پوسٹ تلاش کریں

نور اللہ ترین جیسے جوان ہی پی ٹی ایم (PTM)کے روحِ رواں ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
خصوصی آرٹیکل

مولانا اجمل خان موسیٰ خیل امیرجے یوآئی شرقی ملتان اور مولانا طیب بلوچ ایرانی خیرالمدارس ملتان کے طالب علم بعد میں دارالعلوم کراچی سے فارغ ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن اور قاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ کا ہمارے ہاں جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی تاریخ میں پہلا سیاسی جلسہ تھا۔ مولانا اجمل اور مولاناطیب بلوچ کو میں مولانا نور محمد وانا جنوبی وزیرستان کے ہاں لے گیا۔ مولانا نور محمد صاحب نے کہا تھا کہ ”آزاد قبائل برائے نام آزاد کہلاتے ہیں ۔ چالیس ایف سی آر (40FCR)جیسے غلامانہ قوانین پورے پاکستان میں موجود نہیں۔ مجھے ذوالفقار علی بھٹو نے قید کیا تھا ، وانا کے شہر کو مسمار کردیا تھا، اگر مفتی محمود نہ ہوتے تو مجھے کسی عدالت سے رہائی نہیں مل سکتی تھی۔ جاہل قبائلی ملکان سے انگوٹھے لگواکر مجھے مجرم بنایا گیا تھا۔ قرآن پاک بھی میں نے جیل میں حفظ کرلیا تھا۔ آپ کی تحریک کیلئے سب سے موضوع علاقہ بلوچستان ہے۔ وہ انقلابی لوگ ہیں”۔
مولانا فضل الرحمن نے جلسہ میں کہا تھاکہ ” ہم آپ کے بھروسہ پرریاست کو بندوق اُٹھانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اگر وقت آئیگا تو بندوق اُٹھالو گے؟”۔ لیکن مولانا فضل الرحمن نے اندورن خانہ کہا تھا کہ” لوگ ووٹ نہیں دیتے تو بندوق کہا ں سے اٹھائیںگے”۔ جس کو خیر خواہ حکمت اور بدخواہ منافقت سے تعبیر کریںگے ۔ بلاشبہ وزیرستان کے لوگ آزاد منش اور سرکاری ملک نااہل اور بے کارہیں۔ انگریز کے دور میں ان کو جاسوس کہا جاتا تھا۔ مراعات کے بدلے یہ بکے ہوئے تھے۔ پھر موروثی نظام نے زیادہ بیڑہ اسلئے غرق کیا کہ جرگوں میں بھی منافقت ہوتی تھی۔ سرکاری حکم ان کیلئے آسمانی صحیفہ ہوتا تھا۔ جب طالبان کیساتھ جذباتی طبقہ اسلئے کھڑا ہوگیا کہ امریکہ ظالم کے مقابلے میں بھاگے ہوئے مظلوموں کا ساتھ دینا فطرت کا تقاضہ تھا۔ لوگوں کو پرویزمشرف اور پاک فوج سے نفرت اسلئے ہوگئی کہ افغانستان کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے تو امریکہ کیساتھ کھڑے ہونا بھی تو غیرت سے عاری پاک فوج کا کام نہ تھا۔ عوام کی طرح فوج کے جذبات بھی طالبان کیساتھ تھے لیکن عمل اس کا بالکل برعکس تھا۔ سفیر ملا ضعیف سے لیکرسائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حوالے کرنا پاک کو ناپاک کرنے کے مترادف تھا۔ اس دوغلی پالیسی میں پشتون قوم کا بیڑہ غرق ہوگیا اور امریکی ڈالروں سے پاک فوج نے اپنی پاکدامنی کو بدترین دھبہ لگادیا۔
اب پی ٹی ایم (PTM)کی نوجوان قیادت سے گزارش ہے کہ ایم کیو ایم (MQM) نے آپریشن کے بعد پولیس اہلکاروں اور افسروں کو سینکڑوں کی تعداد میں مار دیا تو کراچی رینجرز کے حوالے ہوگیا۔ رینجرز نے ایم کیو ایم (MQM)کی بدمعاشی سے کراچی کی فضاء کو پاک کردیا جو روزانہ کی بنیاد پر اچانک پہیہ جام ہڑتال کرکے عوام کے ناک میں دَم کرکے رکھتے تھے۔ بدمعاشوں سے عوام کو چھٹکارا مل گیا لیکن الطاف حسین کی قیادت سے مہاجر عوام کا اعتماد اسلئے نہیں اٹھا سکے کہ مصطفی کمال نے اپنی زندگی کے نشیب وفراز الطاف حسین کی گود میں پل کر گزارے تھے، عوام کیسے اعتماد کرسکتی تھی کہ الطاف حسین مجرم اور بیرونی ایجنٹ ہے اور ایم کیو ایم (MQM)کی قیادت پاک سرزمین پارٹی کی پراپرٹی ہے؟۔ دباؤ ڈالنے سے کبھی لوگوں کے دل ودماغ نہیں بدلتے۔
جب پاک فوج نے دیکھ لیا کہ تمام پابندی اور ٹرکس استعمال کرنے کے بعد بھی ایم کیو ایم (MQM) نے نائن زیرو (90)کے حلقے سے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو بدترین شکست سے دوچار کردیا تو جبر کا استعمال شروع کردیا۔ جب ڈاکٹر فاروق ستار نے دھرنا دے رکھا تھا اور ن لیگ و غیرہ والے ہمدردی کا اظہار کررہے تھے تو اس وقت ہم نے ڈاکٹر فاروق ستار کو آگاہ کیا تھا کہ یہ تمہیں میدان میں چھوڑ جائیں گے۔ اور پھر وہی ہوا تھا جس کا ہم نے اظہار کیا تھا۔ جب پی ٹی ایم (PTM)نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو میں یہ سمجھانے گیا تھا کہ اپنی توپوں کا رخ اس نظام کی طرف کردو، جس میں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا ہے۔ ایک راؤ انوار نہیں پولیس کے ہر تھانے میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ لیکن پی ٹی ایم (PTM)نے نظام کی بجائے اپنا ٹارگٹ صرف پاک فوج ہی کو بنالیا۔ آج پی ڈی ایم (PDM)بھی پاک فوج کے خلاف کھڑی ہے اور جماعت اسلامی بھی پاک فوج کے بارے میں وہی مؤقف رکھتی ہے جس کا اظہار پی ٹی ایم (PTM)کرتی ہے۔
پہلے پاک فوج کی ایمانداری پر لوگ قسم کھاتے تھے لیکن کرپٹ نظام نے ان کو بھی کرپٹ بنالیا ہے تو قصور پاک فوج کا نہیں اس کرپٹ نظام کا ہے۔ ہماری اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ جس نظام نے فوج کو کرپٹ بنادیا ہے تو اس نظام کو نہیں بدلتے بلکہ فوج کیساتھ لڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں؟۔امریکہ سے طالبان نے لڑلیا اور اب دنیا نے دیکھ لیا کہ طالبان نے امریکہ سے بھی صلح کرلی۔ایک لطیفہ ہے کہ ایک گاؤں میں بکرے کا سرمٹکے میں پھنس گیا تھا۔ پہلے بکرے کو ذبح کیا گیا اور جب بکرے کا سر پھر بھی نہیں نکلا تو مٹکے کو بھی توڑ دیا اور پھر کم عقلوں نے عقل کے ناخن لینے کے بجائے خوشیوں کے شادیانے بجائے کہ ہم نے کمال کردیا ہے۔ طالبان کااپنا اسلام اور حکومت تھی ، امریکہ نے پہلے ان کی حکومت کو گرا دیا اور پھر انکا اسلام بھی ان سے چھین لیا۔جاندار کی تصاویر اور بے پردہ عورتوں کیساتھ بیٹھ کراپنے اسلام سے بھی ان کوآخر کار دستبردار ہونا پڑا ہے۔اب دلال بنے پھرتے ہیں۔
آج پی ٹی ایم(PTM)کا جوان فوج کو روڈوں پر گھسیٹنے کی بات کرتا ہے ۔ جس طرح طالبان نے مخصوص فضاء سے فائدہ اٹھاکر فوج سے ٹکر لی مگر بعد میں فوج کے دلال بننے پر مجبور ہوگئے، اپنوں کی ہمدردیاں بھی بالکل کھو بیٹھے تھے۔ اسی طرح پی ٹی ایم(PTM)کا حال بھی آنے والے وقت میں ایسا ہوسکتا ہے، جس کا اندازہ پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے سے لگایا جاسکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی کی تقریر کے وقت بجلی اور جنریٹر بند کئے گئے۔ سندھی صحافی نے بہت پہلے انکشاف کیا کہ نوازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اورآئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کا نام نہیں لیناہے۔ جس کی بات بالکل درست ثابت ہوئی ہے ، نواز شریف پوری تقریر میں شف شف کرتا ہے لیکن شفتالو نہیں بول سکا تھا۔ سندھی صحافی نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ نوازشریف نے پہلے بھی پیپلزپارٹی کو دھوکے دئیے ہیں اور اب بھی شہباز شریف کو رکھا ہوا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جب تمام سیاسی جماعتوں کو فوج سے لڑا دے اور پھر شہبازشریف کے ذریعے سے اسٹیبلشمنٹ سے مل جائے۔شہباز شریف کا ورکر لاہور جلسے میں نہیں نکلا تھا۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پی ٹی ایم(PTM) پشتونوں کو بلوچوں کے راستے پر لے گئی تو پشتون فوج کیساتھ لڑنے کے بجائے پی ٹی ایم(PTM)سے لڑنے کو ترجیح دینے لگیں گے۔ بلوچ کاڈی این اے (DNA)بالکل جدا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ریاست کیساتھ لڑتے رہے ہیں لیکن ہمارے پشتونوں نے ہمیشہ ریاست کیلئے وفادار شہریوں کا کردار ادا کیا ہے۔ جب پشتون قوم سمجھ گئی کہ طالبان 3ہیں نہ13، تب بھی ان کے آگے دُم ہلانے سے باز نہیں آتے تھے۔ حالانکہ محسود قوم میں یہ صلاحیت زبردست طریقے سے موجودتھی۔
علی وزیر کے علاقے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوا۔ طالبان اور پاک فوج کی مدد سے انہوں نے ازبک طالبان سے اپنی جان نہیں چھڑائی ہوتی تو وزیر خود کہتے ہیں کہ ہماری خواتین کو بھی ازبک اٹھاکر لے جاتے۔ وزیر اورمحسود اجتماعی حیثیت سے اپنا فرض ادا کریں تو معاملات ٹھیک ہوسکتے ہیں۔پختون پنجاب کی مدد سے اس وقت انقلاب لاسکتے ہیں جب صرف فوج سے چھٹکارے کی بات نہ ہو بلکہ نظام کی تبدیلی کیلئے مینارِ پاکستان میں عظیم الشان جلسے سے عوامی شعور برپا کریں۔

محمود خان اچکزئی پی ڈی ایم (PDM)کے اصل روحِ رواں ہیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
خصوصی آرٹیکل

پی ڈی ایم مینار پاکستان لاہور کے جلسے میں ملی عوامی نیشنل پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی کے اصل روحِ رواں ہیں۔ اچکزئی سے ریاست اور عوام کو ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں ۔زیادہ عرصہ کی بات نہیں ،2008ء میں محمود خان اچکزئی نے نوازشریف ، عمران خان ، جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد، ڈاکٹر طاہر القادری وغیرہ کو قائل کرلیا کہ مشرف اپنی فوجی وردی اتار نہیں دیتاتوہم انتخابات میں حصہ نہیں لیںگے۔ چنانچہ جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور محمود خان اچکزئی کو چھوڑ کر نوازشریف نے باوردی پرویز مشرف کی صدارت میں انتخابات میں حصہ لیا، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی نے مرکز میں اکثریت حاصل کرلی۔ پنجاب میں ق لیگ کیساتھ حکومت بن سکتی تھی لیکن زرداری اور نوازشریف نے پہلے آپ پہلے آپ کی صدا بلند کرتے ہوئے مرکز میں اور پنجاب میں اتحادی حکومتیں بنا ڈالیں۔ ن لیگی وزراء نے پرویزمشرف سے حلف لے لیا لیکن جاوید ہاشمی نے حلف نہیں لیا تو نوازشریف کا غدار ا ور باغی ٹھہرا۔
شہبازشریف اور چوہدری نثار تنہائی میں فوجی قیادت سے ملتے تھے جسکے نتیجے میں سید یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم سے نااہل کیا گیا اور زرداری کا بیان آتا تھا کہ میری لاش ایمبولینس میں جائے گی لیکن صدارت چھوڑنے والا نہیں۔ نوازشریف کالا کوٹ پہن کر باوردی کیساتھ کورٹ جاتا تھا تو تختِ لاہور نے ملتان کے باسی یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم کے محل سے نکال باہر کرنا ہی تھا۔ جب نوازشریف اور شہباز شریف نے صدر زرداریوں کی آخری حد پار کردی تو زرداری نے پرویزمشرف کایہ کہا کہ ” بلا دودھ پی جاتاہے”اور دوسری طرف نوازشریف کا کہا کہ ”مولوی نوازشریف کی کھوپڑی میں ایک لوہار کا دماغ ہے یہ سیاستدان نہیں بن سکتا”۔
روزانہ بریکنگ نیوز سمیت ہر گھنٹے کے ہیڈلائن میں صدر زرداری کو چور، منافق اور ڈکیٹ سے لیکر ایک سے ایک گالی کو سو (100)سنار اور زرداری کی گالی کو ایک لوہار کی قرار دیکر ن لیگ نے کہا کہ اس حد تک ہم نہیں گر سکتے۔ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو طالبان اور زرد صحافت کے علمبردار امریکہ کے ایجنٹ قرار دیکر قتل کرنے کے درپے رہتے تھے جو عمران خان اور نوازشریف کو اپنا نمائندہ نامزد کرتے تھے۔ اسلئے کہ پاک فوج، طالبان، عمران خان اور نوزشریف ایک پیج پر تھے۔ پیپلزپارٹی کو اقتدار اسلئے دیا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سندھیوں نے پاکستان نہ کھپے کا وہ نعرہ لگایا تھا کہ اگر صدر زرداری ”پاکستان کھپے” کا نعرہ نہ لگاتے تو سندھ دوسرا بنگلہ دیش بن جاتا۔ بلوچوں میں پہلے سے آزادی کی تحریک چل رہی تھی، اگر سندھ سے نعرہ اُٹھتا تو پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی اسلئے کہ ہندوستانی فوج بھی گھس آتی۔ سندھ اور پنجاب کی سرحدیں ہندوستان سے ملی ہوئی ہیں۔ سندھ میں پہلے سے بغاوت کا جذبہ تھا۔ آج پنجاب میں بھی بغاوت ہے۔ ن لیگ کے پاس نظریاتی کارکن نہیں بلکہ کرائے کے غنڈے ہیں۔ سوشل میڈیااور زمانہ کے شعور نے پنجاب میں بیداری پیدا کی ہے۔
محمود خان اچکزئی اگر مینارِ پاکستان کے جلسے میں یہ تقریر کرتا کہ ” پہلے پہلے میں اس عدالتی نظام سے بغاوت کا اعلان ہے۔ مجید اچکزئی نے دن دیہاڑے رمضان کے مہینے میں تونسہ شریف سے تعلق رکھنے والا غریب ٹریفک سارجنٹ کچل دیا مگر اس غریب کو انصاف نہیں مل سکا اور مجید اچکزئی چھوٹ گیا کہ ججوں کو ثبوت نہیں ملا، حالانکہ موقع پر موجود بھرے بازار اور میڈیا چینلوں پرقتل کی ویڈیو ریکارڈنگ دنیا نے دیکھی”۔
محمود خان اچکزئی کے اس اعلان سے پورا مجمع اور سب لوگ بہت متأثر ہوتے کہ واقعی بندہ ایمان دار ہے۔ پھر اچکزئی کہتا کہ” عدالتی فیصلہ ہے کہ جنرل اسد درانی نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے جھوٹا اسلامی اور جمہوری اتحاد بناکر نوازشریف اور جماعت اسلامی کو اقتدار سپرد کیا اور پیسے بھی دئیے۔ جب اسد درانی اعتراف کرتا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی نے مداخلت کی ہے اور تاحال مداخلت سے باز نہیں آئی ہے تو نوازشریف کو بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ میں نے پیسہ لیا تھا اور کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہوا تھا، اسی اقتدار سے اتنا پیسہ کمالیا کہ لندن میں فلیٹ خرید لئے۔ میں نے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے جھوٹ بولا کہ 2005 ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدے۔قطری خط لکھنے اور پھر اس سے مکر جانے کی کہانیاں گھڑنے پر قوم سے معافی مانگتا ہوں۔ پلیٹ لیٹس کی بیماری کی جھوٹی کہانی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دینے پر قوم سے معافی طلب کرتا ہوں۔ عدالتوں نے مجھے بہت کم سزا دی ، اقامہ سے بڑھ کر کرپشن کی دستانیں کھوسہ صاحب نے چھپائی ہیں وہ میرا محسن اور قوم کا مجرم ہے اسلئے کہ جس سزا کا میں مستحق تھا وہ مجھے نہیں دی گئی ہے”۔
محمود خان اچکزئی کی اس تقریر سے لوگ انقلابی بن جاتے اور بصورت دیگر کیا حکومت میں کرپشن اور عدالتی نظام سے چھوٹ کے مزے سیاستدان لیں اور بغاوت کیلئے جان ومال اور عزتوں کی قربانی دیں؟۔ جلسہ میں اگر یہ نعرہ لگتا کہ ”غلام ہیں غلام ہیں مریم نواز کے غلام ہیں، غلام ہیں غلام ہیں بلاول بھٹو کے غلام ہیں، غلام ہیں غلام ہیں مولانا فضل الرحمن کے غلام ہیں” تو بہت تگڑے نعروں سے جواب ملتے۔ اسلام کی نظر میں غلامی عبادت ہے اور اللہ کے سوا کسی کی بھی غلامی جائز نہیں ہے۔ ہمارے کلچر نے لوگوں کو اپنے بڑوں کا غلام بنادیا ہے۔ انقلاب کیلئے غلامی کا کلچر ختم کرنا پڑے گا۔
محمود خان اچکزئی نے گوجرانوالہ کے جلسے میں کہاکہ ‘ خدانخواستہ غریب لوگ اُٹھ کر امیروں کے محلات پر حملے کرکے سب کچھ تلپٹ نہ کردیں”۔ انقلاب فرانس میں وہی ہوا تھاکہ فوج امیروں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئی تھی لیکن قبائل میں غریب اور پسماندہ لوگوں نے طالبان کی شکل میں امیروں سے انتقام لیااور پاک فوج نے بھی کسی کو بچانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مساجد اور علماء تک کوبھی ان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا تھا۔ غریب پھر اٹھیںگے تو پٹھان طالبان کی طرح پاگل نہیں ہونگے کہ اسلحہ بردار فوجی قافلوں ، قلعوں، چھانیوں اور جی ایچ کیو (GHQ) کو بھی نشانہ بنائیں۔ پنجاب اور سندھ کے غریب اُٹھیں گے تو امیر جانیں اور غریب جانیں کی فضاء قائم ہوگی۔
محمود خان اچکزئی قابلِ صد احترام ہیں لیکن اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب عمران خان نے انکے بہکاوے میں آکر فوج کے خلاف ہر قسم کا الٹا سیدھا اول فول بکنا شروع کردیا کہ ” پندرہ ہزار کا مجمع دیکھ کر شلواریں گیلی ہوجاتی ہیں” تو اس کو پذیرائی نہیں مل سکی ، کیونکہ پاک فوج جنگجوؤں کی فضاؤں میں جان پر کھیلنے کی عادی ہے۔ اقبال کا شاعرانہ کلام ”ممولوں کو شاہیں سے لڑانے ” کی باتیں محض خام خیالی ہیں۔ انگریز اگر ہندوستان چھوڑ کر نہ جاتا توباچا خان کا عدمِ تشدد اور گاندھی کی بھوک ہڑتال اس کو نہیں نکال سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں بھارت کی وجہ سے پاک فوج نے ہتھیار ڈالے تھے۔ پاک عوام کبھی بھی بھارت کی فوج سے مل کر پاک فوج سے جان نہیں چھڑائے گی۔ جب عمران خان نے زرداری اور نوازشریف کو اپنا نشانہ بنانا شروع کیا تو پھر عمران خان کو بہت عوامی پذیرائی مل گئی۔ محمود خان اچکزئی نے مریم بی بی کے سامنے کچھ حقائق بیان کئے ہوتے تو عوام اور قومی لیڈر وںمیں جان پیدا ہوتی۔ہمارا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ خدانخواستہ ہم فوج کو شئے دے رہے ہیں کہ ڈٹ جاؤ۔عوام نہیں لڑسکتی ہے۔ عوام کا مقابلہ کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن عوام کو پاک فوج کے ٹاؤٹ اور باغی سیاستدان ورغلانا چھوڑ دیں کیونکہ لوگ اُٹھیں گے تو خیر کسی کی بھی نہیں ہوگی۔ طالبان نے کتنی مشکل پیدا کرلی تھی؟ ۔اگر قبائل اٹھتے تو پھر اقوام متحدہ کی فوج بھی مشکل میں پڑجاتی۔

پاکستان آزاد قبائل اور پوری دنیا کی امامت کابڑا نظام: اداریہ نوشتہ دیوار

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
پاکستان میں ہندو، عیسائی، سکھ ، قادیانی ، ذکری، آغا خانی، بوہری ، پرویزی اور انواع واقسام کے مذاہب اور فرقے ہیں لیکن جب تک فرقہ واریت کو ہوا نہ دی جائے عوام میں کسی مذہب والوں کے خلاف بھی نفرت نہیں ہے۔ البتہ مذہبی لبادوں کی اکثریت کا گزر بسر شاید دوسروں کے خلاف ہوا بھرنے پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارننگ ہے کہ” آپس میںنہ لڑو، ورنہ تمہاری ہوا خارج ہوجائے گی”۔
جب نوازشریف اپنی حکومت میں بھاری بھرکم سودی قرضہ لے رہا تھا تو اس وقت ہم نے کئی دفعہ واضح کیا کہ اس کا سارا بوجھ مہنگائی کی صورت میں عوام پر پڑے گا اور آج اگر نوازشریف کی اپنی حکومت ہوتی تو بھی مہنگائی کا گراف زیادہ ہی ہوتا۔ عمران خان پر جن لوگوں نے بھروسہ کیا تھا انہوں نے کم عقلی کا مظاہرہ کیا تھا اسلئے کہ اس نظام کے ہوتے ہوئے کوئی بھی تبدیلی نہیں لاسکتا ہے۔ پاکستان کا آئین اسلام کے نام پر ہے لیکن علماء نے اسلام کی کوئی وضاحت تک نہیں کی ہے۔ اسلام غریب و امیر کی چوری کیلئے بلیک اوروائٹ کالر کرائم اصطلاح سے پاک ہے۔ امریکہ نے تو زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے کہ کالے اور گورے کے قوانین میں ترمیم کردی ہے اور ہمارا نظام انگریز اور برصغیر پاک وہند کی غلام عوام کیلئے الگ الگ قوانین سے ابھی تک چھٹکارا نہیں پاسکا ہے۔ افسر اور نوکر کی عزت میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر بڑے آدمی کی بے عزتی کردی تو لاکھوں، کروڑوں اور اربوں کا ہرجانہ عدالتوں میں قانونی طور پر لے سکتاہے لیکن اگر غریب کی عزت خراب کردی تو عدالت میں اس کی حیثیت ٹکے کی بھی نہیں ہوتی ہے۔ آقا اور غلام کی اس تفریق کو اسلام نے ختم کیا تھا۔ قبائلی علاقہ جات میں بالعموم اور وزیرستان میں بالخصوص آقا اور غلام کا کوئی بھی نظام نہیں تھا۔ سیٹل ایریا میں نواب، خان ، سردار اور چوہدری وڈیرہ شاہی کی وجہ سے آقا اور غلام کے درمیان ایک واضح لکیر تھی۔ پیروں اور گدی نشینوں کے مرید وں کا حال بھی غلامی سے بدتر ہوتا تھا۔ اسلام نے بندوں کی بندگی ختم کردی تھی اور قبائلی نظام اسلام سے بالکل قریب تر تھا۔ انگریز نے غلامی کا نظام قائم کررکھاتھا۔ قبائل کو اللہ کے فضل سے اس نظام سے بہت دور رکھا گیا تھا۔
جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو اسلام نے وہی سزا دینے کی بات واضح کردی جو عام غریب خاتون پر بہتان لگانے کی سزا ہوتی۔ غلام احمد پرویز انگریزی نظام کا پروردہ تھا اسلئے صحیح احادیث کا انکار کردیا کہ اُم المؤمنین اور کسی عام عورت پر بہتان کی سزا ایک نہیں ہوسکتی ہے۔ بخاری کی صحیح احادیث کا انکار فقہ حنفی والے بھی کرتے تھے لیکن غلام احمد پرویز کی ذہنیت بالکل غلامانہ تھی۔ عربی میں غلام کو عبد کہتے ہیں اور لڑکے یا جوان کو غلام کہتے ہیں۔ شیخ المشائخ سید عبدالقادر گیلانی نے عربی خطبات میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یا غلام! اے لڑکے۔ جس سے جاہل علماء ومشائخ نے اردو کا غلام مراد لیا۔ تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی ، جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کا رویہ بھی اپنے کارکنوں کیساتھ وہی ہوتا ہے جو آقاؤں کا غلاموں کیساتھ ہوتا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے انسانوں کی بندگی کو حرام قرار دیا ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بھی عوام کیساتھ اس مزاج کے مطابق بالکل ویسا ہے جیسا آقاؤں کا غلاموں سے ہوتا ہے۔
جن لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ نے بنایا ہے یا استعمال کر کر کے کرکرکے کرکر کے بالکل ناکارہ بنادیا ہے وہ امامت کے قابل بالکل بھی نہیں ہیں۔ وہ لوٹ کھسوٹ اور جھوٹ موٹ جانتے ہیں ان کو امامت کرنے کی ہوا بھی نہیں لگی ہے۔ کل تک پاک فوج نوازشریف بچہ جمورا کو پوٹی کرانے بٹھاتا تھا اور آج اس بغل بچے کو اسلئے باغی مان لیا جائے کہ پارلیمنٹ کی لکھی ہوئی تحریر سے عدالت میں قطری خط تک اپنے ہی جال میں پھنس چکا ہے؟۔ یہ ہمارے اداروں کی نالائقی ہے کہ جسٹس قیوم سے زیادہ اس نے ارشد ملک مرحوم کو رائیونڈ محل میں بلاکر استعمال کیا اور عمرے کروائے۔

جسٹس سجاد علی شاہ کو نوازشریف نے بلوچستان ہائیکورٹ سے اسلئے نااہل کروایا تھا کہ اس سے سینئر جج کو چیف جسٹس نہیں بنایا گیا تھا حالانکہ یہ اس وقت کے قانون کے مطابق درست تھا، پھر تو آرمی چیف پر بھی اس کا اطلاق ہوتا تھا۔ اب تو جسٹس فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائیکورٹ کا براہِ راست چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔ کیا علی احمد کرد کو چیف جسٹس نہیں بنایا جاسکتا تھا؟۔ فائز عیسیٰ کے علاوہ بھی پتہ نہیں کس کس کو بیرون ملک نوازشریف نے جائیداد کا مالک بنایا ہوگا لیکن انقلاب کیلئے خرید وفروخت کرنے والے تاجروں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم(PDM)کے پلیٹ فارم سے چوروں کے ہاتھ کاٹنے والی سزا کا اعلان کریں۔ نوازشریف سے پارلیمنٹ کے تحریری بیان اور قطری خط کی بھی وضاحت مانگ لیں اور ہتک عزت کی یکساں سزا کی تبلیغ شروع کردیں تو کامیاب سیاستدان بن سکتے ہیں لیکن بکاؤ مال اپنے اندر غیرت کا مادہ بالکل نہیں رکھتے ہیں۔ مروت قوم سب سے شریف ہے اور وہاں مولانا نے تقریر کی تھی اسلئے خٹک ، بنوچی اوربیٹنی سے معافی نہیں مانگتے تو کم ازکم مروت سے ضرور مانگ لیں۔ آزاد قبائل تو ویسے بھی کسی کے غلام تھے، ہیں اور نہ ہونگے۔ ہمارے آباء واجداد نے وزیرستان کی عوام کو ملاؤں ، پیروں اور حکمرانوں کی غلامی کا کبھی سبق نہیں دیا ہے۔
آتی ہے دَم صبح صدا عرش بریں سے
کھویا گیا ہے کیونکر تیرا جوہر ادراک؟
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک؟
کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک؟
باقی نہیں رہی تجھ میں آئینہ ضمیری
اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری
علامہ اقبال نے پختونوں کے ضمیر محراب گل افغان کے تخیلاتی نام سے لکھا ہے۔ تحقیق کرنا محقق کا کام ہے لیکن انقلابی تعبیرات یہ ہیں کہ پیشہ ور سے پشاور بن گیا تھا اور پنجابی میں لا ہور سے لاہور بن گیا ہے۔ پیشہ ور نے پشاور سے سیاست کی سمگلنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور تختِ لاہور سے بھی مزید طلب جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی خان بچے نہیں تجربہ کار لوگ ہیں۔مریم نواز جتنی سپلائی طلب کرے ۔یہ لوگ دے سکتے ہیں۔بلوچ مسنگ پرسن اور ہلاکتوں کے ذمہ دار نوازشریف تھے ۔ مریم نوازشریف نے اسٹیج پر بلوچ بیٹیوں کو لاکر اپنا مطلب پورا کرلیا مگر ماما قدیر کے کیمپ میں وعدے کے باجود نہیں گئی تھی۔ حامد میر ادھورے حقائق بتاکر سچ نہیں جھوٹ کو سہارا دیتے ہیں۔ اپوزیشن کو اقتدار ملنے سے ریاست کے مسائل حل نہیں ہوںگے بلکہ مزید الجھ جائیںگے۔
پی ٹی ایم (PTM)اپنے گانے اور ترانے بدل کر پاکستان کی تمام مظلوم عوام کیساتھ کھڑے ہوجائیں تو نظام کی تبدیلی میں دیر نہیں لگے گی۔ ریاست کو چاہیے کہ ہماری گزارشات پر غور کرے۔ پی ٹی ایم (PTM)پر کوئی سختی نہ کرے۔ عوام میں ہر جگہ حقیقی لیڈر شپ ابھرنے کا موقع فراہم کرے۔ بھٹو ، نوازشریف کے بعد عمران خان کو دیکھ لیا۔ نوجوان طبقہ شعوری طور پر نفرت اور انتقام کے جذبات نہیں مثبت انقلاب کیلئے اپنی کوشش تیز کرلیں۔ آنے والا مستقبل انشاء اللہ انہی کا ہے۔

پی ٹی ایم ( PTM) تعصبات کے برعکس ظلم کیخلاف خوش آئندہے: اداریہ نوشتہ دیوار

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
پی ٹی ایم ( PTM) کراچی کے قائدنوراللہ ترین کی تقریر حقائق کے مطابق زبردست ہے۔ اس کا فائدہ پختون قوم، طالبان، ریاست، حکومتِ پاکستان اور عوامِ پاکستان سب کو یکساں پہنچتا ہے۔ یہ شعور کی بات ہے ،اس میں تعصبات نہیں۔ کراچی سے پختونوں کے بہت جنازے گئے۔ کوئی انکار نہیں ہے۔ بہت ظلم تھا اور اس پر حضرت حاجی محمد عثمان کے علاوہ شاید کسی نے افسوس کا اظہار بھی نہیںکیا تھا ۔ جس پر مولانا شیرمحمد صاحب نے حاجی عثمان سے عقیدت کا اظہار بھی کیا تھا کہ واحد مذہبی شخصیت ہیں جو پٹھانوں کا خون بہانے پر اظہار افسوس کررہے ہیں۔
بس یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ جب سواداعظم اہلسنت کی تحریک کو عراق نے پیسہ دیا تو ایک طرف مولانا اسفندیار خان، مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا زکریالنگڑا سوتیلے باپ مولانااعظم طارق جرنیل سپاہِ صحابہ پاکستان کے درمیان مارکٹائی ہوئی اخبارات میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگے۔ دوسری طرف لالو کھیت سمیت مختلف جگہوں پر اہل تشیع کی عبادتگاہوں اور دکانوں کو جلانے والے پٹھان بھائی تھے۔ پھر جب ایم کیوایم بن گئی تو پٹھان اپنے مکافات عمل کا شکار ہوگئے۔
کراچی کے کالجوں میں پختون، پنجابی، سندھی، بلوچ طلبہ تنظیمیں بدمعاشی کا طرز اپناتے تھے، اسلامی جمعیت طلبہ بھی اپنی مثال آپ تھی۔ جس کی وجہ سے مہاجر طلبہ تنظیم کیلئے سازگار ماحول بن گیا۔ چونکہ مہاجر کراچی میں زیادہ تھے اسلئے سیاست میں بھی کامیاب ہوگئے۔ فرقہ واریت کو شکست دی۔ پختونوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اسلئے پختون زیادہ ٹارگٹ بن گئے تھے۔ آج پھر جس طرح کے جذبات کی بات پی ٹی ایم ( PTM) کے جلسے جلوسوں کو گرمانے کیلئے ہوتی ہے تو اس کے نتائج بھی بھگتے گی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ کل پھر پختون گلہ کریں کہ پہلے طالبان کے نام پر ہمیں مارا گیا اور اب پی ٹی ایم ( PTM) کے نام پر۔ طالبان کے کمانڈر بھی محفوظ ہوتے تھے اور خڑ کمر شمالی وزیرستان میں علی وزیر اور محسن داوڑ بھی محفوظ تھے لیکن عام جذباتی جوان مارا گیا جس کو قوم اور مستقبل کا اثاثہ کہا جاتا ہے۔ اگر حکومت علی وزیرکو گرفتار نہ کرتی اور محسن داوڑ رضاکارانہ گرفتاری نہ دیتے تو شہداء کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ تھے۔ بچوں کے والدین کہتے کہ تمہاری لیڈری چمکانے کے عوض ہمارے بچے کیسے گئے اور تم نے خود کوبچایا کیسے؟ ہمارا کام اپنا نام چمکانا نہیں اور نہ جھوٹی تسلی سے کسی کو دلاسہ دینا ہے۔
طالبان کی حمایت کرنے میں پٹھان سب سے زیادہ پیش پیش تھے لیکن اس حمایت کی وجہ سے نہ صرف پختون اس آگ میں جلے بلکہ پورے پاکستان کو بہت آزمائش سے گزرنا پڑا تھا۔ آج جس طرح طالبان کی کھل کر مخالفت ہوتی ہے جب خود کش حملوں کا دور تھا تو کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اس طرح کھل کر اپنے پروگرام کرتا۔ اس میں پختون من حیث القوم مجرم تھے اسلئے اس کی سزا بھی بھگت لی اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں بلکہ بڑی عزت ہے۔
فوج سے تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں حتی کہ جماعت اسلامی بھی تنگ آچکی ہے اسلئے پی ٹی ایم ( PTM) کو زیادہ پھنے خان بننے کی ضرورت نہیں۔ پہلے طالبان سے اپنی قوم کو مروایا گیا اور اب اگر مذہب کا پالان اتار کر لسانی بنیاد پر قوم کو مروایا جائے تو فقیر ایپی مرزا علی خان کے بقول گدھا وہی ہوگا صرف پالان اس کی بدل جائے گی تو کوئی فرق بھی نہیں پڑے گا۔ انگریز کے بعد پاکستان کیلئے اس نے یہ بات کہی تھی۔ قبائل میں فوج، پولیس ، عدلیہ ، سول بیوروکریسی ، پٹوار اور دیگر انگریزی نظام نہ ہونے کی وجہ سے نسبتاً ہمارے ہاں ظلم وزیادتی اور جبر کا نظام بالکل نہ ہونے کے برابر تھا۔تاہم چالیس ایف سی آر (40FCR)کے کالے قوانین بھی انگریز کا تحفہ تھا۔ امریکہ سے نگران وزیراعظم معین قریشی آیا تو اس نے قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق دیا اور گاڑیوں میں وی سی آر لگانے پر اسلئے پابندی لگائی تھی کہ ڈرائیور ایکسیڈنٹ بہت کررہے تھے۔ ہمارے سیاسی اداکاروں نے کبھی کوشش تک بھی نہیں کی۔
اب قبائل کے انضمام کے خلاف اور حق میں آواز اٹھائی جائے تو پختون ایک ایسی قوم ہے جس کے بچے ، جوان اور بوڑھے ہر ڈھول پر ناچتے ہیں۔ قوم کو نچانے اور لڑانے کی نہیں شعور دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے جذبات سے متأثر ہوکر قائدین کو اسٹیج پر بے قابو نہیں ہونا چاہیے۔پی ڈی ایم (PDM)کے پلیٹ فارم سے جب تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکر لے رہے ہیں۔ گجرانوالہ شو میں پی ٹی ایم ( PTM)کو دعوت نہیں دی گئی اور لاہور میں بھی پی ٹی ایم ( PTM)کو نہیں بلانا تھا تو اچھا ہوا کہ پشاور میں گھر سے باعزت حل کا آغاز ہوا۔ پی ٹی ایم ( PTM)نے پنجاب سے نفرت کا اظہار کرکے ن لیگ سے دوری پیدا کرلی اور آئندہ یہ خامی نہیں ہونی چاہیے اسلئے کہ پختونخواہ کے سب سے قریبی پڑوسی پنجابی ہیں۔ سندھی اور بلوچ تو خیبر پختونخواہ کے بہت سے لوگوں نے دیکھے تک بھی نہیں ہیں۔

قیادت کے مسئلے پر مفتی محمود پر بھی قومی اتحاد نے اتفاق رائے کیا تھا ، آج مولانا فضل الرحمن پر اپوزیشن کی تما م سیاسی جماعتیں متفق ہیں تو یہ پی ٹی ایم ( PTM)کیلئے ہی اعزاز کی بات ہے کہ پنجابی، سندھی، بلوچ اور تمام قومی پارٹیاں ایک پختون مولانا کی قیادت میں اکٹھے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں مل کر فوج سے جان چھڑاسکتی ہیں تو بلوچستان ، کراچی ، سندھ اور پختونخواہ کے مسائل بھی حل ہوجائیںگے۔ اگر قبائل میں حکومت کی رٹ ، دہشت گردی کے خاتمے اور مسائل کے حل پر توجہ دی جائے تو عوام سکون کا سانس لیںگے ۔ یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ نوازشریف نے بلوچستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر گوادر سے کوئٹہ ، پشاور اور گلگت کا سیدھا راستہ چھوڑ کر اس موٹروے کا راستہ تختِ لاہور کی طرف موڑا۔ جہاں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے آواران میں بلوچوں کے گاؤں جلانے پڑے اور اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں تھیںاسلئے کہ سب سے زیادہ مزاحمت کار وہاں موجود تھے۔ جنہوں نے موٹروے بنانے والوں کو پھولوں کے گلدستے پیش نہیں کرنے تھے بلکہ شدید مزاحمت کرنی تھی۔ سوشل میڈیا پر بلوچوں کے گاؤں جلانے کی ویڈیو موجود ہے جس کو پٹھان سپاہی کہہ رہاہے کہ اللہ اور دے گا۔ گھر خالی کرواکے جلارہے ہیں۔ ریاست نے یہ سب اس وقت کرنا ہوتا ہے جب انکو مزاحمت کا سامنا ہو۔ اس کا سارا قصور نوازشریف کا مفاد پرستانہ رویہ تھا جس نے مغربی کوریڈور کا سارا پلان تبدیل کرکے موٹروے کو لاہور کی طرف موڑا تھا۔ اس وقت پیپلزپارٹی ، مولانا فضل الرحمن اور دیگر لوگوں نے شروع میں مخالفت بھی کی تھی اور پی ٹی ایم ( PTM)کے ڈاکٹر سید عالم محسود نے اس پر کئی سیمینار بھی کئے ہیں۔
کراچی کے جلسے میں ڈاکٹر سید عالم محسود نے پختونوں کی تین کمزوریوں کا ذکر کیا ہے جن میں ایک یہ بھی ہے کہ پختون مفاد پرست ہے۔ اگر طالبان پر عورت کی طرح چوتڑ تک بال رکھنے کی پابندی لگادی جاتی جو شریعت و سنت تو بہت دورکی بات انتہائی درجے کی بے غیرتی اور غیر شریفانہ حلیہ تھا تو بھی پختون اتنا بدنام نہ ہوتا لیکن جب چوتڑ والے بال رکھنے کی ہم نے اپنوں کو اجازت دیدی تو ہمارا کلچر، مذہب اور انسانیت سب تباہ وبرباد ہوگئے۔ اب پھر پی ٹی ایم ( PTM)کے قائدین کو دوسری قوموں کی نقالی کرکے چرب زبان جذباتی خطیبوں سے زیادہ سنجیدہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم پہلے اپنا کھویا ہوا وقار واپس لاسکیں اور پھر اپنی خامیاں دور کرکے صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کی امامت کرکے پختون دنیا کو انسانیت سمجھا ئیں گے۔

وزیراعظم کا سپورٹر پختون بے غیرت ہے، فضل الرحمن: اداریہ نوشتہ دیوار

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
وزیراعظم عمران خان کی جتنی مخالفت نوشتۂ دیوار میں ہم نے کی ہے شاید کسی اور نے اتنی مخالفت نہیں کی ہوگی لیکن مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا کہ ”جو پختون عمران خان کو سپورٹ کرتا ہے وہ پختون نہیں بے غیرت ہے جو اس دلّے کی حمایت کرتا ہے خواہ وہ خٹک ہو، بنونچی ہو ،مروت ہو یا پھر بیٹنی ہو”۔
مولانا صاحب! آپ کو اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے۔پی ڈی ایم (PDM)کے سربراہ بن گئے ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد اور نظام مصطفیۖ کی تحریک کے بعد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ ایک بڑا سیاسی اتحاد ہے۔ وہ بھی دھاندلی کیخلاف تھا اور یہ بھی دھاندلی کے خلاف ہے۔ اس میں بھی قومیت اور مذہب کا نعرہ شامل تھا اور اس میں بھی قومیت اور مذہبی جذبہ کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اگر مولانا فضل الرحمن صرف پختونوں سے کہیں گے کہ جو پی ٹی آئی میں ہے وہ بے غیرت ہے پھر اسکا منطقی نتیجہ نکلے گا کہ دوسری قومیں پنجابی، سندھی ، سرائیکی، ہزارے وال، بلوچ اور مہاجر سب کے سب غیرت نہیں رکھتے؟۔ اگر عمران خان نے پختونوں کیساتھ اسپیشل زیادتی کی ہوتی تو حق بنتا تھا کہ انہی کو تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے پر بے غیرت قرار دیا جاتا۔ مولانا سے تو پی ٹی ایم (PTM )کے بچے اچھے ہیں جو پختون بھائیوں کی مظلومیت کا رونا اپنی جگہ پر ضرور روتے ہیںلیکن دوسری قوم والوں کو بے غیرت نہیں کہتے۔ چییونٹی کی موت کا وقت آتا ہے تو پر نکلتے ہیں۔ مولانا نے اُڑان بھرنی شروع کی ہے ۔ اللہ خیر کرے کہ اس کی موت کا وقت قریب نہ ہو۔
مولانا فضل الرحمن ن لیگ ، پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپنے اخلاق ، کردار ، جمہوری روایات اور انسانیت ہر لحاظ سے بہت اچھے ہیں۔ عمران خان نے روایات اور سیاسی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر مولانا فضل الرحمن کے خلاف بڑی گھٹیا زبان استعمال کی، جو عمران خان کے نیچ پن کی دلیل ہے۔ خطیب العصر سید عبدالمجید ندیم نے جب الیکشن کے دوران ایک دفعہ عمران خان کو بندر سے تشبیہ دی تو مولانا فضل الرحمن نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے بہت سختی کیساتھ روک دیا۔ مولانا ندیم صاحب نے ایک مرتبہ 8اپریل کو ڈیرہ اسماعیل خان میں کہاتھا کہ ہر سال مفتی محمود کی برسی کے موقع پر ہماری ملاقات حق نواز پارک میں ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ حق نواز پارک میں خوابوں کا شہزادہ (ڈاکٹر طاہرالقادری) آیاہے۔ حکومت نے 8 اپریل کو جمعیت علماء اسلام کے سالانہ کنوینشن کو دھچکا پہنچانے کیلئے ڈاکٹرطاہرالقادری کو بلوایا ہوگا۔ اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے نوازشریف اور جماعت اسلامی کی حکومت تھی اور ڈاکٹر طاہرالقادری میاں نوازشریف کے مذہبی رہنما تھے۔ مولانا سمیع الحق کو میڈم طاہر ہ کے اسکینڈل سے اخبارات میں بدنام کیا تھا ، حالانکہ چیئرمین پی ٹی وی (PTV) نعیم بخاری کی بیگم طاہرہ سید کیساتھ نوازشریف کا حقیقی اسکینڈل بن سکتا تھا لیکن اس کے خلاف زرخرید میڈیا نے کوئی اسکینڈل شائع نہیں کیا تھا۔ پی ٹی ایم (PTM)نے8اپریل کو پشاور میں جلسۂ رکھا تھا تو مولانا فضل الرحمن کو خدشات ہوسکتے تھے کہ ہمارے مقابلہ میں کوئی استعمال کررہاہے۔ جیسے پشاورپی ڈی ایم ( PDM)کے مقابلہ میں جماعت اسلامی نے سوات میں جلسہ رکھا تھا۔ مولانا شیرانی نے اسلئے پی ٹی ایم (PTM)کے خلاف بات کی تھی۔

اگر مولانا فضل الرحمن یہ کہتا کہ نوازشریف نے مولانا سمیع الحق شہید کو بدنام کیا تھا اسلئے خٹک اور پختون اور خاص طور پر علماء بے غیرت ہوںگے جو نوازشریف کا ساتھ دیں تو بات سمجھ میں آتی تھی ،اسی طرح نعیم بخاری کی بیگم چھین لینے پر اگر پنجاب کے لوگوں کو نوازشریف کا کہتے تو بھی بات بنتی تھی لیکن عمران خان کی حمایت کرنے پر پختونوں کو بے غیرت کہنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔
جب عمران خان نے ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن لڑا تو مجھے گلشاہ عالم برکی نے کہا کہ ہم آپکے مرید ہیں اور آپ ہمارے پیر ہیں۔ ہماری پارٹی تحریک انصاف کی حمایت کریں۔ میں نے کہا کہ یہودی کی؟۔ پھر مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی نے اپنے مرکز مولانا فتح خان کی جامع مسجد کوتحریک انصاف کا دفتر بنادیا۔ایوب خان بیٹنی صوبائی امیدوار تھے۔ جنرل ظہیرالاسلام عباسی ہمارے پاس آئے تو ایوب بیٹنی سے انہوں نے کہا کہ آپ یہودی کے ٹکٹ پر کھڑے تھے؟۔ میں نے وضاحت کی کہ” جے یوآئی کی مرکزی مسجد انکا دفتر تھا ” تو جنرل عباسی صاحب نارمل ہوگئے۔ تحریک انصاف کو دفتر دینے کی وجہ یہ تھی کہ مولانا فضل الرحمن قومی سیٹ جیتنے کیلئے صوبائی امیدواروں سے اتحاد کرتا تھا۔ تحریک انصاف کیساتھ اتحاد کی توجیہ یہ تھی کہ بیٹنی قوم بڑی ناراض ہے ، انہوں نے اپنے امیدوار کو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کھڑا کیا اسلئے ہم نے تحریک انصاف کیساتھ اتحاد کیا جبکہ مولانا سمیع الحق کیساتھ اتحاد تھا لیکن ان کے مطالبے کے باجود جے یو آئی س کیساتھ ایک دفتر کیلئے تیار نہیں تھے۔ بیٹنی قوم کی ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ جے یو آئی کے موجودہ صوبائی رکن اسمبلی کا باپ حاجی رمضان قومی اسمبلی کیلئے کھڑا تھا اور جب مولانا فضل الرحمن اور رمضان دونوں ناکام ہوگئے تو حاجی رمضان نے کہا کہ میرا مقصد مولانا کو ہرانا تھا۔ پھر مولانا نے اپنا امیدوار حبیب اللہ کنڈی کے حق میں بٹھاکر حاجی رمضان کے بیٹے حاجی نثار کو ہروادیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن جانتے ہیں کہ سیاست میں غیرت کا معیار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟ اسلئے دوسروں کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے غیرت اور بے غیرتی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے پہلے سود فعہ سوچ لینا چاہیے ورنہ حریف للکاریںگے اور اپنے ساتھی مولوی مروت کی غیرت کو ٹکڑیوں میں تقسیم کرکے تماشا بنادیںگے۔
مولانا فضل الرحمن کو پتہ ہے کہ علماء ومفتیان نے قرآن وحدیث اور چاروں اماموں کے برعکس جاگیردارانہ نظام کو ناجائز جواز بخشا ہے جس کی وجہ سے غلامی کے نظام کو دنیا سے ختم کرنے کے بجائے دوبارہ اسلام کے نام پر جاری رکھا گیا ہے۔ پھر تصویر کو بھی غلط طریقے سے ناجائز قرار دیا گیا تھا اور اس سے بڑھ کر قرآن وسنت کی عظیم تعلیمات کے برعکس حلالہ کی لعنت کو جواز بخشا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اس موضوع پر ضرور غور کریں۔ مدارس کے فتوؤں اور مفتیوں کی بداعمالیوں سے غیرت کا جنازہ نکل رہاہے ۔حلالہ کی لعنت جاری رکھنے والوں کو اس بے غیرتی کا احساس کرنا چاہیے ورنہ جس دن غیور عوام اُٹھیںگے تو بے غیرتوں کو غیرت کا سبق سکھا دیںگے اور پھر سب بہت حیران وپریشان ہوںگے لیکن ضمیر کی رسیوں نے سب کو قید کرکے رکھا ہوگا۔ پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابوں میں عیاشیوں کی داستانیں لکھی ہوئی ہیں لیکن حلالہ کی داستانیں عوام کے سامنے آگئیں تو پھر کیا ہوگا؟
بچوں کے سکول کی ٹیوشن فیس ہے اگر مساجد کے ائمہ کو قرآن پڑھانے کیلئے ہدیہ دیا جائے تو مسجد کے امام کی تنخواہ پچیس (25)سے چالیس(40) ، پچاس (50)ہزار تک بن سکتی ہے۔ علماء کرام ہمارے دین اور ایمان کے محافظ ہیں لیکن غلط مسائل کھڑے کرنے کے بجائے اگر قرآن وسنت پر توجہ رہتی تو مساجد بھی ہدایت سے مالامال ہوتیں اور عوام کا رحجان بھی دین کی طرف بڑھ جاتا۔ مسلمانوں کو فرقہ واریت نہیں دین سے محبت ہے مگرعلماء اپنے اپنے فرقوں کیلئے قابل قبول اور دوسروں سے نفرت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے کرپٹ ، سازشی، بداخلاق وبد کردار عناصر ہم پر حکومت کرتے ہیں۔ قرآن نے اسلام میں پورے پورے داخل ہونے کا حکم صرف لبادے کیلئے نہیں دیا۔

تقرر ِامام ہمارے اندورنی وبیرونی حالات کے تقاضے: عتیق گیلانی

تقرر ِامام ہمارے اندورنی وبیرونی حالات کے تقاضے
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
مولانا محمد خان شیرانی نے علامہ سید جواد نقوی کیساتھ ایک تقریب میں بیٹھ کر نصبِ امام کا ذکر کیا ہے۔ شیعہ سنی کی اکثریت اس بات کو نہیں سمجھ رہی ہے کہ ایران میں شیعہ حکومت قائم ہونے کے بعد امام مہدی غیب کے پردہ سے نکل کر تشریف نہیں لارہے ہیں اور سنی عقیدہ رکھنے والے امامت کا تقرر کرتے ہیں تو اس کو سب سے بڑا جرم اور بغاوت کا جھنڈا سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان حکومت کی سطح پر تقرر امام کا اعلان کرے اور اس پر شیعہ سنی متفق ہوجائیں۔ مولانا شیرانی نے امام تنظیم کا ذکر کیا ہے جس سے مراد ” اتحاد ملت اسلامیہ محاذ” ہے۔ عمران خان نے شیعہ لابی کی وجہ سے پاکستان کو سعودیہ سے دور کرکے ایران کے قریب کردیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل میں مولانا فضل الرحمن کیساتھ مولانا اویس نورانی کے علاوہ تحریک جعفریہ بھی شامل تھی لیکن پی ڈی ایم (PDM)کے محاذ میں اہل تشیع عمران خان کے خلاف اپوزیشن کا حصہ نہیں ہیں اور مولانا شیرانی بھی مولانا فضل الرحمن سے ناراض ہیں اسلئے امام کی طرف گئے ہیں۔
جب انجمن سپاہِ صحابہ کے مولانا حق نواز جھنگوی شہید جے یوآئی پنجاب کے نائب امیر تھے تو جمعیت کے اسٹیج سے شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگاتے تھے لیکن مولانا شیرانی کا انجمن سپاہِ صحابہ کو الگ ذیلی تنظیم کی حیثیت سے جمعیت میں شمولیت پر اتفاق نہیں تھا اور پھر آخر مولانا شیرانی کا مؤقف درست ثابت ہوا۔ سپاہ صحابہ پے درپے قیادت سے محروم ہوگئی تو مولانا فضل الرحمن کے خلاف نعرہ لگایا کہ شیعہ کافر جو نہ بولے وہ بھی کافر۔ مولانا شیرانی نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست پر جمعیت علماء اسلام کو قائل کیا تھا اور ڈیرہ اسماعیل خان سے باقاعدہ مولانا فضل الرحمن نے مشاورت کے فیصلے کا بھی اعلان کیا لیکن جب لاہور مینارِ پاکستان میں عوام کو بڑے پیمانے پر خوشخبری سنانے اور انقلابی سیاست کا آغاز کرنے کیلئے بلایا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے پاک فوج کے افسران کی دھونس سے اعلان کو مؤخر کرکے عظیم اجتماع کو ٹال دیا تھا۔ آج مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اسٹیبلیشمنٹ سے مکمل آزادسیاست کیلئے گیارہ جماعتوں کا اتحاد ہے اور اس کیلئے مریم نواز نے آر یا پار کا اعلان کررکھاہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی تیار ہیں۔نتیجہ جو بھی نکلے وہ کچھ دنوں میں عوام کے سامنے آئیگا۔ پیپلزپارٹی اقتدار کی قربانی دے گی یا نہیں لیکن وہ اس ایجنڈے کے حق میں ہے۔ محمود خان اچکزئی مشن کے روح رواں اور باقی جماعتوں کے میا ں افتخار، اخترمینگل ، عبدالمالک ، آفتاب شیرپاؤ ،علامہ ساجد میر اور مولانا اویس نورانی سب اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے بے دخل کرنے پر متفق ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ایک مضبوط سیکشن کی طرف سے وزیراعظم ، اسپیکر قومی اسمبلی اور سینٹ کے چیئرمین کی تبدیلی کی آفر ہے جو پی ڈی ایم (PDM)نے رد کردی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے گودی سیاستدانوں کا سلسلہ ختم کرنے کا عندیہ ہے، جسکا اظہار پروفیسر احمد رفیق اختر کے ایک دوست نے ٹیلی فون پر مجھ سے کیا ہے۔سعودی ایران جھگڑے کی زد میں آیا ہوا پاکستان لسانی ، نظریاتی اور مفادات کی سیاست کا بھی بری طرح شکار ہے۔
میرا ایک ایسا کزن ہے جو نیشنلسٹ ہے اور افغان بادشاہ امیر امان اللہ خان ہی کو مانتا ہے جسکے علامہ اقبال بھی مداح تھے جو انگریز کا مخالف تھا اور جرمنی کا حامی تھا۔ وہ خیبر پختونخواہ کے ترقی یافتہ اضلاع پشاور ، چارسدہ، سوات، دیر، بنیر اور صوابی وغیرہ کو پشتو اسپیکنگ پنجابی سمجھتا ہے اور وزیرستان کے محسود اور وزیر کو بھی پنجابی قرار دیتا ہے جنہوں نے بڑے پیمانے پر طالبان کو سپورٹ کیا اور افغانستان کے پشتونوں کو بھی پنجابی ذہنیت قرار دیتا ہے۔ پنجابیوں سے مراد اسکے نزدیک انگریز کے وفادار ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ محسود اور وزیر بھی اس قابل ہیں کہ مچھر کے اسپرے سے ان کو مار دیا جائے۔ یہ بہت پرانی روایت ہے کہ انگریز مخالف برصغیر پاک وہند کے حریت پسندوں کو بیرونی ایجنٹ قرار دیا جاتا تھا اور اس میں کچھ نہ کچھ صداقت اسلئے تھی کہ جرمنی حریت پسندوں کا فیورٹ ہوتا تھا جہاں سے لیڈروں کو تحریک کیلئے بڑے پیمانے پر خفیہ امداد بھی ملتی تھی۔
جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو مہاجرین وانصار اور قریش واہلبیت میں یہ اختلاف ہوا کہ خلافت کا حقدار کون ہے؟۔ حضرت ابوبکر وعمر کے بعد حضرت عثمان اور حضرت علی نے شہادت پائی۔ حضرت امام حسن دستبردار اور حضرت حسین یزید کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ بنوامیہ، بنوعباس اور سلطنت عثمانیہ تک موروثی اقتدار عروج پر رہا ۔ فاطمیہ ،مغل ، خاندانِ غلاماں موروثی اقتدار کے بعد انگریز نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ اچھے برے سب طرح کے حکمرانوں نے اپنی اپنی جگہ اقتدار کیا۔ محمودغزنوی، احمد شاہ ابدالی اور شیرشاہ سوری نے بھی نمایاں کارنامے انجام دئیے۔ انگریز کے جانے کے بعد سول وملٹری بیوروکریسی نے آزادی کی خاطر قربانی دینے والوں کو غدار اور گودی لے پالکوں کو وفادار کے سرٹیفکیٹ جاری کئے یہاں تک کہ فاطمہ جناح نے کہا کہ پاکستان کو نہیں بننا چاہیے تھا۔ اسلئے ان پر غداری کے الزامات عائد کئے گئے۔ نوازشریف نے جس طرح بھٹو کی پھانسی سے یوسف رضاگیلانی کی برطرفی تک اسٹیبلشمنٹ کے پالتو کتے کا کردار ادا کیا۔ پھر ملتان کے جلسے میں کٹھ پتلی کی تاریخ بیان کرکے مریم نواز نے نوازشریف کو ہیرو قرار دیا تو لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور آصفہ بھٹو کی مختصر گفتگو بہت اچھی اسلئے لگی کہ چرب زبانی کے گفتار کا جواب تاریخی کردار سے دیا گیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے کرونا کی وجہ سے مسجد میں نماز اور تراویح کو خیرباد کہا تھا تو ہم نے اس کو سراہا تھا اور اب اپوزیشن کی وجہ سے کرونا کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے تو یہ اس کی اپنی سیاست ہے۔ غربت سے تنگ عوام ریاست کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تو بھی خون خرابہ ہوگا اور سیاسی مفادات کیلئے عوام کو ریاست سے لڑایا گیا تو بھی خون خرابہ ہوگا اوریہ اللہ کاشکر ہے کہ پی ٹی ایم (PTM)کو پی ڈی ایم (PDM) سے باہر کیا۔ طالبان کے نام پرقربانی دینے والی قوم پہلے ہی بہت مصائب کا شکار ہے۔محسود اور وزیر لشکری قوم ہے ، اگرچہ پی ٹی ایم (PTM) کو وزیرستان میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے لیکن اگر پی ڈی ایم (PDM)کیساتھ ملکر لاہور کی طرف لانگ مارچ ہوتا تو اس کے بہت خراب نتائج نکل سکتے تھے۔ کیونکہ کسی انقلاب کی بجائے یہ مریم نواز کے مفاد کی بھینٹ چڑھتے۔ قبائل کے باشعور طبقات کو یہ گلہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کیلئے قربانیاں دیتے رہے ہیں لیکن ہمارے مفاد کیلئے کوئی بھی نہیں آیا ہے۔ جب قبائل کے حوالہ سے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا تو بادشاہی خان محسود نے ان سے گلہ کیا تھا کہ کراچی سے مہاجروں نے آکر ہمارے لئے پناہ گزینوں کیلئے خیمے اور امدادپہنچائی مگر آپ لوگوں نے ان مشکلات میں ہمیں یاد کرنے کی کوئی زحمت نہیں کی تھی۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ قبائل نے بالعموم اور وزیرومحسود نے بالخصوص بڑے پیمانے پر طالبان بن کر جی ایچ کیو(GHQ) ، آئی ایس آئی ملتان دفتر اور فضایہ کراچی تک کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ مساجد، بازاروں اور سرکاری دفاتر تک بہت لوگوں کا خون بہایا تھا۔ اب اگر پی ٹی ایم (PTM)کہتی ہے کہ پختون بے گناہ تھے۔ استعمال ہم ہورہے تھے ۔ ہمارے اندر کسی اور نے انگل ڈال کر مست کردیا تھا تو یہ قطعی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ وزیرستان سے ایک ایسے لشکر کی ضرورت ہے جو مینار پاکستان سے غیر متعصبانہ انقلاب کا اعلان کرے۔ پورے پاکستان کو ظالمانہ نظام سے نجات دلانے کیلئے حق کی وہ آواز ہو جس سے مخلوقِ خدا بالکل خوش ہوجائے۔ امن اور سلامتی کی ضمانت دے اور بھارت کے مسلمان پاکستان کے نظامِ عدل پر رشک کرکے دنیا کو تباہی وبربادی کے راستے سے روک لیں۔ ہندو، سکھ، بدھ مت اور عیسائی سب کے سب خیرخواہ اور ہمنوا ہوجائیں۔

لوگوں کیلئے اسلام دین اور مذہب ہے لیکن اسلام پختونوں کی زندگی کا حصہ ہے، نور اللہ ترین

وزیرستان میں لوگ باجماعت نماز پڑھتے ہیں، تبلیغی جماعت میں سب سے زیادہ ہیں ، لوگوں کے نکاحوں میں اپنی بیگمات ہیں، نائٹ کلب نہیں، عورتیں اور مرد ایک ساتھ نہیں بیٹھتے
نفاذِشریعت کی ضرورت لاہور یا وزیرستان میں ہے؟، باجوڑ میں یا کراچی میں؟۔ تمہارے ہاںچوبیس گھنٹے ہیرا منڈی چلتی ہے، نائٹ کلبوں میں اتنی شراب جتنی ہم لسی نہیں پیتے ہیں!
پنجابی اور سندھی مولوی کہتا ہے کہ وزیرستان میں شریعت نافذ کرو۔ کیا ہمارا قرآن الگ ہے اور تمہارا قرآن الگ ہے یا کوئی اور؟
کراچی پی ٹی ایم (PTM)کے رہنما نے کراچی میں جلسۂ عام کیلئے ایک کارنر میٹینگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ جاؤ، دیکھو،وزیرستان میں لوگوں نے داڑھیاں رکھی ہیں، نماز باجماعت مسجد میں پڑھتے ہیں۔ سینما نہیں ہے کہ لوگ فلمیں دیکھیں، نائٹ کلب نہیں ہیںکہ اس میں عورتین اور مرد ایک ساتھ بیٹھے ہوں۔ لوگوں نے نکاح میں اپنی عورتیں بٹھا رکھی ہیں۔ ہر کسی سے تبلیغی جماعت میں بھی ہم زیادہ ہیں۔ پھر ہم سے کیا شریعت مانگتے ہو۔ میں تو جب سے پیدا ہوا ہوں ، شریعت محمدی سے میرا تعلق ہے۔ ایک بات یہاں ہم کرلیتے ہیں کہ اسلام لوگوں کیلئے دین ہوگا، لوگوں کیلئے مذہب ہوگا مگر پشتونوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ پشتون پیدا ہو تو بھی مسلمان ہوگا اور مرے گا تو بھی مسلمان ہوگا۔ ہم سے کیا ہے؟۔ ہمارے اندر تو پہلے سے شریعت ہے۔ لیکن یہ ایک ڈرامہ تھا۔ پنجابی علماء کیا کررہے تھے، سندھی علماء کیا کررہے تھے، یہاں سے بیان دیدیتے تھے کہ وزیرستان کے علماء ٹھیک بات کرتے ہیں۔ شریعت ہے اور اس کا حق بنتا ہے کہ لوگ شریعت کا نظام پختونوں میں نافذکردیں۔ پنجابی علماء بھی یہی کہتے تھے، سندھی علماء بھی یہی کہتے تھے۔ اب ہم ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ کیوں مولوی صاحب ! کیا پشتونوں کا قرآن الگ ہے اور تمہارا الگ ہے؟۔تیرے لاہور میں سرِ عام ہیرامنڈی کھلی ہوئی ہے۔ یہ اڈہ چوبیس گھنٹے تم چلاتے ہو۔ تو شریعت یہاں ضروری ہے یا وزیرستان میں ضروری ہے؟۔ شریعت کراچی میں لازمی ہے یا باجوڑ میں ؟۔ نائٹ کلب تمہارے ہیں ڈیفینس میں، تم جاؤ،رات کو لوگوں کو دیکھو۔ ہمارے لوگ خدا کی قسم اتنی لسی نہیں پیتے جتنی لوگ وہاں شراب پیتے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ ڈرامہ تھا۔ شریعت مقصد نہیں تھا ،اگر شریعت مقصد ہوتا تو پھر چاہیے تھا کہ لاہور میں شریعت نافذ ہوتی، چاہیے تھا کہ کراچی میں شریعت کا نفاذ کرتے۔ یہ کیا تھا ڈرامہ تھا۔ شریعت کی بنیاد پر وہاں لوگ بیٹھ گئے اور کام کیا کیا؟
پہلا کام یہ کیا کہ جو تمہارے جرگہ والے لوگ تھے، خان ، سردار، ملک اس کو ذبح کر دیا۔ دوسرے مرحلے میں تمہارے تعلیم یافتہ لوگ وکیل، پروفیسر ، ٹیچر جو قوم کو شعور دے رہے تھے۔ قوم کو سمجھ وآگہی دے رہے تھے ۔ ان کو قتل کر دیا۔ آخر میں سڑک کو بموں سے اُڑا دیا، سکولوں کو بموں سے اُڑا دیا، اس کا شریعت سے کیا کام تھا؟۔
صرف اس بات سے ہمارے جوانوں کے سر کاٹ دئیے گئے کہ قمیص کا کالر جو تم نے کپڑے پہنے ہیں یہ شریعت کے مطابق نہیں ہیں۔ اس بنیاد پر بھی ہمارے پشتون جوانوں کے سر کاٹ دئیے گئے۔
راتوں کو بڑے بالوں والے آجاتے تھے انہوں نے پگڑیاں سروںپر باندھ رکھی ہوتی تھی، کلاشنکوف ساتھ ہوتے تھے۔ وہ ان کے گھر میں آجاتے تھے کہ ہمیں رات کو رکھوگے اور کھانا بھی دوگے۔ وہ بیچارا اکیلا ہوتا تھا، انکے ساتھ بال بچے، مائیں بہنیں ہوتی تھیں۔ بھائی ہوتے تھے اور یہ بلائیں ان کے ہاں آجاتے۔ پھر جب یہ چلے جاتے تو صبح فوجی آجاتے کہ تم ہی طالبان کو کھانا دیتے ہو؟۔ اگر طالبان کو روٹی دیدیتے تو فوجی مارتے اور اٹھاتے اور اگر نہیں دیتے تو طالب قتل کرتے اور یہ دونوں آپس میں حقیقت میں ایک تھے، صرف ہمارے علاقہ کیلئے چال بنایا تھا۔ اب پھر جب اس کے نتیجے میں ہمارے پشتون کراچی آگئے۔ یہاں ہم نے زندگی شروع کی تو ہمارے ساتھ کیا سلوک تھا؟۔ ہمیں پولیس اور رینجرز نے ستایا۔ کبھی ایم کیو ایم کو ہمارے لئے بلا بنادیتے تھے اور کبھی کسی اور کو۔ کتنے جنازے ہونگے جو تمہارے سلمان خیل قبیلے میں پہنچے ہوں گے؟۔ یعنی پشتونوں کے ہاں کوئی ایسا قبیلہ ، کوئی گاؤں اور کوئی گھر ایسا نہیں رہا جہاں لاش نہیں پہنچی ہو۔ تمہارے اربوں روپے کی جائیداد انہوں نے جلا ڈالیں۔ اور یہ کام کتنا عرصہ چلا؟۔ بارک خان 20 سال تک تو مسلسل یہ کام چلا ہوگا نا؟۔
مطلب یہ ہے کہ مسلسل مگر اب ہم پوچھتے ہیں اس دوران پاکستان کی آئی ایس آئی کہاں تھی۔ ایم آئی کہاں تھی؟۔ پولیس کہاں تھی، رینجرز کہاں تھی؟۔ انٹر نیشنل شہر میں ایک ایک دن میں سو سو( 100،100) پشتون قتل ہورہے تھے۔ اربوں روپے کی جائیداد یں لوگ ہماری جلا رہے ہیں۔ اور میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ میرا خوار غریب پشتون ہوٹل میں مزدوری کرتا ہے کوئی ڈمپر چلاتا ہے۔ کوئی نسوار بیچتا ہے۔ ان خوار غریب لوگوں کو دن دیہاڑے قتل کیا جارہاتھا، پھرادارے ہمیں دیکھ رہے تھے۔یہ اسلام کے نام پرجو اس ملک کو بنایا ہے ، یہ سب ہمیں کو دیکھ رہے تھے۔ پنجابی، سندھی ، بلوچ ہمیں دیکھ رہے تھے یہ سب ہمیں دیکھ رہے تھے۔یہ ادارے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ ہمارا کسی نے پوچھا تک نہیں ہے۔ کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ ان انسانوں اور مسلمانوں پر یہ ظلم کون کرتا ہے؟۔پھر راؤ انوار پیدا ہوگیا۔ راؤ انوار 19سال تک مسلسل بیٹھا رہا۔ ملیر کے ضلع میں۔ اس نے پھر ہلاکو خان اور چنگیز خان کی یادیں تازہ کردیں۔ ایک معمولی سا ایس ایس پی اور اسکے پاس اتنا بڑا پاور؟۔ اربوں روپے سہراب گوٹھ میں بھتے وصول کرتا تھا، ریتی والوں سے بھتہ لیتا تھا۔ وہ دکانوں پر قبضے کرتا تھا۔ مختلف لوگوں کو اس نے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ پھر اتنا بدمعاش بن گیا کہ سرعام کہا کرتا تھا کہ پشتون ، پشتون میں خاص کر محسود میرے لئے اے ٹی ایم (ATM )کارڈ ہیں۔ جب ہمیں پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے تو محسود کو اٹھالیتے ہیں۔ پھر اس کو کہتے ہیں کہ پیسے دیتے ہو یا طالبان کے ساتھ تجھے فٹ کردیں؟۔ یہ واقعات اس نے بہت کئے۔ ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں سینکڑوں لوگوں کو اس نے اٹھایا تھا۔ جو پیسے دیتا تھا تو وہ جان چھڑالیتا تھا اور اگر پیسے نہ دیتا تھا تو اس کو سپر ہائی وے پر لے جا تے اور قتل کردیتے۔ تھوڑے سے لمحہ کے بعد راؤ انوار نے کلاشنکوف اُٹھایا ہوتا تھا، جیکٹ پہنی ہوتی تھی۔ اور اعلان کردیتا تھا کہ اس کا فلاں کالعدم تنظیم سے تعلق تھا، اس کا ڈرائیور تھا، اسکے ساتھ یہ یہ تعلق تھا۔ اور قصہ ختم جوجاتا تھا۔ یہی پشتون پھر اپنے مردے کی لاش کو تین لاکھ چار لاکھ اور پانچ لاکھ میں اٹھاتے۔ چپکے سے رشوت نہ دیتے تو وہ لاش بھی حوالے نہیں کرتے تھے۔ اور دھمکی دیتے تھے کہ ہم رپورٹ کردیتے ہیں، یہ تو دہشت گرد تھا، یہ طالبان کا آدمی تھا، اچھا آپ اسکے چچازاد بھائی ہو، اسکے بھائی ہو تو بیچارہ پھر ڈرتا تھا اور چپکے سے پیسے دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ہمارا بھائی ناکے پر مار دیتے تھے اور پھر اپنے بھائی کی لاش کیلئے پانچ لاکھ رشوت بھی دیتے تھے۔ راتوں رات اس کو وزیرستان لیجاتے تھے۔ یہ ہماری زندگی تھی۔ہمیں سب دیکھ رہے تھے کوئی ایک بھی پاکستانی مسلمان نظر نہیں آیا جس نے ہم پشتونوں کے سر پر ہاتھ رکھا ہو،کہ ان انسانوں اور مسلمانوں کیساتھ یہ ظلم کیوں کر رہے ہو۔ آخر انکا گناہ کیا ہے؟۔سب خاموش تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ نقیب کو شہید کردیا۔ راؤ انوار کے ہاتھوں۔ اس سے پہلے زیادہ طاقتور جوانوں کو مارا تھا مگر ہم میں ہمت نہیں تھی۔ اس سے زیادہ خوبصورت جوانوں کو مارا ۔ میں خود یہ کہتا ہوں کہ ہماری کسی ایک ماں یا بہن کی آہ کو خدا نے قبول کیا ہوگا ۔یہ اتنے مظالم ہم پر ہوئے تھے اسلئے راؤ انوار گرفت میں آیا۔ تم میرے گھر پر کالے چشمے اور سادے کپڑے پہن کر آجاتے ہو اور میرا بھائی یا بھتیجا اُٹھالیتے ہو اور چار پانچ ماہ تک مجھے پتہ نہیں چلتا ہے کہ کس جرم پر تم نے اس کو اٹھایا ہے۔ کس تھانے میں لے گئے ہو۔ اس طرح سے مت کرو، اگر میرے بیٹے، بھائی یا بھتیجے نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کو عدالت میں پیش کردو۔ہم کہتے ہیں کہ اس کو قرار واقعی سزا دیدو ۔ لیکن یہ مت کرو کہ نہ کوئی عدالت ہے اور نہ کوئی چیز ہے۔ کئی مہینے سے آپ نے غائب کیا ہے ، ہم سب روتے ہیں، مائیں بہنیںرورہی ہیں اور چار پانچ ماہ بعد پھر اسکی ایک جگہ لاش پڑی ہوتی ہے اور تم نے اس کو مارا ہوتا ہے یہ کونسا ڈرامہ ہے کہ شناختی کارڈ دکھاؤ۔ اور جب شناختی کارڈ دکھاؤ ،یہ تو وزیرستان کا ہے۔ یہ تو باجوڑ کا ہے ۔یہ تو چمن کا ہے۔ یار تمہارے نادرا والے نے دیا ہے ۔ اس کو میرے باپ نے تو نہیں بنایا ہے۔ یہ تمہارے پاکستان کا ادارہ ہے نادرا۔ میں پاکستانی ہوں۔ میں وزیرستان کا ہوں یا کراچی کا ہوں، مجھے فخر ہے وزیرستان پر، میرا وطن وزیرستان ہے۔یہ شناختی کارڈ کے بغیر بھی نہیں چھوڑتے اور اگر تمہارے پاس شناختی کارڈ نہ ہو توپھر واللہ ایک لاکھ روپے سے بھی جان نہیں چھڑا سکتے ہو۔ تیرے محلے میں سرکاری سکول نہیں ، کوئی سرکاری ہسپتال تمہارے محلے میں نہیں۔ کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ بھی چھوڑیں کہ ان سہولیات سے محروم ہیں۔ بدلے میں کیا دیا ہے ۔ تمہاری گلی چرس کا اڈہ ہوگاشراب کا اڈہ ہوگا۔ چور کھلم کھلا گھومیں گے۔ میرا اور آپ کا نسل جب ہسپتال نہیں، سکول نہیں، خوبصورت پارک نہیں ہے۔کوئی سینٹر نہیں ہے۔ سائیڈ پر چرس ، ہیروئن اور شراب کے اڈے بنائے ہیں۔ ہماری نئی نسل جو پنپ رہی ہے۔ان سے کیا بنے گا چور اور دہشت گرد بنیںگے۔ معمار میں ہم ایک پارک میں گئے ، جسکی چاردیواری بھی نہیں تھی۔اس میں فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں، بچے تھے۔ ہم نے کیک کاٹا ، زندہ باد اور مردہ بعد کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ کسی منظم انداز میں بھی ہم نہیں گئے ، چند دوستوں کی ذاتی شوق سے ہم گئے۔ کیک کاٹا تو بچے بھی آئے۔ ہم نے ان کو بھی کیک دیا اور دوسری فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے بھی کیک منگوایا۔ وہ اردواسپیکنگ تھے کہ خانصاحب ہمارے لئے بھی تھوڑا سا کیک بھیجو۔ کیک بہت بڑا تھا۔ بحرحال ہم نے سب کو کیک دیدیا۔ پھر بھی تھوڑا سا رہ گیا۔ اس میں پولیس کی انٹیلی جنس آئی۔ انہوں نے بھی ہمارے ساتھ کیک کھایا۔ انہوں نے کہا کہ کیا پروگرام تھا۔ ہم نے کہا کہ کوئی پروگرام نہیں تھا ویسے ہی آئے تھے شغل کیلئے اپنی طبیعت سے۔ کیک کاٹا اور کھالیا ۔ انہوں نے بھی ساتھ میں کھایا اور کہا کہ ٹھیک ہے مہربانی۔ جب ہم تھوڑا دور گئے تو اس طرف سے پولیس آگئی اور ہم پرکلاشنکوف ، پسٹل تھامے اور بلٹ جلد سے چیمبر کردئیے۔انکا یہ طریقہ کار۔ ہم نے کہا کہ بابا کیا مسئلہ ہے ۔خداخیر کرے یہ تم کیا کررہے ہو۔ پھر یہ کونسا طریقہ…

بھارتی میڈیا چینلوں کے گدھ اینکروں نے پاکستانی کشمیر میں انڈین فوجی اسٹرائک کے جھوٹےفوٹیج دکھادیئے

بھارت میں کچھ میڈیا چینلز اورمودی سرکار کو خوش کرنے کی دوڑ میں لگے ان میڈیا چینلوں کے
گدھ اینکروںکی وجہ سے ملک میں لوگوںنے صحافت کو دلالوں کا پیشہ کہنا شروع کردیا ہے۔
میڈیا چینلوں نے جھوٹ سے پاکستانی کشمیر فوج کے اسٹرائک کے فوٹیج دکھادئیے ، پھر انہیں آہستہ آہستہ اس خبر کی جھوٹ کا پتہ چل جانے کی خبر کے بعد ڈیلیٹ کرنا شروع کردیا تھا
چینل مودی کو خوش کرنے کیلئے کہ اتنا جھوٹ بولتے ہیںکہ عوام کے دماغ میں اس قدر بیٹھ جاتا ہے کہ جب ان کو سچ بتایا جائے تو اسکا یقین نہیں کرتے بلکہ غدار کہنا شروع کرتے ہیں
بھارتی پروگرام ”پولیٹیکل تماشہ.. ود.. ڈاکٹر عرشی”
بھارت میں کچھ میڈیا چینلز اورمودی سرکار کو خوش کرنے کی دوڑ میں لگے ان میڈیا چینلوں کے گدھ اینکروںکی وجہ سے ملک میں لوگوںنے صحافت کو دلالوں کا پیشہ کہنا شروع کردیا ہے۔ 19 نومبر جمعرات کی شام تقریباً 7بجے کو اچانک سے کئی بڑے چینل بھارت میں گودی میڈیا کے ٹی وی چینلوں آج تک، اے بی پی نیوز، ٹائمز ناؤ، ریپبلک ٹی وی سمیت کئی ٹی وی چینل کی اسکرینیں پاکستانی کشمیر میں بھارتی فوج کی ایئر اسٹرائیک کی خبروں سے جگمگا اٹھیں۔ فوج کی ایئر اسٹرائک والی بریکنگ نیوزکیساتھ ہی آناً فاناً کچھ چینلوں کے بکاؤ اینکروں نے اس موضوع پر ہوائی پینل ڈسکشن کا تماشہ بھی شروع کردیا۔ ویسے ہی ایک چینل پاکستان یا مسلمانوں سے جڑی ہر خبر کو اس طرح سے سجاتے سنوارتے ہیں کہ اس سے فائدہ ملک کی مودی سرکار کو ہو۔ اور پھر بھاجپا (بی جے پی) کے نیتا عوام کو جاکر بتاتے ہیں کہدیکھو مودی جی نے کتنا زبردست کام کیا۔ اب آپ بھوکے پیٹ فخر محسوس کریں۔ یہاں پر سب سے زیادہ مشکل اسی بات کی ہے کہ جب عوام تک اس میڈیا کی طرف سے چلائی ہوئی جھوٹی خبر کی سچائی پہنچتی ہے اس سے پہلے جھوٹ انکے دماغ پر قبضہ جما کر اپنا کام کرچکا ہوتا ہے۔ جھوٹ پھیلانے میں یہ بکاؤ میڈیا اتنا ماہر اور چست ہے کہ ان چینلوں کو دیکھنے والے بھارت کے کروڑوں لوگ ان کی طرف سے دکھائی گئی خبروں کو اس حد تک سچ مانتے ہیں کہ اگر آپ ان چینلوں کے دیکھنے والے کسی شخص کو سچ بتائیں گے بھی تو وہ آپ کی بات پر یقین ہی نہیں کرے گا اور الٹا آپ کو ہی دیش کا غدار کہے گا۔ کئی بار ان چینلوں کے کارنامے اور حقیقتوں کو سوشل میڈیا پر بے پردہ کراجاچکا۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ تک اس بات کو کہہ چکا ہے کہ میڈیا پر کسی طرح کا تو سیلف ریگولیشن تو ہونا ہی چاہیے۔ لیکن مودی سرکار کے سائے میں پنپنے والے یہ نفرت کا زہر بیچنے والے سیلز مین اور سیلز وومین دونوں کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں۔ ان چینلوں میں بیٹھے دانشور دہشت گرد نفرتی زہر کا کاروبار بند کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور حکومت کو خوش کرنے کیلئے یہ بنا کراس چیک کئے فرضی خبروں کو چلاتے رہتے ہیں۔ حالانکہ لگاتار سوشل میڈیا پر بے عزت ہونے کے باوجود یہ اینکر سرکار کو خوش کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دیتے آرہے ہیں۔ اور جو نیا تماشہ ان نام چین چینلوں نے انجام دیا ہے وہ ہے 19نومبر 2020کو۔ جی ہاں! ان چینلوں نے یہ خبر چلادی کہ بھارتی فوج نے پاکستانی کشمیر میں ایئر اسٹرائک کردی ہے۔ ستا دھاری پارٹی بی جے پی کو سب سے زیادہ خوش کرنے کیلئے انہوں نے دھواں دھار طریقے سے اس خبر کو ٹی وی سمیت سارے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرتیز رفتاری سے دوڑادیا۔ان اینکروں نے جوش میں بڑے بڑے دعوے تک کردئیے۔ آج تک کے اینکر روہت سردانا نے چیخ کر کہا کہ اس وقت ایک بڑی خبر آپ کو دے دیں کہ پاکستان کے دہشت گردوں پر بھارت نے ایک اور ایئر اسٹرائک کردی ۔ وہیں ٹائمز ناؤ نے تو ایئر اسٹرائک کے ویڈیو کلپ تک چلادئیے۔ ساتھ ساتھ چینل کے دو سینئر خود کو جرنلسٹ کہنے والے لوگوں نے اس ایئر اسٹرائک پر تفصیلی بحث شروع کردی۔ اسی طرح ری پبلک ٹی وی نے تو اس خبر پر بات کرنے کیلئے پینل ہی بٹھادئیے۔ اوراے بی پی نیوز نے اس خبر پر مودی کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ مودی سرکار کی بھارتی حکومت کی ایک اور بڑی کامیابی۔یہ تماشہ یہیں پر نہیں رکا ہر دن نیشنلزم اور دیش بھگتی کا ڈھول پیٹنے والے کچھ چاپلوس، فرضی اینکروں نے سرکار کو خوش کرنے کیلئے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی اس افواہ کو پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج تک کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انجنا اوم کاشیاپ نے 7بجکر 4منٹ پر ٹوئٹ کیا کہ پی او کے (pakistan occupied kashmir)میں بھارتی فوج کی ایک اور بڑی اسٹرائک۔ پی او کے میں اب تک کا سب سے بڑا آپریشن۔ یہی حال نیوز نیشن کے دیپک چورسیا کا بھی رہا۔ جو کہ حال کے دنوں میں اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے فیک نیوز پھیلاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں انہوں نے بھی لکھا کہ پی او کے میں اب تک کا سب سے بڑا اسٹرائک۔ دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ، فوج کے جوانوں کا آپریشن کامیاب۔ اے بی پی نیوز کی روبیکا لیاقت کا جوش تو اس دوران دیکھنے کے لائق تھا۔ انہوں نے تو ٹوئٹ میں اسٹرائک کا تو ذکر کیا ہی ساتھ ہی دوسرے اینکروں سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اب کی بار آر پار کاٹیگ بھی چلادیا جیسے بہت ہی پختہ ثبوتوں کے ساتھ اس اسٹرائک کی پوری انفارمیشن انہوں نے حاصل کرلی ہو۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ پی او کے (POK)میں بھارتی فوج کی ایک اور بڑی ٹارگٹڈ اسٹرائک۔ دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ۔ بارود سے ہوگا سب کا سواگت (استقبال) اب کی بار آر پار۔ چینلوں نے اس معاملے کو لیکراسکرینوں کو اتنا گرمادیا کہ بھارتی فوج کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل پرم جیت سنگھ کو خود سامنے آنا پڑا۔ اور چینلوں پر دکھائی جانے والی خبروں کو انہوں نے پوری طرح سے بے بنیاد اور فیک بتاکر ان جوکروں کے تماشے کو بند کرایا۔ اسکے بعد ان چینلوں کے گودی اینکروں نے آہستہ آہستہ اپنے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے شروع کردئیے۔ اب آپ کو بتادوں کہ یہ تماشہ آخر شروع کیسے ہوا تھا۔ دراصل اس خبر کی ابتدائی سورس انڈین نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالے سے آئی ایک رپورٹ تھی۔ حالانکہ اس خبر کے کچھ ہی دیر بعد بھارتی فوج نے پی او کے (POK)میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائک جیسے کسی بھی ایکشن کو خارج کردیا۔ فوج نے بیان جاری کیا کہ ایسی کوئی اسٹرائک نہیں کی گئی ہے۔ اسکے بعد زیادہ تر ٹی وی چینلوں نے یہ خبریں ہٹالیں۔ لیکن اس خبر کی بنیاد پر کچھ گھنٹوں کے دوران ان چینلوں نے پورے ملک میں طوفان سا کھڑا کردیاتھا۔ بعد میں پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کی طرف سے یہ وضاحت آئی کہ اس نے کسی نئے ایئر اسٹرائک کی بات نہیں کی تھی بلکہ اس نے 13نومبر کو اپنے ایک آرٹیکل میں ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی پر اپنا صرف ایک تجزیہ ہی جاری کیا تھا۔ اس آرٹیکل کی لینگویج ایسی تھی جس پر بعض چینلوں نے اپنی مرضی سے ایئر اسٹرائک بتا کر چینلوں پر چلادیا۔ جبکہ سچائی یہ تھی کہ 19نومبر کو ایل او سی پر سیز فائر کی کوئی خلاف ورزی ہی نہیں ہوئی تھی۔ لگ بھگ تمام گودی میڈیا کے نیوز چینلوں نے اس حساس مسئلے کو تازہ ائیر اسٹرائک کے طور پر پیش کیا۔ اور ان نیوز چینل کے اینکروں نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بے حد غیر ذمہ دارا نہ طریقے سے اس فرضی خبر کو چلایا اور پھیلایا۔ پوری دنیا کے سامنے ہنسی ور چاپلوسی کا نمونہ بن چکے ان نیوز چینلوں نے مودی سرکار کی واہ واہ کرنے اور مودی سرکار کو خوش کرنے کیلئے جو ہڑ بڑی اور جو گڑ بڑی دکھائی اس سے بہت آسانی سے بچا جاسکتا تھا۔ رپورٹنگ کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں وہ یہ کہ اس طرح کی بڑی اور حساس خبر کو ڈبل چیک کرنا۔ ساتھ ہی ساتھ کم از کم دو ذرائع سے ان کی تصدیق کرنا۔ لیکن صحافت کو دلالوں کا پیشہ بنانے والے ان لوگوں نے اپنے آقا کو خوش کرنے کی جلد بازی میں اصلیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس فرضی خبر کو چلادیا۔ سب سے زیادہ دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ ان اینکروں نے جب پہلا ٹوئٹ کیا تو اس میں پی ٹی آئی کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا۔ لیکن فوج نے جیسے ہی اس خبر کو بے بنیاد بتایا تو ان اینکروں نے خود کو بچاتے ہوئے اس مسئلے کو پی ٹی آئی کے سرپر پھوڑ دیا۔ نیوز ٹی وی چینل اور اینکروں کے اس غیر ذمہ دارانہ تماشے کی وجہ سے دوسرے دن دن بھر ٹوئٹر پر فرضی گودی میڈیا معافی مانگے۔ ٹاپ پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ ویسے چاپلوس میڈیا کی اتنی دھلائی ہونے کے بعد امید تو یہ ہونی چاہیے کہ ان کو عقل آجائے اور وہ حکومت میں بیٹھے حکمرانوں کو خوش کرنے کے بجائے عام پبلک کے مفاد سے جڑی خبروں کو دکھائیں لیکن بنا کچھ سوچے سمجھے اپنے اور مودی سرکار کے فائدے کیلئے پچھلے کئی برس سے فرضی خبریں چلا کر عوام کو بیوقوف بنانے والے یہ لوگ آسانی سے سدھر جائیں گے اسکی امید تو کم ہی ہے۔

 

 

نسل کی بنیاد پر کسی سے تعصب نہیں شکل کالا گورااللہ نے بنایا ہے ، منظور پشتین

پشتون دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ پشتون دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم پر خواہ مخواہ میں دہشت گرد ہونے کا لیبل لگایا گیاہے۔
منظور پشتین وہی مؤقف پیش کررہاہے جو پاکستان کا دنیا کے سامنے ہے کہ پاکستان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہے

کراچی(پی ٹی ایم جلسہ عام )یہ وضاحت کرتا ہوں کہ ہم نسل پرست نہیں۔ نسل کی بنیاد پر ، شکل کی بنیاد پر، کھانے پینے کی بنیاد پر، پہننے کی بنیاد پر ہم کسی کے ساتھ کوئی تعصب نہیں کرتے ہیں۔ کوئی کالا ہے سفید ہے سرخ ہے اس کو اللہ نے شکل دی ہے کس نسل کا ہے وہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ کون کیا پہنتا ہے کیا نہیں پہنتا، کیا کھاتا ہے کیا نہیں کھاتا وہ ان کی اپنی مرضی لیکن ہمارے وطن کا استحصال کرکے اپنے آپ کو آباد کرو گے تب اس کے خلاف ہم اٹھیں گے۔ نسل نہیں استحصال کی بنیاد پر ہم اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔ اپنے وطن کا دفاع کرتے کرتے پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوانوں نے اپنے سر کا نذرانہ پیش کیا۔ اور ارمان لونی جو یہاں کھڑے ہوکر تقریر کرتے تھے انہوں نے قربانی دی۔ خرکمر اوروانہ اور دیگر پشتون شہداء کو ہم اس مجمع کی طرف سے ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

پاک فوج، حکومت، اپوزیشن، پی ٹی ایم اورایم کیو ایم،بلوچ اور سب لوگ یہ آیات غور سے پڑھ لیں!

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (204) وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (205) وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَئُوْف بِالْعِبَادِ (207) یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہ لَکُمْ عَدُوّ مُّبِیْن (208) فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآئَتْکُمُ الْبَیِّنَاتُ فَاعْلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْز حَکِیْم (209) ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَآئِکَةُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (210) اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو ملک میں فساد ڈالتا اور کھیتی اور نسل کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتااور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنی عزت کا مسئلہ سمجھ کر اور بھی گناہ کرتا ہے، سو اس کیلئے دوزخ کافی ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیںاور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔اے ایمان والو! اسلام میں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔پھر اگر تم کھلی کھلی نشانیاں آجانے کے بعد بھی پھسل گئے تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے اور سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں( سورۂ بقرہ کی ان آیات کی روشنی میں سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک لیں)

عمران خان کی پہلی اولاد بھی ناجائز ہے اور پہلی حکومت بھی ناجائز ہے۔ چیئر مین پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن

وہ پشتون نہیں بے غیرت ہے جو پی ٹی آئی کا سپورٹر ہے۔چاہے خٹک ہو، مروت ہو یا بنوچی ہو یا پھر بیٹنی ہو۔جو عمران خان دلّے کو وٹ دے

مولانا فضل الرحمن نے مولانا امان اللہ حقانی کی یاد میں ایک تقریب سے لکی مروت میں خطاب کیا

مولانا فضل الرحمن نے لکی مروت میں مولانا امان اللہ حقانی کی یادگارمیں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ پشتون نہیں جو عمران خان کا سپورٹر ہو، چاہے وہ خٹک ہو، مروت ہو ، بنوچی ہو یا بیٹنی ہو”۔ عمران خان کی پہلی اولاد بھی ناجائز تھی اور پہلی حکومت بھی ناجائز ہے”۔ مولانا فضل الرحمن سے مروت قوم کے بعض لوگ بہت شدومد کیساتھ گلہ کررہے ہیں لیکن مولانا نے پشتون قوم کو غیرتمند قرار دیکر پاکستان کی دوسری قومیتوں پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ مولانا کے اس بیان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پنجابی، سرائیکی، بلوچ ، ہزارے وال ، کراچی کے مہاجر اور سندھی تو ویسے بھی بے غیرت ہیں اسلئے کہ ان کی اپنی جماعت کے راشد سومرو نے بھی لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیا ۔ باقی قوموں کو اثر نہیں پڑتا ہے لیکن پشتون بے غیرت ہیں جو عمران خان کا ساتھ دیتے ہیں اور اس پر تفصیل سے صفحہ نمبر2میں روشنی بھی ڈالی ہے۔
پاک فوج، حکومت، اپوزیشن، پی ٹی ایم اورایم کیو ایم،بلوچ اور سب لوگ یہ آیات غور سے پڑھ لیں!
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (204) وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (205) وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَئُوْف بِالْعِبَادِ (207) یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہ لَکُمْ عَدُوّ مُّبِیْن (208) فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآئَتْکُمُ الْبَیِّنَاتُ فَاعْلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْز حَکِیْم (209) ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَآئِکَةُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (210) اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو ملک میں فساد ڈالتا اور کھیتی اور نسل کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتااور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنی عزت کا مسئلہ سمجھ کر اور بھی گناہ کرتا ہے، سو اس کیلئے دوزخ کافی ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیںاور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔اے ایمان والو! اسلام میں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔پھر اگر تم کھلی کھلی نشانیاں آجانے کے بعد بھی پھسل گئے تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے اور سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں( سورۂ بقرہ کی ان آیات کی روشنی میں سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک لیں)