پوسٹ تلاش کریں

جمع قرآن میں اختلاف! عرفان رمضان نشریات میں علماء کا علمی مکالمہ!GTVنیوز

جمع قرآن میں اختلاف! عرفان رمضان نشریات میں علماء کا علمی مکالمہ!GTVنیوز

دیوبندی بریلوی اور شیعہ مسلک کے علماء و مفتیان کا قرآن کے بارے میں ایک طرف اتفاق رائے اور دوسری طرف بہت کھلے انداز میں اختلافات کی کشمکش کا اظہار قارئین دیکھ لیں۔

مفتی رشید:حضرت عثمان کے بہت سارے فضائل ہیں۔ جامع القرآن ان کو کہا جاتا ہے۔ جو مصحف ہمارے پاس موجود ہے وہ حضرت عثمان کا صدقہ جاریہ ہے۔ یہ انہوں نے اُمت کیلئے قرآن کریم کو جمع کیا۔
مفتی سید شاہ حسین گردیزی:میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ ابھی یہاں گفتگو ہورہی تھی کہ حضرت عثمان ابن عفان جامع القرآن ہیں ایسا نہیں ہے۔ حضور اکرم ۖ قرآن کریم خود لکھوا کر گئے تھے اور اس کے جمع کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ہیں بین الدفتین۔ حضرت عثمان ابن عفان نے جو اختلاف قرأت کا مسئلہ تھا اس کو آپ نے دور کیا۔ لیکن بہر کیف اب یہ قرآن کریم جو بین الدفتین ہے اس میں ابوبکر صدیق کے دور میں ان کی سربراہی میں اور پھر حضرت عثمان ابن عفان کی سربراہی میں تکمیل پائی ہے۔ تو یہ اعزاز ان کا ہے لیکن اصل جامع القرآن جو ہیں وہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی:ایک منٹ ہم بھی آپ سے چاہیں گے۔ مفتی صاحب نے اپنا نکتہ نظر پیش کیا ، پھر ماشاء اللہ شاہ صاحب نے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ یہ ناچیز بھی ایک منٹ آپ سے چاہے گا۔ دیکھئے وحی کا نزول تو مکہ میں ہوا ہے ناں۔ 13سال تو مکہ کے ہیں۔ کاتبان وحی کے جو نام ہیں وہ مکہ والے کہاں ہیں؟۔ وہاں کوئی تو لکھتا ہوگا ناں؟۔ جو مکی آیات ہیں جو مکی سورتیں ہیں وہ کون لکھتا تھا؟۔ تو جب آپ تلاش کریں گے تو آپ کو ایک ہی نام ملے گا جو لکھنا جانتا تھا اور جو اسلام لاچکا تھا۔ جو حضور ۖ کے ساتھ رہتے تھے جن کی یہ ذمہ داری تھی اس قرآن کو لکھنے کی اور وہ تھے علی ابن ابی طالب ۔ اپنے بیانات اور خطبات میں اشارہ بھی کیا ہے۔ اور آپ تاویل سے بھی واقف تھے اور تنزیل سے بھی واقف تھے۔ ہمارے یہاں یہی نکتہ نظر ہے کہ قرآن جیسے جیسے آتا رہا ویسے ویسے ہی جمع ہوتا رہا۔ ایسا نہیں ہوا کہ قرآن کی آیات نازل ہوگئی ہوں گی پھر کسی نے سمیٹا ۔ اس نظرئے سے پھر یہی ہوتا ہے کہ کہیں نا کہیں ایسی روایات ہمیں اگر مل جاتی ہیں کہ کچھ آیات تھیں مگر ان کے گواہ نہیں ملے تو شامل نہیں کی گئیں۔ تو کیا مطلب ہے کہ یہ ناقص ہے معاذ اللہ؟۔ ناقص نہیں ہے۔ قرآن کامل ہے۔ یہی قرآن مجید ہے تمام فرقوں کے نزدیک یہی معتبر ہے اس میں کوئی اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی روایت رہ گئی۔ یا اس طرح کا کچھ ہوا ہو۔
مفتی رشید:پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا جو نزول ہواہے ایک تو دفعتاً واحدة ایک ساتھ جو نزول ہوا ہے اس کا قرآن میں ذکر ہے انا انزلنٰہ فی لیلة القدر اور پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ موقع بہ موقع قرآن کریم کا نزول ہوتا رہا ہے جس کو ہم کہتے ہیں کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے اس آیت کا شان نزول یہ ہے۔ جب جمع قرآن کی بات کی جاتی ہے تو جمع قرآن کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام نے یا حضرت عثمان یا حضرت ابوبکر صدیق نے سورتوں کو اس ترتیب سے جمع کیا۔ صورتحال یہ ہے کہ اس زمانے میں کتابت کے وہ آلات موجود نہیں تھے جو آج کے زمانے میں کتابت کے آلات موجود ہیں۔ اس زمانے میں کاغذ نہیں تھا اس زمانے میں ہمارے پاس جو اس طرح کے پین ہیں یہ پین موجود نہیں تھے۔ جو کتب میں تاریخ میں ہمیں ملتا ہے وہ یہ کہ جہاں جس کو لکھنے کیلئے کوئی چیز مل گئی پتھر میں لکھنے کیلئے کچھ مل گیا چمڑے پر لکھ لیا کسی پتے پر لکھ لیا جہاں جس کو موقع ملا اس پر لکھ لیا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں جیسے گردیزی صاحب نے بتایا بالکل یہی بات ہے حضرت ابوبکر صدیق نے صحابہ کو اس بات پر جمع کیا۔ حضرت زید بن ثابت کی ذمہ داری لگائی کہ اس کو ہم نے جمع کرنا ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ وقت گزر جاتا ہے خلفاء راشدین کا وقت گزر جاتا ہے جو خیر القرون حضور ۖ نے اس کو قرار دیا ہے اگر یہ وقت گزر جاتا ہے تو بعد میں تو اس کی وجہ سے بہت سے اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں۔ نہ جانے قرآن کریم کے اندر معاذ اللہ کوئی تحریف کردی جائے۔ کوئی تحریف کا دعویٰ کردے۔ کوئی ایسی بات ہوجائے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے یہ کوشش کی کہ جس طرح روایات کی بات آئی کہ حضرت عثمان کا جو مصحف عثمانی آج کہلاتا ہے کہ ساری روایات کو اس انداز سے جمع کیا گیا قرآن کریم کے اس مصحف کے اندر کہ اس کا انداز کتابت اس طریقے سے ہو کہ وہ لکھا ہوا اس انداز سے ہو کہ ہر روایت پڑھی جاسکے۔ باقی کتابت وحی کی جہاں تک بات ہے تو کتاب وحی کے اندر ہمیں بہت سارے ایسے صحابہ کرام کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے کتابت وحی کے اندر حصہ لیا ہے وہ کاتبین وحی کہلاتے ہیں اس سے بالکل انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا اپنا ایک اعلیٰ مقام اور فضیلت ان کو حاصل ہے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل پر جامع، مدلل اور مکمل تبصرہ ”اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا انا علینا جمعہ بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا ہے” کے عنوان کے تحت پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

دوسری آیت میں جان کے بدلے جان ، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر ظالم کہا گیا ہے اور اس سے مراد حکمران ہیں!

تیسری آیت میں اہل انجیل عوام الناس کا ذکر ہے۔ عوام اللہ کے حکم پرفیصلہ نہ کریں تو ان کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ جتنی جس کی ذمہ داری اور کارکردگی ہے تو اسکے مطابق فتویٰ بھی لگایا ہے ۔

___پہلا طبقہ علماء و مشائخ کا ہے____
سورۂ مائدہ کی آیات میں واضح طور پر تین طبقات کا ذکر اور وضاحت ہے۔ پہلا طبقہ علما ء مشائخ کا ہے جس کی ذمہ داری قرآنی احکام کا تحفظ ہے اور ان کو تلقین ہے کہ وہ اپنے دل سے عوام وخواص کا خوف نکال کر اللہ سے ڈریں اور تھوڑے سے فائدے کیلئے دین پر سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنا فیصلہ نہیں کیا تو ان پر بالکل واضح انداز میں کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔ یہ وضاحت ہم اپنے کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ” میں کرچکے ہیں ، جس کی تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے1994میں بھی تائیدات کی تھیں۔ ہمارا مقصد مذہبی طبقات کا تسلط نہیں بلکہ اسلام کی بالادستی کا قیام عمل میں لانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے البقرہ آیت224میں تینوں چیزوں کیلئے اللہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ نیکی کرنا،تقویٰ اختیار کرنا، لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔ آج مولوی میاں بیوی کی صلح میں رکاوٹ ہے۔ فرقوں کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ مذاہب اور ادیان کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ ممالک اور قوم کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ نبی کریم ۖ نے بیت اللہ خانہ کعبہ میں360بت رکھنے والوں سے بھی10سالوں تک صلح کا معاہدہ کیا جس میں مزید توسیع کی بھی گنجائش تھی۔ نبیۖ نے اس کے بعد دنیا میں چار سال تک رہنا تھا۔ گویا یہ تادم حیات معاہدہ تھا۔ اگر مشرک اس کو نہ توڑتے تو قائم رہتا۔ حضرت ابوبکر کا پورا دور اور حضرت عمر کا آدھا دور بھی اسی میں گزر جاتا۔ مسلمان خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے جاتے تو تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکتے تھے۔ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے۔ تلوار بھی نیام سے نہ نکالتے۔ اگر مشرک کا کوئی فرد مسلمان بن جاتا تو اس کو مسلمان واپس کرنے کے پابند تھے اور کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر جاتا تو مشرک اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے کی آزادی تھی۔
آج مسلمانوں کو سعودی عرب میں زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمرہ اور حج کا خرچہ زیادہ ہے۔ شکرہے ایران سے سعودی عرب کی صلح ہوگئی تو جامعة الرشید میں ایرانی وفد بھی آگیا۔ جس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مفتی عبدالرحیم اور اس کے مرشد نے پہلے فرقہ وارانہ شدت پسندی میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ ایران کیلئے پڑوسی کا خیال رکھنے کی حدیث سے دلیل دے رہاہے کہ نبی ۖ نے تکرار کرکے فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا ہے جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو”۔ پڑوسی تو ہمارا بھارت بھی ہے ؟۔ یہ مفتی عبدالرحیم کسی سے پوچھ کر بتائے گا کہ وہ پڑوسی ہے یا نہیں؟۔ اس نے بتایا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نانی اور مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی ماں سگی بہنیں تھیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے طالبانائزیشن کی شدت کو ختم کرنے کیلئےPTM(پشتون تحفظ موومنٹ)کو بھی مکمل آزادی دے دی۔جنرل آصف غفور جبDGISPRتھے تو ازراہ تفننPTMپر انڈیا کی فنڈنگ کا الزام لگادیا تھا۔ جب فوج کسی کی مخالفت کا ٹھان لیتی ہے تو اعظم سواتی اور شہباز گل الزام لگاتے ہیں کہ ان سے جنسی زیادتی کی گئی۔ شہباز گل کہتا ہے کہ اب میں اور اعظم سواتی شلوار پہن لیں۔ پھر کہتا ہے کہ میں اپنے اداروں کو بین الاقوامی طور پر بدنام نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ صحافی احمد نورانی نے خبر دی تھی کہ جنسی زیادتی کی خبر غلط ہے اور حامد میر نے جنسی زیادتی کی خبر دی تھی۔ دونوں میں زیادہ بااعتماد صحافی احمد نورانی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے اثاثے بھی احمد نورانی نے لیک کردئیے تھے اور یہ بھی بتایا تھا کہ بلجیم میں اس کی جائیداد اور اشفاق پرویز کیانی کی آسٹریلیا میں جزیرے کی خبر غلط ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ، عمران خان کے باپ کا سسر ، جنگ کے میر شکیل الرحمن اور جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا سسر جنرل رحیم الدین قادیانی تھا۔ ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی سے پڑھوایا تھا۔ حضرت علی کی بہن حضرت ام ہانی کا شوہر مشرک تھا۔ نبیۖ کا سسر ابوسفیان پہلے مشرک تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا سسر پارسی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسر ہندو تھا۔
ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے مریدوں و عقیدتمندوں پر مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ لگایا تھا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟ ، عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا”۔ جب ہماری طاقت ہوگی تو مفتی عبدالرحیم کو اعزازات بھی بخش دیں گے کہ یہ بھی نبیۖ کی سنت ہے کہ اپنے دشمن ابوسفیان کو عزت سے نواز دیا تھا۔ البتہ غلط سلط فتوؤں سے نکلنا وقت کی ضرورت ہوگی۔ فلیضحکوا قلیلًا ولیبکوا کثیرًا ”پس ہنسو کم اور رؤو زیادہ”۔

___دوسرا طبقہ حکمرانوں کا ہے___
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورۂ مائدہ میں دوسرا طبقہ حکمرانوں کا بیان کیا ہے ،اسلئے جان کے بدلے جان اور اعضاء کے بدلے اعضاء کا فیصلہ حکمران ہی کرسکتے ہیں۔ ایک آدمی کو قتل کردیا، یا کسی کی ناک کاٹ دی، یا پھر کان، دانت اور ہاتھ کو ضائع کردیا تو اس کا بدلہ حکومت اور عدالت نے لینا ہے۔ حکومت اور عدالت سب کو انصاف دیتی ہے لیکن جن جن کو انصاف نہیں ملتا ہے تو ان کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ پہلے ٹیکس بھی امیر دیتا تھا اور اقتدار بھی ان کیلئے ہوتا تھا۔ اب ٹیکس مہنگائی کی شکل میں عوام پر پڑ رہاہے اور چوری حکمران طبقہ کرتا ہے اسلئے عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سب سے پہلے نیب کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر جن افراد نے پارلیمنٹ لاجز میں ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت کرنی تھی تو ان کو پولیس نے اٹھایا تو پورے پاکستان میں اہم شاہراؤں کو بند کردیا اور بندے چھڑالئے تھے۔ مریم نواز نے بھی نیب پر سنگِ باری کرنے کیلئے اپنی گاڑیاں پتھر سے بھر دی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن ہمارے وزیرستان کا انقلابی بادشاہ ملا پیوندہ ہے۔ جو ایک طرف انگریز ریاست سے مراعات لیتا تھا اور دوسری طرف تحریک آزادی کی قیادت بھی کررہاتھا۔ مریم نواز بھی گوجرانوالہ کے پہلوان خاندان کی نواسی ہے۔ ن لیگ میں یہ پہلی خاتون ہے جس نے واقعی مزاحمت کا حق ادا کیا ہے۔ نوازشریف اور شہبازشریف تو بہت زیادہ ہی شریف لوگ تھے جن کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی کرسیوں سے بھیڑ کی طرح اٹھاکر لے گئے اور یہ چپ چاپ ساتھ ہولئے۔ رانا ثناء اللہ کی حیثیت بھی ایک پہاڑی بکرے سے زیادہ اسلئے نہیں ہے کہ ایک دفعہ بیچارے کو اٹھاکر لے گئے تو مونچھ ، سرکے بال اور بھنویں تک مونڈ دئیے گئے۔ دوسری مرتبہ20کلو ہیروئن رنگے ہاتھ پکڑا دی گئی ۔ فوجی وردی میں ملبوس اینٹی نارکوٹیکس افسر کے ساتھ بیٹھ کر شہریار آفریدی قرآن اٹھاکر اپنی ماں کے سر کی قسم کھا کر کہتا تھا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے ، رانا ثناء اللہ کے پاس ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ اگر ہیروئن کے دھندے کی سمگلنگ میں کوئی پٹھان وزیر ملوث ہوسکتا ہے تو پنجابی وزیرداخلہ بھی ہوسکتا تھا اسلئے کہ لاہور سے کئی مرتبہ ڈرگز پکڑی گئی۔ حنیف عباسی پر بھی کیس تھا۔ لاہور میں ڈرگز پہنچتی ہیں اور ائیرپورٹ پر پکڑی جاتی ہے تو ذمہ دار عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب رانا ثناء اللہ کو ریکی کرکے پکڑا گیا تو موقع کی ویڈیو بھی ہونی چاہیے تھی۔حقائق تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن عمران خان نیازی نے کمال کردیا کہ بھیڑ بکری کی طرح خود کو حکمرانوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا۔ جب پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ دیا تھا اورPTVپر قبضہ کرلیا تھا تب بھی دہشت گردی کی عدالت نے اس طرح طلب نہیں کیا تھا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔عمران خان کے دورِ اقتدار میں بھی کچھ کم نہیں تھا لیکن موجودہ دور میں اس سے بڑھ کر ہے اور عمران خان آواز بھی اٹھا رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف حکومت پر بلکہ ریاست پر بھی بہت بری طرح پڑ رہے ہیں۔
ہندوستان کی ایک ہندو اینکر نے مولانا علیم الدین اور مذہبی اسکالر فیروز بخت کو ٹی وی پر بٹھا کر کتے کے بارے میں پوچھا کہ مسلمان اس سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟۔ دونوں حضرات پسپائی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ قرآن میں اصحاب کہف کے کتے کا بھی ذکر ہے اور شکاری کتے کے ذریعے سے شکار کی گنجائش بھی ہے۔ عالم نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی اور اپنے علم کے ذریعے رفعت کی جگہ پستی اختیار کرلی تو اس کو کتے سے تشبیہ بھی دی۔ ایک مرتد نے کہا کہ قرآن میں مشرکوں کو نجس کہا ہے انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھٰذا اس آیت میں مشرکوں کو عقیدے کی وجہ سے نجس نہیں کہا گیا ہے۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن عیسائی عورت سے شادی اور اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانا جائز ہے۔ لتا حیاء نے مساجد کے خلاف تحریک چلانے پر ہندوؤں کو کہا تھا کہ تم بھی صبح اٹھو اور منہ دھولو۔ جو مسلمان نہاتے نہیں ان کو بھی نجس کہا جاتا ہے۔ جنابت اور حیض کی حالت میں مسلمانوں کو نماز کے قریب جانے سے روکا گیا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک نچلی ذات والوں کا لعاب دہن نجس ہوتا ہے مسلمانوں کے نزدیک بنی آدم کا لعاب پاک ہے۔ اللہ نے تمام بنی آدم کو قرآن میں عزت و تکریم سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت آٹے کو ذخیرہ کرکے غریبوں میں بانٹنے کا تماشہ کرکے دجال کا کردار ادا کررہی ہے۔ مہدی کا کام مال کی مساوی تقسیم ہوگی۔ جس دن اشرافیہ کے اللے تللے ختم ہوجائیں تو عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔

___تیسرے طبقے سے عوام الناس مراد ہیں___
تیسرا طبقہ قرآن کی سورہ مائدہ میں اہل الانجیل کا بیان کیا گیا ہے جس سے عوام الناس مراد ہیں ۔ جن کا فیصلہ نہ علماء ومشائخ کی طرح دین کو بدلتا ہے اور نہ حکمرانوں کے عدل وظلم کے پیمانے کو بدلتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ فاسق ہیں”۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے سے آج کسی بھی عام شخص کو اقتدار میں لاسکتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسی پارٹی ”اسلامی انسانی انقلاب” کے نام سے تشکیل دیدی ہے جس میں نظریات اور منشور کی بنیاد پر عوام اپنا نمائندہ منتخب کریں گے اور پھر منتخب نمائندوں میں جسے بھی اکثریت سے منتخب کیا جائے وہی وزیراعظم بنے گا۔ پارٹی کی سینٹرل کمان کسی کو وزیراعظم نامزد نہ کرے گی۔ مثلاً عوام نے313افراد کو منتخب کرلیا۔ پہلے ان313افراد کو اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ دینے کا اختیار ہوگا۔ پھر جن دو افراد کی پوزیشن پہلے اور دوسرے نمبر پر ہوگی تو ان میں دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے سے ایک وزیراعظم اور دوسرا سینئر وزیر منتخب ہوگا۔ وزارتوں کیلئے اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ میں نوازشریف ، آصف علی زرداری ، عمران خان ، مولانا فضل الرحمن اور جن جن سیاسی اور فوجی قیادت پر الزامات ہوں تو ان کو صفائی کا قوم کے سامنے لائیو ٹی وی چینلوں پر موقع دیا جائے گا۔ جس کیساتھ بھی ناجائز اور زیادتی ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے گا اور جس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہو تو اس سے درخواست کی جائے گی کہ اپنے حق حلال کی کمائی میں سے ملک کے سودی قرضوں کا خاتمہ کریں۔ انور مقصود نے ٹھیک کہا ہے کہ ” اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو سب کو معاف کردیںگے اسلئے کہ20کروڑ میں سے19کروڑ انسانوں کے ہاتھ کاٹنے پڑیںگے۔ عدلیہ اور ججوں پر بھی کیسوں کا دباؤ کم ہوجائے گا تو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ بارش کے پانی میں عدالت کاغذ کی کشتی ہوتی ہے جو طوفان میں بہہ جاتی ہے۔ جب شعور کی روشنی پھیل جائے گی تو اندھیروں میں ٹکریں کھانے کی مجبوریاں بھی نہیں ہوں گی۔
جب حضرت عمر کے دور میں دولت کی فراوانی ہوئی تو اصحاب بدر، فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے مسلمانوں میں وظائف کے اندر فرق رکھا گیا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہ جب بصرہ کے گورنر تھے تو ان کے خلاف چار افراد نے ام جمیل سے بدکاری کی گواہی دیدی۔ حضرت عمر نے حضرت مغیرہ پر سنگساری کی حد جاری کرنے کے بجائے تین افرادکو80،80کوڑے لگائے، جن میں ایک صحابی حضرت ابوبکرہ تھے۔ اگر سورہ نور کے عین مطابق بدکاری کی سزا100کوڑے ہوتے تو عوام کو سزا دینے کے بجائے گورنر کو سزا دی جاتی۔ یہ واقعہ بڑا عجیب ہے اور اس پر صحیح بخاری وغیرہ میں احناف اور جمہور کی قانون سازی اس سے بھی بڑی عجیب ہے۔
تین افراد کی گواہی مکمل ہوگئی تو حضرت عمر نے چوتھے گواہ زیاد کو آتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اللہ ایک صحابی کو اس ذلت سے بچائے گا اور پھر زور سے دھاڑ ماری کہ تیرے پاس کیا ہے؟۔ راوی نے کہا کہ یہ اس قدر زور کی دھاڑ تھی کہ قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاتا۔ زیاد نے کہا کہ مغیرہ کے کاندھے پر ام جمیل کے پیر ایسے پڑے تھے جیسے گدھے کے کان ۔ میں نے ان کی سرین دیکھ لی اور ٹھنڈے ٹھنڈے سانس لینا سن لیا۔ عوام کو خلفاء راشدین کے دور میں بھی جنگیں لڑنی پڑی ہیں اسلئے اب عوام میں سے ایک حکمران بنانا چاہیے۔ بہادروں، قابل اورقربانی دینے والوں سب کی مہربانی۔ اس دفعہ عوام کو اپنی باری کی حکومت کرنے دیں۔
غریبوں تک اپنی زکوٰة ، خیرات اور صدقات پہنچائیں۔ غیرمسلم اقلیتوں پر بھی رحم کریں۔ حکومت پہلے بینکوں سے زکوٰة نہیں کاٹتی تھی تو لوگ فرض سمجھ کر غریبوں کا احساس کرتے تھے۔ علماء نے بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا فتویٰ جاری کرکے حکومت اور مالداروں میں بے حسی کو پروان چڑھادیا۔ مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ ”یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فرض ہے جس کو دوسرا کوئی منسوخ نہیںکرسکتا ہے”۔ اگر زکوٰة صحیح جگہوں پر پہنچ جائے تو بھی اس امت کے عوام وخواص پر رحمت اور انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے سودی قرضوں کی سزا عوام کو مل رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی کمائی خاکستر ہوگئی ہے اور یہ لوگ پھر بھی عوام اور غریبوں کا خیال رکھنے کے بجائے اپنے اقتدار کی فکر میں موج مستیاں کررہے ہیں۔ ہم ووٹ کے ذریعے اس وقت تبدیلی لاسکتے ہیں جب انقلابی پروگرام عوام کو دیں۔ باتوں سے تبدیلی یا انقلاب کی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوںاپنے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پختونیم کفرنہیں،عورت سے جبری زیادتی ہو تو 2 یا 3 پختون چیخ وپکار پر رُوکیںگے نہیں؟

پختونیم کفرنہیں،عورت سے جبری زیادتی ہو تو2یا3پختون چیخ وپکار پر رُوکیںگے نہیں؟

ملا کا اسلام یہ ہے کہ عورت سے جبری زیادتی ہو تو4گواہ ضروری ہیں،دو یاتین گواہ ہوئے تو عورت کو چپ رہنا ہوگا ، اگر شکایت کی تو پھراس پر بہتان لگانے کے80کوڑے لگیں گے

یہ اسلام پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی ، سرائیکی اور مہاجر سب کلچر کے خلاف ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کا مدرسہ تقوےة الایمان مردان میں نمازیوں اور علماء کرام سے پشتو زبان میں خطاب

مردان ( نمائندہ خصوصی شاہ وزیر ) مردان سپین جماعت (جامع مسجد سفید کے امام وخطیب پیر علامہ شکیل احمد قادری ، رہنما جمعیت علماء اسلام ف کی دعوت پر پیر صاحب کے دارالعلوم تقوےة الایمان کی مسجد میں بعد از نماز مغرب بروز پیر22مارچ2023کو نمازیوں اور علماء سے خطاب کیا جس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ افسوس کہ بیان کو ریکارڈ نہیں کیا جاسکا،ورنہ سوشل میڈیا پر سننے کو مل جاتا)
نحمد ونصلی علی رسولہ الکریم : ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ پشتو نیم کفر ہے لیکن اسلام کیا ہے؟۔ اگر یہاں مسجد میں لوگ اپنے بال بچوں کیساتھ آتے ہوں۔ ہماری خواتین مائیں، بہنیں ، بیگمات اور بیٹیاں مسجد میں نماز پڑھتی ہوں ۔ فجر کی نماز کے وقت کوئی شخص کسی عورت کیساتھ زبردستی جنسی زیادتی کرے تو کیا اس کی چیخ وپکار سن کر لوگ تماشا دیکھیںگے یا اس کو روکیںگے؟۔ پشتون کلچر کیا کہتا ہے؟۔ (مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے کہا کہ اس کو روکیںگے) اس کو روکنا ہی اسلام ہے اور یہی پشتو ن کلچر کا بھی تقاضا ہے۔ پنجابی ، سندھی ، سرائیکی، مہاجر اور بلوچی کلچر کا بھی یہ تقاضاہے۔ لیکن ملا کے اسلام میں یہ ہے کہ چار گواہ ہوں گے تو عدالت اس کو سزا دے گی اور چار سے کم ہوں گے تو عورت چپ رہے گی اور اگر اس نے گواہی دی تو اس پر حد قذف کے80کوڑے بھی لگیں گے۔
جنرل پرویزمشرف کے دور میں جب قومی اسمبلی میں یہ قانون بنانے کی کوشش ہوئی کہ زنا بالجبر میں قانونِ شہادت ختم کرکے تعزیرات کے تحت مجرم کو سزا دی جاسکے لیکن اس کے خلاف شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے فتوی لکھ دیا جو جماعت اسلامی نے کراچی میں شائع کرکے اس کی خوب تشہیر کردی۔ جس کا ہم نے مدلل جواب لکھ کرشائع کردیا۔ اس جواب کی وجہ سے جماعت اسلامی کو پھر یہ ہمت نہیں ہوئی کہ جب پیپلزپارٹی کے دور میں تعزیرات کے تحت زنابالجبر کے مجرم کیلئے سزا کا قانون پاس ہوا کہ جماعت شور کرتی یا مفتی محمد تقی عثمانی پھر اس پر آوازا ٹھانے کی ہمت کرتے۔ حالانکہ صحافیوں کے پوچھنے پر جماعت اسلامی کے سابقہ امیر سید منور حسن نے کہا تھا کہ ” اگر عورت کیساتھ جبری جنسی زیادتی ہوئی ہے اور اس کے پاس چار مرد گواہ نہیں ہیں تو اس کو خاموش رہنا چاہیے۔ اگر وہ اپنے اوپر زیادتی کی آواز اٹھائے گی تو اس کو سزا ملے گی”۔
ہماری مزاحمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ جبF9پارک اسلام آباد میں عورت سے زیادتی ہوئی تو جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے اس کو انصاف فراہم کرنے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ عمران خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ1992میں جیتاتھا اورمجھے تحریک چلانے کی وجہ سے1991میں ایک سال کی سزا دی گئی تھی۔ جب عمران خان کرکٹ کھیل رہا تھا تو میں تحریک چلا رہاتھا۔ پاکستان میں آئین کو قرآن وسنت کا پابند بنایا گیا ہے لیکن قرآن اور سنت کے مطابق کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان میںVIPکلچر کا تصور ہے۔ ایک عورت نے حرام کی کمائی سے دولت بنائی ہے ،اگر وہ اپنی عزت کے ہتک کا دعویٰ کرے تو عدالت میں اربوں روپے کا مقدمہ کرتی ہے اور جب غریب عورت کی عزت کامعاملہ ہو تو اس کو اتنی رقم بھی نہیں ملتی ہے جتنی سے کیس میں وکیل اور عدالت کی فیس ادا ہوسکے۔ حالانکہ ایک غریب آدمی کو کروڑوں کی رقم ملے تو بھی اس کی عورت اجنبیوں میں اس طرح جلسے نہ کرے۔ کیا یہی انصاف ہے؟۔ کیا عزت میں یہ تفریق اسلام کا تصور ہوسکتا ہے؟۔
قرآن وسنت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان لگایا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ اول کی صاحبزادی، رسول اللہ ۖ کی گھر والی اہل بیت اور قیامت تک تمام مؤمنوں کی ماں۔ اس سے بڑا مقام ومرتبہ کیا ہوسکتا ہے؟ لیکن آپ پر بہتان لگانے والوں کو بھی80،80کوڑوں کی سزا قرآن میں نازل ہوئی اور کسی عام غریب خاتون پر بھی بہتان لگانے کی سزا80،80کوڑے ہیں۔ اس سے بڑا مساوات دنیا کے کس نظام میں ہوسکتا ہے؟۔ کیا دنیا کیلئے یہ اسلام اور قرآن کا نظام انصاف قبول ہوگا یا نہیں ہوگا؟۔ ( سامعین نے کہا کہ دنیا کیلئے اسلام اور قرآن کا یہ نظام بالکل بھی قبول ہوگا)۔کیا آج تک علماء سے یہ اسلام سنا ہے؟۔ سیاستدانوں سے سنا ہے؟۔ (سامعین نے نفی میں سر ہلایاتھا)
علماء اور سیاستدان جب اسمبلی میں جاتے ہیں تو خود بھی اسVIPکلچر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایک غریب آدمی عوام کے ووٹوں کی طاقت سے اسمبلی میں پہنچتا ہے لیکن جب اسمبلی میں جاتا ہے تو پھر غریب نہیں رہتا بلکہ امیر بن جاتا ہے ۔ پھر وہ غریب کیلئے کیوں قانون سازی کرے گا۔ ووٹ کی طاقت دنیا بدل سکتی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ اس سے مغرب کی جمہوریت کی تائید ہوتی ہے ۔ خون خرابے کے بغیر عوام کی مرضی سے حکومت کی تبدیلی بہت اچھی بات ہے۔ اسلام میں عام لوگوں کو بدکاری پر جوسزا ہے وہ امہات المؤمنین کیلئے ڈبل ہے۔ نچلے طبقے کی خواتین کیلئے عوام کے مقابلہ میں آدھی سزا ہے۔ جب اسمبلی میں یہ قانون سازی ہوگی کہVVIPکی سزا جرم میں زیادہ ہو۔ عام آدمی کے مقابلے میں ڈبل ہو اور نچلے طبقے کی کم ہوتو عوام ایسی پارٹی کو ووٹ دیںگے یا نہیں؟۔ عزت میں طاقتور اور کمزور برابر ہو اور جرم میں طاقتور کوسزا زیادہ ہو تو یہ فطرت کا بھی تقاضہ ہے۔ لیکن یہاں طاقتور کو سزا دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص نے پہاڑی علاقہ میں گاؤں والوں سے کہا کہ ایک مہینے تک مجھے میری مرضی کے کھانے کھلاؤ اور پھر میں یہاں سے اس پہاڑ کو کہیں دور لے جاؤں گا۔ گاؤں والوں نے ایک ماہ تک فرمائشی کھانے کھلائے۔ جب مہینہ پورا ہوگیا تو سب جمع ہوگئے کہ صاحب بہادر پہاڑ یہاں سے اٹھاکر لے جائے گا۔ اس چالاک آدمی نے پہاڑ کے ایک طرف بیٹھ کر سیدھے سادے گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ میں پہاڑ یہاں سے دور لے جانے کیلئے بیٹھا ہوں۔ بس تم سارے مل کر مجھے پیٹھ پر لدوادینا۔ لوگوں نے پہاڑ پر زور لگاکر لدوانے کی کوشش کی اور آخر کار تھک کر کہا کہ آپ تو تیار تھے پہاڑ لے جانے کیلئے لیکن ہم نہیں لدواسکے۔
سیاسی قیادت عوام کیساتھ یہی سیاست کھیل رہی ہے۔ پہلے کہتے ہیں کہ ہم انقلاب لائیںگے۔ اقتدار دلاؤ۔ جب عوام اس کو اقتدار کی دہلیز پر پہنچاتی ہے تو پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اختیار بھی دلادو۔ غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے ہمارا ساتھ دو۔ عوام سمجھ رہی ہوتی ہے کہ واقعی یہ تبدیلی اور انقلاب چاہتا تھا مگر اسکے پاس اختیار نہیں تھا۔ پہاڑ والے کی طرح اس کو بھی بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔
علماء ومفتیان نے سیاسی اقتدار کے حوالے سے اسلام کی روح کے مطابق آج تک کوئی قانون سازی نہیں کی ۔ بہت سارے معاملات میں علماء ومفتیان نے اسلام کے احکام کو درست بیان بھی نہیں کیا ہے اور ان میں وہ احکام شامل ہیں جن کا اقتدار سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔ جب معاذ بن جبل کو نبیۖ نے یمن کا حاکم مقرر کیا تو ان سے پوچھا کہ لوگوں میں فیصلہ کس چیز پر کروگے؟۔ تو اس نے کہا کہ قرآن سے۔ پوچھا کہ قرآن میں نہ ملے تو؟۔ عرض ہوا کہ سنت سے۔ فرمایا کہ سنت میں نہ ملے تو؟۔ عرض کیا کہ پھر میں خود کوشش کروں گا۔
عربی میں کوشش کرنے کو اجتہاد کہتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بٹھادیا گیا ہے کہ اجتہاد کوئی مستقل مساوی نظام کا نام ہے۔ مثلًا اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ تو مجھ پر حرام ہے۔ صحیح بخاری میں حسن بصری نے اس پر علماء سے اجتہاد نقل کیا ہے کہ یہ تیسری طلاق ہے۔ کھانے پینے کو حرام کہا جائے تو کفارہ ادا کرکے کھانا پینا جائز ہے لیکن بیوی کو حرام کہا جائے تو تیسری طلاق کی وجہ سے حلالہ کے بغیر وہ حلال نہ ہوگی۔ ایک روایت چھوڑ کر اگلی روایت میں ابن عباس نے فرمایا کہ حرام کے لفظ سے کچھ بھی واقع نہیں ہوتا نہ طلاق اور نہ قسم ۔ دونوں کا اتنا بڑا اختلاف اور تضاد؟۔ علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے لفظ حرام پر20اجتہادت نقل کئے ہیں جن میں خلفاء راشدین اور دیگر حضرات کے اجہتاد شامل ہیں۔ حضرت عمر کے نزدیک ایک طلاق، حضرت علی کے نزدیک3طلاق اور حضرت عثمان کے نزدیک ظہار۔ ابن عباس کے نزدیک کچھ بھی نہیںوغیرہ۔
قرآن میں سورۂ تحریم ہے اور تحریم کا معنی حرام قرار دینا ہے۔ نبیۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ کے لئے ”حرام” کہہ دیا تو سورۂ تحریم نازل ہوئی ۔ قرآن کی طرف دیکھنے کے بجائے20اجتہادات اور تضادات کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور ہمارا فرض بنتا تھا کہ دیکھ لیتے کہ حضرت علی اور حضرت عمر میں حلال وحرام کا یہ اختلاف ہوسکتا ہے؟۔ قرآن کی موجودگی میں ایسا متضاد اجتہاد کرسکتے تھے؟۔
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا” اور انکے شوہر عدت میں صلح کی شرط پر ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں”۔(البقرہ228)
حضرت علی سے پوچھا گیا کہ بیوی کو لفظ حرام کہہ دیا ہے ۔ حضرت علی کو تحقیق سے پتہ چل گیا کہ اس کی بیوی صلح کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو فتویٰ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ اس کو کسی نے تیسری طلاق اور کسی نے تین طلاق کا نام دے دیا۔ حضرت عمر نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بیوی رجوع پر آمادہ ہے اسلئے رجوع کا فتویٰ دے دیا۔ اس کو لوگوں نے ایک طلاق رجعی کا نام دے دیا۔ دونوں کے فتوے میں کوئی تضاد نہیں تھا بلکہ قرآنی آیت کے مطابق صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت تھی اور فتوے بھی دونوں نے اسکے مطابق دئیے۔ علماء میں سمجھ نہیں ہے۔
جب مولانا محمد خان شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے تو میں نے ان سے کہا تھا کہ ایک طرف واضح آیت ہے کہ عدت میں صلح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے، اگر اسکے مقابلے میں صحیح حدیث ہو جس میں رجوع نہ کرنے اور حلالہ کا واضح فتویٰ موجود ہو تو کیا آیت کے مقابلے میں حدیث پر فتویٰ دیا جائیگا ؟ مولانا شیرانی نے مان لیا کہ آیت پر فتویٰ دیا جائیگا۔ قبلہ ایاز موجودہ دور میں چیئرمین ہیں ، انہوں نے خط لکھا اور طلاق کے حوالے سے مسائل کے حل کو سمجھا مگر انہوں نے کہا کہ مولوی شاہ دولہ کے چوہے ہیں ان تک نہیں پہنچ سکتا ہوں۔
آیات میں زبردست وضاحتوں کے باوجود علماء نے مسائل کو الجھادیا ۔ اللہ کہتا ہے کہ ”ہم نے کتاب کو ہر چیز کے واضح کرنے کیلئے نازل کی ”۔ عدت عورت کی ہوتی ہے۔ مرد کیلئے بہت معیوب ہے کہ جب عدت کو بھی اپنا ہی قرار دے۔ آیت226میں اللہ نے4ماہ کی عدت کا ذکر کیا ہے۔ جمہور فقہاء کے نزدیک4ماہ کے بعد بھی طلاق نہیں ہوگی اور احناف کے نزدیک طلا ق ہوگی اور دونوں میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ایک کہتا ہے کہ مرد نے اپنا حق استعمال کرلیا اسلئے طلاق ہوگی اور دوسراطبقہ کہتا ہے کہ مرد نے اپنا حق استعمال نہیں کیا جب تک زبان سے طلاق نہیں دے گا تو عورت طلاق نہیں ہوگی۔ حالانکہ اصل مسئلہ عورت کے حق کا ہے۔ چار ماہ کی عدت اس نے گزاری ہے۔ اب اس نے فیصلہ کرنا ہے لیکن عورت سے اس کی عدت کی اذیت بھی چھین لی گئی ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ بیوہ4ماہ10دن کے بعد اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ اگر وہ اپنے فوت شدہ شوہر سے تعلق باقی رکھنا چاہتی ہے تو قیامت اور جنت تک اس کا نکاح باقی رہے گا۔ نشان حیدر اور فوجی وسول ملازمین کی بیواؤں کو پینش اور مراعات اس وقت ملتی ہیں کہ جب عورت نے دوسری شادی نہیں کی ہو۔ اس بات کو سرکاری لوگ بھی سمجھتے ہیں لیکن میرے رشتہ داروں میں تربت کے بلوچ، شکارپور کے سندھی ، کراچی کے مہاجر اور کشمیر کے کشمیری شامل ہیں اور پشتو رسم کا بھی پتہ ہے کہ مولوی نے خود ساختہ شریعت بنارکھی ہے کہ میاں بیوی میں سے ایک فوت ہوجائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت فاطمہ کی میت کو علی نے غسل دیا تھا ۔ حضرت ابوبکر کی میت کو اس کی زوجہ نے غسل دیا تھا۔ کسی مولانا نے کہا کہ (یہ بوقت ضرورت ہے) تو اس کے جواب میں کہا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ مولوی قبر پر تختی لگاتا ہے کہ زوجہ مفتی محمود، زوجہ مفتی شفیع، زوجہ مولانا محمد طاہر پنج پیر۔ جب نکاح باقی نہیں رہاہے تو زوجہ کہاں سے لکھ سکتے ہیں؟۔ ایک مولانا نے کہا: قرآن وحدیث سے دلیل دو کہ فوت ہونے کے بعد نکاح باقی رہتا ہے۔ توکہہ دیا کہ ”اللہ نے قرآن میں بشارت دی ہے کہ جنت میں وہ اور ان کی ازواج ساتھ ہوں گی”۔ مولانا نے کہا :اگر بیوی یاشوہرنیک نہ ہو تو؟۔ جواب دیا: یوم یفر المر ء من اخیہ وامہ وبیہ وصاحبتہ وبنیہ میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ بیوی نیک یا بد ہوگی۔جب مولانا کو پھر بھی تشفی نہیں ہورہی تھی تو اس کو کہہ دیا کہ ”مولانا کو یہ اختیار کس نے دیا کہ گم شدہ شوہرکا نکاح80سال تک برقرار رہتاہے اور جب انگریز کے دور میں عورت مرتد ہوگئی تو پھر یہ مدت4سال کردی؟۔ یہ کتنی بڑی حماقت تھی کہ ہر عمر والے کیلئے80سال کا انتظار تھا۔ جس دن بچی پیدا ہو اور اس کا شوہر گم ہوجائے۔80سال بعد عورت ازدواجی تعلق کے قابل رہے گی؟۔ یہ کونسا نکاح ہے کہ جب شوہر3طلاق دے اور پھر مکر جائے۔ عدالت میں قسم اٹھالے تو عورت خلع لے اور خلع نہ ملے تو پھر وہ حرام کاری پر مجبور ہو؟۔جب دو مرتبہ طلاق دی اور حدیث میں آتاہے کہ اس جملے میں تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے تو اس کے بعد خلع کا تصور کہاں سے آسکتا ہے؟۔ جب تیسری طلاق کا تعلق فدیہ سے ہے تو پھر اس کے بغیر حلالے کا فتویٰ کیوں دیا جاتا ہے؟۔ آخر میں مولانا نے کہا کہ اللہ کے ذکر سے اطمینان نہیں ملتا؟۔توکہہ دیا کہ جہاں اطمینان کا ذکر ہے وہاں ذکر سے قرآن مراد ہے باقی جب جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت اختیار کریںتو ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف اور غم مت کھاؤ۔ نماز میں بھی ذکر ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گل چاہت عورت سے مشابہ ہے تو اس کا نام معاویہ کی جگہ ہندہ یا کچھ اور رکھ دینا چاہیے تھا

گل چاہت عورت سے مشابہ ہے تو اس کا نام معاویہ کی جگہ ہندہ یا کچھ اور رکھ دینا چاہیے تھا

جماعت اسلامی نے ٹرانس جینڈر کے قانون کو اپنا معنی پہنا کر شور مچایا لیکن جب گل چاہت نے مرد بن کر تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگائے ، شکایتوں کا انبار لگادیا تو اس پر خاموشی اختیار کی گئی؟

قرآن کی بڑے بڑوں نے ایسی غلط تفسیر کی ہے جیسے شلوار الٹی نہیں بلکہ پائنچے کی طرف سے پہنی جائے۔ بزرگوں کا احترام ہے لیکن قرآن کی تعلیمات پر ظلم دیکھنا منافقت ہے۔

فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات سے بالاتر ہوکر قرآن کی طرف اُمت مسلمہ رجوع کریگی تو مسلم ریاستوں سمیت مدارس ، مساجد، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی

گل چاہت ایک پشتون خسرہ تھی۔ ناچتی گاتی ،اپنا اور لوگوں کا دل بہلاتی لیکن اس فن میں اس کی کیا عزت ہوتی؟۔ بے چاریوں کوماں باپ بھی اولاد کی طرح عزت نہیں دیتے۔ جنسی خواہشات بھی نہیں رکھتی ہیں۔ کھانے پینے کیلئے بھی ترستی ہیں۔عزت وتوقیر تو وہم وگمان میںبھی نہیں ہوتی ہے کہ مل سکے گی۔ گل چاہت نے عمرہ ادا کرنے کے بعد تبلیغی جماعت میں چار مہینے لگادئیے۔ اپنا نام بھی کسی کی طرف سے تجویز کرنے پر معاویہ رکھ دیا۔ زنانہ بال بھی کٹوادئیے اور اپنی جنس بھی بظاہر بدل ڈالی۔ لیکن اس کو داڑھی نہیں آئی اور سینے بھی اُبھرے ہوئے تھے۔ تبلیغی جماعت میں بھی جنسی ہوس کا شکار بن گیا۔ اب اسکے سامنے دو تصویریں ہیں ایک یہ کہ جب وہ ڈانس کرتی تھی اور دوسرا یہ کہ مسجد کے منبروں پر بیٹھ کر تقریریں کرتی ہے۔ تہبند پہنے ہوئے ایک پنجابی تبلیغی کو دیکھا جاسکتا ہے کہ ویڈیو میں پپی جھپی لینے کی کوشش کررہاہے اور اس کے ساتھ پھردوسراپٹھان اس سے خوب بغل گیر ہوکر آخر میں اس کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہے۔ تبلیغی جماعت آج تک لاؤڈ اسپیکر سے آذان اور نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں اور اس کے استعمال سے گریز کرتے ہیں لیکن ایسی بیہودہ ویڈیوز بنانے کا مقصد کیا ہے؟۔
ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے ایک مرید بھائی سرورالنور سوسائٹی کراچی کیساتھ تبلیغی جماعت میں ہماری تشکیل تھی۔ ایک سابقہ معروف غنڈہ قمر ٹیڈی بھی اس جماعت میں تھا۔ قمر ٹیڈی کیساتھ ایک بے ریش لڑکا جماعت میں کچھ ضرورت سے زیادہ گھوم رہاتھا تو ہم نے سرور بھائی سے کہا کہ ان کو روک دو۔ مگر اس نے پرواہ نہیں کی تو تبلیغی جماعت کی شوریٰ کے منبر کو مکی مسجد میں اطلاع کردی تھی مگر اب پتہ چلا ہے کہ کچھ ریٹائرڈ فوجی سیکیورٹی نے بھی مکی مسجد میں کچھ افراد کو بدفعلی کرتے ہوئے پکڑا تھا لیکن اسکی شکایت کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا پر بستی نظام الدین میں مولانا سعد پر الزام تراشی ہورہی تھی مگر یقین نہیں آرہاتھا ۔ گل چاہت کا نام معاویہ رکھنے کے بجائے ہندہ وغیرہ رکھنا تھا جو امیرمعاویہ کی ماں اور یزید کی گھر والی کا نام تھا۔اس کو مستورات کی جماعتوں میں وقت لگواتے۔ جہادی تنظیموں اور مدارس کے بعد تبلیغی جماعت کا کردار کچھ پردے میں تھا وہ بھی سامنے آگیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے کے سارے گندے انڈے ہیں لیکن انکے ظرف کا اس سے ضرور پتہ چلنا چاہیے۔ جب یہ کھلم کھلا معاملہ ہے اور اس کی تشہیر بھی بڑے زوروں پر ہے۔
تبلیغی جماعت کے لوگوں میں سمجھ بوجھ نہیں ہے کہ گل چاہت کا نام معاویہ رکھنے کے بعد بھی اس کی اصل جنس تبدیل نہیں ہوگی۔ شریعت میں جس خسرے کے ظاہری اعضاء مردوں کے مشابہ ہوں گے تو اس کو مردوں میں شمار کیا جائے گااور جس کے ظاہری اعضاء عورتوں کے مشابہ ہوں گے تو اس کو عورتوں میں شمار کیا جائے گا۔ جیسے داڑھی اور سینہ وغیرہ۔اگر اس کی داڑھی بھی اور سینے بھی ہوں تو پھر مشکل خنسیٰ بھی ہوسکتا ہے۔ انسان جنسی خواہشات کے لحاظ سے بہت کمزور ہے۔ مفتی منیرشاکر نے گل چاہت معاویہ کا کہا کہ ” اس کو دیکھ کر آدمی کا وضو ٹوٹ جاتا ہے”جس سے معاملے کی نزاکت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
جب لاہور سے جمعیت علماء اسلام کے رہنماشیخ الحدیث مفتی عزیزالرحمن کی ویڈیو صابرشاہ کیساتھ وائرل ہوئی تھی تو مدارس کیخلاف طوفان بدتمیزی کھڑا ہوا تھا۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا تھا کہ ” اس کو مینار پاکستان سے پھینک دیا جائے،اسلئے کہ شہر میں اُونچی جگہ سے اس کو گرانے کا حکم ہے”۔سعودی عرب کی حکومت شرعی سزائیں دیتی ہے لیکن کبھی کسی نے نہیں سنا ہوگا کہ قوم لوط کے جرم میں کسی کو مکہ ٹاور سے گرادیا گیا ہے۔ جب تک علماء ومفتیان کی خود ساختہ شریعت کو پارلیمنٹ قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں چیلنج کرکے میڈیا پر عوام کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا جائیگا تو قیامت تک بھی اسلام نہیں آسکتا ہے۔
افغانستان میں امیرالمؤمنین ملامحمد عمر مجاہد اخون کے دور اور موجودہ طالبان کے اسلام میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ موجودہ دور کا اسلام کافی بہتر ہے لیکن اب بھی اس میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ پہلے تصاویر پر مکمل پابندی تھی اور اب آزادی ہے۔ پہلے زبردستی سے نماز پڑھانے کا اہتمام ہوتا تھا ،اب اس جبری نظام کا خاتمہ ہوا ہے۔ پہلے زبردستی سے داڑھی رکھوائی جاتی تھی ، اب زبردستی کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے جو علماء کے شاگرد ہیں۔ یہاں استاذ اور علماء پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ استاذ علماء نے سودی نظام کو جائز قرار دے دیا ہے۔ جماعت اسلامی جاہلوں کی جماعت اور جمعیت علماء اسلام علماء کی جماعت بھی اس میں غرقاب ہوگئی ہیں۔ مدارس کے علماء کرام جو پہلے اس سودی نظام کے سخت خلاف تھے وہ بھی رام لال چندر ہوگئے ہیں۔
قرآن میں زنا بالرضا میں رجم کی سزا نہیں ، البتہ جبری زنا پر قتل کرنے کا حکم ہے اور نبیۖ نے زنا بالجبر میں ایک عورت کی گواہی پر مجرم کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔ قرآن وحدیث بالکل فطرت کے عین مطابق ہیں۔
مکتبہ بینات علامہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کتاب” رجم کی شرعی حیثیت”1:مولانا مفتی محمد شفیع۔2:مفتی ولی حسن ٹونکی۔3:مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی تحریرات شائع کی ہیں۔ اس کتاب میں جس بھونڈے انداز میں قرآنی آیات سے غلط استدلال پیش کیا گیا ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ حضرات کی طرف ”رجم” کو رد کرنے والوں کے خلاف تھوڑاساتو عقل سے کام لیناچاہیے تھا۔
مفتی محمد شفیع نے جس طرح تصویرکے شرعی احکام میں بالکل کم عقلی کی بنیاد دلائل دئیے تھے تو جب ہم نے اس کا رد اپنی کتاب ”جوہری دھماکہ ” میں کردیا تو پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے سارے علماء ومفتیان نے اپنی روش تبدیل کی۔ رجم کے بارے میں اتنی ضخیم کتاب لکھ ڈالی تو بھی انشاء اللہ سارے علماء کرام اپنا مؤقف تبدیل کرلیںگے۔ چونکہ معاملہ ہمارا ذاتی نہیں ہے بلکہ قرآنی آیات کا ہے اسلئے بہت سادہ لفظوں میں غلط تفسیر وتشریح کی وضاحت کرتے ہوئے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ” قرآن کی آیات سے رجم ثابت کرنے کیلئے کوئی معقول دلیل نہیں دی ہے ۔اپنی شلوار کو بھی صرف الٹا نہیں پہنا ہے بلکہ پائنچے کی طرف سے زیب تن کرنے کی ناکام کوشش کی ہے جو ایک کم عقل بچہ بھی نہیں کرتا ہے”۔
میرے محترم بڑے بھائی نے مجھے کافی دیر سمجھانے کی کوشش کی کہ میں اپنی زبان نرم رکھوں، احسن انداز میں بات کروں۔ جاوید غامدی کی طرح شائستہ طرز عمل اور میٹھے لہجے میں بات کروں۔ قارئین سے گزارش کروں کہ میری ایک رائے ہے ،اس سے اتفاق یا اختلاف کرسکتے ہیں۔ مجھے گھر والے سمیت اپنے دوست اور احباب بھی یہ نصیحت کرتے ہیں لیکن جب اللہ کی کتاب قرآن کے ساتھ اور خواتین کی عزتوں کیساتھ مجھے کھلواڑ نظر آتا ہے تو مجھے اپنے آپ پر قابو پانا ایک منافقت لگتی ہے۔ جب تک زور دار الفاظ میں غلط روش کی مذمت کرنے سے دل کی بھڑاس نہیں اتارتا ہوں تو اپنے ایمان کا ٹمٹماتاہوادِیا بھی بجھا بجھاسا دکھائی دیتا ہے۔ایک حق کی ضرب لگاکر باطل کا بھیجانکال باہر کرنے کی خوبی اللہ نے اپنے فضل سے مجھ میں رکھ دی ہے اگر اس سے محروم ہوگیا تو پھر کس کام کا ؟،اسلئے مجھے تھوڑا سا برداشت کرنے کی صلاحیت اپنوں میں ہونی چاہیے۔
مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں” قرآن میں صراحةً اس سزا کا ذکر نہیں ہے ،البتہ سورۂ المائدہ کی آیات یاایھاالرسول لایحزنک الذین یسارعون فی الکفرتا ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکٰفرون (5:41تا44)میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ کیونکہ ان آیات کے مستند شان نزول کے مطابق ان آیات میں ”حکم اللہ” اور ” ماانزل اللہ ” سے مراد زانی کو رجم کی سزا دینے کا حکم ہے”۔(رجم کی شرعی حیثیت صفحہ نمبر4)
یہ بھی شلوار کو پائنچے کی طرف سے پہنا ہے مگر مفتی ولی حسن اور مولانا یوسف لدھیانوی نے تو اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر مزید انوکھا کرتب دکھایا ہے۔
لکھا ہے کہ وکیف یحکمونک و عندھم التوراة فیھا حکم اللہ ثم یتولون من بعد ذٰلک وما اولٰئک بالمؤمنین ترجمہ :اورکیسے یہ لوگ آپ کو منصف بنائیں گے جبکہ ان کے پاس توراة ہے جس میں اللہ کا حکم ہے۔ پھر یہ اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ مؤمن نہیں ہیں۔
اس آیت کے ذیل میں بغوی نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خیبر کا یہود مرد اور عورت نے جو کنوارے نہ تھے زنا کیا، باوجود یکہ توریت میں اس کی سزا رجم تھی مگر ان دونوں کی بڑائی مانع تھی کہ یہ سزا جاری کی جائے۔ …….
حضورۖ نے ان دونوں پر توریت کے حکم کے مطابق رجم کی سزا جاری فرمائی۔ یہ واقعہ کب کا ہے ۔ اس کے متعلق مولانا انورشاہ قسطلانی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ واقعہ 4ھ کا ہے ۔ اس کے بعد سورہ النساء کی ذیل آیت نازل ہوئی ۔
واللاتی یأتین الفاحشة من نساء کم فاستشہدوا علیھن اربعة منکم فان شہدوا فامسکوھن فی البیوت حتٰی یتفوفاھن او یجعل لھن سبیلًا واللذان یأتیانھا منکم فاٰذوھما فان تابا واصلحافاعرضوا عنھما ان اللہ توابًا رحیمًاترجمہ: اور جو تمہاری عورتوں میں سے فحاشی کا ارتکاب کرے تو ان پر اپنوں میں سے چار گواہ ڈھونڈ لیں۔ پس اگر وہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں ٹھہراؤ یہاں تک کہ ان کو اُٹھالے موت یا اللہ ان کیلئے کوئی راہ نکال دے۔ اور تمہارے مردوں میں جو فحاشی کے مرتکب ہوں تو ان دونوں کو اذیت دو۔ پس اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان سے اعراض کرو ، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے”۔
اس سے پہلی آیت ہم نے نقل کی اس میں ”حکم اللہ ” سے مراد اور اس آیت کریمہ میں ” سبیل ”سے مراد رجم ہی ہے۔ جو لو گ قرآن کریم میں رجم کا انکار کرتے ہیں وہ ایک بہت بڑی حقیقت کا انکار کرتے ہیں۔ (مفتی ولی حسن )
مولانا محمدیوسف لدھیانوی نے مزید بات بڑھاکرنہلے پر دہلا کردیا ہے۔
ہمارے لئے یہ تینوں شخصیات بہت بڑے اللہ والے اور معتبر علماء ہیں لیکن ایک تو فقہ حنفی کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں۔ دوسرے احادیث سے بھی بالکل نابلد ہیں اور تیسر ے تفسیر کی اہلیت سے بالکل ہی محروم ہیں۔
احادیث میں یہودیوں کا یہ معاملہ مختلف طریقوں سے آیا ہے۔ بغوی نے اس کو آیت کی تفسیر بنانے کیلئے لکھ دیا کہ دونوں شادی شدہ اور مالدار تھے۔ جبکہ دوسری روایت میں ہے کہ عورت شادی شدہ اور مرد غیرشادی شدہ تھا۔ جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے کہ ” یہ لوگ کیسے آپ کو منصف بنائیںگے جبکہ ان کے پاس تورات ہے اور اس میں اللہ کا حکم ہے۔ جس سے وہ پھرتے ہیں”۔
اس کی تفسیر قرآن میں چند وجوہ سے بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے۔
1:اللہ نے قرآن میں تورات کے حوالہ سے واضح کیا کہ جان کے بدلے میں جان اور کان ،ناک ، دانت کے بدلے میں میں کان، ناک ، دانت ہیں مگر یہود نے اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ نیز وہ یہودی کے بدلے میں غیر یہود کو قتل کرتے تھے لیکن غیریہود کے بدلے میں یہود کو قتل نہیں کرتے تھے۔ حنفی مسلک کو چھوڑ کر جمہور نے بھی یہود کے نقش قدم پر مسلم کے بدلے میں غیر مسلم کے قتل کا مسلک رائج کیا لیکن غیرمسلم کے بدلے میں مسلم کا قتل جائز نہیں قرار دیا۔
2:اللہ نے واضح کیا کہ قرآن محفوظ ہے اور تورات میں تحریف ہوئی ہے۔ تورات میں ”حکم اللہ” سے وہی حکم مراد ہے جو قرآن میں بھی تورات کے حوالہ سے واضح طور موجود ہے جس پر یہود عمل نہیں کرتے تھے۔ آج ہماری حالت بھی یہی ہے کہ رجم پر بحث کررہے ہیں لیکن جان کے بدلے جان اور اعضاء کے بدلے اعضاء کے کاٹنے کو ترک کردیا ہے جو قرآن وتورات دونوں میں ہے اور یہو د بھی اپنے دور میں اسی طرح بدعملی کا شکار تھے اور رجم کا کسی کسی پرحکم جاری ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں حضرت مغیرہ ابن شعبہ کے حوالے سے روایات میں عجیب قسم کا واقعہ ہے جس پر مسالک میں عجیب وغریب اختلافات ہیں۔
3: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کیا تھا کہ اگر یہود قرآن کے مطابق اپنا فیصلہ کروائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کی کتاب سے ان کا فیصلہ نہ کریں اسلئے آپ کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اس سے بھی فتنہ میں ڈال دیںگے۔
قرآن کی واضح آیات اور ارشادات کے ہوتے ہوئے تورات سے دلیل پکڑنے کی بات انتہائی افسوسناک بات ہے۔ پھر قرآن کی آیات میں معنوی تحریف کی اس بڑھ کر کیا کھلی مثال ہوسکتی ہے کہ ” اللہ نے فرمایا کہ فحاشی کے بعد اپنی عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کا فیصلہ کردے یا پھر اللہ کوئی راہ نکال دے ”۔ اس میں ” راہ” سے رجم مراد لیا جائے۔ ہمارے علماء کرام ومفتیان عظام کی ان حماقتوں کی وجہ سے پڑھا لکھا طبقہ ان سے بدظن ہوکر جدید دانشوروں کو قابلِ اعتماد سمجھتاہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ” تدوین القرآن” جامعہ بنوری ٹاؤن نے چھاپ دی تھی۔ اس میں بہترین مواد ہے۔
علماء احناف نے پہلے قرآن کے مقابلہ میں متضاد اور ضعیف روایات نہیں صحیح روایات کو بھی قابلِ قبول قرار نہیں دیا تھا لیکن انہوں نے اپنی واردات ایک اور طریقے سے ڈال دی اور وہ یہ کہ من گھڑت قرآنی آیات کو خبر احا د ومشہور کے درجہ میں قابل قبول قرار دیا۔ رجم کو من گھڑت آیت(الشیخ و الشیخة اذا زنیا فارجموھما) سے منسوخ التلاوت حکم قرار دیا۔ جبکہ امام شافعی نے ایسا عقیدہ رکھنے کو کفریہ قرار دے دیا تھا۔ امام شافعی نے بھی امام محمد سے امام ابوحنیفہ کے علم کی حقیقی وراثت حاصل کی تھی لیکن امام ابوحنیفہ نے جیل میں زہر سے شہادت کی موت پائی تھی اور امام شافعی پر رافضیت کے فتوے لگائے گئے تھے۔
قرآن میں دو مردوں کی بدفعلی پر دونوں کو اذیت دینے کا حکم بھی ہے ، جب وہ توبہ کریں تو ان سے اعراض کرنے کا حکم اور اللہ کے تواب ورحیم کا ذکر بھی۔
امام ابویوسف اور امام محمد کی طرف منسوب ”کتاب الآثار” میں عہد فاروقی کے حوالے سے باہمی مشاورت ” مجالس مذاکرہ ” کا ایک اہم نمونہ دیکھ لیں۔
4: بدفعلی کی سزا میں مشاورت
یہ واقعہ شیعہ علماء نے بھی کتاب الحدود باب الحد فی اللواط میں درج کیا ہے یہاں فروغ کافی کی عبارت پیش کی جاتی ہے۔
………..قال سمعت ابا عبداللہ علیہ السلام یقول……..
” امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ عمر بن خطاب کی خلافت کے زمانہ میں ایک مرد نے دوسرے مرد سے بدفعلی کی۔ ایک فرار ہوگیا ،دوسرا گرفتار ہوا۔ ( عمر بن خطاب کی خدمت میں لایا گیا) عمر بن خطاب نے حاضر لوگوں سے اس کی سزا دریافت کی۔ بعض نے کہا کہ اس طرح سے کریں، دوسروں نے کہا کہ اس طرح سزا دیں۔ عمر بن خطاب نے علی المرتضیٰ سے دریافت کیا : اے ابولحسن تمہاری کیا رائے ہے؟۔ علی المرتضیٰ نے کہا کہ اس کی گردن اڑادیں۔ گردن مار دی گئی ۔ لاش اٹھانے لگے تو علی االمرتضیٰ نے کہا ٹھہرئیے ابھی کچھ سزا باقی ہے۔ عمر بن خطاب نے کہا کہ وہ کیا ہے؟۔ علی بن ابی طالب نے کہا اس کو جلانے کے لئے لکڑی منگوائیے۔ پھر حکم دیا کہ اس کو جلادو۔ چنانچہ وہ جلادیا گیا۔
کتاب ”رُحمآء بینھم” صفحہ نمبر458حضر ت مولانا محمد نافع
دارالکتاب: یوسف مارکیٹ غزنی سٹریٹ ،اردو بازار لاہور۔
042.37241268.4650131
E.mail:[email protected]
قرآن کی آیت میں اذیت دینے اور توبہ کی تلقین کا ذکر ہے اور یہاں اتنی سخت سزا کا ذکر ہے؟۔ یہ قوم لوط کے عمل کی اس وقت ہوسکتی ہے کہ جب کوئی اتنا بے ضمیر بن جائے کہ لڑکااور مرد بن کر بدفعلی کروانے کی علت میں مبتلاء ہوجائے اور ایسا بے ضمیر انسان پھر کچھ بھی کرسکتا ہے۔ بارود کے ذریعے مساجد میں جتنے خود کش حملہ آور ہیں یا بے گناہ لوگوں کے قتل میں ملوث عناصر ہیں تو ایسے افراد کو عبرت کا نشان بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خوارج نے حضرت علیکو شہید کیا تھا۔ حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت حسین کی شہادت میں ملوث لوگ بے ضمیر تھے اور بے ضمیروں کو عبرت کا نشان بنانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ لیکن لواط کی سزا کا قرآن میں ذکر ہے اور اس میں اذیت کا حکم ہے اور توبہ کے بعد طعنہ زنی کا بھی اللہ تعالیٰ نے صاف صاف قرآن میں منع کردیا ہے۔
قرآن کی سورۂ نور میں زنا کی سزا100کوڑے ہیں۔ لونڈی اور متعہ والی سے نکاح کے بعد50کوڑے ہیں اور ازواج مطہرات پر فحاشی میں دوھری سزا یعنی200کوڑے کا حکم واضح ہے۔ زنا بالجبر کی سزاقرآن میں قتل اور حدیث میں سنگساری ہے۔ لعان کی صورت میں شوہر چار مرتبہ قرآن کے الفاظ بول کر بھی بیوی کو سزا دلواسکتا ہے اور اگر بیوی جھٹلائے تو پھر اس سے سزا اٹھائی جائے گی۔ شوہر کے مقابلے میں سزا کے حوالے سے عورت کی بات کا اعتبار کیا جائیگا۔
قرآن کے قوانین پر آج دنیا میں عمل کیا جائے تو خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ عورت ماحول کو بگاڑ رہی ہو تو اس پر چار گواہوں کے بعد گھر میں پابندی لگانا بھی فطرت کا تقاضہ ہے یہاں تک کہ اس کو موت آئے یا پھر اس کیلئے کوئی راستہ نکلے۔ اس کی شادی ہوجائے تو بھی یہ راستہ نکلنا ہے اور اس پر سورۂ نور کی آیت کے مطابق100کوڑے لگانا بھی اللہ کی طرف سے راہ نکلنا تھا۔
چونکہ پہلے کوڑوں کی سزا نازل نہیں ہوئی تھی اسلئے قوم لوط کے عمل والوں کو اذیت دینے کا ذکر تھا۔ جب عورت اور مرد کو فحاشی کے ارتکاب پر کوڑے کی سزا کا حکم نازل ہوا تو مردوں کو بھی کوڑے لگائے جاسکتے ہیں ،دیگر اذیت بھی ہے۔
گل چاہت جس کا نام معاویہ رکھا گیا ہے۔اس کا نام ہندہ یا کوئی اور زنانہ نام رکھا جائے۔ مستورات کی جماعتوں میں تبلیغ کرے۔ تبلیغی جماعت والے شوق سے ویڈیوز بنائیں مگر اس سے جماعت کی بدنامی ہوئی ہے۔ تبلیغی جماعت والے ”اللہ کے احکام” میں کامیابی کی رٹ لگاتے ہیں لیکن اللہ کے احکام سیکھتے نہیں۔اللہ کے احکام علماء کو بھی پتہ نہیں اسلئے کہ احکام قرآن میں ہیں اورقرآن کو امت نے چھوڑ رکھا ہے جس کی نشاندہی قرآن میں اللہ نے خود کی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان معاشی، سیاسی ، آئینی ، عدالتی، اخلاقی، صحافتی ، ادارتی اور مذہبی بحرانوں کا شکار ہے!

پاکستان معاشی، سیاسی ، آئینی ، عدالتی، اخلاقی، صحافتی ، ادارتی اور مذہبی بحرانوں کا شکار ہے!

رمضان میں بڑے شیطان قید ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان میں انسانوں نے شیطانوں کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ لوگ بھوک وافلاس سے مررہے ہیں اور بڑے حکمرانی کیلئے لڑرہے ہیں!

رمضان کے روزے پر بھی مولوی فرقہ واریت اور نااہلیت کی وجہ سے لڑنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ہیں،نااہلی اور اپنی اہلیت کو غلط استعمال کرنے کا طوفانِ بدتمیزی ہر طرف برپاہے

پاکستان سودی قرضوں کی وجہ سے مہنگائی کے دلدل میں مسلسل پھنستا جارہا ہے۔ پرویزمشرف نےIMFسے6ارب ڈالر قرضہ لیا تھا۔ زرداری نے10ارب مزید لیکرIMFکا قرضہ16ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ نوازشریف نے14ارب ڈالر لیکرIMFکا قرضہ30ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ سی پیک کیلئے چین کی طرف سے دو پراجیکٹ ایک19ارب ڈالر اور دوسرا35ارب ڈالر پر بھی کام شروع کیا۔ سی پیک کے مغربی روٹ کا رُخ کوئٹہ اور پشاور سے لاہور کی طرف موڑ دیا جس کی وجہ سے سی پیک کا منصوبہ بہت التواء میں پڑگیا اور سودی قرضے کا حجم بھی بہت بڑھ گیا۔ عمران خان کہتا تھا کہ پھانسی پر لٹک جاؤں گا لیکنIMFکے پاس نہیں جاؤں گا۔ پھرIMFکے پاس بھی جانا پڑگیا اور18ارب ڈالر کا مزید قرضہ لیا جس کی وجہ سے48ارب ڈالر تکIMFکا قرضہ پہنچ گیا اور چین و سعودی عرب اور دیگر ممالک اور اپنے بینکوں سے قرضہ الگ تھا۔ ساری سیاسی جماعتوں نے کٹھ پتلی کی طرح پاکستان کو استعمال کرکے بحرانوں میں دھکیل دیا۔ اگر نوازشریف مغربی روٹ کو چھوڑ کر سی پیک کا روٹ لاہور کی طرف منتقل نہ کرتا تو مغربی روٹ سے پاکستان کو بڑی آمدن بھی شروع ہوجاتی۔ پختونخواہ اور بلوچستان میں روزگار کے مواقع فراہم ہوجاتے تو طالبانائزیشن کا خاتمہ ہوجاتا۔ پانامہ لیکس نے نوازشریف کی دولت کو بے نقاب کیا ۔ پارلیمنٹ کاجھوٹا بیانیہ اور قطری خط سے اخلاقی ، قانونی اور سیاسی دیوالیہ بن گیا تو مجھے کیوں نکالا کی رٹ لگانا شروع کردی۔ سارا الزام فوج پر ڈال دیا۔ زرخرید جج اور بیوروکریٹ کے سہارے سے وہ سزا نہ ملی جس کا حقدار تھا اسلئے اقامہ کی سزاپربھی شور مچادیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوازشریف جب اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہواتو پاک فوج نے بھی کھل کر عمران خان کا ساتھ دیا لیکن عوام میں عمران خان کی مقبولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ عمران خان کی آمد سے قبل ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ کرونا نے سہارا بھی دیا،جس میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے1200ارب یعنی12کھرب کے فنڈز میں کرپشن کی خبر بریک کی تھی۔ ملک ریاض کو500ارب روپے کی رعایت بھی نشر ہوئی۔ نوازشریف کے دور میںجنرل باجوہ نے کہا تھا کہ سی پیک کیلئے20ارب ڈالر میں سے10ارب ڈالر فیلڈ میں نہیں لگے تھے۔ جنرل قمر باجوہ کو نوازشریف ،عمران خان، زرداری سبھی نے ایکسٹینشن دی تھی۔ جنرل قمر باجوہ عمران خان کی نالائقی کی وجہ سے نیوٹرل ہوا تو عمران خان کی حکومت نے گرنا ہی تھااسلئے کہ بیساکھی پرکھڑی تھی۔PDMنے اس کے بعد مزید جو گل کھلائے ہیں وہ بھی عوام کے سامنے ہیں۔ آئین، سپریم کورٹ، الیکشن،سیاست، اخلاق اور مذہب سب کچھ سے بھاگ رہے ہیں لیکن آخر کب تک؟۔سپریم کورٹ اور پاک فوج کی بے توقیری بھی ہوچکی ۔
سیاسی اورمذہبی قیادت میں سے بھی کسی پر قوم کا اتفاق نہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ آئین کے مطابق پنجاب اور پختونخواہ میں انتخابات کراؤ لیکن پارلیمنٹ کو اپنی عزت کا بھی احساس نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر بھی راجہ ریاض کو بنارکھا ہے۔ اگر تحریک انصاف کے ارکان کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے دیا جاتا توپارلیمنٹ اس قابل ہوتی کہ مسئلے پر بات کی جاتی۔ پہلے عمران خان کے خلاف انتخابات کیلئے دھرنے ، جلسے جلوس اور سیاسی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ پھر عمران خان کو اتار دیا گیا۔ پھر عمران خان نے سیاسی تحریک کا آغاز کیا تو اس کو اکسایا گیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑ دو۔ جب اسمبلیاں توڑ دیں تو عدالت سے اس کو بچانے کی کوشش ہوئی۔ اس میں ناکامی ہوئی تو پھر اب عدالت اور آئین کے خلاف سازش ہورہی ہے لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟۔
فوج کو پہلےPDMکے قائدین اور ان کے سوشل اور الیکڑانک میڈیانے آخری حد تک پہنچادیاتھا۔ جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گھر پر بلاکر مولانا فضل الرحمن کو ننگی گالیاں دیں تھیں مگر یہ نہیں بتایا کہ کیوں دی تھیں؟۔ جس پر مولانا عبدالغفور حیدری کو شٹ اپ کی کال دینی پڑی۔ مولانا فضل الرحمن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو حشر مولانا سمیع الحق کا میڈم طاہرہ کے ذریعے نوازشریف نے کیاتھا وہ مریم نواز بھی مریم طاہرہ اورنگزیب کے ذریعے کرسکتی ہیں۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے مولانا سمیع الحق کایہ قصور تھا کہ نوازشریف کو اقتدار میں لانے کیلئے اسلام اور جمہوریت کو استعمال کیا تھااور اسی ڈگر اب مولانا فضل الرحمن بھی چل رہے ہیں۔ مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک اب عمران خان کیلئے مولانا فضل الرحمن کے خلاف میدان میں ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دھرنے میں کہا تھا کہ ” عمران خان اور ملالہ یوسف زئی اس ملک وقوم کو ننگا کرنا چاہتے ہیں”۔ اب عمران خان کو قوم کا مسیحا بھی یہی لوگ کہتے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کو اسرائیل کا ایجنٹ کہتے ہیں۔
جب صحافی عمران ریاض خان نے مولانا فضل الرحمن پر بے بنیاد اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا تو اس وقت پاک فوج اور عمران خان ایک پیج پر تھے۔ اب حامد میر کہتا ہے کہ عمران خان سچ بتائے کہ اسرائیل کااصل ایجنٹ کون تھا؟۔ حالانکہ اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام پہلے بینظیر بھٹو نوازشریف پر لگاتی تھی۔ اس دوران اسامہ بن لادن پر بھی نوازشریف کو امداد فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ اسامہ بن لادن جس کی وجہ سے افغانستان ، پاکستان، عراق، لیبیا اور شام سب تباہ ہوگئے ۔ پشتون قوم کا دیوالیہ ہوگیا مگر اس کا بیٹا اور بہو پیرس فرانس میں رہتے ہیں اور مزے کررہے ہیں۔ کیا پتہ کہ اسامہ بن لادن بھی زندہ سلامت نکلے۔
طالبان کی جیت پر پاکستان نے سب سے زیادہ خوشی منائی تھی لیکن اب
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
کانیگرم جنوبی وزیرستان کے بریگیڈئیر مصطفی کمال کی شہادت ایک سانحہ ہے جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے بھی قبول نہیں کی ہے۔ رحمان بونیری نے وائس آف امریکہ سے سوال اٹھایا کہ اس کا تعلق جنرل فیض حمید سے تھا۔ کہیں فوج کی اندورنی چپلقش کا نتیجہ تو نہیں ہے؟۔ جو سوشل میڈیا میں بہت گردش کررہاہے؟۔ اس کا جواب ایک پشتون ریٹائرڈ بریگیڈئیر نے بڑا اچھا دیا کہ22سال تک کے عمر والے کچی ذہنیت کے ہوتے ہیں اور وہ اس قسم کا ذہن رکھتے ہیں اور اس کو پروموٹ کرتے ہیںلیکن اصل معاملہ ن لیگ کے راشد مراد کھریاں کھریاں لندن، اسد علی طور، شا ہ زیب خانزادہ ،سید شفقت وغیرہ نے ایک طرف سے خراب کیا ہے تو دوسری طرف حیدر مہدی ،میجر عادل ، ملک وقار وغیرہ نے بگاڑ دیا ہے۔سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا عوام کے ذہنوں پر سوار ہے۔ مغرب میں بھی باقاعدہ لابنگ کیلئے فرم ہائر کئے جاتے ہیں اور یہاں بھی یہی کام ہورہاہے۔ امریکہ اس کا متحمل ہوسکتا ہے لیکن پاکستان میں اتنا دم خم باقی نہیں ہے کہ جھوٹ کے بازارمیں مزید اپنے قدم جماسکے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ومن یشتری لھوالحدیث لیضل عن سبیل اللہ ”اور جو لہو بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے ان کو گمراہ کردیں”۔ موجودہ دور میں ان سوشل اورالیکڑانک میڈیا کی ٹیموں پر آیت کا اطلاق ہوتاہے۔ ہروہ بات جس سے غلط فہمیاں جنم لیں، دوسروں کی خوامخواہ کی تذلیل ہو اور سیاسی مقاصد اور منافرت کیلئے قومی بحران کھڑا کرنے کیلئے کیا جائے تو یہ شیطان کی مشین ہے۔ اس سے جان چھڑانے کا نسخہ بھی نبیۖ نے زبردست تجویز فرمایا کہ ” جو شخص منہ پر تعریف کرے تو اسکے منہ پرمٹی ڈال دو”۔ اگرسیاسی ومذہبی جماعتیں اپنی تعریف کیلئے دوسرے کی بے جا مخالفت پر شاباش دینے کے بجائے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کردیںگے تو یہ فتنہ ختم ہوجائے گا۔ اس خوشامد کا فائدہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ عمران خان نے کہاہے کہ سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ اپنے حامیوں کی طرف سے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہونے کا احساس ہورہاہے۔ عمران خان کو درست رہنمائی مل جائے تو اپنے حامیوں کے منہ میںمٹی ڈالنے سے بھی گریز نہیں کریگا۔ نوازشریف نے جب سمجھ لیا تھا کہ بیرون ملک سے معاہدے کی پاسداری توڑتے ہوئے آمد کسی مصیبت کا ذریعہ بن سکتی ہے تو ”نوازشریف زندہ باد” کا نعرہ لگانے پر کارکنوں کو ڈانٹ دیا تھا کہ” چپ کرو۔تم کہتے تھے کہ نوازشریف قدم بڑھاؤ ،ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ جب مجھے پکڑکر لے جایا جارہاتھا تو پیچھے میں نے مڑ کر دیکھا تھا اور کوئی بھی نہیں تھا”۔ اپنے مفاد کی خاطر کارکنوں کے منہ میں مٹی ڈالی تھی تو وسیع تر قومی مفاد کی خاطر بھی بکریوں اور بھیڑوںکی طرح میں میں اور بھیں بھیںکرنے والوں کو لگام ڈال سکتے ہیں۔ میڈیا کا افراتفری پھیلانے میں بڑا کردار ہے۔
مصطفی کمال شہید کے خاندان کیلئے یہ پہلا سانحہ نہیں ہے۔ پہلے بھی اس خاندان کےISIکے بریگیڈئیر کے بھائی گلشاہ عالم برکی کو زندہ غائب کیا تھا جس کی ذمہ داری بھی کسی نے قبول نہیں کی اور آج تک اس کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔ گلشاہ عالم برکی کی قوم نے بیت اللہ محسود کے ہاں لشکر کی صورت میں جاکر پوچھا تھا اور بیت اللہ محسود نے اپنی لاعلمی اور لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کا طالب آج کے طالب سے زیادہ مضبوط تھا۔ لیکن طالبان کو پتہ تھا کہ اگر وزیر کی طرح ایک قبیلہ بھی کھڑا ہوگیا تو پھر وزیر کے ایریا سے ازبک کی طرح طالبان کو بھی علاقہ سے پوری قوم نکال دے گی۔ طالبان میں اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ وہ قتل کی ذمہ داری کو قبول کریں اسلئے کہ کانیگرم اور وزیرستان کے لوگ جس دن طالبان کے خلاف کھڑے ہوگئے تو ان کی پوری تحریک کے باقیات کا خاتمہ ہوگا اور پھر فوج اور پاکستان کے ریاستی اداروں پولیس وغیرہ سے نہیں لڑسکیںگے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بناہے لیکن اسلام کے حوالے سے مذہبی طبقات پر عوام کا کوئی اعتماد نہیں رہاہے۔ مدارس کے نصاب پر علماء ومفتیان کا اعتماد بالکل ختم ہوچکا ہے۔ طالبان بھی علماء ومفتیان پر اعتماد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور بے روزگاری سے بھی لوگ دہشت گرد بن رہے ہیں۔ امریکہ نے انسانیت سوز مظالم کے ذریعے سے لاکھوں افراد لقمہ ٔ اجل بنائے اور گوانتاناموبے کے اندر درندگی سے زیادہ بدترین ذہنی وجسمانی تشددکا مظاہرہ کیاہے جس سے اب انسانیت انسانوں میں دفن ہوچکی ہے۔پاک فوج کو مذہبی دہشتگردوں اور بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے تشدد کا سامنا کرنا پڑاہے اور پاک فوج نے بھی بہت بے رحمی سے ان کو نشانہ بنایاہے۔ رؤف کلاسرا نے اپنی کتاب” آخر کیوں ” میں اپنے اخباری کالم (جو2008کے درمیان سے2009کے جون تک ) شائع کئے ہیں۔ جس سے موجودہ دور میں سب کو اپنا عکس بخوبی نظر آتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نوروز کے موقع پرمذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے عتیق گیلانی کا خطاب

نوروز کے موقع پرمذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے عتیق گیلانی کا خطاب

اسلام نے اہل حجاز کو انسانیت، عبدیت اور خلافت سکھائی توسپر طاقتیں سرنِگوں ہوگئیں

عرب میں فارس اور روم سے نہ آج زیادہ طاقت ہے اورنہ کل تھی،اسلام نظریہ تھا جس سے دنیا میں روشنی پھیلی، روشنی کے آگے اندھیرا نہیں رُک سکتا ،آج ساری چیزیں بالکل اُلٹ ہوگئیں

یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں یہ اسلام کی بالکل مسخ شدہ صورت ہے۔یہ وہ ہے جب یورپ میں چرچ نے عوام کے اندر مذہب کی شکل کو مسخ کیاتو یورپ کی عوام نے مذہب کو چرچ تک محدود کردیا

اسلام جب آیا تو حجاز کے اندر نازل ہوا۔ حجاز کے اندر جو مشرک تھے جو جاہل تھے جو اُمی تھے وہاں پر اس کا نزول ہوا ہے۔ ان جاہلوں کو جب اسلام نے انسانیت سکھائی آدمی بننا سکھایا عبدیت سکھائی خلافت سکھائی تو نتیجہ کیا نکلا کہ دنیا کی دو سپر طاقتیں تھیں اس وقت ایک فارس اور ایک روم۔ وہاں جب یہ ڈنکا بجا کہ ایک سائڈ کے اوپر رسول اللہ کا عزیز ابوجہل ہے اور ابو لہب ہے جو نبی علیہ السلام کا چچا ہے۔ اس سے زیادہ عزت اور قدر ایک حبشی بلال کی ہے۔ جس کا نسب قوم کچھ بھی معلوم نہیں، کوئی کالا کلوٹا غلام۔ لیکن ان نسب والوں سے ، ان بڑے بڑے سرداروں سے اس کی عزت بڑی ہے۔ صہیب رومی کی عزت بڑی ہے، سلمان فارسی کی عزت بڑی ہے اور رسول اللہ ۖ نے یہ فرمایا کہ عرب کو عجم پر عجم کو عرب پر کوئی فوقیت نہیں فوقیت کا جو معیار ہے وہ کردار ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کی جو سپر طاقتیں تھیں وہ سرنگوں ہوئیں۔ عرب اتنے قابل لوگ نہیں تھے فارسیوں اور رومیوں سے نہ آج ان کے اندر زیادہ طاقت ہے نہ کل تھی۔ لیکن ایک نورکانظریہ تھا اور اس نظرئیے کو جب دنیا کے اندر پھیلایا گیا تو دنیا کے اندر روشنی پھیل گئی اور روشنی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے آگے پھر اندھیرا نہیں رُک سکتا۔ آج وہ چیزیں بالکل الٹ ہوگئی ہیں۔ امن کی جگہ تشدد نے لے لی ہے۔ خوشخبریوں کی جگہ پر لوگوں کیلئے راستے تنگ کردئیے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں یہ اسلام کی بالکل مسخ شدہ صورت ہے۔ یہ وہ صورت ہے کہ جب یورپ کے اندر چرچ نے عوام کے اندر مذہب کی شکل کو مسخ کرکے رکھا تو یورپ کے عوام نے مذہب کو چرچ تک محدود کرکے رکھ دیا اور آج یورپ کو دنیا کے اندر امن اور سلامتی کا گہوارہ سمجھاتا جاتا ہے اس میں کوئی تعصبات نہیں ہیں مذہب کی بنیاد پر، قومیت کی بنیاد پر، نسل کی بنیاد پر۔ یہ الگ بات ہے کہ اچھے اچھے کو جب طاقت ہاتھ میںآتی ہے تو طاقت کے بعد پھر وہ اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔قیصر و کسریٰ کو تو خلفاء نے فتح کیا۔ ایک عربی عالم گزرے ہیں ابوالعلاء معریٰ،1000سال پہلے شام کے بہت بڑے عالم تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے لونڈی بنانے کو ناجائز قرار دیا تھا۔ لیکن عربوں نے یورپ کو فتح کیا ، ایران کو فتح کیا تو ان کے جو ارادے تھے وہ بدل گئے۔ پھر دوبارہ اس کو جواز والی شکل دے دی۔ عربی میں غلام کو عَبد کہتے ہیں۔ بندے کی تو بندگی جائز ہی نہیں اسلام میں تو پھر کیسے آپ کسی کو غلام بناسکتے ہیں؟۔ قرآن کے اندر اللہ نے کہا ہے کہ بنی اسرائیل میں جو ابنیاء آئے ہیں ان کا مقصد کیا ہے وہ جو آل فرعون تھے وہ نبی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرتے تھے اور عورتوں کو لونڈیاں بناتے تھے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم یہ کہیں کہ رسول اللہ ۖ کو اللہ نے ان امیوں کے اندر عربوں کے اندر اسلئے بھیجا کہ وہ فرعون کے قائم مقام بنیں کہ جو کام فرعون کرتا تھا وہ عربوں نے کرنا ہے وہ مسلمانوں نے کرنا ہے؟۔ یہ بالکل غلط تصویر ہے جو تاریخ کے حوالے سے ہمارے اوپر مسلط کی گئی ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ یہاں پر بات کس کی ہوئی؟ انسانیت کی ہوئی، بات کس کی ہوئی؟ مقصدیت کی ہوئی۔ بات کس کی ہوئی؟ خوشحالی کی ہوئی۔
بات کس کی ہوئی کہ یہاں پر ہم ایسا ماحول بنائیں کہ اپنے اعمال کے ذریعے سے اگلی دنیا کو سنواریں۔ یہاں اپنے لئے جنت بنائیں تو اگلی دنیا میں ہمیں جنت ملے گی۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ یہ مجلس ایک مقصدیت کی مجلس ہے۔ یہاں پر جو تشدد اور نفرتیں ہیں اس کے خاتمے کی بات ہوئی۔ وقت کم ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ موضوع ایسا ہے کہ اس موضوع پر ہمیں بات کرنی چاہیے۔ بھارت ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے نہ ہمارا مذہبی دشمن ہے نہ نظام کے حوالے سے ہمارا دشمن ہے۔ وہ نظام جو برطانیہ لے کر آیا تھا ان کے پاس بھی وہی عدالت، وہی فوج وہی پولیس وہی چیز ہمارے پاس بھی ہے۔ تو کس بات کی نفرت؟۔ اگر وہ کسی بھگوان کا تصور رکھتے ہیں اللہ کے علاوہ تو آدم علیہ السلام کو سارے فرشتوں نے سجدہ کیا یہ ہمارا قرآن کہتا ہے۔ اگر قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ آدم علیہ السلام کو سارے فرشتوں نے سجدہ کیا تو اس سے بڑا بھگوان اور کیا ہوسکتا ہے؟۔ یوسف علیہ السلام کو بھائی اور والدین نے سجدہ کیا۔ سورہ یوسف میں اس کا ذکر ہے۔ اسلام کے اندر بہت واضح ڈائریکشن دی گئی ہے۔ آپ نے شاید کبھی نہیں سنا ہوگا کہ اللہ نے کیا فرمایا ہے ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا و النصاریٰ والصابئین من اٰمن باللہ و الیوم لآخر وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (سورہ بقرہ:آیت62)۔ بیشک جو لوگ مسلمان ہیں یہودی ہیں عیسائی ہیں صابئین جو اہل کتاب نہیں ہیں ان میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے تو اس کیلئے اجر بھی ہے اور اس کیلئے خوف بھی نہیں ہے اور اس کیلئے کوئی غم بھی نہیں ہے۔من یعمل مثقال ذرةٍ خیرًا یرہمن کے اندر یہ نہیں کہ یہ عیسائی ہے یہ یہودی ہے یہ ہندو ہے جو بھی اچھا عمل کرے گا اس کو وہ دیکھے گا ۔ ومن یعمل مثقال ذرةٍ شرًا یرہ اور جو ذرہ بر بھی شر کرے گا وہ اس کو دیکھے گا اس کا نتیجہ پائے گا۔ قرآن میں ہر جگہ پر ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر ہے اور عمل صالح کیا ہے؟۔ عمل صالح نماز پڑھنا نہیں ہے۔ جو عبادات ہیں جو معاملات ہیں وہ تو سارے مذاہب کیلئے اللہ کہتا ہے کہ ہر ایک کیلئے شریعت اور منہاج الگ الگ ہیں۔ مجھے بعض لوگ کہتے تھے کہ ایک آدمی ہندو کے گھر میں پیدا ہوا ہے اس کا کیا قصور ہے کہ وہ جہنم میں جائے گا۔ میں نے کہا کہ کون کہتا ہے کہ جہنم میں جائے گا۔ اگر مسلمان اچھا عمل کرے گا تو بھی اس نے جنت میں جانا ہے اور برا عمل کرے گا تو جہنم میں جائے گا۔ ہندو بھی اگر اچھا عمل کرے گا تو جنت میں جائے گا برا عمل کرے گا تو جہنم میں جائے گا۔ قرآن نے کسی کو بھی ایسی پروٹیکشن نہیں دی ہے بلکہ پہلے والوں کی مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے مذاہب کو بگاڑ دیا۔ قالو لن یدخل الجنة الا من کان ھودًا او نصٰرٰینہیں داخل ہوں گے مگر یہود اور نصاریٰ تلک امانیھم یہ ان کی خالی خواہشات ہیں (سورہ بقرہ:111)۔ و قالت الیھود لیست النصٰرٰی علیٰ شی ئٍ و قالت النصٰرٰی لیست الیھود علیٰ شی ئٍ۔ پہلے کہتے ہیں کہ صرف یہ دو جائیں گے پھر کہتے ہیں وہ کسی چیز پر نہیں ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز پر نہیں ہیں۔ و ھم یتلون الکتٰب کذٰلک قال الذین لا یعلمون مثل قولھم (بقرہ:113)جو جاہل ہیں جو نہیں جانتے وہ بھی ان کی راہ پر چلتے ہیں ۔ آج ہم نے اپنے لئے جو دائرہ کار محدود کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پہلے قومیں تحریفات کا شکار ہوئی تھیں اس طریقے سے مسلمان بھی ا ن کے نقش قدم پر چل کر اسی طرح تحریفات کا شکار ہوا ہے اگر کوئی یہ بھولا ہوا سبق ان کو یاد دلائے گا تو یہ جو مسلمان ہیں بہت بڑی تعداد کے اندر ہیں۔ ان کا قرآن کی طرف رجوع اگر ہوجائے اور یہ بڑے بڑے معاملات دیکھیں تو نہ یہ کسی جہادی تنظیم کیلئے اس طرح سے استعمال ہوں گے نہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے استعمال ہوں گے اور نہ عالمی قوتوں کیلئے استعمال ہوں گے۔ اب آپ سوچیں کہ یہاں پر ہوتا کیا ہے لال ربن کے نام سے امریکہ کے اندر ہفتہ یا کچھ دن منائے جاتے ہیں۔ ایک شخص نے یہ کہا تھا کہ میں اس قوم کی تبدیلی کیلئے کچھ کروں گا۔ پولیس میں گیا پھر فوج میں گیا پھر اینٹی نارکوٹکس میں گیا وہاں اس کو پتہ چلا کہ کچھ فوجی کچھ عوام کچھ مختلف ادارے ہیروئن اور اس کی اسمگلنگ میںملوث ہیں۔ جب اس نے نشاندہی کی تو اس کو اٹھاکر غائب کردیا اور مار دیا۔ لیکن اس کے مارنے کے بعد لوگوں میں شعور آگیا ۔ یہ جو ہیروئن ہے اب یہاں پر جو چھوٹی قومیں ہیں جہاں کمزور جگہ ہوتی ہے یہاں جنگیں برپا کرکے اصل میں یہ ڈرگ پیدا کی جاتی ہے۔ اور پھر یہ یہاں سے بڑے پیمانے پر جہازوں کے ذریعے سے دوسرے ذرائع سے یہ وہاں تک پہنچتی ہے یہ کاروبار ہے یہ جو دہشت گردی ہے یہ عالمی قوتوں سے لے کر مذہبی طاقتوں تک یہ ایک دوسرے کے ساتھ جوائنٹ ہے اور یہ لوگ یہ کاروبار کررہے ہیں۔ لوگوں کے ذہن کے اند ر یہ آتا ہے کہ شاید اسلام سے تشدد نکلتا ہے۔ جو چور ہوگا ڈاکو ہوگا اگر بڑے بال رکھے بڑی داڑھی رکھے قرآن کی آیتیں پڑھے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ جو مذہب کا نام استعمال کررہا ہے وہ مذہبی بھی ہو۔ قرآن کے اندر ایک اور آیت کے اندر اللہ نے کیا فرمایا ہے یہاں پر مسلمانوں کو پہلے نمبر پر رکھا وہاں پرعبادت گاہوں کے اندر مسلمانوں کی عبادتگاہ کو آخر میں رکھا۔ ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع و بیع و صلوٰت و مساجد یذکرفیھا اسم اللہ کثیرًا( سورة الحج:40)پہلے نمبر پر جو غیر مسلموں کی عبادت گاہیں ہیںان کو رکھا ،مسجد کو بالکل آخر میں رکھا ،جس میں اللہ کانام کثرت سے لیا جاتاہے۔
آج اگر اسلام کا پیغام پہنچے تو ہماری بادشاہتیں ہماری حکومتیںہماری اسٹیبلشمنٹ یہ اس طریقے سے لوگوں کو غلام نہیں رکھ سکتی ہیں۔ وقت مختصر ہے لیکن میں آپ کو آخر میں ایک بڑی زبردست بات بتانا چاہ رہا ہوں۔ دیکھو! حضرت عائشہ صدیقہ کے اوپر بہتان لگتا ہے۔ وہ خلیفہ اول ابوبکر صدیق کی صاحبزادی ہیں۔ رسول اللہ ۖ کی گھر والی ہیں۔ تمام مسلمانوں کی ماں ہیں۔ بہتان لگتا ہے تو بہتان کیلئے قرآن سورہ نور کے اندر بدکاری کیلئے100کوڑے اور بہتان کیلئے80کوڑے۔ اگر کوئی کسی پر بہتان لگائے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک اتنی بڑی خاتون اول کے اوپر بہتان لگتا ہے تو جو بہتان لگانے والے ہیں اس کیلئے80کوڑے ہیں۔ اگر ایک جھاڑو کش عورت کے اوپر بہتان لگے اس کیلئے بھی وہی80کوڑے ہیں۔ اگر دنیا کو یہ میسج جائے کہ ام المؤمنین کے اوپر جو بہتان کی سزا تھی وہ ایک جھاڑو کش عورت کے اوپر بھی اگر بہتان لگایا جائے تو اس کیلئے بھی یہی سزا ہے۔ کیا میسج جائے گا؟۔ آج اگر بڑا چھوٹا ہم تقسیم کرتے ہیں تو ایک بڑے آدمی کے اوپر آپ بہتان لگاؤ تو وہ اربوں کے حساب سے آپ کے اوپر ہتک عزت کا دعویٰ کرتا ہے اور چھوٹے آدمی کے اوپر آپ بہتان لگاؤ تو اس کے پاس اتنی بھی گنجائش نہیں ہوتی کہ قانونی طور پر عدالت اور وکیل کی فیس ادا کرسکے اتنی بھی اس کی عزت نہیں ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ قرآن کے اندر اللہ نے کہا ہے کہ یہ ازواج مطہرات اگر غلطی کریں تو ان کو عام خواتین کے مقابلے میں ڈبل سزا ہوگی۔ یعنی100کے مقابلے میں200کوڑے ملیں گے۔ اور جو نچلے طبقے والے ہیں ان کو عام کے مقابلے میں آدھی سزا ملے گی ۔ اب یہ جو وی آئی پیز ہیں اگر ان کو بڑی سزا ملے اور عام آدمی کو،،، تو یہ دنیا سدھرے گی یا نہیں سدھرے گی؟۔ تو ہمارے لئے بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جس کو ہم اگر انسانیت کیلئے۔۔۔ جو آدمی جج ہو ، آرمی چیف ہو، سیاستدان ہو، اگر آرمی چیف کا ڈیٹا لیک ہوتا ہے آفیشلی ڈیٹا لیک ہونے پر اس کو مار پڑتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امام مہدی کانفرنس پر شاہ وزیر کا تبصرہ اور تجزیہ

امام مہدی کانفرنس پر شاہ وزیر کا تبصرہ اور تجزیہ

(نمائندہ خصوصی شاہ وزیر) جامعة الشہید للمعارف الاسلامیہ پشاور میں پہلے بھی عظمت قرآن و حج کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس کا احوال نوشتہ دیوار میں تفصیل سے شائع کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ ”امام مہدی علیہ السلام کانفرنس ” میں نسبتاً کم علماء نے شرکت کی۔ کانفرنس کی تفصیل جامعہ کی طرف سے ان کی ویب سائٹ پر نہیں دی گئی ۔علامہ عابد حسین شاکری اور ان کے ساتھی اتحاد کیلئے ضرور کوشاں ہیں لیکن جس جرأت و ہمت کی ضرورت ہے اس سے محروم ہیں۔
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
سید عتیق الرحمن گیلانی اپنی مصروفیات چھوڑ کر کانفرنس میں دور دراز سے شرکت کرنے آئے مگر ان کو پروگرام کے باقاعدہ آغاز سے پہلے تقریر کی دعوت دی گئی۔ منتظمین کا مقصد یہی تھا کہ دلہنوں کی طرح مایوں میںبٹھائے ہوئے علماء کی آمد سے پہلے گیلانی کا خطاب ختم ہو۔ یہ اسلام کے اعلیٰ اقدار ، پشتو ن روایت اور شیعیت کی روح کے بھی منافی تھا کہ جس نے کانفرنس اور اس کے شرکاء میں مقصدیت کی روح پھونکی اس کو وقت دینا بھی وبال جان لگ رہا تھا۔ یہ رویہ انتظامیہ کیلئے قطعی طور پر بھی مناسب نہیں تھا۔
عتیق گیلانی نے سب سے پہلے قرآن پر متفق ومتحد ہونے کیلئے زور دیا تھا۔ اس بار بھی اس کی وضاحت کردی۔ دوسرا یہ کہ شیعہ سنی کا عقیدہ امامت میں فرق اور اس پر اتحاد ہوسکتا ہے۔ تیسرا یہ کہ جب شیعہ امام کی موجودگی میں خلفاء ثلاثہ پر اتحاد تھا تو مہدی غائب کے ظہور سے قبل سلسلہ امامت و خلافت پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ مولوی حضرات فرقہ واریت کو ختم کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھانے کے بجائے صرف روزی روٹی کمانے کے چکر میں ہی لگے رہتے ہیں۔
مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا اثاثہ قرآن کریم ہے۔ قرآن کے بغیر شیعہ کا تصور ہوسکتا ہے اور نہ سنی کا۔ ایک دوسرے پر قرآن سے انکار کا فتویٰ لگاتے ہیں لیکن جب ان کو قرآن پر متحد ہونے کیلئے افہام و تفہیم کی دعوت دی جاتی ہے تو پھر ان کو کھجلی شروع ہوجاتی ہے، ان لوگوں کو آخرت کی نہیں اپنی دنیا کی فکر ہے۔
جب قرآن کے حوالے سے سنی اور شیعہ کتابوں میں خرافات موجود ہیںتو ان کے خلاف متفق ہونے کیلئے سنجیدہ کیوں نہیں ہورہے ہیں؟۔ عتیق گیلانی نے خاص طور پر شیعہ پر حد سے زیادہ الزام تراشی کرنے والے سنیوں کو نہ صرف اس طرف متوجہ کیا ہے کہ قرآن کے حوالے سے اپنے گریبان میں بھی جھانکو بلکہ یہ سب کے مفاد میں بھی ہے۔ تفصیل سے ویڈیو ضرب حق یو ٹیوب کے چینل(ZARBEHAQ-TV)پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ شیعہ سنی کا دوسرا مسئلہ امامت پر اختلاف ہے۔ یہ بھی عتیق گیلانی نے اپنے اس خطاب میں اچھی طرح سے حل کردیا ہے۔ تیسرا مسئلہ امام مہدی اور بارہ خلفاء یا ائمہ پر اختلاف کا ہے۔ اس پر بھی سید عتیق الرحمن گیلانی نے شیعہ سنی کتابوں سے حوالہ جات دیکر ایک نئی جہت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ شیعہ سنی اس خطاب کو بڑے پیمانے پر پھیلائیں۔ جامعہ الشہید پشاور کی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ نہ صرف اس خطاب کو بلکہ پچھلے سال کے خطاب کو بھی اپنی ویب سائٹ پر دیں۔ اس مرتبہ باقیوں کی تقریر بھی نہیں دی۔
جماعت اسلامی کے نائب صوبائی امیر مولانا اسماعیل نے اپنے خطاب میں ایران کی تعریف کی اور کہا کہ شاید مجھ پر اس محفل والے بعد میں فتویٰ بھی لگائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُمت کا زوال چار اماموں سے شروع ہوا ہے ۔ ان کا اختلاف اولیٰ اور غیر اولیٰ پر تھا۔ سب ایک دوسرے کے شاگرد تھے لیکن بعد والوں نے ان کو مسالک اور مذاہب کی شکل دے دی۔ جماعت اسلامی کے ایک تربیت یافتہ طالب علم نے اپنا تعارف کرتے ہوئے سوالوں کے جواب میں لکھا تھا کہ میرا دین اسلام ہے، میرا مذہب بھی اسلام ہے اور میرا کسی فرقے سے تعلق نہیں ہے۔ اُستاذ نے کہا کہ پرچے میں فیل ہوجاؤ گے اسلئے کہ تعارف میں مذہب اور فرقے کا نام بتانا بھی ضروری ہے۔ طالب علم نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میرا کسی فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مولانا اسماعیل صاحب شاید اس بات کو نہیں جانتے کہ جماعت اسلامی نے بذات خود ایک فرقے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جس کا امام مودودی ہے۔ جس کی اپنی تعلیم میٹرک تھی اور دار العلوم دیوبند کے ماہنامہ سے مذہبی فہم حاصل کرکے اپنی جماعت تشکیل دی۔ میاں طفیل محمد ، قاضی حسین احمد، سید منور حسن اور سراج الحق تک جتنے بھی جماعت اسلامی کے مرکزی امیر بنے ان میں کوئی عالم دین نہیں تھا۔ سید منور حسن کو جس بھونڈے انداز میں جماعت اسلامی سے ہٹایا گیا تھا وہ بھی سب کو معلوم ہے۔ چار فقہاء کیساتھ اگر فقہ جعفری کا نام لیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ ان میں اولیٰ و غیر اولیٰ کا اختلاف نہیں ہے بلکہ حلال حرام ، فرض اور غیر فرض سے لیکر قرآن کریم کی اضافی آیات اور احادیث صحیحہ تک اختلافات اور تضادات کی انتہاء ہے۔ اے جاہلوں کے جاہل ! جاہل ہیں علماء تمہارے۔
تفہیم القرآن میں یہ تیر مارا گیا ہے کہ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہامان کا ذکر کیسے ہے؟۔ جبکہ ہامان تو کسی اور دور کا تھا۔ پھر جواب یہ دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں کوئی اور ہامان ہوگا۔اس طرح کی بھونڈی حرکت پر جماعت اسلامی کے لوگوں کو احتجاج کی توفیق بھی نہیں ملتی۔ اسلئے کہ ان کا امام مودودی ہے اور وہ شیعوں سے زیادہ اپنے اس امام کو معصوم سمجھ رہے ہیں۔ شرعی احکام میں جو بنیادی غلطیاں فقہاء نے اپنے اختلافات سے کی تھیں ان کو مولانا مودودی نے مزید وضاحت کیساتھ پیش کرکے گمراہی اُمت پر مسلط کردی ہے۔ بریلوی دیوبندی علماء میں غلطیوں کی نشاندہی پر لچک موجود ہے مگر جماعت اسلامی کے تنخواہ دار ، وظیفہ خوار اور مراعات یافتہ علماء مجبور ہیں۔
دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے اُستاذ نے اپنی تقریر میں ایک طرف مخالفت کی کہ مذہبی عناصر میں تشدد کی روح پھونکی گئی اور دوسری طرف اس تفریق کو غلط قرار دیا کہ افغانستان کے پختونوں کیلئے سرحد کے اس پار جو نظام پسند کیا گیا اس کو اپنے لئے کیوں پسند نہیں کیا جارہا ہے؟۔ بریلوی مکتب کے مولانا محمود الحسن نے بہت پرجوش جاہلانہ انداز میں کہا کہ انبیاء کو اللہ نے مبعوث کیا ہے تو امام کو بھی اللہ مبعوث کرے گا۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جو اختلاف انصار اور قریش میں ہوا تھا اور پھر اہل بیت اور صحابہ کے اختلاف کی کیا نوعیت ہے؟۔ جب نبی ۖ نے فرمایا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت۔ (صحیح مسلم)۔ لیکن صحابہ کے دورمیں حضرت علی ، حضرت حسن ، حضرت حسیننظر انداز کئے گئے۔ جنت کے جوانوں کے سرداروں حسن و حسین پر یزید کو ترجیح دی گئی تو موجودہ دور میں کیا کسی حدیث پر عمل کرکے اپنی ترجیحات بدلی جاسکتی ہیں؟۔ شیعہ بیچارے ہمارا ساتھ دینے میں ہچکچاتے ہیں تو مہدی غائب نکلنے کی کیا جرأت کریں گے؟۔
سوشل میڈیا پر سید عتیق الرحمن گیلانی کے اس خطاب کو بہت پسند کیا جارہا ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے معتدل اور شدت پسند سبھی شامل ہیں۔ شیعہ سنی اللہ کو بھی مولا کہتے ہیں اور اپنے علماء کو بھی مولانا یعنی ہمارے مولا۔ حضرت علی کو بھی مولا کہنے سے فرق نہیں پڑتا بلکہ نبی ۖ نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی اس کا مولا ہے۔ مجبوریوں میں اور اپنے مفادات کیلئے ایک دوسرے سے اتحاد کرنا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر قرآنی آیات کی بنیاد پر اتحاد و اتفاق اور وحدت کے رستے پر چلا جائے تو اللہ نے فرمایا ہے کہ وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ ھواجتبٰکم ”اور اللہ (کے احکام) میں جدوجہد کا حق ادا کرو اس نے تمہیں منتخب کرلیا ہے”۔ اگر اس آیت پر شیعہ سنی عمل کریں تو نہ صرف خلافت و امامت کے حوالے سے ان کے اختلافات ختم ہوسکتے ہیں بلکہ دنیا میں وہ اپنی امامت کے ذریعے سے اپنا ڈنکہ بھی بجاسکتے ہیں۔ عتیق گیلانی نے ان کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔ دار العلوم دیوبند نے فتویٰ دیا ہے کہ ہندوستان میں گائے کی قربانی جائز نہیںہے۔ تاکہ ہندو بھائیوں کی دل آزاری نہ ہو۔ گیلانی نے کہا کہ ہم اتحاد کیلئے پاکستان میں گائے کے ذبح پر پابندی لگادیں گے۔ اگر وہ کسی غیر اللہ کو اپنا بھگوان مانتے ہیں تو قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ آدم کو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا۔ اس سے بڑا مولا اور بھگوان کیا ہوسکتا ہے؟۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی سجدے کئے گئے۔
جامعة الرشید میں ایران کے شیعوں کا وفد آیا تو مفتی عبد الرحیم نے اس کا شاندار استقبال کیا۔ جس پر کا لعد م سپاہ صحابہ کے رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر ان کی بینڈ بجادی اور کہا کہ کتا مسجد میں آنے سے پاک نہیں ہوجاتا بلکہ نجس ہی رہتا ہے۔ شیعہ شدت پسند بھی اکابر صحابہ کو سوشل میڈیا پر نجس کہنے سے نہیں کتراتے ہیں۔ شدت پسندی کا طوفان روکنے کیلئے حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کالعدم سپاہ صحابہ کے قائدین، رہنماؤں اور کارکنوں نے صحابہ کرام کی ناموس کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ لیکن وہ خود بھی ہمیشہ تضاد کا شکار رہے ہیں۔ مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت علماء اسلام پنجاب کے صوبائی نائب امیر تھے اور جمعیت کے اسٹیج پر مولانا فضل الرحمن کے سامنے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگاتے تھے۔ جھنگ سے جمعیت علماء اسلام (ف) کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا لیکن مولانا حق نواز جھنگوی نے کہا تھا کہ کوئی شیعہ مجھے ووٹ نہ دے۔ اگر مجھے قتل کیا گیا تو قاتل بیگم عابدہ حسین ہوگی۔ دونوں سیٹوں پر عابدہ حسین نے الیکشن جیت لیا تو اس سیٹ کو برقرار رکھا جس پر مولانا حق نواز جھنگوی شہید کو شکست دی تھی۔ مولانا حق نواز جھنگوی کی شہادت کے بعد مولانا حق نواز جھنگوی کے قائدمولانا فضل الرحمن کیخلاف سپاہ صحابہ نے اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے شیعوں سے اتحاد کیا۔ مولانا ایثار الحق قاسمی اور بیگم عابدہ حسین ایک انتخابی نشان سائیکل پر جھنگ کے دونوں حلقوں سے الیکشن جیت گئے تھے۔ سپاہ صحابہ کے فتوؤں کا رُخ مولانا فضل الرحمن کی طرف ہوگیا تھا کہ کافر کافر شیعہ کافر جو نہ بولے وہ بھی کافر۔ سعودی عرب حکومت کی طرف سے حرم کے حدود میں کافروں کا داخلہ ممنوع ہے مگر شیعہ کو اجازت ہے۔ سپاہ صحابہ کے قائدین مولانا فضل الرحمن کوکافر کہتے تھے کہ شیعہ کو کافر نہیں کہتا لیکن سعودی حکمرانوں کو کافر نہیں کہتے تھے۔ اگر اسلام اور دین کیلئے کوئی قربانی دیتا ہے تو اس میں عقائد کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ سعودی عرب اور مولانا فضل الرحمن میں تفریق عقائد کی بنیاد پر نہیں ذاتی مفادات کیلئے تھی۔ کالعدم سپاہ صحابہ نے اپنوں کو بھی قربان کیا اور دوسروں کے بھی بچے رلائے۔ مفتی عبد الرحیم کا مرشد مفتی رشیداحمد لدھیانوی شیعوں کو کافر کہنے میں اور اپنے اخبار ضرب مؤمن کے ذریعے سے شدت پسندی کو رواج دینے میں پیش پیش تھا۔ جس کے نام پر جامعة الرشید رکھا ہے اس کے کردار پر مفتی عبد الرحیم ایک نشست میں بھی بات کرسکتا تھا۔ جب ایرانی لٹریچر کی وجہ سے صحابہ کرام کے خلاف منظم پروپیگنڈہ کیا جارہا تھا تو سارے علماء کرام کی طرف سے مذمت اور مزاحمت ہورہی تھی۔
کالعدم سپاہ صحابہ سے لشکر جھنگوی نے اور تحریک جعفریہ سے سپاہ محمد نے کوئی بغاوت کی یا نہیں لیکن دہشت گردی کو بہت فروغ دیا تھا۔ لشکر جھنگوی کے ملک اسحاق سے اس وقت ہمارا سابقہ پڑا تھا جب ہم حاجی محمد عثمان کی طرف سے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اور ملک اسحاق کو مفتی رشید کی طرف سے تھانہ میں بند کیا گیا تھا۔ مفتی عبد الرحیم کی طرف سے ہمارے ساتھیوں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ جب اعجاز صدیقی وغیرہ نے فریاد کرتے ہوئے اللہ کا نام لیا تو اس پر گٹر کا پانی پلانے کی دھمکی دی گئی۔ میرے اور اعجاز ملتانی کی بھی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ساری رات تشدد کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ مولانا اعظم طارق کے سوتیلے والد مولانا زکریا کی پٹائی مولانا سلیم اللہ خان نے سواد اعظم کی تحریک میں لگائی تھی تو اس کا بدلہ لینے کیلئے پہلے مولانا اعظم طارق حاجی عثمان کی حمایت میں مفتی رشید احمد لدھیانوی کے پاس گیا لیکن وہاں سے پتہ نہیں کیا چمتکار یا دلت کار نظر آیا کہ ہمارے خلاف بیان داغ دیا۔ متحدہ مجلس عمل سے لیکر اتحاد تنظیمات المدارس میں شمولیت تک سنی شیعہ اتحاد کوئی پرانی بات نہیں ہے۔ ملی یکجہتی کونسل میں سپاہ صحابہ اور اہل تشیع نے ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ نہ لگانے کے دستخط بھی کئے تھے۔ جب ڈیرہ اسماعیل خان میں ہم سے لڑائی ہوئی تھی تو ہمارا اصل گناہ یہ تھا کہ ٹانک کے اکابر علماء کرام نے ہماری تائید کیوں کی ہے؟۔ قرآن کے مسئلے پر بھی سپاہ صحابہ والے ہم سے بات کرنے کے بجائے چھپ گئے تھے۔ جس کی ایک لمبی تاریخ ہے اور انہیں یاد ہو کہ نہ ہو لیکن ہمیں ایک ایک لمحہ اس کا یاد ہے۔
ہمیں شیعہ اور سپاہ صحابہ سے کوئی مسئلہ نہیں۔ شیعہ نے اپنی اس کانفرنس میں حدیث لکھی کہ ” جس نے اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا تو وہ جاہلیت کی موت مرا” ۔(حدیث) جب اتنی گنجائش ہو کہ امام پیدا ہوچکے ہیں یا نہیں تو پھر بھی اہل تشیع کے عقیدے پر زد پڑتی ہے۔ لیکن یہ زد نہیں پڑنی چاہیے اسلئے کہ جو امام غیبت کی حالت میں ہوں تو عوام بیچاروں کو بھی قصوروار ٹھہرانا غلط ہوگا۔
جب شیعہ کے نزدیک بھی امام مہدی مسئلے کا حل ہوں اور مفتی محمد رفیع عثمانی کے نزدیک بھی امام مہدی کے ذریعے سے حلال وحرام ، فرض ونافرض اور سب مسائل کا حال معلوم ہوگا تو دونوں کی گمراہی میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ پھر تو نماز میں صراط مستقیم کی ہدایت کی جگہ امام مہدی کے ظہور یا خروج کی دعا کرنی چاہیے۔ جس قرآن کے ذریعے صحابہ واہل بیت نے ہدایت پائی وہ آج ہم نے چھوڑ دیا ہے اسلئے گمراہی میں بھٹک رہے ہیں۔ کسی فرقے میں ذاتی طور پر نیک افراد بہت ہوسکتے ہیں لیکن جب تک قرآن کی طرف رجوع نہیں کریںگے تو یہ گمراہی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ طالبان کے پاس بھی حکومت ہے لیکن وہ ایسا نظام تشکیل نہیں دے رہے ہیں جس سے خلیفہ مقرر کرنے کا فرض ادا ہوجائے ۔ ایران میں شیعہ بھی امام مہدی کیلئے راستہ ہموار نہیں کرتے۔ اختلافات کو چھوڑ کر متحد ہوناپڑے گا۔ جس طرح ولی کی دوقسم ہیں ایک مادر زاد اور دوسرا کسبی یعنی محنت کرکے ولایت تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح امام بھی دو نوں طرح کے ہوسکتے ہیں۔ جب تک مادر زاد امام مہدی غائب جو شیعہ کے ہاں ہے نہیں نکلے تو کسی پر اعتماد کرکے دنیا میں اسلام کا سچا پیغام پہنچانا ہوگا۔ اسلام دین فطرت ہے اور اس پر انسانیت کو متحد کرنے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔ پاکستان اپنے دور کے خطرناک موڑ سے گزر رہاہے۔ اس میں آرپار کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مذہبی طبقات مساجد سے عوام کو اسلام کا درست پیغام دینا شروع کردیں تو انقلاب میں دیر نہیں لگے گی۔ سکول ، کالج ، یونیورسٹی اور مدارس کے علاوہ دکانداروں ، ملازمین ، فوجیوں ، پولیس والوں ، سول انتظامیہ ، میڈیا اور سبھی کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیااور سب جگہ سے اسلام سے امید کی کرن نظر آئی۔ شیعہ اور سنی سامعین دل سے مطمئن تھے۔ نوروز میں سب کی آنکھوں میں امید کی چمک پیدا ہوئی۔ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے لیکن جب افہام وتفہیم کی فضاء بنے گی تو اسلام جیت جائیگااور فرقہ واریت کی موت واقع ہوگی۔ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام بڑے لوگ تھے اور اپنے کردار سے ان کی عظمت کو نکھار سکتے ہیں۔ اگر قرآن میں انبیاء کرام کے پیچھے پڑجائیں تو گمراہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔ غلطیوں کی جگہ بڑے کردار سے رہنمائی حاصل کرنی ہوگی۔ حضرت آدم کی غلطی سبق سیکھنے کیلئے قرآن میں ہے لیکن پوجنے کیلئے بھی نہیں۔ ہمیں خلافت اور عبدیت کا حق ادا کرنیوالوں کا ساتھ دینے پر بیعت کرنی ہے۔ ہمیں طبقاتی جنگ کو چھوڑ کر ملک وقوم اور ملت و انسانیت کو ایک ونیک بنانا ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امام مہدی علیہ السلام کانفرنس

امام مہدی علیہ السلام کانفرنس
مورخہ19مارچ بروز اتوار2023بوقت3:30بجے
بمقام: جامعہ الشہید للمعارف الاسلامیہ پشاور
عتیق گیلانی کا انقلابی خطاب

عمر نے علی کی مشاورت سے قیصر و کسریٰ کوفتح کیا تو مہدی و مسیح سے پہلے اتحاد ہوسکتا ہے؟

ہال میں شریک عوام نے دل سے تائید کا اظہار کیا۔ علی کی موجودگی میں حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان پر اختلاف رائے کے باوجود اتحاد تھا اور فتوحات حاصل کیں۔

جب حضرت عیسیٰ کا نزول اور امام مہدی کا ظہور ہوگا تو اس پر دنیا متحد ہوگی لیکن ان سے پہلے کسی شخصیت پر سنی شیعہ کا اتحاد قرآن اور شخصیات پر ہوگاتو اس کیلئے افہام و تفہیم ضروری ہے

کانفرنس سے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے اُستاذ ، جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر ، اہل حدیث ، بریلوی مکتبہ فکر ، دیوبندی مکتبہ فکر اور اہل تشیع مکتبہ فکر کے علماء نے بھی خطاب کیا۔

الحمد للہ و الصلوٰہ و السلام علیٰ خاتم الانبیاء المرسلین و علیٰ آلہ اصحابہ اجمعین۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ و جاھدوا فی اللہ حق جہادہ ھواجتبٰکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملة ابیکم ابراہیم ھوسمٰکم المسلمین من قبل و فی ھذٰ ا لیکون الرسول شھیدًا علیکم و تکون شہداء علی الناس فاقیموا الصلوٰة و اٰتوا الزکوٰة واعتصموا باللہ ھوا مولٰکم فنعم المولیٰ و نعم النصیرO
محترم بزرگو،دوستو، بھائیو، دوستو اور بچو! یہ موضوع تو بہت بڑا ہے کیونکہ ایک انقلاب کی خبر پر پوری دنیا متفق ہے۔ بدھ مت ہوں یا ہندو مت، مسلمان ہوں یا عیسائی، یہودی ہوں یا کسی بھی مذہبی طبقے سے ان کا تعلق ہو ان کے ذہن کے اندر یہ ہے کہ ایک انقلاب عظیم آئے گا۔ اللہ نے فرمایاعَمَّ یَتَسَآئَلُوْنَ (1) عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ (2) اَلَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ (3) کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ (4) ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ (5)
کس چیز کے بارے میں یہ آپ سے پوچھتے ہیں۔ ایک بہت بڑی خبر کے بارے میں۔ انقلاب عظیم کے بارے میں۔ عنقریب جو پوچھنے والے ہیں یہ جان لیں گے اور عنقریب جو پوچھنے والے ہیں یہ جان لیںگے۔ اب اس پر اختلاف تو ہے یہودی سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارا دنیا پر غلبہ ہوگا۔ عیسائی سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظام کا غلبہ ہوگا۔ ہندو کے یہاں بھی کلکی اوتار کا ذکر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی کلکی اوتار آئے گا اور دنیا میں انقلاب آئے گا۔ مسلمانوں کا اس حوالے سے جو تصور ہے وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے ہے۔ مسلمانوں کے اندر پھر جو دو بڑے طبقات ہیں ایک اہل سنت اور ایک اہل تشیع ان دونوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آنے والا انقلاب امام مہدی کے ذریعے سے ہی آئیگا۔ لیکن ان کا اس بات کے اوپر اختلاف ہے کہ اہل تشیع کے نزدیک جو بارہواں امام ہے وہ غیبت کی حالت میں ہے اور وہی امام مہدی ہے۔ اور اہل سنت کے نزدیک یہ ہے کہ آنے والا کوئی پیدا ہوگا اور وہی امام مہدی ہوں گے۔ اس پر جو خوشحالی کی بات ہے وہ یہ ہے کہ انقلاب جو آئے گا وہ قرآن کی بنیاد پر آئے گا۔ سنت کی بنیاد پر آئے گا۔ اس کے اوپر نہ صرف سنی شیعہ بلکہ پوری دنیا اس پر متفق ہوگی۔ زمین والے بھی اس انقلاب سے خوش ہوں گے اور آسمان والے بھی اس انقلاب سے خوش ہوں گے۔ اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب ہمارے پاس جو دستور ہے وہ قرآن ہے۔ یہاں پر اوپر ایک آیت لکھی ہوئی ہے وقال الرسول یا ربی ان قومی اتخذوا ھٰذا القرآن مہجورًا رسول اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن اپنی قوم سے شکایت کریں گے اور وہ شکایت کیا ہوگی؟۔ کہ میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ اس قرآن کو چھوڑنے کا جو خمیازہ ہے وہ ہمیں فرقہ واریت کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اور یہ فرقہ واریت اس کیلئے جو بنیادیں ہیں وہ شیعہ اور سنی جو فرقے ہیں وہ دونوں کی جو فکر ہے وہ الگ الگ ہے۔ قرآن کے اوپر دونوں کا اتفاق ہے۔ پچھلی مرتبہ میں آیا تھا اور حوالے سے کچھ دوست شاید ناراض بھی ہوئے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کے بغیر شیعہ کا تصور ہوسکتا ہے؟ ۔ قرآن کے بغیر سنی کا تصور ہوسکتا ہے؟۔ میں نے1992میں ”عروج ملت اسلامیہ کا فیصلہ کن مرحلہ” کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی اس میں میں نے بریلوی دیوبندی حنفی اہل حدیث شیعہ سنی اتحاد کے عنوان سے میں نے بہت عمدہ تحریرات لکھی تھیں۔ جس کی وجہ سے دونوں مکتبہ فکر کے بڑوں نے ہماری تائید کی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے اندر بندوق کے زور پر مجھے کہا کہ دو ٹوک الفاظ میں آپ کہو کہ شیعہ کافر ہیں کہ مسلمان ہیں؟ ۔ میں نے کہا کہ اگر میں شیعہ کو کافر کہتا ہوں تو کوئی وجہ تو ہوگی؟۔ تو انہوں نے کہا کہ شیعہ قرآن کو نہیں مانتے ہیں۔ میں نے کہا قرآن کو سنی نہیں مانتے ہیں تو وہ بھی کافر ہیں، شیعہ کو تو چھوڑو۔ شیعہ تو ہیں ہی کافر اگر وہ قرآن کو نہیں مانتے۔ لیکن میں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ ، ہم جو درس نظامی میں پڑھاتے ہیں، پہلے ہم آپس میں ملیں شیعوں کے اکابر کو لانا میرا کام ہے۔ وہ قرآن کا انکار نہیں کریں گے نہ کرتے ہیں تو وہ چھپ گئے ۔ پہلے انہوں نے وعدہ کیا پھر وہاں پر ایک ایسی مجلس بنائی گئی جیسے ہم ان کے اوپر حملہ آور ہونے جارہے ہیں۔ وہ بات نہیں ہوسکی۔ سعودیہ کے اندر مجھے ایک شخص نے کہا دونوں علماء معلوم ہوتے تھے اس نے کہا کہ آپ شیعہ تو نہیں ہو؟۔ میں نے کہا کہ میں شیعہ تو ہوں۔ تو میں نے کہا کہ شیعہ سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟۔ بولتا ہے کہ قرآن کو شیعہ نہیں مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا تم مانتے ہو؟۔ بولا کہ الحمد للہ ہم مانتے ہیں۔ دونوں علماء معلوم ہورہے تھے۔ میں نے ان کو کہا کہ ابن ماجہ اٹھاؤ۔ ابن ماجہ انہوں نے اٹھائی میں نے کہا کہ اس کے اندر رضاعت کبیر کا جو موضوع تھا وہ میں نے نکالا کہ10آیات تھیں جو کس کے بارے میں تھیں کہ اگر کوئی شادی شدہ زنا کرے تو اس کو سنگسار کرو اور بڑا آدمی اگر دودھ پئے تو اس کی رضاعت بھی ثابت ہوتی ہے۔ تو10آیات تھیں رسول اللہ ۖ کے وصال کے وقت چارپائی کے نیچے پڑی ہوئی تھیں اور بکری کھا گئی اور ضائع ہوگئیں۔ وہ بڑا پریشان ہوگیا۔ میں نے کہا کہ میں نہ شیعہ ہوں نہ سنی ہوں۔ بولتا ہے کہ ہم بھی نہ شیعہ ہیں نہ سنی ہیں۔ بولتا ہے کہ کس کی کتاب ہے؟۔ یہ جو باتیں ہیں ہم جان پر کھیل کر کرتے ہیں۔ اورالحمد للہ ہر طرف سے ہمیں تائید حاصل ہے اپنے علماء کی بھی تائید حاصل ہے اور اہل تشیع کے علماء کی بھی ہمیں تائید حاصل ہے بہت عرصے سے کررہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم ایک دوسرے کو قریب سے دیکھیں گے نہیں سمجھیں گے نہیں افہام و تفہیم کا موقع ہمیں نہیں ملے گا۔ ہمارے ایک اہل تشیع دوست ہیں بڑے عالم ہیں علامہ حسن ظفر نقوی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے کمال کیا۔ بولتے ہیں کہ اہل تشیع کے خلاف ایسی ایسی عجیب عجیب باتیں بنائی ہوئیں تھیں کہ لوگ ہمیں دیکھتے تھے تو ڈرتے تھے۔ تو میں نے الحمد للہ اس پر بہت کام کیا ہے۔ اب چونکہ یہ جو مجلس ہے یہ امام مہدی کے عنوان سے ہے۔ امام مہدی خلیفہ ہوں گے یا امام ہوں گے؟۔ اہل تشیع اور سنیوں کے نزدیک امام اور خلیفہ میں فرق ہے۔ اہل تشیع کے نزدیک جو امام ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے منتخب کردہ ہوتا ہے۔ اور سنیوں کے نزدیک جو امام ہوتا ہے اس کو لوگوں نے منتخب کیا ہوتا ہے۔ فرق ہے دونوں میں؟۔ یعنی ایک لوگوں کا انتخاب اور ایک اللہ کی طرف سے۔ سپاہ صحابہ کے بڑے مشہور عالم گزرے ہیں علامہ ضیاء الرحمن فاروقی اس نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہمارا شیعوں کے ساتھ قرآن پر صحابہ پر کوئی اختلاف نہیں ہے، ہمارا جو اختلاف ہے وہ امامت کے مسئلے پر ہے۔ امام مہدی کے حوالے سے جو بنیادی بات ہے وہ یہ ہے کہ شیعہ سنی دونوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخصیت پر اتفاق ہوگا۔ لیکن اہل تشیع کے نزدیک خدا کی طرف سے منتخب کردہ ہوتا ہے اور اہل سنت کے نزدیک جس کو عوام بنائے وہ خلیفہ اور وہی امام ہوتا ہے۔ اب اللہ قرآن میں کہتا ہے وجاھدوا فی اللہ حق جہادہ ھواجتبٰکم یہ ھواجتبٰکم کا جو لفظ ہے کہ میں نے تمہیں چن لیا ہے میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے اس پر کفر کا اطلاق ہوتا ہے؟۔ نہیں ہوتا۔ شاہ اسماعیل شہید جو شاہ ولی اللہ کے پوتے ہیں ان کی ایک کتاب ”منصب امامت” اس میں دونوںطرح کی خلافت کا مسئلہ بھی لکھا ہے اور امامت کابھی لکھا ہے اور دونوں کی تائید کی ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے ہاں کتابوں کا پڑھنے پڑھانے کا رواج نہیں ہے ابھی اللہ کا بہت بڑا شکر ہے کہ سعودیہ اور ایران کی صلح ہوگئی ہے۔ اب اس صلح کے بعد جن لوگوں کو تھوڑے بہت تعاون کا موقع ملے گا وہ اپنا زور کس چیز پر لگائیں گے ؟۔ اتحاد کے اوپر لگائیں گے۔ انتشار کے اوپر زور نہیں لگائیں گے دہشت گردی پر نہیں لگائیں گے۔ یہ بہت زبردست بات ہے یہ بہت خوشخبری کی بات ہے بہترین خوشخبری کی بات ہے۔ ایک ایک مسئلے پر شیعہ سنی میں اتحاد ہوسکتا ہے۔ جب مہدی آخرزمان آئیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام بھی ساتھ میں ہوں گے ناں؟ ۔ اس وقت تو عیسائیوں کو یہودیوں کو ہندوؤں کو کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے ہمارا کیسے اتفاق ہوسکتا ہے۔ حدیث قرطاس کو آپ جانتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی وصیت لکھ کر دیتا ہوں کہ میرے بعد آپ گمراہ نہ ہوں گے۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ اہل تشیع کے نزدیک حضرت عمر کا یہ جو فعل ہے کہ رسول اللہ ۖ نامزد کرنا چاہتے ہیں امام کو لیکن حضرت عمر نے نہیں کرنے دیا ان کو اس بات سے اختلاف کرنے کا حق ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عمر کو نامزد کردیا اس سے بھی اہل تشیع کو اختلاف کرنے کا حق ہے۔ لیکن میں جو اتحاد کی بات کرنا چاہتا ہوں وہ کیا ہے؟۔ جب حضرت عمر نے قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو فتح کیا توحضرت علی نے ان کو مشاورت دی کہ نہیں دی؟۔ مشاورت دی اور اس مشاورت کے نتیجے میں جو ان کا مشترکہ فعل تھا، دنیا کی دو سپر طاقتیں تھیں ایک سپر طاقت فارس مشرق کی سپر طاقت تھی اور ایک سپر طاقت روم تھی دونوں کو شکست مل گئی اور اس شکست کی بنیاد کے اوپر جو اسلام من حیث النظام پوری دنیا کے اوپر غالب ہوا۔ جب تک عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے حضرت مہدی تشریف نہیں لائیں گے۔ تو جب حضرت علی کی موجودگی میں ابوبکر ، عمر اور عثمان پر اختلاف رائے کا حق ہونے کے باوجود بھی ایک اتفاق ہوسکتا تھا تو امام کی غیبت کے اندر کیا پوری دنیا کے اندر اُمت مسلمہ میں اتفاق نہیں ہوسکتا؟۔ ہوسکتا ہے کہ نہیں ہوسکتا؟۔(سب نے کہا کہ ہوسکتاہے) دل و جان کے ساتھ ہوگا۔ اور میں آپ کو یہ بتاؤں کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ”۔ اب اہل تشیع کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ جو درمیان کا مہدی ہے اس سے خلافت عباسیہ کے دور کا مہدی بھی مراد ہوسکتاہے۔ اور اہل تشیع کی کتابوں میں لکھا ہے کہ مہدی کے بعد12افراد آئیں گے جن کو حکومت ملے گی وہ بھی اہل بیت میں سے ہوں گے۔ اہل سنت کی کتابوں میں بھی یہ بات موجود ہے مظاہر حق جو مشکوٰة کی شرح ہے اس میں لکھا ہے کہ جو12خلفاء ہیں مہدی کے بعدپانچ افراد حسن کی اولاد سے آئیں گے اور پھر پانچ افراد حسین کی ا ولاد سے آئیں گے آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا۔ تو وہ جو12کا تصور ہے وہ دونوں کی کتابوں میں موجود ہے۔ اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس پر علماء اور اکابر سنجیدگی سے اس پر کام کریں تو انشاء اللہ پھر اتحاد بھی ہوگا اتفاق بھی ہوگا۔ دیکھو ایک بات آخر میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔ آج ہندوستان کے علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ گائے کا ذبح کرنا جائز نہیں ہے ہندوستان کے اندر، کیوں اس لئے کہ اس سے ہمارے ہندو بھائی خفا ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ ہندوستان کی بات کرتے ہو ہم پاکستان سے بھی گائے کے ذبح پر پابندی لگادیں گے۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے لئے بنی اسرائیل کی طرح حکم تو نہیں ہے کہ خواہ مخواہ گائے ذبح کرنا ہے۔ اگر گائے کے ذبح نہ کرنے سے اتفاق پیدا ہوتا ہے تو کرلیں گے۔ اگر تم کہتے ہو کہ آدم علیہ السلام بھگوان تھے ہم تمہارے اوپر کوئی جبر نہیں کریں گے۔ کیونکہ ہمارے قرآن کے اندر لکھا ہے کہ آدم کو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا۔ بھگوان کا اگر یہ تصور ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یوسف علیہ السلام کو بھی سجدہ کیا۔ میرا کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم جو مولیٰ کا لفظ ہے جب تک میں مولانا کا لفظ نہیں بولوں تو مولانا ناراض ہوگا۔ تو علی المولیٰ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ ھو مولیٰ کم میںاللہ مولیٰ ہے۔ اور مولانا جو ہے وہ بھی مولا ہے اور علی مولیٰ بھی مولانا ہے۔ تو اس میں کوئی ایسی تضاد والی بات نہیں ہے کہ جس میں آدمی شرک کے کفر کے اور بہت بڑے بڑے اختلافات کے فتوے لگائے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ڈاکٹر اسرارنے شیعہ کی تائیدکی! علامہ یاسرنقوی

ڈاکٹر اسرارنے شیعہ کی تائیدکی! علامہ یاسرنقوی

علامہ سید یاسر نقوی:السلام علیکم۔ میں آج آپ کو تنظیم اسلامی کے ڈاکٹر اسرار احمد کی ایک ویڈیو دکھانا چاہتا ہوں جس میں وہ اس مؤقف کی تائید کرتے نظر آرہے ہیں جو14سو برس سے صرف مکتب تشیع کا خاصہ رہا ہے۔ آپ یہ ویڈیو کلپ دیکھئے ۔ ” مُلا کا معاملہ دو طرف سے ہے۔ مُلا ، فقہاء نے سب سے پہلے متغلب کی حکومت کو جائز قرار دیا۔ یعنی اگر کوئی شخص اپنی قوت کے بل پر آکر حکومت پر قبضہ کرلے وہ جائز ہے۔ اور حکمران کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کرسکتے جب تک کہ وہ تمہیں کفر کا حکم نہ دے۔ کفر کا کیوں حکم دے گا وہ؟ وہ اپنے عیش اڑائے گا اپنے محل بنائے گا اپنی رنگ رلیاں کرے گا۔ یہ تصور ہے جو سنی اسلام کے اندر ان کی رگوں میں چلا گیا اور سن کردیا اسلام کو۔ استثنیٰ اگر ہے تو شیعہ اسلام میں، وہ تسلیم نہیں کرتے۔ چاہے کھڑے نہ ہوں مقابلہ نہ کریں۔ نفرت کرتے ہیں یہی ان کی پوری کی پوری تاریخ کے اندر ہے”۔
یہ وسیع القلبی فقط مکتب اہل بیت میں ہے کہ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا کہہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان ایک لمحے کیلئے بھی تعصب کی عینک اتار کر غور و فکر کرے تو حق اس کے سامنے خود بخود آشکار ہوجاتا ہے۔ کیونکہ حق تو حق ہوتا ہے جو کسی فرقے یا مسلک کے تابع نہیں۔ یاد رکھئے دو نظریات اسلام میں ایسے ہیں جو بعد رسول ۖ ظالم و جابر حکمرانوں نے اپنی حکومتوں کو قانونی حیثیت دینے اور مسلمانوں کو اپنا فکری غلام بنانے کیلئے ان پر مسلط کئے تھے۔ پہلا نظریہ تو یہ ہے جس کی طرف ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اشارہ فرمارہے ہیں کہ حاکم متغلب کی اطاعت کا نظریہ چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسرا کف لسان کا عقیدہ جس کے متعلق میں اپنی پچھلی ویڈیو میں عرض کرچکا ہوں۔ یہی دو نظریات ہیں جو اسلامی معاشرے میں تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ سادہ الفاظ میں متغلب کی اطاعت واجب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی زور زبردستی سے، قہر و غلبے سے، قتل و غارت گری سے، دہشت گردی کرکے حکومت کو حاصل کرے چاہے وہ بدکار ، فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو، وہ امیر المؤمنین کہلائے گا۔ اور اس کی اطاعت عوام پر واجب ہوجائے گی۔ تاکہ حقیقت سے نا آشنا عوام حاکم کے اعمال پر نگاہ کئے بغیر اسے فوراً امام مان لیں۔ بعد رسول ۖ اس نظرئیے کو ایجاد کیا گیا اور بنو اُمیہ کے دور میں اس کو قانونی اور شرعی شکل دی گئی اور آج یہ ہمارے برادران اہل سنت کے مذہب کا حصہ بنا ہوا ہے اور بقول ڈاکٹر اسرار احمد کے سنیوں کے اس نظرئے نے اسلام کو سن کردیا ہے۔ آج کے سیاستدان عوام کو بیوقوف بناتے ہیں جو صدر اسلام میں اس آئیڈیا لوجی نے مسلمانوں کو ذہنی یرغمال بناکر انکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کرلیا۔ ابی یعلی محمد الحسین حنبلی کا سن وفات458ہجری ہے انہوں نے اپنی کتاب ”الاحکام السلطانیہ” میں امام احمد بن حنبل کا ایک قول نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ جو غلبہ حاصل کرکے حکومت پر قابض ہوجائے مسلمانوں پر اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس کے پیچھے نماز جمعہ بھی پڑھی جائے گی اور انہوں نے اس بات کیلئے بڑی دلچسپ دلیل دی ہے کہ جس طرح سے عمر بن خطاب کے بیٹے عبد اللہ ابن عمر نے ناصرف یزید کی بیعت کرلی تھی بلکہ بعد کربلا جب کچھ صحابہ کرام نے یزیدکا فسق و فجور دیکھ کراس کی بیعت توڑ دی تب بھی عبد اللہ ابن عمر متغلب کی اطاعت کے باطل عقیدے کے تحت یزید کی بیعت پر قائم رہے۔ یعنی ابتداء ہی میں نحن مع الغلبہ کا نعرہ مسلمانوں نے لگادیا۔ اور یہ نظریہ رسول کی تعلیمات کے صریحاً خلاف ہے۔ آج ہمارے ملک میں جو ظلم ہے یہ اسی نظام کا تسلسل ہے۔ کیا رسول اللہ ۖ کی بعثت کا مقصد مسلمانوں کے نزدیک صر ف یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جائز و ناجائز طریقہ استعمال کرکے اقتدار پر قبضہ کرلے اور دوسرے اس کے سامنے سرنڈر کرلیں۔ آپ کوئی بھی فقہ کو اٹھا کر دیکھ لیں اس میں موجود ہوگا کہ جو لوگوں کو گمراہ کرے جب تک وہ گمراہی رہے گی گناہ اس گمراہ کرنے والے کا شمار ہوگا اور اسی طرح قیامت تک لعنت ہوگی ان پر جنہوں نے لوگوں کو علی علیہ السلام کے راستے سے بھٹکادیا۔ مکتبہ تشیع وہ واحد مسلک ہے جو ظالم و جابر کی اطاعت کو جائز نہیں سمجھتا۔14سو سال سے آپ نے ساری توانائیاں اس پر صرف کردیں کہ جو اللہ کا منتخب کردہ ہے اس کو آپ نہیں مانیں گے اور ملت آج اس کا نتیجہ بھگت رہی ہے جبکہ اللہ قرآن میں یہ کہہ رہا ہے کہ جانشین میں بناتا ہوں خلیفہ میں بناتا ہوں کسی اور کو میرا خلیفہ بنانے کا حق حاصل نہیں ہے۔
برادران اہل سنت سے انتہائی مخلصانہ گزارش ہے کہ شیعہ سنی کی بحث کو چھوڑ دیں۔ رسو ل اللہ ۖ نے اس اُمت کو جاتے وقت جو آخری وصیت کی تھی جس کو شیعہ سنی سب نے تواتر قطعی سے لکھا ہے جو حدیث ثقلین ہے اس کو تو مانیں کہ پیغمبر ۖ نے فرمایا کہ”میں تمہارے درمیان قرآن اور اہل بیت چھوڑ کر جارہا ہوں جو ان دو سے متمسک رہے گا فقط وہ گمراہی سے بچے گا” ۔ یعنی قرآن اور اہل بیت ان دو کو تھامنا فقط گمراہی سے بچنے کی ضمانت ہے۔ تو شیعہ و سنی سے بالاتر ہوکر قرآن و اہل بیت کی آواز پر تو لبیک کہیں۔ یہی دنیا میں کامیابی اور فلاح کی ضمانت ہے۔ لیکن آج سوائے اہل بیت کے سب سے مسلمان دین لینے کو تیار ہیں۔ اور یہی مسلمانوں کی تباہی کا اصل سبب ہے۔ وزیر اعظم سے کہتا ہوں کہ واقعی ریاست مدینہ چاہیے تو کھولیں نہج البلاغہ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات ،اقوال کو پڑھیں کہ کس طرح سے ایک فلاحی ریاست کا پورا ایک مکمل اور کامل نظام بیان کیا ہے۔ مگر مسلمان تو اہل بیت سے کچھ سیکھنے کو آج بھی تیار نہیں جبھی تو ہم عالمی مالیاتی ادارے کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ کاش بعد رسولۖ مسلمانوں نے اہل بیت کا دامن تھام لیا ہوتا حضرت فاطمة الزہرا علیہا السلام نے اپنے خطبے میں کیا کہا تھا اگر کہ تم نے علی علیہ السلام کی ولایت کو مانا ہوتا تو مولا علی علیہ السلام کیا کرتے ہر بھوکے کا پیٹ بھرتے اور ہر حق دار کو اس کا حق دیتے۔ میری اتنی گزارش ہے کہ اس فکری غلامی سے باہر نکل کر سیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا معذرت کے ساتھ کہ جو آپ کے ملاؤں نے آپ کو سکھایا ہے وہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ بس آپ کو ایک نصاب بناکر دے دیا گیا کہ بس اتنا سوچو اور اس سے آگے سوچو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ یہ جو آپ کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ اہل بیت کی بات کرو گے تو شیعہ کا لیبل تم پر لگ جائے گا ، بھئی اگر آپ کو ہم سے عداوت ہے تو آپ کو اہل بیت سے دین لینے میں یہ کیوں رکاوٹ بن جاتی ہے؟۔ خدارا سوچیں۔ پڑھنے لکھنے کا دور ہے دنیا بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ خود چیزوں کا مطالعہ کریں۔ اور اس فکری غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیں تاکہ حق کو پہچان سکیں۔ اور اپنے ذہن سے خود سوچ کر اپنی راہ کو معین کریں۔

____علامہ سید یاسر نقوی کوعاجزانہ گزارشات____
حضرت علامہ سید یاسر نقوی صاحب!۔ خو گرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لو!۔
ڈاکٹر اسرارکے بیان سے ہم بھی بالکل متفق ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مکتب تشیع اپنی اس سوچ وفکر میں منفرد اور ممتاز ہے۔ ہمیں اس بات کا قطعی کوئی خوف نہیں ہے کہ کوئی ہمیں رافضی یا شیعہ کہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے اپنے مکتب علماء دیوبند سے صرف اس وجہ سے فتوے کھائے ہیں کہ ہم نے شیعہ کو کافر ماننے کا فتویٰ نہیں مانا اور ان کا اپنی طرف سے وہ دفاع کیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال بھی نہیں ملتی ہے۔ آئندہ بھی انشاء اللہ ضرور کریںگے۔ اسلئے کہ پہلے بھی شیعہ کی مخالفت کے نام پر لوگوں نے کاروبار کیا ہے۔ ہم نہ شیعہ مسلک کے دفاع کیلئے کوئی کاروبار کرتے ہیں اور نہ ان کی مخالفت کرنا ہمارا کاروبار ہے اور اس کی حقیقت ہمارے جاننے والے شیعہ سنی مخالف وموافقت سب پر واضح ہے۔ البتہ دونوں کو اصلاح کی دعوت دیتے ہیں اور الحمد للہ ہمیں تاریخی کامیابی بھی ملی ہے۔ علامہ طالب جوہری، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ عباس کمیلی، سید حیدر رضا، علامہ علی کرار نقوی،علامہ ادیب حسن رضوی، علامہ شہنشاہ نقوی کے بڑے بھائی علامہ عون نقوی کے علاوہ اہل تشیع کے بہت سارے علماء کے بیانات بھی ہمارے اخبار اور کتابوں کی زینت بنے ہیں۔سنی شیعہ دونوں اسلام کے مضبوط بازو ہیں اور ان کے اتحاد سے عالمی اسلامی خلافت کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ علامہ سید جواد حسین نقوی بھی اس کیلئے بہت کوشاں ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے اہل تشیع کی جو تعریف کھلے دل سے کی ہے اس پر ڈاکٹر صاحب خراج تحسین کے بہت مستحق ہیں کہ اپنے مخالف فرقے کی درست بات کرنے سے بھی نہیں گھبرائے لیکن علامہ سیدیاسر نقوی کی اس ذہنیت کا تماشابھی دیکھنے کے قابل ہے کہ ”یہ وسیع القلبی فقط مکتب اہل بیت میں ہے کہ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا کہہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان ایک لمحے کیلئے بھی تعصب کی عینک اتار کر غور و فکر کرے تو حق اس کے سامنے خود بخود آشکار ہوجاتا ہے۔ کیونکہ حق تو حق ہوتا ہے جو کسی فرقے یا مسلک کے تابع نہیں۔ یاد رکھئے دو نظریات اسلام میں ایسے ہیں جو بعد رسول ۖ ظالم و جابر حکمرانوں نے اپنی حکومتوں کو قانونی حیثیت دینے اور مسلمانوں کو اپنا فکری غلام بنانے کیلئے ان پر مسلط کئے تھے۔ پہلا نظریہ تو یہ ہے جس کی طرف ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اشارہ فرمارہے ہیں کہ حاکم متغلب کی اطاعت کا نظریہ چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسرا کف لسان کا عقیدہ جس کے متعلق میں اپنی پچھلی ویڈیو میں عرض کرچکا ہوں”۔
اس ماحول اور ذہنیت کو دیکھ لیجئے کہ جس ڈاکٹر اسرار احمد نے اہل تشیع کی وہ تعریف کی ہے جس کا اہل تشیع خود بھی تصور نہیں کرسکتے ہیں لیکن اس بیان کی بھی تائید کرنے کو اپنے مکتب کی وسیع القلبی کا خاصہ قرار دے رہے ہیں؟۔ جس سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے دل ودماغ میں اس قدر تعصب بھرا ہواہے کہ اپنی تعریف کو پیش کرنا بھی وسیع القلبی قرار دیتا ہے؟۔ جس طرح علامہ اقبال نے ”جواب شکوہ” میں مسلمانوں کے منہ پر تھپڑ مارا ہے کہ ” یہ تم ہو جسے دیکھ کر شرمائے یہود” ۔ اس سے زیادہ بڑا زور دار تھپڑ جی چاہتا ہے کہ شاندار کردار کے مالک حضرات اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں کے منہ پر رسید کردوں کہ ”یہ تم ہو جسے دیکھ کر شرمائے ہنود”۔ اپنی تعریف کرنے کو قبول کرنا بھی اگر وسیع القلبی ہے تو پھر کم ظرفی کی حدیں آخر کونسے بحیرہ مردار کے کنارے پر لگتی ہوں گی؟۔ اس سے ان کی وسیع القلبی نہیں کم ظرفی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
بخدا اگر شیعہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو علامہ یاسر نقوی کو بھی جواب دینے کی زحمت نہیں کرتا۔ سوشل میڈیا پر علامہ حسن اللہ یاری جیسے انواع واقسام کے نمونے نمودار ہورہے ہیں جن سے اہل تشیع کے جان ومال کو خطرات ہیں۔
علامہ حسن اللہ یاری کہتا ہے کہ ” علی نے فرمایا: محمد کی نسبت ابوبکر کی طرف ہے لیکن یہ میرا بیٹا ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ بظاہر جس خبیث جسم کے ذریعے ابوبکر کے انساب سے ہوتے ہوئے علی کی گود میں پہنچا ہے وہ اصل میں عالم ارواح سے ایک نور کی شکل میں علی کا بیٹا تھا لیکن بظاہر ابوبکر کا بیٹا ہے”۔
قرآن میں حضرت ابراہیم کاباپ بت فروش آذر کو بتایا گیا ہے مگر شیعہ کہتے تھے کہ وہ چچا تھے۔ انبیاء کے نسب میں کوئی مشرک نہیں ہوسکتا۔ حسن اللہ یاری کی منطق اور جہالت نے شیعہ فلسفہ ختم کردیا ۔ محمد جس طرح ابوبکر کے بیٹے تھے تو اس طرح علی کے نہ صرف سوتیلے بیٹے تھے بلکہ تربیت بھی علی نے کی تھی اسلئے اس کو خاص فلسفے کا رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح سپاہ صحابہ کے قائد مولانا اعظم طارق کی ماں کو مولانا زکریا جامعہ انوارالقرآن گلبرگ فیڈر بی ایریا نے طلاق دی تھی اور پھر مولانا اعظم طارق کے والد چیچہ وطنی کے ایک ویلڈر نے اس سے نکاح کیا تھا۔ ایک مشہور عالم دین نے مولانا اعظم طارق سے کہا تھا کہ ” اپنے باپ کا نام لو۔ مولانا زکریا بڑے آدمی ہیں لیکن اتنے بڑے بھی نہیں کہ باپ نہ ہوں تو بھی اس کو باپ کہا جائے”۔ مولانا اعظم طارق پہلے کراچی اور پھر جھنگ منتقل ہوگئے اور اب تک اس کا بیٹا بھی وہیں رہتا ہے اسلئے ان کی اپنی جماعت کے کارکنوں کو بھی اصل ماجرے کا پتہ نہیں ہے۔ جب مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے اہل تشیع کو اپنا بھائی قرار دیا تھا تو مولانامحمد احمد لدھیانوی نے انہیں اپنے غصے کا نشانہ بنایا تھا ۔ حالانکہ جب شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگا تھا تو مفتی محمد تقی عثمانی ومفتی محمد رفیع عثمانی اور ان کے دارالعلوم کراچی نے تائید نہیں کی تھی۔ مولانا حق نواز جھنگوی کی شہادت سے پہلے حاجی محمد عثمان پر جب بعض اکابر علماء نے فتویٰ لگایا تھا تو جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن اور جمعیت علماء اسلام درخواستی دونوں گروپ حاجی محمد عثمان کے حامی تھے اور سپاہ صحابہ کے بانی قائد مولانا حق نواز جھنگوی بھی جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن حصہ تھے۔
ان اکابر نے پھر حاجی محمد عثمان کے مغالطے میںسید عبدالقادر جیلانی ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا اور مولانا محمد یوسف بنوری پر بھی فتوے لگائے۔ جن کا مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ان کو ذبح کردو، اگر ٹانگیں ہلائیںگے تو ان کے پاؤں ہم پکڑ لیںگے۔ مولانا انیس الرحمن درخواستی اس فتوے کے بعدحاجی محمد عثمان سے بیعت ہوئے تھے۔ جو انوار القرآن آدم ٹاؤن نیوکراچی میں پڑھاتے تھے اور یہ سپاہ صحابہ کے مرکز ناگن چورنگی مسجد صدیق اکبر کے بالکل قریب ہے۔ مولانا اعظم طارق اکابر کے خلاف فتویٰ لیکر مفتی رشید احمد لدھیانوی کو سبق سکھانے کے غرض سے گئے لیکن جب وہاں اس کی جیب گرم ہوئی تو الٹا حاجی محمد عثمان کے خلاف اخبار میں بیان داغ دیا تھا۔
مولانا حق نواز جھنگوی نے الیکشن1988میں مولانا فضل الرحمن کی جمعیت سے لڑا تھا کیونکہ وہ پنجاب کے نائب صوبائی جمعیت علماء اسلام بھی تھے اور مولانا جھنگوی نے کہا تھا کہ مجھے شیعہ ووٹ نہیں دے۔ وہ جھنگ کی دونوں سیٹوں پر بیگم عابدہ حسین شیعہ سے ہار گئے تھے۔اپنے قاتلوں میں عابدہ حسین کو بھی نامزد کررکھا تھا۔ شہادت کے بعد مولانا فضل الرحمن نے بیگم عابدہ حسین اور نوازشریف دونوں کو نامزد کیا تھا۔ پھر1990کے الیکشن میں سپاہ صحابہ کے قائدمولانا ایصار الحق نے جھنگ کا الیکشن مولانا فضل الرحمن کے خلاف عابدہ حسین کیساتھ مل کر لڑا تھا۔ ایک سیٹ پر عابدہ حسین اور دوسرے پر ایصارا لحق کی کامیابی جھنگ میں شیعہ سنی اتحاد اور مولانا حق نواز جھنگوی کو خیرباد کا نتیجہ تھا۔
ہم سپاہ صحابہ کو خوش کرنے کیلئے نہیں کرتے کیونکہ وہ مولانا حق نواز جھنگوی کا مشن بھی چھوڑ چکے ہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈاکٹرا سرار نے اہل تشیع کی جو تائید کی ہے وہ حضرت امام حسین کی قربانی کا صلہ ہے۔ باقی شیعہ یہ بھی سمجھتے ہیںکہ اگر اہل سنت والجماعت پر وہ تہمت لگائیں گے جس میں شیعہ اور ڈاکٹر اسرار احمد ایک پیج پر دکھائی دیتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان بھی اہل تشیع کے مکتب کو پہنچے گا اسلئے کہ جس کوتاہی کو اہل سنت کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے تو پھراہل تشیع کے ائمہ اہل بیت علیہم السلام کہاں جائیں گے؟۔ حضرت علی نے حضرت ابوبکر ،حضرت عمراور حضرت عثمان کی خلافت قبول کی۔امام حسن نے خلافت حضرت امیر معاویہ کے سپرد کردی۔ اگر حضرت امام حسین کو یزیدی لشکر واپس مدینہ جانے دیتے یا سرحد پر جانے دیتے یا یزید کے دربار میں لے کر جاتا تو کربلا کا سانحہ بھی پیش نہ آتا۔ باقی ائمہ کرام نے بھی مہدی غائب تک اسی طرح خاموشی کا راستہ اپنایا تھا جیسے اہل سنت نے اپنایا تھا۔ بلکہ اہل تشیع کا ایک امام تو باقاعدہ ایک عباسی خلیفہ کے داماد اور جانشین بھی تھے۔
حضرت حسین کے ایک پوتے امام زید نے امام حسین کے راستے پر چل کر جب اپنے ساتھیوں سمیت شہادت پیش کی تو امام ابوحنیفہ نے ان کو بدر ی صحابہ کی طرح اعلیٰ ترین جہاد کا تمغہ دیا تھا لیکن اہل تشیع کی عوام تو بہت دور کی بات تھی ائمہ اہل بیت نے بھی اس سے برأت کا اعلان کررکھا تھا۔ اسی طرح حسنی سیدکی قربانی عباسی دور میں نفس زکیہ کے نام سے ہوئی لیکن شیعہ امام کہتے تھے کہ جس نے حکمران کے خلاف خروج کیا وہ ہم سے نہیں ۔ ایک امام کا قول ہے کہ” جو بھی ہم میں سے قیام قائم امام مہدی سے پہلے خروج کرے وہ ایسے طائر کا بچہ ہوگا جس کی پرورش کسی غیر نے کی ہوگی”۔ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی اس قول کی زد میں آتے ہیں۔ جب شیعہ کو ایران میں موقع مل گیا تو کس طرح مخالفین کو بدترین انداز میں کچلا گیا؟۔ تویہ متغلب کی حکومت نہیں ؟، یا گنجے کو ناخن لگنے کی دیر ہوتی ہے؟۔ شیعہ علامہ حقائق سے منہ موڑیںگے تومنہ کی کھائیں گے۔
حضرت امیر معاویہ سے امام حسن نے صلح کی تھی لیکن جب حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ سے بغاوت کی تھی تو حضرت علی نے ابوسفیان کی بات کیوں نہیں مانی کہ حضرت ابوبکر سے خلافت چھین کر حضرت علی کے حوالے کردی جاتی؟۔ مدعی سست گواہ چست کا مذہب بنانے کے بجائے اہل تشیع ان اہل بیت کے کردار کو مان لیں جن کو اہل سنت دل ودماغ سے مانتے ہیں۔ جس دن سنیوں کا خوف شیعہ کے دل سے گیا تو شیعہ کھل کر ایسا فلسفہ پیش کریں گے کہ ائمہ اہل بیت میں سے بھی کسی کو نہیں چھوڑیںگے۔ جب سارا فلسفہ امامت ہی عذر اور تقیہ پر چلتے ہوئے غیبت پر پہنچ جاتا ہے تو بہادری کی کونسی بات رہ جاتی ہے؟۔ اب بھی امام مہدی غائب تشریف لاکر دنیا کو ظلم وجور سے نہیں بچاتے تو سنیوں کا کیا قصور ہے؟۔ ایران کو حکومت بھی ملی ہوئی ہے اور مہدی میں طاقت بھی ہے کہ ساری دنیا کی تمام قوتوں کو شکست دیں؟۔ کیا علی ، حسن ، حسین …… اور حسن عسکری میں نہیں تھی؟۔ تو پھر بارویں امام کی قوت پر کیوں بھروسہ رکھیں؟ اور اگر ان پر بھروسہ ہوتا تو امام خمینی نے کیوں مجبور ہوکر انقلاب برپا کرنا تھا؟۔ جب امام خمینی نے جرأت کرلی تو معصوم اماموں سے مرتبہ بڑھ نہیں گیا ہے؟۔
اسماعیلی شیعہ آغا خانی اور بوہرہ نے فاطمی حکومت قائم کی تھی تو وہ دوسرے سے مختلف تھے؟۔ جنہوں نے نہ صرف چھ اماموں کے بعد اپنی امامت جدا کرلی تھی بلکہ امام حسن کی امامت کا بھی انکار کیا تھا۔ حضرت امام زید نے بغاوت کی تھی لیکن وہ خلفاء راشدین کی عظمت کے قائل تھے۔ صرف حضرت علی کو زیادہ حقدار سمجھتے تھے لیکن علی سے دو قدم آگے بڑھ کر ابوبکر وعمر کی مخالفت کے قائل نہ تھے اور چوپائے کے چار قدم بڑھ کر ان کو کافرومرتد اور مغلظات نہیں بکتے تھے۔ قرآن میں صحابہ کرام کی اکثریت کی تعریف ہے، شیعہ اگر سمجھتے ہیں کہ اہل بیت کے مؤقف سے چار قدم آگے بڑھ کر عزت کمائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ علامہ سنی کے دل فتح کرنے کے بجائے اپنے مسلک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

17سالہ بلوچ لڑکی کی لاش ، لاش مریم نواز، مولانا فضل الرحمن یا کسی عمران خان کی ہوتی تو پھرریڈلائن بنتی؟

17سالہ بلوچ لڑکی کی لاش ، لاش مریم نواز، مولانا فضل الرحمن یا کسی عمران خان کی ہوتی تو پھرریڈلائن بنتی؟

یہ سیاستدانوں، مذہبی جماعتوں، اسلام اور انسانیت کی لاش ہے ۔

ریاست ،حکومت اور اپوزیشن کی لاش کا جنازہ پڑھ لو!

لاش بارکھان سے کوئٹہ لائی گئی، وارث معلوم ہیں مگر نہیںآسکتے؟یہ بے غیرتی کی انتہاء ہے

ریاست، عدالت اور حکومت کہاں ہے؟۔ ایک لڑکی کے معلوم وارث کو انصاف نہیں دے سکتے تو نامعلوم کو کون انصاف دے گا؟۔ ریاست تو عادی مجرم ہے مگر بلوچ قوم پرست کہاں مرگئے؟

ایک لڑکی کو دھرنے کے بعد یوں لاوارث دفن کرنا اسلام اور مسلمانوں کی بے حرمتی کا جنازہ ہے۔ کوئٹہ،بلوچ ، پشتون ، بلوچستان اور پاکستان ، عالم اسلام اور تمام عالم انسانیت کا جنازہ ہے!

سیاسی ، ریاستی ، لسانی، جماعتی اور ہرقسم کے نعروں کی اوقات کا پتہ چل گیا۔ اب عوام کسی کیلئے روڈ بلاک کرتے ہوئے دیکھ لیں تو ان پر گاڑی دوڑانے والے بھی بالکل حق بجانب ہوں گے!

کیا ایک 17سالہ غریب بلوچ لڑکی کی مسخ شدہ لاش کا یہ حق نہیں ہے کہ اسکے وارث لے جائیں؟۔ خواتین کے حقوق کی بات اسلام آباد کی گلی کوچوں اور پارکوں تک ہے؟۔ بلوچ قوم پرستوں کو لڑکی کی عزت سے واسطہ نہیں ؟۔ بس مسنگ پرسن کا رونا ہے؟۔ سینیٹر مشتاق دھرنے میں جوش خطاب دکھاکر مرگیا؟۔ جماعت اسلامی جیسی منظم تنظیم ہے۔ ڈربھی نہیں لگتا ہے تو کم ازکم لاش کو لاوارث چھوڑنے کے بجائے وارث تک پہنچادیتے۔بارکھان جماعت اسلامی کا شاندار استقبال کرتا ، پشتون قوم کا سر فخر سے بلند ہوتا۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کی عزت بحال ہوتی۔ امت مسلمہ میں مظلوم کی مدد کرنے کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا۔ مریم نواز بہادر مسلم لیگی لیڈر ہیں۔ بلوچی لباس پہن کر کوئٹہ سے بارکھان تک مسلم لیگ ن کی قیادت کرتی تو مسلم لیگ کو چار چاند لگ جاتے ،پنجابی پگ بھی فخر سے بلند ہوتا ۔ مولانا فضل الرحمن نئے نڈر ساتھی اسلم رئیسانی اور بلوچ علماء کیساتھ لاش کو اپنی قیادت میں وارثوں تک پہنچاتے تو افغان طالبان کہتے کہ پاکستان میں بھی جمعیت علماء اسلام کا بہت قابلِ فخر نیٹ ورک اور قیادت ہے۔ پیپلزپارٹی آتی۔ بلاول ، آصفہ اور آصف علی زرداری قیادت کا حق ادا کرتے ۔ اس لاش کو وارثوں تک باعزت پہنچاتے تو بینظیر بھٹو کے بلوچی گانے کا حق ادا ہوجاتا۔ منظور پشتین اور علی وزیر کی قیادت میںPTMکے باصلاحیت نوجوان آتے تو مظلوموں کا ساتھ دینے کا شرف مل جاتا۔ کوئی ایک بھی ایسی جماعت، شخصیت ، تنظیم ، رہنما اور قیادت نہیں جو اس سلسلے میں انسانیت کا حق ادا کرتا؟۔ بلوچ قوم کس چیز کیلئے آزادی مانگتے ہیں؟۔ ایک لاش کے معلوم وارثوں کیلئے بھی اپنے کارندے بروئے کار لاتے!۔ سیاسی جنگ میں جیل، لاشیں اور بہت کچھ ہوتا ہے لیکن یہ بلوچ غریب لڑکی غربت کی سزا کھارہی ہے؟۔اسلئے اس کا کوئی ولی وارث نہیں ہے؟۔ یہ پھر قوم پرستی نہیں کچھ اور ہے؟۔ حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمن اپنے کارندوں کو اس غریب کی لاش کیلئے نکالتے تو بہت اچھا ہوتا لیکن جن کو الیکشن جیتنا ہوتا ہے ان کی نظریں بہت محدود ہوتی ہیں۔ اگر تحریک لبیک والے نبی کریم ۖ کی ایک غریب امتی کی لاش کا درد لیکر نکلتے تو یہ بھی بہت بڑا انقلابی قدم ہوتا لیکن کہاں اور کس کی ایسی قسمت ہے؟۔
اگرMQMکے قائد الطاف حسین جوبن پر ہوتے تو متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت اور کارکنوں کو بھیج کر ضرور لاش کی حرمت کا پاس رکھتے۔ مہاجروں میں قربانی کا جو جذبہ ہم نے دیکھا، وہ کسی اور میں نہیں۔ ان کا ایمان اوراسلام دوسروں کے مقابلے بہترین ہے۔ جب مفتی محمد تقی عثمانی کی ہم نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی سرخی لگائی تھی تو ایم کیوایم کے بڑے ڈاکٹر فاروق ستار سے لیکر سیکٹر انچارج اور کارکنوں تک سب نے ایسے ایمانی جذبے کا ثبوت دیا تھا کہ دنیا کے طاقتور شخصیات کی فہرست میں2020میں نمبر1اور2022میں نمبر5آنے والے نے فوراً ہتھیار ڈال دیا تھا۔ کتابوں سے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی باتیں باہر نکالنے کا اعلان روزنامہ اسلام اخبار میں کردیا۔ ایم کیوایم نے یہ نہیںدیکھا کہ کون پشتون اور کون مہاجرہے۔ حق پرستی کا حق ادا کرتے ہوئے بانیانِ پاکستان کی اولادوں کے خلاف بھی ایک پشتون کا ساتھ دے دیا۔ حالانکہ جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان اور سارے فرقوں اور مذہبی جماعتوں نے بھی توہین مذہب کے حق مفتی محمدتقی عثمانی کیلئے نرم گوشہ رکھا ہوا تھا۔ کچھ تو پشی کرکے ہمارے منہ پر اپنی لتھیڑی ہوئی دُم بھی ماردیتے لیکن ایم کیوایم کی وجہ سے اپنی دُم انہوں نے گھسیڑ رکھی تھی۔ جب صالح قوتیں میدان میں نکلیں گی تو انسانیت کا بول بالا ہوگا۔ ہم نے ایسے لوگوں کی ہمتیں دیکھی ہیں کہ طالبان نے جنازے پر خود کش حملے کی دھمکی دیدی لیکن عوام نے ان کی پرواہ نہیں کی۔ جب سیاسی قیادت انسانیت کیلئے آجائے اور ملک کی معاشی صورتحال کو غریبوں کی حد تک درست کرلے تو یہ مظالم نہیں ہوں گے۔ پاکستانی بہت اچھے ہیں لیکن قیادت کا فقدان ہے۔ سیاسی قیادت اعلیٰ اقدار کو قائم کرنے کے شعور کا نام ہے۔ بلوچ قوم پر دل دکھتا ہے کہ عزت واقدار میں صف اول کا مقام رکھنے والی قوم کی بیٹی کو کیوں اس طرح بارکھان سے کوئٹہ لاکر ایدھی کے حوالے کیا گیا؟۔ پسِ پردہ کیا عوامل ہیں۔ سردار عبدالرحمن کھیتران اور اسکے بیٹے انعام شاہ اور محمد خان مری کی کیا دشمنی تھی ؟۔ جس نے بلوچ قوم کی تاریخ کابہت بڑا داغ کوئٹہ ، بلوچ، پاکستان اور مسلمانوں کے چہرے پر مل دیا؟۔اس مسئلے کا اجتماعی حل مظلوموں کیلئے خشت اول ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv