہلیت کی موت مرا۔
ایک زمانہ4امام:
دیوبندواہلحدیث:(1)یزید
بریلوی:(2)عبداللہ بن زبیر
شیعہ:(3)زین العابدین
اور کیسانیہ:(4)محمد بن حنفیہ
اوپیچھے تو دیکھو !پیچھے سیاسی بچہ: احمد شاہ کانیگرم وزیرستان
امام پر کبھی اتفاق نہیں ہوا لیکن جمہوریت پرہندوستانی، پاکستانی اورایرانی متفق؟
امام پر اتفاق نہیں ہوا۔ اگر خلافت راشدہ جمہوری ہوتی تو نبی ۖ کی 23 سالہ جدوجہد کے بعد عثمان 25 سال میں شہید نہ ہوتے ۔ عمر کی شہادت پر عبیداللہ بن عمر نے کئی افرادکو قتل کیا۔ عثمان خلیفہ بن گئے تو علی نے قصاص کا کہامگر پھرسرکار نے دیت دی۔ عبیداللہ پھر شام گیا۔ ریمنڈ ڈیوس نوعیت کا پہلا کیس تھا۔ کہا گیا کہ عمر دور کا کیس تھا نہ عثمان دورکا اسلئے قصاص نہ کیا۔ قاضی شریح کی عدالت نے قتل عثمان سے قتل حسین تک آخرمعاملہ پہنچادیا اور اب تک معاملہ چل رہا ہے۔
ایک مؤمن کے ناجائز قتل کی سزا جہنم اور خانہ کعبہ کو ڈھانے سے زیادہ گناہ ہے لیکن کیا عثمان وعلی اور حسین سمیت لاکھوں مسلمانوں کو قتل سے اس آیت وحدیث نے بچایا؟۔نہیںہرگزنہیں!۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس نے ایک جان کو قتل کیا جیسا کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔ جس میں مسلم وغیر مسلم اور فرقہ وقوم پرستی ، ریاستی وغیرریاستی کی تفریق نہیں۔ دہشتگردی کو روکنا پشتو گانے سے ممکن نہیں کہ” میں آج جب ناچ رہا ہوں توپوری دنیا ناچ رہی ہے”۔اسی طرح رونا بھی سمجھو۔ طالب علماء کو کافراورمرتد سمجھ کر قتل کرتا ہے۔بلوچ اپنا بلوچ قتل نہیں کرتا ۔ طالب گڈ و بیڈ کے پاس اسلحہ مگر بلوچ میں یہ نہیں ۔بلوچ پہاڑی جنگل اور طالب شہری منگل میںہے۔
قرآن میں جہادو اصلاح کی بیعت لیکن بنیاد بیعت خلافت ہے۔جس میں جبر کا تصور نہیں تھا۔
نبیۖ نے حدیث قرطاس سے امت کو اپنے بعد گمراہی سے بچانا چاہا تو عمر نے کہا کہ ” ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے”۔ مگر آخری عمر میں عمر نے کہا کہ کاش نبیۖ سے خلفاء کے نام پوچھتے۔ سعد بن عبادہ نے خلافت انصار کا حق سمجھا۔ ابوبکر وعمر نے قریش کوحقدار کہا۔ علی ہنگامی بیعت پر خوش نہ تھے مگر ابوسفیان کی پیشکش مسترد کی۔ ابوبکر نے چھ ماہ بعد منایا۔ پھر عمرکو نامزدکیا تو صحابہ نے کہا کہ اللہ کا خوف نہیں کہ سخت عمر مسلط کیا؟۔ ابوبکر نے کہا کہ خلافت کا بوجھ نرم بنادے گا۔ سعد بن عبادہ مدینہ چھوڑکر شام کے گاؤں میں رہنے لگے ۔ ابوبکر وعمر کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے اور پھر جنات نے قتل کیا۔ قرون اولیٰ میں اختلاف، جنگیں ، جنات کے قتل تھے توہم اپنے دور میں احتیاط اور حکمت سے کام لیں۔ یزیداورکربلا کے علاوہ عبداللہ بن زبیر نے بیعت لی ۔ مختار ثقفی اور محمد بن حنفیہ اتحادی مگر پھر ثقفی نے اس کا گورنر کوفہ سے بھگایا اور حسین کے قاتل چن چن کر قتل کئے۔ پھر عبداللہ بن زبیر نے اس کا خاتمہ کیا۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے خلافت زین العابدین کے سپرد کرنا چاہی مگر قبول نہیں کی گئی۔پھر مروان بن حکم خلیفہ بنا۔ عبدالملک بن مروان دور میں عبداللہ بن زبیر کی المناک شہادت اور لاش مکہ میں لٹکائی گئی جس طرح کابل میں طالبان نے ڈاکٹر نجیب اللہ کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا اور لاش لٹکائی۔ مولانا شیرمحمد نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے نجیب اللہ کو بچانے کیلئے ملا عمر سے کہا مگر ملاعمر نے اپنی بے بسی کا اظہارکیا۔ نبیۖ نے اہل غرب کو جمہوریت وقانون کی بالادستی کی وجہ سے اہل حق کا غلبہ قرار دیا۔ اگر ہم نے سنجیدگی سے معاملہ لیا تو بڑی مشاورت سے خلافت کا نظام قائم کرسکتے ہیں۔
مثلاً آج سنی مروان بن حکم کا حویلیاں ہزارہ میں عرس منارہاہے تو شیعہ اس کو توہین اہل بیت سمجھتا ہے اور اگر شیعہ کہتا ہے کہ علی ولی اللہ وخلیفتہ بلا فصل توسنی عالم اس پر توہین کی تشہیر کرتا ہے۔
ہے بھڑکنے کا ذوق تو بھڑک جاؤ ہے مرنے کا شوق تو پھڑک جاؤ ہم کہتے رہیں گے تمہیں رُک جاؤ اچھے دور کے آنے تک سسک جاؤ وہ وقت بھی آئے گا کہ تھک جاؤ اپنے اُٹھائے ہوئے ہتھیار رکھ جاؤ مرتے ہوئے اچھی وصیت لکھ جاؤ خوش حال راج کیلئے جلد مکھ جاؤ توحید نہ رسالت چھیڑنے فدک جاؤ بہانے بہانے سے لمحہ لمحہ بدک جاؤ اللہ نے کہا بدلے جنت کے بک جاؤ سامنے خلیفہ ارض کے تم جھک جاؤ زمیں سے بھی اوپر برسر فلک جاؤ عزازیل سے ابلیس تک بھٹک جاؤ ملح اجاج کیلئے ساحل جھرک جاؤ عذب فرات کیلئے کاہل دھڑک جاؤ اپنی تقدیر کی بدولت منزل تلک جاؤ تدبیر سے اندھیرے میں جھلک جاؤ پگڈنڈیوں سے نکل کر سڑک جاؤ اگر ہمت نہیں رکھتے تو سرک جاؤ لگتا نہیں کہ رمک سے کرک جاؤ مگر بامحاصرہ اچانک جب ٹپک جاؤ
تعصبات کا یہ عالم ہے کہ سنی یزید زندہ باد پر آگیا اور ہر داڑھی والے کو مولانا کہتا ہے لیکن علی کو مولانا طارق جمیل مولا کہہ دے تو اس کو مسلک ہی سے باہر کردیا جاتا ہے۔ پوری دنیا مولانا، مولانا بن گئی یہاں تک کہ اگر زیر ناف بال بڑھ جائیں تو اس کو بھی ڈاکٹر مفتی منظور مینگل حضرت مولانا ہی کہتا ہے اوراس کو توہین نہیں سمجھتا لیکن علی کو مولانا کہنا مولانا طارق جمیل کا ناقابل معافی جرم ہے۔
اگر سنی کہتا ہے کہ ابوبکر، عمر ، عثمان کے بعد علی کا چوتھا نمبر ہے تو یہ اس کو حق پہنچتا ہے۔ اگر ابوطالب کو کافر کہتا ہے تو بھی حق پہنچتا ہے۔ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے ۔ شیعہ کو بالکل برا منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر شیعہ کہتا ہے کہ ابوطالب ابوبکروعمر سے اچھے مسلمان اور علی کا پہلا نمبر ہے تو یہ بھی اس کا حق ہے۔ شیعہ تو احادیث کی بنیاد اہل بیت کا کلمہ پڑھتا ہے لیکن سنی نے صحابہ کا کلمہ نہیں پڑھا ہے اور نہ ایمان مجمل ومفصل میں صحابہ کرام کوشامل کیا۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایاکہ تم میں سے ہرایک راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کا پوچھا بھی جائے گا۔ یعنی جتنا بڑا راعی اتنا بڑا معززاور لوگوں پر حکومت واقتدار کرنے والا۔ لیکن قرآن میں یہی لفظ ایک خاص ماحول کی وجہ سے اللہ نے منع کیا۔
جن الفاظ سے فتنہ وفساد اور فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا ملتی ہو تو ان سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ جب فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی گئی ہے تو حکمت عملی سے اس کو بجھانا ایک بہت بڑا فرض ہے اور الحمدللہ اس فرض کو ادا کرتے کرتے میری عمر گزری ہے۔
اہل سنت کی احادیث کی کتابوں میں یہ جملہ کہیں نہیں ہے کہ ”جس نے اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچانا تو وہ جاہلیت کی موت مرا”۔ بیعت اور جماعت کو لازم پکڑنے کی بنیاد پر احادیث ہیں۔
جنرل ضیاء الحق دور میں بریلوی مکتب کے علامہ عطاء محمد بندھیالوی نے کسی قریشی امام سے بیعت کیلئے تحریک اور فتوؤں کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ دیوبندی مدارس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ مولانا فضل الرحمن اپنی جماعت پر احادیث کو فٹ کررہاتھا تو میں نے اپنی کتاب ”اسلام اور اقتدار” میں تسلی کرادی تھی۔
شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز نے پہلی باریہ درج کیا کہ ”جس نے اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا”۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے دوسری بار لکھ دیا۔
شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ نبیۖ نے کشف میں فرمایا: ”شیعہ کی گمراہی کی وجہ عقیدہ امامت ہے۔ جس سے میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ امامت کا عقیدہ ختم نبوت کا انکار ہے”۔انجینئر محمد علی مرزا ایسے کشف کی بنیاد پر شاہ ولی اللہ اور سب اکابرین کو ختم نبوت کا منکر قرار دیتا ہے۔
درس نظامی کی کتاب شرح العقائد میں ہے کہ اہل سنت کے نزدیک امام کا تقرر مخلوق پر فرض ہے اور شیعہ کے نزدیک امام کا تقرر اللہ پر فرض ہے۔
شاہ اسماعیل شہید نے ”منصب امامت”میں شیعہ اور سنی دونوں مؤقف کی تائید کردی ہے اور بریلوی مکتب نے اس کتاب کی تائید کردی ہے۔
جو سنی مخلوق کا فرض سمجھتے ہیں انہوں نے عرصہ سے اس پر عمل نہیں کیا اور جو شیعہ اللہ کا فرض سمجھتے تھے تو امام خمینی نے چھلانگ کر فرض پوراکردیا۔
جو ہچکچا کے رہ گیا وہ رہ گیا ادھر جس نے لگائی ایڑ وہ خندق کے پار تھا
ایک ایسی فضا ضروری ہے کہ ریاستیں و حکومتیں خود امام وخلیفہ کے شرعی فریضہ پر متفق ہوجائیں اور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اور عوام الناس کو بھی کسی ریفرینڈ م سے اعتماد میں لیں۔ قیمتی جانوں کا ضیاع ہورہاہے۔ خلافت راشدہ سے ہماری اوقات بھی زیادہ نہیں جہاں صحابہ واہل بیت کی موجودگی میں بڑا فساد برپا ہوا تھا۔صلح میں سبھی کی خیر ہوگی۔انشاء اللہ
سورہ نازعات کے پہلے رکوع میں فتح مکہ اور دوسرے رکوع میں پاکستان کی سرزمین سے انقلاب عظیم کی خبر
اثریٰ حق و احمد سعید اور ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس کا پورا پروگرام قارئین دیکھیں جس میں ترقی وعروج کا واحد راستہ ہے اور پھر قرآن کریم کی تفسیر کی روشنی میں دنیا کی ترقی و عروج کا انقلاب عظیم دیکھ لیں۔
دورِ جاہلیت میں کافروں کیلئے فتح مکہ سے سپر طاقتوں فارس و روم کو شکست اور1924تک خلافت کا قائم رہنا سمجھ سے بالاتر تھا لیکن موجودہ دور میں انقلاب عظیم کی خبر وہ سائنس ہے جس کو سمجھنا مشکل نہیں
فتح مکہ:اذا جاء ت الصاخہ
النازعات غرقاً لڑائیوں میں غرق پہلے اور موجودہ دور میں انسانوں کی بدترین کیفیت ہے۔
والناشطات نشطاً انقلاب کے وقت تمام جاہلانہ تعصبات کے بندھن کھلنے کی کیفیت ہے۔ والسابحات سبحاً فضاؤں میں موجودہ آلودگی ہے۔ جس کا عنقریب خاتمہ ہوگا۔ انشاء اللہ
فاسابقات سبقاً قرون اولیٰ اور آخرین دور میں سبقت لے جانے والی دو جماعتیں ہیں۔
فالمدبرات امراً عالمی انقلابات کیلئے تدبیر کرنے والے فرشتوں کی جماعتیں مراد ہیں۔
یوم ترجف الراجفة جس دن فتح مکہ کے پہلے مرحلے میں مشرکین مکہ پر لرزہ طاری ہوگا ۔ تفسیر و تعبیر کیلئے فتح مکہ کا پورا منظر مطالعہ کریں
تتبعھا الرادفة جس کے بعد دوسرا لرزہ آئے گا جس میں نبی ۖ نے فتح مکہ کا عظیم خطبہ دیا۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ صدق وعدہ و نصر عبدہ، و ھزم الاحزاب وحدہ۔الا ! کل ماثرةٍ او دمٍ او مالٍ یدعٰی فھو تحت قدمی ھاتین۔(فتح مکہ کا خطبہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا و تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا وعدہ سچا ثابت ہوا، اس نے اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور محض اسی نے تمام گروہوں کو شکست دی۔خبردار! ہر موروثی استحقاق ، ہر خون اور مال جس کا دعویٰ کیا جائے وہ میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔
قلوب یومئذٍ واجفة کئی دل جس دن دھڑک رہے ہوں گے۔(سردارانِ قریش کے)
ابصارھا خاشعة ان کی آنکھیں خوفزدہ ہونگی
یقولون ء انا لمردودون فی الحافرة
کہتے ہیں کہ کیا ہم کھڈوں میں لوٹیں گے۔ ااذا کنا عظاماً نخرة کیاجب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے ؟۔ قالوا تلک اذًا کرة خاسرة کہا انہوں نے کہ یہ تو پھر اس وقت خسارے کا لوٹنا ہوگا۔ فانما ھی زجرة واحدة بیشک وہ تو ایک ہی ڈانٹ ہے۔
فاذا ھم بالساھرة جب وہ میدان میں ہوں گے
فتح مکہ میں قیامت صغریٰ کا مظاہرہ
(پھر فتح مکہ کے بعد کیسے حاضر ہوگئے؟)پھر اللہ نے مزید فرمایا۔
”کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے؟۔ جب اس کو پکارا اپنے رب نے وادی مقدس طویٰ پر جاؤ فرعون کی طرف بیشک وہ سرکش ہوچکا ہے، پس کہو کہ کیا تیرے لئے مناسب ہے کہ تو پاک ہو؟۔ اور میں تجھے تیرے رب کی طرف رہنمائی کروں تو آپ کچھ خوف کرو۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ تو اسے جھٹلایا اور نافرمانی کردی۔ پھر وہ مڑا کوشش کرتا ہوا ، تو اس نے جمع کیا پھر پکارا، پس کہا کہ میں تمہارا رب ہوں اعلیٰ درجے والا۔ پس اس کو اللہ نے پکڑ لیا آخرت اور پہلی فرصت میں۔ بیشک اس میں عبرت ہے اس کیلئے جو خوف رکھتاہے”۔
انقلاب عظیم : الطامة الکبرٰی
اانتم اشد خلقاً ام السماء بناھا تم زیادہ سخت ہو تخلیق میں یا آسمان؟۔ ہم نے اس کو بنایا۔
زمین سے فضا میں سات زون ہیں ۔ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں تباہ کن ہیں ، جس پر قابو پانے کیلئے دنیا میں تدابیر ہیں اور مزید دریافت کیلئے کوشش جاری ہے۔ امریکہ خود کو خدا سے زیادہ طاقتورسمجھتا ہے لیکن اس کی قوت خاکستر ہوگی۔ اسی طرح دنیا کو تباہ کرنے والوں کا حال ہوگا۔ انشاء اللہ
رفع سمکھا فسواھا اس کی فضائی آلودگی کو اٹھایا پھر اس کو ٹھیک کردیا۔ (فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے یہ خطہ پہل کرے گاتو دنیا متوجہ ہوگی)
و اغطش لیلھا و اخرج ضحاھا اور اس کی رات کو تاریک تر کردیا اور نصف النہار کو نکالا ۔ (ہمارا نقش انقلاب چڑھتے سورج کو ذرا دیکھ)
والارض بعد ذلک دحاھا اور زمین کو اس کے بعد پھیلادیا۔ (تین قسم کے افراد پر دنیا کو تقسیم کیا جائے گا۔ دو قسم کیلئے دو دو باغات ہونگے)
اخرج منھا ماء ھا و مرعاھا اس سے اس کا پانی نکالا اور بقائے حیات کیلئے بڑے خزانے۔
والجبال ارساھا اور پہاڑوں کو خوب جمادیا
دریائے سندھ کے متاثرہ بہاؤسے جو موسمیاتی تبدیلی40ملین سال بعد آتی وہ انگریز کے نہروں کی وجہ سے200سال میں آگئی۔ کراچی سے کشمیر تک زیر زمین پانی کی سطح متاثر ہوئی ہے۔ زلزلوں کا سامنا اسی وجہ سے ہے۔ کراچی کینٹ اسٹیشن سے تیزی کے ساتھ بھاگتا ہوا سمندر عبد اللہ شاہ غازی کو کراس کرتا ہوا پیچھے جارہا ہے۔2050-60کے درمیان کراچی سمندر برد ہونے کا تخمینہ ہے۔
جب منصوبہ بندی سے نیا آبادی نظام ہوگا تو یہ سب کچھ بروقت بدل جائے گا۔ زیر زمین پانی کی سطح بھی بلند ہوگی اور پہاڑ خوب جم جائیں گے۔ قرآن اور ڈاکٹر حسن عباس کی مہارت کا نتیجہ ہوگا۔
متاعاً لکم ولانعامکم تمہارے لئے گزر کا سامان اور تمہارے چوپاؤں کیلئے۔ (بھلے کینگرو)
فاذا جاء ت الطامة الکبرٰی پس جب وہ عظیم انقلاب آئے گا ۔ (طرز نبوت کی خلافت)
یوم یتذکر الانسان ماسعٰی جس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے دوڑ دھوپ کی ہے۔
وبرزت الجحیم لمن یرٰی اور ظاہر ہوگی انڈسٹریل ایریا کی دوزخ کرپٹ مجرم پیشہ کیلئے۔
”سو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تو دوزخ اس کا ٹھکانہ ہے۔اور سوجو اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشا ت سے روکا تو بیشک وہ جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ آپ سے پوچھتے ہیں انقلابی گھڑی کا کہ کب آئے گی؟۔ آپ کا اس کے ذکر سے کیا ؟۔ تیرے رب کی طرف اس کی انتہا ہے بیشک آپ ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے۔ گویا اس دن دیکھیں گے کہ نہیں رہے مگر ایک شام یا صبح”۔ (النازعات)
پاکستان امام کا کردار ادا کرے تو نہ صرف ایشیاء ، یورپ، افریقہ اور امریکہ بلکہ مشرق و مغرب کی حالت بدل سکتی ہے
سنگاپور ،تھائی لینڈ ، میانمار ، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈیا اور چین کو ایران ،عرب ممالک، ترکی، روس اور یورپ سے ملانے کا پاکستان زمینی راستے کا بہت زبردست جنکشن ہے۔ صرف ٹول پلازوں سے ریاست اور ہوٹل وغیرہ سے پاکستان امیر ترین ملک بن جائیگا۔
پاکستان بھارت سے بنگلہ دیش ،میانماراور تھائی لینڈ تک رسائی کے بدلے بھارت کو ایران اور افغانستان تک رسائی دے۔ میانمار کے مسلمانوں کو سکون کا سانس ملے گا اور بدھ مت والے ٹیکسلا ، بونیر اورافغانستان وغیرہ بدھا کے تاریخی اور مذہبی مقامات دیکھنے کیلئے آئیں گے تو معاشی طور پر کاروبار ِزندگی رواں دواں ہوگا۔ افغانستان اور ایران اسکے بدلے میں عرب ممالک، ترکی ،روس اور یورپ تک رسائی دینگے اور چین اورایران کے ملاپ سے بھی پاکستان نعمتوں سے مالامال ہوگا جو ہماری ضرورت ہیں۔ ٭
برطانوی ہندنے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت افغانستان کو بدلے میں واخان کاعلاقہ روس اوربرطانوی ہند کے درمیان بفر زون بنانے کیلئے دیا تھا۔ جب روس نے افغانستان میں قدم رکھے تو پوری دنیا نے پاکستان سے اسکے خلاف مزاحمت کی۔ اب پاکستان کو نفرتوں سے پاک کرکے محبتوں اور امن و امان کی آماجگاہ بنانے کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کو تاجکستان اورسمندر تک رسائی دیں تو پھر دونوں ممالک یکجان دوقالب بن جائیں گے اور تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں گے۔ ٭
دنیاکا71.9حصہ پانی اور29.1حصہ خشکی ہے۔ پانی کا50%بحر الکاہل30%بحر ہند اور20%بحراوقیانوس ہے۔250سال قبل امریکہ ، فرانس اور برطانیہ نے نہر سوئیز کے101میل کے ذریعے4ہزار کلومیٹر کا سمندری راستہ کم کرکے بحر الکاہل اور بحر ہند کو ملادیا۔ مصر کے عظیم لیڈر جمال عبد الناصر نے1960کی دہائی میں نہر سوئیز کی ملکیت واپس لی تو اسرائیل کے ذریعے جنگ مسلط کی گئی ، سید قطب کامحاذبھی کھڑا کیاگیاجو فلسطینی مجاہدہ ہائی جیکر لیلیٰ خالد مدظلہا العالی کی آزادی کیلئے آخری امید تھے۔ ٭
ڈاکٹر ہود بائی نے اپنے تازہ بیان میں کہاہے کہ پاکستان میں10سے15،20صوبے کی ضرورت ہے۔ فقط کراچی کی آبادی اسرائیل سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دفاع کوچھوڑ کر باقی انتظامی معاملات علاقائی سطح پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور دوسرے ممالک نے اپنے صوبے بڑھادئیے ہیں۔ ہسپتال ، اسکول اوردوسری ضروریات جب تک چھوٹے یونٹوں میں منتقل نہیں ہوں گے تو لوگ سہولیات سے محروم رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس میں رکاوٹ کون ہے؟۔ ہود بائی نے جواب دیا اسلام آباد اورلاہور کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ انکے ہاتھوں سے عوام نکل جائیں۔ ہودبائی کی بات ٹھیک ہے لیکن مرکز ، صوبے اور ضلعی حکومتیں بیرونی قرضوں پر چل رہے ہیں۔ جب تک صوبوں اور ضلعوں کی عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ کیا جائے توصوبے بنانے سے خدشات کا سامناہوسکتا ہے ۔ اگر آزا د کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اعتمادکے ساتھ نقل و حمل کی اجازت ہو ، اسی طرح ہندوستان اور پاکستان کے پنجاب کو تجارت اور آسانی کے ساتھ نقل و حمل کی اجازت ہو ، سندھ کو بھارتی راجستھان کے ساتھ اور ایرانی بلوچوں کو پاکستانی بلوچوں کے ساتھ اور پختونوں کو ایران ، افغانستان اور چین کے ساتھ آزادانہ نقل و حمل اور تجارت کی اجازت ہو تو مقامی سطح پر لوگ معاشی طاقت بن جائیں گے۔ ایک صوبے سے دوسرے صوبے کے درمیان مرکزی ٹیکس کا نظام نافذ کردیا جائے تو لوگ بھی خوشحال ہوں گے اور مرکز بھی بڑا مضبوط ہوجائے گا۔ جب پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہترین بن جائیں گے تو بیرونی مداخلت کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔ اگر یورپی ممالک فرانس اور جرمنی اپنی دشمنی ختم کرسکتے ہیں تو برصغیر پاک و ہند میںپاکستان اور ہندوستان کیوں نہیںکرسکتے ؟۔ ہندوستان پاکستان کے شر سے ڈرتا ہے اور پھر پاکستان ہندوستان سے خوفزدہ ہے۔ افغانستان پر پاکستانی مداخلت کا خوف طاری ہے اور پاکستان کو افغانستان سے خطرہ ہے۔ یہ خطہ حضرت آدم و حوا کی اولاد اور انسانیت کی میراث ہے یا پھر یہاں پر درندے اور گزندے رہتے ہیں؟۔ ایسا کچھ نہیں اور پاکستان ایک طرف انسانیت کے رشتے سے پوری دنیا مشرق و مغرب کے ساتھ وابستہ ہے تو دوسری طرف اسلام کے نام پر مسلمانوں اور تمام مذاہب کے ساتھ اخوت و محبت کا رشتہ ہے۔ تیسری طرف اپنے قریبی پڑوسی ممالک کے ساتھ زبان ، کلچر اور مختلف قومیتیوں سندھی، پنجابی، کشمیری، پشتون، بلوچ اور مہاجر حضرات پر مشتمل ہے۔ جن کے وجود سے ایک خوشگوار انقلاب آسکتا ہے۔ ایران کے تیل و گیس سے صوبہ بلوچستان اپنی حالت درست کرسکتا ہے اور اپنے بھائی صوبوں کو سستا تیل وگیس اورایرانی اشیاء فراہم کرسکتاہے۔ افغانستان کے پھلوں کو بلوچستان اورپختونخواہ اپنا بہت بڑا اثاثہ بناسکتے ہیں۔ جب چرس ، ہیروئن، شیشہ اوردنیابھر کی منشیات گلی محلوں سے لیکر لڑکیوں کے اسکولوں اورکالجوں تک دستیاب ہوں اور پھل فروٹ پر پابندی ہو تو انسانوں کی شکل میں انسان نہیں درندے اور گزندے ہی پنپیں گے۔ بچوںاور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں ، قتل ، اغواء اورگمشدگی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کی جعلی ادویات اورتعلیم کے نام پر جعلسازی سے لیکر اس قوم کے شاندار مستقبل کو کس طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ریاست کا تحفظ بہت بڑا سرمایہ ہے کیونکہ ریاست نہ ہو تو بڑی سطح پر انارکی انتہا نہیں رہے گی۔ لیکن ریاست گردشی سودی قرضہ پر پل رہی ہو ، عوام پر مہنگائی کا بوجھ لاداجارہا ہو اور بیروزگاری ہو، تعلیم ، صحت ، انصاف، تجارت اور تحفظ کا ستیاناس ہو تو پھر عوام کو حکومت اور ریاست سے کیا ہمدردی ہوگی؟۔ہماری مقتدر طبقات سے التجا ہے کہ خود کو بھی بدلیں اور پوری قوم کو بھی بدلیں تاکہ ہم کسی بھی خوفناک انجام سے بچ جائیں۔ ٭٭٭
جس مرد میں طاقت نہ ہو تو بیوی اس کو قریب نہیں چھوڑتی اور دوسری سے نکاح بھی نہیں کرسکتا۔ مگر ایک سے زیادہ نکاح کرسکتا ہو تو اس کو چار تک محدود کرنا اور اگر انصاف نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر” ایک بیوی یا جن سے معاہدہ ہو”۔ سوال یہ ہے کہ معاہدہ والیوں سے کیا مراد ہے؟۔ سلطنت عثمانیہ کے ایک بادشاہ کی4500لونڈیاں تھیں۔ کیا اللہ نے آیت میں لاتعداد لونڈیوں کی اجازت دی ہے؟۔ نہیں ہرگز بھی نہیں!۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عثمان نے عبداللہ بن مسعود سے کہا کہ ایک عورت سے نکاح کرادیتا ہوں تو ابن مسعود نے منع کردیا۔ ابن مسعود نے اپنا شغل قرآن کی تعلیم کو بنایا ۔ نبیۖ نے ان سے سیکھنے کی تلقین بھی فرمائی تھی۔ ایک عورت سے نکاح کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے تھے۔ کھانا، کپڑے، بچوں کی پیدائش اور ان کا خرچہ ۔ اس کیلئے مستقل کام کرنا پڑتا۔ ابن مسعودایک لونڈی کے فرزند تھے ۔ صحابہ نے نبیۖ سے کہا کہ کیا ہم خود کو خصی بنالیں؟۔ نبیۖ نے فرمایاکہ نہیں ایک دو چادرپر کسی سے جنسی تعلق رکھ سکتے ہو۔ لاتحرموا الطیبات ما احل اللہ لکم ”طیبات کو حرام مت کرو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں”۔قرآن۔( صحیح بخاری) کوئی عورت نہیں رکھ سکتاتو کم حق مہر میں نکاح کرسکتا ہے۔ جو بیوہ ، طلاق شدہ ،کنواری ہوسکتی ہے جسے جنسی تعلق کیلئے شوہر کی ضرورت ہو لیکن وہ اپنا خرچہ خود اٹھاسکتی ہوں۔ قرآن میں یہ معاہدہ والیاں ہیں۔ اگر غریب یا نفسیاتی مریض ایک عورت کو انصاف نہیں دے سکتاتو معاہدے کا نکاح بھی کرسکتا ہے۔ قرآن نے معاہدے والی کا بغیر نکاح نہیں کہا۔ بلکہ ایک عورت سے نکاح یا کسی ایک معاہدے والی سے بھی نکاح مراد ہے۔ اللہ نے مرد کو مردانی کا ایک درجہ عورتوں پر دیاہے اسلئے کسی بھی صورت میں شوہر اپنا بوجھ اپنی بیوی پر نہیں ڈال سکتا ہے اور جب عورت اپنا بوجھ خود اٹھاسکتی ہو تو اپنی مرضی کا شوہر بھی اپنے لئے منتخب کرسکتی ہے ۔ مریم نواز کو صفدر عباسی پر فوقیت ہے۔ رسول اللہۖ نے چچاابوطالب سے بیٹی ام ہانی کا رشتہ مانگا۔ حضرت ابوطالب نے انکار کردیا۔ حضرت خدیجہ کی پیشکش کوابوطالب کی اجازت سے آپۖ نے قبول فرمالیا۔ لونڈی اور غلام سے بھی اللہ نے نکاح ہی کا حکم دیا ہے۔ وانکحوا الایامٰی منکم والصٰلحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیم O (سورہ النور آیت 32) ”اور نکاح کراؤ تم میں سے جو طلاق شدہ بیوہ ہیں اور صالح غلام اور لونڈیوں کا۔ اگر وہ غریب ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو مالدار بنادے گا۔ اور اللہ وسعت رکھنے والا علم والا ہے”۔ ماریہ قبطیہ سے نبیۖ کے بیٹے، حاجرہ سے اسماعیل تھے اور کون گمراہ کہے گا کہ یہ لونڈیاں تھیں ، نکاح کرانے کا حکم تھا؟۔ خلافت عثمانیہ کے بادشاہ کو پتہ ہوتا تو اتنی لونڈیاں نہ رکھتا۔ اتنی بکریوں پر ایک بکرا بھی کوئی نہیں رکھتا۔ خواتین کو درباری قسم کے علمائ،فقہائ، شیخ الاسلام، قاضی القضاة اور مفتی اعظم نے ہی جانوروں سے بدتر سمجھ رکھا تھااور انہی کا سکہ رائج الوقت تھا۔ امام ابوحنیفہکی جگہ حنفی مسلک شاگردابویوسف نے تشکیل دیا۔ غلام کے پاس حق مہر کیلئے کچھ نہیں ہوتا توپھر کیا ہوگا؟۔ ولیستعفف الذین لایجدون نکاحًا حتی یغنیھم اللہ من فضلہ والذین پبتغون الکتاب مما مملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علتم فیھم خیرًا واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتاکم ….. (سورہ النور آیت33) ”اور پاکیزگی اختیار کرلیں جو نکاح نہیں پائیں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے مستغنی بنادے۔اور جو لوگ غلاموں سے معاہدے کی لکھت چاہتے ہیں تو اگر ان میں خیر دیکھو تو ان سے تحریری معاہدہ کرواور ان کو وہ مال دو جو اللہ نے تمہیں دیا”۔ اگر کوئی بہن بیٹی کا رشتہ غلام سے چاہتے ہیں تو اگر ان میں خیر نظر آئے تو معاہدہ کرو اور اپنا مال ان پر خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں دیا ۔ اس آیت کا ایسا غلط مفہوم نکالا کہ غلام آزادی چاہتا ہو اور اگر تمہیں اس میں خیر نظر آتا ہو تو پھر اس کے ساتھ آزادی کیلئے معاہدہ کرو۔ غلام اور آزادی میں خیر؟۔ اس کا جوڑ نہیں بنتا!۔ اللہ نے مال طلب نہیں خرچ کرنے کا واضح حکم دیا۔ آگے مزید دیکھو ! اللہ کے قرآن کا کیا حشر کیا گیاہے؟۔ ولاتکرھوافتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصن لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ بعد اکراھن غفور رحیمO (سورہ نور آیت:33) ” اور اپنی کنواری لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو۔ اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم اپنے دنیاوی مقاصد کو انکے ذریعے تلاش کرواور اگر کسی نے ان کو مجبور کیا تو اللہ ان کی مجبوری کے بعد مغفرت کرنیوالا اوربہت رحم کرنے والا ہے”۔ ان آیات میں طلاق شدہ وبیوہ ، غلام ولونڈی اور کنواری کے نکاح کا مسئلہ حل ہے اور ذمہ داری بااثر افراد پر ڈالی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں نے طویل عرصہ حکومت کی مگر اکبر کے ”دین الٰہی” سے اورنگزیب کے” فتاویٰ عالمگیریہ” تک جس میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری ، فساد فی الارض پر سزا نہیں تھی اور پھر ایسٹ انڈین کمپنی نے ہندوستان پرقبضہ کرلیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے پارسی رتن بائی سے کورٹ میرج کی اور اس کی بیٹی دینا جناح نے پارسی سے کورٹ میرج کی تھی اور قرآن وسنت کو علماء نے فروغ نہیں دیا جس سے انگریز ی عدلیہ کو عدل وانصاف اور فطرت کے مطابق بہتر سمجھتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید سے مولانا قاسم نانوتوی تک دینداری یہ تھی کہ جوان بیوہ بہنوں کا نکاح نہیں کیا جب وہ نکاح کی عمر سے گزر گئیں تو اپنے وعظ میں تاثیر لانے کیلئے بہنوں کی منت کی کہ اپنی ضرورت کو چھوڑدو ۔ہمارے لئے نکاح ثانی کرلو۔ لڑکی کو کسی سے محبت ہوگئی اور وہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اللہ نے حکم دیا کہ اس کو بدکاری یا بغاوت پر مجبور مت کرو کہ لڑکا ہمارا کفوء نہیں۔ خاندان کی عزت خاک میں ملے گی۔ اپنی دنیاوی اغراض کو تلاش مت کرو۔ لیکن اس کو کسی اور سے نکاح پر مجبورکیا گیا تواگرچہ اس کی اجازت نہیں لیکن مجبور عورت پر ناجائز اور حرام کاری کا فتویٰ نہیں لگایا جائے بلکہ اللہ غفور رحیم ہے۔ مفتی تقی عثمانی کی بیٹی نے ٹیوشن پڑھانے والے سے نکاح چاہا مگر مارپیٹ کر کسی اور نکاح پر مجبور کیا گیا۔اللہ نے اس جبر کو ناجائز قرار دیا لیکن حرام کاری نہیں اسلئے کہ لڑکی مجبور ہے۔ معاشرے میں ظالمانہ اقدام میں علماء بھی ملوث ہیں۔اور وجہ قرآن کامسخ مفہوم ہے۔ اس آیت کا یہ ترجمہ بیان کیا گیاکہ ”لونڈیوں کو زبردستی سے دھندے پر مجبورنہ کرو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں اور اگر ان کو مجبور کیا گیا تو اللہ غفور رحیم ہے”۔ عورت کی مرضی کے بغیر ولی نکاح نہیں کراسکتا(حدیث) بالغ لڑکی کا نکاح اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا تو چھوٹی بچی کا نکاح جبراً ہوسکتا ہے؟۔ مینا، طوطا اور کونج بچپن سے پالا ہو تو اس کا بھی حق ہے کہ مرضی کے بغیر حوالے نہ کیا جائے چہ جائیکہ اپنی نابالغ بچی کسی جنسی درندے کودی جائے؟۔ مفتی تقی عثمانی کے ”فتاویٰ عثمانی جلد2” میں ظالمانہ غیرانسانی فتاویٰ جات کو دیکھ کر علماء کی غیرت جاگنی چاہیے تھی۔ اس کے کچھ فتاویٰ پہلے شائع کرچکا ہوں۔ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت6سال اور رخصتی کے وقت9سال معروضی حقائق کے بالکل منافی ہے جس پر تحقیقاتی کتابیں ہیں ۔ ہم نے خاصا مواد شائع کیا ہے۔ مفتی طارق مسعود نے کہا کہ بچی شوہر کی امانت ہے ۔ بچپن سے تعلیم کا خرچہ شوہر اٹھالے۔ فائدہ سسرال نے لینا ہے تو میکے والے نقصان کیوں بھریں؟ ۔PTVکی ماہ پارہ صفدر نے کہا کہ ”دورِ جاہلیت میں بعض قبائل اپنی بیٹیوں کو اس خوف سے ماردیتے تھے کہ دشمنی میں مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں سیکس کیلئے بنایا جاتا تھا۔ مفتی طارق مسعود بیٹیوں کو سیکس ورکر کی طرح بچپن میں دوسروں کے ذمہ لگانے پر تلا ہوا ہے” ۔ قرآن میں یتیم لڑکوں کیلئے حتی بلغوا النکاح کا ذکر ہے جس سے لڑکوں کا نکاح کی عمراور ذمہ داری اٹھانے کی حد تک پہنچنا واضح ہے۔ جاہلوں نے قرآن کے لفظ لم یحضن سے بالکل غلط استدلال کیا ہے کہ اس سے وہ بچی مراد ہے جس کو ابھی حیض نہیں آیا ہو۔ یہ سورہ اخلاص لم یلد کی نفی ہے کہ اللہ نے کسی کو جنا نہیں مگر مستقبل میں بچہ جن سکتا ہے نعوذ باللہ۔ الیکشن1937میں جمعیت علماء ہند نے مسلم لیگ کیساتھ اتحاد کیا کہ بچپن کی شادی ختم کرانے کیلئے قانون سازی ہوگی۔ مجلس احرارالاسلام نے قادیانی ٹکٹ ہولڈر وں کا مقابلہ کیا اور الیکشن میں ایک دوسرے کی مخالفت بھی ہوئی جس پر مولا نا مدنی سیدعطاء اللہ شاہ بخاری سے ناراض ہوگئے۔ بخاری نے مدنی کی پرواہ نہیں کی توپھر مولانا سیدحسین احمد مدنی منانے گئے۔ احمد نورانی نے اپنے ویلاگ میںدوبئی میں ایک18سالہ لڑکے کا17سالہ لڑکی سے جنسی تعلق پر سزا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں18سال نکاح کی قانونی عمر ہے اور اس سے کم عمر یا عمروں میں زیادہ فرق کیلئے عدالت سے اجازت لینا ہوگی۔ مغرب نے بھی نکاح کے قوانین رکھے ہیں اور اسلام نے بہت پہلے رکھے تھے لیکن فقہاء نے اپنی جہالت یا مفادات کی خاطر عورت کے حقوق کا خاتمہ کردیا۔ اگر حقوق نہ ہوں توپھریہ قانونی مسئلہ واقعی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اگر حقوق ہوں گے توپھر قانونی معاملات کیلئے والدین کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی کیونکہ طلاق میں مالی حقوق کا تعین کرنا پڑے گالیکن حلالہ کی لعنت کے مرتکب نکاح و طلاق کے حقوق کو کیا سمجھیں گے؟۔ دیوبندی ، بریلوی، شیعہ ،اہلحدیث مدارس بورڈ1982کو منظور ہوگئے۔ مولانا مودودی مدارس کی افادیت کے سخت مخالف تھے لیکن جاوید غامدی کی خانقاہ کی طرح پھرجماعت اسلامی نے رابطہ المدارس بورڈ1987میں رجسٹرڈ کرایا۔ غزوہ حنین کی مشکلات میں نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ انا نبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب ”میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ،میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں”۔ میدان جنگ اللہ نے سجدے و رکوع کا حکم نہیںدیا تھا اور نہ حضرت حسین نے اس پر عمل کیاتھا۔ علامہ اقبال نے کہا کہ آگیا عین لڑائی میں وقت نماز قبلہ رو ہوکے زمین بوس ہوئی قوم حجاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز لڑائی میں سر بسجود ہوں تو کون محمود وایاز زندہ رہیں گے؟۔ قرآن میں حالت جنگ نہیں حالت خوف کی نماز کا سورہ البقرہ آیات238،239میںحکم ہے۔ پھر سورہ النساء میں فرمایا : ” جب تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ کفر والے لوگ تمہیں آزمائش میں ڈالیں،بیشک کافر تمہارے لئے کھلے دشمن تھے۔ اور جب آپ(ۖ) خود ان میں ہوں اور نماز پڑھانا چاہیں ان کیلئے تو ان کا ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو اوراپناہتھیار ساتھ رکھیں۔جب وہ سجدہ کر چکیں تو وہ پیچھے ہوجائیں۔دوسرا گروہ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔پس وہ آپ کیساتھ نماز پڑھ لیںاور وہ بچاؤ کیلئے اپنی حاضر دماغی اور اپنا اسلحہ تیار رکھیںاور کافروں کو پسند ہے کہ اگر اپنے اسلحہ اور سامان سے غافل ہوں تو وہ ایک حملہ میں کام تمام کردیں۔ اور تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ تمہیں کوئی تکلیف ہو بارش سے یا تم بیمار ہو کہ اپنا اسلحہ رکھ لو اور اپنی حاضر دماغی بچاؤ کی رکھو۔ بیشک اللہ نے کافروں کیلئے ذلت کا عذاب مقرر کررکھا ہے۔ جب تم نماز پڑھ چکے تو اللہ کو یاد کرو اٹھتے ،بیٹھتے اور اپنی کروٹوں پر۔پس جب مطمئن ہوجاؤ تو پھر نماز قائم کرو۔ بیشک نماز مؤمنوں پر اوقات کے مطابق فرض کی گئی ہے۔ (سورہ النسائ:101،102،103) سفر میں نماز قصر کی اجازت ہے تاکہ مولوی اپنی دو رکعت کی نماز پڑھ کر مقتدیوں کی ایک بڑی تعداد کو شتر بے مہار کی طرح نہ چھوڑے۔ جب حالت یہ ہو کہ حنفی مسلک میں مقتدی کو بقیہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کی اجازت نہ ہو اور عوام کو پتہ نہ ہو۔ مجد د الف ثانی کا یہ حال ہو کہ حدیث میں فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور میں حنفی ہوں مگر نماز کی امامت کرتا ہوں تاکہ اپنی نماز ہوجائے۔( مقتدی بھاڑ میں جائیں)۔ حج کے اجتماع اور سفر میں نبیۖ ظہروعصر اور مغرب وعشاء کی نماز یں جمع کرتے۔ تبلیغی جماعت و جمعیت علماء اسلام کا لاکھوں کا اجتماع مگر زیادہ تر اوقات لیڑین ،انتظار اور وضو خانہ میں گزرتے ہیں۔ سورہ النساء میں سفر کی نماز کا حکم ہے اور نبیۖ کیلئے حساسیت بیان کی گئی اسلئے کہ کفار موقع کی تلاش میں تھے۔ صحابہ کرام نے دل وجان سے نبی ۖ کی حفاظت کی۔ شیعہ کی یہ عادت بری ہے کہ اختلاف کے علاوہ دوسروں کو حرامی تک بولتے ہیںلیکن طرز عمل کا اختلاف تو ائمہ اہل بیت اور ان کی اولاد میں بھی تھا۔ آج میڈیا کے باوجود کیا سے کیا پروپیگنڈے نہیں ہوتے؟۔ سورہ البقرہ کے پہلے دو رکوع میں مؤمنین ، کفار اور منافقین کی صفات ہیں۔فرمایاکہ” بیشک جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے برابر ہے کہ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ایمان نہیں لائیںگے۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور انکے سننے پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے”۔ کفر وانکار کی خصلت جن میں ہوتو وہ پیغمبروں کی بعثت پر عذاب کا شکار بنتے ہیں مگر ہردور میں اپنی خصلت سے پہچانے جاتے ہیں۔ نبی ۖ کے والدین کفر کی صفات نہیں رکھتے تھے۔ نبی ۖ کی بعثت سے پہلے جن کا ایمان تھا ان کو قرآن نے اسلام پر دوہرے اجر کا مژدہ سنایا۔ نبی ۖ کی بعثت سے پہلے کسی کاانتقال ہوا تو کس جرم میں جہنم کا عذاب ہوگا؟۔ اب جو قرآن نہیں مانتے وہ مسلمان ہیں؟۔ بعض لوگوں پر منافقین کی صفات صادق آتی ہیں۔ قرآن کا آئینہ موجود ہے جس میں مؤمن، کافر اور منافق کا ایمان وکردار دیکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ اللہ نے عورتوں کا حق مہر شوہر کی استعداد پر فرض کیا ۔ قد علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم وماملکت ایمانھم (الاحزاب:50) ”اور ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے ان پر بیویوں اور معاہدہ کرنے والیوں پر (حق مہر)فرض کیا ہے”۔ اللہ نے فرمایا کہ لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقترہ قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المحسنینOوان طلقتوھن من قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضة فنصف مافرضتم الا یعفون او یعفوا الذی بیدہ عقدة النکاح وان تعفوا اقرب للتقویٰ ولاتنسوا الفضل بینکم ان اللہ بما تعملون بصیرًاO(البقرہ آیات236،237)
ترجمہ:” کوئی گناہ نہیں ہے تم پر اگر عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی یا کوئی حق مہر مقرر کرنے سے پہلے۔ پس ان کو خرچہ دو وسعت والے پر اپنی قدرت کے مطابق اور فقیر پر اپنی قدرت کے مطابق معروف طریقے سے خرچہ ہے۔حق ہے اچھوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی اور ان کیلئے حق مہر بھی مقرر کیا تھا تو پھر مقرر کردہ کا آدھا دینا فرض ہے الا یہ کہ جن عورتوں کا حق ہے وہ چھوڑ دیں یا جن کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے وہ آدھے سے زیادہ کا درگزر کرلیں۔ اگر مردوں تم درگزر سے کام لو یعنی آدھا سے زیادہ دو تو یہ تقویٰ کے قریب ہے اور آپس میں ایکدوسرے پر فضل کرنا نہ بھولو۔ بیشک کہ جو کچھ بھی تم کررہے ہو ۔اللہ اس کو دیکھ رہاہے ”۔ اللہ تعالیٰ ان آیات میں واضح کررہاہے کہ مردوں پر حق مہر ان کی استعداد کے مطابق ہے۔ کھرب پتی اور فقیر دونوں پر اپنی اپنی قدرت کے مطابق حق مہر اللہ نے فرض کیا ہے۔ اللہ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق پر آدھا حق مہر فرض کیا مگر عورتیں رعایت کریں یا مرد اور مردوں کی رعایت تقویٰ کے زیادہ قریب ہے جن کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے۔ ایک عام آدمی حیران ہوتا ہے کہ ہاتھ لگائے بغیر بھی طلاق میں عورت کو آدھے حق مہر کا تحفظ دیا گیاہے؟۔ پھر رعایت کی بھی دو طرفہ گنجائش ہے لیکن مردوں کی طرف سے ہی رعایت کو زیادہ تقویٰ کے قریب قرار دیا گیا ہے اسلئے کہ طلاق کا اقدام بھی وہی اٹھارہے ہیں تو اپنے کئے کا بدلہ انہی کو اٹھانا چاہیے۔ شیخ چلی پن کی انتہاء یہ ہے کہ فقہاء نے اس سے یہ مراد لیا کہ ”طلاق صرف مرد کا حق ہے اور عورت کو خلع کا حق نہیںہے”۔ حالانکہ یہاں مالی حق کا مسئلہ ہے اور طلاق کا اقدام مرد ہی اٹھارہاہے تو یہ وضاحت ہے کہ مرد کو رعایت دینی چاہیے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کو اختیار سے محروم کردیا گیا۔ جب شوہر طلاق کے بعد عورت کو اس کے مالی حقوق سے محروم کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا: وکیف تأخذونہ وقد افضٰی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقًا غلیظًاO (النسائ:آیت:21) ”اور اس سے کیسے لیں گے اور تحقیق وہ ایک دوسرے سے قربت کرچکے ہیں اور ان عورتوں نے ان سے سخت عہد لیا”۔ اس آیت میں عہد کی نسبت عورت کی طرف ہے تاکہ اس کو محروم نہیں کیا جائے ۔ آیت237البقرہ میں مردوں کی طرف نسبت ہے تاکہ عورت سے رعایت کیلئے تقاضے میں شرمائے۔ فقہاء کی حماقت اور شیخ چلی پن کی انتہاء ہے کہ قرآن کو رائج تو نہ کیا لیکن اپنی حماقت سے اسکے مفہوم میں معنوی تحریفات سے بالکل بخرے کرکے رکھ دئیے ہیں۔صدر وفاق المدارس پاکستان استاذ العلماء محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا: ” عورت کا فرض حق مہر مختلف فقہی مسالک میں الگ الگ ہے ۔ جتنی رقم پر چور کا ایک عضو ہاتھ کٹتا ہے تو اتنی رقم میں شوہر عورت کے ایک عضو شرمگاہ کا مالک بن جاتا ہے۔10درہم،3درہم ، درہم کا چونی اور ایک پیسہ وغیرہ پر مختلف اماموں کے ہاں چور کا ہاتھ کٹتا ہے۔ (کشف الباری شرح صحیح البخاری) قرآن نے شوہر کی استعداد پر عورت کے حق مہر کا معاملہ رکھا ہے اور حدیث میں نبیۖ نے شوہر کے استعداد پر حق مہر کا معاملہ واضح کیا ہے۔ ایک عورت نے نبیۖ کو خود کو ہبہ کیا نبیۖ نے اسے دیکھا پھر ایک صحابی نے کہا کہ آپۖ کو ضرورت نہ ہو تو مجھے نکاح میںدیں، نبیۖ نے پوچھ لیا کہ آپکے پاس دینے کیلئے کیا ہے؟۔ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چادر ہے ،اگر اس کو دوں گا تو خود کیا کروں گا؟۔ جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ گھر میں دیکھ کر آؤ ۔ بھلے لوہے کی انگھوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے دیکھا اور واپس آکر کہا کہ کچھ بھی نہیں ملا۔ نبیۖ نے پوچھا کہ قرآن کی کچھ سورتیں یادہیں؟۔ اس نے کہا کہ ہاں! نبیۖ نے اسے سورتوں کی تعلیم ذمہ لگادی۔ یہ اس فقیر کا حال تھا جس کی کل مالیت نبیۖ نے حق مہر میں دے دینی تھی لیکن اس کے پاس تن پر کپڑے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اللہ نے قرآن میں واضح کردیا کہ ” نبی کیلئے یہ خاص ہے کہ کوئی عورت خود کو ہبہ کردے،اگر نبی کا ارادہ نکاح کا ہو”۔ تاکہ آنے والے دور میں قیامت حیلہ بازمولوی ہبوں میں اپنی اولاد کیلئے مریدوں اور اپنے لئے عورتیں لیناشروع نہ کریں۔ مفتی تقی عثمانی نے بھتیجے کیلئے مرید کی بیٹی لے لی۔ اس نے بچوں کو بڑا کیا تو پھر جب وہ گھر گئی تو پیچھے سے طلاق بھیج دی۔ جس قوم کے افراد بیوی سے جہیز کا مطالبہ کریں اور بیٹی کو حق مہر کے نام پر بھاری رقوم سے فروخت کردیں تو اس میں ملا کہاں سے غیرتمند پیدا ہوسکتے ہیں؟۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ”جمہور کے نزدیک نکاح سے پہلے عورت کا چہرہ ہتھیلیاں دیکھ سکتے ہیں تاکہ خوبصورتی اور نرمی کا پتہ چلے۔ امام اوزاعی کے نزدیک شرمگاہ کے علاوہ پورا جسم دیکھ سکتے ہیں امام داؤد ظاہری کے نزدیک شرمگاہ بھی دیکھ سکتے ہیں”۔ (کشف الباری) کاش !علماء اپنے نصاب کو ٹھیک کرنے کی طرف توجہ دیں۔ ”اے ایمان والو! نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ سمجھو کہ جو کچھ تم بول رہے ہو اور نہ جنابت میں مگر مسافر یہاں تک کہ غسل کرو….تیمم….”۔(النسائ:43) جو بغیر نشے بھی نماز سمجھ کر نہیں پڑھتے تو وہ خود کو بے نمازیوں سے افضل نہ سمجھیں۔ہرنماز کی ہر رکعت میں صراط مستقیم کی دعا مانگنے والوں کا خود کو ہدایت پر دوسروں کو گمراہ سمجھنا بیوقوفی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: سفر میں تیمم سے نماز نہ پڑھی۔نبیۖ نے فرمایا: اچھا کیا۔حضرت عمار نے کہا: زمین میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی۔ فرمایاۖ: ہاتھ و چہرے پر مسح کرنا کافی تھا۔ قرآن واضح ہے کہ نماز کی مسافر کو تیمم سے اجازت ہے اور تیمم سے نہ پڑھی تو صحیح۔ عمر نے عمل کیا، نبیۖ کی تصدیق مل گئی۔ عمار نے تیمم کا واضح مسئلہ نہ سمجھا تو نبیۖ نے سمجھادیا۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ بنوقریظہ پہنچ کر عصر کی نماز پڑھو۔ کچھ نے راستے میں پڑھی اور کچھ نے مغرب کیساتھ پہنچ کر پڑھ لی۔ ” نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی۔اللہ کیلئے عاجزی سے کھڑے ہو۔اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ یا سوار ہوکر۔ پس جب امن میں آجاؤ تو ویسے اللہ کو یاد کرو (نماز پڑھو) جیسے تمہیں سکھایا گیا جو تم نہیں جانتے تھے”۔ البقرہ238،239 یہ حکم جنگ نہیں حالتِ خوف کا ہے۔ فقہاء ، قصہ گو واعظین، مصنفین اور طاغوتی شعراء نے امت مسلمہ کو قرآن وسنت سے دور کرکے اپنا اور ہم سب کا بیڑہ غرق کرنے میں کردار ادا کیا۔ آیت میں جنابت کیلئے غسل کا حکم واضح ہے ۔و ضو کیلئے اللہ نے فرمایا کہ ” جب تم نماز کیلئے اُٹھو تو اپنے چہروںو ہاتھوں کو دھو ؤ اور مسح کرو اپنے سروں کا اور اور اپنے پاؤں کو دھوؤ اور اگر تم جنابت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ (المائدہ:6) صحابہ کرام وضو کرتے اور نہاتے تھے مگرانہوں نے اس میں مختلف اور متضاد فرائض ایجاد نہیں کئے۔ فقہاء نے فضول کے اختلافات کئے کہ ”خوب پاکی حاصل کرو” سے کیا مراد ہے؟۔ وضو کے مقابلے میں غسل کرنا خوب پاکی ہے۔ کوئی کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض قرار دے ، کوئی نافرض اور کوئی پورے جسم کو مل مل کو دھونا فرض قرار دے اور کوئی نہیں لیکن ایک فرض پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ یہی حال وضو میں سر کے مسح کا ہے ۔ کوئی چوتھائی فرض قرار دے تو کوئی بال برابر اور کوئی بال برابر بھی رہ جائے تو فرض ادا نہیں ہوگا۔ اگر یہ پتہ ہو کہ چہرہ دھونا ہے، ہاتھ کہنی تک دھونے ہیں تو سر کا مسح نہ بھی کہا جائے تو کرلیںگے۔ قرآن قیامت تک انسانوں کیلئے ہے۔ مولانا سیدابوالحسن علی ندوی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں جمعہ کی تقریر میں فرمایا کہ ” ایک یہودی نے اعتراض کیا کہ قرآن میں ان ھٰذا لشئی عجاب عربی جملہ نہیں ہے تو ایک دیہاتی عرب کو بلاکر چندبار اٹھک بیٹھک کرائی گئی اور پھر کہا کہ جاؤ تو اس نے کہا:ان ھٰذا لشئی عجاب جس پر یہودی مان گیا۔ ومن یشتری لھوالحدیث (اور جو لغو بات خریدتا ہے) تو جب آڈیو نہیں تھا تو بات خریدنے کا کوئی امکان بھی نہیں تھا مگر قرآن میں موجودہ دور کیلئے اللہ نے یہ فرمایا ہے”۔ حدیث ہے کہ” آدمی اپنے ہاتھ کی چیز سے دور رہ کر بھی اپنا گھر دیکھے گا اور بیوی کے جوتے کے تسمہ پر (کیمرہ) لگائے گا تو سب ریکاڈنگ دیکھ سکے گا”۔ ملحدین قرآن واحادیث کے عجائب نہیں مانتے تھے لیکن سائنسی ترقی ثابت کررہی ہے۔ قرآن نے چاند، سورج ، بادل اور کائنات کی تسخیر سے دنیا کو منافع بخش بنانے کا حکم دیا تھا اور علماء ومفتیان اور مذہبی طبقہ غسل، وضو اور استنجے کی تسخیر پر قوم کی زکوٰة وخیرات کا پیسہ بہت ضائع کررہے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ایٹم بم بنادیا اور مفتی تقی عثمانی ومفتی منیب الرحمن نے سود کو اسلامی نظام قرار دیدیا۔ مذہبی طبقات کی مصیبت یہ ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے لیکن قرآن کو ٹکڑے کرنے میں سب مل کر ٹوکے اٹھالیتے ہیں۔ یہ رویہ اب بدلنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ قرآن میں اللہ نے محرمات کی فہرست کے آخر میں 5ویں پارہ کے ابتداء میں فرمایا: والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم کتب اللہ علیکم واحل لکم مارواء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسٰفحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتو ھن اجورھن فریضة ً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO(النسائ:24) اس آیت پر بھی صحابہ وجمہور میں اتفاق نہیں ہوسکا تھا جس کا اصل میں تعلق بعد کے ادوار سے تھا۔ سب سے بڑی حرمت شادی شادہ عورت سے نکاح کی ہے۔ عربی، اردو، انگلش اور تمام زبانوں میں عورت کیلئے بیگمات کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اگر عورت کا شوہر مرچکا ہو تب بھی اسکے احترام میں بیگم صاحبہ ہی بولا جاتا ہے۔ ایک بڑے فوجی شہید افسر کی بیگم صاحبہ اپنے شوہر کے نشان حیدر یا مراعات قربان کرکے کسی اور شوہر سے نکاح اپنی توہین اور اپنے مفادات کے خلاف سمجھ رہی ہوتی ہے اسلئے اس کو نکاح کا پیغام دینا محرمات کے درجہ میں ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت جنسی تعلق قائم کیا جائے جس سے اس کے مفادات بھی متاثر نہ ہوں اور ایک معقول جنسی ذریعہ بھی مل جائے جیسے سعودی عرب میں بھی مسیار کا مسئلہ چل نکلا ہے تو اس سے معاشرے کی بہت خرابیوں پر قابو پانے میں زبردست مدد مل سکتی ہے۔ سورہ احزاب:50میں اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ ” وہ چچا کی بیٹیاں آپ کیلئے ہم نے حلال کی ہیں جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ہے”۔ اور پھر سورہ احزاب آیت51میں نبی ۖ کو کسی سے بھی نکاح کرنے سے اللہ نے منع فرمایا کہ چاہے کسی عورت کا حسن کتنا اچھا لگے تو نکاح نہیں کرسکتے اور نہ کسی کو چھوڑ کر بدلے میں کسی اور عورت سے نکاح کی اجازت ہے مگر جس سے معاہدہ ہو”۔ حضرت علی کی بہن ام ہانی نے ہجرت نہیں کی ۔ بدرالدین عینی نے ام ہانی کو نبیۖ کی28ازواج میں شمار کیا۔ حالانکہ وہ بیوی نہیں بن سکتی تھی۔ معاہدے کا نکاح ہوسکتا تھا۔ جس نے پہلے نبیۖ کی دعوت نکاح قبول کرنے سے معذرت کی کہ میرے بچے بڑے ہیں۔ پھر اللہ نے بھی منع کردیا اور ظاہر ہے کہ نبیۖ کی ازواج امہات المؤمنین کی شہرت رکھتی ہیں۔ معاہدہ والی ایک ام ہانی ہیں۔ام المؤمنین ام حبیبہ نے بیٹوں کی پیشکش کی نبیۖ نے فرمایا یہ مجھ پر حرام ہیں۔(صحیح بخاری) اگر مغرب میں اس نکاح کو قانون بنایا جاتا تو سیتا وائٹ کی بیٹی ٹیرن کو صاحبزادی کی عزت مل جاتی اور کیس کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ اسلام کی افادیت دنیا مان سکتی ہے۔ عبداللہ بن زبیر نے متعہ کو زنا قرار دیا تو حضرت علی نے کہا کہ آپ بھی متعہ کی پیداوار ہو۔ (زادالمعاد :علامہ ابن قیم ) اور شیعہ علماء کہتے ہیں کہ ابوطالب کے اسلام کو نہیں ماننے والے تو نبی ۖ کے حضرت خدیجہ سے نکاح پر حملہ آور ہیں۔ حالانکہ حضرت ابوطالب نے ام ہانی کا رشتہ ایک مشرک کو دیا تھا۔ شیعہ علماء وذاکرین نفرتوں کو دلوں سے نکال باہر کریں اور اسی میں ان کا اور سب کا فائدہ ہے۔ ہم اپنوں کو سدھاریں گے۔ نکاح اور معاہدے میں یہ فرق ہے کہ نکاح میں عورتوں کو اپنا پورا پورا حق ہر لحاظ سے ملتا ہے جبکہ معاہدے میں باہمی رضا مندی کا معاملہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں مروجہ معاملہ نکاح نہیں معاہدے والا ہے اسلئے کہ نکاح میں جو حقوق قرآن وسنت نے عورت کو دئیے تو وہ تمام حقوق سلب ہیں۔ بلکہ معاملہ بہت بدتر ہے ۔ اسلئے مرتدجرمنی میں سعودیہ کی خواتین کو سپلائی کرتا تھا۔ قرآن و سنت کے فطرتی احکام سے سعودی عرب، افغانستان، پاکستان، بھارت اور دنیا بھر کی مسلمان خواتین کو درست حقوق ملتے تو پھر خواتین کیساتھ روز ناجائز حدود پار کرنے کی خبریں سوشل والیکٹرانک میڈیا پر نہ آتیں بلکہ غیر مسلم بھی بہت تیزی کیساتھ اپنا ماحول اسلامی معاشرتی نظام سے ہی لے لیتے۔ اگر عورت سے کئی بچے جنواکر نہ صرف اس کو گھر سے نکالنا شوہر کا حق ہو بلکہ اس سے بچے چھین لینے کا بھی حق ہو تو یہ نکاح کہاں ہوسکتاہے؟۔ سورہ الطلاق میں واضح طور پر گھر کو عورت کا قرار دیا گیا ہے۔ لاتخر جوھن من بیوتھن ”ان کو انکے گھروں سے مت نکالو”۔(الطلاق) ام رکانہ سے طلاق پر ابورکانہ نے گھر نہیں چھینا تھا بلکہ وہ اپنے بچوں کیساتھ گھر میں رہی تھیں۔ ٹانک گل امام کے مشہور عالم دین مولانا عبدالرؤف نے بیوی کو طلاق دی تھی تو اپنا گھر بیوی بچوں کیلئے چھوڑ دیا تھا۔ قانون اور اخلاقیات میں اتنا فرق نہیں ہوتا کہ ایک طرف بیوی سے کئی بچے جنواکر اس کو گھر اور بچوں سے محروم کیا جاسکتا ہو اور دوسری طرف اخلاقی بنیاد پر ان کو گھر سپرد کیا جاتا ہو؟۔ طلاق کے بعد عورت کے اصل حقوق کا پتہ چلتا ہے۔ حق مہر اور خرچہ عورت کا حق ہے۔ نبیۖ کے وصال کے بعد حضرت عائشہ ودیگر ازواج مطہرات اپنے گھروں کی مالک تھیں۔ علماء کہتے ہیں کہ میاں بیوی میں ایک فوت ہوجائے تو ایک دوسرے کیلئے اجنبی۔ نبیۖ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ پہلے فوت ہوگئیں تو میں غسل دوں گا، حضرت ابوبکر کی میت آپ کی بیوی اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ مفتی کی بیوی20سال بعد مرتی ہے تواس کا بیٹا اپنی ماں کی قبر پر اجنبی شوہر کی تختی لگا دیتا ہے کہ زوجہ مفتی اعظم فلاں۔ اللہ نے فرمایا:” اور اگر یہ طاقت نہ ہوکہ بیوہ وطلاق شدہ کو نکاح میں لاسکو تو پھر مؤمنات معاہدے والیاں تمہاری لڑکیوں میں سے ۔اللہ تمہاراایمان جانتا ہے ۔بعض تم خود بعض سے ہو ، پس ان سے نکاح کرو انکے اہل کی اجازت سے۔ انکوانکا حق مہر دو معروف طریقے سے۔ نکاح کی قید میں لاکر نہ فحاشی سے اور نہ چھپی یاری سے۔جب نکاح میں لاؤ اور پھر وہ فحاشی کریں تو ان پر بیگمات کی آدھی سزا ہے۔یہ اس کیلئے ہے جو تم میں سے مشکل میں پڑنے کا خوف رکھے اور اگر صبر کرو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے”۔ (سورہ النساء : آیت25) بدکاری پر100اور50کوڑے کی سزا قرآن کے مطابق ہوتی تو عمل بھی ہوتا۔ سورہ نسائ:15میں عورت پر4گواہ کے بعد گھر میں تاموت قید کا حکم ہے یا کوئی راستہ اللہ نکالے۔ یعنی نکاح ہوجائے۔ مفتی شفیع و مفتی ولی حسن ٹونکی نے سنگساری مراد لیا اور پھر اللہ نے دو مرد کو بدکاری پر اذیت کا حکم دیا اور اگر توبہ کریں تو طعنے سے روکا ۔ (النسائ:16) علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کو مینار پاکستان سے گرایا ؟۔ مااصاب من مصیبةٍ فی الارض ولافی انفسکم الا فی کتابٍ من قبل ان نبرأھا ان ذٰلک علی اللہ یسیرOلکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولاتفرحوا بما اتاکم واللہ لایحب کل مختالٍ فخورٍOسورہ الحدید ”جو مصیبت زمین اور خود تم کو پہنچتی ہے تو کتاب میں پہلے سے ہوتی ہے ہمارے پیدا کرنے سے۔یہ اللہ کیلئے آسان ہے تاکہ تم نقصان پر افسوس اور عطاء پر فخر نہ کرو۔اللہ پسند نہیں کرتا ہر اترانے فخر والا”۔مولانا منظور مینگل نے کہا کہ سُود ، زنا اور قتل شرعاً و عقلاً ناجائز ہیں، شیعہ زنا کو جائز کہتے ہیں۔ اگر ہندو اور یہودی شرعاً سُود کو حرام اور ہمارا مفتی حلال سمجھے تو پھر؟۔
طالبان اور پاک فوج کے درمیان جنگ کو صلح میں بدلنے کیلئے ایک واقعہ کی تحقیق کی جائے!
طالبان نے بھی اس پر معافی مانگی تھی اور محسود قوم کو بھی ساتھ لائے لیکن پھر محسود قوم طالبان کے سامنے بے بس تھی اورکانیگرم میں طالبان نے ان کو آنے نہیں دیا تھا۔اس وقت وزیرستان طالبان کے مکمل کنٹرول میں ہی ہوتا تھا
پھر ضرب عضب کے بعد طالبان کی رٹ ختم ہوگئی۔ طالبان گروپوں نے ایک دوسرے کو بھی مارا تھا۔ اگر علماء اسلام اور اشرافیہ پشتو کیلئے کردار ادا کرتے تو طالبان اسلحہ رکھ دیتے اورامن کیلئے مسئلہ نہ بنتے
ڈاکٹر ظفر علی شاہ سے میں نے کہا کہ” اگر مجھے موقع ملا تو قوم سے کہوں گا کہ یہ واقعہ ہمارے ساتھ ٹھیک ہوا ۔ معاف کردو تو مہربانی ہوگی ۔دوسروں کو قتل کیا جا رہا تھا تو ہم نے ٹھکانہ دیا۔ اپنے کئے کا بدلہ مل گیا”۔ جس پر ڈاکٹر ظفر علی خوش ہوگئے تھے۔ کریم کے بیٹے عثمان نے حماد سے کہا کہ اب تو فوج کے خلاف جہاد فرض ہے۔پشتونوں کیساتھ ظلم ہورہاہے۔ حماد نے کہا کہ” پہلے طالبان کے نام پر ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھائے ،اپنی عورتوں کو چھوڑ کر بھاگے۔ اب قوم پرستی کی بنیاد پر غلطی نہ کرو۔ اگر ریاست کے خلاف جہاد کرنا تھا تو طالبان سے کیوں ہٹ گئے”۔ عثمان نے کہا کہ وہ تو ظالم تھے۔ عثمان کے دادا سرور شاہ ریلوے ملازم نے بڑی رقم چوری کی تو بندے کانیگرم اسکے پیچھے پہنچ گئے۔ رقم کھالی، میرے دادا سید امیر شاہ نے وہ رقم دی۔ اسکے باپ کریم نے بھائی یعقوب شاہ سے فراڈ کیا۔ عثمان نے طالبان اورPTMمیں قربانی نہیں مال بٹورنے اور مفادات کیلئے شرکت کی ہے۔ سبحان شاہ کی اولاد ایکدوسرے کو انصاف دیں یا معافی تلافی کریں۔ہمارے دادا سیدامیر شاہ اپنی چھوٹی بہن فیروز شاہ، سرور شاہ ، میرمحمد شاہ اور کرم حیدر شاہ کی والدہ کے بارے میں کہتے تھے کہ ”یہ میری پگلی بہن ہے ۔ گھر سے چیزیں لے جاتی ہے اور کہتی ہے کہ تمہارے بچے کھائیں گے اورمیرے بچے نہیں کھائیں گے”۔حجت جتانے پر خوش تھے۔ شہداء کے واقعہ سے پہلے منہاج سے کہا تھا کہ ”اصحاب کہف کی تعدادمیں اپنے6بیٹوں کو تاکید کی ہے کہ اگر مجھے قتل کیا جائے تو نقاب پوشوں کو نہیں انکے سہولت کاروں میں ایک کو ٹھکانے لگادو”۔ اس موقع پر جہانزیب ، عبدالواحداور عبدالوہاب کے علاوہ ناصر محسود وغیرہ موجود تھے۔ جہانزیب نے کہا کہ” منہاج کو ایسا کردیا کہ وہ اپنی تھوک نہیں نگل سک رہا تھا”۔ میں نے کہا کہ منہاج نہیں دوسروں کے بارے میں کہہ رہا تھا تاکہ جہانزیب اسکے پیچھے نہ لگ جائے۔ واقعہ کے بعد خیبر ہاؤس پشاور میں شہریارنے کہا کہ ”طالبان کی ذہن سازی کی گئی تھی کہ بڑے ظالم لوگ ہیں ۔ لوگوں کی بیویاں چھین لی ہیں”۔ میں نے شہریار سے کہا کہ ”طاہر سے کہہ دو کہ شکر کرو کہ تیرا بھائی واقعہ میں مرا ہے۔ جب چیخوں کی آواز سنتا تھا تو میرے دل کو ٹھنڈک پہنچتی تھی اور اپنے جذبات کو قابو کرنے میں مدد ملتی تھی۔ ورنہ تو منہاج کے گھروالوں پرگولیاںچلادیتا۔میں نے مشکل سے خود کو روکا کہ ایک تو دشمن خوش ہوگا ، دوسرا منہاج کے گھر والے کہیں گے کہ سعدالدین نے مروادیا۔ طاہر سے کہہ دو کہ طالبان کو میری بیوی اور بچی کے بارے میں پتہ تھا اگر ان کو لے جاتے تو کیا میں اس کی ماں ،بہن اور خواتین کو چھوڑ دیتا؟”۔ غیاث الدین نے میرا بیٹا ابوبکر دیکھا تو کہا کہ ”اس سے بچوں کو بچاؤ، سندھی کلہاڑی سے مارتے ہیں”۔ ہمارے قریب مری بلوچ کی بدمعاشی سے علاقہ بیزار تھا ۔ پولیس بھی تنگ تھی لیکن ابوبکر نے سریا سے مارا تو اتنا گرم ہوا کہ ہاتھ سے پھینکنا پڑا۔ وہ مری طالبان کے سہولت کاروں سے زیادہ ہیں پھر بدمعاشی بھی ختم ہوگئی اور ہمارے دوست بن گئے ۔ ابوبکر کانیگرم چیلنج کرنے آرہا تھا۔ عثمان تک پہنچنے سے عمرکو منع کیا۔ عمر موٹر سائیکل چلا کر فون پر بات کررہاتھا تو دوست نے دوسرابھی فون دیا۔ اس نے دونوں ہاتھ سے بات کی اور ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ عثمان کی اوقات نہیں پھر جہانزیب کو فون کیا اور مسیج ڈیلیٹ کرکے اُٹھائی ہوئی دُم واپس پیچھے ڈال دی۔ کراچی میں سکیورٹی ایجنسی نے بڑا چھاپہ مارا ۔ چھوٹا حمزہ کو تھپڑ مار کر کہا کہ بتاؤ باپ کہاں ہے؟۔ اس نے کہا کہ مجھے ذبح بھی کردو تو نہیں بتاؤں گا۔ یہ بتادو کہ مجھے تھپڑ کیوں مارا ؟۔ پھر انہوں نے اس سے معافی مانگ لی اور تلاشی لئے بغیر چلے گئے؟۔ منہاج کے گھر میں فوج گھس گئی تو انکے احوال کا پتہ ہے۔ بہادری اور بزدلی کی بات نہیں۔ ظالم ڈرتا ہے اور جس نے ظلم نہیں کیا وہ جھپٹتا ہے۔ حمزہ سے پڑوسیوں نے پوچھا کہ کون تھے؟۔ اگر بھائی منع نہ کرتا تو سیکورٹی فورسز دہشتگردی کو ختم نہ کرسکے مگر ہم انکے سہولت کاروں کیخلاف کاروائی کرکے کراچی سندھ ، کوئٹہ بلوچستان ،KPاور پنجاب سے دہشتگردی کو ختم کرتے۔ پہلے میری بیوی بچے خود کش کرتے۔ ہم دلے نہیں کہ دوسروں کو تو استعمال کریں لیکن خود آرام سے بیٹھے رہیں۔ اس طرح کی گھٹیا ذہنیت گھٹیا لوگوں کی ہوسکتی ہے۔ طاہر دلا اپنے مزارع سے لڑا تو بھی حماد کو ساتھ لے گیا اور پھرحکیم کوٹ والوں کو لے گیاتھا۔ اگر ان کو پتہ چلتا کہ میرے پاس اس کی کوئی اوقات نہیں ہے تو پھر مزارع کیساتھ بھی بدمعاشی کبھی نہیں کرتا۔ ہمارے واقعہ پر جامع تحقیقات کرکے حقائق سامنے آئیں گے تو لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ پاک فوج اور طالبان سے زیادہ قصور پشتون معاشرے میں موجود بہت ہی گھٹیا لوگوں کا ہے۔ اگر منہاج کہہ دیتا کہ اورنگزیب نے کتنی قدر کی ہے؟۔ اس کی یتیم بچی کو تنگ مت کرو؟۔ بچے چھینا اورقتل کی دھمکی غلط ہے توسعد الدین رُکتا۔ میں نے کئی باتیں منوائی ہیں۔ وہ ضدی اور ہٹ دھرم نہیں۔ منہاج نے جرگہ کی بات کی لیکن جب جہانزیب نے گالیاں دیں تو بات چھوڑ دی۔ جرگہ اس بات پر کرتے کہ طالبان کی سہولت کاری کیوں کی؟۔ اور ان کے ایماء پر چلنے کا مقصد کیا تھا؟۔ اگر میں نہیں ہوتا تو ماموں سعدالدین اپنا خون بہانے کے بجائے کسی اور کاخون بہا دیتا۔ میں نے اپنا بڑا وقت اس پر خرچ کر ڈالا۔ اب پھر کانیگرم کی زمین پر منہاج خون خرابے کے چکر میں تھا۔ محسود وں پر طالبان اللہ کی رحمت تھے۔ طاقتور لوگ کمزوروں پر ابوجہل بننے کی کوشش کرتے تھے۔ طالبان کی ظالمانہ طاقت نے سبھی کا پانی اُتاردیا۔ اشرف علی نے ایک طاقتوربرکی کا بتایا کہ وہ تکبر سے آیااوراسکے سامنے عاجزی کا مظاہرہ کیا گیاتھا۔ طالبان کا ساتھی مظہرنظریاتی تھا۔اس کو مارنے کی جگہ کریم کا چہرہ واضح کرنا تھا۔ ضیاء الدین ومنہاج نے تو اپنی بیٹھک میں طالبان کوخوب بسایا۔ یہ بے غیرت فوج کے ایک چھاپے کی مارتھے ۔جو ادھر کے رہے نہ ادھرکے۔اللہ نے فرمایا ہے کہ ”منافق مرد اور منافق عورتیں انکے بعض بعض سے ہیں۔برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔انہوں نے اللہ کو بھلادیا تو اللہ نے بھی ان کو بھلادیا۔ بیشک منافقین ہی فاسق ہیں۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے منافق مردوں اور منافق عورتوں سے جہنم کی آگ کا۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہی ان کیلئے کافی ہے اوراللہ ان پر لعنت کرتا ہے اور ان کیلئے کھڑا عذاب ہے”۔ (سورہ توبہ، آیات:67،68) جس طرح ریاستی اداروں میں بیٹھے لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے اداروں کو بدنام کئے ہوئے ہیں اسی طرح سے طالبان کو بھی ذاتی مفادات والوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ چاہے وہ ان کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ ہیں یا انکے بدبخت سہولت کار۔ یہی حال ہمارے پورے معاشرتی نظام کا ہے۔ پچھلے شماروں میں اشتعال جان بوجھ کردلایا۔ تاکہ جس جانب سفر ہے اس میں کچھ چوہے اپنے بلوں سے نکل کر آجائیں۔مسئلہ یہ ہے کہ بہن ایک سائیڈ پر کھڑی ہے اور بھائی دوسری سائیڈ پر تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ اصل کردار کون کون ہیں؟۔ طالبان میرے لئے تیزاب کا ڈرم ساتھ لائے تھے۔ خیال تھا کہ اورنگزیب سرنڈر ہوجائے گا۔ مال ودولت بھی لوٹ لیں گے ۔ مجھے اور میرے بچوں کو نشانِ عبرت بناکر کس بات کا بدلہ لے لیں گے؟۔ جب فوج نے چھاپہ مارا تو ماموں کھوپڑی ہلاکر کہہ رہا تھا کہ ضیاء الدین کو بھی اٹھاکر لے گئے؟۔ جیسے بہت برا ہوگیا۔ پشتون قوم میں غیرت اور بے غیرتی کی تمیز بھی نہیں۔ ظالم اور سہولت کار پر ہاتھ پڑتا ہے تو خودکو مظلوم سمجھنے میں غیرت ، شرم اور حیا محسوس نہیں کرتا۔معاشرہ ٹھیک کرنا آسان نہیں۔ بیٹے کے خود کش سے بیٹی بیچنا زیادہ بے غیرتی ہے۔ مجھے حاجی ہمیش گل محسود نے مفت میں بیٹی دینے کی پیشکش کی تھی جسکا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا اور دوسرے علما ء ومفتیان کو مفت میں دی تھیں۔ لیکن مفت سے مسائل کم نہیں بلکہ بڑھ سکتے ہیں۔ طالبان نے قتل اور لوٹ مار کی تھی۔ حاجی یونس شاہ اور حاجی قریب برکی کی ہمدردی ہمارے ساتھ تھی لیکن منہاج نے سارے حربے ہمارے خلاف اور طالبان کے حق میں استعمال کئے تھے۔ ومن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ ”جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا” طاغوت کا انکار نہ ہوتو ایمان قبول نہیں۔ پہلے لاالہ طاغوت کا انکارکرنا ہے پھر الاللہ پر ایمان لاناہے۔ انگریز کی ناجائز خانی سے لیکرکسی کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے معاملات طاغوت نہیں تو اور کیا ہے؟۔ طالبان نے ہم پر حملہ کرکے مان لیا کہ طاغوت کیلئے استعمال ہوگئے مگر یہ طبقہ شیطان کیساتھ کھڑا تھا۔ طاہراور احمدیار نے شروع سے مخالفت کی۔ حالانکہ انکے آباء اجداد کا مذہب سے تعلق نہیں تھا۔ ہندواور انگریز کا راج قائم ہوجائے تو اجداد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مراعات لیں گے۔ منورشاہ مظفرشاہ دیندار تھے۔ کرم حیدر شاہ نے جرمنی میں کردار کی حفاظت کی۔حسین شاہ اور محمدامین شاہ دیندار تھے۔ ایک بار کہیں چوری کرنے گئے تھے تو میزبان کی گائے چوری کرنے لگے۔ حسین شاہ نے کہا کہ یہ میں نہیں کرنے دوں گا۔ حسین شاہ فطری غیرت رکھتا تھا، عبادت میں اپنے ماموں امیر شاہ پر گیاتھا اور محمد امین شاہ بھی سادہ انسان تھا ۔ مقامی ہاتھ کے بنے چھال کے جوتے استعمال کرتا تھااور جہاد کشمیر میں ہندو عورتوں کی عزت محسودوں سے بچائی تھی۔ تبلیغی جماعت میں اس وقت 4ماہ لگائے تھے جب لوگ چلہ میں ولی اللہ بن جاتے تھے۔ سانپ کو بھی پکڑلیتے تھے اسلئے نانا بابویا ماموں کے حکم پر بچپن میں سانپ پکڑلیا تھا۔ حسین شاہ اور محمد امین بڑے اچھے اور دیندار انسان تھے۔ بعض معاملات میں وہ بڑے بھائی سلطان اکبر کے ہاتھوں مجبور تھے۔ سلطان اکبر کو سیدامیر شاہ نے حکمت سکھائی تو اس میں لوگوں کی سخت شکایات تھیں۔ حسین شاہ کو ٹھیکیداری پسند تھی جو غیرت والا کام تھا۔ اسکے بیٹے گل امین نے سرکاری نوکری سے خوب کمایا اورمال و متاع سب پر لٹایا۔ پہلے جائیداد میں چوتھائی دیا اور پھر انکار کرکے آخری عمر میں خوب ستایا تھا۔ ایک بندہ فیل ہوا تھا،17نمبر تھے۔ کسی نے کہا کہ16نمبر ہیں تو اس نے کہا کہ نہیں17ہیں۔ اگرکہیں ہماری معلومات میں19اور20کافرق ہوتو تصحیح کیلئے حاضر ہیں۔ مگر یہ رونا بالکل فضول ہے کہ بہت خراب کیا، یزید کی اولاد بنادیا۔ یزید کے بیٹے معاویہ کی تاریخ میں نظیر نہیں جس نے باپ کی گدی ٹھکرادی کہ ظالم اور غاصب ہے۔ باپ دادا، دادی صحابی۔ کافرابوسفیان نے بھی قیصرروم سے سچ بولا۔ ہندہ کا باپ، چچا ، بھائی بدر میں قتل ہوگئے ۔ یزیدنے دوسروں کے کاندھے پر بندوق چلائی اور درپردہ محاذ سنبھالا۔ چھپے نہیں کھلی سپورٹ کرنے والوں سے پوچھتاہوں کہ یہ تمہارا مذہبی یا انقلابی جذبہ تھا، جنون تھا، خوف تھا؟،یاری دوستی تھی؟ ہم نے تمہاراکچھ بگاڑا تھا؟۔ کیا ہم تمہارے دشمن کو یوں رکھ سکتے ہیں؟۔سوال اٹھانا بھی جرم ہے؟۔ رائل فیملی نے ہمارے دشمن کو رکھا تھا بلکہ ان کی طرف داری اور ہماری مخالفت میں لمحہ ضائع نہیں کیا۔حالانکہ بھانجے داؤد اور واحد نے مکمل ڈیوٹی کی مگر چچازاد کو یہ لشکر سمجھتے ہیں جیسا کہ شمن خیل محسود کی رائل فیملی بادینزئی کو لشکر سمجھتے ہیں۔ خیر خواہی کی بنیاد پر ”خان” کے تصور کا بھانڈہ پھوڑ دیا تاکہ جنکے دلوں و سماعت پر مہر، آنکھوں پر پردہ نہ ہواور اصلاح کی گنجائش ہے تو ان کی درست اصلاح ہوسکے۔ حسام شہید اچھا تھا، ناصر اچھاہے۔ جھوٹ کے ابوسفیانوابوجہل غلط ہیں۔ کوئی نسلی اچھا برا نہیں۔ ذہنیت بری ہے۔ برکی، محسود ،وزیر، بیٹنی ،مروت، پختون، پنجابی،سندھی ،بلوچ سبھی ہمارا افتخار ہیں۔ قرآن اللہ کا نور مشرقی اور نہ مغربی۔ جوان لڑکی کو80کوڑے نہیں قتل کیاجائے اور جبری زیادتی والوں کو چھوڑ دیا جائے تو یہ ہرگز اسلام نہیں ہے۔ جب کانیگرم میں کمزور لوہار نسل والوں پر ناجائز زیادتی کی گئی تو وہ طالبان بن گئے ۔ میرا والد عوام میں انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرتا تھا تو کانیگرم میں دہشتگردی نہ تھی ۔ اشرافیہ نے انصاف کیساتھ کھیلا تو راہ گیر بم سے اڑ گئے۔ بے گناہوں کو نقصان پہنچا۔ حالانکہ طالبان تھے اور نہISIتھی۔ہر چیز نامعلوم پرڈالنے کی جگہ خود احتسابی کا عمل ضروری ہے۔ فوج نے عبدالرزاق کے گھر پر کئی مہینے کمیٹی کا قبضہ رکھا اور ضیاء الدین کو اٹھایا۔ ”یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے” کا نعرہ محض کمزور طبقے کا حوصلہ بڑھانے کیلئے لگا دیا تھا ،ورنہ دہشتگرداور انکے سہولت کارسبھی کو معلوم ہیں۔ اسلام، وطن اور قوم کی حفاظت کیلئے مجرم کے چہرے سے نفاق کا نقاب کھینچنا پڑے گا۔
چوہے کی بل سے آواز ایک بڑا راز ؟ فیس بک پر انگریزی کی تحریر کا ارود ترجمہ اور اس کاجواب!
ہمارے خاندان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب ہے جو اس وقت شروع ہوا جب ہمارے اپنے ہی خون کے ایک فرد نے امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا،اس شخص نے بہت نقصان پہنچایااور ہمارے خاندان پر دہشت گردانہ حملے کا باعث بنا۔ ہم نے اس کیلئے جو قربانیاں دیں،اس نے اس کا بدلہ غداری سے دیا۔ ہمارے بارے میں جھوٹ پھیلائے اور مختلف مضامین میں ہماری شہرت کو داغدار کیا۔ اس نے ہم سب کے نام لیکر یہاں تک کہ ان لوگوں کے بھی جو فوت ہوچکے ہیں۔ اور عورتوں کے بھی نام لئے جن کی حفاظت کرنی چاہیے تھی بدنام کیا۔ اس کی حرکات ہمیں اس کہاوت کی یاد دلاتی ہیں ”بھیڑ کے لباس میں بھیڑئیے سے ہوشیار رہو”۔ کیونکہ اس کا فریب ایک گہری غداری تھی۔شاعر مرزا غالب نے کہا تھا ”جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہے؟”،ہم بھی پوچھتے ہیں وہ شخص جو اپنے خاندان سے غداری کرتا ہے اس میں عزت کہاں ہے؟۔اس کے نقصان دہ الفاظ اور حرکات ہماری میراث پر ایک داغ ہیں اوراس کی بزدلی اور بے غیرتی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسے بے نقاب کرنے میں ہم انصاف چاہتے ہیں ، اپنی عزت واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے سچائی زمین پر کچلی جائے گی تو پھر اٹھے گی متحد کھڑے ہیں۔ہماری روحیں مضبوط ہیں۔ غدار کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لانے کیلئے تیار ہیں۔ اسکے جھوٹ ہماری ثابت قدمی کی روشنی میں مٹ جائیں گے اور تاریخ ہمیں اس کی غداری نہیں بلکہ اسکے سامنے ہماری استقامت کیلئے یاد رکھے گی۔ (انگریزی خط کا ترجمہ جوشاید ریمنڈڈیوس کو لکھا ہے جو کانیگرم لایا گیا تھا۔ورنہ پھر اردومیں لکھ لیتے؟)
جوابی وار: انکشاف :دھڑدنگ نمبر1
تمہارا سیاہ باب سیداکبر شاہ و سید صنوبر شاہ نے انگریز سے پیسہ لیکراپنی قوم کے7افراد کے قتل سے شروع کیا ۔ جن پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کے سیاہ وسفیدداغ تھے اب دونوںکا ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا مبارک ہو۔ میرامقصد اصل میں یہی تھا۔ سن1991میں جب کچھ افراد پیدا نہیں تھے اور کچھ ماؤں کی گود میں تھے میں جیل گیا اور رہائی کے بعد میدان میں رہا۔ سن2007میں17سال بعد میرے گھر پر دہشتگردانہ حملہ ہوا اوریہ واحد حملہ ہے جس پر انہوں نے غلطی مان کر پوری محسود قوم کے نمائندوں کیساتھ تاریخی معافی مانگی۔17سال بعد واقعہ کاآئینہ دکھادیا تو کتیا کی دُم پر پاؤں پڑ گیا ۔ چچازاد عثمان، فادر ان لاء احمدیارمولانا آصف کے سامنے اسکے استاذ قاضی فضل اللہMNAنے میرے متعلق پوچھا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا: ”یہ ہم سے بڑا انقلابی ہے مگر تھوڑا جذباتی ہے”۔ وزیرقوم کیخلاف انگریز نے اقدام اٹھانا چاہا اور محسودقوم سے کہا تھا کہ” تم ساتھ مت دو۔ وزیر نے بھی تمہارا ساتھ نہیں دیا ”۔ محسودوں نے کہا کہ اگر ہم ساتھ نہ دیںتو ہماری عورتیں پتھروں سے تمہارا مقابلہ اورہمیں چوڑیاں پہنادیں گی”۔ اگر حملے کے بعد مردوں میں ہمت نہ تھی کہ طالبان کو ہٹنے کا کہتے تو عورتوں کا بتادیتے کہ وہ پراٹھے نہیں پکا سکتی ہیں۔ عرش تا فرش مخلوق حیران تھی کہ تم کس مٹی سے بنے ہو جو ان دہشتگردوں کو اپنے گھروں میں بساتے ہو جو خود کہتے ہیں کہ ”ایسا ظلم تو اسرائیل کے یہودنے فلسطین میں بھی نہیں کیا”۔نبی ۖ نے سچ فرمایا:”جب حیاء چلی جائے تو جو مرضی کرو”۔ کمینہ پن، بے غیرتی ، دلا گیری، بے حیائی اور بے ضمیری کے علاوہ ڈھیٹ پن کی انتہاء ہے کہ قتل بھی ہمیں کروایا، ایکدوسرے کیخلاف گواہ بھی تم ہو، کھلے ، چھپے انکے ساتھی بھی تم ہو، پھر اس کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی؟۔ گھر میرا تباہ کیا بدنام تمہارا خاندان ہوا؟۔ یزید کی روح بھی تڑپ اٹھی ہو گی کہ کن دلوں سے ملادیا؟۔
جوابی وار:انکشاف:دھڑدنگ نمبر2
انگریزی خط لکھ کر تشہیر کرنے والی سبحان شاہ کی رائل فیملی ہے اور اس کی تائید کریم کا بیٹا عثمان اورعبدالرزاق کا بیٹا سعود کررہا ہے۔ ایک طالبان کی سہولت کار تھی دوسرے کے گھر میں دہشتگردوں نے کئی دنوں سے منصوبہ بندی کرکے حملہ کروادیا تھا۔ ان دونوں طبقے کی اس ناقابلِ فراموش قربانیوں پر لعنت بھیج دوں یا خراج تحسین پیش کروں؟۔ اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ لوگ کریں گے۔ دنیا دیکھے گی اور وہ بھی انتظار کریں اور میں بھی منتظر ہوں۔ کریم کے بیٹے کا قصور نہیںاسنے دھمکی دی ہے کہ” گومل اور کانیگرم میں میرے سامنے بھگوڑے اور اسکے بیٹے کو بیٹھنے کی جرأت نہیں ہے۔ طالبان کی میٹنگ میں میں موجود تھا”۔حالانکہ اس کا تعلق اب القاعدہ اور طالبان سے نہیںPTMسے ہے۔ شکر ہے کہ سرور شاہ کی اولاد میں کوئی بہادر پیدا ہوا ہے۔ چشم بددور۔ سرور شاہ اور فیروز شاہ کا باپ مظفرشاہ کا قتل بھی صنوبر شاہ کی پاداشت میں ہوا۔ پھر خانی بھی اکیلے قبضہ میں لے لی اور ان کو زمینوں میں دونوں کو بہنوں کی طرح ایک بھائی کے برابرحصہ دیا ۔ اگر ان کی اولاد میں غصہ ہے تو بجا ہے۔کہیں تو وہ نکالیں۔ ہم سے کوئی شکایت بھی ہوگی تو حق بجانب ہیں۔ منہاج ، طاہراور احمدیارکامیں نے کیا بگاڑا؟۔ اور انہوں نے کونسی قربانیاں دیں؟۔دہشتگردوں کی سہولت کاری قربانی ہے؟۔ آؤ! میں بتاتا ہوں ۔ یہ لوگ تو نہ طالب تھے اور نہ القاعدہ والے۔جب ان پر کانیگرم میں بم دھماکے ہوئے تو میں نے بھی انکے ساتھ ڈیوٹی کی۔ انہوں نے ہمارے ساتھ ایک دن ڈیوٹی نہیں کی۔ حالانکہ شہریار کی گلی کے بچوں اور طاہر کی اپنے مزارع سے لڑائی ہو تو سہیل اور حمادکو بلالیتاہے۔ یہ جارج پنجم اور ملکہ وکٹوریہ کی اولاد سمجھ رہی ہے کہ سیداکبر اور صنوبرنے انگریز سے پیسہ لیکر اپنی قوم کا قتل کیا اور ہم نے تمہیں چھوڑ دیا۔ اوریہی قربانی ہے،اسلئے تاریخ بتانی ضروری ہے۔داؤد اور عبدالواحد نے ڈیوٹی کی تھی مگر وہ تو کچھ نہیں کہتے؟۔
جوابی وار:انکشاف:دھڑدنگ نمبر3
سبحان شاہ کی پڑپوتی واقعہ کے بعد دہشتگردوں سے رابطے میں تھی اور کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اور واقعہ سے پہلے بھی کسی پڑپوتی نے جاسوسی کی تھی ۔اگر فوت شدگان اور عورت کے ذکر کی ممانعت ہوتی تو ابولہب کی بیوی، حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کا قرآن میں ذکر نہ ہوتا۔ تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ پشتو اور اسلام دونوں کی غیرت سے عاری ہو۔ پروپیگنڈہ کیا کہ ریاض نے حاجی یونس کو پیچھے سے انگل دیا۔ میں نے ریاض سے کہا کہ یہ برا کیا ہے۔ ریاض نے کہاکہ یہ جھوٹ ہے۔پھر ریاض پروپیگنڈے کا شکار ہوا تو کہا کہ مینک کی زمین کیلئے تیری ماں نے بھیک مانگی ۔آئندہ کیلئے جھوٹا اثاثہ چھوڑنا ہمارے بچوں کیلئے بارودی سرنگیں ہیں۔ ہلال بن امیہ نے بیوی سے لعان کیا تو قرآن نے عورت کی عزت کیلئے اسکا جھوٹ معتبر قرار دیا۔ عورت نے کہا: اقرار سے قوم کو بدنام نہ کروں گی۔ جھوٹا الزام لگاکر قتل کیا جائے تو مقتول کے ورثاء قاتل کی عزت کا زیادہ نقصان سمجھ کر بدلہ نہیں لیتے۔ صنوبر شاہ کا قتل کسی اور کھاتے میں ڈالا۔ معاملہ کچھ اور تھا۔ پھر محمود کا قتل کسی اور حساب میں ڈالا۔ ایک خانی کے مفاد سے ہرقیمت پر چمٹے رہے لیکن اب ہمارے قتل میں دو قصووار لگتے ہیں ایک میںاور دوسرا میرا بھائی اورنگزیب۔ جس نے مزاحمت کی۔ لخ لعنت ہو تم پر۔ یہ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے کہ غلطی کس کی ہے کس کی نہیں۔ میں نے سبحان کی پڑپوتی کا بھی ذکر نہیں کیا کہ کوئی مجبوری ہوگی اور برقعہ بھی اسلئے پہن لیا کہ طالبان تمہاری عورتوں کو اٹھاکر نہیں لے جائیں کہ بندہ یہاں تھا تو وہاں چھاپہ ڈلوایا؟ کیونکہ وہ دلیل سنتے تھے اور نہ مانتے تھے۔میں نے تو اسی دن کہا تھا کہ اب ضرور خلافت قائم ہوگی ۔ یہ یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کو ملتان اور لاہور سے لے جاسکتے ہیں تو پھر تمہاری؟۔ پہلے دل پر پتھر رکھ کر بہت ڈھیل دی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا۔ طاہر کے غلیظ مسیج برداشت کئے۔
جوابی وار:انکشاف:دھڑدنگ نمبر4
مظفرشاہ،منور شاہ ،صنوبر شاہ قتل تو سبحان شاہ اور سیداکبر کہاں گئے؟۔ ہم نے انگریز یا کسی ظالم کے ساتھ مل کر کوئی قتل نہیں کیا۔ حضرت موسیٰ سے غلطی میں قتل ہوا تو پیغمبری و معجزات اور اللہ کا حکم ملنے کے باوجود خوف کھارہے تھے۔ عثمان جرم کا اقرار کرکے دھمکی دیتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم یہود بہت بزدل تھی، اسرائیل کے یہود کی پشت پر امریکہ کھڑا ہے تو فلسطینیوں پر ظلم کررہاہے۔ بزدل کتیا گرم ہو اور اپنے پیچھے کتوں کا ریلہ دیکھے تو اس میں حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اب تو تمہارا گرم موسم ختم ہوگیا ۔پھر بھی بھونکنے کی علت نہیں چھوڑی ؟۔ غیرت و بے غیرتی کا مسئلہ نسل درنسل چلتا ہے، ابوجہل چوتڑ کو خوشبو لگاتا تھا یا نہیں مگر غیرت رکھتا تھا اسلئے بدر میں کہا کہ گردن کو ذرا نیچے سے کاٹو تاکہ سردار کی گردن لگے۔ عکرمہ نے اسلام قبول کرکے بتادیا کہ غیرتمندابوجہل کا بیٹا قربانی دے سکتا ہے۔ تم بے غیرت انگریز سے طالبان تک ہر طاقتور کے ٹانگوں کے درمیان لٹک کر پیشاب چوستے ہو۔ جس طرح ڈھول اور ناچ کی کمائی میراثی کا پیشہ ہے اسی طرح انگریز سے لیکر جہاں ممکن ہو وہاں سے مفادات کی چوسنی لینا تمہارا تو پیشہ ہے۔ میرے پردادا، دادا، باپ ، بھائیوںتک کس کو چھوڑا ہے؟۔ اچھا ہے کہ منہاج اور طاہر کے گھر سے کھل کر یہ اظہار ہورہاہے کہ وہ کریم کے بیٹے عثمان کیساتھ ہی کھڑے ہیں۔ ضیاء الدین نے خالد سے پچھوایا کہ سب عتیق الرحمن کیساتھ متفق ہیں؟ مگر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ خط متفقہ لکھا ہے یا بے نامی خط میں کوئی خاص افراد ملوث ہیں؟۔ میں کھل کر سامنے آیااور میرے دشمن نقاب اوڑھ کر نہیں بیٹھے رہیں۔ جب تک یہ واضح نہیں ہوتا کہ کون مجرم ہے تو قاتل اور انکے سہولت کار اپنے خاندان کی عزت کا مسئلہ بھی میرے کھاتہ میں ڈالیں گے؟۔ قریب ہے یارو روزِ محشر، چھپے گا کُشتوں کا قتل کیونکر؟ جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا
جوابی وار:انکشاف:دھڑدنگ نمبر5
الفاظ نہیں عملی اقدام سے ڈگمگانے پر قابو پاؤ۔ اخبار میں جرائم کی فہرست میں ایک جھوٹ ہو تو تردید کردو۔ میں تمہارا ساتھ تمہاری طرح منافقت کی تمام حدود عبور کرکے نہیں دوں گا بلکہ تہہ دل سے مان جاؤں گا اور یہ میرے لئے فخر کی بات ہوگی کہ ماموں کا خاندان بری ہوجائے۔ بغیر نکاح کے دہشتگرد شوہروںنے واردات کی اور طعنہ عبد الو ہاب کو دیا کہ” تیرے ساتھی نے کیاہے”۔ کھسرے باتیں عورتوں کی کرتے ہو اور خود کو مرد سمجھتے ہو؟۔ غیرتمند بن کر ایک طرف کھڑے ہوجاؤ۔وہاب نے میری وجہ سے سختیاں جھیلیںمگر کوئی شکایت نہیں کی ہے۔ داؤد ، عبد الواحد ، جنید اور طفیل وغیرہ نے ہمارے ساتھ ڈیوٹی کا حق ادا کیا تھا۔ ہمیں مجرموں کی تلاش ہے۔حملے میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ غنی خان نے کیا خوب کیا ہے ۔ خوراک کوی د سپی او مسلی د ملایانو بانگونہ د بلال او لنگوٹے د چنگڑیا نو پرتوگ دی یارہ نشتہ خو شملہ نیغہ د خان شل خزی دی ساتلی خو سحر وائی اذان پہ جنگ کی بہادر او مستانہ لکہ چنگیز پہ مینہ کی بی شرمہ بی پرواہ لکہ انگریز وربوز دی د قاضی دے طبیعت دی د ھٹلر آواز دی د پخنڑو دے او انداز د منسٹر انجام دی تبخے دے اے مجنونہ د ڈیران یو ورز بہ ورستے بانگ اوکڑی ڈوڈء بہ اوکڑی خان ترجمہ:کھانے کتے کے کھاتے ہیں اور مسئلے ملاؤں کے بیان کرتے ہیں۔ آذانیں بلال کی اور پگڑیاں چنگڑوں کے ہیں۔ شلوار نہیں ہے اور پگڑی جیسے خان۔ بیس عورتیں رکھی اوردیتے ہو صبح آذان ۔ جنگ میں جری و مستانہ جیسے چنگیز ۔ محبت میں بے شرم بے پروا جیسے انگریز۔ تھوبڑا قاضی کا اور طبیعت ہٹلر کی۔ آواز لاف زن کی،انداز منسٹر کا۔ تیرا انجام تو توا ہے،اے گندگی کے ڈھیر کے مجنون،ایک دن پیچھے آذان ہوگی اور کھانا ہوگا خان کا۔
جوابی وار:انکشاف:دھڑدنگ نمبر6
اچھے مقصد کیلئے مشکل پہاڑ عبور کرنے کو مستقل مزاجی اور غلطی پر ڈٹنے کوڈھیٹ پن کہتے ہیں۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی جو فقر ہوا تلخیٔ دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی مجھے کسی سے کسی قسم کا کوئی گلہ اور شکایت نہیں ۔ البتہ کچھ ٹھوس معلومات کی بنیاد پر تحقیق درکار ہے۔ 1:دہشت گردوں کے ساتھ مذہبی جذبے کے تحت کون کون رشتہ دار شامل تھے جن کا جرم اتنا نہیں اسلئے کہ کئی سارے مذہبی شخصیات کو بھی قتل کیا گیا۔ 2:وہ کون تھے جنہوں نے مہم جوئی کی کہ یہ لوگ بڑے ظالم ہیں لوگوں سے بیوی بچے چھین لئے ہیں اور دہشتگردوں کو آلۂ کار کے طور پر ہی استعمال کیا۔ 3:جن لوگوں کے مذہبی جذبات تھے تو یہ ایک عام وبا پھیلی ہوئی تھی اور جن لوگوں کے ہاتھ ہم تک نہیں پہنچ سکتے تھے تو یہ مجبوری ہوگی کہ دہشتگردوں کو استعمال کریں، لیکن جو لوگ ان دونوں طرح میں نہ تھے تو وہ اپنی تکلیف بتائیں گے کہ کیوںانہوں نے ہمارے خلاف کام کیا؟۔ حسد تھی یا بھاڑا لیا ہے؟۔ جن لوگوں نے ایک طویل عرصہ سے برقعہ پہن رکھا ہے ، وہ اپنے ایک چوتڑ کو دہشتگردوں کی ران پر اور دوسرا چوتڑ ہماری ران پر رگڑ رہے تھے تو ان کا یہ برقعہ اب اتارنے کا وقت آگیا۔ منافقین کایہ ٹولہ طالبان سے ہٹ گیا اور میں بھی اچھال رہا ہوں۔ انتظار اس بات کا ہے کہ سبھی مجرموں کو ان کی کیٹہ گری کیساتھ الگ کرکے پوری دنیا کو دکھانا ہے۔ کریم بھابی کی فوتگی پر کوڑ طالبان کیGHQمیں بیٹھتا مگر جٹہ میں ملا جو طالبان کاIS1سینٹر تھا۔ احمد یار نے بچی کریم کے بھتیجے کی بیٹی سے چھینی ۔ میں گیاتا کہ احمد یار بیوی کو بچی لوٹا دے۔کریم یہ باور کرانے آیا کہ بھتیجے کے نہیں احمدیارکیساتھ ہوں؟۔ یا میری آمد کا پتہ چلا ؟، مشورہ لینے آیا ؟۔ تفتیش سے انٹرلنک کا مقصداور سازشوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔
پاکیزہ بات کی مثال پاکیزہ درخت کی طرح ہے اس کی جڑ مضبوط اور شاخیں آسمان میں ہیں
پاکیزہ بات کی مثال پاکیزہ درخت کی طرح ہے اس کی جڑ مضبوط اور شاخیں آسمان میں ہیں، ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے۔ خبیث بات کی مثال خبیث درخت کی طرح ہے اس کو زمین کے اوپر سے اُکھاڑ پھینکاجاتا ہے اس کو دوام حاصل نہیں ہوتاہے۔اللہ ایمان والوں کو ثابت بات سے ثابت قدم بنادیتا ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میںاور ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (سورۂ ابراہیم:آیت24تا27)
اصل نسب نہیں کردار ہے لیکن نسب کی اہمیت کا انکار نہیں۔ تقویم عربی میں کیلنڈر کو کہتے ہیں۔ سورۂ یوسف کا قصہ قرآن میں احسن القصص ہے۔ ایک طرف یوسف علیہ السلام تھے ،دوسری طرف ظالم بھائیوں کا کردار تھا۔ نسب ونسل میں ایک کیلنڈرتھا۔ باپ حضرت یعقوب ، دادا اسحاق اور پردادا ابراہیم تھے۔حضرت یوسف علیہ السلام کا کردار بھائیوں سے بالکل مختلف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددنٰہ اسفل السٰفلین الاالذین امنوا وعملوا الصٰحٰت فلھم اجر غیر ممنون ”بے شک ہم نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا ہے۔ پھر اس کو سب سے نچلے درجے کی طرف لوٹا دیا ہے مگر جن لوگوں نے ایمان لایااور اچھے عمل کئے تو ان کیلئے بدلہ ہے جس پر کسی کا احسان نہیں”۔ یوسف اور آپ کے بھائیوں کے قصہ میں ظالم ذلت کو پہنچ گئے ۔ یوسف پر کسی نے احسان نہیں کیا مگر ایسا بدلہ ملا جو رہتی دنیا کیلئے خوشنمامثال ہے۔ حضرت علیکے والدابوطالب نبی ۖ کے والد عبداللہ ، دادا عبدالمطلب اور پردادا ہاشم قریش عرب میں ممتاز تھے۔ شکر کہ میرے باپ ، دادا اور پردادا پر دھبہ نہیں۔ ٹانک کے پیر صابر شاہ سن1880میں کانیگرم آیا۔ محسود لوگوں سے کہتا تھا کہ سیدامیر شاہ سے استفادہ کرو۔امیر شاہ کی بہن کا رشتہ پیر صابر شاہ نے مانگا مگراس کو نہیںدیا۔ سبحان کی اولاد صابر شاہ کی مریدتھی ۔ٹانک میں گھر تھا۔ سید حسن شاہ بابو نے انگریز ایجنٹ اکبرشاہ کا رشتہ مسترد کیا تھا۔باقی بھائیوں صنوبر شاہ ،مظفرشاہ، منور شاہ کو رشتہ دیا لیکن افسوس کہ صنوبر شاہ استعمال ہوا۔ مظفر شاہ و منور شاہ کا طریقت اور دم تعویذ کی طرف رحجان ہوگیا۔میرے دادا امیر شاہ ، پردادا حسن شاہ اور لکڑ دادااسماعیل شاہ نے مسجد کی امامت، مردوں کو غسل، دم تعویذ، مزار کی فیض فروشی اور پیری مریدی کسی مذہبی رسم کو دھندہ نہیں بنایا ۔کانیگرم اولیاء کا شہر کہلاتا ہے مگر ہمارے آباء واجداد کے طرزِ عمل کی وجہ سے مزارات کھنڈر بن گئے۔ گھر میں شجرہ نسب ہونے کے باوجود کبھی سیدگیلانی کا لکھنا گوارا نہیں کیا۔ لوگ پیر صاحب کہا کرتے تھے اور احترام کی نظر سے دیکھتے تھے لیکن یہ پیری کا نہیں کردار کا کمال تھا۔ پیر تو بہت تھے جن کا کردار دیکھ کر لوگ کہتے تھے کہ ”ہم سنار اور برکی ہیں پیر تھوڑی ہیں”۔ چچامحمدانور شاہ سے پوچھا: ” لوگ کہتے ہیں کہ تم سید ہو اور سبحان ویل نہیں تو اس نے کہا کہ نہ ہم ہیں اور نہ وہ ہیں ، جھوٹ سے چچا بھتیجے بن گئے۔ لوگوں کو دھوکہ دیا ،ہم اور وہ الگ ہیں”۔ حاجی عثمان نے وصیت کی کہ ”شجرہ ڈھوند لو، مل جائے تو اچھا ہے”۔ میں اوچ شریف گیا توایک شجرہ سید کبیر کے نام سے مل گیامگر کیسے پتہ چلے کہ یہ وہی ہمارے جد امجد ہیں؟۔ پیر فاروق شاہ نے سیدکبیر تک شجرہ نسب لاکر رکھ دیا کہ یہ میرے پاس ہے۔ اس میں لکھ دیا کہ ”ہاشم ٹھٹھہ گیا ہے۔ سید یوسف شاہ کے تین بیٹے تھے۔ ابراہیم ، عبداللہ اور عبدالوہاب۔ عبدالوہاب ہوشیار پورانڈیا گیا ”۔اور یہ بھی بتایا کہ ” مستونگ میں سید کبیر کی اولاد ہے”۔ پھر جلیل شاہ نے سید کبیر سے اوپر عبدالرزاق تک بڑا سلسلہ دیا۔ مجھے خوشی کیساتھ حیرت ہوئی کہ ”سید کبیر کا باپ ہاشم اور اوپر تک بڑا سلسلہ تھا لیکن فاروق شاہ نے بہت بڑی خیانت کی تھی ۔ایسے سیدکبیرکو ہم کیا کرتے کہ جس کا پورا نسب نامہ بالکل آخر تک تبدیل تھا؟”۔ مستونگ بھی گیا اور ٹھٹھہ میں ہاشم شاہ کے مزار کا شجرہ بھی دیکھا۔ فاروق شاہ نے جھوٹ بولا تھا اور ہاشم شاہ کا نام ایک طرف اپنے شجرے سے غائب کردیا اور دوسری طرف ٹھٹھہ کی معروف شخصیت اور مصنف کا بھی اپنے شجرے میں جعلی ٹچ دیدیاتھا۔ عبدالرزاق کے نام سے اوچ شریف میں تمام شخصیات کا شجرہ ڈھونڈ کر لکھ لایا ۔ خلیفہ گل محمد نے کہا کہ یہ عبدالقادر جیلانی کا بیٹا ہوگا مگر میں نے کہا کہ مجھے اوچ شریف کی اولاد میں تلاش کرنا ہے۔ جب میں نے یہ بات بدیع الزمان کو بتائی تو اس نے کہا کہ سیدعبدالقادر جیلانی کا بیٹاعبدالرزاق لاولد تھا۔ میں نے بتایا کہ کتابوں میں ان کو کثیر الاولاد لکھا ہے اور گدی پر بھی وہی تھے۔ کافی عرصہ بعد اس کی اولاد میں جانشین لاولد تھا جسکا داماد عبدالوہاب کی اولاد سے پھر جانشین بن گیا۔ بدیع الزمان نے کہا کہ ”پھر تو شجرہ ہم نے اپنے ہاتھ سے بگاڑ دیا اسلئے کہ شجرے میں عبدالرزاق بن عبدالقادر جیلانی تھا”۔ پھر اقبال شاہ نے کہا کہ ”یہ تحریری شجرہ سیدامیر شاہ کا لکھوایا ہوا ہے،ہماری فلاں خاتون کو یاد تھا”۔ ان چکر بازیوں سے دل کو اطمینان نہیں مل سکتا تھا مگر پھر جب پتہ چلا کہ فدا کو اپنے داداسیدایوب شاہ کی کتاب میں شجرہ ابراہیم خلیل سکنہ کانیگرم ملا ہے تویہ اطمینان بخش بات تھی۔ کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ ہم وہ بے غیرت نہیں کہ اپنا شجرہ تبدیل کرنے سے بھی گریز نہ کریں ۔ امیر شاہ نے شجرہ ابراہیم خلیل کا لفظ سفا خیل کی جعلسازی اور انگریز ایجنٹوں سے بچنے اور نفرت کا اظہار کرنے کیلئے لکھا۔ہماراآبائی گھر بیچنے میں غیرت نہیں کھائی ۔لیکن جب انگریز کیلئے رقم کی بنیاد پر اپنے وطن کے اچھے اور انقلابی لوگوں کو بے غیرت قتل کرسکتے ہیں تو ان سے اور کس غیرت کی توقع ہے؟۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دہشتگردی کی تحقیق سے ہماری عورتوں کے کپڑے اتر جائیں گے لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ غلط کاموں والے کے کپڑے ہوتے کہاں ہیں؟۔ طالبان سے رابطہ کاری میں کپڑے نہیں اترے تو تحقیق وتفتیش سے کیا مسئلہ ہوگا؟۔ ہمارا حوصلہ ہماری کمزوری نہیں شرافت ہے۔ اگر تم نے مظفرشاہ ومنور شاہ کے قتل کوقبائلی جنگ کا شاخسانہ قرار دیکر جان چھڑائی اور صنوبر شاہ کو عورت کے کھاتے میں ڈال کر بھلادیا اور محمود کو ڈکیت کے کھاتے میں ڈال دیا تو تم نے بھی انگریز کیلئے بندے مارے تھے۔ہمارا کوئی قصورہوتا تو چپ رہتے اور خدا کی تقدیر پر ڈال دیتے۔ مظہر ، عثمان ، ڈاکٹر ظفر طالبان یا القاعدہ تھے تو عمران خان کی اولاد عدت نکاح کی روحانیت میں بھی بدمست ہوجاتی ہے ۔منہاج ، شیرو کے آباء و اجداد نے تو کبھی انقلابیوں کا کتاتک نہیں سونگھا تھا ، کیسے طالبان بن گئے اورآج کہاں کھڑے ہیں؟۔ تنگی بادینزئی میں دو بھائی کی اولاد تھے یوسف خیل اور سفاخیل۔ وہ یوسف اور تم سفیان کی اولاد۔ گوگل سرچ کرو، سفیان خیل سے سفاخیل بنتا ہے۔ اگر تمہارا یوسف سفیان ہوتا تو بہتر تھا۔ہمارے شجرہ سے میرمحمد شاہ اوریوسف شاہ چوری کیا؟۔ اوچ تمہارے والے سید ایوب شاہ کو لے گئے اور جعلی شجرہ بنانے کی تجویز دی مگر سیدایوب شاہ نے انکار کیا تو پھر پھیلادیا کہ بابوویل کا شجرہ جھوٹا نکلا۔ ہمارا دبا کے رکھا اور اپنے پاس چھپاکے رکھا۔ اب یہ میں کہتا ہوں کہ ” الگ ہوجاؤ،آج اے مجرمو!”۔ مسئلہ شجرہ کا نہیں جو دنیا کو معلوم ہے بلکہ ہم پر جو حملہ ہوا اس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کا ہے۔