پوسٹ تلاش کریں

سورۂ واقعہ میں قیامت اور دنیا میں تین اقسام کے لوگ واضح ہیں:السابقون، اصحاب الیمین، اصحاب الشمال

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

صحابہ کرام میں السابقون بہت تھے۔ آخر میں بہت کم ہونگے۔ اصحاب الیمین پہلے بھی بہت تھے اور آخر میں بھی بہت ہونگے

مجرموں کو پہلے بھی مغلوب ہونے کی سزا مل گئی اور اب بھی مجرموں کی دنیاوی سزا الگ ہوگی اور آخرت کی سزا الگ ہوگی

سورۂ واقعہ سے پہلے سورۂ رحمن ہے۔ اللہ نے فرمایا:
( الرحمن O عّلم القراٰن Oخلق الانسان Oعلمہ البیانO) ” رحمن ،جس نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اس کو بیان سکھایا”۔ سورۂ رحمن میں سمندرمیں پہاڑوں کی طرح جہاز وں کا ذکر ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تھا تو کسی کے دل ودماغ میں پہاڑوں کی طرح جہازوں کاکوئی تصور نہیں تھا۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ اللہ خود قرآن کیسے سکھاتا ہے؟۔ ویعلمھم الکتٰب ”اوران کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے”۔ نبیۖ کی نبوت کا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سکھانے کی نسبت کیسے کردی ہے؟۔
قرآن میں کچھ محکمات تھے اور کچھ متشابہات۔ جب دنیا نے ترقی نہیں کی تھی تو اس وقت سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز کا تصور متشابہات میں سے تھا۔ جس پر بحث مباحثہ کی ضروت مسلمان محسوس نہیں کرتے تھے۔ لیکن آج یہ آیت متشابہات سے نکل کر محکمات میں شامل ہوگئی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے جسطرح سکھانے کی نسبت اپنی طرف کردی ہے کہ اللہ قرآن سکھاتا ہے تو کوئی شخص بھی پہاڑ جیسے جہازوں اور قرآن کی آیت کو زبردست طریقے سے خود سمجھ سکتا ہے۔
سورۂ رحمن میں بھی تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیاہے اور سب سے پہلے مجرموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا و آخرت میں اپنے اپنے حساب سے مجرموں کو سزا ملے گی۔ دوسری قسم کے لوگ السابقین ہیں جن کو دوطرح کی جنت ملنے کا ذکر ہے۔ ایک دنیا کی جنت اور ایک آخرت کی جنت۔ یہ وہ ہیں جن کو احسان کا بدلہ احسان ملے گا۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے دور میں جن فتوحات کا دور شروع ہوا تھا، وہ بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ تک کس کامیابی کیساتھ جاری رہاہے۔ مدینہ ومکہ کے درمیان کوئی دریا اور نہروں کا تصور نہیں ہے لیکن مسلمانوں کو اللہ نے سپر طاقتوں کا فاتح بناکر ہمیشہ کیلئے باغات اور بہتی ہوئی نہروں کا مالک بنادیا۔ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر ہم دنیا میں جنت کے مالک بن گئے ہیں یہ پہلے کی قربانیوں کا صدقہ ہے جس سے ہم استفادہ کررہے ہیں۔
جب اسلام کی نشاة ثانیہ ہوجائے گی تو پھر نئی فتوحات کے دراوزے کھل جائیں گے۔ جب مکہ ومدینہ کے مختصر علاقے اور آبادی نے پوری دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دی تھی تو کیا آج پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمان متحد اور متفق ہوکر قرآن کی بنیاد پر دنیا میں فتحیاب ہونے کا خواب نہیں دیکھ سکتے ہیں؟۔ پاکستان کا پیسہ باہر لے جانے سے مٹی بننے سے بھی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتا ہے لیکن باہر کے پیسے پاکستان میں لگانے سے سونا بن جاتا ہے۔
ہمارے مقتدر طبقات اپنی مٹی اور اپنے ملک میں بڑا لینڈ لارڈ ہونے کو بھی پسند نہیں کرتے لیکن باہر جھاڑو کشی کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ایک کنواری لینڈ لارڈ جمائما خان سے شادی کی تھی لیکن پھر ایک جوان بچوں کی ماںریحام خان اورپھر بشریٰ بی بی سے شادی کرنے میں زیادہ بہتر لگا۔ جس ملک کی بیواؤں و طلاق شدہ کو دیار غیر کی کنواریوں سے زیادہ بہتر سمجھا جائے،اس کی مٹی کتنی زرخیز ہے؟۔ کشمالہ طارق جوان بیٹے کی ماں ہے اور پھر بھی یہاں کے بڑے امیرکبیر شخص نے شادی کرلی۔ جن سرگوشیوں کو قرآن میں بہت سختی کیساتھ اللہ نے منع کیا وہ سرگوشیاں ہمارے معاشرے کی اجتماعیت کو تباہ کررہی ہیں۔
سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کی سزا بھی زنا سے بیس (20)کوڑے کم مقرر کی ۔ زناکی سو (100)کوڑے اور بہتان کی اسی (80)کوڑے ہے۔ حضرت عائشہ پر بہتان سے نبیۖ اور حضرت ابوبکر نے کتنی تکلیف اُٹھائی ۔ اللہ نے ام المؤمنین اور ایک عام غریب خاتون پر بہتان لگانے کی ایک سزا مقرر کرکے دنیا کو ایسا عدل وانصاف سکھادیا ہے کہ پوری دنیا میں کوئی نظام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ اللہ نے سورۂ نور میں یہ بھی فرمایا کہ فحاشی کی باتوں کو پھیلایا مت کرو۔ اسلئے یہ بھی فرمایا کہ اس افک عظیم کے دلخراش واقعہ کو اپنے لئے برا مت سمجھو۔ بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے۔ سورۂ نور کی آیات میں مشرقی اور مغربی اثرات کا شائبہ تک بھی نہیں ہے۔ بہتان لگانے والے مسلمانوں کو کافر یا واجب القتل نہیں قرار دیا بلکہ سزا اور تنبیہ کردی۔
سورۂ واقعہ میں سابقون کا زبردست تصور دیا گیا ہے جن کا کام دنیامیں صرف اہلیت کی بنیاد پر اقتدار کا ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا۔ امانتوں کو ا نکے اہل کی طرف لوٹانے سے پاکستان، عالم اسلام اور پوری دنیا میں زبردست انقلاب آجائیگا۔ سورہ ٔ واقعہ میں السابقون اور اصحاب الیمین کے بعد اصحاب الشمال کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
واصحاب الشمال ما اصحاب الشمالO
(فی سموم وحمیمO وظل من یحمومO لابارد ولاکریمO انھم قبل ذٰلک مترفینO وکانوایصرون علی الحنث العظیمO)
” اور اصحاب الشمال !اور کیا ہیں اصحاب الشمال؟۔ بادِ سموم گرم ہواؤں میں ہوں گے اورموسم کی گرمی کھائیں گے۔ کالے دھویں کے سائے میں ہونگے، جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ بیشک یہ وہ لوگ تھے جو پہلے بہت دولتمند تھے۔ اور بڑی بڑی کرپشن پر ہاتھ مار کر مسلسل اصرار کررہے تھے”۔
پاکستان اور دنیا بھر کے کرپٹ عناصر کی تصویربہت زبردست انداز میں اللہ نے ان آیات میں دکھائی ہے۔ جس طرح سمندر میں پہلے پہاڑوں جیسے جہاز نہیں تھے اور موجودہ دور میں اس کاواضح تصور ہے۔ اسی طرح موجودہ دور میں فیکٹریوں اور ملوں کا بھی تصور ہے جنکا سیاہ دھواں سایہ کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن وہ نہ تو ٹھنڈا ہوتا ہے اور نہ ہی فرحت بخش ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری، نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن سمیت جب مسلسل بڑی بڑی کرپشن میں ملوث سیاسی ومذہبی رہنما ؤں اور فوجی جرنیلوں اور سول بیوروکریٹوں سے حرام کمائی کا دھندہ رُک جائیگا تو یہ خود اور ان کی نالائق اولادیں اپنا پیٹ پالنے اور روزگار کیلئے ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے لگ جائیں گے۔
عیش وعشرت اور آرام وسکون کی زندگی گزارنے کے عادی دنیا میںاپنے روزگارکو اپنے لئے جہنم سمجھیںگے۔ انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہی دنیا ہے ، اگر آخرت کی فکر ہوتی تو یہ کرتوت انکے کبھی نہ ہوتے۔ کسی قوم و ملک سے وفا دار رہنے والے بھی ایسی حرکتیں نہیں کرسکتے ہیں پارلیمنٹ میں گھوڑا ، گدھا اور طوطا بننے والوں کو عزت اور آخرت سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ شرم وحیاء کی دہلیز سے اترکر کہاں سے کہاں یہ لوگ پہنچ چکے ہیں۔ قوم کی ایسی سیاست کرنے اور ملک کی ایسی رکھوالی کرنے سے بہتر ہے ڈھول باجے اٹھاکر عوام کے سامنے میراثیوں کا کردار ادا کریں۔
سورہ ٔ واقعہ کی مندرجہ بالا آیات (41)تا (46)پھر اگلی آیات(50)تا(57) میں قیامت کے عذاب کا الگ سے ذکر کیا ہے جس میں شجرة زقوم وغیرہ کی وضاحت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

اللہ نے صحابہ کرام کے بعدآخری دور میں مسلمانوں کی کامیابی اور اسلامی نشاة ثانیہ کی زبردست بشارت د ی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ جمعہ، سورۂ واقعہ، سورۂ محمد، سورۂ حدید، سورۂ دہر، سورۂ رحمن اور قرآن کی کئی سورتوں میں بشارت عظمیٰ کی بہترین وضاحت

یارب ان قومی اتخذوا ہذالقراٰن مھجورًا”اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھاتھا”۔ قرآن

سورۂ مجادلہ کے پہلے رکوع میں بہت بڑے انقلاب کا ذکر ہے۔ کیا شیعہ سنی میں اتنی جرأت ہے کہ ائمہ اہل بیت یا صحابہ کرام کے دربار میں کسی بڑی شخصیت سے جھگڑا کریں اور اپنے حق میں اللہ کی وحی سے حمایت کی امید رکھیں؟۔
رسول اللہ ۖ سے بڑی ذات اہل تشیع کے نزدیک ائمہ اہل بیت کی نہیں اوراہل سنت کے نزدیک صحابہ کرام کی نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ سنی عوام اپنے ذاکرین عظام اور علماء کرام سے دلیل کی بنیاد پر بھی کسی قسم کی حجت بازی کریں تو ہماری شخصیات کویہ بہت بے ادبی اور بدترین گستاخی لگتی ہے۔ مولانا طارق جمیل و بلال شہید کے درمیان پچپن (55)منٹ کی کال میں گفتگو سن لیں اور پھر اس پر مولانا طارق جمیل کی طرف سے تأثرات بھی سن لیں اور بلال شہید اور مولاناطارق جمیل کی حمایت اور مخالفت کے حوالے سے ویڈیوز بھی دیکھ لیں۔ پھر رسول اللہۖ سے سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون کا جھگڑا بھی دیکھ لیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔
سورۂ مجادلہ کے پہلے رکوع میں ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ظہار کرنے والے کو تین قسم کے کفارے کا حکم ہے۔ (1:)گردن آزاد کرناجو کسی غلام، لونڈی ، مزارع اور قرضدار کی ہوسکتی ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے اس پرعمل حکم ہے۔ (2:) اگر جو یہ نہیں کرسکتے ہو تو پھر ساٹھ (60) دن مسلسل روزے رکھنے ہیں۔ فرض رمضان ایک ماہ، یہ دو مہینے پورے ہیں۔ اوراس میں بھی ہاتھ لگانے سے پہلے کی شرط موجود ہے۔ (3:) اگر دو مہینے روزے کی استطاعت نہیں ہے تو پھر(60) مسکینوں کو کھانا کھلاناہے۔ اس میں ہاتھ لگانے سے پہلے کی کوئی شرط اللہ تعالیٰ نے نہیں لگائی ہے۔
دولت مند پر ہاتھ لگانے سے پہلے کتنا زبردست اللہ نے جرمانہ رکھ دیا۔ پھر مذہبی شدت پسند پر بوجھ ڈال دیا کہ ہاتھ لگانے سے پہلے دو ماہ مسلسل وہ روزے رکھے گا ۔ لیکن عام عوام کو اللہ نے کتنی بڑی سہولت سے نواز دیاہے۔
سورۂ مجادلہ کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس بیماری سے دور رہنے کی تلقین کردی کہ سر گوشی شیطان کا عمل ہے۔ جب چند افراد ایکدوسرے کیساتھ مل کر سرگوشیوں کی بیماری میں مبتلاء ہوتے ہیں تو اس سے معاشرے میں ایک بداعتمادی، منافقت اور اجتماعی بیماریوں کی شکل میں قوم مبتلا ہوجاتی ہے۔ تبلیغی جماعت اور سپاہ صحابہ کے علاوہ اہل تشیع بھی آپس میں سرگوشیوں کے مرض میں مبتلاہیں۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ ایمان والے سرگوشی کریں تو تقویٰ اختیار کریں۔ ایکدوسرے کی غیبت، مخالفت اور مذاق اُڑانے کی عادت سے معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار کھو دیتا ہے۔
صحابہ کرام کے دور میں یہ منافقین کی روش تھی اور اللہ نے ان کو ہرمحاذ پر شکست بھی دیدی۔ اہل تشیع ائمہ اہل بیت کیلئے صحابہ کرام کے مقابلے میں ایسے تأثرات قائم کرنے سے باز آجائیں کہ لوگ قرآن کی طرف دیکھنے کے بعد اُلٹا صحابہ کرام کی بجائے ائمہ اہلبیت کو منافقین کی فہرست کا حصہ سمجھنا شروع ہوجائیں۔ خوارج پہلے پکے شیعہ تھے اور حضرت علی کے ماننے والے تھے اور پھر حضرت علی کے وہی دشمن بن گئے تھے۔ اعتدال مؤمنین کی اصل راہ ہے۔
کچھ لوگ نبیۖ سے سرگوشی کیلئے وقت مانگتے تھے تو ان کا مقصد صرف اپنی دنیاوی وجاہت کا اظہار ہوتا تھا اور منافقین کا راستہ روکنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نبیۖ سے سر گوشی کرنا چاہو تو پہلے صدقہ دیدیا کرو اور اگر نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔ یہ حکم بعض لوگوں پر گراں گزرا کہ نبیۖ نے ملاقات کیلئے بھی یہ شروع کردیا؟۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیسے نہ ہونے کی صورت میں اجازت دی تھی اور صدقہ نہ دینے کے باوجود معاف کردیا تھا۔
اصحاب صفہ اور مہمانوں کے اخراجات کی طرف توجہ دلانا بری بات نہیں تھی۔ آج بھی لوگ سیاسی قائدین، علماء اور پیرانِ طریقت کے لنگروں کا خیال رکھتے ہیں۔ قرآن کی ہر بات میں حکمتِ بالغہ کا سمندر غوطے کھاتا ہے۔
سورۂ مجادلہ کے تیسرے رکوع میں حزب شیطان اور حزب اللہ کی صفات کا ذکر ہے۔ حزب شیطان وہ منافقین تھے جنہوں نے ان اہل کتاب یہود کو اپنا حاکم وسرپرست بنالیا تھا جن پر اللہ کا غضب ہے۔ وہ نہ تو یہود کیساتھ تھے اور نہ مسلمانوں کیساتھ تھے۔ ایک عرصہ سے ہمارا حکمران طبقہ بھی حزب شیطان کا کردار ادا کررہا ہے۔ یہودیوں کے عالمی بینکاری نظام سے بھاری بھرکم سودی قرضے لیتا ہے۔ اسلام کی نشاة اول میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کو بلیک لسٹ قرار دے دیا تھا اور موجودہ دور میں پاکستان کو منافقین کی حرکتوں نے گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ اپنے لوگوں اور عالمی اداروں دونوں سے دغابازی ہورہی ہے۔
بعث لفظ کے دو معانی ہیں۔قیامت کے دن اُٹھانے کو بھی بعثت کہتے ہیں اور تشکیل دینے کو بھی بعثت کہتے ہیں اور قرآن میں دونوں معانی میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ۔ ”اگران دونوں(میاں بیوی) میں تفریق کا خطرہ ہوتوپھر ایک حکم تشکیل دو،شوہر کے خاندان سے” ۔(النسائ35) میں فابعثوا اسی معنیٰ میں آیا ہے۔ سورۂ مجادلہ کے مطابق منافقین اولین کو قیامت کے دن اُٹھایا جائے یا دنیا میں فتح کے مناظر دیکھنے کے بعد ان سے امتحان لیا جائے تو وہ قسم اُٹھانے میں ذرہ برابر شرم نہیں رکھتے تھے۔
اگر مقتدر شخصیات سے کرپشن پر حلف لیا جائے تو ان کے اندر کی منافقت انکے چہروں پر آجائے گی۔ پھر ان پر ان کی جماعت اور خاندان میں سے اچھے لوگوں کو درست گواہ بنادیا جائے تو وہ حزب اللہ کا کردار ادا کرتے ہوئے درست گواہی دیں گے۔ روزِ حشر سے پہلے یہاں بھی ایک یومِ حساب کا ذکر ہے۔ فیض احمد فیض کے اشعار کی صورت میں زبان خلق نقارہ خدا بن چکی ہے۔ سورۂ واقعہ میں دنیا کے اندر اس انقلاب کا ذکر ہے جس میں پہلے دو طبقات کو اجر وثواب کے علاوہ خوشحالی بھی ملے گی اور مجرموں کی دنیا اور آخرت میں الگ الگ سزاؤں کی وضاحت بھی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

سنی شیعہ اختلاف کا ایسا حل جو شدت پسنداور گمراہ طبقے کیلئے بھی روح وجان اوردل ودماغ سے قابل قبول ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا طارق جمیل اور بلال شہید اور علامہ سید جواد حسین نقوی اور ان کی مخالفت میں شیعہ شدت پسندوں کی ویڈیوزدیکھ لیں۔

اتحاد کی کوشش اور مخالفین کے خلوص میں شبہ نہیں لگتالیکن خلفاء راشدینکے دور میں شدت پسندوں کا اندازہ یہاں لگائیں!

شیعہ سنی میں دو نام علامہ سید جواد نقوی اور مولانا طارق جمیل بہت معروف ہیں۔ علامہ سید جواد حسین نقوی کے ہاں دیوبند کے امام مولانا سرفراز خان صفدر کے فرزند علامہ زاہد الراشدی کی امامت میں اہل تشیع اور اہل سنت کی نماز باجماعت یو ٹیوب پر موجود ہے لیکن غلطی سے شاید علامہ راشدی کو اہلحدیث سمجھا گیا ہے کیونکہ سعودی عرب سے کوئی راشدی اہلحدیث پاکستانی کی بہت شہرت ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ و جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد خان شیرانی بھی علامہ جواد نقوی کے پاس گئے۔ ہم بھی علامہ جوادنقوی کے پاس گئے تھے ۔ ان کی دعوت بھی کھائی اور ایک رات وہاں رہے بھی تھے۔ اہلسنت کے بہت علماء کرام کو مختلف مواقع پر علامہ نقوی بلاتے ہیں اور ہمارا کوئی تعارف بھی نہیں تھا لیکن ہم از خود پہنچ گئے تھے۔
شیعہ سنی اتحاد کی وجہ سے علامہ جواد نقوی کو شاید اپنوں سے خطرات بھی لاحق ہوں، ان کی مخالفت میں بہت مواد موجود ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔جب مولانا طارق جمیل کی ویڈیو کا کسی نے بتایا کہ بلال شہید نے انکو بہت خراب کیا ہے تو بلال شہید کی کافی ویڈیوز دیکھ لیں اور مجھے مولانا طارق جمیل کی حالت دیکھ کر ان پربہت رحم آیا۔ بڑی عمر کے بڑے عالم دین سے واقعی جس لہجے میں بات کی گئی ،بلال شہید نے غالباً کہہ بھی دیا کہ اگر میں سامنے ہوتا تو ہوسکتا ہے میں اس لہجے میں بات نہ کرسکتا۔
جس لہجے میں حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی ابن ابی طالب سے اپنے دور کے جذباتی نوجوانوں نے بات کی ہوگی، مولانا طارق جمیل اور علامہ سید جواد نقوی کی مخالفت میں انکے اپنے ہم مسلکوں کا بالکل وہی لہجہ نظر آتا ہے۔ قارئین یوٹیوب سے متعلقہ وڈیوز فیس بک پر بھی اگر ڈال دیں تو بہت اچھا ہوگا۔ مولانا طارق جمیل کا ایک بہت خیرخواہ اپنی ویڈیو میں منت سماجت کرتا ہے کہ اس کوڈیلیٹ کردو، لیکن ڈیلیٹ کرنے کی کسی نے بات نہیں مانی ہے۔
علماء دیوبند کے اچھے لوگ اپنے اکابرین پر گئے ہیں، ان میں منافقت نہیں ہے۔مولانا احمدرضا خان بریلوی کی طرف سے ان پر گستاخ، قادیانیت وغیرہ کا فتویٰ لگا لیکن انہوں نے اعلیٰ حضرت کو مخلص قرار دیا۔ مولانا طارق جمیل کا علم پختہ نہیں مگر اکابر کی راہ پرخلوص سے گامزن ہیں۔
اہل تشیع اس وجہ سے صحابہ کرام پر کفر کے فتوے نہیں لگاتے کہ یہود اور ایران کے مجوسیوں کے ایجنٹ ہیں بلکہ ان کے دل ودماغ میں یہ بات چھائی ہوئی ہے کہ منافقوں اور مرتدوں کے جس کردار کا ذکر قرآن واحادیث میں ہے وہ چند صحابہ کرام کے سوا سب پر صادق آتا ہے۔ جس طرح مولانااحمدرضا خان بریلوی سے علماء دیوبند کے اکابر نے نفرت نہیںکی۔ مولانا یوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے مسلک حنفی کی بقا ء کا ذریعہ امام بریلوی ہی کو قرار دیا تھا۔ سنی مکتبۂ فکر میں پروفیسر حمید اللہ ایک امام کی حیثیت رکھتے تھے۔ بہاولپور یونیورسٹی میں پڑھایا تھا اور فرانس میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی ایک کتاب ”حدیث قرطاس” سے متعلق ہے ،جس میں پورا پورا زور لگایا گیا ہے کہ اس کا کسی طرح انکار کیا جائے کہ حضرت عمر کے مزاج سے کسی قسم کی مناسبت بھی اس میں نہیں ہے کہ حضرت عمر نے اتنی بڑی گستاخی کا ارتکاب کیا ہو۔ لیکن اگر ان کو یقین آجاتا کہ حضرت عمر نے یہ کیا ہے تو پھر کیا وہ شیعہ بن جاتے؟۔ اس میں شک نہیں ہے کہ وہ ضرور شیعہ بن جاتے۔ نبیۖ کی مخالفت میں کوئی بھی شخص نظر آئے اور اس کی کوئی تأویل بھی دل ودماغ میں نہ آئے اور نبیۖ پر اس کو ترجیح دی جائے تو ایسا بے ایمان بننے سے شیعہ بننا بہت بہتر ہے۔
مولانا شبلی نعمانی نے علماء سے اپنے وقت میں کہا تھا کہ بہتر ہے کہ اس حدیث کا انکار کیا جائے لیکن ان سے کہا گیا کہ حدیث کے منکر بننے سے کافر بن جائیں گے لیکن جب کسی روایت کا انکار کرنے سے کوئی کافر بنتا ہو تو سامنے سامنے نبیۖ کی بات کا انکار کرنے سے کیسے مسلمان کا تصور ہوسکتا ہے؟۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا داماد سید زعیم قادری اس حدیث کی وجہ سے نہ صرف کٹر شیعہ بنا تھا بلکہ ایسی گستاخانہ زبان لکھ دی تھی کہ حکومت پاکستان نے اس کی اشاعت پر بھی پابندی لگائی تھی۔ وہ کتاب میں نے بھی پڑھی ہے۔ شیعہ میں ایسی گستاخی کرنے کا تصور آج سوشل میڈیا پر بھی نظر نہیں آتا ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے پوتوں اور نواسوں کو بٹھاکر معاملہ دیکھا جاسکتا ہے۔
مجھے حضرت ابوبکر و عمر سے اسلئے عقیدت نہیں کہ سنی ماحول سے میرا تعلق ہے بلکہ قرآن وحدیث کے آئینے میں دونوں کا کردار شفاف آئینے کی طرح زبردست لگتا ہے۔
شیعہ سنی دونوں مکتبۂ فکر قرآن وحدیث سے بہرہ مند نہیںبلکہ اپنے اپنے ماحول کی وجہ سے سنی یا شیعہ ہیں۔ اگر حقائق کی نشاندہی کردی جائے تو پھر بہت ممکن ہے کہ شیعہ اپنی شیعیت چھوڑ کر پکے سنی بن جائیں اور سنی اپنی سنیت چھوڑکر پکے شیعہ بن جائیں اور ایسا بہت ہوا بھی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کا ایک طرف عقیدہ یہ تھا کہ اتنے معجزات کیساتھ خدا اور خدا کا بیٹا تھا اور دوسری طرف یہود نے ان پر ولدالزنا کا الزام بھی لگایا تھا۔ عیسائی کی آج بھی مسلمانوں سے زیادہ تعداد ہے اور ان کا یہ عقیدہ کسی کیلئے قابلِ قبول نہیں تھا کہ ایک طرف حضرت عیسیٰ خدا ہوں اور دوسری طرف مظلوم۔ اہل تشیع کی تعداد بھی اچھی خاصی رہی ہے لیکن انکے اس متضاد عقیدے کو کسی دور میں بھی پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔ جو لوگ حضرت علی سے گستاخانہ بغض رکھتے ہیں وہ بھی یہود پر گئے ہیں اور جن اہل تشیع کے اعتقاد ات میں انتہائی درجے کاتضاد ہے وہ بھی عیسائیوں کی طرح ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت علی نے خلافت کو اپنا حق سمجھ رکھا تھا اور ان کی بہت کرامات بھی تھیں اور کسی قدر آپ خود کو مظلوم بھی سمجھتے تھے لیکن اس میں غلو کرنے والوں نے حضرت علی کی شخصیت کو بھی چار چاند نہیں لگائے بلکہ خراب کرکے رکھ دیا ہے۔
اگر کوئی علامہ شبلی نعمانی کی طرح سمجھدار شیعہ ہوتا تو یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان خرافات کو حضرت علی کی شخصیت پر بڑا دھبہ قرار دیکر مسترد کرتاجو مختلف روایات میں موجود ہیں۔ جب کوئی علامہ شہریار عابدی کی طرح کھینچ تان کر حضرت علی کی ذات کو آخری حد تک تقیہ کی انتہاء تک پہنچانے والا اس انداز میں ثابت کریگا تو انسان کا دل بھی نہیں مانے گا کہ وہ پھر حضرت علی کے پیروکار کی حیثیت سے شیعہ بنارہے۔یہ وہ روش ہے جس نے بعض شیعوں کو شیعہ مذہب چھوڑنے پر مجبور کرکے شدت پسند سنی بنادیا تھا۔ لیہ پنجاب میں ایک بہت نیک اور اچھا انسان تھا جوشیعہ سے سنی بن گیا تھا اور شیعہ مذہب سے آخری حدتک نفرت کرتا تھا۔ بھائی واپڈا میں ایکسین اور سنی ہونے والے شخص لائن مین تھے۔ مجھے شیعہ سنی سب سے ہمدردی ہے ۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ الدین النصیحة ”دین خیرخواہی ہے”۔ آج دین کی شکل بگڑ کر بہت بدخواہی بن کر رہ گئی ہے۔ العیاذ باللہ

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

مولاناپی ڈی ایم (PDM)دوماہ کی نماز پرچلی گئی ! ریموٹ کنٹرول مریم کاہوتونمازہوگی؟ عبد القدوس بلوچ: تیز و تند

سینٹ الیکشن میں طوطا فیس لیکر ووٹ کاسٹ کرتا۔ اب گدھیڑے کیلئے بڑاگدھا صدارتی آرڈینینس جاری ہوا؟ نہیں جی! سوال غلط ہے،تبدیلی سرکار آئی ہے، اب گھوڑوں کی جگہ ڈنکی ٹریڈنگ سے قوم ملک سلطنت سربلند ہے

کہیں پرندوں کی منڈی لگتی ہے، کہیں جانوروں کی منڈی لگتی ہے، پہلے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی دنیا میں منڈیاں لگتی تھیں،اب عوامی نمائندوں کی منڈی کا لگنا سرِ بازار رُسوائی ہے

مشروط صدارتی آرڈی نینس کی مثال: گدھے سے کسی نے پوچھا کہ ڈھینچو ڈھینچو کیوں کرتے ہو؟، جواب دیا کہ کسی کو ڈراتا ہوں،پوچھا پدو کیوں مارتے ہو؟، کہا: میں بھی ڈرتاہوں!

ریل گاڑی کا ٹکٹ کسی شخص کے پاس نہیں تھا، چیکر آیا تو ا س نے دو سو(200)رکعت کی نیت کہہ کراللہ اکبر کہا اور نماز پڑھنے لگا۔ یہ دیکھ کرچیکر پریشان ہو کرچلا گیا۔ مولانانے پی ڈی ایم (PDM) کی دو ماہ نماز باجماعت شروع کی،دھرنے اور تحریک عدمِ اعتماد پر اتفاق نہیں تھا۔ مولانا کا ریموٹ مریم چلائے تو کیا نماز ہوگی؟۔ عمران شفقت نے کہاکہ ”شاہد خاقان عباسی کا نام ای سی ایل (ECL) سے نکالنانوازشریف سے گٹھ جوڑکا فیصلہ ہواہے کہ حکومت کو مدت پوری کریگی، آئندہ ہلکی پھلکی سیاست چلے گی”۔ شاکر سولنگی نے کہاکہ ”نوازشریف آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر (DGISI)کا نام نہیں لے گا” ۔ عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی ن لیگ کیلئے زیادہ خطرہ ہے اسلئے تو پرویز الٰہی کے پیچھے مریم نواز نے مولانا فضل الرحمن کو لگادیا تاکہ پنجاب اور مرکزکی سیاست میںعمران خان کی جگہ ق لیگ، پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کی انٹری نہ ہو۔یہ تحریک پہلے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نظریہ اور اب مفاد کاچربہ لگتاہے۔محمودخان اچکزئی کی آذان ، بلاول کی اقامت رائیگاں گئی۔ امام پراَنڈرایامِ خاص کا کنٹرول ہے نوازشریف کے پیسوں سے پی ڈی ایم (PDM) میڈیا میں رہے گی۔ پی سی (PC)میں مولانا کانمائندہ بھی دعوت دینے پہنچ گیا تھا۔

ہم نے لکھا تھاکہ ن لیگ پر اعتماد خوش فہمی ہے مگر ڈراونا خواب بناکر پیش کیا تاکہ کوئی گلہ نہ کرے کہ ہم آزادی کی جنگ لڑرہے تھے اور تم نے طاقتور کوسہارا دیا۔ فوج پی ٹی ایم (PTM) سے ڈرگئی پی ڈی ایم (PDM) نے دل کی بھڑاس سے رہا سہا خوف بھی نکال دیا ۔ بات طوطے کی فال سے نکل گئی۔ حکومت اپوزیشن دونوں ایک گدھے کے سوار ہیں جو ڈھینچو ڈھینچو اور ہوائیں خارج کرکے بے انتہا ء ماحولیاتی آلودگی پھیلارہے ہیں!

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

شیعہ بھی سخت گیری سے پیچھے ہٹ کر صحابہ کے گرویدہ بن سکتے ہیں!

پہلے مخالف کو ڈنڈے کے زور پر دبایا جاسکتا تھا مگر اب سوشل میڈیا ایسا ہتھیار ہے کہ اگر کوئی خود جھوٹ بول کر اپنا منہ کالا نہیں کرے تو سچ کا راستہ دنیا کی کوئی قوت نہیں روک سکتی ہے،البتہ اُمت مسلمہ کو جھوٹ سے فراغت نہیں!

شیعہ اگر اپنے سچ کو اچھے انداز میں پیش کریں تو سنی بھی نرم پڑ سکتے ہیں اور سنی اپنے سچ کو اچھے انداز میں پیش کریں تو شیعہ بھی سخت گیری سے پیچھے ہٹ کر صحابہ کے گرویدہ بن سکتے ہیں!

اہل تشیع کو تاریخ میں زیادہ تر تقیہ اختیار کرنے پر گزارہ کرنا پڑا لیکن اب انکے پاس ایران کی حکومت ہے۔ البتہ اس کی وجہ سے شیعہ سنی اختلافات میں شدت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔

آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور اگر مل بیٹھ کر اپنے معاملات کو افہام وتفہیم ،تحمل وبرداشت اوراعلیٰ ظرفی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کرکے گزارہ نہیں کیا تو پھر دہشت کی فضاء ایسی وحشت میں بدل سکتی ہے کہ علماء کرام اور ذاکرین کو چندہ دینے والی عوام مذہب اور دینداروں کی شکل وصورت سے بھی نفرت کرنے لگ جائیں گے۔

اگر میں چاہتا تو جمعیت علماء اسلام ف کے پلیٹ فارم سے اپنے لئے بہت آسانی کا راستہ اپنا سکتا تھا مگر میں نے اپنے لئے کوئی الگ پارٹی یا تنظیم بھی نہیں بنائی ہے اور چند افراد کیساتھ مل کر اسلام کی نشاة ثانیہ کی ایسی کوشش میں لگاہوں جو اپنے ثمرات سے عوام کو بڑے فائدے کاباعث بن رہی ہے۔ علماء اور مذہبی طبقات کے غبارے سے ہم ہوا نکالنے میں کامیاب نہ ہوتے تو طالبان اور داعش ہمارے مذہبی طبقات کی اوقات بھی عوام کو دکھا دیتے۔ جب ریاست نے ان کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی تب بھی ہم نے القاعدہ اور طالبان کوانکی کمزوریوں سے آگاہ کیا تھا۔ ہماری تحریک نے سب کو یکساں فائدہ پہنچایا۔ ریاست اور طالبان دونوں نے شدت پسندی کے مقابلے میں اعتدال کو ترجیح دی تھی۔

آج پی ڈی ایم (PDM)اور حکومت وریاست کو بھی اعتدال کی طرف دھکیلنے میں اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کیا ہے۔ شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث میں بھی اعتدال کی راہ پر چلنے میں ہم نے کافی سفر طے کیا ہے۔

الم یجدک یتیمًافاٰوٰیO ووجد ک ضالًا فھدٰیO ووجدک عائلًافاغنیٰOفاما الیتیم فلاتقھرOواما السآئل فلاتنھرO واما بنعمة ربک فحدث

” کیا ہم نے آپ کو یتیم نہیں پایا ، پھر ٹھکانہ عطاء کیا اور آپ کو تلاشِ حق میں سرگرداں پایا تو ہدایت عطاء کی اور آپ کو محتاج پایا تو ہم نے مستغنی بنادیا۔پس کوئی یتیم ہو تو مت ڈانٹواورکوئی سائل ہو تو اس کو مت جھڑکو۔اور اپنے رب کی اپنے اوپر نعمت کو بیان کیا کرو”۔ (سورۂ الضحیٰ)

جب انسان نے کوئی خدمت انجام دی ہوتی ہے تو اس کو تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرتا ہے لیکن جب کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے تو کچھ یاد نہیں رہتا ہے اور اللہ کی تعریف نہیں اپنی ثناخوانی کرنے لگتا ہے۔

رسول اللہ ۖ کے دادا عبدالمطلب بھی اللہ ہی کی ربوبیت پر یقین رکھتے تھے ۔ جب ہاتھی والوں نے حملہ کرنے کا پروگرام بنایا تو حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ” کعبہ کی حفاظت اس کا اپنا رب کرے گا”۔

توحید پر اتنا پختہ عقیدہ تو آج کے مسلمانوں میں بھی نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو اللہ نے جس طرح آگ سے بچایا ،وہ قصہ نسل درنسل وراثت میں چلا آیا تھا۔ اسی لئے بنی اسرائیل میں ایک کے بعد دوسری نبوت کا سلسلہ جاری رہا تھا، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے معجزات کیساتھ بھیج دیا تھا، جبکہ اہل مکہ میں توحید کا عقیدہ اپنے جوبن کیساتھ موجود تھا اسلئے حضرت اسماعیل کے بعد کسی بھی نبی کو قریشِ مکہ میں بھیجنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

جس طرح یہود ونصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں اسی طرح سے قریشِ مکہ خود کو حضرت ابراہیم کا اصل وارث سمجھتے تھے۔ مولانا آزاد کے سیکرٹری محمد اجمل نے نبیۖ پر اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے کہ ” ایک منصوبہ بندی کے تحت بنوہاشم نے عوام کو جہالتوں سے نکالنے کیلئے رسول اللہۖ کا کردار تشکیل دیا تھا۔ وحی کا دعویٰ عوام میں ایک سیاسی چال کے طور پر کیا گیا”۔ میرا ایک جاننے والا شیعہ علمی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باجود بھی یہی نظریہ رکھتا ہے۔اسکے نزدیک مہدیٔ غائب کا عقیدہ بارہ عدد کو پورا کرنے کی وجہ سے ایک مجبوری ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ غائب ہے اور سنی کہتے ہیں کہ آئندہ پیدا ہوگا مگر سمجھدار لوگ اپنے وقت کو ضائع نہیں کرتے اسلئے خمینی نے خروج کیاتھا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن نبیۖ پر نازل ہوا تھا اور اب قیامت سے پہلے مہدی کے ہاتھوں نافذ ہوکر قیامت آجائے گی؟۔ پھر اتنے لمبے عرصے تک یہ قرآن صرف اسلئے تھا کہ تلاوت سے ایمان کی روشنی کو حاصل کیا جائے اور سمجھنے سمجھانے کا معاملہ قرآن کو اپنا کاروبار بنانے والوں کے رحم وکرم پر چھوڑا جائے؟۔

قرآن نے رسول اللہۖ و صحابہ کے ذریعے سے وہ انقلاب برپا کیا جسکا انکار کوئی انسان کرے بھی تو نہیں کرسکتا اور جن کا قرآن کے آسمانی صحیفے پر ایمان نہیں وہ بھی اسلام کی افادیت سے انکار نہیں کرسکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُمت نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟۔ دیوبند کے بڑے شیخ الہند مولانا محمود الحسن جب مالٹا کی جیل سے رہاہوگئے تو امت کے زوال کے دو سبب بتائے ۔ ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی اعظم مفتی محمد شفیع نے کہا کہ ” فرقہ واریت قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے”۔ مفتی شفیع نے مولانا انور شاہ کشمیریکا لکھا کہ ” آخری عمر میں فرمایا کہ میں نے اپنی ساری زندگی فقہ میں ضائع کردی، قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔ مولانا انور شاہ نے اپنے استاذ شیخ الہند کی بات مانی ہوتی تو آخری وقت میں اپنی زندگی ضائع کرنے پر افسوس نہ ہوتا ۔مفتی شفیع اور مولانا محمد یوسف بنوری نے اپنے استاذ کشمیری سے سبق سیکھ لیا ہوتا تو آج مدارس میں بڑا انقلاب ہوتا۔

یہ تو دیوبندی مکتبۂ فکر کا حال ہے جو قرآن وسنت کے سب سے بڑے علمبردار کہلاتے ہیں۔ بریلوی اور شیعہ فرقوں کا کیا حال ہوگا؟۔ جن کا گزارہ خانقاہ کے پیروںاور محرم کے ذاکرین پر چل رہا ہے؟ دیوبند کی دیکھا دیکھی بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ نے بھی مدارس قائم کرلئے ہیں۔ مولانا الیاس کی تبلیغی جماعت کے طرز پربریلوی کے علامہ الیاس قادری اور اہل حدیث کے مولانا الیاس اثری نے بھی اب اپنی جماعت قائم کی۔ جمعیت علماء اسلام کی طرح جمعیت علماء پاکستان و جمعیت علماء اہلحدیث وجود میں آگئے، اہل تشیع نے بھی تحریک فقہ جعفریہ سمیت متعدد تنظیموں کے نام سے اپنا کام چلایا۔ تمام مکاتبِ فکر کی جماعتوں اور تنظیموں کی روداد پیش کی جائے توپھر جگہ بہت کم پڑجائے گی۔

جب حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا ترجمہ کیا تو علماء اسکے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑگئے۔ پھر بات سمجھ میں آگئی تو انکے بیٹوں نے اردو میں لفظی و بامحاورہ ترجمہ کرلیا۔ پھر اردو سے اردو کی نقل میں مارکیٹ کے اندر بہت سارے ترجمے آگئے۔ عربی زبان بہت وسیع ہے اور اس میں ایک ایک لفظ کے بہت معانی ہیں اور ایک ایک چیز کے بہت سارے نام ہیں۔ مثلًا شیر کے پانچ سو (500)نام ہیںاور ولی کے پچیس (25)معانی ہیں۔ ایمانکم کے بہت سے معانی ہیں۔ قرآنی آیات میں سیاق وسباق سے معانی متعین کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہے۔

جس طرح مختلف آیات میں اللہ نے قرآن کے نازل ہونے کی نشاندہی فرمائی ،اسی طرح سے اللہ نے انسان کو قرآن اور علم سکھانے کی بھی وضاحت فرمائی۔

الرحمٰن Oعلّم القراٰن O

” رحمان نے قرآن کو سکھایا”۔ ابن عباس کا مشہور قول ہے کہ قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا۔ آج ہمیں دیکھنا ہوگا کہ رحمن کس طرح انسان کو اپنے اپنے دور میں قرآن سکھاتا ہے؟۔

جب قرآن نازل ہوا تو سمندروں میں پہاڑوں کی طرح جہازوں کا تصور نہیں تھا۔ تفاسیر میں کیا لکھ دیا تھا؟۔ ٹھیک یا غلط؟۔ مگر آج قرآن انسان کو خود سمجھ میں آرہاہے اسلئے رحمن جل شانہ کا قرآن سکھانا سمجھ آئیگا۔ عوام کو صرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ بہت سمجھدار ہے اور قرآن کی طرف توجہ ہوگئی توپھر امت مسلمہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ بعض لوگ جن کی روزی روٹی مذہب سے بندھی ہوئی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کی طرف عوام کی توجہ ہوگئی تو پھر یہ ایسا ہوگا جیسے قربانی کے جانوروں کو چھرا دکھا دیا جائے۔اونٹ جیسا کینہ پرور جانور کبھی مالک یا قصائی کو مار بھی ڈالتا ہے۔

میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا تو میری حیثیت یتیم کی تھی۔ مطبخ پر چودہ (14) نمبر کمرہ لاوارثوں کا ہوتا تھا۔ اس سے پہلے اسٹیل مل میں نوکری کرتے ہوئے کھلے میدان میں پوڈر پینے والوں کی طرح بھی سویا ہوں۔ گھر سے بھاگا ہوا راہِ حق کی تلاش میں پھرتا تھا تو بہت تجربات کر لئے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔ نکل کر خانقاہ سے رسم شبیری ادا کرنے کی کوشش کی تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑگیا۔ دربدر مختلف شہروں میں ٹھکانے بنائے،آخر کار کبیر پبلک اکیڈمی گومل میں خدمت کا موقع ملا، اخبار ضرب حق کراچی اور کتابیں لکھ کر شائع کرنے کاموقع بھی ملا اور حاجی عثمان کی خانقاہ سے علماء ومفتیان کے مقابلے میں جیت کا تمغہ بھی اپنے سر پر سجالیا تھا ، جب ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء اور ٹانک کے مجاہدین سے پالا پڑا تھا تب بھی اللہ نے سرخرو کردیا تھا۔ آخر میں جب طالبان نے حملہ کیا تو مجھے اللہ نے بچالیا اور ان کو بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مرتبہ جرمنی جانے کا بھی موقع ملا، دبئی میں رہائش، ناروے، سویڈن ، فرانس ، چین دیکھنے کو مل گئے اور مکہ مدینہ کی زیارت کیساتھ بدر اور طائف بھی گیا۔مدارس میں عزت ملی، خانقاہ کی پیری مل گئی ،صحافت اور تصانیف کے مواقع مل گئے ۔ رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلانے کی ہمت کرسکتا ہوں۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ ” میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن ، دوسری میرے اہلبیت”۔ حدیث ثقلین سے سب واقف نہیں ہیں لیکن اہل تشیع کے ہاں اس کی بڑی رودادیں ہیں ۔

سنفرغ لکم ایہ الثقلٰنO

”اے دو ثقلین! عنقریب ہم تمہارے لئے فارغ ہورہے ہیں!” (الرحمن)

سورۂ الرحمان میں انسانوں اور جنات کو مخاطب کرکے ثقلان کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ دھمکی ہے یا خوشخبری ہے؟۔ نعمتوں کے بار بار ذکر کرنے سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ یہ خوشخبری ہے۔ جس خلافت سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہونگے توشیطان بھی آرام کریگا؟۔

قرآن میں صرف آخرت کے ثواب وعذاب ہی کا ذکر نہیں بلکہ دنیا میں جتنی قوموں کا قرآن نے ذکر کیا ہے وہ دنیا میں ہی عذاب یا خوشی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ شداد کی جنت اور ابراہیم کو جحیم میں پھینکنے کی بات دنیا کی ہے۔ حجاز کے لوگوں کو قیصر وکسریٰ فتح کرنے کے بعد دنیا بھر کے باغات اور نہریں دنیا میں ملی ہیں۔ علامہ اقبال نے شکوہ میں لکھ دیا ہے کہ کافروں کیلئے دنیا میں حوروقصور اور مسلمان کیلئے فقط وعدۂ حور؟۔ لیکن عرب نے یورپ اور فارس فتح کرکے سب کچھ پالیا تھا۔

آج دنیا کو اسلامی معیشت کا درست نظام دیا گیا تو پھر سودی معیشت سے چلنے والے اور کرپٹ عناصر کی آل اولاد اپنا پیٹ پالنے کیلئے فیکٹریوںو ملوں میں کام کرکے بھی خوش ہونگے کیونکہ روزگار ملا ہوگا لیکن زمینوں اور باغات میں کام کرنے والوں کی قسمت ہی زیادہ جاگے گی۔ کھانے پینے کیلئے فروٹ اور پرندوں اور جانوروں کا گوشت تک میسر ہوگا۔ تعلیم کے حصول کیساتھ طلبہ کو چوبیس گھنٹے ویٹر کا آسان روزگار بھی میسر ہوگا۔ مہمان فیملیوں کیلئے خیموں کا بہترین بندوبست ہوگا جس میں دنیا بھر سے اچھے کردار والوں کو موقع مل جائیگا، بروں کو اجازت ہوگی، نہ وہ فرصت پائیں گے۔

قرآن میں دنیا کے اندر بھی ایک عظیم انقلاب کا ذکر ہے۔ سورۂ رحمن، سورۂ حدید، سورۂ واقعہ ، سورہ ٔدہر اور بہت سی جگہوں پر اس دنیاوی انقلاب کا ذکر ہے جو آخرت کے حوالے سے ممکن بھی نہیں ہے۔ مشرکین و منافقین اور بدوعرب کے لوگوں میں اس انقلاب کا کیا تصور ہوسکتا تھا جو دنیا میں اسلام نے برپا کیا تھا؟۔

آج پاکستان میں اسلامی احکام پر عمل شروع ہو تو دنیا خیرمقدم کرنے پر مجبورہو گی۔ دنیا بھر کا گند ہمارے اندر ہو، ہرطرح کی نالائقی ہم کریں اور توقعات بڑی بڑی رکھیں تو عذاب کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری اور ہماری قوم کی اصلاح فرمائے۔ قرآن میں انقلاب کی خبریں ڈھونڈ کر ان پرعمل کرکے جیو!۔ بہت زبردست طریقے سے خوشخبری مل جائے گی۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Breaking News 2021

دیوبندی، بریلوی،شیعہ اور اہلحدیث قرآن سے پاکستان میں انقلاب لائیں: سید عتیق الرحمن گیلانی

قائد اعظم کا بریلوی اور شیعہ نے محمد علی نام کی وجہ سے ساتھ دیا، اہلحدیث اقلیت میں تھے اور دیوبندی موافق تھے اور مخالف بھی ۔ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی نے پڑھایا۔ آغا خانی تھے اور بوہری آغا خانیوں کے زیادہ قریب ہیں۔

حجاز مقدس سے اسلام کی نشاة اول ہوئی تھی تو صحابہ انصار ومہاجرین اور قریش و اہلبیت کا خلافت کے مسئلے پر اختلاف تھا لیکن پھر بھی دنیا کی سپر طاقتوں کو فتح کرکے جنت حاصل کی!

آج پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو افغانستان، ایران ، ترکی، سعودی عرب اور تما م مسلم ممالک کیلئے یہ بہترین نمونہ ہوگا اور پھر پوری دنیا کے تمام ممالک اس کو قبول کرینگے۔

قرآن مسلمانوں کا مشترکہ اور بہت بڑا اثاثہ تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ تمام فرقے قرآن سے اپنی دلیل پکڑتے ہیں۔ قرآن پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اگر آج کے دور میں بھلے کسی طرح سے بھی عوام الناس کو قرآن کی طرف متوجہ کیا جائے تو ماضی کا بھی درست فیصلہ ہوجائیگا ، حال بھی ہمارا ٹھیک ہوجائیگا اور مستقبل کیلئے بھی ہم ایک مشترکہ لائحہ عمل بناسکیں گے۔

علامہ اقبال کا شکوہ اور جواب شکوہ اس قوم کیلئے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر موجودہ زمانے میںشاعرافکار علوی کے گلے شکوے دیکھ لئے جائیں تو بجانظر آتے ہیں۔ قرآن عربی میں ہے مگر عربوں کیلئے نہیںبلکہ ہمارے لئے بھی ہے۔ ہمیں کچھ وقت چاہیے کہ اس کو سمجھ کر اپنا لائحۂ عمل تشکیل دے سکیں۔ فرقوں نے مطالب نکالے لیکن مقاصد توحل ہوئے مسائل حل نہیں ہوئے!۔

اہل تشیع کو قرآن کی سورۂ منافقون میں بڑے صحابہ کے کردار نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنا ماحول ہے اور دین میں زبردستی کا تصور بھی نہیں اور انکے عقیدہ سے اہل سنت کو قطعًا کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا البتہ اہل تشیع کی تسکین ہوتی ہے۔ بھڑا س نکلنے کا فائدہ ہو توپھر ہمیں اپنا ظرف وسیع رکھنا چاہیے۔ مجھے پورا پورا یقین ہے کہ اہل سنت کی طرف سے برداشت کا اہل سنت کو بالکل کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور اہل تشیع کی مجبوری ہے۔

اہل تشیع ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ شعراء کے عشق وادب سے بھی ہم کچھ سیکھ لیتے تو ہمارے لئے بڑا اچھا ہوتا۔ اہل اردو کی سب سے بڑی خاتون شاعرہ پروین شاکر نے اپنے بے وفا شوہر سے جس طرح کی محبت کی ہے ،اگر ہم مسلم فرقے ایکدوسرے سے بے وفائی کے باوجود کچھ نہ کچھ ہمدردانہ جذبہ بھی رکھتے تو ہم مذہب کا چہرہ مسخ کرنے میں انسانیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افراد کا بڑا یا چھوٹا مجمع دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتے۔

اپوزیشن کی جماعتوں نے پارلیمنٹ کو توڑنے، نئے انتخابات کرانے اور فوج کی مداخلت ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے جس طرح استعفوں ، انتخابات کے بائیکاٹ اور لانگ مارچ و دھرنے کا اعلان کیا تھا کہ ہم وزیراعظم کو پکڑ کرباہر پھینک دیں گے تو اس سے ہماری قوم کے جذباتی ہونے کا پتہ لگایا جاسکتاہے ۔

ایک دو شیعہ علامہ نے اپنی مجالس میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابوسفیان کی گستاخی کی تو کراچی میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث کے بہت بڑے بڑے جلوس نکالے گئے لیکن کیا یہ سلسلہ رُک گیا؟۔ نہیں بلکہ اہل تشیع نے یوٹیوب پر مزید دِلوں کی بھڑا س نکالی ہے اور دیکھنے والے ان سے بہت متأثر بھی ہورہے ہیں۔ بعض لوگوں کی نفرتوں میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں شیعہ نے کہا کہ ہم نے ”علی” نام دیکھ کر حمایت کا فیصلہ کیاتھا اور بریلوی کہتے ہیں کہ ہم نے ”محمد” نام دیکھ کر حمایت کی تھی۔ دیوبندیوں کی جمعیت علماء ہند و مجلس احرار نے مخالفت کی تھی اور جمعیت علماء اسلام نے حمایت کی تھی لیکن مولاناابوالکلام آزادنے مخالفت اسلئے کی تھی کہ وہ مذہبی طبقات کے اسلام کو سیکولر نظام سے زیادہ خطرے کی گھنٹی سمجھتے تھے۔ جمعیت علماء ہند کو قائداعظم کا نظریہ تقسیم ہند کی سازش کے علاوہ کچھ نہیں لگتا تھا۔ جمعیت علماء اسلام ہندو مذہب سے مسلمانوں کیلئے الگ مملکت بنانے کی زبردست حامی تھی۔ لیکن موجودہ جمعیت علماء اسلام کا تعلق اس جمعیت علماء اسلام سے نہیں ہے جس نے پاکستان کی حمایت کی تھی بلکہ اسکا نظریاتی تعلق بھی جمعیت علماء ہند سے ہے۔ جب جمعیت علماء ہند برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے حق میں نہیں تھی بلکہ قوم پرست و وطن پرست جماعت تھی تو موجودہ جمعیت علماء اسلام کو بھی ملک کا غدار کہنا بہت غلط ہے۔ پاک فوج کے جن بے دماغ فلاسفروں کی طرف سے جمعیت علماء اسلام کو ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے ،ان کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کسی فوج کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا ہے۔ جب انگریز کے دور میں برصغیر پر انگریز کا قبضہ تھا تو پاک وہند کی فوج کا حلف نامہ انگریز سے وفاداری تھی اور تقسیم کے بعد اپنی فوج پاکستان اوربھارتی فوج انڈیا کی وفادار بن گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو اندھوں میں کانا راجہ تھے لیکن اسلام اور سوشلزم کے نام پر فراڈیا تھے۔ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے سامنے ہتھیار ڈال کر پاک فوج نے غلط کیا اور بھٹو نے ہندوستان کی قید سے آزادی دلاکر اچھا کیا تھا۔ پھر بھٹو پھانسی کے پھندے پر چڑھایا گیا تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بھٹو مسلمان نہیں تھا اور اسکے ختنے کی تصویر بھی اسلئے کھینچ لی گئی۔ اگر ختنہ نہ ہوتا تو اسکے باپ دادا کو بھی ہندو ثابت کرنا تھا۔ نوازشریف کو بھٹو پرچھوڑدیا گیا جو اسکے باپ دادا کو انگریز کے کتے نہلانے والا کہتا تھا۔ آج سوشل میڈیا پر نوازشریف کی کلاس لی جاتی ہے کہ مودی کے ایجنٹ تم پاک فوج کے خلاف بھونکتے ہو؟۔ تمہارا دادا امرتسر میں طوائف کیلئے پھولوں کے ہار لاکر بیچتا تھا اور تمہارا خاندان اسی حرام کی کمائی سے پروان چڑھا ہے۔

پیپلزپارٹی نے پرویزمشرف کو نکالنے کیلئے مسلم لیگ ق کا ساتھ دینے کے بجائے ن لیگ کیساتھ ملکر پنجاب میں شہبازشریف کو وزیراعلیٰ بنوایا تھا۔ پھر نواز لیگ نے ق لیگ کو ساتھ ملاکر پیپلزپارٹی کو دھکیل دیا تھا اور آج پرویز الٰہی کے ذریعے سے پنجاب اور مرکزمیں تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے اپوزیشن کو اقتدار میں لایا جاسکتا تھا لیکن ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ خفیہ معاہدہ کرکے ق لیگ کا راستہ روکا ہوا ہے۔ جب پیپلزپارٹی کو پنجاب حکومت سے ن لیگ نے ق لیگ کو ساتھ ملاکر نکال باہر کیا تو پیپلزپارٹی نے مرکز میں پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم بنادیا تھا۔ یہ ن لیگ کی مہربانی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اسلئے چلنے دیا جائیگا کہ پرویزالٰہی کی انٹری بالکل ہی ختم ہوجائے ۔ یہ بھی ن لیگ ہی کی مہربانی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے پہلے پی ٹی ایم (PTM)کو پی ڈی ایم (PDM)سے چلتا کردیا تھا اور اب وہ پرویز الٰہی کے خلاف ن لیگ کو خوش کرنے کی سیاست پر گامزن نظر آتے ہیں۔ اگر کھریاں کھریاں کے راشد مراد کی سیاست ن لیگ کے گرد گھومتی تو سمجھ میں آتا تھا کہ مالی مفادات اور نسلی امتیازات کا کوئی چکر ہوگا لیکن جب سلیم صافی اپنے تجزئیے میں ن لیگ کا بوجھ پیپلز پارٹی کے کھاتے میں ڈالتے ہیں تو تحریک انصاف میں جس طرح افضل چن پنجابی ہونے کے باوجود بھی اس کا کردار قابلِ فخر لگتا تھا اور پختونوں کا باعث شرم۔ اسی طرح جیو گروپ میں سلیم صافی بھی مسلم لیگ کیلئے چن کا کردار ادا کرتے تو ہمارے لئے کوئی پختون قابل فخر ہوتا۔ جیو کے صحافیوں کا بھی ن لیگ کیلئے وہ کردارہے جو تحریک انصافی رہنماؤں کا عمران خان کیلئے ہے۔

صحافی عمران خان کیلئے گیلے تیتر سے گیلی بلی کی بات زبانِ زد عام ہوگئی ہے۔ صابر شاکر نے کہا ہے کہ ”پاکستان کی عدلیہ نے امریکہ کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرکے امریکی صحافی کے نامزد ملزم عمر شیخ کو رہا کیا ہے، جب امریکہ عافیہ صدیقی کے بارے میں کہے کہ ہم اپنی عدالت میں مداخلت نہیں کرسکتے توہمارے جج صاحبان کا فیصلہ بھی ہمارے ملک کی خود مختاری کی دلیل ہے۔ اب وہ وقت گیا کہ انکے حکم پر فیصلہ کریں”۔

صابر شاکر کی بات درست ثابت ہوجائے تو منہ میں گڑ شکر، لیکن معاملہ ایسا نہیں، عافیہ صدیقی کوہم نے حوالے کیا تھا، ریمنڈ ڈیوس کو بھی ہم نے حوالے کیا تھا اور ہمارا اپنی عدالتوں پر بھی اعتماد نہیں ہے۔ جب پرویزمشرف کے خلاف فیصلہ آیا تو ڈی جی آئی ایس پی آر (DG-ISPR) کی طرف سے کیا ردِ عمل آیا؟۔ ارشد ملک نوازشریف کے کیس کو سن رہاتھا اور اسکے ساتھ رابطے میں بھی تھا اور فائزعیسیٰ براہِ راست چیف جسٹس بھرتی ہوا اور اسکے ریمارکس نے کھلبلی مچائی یا اسکی بیگم نے لندن میں اپنی پراپرٹی بنائی؟۔ مجید اچکزئی کے بعد کشمالہ طارق کے بیٹے کا معاملہ بھی عدالتوں پر سوالیہ نشان لگائے گا؟۔

اگر سنی شیعہ علماء کرام کسی بھی بہانے سے قرآن کی طرف مائل ہوگئے تو پھر عوام کا شعور بڑھ جائیگا اور اسلامی بینکاری کے نام پر عالمی بینک کے اداروں سے کم ازکم ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پاکستان کو قبضہ کرنے کی حد سے بچالیں گے۔ہمارا ہدف قرآن کا نظام ہے۔

سورۂ رحمن میں پہاڑوں جیسے جہاز کا ذکر موجودہ دور کیلئے ہے۔ ٹائی ٹینِک جہاز ڈوب گیا لیکن اللہ کی ذات باقی ہے

اسلامی انقلاب کا سورۂ رحمن میں نقشہ ہے ، اپنی بیگمات خیرات حسان ہونگی اور خیموں میں دنیا کی حیاء دار شہری خواتین سیروتفریح کی مہمان ہونگی،جو ماحول کو آلودہ نہیں کریں گی۔ آیات کا درست مفہوم سمجھ میں آجائے توماحول بنے گا : سید عتیق الرحمن گیلانی

علماء نے قرآن کی آیات کو اپنی خواہشات میں ڈھال دیا۔ خیموں میں حوروں کے غلط تصور نے ایسی فضاء پیدا کردی کہ عوام اپنے گھروں میں فیملی کیساتھ قرآن کا ترجمہ بھی سن نہیں سکتے ہیں

سورۂ رحمن میں پہاڑوں جیسے جہاز کا ذکر موجودہ دور کیلئے ہے۔ ٹائی ٹینِک جہاز ڈوب گیا لیکن اللہ کی ذات باقی ہے جس کی ہرروز ہردور میں اپنی شان ہے جو جدید دور میں ثابت ہے

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تسخیر کائنات کا ذکر کیا ہے۔مذہبی اعتبار سے اہلسنت کے مسائل میں بھی آخری حد تک بگاڑ ہے اور اگر اہل تشیع کے بارہ امام جن میں سے بعض کے عباسی خلفاء سے اچھے تعلقات بھی تھے اگر جدید سائنس کی ترقی ائمہ اہلبیت کے ہاتھ سے ہوجاتی تو عالمِ اسلام کے مسلمانوں کا بہت بڑا مقام ہوتا۔ سورۂ محمد میں اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنات۔ اگر یہ آیت صرف صحابہ سے متعلق ہوتی توشیعہ ذاکرین آسمان سروں پر اٹھالیتے۔ سورۂ حجرات میں اختلاف کرنے والے راشدوں اور اعرابیوں کو خلط ملط کرنا غلط ہے اور اگر انجانے میں ایسا ہورہاہے تو اللہ نے اعرابیوں سے بھی درگزر کا فرمایا۔

اگر قرآن کی درست تفسیر ہو تو اہلسنت کا کچھ نہیں بگڑتا اسلئے کہ ائمہ اربعہ کے حوالہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ اجتہادی غلطی کا امکان ہے اور اہل تشیع کا بھی کچھ نہیں بگڑتا ہے اسلئے کہ قرآن کی درست تفسیر امام زمانہ کا حق ہے جو حالتِ غیبت میں ہیں اور شیعہ علماء کی حیثیت بھی مجتہدین کی ہے۔ البتہ قادیانیوں کا بیڑہ غرق ہوتا ہے اسلئے کہ ان کا نبی، مہدی، مسیح سب کچھ ٹائی ٹینِک جہاز کی طرح تباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے اعترا ف کیا کہ وہ اس بات سے پریشان تھے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں جو ترمیم ہوئی تھی وہ اس کی چیئرمینی میں سینیٹ سے پاس نہ ہو۔ قومی اسمبلی سے بل پاس ہوچکا تھا، اگر سینیٹ سے بھی پاس ہوجاتا تو قانون بن جاتالیکن سینیٹ میں پاس نہیں ہوسکا ، جس کے بعد مشترکہ سیشن میں رکھا گیا اور اس میں واقعی شیخ رشید نے ہی شور مچایا تھا۔ جمعیت علماء اسلام تو ن لیگ کے دور میں حکومت کا حصہ تھی۔ اپوزیشن کے عمران خان کی جماعت نے بھی کوئی شور نہیں مچایا ،البتہ جماعت اسلامی نے مشترکہ سیشن میں مخالفت کی تھی جوشاید اسٹیبلشمنٹ سے شاکی اسلئے ہے کہ جو کام شیخ رشید سے لیا وہ ہم سے کیوں نہ لیا؟۔

تحریک لبیک کے علامہ خادم حسین رضوی نے کمال کردیا کہ حالات ایسے بنائے کہ حکومت کو نہ صرف بل سے ہاتھ اُٹھانا پڑا بلکہ متعلقہ وزیر کو بھی نکال دیا۔ البتہ جب مولانا سمیع الحق قتل کردئیے گئے اور علامہ خادم حسین رضوی گرفتار ہوئے تو بی بی آسیہ کی رہائی اور بیرون ملک بھیجنے پر علامہ خادم حسین رضوی کے جذبات ڈیلیٹ ہوگئے تھے۔ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ والے حق کی جنگ لڑرہے ہیں یا پھر انکے خلاف جنگ لڑنے والے حق پر ہیں ؟۔ بہرحال اگر علامہ سعد رضوی کو وہاں بھیج دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سمیت اسکے جذبات کا صحیح اندازہ لگ سکے گا۔ تحریک میں لوگوں کی طرف سے چندوں کا مزہ کچھ اور ہوتا ہے اور اصلی جہاد کچھ اور ہے۔

رسول اللہۖ کی زوجہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگانے والوں میں صحابہ شامل تھے۔ کیا ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا؟۔ سعد رضوی میں اتنی جرأت ہے کہ سورۂ نور پر بات کرسکے؟۔ ریاست مدینہ میں نبیۖ کی زوجہ اور کسی غریب کی عورت پر بہتان لگانے کی سزا ایک تھی اور وہ اسی (80)کوڑے۔ پاکستان میں لٹیروں کی ہتک عزت کا دعویٰ اربوں میں ہوتا ہے اور غریب کی ٹکے کی عزت نہیں ہوتی ہے۔

قرآن میں زنا کی سزا مرد اور عورت کیلئے سو (100) کوڑے ہے۔سورۂ نور کے بعد یاد نہیں کہ نبیۖ نے کسی کو سنگسار کیا ہو۔ بخاری میں صحابی کا قول۔ حضرت عمر سے منسوب ہے کہ” اگر مجھ پر یہ الزم نہ لگتا کہ قرآن میں اضافہ کیا ہے تو رجم کی سزا قرآن میں لکھ دیتا”۔ حضرت عائشہ سے منسوب ہے کہ” رسول اللہۖ کے وصال تک رجم اور بڑے کودودھ پلانے سے رضاعت کی آیات موجود تھیں، پھر بکری نے کھالیں”۔ جب مغیرہ ابن شعبہ پر چار گواہوں میں سے تین نے مکمل گواہی دی اور چوتھے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن رجم سے بچانے کیلئے حضرت عمر نے بھرپور کردارادا کیا اور اس پر بخاری میں جمہور فقہاء کی تائید اور حضرت امام ابوحنیفہ کی مخالفت بھی بہت حیرت انگیز ہے۔ واقعہ بذات خود مضحکہ خیز ہے جس میںفقہی اختلافات ہیں۔

درسِ نظامی کے فقہی اصولوں سے مسائل کو سلجھایا جاسکتا ہے۔ انجینئرمحمد علی مرزا ایک اچھا انسان ہے لیکن کتابوں کی جہالت سے ناواقف ہے اسلئے وہ بھی لکھا پڑھا اعرابی بنا ہوا ہے۔ جید علماء کرام کی ٹیم کو میدان میں اترکر امت مسلمہ کی رہنمائی کرنی ہوگی۔ ہر مکتبۂ فکر کے بااعتماد لوگوں میں اتنی صلاحیت ہے کہ درست اور غلط کی تعبیر سمجھ سکیں۔ اہلحدیث بیچاروں کے پاس بھی درست سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ ہماری استدعا ہے کہ اتحاد تنظیمات المدارس سے قابل لوگوں کی ٹیم تشکیل دی جائے اور قرآن وسنت کی تفسیر وتشریح اور تعلیم وتعبیر کا متفقہ حل نکال لیں اور مذہبی طبقات کی جنگ سب سے زیادہ اسلام کے خلاف جاری ہے اور لوگ ملحد بن گئے ہیں۔

اب آئیے اصل بات کی طرف۔ اگر ہماری تعبیر وتشریح ہمارے مخالفین کیلئے بھی قابلِ قبول نہ ہو تو ہم اپنے مؤقف سے بھی ہٹ جائیں گے لیکن وہ مضبوط دلیل دیں اور مخالفت برائے مخالفت کسی کیلئے بھی مفید نہیں اور نہ ہی اسلام کا کسی کو ٹھیکہ ملا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ ” (الرحمنOعلّم القراٰن Oخلق الانسان Oعلّمہ البیانO الشمس والقمر بحسبان Oوالنجم والشجریسجدانOوالسمآء رفعھا ووضع المیزانOالا تطغوا فی المیزانOواقیموا الوزن بالقسط ولاتخسروا المیزانO)

”رحمن ، اس نے سکھایا قرآن، انسان کو پیدا کیااور اس کو بیان سکھایا، سورج اور چاند اپنے حساب سے ہیں اور بیل اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں اور آسمان کو اس نے بلند کردیا اور میزان کاتوازن بنالیا۔ خبردار توازن میں تجاوز مت کرو۔ اوروزن کو انصاف کیساتھ قائم کرو اور میزان میں خسارہ مت کرو”۔ سورہ ٔالرحمن۔

ایک کائنات کا توازن ہے جس میں آسمان وزمین کی دو دوچیزوں سورج و چاند کا حساب سے چلنے اور زمین میں بیل و درخت کے سجدہ ریز ہونے کا ذکر کیا ہے اور اللہ نے اپنی شریعت کے احکام میں توازن رکھا ہے لیکن ہرسطح پر اس کو بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ انسانی معاشرے میں میاں بیوی کی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ نے طلاق وخلع میں بہت توازن رکھا ہے لیکن مذہبی طبقات نے اس کو بگاڑ کر رکھ دیاہے۔ طلاق اور طلاق سے رجوع میں میاں بیوی کے درمیان بڑا توازن رکھا ہے لیکن مولوی نے یہ توازن کباڑ خانے سے بھی زیادہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب عام معاشرتی روزمرہ کے معاملات کا یہ حال ہے تو دوسری آیات کا کیا حشر کیا ہوگا؟۔

قرآن میں اللہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ” رحمن نے قرآن سکھایا ہے”۔ جب وقت کیساتھ قرآن کی آیات زیادہ سے زیادہ سمجھ میں آتی ہیں تو یہ رحمان ہی کا سکھانا ہے۔ ولہ الجوار المنشئٰت فی البحر کالاعلام ” سمندر میں پہاڑوں کی طرح جہاز کا تصور پہلے زمانے میں نہیں تھا”۔ یہ قرآن اللہ ہی انسان کو سکھا رہاہے۔ آیت کی تصدیق زمانہ کررہاہے کہ پہاڑوں جیسے جہاز اور قرآن کی وضاحت درست ہے اور انسان کا اس پر ایمان ہے اور اس میں کسی دوسرے استاذ کی ضرورت نہیں ہے۔ (کل من علیھا فان O ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرامO)” ہر ایک وہ ہے جس پر فنا طاری ہوگی اور تیرے ربّ کی وجہات باقی رہے گی جو جلال اور اکرام والا ہے”۔ جہاں ٹائی ٹینِک جیسے پہاڑکے برابر جہاز غرقاب ہوگئے ہیں وہاں کسی کا کوئی بڑا اور اکابرین بھی باقی نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میںچوں چراں کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یسئلہ من فی السموٰت والارض کل یوم ھو فی شان ”سوال کرتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے ، ہر دن اس کی اپنی شان ہے”۔ فرشتوں نے حضرت آدم کی پیدائش اور خلیفة الارض پر سوال کیا تھا۔ حضرت ابراہیم کی مدد کا پوچھا تھا اور جب نبیۖ کو طائف کے میدان میں تکلیف پہنچائی تھی تو فرشتوں کوعذاب کی اجازت دیکر بھیجا تھا۔ لیلة القدر کی رات فرشتے اپنے رب کی اجازت سے زمین پر اترکے آتے ہیں۔ جب زمین پر اللہ کی نافرمانیوں کو دیکھتے ہیں تو فرشتے غضبناک ہوتے ہیں یہاں تک کہ قریب ہوتا ہے کہ آسمان پھٹ پڑے لیکن اللہ اجازت نہیں دیتا ہے جس کی وجہ وہ اللہ کی تسبیح وحمد بیان کرتے ہیں اور زمین والوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت کی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے ”آسان ترجمۂ قرآن میں اتنی غلط تفسیر لکھ دی ہے کہ ” فرشتے اتنی تعداد میں آسمان پر عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان ان کے بھاری بھرکم وزن سے پھٹ جائے”۔

اللہ نے فرمایا” فاذا انشقت السمآء فکانت وردة کدھان ” جس دن (دورِ انقلاب میں)آسمان سے برکات نازل ہوں گی تو زمین گلاب کے پھول کا منظر پیش کرے گی جیسا کہ چمڑہ ہو”۔ فیؤمئذٍ لایسئل عن ذنبہ انس ولاجآن ” اس دن کسی انسان اور جن سے اسکے گناہ کا نہیں پوچھا جائے گا”۔ ”مجرموں کو انکے چہروں سے پہچانا جائے گا۔وہ پیشانی کے (پریشان )بال اور(لڑ کھڑاتے) قدموں سے پکڑے جائیں گے”۔ ”یہ وہ ( انقلاب کا ) جہنم جس کو مجرم جھٹلاتے تھے۔ وہ مجرم اور انکے گرم جوش دوست اسی حالت میں گھومتے رہیں گے”۔ ” اور جو اللہ کے ہاں کھڑے ہونے کا خوف رکھتا تھا ، اس کیلئے دو جنت ہونگے”۔” ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور”۔ ” دونوں میں دو دو چشمیں ہوںگے بہنے والے”(گرم اور ٹھنڈے) ۔ ” ان میں ہر پھل سے دو دو قسم ہوں گے”۔ ” وہ ایسے فرشوں پر بیٹھیں گے جسکے تکیوں کے غلاف موٹے ریشم کے ہونگے اور باغوں کی ڈالیاں جھکی ہوئی ہوںگی”۔ ” اس میں ان کی حیاء والی وہ بیگمات ہوں گی جن کو انس اور جن نے کبھی چھوا نہیں ہوگا”۔ (طیبات ازواج سے کسی نے بدکاری نہیں کی ہوگی)”وہ یاقوت اور مرجان کی مانند ہونگی”۔ ” احسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے”۔ ومن دونھما جنتان ” اور اس کے علاوہ بھی دو جنت ہونگی”( اصحاب الیمین کیلئے، دنیا اور آخرت میں) ” یہ سرسبزشاداب ہونگے”” ان میں چشمیں فوارے اُبل رہے ہونگے”۔ ” ان میں پھل، کھجور اورانار ہونگے” ۔” ان میں ان کی نیک چنی ہوئی بیگمات ہوںگی”۔ ”دنیا سے آئی ہوئی سیر وتفریح کیلئے ” شہری خواتین خیموں میںٹھہرائی ہوئی ہوں گی ‘ ‘ ۔ ان کی طرف کسی کا برائی کیلئے دھیان بھی نہیں جائے گا اسلئے کہ پاکیزہ اسلامی حکومت کی مہمان ایسی فیملیاں ہوں گی جن کو اجنبی ” مردوں اور جنات نے چھوا بھی نہیں ہوگا”۔ ” یہ لوگ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے سبز قالینوں اور نادر نسلوں کے گھوڑوں پر”۔ ” بڑی برکت والا ہے تیرے رب کا نام جو جلال اور اکرام والا ہے”۔ (سورہ الرحمن)

سورہ ٔ واقعہ میں انسانوں کی تین اقسام کا ذکر ہے۔ مقربین ، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال مجرمین۔ گزشتہ شمارے میں سورہ ٔ الدہرکے حوالے سے پاکستان میں جس انقلاب کا ذکر کیا تھا ، اس کی جھلک سورۂ رحمن میں بھی ہے۔ انقلاب کب ہوگا؟ اسکا پتہ اللہ کو ہے لیکن جب طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو اسلامی نظام خوشیوںکا انقلاب ہوگا۔ آسمان وزمین والے حتی کے مجرم بھی خوش اسلئے ہوں گے کہ ان کو قرارِ واقعی سزا دنیا میں نہیں ملے گی۔ البتہ وہ اپنے جرائم کی وجہ سے شرمندۂ تعبیر ہونگے اور جرائم پیشہ افراد کو دنیا میں بھی مقربین اور اصحاب الیمین کے مخصوص ٹھکانے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دنیا میں یہی ان کیلئے اس جہنم کا تصور ہوگا کہ انکے شر سے دوسرے لوگ محفوظ ہونگے۔ پاکستان اپنی معاشی حالت بھی درست کرے گا۔

جب دنیا میں انسان اچھا معاشرہ تشکیل دیگا تو جنات اور پریاں بھی اپنے ماحول میں مقربین، اصحاب الیمین اور مجرمین کے تین طبقات میں دکھائی دیں گے۔

ولی کا معنی حکومت کرنا بھی ہے اورحق سے پھرجانا بھی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

ہم نے لکھ دیا تھا کہ قرآن میں ”ذنب” سے مراد نبیۖ کیلئے گناہ نہیں بلکہ بوجھ ہے ۔ عربی میں جملے کے سیاق و سباق سے الفاظ کے معانی کی وضاحت ہوتی ہے۔ ولی کا معنی حکومت کرنا بھی ہے اورحق سے پھرجانا بھی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کے بعض احکام کا تعلق حکومت اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے ہے۔ اسلام میں اولی الامر کی اہمیت کو قرآن نے اُجاگر کیا ہے جس کا مقصد قرآن وسنت اور عدل کا نفاذ ہے

بلغ ماانزل الیک من ربک …… واللہ یعصمک من الناس ” پہنچادو! جو اللہ نے آپ کی طرف نازل کیا ہے…… اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا”۔

قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا ” تبلیغ کریں آپ جو بھی اللہ نے آپ کی طرف نازل کیا ، اگر آپ نے نہیں پہنچایا تو آپ نے رسالت کو نہیں پہنچایا۔ اللہ آپ کی لوگوں سے حفاظت کرے گا”۔ شیعہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں حضرت علی کی امامت مراد ہے۔ خطبہ حجة الوداع میں نبیۖ نے اللہ کے پیغام کو پہنچانے پر سب کو گواہ بنادیا اور پھر اس کے بعد غدیر خم کے موقع پر فرمایا کہ من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ” جس کا میں مولیٰ( حاکم ) ہوں تو یہ علی اس کا حاکم (مولیٰ ) ہے”۔ نبیۖ نے حدیث قرطاس میں وصیت لکھوانا چاہی کہ ایسی چیز لکھ کردیتا ہوں کہ میرے بعدتم گمراہ نہیں ہوگے لیکن حضرت عمر نے کہا کہ ”ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے”۔

اسکا جواب مولانا غلام رسول سعیدی اور مفتی محمد تقی عثمانی نے یہ دیا ہے کہ حضرت علی سے چند دن بعد نبیۖ نے فرمایا کہ میرے پاس تشت لاؤ تاکہ میں کچھ وصیت لکھ دوں تاکہ میرے بعد گمراہ نہ ہوجاؤ، تو حضرت علی نے کہا کہ مجھے زبانی بتادیجئے میں ان کو یاد رکھوں گا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو۔ …”۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبیۖ کی یہ نافرمانی نہیں تھی اور جو نبیۖ لکھوانا چاہتے تھے وہ لکھوادیا تھا۔ اس وقت کاغذ کی کمی تھی اسلئے تشت لکھنے کیلئے منگوایا تھا۔ قرآن کو بھی قرطاس پر نہیں ہڈی ، لکڑی اور درخت کے پتوں پر لکھا جاتا تھا۔

مولانا غلام رسول سعیدی مناظر تھے اور اہل تشیع کو مناظرانہ جواب دیا تھا مگر وہ جواب تسلی بخش نہیں تھا جس کو میں نے اپنی کتاب” ابر رحمت ” میں نقل کیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے یوٹیوب پر جو جواب دیا ہے وہ مزید تشویشناک ہے اسلئے کہ قرآن کو ہڈی، پتھر، لوہے اور پتیوں پر لکھا جاتا تو کچھ آیات بھی مل جاتیں اور جب قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ” اگر ہم اس قرآن کو قرطاس میں بھی نازل کرتے اور اس کو پھر چھوتے بھی ۔ پھر بھی نہیں مانتے تھے”۔ توراة، انجیل اور افلاطون کی کتاب کیلئے وہ تصورات نہیں ہیںجو قرآن کے حوالے سے گھڑ ے گئے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ” تدوین القرآن” میں ان خرافات کا قلع قمع کیا گیا جو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے دوبارہ بھی شائع کی گئی ہے اور اس کو سمجھ کر نافذ العمل کرنا ضروری ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں رسول اللہۖ نے یمن کا حاکم حضرت معاذ بن جبل کو مقرر کیا تھا تو کیا اپنے بعد کسی کو خلیفہ بنانے کی فکر تھی یا نہیں تھی؟۔ اگر نبیۖ کسی کو نامزد کردیتے تو انصار ومہاجرین اور قریش و اہلبیت کا اختلاف بن سکتا تھا جس کی آج تک اُمت سزا کھارہی ہے؟۔

غزوۂ تبوک سے واپسی پر منافقین نے نبیۖ کی سواری کو پہاڑ کی گھاٹی کی کھائی میں گرا کر شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عمار بن یاسر نے یہ حملہ ناکام بنادیا ۔ نبیۖ نے بارہ منافق کے نام حضرت حذیفہ کو بتادئیے ۔جن کی موت پھوڑے سے واقع ہونے کی نشاندہی بھی فرمائی تھی۔ منصوبہ سازوں کو پکڑنا اور ثابت کرنا آج بھی بہت بڑا مسئلہ ہے اور جب نبیۖ کو اللہ تعالیٰ نے گارنٹی دی تھی کہ لوگوں کے شر سے اللہ بچائے گا تو یہ نبیۖ کی اپنی حکمت عملی تھی کہ ایسے لوگوں کو تہہ تیغ کیوں نہیں کیا؟۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” ان کے کھوٹ کو میں ضرور باہر نکال کر لوگوں کو بتادوں گا”۔( سورہ ٔ ،محمد)

آج اسلام اجنبیت کا شکار ہوگیا ہے۔ حضرت علی نے تشت پر نماز و زکوٰة کی تلقین کا حکم لکھ دیا ہوتا تو غلام احمد پرویز کے پیروکار پنجاب میں محمدعلی اٹکی کے مرید بلوچستان میں نماز کے حکم کو منسوخ قرار دینے کی حد تک نہ پہنچتے۔ جو لوگ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں لیکن خلافت کا نظام نہیں مانتے ہیں تووہ بڑے مغالطے کا شکار ہیں۔ اگر حضرت عمر حدیث قرطاس لکھنے دیتے تو تبلیغی جماعت ، دعوتِ اسلامی اور مدارس خلافت کی اہمیت کو ترجیح دیتے۔

اہل تشیع پر سب سے بڑا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ نبیۖ کیسے حضرت عمر کی وجہ سے اتنی بڑی امانت کو لکھوانے سے رُک سکتے تھے؟۔ جواب شیعہ یہ دے سکتے ہیں کہ جب حضرت زید نے اپنی بیوی سے لاتعلقی اختیار کرلی تھی تو نبیۖ کے دل میں تھا کہ وہ اس طلاق شدہ سے پھر دلجوئی کیلئے نکاح بھی کرلیںگے مگر یہ خوف بھی تھا کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ اسلئے کہ منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی کو بھی حقیقی بہو کی طرح حرام سمجھاجاتا تھا۔ لیکن اللہ نے فرمایا وتخش الناس واللہ احق ان تخشٰہ ”اور آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے”۔

اس پر عثمان علی داتا گنج بخش اور مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں میں جو گل کھلائے گئے ہیں ان پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کی ضرورت ہے جو حنفی اصولِ فقہ کے مطابق ہیں لیکن ان پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو زبردست حیرت ہوگی اور یہ مسائل عالمی فورم پربھی شائع ہورہے ہیں اور اسکا ترجمہ ارود زبان میں بھی آچکا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نبیۖ کی ذات کیلئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے بچانے کا وعدہ کیا تھا تو کیا جس امام یا خلیفہ کو مقرر کرتے تو اسکے ساتھ بھی وعدہ تھا؟۔ قرآن کے الفاظ میں بھی نہیں ہے اور حضرت عمر وعثمان اور حضرت علی و حسین کی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ شیعہ سنی خلفاء اور ائمہ کیساتھ یہ وعدہ نہیں تھا۔ جن اختلافات پر افہام وتفہیم سے کام ہوسکتا ہے ، شیعہ سنی مل بیٹھ کر ان معاملات کا حل نکالیں۔ جب تک اہل تشیع کے مہدی غائب تشریف نہیں لاتے ہیں تو پاکستان اور عالم اسلام پر جمہوری طرز کا متفقہ حکمران مقرر کرنے کی ایک کوشش کرلیتے ہیں۔ اہل تشیع کی مسجد کے امام کو بھی پیش نماز کہا جاتا تھا اور اب ایران میںآیت اللہ خمینی کو بھی امام کہتے ہیں۔

احادیث میں اہلبیت کے فضائل ہیں لیکن جب بنوامیہ و بنوعباس کے دور میں اہلبیت کے وہ امام موجود تھے جن کو شیعہ سنی عقیدت کی نظروں سے دیکھتے ہیں تو ان کودبایا گیااور امام مہدی کے انتظار میں بیٹھ گئے ۔ اگر قرآن واہلبیت سے وہ مراد ہیں تو اہل تشیع انتظار کریں لیکن جب تک امام کا ظہور نہیں ہوتا ہے تو کیا شیعہ سنی ایکدوسرے سے لڑتے ہی رہیں گے؟۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ”الحاوی للفتاویٰ ” میں لکھ دیا ہے کہ جن بارہ امام کا ذکر حدیث میں ہے وہ ابھی تک نہیں آئے ہیں کیونکہ ان پر امت کا اجماع ہوگا۔ اگر نبیۖ نے اہلبیت کو کشتی نوح سے تشبیہ دی ہے تو اہلبیت کو ایسے زمانے سے ابتداء کرنی چاہیے کہ جب امت ہلاکت کے کنارے پہنچ چکی ہو۔ افغانستان، عراق، شام ، لیبیا تباہ ہوگئے تو کیا ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کی تباہی کا بھی انتظار کرنا چاہیے ؟۔ یا امت کو مشترکہ لائحۂ عمل سے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی سازشوں کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے؟۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ فتح میں نبی ۖ کو اگلے پچھلے بوجھ سے چھٹکارا دلانے کا یقین صلح حدیبیہ کے تناظر میں کیا تھا۔ جب نبیۖ کے صحابہ ان شرائط پر صلح کیلئے راضی نہیں تھے ، یہاں تک کہ حضرت علی نے رسول اللہ کے لفظ کو بھی کاٹنے سے انکار کردیا تھا۔ پھر صحابہ معاہدے پر راضی ہوگئے تو نبیۖ کے بوجھ کو اللہ نے ختم کردیا۔ البتہ نبیۖ کو اپنے بعد خلافت کے حوالے سے بھی بوجھ کا سامنا تھا اسلئے کہ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ پہلے انبیاء کرام کے کچھ خلفاء جانشین رشدوہدایت کی راہ پر چلتے تھے اور بعد میں ناخلف جانشین اس راہ سے پھر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زبردست تسلی دی تھی کہ آنے والا بوجھ بھی میں اتار دوں گا۔ جب حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر نے خلافت کی تو آپ کی وفات پر حضرت علی نے آپ کی تعریف فرمائی ہے۔ نہج البلاغہ

شیعہ سنی کے اندر بہت اچھے اچھے علامہ اور خطیب بھی ہیں جو اس نازک صورتحال کو سمجھ کر بہت احترام کیساتھ اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کو معاملہ حل ہونے پر یقین نہیں ہوتا ہے۔ ڈر اور خوف کی ایک فضاء موجود ہے اور جب اعتماد کا فقدان ختم ہوجائیگا تو گھمبیرمسائل کاحل بھی نکل آئیگا۔

نبی ۖ نے من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ سے اپنا بوجھ اتار دیا تھا لیکن اگر اس کو تسلیم کرلیا جاتا تو وحی کے ذریعے سے نبیۖ سے مجادلہ اور اختلاف کا فیصلہ قرآن میں اترتا تھا ۔ اگر نبیۖ کے نامزد کردہ خلیفہ سے اختلاف کیا جاتا تو پھر اُمت کی کیاروش ہوتی؟۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے اختلاف کی گنجائش تھی لیکن حضرت علی سے خلافت بلافصل کی عقیدت کیا ہوتی؟۔ یزید اور مروان کی طرح مسلمانوں پر اہلبیت مظالم نہ کرتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صحابہ کرام نے نبیۖ سے اختلاف رکھا تھا۔ بعض معاملات پر اللہ نے صحابہ کرام ہی کی تائید بھی فرمائی ہے لیکن جن لوگوں نے حضرت علی سے بے انتہاء عقیدت رکھی وہی خوارج بن کر حضرت علی کے دشمن بن گئے۔ قرآن نے انتہاء پسندی کا نہیں اعتدال کا راستہ بتایا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے اپنے بیٹے کو بچانے کا عرض کیا تو اللہ نے فرمایا کہ انہ عمل غیر صالح انہ لیس من اہلک ” بیشک وہ غیرعمل غیر صالح تھا اور بیشک وہ آپ کی اہل میں سے نہیں تھا”۔ یہ نہیں فرمایا کہ ان عملہ غیر صالح کہ اسکا عمل غیر صالح تھا بلکہ فرمایا کہ وہ بذات خود عمل غیر صالح تھا۔ قابیل بھی نافرمانی کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا تو اسکے کرتوت بھی غلط تھے۔ سورۂ تحریم میں اللہ نے لوط ونوح کی بیگمات کے بارے میں فرمایا کہ کانتا تحت عبدین صالحین فخانتا ھما ” وہ دونوں میرے صالح بندوں کے نکاح میں تھیں مگر پھر انہوں نے ان دونوں سے خیانت کی” بخاری میں ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ” اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی اور اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت کبھی خراب نہ ہوتا”۔ آج زمانہ قرآن وسنت کی تصدیق کررہاہے۔

حضرت ام ہانی حضرت ابوطالب سے نبیۖ نے مانگی تھی لیکن عطاء نہیں کی گئی۔ پھر نبی ۖ نے مانگا تو اس نے خود انکار کیا اور پھر اللہ نے فرمایا کہ” جن چچا کی بیٹیوں نے ہجرت آپ کیساتھ کی وہ ہم نے آپ کیلئے حلال کی ہیں”۔ پھر الا ملکت یمنک کی اجازت دیدی۔ بخاری کے شارح علامہ بدر الدین عینی حنفی نے نبیۖ کیلئے اٹھائیس (28)ازواج کاذکرکیا اور حضرت ام ہانی کو بھی ان میں شمار کیا ہے۔ نبیۖ نے حضرت صفیہ سے نکاح کا تعلق رکھا اور اُم ہانی سے متعہ یا ایگریمنٹ کا۔

اگر شیعہ اپنے مخصوص ماحول میں حضرت ام ہانی کے حوالہ سے اہلسنت کے کسی غلیظ عالمِ دین کی زبان سے حضرت ام ہانی پر خبیث اور مشرک کے حوالے سے آیت پڑھ کر ماحول کو آلودہ کریں تو کیا یہ قابلِ برداشت ہوگا؟۔غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے لیکن کیا مسلمان اس پر یقین رکھتے ہیں؟ اور سود کھانے کو اللہ اوراسکے رسول کیساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے لیکن کیاہم اس پر عمل نہیں کررہے ہیں؟حدیث میں سود کے ستر (70)سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیا گیا ہے لیکن کیا ہم سود سے رُک گئے ہیں؟۔

شیعہ ہر بات میں منطق نکالنے کے بجائے حقائق سیکھیں ۔ خود مشکل میں پڑیں نہ دوسروں کو ڈالیں۔ وجادلہم بالتی ہی احسن ” اور ان سے لڑائی کا یہ طریقہ اختیار کریں کہ یہ اچھا ہوتا”۔ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس” خشکی اور سمندر میں فساد لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی سے ہے”۔ صحابہ کے دور میں جو کچھ ہوا تھا ،ان میں ایکدوسرے پرذمہ داری ڈالنے کا فائدہ نہیں ہے۔ ہم اپنے معاملات کو سیدھا کریں تو اللہ حق کا راستہ سب کو دکھا دے گا۔سنجیدہ مسائل کا متفقہ حل نکالنے کیلئے حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے اور افہام وتفہیم کا راستہ نکالے۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے

قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن میں اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ اور اولی الامر کی حیثیت سے رسول اللہۖ سے بھی اختلاف کی گنجائش ہے مگر امامیہ میں اختلاف کی گنجائش نہیں!

واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ولٰکنّ اللہ حبّب الیکم الایمان و زےّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان

(اُولٰئک ھم الرّٰشدونO) اور جان لو ! کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول ہے، اگر بہت سے امور میں وہ تمہاری بات مان لیں تو تم خود ہی مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ نے تمہارے دلوں…

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا” اور جان لو! بیشک تمہارے اندر اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات اکثر امور میں مان لیں تو تم مشکل میں پڑجاؤ۔اور لیکن اللہ نے تمہارے اندر ایمان کی محبت ڈالی اور اس سے تمہارے دلوں کو مزین کردیااور تمہیں کفراور فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا اور یہی لوگ راشدین ہیں۔ اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے۔اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اگر مؤمنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو انکے درمیان صلح کراؤ۔ اور اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پس جب پلٹ آئے تو انکے درمیان صلح کراؤ عدل کیساتھ۔اور انصاف کرو۔بیشک اللہ انصاف والوں کو پسند فرماتا ہے، بیشک مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔ پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔اور اللہ سے ڈرو ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔ اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں کسی دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ اپنی جانوں پر طعن وتشنیع کرو۔ اور نہ ایکدوسرے کو بُرے القاب سے پکارو۔ برا ہے فسق نام بعد ایمان کے۔ اور جو اس روش سے توبہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! زیادہ گمان سے اجتناب برتو۔بیشک بعض ظن گناہ ہوتے ہیںاور نہ کوئی ایکدوسرے کی غیبت کرے۔ کیا تم میں کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے؟۔ توتم اس سے کراہیت کرتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم والا ہے۔ اے لوگو! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں برادری و قبائل میں تقسیم کردیا تاکہ تمہاری شناخت ہو۔ بیشک تمہارے اندر زیادہ عزتدار وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والاخبروالا ہے۔ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے اور لیکن تم کہو کہ ہم اسلام لائے۔ اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ۔پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا۔ اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا، اللہ کی راہ میں۔ وہی لوگ سچے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین کا بتا رہے ہو؟۔ اور اللہ جانتا ہے جوکچھ آسمانوںاور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ آپ کو جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے ہیں۔کہہ دیجئے کہ مجھے مت جتاؤ اپنے اسلام کو بلکہ اللہ نے تمہارے اُوپر احسان کیا ہے کہ ایمان کیلئے رہنمائی کی ہے اگر تم سچے ہو۔ بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کررہے ہو۔ (سورۂ الحجرات آیت7 سے آخر تک)

اہل تشیع نے اپنی عوام کو اس قدر متنفر کردیا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش بھی برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان ، ایران، افغانستان، ہندوستان اور عرب وعجم میں عوام کی حیثیت بالکل اعرابیوں کی طرح ہے۔ وہ قرآن سے اپنی اصلاح نہیں چاہتے بلکہ اپنا اسلام کیش کرکے مسلط کررہے ہیں۔ بلکہ اعراب سے بھی کئی درجے آگے نکل چکے ہیں۔

سورۂ محمد کے حوالے سے ان باتوں کی نشاندہی کردی جسکے مخاطب آج کے دور سے لیکر پہلے دور کے مسلمان اور مؤمنین ہیں۔ بنی امیہ کے جن حکمرانوں نے تاریخی مظالم کئے ہیں وہ اہلسنت کی مستند تاریخ اور احادیث کی کتب میں بھی ہیں۔ فرقہ واریت اور سینہ زوری ایکدوسرے کو قرآنی آیات کی تفہیم سے بھی دُور کررہی ہیں۔

سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون نے رسول اللہۖ سے مجادلہ کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی۔ جب میں نے علامہ طالب جوہری صاحب سے کہا کہ رسول اللہ ۖ سے اختلاف کی گنجائش تھی ؟۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے سورۂ مجادلہ کا حوالہ دیا تو اس نے قرآن منگوایا۔ قرآن میں سورۂ مجادلہ کی آیات پڑھ لینے کے بعد علامہ نے کہا کہ یہ متشابہات ہیں۔ محکم آیات ہیں کہ رسول سے اختلاف کی گنجائش نہیں تھی۔ پھر میں نے بدر ی قیدیوں کے بارے میں فدیہ کا حوالہ دیا۔ اُحد کے موقع پر بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کا حوالہ دیا۔ عبداللہ بن مکتوم کے حوالہ سے آیات کا حوالہ دیا اور جب کل کسی چیز کے بارے میں کوئی وعدہ کریں تو انشاء اللہ کہنے کا حوالہ دیا اور ان آیات کی اہل تشیع کے ہاں امام کیلئے بھی گنجائش نہیں ہے۔ علامہ جوہری صاحب نے کہا کہ میرے تحفظات اپنی جگہ پر لیکن آپ اپنی محنت کریں ہوسکتا ہے کہ ہمارے لئے بھی آسانی پیدا ہوجائے۔ وہاںکافی لوگ موجود تھے۔

قرآن میں اولی الامر کیساتھ اختلاف کی گنجائش ہے۔ اہل تشیع کے ہاں کسی امام سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآنی آیت کی انتہائی گمراہ کن تحریف کی حد تک غلط ترجمہ وتشریح کی اور حدیث سے بھی انتہائی مضحکہ خیز نتائج نکالے ہیں۔ ان کی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ سے کتاب غائب کی ہو۔ معروف شیعہ سنی عالم کی خستہ حالی اسلئے بتارہاہوں کہ یہ پہلے دور کے اعرابیوں سے بڑھ کر اعرابی بنے ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ حجرات کی آیات میں صحابہ کرام سے فرمایا کہ ” جان لو!اللہ کے رسول ۖ تمہارے اندر ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہاری مان کر چلیں تو تم مشکل میں پڑجاؤگے”۔ کوئی شک نہیں ہے کہ حدیث قرطاس میں حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو وصیت لکھنے میں اپنی بات منوائی تھی اور اس کی وجہ سے صحابہ کرام کی مشکلات میں اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ انصار ومہاجرین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر فتنہ وفساد برپا ہونے کی مشکل کھڑی ہوگئی تھی اور اہلبیت وصحابہ بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہوگئے تھے۔ رسول اللہۖ جنگوں میں جھنڈے کی خدمت جس ترتیب سے صحابہکے حوالے کرتے ،اسی ترتیب سے صحابہ نے باری باری جھنڈا اٹھایا تھا۔

اہل تشیع یہ بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ رسول اللہۖ سے اپنی بات منوانے کی بھی اللہ نے قرآن میں کہیں اجازت دی ہوگی اور اسکے باوجود اللہ نے یہ بھی فرمایا : ” اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈالی ہے اور تمہیں کفر، فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا ہے اور یہی لوگ راشدین ہیں ۔ اللہ کے فضل اور نعمت سے”۔ اہل تشیع کے ہاں یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ امام سے اختلاف رکھنے والے کو اتنی رعایت کا مستحق سمجھا جائے جتنا اللہ نے رسول اللہ سے اپنی اکثر بات منوانے والوں کو بھی رعایت نہیں بلکہ اپنے فضل سے بہترین صفات کا حامل قرار دیدیا ہے۔

اہل تشیع میں اتنا ظرف بھی نہیں کہ مؤمنوں کے دوگروہوں میں لڑائی کے باوجود دونوں کو مؤمن قرار دے۔ اگر دونوں میں صلح ہوجائے اور صلح کیلئے کردار ادا کرنے والا اہل تشیع کا اپنا دوسراامام ہو تب بھی اہل تشیع کو یہ بات مشکل سے ہضم ہوتی ہے۔ مؤمنوں کے دونوں گروہ کو آپس میں قرآن بھائی بھائی قرار دیتا ہے مگر اہل تشیع تک ان کے بڑوں نے قرآن کی یہ تعلیم پہنچانے کی زحمت نہیں کی۔ ہزارہ برادری پرمظالم ہوتے ہیں تو ہمارا دل دکھتا ہے لیکن فرقہ واریت کو ہوا دینے والے کو اپنی فیس کی پڑی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایکدوسری قوم کا مذاق اڑانے سے روکا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بہتر ہو جس کا مذاق اڑایا جارہاہے لیکن ہمارے اندر یہ حس بھی بیدار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا ہے۔ دونوں فرقوں میں ایکدوسرے سے اچھے اور ایکدوسرے سے برے ہرطرح کے لوگ موجود ہیں۔

سنی شیعہ کو کھٹمل اور شیعہ سنی اکابرکو کیا کہتے ہیں؟۔ لیکن اللہ نے اس برائی سے روکا ہے اور ایمان کے بعد ایسے فسق کے ناموں سے پکارنا بہت برا قرار دیا ہے۔ لیکن یہ تو ایمان والے نہیں اسلام والے اعرابیوں کی طرح ہیں۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ جو ان حرکتوں سے توبہ نہیں کرتا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ظن سے بھی اجتناب کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بہت سارے ظن گناہ ہوتے ہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں میں سے ایک گمان کرتے ہیں اور یہود آپ کے بارے میں ولد الزنا کا ظن رکھتے ہیں۔ اہلبیت وصحابہ کے حوالہ سے شیعہ سنی اپنے بہت سارے ظنوں میں افراط وتفریط کا شکار ہوکر گمراہ ہوگئے ہیں۔

اللہ نے تجسس اور غیبت سے بھی منع کیا اور غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پھر اللہ نے ایک ہی آدم و حواء کی اولاد قرار دیکر واضح کیا ہے کہ برادری اور قبائل محض شناخت کیلئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ پھر اعرابیوں کا ذکرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایمان نہیں وہ اسلام لائے ہیں۔ ایمان ابھی تک ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ اس کی وجہ یہ کہ جب تک اللہ پر ایمان لانے اور اسکے راستے میں مال اور جان سے جہاد کی آزمائش سے نہ گزرا جائے تو ایمان کا دعویٰ بہت مشکل ہے البتہ ان کے اچھے اعمال میں ان کیلئے کوئی کمی نہیں کی جائیگی۔ ہمارے مولوی تو تحائف لینے کے عادی ہیں۔

سورہ حجرات کی ابتدائی آیات رہ گئیں ۔ان میں اللہ فرماتا ہے کہ ” اے ایمان والو! اللہ اور اسکے رسول کے درمیان اپنی حیثیت کو مت بڑھاؤ۔ بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے اُونچا مت کرواور نہ آواز سے آپ ۖ کو اس طرح سے پکارو ، جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہ تمہارے اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے۔ بیشک جو لوگ اپنی آواز اللہ کے رسول کے حضور پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کیلئے چن لیا ہے۔ ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ بیشک جو لوگ حجرات کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں اکثر سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ہیں اور اگر یہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ انکی طرف نکلتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا اور اللہ غفور رحیم ہے۔اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس فاسق آئے ، کوئی خبر لے کر تو اس کی تحقیق کرلو۔ کہیں کسی قوم کو نادانستہ نقصان نہ پہنچادو۔ پھر اپنے کئے پر تم ندامت کرنے والوں میں سے ہوجاؤ”۔( الحجرات)

اُمت مسلمہ میں جتنی غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ان میں فاسقوں کا بڑا کردار ہے۔ اگر حقائق کا پتہ چلے تو اچھے لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہونگے۔ سالہا سال سے ایکدوسرے کیخلاف پروپیگنڈے کی مہم جاری ہے اور اگر فرقہ پرستی کی آگ بجھے تو جن کو فرقہ کے نام پر ورغلایا گیا ہے وہ ان لوگوں کو چندے دینا بند کردیں گے۔

اگر علماء وذاکرین کیلئے معاش کا درست بندوبست ہوجائے تو فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی محنت بھی نہیں ہوگی۔ جب حضرت حسین کے بعد ائمہ اہلبیت نے اپنے قیام کی جنگ نہیں لڑی اور مہدی غائب کا خروج ایرانی انقلاب کے باوجود بھی نہیں ہورہاہے تو اہل تشیع اپنے اعتقادات پر یقین رکھیں لیکن اہلسنت کا اس وقت ہی قصور ہوگا کہ جب ان کا ظہور ہو اور وہ نہ مانیں۔ جب جنگی آلات کی اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی تب بھی غیب کبریٰ میں گئے تھے تو اب ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کرلی ہے۔ ہم ایکدوسرے کے اکابرین کیلئے دلائل کی بنیاد پر بات کریں، سب وشتم نہ کریں۔ آج صلح کے ماحول میںہی ایکدوسرے کو سنی شیعہ حقائق پہنچا سکتے ہیں۔اغیار ماحول کو خراب کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو افغانستان، عراق اور شام کی طرح قتل قتال سے افہام وتفہیم کا موقع نہیں ملے گا۔ امریکہ نے عراق میں صدام کے خلاف ماحول بنایا اور شیعہ و کردوں نے ساتھ دیا۔ پھر داعش بن گئی تو امریکہ نے اس کو رستہ دیاتھا۔ اب پاکستان میں سازش کامیاب ہوگئی تو ہماری ریاست کچھ بھی نہیں کرسکے گی۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

سورہ محمد میں دور اول کے مسلمانوں کے بعد بنی اُمیہ کی حکومت کا واضح ذکر

سورۂ محمد میں اللہ نے جو نقشہ کھینچا ہے اس میں دورِ اوّل کے مسلمانوں کے بعد بنی امیہ اور بعد میں آنے والوں کو حکومت دیکر آزمائش سے لیکر موجودہ دور تک دنیا اور آخرت کی کامیابی و ناکامی کے معاملات کا واضح ذکر کیا ہے! سید عتیق لرحمن گیلانی

(الذین کفرواوصدّوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہمO والذین اٰمنوا و عملوا الصّٰلحٰت واٰمنوا بما نزّل علی محمد وھوالحق من ربھم کفر عنھم سیآٰتھم واصلح بالھمOذٰ لک بان الذین کفروا اتبعوالباطل وان الذین اٰمنوا اتبعواالحق من ربھم کذالک یضرب اللہ للناس امثالمھمOمحمد)

” جن لوگوں نے کفر کیااور اللہ کی راہ سے روکا ،انکے اعمال گمراہی ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے اور ایمان لائے اس پر جو محمد(ۖ) پر نازل ہوا اور وہ حق ہے انکے رب کی طرف سے انکے گناہوں کو ان سے دور کردیا اور ان کی حالت کو درست کردیا۔ یہ اسلئے کہ جنہوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی اتباع کی اور جو ایمان لائے انہوں نے حق کی اتباع کی اپنے رب کی طرف سے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کیلئے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے”(سورہ ٔ محمد)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ اہل حق کی حالت اللہ نے ہمیشہ اچھی کردی ہے۔ ان کے گناہوں کو ان سے ہٹادیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایمان لائے ،عمل صالح کئے بلکہ حق کا بھی بھرپور ساتھ دیا ہے۔ صحابہ کرام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سورۂ محمد کے بعد قرآن میں سورۂ فتح ہے جس میں اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا ذکر کیا ہے اور ساتھ اس وقت کے منافقین کا بھی ذکر کیا ہے اور مفت خور اعرابیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جو قربانی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے لیکن خوشحالی میں شرکت کا خود کو مستحق سمجھتے تھے۔ کفار کے مقابلے میں اللہ نے مسلمانوں کا حال کتنازبردست اچھا کردیا تھا؟۔

(ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوالعلم ماذا قال اٰنفًا اُلئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم و اتبعوا اھواء ھم O والذین اھتدوا زادھم تقوٰھم Oفھل ینظرون الا الساعة ان تأتیھم بغتةً فقد جاء اشراطھا فانّٰی لھم اذا جاء تھم ذکرٰھمOفاعلم انہ لاالہ الا اللہ واستغرلذنبک و للمؤ منین والمؤمنات واللہ یعلم متقلبکم ومثوٰکمO سورۂ محمد )

”اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ کو سننے کیلئے متوجہ رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے وہ لوگ نکلتے ہیں تو ان میں اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی کیا کہا ہے؟۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جنہوں نے ہدایت حاصل کی ،ہم نے ان کی ہدایت کو مزید بڑھادیا۔ تو کیا یہ اس گھڑی کا انتظار کررہے ہیں کہ اچانک آئے گی؟۔ بیشک اس کی نشانیاں آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آجائے گی تو ان کو نصیحت کا کیا فائدہ؟۔ پس جان لو! کہ بیشک اللہ کے سواء کوئی الٰہ نہیں ۔اور اپنے بوجھ کیلئے اللہ سے استغفار کرو اور مؤمنین اور مؤمنات کیلئے بھی۔ اور اللہ جانتا ہے تمہاری قبولیت اورتمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے”۔

کفارکو دلچسپی تھی کہ قرآن کے احکام کیا نازل ہو رہے ہیں ۔ مسلمانوں کیلئے قتال اور پھر فتح کا دن کب آئے گا؟۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کو آزمانا بھی تھا تاکہ یہ عذر باقی نہیں رہے کہ کس کو موقع ملا یا نہیں ملاتھا۔ کفارکے دلوں پر مہریں لگ گئیں اور مسلمانوں کی ہدایت میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔

(ویقول الذین امنوالولا نزلة سورة فاذااُنزلت سورة محمکة و ذکر فیھا قتال رأیت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشیّ علیہ من الموت فاولیٰ لھمO طاعة وقول معروف فاذا عزم الامر فلو صدقوا اللہ لکان خیرلھمO سورۂ محمد)

”اور ایمان والے کہتے کہ کاش کوئی سورة نازل ہو اور جب محکم سورة نازل ہوتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ دیکھ لیںگے کہ جن کے دلوں میں مرض ہے وہ آپ کو ایسی نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ ان پر موت طاری ہے۔ پس یہی ان کیلئے مناسب بھی ہے۔ ( اللہ کا قانون یہ ہے کہ ) اطاعت اور معروف قول۔ (اللہ کے احکام اور رسول اللہ ۖ کی فرمانبرداری) جب اولی الامر کسی بات کا عزم کرے۔اگر اللہ کی تصدیق کرتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا”۔

مسلمانوں اور کفار میں یہی فرق تھا کہ مسلمان چاہتے تھے کہ قرآن کی سورتوں کا نزول جاری رہے اور وہ کفار جن کے دلوں میں مرض تھا ،وہ اس مصیبت میں رہتے تھے کہ کب ان کی گوشمالی کیلئے کیا حکم نازل ہو۔ جب کوئی محکم سورة نازل ہوجاتی اور اس میں قتال کا بھی ذکر ہوتا تھا تو ان پر موت کے خوف کی کیفیت طاری ہوتی تھی۔ کفارِمکہ کی صلح حدیبیہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد یہی کیفیت جاری رہی تھی۔

جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد خلفاء راشدین کو خلافت کا موقع دیا تو انہوں نے عدل وانصاف قائم کیا اور کسی پر ظلم وزیادتی نہیں کی۔ حضرت عثمان مدینہ میں شہید ہوگئے اور حضرت علی نے کوفہ میں شہادت پائی۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب بنی امیہ کی ظالمانہ حکومت قائم ہوگئی۔ مروان بن حکم نے مدینہ میں صحابہ کرام پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔ حجاز مقدس میں اپنے اقتدار کی خاطربڑے مظالم کئے۔ حضرت حسن کی طرف سے حضرت معاویہ کے حق میں دستبرداری خوش آئند تھی مگر بنواُمیہ نے جس طرح کے مظالم صحابہ کرام اور اہلبیت پر روارکھے تھے یہ بالکل غلط تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکمO)” پس تم نافرمانی کروگے ،اگر تمہیں اقتدار مل جائے یہ کہ تم زمین میں فساد پھیلاؤ گے اور قطع رحمی کے مرتکب بنوگے”۔ (سورۂ محمد آیت22)

حضرت حسین ابن علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی المناک شہادتوں سے لیکر کیا نہیں کیا گیا؟۔ کیا یہ فساد اور قطعہ رحمی کا مظاہرہ نہیں تھا؟۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت قائم ہونے کے بعد منبر ومحراب سے حضرت علی پر سب وشتم اور لعن طعن کے خاتمے کا حکم جاری ہوا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ قرآن میں جن لوگوں کا بالکل واضح حال بیان ہوا ہے ، ایک عرصہ تک اس کی درست تفسیر اور تعبیر پر بھی پابندی تھی کہ مسلمانوں پر فرعون وہامان اور نمرود وشداد کی آیات فٹ کی جاسکتی ہیں؟۔ نماز میں بسم اللہ تک جہری پڑھنے پر پابندی لگائی گئی تھی اور آج قرآن کی غلط تعبیر وتفسیر میں کئی لوگ اپنے نصاب کی گمراہی کو سمجھنے کے باجود جانتے بوجھتے اعراض کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ محمد میں مزید فرمایاکہ ” یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ،پس ان کو بہرہ بنادیا ہے اور ان کی بینائی کو اندھا کررکھا ہے۔ تو کیا یہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔ بیشک جو لوگ مرتد ہوگئے اپنے پیٹھ پیچھے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت واضح ہوگئی ، شیطان نے ان کو شکنجے میں لیا ہے اوران کو اُمید دلا دی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہہ رکھا ہے جو اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرتے ہیں کہ عنقریب بعض چیزوں میں تمہاری ہم اطاعت کرینگے اور اللہ ان کے خفیہ رازوں سے واقف ہے۔ پھر کیسے ہوگا جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں پر ماریںگے اور انکے پشت پر ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے اتباع کی جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور اس کی رضاجوئی سے نفرت کی تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا۔ کیا گمان رکھتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے کہ ان کے کھوٹ کو باہر نہیں نکالے گا؟۔ اگر ہم چاہیں تو آپ کو ان کی پیشانیوں سے پہچان کرادیں اورآپ ضرور ان کی بات کے انداز سے ان کو پہچان لیں گے اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے تاکہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو جان لیں۔ اور خبریں ہم نے تمہارے بارے میں دی ہیں تاکہ اس کی آزمائش کریں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا ، اس کے بعد کہ ہدایت ان کے سامنے واضح ہوگئی تو اللہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچارہے ہیں اور عنقریب اللہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو،اپنے اعمال کو باطل مت کرو۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ، پھر مرگئے اور وہ کفار تھے تو اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ پس تم اپنی پستی مت سمجھو اور صلح کی دعوت دو، اور تم ہی اُونچے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور تمہارے اعمال کو رائیگاں نہ چھوڑے گا۔ بیشک دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگار بنو تو دے گا تمہارا بدلہ۔ اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔ اور اگر وہ تم سے وہ مانگ لے تو تمہیں ننگے پاؤں کردے گا تم بخل کروگے اور تمہارے کھوٹ کو باہر ظاہر کردے گا۔ دیکھو یہ تم ہو کہ تمہیں دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ تمہارے اندر وہ بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کیلئے بخل کرتا ہے اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑوگے تو اللہ کسی اور قوم کو تمہاری جگہ بدلے گا اور پھر وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے” ۔ سورۂ محمد آیت تیئس (23)سے آخر تک

بنوامیہ نے بہت زیادتیاں کیں تو بنوعباس نے ان کی جگہ لی اور بنوعباس نے نااہلی کا مظاہرہ کیا تو چنگیزخان کی اولاد نے ان کا قلع قمع کردیا۔ پھر سلطنت عثمانیہ قائم ہو ئی اور ان کا بھی خاتمہ ہوا۔ اسی طرح فاطمی سلطنت، مغل بادشاہ اور عرب بادشاہتوں کا سلسلہ اور پاکستان میں ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بینظیر بھٹو، نوازشریف، پرویزمشرف کے بعد پھر زرداری اور نوازشریف اور اب عمران خان تک بات پہنچی ہے۔ ایران اور افغانستان میں بھی حکومتیں بدلتی رہی ہیں۔ ایک سپر طاقت روس کا خاتمہ ہوا اور امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ برطانیہ کا اقتدار سمٹ گیا تھا۔ جرمنی اور جاپان نے بھی سپر طاقت کا مزہ چکھا تھا اورفرانس کی بھی بہت کالونیاں رہی ہیں۔

اسرائیل بھی عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت ہندو کی آزاد ریاست ہے۔ بنگالی بھی پاکستان سے آزادی حاصل کرچکے ہیں اور دنیا میں مختلف لوگوں کی حکومت اور اقتدار کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی بھی اقتدار کے مختلف معاملات دیکھ چکا ہے۔ جب تک مسلمان قرآن کی طرف توجہ نہیں کرینگے تو ان کی تنزلی کا سلسلہ کبھی نہیں رُک سکتا ہے۔ اسماعیل ساگر نے مولانا فضل الرحمن کے انٹرویو پر بہت سخت ردِ عمل دیا جس میںڈاکٹر دانش کے سوال پر یہ جواب دیا ہے کہ ” امریکہ میں جوبائیڈن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے اور اس پارٹی کی تاریخ یہ ہے کہ جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اسلئے پاکستان میں جمہوریت کو سپورٹ مل سکتی ہے”۔ لیکن مولانا فضل الرحمن پر سنگین غداری کے مقدمات چلانے کا مطالبہ کرنے والے طارق اسماعیل ساگر نے ریپبلکن پارٹی کے صدر جارج بش کے دور میں بلیک واٹر کے کردار پر یہاں چپ سادھ لی تھی۔ ایک فوجی کا دماغ یہی ہے کہ جس کی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کو دیوار میں چن دو۔ یہ بہت اچھا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید ذمہ دار عہدوں پر ہیں جو اشتعال میں نہیں آتے ہیں۔ پاکستان کسی قسم کی افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک پرامن فضاء قائم ہوئی ہے جس میں فوج کی موجودہ قیادت کا بہت بڑا اہم کردار ہے۔بلیک واٹر کے شرمناک کردار سے ہمیں نجات ملی ہے ، اپنی شدت پسند تنظیموں کا بھی ہم نے خمیازہ بھگت لیا ہے اور اب پاکستان کی تعمیر کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور برے لوگوں کو اقتدار بھی دیتا ہے لیکن مشکلات کے اوقات بدلتے رہتے ہیں۔

بہت لوگوں نے اقتدار اور اچھے دنوں کے خواب دیکھ لئے اور اللہ نے ان کو اقتدار دیا بھی لیکن اُمت کی آزمائش میں مزید اضافہ ہوتا چلاگیا ہے۔ پاکستان کی ریاست اب مزید کم عقلوں، مفادپرستوں اور نااہلوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں لگ رہی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021