پوسٹ تلاش کریں

خادم حسین رضوی کا دھوم سے جنازہ،اچانک وفات اورتحریکِ لبیک کے محرکات اور لوگوں کے بڑے خدشات

علامہ خادم حسین رضوی کا دھوم سے جنازہ،اچانک وفات اورتحریکِ لبیک کے محرکات اور اس پربہت سے لوگوں کے بڑے خدشات

تحریر: تیز و تند۔ عبد القدوس بلوچ

جب روس کیخلاف امریکہ کو اسلامی جہاد کی ضرورت تھی تو مجاہدین پیدا کئے گئے۔ پھر امریکہ اسامہ و طالبان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کیا۔ پھر پنجاب سے صوفی ازم کو زندہ کرنے کی ابتداء ہوئی کیونکہ جہادسے معاملہ خراب ہوا تو صوفی ازم والے اسلام کی پھر ضرورت پڑی۔ طاہرالقادری کی انٹری ناکام ہوئی لیکن پنجاب سے صوفیت کی کہانی شروع ہوگئی اس کا نتیجہ عاشق رسول علامہ خادم حسین رضوی کی شکل میں نظر آیا۔ آسیہ بی بی کو پہلے عدالت نے مجرم قرار دیا اور پھر سپریم کورٹ نے مظلوم قرار دیا۔جس پرگورنر سلمان تاثیر، عیسائی وزیراور ممتازقادری کے بعد مولانا سمیع الحق اس نظام عدل ہی کے ہاتھوں سوئے مقتل چلے گئے تھے۔
پاکستان نہیں تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ دیکھ کر دنیابڑی حیرت میں پڑگئی کہ پیغمبر اسلامۖ سے مسلمانوں کو اتنی والہانہ محبت ابھی تک اس حد تک موجود ہے کہ ہرمکتبۂ فکر کے لوگوں نے خراجِ عقیدت پیشکردی۔ مولانا فضل الرحمن نے جلسہ ٔ عام میںدعائے مغفرت و درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ اہلحدیث مسلک کے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے ختم نبوت و ناموسِ رسالتۖ کیلئے سب سے بلند آواز قرار دیا علماء کے ناقدصحافی حسن نثار بھی وفات کے بعد تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
اے خدا ،اے خدا ،اپنے بندوں کوخود سمجھا
ہر چڑھتے سورج کی کرتے ہیں یہ خود پوجا
ابوذر غفاری کا جنازہ چند افراد نے پڑھا اگر حسن نثار آرائیں اس وقت موجود ہوتا تو پہلا اور آخری فرد یہ ہوتا جو اُن پرتبرا کرتا
الطاف حسین ، صدر زرداری کی تعریف کی
ہجوم دیکھ کر یہ مخلص صحافی ہر ایک پر مراتھا
یہ حالت کسی ایک کی نہیں دیکھ لو شہید کربلا
یزیدکے دور میں کس نے آپ کو کندھا دیا
مولانا طارق جمیل نے زندگی بھر اس مشن کیلئے کبھی دعا بھی نہ مانگی ہوگی مگر جم غفیر کو دیکھ لحد پر پہنچ گئے اور اعلیٰ درجات کی دعا کردی۔ اسٹیبلیشمنٹ اور اپوزیشن کی سوشل میڈیا نے علامہ خادم رضوی سے عقیدت کا اظہار کیا۔ ایک کلپ بناکر کسی نے شرارت کی انتہاء کردی کہ فوج کو فیض آباد دھرنے میں بلانے کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا لیکن پوری بات سننے کے بعد یہ شرارت ناکام ہوگئی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ سازش کے ذریعے بھی فوج کو بدنام کرنے کا کام کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جاتا کہ فیض آباد دھرنے کی اصل محرک فوج تھی تو علامہ خاد م حسین رضوی کے عشق رسول کا مقام ٹیشو پیپر میں بدل جاتا اور اگر بلیک میلنگ قرار دیا جاتا توبھی رضوی کی حیثیت ختم ہوجاتی لیکن فوج کے بدخواہوں نے سوشل میڈیا پر خود کو بدنام کردیا۔ اگر وہ نادانستہ طور پر یہ سب کچھ کر گئے تو ان کو اپنی غلطی کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے تھا ورنہ وہ لفافہ دار ہیں۔
جس طرح جہاد پر دیوبند کا اجارہ تھا ۔ امریکہ کیخلاف پاکستانی قوم نے طالبان کو سپورٹ کیا، اسی طرح عشق رسولۖ پر بریلوی مسلک کی اجارہ داری ہے۔ امام مولانا احمد رضا بریلوی نے قادیانی، دیوبندی، اہلحدیث، وہابی، چکڑالوی اور شیعہ کو یکساں کافر قرار دیا لیکن قادیانیوں پر گستاخی کا فتویٰ نہیں لگایا۔ قادیانی فرقہ واریت کو بھڑکانے کے حوالے سے ذمہ دار بھی ہوسکتے ہیں اسلئے کہ طالبان نے شیعہ، بریلوی اپنے دیوبندیوں تک کو نہیں چھوڑا اورISI ملتان کے دفتر، GHQ، فضائیہ کراچی تک پر حملہ کیا مگر ربواچناب نگر میں قادیانیوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔
علامہ خادم حسین رضوی کے علاوہ پیر افضل قادری مولانا اشرف جلالی کی شہرت تھی۔ پیرافضل نے مولانا اشرف جلالی کو نکالنے میں کردار ادا کیا اور اب پیرافضل قادری نے تحریک لبیک کے نئے امیر سعد حسین رضوی پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ علامہ اشرف جلالی اور پیرعرفان شاہ کے درمیان بھی اچھا خاصا پھڈہ چل نکلا۔
جب امریکہ نے جہاد سے ہاتھ اُٹھا یا تو سعودیہ بھی صوفیت کو تقویت پہنچانے کا فلسفہ اپنا رہاہے۔ علامہ الیاس قادری کی دعوت اسلامی کو مدینہ میں مرکز بنانے کی اجازت شاید مل گئی ہے تو وہابیت و صوفیت ایک دوسرے کے قریب ہونگے۔ پنجاب میں اگر اس نعرے کو جذباتی تقویت ملے گی کہ ” گستاخ کی سزا ،سر تن سے جدا” تو اس کا نشانہ دیوبندی ،اہلحدیث ، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور بریلوی مسلک والے بھی بن سکتے ہیں۔ اسرائیل کیساتھ قادیانیوں کے مضبوط تعلقات ہیں اور وہ اپنی شناخت چھپانے کیلئے بریلوی مسلک ہی کا لبادہ استعمال کرسکتے ہیں اسلئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سب سے پرانے ہیں۔
فوج پر قادیانیت کا راج تھا اسلئے بھٹو نے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ ن لیگ کا پنجاب پر ہولڈ ہے اسٹیبلشمنٹ کے قریبی صحافی قادیانیوں کی مخالفت پر ن لیگ کو کمزور کررہے ہیں اور ن لیگ نے مولانا فضل الرحمن کو بندوق تھمادی ہے کہ قادیانیت کا فتویٰ فوج ہی پر لگانے کی تیاری جاری رکھی جائے۔
یہ ہتھیار دشمن کے خلاف استعمال کرنا بہت مشکل ہے، اگر قادیانیوں نے کہہ دیا کہ مولانا فضل الرحمن ہمارے ساتھ ہے تو مولانا فضل الرحمن کا بیڑہ غرق ہوگا اور اگر جنرل قمر جاوید باجوہ یا نوازشریف میں کسی کو اپنا مہرہ قرار دیا تو ان کا بیڑہ غرق ہوگا۔
انصار عباسی کو نذیر ناجی نے کتے کا بچہ کیوں قرار دیا؟۔ لیکن اتنے سخت الفاظ کے پیچھے وجہ تو ضرور ہوگی۔ انصارعباسی کو ن لیگ نے مری میں ذاتی گھر تک روڈ بناکر دیا توزرداری اور جمہوریت کا نہیں اسٹیبلیشمنٹ کا حامی تھا لیکن نوازشریف بھی اس وقت فوج ہی کی حمایت کرتا تھا۔ پھر عمران خان اور نوازشریف کا مقابلہ ہوا تو انصار عباسی نے فوج کیخلاف اپنا بیانیہ نوازشریف کیلئے وقف کیا۔ اب اس نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ پر قادیانیت کا الزام تھا لیکن پھر ایجنسیوں نے اس کو کلیئر قرار دیا ۔ اوریا مقبول جان نے اسلئے باجوہ کے حق میں ایک خواب بھی بیان کیا تھا۔
اگر مذہبی، سیاسی ، صحافتی اور فوج کی تقدیر کے فیصلے الزامات کی رہین منت بن جائیں تو اس سے زیادہ ملک کی کمزور اور خراب پوزیشن کیا ہوسکتی ہے؟۔ خوشاب میں ایک راسخ العقیدہ بریلوی بینک منیجر پر قادیانیت وگستاخی کا بہتان شہید کرنے کے بعد لگا تو قاتل کے حق میں طوفان کھڑا ہوگیا۔ پنجاب کے لوگ حکومت و ریاست نے سب سے زیادہ پسماندہ اور بے شعور رکھے ۔ افغانستان میں مجاہدین کے نام پر اور پھر مجاہدین کو ختم کرنے کے نام پر سرمایہ آگیا تو پختون قوم تباہ ہوگئی مگر اوریا مقبول جان اور کرنل امام جیسے لوگ مجاہدین کا پیسہ کھا کرحمایت کر رہے تھے اسلئے کہ خود اور اپنے بچوں کے بجائے دوسرے تباہ ہورہے تھے۔ کرنل امام کو طالبان نے ذبح کیا تھا لیکن اگر اس جنگ کو پنجاب کی سرزمین پر زندہ کیا گیا تو اوریا مقبول جان کا سر بھی تن سے جدا ہوگا اسلئے کہ مسلک کی لڑائی فرانس یا امریکہ میں نہیں پنجاب میں لڑی جائے گی۔ طالبان تو امریکہ کیساتھ صلح کرکے بیٹھ گئے اور اس بات کو ذہن نشین کیا جائے کہ بریلوی بھی امریکہ سے صلح کرکے بیٹھ جائیںگے کیونکہ ان کی لڑائی گستاخوں سے ہے اور یہ گستاخ کون ہیں ؟۔ اس کی تعلیم مساجد میں دی جارہی ہے۔ علامہ آصف گیلانی نے جیو کے پروگرام میں کہا تھا کہ میرے دم سے کینسر اور دیگر مریض درست ہوگئے ہیں تو عتیق گیلانی نے کہا تھا کہ اپنا پھونک امریکہ کو بھی مار دو۔ پھر چائے کی نشست میں علامہ آصف گیلانی نے کہا کہ امریکہ دشمن نہیں بلکہ طالبان ہمارے دشمن ہیں۔ اب تو طالبان بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ سے دوستی ہے لیکن افغان حکومت سے دشمنی ہے۔ جو رویہ پاکستان کے طالبان نے ریاست کیساتھ اپنایا،وہ پنجاب کے عاشقان کا بھی ریاست کیساتھ ہوسکتا ہے۔ ن لیگ کے خلاف دھرنا دیا گیا تو اس میں گیٹ4 کی طرف سے فیض آباد دھرنے کو حمایت دینے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے اسلئے کہ شیخ رشید اور فیض آباد کا ایک مشن تھا۔ پھر آسیا بی بی پر مولاناسمیع الحق کا قتل اور علامہ خادم رضوی کی جیل میں ٹیونگ ہوئی تو اس میں کسی اور کا ہاتھ نہیں ہوسکتا تھا اور اب کی دفعہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے یہ تاثر قائم کرنے کی اطلاع دی جارہی ہے کہ ن لیگ کا ہاتھ تھا۔ مذہب اور سیاست کو جس طرح کا کھیل بنایا گیا اور حکومت ، اپوزیشن، ریاست کے علاوہ سوشل میڈیا کی منافقانہ صحافت بھی بہت بڑا کردار ادا کررہی ہے جسکے نتائج بہت خطرناک نکل سکتے ہیں۔ مفاہمت کی راہ بھی کام اسلئے نہیں آئے گی کہ مہنگائی کا طوفان سب مل کر بھی کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں اور کمانے والے پیٹ نہیں اپنی بھوک مٹا رہے ہیں جس کو قبر کی مٹی ختم کرسکتی ہے اور اگر اسلام کے شاندار مسائل عوام کے سامنے آگئے تو یہ قوم بچ سکتی ہے۔
جماعتِ اسلامی نے اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف سلیم صافی کی منظق میں آکر مجبوراً فتویٰ دیا تو امارت سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اب سراج الحق نے PDMپشاور جلسہ کے خلاف مینگورہ سوات میں جلسہ رکھا تھا تو اس کو معلوم ہوگیا کہ فضاؤں کا موڈ اب فوج کے خلاف ہے اسلئے دیر میں جلسہ رکھا تو امیر جماعت اسلامی نے فرمایا کہ ”فوج کو اپنا سیاسی کردار ختم کرنا ہوگا”۔
نوازشریف اور جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری اتحاد کس کے کہنے اور کس کے پیسوں سے بنائی تھی؟۔ جب کشمیر کا جہاد فوج کا نہیں بلکہ جماعت اسلامی نے کرنا تھا اور سیاست فوج نے کرنی تھی پھر آج اپنا کعبہ قبلہ بدل کر کیوں دوسرا رُخ اختیار کیا جارہاہے؟۔ پاک فوج نے کتے بھی پال رکھے ہوتے تو وفادار ہوتے مگر چڑھتے سورج کے پُجاری بے نسل آدمی جانوروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
ہم نے چپ کر اور نہ کھل کر اس طرح فوج کا نام لیکر انکے کردار کی حمایت کی تھی اور نہ آج کررہے ہیں لیکن جب ملک کی فضاء مخدوش بن جائے اور ہرطرف سے مقبول نعرہ فوج کی مخالفت بن جائے اور تو اور جماعت اسلامی بھی…………

آصفہ بھٹو اور مریم نواز کو چھوڑ دو،مظلومہ اُم رُباب دیکھ۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

دختر سندھ ، دختر پاکستان اور دختر انسانیت اُم رباب کے والد، دادا اور چاچا ایک ساتھ انتہائی بے دردی سے شہید کئے جاتے ہیں ۔ اُم رباب موبائل سے ویڈیو بناکر فیس بک پر چلادیتی ہے۔ اپنی آواز اقتدار کے بے حس ایوانوں تک پہنچانے کیلئے کبھی چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے بیٹھ کر اپنی فریاد پہنچاتی ہے اور کبھی ننگے پاؤں احتجاج کرکے انصاف کی بھیک مانگتی ہے لیکن وہ ابتک اصل مجرم کو پکڑنے تک چین سے نہیں بیٹھ رہی ہے۔ تین تین دفعہ وزیراعظم کا مزہ لینے والے اور نسل در نسل اقتدار میں رہنے والے مریم نواز اور آصفہ بھٹو اپوزیشن کے جلسوں میں عوام سے شکایت کرتے ہیں کہ انصاف کا نظام چاہیے۔ محمود اچکزئی کے کزن مجید اچکزئی نے کھلے عام سڑک پر ٹریفک پولیس کے غریب اہلکار کو کچل دیا، عدالت نے ثبوت نہ ملنے پر بری کردیا ، حالانکہ کیمرے کی آنکھ نے سارے میڈیا چینلوں پر دکھایا۔ ایک رینجرز اہلکار نے ڈکیٹ کو پکڑ کر غلطی سے گولی چلنے سے قتل کردیا تو اس کو عدالت نے نہیں چھوڑا۔ نظام اداروں کا نہیں بلکہ بااثر طبقات کا ہے۔سیاست پیسوں کے کھیل سے چلتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کا بھائی PTCLسے DMGگروپ کا اسسٹنٹ کمشنر بن گیا۔ دھوکے ہی دھوکے کا سارا نظام ہے۔
عوام کا شعور پاک فوج نے نہیں سیاستدانوں اور صحافیوں نے بیدار کرنا تھا۔ پاک فوج کے جنرلوں سے لیکر سپاہیوں تک خود شعور نہیں رکھتے تو دوسروں کو کیا دیں گے؟۔ انگریز کی آمد سے پہلے ہمارے ہاں مغل بادشاہوں کی حکومت تھی جنہوں نے اپنی محبوبہ بیگمات کے نام پر تاج محل بنائے ہیں، اورنگزیب بادشاہ نے بھائیوں کوقتل کیا تھا اور فتاوی عالمگیریہ میں نامی گرامی علماء نے یہ اسلامی دستور بناکر دیا تھا کہ اگر بادشاہ قتل ، چوری ، زنا، ڈکیٹی ، زنا بالجبر کچھ بھی کرلے تو اس پر حد جاری نہیں ہوسکتی ہے اسلئے کہ بادشاہ دوسروں پر حد جاری کرتا ہے اس پر کوئی اور حد جاری نہیں کرسکتا ہے۔ پنجاب اور پختونخواہ میں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی۔ شاہ اسماعیل شہید اور سیداحمد بریلوی نے خراسان کے مہدی کا دعویٰ کرکے پشاور اور ہزارہ سے خلافت کا نظام زندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ انگریز کو یہ اپنے مفاد میں لگ رہاتھا کہ رنجیت سنگھ کی حکومت کو مجاہدین کمزور کردیںگے۔ افغانستان کے بادشاہ دوست محمد خان کے بھائی پشاور، دوسرے کوئٹہ ، تیسرے کشمیر پر حکمران تھے جو راجہ رنجیت سنگھ سے معاہدہ کرکے بیٹھے تھے۔ افغانستان کے بادشاہ دوست محمد خان انگریز سے لڑائیاں لڑرہے تھے مگر اسکے اپنے بھائی نے انکے بیوی بچوں کو انگریز کے ہاتھوں بیچ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہتھیار ڈالنے اور صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
انگریز نے مسلمانوں اور سکھوں سے نسبتاً بہترعدالتی نظام، نہریں، ریلوے، پولیس اور سہولیات دی تھیں۔ پشاور سے ٹانک اور کوئٹہ سے ژوب تک ریلوے لائن بھی ہمارے سیاسی اکابرین کھاگئے اور نوازشریف کی لوہے کی بھٹی میں جھونک دی۔ پیپلزپارٹی نے چین کیساتھ معاہدے اورمغربی کوریڈور کا معاہدہ کیا تھا لیکن نوازشریف نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی قوم کی اجتماعی لاشوں سے گزار کریہ شاہراہ تخت لاہور کے سپرد کردی۔ اختر مینگل ، محمود خان اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن اپنی قوم کیلئے نواز شریف کیلئے فوج سے لڑائی لڑ رہے ہیں تو ان کو طالبان اور سرماچاروں کیساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ فوج ایک ادارہ ہے ،اس کا سربراہ اگر جنرل وحید کاکڑ پختون اور جنرل پرویزمشرف مہاجر ہوسکتا تھا تو جنرل عبدالقادر بلوچ بھی ہوسکتا تھا۔ جس نواز شریف نے فوج کی گود سے اترنے کی چیخم دھاڑ مچا رکھی ہے وہ آج بھی اسلئے روتا ہے کہ مجھے چھاتیوں سے لگ دودھ چاہیے۔ اندورنِ خانہ اس کو فوج کی طرف سے ہی اشیرباد بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ فوج کا یہ کم گناہ نہیں ہے کہ غلیظ قسم کے نکمے ٹولے کو پال کر قوم پر مسلط کیا ہے اور اسی کی سزا بھی بھگت رہی ہے۔
PTMکے سربراہ منظور پشتین نے ایڈیٹر نوشتۂ دیوار ملک محمد اجمل سے گلہ کیا ہے کہ اب آپ ہمیں کوریج نہیں دیتے ہیں۔پاک فوج کے خلاف جتنا ہم نے لکھا ہے شاید کسی سیاسی ، مذہبی ، لسانی اور صحافی فرد نے اتنی جرأت خوابوں میں بھی نہیں کی ہوگی لیکن ہم انصاف کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ پختون میری قوم ہے ۔ جب طالبان مقبول تھے۔ ہدی بھرگڑی اور معراج محمد خان تک کوئی ایسے مرد وزن نظر نہیں آتے تھے جو طالبان کی حمایت نہ کرتے ہوں لیکن ہم نے اپنی قوم کی عزتوں کے مستقبل کو بچانے کیلئے شعور کی صدا بلند کی تھی۔ جس کی ہم نے سزا بھی پائی اور انعام بھی مل گیاکیونکہ مفت میں کربلا کا اعزاز بہت بڑی عزت ہے۔
ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شہر اور مضافاتی گاؤں ہندکو سپیکنگ جٹوں کے تھے۔ جٹ بدترین پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے کبیر پبلک اکیڈمی میں استاذ رفیع اللہ جٹ MSC رینجرز میں سپاہی بھرتی ہوا۔ دوسرا بھائیMSC کیمسٹری تھا، دونوں بھائی بہت قابلیت رکھتے ہیں ۔ دوسرا بھائی واپڈا میں چپڑاسی کی حیثیت سے بھرتی ہے جو حافظِ قرآن بھی ہے۔ میرے بھائی ایکسین واپڈا نے افسر کی سفارش پر بھی صرف اسلئے بھرتی کیا کہ وہ حافظِ قرآن تھا ورنہ اس پر وہ کسی قبائلی پختون کو بھرتی کرنے کا حق سمجھتے تھے جنکے پاس ٹانک کا دومیسائل بھی ہوتاہے، اگر حکومت نے جٹوں کے ایریا سے قبائل پختونوں کو بے دخل کردیا تو قبائل منظور پشتین کو بڑی ننگی گالیاں دینا شروع ہوجائیںگے۔ بی بی سی کے نمائندے نے پہلی مرتبہ ٹانک کے مضافات میں ان ہندکو اسپیکنگ جٹوں کے مسائل میڈیا پر اُٹھائے ہیں جو پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم ہیں۔ تعصبات کی بجائے ہمدردی کو ہوا دی جائے گی تو سب مظلوم اور محروم طبقات کے مسائل حل ہونگے۔
جب اپوزیشن اور حکومت دونوںنے بظاہر فوج کی حمایت میں ایکشن پلان تشکیل دینے کا فیصلہ کیا لیکن بباطن دہشت گردی کے خاتمے پر فوج کے خلاف محاذ بنایا تو PTMکراچی اور اسلام آباد میں پولیس کے خلاف نقیب شہید کے نام پر نکل آئی۔ کراچی کے بعد اسلام آباد کا دھرنا بھی ختم کردیا اور منظور پشتین نے صرف اتنا گلہ ذہن میں رکھا تھا کہ میڈیا اور ہماری حمایت میں آنے والے لوگوں کو معاہدے سے آگاہ کردیا جاتا۔ قبائلی ملکان نے پولیس اور فوجی ایکشن سے خوفزدہ بھی کردیا تھا لیکن ہم نے شامِ غریبان میں ان کو حوصلہ دیا۔ جس اسٹیج سے سپاہ صحابہ کے مولانا احمد لدھیانوی کے بھیجے ہوئے نمائندے کو خطاب کرنے دیا گیا ،اس اسٹیج سے مجھے موقع دینے سے گریز کیا گیا تھا۔ میں نے شامِ غریباں کا سماں چھا جانے کے بعد نشاندہی کی تھی کہ اس نوجوان طبقے میں درد ہے لیکن تعصب نہیں ہے۔ جب تک منظور پشتین قوم کے درد کی بات کرتا تھا اور تعصب کی نفی کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ظلم کوئی بھی کرے ، ہم اس کے خلاف ہیں تو ہم نے ان کو زبردست کوریج دی۔ پختون تحفظ موومنٹ کی جگہ مظلوم تحفظ موومنٹ کا نام دینے کا مطالبہ کیا۔ پھر کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے اہل تشیع کو بھی اسٹیج پر آنے کی اجازت دی۔ ہزارہ کیساتھ شیعہ کی بنیاد پر جو زیادتی کا رویہ کوئٹہ میں روارکھا گیا تھا تو ہمارے کانیگرم میں پاکستان بننے سے پہلے جو لوگ غمِ حسین کا خود ماتم کرتے تھے انہوں نے بھی ہزارہ برادری کی نسل کشی کی تھی۔
پختون قوم میں بالعموم اورمحسود قوم میں بالخصوص اسلام اور غیرت کامادہ ہے لیکن اس کی آبیاری کی بہت سخت ضرورت ہے اور بس!۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اب توپاکستان کے ایک نئے دور کا آغازہواچاہتا ہے! سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

زرداری چور کو پکڑنے والے شہباز شریف اور نوازشریف خود چور نکلے لیکن ان دونوں چوروں کو پکڑنے والے تحریکِ انصافی بھی چور بن گئے ہیں۔ کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟۔ ریاستِ پاکستان سود تلے آئی ایم ایف اور دوسرے ممالک کی اب لونڈی بن چکی ہے اور اس کو لونڈی بنانے تک پہنچانے والے مقدر طبقات کی گرفت موجودہ عدالتی ، مارشل لائی اور پارلیمانی نظام سے بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔
آئینِ پاکستان میں قرآن وسنت کا نظام ہے۔ قرآن میں چوروں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔ فقہاء کا اس بات پر اختلاف ہے کہ ہاتھ کہاں سے کاٹے جائیں تو منتخب حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے سے یہ متفقہ قانون پاس کرے کہ چوروں کی کیٹہ گری کا تعین کیا جائے۔ 7سٹار چوروں کے ہاتھ کاندھوں تک کاٹے جائیں اور 5سٹار چوروں کے ہاتھ کہنیوں تک کاٹے جائیں اور 3سٹار چوروں کے ہاتھ کلائی سے کاٹے جائیں اور ان کے خاندانوں کو بھی اس سزا میں برابر کا شریک کیا جائے۔
البتہ ساری دولت بمعہ منافع لوٹائی جائے تو پھر ان کو اس شرط پر معاف کرلیا جائے کہ آئندہ تمہاری نسلیں بھی اس فیلڈ میں خدمات انجام نہیں دیںگی اور پہلے کا جس طرح کفر معاف ہے اسی طرح چوروں کیلئے اسلامی جمہوری تعزیر بھی معاف۔ لوگ بھوک وافلاس سے مررہے ہیں اور یہ لوگ مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں بلکہ وسائل پر لڑرہے ہیں۔ حکمران کوئی بھی ہو ،اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن عوام اب عدل وانصاف چاہتے ہیں جو ان کو جی کر بھی نہیں ملتا ہے اور مرکر بھی نہیں ملتاہے۔
دنیا بھر سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائے بغیر پاکستان کے قرضے ختم نہیں ہوسکتے ہیں۔ جب تک قرضوں کے سود سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جائے تو بھاری بھرکم ٹیکسوں اور مہنگائی سے عوام کی جان نہیں چھوٹ سکتی ہے۔ پاک فوج میں اکثر اچھے ہی لوگ ہیں، سیاستدانوں میں بھی اکثر اچھے لوگ ہیں ، مذہبی طبقات میں بھی اکثر اچھے لوگ ہیں اور عوام میں بھی اکثر اچھے لوگ ہیں۔ ایک خوشحال انقلاب کیلئے کچھ کرپٹ عناصر کی قربانی اب مجبوری بن گئی ہے۔ ان لوگوں سے شرم وحیاء نکل گئی ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ جب حیاء چلی جائے تو جو مرضی کرو۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندرمودی سے عمران خان بھی کم نہیں ہے لیکن زردای، نوازشریف، فضل الرحمن، پرویز الٰہی ، بھائی لوگ ایم کیوایم والے اور بلوچستان کی سیاسی لیڈر شپ کے نمونے بھی کوئی غنیمت نہیں ہیں۔ اگر محمود خان اچکزئی ایک غریب ٹریفک اہلکار کی موت پر عدالت کے اس فیصلے کے حوالے سے آواز اٹھاتا جو دن دیہاڑے مجید اچکزئی نے کچل دیا تھا تو انقلاب کیلئے اس کے نعرۂ تکبیر میں بڑی جان ہوتی اور فضل الرحمن کی امامت میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا ہوجاتا مگر بے عملی سے منافقین کا ٹولہ نااہل ہونے کا ثبوت دے رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے طالبان کے خلاف ریاست کا ساتھ دے کر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ پختونخواہ کی پوری حکومت، بلوچستان کی آدھی حکومت اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی کا اپنا مفاد حاصل کیا اور طالبان کیساتھ جان گنوانے کی قیمت پر حکومت بھی زبردستی سے دھکیلتی تو نہیں جاسکتا تھا۔ اس کا تویہ پتہ بھی کسی کو نہیں چلتا تھا کہ طالبان کیساتھ ہے یا ریاست کے ساتھ ہے؟۔ لیکن ریاست کا خود بھی یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ طالبان کو پیدا کررہی ہے یا ختم کررہی ہے۔
صلاح الدین ایوبی کا تعلق کردستان سے تھا جہاں پر ترکی، ایران اور عراق اپنے اپنے مفادات کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ کرد قبیلے کا ایک شہر کانیگرم وزیرستان کی سرزمین پر بھی آباد ہے۔ سلمان فارسی اصل میں کرد تھے۔ سید عبدالقادر جیلانی کے شہر گیلان کا تعلق بھی ایران کے کردستان سے تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عجم تھے اور نبیۖ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وجہ سے بعد میں عرب بن گئے تھے۔ اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی کرد تھے اور نبیۖ نے حضرت سلمان فارسی کو اپنے اہلبیت میں شمار کیا تھا۔ عربی میں مدینہ شہر کو کہتے ہیں۔ وزیرستان کا مرکزی شہر کانیگرم بھی شہر کے لفظ سے مشہور ہے۔ افغانستان کے بادشاہ نے کانیگرم میں اپنے لئے جس جگہ قلعہ کیلئے جگہ مانگی تھی مگرہمارے آباء واجداد نے دینے سے انکار کیا تھا، اب وہی جگہ کانیگرم کے باشندگان نے اپنی پاک فوج کو اپنے افسران کے کہنے پر دی ہے۔ آئی ایس آئی کے اس افسر کے بھائی گلشاہ عالم کو طالبان نے اپنے ابتدائی دور میں لاپتہ کیا تھا اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے لیکن جب طالبان نے انگریزوں کو اسامہ بن لادن کی تلاش میں کانیگرم تک لانیوالے گائیڈ ہمارے عزیز پیر زبیر شاہ کو پکڑ لیا تو TV چینلوں پر خبر کی سلائیڈ چلنے کے 5منٹ بعد طالبان کے ترجمان نے خبر جاری کردی کہ پیر زبیرشاہ اور ایک سومرو صحافی کو رہا کردینگے۔
ہم نے طالبان کی منافقانہ جنگ اور قوم کی منافقانہ پالیسوں کی ایک ایک چیز کادیکھ لی ۔ فوج کے جوانوں اور افسران سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن سب چیز کا موردِ الزام انہی کا ٹھہرانا انتہائی بھونڈی حرکتیں ہیں۔ پوری محسود قوم میں طالبان کے ہم سے زیادہ سپوٹر کوئی نہیں تھے اور ہم سے زیادہ طالبان کے کوئی شکار بھی نہیں ہوئے اور ہم سے زیادہ منافقانہ اور بے غیرتی کا کردار بھی کسی نے ادا نہیں کیا ہے۔
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
بہت ہی قابلِ احترام بزرگ سیاسی رہنما محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن کے جلسے میں کہا کہ افغانستان وپاکستان کے درمیان باڑ کو اکھاڑ پھینک دیںگے تو تاجر سے زیادہ اسمگلر طبقہ بڑا خوش ہواکہ پورے پاکستان میں کسٹم کے بغیر اسمگلنگ کا راستہ کھل جائیگا۔ لیکن جب چمن بارڈر پر سختی شروع ہوگئی اور بلوچوں کے راستے سے اسمگلنگ کا مال آنا شروع ہوگیا تو پختون تاجروں کا راستہ بند ہوا۔کوئٹہ جلسہ میں محمود اچکزئی اور اختر جان مینگل نے ایکدوسرے کی کاٹ کی اور ملتان جلسے میں اختر جان مینگل کی محمود خان اچکزئی نے تائید اور توثیق کی۔ حالانکہ تحریک انصاف کی حکومت چھوڑنے کی عدت بھی اختر جان مینگل نے ابھی پوری نہیں کی ہے اور بلوچوں کی جو اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں اور آواران میں پختون ایف سی اہلکاروں نے جو انکے گھروں کو جلایا ہے تو اس کی ساری ذمہ داری مریم نواز کے بابا نوازشریف پر ہی پڑتی ہے۔ گوادر کو بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ سے چھین کر پنجاب کے تختِ لاہور تک پہنچانے والانوازشریف نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے علاقہ سے موٹر وے گزارنے کا کام کیا تو مزاحمت کاروں کے گاؤں فوج کو مسمار کرنے پڑے ۔ڈاکٹر اللہ نذر نے غدار سیاسی قیادت کی وجہ سے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمن اور اختر جان مینگل نوازشریف کیلئے سہولت کار نہ ہوتے تو پاک چین دوستی میں گوادر سے کوئٹہ اور پشاور مالا مال ہوتے۔ سرائیکیوں کو صوبہ دینے میں بہاولپور کے نام پر ن لیگ نے ہی منافقت کا بازار گرم کیا تھا لیکن اس نوازشریف کی مکار بیٹی مریم نواز بھٹو سے لیکر یوسف رضا گیلانی تک اپنے باپ کا سارا کردار بیان کرتے ہوئے شرم بھی محسوس نہیں کرتی ہے۔ قارئین اعتدال کا راستہ صراط مستقیم ہے جو پلِ صراط سے زیادہ مشکل ہے۔ گرتے پڑتے خود کو اس پر چلانے کی کوشش کرنی ہے اور بلند بانگ دعوے اور نعرے نہیں لگانے ہیں ۔ دوسری طرف منافقت کا بدترین راستہ ہے جو کفر اور اسلام کے درمیان ادھر ادھر دونوں کے درمیان بہت ہی قابل مذمت ہے۔

وزیرستان کی عوام میں اسلام کو نافذ کرنے کی صلاحیت۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب پاکستان اور ہندوستان کو انگریز نے آزاد کردیا تو افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس بھارت کی جیل سے آزاد ہوا۔ حالانکہ افغانستان میں اسکے کزن نادر شاہ اور ظاہر شاہ کی حکومت تھی۔ اس بات سے افغانی یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان کا دشمن دوسرا نہیں، جب تک خود ایکدوسرے کی دشمنی اختیار نہ کریں۔ جب پاکستان کی آزادی کے بعد بھی انگریز کی باقیات نے امیر امان اللہ خان کے خاندان کو مجرم سمجھا تو پاکستان کے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی سخت ضرورت ہے۔امیرامان اللہ خان کا بیٹا جنڈولہ فقیر بیٹنی کے پاس پہنچا لیکن اس نے کہا میں پاکستان کی حکومت سے تمہیں نہیں بچا سکتا ہوں اور یہ مشورہ دیا کہ محسود قبائل میں یہ طاقت ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان سے آپ کو پناہ دے سکتے ہیں ، چنانچہ عبدالرزاق بھٹی آف شیخ اُتار علاقہ گومل ضلع ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان امان اللہ خان کے بیٹے کو سردار امان الدین کے دادا رمضان خان کے پاس لے گئے۔ رمضان خان نے اس کو پناہ دیدی۔ پھر جب وہ اپنی مرضی سے کسی وقت پاکستان کے سیٹل ایریا میں آئے تو حکومت نے اس کو گرفتار کرلیا۔ جیل ہی میں عبدالرزاق بھٹی نے کیمونسٹ نظریہ سے توبہ کرکے جماعت اسلامی میں شمولیت بھی اختیار کرلی۔ پاکستان کی ریاست کا اس امیر امان اللہ خان کے بیٹے سے یہ سلوک تھا جس کی حکومت کی بحالی کیلئے علامہ اقبال نے چندہ مہم سے باقاعدہ کوشش کی تھی۔
جب افغان جہاد سے لوگ امریکی ڈالر کما رہے تھے تو وزیرستان اور قبائل نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ کچرہ چننے والے افغانیوں کی جانوں پر رقم بٹورنے والے مجاہد علماء ، رہنما اور جرنیل کوئی اور ہی تھے۔ اگر ہمایون اختر اور اسکے بھائی کی دولت کچرہ چننے والے افغانیوں میں بانٹ دی جائے تو ہمارا افغانستان کیساتھ بھائی چارہ بحال ہوگا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حوالے کرنے والی ہماری پاکستانی ریاست اس بات کو سمجھ لے کہ تحریک انصاف کے سابق رکن اسمبلی جناب داوڑ کنڈی کا والد ہیروئن کیس میں کراچی سے پکڑاگیا اور جیل سے وزیرستان پہنچا تو امریکہ اور دنیا بھر کے دباؤ پر فوج کو استعمال کرنے کی دھمکی پر بھی وزیرستان کی عوام نے اس کو حوالہ کرنے سے انکار کیا تھا، اسی طرح جب ایمل کانسی نے وزیرستان کی سرزمین پر پناہ لی تو اس پر آنچ نہیں آئی لیکن مقتدر طبقات نے دھوکہ کرکے اس کو بھی امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ افغان حکومت پر ہماری ریاست کے کٹھ پتلی صحافیوں نے ہمیشہ سخت تنقید کی ہے لیکن یہ نہیں دیکھا ہے کہ ہمارے اپنے کرتوت کیا ہیں؟۔
27اکتوبر یوم طلبہ یونین آزادی کے موقع پر ان عمر رسیدہ خواتین کو دکھایا گیا جو طلبہ یونین سے لاعلمی کا اظہار کررہی تھیں لیکن وہ ریاست سے شکایت کررہی تھیں کہ ہیروئن پر قابو نہیں پایا جارہاہے جس سے ہماری نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ افغان طالبان کو بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر بنایا تھا اور اس کیلئے پختون جنرل نصیراللہ بابر استعمال ہوا۔ امریکہ کا مقصد وہاں ہیروئن کی کاشت تھی اور جب طالبان نے ہیروئن کی کاشت بند کردی تو امریکہ کے ڈرگ اور اسلحہ مافیا نے افغانستان کے بعد عراق ، لیبیا اور شام پر جنگوں کو مسلط کیا تھا اور جس شدت پسندی کو بلیک واٹر کے ذریعے کھڑا کیا وہ دنیا کیلئے ڈراؤنا خوب بن کر رہ گیا۔ امریکہ اس دہشت گردی کے مقابلے میں ایک طرف صوفیت کو لایا تو دوسری طرف توہین رسالت کے حوالے سے پارہ چڑھادیا، جسکے پیچھے جو یہودی لابی کام کررہی ہے ،اس کا توڑ صرف اور صرف وزیرستان کے لوگ ہی کریں گے۔ مولانا اکرم اعوان نے قسم کھاکر کہا تھا کہ ” وزیرستان کے لوگوں سے اللہ نے دنیا کی امامت کا کام لینا ہے”۔ علامہ اقبال نے بھی محراب گل افغان کے تخیلاتی نام سے وزیرستان کے محسود اور وزیر کا ذکر کرکے ان سے شکایت کی ہے کہ ابھی یہ خلعت افغانیت سے عاری ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی ایک مرد قلندر ضرور پیدا ہوگا۔
ایک فرد سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ فرد کی قوم میں ایسی صفات کا ہونا ضروری ہے جو امامت پراکثریت میں صادق آتی ہوں۔ وزیرستان کے لوگ ہی تھے کہ جب دنیا طالبان اور افغانستان کے خلاف جنگ کررہی تھی تو بھگوڑوں کو محسود اور وزیر پناہ دے رہے تھے۔ امریکہ کو شکست دینے کے بدلے ہر قسم کی قربانی کیلئے یہ قوم تیار تھی لیکن بد قسمت قوم کی قیادت ایک طرف آلتو ،فالتو اور پالتو طالبان کے ہاتھ میں تھی اور دوسری طرف انگریز کا کچرہ قبائلی عمائدین قوم کی نمائندگی کررہے تھے۔ جس کی وجہ سے وزیرستان کے لوگ فوج اور طالبان کے درمیان چکی کے دوپاٹوں میں پیس کر رکھ دئیے گئے۔ فوج اور طالبان کے درمیان سیاسی اور مذہبی دلالی کرنی والی قیادت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔ جب نقیب شہید کے مسئلے پر محسود قبائل کا لشکر اسلام آباد پہنچا تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات میں ان کو ڈرا دھمکا کر بھیج دیا کہ ” ہماری دوتہائی اکثریت تھی، وزیراعظم نوازشریف کو فوج نے وزیراعظم ہاؤس سے پکڑ لیا تو عام لوگوں کی کیا اوقات ہے کہ فوج سے لڑسکے”۔ محسود قبائل کالشکر سرکاری ملکان کیساتھ راتوں رات دھرنے کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔ ہم نے نوجوانوں کا درد محسوس کیا اور شام غریباں میں حوصلہ دیا کہ وزیراعظم نے تم سے گیم کرلیا۔ فوج پر تنقید سے بھی کچھ نقصان نہیں پہنچے گا۔ ریاست کو ایسے مخلص لوگوں کی ضرورت ہے کہ جو ملک وقوم کیلئے کام کریں۔ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے کا نعرہ لگانے میں بھی حرج نہیں۔ اپنی تحریک کی بنیاد دوچیزوں پر رکھ لو۔ ایک دل کا درد اور دوسرا تعصبات سے پرہیز۔ فوج کے خلاف کیا سے کیا کچھ بولنے والے اقتدار کی دہلیز پر پہنچ سکتے ہیں لیکن تعصبات ابھارنے والے ناکام ہی ہوتے ہیں اور ان کی آخری منزل دلالی کے سوا کچھ نہیں ہوتی ہے۔
PTMکے دھرنے میں اسٹیبلیشمنٹ کے مہروں کو تقریر کی اجازت مل گئی۔ ن لیگ، تحریک انصاف ، مولانا فضل الرحمن، سپاہِ صحابہ کے رہنما مگر پیپلزپارٹی کو جذبہ خیر سگالی کی اجازت بھی نہیں دی جارہی تھی۔ آج محسن داوڑ کہتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا مشکور ہوں جس نے کراچی، کوئٹہ اور ملتان کے جلسے میں مدعو کیا تھا۔ ن لیگ کی مریم نواز نے PDMمیں شامل ہونے کے باوجود PTMکو گجرانوالہ میںنہیں بلایا تھا جس کا PTMوالوں نے شکوہ بھی کیا تھا۔ پشاور جلسے میں PDM کی میزبان جمعیت علماء اسلام اور ANPتھے۔ یہ دونوں بھی ن لیگ کے دلال ہیں اور ان کی وجہ سے PTMکو پشاور کے جلسے میں آنے نہیں دیا گیا۔ اگرمولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی کو پختونوں سے باہر کیا جائے تو پختونوں کی اکثریت بالکل بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے اسلئے منظور پشتین نے مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ نے ANPکے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے۔ البتہ قبائل میں بالخصوص اور سیٹل ایریا میں بالعموم PTMہی جمعیت علماء اسلام اور اے این پی کیلئے ایک نئی سوکن ہے ،اسی وجہ سے ایکدوسرے پر اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی شروع ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر سے ہیروئن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا لیکن وزیرستان کی عوام کو اللہ نے یہ طاقت دی ہے کہ ہیروئن کا خاتمہ کرسکتے ہیں،اس طرح اسلام کیلئے بھی یہ لوگ زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔ منظور پشتین نے عورت کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاکر آغاز کردیا اور عوام بھی بڑے پیمانے پر حقائق کی طرف جاسکتے ہیں۔

موجودہ گھمبیر صورتحال میں مملکت کی درست رہنمائی!سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستانی عدلیہ کے مایہ ناز، قابلِ فخر ایماندار چیف جسٹس سیٹھ وقار کی وفات اور دیوبندی سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرح بریلوی کی شاندار شخصیت علامہ خادم حسین رضوی کا ایک ایسا خلاء ہے جو برسوں پورا نہیں کیا جاسکے گا۔ چیف جسٹس سیٹھ وقار اور علامہ خادم حسین رضوی سے ہزار اختلافات کے باوجود انکے خلوص، ایمانداری اور عوامی مقبولیت سے انکار کرنا سورج کو انگلیوں سے چھپانا ہے۔ فوج وسول اعلیٰ قیادت کی طرف سے دونوں کیلئے ایک یادگاری تقریب میں خراج عقیدت پیش کیا جائے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود صحافی نہیں ڈاکٹر ہیں اور ڈاکٹراسرار عالمِ دین اور پی ایچ ڈی نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ پنجاب کو خطابت کا فن قدرت نے دیا ہے۔ مسخروں سے لیکر سنجیدہ افراد تک ایک سے ایک خطیب پنجاب کی زر خیزمٹی سے مل سکتا ہے، زبان کی فصاحت انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن خلوص کا پایا جانا جس کی تصدیق اپنے اور پرائے سب کریں، سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد علامہ خادم حسین رضوی نے بڑی عوامی مقبولیت پائی ہے ۔قادیانیوں کو ڈاکٹراسرار نے اپنی جہالت سے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ مفتی محمود ، مولانا مودودی اور علامہ شاہ احمد نورانی نے یہ فتوی نہیں دیا تھا۔
رسول اللہ ۖ سے سچا عشق تمام مسلمانوں میں ہے۔جب تک انسان اپنے والدین، عزیز واقارب اور اپنی جان سے زیادہ رسول اللہ ۖ سے محبت نہ کرے تووہ مؤمن نہیں ہوسکتا ہے۔ البتہ محبت کے جذبات کو اپنے اپنے ماحول کے مطابق بھڑکانا بھی ایک فن ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” بیشک بعض بیان سحر ہوتے ہیں”۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی قندھار کے پٹھان تھے اور ہندوستان میں بریلی دو مقامات ہیں۔ ایک رائے بریلی اور دوسرا اُلٹا بانس بریلی۔ رائے بریلوی ہندوستان میں علمی مرکز تھا۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید کے مرشد سید احمد بریلوی سے لیکر حقیقی معنوں میں شیخ العرب والعجم سید ابوالحسن علی ندویکا تعلق رائے بریلوی سے تھا۔ ادب اور علم کے لحاظ سے ہندوستان کا کوئی دوسرا شہر اس کا ثانی نہیں تھا۔ الٹا بانس بریلی تو بالکل جاہل، ان پڑھ اور لٹھ ماروں کا شہر تھا۔ ایک قندھاری پٹھان کو ماحول بھی جٹوں کا مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم مولانا احمد رضا خان بریلوی کے اندر عشق رسول ۖ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے علمی خانوادے سے تصادم کا رسک ہر ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ علماء دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید کی تحریک اور کتابوں کو اس طرح سے قبول کیا جس طرح ملاعمر کی تحریک طالبان اور اقدامات کو اہمیت دی تھی لیکن پھر جس طرح طالبان نہ صرف اپنے پر تشدد مؤقف سے پیچھے ہٹے ہیں بلکہ علماء دیوبند کی بھی اب آنکھیں کھل گئی ہیں۔
اکابر دیوبند نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی وجہ سے تقلید کو دوبارہ قبول کیا بلکہ چاروں مسالک اور چاروں سلاسل سلوک کو شریعت کے مطابق قرار دیا۔ امام ابن تیمیہ نے چاروںفقہی مسالک کو دین میں تفرقہ قرار دیا تھا لیکن ان کی تحریک کامیاب نہ ہوئی ۔ شاہ اسماعیل شہید اور علماء دیوبند کی تحریک پر مولانا احمد رضا خان بریلوی نے گستاخانہ عبارات کے حوالے سے بھی گرفت کی جسکے بعد علماء دیوبند نے دوسروں پر بھی اپنی گرفت کا سلسلہ جاری رکھ کر مولانا احمد رضا خان بریلوی کی توثیق فرمائی ہے۔
پنجاب میں دیوبندی بریلوی فسادات کیلئے آگ کی چنگاریاں اورپیٹرول کا ذخیرہ موجود ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار شیعہ سنی ،بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی کوشش کرینگے تو پنجاب سے قادیانیت کا مرکز ربوا چناب نگر بھی اس آگ کی لپیٹ سے بچ نہیں سکے گا۔ محرم میں شیعہ سنی آگ بھڑکانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد حنفی اہلحدیث اور بریلوی دیوبندی فسادات کی کوشش کامیاب ہوگئی تو پھر وہ خون خرابہ ہوگا جس سے ریاست اور حکومت بھی نہیں بچ سکے گی۔ ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ پہلے بھی فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے تھے۔
پاکستان خوش قسمت اسلئے ہے کہ سوشل میڈیا پر ناپاک عزائم رکھنے والے بھی اپنے خبثِ باطن کا پورا پورا اظہارِ خیال کرسکتے ہیں تو دوسری طرف غلط پروپیگنڈے سے ان کا چہرہ بھی بے نقاب ہوجاتا ہے۔ کچھ زر خرید یا جن کی سرشست میں خباثت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے انہوں نے پلاننگ کے تحت شوشہ چھوڑ دیا کہ جسٹس سیٹھ وقار اورعلامہ خادم حسین رضوی کو قتل کیا گیا ہے لیکن جنہوں نے علامہ خادم حسین رضوی کا کلپ چلادیا تو وہ اتنی عقل بھی نہیںرکھتے تھے کہ پوری بات بھی سوشل میڈیا پر ہے اور اسکے بعد ان کا خبثِ باطن بے نقاب ہوگایاپھر بھی شاید پیسوں کی خاطر کسی کی وکالت کرنے کا حقِ نمک ادا کرلیا۔ حکومت بہت بیکار ہے ورنہ ان نامی گرامی نام نہاد صحافیوں کو عوامی کٹہرے میں لاکھڑا کیا جاتا تاکہ آئندہ اس قسم کی حرکت نہ کرتے۔
جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاویدباجوہ سے پہلے دہشت گردی کا راج تھا۔ سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو لاہور اورملتان سے اغواء کرکے افغانستان پہنچایا گیا لیکن کسی میں آواز اُٹھانے کی جرأت نہیں تھی اور اب سیٹھ وقار اور علامہ خادم حسین رضوی کی طبعی موت کو بھی کھلم کھلا قتل قرار دیا گیاہے اور اس کا الزام فوج کے سر ڈالنے کی بہت ناکام کوشش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے ان حالات میں فاطمہ جناح کے قتل پر اپنا پروگرام ریکارڈ کرایا ہے جس سے فوج کے بارے میں شکوک وشبہات کو عام کیا جارہاہے اور عمران خان سے کاشف عباسی نے انٹرویو لیا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ”سپاہِ صحابہ کے لوگ میرے پاس آئے کہ شیعوں سے ہماری صلح کراؤ، ایجنسیوں کے لوگ ہمیں استعمال کرکے ان کا دشمن بنادیتے ہیں”۔ اب آئی ایس آئی کے دفتر میں وزیراعظم عمران خان اورفوج کے سربراہوں کا اجلاس ایسے وقت میں جب اپوزیشن کے ملتان کا جلسہ روکنے کی تیاری تھی اور اسکے خراب نتائج نکلتے تو حکومت کیساتھ اپوزیشن ریاست کو بھی نشانہ بناتی۔ کیا یہ دانشمندی ہوسکتی ہے؟۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اپوزیشن فوج کو دھائی دے رہی ہے کہ ہمارا ساتھ دو، ورنہ ہم ریاست کے خلاف آواز اٹھائیںگے، اس کی وجہ سے حکومت اور ریاست کو ایک طرف دھکیلا جارہاہے ، تو دوسری طرف فوج کی منطق کہ حکومت کی تبدیلی پارلیمنٹ کے ذریعے سے ممکن ہے ،اگرچہ یہ منطق بالکل درست ہے لیکن جب سینٹ کے الیکشن کے نتائج دیکھے جائیں تو سب ایک ڈرامہ سے زیادہ کوئی سنجیدہ بات نہیں لگتی ہے۔ ریاست، حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی جگہ پر مجبور اور درست بھی ہیں اور غلط بھی ہیں ۔ سوشل میڈیا کا طوفان عوام الناس کے ذہنوں کو متأثر نہ بھی کرے تو بھوک وافلاس اور جبری نظام تنگ آمد بہ جنگ آمد کی طرف دھکیل رہاہے۔ عوام کی نظرمیں یہ گر چکے ہیں اور پاکستانی ریاست اور عوام کو ایک پیج پر لانے کیلئے اسلامی انقلاب ناگزیز ہوچکا ہے۔
اسلامی انقلاب سول وملٹری بیوروکریسی اور عوام کی ملی بھگت سے بھی اسلئے آیا چاہتا ہے کہ ریاستی قوت سے نہتے عوام طاقت کے زور پر لڑ نہیں سکتی ہے اور مقتدر طبقہ اپنے لئے اخلاقیات کا کوئی معیار بنانے کیلئے تیار نہیں جسکے نتیجے میں طبقات کی جنگ پر بیچاری عوام خوشیوں کے شادیانے بجائے گی اور آخر کار مقتدر طبقات بھی لڑمر کر آخری حد تک پہنچنے سے پہلے پہلے اقتدار کی نکیل کسی ایسے فرد کے سپرد کردینے میں عافیت سمجھیںگے جو کسی کا بھی کٹھ پتلی نہ ہو۔ اسلام کو عالم اسلام نہیں پوری دنیا ہی قبول کرے گی اور وہ اسلام ملا کا اسلام نہیں ہوگا بلکہ اللہ اور فطرت کا اسلام ہوگا۔

پاکستان میں ایک حقیقی انقلاب کی سخت ضرورت ہے!!

اداریہ: چوتھا کالم

تحری: سید عتیق الرحمن گیلانی

مریم نواز اور نوازشریف کا انقلاب یہ ہے کہ فوج عمران خان کی حمایت چھوڑ کر ہمارا ساتھ دے تو سب اچھا ہے۔ کچھ بے شرم ، بے غیرت، بے حیا، بے ضمیر اور بکاؤ مال قسم کے صحافی جن میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے کئی افراد شامل ہیں وہ فوج کی کردار کشی کرکے نوازشریف کو ایسا پیش کرتے ہیں جیسے بھوسہ سے گندم یا چاول کو نکالا جائے۔ شاہ زیب خانزادہ ، سید عمران شفقت اور راشد مراد وغیرہ کویہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فوج میں جرنیل بدلتے ہیں اور ان کی پالیسیاں بھی بدلتی ہیں۔ ایوب خان ، یحییٰ خان ، ضیاء الحق،اسلم بیگ،وحیدکاکڑ،شیخ جہانگیر،ضیاء بٹ، پرویز مشرف، اشفاق کیانی، راحیل شریف اور قمر جاوید باجوہ سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ نوازشریف وہی نوازشریف ہے بدلا نہیں ہے۔ عدالت کے سامنے پارلیمنٹ کے بیان پر قائم نہیں تھا اور قطری خط سے بھی مکر گیا۔ پیسے لیکر جتنے مرضی تجزئیے پیش کرو لیکن گدھے کو گھوڑا بنانا ممکن نہیں ۔ میڈیا بکاؤ مال بن گیاہے۔
عمران خان وزیراعظم اسلئے بناتھاکہ وہ اداروں کوسدھارنے کی بات کرتا تھا مگر جو تحریک انصاف کو بگاڑگیا وہ اداروں کو بھی بگاڑ رہاہے۔ سندھ پولیس اہلکار نے کارنامہ انجام دیا ،تو وزیراعظم زبان کی حد تک نہ کہتاکہ چومنے کو جی چاہتا ہے بلکہ جس طرح بی بی بشریٰ کے کہنے پر پاک پتن کے مزار پر عملیات کا مظاہرہ کیا اس سے زیادہ حاضری دیکر عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ انٹریو میں کس قدر تضادات ہیں کہ باپ سے پیسہ نہیں مانگا ، ماں زبردستی سے پیسہ دیتی تھی ،خود کمایا، زندگی بھر پہلی مرتبہ ملک کی خاطر بھیک مانگی جس پر شرمندگی ہے۔ شوکت خانم کیلئے غیرملکیوں سے نہیں اپنوں سے بھیک مانگی۔ عوام اتنی بیوقوف نہیں ہے جتنا یہ لیڈر لوگ سمجھتے ہیں۔
عمران خانی دور میں ریاستی اہلکار رشوت کے ریٹ بڑھا کر کام کرتے ہیں۔ گورنر سندھ، وفاقی وزیرعلی زیدی،صوبائی رہنما علیم عادل شیخ اور سبھی لگے تھے کہ صفدر اعوان پر قائداعظم کے مزار کی بے حرمتی کا مقدمہ درج ہو۔ آخر کار رات گئے رینجرز اور آئی ایس آئی کو بھی استعمال کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئی جی و پولیس کے اعلیٰ افسران سب چھٹی پر گئے۔ بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے احتجاج کیا اور آرمی چیف نے نوٹس لیا۔ پولیس نے اطمینان کا سانس لیا۔ عمران خان اور اس کی حکومت کا یہ حال تھا کہ مفرور ملزم کے نام جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ جو عمران خان خود کو صادق کہتا ہے ،اس کی پوری ٹیم نے جھوٹ بول کر اپنے لئے لعنت کا اہتمام کرلیا۔ پاک فوج کی بھی شلوار اتاردی اسلئے کہ نواز شریف نے کہا کہ” ثابت ہوگیا کہ حکومت کے اوپر کسی اور کی حکومت ہے”۔ پھر شبلی فراز نے کہا کہ پولیس کو اپنی نااہلی پر ایکشن لینا چاہیے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس تحریک انصاف کی جماعت اور حکومت کا کیا کردار ہے جس نے یہ سارا فتنہ برپا کیا تھا؟۔ اس کا بس چلے تو ابھی مزیدپاک فوج کی قمیص بھی اتارکر ننگا کردے کیونکہ یہ اس کا وطیرہ ہے۔ صحافی صابر شاکر نے گجرانوالہ جلسے کے بعد بتایا تھا کہ حکومت اور فوج کے درمیان اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ ہوگیا ہے کہ آئندہ ہم نے نمٹناہے اور عمران خان نے منہ پر ہاتھ پھیر کرکہا تھا کہ ایک نیا عمران خان دیکھوگے۔ پھر ایکشن ہوگیا تو عمران خان چھپ کر ایسے بیٹھا جیسے کھڑک مرغی انڈوں پر بیٹھی ہو۔ پھر ایکشن سے لاتعلقی کا اظہار بھی کردیا۔ پشاور ہائیکورٹ میں اس کی بیٹی کو چھپانے کا کیس زیرسماعت تھا، اطلاع کے مطابق اگلی پیشی پر سیٹھ وقار احمد نے فیصلہ کرنا تھا جس کو خاموشی میں کورنا نے نگل لیا۔ علامہ خادم حسین رضوی مولانا سمیع الحق کی طرح مارے نہ گئے ہوں۔ الطاف حسین، نواز شریف کو برطانیہ سے لایا جائے لیکن عمران خان کی بیٹی بھی لائی جائے تاکہ جھوٹے لیڈر عوام کے سامنے ایک دم بے نقاب ہوجائیں۔ صحافیوں کو بھی الٹی سیدھی صحافت کی پرواہ نہیں بلکہ لفافوں سے بھتے وصول کرکے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں لیکن ایک بڑا طبقہ بہت اچھے صحافیوں کا بھی ہے اور وہ بالکل غیرجانبدار صحافت کرتاہے۔
ریاست کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ شروع سے بیکار قیادت سے واسطہ پڑا۔ انگریز کی سول اور ملٹری بیوروکریسی نے بیجا ترقی پائی تو نابالغ مرغے وقت سے پہلے آذان دینے لگے۔ پہلے بھی جمہوریت نہ تھی۔صدر سکندر مرزا کو ایوب خان نے گرفتار کرکے مارشل لاء لگایا تو استقبال مادر ملت نے کیا جنرل ایوب نے جمہوریت کی بنیاد رکھی تو مادرملت فاطمہ جناح مقابلے میں آئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو غیر جمہوری عمل سے اقتدار کی دہلیز پر پہنچے تو اپوزیشن کی قیادت کو پھانسی گھاٹ تک پہنچایا۔ پھر اس ریاست گردی کا شکارہوگئے جس کو آلۂ کار بناکر دوسروں پر راج کیا۔ عدالت نے اپوزیشن قیادت کو چھوڑ کر اسی کو پھانسی دی۔ ریاست نے پھرنوازشریف کو پالا۔ زیادہ دن نہیں ہوئے کہ نوازشریف اور اس کی انقلابی بیٹی کڑک مرغی بن کر خاموشی سے انڈوں پر بیٹھے تھے۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن بھی کردی مگر اچانک کڑک پن ختم ہوگیا اور سیاست کے میدان میں انقلابی بن گئے۔ خدا کا نام مانو،بس کروبس۔
تبلیغی جماعت نے حاجی عثمان کے خلاف شخصیت پرستی کا پروپیگنڈہ کیا لیکن خود صاحبزادگی کا شکار ہوگئی، مولانا انعام الحسن کے بیٹے زبیرالحسن اور مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد کے درمیان کسی ایک کو نامزد کرنے پر جماعت دولخت بننے کے خطرے سے نہیں نمٹ سکتی تھی۔ جو جماعت چند منٹ کے گشت کیلئے امیر بنالیتی ہے وہ اپنا امیر بنانے سے بھی قاصر ہے ، یہ کسرِ نفسی نہیں شیطانی غلبے کی نشانی ہے۔ انصار ومہاجرین اور قریش واہلبیت میں خلافت پر اختلافات اور شدید تحفظات تھے مگر امیر پر متفق ہوگئے۔ ابوسفیان نے حضرت علی سے کہا تھا کہ ابوبکر سے خلافت چھین کر آپ کو حوالہ کرنے کیلئے مسلح جوانوں سے مدد کرسکتا ہوں مگر حضرت علی نے پیشکش حقارت سے ٹھکرادی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے امارت پر قبضہ کرنے کیلئے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے چھلانگ لگائی تو حافظ حسین احمد کے خلاف منصوبہ بندی سے عبدالغفور حیدری کو جتوایا۔ جس کا بروقت ہم نے اظہار کیا تھا۔ اب شیرانی صاحب کو بلوچستان کی امارت سے ہٹادیا گیا تو شیرانی کو سازشیں یاد آنے لگیں۔ مولانا مودودی نے بھی میاں طفیل محمد کو منتخب کرواکر جماعت اسلامی کو طفیلی بنادیا تھا۔ پھر سید منورحسن کو ہٹاکر سراج الحق کو طفیلی بن کر اپنا فریضہ ادا کرنا ہے۔
ریاست نے طفیلی سیاستدان بنائے اور سیاسی جماعتوں نے طفیلیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر چیز دوسروں پر ڈالنے کی بجائے اپنی خامیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ مولانا الیاس قادری کے فرانس میں مراکز ہونگے جسکا احتجاجی طریقہ یہ ہے کہ مزید مدرسے بناؤ۔ تحریک لبیک کے کارکن ہم مسلکوں کیساتھ فیصلہ کریں کہ تعلقات خراب کرنے یا مزید بڑھانے ہیں؟۔اگر صحافی عمران خان نے فرانس کی امداد کو بچانے کیلئے ویڈیو بنائی تو یہ زیادہ خطرناک کھیل ہے ۔ قادیانیوں کو پنجاب بدرکیا گیا تو اسرائیل ویورپ میں خوش ہونگے۔پختون ہاتھ صاف کردینگے کہ شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی پر عمل ہوگا لیکن اگر مغربی بارڈر افغانستان سے مشرقی بارڈر کشمیر کیلئے بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پنجاب میں فساد کھولا گیا تو بہت خون خرابہ ہوگا۔ یہودی سازشوں سے پہاڑ بھی ہل سکتے ہیں۔ ریاستی اداروں کو حکمت عملی کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہوگا ۔قادیانی مذہب کم مافیا زیادہ ہے مگر مسلم فرقوں کا بھی یہی حال ہے۔ اسلام سے ہی پاکستان عالمِ انسانیت کا دل جیت سکتاہے ۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

www.zarbehaq.com

پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کابڑا بہترین راستہ ہے

اداریہ: تیسر کالم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان واضح اعلان کرے کہ اگر اسرائیل نے ایران ، ترکی، سعودی عرب سمیت کسی بھی مسلم وغیرمسلم ملک پر حملہ کیا تو پاکستان اس کو نیست ونابود کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ قرآن نے مذہبی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے قوت مدافعت کے فطری قانون کو ایک ایسی بنیاد قرار دیا ہے کہ اگر قوت مدافعت نہ ہوتی تو پھرمجوسی، عیسائی ،یہودی اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ بھی نہ ہوسکتا تھاجن میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی اور مشرکین کو قرار دیا، بھارت اوراسرائیل پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
پاکستان بہت واضح اعلان کرے کہ علامہ اقبال نے فرشتوں کے گیت میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف انقلاب برپا کرنے کی دعوت دی تھی لیکن آج پاکستان کے سفیدوسیاہ کے مالک جاگیردار اور سرمایہ دار بن گئے ہیں۔
اُٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگادو کاخ امراء کے درودیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
ہمارے مقتدر طبقات سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے رشوت لیکر کھربوں کی سبسڈی غریبوں کے نام پر گندم ، چینی اور بجلی وغیرہ کے حوالے سے دیتے ہیںمگر مہنگائی کا سارا بوجھ غریب طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پہلے ایم کیوایم کے کارکن اور لیاری امن کمیٹی کے بدمعاش بھتہ لیکر بڑوں کو پہنچاتے تھے اور اب پولیس اور رینجرز کے سپاہیوں پر تحفظ کے بدلے بھتوں کے چرچے عام ہیں۔ CPLCایک غیرحکومتی تنظیم اور پرائیویٹ NGOہے لیکن PECHSمیں دفاتر سے بھتہ لے رہی ہے۔ اگر ریاست اور حکومت اسکے پیچھے نہ ہو تو عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے نام باعزت شہریوں سے بھتہ کیسے لے سکتے ہیں؟۔ رہائشی مکانات میں سکول ، دفاتر اور مساج سینٹر بنانے والوں کو پہلے قانونی نوٹس جاری کرتے ہیں اور پھر عدالت کے ذریعے فریق بن کر کام بند کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور متاثرہ فریق بھتہ دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو عدالت میں اپنا کیس واپس لیتے ہیں۔
قومی ، لسانی،سیاسی ، سماجی، مذہبی اور امن کمیٹیوں کے نام پر بدمعاش طبقے کا راج ہوگا اور عدالت ، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شریفوں کی داد رسی کے بجائے بدمعاشوں کی پشت پناہی ہوگی تو اس کا نتیجہ خونی انقلاب اور ملک ٹوٹنے کے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر ہر ادارے کے لوگ نچلی سطح سے لیکر اوپر کی سطح تک اپنا احتساب کریں اور کھاؤ پیو ، عیش اُڑاو کا راستہ روکیں تو پاکستان کی ریاست کیلئے عوام جان، مال اور عزت سب کچھ کی قربانی دے سکیںگے۔ ایک طرف بین الاقوامی طور پر ہمیں پراکسی جنگ میں جھونکا جارہاہے، دوسری طرف خطے کے ممالک نے پراکسی جنگ میں ڈالا ہوا ہے اور تیسری طرف ہم آپس میں بھی پراکسی جنگ لڑرہے ہیں۔
وزیرداخلہ بریگڈئیر اعجازشاہ کا بیان آیا کہ ” ANPنے ریاست کے خلاف بیانیہ پیش کیا تو پشاور کے بلور برداری اور میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو مار دیا، اب ن لیگ نے وہی بیانیہ اپنایا ہے تو طالبان ان کو مار ینگے”۔ جس پرANP نے اسلام آبادتک احتجاجی لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ اپوزیشن نے بھرپور طریقے کہا کہ ماراماری کے پیچھے ریاست کے جرم کا اعتراف ہورہاہے۔ منظور پشتین کے نعرے کو تقویت مل گئی کہ ”یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے”۔ اعجازشاہ نے باچا خان مرکز جاکر معذرت کرلی اور ANPنے وزیرداخلہ کو معاف کردیا۔
ANPمیں ہزاروں خوبیاں ہیں مگر پشتو نام کی چیز نہیں۔ ANP کہتی ہے کہ گلبدین حکمت یار کو ویلکم کرنے والے جماعت اسلامی، سراج الحق اور مولانا سمیع الحق کا بیٹا،عثمان کاکڑ پختونوں کی قاتل ریاستی دہشتگردی کو سپورٹ کررہے ہیں۔ پھر تو اعجاز شاہ کے بیان کا خیرمقدم کرنا تھا کہ یہ تو ANPاور بہت سے لوگوں کا بیانہ ہے۔ جنرل راحیل اور جنرل باجوہ سے پہلے یہ بیانیہ زبانِ زد عام تھا۔ الیکشن میں بعض جماعتوں کو کھلی چھوٹ تھی جیسے PTI اور مسلم لیگ اور بعض پر خودکش حملے ہوتے تھے جیسے پیپلزپارٹی اور ANP۔ اگر اسفندیار ولی اور ایمل ولی میں تھوڑی غیرت ہوتی جس کو وہ پشتو کلچر کی بنیاد سمجھتے ہیں تو وزیرداخلہ برگیڈئیر اعجازشاہ کے بیان پر احتجاج کی بجائے خیرمقدم کرتے۔اپوزیشن سمجھ رہی ہے کہ اعجازشاہ کے بیان سے لیکر پشاور بم دھماکے اور آئی ایس پی آر کے بیان تک تسلسل سے اپوزیشن کا راستہ روکنے کا بیانیہ ہے لیکن یہ ریاست وسیاست ملک وقوم کیلئے بہت تباہ کن ہے۔
منظور پشتین ہر تقریر میں قسمیں اٹھاکر کہتا ہے کہ ”میں نہ بکا ہوں اور نہ بکوں گا اور نہ میں ڈرتا ہوں اور نہ ڈروں گا”۔ ہمارا یہ وطیرہ ہے کہ جو بہادری کی داستان سناتا ہے اس کو لیڈر ماننا شروع کردیتے ہیں۔ نبیۖ نے ہجرت کرکے وطن مکہ چھوڑ ا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون سے بھاگ کر چلے گئے۔ پیغمبری اور معجزات ملنے کے باوجود جب دریا نے راستہ دیا تووہ لڑنے کیلئے نہیں رُکے،البتہ فرعون کو لشکر سمیت پیچھا کرنے پر اللہ نے غرق کیا۔ جو بکتے ہیں وہی نہیں ڈرتے۔ خوف انسان کے بس کی بات نہیں ۔تبلیغی جماعت نے شیروںسے ملنے کی جھوٹی کہانیاں گھڑیں۔ مستقبل کی خبر کوئی نہیں جانتا ہے۔ اگر کوئی بکنے اور ڈرنے والا نہ ہو تو عوام کو یقین دلانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ جب نوازشریف اور اپوزیشن سمیت پورا ملک اس بیانیہ کیساتھ کھڑا ہوگیا ، وکیلوں نے بھی وہ نعرے لگانے شروع کردئیے جو منظور پشتین کی شناخت تھے تو پشتین نے مسکین بن کر وہ نعرے لگانے کے بجائے قوم کی اصلاح شروع کردی۔ مانا کہ نہ بکے ہو اور نہ جھکے ہو لیکن قسمیں مت کھاؤ اور بس!۔
باچا خان سے ایمل ولی تک اس پختون قوم کے مایہ ناز خاندان کی ہزاروں خوبیان مسلمہ ہیںمگر جب امیر حیدر خان ہوتی وزیراعلیٰ تھے تو جمعیت علماء اسلام کے مفتی کفایت اللہ نے پانچ اضلاع پشاور ، چارسدہ،مردان، سوات، بنیر کے بارے میں قرار داد پیش کی کہ عورتوں کو نکاح کے نام پر بیچا جارہاہے ، پابندی لگائی جائے۔ جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ کیا خدائی خدمتگاروں سے لیکر موجودہ دور کی ANP تک کسی نے پشتون عورت کے حقوق کیلئے کبھی آواز اٹھائی ؟۔ پشتوغیرت کی تعبیر عورت سے زیادہ کوئی چیز نہیں اور عورت کے معاملے میں بے غیرتی برتی جائے تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہتا ہے۔ منظور پشتین نے بہت اچھا کیا کہ عورت کے حق پر آواز اُٹھائی لیکن جب پیسوں کی بنیاد پر کوئی قوم عورت کے معاملے میں غیرت نہیں کھاتی ہو تو اسکے جوان پیسوں کیلئے نہ بکتے ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے؟۔جب وزیرستان میں PTM کی لال ٹوپیوں کو جلاگیا تو منظور پشتن کو اپنی قوم کی اصلاح یاد آگئی مگر تعصبات ایک ایسا کینسر ہے جس کو سرحدات تک محدود رکھنا بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔
مولانا بجلی گھر بڑے خطیب تھے ،ان کی تقریر مولانا فضل الرحمن کی حمایت اور مخالفت میں مریم نواز کیساتھ ویڈیو میں پیش کی جاتی ہے لیکن تہبند کی مخالفت کی واحد وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ مولانا نے احرام میں تہبند پہنا ہوگا۔ حجراسود کو چومنے کے دوران ہجوم میں ان کی بیگم سے کوئی بدتمیزی ہوئی ہوگئی جس پر صاحبہ نے مولانا کو انگلی چڑھائی ہوگئی کہ بے شرم مجھے کہاں لائے ہو؟۔ اس وجہ سے وہ زوردار انداز میں کہتا ہے کہ ”بے شرم تہبند پہن لو”۔ وزیرستان میں طالبان نے جب بچہ بازی پرباقاعدہ ایک دوسرے کو قتل کیا تو بھی ان کو روکنے اور ٹوکنے والا کوئی غیرتمند نہیں تھا۔

www.zarbehaq.com

بقول اقبال مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے

اداریہ، پہلا کالم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علامہ اقبال نے طلوع اسلام کی خبر دی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی لعنت اللہ علیہ کو علامہ اقبال نے مجذوب فرنگی قرار دیتے ہوئے کہاکہ جانِ فرنگ پنجۂ یہود میں ہے اور اس بات کو دنیا اچھی طرح سے سمجھ رہی ہے کہ جس طرح یہود کیساتھ عیسائیوں کی نہیں بنتی ،اسی طرح سے مسلمانوں کی مرزائیوں کیساتھ نہیں بنتی۔ البتہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی جان فوج میں ہے ،عالم اسلام کی جان پاکستان میں ہے ، پاک فوج کی جان پنجاب میں ہے اور پنجاب کی جان مرزائیت میں ہے۔
پرویزمشرف کے دور میں ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی و چوہدری شجاعت سیاست کے محور تھے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن اپوزیشن لیڈر تھے جس کو ن لیگ اور عمران خان نے بھی سپورٹ کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کے دل کے وال چوہدری برادران نے امریکن پاکستانی نژاد قادیانی ڈاکٹر مبشر سے تبدیل کروائے۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھ کر اپنی غیرت ایمانی پر مٹی ڈال کر قادیانی ڈاکٹر سے علاج کرنے میں عافیت سمجھی ہو کیونکہ مولوی سمجھتاہے کہ ”جان ہے تو ایمان ہے” اور اس کی ساری زندگی ایمان بنانے پر نہیں جان بنانے پر ہی لگتی ہے۔ ہر ملک ، ہر فرقے ، ہر مسلک اور ہر ماحول میں مولوی زندگی کی معمولی آسائش کے بدلے ایمان کی قربانی دیتا رہتا ہے۔ جس سود کو قرآن نے اللہ و رسول کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا ہے ، علماء کے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان اس پر معاوضہ لیکر اسلام بیچ رہے ہیں۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اکبر بادشاہ کے سامنے تعظیمی سجدہ سے انکار کرکے خود کو تاریخ میں امر کردیا تھا۔ دوسرے مولوی اس بحث میں پڑگئے تھے کہ سجدہ تعظیمی کفر ہے یا حرام ہے۔جو کفر قرار دے رہے تھے تو ان پر حرام والوں کا علمی وزن بھاری تھا اسلئے کہ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں اور حضرت یوسف علیہ السلام ، بھائیوں اور والدین کے سجدوں کا ذکرہے۔
مشکل یہ ہے کہ بریلوی دیوبندی مکاتبِ فکر کے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن وشیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی سود کو جواز فراہم کررہے ہیں جن کو منصب سے علماء اتارتے بھی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے باپ مفتی محمود کہتے تھے کہ امریکی کیپٹل ازم کے مقابلے میں کمیونزم اسلام کے زیادہ قریب ہے اور مولانا مودودی کہتے تھے کہ کمیونزم کے مقابلے میں کیپٹل ازم اسلام کے زیادہ قریب ہے۔ مفتی محمود اور اس کی جماعت پر اسی وجہ سے علماء دیوبند نے کفر وگمراہی کے فتوے لگائے تھے۔ اس فتوے کا سرغنہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی و شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع تھا جس کی روحِ رواں جماعت اسلامی تھی۔ پھر مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی نے سودی زکوٰة پر ہاتھ مارالیکن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود اور اسکے بیٹے مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کی۔ اب تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدرفیع عثمانی وشیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے سودی نظام کو جواز عطاء کرکے جب عالمی کفر کے نظام میں چاروں شانے چت ہوگئے تو مولانا فضل الرحمن نے اس کو اپنا براق سمجھ کر سوار ہوگئے اورترقی وعروج کے اس سفر میں معراج پرپہنچ گئے ہیں۔
علماء ومفتیان کا کام دینِ حق کی پاسداری تھی لیکن کبھی پاسبان ملتے تھے بت خانے سے اور اب عالمی سودی اور یہودی نظام کو پاکستان سے سواری اورشہسوار مل گئے ہیں۔ جب اسلام نازل ہوا تھا تو کافر سے نفرت نہیں تھی بلکہ کفر سے نفرت تھی۔ یہود سے نفرت نہیں تھی بلکہ یہود کے مسخ شدہ مذہب اور سودی نظام سے نفرت تھی۔ آج ہمیں یہود کے مسخ شدہ مذہب اور سودی نظام سے نفرت نہیں بلکہ یہودیوں سے نفرت ہے، مرزائیوں کے نظام سے نہیں بلکہ مرزائیوں کی ذات سے نفرت ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور PDMکے چیئرمین مولانا فضل الرحمن دونوں مفتی محمد تقی عثمانی کے آستانے سے عقیدت ومحبت رکھتے ہیں جو زیب وزینت کیلئے خواتین کیلئے تھوڑے سے بال کاٹنے کو بھی جائز نہیں سمجھتا لیکن اپنے بدنمادانت نمائش کیلئے نکال باہر کئے ہیں۔ حالانکہ حج وعمرے میں خواتین تھوڑے سے بال کاٹتی ہیں، حضرت عائشہ نے نبیۖ کے وصال کے بعد اپنے بال اسلئے کاٹ دئیے تھے کہ نبیۖ کے بعد زینت کی ضرورت نہیں ۔ قرآن میں نابینا ،لنگڑے اور مریض کیلئے حرج نہیں کہ اس کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں کھانا کھلایا جائے، اسی طرح ماں، باپ، بھائی اور بہن کے علاوہ چاچا، ماما، پھوپھی، خالہ اور دوست کے گھر میں بھی کھانا کھانے کی اللہ نے اجازت دی ہے، چاہے الگ الگ کھائیں یا اکٹھے کھانا کھائیں۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ نبیۖ اور صحابہ کرام کی دعوت ولیمہ میں دلہے اور دلہن نے خدمت کی تھی۔ قرآن وحدیث میں شرعی پردے کا وہی تصور ہے جو پختون، پنجابی، سندھی اور بلوچ کلچر کے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں میں پہلے سے موجود تھا۔
نالائق علماء طبقے نے پہلے شاہ ولی اللہ پر کفر کے فتوے لگائے کہ قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیوں کیا ہے؟۔ واجب القتل کے فتوؤں نے دو سال تک روپوش ہونے پر مجبور کیا۔ حالانکہ سندھی زبان میں اس سے بہت پہلے قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ سندھی علماء مساجد میں جمعہ کے خطبات بھی عربی کے بجائے سندھی میں پڑھتے تھے اور یہ روایت سندھ میں اب بھی موجود ہے۔ پھر شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے اردو میں قرآن کا ترجمہ کیا تو فقہی مسالک میں الجھاؤ کی وجہ سے قرآن کی تفسیر بھی بالکل غلط لکھ ڈالی اسلئے کہ قرآن میں اجنبی اور نامحرم نابینا، لنگڑے اور مریض کو گھروں میں کھلانے کی اجازت کی وضاحت تھی مگراس کی تفسیر یہ لکھ دی کہ ” جمعہ کی نماز اور جہاد میں رخصت مراد ہے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تُک نہیں بنتا ہے۔ اسلام کا بالکل حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اقدام نہیں کیا تو مغرب سے نکلنے والا طوفان ہمیں مسلمان ہونے پر مجبور کردے گا۔ اسٹیج پر مسلم لیگ کی عابدہ اور تہمینہ کی مخالفت کرنے والی جمعیت علماء اسلام مریم نواز کی حمزہ شہباز سے جھپی اور پپی کو درست قرار دے دیگی اسلئے کہ خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں۔
جب مسلم لیگ کی حکومت کیساتھ مولانا فضل الرحمن شریک اقتدار تھے تو پھر مذہب کے خانے میں حکومتی سطح پر سازش کرنے والوں کے خلاف شیخ رشید نے آواز اٹھائی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرف سے ختم نبوت کیلئے قربانی کی یاد دلاکر اس سازش کے خلاف جمعیت علماء اسلام کو اٹھنے کی دعوت دی گئی۔ شیخ رشید کہتا ہے کہ ”علماء نے دو دفعہ مجھے مارنے کی کوشش کی ”۔ جب فیض آباد دھرنے کی وجہ سے کسی وزیر کو سازش کا مرتکب قرار دیکر فارغ کیا گیا تھا تو یہ پرانی بات نہیں ہے۔ حکومت ہی نے پاک فوج سے کہا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی سے مذاکرات کرکے دھرنا ختم کیا جائے۔ جب مذاکرات کی کامیابی کے بعد دھرنا ختم ہوگیا تو پاک فوج کے اہلکار نے ایک ایک ہزار کے لفافے کارکنوں میں واپسی کے کرایہ کیلئے دئیے۔ اب عدالتی سطح پر یہ تأثر دیا جارہاہے کہ یہ فوج کی سازش تھی ، دھرنے والوں کو پیسہ دیا گیا لیکن دوسری طرف حامدمیر کہتا ہے کہ موجودہ حکومت میں قادیانیوں کو بہت سپورٹ مل رہی ہے۔ ترکی اور ایران کے خلاف عرب ممالک اسرائیل کی سپورٹ لینے پر مجبور ہیں اور اسرائیل کی فوج میں پاک فوج کے لوگ بھرتی ہیں۔ اسرائیل کی پشت پر امریکہ ہے اور امریکہ کی گود میں ہماری فوج اور سیاستدان کھل کر کھیلتے ہیں۔ اب اس طوفان مغرب سے کیا ہم مسلمان بننے کیلئے تیار ہیں یا نہیں ہیں؟۔

www.zarbehaq.com

مختلف ادوار میں شہید کئے جانے والے مسلم سائنسدانوں کیخلاف سازشیں

مختلف ادوار میں شہید کئے جانے والے مسلم سائنسدانوں کیخلاف سازشیں جس سے عافیہ صدیقی پر دہشتگردی کے الزام کی جھوٹی کہانی اور ڈاکٹر سلام مرزائی کو نوبل انعام کی بات عیاں ہوگئی ۔

سمیرہ موسیٰ:ایٹمی طاقت کو میڈیکل کے کام میں لانے اور ایٹمی بجلی پیدا کرنے پر ایجادات کیں مصر سے تعلق تھا 1952 میں امریکہ کے دورے کے دوران شہید کیا گیا۔

سمیر نجیب: ایٹمی سائنسدان تھے۔امریکہ میں کام کیا، مصر جانے کا فیصلہ کیا تواس کی سائنسی تحقیقات کے مسودات کو چوری کرلیاگیا، پھر 1967ء میں انہیں قتل کردیا گیا۔

سعید بدیر: مصر کے تھے میزائل ٹیکنالوجی میں ماہر، بطور خاص Rocket Engineering کے شعبے میں قابل قدر علمی تحقیقات بہم پہنچائی ہیں۔کافی عرصہ جرمنی میں سیٹلائٹ فیلڈ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں بھی 1989ء میں قتل کردیا گیا۔

سلویٰ حبیب: یہ کویت کی خاتون محققہ،جس نے صیہونیوں کی جانب سے عالم عرب اور افریقہ کے خلاف تیار کئے گئے خفیہ سازشوں اورکئی منصوبوں کو طشت از بام کیا، نیز تاریخ یہود اور Rothschildکے بارے میں متعدد کتابیں بھی لکھی ہیں۔ انہیں ان کے رہائشی فلیٹ میں ذبح کردیا گیا۔

حسن کامل الصباح: لبنان سے تعلق ماہر انجینئر تھے (انہیں عالم عرب کا ایڈیسن بھی کہا جاتا ہے) الیکٹریکل انجینئرنگ شعبے میں 173 ایجادات ہیں۔1935ء میں امریکہ میں قتل کردیا گیا۔

ڈاکٹر سامیہ میمنی: سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی میڈیکل ڈاکٹر۔ ان کی علمی تحقیقات نے ہارٹ آپریشن کے زاویے بدل کر رکھ دیے۔ آپریشن کے اس نہایت پیچیدہ پروسس کو سہل اور آسان تر بنانے کیلئے ایک آرام دہ عصبی آلہ ایجاد کیا۔ انہیں 2005ء میں قتل کرکے ان کے ایجاد کردہ آلے اور علمی تحقیقات کے مسودات کو چرالیا گیا۔

مصطفی مشرفہ: یہ مصر سے تعلق رکھنے والے فزکس کے ماہر سائنسدان تھے، عرب کا آئن سٹائن کہلاتا تھا، 1950 ء میں انہیں موساد نے زہر دے کر قتل کروادیا۔

حسن رمال: لبنان کے یہ سائنسدان فزکس کے شاہسوار تھے، 119سے زائد سائنسی ایجادات اور سائنسی تحقیقات کی ہیں۔ 1991ء میں انہیں فرانس میں قتل کردیا گیا۔

یحییٰ المشد: مصر ی ایٹمی سائنسدان مصر کے جوہری پروگرام کے مؤسسین کے سرخیل تھے، نیز انہیں عراق کے ایٹمی پروگرام کا بابا بھی کہا جاتا ہے۔ ایٹمی ری ایکٹر کے بارے میں انکے تقریباً 50 تحقیقی مقالے ہیں۔ انہیں 1980ء میں فرانس کے شہر پیرس میں قتل کردیا گیا۔

کہاوت ہے کہ” پشتو نیم کفر دا” پشتو نیم اسلام بھی ہے. تحریر: عتیق گیلانی

پشتو کی مشہور کہاوت ہے کہ پشتو آدھا کفر ہے۔ جس کا مطلب پشتو زبان نہیں بلکہ پشتون کلچر ہے۔یہ کہاوت پختون اقدار اور رسم وروایات کے حوالے سے ہے۔ جس طرح جاہل عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اسی طرح پختون روایات میں کچھ باتوں کو محض غیرت کا مسئلہ سمجھ کر اس پر عمل کیا جاتاہے ۔ اس روایت کی بڑی مثال یہ ہے کہ ” ایک پڑوسی کی دوسرے پڑوسی سے کوئی ناچاقی ہو تو پڑوسی کو اپنی ہی زمین پر چیلنج کردیتا ہے کہ تم کوئی تعمیر نہیں کرسکتے۔ جب دونوں غیرتمند بن کر اپنا اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور قتل وغارتگری ہوجاتی ہے تو اس کو پختون روایات سمجھا جاتا ہے اور اس کو نیم کفر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ طالبان نے دہشت گرد کاروائیوں سے جہاں اپنی قوم کا بہت نقصان کرلیا ہے لیکن کافی حد تک اس نیم کفر کا جنازہ بھی نکال دیا ہے۔ خود کش حملوں کے آگے نیم کفر اور اسلام سب بیکار تھا۔ اس کی ساری ذمہ داری ریاست پر ڈالنا بھی بہت بڑی حماقت ہے۔ دہشت گردوں کی کاروائیوں سے نیم کفر پورے کفر میں بدل گیا تھا کیونکہ نیم اسلام کیلئے بھی غیرت کا عنصر عوام میں نہیں رہاتھا۔ وزیرستان میں جن لوگوں کے گھر تک نہیں تھے وہاں ایک شناختی کارڈ پر لوگوں نے فوج کی وجہ سے بڑے پیمانے پر رقم بٹور لی جبکہ کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کے لیز شدہ مکانات مسمار کئے گئے مگر ایک روپیہ بھی لوگوں کو نہیں ملا ہے۔ اگر فوج کا کردار نہیں رہا ہے اور بے غیرت سیاستدانوں کے رحم وکرم پر بے چارے عوام کا دارومدار ہوا تو بہت مشکل ہوگی۔ کوئٹہ جلسے میں کوئی مرد کا بچہ یہ کہنے کی جرأت کرتا کہ ” مجید اچکزئی نے دن دیہاڑے غریب ٹریفک پولیس اہلکار کو کچل دیا ، کیمروں کی آنکھ نے محفوظ کرکے میڈیا میں دکھایا مگر عدالت نے بری کیا۔ کیا پہاڑوں میں چھپ کر وار کرنے والوں کویہ عدالتیں سزائیں دے سکتی ہیں؟”۔
کراچی میں رینجرز اہلکار نے رنگے ہاتھوں پکڑنے والے ڈکیٹ کو غلطی سے ماردیا لیکن عدالت نے اس کو سزا دیدی۔ ہماری ریاست، ہمارا مذہب اور ہمارا کلچر سب کے سب نیم کفر کے مترداف ہے۔ ہونا یہی چاہیے تھا کہ قتل عمد اور قتل خطاء میں فرق روا رکھا جاتا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے میڈیا پر واضح کیا ہے کہ زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں فرق نہیں ہے۔ دونوں کی سزا ایک ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں گھس کر اس کی بیوی پر چڑھ جائے تو انسانی فطرت اور اسلام میں اس کی سزا قتل ہے لیکن مفتی تقی عثمانی کے نزدیک اس کیلئے چار گواہوں کی ضرورت ہے۔ اسلئے شیخ الاسلام کا اسلام بھی نیم کفر ہے۔ شادی کی رسم میں لفافے کی لین دین کو مفتی محمد تقی عثمانی نے سود قرار دیا اور بینک کے سود کو اسلام قرار دیدیا۔ سود خور پختون اوران کے بعض علماء بھی حیلہ سازی کے کرتب میں مبتلاء تھے۔
پنجابی لوگ پتہ نہیں کہاں سے کہاں نکل جائیںگے؟۔ مرزا غلام قادیانی پنجابی تھا۔ مرزائیوں کا مرکز ربوہ بھی پنجاب میں ہے۔سرکاری اور تجارتی سطح پر بھی قادیانی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جب ان کو سرکاری سطح پر کافر قرار دیا جارہاتھا تب بھی مرزا طاہر غلام احمد قادیانی کا پوتا اسمبلی میں بحث کرنے کیلئے آتا تھا۔ جب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن لیڈر تھے تو پنجاب کے چوہدری برادران نے انکے دل کے وال بھی امریکہ سے قادیانی ڈاکٹر مبشر کو بلاکر بدلوائے تھے۔ اگر بینک منیجر قادیانی بھی ہوتا تو کیا اس کے قتل پر کوئی قاتل عاشق رسول بن سکتا تھا؟۔ اگر یہ بینک منیجر اس گارڈ کی بیگم پر زبردستی چڑھتا تو پھر اس کو قتل کرنا غیرت ، ایمان اور اسلام کا تقاضہ تھا لیکن یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ قادیانی سمجھ کر قتل کو عشق کا تقاضہ سمجھا جائے۔ پھر جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو قتل نہیں کیا وہ سب بے ایمان اور بے غیرت تھے؟۔ اگر یہی مذہبی مزاج رہا تو پھر کسی کا ایمان بھی معتبر نہیں ہوگا۔
پھر تو سمجھا جائیگا کہ جنرل باجوہ، مولانا فضل الرحمن، عمران خان، نوازشریف اور سارے فوجی جرنیل، سیاسی لیڈر اور علماء بھی قادیانی ہوسکتے ہیں۔ جان بچانے کی خاطر ڈر سے قادیانی ہونے کا اظہار نہیں کرتے۔ پاکستان نازک موڑ پر کھڑا ہے اور کسی بڑے دھماکے سے پہلے ہمارے ریاستی اداروں ، سیاسی لیڈر شپ اور علماء کرام کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تو طالبان کے خوف سے سرکاری نمبر پلیٹ اسلام آباد میں گاڑیوں پر نہیں لگائی جارہی تھیں اوراب حالات نے پلٹا کھایا تو بہت مصیبت کھڑی ہوسکتی ہے۔ ن لیگ کے خلاف قادیانی ہونے کی مہم چلائی گئی، عمران خان کو بھی وضاحت دینا پڑی۔ جنرل ضیاء الحق نے قادیانی کے فتوے کے خوف سے ایک سخت آرڈنینس جاری کیا تھا۔ صابر شاکرنے ویڈیو میں بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مولانا فضل الرحمن کے سامنے واضح کیا کہ وہ قادیانی نہیں راسخ العقیدہ مسلمان ہیں لیکن جب پروپیگنڈہ پھیلانے والے اپنا کام دکھاتے ہیں تو معاملہ مشکل بن جاتا ہے۔ اوریا مقبول جان نے کہا تھا کہ ”نبیۖ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک تحفہ دیا تو جنرل قمر باجوہ نے بائیں ہاتھ سے لیا پھر حضرت عمر نے دائیں ہاتھ سے لینے کا کہا تھا”۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو نوازشریف نے آرمی چیف بنایا تھا اور اب تو ایکسٹینشن میں نوازشریف، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سب شامل ہیں۔ جمہوری لوگوں نے غلط کیا یا درست کیا لیکن اب فوج میں دراڑ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب نوازشریف کے دور میں ماڈل ٹاؤن کے قتل کی ایف آئی آر درج نہیں ہورہی تھی اور جنرل راحیل شریف کو نوازشریف نے کردار ادا کرنے کا کہا تو ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان سے جنرل راحیل شریف نے ایف آئی آر درج کرانے کا وعدہ کیاتھا۔ پھر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔جب عمران خان نے دھمکی دی ،پھر وفاق کے زیر کنٹرول آئی ایس آئی اور رینجرز کو سندھ پولیس کیخلاف استعمال کرکے جناح کے مزار کی بے حرمتی کے ایکشن پر مجبور کیا گیا تو بلاول بھٹو زرداری اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے درمیان گفتگو میں ایکشن لینے کی بات ہوئی۔ اس کا بھی بظاہر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا بہت تیزی سے عوام کا ریاست پر سے اعتماد اُٹھارہے ہیں مگر کسی بڑے خونی انقلاب سے پہلے ایک ایسے انقلاب کی ضرورت ہے کہ موجودہ ریاستی ڈھانچہ اور عوام مل بیٹھ کر ایک اچھے سیٹ اپ سے اپنے حالات بہتر کرلیں، غریب کی زندگی اجیرن ہے کسی وقت بھی کوئی ایشو بہانہ بن جائے تو پیٹرول کا سمندر آگ پکڑنے میں دیر نہیں لگائے گا۔
حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت کو انصار کے سردارسعد بن عبادہ اور حضرت علی و ابن عباس نے دل سے قبول نہیں کیا۔تو نتیجے میں حضرت سعد بن عبادہ کو جنات نے قتل کردیا اور حضرت عثمان مسند خلافت پر شہید کردئیے گئے۔ پھر حضرت علی نے اپنا دارالخلافہ کوفہ منتقل کیا مگر وہاں بھی شہید کردئیے گئے۔ حضرت امام حسن کو دستبردار ہونا پڑا اور حضرت حسین کیساتھ واقعہ کربلا پیش آیا۔ خلافت بنوامیہ اور پھر بنوعباس کی لونڈی بن گئی اور پھر ارتغل غازی نے اس کو اپنے خاندان کی لونڈی بناکر دم لیا۔ اہل تشیع اپنے تین اماموں کے بعد باقی 9اماموں کی زندگی پر غور کریں۔ اپنی حدود سے تجاوز کریںگے تو خلافتِ راشدہ سے عقیدت رکھنے والوں کی طرف سے ردِ عمل آئیگا۔ حضرت عثمان کیلئے نبیۖ نے صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان لیا تھا لیکن حضرت عثمان کی حقیقی شہادت ہوئی تو اس بیعت کی پاسداری کا کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے۔اب امت میں انتشار نہیں اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔سید عتیق الرحمن گیلانی