پوسٹ تلاش کریں

نظام کی تبدیلی کیلئے ہمارے3بنیادی نکات1:معاشی پسماندگی کے خاتمے کیلئے3اقدامات2:شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے3اقدامات

نظام کی تبدیلی کیلئے ہمارے3بنیادی نکات1:معاشی پسماندگی کے خاتمے کیلئے3اقدامات2:شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے3اقدامات
3:مکمل آزادی رائے کیلئے3بنیادی اقدامات

1:معاشی حل: بیرونی دباؤ سے آزاد تیل،مزارعت، ٹیکس فری تجارت۔
2:اسلامی حقوق :مرد ، عورت، مسلم وغیرمسلم۔
3:آزاد ی اظہار رائے: مذہبی ، سیاسی اور معاشرتی

جب کسی قوم میں آزادی اظہار رائے کی گنجائش ہو تو وہ بندوق و بارود سے تباہ ہونے سے بچ جاتی ہیں۔سوشل، الیکٹرانک ،پرنٹ میڈیا کا درست استعمال وقت کی ضرورت ۔تفصیل اس آرٹیکل ”شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت” میں دیکھیں۔

معاشی مسائل کے حل کیلئے 3بنیادی اقدامات جن سے بڑا انقلاب آسکتا ہے!

1:جب ہماری معیشت گردشی سودی نظام کی وجہ سے بالکل تباہ ہے۔ ایران سے ہمیں سستے ًتیل، گیس اور بجلی کی فراہمی ہوسکتی ہے تو عوام کے مردہ جسم پر سو درے مارنے کے کیوں درپے ہیں؟۔ مقتدر طبقات نے ایرانی تیل سے جیب بھر لئے ہیں لیکن عوام کو سستا تیل میسر نہیں ہے؟۔عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان ایک طرف مہنگا ترین تیل ، گیس اور بجلی خریدتا تھا اوردوسری طرف سبسڈی بھی دیتا تھا ۔ ریاست کو اس قیمت سے بھی زیادہ مہنگا پڑتا تھا جس میں خریدتی تھی۔
مہربانی کرکے سب کرتے دھرتے دلال بیچ سے نکل جائیں اور عوام کو اپنی مرضی سے جتنا چاہیں ایران سے تیل وگیس لانے دیں۔ جس سے بجلی بھی سستی ہوجائے گی اور کاروبار چلنا شروع ہوجائے گا۔ اپنے کسٹم و انکم ٹیکس کے محکمے جتنا کھا چکے ہیں وہ بہت ہے، اب بس کریں۔ عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے تو ریاست کو بھی حد سے زیادہ ٹیکس دینا شروع کریں گے۔ کچھ عرصہ میں عوام کی حالت بدل جائے گی۔ کارخانے ، فیکٹریاں اور مل چلنا شروع ہوں گے۔ تو بیرون ملک پاکستانی بھی اپنے سرمایہ سمیت واپس آجائیں گے۔
2:قرآن انسانی انقلاب کے لئے مثال دیتا ہے کہ زمین مردہ ہونے کے بعد بھی زندہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں جتنے مزارعین ہیں ،اگر ریاست مدینہ کی طرح ان کو اپنی محنت کا مالک بنادیا جائے تو یہ سب اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے اور ساتھ میں ان سے کئی گنا دوسرے لوگ بھی بنجر زمینوں کو آباد کردیں گے جب مزارع کو محنت سے منافع بخش ذرائع آمدن ملیں گے تو پاکستان جنت نظیر بنے گا اور بہت بڑے پیمانے پر باغات اور جنگلات بھی لگ جائیں گے۔ رزق خدا کی فراوانی ہوگی تو اناج اور پھل سب انسان پیٹ بھر کر کھائیں گے اور جانور بھی رکھ سکیں گے۔ محنت کش طبقے کو بے انتہاء روزگار ملے گا۔ افغانستان سمیت دنیا بھر کو اپنی ضرورت سے زیادہ اناج اور چینی وغیرہ ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ہوگی اور جب پاکستان جنت نظیر سبزہ زار بنے گا تو آسمان سے دل کھول کر بارشیں بھی ہوں گی۔ دریا اور نہروں کے ذریعے غیر آباد علاقہ ہی نہیں سمندر میں بھی میٹھا پانی بڑی مقدار میں جائیگا۔ یہاں تک کہ کراچی کی ملیر اور لیاری ندی شفاف ندیوں کا منظر پیش کریں گی اور کراچی کے ‘دو دریا’ پر سورۂ رحمان کے مناظر ہوں گے۔
3: بھارت ، ایران ،افغانستان، عمان،عرب امارات، چین ، سعودی عرب کیساتھ عوام کو کھلی تجارت کی اجازت ہوگی جس میں خشکی اور سمندر کے راستوں سے سمگلنگ نہیں ٹیکس فری پالیسی ہوگی۔ ہماری عوام میں جو ڈفر قسم کے محنت کش لوگ ہیں ان کی مزدوری بھی بہت بڑھ جائے گی اور جن میں ذہنی صلاحیت ہے تو اپنی صلاحیت کا لوہا منواسکیںگے۔قوم کی ترقی کا راز اس میں پہناں ہوتا ہے کہ محنت کش سے ہاتھ پیر کی مزدوری اور فن کاری کا کام لیا جائے اور ذہنی صلاحیتوں والوں کو سائنس اور جدید ترقی کی راہوں پر لگایا جائے۔ ہمارے ہاں الٹا ہوتا ہے جس بلاول زرداری، حسن نواز ،حسین نواز، مولانا عطاء الرحمن ابن مفتی محمود اور دوسرے بڑے لوگوں کے صاحبزادوں کو لوڈر کا کام کرنا چاہیے تھاوہ عیش وآرام کی حرام زندگی گزارتے ہیں اور جن باصلاحیت افراد کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور علماء وسیاستدان بننا چاہیے تھا، ان کو مزدوری اور کاشتکاری سے اپنی صلاحتیں منوانے کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔ قوم ترقی کرے تو ملک بھی ترقی کرسکتا ہے۔
***************************************************
نوٹ: اس آرٹیکل کو مکمل پڑھنے کیلئے ”شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت” کے عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔
***************************************************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

پہلی بات یہ ہے کہ اگر ہم مان لیں کہ شیعہ عقیدہ درست اور اہل سنت کا غلط ہے تو کچھ سوالات اٹھیں گے ۔ 1: ہم نے مان لیا کہ حضرت علی کے بعد بارہ امام بالکل برحق ہیں۔ اگر شیعہ اپنے ائمہ پر یقین رکھتے تو جس طرح نبی کے ساتھ کلمہ بدلتا ہے۔ آدم صفی اللہ، ابراہیم خلیل اللہ، اسماعیل ذبیح اللہ، موسیٰ کلیم اللہ، عیسیٰ روح اللہ اور محمد رسول اللہ ۔ اس طرح علی کے بعد امام حسن ، پھر امام حسین ، پھر علی زین العابدین ………….اور اب بارویں امام مہدی کا کلمہ وآذان میں نام ہونا چاہیے تھا۔ چلو موجودہ دور کے شیعہ جاہل ہیں ائمہ اہل بیت تو سکھا سکتے تھے؟۔
2:امام کا تعلق زمانہ کے ساتھ ہوتا ہے اور ائمہ اہل بیت کو حدیث میں کشتی نوح قرار دے دیا گیا ہے۔ جب ایک ہزار سال سے زیادہ ہوا کہ امام غائب ہیں تو امت کی ہلاکت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟۔ چلو ابوبکر، عمر ، عثمان اور معاویہ سب مرتد تھے لیکن ایران ، لبنان ، شام اور عراق کی موجودہ حکومتیں تو کٹر شیعہ ہیں۔ اب امام کو اپنے منصب پر بیٹھنے میں کیا حرج ہے؟۔جب اپنی مرضی سے بھی نہیں آتے اور تمہارا بھی اصرار نہیں ہے تو مدعی سست گواہ چست نہ بنو؟۔
3: احادیث میں واضح ہے کہ ان سب پر امت کا اجماع ہوگا لیکن تمہارے ائمہ اہل بیت پر اہل سنت تو دور کی بات شیعہ فرقوں کا بھی اتحاد نہیں ہوسکا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی ، پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف اسلام آباد اور مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں یہ وضاحت ہے کہ ان بارہ خلفاء کا تعلق آئندہ زمانے سے ہوگا۔ شیعہ کتابوں سے بھی مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کی تائید ہے جن کو اقتدار بھی ملے گا۔ شیعہ کتابوں میں درمیانہ زمانے کے مہدی کا لکھا ہے کہ اس سے عباسی مہدی مراد ہوسکتے ہیں۔ مظاہرحق میں واضح ہے کہ مہدی کے بعد پانچ افراد امام حسن کی اولادسے آئیں گے اور پانچ افراد امام حسین کی اولاد سے آئیں گے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے آئے گا۔ یہی کشتی نوح کا کردار ادا کریں گے۔ شیعہ کتابوں میں قیام قائم سے پہلے دوسرے مہدیوں کا بھی ذکر ہے۔ مشرق کی طر ف سے جو دجال ہوگا تو اس کے مقابلے میں حسن کی اولاد سے ایک قائم ہوگا اور علامہ طالب جوہری نے1987عیسوی میں ظہور مہدی پر جو کتاب چھاپ دی تھی اس میں لکھا کہ اس سے مراد ”سید گیلانی” ہیں۔ اب مارکیٹ سے کتاب غائب کردی ہے۔ گیلانی حسن کی اولاد ہیں لیکن شیعوں نے اعتراضات لکھے ہیں کہ امام حسن کے بیٹے کا نام حسن مثنیٰ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ حالانکہ عرب میں اس کی کتنی مثالیں ہیں؟۔ محمد بن محمد بن محمد، عبداللہ ابن عبداللہ ، ارقم بن ارقم وغیرہ
4: شیعہ کے پاس اس بات کا جواب بھی نہیں ہے کہ امام حسین نے قیام کیا تھا اور علی نے پہلے تین خلفاء کے خلاف قیام کیوں نہیں کیا؟۔ حالانکہ ابوسفیان نے کہا تھا کہ ابوبکر کو ہٹانے کیلئے مدینہ کو پیادوں اور سواروں سے بھر دوں گا۔اور عثمان کے خلاف جب باغیوں نے مضبوط محاذ بنالیا تو بھی علی نے ساتھ نہیں دیا؟۔ امام حسن نے بڑے علاقہ پر قابض ہونے کے باوجود امام حسین کی موجودگی میں خلافت امیر معاویہ کے سپرد کردی تھی۔ امام حسین پہلے اہل کوفہ کے بلاوے پر گئے اور پھر انہوں نے بے وفائی کی تو قیام کا ارادہ ترک کردیا۔ تین چیزیں رکھ دیں ۔یزید سے بات کرنے دیں۔ مدینہ جانے دیں۔ سرحدپر جانے دیں۔ ان میں کوئی شرط بھی قیام کے لئے نہیں تھی۔ پھر آنے والے ائمہ میں سے کسی ایک نے بھی قیام کیوں نہیں کیا؟۔ حسین کے راستے پر کوئی بھی چلنے والا نہ تھا؟۔
مکہ اور مدینہ کے لوگوں کو بھی امام حسین لڑائی کیلئے آمادہ کرسکتے تھے۔ سارا حجاز امام حسین کی بیعت پرتیار ہوتالیکن حسین نے چاہا کہ کوفہ والے جب بیعت کرلیںگے تو شام والے بھی یزید کے خلاف کھڑے ہوں گے اور پھر تقسیم کے بجائے اتحاد امت سے حکومت بنے گی۔ امام حسن نے اتحاد کیلئے بڑی قربانی دی تھی تو امام حسین اس قربانی کو ضائع کرکے تفریق نہیں چاہتے تھے۔جب یزید کی حکومت مستحکم نہیں تھی تو کوفہ میں قیام کے غرض سے گئے۔ جب کوفہ والوں نے وفا نہیں کی تو ارادہ ترک کردیا۔ البتہ ظالموں کے سامنے جب جائز مطالبہ رکھ دیا اور انہوں نے کوئی بات ماننے سے انکار کردیا تو خود کو حوالہ نہیں کیا ۔ یہی وہ مشعل اور منہج تھا جس پر پہلے والے بھی چلے اور بعد والے بھی چلے۔ آج ایران ، عراق ، شام اور لبنان میں ائمہ کی حکومت نہیں ہے لیکن کسی کو بغاوت کیلئے سر نہیں اٹھانے دیتے ۔ اہل سنت جن کی تائید کرتے ہیں انہوں نے یہی کیا تھا۔ اور اہل سنت امام زید ، ابراہیم اور نفس زکیہ کی طرف سے جہاد کو عزیمت سمجھتے تھے اور اہل تشیع کے ائمہ اہل سنت سے زیادہ خاندانی حکومت کے خلاف شورش کے قائل نہیں تھے اسلئے ان میں سے کسی ایک نے بھی بغاوت نہیں کی بلکہ یہاں تک کہا کہ جو ہم سے بغاوت کرے گا وہ کسی غیر کا ایجنٹ ہوگا جو خمینی پر فٹ ہے۔
5: معاویہ کی خلافت حسن و حسین نے قبول کی تھی تو ان کو گالی دینا نہیں بنتا ہے اور یزیدکے بیٹے معاویہ اور مروان کے پڑپوتے عمر بن عبد العزیز کو شیعہ بھی مانتے ہیں۔ ان کوحرامی کہنا غلط ہے ۔ یوسف کے بھائیوں کو جیسے کہنا غلط ہے۔ اگر اپنے ائمہ کی معمولی توہین برداشت نہیں تو دوسروں کی دل آزاری نہ کرو۔ اگر بڑا شوق ہے تو سعودی عرب میں یہ شوق پورا کر کے دیکھ لو۔ ماحول مت بگاڑو۔
6: اہل سنت کی کسی کتاب میں نہیں ملے گا کہ قرآن کی آیت میں جب اس کو اپنے مقصدکے خلاف سمجھے تو اس میں تحریف کی بات کردی ہو ، شیعہ کی کتابوں میں یہ چیزیں موجود ہیں۔ اہل سنت ان صحیح احادیث کو بھی نہیں مانتے جن کا قرآن سے ٹکرانے کا شبہ ہو اورائمہ کے اقوال کو دیوار پر مارنے کا کہتے ہیں جو احادیث کے خلاف ہوں ۔تمہارا مذہب امام کے قول سے شروع ہوتا ہے اور وہ بھی تمہارے رسم کے خلاف ہوتو اس کو نہیں مانتے۔ اہل سنت قائل ہیںکہ ائمہ کے اختلاف میں اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے ۔ شیعہ اسکے قائل نہیں اور ائمہ کے اقوال میں بھی تضادات ہیں۔ ان کا فیصلہ تمہارے مجتہدین کرتے ہیں تو تمہارے اصل تمہارے وہی غیر معصوم ائمہ مجتہدین ہوئے۔نہ کے ائمہ معصومین۔
7: قرآن میں سورہ مجادلہ میں عورت کا نبی ۖ سے اختلاف اور بدر کے موقع پر فدیہ لینے پر اللہ کا یہ فرمانا کہ نبی ۖکیلئے یہ مناسب نہیں تھاتمہیں قبول ہے لیکن ائمہ کیلئے یہ قبول نہیں، حالانکہ ایک امام دوسرے کے نقش قدم پر نہیں ہے تو تمہارا عقیدہ نبی ۖ اور قرآن سے بالاتر ہے۔ جو کھلی حقیقت ہے۔
8: اگر سعد بن عبادہ نے ابوبکرو عمر کی خلافت کو نہیں مانا اور شیعہ نہیں مانتے تو ہم اس پر کفر کا فتویٰ اس وجہ سے نہیں لگاتے لیکن ائمہ کو نہ ماننے کی وجہ سے تم کیسے دوسرے لوگوں کو مسلمان مان سکتے ہو؟۔ تمہیں قادیانیوں کے سرظفراللہ کی طرح کہنا چاہیے کہ یا ہم کافر ہیں یا پھر تم کافر ہو، دونوں ایک ساتھ مسلمان نہیں ہوسکتے ہیں، جہاں حسن اللہ یاری جیسے لوگ نکلتے ہیں تو یہی کہتے ہیں۔
9: اگر کوئی اپنی طرف سے علی اور آل علی کے بارے میں خدا سے زیادہ بڑی عقیدت کی بات کرے تو بھی تم اس کو قبول کرتے ہو۔ یہی تمہاری ٹریننگ ہے۔
10: یہ بات بالکل درست ہے کہ بین الاقوامی سازش کے تحت مسلمانوں کو لڑایا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت لکھ کر حضرت امیر معاویہکے خلاف پاکستان میں سب سے پہلے بولنے کا راستہ بھی ہموار کیا۔ لیکن اب جو چیزیں شیعہ سنی کو لڑانے کے حوالے سے کارگر ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہی ہیں اس پر پابندی کیلئے سب کو متفقہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ جب پہلے سے سزا موجود تھی اور اب بڑھائی گئی ہے تو اس کی خلاف ورزی کرنے کے بجائے دونوں فریق کے مذہبی کاروباریوںکو مشترکہ طور پر مسترد کرنا چاہیے۔

نوٹ: ”اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے” عنوان کے تحت یہ تبصرہ تحریر کیا گیا ہے۔ مکمل پڑھنے کیلئے یہ آرٹیکل بھی ضرور پڑھیں۔ اور سوال و جواب کیلئے ای میل ایڈریس کے ذریعے رابطہ کریں
[email protected]
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے

اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے

شیعہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر فرمایا تھا: ”میں جس کا مولیٰ، یہ علی اسکا مولیٰ ہے”۔
یہ پورا قصہ سنی مکتب کی احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ سنی علماء اس کو عوام سے چھپاتے ہیں۔ جبکہ انجینئرمحمد علی مرزا اس کو واشگاف انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ مفتی فضل ہمدرد اہل سنت کی کتابوں سے شیعہ مؤقف کو پیش کرتے ہیں اورمولانا اسحاق فیصل آباد والے پیش کرتے ہیں۔تو اہل سنت کے علماء ان پر فتوے لگاتے ہیں۔ اسلام360کے زاہد حسین چھیپا اہلحدیث ہیں اور جب وہ محمد علی مرزا سے ملاقات کرتے ہیں تو اس پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں بارہ خلفاء قریش کا ذکر ہے۔ آج بھی جہاں مسجد نبویۖ پر چار خلفاء راشدین، عشرہ مبشرہ کے دس صحابہ کے نام نمایاں لکھے ہیں وہاں پر حضرت علی، حسن، حسین ، علی زین العابدین، امام باقر،امام جعفر ……… بارہ ائمہ اہل بیت کے نام حضرت حسن عسکری اور امام مہدی تک لکھے ہیں۔
نبی ۖ نے آخری خطبہ میں بھی قرآن اور اپنی عترت اہل بیت کا ذکر کیا تھا اور دوسرے مواقع پر بھی قرآن اور اہل بیت کا ذکر کیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں واضح ہے کہ ازواج مطہرات اہل بیت ہیں لیکن یہاں اہل بیت سے مراد نبی کریم ۖ کے دادا کے خاندان والے مراد ہیں۔ نبی ۖ کایہ فرمانا کافی تھا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑیں جارہاہوں ۔ قرآن اور میرے اہل بیت ۔ یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔
جب انصاراور مہاجرین نے رسول اللہ ۖ کی تدفین و جنازے کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے خلافت پر الجھنا شروع کیا ۔ ایک طبقہ کہتا تھا کہ خلافت انصار کا حق ہے اور دوسرا طبقہ اس کو قریش کا حق قرار دیتا تھا۔ رسول اللہ ۖ کو معلوم تھا کہ یہ معاملہ الجھن اور ہلاکت کا باعث بن جائے گا۔ سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حضرت یوسف کیساتھ کیا کیا تھا؟۔ حالانکہ وہ بھی اپنے باپ حضرت یعقوب کے صاحبزادگان اور صحابہ تھے۔ داداحضرت اسحاق ،پردادا حضرت ابراہیم بھی جلیل القدر انبیاء تھے۔ اپنے نبی بھائی یوسف کے ساتھ پھر بھی انہوں نے بہت کچھ کیا اور اپنے باپ حضرت یعقوب کو اس وجہ سے بہت آزمائش میں ڈالا۔ دنیا ہے ہی ایسی ظالم چیز اس کی خبر کس کو نہیں؟۔
ابن حجر کی کتاب ” الصواعق المحرکة” کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے۔ جس کا معنی جھلسا کر (راکھ کا ڈھیر) بنانے والی بجلیاں۔ اور مقصد یہ ہے کہ شیعہ پر یہ بجلیاں گراکر ان کے دلائل کو جلا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ لیکن جب کوئی اس کو پڑھ لے گا تو ایسے بے ڈھنگے دلائل دیکھ کر یقینا اپنے سنیوں کی ہٹ دھرمی سے بدظن ہوجائے گا۔ جو دلائل دئیے گئے ہیں وہ الٹے اہل سنت کے مؤقف کوہی نقصان پہنچارہے ہیں۔ پہلے لوگوں میں تعلیم نہیں تھی۔ کتب احادیث کے عربی کے تراجم نہیں تھے۔ دوسروں کی بات تعصبات کی وجہ سے سنی نہیں جاتی تھی لیکن اب دور بدل گیا ہے ، انٹرنیٹ سے علمی دلائل کا موازنہ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔
بندہ سامنے ہوگا تو نقصان پہنچاسکتے ہیںلیکن اپنے لیپ ٹاپ کے اسکرین کو تو نہیں توڑ سکتے ہیں۔ انصار نے کہا کہ نبوت اللہ نے قریش کو دی لیکن خلافت ہمارا حق ہے۔ ہم نے آپ کو پناہ فراہم کی اور اپنے شہر میں اقتدار کا مالک بنادیا اور اب اقتدار ہمارا حق بات بنتا ہے۔ حضرت ابوبکر نے اس وقت حضرت عمر سے یہ نہیں کہا کہ جب نبی ۖ فرمارہے تھے کہ قلم اور قرطاس لاؤ۔ میں وصیت لکھ کر دیتا ہوں کہ میرے بعد آپ لوگ گمراہ نہ ہوجاؤ۔ جس پر آپ نے کہا تھا کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ اب بات کرو کہ قرآن کیسے کافی ہے؟۔
حضرت ابوبکر نے حدیث کا حوالہ لیا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ ائمہ قریش سے ہوں گے۔ جب نبی ۖ کو وصیت لکھ کر دینے کی مخالفت کی تھی تو پھر حدیث کا حوالہ دینا نہیں بنتا تھا۔ جس سعد بن عبادہ انصار کے سردار کو حوالہ دیا تھا تو اس نے بھی مسترد کردیا۔ مرتے دم تک ابوبکر وعمر کی خلافت کو نہیں مانا ، یہاں تک کہ جنات نے قتل کردیا۔یہ جن تھا یا شیطان جس نے ایک جلیل القدر صحابی کو اس طرح سے شہید کردیا۔ صحابی سے اختلاف کرنے کو رافضیت کا نام دیتے ہو؟ یہ تو بتاؤ کہ اس صحابی کو قتل کرنے والا سنی جن رافضیت سے زیادہ خطرناک نہ تھا؟ اور ابوبکر کی خلافت کو ہنگامی قرار دینے والو! حضرت عمر کی نامزدگی کی کونسی توجیہہ پیش کروگے؟۔ نبیۖ وصیت لکھنے کا فرمائیں تو قرآن کافی ہے اور حضرت عمر کی نامزدگی درست ہو؟۔ حضرت عثمان کی نامزدگی میں ایک انصاری بھی شامل نہیں تھا۔ امیر معاویہ نے یزید کو نامزد کردیا تو وہ درست تھا؟ ، بنوامیہ کا خاندانی قبضہ درست تھا ؟اور بنو عباس کا خاندانی قبضہ درست تھا؟۔ پھر عجم ترکی خلافت عثمانیہ کی خاندانی بادشاہت درست تھی؟ ۔ اور نگزیب کی بادشاہت درست تھی؟
تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ نماز میں جہری بسم اللہ پر بنوامیہ نے پابندی لگائی تھی۔ کیا امام شافعی پر رافضیت کا فتویٰ نہیں لگا؟۔ اس نے جہری نماز میں بسم اللہ بالجہر کو فرض قرار دیا تھا۔ اس نے کہا کہ حدیث حجت ہے اور قرآن کے علاوہ دیگر آیات ماننا کفر اور تحریف قرآن ہے۔ جبکہ حنفی مسلک میں قرآن کے علاوہ جعلی آیات قرآن کے حکم میں ہیں۔ جو اصول فقہ اور درس نظامی کا حصہ ہیں۔
مولانا انورشاہ کشمیری نے لکھا کہ ” قرآن کی معنوی تحریف تو بہت ہے لفظی بھی ہوئی ہے انہوں نے جان بوجھ کر کی یا مغالطے سے ”۔( فیض الباری )
” ابن عباس سے روایت ہے کہ علی نے فرمایا کہ رسول اللہ ۖ نے مابین الدفتین ( دو گتوں کے درمیان قرآن)کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا ”۔ بخاری کی اس حدیث کے بارے میں مولانا سلیم اللہ خان نے لکھ دیا کہ ”یہ ابن عباس نے شیعہ کی تردید کیلئے نقل کیا کہ علی اس تحریف کے قائل نہیں تھے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے”۔ (کشف البار ی شرح صحیح البخاری)
سنی پڑھاتے ہیں کہ تحریری قرآن اللہ کا کلام نہیں نقوش ہیں”۔ فتاویٰ قاضی خان ، شامی، صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس جس کا مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں فقہی مقالات اور تکملہ فتح المہلم میں حوالہ دیا ۔ اور پھر دباؤ کی وجہ سے نکالنے کا اعلان کیا اور مفتی سعید خان کی ریزہ الماس اسکے بعد چھپی تو اس میں سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دفاع کیاہے ۔ اس طرح مولانا الیاس گھمن کا کلپ ہے۔
اہل سنت کے صحابہ حسان ، مسطح اور حمنہ نے اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگایا جس کی سزا سورہ نور میں عام خواتین کے برابر80،80کوڑے تھی۔ پاکستان کا آئین قرآن و سنت کا پابند ہے۔ بہتان لگانے کے گھناؤنے جرم کی سزا میں تفریق نہیں تو یہ بل آئین اور قرآن و سنت کیخلاف ہے۔ اسلامی نظام کیخلاف جماعت اسلامی کا مولانا عبد الاکبر چترالی استعمال ہوا ہے ۔ پاکستان کی تعلیم یافتہ خواجہ سرا ڈاکٹر محروب معیز اعوان نے کہا کہ بین شپیو، کینڈس اوون، پی ایس مورگنزجیسے اسلام مخالف افراد مغربی ممالک میں بیٹھ کر خواجہ سرا اور عورت کے حقوق کے خلاف جو ایجنڈہ پھیلاتے ہیں جماعت اسلامی والے اسی بین الاقوامی ایجنڈے کو کاپی پیسٹ کرکے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آپ کے آگے پیش کررہے ہیں۔ یہ ایک گلوبل نیو کنزر ویٹو فار رائٹ موومنٹ ہے۔ یہ دائیں بازو کی سازش ہے۔ تاکہ ہر جگہ کنزرویٹو لوگ پاور میں رہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ ، برازیل میں بول سینالو ، انڈیا میں مودی اور پاکستان میں سراج الحق جیسے لوگ برسر اقتدار آئیں نفرت پھیلائیں ۔یہ قتل و غارت کا منصوبہ سوچی سمجھی سازش کے تحت پھیلایا جارہا ہے ریاستی اداروں کو اسکا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔

نوٹ: ”الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں” عنوان کے تحت اس پر تبصرہ ضرور پڑھیں۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!

پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!

کانیگرم وزیرستان میں اُرمڑی زبان ہے۔ اُرمڑی میں سوراخ کو ” کُوتی” کہتے ہیں۔ماتمی جلوس نکلتاتھا، ماتمی عورتیں کہتی تھیں کہ ”ہائے حسینا کوتی داکم”۔ یعنی” اے حسین مجھے سوراخ کردیا”۔ کانیگرم میں سنی شیعہ تھے، تعصب نہ تھا۔ امیر عبدالرحمن نے افغانستان کا اقتدار سنبھالاتو1890میںہزارہ شیعہ کے خلاف مہم چلائی ۔تو شایدکچھ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں آباد ہوگئے اور کانیگرم میں ایک مرتبہ ہزارہ کی نسل کشی کی گئی تھی جس میں150افراد کو قتل کیا اور دو بچے ماں کی گود اور پیٹ میں بچ گئے جو آج کانیگرم کے باشندے ہیں۔
گلگت و آزادکشمیر میں ہلچل ہے۔کرزئی نے کہا کہ پختونواہ ہمارا حصہ ہے تو سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے کہا کہ بیوی نے غریب شوہرسے کہا کہ کپڑاخرید نہیں سکتے اوردوسرے کام کیلئے گھٹنوں کے بل آتے ہو؟۔ جب برطانیہ اور جرمنی کی پروکسی جنگ افغانستان سے ہندوستان تک لڑی جارہی تھی تو جرمنی سے برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو مالی امداد ملتی تھی۔ فقیر اے پی مرزا علی خان سے گاندھی ، تحریک ریشمی رومال تک کابڑا سلسلہ تھا۔ اُرمڑی میں ”مرزا” بھائی کو کہتے ہیں۔ فقیر اے پی نے کانیگرم سے ”مرزا” کا لقب پایا۔ جمعیت علماء اسلام کے احراری شاعر سیدامین گیلانی کے فرزندسید سلمان گیلانی نے بتایا کہ فقیر اے پی برطانیہ کے خلاف لڑنے کیلئے ہندوستان کے پنجاب سے افراد بھرتی کرنے آئے تھے۔لشکروں کو پالنے میں بہت پیسہ لگتا ہے۔ بیٹنی قبیلہ نے سندھ کے ڈاکوؤں سے خالد بیٹنی کو رہائی دلانے کیلئے چند دن قیام کیا تو بہت بڑا خرچہ ہوا۔PTMبھی دور دراز سے اپنے جوانوں کو مختلف علاقوں سے ایک جگہ تک پہنچانے کیلئے بڑا خرچہ کرتی ہے۔ طالبان کو بھی کہیں نہ کہیں سے خرچے ملتے ہوں گے اور بلوچ قوم پرستوں کی بھی کوئی نہ کوئی مدد ضرور کرتا ہوگا۔
اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اور اس میں رہنے والے باشندوں کو مشکلات سے کیسے نکالا جاسکتا ہے؟۔ کانیگرم میں اس وقت دھماکے ہوئے تھے جب کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی بیرونی قوت کانیگرم کی دشمن ہے۔ راستے میں رات کو بم رکھ دیا جاتا تھا اور کوئی بھی صبح راستے میں چلنے والا پہلا شکار ہوجاتا تھا۔ کانیگرم امن وامان کا گہوارہ ہوتا تھا۔گرمیوں میں بہت مسافر رہنے کیلئے آجاتے تھے اور پورے شہر میں ہوٹل وریسٹورنٹ تو دور کی بات ہے چائے کا کیبن بھی نہیں تھا۔
مسجد میں آوازلگتی کہ آج اتنے مہمان ہیں۔ لوگ میزبانی فراہم کرتے۔ یہی حال پورے وزیرستان کا تھا۔ امن کا گہوارہ وزیرستان بدامنی کاشکار ہے۔ وزیرستان میں شر پسند کا گھر بار لوٹ مار کے بعد جلانے، ڈھانے تک کی کاروائی ہوتی تھی۔ لشکرکی قیادت ذمہ دار لوگ کرتے ۔ خود کش نے عوام کو ڈرایا تومقابلہ لشکر نہیں کرسکتا۔ اشرف غنی کی افغان فوج اور نیٹو خود کش کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے تو پاک فوج اور مقامی لوگوں میں یہ صلاحیت اور ہمت کہاں سے آئے گی؟ ۔
پہلے محرم میں شیعہ جلوس نکلتے تھے۔ سنی زنجیر زنی کے قائل نہیں تھے لیکن ان کی ہمدردیاں شیعہ کیساتھ تھیں۔ محرم میں بازاروں کے اندر دکانیں کھلی ہوتی تھیں۔ جلوس پہنچتا تو احترام میں شٹر بند کرکے دکاندار تماشائی بن جاتے تھے۔ پھر ماحول بدل گیا اور فرقہ واریت کا ناسور یا شعور پھیل گیا۔ فاصلہ بڑھ گیا، بات قتل وغارت اور دہشتگردی تک پہنچی۔ جرنیل سپاہ صحابہ مولانااعظم طارق کے سوتیلے والد مولانا زکریا انوارالعلوم گلبرک کراچی کی مولانا سلیم اللہ خان نے سواد اعظم تحریک میں ڈنڈے سے پٹائی لگائی تو مولانا زکریا نے عراق سے فنڈ کھانے کے الزامات اخبارات میں لگادئیے۔ انقلاب زمانہ ہے کہ صدام حسین نے اکابر علماء کرام کی اوقات کو بدل دیاتھا، آج عراق کی حالت بدل گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ”اے ایمان والو! کہو بات سیدھی ،تمہارے اعمال کی اصلاح اور تمہارے گناہوں کی مغفرت ہوگی”۔ قوموں کی اصلاح کیلئے سیدھی بات بہت ضروری ہے۔ عقائد ، غلط رسم ورواج، قوانین ، فتنہ وفساد، تعصبات اور معاشرے وملک اور بین الاقوامی سطح کی اصلاح کیلئے سیدھی بات بنیاد ہے۔
اسلامی جمہوری پاکستان کی فوج، بیوروکریسی، سیاسی و مذہبی فرقے ہیں۔ زبانی اور علاقائی تعصبات ہیں۔ اگر کانیگرم کے لوگ اپنی زبان اور شہر کی بنیاد پر اردگرد کے ماحول سے عوام کو نفرت دلائیں گے تو کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ خاص طور پر کانیگرم کے اپنے باشندوں کیلئے۔ اسلئے کہ اقلیت کمزور ہوتی ہے اور جب طاقتور سے کمزور کا مقابلہ طاقت کی بنیاد پر ہو تو کمزور نقصان اٹھاتا ہے۔ بلوچ قوم کو لڑائی سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ۔ آزادیٔ ہند کے لیڈر مہاتما گاندھی ، مولانا آزاد، عبدالغفار خان، عبدالصمد اچکزئی، مولانا حسین احمد مدنی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اورعلامہ عنایت اللہ مشرقی وغیرہ وغیرہ نے عدم تشدد کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کیلئے جیل کی صعوبتیںبرداشت کی ہیں۔
انگریز سے آزادی کیلئے مسلمان، ہندو اور سکھ سب ایک تھے۔ علامہ اقبال نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ”مجذوب فرنگی” نے مہدی کے تخیل کو بدنام کردیا ہے لیکن جہاں ہرن ہوں وہاں مشک کی خوشبو سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ ایک قادیانی سر ظفراللہ خان پاکستان کا پہلا وزیرخارجہ تھا جس نے قائداعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا اور صاف کہا تھا کہ” قائداعظم کافر ہیں یاپھر میں کافر ہوں” ۔
جمعیت علماء کے صدرمولانا حسین احمد مدنی نے انگریز فوج میں بھرتی کے خلاف فتویٰ دیا اور کہا تھا کہ انگریز کے جانے کے بعد دو ملک بن رہے ہیںایک ہندوستان جس میں مسلمان قتل ہوگا اوردوسرا پاکستان جس میں اسلام قتل ہوگا۔ برطانیہ نے اپنے خان، نواب ، پیر ، مولوی ایجنٹ اور سرکاری نوکر رکھے تھے اور آزادی کے مجاہدین کو بھی جرمنی سے امداد ملتی تھی۔ بغدای پیر( ڈیوڈ جونز) ناول میں غازی امان اللہ خان کیخلاف برطانیہ کی سازشوں کا انکشاف ہے۔
انگریز نے ننگی عورت کی تصویر کا سر غازی امان اللہ خان کی بہن کیساتھ جوڑ کر چھاپ دیاتھا تو غازی کو افغانستان چھوڑ کر بھاگناپڑا۔اب عوام پروپیگنڈہ سمجھ رہی ہے لیکن بعض لوگ پھر بھی لگے ہوئے ہیں۔ مریم نواز نے عمران خان کے بارے میں کہا کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے چن لیا ہے جس طرح نبی ۖ کو اللہ نے اپنے دین کیلئے چن لیا تھا۔ کسی نے کلپ کاٹ کر مریم نواز کے خلاف یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ وہ اپنا یہ دعوی کررہی ہے کہ اللہ نے اس کو چن لیا ہے۔
امیر امان اللہ خان کی حمایت کیلئے سید سعدی گیلانی شامی پیر آیا تھا جس کی غازی امان اللہ سے رشتہ داری بھی تھی۔ جب پہلی مرتبہ کانیگرم جنوبی وزیرستان آیا تھا تو اس کی ڈاڑھی نہیں آئی تھی۔ میرے دادا سیدامیر شاہ کے ہاں قیام کیا تھا اور شہر کے بعض علماء کی قیادت میں عوام نے ڈھول کی تھاپ پر احتجاج کیا تھا کہ پیر وں کے ہاں ”انگریز میم” آئی ہے۔ علماء نے بات کی توپتہ چلا کہ دینی علوم کا ماہر عربی نسل شامی سید ہے۔پھرتو لوگ اسکے کپڑوں دھلنے کے بعدصابن کا پانی بھی تبرک سے پیتے تھے۔ علماء اس کی شخصیت سے مرعوب ہوگئے تو وہ سگریٹ کا دھواں ان کی طرف چھوڑتا تھا۔ کافی لوگ وزیرستان سے میانوالی اور بنوں تک اسکے مرید و خلفاء بن گئے۔ امیر امان اللہ خان کو بھاگنے پر مجبور کیا گیا تو شامی پیر دوبارہ آئے۔ان کی میزبانی میرے والد کے کزن سید ایوب شاہ عرف آغا کر رہے تھے۔ جس نے امیر امان اللہ کے دور میں افغانستان میں پہلا اخبار نکالا ۔ شامی پیر نے میرے دادا کو پیشکش کی تھی کہ اگر چہ آپ کا بڑا مقام ہے لیکن میری دولت اور شہرت سے مریدوں اور خلفاء کی بڑی تعداد ہے ۔آپ کو جانشین نامزد کروں گا تو لوگ استفادہ کریں گے۔ میرے دادا سیدامیرشاہ نے جواب دیا تھا کہ ”میرے اپنے گناہ بہت ہیں، میں اللہ سے ان کو بخشوالوں تو بہت ہے، آپ کی خلافت کے گناہ کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت مجھ میں نہیں ہے”۔
امیر امان اللہ خان کے خاندان کا سونا، نقدی اور ایک دوشیزہ سید ایوب شاہ کو پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے لالچ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔فقیر اے پی کی طرف سے انگریز ی خطوط آغا لکھتے تھے۔1913عیسوی میں اسلامیہ کالج کا افتتاح ہوا ،1914عیسوی میں وہ اس کے سٹودنٹ تھے۔ اس دور میںBAتھے ۔ بعد میں سید مودودی سے تعلق تھا۔ ہم نے ان کی وجہ سے پہلا سیاسی جھنڈا بچپن میںجماعت اسلامی کااٹھایاتھا۔حالانکہ میرے والد مفتی محمود کے حامی تھے۔
سکندر مرزا نے میر ے نانا سیدسلطان اکبر شاہ سے کہا تھا کہ جٹہ قلعہ کرایہ پر دیدو۔ نانا نے کہا کہ اپنے افغان بھائیوں کو قتل کرنے کیلئے یہ منافع قبول نہیں۔ پھر نانا کوسکندر مرزاافغانی پیر شیرآغا کے پاس لے گیا۔ شیر آغااس وقت کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان میں تھے۔ شیر آغا نے سکندر مرزا کا پر تپاک استقبال کیا اور شکریہ ادا کیا کہ فلاں فلاں کام کردئیے۔ سکندر مرزا نے کہا کہ میرا نہیں گورے انگریز کا شکریہ ادا کرو، جس نے حکم دیا کہ تمہارے کام کروں۔
شیر آغا کی علامہ اقبال سے لاہور میں ملاقات ہوئی۔ اقبال نے امیر امان اللہ خان کی حکومت بحال کرنے کیلئے فنڈز جمع کیا ۔ شیر آغا نے اقبال کو بتایا کہ ”امیر امان اللہ خان جدت پسند ہے، عوام کے ماحول کا خیال نہیں رکھا”۔ مولاناظفر علی خان احرار ی بعد میں مسلم لیگی بن گئے تھے۔یہ بھی ان کے اشعار تھے:
سربکف میدان میں آپہنچے ہیں جوانان وطن
جن کی قربانی پہ ہے دار و مدار انقلاب
خاک میں مل جائے گا سرمایہ داری کا غرور
گر یہی ہے گردشِ لیل و نہار انقلاب
وقت آ پہنچا کہ مرجاؤ یا آزاد ہو
تخت یا تختہ ہے حکم تاجدارِ انقلاب
سب سے بڑی مصیبت ہے کہ ہماری قوم نہ تواپنی تاریخ اور مذہب کیساتھ انصاف کرتی ہے اور نہ حال اور مستقل کے حالات کو دیکھ رہی ہے۔نوائے وقت اخبار میں م ش کی ڈائری سے ایک کالم میں سیف الدین کچلو کے خلاف کچھ لکھا گیا تھا تو اس کے جواب میں وحیدالدین کچلو نے لکھا تھا کہ جب سیف الدین کچلو مجلس احرار کوچھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تو قائداعظم ان کو مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری بنانا چاہتے تھے لیکن انگریز نے یہ قبول نہیں کیا اور بادلِ نخواستہ ہی لیاقت علی خان کو مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری بنانا پڑا تھا۔ یہ غالباً1980عیسوی کی دہائی کی بات ہے۔ جنرل ایوب خان نے بھی لینڈ ریفارم کئے تھے جس میں زیادہ جاگیر کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا پھر ذوالفقار علی بھٹو نے زرعی اصلاحات کے نام پر جاگیردارانہ نظام کو مزید کمزور کیا مگر جب مفتی تقی عثمانی کو جنرل ضیاء الحق نے وفاقی شرعی عدالت کا جسٹس بنادیا تو اس نے اپنے دوساتھیوں کے ساتھ مل کر جاگیردارانہ نظام میں اصلاحات کو غیر شرعی اور ظلم قرار دے دیا۔
جب معاشرے میںغیر اسلامی جاگیردارانہ اور عالمی سودی نظام کو اسلامی قرار دیا جائے تو پھر غیر اسلامی کیا رہ جاتا ہے؟۔ مولانا محمد یوسف بنوری اور ان کے داماد مولانا طاسین نے سودی نظام اور مزارعت کو بہت مدلل انداز میں ناجائز قرار دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن نے مولانا طاسین کے مشن کی تحریری تائید بھی لکھ کر رکھ دی ہے۔ پہلے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے لیکن پھر جب مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، مفتی زرولی خان اور دوسرے اکابر کا انتقال ہوا تو ان کے متفقہ فتوے کے خلاف سود کو اسلام کے نام پر جائز قرار دے دیا گیا۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے اوراب سب کچھ بالکل کھل کر سامنے آیا۔ پیر آف وانا کا اصل گھر سرگودھا پنجاب میں تھا اور وانا سرکاری کیمپ میں رہائش پذیر ہوتے تھے۔1948عیسوی میں قبائل کی جہاد کشمیر کی قیادت بھی کی تھی اور ایک محسود مجاہد سے اس کی ہندو بیوی بھی چھین لی تھی۔
قائداعظم نے اپنی پارسی بیگم سے کورٹ میرج کی تھی اور بیٹی نے بھی پارسی سے کورٹ میرج کی تھی اور لیاقت علی خان کی بیگم راعنا لیاقت علی بھی ہندو تھی۔ ہندو ، پارسی ، قادیانی اور آغا خانیوں کے خلاف ان میں کوئی مذہبی تعصبات نہیں تھے۔ جنرل ضیاء الحق کی بہو ڈاکٹر انوارالحق کی بیگم مشہور قادیانی مبلغ جنرل رحیم الدین کی بیٹی تھی۔ جنرل باجوہ کے ریٹائر ہونے کے بعد میڈیا نے بتایا کہ اس کی بیگم بھی قادیانی ہے۔ قادیانی سسر کی وجہ سے فوج میں ترقی بھی ملی تھی لیکن پھر سیاسی جماعتوں نے کیوں ایکسٹینشن اورپارلیمنٹ سے قوانین کو بدل دیا؟۔
مولانا طاہر محسود رہنماPTMنے شہاب الدین خٹک اور افشین خٹک پر قادیانیت کے الزام کی تردید کی ۔ اگر کسی کو صفائی دینی ہو تو مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیج سکتا ہے اور اس کی معقول وجہ بھی ہے کہ قادیانی نے کہا تھا کہ ” جو میری نبوت کو نہیں مانتا ہے تو وہ رنڈی کی اولاد ہے”۔ ایسی گالی دینے پر لعنت تو بنتی ہے ۔ باقی قادیانی ختم نبوت کی آیت پڑھتے اور مانتے ہیں مگر اس میں خاتِم اور خاتَم کا فرق کرکے نبوت کا خاتمہ نہیں مانتے بلکہ اس کو مہر نبوت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمد ۖ کے بعد مرزا قادیانی دجال نبی ہے۔ قادیانی بھی یہی کلمہ پڑھتے ہیں اور ان پر پابندی ہے کہ اپنی عبادتگاہوں پر مسلمانوں کا کلمہ مت لکھو۔ جہاں تک شہاب الدین خٹک ایڈوکیٹ کا تعلق ہے تو وہ عوامی ورکر پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مذہبی لیبل لگانا یا کسی کی مخالفت پر مجبور کرنا درست نہیں ہے۔ یہ لوگ مذہبی عقائد والے نہیں ہیں۔
صحافی ابصار عالم نے بتایا کہ جنرل راحیل شریف اورDGISIرضوان اختر نے کافی مشکلات میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس کے سسر کی وجہ سے ڈالا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے نوازشریف کو سفارش کی کہ آرمی چیف لگادیں۔ پھر یہ باجوہ تھے جس کی صفائی اوریا مقبول جان نے ایک بزرگ کاخواب سناکر اور علامہ زاہدالراشدی نے پڑوسی ہونے کے ناطے پیش کی۔جب جانے لگ گئے تو ساری فائلیں کھل گئیں۔ سیاسی تحریکوں کا مذہبی واسطہ انسانی حد تک ہوتا ہے اور اس کو مذہبی بنیاد پرہدف بنانا غلط ہے۔ عاصمہ جہانگیر پر بھی الزام لگتے تھے۔ حرکة المجاہدین کے مولانا فضل الرحمن خلیل نے ایک عربی لڑکی سے شادی کی اور مخالفین نے اڑادیا کہ یہودن ہے ۔ پھر توپوں کارُخ مولانا فضل الرحمن قائد جمعیت کی طرف موڑکردیا گیاتھا کہ اس نے یہود ن سے شادی کی ہے۔
میرے دادا سیدامیر شاہ کی قیادت میں محسود ، انکے بھائی احمدشاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل افغانستان کے بادشاہ کے پاس گئے اور معاہدہ کیا کہ انگریز کے خلاف ہم ایک دوسرے کیساتھ باہمی تعاون کریں گے۔سیدعتیق الرحمن گیلانی
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟

نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟

کیا25سال بعد35ھ میں دارالخلافہ مدینہ کا محاصرہ کرکے خلیفہ حضرت عثمان کی شہادت کم سانحہ تھا؟
عشرہ مبشرہ ، خلیفہ راشد حضرت علی اور اماں عائشہ صدیقہ میں جنگ جمل ، صفین اورسانحہ کربلاکیا کم تھے؟

ابوبکر صدیق11ھ ۔عمر فاروق13ھ۔ عثمان غنی23ھ۔علی35ھ ۔ حسن40ھ۔656عیسوی۔
سلسلہ بنو اُمیہ: معاویہ41ھ۔ یزید60ھ۔معاویہ بن یزید64ھ۔ مروان64ھ ۔ عبد الملک65ھ ولید86ھ۔ سلمان96ھ۔ عمر بن عبد العزیز99ھ۔ …آخری مروان127ھ ۔744عیسوی۔
سلسلہ عباسیہ: ابو العباس سفاح749عیسوی۔ ابو جعفر منصور754عیسوی۔ مہدی774عیسوی۔ الہادی785عیسوی۔ ہارون الرشید786عیسوی۔ محمد الامین808عیسوی۔ المامون813عیسوی۔…آخری المتوکل علی اللہ1506عیسوی
سلسلہ عثمانیہ: سلیم خان اول1517عیسوی ۔ سلیمان اول1520عیسوی۔ …سلطان عبد الحمید اختتام1924عیسوی

ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق جو تجھے حاضر وموجود سے بیزارکرے
یہاں76سال میں وہ نہ ہوا جو پیغمبر ۖ کے بعد ہوا۔25سال بعد خلیفہ عثمان کی شہادت سقوطِ ڈھاکہ سے کم تھی؟۔ جنگ جمل ، صفین ، علی کی شہادت، حسن کی صلح کے بعد آمریت۔ عمر، عثمان اور علی کی شہادت کیا قائداعظم کے بعد لیاقت علی خان کی شہادت سے کم تھی؟۔ پاکستان میں شیعہ سنی اور دہشتگردی سے اتنے لوگ کہاں مارے گئے ؟جوجنگ جمل ، صفین وغیرہ میںمارے گئے تھے!۔
معاویہ کے بعد محرم61ھ میں گویا50سال بعد سانحہ کربلا پیش آیا۔ یزید نے62ھ میں مدینہ اور63ھ میں مکہ کو تاراج کیا۔ عبداللہ بن زبیر نے خلافت کا مکہ میں اعلان کیاتھا اور73ھ کو حجاج نے شہید کردیا۔ نبی ۖ کے بعد76سال میں جو ہوا، تلخیاں موجود ہیں۔ ابوبکر، عمر ، عثمان، علی اور انصار نے قربانیاں دیں۔ انصار ومہاجر خلافت پر فتنہ وفساد سے بال بال بچ گئے۔
سورۂ یوسف میں نقص علیک احسن القصص ” ہم آپ کو قصہ بتاتے ہیں جو بہترین قصہ ہے”۔ یوسف کیساتھ بھائیوں نے کیا کیا؟۔ یوسف کے بھائی، یعقوب کے بیٹے، اسحاق کے پوتے، ابراہیم کے پڑپوتے تھے ۔
حضرت سارہ ابراہیم کے خاندان سے تھیں۔ نسلی اصلی یوسف کے بھائیوں کے کرتوت پر اللہ نے پردہ نہ رکھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو حرام زادوں اور گالیوں کے القاب سے نوازا جائے۔ اقتدار کی مہلک جنگ نہ تھی بلکہ باپ کی توجہ پر حسد تھا۔ بھائی کو قتل اور ویران کنویں میں پھینکنے کا منصوبہ بنایا، پیغمبر باپ سے محبت مگر تکلیف میں ڈالا۔ پتہ تھا اسلئے خواب بتانے کی اجازت نہ دی ۔ مغل بادشاہ عادل عالمگیر اورنگزیب نے بھائیوں کو قتل اور باپ کو تکلیف میں ڈالا۔
پاکستانیوں نے اقتدار کی لڑائی میںاخلاقیات کی دھجیاں اُڑادیں اور بھائی چارے قائم ہوئے تو ایکدوسرے سے نہیں شرمائے۔ سیاست اور ملاکی شریعت میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں ۔ نواز و شہباز شریف کا ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو اور زرداری کو گالیاں بکنا ریکارڈ۔ عمران خان کا زرداری، نواز شریف اور مولانافضل الرحمن کو اول فول بکنا بھی ریکارڈ اورعوام کا فوج مخالف ہونا بھیانک حقیقت ہے عوام کو سیاسی و مذہبی طبقے ،حکومت اور حکمرانوں سے نفرت ہوگئی اسلئے کہ روزگار چھن گیا، مہنگائی حدوں سے زیادہ ۔ ہر ایک کوگالی پڑتی ہے لیکن فوج ،PDMاور اتحادی حکمران جماعتوں سے زیادہ نفرت ہوگئی ہے۔ نتائج کیا نکلیںگے؟۔
99ھ مروان کے پڑپوتے عمر بن عبدالعزیز نے خلافت راشدہ لوٹائی،وہ مجدد مہدی تھے لیکن مہدی کا عدل دنیا پر ہوگا۔ یقین ہے پاکستان ترجمان ماضی شان حال جان استقبال سایہ خدایہ ذوالجلال کاایک بہت بڑا نمونہ بنے گا۔ فوج اور حکمرانوں کیخلاف بولنے سے لیکر مسلح جدوجہد تک دنیا میںکس کو اجازت ہے ؟ ایران، دوبئی، سعودی عرب، بھارت ، برطانیہ ، امریکہ کہیں پر کرکے دکھائیں!۔
جنرل ضیاء الحق دور میںوزیراعظم محمد خان جونیجونے سول وملٹری افسران کو کم اخراجات اور چھوٹی گاڑیوں کا پابند بنایا۔ وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سرکاری محکموں کے اخراجات کم کریں۔ عمران خان یا کسی لیڈرپر پابندی ضروری نہیں۔ منظور پشتین نے کہا کہ سیاسی قائدین فوج کے نوکر ہیں۔ خان زمان کاکڑ نےPTMکو فوج کا ایجنٹ قرار دیا،PDMاور اتحادی جماعتیں کم ایجنٹ ہیں؟۔ وزیراعظم عمران خان بنے یا علی وزیر ؟ ۔ عوامی نمائندے آزاد فیصلہ کریں تاکہ اعتماد قائم ہو۔حضرت علیکومنصوبہ بندی سے حملہ کرکے شہید کیا گیاتھا۔آج سب سے بڑا فقدان اعتماد کا ہے ۔سوشل میڈیاپر اپنا حق درست استعمال کریں۔
کتاب میں تھاکہ لڑکیTVدیکھتی تھی۔ مرگئیTVسے چپک گئی۔نہلایا، جنازہ پڑحایا،TVکو ساتھ گھمایا ، دفناتے توTVکے پیچھے قبر سے نکلتی۔ کئی بار کے بعدTVکو ساتھ دفن کیا۔ مفتی تقی عثمانی کے بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی وغیرہ نے نقل کیا۔ میرے بچے کی عمر آٹھ دس سال کے درمیان ہوگی تو پوچھا: یہ سچ ہے؟ میں نے کہا کہ آپ کو کیا لگتا ہے؟۔ اس نے کہا کہ جھوٹ۔ اب دوسرے6سالہ بچے نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اللہ کا نام لیکر شیئر کرنے والے مذہبی لوگ نہیں بلکہ اکاونٹ پروموٹ کرنے کیلئے اللہ کانام استعمال کرتے ہیں۔
سعد بن عبادہ نے کہا کہ میں لعان کے قرآنی حکم پر عمل نہیں کروں گا۔علماء نے بھی اس کی تائید کی کہ اللہ اور اسکے رسول ۖ غیرت مند ہیں۔ غیرتمند قومی اقدار کے مطابق صلح کرتے تھے مگر اب حلالہ کی بے غیرتی عام ہوگئی ہے۔
ڈبرہ گومل ٹانک کا پاگل بیٹنی کہتاتھا کہ تم دکان دیکر سمجھتے ہو کہ کمارہے ہیں۔ تمہاری عورتیں گھروں سے نہیں نکل سکتیںکہ پیشاب کے بعدہاتھ میں چیزیں پکڑی ہوتی ہیں۔ بلوچو اور طالبا نو! مزید اپنی خواتین کی عزتیں خراب نہ کراؤ۔

نوٹ: مندرجہ ذیل عنوان کے تحت یہ تبصرہ کیا گیا ہے۔ مکمل پڑھنے کیلئے یہ آرٹیکل بھی ضرور پڑھیں۔
”پاکستان 76سالوں میں کہاں سے گزر گیا”۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟

پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟

سقوطِ ڈھاکہ سے لیکر فرقہ پرستی ، قوم پرستی اوردہشتگردی کے نام پر جنگ میں پاکستان نے بڑاکچھ کھودیا
ریاست نے سیتاوائٹ کی طرح عمران خان کو عدالت میںگھسیٹا ہے اور پاکستان ٹیریان وائٹ بن گیا؟

پاکستان لاالہ الااللہ کے نام پر بنا۔ قائداعظم محمد علی جناح، قائد ملت لیاقت علی خان نے بنیاد رکھی۔پاکستان بننے کے بعد قائدین کی زندگی مختصر تھی اور آپس میں بھی نفاق کے تاریخی حقائق ہیں۔ قائد ملت کا تعلق بھوپال بھارت سے تھا۔ قائداعظم کو تشویش تھی کہ حلقہ انتخاب کیلئے بھوپالیوں کو کراچی بسایا جا رہا ہے۔ بھوپالی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیا کہ ”مجھے یہ غم ہے کہ اس ملک وقوم کیلئے کیوں قربانی دی ،یہ بڑی غلطی کی ہے”۔
مسلم لیگ ن کیلئے ریڈلائن مریم نواز ہے۔ تحریک انصاف کیلئے عمران خان جس کی گرفتاری پرجناح ہاؤس لاہور کو آگ لگادی گئی ۔ جوشیلے کارکن حاشر نے کورکمانڈر ہاؤس سے پاکستانی جھنڈا اتار دیا اور تحریک انصاف کا جھنڈا لہرادیا۔GHQکے گیٹ پرخاتون نے جس طرح لوگوں کو بلا یا اس سے زیادہ مزاحمت میوہ شاہ قبرستان میں بسنے والے موالی بھی حملہ آوروں کے خلاف کریں گے۔
لاہور جناح ہاؤس میں داخلے سے یاسمین راشد نے منع کیا، اگر میرا بس چلتا تو یاسمین راشد کو جناح ہاؤس بچانے کی کوشش پرGHQمیں بلاکر قوم کے سامنے انعام دیتا۔ یہ نوازشریف کی طرح چیف جسٹس سجاد علی شاہ پر منافقانہ اور پارلیمنٹ اورPTVپر عمران خان و طاہر القادری کی مجاہدانہ یلغار تھی اور نہ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کا کھڑک ججوں کے انڈے توڑنے کی سرکار تھی۔البتہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بندے مار کر حکومت وریاست تابکار تھی اور لاہور سے جی روڈ پنڈیGHQتک پنجاب میں ریاست وحکومت بے کار تھی؟۔
مقتدر طبقے کو سمجھ نہیں کہ تحریکوں کو کیسے ڈیل کیا جائے؟۔ دل کیسے جیت سکتے ہیں؟۔ سابق سینیٹر پیپلزپارٹی مصطفی نواز کھوکھر جیسے لوگ ملک اور قوم کا اثاثہ ہیں جو سمجھداری سے سیاسی بحران کو ختم کرنے کی بات کر تاہے۔ جماعت اسلامی کو جلتے پر تیل چھڑکنا آتا ہے۔ ہمارے علی وزیر اور منظور پشتین ایک گرم ، دوسرا ٹھنڈا۔ اب دونوں نے گرمی دکھائی۔ ایمان مزاری وجد میں آگئی تھی ۔ یہ لوگ بہادر ہیں مگرایمل ولی کی طرح منافق اور طالبان کی طرح شدت پسند نہیں۔ شاعرانہ کلام میں ضرورت شعری توجوشِ خطابت میں تلخ الفاظ کاچناؤ سامعین کی دلچسپی کا ذریعہ !۔ بدامنی ختم نہ ہو، لوگ مریں ، پریشانی سر پر سوار ہو تو دل ودماغ کی گرمی بنتی بھی ہے۔ سیاسی مزاج اور شدت پسندی دو متضاد چیزیں ہیں ۔ آگ اور پانی اکٹھے ہوسکتے ہیں مگر سیاست اور شدت پسندی نہیں ۔PTMمطالبات کی فہرست پیش کرتی۔ ایمان مزاری ایڈوکیٹ موجود تھی۔کوئی لائحہ عمل بن سکتا تھا۔ جنگ بندوقی ہو یا زبانی لوگ شک کرتے ہیں کہ کسی مشن کی تکمیل تو نہیں؟ اور اہم معاملے سے توجہ ہٹانا تو نہیں؟جب پاک فوج کو بندوق سے خطرہ نہیں تو زبانی شدت سے کیا خطرہ ہے؟ مگر سیاسی عمل کے ذریعے تبدیلی خطرناک ہوگی۔
عمران خان اور اس کے حامی اعصاب پر سوار ہیں۔ مظہر عباس نے کہا کہ ”اگر عمران خان کو الیکشن میں حصہ لینے سے نہیں روکا جاسکا تو انوارالحق کاکڑ لمبے عرصہ تک چلے گا ،اسلئے کہ نوازشریف عمران خان کا اس کے حلقے میں مقابلہ نہیں کرسکتا اور عمران خان مقابلہ کرے گا۔ اگر نوازشریف کو ہرادیا جس کا امکان بھی ہے تو نوازشریف کی سیاست دفن ہوجائے ”۔مظہر عباس کی بات وزنی ہے۔
PTMکا طالبان کو فائدہ ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہے۔ فوج کو فائدہ ہے کہ قوم طالبان سے متنفرہو گئی ، امریکہ کو دکھا دیا کہ ڈالر سے قوم کو ناراض کردیا ورنہ اس کا دماغ خراب ہوتا۔ جرنیل، بیوروکریٹ ،سیاستدان اور صحافی سے لوٹی دولت چھین لیتا۔PTMکی قیادت بھی خوش ہے کہ بھاڑ میں جائے پشتون کی قیادت ایمل ولی اور محمود اچکزئی۔ہمیں چندہ ، شہرت اور طاقت ہر چیز مل گئی۔
اللہ نے فرمایا :ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس ” خشکی و سمندر میں فساد برپا ہوا بسبب لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کے”۔
تحریک انصاف کے کارکنوں ، عمران خان اور صحافیوں کے خاص طبقے سے پاک فوج نے خوب کام لیا۔ جیو کے دفتر پر اسلام آباد میں روزانہ پتھراؤ ہوتا تھا۔ حامد میر لائیو شویا ریکارڈ نگ میں تحریک انصاف کی سنگباری کو دکھاتاتھا۔ جبARYنیوز پر کراچی میںMQMنے حملہ کیا تو الطاف حسین اورMQMبڑی مشکلات کے شکار ہوئے۔ وہی صحافی صابر شاکر، سمیع ابراہیم، صدیق جان اور عمران ریاض خان وغیرہ اور تحریک انصاف کے کارکن پاک فوج کیلئے ہاتھوں کی کمائی بن گئے اور گرداب میں پھنس گئے۔ اگر عفو ودرگزر سے کام نہیں لیا تو اپنے مامے بننے والے سیاستدان اور صحافی بھی معاف نہیں کریںگے۔انوارالحق کاکڑ سمجھدار ہیں ۔ سرفراز بگٹی ، جنر ل عاصم منیر، عمران خان اورPTMکے قائدین سبھی اچھے ۔بس امن وامان کی فضا قائم کریں اور ملک وقوم کو مشکل سے نکالیں۔

نوٹ: مندرجہ ذیل عنوان کے تحت اس پر تبصرہ پڑھیں۔
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔

مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔

خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی

ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیجی۔ یہ گھڑی4میٹر اونچی خالص پیتل سے بنی تھی۔ اورپانی کے زور پر چلتی تھی1گھنٹہ پورا ہونے پرگھڑی سے ایک گیند نکلتی،2گھنٹوں پر2اور3گھنٹوں پر3گیندیں اس طرح ہر گھنٹے کے ساتھ ایک گیند کا اضافہ ہوتا تھا۔ گیند نکلنے کے ساتھ ایک خوبصورت سریلی آواز کے ساتھ گیند کے پیچھے پیچھے ایک گھڑ سوار نکلتا۔ وہ گھڑی کے گرد چکر کاٹ کر واپس داخل ہوتا جب12بج جاتے تو12گھڑ سوار نکلتے۔ چکر کاٹ کر واپس جاتے۔ گھڑی کی یہ حرکتیں دیکھ کر بادشاہ شارلمان کافی پریشان ہوا اس نے پادریوں اور نجومیوں کو محل میں بلوایا۔ سب نے دیکھ کر کہا اس گھڑی کے اندر ضرور شیطان ہے۔ سب رات کے وقت گھڑی کے پاس آئے کہ شیطان سویا ہوگا۔ چنانچہ گھڑی کھول لی تو آلات کے سوا کچھ نہیں ملا لیکن گھڑی خراب ہوچکی تھی۔ پورے فرانس میں گھڑی کو ٹھیک کرنے کیلئے کوئی کاریگر نہیں تھا۔ شرمندگی کی وجہ سے ہارون الرشید سے بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ کوئی مسلمان کاریگر بھیج دیں مطلب کہ جب سائنس پر مسلمانوں کی اجارہ داری تھی تو اس وقت یورپ سائنس کو جادو سمجھتا تھا۔
دنیا میں سب سے پہلا کیمرہ ایجاد کرنے والا ابن الہیثم ہے۔ دنیا میں سب سے پہلا کیلنڈر ایجاد کرنے والا عمر خیام ہے۔ آپریشن سے پہلے مریض کو بے ہوش کرنے کا طریقہ متعارف کروانے والا زکریا الرازی ہے۔ دنیا میں الجبرا ایجاد اور متعارف کروانے والا موسیٰ الخوارزمی ہے۔ سن1957میں شیمپو ایجاد کرنے والا محمد ہے۔ زمین پر آنے والے زلزلوں کی سب سے پہلے سائنسی وجوہات بیان کرنے والا ابن سینا ہے۔ کپڑا اور چمڑا رنگ کرنے اور گلاس بنانے کیلئے میگنیز ڈائی آکسائڈ کا استعمال متعارف کروانے والا ابن سینا ہے۔ دھاتوں کی صفائی سٹیل بنانے کا طریقہ متعارف کروانے والا ابن سینا ہے۔ مصنوعی دانت لگانے کا طریقہ متعارف کروانے والا ابو القاسم الزہروی ہے۔ ٹیڑھے دانتوں کو سیدھا کرنے اور خراب دانت نکالنے کا طریقہ متعارف کروانے والا ابو القاسم الزہروی ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے ادویات بنانے کے علم متعارف کروانے والا ابن سینا ہے۔ دنیا میں کشش ثقل کی درست پیمائش کاطریقہ متعارف کروانے والا عمر خیام ہے۔ آنکھ ناک کان اور پتے کا آپریشن سے علاج متعارف کروانے والا ابو القاسم الزہروی ہے۔ دنیا میں سرجری کیلئے استعمال ہونے والے تین اہم ترین آلات متعارف کروانے والا ابو القاسم الزہروی ہے۔ دنیاوی علموں میں علم اعداد اور جدید ریاضی کی بنیاد رکھنے والا یعقوب الکندی ہے۔ مریضوں کو دی جانے والی ادویات کی درست مقدار کا تعین کرنے والا یعقوب الکندی ہے۔ دنیا کو آنکھ پہ روشنی کے مضر اثرات کا بتانے والا زکریا الرازی ہے۔ روشنی کی رفتار کا آواز کی رفتار سے تیز ہونے کا انکشاف کرنے والا البیرونی ہے۔ دنیا کو زمین چاند اور سیاروں کی حرکات اور خصوصیات سے روشناس کرنے والا البیرونی ہے۔ دنیا کو قطب شمالی اور قطب جنوبی کی سمت کا تعین کرنے7طریقے بتانے والا البیرونی ہے۔ علم ارضیات میں مغرب والوں کی زبان سے بابائے ارضیات کہلائے جانے والا ابن سینا ہے۔ دنیا میں ہائیڈروکلورک ایسڈ نائٹرک ایسڈسفید سیسہ بنانے کے طریقے بیان کرنے والا جابر بن حیان ہے۔ کیمیکلز بنانے اور ایجاد کرنے میں بابائے کیمیا کہلائے جانے والا ابن سینا ہے اور ستاروں کی حرکت کا درست تعین کرنے والا نصیر الدین طوسی ہے۔ یہ سب مسلمان سائنسدان ہی تھے اور تم پوچھتے ہو کہ اسلام نے آج تک دنیا کو دیا ہی کیا ہے؟۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر

اللہ کی یاد سے اطمیان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔عتیق گیلانی

”اللہ کی یاد سے اطمیان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر ”
اور اس پر تبصرہ
”عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا ”
”ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔”

زندگی کے بیشمار مسائل میںتنگی و عسرت غم کا شکار ہیں ہم۔ آپ کو اطمینان چاہیے بھی۔ خدا بتابھی رہا ہے کہ اس طرح اطمینان ملے گا۔ اب یہ ذکر و اذکار جو ہیں کبھی ان میں دل لگتا ہے کبھی نہیں لگتا۔ یاد واحد ایسی چیز ہے جو جبراً نہیں بلکہ محبت سے کی جاتی ہے۔ جو زیادہ یاد آئے گا اسی سے زیادہ محبت ہوگی۔ انس سے رفاقت سے محبت سے مجھے بھی ایسے ہی یاد کرو جیسے آباو اجداد کو چاہتے ہو۔ پروردگار نے فرمایا کہ میں اپنے اولیاء کو ایک انعام دیتا ہوں۔ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔کہ بلا شبہ سن لو کہ میرے دوستوں پر خوف و حزن نہیں ہوتا۔ خوف وحزن ماڈرن لائف میںEqualentہیںFearاورFrustrationکیساتھ کہ میرے دوستوں کوFearsنہیں ہوں گے۔Frustrationنہیں ہوں گے۔ خوف نہیں ہوں گے غم نہیں ہوں گے۔اللہ سے پوچھا جاتا ہے کہ اے پروردگار عالم خوف و حزن کیفیت قلب ہے تو کیفیت قلب کا اطمینان کس طرح ہے ؟ فرمایا الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کہ سن لو میرے ذکر کے بغیر اطمینان قلب نہیں ہوگا۔ توحضرات محترم! اصول یہ ہوا کہ اللہ اپنے بندوں کو خوف و حزن سے بے نیاز کرتا ہے ۔ خوف و غم سے بے نیازی کیفیت قلب ہے۔ کیفیت قلب بغیر یاد خدا کے اطمینان آہی نہیں سکتا۔ اب آپ کو اطمینان چاہئے بھی ۔ تمام معاشرے کو چاہیے خوف و حزن سے بے نیازی ۔ ہم سب
fearfull, We are all frustated
زندگی کے بیشمار مسائل میںتنگی و عسرت غم کا شکار ہیں ہم اور ہمیں امن چاہیے بھی اطمینان قلب چاہیے بھی اور ہم اسے ڈھونڈ بھی رہے ہیں مگر ذکر الٰہی سے گریزاں ہیں۔ خدا کی یاد سے گریزاں ہیں اور خدا کہتا ہے کہ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کہ سن لو خبردار ! میری یاد کے بغیر تمہیں اطمینان قلب نصیب نہ ہوگا۔ (پروفیسر احمد رفیق اخترکا بیان سوشل میڈیا پر)

*****************************************
”عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا ”
”ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔”
*****************************************
پروفیسر احمد رفیق اختر سے جنرل اشفاق پرویز کیانی ، فوجی و سول بیورو کریٹ اور صحافی استفادہ کرتے ہیں۔ معیشت سودی قرضوں پر ہو ، ظلم و جبر سے طاقتور طبقہ کمزور کو دبوچ رہا ہو اور غیر ملکی حملوں کیلئے مقتدر طبقہ سہولت کار ہو۔ سفیر ملا سلام ضعیف کو ننگا کرکے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کو حوالہ کریں تو کیا ذکر کے وظائف سے اطمینان ہوگا؟۔ قوم محنت مزدوری ، تجارت و نوکری کرکے بھی ننگی، بھوکی، افلاس و احساس کمتری کا شکار ہو۔ اشرافیہ سُودی قرضہ پر بیرون ملک تعلیم اور نوکری کا دھندہ کریں تو کیا اشرافیہ کو اللہ کے ذکر سے اطمینان ملے گا اور خوف و حزن سے نجات پاسکے گا؟۔عمران خان کو گھڑی پر سزادی باقی کو گاڑیاں معاف ہیں؟۔ عمران خان کا راستہ نہ روکو، بے اطمینانی اور خوف وحزن ختم ہوگا۔
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر یا کسی جرنیل کو ولی بنادو ، یا خود وزیرستان کی بدامنی میں بے خوفی کی زندگی گزار کر دکھاؤ۔ منظور پشتین جھوٹ بکتا ہے کہ وہ نہیں ڈرتا۔ ذبح کرنے والے طالب کے سامنے چوں بھی نہیں کرسکتاہے۔
سورہ الرعد کی آیت میں اللہ کے ذکر سے اطمینان ملتاہے تو ذکر سے قرآن مراد ہے۔ جس دن پاکستان اور وزیرستان میں قرآن کا نفاذ ہوگا تو مؤمنوں کو اطمینان ملے گا۔ پروفیسر کے مرید کفار کی طرح چمتکار کے انتظار میں رہتے ہیں۔
ویقول الذین کفروالولا انزل علیہ آےة من ربہ قل ان اللہ یضل من یشاء ویھدی الیہ من انابOالذین امنواوتطمئن قلوبھم بذکر اللہ الا بذکراللہ تطمئن القلوبOآیت:27،28
ترجمہ ” اور کافر کہتے ہیں کہ کوئی چمتکار اترتا نبی پر اپنے رب کی طرف سے ۔ کہہ دیں کہ بیشک اللہ جس کو چاہے گمراہ کرے اور ہدایت دے جو اس کی طرف جھکے۔ جو لوگ ایمان لائے اور انکا دل اللہ کے ذکر(قرآن) سے مطمئن ہے۔ خبردار ! اللہ کے ذکر (قرآن ہی) سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے” ۔سورہ الرعد
چمتکارکا طالب گمراہ اور جو قرآن کی طرف جھکے مہدی ہے۔ سورۂ کے شروع سے آخر تک اللہ کے نازل کردہ کا ذکر ہے۔ جہاں اللہ جواب دیتاہے بندہ بھی جواب دہ۔ مستجاب الدعوات لہ دعوة الحق” اس کیلئے پکار حق ہے” ۔مندر ، بھکشو عبادتگاہ ، یہودی خانقاہ اور نصاریٰ گرجا میں کثرت سے اللہ کا نام یاد کیا جاتا ہے۔لولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لوھدمت صوامع وبیع و صلوٰت ومسٰجد یذ کر فیھا اسم اللہ کثیرًا ”اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے دفع نہ فرماتا تو ڈھا دی جاتیں خانقاہیں، گرجا، کلیسااور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے۔ (سورہ حج آیت40) ۔
المرٰ تلک اٰیات الکتاب و الذی انزل الیک من ربک الحق ولٰکن اکثر الناس لایؤمنونO( الرعد: آیت :1)ترجمہ :”ال م ر : یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور جو کچھ تجھ پرتیرے رب کی طرف سے اترا وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ”۔لہ دعوة الحق والذین یدعون من دونہ لایستجیبون لھم بشی ئٍ الا کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ وماھو ببالغہ ومادعآء الکافرین الا فی ضلالO(آیت:14سورۂ رعد) ۔ترجمہ: ”اور اسی کیلئے حق کی پکار ہے اورجو اس کے سوا جن لوگوں کوپکارتے ہیں تو وہ کسی چیز کا جواب نہیں دیتے۔ مگر جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے پانی کی طرف تاکہ اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا اور کافروں کی پکار نہیں ہے مگر محض گمراہی میں ”۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ بت اور مزار والے پکارکا جواب نہیں دیتے۔ تو اللہ بھی جواب نہیںدیتا ؟۔ بس فرق یہ ہے کہ کوئی مندر میں رام رام کرتا ہے، کوئی عیسیٰ یسوع مسیح کو پکارتا ہے ، کوئی عبدالقادر جیلانی غوث اعظم کو پکارتا ہے، کوئی مشکل کشا علی کو پکارتا ہے اور کوئی اللہ کو پکارتا ہے لیکن جواب تو کوئی بھی نہیں دیتا ؟۔ اقبال نے خود شکوہ ، جواب شکوہ لکھ دیا تو یہ اور بات ہے۔ حق یہ ہے کہ اللہ کو پکارا جائے تو قرآن جواب دیتا ہے اور ہر مسئلے کا حل بتاتا ہے اور وہی نفع بخش ہے۔ رام کو پکارنے والے کا منہ پانی تک نہیں پہنچتا،تو اللہ کو پکارنے والوں کا منہ پانی تک نہیں پہنچتا ہے؟۔ اللہ کو پکارا جائے تو وہ قرآن کے ذریعے جواب دیتا ہے۔ کافر سمجھتا تھا کہ نبی ۖ اور قرآن کافی نہیں!۔ معجزہ چمتکار لائیں لیکن مؤمنوں کے لئے قرآن اطمینان کا باعث ہے۔ حضرت ابراہیم کو محض اللہ کے ذکر سے اطمینان نہیں ملا ، پرندوں کو چار ٹکڑے کرکے زندہ دیکھ لیا تو اطمینان حاصل ہوا۔ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ میں تقسیم ہوکر مرچکے ۔ قرآن زندہ کرے تو مسلمان کو اطمینان ملے گا۔ ذکر صبح گاہی کی مستی سے شیطان فائدہ اٹھاتا ہے۔
مرید چمتکار کے چکر اور پیر سرمایہ دار اور طاقتور مرید کے چکر میںخوشحال زندگی کو پیر اطمینان سمجھتاہے۔ حرام خور ظالم مریدوں کو پیر وظائف پر لگاتا ہے کہ دل کو اطمینان ملے گا اور قرآنی آیات سے استدلال پیش کرتا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے اور اولیاء اللہ پر خوف اور حزن نہیں ہے۔ پروفیسر رفیق اختر فوجی مرید کو قرآن نافذ کرنے کی دعوت نہیں دیتا۔ اور نہ معاشرے کی اصلاح کیلئے قرآن کے قانونی نکات بیان کرتا ہے لیکن سمجھتا ہے کہ وظائف سے ظلم وحرام ہضم ہوجائے گا؟۔ ضعف الطالب والمطلوب ”مرید اور پیر دونوں ہی کمزور ہیں”۔یہ خودکو اور عوام کوبھی تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
ان الذین قالوا ربنااللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملائکة الا تخافوا ولاتخزنوا وابشروا بالجنة التی توعدون ” بیشک جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر استقامت اختیار کی تو ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف مت کھاؤاور حزن مت کھاؤ اوراس جنت کی خوشخبری پر خوش ہوجاؤ جس کا تم لوگوں سے وعدہ ہے”۔ جب شیطان خوف کے وسوسے ڈالتا ہے جن کا تعلق خناس جنات اورانسانوں سے ہوتا ہے کہ انجام خطرناک ہوگا تو فرشتے بھی اترکر حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ خوف اور حزن مت کرو۔ جیت گئے تو جیت گئے اور ہارے بھی توبازی مات نہیں ۔ دنیا نہیں تو جنت مل جائے گی۔
اللہ کے احکام کو دنیا میں معاشرے پر نافذ کرنے والے ہی اولیاء اللہ ہیں۔ اس ولایت کا فریضہ پورا کرنے پر ہی خوشخبری ہے کہ الا ان اولیاء اللہ لاخوف علہیم ولا ھم یحزنوں ” خبردار! اللہ کے اولیاء پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔ اطمینان معاشرتی فرائض ادا کرنے پر ملے گا۔
سورۂ مائدہ میں تین طبقات کا ذکر ہے۔ اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے والے علماء ومشائخ کو کافر قرار دیا گیا ہے اور حکمرانوں کو ظالم قرار دیا گیا ہے اور عوام کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی طبقہ بھی اولیاء اللہ کیسے بن سکتا ہے؟۔
مجھے معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
ایک عورت کی شادی ہوتی ہے تو اگر وہ شوہر سے خلع چاہتی ہے لیکن مولوی اس کو حق نہیں دیتا ۔حالانکہ اللہ نے عورت کو خلع کا حق دیا ہے۔ مولوی کی ناجائز طرفداری کرنیوالا اپنا رب اللہ کو نہیں علماء ومشائخ کو بناتا ہے۔ جب شوہر اپنی بیوی سے دس بچے جنوانے کے بعد طلاق دیتا ہے تو عورت کو حقوق سے محروم کیا جاتا ہے ، بچے بھی چھین لئے جاتے ہیں جن کو9ماہ پیٹ میں گھمایا۔موت کے کنویں میں چھلانگ لگاکر جنا ۔ زچگی میں بھی رات دن بچوں کی خدمت کی تھی۔ جونہی رات کو بچہ رویا نیند سے اُٹھ کر پہلے چوما اور پھر سینے سے لگاکر دودھ پلایا ۔ پوٹی و پیشاب کو صاف کیا اور خود پیشاب کے گیلے بستر پر لیٹ گئی ۔ بچے کو سوکھی جگہ پر لوریاں دینے کے بعد سلادیا۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ بچہ ماں کا نہیں ہے؟۔ کیا اس ماں کو وظائف سے اطمینان ملے گا یا پھرقرآن کے مطابق حقو ق سے؟۔
سورہ رعد میں جتنی تفصیلات دیکھ لی جائیں اتنا دماغ بھی کھلے گا۔ اصل موضوع اللہ کی ذات کے حوالہ سے قرآن کے احکام پر عمل کی ولایت ہے۔
فرمایا: ” کہہ دیجئے کہ کون آسمانوں اور زمین کا رب ہے؟۔ کہہ دو کہ اللہ !۔ کہہ دو کہ کیا تم نے اس کے علاوہ اولیاء پکڑ رکھے ہیں؟۔جو اپنی جانوں کے لئے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ہیں ۔ کہہ دو کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتا ہے؟۔یا اندھیرے اور نور برابر ہوسکتے ہیں؟۔ یا تم نے اللہ کے شریک بنارکھے ہیں۔ وہ بھی تخلیق کرتے ہیں اللہ کی تخلیق کی طرح۔پس ان پر مشابہت ہوگئی ۔ کہو کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اکیلا قہار ہے ۔اس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے اپنی مقدار میں نالے بہنے لگے پھر سیلاب پھولا ہوا جھاگ اوپر لایا اور جس چیز کو آگ میں زیور یا کسی اور اسباب بنانے کیلئے پگھلاتے ہیں اس پر اسی طرح کا جھاگ ہوتا ہے، اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال دیتا ہے۔ پھر جو جاگ ہے تو خشک ہوکر جاتا رہتا ہے اور جو لوگوں کیلئے نفع بخش ہے تو وہ زمین میں اپنا ٹھکانہ بنالیتا ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں دیتا ہے۔ جنہوں نے اپنے رب کیلئے جواب دیا تو ان کے لئے اچھائی ہے اور جنہوں نے اس کو جواب نہیں دیا ۔ اگر ان کے پاس جو کچھ سب زمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو۔اور اس کو فدیہ بھی کردیں تو ان کے لئے حساب برا ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ ٹھکانہ برا ہے۔ بھلا جو شخص جانتا ہے کہ بیشک جو تیری طرف تیرے رب کی طرف سے اترا ،حق ہے کیا وہ اندھے کی طرح ہوسکتا ہے؟۔ بیشک وہی نصیحت حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔( سورہ الرعدآیت:16،17،18،19)
اگرخانقاہوں ، گرجا گھروں، مندروں اور مسلمان مکاتب فکر ، فرقوں اور عقائد رکھنے والوں کا طریقہ کار بھی ایک ہو اور ان میں سے قرآن کے احکام کی طرف ٍ رجوع نہ کرتا ہو تو ان میں اللہ کو جواب دینے اور اللہ کا جواب دینے میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ قرآن میں اللہ نے قرآن کو بھی ”الذکر” قراردیا ہے اور قرآن تذکیر ہے۔ اللہ سے پوچھنے اور اللہ کے حکم کا جواب دینے کی بات ہے۔
مجھے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دیگر تمام مدارس سے محبت اسلئے ہے کہ اللہ کے احکام مدارس اور علماء کرام ومفتیان عظام سے سیکھنے کا موقع مل گیا ہے۔ ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان سے بھی محبت اسلئے ہے کہ صبح وشام وہاں ذکر کی محفل سے قرآنی احکام کی عزیمت پر عمل کرنے کی ہمت مل گئی ۔ مدارس اور خانقاہوں کی بے توقیری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن جب تک اللہ کے احکام کو سمجھ کر معاشرہ اس پر عمل نہیں کرے گا تو خانقاہیں اور مدارس مسائل کا حل نہیں ہیں۔
مغرب کی ترقی کا راز اپنے مذاہب کو پھینک کر سیکولر ازم کا راستہ ہے اور رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیں گے” ۔(صحیح مسلم)
مغرب نے جمہوری نظام کے ذریعے عورت اور مرد کویکساں حقوق دئیے۔ شوہر کو طلاق کا حق اور بیوی کو بھی طلاق کا حق ہے۔ دونوں کی جائیداد برابر برابر تقسیم ہوتی ہے۔ بیوی ارب پتی اور شوہر لکھ پتی یا شوہر ارب پتی اور بیوی کنگال ہو تو طلاق میں دونوں کا مال برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا قانون ہے۔ نکاح کیلئے شناختی کارڈ کی عمر تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ دونوں کے نام پر جائیداد ہو۔ بالغ لڑکی کو مکمل اختیار حاصل ہے۔ جب مالدار مرد یا عورت کو کسی غریب جوڑی دار پر اعتماد نہیں ہوتا ہے تو وہ شادی کی جگہ دوستی کو ترجیح دیتے ہیں۔ گرل یا بوائے فرینڈز کا تصور نکاح کے سخت قانون کی وجہ سے پروان چڑھ گیا ہے۔
اسلام میں نکاح ، خلع اور طلاق کا قانون فطرت کے مطابق تھا لیکن فقہاء نے اس کی شکل بگاڑ دی ،جیسے یہوونصاریٰ نے بگاڑ دی تھی۔قرآن میں نکاح پرعورت کیلئے مرد کی وسعت کے مطابق حق مہر ہے۔ ہم نے قرآن پر تدبر کرکے اس کو اپنے معاشرے میں رائج نہیں کیا ۔ قرآن میں عورت کو خلع کا حق ہے اور خلع میں شوہرکی دی ہوئی اشیاء کو لے جانے کا حق ہے ۔ کپڑے، زیور، گاڑی ، برتن، نقدی ، بینک بیلنس، موبائل اور ہر وہ چیز جو منتقل کی جاسکتی ہو لیکن غیر منقولہ جائیدادگھر، دکان، فیکٹری،باغ ، پلاٹ اور زمین سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
مرد کو قرآن نے طلاق کااختیار دیا لیکن بیوی کو دی ہوئی منقولہ وغیر منقولہ چیزوں سے شوہر محروم نہیں کرسکتا ۔ چاہے خزانے دئیے ہوں۔ خلع و طلاق اور عورت کے حقوق کی سورہ النساء کی آیات19،20اور21میں وضاحت ہے۔
ارب پتی استطاعت کے مطابق ایک ارب روپے حق مہر کا پابند ہے۔ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو حق مہر کا نصف50کروڑاس کو دینا پڑے گا۔
اللہ نے فرمایا:”اور اگر تم عورتوں کو انہیں چھونے سے پہلے طلاق دیدو،اور تم نے حق مہر مقرر کیا ہو تو اس کا آدھا ہے جو تم نے مقرر کیا ہے۔مگر یہ کہ عورتیں کچھ معاف کریں یا وہ معاف کرے جسکے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے۔اے مردو! تمہارا معاف کرنا تقویٰ کے زیاہ قریب ہے۔اور آپس میں ایک دوسرے پر فضل (احسان) کو مت بھولو، بیشک اللہ تمہارا کام دیکھ رہاہے ۔ (سورة البقرہ:237)
قرآن پس منظر واضح کررہاہے کہ یہ خلع نہیں مرد طلاق دے رہاہے تو جسکے ہاتھ میں طلاق کا گرہ ہے اس کو اپنے حق سے زیادہ دینا مناسب ہے۔ فقہاء نے یہ بات پکڑ کر شریعت بنادی کہ ”عورت کو خلع کا حق نہیں ”۔ حالانکہ قرآن مالی حق کو واضح کر رہاہے ۔اس سے یہ مراد لینا کہ طلاق کا حق صرف مرد کوہے جہالت اور قرآن کی معنوی تحریف ہے۔ بیدہ عقدة نکاحسے زیادہ نکاح کی نسبت اللہ نے عورت کی طرف کی ہے کہ واخذن منکم میثاقًا غلیظًا ”اور ان عورتوں نے تم سے پکا عہد لیا ”۔ تو کیا اس سے عورت کا اختیار ثابت ہوگا؟ ۔ اس میں بھی اللہ نے مرد کو غیرت دلائی ہے کہ عورت کی اتنی بڑی قربانی ہے تواس پر فحاشی کا جھوٹا الزام لگاکر اپنے حق سے محروم کرنا بہت بڑی بے غیرتی ہے۔
عورت کے حقوق پر قرآنی معاشرہ قائم ہوتاتو بہت اطمینا ن حاصل ہوتا۔
ایک آدمی چار لاکھ کا جوتا پہنتا ہے لیکن کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کا حق مہر50ہزار روپے سے زیادہ نہیں لکھواتا اسلئے کہ یہی رسم ورواج ہے۔ ایک شخص کی جان لی جائے تو اس کا قصاص قاتلوں کو قتل کرنا ہے۔ اگر دیت رکھی جائے تو ایک شخص کی دیت100اونٹ اور عورت کی دیت50اونٹ ہے۔ شوہر قتل کیا جائے تو اس کی بیوی کو100اونٹ ملیں گے اور بیوی قتل کی جائے تو اس کے شوہر کو50اونٹ ملیں گے۔ اگر قرآن وسنت اور اسلام کے قانون پر عمل کیا جاتا تو نسلوں کو بھی لوگ وصیت کرتے کہ ناحق کسی کی جان مت لو۔ جب وہ اسلامی قانون کے تحت قتل کیا جاتا یا پھر دیت دیتا تو بہت پکی توبہ کرلیتا۔
فوج اور پولیس بھی مارتی ہے اور طالبان ، دہشت گرد، بدمعاش، غنڈے، جاگیردار اور پیر بھی مارتے ہیں۔ عوام بھی مارتی ہے۔ سب سے زیادہ اختیارات فوج کے پاس ہیں اسلئے ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا مقابلہ طالبان کرتے ہیںاسلئے ان کو خوارج کہا جاتا ہے۔ سلیم صافی نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن سے پوچھا تھا کہ جب افغانستان کی حکومت امریکہ کی حمایت کرتی ہے اور وہاں کے حکمرانوں کے خلاف جہاد ہے تو کیا ہماری فوج امریکہ کی حمایت کے باوجود شہید ہوتی ہے؟ سید منور حسن نے جواب دیا کہ یہی سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا ہے ۔ظاہر ہے کہ امریکی شہید نہیں تو ہماری فوج بھی شہید نہیں ہے۔
سلیم صافی نے حکیم اللہ محسود کی وہ تقریر نشر کی تھی جو اس نے قاضی حسین احمد کے خلاف کی تھی ۔پھر جماعت اسلامی نے سوشل میڈیا پرسلیم صافی کو برا بھلا کہا تھا اور سید منور حسن سے امارت کی خدمات واپس لے کر سراج الحق کو امیر بنادیا۔
عورت کے حق مہر کے بارے میں ہے کہ جس امام کے نزدیک جتنی مقدار میں چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اتنی مقدارکم ازکم عورت کے حق مہر کی ہے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے لکھاکہ” امام بخاری اس باب میں”مسئلہ اقل حق” کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات پر توسب کا اتفاق ہے کہ مہر شرائط نکاح میں داخل ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اقل مہر کیا ہونا چاہیے؟۔
1:ظاہریہ اور علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ ہرشئی حق مہر بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جو کا دانہ بھی مہر بن سکتا ہے۔ (المحلی لابن حزم)
2:ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ اقل مہر پانچ درہم ہے۔( فتح الباری)
3:مالکیہ اقل مہر ربع دینار ہے۔1/4یعنی دینار کا ایک چوتھا ئی حصہ۔یہی سرقہ میں ان کے نزدیک قطع ید کا نصاب ہے۔ربع دینار میں چور کا ایک عضوء کاٹا جاتا ہے اور عورت کی ایک عضو ء کا بھی اس میں شوہر مالک بن جاتا ہے۔
4:امام شافعی کے نزدیک جو چیز بھی قیمت رکھتی ہے ۔وہ مہر بن سکتی ہے۔ امام بخاری کا رحجان بھی اسی طرف معلوم ہوتاہے۔
5:حضرات حنفیہ کے نزدیک اقل مہر دس درہم ہے اور یہ حد سرقہ بھی ہے۔
کشف الباری صفحہ262۔ کتاب فضائل قرآن ، کتاب النکاح ، طلاق
اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں قرآن میں ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں امیر وغریب پر اس کی وسعت کے مطابق نصف حق مہر واضح ہے وہاں انہوں نے کس قسم کے لطیفوں کو مذہب بناڈالا ہے۔ چور کاہاتھ کم مقدار میں کٹ سکتا ہے لیکن ایک ہاتھ کی دیت50اونٹ بھی تو ہے۔ عورت کے عضوء کی ملکیت کوچور کے ہاتھ سے تشبیہ دی گئی ہے؟۔ یہ عورت کی سخت تذلیل ہے۔
ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔ جب معاشرے میں عورت کو اپنے حقوق نہیں ملتے اور نہ قرآن سے سیکھا اور سکھایا جاتا ہے تو اس کے قدموں کے نیچے رہنے والی دنیا کو کیسے اطمینان ہوگا؟ اور خوف وحزن سے نجأت ملے گی؟۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مروجہ نظام زمینداری اور اسلام

مروجہ نظام زمینداری اور اسلام
مولانا محمدطا سین: داماد علامہ حضرت سید محمد یوسف بنوری
ترتیب وپیشکش اور ایک جاندار تبصرہ نوشتہ دیوار: عبدالکریم شیروش
پیش لفظ میں میرا مقصد واضح کرنا ہے کہ یہ مضمون جسکا عنوان ہے ”مروجہ زمینداری اور اسلام” جس نے کتاب کی شکل اختیار کرلی کیوں لکھا، وہ کیا مصلحت اور ضرورت تھی جو میرے لئے اسکے لکھنے کا محرک اور باعث بنی”۔
یہ معاشیات کا دور ہے، اقتصادی شعبے کی یہ اہمیت پہلے نہ تھی۔ آج انسانی ذہن پر سب سے قوی رحجان معاشی ہے۔ معاشی پہلو کی درستگی پر زندگی کی درستگی کا دار و مدار ہے۔ آج نظام حیات کے اچھے برے، قابل قبول یا قابل رد ہونے کا معیار اسکا معاشی ضابطہ ہے، جسکا معاشی ضابطہ اور اقتصادی لائحہ عمل اچھا اطمینان بخش ہے وہ نظام اچھا وقابل قبول ہے خواہ دوسرے پہلوں سے اسکے اندر کتنی خامیاںاور خرابیاں کیوں نہ ہوں۔ اسکے برعکس وہ نظام برا ہے جسکا معاشی ضابطہ اطمینان بخش نہ ہو۔ معاشی ضابطے کا معروضی معیار اور پیمانہ یہ ہے کہ جس سے سو فیصد افراد کو معاشی خوشحالی اور ترقی کے مواقع میسر آسکتے ہوں۔ اسکے بعد پھر جس سے جتنے زیادہ افراد کو معاشی خوشحالی کے مواقع ملتے ہوں اتنا ہی اضافی طور پر اچھا و اطمینان بخش ہے اور جتنے کم افراد کو معاشی خوشحالی اور ترقی کے مواقع ملتے ہوں اتنا اضافی طور پر برا اور غیر اطمینان بخش ہے۔
آج انسانیت دو مخالف اور متحارب دھڑوں میں منقسم ہے اسکا سبب دو مختلف معاشی نظام ہیں۔ ایک کیپٹل ازم یعنی سرمایہ داری اور دوسرا سوشلزم یعنی اشتراکیت ہے۔ اسلام کا مستقل معاشی نظام اشتراکی و سرمایہ دارانہ دونوں معاشی نظاموں سے بنیادی طور پر مختلف اور بہتر ہے لیکن افسوس کہ اب تک ہم عملی ثبوت پیش کرسکے اور نہ علمی اور نظری۔ اسلامی ممالک میںایسا معاشی نظام عملی شکل میں موجود نہیں جو سرمایہ دارانہ ہو اور نہ اشتراکی ۔
اسلامی نظام کے ایک حصے کا تعلق زراعت و کاشت کاری کے شعبہ سے ہے جو پاکستان جیسے زرعی ملک کیلئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس شعبہ کے مسائل میں سے ایک مسئلہ مزارعت و بٹائی کا مسئلہ ہے جو اپنے عملی اثرات و نتائج کے لحاظ سے بڑا اہم مسئلہ ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے شرعی جواز و عدم جواز کے متعلق فقہا اسلام کے مابین قدیم سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فقہا اس کو بنیادی طور پر جائز اور بعض اس کو بنیادی طور پر ناجائز قرار دیتے رہے ، اوروں کا تو ذکر کیا خود امام ابو حنیفہ اور ان کے دو شاگردوں امام محمد شیبانی اور قاضی ابو یوسف کے مابین اس مسئلہ سے متعلق اختلاف فقہ حنفی کی تمام کتابوں میں مذکور ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے معاملہ مزارعت کی ہر شکل کو باطل و فاسد اور ان کے مذکورہ دو شاگردوں نے اس کو بنیادی طور پر جائز و صحیح ٹھہرایا۔
مفسرین حضرات میں علامہ ابن کثیر نے سورہ بقرہ والی تحریم ربو کی آیات کی تفسیر میں مخابرہ سے متعلق حضرت جابر کی مذکورہ بالا حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ :
انما حرمت المخابر وھی المزارع ببعض ما یخرج من الارض، و المزابن وھی اشترا الرطب فی روس النحل بالتمر علی وج الارض ، و المحاقل وھی اشترا الحب فی سنبلہ فی الحقل بالحب علی وجہ الارض، انما حرمت ھذہ الاشیا و ماشا کلھا حسمالماد الربو
”سوائے اسکے نہیں کہ حرام ٹھہرایا گیا مخابرہ جو پیداوار زمین کے ایک حصہ پر مزارعت کا نام ہے اور مزانب جو نام ہے درخت پر لگی تازہ کھجوروں کو زمین پر پڑے خشک چھوہاروں کے عوض خریدنا اور محاقلہ جو خوشوں میں محفوظ غلہ کو جو کھڑی کھیتی میں ہو، خشک غلے کے بدلے خریدنا۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے معاشی معاملات صرف اسلئے حرام ٹھہرائے گئے ہیں کہ ربو کا کلی طور پر خاتمہ ہوجائے۔”
علامہ ابن کثیر نے مخابرہ، مزابنہ اور محاقلہ اور ان سے ملتے جلتے دیگر معاشی معاملات کے حرام ہونے کی وجہ اور علت یہ بتلائی ہے کہ یہ سب ربوی معاملات ہیں اور یہ کہ ان کو حرام قرار دینے کا مقصد ربو (سود) کا پوری طرح قلع قمع کرنا اور اس کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، اس عبارت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ مخابرہ عین مزارعت ہے۔
دوسرے عظیم مفسر علامہ القرطبی اپنی جلیل القدر تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں تحریم ربو کی آیت میں سے اس آیت : فان لم تفعلوا فاذنو ا بحرب من اللہ و رسولہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ھذا الوعیدالذی وعداللہ بہ فی الربو من المحارب قدورد عن النبی ۖ مثلہ فی المخابر عن جابر بن عبد اللہ قال سمعت رسول اللہ ۖ یقول: من لم یذر المخابر فلیوذن بحرب من اللہ و رسولہ، و ھذا دلیل علی منع المخابر وھی اخذ الارض بنصف ادثلث او ربع ویسمی المزارع، و اجمع اصحاب مالک کلھم و الشافعی و ابو حنیف و اتباعھم و داود علی انہ لایجوز دفع الارض علی الثلث و الربع و لا علی جز دما یخرج من الارض۔
”اللہ اور اس کے رسول ۖ سے جنگ کی یہ وعید و دھمکی جو ربو کو نہ چھوڑنے والوں کیلئے اللہ نے اس آیت میں فرمائی ہے۔ ٹھیک اسی طرح کی وعید رسول اللہ ۖ نے مخابرہ کو نہ چھوڑنے والوں کیلئے بھی فرمائی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ راوی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا آپ ۖ نے فرمایا جو مخابرہ کو نہ چھوڑے اس کیلئے اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ حدیث مخابرہ کے ممنوع ہونے کی دلیل ہے۔ مخابرہ زمین کو کاشت کیلئے نصف، تہائی یا چوتھائی پیداوار پر لینا دینا اسی کا دوسرا نام مزارعت ہے۔ تمام مالکی علمائ، امام شافعی ، امام ابو حنیفہ اور انکے کچھ متبعین ،داد ظاہری کا اس پر اجماع ہے کہ زمین کو پیداوار کے تہائی ، چوتھائی اور کسی حصہ پر دینا جائز نہیں۔” (ص ، 367، ج3، مروجہ نظام زمینداری اور اسلام۔ ص 80-79: مولانا محمد طاسین )
مزارعت اور مرفوع احادیث
احادیث حضرت جابر 1: عن عطائعن جابر قال کانوا یزرعونھا بالثلث و الربع و النصف فقال النبی ۖ من کانت لہ ارض فلیزرعھا اولیمنحھا فان لم یفعل فلیمسک ارضہ۔
” عطا سے روایت ہے کہ جابر نے فرمایا کہ لوگ تہائی، چوتھائی اور نصف پیداوار پر زمین کاشت کرتے کراتے۔ نبی ۖ نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا دوسرے کو کاشت کیلئے مفت بلامعاوضہ دے دے اور اگر نہیں کرتا تو اپنی زمین کو یونہی اپنے پاس روک رکھے”۔ (ص 315، ج1، بخاری)
4:عن سعید بن مینا قال سمعت جابر بن عبد اللہ ان رسول اللہ ۖ قال: من کان لہ فضل ارض فلیزرعھا او لیزرعھا اخاہ، ولا تبیعوھا فقلت لسعید ما قولہ لا تبیعوھا یعنی الکرا قال نعم۔
” سعید بن مینا نے کہا: میں نے جابر بن عبد اللہ سے سنا کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : جسکے پاس فاضل زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کیلئے دیدے، اور اسے بیچو نہیں، میں نے حضرت سعید سے پوچھا کہ لا تبیعوھا سے مراد کرائے پر دینا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ”ہاں” (ص11، ج 2،مسلم) 2:(ص 355، ج 1بخاری۔ ص 11، ج 2، مسلم) 3: (ص 11، ج 2،مسلم)5: (ص 286 ، ج2، مستدرک للحاکم)6: (ص 11، ج 2مسلم)7: (ص 11، ج 2 ، مسلم)8: (ص 12، ج2،مسلم)9: (ص 11، ج2، مسلم)10: (ص 12، ج2،مسلم)11: (ص 349، سنن دارمی)
احادیث زید بن ثابت1: عن زید بن ثابت قال نہی رسول اللہ ۖ عن المخابر، قلت ما المخابر ؟ قال ان تاخذ الارض بنصف او ثلث او ربع۔” زید بن ثابت نے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے مخابرہ سے منع فرمایا ، میں نے پوچھا مخابرہ کیا ہے؟ تو زید نے جواب دیا تیرا زمین کو کاشت کیلئے نصف یا تہای یا چوتھائی پیداوار پر لینا۔ (ص127، ج 2، ابی داد)۔ 2: ابن عمر عن زید بن ثابت قال نہی رسول اللہ ۖ عن المحاقل و المزابن” عبد اللہ بن عمر نے زید بن ثابت سے روایت کیا یہ کہ رسول اللہ ۖ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ (ص 260، ج2، شرح معانی الآثار للطحاوی)3: (ص 125 ، ج2 ، سنن ابی داد۔ ص 148، ج 2، سنن نسائی)۔
احادیث حضرت ابی ہریرہ
1: عن ابی سلم عن ابی ھریر قال قال رسول اللہ ۖ : من کانت لہ ارض فلیزرعھا اولیمنحھا اخاہ فان ابی فلیمسک ارضہ ۔
”ابو سلمہ نے ابو ہریر سے روایت کی کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر اپنے بھائی کو مفت کاشت کیلئے دے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو اپنی زمین کو روک رکھے۔ (ص 315، ج 1،بخاری)۔
2: عن ابی صالح عن ابی ھریر قال نھی رسول اللہ ۖ عن المحاقل و المزابن۔
” ابو صالح سے ابو ہریر نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ (ص 11، ج 2 مسلم)
ابو سعید الخدری کی حدیث:عن داد بن الحصین ان ابا سفیان اخبرہ انہ سمع ابا سعید الخدری یقول: نہی رسول اللہ ۖ عن المزابن و المحاقل، و قال: المزابن اشترا الثمر فی روس النخل، و المحاقل کرا الارض۔
” داد بن الحصین سے روایت ہے کہ ابو سفیان نے ابو سعید خدری سے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ۖ نے مزابن اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ مزابنہ نام ہے درخت پر لگے پھل کو خریدنا یعنی خشک پھل کے عوض اور محاقلہ کا مطلب ہے کرا الارض۔ (ص 12، ج 2، مسلم)
حدیث حضرت انس:عن انس بن مالک قال نہی النبی ۖ عن المحاقل و المخاضیر و الملامس و المنابذ و المزابن” انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ۖ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ ،مزابن سے منع فرمایا۔ (ص 293، ج 1،بخاری)
حضرت ثابت بن الضحاک کی حدیث:عن عبد اللہ بن السائب قال سالت عبد اللہ بن معقل عن المزارع فقال اخبرنی ثابت بن الضحاک ان رسول اللہ ۖ نھی عن المزارع۔
” عبد اللہ بن سائب نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن معقل سے مزارعت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ثابت بن ضحاک نے خبردی کہ رسول اللہ ۖ نے مزارعت سے منع فرمایا۔ (ص 11، ج 2،مسلم)۔
حضرت عائشہ صدیقہ کی احادیث
1: عن عبد اللہ بن عمر عن عائشہ ان النبی ۖ خرج فی مسیرلہ فاذا ھوا بزرع تھتز فقال لمن ھذا الزرع؟ قالوا لرافع بن خدیج فارسل الیہ وکان قد اخذ الارض بالنصف او بالثلث، فقال انظر نفقتک فی ھذہ الارض فخذ ھا من صاحب الارض و ادفع الیہ ارضہ وزرعہ” عبد اللہ بن عمرنے حضرت عائشہ سے روایت کیا کہ نبی ۖ اپنے ایک راستے سے گزرے کہ اچانک آپ ۖ کی نگاہ ایک لہلہاتی کھیتی پر پڑی۔ آپ ۖ نے پوچھا یہ کھیتی کس کی ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ رافع بن خدیج کی۔ آپ ۖ نے انہیں بلوایا ان کے بتلانے پر معلوم ہوا کہ انہوں نے وہ زمین نصف یا تہائی پر لی ہے تو آپ ۖ نے فرمایا دیکھو تمہارا جو خرچہ اس زمین میں ہوا ہے مالک زمین سے لے لو اور زمین بمعہ کھیتی کے اس کے حوالے کردو۔ (ص 304، ج 2، دار قطنی)۔
2:عن عائشہ قالت کان اصحاب رسول اللہ ۖ قوما عمال انفسھم کانو یعالجون اراضیھم بایدیھم ۔
حضرت عائشہ نے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ۖ کے صحابہ کرام خود کام کرنے والے لوگ تھے۔ وہ اپنی زمینوں میں خود اپنے ہاتھوں سے کام کرتے یعنی ان کو خود کاشت کرتے تھے۔ دوسروں سے نہیں کراتے تھے۔ (ص 127، ج6،السنن الکبری)۔
حضرت علی کی حدیث
عن علی ابن طالب ان رسول اللہ ۖ نھی عن قبال الارض بالثلث و الربع و قال اذا کان احدکم الارض فلیزرعھا او لیمنحھا اخاہ۔
”حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے منع فرمایا زمین کو تہائی اور چوتھائی پر دینے کی ضمانت و ذمہ داری سے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر اپنے بھائی کو مفت کاشت کیلئے دے دے۔ (ص 283، المسند لزید)۔
حضرت سعد بن ابی وقاص کی احادیث
1: عن سعد بن ابی وقاص قال کان الناس یکرون المزارع بما یکون علی الساقی ربما یسقی بالما مما حول البر، فنہی رسول اللہ ۖ عن ذلک و قال اکروھا بالذھب و الورق۔
”حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ لوگ اپنے کھیت اس پیداوار کے عوض دوسروں کو دیتے تھے جو نالیوں کے کنارے اور کنوئیں کے ارد گرد پانی بہنے کی جگہ اگتی تھی۔ پس منع فرمایا رسول اللہ ۖ نے اس سے، اور فرمایا سونے چاندی کے عوض کرائے پر دو۔ (ص 259، ج 2، شرح معانی الآثار)۔
2: عن سعید بن المسیب عن سعد بن ابی وقاص قال کان اصحاب المزارع یکرون فی زمان رسول اللہ ۖ مزارعھم بما یکون علی الساقی من الزرع فجا وا رسول اللہ ۖ فاختصموا فی بعض ذلک، فنھاھم رسول اللہ ۖ ان یکروا بذلک و قال اکرو بالذھب و الفض۔
”حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے ان سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ۖ کے زمانے میں کھیتوں والے اپنے کھیت کرائے پر دیتے تھے بعوض اس کھیتی کے جو پانی کی نالیوں کے کنارے پر اگتی تھی۔ پس وہ رسول اللہ ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئے بوجہ اس جھگڑے کے جو ان کے درمیان اس معاملے میں ہوا تھا۔ سننے کے بعد رسول اللہ ۖ نے ان کو اس معاملے سے روک دیا اور فرمایا کہ سونے چاندی کے عوض کرائے پر دو۔ (ص 144، ج 2، سنن النسائی)۔
3:(ص 125 ،ج2، سنن ابی داد)۔
حضرت مسور بن مخرمہ کی حدیث
عن المسوربن مخرم قال مر رسول اللہ ۖ بارض بعبد الرحمن بن عوف فیھا زرع فقال یا عبد الرحمن لا تاکل الربو و لا تطعمہ، ولا تزرع الا فی ارض ترثھا او تورثھا او تمنحھا۔
”حضرت مسور بن مخرمہ نے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ۖ ایک زمین کے پاس سے گزرے جس میں عبد الرحمن بن عوف کی کھیتی تھی آپ ۖ نے ان کو مخاطب ہوکر فرمایا اے عبد الرحمن نہ خود سود کھا اور نہ دوسرے کو کھلا اور کاشت نہ کرو مگر ایسی زمین میں جس کے تم وارث بنے یا فرمایا بنادئیے گئے ہو یعنی مالک ہو یا وہ زمین تجھے منحہ کے طور پر با معاوضہ کاشت کے لئے دی گئی ہو۔ ” (ص 120، ج 4، مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی)۔
عبد اللہ بن عمر کی احادیث:عن عمرو بن دینارعن ابن عمر و جابر قالا نھی رسول اللہ ۖ عن بیع التمر حتی یبد و صلاحہ و نہی عن المخابر کرا الارض بالثلث و الربع۔” عمر و بن دینار نے روایت کیا کہ ابن عمر اور جابر نے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے منع فرمایا پھلوں کی خرید و فروخت سے یہانتک کہ ان میں کھانے کی صلاحیت پیدا ہو اور منع فرمایا مخابرہ سے یعنی زمین کو تہائی او رچوتھائی پیداوار پر لینے دینے سے ” (ص 147، ج2 نسائی)۔2: (ص 12، ج2 مسلم)3: عن نافع ان ابن عمر کان یکری مزارعہ علی عہد النبی ۖ وفی امار ابی بکر و عمر و عثمان و صدر امن خلاف معاوی حتی بلغہ فی آخر خلاف معاویہ ان رافع بن خدیج یحدث فیھا ینھی عن النبی ۖ فدخل علیہ وانا معہ فسالہ فقال کان رسول رسول اللہ ۖ ینھی عن کرا المزرع فترکھا ابن عمر بعد فکان اذاسئل عنھا بعد قال زعم ابن خدیج ان رسول اللہ ۖ نھی عنھا۔
”نافع نے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمر اپنے کھیت کرائے یعنی مزارعت پر دیتے تھے نبی ۖ کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان کے زمانہ امارت اور حضرت معاویہ کے شروع کے عہد خلافت میں یہانتک کہ حضرت معاویہ کے عہد خلافت کے آخر میں ان کو معلوم ہوا کہ حضرت رافع بن خدیج اس کی ممانعت سے متعلق رسول اللہ ۖ کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ انکے پاس گئے جب کہ میں انکے ساتھ تھا، ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا رسول اللہ ۖ کرا المزارع سے منع فرماتے رہے لہذا ابن عمر نے اسکے بعد اس کو چھوڑ دیا، پھر بعد میں جب بھی ان سے اسکے متعلق پوچھا جاتا تو جواب دیتے کہ رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے اس سے منع فرمایا۔” (ص 13، ج 2، صحیح المسلم)۔
4: ص 313، ج 1، صحیح البخاری)۔
احادیث عبد اللہ بن عباس: عن ابن عباس اذا اراد احدکم ان یعطی اخاہ ارضا فلیمنحھا ایاہ ولا یعطہ بالثلث و الربع۔”عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین دینا چاہے تو مفت دے تہائی چوتھائی پر نہ دے۔ (ص 72، ج 8، کنز العمال، طبرانی)۔2: (ص 313، ج 1،بخاری) 3: (ص 166، ج1، ترمذی)۔ 4: (ص 72،ج 8، کنزالعمال طبرانی)۔ 5:(ص 260 ، ج 2، طحاوی)
اسید بن ظہیر کی حدیث1: عن رافع بن اسید عن ابیہ اسید بن ظھیر انہ خرج الی قومہ الی بنی حارث فقال یا بنی حارث لقد دخلت علیکم مصیب، قالوا ماھی؟ قال نھی رسول اللہ ۖ عن کرا الارض، قلنا یا رسول اللہ اذا نکریھا بشی من الحب قال لا، قال وکنا نکریھا بالتبن فقال لا، و کنا نکریھا بھا علی الربیع الساقی قال لا، ازرعھا اوا منحہا اخاک۔
”رافع نے اپنے باپ اسید بن ظہیر سے روایت کیا کہ وہ اپنی قوم بنی حارثہ میں پہنچے او ران سے کہا کہ تم پر ایک مصیبت آگئی ہے انہوں نے پوچھا وہ کیا مصیبت ہے؟ کہا کہ رسول اللہ ۖ نے کرا الارض سے منع فرمادیا ہے، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہۖ! تو پھر کیا ہم غلے کی کچھ مقدار کے عوض زمین دے سکتے ہیں؟ جواب میں آپ ۖ نے فرمایا نہیں، ہم نے عرض کیا کہ ہم بھوسے کے بدلے دیا کرتے تھے، فرمایا یہ بھی جائز نہیں، عرض کیا ہم نالیوں کے کنارے کی پیداوار کے عوض دیا کرتے تھے، فرمایا نہیں، خود کاشت کرو یا اپنے بھائی کو یونہی کاشت کیلئے دے دو ۔ (ص 141، ج 2، سنن النسائی)۔
2: عن مجاہد عن اسید بن ظہیر قال اتی علینا رافع بن خدیج فقال ان رسول اللہ ۖ نھاکم عن امر کان ینفعکم وطاع رسول اللہ ۖ خیرلکم مما ینفعکم نھاکم رسول اللہ ۖ عن الحقل و الحقل المزارع بالثلث و الربع فمن کان لہ ارض فاستغنی عنھا فلیمنحھا اخاہ ولیدع۔
” مجاہد نے روایت کیا اسید بن ظہیر نے کہا کہ رافع بن خدیج ہمارے یہاں آئے اور کہا کہ رسول اللہ ۖ نے تمہیں ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو تمہارے لئے نفع مند تھا لیکن رسول اللہ ۖ کی اطاعت تمہارے لئے تمام منافع سے بہتر ہے۔ رسول اللہ ۖ نے حقل سے منع فرمایا ہے ار حقل تہائی و چوتھائی پر مزارعت کا نام ہے۔ پس جس کے پاس زمین ہو اور اسے اس کی ضرورت نہ ہو تو وہ اپنے بھائی کو یونہی مفت کاشت کیلئے دے دے یا پھر بے کار چھوڑدے۔ (ص 141، ج 2، النسائی)۔
احادیث رافع بن خدیج 1: (ص 141، ج 2، نسائی) 2: (ص 315، ج 1،بخاری)۔3 : عن ابی النجاشی مولی رافع بن خدیج قال قلت لرافع ان لی ارضا اکریھا فنھانی رافع وا راہ قال لی ان رسول اللہ ۖ نھی عن کرا الارض و قال اذا کانت لاحدکم ارض فلیزرعھا او لیزرعھا اخاہ فان لم یفعل فلیدعھا وکا یکریھابشیی فقلت ارات ان ترکتھا و لم ازرعھا ولم اکرھا بشیی فزرعھا فوھبوالی من نباتھا شیئا اخذہ قال لا۔”ابو النجاشی مولی رافع بن خدیج نے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حضرت رافع سے عرض کیا کہ میری ایک زمین ہے میں اسے کرائے پر دے سکتا ہوں تو انہوں نے اس سے منع کیا اور مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے کرا الارض سے منع فرمایا ہے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کیلئے دے دے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو اسے یونہی چھوڑ دے اور اس کو کسی شے کے بدلے کرائے پر نہ دے، اس پر میں نے پوچھا کہ یہ بتلائیے کہ اگر میں اس زمین کو چھوڑ دوں نہ خود کاشت کروں اور نہ کرائے پر دوں اور کچھ لوگ آکر اسے کاشت کرلیں اور پھر وہ مجھے بطور ہبہ اس کی پیداوار میں سے کچھ دیں تو کیا میں لے سکتا ہوں؟۔ حضرت رافع نے جواب دیا کہ نہیں۔ 4: (ص 256 ، ج 2، طحاوی)۔ 5: (ص 13، ج 2،مسلم)۔6: (ص 313،ج1، بخاری)7: (ص 315 ج1 بخاری (ص 145، ج 2، نسائی) 8: (ص 145، ج 2، نسائی) 9: (ص 145، ج 2،نسائی) 10: (ص 115، ج 10 ، فتح الربانی، مسند احمد)۔ 11: عن مجاھد قال حدث رافع بن خدیج خرج الینا رسول اللہ ۖ ننھانا عن امر کان لنا نافعا، فقال من کان لہ ارض فلیزرعھا او یمنحھا او یذرھا ۔”مجاہد نے کہا کہ حضرت رافع بن خدیج نے فرمایا کہ رسول اللہ ۖ ہماری طرف نکلے او رہم کو ایک ایسے معاملے سے روکا جو ہمارے لئے مفید تھا اور فرمایا جس کی زمین ہو وہ اسے خود بوئے یا کسی کو بلا معاوضہ دے دے یا پھر اسے چھوڑ دے۔ ” نسائی (ص 142، ج2 ) 12: (ص 144، ج 2) 13: (ص 143، ج 2)14: (ص 143، ج 2) 15: عن عیسی بن سھل بن رافع بن خدیج قال انی یتیم فی حجر جدی رافع بن خدیج و بلغت رجلا و حججت معہ فجا اخی عمران بن سھل بن رافع، فقال یا ابناہ! انہ قد اکترینا ارضنا فلان بمائتی درھم، فقال یا بنی دع ذاک فان اللہ عزوجل سیجعل لکم رزقا غیرہ ان رسول اللہ ۖ قد نھی عن کرا الارض۔
” رافع بن خدیج کے پوتے عیسی بن سہل نے کہا کہ میں یتیم تھا دادا رافع بن خدیج کی گود میں پل بڑھ کر جوان ہوا اور انکے ساتھ حج کیا، ایک موقع پر میرا بھائی عمران بن سہل آیا اور دادا کو بتلایا کہ ہم نے اپنی فلاں زمین دو سو درہم کے عوض کرائے پر دی ۔ دادا نے فرمایا بیٹے اس کو چھوڑ دو اللہ تمہیں دوسرے طریقہ سے رزق دیگا کیونکہ رسول اللہ ۖ نے کرا الارض سے روکا اور منع فرمایا۔ ” (ص 147، ج 2،نسائی)۔ 16: عن ابن ابی نعم قل حدثنی رافع بن خدیج انہ زرع ارضا فمریہ النبی ۖ وھوا یسقیھا فسئا لہ لمن الزرع ولمن الارض فقال زرعی بیذری و عملی لی الشطر و لبنی فلان الشطر، فقال اربیت، فرد الارض علی اھلھا و خذ نفقتک۔ ”ابن ابی نعم نے کہاکہ رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ اس نے ایک زمین کاشت کی تھی۔ ایک دن وہاں سے نبی ۖ کا گزر ہوا جبکہ وہ اس کو پانی دے رہا تھا، حضور ۖ نے پوچھا کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ میں نے عرض کیا کھیتی میری ہے جو میرے بیج اور عمل کا نتیجہ ہے۔ نصف پیداوار میرے لئے ہوگی او رنصف بنی فلاں کیلئے۔ اس پر آپ ۖ نے فرمایا تم ربو میں پڑے، زمین اس کے مالکوں کو دیدو اور ان سے اپنا خرچہ لے لو ۔ ” (ص 127، ج 2، سنن ابی داد)، (ص 256، ج 2، طحاوی)۔ 17: عن نافع ان ابن عمر کان یاجر الارض قال فنبئی حدیثا عن رافع بن خدیج قال فانطلق بی معہ الیہ قال فذکر عن بعض عمومتہ ذکر فیہ عن النبی ۖ انہ نھی عن کرا الارض قال فترکہ ابن عمر فلم یاجرہ ۔”حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر کرائے پر زمین دیا کرتے تھے پھر ان کو رافع بن خدیج کی حدیث کی خبر ملی، مجھے ساتھ لے کر ان کے پاس گئے انہوں نے اپنے بعض چچاں کے حوالے سے حدیث بیان کی اور اس میں نبی ۖ کی طرف سے کرا الارض کی نہی کا ذکر کیا۔ چنانچہ حدیث سننے کے بعد ابن عمر نے کرا الارض کو ترک کردیا اور پھر کبھی زمین اجارے پر نہ دی۔ ” (ص 13، ج 2، صحیح المسلم)۔
18ان رسول اللہ ۖ اتی بنی حارث فرائی زرعا فی ارض ظھیر فقال ما احسن زرع ظھیر، قالوا لیس ظھیر، قال الیس ارض ظھیر قالوا بلی و لکنہ زرع فلان، قال فخذوا زرعکم و ردوا علیہ النفق ۔ ”رافع نے روایت کیا کہ رسول اللہ ۖ محلہ بنی حارثہ تشریف لائے اور ظہیر کی زمین میں لہلہاتی کھیتی دیکھ کر فرمایا کیا ہی عمدہ کھیتی ہے ظہیر کی، لوگوں نے عرض کیا یہ ظہیر کی کھیتی نہیں، آپ ۖ نے فرمایا کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں۔ لوگوں نے بتلایا کہ زمین تو ظہیر کی ہے مگر اسے کاشت فلاں شخص نے کیا ہے آپ ۖ نے فرمایا اپنی کھیتی لے لو۔ اور مزارع کو اس کا خرچہ دے دو۔ ” (ص 126، ج2، ابوداد)۔ (ص 144، ج 2، نسائی)۔
(مروجہ زمینداری اور اسلام: مولانا محمدطاسین: داماد علامہ سید محمدیوسف بنوری۔نیٹ پر القرآن اکیڈمی لاہور)
تبصرہ نوشتہ دیوار:شیروش
علامہ طاسین نے قرآن ، فقہ ، اصول فقہ سے اپنامقف درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے مگر آپ گوشہ گمنامی کی نذر ہوگئے ۔ ڈھیر ساری احادیث میں کوئی خال خال بات بھی جو نظر آتی ہے، اس پر بھی تحقیق کرکے معاملہ صاف کیا گیاہے۔اللہ کرے کہ بندہ مزدور کے تلخ اوقات بن جائیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، کاشتکار وں نے جو محنت کی ہے ان کو اشتہاروں سے خوش کرنا ممکن نہیں ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” جو مرد کمائیں وہ انکا حصہ ہے اور جو خواتین کمائیں وہ انکا حصہ ہے”۔ زمین کی کاشت میں خاندان کے خاندان محنت کرتے ہیں اور ان کی محنت پر جاگیردار بھی نہیں پلتے ہیں بلکہ منڈیوں والے ساری کمائی سمیٹ لیتے ہیں۔ اگر احادیث کے مطابق ہم اپنی زراعت کو سود سے پاک کردیں تو پاکستانی قوم اپنے پاں پر کھڑی ہوجائے گی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے اردگرد جتنی بنجر زمین پڑی ہے اگر یہ آباد کرنے کیلئے محنت کشوں کو مفت میں دی جائے توپختونخواہ اور بلوچستان کی سبزیوں اور اناج کیلئے یہ بھی بہت ہے۔ سولر کے ذریعے اس کو آباد کرنا مشکل بھی نہیں ہے۔جب لوگوں کو مفت میں زمینیں ملنے لگیں گی تو جاگیردار بھی زمینیں یا تو خود کاشت کرینگے یا پھر کاشتکاروں کو مفت میں دینا شروع کردینگے۔ اگر علما امام ابوحنیفہ کے مسلک پر عمل کرنے کے بجائے حیلہ ساز شاگردوں کے حیلوں پر عمل پیرا ہوں تو ان کو حنفی کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔جب کاشتکاروں کو مفت میں زمینیں مل جائیں گی تو ان کے عشروزکو سے مولوی بھی بھیک کی خاطر زیادہ چکر نہیں لگائیںگے۔ خواتین اور نوجوانوں اور انقلابیوں کیلئے حقوق کی جدوجہد کا آسان راستہ یہ ہے کہ کالج ، یونیورسٹیوں اور میڈیا پر احادیث صحیحہ کے ذخیرے کو عام کریں۔ کاشتکاروں کو بھی تعلیم ، انسانی حقوق ، اچھی زندگی کا حق ہے، انکے بھی خواتین، نوجوان اور بچے ہیں۔ اشتراکیت روس اور چین میں بھی ناکام ہوچکی ہے اسلامی جمعیت طلبہ والے احادیث کی بنیاد پر غریبوں اور جوانوں کو بہتر معیشت اور بہتر مستقبل کا راستہ دکھائیں۔ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کا راستہ روکنے کیلئے ضروری ہے کہ لال لال لہرانے اور سبز سبز لہلہانے والوں اس آسان ہدف کو اپنے مشترکہ لائحہ عمل کیلئے بنیاد بنائیں۔نوجوانوں کا جذبہ اچھا ہے کہ کچھ کیا جائے لیکن جب کرنے کیلئے کچھ نہیں ملتاہے تو ایکدوسرے کے سر پھوڑنے شروع کردیتے ہیں۔
علما کرام اور مفتیانِ عظام کو اگر طلاق اور دوسرے مسائل سمجھ میں نہ آتے ہوں تو تھوڑا سا غور کرکے سب کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ اسلام کی درست تعبیر سے لوگ اسلامی انقلاب پر آمادہ ہونگے۔فرقہ واریت اور منافرت کا خاتمہ ہوگا اور مساجد ومدارس میں اسلام کی روشنی سے تروتازگی آئے گی اور مذہبی طبقات کی قدر ومنزلت بڑھے گی۔
وہ وقت بہت قریب لگتا ہے کہ جب دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ جو نوجوان اور خواتین اپنے حقوق کی جنگ لڑنے پر آمادہ ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔جبر وستم کے نظام کو درست کرنے میں باہمت نوجوانوں اور خواتین کا کردار بہت بڑی غنیمت ہے۔ اصحاب حل وعقد ڈھیٹ پن کا شکار ہیں۔ یہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہیں۔ ہم ان کی جرات وعظمت، دردِ دل اور دور اندیشی کو سلام پیش کرتے ہیں جو بڑا حقیر سانذرانہ ہے۔ عبد الکریم شیروش
ماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی ، خصوصی شمارہ دسمبر 2019

مولانا ارشد مدنی جمعیت علماء ہند

مولانا ارشد مدنی جمعیت علماء ہند

جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی جو مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادے اور جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کے بزرگ ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں کیا فرماتے ہیں ، ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیں۔
”جمعیت علماء ہند وہ تنہا جماعت تھی جو لوہے کی طرح پتھر کی چٹان کی طرح تھی۔ ہمارے اکابر تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا مدنی، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، مولانا حفظ الرحمن صاحب۔ ہم سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرو۔ ہم بار بار وعدہ لیتے رہے ہیںکے ملک آزاد ہوگا تو ملک کادستور سیکولر دستور ہوگا۔اگر ملک کی تقسیم کے اوپر دستخط کیے ہیںتم نے دستخط کیے ہیں تم مجرم ہوہم نے تو اپنی پگڑیاں اچھلوائی ہیںاور ٹوپیاں روندوائی ہیںہم اس جرم کے کرنے والے نہیں ہیں۔ شریف لوگ تھے، جمعیت علماء کا کردار ڈیڑھ سو سالہ کردار تھا”۔
مشکل ترین بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ مولانا ارشد مدنی نے بھی باجوڑ دھماکے پر مجھ سے تعزیت کی اور میںنے ان سے پوچھا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بزرگوں کے عقائد، نظریات اور منہج پر چلیں گے اور اپنے اکابر کے عقیدے ، نظریے اور منہج کی حفاظت کریں گے تو انہوں نے ہمارے فیصلے کی تائید فرمائی۔ مولانا فضل الرحمن کے اکابر کون کون ہیں ؟۔ شاہ ولی اللہ بریلوی دیوبندی اور اہلحدیث کے مشترکہ تھے۔ ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے مرشد سیداحمد شہید کو خراسان کا مہدی ثابت کرنے کیلئے” منصب امامت” کتاب لکھی اور بالاکوٹ کے مقام پر خلافت کے قیام کی کوشش میں ساتھیوں اور مرشد سمیت شہید ہوئے اور آج تحریک طالبان افغان اور پاکستان اس کی منہج پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ شاہ اسماعیل شہید نے تقلید کو بدعت قرار دیا تھا اور اس کی کتاب کے ترجمہ ” بدعت کی حقیقت ” کی تقریظ مولانا محمد یوسف بنوری نے لکھی ہے۔پہلے اکابر دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید کی تائید میں قرآن وسنت کی تعلیم کو زندہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا پھرمولانا احمد رضا خان بریلوی نے ان پر ”حسام الحرمین” کا فتویٰ لگایا تو اس وقت حرم میں موجودہ وہابی حکومت نہیں تھی۔ توعلماء دیوبند نے تقلید کی تائید اور وہابیت کی تردید میں متفقہ مؤقف پیش کیا، پھر وہابی حکومت اقتدار میں آئی تو عبدالوہاب نجدی اور ابن تیمیہ کو گمراہ قرار دینے کے بعد پھر اکابر کی غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ طالبان نے زبردستی داڑھی رکھوانے اور نماز پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا فضل الرحمن اور علماء دیوبند نے نہ صرف ان کی تائید کردی بلکہ ملاعمر کو خراسان کا مہدی بھی قرار دیا۔ پھر امریکہ نے طالبان کی حکومت ختم کردی تو مولانافضل الرحمن نے دہشتگردی پر تحریک طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دے دیا۔ طالبان اور ہندوستان کے درمیان پھنسے ہوئے مولانا فضل الرحمن کواس دلدل سے عزت وسلامتی کے ساتھ نکالنے کی کوشش ہے۔انسان میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن دنیا میں انقلاب برپا کرنے کیلئے خود کو بھی بدلنا پڑتا ہے اور خود کی تبدیلی سے چار سو میں تبدیلی آسکتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv