پوسٹ تلاش کریں

پندرہ روزہ جدوجہد اداریہ۔۔۔ کرپشن کے کھلاڑی

’’گلی گلی میں شور ہے سارے لیڈر چور ہیں‘‘ یہ نعرہ برصغیر میں کتنی نسلوں سے یہ خلق سنتی آرہی ہے،لگاتی آرہی لیکن جوں جوں کرپشن کے خلاف شور بڑھتا گیا، کرپشن مزید پھیلتی پھولتی گئی ہے۔عمران خان نے اس معمول کو ایک غیرمعمولی کیفیت دیکر اس پرانے نعرے کونئے سرے سے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ لیکن اگر غور کریں تو کرپشن کیخلاف مہم بنیادی طور پر اس نظام زر کے تحفظ اور اسکی المناک بربادیوں پر مزید پردہ پوشی کا کام کرتی ہے، درحقیقت یہ کرپشن کے علاج کا ڈھونگ اور عوام میں شعور پیدا کرنے کی جھوٹی کوشش ہے، یہ بیماری کی بجائے اسکے علامات کا نسخہ ہے۔کرپشن کے شور تلے اس حیوانی نظام کی مشقت و استحصال کے مظالم چھپائے جاتے ہیں۔ دولت کو ’’ جائزطریقوں‘‘ سے اکٹھا کرنے اور اسکی ذخیرہ اندوزی کیلئے راہِ عامہ بنائی جاتی ہے۔کرپشن کے واویلے میں بڑے بڑے امراء، مخیر حضرات ، شرفا اور مذہبی پیشوا دولت کے اجتماع اور منافعوں کی ڈاکہ زنی کو جائز قرار دینے کی اصل واردات کررہے ہیں۔ پہلے تو جائزو ناجائز دولت جمع کرنے میں فرق کرنا مشکل نہیں ناممکن ہے،امارت اور غربت میں بڑھتی ہوئی تفریق اور دولت کے انبار لگاکر بھوک اورغربت کو پھیلانے کو اگر اخلاقی یا قانونی طور پر درست قرار دیا جائے تو پھر کرپشن کو گالی دینے کی کوئی تک نہیں بنتی۔کیا محنت کے استحصال سے حاصل کردہ قدرِ زائد یا منافع خوری جائز ہے؟۔ اگر یہ کرپشن نہیں ہے تو پھر اس سے بڑا جھوٹ کوئی ہوہی نہیں سکتا؟۔ غریبوں کو مزید غریب کرکے اور امارت میں بے ہودہ اضافوں کا عمل اگر جائز ہے تو پھر کرپشن کیسے ناجائز ہے؟۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اخلاقیات ہوں یا اقدار، سماجی رجحان ہوںیا مختلف مفروضوں کی تعریف، ایک طبقاتی نظام ان کے بنانے اور بگاڑنے کا حق صرف بالادست طبقات کے نمائندگان اور انکے کاسہ لیس مفکروں اور تجزیہ نگاروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ لیکن ایک محروم معاشرے میں جہاں نظام ترقی کرنے اور دینے سے قاصر ہوجائے وہاں کا سرمایہ دار بجلی اور ٹیکس چوری کیے بغیر سرکاری خزانے کو لوٹے بغیراور محنت کشوں کی روزی روٹی پر لات مارے بغیرتو سرمایہ دار ہو نہیں سکتا۔وہ جیسے جیتے ہیں ویسے ہی مر نہیں سکیں گے۔انکی اوباشی پل نہ سکے گی اور وہ سیاست اور طاقت کو خرید کر حاکمیت نہیں کرسکیں گے۔ لیکن جس معاشرے میں ذلت اور رسوائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہواور زندگی کو اذیت ناک بنارہی ہووہاں کرپشن معاشرے کی رگوں اور ہڈیوں میں سرائیت کرجاتی ہے۔کرپشن کے بغیر شناختی کارڈ تک نہیں بن سکتاتو پھر ایسے معاشرے میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا بنیادی طور پر اس کو تحفظ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کی کرپشن ضرورت اور ناگزیر پیداوار ہے۔
فوج میں کرپشن اتنی ہے کہ اس کا وجود اور ڈھانچے بکھر جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ سپریم کورٹ کا ہر نیا چیف جسٹس عدلیہ کی کرپشن کا رونا روتے روتے اپنی مدت پوری کرلیتا ہے اور عدالتی کرپشن کے ذریعہ باقی زندگی عیش وآرام سے گزارتا ہے،صحافت میں کرپشن کیخلاف سب سے زیادہ شور ہے اور جتنی کرپشن اسکے ان داتاؤں نے کی ہے اور کررہے ہیں اس کا مقابلہ کرنے میں پولیس اشرافیہ بھی پیچھے رہ گئی ہے۔معاشرے کی کوئی پرت کوئی ادارہ ، کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو کرپشن کے بغیر چل سکتا ہویا قائم بھی رہ سکے۔لیکن پھر بھی کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ شور ہے۔جہاں ایک کرپٹ عدالتی نظام بدترین کرپشن کے مرتکب حکمرانوں کو بری کردیتا ہووہاں وہی حکمران اور جج پھر کرپشن کیخلاف راگ الاپتے ہیں۔ یہ کیسا کھلواڑ کیسا ناٹک ہے؟۔ نوازشریف خاندان ہو یا باقی حکمران طبقات کے دھڑے ہوں،اگر کرپشن نہیں کرینگے تو اس نظام میں حکمران بنیں گے کیسے؟۔سیاست سے جس جلسے میں کرپشن کے خلاف آگ اگلی جاتی ہے اسی جلسے یا جلوس کو بدترین کرپشن والے ہی فنانس کرتے ہیں، ملک ریاض جیسے نودولیتے اور بلیکیے جرنیلوں سے لیکر عام سیاسی لیڈروں کو کرپشن سے تابع کرلیتے ہیں،ہرادارے کو کنٹرول میں لے لیتے ہیں صحافت انکی داشتہ بن جاتی ہے، ریاست انکی مشکور ہوتی ہے ، سیاست انکے کرموں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے لیکن
پھر بھی کرپشن کا کھلواڑ جاری ہے۔ کرپشن کے کھلاڑی عوام کو اس کرپشن کے ایشو میں الجھائے رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔لیکن عوام اب اس کرپشن کے ناٹک سے اکتا چکے ہیں۔ انکی سیاسی بیگانگی اس ایشو کے استعمال کی ناکامی کی غمازی کرتی ہے۔ یہ بیگانگی جب پھٹے گی تو پھر جاگے ہوئے محنت کش عوام کی یلغار اس پورے نظامِ زر کو اکھاڑنے اور دولت وطاقت کو نیست ونابود کرنے کا وار بن جائے گی۔پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! (یکم مئی2016 پیپلزپارٹی اور مزدورتحریک میں سوشلزم کی آواز)

جدوجہد یکم مئی تا15مئی 2016کے’’ اداریہ پر تبصرہ‘‘ فاروق شیخ

محترم کامریڈ لال خان سوشلزم کی اس تحریک کے روحِ رواں ہیں ۔ جہاں قیادت محنت و صلاحیت کی بنیاد پر ہو تو وہاں انسانیت کیلئے اچھی توقعات رکھنے کی امید ہوتی ہے، اس پندرہ روزے میں بڑی اہم بات یہ ہے کہ اس میں کارل مارکس کا نظریہ’’قدر زائد‘‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسی نظریہ کی وجہ سے لینین نے روس ’سویت یونین‘کا عظیم انقلاب برپا کیا تھا،چین میں بھی اسی نظریے کی بنیاد پر انقلاب برپا ہوا ہے۔ پاکستان یا برصغیر میں اس نعرے میں تھوڑی سی کشش اسلئے باقی ہے کہ آزادی کے بعد بھی پاکستان اور بھارت کے حالات میں عوام کیلئے کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے، وہی فوج، وہی عدالتیں اور وہی بیوروکریسی اور وہی استحصالی نظام بلکہ پہلے کی نسبت اب زیادہ ظلم وستم اور جبرو زیادتی کا ماحول ہے۔ پہلے فوج سول آبادی میں قدم رکھنے میں خوف محسوس کرتی اور اب اس جنگلی طبقے کا عوام پر راج ہے، سیاست فوج کی باندی، عدالت لونڈی اور بیوروکریسی نوکر اور صحافت چاکر ہے۔ اگر ترکی میں عوام فوجیوں کو بغاوت سے روک سکتے ہیں تو پاکستان کی عوام کیلئے اس نظام کو تہہ وبالا کرنے میں ایک رات کی مار ہے لیکن نظام کو بدلا جائے تو متبادل کیا نظام ہوگا۔عوام نے جمہوریت اور مارشل لاؤں کا بار بار تجربہ دیکھا ہے جو ایک دوسرے سے بدتر اور بدترین ثابت ہوتے ہیں۔
سوشلزم اور اسلامی انقلاب کے خواہاں تبدیلی کے حوالہ سے جو نظریات رکھتے ہیں ، ان میں مکالمہ کی ضرورت ہے۔ اس پندرہ روزہ رسالے میں پیپلزپارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری کی قیادت سے توقعات وابستہ کی گئی ہیں کہ وہ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی بجائے پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی راہ پر چلیں اور پارٹی کا بنیادی نظریہ سوشلزم کا تھا، پرائیویٹ ملوں اور فیکٹریوں کو بھٹو نے سرکاری تحویل میں لیا تھالیکن یوسف رضاگیلانی نے اس اقدام کو سب سے بڑی گالی دی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔
ہماری سوشلزم کی علمبردار تحریکوں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ تمہاری حب الوطنی، انسان دوستی، غریب پروری اور جرأت وبہادری پر کوئی شبہ نہیں ہے لیکن قدرِ زائد کا بنیادی نظریہ ہی موروثی نظام کے خلاف ہے۔ بلاول بھٹو،میر حاصل بزنجو، اسفندیار ولی خان اور دیگر سوشلزم اور کمیونزم کے نظریے کو سپورٹ کرنے، سمجھنے اور اس پر ایمان رکھنے والی جتنی جماعتیں ہیں وہاں سب کی سب قیادتیں موروثیت کی وجہ سے ہیں۔ بلاول بھٹو میں کتنی صلاحیت ہے اور اس نے کتنی محنت کی ہے؟۔ کیا پیپلزپارٹی کی قیادت بذاتِ خود یہ اہلیت رکھتی ہے جو قدرِ زائد کے بنیادی نظریہ پر پورا اترتی ہو؟۔ اس کے بنیادی ڈھانچے کی قیادت ہی قدرِ زائد پر استوار ہونے والے نظریے کی بیخ کنی ہے۔اگر ایسے توقعات اور خواہشات کی بنیاد پر چند محنت کشوں کے جیبوں پر اضافی بوجھ رکھ کر تحریک برپا کرنے کا سلسلہ جاری رہے تو دانشوروں کی میٹنگوں سے معاملہ کبھی آگے نہ جائیگا۔ جن منافقتوں کا رونا رویا جارہاہے،اسی کے آنسو پی کر اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کیجائے تو کیا نتائج برپا ہونے کی امید بھر آئیں گے؟۔البتہ اس نظام کی ناکامی کے بعد چند افراد کی تربیت سے بھی اچھے توقعات پوری ہونے کی امید زیادہ بری اور کوئی جرم بھی نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ ایک محنت کش تھے، اماں خدیجہؓ ایک سرمایہ دار تھیں۔ایمانداری نے وہ نتائج برپا کیے کہ سرمایہ دار خاتونؓ ایک محنت کش پیغمبرﷺ کی اس وقت بیوی بن گئیں اور ان کا سارا مال پھر تحریک کیلئے وقف ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ انبیاء درہم ودینار کی نہیں علم کی وراثت چھوڑتے ہیں‘‘۔ درہم ودینار کی وراثت چھوڑنے والے بادشاہ اور علماء دنیا ہوسکتے ہیں لیکن انبیاء کے وارث نہیں ہوسکتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت تھی تو والد کی زندگی میں حضرت سلیمان علیہ اسلام نے اپنی صلاحیت کو بھی منوایا تھا اور کوئی بھی اہلیت والی شخصیت ہو تو اس کو جانشین بنانے پر اتفاق میں حرج نہیں لیکن
پاکستان میں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عوام کی روحانی اور جسمانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرے۔ جو کرپشن کو ہڈیوں کے گودے اور خون کے جرثوموں سے باہر نکال دے۔ جو عوام کی روحانیت اور اخلاقیات کو بھی بدل دے۔ سوشلزم کے نعرے میں جان ہونی چاہیے تھی لیکن افسوس کہ نہیں ہے۔ کرپشن کے نعرے کی طرح نظام کی تبدیلی کا نعرہ بھی خوشنما ڈھونگ کے سوا نتیجہ خیز اسلئے نہیں کہ یہ چلے ہوئے کارتوس کا خول ہے،اگر روس سمٹ گیا، چین نے اپنے نظریہ سے انحراف کیا تو پھر پاکستان میں انقلاب چائے کی پیالی میں وہ طوفان ہوگا جو عجیب بھی ہوگا اور غریب بھی۔ سوشلزم کے حامی اگر اسلام کے آفاقی نظام پر اتنی محنت اور صلاحیت لگاتے تو دنیا میں ایک زبردست انقلاب برپا ہوسکتا تھالیکن اہل فکر ونظر میں مکالمے کی ضرورت ہے، امریکہ نہیں روس سے دوستی ہوجائیگی۔

پاکستان کے مسائل کا حل اور اہل اقتدار کی ترجیحات وا ہداف

پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ اہل اقتدار کی ترجیحات اور اہداف ہی نہیں ہیں۔ ہمارا سب سے بڑامسئلہ پانی کا ہے، قدرتی پانی کا بہاؤ پاکستان کی عوام کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفہ ہے۔ پینے کا صاف اور میٹھا پانی ہمارے لئے نعمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، کھڑی فصل تباہ اور آبادیاں خانہ بدوشی پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، سیلاب ہرسال طوفانِ نوح کا منظر پیش کرتا ہے۔ اللہ کی سب سے بڑی دولت پانی کی نعمت جس سے اللہ نے ہر جاندار چیز کو پیدا کیا ہے، جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں وہ ہمیں دستیاب ہونے کے باوجود طوفان کی طرح بہاکر سمندر کی نذر ہوجاتا ہے لیکن ہم بوند بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں،اگر اہل اقتدار کو عوامی مسائل اور پاکستان کو درپیش چیلنج کی کوئی فکر ہوتی تو پانی کے ذخائز بناکر پاکستانیوں کو کربلائے عصر کی تکلیف سے کوئی تو نجات دلاتا؟۔ اے این پی والوں نے پختون پختون کی رٹ لگاگر مہاجروں میں بھی لسانیت کو ہوا دی، کراچی کو پختونوں کا سب سے بڑا شہر کہنے والوں نے کراچی میں ہی پختونوں کو تعصب کی نذر کردیا۔ حب الوطنی اور قربانیوں کا جذبہ ہوتا تو یہ کہا جاتا کہ نوشہرہ ہم سے زیادہ فوج کی سرزمین ہے جہاں عام لوگوں سے زیادہ فوجی اداروں کی بہتات ہے،اگر کالاباغ ڈیم سے نوشہرہ ڈوب بھی جائے تو کراچی کے پختونوں کیلئے اتنی چھوٹی سی قربانی ہم دینگے۔
کراچی، سندھ ، بلوچستان ، پنجاب اور پختونوں کے مفاد میں دریائے سندھ پر کالاباغ ہی نہیں پورے دریائے سندھ پر ڈیم ہی ڈیم بنائے جاتے تو آج زیرزمین اور سطح زمین پر پانی کے بہت بڑے ذخائر ہوتے، سستی بجلی و انرجی سے پاکستان اور پاکستانی قوم خوشحال ومالامال ہوتی اور صحت وزراعت سمیت ہرشعب ہائے زندگی میں ہم خود کفالت کی زندگی گزارتے۔ ہماری ریاست کا معیار بہت بلند ہوتا، عرب سے تیل خریدنے کی بجائے اپنے تیل وگیس کے قیمتی ذخائرسے فائدہ اٹھاتے۔ آج بھی رونے دھونے کی ضرورت نہیں، ستارایدھی کو فوجی پروٹوکول دینے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوجاتے بلکہ شارعِ فیصل پر کارساز سے ڈرگ روڈ تک سروس روڈ پر قبضہ ختم کرکے چوڑے فٹ پاتھ کی جگہ پر سڑک کی توسیع سے عوام کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔پرویز مشرف نے کارساز پر فلائی اُور کیلئے تھوڑی سی فوجی زمین نہ لی ہوتی تو مسئلہ حل نہیں ہوسکتا تھا۔ آج ڈکٹیٹر کے دور میں کراچی کے ترقیاتی کام اور جمہوری دور میں کراچی کا بیڑہ غرق کرنے کا تصور کیا جائے تو جیسے ترقی وعروج کے پہاڑسے زوال وانحطاط کی کھائی میں گرگئے ہوں۔
عوام کامزاج حکمرانوں نے اللہ کی غیب میں پرستش کرنے کے بجائے چڑھتے سورج کے پجاریوں والا بنایا ہے۔ کشمیر میں(ن) لیگ کی جیت جمہوریت کے تابناک مستقبل نہیں بلکہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عوام چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ آج نوازشریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائے اور پھر کشمیر میں الیکشن ہوجائیں تو نوازشریف کیخلاف ووٹ دیا جائیگا۔ یہ عوام کا مزاج بن گیا ہے کہ جو ٹیم جیتنے کا چانس رکھتی ہے بچے بھی اسی کے طرفداربن جاتے ہیں۔ سعد رفیق دوسروں کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ ’’جائیں گے تو سب ایک ساتھ جائیں گے‘‘۔ سندھ بلوچستان اور پختون خواہ میں تو پہلے سے مارشل لاء نافذ ہے، اگر پنجاب میں لگ جائے تو دوسروں کو کیا فرق پڑیگا؟۔ چوہدری نثار کو سندھ کی بڑی فکر ہے لیکن پنجاب میں اغواء ہونے بچوں کو انسان نہیں شاید کتے کے بچے سمجھا جاتا ہے،اسلئے وہاں رینجرز کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
جنرل راحیل شریف نے چیف جسٹس سندہ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس شاہ کوبھلے ٹانک سے بازیاب کرواکر بڑا کارنامہ سرانجام دیا لیکن کیا لاہوراور دیگر شہروں میں اغواء ہونے والے بچوں کا کوئی حق نہیں، گداگری کے پیشہ کیلئے اغواء کئے جانے والے بچے کسی ستارایدھی کا انتظار کریں؟۔ قصور میں بچوں کیساتھ زیادتی کرکے گھناؤنے کردار والوں کو کیا اسلئے کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا جاسکا کہ وہ دہشت گردگروپوں کیساتھ مل کر کاروبارِ سرکار کو چلانے میں معاونت کریں؟۔یہ عجیب مخمصہ ہے کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والوں کو دہشت گرد نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے کے دن گنے چنے لگتے ہیں جہاں حکمرانوں کا کوئی ضمیر ہی نہ ہو۔ پانامہ لیکس پرتین وزیراعظموں کا استعفیٰ اور پاکستان کے وزیراعظم کی ہٹ دھرمی کوئی معمولی بات نہیں ۔ زرداری ڈھیٹ بن کر رہ جاتا تو اس کی ڈھٹائی سمجھ میں آتی تھی اسلئے کہ دوسروں کے خلاف وہ حبیب جالب کی زبان اور شاعری میں تو بات نہ کرتا تھا۔ ان پارساؤں کا ڈھیٹ بن جانا انتہائی خطرناک ہے،اور اس سے زیادہ خطرناک بات شہبازشریف، چوہدری نثار اور نوازشریف کا جمہوریت کے پردے میں پناہ لینا ہے جن کی ساری زندگی جمہوریت کے خلاف کھلی کتاب کی طرح رہی ہے۔
اصحاب حل وعقد سب سے پہلا کام یہ کریں کہ دریائے سندھ پر خرچہ کرکے جگہ جگہ پانی کو ذخیرہ بنانا شروع کریں،پاکستان،سندھ اور کراچی کو وافر مقدار میں پانی کی سخت ضرورت ہے،پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے ،سستی بجلی پیداکرنے کی زبردست صلاحیت ہے ۔
نامزد وزیراعلیٰ سیدمراد علی شاہ نے اگر لوگوں کو دعوت دی کہ دریائے سندھ پر پانی کے ذخائر کیلئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تو بڑے پیمانے پر لوگ اس نعمت کو عام کرنے کیلئے چندہ دینے پر بھی آمادہ ہوجائیں گے۔ تھرکے لوگوں کی مدد کے نام پر جتناسرمایہ خرچ ہوا ہے، اس سے کم سرمایہ پر دریائے سندھ میں پانی کو ذخیرہ بناکر خوشحالی کی لہر لائی جاسکتی ہے بلکہ مسائل کا مستقل حل بھی نکل سکتا ہے۔ جس موسم میں خشک سالی ہوتی ہے اس وقت دریائے سندھ بالکل خالی ڈیم کا منظر پیش کرتا ہے اور اس میں پانی کو ذخیرہ کیاجائے تو زمین کے اندر میٹھے پانی کے ذخائر سے سندھ کی قسمت بدل جائیگی۔ پھر سندھ کی عوام کا سب سے اہم اور بڑا مطالبہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا ہوگا۔
پانی کے ذخائر سے سندھ کی بنجر زمین کو زرخیزبنانے میں دیر نہ لگے گی اور کراچی کو وافر مقدار میں پانی ملے گا تو عوام کا ایک بنیادی اور دیرینہ مسئلہ حل ہوجائیگا۔ ڈیفنس جیسے علاقہ میں بھی پانی نہیں تو غریب آبادی کے مکینوں کا مسئلہ حل کرنے میں کس کودلچسپی ہوسکتی ہے؟۔ دریائے سندھ کے ذخائرسے نہروں کے ذریعہ بھی کراچی کو پانی دینے کا بندوبست ہوسکتا تھا لیکن آمریت اور اس کی پیدوار جمہوریت نے مل کر اور باری باری کبھی بھی عوامی مسائل کے حل کو ترجیح نہ سمجھابلکہ جن جن ذرائع سے سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ منافع کما سکتا تھا وہی حکمرانوں کی بھی ترجیح رہی ہے، حد تو یہ ہے کہ کراچی میں سرکاری زمینوں پربدمعاش لینڈ مافیاز، سرمایہ داروں، حکومتوں، ریاستی اداروں اور غریبوں تک سب نے اپنا ہاتھ صاف کیا ہے، البتہ غریب کو قانون کا سہارا نہ مل سکا،اسلئے وہ کچی آبادی ہے اور طاقت کے بل پربدمعاشوں اور پیسہ پربدقماشوں نے قانون ہاتھ میں لیکر بھی قانون کو ٹشو پیپر کی طرح بڑے احترام کیساتھ اپنا گند صاف کرنے کیلئے استعمال کیا ۔
جب قانون کو طاقت اور پیسوں کی لونڈی بنایا جائے تو اہل اقتدار و حکمران طبقہ کی ترجیحات کو سمجھنا دشوار نہیں ہوتا، ایک طرف چھڑی والوں کااقتدار ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کے گماشتوں اور چہیتوں کو جمہوریت کے نام سے حکمران بنایا جاتا ہے۔ سیاستدان سچ کہتے ہیں کہ وہ حکمران تو ہوتے ہیں لیکن انکے پاس اقتدار اور اختیار نہیں ہوتا ۔ نیوی کا شارع فیصل کے سروس روڈ پر قبضہ ہوجائے اور لوگ رل رل کر روز روزٹریفک میں پھنستے رہنے کو معمول کی مجبوری اور حالات کا جبر سمجھیں اور دوسری طرف صدیوں کی آبادیوں کو لیاری ایکسپریس وے کیلئے چند ہزار کی قیمت دیکر ملیا میٹ کردیں تو پتہ چلتا ہے کہ عوام ترجیح نہیں ۔ ایک دن کارساز سے ڈرگ روڈ تک لوگ خالی گاڑیاں چھوڑ کر ایک آدھ دن کیلئے صرف اپنا احتجاج نوٹ کرادیں کہ وہ فٹ پاتھ جس پر کوئی چلتا بھی نہیں ، سروس روڈ کی جگہ پر پہلے نرسیاں بنائی گئی تھیں اور پھردہشت گردی کے خوف نے قبضہ کرایا ۔ جس کی وجہ سے عوام کو روز روز بہت تکلیف ہوتی ہے اور پھر چند دنوں بعد پروٹوکول کیلئے سڑک ،آفس سے چھٹی اور بہت رش کے وقت بند کردی جاتی ہے۔
جنرل راحیل شریف نے اگر واقعی قوم کی خدمت کرنی ہے تو کارسازاور نیشنل اسٹڈیم سے ائرپورٹ کی طرف جانے والے نیوی کے علاقوں میں عوام کیلئے بڑی بڑی شاہراروں کے ذریعہ سے سہولت فراہم کریں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام میں مسجد اور قبرستان کو کسی بھی صورت میں گرانا جائز نہیں مگر سڑک کی توسیع کیلئے مسجد اور قبرستان کو بھی گرایا جاسکتا ہے۔ یہ پریشر بالکل بھی ختم کردینا ضروری ہے کہ قبرستان سے عوامی ، مسجد سے مذہبی طبقات اور فوجی علاقہ سے اہل اقتدار کے جذبات مجروح ہونگے۔ فوج، مذہبی طبقات اور عوام سب مل کر ایسا کام کریں جس سے ثابت ہو کہ مخلوقِ خدا کیلئے سہولت کے دروازے کھل گئے ہیں ۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں بلکہ پیسوں کی حکومت اور تاجروں کی تجارت ہے۔جمہوری پارٹیوں میں جمہوریت نہیں بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ ہے۔ پرویزمشرف کے دور میں میڈیا اور عوام کو رائے کی آزادی ملی، آج ن لیگ کی حکومت نے پی ٹی وی کو(ن: ش: ٹی وی )نواز شریف شہبازشریف ٹی وی بناکر رکھ دیا ہے۔
ہاکس بے غریب عوام کیلئے ایک زبردست تفریح گاہ ہے لیکن جولائی کی آخری اتوار کو مشاہدہ ہوا کہ جگہ جگہ ’’سمندر تمہارا دوست نہیں‘‘ لکھا گیا تھا۔ رینجرز کے سپاہیوں نے دن دھاڑے عوام کو وہاں سے نکالنا شروع کیا، بغیر کسی وجہ کے سڑک پر ٹریفک پولیس اور عام پولیس کے ذریعہ روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس کا مقصد صرف اور صرف یہ لگتا تھا کہ آنے جانے والوں کو شدید تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کیا جائے۔ ہاکس بے سے شہر کی طرف جانے والی شاہراہ مکمل طور پر بند کردی گئی تھی اور آنے والی سڑک کی تھوڑی سی جگہ چھوڑ دی گئی تھی جہاں سے ایک گاڑی بمشکل گزرسکتی تھی، باری باری آنے جانے والی گاڑیوں کو گزار کر خواہ مخواہ بیچاری عوام کو تکلیف دی جارہی تھی۔ عراق اور لیبیا کی فوج اور حکمرانوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت تھی اگر اپنے ہی اہل اقتدار عوام کو محروم کرنے اور کنارہ لگانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو کل کلاں اللہ نہ کرے اس فوج کی جگہ غیرملکی فوج بھی قبضہ کرسکتی ہے اور پھر رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

غربت ختم کرنے کا ذریعہ زکوٰۃ مگر…..

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جب یہ اُمت شراب کو مشروب کے نام سے ، سُود کو منافع کے نام سے اور رشوت کو تحفے کے نام سے حلال کرلے گی اور مال زکوٰۃ سے تجارت کرنے لگے گی تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا، گناہوں میں زیادتی و ترقی کے سبب۔
رواہ الدیلمی ، کنز العمال ص ۲۲۶ ج ۱۴ ، حدیث نمبر ۳۸۴۹۷۔ عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ ۔
مکتبہ بینات علامہ بنوری ٹاؤن کراچی نمبر ۵۔ ملنے کے پتے: مکتبہ شیخ الاسلام جامع مسجد فلاح بلاک نمبر 14نصیر آباد ، ایف بی ایریا کراچی۔
اسلامی کتب خانہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی، مظہری کتب خانہ گلشن اقبال نمبر۲کراچی، مکتبہ بینات جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نماز ، روزہ اور حج کی طرح زکوٰۃ بھی ایک اسلامی فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی قرآن میں تلقین فرمائی ہے۔ زکوٰۃ میں ایک بنیادی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ کسی مستحق شخص کو زکوٰۃ کے مال کا مالک بنادینا ضروری ہے۔ جو فلاحی ادارہ اور مدرسہ بھی زکوٰۃ لوگوں سے مانگتا ہے کیا وہ شرعی تقاضہ کو پورا کرتے ہوئے مستحق افراد کو زکوٰۃ کا مالک بناتاہے یا نہیں؟۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ مدرسہ کیلئے 8 مہینے کا بجٹ بنادیتے تھے ، شعبان اور رمضان کی چھٹیاں ہوتی تھیں ، شوال سے رجب تک 8مہینے طلبہ تعلیمی نصاب مدرسہ میں پڑھتے تھے، جن میں ہر ماہ طلبہ کو زکوٰۃ کے وظیفے کا باقاعدہ مالک بنادیا جاتا تھا، پھر جو طلبہ مدرسہ کے لنگر کا کھانا کھاتے تھے وہ کچھ رقم کھانے کی مد میں جمع کرتے تھے اور کچھ اپنی ضروریات کیلئے رکھ لیتے تھے ۔ مثلاً 150روپے ہر طالب علم کو وظیفہ ملتا تھا اور اس میں سے 120کھانے کیلئے اور 30 روپے ضروریات کیلئے ہوتے تھے۔ اگر مدرسہ میں ہزار طلبہ پڑھتے تھے تو 8ماہ کے حساب سے ماہانہ بجٹ150×1000=150000 ڈیڑھ لاکھ اور سالانہ بجٹ 150000×8=1200000، بارہ لاکھ بنتا تھا۔ مولانا بنوری ؒ 12 لاکھ سالانہ کے بعد زکوٰۃ کی رقم لینا بند کردیتے تھے۔ اگلے سال کیلئے مزید زکوٰۃ لینا جائز نہیں سمجھتے تھے، کیونکہ اس طرح سے سالانہ زکوٰۃ کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔
دار العلوم کراچی کے ارباب اہتمام زکوٰۃ کیلئے مخصوص مقدار کے بجائے لا متناہی رقم لیتے تھے۔ جہنم کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ وہ کہے گا کہ ھل من مزید کیا اور بھی ہے۔ دار العلوم کراچی کے ارباب اہتمام زکوٰۃ کے خود ہی وکیل بن جاتے اور خود ہی منصف۔ زکوٰۃ کے بارے میں مذہبی طبقہ کی طرف سے حیلے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ حضرت امام غزالیؒ نے لکھا کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد شیخ الاسلام قاضی ابو یوسف سال ختم ہونے سے پہلے اپنا سارا مال بیوی کو ہبہ کردیتے تھے اور اگلے سال بیوی سارا مال اس کو ہبہ کردیتی تھی، یوں زکوٰۃ سے بچنے کا حیلہ بنارکھا تھا۔ امام غزالیؒ کی کتابوں کو اس وجہ سے مصر کے بازاروں میں جلایا گیا۔ ان کو امام ابو یوسف کی بدنامی سے زیادہ فکر اپنے حیلوں کو بچانے کی تھی۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے لکھا کہ دیوبند کے ایک بزرگ بڑے عالم دین بھی یہی حیلہ کرتے تھے اور یہ یہود کے نقش قدم پر ہوبہو چلنے کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی کو انٹرویو میں کہا کہ میری بیرون ملک اور اندرون ملک کوئی جائیداد اور دولت نہیں ہے ، صحیح کہا ہوگا کہ جب حکمران وزیر اعظم نواز شریف کی بیوی بچوں کی کمپنیاں وزیر اعظم کی نہیں تو کسی اور کی کیا ہوں گی؟۔ اسحٰق ڈار کے بیٹے چالیس چالیس لاکھ درہم باپ کو تحفہ میں دیتے ہیں، وزیر اعظم اپنی صاحبزادی کو کروڑوں تحفے میں دیتے ہیں، بچے کروڑوں وزیر اعظم کو دیتے ہیں ، جس طرح کرپشن کا پیسہ مالدار خاندانوں کے درمیان ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ تک گردش میں رہتا ہے اور ٹیکسوں سے بچنے کیلئے آف شور کمپنیاں بنائی گئی ہیں اسی طرح زکوٰۃ کے مال کیلئے بھی بڑے بڑے مدارس اور فلاحی اداروں کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس سے زکوٰۃ کا فریضہ ادا نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک مخصوص طبقہ زکوٰۃ کے نام پر کاروبار کررہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ صحابہؓ سے کہتے تھے کہ مجھ پر زکوٰۃ کے مال کی ذمہ داری ڈالنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے خود مستحقین کوزکوٰۃدیں، اللہ نے فرمایا انہ لحب الخیر لشدید انسان مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان سے زکوٰۃ لیں یہ انکے لئے تسکین کا ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنے اوپر ، اپنی اولاد ، گھر والوں اور رشتہ داروں پر زکوٰۃ کو حرام کردیا۔ جب انسان اپنے مال کی زکوٰۃ دے تو اسکو ترجیحات کا حق بھی پہنچتا ہے لیکن کسی اور کی زکوٰۃ مانگنے کیلئے بے چین روح بن جائے اور ترجیحات خود طے کرے تو اس میں وہ لذت ہے جس کو آپ بڑے بڑے اشتہارات کی شکل میں دیکھتے ہیں، حالانکہ اپنے لئے بھی بھیک مانگنا بہت مشکل کام ہے چہ جائیکہ دوسروں کیلئے مانگی جائے۔ اگر اس رمضان کو صرف اور صرف زکوٰۃ کا مال غریب طبقہ تک پہنچ جائے تو پاکستان میں ایک بہت بڑا انقلاب آجائیگا۔
مستحقین کو زکوٰۃ اپنے ہاتھوں سے دیجائے تو جو لوگ کھانے کیلئے بھوکے ہوں ان کے تن پر کپڑوں کی ضرورت ہو یا علاج اور تعلیم کی ضرورت ہو وہ غریب خود اپنی ترجیحات طے کرینگے۔ زکوٰۃ کے نام پر اشتہارات میں جو پیسہ خرچ کیا جاتا ہے ، بڑی عمارتیں بنائی جاتی ہیں ، بڑے بڑے ادارے پالے جاتے ہیں یہ غریبوں ، ناداروں اور مسکینوں کی حق تلفی ہے۔کاروبار اسی وجہ سے تباہ ہیں کہ غریبوں کو زکوٰۃ بھی نہیں مل رہی ہے ، ایک مرتبہ کی زکوٰۃ مستحقین تک پہنچائی جائے تو ثابت ہوگا کہ اللہ کا فرمان سچ ہے کہ’’ صدقہ مال کو بڑھاتا ہے‘‘۔ جیسے بتوں کو سجدہ جائز نہیں اسی طرح غیر مستحق کو زکوٰۃ کے نام پر پالنا غلط ہے

jun2016(fazlurehman_cartoon)

کبھی تیر کے اورکبھی شیر کے بھی شکار ہیں        زکوٰۃ بھی کاروبار خدمات بھی مستعار ہیں