پوسٹ تلاش کریں

قرآن کی محکم اور متشابہ آیات

قرآن کی محکم اور متشابہ آیات

” ہم نے نازل کیا کتاب کوہر چیز کو واضح کرنے کیلئے”۔متشابہ بھی واضح کرتی ہے ۔ومن یشتری لھوالحدیث.. اور جس نے لھوبات خریدی تاکہ گمراہ کرے …(سوشل میڈیا کی ٹیم)

اللہ نے فرمایا :” میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی ،بیشک یہ قسم ہے اگر تم جان لو عظیم۔بیشک یہ قرآن کریم ہے، کتاب مکنون میں ہے ۔اس کو نہیں چھوسکتے ہیںمگر پاک لوگ۔ یہ نازل ہے رب العالمین کی طرف سے ۔توکیا تم اس حدیث کو چھپانے کے مرتکب ہورہے ہو؟۔اور تم اس کو اپنا رزق بناتے ہو؟۔بیشک تم ہی اس کو جھٹلاتے ہو”۔ الواقعہ آیات:75تا82

قرآن کی وجہ سے ہی قوموںمیں عروج وزوال ہوتا ہے۔ اللہ کے ذکر سے اطمینان ملتاہے لیکن ذکر سے مراد وظائف نہیں بلکہ قرآن ہے، صوفی خود دھوکہ کھاتاہے اور عقیدتمندوں کو بھی دیتا ہے ۔

حضرت علی نے فرمایا کہ ” اگر میں چاہوں تو سورۂ فاتحہ کی اتنی بڑی تفیسر لکھ دوں کہ چالیس اُونٹ اس کا وزن اُٹھائیں گے”۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر حضرت علی نے اس کی تفسیر کیوں نہیں لکھی؟۔ اس کا جواب حضرت علی نے یہ دیا ہے کہ ”لوگوں سے ان کی عقلی صلاحیت کے مطابق بات کرو”۔ جب قرآن کے متشابہات آیات کا تعلق زمانہ کے عروج سے تھا اور عروج کے بغیر لوگوں کی سمجھ میںباتیں نہیں آسکتی تھیں تو اس کے بتانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بلکہ الجھن مزید بڑھ سکتی تھی۔ رسول اللہ ۖ کے ساتھ عبداللہ بن عباس جب نماز پڑھنے کیلئے کھڑے ہوگئے تو نبیۖ نے اس کو اپنے ساتھ کھڑا کردیا۔ ابن عباس کچھ پیچھے ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ نبیۖ نے پوچھا کہ میں نے اپنے ساتھ کھڑا کیا اور آپ پیچھے ہوگئے؟۔ ابن عباس نے عرض کیا کہ مجھے ادب کا لحاظ ہوا، اسلئے تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” اللہ تجھے قرآن کی تأویل کا علم دے”۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سنت بن گئی کہ دو افراد باجماعت نماز پڑھیں پھر بھی مقتدی تھوڑا سا پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ آج زمانہ قرآن کی تفسیر کررہاہے لیکن جن لوگوں نے قرآن کی تفسیر کو اپنے رزق کا ذریعہ بنارکھا ہے وہ اس کو چھپانے کے مرتکب ہیں کیونکہ اگر انہوں نے عوام کو بتادیا تو ان کو اپنی روزی کا خطرہ لاحق ہوتاہے۔
اللہ نے ستاروں کی قسم کھاکر فرمایا کہ اگر تم جان لو تو یہ عظیم قسم ہے۔ ہماری کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں جس نے ایک لاکھ20ہزار نوری سال جگہ کو گھیر رکھا ہے۔ ایک سکینڈ میں روشنی جتنا فاصلہ طے کرتی ہے،ایک منٹ میں کتنا فاصلہ طے کرتی ہوگی؟۔پھر گھنٹہ میں اور ایک دن میں کتنا فاصلہ طے کرتی ہے؟، ایک سال میں کتنا فاصلہ ہوگا؟۔ ایک لاکھ بیس ہزار نوری سال کا اندازہ کتنا عظیم ہے؟۔ دوسری کہکشاں میں غالباً دوگنا فاصلہ سے بھی زیادہ ہے ، اس طرح پھر اربوں کہکشاں ہیں۔1986میں صفر کے مہینے میں ایک دمدار ستارہ دکھائی دیا تھا اور وہ ہر75سال کے بعد دکھائی دیتا ہے ۔ اس سال2023میں صفر کے مہینے میں پھر ایک دمدار ستارہ نمودار ہوا ہے جو5ہزار سال کے بعد نکلتا ہے۔ اگر ستاروں کے واقع ہونے کی جگہوں کا پورا رازمعلوم ہوجائے تویہ کتنی بڑی بات ہوگی؟۔ ہماری کہکشاں میں بلیک ہول وہ ستارے ہیں جن کی کشش ثقل ایسی مضبوط ہے کہ روشنی کو بھی کھینچ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو بلیک ہول یعنی کالا سوراخ کہا جاتا ہے۔ ہمارا سورج ایک بونا ستارہ ہے اور اس سے کئی گنا بڑے بڑے ستارے جب بلیک ہول کی رینج میں آتے ہیں تو بلیک ہول ان کو نگل لیتا ہے۔ چونکہ قرآن نے ستاروں کی قسم کو عظیم قرار دینے کیساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ”اگر تم جان لو ” جس کا مطلب یہی ہے کہ قرآن نے اس قسم کو آنے والے زمانہ کیساتھ ہی جوڑ دیا تھا۔ جتنی معلومات دستیاب ہیں ان سے بھی اس قسم کی عظمت کا احساس اچھی طرح سے ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔
اللہ نے قرآن کو کریم یعنی عزت والی کتاب قرار دیا ہے جو کتاب مکنون میں ہے۔ جس کو نہیں چھوسکتے مگر پاک لوگ۔مکنون کے معنی تکوینی امور کے ہیں اور قدرتی امور جیسے نظام شمسی اور کائنات کے دیگر قدرتی امور اور فطری معاملات ہیں ان کو تکوین کہتے ہیں۔قرآن میں محکمات آیات بھی ہیں اور متشابہات بھی۔ دونوں قسم کی آیات ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ہیں۔ مسلمان بہت بڑی بد قسمت قوم اسلئے بن چکی ہے کہ محکمات سے بھی ہم نے منہ پھیر لیا۔ متشابہات بھی زمانہ واضح کررہاہے لیکن ہم نے ان سے آنکھیں چمگادر کی طرح بند رکھی ہوئی ہیں۔
اللہ نے قرآن میں فرمایا : انزلنا الحدید ”ہم نے لوہے کو اُتارا”۔ پھر جدید سائنس نے واضح کردیا کہ ” لوہا نظام شمسی کے باہر کسی اور ستارہ سے زمین پر اترا ہے”۔ اگر لوہا اتر اہے تو سونا ، چاندی، ہیرے ،جواہرات، یاقوت، مرجان اور مختلف دھات، ماربل وغیرہ بھی دوسرے ستاروں سے آسکتے ہیں۔ جہاں پر لاتعدادجنت اور جہنم کا تصور ہوسکتا ہے۔ حضرت آدم و حواء جنت سے آئے اور حجراسود اور طاؤس بھی جنت کے ہوسکتے ہیں۔ سائنس نے بہت ترقی کرلی لیکن زمین پر زندگی کے آغاز میں اب بھی بچکانہ خیالات پڑھائے جاتے ہیں ۔اسلئے کہ بیالوجی میںAاورBنظریات فرضی ہیں کہ گوشت میں کیڑے پیدا ہوگئے اور پھر تجربہ کیا تو کیڑے کے انڈے مکھی کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ پہلے اس نظرئیے پر عمل ہوا کہ جاندار سے بے جان پیدا ہوتا ہے اور اب دوسرے نظرئیے پر عمل ہے کہ جاندار سے بے جان پیدا نہیں ہوتے ہیں؟۔ جب پہلا نظریہ غلط ثابت ہوگیا تو پھر اس کو کیسے صحیح مان لیا گیا کہ بے جان سے جاندار پیدا ہوا؟۔
قرآن نے بہت بنیادی بات کہی کہ وجعلنا من الماء کل شئی حی ” اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ بنایا”۔ پانی سے زندگی کے آثار ممکن ہیں۔ انسان کو تسخیرکائنات کا نظریہ بھی قرآن نے دیا۔ سورج ، چاند، بادل ، لوہا ، جانور اور مختلف چیزوں کا نام لیکر اس کی تسخیر کا ذکر کیا۔ نبی ۖ نے دجال میں مختلف صلاحیتوں کی خبر دی۔ بارش، سبزہ اور مویشیوں کے دودھ پر کنٹرول تک کا بتایا۔ قرآن میں پانچ چیزوں کو غیب کی چابی بتایا۔ ان اللہ عندہ علم الساعة و ینزل الغیث و یعلم ما فی الارحام وماتدری نفس ماذا تکسب غدًا وبای ارض تموت ”بیشک اللہ کے پاس ساعة کا علم ہے۔ بارش برساتا ہے ۔ جانتا ہے جو ارحام میں ہے۔ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کس زمین پر مرے گا”۔ پہلی چیز زمانے نے ثابت کردی کہ وقت کا علم غیب کی چابی ہے۔ دن رات سے پتہ چل گیا کہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے اور ماہ وسال سے پتہ چل گیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ نبیۖ نے معراج کے سفر میں کئی ماہ یا سال گزارنے کے بعد واپسی پر اپنا بستر گرم پایا ، کنڈی ہل رہی تھی تو مخالفین کی فضاؤں میں بھی ایمانی وقت کا ثبوت دیتے ہوئے جو دیکھا تھا جنت اور جہنم سب احوال بیان کردئیے۔ سورہ معارج میں اللہ نے فرمایا ” جس دن فرشتے اور روح چڑھتے ہیں تو اس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوتی ہے”۔ جس وقت کی پیمائش کو نبی ۖ نے غیب کی چابی قرار دیا تھا وہ قرآن وسیرت طیبہ میں موجود تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت کے ذریعے اس کو دو اور دو چار کی طرح ریاضی کے حساب سے بھی ثابت کردیا، غیب کی اس چابی سے علم کے کتنے دروازے کھلے ہیں؟۔ دوسری چیز بارش کا برسنا غیب کی چابی ہے۔ بارش سے آسمانی بجلی اور بجلی کی تسخیر سے دنیا میں علم کے کتنے روشن دروازے کھل گئے؟ ۔ تیسری چیز ارحام کا علم غیب کی چابی ہے۔ فارمی جانور، پرندے اور اناج پھل وغیرہ کے کمالات کے علاوہ ایٹم بم ، ایٹمی توانائی اور الیکٹرانک کی دنیا غیبی چابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور زمانہ قرآن وسنت کی تفسیر کررہاہے لیکن ہم سمجھنے کی طرف عام لوگوں کو توجہ اسلئے نہیں دلاتے کہ پھر ہمارے پاس قرآن فہمی کا کونسا کمال رہ جائیگا؟۔ ہم نے قرآن کے خاص مفہوم میں اپنی مہارت بیان کرکے اپنا رزق بنایا ہوا ہے اسلئے اللہ نے فرمایا کہ تم ہی اس کو جھٹلانے کے مرتکب ہو۔ ومن یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ ”اور جو فضول بکواس خریدتا ہے تاکہ اللہ کی راہ سے گمراہ کرے” کا آئینہ سیاسی جماعتوں اور اداروں کے زرخرید میڈیاکے نیٹ ورک ہیں۔ کتوں کادن رات بھونکنے کاتماشہ لگا ہے۔ قرآن کی ایک ایک آیت کی تفسیر مختلف شکل میں موجود ہے۔
کائنات مسلسل وسیع ہورہی ہے اور اس کی خبر بھی قرآن میں موجود ہے ۔ سائنسدان قرآن کے سائنسی حقائق دیکھ کر مسلمان ہورہے ہیں۔ غیر مسلم قرآن کی اخلاقی قدروں کو دیکھ کرمسلمان ہورہے ہیں لیکن مذہبی طبقات نے قرآن کا معاشرتی ڈھانچہ ایسا بگاڑ دیا ہے کہ خود مسلمانوں کے پاس قرآن کی کوئی قدرنہیں ہے۔ جمعہ کی نماز کا فرض ادا کرنے کیلئے لوگ جاتے ہیں لیکن مولوی کی تقریر نہیں سن سکتے ہیں اسلئے کہ اس میں کام کی کوئی بات نہیں ہوتی ہے۔ محکمات بھی ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ہیں اور متشابہات بھی ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ہیں۔ متشابہ آیات کا تعلق سائنس اور زمانہ سے ہے مگرہم نے محکم آیات کو بھی کچل دیا ہے۔
ایک شخص نے ابن عباسسے پوچھا کہ کسی کو قتل کیا تو معافی مل سکتی ہے؟۔ ابن عباس نے فرمایا کہ بالکل بھی نہیں!۔ اور آیات کا حوالہ دیا جن میں ایک مؤمن کو جان بوجھ کر قتل پر اس کی جزاء جہنم ہے اور ایک جان کو بغیر کسی جان یا فساد کے قتل کرنا تمام لوگوں کے قتل کرنے کے مترادف ہے۔ایک اور شخص نے یہی سوال کیا تو ابن عباس نے فرمایاکہ ہاں ! اللہ معاف کرسکتا ہے۔ شرک کے علاوہ کوئی گناہ بھی اللہ معاف کردیتا ہے اور وہ آیت بھی تلاوت کردی جس میں قتل اور زنا کے بعد توبہ کرنے والوں کو نہ صرف معاف کرنے کی خوشخبری ہے بلکہ ان کے گناہوں کو نیکی میں بدل دینے کی وضاحت بھی ہے۔
اہل مجلس نے ابن عباس سے پوچھا کہ سوال ایک تھا اور جواب دونوں آپ نے بالکل مختلف دئیے۔ ابن عباس نے فرمایا کہ ” پہلے شخص کا مستقبل میں قتل کا ارادہ تھا اور اس کا تقاضہ تھا کہ ان آیات کا ذکر کرتا جس سے وہ اپنے مذموم مقصد سے رُک جائے۔ دوسرے شخص نے قتل کیا تھا اور اس کا ارادہ توبہ کا تھا ،اگر اس کو پہلی والی آیات سناتا تو مایوس ہوکر قتل کا سلسلہ جاری رکھتا اسلئے جن آیات سے اس کی اصلاح کا تقاضا تھا وہ اس کے سامنے پیش کردیں ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ” نبی ۖ ، ابوبکر اور عمر کے ابتدائی3سال تک اکٹھی تین طلاق ایک شمار ہوتی تھی۔ پھر حضرت عمر نے اکٹھی3طلاق پر3کا فیصلہ جاری کردیا”۔ (صحیح مسلم) عبداللہ بن مبارک نے یہ روایت درست قرار دی ہے۔ دوسری طرف ابن عباس نے خود بھی اکٹھی3طلاق پر3کا فتویٰ دیا ہے۔ عام طور پر کم عقل لوگ اس کو قول اور فتوے کا تضاد سمجھتے ہیں لیکن عورت جب رجوع کیلئے راضی ہوتی تھی تو رجوع کا فتویٰ دیا جاتا تھا اور جب عورت صلح پر راضی نہیں ہوتی تھی تو رجوع کے خلاف فتویٰ دیا جاتا تھا۔ یہ قرآن کا واضح حکم ہے۔ کہ ” شوہر عدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں بشرط باہمی اصلاح چاہتے ہوں”۔ (البقرہ آیت228)۔ سورةالبقرہ آیت229،231،232اور سورة الطلاق آیت1اور2میں بھی معروف طریقے اور باہمی رضامندی سے عدت میں اور عدت کی تکمیل کے بعدرجوع کی گنجائش ہے اور باہمی صلح کے بغیر ایک طلاق کے بعد بھی رجوع کی گنجائش نہیں۔ آیت230البقرہ کا ابن عباس نے فرمایا کہ اس کا تعلق آیت229کیساتھ سیاق وسباق کے مطابق ہے۔ زادالمعاد میں علامہ ابن قیم نے باب الخلع جلد چہارم میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ آیت229میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دی جائے اور پھروہ دونوں اور فیصلہ کرنے والے رابطہ و صلح کا کوئی ذریعہ نہ چھوڑیں۔ جب صلح نہ کرنا چاہتے ہوں تو پھر شوہر کی طرف سے صرف غیرت کے نام پر ہی کوئی رکاوٹ ڈال سکتا ہے ، اسلئے شوہر کی دسترس سے باہر نکالنے کیلئے اللہ نے الفاظ کا استعمال تگڑہ کیا ہے اور اس کی صورت بہرحال تمام ان حالات میں بنتی ہے جن میں عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو۔ لیکن جب رجوع کیلئے راضی ہو تو پھر اللہ نے عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد بار بار ترغیب دی ہے۔
صحیح بخاری میں حسن بصری سے روایت ہے کہ بعض علماء کے ہاں حرام کہنا تیسری طلاق ہے جو کھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیںہے کیونکہ کھانے پینے کی اشیاء قسم کے کفارہ کے بعد حلال ہوتی ہیں اور بیوی حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوتی۔
بخاری میں ایک روایت چھوڑ کراس سے متصل ابن عباسکی روایت ہے کہ ” حرام کہنے سے کچھ نہیںہوتا نہ قسم اور نہ طلاق۔ یہ سیرت نبیۖ ہے”۔
نبیۖ نے ماریہ قبطیہ جب خودپر حرام قرار دی تو سورہ تحریم نازل ہوئی ۔ ابن تیمیہ کے شاگرد ابن قیم نے زادالمعاد میں حرام کے لفظ پر بیس اجتہادی اقوال نقل کئے کہ ” علی کے نزدیک 3 طلاق۔ عمر کے نزدیک ایک۔ عثمان کے نزدیک ظہار ……..”۔حالانکہ صحابہ نے قرآن کے برعکس لفظِ حرام پر ایسے متضاد اقوال کا اجتہاد کیسے کیا؟۔ بیوی راضی نہ تھی تو حضرت علی نے رجوع کا فتویٰ نہ دیااور بیوی صلح کیلئے راضی تھی تو حضرت عمر نے رجوع کا فتویٰ دیا۔کم عقل طبقے نے بعد میں حقائق کے منافی ان کے فتوؤں پر متضاد رنگ چڑھادیا۔
سورۂ تحریم کے شان نزول میں مولانا ابوالحسن علی ندوی نے لکھا کہ ” حضرت ماریہ قبطیہ کچھ فاصلے پر رہتی تھیں۔جب وہ آئیں تو نبیۖ نے حضرت حفصہ کے حجرے میں ان سے جماع کیا، جس پر حضرت حفصہ نے بہت سخت ناراضگی کا اظہار کیا، وہ غصے کی بہت تیز تھیں، حضرت عمر کی صاحبزادی تھیں۔ نبیۖ نے ان سے فرمایا کہ میں نے ماریہسے ہمیشہ کیلئے لاتعلقی اور اپنے اوپر حرام کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر اب یہ بات راز میں رکھو”۔ حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے اس کا ذکر کیا اور پھر دونوں نے نبی ۖ کیساتھ مذاق کا منصوبہ بنایا۔دیگر ازواج مطہرات سے بھی اس پر عمل کی گزارش کی۔ چنانچہ نبیۖ جس زوجہ کے پاس جاتے ، وہ کہہ دیتی کہ منہ سے برگد کی بو آرہی ہے۔ نبیۖ فرماتے کہ میں نے شہد کھایا ہے۔ جب تسلسل کیساتھ ایک ہی بات سامنے آئی تو نبیۖ نے شہد کو اپنے اوپر حرام کردیا۔ سورۂ تحریم میں حضرت عائشہ و حضرت حفصہ کی ڈانٹ ہے اور توبہ کرنے کا مطالبہ ہے کہ تم اللہ کے رسول کو شکست نہیں دے سکتی ہو اسلئے کہ اللہ ، جبریل اور صالح مؤمنین نبیۖ کے طرفدار ہیں۔ اگر تم نے توبہ نہیں کی تو نبیۖ کیلئے تم سے بہتر کنواری اور غیر کنواری عورتیں آسکتی ہیں۔
قرآن وسنت سے ایک سبق تو یہ ملا کہ شوہر کو اتنا تند خو اور بد مزاج نہیں ہونا چاہیے کہ بیگم مذاق کا تصور بھی نہیں کرسکے۔ دوسرا یہ ملا کہ جب جھوٹ تسلسل کے ساتھ بولا جاتا ہے تو شریف لوگ بھی غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تیسرا یہ ملا کہ حرام کے لفظ پر بعد میں جو کہانیاں بنائی گئی ہیں یہ علمی کتابی کیلئے ہدایت نہیں بلکہ گمراہی کا ذریعہ ہیں۔ چوتھا سبق یہ ملا کہ اللہ نے سچ فرمایا کہ ”رسول کہیںگے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔سورہ تحریم کی واضح آیت کو چھوڑ کر20متضاد اجتہادی اقوال پکڑنا کہاں کی دانش ہے؟۔
اجتہاد کسی متوازی دین کی اختراع کو نہیں کہتے ہیں۔ نبیۖ نے معاذبن جبل سے فرمایا :” لوگوں کے درمیان فیصلہ کس طرح کروگے؟۔ عرض کیا : قرآن سے !۔ نبیۖ نے فرمایا : اگر قرآن میں نہ ملے ؟۔ عرض کیا: نبیۖ کی سنت سے!۔ نبی ۖ نے فرمایا : اگر اس میں بھی نہ ملے تو؟۔ حضرت معاذ نے عرض کیا کہ پھر خود کوشش کروں گا؟۔ نبیۖ نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول ۖ کے رسول کو وہی توفیق بخشی جو وہ اس کو پسندہے”۔ عربی میں اجتہاد کا معنی کوشش کرنا ہے۔ قرآن میں اللہ نے طلاق کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کی اجازت دی ہے۔ صحابہ کرام نے اپنی طرف سے قرآن کے واضح حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجتہاد کے نام پر حلال وحرام کے تضادات میں خود کو ملوث نہیں کیا تھا ۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی ہوتی تو رجوع کا فتویٰ دیتے اور جب راضی نہ ہوتی تھی تو رجوع کو غلط قرار دیتے تھے۔ یہ کوشش قرآن کے مطابق تھی کوئی اجتہادی اختلافات نہ تھے۔
آج جامعہ دارالعلوم کراچی سے بھی حلالہ کے بغیر صلح کی صورت میں رجوع کا فتویٰ دینے کی خبریں ہیں لیکن تبلیغی جماعت آج تصاویر اور ویڈیو بنارہے ہیں اور نماز و آذان کا اہتمام لاؤڈ اسپیکر کے بغیر کررہے ہیں۔ اگر علماء پہلے سے فتویٰ جاری کرتے کہ دیوبند کا فتویٰ غلط تھا تو تبلیغی مشقت میں مبتلاء نہ ہوتے۔ حلالہ کے بغیر رجوع کا فتویٰ بھی میڈیا پر کھل کر سرے عام دینا چاہیے تاکہ عزتوں کے ڈھیر لگنے سے پہلے لوگ اپنی عزتوں کو محفوظ کرنے میں کردار ادا کریں۔قرآن کو صرف اپنے رزق کمانے کا نہیں بلکہ لوگوں کی عزتوں کا محافظ بناؤ۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے تمام مذہبی قائدین کے مقابلے میں ہمیں سب سے زیادہ عزت دی تھی لیکن انہوں نے یہ بات عوام میں پھیلا دی تھی کہ ” قرآن لوح محفوظ میں ہے ۔ ہمارے پاس جو قرآن ہے وہ اصل نہیں بلکہ فوٹو کاپی ہے۔ اسلئے کہ اس کو ہندو، یہودی اور سکھ وغیرہ ناپاک بھی ہاتھ لگاسکتے ہیں۔ اصل قرآن لوح محفوظ میں ہے جس کو فرشتوں کے علاوہ کوئی نہیں چھو سکتا ہے”۔ ہم نے ان پر واضح کردیا تھا کہ چھونے سے مراد ہاتھ لگانا نہیں ہے بلکہ جس طرح قرآن میں بیگم کو چھونے سے مراد مباشرت کرناہے اور بے عمل لوگوں کی مثال قرآن میں یہ ہے کہ ان کی مثال گدھا ہے جس نے ورق اٹھارکھے ہوں۔ پاک لوگ قرآن کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور یہی قرآن کو چھونا ہے۔ قرآن میں آیات محکمات ہیں اور دوسری متشابہات ہیں۔ محکم آیات تو بالکل واضح ہیں اور ان پر عمل کرنے سے انسانی معاشرہ عروج تک پہنچتا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ یورپ میں مسلمان نہیں ہے لیکن اسلام پر عمل ہے۔ برصغیرپاک وہند میں مسلمان بہت ہیں لیکن اسلام پر عمل نظر نہیں آتا ہے۔ یورپ اسلئے ترقی وعروج کی منزلیں طے کرتے کرتے کہاں تک پہنچ گیا؟ اور ہم بھیک مانگنے کی آخری حد کو پہنچ گئے ہیں اسلئے کہ20فیصد منافع پر بھی سود نہیں مل رہاہے۔ اس سے بچنے کیلئے اگر ہم دورِ جدید کے صوفی پروفیسر احمد رفیق اختر سے وظیفہ لیںگے تو وہ کہے گا کہ قرآن کہتا ہے کہ ” خبردار ! اللہ کے ذکر سے اطمینان ملتا ہے” ۔ (القرآن) حالانکہ اس آیت کے سیاق وسباق میں ذکر سے مراد کوئی وظیفہ نہیں بلکہ قرآن ہے۔ بڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ مچانے والے فوجی افسران ،سیاستدان اورصحافی پروفیسر صاحب سے ذکر کا وظیفہ پاکر سمجھتے ہیں کہ حرام کا مال ہضم کرنے کیلئے وظائف سے بھی ڈکاریں آتی ہیں بس انہی سے اطمینان مل جاتا ہے۔ قرآن کل حزب بما لدیھم فرحون ” ہرگروہ جس پر ہے خوش ہے”۔ ایسے خوشی اور اطمینان کی واضح الفاظ میں نفی کرتا ہے۔
اعمال صالح سے مراد نماز، روزہ ، حج اور عبادات نہیں ہیں بلکہ انسانی لحاظ سے حقوق اور فرائض ہیں۔ نماز کی ہر رکعت میں انسان اللہ کی تعریف بیان کرتا ہے اور اس سے صراط مستقیم کی ہدایت مانگتا ہے لیکن اس سے وہ بالکل غفلت میں ہوتا ہے۔ ایسے نمازیوں کیلئے تو قرآن میں ویل للمصلین ہلاکت کی اللہ نے خبر دی ہے۔جب تک ریاست اور حکومت کے ملازم اپنے فرائض اور عوام کے حقوق ادا نہیں کرتے ہیں تو پاکستان میں اعمال صالحہ کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ حافظ سید عاصم منیر آرمی چیف وہ روایتی نیک اور دیندار نہیں ہیں بلکہ حقوق و فرائض کے معاملے میں بہتر انسان ہیں جبھی تو اس عہدے تک پہنچے بھی ہیں اور پہنچنے میں آخری وقت بہت رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
حکومت، عدالت، صحافی اور سیاستدان آرمی چیف پر بوجھ نہ ڈالیں ،جب ان کو بھرپور سپورٹ مل جائے گی تو اپنے ادارے فوج کا وقار صاف کردار سے بحال کرنے میں مدد مل جائے گی۔ جنرل راحیل شریف نے پاک فوج سے جتنا ہوسکتا تھا کرپشن کا خاتمہ کردیا تھا جسکا کامریڈ لعل خان نے بھی اعتراف کیا تھا مگر وہ پانامہ لیکس کے بعد نوازشریف کے پارلیمنٹ میں جھوٹے بیان اور قطری خط کیساتھ کھڑا نہیں تھا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما ابصار عالم نے پاک فوج پر ادارے کی حیثیت سے جو الزامات لگائے ہیں وہ نوازشریف کے وزیراعظم کے دور ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر زیادہ ٹیکس جمع کرنے والی شخصیات کو ادارے تاوان کیلئے اغواء کرتے ہیں اور اس کا کیس سپریم کورٹ میں بھی چل رہاہے تو اس پر گرفت ہونی چاہیے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس نوازشریف، زرداری اور عمران خان نے اقتدار میں آنے کے باوجود بھی کچھ نہیں کیا تو پھر ان سے کون کیا توقع رکھے گا؟۔ نوازشریف نے باہر بیٹھ کر جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ عمران خان اور زرداری وغیرہ بھی اس جرم میں شریک تھے۔ جسٹس کھوسہ نے پارلیمنٹ کے کورٹ میں گیند پھینکا تھا۔ مریم نواز نے عدلیہ اور فوج کو رائیونڈ کا مرغی فارم سمجھا ہے۔ یہی حال عمران خان کے یوٹیوبرز کا ہے۔ اداروں کو ٹھیک ہونا چاہیے مگربے توقیری کا نقصان ملک، قوم اور سلطنت سب کو ہوگا۔ نظام ناکام ہوچکا ،اس کو خوش اسلوبی سے بدلنا ہوگا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ پر آج جتنے الزامات لگائے جارہے ہیں ،اگر اس کی ایکسٹینشن ہوجاتی تو پھر اس کو سب اپنا باپ قرار دیتے۔ اگر اس نے غلط کیا ہے تو سب سے زیادہ علی وزیر کا نام ہے؟۔ علی وزیر نے جو تقریر کی تھی وہ دوبارہ کرکے دکھائے۔ امجد شعیب کی گرفتاری صرف اس بات پر عمل میں لائی جاتی ہے کہ عمران خان کو سیاسی تجویز پیش کی ۔ علی وزیر نے تو بندوق سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ اگر باجوہ نے یہ کہا تھا کہ علی وزیر کے اڈے کا مسئلہ ہے تو ہم نے اس بات کو ہدف تنقید بنایا تھا لیکن اب پتہ چلا ہے کہ وانا میں علی وزیر کی مارکیٹ کے قریب ایک کرنل شہید کیا گیا تھا جس کی وجہ سے مارکیٹ گرادی گئی۔ فوج تو یہ کام کرتی ہے ۔
علی وزیر کامنظور پشتین اور محسن داوڑ کے مقابلے میں مؤقف زیادہ سخت تھا اور اس کو جنرل باجوہ نے مارکیٹ یا لاری اڈے سے جوڑا تھا تو غیر معقول بات نہیں تھی۔ اعظم سواتی ، شہباز گل، صحافی شاہداسلم اور جنرل امجد شعیب کیساتھ جو کچھ ہوا ہے اس میں علی وزیر کی تقریر کے مقابلے میں ان کے جرائم کچھ بھی نہیں تھے۔ صحافی شاہد اسلم پر تو صرف جنرل باجوہ کا آفیشل ڈیٹا لیک کرنے کا الزام تھا جس کو انعام بھی دینا چاہیے تھا کہ بروقت بتادیا۔ حالانکہ اس نے الزام کو مسترد کیا ہے۔ لیکن جس بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس کو داد نہیں ایوار ڈ ملنا چاہیے۔
سورہ رحمان میں اللہ نے فرمایا کہ ” اس نے آسمان کو اٹھایا اور میزان قائم کیا پس میزان میںسرکشی مت کرو، وزن کو قائم کرو اور میزان میں خسارہ مت کرو” ۔
کائنات کے توازن کو اللہ نے قائم کیا ہے اور دنیا کے عالمی نظام کا توازن انسانوں نے برقرار رکھنا ہے۔ نبیۖ نے ریاست مدینہ میں یہودونصاریٰ، منافقین اور نبوت کے دعویدار ابن صائد کیساتھ میثاق مدینہ میں توازن کا نظام برقرار رکھا تھا۔ جب تک آخری حدوں کو پار نہیں کیا تو ان کو برداشت کرتے تھے اور مشرکینِ مکہ کیساتھ صلح حدیبیہ میں توازن کا معاہدہ کیا تھا۔ توازن کی بدولت سے مسلمانوں نے دنیا کی سپر طاقتوں کو ختم کیا تھا۔جسٹس عمر عطابندیال نے اس وقت بھی اچھا کیا تھا جب عمران خان وزیراعظم بن کر ریاست کے نظام کو چیلنج کر رہے تھے اور آج بھی اچھا کیا کہPDMکو آئین سے بھاگنے نہیں دیا ہے۔
مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ پر حملہ، جسٹس قیوم کو خرید کر اتنا نقصان اس ریاست کو نہیں پہنچایا جتنا آج عدالت کے حکم کی غلط تشریح سے پہنچارہی ہے۔ فائز عیسیٰ کی بیگم کے نام پراپرٹی اور نوازشریف کا پارلیمنٹ میں بیان و قطری خط کے حقائق کو زر خرید میڈیا کے ذریعے سے بدلنے کی کوشش نظام کو لے ڈوبے گی لیکن ہمیں اس نظام سے کیا لینا دینا اور کیا ہمدردی ہوسکتی ہے؟۔ البتہ غلط کو غلط اور درست کو درست کہنا ایک مجبوری ہے۔ جس کو اسلام اور انسانیت کا اہم تقاضہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں سیاسی جماعتوں کے مفادات کی جنگ کی افادیت سے بھی کوئی انکار نہیں ہے۔ اگر آج سپریم کورٹ پر دباؤ نہ ڈالنا ہوتا تو ابصار عالم ، کامران خان اور نئے دور کا غازی کب فوجی افسران کی اس کرپشن کا ذکر کرتے جنہوں نے بقول ان کے ٹیکس کی ادائیگی دیکھ کر اغواء برائے تاوان کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس میں جو بھی ملوث ہو اور کورٹ کو جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔
جنرل امجد شعیب کو براڈ شیٹ میں زیر تفتیش لانے کی ضرورت تھی اسلئے کہ قوم کا بہت پیسہ ضائع ہواتھا اور قصورواروں کا اتہ پتہ نہیں چل سکا۔ ملک ریاض کو ساڑھے پانچ سو ارب معاف کرنے کا قصہ کیا ہے ؟۔ اس کو بھی منظر عام پر آناچاہیے۔ جن لوگوں نے دعا زہرہ کیس میں اغواء کے جھوٹے پروپیگنڈے کئے تھے ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے شہباز شریف سے پوچھ لینا چاہیے کہ نوازشریف کی ضمانت دی تھی اور اب وزیراعظم بھی بن گئے ہو اور اپنی مرضی کا آرمی چیف بھی لائے ہو۔ جس کو چور اور ڈاکو کہتے تھے اس زرداری کو لٹکانے کی جگہ تم خود کہاں لٹک گئے ہو؟۔ عمران خان سے پہلے نوازشریف کی طرف سے ڈھیروں قرضے نے ملک کو ڈبودیا تھا۔ عمران خان نے نہلے پر دہلہ کیا تھا اورPDMنے قوم کو قربانی کاچیلہ بناکر دہلے سے بھی بدتر کردیا۔ اللہ اس قوم کو قرآن کی طرف جانے پر آمادہ کرکے انقلاب برپا کردے۔ آمین ثم آمین

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمةاللہ علیہ جنہوں نے ناموس رسالت کیلئے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیاتھا۔

امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمةاللہ علیہ جنہوں نے ناموس رسالت کیلئے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیاتھا۔

__ آپکابیٹا آج شام تک کا مہمان ،علاج نہیں!__
ڈاکٹر کے یہ الفاظ سن کر مولانا روپڑے اپنے بیٹے کو گھر لے آئے ۔گھر میں کھڑے اپنے بیٹے کی تیمارداری کررہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ مولانا دروازے پر گئے ،باہر ایک بوڑھے شخص کو کھڑے پایا حضرت نے سلام و دعا کے بعد پوچھا بابا جی خیریت سے آئے ہو؟۔وہ کہنے لگا خیریت سے کہاں آیا ہوں ہمارے علاقہ میں ایک قادیانی مبلغ آیا ہوا ہے وہ لوگوں کو گمراہ کر رہاہے۔امت گمراہ ہو رہی ہے اور آپ گھر میں ہیں!۔ مولانا نے جیسے ہی یہ بات سنی آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔بیوی سے فرمایا بی بی میرا بیگ کہاں ہے؟۔ بیوی نے بیگ اٹھا کر دیا۔ آپ بیگ ہاتھ میں پکڑے گھر سے روانہ ہونے لگے، بیوی نے دامن پکڑ لیا اور کہنے لگی۔مولانا!آخری لمحات میں اپنے نوجوان بیٹے کو اس حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہو؟۔ مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور رو کر روانہ ہونے لگے تو جاں بلب بیٹے نے کہا:ابا جان !میں آج کا مہمان ہوں چند لمحے تو انتظار کر لیجئے میری روح نکل رہی ہے، اس حال میں چھوڑ کر جا رہے ہو؟۔مولانا نے اپنے نوجوان بیٹے کو بوسہ دیا۔ رونے لگے اور فرمایا:اے بیٹے! بات یہ ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خاطر جا رہا ہوں، کل قیامت کے دن حوض کوثر پر ہماری تمہاری ملاقات ہو جائیگی۔یہ فرمایا اور گھر سے روانہ ہو گئے ۔ اڈے پر پہنچے ابھی بس میں بیٹھے ہی تھے کہ چند لوگ دوڑے آئے اور کہنے لگے۔مولانا!آپکا بیٹا فوت ہو چکا ہے اس کا جنازہ پڑھاتے جائیے! مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور رو کر فرمانے لگے۔جنازہ پڑھانا فرض کفایہ ہے اور امت محمدیہ کو گمراہی سے بچانا فرض عین ہے فرض عین کو چھوڑ کر فرض کفایہ کی طرف نہیں جاسکتا۔پھر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ اس علاقے میں پہنچے اللہ تعالی نے کامیابی عطا کی وہ قادیانی مبلغ بھاگ گیا ۔ مولانا تین دن کے بعد گھر واپس پہنچے۔بیوی قدموں میں گر گئی اور رو کر کہنے لگی مولانا!جب آپ جا رہے تھے تو بیٹا آپ کی راہ تکتا رہا اور کہتا رہا۔ جب ابا جان واپس آئیں تو انھیں میرا سلام عرض کر دینا۔مولانا نے جب یہ سنا تو فوراً اپنے بیٹے کی قبر پر گئے اور دعا مانگنے لگے۔اے اللہ !ختم نبوت کے وسیلے سے میرے بیٹے کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے۔مولانا دعا مانگ کر گھر واپس آئے تو رات بیٹے کو خواب میں دیکھا۔ بیٹے نے اپنے ابا سے ملاقات کی اور کہاکہ:رب محمد ۖ کی قسم! ختم نبوت کے وسیلے سے اللہ تعالی نے میری قبر کو جنت کا باغ بنا دیا ہے۔ ختم نبوت کے اس مجاہد کو دنیا حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحم اللہ کے نام سے جانتی ہے …..”۔
ایسے تھے ختم نبوت کے مجاہد عظیم جنہوں نے ناموس رسالت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔۔۔اللہ جل شانہ ہم سب کو ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام کرنیکی توفیق عطا فرمائے۔!الٰہی آمین یا رب العالمین۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلام نے دنیا میں انسانیت کی بنیاد پر انقلاب برپا کردیا تھا اور آج ہمارا خطہ پاکستان سے پھر طرزنبوت کی خلافت کا خواہاں ہے۔ آئیے ہم مل کر آغاز کریں ۔

اسلام نے دنیا میں انسانیت کی بنیاد پر انقلاب برپا کردیا تھا اور آج ہمارا خطہ پاکستان سے پھر طرزنبوت کی خلافت کا خواہاں ہے۔ آئیے ہم مل کر آغاز کریں ۔

جب اسلام دنیا میں آیا تھا تو حجاز مقدس میں اس وقت کسی کی بھی کوئی ریاست اور حکومت نہیں تھی لیکن یہ بات تاریخ کی ایک حقیقت ہے کہ جب رسول اللہ ۖ پر اسلام کے نزول کی تکمیل ہوئی اور آپۖ اس دنیا سے عالم برزخ کی طرف انتقال فرماگئے تو خلافت راشدہ کے زمانے میں مشرق ومغرب کی سپر طاقتوں کو ہم مسلمانوں نے شکست دی تھی۔ اگرحضرت عثمان کی المناک شہادت کے بعد عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، ام المؤمنین حضرت عائشہکے بعد خوارج کی حضرت علی سے جنگیں نہ ہوتیں تو ممکن تھا کہ خلفاء راشدین مہدیین کے بعد خاندانی امارت اور بادشاہت میں سلطنت اسلامیہ نہ بدلتی۔ جو کچھ بھی ہوا ہے، کیا فرقے بن گئے، کیا احادیث اور تاریخ کے اختلافات ہیں اور کیا مسالک کے معاملات ہیں؟۔ یہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ اب ہم نے آگے کرنا کیا ہے ؟۔ اس کیلئے سوچ وبچار کی سخت ضرورت ہے۔
پاکستان میں دیوبندی بریلوی حنفی مکتب کی اکثریت ہے جو بخاری کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھتے ہیںجس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بعد صحیح ترین اور مستندترین کتاب صحیح البخاری ہے۔ نماز میں تمام مسالک مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری ، وہابی اور اہل حدیث وغیرہ رکوع میں جاتے اور اٹھتے ہوئے رفع الیدین کرتے ہیں اور صحیح بخاری میں غالبًا17روایات ہیں۔ جن میں رفع الدین کا ثبوت ہے لیکن حنفی پھر بھی اپنے مسلک کو نہیں چھوڑتے۔ حالانکہ رفع الدین کا عقیدے ، اجتہاد اور تقلید سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک روش ہے جس پر ایکدوسرے کو دیکھ کر آباء اوجداد سے ہم چل رہے ہیں۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں میرے ساتھ ایک استاذ محمدانور صاحب گئے تھے۔ جو اہلحدیث تھے اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے۔ جب لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے رفع الید ین کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ کیا یہ شیعہ ہیں؟۔ میں نے کہا کہ نہیں سنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر نماز میں ناچ کیوں رہاہے؟۔ میں نے بتایا کہ ” حرم کے امام بھی نماز میں اسی طرح رفع الیدین کرتے ہیں”۔ عربی مقولہ ہے کہ انسان جس چیز کو نہیں جانتا ہے اس کا دشمن ہوتا ہے۔
جب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتا تھا تو کچھ طلبہ نے بتایا کہ ”اہلحدیث کے مدرسے جامع ابی بکر سے کچھ طلبہ آتے ہیں اورہمارے پاس ان کی باتوں کا جواب نہیں ہوتا ۔ آپ ان سے بات کریں”۔ اہلحدیث کے طلبہ نے20رکعت تراویح پر بات کی تو میں نے عرض کیا کہ نبیۖ نے باجماعت تراویح کیلئے اس طرح اہتمام فرمایا؟، تو پھر آپ لوگ کیوں کرتے ہیں؟۔ ہم تو20تراویح باجماعت کو حضرت عمر کے دور کی سنت سمجھتے ہیں اور نبیۖ نے فرمایا : علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین” تم پر میری سنت اور ان خلفاء کی سنت لازم ہے جو صاحب رشد مہدی ہیں”۔آپ لوگ ایک طرف حضرت عمر کی سنت کو بدعت سمجھتے ہیں اور دوسری طرف تراویح باجماعت کی بدعت کو اپنائے ہوئے ہیں؟۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور وہ اپنے اساتذہ سے جواب لینے کا کہہ کر گئے تھے مگر واپس نہیں کبھی نہیں آئے۔
حنفی اور اہل حدیث بھی اپنے اپنے ماحول کے مقلد ہیں اور اہل تشیع بھی۔ مذہبی معاملے کے علاوہ ہمارا سیاسی ماحول بھی تقلید اور وکالت کا ہے۔ جن جن سیاسی جماعتوں سے جس جس کی وابستگی ہے وہ اپنی جماعت کی وکالت کا وطیرہ اپنا فرض سمجھتا ہے جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت مذہبی طبقات اور سیاسی جماعتوں سے بہت بدظن ہے۔ الیکشن میں بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں اور ووٹ ڈالتے وقت یہ بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ کس پارٹی کو ووٹ ڈالنے سے کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوگا؟۔ پاکستان کو آزادی کے بعد ورثہ میں ریاست ملی تھی۔ فوج، عدلیہ، سول بیوروکریسی کی انتظامیہ اور پارلیمنٹ لیکن ہم نے ان کل پرزوں سے ترقی کرنے کے بجائے تنزلی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ ایک ایسی سیاسی پارٹی کی ضرورت کا احساس ہوگیا ہے جو اپنی مقبولیت کیلئے نظام سے لڑنے کا نعرہ لگانے کے بجائے نظام کو بہت زبردست اللہ کی نعمت سمجھے اور دوسروں سے نفرت کے جذبات اجاگر کرکے اپنی مقبولیت کی بلڈنگ کھڑی کرنے کے بجائے مثبت انداز میں دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف اور خامیوں پر تنقید کرے اور اپنی اصلاحِ احوال پر بہت زیادہ زور دیکر رول ماڈل بن جائے۔

(نوٹ: مکمل آرٹیکل پڑھنے کیلئے ”اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اس کے بنیادی نکات” پڑھیں۔ )

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلامی معاشی نظام ۔ محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری کے قلم سے

اسلامی معاشی نظام ۔ محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری کے قلم سے

سرمایہ دارانہ واشتراکیت میں اسلام کا معاشی نظام میزان عدل ؟
سرمایہ داری یا عیش پرستانہ وہ معاشی نظام ہے جو امریکہ و یورپ اور اسلامی ممالک میں ہے

جس کا مقصد وحید یہی ہے کہ ساری دنیا کی دولت کو اپنے خزانوں میں سمیٹ لیں اور عیش و نشاط کے سارے وسائل اور اللہ کی دی ہوئی نعمت پر چند تاجروں اور بینک کے حصہ داروں کا قبضہ ہو

بیشک یہ صحیح ہے کہ اشتراکی نظام عام انسانوں کے پیٹ بھرنے کیلئے چارہ جوئی کرتا ہے لیکن اس کی یہ تفریط ہے کہ انسانوں کو صرف پیٹ سمجھا اور اسی مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ بنادیا ہے۔

دنیا کے دماغوں پر اشتراکیت کا مسلط ہونا اس کا حسن و جمال یا اس کا کمال نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی وہ نفرت انگیز قباحت ہے جس نے اشتراکیت اور اشتمالیت میں کمال پیدا کیا۔

اسلام کا معاشی نظام:: محدث العصر حضرت علامہ سیدمحمد یوسف بنوری
اسلام کے مدمقابل اس وقت دونظام مملکت یا نظام معیشت ہیں، جو ساری دنیا کو دو حصوں میں بانٹ چکے ہیں۔ نظام اسلام یا دین اسلام وہ قدیم نظام ہے ،جس کا سرچشمہ غارِ حرا سے نکل کر آگے سمندر بن گیا اور اب تک دنیا کو اپنے فیض سے سیراب کررہا ہے۔ اسلام صرف مادی نظام نہیں ،بلکہ وہ ایک مکمل ترین پیغام الٰہی ہے ،جو قرآن کی شکل میں نمودار ہوا اور نبی کریم محمد مصطفیۖ کی صورت میں جلوہ گر ہوا۔ عقلائے عالم کا دلوں سے، زبانوں سے ،کتابوں سے اور اخبارات سے اس کا اعتراف ہے کہ قرآن کریم جیسا مکمل نظامِ حیات اور ذاتِ مصطفی محمد رسول اللہ جیسا کامل ترین رہنمائے انسانیت پیدا نہیں ہوا۔اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ حق تعالیٰ کا آخری پیغام نجات ہے۔ ہردور، ہر ملک اور ہرقوم کے لئے اس میں ہدایت و فلاح ہے اور سعادت دارین کا بھی سرچشمہ ہے۔ مادی وروحانی، شخصی واجتماعی، اقتصادی ومعاشی ، سیاسی وملکی ضرورتوں کا کفیل ہے۔ اور اس کا دامن ایسے بیش بہا جواہرات سے پُر ہے کہ ساری دنیا کی تہی دامنی کے افلاس کا علاج اس کے خزانۂ عامرہ سے ہوسکتا ہے۔ ایک ایسا صالح نظام جو بنی آدم میں عدل وانصاف ، سکون وراحت اور معاشی خوشحالی پیدا کرتا ہے۔ اس کو ایسا ہادی برحق ۖ لایا جس نے اس پر خود عمل کیا اور کروایا اور ایسے چند جانشین چھوڑے جوانکے صحیح نمونہ تھے۔اور تاریخ عالم ان مبارک عہدوں کو عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے نام سے یاد کرتی ہے۔
اسلام نے جس سرزمین میں آنکھیں کھولیں ،وہاں اخلاقی پستی اور مذہبی تزلزل کیساتھ معاشی پستی انتہاء درجے کی تھی۔ سیاسی اعتبار سے انارکزم وطوائف المکوتی کا دور دورہ تھا۔ دائیں بائیں دوسرمایہ دارانہ نظام مملکت تھے۔ ایک بیزنطی روما کی حکومت ، دوسری ایرانی کسروی مملکت ، ان میں عیش ونشاط وترفہ وتنعم ، مال ودولت کی فراوانی کا چرچا تھا۔ان دونوں نظاموں کے اندر صرف اسلام نے ایک نقطۂ اعتدال پیدا کیا ۔ جس طرح اسلام کا نظام حکومت ڈکٹیٹر شپ اور ڈیموکریسی کی درمیانی حد اوسط ہے۔ ٹھیک اسی طرح نظام معیشت میں ایک صراط مستقیم رکھتا ہے، جو افراط وتفریط دونوں سے پاک ہے۔اشتراکیت یاسوشلزم کارل مارکس ولینن وغیرہ کے نظام معیشت ہیں، جن میںاب تک محو واثبات کا عمل جاری ہے۔ ماسکو اس کا مرکز ہے اور دنیا پر چھارہاہے اور دنیا میں شاید کوئی ایسا ملک نہ ہوگاجہاں اس کے ہم نوا نہ ہوں۔ سرمایہ داری یا عیش پرستانہ حکومت وہ معاشی نظام ہے جو امریکہ ویورپ کے اکثر ممالک میں جاری ہے اور موجودہ اسلامی ممالک میں بھی یہی نظام ہے۔ جس کا مقصد وحید یہی ہے کہ ساری دنیا کی دولت کو اپنے خزانوں میں سمیٹ لیںاور عیش ونشاط کے سارے وسائل واسباب پر قبضہ کرلیںاور اللہ کی دی ہوئی نعمت کو صرف چند تاجروں، زمین کے مالکوں، بینک کے حصہ دار وں اور فیکٹریوں کے مالکو ں میں محدود کرکے انہیں کے پیٹ کو بھریں، ان کی بلا سے عام خدا کی مخلوق کسی حالت میں ہو۔ در حقیقت اس سرمایہ دارانہ ذہنیت نے سوشلزم کوپھولنے اور پھلنے کا موقع دیا۔ دنیا کے دماغوں پراشتراکیت کا مسلط ہونا اس کاحسن وجمال یا اس کا کمال نہیں ہے، بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی وہ نفرت انگیز قباحت ہے، جس نے اشتراکیت اور اشتمالیت میں کمال پیدا کیا۔
بیشک یہ صحیح ہے کہ اشتراکی نظام عام انسانوں کے پیٹ بھرنے کیلئے چارہ جوئی کرتا ہے لیکن اس کی یہ تفریط ہے کہ انسانوں کو صرف پیٹ سمجھااور اسی مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ بنایااور اس کو اس قدر اہمیت دی کہ مذہب واخلاق، تمدن وتہذیب ، صلح وجنگ،دنیا کے سارے وقائع وحوادث کی بنیاد اسی پیٹ پر رکھی گئی۔ بلاشبہ ہم مانتے ہیں : ”ان الانسان لیطغٰی ان راٰ ہ استغنٰی ”یقینا انسان جب مالدار بنتا ہے تو سرکش بنتا ہے۔دولت کی طغیانی سے نبی کریمۖ نے پناہ مانگی ہے اور ایک موقع پر نبی کریمۖ نے فرمایا” خدا کی قسم مجھے تمہارے فقروافلاس کا اندیشہ نہیں لیکن یہ خطرہ ضرورہے کہ مال ودولت کی فراوانی تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسے تم سے پہلے لوگوں میں ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس میں تم بھی منہمک ہوجاؤگے، جیسے وہ ہوئے وہ تمہیں بھی تباہ وبرباد کرے گی جیسے وہ تباہ وبرباد ہوگئے۔ (بخاری،کتاب الجہاد)مال کی فراوانی بہت سی گمراہیوں کی جڑ ہے لیکن اسلام نے مال حلال کو اللہ تعالیٰ کا فضل بتایا، صحیح ذرائع سے حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ عین حج بیت اللہ کے موقع پر بھی تجارت پر پابندی نہیں لگائی کیونکہ سعی وکسب کے بغیر کوئی مسلمان زندہ ہی نہیں رہ سکتا ، لیکن اسلام اور قرآن کی رو سے جو شخص جتنا زیادہ کمائے گا ، اتنا ہی زیادہ انفاق پر بھی مأمور ہوگا،اسلئے افراد کی کمائی جتنی بڑھتی جائے گی ، اتنی ہی زیادہ جماعت کی اجتماعی خوشحالی ہوتی جائے گی۔ بہرحال اسلامی قانون سے جتنا زیادہ مالدار ہوگا ،اتنے اس پر زیادہ حقوق ہوں گے، اتنی ہی اس کی مشغولیت بڑھ جائے گی۔
اسلام کا معاشی نظام :
برادرانِ اسلام! جہاں تک اسلام کے معاشی نظام کا تعلق ہے ،اس مختصر خطبہ میں اس کی گنجائش نہیں۔ اس وقت صرف اسلامی نظام معاش کی بنیادی پالیسی کو پیش کیا جاسکتا ہے ، جس کے پیش نظر اسلام کے معاشی نظام کی تفصیلات ہیں اور توقع ہے کہ اس کی وضاحت سے بڑی حد تک اسلام کا پورا معاشی نظام روشنی میں آجائے گا۔
اسلام کی معاشی پالیسی:
اسلام کی معاشی بنیادی پالیسی یہ ہے کہ سوسائٹی کا کوئی فرد اس معاشی سرو سامان اور ضروریات زندگی سے محروم نہ رہے، جسکے بغیر عام طور پر انسان کا زندہ رہنا مشکل ہواور جو حقوق وفرائض اس پر واجب ہوتے ہیں،اُن سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو، نیز عدل کی بنیاد پر ہر شخص کیلئے معاشی لحاظ سے ترقی کے تمام راستے کھلے ہوئے ہوں ۔اسلام کے نزدیک یہ چیز بالکل باطل ہے کہ سوسائٹی کے بعض افراد کے پاس توسامان معیشت ضرورت سے کہیں زیادہ ہو لیکن دوسروں کے پاس اتنا بھی نہ ہو جو جسم وروح کے تعلق کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے، ایک طرف دولت کی فراوانی وبہتات ہو ، عیش ونشاط کی محفلیں قائم ہوں۔ ساز وسرود ، جنگ ورباب سے فرصت نہ ہو۔ دوسری طرف افراد نان شبینہ کیلئے محتاج ہوں۔ نہ بدن ڈھانکنے کیلئے پارچہ موجود ہو ، نہ سر چھپانے کیلئے چھپر ہو،یہ طبقاتی آسمان وزمین کا تفاوت اسلام پسند نہیں کرتا، اسلام ہرگز نہیں چاہتا کہ دولت کی گردش صرف قوم کے چند اغنیاء کے قبضہ میں محدود ہوکر رہ جائے، باقی سب محروم ہوں، بلکہ اس کا منشاء تویہ ہے کہ دولت کی گردش پورے معاشرے میں ایک صحیح توازن سے ہو۔ تاکہ تمام افراد نفع حاصل کرسکیں۔ : ”کیلا یکون دُولة بین الاغنیاء منکم ”میں اس طرف اشارہ بلکہ تصریح ہے۔ایسا نہ ہو کہ اغنیاء تو مزیں لوٹیں اور فقراء ومساکین فاقوں سے مریں۔
اسلام یہ جائز نہیں رکھتا کہ ملک کے تمام ذرائع آمدنی اور مواقع کار صرف چندافراد کی اجارہ داری میں ہوںاور وہ جس طرح چاہیں ان سے فائدہ اٹھائیں اور دوسرے افراد یکسر ان سے محروم ہوں۔ اسلام کے نظریہ کے مطابق سوسائٹی کے ہر فرد کو اس کی صلاحیت اور فطری قابلیت کے مواقع فراہم ہوںکہ اپنی محنت یا خدمت سے ایسا معاوضہ حاصل کرسکے، جس سے اس کی ضروریات زندگی سادے طریقے سے پوری ہوسکتی ہوں اور جیسے جتنا جس کاکام ہو اس کے مطابق اس کو اس کامعاوضہ ملے۔اسلام اس مساوات کا قائل نہیں کہ دنیا کا اعلیٰ ترین دماغ اپنی خداداد دماغی کاوشوں اور فطری صلاحیتوں سے جو چیز حاصل کرسکے، ایک دیوانہ بے وقوف بھی اسی درجہ کا اس میں شریک ہو۔ قدرت نے اپنی تکوینی حکمت ربانیہ کے مطابق جس طبعی تفاوت اور تفاضل رزق کو باقی وبرقرار رکھا ہے درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری ہوگی۔ اس لئے فرمایا:” اللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق فما الذین فضلوا برآء دی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم فھم فیہ سوآء افبنعمة اللہ یجحدون ”۔ ترجمہ :” اللہ تعالیٰ نے بعض افراد کو بعض پر روزی میں بڑائی دی، پس جن کو بڑائی دی وہ نہیں لوٹاتے اپنی روزی ان کو جن کے یہ مالک ہیں( اپنے غلاموں اور باندیوں کو ) کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں، کیا اللہ کی نعمت کے منکر ہیں”۔
جو افراد محنت و کمانے سے معذور ہیں، بچے ہیں، بوڑھے ہیں، مریض ہیں اور ان کے پاس ضروریات زندگی کیلئے مال موجود نہیں، ان کا انتظام وکفالت حکومت کے بیت المال سے کیا جائے ۔ الغرض اسلام کا منشاء یہ ہے کہ معاشرہ کے ہر فرد کو تمام مادی چیزیں بقدر ضرورت میسر آئیں ،جن کے بغیر اس کی زندگی مشکل ہویا فرائض و حقوق کی ادائیگی سے عاجز ہو۔ اس مقصد کے اسلام نے جو معاشی اصول مقرر کئے ہیں،اگر ان کو مکمل طور پر عملی شکل دی جائے تو نہایت معتدل ومتوازن معاشی نظام وجود میں آتا ہے جس میں مذکورہ بالا تمام اوصاف پائے جاتے ہیں۔ یہاں پر مناسب ہوگا کہ ان میں چند ایک نہایت اہم بنیادی اصول پیش کئے جائیں، جن سے اندازہ لگ سکے گا کہ ان پر عمل کرنے سے معاشی مشکلات کیسے حل ہوسکتی ہیں۔
الف…….قدرت نے کائنات کے اس نظام میں جو منافع رکھے ہیں، وہ انسان کوان سے برابر منتفع ہونے کا برابر حق دیتے ہیں، کسی انسان کو ان سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ قرآن کی متعددآیات سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے۔
ب……. کوئی شخص اگر ان قدرتی منافع کو اپنے تصرفات میں لائے اور اس کے ساتھ اپنی محنت وکسب کے اثرات قائم کرے تووہ اس کا مالک بن جائے گا۔ اس کی اجازت یا رضامندی کے بغیر دوسرے کو صرف کا حق نہ ہوگا۔ جب انسان کسی چیز کا مالک بن جاتا ہے تو اس سے یہ حق حاصل ہے کہ عطیہ، ہبہ، تبادلہ وغیرہ کا دوسرے کو مالک بنائے۔ بہرحال اسلام ملکیت وانتقال ملکیت کے اصول کو مانتا ہے۔ جس طرح انسان ان قدرتی چیزوں میں تصرف کرکے مالک بن جاتا ہے اسی طرح وہ زمین ، فیکٹری وغیرہ کا بھی مالک ہو سکتا ہے۔
ج ….کوئی شخص کسی کاروبار میں محض سرمایہ کی بنا پر جبکہ اس کیساتھ کوئی دماغی و جسمانی محنت نہ کرتا ہو اور اسکا وہ سرمایہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ ہو، اس سرمایہ سے انتفاع کا مستحق نہیں ہوسکتا اوراس قسم کا انتفاع اسلام کی نظر میں سود ہوگا اور اسلامی نظام میںسود قطعاً حرام ہے۔ سرمایہ عام ہے کہ وہ چاندی وسونے وسکہ کی شکل میں ہو یا بلڈنگوں، مشینوں اور زمینوں کی شکل میں ہو ۔ ہاں ! اگر اس میں ضرر کا خطرہ ہے یا نقصان وتغیر یقینی ہے اور استعمال سے وہ حیثیت نہیں رہے گی تو اس پر انتفاع جائز ہوگا۔ کرایہ داری، اجارہ وغیرہ بہت سے تجارتی اور آمدنی کے وسائل میں انتفاع اس اصول کے پیش نظر جائزہوگا۔ الغرض صرف ”سرمایہ ” دولت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا ہے ۔ اسلام کا یہ ایک بنیادی اصول ہے، جہاں اسلام اور موجودہ سرمایہ داری نظام کے ڈانڈے الگ ہوجاتے ہیں۔ سرمایہ داری نظام کے پیش نظر سرمایہ دولت کمانے کا ذریعہ ہے ، جس طرح چاہے وہ دولت حاصل کرسکتا ہے۔اسی بنیاد پر ”سود” کی حرمت اور ممنوع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، زیادہ سے زیادہ سود کی شرح زیر بحث آسکتی ہے ۔ اس نظام کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک شخص بیٹھے بٹھائے کروڑوں کا مالک بن سکتا ہے جہاں دوسرے کوڑی کیلئے محتاج نظر آتے ہیں۔ بلاشبہ افراد کیلئے یہ پابندی اشتراکیت بھی لگاتی ہے ، لیکن حکومت اور اسٹیٹ سرمایہ کو بغیر محنت وکسب دولت، مالا مال کا ذریعہ بنائے تو بناسکتا ہے۔ یہیں سے اشتراکیت اور اسلام کے راستے الگ ہوجاتے ہیں۔اسلام کے نزدیک افراد اور حکومت کیلئے ایک ہی قسم کا اصول ہے لیکن اشتراکی یہاں اکثر افراد و حکومت میں فرق کرکے سرمایہ داری نظام سے متفق ہوجاتا ہے۔در اصل مشکلات اسلامی نظام کے فقدان نے پیدا کردی ہیں۔ ان مختصر اشاروں سے یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ معاشی مشکلات کا صحیح حل اگر ہے تو صرف اسلامی نظام میں ہے۔اشتراکی نظام میں معاشی حل ہے لیکن ناتمام پیٹ کا مسئلہ بھی اسلام اشتراکیت سے زیادہ بہتر طریقہ پر حل کرتا ہے۔ اگر مسلمان حکومتیں اسلامی نظام ہی پر عمل نہ کریں یا نہ سمجھیں تو یہ قصور حکمرانوں کا ہے، نظام اسلام کا نہیں ۔ رہا توحید ورسالت و آخرت کایقین ، مابعد الطبیاتی زندگی و حقائق پر ایمان لانا، اخلاق وعبادات کا وسیع تر نظام،مخلوق کا خالق سے رشتہ جوڑنا، روحانی نعمتوں کا کیف حاصل کرنا، فرشتہ سیرت انسان بننا، خدا کی مخلوق کیلئے اخلاقی ومعاشرتی لحاظ سے خدا کی رحمت بننا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب خلافت کا حق ادا کرنا،ان حقائق سے اشتراکیت کا دامن خالی ہے۔ اشتراکیت یہاں آکر بالکل مفلس ہے۔ اس کے پاس ان حقائق کے حصول کیلئے کوئی وسیلہ نہیں ، خود حیران وپریشان ہے، چوراہے پر کھڑا منزل مقصود کے صحیح راستہ کا کوئی علم اس کے پاس نہیں ۔
برادرانِ ملت وعزیزان محترم ! یہ ہے اسلام اور یہ ہیںغیر اسلامی نظام۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمان بنایا ہے۔اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا اور ایک اعلیٰ ترین نظام حیات عطا فرمایا ہے اور ہر قسم کے خزانے عطا فرمائے ہیں۔ ان نعمتوں کو ٹھکراکراعداء اسلام ودشمنان دین کے دروازوں پر جاکردریوزہ گری کرنا کہاں کی غیرت ہے؟کہاں کا انصاف ہے؟کیا عقل سلیم کا یہی تقاضا ہے۔ آؤ ! ہم تم آج سے عہد کرلیںکہ صحیح اسلام کیلئے جان توڑ کوشش کریں،جو نظام فلاح دارین کا صحیح ذریعہ ہے وہ حاصل کریں۔
ماہنامہ بینات کراچی اشاعت خاص بیاد حضرت مولانا عطاء الرحمن شہید
رجب المرجب ١٤٣٣ ہجری ، جون2012عیسوی
جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
اسلام کا اجنبیت کے سفرکی بڑی داستان
حضرت ابوطالب کی وفات ہجرت سے پہلے ہوئی تھی۔ حضرت عباس بدر کی جنگ میں دشمنان اسلام کے ساتھ قیدی بن گئے تھے۔ غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کی طرف سے حضرت ہندہ کے بھائی ، باپ اور چچا نے مسلمانوں کو سب سے پہلے چیلنج کیا تھا۔ جن کے مقابلے میں نبی ۖ نے اپنے دو چچا امیر حمزہ ، حارث اور علی کو میدان میں اتارا۔ تینوں مشرک مسلمانوں کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے اور پھر مشرکوں کی ہمت ٹوٹ گئی،70مارے گئے اور70پکڑے گئے۔حضرت ہندہ نے اسلئے غزوہ اُحد میں حضرت امیر حمزہ کے کلیجے کو چباڈالا تھا۔ فتح مکہ کے وقت نبی ۖ نے حضرت ابو سفیان کو عزت بخشی تو ہندہ نے نبی ۖ سے عرض کیا کہ پہلے دنیا میں سب سے زیادہ برا آپ کا چہرہ لگتا تھا اور اب مجھے سب سے زیادہ محبوب آپ کا چہرہ ٔ انور لگتا ہے۔ حضرت امیر حمزہ کو شہید کرنے والے وحشی بھی سچے پکے مسلمان ہوگئے۔ اگر خلافت راشدہ کے بعد بنو اُمیہ کی امارت میں واقعہ کربلا کا سانحہ پیش نہ آتا تو حضرت وحشی کی طرح یزید کو بھی بھول جاتے۔
نبی ۖ نے امیر معاویہ کو ہادی اور مہدی بننے کی دعا دی تھی۔ قبول ہوئی تھی یا نہیں ؟ ۔ مگر حضرت امیر معاویہ کے دور کو خلفاء راشدین مہدیین کے دور میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ حضرت عمر بن عبد العزیز بعد میں آئے لیکن ان کو مہدی اور ان کے دور کو خلافت راشدہ کے مطابق رشد و ہدایت کا دور کہا جاتا ہے۔
نبی ۖ نے حضرت ابن عباس کو بھی قرآن کی تاویل سمجھنے کی دعا دی تھی اور حضرت ابن عباس نے فرمایا تھا کہ ”قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ سورہ حج کی آیت ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول اور نبی کو مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں اپنی بات ڈال دی۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹادیتا ہے اور اپنی کتاب کے احکام کو استحکام بخش دیتا ہے” ۔ابن عباس نے اس کی تفسیر میں لکھا کہ ”سورہ نجم نازل ہوئی تو شیطان نے نبی ۖ سے آیات میں لات منات اور عزیٰ کی توقیر اور شفاعت کے قابل ہونے کی بات کہلوائی”۔یہ حدیث مستند سمجھ کر بہت سارے معتبر مفسرین نے نقل کی ہے اور جنہوںنے اس کا انکار کیا ہے انہوں نے اس آیت کی کوئی قابل فہم تفسیر نہیں لکھی۔ ابن عباس کی یہ تفسیر مشرکین مکہ کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔ جب سورہ نجم میں پہلی بار سجدے کی آیت نازل ہوئی اور اچانک نبی ۖ نے سجدہ کیا تو مشرکین نے بھی سجدہ کیا۔ بعد میں شیطانی آیات کا اپنی خفت مٹانے کیلئے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جو مشرکین کے دل و دماغ میں سچ سمجھ کر بیٹھ گیا۔ فتح مکہ کے بعد جو لوگ مسلمان ہوئے انہوں نے سچ سمجھ کر ابن عباس کے دل و دماغ میں ڈال دیا۔ جب سورہ مجادلہ نازل ہوئی تو نبی ۖ کے دل و دماغ میں تمنا تھی کہ حلالہ کی لعنت سے بھی عوام کی جان چھوٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ اور سورہ طلاق میں حلالہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ جب اسلام اجنبی بن گیا تو شیطان نے نبی ۖ کی تمنا کا خون کرکے اپنی بات فقہاء کے دل و دماغ میں ڈال دی۔ سورہ حج کی آیت کی یہی تفسیر ہے۔ پہلے جب کسی نبی و رسول کی تعلیم کو تحریف کا نشانہ بنایا جاتا تو اللہ نئے کلام کے ذریعے سے شیطانی القاء کو مٹادیتے تھے۔نبی ۖ کی تمنا میں تو شیطان نے رخنہ اندازی کی ہے لیکن اللہ نے اپنے کلام کی حفاظت کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے اسلئے قرآن کے احکام بھی بالکل محفوظ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ۖ کی بعثت سے دین حق کو تمام ادیان پر غلبہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ وعدہ نبی کریم ۖ کے بعد خلافت ، امارت اوربادشاہت کی صورت میں1924تک ایک سپر طاقت کی طرح موجود تھا لیکن افسوس کہ اس کا فائدہ اٹھا کر قرآنی احکام کے مطابق مسلمانوں نے تسخیر کائنات کا فلسفہ نہیں اپنایا۔ حالانکہ ان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے اور عظیم سائنسدان تھے۔ یہ لالے سلطنت عثمانیہ کے خلفاء ساڑھے چار ہزار لونڈیاں رکھنے کے ریکارڈ قائم کررہے تھے۔ اور مغل بادشاہ اپنی بیگم کی یاد میں تاج محل بنارہے تھے۔ دنیا نے تسخیر کائنات کیلئے جدید ترین یونیورسٹیاں قائم کیں اور اپنے اقتدار کے ذریعے نہ صرف وسائل پر قبضہ کیا بلکہ جاپان پر ایٹم بم تک گرادئیے۔ اب جب مسلمان کھانے کو ترس رہے ہیں اور جو بھی ان کو خود کش کیلئے بھرتی کردے تو دلوں میں پوری دنیا کو فتح کرنے کا سودا سمایا ہوا ہے۔ عرب پہلے بھی فارسیوں اور رومیوں سے طاقتور نہیں تھے لیکن ان کا معاشرتی ، معاشی اور سیاسی نظام سب سے بہترین تھا۔ اسلئے قیصر و کسریٰ کی سپر طاقتوں کو تہبند پہننے والے عربوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اگر صرف آج دنیا میں عورت کے حقوق اور اسلام کے معاشرتی مسائل کو شیطانی تمناؤں سے پاک کرکے دنیاکے سامنے پیش کیا جائے تو بعید نہیں ہے کہ جمہوری بنیادوں پر پھر ووٹ کے ذریعے سے اسلامی خلافت قائم ہوجائے۔ عورت صنف نازک کو اسلام نے برابری کے حقوق نہیں دئیے بلکہ ان کو بہت زیادہ اضافی حقوق دئیے ہیں لیکن شیطان نے مذہب کا روپ دھار کر اسلام کے نام پر عورت کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے جو دورِ جاہلیت میں بھی نہ تھا۔
اسلام نے مزارعت کو سُود قرار دے کر نہ صرف جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی بیخ کنی کی ہے بلکہ مادر پدر آزاد سوشلزم کا راستہ بھی روکا ہے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے جس معاشی نظام کا نقشہ پیش کیا ہے آج ان کے اپنے مدرسے سمیت سب سرمایہ داری نظام کے آگے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ اگر سُود کو علماء و مفتیان کے فتوؤں کے مطابق شریعت کی بنیاد پر جائز قرار دیا تو کیا یہ اُمت کی تقدیر بدلنے کا باعث ہوگا؟۔ اگر اسلام کے معاشرتی نظام کو قرآن اور احادیث صحیحہ سے پیش کیا جائے تو فرقوں ، مسالک، گروہوں اور جماعت بندی کے سارے حربے ملیامیٹ ہوجائیں گے۔ ہم نے اس کیلئے مجبوری میں ایک منظم جماعت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُمید ہے کہ ہمارے ساتھ ملکر تمام مکاتب کے علماء و مفتیان اور عوام الناس بہت بنیادی کردار ادا کریں گے۔32سالوں سے ہمارے مخلص ساتھی اپنی مدد آپ کے تحت جس تحریک کا بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہماری تائید کرنے والے اپنے کردار سے عوام میں اس عظیم مشن کو پھیلانے میں شانہ بشانہ شریک ہوں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خدا سے زیادہ فوج سے ڈر لگتاہے: رئیسانی

خدا سے زیادہ فوج سے ڈر لگتاہے: رئیسانی

کوئٹہ میں نیشنل ڈائیلاگ اور جناح سینٹر اسلام آبادمیںباچا خان اور ولی خان کے نام پرجو کانفرنسیں ہوئی ہیں۔ ان میں سب نے اپنی اپنی جگہ پر بہت عمدہ تقاریر کی ہیں۔ اسلم رئیسانی نے کہا کہ کشمیری مجاہدین کے ذریعے بلوچوں کو مروایا جارہاہے۔ ریاست ماں ہوتی ہے لیکن یہ سوتیلی ماں ہے ،اگر بس چلے تو زہر دے کر اس کو ماردیں۔ مجھے خدا سے کم ڈرلگتا ہے کیونکہ وہ غفور ورحیم ہے اور فوج سے زیادہ ڈر لگتا ہے کیونکہ وہ غفور اور رحیم نہیں ہے۔ ہمارے بچوں کو کالج اور یونیورسٹیوں میں اسلئے ہماری مائیں نہیں بھیجتی ہیں کہ انکو مسنگ پرسن بنالیا جاتا ہے۔ پہلے ہم پر الزام لگتا تھا کہ کافر ہیں اور روس کے ایجنٹ ہیں اور اب روس ختم ہوگیا تو ہندوستان کا ایجنٹ بنادیا۔ ہم کسی کے ایجنٹ نہیں اپنی بلوچ قوم کے ایجنٹ ہیں۔ میرا بھائی سراج رئیسانی فوج کا آدمی تھا لیکن اس کو بھی مار دیا۔ پہلے میرے والد کو شہید کیا تھا اور پھر ہمارے گھر گرائے گئے تو بتایا گیا کہ جنرل قادر اور گورنر مینگل تمہارا اپنا بلوچ ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ڈگری ڈگری ہے چاہے جعلی ہو یا اصلی ۔ فوجی فوجی ہوتا ہے چاہے وہ بلوچ ہو یا پنجابی، یہاں ڈھائی گھنٹے میں باپ پارٹی بنتی ہے اور ہم پر مسلط ہو جاتی ہے۔ اب باپ کے کچھ لوگ ادھر ادھر پارٹیوں میں گئے اور کچھ رکشہ میں نکلنے کی تلاش میں ہے لیکن باپ کو زندہ رکھا ہے۔
زمرک خان اچکزئی، ڈاکٹر عطاء الرحمن ، شاہد خاقان عباسی اور بہت سے خطیبوں نے اچھے اچھے خطاب کئے۔ اس طرح باچا خان اور ولی خان کانفرنس میں بھی مولانا فضل الرحمن ، سلیم صافی، منظور پشتین ، حامد میر، خوشحال خان کاکڑ،اعزاز سید اور بہت سارے مقررین نے عمدہ تقریریںکیں۔ مگر نتیجہ تقریر جمع تقریر ہی تھا۔ اعزاز سید نے کہا کہ پنجاب میں باچا خان اور ولی خان کی غلط تصویر پیش کی گئی تھی اور جب ہمیں شعور آگیا پھر پتہ چلا کہ قائداعظم محمد علی جناح واقعی بڑے سیاسی لیڈر تھے لیکن باچا خان ان سے بھی بہت زیادہ بڑے لیڈر تھے۔ باچا خان کا انگریزی ، ہندی اور دوسری زبانوں میں منشور عام ہوا تھا لیکن یہاں اسلام آباد تک پہنچنے میں اس کو بہت وقت لگا اور شاید پنجاب تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے۔ پنجاب میں کوئی ایسا لیڈر پیدا نہیں ہوا اور ہمارے پنجاب کی قسمت میں علامہ خادم حسین رضوی جیسے لوگ لکھے ہوئے ہیں۔ اعزاز سید نے کہا کہ یہ بہت بڑا المیہ تھا کہ نہرو کو باپا خان نے بلایا تھا اور وہاں کے لوگوں نے ان کو پتھر مارے تھے اور دوسرا المیہ یہ تھا کہ ڈاکٹر خان کی حکومت کو ختم کردیا گیا اسلئے جمہوریت یہاں کے لوگوں کے نصیب میں اب تک نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ولی خان میرے باپ اور استاذ کی جگہ پر تھے اور ان سے میں نے سیکھا تھا اور جب ولی خان جلاوطن تھے تو مفتی محمود نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے تورخم باڈر پر ان کی آمد کا استقبال کیا تھا اور اس طرح ان کو سیاسی خدمات کا دوبارہ موقع ملا۔ میں نے سنا تھا کہ غفار خان ایک کپ سے زیادہ چائے مہان کو بھی نہیں پینے دیتے۔ لیکن مجھے زیادہ چائے پلائی اور مٹھائی بھی سامنے رکھوادی۔ سلیم صافی نے کہا کہ باچا خان امام برحق تھے۔ خود مشکلات برداشت کیں مگر قوم کو مشکلات میں نہیں ڈالا۔ یہاں لیڈر بنی گالہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور لندن بھاگ جاتے ہیں ۔ کارکنوں اور رہنماؤں سے قربانی مانگتے ہیں۔ ڈاکٹر گلالئی نے کہا تھا کہ ولی خان سیاستدان اور غفار خان مصلح تھے۔ اس مختصر جملے نے مجھے دونوں کا فرق واضح کیا۔ غفار خان کو مصلح اسلئے کہا جاسکتا تھا کہ ایک بڑے خان کے بیٹے تھے مگر ملنگ کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ پشتونوں کو عدم تشدد کی راہ پر ڈال دیا اور خود اخلاق وکردار کے پیکر تھے۔ بڑے جابروں کے سامنے زبان نہیںلڑکڑاتی تھی لیکن غریبوں کیساتھ نرم لہجے میں بات کرتے تھے۔ آج کل ایک غریب آدمی ہوتا ہے جب سیاست میں آتا ہے تو اس کے پاس گاڑیاں آتی ہیں ،ا وقات بدل جاتے ہیں، لہجے میں تکبر آجاتا ہے۔ دوسر ے لیڈروں نے بھی عمدہ عمدہ تقاریر کی ہیں لیکن ہمارے پاس جگہ کی گنجائش نہیں اورشکرہے کہ ہمیں کوئی بلاتا بھی نہیں ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی فضل ہمدرد اورانجینئر مرزاسے گزارش

مفتی فضل ہمدرد اورانجینئر مرزاسے گزارش

مفتی فضل ہمدردبریلوی، انجینئر محمد علی مرزااہل حدیث اور مولانا سید سلیمان ندوی دیوبندی ہیں ۔ مفتی منیراخون نے کہا کہ ”یزید نے قسطنطنیہ کے جہاد کی قیادت کی تھی جس سے وہ مغفرت کا مستحق بن گیا لیکن حدیث میں پہلے کے گناہ معاف ہونے کی خوشخبری ہے اور بعد کے گناہوں کی نہیں ۔ یزید نے بعد میں بہت گناہ اور مظالم کئے تھے اسلئے اس کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھ سکتے۔ البتہ اکابر صحابہ کے خلاف جانا غلط ہے”۔
جس طرح بنی اسرائیل کے فرقے اسرائیلیات کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”ہم ان کی نہ تصدیق کرتے ہیں اور نہ تکذیب کرتے ہیں”۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قرون اولیٰ کے بارے میں کہا کہ علمہا عند ربی لایضل ربی ولا ینسیٰ ” اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اور میرارب بھٹک سکتا ہے اور نہ بھول سکتا ہے”۔ حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی روایات کو اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا اور قرآن میں بہت مسائل کا حل ہے جس سے شیعہ سنی دونوں بالکل بے خبر ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں اور ڈاڑھی سے اسلئے پکڑا تھا کہ بنی اسرائیل کو شرک کیوں کرنے دیا؟۔ جواب یہ تھا کہ منع کرنے پر آپ کہتے کہ بنی اسرائیل کو کیوں فرقوں میں بانٹ دیا۔ موسیٰ علیہ السلام زیادہ مؤثر تھے اسلئے کہ ان کی بات پر شرک سے بھی بچتے اور تفریق میں بھی مبتلاء نہ ہوتے۔ شیعہ شرک پر تقسیم ہیں۔بریلوی آپس میں اور دیوبندی بھی آپس میں اور اہل حدیث آپس میںتقسیم ہیں۔کوئی بااعتماد شخص کردار ادا کرسکتا ہے۔
ابوبکرہ وہ صحابی ہیں جس نے مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف گواہی دی اور پھر اس پر قائم تھے۔ بخاری میں ان سے روایت ہے کہ ”جس لشکر کی قیادت عورت کررہی ہو تو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا”۔ حضرت عائشہ کی قیادت میں حضرت علی کے خلاف لڑنے والوں کو روکا۔ حدیث بیان کی کہ قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے اور نبیۖ نے صحابہ سے فرمایا کہ” میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔جس کا مقصد کفر کا فتویٰ نہیں بلکہ لڑائی سے روکنا تھا۔ اماں عائشہ نے دیکھا کہ علی اپنی ہمشیرہ ام ہانی کے مشرک شوہر کو فتح مکہ کے بعد قتل کرنا چاہتے تھے اور ام ہانی نے نبیۖ کو شکایت کردی تو نبیۖ نے ان کی بات کو حق سمجھ کر علی کو قتل سے روکا تھا۔ صلح حدیبیہ میں عثمان کے قصاص کیلئے بیعت لی گئی ۔ علی کیلئے ایسا ماحول بنایا تھا کہ عثمان کے قتل کاقصاص مشکل تھا۔ قرآن میں بیعت سے احتراز پر مشکل میں پڑنے کی وعید ہے۔ انجینئر محمد علی مرزا نے ابوبکرہ کے بارے میں کہا کہ ”اس نے علی کا ساتھ نہیں دیااور غلط کیااور میں ہوتا تو علی کا ساتھ دیتا”۔ علی مرزا نے’ شلواربابا ” کا بتایا، وہ جنگ نہیں اسکے پاس جاتے۔ جوان انصار نے میدانِ احد میں لڑنے کا کہا اور پھر بھاگنا پڑگیا ۔نبی ۖ نے فرمایا کہ ”میں نبی ہوں جھوٹا نہیں اور عبدالمطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں”۔ اللہ نے فرمایا: ” محمد کیا ہیں مگر رسول اور آپ سے پہلے رسول گزرچکے” نبیۖ سے کہا گیا کہ عباس عبدالمطلب کا بیٹا تھا جو گرفتا ر ہوا اور انبیاء پہلے بھی گزرے جو بھاگے تھے۔خود کش والے بھی وزیرستان سے بھاگے تھے۔
شیعہ کہتے ہیں کہ سنی کے پاس بارہ امام کا جواب نہیں۔ علی خلیفہ بلافصل سے مہدی تک بارہ خلفاء کی ترتیب سنی کتابوں میں ہے۔ مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ نے اسی ترتیب پر بارہ امام کا ذکر کیا ۔ شیعہ بنوامیہ وبنوعباس کے مقابلہ میں خلفاء راشدین کا دور بہتر سمجھتے ہیں اسلئے کہ علی نے تعاون کیا تھا اور جو نہیں سمجھتے تو علی کی شخصیت پر سوال اٹھتا ہے۔ شیعہ علی ولی اللہ کا کلمہ برحق مانتے تو وقت کیساتھ حسن ، حسین، زین العابدین، باقر اور جعفر …… آخر میںموجودہ دورتک مہدی الغائب کا کلمہ پڑھتے۔ جیسے آدم صفی اللہ ، ابراہیم خلیل اللہ، اسماعیل ذبیح اللہ، موسیٰ کلیم اللہ ، عیسیٰ روح اللہ اور محمدرسول اللہ کا کلمہ وقت کے پیغمبروں کیساتھ بدل گیا۔جب گیارہ میں سے ایک بھی امن قائم نہ کرسکا تو آخری سے امید رکھنا بھی منطق کی بات نہیں ۔
آج ایران میں مہدی الغائب ولی اللہ کی آواز آنی چاہیے تھی۔ جہاں اثنا عشری امامیہ تاریخ میں پہلی بار خمینی کو امام کہا گیا ۔شیعہ کو اقتدار ملاتو کتابیں لکھ دیں۔ نتیجے میں نفرت پھیل گئی۔ پاکستان، افغانستان اور عرب ممالک میں خمیازہ بھگتنا پڑا۔کیا علی سے آخری امام تک دلائل، جرأت اور بہادری کی کمی تھی ؟۔ ائمہ نے ایسی فضاء کو ہمیشہ ناکام بنایا جس سے انتشار کو تقویت مل جائے ۔ سختیاں تو اہل سنت کے اماموں نے بھی جھیلیں۔ ایسی گفتگو کی جائے جو اتحاد، اتفاق اور وحدت کا ذریعہ بن جائے اور کوئی دلائل سے تہی دست خیال کرکے دوسرے پر حملہ آور نہ ہو۔ مظلوموں نے بہت لاشیں فرقہ واریت کے نام پر اٹھائی ہیں۔
اسلام کے اجنبی بننے کی حدیث پرشیعہ علماء نے لکھا کہ ” حسین نے اسلام کو اجنبیت سے نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے ۔ امام مہدی اسلام کو اجنبیت سے نکالیںگے”۔ اور لکھا کہ ”ہوسکتا ہے کہ درمیانہ زمانے کا مہدی بنوعباس کا خلیفہ مہدی ہوکیونکہ مہدی کا تعلق آخری زمانہ سے ہوگا”۔ حالانکہ سنی شیعہ بنوامیہ کے عمر بن عبدالعزیز کوعباسی مہدی سے بہتر سمجھتے تھے ۔ شیعہ نے لکھا ہے کہ” آدم سے پہلے نبی اور علی ایک نور تھے۔ آدم سے عبدالمطلب تک اکٹھے تھے۔ پھر نورنبوت عبداللہ سے محمدۖ اور نور ولایت ابوطالب سے علی میں منتقل ہوا۔ نبی اور علی ایکدوسرے سے ہیں”۔ علی کے اندر ولایت ظاہری اور ولایت باطنی نور تھا تو ولایت ظاہری کا نور حسن اورولایت باطنی کا نور حسین میں منتقل ہوا۔ یہ تو نہ تھا کہ ولایت کا نور پہلے حسن اور پھر حسین میں منتقل ہوا تھا؟۔
مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں بارہ خلفاء واضح ہے کہ مہدی کے بعد5افراد حسن اور5افراد حسین کی اولاد سے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا”۔ ممکن ہے کہ” آخری حسن سے حسن العسکری مراد ہوں۔ مہدی کا تعلق حسن اور5افراد حسن کی اولاد سے اور آخری6افراد کا تعلق حسین کی اولاد سے ہو”۔ پیر مہر علی شاہ گولڑہ اور جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ” وہ بارہ امام ابھی تک نہیں آئے جن پرامت کا اجماع ہواور وہ آئندہ آئیں گے”۔شیعہ کتابوں میں مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کا ذکر ہے جن کو حکومت ملے گی لیکن پھر تشویش ظاہر کی ہے کہ آخری امام پھر آخری کیسے ہوگا؟۔ اس کا جواب حقائق ہی حقائق ہیں۔
کشتی نوح کی ضرورت اس وقت پڑی، جب مخلوق ہلاکت کے قریب پہنچ گئی اور نوح کے بیٹے نے چڑھنے سے انکار کیا تھا۔ نبی ۖ نے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیا جو درمیانہ زمانے سے شروع ہوگا اسلئے کہ درمیانہ زمانے تک ہلاکت سے بچنے کیلئے نبیۖ کی ذات تھی اور درمیان سے حضرت عیسیٰ تک درمیانہ زمانے کے مہدی ہونگے اور مہدی غائب نے حضرت عیسیٰ کے دور میں نکلنا ہے تو وہ کشتی نوح کے آخری فرد ہوں گے جو درمیانہ زمانہ سے شروع ہوگا۔
اگر شیعوں کے امام مہدی غائب کو درمیانہ زمانہ سے اُمت کو ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ مان لیا جائے تو علی سے حسن العسکری تک گیارہ امام ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ نہیں ہوسکتے ۔ مخالفین کو کہنے دیجئے کہ جب وہ گیارہ ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ نہیں تو اس سلسلے کا آخر ی فرد بھی نہیں بن سکتا۔ لیکن شیعہ کو اس اعتقاد کا پورا پورا حق ہے کہ وہ اپنے مہدی کے بارے میں یہ یقین رکھیں کہ وہ ہلاکت سے بچنے کا اپنے دور سے عیسیٰ تک ذریعہ ہیں اسلئے کہ حضرت علی سے حضرت حسن العسکری تک امت مسلمہ جن مشکلات کا شکار تھی تو حضرت مہدی کی غیبت سے ہی وہ مشکلات ختم ہوگئی ہیں۔ ان کا دل جلتا تھا کہ خاندانی بنیاد پر اہلیت رکھنے والے اقتدار سے محروم ہیں لیکن نااہل لوگ خاندانی استبداد کی وجہ سے اقتدار پر قبضہ کر بیٹھے ہیں۔ امام مہدی غیبت میں گئے تو عوام کو جواز مل گیا اورامام کے حامی ان کی خیریت کیلئے فکر مند رہتے تھے وہ بھی مطمئن ہوگئے۔ ظاہر میں موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کا مقابلہ کیا۔ باطن میں ہلاکت سے بچانے میں خضر کا اہم کردار تھا جس کا موسیٰ علیہ السلام کو پتہ نہیں تھا ۔پھر پتہ چل گیا لیکن تفریق ہوگئی۔ وہ اختلاف تو رحمت تھاتو اپنی امت کا اختلاف بھی رحمت ہے۔
ہلاکت کا آغازہے۔ داعش، تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی نے شیعوں کو زندہ نہ چھوڑنے کی ٹھان لی اور اگر مہدی غائب تشریف لائیں تو امت مسلمہ بھرپور استقبال کرے گی لیکن اگر خضر کی طرح غیبت میں کردار ادا کرنا ہے تو فرقہ واریت کی آگ کو مزید بھڑکانے سے گریز کریں۔ حال ہی میں پشاور کی مسجد میں دھماکے سے کتنا نقصان ہوا اور یہ کب تک جاری رہے گا؟۔ تعصبات کے ناسور نے مذہبی طبقے میں وہ بارود بھردیا ہے جس کی سزا سب کو مل رہی ہے۔
دین وعقیدے میں جبر اور تضحیک وگستاخی نہیں ہے اسلئے کہ اللہ نے واضح کیا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے اور دوسروں کے معبودوں کو بھی برا بھلا مت کہو۔
نبیۖ کی وحی کے ذریعے قدم قدم پر رہنمائی ہوتی تھی۔ یہ نہیں کہ لٹھ لیکر گستاخانہ لہجہ اختیار کیا جائے کہ54سال کی عمر میں چھوٹی بچی9سالہ عائشہسے شادی کی۔ خواب میں تصویر دکھا ئی گئی کہ یہ آپ کی دنیا و آخرت میںزوجہ ہے۔ حالانکہ نکاح کے وقت اماں عائشہ کی عمر16سال اور رخصتی کے وقت عمر19سال تھی۔ نبیۖ کی عمر63سال تھی تب بھی داڑھی میں17سفید بال تھے۔54سال میں35،40سال کے برابر لگتے ہوں گے۔ قائداعظم محمد علی جناح برطانیہ کے تعلیم یافتہ تھے۔16سالہ پارسی لڑکی رتن بائی سے39سال میں شادی کرنا چاہی مگر لڑکی کو اجازت نہیں ملی۔ وہ18اور قائد41سالہ نے کورٹ میرج کی۔ جناحTBکے مریض تھے ۔بیٹی ویناجناح اکلوتی بیٹی تھی۔فیس بک پیج ” موسیٰ سے مارکس تک” پر کچھ لوگ بڑی گستاخانہ پوسٹ ڈال رہے ہیں۔ نبیۖ کی شان میں گستاخی لیکن خودکوئی معقول جواب برداشت نہیں کرسکتے۔
نبیۖ پر عورت کے حق میں سورۂ مجادلہ نازل ہوئی۔ بدر ی قیدیوں پر فدیہ، اصحاب کہف کی تعداد کل بتانے،نابیناا بن مکتوم پر چین بجبیں ہونے اور زید کی طلاق کے بعد دلجوئی کیلئے زینب سے نکاح مگر عوام کی بدظنی کا خوف جس پر اللہ نے فرمایا کہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشٰہ (آپ لوگوں سے ڈرتے ہو؟اور اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے) جو آیات نازل ہوئیں ۔ اگر یہ صحابہ کی شان میں نازل ہوتیں تو کیا کیا روایات گھڑتے؟۔ جن کو شیعہ علامہ شہریار عابدی چن کر حوالے دیتے اور منطقی نتائج بھی خود نکالتے۔ جس سے امت میں فتنہ وفساد کا اندیشہ بھرپور طریقے سے موجود ہوتا۔ اللہ نے قرآن میں دوسروں کے باطل معبودوں کو برا کہنے سے بھی منع کیا ۔غیر شائستہ زبان ہمارا قومی المیہ ہے۔ جب فوج اور عدالت کے ججوں کو توہین قبول نہیں تو سب کے معزز کیلئے اخلاقیات کے ذریعے مخالف کا رویہ بدلنا ضروری ہے۔
ابوبکر نے بدر ی قیدیوں پر فدیہ لینے کا مشورہ دیا تھا تاکہ نبیۖ کے چچا عباس اور ایک دامادکو بچایا جائے اور نبیۖ کو تکلیف نہ ہو۔ جس پر قرآن میں سخت سرزنش ہوئی کہ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر اللہ نے لکھ نہیں لیا ہوتا تو تمہیں سخت عذاب کا مزہ چکھا دیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھا دیا، اگر نازل ہوتا تو عمر وسعد کے علاوہ کوئی نہیں بچتا”۔ قرآن وحدیث کی اس وعید کے بعد اگر ابوبکر نے حضرت فاطمہ کی ناراضگی مول تھی تو یہ ایک آزمائش تھی جس میں بغض نہ تھا۔زکوٰة کے مسئلے پر ابوبکر کے اقدام سے اہل سنت کے چاروں امام نے اختلاف کیا لیکن حضرت ابوبکر کیلئے دل میں کھوٹ نہیں رکھی ۔ اللہ نے قرآن سے سکھایا کہ ” اپنی مغفرت کیساتھ پہلے ایمان کیساتھ گزرنے والوں کیلئے بھی دعا مانگیں اوریہ کہ ان کیلئے ہمارے دلوں میں کھوٹ نہ ہو”۔ جب ان لوگوں کے خلاف مہم جوئی کا بازار گرم کیا جائے گا تو پھر نہ صرف اپنے دلوں میں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی کھوٹ آئے گا۔ قرآن میں حضرت آدم ، موسیٰ اور یونس کی طرف ظلم کی نسبت ہوئی لیکن یہ مطلب نہیں کہ ہم منطق سے استدلال پیش کریں کہ ” بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتاہے ” تو ان انبیاء کو نعوذ باللہ ہدایت سے اللہ نے محروم رکھا۔ حضرت عمر کے دور میں کسی جن یا انسان نے حضرت سعد بن عبادہ کو شہید کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ”اگر دریائے نیل کے کنارے پیاس سے کتا مرجائے تو عمر جواب دہ ہو گا”۔ اللہ نے سعد بن عبادہ کے قتل کا ادھار نہیں چھوڑا بلکہ عمرکی شہادت ہوگئی۔ حضرت عمر کے بیٹے عبیداللہ نے فیروز ابو لؤلؤ کی سات سالہ مسلمان بیٹی اوردو افراد کو قتل کردیا اور کہا کہ جو انصار ومہاجرین سازش میں شریک تھے ان کو بھی قتل کروں گا تو سعد بن ابی وقاص نے اس کو پکڑ کر گھر میں بند کردیا۔ حضرت عثمان نے بدلے میں قصاص نہیں لیا تو حضرت عثمان کی شہادت کا قصاص بھی بڑا معمہ بن گیا۔
ایرانی بادشاہ کی شہزادیاں اگرایران میں چھوڑ دی جاتیں تو اپنے لوگ ان کا بہت برا حال کرتے۔ ان کی خیر اسی میں تھی کہ دارالخلافہ مدینہ لایا گیا کیونکہ جس طرح آج یورپ ومغرب میں ہمارے بادشاہوں کی اولادامن کیلئے جاتے ہیں تو اس دور میں سب سے زیادہ مہذب دنیا ہماری تھی مگر تاہم حضرت علی کے کہنے پر شہزادیوں کو شرفاء میں تقسیم کیا گیا اور پھر اہل بیت کے کنبے کو یزید کے دربار میں وہ سب کچھ سہنا پڑگیا جس اسلام کی وہ بنیاد تھے اور شہربانونے عبرت دیکھ لی۔
نبی کریم ۖ کو معلوم تھا کہ جب خاندانی بادشاہتوں کی دوڑ دھوپ شروع ہوگی تو اہل بیت کے افراد بھی اس دوڑ میں شریک ہوسکتے ہیں اسلئے نبیۖ نے قرآن سے چمٹے رہنے کی تلقین فرمائی اور اہل بیت کی بابت بھی اللہ سے ڈرایا۔ امت مسلمہ نے قرآن کی طرف توجہ چھوڑ دی اور اہل بیت سے امت نے محبت کا اظہار کیا لیکن اقتدار کے مسئلے پر امام حسین کے بیٹے حضرت زید اور امام حسن کی اولاد نفس زکیہ نے قیام وخروج کا راستہ اپنایا تو امام ابوحنیفہ جیسے مجاہد نے بھی خاموش حمایت جاری رکھی۔ اہل حق کی حمایت میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک زبانی حمایت کرتے ہیں اور دوسرے دل میں حمایت کو چھپاتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ ” خیر القرون کا پہلا دور نبی ۖ ، دوسرا ابوبکرو عمر اور تیسرا عثمان کا تھا”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ” پہلا دور نبیۖ وابوبکر کا تھا،دوسرا عمر کا تھا جس میں طبقاتی نظام نے جڑ پکڑ لی اور تیسرا عثمان کاتھا جس میں خاندانی نظام کی بنیاد پڑگئی”۔ صحاح ستہ ومسنداحمد میں نبی ۖ کے بعد ابوبکر و عمر کی آسمانی ترازوہے ۔ جس میںبتدریج عدالت کا پلڑہ ہلکاہوتا بتایا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر کے دور میں بھی رہنمائی کیلئے وحی کا سلسلہ نہیں تھا اسلئے خلافت بھی نبوت ورحمت کے مقابلے میں کمزور ہوئی۔ حضرت عمر کے دور میں عدالت بڑی مضبوط تھی لیکن جنات نے سعد بن عبادہ کا کام کردیا۔ حضرت عثمان نے پہلی بار ایک قاتل کو معاف کرکے دیت کا فیصلہ کیا تو آسمانی عدالت کا ترازو اُٹھ گیا۔
مودة فی القربیٰ کی آیت اور احادیث
اللہ کا نور مشرقی یامغربی نہیں۔ اسلام کا معاشرتی، معاشی ،اخلاقی نظام پیش کیا توامریکہ وروس حکمت سے فتح ہوںگے۔ بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ نے مسلمانوں کو قرآن وسنت سے دور پھینک دیا اور دوبارہ ہم نے وہیں آنا ہے۔
متقدمین کا اجماع تھا کہ قرآن پر معاوضہ جائز نہیں۔ انبیاء سے اللہ نے کہلوایا کہ ” کہہ دو کہ میں اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا ”۔ نبی کریمۖ سے فرمایا : قل الاسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ ” فرماؤ کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابتداری کی محبت”۔شیعہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد نبیۖ کے اہل بیت کرام ہیں۔ صحابہ نے جن کو خلافت سے محروم کیا اسلئے دین اسلام سے روگردانی اختیار کی تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے” ترجمان القرآن میں لکھا کہ ” یہ آیت مکی ہے اور اس سے اہل بیت مراد نہیں ہوسکتے” ۔ شیعہ جو اہل بیت مراد لیتے ہیں وہ احادیث ہیں۔ اس آیت کے نزول کے وقت علی کا رشتہ اور حسن و حسین کی پیدائش نہیں تھی تو کیسے اہل بیت مراد ہیں؟۔ آیت کے مخاطب قریشِ مکہ دشمنان رسول تھے جن سے کہا گیا کہ نبی کا مطالبہ کوئی معاوضہ نہیں مگر قرابتداری کی محبت۔ علاقہ، زبان،خاندان ، رشتہ، قوم کے ناطے انسانوں میں قرابتداری کی فطری محبت ہوتی ہے۔ یہ معاوضہ اور اجر نہیں قدرت نے فطری محبت رکھی ۔ قریشِ مکہ ابوجہل وابولہب ، ولید، امیہ، عتبہ ، ابوسفیان، ہندہ اور اہل مکہ کے تمام دشمنان اسلام خواتین وحضرات اگر اس محبت کے فطری تقاضے کا لحاظ کرتے تو نبی کریم ۖ اورآپ کے ساتھی ہجرت پر مجبور نہ ہوتے۔
افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان قومیت کے فطری تقاضے پر عمل کرتے تو مشکلات کا شکار نہ بنتے۔ آج افغان طالبان کو افغانی قوم اورTTPکو اپنی قوم کی طرف سے نفرت کا سامنا ان کے کردار کی وجہ سے ہے۔ مکہ فتح ہوا تو رسول ۖ نے ابوسفیان ، وحشی اور ہندہ وغیرہ کو معاف کیا مگر حضرت عمر نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے ہاتھ لگ جاتے۔
شیعہ کہتے ہیں کہ ”حسن و حسین سیداشباب اہل الجنة اور فاطمہ سیدة النساء کے مقابلے میں دوسرے صحابہ دنیا کے سردارنہ بنتے تو مسلمانوں پرخلافت کا نظام دنیا میں جہنم نہ بنایا جاتا ۔ سنی احادیث میں بھی آیت سے مراد یہ اہل بیت ہیں ۔اقتدار اور خلافت بھی ان کا حق تھا جس سے صحابہ کرام اور ان کی اولاد نے انحراف کرکے قرآن وسنت کو چھوڑ دیا تھا اور پھر یزید جیسے مسلط ہوگئے تھے”۔
سنی کہتے ہیں کہ جس طرح دشمنان اسلام اہل مکہ کے قرابتدار قریش سے مودة فی القربیٰ کا تقاضہ اقتدار کی طلب نہیں تھی ،اسی طرح سے نبی ۖ نے صحابہ سے قرابتداروں کو اقتدار دینے کا مطالبہ نہیں کیا۔ قریشِ مکہ نے نبی ۖ کو اقتدار، مال اور حسین عورت سے شادی کی پیشکش کی تھی۔ نبی ۖ نے انکار کیا۔ یہ فطری بات ہے کہ اپنی قوم سے محبت رکھی جاتی ہے اور اس محبت کے تقاضے میں حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے ایک بدبخت انسان کے جھگڑے کی وجہ سے غلطی میں دوسرے قوم کے ایک قبطی شخص کو نہ چاہتے ہوئے بھی قتل کردیا تھا۔
رسول ۖسے اللہ نے فرمایا: وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ”اور ان سے مشاورت کریں پس جب عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں”۔صحابہ کی اعلیٰ صف تھی وامرھم شوریٰ بینھم ” اور ان کا اقتدار مشاورت سے ہوتا ہے”۔ نبی ۖ نے قلم کاغذ طلب کیا اور فرمایا: میں ایسی چیز لکھ کردیتا ہوں کہ تم میرے بعد ہرگزگمراہ نہ ہوگے۔ عمر نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ بعض نے کہا کہ نبی ۖ کو وصیت لکھنے دیں کیا نبی ۖ ہذیان بولتے ہیں؟ اور بعض نے کہا کہ حضرت عمر کی بات درست ہے۔ شور شرابہ ہوا تو نبیۖ نے فرمایا :یہاں سے نکل جاؤ، شور شرابہ نہ کرو۔( صحیح بخاری)
حدیث میںمودة فی القربیٰ سے اہل بیت کی محبت مراد ہے۔ اقتدار کا تعلق مشاورت سے تھا۔ ابوبکر ، عمر، عثمان، علی اور حسن کے بعد معاویہ پر اتفاق ہوا۔ امام حسن پہلے بھی جھگڑے میں خاتمہ کا ذریعہ بن گئے اور بعد میں بھی آپ ہی کی اولاد نے امت کے دوفرقوں میں جھگڑے کو ختم کرنے کا ذریعہ بننا ہے۔ ویسے تو اہل تشیع سیدگیلانی کو سید بھی عام طور سے نہیں مانتے لیکن علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”مشرق سے جو دجال آئے گا تو اس کے مقابلے میں حسن کی اولاد سے کوئی کھڑا ہوگا”۔ اور اس سے مراد ” سید گیلانی ”ہے۔
مفتی کامران شہزاد نے کہا : ”صحیح بخاری میں صحابہ کرام و اہل بیت ، نبی ۖ ، اللہ تعالیٰ اور قرآن کے بارے میں صحیح سند کیساتھ غلط روایات گھڑی گئی ہیںاور امام ابو حنیفہ اسلئے امام اعظم کہلائے گئے کہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کہا کہ صحیح سند کے راویوں کو پکڑو اور روایات کو قرآن پر پیش کرو۔ رافضی اور ناصبی دونوں گروہ اسلئے گمراہ ہیں کہ رافضی صحابہ کی مخالفت میں صحیح سند کی روایات کو مانتا ہے اور فضائل کو نہیں مانتا اور ناصبی حضرت علی اور اہل بیت کے فضائل کی روایات کو نہیں مانتا لیکن ان کی تنقیص کی روایات کو مانتا ہے۔ قرآن میں صرف حضرت زید کا نام آیا ہے باقی کسی صحابی کی مخالفت یا موافقت میں نام نہیں آیا۔ مجموعی طور پر اللہ نے قرآن میں صحابہ و اہل بیت کی فضیلت بیان کی ہے جو کافی ہے”۔
حضرت ابراہیم نے پہلے ستارے ، پھر چاند اور پھر سورج کو اپنا رب قرار دیا اور باری باری سب کی نفی بھی کی۔ جو ماحول اُمت مسلمہ میں بنا ہوا ہے جب تک بالکل سیدھے طریقے سے حکمت عملی کے ساتھ تعصبات کا خاتمہ نہیں کریں گے تو اُمت مسلمہ ہمیشہ انتشار کا شکار رہے گی۔ فرقہ واریت کا خاتمہ قرآن کی طرف رجوع کرنے سے ممکن ہے۔ نبی ۖ نے قرآن سے انقلاب برپا کیا تھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کرک گیس کے غباروں کا خطرناک منظر!

کرک گیس کے غباروں کا خطرناک منظر!

کرک گیس کو بانڈہ داؤد شاہ کے مقام پر غباروں میں ڈال کر لوگوں کو استعمال کیلئے دیا جارہاہے۔ یہ کسی کااحسان ہے یا سازش؟۔ نہیں ہونے سے تو غبارے بھی مفید ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کارآمد غباروں کی وجہ سے اللہ اس قوم کے ارباب اقتدار اور عوام الناس دونوں پر کوئی رحم بھی کردے اسلئے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور رحمت للعالمینۖ کی ہم امت ہیں۔ جب نواز شریف نے2015میں ڈیرہ بگٹی کو اپنی مہربانی سے گیس دی جو قریب ہی میں سوئی کے مقام سے نکل رہی تھی اور سب سے پہلے اسلام آباد، لاہور ، کراچی اور پشاور ہی نہیں سندھ ، پنجاب اور پختونخواہ کے اہم شہروں سوات تک بھی پہنچ گئی تھی لیکن ڈیرہ بگٹی محروم تھا ۔ اب نیشنل ڈائیلاگ میں قومی سطح کے لیڈر قوم پرست پشتونوں اور بلوچوں کے ہاں سے فوج کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کیلئے آگ اگل رہے ہیں۔ حالانکہ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے جب کرک کی گیس پر مقامی عوام اپنی آواز اٹھارہے تھے۔ آج شمالی وزیرستان اور بنوں میں آواز اٹھائی جارہی ہے اورPDMکی حکومت ہے اور اس سے پہلے صوبے اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت تھی لیکن مقامی لوگوں کو اپنے حق سے محروم رکھا جارہاہے۔ جب جنرل آصف غفورDGISPRتھے توPTMپر الزام لگایا کہ بیرون ملک سے فنڈز آرہے ہیںلیکن ابھی تک اس کا کوئی ثبوت اور سزا نہیں دی ہے۔ منظور پشین کہتا تھا کہ احسان اللہ احسان کو آسائش میں رکھا ہے اور نیب کے چیئرمین جاویداقبال کی ویڈیوز ہیں۔ پھر وہی باتیں سچ ثابت ہوگئیں۔سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ماحول خراب کرنے کیلئے تو نہیں ہورہاہے تا کہ اس کے پیچھے عالمی مقاصدحاصل ہوسکیں؟۔
ایک طرف قومی سطح کے رہنماؤں سے اعتراف کروایا جارہاہے کہ آئین کے مطابق وسائل پر مقامی عوام کا حق ہے، دوسری طرف حق مل نہیں رہاہے اور مقامی لوگ کھڑے ہورہے ہیں لیکن قومی سیاسی قیادت ان کا ساتھ نہیں دیتی۔ ایک طرف چھاؤنی میں قیدی طالبانCTDپولیس کے اہلکاروں کو یرغمال بناتے ہیں جس سے یہی تأثر ملتا ہے کہ کھلے عام قبائلی علاقوں میں محفوظ طالبان کا عوام مقابلہ نہیں کرسکتے ہیںاور وہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ تمام مسلح تنظیموں کو بلا تفریق ختم کیا جائے اور الزام بھی لگارہے ہیں کہ اداروں کے گماشتے ہی اغواء برائے تاوان میں ملوث ہیں ۔ سینٹ میں جماعت اسلامی کے مشتاق خان نے پشتون قوم پرستوں اور گوادر کی حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمن کی تائید کی جبکہ بلوچ سینیٹرنصیب اللہ بازی نے کہا کہ گوادر میں جماعت اسلامی کے مولانا ہدایت نے الیکشن جیتنے کیلئے ان پڑھ لوگوں کے ذریعے روز روز کے احتجاج سے ماحول خراب کیا ہے جس کے اثرات گوادر کی عوام پر بھی پڑرہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر سازش بھی کارفرما ہوسکتی ہے۔ حامد میر نے کہا کہ ایوب خان بنگال سے جان چھڑانے کیلئے ولی خان سے مددمانگ رہاتھا لیکن ولی خان نے مشرقی پاکستان کو علیحدگی سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ۔ اور یہ سب کتابوں میں لکھا ہے ۔ اندھے کھاتے کا نتیجہ برا نکل سکتا ہے اور اچھا بھی۔ اسلئے کہ بڑاحادثہ برسوں سے پرورش پاتا ہے اور پھر ایک دم ہوجاتا ہے اور اللہ کسی برے حادثے سے بچائے۔ ایک دن کی لوڈ شیڈنگ قوم برداشت نہیں کرسکتی ہے اسلئے کہ گھروں کے چولہے اور لیٹرین پانی کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں۔ قوم بڑی اچھی ہے جب امریکہ یا برطانیہ میں چند منٹوں کیلئے بجلی غائب ہوتی ہے تو ارب ڈالروں کی چوری اور ڈکیٹیاں ہوتی ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے قوم میں شعور بیدار ہورہاہے اور اچھے برے کی پہچان میں بڑا کردار ادا ہورہاہے۔
پاکستان میںڈھلان کی وجہ سے پانی گھروں میں بجلی کے بغیر چڑھ سکتا ہے۔ بل اور ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی ۔ سڑکیں تباہ اورنہ پانی بیچ کر تنگ کیا جائیگا ۔دریاکا پانی پشاور،اسلام آباد ،لاہورسے کراچی تک، کوئٹہ سے سبی اور تربت سے گوادر تک مفت ٹینکوں میں پہنچے گا۔بنوں میں ایک ٹینکی کا کامیاب تجربہ موجود ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا مہدی غائب ہی خضر ہوسکتے ہیں؟

کیا مہدی غائب ہی خضر ہوسکتے ہیں؟

تحفظ بل پر عقائد کااحترام اورفرقہ پرستوں کی چھترول

رسول ۖ نے فرمایا: ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کااول میں ہوں، اس کا وسط مہدی اور آخر عیسیٰ ، مگردرمیانہ زمانے میں کجرو میرے طریقے پر نہیں اور میں انکے طریقے پر نہیں ”۔شیعہ سنی متفقہ حدیث
علی اور ائمہ اہل بیت کی موجودگی میں شیعہ سنی اختلاف تھا۔ حسین کے حق میں یزیدکیخلاف امت کا اتحاد ہے۔ ممکن ہے کہ کجرو کہے کہ یزید حسین سے خلافت کا زیادہ حقدار تھا۔ یزید کا دادا ابوسفیان صحابی اور حسین کا دادا ابوطالب کافر تھالیکن حسین صحابی اور یزید صحابی نہیں تھا۔ عباسیوں کو اسلئے خلافت کا حقدار قرار دیا گیا کہ علی چچازاد اور عباس چچا تھا حالانکہ تین خلفاء اور بنوامیہ کچھ نہ تھے۔ ہلاکو نے عباسی خلافت کا خاتمہ کردیا۔ پہلے خلیفہ قریشی ہونا ضروری تھا ۔ خلافت عثمانیہ کے بعد غیر قریشی عجم کی خلافت پر متفق ہوگئے۔المیہ ہے کہ خوشی میں بھائی ایکدوسرے کو نہیں مانتے۔ اورنگزیب بادشاہ نے بھائیوں کو قتل کیامگر انگریز کوپھر سبھی مان گئے تھے۔ ابوطالب نے نصرت ، معیت اور صحبت کا حق ادا کیا۔ ذریت ِیزید نے علی کے والد کے جرم پرکافر قرار دیاتھا۔
شیعہ مھدی غیبت سے سامنے نہیں آتے تو کسی پر اتفاق ضروری ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں میرے کلاس فیلو مفتی منیراحمد اخون مفتی اعظم امریکہ مفتی محمد تقی عثمانی کے شاگرد اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے داماد ہیں۔ انہوں نے خواب بیان کیا کہ رسول ۖ حسین کو کربلا کی طرف بلارہے ہیں۔ تعبیر یہ کی کہ حسین نے حق ادا کردیا اور یزید نے ظلم کی انتہاء کردی۔ مفتی منیر احمداخون نے یہ بھی بتایا کہ ” حضرت خضر نے اس کو کچھ سکے دئیے جو اس کے پاس موجود رہے ”۔ مفتی زرولی خان نے خضر سے ملاقات کی۔ عربی میں ” حضر” واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ جس کا معنی ” وہ حاضر ہوا”۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غیبی شخص کو حاضر پایا اور اس سے استفادہ چاہالیکن آخر کار صبر نہ کرسکے اور دونوں میں تفریق ہوگئی۔ خضر کی نبیۖ سے ملاقات کا واقعہ نہیں۔ صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین اور فقہاء ومحدثین کابھی واقعہ نہیں ۔ شیعہ مہدی غائب ہوئے تو اولیاء اور علماء کو خضر علیہ السلام نظر آتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہی اہل تشیع کے مہدی غائب جب حاضر ہوتے ہوں تو آپ کو لوگ خضر سمجھ رہے ہوں اور اصل میں نام خضر نہ ہو بلکہ” حضر” سے جہلاء نے خضر بنادیا ہو؟۔
شیعہ سنی معرکة الاراء مسائل حل کریں۔ حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کی غلط شکایت پر قبطی کو غلطی سے قتل کیا تو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ” میرے رسل میں سے کوئی خوف نہیں کھاتا مگر جس نے ظلم کیا ہو”۔ قتل خطاء پر موسیٰ کی طرف اللہ نے ظلم کی نسبت کردی۔جبکہ خضر نے عمداً معصوم بچے کو قتل کیا لیکن خضر کی معصومیت پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ شیعہ امورتکوینی میں اپنے ائمہ کو معصوم سمجھتے ہیں اور ان سے مدد کی امید رکھتے ہیں۔ یہ شرک نہیں اسلئے کہ نبیۖ رحمت للعالین ہیں اور آپ کا فیض امور تکوینی میں ایک عالم تک محدود نہیں بلکہ تمام جہانوں تک پہنچ رہاہے۔ اہل تشیع امام حسین اور ائمہ اہل بیت کو مظلوم سمجھتے ہیں اسلئے خداکا شریک نہیں سمجھ سکتے ۔ حنفی علمائ”ایک قول کے100میں99احتمالات کفر اور ایک اسلام کا ہو توکفر کا فتویٰ نہیں لگاسکتے ”۔مجدد الف ثانی نے مکتوبات میں علی ، فاطمہ اور حسین کے بارے میں جو لکھا،اس سے زیادہ شیعہ بھی عقیدت نہیں رکھتے۔ بریلوی دیوبندی ایا ک نستعین کی تفسیر میں غیراللہ کے فیض سے استمدادکو شرک نہیں سمجھتے۔مولانا قاسم ناتوتوی کی زندگی اورموت کے بعدجو کرامات دیوبندی کتابوں میں ہیں، اتنے بریلوی وشیعہ میں نہیں ہیں۔
یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں اور عیسائی خدا مانتے ہیں۔ اسلام اعتدال کا راستہ ہے۔ جب مسلمان ائمہ اہل بیت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح کرامات کا حامل اور مظلوم سمجھیں گے تو شرک اور توہین دونوں سے بچیں گے۔ قدریہ اور جبریہ فرقے اعتدال سے ہٹ کر آج مٹ چکے ہیں۔ہزار سال سے زیادہ ہوگئے کہ شیعہ امام غائب غیرفعال ہیں تو گیارہ ائمہ اہل بیت کے تین سوسال پر اتنافسادکیوں ہے؟۔
درمیانہ زمانہ سے عیسیٰ تک مہدی کا کردار حدیث میں ہے ۔ یہ خضر کی طرح غیبت میں بھی ہوسکتا ہے۔ رسول ۖ سے درمیانہ زمانہ تک رسول ۖ کا کردار امت کی ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ اور درمیانہ زمانہ کے بعد امام مہدی کا کردار ہو تو حدیث کی شیعہ سنی نقطۂ نظر سے کیا توجیہ ہوسکتی ہیں؟۔ جب رسول ۖ سے مہدی تک کوئی امام ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ نہیں تو یہ بحث سمیٹنے کی ضرورت ہے ۔ ہلاکو خان نے بغدادکادارالخلافہ تباہ کیا تو اس کی اولاد نے خلافت عثمانیہ قائم کردی ۔البتہ مدلل طریقے سے ایکدوسرے کو قائل کرنے میں حرج نہیں۔ مذہب کے نام پر دکانیں ہیں اور عالمی سازشیں ہورہی ہیں اسلئے فساد سے اجتناب کرنا ہوگا۔ کوئٹہ کے ہزارہ ہمیشہ جنازے اٹھاتے ہیں اور جہاں شیعہ اقلیت میں ہیں ،وہاں بہت نقصان اٹھاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ کے بارہ ائمہ اہل بیت کااصلی تصور

شیعہ کے بارہ ائمہ اہل بیت کااصلی تصور

تحفظ بل پر عقائد کااحترام اورفرقہ پرستوں کی چھترول

مسجد نبویۖ پر ترکی خلافت عثمانیہ کے دور سے خلفاء راشدین ، عشرہ مبشرہ (10صحابہ کرام )شیعہ کے 12امام علی، حسن، حسین، زین العابدین، باقر ، جعفر صادق ………حسن العسکری ، محمدالمھدی کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ مفتی فضل ہمدرد نے ویڈیو بنائی ہے۔ اس میں تمام تفصیلات اور تصاویر موجود ہیں۔
پارلیمنٹ میں جو بل پیش ہوا، اس میں توہین صحابہ وتوہین اہل بیت پر سزا ہے۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ علی پہلے امام ہیں ۔ ابوبکر، عمر اور عثمان کی جگہ مسند خلافت پر علی کاحق تھا اور خلافت پر بنوامیہ و بنوعباس کی جگہ بارہ امام کا حق تھا ۔ اس بحث ، تقریر اور تحریر سے بسا اوقات بات توہین وتضحیک تک پہنچتی ہے۔ مولانا اعظم طارق نے شیعہ کے امام مہدی غائب کی توہین کی تو اس پر قاتلانہ حملے ہوئے اور قاتل کو پھانسی دی گئی تو کاشف عباسی یا طلعت حسین نے علامہ امین شہیدی سے انٹرویو میں پوچھا تھا کہ ” آپ کے نزدیک اس نے جہاد کیا ہے؟”۔ اور علامہ امین شہیدی کی تصویرTVاسکرین پر دکھائی، جس میں وہ قاتل کی قبر کے سامنے اس طرح سے بیٹھے ہیں جس طرح ممتاز قادری سے عقیدت رکھنے والے اسکی قبر پر بیٹھتے ہیں۔ جب سپاہ صحابہ کے کارکن کو پھانسی دی جاتی تھی تو وہ پھندہ عقیدت سے چوم لیتے تھے کہ اس نے دہشت گردی نہیں کی ہے بلکہ جہاد کیا ہے۔
پاکستان میں توہین کے قوانین اداروںاور شخصیات کے حوالے سے موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ عمل ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف کے عہدے پر پارلیمنٹ کی قانون سازی سے پہلی مرتبہ بیٹھے اور جاتے جاتے کہہ رہے تھے کہ ”فوج پر تنقید کرو لیکن لہجہ نرم رکھو”۔ یہ انسان کی قسمت، طاقت اور ماحول پر انحصار کرتا ہے کہ کب عدالت پر حملہ بھی سزا کا باعث نہ بنے اور کب الیکشن کمیشن کو منشی کہنے پرپکڑ ہوجائے؟۔ ام المؤمنین حضرت عائشہپر بہتان لگا تو قرآن نے کسی عورت پر بہتان کی سزا80کوڑے اور زنا کی سزا100کوڑے رکھی۔ جس میں امیر غریب ، طاقتور کمزوراور عزتدار و کم عزت کی تفریق نہیں۔ جب ام المؤمنین اور جھاڑو کش عورت پر بہتان کی اللہ نے ایک سزا رکھی ہے تو اس سے ہم دنیا کا نظام ٹھیک کرسکتے تھے۔ علماء اور مذہبی طبقے نے کبھی پارلیمنٹ میں اس کو پیش کرنے کی جرأت نہیں کی۔ جو پاکستانی عوام بلکہ دنیا کیلئے روشنی کا مینار ہوتا۔
بارہ خلفاء پر سوشل میڈیا میں مولانا اسحاق اور بڑے سنی شیعہ علماء کے بیانات ہیں۔ مسئلہ خلافت پر پہلے انصار ومہاجرین میں اختلاف ہوا۔ علی و ابوبکر میں اختلاف تھا۔ اہل سنت کے نزدیک حضرت فاطمہ کے انتقال کے بعد علی نے ابوبکر سے بیعت کی ۔شیعہ یہ توہینِ اہل بیت سمجھتے ہیں کہ امام کسی غیر کی بیعت کرلے۔ ان کے نزدیک علی نے تقیہ میں تین خلفاء ابوبکر، عمر اور عثمان کیساتھ تعاون کیااور مجبوری میں حسن نے معاویہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کیا ۔ حسین نے سردیا مگر یزید کی بیعت نہیں کی۔ یزید بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش نہ کرتا تو جس طرح علی و حسن نے مصالحت اور صلح سے کام لیا،اسی طرح حسین نے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی۔ یزید کا لشکر مان جاتا تو حسین نے اسی طرح زندگی گزارنی تھی جیسے آپ سے پہلے اور بعد والے اماموں نے گزاری۔ حسین کیخلاف یزید نے ظلم کی انتہاء کردی ۔ حسین کا جہادبڑی علامت ہے۔ امام حسن العسکری کے بیٹے امام محمد مہدی الغائب خضر علیہ السلام کی طرح زندہ ہیں۔ سنی علماء ومشائخ سے خضر ملتے ہیں تو شیعہ سے مہدی غائب ملتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے رجل الغیب خضر سے ملاقات کی تھی تو قرآن میں ذکر ہے ۔ خضر کا کام باطنی خلافت تھا۔کوئی یہ نہیں کہتا کہ خضر نے بچے کو قتل کیا لیکن فرعون سے جہاد نہیں کیا؟۔ عقیدت سے لڑنا مشکل ہے۔ غیب پر ایمان رکھنے والوں کو عقل ومنطق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فرقہ واریت میں مبتلاء عناصر ایکدوسرے کو لاجواب کرنے کے بجائے اچھے انداز میں سمجھائیں تو بہتر ہوگا۔
مفتی فضل ہمدرد نے الشیخ حسن فرحان المالکی کی کتابوں کا ذکر کیا جو سعودی عرب کی جیل میں اہل بیت وصحابہ پر علمی تحقیق کی سزا کھارہے ہیں۔مولانا سید سلیمان ندوی کو اس جرم میں ندوة العلماء کے بڑے مدرسے سے ریٹائرڈ کیا گیا۔ ہندوستان کے سعودی اور مقامی علماء ان پر فتوے لگارہے ہیں۔ شیعہ سنی صحابہ و اہل بیت پر لڑتے ہیں لیکن قرآن پر بالکل بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ میں نے پشاور جامعة الشہید عارف الحسینی کے مدرسہ میں قرآن کی حفاظت پر بات کی تو مولانا نورالحق قادری ، مولانا روح اللہ مدنی، مولانا طیب قریشی، درویش مسجد صدر پشاور اور معروف مدارس اور درگاہوں کے جانشین کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز صاحب بھی موجود تھے۔ قرآن کی حفاظت سے شیعہ وسنی ایسے بھاگتے ہیں جیسے گدھے شیر سے بدحواس ہوکر بھاگتے ہیں۔ قرآن کے بغیر صحابہ واہل بیت پرلڑنا دین وایمان سے زیادہ پیٹ اور ماحول کا مسئلہ ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سعودی عرب، ایران اور طالبان کے مذہبی اقتدارکا راز یہ تھا کہ لونڈی اور اس کا لباس ختم برطانیہ، فرانس اور امریکہ مغربی دنیا نے بڑااچھاکھیلا

سعودی عرب، ایران اور طالبان کے مذہبی اقتدارکا راز یہ تھا کہ لونڈی اور اس کا لباس ختم
برطانیہ، فرانس اور امریکہ مغربی دنیا نے بڑااچھاکھیلا

سعودی عرب، ایران اور افغانستان کی خواتین کے مقامی اور اسلامی لباس کو قربان کیا گیا؟

خطے میں جنگ ہے اور فریقین ایک دوسرے پر ایجنٹ کا الزام لگاتے ہیں ۔ اگر دشمنوں کا خوف نکل جائے گا تو وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے پر مجبور کرنے کیلئے اپنی فنڈنگ چھوڑ دیں گے

عثمانی خلیفہ کی4500لونڈیوں میں ہر رنگ ونسل ، زبان وکلچر، مذہب ودین اور علاقہ وملک کی خواتین کو شامل کرنے کی کوشش ہوئی۔اس وقت فرانس اور برطانیہ کا اقتدار سمٹ رہا تھا؟

دشمن کو خطرہ ہے کہ اگر پھر خلافت قائم ہوئی تو مسلمان ان کی خواتین کونیم برہنہ لباس کی لونڈیاں بنائیں گے ایرانی بادشاہ یزد گرد کی تین بیٹیوں کو ابوبکر، عمر اور علی کے بیٹوںکی لونڈیاں بنایا گیا

لونڈیوں کا تصور اور مسلمانوں کا کردار

اسلام سے پہلے دنیا میں لونڈی اور غلام کا تصور تھا۔ لونڈی سے نکاح کی ضرورت نہیں تھی ۔غلام نوکر ہوتا تھا۔ بعض نسلی غلام تھے۔ بردہ فروشی ، جنگ اور ڈکیتی بھی غلام بنانے کا طریقہ تھا اور غلامی کا بنیادی ادارہ جاگیردارانہ نظام تھا جو مزارعین کے بچوں اور خواتین کو لونڈیا ںوغلام بناتا تھا۔ عورت معاشرے کی ایسی جنس تھی جس کو بیوی، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے بیچنا مردوں کا اپنا حق تھا۔
جانور کی طرح انسان کی ملکیت کا حق تھا۔ عورت معاشرے میں جنس مملوکہ تھی ۔آج بھی عرب، پشتون ، پنجاب اور دنیا میں اس جنس کی خرید وفروخت کا دھندہ ہے اور میڈیا میں بھی رپورٹنگ ہوتی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی عدالت نے ایک پاکستانی فیملی کو لاکھوں ڈالر اسلئے جرمانہ کیا کہ وہ بہو پر جبری تشدد کے ذریعہ گھر کے کام کاج لیتے تھے اور اس کو بلیک میل کرکے رکھا تھا جس کی وجہ سے اس خاندان پر انسانی اسمگلنگ کا کیس بن گیا اور سزائیں بھی دے دیں۔
محمد شاہ رنگیلا بادشاہ بالا خانے کی سیڑھیوں پر ننگی لڑکیوں کے سینوں کو پکڑ کر چڑھتا تھا۔سعداللہ جان برق کی کتاب” دختر کائنات”میں حقائق ہیں۔ خواتین کی حالت آج بھی دنیا میں ہوشربا طور پر قابلِ رحم ہے لیکن ان کی مظلومیت کا انداز ظالم اور طاقتور مردوں کیلئے قابلِ رحم نہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹوں کو ملتان اور لاہور سے اغواء کرکے طالبان نے برسوں افغانستان میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا تو ان پر بہت زیادہ ترس آتا تھا مگرملتان اور لاہور میں بکنے والی خواتین کی آہوں کا شاید یہ نتیجہ تھا۔
مذہبی اعتبار سے یاد رکھنے والا عبرتناک واقعہ کربلا ہے۔عشرہ محر م شہادت حسین کے طور پر شیعہ اور کچھ ہندو و سکھ تک بھی غم کے طور پر مناتے ہیں اور واقعی تاریخی ظلم ہوا تھا۔ انگریز پاکستان میں شیعہ ماتم کو کبھی لاعلمی میں دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ کیا نبیۖ کا نواسہ ابھی شہید ہوا ہے؟۔ کربلا کی داستان عاشور کی رات شام غریباں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے بعد مزید سخت انداز میں شروع ہوتی ہے۔ حسین کے سرکو لیکر خواتین ، بچوں اور بیمار زین العابدین کیساتھ قافلہ یزید کے دربار میں پہنچادیا جاتا ہے۔ قافلے میں حسین کی بیگم حضرت شہر بانو ، بہن حضرت زینب اور بیٹی سکینہ بھی ہوتی ہیں۔ ایک شامی یزید سے کہتا ہے کہ ”یہ ایک جواں سال بچی بہت خوبصورت ہے۔ مجھے لونڈی کے طور پر دیدو”۔
بی بی زینب جواب دیتی ہیں کہ ”نہ تمہاری یہ اوقات ہے کہ اس کو لونڈی بناؤ اور نہ یزید کو اختیار ہے کہ اس کو لونڈی بنائے”۔ یزید نے کہا کہ ” اگر میں چاہوں تو لونڈی بناسکتا ہوں”۔ حضرت زینب نے بہت دردناک خطبہ دیا ۔ قرآن کی آیات پڑھیں کہ” بعض لوگوں کو ہم آزمانے کیلئے اختیار دیتے ہیں تاکہ ظلم کرنے والے ذلت آمیز انجام کی طرف پہنچ جائیں”۔ اور کہا کہ ” مسلمانوں کی عورتوں سے کافروں کی طرح سلوک نہیں کیا جاسکتا ہے مگر تم سے یہ بعید نہیں ہے اسلئے کہ تمہارے وجود میں ہمارے خاندان کا خون شامل ہے۔ ( یزید کی دادی حضرت ہندہ رضی اللہ عنہانے جو سیدالشہداء امیر حمزہ کے کلیجے کو چبا کر خون کو نوش فرمایا تھا۔ اس طرف حضرت زینب کا اشارہ تھا)سوشل میڈیا پر مولانا اسحاق کے بیان سے پورے واقعہ اور خطبے کو سن سکتے ہیں۔
امام حسین کی بیگم شہربانو اس موقع پر کیوں خاموش تھیں؟۔ یہ اس نے پہلا واقعہ نہیں دیکھا تھا بلکہ جب وہ سپر طاقت فارس کی شہزادی تھی اور حضرت عمر کے دور میں حضرت سعد بن وقاص کی قیادت میں مسلمانوں نے فتح کرکے اس کے باپ کی بادشاہی کو تہس نہس کردیا تھا۔ وہ اور اس کی دو بہنیں بھی لونڈی کے طور پر مال غنیمت میں لائی گئی تھیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ ” مال غنیمت میں ان تینوں کو نیلام کردو”۔ حضرت علی نے کہا کہ ” شہزادیوں سے عام لوگوں جیسا سلوک نہ ہونا چاہیے۔ایک عبداللہ بن عمر ، دوسری حسین بن علی اور تیسری ابوبکر کے بیٹے محمد کو دیدیتے ہیں”۔ حضرت عمر نے اتفاق کیا۔ حضرت شہربانو پر اس وقت کیا گزر رہی ہوگی کہ جب اس کو عربی زباں بھی نہیں آتی تھی، اس کی بہنیں اور وہ سرِ عام نیلام ہونے کیلئے پیش کی جارہی تھیں؟ ۔ذراسوچئے۔حضرت شہر بانو اور اس کی بہنوں کا کیا گناہ تھا کہ تینوں بہنیں لونڈیاں بنائی گئیں؟۔ بس ایک سپر طاقت بادشاہ کی شہزادیاں ہونا ان کا گناہ ٹھہر گیا تھا؟۔ کیا باپ کے گناہ کی سزا بیٹیوں کو اسلام میں دینے کی گنجائش ہے؟۔ حضرت شہربانو کی نصیحت اکلوتے بیٹے امام زین العابدینسے کیا ہوسکتی تھی؟۔کیا چُپ کا روزہ رکھا ہوا تھا؟۔ کوئی قول اور بول کسی نے نقل کیا ہے؟۔کھلے حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔قوم پرست اور ملحد خوامخواہ میں مذہب یا اسلام سے دشمنی نہیں رکھتے۔ آئے روز مغرب میں قرآن، نبیۖ اور اسلام سے اظہارِ نفرت کے محرکات تلاش کریں!۔

اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت مہدی غائب

امام زین العابدین میں اپنی ماںشہربانو اور بابا حضرت حسین کا خون تھا۔ میڈیکل سائنس میں ماں باپ کے سپرمXYاور قرآن میں نطفۂ امشاج ہے۔ امام حسین کا ایک بیٹا زید اپنے باپ حسین پر زیادہ گیا تھا اور اس نے بنوامیہ کے خلاف40ہزار افراد لیکر قیام کیا لیکن ساتھیوں سمیت شہید کردئیے گئے۔ بڑے بیٹے امام باقر پر اپنی ماں شہر بانو کا زیادہ اثرتھا اسلئے بنوامیہ کے خلاف قیام نہیں کیا۔ امام باقر، امام جعفر سے امام حسن عسکری اور امام مہدی غائب تک اہل تشیع کے سلسلہ امامت نے شہربانو کے اثر سے قیام کرنا گوارا نہیں فرمایا تھا۔
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت مہدی غائب قیام کریں گے تو پوری دنیا ان پر متفق ہوگی۔ بڑے دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کچھ بھی ہوگا تو سارے مسلمان متفق ہوں گے۔ اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ شیعہ عقیدے کے مطابق امام مہدی غائب آئیںگے یا پھر سنی عقیدے کے مطابق امام مہدی آئیںگے؟۔ شیعوں کی کتابوں میں امام کا قول موجود ہے کہ ” مہدی سے پہلے جو قیام کرے گا وہ ایسے طائر کا بچہ ہوگا جو غیر کے ہاتھوں میں پلا ہوگا”۔
شیعہ کے نزدیک اقتدار امام معصوم کا حق ہے۔ علی سے لیکر حسن عسکری تک کسی نے ظلم وفسق نہیں کیا۔ سنیوں کے نزدیک یزید، ظالم ، فاسق بھی امام ہوسکتا تھا۔ ایرانی اقتدار کوشیعہ مانتے ہیںیا ڈھونگ سمجھتے ہیں؟۔اکابردیوبند نے اپنی متفقہ کتاب ” المھند علی المفندعقائد علماء دیوبند” میں وہابیوں کی مخالفت کی تھی۔
حضرت ابراہیم کی زوجہ سارہ آپ کے خاندان سے ،دوسری حاجرہ لونڈی تھی جو ظالم بادشاہ نے سارہ کو تحفے میں دی ،وہ دوسرے بادشاہ کی بیٹی شہزادی تھی۔ ظالم بادشاہ خواتین کو لونڈیاں بناتے تھے۔ بہن ، بیٹی اور ماں کی اکثر عزت رکھتے لیکن مردوں کو ذلت تک پہنچانے کیلئے بیگم سے جبری زیادتی کرتے تاکہ وہ آنکھ اُٹھاکر کبھی بات نہ کرسکے۔ علماء نے بھی حلالہ کے ذریعے بادشاہوں اور شرفاء کی بیگمات کیلئے ایسا سیاسی گر استعمال کیا کہ وہ آنکھ نہیں اٹھاسکتے تھے۔
حضرت ابراہیم کی زوجہ سارہ سے بہت انبیاء حضرت اسحاق ،یعقوب اور یوسف آئے، داؤد ، سلیمان کو بادشاہت بھی مل گئی۔ حضرت عیسیٰ تک بڑی تعداد میں انبیاء اور ملوک حضرت سارہ کی نسل سے آئے لیکن حضرت حاجرہ کی نسل میں حضرت اسماعیل کے بعد آخری پیغمبر حضرت محمد ۖ تک درمیان میں کوئی نبی اور بادشاہ نہیں آیا۔اللہ نے فرمایا: ”اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اس نعمت کو کہ میں نے جہاںوالوں پر تمہیں فضلیت دی”۔ بنی اسرائیل کو برے عذاب کا سامنا کرنا پڑا تھا جب آل فرعون انکے بیٹوں کو قتل اور ان کی عورتوں کی حیاء لوٹتے (یعنی لونڈیاں بناتے )تھے۔ (القرآن)۔ نبیۖ نے لونڈی و غلامی ختم کرنے کا مشن اٹھایا ۔ ایران اور روم فتح ہوئے تو یورپی و ایرانی لونڈیاں بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ حقیقت ہے کہحب الشہوٰت من النساء (عورتوں سے شہوانی محبت کا جذبہ )مردوں کی بہت بڑی فطری کمزوری ہے۔ آدم خلیفہ بنانے کیلئے زمین پر بھیجے جارہے تھے تو پہلاحکم یہ دیا کہ ” اس شجرہ کے قریب مت جاؤ”۔ وہ شجرۂ نسب تھا اسلئے کہ ہمیشہ رہنے والا اور ایسی ملک جو ختم نہ ہو،نسل ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ عصی اٰدم فغویٰ” آدم نے نافرمانی اور سرکشی کردی”۔نافرمانی اور سرکشی کی نسبت اللہ نے حضرت حواء کی طرف نہیں کی لیکن پھر بھی ایک کمزورعورت حواء پر سارا مدعا ڈالا گیا ہے۔اگر ہم نے قرآن کی طرف رجوع نہیں کیا تو تذلیل کی آخری حد کو اللہ نے ہمیں پہنچادینا ہے۔

لونڈی انسانی ماتھے پر بہت بڑا داغ


مولانا غلام رسول سعیدی نے لکھ دیا کہ ” دنیا میں غلام بنانے کی رسم تھی تو اسلام نے جزاء سیئة بالسیئة برائی کے بدلے برائی کا جواز دیا لیکن دنیا نے پابندی لگادی تو اسلام بھی اس پابندی کو قبول کرتا ہے”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ” اپنی قوم سے تعلق رکھنے والی آزاد عورتیں ہیںاور ان میں 4سے ایک بھی زیادہ سے نکاح کی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری قوم سے تعلق رکھنے والی عورتیں لونڈیاں ہیں اورجن میں تعداد کی کوئی پابندی نہیں ، جتنی چاہیں رکھ سکتے ہیں”۔
مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا غلام رسول سعیدی نے کوشش کی کہ اسلام کے ماتھے سے لونڈیوں کا داغ مٹ جائے ۔ان کا تعلق دیوبندی بریلوی حنفی مسلک سے تھا۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے حنفی علماء کسی بات پر متفق ہوجائیں تو دنیا پر بڑے اثر ات مرتب ہوںگے۔ ہندوستان اور پاکستان کو منصوبہ بندی کے تحت تقسیم رکھا گیا۔ اگر صلح حدیبیہ کا معاہدہ اور اسلام کی درست تعبیر ہوتو دنیا میں اسلام کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔آزادی سے پہلے مسلمانوں اور ہندؤوں نے خلافت کی بحالی کیلئے مشترکہ تحریک چلائی تھی ،جس میں مولانا محمد علی جوہر کیساتھ نامی گرامی ہندو لیڈر بھی شریک تھے۔
مولانا محمد علی جوہر’کامریڈ’مولانا ظفر علی خان’زمیندار’ اخبار نکالتے تھے۔ مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ تھے ۔علامہ اقبال نے کہا : ” جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہوروزی اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو”۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو خطرہ تھا کہ برصغیر کی سیاسی قیادت، عثمانی خلافت ، روس و جرمنی آپس میں مل کر سپر طاقت نہ بن جائیں۔ جرمنی میں دیوار برلن کھڑی کی گئی۔ پاک وہند کو تقسیم اور خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے کئے گئے۔ حجازکا شریف مکہ برطانیہ کا ایجنٹ تھا۔ شیخ الہند چھپ کر حجاز پہنچے تو شریفِ مکہ نے برطانیہ کے حوالے کردیا۔ دارالعلوم دیوبند کے اندر سے مخبری ہوئی ۔ مولانا حسین احمد مدنی حرم کے مدرس اورغیر سیاسی شخصیت تھے لیکن اپنے استاذ کیساتھ مالٹا جیل جانا پسند کیا تھا۔
برطانیہ نے سعودی عرب سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تو عربی کلچر اور اسلام کے برعکس خود ساختہ شرعی پردہ مسلط کردیا۔ جس نے مسلمانوں کے ذہن سے لونڈی اور اسکے لباس کا تصور ختم کردیا۔ برطانیہ، فرانس سپرطاقت تھے پھر امریکہ بن گیا۔خلافت عثمانیہ کو مل بانٹ کر توڑا ۔روس کے خلاف متحد ہوگئے پھر فرانس سے امام خمینی نے ایرانی انقلاب برپا کیا۔ ایرانی کلچر اور اسلام کے برعکس پردہ نافذ ہوا۔50سالوں سے ایران میں عورتوں پر پردے کی جو پابندی ہے اس کی وجہ سے لونڈی کے لباس کا تصور ختم کردیا گیا۔ وہابی اور شیعہ اسلامی پردے کے نام پر جو کھلواڑ ہوا ،اسکے اثرات قدامت پسند نہیں ڈھیٹ مذہبی طبقہ نے قبول کئے۔ امریکہ نے بینظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر کے ذریعے طالبان کو لاؤنچ کیا۔ سعودیہ، ایران اورطالبان میںکونسا اسلام ہے ؟۔ سب جائیں بھاڑ میں مگر عالمی طاقتوں نے دنیا سے لونڈیوں اور انکے لباس کا خاتمہ کرکے اچھا کیا۔ امریکہ نے مولانا سیدابولاعلیٰ مودودی سے کمیونزم، جہاد اور پردے کے نام پر کتابیں لکھوائی۔ اسلامی جمعیت طلبہ وطالبات نے کبھی خود اس پردے پر عمل نہیں کیا۔ جہاد کیلئے اپنے بیٹے فاروق مودودی اورجماعت اسلامی کے رفقاء کو نہیں بھیجا لیکن جذباتی لوگوں کو میجر مست گل کی بڑی زلفوں کا اسیر بنانے کا ڈرامہ ضرور کیا۔
آج چوہدری نثار اپنے پسندیدہ سیاستدانوں میں پہلے نمبر پر ولی خان اور دوسرے نمبر پر ذوالفقار علی بھٹو کو رکھتے ہیں۔ ولی خان نے بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ ” آپ خود بھی ایک خاتون ہیں اور افغانستان میں عرب مجاہدین پختونوں کی خواتین کو لونڈیاں بنانے کی باتیں کررہے ہیں”۔ عمران خان کہتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف بھی ہے لیکن وہ پہلے نمبر کے لیڈر تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اداکارہ ممتاز کیساتھ جو کیا تھا وہ حبیب جالب کے اشعار میں موجود ہے۔
لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانہ چلو

خلافت کا قیام اور دنیا کو خطرات کا سامنا


احادیث صحیحہ میں خلافت علی منہاج النبوہ کی پیش گوئی ہے۔ مولانا آزاد، مولانا سیدمودودی ، شیخ عبداللہ ناصح علوان ، ڈاکٹر اسرار احمد ، علامہ اقبال اور کئی مذہبی اسکالرز اور سیاسی رہنماؤں کے دل ودماغ میں روشن مستقبل کا نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ عالمی قوتوں کو بجا طور پربہت خوف آرہاہے اور افغان طالبان کیساتھ عمران خان کی ہمدرد ی کو بیان کرتے ہوئے رؤف کلاسرا نے کہا کہ پانچ عالمی طاقتور ممالک نے سفارت کاری کے ذریعے پیغام دیا کہ ” اگر آئندہ عمران خا ن اقتدار میں آیا تو پاکستان کیساتھ کام نہیں کریں گے۔ پاکستان امریکہ، برطانیہ، چین اوریورپی ممالک کے بغیر نہیں چل سکتا ،انہوں نے بہت ساری رعایتیں دے رکھی ہیں”۔پھر رؤف کلاسرا نے عمران خان کو بینظیر بھٹو کے طرز پر قتل کی سازش کا ذکر کیا ۔ بعض کے طرزِ عمل سے لگتاہے کہ صحافی اور چوہدریوں میں بھی میراثی کا کردار ادا کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ عمران خان کچھ بھی نہیں مگر قسمت اس پر مہربان ہے۔ نظام نہیںانقلابی اقدامات سے ملک بچانا پڑیگا۔کچھ صحافی گدھے کا دودھ پینے اور گدھی کے ٹٹے مالش کرنے کی مہم جوئی کرتے ہیں۔
عالمی قوتوںکو پاکستان سے خلافت کے قیام میں اپنی خواتین لونڈیاں بنتی دکھائی دیتی ہیں۔ پہلے یہود ونصاریٰ نبیۖ سے اسلئے راضی نہیں تھے کہ ” مذہبی معاملات میں احبار ورھبان نے دین میں تحریفات کی تھیں اور ان کی چاہت تھی کہ نبیۖ بھی اصلی دین کی جگہ ہماری تحریفات پر ہمارے تابع بن جائیں”۔ لن ترضیٰ عنک الیہود ولن النصاریٰ حتی تطبع ملتھم ”آپ سے کبھی یہود اور نصاریٰ راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کے تابع بن جائیں”۔ دین کا معاشرتی اور معاشی نظام یہودونصاریٰ بگاڑ چکے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” انہوں نے اپنے احبار ورہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا”۔ حاتم طائی کے فرزند عدی بن حاتم نے اسلام قبول کیا تھا اور اس آیت پر نبیۖ سے سوال اٹھایا کہ ”ہم نے تو علماء ومشائخ کو اپنا رب نہیں بنایا تھا”۔نبیۖ نے فرمایا کہ ” کیا تم ان کے حلال کردہ حرام کو حلال اور حرام کردہ حلال کو حرام نہ سمجھتے تھے؟” ۔ عدی نے عرض کیا کہ ” یہ تو ہم سمجھتے تھے” ۔نبیۖ نے فرمایا کہ ” یہی تو رب بنانا ہے کہ ان کے کہنے پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام سمجھتے تھے”۔
قرآن نے عورت کے حقوق کی زبردست وضاحت فرمائی مگر مذہبی طبقات نے کھلے حقائق کو بہت بھونڈے انداز میں مسخ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور ایک ایک بات کو انسان دیکھے تو یہودونصاریٰ کے کردار کو سمجھے گا کہ نبیۖ کی ذات سے کیوں راضی نہیں ہوسکتے تھے؟۔ اوروہ ہے عورت کابدترین استحصال ۔
جب جنگ بدر میں مسلمانوں نے70افراد کو قیدی بنالیا تھا تو کسی ایک کو بھی غلام نہیں بنایا تھا۔ اگر خواتین ہوتیں تو شاید آپس میں بانٹ دی جاتیں؟۔ اسلئے کہ لونڈیاں رکھنا دورِ جاہلیت اور انسانوں کا محبوب مشغلہ تھا۔ مگر یہ سب مرد تھے اور جنگ کے شہسواروں کو غلام بنانا اور ان سے گھر کی خدمت لینا ممکن نہیں۔ ابھی نندن اور کلبھوشن یادیو کو پکڑلیا تو کون گھر کی خدمت لیتا؟۔ درا صل یہ نظریہ غلط ہے کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنانا ممکن ہے۔ جنگی قیدیوں کوقتل کیا جاسکتا ہے، غلام نہیں بنایا جاسکتا اسلئے قرآن نے حکم دیا ہے کہ ” ان کو فدیہ لیکر چھوڑ دو یا پھر احسان کرکے چھوڑ دو”۔ (القرآن)۔ جس سے جنگی قیدی کو قتل نہ کرنے کا کریڈٹ قرآن کے کھاتے میں جاتا۔ افسوس کہ ہم نے قرآن کو اتنے بڑے کریڈٹ سے محروم کیا ۔ورنہ عافیہ صدیقی بھی امریکہ کی قید میں نہ ہوتی اور اقوام متحدہ میں قرآن اور اسلام کے نام پر جنگی قیدیوں کیلئے عظیم قوانین بھی بنتے۔

قرآن اور لونڈی کے تصور کا خاتمہ


لونڈی کو امة اور غلام کو عبدکہتے تھے، قرآن میں ان کو آزاد کرنے اورنکاح کرانے کا حکم ہے۔اللہ نے قیدیوں کا فرمایا کہ” فدیہ یا احسان سے چھوڑدو”۔ لونڈی بنانے کا تصور بڑی غلطی ہے۔ کوئی آیت نہیں کہ جس سے لونڈیاں بنانے کا حکم اخذ ہو۔ بنی اسرائیل کولونڈی سے بچانے کیلئے اللہ نے آل فرعون سے مزاحمت کیلئے انبیاء بھیجے تویہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ نے آل فرعون کی کمی اسلام سے پوری کرکے بنی اسرائیل اوردیگر انسانوں کو لونڈی بنانے کا مشن دیا ہو؟۔
اللہ نے فرمایا: پس تم نکاح کرو عورتوں میں سے جن کو تم چا ہو2،2اور3،3اور4،4سے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”(سورۂ النسائ) کیااللہ نے لونڈیوں کی تعداد نہیں بتائی تھی ۔اسلئے رنگین مزاج بادشاہوں نے ہزاروں لونڈیاں رکھی تھیں؟۔
جس طرح جنت میں حوروں کی بڑی تعداد کا ذکر عام ہے مگر قرآن اور صحیح حدیث میں اس کا دور دور تک نشان نہیں۔ اسی طرح زیادہ تعداد میں لونڈیوں کا تصور انتہائی احمقانہ اور نفسانی خواہشات کا عکاس ہے جو اسلام کے منافی ہے۔ کوئی منصف مزاج انسان ہوتا تو آیت سے زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکالتا کہ پہلی صورت یہ ہے کہ دو چار عورتوں سے نکاح کرسکتے ہو ۔اگرنا انصافی کا خوف ہو تو پھر ایک سے نکاح کرو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ”یا جن سے تم معاہدہ کرلو”۔ اگر آدمی ایک عورت سے بھی نکاح کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کیلئے معاہدے کی بھی گنجائش ہے۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ ابوہریرہ نے نبی ۖ سے پوچھا کہ کیا ہم اپنے آپ کو خصی بنائیں؟ ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نہیں۔ تم کسی سے متعہ کرلو ایک یا دوچادر کے بدلے۔ اس چیز کو اپنے اوپر حرام مت کرو جس چیز کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ، الآےة(صحیح بخاری )بخاری کی حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جس کے پاس ایک عورت سے بھی نکاح کی صلاحیت نہیں تو وہ متعہ کرسکتا ہے اور آیت میں معاہدے سے مراد لونڈیاں نہیںبلکہ (متعہ اورمسیار)ہے۔
نکاح کیلئے جو لوازمات ہیں وہ معاہدے کیلئے نہیں ہیں۔ حضرت عثمان نے حضرت ابن مسعود سے کہا تھا کہ اگر آپ کہیں تو میں کسی لڑکی سے نکاح کروادیتا ہوں مگر ابن مسعود نے پیشکش قبول نہیں کی۔ ابن مسعود نے مصحف کی تفسیر میں لکھا کہ ” ایک مخصوص وقت تک متعہ کرسکتے ہیں” ۔علماء کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے قرآنی آیت قرار دیا تھا مگر وہ قرآن کے لفظ کی حدیث کے مطابق تفسیر تھی۔ علی کی بہن ام ہانی نے ہجرت نہیں کی اور اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ” ہم نے آپ کیلئے ان چچاکی بیٹیوں کو حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ہے”۔نبیۖ ان سے نکاح کرسکتے تھے ،نہ لونڈی بناسکتے تھے۔ علامہ بدرالدین عینی نے ام ہانی کو ازواج النبی ۖ میں شامل کیا ۔ حالانکہ ان کو ام المؤمنین کا شرف حاصل نہیں ہوا۔پھر اللہ نے نبیۖ پر کسی سے بھی نکاح کی پابندی لگائی تھی مگر ایگریمنٹ کی اجازت دی اور ام ہانی سے ایگریمنٹ ہوسکتا تھا لیکن علامہ عینی نے28خواتین کو ازواج میں شمار کیا ہے۔نبیۖ نے فتح خیبر کے موقع پر صفیہ سے صحبت کی تو دعوت ولیمہ میں صحابہ نے کہا کہ ”اگر پردہ کروایا تو نکاح ہے اور نہیں کروایا تو ایگریمنٹ ہے”۔ ( صحیح بخاری)۔ ایگریمنٹ آزاد عورت اور لونڈی دونوں سے ہوسکتا ہے اور ایگریمنٹ کا تعلق کاروباری معاملے سے بھی قرآن میں انہی الفاظ کیساتھ آیا ہے۔ قرآن نے عبدیت کو ناجائز قرار دیا ہے اسلئے کہ عبدیت صرف اللہ کی ہوسکتی ہے ۔دورِ جاہلیت میں لونڈی اور غلام مملوک ہوتے تھے ۔ مملوک کے جانور کی طرح انسانی حقوق نہیں تھے ۔ اسلام نے انسانی حقوق بحال کرکے ان کو گروی کا درجہ دے دیا۔ اسلئے ان پر ملکت ایمانکم کا اطلاق کیا ۔قرآن میں ہر مقام پر اس کا مختلف چیزوں کیلئے معنی واضح ہے۔ ہم نے جب قرآن کی طرف دھیان نہیں دیا تھا تو اسی گمراہی کے شکار تھے اور گمراہی کی اس دلدل سے نکلنے کیلئے پاکستان کی پارلیمنٹ کو بروئے کار لانا ہوگا۔

قرآن میں جدید دور کے مسائل کاحل


شیخ العرب والعجم مولانا ابوالحسن علی ندوی نے لکھا ہے کہ ” قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ومن یشتری لھو الحدیث ” اورجو خریدتا ہے لغو بات کو”۔ اس جدید دور میں بات ریکارڈ ہوسکتی ہے ۔ اسلئے کہ لغو بات کے لغو خریدنے کا تصور قدیم دور میں نہیں ہوسکتا تھا۔ نبیۖ نے صحابہ کرام سے فرمایا ہے کہ” قرآن میں تمہارے بعد پیش آنے والی خبروں کا بھی ذکر ہے”۔ قرآن کی یہ تفسیر بالکل حدیث کے بھی مطابق ہے اور اس کو جھٹلانے کی عقلی گنجائش بھی نہیں ہے۔
محرمات کی فہرست چوتھے پارے کے آخرمیں اللہ تعالیٰ نے بیان کرتے ہوئے ماں، بیٹی ، بہن اور مختلف رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دو بہنو ں کو جمع مت کرو۔ پھر پانچویں پارے کے شروع میں فرمایا : والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم ”اور عورتوں میں سے جو بیگمات ہیں مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے”۔ اس آیت کی تفسیرمیں بڑے تضادات ہیں۔ ایک صحابی کی طرف منسوب ہے کہ ” اگر کسی کی لونڈی نے دوسرے شخص سے نکاح کیا ہو تو وہ پھر بھی اس کی لونڈی ہے اور واپس لیکر اس کیلئے حلال ہے”۔ جمہور نے کہا کہ جنگ میں پکڑی جانے والی عورتیں جن کا پہلے سے خاوند ہو اور وہ لونڈی بن جائیں تو وہ حلال ہیں۔ کسی ایک تفسیر پر اتفاق رائے نہیں ہے ۔ لیکن کیوں؟۔
اللہ نے قرآن کو بہت واضح بیان کیا ہے تو اس کی تفسیر کس وقت مشکل ہوتی ہے؟۔ سورۂ جمعہ میں اللہ نے واٰخرین منھم لما یلحقوبھم ” اور ان میں سے آخرین جو ابھی تک ان پہلوں سے نہیں ملے ” ۔ کا تعلق آئندہ زمانے سے تھا اسلئے صحابہ نے پوچھا کہ ان سے کون مراد ہیں۔ نبیۖ نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کرفرمایا کہ اسکی قوم کا ایک شخص یا چندا فراد اگر دین ثریا پر پہنچ جائے تو بھی اس کو پالیںگے، بعض روایات میں علم اور ایمان کا بھی ذکر ہے۔
صحابی نے اشکال اٹھایا ہے کہ محرمات کی فہرست میں سب سے آخر میں جو طبقہ بیان ہوا ہے آخر سے ان سے کونسی خواتین مراد ہوسکتی ہیں جن کو بہت ہلکے درجے کے محرمات میں شمار کیا گیا ہے اور پھر اس میں استثناء کا بھی ذکرہے؟۔
عربی میں محصنات صرف ان کو نہیں کہتے ہیں جن کے شوہر زندہ ہیں۔ بلکہ جن کے شوہر فوت ہوچکے ہیں ان کو بھی محصنات یعنی بیگمات کہتے ہیں۔بیگمات کی یہ قسم چونکہ پہلے ادوار میں نہیں تھی اسلئے تفسیر بھی مشکل ہوگئی۔ موجودہ دور میں جن فوجی جوانوں کو نشان حیدر یا دوسری ایسی بیگمات جن کی مراعات سابقہ شوہر سے نکاح کے بندھن کیساتھ وابستہ ہوں۔ جب وہ نکاح کریں تو ان مراعات سے ہاتھ دھونا پڑجائیں۔ اگر ان کو جھانسہ دیکر نکاح کرلیا اور وہ مراعات سے بھی محروم ہوگئیں اور پھر کسی وجہ سے طلاق یا خلع کا معاملہ ہوگیا تو کتنا برا ہوگا؟۔ اس وجہ سے ایسی خواتین سے مستقل نکاح کی جگہ پر ایگریمنٹ کے جواز کا مسئلہ اللہ نے واضح کردیا۔ ایک تو اس عورت کو مراعات ملتی رہیں گی اور دوسرا جنسی خواہش کیلئے بھی کسی معین شخص سے تعلق معیوب ، غیراخلاقی اور غیرقانونی نہیں رہے گا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کیلئے یہ بہت بڑی خوشخبری اور مشکلات سے نکلنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر پاکستان میں ایسا ماحول نہ ہوتا کہ پینشن سے بھی جان چھڑانے کے منصوبے بن رہے ہیں تو سب سے پہلے ہماری اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی اپنے پیٹی بند بھائیوں اور معاشرے کے عظیم مفاد میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی بھی کرواتے۔ قرآن نے ایک ایک معاشرتی مسئلہ حل کیا ہے لیکن ہمارے مدارس میں قرآن کے ترجمے بھی رٹے رٹائے کئے جاتے ہیں اور قرآن کے ذریعے مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ تک نہیں دیتے ہیں۔

 حورکا تصور اور قرآن وحدیث اورعربی


قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انہ ظن ان لن یحور ”بیشک اس کا گمان تھا کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں ہوگا”۔ جن عجمیوں کو عربی نہیں آتی ہو تو ہوسکتا ہے کہ ایسی روایت بھی گھڑ دی ہو کہ جنت ، جہنم، توحید، رسالت، کتابوں، ملائکہ کی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اسکا ایمان حور پر بھی ہو اور جس کا ایمان حور پر نہیں ہوگا تو اس کو حور بدمعاش بن کر خود مارے اور پیٹے گی کہ تمہارامجھ پر یقین کیوں نہیں تھا؟۔ جیسے امامھم کو امہاتھم سمجھ کر روایت گھڑ دی کہ آخرت میں ماؤں کے نام سے سب کو پکارا جائیگا ،ایک عمر کو باپ کے نام سے پکارا جائے گا اسلئے کہ غیرتمند تھا۔
حور کا اصل معنی تو جدت کیساتھ نئے انداز میں پیدا ہونا ہے۔ آخرت میں یہ انسانی وجود جب دوبارہ پیدا ہوگا تو یہ حور ہے۔ حور مردو عورت دونوں کو کہا جاتا ہے۔ حور عین کیساتھ شادی ضرور ہوگی لیکن مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی جگہ پر حور بھی ہوں گے اسلئے کہ نیا وجود ہوگا اور عین کا معنی دنیا کی حقیقت بھی وہی ہوگی یعنی اس کو شخصیت بعینہ ہوگی وہی مگر اس میں جدت اور نیا پن ہوگا۔ یہ قرآن کی طرف سے اس سوال کا جواب ہے کہ مرد کو حور ملے گی تو عورت کو کیا ملے گا؟۔ یہی نا کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے حور یعنی جدت والا وجود ہوں گے۔
سورۂ رحمان میں اللہ نے فرمایا: فیھا الفاکھة والنخل والرمان ” اس میں پھل ہوں گے، کھجور اور انار”۔ فیھن خیرات حسان ” جنت یعنی باغ میں مزیدار(پھل) خوشنما ” ۔ یہ باغ کے پھلوں کی صفات ہیں۔ عورتیں مراد نہیں ہوسکتیں کیونکہ پھر خیِرات کا لفظ ہوتا۔حور مقصورات فی الخیام
لگتا ہے کہ علماء کے نزدیک جنت میں بھی سندھ کے سیلاب زدگان کے خیمے ہیں ۔ حور یعنی جدید پھل ۔ مقصورة پردہ نشین عورت ، مکان اور کوئی بھی چیز جو ڈھکی ہوئی ہو۔ موجودہ دور میں ہائی بریڈپھلوں کے پودے خیموں میں ہوتے ہیں۔ جو درجہ حرارت کو کنٹرل کرنے کیلئے ہوتے ہیں جو ہر موسم میں پھل دیتے ہیں۔ اس سے جدید ترقی یافتہ باغات کا نقشہ سامنے آتا ہے۔ پہلے کسی نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ قرآن کی تفسیر زمانہ کرتاہے، ابن عباس۔ لم یطمسھن انس ولا جان ”ان کو انسانوں اور جنات نے چھوا نہیں ہوگا”۔ یہ بھی پھلوں کی صفت ہے کہ وہ بالکل محفوظ اور ایسے ہوںگے کہ کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا۔
اس طرح دوسرے مقامات پر بھی پھلوں کے درختوںکی شاخوں کا بیان ہے کہ قاصرات الطرف، عرباًاتراباً ”جن کی شاخیں اطراف میںجھکی ہوئی ہوں گی اور دل کو لبھانے والی اور ہاتھوں کی ان تک رسائی ہوگی”۔اس طرح کواعبا اترابا ” ابھری ہوئی لٹکی ہوئی قد کے برابر”۔ یہ بھی باغات کی صفات ہیں۔ ہمارے ہاں کہاوت ہے کہ کوچوں کا افغان ڈاگ چاند کو دیکھ کر چھلانگیں لگاتا ہے کہ شاید بڑی افغانی روٹی ہے۔ درباری علماء بادشاہوں کی طرح عیاشی کے مزے نہیں اڑاسکتے تھے اسلئے قرآن میں باغات کی صفات کو بھی کچھ اور سمجھ کر اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق اس کی تفسیر کر ڈالی۔ حالانکہ نبیۖ نے ایسی تفسیر کی سخت مذمت فرمائی تھی جو اپنی رائے اور خواہش سے کی جائے۔
بہت سارے لوگوں نے قرآن کی حقانیت پر یقین کرنا اسلئے چھوڑ دیا کہ ان کے نزدیک بس سیکس اور عورت ہی ترجیحات کا مطمع نظر لگتا تھا۔ اس میں قرآن کا کوئی قصور نہیں تھا کہ درخت اور پھلوں کی صفات میں بھی ان کو کچھ اور دکھائی دیتا تھا۔ جب ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتے تھے تو مولانا طارق جمیل کبھی بیان کرنے آجاتے تھے۔ قبراور حوروں کے احوال سے ایسے مناظر اور کہانیوں کی عکاسی کرتے تھے کہ بعض طلبہ بہت فحش قسم کے الفاظ استعما ل کرتے تھے۔
عورت بیچاریوں کیلئے دنیا الگ سے عذاب بنائی تھی تو جنت کی بھی ایسی عکاسی کردی تھی کہ کرین سے زنجیروں میں باندھ کر ان کو زبردستی سے جنت میں ڈالنا پڑتا۔ جب نیک وپارسا خواتین کو حقائق کا پتہ چلے گا تو وہ ساری دنیا میں ایسی تبلیغ کرنا شروع کریں گی کہ اسلام دنیا میں بہت جلد از جلد پھیل جائے گا۔

 پاکستانی علماء کا کیا کردار ہونا چاہیے؟


اہلحدیث اور جماعت اسلامی ہندوستان کے علماء کی پیداوار ہیں اسلئے ان کی ذہنیت درباری علماء سے زیادہ مختلف نہیں۔ قرآن کی طرف رجوع کیلئے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا سے رہائی کے بعد عمر کے آخری حصہ میں آواز اٹھائی مگر امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کے سوا کسی نے ان کی بات پر کان نہیں دھرے۔ دارالعلوم دیوبند کے مولانا انور شاہ کشمیری نے عمر کے آخر میں مولانا عبیداللہ سندھی سے معافی مانگ لی تھی بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ” میں نے ساری عمر قرآن وحدیث کی خدمت کرنے کے بجائے فقہ کی وکالت میں ضائع کردی”۔
علماء ومفتیان کیلئے درسِ نظامی وہ کمبل ہے جس سے علماء حق نے ہمیشہ جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن کمبل ان کی جان کو نہیں چھوڑ رہاہے۔ ایک شخص کو دریا میں کمبل نظر آیاتو چھلانگ لگائی کہ کمبل کو پکڑلے ۔ ساتھی سمجھ گیا کہ کمبل نکالنا اس کے بس میں نہیں اور آواز لگائی کہ کمبل کو چھوڑ دو۔ کمبل سے کشمکش والے نے کہا کہ میں کمبل کو چھوڑ رہاہوں، کمبل نہیں چھوڑ رہاہے کیونکہ وہ کمبل نہیں ریچھ تھا۔ مولانا یوسف بنوری کی خواہش تھی کہ ایسا مدرسہ قائم کرے کہ مولانا سیدانور شاہ کشمیری کی خواہش کے مطابق طلبہ اور اساتذہ کی زندگیاں ضائع نہیں ہوں بلکہ قرآن و حدیث کی تعلیم سے دنیا میں انقلاب آئے لیکن کمبل میں پھنس گئے۔
عیاش مسلم حکمرانوں نے دنیا کو شکست دیکر یہ مذہبی تصور قائم کیا کہ عمر نے پابندی لگائی کہ ” لونڈیاں اپنے لباس سے زاید جسم کو نہیں ڈھانک سکتی ہیں”۔ لونڈیوں کے ستر میں سر، گردن، کندھے، بازو ، پیٹ اور ٹانگیں شامل نہیں تھیں۔ قیمت لگنے کیلئے جسم نیم برہنہ ہوتا تھا۔ انگریز کالوں کو غلام سمجھتے تھے اور مسلمانوں نے گوروں کو لونڈی بنانا شروع کردیا۔ رسول اللہ ۖ کی لونڈی ماریہ قبطیہ کے حوالہ سے کون سوچ اور سمجھ سکتا ہے کہ لباس کو ادھورا رکھنے پر مجبور کیا گیا ہوگا؟۔
افغانستان کو امیر امان اللہ خان نے ترقی دی تو انگریز نے سازش کی۔50،60اور70کی دہائی میںکابل پاکستانی اشرافیہ کا منظر پیش کررہاتھا۔ قائد اعظم، قائدملت ، جنرلوں، بیوروکریٹ، سیاستدانوں کی بیٹیوں و بیگمات کاجو ماحول تھا وہ عام افغانی خواتین کا تھا۔رتن بائی، رعنا لیاقت، بیگم بھٹو، بے نظیربھٹو، کلثوم سیف اللہ، بیگم نسیم ولی، عابدہ حسین، تہمینہ دولتانہ، ریحام خان اورمریم نوازتک کا جو پردہ اور مخلوط نظام سے واسطہ ہے اور جرنلوں ، بیوروکریٹ کی بیٹیاں جیسے آج مغرب اور مخلوط تعلیمی ومعاشرتی نظام کا حصہ ہیں بالکل اسی طرح افغانستان کی خواتین ترقی وعروج کی منزل پر گامزن تھیں۔ ہمارے اشرافیہ نے ملاؤں کو استعمال کرکے مغربی سازش کے کھیل میں جس طرح افغانستان کو دھکیل دیا، اس کی ایک ہلکی سی جھلک شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے تازہ بیان میں موجود ہے۔
مفتی تقی کے اَبا نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت اسلام کے نام پر کی ؟۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی بھی قائداعظم اور قائدملت لیاقت علی خان اور مرزاغلام احمد قادیانی کے پیروکار سرظفر اللہ سے کم نہ تھے لیکن طالبان کا امریکہ سے معاہدہ ہوا تو پھر افغانستان کے نظام کا سارا ڈھانچہ تباہ کرکے طالبان آگئے اور مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے وفد کے ہمراہ ان کو مبارکباد دیدی۔ طالبان کو چاہیے کہ مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن اور تمام مذہبی پیروں اور علماء کرام کو اپنے ہاں بال بچوں سمیت کچھ عرصہ تک تعلیم وتربیت کیلئے اپنے پاس رکھیں تاکہ یہ لوگ اسلام کی فضاؤں میں سانس لے سکیں اور انکے بچے بھی فیض یاب ہوں۔ اپنے مدارس اور گھر تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں کے حوالہ کردیں اور وہ یہاں اسلام کی وہی خدمات انجام دیں جو یہاں علماء دیتے ہیں۔

اسلامی معاشی معاشرتی نظام مسخ کیا گیا


ائمہ اربعہ سے پہلے مدینہ کے سات فقہاء تھے ایک حضرت ابوبکر کے پوتے قاسم اور دوسرے نواسے عروہ تھے۔ تیسرے حضرت سعید بن مسیب تھے۔ ابن مسیب نے فرمایا کہ” درباری چورعلماء کی نبیۖ نے سخت مذمت کی ہے”۔ مزارعت کے بارے میں صحیح اور مرفوع احادیث کے مقابلے میں صحیح بخاری کے اندر آثار نقل ہیں کہ آل ابوبکر، آل عمر اور آل علی مزارعت پر زمین دیتے تھے۔ رسول ۖ کی احادیث کے مقابلے میں درباری آل واولاد کی کیا حیثیت تھی، جنہوں نے مزارعت کی کمائی کو جائز قرار دے دیا یا اسے ناجائز سمجھ کر بھی کھانے سے دریغ نہیں کیا؟۔ حضرت علامہ سیدمحمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین نے اس پر اپنی کتاب میں بھرپور وضاحتیں لکھیںمگر درباری علماء و مفتیان نے مولانا طاسین کے علمی حقائق کو مدارس اور عوام کے سامنے نہیں آنے دیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن قائد جمعیت علماء اسلام نے بھی مولانا طاسین کے مشن کی تحریری تائید بھی کی ہے۔ اگر اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل ہوجاتا تو پاکستان کو ان معاشی اور معاشرتی مشکلات اور مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج بھی علماء اور مذہبی جماعتیں قرآن وسنت کی طرف متوجہ ہوجائیں تو پاکستانی ان کو سروں کے تاج بنانے کیلئے تیار ہیں ورنہ تاریخ میں ایسی نفرت کبھی مذہبی لبادوں سے نہیں ہوئی ہے جونفرت آج بہت سارے لوگوں کے دل ودماغ میں گردش کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک شیعہ ذاکر مسلم لیگی خاتون حنا پرویز بٹ پر بہت لعن طعن اسلئے کر رہاہے کہ اس نے مریم نواز کے لاہور ائیرپورٹ آنے پر کسی شیعہ کے مرثیہ کا کوئی شعر لکھ دیا تھا اور اس نے شہباز گل کو بھی کربلا کے میدان میں عمران خان کو کھڑا ہونے کی تشبیہ دینے پر خوب سنائی ہیں۔ اہل تشیع کی حساسیت نے ہی سنیوں میں بھی اپنے مقدسات کی زیادہ حساسیت پیدا کردی ہے۔
پاکستان میں سیاسی اور مذہبی کشیدگی جس حد تک پہنچائی جارہی ہے اس کے بہت خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جب جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں تحفظ صحابہ بل پیش کیا تو میڈیا حرکت میں آئی اور یہ نشر کرنا شروع کردیا کہ” اسامہ بن لادن چترال میں چھپا تھا۔ جس کیلئے امریکی اہلکاروں نے چترال میں کرائے پر گھر لیا۔ مولانا عبدالاکبر چترالی کے مظاہرے کی وجہ سے امریکہ نے وہاں پڑاؤ نہیں ڈالا۔ چترال سے اسامہ کی ویڈیو نے اطلاع دی تھی کہ وہ چترال میں ہوسکتے ہیں۔ افغان حکومت نے ایک شخص کوپکڑا تھا جس نے بتایا تھا کہ وہ اسامہ کو چترال سے افغانستان کے راستے پشاور لائے تھے اور اس کاISIسے تعلق نہیں ہے بلکہISIکیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم سے تعلق ہے”۔ عوام کو یہ پتہ نہیں کہ اسامہ کو قتل کیا گیا یا زندہ لے گئے؟ لیکن امریکہ نے جتنا کھیل یہاں کھیلنا چاہا تھا اور ایک ایٹمی پاکستان اور غیرتمند طالبان کو کہاں سے کہاں پہنچایا۔ جس کے بعد عراق اور لیبیا کے تیل پر بھی قبضہ کیا تھا۔ حالانکہ امریکہ بلیک واٹر کے ذریعے بھی اسامہ کو ٹارگٹ کرسکتا تھا۔
پاکستان میں عمران خان اورPDM، شیعہ اور سنی، قوم پرست اور ریاست کے نام سے ایک نیا کھیل شروع ہوا ہے اور اس کا فیصلہ امریکہ نے ہی کرنا ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں قائم ہوئیں لیکن سوات کے مسلم خان، محمود خان اور دوسروں کو صدر مملکت عارف علوی نے چھوڑ دیا۔ پھانسیاں کیا بے گناہوں کو دی گئی تھیں؟۔ پنجاب میںISIکے ایوارڈ یافتہ افسروں کو کس نے مار دیا؟۔ جو طالبان تھا اورCTDپولیس کو مطلوب تھا اور اس کے ذریعے پنجاب میں بہت سارے دہشت گردوں کے نیٹ ورک پکڑے تھے۔
ہمیں زیادہ گہرائیوں میں جانے اور شکوک وشبہات میں پڑنے سے گریز کا دامن تھامنا چاہیے اور ذمہ دار لوگوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے دیں اور اسلام کے عظیم مشن کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سازشوں کو ناکام بنائیں اوراپنے معاشرے اور ملک کو زیادہ مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv