پوسٹ تلاش کریں

زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے

زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے شرعی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل واپس لے لی۔ کیا ریاست سودی بینکاری کو اسلامی بینکاری میں بدل دے گی اور اس سے پاکستانی کی معاشی مشکلات حل ہوجائیں گی؟ تو ہم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو بھگوان مان لیں، بھلے ہندو بنیں اور تمام مدارس جامعہ بنوری ٹاؤن ، جامعہ فاروقیہ اور جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال کراچی سے اپیل کریں گے کہ اسلامی بینکاری کو سود قرار دینے کے اپنے فتوؤں سے اعلانیہ رجوع کریں اور مفتی محمد تقی عثمانی کے سامنے مرغا بن جائیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود کی طرف زکوٰة کے مسئلے پر زبردست مخالفت کی تھی اور کہا کرتے تھے کہ ” شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل لگاہواہے”۔ وہ بھی قوم کے سامنے مرغا بن کر اپنی غلط تقریروں سے اعلانیہ رجوع کریں۔
حیلے کے ذریعے سودی نظام کو اسلامی نظام میں بدلنے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے سیاسی اسٹیج پر عورتوں سے ناچنے کیلئے یہ فتویٰ دیا جائے کہ مردوں کی طرح انگلش بال ہوں یا مصنوعی داڑھی کی نمائش ہو تو پھرپردے کا حکم نہیں رہتااور علماء اپنے رومال سے اپنی مبارک داڑھی چھپا کراپنی جنس عورت میں بدل سکتے ہیں۔
رسول اللہ ۖ نے سود کیخلاف آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دیا تھا۔ جب کسانوں کو اپنی محنت کی پوری پوری کمائی ملنے لگی تو بازار میں رونق بڑھ گئی ۔مزارعین میں قوت خرید پیدا ہوگئی۔ کسان کو توقع سے زیادہ محنت کا صلہ ملنے لگا اور تاجروں کو اپنی توقع سے زیادہ گاہک ملنے لگے تھے۔
اگر10لاکھ پر ایک لاکھ سالانہ سود مل جائے اور25ہزار روپیہ زکوٰة کے نام سے کٹ جائیں ۔اصل رقم10لاکھ محفوظ اور75ہزار سود بھی مل جائے اور زکوٰة بھی ادا ہوجائے؟۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بینک کے زکوٰة کی کٹوتی سے در حقیقت زکوٰة کو منسوخ اور کالعدم قرار دیا ۔ اسلئے کہ زکوٰة نہیں سود کی کٹوتی ہوتی ہے۔ پہلے لوگ سود کا مال مدارس کو دیتے اور علماء ان سے لیٹرین بناتے تھے۔
جامعة الرشید کے مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ”میں واحد مولوی ہوں جو فوجی افسران، بیوروکریٹ اور بڑے بڑوں سے ہدیہ لیتا نہیں دیتا ہوں۔ مکہ اور مدینہ کے دکاندار بھی مجھے جانتے ہیں کہ قیمتی اشیاء کی خریداری کرتا ہوں۔ اسلام آباد میں بڑے شاپنگ مال کی باجیاں مجھے جانتی ہیں کہ یہ بابا کچھ نہ کچھ لے گا”۔ سوال یہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم کہاں سے اتناپیسہ لاتا ہے؟۔ کیا اس نے فوج کے افسران اور اداروں کو بھی اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا ہے؟۔ اتنی ملاقاتیں تو ان کی آپس میں بھی نہیں ہوتی ہوں گی جتنی وہ اپنی بتا رہاہے؟۔ اس کا اسٹیٹس کونسا ہے؟ اور کس حیثیت میں کس وجہ سے ان کو ملتا ہے؟۔ تفصیل ضرورآنی چاہیے۔
حامد میر نے اوصاف کے اداریہ میں لکھا تھا کہ مفتی نظام الدین شامزئی نے کہا کہ ” واشنگٹن امریکہ سے براستہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ ایک جہادی تنظیم کے ذریعے پیسہ آرہاہے جو علماء کو خرید رہاہے اور اگر یہ باز نہیں آئے تو انکا بھانڈہ پھوڑ دوں گا”۔ مفتی عبدالرحیم جہاد کے سپورٹ میں ضرب مؤمن نکلتا تھا اور حکیم اللہ محسود نے مذاکرات سے مفتی عبدالرحیم کانام کاٹا تھا۔ مفتی عبدالرحیم نے حال ہی میں ایک حدیث بیان کی کہ تین قسم کے لوگ اپنے برپا کئے فتنے کا شکار ہوں گے۔ وہ علماء جو بات سے پہلے تلوار اٹھائیںگے۔ وہ خطیب جو جذباتی تقریریں کریںگے اور وہ سردار جو اس فتنے کو سپورٹ کرتے ہوںگے۔
جہاد کے نام پر جتنے لوگ دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں ،ان کیلئے سب سے بڑی بنیاد بھی یہی لوگ تھے ۔ اگر ضرب مؤمن میں پہلے اس حدیث کو بیان کیا جاتا تو شاید لوگ اس فتنے کا شکار نہ بنتے۔ اتنے سارے مجاہدین، علماء اور سردارضرب مؤمن جیسے اخبار کی پالیسیوں کا شکار ہوگئے ۔ تحریک طالبان اور مجاہدین نے بھی آخر کار ان لوگوں کو پہچان لیا تھا جو ریکارڈ پر موجود ہے۔
پاکستان اتنے بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیتا ہے لیکن پھر بھی بھیک مانگتا پھر رہاہے اورمفتی عبدالرحیم کچھ نہیں کرتا اور پھر بھی تحائف بانٹ رہا ہے؟۔اس کے پسِ پردہ حقائق کیا ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی کے دارالعلوم کراچی میں بدمعاش نہیں لیکن مفتی عبدالرحیم کے بدمعاش طبقے پالنے کے ہمارے پاس شواہد ہیں۔
مرتد دین چھوڑتا ہے تواس پر قتل کا قرآن وسنت میں ثبوت نہیں ۔ حدیث ہے کہ ” جس نے اپنا دین بدل دیا تو اس کو قتل کردو”۔ اگر کوئی انفرادی طور پر اپنا دین چھوڑ دیتا ہے تو اس کی وجہ سے کوئی بھی دین نہیں بدلتاہے بلکہ وہ خود بدلتا ہے۔ ارتداد نہیں علماء کی تحریف سے دین بدلتا ہے ۔علماء نے خود کو بچانے کیلئے ارتداد کی طرف فتویٰ موڑا تھا لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ ۔ خلافت کا نظام قائم ہواچاہتا ہے۔منافقین طرزِ عمل کے علماء ومفتیان کا چہرہ بے نقاب ہورہاہے۔ دنیا میںمجرم کھل کر سامنے آئیںگے، رازوں سے پردہ اُٹھے گا اور جو دلوں میں چھپے ہوئے ذاتی مفادات ہیں وہ بھی منظرعام پر آئیں گے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔ ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا!

جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا!

خلافت راشدہ میںاور اسکے بعد جمہوریت ہوتی تو مسلمان فرقہ واریت،خون ریزی اوریزیدی آمریت کا شکار نہ بنتے اور دنیا میں عروج ہوتا؟

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ” اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیںگے”۔ (صحیح مسلم) نبی کریم ۖ کی اس پیش گوئی سے جمہوری نظام کی تائید ہوتی ہے؟

نبیۖ سے فرمایا ” ان سے امر میں مشورہ کریں ”۔ فرمایا کہ ” انکا امر باہمی مشاورت سے ہوتا ہے”۔ نبیۖ نے نماز کا طریقہ بتادیا۔ قرآن میں ہے کہ ”جس نے رسول کی اطاعت کی تو تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی”۔ اللہ کے حکم پر عمل سنت ہے۔ خوف اور سفر میں نماز کا جدا حکم ہے اور نماز نہ پڑھنے پر کوئی سزا نہیں ۔صحابہ کرام کی ایک جماعت میں بعض نے عصرکی نماز پڑھ لی اور بعض نے قضاء کرلی۔ نبیۖ نے سزا تو کیا سرزنش بھی نہیں فرمائی۔ نبیۖ نے زبردستی کا اقتدار قائم نہیں کیا۔ابوبکر، عمر ، عثمان ، علی نے خلافت راشدہ قائم کی۔زبردستی کااقتدار عوام پر غلامی مسلط کرنا ہے ،جس کا انجام خراب نکلتاہے۔
فکرہے ہماری نماز، ذکرہے ہمارا وضو
کچھ سوچو سمجھو، سرنہیں ہوتاکدو
اپنا د انشور عربی سے ناواقف ہے
مسلمان ہے مؤمن نہیں عرب کا بدو
حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے خلافت قائم کرنے کی کوشش کی تو مکہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسننے مالٹا اور مولانا فضل الحق خیرآبادی نے کالے پانی میں قید کی سزا کھائی۔ دیوبندی اور بریلوی ان اکابر پر نازکرتے ہیں لیکن اگر پاکستان علماء کی سرپرستی میں قائم ہوتا تواسلام کے بگڑے ہوئے حلیے نے ہمارازیادہ برا حشر کردینا تھا اسلئے جناح کی قیادت رحمت تھی۔
اللہ نے فرمایا ” اللہ کی اطاعت کرو اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور تم میں جو اولی الامر ہیں۔ اور اگر کسی بات میں تمہارا جھگڑا ہو تو اس کو اللہ اور اسکے رسول کی طرف لوٹادو”۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ مغرب کو نبیۖ نے جمہوری نظام کی وجہ سے حق پر قائم ہونے والے قرار دیا اور اگر خلافت راشدہ کے وقت جمہوری نظام ہوتا تو فتنہ وفساد برپا نہیں ہوسکتا تھا۔دنیا کو اسلام نے جمہوریت کی روح سکھائی مگر یزیدیت نے جمہوریت کو دفن کیا۔
المیہ یہ ہے کہ علماء نے پاکستان میں اسلام کے ٹھوس احکام کو پیش نہیں کیا۔ جان کے بدلے جان اور ناک، کان، دانت، ہاتھ اور پیر کے بدلے اسی عضوء کو کاٹنے کا حکم ہے لیکن طاقتور اور ظالم لوگ کمزور اور مظلوموں کی ناک کاٹتے ہیں اسلئے اسمبلی میں یہ حکم پیش نہیں کیا جاتاہے۔ وہ قوانین بن سکتے ہیں جو قرآن و سنت میں نہیں ۔ جمہوریت سے اچھے اقدار اور قوانین کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں اسلام کے درست معاشی و معاشرتی نظام کو پیش کیا گیا تو اس پارٹی کو ریاست اور عوام اقتدار میں بھی لائے گی۔ خطے اور دنیا میں پاکستان کیلئے کامیابی وکامرانی کے راستے بھی کھل جائیںگے اور آپس میں نفرتوں کا خاتمہ بھی ہوجائیگا۔ ہمارا فوجی، سیاسی، مذہبی اور معاشی اعتبار سے استعداد کسی سے کم نہیں بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے مگرہمارا نظام خراب ہے۔ گھر میں ناچاقی اور خرابی ہوسکتی ہے جو ٹھیک کی جائے ،گھر کو توڑا جائے تو مزید خرابی ہوسکتی ہے۔
پہلے ضرورت کے مطابق ملازمین کو تنخواہیں دی جائیں تاکہ ابوبکر و علی کی خلافت سے سودی قرضہ اُتر ے۔ پھر معاشی خوشحالی کا دور آئیگا تو سورۂ واقعہ کے مطابق تین طبقات میں عوام کو تقسیم کیا جائیگا جو خود بخود اپنے مقام کو پہنچیںگے۔ پہلا طبقہ مقربین ، دوسرا اصحاب الیمین اور تیسرا اصحاب الشمال کابن جائیگا۔
ہمارا مراعات یافتہ طبقہ جج، جرنیل، بیوروکریٹ اور سیاستدان یہ نہیں سوچتا کہ ریاست پر بڑا بوجھ آگیا۔ عوام ٹیکسوں سے مرگئی ۔ ریاست دًم توڑرہی ہے۔ حکومت بدنامِ زمانہ بھکارن بن گئی۔ سیلاب زدگان کیلئے فون کی گھنٹی پر دس روپے کی بھیک وزیراعظم فنڈز کیلئے مانگتے ہیں۔ شریف خاندان کو چاہیے کہ لوٹی ہوئی دولت ہو یا حق حلال کی کمائی اسکے دھیلے دھیلے کی زکوٰة سیلاب زدگان کو دیں تو بڑا کچھ ہو گا۔ عمران خان فنڈز غریبوں پر لگاتا تو غریب اس کی صف میں بھی ہوتے۔ اقتدار حاصل کرنے کیلئے خرچہ ہوتا ہے اور غریب مررہا ہوتا ہے۔ علماء کے بچے غریب کی زکوٰة خیرات پر امیر زادے اور شہزادے بن گئے ہیں۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض ”
”کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔

آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔

یقین کریںکہ لوگ ہر چیز پر کمپرومائز کرسکتے ہیں مگر اپنے بچوں پر نہیں کرسکتے۔ہماری ایجنسیاں کہاںسوئی ہیں؟ کیاائیرکنڈیشن کمروں اور بڑی بڑی لینڈ کروزر میں گھومنے کیلئے ہیں؟

ہمارا واقعہ پلان تھا، سہولت کار کہاں پر ہیں؟ایک دفعہ گھر بھجوادیا جائے تو مجال ہے کہ دوسرا سانحہ ہوجائے۔اب پھر طالبان کو کیوں لایا جارہاہے، پھر کس کے گھر اُجاڑنے ہیں؟۔

میں شہید اسفند خان اور آرمی پبلک اسکول پشاور میں شہید147بچوں کی والدہ ہوں۔ آج ہمیں امن جرگے میں بلایا گیا۔ دیر آید درست آید۔ باتیں تھوڑی تلخ ہونگی مگر حقیقت پر مبنی ہوں گی جو شاید سننا نہیں چاہتے لوگ، لیکن میں سناؤں گی۔ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔ آج امن کی بات ہورہی ہے تو میں کہتی ہوں کہ اگر امن چاہیے تو ان دو لائنوں کا مطلب سمجھیں۔ یقین کریں لوگ ہر چیز پر کمپرومائز کرسکتے ہیں لیکن اپنے بچوں پر نہیں کرسکتے۔ ہمارے بچوں کو کیوں شہید کیا گیا ان کے ذمہ داران کون ہیں؟ ان کے سہولت کار کون ہیں؟۔XYZتو چلو مرگئے ۔ ہمارے اسکول کا سانحہ پلان کیا گیا تھا۔ تو ذمہ داروں سے پوچھتے کیوں نہیں ہیں کہ جب یہ پلان ہورہا تھا تو آپ کس ہاتھی کے کان میں سورہے تھے؟ کیسے سب کچھ ہوگیا ؟ ہماری ایجنسیز کہاں سوئی ہوئی تھیں؟۔کیا وہ صرف کرسیوں پر ایئر کنڈیشن کمروں میں بیٹھنے کیلئے ہیں؟۔ بڑی بڑی لینڈ کروزر میں گھومنے کیلئے ہیں؟۔ یہ رولنگ کلاس پارٹی بیٹھی ہے ، ہم نے ایک ایک پارٹی کو پکڑا لیکن کسی نے ساتھ نہیں دیا۔ اسلئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ مقدس گائے سے پوچھے کون؟۔ خلائی مخلوق سے پوچھے کون؟ ہم وہ والدین ہیں جو تاریخ بنارہے ہیں ہم پوچھیں گے۔ اگر پوچھا ہوتا تو باچا خان یونیورسٹی اور ایگری کلچر یونیورسٹی میں لاشیں نہ گرتیں۔ ایک دفعہ کسی کو گھر بھجوادیا تو مجال ہے کہ کوئی دوسرا سانحہ ہوجائے۔ کوئی ہے جو مقدس گائے سے پوچھے۔ مجھے کہا گیا کہ آپ کو بھی اٹھالیا جائیگا۔ ساڑھے سات مہینے سے وہ کیس بند ہے۔
Justice delayed is Justice denied
والا قصہ ہے ۔یہی ہمارے ََََساتھ بھی کیا جارہا ہے۔روئیں گے چیخیں گے چلائیں گے ،میڈیا پر بولیں گے، قصہ ختم ہوجائیگا۔جیسے سب لوگ شہیدہوجاتے ہیں یہ بھی شہید ہوگئے ، ہم بھی اپنے بچوں کی قبروں پر مٹی ڈال کر سوگئے۔ مجھے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ آپ روئیں نہیں میں جب عمرے پر گیا تھا تو میں نے آپ کیلئے بہت دعائیں کیں کہ اللہ آپ کو صبر دے۔ تو میرے پاس اپنے بیٹے کی لاش کی تصویر تھی میں نے ان کو کہا کہ جسٹس صاحب مجھے انصاف چاہیے۔ آپ کا کام نہیں ہے میرے لئے صبر کی دعائیں کرنا وہ میرا اور میرے اللہ کا مسئلہ ہے۔ آپ کا کام مجھے انصاف دینا ہے۔ آپ اس کی تنخواہ لے رہے ہیں۔ مجھے اجر دلوانے کیلئے دعاؤں کے پیسے نہیں لیتے۔ میری ان تمام باتوں کا لب لباب یہی ہے کہ اگر ہم ذمہ دار لوگوں کو جو اس چیز کیلئے ہائر کئے گئے ہیں جن کا جو یہ کام ہے اگر وہ صحیح طریقے سے کریں تو امن ہی امن ہے۔ کسی جرگوں کی ضرورت نہیں ہے کہ دوسرا جرگہ کریں تیسرا جرگہ کریں اور چوتھا کریں۔ جب امن ہوگا تو جرگوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ابھی جو طالبان کا سین چل رہا تھا پہلے عمران خان صاحب نے چلایا تھا۔ اسکے بعد یہ سین دوبارہ چل رہا ہے۔ اس کی بھی ہم نے بہت مذمت کی کہ جب یہ پالیسیاں بنارہے ہیں تو اور کس کی لاشیں گرارہے ہیں؟۔ اور کس کی قربانیاں لی جارہی ہیں؟۔ اور کس کی ماؤں کو رلایا جارہا ہے؟۔ اور کتنے گھر ویران ہورہے ہیں؟۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ بس ہوگیا لوگ روئیں گے۔ تھوڑے سے میڈیا میں آئیں گے چیخ و پکار ہوگی۔ دو تین اینکر آکر انٹرویو لے لیں گے۔ بس رو رو کر قصہ ختم مٹی پڑ گئی سب پر۔ دی اینڈ اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا چلتا رہے گا اور آپ لوگ امن جرگے کرتے رہیں گے کرتے رہیں گے۔ اس سب کا لب لباب یہ ہے کہ ذمہ دار لوگوں سے جواب طلب کیا جائے۔ وہ جوابدہ ہیں ان کو جواب دینا ہوگا تو تب ہی اس کا حل نکلے گا۔

__شہید اسفند خان کی اماں کی جرأت کو لاکھوںسلام مگر…..تبصرہ__
جب شہبازشریف اور عمران خان مرکز اور پنجاب میں طالبان کو سپورٹ کیا کرتے تھے اور میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے سمیت روزانہANPشہید کی جاتی تھی ۔ انکے قائدین اور کارکنوں کو خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایا جاتا تھا تو پختونخواہ کی عوام عمران خان اور پاکستانی عوام نوازشریف کواقتدار میں لائی۔سوات اور قبائلی علاقوں کی عوام تباہ ہوگی اور اپنے ایک بچے پر بزرگوں کو ڈانٹ رہی ہیں۔ بشیر بلوراورہارون بلور نے خود کو قوم پر قربان کیا تھا۔ لیکن پشاور والے فوج و طالبان کے حامیوں کو اقتدار میں لائے تھے یا نہیں؟۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔

جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔

سورہ المائدہ میں اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہ کرنے والوں کے تین الگ الگ گروہ ہیں۔1:علماء ومشائخ،2:حکمران اور3:عوام الناس

علماء ومشائخ کے فیصلے سے دین بدل جاتا ہے اسلئے ان پر کفر کا فتویٰ ہے، حکمران عدل قائم نہیں کرتے اسلئے ظالم ہیں اور عوام صرف فاسق بنتے ہیں

سورۂ المائدہ میں اللہ نے3فتوے بیان فرمائے ۔ پہلا یہ کہ ” علماء ومشائخ کا کام دین کی حفاظت ہے ۔ علماء یہود تورات کی حفاظت کرتے مگر انہوں نے خوف اور لالچ کیلئے کتاب کو بدل ڈالا۔ اے امت مسلمہ کے علماء تم خوف و لالچ کیلئے دین کو مت بدلو اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں”۔ علماء کی طرف سے اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہ کرنے سے اللہ کا دین بدل جاتا ہے اسلئے ان پر سب سے زیادہ بڑا فتویٰ کفر کا لگایا گیاہے۔
اللہ نے دوسرا فتویٰ یہ لگایا کہ بنی اسرائیل میں بہت سے بادشاہ بنادئیے تھے اور واضح کیاتھا کہ ” ہم نے توراة میں ان پر لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، دانت کے بدلے دانت، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان اور زخموں کا قصاص ہے اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔ چونکہ معاشرے میں عدل وانصاف کا نام قائم کرنا حکمرانوں کا کام ہے اسلئے یہود کے حکمرانوں پر ہی اس آیت میں ظالم ہونے کا فتوی لگایا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اقتدار نہیں ملا تھا اور انجیل میں حکومت سے متعلق احکام نہیں ہیں۔ یہودی علماء و حکمرانوں کا قبضہ رہاتھا اور تورات کے حوالے سے پہلے دو سخت فتوے جاری کئے گئے ۔ اللہ نے تیسرا فتویٰ اہل انجیل عوام پر اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہ کرنے کے حوالے سے فاسق کا لگادیا۔ کیونکہ عوام کی وجہ سے نہ دین بدل سکتا ہے اور نہ ظلم کا نظام قائم ہوسکتا ہے۔
شاہ ولی اللہ نے نظام کو تلپٹ کرنے کا کہا تو انگریز نہیں تھا بلکہ اسکے باپ نے فتاوی عالمگیریٰ میں اورنگزیب بادشاہ کیلئے دین کا فتویٰ بدلاتھا۔آج پھر علماء یہود کے عالمی بینکنگ کے نظام کیلئے زکوٰة اور سود کے احکام بدل رہے ہیں۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے! امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید”
”کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری ”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری

کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری

کچھ مفتی گھٹنوں میں سر دے بیٹھے لیکن سید بولتا تھا
جب ریاست پاکستان مرزائیوں کو مسلمان کہنے پر تلی ہوئی تھی تو کئی بڑے علماء ومفتیا ن دُم دبا کر بیٹھے تھے!

حکومت نے بیان درج کرانے کیلئے امیر شریعت کو سکھر جیل سے لاہور سینٹرل جیل منتقل کردیا۔ پیشی پر امیر شریعت اور انکے قیدی رفقاء کو سخت پہرے میں لایا گیا۔ عدالتی ہرکارے نے آواز لگائی ، سرکار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری۔ اب اسیر ختم نبوت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری پورے قلندرانہ جاہ وجلال والی جرأت و وقار کے ساتھ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔ سرفروشان احرار نے پورے ہائیکورٹ کو حصار میں لے رکھا تھا۔ عدالت کے دروازے پر ہزاروں فدایانِ ختم نبوت اور شمع ناموس رسالت ۖ کے پروانے نعرہ زن تھے۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد۔ امیر شریعت نے عدالت کے درواز پر کھڑے ہوکر ہتھکڑیاں فضاء میں لہرائیں اور ہاتھ سے اشارہ کیا ، حکم ہوا خاموش۔ تمام مجمع ساکت و جامد ہوا۔ امیر شریعت عدالت میں داخل ہوگئے۔ جسٹس منیر بغض و حسد سے بھرا ہوا غصے سے لال پیلا گردن تنی ہوئی تکبر غرور کا پیکر بنا کرسی پر بیٹھا تھا۔ مرد مؤمن کے چہرہ انور پر نگاہ پڑی تو اس کی آنکھیں جھک گئیں۔ جسٹس منیر دوسری مرتبہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ عدالت کی کاروائی شروع ہوئی۔ امیر شریعت نے اپنا تحریری بیان عدالت میں پیش کیا۔ جسٹس منیر نے ایک نظر بیان کو دیکھا۔ جسے اس نے منیر انکوائری رپورٹ میں شامل نہیں کیا اور پھر اس نے اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں سوالات کا آغاز کردیا۔ جسٹس منیر:ہندوستان میں اس وقت کتنے مسلمان ہیں؟۔ امیر شریعت : سوال غیر متعلق ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں پوچھیں۔ جسٹس منیر: ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑجائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ امیر شریعت: ہندوستان میں علماء موجود ہیں وہ بتائیں گے۔ جسٹس منیر : آپ بتادیں؟۔ امیر شریعت: پاکستان کے بارے میں پوچھیں کہ پاکستان کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟۔ جسٹس منیر : مسلمان کی کیا تعریف ہے؟۔ امیر شریعت: اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان کہلانے کیلئے صرف کلمہ شہادت کا اقرار و اعلان ہی کافی ہے۔ لیکن اسلام سے خارج ہونے کیلئے ہزاروں وجوہات ہیں، ضروریات دین میں کسی ایک کا انکار کفر کے ماسوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے کسی ایک کو بھی انسانوں میں مانا تو مشرک، قرآن کریم کی کسی ایک آیت یا جملہ کا انکار کیا تو کافر۔ اور نبی کریم ۖ کے منصب ختم نبوت کے بعد کسی انسان کو کسی بھی حیثیت میں نبی مانا تو مرتد۔ جسٹس منیر: (قادیانی وکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) انکے بارے میں کیا خیال ہے؟۔ امیر شریعت: خیال نہیں عقیدہ ہے جو انکے بڑوں کے بارے میں ہے۔ مرزائی وکیل: نبی کی کیا تعریف ہے؟۔ امیر شریعت: میرے نزدیک اسے کم از کم ایک شریف آدمی ہونا چاہیے۔ جسٹس منیر بدتمیزی کے انداز میں: آپ نے مرزاقادیانی کو کافر کہا؟۔ امیر شریعت: میں اس سوال کا آرزو مند تھا کوئی بیس برس پہلے کی بات ہے یہی عدالت تھی جہاں آپ بیٹھے ہیں یہاں چیف جسٹس مسٹر جسٹس ڈگلس ینگ تھے اور جہاں مسٹر کیانی بیٹھے ہیں یہاں رائے بہادر جسٹس رام لال تھے۔ یہی سوال انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا وہی جواب آج پھر دوہراتاہوں۔ میں نے ایک بار نہیں ہزاروں مرتبہ مرزا کو کافر کہا ہے اور کافر کہتا ہوں اور جب تک زندہ ہوں کافر کہتا رہوں گا، یہ میرا ایمان اور عقیدہ ہے اور اسی پر مرنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی اور اسکی ذریت کافر و مرتد ہے۔ مسیلمہ کذاب اور ایسے ہی دیگر جھوٹوں کو دعویٰ نبوت کے جرم میں قتل کیا گیا۔ جسٹس منیر: (غصے سے بے قابو ہوکر دانت پیستے ہوئے) اگر غلام احمد قادیانی آپ کے سامنے دعویٰ کرتا تو آپ اسے قتل کردیتے؟۔ امیر شریعت: میرے سامنے اب کوئی دعویٰ کرکے دیکھ لے۔ حاضرین عدالت: نعرہ تکبیر اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد۔ کمرہ عدالت نعروں سے لرز گیا۔ جسٹس منیر نے بوکھلا کر کہا: توہین عدالت۔ امیر شریعت نے جلال میں آکر فرمایا: توہین رسالت۔ محترم قارئین! جسٹس منیر (دم بخود، خاموش، مبہوت، حواس باختہ) پسینہ پوچھنے لگا۔عدالت امیر شریعت کی جرأت ایمانی اور جذبہ حب رسول ۖ دیکھ کر سکتے میں آچکی تھی۔ امیر شریعت نے گرج دار آواز میں پوچھا :کچھ اور؟جسٹس منیرپریشانی میں بڑبڑاتے ہوئے : میرا خیال ہے ہمیں اور کچھ نہیں پوچھنا، عدالت برخواست ہوتی ہے۔ وہ صداقت جس کی بے باکی تھی حسرت آفریں ۔ قارئین ! امیر شریعت کا مکالمہ امید ہے بہت اچھا لگا ہوگا!۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے! امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید”
”جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امت کے تمام طبقات اسلامی بینکاری پر اضطراب میں مبتلا ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان

امت کے تمام طبقات اسلامی بینکاری پر اضطراب میں مبتلا ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان

مفتی محمد تقی عثمانی کے نام مولانا سلیم اللہ خان کا خط
مروجہ اسلامی بینک اور حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان کا کردار : مفتی رفیق احمد بالاکوٹی

https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detailماہنامہ بینات ، جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی، پاکستان۔

جامعہ فاروقیہ کے الفاروق نے مفتی تقی عثمانی کی توہین وذاتی عناد، مولانا سلیم اللہ خان کی معافی اور متفقہ فتویٰ کے مقابلے میں غلط متفقہ فتوے کی نشاندہی کی ،یہ اقتباسات لئے ہیں!
جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی رفیق احمد بالا کوٹی نے یہ مکمل مضمون جامعہ فاروقیہ کے ماہنامہ ”الفاروق” کی اجازت سے ”البینات” میں شائع کیا ہے اور نیٹ پر اس کو دیا ہے۔ مضمون سابقے اور لاحقے کی وجہ سے اچھا خاصا طویل ہے جس بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے گلستان کی مانند ہے اور شہد کی مکھی کی طرح اس کا رس بھی اچھا خاصا دشوار ہے۔ تاہم کچھ اقتباسات سے یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہوگی کہ سود کو جواز فراہم کرنے والے کس طرح اس عالمی سازش کو چھپا رہے ہیں اور ذاتی عناد وتعصبات سے لیکر جھوٹے توبہ تائب اور جعلی فتوؤں کا سہارا لینے سے بھی شرم نہیں کھاتے ہیں ۔ اقتباسات دیکھ لیجئے۔
شیخ المشائخ، استاذ الاساتذہ، سرخیلِ علماء حق، پاسبانِ مسلکِ دیوبند، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مد نی کے فکری وعملی جا نشین ، حق گوئی …. حضرت مولا نا سلیم اللہ خان15جنوری2017کو راہیِ آخرت ہوگئے…..
فرمایاکہ اگلا اجلاس ہمارے ہاں جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی میں ہوگا۔ یہ اجلاس قریبی تاریخ اوروقت میں منعقد ہوا، جس میں شہر کے متعدد اہلِ فتویٰ کو مدعو فرمایا گیا تھا، جن میں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا زرولی خان صاحب، حضرت مفتی عبدالمجید دین پوری شہید، حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید، حضرت مولانا منظور احمد مینگل، حضرت مولانا مفتی حبیب اللہ شیخ، حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز وغیرہ شامل تھے۔ ……حضرت (مولانا سلیم اللہ خان) نے شرکاء مجلس کی اس رائے سے اتفاق فرمایا اور اپنے بزرگانہ مقام پر جاکر یہاں تک فرمایا کہ : بھئی! (حضرت کے بیان کو اپنی تعبیر کیساتھ عرض کررہا ہوں، اگرچہ حضرت کے الفاظ مجھے اچھی طرح یاد ہیں، وہ کلمات نقل کرنا میرے لئے شاید مناسب نہ ہوں، ان کے ارشاد کا مفہوم یہ تھا)ان لوگوں (مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی) کیساتھ مجلس اور مشاورت کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ الٹا نقصان ہوگا، اسلئے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ……
میں نے ان حضرات (مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی)کے سامنے اپنا ارادۂ ملاقات رکھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ حضرت! (مولانا سلیم اللہ خان صاحب) آپ تشریف نہ لائیں، ہم آپ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں…
حسب ارشاد قبل از عصر حاضر ہوئے تو حضرت مولانا زر ولی خان ، مفتی احمد ممتاز، مفتی حبیب اللہ شیخ اور جامعہ فاروقیہ کے کچھ حضرات بھی تشریف فرما تھے۔
اس کے بعد نماز عصر ادا کی اور حسب مشورہ حضرت کے ہمراہ مفتی محمد تقی عثمانی کیساتھ مجوزہ اطلاعی مجلس منعقد ہوئی۔ مفتی تقی عثمانی کو اپنے اتفاقی روانگی کا پروگرام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں نے یہ تحریر تیار کی، جو آپکی خدمت میں سنا کر اجازت چاہوں گا۔ اسکے بعد حضرت نے مندرجہ ذیل تحریر پڑھ کر سنائی:
الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین الصطفیٰ و بعداحقر کو علم و فضل کے اعتبار سے جناب سے کوئی نسبت نہیں ہے، علم و فضل سے ہے ہی نہیں تو نسبت کیا ہوگی؟ البتہ اللہ نے ایمان نصیب کیا ہے، دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ یہ زندگی ایمان والی زندگی اور کلمہ والی موت پر ختم فرمائے۔
1: اسلامی بینکاری پر تشویش و اضطراب ہے، علمائ، عوام، بینکنگ سے متعلق افراد، تاجر سب اسلامی بینکاری کو اسلامی تعلیمات کیخلاف سمجھتے ہیں۔
2: جتنے معتبر اور معروف دار الافتاء ہیں سب میں اس سلسلے کے استفتاء ہوتے ہیں اور جواز و عدم جواز سے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں۔
3: دوسرے ملکوں میں بھی یہ اضطراب ہے، وہ بھی سوالات کرتے ہیں۔
4: اس صورت حال سے دوسروں کی نسبت جناب کو زیادہ سابقہ رہتا ہوگا، کیونکہ آپ ہی پاکستان میں اس کے موجد ہیں۔
5: علم و ضل کے اعتبار سے جو آپ کا مقام ہے وہ محتاج بیان نہیں، لیکن عصمت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کیساتھ خاص ہے، دوسرا کوئی معصوم نہیں، اس کا امکان بہر حال موجود ہے اسلامی بینک کا نظام جاری کرنے میں آپ سے غلطی ہوئی ہے۔نمبر1، نمبر2، نمبر3پر جو باتیں ہیں، غلطی کے ارتکاب کیلئے واضح دلیل ہیں، اضطراب غلطی پر ہوتا ہے ، ایسا اضطراب جس نے تمام طبقات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، صحیح بات پر اضطراب نہیں ہوتا اور کوئی معاند مضطرب ہوتا ہے تو اس کی وجہ عناد ہوتی ہے، جبکہ امت کے تمام طبقات اسلامی بینکاری پر تشویش و اضطراب میں مبتلاء ہیں، یہاں عناد کا سرے سے کوئی احتمال موجود نہیں ہے، ان کا اضطراب اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔
6: ”ربا” کا معاملہ انتہائی نازک و سنگین معاملہ ہے، اس سلسلے کی وعیدوں سے آپ ہرگز بے خبر نہیں ہیں، چنانچہ احتیاط واجب و لازم ہے۔
7: ”ربا” میں ”شبھة الربا” بھی حرام ہے، اگر حقیقت ”ربا” کو قبول نہیں کیا جاسکتا تو ”شبھة الربا”سے تو انکار ممکن نہیں۔
8: ارباب فتویٰ اورجو بینکنگ کے امور سے باخبر ہیں، بیانات مسلسل اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے ہیں، جو اسلامی بینکاری کو اسلام کیخلاف قرار دیتے ہیں، اپنے دلائل بھی پیش کرتے ہیں، یقیناً آپکے علم میں ہونگے، ضروری تھا کہ آپ ان کو مطمئن کرتے اور جوابات شائع کرتے اور نہیں تو ارباب فتویٰ جو آپ ہی کے حلقے کے حضرات ہیں ان سے رابطہ کرکے ان کی تسلی کا انتظام کیا جاتا جو نہیں کیا گیا، اگر کبھی کوئی مشاورت ہوئی ہے تو اس کے نتیجے میں اختلاف ختم نہیں ہوا، اعتراضات بدستور موجود ہیں اور تشویش و اضطراب برقرار ہے۔
9: سننے میں آیا ہے کہ بینکاری پر آپ اپنے آپ کو ”اعلم الناس” سمجھتے ہیں،دوسروں کی معلومات کو ناقص فرماتے ہیں، مجھے تو آپ کی طرف اس قول کی نسبت درست معلوم نہیں ہوتی، اگر آپ کا یہ دعویٰ نہیں تو پھر وہی سوال ہوگا کہ آپ نے اشکال کرنے والوں کو مطمئن کیوں نہیں کیا؟ تاکہ اضطراب رفع ہوتا اور اگر آپ واقعی اپنے آپ کو عالم اور دوسروں کو ”ناقص العلم” سمجھتے ہیں ”فھو کما تراہ” یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہوگی، سور جاثیہ میں: افرایت من اتخذ الٰھہ ھواہ و اضلہ اللہ علیٰ علم و ختم علیٰ سمعہ و قلبہ و جعل علیٰ بصرہ غشٰوہ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرونO”کیا تو نے دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اس کو اللہ نے گمراہ کردیا علم کے باوجود۔ اور اسکے کان اور دل پر مہر لگادی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو کون ہے اللہ کے بعد اس کو ہدایت دینے والا، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟”۔ہم نے فیصلہ کیا کہ اضطراب و تشویش کو دور کرنے کیلئے علماء و اہل فتویٰ کی وسیع مشاورت سے فتویٰ اسلامی بینکاری کے ”عدم جواز” پر جاری کیا جائے اور پورے ملک میں تشہیر کا اہتمام کیا جائے، ہم ہرگز تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، ہم تو دل و جان سے آپ کیساتھ رہتے ہیں اور آپ کا احترام کرتے ہیں، امت کو ”ربا” کی لعنت سے بچانے کیلئے اپنا شرعی فرض ادا کرنا چاہتے ہیں، اس میں ذرا بھی تردد نہیں کہ فرض کی ذمہ داری ہم پر لازم اور ضروری ہے اور اب تک جو کوتاہی ہم سے ہوئی ہے اس پر ہم استغفار کرتے ہیں، آپ کیلئے بھی دنیا و آخرت کی فلاح کا واضح تقاضہ ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں اور غلط مفادات کیلئے اس پر مشورہ دینے والوں سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ”ان فی ذٰلک لذکریٰ لمن کان لہ قلب او القیٰ السمع و ھو شھید”۔دستخط: مولانا سلیم اللہ خان ۔17جون2005۔
……….. وہ مطلوبہ دستاویزات دینے کیلئے کئی شرائط بار بار دہراتے رہے، ارشاد یہ تھا کہ: ”یہ دستاویزات یہیں پر دیکھی جاسکتی ہیں، باہر نہیں لے جاسکتے۔ اگر…… پھر ان دستاویزات کے مندرجات کا حوالہ نہیں دے سکتے۔ اگر حوالہ دینا چاہیں تو اس سے قبل ہم سے مشاورت اور مذاکرہ کرلیا جائے۔”…
اسلامی بینکوں کا اسٹیٹ بینک کی سودی پالیسیوں سے آزاد مستثنیٰ ہونے کا دعویٰ محض ”خود فریبی” یا ”دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے” کے …
جامعہ دار العلوم کراچی میں حضرت شیخ رحمة اللہ علیہ کی وہاں کے اکابرسے ملاقات کے حوالے سے ”نارساراوی” ….. ….حضرت فرمانے لگے کہ : اس دن میرے سفرِ ملتان کی وجہ سے جلدی کو مولانا محمد تقی عثمانی نے شاید محسوس فرمایا تھا ……ہمارے بے تکلفانہ روئیے سے اگر انہیں رنج ہوا تو ہم اس پر ان کی دلجوئی کرلیں۔ ہم اسلئے دار العلوم چلے گئے تھے۔ یہ عنوان دیا کہ ”سلیم اللہ” مولانا تقی عثمانی وغیرہ سے معافی مانگنے آیا تھا۔ بھئی! معافی تو زیادتی یا غلطی کی ہوتی ہے۔ ہم نے بینکوں کے خلاف فتویٰ دیکر پھر ازراہِ ہمدردی و خیر سگالی اس کی پیشگی اطلاع کرکے کونسی غلطی اور زیادتی کی تھی، جس پر ہم معافی مانگتے۔ معافی کی اس میں کیا بات ہے؟! کیا ”سلیم اللہ” اس پر کسی سے معافی مانگے گا؟۔ …
واضح قرائن بتاتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈہ ایک قسم کی دفاعی مہم کا حصہ تھا، بینکوں سے وابستہ بعض حضرات نے اپنے بینک کاری سفر کے مخالفانہ فتوے کو قبل از وقت متنازع بنانے کیلئے اور اس فتویٰ کو محض مخالفت و عناد کا شاخسانہ قرار دینے کیلئے ”باہمی توہین و توقیر” کا مسئلہ بناکر پیش کیا تھا۔
مگر الحمد للہ! پہاڑوں جیسا حوصلہ رکھنے والے سالارِ قافلہ حضرت شیخ کے عزم و استقلال پر اس پروپیگنڈے کا کوئی اثر نہیں پڑا، بلکہ ان کی اس کرامت کا ظہور بھی ہوا، جسے اولِ وہلہ میں ہمارا طفلانہ اصرار سمجھنے سے قاصر تھا۔…
یہ فتویٰ کتنا مؤثر ثابت ہوا ؟ ….مجوزین کے سٹپٹاتے رویوں سے ہوتا ہے، تفصیل چھوٹے بڑے کئی دفتروں کی متقاضی ہے۔ تین طرح پر اکتفاء کروں گا:
1: متفقہ فتویٰ کو ذاتیات، ذاتی رنجشوں اور بغض و عناد کا شاخسانہ قرار دینے کیلئے رنگا رنگ دروغ گوئیوں کا سہارا لیا گیا، جس کی معمولی جھلک اوپر ہے۔
2: مجوزین نے ان بزرگوں کی عزت اور بے عزتی کا مسئلہ باور کرانا شروع کردیا، جنکے نام اور کام پر یہ لوگ اپنا کاروبار چلارہے تھے۔ حالانکہ متفقہ فتویٰ کو اختلاف تو کہا جاسکتا ہے جو ہر صاحب علم کا حق ہے، ان کے خلاف مہم قرار دینا کسی طور پر درست اور سچ نہیں تھا، لیکن کیا کریں عصری تقاضوں کے سامنے ”سچ” اہمیت نہ پاسکا اور اختلاف کو خلاف کہہ کر شدید پروپیگنڈہ فرمایا گیا۔
3: متفقہ فتویٰ کو جوازی فتویٰ کی مخالفانہ مہم قرار دینے والوں کو کہیں سے خدائی خدمت گار کے طور پر اپنے مزاج کے مطابق متفقہ فتویٰ کیلئے مخالفانہ مہم کی ایک بے ساکھی میسر آئی، جس نے ملک کے مختلف نامی اور بے نامی اداروں کو شرفِ یاوری بخشا اور ایسے اداروں کی ہر نوع خدمت سے وابستہ علماء کرام اور قراء عظام سے مروجہ بینکوں کے حق میں دستخط لئے۔ جس کی اہمیت و حیثیت وہ لوگ ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ (یہ اقتباسات متفقہ فتویٰ سے لئے گئے ہیں)
اسلامی بینکاری کیخلاف متفقہ فتویٰ پر دستخط کرنیوالے مفتیانِ عظام
حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ۔مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل، مفتی سمیع اللہ، مفتی احمد خان ، جامعہ فاروقیہ کراچی۔مفتی حمید اللہ جان ، جامعہ اشرفیہ لاہور ۔ مولانا سعید احمد جلال پوری ،مولانا مفتی عبد القیوم دین پوری، دارالافتاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی۔ مولانا مفتی عبد المجید دین پوری، مفتی انعام الحق، مفتی رفیق احمد بالاکوٹی، مفتی شعیب عالم ،جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔مولانا مفتی غلام قادر دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سرحد ۔ مفتی محمد مدنی، معہد الخلیل الاسلامی، بہادر آباد، کراچی ۔ مفتی احمد خان، جامعہ عمر کوٹ، سندھ ۔مفتی قاضی سلیم اللہ ، دار الہدیٰ ٹھیڑی ، خیرپور، سندھ۔ مولانا مفتی احتشام الحق آسیا آبادی، جامعہ رشیدیہ آسیا آباد، تربت بلوچستان۔ مفتی امداد اللہ، مولانا کلیم اللہ،جامعہ دھورو نارو، سندھ۔مولانا مفتی روزی خان، دار الافتاء ربانیہ کوئٹہ ، بلوچستان۔مفتی عاصم عبد اللہ جامعہ حمادیہ کراچی۔مولانا مفتی احمد ممتاز ،مفتی امان اللہ صاحب، جامعہ خلفاء راشدین، کراچی۔مفتی عبد الغفار جامعہ اشرفیہ، سکھر۔مولانا مفتی حامد حسن، دار العلوم کبیر والا، پنجاب۔مولانا مفتی عبد اللہ جامعہ خیر المدارس ملتان۔مفتی حبیب اللہ شیخ جامعہ اسلامیہ کلفٹن۔ مفتی نذیر احمد شاہ جامعہ فاروق اعظم ، فیصل آباد۔مفتی سعید اللہ جامعہ عربیہ تعلیم الاسلام، کوئٹہ۔مولانا گل حسن بولانی، جامعہ رحیمیہ سرکی روڈ کوئٹہ۔ مولانا مفتی زر ولی خان ، جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال، کراچی۔مولانا مفتی سعد الدین جامعہ حلیمیہ، لکی مروت، مفتی عبد السلام چاٹگامی ، جامعہ معین الاسلام، بنگلہ دیش۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کٹاکٹ بنے گا یا دودھ نکلے گا؟

کٹاکٹ بنے گا یا دودھ نکلے گا؟

مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر.. اسلامی بینک کیخلاف مگر شیخ بضدہیں کہ مینڈھے کے کپور ے دودھ دینگے۔اُٹھو! شیطانی بد چلنی پر ورنہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!
مرزائیت جہاد اور اسلامی بینکاری اسلامی معیشت کے خلاف بڑی بین الاقوامی سازش؟

گردوں اور کپوروں کے لذیذکٹاکٹ۔برنس روڈ اور شاہراہ قائدین کراچی ہوٹلوںکے بڑے سائن بورڈ۔ اسلامی بینکاری سے کٹا کٹ نہیں بنے گا اور نہ ہی کپوروں سے دودھ نکلے گا!

صیہونیت کے عالمی سودی نظام کی وجہ سے ”فرنگ کی رگِ جان پنجہ یہود میں ہے” اور اب عرب حکمرانوں کے بعد ایٹمی قو ت پاکستانی حکومت کو بھی یہود کے پنجے میں دیا جارہاہے؟

ہندوستان اوراکثردنیاپر انگریز تاج برطانیہ کا قبضہ تھا تو اقبال نے کہاکہ ”فرنگ کی جان پنجہ یہود میں ہے”۔ وجہ بینکوں کا صیہونی نظام تھا۔ جرمن کے ہٹلر نے یہودیوں کو بڑی تعداد میں قتل اور ملک بدر کیااور کہا کہ تھوڑے یہودی رہ جائیں تو دنیا کو پتہ چلے گا کہ میں کیوں مجبور ہواتھا ۔اب اسرائیل کے مظالم دنیا کے سامنے ہیں۔ اسرائیل کو مصر، ترکی اورکئی سارے مسلم ممالک مان چکے۔ افغانستان پر طالبان حکومت کو مسلم ممالک یہاں تک کہ پاکستان نے بھی نہیں مانا۔ جب پاکستان سمیت چند ممالک نے طالبان کو مان لیا تھا توافغانستان کے سفیر ملاضعیف کوپاکستان نے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔افغانستان کے نائب سفیر حبیب اللہ فوزی ڈاکٹر اسرار احمد کے پروگرام ”انٹرنیشنل خلافت کانفرنس” میں میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھے تھے اور اس پروگرام میں برطانیہ وغیرہ سے بھی کچھ تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی تھی اور مجھے آخری مقرر ہونے کے شرف سے نوازا گیا تھا۔ جب افغانستان پر حملہ ہونا تھا تو حبیب اللہ فوزی نے میڈیا پر ملاعمر کے خلاف بیان دیا تھا۔ طالبان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ امیر امان اللہ خان سے صدر نجیب اللہ تک پہلے اور بعد میں افغانی ہی افغانیوں کے خلاف استعمال ہوئے اسلئے پاکستان سے گلہ کم اور خود سے زیادہ کرنا چاہیے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کی بات انتظامی وسیاسی ہے لیکن یہود کے سودی بینکوں کے نظام کو اسلامی قرار دینے کا تعلق کفر و اسلام سے تھا اسلئے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر ترکی ومصر وغیرہ کے خلاف مذہبی طبقہ فتوے کے میدان میں نہیں اترا ۔ اگر سودی نظام اسلامی بن جائے تو اس قانون سے کیا فرق پڑے گا کہ مریم نواز دوپٹے کو پگڑی بناکر مرد مولانا مریم نواز شریف زندہ باد اور مولانا اپنے رومال کو سر سے اُتارکر دوپٹہ بنالے اور بی بی فضلہ الرحمن زندہ باد بن جائے؟۔
1980کی دہائی میں امریکیCIAکے کرائے کی جنگ کو جہاد قرار دیا گیا اور بینکوں سے سود کی کٹوتی کو زکوٰة قرار دیا گیا۔ مفتی محمود اس پر پان کھلانے اور حلق میں خصوصی گولی ڈالنے سے شہید ہو گئے ۔ مولانا فضل الرحمن اس کو ”شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ”قرار دیتا تھا۔ مولانا نے1996میں بینظیربھٹو حکومت میں شمولیت کی تو جمعیت کے علماء کو زکوٰة کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔ شراب کی بوتل شراب طہور بن گئی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے ” عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں”حکمرانوں اور علماء ومفتیان کے کردار کو واضح کیا۔ جس میں یہ تھا کہ ” کسی عالم سے کوئی بات شیطان کہلوادے تو اس پر برگشتہ مت ہو، اسلئے کہ رجوع کرسکتاہے۔ پوچھاگیاکہ یہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ شیطان نے کہلوایا؟۔فرمایا : جب لوگوں کو تعجب ہو کہ کیا بات کی ؟، پوچھا :اگر وہ توجہ دلانے پر رجوع نہ کرے توفرمایا: پھر وہ عالم حق نہیں بلکہ سراپا شیطان ہے”۔ عصر حاضر میں یہ بھی ہے کہ ”علماء انبیاء کے امین اور دین کے محافظ ہیں جب تک حکمرانوں سے گھل مل کر دنیا میں گھس نہ جائیں اور جب وہ حکمرانوں سے گھل مل کر دنیا میں گھس جائیں تو ان کو چھوڑدیں”۔ مشہور عالم شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”تربیت اولاد” سعودی عرب ، دبئی اور دنیا بھر کے ائیرپورٹ پر ملتی ہے لیکن ”مسلمان نوجوان” جسکا ترجمہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے کیا تھا سعودیہ اور دبئی کے کتب خانوں سے بھی غائب ہے۔ جس میںفتنہ اباحیت اور اقتصادی غیر مسلم ماہرین کے سودی نظام کو دنیا کیلئے تباہ کن قرار دینے کا ذکر ہے ۔ ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، مولانا یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالمجید دین پوری ، مفتی نظام الدین شامزئی اور بہت سے علماء ومفتیان کو عالمی سازشوں کیخلاف زبان کھولنے اور لکھنے پر شہید کیا گیا ۔ ان کی وہ کتابیں بھی مارکیٹ سے غائب ہیں۔ یہ موجودہ دور کاہی المیہ نہیں بلکہ تاریخ کے ہردور میں اسلام کا حلیہ بگاڑنے والے حکمرانوں اور علماء سوء نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ مفتی تقی عثمانی کی مفتی محمود اور مولانا سلیم اللہ خان ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، بنوری ٹاؤن ، فاروقیہ ، حقانیہ، اشرفیہ ،خیرالمدارس، قاسم العلوم اور پاکستان کے معروف علماء ومدارس کے سامنے کیا حیثیت تھی؟ ۔امریکی CIA، صیہونی لابی اور مقتدر طاقتوںکی پشت پناہی سے ایک شخص جیت گیا اورباقی سب ہار گئے۔
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مفتی محمد نعیم نے حلالہ کے مسئلے پر ہماری تائید کی، مفتی تقی عثمانی نے ڈرایا۔ انہوں نے سودی بینکاری پرہمارے سامنے مفتی تقی عثمانی کی مخالفت بھی کی اور ہماری اس بات کی تائید کی کہ” قرآن کی جو تعریف مدارس میں پڑھائی جاتی ہے اس سے قرآن کی توہین اور تحریف ہوتی ہے”۔ جس کی بنیاد پر بڑے فقہاء نے لکھا کہ ” سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے” جس پر مفتی تقی عثمانی کو ہم نے رجوع اور کتابوں سے نکالنے پر مجبور کردیا تھا۔اس وقت صرفMQMکے رہنماؤں نے ہمارا ساتھ دیا تھا۔یہ اس گستاخی کا نتیجہ تھا کہ نبیۖ پر فلاتمنن تستکثر (احسان نہ کریں کہ بڑی تائید کی امید رکھو)کی تفسیر میں سود کی تہمت لگادی۔ کراچی میں شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین پر سود اور اپنی ماں سے زنا کے برابر گناہ کا الزام لگانے کی جسارت کرنے والا مفتی محمد تقی عثمانی بہت بڑاخدا ہے۔ اتخذوا احبارھم و رھبانہم ارباباً من دون اللہ”انہوں نے اپنے علماء ومشائخ کواللہ کے سواء اپنا رب بنایا تھا” یہودی سے صحابیبننے والے نے نبیۖ سے عرض کیا کہ ہم نے ان کو خدا تو نہیں بنایا تھا؟۔ نبیۖ نے فرمایا : کیا انکے حلال کردہ حرام کو حلال نہیں سمجھا؟، صحابی نے عرض کیا : یہ تو ہم کرتے تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہی تو رب بنانا ہے”۔ صحیح بخاری ومسلم۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے علماء اپنا بھرپور کردار اداکریں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

علم و شعور کی بنیاد پر اختلاف رحمت ہے لیکن جاہل اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔

علم و شعور کی بنیاد پر اختلاف رحمت ہے لیکن جاہل اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ! اس کا ایک منفی پہلو ہے کہ سب بتوں کی نفی ہے اور دوسرا مثبت پہلو ہے کہ اللہ پاک کی معبودیت کا اقرارہے!

ہم نے پاکستان کی بنیاد ہندؤوں اور ہندوستان سے نفرت پر رکھی ہے جو منفی پہلوہے لیکن اسلام کو بطورنظام نہیں اپنا یاہے جوبڑا مثبت پہلو تھا

زرداری سے نواز شریف وشہباز شریف کی نفرت کے بعد اب دونوں سے عمران خان کی نفرت اور پھر عمران خان پر فائرنگ تک معاملہ پہنچ گیا۔

جب1948میں جہاد کشمیر پرپاکستانی انگریز آرمی چیف نے قائداعظم محمدعلی جناح کو جواب دیا کہ ”میں اپنے سینئر افسران اور بڑی تعداد کی فوج سے نہیں لڑ سکتا ” تو قائداعظم نے قبائل سے جہاد کی اپیل کردی۔ پنجاب کی عوام کو بزدل کہنا بہت بیوقوفی ہے۔ احمد خان کھرل سے بڑا عظیم سپوت خطے نے نہیں پیدا کیا ہے لیکن ہمارے تعلیمی نظام میں ہیروز کا کوئی ذکر نہیں۔ پختون ہیروز بھی انگریز کے جانے کے بعد انگریز کی باقیات کا شکار ہوگئے۔1965میں بھی ہم نے جنگ جیتی نہیں تھی بلکہ پنجاب اور سندھ کی غیور عوام نے بڑے پیمانے پر دفاع کیا تھا۔1971کی جنگ میں تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرکے ہم نے مشرقی پاکستان گنوادیا تھا۔ صرف ایک کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے بہت زبردست فتح حاصل کرلی تھی جس میں کرنل شیرخان شہید کو نشان حیدر مل گیا تھا۔ باقی1948سے روس وامریکہ کے خلاف افغان جہاد تک ہماری فوج کا کوئی جہادی کارنامہ نہیں ۔ اگر اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنا ہے تو پھر فوج کو پولیس بنادیا جائے۔ یہ رائے عامہ ہے اور ہماری قوم ایسی بن چکی ہے کہ یہ پولیس کے ہاتھوں سدھرنے والی بھی نہیں ہے لیکن دوسری طرف فوج کی ٹریننگ دشمن کیلئے ہوتی ہے اور اپنی عوام پر فوجی رویہ مسلط کرنا دشمن بنانے کے مترادف ہے۔ ہمارا سارا سیاسی اشرافیہ بھی بقول شیخ رشید کے فوجی گملوں میں پلا ہوا ہے ۔ جلا دو،گرا دو اور راکھ کا ڈھیر بنادو۔ پارلیمنٹ پر لعنت ۔ یہ مشہور ڈائیلاگ اور عوامی مقبولیت کے نشانات ہیں۔ اس قوم کو انقلابی اور مثبت فکر دینے کی سخت ضرورت ہے۔
جب جنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح کو غدار کہہ دیا تو اصلی مسلم لیگیوں کو فوج سے نفرت ہوگئی۔ وہ بنگلہ دیش کے مجیب الرحمن بن گئے۔ پھر فوج کے گملے سے ذوالفقار علی بھٹو برآمد ہوگئے۔ بھٹو نے بھی ڈکٹیٹر شپ کا رویہ اختیار کرلیا پھر جنرل ضیاء الحق تشریف لائے۔ پھر پیپلزپارٹی کے جیالوں اورMRDوالوں کو فوج سے نفرت ہوگئی۔ جعلی مسلم لیگی بنائے گئے اور جب جنرل ضیاء حادثے کا شکار ہوگئے تو پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور پھر اسلامی جمہوری اتحاد میں بڑے عناصر اکٹھے کئے گئے۔ پیپلزپارٹی اور نوازشریف ایک دوسرے کے حریف بن گئے۔ پھر پرویزمشرف کی آمد ہوئی اور فوج سے محبت رکھنے والوں کی باقیات کو بھی فوج سے نفرت ہونے لگی۔ پھر باری باری پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف کو لوگوں نے آزمایا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ موجودہ اتحاد کی حکومت آئی تو عوام کو سب سے نفرت ہوگئی۔ عمران خان نے پھر اپنی طرف سے نفرت کا جادو جگایا اور عوام اسکے پیچھے چل پڑی ہے۔ اب زیادہ تر لوگ کسی پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ کوئی مستحکم پارٹی اور نظام نہیں۔ زرداری کیخلاف آگ اگلنے والا شہباز شریف عوام کے دلوں پر راج کرتا تھا اور اب کہتا ہے کہ وہ سنجیدہ بن چکاہے اور عمران خان نیازی نفرتوں کو ہوادے رہاہے؟۔کوئی شرم بھی ہوتی ہے کوئی حیاء بھی ہوتی ہے والی تقریر بھی عمران خان کو پارلیمنٹ میں یاد ہے؟۔
پنجاب میں بغیر مغز والی سری کو فوجی سری کہتے ہیں۔ جنرل امجد شعیب نے براڈ شیٹ میں کتنا گھناؤنا کردار اپنی کم عقلی سے ادا کیا تھا؟۔ سیاستدانوں کیلئے اساتذہ ، مرشد اور تربیت کی رہنمائی والے فوجی سپہ سالار ہوں گے تو ان کی تعلیم و تربیت کیا ہوگی؟۔ ریاست پر یلغار کرنے والے صحافی حضرات بھی فوجیوں کے شاگرد ہیں۔ ہمارے معاشرے میں استاذ، پروفیسر ، علماء ، مرشد اور لیکچرار کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہے تو جہالتوں کا دور دورہ نہیں ہوگا تواور کیا ہوگا؟۔
ہندوستان میں فوج کی حیثیت ایک ادارے کی ہے اور اس نے اتنی ترقی کرلی کہ خود کو سپرطاقتوں میں شمار کرتا ہے۔فوج کی تربیت دشمن سے نمٹنے کیلئے ہوتی ہے۔ ہندوستان نے بنگلہ دیش پر قبضہ نہیں کیا تو پاکستان پر کیوں کریگا؟۔ کشمیر اور گلگت پر بھڑکیاں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم مستقبل کو سنوارنے کیلئے ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں کہ نہ صرف بھارت بلکہ عالم اسلام، چین ، روس اور مشرق ومغرب کی ہم قیادت کرسکتے ہیں۔ مولوی کا اسلام ناکارہ اور بہت خطرناک ہے لیکن اللہ کا اسلام دنیا کیلئے آج بھی بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ہم اپنی تعمیرنو علم وشعور کی بنیاد پر کرسکتے ہیں۔
پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالالہ الااللہ۔ لیکن اب تک صرف لاالہ تک بات چل سکی ہے ۔ ہم نے ہندومذہب کے بتوں ،سومنات کے مندر سے تعصبات کی حد تک کلمے کا پہلا حصہ پڑ ھا ہے اور ابھی تک الا اللہ کے نظام پر نہیں آئے ہیں۔ اگر الااللہ کے نظام کی طرف آتے تو جس طرح مشرکینِ مکہ نے اسلام قبول کیا تھا ،اسی طرح تمام ہندو بھی خود بخود اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرتے۔
قائداعظم کی پہلی بیگم فوت ہوگئی تو دوسری بیگم کی ضرورت پڑی۔39سالہ محمد علی جناح کا16سالہ رتن بائی پارسی لڑکی سے معاشقہ ہوا۔ پارسی مذہب کی تعلیمات میں یہ بات شامل ہے کہ کسی اہل کتاب سے ان کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ قائداعظم بھی پہلے پارسی بیگ گراؤنڈ سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر اس کا دادا آغا خانی شیعہ بن گیا۔ قائداعظم کے والد کا نام ذوالجناح کی وجہ سے پوجا جناح رکھا گیا جو بعد میں بگڑ کر پونجا جناح بن گیا۔ جیسے کراچی کو آج بھی ہمارے کچھ مہاجر بھائی کرانچی بولتے ہیں۔ جب رتن بائی کی عمر18سال کو پہنچی تو کورٹ میرج کرلیا اور کورٹ میرج میں محمد علی جناح سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا تھا اسلئے جناح کو تحریری طور پر لکھ کر دینا پڑگیا کہ میرا کسی کتاب مذہبی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وجہ تھی کہ احراری طعنے دیتے تھے کہ ایک لڑکی کی خاطر اسلام کو چھوڑا۔ اسلام سے اس کا کیا تعلق ہے۔ رتن بائی نے باپ سے بغاوت کی تھی ،پارسیوں کے ہاں اس کا رشتہ ختم تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو آغا خانی مذہب کے پیشوانے بھی اس کا جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا۔ قائداعظم نے سر آغا خان سے سفارش کیلئے کہا لیکن آغا خان نے کہا کہ اس نے ٹھیک کیا ہے۔ پھر قائداعظم اس وجہ سے فرقہ واریت کے خلاف ہوگئے۔ جب قائداعظم کی بیٹی دینا جناح نے اپنے پارسی کزن سے کورٹ میرج کی تو قائداعظم نے بہت روکا لیکن ا س نے کہا کہ آپ نے بھی میری ماں کیساتھ کورٹ میرج کی تھی۔
پاکستان میں اسلامی نظام کے اثرات تو دور کی بات ہے کو ئی اشارات بھی دکھائی نہیں دئیے۔ مولوی خود بھی اسلام سے دور فرقہ واریت کا شکار تھے اور آج تک زبانی جمع خرچ کے علاوہ اسلام کی درست تعلیمات پر عمل تو بہت دورکی بات ہے اس کی سمجھ بھی نہیں ہے۔ اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام سامنے آتا تو دنیا پاکستان کی امامت قبول کرتی۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو5سو بااثر مسلم شخصیات میں چھٹا نمبر دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کو پہلا نمبر دینا چاہیے اسلئے کہ اس نے زکوٰة کو پہلے تحلیل کردیا اور پھر سود کو جواز بخش دیا۔ اگر کوئی دوسرا ایسا کرتا تو اس کے ساتھ کیا ہوتا؟۔ قائداعظم کے بعد عمران خان نے لاالہ الااللہ کا نعرہ لگایا ہے لیکن اب تیرا میرا رشتہ کیا؟۔” لڑکیاں ناچیں لڑکوں نے جھپٹا مارا” نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ75سالوں سے دھوکے کھائے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کے حالات بہت زیادہ بدسے بدترین حد تک پہنچ سکتے ہیں۔
اگر ٹرانس جینڈر بل میں ایک ہیجڑے کو یہ اختیار دینا غلط ہے کہ وہ خود کو مرد کی طرف مائل محسوس کرتا ہے یا عورت محسوس کرتی ہے؟۔ ظاہر ہے کہ کسی مشین کے ذریعے تو 51فیصد مرد یا عورت کا پتہ نہیں چلے گا۔ پھر بھی چلو خلاف اسلام یہ سراسرکفر ہے تو پھر جماعت اسلامی بتائے کہ جب جنرل ضیاء الحق نے پوچھا تھا کہ ریفرینڈم میں اسلام چاہیے یا نہیں؟۔ تو کیا مسلمانوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسلام چاہیں یا نہیں؟۔ جماعت اسلامی اور بڑے مدارس نے اپنے اس فتوے سے اب تک توبہ کی ہے؟۔ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن والے اس گناہ میں شریک نہیں تھے۔ ولی خان کہتا تھا کہ اسلام چاہیے یا نہیں؟ کیلئے پہلے جنرل ضیاء الحق کرسی پر اپنا ناجائز قبضہ چھوڑ دے۔ ہمیں اسلام چاہیے لیکن یہ نہیں کہ جہاد افغانستان میں ہو اور مالِ غنیمت منصورہ لاہور میں بٹ جائے۔
جماعت اسلامی کے مخلص لوگ بہت خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے اچھا کیا ان کو بھی درست آئینہ دکھا دیا۔ پہلے یہ بھی کہا تھا کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا بدلہ علماء سے سید عتیق گیلانی نے اتار دیا۔
ہمارا مقصد بالکل بھی انتقامی کاروائیاں نہیں ہیں۔ علامہ جواد حسین نقوی نے ڈاکٹر اسرار احمد کے مرکز لاہور میں شجاع الدین شیخ امیر تنظیم اسلامی،اوریا مقبول جان اور سینیٹر مشتاق احمد خان کو خوب دھویا۔ علامہ جواد حسین نقوی نے اس جمہوری نظام کو اسلام سے متصادم قرار دینے کیلئے بہت مؤثر دلائل دئیے لیکن یہ ان کی زبردست غلط فہمی ہے۔ اولی الامر سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ اولی الامر کو ایسا ہی ہونا چاہیے جس سے اختلاف کی گنجائش ہو۔ رسول اللہ ۖ سے بھی جن صحابہ کرام نے مختلف امور پر اختلاف کیا تھا ،اس کی نہ صرف گنجائش تھی بلکہ اللہ نے کئی جگہوں پر صحابہ کرام کی تائید بھی فرمائی ہے۔ سورہ مجادلہ ، بدر کے قیدیوں پر فدیہ اور سورہ عبس میں اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ قرآن سے شیعہ سنی اسلئے روگردانی کرتے ہیں کہ بعض معاملات سے ان کے فرقے اور مسالک ملیامیٹ ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ فرقہ واریت سے ہٹ کر دین کی خدمت کریں۔
حضرت علی نے حضرت ابوبکر کی خلافت سے درست مشاورت کا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے اختلاف کیا تھا۔ چونکہ انصار و قریش میں بھی تناؤ پیدا ہوا تھا اسلئے وسیع مشاورت کا موقع نہیں ملا۔ قرآن میں مشاورت کا حکم بھی ہے اور اس کی خبر بھی ہے۔ اولی الامر کیلئے مشاورت کا بہترین طریقہ کار جمہوری نظام ہے اور اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کے خلیفہ سوم کیلئے گنجائش تھی کہ منصب چھوڑ کر اپنی جان بچاتا لیکن حضرت عثمان نے خواب کی وجہ سے منصب نہیں چھوڑا تھا۔ جبکہ اہل تشیع کے دوسرے امام حضرت حسن کیلئے منصب چھوڑنے کی اہل تشیع کے نزدیک گنجائش نہیں تھی اور انہوں نے چھوڑ دیااسلئے آغا خانی اور بوہری شیعہ امام حسن کی امامت کو بھی نہیں مانتے ہیں۔
حضرت علی نے بھی اس وقت منصب خلافت کے فرائض انجام دینا شروع کئے جس وقت کچھ لوگوں نے مشاورت سے مسند پر بٹھادیا۔ جب تک دوسرے خلفاء تک تھے تو حضرت علی نے بڑے خلوص کیساتھ ساتھ دیا۔ جب حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد امام زین العابدین نے پیری مریدی کی طرح مسند سنبھال لیا تو صوفیاء نے بھی اس طرز پر خلافت باطنیہ کا سلسلہ شروع کیا۔ البتہ آغا خانیوں کے ائمہ کو خلافت فاطمیہ کا موقع مل گیا تھا۔ حسن بن صباح کی کہانی بھی مشہور ومعروف ہے۔ جس کے جانشین کی حکومت کو ہلاکو خان نے تاراج کیا تھا۔ دنیا میں موجودہ ریاستوں میں باطل نظام کا ڈھانچہ بھی جمہوریت سے ہی آسانی کیساتھ بدل سکتا ہے۔ انقلاب سے بنوامیہ کی جگہ بنوعباس آسکتے ہیں اور جمہوریت سے دلائل کی بنیاد پر خلافت راشدہ قائم ہوسکتی ہے لیکن ہمارے ہاں کی موجودہ جمہوریت بھی ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار اور ایک ڈھونگ ہے۔
جمعیت علماء اسلام ، جمعیت علماء پاکستان ، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک وغیرہ تمام مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں۔ اسلام کا معاشی نظام اور قرآن وسنت میں عورت کے حقوق کا درست معاشرتی معاملہ عوام کے سامنے پیش کردیں۔ سول وملٹری بیوروکریسی ، تمام صوبوں کی عوام اور خطے کے ممالک کو ہمارا جمہوری اسلامی انقلاب بہت پسند آئے گا اور اس کے اثرات پوردی دنیا کو بھی ایسا متأثر کریں گے کہ خلافت علی منہاج النبوت کے قیام پر امریکہ، اسرائیل اور یورپی یونین بھی آمادہ ہوجائیںگے۔ عورت کے ٹھوس حقوق سے پوری دنیا میں عورت کا ووٹ اسلام کیلئے استعمال ہوگا۔
پہلے امریکہ کیخلاف اور طالبان کے حق میں پختونخوا ہ کے اندر بڑے جلوس نکلتے تھے۔ اب طالبان کیخلاف امن کے نام پر جلوس نکل رہے ہیں۔ پہلے مذہبی طبقہ جلوس نکالتا تھا اور اب قوم پرست طبقہ جلوس نکال رہا ہے۔ پہلے محسن داوڑ پر باجوڑ میں جماعت اسلامی والوں نے کرسیاں پھینکی تھیں اور اب سینیٹر مشتاق خان منظور پشتین کے ساتھ کہتا ہے کہ ریاست آدم خور ہے، پشتونوں کی قاتل ہے اور مورچے میں بیٹھے ہوئے طالبان اور قلعے میں بیٹھے ہوئے فوجی ایک ہیں۔ ہمارا اتنا مطالبہ ہے کہ لاہورکی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ آسکتے ہیں تو منصورہ لاہور میں بھی سینیٹر مشتاق قوم پرستوں کو ضرور بلائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مہذب دنیا میں کوئی مقدس اور قانون سے بالاتر نہیں چاہے کوئی جج ہے یا وکیل یا فوجی! ماریہ جدون

مہذب دنیا میں کوئی مقدس اور قانون سے بالاتر نہیں چاہے کوئی جج ہے یا وکیل یا فوجی! ماریہ جدون

چاہے کوئی سیاستدان ہو ،سب کو برابر کی سزا ملنی چاہیے۔پوری دنیا کا اصول ہے ،اس کی بہت مثالیں ہیں :ماریہ جدون

اگر اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے ساتھیوں کیساتھ مل کر قوانین بنائیںاور عوام کو الگ رکھیں تو قوم اور ادارے لے ڈوبتا ہے

السلام علیکم ۔ ناظرین یہ2014کا سال تھا جب امریکی ریاست اوہایو کی عدالت میں خاتون جج پریزی ہنٹر کو گھسیٹ کر ہتھکڑیاں لگا کر لایا جاتا ہے اور سخت قید بامشقت سزا سنادی جاتی ہے۔ الزام تھا کہ اسکے بھائی کے پاس آمدن سے زائد اثاثے تھے اور اثاثوں کو بنانے میں اس جج کے غیر قانونی فیصلوں کا عمل دخل تھا۔ جب اس جج کو عدالت سے گھسیٹ کر لے جایا جا رہا تھا تب امریکہ کے کسی جج نے یہ نہیں بولا کہ یہ امریکہ کے نظام انصاف پر حملہ ہے۔ تب یہ جج پریزی ہنٹر بھی چاہتی تو شاید اپنے ساتھ دس بارہ جج ملاتیں اور ایسے قانون بنالیتیں کہ اسکے بعد اگر امریکہ میں کوئی جج یا اس کی فیملی کوئی کرپشن کرتی تو اس کو پکڑا نہیں جاسکے گا۔ مگر خیر چھوڑیں۔( انگریزی میں جج اپنا فیصلہ سناتا ہے)
نمبر 1: آپ کو حکم ہے کہ اس عدالت کا وقت ضائع کرنے کا جرمانہ دینا ہوگا۔
نمبر2: آپ کو حکم ہے کہ آپ دوبارہ کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کریں گی۔
نمبر3: آپ کو 6مہینے کی جیل سنائی جاتی ہے ۔ انسپکٹر پلیز مجرم کو لے جائیے۔
ناظرین یہ30نومبر2018امریکی ریاست فلوریڈا کا واقعہ ہے۔ جب منزل کاؤنٹی کے پہلے ضلعی جج ڈیوڈ کاکن کو سیکس ٹریفکنگ اور پراسیکوشن میں اپنے ایک رشتہ دار کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ (اقرارجرم)
مجھے ایسے لگا کہ میں اس کی ہوس کی غلام ہوں اور وہ مجھے اس کام کے پیسے بھی دیتا تھا۔ اس واقعہ نے فلوریڈا کے عدالتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ تب فلوریڈا کے جج اور وکلا چاہتے تو احتجاج کرکے اپنے ساتھی جج کو بچانے کی کوشش کرسکتے تھے۔ مگر یقین کیجئے ایک کرپٹ جج کی حمایت میں کوئی ایک آواز تک نہ آئی۔
جج”جاروڈ کالکنز” کو سیکس کے کیس کی تباہ کن تفصیلات آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں۔ اس جج کے اوپر جسم فروشی کے کاروبار میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ امریکہ کے ہوگا کاؤنٹی کے جج لینس میسن کو جب12ستمبر2019میں بیوی کے قتل کے الزام میں35سال کی سخت قید بامشقت سنائی جاتی ہے تب بھی امریکہ کے وکلاء یا ججز کمیونٹی میں سے کوئی ایک بھی آواز اس قاتل جج کے لئے نہیں نکلتی۔ (فیصلہ)۔ آپ نے درخواست کی کہ آپ کے بچوں کو اس کیس سے دور رکھا جائے مگر ہم ایسا بالکل نہیں کرسکتے۔ اسی طرح امریکی نیویارک اسٹیٹ کی جج لیتیسیا اسپیسیو کو ایک معمولی غلطی پر نہ صرف برطرف کردیا گیا بلکہ180دن جیل کی سزا بھی سنادی گئی۔ لیکن ہائے افسوس محترم جج کی توہین پر بھی امریکہ میں معمولی سی آواز بھی نہ اٹھ سکی۔ (فیصلہ) سابق جج لتیسیا اسٹیشیو سٹی کورٹ جج کو6مہینے قید کی سزا سنادی گئی۔ آسٹریلیا میں جج نے صرف ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کی تو اسکو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ سابقہ سپریم کورٹ جج جو خود نشے کی حالت میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف قانون سازی کرتے تھے وہ خود نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے پکڑے گئے تو انکے خلاف کاروائی کی گئی۔ یاد رہے دنیا کے بہت ممالک میں یہ قانون ہے کہ اگر کوئی جج کچھ غلطی کرے تو اسے عام آدمیوں سے زیادہ سخت سزا ملتی ہے۔ پچھلے سال امریکی ریاست مشی گن کی جج ٹریسا ویمن کو اپنی طلاق کے کاغذات میں رد و بدل کے الزام میں نہ صرف فوری گرفتار کرکے12گھنٹوں میں سزا سنا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ناظرین یہ سارے واقعات بیان کرنے کا مقصد آپ کو یہ سمجھانا ہے کہ مہذب دنیا میں کوئی مقدس نہیں ہوتا۔ پوری دنیا میں یہ اصول ہے کوئی بھی مقدس نہیں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ چاہے کوئی سیاستدان ہے، چاہے کوئی فوجی ہے، چاہے کوئی وکیل ہے، چاہے کوئی جج ہے۔ کوئی بھی جرم کرتا ہے تو اسے برابر کی سزا ملنی چاہیے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوگا کہ اگر آپ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے اپنے ساتھیوں سے ملکر قانون بنوالیں تو باقی عوام کیلئے ایک الگ قانون ہو تو یہ یاد رکھیں ایسے طرز عمل قوم اور ادارے دونوں لے ڈوبتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کا بین الاقوامی اقبال مسیح جس کی رگ و پے میں فقط مستی کردار

پاکستان کا بین الاقوامی اقبال مسیح جس کی رگ و پے میں فقط مستی کردار

BLLF(باؤنڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ) کے بانی نے ہزاروں پاکستانی بچوں کو جبری مزدوری سے نجات دی
6سو روپے قرض کے عوض6سال کام بغاوت سے دنیا میں نام کمایا تو12سال کی عمر میں قتل

کیا آپ نے کبھی اقبال مسیح کا نام سنا ؟۔ یقینا نہیں سنا ہوگا۔ مگر اس عظیم پاکستانی گمنام ہیرو سے دنیا واقف ہے۔ اقوام متحدہ ہر سال اسکے نام سے ایوارڈ جاری کرتا ہے،اس کی زندگی پر کتابیں لکھی گئیں، اسکے نام پر دنیا میں کئی ادارے ہیں، یورپ کی سڑکوں پر موجود مجسمے اس کی عظمت کی عکاس ہیں۔ ہماری یہ ویڈیو اس عظیم پاکستانی کو خراج تحسین پیش کرنا ہے اور ہم آپ کو اقبال میسح کی اذیت ناک زندگی اور دردناک موت کی داستان سنائیں گے ۔ اقبال میسح1983میں ضلع شیخوپورہ کے نواحی شہر مریدکے میںایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوا تھا اقبال کی والدہ ایک مقامی کارپٹ فیکٹری میں معمولی سی اجرت پر کام کرتی تھی اور یہی ملازمت اس گھرانے کے گزر بسر کا ذریعہ تھی۔ اقبال کی والدہ نے اسکے بڑے بھائی کی شادی کیلئے600روپے کا قرض ارشد نامی مقامی تاجر سے لے رکھا تھا،جو وہ بیماری کے باعث ادا نہ کرپائی اور بدلے میں اقبال کو فیکٹری مالک کے حوالے کرنا پڑا۔ صرف4سالہ اقبال کارپٹ فیکٹری میں مزدوری کرنے پر مجبور ہوگیا۔6سال تک کیلئے اقبال دن میں14گھنٹے تک کام کرتا رہا۔ مگر قرض تھا کہ جوں کا توں موجود رہا۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں اقبال مسیح نے زندگی کا بدصورت رُخ جھیلنا شروع کیا۔ چونکہ فیکٹری مالک صرف ایک وقت کا کھانا دیتا تھا اور پورا ہفتہ روزانہ14گھنٹے کام کرواتا تھا۔ مگر اقبال کے حوصلے بلند تھے اور ایک دن اس کے ذہن نے بغاوت کو جنم دیا سو وہ1990کو غلامی کی زنجیریں توڑ کر بھاگ نکلا۔ مگر چونکہ فیکٹری مالک اثر و رسوخ والا تھا سو پولیس کو رشوت دیکر جلد ہی اسے گرفتار کرلیا گیا۔ کچھ دن پولیس کی قید میں ٹارچر کروانے کے بعد اسے دوبارہ فیکٹری میں کام کیلئے قید کردیا گیا۔ اس دور میں پاکستان میں کئی فیکٹری، کارخانوں میں بچوں سے کم عمری میں معمولی اجرت پر جبری مشقت کروائی جاتی تھی۔ مگر اقبال کی یہ کوشش رائیگاں گئی اور دوبارہ فیکٹری میں کام کرنا پڑا۔ اب کام کا بوجھ مزید بڑھا یا گیا۔ مگر اقبال تھا کہ غلامی سے نہ صرف خود بلکہ ہزاروں بچوں کو بھی آزاد کروانا چاہتا تھا۔ سال بعد اقبال دوبارہ بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ اس دفعہ خوش قسمتی سے وہ چائلڈ لیبر کیخلاف سرگرم تنظیم کے پاس جا پہنچا جنہوں نے پاکستانی قانون کی روشنی میں غلامی سے نجات دلائی۔ اقبال مسیح نے لاہور کے اپنے جیسے تقریباً3ہزار ننھے مزدور بچوں کو بھی سرمایہ داروں کی قید سے آزاد کیا۔ اقبال مسیح نے10سال کی عمر میں بچوں کی آزادی کی پہلی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا نام باؤنڈڈ لیبرلبریشن فرنٹ(BLLF)تھا۔ اقبال10سالہ لیڈر، جس نے سرمایہ داروں کی فیکٹریوں بھٹوں سے ہزاروں بچوں کو آزاد کروایا۔ جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر پر پابندی لگی۔ دنیا کو خبر ہوئی تو اقبال جو11سال کی عمر میں بھی4فٹ سے کم قد کا تھا کی دھوم مچ گئی۔1994میں اقبال کو امریکہ میں مدعو کیا گیا اورری بک یوتھ این ایکشن کے تحت چائلڈ ہیرو کے ایوارڈ سے نوازا گیا جسکے تحت سالانہ15ہزار امریکی ڈالرز کی تعلیمی اسکالر شپ دی گئی۔ جبکہ برانڈیز یونیورسٹی نے اقبال کو کالج کی عمر تک پہنچنے پر مفت تعلیم دینے کا اعلان کیا۔ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے اس ہیرو کو پہلے سویڈن پھر اسکے بعد امریکہ میں اسکول کے بچوں سے بات چیت کرنے کیلئے بلایا۔ جہاں مقامی اسکولوں کے طالب علموں نے اپنے جیب خرچ سے ایک فنڈ قائم کیا جو آج بھی پاکستان میں بچوں کے تقریباً20اسکول چلارہا ہے۔ اسی دوران اقبال نے2سالوں میں4سال کے برابر تعلیم حاصل کی۔ حالانکہ وہ اپنے ہم عمر بچوں سے بہت ہی چھوٹا دکھائی دیتا تھا مگر اس کا عزم بہت بڑا تھا۔1995میں اقبال جب امریکہ سے واپس اپنے گاؤں رکھ پاؤلی پہنچا تو16اپریل1995کو جب وہ سائیکل چلارہا تھا تو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے اس ننھے ہیرو کی زندگی ختم کر ڈالی۔ یہ گناہ کن ظالموں سے سرزد ہوا کوئی نہیں جانتا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اقبال کو اسی تاجر نے مار ڈالا تھا جسکے پاس وہ بچپن میں کام کرتا تھا۔ جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ کسی مقامی کسان کو اقبال مسیح کی نیک نامی ایک آنکھ نا بھائی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے اشرف نامی ہیروئن کے عادی شخص نے قتل کیا۔ اقبال کے قتل کی خبر معروف امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مین پیج پر شائع ہوئی جو اس بات کا ثبوت تھا کہ دنیا ننھے ہیرو سے کتنی متاثر تھی۔ اقبال کی موت کے بعد کینیڈا کے مقامی نوجوانوں نے ”فری دا چلڈرن” نامی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ جبکہ” اقبال مسیح چلڈرن فاؤنڈیشن” کا بھی آغاز کیا گیا۔ جو جبری مزدوری کرنیوالے بچوںمیں علم کی روشنی لانے کیلئے کام کرتی ہے۔ کینیڈا میں آج بھی اقبال میسح کے نام سے چلڈرن رائٹس فنڈ ایشو ہوتا ہے۔2009میں امریکی کانگریس نے سالانہ” اقبال میسح ایوارڈ” کا آغاز کیا۔ جو دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد میں سے ہر سال کسی ایک کو دیا جاتا ہے۔2014میں جب بھارتی شہری کیلاش کو نوبل انعام سے نوازا گیا تھا تو انہوں نے بھی اپنی تقریر میں اقبال مسیح کو خراج تحسین پیش کیا۔ اقبال مسیح کا تذکرہ اطالوی مصنف فرانسسکو کے ناولز میں بھی موجود ہے۔ اور اس کی زندگی پر کئی ڈاکیو مینٹریز بن چکی ہیں۔ لیکن کچھ نہ ملا تو وہ اسے اپنے ملک سے نہ ملا۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ اقبال مسیح کو جانتے ہی نہیں اور یقینا آپ نے بھی اقبال مسیح کا نام پہلی بار سنا ہوگا۔ کیونکہ ہم جس ملک میں بستے ہیں اس کا کنٹرول سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہے اور اقبال آواز ہے جدوجہد کی، سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی ۔ اور یہ میڈیا اخبارات کبھی بھی اقبال کے بارے میں نہیں بولے اور نہ ہی بولیں گے۔ کیونکہ یہ سب سرمایہ داروں کی کمپنیز ہیں۔ پارلیمنٹ سے لے کر عدلیہ سے ہوتے ہوئے بیروکریسی کے دروازوں سے نکل کر میڈیا کے دفتروں تک ہر جگہ سرمایہ دار بیٹھا ہے۔ نہ جانے ہم لوگ کتنے ہی اقبال گنوا بیٹھے۔ اور نہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv