پوسٹ تلاش کریں

قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے

قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن میں اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ اور اولی الامر کی حیثیت سے رسول اللہۖ سے بھی اختلاف کی گنجائش ہے مگر امامیہ میں اختلاف کی گنجائش نہیں!

واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ولٰکنّ اللہ حبّب الیکم الایمان و زےّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان

(اُولٰئک ھم الرّٰشدونO) اور جان لو ! کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول ہے، اگر بہت سے امور میں وہ تمہاری بات مان لیں تو تم خود ہی مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ نے تمہارے دلوں…

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا” اور جان لو! بیشک تمہارے اندر اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات اکثر امور میں مان لیں تو تم مشکل میں پڑجاؤ۔اور لیکن اللہ نے تمہارے اندر ایمان کی محبت ڈالی اور اس سے تمہارے دلوں کو مزین کردیااور تمہیں کفراور فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا اور یہی لوگ راشدین ہیں۔ اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے۔اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اگر مؤمنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو انکے درمیان صلح کراؤ۔ اور اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پس جب پلٹ آئے تو انکے درمیان صلح کراؤ عدل کیساتھ۔اور انصاف کرو۔بیشک اللہ انصاف والوں کو پسند فرماتا ہے، بیشک مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔ پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔اور اللہ سے ڈرو ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔ اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں کسی دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ اپنی جانوں پر طعن وتشنیع کرو۔ اور نہ ایکدوسرے کو بُرے القاب سے پکارو۔ برا ہے فسق نام بعد ایمان کے۔ اور جو اس روش سے توبہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! زیادہ گمان سے اجتناب برتو۔بیشک بعض ظن گناہ ہوتے ہیںاور نہ کوئی ایکدوسرے کی غیبت کرے۔ کیا تم میں کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے؟۔ توتم اس سے کراہیت کرتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم والا ہے۔ اے لوگو! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں برادری و قبائل میں تقسیم کردیا تاکہ تمہاری شناخت ہو۔ بیشک تمہارے اندر زیادہ عزتدار وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والاخبروالا ہے۔ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے اور لیکن تم کہو کہ ہم اسلام لائے۔ اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ۔پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا۔ اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا، اللہ کی راہ میں۔ وہی لوگ سچے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین کا بتا رہے ہو؟۔ اور اللہ جانتا ہے جوکچھ آسمانوںاور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ آپ کو جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے ہیں۔کہہ دیجئے کہ مجھے مت جتاؤ اپنے اسلام کو بلکہ اللہ نے تمہارے اُوپر احسان کیا ہے کہ ایمان کیلئے رہنمائی کی ہے اگر تم سچے ہو۔ بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کررہے ہو۔ (سورۂ الحجرات آیت7 سے آخر تک)

اہل تشیع نے اپنی عوام کو اس قدر متنفر کردیا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش بھی برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان ، ایران، افغانستان، ہندوستان اور عرب وعجم میں عوام کی حیثیت بالکل اعرابیوں کی طرح ہے۔ وہ قرآن سے اپنی اصلاح نہیں چاہتے بلکہ اپنا اسلام کیش کرکے مسلط کررہے ہیں۔ بلکہ اعراب سے بھی کئی درجے آگے نکل چکے ہیں۔

سورۂ محمد کے حوالے سے ان باتوں کی نشاندہی کردی جسکے مخاطب آج کے دور سے لیکر پہلے دور کے مسلمان اور مؤمنین ہیں۔ بنی امیہ کے جن حکمرانوں نے تاریخی مظالم کئے ہیں وہ اہلسنت کی مستند تاریخ اور احادیث کی کتب میں بھی ہیں۔ فرقہ واریت اور سینہ زوری ایکدوسرے کو قرآنی آیات کی تفہیم سے بھی دُور کررہی ہیں۔

سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون نے رسول اللہۖ سے مجادلہ کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی۔ جب میں نے علامہ طالب جوہری صاحب سے کہا کہ رسول اللہ ۖ سے اختلاف کی گنجائش تھی ؟۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے سورۂ مجادلہ کا حوالہ دیا تو اس نے قرآن منگوایا۔ قرآن میں سورۂ مجادلہ کی آیات پڑھ لینے کے بعد علامہ نے کہا کہ یہ متشابہات ہیں۔ محکم آیات ہیں کہ رسول سے اختلاف کی گنجائش نہیں تھی۔ پھر میں نے بدر ی قیدیوں کے بارے میں فدیہ کا حوالہ دیا۔ اُحد کے موقع پر بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کا حوالہ دیا۔ عبداللہ بن مکتوم کے حوالہ سے آیات کا حوالہ دیا اور جب کل کسی چیز کے بارے میں کوئی وعدہ کریں تو انشاء اللہ کہنے کا حوالہ دیا اور ان آیات کی اہل تشیع کے ہاں امام کیلئے بھی گنجائش نہیں ہے۔ علامہ جوہری صاحب نے کہا کہ میرے تحفظات اپنی جگہ پر لیکن آپ اپنی محنت کریں ہوسکتا ہے کہ ہمارے لئے بھی آسانی پیدا ہوجائے۔ وہاںکافی لوگ موجود تھے۔

قرآن میں اولی الامر کیساتھ اختلاف کی گنجائش ہے۔ اہل تشیع کے ہاں کسی امام سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآنی آیت کی انتہائی گمراہ کن تحریف کی حد تک غلط ترجمہ وتشریح کی اور حدیث سے بھی انتہائی مضحکہ خیز نتائج نکالے ہیں۔ ان کی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ سے کتاب غائب کی ہو۔ معروف شیعہ سنی عالم کی خستہ حالی اسلئے بتارہاہوں کہ یہ پہلے دور کے اعرابیوں سے بڑھ کر اعرابی بنے ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ حجرات کی آیات میں صحابہ کرام سے فرمایا کہ ” جان لو!اللہ کے رسول ۖ تمہارے اندر ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہاری مان کر چلیں تو تم مشکل میں پڑجاؤگے”۔ کوئی شک نہیں ہے کہ حدیث قرطاس میں حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو وصیت لکھنے میں اپنی بات منوائی تھی اور اس کی وجہ سے صحابہ کرام کی مشکلات میں اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ انصار ومہاجرین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر فتنہ وفساد برپا ہونے کی مشکل کھڑی ہوگئی تھی اور اہلبیت وصحابہ بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہوگئے تھے۔ رسول اللہۖ جنگوں میں جھنڈے کی خدمت جس ترتیب سے صحابہکے حوالے کرتے ،اسی ترتیب سے صحابہ نے باری باری جھنڈا اٹھایا تھا۔

اہل تشیع یہ بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ رسول اللہۖ سے اپنی بات منوانے کی بھی اللہ نے قرآن میں کہیں اجازت دی ہوگی اور اسکے باوجود اللہ نے یہ بھی فرمایا : ” اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈالی ہے اور تمہیں کفر، فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا ہے اور یہی لوگ راشدین ہیں ۔ اللہ کے فضل اور نعمت سے”۔ اہل تشیع کے ہاں یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ امام سے اختلاف رکھنے والے کو اتنی رعایت کا مستحق سمجھا جائے جتنا اللہ نے رسول اللہ سے اپنی اکثر بات منوانے والوں کو بھی رعایت نہیں بلکہ اپنے فضل سے بہترین صفات کا حامل قرار دیدیا ہے۔

اہل تشیع میں اتنا ظرف بھی نہیں کہ مؤمنوں کے دوگروہوں میں لڑائی کے باوجود دونوں کو مؤمن قرار دے۔ اگر دونوں میں صلح ہوجائے اور صلح کیلئے کردار ادا کرنے والا اہل تشیع کا اپنا دوسراامام ہو تب بھی اہل تشیع کو یہ بات مشکل سے ہضم ہوتی ہے۔ مؤمنوں کے دونوں گروہ کو آپس میں قرآن بھائی بھائی قرار دیتا ہے مگر اہل تشیع تک ان کے بڑوں نے قرآن کی یہ تعلیم پہنچانے کی زحمت نہیں کی۔ ہزارہ برادری پرمظالم ہوتے ہیں تو ہمارا دل دکھتا ہے لیکن فرقہ واریت کو ہوا دینے والے کو اپنی فیس کی پڑی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایکدوسری قوم کا مذاق اڑانے سے روکا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بہتر ہو جس کا مذاق اڑایا جارہاہے لیکن ہمارے اندر یہ حس بھی بیدار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا ہے۔ دونوں فرقوں میں ایکدوسرے سے اچھے اور ایکدوسرے سے برے ہرطرح کے لوگ موجود ہیں۔

سنی شیعہ کو کھٹمل اور شیعہ سنی اکابرکو کیا کہتے ہیں؟۔ لیکن اللہ نے اس برائی سے روکا ہے اور ایمان کے بعد ایسے فسق کے ناموں سے پکارنا بہت برا قرار دیا ہے۔ لیکن یہ تو ایمان والے نہیں اسلام والے اعرابیوں کی طرح ہیں۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ جو ان حرکتوں سے توبہ نہیں کرتا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ظن سے بھی اجتناب کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بہت سارے ظن گناہ ہوتے ہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں میں سے ایک گمان کرتے ہیں اور یہود آپ کے بارے میں ولد الزنا کا ظن رکھتے ہیں۔ اہلبیت وصحابہ کے حوالہ سے شیعہ سنی اپنے بہت سارے ظنوں میں افراط وتفریط کا شکار ہوکر گمراہ ہوگئے ہیں۔

اللہ نے تجسس اور غیبت سے بھی منع کیا اور غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پھر اللہ نے ایک ہی آدم و حواء کی اولاد قرار دیکر واضح کیا ہے کہ برادری اور قبائل محض شناخت کیلئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ پھر اعرابیوں کا ذکرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایمان نہیں وہ اسلام لائے ہیں۔ ایمان ابھی تک ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ اس کی وجہ یہ کہ جب تک اللہ پر ایمان لانے اور اسکے راستے میں مال اور جان سے جہاد کی آزمائش سے نہ گزرا جائے تو ایمان کا دعویٰ بہت مشکل ہے البتہ ان کے اچھے اعمال میں ان کیلئے کوئی کمی نہیں کی جائیگی۔ ہمارے مولوی تو تحائف لینے کے عادی ہیں۔

سورہ حجرات کی ابتدائی آیات رہ گئیں ۔ان میں اللہ فرماتا ہے کہ ” اے ایمان والو! اللہ اور اسکے رسول کے درمیان اپنی حیثیت کو مت بڑھاؤ۔ بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے اُونچا مت کرواور نہ آواز سے آپ ۖ کو اس طرح سے پکارو ، جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہ تمہارے اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے۔ بیشک جو لوگ اپنی آواز اللہ کے رسول کے حضور پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کیلئے چن لیا ہے۔ ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ بیشک جو لوگ حجرات کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں اکثر سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ہیں اور اگر یہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ انکی طرف نکلتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا اور اللہ غفور رحیم ہے۔اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس فاسق آئے ، کوئی خبر لے کر تو اس کی تحقیق کرلو۔ کہیں کسی قوم کو نادانستہ نقصان نہ پہنچادو۔ پھر اپنے کئے پر تم ندامت کرنے والوں میں سے ہوجاؤ”۔( الحجرات)

اُمت مسلمہ میں جتنی غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ان میں فاسقوں کا بڑا کردار ہے۔ اگر حقائق کا پتہ چلے تو اچھے لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہونگے۔ سالہا سال سے ایکدوسرے کیخلاف پروپیگنڈے کی مہم جاری ہے اور اگر فرقہ پرستی کی آگ بجھے تو جن کو فرقہ کے نام پر ورغلایا گیا ہے وہ ان لوگوں کو چندے دینا بند کردیں گے۔

اگر علماء وذاکرین کیلئے معاش کا درست بندوبست ہوجائے تو فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی محنت بھی نہیں ہوگی۔ جب حضرت حسین کے بعد ائمہ اہلبیت نے اپنے قیام کی جنگ نہیں لڑی اور مہدی غائب کا خروج ایرانی انقلاب کے باوجود بھی نہیں ہورہاہے تو اہل تشیع اپنے اعتقادات پر یقین رکھیں لیکن اہلسنت کا اس وقت ہی قصور ہوگا کہ جب ان کا ظہور ہو اور وہ نہ مانیں۔ جب جنگی آلات کی اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی تب بھی غیب کبریٰ میں گئے تھے تو اب ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کرلی ہے۔ ہم ایکدوسرے کے اکابرین کیلئے دلائل کی بنیاد پر بات کریں، سب وشتم نہ کریں۔ آج صلح کے ماحول میںہی ایکدوسرے کو سنی شیعہ حقائق پہنچا سکتے ہیں۔اغیار ماحول کو خراب کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو افغانستان، عراق اور شام کی طرح قتل قتال سے افہام وتفہیم کا موقع نہیں ملے گا۔ امریکہ نے عراق میں صدام کے خلاف ماحول بنایا اور شیعہ و کردوں نے ساتھ دیا۔ پھر داعش بن گئی تو امریکہ نے اس کو رستہ دیاتھا۔ اب پاکستان میں سازش کامیاب ہوگئی تو ہماری ریاست کچھ بھی نہیں کرسکے گی۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

سورہ محمد میں دور اول کے مسلمانوں کے بعد بنی اُمیہ کی حکومت کا واضح ذکر

سورۂ محمد میں اللہ نے جو نقشہ کھینچا ہے اس میں دورِ اوّل کے مسلمانوں کے بعد بنی امیہ اور بعد میں آنے والوں کو حکومت دیکر آزمائش سے لیکر موجودہ دور تک دنیا اور آخرت کی کامیابی و ناکامی کے معاملات کا واضح ذکر کیا ہے! سید عتیق لرحمن گیلانی

(الذین کفرواوصدّوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہمO والذین اٰمنوا و عملوا الصّٰلحٰت واٰمنوا بما نزّل علی محمد وھوالحق من ربھم کفر عنھم سیآٰتھم واصلح بالھمOذٰ لک بان الذین کفروا اتبعوالباطل وان الذین اٰمنوا اتبعواالحق من ربھم کذالک یضرب اللہ للناس امثالمھمOمحمد)

” جن لوگوں نے کفر کیااور اللہ کی راہ سے روکا ،انکے اعمال گمراہی ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے اور ایمان لائے اس پر جو محمد(ۖ) پر نازل ہوا اور وہ حق ہے انکے رب کی طرف سے انکے گناہوں کو ان سے دور کردیا اور ان کی حالت کو درست کردیا۔ یہ اسلئے کہ جنہوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی اتباع کی اور جو ایمان لائے انہوں نے حق کی اتباع کی اپنے رب کی طرف سے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کیلئے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے”(سورہ ٔ محمد)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ اہل حق کی حالت اللہ نے ہمیشہ اچھی کردی ہے۔ ان کے گناہوں کو ان سے ہٹادیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایمان لائے ،عمل صالح کئے بلکہ حق کا بھی بھرپور ساتھ دیا ہے۔ صحابہ کرام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سورۂ محمد کے بعد قرآن میں سورۂ فتح ہے جس میں اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا ذکر کیا ہے اور ساتھ اس وقت کے منافقین کا بھی ذکر کیا ہے اور مفت خور اعرابیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جو قربانی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے لیکن خوشحالی میں شرکت کا خود کو مستحق سمجھتے تھے۔ کفار کے مقابلے میں اللہ نے مسلمانوں کا حال کتنازبردست اچھا کردیا تھا؟۔

(ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوالعلم ماذا قال اٰنفًا اُلئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم و اتبعوا اھواء ھم O والذین اھتدوا زادھم تقوٰھم Oفھل ینظرون الا الساعة ان تأتیھم بغتةً فقد جاء اشراطھا فانّٰی لھم اذا جاء تھم ذکرٰھمOفاعلم انہ لاالہ الا اللہ واستغرلذنبک و للمؤ منین والمؤمنات واللہ یعلم متقلبکم ومثوٰکمO سورۂ محمد )

”اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ کو سننے کیلئے متوجہ رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے وہ لوگ نکلتے ہیں تو ان میں اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی کیا کہا ہے؟۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جنہوں نے ہدایت حاصل کی ،ہم نے ان کی ہدایت کو مزید بڑھادیا۔ تو کیا یہ اس گھڑی کا انتظار کررہے ہیں کہ اچانک آئے گی؟۔ بیشک اس کی نشانیاں آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آجائے گی تو ان کو نصیحت کا کیا فائدہ؟۔ پس جان لو! کہ بیشک اللہ کے سواء کوئی الٰہ نہیں ۔اور اپنے بوجھ کیلئے اللہ سے استغفار کرو اور مؤمنین اور مؤمنات کیلئے بھی۔ اور اللہ جانتا ہے تمہاری قبولیت اورتمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے”۔

کفارکو دلچسپی تھی کہ قرآن کے احکام کیا نازل ہو رہے ہیں ۔ مسلمانوں کیلئے قتال اور پھر فتح کا دن کب آئے گا؟۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کو آزمانا بھی تھا تاکہ یہ عذر باقی نہیں رہے کہ کس کو موقع ملا یا نہیں ملاتھا۔ کفارکے دلوں پر مہریں لگ گئیں اور مسلمانوں کی ہدایت میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔

(ویقول الذین امنوالولا نزلة سورة فاذااُنزلت سورة محمکة و ذکر فیھا قتال رأیت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشیّ علیہ من الموت فاولیٰ لھمO طاعة وقول معروف فاذا عزم الامر فلو صدقوا اللہ لکان خیرلھمO سورۂ محمد)

”اور ایمان والے کہتے کہ کاش کوئی سورة نازل ہو اور جب محکم سورة نازل ہوتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ دیکھ لیںگے کہ جن کے دلوں میں مرض ہے وہ آپ کو ایسی نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ ان پر موت طاری ہے۔ پس یہی ان کیلئے مناسب بھی ہے۔ ( اللہ کا قانون یہ ہے کہ ) اطاعت اور معروف قول۔ (اللہ کے احکام اور رسول اللہ ۖ کی فرمانبرداری) جب اولی الامر کسی بات کا عزم کرے۔اگر اللہ کی تصدیق کرتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا”۔

مسلمانوں اور کفار میں یہی فرق تھا کہ مسلمان چاہتے تھے کہ قرآن کی سورتوں کا نزول جاری رہے اور وہ کفار جن کے دلوں میں مرض تھا ،وہ اس مصیبت میں رہتے تھے کہ کب ان کی گوشمالی کیلئے کیا حکم نازل ہو۔ جب کوئی محکم سورة نازل ہوجاتی اور اس میں قتال کا بھی ذکر ہوتا تھا تو ان پر موت کے خوف کی کیفیت طاری ہوتی تھی۔ کفارِمکہ کی صلح حدیبیہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد یہی کیفیت جاری رہی تھی۔

جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد خلفاء راشدین کو خلافت کا موقع دیا تو انہوں نے عدل وانصاف قائم کیا اور کسی پر ظلم وزیادتی نہیں کی۔ حضرت عثمان مدینہ میں شہید ہوگئے اور حضرت علی نے کوفہ میں شہادت پائی۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب بنی امیہ کی ظالمانہ حکومت قائم ہوگئی۔ مروان بن حکم نے مدینہ میں صحابہ کرام پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔ حجاز مقدس میں اپنے اقتدار کی خاطربڑے مظالم کئے۔ حضرت حسن کی طرف سے حضرت معاویہ کے حق میں دستبرداری خوش آئند تھی مگر بنواُمیہ نے جس طرح کے مظالم صحابہ کرام اور اہلبیت پر روارکھے تھے یہ بالکل غلط تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکمO)” پس تم نافرمانی کروگے ،اگر تمہیں اقتدار مل جائے یہ کہ تم زمین میں فساد پھیلاؤ گے اور قطع رحمی کے مرتکب بنوگے”۔ (سورۂ محمد آیت22)

حضرت حسین ابن علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی المناک شہادتوں سے لیکر کیا نہیں کیا گیا؟۔ کیا یہ فساد اور قطعہ رحمی کا مظاہرہ نہیں تھا؟۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت قائم ہونے کے بعد منبر ومحراب سے حضرت علی پر سب وشتم اور لعن طعن کے خاتمے کا حکم جاری ہوا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ قرآن میں جن لوگوں کا بالکل واضح حال بیان ہوا ہے ، ایک عرصہ تک اس کی درست تفسیر اور تعبیر پر بھی پابندی تھی کہ مسلمانوں پر فرعون وہامان اور نمرود وشداد کی آیات فٹ کی جاسکتی ہیں؟۔ نماز میں بسم اللہ تک جہری پڑھنے پر پابندی لگائی گئی تھی اور آج قرآن کی غلط تعبیر وتفسیر میں کئی لوگ اپنے نصاب کی گمراہی کو سمجھنے کے باجود جانتے بوجھتے اعراض کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ محمد میں مزید فرمایاکہ ” یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ،پس ان کو بہرہ بنادیا ہے اور ان کی بینائی کو اندھا کررکھا ہے۔ تو کیا یہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔ بیشک جو لوگ مرتد ہوگئے اپنے پیٹھ پیچھے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت واضح ہوگئی ، شیطان نے ان کو شکنجے میں لیا ہے اوران کو اُمید دلا دی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہہ رکھا ہے جو اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرتے ہیں کہ عنقریب بعض چیزوں میں تمہاری ہم اطاعت کرینگے اور اللہ ان کے خفیہ رازوں سے واقف ہے۔ پھر کیسے ہوگا جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں پر ماریںگے اور انکے پشت پر ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے اتباع کی جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور اس کی رضاجوئی سے نفرت کی تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا۔ کیا گمان رکھتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے کہ ان کے کھوٹ کو باہر نہیں نکالے گا؟۔ اگر ہم چاہیں تو آپ کو ان کی پیشانیوں سے پہچان کرادیں اورآپ ضرور ان کی بات کے انداز سے ان کو پہچان لیں گے اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے تاکہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو جان لیں۔ اور خبریں ہم نے تمہارے بارے میں دی ہیں تاکہ اس کی آزمائش کریں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا ، اس کے بعد کہ ہدایت ان کے سامنے واضح ہوگئی تو اللہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچارہے ہیں اور عنقریب اللہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو،اپنے اعمال کو باطل مت کرو۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ، پھر مرگئے اور وہ کفار تھے تو اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ پس تم اپنی پستی مت سمجھو اور صلح کی دعوت دو، اور تم ہی اُونچے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور تمہارے اعمال کو رائیگاں نہ چھوڑے گا۔ بیشک دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگار بنو تو دے گا تمہارا بدلہ۔ اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔ اور اگر وہ تم سے وہ مانگ لے تو تمہیں ننگے پاؤں کردے گا تم بخل کروگے اور تمہارے کھوٹ کو باہر ظاہر کردے گا۔ دیکھو یہ تم ہو کہ تمہیں دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ تمہارے اندر وہ بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کیلئے بخل کرتا ہے اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑوگے تو اللہ کسی اور قوم کو تمہاری جگہ بدلے گا اور پھر وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے” ۔ سورۂ محمد آیت تیئس (23)سے آخر تک

بنوامیہ نے بہت زیادتیاں کیں تو بنوعباس نے ان کی جگہ لی اور بنوعباس نے نااہلی کا مظاہرہ کیا تو چنگیزخان کی اولاد نے ان کا قلع قمع کردیا۔ پھر سلطنت عثمانیہ قائم ہو ئی اور ان کا بھی خاتمہ ہوا۔ اسی طرح فاطمی سلطنت، مغل بادشاہ اور عرب بادشاہتوں کا سلسلہ اور پاکستان میں ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بینظیر بھٹو، نوازشریف، پرویزمشرف کے بعد پھر زرداری اور نوازشریف اور اب عمران خان تک بات پہنچی ہے۔ ایران اور افغانستان میں بھی حکومتیں بدلتی رہی ہیں۔ ایک سپر طاقت روس کا خاتمہ ہوا اور امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ برطانیہ کا اقتدار سمٹ گیا تھا۔ جرمنی اور جاپان نے بھی سپر طاقت کا مزہ چکھا تھا اورفرانس کی بھی بہت کالونیاں رہی ہیں۔

اسرائیل بھی عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت ہندو کی آزاد ریاست ہے۔ بنگالی بھی پاکستان سے آزادی حاصل کرچکے ہیں اور دنیا میں مختلف لوگوں کی حکومت اور اقتدار کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی بھی اقتدار کے مختلف معاملات دیکھ چکا ہے۔ جب تک مسلمان قرآن کی طرف توجہ نہیں کرینگے تو ان کی تنزلی کا سلسلہ کبھی نہیں رُک سکتا ہے۔ اسماعیل ساگر نے مولانا فضل الرحمن کے انٹرویو پر بہت سخت ردِ عمل دیا جس میںڈاکٹر دانش کے سوال پر یہ جواب دیا ہے کہ ” امریکہ میں جوبائیڈن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے اور اس پارٹی کی تاریخ یہ ہے کہ جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اسلئے پاکستان میں جمہوریت کو سپورٹ مل سکتی ہے”۔ لیکن مولانا فضل الرحمن پر سنگین غداری کے مقدمات چلانے کا مطالبہ کرنے والے طارق اسماعیل ساگر نے ریپبلکن پارٹی کے صدر جارج بش کے دور میں بلیک واٹر کے کردار پر یہاں چپ سادھ لی تھی۔ ایک فوجی کا دماغ یہی ہے کہ جس کی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کو دیوار میں چن دو۔ یہ بہت اچھا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید ذمہ دار عہدوں پر ہیں جو اشتعال میں نہیں آتے ہیں۔ پاکستان کسی قسم کی افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک پرامن فضاء قائم ہوئی ہے جس میں فوج کی موجودہ قیادت کا بہت بڑا اہم کردار ہے۔بلیک واٹر کے شرمناک کردار سے ہمیں نجات ملی ہے ، اپنی شدت پسند تنظیموں کا بھی ہم نے خمیازہ بھگت لیا ہے اور اب پاکستان کی تعمیر کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور برے لوگوں کو اقتدار بھی دیتا ہے لیکن مشکلات کے اوقات بدلتے رہتے ہیں۔

بہت لوگوں نے اقتدار اور اچھے دنوں کے خواب دیکھ لئے اور اللہ نے ان کو اقتدار دیا بھی لیکن اُمت کی آزمائش میں مزید اضافہ ہوتا چلاگیا ہے۔ پاکستان کی ریاست اب مزید کم عقلوں، مفادپرستوں اور نااہلوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں لگ رہی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

قرآن کی بنیاد پرپاکستان کو مشکلا ت سے نکالنے کابہترین راستہ: عتیق گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن صرف آخرت کی کامیابی کیلئے نازل نہیں کیاہے بلکہ دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا بھی قرآن کو واحد ، پہلا اور آخری راستہ قرار دیا ہے اور مثالیں دے دے کرحضرت موسیٰ فرعون وھامان وغیرہ کا ذکر کیاہے!!

(ونزّ لنا من السماء مآئً مبٰرکًا فانبتنا بہ جنّٰت وحب والحصیدOوالنخل بٰسقٰتٍ لھا طلع نضیدOرزقًا للعباد واحیینا بہ بلدةًمیتًا کذالک الخروجOسورہ ق)

پاکستان کے محکمۂ جنگلات نے قدرتی جنگلات بیچ کر مبارک بارشوں کا راستہ روکا۔ آج ہم پھر کھیتی باڑی اورباغات کے ذریعے پاکستان کو جنت بناکر مشکلات سے نکال سکتے ہیں!

جب(1970ئ) کی دہائی میں مجھے مینگورہ سوات جانے کا موقع ملا تو اس وقت میرے ماموں محکمۂ جنگلات کے افسر تھے۔ ایک فوجی جوان سے زیادہ جنگلات کی حفاظت کرنے والے افسر کی محنت نظر آرہی تھی۔ پھر وہ وقت آیا کہ جب مچھلی کی چوکیداری بلی کے سپرد ہوگئی۔ جنگلات کی حفاظت کرنیوالا طبقہ جنگلات اُگانے کے بجائے صرف کھانے کی ہوس میں لگ گیا۔ پھر رہی سہی کسر اس وقت نکلی کہ جب سوات میں طالبان کو معاملات سپرد ہوگئے۔

طارق اسماعیل ساگر نے اپنی ایک ویڈیومیں کچھ عرصہ پہلے بتایا تھا کہ (1997ئ) میں امریکہ نے قبائلی علاقوں میں کیمپ بنانے کیلئے اربوں ڈالروں سے دہشت گردی کا پلان بنایا تھا۔ پرویزمشرف کے دور میں راولپنڈی کے قریب روات میں بلیک واٹر نے اپنا مرکز قائم کیا تھا۔ جس میں کریمنل فوجی اور پولیس کے نکالے جانے والے افراد بھرتی کئے گئے تھے۔ اس وقت مجھے حق کی آواز اُٹھانے کی ہمت نہیں تھی اسلئے کہ جان کیلئے خطرہ بن سکتا تھا۔

مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ دنیا میں جنگ امریکی مفاد میں ہے ہماری حکومت ،اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کی قومی جماعتیں،مذہبی جماعتیں اور قوم پرست جماعتیں پاکستان میں جنگ کیلئے فضاء ہموار کررہی ہیں۔ فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کے پیچھے امریکہ ہے۔ جمعیت علماء ہند کے مشن پر جمعیت علماء اسلام پاکستان اور دنیامیںجنگوں کے خلاف ہے۔

ڈان کے پروگرام ذرا ہٹ کے میں وسعت اللہ خان، مبشر زیدی، ضرار کھوڑو نے اسلام کے سودی نظام کے ایک نام نہاد ایکسپرٹ کو بلایا ، جس نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کے ائرپورٹ ، موٹر وے وغیرہ کو اسلامی بینکاری کے تحت گروی رکھا گیا ہے جس کا نقصان نہیں فائدہ ہے۔ یہ سلسلہ اسلام کے نام پر موجودہ حکومت بھی جاری رکھے گی۔ جب طلاق اور حلالہ کے حوالے سے ڈاکٹر احمدجمال اور کسی خاتون نے ”ذرا ہٹ کے” میں ہماری نشاندہی کا تکلف کیا تو انہوں نے اپنی کم علمی کا اظہار کیا۔ حالانکہ جب اسلامی بینکاری کے حوالے سے ایک نام نہاد ایکسپرٹ کو اپنی رائے کا حق اسکرین پر دیا جو قوم کی کشتی ڈبو رہاہے تو ہمیں بھی بُلانا چاہیے جو قوم کی عزتیں بچا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے مبارک بارش کے ذریعے جہاں سورہ ق میں باغات کے ذریعے ملکوں اور شہروںکو زندہ کرنے اور مشکلات سے نکلنے کی نشاندہی فرمائی ہے وہاں قوم نوح اور کئی پیغمبروں کی قوموں کی تباہی کا بھی ذکر کیا ہے۔جب ہم قرآن کو پسِ پشت ڈال کرجنسی معاشرتی حلالہ کی لعنت سے سودی معیشت کے حیلے تک پہنچیں گے تو ہمارا ملک اور ہماری قوم کس باغ کی مولی ہے جو پھر تباہی سے بچ جائے؟ ۔ قرآن کی مثالیں آخرت کیلئے نہیں دنیا میں تباہی کے حوالے سے ہیں۔ پیغمبروں اور ان کی نافرمان قوموں کا احوال دنیا کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ آخرت آئی نہیں تو کس نے دیکھ لی؟۔

مولانا فضل الرحمن کے دائیں بائیں جانب والے کراماً کاتبین نہیں بلکہ ساتھی مولانا شیرانی ، حافظ حسین احمد، مولانا شجاع الملک اورمولانا گل نصیب خان ہیں۔ (مایلفظ من قولٍ الا لدیہ رقیب عتیدO وجاء ت سکرة الموت بالحق ذٰلک ماکنت تحیدO……)

سورۂ ق میں دنیا کے اندر جس انقلاب کا نقشہ پیش کیا ہے وہ وہی ہے جو فیض احمد فیض نے اپنے اشعار میں ذکر کیا ہے کہ یومِ حساب اورجزاء وسزا کی بات یہیں پر ہے۔ہر مجرم کے ساتھی ہی اسکے غلط کرتوت کی گواہی دیں گے۔ یہ دنیا میں موت کا وقت ہوگا جسکے مؤاخذے سے یہ خوفزدہ تھے۔ انقلا ب کے دن وعید کا صور پھونکا جائے گا۔ اس دن ہر مجرم کیساتھ ایک ہنکانے والا فوجی یا پولیس والا ہوگا اور دوسرا اسکے ساتھ گواہ بھی ہوگا۔ بیشک تو اس سے غفلت میں تھا تو ہم نے تیرا نقاب اُٹھا دیا تو آج تیری دید پتھراکے لوہا بن گئی ہے۔ اور اس کا ساتھی کہے گا کہ یہ جو میرے پاس تھا ،حاضر ہے۔ پھینک دو جہنم میں ہر سخت ناشکرے عناد رکھنے والے کو۔ منع کرنیوالا خیر سے حد سے تجاوز کرکے شک میں ڈالنے والا۔ جس نے اللہ کے ساتھ اپنا دوسرا الٰہ بھی بنار کھا تھا۔ ڈال دو اس کو سخت عذاب میں۔ اس کا ساتھی کہے گا کہ ہمارے رب میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا تھا لیکن وہ خود بہت دور کی گمراہی میں تھا۔ کہے گا کہ تم آپس میں میرے پاس جھگڑا مت کرو۔میں تمہیں پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا۔ میرے پاس بات بدلتی نہیں اور نہ میں اپنے بندے پر زیادہ ظلم کرنے والا ہوں۔ اس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ہے؟۔ وہ کہے گی کہ کیا اور بھی مجرم ہیں؟۔ اور جنت کو مزین کیا جائیگا پرہیزگاروں کیلئے زیادہ دُور نہیں ہوگی۔یہ ہے جس کا وعدہ ہر ایک رجوع کرنے والے امانتدار سے ہے۔ جو رحمن سے غیب میں بھی ڈرا اور آیا اپنے گرویدہ دل کیساتھ آیا۔ داخل ہوجاؤ! سلامتی کیساتھ، یہ ہمیشہ کی کامیابی کا دن ہے۔ان کیلئے وہ ہے جو چاہیں ، اس کے علاوہ ہمارے پاس مزید بھی ہے۔ اور کتنوں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیاگزشتہ ادوار میں جن کی پکڑ بہت سخت تھی اور وہ نقب لگاتے تھے مگر پھر ان کو کوئی بچانے والا نہیں تھا۔یہ اس کیلئے نصیحت ہے جسکے پاس دل ہے اور اس نے پیغامِ حق کیلئے سننے کی طاقت کو استعمال کیا اور گواہی دینے والا ہے۔

جب پاکستان میں اسلامی انقلاب آئیگا تو ایک ایک مجرم سے حساب لیا جائیگا۔ جنت اور جہنم کا منظر یہیں پر ہوگا۔ یوم آخرت کے بعد کی سزا اور جزا الگ ہوگی۔ دنیا کی بہت مضبوط قوموں کو اللہ نے ناشکری ، حق سے روکنے اور حد سے گزر کر شک کے اندر ڈالنے والوں کو سخت سزائیں دی ہیں۔ قرآن آخری کتاب اور حضرت محمدۖ آخری نبی ہیں۔اس امت کے مختلف ادوار میں بھی کئی قومیں اپنے انجام کو پہنچتی رہی ہیں۔

قرآن کی آیات میں حور وقصور کے جو تصورات پیش کئے گئے ہیں ان کو ایک مہذب معاشرہ اپنی جوان بیٹیوں ، بہوؤں اور گھر کے ماحول میں پیش نہیں کرسکتا ہے۔ قرآن میں جو تصورات دئیے گئے ہیں وہ بالکل آئیڈل معاشرے کیلئے ہیں۔ پاکستان میں انقلاب آیا تو یہ خطہ زمین تین قسم کے لوگوں میں تقسیم ہوگا۔ مقرب لوگوں کیلئے باغات ہونگے جس میں ہر میوے کے دو دوقسم ہونگے ۔ ان کی حیاء دار بیگمات رہیں گی۔ جن کو کسی جن وانس نے چھوا نہیں ہوگا۔ کیونکہ طیب طیبہ اور خبیث خبیثہ کے درمیان واضح فرق آجائے گا۔دوسری قسم کے لوگ مجرم ہیں۔چہروں سے ان کی پہچان ہوگی اوران کو پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائیگا۔

تیسری قسم کے اصحاب الیمین ہونگے ۔ انکے باغ میں کھجور ، انار ہوں گے اور فوارے ہونگے۔ ان کی بیگمات بھی نیک اور ان کی پسندیدہ ہوں گی۔ یہ عام معاشرتی معاملہ ہوگا۔ خوشحال زندگی سے لطف اندوز ہونگے۔ باہر دنیا سے بھی سیروتفریح کیلئے اچھے لوگوں کی آمد ہوگی اور ان کیلئے خیمے لگے ہونگے ۔ وہ فیملیاں بھی برائیوں کے تصورات سے دور ہوںگی۔ کسی اجنبی انسان یا جن نے ان کو چھوا نہیں ہوگا۔ فحاشی نہیں پھیلائیں گی۔

سورۂ الدھر اور سورۂ الرحمن میں بہت زبردست انداز میں دنیا وآخرت کیلئے حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ پچھلے شمارے میں سورہ الدھر کے حوالے سے تفصیل لکھ دی تھی مگر اخبار کم چھپ سکے تھے۔ نیٹ پر دیکھ لیں۔

صحابہ کرام کی ایسی جماعت نبیۖ نے تیار کی تھی کہ جنہوں نے حضرت عثمان اور حضرت علی کی طرح شہادت قبول کرلی لیکن دوسروں کو انہوں نے نہیں مارا۔ نبیۖ نے اپنے بعد کسی کو نامزد نہ کیا تب بھی حالات اطمینان بخش تھے۔ حضرت علی نے امام حسن کو نامزد کیا تو بھی خلافت امیر معاویہ کے سپرد کردی۔ہمیں اختلافات کی سرحدات سے نکل کر ایک اچھے دور کا آغازکرنا ہوگا اور اگر ہم نے سستی برتی تو وقت ہمیں ضائع کریگا۔

اُٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

مولانا فضل الرحمن نوازشریف کی چال سے ہوشیار کیوں نہیں ؟: عتیق گیلانی

نوازشریف نے شاہدخاقان عباسی کے ذریعے عمران خان کو اپنی مدت پوری کرنے کا سودا کرلیا ہے۔ نائی صحافی سید عمران شفقت نے بہت پہلے خبر بریک کی تھی اور اب راشد مراد مولانا فضل الرحمن کو مزید چونا لگانا چاہتا ہے۔

  پنجاب میں پرویز الٰہی سے زیادہ عثمان بزدار ن لیگ کے فائدے میں ہے۔ مریم نواز اور نوازشریف نے مزید فائدہ اُٹھانے کیلئے مولانا فضل الرحمن کیساتھ پی ڈی ایم (PDM)میں رہنے کا فیصلہ کیا

  تحریک انصاف اورپی ڈی ایم (PDM)میں ٹوٹ پھوٹ ایک بڑے انقلاب کا زبردست پیش خیمہ لگتا ہے۔ نوازشریف کے زرخرید صحافیوں کا ٹولہ پوری طاقت کیساتھ اپنا نمک حلال کررہاہے

 ہم نے پچھلے شمارے میں لکھ دیا تھا کہ ”سید عمران شفقت نے راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ڈیل کے تحت لندن گیا ہے۔ صرف ٹائم پاس کرنے کی حد تک سیاست رہے گی۔ عمران خان کو مدت پوری کرنے دی جائے گی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہلکے پھلکے بیانات دئیے جائیں گے”۔

اس مرتبہ ہم نے اپنے کاغذ اور چھپائی کے خرچے کو بچانے کیلئے سیاست پر نہیں لکھا ہے اسلئے سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق پہنچارہے ہیں۔ جب مریم نواز نے کہاہے کہ پنجاب حکومت کو ہم نہیں گرنے دیںگے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کے کردار سے ن لیگ کو زیادہ خطرہ ہے۔ دھرنوں کے ذریعے حکومت کے گرانے کا معاملہ ہو تو تحریک لبیک ، تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی میں زیادہ افراد جمع کرنے کی صلاحیت ہے۔ پیپلزپارٹی لانگ مارچ پر صرف احتجاج کی سیاست پر درست یقین رکھتی ہے اور دھرنے کی سیاست جماعت اسلامی، ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان نے امپائر کی انگلیوں پر اب تک کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کی سیاست کرنے والوں کو دھرنوں کی سیاست راست نہیں آ سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بڑی قوتوں کے پیچھے ہونے کا اشارہ دیکر عوام کومغالطہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ کھریاں کھریاں کے دروغ گو مرغے نے بعض فوجی افسران کے معطل کرنے ، جبری ریٹائرڈ منٹ اور نظر بندی کی آذانیں بھی دینا شروع کردی تھیں۔ راشد مراد آر ایم ٹی وی (RM.tv) نے جو ویڈیوز بنائی تھیں ،ان کا سارا ریکارڈ دیکھا جاسکتا ہے۔ فوج کو چاہیے کہ نوازشریف کو کھل کر بڑا پیغام دے کہ ان جھوٹے کتوں کو بھونکنے کیلئے ہم پر کیوں چھوڑا ہے؟۔ اسد درانی را کا ایجنٹ ہرگز نہیں ہے لیکن نوازشریف نے اسکے خلاف کیس سننے والے ارشد ملک کو جس طرح سے خریدا تھا تو کیا اسد درانی ایک مناسب قیمت کے تحت نہیں بول سکتا ہے؟۔ فوجی بیچارے تو بہت بھوکے ہوتے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کو بھی لندن میں جائیداد کس نے دی ہے؟۔ ارشد ملک کا کسی جج یا صحافی نے کیوں نوٹس نہیں لیا؟۔ جسٹس شوقت صدیقی بتائے کہ پارلیمنٹ میں نوازشریف نے اپنے اثاثہ جات کی لکھی ہوئی تفصیل کسی جرنیل کے خوف سے پیش کی تھی؟۔ انصار عباسی، نجم سیٹھی اور دیگر اسلام پسند اور کامریڈ صحافی بتائیں کہ قطری خط کا مسئلہ کیا تھا؟۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ان لوگوں کا ضمیر نہیں بولتا بلکہ مسئلہ کچھ اور ہے اور ان سب کی صلاحتیں مول لی گئیں ہیں۔ جب نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ زرداری کے خلاف تھے تو انصار عباسی کہتا تھا کہ اسلام میں صدر کو استثنیٰ نہیں مل سکتا ہے ،ہمارا آئین اسلامی ہے اور صدر زرداری کا استثنیٰ غلط ہے۔ لیکن جب فوج پر تنقید کی بات آتی تھی تو انصار عباسی کہتا تھا کہ آئین میں فوج پر تنقیدنہیں ہوسکتی ۔ ہم نے اس وقت بھی انصار عباسی کی طرف سے اس بے ایمانی کو اسلام کے نام پر کھلواڑ قرار دیا تھا۔

بعد میں پتہ چلا کہ انصار عباسی کے گھر تک شہباز شریف نے کروڑوں روپے کا روڈ بناکر دیا ہے۔ شہبازشریف کی طرف سے صدر زرداری پر جسٹس خواجہ شریف کے خلاف قتل کی سازش کا افتراء کرنے میں بھی انصار عباسی نے کردار ادا کیا تھا اور نذیر ناجی نے اپنے خلاف سازش میں انصار عباسی کو کتے کا بچہ قرار دیا تھا۔

اسلام کے نام پر دہشت گردی اور سود کو جائز قرار دینے والے مفتی صاحبان بھی کم دھبہ نہیں کہ انصار عباسی بھی اپنا بوجھ اسلام کے کھاتے ڈال دے۔ رؤوف کلاسرا وغیرہ اچھے صحافیوں کو پیشکش کیوں نہیں ہوتی ہے؟۔

مولانا طیب طاہری نے کہاہے کہ مولانا فضل الرحمن کو مشکل وقت میں ساتھیوں نے چھوڑا۔جب انگریز نے خدائی خدمتگاروں کی لسٹ بناکر پٹائی شروع کردی تو ایک شخص نے کہا کہ مجھے بھی مارو۔ پولیس نے کہا کہ تمہارا نام لسٹ میں نہیں ہے ۔ اس نے کہا کہ لسٹ میں نہیں مگر میں ان کا ساتھی ہوں۔ جب پولیس نے مارا تو اس نے کہا کہ پہلے تو نہیں تھا مگر اب ان کا ساتھی بن گیا ہوں۔ سیاست سے مجھے دلچسپی نہیں ہے لیکن اگر میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھی ہوتا تو ان کو تنہاء نہیں چھوڑ تا۔

مولانا طیب طاہری کا بھائی میجر عامر نوازشریف سے کچھ مراعات لیکر مولانا طیب طاہری سے یہ بیان دلوارہاہوگا۔ مولانا طیب طاہری نے طالبان کا ساتھی ہوکر بھی طالبان کیلئے مشکل وقت میں کونسی قربانی دی ہے؟۔ وہاں قربانی دیتا تو یہاں بھی امید اور توقع کرنے میں کوئی حرج نہیں تھی۔

مولانا فضل الرحمن ایک انسان ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو موقع دیتا ہے۔ پہلے تو نوازشریف اور شہباز شریف نے لاہور میں ملاقات تک گوارہ نہیں کی تھی۔ پھر فائدہ اُٹھاکر ملک سے باہر گئے ۔ نوازشریف کے زر خرید صحافی سارا ملبہ زرداری پر ڈالتے ہیں لیکن نوازشریف، مریم نواز ، شہبازشریف یہ سب ایک ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری بھی ان سے بدرجہا بہتر ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے ذریعے یہ سودا کرچکے تھے اور اب پرویزالٰہی کے خوف سے پنجاب میں بھی تبدیلی نہیں لانا چاہتے ہیں۔ فوج سے مراعات لینے کے چکر میں ایک مرتبہ پھر ن لیگ مولانا فضل الرحمن کو استعمال کررہی ہے۔ اگر ان سے کوئی پیسے وغیرہ نہیں لئے ہیں تو ان کو ازخود پھینک دیں۔

جمعیت علماء اسلام کی ساری تنظیم توڑ کر مولانا شیرانی کو مرکز یا بلوچستان میں ایک مرضی کی امارت دیدیں۔ امید ہے کہ وہ اس مرتبہ مرکز کی امارت آپ کیلئے چھوڑ دیں گے اور بلوچستان میں ان کو بلامقابلہ منتخب ہونا چاہیے۔ جنرل سیکرٹری کیلئے حافظ حسین احمد اور مرکزی وزیراطلاعات مولانا شجاع الملک اور پختونخواہ کا امیر مولانا گل نصیب کو بنادیں۔ جمعیت میں توڑ بالکل ہر قیمت پر ختم کردیں۔

پھر معاشرتی اور اقتصادی نظام کی تشکیل کیلئے جید علماء کرام کی کانفرنس کرنے کی مہم شروع کریں۔ جب انتخابات کا وقت قریب ہوگا تو جمعیت علماء پاکستان سمیت سارے دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونگے اور ملک میں جمہوری بنیادوں پر ایک انقلاب کا آغاز ہوجائے گا۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت میں وہی کچھ ملے گا جو عمران خان کو حکومت میں بھی دھکے کھانے پڑرہے ہیں۔ آئندہ انتخابات کی مہم چلانے میں سیاسی جماعتیں پیچھے پیچھے اور انقلابی اسلامی سیاست آگے آگے ہوگی۔ قوم پرست بھی پورا پورا ساتھ دیں گے اور اسٹیبلشمنٹ بھی پکار اُٹھے گی کہ یہ ملک بچانے نکلے ہیں، آؤ انکے ساتھ چلیں۔ ملک کی لوٹی ہوئی دولت لانے میں سارے کرپٹ مافیاز کے دل بھی خدا کے خوف سے پسیج جائیں گے اور ملک کی تعمیر وترقی میں پوری دنیا بھی زبردست ساتھ دیگی۔

 

NAWISHTA E DIWAR Feburary Breaking News 2021

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

#breaking_news #BreakingNews

مدارس اب گمراہی کے قلعے بن چکے ہیں اور ان کی اصلاح اب ضروری ہوچکی ہے۔

رعایا اور حکمران کے درمیان اعتماد، تعلقات ، حقوق وفرائض اور الفت ومحبت کی درست حقیقت سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے حوالے سے قرآن وسنت اور معاشرے میں اسلام کے مسخ شدہ تصورات کے علمی حقائق کو سمجھیں

مدارس قرآن وسنت کو سمجھنے کیلئے رشد وہدایت کی پہلی اور آخری منزل ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب گمراہی کے قلعے بن چکے ہیںاور ان کی اصلاح اب ضروری ہوچکی ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور مغرب مدارس کے دشمن ہیں لیکن وہ دشمنی سے اتنا نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں جتنا مدارس کے اپنے ارباب اختیاراور اہتما م وفتویٰ اپنی غلطیوں سے پہنچا رہے ہیں!

بریلوی دیوبندی مدارس میں درسِ نظامی کی تعلیم کا نصاب ایک ہی ہے۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کے آخری پارہ عم کی اپنی تفسیر ”المقام المحمود” میں سورة القدر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تب بھی ہم اس خطے سے دست بردار نہیں ہونگے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ اب عجم سے ہوگی اور اس کا مرکزی علاقہ یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے مسلک کے سواء یہاں کے لوگ کوئی دوسرا مسلک قبول نہیں کرینگے۔ امام ابوحنیفہ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے اسلئے شیعہ اور ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلیںگے”۔

پاکستان کی آزادی سے پہلے مولانا سندھی وفات پاگئے ۔مولانانے لکھاہے کہ ”قرآن کا معجزہ عربی الفاظ نہیں بلکہ وہ مفہوم ہے جس کی وجہ سے مردہ قوموں میں زندگی پیدا ہوتی ہے”۔ امام ابوحنیفہ نے عربی پر عبور رکھنے کے باوجود نماز کو فارسی زبان میں پڑھنے کی اجازت دی۔ حنفی مکتب نے درسِ نظامی میں اس کی یہ توجیہ پیش کردی ہے کہ ” امام ابوحنیفہ بڑے اللہ والے تھے۔ قرآن کی عربی تلاوت میں حسنِ قرأت کی سجاوٹ بندے اور اللہ کے درمیان پردہ حائل کرتی ہے اسلئے فارسی میں نماز کو جائز قرار دیا۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہۖ نے بعض فارسی الفاظ پر تلفظ فرمایاتھا اسلئے فارسی میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا تھا” ۔ (نورالانوار : ملاجیون ۔ نصاب درس نظامی )

مجلس احرار کے چوہدری افضل الحق نے پولیس کی نوکری چھوڑ کر حکومت مخالف تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ چوہدری افضل الحق نے اپنی کتاب ” دین اسلام ” میں مذہب ، قومی، مادری، علاقی اور سرکاری اعتبار سے زبان کے مسئلے پر علماء کے نصاب سے زیادہ بہتر باتیں لکھی ہیںکہ” ہماری مادری زبان کچھ ہے، رابطے کی زبان کچھ ہے، مذہبی زبان کچھ ہے اور سرکاری زبان کچھ ہے جس کی وجہ سے یہ قوم ترقی نہیں کرسکتی ہے”۔

بنگلہ دیش نے اردو کے بجائے بنگالی زبان کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے پر زور دیا لیکن قائداعظم نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا تھا،البتہ بنگال کیلئے قومی زبان بنگالی قرار دینے کی اجازت دی تھی۔ تحریکِ پاکستان کا آغاز بنگال سے ہوا۔ سندھ اسمبلی سے بھی پاکستان بنانے کی قراراداد پاس ہوئی تھی اور سندھ میں سرکاری زبان بھی سندھی ہے۔ پنجابی، پشتو اوربلو چی پہلے سے عام ہوتی تو سندھ کی طرح پنجاب، پختونخواہ ، بلوچستان کی علاقائی زبان بھی سرکاری ہوتی، سندھ کے شہری علاقوں میں مہاجرین کی وجہ سے اردو بالکل عام ہوگئی اور اب میڈیا چینلوں کی وجہ سے پاکستان میں اردو عام ہوئی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کو خود بھی اُردو نہیں آتی تھی۔ مادری زبان کی اپنی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ” اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان سے ، تاکہ پیغام انکے سامنے واضح کردے”۔ یہ ہماری تاریخ کا المیہ ہے کہ ایک طرف حنفی درسِ نظامی میں پڑھارہے تھے کہ عربی پر قدرت کے باجود نماز فارسی میں پڑھنا جائز بلکہ بہتربھی ہے اور دوسری طرف جب حضرت شاہ ولی اللہ نے فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا تو ان کو علماء نے واجب القتل قرار دیا جس کی وجہ سے دوسال تک روپوش رہنا پڑا تھا۔ پھر ان کے بیٹوں نے اردو کا لفظی اور بامحاورہ ترجمہ کیا ۔ دوسری زبانوں میں بھی قرآن کے ترجمے ہوگئے اور جب پنجابی اور پٹھانوں کے ملے جلے علاقہ سے ایک عالم دین نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کیا تو اُن پر کفرکا فتوی لگا دیا گیا۔ سندھی میں تو شاہ ولی اللہ سے بھی بہت پہلے قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا اور سندھ میں جمعہ کا خطبہ بھی عربی میں نہیں سندھی میں پڑھا جاتا ہے۔

عورت زبان دراز ہوتی ہے مرد ہاتھ چھوڑ ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں زبان دراز اور پاک فوج ہاتھ چھوڑ ہے۔ پنجاب کی عوام زبان کی تیز اور پٹھان کا ہاتھ اُٹھ جاتا ہے۔ پختونخواہ سے زیادہ فرقہ وارانہ اور جہادی تنظیمیں پنجاب میں تھیں لیکن پختونوں نے ایکدوسرے کا کباڑہ کرلیا۔ مریم نواز نے عمران خان اور پاک فوج کو زبان درازی سے آڑے ہاتھوں بہت لیا لیکن محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن عمل سے انقلابی بن رہے ہیں۔

اگر نکاح وطلاق پر حقوق وفرائض کی آیات سے عوام کو آگاہ کیا گیا توپھر گھریلو تشدد، نا انصافی اور ناچاقی کا خاتمہ ہوگا اور طلاق سے رجوع کا رحجان معاشرے میں پروان چڑھے گا۔حکمرانوں اور باغی قوتوں کے درمیان بھی سمجھوتہ ہوسکے گا۔ جب دل ٹوٹتا ہے تو آنسو پھوٹتا ہے اور تعلق چھوٹتا ہے پھر شوہر بیوی کو ، حکمران رعایا کو کوٹتاہے، نصیب روٹھتا ہے اور طاقتور لوٹتا ہے ،اپنے معاشرے میں گھریلو حالات سے ریاستی معاملات تک بگاڑ آچکا ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ کسی طرح اصلاحِ احوال کی طرف قوم متوجہ ہوجائے اور پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔

علماء ومفتیان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیںکہ سب کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہو؟۔ ریاستی اور سیاسی نادانوں کو بھی شاید یہی گلہ ہو لیکن ہم نے کس کو چھوڑا ہے؟۔ تنقید کرنے میں اپنی ذات، خاندان ، شہر، علاقہ ، صوبے اور ملک سے لیکر پوری دنیا تک بہت فراخ دِلی سے کام لیا ہے۔ ہمیں کسی اور سے نفرت اسلئے نہیں ہوسکتی ہے کہ خود بہت ہی کمزور اور بیکار انسان ہیں۔

علماء کرام و مفتیانِ عظام میں سب سے زیادہ خوبیاں ہیں۔ دل وجان سے علمائِ حق کے پیروں کی خاک کو اپنی آنکھوں کی پلکوں پر اٹھانے کو بہت بڑی سعادت اپنے لئے سمجھتے ہیں۔ قرآن کا تلفظ ، قرآن کا ترجمہ اور اسلام کی تعلیمات ان کی قربانیوں کی بدولت دنیا میں زندہ اور تابندہ ہیں۔ غلطیاں کس طبقے میں نہیں ہیں؟۔ جب علماء ومفتیان کا وجود نہیں تھا تب بھی حضرت عثمان اور حضرت علی اپنے وقت کے مسلمانوں کے ہاتھوں سے شہید ہوگئے تھے؟۔ جب حکمرانوں نے باجماعت نماز کی قرأت میں بسم اللہ پر پابندی لگادی تھی تو مالکی فقہاء نے ہمت ہارکر کہا کہ فرض نماز میں بسم اللہ کوپڑھنا جائز نہیں کیونکہ بسم اللہ قرآن کا حصہ نہیںہے۔ شافعی فقہاء نے کہا کہ بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا بھی حصہ ہے اسلئے جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھنا فرض ہے۔ حنفی فقہاء نے کہاکہ درست بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے لیکن اس کے انکار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ اس میں شبہ ہے اور شبہ اتنا قوی ہے کہ اس سے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بنتا ہے۔ حالانکہ عام آیت کے انکار سے آدمی کافر بن جاتا ہے۔ نورالانوار اور توضیح تلویح میںیہ بریلوی دیوبندی علماء کے درسِ نظامی کے نصابِ تعلیم کا حصہ ہے۔

پہلے تو علماء کے ظرف کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ بسم اللہ قرآن میں ہے ۔ اجتہادی مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ایکدوسرے کو برداشت کررہے ہیں بلکہ ایکدوسرے کا دل سے احترام کرتے بھی ہیں اور نصاب میں اس کو جگہ بھی دیتے ہیں ۔ دوسرا یہ ہے کہ اس جہالت کا تدارک کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر امریکہ واسرائیل نے لوگوں کو بتانا شروع کردیا کہ علماء کے نصاب میں یہ خرابی ہے تو کسی کو منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہیںگے، مشکل وقت سے پہلے سدھرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ نے قرآن میں فرمایا: ”ہم نے قرآن اور سات بار بار دوہرائی جانے والی عطاء کی ہیں”۔ سات دوہرائی جانے والی سے مراد قرآن کا مقدمہ سورۂ فاتحہ ہے۔ بسم اللہ کیساتھ سات آیات بنتی ہیں۔ آیات کیلئے گول دائرہ نشانی ہے۔ قرآن کے بعض نسخوں میں سورۂ فاتحہ پر آیات کے نمبر نہیں ہیں۔ بعض میں بسم اللہ کو پہلی آیت اور بعض میں الحمد للہ کو پہلی آیت لکھا ہے لیکن پھر اس میں آخری آیت میں دو آیات کے نمبر(6)اور( 7)لگائے گئے ہیں۔

یہ قرآن کی حفاظت کیلئے بہت بڑی دلیل ہے کہ کسی نے آیت کے گول دائرے کا اضافہ کرنے کی بھی جرأت نہیں کی۔جس طرح ایک سو چودہ (114) سورتوں میں ایک سورت کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں تو کسی نے لکھنے کی جرأت نہیں کی ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ تفاسیر میں لکھا ہے کہ آخری دو سورتوں کو حضرت عبداللہ بن مسعود نے اپنے مصحف میں نہیں لکھا تھا اسلئے کہ ان کے قرآن ہونے کے قائل نہیں تھے۔ حالانکہ قرآن کی سورة کا منکر مسلمان نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بات غلط ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے انکے قرآنیت سے انکار کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بہت لوگوں نے قرآن پڑھنا سیکھ لیا تھا جس کی وجہ سے پہلا اور آخری صفحہ پھٹ گیا ۔ ابن مسعود کے مصحف کی زیارت کرنے والے راوی نے یہ بات کہی کہ اس میں سورۂ فاتحہ اور آخری دو سورتین نہیں تھیں اور اس بات کا بتنگڑ بناکر کہانیاں گھڑی گئیں۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور علامہ شبیراحمد عثمانی کی تفسیر عثمانی ،مولانا سید مودودی کی تفہیم القرآن اور علامہ غلام رسول سعیدی کی تبیان القرآن میں شیطان کا یہ حملہ کامیاب ہوا ہے کہ قرآن کی آخری سورتوں پر زبردست وار کیا گیا ہے۔ اللہ نے شیطان سے قرآن کے آگے پیچھے سے حفاظت کا ذمہ لیا۔ بریلوی، دیوبندی اور جماعت اسلامی والے اکٹھے ہوکر شیطان کی سازش کو ناکام بنائیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ ”پہلے قرآن پر اجماع نہیں ہوا تھا اسلئے عبداللہ ابن مسعود پر آخری سورتوں سے انکار کے باوجود بھی کفر کا فتویٰ نہیں لگتا ہے لیکن اب اجماع ہوچکا ہے ،اگر اب کوئی انکار کریگا تو اس پر کفر کا فتویٰ لگے گا”۔ (تبیان القرآن جلد12) جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اجماع قرآن سے کوئی زیادہ معتبر چیز ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ

بھیڑ چال میں مبتلاء علماء ومفتیان و مذہبی دانشوروں کو چاہیے کہ قرآن کے شروع اور آخر سے گمراہی اور ضلالت کی باتیں نکال دیں اور زور دار انداز میں حقائق عوام کے سامنے لائیں تاکہ آنے والے وقت میں مشکلات سے بچ سکیں۔ جب ضمیر پر غبار پڑا ہو تو عمل کی دنیا سے انسان دور ہوجاتا ہے۔

انجینئرمحمد علی مرزا نے نہ صرف محنت کرکے عربی کے تلفظ کو پڑھنا سیکھا ہے بلکہ مختلف موضوعات پر تعصبات کے بغیر ایک خلاصہ بھی نکالا ہے۔ اُنیس (19)گریڈ کے افسر ہیں اور مسائل عوام کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تھوڑی بہت غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیںگے کہ قرآن میں اضافہ کردیا تو رجم کا حکم قرآن میں لکھ دیتا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ”رجم کی آیت اور رضاعت کبیر کی آیات نبیۖ کے وصال تک پڑھی جاتی تھیں۔ بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں۔ یہ امام ابوحنیفہ جیسے لوگوں کا کمال تھا کہ اس طرح کے متضاد اعتقادات کا رستہ روک دیا تھا۔ مسلم علمی کتابوں کو وہابی اور بابی کا پتہ ہے لیکن روایات میں جو گل کھلائے گئے ہیں ان حقائق تک مرزا صاحب نہیں پہنچے ۔

علماء کرام کو میدان میں نکلنا ہوگا اور افہام وتفہیم کے ذریعے سے اچھا ماحول بنانا ہوگا۔ ہم مرزا صاحب کی بھی خدمت میں پہنچے لیکن وہ خود کو زیادہ اونچی چیز سمجھے ہیں۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ مہدی غائب آکر معاملہ ٹھیک کرے گا سنی عقیدہ ہے کہ قرآن مہدیوں کو بناتا ہے

جب تک عوام تبدیلی کیلئے کھڑے نہیں ہونگے ہمارامذہبی، سیاسی، ریاستی، سماجی اشرافیہ اور بدمعاش طبقہ مسلط ہی رہے گا۔ اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ مہدی غائب آکر معاملہ ٹھیک کریگا، سنی عقیدہ ہے کہ قرآن مہدیوں کو بناتا ہے۔

ایران میں شیعہ نے امام مہدی غائب سے پہلے انقلاب برپا کردیا اور پاکستان میں سنی مکتبۂ فکر نے اہل تشیع کے ساتھ مل کر بھی کوئی انقلاب برپا نہیں کیا، متحدہ مجلس عمل بڑا ڈھونگ تھا

مارشل لاء اور اس کی پیداوار سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تبدیلی کی کوئی توقع نہیں ہے۔ پاکستان میں معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلیوں سے استحکام آسکتا ہے ورنہ افراتفری پھیلے گی۔

علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں امامت اور مہدی کی وضاحت فرمائی۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمان کو سلاطیں کا پرستار کرے
شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست نہ خوابیدہ نہ بیدار
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالمِ افکار
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی

علامہ اقبال کا تعلق سنی مکتبۂ فکر سے تھا۔ انہوں نے مہدی کاتصور وہ پیش کیا جو سنی مکتبۂ فکر کا عقیدہ ہے۔ جس طرح حیات خضر علیہ االسلام کا عقیدہ تھا اور آج بھی بہت سے لوگ حضرت خضر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے زندہ مانتے ہیں لیکن ان پر کفر وگمراہی کے فتوے نہیں لگتے،اسی طرح اہل تشیع کیلئے مہدیٔ غائب اور امامِ زمانہ کا عقیدہ رکھنا کوئی عیب نہیںہے اور جب تک علمی حقائق واضح نہیں ہوجاتے تو مناقشہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

ایک سفید ریش پٹھان عالمِ دین نے کہا کہ ” شیعہ آذان میں حضرت علی کیلئے خلیفتہ بلافصل نبیۖ کا خلیفۂ بلافصل کہتے ہیںیہ حضرت ابوبکر کی توہین ہے اور ان کی آذان پر پاکستان میں پابندی لگنی چاہیے”۔ حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا لیکن آپ پر توہین کا الزام نہیں لگایا گیا۔ البتہ جنات نے قتل کیا تھا یا اس دور کے خفیہ مشن والوں نے قتل کیا ۔ جب حضرت عثماناور حضرت علی کی شہادت مسندِ خلافت پر بیٹھنے کے باوجود ہوئی تو حضرت سعد بن عبادہ کی شہادت بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ صحافی ہارون الرشید کی کلپ دیکھی کہ ”ہزارہ مزدوروں کو طالبان نے اسلئے قتل کیا کہ بھارت کی جاسوسی کرتے ہیں”۔ مولانا عادل خان کو اسلئے قتل کیا گیا ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے پیسوں سے یہاں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے تھے۔ ایک طرف علماء دین کا قتل اور دوسری طرف ہزارہ مزدروں کا قتل فرقہ واریت کے نام پر جاری رہے گا؟۔

تحریک طالبان پاکستان نے اپنے عروج کے دور میں بریلوی مکتبۂ فکر کے علماء اور پیروں کو قتل کیا۔ مینگورہ سوات میں ایک شخصیت کی لاش کو قبر سے نکال کر چوک پر لٹکایا گیا۔ ہماری سیکورٹی ایجنسیاں موجود ہونے کے باوجود بے بس تھیں کیونکہ مذہبی جوش وجنون اور غیظ وغضب کا سامنا کون کرتا؟۔ شیعہ کی آذان کو صحابہ کی توہین قرار دینے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنیوالے وقت میں پنجاب سے آواز اُٹھے کہ ” جو لوگ آذان سے پہلے صلوٰةوسلام نہیں پڑھتے ہیں یہ گستاخ رسول ہیںاور ان کی قتل وغارت شروع ہوجائے”۔

تبلیغی جماعت کے ترجمان نعیم بٹ نے شاید حفظ ماتقدم کے طور پر ہی پہلے سے اس صلوٰ ةو سلام کی بہت تعریف کی ہے۔ لیکن جب فرقہ واریت کا بھوت سوار ہوجاتا ہے تو پھر قائد آبادخوشاب میں بریلوی مکتبۂ فکر والا گستاخ کے نام پر گارڈ کی گولی کا نشانہ بنتا ہے اور لوگ پولیس اسٹیشن پر چڑھ کر قتل کی تائید کررہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ دیوبندی ، اہلحدیث یا جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تب بھی حالات زیادہ مختلف ہوتے کیونکہ ان کو گستاخ ہی سمجھا جاتا ہے۔پنجاب میں شیعہ سنی کے علاوہ دیوبندی بریلوی فرقہ واریت کی فصل بھی تیار کھڑی ہے، صرف ماچس کی ایک تلی سے آگ لگانے کی دیر باقی ہے۔

علامہ اقبال نے ”پنجابی مسلمان” پر خوب لکھا تھا کہ

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندہ کوئی صیاد لگادے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

تحریکِ لبیک کے علامہ خادم رضوی سے حکومت نے معاہدہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو سترہ(17)فروری( 2021ئ) سے پہلے نکالا جائیگا۔ اوریا مقبول جان بھی چہلم پر گیا تھا، ڈاکٹر عامر لیاقت کے حوالے سے بھی تحریکِ انصاف چھوڑ کر تحریکِ لبیک میں شامل ہونے کی خبرپھیلائی جارہی ہے۔ شاید یہ تحریکِ لبیک تحریک انصاف کی متبادل کے طور پر بھی ہو، جس طرح مریم نواز نے کہا تھا کہ شہبازشریف عمران خان کے متبادل ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے تو امریکہ کا بھی کوئی سفیر موجود نہیں جو ہماری فوج، سیاسی جماعتوں اور جہادی طبقات کا باپ رہاہے۔ فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مسئلہ اہم ہے یا نہیں ہے ؟ لیکن ہمارے ملک کے حالات جس طرف جا رہے ہیں وہ بڑے تشویشناک ہیں۔ اسلام آباد میں پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے میں محترم محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ” مولانا فضل الرحمن فتویٰ جاری کرے کہ عوام بھوک مٹانے کیلئے حکومت کی املاک کو لوٹ سکتے ہیں”۔ بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا تو عوام احتجاج سے زیادہ لوٹ مار میں لگے ہوئے تھے۔ طالبان نے اپنی تحریک لوٹ مار اور بھتہ خوری کے ذریعے چلائی تھی۔ براڈ شیٹ نے ایک روپیہ بھی برآمد نہیں کیا ہے لیکن اس کو اتنی رقم ادا کردی گئی ہے جتنی پاکستان کی نیب نے پاکستانی عوام سے وصول کی تھی۔ ریاست اور سیاست کے پہلوان بھی اپنے لئے بقدرِ ضرورت حکومت کا مال اور عوام سے بھتہ حلال سمجھتے ہیں اور جب انسان کی بھوک کھل جاتی ہے تو حدیث میں آتا ہے کہ مٹی سے ہی اسکا پیٹ بھر سکتا ہے۔ ہم بہتر مستقبل کی تلاش میںاپنا حال بھی برا کرسکتے ہیں۔

علامہ سید جواد نقوی نے وضاحت کی ہے کہ” اہل تشیع کے ہاں امام عوام کی طرف سے منتخب نہیں ہوتا بلکہ نامزد ہوتا ہے۔ نبیۖ نے حضرت علی ، علی نے حسن ، حسن نے امام حسین اور اس طرح بارہ امام نامزد ہوگئے۔ امام کا اسلام وہ ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اہل تشیع کا بھی وہی ہے۔ اہل تشیع ائمہ سے رہنمائی لیتے ہیں لیکن اب غیبت کبریٰ کا زمانہ ہے اورعمومی احکام سے رہنمائی لینی ہے”۔

اہل تشیع بھائیوں سے اتنی گزارش ہے کہ جب تک امام مہدیٔ غائب نہ نکلے تو اپنے کلمے اور آذان پر کاربند رہو۔ تمہارے علماء وذاکرین جو دلائل دیں ان پر جھومتے رہو، غمِ حسین کا ماتم مناؤ۔ ہندو، سکھ، عیسائی ، یہودی اور بدھ مت کے علاوہ بہت مذاہب دنیا میں ہیںلیکن ان سے پاکستان میں کوئی نفرت نہیں کرتا تو آپ سے نفرت کرنے والوں کا ایک مشن بھی ہے اور کاروبار بھی۔ جب تک اپنے اماموں کیلئے جذباتی بنیاد پر دوسروں سے اپنی نفرت کا اظہار کروگے تو مخالفین اپنا مشن زندہ رکھیںگے کیونکہ جب آپ اپنے اماموں کی گستاخی برداشت نہیں کرسکتے تو دوسروں کو سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔ دوسروں سے نفرت تمہاری مجبوری بھی ہے لیکن اتنا خیال کم از کم ضرور رکھو کہ امام کا تعلق زمانے کیساتھ ہوتا ہے۔ حضرت علی کے بعد اب تو بارہویں امام کے کلمے اور آذان میں جملے کی منطق بنتی تھی۔ جس طرح رسول کیساتھ کلمہ بدلتا ہے۔ ابراہیم خلیل اللہ، موسیٰ کلیم اللہ اور عیسیٰ روح اللہ کے بعد اب محمد رسول اللہ۔ حضرت علی کے بعد امام حسن ، امام حسین ، زین العابدین کیساتھ ساتھ اب تو بارہویں امام کا کلمہ ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ آپ نے اپنے امامِ وقت کیساتھ اپنا کلمہ بدلنے کی درست کوشش کیوں نہیں کی؟۔ ہم تمہیں تمہارے مخالفین کے قتل و غارت کا نشانہ بنانے سے بچانا چاہتے ہیں۔ ہماری سنی مکتبۂ فکر سے استدعا ہے کہ اپنی جہری نماز میں سورۂ فاتحہ اور دوسری سورتوں کا آغاز جہری بسم اللہ سے کرلو۔

پنجاب میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک ٹیم نکلے اور فرقہ واریت کی جگہ دلائل سے عوام کے شعور کو مالامال کردے۔ بلوچستان اور پختونخواہ کی تباہی کے بعد پنجاب اور سندھ میں فرقہ واریت کے نام پر قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوجائے تو پاکستان کی ریاست حالات کو سنبھال نہیں سکے گی اور اقوام متحدہ کی فوج عراق میں عورتوں کی جس طرح تلاشی لیکر توہین کررہی ہے اور امریکی فوج نے جس طرح کا جنسی تشدد القاعدہ والوں پر کیا ، بس اللہ کی پناہ۔ ایک فارسی بان یا ازبک وتاجک وغیرہ کی ویڈیو آئی تھی۔ اس پر بے پناہ جنسی تشدد کیا گیا تھا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انقلاب کے ذریعے جنت اور جہنم کا نقشہ پیش کیا ہے

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انقلاب کے ذریعے جنت اور جہنم کا نقشہ پیش کیا ہے جو پاکستان میں دیانت دارانہ نظام ہی کے ذریعے سامنے آسکتا ہے جس سے دنیابھر میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم اور آسمان وزمین والے خوش ہونگے

ہر شاخ پہ اُ لو بیٹھا ہے انجامِ گلستان کیا ہوگا؟۔ اسٹیک ہولڈروں کے بجائے گدھا گاڑی والوں کو مختلف طبقات پر مسلط کیا جاتا تب بھی حرص وہوس اور ایسی نالائقی کا کبھی مظاہرہ نہ ہوتا

پتہ نہیں کس خمیر کے جنرلزکو ترقی دیکر آرمی چیف اور ذمہ دار عہدوں پر بٹھایا جاتاہے اور کس خمیر کے سیاستدان عوام کے ووٹوں سے اسمبلی اور ممبران کے ووٹوں سے سینیٹ پہنچتے ہیں ؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی جنت اور جہنم کے تصور کا ذکر کیا ہے اور اس کی ایسی وضاحت ہے جس سے آخرت مراد لینا ممکن نہیں ۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان اس کی بالکل صحیح تصویر بن سکتا ہے۔پوری دنیا میں ایسا بڑا بہترین دریائی نظام نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عنایت فرمایا ہے لیکن اس میں نہری نظام کا بنانا حکومتِ پاکستان کا کام تھا۔ انگریز نے نہری نظام کو پاکستان میں اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا لیکن پاکستان نے اس کو نظرانداز کردیا ۔ قدرتی اور مصنوعی جھیلوں کا ہم بسہولت بڑا جال بچھاسکتے ہیں اور بہت آسانی کیساتھ پورے پاکستان کو نہری نظام سے مزین کرسکتے ہیں۔

قرآن میں سورۂ مدثر کے بعد سورۂ قیامت اور پھر سورۂ دہر ہے۔ جب اسلام نازل ہواتو اللہ نے نبیۖ کو سورۂ مدثر میں مخاطب کیا ہے۔ سورۂ مدثر میں بھی دنیاوی انقلاب اور آخرت کے حوالے سے واضح رہنمائی ہے ۔ پھر سورۂ قیامت میں صرف آخرت کے حوالے سے رہنمائی ہے اور پھر سورۂ دہر میں صرف زمانے اور دنیاوی انقلاب کے حوالے سے بھرپور رہنمائی ہے۔

رسول اللہ ۖ کے حوالے سے مؤمنین اور کفار نے ابتدائی مکی دور کا بھی مشاہدہ کیا تھا اور آخر میں مدنی دور اور انقلاب کا زمانہ بھی دیکھ لیا تھا۔ سورۂ مدثر کی آیات کو شروع سے آخرتک غوروفکر کیساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بہت ساری باتوں سے شروع دور کی مشکلات اور بعدکی فتوحات بہت واضح طور پر نظر آئیں گی۔ پہلے تیرہ (13)سال مکی دور کے اور پھر چھ (6)سالہ مدنی دور کے بعد جب صلح حدیبیہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح مبین قرار دیدیا۔ یہ اُنیس (19)سال کی مدت مشکلات کا زمانہ تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے کھول دئیے تھے۔ دس سال تک صلح حدیبیہ کا معاہدہ بہت بڑی فتح کی بنیاد تھی۔

اللہ تعالیٰ نے ایک طرف نبیۖ کے کردار کو پیش کیا ہے، دوسری طرف مخالفین کے سرغنے کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ” ہم آپ لوگوں کو آزمائیںگے، کچھ خوف سے، بھوک سے، اموال، جانوں اور ثمرات کی کمی سے ، پس بشارت دیدو صبر کرنے والوں کو”۔

ثمرات سے مراد پھل اور میوے نہیں ہیں کیونکہ وہ تو اموال ہی ہیں بلکہ ثمرات ان نتائج کو کہتے ہیں جو خیرکے کاموں کے نتیجے میں نکلتے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے نبیۖ سے فرمایاکہ فلا تمنن تستکثر ”احسان کے بدلے ان سے زیادہ خیر کی توقع نہ رکھیں”۔ یہ ایک عام کلیہ ہے کہ اچھائی کے بدلے میں اچھائی کی توقع رکھی جاتی ہے۔ نیکی کا ثمرہ نیکی ہوتی ہے۔ جزاء الاحسان الا احسان” احسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے”۔

مفتی محمدتقی عثمانی نے اپنی تفسیر ” آسان ترجمۂ قرآن” میں سورۂ مدثر کی آیت سے سودکا نتیجہ نکالا ہے کہ نبیۖ کا احسان کے بدلے خیرکثیر کی توقع بھی سود کے زمرے میں آتا تھا اسلئے اللہ نے منع فرمایا۔ حالانکہ احسان کے بدلے احسان کی توقع فطرت کا تقاضہ تھا لیکن جاہلوں سے خیر کے بدلے شر کی توقع تھی اسلئے سورہ مدثر میں اپنے رب کیلئے صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ نے خبر دی کہ جب مکہ میں انقلاب کا نقارہ اللہ مسلمانوں کے ذریعے بجا دے گا تو یہ دن مشکل ہوگا اور کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔ سورۂ مدثر میں اللہ نے جو نقشہ پیش کیا وہ دنیا میں انقلاب کے ذریعے دکھا بھی دیا تھا۔

جو دشمن کا سردار تدبیریں ڈھونڈتا تھا،اللہ کی وحی کا انکار کرتا تھا ، اس کو سحر قرار دیتا تھا اور اسکو بشر کاکلام کہتا تھا ، ایک دن اسکو اللہ نے ”سقر ” میں پہنچانا ہے۔ اور تمہیں کیا پتہ کہ سقر کیا ہے؟۔وہ ایسا انقلاب ہے کہ جس میں کوئی رورعایت باقی نہ ہوگی اورنہ کوئی عذرچھوڑا جائے گا۔ (رنگے ہاتھوں سب مجرم پکڑے جائیںگے) اللہ تعالیٰ نے اُنیس (19)سال کی مدت کے بعدصلح حدیبیہ کے ذریعے فتح مکہ سے پہلے چند سال آخری اتمامِ حجت کیلئے سب کو دیدئیے تھے۔ حضرت خالد بن ولید اور دیگر حضرات فتح مکہ سے پہلے اسلام کی آغوش میں آگئے تھے۔ قرآن میںاُنیس (19)کے عدد کو علم الاعداد کے اعتبار سے بھی حیرت انگیز حیثیت حاصل ہے۔ جس پر تحقیق کرنے والے نے بڑا کام کیا ہے اور کمپیوٹر کے ذریعے سے بھی ایسے کمال کی ترتیب قرآن کی سورتوں اور حروف میںممکن نہ تھی۔

کرونا کی بیماری کواکیسویں صدی کے اکیسویں سال میں بھی اُنیس (19)ہی کے سال کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ میں پارلیمنٹ کو فوج کا تحفظ دینا بھی نظام کی ناکامی کی دلیل ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کا مسلط ہونا اور پاکستان کے آوے کا آوا بگڑنا بھی کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ لگتا ہے۔ مشرکینِ مکہ نہ صرف ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے بلکہ ان کی پوجا کا بھی تصور رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ زمین پر اللہ کی نمائندگی کیلئے کسی بشر رسول کی بعثت ممکن نہیں ہے، نوری فرشتوں کا یہ منصب ہے جو انکے خدا ہیں۔

جب مکہ فتح ہوا تو فتح مکہ سے قبل اور فتح مکہ کے بعد کے مسلمانوں میں وہ واضح فرق تھا جس کی وضاحت قرآن میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مدثر کے آخر میں حق سے اعراض کرنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ

فما لھم عن تذکرة معرضین

کانھم حمرمستنفرة

فرت من قسورة

” اور ان کو کیا ہے کہ نصیحت سے اعراض کررہے ہیں؟۔ وہ لوگ جیسے بدکے ہوئے گدھے ہوں جو بھاگ رہے ہوں ببرشیر سے”۔

ابوجہل وابولہب اور دیگر سردارانِ کفارنے نبی ۖ اور قرآن سے اسی طرح کا رویہ اختیار کررکھا تھا لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کہ دن ایسے بدل جائیں گے کہ فتح مکہ کے بعد ابوجہل کا بیٹا حضرت عکرمہ بھاگنے کے بعد سچے اورپکے مسلمان بن جائینگے۔ حضرت ابوسفیان اور حضرت ہندہ اسلام قبول کرلیں گے اور نبیۖ معافی تلافی دیکر فرمائیںگے کہ مجھے اپنا چہرہ مت دکھانا تجھے دیکھ کر اپنے چچا(سیدالشہدائ) امیرحمزہ یاد آتے ہیں۔ رسول ا للہۖ کے بعد بعض لوگ پھر مرتد بھی ہوگئے تھے۔ حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر کے دور میں بڑی خوشحالی آئی تھی۔ اہل ایمان خوشحالی کی حالت میں تھے اور مجرمین کی حالت غیر تھی۔ مجرموں سے بزبان حال پوچھا جاتا کہ تم اس قدر مشکلات کی دلدل میں کیوں پھنسے ہو؟۔ اسلئے کہ ان پر مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا دروازہ بھی بند کردیا گیا تھا۔ مجرمین کہتے تھے کہ ” ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور ہم مخمصے میں پڑنے والوں کے ساتھ مخمصہ میں پڑے رہتے تھے اور ہم آخرت کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتی کہ ہمیں یقین آگیا۔ پس شفاعت نفع نہ دیگی ان کو شفاعت کرنے والوں کی”۔ صحابہ کرام کی سیرت کے واقعات میں ہے کہ مروان بن حکم کو نبیۖ نے جلاوطن کردیا تھا اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے دور میں مروان کو مدینہ نہیں آنے دیا گیا تھا۔ پھر حضرت عثمان نے مروان کو داماد بنایا۔ حضرت امیر معاویہ نے مروان کو مدینے اور مکے کا گورنر بنایا تھا اور اس نے صحابہ کرام پر بڑا ظلم کیا تھا۔ رسول اللہۖ نے حضرت ابوسفیان کو عزت بخشی تھی لیکن یزید کے دور میں کربلا کا واقعہ ہوگیا تھا اورحضرت عمر بن عبدالعزیز مروان کا پوتا تھا جس کو دوسری صدی ہجری کا مجدد اور انکا دور خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ تاریخ اور احادیث کو درست طریقے سے مرتب کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

سورۂ مدثر میں بڑے حقائق پوشیدہ ہیں لیکن علماء کی ایسی ٹیم ہونی چاہیے جو تعصبات کے بغیر قرآنی آیات سے امت مسلمہ کو قرآن وسنت اور تاریخ کی روشنی میں درست رہنمائی فراہم کرے۔ سورۂ مدثر کے بعد سورۂ قیامة اور پھر سورۂ دہر ہے۔ یہاں اصل مقصد سورۂ دہر سے کچھ حقائق کی طرف توجہ دلانا مقصود تھی۔ جبکہ قیامت اور الدہر بالکل الگ الگ موضوعات ہیں۔ قرآن کا مقصد بھی دونوں سورتوں میں الگ الگ مضامین کی وضاحت ہی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ سورۂ قیامةسے جیسے دنیا اور زمانے کے حالات مراد لینا بے معنی اور غلط ہے ،اسی طرح سے سورۂ الدہر سے بھی زمانے کے بجائے قیامت مراد لینا غلط اور بے جا ہے۔ سورۂ دہر کے تناظر میں ہم اپنے ملک پاکستان کو جنت کی نظیر بناسکتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں اسلام کے غلبے اور پوری دنیا میں دوبارہ طرز نبوت کی خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی ہے۔

اگر نالائق طبقہ اپنی نالائقی بدل کراپنی لیاقتوں کے جوہر دکھائے تو ہم پھر نہ صرف امت مسلمہ میں بلکہ پوری دنیا میں سرخرو ہوسکتے ہیں۔ مروان و یزید کا اقتدار نالائقی اور نااہلی کے باوجود خاندانی اور موروثی پسِ منظر کی وجہ سے تھا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اچھا کردار ادا کیا تو موروثیت نے کوئی نقصان آپ کے کردار کو نہیں پہنچایا۔ افواج پاکستان میں آرمی چیف کے بیٹے کو آرمی چیف نہیں بنایا جاتا ہے لیکن بادشاہت کے علاوہ ہمارے اس نام نہاد جمہوری نظام میں نالائقی اور نااہلی کے باجود موروثی نظام کا عمل دخل ہے۔

پاکستانی قومی ترانے میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔ علماء کی نااہل اولاد کو موروثیث کی وجہ سے اپنے باپ کے منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔ جس کی اسلام اور جمہوریت میں قطعی طور پر گنجائش نہیں ۔ اگر آرمی چیف کا بیٹا آرمی چیف بنتا تو پاک فوج کب سے اپنی اہلیت کھو دیتی؟۔ جمہوری پارٹیاں بھی اپنے اندر جمہوریت اور میرٹ کی روح پیدا کرلیتیں تو پاکستان کی ترقی میں سیاسی پارٹیاں اپنی مظلومیت کا واویلا نہ کرتیں۔جب اہل کا نااہل بیٹا یا پوتا یا نواسہ وارث بنتا ہے تو مدرسے کا مہتمم یا پارٹی کا سربراہ اچھے اچھوں کی محنت ، صلاحیت اور قربانیوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔جب مدارس عوام کے چندوں اور پارٹیاں عوام کی صلاحیتوں سے بنتی ہیں تو ان پر موروثی اعتبار سے قبضہ شرعی اور دنیاوی لحاظ سے کہاں جائز اور مناسب لگتاہے؟۔ غریب کو تعلیم کے مواقع نہیں ملتے اور امیر میں صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جمعیت علماء اسلام کو مولانا شیرانی کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہواہے:صابر شاکر

ملٹری اسٹیبلشمنٹ و موجودہ حکومت کے حمایت یافتہ مولانا شیرانی نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام جمعیت علماء ہند کا تسلسل ہے، جمعیت علماء ہند پاکستان کو دھوکہ سمجھ رہی تھی اور ہم پاکستان کو دھوکہ سمجھنے کے مؤقف پرہی قائم ہیں

مولانا شیرانی صاحب پاکستان میں جمہوری جدوجہد کے بجائے انقلابی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں تو الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست ہوگا کہ جمعیت علماء اسلام شیرانی کو سپرد کی جائے؟؟

جمعیت علماء اسلام کوئی اقتدار میں لائی جانے والی سرکاری موسم لیگ ہے جس کو اقتدار کیلئے ہردور میں نئے کام اور نئے نام سے تشکیل دیا جائے؟بچکانہ حرکتوں سے حکومت چلے گی؟

صابر شاکر نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومت کا یہ مشترکہ فیصلہ اپنی ویڈیو میں بتایا ہے کہ ” مولانا فضل الرحمن کو جمعیت علماء اسلام سے فارغ کیا جائیگا اور الیکشن کمیشن مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد اورگل نصیب کوجمعیت علماء اسلام سپرد کردیںگے۔ یہ فیصلہ ہوچکا ہے اور نیب بھی مولانا فضل الرحمن کے خلاف کاروائیاں تیز کردے گا۔ مولانافضل الرحمن کے داماد کو بھی اٹھائیس (28)جنوری کو طلب کیا ہے”۔

صابر شاکر نے کل تیئس (23)جنوری کو یہ خبر سنائی اور آج مولانا شیرانی نے کسی چیز کا افتتاح کرتے ہوئے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ جمعیت علماء اسلام کی رجسٹریش کیسے ہوئی اور ساتھ میں کہا کہ جمعیت علماء اسلام جمعیت علماء ہند کا تسلسل ہے۔ جمعیت علماء ہند پاکستان کو دھوکہ قرار دے رہی تھی۔ ہماری جمعیت علماء اسلام آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ پاکستان کوئی ملک نہیں ہے محض دھوکہ ہے۔ سوشل میڈیا کی اس ویڈیو میں یہ بات چل رہی تھی کہ کسی نے ویڈیو میں اردو میں وضاحت پیش کردی کہ ہم پاکستان بھر میں اپنی مہم چلائیںگے۔ مولانا شیرانی صاحب کی تقریر پشتو میں تھی اور اے آر وائی (ARY)کا مائک بھی تھا۔ اس سے حکومت اور ریاست اور صابر شاکر کی صحافت کیا نتائج اخذ کرنا چاہتی ہے؟۔ شیرانی صاحب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر بات کی تھی۔

(1) کیا ملک دشمن قوتوں کو پاکستان مخالف بیانیہ دیکر ملک وقوم کی خدمت ہورہی ہے؟۔ اگر یہی ایجنڈہ ہے تو پھرپی ٹی ایم (PTM)کے رہنماؤں کو کیوں گرفتا ر کیا ہواہے؟۔

(2) جب بار بار آئی ایس پی آر کی طرف سے وضاحت ہوتی ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھ رہے ہیں اور سیاست میں مداخلت نہیں کرتے تو یہ کیا پیغام ہے؟۔

(3) اسرائیل کو تسلیم کرنے، بیت المقدس کو یہودکے حوالے کرنے کیلئے پی ٹی آئی (PTI)کی خاتون رکن نے قومی اسمبلی میں تقریر کی تھی تو کیا راہ ہموار کی جارہی ہے؟۔

حکومت زر خرید مولویوں کے ذریعے سے کچھ نہیں کرسکتی ہے لیکن شیرانی نے اگر جھنڈا اٹھالیا ہے تو یہ کسی اور مقاصد کی تکمیل کیلئے نہیں اپنے بلوچستان کی امارت کیلئے اٹھایا ہے۔ حکومت نے اسلام آباد سے بہت سی خواتین ٹیچر کو نوکری سے فارغ کیا ۔ ان کی مشکلات کو ختم کرنے کیلئے ان کی نوکریاں بحال کی جائیں۔ اسٹیل مل کے ڈھیر سارے ملازمین کو بحال کرکے اسٹیل مل کو منافع بخش ادارہ بنایا جائے۔ بلوچستان اور سندھ کے جزائر کو واپس کیا جائے۔ نوکریاں دینے پر رشوت ختم کی جائے۔ مشکلات میں پھنسے لوگوںکی مہنگائی سے جان چھڑانے کیلئے ٹیکس کو کم کیا جائے۔

حکومت اور اپوزیشن ٹام اینڈ جیری کا کھیل ختم کرکے مسائل حل کریں۔ جب عوام اٹھے گی تو ریاست، حکومت اور جعل سازوں کا سیاسی کھیل ختم ہوجائے گا۔ عوام کی مشکلات کے حل پر کسی کی بھی توجہ نہیں ہے۔ مدارس میں حلالہ کے نام پر عزتوں کو کھونے والی خواتین کیساتھ مدارس کے علماء ومفتیان کا ظالمانہ سلوک انتہائی خراب ہے۔ مولانا شیرانی، مولانا فضل الرحمن اور مولانا کفایت اللہ اس کی سزا کھائیں گے۔ حق کیلئے اتنی آواز کسی ٹی وی چینل سے بھی نہیں اُٹھ رہی ہے لیکن وہ وقت قریب ہے کہ انشاء اللہ پاکستان میں اسلامی حکومت ہوگی اور سارے دلال ختم ہوجائیںگے۔

پاکستان میں سیاسی، ملٹری وسول اسٹیبلشمنٹ کے کرپٹ مافیا نے نہ صرف اپنے واجبات وصول کئے ہیں بلکہ پینشن اور بونس کیساتھ بہت کچھ کھالیا ہے۔ تہتر (73) سالوں سے سول وملٹری اور سیاستدانوں کے تمام طبقات میں اچھے سے اچھے لوگوں کی کمی بھی نہیں رہی ہے۔ شیرانی صاحب اچھے انسان ہیں لیکن بڑھاپے کی وجہ سے ابھی اتنی صلاحیت ان میں نہیں رہی ہے کہ کسی جماعت کی قیادت کرسکیں۔ بلوچستان کی عوام کامذہب اور قوم پرستی کی طرف بہت رحجان ہے۔ پاکستان کے اداروں میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ ان کو مطمئن کرسکیں۔ بندوق کے زور پر کسی قوم کو غلام بنانا مشکل ہے۔

پاکستان معاشی اعتبار سے مسائل کا شکار ہے۔ دو روپیہ کی پیشکش پر امریکہ اور عرب کے علاوہ سب کا غلام بننے کیلئے اپنے پر ہمیشہ تولتا رہتا ہے۔ جب برطانیہ نے محسوس کیا کہ برصغیر پاک وہند اس کی حکومت پر بوجھ بنتا جارہاہے تو اس کو آزادی بھی دیدی اور شرمندگی کا داغ لگانے کیلئے یہ شرط لگادی کہ جرمن اور جاپان سے جنگ جیتنے کیلئے یہاں کی افواج قربانیاں دیں گی۔ اس وقت سے لیکر آج تک ہماری فوج بین الاقوامی مشن میں استعمال ہونے کو اپنا اعزاز سمجھتی ہیں۔ بنگال کے اندر سرنڈر ہونا بہت بری بات تھی لیکن بدقسمتی سے وہ داغ بھی لگ گیا اور اس سے زیادہ برا حال اس وقت تھا کہ جب طالبان دہشتگرد اپنی افواج ، پولیس اور عوام کو شہید کررہے تھے اور یہ بے بسی سے صرف دیکھ ہی سکتے تھے۔ اب اللہ نے اپنے فضل سے ایک پرامن فضاء کی صورت بنادی ہے لیکن اس کا فائدہ ہماری قوم اور ریاست نہیں اُٹھارہی ہے۔

پارلیمنٹ مکڑی کے جالوں پر کھڑی ہے اور اپوزیشن بھی مکڑی کے جالوں سے ہی آزاد ہوئی ہے۔ علماء اور مذہبی طبقات بھی مکڑی کے جالوں میں پھنسے ہیںاور جہادی تنظیموں کو بھی مکڑی کے جالوں میں پھنسایا گیا ہے۔ عدالتی نظام اور سول وملٹری کے ادارے مضبوط نہیں بلکہ مکڑی کے جالے ہی ہیں۔ بنگال سے یہاں کے حالات بھی کم نہیں ہیں لیکن کوئی مضبوط تنظیم اور جماعت نہیں ہے۔ آج اگر ہم نے آگ لگنے سے پہلے اپنی قوم اور ملک کو نہیں سنبھالا تو بہت مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ملک میں سارے عوام غلام کی طرح رہتے ہیں اور حکومت وریاست میں شامل لوگ عوام سے بڑھ کر غلامی کی زنجیر میں جتے ہوئے ہیں۔ سودی گردشی قرضے پر قرضہ چڑھ رہاہے۔ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کا معیار یہ ہے کہ جمہور علماء اور اپنے اساتذہ کے برعکس حیلے سے سودی نظام کو اسلامی قرار دے دیا۔ یہ اس قدربے علم اور نالائق ہیں کہ قرآن کے ترجمے بھی غلط لکھ رہے ہیں اور تفسیریں بھی۔

مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ زرداری اور نوازشریف کو چھوڑ کر حکومت کیساتھ مل کر اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام کی اصلاحات لائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں وقت ضائع کرنے کی بجائے درست سفارشات مرتب کی جائیں ۔پارلیمنٹ کی گیلری میں بیٹھ کر بھی درست اسلام کی وضاحت کی جائے تو غیرمسلم اقلیت بھی اس کو قبول کرے گی۔انڈیا کی پارلیمنٹ میں ہندو خاتوں نے قرآن کے مسئلہ طلاق کو سب مذاہب کیلئے قابلِ قبول بلکہ قابلِ تقلید مسئلہ قرار دیا ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

راشد مراد کی کھریاں کھریاں میں مولانا فضل الرحمن کو چھڑیا ںچھڑیاں

راشد مراد کھریاں کھریاں میں ن لیگ کا دلال بن کر مولانا فضل الرحمن سے جہاد کا اعلان کروانا چاہتا ہے لیکن یہ اس کی خام خیالی ہے۔راشد مراد نوازشریف اور مریم نواز کو مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دینے پر کیوں نہیں کہتاہے؟

جب مریم نواز نے شہباز شریف کو عمران خان کا متبادل کہا اور کراچی میں اسرائیل کیخلاف پی ڈی ایم (PDM) کی ریلی میں شرکت نہیں کی تو پیپلزپارٹی کو بھی اپنی سیاست کا پورا پورا حق پہنچتاہے

مولانا فضل الرحمن نے بندوق اُٹھاکر جہاد کرنے کی بات نہیں کی اور جس سیاسی جہاد سے پیچھے ہٹنے کو گناہ قرار دیا تھا ،دونوں پارٹیاں پیچھے ہٹ کر منافقت منافقت ہی کھیل رہی ہیں!

راشد مراد سوشل میڈیا آر ایم ٹی وی (RM.TV) پر بیٹھ کرکھریاں کھریاں کے عنوان سے فوج کیخلاف جہاد کررہا ہے۔ پہلے اس نے پی ٹی ایم (PTM) کے جوانوں اور پٹھانوںکو فوج میں بغاوت کرنے پر اُکسایا تھا اور اب مولانا فضل الرحمن سے مطالبہ کیا کہ فوج کے خلاف جہاد کے اعلان سے پیچھے نہ ہٹے۔ بلکہ واضح اعلان کردے کہ فوج کے خلاف جہاد ہے لیکن راشد مراد نوازشریف اور مریم نواز سے یہ مطالبہ نہیں کرتا ہے البتہ ان کو سیاسی مفادات حاصل کرنے کے گُر سکھاتا ہے اور ان کی ہر غلطی اور منافقت کے کردار پر پردہ ڈالنے کیلئے صرف پیپلزپارٹی کوہی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔

شپیزمائی خان(چاند میاں) پی ٹی ایم (PTM)کے نوجوانوں میں فوج کیخلاف نفرت کے جراثیم ڈال کر پٹھانوں کو افغانستان میں امریکہ کی فوج سے مل کر کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا تھا۔ اب میڈیا سے ایسا غائب ہوا کہ اس کا کوئی سراغ بھی نہیں ملتا ہے۔ مجھے شپیزمائی خان کی بات اچھی لگتی تھی کہ اپنی قوم کی جہالتوں پر گرفت کرتا تھا اور کہتا تھا کہ تاریخ کے لٹیروں کو اپنا ہیرو مت سمجھو اور اپنی جاہلانہ رسم ورواج سے نکل جاؤ۔ باہر ملکوں میں رہنے کی وجہ سے اس میں شعور بھی تھا۔پی ٹی ایم (PTM) والے سمجھ سے بالکل عاری لگتے ہیں۔ پچھلے دنوں آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ پر کراچی میں سوگ منایا تو بہت ہی کم افراد تھے جن میں چند ہمارے وہ ساتھی بھی تھے جو پنجابی اور میمن تھے۔ میری تقریر کے بعد مقررین نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”اس واقعہ پر بلوچ، سندھی ، پنجابی اور دوسری قوم والے سوگ نہیں کرتے ۔ ہمارے غم میںصرف پشتون ہی شریک ہیں”۔ تقریر کرنے والے نوراللہ ترین اور شیرمحمد محسود تھے جو کراچی پی ٹی ایم (PTM)کے کوآرڈینیٹر اور نائب کوآرڈینیٹر ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اس میں کتنے پشتون شریک ہیں؟۔ پی ٹی ایم (PTM)کا ایک رہنما جو بہت اہمیت رکھتا ہے وہ رحمت اللہ محسود بھی ہمارے بلانے پر شریک ہوا تھا۔ مستونگ میںدو سو (200)بلوچوں کا قتل ہوا لیکن میڈیا نوازشریف کی آمد اور شہباز شریف کی طرف سے احتجاجی جلوس کو لاہورکی گلیوں میں گھمانے پر لگا تھا۔

ریاست اور حکومت کو چاہیے کہ جب ن لیگ اور پیپلزپارٹی پی ڈی ایم (PDM)کی تحریک سے پیچھے ہٹ گئے تو مولانا کے پیچھے ہاتھ دھوکے نہ پڑے۔ اگر مولانا فضل الرحمن کو دیوار سے لگانے کے بجائے کھلا چھوڑ دیا جائے تو اقتدار والوں کا فائدہ ہے۔ یہ تأثر دینا کہ جب پی ڈی ایم (PDM)ایک ساتھ تھی تو مولانا پر ہاتھ نہیں ڈالا،اور اب اکیلے ہوگئے ہیں،اسلئے ہاتھ ڈال رہے ہیں ہماری ریاست اور حکومت کیلئے بھی اچھا نہیں ہے۔ اس تأثر میں کوئی حرج نہیں کہ جب ہمیں خطرہ تھا تو نیب سے پکڑوانے کی کوشش کی اور خطرہ ٹل گیا تو مولانا کو گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں۔ جب مولانا آزاد پھریں، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے شکوے کریں تو یہ زیادہ اچھی حکمت عملی ہوگی۔

ایک بونیر کے سادہ لوح لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اس کو کسی نے کہا کہ پچاس (50)روپے کی سی این جی (CNG)بوتل میں ڈالو۔ اس نے پیسے پمپ والے کو دیدئیے اور پمپ والے نے بوتل میںسی این جی (CNG)بھر نے کا ڈرامہ کیا تو وہ سادح لو لیکر چلا گیا۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے بہت سے اینکر اپنی جھولی اُٹھائے اقتدار والوں کی دُم کے پیچھے پیچھے گھومتے ہیں کہ ہوا خارج کرو تو ہم جھولی میں اس کو دبوچ لیں گے۔ راشد مراد کھریاں کھریاں میں اردو کے علاوہ پنجابی میں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو فوج کے خلاف اُکساتا ہے اور اگر مریم نواز اور نوازشریف نے روایتی خاموشی اختیار کرلی اور پھرمولانا کوبھی گرفتار کرلیا گیا تو پاگل مولوی پٹھان اور بیوقوف عمران خان نادان کی لڑائی کا گہرا اثر پنجاب پر بھی پڑے گا۔ ن لیگ کے کرتے دھرتے ، کھریاں کھریاں اور نجم سیٹھی ٹائپ کے لوگ بہت حکمت کیساتھ فوج کی کھال چھیل دیں گے اور معاملات بہت خراب ہوجائیںگے۔ کنٹینروں میں فائل لاکر میڈیا کے اسکرین پر ارشد شریف نے سب کچھ دکھادیا تھا مگر نوازشریف کو پھر بھی ججوںنے اقامہ پر نکال دیا۔ ٹرائل میں ”مجھے کیوں نکالا” سے پارلیمنٹ کی لکھی ہوئی تقریر کا بھی سوال نہیں اور قطری خط سے انکار بھی مان لیا تھا۔

جب نوازشریف اور شہبازشریف سے ایک دھیلا بھی نہ نکالا۔ چوہدری برادران کو کلین چٹ دیدی اور عمران خان کو ریاست کے خلاف بغاوت اور پی ٹی وی (PTV)پر حملے میں گرفتار نہیں کیااور فارن فنڈنگ کیس میں قصور ایجنٹوں پر ڈالنے والے عمران خان کو کلین چٹ دینے کی تیاری ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو جی ایچ کیو پر دھرنے کی دھمکی دینے کی سزا دی جائے تو محمود خان اچکزئی کا بیانہ سچ ثابت ہوگا کہ یہ ملک فوج کیلئے ہے، فوج ملک کیلئے نہیں ہے۔

پھر راشد مراد کو پنجاب ، محمود خان اچکزئی کو جنوبی پشتونخواہ بلوچستان اور اختر مینگل کو بلوچوں کے بلوچستان اور عوامی نیشنل پارٹی کو خیبر پختونخواہ اور سندھ کی قوم پرست پارٹیوں کو سندھ میں اپنے مضبوط بیانیہ کا موقع ملے گا۔ امریکہ اور نیٹو سے جتنا فنڈز القاعدہ اور مجاہدین کومارنے، پکڑکر حوالے کرنے اور قتل کرنے کا ریاستِ پاکستان میں پرویز مشرف نے لیا ہے تو اس سے بڑی غداری اور بے غیرتی کیا ہوسکتی ہے؟ اور کس کے خلاف راہ ہموار ہوگی؟۔

دھرنے کے ذریعے حکومت کو ہٹانا مولانا فضل الرحمن کے حق میں بھی نہ ہوگا کیونکہ اس مرتبہ اس کا صاحبزادہ بھی شاید کامیاب نہ ہو۔ ہمارے اخبار کی وجہ سے ڈیرہ اور ٹانک کے علاوہ جہاں بھی جمعیت کا ووٹ بینک ہے وہاں یہ بات واضح ہے کہ مولوی اقتدار کا حقدار تو بہت دور کی بات ہے اپنے فرائضِ منصبی کا حق بھی ادا نہیں کررہاہے بلکہ اسلام پر مظالم میں بھی انکا ہاتھ ہے۔

مولانا فضل الرحمن کچھ بیروزگار جوانوں کو پرائیویٹ سکیورٹی کے نام پر اپنے ساتھ رکھیں تو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کروڑ نوکریاں نہ سہی مگر چند نوکریاں دینے کا وعدہ تو پورا ہوگا۔ اگر مولانا فضل الرحمن کو نشانہ بنایا گیا تو فیض احمد کی شاعری پھر سے خوامخواہ میں نوجوانوں میں زندہ ہوگی۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والاطواف کو نکلے
نظر چراکے چلے، جسم وجاں بچاکے چلے
ہے اہل دل کیلئے اب یہ نظم بست وکشاد
کہ سنگ وخشت مقید ہیں اور سگ آزاد

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا فضل الرحمن جیسے فرزند مائیں روز روزنہیں جنتی ہیں

مولانا فضل الرحمن جیسے فرزند مائیں روز روزنہیں جنتی ہیں۔قذافی، ملاعمر،بینظیربھٹو اورنوازشریف سے مولانا بڑا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اگر مولانافضل الرحمن نہ ہوتے تو جنرل راحیل اور پاک فوج دہشتگردوں کا خاتمہ نہیں کرسکتی تھی ۔

جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار نہ ہوتا تو پختون دہشتگردوں سے اپنی جان نہیں چھڑا سکتے تھے، مولانا فضل الرحمن کی زندگی جہدِ مسلسل سے اعتدال پر گامزن ہے!

اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کو مولانا شیرانی چلائیںگے۔ صابر شاکر۔ اسلئے کہ شیرانی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کاکہا؟ ،صابر شاکر فوج کوہی نقصان پہنچارہاہے

مولانا فضل الرحمن دینی مدرسہ اوربی اے (BA)کی تعلیم سے اس مقام تک نہیں پہنچے بلکہ اپنی جرأت ، کردار اور ذہانت کی بدولت یہ مقام حاصل کیاہے۔ جب مولانا مسعود اظہر انڈیا کی جیل سے آزاد ہوئے تو اس سے پہلے ایک بار جمعیت طلباء اسلام کے شاہ ولی اللہ کانفرنس میں مولانا مسعود اظہر کو میری وجہ سے تقریر کا موقع دیا گیا۔ مسعود اظہر اس وقت جامعہ بنوری ٹاؤن کا طالب علم میرا دوست تھا۔ اس نے اشارہ کنایہ سے بزرگ علماء کی تعریف کرتے ہوئے جمعیت ف کے مقابلے میں درخواستی کی حمایت میں بات کی۔ جمعیت ف کا طالب علم دوست ناراض ہوا کہ قربانیاں ہم نے دی ہیں اور تقریر کا موقع اس کو دلوادیا، جس نے تمہارا لحاظ بھی نہیں رکھا؟ ۔ میں نے کہا کہ تمہارا پتہ چلتا کہ اس پروگرام میں شرکت کی ہے تو مدرسہ والے نکال بھی دیتے۔ یہ مدرسے والوں پر حجت ہوگئی کہ اس کو نہیں نکالتے اور اچھا ہوا کہ اس نے منافقت کرنے کی بجائے اپنے ضمیر کا کھل کراظہار کیا ہے۔

مولانا مسعود اظہر نے انڈیا سے آزادی کے بعد مولانااعظم طارق کیساتھ تقریریں شروع کیں تو پاکستان میں افغانستان کے طرز پر تحریک طالبان کی طرح امیر المؤمنین بننے کا نقشہ پیش ہورہا تھا۔ مجھے اس وقت اسی دوست نے خط لکھا کہ تمہاری وجہ سے ترقی وعروج کے اس مرتبہ پر مولانا مسعود اظہر پہنچے،اگر شاہ ولی اللہ کانفرنس میں آپ نے دعوتِ خطاب کا جرم نہ کیا ہوتا تو مسعود اظہر کسی کی نظر میں آتا اور نہ یہاں تک پہنچ پاتا۔ اب آپ ہی اس فتنے کا تدارک بھی کیجئے گا۔

میں نے اپنے اخبار ماہنامہ ضرب حق کراچی میںاس پر ایک مضمون لکھتے ہوئے یہ واضح کیا کہ ” مجھے چالیس ایف سی آر کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں ایک چھوٹے سے انقلابی کی حیثیت سے قلم اور کاغذ کی سہولت میسر نہیں تھی بلکہ اس پر سخت پابندی تھی اور مولانا مسعود اظہر کے حالاتِ حاضرہ پر تہاڑ جیل سے مسلسل ضربِ مؤمن کراچی میںمضامین شائع ہورہے ہیں، یہ آئی ایس آئی (ISI) اور بھارت کی را سے بالا بالا امریکی سی آئی اے کا گیم ہے۔ مولانا اظہر کا یہ کہنا کہ تہاڑ جیل میں بارہ (12) سرنگ کھودے گئے تھے جن میں ایک سرنگ میرے سائز کا بھی تھا۔ کیا یہ خالہ جی کا گھر تھا؟ اور مولانا کے سائز کا ایک سرنگ سب کیلئے کافی نہیں تھا؟”۔ یہ تحریر جماعت اسلامی کے امیر اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر قاضی حسین احمد کو بھی بہت پسند آئی تھی۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کوئٹہ میں ضربِ حق کے نمائندے امین اللہ بھائی کا تعارف قاضی حسین احمد سے کروایا توقاضی صاحب بہت پُر جوش انداز میں امین اللہ بھائی سے ملے مگر جب امین اللہ نے سوال کیا کہ ”شیعہ مسلمان ہیں یا کافر؟” تو قاضی صاحب بہت سخت ناراض ہوگئے کہ مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھ لیا؟۔ حالانکہ ملی یکجہتی کونسل کے تحریری معاہدے پرسپاہِ صحابہ اور اہل تشیع کے دستخط تھے کہ” ہم ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کریںگے”۔

جب امریکہ جہاد کی سرپرستی کرتا تھا تو اسرائیل کا بھی وہی سرپرست تھا۔ پھر امریکہ کے خلاف جہاد کا مسئلہ آیا تو مولانا فضل الرحمن کے جھنڈے کے نیچے جماعت اسلامی بھی کھڑی ہوگئی۔ امریکہ کو للکارنا مولانا کی جرأت کا آئینہ تھا۔پھر جب متحدہ تنظیمات المدارس اورمتحدہ مجلس عمل کیلئے شیعہ سنی اتحاد کا فتویٰ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے دیا تو فتویٰ لکھنے والے ہمارے وزیرستان کانیگرم شہر کے پڑوسی مفتی شاہ فیصل برکی تھے۔ بنوری ٹاؤن نے اہل تشیع پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا جس پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے علماء نے دستخط تھے۔ تین (3)وجوہات سے شیعہ کو قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا گیا تھا۔
(1) قرآن کی تحریف کے قائل ہیں۔
(2) صحابہ کرام کی تکفیر کرتے ہیں۔
(3)عقیدۂ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر ہیں۔ جبکہ قادیانی صرف ختم نبوت کی آیت میں تأویل کرتے ہیں۔

میں نے اس پر تبصرہ لکھا تھا کہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی اس اتحاد کی وضاحت کریں کہ اہل تشیع نے اپنے عقائد سے توبہ کی ہے یا پھر انہوں نے غلط فتویٰ لگایا تھا؟۔ اگر دونوں میں سے کوئی بات نہیں تو کیا قادیانیوں کو بھی وہ اس سیاسی اور مدارس کے اتحاد میں شامل کرلیںگے؟۔ مفتی شاہ فیصل برکی نے مجھ سے میرے سکول کبیرپبلک اکیڈمی علاقہ گومل میں تشریف لاکر کہا کہ ”آپ ہمیں کہیں بھی نہیں چھوڑتے۔ شیعہ پر کفر کے فتوے پر مخالف تھے اور اب اتحاد کی بھی مخالفت کرتے ہیں؟” لیکن میرا کہنا تھا کہ میں صرف حق کی بات کرتا ہوں باقی کسی کو کافر قرار دینا یا مسلمان قرار دینا یہ میرا کام نہیں ہے۔ آپ لوگ اسلام کے نام پر عوام کے جذبات سے مت کھیلو”۔

مولانا فضل الرحمن اور اہل مدارس کو سب سے زیادہ خطرہ تنظیم فکر ولی اللہ سے تھا لیکن مولانا عبدالخالق آزاد اور مفتی عبدالقدیر کے دانت بھی میں نے مفتی شاہ فیصل برکی اور دوسرے علماء کے سامنے کراچی میں کٹھے کئے تھے۔

تحریک طالبان عوام کی امنگوں کی اس وقت ترجمان بن گئی کہ جب امریکہ نے افغانستان پر یلغار کردی تھی۔ اگر مولانا فضل الرحمن ایجنسیوں کی راہ پر چلتے ہوئے جہادیوں کی حمایت کرتے تو پاکستان کا کباڑہ ہوچکاہوتا۔ مولانا نے معتدل کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ کو مات دینے کی حمایت جاری رکھی اور تحریک طالبان سے اپنے لوگوں کی بربادی کو بھی بچانے کی اپنی بھرپور کوشش کی۔ طالبان کے حامی مولانا عبدالغنی اور مخالف مولانا محمد خان شیرانی کے درمیان مولانا فضل الرحمن نے میانہ روی کا راستہ اپنایا۔ جب سپاہ صحابہ نے اہل تشیع کا قتل شروع کیا تو مولانا فضل الرحمن نے ہی ان کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور جب تحریک طالبان پاکستان نے دہشتگردی کی تو مولانا فضل الرحمن نے ان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ شاہد مسعود جیسے چند ٹکوں کے صحافیوں نے مولانا کی حمایت کرنے کے بجائے مولانا کی کردار کشی شروع کردی تھی۔

پھر جب جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا تو مولانا فضل الرحمن اور مولانا عطاء الرحمن کے فتوؤں کا اس میں کلیدی کردار تھا۔ ہمارا میڈیا یہ جرأت تو نہیں کرسکتا تھا کہ خراسان کے دجال والی بات کو سامنے لایا جاتا لیکن مولانا عطاء الرحمن کا بیان مشرق پشاور میں چھپا تھا کہ ”سیکیورٹی کے اداروں کی یہ صرف سرکاری ذمہ داری نہیں کہ دہشت گردوں کو قتل کریں بلکہ یہ ان کا شرعی فریضہ بھی ہے”۔ سن(2007ئ) میں یہ کہنا کسی کمزور مائی کے لال کی جرأت نہیں ہوسکتی تھی۔ عمران خان مچھ کے واقعہ پرہزارہ کے پاس کوئٹہ جانے کیلئے تیار نہیں تھا اور مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کے بھرے اجتماع میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا اور جب وہ ہمارے گھر میں اسکے بعد ٹانک سے تعزیت کیلئے آرہے تھے تو اپنے دوستوں نے کہا کہ وہ قتل نہیں کردیں؟۔ مولانا نے کہا کہ میں ان سے نہیں ڈرتا۔ میرے بھائی نے پولیس کو بیٹھک اور آنے جانے والوں کی تلاشی سے منع کردیا کہ مہمانوں کی بے عزتی ہے۔ پولیس والوں نے کہا کہ یہ ہمیں حکم ہے لیکن بھائی نے کہا کہ پھر تعزیت کیلئے مولانا نہ آئیں۔ پھر پولیس نے تلاشی نہیں لی اور مولانا تشریف لائے۔ وہاں بھی خراسان کے دجال والی حدیث دھرائی ۔

مولانا فضل الرحمن کو جتنے جھوٹے طعنوں سے ڈیزل پر بدنام کیا گیامگر یہ کسی کو پتہ نہیں چلا کہ ڈیزل کے پرمٹ سے مولانا سے پہلے اور بعد میں کس نے کتنے پیسے کمائے ہیں؟ مولانا نے متعددمرتبہ تحقیقات کی پیشکش بھی کردی اور ترقی یافتہ ممالک کی عدالتیں ہوتیں تو مولانا کو اس طعنے سے اتنی دولت مل جاتی جتنی دوستوں کی طرف سے ہدیات دینے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ جب نوازشریف پر اسامہ بن لادن سے بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کیلئے رقم لینے کا الزام تھا تو لیبیا کے صدر قذافی نے مولانا فضل الرحمن سے کہاتھا کہ اگر اس نے تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا تو مدرسہ جامعہ معارف الشریعہ کیلئے وہ پیسے نہیں دیںگے۔ مولانا نے پھر بھی تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا۔ حالانکہ مولانا کے قریبی حلقوں کا کہنا تھا کہ صدر قذافی کی پیشکش کرنا اچھا تھا۔

بینظیر بھٹونے امریکہ کے کہنے پرنصیراللہ بابر کے ذریعے طالبان کو تشکیل دیا، مولانا فضل الرحمن بیرون ملک دورے پر گئے۔ ہفت روزہ تکبیر کراچی نے شکایت لکھی کہ پاکستان کو مولانا فضل الرحمن کے کردار کی افغانستان میں ضرورت تھی تو مولانا رفوچکر ہوگئے۔ مولانا نے کابل فتح کرتے وقت ملاعمر سے افغان صدر نجیب اللہ کو پناہ دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ملاعمر نے کہا تھا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں۔جس پر مولانا نے کہا تھا کہ ”ملاعمر کی اس بات سے مارے شرم کے میرے کپڑے اتر گئے ہیں”۔

مولانا فضل الرحمن معمر قذافی، ملاعمر، بینظیر بھٹو اور نوازشریف سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہیں۔ عمران خان بیرونی اور اندرونی قوتوں کا مہرہ ہیںجو ٹکوں کے بھاؤ درجنوں اور کلوکے حساب سے ملتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جیسے فرزند مائیں روز روز نہیں جنتی ہیں۔ مولانا راشد سومرو کے باپ ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید کے مرشد جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف نے جنرل ضیاء الحق کو قادیانی قرار دیکر لاڑکانہ آنے سے روکا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے جنرل ضیاء الحق کے جنازے میں شرکت کی تھی۔ اگر جنرل ضیاء الحق کو علماء ومفتیان کھلے عام قادیانیوں کیخلاف آرڈینینس نافذ کرنے پر مجبور کرسکتے تھے تو جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاک فوج کیخلاف بڑی شدت سے جذباتی لوگ علماء اور مذہبی عوام کو کھڑا کرسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن فرشتہ نہیں انسان ہیں لیکن یہاں کوئی دوسرابھی فرشتہ تو نہیں ہے۔

پاکستان کی ریاست سوشل میڈیا کے ان ٹٹوؤں اور الیکٹرانک میڈیا کے ان کردار کو شٹ اپ کی کال دیں جو پاک فوج زندہ باد کہہ کر اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتے ہیں اور ملک وقوم اور ریاست وعوام میں بدظنی کی فضاء پھیلا رہے ہیں۔ یہی لوگ پاک فوج کو بدنام کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اگر خدانخواستہ مولانا فضل الرحمن حادثاتی طور پر بھی دشمن کے تیر کا شکار ہوجاتے تو مینڈک مافیا کے اس ٹرانے سے حادثہ ایجنسیوں کے کھاتے میں جاسکتا تھا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی