پوسٹ تلاش کریں

وزیراعظم عمران خان نیازی کی بے نیازیاں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پوری دنیا ایک عالمی وبا سے دوچار ہے اور عمران خان نیازی کہہ رہاہے کہ ” مخالفین کوہمیشہ کیلئے ختم کردیںگے، مخالفین تنقید ہی کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں، جب آپ کام کریںگے تو پھر تمہارے حلقے بالکل پکے ہوجائیںگے”۔ غریب دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہا ہے مگر عمران نیازی سیاسی حلقوں کو پکا کرنے کی فکر کررہاہے۔ واہ جی واہ۔ ایک ایک بات سے عمران خان ثابت کررہاہے کہ تبدیلی کا ڈھونگ محض بکواس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اللہ نے موقع بھی دیدیا ہے اور ڈھیل بھی۔ چینی اور آٹا بحران کی رپورٹ میں تحریک انصاف کا ٹریڈمارکہ نمبر ون نکلا۔
جب تحقیقات کا آغاز ہوا تھا تو صادق اورامین کی ڈگری لئے گھومنے والے عمران خان کی طرف سے وضاحت سامنے آئی تھی کہ جہانگیرترین کا نام اس میں شامل نہیں ، رپورٹ شائع ہوگئی تو سب سے زیادہ فائدہ اُٹھانے میں جہانگیر ترین پہلے نمبر پر نکلا ہے۔ یہ وہی عمران ہے جو عاشورے میں خفیہ نکاح کرنے کے بعد اس دھرنے میں کہہ رہاتھا جب پارلیمنٹ کادروازہ توڑاگیا، سپریم کورٹ کی گیلری میں کپڑے سکھائے جارہے تھے اور تبدیلی سرکار امپائر کی انگلی پر ناچ رہی تھی کہ ”تبدیلی آگئی ہے ، میں شادی کروں گا”۔ جھوٹا شادی کرچکا تھا اور اتنی شرم کا تکلف بھی محسوس نہیں کیا کہ ”شادی سے کیا تبدیلی آگئی ہے؟”۔ قادر پٹیل کی اسمبلی میں تقریر کے جواب میں مراد سعید ضرور کہہ سکتا تھا کہ ” شادی کرونگاتو واقعی بہت بڑی تبدیلی تھی”۔
چینی اور آٹا بحران سے فائدہ اٹھانے کی آفیشل رپورٹ شائع ہوئی ہے لیکن نان آفیشل کا معاملہ اس سے کئی گنا ہوگا۔ اب ”کرونا” بحران میں پھر عوام کو دھکیل کر فائدے اٹھانے کا ہی بازار گرم کیا جارہاہے۔ بلڈرز مافیا کو کھلے میدان میں بلیک منی کو وائٹ کرنے کی دعوت گناہ دی جارہی ہے۔ان بطش ربک لشدید سے بالکل بے نیازی برتی جارہی ہے۔

بنی اسرائیل کی عوام میں بڑے پیمانے پر جلیل القدر حضرات انبیاء کرام ؑ کی بعثت کا سلسلہ

حضرت ابراہیم ؑ ،اسحاق علیہ السلام ،یعقوب علیہ السلام ،یوسف علیہ السلام ، داود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ،یحییٰ علیہ السلام ، مریم علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام ذوالقرنین، حکیم لقمان،طالوت وغیرہاللہ نے فرمایا :’’ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو،جو میں نے تم پر کی اور میں نے جہان والوں پرتمہیں کوفضیلت دی‘‘دنیاوی فضیلت کا سکہ آج اسلئے برقرار ہے کہ تسخیر کائنات کا نظریہ قرآن نے دیا مگرنفع بخش سائنسی ایجادات انکا مقدربنیںرسول اللہ نے فرمایا: ’’ اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے‘‘۔ قرآن نے جمہوریت اور اخلاقی نظام دیامگرعمل انہوں نے کیابنی اسماعیل ؑ کی اولاد میں رحمۃ للعالمین محمد ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کا سلسلہ ختمرحمۃ للعالمینﷺ کی بعثت ہوئی تو یہودونصاریٰ کی مذہبی حالت ایسی تھی جیسے آج شدت پسندمسلمان فرقوں اور علماء کی ہےقرآن اور نبی رحمۃ للعالمینﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی دنیا میں پھیل گئی تو اہل مغرب نے مذہبی شدت پسندی کو خیربادکردیاپہلے اسلام دینِ فطرت کے مقابلے میں یہودونصاریٰ نے اپنی عوام کو غرق کردیا ، آج ہم بھی انکے نقش قدم پر چل رہے ہیںمغرب نے مذہبی شدت پسندی ترک کرکے امامت کا مقام حاصل کیا، ہم شدت پسندی سے خود کو ذلیل کرنے پر تل گئے۔طاقت میں بہت آگے مغرب کے عیسائی چاہتے تو اپنا قبلہ بیت المقدس مسلمانوں اور یہودیوں سے چھین کر اور مسلمانوں کے قبلہ کو سکینڈوں میں ملیامیٹ کرسکتے ہیں۔ چاہیں تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک کو تہس نہس کرکے انکے مردوں کو مار ڈالیں اور خواتین کو لونڈیاں بنادیں۔ مسلمانوں و ہندؤں نے خواتین کو انسانی حقوق سے محروم کیا ۔ اگر رشتے ناطے کی محبت ، اقدارکا پاس اورمذاہب سے عقیدت نہ ہو تووہ مغرب کی غلامی کو بھی یہاں کی نام نہادآزادی سے بہتر سمجھیں گے ۔ حکمرانوں،اشرافیہ، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے جہنم سے نکلنے کیلئے اغیار کی حکومتوں کو غنیمت اور اپنی تقدیر کا عروج قرار دیں۔ برصغیر پاک وہند کے بارے میں یہ درست ہے کہ سکندر اعظم سے برطانوی سامراج تک یہاں کی عوام پر رومیوں نے حکومت کی، عربوں، ایرانیوں ، ترکوں ، افغانیوں ، سکھوں اور پٹھانوں نے حکومت کی اور جو بھی باہر سے آیا تو اس نے فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ لیکن یہ تجزیہ کوئی نہیں کرتا کہ یہاں خوار غریب عوام اور خواتین کیساتھ کیا رویہ رکھا گیا؟۔ جو دوسرے حکمران اس سے زیادہ مظالم کی داستان رقم کرتے اور مزید ستم ڈھاتے؟۔پاکستان کے قبائلی علاقہ جات نسبتاً آزاد منش، خوشحال اور فطرت کے ترجمان تھے۔ جس طرح عربوں سے فاتح لوگوں نے تاریخ میں کوئی غرض نہیں رکھی تھی۔ خوبی خامیاں عربوں اور پختون قبائل میں تھیں لیکن علامہ اقبال ؒ نے رسول اللہﷺ کو بندۂ صحرائی اور آنیوالے مجاہدکومردِ کوہستانی کا خطاب دیتے ہوئے بہت واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہفطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانیپورے برصغیرپاک وہند میں آزاد قبائل نے سب سے زیادہ انگریز کی مزاحمت کی تھی اور خاص طور پر وزیرستان کے لوگوں نے۔ہمارے حکمران مرغا بن کے بھی امریکہ کے بوٹ چاٹنے کیلئے تیار ہوجاتے لیکن آزاد منش قبائل نے قربانیوں کا پہاڑ اپنی بربادیوں پر کھڑا کردیا ۔ ہمیں غیروں نے نہیں اپنوں کی سازش، لالچ اور جہالتوں نے تباہی وبربادی کے کنارے پرپہنچادیا۔ طالبان ریاست کی غلطی سے غلط سمت پر استعمال ہوئے اور اب پی ٹی ایم کو بھی غلط سمت استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے۔ منظور پشتین اتنا کہہ دے کہ ’’نیوزی لینڈ کے دہشت گرد کی ماں نے مطالبہ کیا ہے کہ میرے بیٹے کو سزائے موت دی جائے ۔ پختونوں میں بے غیرت دہشت گردوں کی ایک بھی غیرتمند ماں ایسی نہیں جو کھل کر سامنے آئے اور کہے کہ میرا حرام زادہ بیٹا دہشت گرد تھا اور اچھا ہوا کہ انجام کو پہنچ گیا یا اس کو انجام تک پہنچایا جائے۔وہ مائیں یہ نہیں کرتیں تو فوجیوں کے ہاتھوں سے ان کا ٹھنڈا ہونا بہتر ہے جن کو طالبان نے گرم کیا ہوا تھااسلئے کہ دہشتگردی پر اوس پڑی ہے‘‘۔ پی ٹی ایم کی قیادت کو چاہیے کہ پہلے اپنی کڑک مرغیوں سے گندے انڈے پھنکوادے۔ پھر یہ بات ریاست میں نہیں دنیا بھر میں جگہ پکڑے گی کہ’’ اللہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ہمارے حکمرانوں کی طرح مسلمان بنانے کے بجائے ہمارے حکمرانوں کو اس کی طرح ایک اچھا انسان بنائے‘‘۔ ہماری ریاست ڈرامہ کرتی ہے ، نوازشریف کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے اور عمران خان کو بھی۔ جیسے طالبان سے لڑبھی رہی تھی اور اس پر مر بھی رہی تھی، یہی حال منظور پشتین اوراسکے ساتھیوں کے رویے سے بھی لگتا ہے۔ ڈبل پاٹ، ڈبل گیم اور ڈبل پالیسیوں سے ملک وقوم اور مذہب وملت کو تباہ کیا گیا اور ان کھیلوں سے باز آکر سیدھی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔طالبان کی مصنوعی فضاء سے جان چھوٹی مگر لسانیت کا رنگ بہت خطرناک ہے۔ حق کیلئے آواز اٹھانے سے زیادہ ان لوگوں کو دبانے کا ماحول وہ بگاڑ پیدا کررہاہے اور لوگ پھراس ڈبل گیم سے بہت مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک سب سے زیادہ انبیاء کرام ؑ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں مبعوث فرمائے۔سب سے زیادہ مذہبی لوگ یہودو نصاریٰ تھے مگر وہ تحریف کی بدولت اس قدر اپنی فطرت مسخ کرچکے تھے کہ اللہ کو اپنا آخری رسولﷺ عرب میں پیدا کرنا پڑا ۔ اور قرآن میں یہ وضاحت کردی کہ ’’اے نبی! یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی ہرگزہرگز بھی راضی نہ ہونگے یہانتک آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں‘‘۔رسول اللہ ﷺ کے دور میں یہودونصاریٰ کے علماء ومشائخ اور انکے پجاری عوام جہاں کھڑے تھے، آج ہمارے علماء ومشائخ اور عوام بھی انکے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ جب یہودو نصاریٰ کے اپنے مذہبی خداؤں بقول قرآن مجید کے احبارو رھبان کو مغرب کی باشعور عوام نے بالکل سائیڈ لائن پر لگادیا توانہوں نے دنیا میں عروج وترقی کی منزل بھی پالی ہے۔آج عرب علماء، ایرانی حکومت ،برصغیر کے بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ تمام مذہبی طبقے یہودونصاریٰ کی طرح اپنی فطرت بھی مسخ کرچکے ہیں۔اُمید کی کوئی کرن ان سے پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ ایک بڑی کہانی ہے جسکے مختصر دو اسکرین شارٹ ملاحظہ فرمائیں۔ بڑھیا کے کم عقل پوتے کو شہزادی کی گڑیا مل گئی۔ بڑھیانے پوتے کو سلایااور صحن میں چنے بکھیر دئیے۔ وہ اٹھا تو بتایا کہ چنوں کی بارش ہوئی ہے۔ بادشاہ نے قیمتی گڑیاکی منادی کرائی تو لڑکے نے بتایا کہ مجھے ملی ہے۔ دادی نے کہا کہ جھوٹ ہے، اس کو پوچھو کہ کس دن کا واقعہ ہے، لڑکے نے کہا کہ جس دن چنے کی بارش ہوئی تھی۔پھرپوتے نے دادی سے اپنی شادی کامطالبہ کیا تو دادی نے کہا کہ کوئی لڑکی پسند آئے تو اس کو کنکر مارو، اگر و ہ ہنسے تو رشتہ مانگ لوں گی۔ لڑکے نے شہزادی کو کنویں کے کنارے کنکر مارا، وہ کم عقل کی حرکت پر مسکرائی لیکن لڑکے نے بڑا پتھر سر پر دے مارا تاکہ خوب ہنسے۔ اپنی دادی کو بتایا کہ لڑکی نے مجھے بڑا پسند کیا مگر وہ ہنستے ہوئے خوشی سے کنویں میں گر گئی۔دادی نے کنویں میں بکرا، گدھا اور دنباپھینک دئیے۔ بادشاہ نے گمشدہ شہزادی کی برآمدگی پر انعام کابڑا اعلان کیا تو لڑکے نے ماجراء سنایا۔ بادشاہ نے لڑکے کو کنویں میں اتارا۔ لڑکے نے کہا کہ بادشاہ تمہاری بیٹی کے جسم پر اون تھا؟۔ بادشاہ نے کہا کہ ہاں، دم تھی،کیا اسکے سینگ تھے؟۔ بادشاہ ہاں ہاں کرتا رہا۔ چارپاؤں، بڑے بڑے کان کے بعد آخر اس کا ہاتھ گدھے کے ذکر پر لگا تو کہا کہ تیری بیٹی کا اتنا بڑا ذکر تھا؟۔ بادشاہ بڑا شرمندہ ہوا ،اور کہا کہ خبیث بس کرو بس کرو، میری کوئی بیٹی نہیں اور اس کو کنویں سے جلدی نکلوادیا۔جب نبیﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوا، اسلام اجنبیت کا شکار ہوا تو بادشاہ کا دل اپنے باپ کی لونڈی پر آگیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ کسی عورت کو ہاتھ لگانا بھی نکاح کی طرح ہے ،باپ کی لونڈی جائز نہیں۔ امام ابویوسف نے حیلہ بتایا کہ لڑکی کی گواہی قابلِ قبول نہیں، لونڈی کی بات ہی مسترد کرو، کہ تمہارے باپ نے اس کو ہاتھ بھی لگایا ہے۔ پھر آنے والوں نے حرمت مصاہرت کے مسائل کو اسطرح دریافت کیا ، جس طرح بڑھیا کا کم عقل پوتا کنویں میں شہزادی کی خبر بادشاہ کو دے رہا تھا۔ نیند میں غلطی سے ساس کیساتھ جماع حرمت مصاہرت ہے اورہاتھ لگنا بھی حرمت مصاہرت ہے، اپنی بیوی کیساتھ مباشرت اور بچے کی پیدائش کے بعد اصولاً حرمت مصاہرت ہے لیکن ضرورت کی خاطر بیوی جائز ہے۔ ساس کی شرمگاہ کواگر باہر سے شہوت کیساتھ دیکھ لیا تو عذر ہے لیکن اندر سے دیکھ لیا تو حرمت مصاہرت ہے۔ ملاجیون کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ برصغیر پاک وہند کے کم عقل پڑھ اور پڑھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انگریز کے ذریعے دنیا پر قبضہ کرواکر ملا سے جان چھڑائی۔پہلے تعلیم ملاؤں کی رہین منت ہوتی تھی ،اب انگریزی تعلیم ہے۔انگریز کو معلوم ہے کہ جب تک شام وعراق میں داعش کے ذریعے مسلمانوں کی اپنی خواتین کو نکاح بالجہاد کا فلسفہ نہیں سمجھائے، جس میں پنج وقتہ نماز کی طرح ایک خاتون کے دن میں پانچ شوہر بدل بدل کر ریپ کروایا جاتا ہے، تب تک ان کو سمجھ یہ بات نہیں آئے گی کہ مغرب کی خواتین کو لونڈی بنانا بھی برا ہے۔ آج میڈیا میں داعش کی اس کارکردگی پر پرد ہ ڈالا گیا ہے۔ اوریا مقبول جان جانتا ہے کہ ایک دفعہ بیوروکریسی سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد وہ دوبارہ اس نظام کا حصہ نہیں بن سکتا ہے وہ کوشش میں ہے کہ کوئی نیا سیٹ اپ آجائے تاکہ پھرنوکری کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو اور آدمی کی سوچ اپنے ماحول سے آگے جا بھی نہیں سکتی ہے۔اوریا مقبول نے ملاؤں کی حکومت میں نوکری کا خواب دیکھاہے۔جب یہودونصاریٰ کے مذہبی گروہ ناقابلِ اصلاح ہوچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے عرب ان پڑھوں کا انسانیت کیلئے انتخاب کیا اور دنیا کو عربوں کے ذریعے انسانیت کا درس دیا۔ یہ وہ عرب تھے جن کے ہاں حضرت ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ بنی اسرائیل کے مذہبی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو قدرت نے بھی مسترد کردیا تھا۔ جب ان کی خواتین کو عربوں نے لونڈی بنایا تب انکے دل ودماغ بھی کھل گئے اور پھر مسخ شدہ مذہب کو ترک کرکے عروج کی منزل پر پہنچ گئے۔آج اہل مغرب کی فطرت وہ نہیں۔اسلام کی نشاۃ اول عربوں کے ذریعے ہوئی تھی اور قرآن کا پہلا مخاطب مسلمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ کا لفظی تحریف سے حفاظت کا ذمہ خود لیا،اسلئے کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے۔ جسطرح ابراہیم ؑ کے بعد عربوں میں دین اجنبی بن گیاتھا، اس طرح حضرت نوح ؑ کے بعد سے ہندوؤں میں دین اجنبی ہے۔ قرآن کا دوسرا مخاطب عوام الناس اور عالم انسانیت ہے۔ دین میں زبردستی کا کوئی شائبہ تک بھی نہیں ۔ رسول ﷺ کی سیرت طیبہ اعلیٰ نمونہ اور قرآن نبیﷺ کی سیرت ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ نبیﷺ نے کسی مجبوری میں نہیں بلکہ دین کے تقاضے کے عین مطابق کیا تھا۔ اگر مشرکین مکہ اس کو نہ توڑتے تو یہ فتح مبین کا معاہدہ دس سال تک حضرت عمرفاروق اعظم ؓ کے دورِ خلافت تک قائم رہتا۔ مکہ کو جس انداز سے فتح کیا وہ بھی انسانیت کیلئے جیت اور بہت بڑا سبق تھا لیکن اگر معاہدہ برقرار رہتا تو اسلام زمین میں جڑ پکڑ لیتا اور اتنے کم وقت میں فتنے وفساد کا بازار گرم نہ ہوتا اور نہ خلافت راشدہ امارت وبادشاہت میں بدل جاتی۔صلح حدیبیہ کی ایک اہم شق یہ بھی تھی کہ ’’ کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مشرک بن جائے تو مشرکین اسے مسلمانوں کو واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن اگر کوئی مشرک مسلمان بن جائے تو مسلمان اس کو واپس لوٹا دیں گے‘‘۔ آج مغرب نے جاہل مسلمانوں کیساتھ یہ شق مانی ہوئی ہے کہ اگر تم کسی کو عیسائی نہیں بننے دیتے ہوتو خیر ہے لیکن ہمارا کوئی عیسائی مسلمان بنتا ہے تو اس کو اپنے پاس رکھ لو۔ دین کا تعلق روح اور دل کیساتھ ہے۔ جب کوئی دل سے ہی مسلمان نہ ہو تو اس منافق کے دھڑ کو لیکر مسلمانوں نے کیا کرنا ہے؟۔ منافق جہنم کے نچلے درجے میں ہونگے جبکہ مشرک وکافر ان سے کہیں بہتر ہونگے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ فطرت کا تقاضہ تھا لیکن جذباتی صحابہ کرام ؓ نے وقت پر نبیﷺ کی بصیرت کو نہیں سمجھا ۔اللہ نے مسلمانوں کو قرآن میں یہ گنجائش دی کہ ’’ اگر زبردستی سے جاہل ان کو کلمۂ کفر بکنے پر بھی مجبور کریں تو ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ‘‘۔ سندھ میں ہندو بچیاں اسلام قبول کریں تو انکے والدین ، گھر ،محلے ، رشتہ داروں اور کمیونٹی والوں کو اس کرب کی کیفیت سے گزارنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتاہے۔ بچیاں اپنے گھر میں رہیں اگر وہ دل سے مسلمان ہیں اور زبان سے اقرار نہیں کرسکتی ہیں تو بھی مسئلہ نہیں۔ پاکستان، اسلام ، سندھ اور عالمِ انسانیت کی بہادر بیٹی ہدیٰ نے جو آواز اٹھائی یہ اسلام کی روح اور سندھ و پاکستان کیلئے باعثِ افتخار ہے۔ والدین کے دل چھلنی کرنے سے نہیں بلکہ انسانیت کا دل جیتنے سے قرآن ، نبیﷺ کی سیرت اور انسانیت کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔ مولوی، پیر اور فقیر پہلے درسِ نظامی کے گند کو صاف کردیں۔ علامہ خادم حسین رضوی نے بی بی آسیہ کا نام لینا چھوڑ دیا۔ دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر قبضہ کیا لیکن ربوہٰ پر قبضہ نہیں کیا۔ علامہ خادم حسین رضوی ربوہٰ کو فتح کرکے دکھائیں تومحمود غزنوی کے بیٹے بن سکیں گے۔ آج جن کی دم اٹھااٹھاکراستعمال کیا جارہاہے کل یہ ربوہٰ پر چارج ہوکر ہلا بول دیں گے۔ فوج نے دہشت گردوں کو پختونوں پر چھوڑ دیا تو خود بھی محفوظ نہیں رہی اور پختونوں نے دہشت گردوں کو فوج پر چھوڑا تو خود بھی نہ بچ سکے اور یہ مکافاتِ عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جو مسلمان دنیا بھر میں دہشت گردی کی فضاؤں کو بڑا کمال سمجھ رہے تھے انہوں نے نیوزی لینڈ کے ایک واقعہ پر طوفان اٹھا دیا۔ انصاف یہ نہیں کہ اپنے ساتھ زیادتی پر واویلا کیا جائے اور دوسرے کیساتھ زیادتی کو اپنا حق سمجھا جائے۔ سوشل میڈیا پر فضول پروپیگنڈے بھی انسانیت کے بالکل منافی ہیں۔ISI کا نام استعمال کرنے والوں کودھر لیا جائے۔غزوہ ہند کا مطلب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے جدوجہد اور دوسرے نہیں اپنے حکمرانوں کو ہی پکڑکر طوق وسلاسل میں جکڑنا بھی ہوسکتا ہے۔جس طرح ہندو اپنے ویدوں سے دور ہیں اس طرح مسلمان قرآن وسنت سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ جس طرح مشرکین مکہ نے اسلام قبول کرکے قرآن کی نشاۃ اول میں بنیادی کردار ادا کیا، اسی طرح ہندو انسانیت کی بنیاد پر اسلام کو سپورٹ کرکے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی طرح ہمارے مذہبی طبقات بھی اپنی انسانی فطرت کھو چکے ہیں۔ اگر ہماری اپنی ریاست ان کی پشت پناہی چھوڑ دے تو غیرتمند عوام کے ہاتھوں یہ ایک دن حلالہ کی لعنت پر ایسے شکار ہوجائیں گے جیسے نیوزی لینڈ کے معصوم اور بے گناہ نمازی ہوئے تھے۔ اب انکے دانت کھٹے ہیں ،پہلے انکے دلائل کا کسی کے پاس جواب نہیں ہوتاتھا اور اندھے ایکدوسرے کے خلاف لاٹھی چلاتے تھے۔ اب وہ دلائل سے بالکل عاری ہوچکے ہیں۔ اپنی کتابوں اور مبلغ جہالت کا دفاع بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ اپنے خراب انڈوں پر بیٹھ کرپاگل کڑک مرغی کی طرح کٹ کٹ کرکے اپنا ہی وقت ضائع کررہے ہیں۔ جذبات کی شکار عوام کو حقائق کا پتہ چلاتو وہ مولوی صاحبان کو بھی شعور کی دولت سے نوازیں گے۔

عالمِ اسلام کو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کرکے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنا ہوگا

قرآن وسنت کے منشور سے امت مسلمہ بالکل بہرہ مند نہیں ۔ سودی نظام کو پہلے آئین پاکستان میں بھی تحفظ حاصل تھا اور پھردیوبندی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی وبریلوی مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے حیلے سے بھاری معاوضے لیکراسلامی مدارس کے ذریعے بھی سودی نظام کو جواز بخشنا شروع کردیا ۔ رسولﷺ نے زمین کی مزارعت کو بھی سود قرار دیا تھا۔ علماء ومفتیان اور شیوخ الاسلام ومفتیانِ اعظم کے حربے کوئی نئے نہیں بہت پرانے ہیں جن سے وہ اپنا اُلو سیدھا کرکے اسلام کو اجنبیت کا شکار بناتے چلے گئے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کراچی میں شادی بیاہ کی رسم میں لفافہ کو سود اور اسکے 70سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیا۔ ان لوگوں کو حلالہ کی لعنت سمجھانے پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اسلئے کہ انکے مصنوعی تقوے کا عالم انتہائی درجہ کے بھیانک تضادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایاتھا کہ فلاتمنن فتکثر ’’اسلئے احسان نہ کرنا کہ زیادہ بڑا بدلہ ملے گا‘‘۔ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ انقلابی قوم کی خیرخواہی کا احسان کرتے ہیں تو انکے بدلنے کی اُمید بھی رکھتے ہیں۔ نبیﷺ کو بھی احسان کے بدلے اچھے کی اُمید تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قوم سے یہ اُمید رکھنے کی توقع سے منع فرمادیا۔ جس طرح آج ہم قوم کو حلالہ سے بچانے کی بات کرکے اچھے کی امید رکھتے ہیں لیکن ڈھیٹ علماء ومفتیان کی ڈھٹائی کا عالم ہم نہیں سمجھتے ہیں۔ اگر علامہ خادم حسین رضوی کو پتہ چل جائے کہ مفتی تقی عثمانی نے اس آیت کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کی ذات پر سود کا گھناؤنا الزام لگادیا ہے تو بھی حکومت کی پشت پناہی سے ڈر کر عشق رسول ﷺ کا ثبوت نہیں دینگے۔
1: نبیﷺ نے کسی خوف یا لالچ میں صلح حدیبیہ کادس سالہ معاہدہ نہیں کیا تھا بلکہ یہی دین ،ایمان ، اسلام کا تقاضہ تھا۔ منافق جہنم کے نچلے حصہ میں ہوگا۔ اگر کوئی منافق اسلام چھوڑ کر مکہ چلا جاتا تو مسلمانوں کا فائدہ بھی اسی میں تھا۔ وہ منافق بھی نچلے درجے سے نکل کر جہنم میں اوپر آجاتا۔ اگر مسلمان مشرکوں کو واپس کیا جاتا تویہ اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں تھا۔ یہ تبلیغ کا زبردست ذریعہ تھا۔ اگر کسی کو کلمۂ کفر پر مجبور کردیا جائے تو قرآن میں اس پر گرفت نہ ہونے کی وضاحت ہے۔ آج عیسائی طاقت کے باوجود جاہل مسلمانوں سے یہی رویہ رکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو عیسائی نہ بننے دیا جائے اور عیسائیوں کو مسلمان بننے دیا جائے تو مسئلہ نہیں۔
2:اگر مشرکینِ مکہ حدیبیہ کا معاہدہ نہ توڑتے تو مسلمان اس کو دس سال حضرت عمر ؓ کے دور تک قائم رکھتے اور شاید مزید توسیع بھی کردیتے۔ فتح مکہ پراچھائی یہ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں سے اچھا سلوک کیا اور برا یہ ہوا کہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے بعض لوگوں کو قتل کیا ،جس سے نبیﷺ نے برأت کا علان فرمایا۔ جولوگ فتح مکہ کے بعد بھیڑ چال میں مسلمان ہوگئے تو نبیﷺ کے وصال کے بعد گاؤں کے گاؤں مرتد بھی بن گئے اور حضرت ابوبکر ؓ نے مشکل سے ان پر قابو پایا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اسکی بیگم سے عدت میں شادی بھی رچالی، حضرت عمر ؓ نے سنگسار کرنے کا مشورہ دیا لیکن حضرت ابوبکر ؓ نے تنبیہ کردی۔ یہی وجہ تھی کہ خلافت راشدہ کے دور میں حضرت عثمان ؓ اور پھر حضرت علی ؓ شہید ہوگئے ، حضرت حسن ؓ کو دستبردار ہونا پڑا۔ سانحہ کربلا برپا ہوگیا۔ خلافت بنوامیہ ، بنوعباس اور پھر ترکی خاندان کی لونڈی بن کے رہ گئی تھی۔
3: مشرکین مکہ سے مسلمانوں کی قرابتداریاں تھیں اسلئے ان سے نکاح کو واضح الفاظ میں منع کیا گیا،جنکے مقابلے میں غلام مرد سے مسلمان عورت اور لونڈی سے مسلمان مرد کو زیادہ قابل ترجیح قرار دیا ۔ نسل سے کردار کو ترجیح دی گئی۔ یہ مذہبی مسئلہ نہیں تھا بلکہ انسان کے اعلیٰ اخلاقی کردار کی بات تھی۔ مشرک تو عیسائی بھی تھے جو تین خداؤں کا عقیدہ رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں انتہائی گستاخانہ عقیدہ رکھنے والے یہود بھی کافر تھے لیکن ان کی خواتین سے نکاح کی کھلی اجازت دی گئی۔ حضرت علی ؓ کی بہن حضرت ام ہانی ؓ پہلے اسلام کو قبول کرچکی تھیں لیکن ہجرت نہیں کی اور فتح مکہ تک مشرک شوہر کیساتھ رہی۔ نبیﷺ نے اسکے کہنے پر اسکے شوہر کو پناہ بھی دی اور کسی نے اس تعلق پرحرامکاری کا فتویٰ بھی نہیں لگایا تھا۔ علماء ومفتیان کو سمجھانا پڑیگا۔
4: نکاح کیلئے عورت کا راضی ہونا ایک بنیادی حق ہے۔ کوئی باپ بیٹی کا نکاح اسکی مرضی کے بغیر کردے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔صحیح بخاری کا یہ عنوان ہے۔ اگر معاشرے کو مذہبی تبلیغ کے ذریعے پابند کیاجاتا تو کوئی بچی گھر سے بھاگ کر شادی نہ کرتی۔ جب معاشرے میں بڑی سطح پر اس کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکیاں بھاگ کر شادیاں کرتی ہیں۔ نبیﷺ نے اس نکاح کو باطل قرار دیا جو ولی کی اجازت کے بغیر ہو۔ نکاح کیلئے دو صالح گواہ ضروری قرار دئیے اور دف بجاکر نکاح کے اعلان کا حکم دیا لیکن علماء ومفتیان نے قرآن وسنت کو نظر انداز کرتے ہوئے غیرفطری معاملات کو مذہب کے نام سے جائز قرار دیا۔ سسرالی رشتہ دار وں کا اللہ نے بطور احسان نسبی رشتہ داروں کی طرح ذکر کیا مگر دشمنی مول لینے کا تماشہ لگایاجاتا ہے۔
5:جب دنیا میں لونڈیوں اور عباد( غلاموں )کی رسم تھی تو اللہ تعالیٰ نے بیوہ وطلاق شدہ کے علاوہ لونڈی اور غلاموں کا نکاح کرانے کا بھی حکم دیدیا۔ جس طرح آزاد مشرک سے غلام اور آزاد مشرکہ لونڈی سے نکاح کو ترجیح قرار دیا،اسی طرح آزاد عورت سے غلام کے نکاح کی صورت بھی بتادی۔ اسکے علاوہ اپنی جوان لڑکیوں کو بھی چھپ کربدکاری یا کھل کر بغاوت پر مجبور نہ کرنیکا حکم دیاجب وہ نکاح کرنا چاہتے ہوں۔ کیونکہ قرآن سے رہنمائی لینے کے بجائے فقہی مسالک کی وکالت پر لکھی جانے والی کتابیں مدارس کے نصاب میں موضوعِ بحث بن گئی اسلئے قرآن کی واضح آیات کے احکام بھی لوگوں سے اوجھل ہوتے چلے گئے۔ علماء کرام نے اگر جرأت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں بھی برکت عطاء فرمائیگا۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سودی نظام کو جواز بخشنے والے مذہبی قوتوں نے اسلام اور غریب کا دامن چھوڑ کو خود کو بہت کمزور بنادیا۔
6: میاں بیوی کا نکاح ہو تو اسلام نے صرف مردوں پر حق مہر کو فرض کیا ہے۔ جہیز کی رسم ایک لعنت ہے۔ حق مہر اتنا معقول ہونا چاہیے کہ مرد نکاح کو کھلواڑ بنانے سے دریغ کرنے پر مجبور ہو۔ مفت میں عورتیں ملتی ہی رہیں گی تو مرد بڑے مزے لے لے کر عورتوں سے کھلواڑ کرنے کے جرائم بھی کرتے رہیں گے۔ حق مہر لڑکی کا اپنا حق ہوتا ہے۔ پختون قوم کو حق مہر کھانے کی بے غیرتی سے نجات دلانی ہوگی اور پنجابیوں کو جہیزکی لعنت سے چھٹکارا دلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔ پاکستان کی عوام میں خوبیاں زیادہ اور نقائص کم ہیں لیکن وہ اپنے نقائص سے نجات حاصل کرنے کی کوشش نہ کرینگے تو اپنی خوبیوں کا بھی پھرپور فائدہ نہ اٹھاسکیں گے۔
7: ہاتھ لگانے سے پہلے عورت کو طلاق دی جائے تو نصف حق مہر دینا ہوگا لیکن باہمی رضامندی سے کوئی معاف کرنا چاہے یا پورا دینا چاہے تو بھی آپس میں ایکدوسرے کیساتھ اچھائی کا سلوک نہ بھولیں۔عورت پر ایسی صورت میں کوئی عدت نہیں ۔ جس سے یہ بھی واضح پتہ چلتاہے کہ شوہر عدت کا حقدار ہوتا ہے۔ 3طلاق کی ملکیت کے تصور سے عورت کی حیثیت لونڈی سے بھی بدتر بن جاتی ہے۔ لونڈی کو مذاق میں کہا جائے کہ آزاد ہے تو وہ آزاد ہوجاتی ہے لیکن عورت کو طلاق دی جائے اور پھر اس سے کہا جائے کہ ایک دی ہے تو بھی اس کی جان نہیں چھوٹ سکتی ہے۔ دو مرتبہ طلاق کہنے سے بھی جان نہیں چھوٹ سکتی ہے۔ فقہ نے اس مسئلے کو اتنا پیچیدہ بنادیا ہے کہ اچھے اچھوں کا دماغ بھی گھوم جاتا ہے۔ طلاق سے رجوع کیلئے صلح کی شرط ہے اور یہی معروف رجوع ہے جس کا قرآن میں بار بارعدت کے اندر، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے بعد بڑی وضاحتوں کیساتھ سورہ بقرہ اور سورہ طلاق میں زبردست ذکر ہے۔ علماء ومفتیان ان وضاحتوں کے بجائے یا تو فقہ کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں یا حلالے کے چکر میں اپنی جنسی خواہش کی پیاس بجھادیتے ہیں۔
8: عورت کو اللہ تعالیٰ نے خلع کا حق دیا ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت229میں نہیں بلکہ سورہ النساء کی آیت19میں ہے۔ خلع میں حق مہر کے علاوہ شوہر کیطرف سے دی گئی اشیاء زیورات، رقم اور گاڑی وغیرہ سب منقولہ چیزیں لیجانے کا بھی حق ہے۔ شوہر اسلئے نہیں روکے کہ بعض چیزوں سے وہ دستبردار ہوجائے ۔ البتہ فحاشی کی صورت میں بعض اشیاء سے محروم کرسکتا ہے لیکن اس کیلئے کھلی فحاشی میں مبتلاء ہونے کیلئے شوہر کی طرف سے عدالت کے سامنے لعان کے حکم پر عمل کرنا پڑیگا۔خلع میں عورت کی عدت صرف ایک حیض ہے۔
9: شوہر کو طلاق کا حق ہے لیکن طلاق کے بعد حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ اور غیرمنقولہ دی ہوئی جائیداد کو بھی واپس نہیں لے سکتا ہے اور حق تلفی کیلئے بہتان لگانا بھی بڑی بے غیرتی ہے۔ سورہ النساء آیت20,21 اگر دنیا میں قرآن کا قانون نافذ کیا جائے کہ مرد طلاق دیگا تو وہ عورت کو گھر سے بے دخل نہیں کرسکتا بلکہ اپنے لئے کوئی متبادل بندوبست کریگا تو پوری دنیا قرآن کے احکام کو من وعن نافذ کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔
10:حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون ؑ کو سراور داڑھی سے پکڑا کہ سامری کے گوسالہ پر قوم کوشرک سے منع کیوں نہ کیا؟، مسلمان بھائی فرقہ واریت پر ایکدوسرے سے دست وگریبان ہیں، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ نے بریلوی دیوبندی مکاتبِ فکر کو سر اور داڑھی کے بالوں سے باندھنے کی کوشش کی۔ حاجی عثمان ؒ کے مرید نے دل ودماغ سے سب کو باندھنے کا کارنامہ انجام دینا ہے۔ انشاء اللہ العزیز۔ سیدعتیق الرحمن گیلانی

برصغیر پاک و ہند میں گائے کے دودھ اور پیشاب پر صلح کا معاہدہ کیا جائے: اشرف میمن

نوشتۂ دیوار کے پبلیشر اشرف میمن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کابازار گرم ہے، بھارت کو عوام کی بد دعائیں لے ڈوبیں گی۔ پاک فوج مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے اب راست اقدام اٹھائے۔ عوام شانہ بشانہ لڑیگی۔ لتا حیا کی شاعری وبھارتی ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے کی سوچ برصغیر پاک وہند میں پھیلائی جائے اور ساتھ ساتھ اس پر صلح ہو کہ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کیا جائے اور برصغیر پاک وہند میں گائے ذبیح کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ گاؤ ماتا ہندوؤں کا مقدس دیوتا ہے۔ اسکا دودھ مسلمانوں، پیشاب مودی جیسے متعصب ہندوؤں کو پلایا جائے۔ پاکستان اور بھارت میں صلح کیلئے ہر ممکن معاہدہ کیا جائے ، مقبوضہ کشمیر میں انسانوں اور گائے کا خون نہ بہانے سے امن قائم ہو تو بہتر رہے گا۔ پاک بھارت میں انشاء اللہ ایٹمی جنگ نہیں ہوگی بلکہ یہ ناچاقی دونوں ملکوں میں دوستی کا ذریعہ بنے گی۔ بھارت کو منانے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کو اس حد تک گرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اس سے مودی کے اندر غرور اور تکبر و جہالت کا جذبہ مزید بڑھے گا۔

ایٹمی جنگ ہوگی تو کیوں اور نہیں ہوگی تو کیوں نہیں ہوگی؟ ایڈیٹر نوشتہ دیوار اجمل ملک

برصغیر پاک و ہند پر ایٹمی جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اگر ایٹمی جنگ ہوگئی تو اس کا سبب کیا ہوگا؟۔ اور اگر جنگ کے خطرات ٹل گئے تو وجوہات کیا ہوں گی؟۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اگر عورت کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مقرر کردہ نصف حق مہر دینا ہوگا اور اگر حق مہر مقرر نہ ہو تو امیر پر اپنی وسعت کے مطابق اور غریب پر اپنی وسعت کے مطابق حق مہر دینا ہوگا۔ اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے ماہنامہ ’’اشاعۃ التوحید و السنۃ‘‘ پنج پیر صوابی نے انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے مدرسے کیلئے چندے کی رقم طلب کرنے کی ترغیب دی تھی۔ یہ میجر عامر کے بھائی شیخ القرآن مولانا طیب صاحب کے زیر سرپرستی نکلتا ہے۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں نصف حق مہر ہے تورخصتی اور کئی سالوں کے بعد طلاق دینے پر پورا حق مہر کیسے فرض نہ ہوگا؟۔ ایک بہت بدھو شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ تمام دی ہوئی چیزوں کی بھی وضاحت کی ہے کہ کوئی چیز واپس نہیں لی جاسکتی۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’دی ہوئی چیزوں سے مراد حق مہر ہے‘‘۔ اس نے یہ تفسیر لتا حیاء کو بھی بھیج دی تھی۔ سورہ نساء آیت 20، 21میں واضح طورپر اللہ نے فرمایا کہ ’’طلاق کی صورت میں دی ہوئی چیز نہیں لی جاسکتی ‘‘۔ اور سورہ بقرہ آیت 229میں یہ بھی واضح ہے کہ ’’جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لینا حلال نہیں الا یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اوراگرتمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اسکے بغیر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں‘‘۔ یہ بھی طلاق کی صورت ہے۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو مرتبہ طلاق کے بعد آیت 229 تسریح بالاحسان ہی قرآن میں تیسری طلاق ہے۔ خلع کی صورت سورہ نساء آیت 19میں واضح ہے۔ جہاں عورت کو نہ صرف خاوند چھوڑنے کا حق دیا گیا ہے بلکہ منقولہ اشیاء کو ساتھ لے جانے کی وضاحت بھی ہے۔ لتا حیا کو قرآن کی صحیح تفسیر پیش کی جاتی تو تمام کٹر ہندو بھی اسلام قبول کرنے میں باک نہیں سمجھتے۔ حلالہ کی لعنت اور گائے کی وجہ سے جب انسانوں کا قتل ہوتا ہے تو بر صغیر پاک و ہند ایٹمی عذاب کے مستحق بنتے ہیں اور اگر ان کی اس لعنت سے جان چھڑائی جائے تو ایٹمی جنگ کا عذاب اللہ تعالیٰ ٹال دے گا۔

تم نے صدیوں سے اسلام کو یرغمال بنا کے رکھا ہے: سید عتیق الرحمن گیلانی

71 سال سے منے کے ابا نے غلام بنا کے رکھا ہے۔مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن کا سوشلل میڈیا کنونشن سے خطاب کراچی( فیس بک) مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ رسول اللہﷺ نے مسجد کی امامت اور سیاست کی وراثت بھی چھوڑی۔ یہ غلط ہے کہ سیاست کو برا سمجھا جائے۔ اللہ نے آدمؑ کو خلیفہ بنایا۔ حضرت آدم ؑ کوعلم کی بنیاد پر فضلیت دی۔ علم میں دنیا اور آخرت کی تقسیم غلط ہے۔ علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند کو غلط تقسیم کیا گیا۔ مسجد کی امامت کیلئے مخصوص حلیہ ضروری ہے، جب تک داڑھی، پگڑی ، ٹوپی اور لبادہ نہ ہو تو کوئی مسجد کے مصلحے پر کھڑا نہیں ہوسکتا، نہیں تو نذیرلغاری مسجد کی امامت کرکے دکھا دے۔ اور مقبول جان کا بڑاعلم ہے، انیق احمد کا بہت اچھا علم ہے لیکن امامت نہیں کرسکتا۔ایک معمولی درجہ کا ناظرہ قرآن پڑھنے والا جب داڑھی رکھ لیتا ہے، مخصوص حلیہ بنالیتا ہے تو مسجد کی امامت کا حقدار بن جاتا ہے۔ اسلام پہلے عبودیت سکھاتا ہے اور جو اس عبودیت میں پختہ ہوجاتا ہے تو پھر وہ خلافت کے قابل بن جاتا ہے۔ جب خلافت کی ذمہ داری مل جاتی ہے تو اسکے فرائض منصبی بدلتے ہیں۔ پھر مخلوق کی خدمت اسکی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے ووٹ تو اسلام کیلئے دیا تھا اور اب مجھ سے خدمت نہیں مانگو۔ کورٹ کچہری اور تھانہ جانا میرا کام نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ بعض لوگ آج مغرب کے پروپیگنڈے کا شکار ہیں کہ اسلام میں موروثی نظام نہیں، مغرب کا حسب نسب نہیں ہوتا، اسلام میں حسب نسب ہے۔ پیغمبر اپنے دور کے شریف نسب میں مبعوث ہوتے تھے۔ حضرت سلمان ؑ حضرت داؤودؑ کا بیٹا تھا۔ جنکا کوئی اپنا حسب نسب نہ ہو،وہ لوگ موروثی نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ البتہ اعمال صالحہ ضروری ہیں، حضرت نوحؑ نے کہا کہ ’’ میرے بیٹے کو بچالو، تو اللہ نے فرمایا کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ،اسکا عمل صالح نہیں ‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ نے عبودیت کی تکمیل کی۔ایک اللہ کی طرف لوگوں کو بلایا۔ بتوں کو توڑا، آگ میں ڈالے گئے ۔اللہ کے سامنے چند کلمات کہے اور پھر اس میں پورے اترے تو اللہ نے امام بنادیا۔ آپ ؑ نے عرض کیا کہ میری اولاد میں بھی ،فرمایا: میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا‘‘۔ جب تک فوج کا اقتدار ختم نہیں ہوتا تو ہم یومِ آزادی نہیں منائیں گے، دھاندلی بھی کروائی جاتی ہے اور پھر دھاندلی والے کا نام لینے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ ایک عورت کو سمجھایا گیا کہ شوہر کانام نہیں لیتے، وہ نماز میں سلام پھیرتی تو رحمۃ اللہ کی جگہ منے کا ابا بولتی۔ جس پر سب نے دل کھول کر قہقہ لگایا۔ مولانا نے کہا کہ ’’جب الیکشن میں بھی دھاندلی سے ہرا دیا جائے تو ہم اپنا مقابلہ جاری رکھیں گے‘‘۔ پوری تفصیل کیلئے سوشل میڈیا پر دیکھ لیں ، ہم نے خلاصہ پیش کردیا ہے تاکہ تبصرہ ہوسکے۔

مولانا فضل الرحمن کے بیان

71سال سے منے کے ابا نے یرغمال بنا کے رکھا ہے

پر تبصرہ

تم نے صدیوں سے اسلام کو یرغمال بنا کے رکھا ہے

مولانا فضل الرحمن کی سیاست اسمبلی کی رکنیت کی مار ہے، پہلی بار نہ ہارے ،اگر ٹانک سے بیٹے کو کھڑا نہ کرتے تو سیٹ جیت لیتے۔ پچھلی بار بیٹا اسمبلی میں نہیں پہنچ سکا تو شاید بیگم نے ڈانٹ دیا ہوگا کہ مفتی محمود کے دوسرے بھی فرزند اور پوتے ہیں ، اگر بیٹے کو اسمبلی میں نہیں پہنچایا تو یہ وراثت گھمبیر ہوسکتی ہے۔ بڑے چھوٹوں کیساتھ زیادتی کا مرتکب کرتے ہیں۔ شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ اسلئے نہ کیا کہ ابلیس نے عبادت ، حلیہ، بڑائی اور خدمات کو پیشِ نظر رکھا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، حضرت یوسف ؑ سے بھائیوں نے کیا سلوک کیا؟۔ اکابر چھوٹوں کے ساتھ یہ سلوک رکھتے ہیں۔ 1970ء میں شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کو مفتی محمودؒ اور اسکے ساتھی چھوٹے اور بے نسب لگتے تھے اسلئے ان پر کفر کا فتوی داغا گیا؟۔ مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پر مولانا محمد امیر بجلی گھر کی تقریر سنی ہے جسمیں وہ کہتا ہے کہ ’’ مسجد کے امام کا بیٹا اہلیت رکھتا ہو تو اسی کو امام بنایا جائے۔ مولانا فضل الرحمن جانشینی کی اہلیت رکھتا ہے تو مفتی محمود ؒ کی جگہ پراسی کو بیٹھنا چاہیے‘‘۔ حالانکہ جے یوآئی کوئی موروثی جماعت تو نہیں تھی، مفتی محمود کے باپ دادا نے تو نہیں بنائی تھی۔ مولانا بجلی گھر جے یو آئی کے رہنما تھے۔ بنوری ٹاؤن کے طالب علم مولانا عبدالرزاق ژوبی نے کہا کہ یہ خطیب بکواس میں وقت ضائع کرینگے تو میں چٹ لکھ دیتا ہوں تو مولانا فضل الرحمن کی تعریف کریں۔ اسوقت مولانا پر دوسرے علماء و مفتیان نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ مجھے بذاتِ خود مولانا بجلی گھر نے کہا کہ اتحاد امت بہت اچھا خواب ہے لیکن مولانا سمیع الحق اور فضل الرحمن بھی ایک نہ ہونگے۔ ٹانک میں JUI کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن مفتی محمود ؒ اور مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ بارگیننگ کی ۔ رسول اللہﷺ کے جانشین ابوبکرؓ اور خلافت راشدہؓ میں موروثی نظام نہ تھا، بنو امیہ و بنوعباس نے موروثیت سے خلافت کو برباد کیا ۔بلوچستان میں جے یوآئی جیتی مگر قوم پرستوں کو اقتدار دیا گیا، سرحد میں جے یوآئی کی نمائندگی نہ تھی تو وزیراعلی مفتی محمود ؒ کو بنوایا۔ MMA کے اقتدار میں علماء کی بھرمار تھی مگر چھوٹی داڑھی رکھواکر اکرم خان درانی کو وزیر اعلیٰ بنوایا گیا۔ جمعیت علماء اسلام نے فیصلہ کیا کہ انتخابی سیاست نہیں کرینگے ، بندوق اٹھانے کی بات مختلف اوقات میں اٹھائی تھی۔ پاک فوج نے ڈر محسوس کیا کہ یہ خطرناک ہوگا۔ اسلئے جب مولانا فضل الرحمن نے لاہور مینار پاکستان کی دہلیز پر اہم اعلان کرنا تھا تو اس کو روک دیا گیا حالانکہ یہ فیصلہ اجتماعی مشاورت سے ہوا تھا۔ جے یوآئی نے ماہنامہ میں لکھاتھا کہ ’’ احمد شاہ مسعود ایشاء کا سب سے بڑا کمانڈر ہے‘‘۔ جب افغانستان میں امریکہ نے خانہ جنگی کاپروگرام بنایا تو مولانا فضل الرحمن کے کارکن شمس محسود نے احتجاجی جلسے میں لہو گرمایا کہ ’’ احمد شاہ مسعود اتنا عیاش تھا کہ اس نے کہا کہ عیاشی کی کوئی صورت میں نے نہیں چھوڑی ، بس یہ رہ گیاکہ کوئی عورت میرے سامنے بچہ جننے کی کیفیت سے گزر جائے اور پھر اس نے وہ نظارہ دیکھ لیا تھا‘‘۔ جاہل عوام کو اس طرح ورغلانے سے بھی نہیں شرماتے تھے۔ مسجد کی امامت کوئی منصب نہیں رہا بلکہ پیشہ بن گیا ہے، پہلے عزت اور وقار کی نگاہ سے لوگ دیکھتے ، اب تومسجد کی امامت ہی نہیں مذہبی لبادے کی لیڈر شپ کو بھی نکمے قسم کے لوگوں نے اتنا بدنام کردیاہے کہ اس لبادہ میں لیڈری کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ امام الہندمولاناآزادؒ کی داڑھی چھوٹی تھی مگر علم تھا، اب بڑے ریش والے کیاجاہل ہیں؟۔مولانا کی پوری تقریر تضادات کا مظاہرہ ہے مگر لٹو کی طرح گھومنے والے کی کسی نے پکڑ نہیں کی، علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند پڑھے لکھے جاہلوں کی بہتات ہے مگرکوئی ان پر گرفت نہیں کرتا۔ عمران خان کو اسلامی جمعیت طلبہ کے جاہلوں نے پنجاب یونیورسٹی میں گریبان سے پکڑا۔

عمران خان کے برگشتہ ساتھی بیت اللہ بیٹنی کا تہلکہ خیز ویڈیو بیان

بیت اللہ بیٹنی کا ویڈیو پیغام، عمران خان کے برگشتہ ساتھی کا تہلکہ خیز بیان پہلے پی ٹی آئی کا دوپٹہ اپنے گلے میں ڈالا تھا

السلام علیکم خوش آباد رہو۔ پی ٹی ایم کے ساتھیو! موجودہ پروپیگنڈہ میں آپ کو بیدار ہونا چاہیے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ علماء خاموش ہیں، فتویٰ نہیں دے رہے۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کو فتویٰ جاری کرنا چاہیے کہ جہاد ہوگا۔ Retreat (پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے) نہ کرنا چاہیے، اسلام میں Retreat نہیں، انکے فتوے افغانستان کے جہاد میں پشتونوں کو لیجانے ہیں۔ انکا فتویٰ ہے کہ تورخم کو بند کرنا جائز ہے۔ یہ فتویٰ نہیں ہوتا کہ انڈیا سے ہم لڑینگے۔ فتویٰ ہوتا ہے کہ وزیرستان کے معصوموں کیلئے دعا ناجائز ہے اور یہ ذکر کہ وہاں مائن لگے ہیں یہ ناجائز ہے۔ مولانا مسعود اظہر نے سخت زبان استعمال کی ہمارے عظیم لیڈر منظور، پشتونوں، ولی خان ،ہم کامریڈز کے بارے میں۔ ہم نے خود کو بیچنا نہیں ۔ پشتونو! خود کو نہ بیچو!۔ اس دور میں آپ کو پھر کوئی ایندھن نہ بنائے۔ ہم ضرور ساتھ دینگے مگر دیکھیں گے یہ لڑتے یا نہیں؟۔ اربوں روپے دفاع پر خرچ مگرآؤٹ پٹ نہیں۔ وہ ہمیں یا ہم ان کو قبضہ کریں لیکن ضرور کریں۔ اتنا بڑا بجٹ، ٹینک، میزائل، توپیں ، طالبان اور مجاہدین بنانا،اُ دھر سے انہوں نے بھی بنائے، آخر ان کا استعمال ہونا چاہیے۔ ہم امن کی بات کریں تو ہمارا امن ان کو پسند نہیں آتا۔ خیبر ٹی وی پر ہمارے مشر بولتے ہیں تو امن والوں کو یہ چھوڑتے نہیں تو جنگ میں جاؤ ۔ جتنا غصہ افغان باونڈری پر آتا ہے اتنا غصہ ادھر بھی دکھانا پڑیگا ورنہ ہم کہیں گے کہ تم ادھر بھی پشتون اور اُدھر بھی پشتون کو مروا رہے ہو۔ دیکھو اُدھر سے انکا پنجابی بھائی پیدا ہوا، جنہوں نے سب سے زیادہ پاکستان کی مخالفت کی، مسلمانوں کو قتل کیا لیکن یہ پھر بھائی بنتے ہیں۔ واہگہ بند نہ کیا مگر طورخم ، چمن کو بند کرتے ہیں۔ وزیرستان کی راہ بند کردیتے ہیں۔ یہاں کارڈ تھا وہ دیکھتے تھے تاکہ لگے کہ ہم فلسطینی اسرائیل میں جاتے ہیں، اپنے ملک میں۔ ان کو تو آزادی ہم نے دلوائی تھی۔ ان مولویوں کی آواز آنی چاہیے فیس بک میں میری آنکھیں ترس گئی ہیں۔ جتنے بھی پشتون ہیں پھر نہ کہیں ہم میں لیڈر نہ تھے یا خبردار نہ کیا، لڑائی ضرور ہوگی، میری Prediction (پیشگوئی) کبھی غلط نہیں ہوتی۔ یہ الگ بات ہے کہ پوری دنیا اس میں کوشش کریگی۔ یہ لڑائی کوئی نہیں روک سکتا۔ ابھی غزوہ ہند کا موقع آگیا۔ آگے بڑھنا چاہے مگر چھپ رہے ہیں، مولانا مسعود اظہر کو فرنٹ لائن پر بھیجنا چاہیے، انکے بچوں کو بھی لیجانا چاہیے، اگریہ چلے گئے تو میں آؤں گا کیونکہ ابھی شوق پیدا ہوگیا۔ اگر یہ نہیں جاتے تو ہم سمجھیں گے کہ پشتونوں کو مروانے کیلئے اسلام کا استعمال ہے، یہ لبادہ ہے اور ہم کو چکی میں پسوارہے ہیں۔ ہماری ترقی، معیشت ، ہر چیز پر ۔۔۔ اور ہم اتنا بڑا بجٹ تیار کرتے ہیں۔ روز روز کا معاملہ لازم فائنل ہونا چاہیے۔ ہم نے تو بال سفید کئے، آنیوالی نسلیں اچھی رہ سکیں ،پشتونوں کا خون اتنا ارذاں نہیں کہ پی ٹی ایم کو نیچے کردیگا اور پی ٹی ایم ختم ہو گی۔ پی ٹی ایم ہی مستقبل ہے۔ ہم وہ نہیں کہ لیٹ جائیں۔ چند جرنیل پالیسی بنائیں اور ہم پر مسلط کریں؟۔ پارلیمنٹ میں بحث ہو ،پالیسی بنے تو ٹھیک ہے۔پورے پاکستان کا دماغ پارلیمنٹ میں بیٹھا ہے، بارہویں پاس یا نالائق جرنیلوں کی پالیسی سے گھٹن ہو رہی ہے۔اُدھرمشرف بیٹھا ہے اور جنرل راحیل اِدھر سلام نہیں دیتا، عربوں کوسیلیوٹ مارتا ہے۔ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں انہی کا ہاتھ ہے۔ جرنیلوں کا ہاتھ ہے۔ جنرل ضیاء ، جنرل ایوب کا ہاتھ ہے، سویلین کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں، دعویٰ ہے کہ اگر ہم نہ ہوں تو سیاستدان پاکستان توڑ دینگے۔ اگر اتنی فکر ہے تو ملک کو سیاستدانوں نے بنایا، جرنیلوں نے نہیں بنایا، ابھی باری آئی تو یہ کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا، لڑائی میں تو نقصان ہوتا ہے۔ جہاد کا فلسفہ یہی ہے کہ مرینگے یا مار ینگے۔ یہ جو فلسفہ آپ نے تیار کیا، پشتونوں کیخلاف 70سال استعمال کرکے استحصال کیا اور ابھی آپ کرانا چاہتے ہو۔ ابھی ادھر پتہ نہیں کس کس کو اسلحہ دیا اور کس کس معصوم پشتون کو ذلیل کروارہے ہو۔ کل تو ایک ترکستان بیٹنی تھا وہ مسلمان ہوگیا۔ الحمد للہ اللہ تعالیٰ سب کو یہ دن دکھائے۔ ترکستان بیٹنی! میں آپ کو کہتا ہوں کہ اگر آپ نے مجھے بھی مارا ہوتا اور مجھ سے پوچھتے کہ آپ ابھی مسلمان ہوگئے تو میں کہتا ٹھیک کیا آپ نے۔ انسان غلطی کرتا ہے۔ ابھی وقت ہے صحیح راہ پر آنے کیلئے۔ تمام گل خانوں کو کہتا ہوں کہ صحیح راہ پر آجاؤ، اپنی حیثیت منواؤ کہ تم پشتون ہو، تمہارے ساتھ پراکسی کھیلی جاتی ہے اور آئین ہے، آئین کو مسخ کرکے قبائل پر ظلم کرتے ہیں ۔ یہ انتہا ئی ظالم ہیں۔ چند کو FC میں بھرتی کرکے پشتونوں کا سارا مال اُدھر خرچ کرتے ہیں۔ پوری زندگی پڑھایا کہ ادھر جہاد ہوگا، غزوہ ہند ہوگا اور موقع آتا ہے تو فتویٰ نہیں جاری کرتے۔ عجیب تماشہ ہے ڈھول بجا بجا کر شادی کا ٹائم آتا ہے تو نکاح نہیں پڑھاتے۔ فتویٰ دیا کہ افغانستان میں جہاد ہے اور دنیا کے مسلمانوں نے کہا کہ نہیں بھائی بھائی قتل ہورہے ہیں اور ملک کے سارے چیدہ چیدہ علماء نے کہا، حالانکہ محمد خان شیرانی اور بہرام خان بھی ہے اس طرح کے علماء کو ہم نہیں کہتے۔۔۔ اچھے بہت اعلیٰ، نمبر ون علماء کو جانتا ہوں۔ وہ دیکھو کوئی ہسپتال میں داخل، کوئی ادھر بیمار ہے، کوئی ادھر چھپ رہا ہے، جس نے دعوے کئے، اب آگے بڑھیں۔ یہ ادھر منظور کی آئی ڈی کو ہیک کرتے ہیں کہ منظور کو خیبر ٹی وی پر نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے ہمیں زندگی دی۔ یہ ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ گل خانوں کو تھوڑا سوچنا چاہیے۔ ہم ان کیلئے کام کررہے ہیں بنگلہ دیش کدھر پہنچ گیا دیکھ لو۔ اس کی معیشت کتنی مضبوط ہے۔ فوج نے ہمیں ہر لحاظ ، ہر سوچ کیساتھ دلدل میں پھنسایا۔ آپ کو سمجھ نہیں آرہی ہے بیوقوف کی طرح ہم انکے پیچھے جائیں۔ یہ ہمیں پالیسی بناکر دیں۔ ہمارے ذہین شخص بھٹو کو نہ چھوڑا، فاطمہ جناح کو نہ چھوڑا، قائد اعظم کو 1935کے قانون پر عمل نہ کرنے دیا، شیخ مجیب کو حکومت کرنے نہ دی، پانچ فٹ چھ انچ کا قد رکھ کر بنگالیوں کو فوج سے آؤٹ کیا، 1947سے لیکر1971 تک انتخابات نہ کرائے۔ انڈیا کو تین دریا دئیے۔ کشمیر میں 1948میں لڑنے سے انکار کیا ۔ امریکہ سے پیسے لیکرافغانستان میں روس کیخلاف نقلی جہاد لڑا ۔ یہ کرایہ دارہیں۔ ابھی موقع ہے یہ Retreat کررہے ہیں۔ مجھے بتائیں کیا کروں بٹن نہیں دبا سکتے؟ میں دباتا ہوں ٹریگر، مجھے لیجاؤ۔ مار دونگا فائر مگر اسٹارٹ کرنا ہے۔ آپ کو سب دیکھ رہے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ زیادہ ہیں وہ طاقتور ہیں ہم کم ہیں۔ حضور ﷺ کے جہاد 3 سو ہوتے، وہ3 ہزار ہوتے۔ کبھی اکیلے حضرت علی ؓ ہوتے۔ سبحان اللہ۔ قربان ہوں ان ناموں پر۔ یہ نام نہاد جو داڑھی رکھ کر اسلام کو غلط استعمال کرتے ہیں، وزیرستان آتے ہیں، شیعہ سنی کو لڑاتے ہیں ان کو ہم نے دیکھنا ہے۔ مجھے اگر کوئی پاور ملی نا انشاء اللہ تعالیٰ یہ راہ حق ہے تو پھر سب کے سامنے احتساب ہوگا۔ مقدمہ بھی سب کے سامنے ہوگا۔ جیسے درانی کے گھر سے کل سونا اور نوٹ نکلے تو کسی جرنیل کے گھر سے کوئی سونا اور نوٹ کیوں نہیں نکلتا؟ وہ فرشتے ہیں؟۔ انہوں نے اس ملک کو نہیں لوٹا؟۔ جب لڑنے کا ٹائم آتا ہے تو ہم امن کی آشا کرتے ہیں۔ وہ دھمکیاں دیتے ہیں تو تم کہہ رہے ہو وت مار وت مار۔ افغانستان والے ایک سپاہی کو ماردیتے ہیں تو آپ کہتے ہو ہم بدلہ لیں گے۔ اُدھر آپ کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے اِدھر آپ کو بہت کم غصہ آتا ہے۔ دونوں طرف پشتون اور مسلمان ہیں، کیا پشتون مسلمان نہیں ؟۔ پتہ ہے یہ سب۔۔۔ پالیسی والے ہیں۔ انکے پاس دلائل نہیں، یہ کہتے ہیں ہم تمہیں مار دینگے ہم نے بہت ساروں کو مارا۔ پتہ ہے بہت ساروں کو مارا، بنگالیوں کو بھی مارا، تم نے سب کو مارا لیکن تم نے حاصل بھی بہت کچھ کیا ۔ تم نے وزیرستان میں 70ہزار گھر گرائے لیکن تم نے بہت محلات بنائے ،تم بنگلہ دیش سے Economically آگے بڑھ گئے۔ تم نے ہمیں طعنے دئیے، 33بلین ڈالر امریکہ سے لئے ، نام نہاد جہادسٹ پیدا کئے ۔ کچھ کر نہیں سکتے تو آرام سے بیٹھ جاؤ۔شریفوں والی زندگی گزارو۔ کرنا ہے تو پھر کرو۔ ایٹم بم ہے آپکے پاس۔ یہ نہ بتانا کہ دنیا غرق ہو جائے گی ہم غرق ہوجائیں گے وہ غرق ہوجائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اسٹارٹ کرینگے تو کون ختم کریگا؟ ۔ یہ سوچ پھر نہیں چلے گی۔ اگر ملک کو آگے بڑھانا ہے تو پھر لازماً نان اسٹیک ہولڈر جتنے ہیں آرام سے بٹھانا ہوگاکہ ادھر بیٹھ جاؤ۔ 18 بلین ڈالرلیتے ہو، نان اسٹیک ہولڈر بھی پیدا کرتے ہو۔ پھر انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے جواب بھی نہیں۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے۔ پھر تگڑا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ہم حیران کرینگے، کیسے حیران کرینگے؟۔ میرا ذہن ہے کہ جتنی پالیسی بنائی یہ صرف بجٹ کاچکر ہے یہ اٹھارویں ترمیم ختم کراتے ہیں تاکہ مرکز میں پیسہ آئے اور خیبر پختونخواہ ، سندھ اور بلوچستان مٹی کھائیں اور ہم پیسہ اٹھالیں، اور سوشل اکنامک نہ ہو۔ سیکورٹی زون بنایا ہے ہمیں۔ تگڑے ہیں کہ بیت اللہ خان کو پکڑ لو جیل میں ڈالو، عالم زیب کو ڈالو، منظور کی آئی ڈی بند کرو، عارف وزیر کو ڈالو، ولایت خان کو ڈالو، ان کو مارو، پشتونوں کے گھر گراؤ، بڑے تگڑے تھے، اسوقت تو دلائل نہ دئیے ۔ یہ نہ کہا کہ امن کی آشا ہوگی۔ اب امن یاد آیا۔ ہمیں تو برباد کردیا ابھی بربادی کرو، تاکہ نئی دنیا بنے، ویسے بھی تبدیلی ہوتی ہے، اگر ہم بیس کروڑ نہ رہیں تو نہ رہیں دنیا میں لوگ ہیں، مسلمان بھی زیادہ بنیں گے۔ مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں اگر لیڈ کرتا تو انشاء اللہ آپ کو پتہ چل جاتا کہ پشتون واقعی میں ایسے ہیں، لیڈر شپ ایسی ہوتی ہے۔ ابھی ہم کچھ کر نہیں کر سکتے۔ آپکے ہاتھ میں ہتھیار ہے، آپ آگے بڑھو۔ لڑائی ہوگی، وہ لڑائی نہ روکیں گے، یاد رکھنا چاہیے، کسی کو دو نمبر بات نہ کرنی چاہیے۔ سٹیک والی بات ہے انہوں نے سٹیک کیا ہے وہ لڑینگے۔ پتہ ہے مودی لڑیگا، مودی بہت بڑا حرامی ہے، اس کی سوچ لڑاکو ہے وہ چاہتا ہے کہ میں ہسٹری میں رہوں اس کو تھوڑا غرور ہے مگر علماء ابھی فتویٰ نہیں دیتے، ہماری سوئی اٹک گئی کہ ادھر جہاد اناؤنس کرینگے، ہم سب جائیں گے کیونکہ میری ماں کو بھی بڑا مرنے کا اور شہادت کا شوق ہے، یہ شہادت صرف خیبر پختونخواہ میں ہونا چاہیے۔ ادھر پشتون ہو تو شہادت ملے۔ ان کو نہیں شہادتیں چاہئیں۔ مجھے سننے کا حوصلہ رکھیں، جانتا ہوں کہ یہ لڑائی نہیں کرسکتے۔ خواہ مخواہ غزوہ ہند کا ڈھنڈورا کرتے ہیں، یہ سوچ ہے کہ لوگوں کو پھنسا کر رکھیں۔ کاش! آج یہ آگے بڑھتے اور فتویٰ آتا کہ جہاد اناؤنس ہوگیا، انڈیا کیخلاف جہاد ہے۔ تمام علماء پاکستان فتویٰ دیتے کہ انڈیا کیخلاف جہاد فرض ہوچکا ہے۔ تو پھر ہم بھی تیاری پکڑ لیتے کیونکہ سال میں کبھی کبھار تو ہم بھی وضو کرتے ہیں۔ علماء جیسے مولانا مسعود اظہر ہے، مولانا حافظ سعید ہے، زید حامد ہیں جو غزوہ ہند کا ڈھنڈورا لئے پھرتے ہیں، مولانا طاہر اشرفی کی طرف سے کوئی خاص پیغام نہیں ملا ورنہ ہم بھی چلتے۔ کم از کم بہت نالائق پٹھان ہوں تھوڑا مجھ میں بھی حوصلہ آجاتا لیکن یہ خود چھپے ہیں ہم کیسے چلے جائیں۔ امن کی آشا کی بات لاکھ کریں مگروہ اٹیک کرینگے۔ مجھے انکے دما غ کا پتہ ہے انڈیا کا ماحول جانتا ہوں۔ انڈین کیا سوچتے ہیں پتہ ہے مگر ہمارے علماء چپ ہیں یہ فتویٰ دیں اور شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں تو بات بنے۔ بہت شکریہ سب کا، ناراض نہیں ہونا۔ زندگی خراب ہے ورنہ موت نے تو کسی کو دھوکہ نہیں دیا ۔ یہ زندگی انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ موت کسی کو بھی دھوکہ نہیں دیتی جیسے جاؤ، موت مل جائے گی۔ اللہ آپ کو خوش اور امان میں رکھے۔ پھر بھی میں کہتا ہوں لڑائی ہوگی ،حالات ٹھیک نہیں۔ بڑی بڑی طاقتیں آئیں گی ، مودی چاہتا ہے کہ لڑائی ہو۔ وہ تاریخ میں زندہ رہناچاہتاہے۔ ان کو بھیجا احسان اللہ احسان کو، راؤ انوار کو، کم از کم ادھر سے تو یہ لوگ اعلان کردیں کیونکہ یہ تو ہیرو ہیں ۔ احسان اللہ احسان اعلان کردے کہ بھئی جہاد ہوگا۔ مگر کہیں چھپا ہوگا بیچارہ۔ راؤ انوار بھی چھپا ہوگا، یہ اصل میں کیا کرتے ہیں؟، کہیں غریب پشتون ملا تو اس کو گریبان سے پکڑا، آپ نے اس کو پکڑ لیا توبس؟، پھر آپ ان بیچاروں کو قتل کراتے ہیں اور آپ کی کوشش بس یہ ہوتی ہے کہ کسی کو قتل کرواور بالخصوص وہ پشتون ہو تو اس کو مارنے میں بھی آپکو بڑا مزا آتا ہے۔ اور یہ آپ کو پتہ ہے کہ کتنے بے گناہ پشتون لوگوں کو آپ نے مارا ہے۔

***2016 میں بیت اللہ بیٹنی پی ٹی آئی کیلئے اڈیالہ جیل گیا جہاں دل کا دورہ پڑا جس پر اسد عمر نے عیادت کی***

بیت اللہ بیٹنی نے کل عمران خان کے حق میں اور سیاستدانوں کیخلاف کیا کہا تھا؟ کیا فصلی بٹیر ہر تحریک کے اُفق پر گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بدلتے آئیں گے اور لوگوں میں اپنی بولتی کا جادو جگائیں گے؟

دوستو! سلام! جو مجھے سنتے ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ لازمی سنیں۔ ضرور شیئر کریں۔ آج میں آپ کو وہ حقیقتیں بتاؤں گا کہ پاکستان کی سیاست میں کیا ہوا تھا؟۔ میں شروع کرتا ہوں ڈی آئی خان سے جہاں پر 40لوگ مارے گئے۔ بذات خود فائرنگ وزیر اعلیٰ سرحد عنایت اللہ خان گنڈہ پور نے کی۔ وہ ایسے ہی گھومتا تھا بھٹو کی حکومت تھی۔ جناب اکبر خان ڈی ایسی پی نے استعفیٰ دیا اور اس کو پکڑا نہیں۔ اور اس کو جسٹس سسٹم میں گھسیٹا نہیں گیا تھا۔ اسکو بلٹ پروف گاڑی پیپلز پارٹی نے Provide کی تھی۔ دوسرا 12اکتوبر کو ایم کیو ایم ، جنرل پرویز مشرف نے جو قتل عام کیا اور پھر اے این پی والوں نے پختونوں کے سر پر پیسہ لیکر ان کو معاف کیا۔ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں وہاں انسان قتل ہوتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جس طرح آپ نے ماڈل ٹاؤن میں دیکھا ایسے کیس اس سے پہلے بھی ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وہ جو کہتے تھے کہ ہم ڈرنے والے نہیں وہ باہر بیٹھے ہیں۔ میں ان ظالموں سے پوچھتا ہوں کہ یہ مولانا فضل الرحمن کے والد بھی اس وقت حیات تھے ان سب کو یہ واقعات معلوم تھے لیکن انہوں نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ یہ آج عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہیں، مجھے لگتا ہے انہوں نے آج تک کوئی ایماندار شخص زندگی میں دیکھا ہی نہیں۔ ان سے اُن کا واسطہ ہی نہیں پڑا۔ لہٰذا سب سے درخواست ہے آپ پہچانیں۔ شاہی سید آپ نے پیسے لئے ہیں، پختونوں کے سر کی قیمت اور سودے بازی آپ نے کی ۔ سب سے درخواست ہے ان ظالموں سے بچو۔ یہ ہمیں بیچنا چاہتے ہیں ،مختلف برادریوں میں مختلف فرقوں میں بانٹ کر یہ ہم پر حکومت کرینگے لیکن کتنے قتل عام ہوئے آج تک اس پر مقدمہ چلا؟۔ عنایت اللہ خان گنڈہ پور پر؟۔ کس پر چلا تھا؟۔ یہ مانتا ہوں کہ اسکے بیٹے نہایت معزز ہیں۔ اللہ جنت نصیب کرے۔ اسرار اللہ خان کو سب کو بڑے معزز ہیں۔ انہوں نے سارے صلحے کئے لیکن حکومت نے اور اس وقت کی لیڈر شپ نے اس پر کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا۔ خدا حافظ۔ سنئے بیت اللہ خان کو، آپ کو میں بتاؤں گا سیاست کیا ہوتی ہے۔

شاعرہ لتا حیا کی نعتیں :ریٹائرڈچیف جسٹس مرکنڈے (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

بھارت میں اردو کی معروف شاعرہ لتا حیا کی غزلیں ، نعتیں ، انقلابی شاعری اور انسانیت کا درد ایسا ہے کہ جیسے اسلام کی روح یہ ہندو خاتون عوام کے دلوں کو گھول گھول کر پلارہی ہو۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے کی حق گوئی سے ایک نیا ولولہ بیدار ہوا چاہتا ہے۔خالد خواجہ اور کرنل امام کو طالبان نے کیوں قتل کیاتھا، اسکے کیا عوامل تھے؟مگر لتا حیا کی شاعری ، انسانیت دوستی اور مسلمانوں سے محبت اور اچھوت نسل سے ہمدردی دیکھ کر دل میں تمنا پیدا ہوتی ہے کہ ہمارے جو اسلام اور پاکستان کی معروف شخصیات ہیں۔ اوریا مقبول جان، رستم شاہ مہمند، زید حامد،عمران خان ،نوازشریف، لونڈے لپاڑے، مولانا فضل الرحمن، معروف سیاستدان اور علماء ومفتیان بھی خالد خواجہ اور کرنل امام کی طرح طالبان کے ہتھے چڑھتے تو زیادہ برا نہ ہوتا۔ لتا حیا ایک بھارتی ہندو خاتون ہے اور اُس شدت پسند ہندوانہ ماحول میں اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت کی جو خدمت کررہی ہیں، ہمارے ہاں یہ لوگ اسلام کے نام پر اپنی فالتو قسم کی پھکیاں بیچ رہے ہیں۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے کو آسمان کے فرشتے بھی شاباش دیتے ہونگے جو بھارتی معاشرے میں شدت پسند ہندو، تعلیم یافتہ طبقے اور میڈیا کی ایسی خبرلیتا ہے کہ انسان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ یہ بھی اس دور کا انسان ہے؟ ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو برصغیرپاک وہند کو تعصبات ، جہالت اور تمام بھونڈے ہتھکنڈوں کی گرفت سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ہی بحروبر کے طوفانوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ ظھرالفساد فی البروالبحر بما کسبت ایدی الناس’’خشکی وسمندر میں فساد برپا ہوا،انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کے سبب‘‘۔ مودی اور شدت پسندانہ تعصب کا زہر اگلنے والوں کو لتاحیا و قابل احترام چیف جسٹس مرکنڈے شعور کی شعاعوں کے ذریعے جہالت کی اندھیر نگری سے نکال رہے ہیں۔ جب جہالت، اندھیرا اور موت معاشرے پر طاری ہوجاتی ہے تو اس کیلئے جن مسیحاؤں کی ضرورت ہوتی ہے انکا کردار روشنی، علم اور حیات کی آبیاری ہوتی ہے۔ جسم کی طرح انسانوں کی روحوں اور دلوں پر بھی موت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے تو اس کو زندہ کرنا بہت مشکل کام ہوتاہے اور ہر معاشرے اور قوم میں مسیحاؤں کا اصل کام مردہ روحوں اور دلوں میں حیات پیدا کرنی ہوتی ہے۔عسکری قوتیں جانیں لے سکتی ہیں مگر مُردوں میں جان نہیں ڈال سکتی ہیں،البتہ جانیں بچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ پاک فوج نے بھارتی پائلٹ کو گرفتار کرکے تشدد سے بچایا۔ یہ انسانیت ہی اصل کام کی چیز ہے۔ قوت مدافعت کے بغیر قومیں زندہ نہیں رہ سکتی ہیں۔ لوگوں کی زندگی بچانے کیلئے شرپسندوں سے قوتِ مدافعت کا استعمال بھی بہت ضروری ہے، پاک فوج نے حملے کے بدلے میں حملہ کرکے شاطر دشمن کو مناسب سبق سکھا دیا ہے۔ بھڑکیں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ،شرافت سے کام ہونا چاہیے۔ جنگ کا جنون مسائل کا حل نہیں لیکن جب چیف جسٹس مرکنڈے اور لتا حیا جیسی شخصیات اپنی عقل وفکر، علم وعمل اور شعوروآگہی سے اتمامِ حجت کا بہت واضح کردار ادا کرتے ہیں اور ملک کے سربراہان اور اصحابِ اختیار اس پر کان دھرنے سے گریز کرتے ہیں تو ذلت ورسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو چاہیے کہ صورتحال معمول پر آتے ہی لتاحیا اور چیف جسٹس مرکنڈے کو پاک سرزمین پر آنے کی دعوت دیں۔ ان سے گزارش کریں کہ علم وآگہی ، درد ومحبت اور دل وروح کی غذاء یہاں بھی لوگوں کی بہت سخت ضرورت ہے۔یہاں بھی ہندوؤں کی طرح اسلام کے نام پر ایمان کا جعلی چورن بیچا جارہاہے جس میں شفاء نہیں زہر ہے، علم نہیں جہالت ہے، روشنی نہیں اندھیرا ہے ،اسلام نہیں ابہام ہے اور ایمان نہیں کفران ہے۔ اوریا مقبول جان کا تصور افسانوی کوئل کی طرح ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ کوّؤں کے گھونسلے میں اپنے انڈے دیتی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے طالبان والقاعدہ کے لشکر کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ جس میں ہتھوڑے جیسے لمبوترے چہروں والے پٹھان اور ڈھال جیسے گول چہرے والے ازبک وغیرہ تھے۔ اوریا مقبول جان اور مولانا فضل الرحمن سوشل میڈیا کے کنونشن سے ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے بھی ایکدوسرے کیساتھ دجل وفریب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر یاجوج ماجوج کے لشکر کو میڈیا قرار دیا جائے تو پھر یہی دجال میڈیا میں کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر اس سے مراد دجالی لشکر ہے جو خراسان کی طرف سے بلندی سے آکر میدانی علاقوں میں ہر گھاٹی سے حملہ آور تھے تو بھی حقائق کو سمجھنا مشکل نہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند و جمعیت علماء ہند کے وقت سے طالبان کے کردار تک اوریا مقبول جان اور مولانافضل الرحمن کا نظریاتی اختلاف ایکدوسرے کی عقیدتوں کی بالکل نفی کرتا ہے اورپھر بھی ایک اسٹیج سے عوام کو دجل وفریب کا پیغام دیتے ہیں۔ امریکہ نے شکست کھائی یا نہیں کھائی ؟ ہمیں اس سے کیا؟،لیکن افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور پاکستان کی عوام کی جان ومال اور عزتوں کا دنیا میں جنازہ نکال دیا ہے۔ اوریامقبول جان اس وقت بیوروکریسی میں اینکر پرسن کا کردار ادا کررہا تھا، اس کی ذات پر آنچ اسلئے نہیں آئی کہ یہ بک بک مسلسل تسبیح ومناجات کررہا تھا یا سبّ وشتم کے بینڈ باجے بجارہا تھا کہ بیوروکریسی نے پاکستان کا بیڑہ غرق کیا ہے ، فوجی بیچاروں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ یہ خوارج کا وہ کلمہ ہے جسکے بارے میں حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’ بات حق ہے مگر یہ اس سے باطل مراد لیتے ہیں‘‘۔ اس وقت بھی جس بیوروکریسی نے ریاست اور عوام کو گمراہ کیا تھا تو اوریا مقبول جان خود بھی بہت منافقت کیساتھ اسی کا حصہ رہے ہیں۔ ملاعمر کو تو کرنل امام اپنے شاگرد کہتے تھے اور پٹھان کی تعریف کرتے تھے تو پٹھان کے دل سے دعانکلتی تھی کہ ’’ایک دفعہ تم بھی انکے ہاتھوں میں پڑجاؤ اور پھر ایک دن شکار ہوگئے‘‘۔ اوریا مقبول بھی انکے ہاتھوں لگ جاتے اور پھر وہی کہلواتے کہ بولو کہ یاجوج ماجوج تو وہی دجالی لشکر ہے جسکا یہ پتہ نہیں چل رہاہے کہ امریکہ اور پاکستان مخالف ہیں یا انکے حامی ہیں؟۔ہمیں طالبان کی حمایت یا مخالفت سے کوئی غرض نہیں لیکن اس بات کا احساس ہے کہ یہ لوگ مفت کی منافقت کررہے ہیں۔ پہلے قوم کو گمراہ کیا تو اب اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ بخاری میں آخری خطبے کے حوالے سے ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا ہے جس نے دجال سے قوم کو تنبیہ نہیں کی ہو۔ خبردار ! میں بھی تمہیں دجال کے فتنے سے آگاہ کررہا ہوں۔ اگر تم یہ نہیں سمجھ سکو کہ دجال کون ہے؟تو اللہ دجال کو جانتاہے، دجال ایک آنکھ کا کانا اور اس کی دوسری آنکھ انگور کی طرح ہے۔ تمہاری جان کی حرمت ایسی ہے جیسے اس شہر (مکہ ) میں، اس ماہ (ذی الحج)اور اس دن(عرفہ) کی حرمت ہے، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردن مارنے لگو‘‘۔ لتاحیا اور مرکنڈے بھی ان لوگوں سے ہزار درجہ بہتر انسان ہیں جو مسلمان کی حیثیت سے دجالیت، فریب اور خون خرابے کی حمایت کررہے تھے۔

شپیزمائی خان اور منظور پشتین اپنی سوچ اور فکر کو بدلیں! (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

کانیگرم جنوبی وزیرستان کے پیرمبارک شاہ نے 1920ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پبلک سکول بنایا جو آج بھی موجود ہے۔ قبائلی علاقہ جات کو تعلیم کے نام سے جتنے فنڈز ملتے ہیں وہ قبائل عوام پر خرچ کرنے کے بجائے کھا لئے جاتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اسکے احتساب کی بات کی جائے تو پختون ہی گلٹی ہونگے، اسی طرح سندھ و بلوچستان کی کیفیت ہے۔ ریاست دشمن نہیں بلکہ قوم کے بڑے اپنی قوم سے دشمنی کے مرتکب ہیں۔ علی وزیر اور محسن داوڑ نے ایک میڈیا بیان میں وضاحت کی کہ ’’ہم عدمِ تشدد کی پالیسی پر آخری دم تک گامزن رہیں گے‘‘۔جبکہ منظور پشتین نے کہا کہ ’’میں اس مٹی کا بیٹا ہوں، مٹی عدم تشدد کی بات کریگی تو عدم تشدد کرینگے اور مٹی تشدد کی بات کریگی تو تشدد کرینگے‘‘۔حضرت علیؓ ابن تراب نہیں ابوتراب تھے۔ مٹی کے بیٹے اور مٹی کے باپ میں اتنانظریاتی فرق ہے جتناہندواور مسلم میں ہوتا ہے۔ ہندو پر جس کی حکومت بھی آئی وہ اپنی جگہ پر غلام کی طرح کھڑا رہاتھا۔ ابوجہل وابولہب مٹی کے بیٹے تھے ،وہ اپنا سر کٹا گئے لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔ مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی۔ حضرت علیؓ نے مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا تھا۔ انگریز نے لکھ دیا کہ’’ محسود بھیڑیے، وزیر چیتے اور بیٹنی قبائل گیڈر کی طرح ہیں‘‘۔ ادریس شہید کی شہادت پر اور وانا میں ایک جھڑپ کے دوران وزیروں نے ثابت کردیا کہ وہ چیتے ہیں۔ بیت اللہ بیٹنی نے PTM سے پہلے PTIکے پلیٹ فارم سے جو بیان ریکارڈ کرایا ہے اور PTI میں ایک معمولی احتجاج پر جیل میں دل کا دورہ پڑا تھا تو اپنے تضادات سے گیدڑ کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ بھیڑیے کی صفت یہ ہے کہ جب تک تحفظ کا یقین نہیں ہوتا تو وہ شکار پر حملے کی جرأت نہیں کرتا ۔ اسلئے لوگ شیر اور چیتے کہلانا چاہتے ہیں۔ محسودقبائل کی تین شاخوں میں بہلول زئی اور منزئی کی بہادری اور شمن خیل کی سیاسی صلاحیت تھی۔ سردار امان الدین نے قومی لشکر بنایا تو پہلے اپنے چچازاد کاگھر گرایا، پھر دوسری قوموں سے لڑائی مول لی تو اپناقومی لشکر بھی گرفتار کرادیا۔ اگر منظور پشتین مٹی کا بیٹا ہے تو وزیرستان کی مٹی پر زیادہ عرصے کی بات نہیں ماضی قریب کا قصہ ہے ۔ پہلے پوری قوم ایک ڈاکوگو خان کی قیادت پر اکٹھی ہوگئی۔ رضا گو خان اور TTFکا آج نام لینے والا بھی کوئی نہیں ۔ پھر قوم میں بدمعاشی عروج پر پہنچ گئی تو گلساخان کی قیادت میں بدمعاشوں کیخلاف لشکر تشکیل دیاگیا۔ گلسا خان امریکہ اور بیٹنی قبائل کو چیلنج کررہاتھا۔ پھر طالبان آگئے تو مٹی کی اولاد طالبان بنی۔ محسود نے طالبان کی قوت سے فائدہ اٹھاکر بیٹنی کا ستیاناس کردیا۔ پھر قاری زین الدین کی قیادت میں شمن خیل اوربیٹنی نے دوسرے محسودوں اور طالبان گروپ کیخلاف ترکستان کی قیادت میں قتل وغارتگری کا بازار گرم کردیا۔ آج پھر ترکستان بیٹنی گیدڑ کی آواز نکال رہاہے کہ پاکستان اور اسلام کے نام پر 186افراد کو اپنے ہاتھوں سے شہید کیا ۔ مٹی کا بیٹا ہر دور میں ہواؤں کے رخ پر چلتا ہے تو مختلف انداز میں استنجوں کے ڈھیلے کی طرح استعمال ہوجاتا ہے۔ ژوب اور وانہ سے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان آنے والی گاڑیاں شمن خیل کے علاقہ میں بارشوں کے فلڈ سے راستے میں کئی گھنٹوں تک رُک جاتی تھیں تویہ ایک دو دن یا مہینہ دو مہینے کی بات نہیں ہوتی تھی۔ بھوکے مسافروں کیلئے ہوٹل بھی نہیں تھے، آس پاس کے گھر والے اتنے مہمانوں کو پہنچ نہیں سکتے تھے، بچوں نے وہاں مسافروں کو روٹیاں بیچنی شروع کردیں تو ایکدوسرے کی ضرورت تھی۔ اس وجہ سے وہاں کے شمن خیل برادری پر کوئی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ محسود کی روایات سے ہٹ گئے لیکن جن محسودوں کے گھر سڑک سے میلوں دور تھے ،ان کو اس حرکت پر یہ لوگ اچھے نہ لگتے تھے۔ شمن خیل لدھا و مکین کی طرف بھی رہتے ہیں۔ ایک پاگل محسود جام دین سے کسی نے پوچھا کہ ’’ محسود قوم میں مرد زیادہ ہیں یا خواتین؟‘‘۔ جام دین نے کہا کہ ’’ شاعر کے شمن خیلوں کو مردوں میں شمار کریں تو مرد زیادہ ہیں اور عورتوں میں شمار کریں تو عورتیں زیادہ ہیں‘‘۔اقبال سے محمد علی جوہر نے کہا کہ تم میدان میں قربانی کیوں نہیں دیتے؟۔ اقبال نے کہا کہ ’’اگر قوال وجد میں آگیا تو قوالی کون گائے گا‘‘ ۔عقلمندوں کیلئے اشارہ کافی ہوتاہے۔ شپیزمائی خان نے میرے ویڈیو بیان پر واضح کیا کہ ’’ اس نے افغانستان کو امریکہ سے فائدہ اٹھانے کی بات کی تھی جسطرح آئی ایس آئی نے افغان وار سے فائدہ اٹھایا‘‘۔ یہ بات PTMکے جوانوں سے نہیں افغانستان کے حکمران سے کرنی چاہیے تھی تو بات واضح ہوتی۔ شپزمائی خان نے کہا کہ ہمارا اصل مقابلہ امریکہ سے ہے ، استعمار کیخلاف افغانستان کے وہ علاقے زیادہ مفید ہیں جہاں نیٹ کام نہیں کرتا۔ ایک طرف امریکہ سے مدد اور دوسری طرف اس کا نیٹ سے مقابلہ اپنے اندر بڑا تضاد رکھتا ہے۔ شپیزمائی خان نے کہا کہ چاند میاں لاہور اور کراچی میں تنقید کا نشانہ بنتا ہے ۔ ہم شپیزمائی کہتے ہیں جو مذکر ہے ،دوسرے اس کو شپیزمئی کہتے ہیں جو مؤنث ہے۔ میںیہ واضح کردیتا ہوں کہ اگر شپیزمائی خان کو میری بات سے دکھ پہنچا ہے تو میں دل کی گہرائی سے معافی مانگتا ہوں۔ توہین کی غرض سے نہیں محبت سے میں نے چاند میاں لکھا تھا، بولٹن مارکیٹ کراچی کے صدر کا نام بھی چاند میاں ہے، گوجرانوالہ میں ایک بہت معزز ، معتبر اور پیارے شخص کا نام خالد ہے لیکن چاند میاں سے مشہور ہے۔ عربی میں سورج اور چاند کو شمس وقمر کہتے ہیں۔ یہ نام ہر زبان میں ہوتے ہیں۔ شمس عربی مؤنث اور قمر مذکر ہے۔ لفظی مذکر ومؤنث کوئی مسئلہ نہیں ۔ طلحہ، موسیٰ ، عیسیٰ کے آخر میں مؤنث ہی کی علامت ہے۔ امامہ مؤنث ہے اور مردو عورت دونوں کیلئے نام ہے۔ ایک صحابیؓ کا نام بھی امامہ تھا۔ شپیزمائی خان کا بہت اچھا ذہن ، مطالعہ اور فطرت ہے لیکن ایک ماحول کے ذریعے سے ایکدوسرے کی بات سمجھ سکتے ہیں۔ اگر شپیزمائی خان PTMاور افغانستان کی بجائے پاکستان اور بھارت کوہی مخاطب کریں تو ان کو بہت سے فالورز مل سکتے ہیں۔ آئی ایس آئی کو گالی دینے کا اس سے زیادہ کچھ فائدہ نہیں کہ PTMوالے آپ کی بات سنیں۔ مجھ پر شک کیا گیا ہے کہ میرے رابطے جرنیلوں سے تو نہیں؟۔ میراشپیزمائی خان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ امریکہ یا یورپ کیلئے کام کرتے ہیں۔ وہ اچھے انسان ہیں اور اپنے ہی دائرہ کار میں اچھائی کی کوشش کرتے ہیں۔ زبردستی سے شادی کا تصور صرف ہمارا کلچر نہیں بلکہ سندھی، بلوچ، پنجابی اور کراچی کے مہاجروں کے علاوہ ہندوستان کا بھی یہ مسئلہ ہے۔ پختونوں کی جن خامیوں کا ذکر شپیزمائی خان کرتے ہیں تو اسے پتہ ہونا چاہیے کہ تبلیغی جماعت اور علماء کرام کی بدولت ان میں بڑی تبدیلی کے اثرات بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ پشتون ایریا میں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بنائی جائے اور دنیا بھر سے ماہرین بلاکر اس میں تعینات کئے جائیں تو ہماری ہی نہیں بلکہ عالم اسلام اور انسانیت کی دنیا بھی بدل جائے گی۔علامہ اقبالؒ نے لکھ دیا ہے کہ پشتون فطرت کا ترجمان ہے اور افغان کو کرائے کا قاتل بھی کہا ہے۔

بھارتی فوج ریہرسل میں کوے سے انڈے گرانے پر شرم کرے۔ عبد القدوس بلوچ

رحیم شاہ مروت ہے پنجابی نہیں، UCناظم ن لیگ کا عوامی نمائندہ ہے وردی والا نہیں۔ پیپلز پارٹی لسانیت کا رنگ نہ دے۔ پختون غلط نعرے نہیں لگائیں۔
بھارتی فوج ریہرسل میں کوے سے انڈے گرانے پر شرم کرے۔ عبد القدوس بلوچ
سود کے 73گناہوں میں سے کم از کم گناہ حدیث کے مطابق اپنی ماں کیساتھ زنا ہے ۔ پاکستانی آئین میں سودی قرضوں کی گنجائش نہیں مگر ہم سودی بھیک مانگے جارہے ہیں
کوئی مجبوری میں عزت بیچتا ہے۔ پاکستان ایران کے تیل و گیس سے اپنی عزت بچاسکتا ہے مگرنہیں بچاتا، دشمن بھارت کو اسکے ذریعے سے رام کرسکتا ہے مگر نہیں کرتا ہے۔
کراچی (نمائندہ خصوصی) عبد القدوس بلوچ امیر ادارہ اعلاء کلمۃ الحق نے کہا کہ کشمیر میں بھارت مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔مودی نے ہندو انتہاپسندی سے جو دہشتگردی پھیلا ئی ہے اسکا سیکولر بھارت میں کوئی جواز نہیں ۔ بھارت حماقت کرے تو پاک فوج مقبوضہ کشمیر پر قبضہ میں دیر نہ لگائے ۔ بنگلہ دیش کا بدلہ بھارتی فوج سے چکانا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے سرینگر سے ہماری فوج اور قبائلیوں کو نکال کر کشمیریوں سے استصواب رائے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ جنرل راحیل مسلم افواج سے بھارت کو کشمیر سے نکالیں۔ کیلئے اقوام متحدہ سے حق کی بات منوالیں۔ وقت آگیا کہ دنیا فلسطین وکشمیر کا حق تسلیم کرے اور ظلم و ستم کے نظام کا خاتمہ ہو، بھارت اپنی ریہرسل میں کالے جہازوں سے سفید رنگ کے بم برسا کر لگتا ہے جیسے مودی جی کوّے سے انڈے پھینک رہا ہو، بھارت شرم کرے۔ ہمارے چھوٹے ایٹم بم پاکستان پر حملہ آور لشکروں کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دنیا نے جنگ سے مسلم اُمہ کو نہیں خود کو بھی برباد کیا ۔پاکستان کا آئین قرآن وسنت ہے، سود خور یہودی مافیااور بکا ہوا مفتی طبقہ سودی قرضے سے پاکستان کا بیڑہ غرق کریگا۔ سودکے 73 گناہ میں کم ازکم گناہ ماں سے زنا ہے(حدیث) کوئی مجبوری میں عزت بیچتاہے،پاکستان ایرانی تیل وگیس سے اپنی جان و عزت کو بچاسکتاہے ، دشمن بھارت کو قابو کرسکتا ہے مگریہودی لابی پاکستان کو مقروض بنائیگی اور ہم بے تول کشکول بن جائیں گے۔