پوسٹ تلاش کریں

مہدی و دجال کا حدیث صحیحہ میں تصور مگر ڈاکٹر طاہرالقادری و مفتی محمد رفیع عثمانی وغیرہ نے بڑا مغالطہ دیاہے

مہدی و دجال کا وہ تصورجو حدیث صحیحہ میں ہے مگر ڈاکٹر طاہرالقادری و مفتی محمد رفیع عثمانی وغیرہ نے بڑا مغالطہ دیاہے،قرآن سے استفادہ ہدایت ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے بھائی مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی نے بیان دیا کہ ”شیعہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں جو تعمیرِ پاکستان میں ہمارے ساتھ تھے۔ ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے” جس پر کالعدم سپاہ صحابہ جماعت اہلسنت کے مولانا احمد لدھیانوی اورمولانا منظور مینگل نے سخت ردِ عمل دیا۔ پھر جب علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر مولانا منظور مینگل نے کہا کہ ”ہمارے علماء دیوبند کی آنکھیں نیچی ہیں اور علامہ خادم حسین رضوی نے ختم نبوت وناموسِ رسالت کیلئے قربانی دی ہے ” تو مفتی زرولی خان نے کہا کہ ”جب ہم حج پر جاتے ہیںتو اللھم لبیککہتے ہیں ۔یہ جاہل لبییک یارسول اللہ کہتا ہے۔ دیوبند کی آنکھیں اور ٹانگیں بھی اوپر ہیں۔ جس نے خادم رضوی کی مغفرت کیلئے دعا کی وہ نکاح کی تجدید کرے”۔
مولانا منظور مینگل نے مفتی رفیع عثمانی پر چڑھائی کی اور اسکا بدلہ مفتی زر ولی خان سے پالیا۔ مولانا مینگل سے پہلے مولانا فضل الرحمن نے علامہ خادم حسین رضوی کے درجات کی بلندی کیلئے پشاورپی ڈی ایم کے جلسے میں دعا مانگی تھی لیکن پانی سے اللہ نے ہر جاندار کو پیدا کیا ہے اور پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ کمزور جگہ پر چڑھائی کرتا ہے۔ جب سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت علماء اسلام ف پنجاب کے نائب امیر تھے تو جمعیت کے پلیٹ فارم سے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگاتے تھے۔ جب سپاہ صحابہ مضبوط ہوگئی تو مولانا فضل الرحمن پر کافر کا فتویٰ لگانے کیلئے نعرہ لگایا کہ ” کافر کافر شیعہ کافر ، جو نہ بولے وہ بھی کافر”۔ اگر سعودی عرب حرم کی حدود میں شیعہ کو داخل ہونے دیتے تھے ، حالانکہ وہاں کافروں کا داخلہ ممنوع ہے تو سعودی حکمران مسلمان مگر مولانا فضل الرحمن کافر؟”۔
مولانا محمد منظور نعمانی نے سعودیہ سے پیسہ لیکر شیعہ پر پاکستان کے علماء ومفتیان سے فتویٰ لگوایا۔ حالانکہ اس کا آغاز انکے اپنے ملک ہندوستان کے دارالعلوم دیوبند سے ہوسکتا تھا لیکن شاید بھارت کی خفیہ ایجنسی سازش کو پکڑ لینے میں کامیاب ہوتی کہ پیسوں کے ذریعے بھارتی شہریوں کو لڑایا جارہاہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر چل رہاہے ۔اے آر وائی کے کاشف عباسی سے کہا کہ” سپاہ صحابہ والے میرے پاس آگئے کہ شیعہ سے ہماری صلح کراؤ۔ آئی ایس آئی نے ہمیں ان سے لڑادیا ”۔ پاکستان کو سعودیہ نے اللہ واسطے مدد نہیں دینی تھی جو ملازم ، مزدور اور تاجروں کا پیسہ بھی ہڑپ کرجاتے ہیں۔ ہمارے ملک کی تاریخ اچھی نہیں اسلئے اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ علماء بھی حق کیلئے کبھی نہیں اٹھتے ہیں۔ عوام بے شعور نہیں بلکہ مفادات کے جہالتوں کے مارے ہوئے ہیں۔
بریلوی مکتبۂ فکر کے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کی امید انقلاب تھی اورامام مہدی کی آمد سے مایوس ہوگئے۔ تو احادیث کا ذخیرہ اٹھاکربیان جاری کیا کہ ”امام مہدی کی آمد پونے آٹھ سوسال بعد(2004)ہجری میں ہوگی”۔
حدیث میںدو سو (200)سال کا ذکر ہے۔ بنو امیہ کے بعد بنو عباس کے دور میں مہدی نام اسلئے رکھا گیا کہ امام بننے میں آسانی ہو۔ ایک روایت ہے کہ مہدی عباس کی اولاد سے ہوگا۔ عمر بن العزیز کا تعلق بنی امیہ سے تھا تو اس پر بھی گمان نہیں مہدی کا اطلاق کیا گیا لیکن پھر یہ کہہ کر اس کی تردید کی گئی کہ اگرچہ مہدی یہ بھی ہیں لیکن اصل مہدی آئیںگے تو پوری دنیا میں عدل قائم ہوگا اور اس دور میں ایسا نہیں ہوا۔ اہلسنت خلافت راشدہ پر مہدی کا اطلاق کرتے ہیں خلفاء راشدین کو مہدیین کہتے ہیں۔ جو مہدی کی جمع ہے۔ یعنی حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سب مہدی تھے۔ نبی ۖ نے فرمایا علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین” تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کی اتباع لازم ہے” اور اس صحیح حدیث کو علماء جمعہ کے خطبات میں پڑھتے ہیں۔
اوریا مقبول جان نے احادیث اور علم الاعداد کی بہت ساری پیش گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنا بیان ریکارڈ کیا ہے کہ” 2021 کے شروع میں عرب وایران پر اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہے اور ٹرمپ جاتے جاتے دھماکہ کرسکتا ہے اور2021 میں امام مہدی کا ظہور بھی ہوسکتا ہے”۔
جب دو سو (200)سال نکلنے کے کافی عرصہ بعد علماء مہدی کے ظہور سے مایوس ہوگئے توحدیث کی تشریح ہزار سال کے بعددو سو (200)سال گزرنے سے کردی، پھرجب تیرہویں صدی کی آمد آمد ہوئی تو امام مہدی کے ظہور کی باتیں پھر سے شروع ہوگئیں، شاہ ولی اللہ نے لکھ دیا کہ” مہدی نکلنے کیلئے تیار ہیں”۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنے مرشد سید احمد بریلویکو مہدی قرار دیا اور کتاب ”منصبِ امامت ” لکھ دی، مدینہ کے علاوہ خراسان سے بھی ایک دوسرے مہدی کا حوالہ دیا اور پشاور سے خلافت کے قیام کی جدوجہد شروع کردی تھی۔ تحریک کی ناکامی کے باوجود کئی عقیدتمندسمجھتے تھے کہ سید احمد بریلوی غائب ہیں، دوبارہ آکر قیام کرینگے۔ 1970میں ایک عورت نے اپنی شرمگاہ میں آلہ رکھ کر دعویٰ کیا کہ اسکے پیٹ میں مہدی ہیں۔ پاکستان ودیگر اسلامی ممالک نے سرکاری دوروں کی دعوت دی۔ مولانا احتشام الحق تھانوی ومولانا محمدشفیع اوکاڑوی نے مہدی ہونے کی تصدیق کی ۔ لاکھوں افراد کیساتھ مل کر اس عورت کے پیچھے نماز پڑھ لی ۔ جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹروں نے اس عورت کا فریب پکڑ لیا اور اس نے اعتراف کیا کہ سستی شہرت کیلئے دعویٰ کیا۔
علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری ، مفتی محمد رفیع عثمانی اور مفتی نظام الدین شامزئی نے مہدی کے حوالے سے احادیث درج کی ہیں جس مہدی کے بعد قحطانی امیر کا ذکر ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری اور مفتی رفیع عثمانی نے اپنی اپنی کتاب میں علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب ”الحاوی للفتاویٰ” کے حوالے سے یہ حدیث بھی نقل کی کہ ” مہدی کے بعد قحطانی امیر ہونگے مہدی کے بعد سوراخ دار کانوں والے قحطانی امیر چالیس سال تک رہیںگے۔ پھر آخری امیر مہدی آئیںگے جو نیک سیرة ہونگے”۔ ہم نے کئی دفعہ اپنی تحریرات میں مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور مفتی رفیع عثمانی اس حدیث کی درست وضاحت کریں کہ قحطانی امیر سے پہلے اور قحطانی امیر کے بعد والے ان دونوں مہدیوں میں کیا فرق ہے؟۔ لیکن یہ دونوں گونگے شیطان بن کر حق کی آواز بولنے کی ہمت نہیں کرسکے ہیں۔
روایات میں قحطانی امیر سے منصور مراد لیا گیا جو عدل میں مہدی کی طرح ہونگے۔ مولانا یوسف بنوری کا شاگرد اپنی کتاب میں مہدی کے حوالے سے بڑی تفصیلات سے لکھتا ہے کہ ” مہدی کے بعد انقلابات آئیںگے اور پھر منصور ہونگے” ۔ منصور سے مراد ملا عمر ہیں۔ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمارے استاد مولانا محمد ہمیں منطق کی کتاب ”قطبی” پڑھاتے تھے۔ جب کسی بات کا جواب آگے آنا ہوتا تھا اور کوئی طالب علم سوال کرتا تو کہتے کہ ” کیماڑی ابھی آئی نہیںاور تو نے نیٹی جیٹی پر شلوار اتار دی”۔مہدی کی آمد سے پہلے منصور مراد لینا کونسی علمی دانش ہے۔
الحاوی للفتاویٰ میں علامہ جلال الدین سیوطی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ” احادیث میں بارہ امام کا ذکر ہے جس میں سے کوئی ایک بھی ابھی تک نہیں آیا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا”۔ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے اپنی کتاب ”تصفیہ ما بین شیعہ وسنی ” میں لکھ دیا کہ بارہ اماموں کا احادیث میں ذکر ہے جو ابھی تک نہیں آئے۔ مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں واضح ہے کہ ان بارہ اماموں کا تعلق حضرت حسن اور حضرت حسین کی اولاد سے ہوگا۔ پہلے چھ افراد امام حسن اور پھر پانچ افراد امام حسین کی اولاد سے ہوںگے۔ آخری شخص پھر حسن کی اولاد سے ہوگا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری امام سے فرمائیںگے کہ ” نماز کی امامت خود کرو، اسلئے کہ آپ بعض میں سے بعض کیلئے امام ہو” تو اسکا مطلب یہ ہوگاکہ اس سے پہلے امت میں انتشار کا نہیں امامت کا دورہوگا۔
شیعہ بھی یہ حدیث مانتے ہیں کہ ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جسکے اول میں میں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ”۔ شیعہ عالم دین نے اپنی کتاب ” الصراط السوی فی احوال المہدی” میں لکھ دیا کہ ” درمیانہ زمانہ کے مہدی سے ہوسکتا ہے کہ عباس کی اولادکا مہدی مراد ہوں”۔ حالانکہ اس مہدی کا تو بڑا مرکزی کردار ہوگا۔ ہلاکت سے بچنے کیلئے وہ ثالث ثلاثہ تین افراد میں تیسرے ہونگے۔ پہلے دور میں ہلاکت سے بچنے کاسبب رسول اللہۖ پھر درمیانہ زمانے میں ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ مہدی اور آخر میں حضرت عیسیٰ ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ ہونگے۔
الصراط السوی فی احوال مہدی میں یہ راویت بھی نقل کی گئی ہے کہ ” مہدی کے بعد گیارہ افراد اور آئیںگے جو حکومت کریںگے” اور اس پر شیعہ عالم نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر یہ درست مان لی جائے تو پھر اس کا آخری امیر ہونا آخری نہیں رہے گا۔ حالانکہ اگر درمیانے زمانہ سے حقائق کو تسلیم کیا جائے تو پھر یہ تشویش بے معنی رہ جاتی ہے۔ مہدی کے حوالے سے علامہ بدرعالم میرٹھی نے اپنی کتاب ” ترجمان السنة” میں جو جاندار حاشیہ لکھ دیا ہے اور اس کو مفتی نظام الدین شامزئی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مولانا یوسف لدھیانوی نے اسکی تائید کردی ہے ۔ وہ کمال کا حاشیہ ہے جو ہٹ دھرموں کی ہٹ دھرمی ختم کرنے کیلئے بہترین بنیاد بھی ہے۔
بعض علماء نے ملاعمر کو خراسان کا مہدی بھی قرار دیا ہے تو مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” مجھ سے پہلے جو بھی نبی آیا ، اس نے دجال سے اپنی امت کو متنبہ کیا اور میں تمہیں تنبیہ کررہاہوں۔ ہوسکتا ہے کہ دجال آئے تو تم اس کو پہچان نہ سکو، بیشک دجال تم سے ہے اور اللہ اس کو پہچانتا ہے۔وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کی دوسری آنکھ انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔تمہارے مال، جان اور عزت کی حرمت ایسی ہے جیسے آج کے دن (یوم عرفہ) کی حرمت اس مہینے (ذی الحج )میںاور اس شہر (مکہ) میں ہے۔خبردار میرے بعد کافرنہ بن جانا کہ تم ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (آخری خطبہ)
دجل کا معنیٰ فریب ہے۔ طالبان نے جس طرح کی دہشت گردی کرکے مسلمانوں کی جان، مال اور عزتوں کی حرمت ختم کردی تھی جب تک وہ ایسا نہ کرتے تو کوئی بھی ان کو دجالی لشکر نہیں قرار دے سکتا تھا۔ ابن ماجہ میں ابوبکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ خراسان کی طرف سے دجال آئیگا، اس کی اتباع ایسی قومیں کریں گی جن کے چہرے کمان کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہونگے۔ ازبک اور پٹھانوں نے دجالی لشکر بن کر جس طرح کی تباہی مچائی تھی ، مسلمانوں کی جان، مال اور عزتوں کی حرمت ختم کردی تھی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے اور لوگ اس دجل کو سمجھنے سے قاصر تھے یابڑا خوف تھا اسلئے اس کا اظہار بھی نہیں کرسکتے تھے۔
علامہ طالب جوہری نے مہدی کے حوالے سے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ” دجال مشرق سے نکلے گا اور اسکے مقابلے میں حسن کی اولاد سے ایک شخص ہوگا۔ اس روایت میں دجال سے مراد معروف دجال نہیں بلکہ دوسرا دجال ہے اور بعض روایات میں اسکے مقابلے میں حسین کی اولاد سے تعلق ہونے کا ذکر ہے لیکن حسن کی اولاد کے حوالہ سے تفصیلات ہیں۔ اس سے مراد سید گیلانی ہیں”۔
علامہ طالب جوہری کا تعلق اہل تشیع سے تھا اور کتاب کی اشاعت 1987ء میں ہوئی تھی۔سنی شیعہ علماء مل بیٹھ کر امت کے سامنے اتحاد واتفاق اور وحدت کا نقشہ پیش کریں۔ ہمارے نقش انقلاب کی ڈاکٹر اسرار احمد کے علاوہ بریلوی دیوبندی بہت سے علماء کرام نے تائید کی ہے لیکن کسی نے آج تک اس کی تردید نہیں کی ہے۔ 1991ء کی دہائی سے مسلسل ہم یہ نقش انقلاب پیش کررہے ہیں۔
جب الطاف حسین پر لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے چھاپہ پڑگیا تو بڑے پیمانے پر نقد پیسے برآمد ہوئے ۔ ایم کیوایم نے چندوں کی رسیدیں بناکر جمع کردیں اور معاملہ ختم ہوگیا۔ مولانا فضل الرحمن پر نیب کے الزامات کیسے ثابت ہونگے جبکہ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں جھوٹی تقریر اور قطری خط لکھ کر مکر جانے کے باوجود اقامہ پر سزا کھائی ہے؟۔ ہماری عدالتیں مجرم کو سزا نہیں دے سکتی ہیں، نیب پر کسی کا بھی کوئی اعتماد نہیں ہے۔البتہ علمی بنیاد پر انقلاب آئے گا۔
حکومت اور ہماری ریاست اگر اسلام اور مدینہ منورہ کی ریاست سے مخلص ہیں تو پھر علمی میدان میں پہلے کام کرنا ہوگا۔ حال ہی میں تحفظ مساجدمدارس کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مولانا غفور حیدری کے ساتھ قاری محمد حنیف جالندھری ترجمان وفاق المدارس پاکستان نے کہا کہ ” پاکستان کی عدلیہ میں عائلی قوانین میں خلع کا حق غیراسلامی ہے۔ ہم اس کیلئے تحریک چلائیںگے”۔
جاہل عوام کو جاہل مذہبی طبقات نے سڑکوں پر نکال لیا تو ریاست و حکومت کیلئے وہ مشکلات پیدا ہونگی جسکا تصور بھی مشکل ہوگا۔ میں نے اپنی کتاب” عورت کے حقوق” میں نہ صرف طلاق و خلع کی وضاحت کی ہے بلکہ علماء کے نصاب ”درسِ نظامی” میں قرآنی آیات کے حوالے بہت واضح احمقانہ غلطیوں کی بھی زبردست نشاندہی کردی ہے۔
قرآن میں خلع کا ذکر آیت انیس(19)سورۂ النساء میں ہے لیکن علماء آیت229البقرہ میں تین طلاق کے بعد کے حکم سے خلع مراد لیتے ہیں۔ آیت کی درست تفسیر بھی ان سے نہیں ہوسکتی ہے۔اسلامی نظریانی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز صاحب، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی اور دارالعلوم کراچی سمیت ملک بھر سے ذمہ دار ومخلص علماء کرام اور دانشوروں کی ٹیم تشکیل دی جائے تو نتائج نکلنے میں وقت نہیں لگے گا۔مولانا عبدالغفور حیدری نے تحفظ مساجدمدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” حلف نامہ میں ترمیمی بل کی سازش کامیاب ہوگئی تھی۔ قومی اسمبلی سے بھی یہ بل پاس ہوگیا۔ جب سینیٹ میں پاس ہونے کیلئے پیش ہورہاتھا تو چیئرمین موجود نہیں تھا اسلئے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے میری صدارت ہی میں یہ بل پاس ہونے کیلئے پیش ہورہاتھا۔ مجھے خوف تھا کہ ویسے تو یہ بل پاس ہوجاتا تو بھی بڑی بات نہیں تھی اس لئے کہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی پاس ہوجاتا مگر میری صدارت میں پاس ہوجاتا تو پھر کیا ہوتا؟۔ پھرجب سینیٹ میں رائے شماری ہوئی تو بل پاس نہیں ہوا۔ جس پر حکومت نے حلف میں ترمیم کے بل کو مشترکہ اجلاس میں پیش کیاتھا۔ مولانا غفور حیدری کی اس تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیرداخلہ شیخ رشید کی بات سوفیصد درست تھی کہ اس جرم میں جمعیت علماء اسلام بھی مکمل طور سے شریک تھی۔
مولانا غفور حیدری کو معلوم تھا کہ قومی اسمبلی سے یہ بل پاس ہوا اور سینیٹ سے بھی پاس ہوجائیگا لیکن اس کی اپنی صدارت میں یہ کارنامہ نہ ہو۔ اگر پتہ نہیں تھا تو خوف کس بات کا تھا ؟ اور پتہ تھا تو اپنی صدارت میں رائے شماری کی سازش کیسے کامیاب ہونے دی؟۔ شیخ رشید وہ واحد شخص تھا جو پکار پکار کرکہہ رہاتھا کہ جمعیت علماء اسلام والو! تم ختم نبوت کیخلاف سازش پر خاموش کیوں ہو؟، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو کیا منہ دکھاؤگے؟۔ پھر جماعت اسلامی نے بھی آواز اُٹھائی۔ پھر فیض آباد دھرنے کے نتیجے میں وہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں متعلقہ وزیر کو فارغ کیا گیا۔
جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری عبدالغفور حیدری اپنے بیان میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ نیب کا قانون متنازعہ ہے لیکن اسلام کو تحفظ دینے کے بجائے اس کیخلاف سازش میں شریک ہونے کا جرم کتنی گھناؤنی بات ہے؟۔ مولانا منظور مینگل نے ٹھیک کہا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی بازی جیت گئے ،علماء دیوبند کی آنکھیں نیچی ہیں۔ عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہیں یا نہیں لیکن اس بات کی نشاندہی موجود ہے کہ مولوی کے اسلام کے خلاف ہیں پھر ایوب خان پر مفتی محمود نے اعتراض کیوں نہ کیا؟ الزام یہ ہے کہ مفتی محمود نے ایک لاکھ کی رقم ایوب خان سے وصول کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں کو بطور رشوت ایک ایک پلاٹ اسلام آباد میں دینے کی پیشکش کی تھی تو جمعیت علماء اسلام کے مولانا غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود کے علاوہ کسی نے بھی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ جمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی امیر مولانا عبدالرؤف گل امام نے مجھ سے کہاتھا کہ ”مولانا فضل الرحمن کی آپ نے پہچان کرائی ، اسکے والد بھی یہی چیز تھے۔ پہلے ہمیں اسلام آباد میں پلاٹ لینے پر برا لگا تھا لیکن ہم نے سوچا کہ اکابر ہیں بہتر سمجھتے ہیں”۔مولانا فضل الرحمن اور مفتی محمود اچھے انسان مگر فرشتے نہیں، کمزوریاں سب میں ہیں۔
حامد میر کے پروگرام میں انصار عباسی نے مولانا راشد محمود سومرو کے سامنے پرویزمشرف کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کو زمینیں دینے کا انکشاف کیا تھا لیکن انصار عباسی کو گھر تک شہبازشریف نے روڈ بناکر دیا ہے اسلئے وہ اس وقت مولانا کے خلاف میدان میں آئیںگے جب نوازشریف اور شہباز شریف کی طرف سے اشارہ ہوگا۔
ہمارا اصل ہدف اسلام کے احکام سے مفاد پرستی کے دھبے ختم کرنا ہیں اور اب اس کا زبردست وقت آچکا ہے۔ حکومت مشکلات میں ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)نے19جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا ہے اور علامہ سعد رضوی نے فرانس کا سفیر نکالنے کیلئے17جنوری ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ سندھ، بلوچستان، پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی بغاوت کا جذبہ اُٹھ چکا ہے ۔ مسئلہ عمران خان کا نہیں وہ تو پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ ہے۔

جمعیت علماء اسلام ہے یایہ جمعیت جہلاء بے ایمان؟؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جب ہندوستان کو انگریز چھوڑ کر اپنی جان چھڑا رہا تھا تو جمعیت علماء ہند نے متحدہ ہندوستان میں کانگریس کیلئے بی (B)ٹیم کا کردار ادا کیا۔ اور جمعیت علماء اسلام نے مسلم لیگ کیلئے بی (B)ٹیم کا کردار ادا کیا تھا۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی جمعیت علماء ہند کے صدر اور مہاتماگاندھی کے دُم چھلہ تھے۔ شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی قائداعظم محمد علی جناح کے دم چھلہ تھے۔ کوئی ہندوؤں کا دُم چھلہ اور کوئی شیعہ کا دُم چھلہ۔کیا علماء میں امامت کی اہلیت نہیں تھی؟۔ پاکستان میں جب جمعیت علماء ہند والے جمعیت علماء اسلام میں شامل ہوگئے تو جمعیت علماء ہند والوں نے جمعیت علماء اسلام والوں کو اسلئے پچھاڑ دیا کہ ایکدوسرے پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ امارت ایسی بلا ہے جس نے تبلیغی جماعت کو بھی سرکٹی لاش بنادیا ۔انصار ومہاجرین اورقریش واہلبیت کو قرون اولیٰ کے ادوار میں بھی فتنوں کا شکار کردیا ۔ دارالعلوم دیوبند بھی تقسیم ہوگیا۔ پاکستان کا سیاسی نظام فردوس عاشق اعوان ، فیاض الحسن چوہان ، عمران خان ،شبلی فراز اور مراد سعید سے چلنے والا نہیں۔ لال کرتیوں والے فوج کی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتے اور لال حویلی والا شیخ رشید کس قسم کا بندہ ہے جتنی پارٹیاں بدلی ہیں کیا جی ایچ کیو (GHQ)کے گیٹ نمبرچار(4)کیلئے بدلی ہیں؟۔اور اب پانچ (5)نمبر پر ہے؟۔
نظام کی تبدیلی میں اہم چیز عقیدے اورنظرئیے کیلئے افکار کا کردار ہوتا ہے۔ بھارت نے بغل میں چھرا اور منہ میں رام رام کا کردار ادا کرتے ہوئے سیکولر حکومت قائم کی تو متعصب ہندو کا نشانہ بن کرگاندھی قتل ہوگیا۔ پاکستان اسلام کے نام بنا تھا لیکن مدارس کا نصابِ تعلیم اسلامی تو بہت دور کی بات ہے بدترین درجے کا کافرانہ ہے۔ قصر ناز کراچی میں مولانا محمد خان شیرانی اور مولانا عطاء الرحمن سے اپنی ملاقات کا حال لکھ چکا ہوں۔ پاکستان کا مذاق اُڑانے والوں سے مدارس کے نصاب میں قرآن کی تحریف کا حوالہ دیا تو مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ ”بھوکے کو روٹی نہیں مل رہی تھی تو سادہ آدمی کہنے لگا کہ پھر وہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا؟۔ ہم پاکستان کا رونا رو رہے تھے اور اس نے اپنا مطلب بھی حاصل کرلیا”۔ مولوی مدارس کے نصاب پر بات کرنے سے بھی بھاگ رہا ہو تو وہ کسی دوسرے کا دُم چھلہ نہیں بنے گا تو اور کیا کرے گا؟۔ ہماری چاہت ہے کہ پاکستان کا غیر اسلامی نظام بدلے اور اسلامی نظام نافذ ہوجائے۔یہ مارشل لاء کی پیداوار کٹھ پتلی سیاستدانوں اور کسی مولوی کا کام نہیں ہے۔ ان کو حصہ بقدر جثہ چاہیے اور اسی پر ان کی لڑائی ہے۔
ایک غریب پنجابی ، سندھی ، پشتون اور بلوچ کو کروڑوں روپے دیدو تو وہ کبھی اپنی بہن، بیٹی، بہو اور ماں کو مریم نواز کی طرح میک اپ کرکے مردوں کے اسٹیج پر نہیں چڑھائے گا۔ مسئلہ پنجابی اور پختون کا نہیں ہے، بیگم نسیم ولی کس زمانے میں یہ سیاست کرتی تھی؟۔ بشریٰ گوہر نے کس کٹ کے بال رکھے ہیں؟۔ ہمیں عورت پر اعتراض نہیں کہ سیاسی کردار کیوں ادا کرتی ہے؟۔ بلکہ پنجابی پختون تعصب کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ فرعون کی بیگم حضرت آسیہ علیہا السلام کتنی بہادر خاتون تھی ؟جس نے اپنے بادشاہ شوہر کے خلاف مظلوموں اور حق کا ساتھ دیا اور حضرت نوح و لوط کی بیگمات ظالموں کیساتھ تھیں اسلئے مردوں اور عورت کا مسئلہ بھی نہیں۔ حضرت مریم نے بھی اپنا کردار ادا کیا اورام المؤمنین حضرت عائشہنے حضرت عثمان کی شہادت کے بعد اور حضرت زینبدختر علی نے بھی کربلا کے بعد اپنا کردار ادا کیا تھا۔
اسلام وہ عظیم دین ہے کہ حضرت عائشہ پر بدکاری کا بدترین بہتان لگا تھا تو بہتان لگانے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بجائے اسی اسی (80، 80)کوڑے کی سزادی گئی اور اگر کسی عام جھاڑو کش عورت پر بھی یہی بہتان لگتا تو یہی سزا دی جاتی۔ آج پاکستان میں غریب کیساتھ کیا ہوتا ہے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیںرینگتی ہے مگر جب مریم نواز کے شوہر کو پی سی (PC)ہوٹل کراچی سے گرفتار کیا گیا توسندھ پولیس احتجاجاً چھٹی پر چلی گئی۔ فوج نے اپنے افسروں کے خلاف کاروائی کی ۔ قائداعظم کے مزار کا غم ہوتا تو اے آر وائی (ARY)کے اقرار الحسن نے اپنے پروگرام میں کتنا شرمناک معاملہ پیش کیا لیکن کوئی جنرل جذباتی نہیں ہوا۔ سیاست کے جذبات ایسے ہوتے ہیں جیسے غیر سیاسی بچے سردی میں منہ سے نکلنے والے بخارات کو مزے سے سگریٹ کا دھواں قرار دیتے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی کی بات درست ہے کہ سچوں کیساتھ ہوجاؤ یہ قرآن کا حکم ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ پر سب تگنی کا ناچ عوام کو نچارہے ہیں۔
مولوی اور پٹھان کے علاوہ سندھی، بلوچ اور پنجابی کی بھی یہ فطرت ہے کہ وہ عزت کو سب چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہندوستان اور مہاجروں سمیت یہ دنیا کا دستور ہے کہ عزت ہر چیز پر مقدم ہوتی ہے۔ لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانہ چلو میں اداکارہ نے بھٹو کے شاہی مہمانوں کیلئے گیت نہیں گایا تھا تو حبیب جالب نے نظم لکھ ڈالی۔ اگر پاکستان سے ہتک عزت کا یہ قانون ختم کیا جائے کہ کرپٹ لوگوں کی عزت اس ملک کے قانون اور عدالتی نظام کے مطابق اربوں میں ہو اور غریب کی عزت ٹکے کی بھی نہ ہو تو اس ملک کو اس کا اپنا نظام دیمک کی طرح چاٹ لے گا۔اس کھوکھلے نظام کو اپنی روح کے مطابق زندہ دفن کرنے کیلئے اسلامی نظام کی ضرورت ہے اور علماء ، طلباء اور مدارس کا اسلامی نظام نہیں جسے یہ خود دیمک کی طرح چاٹ چکے ہیں بلکہ قرآن وحدیث کے مطابق ۔ غلام احمد پرویز نے صرف احادیث کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ تعلیم یافتہ لوگوں میں جہالت کی روح پھونک دی تھی کہ قرآن میں بہتان کی سزا حضرت عائشہ کے حوالے سے بخاری ومسلم کی احادیث میں اہل تشیع کی ہی سازش ہے۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگایا جاتا تو وہ صحابہ واجب القتل ہوتے۔ یہ حدیث کا انکار نہیں بلکہ قرآن کی روح اور مساوات کا بھی انکار ہے۔ قادیانی نبوت کا دعویدار کافر وگمراہ تھا جس نے قرآن وحدیث کی روح سے انکار کیا تھا اور اس کے دو گروہ بن گئے تھے لاہوری اس کو نبی نہیں مہدی مانتے تھے ، قادیانی نبی مانتے تھے۔ پرویز پر بھی علماء نے یہی فتویٰ لگایا تھا۔ پنجابی پرویزی بلوچستان کے ذکریوں کی طرح سے نماز نہیں پڑھتے اور نہ مانتے ہیں اور پٹھان پرویزی بھی نماز پڑھتے ہیں۔
علماء کی جان اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو نے قادیانیوں سے چھڑائی ہے مگر پرویزی تو جاہلوں کی جان ہیں۔ چٹ بھی گمراہوں کی ہے اور پٹ بھی گمراہوں کی ہے ۔علماء استنجوں کے ڈھیلوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور پھینک دئیے جاتے ہیں اور انکا اپنا نصاب سب سے زیادہ گمراہی کا شکار ہے۔ اگر نصاب کو درست کرلیا اور عملی شکل دیدی تو قادیانیوں اور پرویزیوں کے علاوہ تمام مسلمان بھی رشد وہدایت پائیںگے اورمساجد کے ائمہ آسمان کے نیچے حدیث کے مطابق بدترین مخلوق نہیں ہونگے بلکہ بہترین مخلوق ہونگے، مقتدی گمراہ نہیں مہدی ہونگے۔ مدارس کے مفتی صاحبان نہ خود گمراہ ہونگے نہ پوچھنے والوں کو گمراہ کرینگے۔ پاکستان میں اسلامی نظام آجائے تو فوج بیرکوں میں خدمت انجام دیگی۔ اچھے سیاستدان سیاست کرینگے ۔ میڈیا فلاح وبہبود اور انسانیت کی خدمت کریگا۔ عدالتیں جلد سے جلد عوام کو انصاف فراہم کرینگی۔ پولیس لوٹ مار کی بجائے عوام کو تحفظ فراہم کریگی، سول بیوروکریسی عوام کا خون نچوڑنے کے بجائے خدمت کریگی اورپاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا۔ پڑوسی اور مختلف زبان اورمذہب والے ایک دوسرے سے محبت کریںگے۔دنیا میں پاکستان انسانیت کی امامت کریگااورسبھی خوشحال ہونگے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

پشتون تحفظ پی ٹی ایم (PTM)اور پی ڈی ایم (PDM)ایک راہ کے دومسافر

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
لاہور میںپی ڈی ایم (PDM)کا جلسہ ہوا تو اخترجان مینگل نے پاک فوج کو جس طرح چارج شیٹ کیا ، انگریز فوج سے بدتر قرار دیا ، واضح طور سے کہا کہ پاک فوج سے ہماری عزتیں محفوظ نہیں۔ لاڑکانہ جلسہ میں کریمہ بلوچ کے قتل اور پرویز مشرف کا حوالہ دیا کہ چوہدری نثار سے کہا تھا کہ الطاف حسین کو مار دیںگے اور ہمارا نام بھی نہیں آئے گا۔ اختر جان مینگل کی ابھی عمران حکومت کو چھوڑے ہوئے عدت بھی پوری نہیں ہوئی ہے۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے جس طرح عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ ایجنٹ مرکز میں قرار دیا جاتا ہے اس سے بڑھ کر بلوچستان میں اختر جان مینگل کو بھی اسٹیبلشمنٹ کا پکا مہرہ سمجھا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق اور مفتی کفایت اللہ کی زبان میں پاک فوج کو سیاست سے بے دخل کرنے میں کوئی فرق نہیں ۔
عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں مولانا فضل الرحمن کے ڈیزل پرمٹ اور عمران خان کی طرف سے پیٹرول کو کنٹرول کرکے ذخیرہ اندوزی کے ذریعے سے پیسہ کمانے کا موازنہ کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کو اسلام آباد کا گھر دوستوں نے گفٹ کیا اور عمران خان کو بنی گالہ کا گھر بیوی نے جہیز میں دیا۔ ایک سابق وزیراعلیٰ کا بیٹا ہے اور دوسرا پنجاب کے پٹواری کا بیٹا ہے۔ ایک پر بی آر ٹی (BRT)پشاور میں اربوں اور دوسرے پر ٹانک پیزو روڈ میں کروڑوں کے غبن کا الزام ہے ۔ سائیکل کے چوروں کی طرح دونوں کا ریمانڈ لیا جائے تو عمران خان سے زیادہ پیسہ نکل آئے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکس ٹینشن غلط یا درست ملی لیکن پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے کھل کر ووٹ دئیے ہیں۔ فیصل واوڈا نے فوجی بوٹ میز پر رکھ دیا کہ چاٹ لیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی واضح کیا تھا کہ باجوہ کے ایکس ٹینشن کے خلاف نہیں ۔
اگر عدالت کے خلاف اصل تحریک پنجاب سے اُٹھے اور علامہ خادم حسین رضوی کو چھوڑ کر مولانا سمیع الحق کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ پاک فوج کے خلاف مریم نواز اور نوازشریف سب سے بڑا خطرہ ہوں اور قربانی کا بکرا مولانا فضل الرحمن کو بنایا جائے تو عالمی قوتوں کے علاوہ مقامی باغی بھی سر اٹھائیںگے اور پاکستان کو قائم رکھنا بہت مشکل ہوگا۔آج پاک فوج کے حوالے سے لوگوں کے تیور بدل گئے ہیں۔ اختر مینگل کے بیانات پر ایک حرف بھی سوشل میڈیا میں ان لوگوں کی طرف سے نہیں آیا جن کا کام گیدڑوں کی آواز میں سارا دن رات چور مچائے شور ہے لیکن محمود خان اچکزئی کی طرف سے اہل لاہور پر تنقید کا تماشہ بنادیا گیا۔ لیگی جاوید ہاشمی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے قطب نما ہیں لیکن اس نے اچکزئی کی حمایت کردی ۔
بچپن میں یحییٰ خان و اندرا گاندھی کا تصور تھا تو میں ماحولیاتی ملی غیرت سے مجبور ہوکر گڈی گڈے کا مقابلہ کراتا تھا۔ گڈی کو اندرا گاندھی کے نام پر پتھروں سے خوب مارتا۔ یحییٰ خان کی وجہ سے گڈے سے بڑی محبت تھی ۔ پھر جوانی میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر سن لی تو جنرل ضیاء الحق کا مخالف بن گیا، حتی کہ اس کا اسلام بھی قبول نہیں تھا کہ اسکا کام وردی میں اپنی ڈیوٹی دینا ہے۔ جب مفتی تقی عثمانی کے پیر ڈاکٹر عبدالحی کے جنازہ میں جنرل ضیاء الحق سے سامنا ہوا تو اینٹ ، پتھر اور مٹی کا ڈھیلہ نہیں ملا،ورنہ شاید اُٹھاکر ماردیتا۔ مٹی اُٹھاکر منہ پر پھینکنے سے اسلئے رُک گیا کہ جنازے کی بے حرمتی ہوجائے گی۔ جب نواز شریف کو پکڑ کر پرویزمشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تب بھی اپنے اخبار ضرب حق کے اداریہ میں لکھا کہ ”فوج کی تعلیم وتربیت دشمنوں سے نمٹنے کیلئے ہوتی ہے ،اپنوں سے سلوک کرنے کیلئے نہیں ہوتی۔ فوجی بیرکوں میں کہتے ہیں کہ فوجی وہ جانور ہے جو دن کوجنگل ، شام کو لنگر اور رات کو کمبل میں پایا جاتا ہے”۔ حالانکہ جمہوریت پسند مٹھایاں بانٹ رہے تھے۔ پی ٹی ایم (PTM) کا نعرہ پاکستان کے وکیلوں نے لگایا، ن لیگ والوں نے لگایا۔ اب اگرمولانا فضل الرحمن کو مار دیا گیا تو گلی کوچوں اور بازاروں میں فوج کے خلاف انقلاب آجائیگا۔
اعجاز شاہ نے کہا تھا کہ فوج مخالف بیانیہ کی وجہ سے جو حشر بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کا ہوا، وہ ن لیگ کا بھی طالبان کردیںگے۔ شیخ رشید بھی یہ کہتا تھا مگر وہ وزیرریلوے تھا۔ جب پی ٹی ایم (PTM)کے علی وزیر کوسندھ حکومت نے گرفتار کیا تو باغی طالبان فیس بک پر پی ٹی ایم (PTM)کے ایکٹیوسٹوں کو طعنے دیتے تھے کہ احتجاج کرلو اور عدالت میں جاؤ۔پی ٹی ایم (PTM)کے رہنما گلہ شکوہ کررہے تھے کہ اے پی ایس (APS)پشاور کے بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان چھوڑ دیا گیا حالانکہ سلیم صافی نے اس پر بڑااچھا پروگرام کیا۔ ہارون الرشید قسم کی مخلوق فوج کی طاقت پر نہیں گو پر پدو مارتے ہیں لیکن عوام کو حقائق نہیں بتاتے۔ ان سے تو سلیم صافی اچھا نکلا جس نے اچھا پروگرام کیا ہے۔
سرنڈر طالبان کو زبردستی قومی ترانہ گانے پرمجبور کرکے بہت اچھا کیا لیکن ان سے بہادری کی اُمید خام خیالی ہے۔ ان کو سلنڈر کہا جاتا ہے اور یہ طعنہ ان کی نسلوں کیلئے بھی کافی ہے ۔ دوسری طرف افغانستان میں بیٹھے طالبان بغاوت کا تمغہ اپنے اوپر نہیں سجاتے بلکہ ستر (70)سال سے پاکستان کو اسلامی نظام سے دور رکھنے کی بات کرتے ہیں اور بہت بڑا قصوروار فوج اور اسکے کٹھ پتلیوں کو قرار دیتے ہیں۔اگر سرنڈر مذہبی مجاہدین یا آلۂ کاروں کے ذریعے قوم پرستی کا جذبہ دبانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور قومی سیاسی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا تو عوام میں نفرت بہت بڑھے گی اور پاکستان کی ریاست ناکام ہوجائے گی۔ ایک فوج کی قوت نہ ہو تب بھی ریاست کا نظام ہمارے کرپٹ سول بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ کے بس کی بات نہیں ہے۔ مصنوعی مجاہدین اور مصنوعی سیاسی ستاروں کا نظام بری طرح پٹ چکا۔
ایک بات جملہ معترضہ کی طرح لکھ دیتا ہوں کہ جنوبی وزیرستان میں محسود قوم کو زیادہ قربانی کا بکرا بننا پڑا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ جنوبی وزیرستان میںوزیر قوم نے طالبان کا زیادہ ساتھ دینے کے باوجود اس کا غلط فائدہ نہیں اُٹھایا۔ کسی بھی پڑوسی کو انہوں نے تکلیف نہیں پہنچائی جبکہ محسود قوم کے طالبان نے بیٹنی قوم کے علاوہ پورے پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے سب سے زیادہ نقصان سب کو پہنچایا ہے۔ ہمیں بھی طالبان نے نقصان پہنچایا ہے اور ہمارے خاندان والوں نے بھی طالبان کو سب سے زیادہ سپورٹ دی تھی۔ جب تک اپنی غلطیوں کا بہت کھل کر اعتراف نہیں کیا جائے تو پھراگردہشتگردی کی فضاء قائم ہوگی تو زیادہ نقصان ہوگا۔
بلاول نے گلگت میں دھاندلی کے بعد پشاور جلسے میں آئی ایس آئی (ISI)کے دفتر آبپارہ اور لانگ مارچ کا رُخ بھی یہی بتایا ۔ ن لیگ والوں میں ہمت ہوتی تو اسلام آباد کے پہلے دھرنے میں مولانا کے پاس اپنے کارکنوں کو پہنچنے کیلئے کہتے ۔ خیر اس وقت نوازشریف کو ریلیف درکار تھی اور اب مریم نواز کی قلفی جم گئی ہے تب بھی اپنے خول سے باہر ہے۔ پنجاب کے جوان بہت بہادر ہوتے ہیں۔ احمد خان کھرل نے انگریز کا مقابلہ کیا ،اگر وہ وزیرستان کا باشندہ ہوتا تو رزمک سے وانا تک کیمپ اور روڈ بنانا انگریز کیلئے ممکن نہ ہوتا۔ ہمارے بے غیرت قبائلی عمائدین انگریز سے کہتے تھے کہ ”تم پہاڑ کی طرح ہو اور ہم ندی کے پانی سے سیفٹی کیلئے مصنوعی کنکریٹ کی دیوار”۔ توس لاکہ غار میژ لاکہ ڈھونگہ۔حوالہ انگریزی کتاب ”میژ ” وزیرستانی پشتو میں”ہم”
بلوچستان کے پشتون اور بلوچ سرداروں اور نوابوں کو آقا سمجھتے ہیں لیکن آزاد قبائل کے لوگ خانوں اور ملکوں کو انگریز کا جاسوس سمجھتے ہیں۔ طالبان نے کٹھ پتلی کے شبہ میں زیادہ تشدد کیا لیکن بہت سوں نے اپنے جنسی تشدد کا انتقام عوام سے لیا۔

جمعیت علماء اسلام بزرگوں کی جماعت تھی ،ہے ،نہ ہوگی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جب تحریک نظام مصطفی کے نام سے مفتی محمود نے پیپلزپارٹی کے خلاف قومی اتحاد کی قیادت شروع کردی تو مولانا غلام غوث ہزاروی بزرگ تھے اور پیپلزپارٹی کو بچانے نکلے لیکن مولانا غلام غوث ہزاروی کا ہزاروی گروپ تنہائی کا شکار ہوا اور مفتی محمود کیساتھ علماء کی اکثریت تھی۔ مفتی محمود کے بعد مولانا فضل الرحمن نے ایم آر ڈی (MRD) میںبحالیٔ جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں تو مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، مولانا سرفراز خان صفدر گوجرانوالہ اور مولانا احمد علی لاہوری کے فرزند مولانا عبیداللہ انور سے لیکر مولانا عبداللہ درخواستی ، قاضی عبدالکریم و قاضی عبداللطیف ، مولانا علاء الدین ڈیرہ اسماعیل خان ، مولانا اللہ داد ژوب اور کراچی کے مدارس تک سب مولانا فضل الرحمن کے خلاف تھے لیکن مولانا فضل الرحمن نے سب کو شکست دی۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کابڑا کٹھ پتلی نوازشریف تھا۔ بے نظیر بھٹو پر نوازشریف نے امریکی ایجنٹ کا الزام لگایا تھا اور بے نظیر بھٹو نے نوازشریف پر اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا۔ اوصاف اسلا م آباد کے ایڈیٹر حامد میر تھے ، ان کو اس وقت کی خبروں کا بھی پتہ ہوگا۔ مولانا اجمل قادری نے جمعیت کااپنا گروپ بناکر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم شروع کی ۔ مولانا احمد لاہوری کا پوتا اور مولانا عبیداللہ انور کا بیٹا گوشہ گمنامی کا شکار ہوا۔ مولانا شیرانی کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ان سوشل میڈیا کے گیدڑ چھوڑوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے جو مولانا فضل الرحمن کے خلاف جھوٹی افواہیں چھوڑتے ہیں۔
جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ جماعت شخصیت پرستی اور وراثت سے پاک ہو۔ رسول اللہۖ کی رہنمائی وحی سے ہوتی تھی۔ کسی بھی فیصلے میں رسول اللہ ۖ کی ذاتی اور خاندانی حیثیت صحابہ کی جماعت پر اپنا اثر نہیں ڈالتی تھی۔ رسول اللہۖ کے چچا عباس بدر میں گرفتار ہوگئے تو صحابہ کی بھاری اکثریت نے فدیہ لیکر معاف کرنے کا مشورہ دیا۔ حضرت عمر اور سعد بن معاذ نے سب کو قتل کرنے کا مشورہ دیا۔ رسول اللہۖ نے اکثریت کا مشورہ مان لیا جس میں حضرت ابوبکر، عثمان اور علی بھی تھے لیکن اللہ نے اسکے خلاف وحی نازل کرکے صحابہ کی وحی سے تربیت فرمائی۔ اُحد میں رسول اللہۖ کے چچا سید الشہداء امیر حمزہ کے ٹکڑے کئے گئے اور کلیجہ نکال کر چبایا گیا۔نبیۖ نے انکے ستر (70)افراد سے اس طرح کا بدلہ لینے کا اظہار فرمایا لیکن اللہ نے اعتدال اور صبر کی تقلین کرتے ہوئے معاف کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
پہلے مولانا عبداللہ درخواستی امیر اور مفتی محمود جنرل سیکرٹری تھے۔ پھر مولانا سراج احمد دین پوری امیر اور مولانا فضل الرحمن جنرل سیکرٹری بن گئے ۔ مولانا سراج احمد دین پوری پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے تو مولانا عبدالکریم بیرشریف لاڑکانہ کو امیر بنایا گیا۔پھر مولانا فضل الرحمن نے مولانا عبدالکریم بیرشریف سے خود امارت سنبھالی اور حافظ حسین احمد کی جگہ مولانا عبدالغفور حیدری کو جنرل سیکرٹری کیلئے راز داری سے جتوانے میں کردار ادا کیا۔ سندھ میں مولانا محمدمراد سکھر، مولانا عبدالصمد ہالیجوی، مولانا محمد شاہ امروٹیاور ڈاکٹر خالد محمود سومروسب کی قربت اور قربانیوں کا خیال رکھتے ہوئے مولانا عبدالکریم بیرشریف کو امارت سے ہٹانے کی زیادتی پر سندھیوں کو افسوس تھا اور مولانا فتح خان ٹانک نے بھی کہا تھا کہ پنجاب اور سندھ کے علماء کے پاس امیر یا جنرل سیکرٹری میں ایک بڑا عہدہ ہونا چاہیے۔ دونوں بڑے عہدوں کا پختونخواہ اور بلوچستان سے ہونا جمعیت کی وحدت کو کمزور کردیگا ۔ مولانا غلام غوث ہزاروی کے بعد مولانا سراج احمد دین پوری پیپلزپارٹی کا حصہ بن گئے اور مولانا عبدالکریم بیرشریف جنرل ضیاء الحق کی صفائی کو بھی نہیں مانتے اور اس کو قادیانی قرار دیتے تھے لیکن مولانا فضل الرحمن نے جنرل ضیاء الحق کے جنازہ میں شرکت کرلی۔ مولانا فضل الرحمن کو ایک طرف امارت پر قبضہ کی سوجھی تھی تو دوسری طرف مولانا عبدالکریم جنرل ضیاء الحق کو قادیانی قرار دے رہے تھے۔ پنجاب اور سندھ کا علماء طبقہ جمہوری تھا ، مولانا محمد مراد سکھر نے جمعیت علماء کی مرکزی شوریٰ میں اپنی رائے پیش کی تھی کہ جمعیت علماء ہند کے دور سے ہماری جماعت انقلابی نہیں بلکہ جمہوری جدوجہد والی جماعت ہے ، جس کی وجہ سے اکثریت کا رخ جمہوری جدو جہد کی طرف مڑ گیا تھا ، پھر مولانا شیرانی نے انقلابی سیاست کیلئے دلائل دئیے تو اکثر کی رائے بدل گئی اور اکثریت نے انقلابی سیاست کی رائے دیدی اور فیصلہ بھی اسی پر ہوگیا۔ جب مولانا فضل الرحمن نے فوج کے کہنے پر جمعیت کے کارکنوں سے ہاتھ کیا اور انقلابی سیاست کا فیصلہ مؤخر کردیا تو مولانا شیرانی صاحب کو اصولی طور پر اس وقت مولانا فضل الرحمن کو جماعت کی امارت سے ہٹانے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔
مولانا فضل الرحمن کے پچھلے دھرنے میں حافظ حسین احمد نے تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل سے کہا تھا کہ ” مدرسے کے بچے نہیں سب کے پاس شناختی کارڈ ہے ۔پندرہ (15)سال میں بچے بالغ ہوجاتے ہیں اور اٹھارہ (18)سال میں شناختی کارڈ بنتا ہے۔ اگر پھر بھی تسلی نہ ہو تو ہم ہر طرح کی تسلی کرواسکتے ہیں”۔
مولانا فضل الرحمن سے افراد کی ناراضگی اسلئے ہے کہ بلوچستان کی امارت کو اپنی جاگیر سمجھنے والے مولانا شیرانی امارت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔پہلے آئینی اور نظریاتی گروپ بن گئے لیکن انکے اصل سرغنے بھی دوبارہ مولانا فضل الرحمن سے مل گئے۔ مولانا گل نصیب خان نے مولانا عطاء الرحمن سے شکست کھائی تو یہ احساس ابھرنے لگا کہ صوبائی اپوزیشن لیڈر مولانا کے بھائی مولانا لطف الرحمن ہیں، سینیٹ میں جمعیت کے لیڈرصوبائی امیر مولانا عطاء الرحمن ہیں، قومی اسمبلی میں بھی پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ مولانااسعد محمود ہیں۔ مولانا نے ٹیلی فون کے محکمے سے اپنا بھائی ڈی ایم جی گروپ میں منتقل کرکے پاکستان کی میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیں۔
اگر کربلا کے واقعہ میں حضرت حسین کیساتھ اپنے نو (9)بھائی ابوبکر، عمر، عثمان اور دیگر شہادت کی منزل کیلئے جاسکتے ہیں تو مولانا فضل الرحمن بھی کربلا کی طرح سے سربکف نکل کر پنڈی اور اسلام آباد کا رخ کرلیں۔ جس محمود خان اچکزئی کو یزیدی لشکر کا حر سمجھا جاتا تھا وہ بھی اس لشکر کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر پیپلزپارٹی ، ن لیگ اور دیگر جماعتوں نے دھوکہ بھی دیا تو مسئلہ نہیں انقلاب کی منزل مل جائے گی اسلئے کہ اگر خیر خیریت ہوئی تو غازی بن جائیںگے ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سمیت کوئی بھی بے وفائی کرنے والی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی اور اگر شہادت کی منزل پالی تو لاکھوں لوگ اُٹھ کھڑے ہونگے اور انقلاب برپا کرنے میں نام روشن اور تابندہ وپائندہ رہے گا۔ ن لیگ نے ہاتھ دکھایا بھی تو مسئلہ نہیں لیکن نوازشریف باہر ہیں اسلئے آر یا پار کا رسک لینے میں مریم نواز کا فلسفہ کام کرسکتا ہے۔ گڑھی خدا بخش کے شہداء اور مریم نواز کی امی اور دادی کی موت میں نمایاں فرق تھا۔ گڑھی خدا بخش والوں کو مولانا طارق جمیل بھی جنازے کیلئے نہیں مل سکتا ہے۔ زرداری کھلاڑیوں کابڑا کھلاڑی اور شکاریوں کا بڑاشکاری لگتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے بینظیر بھٹو کی برسی پر جو اشعار پڑھے وہ پی ڈی ایم (PDM)کے مہمانوںکی توہین تھی۔شہید مرتضی بھٹو کا بینظیر زرداری سے اختلاف درست تھا کہ ”صدارت کیلئے ایم آر ڈی (MRD)کے قائد نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو ووٹ دینا منافقانہ کھیل تھا جس پر اب بھی پیپلزپارٹی زرداری کاربند ہے”۔ عوام تو اپوزیشن میں رہتی ہے اسلئے مولانافضل الرحمن پاکستان کی عوام کو لیڈ کریںگے۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاست اورپاکستان کی ریاست

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جب دبئی کے بعد سعودیہ اور پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات سامنے آئی تو مولانا فضل الرحمن نے باچا خان مرکز پشاور میں صحافیوں کو بڑا سخت مؤقف پیش کیا اور دبئی کے حکمرانوں کو کٹھ پتلی قرار دیا۔صحافی سلیم صافی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ”مولانا فضل الرحمن نے سفارتی آداب کو بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھا ۔ حالانکہ مولانا کا امارات ،سعودیہ اور عرب ممالک کیساتھ بہت خوشگوار تعلق ہے”۔
صحافی عمران خان بہت گھٹیا انداز میں میاں افتخار حسین کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیکر مولانا فضل الرحمن پر برس پڑا تھا کہ ”دبئی اور سعودیہ سے چندہ آتاہے اسلئے مولانا فضل الرحمن میاں افتخار حسین کی باتوں پرخاموش تھے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازش میں شریک ہیں”۔ صحافی عمران خان کا کردار دیکھ کر مجھے گھر کے پاس فالتو کتیا یاد آگئی، جس نے قریب میں بچے دئیے تھے تو مجھے اس پر رحم آتا اور گھر میں بول دیا تھا کہ اس کو کھانا ڈال دیا کریں۔ کئی دفعہ دیکھا کہ کتیا ہمیں دیکھ کر اِدھر اُدھر دوڑ کر بھونکنا شروع کردیتی ہے تو یہ جان لیا کہ بے چاری ہمیں خوش کررہی ہے کہ وہ ڈیوٹی دے رہی ہے۔ حالانکہ وہاں پر بھونکنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی۔ کوئی توہم پرست ہوتا تو یہ سمجھتا کہ جنات دیکھ کر شاید بھونکتی ہے لیکن ہمیں اس کی چالاکی یا بیوقوفی کا پتہ چل گیا۔
عارف حمید بھٹی نے جس طرح سکندر مرزا سے نوازشریف اور ایوب خان سے جنرل ضیاء الحق یاپرویزمشرف تک اپنی کم عقلی اور جہالت کا نقشہ پیش کرکے سیاستدان پر کیچڑ اچھالنے کی ناکام کوشش کی ہے وہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ پاک فوج واقعی میں بڑی بدقسمت ہے کہ کھلم کھلا حمایت کرنے والے صحافی صابر شاکر، چوہدری غلام حسین، عمران خان، عارف حمید بھٹی اور کئی الیکٹرانک و سوشل میڈیا والے صبح سے گیدڑوں کی طرح مکروہ آوازیں نکالنا شروع کرتے ہیںکہ شام ہوجاتی ہے بلکہ رات گئے تک شغل رہتا ہے وزیراعظم عمران خان اور اسکے ساتھیوں کا اس سے زیادہ برا حال ہے۔ شوکت بسرا حافظ حمداللہ کو فوج کے خلاف اُکسارہاتھا کہ جی ایچ کیو (GHQ)پر چڑھائی کرو گے یا نہیں؟۔ اور یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان بہادر کی ہزارہ کے پاس جانے پربھی ہوا خارج ہورہی ہے۔شوکت بسرا پیپلزپارٹی کا بھگوڑا ہے جو گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔ یوتھیے بہت بے شرمی سے گیدڑوں کی جھنکار میں اپوزیشن اور پاک فوج کے درمیان فساد کا بازار گرم کرنیکی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس فساد میں نقصان پاکستان اور عوام ہی کا ہوگا۔
انسان کو اللہ نے کمزور قرار دیا ہے۔ طاقتور طبقہ تو بہت بڑی بات ہے ،ہم تو فالتو کتوں سے بھی خوف کھاتے ہیں۔ انسان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ جائے نماز پر کھڑا ہو یا تخت وتاج کا مالک ہو ،بہرحال وہ ایک بے کار کھاد کی مشین بھی ہے۔ جب وہ تھوڑی عزت دیکھ لیتا ہے تو اپنی یہ اوقات بھول جاتا ہے کہ وہ دن میں کتنی بہترین چیز سے پوٹی اور پیشاب کی پیداوار بنالیتا ہے۔ اپنی ساری کمزوریوں کو بھلا کر خود کو دوسروں سے ممتاز سمجھنے لگ جاتا ہے۔ حالانکہ وہ بھی ایک انسان ہی ہوتا ہے جو دوسروں کی خوبی اور اپنی کمزوری سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے کہ کب انسان اپنی انسانیت پر رہتا ہے اور کب انسانیت سے گر کر جانور سے بھی بدتربنتاہے۔
کتے بہت وفادار بھی ہوتے ہیں۔کام بھی آتے ہیں اور سمجھدار بھی ہوتے ہیں۔ مولانا عبداللہ شاہ نے پٹھانوں کے پاس رسول اللہۖ کے صحابہ کا ذکر کیا ہے اور پھر پٹھانوں کے وفدکا نبیۖ سے براہِ راست ملنے کا ذکر کیا ہے ۔ پٹھانوں کو بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دوقبائل قرار دیا ہے۔ پشتو بولنے والے افغانوں کو پشتون اور غیر پشتو بولنے والوں کو راجپوت پٹھان قرار دیا ہے کہ دونوں عربی لفظ سے بگڑ کربنے ہیں جو کشتی کے مضبوط حصے کو کہتے ہیں۔ نبیۖ نے فتحان کہا، جس سے پختانہ اور پٹھان بن گیا۔ مولانا عبداللہ شاہ نے محمود غزنویکا قصہ بتایا کہ چوروں کا گروہ بیٹھا ہوا تھا۔ محمود غزنوی ان سے مل گیا۔ چوروں میں سے ایک ایک نے اپنی اپنی خاصیت بیان کی۔ ایک نے کہا کہ میں جانور کی آواز کو جانتا ہوں، دوسرے نے کہا کہ جب کوئی شخص مجھ سے ایک بار ملے تو اس کا روپ کتنا بدل جائے پھر بھی پہچان لیتا ہوں۔ ایک نے کہا کہ مضبوط دیوار میں آرام سے سوراخ کرکے راستہ بناسکتا ہوں، ایک نے کہا کہ میں سونگھ کر قیمتی اشیاء کا پتہ لگا سکتا ہوں۔ محمود غزنوی سے کہا کہ تمہارے اندر کیا خوبی ہے؟، اس نے کہا کہ میں داڑھی ہلا دوں تو پھانسی کے پھندے سے رہائی دلاسکتا ہوں۔ چوروں نے فیصلہ کیا کہ سب اپنی اپنی جگہ پر بہت خوبیاں رکھتے ہیں اور پھانسی کے پھندے سے مجرم کو چھڑانیوالا چور تو ہم سب سے زیادہ مفید ہے ، لہٰذا ہم بادشاہ کا گھر لوٹ لیتے ہیں۔ رات کو چور شہر پہنچے تو کتے بھونکنے لگے۔ ایک کتے نے مخصوص آواز نکالی تو دوسرے کتے چپ ہوگئے۔ رات کو چور بہت بڑی چوری کرکے سومنات کے لوٹے ہوئے خزانوں پر ہاتھ صاف کر گئے اور مال تقسیم ہوا۔ سب اپنے اپنے گھر پہنچ گئے۔ صبح ہوئی تو بادشاہ کا تخت سج گیا اور چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر لایا گیا ۔ محمود غزنوی بہت غصہ میں تھے کہ یہ لوگ بادشاہ کے گھر پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کیسے کرگئے۔ سب کو پھانسی دیدو۔ پھانسی سے پہلے سب کو اپنی آخری خواہش کے اظہار کا موقع دیاگیا۔ سب نے باری باری اپنی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ جو جانور کی آواز پہچانتا تھا ، اس نے کہا کہ ایک کتے کی آواز سے پتہ چلا کہ بادشاہ بھی ہمارے ساتھ شریک تھا، جس کو روپ بدلنے کے باوجود آدمی کو پہچانے کی مہارت تھی اس نے کہا کہ محمود غزنوی ہمارے ساتھ شریک تھے۔ جس میں ہمت اور جرأت کا مادہ تھا تو اس نے بادشاہ کے جذبات کو نظرا نداز کرتے ہوئے کہا کہ سب نے اپنے فن کا مظاہر ہ کیا ، لہٰذا اب آپ بھی داڑھی ہلائیں اور ہمیں پھانسی سے چھٹکارا دلائیں۔ چنانچہ بادشاہ محمود غزنوی نے داڑھی ہلا کر سب کو بخش دیا تھا۔
آج پاکستان کیلئے اندونِ خانہ اور بیرونی ممالک سے جن خطرات کا سامنا ہے ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہے۔ بے خبر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بھونک رہے ہیں، کوئی باخبر سب کو خاموش کرکے بادشاہ کے شریک جرم کی خبر دے رہا ہے۔ سارے چور اسٹیبلشمنٹ، سیاستدان، جج اور مقتدر حلقے حکومت اور اپوزشن سبھی اپنا اپنا کردار بحسن و خوبی ادا کررہے ہیں۔ کسی نے بھی محنت مزدوری نہیں کی ۔ غزنوی نے سومنات کو لوٹا تھا اورچوروں نے خوشحال رعایا سے لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور آخر کا ر بادشاہ جب چوروں کیساتھ خود شریکِ کار بن گیا تو بادشاہ کے گھر پر بھی نقب لگا۔ چور ایک سے ایک اپنی مہارت رکھتا تھا اور پھانسی کے حکم تک بات پہنچ گئی اسلئے کہ سب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ لیکن آخر کار سب کو معاف کیا گیا کیونکہ بادشاہ سلامت نے اپنا وعدہ پورا کرلیا۔ امریکہ اور دوسری دنیا سے جتنی امداد ملی ہے پاکستان اسکے ذریعے سے یورپ بن سکتا تھا لیکن سینٹرل چور اسٹیبلیشمنٹ بے تاج بادشاہ کیساتھ دوسرے بھی بھرپور طریقے سے شریک تھے۔ اب ملک میں بادشاہ بھی لٹ جائے تو پھر آخر کار نتیجہ خیر کی شکل میں نکلے گا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ ، جے یوآئی،جماعت اسلامی ، اپوزیشن کی دیگرجماعتیں سب مل کر جی ایچ کیو (GHQ)پر نقب لگارہی ہیں لیکن انشاء اللہ پاکستان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ بحران کھڑا ہوگا لیکن نتیجہ خیر ہی کی شکل میں نکلے گا۔ سوشل میڈیا کے صحافی سید عمران شفقت اپنی دانش اور حرکتوں سے نوازشریف کے بغل کے بال صاف کرنے والا نائی لگتا ہے۔ وہ کہہ رہاہے کہ میری حیثیت صحافی کی ہے اور سیاستدان بڑی چیز ہوتی ہے ، نوازشریف کا مقصد ن لیگ والے نے بتادیا کہ ”عمران خان کو ڈھائی سال پورے کرنے دینے ہیں، صرف فوج اور عمران خان کو گندا کرنا مقصود ہے”۔

پشتون قیادت کیلئے آگے نہ آیا تو انجام گلستاں کیا ہوگا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان میں سقوطِ ڈھاکہ کا دن سولہ (16)دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول میں تبدیل ہوگیا ہے۔ 2014ء میں 135بچوں سمیت150افراد کی شہادت بڑا سانحہ تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے 16دسمبر 2006ء میں باجوڑ مدرسہ کے 80شہداء اوراس سے پہلے ڈھیلہ جنوبی وزیرستان میں ازبک کے مرکز کو چھوڑ کر مقامی قبائل کے کیمپ کو نشانہ بناکر کافی افراد کی شہادت کا سانحہ بھی گزر چکا تھا۔ وانا میں دو تحصیلدار وں کی المناک شہادت کا واقعہ بھی بڑا دل خراش تھا۔ کانیگرم کے مطیع اللہ جان شہید اور ملازئی کے ایک تحصیلدار کی شہادت اس طرح سے ہوئی تھی کہ ان کو قتل کرکے لاشیں مسخ کرکے کنویں میں ڈال دی گئیں۔ کئی روز بعد ان شہداء کو انکے گھروں میں جس حال میں پہنچایا گیا تو زمین بھی لرزگئی ہوگی اور عرش بھی لرزگیا ہوگا لیکن سخت جانوں کے دل میں کوئی جنبش نہیں آئی۔ مطیع اللہ جان برکی شہید کے چچا ڈاکٹرعبدالوہاب نے بتایا کہ ” جیو ٹی وی والے نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا ہوگا؟۔ جس کا یہ جواب دیا کہ امریکہ نے گوانتا ناموبے کے جیل سے قیدی رہا کئے ہیں ان کیساتھ تو یہ سلوک نہیں کیا گیا، ہندوستان نے بنگلہ دیش میں پاکستان کے فوجی قید کرلئے تھے ان کے ساتھ بھی یہ سلوک روا نہیں رکھا گیا اسلئے یہ ہندوستان اور امریکہ والے تو ایسانہیں کرسکتے ہیں، مسلمان بھی ایسا نہیں کرسکتا ہے تو میں کیا کہہ سکتاہوں کہ کس نے یہ کیا ہے؟”۔ اگر اس وقت وزیر قوم ہمت کرکے دہشت گردوں سے انتقام لیتے تو جس طرح کا ظلم طالبان نے وزیر قوم کیساتھ روا رکھا ،اس کی نوبت نہیں آسکتی تھی۔ پھر وانا میں علی وزیر کے بھائی ، والد اور خاندان کے بہت سے افراد کو شہید کیا گیا لیکن وزیرقوم نے اٹھنے کی ہمت نہیں کی۔ کوٹکئی جنوبی وزیرستان میں ملک خاندان کا پورا کنبہ اُڑادیا گیا جس میں ایک حافظہ قرآن بچی بھی شامل تھی لیکن محسود قوم نے ہمت نہیں کی۔ وزیر اور محسود قوم کا ٹریک ریکارڈ یہ تھا کہ کبھی بھی اجتماعی ظلم کو موقع نہیں دیا اور نہ تاریخ میں ان کے ساتھ کبھی ظلم روا رکھا گیا ہے لیکن جب طالبان کے سامنے وہ سرنڈر ہو گئے تو کمزوری ، بزدلی اور بے غیرتی کے ریکارڈ توڑ دئیے۔ لیڈی ڈاکٹر کو ٹانک سے اغواء کرکے وزیرستان میں تاوان وصول کیا گیا۔
جب ہمارے گھر پر حملہ کرکے 13افراد کو شہید کیا گیا تو محسود قوم کے بڑے معافی کیلئے طالبان کیساتھ آگئے لیکن جب کانیگرم میں طالبان نے جرگے کی تاریخ دیدی تو طالبان نے پوری قوم کو یرغمال بناکر آنے سے روک دیا تھا۔ برکی دوست کو محسود دوست نے کہا کہ تم لوگ شیعہ کی طرح قوم پرست ہو، جب سے یہ واقعہ ہوا تو آپ لوگ طالبان سے نفرت کرنے لگے ہو، برکی دوست نے کہا کہ ہم تو ہیں شیعہ۔ جب عمران خان کی پختونخواہ میں حکومت تھی تو پنجاب کی پولیس کو دھمکی دیتا تھا کہ تمہارے گلو بٹو کو طالبان کے حوالے کردیں گے۔ عمران خان نے طالبان کو پشاور میں دفتر دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔ طالبان نے جی ایچ کیو (GHQ)پر قبضہ کیا، ملتان آئی ایس آئی (ISI)کے دفتر کو اُڑادیا، کراچی میں ائرپورٹ اور فضائیہ کے جہاز تباہ کردئیے۔ پورے ملک کو تہس نہس کردیا اور ہمارے پشاور کے پختون اپنے بچوں کو آرمی پبلک سکول کی تعلیم دیکر فوج اور طالبان سے اظہار محبت اور اظہارِ یکجہتی کررہے تھے۔ سوات سے قبائل کے آخری سرحد وزیرستان تک سکولوں کے کھنڈرات کا کوئی احساس نہیں تھا۔ گھروں سے ایک ایک دو دو بچے کے جنازے بھی بڑی بات ہے لیکن جن کے خاندان سے کئی کئی بے گناہ افراد کے جنازے اٹھے تھے تو ان پر بھی ضمیر کو بیدار ہونا چاہیے تھا۔
آرمی پبلک سکول کے بچوں کے والدین اپنے بچوں کی طرح 2014ء سے پہلے کے مظالم پر بھی رونے کی زحمت کریں۔ صفوت غیور جیسے قابل افسر کی شہادت پر ان کیلئے نشانِ حیدر کے اعزاز کا مطالبہ کریں۔ جس بچے اعتزاز حسین نے باہنوں میں دبوچ کرخود کش کو سینے سے لگاتے ہوئے شہادت پائی اس کو شاباش دیں اور جو بشیر بلور اور ہارون بلور پشاوریوں کی جانوں کیلئے شہادت کی منزل پر پہنچیں ان کو بھی خراج تحسین پیش کریں۔ پاڑہ چنار کے اہل تشیع وزیرستان کے حملہ آوروں کو دست بازو سے نہ روکتے تو پارہ چنار بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہوتا۔پی ٹی ایم (PTM)کی لال ٹوپیاں افغانستان کے ہزارہ برادری کی نشانی ہے جن کو طالبان نے بے دریغ قتل کیا تھا۔ جتنی تعداد میں افغانستان کے مہاجر پنجاب اور سندھ میں آباد ہیں انکے بدلے پی ٹی ایم (PTM) کے افراد افغانستان میں آباد ہوسکتے ہیں۔ جس طرح ہندوستان و پاکستان میں مہاجرین کا تبادلہ ہوا تھا اسی طرح افغانیوں اور پاکستانیوں کا بھی ہوسکتا ہے۔
پاک فوج نے کٹھ پتلی سیاستدان بنابناکر پاکستان کو تباہ کردیا ہے۔ اپنے کٹھ پتلیوں کا غصہ پی ڈی ایم (PDM)کی بجائے پی ٹی ایم (PTM)پر نکالنے کی غلطی انتہائی درجے کی حماقت ہے۔ جو پشتون پہاڑی علاقوں سے میدانی علاقوں میں آباد ہوئے ہیں ان کیلئے کوئی تعصبات کی فضاء بنائی گئی توپشتون قوم تباہ ہوجائے گی۔ ایک طرف نیٹو کے گماشتے افغانستان میں جنگ کیلئے تیار بیٹھے ہیں تو دوسری طرف تعصبات کی فضاء بناکر ان کو پہاڑوں میں دھکیلا گیا تو بہت برا ہوگا۔ انگریز کا پورا نظام اس خطے میں ناکام ہوچکا ہے اور اس کی جگہ اس اسلامی نظام کی ضرورت ہے جس میں حکومت کا کام قبضہ مافیا کا کردار ادا کرنا نہیں ہو۔ ادارے اقتدار پر قبضے کی جگہ اپنے اپنے دائرے میں کردار ادا کریں۔ مساجد، سکول ، مدرسہ ،تھانہ ،عدالت ، سول انتظامیہ اور فوج سے خدمت کا کام لیا جائے تاکہ لوگوں میں خوف اور غلامی کا احساس ختم ہوجائے۔
جب پوری قوم دہشت گردی کی پشت پناہی کررہی ہو اور میں کسی اور کی بات نہیں کرتا اپنے گھر کی بات کرتا ہوں تو پھر ریاست بھی اپنے دہشت گرد پالے گی اور ملک گرے لسٹ میں پہنچے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردوں کو دجال کا لشکر تک قرار دیا لیکن دجالی میڈیا نے اس کو ہائی لائٹ نہیں کیا۔ ن لیگ اور عمران خان کو اپنی حکومت اور اپنی عزت بچانے کیلئے آرمی پبلک سکول کے بعد پاک فوج کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کی پشت پناہی دی گئی ۔ نیشنل ایکشن پلان میں فوجی عدالتوں کو سزائیں دینے کی اجازت نہ ہوتی تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں تھا۔ قومی ایکشن پلان پر سیاستدانوں نے ایک اچھی فضاء بنتے ہی عمل کرنا تھا لیکن جب دہشت گردی کی فضاء ختم ہوگئی تو اپنے سارے کرتوت بھول کر پاک فوج ہی کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جب تک اپنی پچھاڑی سے غلاظت صاف کرکے درست استنجاء نہیں کیا جائے تو کوئی قوم دوسروں کی امامت کبھی نہیں کرسکتی ہے۔ پشتونوںنے جب دہشت گردی اختیار کرلی تو سرکاری نمبرپلیٹ والی گاڑیاں اسلام آباد میں بھی پرائیویٹ نمبر لگانے پر مجبور تھیں۔ پھرپی ٹی ایم (PTM)نے جب پاک فوج کے خلاف اپنا بیانیہ پیش کرنا شروع کیا تو پنجاب کو بدل ڈالا ہے اور اب اگر شرافت ، انسانیت اور امامت کے صفات سے متصف ہوکر میدان میں نکل آئے تو پوری دنیا کو ظلم وجبر سے چھٹکارا دلانے میں زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہماری پشتون قوم سے استدعا ہے کہ پنجاب اور پاک فوج کے خلاف تعصب کا نعرہ چھوڑ کر آگے آئیں اور پاکستان کی حکومت سنبھالیں۔ کشمیر بھی آپ نے فتح کیا تھا اور مینار پاکستان سے نئے انقلاب کی بنیاد بھی آپ رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کو بچانے کا وقت آگیا ہے اور پاکستان کو بچانا پشتونوں کے اپنے مفاد میں بھی ہے جتنی بھی کٹھ پتلی قیادتیں تھیں وہ سب کورٹ میرج والی بیٹیاں بن گئی ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ(PTM)کو تعصب موومنٹ نہیں بنائیں!!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہمارے ساتھی بلال میمن ایک متحرک کارکن ہیں۔ تحریکوں کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کراچی نے 16دسمبر آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ کے حوالے سے6ویں برسی منانے کا اہتمام کیا تھا۔ بلال میمن ساتھیوں سمیت مدعو تھے تو میں بھی پہنچ گیا۔ تقریب کا وقت3بجے تھا لیکن کافی دیر کردی گئی۔
تقریب کی ابتداء تلاوت قرآن سے ہوئی ، استعینوا بالصبر والصلوٰة … اللہ سے مدد طلب کرو، صبر اور نماز کیساتھ…… کی آیات سے پڑھی گئی۔ پھر سورہ یاسین کا ختم ہوا۔ پھر پہلے مقرر جاوید محسود کو دعوت خطاب دی گئی اور اس نے گلہ کیا کہ مجھے ہی ہر جگہ پہلی تقریر کی دعوت دیکر مشکل میں ڈالا جاتا ہے، سانحہ پشاور کے شہداء کو رسم و روایت کے مطابق یاد کرنے کیساتھ تحریک سے والہانہ وابستگی اور پشتونوں کیساتھ مظالم کی تلافی وغیرہ باتیں کی ہوں گی کوئی قابلِ ذکر بات مجھے یاد نہیں رہی ہے۔
پھر مجھے ایک مہمان کی حیثیت سے دعوت دی گئی ۔ میں نے عرض کیا تھا کہ میں سننے کیلئے آیا تھا یہ پتہ نہیں تھا کہ سنانا بھی پڑے گا۔ میرے ذہن میں تھا کہ بہت بڑا پروگرام ہوگا لیکن کم تعداد میں لوگ تھے۔ میں نے پوچھا کہ پشتو میں بات کروں یا اردو میں؟۔ انہوں نے کہا آپ مرضی ہے۔ میں نے کہا کہ اردو آج کل زیادہ لوگ سمجھتے ہیں اور سوشل میڈیا کا دور ہے اچھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک میرا پیغام پہنچے۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں سندھی، بلوچ، پنجابی ، سرائیکی اور پشتون ہیں اور میرا تعلق پشتون بیلٹ سے ہے۔ جب اسلام کی نشاة اول ہوئی تو عرب میں آزاد و غلام کا تصور تھا، ایک جاہل قوم تھی لیکن جب اپنے اندر سے جاہلیت کو ختم کردیا تو دنیا کی سپر طاقتوں قیصر وکسریٰ کو شکست دی۔ جب انسان کے پاس اللہ نے کوئی نعمت عطاء کی ہوتی ہے اور وہ اس نعمت کی قدر نہیں کرتا تو وہ چھن جاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی برائی آجاتی ہے۔ پشتونوں خاص طور پر قبائل کے پاس آزادی کی نعمت تھی۔ جب دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی میں لوگوں سے کہتا تھا کہ وزیرستان میں جتنی آزادی تھی اس کا تصور یورپ میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ زام پبلک سکول ٹانک کے پرنسپل عارف خان محسود ایک دور میں کمیونسٹ بن گئے۔ اس نے وہاں بہت بڑے جلسے عام میں کہا کہ ” جب اللہ کے ہاتھ ، پیر، ناک، کان کچھ بھی نہیں تو وہ ایک بوتل ہے”۔ لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے ہاتھ بھی اسکے گریبان تک نہیں گئے۔ سب اپنے کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کررہے تھے۔ پھر وہ بیمار ہوگئے اور توبہ کرلی ، سچے پکے مسلمان بن گئے۔ یہ آزادی بہت بڑی نعمت تھی جو دنیا میں کسی کو بھی میسر نہ تھی۔ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ اس سے ہم نے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ مثلاً میرا اور جاوید کا جھگڑا ہوا۔ مجھے اپنے مفاد میں شریعت نظر آتی تو میں شریعت پر فیصلہ کرتا اور جاوید کو پشتوکا قانون مفاد میں لگتا تو وہ اس قانون پر زور دیتے۔ اس طرح لڑائی جھگڑے اور قتل کا سلسلہ جاری رہتا۔ میں نے ایک تحریک چلائی تھی جس کی داستان لمبی ہے کہ ایک قانون کو ختم کردیا جائے تو فساد ختم ہوجائیگا۔ بہرحال ہم نے اس آزادی کا فائدہ نہیں اٹھایا تو ہم پر جبر مسلط ہوگیا۔ چند گھنٹے پہلے میری اپنے بچپن کے کلاس فیلو اور دوست سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنا قصہ سنایا تھا؟۔ میں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں۔ اس نے بتایا کہ ایک مولوی صاحب سے ہمارا جھگڑا ہوا، محلے والوں نے مجھے کہا کہ آپ فیصلہ کرو، میں نے کہا کہ اس مشکل میں مجھے ڈال رہے ہو؟۔ فیصلہ طالبان نے کیا تھا، مولوی نے اپنی منشاء رکھی تھی ، طالبان نے فیصلہ کیا کہ سرکاری پائپ بھی مولوی کو دیدو اور پیسے بھی دو۔ اور پھر پوچھا کہ فیصلہ پسند ہے؟۔ میں نے کہا کہ پسند نہیں لیکن ڈر کی وجہ سے قبول کررہا ہوں۔ دوست نے بتایا تھا کہ یہ کہتے ہوئے میری سانس خشک ہوگئی تھی۔ میں نے واضح کیا کہ پنجابی ،بلوچ ، سندھی سب میرے بھائیوں کی طرح اور بھائیوں سے زیادہ قریبی ساتھی ہیں۔ پشتون قوم میں سب سے بڑی خوبی ہے ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری، اے کشتہ سلطانی و ملائی وپیری۔ سب سے زیادہ آزاد قبائل اور وزیرستان کے لو گ آزاد منش ہیں۔ کتنی مدت سے بلوچوں نے قربانیاں دیں لیکن اتنے عرصہ پٹنے کے باجود وہ کوئی پذیرائی حاصل نہیں کرسکے جبکہ پی ٹی ایم (PTM)نے بہت ہی کم عرصہ میں وہ مقام حاصل ہے کہ آج پی ڈی ایم (PDM)کا بیانیہ پی ٹی ایم (PTM)کا بیانیہ ہے۔ جماعت اسلامی کی فوج سے اشیرباد واضح ہے لیکن آج وہ بھی کہتی ہے کہ فوج کو اپنی بیرکوں میں واپس جا نا چاہیے۔ دیر میں محسن داوڑ کیساتھ جو کچھ ہوا تھا میں نے اداریہ میں جماعت اسلامی کی مذمت کی تھی ۔ایک مہمان کیساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے کسی ایک قوم اور جگہ سے ظلم ختم ہوجائے تو پوری دنیا سے ظلم ختم ہوسکتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کیلئے اپنی قوم سے محبت کی بنیاد پر تحریک چلانے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے رسولۖ سے فرمایا کہ قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا مودة فی القربیٰ ” ان سے کہہ دو کہ میں آپ سے صرف قرابتداری کی محبت چاہتا ہوں”۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل و ابولہب اور ابوسفیان سے کہا گیا کہ آپ کی زبان، شہر اور قوم قریش میں سب شریک ہیں، مجھے اس قرابت کی محبت اور لحاظ چاہیے۔ پوری دنیا ظلم سے بھر چکی ہے اگر کسی جگہ سے بھی ظلم ختم ہو تویہ پوری دنیا سے ظلم کے خاتمے کیلئے بنیاد بنے گا۔
میرے بعد پی ٹی ایم (PTM)کے نائب محمد شیر اور آرگنائزر نوراللہ ترین کی تقریربھی ہوئیںجن میں ایک طرف مضبوط بیانیہ تھا تو دوسری طرف متعصبانہ روش بھی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ دریا خان اور کوٹ سبزل خیبر پختونخواہ اور سندھ کے سرحد کے پار پنجاب کے علاوہ ہم اسلام نہیں چاہیے ۔یہ بات بھی ہو کہ پنجابیوں کو ہم نے زبردستی سے مسلمان بنایا تھا تو تعصب کے علاوہ کچھ نہیں بنتا ۔ اگر یہ تاریخ ہے اور قابلِ فخر ہے تو پھر ماننا پڑیگا کہ ادلے کا بدلہ ملتا ہے۔ پھر اگر ہمارے اندر طالبان بنائے گئے اور ہمیں اپنے علاقوں سے ہنکایا گیا۔ تعصبات کا چولہا جلے تو پنجاب ، سندھ اور بلوچ علاقوں سے پختونوں کو بے دخل کیا جائے تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM) کے متعصبانہ بیانیہ سے پشتون تحفظ نہیں تعصب موومنٹ کا تصور اُبھرے گا۔ چند افراد کو پشتونوں کی نمائندگی کا حق نہیں۔نوراللہ ترین کا اظہار کہ ”میں موت کی قیمت پر بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا اور نہ لکھ کردوںگاکہ پی ٹی ایم (PTM)سے میرا کوئی تعلق نہیں ”۔اس بات کو عیاں کررہا تھا کہ بہت لوگ پی ٹی ایم (PTM)کو چھوڑ کر لکھ کر دے چکے ہیں۔ اگر متعصبانہ رویہ برقرار رہا تو بہت سی تحریکوں کی طرح پی ٹی ایم (PTM)بھی صرف چندے اکٹھا کرنے کیلئے رہ جائے گی اور یہ انسانوں کا محبوب مشغلہ ہے جو جاری رہتا ہے۔
اگر ریاست نے پشتونوں کو تعصبات کی طرف جان بوجھ کر دھکیلا ہے تو پھر یہ پی ٹی ایم (PTM)بھی اسی کی بنائی ہوئی ہے جس کو ریاست نے نہیں پشتونوں نے خود مسترد کیا ہے۔پی ٹی ایم (PTM)کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ ایسی جذباتی تقریریں کرنے کا فائدہ دشمنوں کو ہی پہنچ سکتا ہے جس کی وجہ سے تھانوں میں ایف آئی آر کٹے اور تھانہ ایکشن لینے پر مجبور ہو ۔ وانا جنوبی وزیرستان میں امن وامان کی فضاء ہے۔ میرانشاہ شمالی وزیرستان کے جلسے میں بھی وہ لہجہ نہیں تھا جو کراچی اور سندھ پولیس کو مشکلات میں ڈالنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ ہم نے خصوصی شمارے میں ریاست سے اپیل کی تھی کہ پی ٹی ایم (PTM)سے نرم رویہ اپنایا جائے لیکن علی وزیر کی گرفتاری نے ایک بھونچال پیدا کردیا ہے۔ جن پر گوجرانوالہ میں بغاوت کے مقدمات ہیں وہ بھی آزاد ہیں۔

آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ کچھ حقائق کے تناظر میں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
تاریخ: 15دسمبر2020

جب عمران خان نے اسلام آباد میں امپائر کی انگلی پر دھرنا دیا تھا تو اس وقت خیبرپختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔ عمران خان واضح طور پر کہتا تھا کہ ”پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان کے حوالے کروں گا”۔طالبان، عمران خان اور امپائر کی انگلی کا ٹرائیکا ایک ہاتھ کی تین انگلیاں تھیں، نوازشریف اسی ہاتھ کی چوتھی انگلی تھی اور عدالت پانچویں انگلی تھی۔ پنجے سے پنجتن پاک بنتا ہے اور پنجاب بھی۔ پاکستان گرے لسٹ میں اسلئے ہے کہ دہشت گرد ریاست ہے یا یہ پالیسی کا نتیجہ ہے؟۔
جسٹس سیٹھ وقار مرحوم نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے دہشتگردوں کو رہا کردیا تھا۔کوئی بادی النظر میں سوچے کہ طالبان نے عمران خان اور نوازشریف کو اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا۔ تینوں فوج کے کٹھ پتلی تھے اورعدالت نے طالبان کورہا کردیا تھا تو پنجاب کے خلاف جن کی پانچوں انگلیاں گھی میں رہتی ہیں یہ کہنا کہ پشتونوں کے خلاف سازش کررہے ہیں تو ان کو بڑی شئے مل جائے گی۔ جسٹس وقار سیٹھ نے ان طالبان کو رہا کیا تھا جن کو فوجی عدالتوں سے سزا ہوئی تھی اور سیٹھ نے پرویزمشرف کیخلاف بھی تاریخی فیصلہ دیا تھا اسلئے پانچوں کو کالے پانی میں ڈالنا مشکل ہے لیکن پی ٹی ایم (PTM) کے منظور پشتین نے انکشاف کیا تھا کہ ” جس طالب یا بے گناہ فرد کو کئی سال پہلے ہی قید میں رکھا گیا تھا، آرمی پبلک سکول کے واقعہ میں اسی کو فٹ کیا گیا اور احسان اللہ احسان جو اصل دہشت گرد ہے اسے جی ایچ کیو میں رکھاگیااور بعد ازاں چھوڑ دیا گیا”۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارا عدالتی نظام دہشت گردوں کو توبہت دور کی بات دن دیہاڑے قتل کے مجرموں کو بھی سزا دینے میں ناکام ہے اور دوسری طرف پاک فوج بھی نہ صرف دنیا بلکہ سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کے بعد اب پنجاب شریف کیلئے بھی قابلِ اعتماد نہیں رہی ہے۔ جسٹس وقار سیٹھ ، شوکت صدیقی اور جسٹس فائز عیسیٰ سے لیکر پاکستان وکلاء بار کے صدر لطیف آفریدی اور طلبہ یونین کے پروفیسر یاسر علی جان تک سوالات اٹھارہے ہیں۔ 31جنوری تک عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ ہے۔ فروری میںپی ڈی ایم (PDM)اور طلبہ یونین مارچ کی تحریک شروع ہوگی اور پھر 8عورت آزادی مارچ تک ریاست کی ہر چول ڈھیلی ہوجائے گی۔
افراتفری اور فساد کی فضاء صرف اس کو پسند ہے جو ریاست اور حکومت کے مفادات کا رس چوس رہاہے ۔ عوام کی کوئی تعلیم وتربیت نہیں ہوئی ہے ۔ اخلاقیات کا رونا رونے والے حسن نثار بدبخت سب سے زیادہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے اور ایک انقلاب آیا چاہتا ہے۔ لوگوں میں تعصبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ لسانیت ، فرقہ واریت اور مفاد پرستی کے سارے تیر انسانیت کو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھنے والوں کو اپنی شہتیر جیسی ناک نظر نہیں آتی ہے۔ پاکستان میں موج مستیوں کی جگہ طبلِ جنگ بجتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان بننے کیلئے بہت خون خرابہ ہوا تھا ، بہت لوگوں کی جانیں اور عزتیں برباد ہوگئی تھیں، خاندان بچھڑ کر تباہ ہوگئے تھے اور قوم نے سب کچھ نظرانداز کرکے قائداعظم کی انگلش کتوں کیساتھ تصویریں اُٹھائی تھیں کہ ”مسلمان مصیبت میں گھبرا یا نہیں کرتے”۔ آج عمران خان بھی ”کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا” کی کہاوت پر گھبرانا نہیں کہتا ہوا اپنے پالتو کتوں کیساتھ کھیل رہاہے لیکن 70سال بعد بھی قائد انقلاب یہ سیاسی مافیا ہے۔
بعض ناعاقبت اندیش لوگ پھر عمران خان کو نجات دہندہ سمجھ کر ساری خرابی کی اصل جڑ اسٹیبلشمنٹ کو ہی سمجھتے ہیں۔ عمران خان میں قیادت کی صلاحیت ہوتی تو سندھ پولیس کے احتجاج پر آرمی چیف کے ایکشن سے پہلے خود ہی نوٹس لیتا کہ آپ کو جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے جب مزار قائد کرایہ پر بدفعلی کیلئے استعمال ہوتا تھا تو اس پر کیوں آپے سے باہر دکھائی نہیں دئیے؟۔ عمران خان سے ایم کیوایم بھی کھسک جاتی تو پیپلزپارٹی جمہوریت کیلئے عمران خان کی حکومت کو سہارادیتی۔لیکن عمران خان خود اتنا نالائق ہے کہ ایک سیٹ کیلئے جی بی (GB)کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو پھر اس اپوزیشن کی طرف دھکیل دیا جس میں بڑی مشکل سے فاصلہ پیدا کیا تھا۔
میرے کپتان کے نام سے منصور علی خان کی صحافت کا عمران خان کیخلاف بڑا نام ہے لیکن مفتی کفایت اللہ نے اس کو بھی کپتان کی طرف دھکیل دیا۔ نہال ہاشمی نے کھینچ تان کر لاہور جلسے کو ہزاروں سے لاکھوں میں بتایا تو 3لاکھ بڑی مشکل سے بولنے کی ہمت کی لیکن مفتی کفایت اللہ نے 10لاکھ سے زیادہ بتانے میں شرم محسوس نہیں کی۔ سیاست جھوٹی، صحافت جھوٹی، سیاستدان جھوٹا، مولوی جھوٹا تو اسٹیبلشمنٹ کیسے سچی ہوسکتی ہے؟۔ پوری قوم کا بیڑہ غرق ہے اور انقلاب اس کا واحدعرق ہے۔
کیا فوج بیرکوں میں چلی جائے تو سیاستدان اور مولوی قوم کا بیڑہ سدھار یں گے؟۔ فوج کو بیرکوں میں ہی جانا چاہیے۔ دہشت گردی، سیاست گردی اور مولوی گردی کی سب سے بڑی ذمہ دار فوج ہی ہے لیکن کیا یہ بگڑے ہوئے لوگ اس قوم کا بیڑہ پار کرسکیںگے؟۔ جن کے ہاتھوں قوم کاسب سے زیادہ بیڑہ غرق ہواہے؟۔
جب تک ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوگا تو یہ قوم اپنی اصلاح کی طرف نہیں جانا چاہے گی۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر راشد مراد ٹی وی (RM.tv)کھریاں کھریاں والے نے اپنی پوری طاقت پاک فوج کو خراب کرنے پر لگارکھی ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کو گوجرانوالہ کے جلسے میں نہیں بلایا گیا تو منحوس نے اس کو آرمی میڈیا کی سازش قرار دیدیا تھا اور اب اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرتا۔ راشد مراد نے اپنی چرب زبانی سے آرمی پبلک سکول کے واقعہ کو آرمی کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا تھا لیکن کیا نوازشریف نے اس واقعہ کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا؟۔ عمران خان نے دھرنا اسلئے تو ختم کیا تھا۔ جب نوازشریف اتنا نااہل اور نامراد تھا کہ اسکے وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی یہ واقعہ ہوگیا اور پھر اس کا فائدہ بھی اُٹھالیا تو کیا پھر بھی اسی نوازشریف کو اقتدار میں لانے کی تگ ودو کرنے کی غلطی کی جائے؟۔ پی ٹی ایم (PTM)کے جوان آر ایم ٹی وی (RM.tv)کے راشد مرادکے پروپیگنڈے سے ہرگز متأثر نہ ہوں۔ یہ مریم نواز، شہباز اور نوازشریف کیلئے پشتون کو استعمال کرنے کا گُر جانتا ہے۔ آرمی پبلک سکول کا واقعہ2014ء میں ہوا تھا؟۔ اس وقت عمران خان اور نوازشریف دونوں طالبان اورپشتون اکثریت بھی طالبان اور انصاف کی حامی تھی۔ پی ٹی ایم (PTM)کے جوان بھی ن لیگی اور تحریک انصافی تھے۔
جس نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کی کوکھ سے جنم لیا، بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے تک اسی کے سائے میں پلا، بڑھا اور اس حد تک پہنچا وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہزار دفعہ کھڑا ہوجائے لیکن اس پر اعتبار نہیں ہوسکتا ہے۔ گھر کے بھیدی لنکا ڈھائے کی بات درست ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)نے سوچ سمجھ کر مریم نوازشریف ، شہباز اور نوازشریف کو اپنے ساتھ رکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ پنجاب ہی کو ساتھ ملاکر کیا جاسکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے پنجابی قوم سے نہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنجاب کے کٹھ پتلی سیاستدانوں اور صحافیوں سے گلہ کرنا تھا لیکن اس جنگ کی بنیاد ظالم ومظلوم ، مراعات یافتہ ومحروم اور حق و ناحق کی بنیاد پر ہونی چاہیے تھی۔ محمود اچکزئی جاہل نہیں لکھا پڑھا انسان ہے۔ اخترجان مینگل کی تقریر میں بھی لاؤڈ اسپیکر بند کردیا گیا تھا۔ لیکن اب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے نہیں کھل کر حقائق کی وضاحت کرنے سے معاملہ حل ہوگا۔ حکومت نے سینٹ کے قبل ازوقت انتخابات کا فیصلہ کرکے انقلاب کی پیدائش سے پہلے حمل گرانے کی مذموم و ناکام کوشش کی ہے۔

اچکزئی پر صحافیوں کی بھرمار یا نیازی نے ڈالاہتھیار؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
تاریخ: 15دسمبر2020

ایک پر تکلف دعوت میں ساری چیزیں چھوڑ کر صرف ”مرچ” کے پیچھے کوئی بھی ہاتھ دھو کے پڑجائے تو یہ طوطا جانی صحافی کا حق ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے اور محمود خان اچکزئی کی تقریر میں صرف اس بات کے پیچھے پڑجانا کہ ”لاہوریوں کی توہین کی گئی ہے۔” باقی ساری باتیں چھوڑ دینا انصاف کا تقاضہ نہیں مگرتحریک انصاف کی ضرور ت ہوسکتی ہے۔ جس نیازی پر نازاں تھی اپنی ریاست اس نیازی نے وقت سے پہلے ہتھیار ڈال دئیے۔ میانوالی کے لڑاکو اصیل مرغے اور دلیر انسان بہت مشہور ہیںلڑائی اور بہادری میں۔ لگتا یہ ہے کہ جس عمران خان نیازی کو اپوزیشن سے لڑانے کیلئے میدان میں اتارا گیا تھا آج وہ فارمی برائیلر مرغا ثابت ہوتا ہے ،یہ مرغے نسل کیلئے ہوتے ہیں اور نہ لڑانے کیلئے بلکہ صرف ذبح کرنے اورکاٹنے کیلئے قصائی کی دکانوں پر ملتے ہیں۔ بعض لوگ شوق سے ان کو پال لیتے ہیں، یہ ریسلینگ کیلئے بلکہ تھوڑی ریس مارنے پر بیہوش ہوجاتے ہیں۔
عمران خان نے جب ڈی جے (Dj)بٹ اور بٹ کڑاہی والے کو گرفتار کیا تو قوم کو لگا کہ یہ مرغا تو لڑنے کے بجائے اپنی ایک ٹانگ پڑ کھڑا ہوگیا۔ پھر اس نے پی ڈی ایم (PDM)کے جلسہ کے موقع پر اپنی کابینہ میں تبدیلی کرلی تو عوام کو لگا کہ مرغے نے اپنا سر ٹانگوں کے نیچے دیدیا ہے۔ پھر جب اپنے پالتو کتوں کیساتھ تصاویر میڈیا پر شیئر کردیں تو پتہ چلا کہ مرغا آرام سے سو بھی رہاہے۔ جس کا نتیجہ یہی نکلتاہے کہ عمران خان نیازی نے فیصلہ کیا ہے کہ جو اسٹیبلشمنٹ لائی ہے وہ خود ہی اپوزیشن سے نمٹے گی ، کراچی میں بھی کام دکھا چکے ہیں۔ وہ جو کہتا تھا کہ چھوڑوں گا نہیں، اب سب کچھ ان کے ذمہ چھوڑ کر بیٹھا۔
عمران خان طالبان زدہ لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کہتا تھا کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں”۔ لیکن پھر اپنی بیگم بشریٰ بی بی کے کہنے پر جس طرح مزار کے آگے ہاتھوں کے پاؤں بناکرخود کو ایک جانور کی شکل میں پیش کیا تو بس اس کی ایک دُم نہیں تھی جس کو ہلا کر دکھاتا، باقی اس نے پورا سین کرلیا تھا۔ پاک فوج تو عقل سے بالکل پیدل ہے لیکن اچھے اچھے بھی عمران خان کی باتوں کے شکار ہوگئے تھے۔ پنجاب کا تو مزاج یہ ہے جو اقبال نے بتایا:
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتاہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
لاہوریوں کو اسٹیبلیشمنٹ کے گماشتوں ذوالفقاربھٹو کے پنڈی میں پٹھانوں کی موت تو چھوڑیں شریفوں کی طرف سے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی کھلی فائرنگ سے بھی 14قتل یاد نہیں ہیں لیکن اچکزئی کمال کرتے ہیں بابڑہ کے شہداء کی یاد کرانے میں؟۔ بابا یہ پنجاب کے لوگ ہیں زیادہ تحقیق میں نہیں پڑتے، موٹی موٹی تازہ تازہ باتیں سمجھ لیں تو بھی غنیمت ہے۔ مینار پاکستان میں جمعیت علماء اسلام نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست کا اعلان کرنا تھا۔ مرکزی شوریٰ نے مولانا محمدمراد سکھرکی رائے چھوڑ کر مولانا محمد خان شیرانی کے مشورے پر فیصلہ دیا تھا کہ انقلابی سیاست کا آغاز کرنا ہے لیکن پھر فوج نے راتوں رات مولانا فضل الرحمن کو تنہائیوں میں لے جاکر سمجھا دیا تھا اور جمعیت نے وہ اعلان نہیں کیا جس کیلئے وہ آئے تھے۔ میں نے دن رات ایک کرکے یہ فیصلہ کیا کہ ماہنامہ ضربِ حق کراچی کا نیا ایڈیشن چھاپ کر لاہور پہنچ جاؤں، رات کو جہاز کی ٹکٹ بھی سستی ہوا کرتی تھی، فلائیٹ کے ذریعے ہم رات گئے فجر سے پہلے پہنچ گئے اور پھر نماز فجر کے بعد ناشتے پر رؤف کلاسرا کے شہر لیہ کے فیض محمد شاہین سے ملاقات ہوئی۔ گپ شپ میں جلسے کا انتظار کرتے کرتے دن گزرتا گیا، دوپہر سے جلسہ شروع ہوا، خطیبوں نے لمبے لمبے خطابات کئے لیکن شام کو اعلانِ انقلاب ٹال دیا گیا۔ جمعیت کے انقلابی لوگوں نے سمجھ لیا کہ عوام کیساتھ مولانا فضل الرحمن نے ہاتھ کرلیا ہے مگر اس کی وجہ نہیں سمجھ سکے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا تھا کہ مولانا سے وجہ پوچھ لی جاتی ،جو ہوا ہوگیا۔
میں صبح صبح پہلے دوست کے پاس پہنچ گیا جو ملتان کے رہنے والے تھے اور پھر یہ پتہ چلا کہ ان کی مسجد ہیرہ منڈی میں ہے۔ شام کو بہت تھکا ہوا تھا مگر وہاں واپس نہیں گیا،پہلے پتہ ہوتا تو بھی نہ جاتا۔ مغرب کی نماز سے پہلے ہم داتا دربار کی مسجد میں گئے۔ بہت سخت تھکان تھی، نہیں معلوم تھا کہ مینار پاکستان کے پارک کا نام منٹو پارک ہے۔ مسجد میں سر قبلہ کی طرف کرکے لیٹ گیا تو ایک لاہوری نے آکر مجھ سے پوچھا کہ منٹو پارک میں آئے تھے؟۔ میں نے کہا کہ نہیںاورکیوں؟۔ اس نے کہا کہ مزار شریف کی طرف پیر ہیں ،ان کارُخ دوسری طرف کردو۔ میں نے بلا تأمل حکم مان کر پیروں کا رخ دوسری طرف کیا اور پھر اس کو پوچھا کہ ” جب نمازی سجدے میں جاتے ہیں تو پھر اپنے پیروں اور توپوں کا رُخ مزار شریف کی طرف نہیں کرتے؟۔ اسکے پاس جواب نہ تھا۔
محمود خان اچکزئی کی تقریر کا خلاصہ یہی تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی تاریخ انگریزسے لیکر پاکستان بننے کے بعد اور آج تک جس طرح سے رہی ہے لاہوریوں کا اپنا کردار بدلنا ہوگا لیکن گلی کوچوں میں بھونکنے والے صحافیوں ہی نے نہیں اچھے بھلے صحافیوں نے بھی محمود خان اچکزئی کی زبردست کلاس لے لی۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ایوب ہزارے کا تھا، یحییٰ خان پشاور کا قزلباش تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ کا مرکز پنجاب تھا۔ بنگلہ دیش ٹوٹا تو اس کی وجہ احساسِ محرومی تھی۔ محمود اچکزئی اگر اپنے بچپن کی یتیمی اور ریاستی مظالم کا ذکر کرتا اور مریم نواز عمران خان کو طعنہ دیتی کہ ”تم نے کہا تھا کہ نہیں چھوڑوں گا” ۔ اب تم بتاؤ کہ ہم باپ بیٹی تمہارے اقتدار میں آنے سے پہلے گرفتار تھے۔ میرا باپ تو بیماری کا بہانہ کرکے چلا گیا اور میں باپ کی بیماری میں تیمار داری کیلئے رہا کی گئی تھی اور آزاد ہوں تو تمہارا یہ کہنا کہ نہیں چھوڑوں گا ، کہاں گیا؟۔ تو لوگوں کو جلسے میں بڑا مزہ آجاتا اور بک بک کرنے والوں کو بھی اپنی نوکری دونوں طرف سے پکی کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔
اللہ نے قرآن میں غزوہ بدر کیلئے فرمایا کہ ” میں نے تمہاری نظروں میں کافروں کو کم کرکے دکھایا اور کافروں کی نظروں میں تمہیں کم کرکے دکھایا، اگر ایسا نہ کرتا تو پھر تم پھسل جاتے اور لڑ نہ پاتے”۔ پی ڈی ایم (PDM)کا جلسہ مخالفین کی نظروں میں ایک دوسرے کیلئے جیسا بھی تھا لیکن لگ رہاہے کہ آنے والے وقت میں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ریاست کیساتھ ایک بڑا تصادم ہوگا۔ یہ ریاست اور سیاست کا وہ کھیل ہے جو اپنے منطقی انجام کی طرف جارہاہے۔ جو جیت گیا عوام اسکے ساتھ ہوگی۔ چڑھتے سورج کے پچاری بھی اسی کو سلام کریںگے۔ نیازی کی تقریریں اس وقت دھرنے میں زیادہ پسماندہ تھیں جب ڈاکٹر طاہر القادری نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ میڈیا روز چینلوں پر تماشا لگاتا تھا لیکن کچھ بنتا نہیں تھا، جبکہ اکیلے مولانا فضل الرحمن کا دھرنا عمران خان کو ہلانے کیلئے کافی تھا، اس وقت اچکزئی کی بات مانتے اور فیصل مسجد تک بھی جلوس لے جاتے تو نیازی نے ہتھیار ڈالنے تھے۔ مولانا بہت بڑا سیاسی کھلاڑی ہے، اس کی چاہت تھی کہ نوازشریف کے شیر اور شیرنیاں بھی نکل آئیں لیکن جب شیر پنجرے میں ہوتا ہے تو ڈھیر ہوتا ہے۔ اب نوازشریف باہر بیٹھ گیاہے ۔ مولانا فضل الرحمن خالی دھمکی دیتا تھا کہ اگر فوج نے مداخلت کی تو پھر وہ بھی نشانہ ہوگی۔ آئی ایس پی آر (ISPR)آصف غفور نے تو اس وقت کہا کہ ”ہم آئندہ انتخابات میں نہیں آئیں گے”۔ ایک طرف نئے فوجی افسروں کی ترقی تو دوسری طرف پنجاب سمیت اپوزیشن کی ساری جماعتیںہیں۔ دمادم مست قلندر ہوگا۔عوام تنگ آمد بہ جنگ آمد اور عمران خان نے اپنی خواہش پوری کرلی ،وزیراعظم بن گئے۔ہنوز دلی دور است والوں کو آئندہ پتہ چلے گا۔

پاکستان اور افغانستان سے اسلامی نظام کی ابتداء ہوگی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

افغانستان اور پاکستان کی حکومت ملاؤں کے سامنے اسلام کی درست تعبیر سامنے رکھ دیں تو شریعت کے نفاذ میں دیر نہیں لگے گی۔ اللہ نے قرآن میں شراب ومیسر کو حرام قرار دیا ہے۔ شراب کی حرمت سمجھنا مشکل نہیں لیکن میسر کو جوا کہا گیا ہے اور جوئے کو میسر اسلئے قرار دیا ہے کہ اس میں آسانی ہے ، مشکل سے مال نہیں کماتے ہیں۔ ایک ہندوستانی سکالر نے عورتوں کے جہیز کو بھی شوہروں کیلئے میسر قرار دیاہے اور اس میں شک نہیں کہ جوئے سے جہیز کی برائیاں کم نہیں زیادہ ہیں۔ مجاہدین نے بھی مشکل طریقے سے محنت مزدوری چھوڑ کر میسر کے ذریعے مال کمانا شروع کیا تھا جس کے نتائج آج بھی مجاہدین اور عوام بھگت رہے ہیں۔ علماء ومشائخ نے بھی میسر کے ذریعے سے مال کمانے کے راستے نکالے ہیں۔ ایک عالم دین، مدرسے کے مہتمم کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ ایک بڑے افسر کے برابر ہوسکتی ہے لیکن چندوں کے ذریعے سے بڑے درجے کاسرمایہ داربننے کا مال میسر کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے کہ مجاہدین محنت مزدوری کریں، کھیتی باڑی کریں، نوکری کریں، دکانداری اور تجارت وغیرہ کے واضح ایڈرس رکھیں۔ پھر کوئی بھی اپنی پشت میں بارود چھپانے اور دھماکے کرنے کیلئے فارغ نہیں ہوگا۔ بہادری یہ نہیں کہ کسی کے چندوں اور امداد پر ایسی جگہ پالتو بن جاؤ، جہاں کسی کی دسترس بھی نہ ہو۔بہادر وہ لوگ ہوتے ہیں جو گھر بار، کاروبار اور ٹھکانوں کی شناخت ظاہر کرکے اپنی بہادری کا مظاہر کرنے کی جرأت کریں۔ بغیر ماں باپ کی فوج ظفر موج چھپ کر حملہ کریں تو وہ حرام کی اولاد ہوسکتے ہیں حلال زادے یہ کام کبھی نہیں کرسکتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے نام بچے کھو دئیے ہیں ان کی شناخت دنیا کے سامنے ظاہر کریں اور ایک فئیر عدالتی نظام کی بنیاد پر انصاف کے کٹہرے قائم کئے جائیں تو سب بے چینی ختم ہوجائے گی۔
سب سے زیادہ وزیرستان میں محسود قوم مشکلات کا شکار ہوئی ہے اسلئے کہ بار بار فوجی آپریشن کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا۔ راہ راست، راہ نجات، ضرب عضب، ردالفساد لیکن دہشت گردی کا خاتمہ اسلئے ممکن نہیں ہوسکا کہ ساتھ میں وزیر علاقے میں آپریشن نہیں ہوا ہے۔ طالبان بھاگ کر قریبی علاقے میں جاتے جہاں آپریشن نہیں ہوتا تھا۔ فوج عوام کو تنگ کرتی لیکن دہشت گردوں سے نمٹنے میں ناکام رہتی۔ منظور پشتین کا تعلق اسی علاقہ اور قوم سے ہے لیکن شاید منظور پشتین نے وہ وقت بھی نہیں دیکھا تھا جب پوری قوم طالبان کیساتھ بالکل ناجائز کھڑی تھی۔ قوم اتنی ہمت کرسکتی تھی کہ طالبان کا اجتماعی خاتمہ کردیتی لیکن یہ کام نہیں کیا اور اسی کا بدلہ مل گیا۔
قوم جان ومال کے نقصان سے نہیں بگڑتی ہے بلکہ عیاشیوں سے بگڑ تی ہے اور اس عیاشی سے اللہ نے وزیرستان کے لوگوں کو دور رکھا ہے ، مصیبت اور آزمائش کا شکار ہونا کم بختی نہیں خوش بختی کی علامت ہے۔ مسلمان قریشِ مکہ کے ہاتھوں کبھی مشکلات اور ہجرت کا شکار ہوئے لیکن ان سے اللہ نے دنیا کی امامت کا کام لیا تھا۔ مکہ کے جاہلوں میں جہاں بہت خوبیاں تھیں وہاں بہت خامیاں بھی تھیں۔ مشکلات کی چکی میں ریزہ ریزہ ہوکر نابود نہیں ہوئے بلکہ شاندار بن گئے۔ خامیاں بھی دُور ہوگئیں۔ رونے دھونے میں وقت گزارنے سے کچھ نہیں ملتا ہے اور یہ بہت اچھا کیا کہ دھرنے کے ابتدائی دنوں کا گانا بدل دیا گیا ہے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جذباتی ماحول سے قوم کے نوجوان طبقے کو مزید مشکلات سے دوچار نہیں کیا جائے۔ فوج کے افسر اور سپاہی بدلتے رہتے ہیں۔ اگر ان کی مجبوری نہ ہو تو گڈوبیڈ طالبان کا قصہ بھی ختم کردیںگے۔ اسلام خیر خواہی کا دین ہے۔ بدلہ لینے کی پوزیشن مل جائے تو بھی معاف کرنے پر زور دیتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کے پاس تعلیم یافتہ جوانوں کی زبردست ٹیم ہے۔ اسلام کے فطری احکام سے اپنی قوم اور دنیا کو آگاہ کریں گے تو امامت کے قابل بن جائیںگے۔ پختون قوم نے ہمیشہ ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔ اب اپنی مشکلات دیکھ کر سبق حاصل کریں کہ دوسروں پر حملے اور لوٹ مار سے انسانیت کتنی تباہ ہوتی ہے؟۔
فتح مکہ کے وقت پٹھان قوم نے خالد بن ولید کی ہدایت پر بڑا کارنامہ انجام دیا لیکن ظلم کی داستان بھی رقم کردی۔ نبیۖ نے خالدبن ولید سے اسی لئے 3بار اپنی برا ء ت ظاہر کردی۔ نبیۖ سے عورت بھی اختلاف کرسکتی تھی اور حضرت عمر نے بھی حدیث قرطاس میں کہا تھا کہ ہمارے لئے آپۖ کی تحریر کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ کا قرآن کافی ہے۔ نبیۖ نے زبردستی کسی سے زکوٰة نہیں لی تھی۔ پشتون وہ قوم ہے جس میں جبر کا کوئی نظام نہیں ہے۔ صرف اسلام کی طرف صحیح معنوں میں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔حضرت ابوبکر نے زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال کیا تھا۔ پھر حضرت عمر کی نامزدگی پر کسی کو اعتراض کا حق بھی حاصل نہیں تھا اور جب حضرت عمر کی مختصر شوریٰ نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا تو آخر کار نتیجہ یہ نکل گیا کہ خلیفۂ وقت کاچالیس دنوں تک محاصرہ کرکے شہید کیا گیا۔ پھر حضرت علی کو مدینہ چھوڑ کر دارالخلافہ کوفہ منتقل کرنا پڑا، وہاں بھی خلیفہ چہارم کو شہید کیا گیا تھا۔
دہشت گردی کے ذریعے سے خلافت راشدہ کے خلفاء سے لیکر موجودہ دور تک اچھے لوگ شہید ہوسکتے ہیں لیکن اسلام نہیں آسکتا ہے۔ رسول اللہۖ صرف آخری پیغمبر نہیں بلکہ رحمة للعالمین بھی ہیں۔ حضرت عائشہ پر بہتانِ عظیم لگایا گیا تھا تو بہتان لگانے والوں کو وہی سزا دی گئی جو عام عورت پر بہتان لگانے کی ہے۔ اس بہتان کیلئے اللہ نے فرمایا کہ اس کو شر مت سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے۔ سورۂ نور کی ان آیات سے ثابت ہے کہ رسولۖ کی حرم پر حملے کو اللہ نے خیر اسلئے قرار دیا تھا کہ آئندہ دنیا کی غریب عورتوں کی بہتان سے اسی طرح حفاظت ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی قربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات پر بہتان لگانے کی سزا سے عام خواتین کی عزتوں کو محفوظ بنانے کا ساماں کردیا۔ البتہ آمریت اور بادشاہت کی وجہ سے قرآن وسنت کا قانون دنیا کے سامنے نہیں آسکا ہے جس کے سب سے زیادہ ذمہ دار درباری علماء ہیں جن کو حکومتوں کے بل بوتے پر پذیرائی مل جاتی ہے۔
آزاد قبائل اور عام پشتونوں کے علاوہ بلوچ، پنجابی ، سرائیکی، سندھی اور کسی بھی پاکستانی طبقے کے نزدیک پاکستان کے اشرافیہ کا یہ قانون قابل قبول نہیں ہے کہ امیر کو عدالت میں اربوں اور کھربوں کی ہتک عزت کا دعویٰ پیسوں کی بنیاد مل جائے اور غریب کی عزت ٹکے کی بھی نہیں ہو۔ جو غریب کرایہ پر نکلتے ہیں وہ اپنی دھاڑی وصول کرتے ہیں کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی کارکن نہیں ہوسکتے۔ لیڈروں کے گزر اوقات سیاسی لوٹوں پر ہوتے ہیں اور لیڈروں کو کسی آمروں کی اشیر باد سے ہی لیڈر بنایا جاتا ہے۔ اسلام میں مفاد عامہ کے قوانین اور عوام کو جو حیثیت دی گئی ہے اس کا انقلاب بہت مثبت ہوگا۔ انتقام نہیں اعتدال پر قائم ہوگا۔ ظلم نہیں انصاف پر مبنی ہوگا اور عدمِ استحکام نہیں استحکام کا مظہر ہوگا۔ افراتفری سے غلط قسم کے لوگ ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک ایسے عوامی انقلاب کی ضرورت ہے جس میں عجز وانکساری کے مظاہرے ہوں ، دوسروں سے زیادہ اپنی خامیوں پر توجہ دی جائے اور ظلم کا نظام بالکل واشگاف انداز میں بیان کیا جائے۔ روشنی سے اندھیرا اور حق کی آواز سے ظلم کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں اب اس کی بہت سخت ضرورت ہے۔