پوسٹ تلاش کریں

قرآن کریم عظیم الشان انقلاب کی ہی خبر دے رہا ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
دنیا میں اسلام کا تعارف مذہب ہے مگراسلام دینِ فطرت ہے۔ شیعہ وسنی علماء وذاکرین نے مذہب کو اپنا ذریعہ معاش بنارکھا ہے اور سیاست کے علمبردار اسلام کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔شیعہ کیلئے بڑی بات حدیثِ قرطاس کی ہے۔ نبیۖ نے تحریری وصیت لکھناچاہی کہ خلیفہ و امیرالمؤمنین علی ولی اللہ کو بنایا جائے۔ حضرت عمرنے کہا کہ” ہمارے لئے قرآن کافی ہے”۔ حنفی مسلک کا سارا اصولِ فقہ اسی سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں صحیح احادیث قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نبیۖ کو اپنا جانشین نامزد کرنے کا اس سے زیادہ حق تھا جس طرح حضرت ابوبکر نے اپنا جانشین حضرت عمر کو نامزد کیا تھا۔ البتہ جانشین نامزد کرنے پر اختلاف جائز تھا اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے وامرھم شوریٰ بینھم و شاور ھم فی الامر کی آیات میں اصول وضع کردیا ہے ۔صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اہل مغرب کو قیامت تک حق پر قائم ہونے کی خبر دی گئی ہے اور اس سے مغرب کا جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے۔ اسلام ہی نے دنیا کو جمہوریت سکھائی ہے اور جمہوریت کے ذریعے سے خلافت کا قیام دنیا میں آئیگا تو اس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ انصار وقریش،قریش واہلبیت کے درمیان خلافت کے استحقاق کی مہم نے اسلامی سیاسی نظام کی جڑوں کو اتنا کمزور کردیا تھا کہ حضرت ابوبکر وعمر کے بعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمان کو مسند پر شہید کردیا گیا اور پھر خونریزی ، عدمِ اعتماد اور اسلام کی روح مفقود ہونے کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ اہل تشیع کی اکثریت کو قرآن اسلئے اچھا نہیں لگتا ہے کہ علی اور حسین کی اسمیں کھل کرتائید نہیں ہے اور اہلسنت کو قرآن سمجھنے کا شوق نہیں مگر اسلئے اچھا لگتا ہے کہ ہردور کے فرعون کیلئے بھی آیات پڑھی جاتی ہے کہ ” جس کو اللہ عزت دے اور جس کو ذلت دے ، جسے چاہے ملک کا اقتدار دے اور جس کو چاہے اس سے اقتدار چھین لے”۔ خلافت راشدہ کے بعد امیہ ، بنو عباس، خلافت عثمانیہ اور انگریز سرکار تک قرآن کی آیات کا سہارا لیا گیا۔ جسکے ہاتھ میں ڈنڈا تھا، اسکے گن گانے کی فقہ ایجاد کی گئی۔ ائمہ مجتہدین کے نزدیک دینی فرائض پر کوئی معاوضہ لینا جائز نہیں تھا ، احادیث صحیحہ میں زمین کو مزارعت یا کرائے پر دینا ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ سُود کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ۖ نے زمینوں کو مزارعت پر دینا بھی سُود قرار دیا۔ ائمہ مجتہدین امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام مالک کے نزدیک متفقہ طور پر زمین کو مزارعت پردینا سُود اور ناجائز تھا پھر بعد میں بعض حنفی علماء نے اپنا مؤقف بدل دیا اور زمین کو مزارعت پر دینا جائز قرار دیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی حضرت مولانا یوسف بنوری کے داماد حضرت مولانا طاسین صاحب نے بھی حقائق پر مبنی بڑی تفصیل کے ساتھ اپنا نکتہ نظر پیش کیا جس کو جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن سمیت بہت سے معتبر علماء نے بہت سراہا لیکن وہ گوشہ گمنامی کا شکار ہوئے اور مفتی تقی عثمانی نے پہلے سودی رقم سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا اور پھر بینکنگ کے سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دیا۔ آج کی طرح ہر دور میں علماء حق کا کردار پسِ منظر میں چلاگیا اور اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے والے شیخ الاسلام بن گئے۔ دیوبندی مکتبہ فکر کی مشہور شخصیت حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب نے بتایا کہ ایک بڑے تاجر نے یہاں آکر کہا کہ تم لوگ اپنا حق ادا نہیں کررہے ہو، سُود کو مفتی تقی عثمانی نے جائز قرار دیا ہے اور آپ لوگ کھل کر ان کی مخالفت نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ ”ہماری سنتا کون ہے؟ ”۔ مولانا قاری اللہ داد صاحب مدظلہ العالی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت آپ مجھے بڑے یاد آئے۔
حیدر آباد میں مفتی تقی عثمانی کے ایک شاگرد نے الزام لگایا ہے کہ طلاق و حلالہ کے حوالے سے مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ العالی پر دباؤ ڈالا گیاتھا۔ یہ بھونڈے الزام کسی کام کے نہیں ہیں۔ قرآن و سنت اور تمام مکاتب فکر کے ہاں اسلام کے غلبے کا تصور موجود ہے۔ اسلام کا غلبہ فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات کی بنیاد پر نہ ہوگا بلکہ اسلام آفاقی دین ہے جو انسانی فطرت کا بہترین شاہکار ہے۔ پاکستان کی سرزمین سے قوم ملک سلطنت کے ذریعے تمام مذہبی طبقات کی یکجہتی سے اللہ کا دین نافذ ہوگا اور پوری دنیا اسلام کو دیکھ کر اسکے سیاسی ، معاشی ، اخلاقی ، معاشرتی اور مذہبی معاملے کو قبول کرے گی۔ اسلام میں نسلی تعصبات نہیں، وطنی تعصبات نہیں، لسانی تعصبات نہیں ، قومی تعصبات نہیں، فرقہ وارانہ اور مذہبی تعصبات نہیں بلکہ انسانیت کا بہترین نظام موجود ہے۔ دین میں زبردستی کا کوئی تصور نہیں اور ظالمانہ نظام کسی طرح سے بھی کہیں بھی قابل قبول نہیں۔ کوئی انسان ایسا نہیں جو ظلم کو اپنی فطرت کے مطابق صحیح سمجھتا ہو۔ البتہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جب وہ بالادست ہوتے ہیں تو کمزور پر ظلم کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ جب عدل کا نظام قائم ہوگا تو کوئی ظالم اپنی ہٹ دھرمی پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ اسلام نے دنیا سے غلط اور باطل عقائد اور عقیدتوں کا جنون و جمودتوڑا تھا مگر آج فرقہ پرستی کی بنیاد پر لوگ پھر اسی جنون و جمود کا شکار ہوئے ہیں۔
غلطیاں سب سے سرزد ہوئی ہیںاور غلطیوں سے توبہ کا دروازہ موت تک بالکل کھلا ہے۔ ہم بہت سے تضادات کا زبردست شکار ہیں جب مذہبی طبقات حلال اور حرام کا تصور لیتے ہیں تو اس میں اپنے لئے گنجائش نکالتے ہیں اور دوسروں کیلئے راہ تنگ کردیتے ہیں۔ تصویر کو ناجائز سمجھتے ہیں مگر شوق سے ویڈیو بنواتے ہیں۔ پردے کو ضروری سمجھتے ہیں مگر اپنے اور پرائے کے درمیان اپنے کردار کا بہت تضاد رکھتے ہیں۔ کوئی سُود کو جائز قرار دے تو یہ رائے کا اختلاف ہے اور جوحقوق کی جنگ لڑے تو وہ اسلام کا باغی اور مرتد قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان امریکہ کی مدد کرے تو مجاہد لیکن افغان حکومت امریکہ کی آشیر باد لے تو کافر و گمراہ۔ یہ تضادات چلنے والے نہیں۔
ISIکے سابق افسر طارق اسماعیل ساگر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں بلیک واٹر کو کھلی چھوٹ ملی تھی جس نے مذہبی دہشتگردوں کو پیدا کیا۔ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ میں جب دہشتگردوں سے ملتا تھا تو اس وقت پوری دنیا ان کی حمایت کرتی تھی۔ سوشل میڈیا پر دونوں بیانات موجود ہیں۔ جب مشرکین مکہ کو جہالت ، سابقہ کفر اور اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرنا معاف ہوگیا تو ہم بھی مختلف جہالتوں سے گزرے ہیں اور توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ سب کو معاف کرسکتا ہے۔ جو ہوا سو ہوا مگر اب آئندہ کیلئے کوئی درست لائحہ عمل تشکیل دیں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہوجائے۔
رسول اللہ ۖ نے حضرت ابو طالب کیلئے ہدایت کی دعا مانگی تھی مگر اہل سنت کے بقول قبول نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ۖ نے حضرت امیر معاویہ کیلئے دعا مانگی تھی کہ اللہ ان کو ہادی اور مہدی بنادے۔ حضرت امیر معاویہ کے حق میں یہ دعا قبول تھی یا نہیں مگر ان کے دورِ حکومت کو خلفاء راشدین مہدیین میں شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ اور سنی سادات ہی نہیں اہل تشیع کیلئے بھی معاویہ کے نام سے کوئی بغض نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ یزید کے بیٹے معاویہ نے اہل بیت کی وجہ سے اقتدار چھوڑ دیا تھا۔ مگر معاویہ کا معنیٰ عربی میں ٹھیک نہیں ہے۔ اسلئے یہ نام نہیں رکھا جاتا ہے۔ صاحب کشاف تفسیر کے امام جار اللہ زمحشری نے لکھا ہے کہ معاویہ اس کتیا کو کہتے ہیں جو کتوں کو شہوت پر ابھارنے کیلئے آواز نکالتی ہے۔ بھیڑئے اور لومڑی کے بچے کو بھی معاویہ کہتے ہیں۔ حضرت علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی نے اپنی کتاب ”تفتازانیہ” میں ساری تفصیل لکھ دی ہے جو حال میں چھپی ہے اہل ذوق دیکھ سکتے ہیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام آباد عورت آزادی مارچ 2020

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وہ بھیانک دور جب دہشتگرد دندناتے پھرتے تھے اور سرکاری عمارتوں ، گاڑیوں اور شخصیات کے علاوہ مساجد اور امام بارگاہوں کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بناتے تھے۔ لیکن ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالتا تھا۔ عمران خان کھلاڑی نے جب ڈاکٹر طاہر القادری کیساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو ایک طرف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن شروع کیا تھا تو دوسری طرف عمران خان پنجاب پولیس کے گلوں بٹوں کو طالبان کے حوالے کرنیکی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس وقت حیاء مارچ کی نمائندگی ڈاکٹر طاہر القادری کی خواتین کررہی تھیں اور میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی عمران خان کا دھرنا کررہا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے حیاء مارچ کی نمائندگی کرنے کے بعد ایک ضمنی سیٹ کا الیکشن ہارا تو بعد ازاں اس سیاست کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ جبکہ میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی کرنے والے عمران خان کو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ سیٹیں اور ووٹ مل گئے۔ یہ کس کا کرشمہ تھا ؟ لیکن انہی خواتین نے جب پدرِ شاہی نظام کے خلاف علم بلند کردیا تو حکومت ، ریاست ، سیاست اور مذہبی طبقات کی طرف سے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی ایم کا تعلق بھی پی ٹی آئی والوں سے ہی تھا۔ جب کوئی انصاف طلب کرتا ہے تو اس کو ملک دشمن اور اسلام دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین روزانہ کی بنیاد پر جرنیلوں کو قبضہ کرنے کی دعوت گناہ دیتا تھا تو اس کی تمام دہشتگردی اور اجارہ داریوں کو برداشت کیا جاتا تھا۔
ہمارا ریاستی نظام امریکہ سے زیادہ کمزور ہے لیکن کوئی واقعہ جب امریکہ کے وائٹ ہاؤس سے صدر ٹرمپ کو بھگا سکتا ہے تو کوئی تحریک ہمارے نظام کو بھی تتر بتر کرسکتی ہے۔ جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں بینظیر بھٹو آئی تھیں تو نظام کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ حبیب جالب نے کہا تھا کہ
ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے
عورت آزادی مارچ والوں نے پدرِ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھائی تو ہر طرف سے لوگ اور ان کی جعلی لیڈر شپ انکے خلاف ہوگئی۔ نوشتہ ٔ دیوار کی ٹیم نے ثابت قدمی کے ساتھ ان نہتی خواتین کی حفاظت کا فریضہ پورا کرنے کی کوشش کی جن کو ریاست کی پولیس پر بھی اعتماد نہ تھا۔ درج بالا تصویر میں نوشتہ دیوار کی ٹیم نمایاں ہے جو خواتین پر پتھراؤ کے بعد پریس کلب سے ڈی چوک کی طرف کے سفر میں بالکل ساتھ ہے۔ سید شاہجہان گیلانی ، بلال خان ، علی خان نے بہت جرأت مندی کے ساتھ ظالموں کیخلاف مظلوموں کا ساتھ دیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سوشل میڈیا کے ورکر مرد میدان نہیں ہوتے لیکن یہ تصور غلط ثابت ہوا ہے۔
بلوچ نژاد سندھی ہدیٰ بھرگڑی وہی خاتون ہیں جس کی پہلی تقریر امریکہ کے خلاف اور طالبان کے حق میں تھی لیکن وزیرستان میں طالبان کیلئے سب سے زیادہ ایکٹو قوم محسود کے سرنڈر طالبان کو ایک مخصوص لباس پہنا کر پاکستان کا قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا جاتا ہے جس پر پاک فوج کو دل کی گہرائی سے سلام پیش کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ بے ضمیر قومی جذبات کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنی پشت میں بارود دبا کرملکی اثاثوں اور اپنی عوام کو تباہ کررہے تھے۔ ذیل میں ہم نے شہباز تاثیر اور قاری سعد اقبال مدنی کے بی بی سی پر نشر ہونے والے انٹرویوز بھی دئیے ہیں۔ اسلام کی خاطر قربانی دینے والے طبقات میں اگر درست شعور اجاگر ہو تو پھر بعید نہیں کہ ہماری ریاست ، ہماری سیاست اور ہمارا نظام بھی بدلے اور اس کیلئے صنف نازک خواتین کی طرح صرف اور صرف آواز اٹھانے کی قربانی اللہ کے ہاں قبول ہوجائے۔

 

اسلام مشرق و مغرب کی تہذیب سے بالاتر دین ہے: عتیق گیلانی

 

جب دنیا میں جہالت کی اندھیر نگری تھی تو خانہ کعبہ کا ننگا طواف کیا جاتا تھا۔ لونڈیوں کا لباس ناف سے رانوں تک اور حسن نساء (سینے کے ابھار) تک محدود ہوا کرتا تھا۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا غیرت کا تقاضہ سمجھتے تھے ۔ مظالم کی کوئی حد طاقتور لوگوں کیلئے نہیں ہوتی تھی۔ فرقہ پرستی اور قوم پرستی نے انسانیت کا بٹوارہ کر رکھا تھا۔ عرب عجم، سفید فام و حبشی اور کالے گورے کی بنیاد پر نسل آدم تقسیم تھی۔
اسلام نے لوگوں کے اقدار بدل دئیے۔ رسول ۖ نے فرمایا کہ لوگ چار وجوہات کی بنیاد پر اپنے لئے بیگمات کا انتخاب کرتے ہیں۔1: نسل و نسب کی بنیاد پر ۔ 2: مال و دولت کی بنیادپر۔ 3: حسن و جمال کی بنیاد پر ۔ 4: کردار کی بنیاد پر۔ تیری ناک خاک آلودہ ہو آپ کردار کو ترجیح دو۔
یہ روایت صحیح بخاری میں ہے اور وفاق المدارس کے صدر محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان بانی جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھ دیا ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ یہ چاروں خوبیاں عورت میں موجود ہونی چاہئیں ۔ (کشف الباری)۔ حالانکہ اس حدیث میں لوگوں کے فطری رجحانات کا ذکر ہے۔ کوئی مالی کمزوری کو دور کرنے کیلئے مالدار عورت کو ترجیح دیتا ہے تو کوئی حسن و جمال کو ترجیح دیتا ہے، کوئی نسب کو ترجیح دیتا ہے اور کوئی کردار کو ترجیح دیتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ تمہیں کردار کو ترجیح دینی چاہیے۔ جب کردار کو ترجیح دی جائے گی تو مالدار ، حسن و جمال اور اعلیٰ نسب والے اپنے کردار کو ہی بدلیں گے۔ جس سے معاشرے کی اقدار بدل جائیں گی۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسلام کی درست تشریح کریں گے وہی اسلام کی تعلیمات کا بیڑہ غرق کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں جب علم ہی درست نہ ہوگا تو کردار سازی کہاں ہوگی؟۔ مگر جب علم درست ہوگا تو کردار سازی کیلئے مضبوط بنیادیں ہم فراہم کرسکیں گے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مذہبی طبقات کی ہی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ ہم مذہبی طبقات کی جہالتوں پر تنقید کرکے اپنی جانوں کے سروں کیساتھ کھیل رہے ہیں۔
جو لوگ ”میرا جسم میری مرضی” کے نام پر خواتین کے خلاف مہم جوئی کررہے ہیں وہ اپنی دانست میں درست ہی کررہے ہونگے۔ لیکن جو خواتین اپنے حقوق کا علم بلند کئے ہوئے ہیں انکی بات کو غلط رنگ دینے کے بجائے درست توجیہہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو عورت چیخ رہی ہے، چلا رہی ہے اور غیظ و غضب کا اظہار کررہی ہے کہ مجھے رستے میں آتے جاتے تاڑ کر مت دیکھو، کہنیاں مت مارو، ریپ مت کرو، ریاست ہمیں تحفظ دے تو اسکے خلاف یہ کہنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ہم لوگوں کو اپنا جسم ہی پیش کرکے دنیا میں رہنا چاہتی ہیں۔ مینار پاکستان پارک لاہور کے قریب ہیرا منڈی ہے اور وہاں آئے روز مذہبی و سیاسی لوگ جلسے جلوس کرتے رہتے ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی انہوں نے ہیرا منڈی کے خلاف آواز اٹھائی ہو۔ اب تو یہ معاملہ فیس بک کے آن لائن شاپوں سے بڑے بڑے عالی شان بنگلوں تک کھلے عام پھیلا ہوا ہے۔ ایک عورت بگڑتی ہے تو آس پاس کا پورا معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔ کیونکہ عورتوں میں قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی حفاظت کا بڑا مادہ رکھا ہے۔ قرآن میں اس کو اللہ کی حفاظت کا نام دیا ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا گیا تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفی جتوئی ہی تھے۔ نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے اور اس اتحاد کے نتیجے میں میاں نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا وہ اسکینڈل اخبارات کی زینت بنا جس سے علماء اور اسلامی جمہوری اتحاد کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔ میاں نواز شریف پر بھی طاہرہ سید ایکس وائف نعیم بخاری رہنما پی ٹی آئی کے حوالہ سے اسیکنڈل تھا۔ رہ گئے موجودہ امیر المؤمنین عمران خان نیازی تو ریحام خان کی طلاق کے بعد صحافیوں نے پوچھ لیا کہ تیسری شادی کا ارادہ ہے؟، عمران خان نے کہا کہ ہاں ! پھر صحافی نے پوچھا کوئی نظر میں ہے؟ ۔ عمران خان نے پھر جواب دیا کہ ہاں!۔ صحافی نے کہا کہ اسکے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں کہ وہ کون ہے؟۔ عمران خان نے کہا کہ نہیں!۔ صحافی نے پھر پوچھا کہ کنواری ہے، طلاق شدہ ہے یا بیوہ؟ مگر عمران خان نے اس پر مسکرا کر جواب ٹال دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ بی بی بشریٰ نے خلع لیکر نکاح کرلیا۔ جیو کے تحقیقی صحافی نے میڈیا پر بتایا کہ اس وقت وہ عدت میں تھی۔ اب اس سے بڑھ کر ”میرا جسم میری مرضی” کا تصور ہوسکتا ہے؟ مگر طاقتور کیلئے قانون کچھ اور کمزور کیلئے کچھ اور ہے۔
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے اور سعودی عرب و دیگر ائمہ مجتہدین کے نزدیک حدیث پر عمل ہوتا ہے لیکن احناف اس حدیث کو قرآن سے متصادم سمجھ کر رد کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث قرآن سے متصادم نہیں ہے اور حنفی اصولوں کے مطابق بھی احناف کیلئے قطعی قابل قبول ہونا چاہیے۔ جس کے مضبوط دلائل بھی ہیں۔
میر شکیل الرحمن نے روزنامہ جنگ میں مولانا حامد سعید کاظمی کے خلاف بالکل جھوٹی خبر لگائی تھی اور پھر کاظمی نے ایک بے گناہ قید بھی کاٹی ۔ جنگ اور جیو کے ملازمین اس گناہ کا کیا کفارہ ادا کریں گے؟ ۔ میر شکیل الرحمن کی قید ؟ ۔ وکالت کیلئے وکیل کے پاس قانونی لائسنس ہوتا ہے مگر صحافی کیلئے کسی کی وکالت یا کسی کی بے جا مخالفت صحافت پر بڑا دھبہ ہے جو قانون کیخلاف ہے۔ صحافت کا کام قوم کا شعور بیدار کرنا ہے نہ یہ کہ بلیک میلنگ کے ذریعے سے اپنے اشتہارات کے مسائل حل کرنا۔ جن صحافتی اداروں پر ذرہ برابر بھی جانبداری کا شبہ ہو تو ان کو قانون کے شکنجے میں لاکر بند کردینا چاہیے۔ کیونکہ صحافت کیلئے یہی قانون ہے۔ ہمارا کام قوم ، ملک ، ریاست اور حکومت میں شعور بیدار کرنا ہے۔

کوئی پانچ سال کی بچی نہیں چھوڑتا، پدر شاہی بلا بن چکی جو عورت کے خون پر پلتی ہے، عصمت شاہجہان

پریس کلب میں عصمت شاہجہان کا خطاب
( (بلال خان، علی خان، شاہجہان ،عبید خان، اسفند یار وزیر ) کامریڈ عصمت شاہجہاں صدر وومین ڈیموکریٹک فرنٹ، عورت آزادی مارچ 2020اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کہا : سلام دوستو! ساتھیو! آپ سب کی جرأت کو لال سلام۔ آج دہشت و وحشت کے خوف کو جو آپ لوگوں نے توڑا آپ سب کو لال سلام۔ اور آج سیکولر پاکستان کا فیصلہ ہوگیا!۔

اسلام آباد،  پاکستان کا پولیٹکل سینٹر اسٹیج ہے اور پھر یہ پریس کلب پر لڑائی پانچ دن سے جاری رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ این او سی ہمیں بھی دی گئی اور ان کو بھی دی گئی۔ یہ کیوں کیا گیا؟ان سوالات پر میں بعد میں آؤں گی لیکن آج جشن کا دن ہے اپنی بات رکھنا چاہوں گی اس مارچ کے حوالے سے۔ سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتی ہوں ان تمام آرگنائزرز کا جنہوں نے ہمیں مکمل سپورٹ دی۔ ساتھ میں جو آرگنائزنگ کمیٹی ہے جنہوں نے دن رات کام کیا ان کی محنت کو اس خوف کو توڑنے کیخلاف آج نکلنے پر ان کو سلام پیش کرتی ہوں۔ میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اسلام آباد کی ایڈمنسٹریشن کو خط لکھا کہ ان کو این او سی دیدیں ،میں باقی جو اسلام آباد کی لیفٹ  کی پارٹیاں ، وومن ایکشن فورم خاص طور پر ہمارے ساتھ کھڑی رہی اور عوامی ورکر پارٹی کی ٹیم انتھک ہمارے ساتھ کھڑی رہی۔ بھلے وہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہو یا بینر پوسٹر ہو، یا گاڑی ہو، ہر جگہ وہ کھڑے رہے اورر ساتھ ہی ساتھ لیفٹ کی جن پارٹیوں اور تنظیموں کے لوگ آئے ہیں انکا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں،  اور تمام لوگ جو آج یہاں اکھٹے ہوئے۔پورے پاکستان کو جو آج یہاں سے پیغام جارہا ہے ان سب کو میں ایک بار پھر لال سلام پیش کرتی ہوں۔

ساتھیو! یہ آج پہلی بار نہیں کہ پاکستان میں عورت نکلی ہے، پاکستان میں دہائیوں سے عورت مزاحمتی سیاست میں ہے اور سڑکوں پر ہے۔ بھلے وہ ایوب خان کے دور میں طاہرہ مظہر علی خان کی ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن ہو جسکا ہم تسلسل ہیں،  یا وہ ویمن ایکشن فورم ہو جس نے ضیاءکی  آمریت کو للکارا۔یا ہیلتھ ورکرز ہوں اور لیڈی ٹیچرز ہوں جنہوں نے پاکستان میں  آئی ایم ایف  کی کٹوتیوں کیخلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔یا ہماری بلوچ بہنیں ہوں جو مسخ شدہ لاشوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کھڑی رہی ہیں۔ یا ہماری پشتون بہنیں ہوں، جنکے گھروں میں لیویز کے اہلکار گھس جاتے ہیں۔ بہت ساری مزاحمتی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور ہم انہی مزاحمتی تحریکوں کا تسلسل ہیں۔ریاست پاکستان نے نہ صرف ان مزاحمتی تحریک کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ عورتوں، محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کے زخموں کے اندر پنجے گاڑے بیٹھی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی، کیوں کی گئی ؟ جو پیچھے نظر آرہا ہے وہ کیا ہے؟

ہم سمجھتے ہیں کہ رائٹ ونگ جب عورت کو موبیلائز کرتا ہے یہ بنیادی طور پر پدر شاہی مفادات کیلئے کرتا ہے۔ تو پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی کیونکہ جنگی مفادات کیلئے ایک جنگجو اور ظالم لڑنے والا مرد چاہئے تھا۔ وہ masculinity (مردانگی) اس ریاست نے تشکیل دی۔ اس جنگ کے لئے  جو لٹریچر، مواد ، کتابیں، ویڈیوز، نظرئیے اور ہتھیار لائے گئے وہ نظریئے، ہتھیاراور کتابیں اب چلتے چلتے چلتے ہماری گلی اور محلوں میں پہنچ چکی ہیں۔ اور اب کوئی پانچ سال کی بچی بھی نہیں چھوڑتا۔ اب پدر شاہی ایک جنونی عفریت اور بلا بن چکی ہے جو عورت کے خون پر پلتی ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ جو لوگ اس عورت کے جسم سے مماثلت رکھتے ہوں ان کی بھی خیر نہیں چاہے وہ صنف آزاد ہمارے خواجہ سرا بہن بھائی ہوں یا نابالغ بچے ہوں۔ تو تاریخ کے اس پڑاؤ میں ہم یہاں پہنچے ہیں کہ جنگ کیلئے جس پدر شاہی کو تشکیل دیا گیا اب وہ ایک عفریت بن چکی ہے۔ اور اس عفریت کے پیچھے ایک اور عفریت کھڑی ہے اور وہ ہے جنگی اقتصاد اور اسکے پیچھے سامراجی عفریت کھڑی ہے۔ اب یہ کئی جنگیں ہیں جو ہمیں لڑنی ہیں۔

ہم تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہم نے ایک راستہ چننا ہے۔ یا صنفی انقلاب کا یا جنسی اور پدر شاہانہ بربریت کا۔ میں اسلام آباد کے اس اسٹیج سے پورے پاکستان کو پیغام دیتی ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ ہم نے وہ راستہ چننا ہے، ایک راستہ ہم کو چننا ہے اور ہم کو سخت فیصلہ کرنا ہے اور ہم کو منظم تحریکیں چلانی ہوں گی۔ یہ وقتی اور کبھی کبھار کی ون ڈے مارچ سے کچھ نہیں ہونے والا۔ منظم تنظیموں میں آئیں اور کام کریں جو بھی آپ کے نظرئیے کے قریب ہو اس میں ضرور آئیں۔

میں اسلام آباد میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا میں اس کی بھی کہانی سنانا چاہتی ہوں۔ آج کے دن ہمیں بتایا گیا کہ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے یونٹس میں تحریک لبیک ،شریعت کونسل اور جمعیت علماء اور سپاہ صحابہ کے لوگ گئے،  اور انہوں نے کہا کہ” اگر آپ گئے، تو آج پھر آپ ادھر رہیں گے کیسے”؟ تو انہوں نے ہمیں فون کئے ، کہ ہم نہیں آسکتے، کیونکہ ہمیں یہاں رہنا ہے۔ منصوبہ یہ تھا ،کہ محنت کش آبادی سے عورتوں کو نہ نکالو۔ اور اس مارچ کو بدنام کرو کہ یہ تو مڈل کلاس این جی او مافیا ہے۔ تو محنت کش عورتوں کو آج نہیں آنے دیا گیا ۔ہم اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ ہماری گاڑیوں  کے ڈرائیوروں کو مارا گیا ،اور یہ ہماری چوتھی گاڑی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں دھمکیاں دی گئیں ، ویڈیو ز بھیجے گئے۔ اور ہمیں پیغام دیا گیا کہ اگر آپ نکلیں گے،تو ہم دو بجے وہاں ہوں گے، یہ کردیں گے ،وہ کردیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں۔ خوش اس بات پر ہیں کہ آج آپ وہ بات کررہے ہیں جو ہم کرتے رہے ہیں۔ آج آپ کو عورت کے سوال پر بولنا پڑ رہا ہے۔ ہم اتفاق کرتے ہیں جماعت اسلامی نے جو چارٹر ریلیز کیا ہے  کہ ہم یہ چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں ،عورت کو جائیداد میں حصہ دو۔

ہم آخر میں کچھ میڈیا کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں ۔پاکستان کے میڈیا نے پچھلے مارچ کے دو پوسٹر اٹھائے،  تقریباً ہر شو میں ایک مولوی کو بلایا مولوی   ہاتھ نہ آیا،  تو ملوانی کو بلایا ،اور ان   پربات کی۔ایک وطیرہ بنایا ہے ،پاکستان کی ریاست اور اس کے میڈیا نے ۔کہ سوشلسٹوں کو  کفار کہو، قوم پرستوں کو غدار کہو اور عورتوں کو بدچلن کہو۔ یہ کلنک لگانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔اور میڈیا بھی یہ سن لے کہ آپ چار اشتہار چلاتے ہیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فیمنسٹ تحریک کی عورتیں آئیں گی اور آپ کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اسی سے چلے گی کہ  ایک پوسٹر پر بات ہوگی۔ دیکھ لیں گے آج عورتیں کیا کہہ رہی ہیں۔ اور یہ پوسٹر پڑھ لیں۔ اور خبردار جو کسی نے اب پوسٹر کی بات کی!

آخری بات کہنا چاہتی ہوں کہ یہ ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ پاکستان کی ریاست اور اسٹبلشمنٹ بھی سن لے۔ جو پچھلے چار پانچ دن سے ہمارے اوپر کریک ڈاؤن اور ہمارے اعصاب کو جو پیرالائز کرنے کی کوشش کی گئی ،وہ سن لیں کہ یہ سب ساتھ ہیں ،ہم سب ساتھ ہیں،ہم سب ساتھ ہیں،  ہم سب ساتھ ہیں۔

 آخر میں  بس  کہنا  چاہتی ہوں کہ یہ جو این جی اوکی فنڈنگ کا برا الزام لگا ہے، اور جو لوگ یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ یہ فنڈنگ کس کی ہے؟ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ  پہلے یہ بتائیں کہ  آپکی فنڈنگ کس کی ہے؟۔ تو میں نے کہا کہ فنڈنگ تو آپ لیتے ہیں ۔تینتیس ملین ڈالر کی  جنگ کے لئے فنڈنگ آپ نے لی، غیرممالک سے خیرات آپ نے لی،دنیا بھر سے قرضے آپ نے لئے۔ اور جب ہم لوگ اس  فنڈنگ کے  خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو آپ بولتے ہو کہ فنڈنگ کس نے کی؟  ہم نے ہزار پانچ پانچ دو دو سو روپے جمع کرکے یہ سارا انتظام کیا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو این جی او کا ڈرامہ کرکے ہم پر الزام لگارہے ہیں۔ ہم مزاحمتی تحریک ہیں کان کھول کر سن لیں سب۔ آئندہ کسی نے یہ کہا کہ ہم این جی او ہیں ، این جی او کی فنڈنگ ہے، یا فارن فنڈنگ ہے، سب کو اطلاع  عامہ ہے،کہ ایک دھیلا بھی ہم نے کسی سے لیا ہو۔آج اسٹیج پر یہ بتارہی ہوں۔ اور یہ این جی او کی فنڈنگ کا الزام جو ہے ،   "پروجیکٹ جہاد” کا یہ خود کھاتے رہے ہیں۔ اور این جی اوز کا بھی کھلاتے رہے ہیں۔ وہ بھی پروجیکٹ جہاد کی وجہ سے آج یہاں تھیں۔ کچھ تو ہیومن رائٹس کے نام پر آگئیں۔ لیکن مذہبی این جی اوز کی جو فنڈنگ ہوئی وہ تو بالکل ہی مطلب ……۔ تو ہم ان کو ایکسپوز کرنا چاہتے ہیں ۔ہماری کوئی فنڈنگ نہیں ہے۔ آخری بات رکھنا چاہتی ہوں کہ ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے جدوجہد جاری رہے گی!

 اور ہم ایک ہی ڈیمانڈ رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان پاکستان میں "عورت ایمرجنسی ڈکلیئر کرے۔ جب تحریک لبیک سے بات ہوسکتی ہے ، سپاہ صحابہ سے بات ہوسکتی ہے تو فیمنسٹ تحریک سے کیوں بات نہیں ہوسکتی؟ ہم سے بات کرو ہم تنگ ہیں۔ ہمیں مارا جارہا ہے۔ ہم لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔

عورت آزاد،سماج آزاد۔ عورت آزاد،  سماج آزاد۔ جب تک عورت تنگ رہے گی ، جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔ عورت آزادی مارچ،  زندہ باد،زندہ باد۔

تبصرۂ تیز وتند قدوس بلوچ

ہمارا مقصد کمزوروں کو تحفظ دینا ہے۔محترمہ عصمت شاہجہان کا یہ خطاب پچھلے شمارے کے فرنٹ پییج پر مین لیڈ کیساتھ لگا تھا۔ اس شمارے میں بھی ہم نے شائع کیا۔ محترمہ عصمت نے ٹی وی اینکروں کو بڑی درست نشاندہی کی کہ پچھلے سال کے ایک دو پوسٹر پر بات کی گئی لیکن اس مرتبہ تو یہ پوسٹر بڑی تعداد میں تھے اور زیادہ قابلِ اعتراض تھے۔ بھگدڑ مچ گئی تو غلط پوسٹر اٹھانے والے بھاگ بھی گئے۔ جب ہم خالی دوسروں پر تنقید کو اپنا وطیرہ بنانے کے بجائے اپنی بھی اصلاح پر توجہ دیںگے تو بات مؤثر ہوگی۔ ہم نے خواتین کے حقوق کیلئے جو آواز اُٹھائی تو یہ تاریخ کا بڑا روشن باب ہے اور اسی سے انقلاب کا رستہ کھلے گا۔اور یہ افراد نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔

 

 

قرآن،پاکستان اور عالمی پیشین گوئیاں

علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کی انتہائی بدترین اور بہت ہی قابلِ رحم حالت

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے علماء ومفتیان کا بڑا نمائندہ اجلاس طلب کیا اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کیلئے کراچی پریس کلب میں میڈیا کے صحافیوں کے سامنے اپنے انتہائی بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا۔ تحریری اعلامیہ مفتی تقی عثمانی نے پڑھ کر سنایا تو اس میں ایک مطالبہ رکھا گیا تھا کہ مساجد سے لاک ڈاؤن کی پابندی ختم کی جائے۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ آج سے لاک ڈاؤن ختم ہے۔ Continue reading "قرآن،پاکستان اور عالمی پیشین گوئیاں”

وزیراعظم آج تک اپنا کوئی وعدہ پورانہ کرسکا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

لاہور ،اسلام آباد اور ملتان میں ”میٹروبس” کو تنقید کا نشانہ بنانے والے عمران خان نے پشاور کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیاہے۔ ملتان میں میٹروپر فلائی اوور کی وجہ سے سستے علاقے بھی متأثر نہیں ہوئے جبکہ پشاور میں واحد اور مہنگاترین یونیورسٹی روڈ تباہ کرکے رکھ دیا گیا۔ پختونخواہ پولیس کے بلند دعوے کئے گئے مگر پختونخواہ میں فوج تعینات کی گئی۔
آئی ایس پی آر نے میڈیا، علمائ، میڈیکل اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون کا شکریہ ادا کرکے بڑا اہم پیغام قوم کو دیدیا کہ ” کرونا جیسی آزمائش سے پہلی مرتبہ واسطہ پڑا ہے”، یہ کریڈٹ پاک فوج کو ہی جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ذریعے وائرس اتنا جلدی نہیں پھیل رہاہے جتنا دنیا میں پھیل گیا۔ یہ حکومت کی غفلت ہے کہ ایران و دوسرے ممالک سے وائرس امپورٹ ہوا، خارجہ وداخلی پالیسی غلط نہ ہوتی تو لاک ڈاؤن کا سامنا نہ کرناپڑتا۔ علماء اور تبلیغی جماعت کو ڈنڈے کے زور پر نہ روکا جاتا تو یہ رُکنے والے نہ تھے۔ قرآن میںنمازِ خوف واضح ہے جس سے وائرس پھیلنے کا اندیشہ نہیں رہتالیکن سودی نظام کو جواز بخشنے والے مفتی اعظموںاور شیخ الاسلاموں کو آیت البقرہ239دکھائی نہیں دی۔
ایران، تبلیغی جماعت اورعلماء و مفتیان اپنی اپنی جہالت پراوروائرس پھیلانے کے ذمہ دار طبقے اپنی غفلت پر معافی مانگیں۔ وزیراعظم، زلفی بخاری ، شاہ محمود قریشی اور ذمہ دار طبقات مجرمانہ غفلت پر صرف معافی ہی نہ مانگیں بلکہ جرمانہ اداکریں۔ پوری قوم لاک ڈاؤن کی سزا اسلئے بھگت رہی ہے کہ وائرس زدہ افراد کو لایا گیا اور اس شر سے بچنے کی تدبیربھی نہیں کی گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے مذہبی حلقوں کی اصلاح کے بجائے تعصبات کا رنگ دیدیا ،وہ خود بھی جاہل ہے،اسلئے عمران خان جیسے لوگ برسراقتدار آگئے ہیں۔

پاکستان دنیا کی امامت کرسکتاہے لیکن کیسے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج، عدلیہ،بیوروکریٹ، سیاستدان، صحافی، علمائ، عوام الناس اور تمام طبقات میںاستعدادو صلاحیت،اچھائی اورشعور وآگہی کی کمی نہیں۔انسانیت،اسلام اور اپنی قوم سے والہانہ محبت میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں لیکن ان کو وہ مواقع نہیں ملتے ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ پارلیمنٹ میں پہنچنے کے ذرائع پیسہ، اقرباء پروری،فرقہ وارانہ رنجش، لسانی تعصبات اور طاقت کے سرچشموں کی اشیرباد ہے۔ دولت کمانے کے جائز ذرائع مفقود ہیں تو ناجائز ذرائع لامحدود ہیں۔ جعلی فتوؤں، جعلی تعلیم، جعلی ادویات، جعلی اشیاء خورد ونوش اور جعلی ڈگریوں سے لیکر جعلی سیاستدانوں اور علماء ومفتیان تک سب نے قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔لوٹوں کے ذریعے وزیراعظم اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور ناکارہ پارلیمنٹ وایوانِ بالا کے ذریعے آرمی چیف کی مدت میں توسیع سے لیکر اُوپر سے نچلی سطح تک آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ عدالتی نظام ہرسطح پر بالکل ناکام ہے۔نوازشریف ملک سے باہر گیا مگر وزیراعظم کچھ نہیں بتاسکتا ہے کہ کس کے کہنے پر گیا؟۔ کل لاک ڈاؤن یا کرونا کے پھیلاؤ سے نقصان ہوگا تو اس کی ذمہ داری ایکدوسرے پر ڈالی جائے گی۔ عمران خان نیازی اینڈ کو لمٹیڈکمپنی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے جس نے اس نالائق نوازشریف کی قدر لوگوں کو یاد دلادی جس نے کھل کر پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے اور قطری خط پیش کرکے اس سے انکار کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ کرونا کے کریک ڈاؤن میں غائب رہنے والے سیاستدانوں کو قوم جان چکی ہے کہ انتخابات کے دور میں کس طرح برساتی مینڈکوں کی طرح ٹراتے نظر آتے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کی افادیت بالکل ختم ہوچکی ہے لیکن ریاستی نظام بھی عوام کو فائدے پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اسلئے نظام کی تبدیلی کے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا ہے۔

حکومت، عدالت اور ہماری پیاری ریاست!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حکومت پر براجمان حکمران اپنا حکم جاری کرتے ہیں کہ ” ناجائزمنافع خوری پر دکانداروں کو قید وجرمانہ کی سزا دی جائے”۔ مجسٹریٹ ریڑی بان، چھابڑی فروش اور جھگی نمادوکانوں پر چھاپہ شریف مارتے ہیں اور بہت ہی مشکل حالات میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے والے ناکام امیدوار نے بھی پونے دوکروڑ روپے خرچ کئے تھے اور کامیاب ہونے والے نے یقینا زیادہ خرچہ کیا تھا لیکن اس الیکشن میں نوازشریف نے آئی ایس آئی سے 95لاکھ وصول کئے تھے۔
پھر جب نوازشریف کی حکومت کرپشن پر ختم کردی گئی اور پیپلزپارٹی نے بدنام لندن فلیٹ کاکیس بنایا۔ پھر ن لیگ کو اقتدار میں لایا گیا اور پیپلزپارٹی پر کیس بن گئے۔ پرویزمشرف کی حکومت میں بھی لندن فلیٹ کا کیس چلا، پھر سعودیہ جلاوطن ہونے کے بعد کیس ختم ہوا۔ جب پھر زرداری کی حکومت آئی تو شہبازشریف نے چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹ گھسٹ کر مال نکالنے کی جذباتی تقریریں کیں۔ پھر ن لیگ کی حکومت آئی اور نوازشریف نے میڈیا کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی اپنے تحریری بیان میں 2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدنے کا ٹوپی ڈرامہ رچایا۔ پھر قطری خط پیش کیا اور پھر قطری خط سے بھی لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ایسے میں قوم اور ہماری ریاست نے مل جل کر عمران خان کوہی اقتدار کے لائق سمجھ لیا اور عدالت نے صادق امین کے طور پر اندھوں میں راجہ سمجھ کر قبول کیا۔
آج ہماری پیاری ریاست نے پھر سے چینی اور آٹا بحرانوں میں قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی تبدیلی سرکار کے چہیتوں کو طشت ازبام کردیا ہے۔ پرویزمشرف کے دور سے اب تک جہانگیر ترین، خسروبختیار اور مونس الٰہی سب وہی چہرے ہیں چشم بد دور۔واہ نیازی واہ!

وزیراعظم عمران خان نیازی کی بے نیازیاں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پوری دنیا ایک عالمی وبا سے دوچار ہے اور عمران خان نیازی کہہ رہاہے کہ ” مخالفین کوہمیشہ کیلئے ختم کردیںگے، مخالفین تنقید ہی کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں، جب آپ کام کریںگے تو پھر تمہارے حلقے بالکل پکے ہوجائیںگے”۔ غریب دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہا ہے مگر عمران نیازی سیاسی حلقوں کو پکا کرنے کی فکر کررہاہے۔ واہ جی واہ۔ ایک ایک بات سے عمران خان ثابت کررہاہے کہ تبدیلی کا ڈھونگ محض بکواس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اللہ نے موقع بھی دیدیا ہے اور ڈھیل بھی۔ چینی اور آٹا بحران کی رپورٹ میں تحریک انصاف کا ٹریڈمارکہ نمبر ون نکلا۔
جب تحقیقات کا آغاز ہوا تھا تو صادق اورامین کی ڈگری لئے گھومنے والے عمران خان کی طرف سے وضاحت سامنے آئی تھی کہ جہانگیرترین کا نام اس میں شامل نہیں ، رپورٹ شائع ہوگئی تو سب سے زیادہ فائدہ اُٹھانے میں جہانگیر ترین پہلے نمبر پر نکلا ہے۔ یہ وہی عمران ہے جو عاشورے میں خفیہ نکاح کرنے کے بعد اس دھرنے میں کہہ رہاتھا جب پارلیمنٹ کادروازہ توڑاگیا، سپریم کورٹ کی گیلری میں کپڑے سکھائے جارہے تھے اور تبدیلی سرکار امپائر کی انگلی پر ناچ رہی تھی کہ ”تبدیلی آگئی ہے ، میں شادی کروں گا”۔ جھوٹا شادی کرچکا تھا اور اتنی شرم کا تکلف بھی محسوس نہیں کیا کہ ”شادی سے کیا تبدیلی آگئی ہے؟”۔ قادر پٹیل کی اسمبلی میں تقریر کے جواب میں مراد سعید ضرور کہہ سکتا تھا کہ ” شادی کرونگاتو واقعی بہت بڑی تبدیلی تھی”۔
چینی اور آٹا بحران سے فائدہ اٹھانے کی آفیشل رپورٹ شائع ہوئی ہے لیکن نان آفیشل کا معاملہ اس سے کئی گنا ہوگا۔ اب ”کرونا” بحران میں پھر عوام کو دھکیل کر فائدے اٹھانے کا ہی بازار گرم کیا جارہاہے۔ بلڈرز مافیا کو کھلے میدان میں بلیک منی کو وائٹ کرنے کی دعوت گناہ دی جارہی ہے۔ان بطش ربک لشدید سے بالکل بے نیازی برتی جارہی ہے۔

بنی اسرائیل کی عوام میں بڑے پیمانے پر جلیل القدر حضرات انبیاء کرام ؑ کی بعثت کا سلسلہ

حضرت ابراہیم ؑ ،اسحاق علیہ السلام ،یعقوب علیہ السلام ،یوسف علیہ السلام ، داود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ،یحییٰ علیہ السلام ، مریم علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام ذوالقرنین، حکیم لقمان،طالوت وغیرہاللہ نے فرمایا :’’ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو،جو میں نے تم پر کی اور میں نے جہان والوں پرتمہیں کوفضیلت دی‘‘دنیاوی فضیلت کا سکہ آج اسلئے برقرار ہے کہ تسخیر کائنات کا نظریہ قرآن نے دیا مگرنفع بخش سائنسی ایجادات انکا مقدربنیںرسول اللہ نے فرمایا: ’’ اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے‘‘۔ قرآن نے جمہوریت اور اخلاقی نظام دیامگرعمل انہوں نے کیابنی اسماعیل ؑ کی اولاد میں رحمۃ للعالمین محمد ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کا سلسلہ ختمرحمۃ للعالمینﷺ کی بعثت ہوئی تو یہودونصاریٰ کی مذہبی حالت ایسی تھی جیسے آج شدت پسندمسلمان فرقوں اور علماء کی ہےقرآن اور نبی رحمۃ للعالمینﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی دنیا میں پھیل گئی تو اہل مغرب نے مذہبی شدت پسندی کو خیربادکردیاپہلے اسلام دینِ فطرت کے مقابلے میں یہودونصاریٰ نے اپنی عوام کو غرق کردیا ، آج ہم بھی انکے نقش قدم پر چل رہے ہیںمغرب نے مذہبی شدت پسندی ترک کرکے امامت کا مقام حاصل کیا، ہم شدت پسندی سے خود کو ذلیل کرنے پر تل گئے۔طاقت میں بہت آگے مغرب کے عیسائی چاہتے تو اپنا قبلہ بیت المقدس مسلمانوں اور یہودیوں سے چھین کر اور مسلمانوں کے قبلہ کو سکینڈوں میں ملیامیٹ کرسکتے ہیں۔ چاہیں تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک کو تہس نہس کرکے انکے مردوں کو مار ڈالیں اور خواتین کو لونڈیاں بنادیں۔ مسلمانوں و ہندؤں نے خواتین کو انسانی حقوق سے محروم کیا ۔ اگر رشتے ناطے کی محبت ، اقدارکا پاس اورمذاہب سے عقیدت نہ ہو تووہ مغرب کی غلامی کو بھی یہاں کی نام نہادآزادی سے بہتر سمجھیں گے ۔ حکمرانوں،اشرافیہ، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے جہنم سے نکلنے کیلئے اغیار کی حکومتوں کو غنیمت اور اپنی تقدیر کا عروج قرار دیں۔ برصغیر پاک وہند کے بارے میں یہ درست ہے کہ سکندر اعظم سے برطانوی سامراج تک یہاں کی عوام پر رومیوں نے حکومت کی، عربوں، ایرانیوں ، ترکوں ، افغانیوں ، سکھوں اور پٹھانوں نے حکومت کی اور جو بھی باہر سے آیا تو اس نے فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ لیکن یہ تجزیہ کوئی نہیں کرتا کہ یہاں خوار غریب عوام اور خواتین کیساتھ کیا رویہ رکھا گیا؟۔ جو دوسرے حکمران اس سے زیادہ مظالم کی داستان رقم کرتے اور مزید ستم ڈھاتے؟۔پاکستان کے قبائلی علاقہ جات نسبتاً آزاد منش، خوشحال اور فطرت کے ترجمان تھے۔ جس طرح عربوں سے فاتح لوگوں نے تاریخ میں کوئی غرض نہیں رکھی تھی۔ خوبی خامیاں عربوں اور پختون قبائل میں تھیں لیکن علامہ اقبال ؒ نے رسول اللہﷺ کو بندۂ صحرائی اور آنیوالے مجاہدکومردِ کوہستانی کا خطاب دیتے ہوئے بہت واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہفطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانیپورے برصغیرپاک وہند میں آزاد قبائل نے سب سے زیادہ انگریز کی مزاحمت کی تھی اور خاص طور پر وزیرستان کے لوگوں نے۔ہمارے حکمران مرغا بن کے بھی امریکہ کے بوٹ چاٹنے کیلئے تیار ہوجاتے لیکن آزاد منش قبائل نے قربانیوں کا پہاڑ اپنی بربادیوں پر کھڑا کردیا ۔ ہمیں غیروں نے نہیں اپنوں کی سازش، لالچ اور جہالتوں نے تباہی وبربادی کے کنارے پرپہنچادیا۔ طالبان ریاست کی غلطی سے غلط سمت پر استعمال ہوئے اور اب پی ٹی ایم کو بھی غلط سمت استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے۔ منظور پشتین اتنا کہہ دے کہ ’’نیوزی لینڈ کے دہشت گرد کی ماں نے مطالبہ کیا ہے کہ میرے بیٹے کو سزائے موت دی جائے ۔ پختونوں میں بے غیرت دہشت گردوں کی ایک بھی غیرتمند ماں ایسی نہیں جو کھل کر سامنے آئے اور کہے کہ میرا حرام زادہ بیٹا دہشت گرد تھا اور اچھا ہوا کہ انجام کو پہنچ گیا یا اس کو انجام تک پہنچایا جائے۔وہ مائیں یہ نہیں کرتیں تو فوجیوں کے ہاتھوں سے ان کا ٹھنڈا ہونا بہتر ہے جن کو طالبان نے گرم کیا ہوا تھااسلئے کہ دہشتگردی پر اوس پڑی ہے‘‘۔ پی ٹی ایم کی قیادت کو چاہیے کہ پہلے اپنی کڑک مرغیوں سے گندے انڈے پھنکوادے۔ پھر یہ بات ریاست میں نہیں دنیا بھر میں جگہ پکڑے گی کہ’’ اللہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ہمارے حکمرانوں کی طرح مسلمان بنانے کے بجائے ہمارے حکمرانوں کو اس کی طرح ایک اچھا انسان بنائے‘‘۔ ہماری ریاست ڈرامہ کرتی ہے ، نوازشریف کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے اور عمران خان کو بھی۔ جیسے طالبان سے لڑبھی رہی تھی اور اس پر مر بھی رہی تھی، یہی حال منظور پشتین اوراسکے ساتھیوں کے رویے سے بھی لگتا ہے۔ ڈبل پاٹ، ڈبل گیم اور ڈبل پالیسیوں سے ملک وقوم اور مذہب وملت کو تباہ کیا گیا اور ان کھیلوں سے باز آکر سیدھی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔طالبان کی مصنوعی فضاء سے جان چھوٹی مگر لسانیت کا رنگ بہت خطرناک ہے۔ حق کیلئے آواز اٹھانے سے زیادہ ان لوگوں کو دبانے کا ماحول وہ بگاڑ پیدا کررہاہے اور لوگ پھراس ڈبل گیم سے بہت مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک سب سے زیادہ انبیاء کرام ؑ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں مبعوث فرمائے۔سب سے زیادہ مذہبی لوگ یہودو نصاریٰ تھے مگر وہ تحریف کی بدولت اس قدر اپنی فطرت مسخ کرچکے تھے کہ اللہ کو اپنا آخری رسولﷺ عرب میں پیدا کرنا پڑا ۔ اور قرآن میں یہ وضاحت کردی کہ ’’اے نبی! یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی ہرگزہرگز بھی راضی نہ ہونگے یہانتک آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں‘‘۔رسول اللہ ﷺ کے دور میں یہودونصاریٰ کے علماء ومشائخ اور انکے پجاری عوام جہاں کھڑے تھے، آج ہمارے علماء ومشائخ اور عوام بھی انکے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ جب یہودو نصاریٰ کے اپنے مذہبی خداؤں بقول قرآن مجید کے احبارو رھبان کو مغرب کی باشعور عوام نے بالکل سائیڈ لائن پر لگادیا توانہوں نے دنیا میں عروج وترقی کی منزل بھی پالی ہے۔آج عرب علماء، ایرانی حکومت ،برصغیر کے بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ تمام مذہبی طبقے یہودونصاریٰ کی طرح اپنی فطرت بھی مسخ کرچکے ہیں۔اُمید کی کوئی کرن ان سے پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ ایک بڑی کہانی ہے جسکے مختصر دو اسکرین شارٹ ملاحظہ فرمائیں۔ بڑھیا کے کم عقل پوتے کو شہزادی کی گڑیا مل گئی۔ بڑھیانے پوتے کو سلایااور صحن میں چنے بکھیر دئیے۔ وہ اٹھا تو بتایا کہ چنوں کی بارش ہوئی ہے۔ بادشاہ نے قیمتی گڑیاکی منادی کرائی تو لڑکے نے بتایا کہ مجھے ملی ہے۔ دادی نے کہا کہ جھوٹ ہے، اس کو پوچھو کہ کس دن کا واقعہ ہے، لڑکے نے کہا کہ جس دن چنے کی بارش ہوئی تھی۔پھرپوتے نے دادی سے اپنی شادی کامطالبہ کیا تو دادی نے کہا کہ کوئی لڑکی پسند آئے تو اس کو کنکر مارو، اگر و ہ ہنسے تو رشتہ مانگ لوں گی۔ لڑکے نے شہزادی کو کنویں کے کنارے کنکر مارا، وہ کم عقل کی حرکت پر مسکرائی لیکن لڑکے نے بڑا پتھر سر پر دے مارا تاکہ خوب ہنسے۔ اپنی دادی کو بتایا کہ لڑکی نے مجھے بڑا پسند کیا مگر وہ ہنستے ہوئے خوشی سے کنویں میں گر گئی۔دادی نے کنویں میں بکرا، گدھا اور دنباپھینک دئیے۔ بادشاہ نے گمشدہ شہزادی کی برآمدگی پر انعام کابڑا اعلان کیا تو لڑکے نے ماجراء سنایا۔ بادشاہ نے لڑکے کو کنویں میں اتارا۔ لڑکے نے کہا کہ بادشاہ تمہاری بیٹی کے جسم پر اون تھا؟۔ بادشاہ نے کہا کہ ہاں، دم تھی،کیا اسکے سینگ تھے؟۔ بادشاہ ہاں ہاں کرتا رہا۔ چارپاؤں، بڑے بڑے کان کے بعد آخر اس کا ہاتھ گدھے کے ذکر پر لگا تو کہا کہ تیری بیٹی کا اتنا بڑا ذکر تھا؟۔ بادشاہ بڑا شرمندہ ہوا ،اور کہا کہ خبیث بس کرو بس کرو، میری کوئی بیٹی نہیں اور اس کو کنویں سے جلدی نکلوادیا۔جب نبیﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوا، اسلام اجنبیت کا شکار ہوا تو بادشاہ کا دل اپنے باپ کی لونڈی پر آگیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ کسی عورت کو ہاتھ لگانا بھی نکاح کی طرح ہے ،باپ کی لونڈی جائز نہیں۔ امام ابویوسف نے حیلہ بتایا کہ لڑکی کی گواہی قابلِ قبول نہیں، لونڈی کی بات ہی مسترد کرو، کہ تمہارے باپ نے اس کو ہاتھ بھی لگایا ہے۔ پھر آنے والوں نے حرمت مصاہرت کے مسائل کو اسطرح دریافت کیا ، جس طرح بڑھیا کا کم عقل پوتا کنویں میں شہزادی کی خبر بادشاہ کو دے رہا تھا۔ نیند میں غلطی سے ساس کیساتھ جماع حرمت مصاہرت ہے اورہاتھ لگنا بھی حرمت مصاہرت ہے، اپنی بیوی کیساتھ مباشرت اور بچے کی پیدائش کے بعد اصولاً حرمت مصاہرت ہے لیکن ضرورت کی خاطر بیوی جائز ہے۔ ساس کی شرمگاہ کواگر باہر سے شہوت کیساتھ دیکھ لیا تو عذر ہے لیکن اندر سے دیکھ لیا تو حرمت مصاہرت ہے۔ ملاجیون کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ برصغیر پاک وہند کے کم عقل پڑھ اور پڑھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انگریز کے ذریعے دنیا پر قبضہ کرواکر ملا سے جان چھڑائی۔پہلے تعلیم ملاؤں کی رہین منت ہوتی تھی ،اب انگریزی تعلیم ہے۔انگریز کو معلوم ہے کہ جب تک شام وعراق میں داعش کے ذریعے مسلمانوں کی اپنی خواتین کو نکاح بالجہاد کا فلسفہ نہیں سمجھائے، جس میں پنج وقتہ نماز کی طرح ایک خاتون کے دن میں پانچ شوہر بدل بدل کر ریپ کروایا جاتا ہے، تب تک ان کو سمجھ یہ بات نہیں آئے گی کہ مغرب کی خواتین کو لونڈی بنانا بھی برا ہے۔ آج میڈیا میں داعش کی اس کارکردگی پر پرد ہ ڈالا گیا ہے۔ اوریا مقبول جان جانتا ہے کہ ایک دفعہ بیوروکریسی سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد وہ دوبارہ اس نظام کا حصہ نہیں بن سکتا ہے وہ کوشش میں ہے کہ کوئی نیا سیٹ اپ آجائے تاکہ پھرنوکری کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو اور آدمی کی سوچ اپنے ماحول سے آگے جا بھی نہیں سکتی ہے۔اوریا مقبول نے ملاؤں کی حکومت میں نوکری کا خواب دیکھاہے۔جب یہودونصاریٰ کے مذہبی گروہ ناقابلِ اصلاح ہوچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے عرب ان پڑھوں کا انسانیت کیلئے انتخاب کیا اور دنیا کو عربوں کے ذریعے انسانیت کا درس دیا۔ یہ وہ عرب تھے جن کے ہاں حضرت ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ بنی اسرائیل کے مذہبی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو قدرت نے بھی مسترد کردیا تھا۔ جب ان کی خواتین کو عربوں نے لونڈی بنایا تب انکے دل ودماغ بھی کھل گئے اور پھر مسخ شدہ مذہب کو ترک کرکے عروج کی منزل پر پہنچ گئے۔آج اہل مغرب کی فطرت وہ نہیں۔اسلام کی نشاۃ اول عربوں کے ذریعے ہوئی تھی اور قرآن کا پہلا مخاطب مسلمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ کا لفظی تحریف سے حفاظت کا ذمہ خود لیا،اسلئے کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے۔ جسطرح ابراہیم ؑ کے بعد عربوں میں دین اجنبی بن گیاتھا، اس طرح حضرت نوح ؑ کے بعد سے ہندوؤں میں دین اجنبی ہے۔ قرآن کا دوسرا مخاطب عوام الناس اور عالم انسانیت ہے۔ دین میں زبردستی کا کوئی شائبہ تک بھی نہیں ۔ رسول ﷺ کی سیرت طیبہ اعلیٰ نمونہ اور قرآن نبیﷺ کی سیرت ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ نبیﷺ نے کسی مجبوری میں نہیں بلکہ دین کے تقاضے کے عین مطابق کیا تھا۔ اگر مشرکین مکہ اس کو نہ توڑتے تو یہ فتح مبین کا معاہدہ دس سال تک حضرت عمرفاروق اعظم ؓ کے دورِ خلافت تک قائم رہتا۔ مکہ کو جس انداز سے فتح کیا وہ بھی انسانیت کیلئے جیت اور بہت بڑا سبق تھا لیکن اگر معاہدہ برقرار رہتا تو اسلام زمین میں جڑ پکڑ لیتا اور اتنے کم وقت میں فتنے وفساد کا بازار گرم نہ ہوتا اور نہ خلافت راشدہ امارت وبادشاہت میں بدل جاتی۔صلح حدیبیہ کی ایک اہم شق یہ بھی تھی کہ ’’ کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مشرک بن جائے تو مشرکین اسے مسلمانوں کو واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن اگر کوئی مشرک مسلمان بن جائے تو مسلمان اس کو واپس لوٹا دیں گے‘‘۔ آج مغرب نے جاہل مسلمانوں کیساتھ یہ شق مانی ہوئی ہے کہ اگر تم کسی کو عیسائی نہیں بننے دیتے ہوتو خیر ہے لیکن ہمارا کوئی عیسائی مسلمان بنتا ہے تو اس کو اپنے پاس رکھ لو۔ دین کا تعلق روح اور دل کیساتھ ہے۔ جب کوئی دل سے ہی مسلمان نہ ہو تو اس منافق کے دھڑ کو لیکر مسلمانوں نے کیا کرنا ہے؟۔ منافق جہنم کے نچلے درجے میں ہونگے جبکہ مشرک وکافر ان سے کہیں بہتر ہونگے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ فطرت کا تقاضہ تھا لیکن جذباتی صحابہ کرام ؓ نے وقت پر نبیﷺ کی بصیرت کو نہیں سمجھا ۔اللہ نے مسلمانوں کو قرآن میں یہ گنجائش دی کہ ’’ اگر زبردستی سے جاہل ان کو کلمۂ کفر بکنے پر بھی مجبور کریں تو ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ‘‘۔ سندھ میں ہندو بچیاں اسلام قبول کریں تو انکے والدین ، گھر ،محلے ، رشتہ داروں اور کمیونٹی والوں کو اس کرب کی کیفیت سے گزارنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتاہے۔ بچیاں اپنے گھر میں رہیں اگر وہ دل سے مسلمان ہیں اور زبان سے اقرار نہیں کرسکتی ہیں تو بھی مسئلہ نہیں۔ پاکستان، اسلام ، سندھ اور عالمِ انسانیت کی بہادر بیٹی ہدیٰ نے جو آواز اٹھائی یہ اسلام کی روح اور سندھ و پاکستان کیلئے باعثِ افتخار ہے۔ والدین کے دل چھلنی کرنے سے نہیں بلکہ انسانیت کا دل جیتنے سے قرآن ، نبیﷺ کی سیرت اور انسانیت کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔ مولوی، پیر اور فقیر پہلے درسِ نظامی کے گند کو صاف کردیں۔ علامہ خادم حسین رضوی نے بی بی آسیہ کا نام لینا چھوڑ دیا۔ دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر قبضہ کیا لیکن ربوہٰ پر قبضہ نہیں کیا۔ علامہ خادم حسین رضوی ربوہٰ کو فتح کرکے دکھائیں تومحمود غزنوی کے بیٹے بن سکیں گے۔ آج جن کی دم اٹھااٹھاکراستعمال کیا جارہاہے کل یہ ربوہٰ پر چارج ہوکر ہلا بول دیں گے۔ فوج نے دہشت گردوں کو پختونوں پر چھوڑ دیا تو خود بھی محفوظ نہیں رہی اور پختونوں نے دہشت گردوں کو فوج پر چھوڑا تو خود بھی نہ بچ سکے اور یہ مکافاتِ عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جو مسلمان دنیا بھر میں دہشت گردی کی فضاؤں کو بڑا کمال سمجھ رہے تھے انہوں نے نیوزی لینڈ کے ایک واقعہ پر طوفان اٹھا دیا۔ انصاف یہ نہیں کہ اپنے ساتھ زیادتی پر واویلا کیا جائے اور دوسرے کیساتھ زیادتی کو اپنا حق سمجھا جائے۔ سوشل میڈیا پر فضول پروپیگنڈے بھی انسانیت کے بالکل منافی ہیں۔ISI کا نام استعمال کرنے والوں کودھر لیا جائے۔غزوہ ہند کا مطلب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے جدوجہد اور دوسرے نہیں اپنے حکمرانوں کو ہی پکڑکر طوق وسلاسل میں جکڑنا بھی ہوسکتا ہے۔جس طرح ہندو اپنے ویدوں سے دور ہیں اس طرح مسلمان قرآن وسنت سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ جس طرح مشرکین مکہ نے اسلام قبول کرکے قرآن کی نشاۃ اول میں بنیادی کردار ادا کیا، اسی طرح ہندو انسانیت کی بنیاد پر اسلام کو سپورٹ کرکے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی طرح ہمارے مذہبی طبقات بھی اپنی انسانی فطرت کھو چکے ہیں۔ اگر ہماری اپنی ریاست ان کی پشت پناہی چھوڑ دے تو غیرتمند عوام کے ہاتھوں یہ ایک دن حلالہ کی لعنت پر ایسے شکار ہوجائیں گے جیسے نیوزی لینڈ کے معصوم اور بے گناہ نمازی ہوئے تھے۔ اب انکے دانت کھٹے ہیں ،پہلے انکے دلائل کا کسی کے پاس جواب نہیں ہوتاتھا اور اندھے ایکدوسرے کے خلاف لاٹھی چلاتے تھے۔ اب وہ دلائل سے بالکل عاری ہوچکے ہیں۔ اپنی کتابوں اور مبلغ جہالت کا دفاع بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ اپنے خراب انڈوں پر بیٹھ کرپاگل کڑک مرغی کی طرح کٹ کٹ کرکے اپنا ہی وقت ضائع کررہے ہیں۔ جذبات کی شکار عوام کو حقائق کا پتہ چلاتو وہ مولوی صاحبان کو بھی شعور کی دولت سے نوازیں گے۔