پوسٹ تلاش کریں

اللہ نے طالوت کو اسلئے منتخب کیا ہے کہ علم اور جسمانی اہلیت اسکی زیادہ ہے۔

بنی اسرائیل نے پہلے اپنا بادشاہ مانگا جب طالوت کو بنادیا گیا تو کہنے لگے کہ اس کو کیوں بنایا گیا؟،ہم زیادہ حقدار تھے، اسکے پاس مال کی وسعت نہیں، کہا کہ اس کو اللہ نے اسلئے منتخب کیا ہے کہ علم اور جسمانی اہلیت اسکی زیادہ ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفسی فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امینOقال اجعلنی علی خزآئن الارض انی حفیظ علیمOیوسف

بادشاہ نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ،تاکہ اپنے لئے خاص کروں، جب اُس سے بات کرلی تو کہا کہ آج آپ ہمارے پاس مقیم امین ہیں، کہا کہ مجھے وزیر خزانہ بنادو،نگران عالم ہوں

یوسف علیہ السلام مصر میں غلام اور مظلوم قیدی بن گئے لیکن خواب کی تعبیر اور مظلومیت نے اقتدار تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا۔ بنی اسرائیل کی حیثیت اہل مصر کے ہاں ایسی تھی جیسے تختِ لاہور کے مقابلے میں پختون کی ہے۔ انگریز سے پہلے راجہ رنجیت سنگھ کا اقتدار تھا اور اب جمہوری عوام اور فوجی افسران کی وجہ سے پنجاب ہی کا اقتدار ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح وفاطمہ جناح، لیاقت علی خان ،بیگم راعنا لیاقت ،بنگالی سکندر مرزاکی ناہید ایرانی سے لیکر ذولفقارعلی بھٹو،نصرت بھٹو سے ہوتے ہوئے بات عمران خان اور بی بی بشریٰ تک جاپہنچی ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویزمشرف نے اپنا براہِ راست اقتدار کیا اور پاک فوج نے کٹھ پتلیوں کے ذریعے بھی حکومت کی ہے۔
جنرل راحیل نے کہا تھا کہ وہ ملازمت میں توسیع نہیں لیںگے۔ فوج میں کرپشن پر زبردست ایکشن لیا تھا اور نوازشریف کو کرپشن سے بچانے میں کردار ادا کرنے سے بالکل معذرت کی تھی تو ان پر ملازمت میں توسیع کی بھیک مانگنے کا ناجائز الزام لگادیا گیا۔ جب عدالت میں آرمی چیف کی توسیع کا پنڈورا بکس کھل گیا تو پتہ چل گیا کہ آج تک آرمی چیف کی توسیع کا آئین میں ذکر اور گنجائش تک نہیں ۔ جس شق کے تحت توسیع کا عمل ہوتا تھا تو اس کا تعلق کرائم کے باب سے تھا۔ فوجی کو سزا دینی ہوتی تھی تو ریٹائر منٹ کے بعد اس شق کے تحت بحال کرکے فوجی کورٹ میں سزا دی جاتی تھی۔ جس پر ان صحافیوں کے چہروں سے بھی نقاب اُٹھ گیا جو نوازشریف کو نظریاتی شاہین ثابت کررہے تھے ۔ جس کی زندگی کوئے کے گھونسلے میں گزری ہو تو اس کو شاہین ثابت کرنا شاہین نہیں کوئے کیساتھ بھی بڑی زیادتی ہے۔ نوازشریف کی جھوٹی بیماری کی کہانی کے چرچے ابھی ختم نہیں کہ مریم نواز کو چھوٹے آپریشن کیلئے لندن جانا پڑرہاہے جسکا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا۔ کالے کوئے کا بچہ سفید ہو تب بھی شاہین نہیں بن سکتا بلکہ کواہی ہوگا۔ وکیل سے زیادہ صحافی آرٹسٹ اپنا کمال رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بدتمیزی اور گالیوں کی گنجائش ترقی یافتہ ممالک میں نہیں اور فیس بک وغیرہ کے بھی قوانین ہیں۔ جب ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے بدتمیزی کی سوشل میڈیا پر انتہاء کردی توچندصحافیوں نے اس پر ایک پروگرام رکھا۔ حامد میر نے کہا کہ انگریزی میں نیٹ کے ذریعے جب اردو اور پنجابی کی گالیوں کا ترجمہ ہوتا ہے تو لفظی ترجمہ کی وجہ سے ان تک بات صحیح پہنچتی نہیں۔ مثلاً علامہ خادم حسین رضوی کی معروف گالی کہ تیری پھینڑ دی سری کا انگریزی کا یہ ترجمہ ہوگا کہ (Your head of sistar) ان کو اس سے گالی کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ ویسے یہ مقولہ ہے کہ ”پنجابی گالی کی زبان ہے”۔ اور ہم نے چیچہ وطنی میں انتہائی مخلص اور اچھے انسان صدیق استاذ کی زبان پر گالی کی بہتات دیکھ لی تھی۔ اسکے بجلی کامیٹر لگانے کا کام بھائی ایس ڈی واپڈا نے کیا تھا اور کلرک رکاوٹ ڈال رہاتھا تو اس نے کہا تھا کہ کلرک کے شروع اور آخر میں کتے کے دو کاف ہوتے ہیں اسلئے ڈبل کتے کی خاصیت رکھتا ہے۔ خلوص اورگالیوں کی وجہ سے وہ استاذ طلبہ کیلئے سکول میں ہردلعزیز تھے۔ عمران خان کی زبان پر جب چور، ڈکیت، ڈیزل اور سیاسی رہنماؤں اور پاک فوج کے خلاف ہرقسم کی بے باکی تھی تووہ پنجاب بلکہ پاکستان کے ہردلعزیز لیڈر بن گئے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے خلوص کے ساتھ گالیوں کی بوچھاڑ کردی تو ان کا تاریخی جنازہ ہوا۔ گالیوں سے خلوص کی تاثیرِ مسیحائی سرکے بالوں سے پیروں کے ناخن تک پہنچ جاتی ہے اسلئے کہ یہ پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کا اب آرٹ ہے۔ کلام کی بلاغت کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ بات صحیح پہنچ جائے۔
الٰہ اور معبود کا ترجمہ ہرزبان ، مذہب اور کلچر میں مختلف ہے۔ عربی میں ال کا اضافہ ہوتا ہے جیسے حمد سے الحمد اور حسین سے الحسین ، الٰہ کے شروع میں ال لگانے سے اللہ بن گیا ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ” ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زباں سے”۔ جب لوگ خدا خدا کرتے تھے تو اس کی تاثیر مسیحائی رگِ جان میں اترجاتی تھی اور جب خدا پر قدغن لگنا شروع ہوا کہ اللہ ہی اسم ذات ہے تو لوگوں کا تعلق کمزور ہوا۔حالانکہ اگر اللہ اسم ذات ہوتا تو سنکسرت، عبرانی، انگلش ، ہندی اور فارسی میں بھی اللہ ہی ہوتا۔
سات (7)سال سے ستر (70)سال تک باقاعدگی سے نماز پڑھنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ سے کیا مانگتے ہیں؟۔ ہدایت اور صراط مستقیم مانگی جائے تو ضرور مل جائے ۔ نماز پڑھنے والوں کے دل وذہن روشن وکشادہ ہونے کے بجائے تاریک وتنگ اسلئے ہیں کہ مسلسل بہت کچھ مانگنے اور ذکر کرنے کے باوجود بھی طوطوں کی طرح بولتے اور بندر کی طرح حرکت کرتے ہیں۔ اللہ نے سابقہ قوموں کو بندر بنانے کی جو سزا دی تھی اس کی عکاسی ہمارے یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔ جو اخلاقی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے ہماری حالت ہے کسی اور میں نظر نہیں آتی ہے ۔ مولانا عبیداللہ سندھی اور علامہ اقبال کو یورپ میں اسلام نظر آتا تھا کیونکہ مسلمان ہونے کیلئے جانور سے پہلے ایک انسان بننا بھی بہت ضروری ہے۔
اگر پاک فوج اور پاکستان کے اصحاب حل وعقد کسی تجربہ کار ،عالم فاضل ، قربانی اور جہاندیدہ امانتدار پٹھان کو اقتدار سونپ دیں تو سب سے پہلے پٹھان کہیں گے کہ ہمارے اندر مالی لحاظ سے یہ کمزور تھا اس کی جگہ ہمارا حق تھا کہ اقتدار سپرد کردیتے۔ سورۂ بقرہ میں آیت(242)سے(254) تک میں زبردست رہنمائی ہے۔ کوئٹہ سے سوات تک ہمارے چند پختون ساتھی ہیںجن کا طالوت کے ایماندارساتھیوں کی طرح ایمان ہے کہ کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ ” کتنے ایسے کم تعداد والے گروہ ہیں جو زیادہ تعداد والے گروہ پر اللہ کے حکم سے غالب آئے ہیں۔ اگر حجاز کے لوگ انصار ومہاجرین ، قریش واہلبیت کی بنیاد پر اختلافات اور بنی امیہ وبنی عباس کے خاندانی قبضے کے باوجود بھی دنیا میں اپنی طاقت منواسکتے تھے تو آج پاکستانی قوم اسلام اور عالم اسلام کی بنیاد پر کامیابی سے ہم کنار کیوں نہیں ہوسکتی ؟خالی ایمان اور کردار درست کرنیکی ضرورت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

پاکستان میں پٹھان پنجابی،بلوچ اورسندھی میں کس کو اقتدار دیا جائے تو تبدیلی آئیگی؟؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وھم اُلوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم ان اللہ لذوفضل علی الناس ولٰکن اکثر الناس لایشکرونO(القراٰن:سورة البقرہ آیت243)

کیا آپنے ان لوگوں (بنی اسرائیل کے قبائل )کے حالات پر غور نہیں کیا،جن کو اپنے مُلک سے مہاجر بناکر نکالا گیااور وہ ہزاروں میں تھے، موت سے بچنے کا خوف ان پر طاری کیا گیا ۔

پھراللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ!۔ پھر اللہ نے ان کو زندگی بخش دی ، بیشک اللہ لوگوں پر اپنا فضل کرتا ہے مگر لوگوں میں اکثرشکر ادا نہیں کرتے ہیں۔ ( پختون قبائل کی بڑی عکاسی ہے)

پاکستان بنا تو ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین اور فوج میں پنجابیوں کی اکثریت کی وجہ سے سول وملٹری بیوروکریسی نے پاکستان پر حکومت کی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے مہاجر پنجابی اتحاد ختم کرکے سندھی پنجابی اقتدار کا آغاز کیا اور بنگلہ دیش میں اکثریتی پارٹی جیتنے کے باجود بھی مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل کرنے میں دیر کردی اور اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگاکر مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے جدا کردیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا اور پھر جب دھاندلی کا حربہ استعمال کیا اسکے خلاف قومی اتحاد کے نام پر تحریک نظام مصطفی ۖچلی ۔ ڈیڈی جنرل ایوب خان کی گود کے بھٹو پر اتنے اثرات تھے کہ لاڑکانہ میں اپنے مخالف امیدوار کو کمشنر خالد کھرل کے ذریعے اغواء کرکے کاغذات نامزدگی بھی داخل نہیں کرانے دئیے ۔
پھر اپوزیشن کو جسکے قائد عبدالولی خان تھے، حیدر آباد جیل میں بند کردیا تھا۔ پختون، بلوچ، سندھی اور پنجابی سیاسی قائدین ، رہنماؤںاور کارکنوں پر بغاوت کا مقدمہ چل رہاتھا۔جب اپوزیشن لیڈر ولی خان سے کہا گیا کہ آپ کیلئے جیل میں کمرہ سجادیا گیا ہے اور یہاں سے آپ نے پھانسی کے پھندے پر لٹک جانا ہے تو ولی خان نے کہا تھا کہ یہ کمرہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جیل کاٹنے کیلئے تیار کیا ہے۔ پھر وقت آگیا کہ مارشل لاء لگ گیا اور بھٹو نے اسی کمرے میں ہی اپنی جیل کاٹی۔ بلاول بھٹو زرداری کو معلوم نہیں ہوگا کہ جب بلوچستان کی جمہوری حکومت ختم کرکے وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل کی جگہ اکبربگٹی کو گورنر بنایا گیا تو جب عطاء اللہ مینگل کے بیٹے کو اغواء کرکے ماردیا گیا تھا تو اس وقت اس کا نانا ذوالفقار علی بھٹو ایک طاقتور اورتاریخی مگر کٹھ پتلی وزیراعظم تھا۔ جو دھاندلی سے اپنی کرسی پر بیٹھا تھا اور اپنے وقت کے بدترین ڈکٹیٹروں سے بڑاکٹھ پتلی ڈکٹیٹر تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو بیوقوف جیالوں کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کی ساری سیاسی لیڈر شپ ممتاز بھٹوسے غلام مصطفی کھراور مولانا کوثر نیازی تک نہر میں ڈوبتی ہوئی کشتی کو دیکھ کر کنارے پر بھاگ گئی۔مولانا نے”اور لائن کٹ گئی” کتاب لکھ دی تھی۔ کھر نے خواتین سے نکاح اور چھوڑ نے کا سلسلہ جاری رکھا اسلئے کہ اداکارہ ممتاز کو بھٹو نے زبردستی سے نچوانے کیلئے لاڑکانہ بلوایا تھا۔ جس پر حبیب جالب نے ” لاڑکانہ چلو ورنہ تھانہ چلو” مشہور غزل لکھی تھی۔ صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند۔ جب طالع آزما بھٹو کی دوستی کرلی تھی تو عورتوں کے معاملے میں طالع آزما بننا ہی تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد اورمہاجرین کے نام اپنے ملک وقوم کو خوب پالا تھا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ گمنام ہیرو آئی ایس آئی کے جنرل اختر عبدالرحمان کے صاحبزادوں کے گھر سے کتنی دولت برآمد ہوئی ہے لیکن مجاہد ایک بیٹا بھی نہیں بنا ہے۔ پٹھان کہتے تھے کہ جب اختر عبدالرحمن نے ہندوستان سے ہجرت کی تھی توگدھا گاڑی پر آئے تھے اب اتنی دولت کہاں سے آئی ہے؟۔ جنرل ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ بناکرا رکان کو پانچ پانچ کروڑ دئیے تھے۔ نجم سیٹھی کے رشتہ دار نے مجلس شوریٰ کی رکنیت سے فائدہ اٹھایا تو بیرون ملک سے دودھ پیک کرکے بیچنے کی کمپنی متعارف کروائی۔ چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کی مال منڈی میں ہر مہینے آٹھ دس دن ڈیڑھ روپے کلو والا دودھ چارآنہ میں ملتا تھا اور لوگ منوں دودھ خریدتے تھے۔ لاہور سے اوکاڑہ ، ساہیوال اور چیچہ وطنی راوی کے کنارے صحت مند دودھ کم قیمت پر ملتا تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول چیچہ وطنی میں تقریری مقابلہ ہوا تو ” عقل وڈی کے منجھ ” میں منجھ وڈی والے نے مقابلہ جیتا تھا۔ میں اسی سکول میں تھا ۔ بھٹو کو اسی دور میں پھانسی دی گئی تھی۔مقرر نے کہا تھا کہ عقل انسان میں خوف پیدا کرتی ہے، عقل ہوتی تو (1971ئ) کی فوج نے ملک کا دفاع کرنے کے بجائے ہتھیار ڈال دینے تھے (1965ئ) کی جنگ ہم نے عقل سے نہیں بھینسوں کا دودھ پینے کی وجہ سے جیت لی تھی۔
نجم سیٹھی ہوسکتا ہے کہ اپنے نام رشتہ دار کے اثاثوں کی وجہ سے بھی نوازشریف اور دیگر سیاستدانوں سے کئی لاکھ گنا زیادہ ٹیکس جمع کراتے ہوں۔ پہلے نیب کا خوف نہ ہونے کے باوجود بھی لوگ سرکار سے لوٹے ہوئے مال اور املاک کو چھپاتے تھے۔ نجم سیٹھی کے رشتہ دار نے نیسلے کے جوس کی پارٹنر شپ اورتعلیمی ادارے وغیرہ کے مالک جس نے کافی رشتہ داروں کو روزگار دلایا ہے جس کی جتنی تعریف نجم سیٹھی کی بیگم جگنو محسن نے کی ہے اس سے زیادہ کی جگنو محسن خود مستحق اور زبردست سیاستدان ، ادیب اور صحافی ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کی شوریٰ کے ارکان سے غلطی منوانا اور جنرل ضیاء کے شوربے نواز شریف کی مداح ہونا بھی سیاست کا کمال ہوسکتا ہے اور ضرورت اور مجبوری بھی ہوسکتی ہے لیکن نظریہ کی سیاست عنقاء بن گئی ہے یاکہیے کہ ڈائناسور کی طرح ناپید ہے۔ البتہ کسی کی تعریف کے گن گانا یا تعریف سے گھبرانا یا مخالف کے پیچھے پڑجانا یا مخالفت سے گھبرانا بھی چھوٹی ذہنیت اور خاندانی پسماندگی کی علامت ہے جس سے جگنو محسن بالاتر ہیں۔مجھے ان کے نظرئیے اور کردار کا کچھ پتہ نہیں لیکن دبنگ باتوں سے قدکاٹھ بڑا لگتا ہے۔
جب ایم آرڈی کے رہنماؤں نے (1988ئ) کے الیکشن میں حصہ لیا تھا تو قائدین کے مقابلے میں پارٹیوں نے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔ البتہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بینظیر بھٹو کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا۔ تحریک عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی نے سوات اور ن لیگ نے چھانگا مانگا کو اپنی مویشی منڈی بنایا تھا مگر جمعیت علماء اسلام ف کے ارکان خریدوفروخت سے بے نیاز آزاد گھوم رہے تھے۔ عمران خان کی خاتون اول بشریٰ بی بی کا سسر غلام محمد مانیکا بھی اس وقت مسلم لیگ ن سے بکاتھا۔ مولانا فضل الرحمن نے صدر قذافی کی طرف سے یونیورسٹی کو ملنے والی رقم بھی مسترد کرکے اس دور میں تحریک عدم اعتماد کی شمولیت سے پیچھے ہٹنے کی بات قبول نہیں کی تھی۔ پھر جب ولی خان کو مولانا حسن جان کے ذریعے ہروایا تھا تو جمعیت کے نظریاتی لوگ مولانا فضل الرحمن کو برا بھلا کہہ رہے تھے اسلئے کہ مفتی محمود وزیراعلیٰ مفتی ولی بھائی بھائی سے بنے تھے۔
بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو پیپلزپارٹی کو صلے میں اقتدار مل گیا، زرداری صدرمملکت اور یوسف رضا گیلانی سرائیکی اور راجہ پرویز اشرف پوٹھوہاری وزیراعظم بن گئے۔ نواز شریف کو ٹبر کیساتھ جلاوطن کیا گیا تو اس کو پھر تخت لاہور کے ذریعے پاکستان کا اقتدار مل گیا اور پھر عمران خان کو اقتدار ملا لیکن وہ نیازی پٹھان ہونے کے باجود نیازی کہنے پر بھی خار کھاتا ہے۔ پختونوں کو بڑے پیمانے پر شہید کیا گیا اور بڑے پیمانے پر بے گھر کیا گیا مگر ان میں کسی کو اقتدار میں نہیںلایا گیا ہے اسلئے اس مرتبہ اقتدار کا حق کسی پختون کا بنتا ہے۔کوئی نیک سیرت اور باصلاحیت اچھا بیوروکریٹ بھی پاکستان میں اچھی تبدیلی لاسکتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اسلامی شریعت کے نظام عدل کا حلیہ بگاڑ کر پوری دنیا کو ظلم وجور سے بھرنے کی ذمہ دارنام نہاد اُمت مسلمہ ہے۔

اسلامی شریعت کے نظام عدل کا حلیہ بگاڑ کر پوری دنیا کو ظلم وجور سے بھرنے کی ذمہ دارنام نہاد اُمت مسلمہ ہے۔ اگر اُمت کی اصلاح ہوگی تو پوری دنیا کی اصلاح میں دیر نہیں لگے گی۔ مولوی ظلم کی شریعت سے فائدہ اُٹھاتا ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر جبری و رضامندی کی بدفعلی پر چار افراد کی چشم دید گواہی ضروری ہو اور ان سے کم افراد کو گواہی دینے پر کوڑے مارے جائیں اور بدکار پاکدامن ہو تو پھر ماحول کس قدر بگڑجائیگا؟

دنیا نے مسلمانوں کی جابرانہ ذہنیت سے عدل کا نہیں ظلم وجبر کا نظام سیکھا ہے۔ آج اگر پاکستان میں شریعت کی درست تعبیر سامنے آجائے تو ہم ہی نہیں پوری دنیا بھی بدل جائے گی!

جب بنوامیہ نے خلافت کو اپنی لونڈی بنالیا اور پھر بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کے خاندانوں نے اپنی اپنی بادشاہت قائم کی تب پوری دنیا کے سامنے اسلامی اقتدار کا سورج بھی آب وتاب کیساتھ چمک رہا تھا۔ دنیا میں اس سے پہلے ادیان اور مذاہب کی بالکل مسخ شدہ شکلیںموجود تھیں۔ اسلام کا مذہب اورنظام عدل دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر تھا لیکن حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی بہت بگاڑ اور فتنہ و فساد کا آئینہ تھا۔ مولوی حضرات کا مذہب بھی ظالم حکمرانوں کو راستہ دئیے جاتا تھا۔ شریعت کا حلیہ بگاڑنے میںبھی مذہبی طبقات کا بنیادی کردار ہوتا تھا۔ بنی امیہ کے یزید نے حضرت حسین کی کربلا میں شہادت پر انصاف فراہم نہیں کیا اور یہ اس کی اپنی فوج کی کاروائی تھی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کی لاش کو بھی مکہ میں چند دن لٹکائے رکھا جو حضرت ابوبکر کے نواسے تھے۔ دنیا نے اس سے یہی سبق سیکھ لیا کہ حکومت کے استحکام کیلئے ظلم وجبر کا انتہائی قدم بھی ایک مجبوری ہے آزاد مذہبی طبقے نے اس ظلم وجور کو شرعی جواز فراہم نہیں کیا تھا، البتہ اہل اقتدار کے حاشیہ برداروں کا ٹولہ اس کو اسلام کا تقاضہ قرار دیتا تھا۔ پھر ایک وقت آیا کہ لوگوں نے بنی امیہ کو اپنے اقتدار سمیت بہت خراب انجام تک پہنچایا اور پھر بنوعباس اقتدار میں آگئے ۔ پھر ان کا حشر نشر ہوا اور ایک دن سقوطِ بغداد سے بہت برے انجام کو پہنچ گئے۔
جب دنیا میں یہ روایت بن گئی کہ ایک ظالم کو ختم کرنے کیلئے دوسرے ظالم نے اس سے زیادہ مظالم کے پہاڑ توڑ کر اقتدار حاصل کیا تو مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان تفریق مٹ گئی۔ اس وقت ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ تاریخ میں کس طرح ایک بادشاہ نے اقتدار تک پہنچنے کیلئے دوسرے پر مظالم کے پہاڑ توڑے بلکہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ظالمانہ اقدامات کیساتھ ساتھ علماء ومفتیان نے شریعت کو بدلنے میں کیا کردار کیا تھا؟۔ جب مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے اپنے باپ شاہجہان کو جیل میں قید کرکے اپنے سارے بھائیوں کو قتل کردیا تو سرکاری مذہبی طبقہ اور میڈیا نے اس ظالمانہ اقدام کو کیسے جواز بخشا تھا اور شریعت میں کیا تبدیلی کر ڈالی تھی؟۔ وقت کے پانچ سو علماء ومفتیان نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کیا تھا جن میں حضرت شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم کے دستخط بھی تھے۔ جب ہمارے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان کے ملاؤں نے مولانا فضل الرحمن کی ایماء پر یہ فتویٰ دیا تھا کہ ”مہدی کی بات کوئی مسئلہ نہیں لیکن امت کا اجماع ہے کہ شیعہ کافر ہیں اور یہ شخص اس اجماع کو نہیں مانتا ہے اسلئے گمراہ ہے”۔ اس پر مولانا فتح خان صاحب نے دباؤ میں آکر تائید ی دستخط کئے تھے لیکن مولانا عبدالرؤف امیر جمعیت علماء اسلام ف اور شیخ محمد شفیع شہید امیر جمعیت علماء اسلام س اور تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا غلام محمد نے اس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ مولانا فتح خان سمیت ٹانک کے اکابر علماء کی ہماری کھلی تائید کے باوجود جس طرح مخصوص طبقہ ہمارے خلاف سرگرم تھاوہ بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
بہرحال یہاں بنیادی بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ” فتاوی عالمگیریہ ” میں یہ لکھ دیا گیا کہ ” بادشاہ پر قتل، زنا ، چوری، ڈکیتی اور ہر طرح کے مظالم ڈھانے کے باوجود کوئی شرعی حد نافذ نہیں ہوگی کیونکہ وہ دوسروں پر حد نافذ کرتا ہے ،اس پر کوئی حد نافذ نہیں کرسکتا ہے”۔
جب انگریز نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو اس نے بھی حاکموں اور محکوموں کیلئے جدا جدا قانون نافذ کردئیے۔ لوگوںنے مجبوری میں اسلئے ان قوانین کو قبول کرلیا کہ اکبر بادشاہ کے آئین اکبری سے فتاویٰ عالمگیریہ تک بادشاہوں نے امتیازی رویہ سجدہ تعظیمی سے لیکر قتل کو معاف کرنے تک کیا کچھ نہیں کیا تھا؟۔ غلام در غلام ریاستی مشینری میں پنپنے والے اوریا مقبول جان جیسے لوگ شریعت اور آزادی کی تڑپ ضرور رکھتے ہوں گے لیکن شب کور کیلئے رات کے اندھیرے میں کچھ دکھائی نہ دینا مرض ہے اور اس مرض کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب طلوع سورج سے دنیا میں رات کا اندھیرا بالکل ختم ہوجائے۔
جب حضرت امام حسین نے کربلا میں یزید کی بیعت سے انکار کرکے اپنی جان ، کنبے اور ساتھیوں کی قربانی پیش کرکے ذبیح اللہ کی طرح خواب کی تعبیر پیش کردی تو اس وقت کے شیعہ اور سنی دونوں نے صرف تماشائی بننے کا کردار ادا کیا۔ ظالم حکمرانوں سے ٹکرانا حضرات انبیاء کرام کی سنت ہے۔ اس سنت کو زندہ کرنا مشکل کام ہے،اسلئے کہ حکمرانوں نے کچھ بدقماش پال رکھے ہوتے ہیں اور جونہی کسی سے خطرہ محسوس کرتے ہیں تو فوج کشی سے لیکر بدمعاش اور غنڈے طبقے تک ایک اشارے پر سب کچھ کرگزرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ سوال اٹھانے کی جرأت بھی کسی میں نہیں ہوتی ہے۔ نوازشریف نے مجھے کیوں نکالا کی رٹ لگائی اور اس کو جرأت کا انتہائی قدم قرار دیا گیا لیکن نوازشریف سے کسی صحافی اور سیاستدان سے لیکر عدالت اور ایوانِ اقتدار تک کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پارلیمنٹ میں لکھی ہوئی تقریر اور قطری خط لکھنے اور اس سے مکر جانے کی آخر کہانی ہے کیا؟۔
بہر حال ہمارا موضوع حالات کا مرثیہ پڑھنا نہیں بلکہ کچھ ایسے حقائق کی طرف توجہ مبذول کرانی ہے کہ اگر ہم نے بروقت اپنے مفاد کیلئے اس کی اصلاح کردی تو پاکستان کی حالت بہتر ہونا شروع ہوجائے گی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک وکیل نے بتایا کہ ایک مولوی نے ایک لڑکے کیساتھ زیادتی کی تو وہاں کے مفتی صاحب کوبلایا گیا تاکہ شریعت سے رہنمائی کرے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ ” دخول ثابت ہے مگر خروج نہیں”۔ یہ شریعت دین اسلام کی ترجمانی کرتی ہے یا مفتی صاحب کی اپنی خواہش کی وکالت کا آئینہ ہے؟۔ جامعہ دارلعلوم کراچی کے ایک فاضل میرے دوست ایرانی بلوچ نے بتایا کہ ایک عورت کا ایک مولوی نے حلالہ کیا تھا، جب کچھ دنوں کے بعد مولوی صاحب کا اس عورت سے سامنا ہوا تو اس سے پوچھ لیا کہ تجھے مزا آیا تھا، عورت نے کہا کہ نہیں۔ مولوی نے کہا کہ پھر تو آپ حلال نہیں ہوئی ہو،اسلئے کہ حدیث میں آتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کامزا چکھ لیں ۔ پھر دوبارہ اس کو لے جاکر معاملہ کرلیا اور پوچھا کہ اب مزا آگیا؟۔ عورت نے کہا کہ ہاں!۔ جب دوسروں کوپتہ چل گیا تو مولوی کو ڈانٹ دیا کہ یہ کیا خباثت کی ہے۔ تمہارے اوپر دو حق مہر کی رقم بھی ضروری ہے لیکن اس نے کہا کہ میری جیب میں ایک روپیہ تک نہیں ہے۔
یہ انفرادی معاملات بھی چھوڑ دیجئے۔ جب دارالعلوم کراچی سے فتویٰ دیا جاتا تھا تو آیات اور احادیث کو سیاق وسباق اور اصل حقائق سے ہٹاکر نہ صرف حلالے کا فتویٰ دیا جاتا تھا بلکہ شرعی گواہوں کی موجودگی اور فقہ کی کتابوں سے التقاء الخطانین کا حوالہ دے کر یہ تأثر دیا جاتا تھا کہ یہ کام مذہبی طبقہ کے علاوہ دوسرے کے بس کا نہیں ہے۔ جب ہم نے قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کی وضاحت کردی کہ دارلعلوم کراچی کے فتاویٰ میں اس کا بالکل غلط حوالہ دیا جاتاہے تو پھر انہوں نے فتوے کو اس بات تک محدود کردیا کہ ” تمہاری طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے اورحلالہ ضروری ہے”۔ باقی لوازمات زبانی بتاتے ہیں تاکہ فتوے پکڑ میں نہیں آسکیں۔ طلاق سے بغیر حلالہ کے رجوع کا مسئلہ عوام وخواص پر بہت اچھی طرح واضح ہوجانے کے بعد بہت سے لوگوں کو ہم نے اس لعنت سے بچایا ہے۔
اس وقت ہمارے موضوع کا مقصد اپنے داخلی تنازعات پر گفتگو کرنا نہیں ہے لیکن اس تمہید سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جس طرح وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان سے لیکر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ، مفتی زر ولی خان اور سب اکابر واصاغر علماء و مفتیان نے سود کو جواز فراہم کرنے کے خلاف کتابیں لکھ دیں اور بالمشافہ سمجھایا تھا لیکن ریاست کے علاوہ عالمی قوتوں کی سرپرستی نے مفتی محمد تقی عثمانی کو شیخ الاسلام بنادیا ہے، اسی طرح سے پہلے بھی علمائِ حق کے کردار کو مسترد کرکے درباری ملاؤں نے ہردور میں اسلام کا بیڑہ غرق کیا ہے ، یہاں تک کہ اسلام دین نہیں رہاہے بلکہ مولوی کی خورد بین بن گیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے یوٹیوب پر ایک توہین آمیز فلم بن گئی تھی جس کی وجہ سے بہت سارے اسلامی ممالک میں احتجاجاً یو ٹیوب بند کردیا گیا لیکن یوٹیوب نے کوئی معافی نہیں مانگی اور آخر کار پاکستان، سعودی عرب اور ایران وغیرہ کو اپنا احتجاج ختم کرکے یو ٹیوب کو بحال کرنا پڑگیا۔ اب فرانس کے خلاف حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان سفیر کو نکالنے کی تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے لیکن ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا ہے کہ یوٹیوب کے بائیکاٹ کا کیا ہواتھا؟۔ ہمارا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ فرانس کا سفیر نکالنے کیلئے تاریخ پر تاریخ دینے کا حق کس کو ہے اور کس کو نہیں ہے؟۔ لیکن ایک ایسے موضوع کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس سے پوری امت مسلمہ کا ماضی ، حال اور مستقبل وابستہ ہے۔ اچھی قسمت ہماری یہ ہے کہ ہمارے قومی ترانے میں ”ترجمانِ ماضی، شانِ حال ، جان استقبال، سایۂ خدائے ذوالجلال” ہے۔ پاکستان اسلام کا مرہون منت ہے۔
فرانس نے اسلام پر نئی پابندیاں بھی لگادی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سلسلہ یورپ اور امریکہ کے ساتھ ساتھ تما م غیر مسلم ممالک تک پھیل جائے۔ دنیا کی نمبر1پاک فوج نے دہشت گردوں سے نمٹنے میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ نیٹو کو افغانستان اور عراق وغیرہ میں حاصل نہیں ہوسکی ہے لیکن جب دنیا کے میڈیا کے سامنے پاک فوج کے ترجمان کو یہ وضاحت دینا پڑتی ہے کہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں اور احسان اللہ احسان کے فرار میں ایک سے زیادہ فوجی ملوث تھے جن کو سزا ئیں دی جاچکی ہیں اور اس کی تفصیلات سے عنقریب ہم میڈیا کو آگاہ کرینگے تو دیکھنا یہ ہے کہ دنیا نے ہم پر ریاستی دہشت گردی کی تہمت لگائی ہے یا حقیقت ہے ؟۔فیصلہ انہوں نے ہی کرنا ہے۔
دنیا یہ جانتی ہے کہ نائن الیون (9/11)سے لیکر دہشت گردی کے خاتمے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اپناکردار بھی پاکستان سے زیادہ مشکوک ہے لیکن پاکستان کو جرم ضعیفی کی سزا مل رہی ہے۔ جب تک پاکستان ایک مضبوط اور توانا پوزیشن والا ملک نہیں بن جاتا ہے تو کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرسکتا ہے۔ہمارا اصل موضوع یہ بھی نہیں ہے لیکن اصل موضوع کیلئے یہ ایک ماحول بنانے اور تمہید کی بات ہے۔ اصل موضوع کی طرف تفصیلی رہنمائی اور نشاندہی اندرونی صفحات پر موجود ہے یہاں صرف اس کا خلاصہ اور ان حقائق کی نشاندہی کرنا مقصد ہے جس کی وجہ سے امت مشکل کا شکار ہوسکتی ہے۔
ہمارے ایک مہربان سپین جماعت (سفید مسجد) مردان کے خطیب وپیش امام علامہ پیر شکیل احمد قادری صاحب نے کہا کہ ” شہیر سیالوی اس وجہ سے مصیبت میں آگئے ہیں کہ اس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے کے خلاف اقدام اُٹھایا تھا”۔ ہمیں اس کہانی سے بالکل بھی اتفاق نہیں تھا لیکن اُمت کو مشکلات سے نکالنے میں کردار ادا کرنا ہوگا اور سب اس میں اپنا حصہ اس وقت ڈال سکتے ہیں کہ جب ہم اس کی نشاندہی میں بخل نہ کریں۔
حضرت عائشہ پر بہتان لگانے سے زیادہ اذیت رسول اللہۖ کو طائف کے اندر پتھروں کی بارش سے بھی نہیں ملی تھی۔ جس کا جتنا بڑا رتبہ ہوتا ہے ،اس کی آزمائش بھی اتنی بڑی ہوتی ہے۔ پہلی اُمتوں میں اہل حق کو آروں سے چیرا گیا۔ اسلام کی پہلی شہیدہ حضرت سمیہ سے کیا سلوک ہوا؟۔ ایک ٹانگ ایک اونٹ اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے باندھ کر زندہ خاتون کو اس طرح جاہلوں نے شہادت کی منزل پر پہنچایا تھالیکن حضرت عائشہ پر بہتان کا معاملہ حضرت عائشہ، رسول اللہۖ اور حضرت ابوبکر کیلئے اس سے بھی زیادہ اذیتناک تھا۔ بچہ جننے کی تکلیف ہر عورت کوہوتی ہے لیکن حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کو جن لیا تو پکار اُٹھی کہ اے اللہ مجھے میری ماں نے جنا نہ ہوتا اور میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام ونشان بالکل مٹ کر لوگوں کے ذہنوں سے نکل چکا ہوتا۔
حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو اس بہتان سے پاک قرار دینے کیلئے کیا یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا جو مولوی کی خود ساختہ شریعت کا لب لباب ہے کہ اگر چار گواہ نہیں لائے تو پھر جس کے خلاف گواہی دی جائے وہ پاک ہے اور گواہی دینے والے مجرم ہیں؟۔
قرآن وسنت میں حضرت عائشہ کی برأت کیلئے مولوی کی خود ساختہ شریعت کا سہارا نہیں لیا گیا ، جس میں چوری اور سینہ زوری کا تصور اُبھرتا ہے بلکہ ایک ایسا عادلانہ تصور دیا گیا ہے کہ دنیا کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے تو نہ صرف اسلام کے چہرے سے اس اجنبیت کی کالک ہٹ جائے گی بلکہ دنیا میں پاکدامنی اور نظامِ عدل کا ایک ایسا تصور قائم ہوگا کہ پوری دنیا کو ظلم وجور اور بے حیائی سے پاک کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ انشاء اللہ
مولانافضل الرحمن ووٹ مانگتا ہے تو لوگوں سے جمعہ کی تقریر میں کہتا ہے کہ آپ سمجھتے ہو کہ اسلام سخت مذہب ہے۔ اگر دوافراد بدکاری کے مرتکب ہوں۔ ایک آدمی دیکھ لے تو بھی کوئی سزا نہیں ۔ دو آدمی دیکھ لیں تو بھی کوئی سزا نہیں اور تین آدمی دیکھ لیں تو بھی کوئی سزا نہیں ۔ بلکہ بیک وقت چار آدمی یہ ماجراء دیکھ لیں اور اس میں بھی شفاف آئینے کی طرح جو الٹراساونڈ کے بغیر ممکن بھی نہیں ہے اور الٹرا ساونڈ لگاکر دیکھنا معتبر بھی نہیں ہے۔
حالانکہ یہ اسلام نہیں بلکہ اسلام کے نام پر بہت بڑی کالک ہے جس کو واضح کرنا ہے

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن سے دُوری نے غیر تو غیر مسلمان سے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا

اسلام کا قانونی اور معاشرتی نظام پوری دنیا کیلئے رول ماڈل ہے لیکن قرآن سے دُوری نے غیر تو غیر مسلمان سے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا، جب خود مؤمن محروم یقین ہوگا تو باقی دنیا کے سامنے اسلام کو پذیرائی کسطرح ملے گی؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

یہ سراسر جھوٹ ، منافقت اور کھیل ہے کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔ ہمارامعاشرتی، معاشی، قانونی ، سیاسی ، مذہبی، سماجی ، ریاستی اور حکومتی نظام کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں

جب اسلام کا نظام صحرائے عرب کے بادہ نشینوں نے اپنایا تھاتو دنیا کی سپر طاقتیں اسلام کی شرافت پر نچھاور کرنے کیلئے انسانیت نے قربانی دیں لیکن آج انسانیت ہے ہم انسان نہیں

انسانوں میں فطرتی طور پر خیر کا مادہ زیادہ اور شر کا مادہ کم ہے۔ جنات میں فطری طور پر شر کا مادہ زیادہ اور خیر کا مادہ کم ہے۔ جب انسانوں کو اچھا ماحول ملے گا تو زمین میں ایک اچھی فضاء بھی قائم ہوجائیگی پھر انسانوں کیساتھ ساتھ جنات کا ماحول بھی اچھا ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ سورۂ فاتحہ کے بسم اللہ اورالحمد للہ رب العالمین سے لیکر سورۂ فلق کے من شر ما خلق اور سورۂ الناس کے من الجنة والناس تک قرآن کا ایک ایک لفظ ،ایک ایک جملہ، ایک ایک آیت اورایک ایک سورت سراپا ہدایت ہے مگرہم نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔
مذہبی طبقات نے قرآن کی صاف صاف اور واضح واضح باتوں کو معاشرے میں رائج کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مکڑی کے جالے بُن دئیے ہیں۔ اگر ہمت کرکے ان جالوں کو صاف کرلے گا تو خیر اور شر کی تفسیر کھل کر سامنے آجائے گی۔ جب مولوی نے بھی قرآن کی طرف رجوع کرنے کی بجائے فتوؤں کی کتابوں سے فتویٰ مرتب کرنا ہو کہ باہمی رضامندی کی صورت میں میاں بیوی کا رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ تو پھر دیگر مسائل کا کیا حال بنارکھا ہوگا؟۔ علمائِ حق کو میدان میں اترنا ہوگا ورنہ جب عوام کا غیض وغضب جہالتوں کی پرورش میں جوش مار کر طوفان کھڑا کرے گا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی؟۔ اس سے پہلے پہلے کہ لسانی، فرقہ وارانہ اور دیگر فتنوں کے شعلے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیں شعور اور بیداری کی فضاؤں کا کھل کر ساتھ دینا ہوگا۔ مذہبی جماعتیں اسلام اسلام تو کرتی ہیں لیکن جمعیت علماء اسلام کے چیتے اور تحریک لبیک کے زیبرے وغیرہ وغیرہ نے موٹر وے کو زیبرا کراسنگ بناکر رکھ دیا ہے۔جہاں ٹریفک کی روانگی کا کوئی سوال نہیں۔ ایک کا اسلام محترمہ مریم نواز کے دوپٹے میں لپٹ یا اٹک گیا ہے اور دوسرے نے فرانس کے سفیر کو ڈیڈ لائن دینے کے مشغلے کو اپنا شغل بناکر رکھا ہے۔ اوریا مقبول جان سے پوچھا جائے کہ جمہوریت کفر ہے لیکن جناب نے جس نظام میں زندگی گزاری ہے اور آج اس کی پینشن کھارہے ہیں یہ اسلامی ہے؟۔ ہمارے ہاں کلمہ پڑھانے کیلئے اوریا مقبول جان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے علاوہ کوئی نہیں ملتا؟۔ جس بھی نوزائدہ نومولود تنظیم کے ایک کان میں آذان دینی ہو تو عامر لیاقت اور دوسرے کان میں اقامت پڑھنی ہو تو اوریا مقبول جان کی خدمات ہی پتہ نہیں کیوں لی جاتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر (DGISPR)نے ٹھیک کہاہے کہ جن فوجیوں نے احسان اللہ احسان کو چھوڑنے کا جرم کیا تھا ،ان کو سزا دی جاچکی ہے۔ اگر وہ کسی طرح قید میں رکھے گئے ہیں تو آذان واقامت کیلئے اوریا مقبول جان اور عامر لیاقت بھی ضرور حاضر خدمت ہیں۔ البتہ میڈیا پر ان نالائقوں کو وکالت کی خدمت نہ سونپی جائے۔ شہیر سیالوی پتہ نہیں انگریز کے کونسے بٹ مینوں اور کتے نہلانے والوں کو سبق سکھانے کا کہہ رہے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے بھی اس کی تائید کردی ہے۔
اگر واقعی اسلامی نظام ملک میں نافذ ہوتا تو پھر شاہ فیصل مسجد میں امام ، مؤذن ، خادم کی خدمات ڈاکٹرعامر لیاقت، اوریامقبول جان اور شہیر سیالوی سے بھی لی جاتی تو بہترین کام ہوسکتا تھا۔ حالانکہ پیشہ ، تعلیم اور سند کے لحاظ سے عامر لیاقت ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ جس طرح کوئی غیرسید اپنے نام کا حصہ سید کوبھی بنالیتا ہے وہ اسی طرح کے نام کے ڈاکٹر ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے سورۂ نور کی ایک ایک آیت میں وہ نور بھر دیا ہے کہ اگر اس سے روشن کردیا جائے تو مشرق ومغرب میں طلوع شمس کا منظر ہوگا۔
وانکحوا الایامیٰ منکم والصٰلحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO
” اور نکاح کراؤتم میں جو بیوہ وطلاق شدہ ہیں۔ اور جو تمہارے نیک غلام اور لونڈیاں ہیں ۔ اگر وہ فقراء ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے دولتمند بنادے گا اور اللہ وسعت دینے والا جاننے والا ہے”۔
دورِ جاہلیت میں نکاح کی ایک قسم یہ تھی کہ دس (10)یا اس سے کم متعدد افراد کسی عورت سے تعلق رکھتے تھے، جب اولاد پیدا ہوتی تھی تو وہ افراد ایک لائن میں کھڑے ہوجاتے ، جس کی طرف عورت اشارہ کرتی وہی مرد بچے کا باپ بن جاتا تھا۔ دوسری قسم یہ تھی کہ کوئی عورت اپنے گھر پر جھنڈا لگادیتی تھی اور لاتعداد لوگوں کا اس کے پاس آنا جانا ہوتا تھا۔ پھر جب اس کا کوئی بچہ پیدا ہوتا تو چہروں کا علم رکھنے والے ماہرین قیافہ شناسوں کی ٹیم طلب کی جاتی تھی اور جس سے چہرہ ملتا تھا ،بچے کو اسی شخص کا قرار دیا جاتا تھا۔ تیسری قسم یہ تھی کہ کوئی شخص اپنی بیگم کسی اچھے نسل والے کو دے دیتا تھا،پھر جب اس کو حمل ٹھہرتا تو عورت اپنے شوہر کو واپس کردی جاتی اور یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ نسل اچھی ہوگئی ہے۔جاہلیت میں نکاح کی ایک قسم وہ بھی ہے جو درست تھی اور اسلام نے اس کو باقی رکھا۔ (صحیح بخاری)
بخاری کی صحیح حدیث کو نقل کرنے پر بھی بعض لوگ چیں بہ جبیں ہونگے کہ اخلاقیات سے گری باتوں کو یہاں نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ حالانکہ ہمارا معاشرتی نظام تو جاہلیت سے بھی زیادہ گیا گزرا ہے۔ بغیر ماں باپ کی شناخت والے جھولوں کے بچوں کی بہت بڑی تعداد پیدا ہورہی ہے۔ مولانا عبدالستار ایدھی اور اسطرح کے دوسرے لوگ یہاں ایک مسیحا کے روپ میں بیٹھے ہیں جو بھیک مانگ کر زکوٰة خیرات سے ان بچوں کے باپ بن رہے ہیں۔ ایام جاہلیت میں ماں کے ساتھ ایک باپ پر بھی بچے کی ذمہ داری ڈال دی جاتی تھی تو یہ بچے اور معاشرے کیلئے خوش آئند تھامگر جب ماں باپ دونوں سے محروم بچے معاشرے کا حصہ بن رہے ہوں تو یہ جاہلیت کے معاشرے سے ہزار درجہ بدتر ہے۔
جب دین اسلام آیا تو ناجائز حرام کاری کی روک تھام اور انسانی شرافت کا بہت اعلیٰ ترین معیار قائم کردیا ۔ اس زمانے میں بیوہ وطلاق شدہ سے نکاح کو اتنا معیوب سمجھا جاتا تھا کہ بچے اپنے آباء کی متروکہ منکوحہ عورتوں سے مجبوراً شادی کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولاتنکحوا مانکح اٰبائکم من النساء الا ما قدسلف ”اورنکاح مت کرو جن عورتوں سے تمہارے آبا ء نے نکاح کیا مگر جو پہلے گزرچکا ہے”۔اصولِ فقہ میں اس پر اتنا گند پھیلایا گیا ہے کہ اگر عوام کو پتہ چل گیا اور ڈنڈے والی سرکار کو حکومت مل گئی تو اسلام کے نام پر غیر فطری تعلیم دینے والوں کو سوٹے مارمارکرباز آنے پر مجبور کریںگے۔ جن خواتین کی ایسی حیثیت ہو ، جو اپنے لئے بیوہ ہونے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کو اپنی توہین سمجھ رہی ہوں تو محرمات کی فہرست مانکح آباء کم اور حرمت علیکم امہاتکم سے شروع ہے تو اس کا خاتمہ والمحصنات من النساء پر کردیا ہے۔ کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ جب انسانی معاشرے میں ایک خاتون کو ایسی عزت کا مقام حاصل ہو کہ وہ بیوہ بننے کے بعد شادی نہیں کرنا چاہتی ہو اور لوگ اسکو پیغام ِنکاح کے انبار لگانا شروع کردیں۔ رسول اللہ ۖ کی حیثیت مسلم معاشرے میں مسلمہ تھی تو اللہ نے ہمیشہ کیلئے آپ ۖ کی ازواج سے نکاح کرنے کی بات کو بھی ناجائز اور اذیت کا باعث قرار دیا تھا۔
حدیث میں کنواری کے مقابلے میں الایم کا ذکر آیا ہے۔ کنواری سے شادی کرنے میں کوئی عار اور مشکل نہیں تھی اسلئے اللہ تعالیٰ نے بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کرانے کا حکم دیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ جب معاشرے میں ان کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہو تو اس سے بہت مثبت تبدیلی آتی ہے۔ ریحام خان سے عمران خان کا نکاح اس اصول کے مطابق بڑا اچھا فیصلہ تھا۔ البتہ معاشرے میں نکاح کیلئے شادی شدہ سے نکاح کرنے کا اقدام بہت معیوب ہے۔ عورت شوہر سے راضی نہ ہو تو پہلے خلع لیا جائے اور پھر دوسرے سے نکاح کی بات ہو تو پھر بھی مدینہ کی ریاست بنانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ جب جوان بچوں کو معلوم نہ ہو کہ ماں نے انکے باپ سے خلع لیکر کسی اور سے شادی رچالی ہے اور پھر وہ میڈیا میں کسی معروف شخصیت سے شادی کی تردید کریں تو اللہ ایسی آزمائش سے ہمارے گرویدہ نہیں بلکہ دشمن ہندؤوں کے بچوں کو بھی بچائیں۔ پھر یہ الزام کہ عدت میں شادی ہوئی ہے اور مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے گھر کو ریگولرائزکردیا ہے اب ایک اور چیز کو ریگولرائز کرنے کا معاملہ باقی رہ گیا ہے۔
جب اللہ نے شادی کی طلبگار اور ضرورت مند بیوہ وطلاق شدہ خواتین کی شادی کرانے کا حکم دیا ہے تو اس سے معاشرے پر کتنے زبردست اثرات مرتب ہوںگے؟ اللہ نے صرف طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا نہیں بلکہ غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کا بھی حکم دیا تھا۔ نوشہرہ کی معروف سیاسی شخصیت ہمارے علاقہ کے مولانا گل حلیم شاہ کنڈی نے ایک مرتبہ بالمشافہہ ملاقات میں مجھ سے کہا کہ ایک عورت بہت بوڑھی تھی، کمزور اور بہت لاغر جسم کی وجہ سے اسکا بیٹا ٹوکری میں رکھ کر اپنے سر پر حج کے دوران گھما رہا تھا۔ ایک شخص نے کہا کہ اللہ کا حکم ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کراؤ، اس نے کہا کہ اتنی بوڑھی کا نکاح سے کیا کام ہے ؟۔ تو بوڑھی اماں نے کہہ دیا کہ میرا نکاح کسی سے کردو۔ مولانا نے فقہ کی کسی کتاب کا حوالہ بھی دیا تھا۔ میں نے کہا کہ اللہ نے ان خواتین کا بھی قرآن میں ذکر کیا ہے جن کوپکی عمر کی وجہ سے نکاح کی حاجت نہیں رہتی ہے۔ بہرحال ہوسکتا ہے کہ بوڑھیا اپنے بیٹے کے سرسے بوجھ ہٹاکر کسی دوسرے کے کاندھے پر ڈالنا چاہتی ہو اور مولوی نے سوچا ہو کہ الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموا ھما کی زد میںکہیں یہ بڑھیا اور کوئی بوڑھا نہ آجائے۔ اسلئے کہ جوانوں پر تو یہ حد نافذ ہونے سے رہی ہے اور نہ اسکے الفاظ یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ جوانوں پر اسکا اطلاق ہوکیونکہ یہ اقتضاء النص بھی نہیں ہوسکتا ہے۔
جس معاشرے میں غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کی تعلیم ہو تو وہ معاشرہ سپر طاقت کیسے نہیں بنے گا؟۔ کوئی ملحد یہ بکواس کرسکتا ہے کہ دشمن کو دبانے کیلئے ابوجہل اور ابولہب کے مقابلے میں سیدنا بلال کا درجہ بڑھادیا گیا تھا ورنہ تو مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ مہاجر قریش صحابہ نے اولین سبقت لے جانے والے انصارکے سردار کو بھی خلافت کے قابل نہیں سمجھا تھا۔ رسول اللہۖ کے کفن دفن کو چھوڑ کر خلافت کے استحقاق پر لڑتے لڑتے رہ گئے تھے۔ پھر حضرت عثمان کی شہادت کا سانحہ بہت کم عرصہ میں پیش آیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عثمان اور حضرت علی کے جھگڑے کا ذکر ہے ۔ حضرت عثمان نے کہا کہ حضرت عمر نے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھنے پر پابندی لگائی ہے اور کہا ہے کہ میں کسی کو احرام اس نیت سے باندھنے نہیں دوں گا، نہیں دوں گا، نہیں دوں گا۔ حضرت علی نے اعلانیہ طور پر کہا کہ میں رسول اللہۖ کی سنت کے مطابق ایک ساتھ احرام کی نیت کرتا ہوں توکوئی مجھے روک کر دکھائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور احناف نے بھی حضرت عمر کے اقدام کی مخالفت کی اور بنوامیہ کے ظالم گورنر ضحاک نے جب کہا کہ حج وعمرے کااکٹھا احرام باندھنا جہالت ہے تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ضحاک یہ بات مت کرو۔ میں نے نبیۖ کو خود اپنے مشاہدے سے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھتے دیکھا ہے۔
جس قوم کی جہالت کا یہ حال ہو وہ ایک غلام کو کس طرح خلیفہ بناسکتے تھے؟۔ امریکہ نے بہت کم عرصہ ہوا ہے کہ کالوں کو گوروں کی طرح حقوق دیدئیے تو بارک حسین اوبامہ صدر اور مشعل اوبامہ خاتون اول بن گئی ؟۔ خلافت کو خاندانی لونڈی بنانے والے غلام کو کبھی بھی اپنا خلیفہ نہیں بناسکتے تھے۔ کہنے والوں کو بہت کچھ کہنے کا حق ہے لیکن جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تو اسلام کی ایک ایک بات سے لوگ مطمئن ہوجائیں گے۔ رسول اللہۖ نے اپنے غلام حضرت زید ہی کو اپنا جانشین بنایا تھا۔ اگر وہ شہادت کی منزل کو نہ پہنچتے تو انہی کو خلیفہ نامزد کرنے پر دل وجان سے اتفاق ہوسکتا تھا جو نہ قریش تھے اور نہ انصارمیں سے تھے۔ رسول اللہۖ نے انہی کے بیٹے اُسامہ کو لشکر کا آخری سپہ سالار بھی مقرر فرمایا تھا۔ جن پر بعض صحابہ نے اعتراض کیا لیکن نبیۖ نے انکا اعتراض مسترد کردیا تھا۔ نبیۖ نے اپنی کزن حضرت زینب سے شادی بھی کرادی تھی لیکن جب اس شادی کی ناکامی میں جاہلانہ ماحول نے اپنا کردار ادا کیا تو نبیۖ نے اس طلاق شدہ کو بھی اللہ کے حکم سے شرف زوجیت بخش کر ام المؤمنین بنادیا تھا۔
جہاں تک ایک ساتھ احرام باندھنے کی بات ہے تو رسول اللہۖ نے رسم جاہلیت توڑنے کیلئے حج وعمرے کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا تاکہ جنہوں نے عمرے کی کوئی نذر مانی ہو تو ان کیلئے اس سہولت سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے۔ منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے شادی کا حکم بھی اللہ نے نبیۖ کو اسلئے دیا تاکہ مؤمنین کیلئے راستہ آسان ہوجائے۔ جس کی قرآن نے وضاحت کردی ہے۔ حضرت عمر نے ایک ساتھ احرام پر جو پابندی لگائی تھی تو حضرت عمر کے دشمن اس سے یہ تأثر پھیلانے کی کوشش میں کامیاب ہیں کہ اسلام کے احکام کی جگہ جہالت لائی جارہی تھی۔ حالانکہ حضرت عمر یہ فیصلہ نہ کرتے تو پھر جاہل سنت سمجھ کر بڑے پیمانے پر حج کی فضاء کو بدبودار پسینوں سے متعفن بناسکتے تھے۔
اسلام کے ہرے بھرے کھیت اور کھلیان کو نااہلوں ،فرقہ بازوں ، مسلک سازوں اور مفاد پرستوں نے کھائے ہوئے بھوس کی طرح روند اور کچل کر رکھ دیا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

شیعہ سنی اتحاد سے ایران، سعودیہ، عراق ، شام ،ترکی عرب وعجم کاپاکستان امام بن جائیگا.

شیعہ سنی اتحاد سے ایران، سعودیہ، عراق ، شام ،ترکی عرب وعجم کاپاکستان امام بن جائیگا ،عالم اسلا م ہی نہیںدنیا کا بھی پاکستان نے امام بننا ہے۔پاکستان لیلة القدر کی رات کو اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب دیکھنے کیلئے وجود میں آیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ شیعہ ذاکر نے کہا: میں قرآن سے علم کا جلوس اور اسکاراستہ تک ثابت کرتا ہوں۔ الم نشرح لک صدرک۔ علم کا جلوس نشترپارک سے صدر تک !

شیعہ سنی تفاسیر میں جو جو بیانات مرتب ہورہے ہیں، عوام ان کی نکتہ دانیوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے لیکن جو آیات محکمات ان کو بھی متشابہات کے درجے تک پہنچاکر ناقابل عمل بنایاہے!

سورۂ نور میں جتنی تاکیدات سے اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ سورة انزلنٰھاو فرضنٰھا و انزلنافیھا آےٰتٍ بینٰتٍ لعکم تذکرونOالزانیة والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائة جلدة ولاتأخذ کم بھما رأفة فی دین اللہ ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاٰخر ولیشھد عذابھما طائفة من المؤمنینOالزانی لاینکح الا زانیة او مشرکة والزانےة لاینکحھا الا زانٍ او مشرک و حرم ذٰلک علی المؤمنینOوالذین یرمون المحصنٰت ثم لم یأتوا باربعة شہدآء فاجلدوھم ثمٰنین جلدةً ولاتقبلوا لھم شھادةً ابدًا واولئک ھم الفٰسقون
ترجمہ ” یہ ایک سورت ہے ،اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اورہم نے اس میں نازل کی ہیں بالکل واضح آیات شایدکہ تم سبق لے لو۔زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہارے دلوں میں ان دونوں کیلئے نرمی نہ ہو ،اللہ کے دین کے معاملے میں۔ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔اور ان دونوں کے عذاب(سزا) پر مؤمنوں کا ایک گروہ موجود رہے۔ زانی مرد نکاح نہیں کرے مگر زانیہ عورت یا مشرکہ سے اور زانیہ عورت نکاح نہ کرے مگر زانی مرد یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے۔ اور جو لوگ بیگمات پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو ان کواسی (80)کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول مت کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں”۔
مسلمان معاشرے میں بڑی مدت سے یہ تأثر جم گیا ہے کہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ لیکن جب اس سے بدکاری کا ارتکاب ہوتا ہے تو اس کو جان سے ماردیا جاتا ہے لیکن مردوں کیلئے زنا کار ہونے پر کوئی اخلاقی اور قانونی جرم کی سزا کا کوئی تصور نہیں ہے ۔اسلئے مسلمان معاشرے میں عورتوں کی اکثریت محفوظ اور مردوں کی خطاء کار ہے۔ اگر قرآن کی واضح آیات کے مطابق دونوں کو ایک ہی طرح کی سزاسو (100)کوڑے لگائے جائیں تو اس سے معاشرے میں ایک بہت ہی پاکیزہ ، زبردست اور بہترین فضاء بنے گی۔
سید ابولاعلیٰ مودودی نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں پہلے زنا سے متعلق یہود ونصاریٰ اور دوسری اقوام کے حوالے سے ایک طویل مضمون پیش کیا ہے۔ پھر اسلام کے حوالے سے بھی فقہی معاملات کا کم وبیش وہی مضمون پیش کیا ہے۔ گویا امت مسلمہ بھی اپنی سابقہ امتوں کے عین مطابق انکے نقش قدم پر اسی طرح اللہ کے دین کے بارے میں گامزن ہے۔
جب معاشرے میں مردوں کا حال بہت خراب ہوگا اور شادی شدہ عورتیں مقید ہوں تو یہ اسلامی معاشرہ کیسے کہلاسکتاہے؟۔ قربان میری گلیوں کے اے وطن کہ خشیت مقید ہیں جہاں سگ آزاد۔ عورت کو سزا مل جاتی ہے لیکن مرد کھلے عام قانون سے بالاتر ہیں۔
جب عورتوں اور مردوں پر اللہ کی بالکل واضح آیت کے مطابق زنا کرنے پر نہ صرف سرعام سو (100)کوڑے برسائے جائیں بلکہ انکا آپس میں نکاح بھی کردیا جائے یا پھر پڑوس کے ملک ہندوستان میں کسی مشرک یا مشرکہ سے نکاح کرایاجائے جہاں وہ فلم انڈسٹری کی مدد سے اپنا پیٹ بھی پالیں تو مسئلہ نہیں ہے ۔معاشرے میں یہ پتہ ہوتا ہے کہ کون بدکار اور کون نیکوکار ہے۔ بدکاروں کی اسلامی معاشرے میں یہی گنجائش ہے کہ وہ آپس میں یا پھر کسی مشرک اور مشرکہ سے اپنا ناطہ جوڑیں۔ اگر قرآن کی ان واضح آیات پر عمل ہوتا توآج مسلم معاشرے میں بے راہ روی اس انتہاء درجہ تک نہ پہنچتی جو کچھ آج ہورہاہے بھارت بھی اپنے ہاں مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ہندؤوں پر بھی اس قانون کو جاری کرنے میں دیر نہ لگاتا۔
عورت آزادی مارچ کے شرکاء نے اگر منظم انداز میں خواتین کے تحفظ کیلئے سورۂ نور کا سہارا لیا تو پھر پاکستان میں وہ انقلاب آئیگا جس کا خواب وہ ہزار سال کی جدوجہد کے بعد بھی نہیں دیکھ سکتی ہیں۔ اسلام نے مرد اور عورت کیلئے بدکاری پر یکساں سزا کا حکم دیا ہے اور معاشرے میں عورت کیساتھ نہ صرف یک طرفہ اور بغیر کسی تفریق کے زیادتیاں ہوتی ہیں بلکہ اپنی عزتوں کی حفاظت کرنے والی خواتین انتہائی اذیت کی زندگیاں گزار رہی ہیں اور اس سے نجات کا رستہ قرآن نے دیا ہے۔ پروین شاکر نے عورت کی تہذیب کو نقل کیا ہے کہ ”وہ کہیں بھی گیالوٹا تو مرے پاس آیا، بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی”۔
جب شرعی اور قانونی طور پر بدکار مردوں کو یہ حق ہی نہیں ہوگا کہ وہ پاکدامن عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکیں ۔ اللہ نے ان پر یہ حرام کردیا ہوگا تو معاشرے میں پاکیزہ ماحول قائم کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ بدکارعورتوں کو مرد اپنے نکاح میں رکھنا حرام سمجھتے ہیںمگر خود بدکاری اور بدکرداری کے مرتکب ہونے کا مرد اپنے لئے جواز رکھتے ہیں۔ معاشرے کو اسلامی بنانے کیلئے عورتوں سے زیادہ مردوں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ انشاء اللہ
بہتان ایک سنگین جرم ہے ، اگر مرد پر لگایا جائے تو اس کی بیوی پر اتنا اثر نہیں پڑتا ہے لیکن جب عورت پر لگایا جائے تو اس کے شوہر پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ کیپٹن صفدر بھی کہے گا کہ مجھ پر الزام مسئلہ نہیں لیکن سوشل میڈیا پر چھوڑے ہوئے کتوں کے ذریعے مریم نواز کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے شادی شدہ خواتین پر بہتان لگانے کا خاص طور پر ذکر اسلئے کیا کہ مردوں کو اذیت پہنچانے کیلئے انکی بیگمات کو جس طرح گالی گلوچ سے کچلنے کی روش اپنائی جاتی ہے ، یہاں تک کہ کلچر میں عورت بھی بسا اوقات دوسرے کو بیوی کی گالی سے نوازتی ہے۔ حالانکہ عورت کے شوہرکو بھی گالی دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح مردوں کو نشانہ بنانے کیلئے عورتوں پر ہی بہتان لگایا جاتا ہے۔ قرآن نے اس کا حل پیش کیا ہے۔
اسلام اتنا عظیم دین ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو بھی اس کی سزا اسّی (80)کوڑے رکھی اور ایک ادنیٰ درجے کی غریب عورت پر بہتان لگایا جائے تو بھی اس کی سزا اسّی (80)کوڑے ہے۔ اسلام کی یہ مساوات دیکھ کردنیا اسلامی انقلاب کو قبول کرسکتی ہے لیکن ہمارا میڈیا اس کو عوام تک پہنچانے سے قاصر ہے۔ روزنامہ پیغامات اخبار پشاور کے چیف ایڈیٹر جناب گل احمد مروت سے میں نے اسلام کے اس آفاقی نظام کا ذکر کیا کہ اگر پاکستان میں اس کو نافذ کیا گیا تو امیر وغریب میں مساوات کی فضاء قائم ہوگی۔ کرپٹ امیروں نے انتخابات ، جمہوریت اور اقتدار کو تجارت بنالیا ہے لیکن آئین میں قرآن اور سنت کی بالادستی ہونے کی وضاحت کے باوجود منافق مولوی اور مذہبی طبقہ بھی حقیقت کی بات عوام کے سامنے نہیں لاتاہے۔ یہاں امیر کی ہتک عزت اربوں میں غریب کی ٹکوں میں بھی نہیں ہے۔ وہ جتنی ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتا ہے ،اس سے زیادہ وکیل اور عدالت میں خرچہ آئے گا۔ ایک غریب کیلئے دس ہزار بھی بڑی سزا ہے۔ جیلوں میں بہت سے لوگ اس لئے قید پڑے ہوئے ہیں کہ وہ پانچ سو روپیہ جرمانہ نہیں بھرسکتے ہیں جبکہ مریم صفدر نے ایک دن میں دس (10)کروڑ کی ضمانت عدالت میں جمع کرکے رہائی پالی ۔ اب شاید عدالت کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ واپس کرکے مریم نواز کو دوبارہ گرفتار کرلے ،اسلئے کہ تیمارداری کا مسئلہ تو نہیں، کب کے نوازشریف باہر چلے گئے ہیں؟۔
اگر مذہبی طبقہ اٹھتا اور قرآنی آیات کے مطابق خواتین پر بہتان لگانے کی سزا کے مطابق ہتک عزت میں امیرو غریب کی تفریق کے بغیر ایک سزا مقرر کرتا اور یہ سزا پیسوں میں نہیں کوڑے لگانے کی صورت میں ہوتی تو سوشل میڈیا پر بھی کوئی غلط الزامات لگانے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ معاشرے میں جمود بھی ایک زبردست زلزلے کی طرح ٹوٹ جاتا۔ قرآن میں جس یوم دین یا یوم انقلاب کا ذکر ہے وہ دنیا میں جو قومیں عذاب کا مزہ چکھ چکی ہیں اور فتح مکہ کی طرح انقلاب دیکھ چکی ہیں۔ اس سے دنیا ہی میں عذاب مراد ہے لیکن قرآنی آیات میں عذاب و ثواب سے مراد لوگوں نے آخرت ہی لیا ہے۔
حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو زنا پر جان سے مار ڈالا۔ بیگم نے بیچ میں سفارش کرنے کی بات کی تو حضرت عمر نے کہا تھا کہ میں سفارش نہیں مانوں گا۔ اس نے کہا کہ صرف سن لیں،پھر ماننا نہ ماننا آپ کا کام ہے۔ سفارش یہ کردی کہ کوڑے والے آدمی کو بدلتے رہو تاکہ بیٹا دنیا میں عذاب پورا کرلے۔ ایک ہی آدمی نے مارا تو وہ تھک کر زیادہ سخت کوڑے پورے نہیں کرسکے گا۔ بیٹے پر گواہوں کو بھی طلب نہیں کیا جبکہ مغیرہ بن شعبہ پر چار گواہ تھے اور اس کو سنگساری سے بچانے کیلئے تین گواہوں کو اسّی اسّی (80،80)کوڑے مروائے تھے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین مفتی سعید خان کو بنایا جائے۔ پہلے مولانا محمد خان شیرانی اور اب قبلہ ایاز صاحب روٹیاں توڑ رہے ہیں۔ شیعہ سنی علماء اور ذاکرین حقائق کی وضاحت سے بالکل قاصر نظر آتے ہیں۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ شیعہ ذاکر نے یہ اعلان کیا کہ قرآن میں محرم کا جلوس اور اس کا راستہ بھی موجود ہے۔کراچی میں نشترپارک سے صدر کی طرف ایک جلوس نکلتا ہے ۔ لوگ حیران تھے کہ قرآن میں یہ کہاں ہے؟۔ اس نے کہا کہ الم نشرح لک صدرک میں الم سے علم ہے اور نشرح سے مراد نشتر پارک ہے اور مطلب یہ ہے کہ نشتر پارک سے صدر تک علم کا جلوس۔ یہ سن کر سامعین نے زبردست داد بھی دی اور ان پر وجد کی کیفیت بھی طاری ہوگئی کیا زبردست دلیل نکالی ہے۔
والفجرOولیال عشرOوالشفع والوترOوالیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم الذی حجرO
” فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم ، جفت اور طاق کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے کوئی قسم ہے؟”۔
شیعہ علامہ نے کہا کہ فجر سے مراد امام مہدی ہیں۔ دس راتوں سے دس امام مراد ہیں۔ جفت سے حضرت علی و حضرت فاطمہ مراد ہیں اور وتر سے رسولۖ مراد ہیں۔ ان میں چودہ معصومین کا ذکر ہے لیکن اس میں عقل والوں کیلئے قسم ہے۔
سنی علامہ کہہ سکتے ہیں کہ فجر سے رسول اللہۖ کا انقلاب مراد ہے۔ دس راتوں سے عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام مراد ہیں۔ اور جفت سے حضرت حسن و حضرت معاویہ مراد ہیں اور وتر سے حضرت امام حسین یا عمر بن عبدالعزیز مراد ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فجر سے امام مہدی مراد ہیں۔ پھر دس راتوں سے آئندہ آنے والے دس آل بیت امام مراد ہیں جن سے پہلے رات کی طرح ایک ایک مرتبہ اندھیرا چھا جائیگا۔ پھر جفت سے مراد امام مہدی آخر زمان اور حضرت عیسیٰ مراد ہیں ۔ پھر وتر سے توحید مراد ہے کہ اگر ایک بھی اللہ اللہ کہنے والا دنیا میں موجود ہوگا تو قیامت نہیں آئے گی۔ ہرانقلاب کے عمل کو الفجر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس سے پہلے کی رات آسان ہوجاتی ہے ۔ علامہ اقبال نے طلوعِ اسلام کا ذکر کیا ہے۔ ایران کو مشرق کا جنیوا قرار دینے کی خواہش اور نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر مسلمانوں کو ایک ہونے کی دعوت دی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے سندھ ، بلوچستان، پنجاب ، کشمیر ، پختونخواہ اور افغانستان میں رہنے والی تمام قوموں میں دنیا کی امامت کی صفت کا ذکر سورۂ القدر کی تفسیر کرتے ہوئے کیا ہے۔ جس کو ایران بھی قبول کرلے گا۔ کیونکہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے۔ مولانا سندھی کی تفسیرمقام محمود میں تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے ماحول خوشگوار بنانا بہت ضروری ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

آسٹرلوجر سامیہ خان کی پاکستان کے مستقبل کیلئے حیران کن پیش گوئی

پاکستان میں نظام کی تبدیلی
پاکستان صدارتی نظام کی طرف گامزن
آسٹرلوجر سامیہ خان کی حیران کن پیش گوئی

فلآ اقسم بموٰقع النجومOوانہ لقسم لو تعلمون عظیمOسورۂ واقعہ ”پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں ،تاروں کے مواقع کی اور بیشک یہ عظیم ہے اگر تم جان لو تو”
یہ اکیس دسمبر(2020)سے شروع ہوگیا نیا ٹائم میرے رب نے چاہا، کیونکہ مشتری اور زحل کا ملاپ ہوا ہے۔ جو پاکستان میں وہ تبدیلی لائیگا جس تبدیلی کا حکمران وعدہ پورا نہیں کرسکے وہ کہتے ہیں نا کہ اوپر ایک نظام قدرت ہے۔ اور اپنے وقت کے حساب سے اپنے مدار پر چیزیں چلتی رہتی ہیں۔ یہ سچ مچ تبدیلی کا سال ہے۔ تبدیلی کا سہرا کس کے سر آتا ہے یہ الگ بات ہے۔ اللہ کا شکر ہے میں عام آدمی کے ریلیف کی بھی بات کررہی ہوں پاکستان میں نظام حکومت کی بھی بات کررہی ہوں۔ مجھے یہ ضرور لگتا ہے کہ اب اس ملک میں کوئی نیا نظام لایا جائیگا۔ مجھے لگتا ہے کہ اسکا نام صدارتی ، ٹیکنوکریٹس یا نیشنل ہے۔ لیکن4مارچ(2021ئ) سے کچھ ایسی تبدیلی ہے کہ اسکے بعد یہ ملک ایک اسٹیبل زون میں داخل ہوجاتا ہے وہاں ۔ اس حکومت کیلئے (2019)اور ( 2020)میں یہ کہتی تھی کہ خان صاحب کا دور وزارت یہ پھولوں کا سفر نہیں ہے۔ ہنی مون پیریڈ ان کی حلف برداری کیساتھ ہی ختم ہوگیا تھا۔ تین ان پر ایسے دور آئے ہونگے کہ خان صاحب کو لگتا ہوگا کہ میں بند گلی کے اندر جیسے آگیا ہوں۔ لیکن (2021)ایک فیصلہ کن سال ہے اور یہ آر یا پار والی سچویشن ہے۔ اس میں جو بچ جائیں گے وہی لاسٹ کرینگے۔ چھانٹی ہوجائے گی بلکہ ایک اچھی سیاست کی ابتدا ہوگی۔ بڑے عرصے کے بعد ایک با اخلاق اور اچھی سیاست کا یہاں پر پنپنا دیکھیں گے(2021) میں جب ہمارا سفر شروع ہوگا اور اس میں چہرے بھی تبدیل ہونگے۔ میں حکومت کی بات نہیں کررہی کچھ لوگوں پر خطرہ ہوسکتا ہے کچھ چہروں کی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہاں سے اس ملک کا ایک اسٹیبل سفر شروع ہوتا ہے۔
میرے پاس بہت بڑی فائل ہے جسکے اندر میں نے ہر سیاستدان کے زائچے بنائے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم بھی، چیف آف آرمی اسٹاف بھی۔ تو چیف آف آرمی اسٹاف کا زائچہ بہت مضبوط نظر آرہا ہے۔ انکے ہاتھوں شاید کوئی ایسے کام ہوجائیں، شاید وہ کوئی ایسا تھنک ٹینک بنادیں جو کہ ملک کو آگے لے جائے۔ کیونکہ یہ تو ضرور ہوگا کہ ملک اب بہتر ہوگا۔ یہ تو پکا اور یقینی ہے انشاء اللہ۔ اور چیف آف آرمی اسٹاف کا ستارہ بہت دبنگ چل رہا ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اب مارشائل آجائیگا۔ جب میں ان سب زائچوں پر پڑھ رہی تھی تو میں نے یہ بھی پڑھا کہ جنرل پرویز مشرف کے بعد یہ دوسرے جنرل ہیں جن کا زائچہ بہت طاقتور ہے۔ اور یہ والا سال ان کو مزید طاقت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔
کورونا کے حوالے سے سمیہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خطے میں جب ہم اسٹرولوجی کے سال کو پڑھتے ہیں تو مارچ (2020) سے میں پڑھوں تو میں نے پیشگوئی کی تھی کہ وار زون ہے تو کورونا ہے۔ پہلا مریض مارچ(2020) میں لاہور میںآیا تھا ۔ میرے رب نے چاہا تو اس مارچ(2021) سے بہار کی آمد کیساتھ اس کی بھی رخصتی ہوجائے گی۔ اور ہماری زندگیاں نارمل لائف کی طرف آنا شروع ہوجائیں گی۔ انشاء اللہ رب کے حکم سے۔ اس بہار کے ساتھ یہاں پر اس وبا کی بھی کمی اور خاتمہ ہونا شروع ہوجائے گا۔ پاکستان تو محفوظ ہے مگر یورپی ممالک کیلئے میں یہ بات نہیں کہہ رہی۔
صدر جوبائیڈن کے حوالے سے میں نے پیشگوئی کی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن سے پہلے ایک مشکل وقت میں داخل ہورہے ہیں جس کی وجہ سے مجھے جوبائڈن کے ستارے فیور کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کے کوئی نئے اتحادی بننے جارہے ہیں۔ پاکستان کے نئے الائنسز بننے جارہے ہیں۔ اور آج میں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے کہ جب انڈین اسٹرولوجسٹ سے لگتا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت بنائے ہوئے پروگرام ہیں جس میں کہتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹے ہونے کا وقت آگیا ہے۔ یقین کیجئے اگر پاکستان کو خطرہ تھا تو وہ اُنیس (19)دسمبر(2020) تک خطرہ تھا۔ اب جو لوگ یہ سپنا دیکھ رہے ہیں وہ خود اس گڑھے میں گریں گے کیونکہ امریکہ اور انڈیا کے اندر کے حالات میں بڑی پیچیدگیاں اور خرابیاں آئیں گی۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی طرف سفر شروع ہوگا۔ یہ گڈ نیوز ہے اور خوشی کی خبر ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اہل تشیع کو علماء دیوبند پر بھرپور اعتماد کرکے فرقہ پرستی کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

اہل تشیع کو علماء دیوبند پر بھرپور اعتماد کرکے فرقہ پرستی کی سازشوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ اُمت مسلمہ کو درپیش عالمی سازشوں کا بہت کھلے دل ودماغ سے مقابلہ کرنے میں مشکلات کا بروقت جلداز جلدخاتمہ ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شیعہ سنی مساجد کے ائمہ اور خطیبوں کاتحفظ صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ منبر ومحراب سے اتحاد واتفاق اور وحدت کی آواز اُٹھے گی تو دشمن اپنے عزائم میں ناکام ہوجائے گا!

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سراور ڈاڑھی سے پکڑلیا۔اگرقرآن کی اس بات پر فرقہ پرستی کی داستان چڑھائی جاتی تو خطیبانہ انداز سے بات کہاں پہنچتی ؟

ہماری قوم میں بداعتمادی کی فضاء ہے۔ اہل تشیع کے علامہ سید جواد حسین نقوی نے علماء دیوبند کے مولانا سرفراز خان صفدر کے بیٹے علامہ زاہدالراشدی کے پیچھے اپنے مدرسہ عروة الوثقیٰ مسجد بیت العتیق لاہور میں نماز پڑھی تو علامہ شہریار رضا عابدی نے علامہ سیدجوادحسین نقوی کا نام لئے بغیر اتحاد کے حوالے سے خبردار کیا کہ دیوبند کے امام مولانا سرفراز خان صفدر کے شیعہ امامیہ اور ایرانی انقلاب کے بارے میں کیا خیالات تھے۔علامہ زاہدالراشدی کے سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی شہید اور قائدین علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید اور مولانا اعظم طارق شہید کے بارے میں کیا تأثرات تھے۔ ایک تازہ ویڈیو میں سارے حقائق سامنے رکھ دئیے ہیں۔
علماء دیوبند نے اہل تشیع، بریلوی مکتبۂ فکر، اہلحدیث اور آپس میں ایکدوسرے خلاف بہت کچھ لکھا ہے لیکن جب اہل تشیع کے علامہ صاحبان خود ایک طرف حضرت عمر اور اکابرصحابہ پر کفر ونفاق کے فتوؤںکی یلغار کریںگے اور دوسری طرف یزیدکے بیٹے معاویہ کا خلوص بتائیںگے۔ یزید کی دادی ہند کی طرف سے حضرت حسین بن علی سے انتہائی عقیدت ومحبت کا اظہار کرکے اپنے لوگوں کو رُلائیںگے تو اس تضاد بیانی کا کیابنے گا کہ بڑے صحابہ کرام کیلئے نفاق وارتداد اور یزید کے کنبے کیلئے اسلام وایمان کے ثبوت پیش کئے جائیں؟۔ اللہ نہ کرے کہ اہل تشیع آپس میں فساد برپا کریں۔
علماء نے اگر اہل تشیع کی باتوں کا الزامی جواب دیا ہے تو اہل تشیع اپنے روئیے پر بھی نظر ثانی کریں۔ اگر گستاخانِ صحابہ کے مقابلے میں سپاہ صحابہ کا کارکن پھانسی کے پھندے کو چوم رہاتھا تو اسلئے نہیں کہ سعودی عرب کی بھیجی ہوئی زکوٰة کو ہضم کررہا تھا بلکہ وہ اپنے ایمانی جذبے سے موت کو گلے لگاکر خوش ہوتاتھا۔ جب اہل بیت کی خواتین کے نام لیکرشیعہ ذاکر مظلومیت کو خطابت کے آرٹ میں چار چاند لگادیتا ہے تو سامعین کے قلوب سے ظلمت کاماحول آنسو بہابہا کر دھل جاتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کیلئے بی بی زینب کے تذکرے تریاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سنی علماء کے پاس اُم المؤمنین حضرت عائشہ کی طرف سے جنگ میں شرکت کے حوالے سے ایسی داستان نہیں جس پر خطیب حضرات اپنے جوشِ خطابت کے جوہر دکھا سکیں۔
سنی شیعہ خطیبوں کی پنجاب میں فیس ہے۔ ریٹنگ بڑھانے کا دھندہ مقبولیت کی بنیاد پر چلتا ہے لیکن یہ مقبولیت بارگاہِ خداوندی میں نہیں بلکہ عوام کے ہاں جن سے پیسہ بٹورنا ہوتا ہے۔ میں سخت جان انسان تو نہیںاسلئے کہ اللہ نے قرآن میں انسان کو کمزورقرار دیا ہے اور میں اپنی کمزوری کو بخوبی سمجھتا ہوں لیکن بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انسان کے دل کو تھام لیتا ہے۔ جب فرعون سے بچانے کیلئے حضرت موسیٰ کوان کی ماں نے دریا میں ڈال دیا اور پتہ چل گیا کہ فرعون کے ہاں پہنچ گیا ہے تو اللہ نے حضرت موسیٰ کی ماں کے دل کو اپنے فضل سے تھام کر سکون عطا فرمایا تھا۔
ایک مرتبہ بلورخاندان کی ایک فیکٹری میں معذور پیر چترالی بابا کے ہاں بریلوی مکتبۂ فکر کے ایک پختون خطیب کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر چندافراد کیساتھ تقریر سنی۔ جب اس نے حضرت زینب دخترِ علی کی کیفیت کا ذکر کیا کہ وہ اپنے سر پر مٹی پھینک رہی تھیں تو میں بے ساختہ اتنا پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ عقل دنگ رہ جائے۔ عورت ذات کی تکلیف سن کر کلیجہ منہ کو آنا ایک فطری بات ہے۔ ہمارے ساتھ بھی وہ واقعہ پیش آیا تھا جس نے کربلا کی یاد تازہ کردی تھی۔ میرے بھتیجے ارشد حسین شہید کی یلغار سے گھبرا کر دہشتگرد نے راکٹ لانچر سے اس کا سر مبارک اڑادیا تھا، اس کے سر کا بھیجا درخت میں بکھر گیا تھا۔ ہمارے جنازے پر بھی خود کش کی دھمکی تھی، قاتل اتنے بے لگام تھے کہ جنازہ ختم ہوتے ہی قریبی عزیز کے گھر مسلح ہوکر گاڑیوں میں پہنچ گئے اور سرِ عام دندناتے ہوئے پھرتے تھے۔ ان دہشت گردوں کے سامنے یزید کا دربار انسانیت اور اسلام کے لحاظ سے بہت بہتر لگتا ہے ، حالانکہ کس قدر خطیبانہ آرٹ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بھیانک انداز میں اس کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اہل تشیع کے تحفظات اپنی جگہ پر سوفیصد درست ہیں۔ زوال وانحطاط کے انتہائی دور میں معصوم بچیوں اور خواتین کو جس طرح سفاکی و بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے تو فرعون بھی حیران ہوگا کہ ہم بچوں کو قتل کرتے تھے اور عورتوں کو عصمت دری کیلئے زندہ چھوڑتے تھے۔ اس قدر ظلم تو اس دور میں بھی نہیں تھا جو آج کے زمانے میں ہورہا ہے اور اگر اس ظالمانہ ماحول میں فرقہ پرستی کے ناسور کا عنصر بھی شامل ہوگیا تو کیا ہوگا؟۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے کو اس ماحول میں تنہاء چھوڑ کر اس کی طرف مزید دھکیلنے کی کوشش کی جائے یا پھر انسانیت کو اس ظالمانہ ماحول سے باہر نکالا جائے؟۔ رسول خداۖ نے سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ کے کلیجے کو نکالنے والے حضرت وحشی اور کلیجہ چبانے والی حضرت ہند کی معافی اسلئے نہیں کی کہ دائرۂ اختیار سے باہر تھے ، یہ کوئی سیاسی منافقت کا تقاضہ تھا یا ان سے آئندہ کوئی خطرات نہ تھے بلکہ رحمة للعالمینی کا تقاضہ تھا، رب العالمین نے جھوٹ موٹ نہیں سچ مچ رحمت للعالمین بناکر بھیجا تھا۔
رسول خداۖ کے اہل بیت نے بھی کسی تقیہ ، مجبوری اور سیاست کے تحت نہیں بلکہ رحمت للعالمینۖ کے سچے اور پکے جانشین بن کر بنوامیہ اور بنو عباس کے دور میں حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد معمول کے مطابق زندگی گزاری تھی۔ہمارا کردار یہ ثابت کرے کہ ہم بھی نبیۖ،اہل بیت عظام اور صحابہ کرامکے سچے پکے چاہنے والے ہیں۔ ابوذر غفاری شیعہ سنی دونوں کیلئے قابل احترام ہیں لیکن اگر خلفاء کے دربار کو حضرت ابوذر غفاری نے اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تو وہ اہل بیت کی چوکھٹ سے بھی دور ہی رہے۔ حضرت علی ، حضرت حسن، حضرت حسین کے ڈیرے پر نہیں بیٹھتے تھے جن کو بدری صحابہ کے برابر بیت المال سے حضرت عمر بہت بڑا حصہ دیتے تھے۔
مجھے اپنے اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی خلوت وجلوت میں رونا نہیں آیا۔ کراچی میں ساتھیوں کو دلاسہ دینے ان کے گھروں میں پہنچ گیا اور اپنے پاس بھی بعض افراد کو بلایاتاکہ ان کا یہ احسا س مٹادوں کہ میں غم سے نڈھال ہوں گا۔ کسی کو زیادہ روتا ہوا دیکھ کر یہ بھی کہہ دیا کہ رونا مردوں کا کام نہیں بلکہ عورتوں کے حوصلے کا مقام ہے۔ آج میں پھر متازع معاملات میں دخل اندازی کرکے اپنے سکون کی زندگی کو اُجاڑنے پر تلا نظر آتا ہوں لیکن یہ میری ہمت نہیں اللہ کا فضل اور میری مجبوری ہے۔ صحابہ واہلبیت نے اپنے دور میں جن مشکلات پر قابو پایا تھا وہ بہت اچھے لوگوں کا زمانہ تھا،آج بہت برے لوگوں کا عجیب زمانہ ہے،مفادات نے سبھی کو اندھا اور اندھا دھند بنا رکھا ہے۔
قوموں کے ضمیر کی موت اور تقدیر کو اپنے کردار، گفتار، تکرار اور رفتار سے بدلنے کی کوشش کی جائے تو ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بن سکتا ہے۔ علماء دیوبند کے خلوص کو منافقت سے تعبیر کرکے اسکے شر سے بچنے کی کوئی تدبیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے مخلص ساتھیوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے مجھ سے فرمایا تھاکہ ”ہمارا مدرسہ آپ کا مرکز ہے” تو میں نے معذرت سے عرض کیا تھا کہ ” خیمے لگانے کی تکلیف برداشت کرنی پڑے تو اس پر گزارہ کرلیںگے مگر کسی مسلک کی طرف خود کو منسوب نہیں کرینگے”۔ مولانا صفدر نے اس پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ بہت زبردست بات ہے ۔ مجھے تمہاری پیشانی کی چمک سے لگ رہاہے کہ خلافت کے قیام میں کامیاب ہوگے”۔
افغانستان میں اہل تشیع نے ملا عمر کا ساتھ نہیں دیا تو بھی اقتدار میں آگئے تھے اور جب امریکہ کے حملے کے بعد اہل تشیع نے افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا تب بھی ملاعمر نے امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا، جہاد کے میدان میں خطابت کے ترانے اور ذاکرین کے افسانے نہیں چلتے بلکہ بمباری کی گھن گرج میں اللہ پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے جہاں مشرک بھی سمندری طوفانی بھنور میں پھنسنے کے اندیشے پر بتوں کو بھول کراللہ ہی کو پکارتا ہے۔ میں نے جہاد کے میدان میں دیکھا تھا کہ جب ہماری طرف سے روسی ٹینکوں پر میزائل سے تین گولے فائر کئے تو وہاں سے گولے ہم پربرسائے گئے ۔ پنجابی امیر خالدزبیرکے سفید دانت قریب میں لگنے والے گولے کی گرد و غبار میں چمکتے مسکراتے ہوئے دکھائی دئیے تو دوسری طرف حرکة الجہاد الاسلامی کراچی کے کمانڈر اعجاز مردانی کو گولے کی آواز سے گرتے ہوئے دیکھا تو میری ہنسی چُھوٹی،اس نے کہا کہ ہنستے کیوں ہو؟، میں نے کہا کہ گرے کیوں؟۔ اس نے کہا کہ روزہ لگا ہے۔ جب ہم جیپ میں رات کو افغانستان سے واپس آرہے تھے تو کبھی جیپ کی لائٹ جلاتے، کبھی بجھاتے ، روسی ٹینکوں سے گولے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لگ رہے تھے جیسا کہ کوئی فلمی سین بن رہا ہو۔ اللہ پر بھروسہ ہو تو جہاد کا میدان گلی ڈنڈے کا کھیل ہے۔
میں مدرسہ عربیہ فیوچر کالونی لانڈھی کراچی میں زیرِ تعلیم تھا تو ایک اہل تشیع کے لواحقین اس کی میت جنازے کیلئے لائے تھے ، انہوں نے بتایا کہ مرحوم نے وصیت کی تھی کہ اس کا جنازہ سنی مکتب والوں سے پڑھایا جائے۔ ہم نے جنازہ پڑھا توانہوں نے خود شرکت نہیں کی۔ میں نے ہمدردانہ جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کیساتھ میت گاڑی تک لے جانے میں مدد بھی کی اور بہت ہلکا پھلکا وزن تھا اس میت کا۔ مجھے کراچی میں جمعہ کی نماز پڑھنے کیلئے پہنچنا تھا لیکن راستے میں کارساز کے قریب ایک امام باڑہ میں غلطی سے پہنچ گیا۔ دیکھا کہ نماز ہورہی ہے، جماعت میں شامل ہوا،اس شیعہ امام کے پیچھے نماز پڑھ کر یہ احساس ہرگز نہیں تھا کہ کسی گمراہ کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی اور یہی سوچا کہ اہل تشیع کی اپنی نماز ہوجاتی ہے تو میرے لئے بھی اس کی نماز ہوجاتی ہے ، فقہی مسائل اور نماز کے طریقۂ کار میں جتنا اختلاف فقہ حنفی اور فقہ جعفری میں ہے اس سے زیاہ ائمہ اربعہ میں بھی ہے۔
کچھ دنوں بعد محرم آگیا اور علامہ آصف علوی کی تقریر پر کراچی کے سنی علماء نہیں بلکہ لاہور اور اسلام آباد کے شیعہ علماء بھی اس کو سازش قرار دے رہے تھے۔ جس دن جمعہ کے بعد دیوبند مکتبۂ فکرکی طرف سے احتجاج تھا تو اس احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب نے بھی مصروف دن گزارے تھے۔ اتفاق تھا کہ میں قاری صاحب کی مسجد کے قریب سے گزر رہا تھا تو میں وہاں پہنچ گیا ۔ قاری صاحب سورۂ فتح کی آیات میں مذکورصحابہ کرام کی صفات کا ذکر فرمارہے تھے۔ جب یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار” کاشتکار ا سے دیکھ کر خوش ہوتا ہے تاکہ کفاراس سے جل کر غصہ ہوں”۔ قاری اللہ داد صاحب نے صحابہ کرام کی اس سے پہلے ایک ایک صفت کو بیان کیا مگران سے کفار کے غصہ کے مارے جلنے کی بات نہیں کی۔
اگر صحابہ کرام کی طرف یہ نسبت کی جائے کہ وہ آپس میں رحم نہ کرنے والی صفات کی وجہ سے صحابیت سے خارج ہوگئے ہیں تو پھر حضرت علی اور ان سے لڑنے والوں سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے لیکن جب سورۂ فتح کے بعد سورۂ حجرات میں آپس کے قتل وقتال کے باوجود بھی دونوں گروہوں کو مؤمن قرار دیا گیا ہے تو پھر ان پر کفر کے فتوے لگانا قرآن کے علاوہ ائمہ اہل بیت کے مسلک سے بھی کھلا انحراف ہے۔
مجھے امید ہے کہ شیعہ سنی ایک دوسرے کو مساجد کے منبروں پر جمعہ کے دن تقریر کا موقع دیںگے اور امت مسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے میں منبر ومحراب سے زبردست کردار ادا کریںگے۔ اپنے مسلک کے شدت پسندوں کی مخالفت ہی معیارِ حق ہے تو پھر کیا سنی شیعہ اتحاد کے دعویدار شیعہ علماء اپنے مسلک کیلئے قربانی دینے والوں کی قبروں پرحاضری نہیں دیتے پھرتے ہیں؟۔ یہی شدت پسند وہ ہیں کہ اگر اچھے راستے پر لگ گئے تو امت کا بیڑہ خالد بن ولید کی طرح پار کریں گے۔
مشرکینِ مکہ نے غزوہ اُحد میں پلٹ کر حملہ کیا تو مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچا۔ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ گیارہ (11) افراد رہ گئے تھے۔ علامہ جواد حسین نقوی نے کہا کہ تین افراد رہ گئے تھے ایک اور شیعہ عالم نے کہا کہ صرف علی رہ گئے تھے۔ قرآن میںبدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے اور اُحد میں بھاگنے والوں کی سرزنش میں زیادہ فرق نہیں تھا، یہ تربیت کا مرحلہ تھا اور ان آیات میں ہم نے اپنے معاشرے کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا ہے اور اگر تفریق وانتشار کا سلسلہ جاری رہا تو پھر وہ خون ریزی ہوسکتی ہے کہ اشتعال انگیزی میں اپنی صلاحیتیں خرچ کرنے والوں کو خوف وہراس میں اپنا مذہب نہیں بدلنا پڑ جائے۔ واعظ اور خطیب مجاہد ہوتو میدانِ جنگ میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گھبراکر بھاگ جاتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن میں تاریخی اور زمینی حقائق ہیں اور علماء نے انسان اورپری کو جوڑا بنادیا۔

قرآن میں تاریخی اور زمینی حقائق ہیں اور علماء نے انسان اورپری کو جوڑا بنادیا۔ فتوحات کے دروازے کھل گئے تو اللہ نے مسلمانوں کو نسل در نسل اجتماعی امامت کے مقام پر فائز کردیا،اگر اب رویہ بدلا تو ہماری حالت بدلے گی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سینٹر مشاہداللہ خان مرحوم نے کہا تھا کہ قوالی سن کر مسلمان ہونے والوں نے حلالہ کی لعنت سے اسلام کا چہرہ خراب کردیا ورنہ فطری دین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔یہ بیان چھپاتھا

مولاناعطاء الرحمن نے نوشہرہ میں ن لیگ کی حمایت کرکے پی ڈی ایم (PDM)کی قلعی کھول دی تھی،میاں افتخار حسین نے پی ڈی ایم (PDM)کے جلسوں میں نمایاں شرکت کی مگر جمعیت ن لیگ کی دُم چھلہ تھی

والذارےٰت ذروًاOفالحٰملٰت وِ قرًاOفالجٰرےٰت یسراO فالمقسمٰت امرًاOانما توعدوں لصادقOوان الدین لواقعOو السماء ذات الحبکOانکم لفی قول مختلفOیؤفک عنہ مَن افکOقتل الخرّٰ صونOالذین فی غمرة ساھونO ….
امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے مسلمانوں کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے کیلئے انقلابی تفاسیر کی طرف توجہ دلائی تھی۔ جب میں نے مسجد الٰہیہ ،خانقاہ چشتیہ، مدرسہ محمدیہ اور یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسین میں حضرت حاجی محمد عثمان کی اجازت سے تعلیم کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا سندھی کی انقلابی تفسیرپڑھاتا تھا۔ جب حاجی محمد عثمان کے خلفاء نے سازش کرکے حاجی صاحب کو اپنے گھر میں نظر بند کیا تھا تو ہمیں نہیں پتہ تھا لیکن اس دوران میں مولانا عبیداللہ سندھی کی قبر پر دین پور خان پور گیا اور انقلاب کی دعا مانگی تھی اور انقلاب کا عزم کیا تھا۔ پھر مجلس احراراسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت، انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا حق نواز جھنگوی ،مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبدالمجید ندیم کے دوست فیض محمد شاہین لیہ پنجاب سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ نئی تحریک سے علماء دیوبند کی محنت کو آگے بڑھایا جائے۔ میرا کہنا یہ تھا کہ اکابر نے اپنے کسی مخصوص مکتبۂ فکر کیلئے قربانی نہیں دی تھی بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے نمائندے تھے۔ ہم نے ان کو بھی فرقہ، مسلک اور مکتب بناکر بیڑہ غرق کیا ہے۔ پھر سوچا کہ جنت کا سب سے مختصر راستہ جہاد ہے اور افغانستان گیا۔
جب وہاں حرکة الجہادالاسلامی کے کمانڈروں نے پوچھ گچھ کی تو پھر میں نے بھی پوچھ لیا کہ آخر یہ تحقیق کیوں؟۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں بہت سارے امریکی ایجنٹ ہیں ، جماعت اسلامی اور گل بدین حکمتیار سے لیکر کسی کو نہیں چھوڑا۔ میں نے کہا کہ پھر تو ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف روس ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ بات تو یہ یہی ہے ۔ میں نے کہا کہ پھر بہتر نہیں کہ قبائلی علاقوں کو اسلامی خلافت بناکر دونوں سے لڑیں۔ حاجی عثمان صاحب ہمارے مرشد ہیں۔ بڑے فوجی افسران اور مدارس کے اساتذہ بھی ان کے مرید ہیں۔ ایک اعتماد کا رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو زبردست بات ہے۔ اور مجھے افغانستان سے پاکستان اسپیشل پہنچا بھی دیا۔ لیکن جب میں کراچی آیا تو پتہ چلا کہ حاجی صاحب کو بند کیا گیا تھا اور ان پر فتوے بھی لگ چکے ہیں۔میں نے اس سے پہلے وزیرستان کے طلبہ کی تنظیم جمعیت اعلاء کلمة الحق کے نام سے بنائی تھی اور اسکی وجہ سے تحریک طالبان بیت اللہ محسود کے ترجمان مولانامحمدامیرنے کہا تھا کہ” آپ نے ہمیں انقلاب پر لگادیا اور جب وقت آیا تو اب آپ پیچھے ہٹ گئے ، ہم آئی ایس آئی (ISI)کے نہیںہیں”۔ میں نے کہا کہ آئی ایس آئی (ISI)کے ہو تب بھی ساتھ دوں گا لیکن یہ مجھے امریکہ ہی کا ایجنڈہ لگتا ہے کیونکہ جو پمفلٹ چھپوایا تھا وہ امریکہ ہی کا ایجنڈہ ہوسکتا تھا۔
مولانا سندھی یوں ترجمہ وتفسیر کرتے کہ ” قسم ہے اس انقلابی جماعت کی جس کی وجہ سے کافروں کے چہرے غبار آلود ہونے والے ہیں۔ پس وہ جماعت جس نے انقلاب کا بارآور بوجھ اٹھا رکھا ہے، جس کی تحریک آسانی کیساتھ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے رب کائنات نے کافروں اور مؤمنوں کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور بیشک جو تم سے اللہ نے غلبے کا و عدہ کررکھا ہے وہ سچا ہے۔ اور بیشک جزائے اعمال کا بدلہ مل چکا ہے (فتح مکہ کے دن سے پہلے کی خوشخبری)۔ قسم ہے اس آسمان کی جو رنگ بدلتا رہتا ہے کہ تم لوگ حق کے قول میں مختلف ہو۔ وہی برگشتہ ہے جو پھرا ہواہے۔ مارے گئے قیاس وگمان سے حکم لگانے والے۔ جو جہالت وغفلت میں مدہوش ہیں۔ اس انقلابی دن کے وقت وہ آگ پرفتنے میں پڑیںگے۔پس چکھو اپنے فتنے کو۔ یہ وہی تو ہے جس کو جلد طلب کررہے تھے۔ بیشک پرہیزگار لوگ باغات اور چشموں میں ہونگے۔ وہ ان باغات اور چشموں کو خوشی سے لیںگے کہ ان کے رب کی دَین ہے۔بیشک اس سے پہلے یہ احسان کرنے والے تھے۔ وہ راتوں کو کم ہی سوتے تھے اور پچھلے پہر اللہ سے استفار کرتے تھے۔ ان کے مال میں مانگنے والوں اور محروم طبقے کا حصہ ہوتا تھا۔ اور زمین میں یقین کرنے والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیںاور تمہارے نفسوں میں بھی کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو؟”۔
یہ سورۂ ذاریات کی ابتدائی آیات ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم کا تذکرہ ہے کہ جب فرشتوں سے خوفزدہ ہوگئے اور جب فرشتوں نے بڑی عمر کے باوجود بیٹے کی خوشخبری سنائی تو آپ کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اپنے منہ پر ہاتھ مارا ۔ کہنے لگی کہ بوڑھی بانجھ۔
آگے اللہ نے فرمایا:” اور آسمان کو ہم نے ہاتھ سے بنایا اوربیشک ہم وسعت دے رہے ہیں۔اور ہم نے زمین کو فرش بنادیا اور ہم اچھا جھولا جھلا تے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کو پیدا کرکے جوڑے بنائے۔ ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرلو۔ پس گمراہی کے ماحول سے اللہ کی طرف فرار ہوجاؤ۔ بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لئے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اور اللہ کیساتھ کسی اور کو معبود مت بناؤ۔ میں ہی بیشک اس کی طرف کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اس طرح اس سے پہلے جن لوگوں کے پاس کوئی رسول آیا تو وہ لوگ کہتے تھے کہ جادوگر اور پاگل ہے۔ کیا انہوں نے یہ اس بات کی وصیت کررکھی ہے بلکہ وہ قوم ہیں سرکش۔پس (اے نبی!) ان سے رُخ پھیر دو۔آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور اپنی نصیحت جاری رکھیں کیونکہ واعظ سے مؤمنوں کو نفع پہنچتا ہے۔ اور ہم نے انسانوں اور جنات کو پیدا نہیں کیا مگر تاکہ عبادت کریں۔ مجھے ان سے روزی کی چاہت نہیں اور نہ کھلانے کی چاہت ہے ۔ بیشک اللہ بہت روزی دینے والامضبوط قوت والاہے پس ان لوگوں کیلئے جنہوں نے ظلم کرکے بوجھ اُٹھائے ہیںجس طرح ان کے پیشرو ساتھیوں نے بوجھ اُٹھائے تھے ، پس یہ جلدی نہ مچائیں۔ پس ہلاکت ہے جن لوگوں نے اپنے دن سے انکار کیا ،جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ (سورۂ ذاریات آخری رکوع)
پہلے انبیاء کی قوموں نے اپنے اپنے دور میں حساب اور جزا کا دن دنیا میں دیکھ لیا تھا اور جب مکہ فتح ہوا تو اہل مکہ نے بھی دیکھ لیا۔ ابوجہل، ابولہب اور بڑے بڑے سردار انجام کو پہنچ گئے تھے۔ ابوسفیان ، ہند اور عکرمہ بن ابوجہل وغیرہ نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر مسلمانوں نے ایک طویل عرصہ تک باغات کے مزے اُڑائے تھے۔
سورۂ ذاریات کے بعد قرآن میں سورۂ طور ہے۔ جس سے حقائق پیش کرنے تھے اور اس کیلئے سورۂ ذاریات سے کچھ معاملات مقدمہ کے طور پیش کئے ہیں۔ سورۂ ذاریات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کچھ تفصیل سے ہے جسکا مقصد مشرکینِ مکہ کو متوجہ کرنا ہوسکتا ہے کیونکہ اہل مکہ کے ہاں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے بعد کوئی نبی نہیں آئے۔ اجمالی ذکر حضرت نوح کا بھی ہے۔ ہندوستان کے ہندو سمجھتے ہیں کہ وہ نوح کی قوم ہیں۔اسلام کی نشاة اول میں حضرت ابراہیم کی قوم نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اسلام کی نشاة ثانیہ میں ہندوستان کے ہندو بہت اہم کردار ادا کریںگے ۔ جب مسلمان خود ہی دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ میں تقسیم ہیں تو پھر بھارت کے ہندوؤں کو اسلامی تعلیمات سے کیسے آگاہ کیا جاسکتا ہے؟۔
موسیٰ علیہ السلام کو یہود ونصاریٰ مانتے ہیں۔ ہزاروں انبیاء بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ مولوی اور دانشور طبقہ لڑرہا ہے کہ اللہ نے مسجد اقصیٰ کی زیارت میں جو مشاہدہ کرایا وہ خواب میں تھا یا بیداری میں؟۔ سیدابولاعلیٰ مودودی سے جاویداحمد غامدی کا اختلاف ہے۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ٹی وی کے چینلوں پر غامدی کو دیکھ رہاہے کہ کون کون سے الجھے ہوئے مسائل کا حل نکال رہاہے لیکن دنیا کو یہ نہیں بتایا جارہاہے کہ اللہ نے مسجد اقصیٰ میں کیا دکھایا تھا؟۔ حرم کعبہ میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے اور بیت المقدس میں پچاس (50) ہزار کے برابر ہے۔ تو مسجد اقصیٰ میں اللہ نے کیا دکھایا تھا؟۔ جاوید غامدی کا عجیب دماغ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی پہلی آیت کے بعد اس میں معاملے پر سکوت اختیار کرلیا۔ پھرساٹھ (60) ویں آیات میں بتایا کہ یہ خوا ب تھا جو ہم نے دکھایا جس کو لوگوں کیلئے آزمائش بنادیا۔ یہ کونسی آزمائش ہے کہ بیداری ہے یا خواب؟۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دومرتبہ بنی اسرائیل کے فساد اور بڑائی کے دعوؤں کو زمین بوس کرنے کی زبردست وضاحت فرمائی ہے اور نبیۖ کو یہی تو دکھایا تھا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ قیصر روم کی سپر طاقت کو بھی شکست دی تھی اور آج پھر بنی اسرائیل پر نعمتوں کی بارش ہے لیکن انہوں نے پھر انسانیت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور عنقریب اللہ نے ہی اپنی قدرت سے ان کے غرور کو خاک میں ملانا ہے۔ سورہ حدید میں بھی دوسری مرتبہ کا پھر سے ذکر ہے۔ اگر مسلمان اپنا ایجنڈہ دنیا کو دکھادیں کہ ہم نے لوہے کو اسٹیل مل کا کباڑ خانہ بھی نہیں بنانا ہے اور دنیا میں بھی تباہی نہیں مچانی ہے تو بات بن جائے۔
اللہ تعالیٰ نے مکہ ومدینہ کے کفار ومنافقین کو واصل جہنم کرنے کے بعد مسلمانوں پر فتوحات کے دروازے کھول دئیے تھے۔ سورۂ طور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ
ان المتقین فی جنّٰتٍ وعیونOفٰکھین بما اٰتٰھم ربھم ووقٰھم ربھم عذاب الجحیمٍOکلواواشربواھنیئًا بما کنتم تعملونOمتکین علی سررٍ مصفوفةٍ وزجنٰھم بحورعینٍOوالذین اٰمنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم و ماالتنٰھم من عملھم من شی ئٍ کل امریٍٔ بما کسبت رھینOوامددنھم بفاکھةٍ ولحمٍ ممایشھونOیتنازعون فیھا کأسًا لا لغو فیھا ولاتأثیمOو یطوف علیھم غلمان لھم کانھم لؤلؤ مکنونOواقبل بعضھم علی بعضٍ یتسآء لونOقالوا انا کنا قبل فی اہلنامشفقینOفمن اللہ علینا و وقٰنا عذاب السمومOانا کنا من قبل ندعوہ انہ ھو البرالرحیم
”بیشک پرہیزگارلوگ باغات اور چشموں میں ہونگے۔ پس وہ خوش ہونگے جو انکے رب نے ان کو عطاء کیا ہے۔ اور ان کے رب نے جحیم کے عذاب سے بچایا ہے۔ کھاؤ پیو مزے سے بسبب جو تم عمل کرتے تھے۔ بیٹھے ہوں گے صفوں میں چارپائیوں پر اور ہم نے ان کی موٹی آنکھوں والی شہری عورتوں سے شادی کرائی۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولادوں نے ان کی اتباع کی اپنے ایمان کیساتھ ان کے ساتھ ملادیا ان کی اولاد کو ۔ ہم انکے اعمال میں سے کوئی چیز کم نہ کرینگے۔ ہر شخص (انفرادی طور پر)اپنے عمل کا رہین ہے۔اور ہم نے (اجماعی حیثیت سے) ان کی مدد کی پھلوں سے اور گوشت سے جو وہ چاہتے تھے۔ وہ تنازع کریںگے پیالوں پر مگر یہ لغو اور گناہ نہیں ہوگا۔ ان کی خدمت پر لڑکے گھوم رہے ہونگے گویا وہ چھپے موتی تھے۔ وہ بعض ان میں سے بعض پر پیش کرینگے، ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے اپنوں میں بہت مشکلات میں تھے تو اللہ نے ہمارے اوپر احسان کیا۔ اور ہمیں گرم ہواؤں سے نجات دیدی۔ بیشک ہم پہلے بھی اس کو پکارتے تھے۔ بیشک وہ بڑا محسن رحیم ہے”۔ (آیات 17تا28سورۂ طور )
جو روانی کیساتھ عربی کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ قرآن کی تلاوت سے آخرت کے بجائے دنیا میں ہی قرونِ اولیٰ کے ادوار میں مسلمانوں کی اجتماعی خوشحالی کا معاملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگائے گا کیونکہ بعض چیزوں سے تو آخرت مراد لینا ممکن نہیں ہے۔ جب مدینہ میں مہاجرین کے دل فطری طور پر اپنے عزیز واقارب کی طرف مائل تھے ۔ ایک بدری صحابی نے اہل مکہ کو خط بھی لکھا تھا جو پکڑا گیا تھا۔ جس پر تنبیہ بھی آئی اور پھر آخر میں اللہ نے یہ مژدہ بھی سنادیا کہ عنقریب سب رشتہ دار مل جائیں گے۔ اور پھر ایسا ہی فتح مکہ کے بعد ہوا تھا لیکن اس دوران جو بڑے بڑے جاہل اور ہٹ دھرم تھے وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے اسلئے جس طرح قرآن نے پہلے سے خبر دے رکھی تھی اسی طرح سے ہوا اور پھر مسلمان نسل در نسل خوشحال رہے۔ البتہ انفرادی معاملات سب کے اپنے اپنے تھے انکے ایمان اور اعمال کے حساب سے۔ جب اللہ نے ہر چیز میں جوڑے بنارکھے ہیں تو پھر بھینس اور بیل کا جوڑا نہیں ہوسکتا۔ انسان کا جن و پری سے جوڑا نہیں بن سکتا ہے۔
ان آیات میں غلمان کا ذکر ہے جو چھپے ہوئے موتی کی طرح ہونگے۔ جب انسان میں اچھی صفات ہوتی ہیں اور ایسے ماحول سے نکلتا ہے جہاں اس کی صلاحیتیں مخفی ہوتی ہیں تو چھپا ہوا ہیرا کہلاتا ہے۔ مختلف قوموں سے سلمان فارسی، صہیبِ رومی ، بلال حبشی کی طرح محمود غزنوی کے غلام ایاز کی طرح مسلمانوں نے صدیوں چھپے ہوئے ہیرے ایک دوسرے کو تحفہ کے طور پر پیش کئے ہیں۔
قرآن کے ذریعے پہلے جو انقلاب برپا ہوا تھا ،اس سے زیادہ آج کے دور میںبھی انقلاب برپا ہوسکتا ہے اسلئے کہ آج دنیا میں اعلیٰ اقدار کو خوشی کیساتھ قبول کیا جاتا ہے۔ہم نے عوام کو قرآن کی طرف متوجہ کیا تو قوم زوال سے بہت جلد عروج پالے گی ۔انشاء اللہ

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اگر مولانافضل الرحمن مریم نواز کا دوپٹہ اور مریم نواز مولانا کا رومال سرپر باندھ دے تب بھی قوم زندہ باد کے نعرے لگائے گی!

مسلمان ماضی پرنہ لڑیں اپنے حال کو سدھاریں، اگر بروقت قرآن سے رہنمائی لینے کی کوشش نہ کی تو دیر ہوجائے گی! پھرکہنامت ،موقع نہیں ملے گا ۔جتنا بھی تم سے ہوسکے اپنے ارمان نکال لو، یہ دریائے کافری کے اُترنے کا وقت ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولوی کے درسِ نظامی سے لیکر نظام مملکت تک، فک النظام”نظام تہس نہس کرکے رکھ دو” شاہ ولی اللہ، کبھی ہندو پنڈت بھی ہندوستان کو کلمہ پڑھانے کا کہتاہے اور توکبھی علامہ اقبال

سورۂ نور سے مشرق اور مغرب کی ظلمت ختم ہوسکتی ہے ،اگر مولانافضل الرحمن مریم نواز کا دوپٹہ اور مریم نواز مولانا کا رومال سرپر باندھ دے تب بھی قوم زندہ باد کے نعرے لگائے گی!

اسلام اس بات کا نام ہے کہ جو کچھ قرآن میں ہے اس کو من وعن تسلیم کیاجائے اور مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے فرقے اورمسالک پکڑ کر رکھے ہیں لیکن قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ قرآن میںہی ان کی اس خامی کا ذکر ہے۔
وقال الرسول یارب ان قومی اتخذا ھٰذالقرآن مھجورًا
”اور(قیامت کے دن اللہ کے نبیۖ) رسول کہیںگے کہ اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔
المOذٰلک الکتٰب لاریب فیہ ھدیً للمتقینOالذین یؤمنون بالغیب ویقیمون الصلوٰة ومما رزقنٰھم ینفقونOوالذین یؤمنون بما انزل الیک وماانزل من قبلک وبالاٰخرة ھم یؤقنونOاولٰئک علی ھدیً من ربھم واولٰئک ھم المفلحونO
” الم، یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ھدایت ہے اس میں پرہیزگاروں کیلئے۔جو لوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے رزق دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور اس پر جو آپ سے پہلے نازل کیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں”۔ البقرہ
ایک شیعہ علامہ حضرت صاحب ہیں جو آئے روز اپنے سامعین کے سامنے کوئی نہ کوئی نیا انکشاف کرتے ہیں کہ قرآن میں چار مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب کا نام اور پھر اپنی منطق بیان کرتے ہیں کہ جہاں محمد کا ذکر ہے وہاں علی کا ذکر ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ زندگی میں پہلا انکشاف ، قرآن میں حضرت حسین بن علی کا ذکر ہے۔ سامعین پھر اس کے نئے انکشاف پر سر دھنتے رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ شاید جاری رہے گا۔
ایک اور علامہ ہیں جو والفجر ولیال عشر سے مختلف اقوال کا ذکر کرتے ہیں کہ دس راتوں سے محرم کا پہلا عشرہ یارمضان کا آخری عشرہ یا پھر فجر سے مراد امام زمانہ ہیں یا پھر بارہ امام اور حضرت فاطمہ ورسول ۖ کیساتھ چودہ افراد کیلئے چودہ قسم ہیں۔
بعید نہیں کہ کوئی شیعہ الم سے مراد آل محمد بھی لے۔ال سے آل اور م سے محمد مراد ہیں۔ درسِ نظامی میں تفسیر کی آخری کتاب بیضاوی میں ہے ” الم” سے کیا مراد ہے؟یہ اللہ کے سواء کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الف سے اللہ، لام سے جبرئیل اور میم سے محمدۖ مراد ہیں ۔ یعنی اللہ نے جبریل کے ذریعہ محمدۖ پر کتاب نازل کی۔ میں درسِ نظامی کا طالب علم تھا۔ مولانا فداء لرحمن درخواستی کے مدرسہ انوارالقرآن میں ہمارے استاذ مولانا شبیراحمد رحیم یار خان والے تھے۔ بیضاوی کا یہ سبق تھا تو میں نے عرض کیا کہ پہلا تضاد یہ ہے کہ اگر صرف اللہ کو معلوم ہے تو پھر یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اللہ نے جبریل کے ذریعے حضرت محمدۖ پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ دونوں قول میں تضاد ہے۔ دوسرا تضاد یہ ہے کہ اللہ کا پہلا حرف، محمدۖ کا پہلا حرف تو جبریل سے بھی پہلا حرف ہونا چاہیے۔ الف جیم میم ہونا چاہیے تھا۔ استاذ نے برملا درس کے دوران کہہ دیا کہ ”عتیق کی بات درست ہے ، بیضاوی کی تفسیر غلط ہے”۔
حضرت ابوبکر نے زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال کیا تو حضرت عمر نے آخر میں کہہ دیا تھا کہ کاش ہم نبیۖ سے زکوٰة نہ دینے پر قتال کا حکم پوچھ لیتے۔ حضرت خالد بن ولید کی سربراہی میں مانعین زکوٰة کیخلاف قتال ہوا تھا، حضرت عمر نے اقتدار میں آتے ہی حضرت خالد بن ولید کوہی منصب سے معزول کردیا تھا۔ اہل سنت کے چار فقہی امام حضرت امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل بالکل متفق تھے کہ مانعین زکوٰة کے خلاف قتال کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ انکی طرف منسوب ایک اور گمراہی ہے کہ نماز پر سزاؤں اور اس سزا پر اختلافات کے مسائل ہیں۔ اہل سنت و اہل تشیع اس پر متفق ہیں کہ قرآن کیخلاف کوئی حدیث اور قول قبول نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں ہے” لیکن سنی و شیعہ دونوں ایک دوسرے پر شکوک اور تحریف کا الزام لگاتے ہیں اور اس مسئلے کا سنجیدہ حل نکالنا ہے۔ سینٹ الیکشن سے پہلے قومی اسمبلی میں اس پر بحث کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” یہ کتاب پرہیزگاروں کیلئے ہدایت ہے” جبکہ شیعہ سنی اپنے فاسق طبقہ کو بھی ہدایت یافتہ اور دوسروں کے پرہیزگار طبقہ کوبھی گمراہ سمجھتا ہے۔
اللہ نے ہدایت یافتہ لوگوں کی پہلی صفت یہ بیان کی کہ ” وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ”۔ لیکن دیکھا جائے تو مسلمانوں کا حاضروموجود پر ایمان لگتا ہے کہ جو مولوی نے بتادیا اور جس سے دنیا میں اچھی گزر بسر ہو۔ امریکہ اور دنیا کا نظام پہلے نمبر پر ہے۔
اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ” جو نماز قائم کرتے ہیں”۔ مسلمانوں کا پچانوے (95)فیصد طبقہ نماز پڑھتا نہیں ہے لیکن پھر بھی اپنے اپنے فرقوں کو گمراہ نہیں ہدایت یافتہ قرار دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں”۔ ہم نے طبقات بانٹ دئیے ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں وہ مرکر بھی خرچ کا کوئی اہتمام نہیں کرتے اور جو نماز نہیں پڑھتے ان کیلئے مولوی پر خرچہ ہدایت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جو ایمان لاتے ہیں جو احکام آپ کی طرف نازل کئے اور جو آپ سے پہلے نازل کئے ہیں”۔ ہم کہتے ہیں کہ ہماری عبادت ، معاشرت ، معیشت اور حکومت بھلے اپنے نبیۖ کی طرف نازل کردہ کتاب کے مطابق نہ ہو تب بھی ہم ہدایت پر ہیں اور وہ اپنی طرف نازل ہونے والے احکام پر ٹھیک عمل بھی کرتے ہیں تو بھی وہ گمراہ ہیں اور فلاح نہیں پائیںگے۔ کیا ہم اپنے نبی ۖ پر نازل کردہ کتاب کے احکام کو قبول کرنے کیلئے آمادہ ہیں؟۔ یقین جانئے کہ نہیں اور بالکل نہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ ” طلاق کے بعد عدت میں باہمی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے”۔ جس میں حلالہ کی لعنت غیرفطری ہے۔ دنیا کے کسی مذہب ، ملک اور قوم کے پاس اللہ کے اس حکم کو لے جاؤ، وہ اس حکم پر سر تسلیم خم کردے گا اور یہ ثابت کرے گا کہ اسلم تسلم اس نے اسلام کا یہ حکم قبول کیا لیکن مسلمان انکار کرکے کفر کریگا۔ پھر بھی ہم مسلمان اور وہ کافر؟۔ ہمیں صرف اپنے روئیے پر غور کرناچاہیے۔
اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر فرقے کی اکثریت نماز قائم نہ کرنے کے باوجود ہدایت پر ہے تو حضرت ابوطالب بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ہمیں ابوطالب کی گود میں پناہ ملے گی اور اگر ہم اللہ کے دئیے ہوئے میں سے خرچ نہیں کرتے تو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔
صحیح بخاری میں اہل بیت کے افراد کیساتھ علیہ السلام لکھا ہے۔ ہمارے اکابر نے بھی علیہ السلام لکھا ہے۔ ہم تو اہل قبور کو بھی سلام کرتے ہیں اور جاہلوں کو بھی سلام کہتے ہیں اور قرآن میں مخاطب کے صیغے سے بھی حق کا انکار کرنے والوں کوسلام کہا گیا ہے کہ سلام علیکم لا نبغی الجاہلین ”تم پر سلام ہو ، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے ہیں”۔ علماء دیوبند اور بریلوی نے اپنے اپنے اکابر کیساتھ رضی اللہ عنہ بھی لکھ دیا ہے اور کوئی جل جلالہ بھی لکھ دے تو مناسب اسلئے ہے کہ اللہ سے اپنے اکابرہی کو ترجیح دیتے ہیں اور یہودونصاریٰ کی طرح اپنے علماء ومشائخ کو اپنے رب کا درجہ دیا ہے۔ عام مسلمانوں کو چاہیے کہ اُٹھ کر جاہلوں کا راستہ روکیں۔ ورنہ جس طرح پختون قوم طالبان کے ہاتھوں تباہ ہوگئی تھی ،اب دوسرے اپنے مولوی کے ہاتھوں تباہ ہونگے اور ہماری حکومت و ریاست جب قادیانیوں سے بھی بے بس ہو اور قادیانیوں کیلئے بھی بے بس ہو۔ جو نہ قادیانیوں کے خلاف کچھ کرسکے اور نہ قادیانیوں کے حق میں چاہنے کے باوجود کچھ کرسکے تو ایسی بے بس حکومت وریاست نے بلیک میل ہی ہونا ہے۔
شیعہ سنی دونوں مکتبہ فکر کے شدت پسندوں نے صحابہ واہل بیت سے زیادہ اپنے پیٹ کا مسئلہ سمجھ رکھا ہے۔ جس طرح یہود ونصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت سوزی اور شخصیت سازی پر ہلاک ہوئے تھے اور جب سے انہوں نے فرقہ واریت کو چھٹی دیدی ہے تو عروج وترقی کی راہ پر گامزن ہوگئے ،اسی طرح شیعہ سنی بھی کچھ دیر کیلئے اپنی سابقہ شخصیات کو جنتی یا دوزخی بنانے کی رٹ چھوڑ دیں۔ کسی کے کہنے سے کوئی جنت میں جاسکتا ہے اور نہ جہنم میں جاسکتا ہے لیکن ان لوگوں کو سابقہ لوگوں کے جنت اور جہنم سے زیادہ اپنے پیٹ کیلئے دنیا کو جنت یا جہنم بنانے کی لگی ہے۔
اہل سنت سے عملی طور پر اہل تشیع زیادہ لچکدار بن سکتے ہیں اسلئے کہ اگرحضرت عثمان چالیس (40) یاستر (70)دن محاصرے کے دوران خلافت سے دستبردار ہوجاتے تو شہادت کی منزل پر نہیں پہنچتے۔ جبکہ حضرت حسن نے خلافت سے دستبردار ہوکر حضرت معاویہ کے سپرد کردی تھی۔ اہل سنت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ امام مہدی امام حسن کی اولاد سے اسلئے آئیںگے کہ حضرت حسن نے خلافت کی قربانی دی تھی اور حضرت حسین نے حرص کیا تھا اسلئے حضرت حسین کی اولاد کو آئندہ بھی خلافت کایہ انعام نہیں ملے گا۔ اہل تشیع بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی اولاد کو کیا اسلئے خلافت نہیں ملے گی کہ انصار سے خلافت کے مسئلے پر نامناسب وقت پر الجھے تھے؟۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت حسن نے کسی مجبوری کے بغیر ہی خلافت چھوڑ دی تھی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمانوں کا آپس میں لڑنے سے زیادہ خلافت سے دستبردار ہونا ہی بہتر ہے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دور میں بھی انصار و مہاجرین ، اہل بیت کے اسی روئیے نے امت مسلمہ کی قوت کو پوری دنیا میں سپر طاقت بنادیا تھا۔ حضرت حسین نے شہادت کیلئے خود فیصلہ نہیں کیا تھا اگر یزیدی لشکر ان کو چھوڑ دیتا تھا تو پھر وہ مدینہ واپس چلے جاتے۔ اگر یزید کے پاس بھی جانے دیتے تو حضرت ہند اپنے پوتے یزید کو ایسا نہ کرنے دیتی ،کیونکہ ایک مرتبہ رسول اللہۖ نے فتح مکہ کے بعد معاف کیا اور پھر امام حسن نے تمام تلخیوں کے باوجود حضرت معاویہ کے حق میں دستبرداری اختیار کی تھی اور اگر حضرت حسین نے اپنا مقصد شہید ہونا ہی مقرر کیا تھا تو آپ کی اولاد میں پھر کوئی بھی اس طرح آرام سے بیٹھنے کے بجائے باری باری قیام ہی کرتے۔
البتہ حضرت حسین نے سمجھوتہ نہیں کرنا تھا اور سمجھوتے کیلئے تیار ہوجاتے تو پھر یہ ممکن نہ ہوتا کہ امت کبھی بھی ظالم کے سامنے مزاحمت کی سیاست کرتی۔ امام حسین ہی ظالموں کے خلاف مزاحمت کا استعارہ اور یزید ظلم کا استعارہ اس قربانی کے سبب بن گئے ہیں۔ آج ہم نے پھر پوری دنیا میں حسین کے کردار سے یزیدیت کا بستر گول کرنا ہے اور یزیدیت کی صرف ایک شکل خاندانی طور پر حکومتوں اور پارٹیوں پر قبضہ کرنا ہی نہیں ہے بلکہ سول وملٹری بیوروکریسی اور اس کے آلہ ٔکار حکمران ، میڈیا اور مذہبی طبقہ سب یزید کے لشکر سے زیادہ بڑے یزیدی ہیں۔
حضرت حسین یزید کے ہاتھ پر بیعت ہوجاتے تو کربلا کے میدان میں شہادت کی موت نصیب نہ ہوتی۔ باقی ائمہ اہل بیت اور علماء حق نے بھی ظالموں کی چوکھٹ پر اپنا سر نہیں جھکایا تھا۔ البتہ دین خیرخواہی کا نام ہے اور موسیٰ کی فرعون سے خیرخواہی تھی اور ہردور میں فرعون ایک نئی روح کیساتھ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو تو مزاحمت کرنا ہی انبیاء کرام اور ان کے وارثوں کا وطیرہ رہاہے۔ اگر اکبر بادشاہ کے دربار میں حسین کو ماننے والے ابولفضل فیضی شیعہ اور شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی سنی ہو توپھر یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس کا عقیدہ کیا ہے ؟۔ بلکہ حسینی کردار والا ہی اہل حق ہے۔
اب تو مسئلہ یہ ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہواہے اور اگر مولوی اور اہل اقتدار سب کو اپنے حال پر بھی چھوڑ دیا جائے تو سب کا یونہی تیا پانچہ ہونے والا ہے۔ اب ہم نے ان کو گرانا نہیں سدھارنا اور بچانا ہے اسلئے کہ مشرکین مکہ نبیۖ کو مجبور نہ کرتے توپھر ہجرت بھی نہ ہوتی اور صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی نہ ہوتی تو مکہ اس طرح فتح نہ ہوتا۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن میں مختلف مذاہب کیلئے گنجائش ہے تو کیا مسلمان فرقے ایک دوسرے کیلئے اسکا مظاہرہ کریں گے؟

ان الدین عنداللّٰہ الاسلام : بیشک اللہ کے ہاں فقط اسلام دین ہے۔اسلام کا معنی تسلیم یعنی اللہ کو ماننا اللہ کی ماننا!
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصٰرٰی والصٰبئین من اٰمن باللہ والیوم اٰخر وعمل صالحًا..

بیشک جو لوگ مسلمان ہیںاور یہودی اور عیسائی اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر خوف نہ ہوگا اورنہ وہ غمگین ہوں گے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن نے جس فراخ دلی سے مختلف مذاہب کیلئے گنجائش نکالی ہے تو کیا مسلمان بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ کیلئے پاک وہند میں اس فراخ دلی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں؟۔

اہل تشیع اسلام کی ایک ایسی مسخ شدہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ اسلام میں بارہ امام تھے اور پہلے امام سے آخری امام تک سب کا ایسے حالات سے سامنا پڑا تھا کہ آخر کار آخری امام حضرت خضر کی طرح ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا کہ غائب ہوگئے ہیں۔ حالانکہ امام کا کام منصب اقتدار سنبھالنا ہے ،اگر اقتدار سنبھالنا نہیں ہے تو پھر اہل اقتدار سے زیادہ الجھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اُمت مسلمہ کے بارہ امام کا سلسلہ آئندہ آنا باقی ہے۔ جس طرح نبوت و خلافت کا سلسلہ پہلے بنی اسرائیل میں تھا، پھر قریش میں منتقل ہوا۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی ، حضرت حسن کے بعد بنوامیہ اور بنوعباس تک جاپہنچا اور پھر سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی۔ محمود غزنوی کی حکومت کا دور ختم ہوا تو مغل سمیت مختلف خاندانوں نے ہندوستان پر حکومت کی ہے۔
ہندوستان کی آزادی کا پروانہ جاری ہوا تو علماء دیوبند کی اکثریت نے تو متحدہ ہندوستان کے حق میں تحریک چلائی ۔ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے مسلمان ایک ہوتے تو کشمیریوں پر مظالم نہ ہوتے۔ لیکن متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت کی وجہ سے ہمیشہ ہندوؤں کی حکومت رہتی۔ اہل تشیع کی سمجھ بوجھ کے مطابق کافر ومرتد نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے زیر دست انکے ائمہ اہلبیت نے مجبوری کی زندگی گزاری ہے لیکن مذہب کی قیادت وسیادت کا تمغہ حکمرانوں اور اہل اقتدار کے ہاتھوں میں نہیں تھا۔ اہل تشیع کے مراجع ائمہ اہل بیت ہی رہے ہیں۔ امام کی غیبت کبریٰ کے بعد مسلک اہل بیت کی آبیاری اہل تشیع کے فقہاء ومجتہدین نے آیت اللہ کی طرح جاری رکھی ہے۔
جس طرح ہندوستان کی آزادی کے بعد اقتدار کی باگ ڈور سیکولر ہندو کے ہاتھ میں تھی اور دیوبند، بریلوی اور اہلحدیث کے شیخ الاسلام اپنے اپنے تھے لیکن یہاں ووٹ کے ذریعے جمہوریت کا نقشہ تھا اور وہاں خاندانی تسلط کا راج قائم ہوتا تھا۔ اہل اسلام کیلئے بظاہر یہ جبری بادشاہت سے چھٹکارا تھا لیکن انگریزی نظام کی گرفت نے مضبوط جبری نظام کی آخری حدپار کردی۔
پہلے تو جائز وناجائز ، حلال وحرام اور قانونی وغیرقانونی معاملات کا بہت معروف تصور تھا۔ اس کے علاوہ اخلاقیات کی زینت سے معاشرہ مزین ہوتا تھا۔ مثلاً ایک آدمی کاگھر، اس کی زمین اور دکان کی قانونی حیثیت معروف تھی اور اس پر ناجائز قبضوں کا تصور پہلے تو تھا نہیں لیکن اگر کوئی ظالم حق تلفی کی کوئی کوشش کرتا تھا تو مظلوم کو قانون سے تحفظ مل جاتا تھا۔ قانون کے علاوہ بہت بڑا تصور معاشرتی اخلاقیات کا بھی ہوتا تھا کہ کوئی گھر ، دکان، زمین کسی ایک کی ملکیت ہوتی تھی ،دوسرے افراد کرایہ کے بغیر فائدہ اٹھاتے تھے۔
انگریز نے جس نظام کو ہماری قوم کو غلام بنانے کیلئے تشکیل دیا تھا ہم نے اس کو جب سے اپنا قانون بنالیا ہے تو اخلاقیات کا جنازہ نکلنے میں کیسے دیر لگ سکتی تھی کہ جب قانون طاقت اور سرمائے کا غلام بن گیا ہے؟۔ پاکستان میں جس ڈھٹائی سے طاقتور لوگوں کو غلط قانون نے معاشرے میںننگا کرکے رکھ دیا، اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ملتی ہوگی لیکن ہمارے لئے یہ شعور ایک بہت بڑا سرمایہ ہے اور یہ بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔
معروف اینکر پرسن سید محمد بلال قطب نے دینی مدارس میں بھی 7سال کا کورس کیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کیساتھ بھی رہے ہیںاور اسلامی اسکالر بھی ہیں لیکن اسکے باوجود مولانا طارق جمیل کے ناقل مولانا آزاد جمیل سے سوال پوچھا کہ سسرالی رشتہ داروں کوحدیث میں آگ اور موت قرار دیا گیا ہے تو کیا جب عورت کا شوہر مرجائے تو اس کا نکاح اپنے سسر سے ہوسکتا ہے؟۔
مولانا آزاد جمیل نے جواب دیا کہ اگر مجبوری ہو تو ہوسکتا ہے۔ سیدبلال قطب نے کہا کہ یہ کیسا مسئلہ ہے کہ جس کو آگ قرار دیا گیا ہے، اس عورت کی اس سسر سے شادی ہو جس کو آگ قرار دیا گیا ہے، اس کیلئے زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوگا؟۔ اس پروگرام میں دوسرے مکتبۂ فکر کے علامہ صاحبان بھی بیٹھ کر یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور یہ پروگرام رمضان میں افطاری سے پہلے نشر ہوا ۔ پھر سحری کے وقت نشر مکرر میں بھی چلا،دیکھا تو یقین نہیں آتا تھا کہ اتنی بڑی جہالت کا مظاہرہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ حالانکہ قرآن میں واضح الفاظ کے اندر جہاں محرمات کا ذکر ہے وہاں وحلائل ابناء کم ”جو تمہارے بیٹوں کیلئے حلال ہوں”۔ جس میں بہو کے علاوہ بیٹے کی لونڈی وغیرہ شامل ہیں۔
اگر فقہ واصولِ فقہ کی کتابوں کے علاوہ احادیث کی شروحات کے تناظر میں حرمت مصاہرت اور دوسرے مسائل دیکھ لئے جائیں اور ان کو پارلیمنٹ میں میڈیا کے سامنے لایا جائے تو مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر علماء کی شلواریں واقعی گیلی ہوجائیں گی۔ کہیں لکھا ہے کہ غلطی سے بھی سوتیلے بچے کو شہوت کا ہاتھ لگ گیا تو بیوی حرام ہوجائے گی اور کہیں لکھ دیا ہے کہ بیوی کے سوتیلے سے لواطت کا فعل کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں بھی بہت شرمناک قسم کے مسائل لکھے ہیں۔
پارسی مذہب میں بہن بھائی کی شادی ہوسکتی ہے۔ قبل از اسلام جاہلیت کے دور میں سوتیلی ماؤں سے نکاح کیا جاتا تھا۔پھر اسلام نے روک دیا اور یہ واضح کیا کہ الا ماقدسلف ‘مگر جو پہلے ہوچکا ہے’۔ علماء وفقہاء نے بعد میں اسلام کے نام پر جو مسائل گھڑے ہیں وہ تو جہالت کو بھی مات دے گئے ہیں۔ گدھوں کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ اس سے پہلے پہلے کہ غیر مسلم ہم پر مکمل قابو پالیں اور پھر علماء مشائخ سے آپریشن کا اہتمام کروائیںاور مسلمانوں کو اسلام سے بدظن کریں،ہم نے بروقت اپنے دین کا دفاع کرنا ہوگا۔ قرآن اور اسلام کا محافظ مولوی نہیں اللہ ہے۔
قائداعظم کے دادا نے اسکے باپ کا نام پونجا جناح رکھا تھا۔ ہندوستانی اپنی اردو میں پوجا کو پونجا بھی کہتے ہیں۔ یہ اہل تشیع کے گھوڑے ذوالجناح کی طرف منسوب ہے وہ جو امام حسین کے نام پر محرم میں نکالتے ہیں۔ قائداعظم آغا خانی شیعہ تھے ۔ پارسی مذہب سے آغا خانی بن گئے تو شکر ہے کہ رتن بائی پارسی خاتون سے شادی کرلی۔ آغا خانی سیکولر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان کا مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا ہے۔ سید بلال قطب کا یہ حال ہے تو پھر ان کا کیا حال ہوگا؟۔ ہمارے کانیگرم میں ہمارے خاندان کے بڑوں کا ایک دوست تھا۔ جو بہت پکا قسم کا کانگریسی تھا۔ قائداعظم کا بہت سخت مخالف تھا جو گالی گلوچ کی حد تک بھی آجاتا تھا۔ جب اس کو چھیڑا جاتا تھا تو کہتا تھا کہ میں اس کی اس بیوی کی ایسی کی تیسی کردوں جس کو وہ اپنی بہن کی جگہ پراپنے ساتھ گھماتا ہے۔ یہ ایک طرح سے بڑوں کا آپس میں مذاق ہوتا تھا۔
آج قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان، مادرملت فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور سول وملٹری بیوروکریسی اور سیاستدانوں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو ملٹری ڈکٹیٹرشپ نے نقصان پہنچایا یا سیاسی طبقات نے؟۔ اس بحث میں ہماری قوم الجھی رہے گی اور آخر کار سقوط بغداد میں جس طرح چنگیز خان اور ہلاکو خان کی قوم نے مسلمانوں کا حشر نشر کردیا جو لایعنی فقہی مسائل، فرقہ وارانہ تعصبات اور ماضی کی یادوں میں گم تھے اور حال کی خبر لینے کی صلاحیت سے قاصر تھے۔ ارتغرل غازی کے ڈرامے سے قوم کی نشاة ثانیہ کیلئے کوئی کردار ادا نہیں ہوسکتا ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا نے انکشاف کیا کہ مولانا احمدرضاخان بریلوی کا فتویٰ ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے اور دیوبندی ، اہلحدیث، شیعہ اور قادیانی ہزار بار بھی اللہ کانام لیکر کسی جانور یا پرندے کو ذبح کریں تو وہ حلال نہیں۔ مولانا احمد رضاخان کے پیروکاروں کی پنجاب میں اکثریت ہے علامہ آصف جلالی کو اہل تشیع نے تائب کردیا تو اس کا سارا غبار دیوبند کیخلاف نکل رہاہے دوسری طرف علامہ سعدرضوی کے قافلے میں اوریا مقبول جان جیسے دیوبندی بھی شامل ہورہے ہیں جس کا منطقی نتیجہ پنجاب میں دیوبندی واہلحدیث اور بریلوی تصادم کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ ہماری ریاست نے مجاہد تنظیموں اور سپاہ صحابہ سے سبق سیکھ لیا کہ نقص امن کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو پاکستان میں اسلام کی روح زندہ رکھنا بھی ضروری ہے۔علامہ اقبال نے دعا دی تھی کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے کہ تیرے بحرکی موجوں میں انقلاب نہیں
جب شیخ مجیب الرحمن نے الیکشن جیت لیا تو ذوالفقار علی بھٹو اقتدار منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ”ادھر تم اور ادھر ہم ” کا غم کھارہاتھا جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان میں انتہائی کربناک شکست کا سامنا کرکے ایک طوفان سے پاکستانی قوم آشنا ہوگئی ۔ پھر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی حکومت بن رہی تھی اور خیبرپختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی بلوچ وپشتون قوم پرستوں کی۔ لیکن مفتی محمود اور نیشنلسٹ مافیا نے ساز باز کرکے اپنی جمہوریت اور طاقت کیساتھ منافقانہ کھیل سے بلوچستان میں بلوچ نیشنلسٹ اور سرحد میں مفتی محمود کی حکومت قائم کردی۔ بلوچستان کی حکومت نے نوابی اور سرداری نظام ختم کرنے کا ایجنڈہ پیش کیا تو اس وقت کی اسٹبیلشمنٹ اور ذوالفقار علی بھٹو نے مل کر بلوچستان حکومت ختم کرکے سردار اکبر بگٹی کے ذریعے گورنر راج قائم کیا۔ جس کے نتائج بلوچستان میں طوفان کی شکل میں آسمان والوں نے دیکھ لئے ہیں۔ پھر بھٹو کی طاقت کو ختم کرنے کیلئے اپوزیشن کو مضبوط کیا گیا اور بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے کے بعد جماعت اسلامی کے کارکنوں کو روس کیخلاف جہاد کے مشن پر لگایا گیا اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم سے طوفان اٹھانے کی خدمات لی گئیں کراچی میں کشت وخون کے بعد ابھی معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ طالبان کی مخالفت اور حمایت کرکے پختون قوم کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔
اگر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اور پختونخواہ میں نیشنلسٹ حکومت ہوتی تو پھر یہ پاکستان مخالف عناصر تھے۔ جس طرح فتح مکہ تک بنوامیہ نے ابوسفیان کی قیادت میں ڈٹ کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا اسی طرح یہ مذہبی اور قوم پرست طبقہ کہتا تھا کہ ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ جس طرح بنی امیہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے کے بعد خلافت پر قبضہ کرلیا تھا ،اسی طرح نیشنلسٹ اور جمعیت علما ء ہند کے پیروکار وں کی طرف سے بھی پاکستان پر قبضہ ہوجاتا تو پھر پاکستان کو ہندوستان سے الگ کرنے کا تک بھی باقی نہیں رہتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو تو پہلے نیشنل عوامی پارٹی میں بھی شامل ہونے کیلئے تیار تھے لیکن اس نے جنرل سیکرٹری کا عہدہ مانگ لیا تھا۔
بریلوی خود کو مؤمن ، دیوبندیوں کو یہودی، اہلحدیث کو نصاریٰ اور شیعہ کو صابئین کا درجہ دینے کیلئے تیار ہوجائیں تو بھی غنیمت ہوگی۔ اسی طرح دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ بھی خود کو مؤمن اور دوسروں کو دیگر مذاہب کی طرح مان لیں تو اچھے نتائج برآمد ہونگے اور لوگوں کو الجھاؤ سے نکالنے کیلئے ہمیں قرآن وسنت کی طرف جلدسے جلد رجوع کرنا ہوگا۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat