Category: سیاست
مریم نواز شریف اور نیب کا کیس کیاہے؟
دنیا نئے نظام کی تلاش میں پھر جنگ کے دھانے پر؟
پچھلے 41برس سے پاک افغان تعلقات کی ایک داستان: سید عثمان الدین گیلانی
بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی
بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی
عمران خان وزیرستان ، بلوچستان میں فوج کا مخالف مگرووٹ ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو دیا عدم اعتماد کی فضا ہے
نواز شریف کی انوکھی بیماری پلیٹ لیٹس کے اترنے اور چڑھنے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے جنگ مصنوعی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں خواجہ سعد رفیق کا نعرہ ….
سندھ نے پاکستان بنایا مگر پختون متحدہ ہندوستان والے تھے اگر پختون کو سندھ پنجاب پاکستان سے دھکیلا تو طالبان و فوج کے مظالم بھولیں گے
سندھی قوم نے کسی پر چڑھائی نہیں کی پختون قوم ایک طرف چڑھائی پر فخر کریں اور دوسری طرف مظلومیت کا رونا روئیں ؟ تفصیل نیچے اداریہ پر دیکھئے
اپنی صحافت اور سیاست کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کشمکش
سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو
سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو
خلافت پاکستان سے شروع ہوگی دنیا کیلئے، امریکن پروفیسر آلان کیسلر
السلام علیکم ! میرا نام ہے آلان کیسلر۔ میں امریکہ میں بیٹھ کرہمیشہ پاکستان کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ اور ہم آج خلافت راشدہ کے بارے میں بات کریں گے۔ انشاء اللہ۔ ایک دعا کریں گے حضرت محمد ۖ کو یاد کرتے ہوئے ۔ اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد ۔(درودِ ابراہیمی) ۔سب دعا کریں کہ پاکستان میں خلافت راشدہ قائم ہوجائے۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے آمین بہت اچھا۔ اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے یہ ناممکن ہے فاطمہ علی کے کمنٹس تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بنائیں گے خلیفہ۔ یہ بات مجھے بہت ہی اچھی لگی کہ یہ حقیقت ہے۔ کوئی سیاستدان نہیں بناسکتا ہے فوج بھی نہیں بناسکتی ہے صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ خلیفہ راشد کو بناسکتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا سسٹم ہوگا یہ فاطمہ علی آگے بتارہی ہے شیر اور بکری ایک جگہ پانی پی سکیں گے۔ یہ بھی مجھے بہت ہی اچھا لگااور وہ آگے بتارہی تھی کہ لوگوں کی ضرورت نہیں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے یہ صرف اللہ تعالیٰ کرسکیں گے اور وہ کرے گا انشاء اللہ۔ وہ ایسا کرے گا جو ہمارے لئے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے لیکن وہ سب کچھ کرسکتا ہے آسانی سے کرسکتا ہے۔ اس کیلئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔ پاکستان میں خلافت راشدہ قائم کب ہوگی جب ہم سب پاکستانی لوگ خود پاک بن جاتے ہیں۔ جب ہم لوگ صراط مستقیم پر چلتے ہیں تو پھر کوئی سیاستدان نہیں بلکہ ہم سب عوام، جہاں تک میں سمجھتا ہوں خلافت پاکستان سے شروع ہوجائے گی لیکن یہ پوری دنیا کیلئے ہے۔ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ہر ایک مذہب کے لوگوں کیلئے ہے۔ کیونکہ خدا ایک ہی ہے۔ آج جو سیاسی سسٹم ہے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ، جو سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اس سے کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ان سیاسی پارٹیوں میں بہت کرپشن ہے اور کرپشن سے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔ کیونکہ جو بڑے شیطانی لوگ ہیں انہوں نے یہ سسٹم بنایا ہے۔ یہ پولیٹیکل سسٹم جو آ ج ہم دیکھتے ہیں دنیا میں نام نہاد ڈیموکریسی عوام چن لیتی ہے کہ کون ہمارا لیڈر ہوگا نہیں یہ جھوٹ ہے۔ عوام نہیں چن لیتی ہے یہ الیکشن سب فکسڈ ہیں اور میں ان کو شیطان کے چمچے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو ایلومنارٹی کہتے ہیں یہ سب سیاسی پارٹیوں کو اپنے قبضے میں رکھتے ہیں۔ اور اگر کوئی ان کے قبضے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے وہ انکے خلاف بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس بے حد پیسہ ہے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں کسی بھی پارٹی کو ختم کرنے کیلئے۔ رشوت کھلاسکتے ہیں اسی پارٹی کے برے آدمیوں کو ، اسلئے میں یہ کہہ رہا ہے ہوں کہ آج جو دنیا میں یہ سیاسی سسٹم ہے اس سے خلافت راشدہ کبھی قائم نہیں ہوسکتی۔ ایک نئے سسٹم کی ضرورت ہے۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ وہ کرے گا کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔ اسلئے پاکستان کو مدینہ ثانی کہا گیا ہے۔ مدینے میں حضرت محمد ۖ نے خلافت کو قائم کیا تھا اور یہودی بھی تھے وہاں اور یہودیوں کو اپنے مذہب پر رہنے کی اجازت دی گئی وہاں ان کو مسلمان نہیں بنایا گیا تھا۔ ہاں جو بننا چاہتے تھے مگر جو نہیں بننا چاہتے تھے تو وہ اپنے مذہب میں رہے۔ یہی قائد اعظم کا بھی کہنا تھا جو کرسچن ہیں جو ہندو ہیں پاکستان میں وہ اپنے مذہب میں رہ سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کو مسلمان بننا پڑے گا۔ خلیفہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں سب کو مسلمان بناؤں گا۔ تو یہ وہی بات ہے جو میں بار بار بتارہا ہوں کہ مجھے یہ بتایا گیا تھا 1983ء میں پاکستان دا مطلب ہے او پاکستان جتھے حضور پاک اوڈے پاک مصاحف دے نال اسلام پاک پر قائم کریں گے۔ تو یہ خلافت راشدہ کا بھی جواب ہے۔ بیشک بہت سارے یزید ہیں یا دجال ہیں جو پوری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور کررہے ہیں اور جو خود خلیفہ بننا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں بن سکے گا۔ دجال کا یہی پروگرام ہے لیکن وہ فیل ہوجائے گا انشاء اللہ۔ اگر الیکشن ہوتے ہیں تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ الیکشن ووٹر لسٹ میں بہت دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اور الیکشن میں بھی دھوکہ ہوتا ہے۔ الیکشن کام نہیں دے گا۔ الیکشن میں اتنے پیسے بھی خرچ کرتے ہیں پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں دھوکہ دیتے ہیں لوگوں کو دھمکی دیتے ہیں لیکن اصلی جو خلیفہ ہوتا ہے وہ یہ چاہتا بھی نہیں کہ وہ خلیفہ بن جائے وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کو یہ نہ کرنا پڑے لیکن جب اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے تو اس کو کرنا پڑتا ہے۔ یہی ہے خلافت کا راز۔ الیکشن نہیں چناؤ نہیں لیکن جو بنے گا وہ بننا بھی نہیں چاہتا ہے۔ یہ جو نام نہا د خلافت ہوتی ہے ISIS وغیرہ دہشت گردوں کی یہ بالکل خلافت کے برعکس ہے۔ یہ دجال کی نام نہاد خلافت ہے فتنہ ہے ۔ یہ ایک لڑائی ہے ابلیس کی۔ سب سے بڑا ہتھیار ہمارے دل میں ہے کہ فیصلہ کرنا ہے کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہی کروں گا۔ جو شیطان یا ابلیس غلط راستے پر لگانا چاہتا ہے ۔ ہم بس دعا کرتے ہیں کہ اھد نا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغصوب علیھم ولا الضالین۔ تو جب ہم یہ حقیقت میں چاہتے ہیں تو اللہ ہماری مدد کرے گا کہ ابلیس سے ہمیں ایسے لڑنا ہے اور پھر سب کچھ ہوجائے گا۔ فکر نہیں کریں۔
سورۂ مدثر میں ایک بڑے انقلاب کا اشارہ
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
اسلام کی نشاة ثانیہ کے آغاز کا وقت ہے کیا؟
قرآن کی طرف متوجہ ہوئے بغیر اسلام کی نشاة ثانیہ کے آغاز کا تصور نہیں ہوسکتا
روزنامہ مشرق پشاور میں سورۂ مدثر کی بعض آیات کا حوالہ دیا گیا کہ اس میں کورونا وائرس کا چین سے ہونے کا ذکر ہے۔ آیت8میں ناقور سے مراد کورونا اور آیت12،13میں مال کی کثرت اوراولاد کی حاضری سے مملکت چین مراد لیا گیا۔ کبھی پاکستان جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دیتاتھا مگر اب قرضہ دیتا نہیں لیتا ہے۔ اگر دنیا سے سود کا نظام ختم ہوجائے اور پاکستان کا سود معاف ہوجائے تو پاکستان کیلئے اس سے زیادہ خوشخبری کیا ہوسکتی ہے؟۔ نوازشریف نے ڈھیر سارے سودی قرضے لئے اور پھر اپنی شوگر ملوں کیلئے اربوں کی سبسڈی لی۔ شوگر مافیاپکڑا گیا تو تحریک انصاف سے زیادہ ن، ق لیگ اور پیپلزپارٹی کے بکروں کو چھرا دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ لوگ وہ سبسڈی کا مال بھی غریب عوام کو اس مشکل میں دیدیں تو غریبوں کا بھلا ہوجائے۔
جاپان نے ایک کھرب امریکی ڈالر کورونا وائرس کے خلاف پیش کردئیے ہیں۔ ہمارے پھنے خان،ننھے خان اور منے خان لوٹی ہوئی دولت بھی واپس نہیں کرتے۔ کرونا کانقارہ بج چکا ہے۔ سورۂ مدثر میں سقر سے جہنم نہیں بلکہ شکرے کی نحوست مراد ہوسکتی ہے، قرآن میں نحوست کوپرندے سے تعبیر کیا گیا ۔ لاتبقی ولاتذرO لواحة للبشر”نہ رازباقی چھوڑے اورنہ کوئی معاملہ رہنے دے۔جھلساکر انسان کو بگاڑ کر رکھ دے”۔ علماء ،سیاستدان، صحافی اور سب طبقات کیلئے یہ بڑی وارننگ ہے جو آخرت میں نہیں دنیا میں انقلاب کے حوالے سے ہے۔ ومایعلم جنود ربک الا ھو”اور کوئی نہیں جانتا تیرے رب کے لشکر کو مگر وہ، اوربشر کیلئے نصیحت ہے”۔ یہ کرونا وائرس بھی اللہ کا لشکر ہے۔جب انقلاب آئیگا تو ہر شخص اپنے کئے میں گرفتار ہوگا مگر دائیں جانب والے( اچھے لوگ )وہ جنت نظیر دنیا میں مجرموں سے پوچھیں گے کہ اس سقر(کم بختی کی نحوست میں) کس چیز نے پہنچایا؟
سورۂ مدثر میں ایک بڑے انقلاب کا اشارہ؟
قرآن کے رموز اور حقائق کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ ہردور میںرہنما اصول ہیں!
قرآن وسنت میں دو انقلابات کا ذکر ہے۔ پہلا انقلاب رسول اللہۖ کے دورمیں آیا۔ جسکے اثرات خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ تک قائم رہے۔ دوسرا انقلاب درمیانہ زمانے سے آخری دورحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجالِ اکبر تک قائم رہے گا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بن گیا مگر اسلام سے سیاستدان تو دور کی بات ہے علماء ومشائخ بھی ناواقف ہوگئے تھے۔ مسٹر جناح کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھی بلکہ مذہب سے دور ہونا ہی اس کا سب سے بڑا کمال تھا لیکن اسلام اور مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا کام اس سے لے لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں شیاطین اپنا مکروہ جال بنارہے تھے لیکن بہرحال انہم یکیدون کیدا واکیدکیدا
کرونا وائرس کے نقارے نے انسانیت کے دل ودماغ سے انسان دشمنی کا انتقام نکال دیا ہے۔ جہاں سورۂ مدثر میں دورِ نبوتۖ کے انقلاب کاذکر ہے وہاں پاکستان میں بھی بڑے انقلاب کی خوشخبری دے رہاہے۔ سیاست،صحافت، علماء ، مذہبی طبقے، سول وملٹری اور عدالتی بیوروکریسی سے معاملات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ مجرم اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں اور بہت قریب ہے کہ لوگ اس اسلام کی طرف متوجہ ہوں، جو قرآن وسنت کا عین تقاضہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ایک ایسی خلافت کا قیام عمل میں آئے کہ پوری دنیا اسکے سامنے سرنگوں ہو۔
روس، امریکہ اور چین سمیت بھارت واسرائیل بھی اسے قبول کرکے خوش ہونگے۔ جب یہ انقلاب برپا ہوگا تو کسی شخص اور اسکے حواریوں سے شیخ الاسلامی کا تاج اتریگا اور وہ اعتراف کر لیںگے کہ ہماری نمازیں ڈھونگ تھیں، ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، پھر ان کی کوئی سفارش بھی نہیں کرسکے گا اسلئے کہ ہر ایک اپنی بداعمالیوں کے سبب مشکلات میں گرفتار ہوگا۔ البتہ اصحاب الیمین ہر طبقے سے ہونگے اور وہ ان سے انٹرویو لیتے ہونگے۔
کیاسورۂ الدھر میں دنیاوی انقلاب کی خبر؟
اگر حدیث کی خوشخبری ایک عظیم انقلاب کی ہے تو پھر قرآن میں یہ خبر کیوں نہیں!
جب دنیا اس کورونا وائرس کے چیلنج سے نکل جائے گی تو پھر سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ایسے گلاس اور کپ بنائے جاسکتے ہیں جن کا مزاج کافوری ہو ؟۔ قرآن میں سورۂ قیامت کے بعد سورۂ الدھر ہے، جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ قیامت کا ذکر سورۂ قیامت میں ہے اور دھر کا ذکر سورۂ الدھر میں ہے۔ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جس کو پانچ دریاؤں کے نہروں سے ہی آسانی سے سجایا جاسکتا ہے۔ وزیرستان کا بڑا قدیمی شہر کانیگرم صدیوں سے آباد ہے لیکن پہاڑ پر بنے ہوئے اس شہر کے نیچے ندی اور نالے کے شفاف پانی کو آج تک شہر کا گند آلودہ نہیں کر رہاہے۔ پاکستان کے دریاؤں کو بھی آلودہ کیا گیا ہے۔ صنعتوں کو بلوچستان منتقل کیا جائے اور تیز رفتار ٹرینوں کے ذریعے کراچی کولاہور، پشاور،کو ئٹہ اور گوادر سے ملایا جائے۔تو ہمارے سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنا سارا جائز اور ناجائز سرمایہ واپس پاکستان لائیںگے۔
حکومت سندھ علاقہ وائز اعداد وشمار کے ذریعے امدادی رقم غریب غرباء اور مزدور طبقہ تک پہنچائے، لوٹ مار سے بچنے کیلئے رینجرز اور پاک فوج کے جوانوں کی مدد لے۔ دنیا بھر سے لوگ اس مشکل گھڑی میں انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ ایسے بُرا دن کے دیکھنے سے قبل جس کا شر بہت وسیع ہے عام لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت ضروتمند طبقے کو امدادپہنچاتے ہیں جو کسی قسم کی جزاء اور شکریہ ادا کرنے کی توقع نہیں رکھ رہے ہیں بلکہ خالص اللہ کی خاطر کرتے ہیں۔ سورۂ الدھر میں معاملات بالکل واضح ہیں۔ جب انقلاب آئیگا تو پاکستان سمیت دنیا پر نعمتوں کی ایسی بارش ہوگی کہ سورج کی تپش اور سردی کی ٹھٹر سے سب محفوظ ہونگے۔ نوجوان طبقہ بہت خوشی سے خدمت کا فریضہ انجام دے گا۔ پھلوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ خلافت کے قیام کے بعد جس قسم کی نعمتوں کا ذکر ہے وہ سورہ الدھر میں مذکور ہیں۔
قرآن میں دنیاوی عذاب کا ذکر
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ٹارگٹ کیوں؟
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ بھی مفتی تقی پر تکیہ اور تقیہ کئے بیٹھے ہیں!
مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں” فقہی مقالات جلد چہارم” اور” تکملہ فتح المہلم” میں لکھ دیا تھا کہ ” علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے”۔ جبکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ہم نے اسکے خلاف فتویٰ لیا تھا۔ پھر جب عرصہ بعد ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرپرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے سودکے نام پر اسلامی بینکاری کے خلاف لکھا تو ملک اجمل نے جنگ کے صحافی نجم الحسن عطاء کیساتھ ڈاکٹر صاحب کی جرأت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے حاضری دیدی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر کہا کہ ” میں نے مفتی تقی عثمانی کے خلاف کچھ نہیں لکھا ہے، پہلے بھی میرے ایک شاگرد نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف ہمارا فتویٰ شائع کیا تو مفتی تقی عثمانی ہم پر بہت برہم ہوگئے تھے۔ مفتی تقی عثمانی نے مولانا یوسف لدھیانوی پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا کہ مفتی محمود کے حوالہ سے اپنی تحریر میں پان و گولی کھلانے کا ذکر کیوں کیا تھا؟۔ طلاق کے مسئلے پر مفتی نعیم کو بھی مفتی تقی عثمانی نے ڈانٹا تھا اور مولانا انور بدخشانی مدرس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی ہی کا سکہ چلتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن بھی شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کو بڑا قابل عالم سجھ رہے ہیں
طلاق وحلالہ کے غلط فتوؤں اور درسِ نظامی کے علاوہ حال ہی میں ” آسان ترجمہ قرآن” میں فاش غلطیوں کے ارتکاب میں مفتی تقی عثمانی نے ایک سرغنہ کا کردار ادا کیا ہے۔ علماء کرام کو ثالثی کی پیشکش ہم کررہے ہیں۔ صحافی موسیٰ خان خیل شہید کے بھائی مفتی احمدالرحمن کے داماد سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ میں درسِ نظامی کے نصاب اور طلاق وحلالہ کے حوالہ سے ہماری بات ہوئی تھی لیکن جامعہ بنوری ٹاؤن کے اکابر علماء پہلے سے ہی اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے تھے ،اسلئے وہاں بحث ومباحثہ کیلئے جانا مناسب نہیں سمجھا۔ وہاں بدمعاش لوگ پہلے بھی صاحبزادہ مولاناسید محمد بنوری کو شہید کرچکے تھے اور اسکا الزام شریف النفس ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پر لگا رہے تھے۔ ہم نے ٹانک شہر میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے مقتدر علماء کرام کو بات کرنے کیلئے دعوت دی تھی تو مولانا فضل الرحمن نے اس اجتماع میں رکاوٹ کا خفیہ طور پر اظہار کیا ،پھرہم نے بالمشافہہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ،کافی لیت لعل کے بعد اس نے سید عطاء اللہ شاہ منتظم معارف شرعیہ کو جانے کا حکم دیا مگر ڈیرہ اسماعیل خان سے علماء کرام وعدے کے باوجود نہیں آئے تھے۔ ٹانک کے اکابر علماء نے میرا مؤقف سننے کے بعد کھل کر حمایت کرنے کا اعلان کیا اور پھر ایک جلسہ عام میں بھی حمایت کردی جس کو ہم نے اخبار میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا تو ڈیرہ کے علماء نے اخبار میں حمایت دیکھنے کے بعد رکاوٹ ڈالنے کا پرواگرام بنایا۔ اگلی مرتبہ جھگڑا کیا۔ پھر طے ہوا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک سے مولانا فتح خان اور مولاناعبدالرؤف بھی آئیںگے اور مولانا علاء الدین کے مدرسہ نعمانیہ میں ایک نشست رکھیںگے لیکن پھر انہوں نے حالات خراب کردئیے اور حکومت نے ٹانک کے علماء پر پابندی لگادی اور ہمیں 16ایم پی اے کے تحت گرفتار کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا
مولانا عطاء الرحمن نے مولانا شیرانی کے سامنے علمی بحث سے راہِ فرار اختیار کی
مولانا شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمیں تھے تو قصر ناز میں مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان سے بھی اچانک ملاقات کا موقع ملا تھا، وہ لوگ ریاستِ پاکستان کا مذاق اڑارہے تھے اور جب مجھ سے رائے پوچھی تو میں نے درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف کا کہا کہ جب تم لوگ قرآن کو نہیں مانتے۔ المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھی ہوئی کتاب(قرآن) مُراد نہ ہو تو قرآنی آیات اور لکھی ہوئی کتاب کا انکار لازم ہے ،جس کیوجہ سے اس کو پیشاب سے لکھنا بھی جائز قرار دیتے ہو۔جب نقل متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں تو قرآن کی حفاظت کا عقیدہ کہاں باقی رہتا ہے؟۔ جب بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی تو ذلک الکتاب لاریب فیہ پر ایمان کہاں باقی رہتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ جب بھوکے کو روٹی نہیں مل رہی تھی تو دوسرے نے کہا کہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا؟۔ ہم پاکستان کی بات کررہے تھے ، یہ اپنا مقصد قرآن لیکر آگیا۔ حامد میر جب روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے ایڈیٹر تھے توڈیرہ اسماعیل خان میں علماء کے چیلنج کو قبول کرنے کی بجائے میرے بھاگنے کی خبر اس نے لگائی تھی اور پھر دوسرے دن میرے جواب کی بھی چھوٹی سی خبر شائع کی تھی۔
اسکائپ کے ذریعے بھی الیکٹرانک میڈیا پر حقائق کو سامنے لانے کا اہتمام ہوسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں سے ” سورۂ فاتحہ ” کو پیشاب سے لکھنے کا جواز نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن اسکے بعد وزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں” مفتی سعید خان”نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس” شائع کی جس میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جوازکا دفاع کردیاہے۔
درسِ نظامی کے نصاب پر امریکہ کی طرف سے کوئی دباؤ ہے یا نہیں لیکن ہم ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیںکہ علماء ومفتیان کودرسِ نظامی درست کرنیکا فریضہ بہر صورت ادا کرنا چاہیے۔
سورۂ مدثر، سورۂ دھر کیلئے قرآن کی دوسری سورتوں کوپیشِ نظر رکھ کرہی سمجھنا ہوگا!
قرآن کی سورۂ القلم میں بسم اللہ کے بعدن والقلم ومایسطرونOوانت بنعمة ربک بمجنون O وانَّ لک لاجرًا غیرممنونO وانک لعلیٰ خلق عظیمOفستبصرویبصرونO بایکم المفتونOان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین O”ن۔ قسم ہے قلم کی اور جوسطروں میں ہے۔ نہیں آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون۔ آپ کا مشن اجر ہے نہ ختم ہونے والا۔ اور آپ اخلاق کے عظیم رتبے پر ہیں۔سو عنقریب آپ دیکھ لیںگے اور وہ بھی دیکھیںگے کہ کون مبتلا ہے؟۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ جو راہ سے ہٹا ہے اور وہ ہدایت والوں کو بھی زیادہ جانتا ہے”۔اللہ تعالیٰ قلم اور سطروں میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھارہاہے لیکن علماء کو فقہ واصول کی باطل تعلیم سے فرصت نہیں کہ قرآن کی تعریف کا غلط معاملہ سمجھ کر درست کرلیں۔ مشرکین نے نبیۖ کو مجبون قرار دیا، اور کہا کہ عنقریب آپ کا مشن ملیامیٹ ہوجائیگا۔ آپ کے اخلاق اچھے نہیںمگر اللہ نے ان کی سب باتوں کو بالکل رد کردیاتھا۔ہر بات آخرت پر نہیں چھوڑی بلکہ دنیا میں ہی نتائج سے آگاہ کردیاکہ عنقریب پتہ چل جائیگا کہ جنون اور بداخلاقی میں کون مبتلاہے اور کون ہدایت پر اور کون گمراہ ہے۔ سورۂ مدثر، سورۂ دھر میں بھی دنیاوی انقلاب ہی کا ذکر ہے مگر علماء نے اس کی غلط تفسیر کرکے آیاتِ قرآنی کے اصل معانی کو ہوا میں اڑادیا ہے۔ قرآن میں زمینی حقائق کے حوالہ سے بھی قرونِ اولیٰ اور اسلام کی نشاة ثانیہ کے انقلابات کی خبر یں ہیں۔
جب باطل قوتوں کا غلبہ ہوتا ہے تو ہتھیار کے بغیر بھی اہل حق الزامات کی زد میں ہوتے ہیں۔ شریف کو مجنون، اخلاق وآداب کے منافی قرار دیا جاتا ہے مگر پھر وہ وقت دور نہیں ہوتا ہے کہ اہل حق غالب اور باطل ناکام ہوتے ہیں۔ قرآن میں بہترین رہنمائی ہے۔
سورۂ قلم کی تفصیل سے ظاہر ہے کہ آخرت سے پہلے دنیا میں مجرموں کا پتہ چلے گا
اورارشادفرمایا:فلاتطع المکذبینOودّوالوتدھن فیدھنونO و لا تطع کل حلاف مھینOھمازٍ مشائٍ بنمیمOمناعٍ للخیرِ معتدٍ اثیمOعتلٍ بعد ذلک زنیمٍOو ان کان ذامالٍ وبنینٍOاذتتلٰی آےٰتنا قال اساطیر الاولینO سنسمہ علی الخرطومOانا بلونٰھم کما بلونآ اصحٰب الجنة اذا اقسموا لیصرمنھا مصبحینO”لہٰذا ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانو۔ یہ توچاہتے ہیں کہ آپ کچھ مداہنت کریں تو یہ بھی مداہنت کریں۔ہرگز بات نہ مانو، ہر ایک بہت قسم کھانے والے ہلکے آدمی کی، طعنہ دینے والے،چغلیاں کھانے والے کی،خیر کیلئے رکاوٹ کھڑی کرنیوالا، حدسے گزرا ہوا گناہ گار، کھاؤ پیو جھگڑالوبدخلق اور بداصل ۔گرچہ وہ مال و اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیںگے۔ ہم نے ان کو اس طرح آزمائش میں ڈالا۔ جس طرح جنت( باغ ) والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ جب انہوں نے قسم کھائی کہ ہم صبح ضرور اس کا پھل توڑیںگے”۔
سورۂ قلم کی ان آیات میں جھٹلانے والوں کے دباؤ میں آنے سے منع کیا۔ جو چاہتے تھے کہ آپۖ ڈھیلے ہوں تو وہ بھی ڈھیلے پڑیں۔ باطل گھناؤنی صفات رکھتے تھے۔ مال و اولاد کے زعم میں مبتلاسمجھتے تھے کہ آیات پرانے قصے ہیں مگر اللہ نے واضح کیا کہ” عنقریب اس کی سونڈ کو داغ دینگے” سونڈ سے مراد ناک، چہرہ ہے جو دنیاوی عزت ، جاہ وجلال ہوتاہے۔
سورہ ٔ قلم میں پھر جنت(باغ) والوں کا قصہ ہے جو اپنی نعمت کھونے کے بعد ایکدوسرے کی ملامت کررہے تھے۔ کذٰلک العذاب ولعذاب الاخرة اکبر ”ایسا ہی ہوتاہے عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے”۔دنیاوی انقلاب بالکل واضح ہے۔
پہلے رکوع کے بعد سورۂ قلم کے دوسرے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں
ان للمتقین عند ربھم جنّٰت النعیمOافنجعل المسلمین کالمجرمینOما لکم کیف تحکمونOام لکم کتٰب فیہ تدرسونOانّ لکم لما تخیّرونO ام لکم اَیمان علینا بالغة الیٰ یوم القیامة ……”بیشک پرہیزگاروں کیلئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں۔ کیا ہم حق قبول کرنے والوں سے مجرموں کا سا سلوک کرینگے؟۔تمہیں کیا ہوا ہے، کیسا فیصلہ کرتے ہو؟۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس کا تم درس دے رہے ہو؟اور اس میں تمہارے لئے ہے کہ تمہارے پاس اپنے لئے اختیار ہوگا؟۔ یا تمہارا ہمارے ساتھ کوئی عہدوپیمان ہے جو قیامت تک جو چاہو اپنے لئے فیصلہ کروالو؟”۔
فذرنی ومن یکذّب بھٰذالحدیث سنستدرجھم من حیث لایعلمون ….. ……”پس مجھے اور اس بات کو جھٹلانے والوں کو آپ چھوڑ دیں۔ ہم درجہ بہ درجہ انہیں لے جائیںگے جسکا ان کو پتہ بھی نہ چلے گا۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں اور میری تدبیر مضبوط ہے۔ کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہو،جسکے بوجھ تلے وہ دبے جارہے ہیں؟۔کیا ان کے پاس کوئی غیب ہے جس سے وہ لکھ رہے ہوں؟۔ پس آپ اللہ کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ بنیں۔جب اس نے پکارا تھا اور پھر مغموم تھا۔ اگر اپنے رب کی نعمت اس کو نہ ملتی تو چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا اور وہ دبوچا ہوا ہوتا۔ پھر اللہ نے اسے چن لیا اور اس کو صالحین میں سے بنایا۔ اور قریب ہے کہ جنہوں نے کفر کیا کہ اپنی آنکھوں سے پھسلادیںجب یہ ذکر کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیشک یہ مجنون ہے اوریہ اور کچھ نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے”۔ سورۂ قلم میں جہاں قرآن کیلئے مہم جوئی کرنیوالے متصدقین اور مخالفین مکذبین کا حال ہے وہاں دنیا میں بھی سزا اور جزاء کی بھرپور وضاحت ہے۔
عذاب وجنت سے آخرت ہی نہیں بلکہ دنیامیں بھی جزاء وسزا مراد ہوتی ہے!
قرآن میں جہاں دنیا کا عذاب یا جنت مراد ہواور اس سے آخرت مراد لی جائے تو قرآن سمجھ میں نہیں آئیگا۔ قرآن صرف آخرت کے عذاب اور جنت کی کتاب نہیں بلکہ اس کامفہوم درست پہنچانے کا نتیجہ دنیاکوجنت بناسکتا ہے اور اسے جھٹلانے کا عذاب دنیا میں مل سکتا ہے۔
قرآن کو جھٹلانے والوں کا سب سے بڑا وطیرہ دنیاوی مفادات اور آخرت کا انکار یا مفت میں اپنے لئے آخرت میں اپنی مرضی کے فیصلے۔ سورۂ قلم میں تفصیل سے اس کا ذکر ہے۔ اس کو تدبر کیساتھ پڑھنے کے بعد ذہن کھل جائیگا۔ مال اور اولاد کو ترجیح دیتے ہوئے آیات کیلئے پُرانے قصے کہانیوں کی سوچ رکھنے والے کیلئے ہے کہ ” عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے”۔ سورۂ مدثر اور سورۂ دھر کے علاوہ کئی سورتوں میں دنیاوی عذاب، قرآنی انقلاب ، اسلام کی نشاة اول اور نشاة ثانیہ کے حوالے یوم الفصل اور جزاء وسزا کابالکل بہت واضح ذکرہے۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے مال اور اولاد کیلئے بینکوں کو اپنا ٹھکانہ بنالیاہے۔ سودی نظام کو جائز قراردینے کی معصیت سے توبہ کئے بغیر قرآن وسنت کی طرف رجوع نہیں ہوسکتا۔(
جب قرآن وسنت فرقوں، مسلکوںاور گروہوں میں بٹ گیاتو امت کا زوال آیا!
قرآن کریم میں آخرت کا تصور تو بالکل اپنی جگہ پر واضح ہی ہے لیکن قرآن کیلئے مصدقین و مکذبین کا کردار ادا کرنے والے دنیا میں ہی فلاح پاتے ہیں یا اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔جب قرآن موضوعِ بحث تھا تو فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے والے قرونِ اولیٰ کے مسلمان پوری دنیا سے اپنے عقائد اور اعمال کی بدولت ممتاز تھے۔ البتہ جب خلافتِ راشدہ کے بعد حکومت پر بنی امیہ، بنی عباس اور ترکی خاندان سلطنت عثمانیہ کا قبضہ ہوا۔ ہندوستان میں مغل تو افغانستان میں ایکدوسرے کا خون کرنے والے بادشاہ تھے تو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا وجود نہیں تھابلکہ بادشاہوں کے مرغے شیخ الاسلامی کے عہدوںپر قاضی القضاة کا کردار ادا کرتے تھے، جو حق کہنے والوں کو گردن زدنی، جیل، کوڑوں اور جلاوطنی کی عبرتناک سزادیتے۔
اورنگزیب عالمگیر نے اپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کو قید کردیا تھا مگر جب شاہ ولی اللہکے والد شاہ عبدالرحیم سمیت پانچ سو جید،مستند، معروف اور تقویٰ وپاک دامنی کے نجوم، آفتاب و مہتاب نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کیا تو اس میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری، ڈکیتی اور ہرقسم کی حد اور سزا معاف کردی اور حیلہ یہ ڈھونڈ نکالا کہ ”بادشاہ تو خود ہی دوسروں پر حد نافذ کرتا ہے مگر اس پر کون حد نافذ کردیگا؟۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا،اسلئے بلّا دودھ پی جائے تو معاف ہے”۔ انگریز نے تسلط حاصل کیا تو آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد جن جماعتوں اور فرقوں نے ایکدوسرے کیخلاف محاذ کھولے ہیں ان میں حق وباطل سے زیاد اپنے گروہی و فرقہ وارانہ مفادات ہیں۔ بریلوی،دیوبندی، اہل تشیع، اہلحدیث ، جماعت اسلامی، پرویزی اور انواع واقسام کے نت نئے فرقے طلوع وغروب ہوتے رہتے ہیں۔ مرزائیوں کو پہلے بھی کافر سمجھا جاتا تھا مگر مولانا احمد رضاخان بریلوی تو دوسروں کو قادیانی جیسا سمجھتے تھے
حق وباطل کی کشمکش مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ قرآن کی بنیاد ہے
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا جیل سے رہائی کے بعد اُمت کے زوال کے دواسباب قرار دئیے۔ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی محمد شفیع نے کہا کہ ” یہ دراصل ایک ہی سبب ہے۔ قرآن سے دوری۔ فرقہ واریت بھی قرآن سے دور ہونے کے سبب سے ہے”۔ دارالعلوم کراچی میں مفتی شفیع کے داماد مفتی عبدالرؤف سکھروی کو جاندار کی تصویر ناجائز لگتی ہے جبکہ مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ اسکے منافی ہے۔ ایک شادی بیاہ میں تصاویر کھینچوانے پر اپنے مریدوں کو سخت ترین عذاب کی وعیدیں سناتا ہے اور دوسرے کی اپنی ویڈیوز مسجد میںبنتی ہیں۔ایک شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین کو سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیتا ہے اور دوسرے نے اسلامی نام پر سودی بینکنگ کا کاروبار اپنا مشن بنایا ہواہے۔ ایک علم آفتاب اور دوسرا تقویٰ کا مہتاب ہے۔ ماشاء اللہ چشم بد دور۔
شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کی طرف دعوت دی تو ان کو پاگل اور گمراہ قرار دیا گیاتھا لیکن آخر کار مولانا انور شاہ کشمیری نے معافی طلب کرلی اور اعلانیہ کہا کہ ”ہم نے قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی بلکہ مسلکوں کی وکالت کرکے زندگی ضائع کردی”۔ مولانا الیاس نے امت کا درد لیکر تبلیغی جماعت کے ذریعے دنیا میں دعوت کا کام عام کردیا مگر جماعت نے بستی نظام الدین مرکز سے بھی جان چھڑائی اور اب کوئی امیر بھی نہیں ہے۔ جب دارالعلوم دیوبند میں مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادوں اور قاری طیب اور مولانا انور شاہ کشمیری کے صاحبزادوں میں مہتمم کے عہدے پر جھگڑا ہوا تو دارالعلوم دیوبند دوٹکڑے ہوگیا۔ آج تک مولانا سید محمد بنوری شہید کے قاتلوں کا بھی سراغ نہیں مل سکا لیکن وہ کونسے بدمعاش ہیں جو اتنے مضبوط بن گئے ہیں؟۔کیامولانا امداداللہ مردانی بتاسکتے ہیں قاتل؟۔
مدارس پر بدمعاشوں اور مافیاز کے قبضے ہیں، یہی حال تبلیغی جماعت کا لگتاہے!
مولانا الیاس نے تبلیغ کا کام شروع کیا تو اپنوں سے زیادہ غیروں نے پذیرائی بخش دی تھی اور یہ بات میں رجماً بالغیب نہیں کہتا ہوں بلکہ بچپن میں جب تبلیغی جماعت میں وقت لگایا تھا تو بریلوی مساجد کے بعض ائمہ بھی تبلیغی جماعت کو غیرمتنازع کہتے تھے۔ ہمارے مرشد حاجی عثمان کراچی کی جس مسجد میں عصر سے عشاء تک بیان کرتے تھے تو اسکے خطیب وامام مشہور مبلغ مولانا شفیع اوکاڑوی تھے، جس کو تعصبات پھیلانے پر مسجد کے متولی نے بروزِ جمعہ منبر سے اتارا اور حاجی عثمان سے تقریر کرنے کاکہا اور اوکاڑوی صاحب کو بتایا کہ تقریر ان سے سیکھ لو۔ پھر آہستہ آہستہ مولانا اوکاڑوی نے بستر گول کیااور مسجد نور جوبلی رنچھوڑ لائن کو چھوڑ کر گلزار حبیب مسجد کارُخ کیا۔ جہاں سے مولانا الیاس قادری نے دعوت اسلامی کا آغاز کیا تھا۔
پہلے تو اکابر اللہ والے ہوا کرتے تھے،اب جوکروں نے مشیخت کا لباس زیب تن کیا ہے۔ تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی اور مدارس کے علاوہ تمام مذہبی جماعتوں کے نیک لوگ امت کا بہت بڑا اثاثہ ہیں مگر انکے بڑے اکابر نے دانستہ یا نادانستہ طور پر مفادات کو شغل بنایا ہے۔
ہرمکتب فکر، گروہ، جماعت اور تنظیموں میں اچھے برے لوگ ہیں۔ اچھوں کی تعداد بروں کے مقابلے میں زیادہ ہی ہوتی ہے لیکن بدمعاش طبقہ سب پر غالب رہتا ہے اور پیدا گیر قسم کا ٹولہ ہمارے شیخ حاجی عثمان کی خانقاہ پر بھی براجمان تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی حاجی عثمان کے خلیفہ سروربھائی النور والے نے دعوت کی تھی تومجھ سے جمعیت والوں نے پوچھا، میں نے کہا کہ ڈٹ کر کھاؤ، اچھا آدمی ہے۔ پھر ان کو جمعیت کا فیڈرل بی ایریا کا امیر بنانے کی تجویز آئی تو میں نے منع کردیاکہ ”یہ خبیث سدھرے گا، گدھے کی طرح کارکن بناکر اس سے کام لو”۔ میں نے کہا کہ دوسرے خلفاء بھی ایسے ہی ہیں تو سب حیران تھے مگر پھر ثابت ہوا۔
حاجی عثمان کے خلفاء ٹی جے ابراہیم اور الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا حال
طیب، جاوید ، ابراہیم نے 1500ر وپے سے چائے کا مشترکہ کام شروع کیا، حاجی عثمان نے دعا دی اور وعدہ لیا کہ اپنی ضروریات کے علاوہ منافع دین کیلئے خرچ کروگے۔ برکت کی انتہاء ہوگئی تو یتیم اور بیواؤں کا سرمایہ بھی شریک کرلیا۔ علماء ومفتیان نے اپنا سرمایہ بھی لگانے کی استدعا کردی۔ حاجی عثمان نے کمپنی کو شرعی قوانین مرتب کرکے اجازت دی۔ مضاربہ کی کمپنی کی یہ شرائط تھیں کہ ” 40 فیصد منافع سرمایہ کار اور60کمپنی کا ہوگا۔سرمایہ واپس لیتے وقت ایک ماہ پہلے اطلاع دینی ہوگی اور اس اطلاعی مدت کا منافع نہیں ملے گا”۔ جبکہ کمپنی کا ایجنٹ بھی سرمایہ کار سے 2فیصد منافع لیتا تھا۔ بڑے علماء ومفتیان سب ایجنٹ بن گئے تھے۔ حاجی عثمان کی خانقاہ پر جلی حروف سے لکھا تھا کہ ” رسول اللہ ۖ تشریف لائے اور فرمایا کہ حاجی محمد عثمان کا کوئی مرید ضائع نہ ہوگا،الّاا سکے جو اخلاص سے نہ جڑا۔ خلیفہ اول محمدابراہیم”۔
پھر حاجی عثمان نے تبلیغی جماعت کی طرف سے ٹی جے ابراہیم سے لاتعلقی کااظہار کرنے کے بعد کمپنی کو بند کرنے کا حکم دیا لیکن انہوں نے نام بدل کر ”الائنس موٹرز” رکھ دیا۔ پھر پتہ چل جانے سے بچنے کیلئے بڑے گر استعمال کئے اور آخر کار حاجی عثمان کو بیماری کا جھوٹ بناکر گھرمیں نظر بند کردیا گیا۔ چہیتوں نے آنکھیں پھیر یں اور بدمعاشی پر اتر آئے۔ اکابر علماء و مفتیان نے الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا ساتھ دیا، لوگوں کا سرمایہ پھنسا بیٹھے تھے لیکن سازش، اسلام کو غلط استعمال کرنیکی بھی حد ہوتی ہے، انہوں نے تمام حدود پھلانگ لئے تھے مگرحاجی عثمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تھا جو سید عتیق الرحمن گیلانی جیسا مرید بھی عطاء کیا تھا۔ ہم ان فتوؤں پر علماء ومفتیان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکیونکہ حاجی عثمان کی شخصیت کے گرد حصار ٹوٹنے سے کئی بڑوں کے چہروں سے نقاب اترا،البتہ قرآن کی طرف توجہ دینی ہوگی۔
سورہ المطففین کے پہلے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں
ویل للطففینOالذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفونOواذا کالوھم او وزنوھم یخسرونOالایظن اولٰئک انھم مبعوثونOلیوم عظیمOیوم یقوم الناس لرب العٰلمینOکلا ان کتاب الفجار لفی سجینOوماادراک ما سجینOکتاب مرقومO ویل یومئذٍ للمکذّبینOالذین یکذبون بیوم الدینOومایکذب بہ الاکل معتدٍ اثیمٍOاذا تتلٰی علیہ آیٰتناقال اساطیر الاولینOکلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبونOکلا انھم عن ربھم یومئذٍ لمحجوبون Oثم انھم لصالوا الجحیمOثم یقال ھٰذا الذی کنتم بہ تکذبونO”تباہی ہے کمی کرنے والوں کیلئے جب لوگوں پر بانٹنے کیلئے تولتے ہیں تو پورا پورا حساب شمار کرتے ہیں اور جب چندہ بٹورنے کیلئے ناپ یا تول کا حساب لگاتے ہیں تو اس میں گھٹانے کا کام کرتے ہیں۔ کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ ایک دن ان کی پیشی ہونے والی ہے،ایک بڑے دن کیلئے۔ جس دن لوگ کھڑے ہونگے اپنے رب العالمین کے سامنے؟۔ ہرگز نہیں،فاجروں کا حساب کتاب جیلوں میں ہوگا اور تمہیں کیا معلوم کہ جیل کیا ہے؟۔ لکھے ہوئے رجسٹر ہونگے۔ وہ دن تباہی کاہوگا جھٹلانے والوں کیلئے۔ جو جھٹلاتے ہیں ،آخرت کے دن کے ذریعے( کہ حساب کتاب وہاں ہوگا) اور اس کے ذریعے سے کوئی نہیں جھٹلاتا مگر ہر حد سے گزرا ہوا گناہگار۔ جب اسکے سامنے ہماری آیات کو تلاوت کیا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کے قصے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ انکے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ جو انہوں نے کمایا ہے اسکے سبب۔ ہرگز نہیں ،اس دن وہ اپنے رب سے حجاب میں ہونگے۔ پھر یہ جحیم میں پہنچ جائینگے اور ان سے کہا جائیگا کہ یہ وہی ہے جسکے ذریعے سے تم جھٹلاتے تھے”۔
آج چندہ لیاجارہاہے اور اسلامی انقلاب کے عظیم دن حساب کتاب بھی ہوگا
قرآن بہت واضح عربی زبان میں ہے۔ پوپ فرانس سے لیکر امریکی جوانوں تک مظالم کا احساس ہوگیا ہے۔ کرونا وائرس کے متاثرین کیلئے چندوں کی ضرورت ہے ،چندہ لینے والے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں نہیں آخرت میں ہم اپنا حساب کتاب دیںگے۔ وہ اپنی بداعمالیوں کو آخرت کی سزا اور جزا سے جوڑ کر اپنی جان چھڑاتے ہیں۔ برے لوگوں کا حساب کتاب جیل ہے اور انکا اعمالنامہ رجسٹر میں درج ہوگا۔ حکمرانوں ، سیاستدانوں، جرنیلوں،آفیسروں کے علاوہ این جی اوز، مذہبی وسیاسی جماعتوں اورسماجی کارکنوں میں نیک وبدکی تفریق کا حساب دنیا ہی میں سامنے آئیگا۔ نسل، رنگ، زبان، ملک اور مذہب کی تفریق کے بغیر اچھے لوگوں کی قدرومنزلت دنیا ہی میں ہوگی۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بنایا ہے۔
عالمی اسلامی نظام کی طرف دنیا کا سفر شروع ہے۔ شدت پسندی ،فرقہ پرستی اورمفاد پرستی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔ انشاء اللہ۔ زنگ آلودہ دلوں کے فتح ہونے کا وقت آگیا ہے اور سب کا اعتقاد قرآن کے مطابق بنے گا کہ ذرہ برابر شرہو یا خیر اس کو انسان دیکھے گا۔
سورۂ مطففین میں دنیاوی انقلاب عظیم کا بھی ذکر ہے، علماء ومفتیان غور کرینگے؟
جب رسول اللہ ۖ کے دور میں مکہ فتح ہوا، انقلاب عظیم آگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام کو قبول کرکے اسلام میں داخل ہونے لگے مگر وہ اپنے رب سے حجاب میں تھے۔ ابوسفیان و دیگر افراد کیلئے معافی عام کا اعلان نارِ نمرود سے کم نہیں تھا۔ نبیۖ کا وصال ہوا تو بہت لوگ فوج در فوج پھر اسلام سے مرتد ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام کیلئے کافروں کا فیصلہ جحیم میں ڈالنے کاتھا مگر اللہ نے آگ کو سلامتی والا ٹھنڈا بنادیا۔ نبیۖ نے فتح مکہ پر معافی دی۔ کافر ومؤمن میں یہ فرق ہے کہ کافر آگ میں جھونکتے ہیں اور مسلمان معاف کرنے کوہی اپنا شعار سمجھتے ہیں۔
کلا ان کتٰب الابرار لفی علیینO………………ھل ثوّب الکفار ماکانوا یفعلونO”ہرگز نہیں! نیکی کرنیوالوں کارجسٹر بلند پایہ مقام پر ہوگا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ بلند پایہ مقام کیا ہے؟۔ یہ ایک لکھا ہوا رجسٹر ہے جس کا مشاہدہ مقربین کرینگے۔ (اسلامی انقلاب کے بعد اعلیٰ ترین لوگ) بیشک نیکی کرنے والے مسندوں پر بیٹھ کر نظارے دیکھتے ہونگے۔ انکے چہروں پر آپ نعمتوں کا نظارہ دیکھوگے، ان کو سیل بند اعلیٰ شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی سیل ہوگی۔ اس میں رشک والے ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے۔ جسکاوصف تسنیم ہوگا، یہ چشمہ ہوگا جس سے مقرب لوگوں کو پلایا جائیگا۔ بیشک مجرم لوگ ایمان والوں پر ہنستے تھے اور جب انکے قریب سے گزرتے تھے تو اشارہ بازی کرتے تھے۔ جب وہ اپنے گھروں میں لوٹتے تھے تو مزے لیتے تھے۔ جب وہ انکو دیکھ لیتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ وہ گمراہ لوگ ہیں اور ان پر انکو نگران بناکر نہیں بھیجاگیا تھا۔ تو آج ایمان والے کفر والوں پر ہنسیں۔مسندوں پر بیٹھ کر نظارہ دیکھیں۔ کیا کفار کو ثواب مل گیا جو وہ کرتے تھے؟”۔ یہ سورة المطففین عظیم انقلاب کی خبر دے رہی ہے۔ کاش دنیا اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
جس انقلاب عظیم سے زمین اور آسمان والے دونوں خوش ہوں تو اسکاذکرہے؟
سورۂ مطففین میںان ایمان والوں کا بھی ذکر ہے جس کو دیکھ کر جھٹلانے والے ہنستے تھے۔ خلافت علی منہاج النبوة کے قیام میں سیدھے سادے مگر مخلص لوگوں کا بنیادی کردار ہوگا، جن لوگوں نے قرآن کے واضح احکام کے باوجود بھی ان کو قبول کرنے سے انکار کیا ہوگا تو کفرکے معنی ہی اصل میں انکار کرنے کے ہیں۔ عربی میں منکرین کا ترجمہ الذین کفروا ہے۔جس جگہ حق کا پرچار کیا جائے تو ایک منکرین کا درجہ ہوتا ہے اور دوسرا مکذبین کا درجہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مکذبین کا مقام حاصل کیا ہوتا ہے تو وہ منکرین سے بھی سخت ہے۔
اگر دنیا میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوجائے تو پھر لوگ دو حصوں میں تقسیم ہونگے،ایک فجار(حقوق العباد کو پامال کرنے والے) اور دوسرے ابرار( حقوق العبادکیلئے خدمات انجام دینے والے)۔ ایک عذاب نبوت کی تکذیب کی وجہ سے آتا ہے۔ وماکنا معذبین حتیٰ نبعث رسولا، ”ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کوئی رسول مبعوث نہ کردیں”۔نبیۖ کی ختم نبوت کی وجہ سے اب کسی قوم پرایسا عذاب بھی نہیں آسکتا ہے۔ البتہ ظلم وزیادتی، سود اور مختلف منکرات کی وجہ سے اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ دنیا میں سودی نظام عذاب کا ذریعہ ہے۔ جب پاکستان اور دنیا میں مزارعین کو مفت زمینیں دی جائیںگی اور سودی نظام کا خاتمہ ہوگا تو پھر ایک عظیم انقلاب کی آمد ہوگی۔ جنہوں نے ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کامظاہرہ کرتے ہوئے غریب غرباء کے نام پر زکوٰة ، صدقات ، چندے بٹورے ہیں تو ان کو سونڈ پر داغا جائیگا۔ باقی اگر دنیا میں شراب کی بات ہوتو شرابی ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے اور مفتی تقی عثمانی کی طرح مفتی محمود کی طرف سے بدتر قرار دینے کے باوجود کسی کو اصرار کرکے مشروب نہیں پلائی جائے گی۔اس عظیم انقلاب کے نقشے میں دنیا کی خوشحالی ہوگی۔
سورۂ المطففین کے بعد متصل سورۂ انشقاق میں بھی انقلابِ عظیم کا ہی منظر ہے
اذا السماء انشقتOواذنت لربھا وحقتO…….” اور جب آسمان پھٹ پڑیگا اور اسکے رب کی طرف سے اجازت مل جائے گی اور یہی حق ہے۔اور جب زمین کھینچ جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے سب اُگل دے گی اور خالی ہوجائے گی۔اسکے رب کی طرف اس کو اجازت ہوگی اور یہی حق ہے۔ …………………”۔ یہ تو طے ہے کہ احادیث میں آتا ہے کہ انقلابِ عظیم کے دور میں زمین اپنے خزانے اُگل دے گی اور آسمان سے خوب بارشیں ہونگی مگریہاں آسمان سے پھٹ پڑنے سے مترجمین اور مفسرین نے قیامت مراد لیا ہے۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ”قرآن کی تفسیر زمانہ کریگا”۔ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔ سورۂ الشوریٰ میں آئندہ کے حالات اور آسمان پھٹنے کا پسِ منظر ہے۔ تکاد السمٰوٰت یتفطرن من فوقھن والملٰئکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھوالغفور الرحیمO ”قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے انکے اوپر سے اور ملائکہ پاکی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کیساتھ۔ اورجو زمین میں ہیں ،ان کیلئے استغفار کرتے ہیں۔خبردار! کہ بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (الشوریٰ :5)
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ” قریب ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑے”۔(آسان ترجمہ قرآن کا حاشیہ)۔حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ” مغفرت کی طرف دوڑ پڑو، جو جنت عطاء کریگا جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے”۔
اللہ نے شوریٰ میں واضح کیا ہے کہ …. اور فرقو میں مبتلاء نہ ہوئے مگر علم کے بعد آپس کی بغاوت سے۔اگر تیرے رب کی طرف سے لکھا نہ ہوتا توانکے درمیان فیصلہ کرچکا ہوتا۔ بیشک جن کو کتاب کا وارث بنایاگیاانکے بعد تو وہ شک میں پڑے ہیں شبہ کیوجہ سے ”
سورۂ انشقاق سے دنیاوی انقلاب کی خبر مرادہے جو اسکی آیات سے واضح ہے!
سورۂ شوریٰ میں بہت حقائق واضح ہیں جس میں آسمان پھٹنے اور فرشتوں کا زمین والوں کی مغفرت طلب کرنا اور اللہ کا جلال واضح ہوناکہ اگر پہلے سے لکھا نہ جاچکا ہوتا تو کتاب کے بہت نالائق وارثوں پر غضب الٰہی کا آسمان سے فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ لیکن اللہ غفور رحیم ہے۔ جب تک آسمان کے پھٹ جانے کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ظالموں کو مہلت بھی ہوگی۔ جب آسمان پھٹے گا تو پھر ظالموں کی مہلت بھی ختم ہوگی۔ زمین کے خزانے اُگلنے کی بات تقاضہ کرتی ہے کہ مؤمنوں کیلئے خوشخبری کا پیغام ہو۔اللہ نے فرمایا کہ ” اوراسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی عربی قرآن کی تاکہ آپ ڈرائیں اہل مکہ کو اور جو انکے ارد گرد ہیں اور ڈرائیں جمع ہونے والے دن کیلئے جس میں کوئی شک نہیں ہے، فریق فی الجنة وفریق فی السعیر”ایک گروہ جنت (خوشی میں ہوگا) اور دوسرا گروہ سعیر(پاگل پنے میں ہوگا) ۔ (الشوریٰ:7)
ےٰاایھاالانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً فملٰقیہO…..” اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف مشقت اٹھاکر چل رہاہے اور اس سے سامنا کرنا ہے۔ پس جس کو دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ مل جائے تو عنقریب اسکا آسان حساب لیا جائیگا اوروہ اپنے اہل کی طرف خوش ہوکر لوٹے گااورجس کو پیٹھ پیچھے اس کا اعمالنامہ دیا جائے تو وہ موت پکاریگا اور پاگل پن میں پہنچ جائیگا۔ بیشک وہ اپنے اہل وعیال میں خوش تھااور اس کا گمان تھا کہ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔جی ہاں! اللہ اس کے کرتوتوں کو بخوبی دیکھ رہاتھا۔ ( الانشقاق:آیت6تا15)
یہ دنیا میں حساب کتاب اور گھر کے سربراہ کی بات ہے، آخرت میں تو انسان اپنے بھائی، ماں باپ، بیوی اور بچوں سے بھاگے گا۔ سب کا اپنا اپنا حساب ہوگا لیکن دنیا میں گھر کا سربراہ حساب کتاب دیگا۔ بیوی بچوں ،اہل وعیال کا کوئی قصور بھی نہ ہوگاجس پر پکڑ ہو۔
سورۂ انشقاق کے آخری حصہ میںبھی پہلے اور درمیانہ حصے کی طرح انقلاب کی خبر!
فلآ اقسم بالشفقOوالیل وماوسقOوالقمر اذا تسق Oلترکبن طبقًا عن طبقٍOفمالھم لایؤمنونO…………” پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی اور رات کی جب وہ سمیٹ لے اور چاند کی جب وہ کامل بنے۔ تم نے ضرور ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ کی طرف سوار ہو آنا ہے۔ پس ان کو کیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے؟اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟۔بلکہ جنہوں نے انکار کیا، وہی لوگ جھٹلاتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا جمع کررکھا ہے۔ پس ان کودردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔مگر جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے صالح عمل کئے تو ان کیلئے بدلہ ہے کبھی نہ ختم ہونے والا”۔
رات کی سرخی انقلاب ہے ، جب رات کی طوالت آخری حد کو پہنچ جائے تو سب کچھ سمیٹ لیتی ہے۔ رات جل اٹھتی ہے شدتِ ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
چاند کا مکمل ہوکر طلوع ہونا بھی رات کے اندھیرے میں اچھی علامت ہے۔ حدیث میں نبوت ورحمت کے دور کے بعد امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے بعد پھر طرزِ نبوت کی خلافت کا دور ہے۔ جس کو امت مسلمہ کے سارے طبقات مانتے ہیں مگر پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ہیں؟۔ جب قرآن کی آیات سامنے آجائیں تو پھر بھی اپنے فقہی کمالات بھگارتے ہیں مگر قرآن کی نہیں مانتے ہیں۔ یہی وہ کفر کرنے والے ہیں جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا ہے۔
جب بھی انقلاب عظیم آئیگا تو بڑے بڑوں کی پول کھلے گی۔ ہوسکتا ہے کہ انقلاب زیادہ دور نہ ہو۔ سورۂ جمعہ، سورۂ واقعہ ، سورۂ شوریٰ ، سورہ ٔ مدثر ، سورۂ دھر، سورۂ مطففین، سورۂ انشقاق اور اس سے متصل سورۂ البروج کے علاوہ سورہ الفجر اور سورہ البد وغیرہ میں انقلاب عظیم کی خبر بڑی وضاحتوں کیساتھ موجود ہے مگر قرآنی احکام اور معاملات کی طرف توجہ کرنی ہوگی۔
کیا یوم انقلاب کی خبر سے بے خبر ہیں؟
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
سورہ دھر نصیحت ہے اور اس کو دیکھ کر کوئی بھی اپنے رب کا راستہ پکڑسکتا ہے!
سورہ دھر کے آخر میں اللہ نے ارشاد فرمایا:انّ ہذہ تذکرة فمن شاء اتخذ الیٰ ربہ سبیلًاOوما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیمًا حکیمًاOیدخل من یشاء فی رحمتہ والظٰلمین اعدّلھم عذابًا الیمًاO ”یہ ایک نصیحت ہے۔پس جو چاہے اپنے رب کا راستہ پکڑلے۔ مگر تم نہیں چاہ سکتے ہو جب تک اللہ نہیں چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ اور ظالموں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔ (سورۂ دھر)
جب انسان کا مطمع نظر آخرت ہو تو وہ غیب پر ایمان رکھ کر دنیا کی زندگی میں قربانیاں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم دل وجان سے مانگتا ہے۔ پھر اس کیلئے اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب ظالم نہیں چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپناراستہ نہیں دکھاتا ہے۔
ہماری زندگی بفضل تعالیٰ قربانیوں سے عبارت ہے۔ جب مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء ومفتیان نے کفر والحاد کے فتوے لگائے تھے تو شیخ الحدیث مولانا علاء الدین ڈیرہ اسماعیل خان کے صاحبزادے مولانا مسعودالرؤف میرے ہم جماعت اور کمرے کے رومیٹ تھے۔ علماء ومفتیان کے متفقہ فتوے کا اشتہار اس نے لگایا تھا اور میں نے پھاڑ ڈالا۔ اسکے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ پھر ایک نظم لکھ ڈالی جس سے فتوے کو شکست ہوئی تھی۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ میں جدوجہد کررہاتھا اور تم فتوے لگارہے تھے؟ میں تمہارے فتوے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ اکابر علماء ومفتیان نے حاجی عثمان پر فتویٰ لگایا تو بھی اللہ نے سرخرو کیا تھا۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ کے علماء ومفتیان نے مل کر ہم پر فتوے لگائے تو بھی منہ کی کھانی پڑی مگر پھر بھی ان کوشرم نہیں آئی۔ واہ جی واہ!۔
قرآن میں متشابہات کی تفسیر زمانہ کرتاہے مگر واضح آیات ابہام کی متحمل نہیں !
والمرسلٰت عرفاOفالعٰصفٰت عصفاOوالنٰشرٰت نشراOفالفٰر قٰت فرقاOفالملقےٰت ذکراOعذرا او نذراOانما توعدون لواقعO
”قسم ہے معروف طریقے سے بھیجی جانے والیوں کی، جوپھر طوفانی کیفیت برپا کرتی ہیں اور نشر ہوجاتی ہیں اچھی طرح سے نشر ہونا۔پھر تفریق پیدا کرتی ہیں اچھے طریقہ سے۔پھر وہ نصیحت کو (دلوں میں) القاء کردیتی ہیں۔کوئی عذر پیش کرتا ہے اور کوئی ڈرتا ہے۔ بیشک جس (یوم انقلاب عظیم)کا تم سے وعدہ ہے وہ ضرور واقع ہونے والا ہے۔(سورۂ : المرسلات)
سیدابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک والمرسلات عرفا” پے در پے بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں” ۔دوسرے العٰصفٰت عصفا” بہت تیزی اورشدت کیساتھ چلنے والیاں”۔ تیسرے النٰشرٰت نشرا” خوب پھیلانے والیاں”۔چوتھے الفٰرقتِ فرقا: الگ الگ کرنے والیاں۔ پانچویں الملقےٰت ذکرا ”یادکا القاء کرنے والیاں”۔ چونکہ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں کہ یہ کن چیزوں کی صفات ہیںاسلئے مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ پانچوں صفات ایک ہی چیز ہیں یا الگ الگ چیزوں کی۔ اور وہ چیز یا چیزیں کیا ہیں ۔ایگ گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد فرشتے ہیں۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور دوسرے دو فرشتے۔ چوتھا کہتا ہے کہ پہلے تین فرشتے دوسرے دو ہوائیں۔ایک گروہ کی رائے یہ پہلے سے مراد ملائکہ رحمت، دوسرے سے مراد ملائکہ عذاب اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں”۔تفہیم القرآن میں مختلف تفاسیر ہیںلیکن اگلے صفحات پر غور کریں۔
مفسرین نے قرآن کی واضح آیات کومختلف آراء کی ہواؤں کے رحم وکرم چھوڑ دیا!
مفسرین خود ہی مختلف آراء میں سرگرداں ہونگے تو عوام اور کافروں کی کیا رہنمائی ہوگی؟۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار انبیاء کرام اور انکے معاندین کا ذکر کیا ہے، انبیاء کرام کے ذریعے واضح رسالات اور پیغامات کا ذکر کیا، صحف ابراہیم و موسیٰ کا ذکر کیا ہے۔ جب بھی یہ رسالات یا پیغامات لوگوں تک پہنچی ہیں تو اس کے ذریعے سے طوفان کھڑے ہوئے ہیں اور جب یہ خوب نشر ہوتے ہیں تو حق و باطل کے درمیان تفریق وامتیاز کھڑی کردیتی ہیں۔ عوام اور خواص کے دلوں تک جب حقیقت پہنچ جاتی ہے تو اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے میں لوگوں کو عذر یا خوف در پیش ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہ دن پہنچ جاتا ہے جس میں دنیا ہی کے اند ر باطل کے عذاب اور اہل حق کی نجات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ جب تک نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رہا تو یہ رسالات وپیغامات بھی لوگوں کو معروف طریقے سے ملتے رہے لیکن جب ختم نبوت کے بعد ان رسالات کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا تو قرآن کی شکل میں قیامت تک کیلئے یہ محفوظ ہے۔ البتہ قیامت سے پہلے بھی عظیم انقلاب کی خبر ہے جس کو مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ”ا حیائے دین ” میں واضح کیا ہے اور سب مسلمان اپنے اپنے دائرے میں اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب اسلام ہربنگلہ اور جھونپڑی میں داخل ہوگا لیکن قرآن کی طرف توجہ کی ضرورت شاید کسی نے محسوس نہیں کی الاماشاء اللہ کہ اس یوم الفصل کی بات بہت واضح ہے۔
یوم موعود سے مرادقیامت نہیں بلکہ انقلابِ عظیم کا دن ہے۔قرآن آسمانی کتب و صحائف کا مجموعہ ہے اور ایک دن دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب قرآنی انقلاب کے تحت جمع ہوںگے۔ قرآن اسلئے نازل نہیں ہوا کہ نزول کے وقت کے بعد قیامت تک اسکے راز پوشیدہ رہیں بلکہ دنیا میں ایک لمبے عرصہ تک قرآن کی بنیاد پر دنیا نے ہدایت سے فائدہ اٹھاناہے۔
قرآن میں استعارات کی زبان متشابہات کا راز کھلے توپھریہ محکمات بنتے ہیں
جب انقلاب کا دن آجائیگا تو چاند، سورج اور ستاروں کی طرح پوجے جانے والے لوگوں کی حیثیت ماند پڑجائے گی۔ مذہب اور سیاست میں آفتاب ومہتاب کی لیڈر شپ تو ویسے نہ ہوگی مگر ستارے سمجھے جانے والے بھی اپنی حیثیت ایسی کھو دیںگے جس طرح روزانہ دن کے نکلتے ہی ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ آسمان سے خوشیوں کی بہار آئے گی اور علم کے بڑے پہاڑ سمجھے جانے والے اُڑ جائیںگے۔ فرشتوں کی مدد کا وقت آجائیگا۔ فیض احمد فیض نے جس انقلاب کا ذکر اپنے اشعار میں کیا تھا وہ منظر نقارۂ خدا بن کر عوام میں بجنا شروع ہوجائیگا۔
المرسلات میں آگے اللہ فرماتا ہے۔ فاذا النجوم طمستOواذا السماء فرجت Oواذالجبال نسفت Oواذا لرسل اقتتO لایّ یوم اجلتOلیوم الفصلOوما ادراک ما یوم الفصلO ویل یومئذٍ للمکذّبینO………… ”پھرجب ستارے ماند پڑجائیںگے اورجب آسمان سے خوشیاں آئیںگی۔ جب پہاڑ اُڑ جائیںگے۔ جب فرشتوں کی آمد کا وقت پہنچے گا۔ یہ کس دن کیلئے جلدی کررہے ہیں۔ فیصلے کے دن کیلئے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟۔ تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہ کیا اور پھر انکے بعد والوں کو انکے پیچھے (ہلاک ) نہیں لگایااور ہم ایسا ہی مجرموں کیساتھ (دنیا ہی میں )کرتے ہیں۔ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟۔ پھر ہم نے اسے بنایامحفوظ ٹھکانے میں۔ معلوم مدت تک اور ہم نے تقدیر مقرر کی اور ہم اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، تباہی ہے ہلاکت والوں کیلئے ۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والا نہ بنایا۔ زندگی اور اموات میں”۔ عربی میں فرج عام طور پرخوشی ہی کو کہتے ہیں۔انقلاب مؤمنوں کیلئے خوشیوں ہی کا باعث بنے گا۔
قیامت سے پہلے دنیا میں عظیم انقلاب کے ذریعے بھی قرآن کا اعجاز ثابت ہوگا
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قیامت سے پہلے دنیا میں بھی عظیم انقلاب کے ذریعے خاکہ پیش کردیا ،تا کہ لوگوں کیلئے حق اور باطل کا راستہ قیامت کے دن تک واضح رہے گا لیکن انسان پھر آخر انسان ہے اور جب تک دنیا قائم رہے ،انسان غفلت کا شکار ہوتا رہے گا۔وسعت اللہ خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے جو تحریر لکھ دی وہ جلی حروف کیساتھ ہی نہیں مرثیہ وغیرہ کی طرح میڈیا کے تمام چینلوں پر بار بار پڑھ کر سنانے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
سورۂ واقعہ میں قیامت کا پورا نقشہ ہے جس میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہونگے۔ ایک مقربین جو پہلوں میں سے بڑی جماعت اور آخرین میں تھوڑے ہونگے۔ دوسرے اصحاب الیمین جو پہلوں میں بھی بڑی جماعت ہوگی اور آخر میں بھی بڑی جماعت ہوگی۔ تیسرے کو اصحاب المشئمہ قرار دیا گیاہے۔ مقربین کو جو شراب پیش کی جائے گی تو اس سے سر چکرائے گا اور نہ عقل میں کوئی فتور آئیگا۔ دنیا میں بھی انقلاب کے ذریعے آخرت کا نقشہ سامنے آئیگا۔
مرسلات میں فرمایا: وجعلنافیھارواسی شٰمخٰت وا سقینٰکم مائً فراتاOویل یومئذٍ للمکذبینO……….”اور ہم نے اس میں بلند پہاڑ بنائے اور تمہیں میٹھا پانی پلایا اور تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ پس اب چلو،اس کی طرف جسکے ذریعے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو اس سایہ کی طرف جو تین قبیلے( اقسام) والا ہے۔ جو نہ سایہ دار ہے اور نہ شعلے سے مستغنی کرنے والا ہے۔ بیشک یہ محل کی طرح بگولے پھینکے گا۔ گویا کہ وہ سرخ اونٹ ہیں۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ یہ دن ہے جب وہ بولتے نہ ہونگے اور نہ ان کو اجازت ہوگی کہ معذرت پیش کریں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے”۔صرف طلاق و حلالہ پر تین کتابیں،کافی مضامین اور فتاویٰ لکھ دئیے مگر ڈھیٹ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
مجرموں کو تھوڑا فائدہ اُٹھانے کا ذکر ہے اسکا تعلق دنیا کے انقلاب ہی سے ہے!
درسِ نظامی کی بنیادی تعلیم، قرآن کی تحریف، سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے اور نبیۖ کی سخت ترین توہین کے ارتکاب سے لیکر ایک ایک چیز کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ انقلاب کا وقت آئیگا اور ہم دلائل کے آگ کے بڑے بڑے بگولے سے نشانہ بنائیںگے تو یہ بالکل سرخ اُنٹوں کی طرح نشانہ بننے کیلئے تیار ہونگے۔ پھر وہ بولیںگے بھی نہیں اور حلالہ کی لعنت کا شکار کرنے والی مخلوق اس قابل بھی نہیں ہوگی کہ ان کو معذرت کی اجازت دی جائے۔
اللہ نے مرسلات میں فرمایا: ھٰذا یوم الفصل جمعنٰکم والاوّلینOفان کان لکم کید فکیدونO ویل یومئذٍ للمکذبینO ……..’.’یہ جدائی کا دن ہے۔ہم نے تمہیں اور پہلوں کو جمع کرلیا( جیسا پہلوںکو اہل حق کے سامنے مجبور کردیا تھا ،اسی طرح تمہیں کردیا) پس اگر تم کوئی چال چل سکتے ہو تو کرکے دکھاؤ۔تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ بیشک متقی لوگ اس دن سایہ میں ہونگے اور لوگوں کی نظروں میں(چڑھے ہونگے) اور پھلوں تک ان کی رسائی ہوگی ،ان میں سے جو وہ چاہتے ہونگے۔کھاؤ ، پیو مزے سے جو تم نے عمل کئے۔ بیشک ہم اس طرح نیکوکاروں کو بدلہ دیتے ہیں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ تم بھی کھاؤ اور تھوڑا فائدہ اٹھالو بیشک تم مجرم ہو۔ تباہی اس دن جھٹلانے والوں کیلئے اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جھک جاؤ ،تو نہیں جھکتے تھے۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ اس( واضح کلام کے احکام) کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیںگے؟”۔ (سورہ المرسلات)
ہم دعوت دیتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن ، علامہ شہنشاہ حسین نقوی اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہ درسِ نظامی اور مذہبی طبقات کی طرف سے دین کو مسخ کرنے کے رویہ پر میڈیا میں ہی ہم سے بات کریں تو بھی انقلاب آجائے گا۔
اطلاق النار بندوق کی فائرنگ کو کہتے ہیں، قرآن زمان وکمان پر حاوی ہے
ہم نے دیکھا کہ حاجی عثمان کے ساتھ علماء ومفتیان نے کیا رویہ رکھا تھا۔ اس کی تفصیل کبھی سامنے آئے گی۔ لوگ حیران ہونگے کہ بڑے بڑوں نے کس قدر ضمیر فروشی کا مظاہر ہ کیا تھا۔ اور ہماری جیت کے باوجود کھڈے کھودنے والوں کو کتنی رعایت دی گئی۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے کس طرح مولانا فضل الرحمن کے ایماء پر کھڈا کھودا تھا مگر پھر وہ انجام کو پہنچ گئے، اس کی بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ جب کبھی موقع ملے گا اور ضرورت ہوگی تو ایک ایک بات آمنے سامنے بیان کرنے میں بہت مزہ آئیگا۔پھر وہ وقت آیا کہ طالبان نے میری وجہ سے ہمارے گھر کو نشانہ بنایا۔ میزائل، راکٹ لانچروں اور بموں کیساتھ چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں کیساتھ دھماکوں سے گونجتا رہااور بہت سے معجزانہ طور پر بچ گئے اور کئی ساروں کو شہادت کی منزل پر پہنچادیا۔ پچھلی تحریر میں سورہ الانشقاق کا ذکر کیا تھا اور اب اس سے متصل سورۂ البروج کے اندر ”یوم موعود” کے حوالے سے حقائق دیکھ لیں۔
والسماء ذات البروج Oوالیوم الموعودOوشاہدٍ ومشہودٍOقتل اصحاب الاخدودO النار ذات الوقودOاذھم علیھا قعودOوھم علی مایفعلون بالمؤمنین شہودO ومانقموا منھم الا ان یؤمنوا باللہ العزیزالحمیدOالذی لہ ملک السمٰوٰت والارض واللہ علیٰ کل شی ء شہیدOان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنات ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریقO………….”قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور جس دن کا وعدہ ہے اورگواہ اور جس کی گواہی دی جائے۔ مارے جائیں گڑھے کھودنے والے، ایندھن والی آگ کی۔جب وہ اس پر بیٹھے تھے اور مؤمنوں کیساتھ جو ہورہاتھا ،اس پر گواہ تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ماضی کی طرح مستقبل کے حالات بھی قرآن میں بیان کئے ہیں!
اور ان سے انتقام نہیں لے رہے تھے مگراسلئے کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جوبڑا زبردست اور تعریف کے لائق ہے۔وہی جس کیلئے آسمان اور زمین ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بیشک جن لوگوں نے آزمائش میں ڈلا مؤمنین و مؤمنات کو اور پھر انہوں نے توبہ نہیں کی تو ان کیلئے عذاب ہے جہنم کا اور ان کیلئے عذاب ہے جلانے والا۔ بیشک جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کیلئے باغات ہیںجس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ بیشک وہ پہل کرتا ہے اور لوٹاتا ہے اور معاف کرنے والا محبت کرنے والا ہے۔ عظمت والے عرش کا مالک ہے۔جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ کیا آپ کو لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟۔ فرعون اور ثمود کی۔ بلکہ کفر کرنے والے جھٹلانے میں لگے رہتے ہیں اور اللہ نے ان کو پیچھے سے گھیر رکھا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں”۔
اللہ نے مجرموں کو معافی مانگنے کا راستہ دیا ہے لیکن انقلاب عظیم قربانیوں کے بغیر نہیں آسکتا تھا۔ نکاح وایگریمنٹ ،طلاق وخلع ، اسلامی حدود اوراسلامی خلافت کے تقاضوں سے علماء ومفتیان آگاہ کرنے پر کان دھرتے تو ہم بھی مشکلات کے شکار نہ ہوتے اور تائید کرنے والے بھی معاشرے میںاپنا بھرپور کردار اداکرتے۔ سب کے سب سرخرو ہوتے۔ جب ہم اسلام کے نام پر بینک کے سود کو اسلامی قرار دینے کے باوجود علماء ومفتیان کو شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کے القاب سے نوازیںگے تو غیر مسلموں کو کس اسلام کا سبق دیںگے؟۔ سوشلزم کے بعد دنیا میں کپٹلزم بھی ناکام ہوگیا ہے۔ اسلام واحد راستہ ہے جو دنیا کو ایک فطری نظام دے سکتا ہے۔ جمہوریت دولت کی لونڈی اور سیاستدان بھونڈے لوٹے ہیں۔ اگر درست اسلامی نظام کا معاشرتی اور بین الاقوامی ایجنڈا پیش کیا جائے تو پوری دنیا اسکاخیرمقدم کرے گی۔
حضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں عروج ملت کا روشن تارہ تھے
اپنے دور میںحضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں ایک روشن ستارے تھے، جن کی وجہ سے مخلوقِ خدا کو بہت فائدہ پہنچ رہاتھا۔ اعتکاف کیلئے 700آدمی بیٹھنے کیلئے تیار تھے مگر 350 افراد سے زیادہ کیلئے مسجدالٰہیہ خانقاہ چشتیہ سوکواٹر کورنگی کراچی میں جگہ نہیں تھی۔
دیوبندی ،بریلوی، جماعت اسلامی، اہلحدیث ، تبلیغی جاعت کے بڑے علماء ومفتیان اور فوجی افسران ، پولیس افسران وغیرہ سب بیعت تھے۔ سعودی عرب کے عرب بیعت تھے اور شام کے عرب بھی بیعت تھے۔آپ نے کہا تھا کہ تین قسم کے افراد میرے مرید ہیں۔ ایک تو دنیا دار ہیں، یہ تیسری جنس کھدڑے ہیں چھوڑ کر بھاگ جائیںگے۔ ایک آخرت والے ہیں جن کی حیثیت عورتوں کی ہے، ان میں مردانہ قوت نہیں ہوتی ہے۔پھر بھی بہرحال بہتر ہیں۔ تیسرے اللہ والے ہیں، یہ میدان کے مرد ہیں۔ انہوں نے اصل کام کرنا ہے۔ پھر وہی کچھ ہوا۔ کچھ لوگوں نے ہمارے ساتھ نکل کر خانقاہوں سے ادا کی رسمِ شبیری۔ماشاء اللہ
سورۂ البروج کے بعد سورۂ الطارق میں اللہ فرماتا ہے۔ والسماء والطارق Oوماادرٰک ما الطارقOالنجم الثاقبO………….”اور قسم ہے آسمان کی اور طارق کی اور آپ کو کیا معلوم کہ طارق کیا ہے؟۔ چمکتا ہوا تارہ ہے۔ ہر ایک جان پر ضرور کوئی نگہبان ہے۔ پس انسان دیکھ لے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟۔پیدا کیا گیاہے اچھلتے پانی سے۔جو پیٹھ اور سینے کے بیچ سے نکلتا ہے۔بیشک وہ اس کو لوٹانے پر بھی قادر ہے۔اس دن تو پوشیدہ راز واضح ہونگے۔تو اسکے پاس کوئی طاقت ہوگی اور نہ مددگار۔قسم ہے لوٹانے والے آسمان کی اور پھٹنے والی زمین کی۔ بیشک یہ فیصلہ کن بات ہے اور نہیں ہے کوئی مذاق۔وہ اپنی چال چلتے ہیں اور میں اپنی چال چلتا ہوں۔ کافروں کومہلت دو،ذرا اپنے حال پر چھوڑ دو”۔