میرا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان و علاقہ گومل ٹانک سے ہے۔ محسود، وزیراور بیٹنی قبائل میں ہمارا خاندان عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ کانیگرم سے تحریک کا آغاز کیا تو ڈاکوؤں کا بڑا زور تھا۔ ایک مرتبہ کراچی سے آنیوالے ساتھیوں کو ٹانک سے کانیگرم کرایہ کی گاڑی پک اپ میں ڈاکوؤں نے روک لیا، ڈرائیور نے میرے والد پیر مقیم شاہ کا نام لیا کہ انکے مہمان ہیں تو ڈاکوؤں نے چھوڑ دیا۔ ہمارا خاندان ڈاکوؤں سے لین دین اور سرپرستی کی ساکھ والا نہ تھا۔ میرے پردادا سیدحسن عرف بابو ؒ کو محسود شمن خیل نے بروند وزیرستان میں اعزازی زمین دی تھی۔ جب انگریز نے برصغیر کو آزاد کرنے کا اعلان کیا تو افغانستان کے امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس کی جیل سے فرار ہوکر آیا، عبدالرزاق بھٹی مرحوم اس وقت کیمونسٹ تھے۔ جسکا تعلق شیخ اوتار ڈبرہ علاقہ گومل سے تھا، وہ امیرامان اللہ کے بیٹے کو بیٹنی خلیفہ دین فقیرکے پاس لیکر گئے،دین فقیر نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کو امیرامان اللہ کا بیٹا مطلوب ہے، صرف محسودقبائل کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ پناہ دیکر دونوں سے بچا سکتے ہیں۔ چنانچہ شمل خیل قبیلے کے سردار رمضان خان نے پناہ دی پھر ایک مرتبہ چھپ کر سفر کررہے تھے کہ حکومت کی مخبری سے ان کو گرفتار کرکے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں قید کیا گیا، اسی دوران عبدالرزاق بھٹی مولانا مودودی ؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرکے مسلمان ہوئے۔1913ء میں اسلامیہ کالج پشاور بنا تھا 1914ء میں والد مرحوم کے چچازاد پیرایوب شاہ ؒ اور دیگر عزیز اسمیں BAکے سٹودنٹ تھے۔ امیرامان اللہ خان نے 1919ء سے 1929ء تک افغانستان پر حکومت کی۔ حکومت کے قیام کیلئے جنوبی وزیرستان کانیگرم میں میرے دادا سیدامیرشاہ باباؒ کے گھر سے تحریک کا آغاز کرنے شام سے ایک عرب پیر سید سعدی شاہ گیلانی آئے، تو اس وقت اس کی داڑھی اور مونچھیں بھی نہ آئی تھیں۔ کانیگرم کے علماء نے ڈھول کی تھاپ پر جلوس نکالا، کہ پیر وں کے پاس انگریز میم آئی ہے، پھر علماء سے کہا گیا کہ طاقت کے زور کو چھوڑو، بیٹھو ، اطمینان کرلو کہ مسئلہ کیاہے؟۔ جب علماء سے عربی ، فارسی میں قرآن وسنت کے علوم پر بات ہوئی توپھر اپنے سگریٹ کے دھویں کو علماء کے چہروں پر سجی داڑھی کی طرف چھوڑ رہا تھا۔ امان اللہ خان کا رشتہ داریہ شامی پیر جرمنی سے رقم لیکر آیا تاکہ افغانستان میں حکومت قائم کی جائے۔پھر علماء اور مشائخ کی قیادت میں ایک بڑا لشکر تشکیل دیا گیا، جس نے افغانستان میں امیر امان اللہ کی حکومت قائم کی۔ افغانستان کا پہلا اخبار پیرایوب شاہ عرف آغاجانؒ کی ادارت میں جاری ہوا۔ انگریز کی سازش سے امیر امان اللہ کا تختہ الٹا گیا،وہ علماء جنہوں نے جانوروں کی طرح سوات میں خواتین فروخت ہونے کی منڈیوں کو کبھی اسلام کے منافی نہیں کہا، انہیں امیرامان خان کی بیوی کا لباس خلاف اسلام لگتا تھا۔ دوسری بار شامی پیر آیا تو راہ میں بمباری کرکے لشکر کو منتشر کیا گیا۔ سید ایوب شاہؒ کو امیرامان اللہ کی بیٹی سے شادی اور مال ودولت کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے انکار کردیا،البتہ اپنے اخبار میں حمایت جاری رکھی اسی وجہ سے افغانستان میں قید کی سزا بھگت لی۔ شامی پیر نے میرے داد کو جانشین و بڑا خلیفہ بنانے کی پیشکش کی مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے گناہوں کو معاف کرادوں تو یہ بہت ہے، آپ کی خلافت کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا‘‘۔ پیرایوب شاہؒ نے جماعتِ اسلامی کا لٹریچر پڑھا تھا اور بہتوں کو جماعت میں شامل کیا، بچپن کے الیکشن میں مَیں نے سب سے پہلے ’’ترازو‘‘ کا نشان اٹھایا۔آزادی کے لیڈرز جرمن امدادسے مالامال تھے۔ محمود اچکزئی کو ہمارے عزیزپیریونس نے یونیورسٹی میں شکست دی تھی۔ جرمنی، فرانس، ناروے، سویڈن، عرب امارات اور چین جانے کا موقع ملا ہے مگرکہیں خواتین و حضرات کو اس قدر ایک دوسرے سے ہڈی پسلی ایک ہونے کی حد تک میل ملاپ نہ دیکھا جیسے خانہ کعبہ میں حجراسود چومنے کے دوران ایکدوسرے سے ملنے کا منظر ہوتا ہے۔ سعودیہ میں جنسی جرائم کی شرح خطرناک ہے، بیرون سے لائی جانے والی خدامہ کیساتھ باپ، بیٹے اور بھائیوں کی مشترکہ جنسی زیادتی حدِ تواتر کو پہنچی ہے اسلئے مسیار کے نام پر متعہ کی قانونی اجازت دی گئی ۔ مفتی عبدالقوی جیسے حلالہ کی لعنت کے خوگر آخرکارسرِ عام رنگ رلیوں سے جنسی تسکین کا فتوی ٰ دینگے۔ 1983ء میں بنوری ٹاؤن ، دارالعلوم کراچی اور جامعہ فاروقیہ سے طلبہ کو سکول کا امتحان دینے کیلئے جمعہ کے دن فاروق اعظم مسجد ناظم آباد میں ٹیوشن پڑھنے کے جرم میں نکالا گیا، جبکہ1923ء میں پیرمبارک شاہ گیلانیؒ فاضل دارالعلوم دیوبند نے کانیگرم وزیرستان میں ’’نوراسلام‘‘ کے نام سے پبلک سکول کھولا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے بڑے معروف استاذ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے مالٹا سے رہائی پانے کے بعد 1920ء میں حکیم اجمل خانؒ کی پرائیوٹ یونیورسٹی کا افتتاح کیا تھا۔ شیخ الہندؒ نے مالٹاکی قید میں تجزیہ کرلیا تھا کہ ’’ مسلم اُمہ کو فرقہ وارانہ درسِ نظامی سے نکالنے اور قرآن کی طرف توجہ میں نجات ہے‘‘۔ اپنے مشن کیلئے علماء ومدارس سے مایوسی اور کالج کے طلبہ کوقرآن کی طرف متوجہ ہونے کی امید کا اظہار کیاتھا۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے مذہبی طبقات سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جابجا لکھاہے کہ ’’ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں، انہوں نے مذہب کو تجارت بنالیا ہے‘‘۔ میں نے بریلوی دیوبندی،جماعت اسلامی ،اہلحدیث اور شیعہ تضادکولیہ سکول کے دورمیں سمجھا، بغاوت کرکے مدارس کا علم حاصل کیا، دارالعلوم کراچی کورنگی میں چند دن کے بعدداخلہ کینسل ہوا، بنوری ٹاؤن پہنچالیکن وہاں داخلے بند تھے، دارالعلوم الاسلامیہ واٹرپمپFBایریامیں داخلہ میں لیا،مولانا یوسف لدھیانویؒ کے درس سے استفادہ کرنے الفلاح مسجد نصیرآباد جاتا،ایک مرتبہ پروفیسر غفور احمدؒ نے بھی وہاں تقریر کی تھی ،حالانکہ مولانا یوسف لدھیانویؒ کی کتاب’’ اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ میں مولانا مودودیؒ کے بارے میں غلام احمد پرویز و غلام احمدقادیانی کا قلم چھین لینے ، انبیاء کرامؑ اور حضرت عائشہؓ سے متعلق گستاخانہ لہجے کے ریمارکس بھی مجھے یاد تھے۔ مولانا لدھیانویؒ سے سنا کہ ’’ قرآن پر حلف نہیں ہوتا، اسلئے کہ یہ نقشِ کلام ہے، اللہ کی کتاب نہیں‘‘ تو مجھے احساس ہواکہ ہم عوام اور علماء کرام کے علم وسمجھ میں بڑا فرق بلکہ کھلا تضاد ہے، جامعہ بنوری ٹاؤن کے پہلے سال میں ایک قابل سمجھنے جانے مولانا عبدالسمیعؒ سے سرِ راہ بحث کا سلسلہ بڑھااور اس نے قرآن منگوایا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے؟، مجھے مولانا لدھیانویؒ کی بات یادآئی اور برجستہ کہا کہ ’’یہ اللہ کی کتاب نہیں بلکہ اس کا نقش ہے!‘‘، مولانا نے مجھے کافر کہا تو میں نے مولانا لدھیانویؒ کا حوالہ دیا، جس پر مجھے الزام دیا کہ’’ تمہارا مقصد دین کی تعلیم نہیں ہمیں ذلیل کرنا ہے، سب کچھ پڑھ کر آئے ہو‘‘۔ اس مباحثہ کو کافی سارے طلبہ نے سنا اور اسکے بعد علامہ تفتازانی کا نامانوس لقب میں نے اپنے لئے طلبہ سے سن لیا۔ حقیقت میں علماء ومفتیان درسِ نظامی کو سمجھنے سے قاصر ہیں صاحبِ ہدایہ نے اللہ کی کتاب کا نقش سمجھ کر ہی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز قرار دیا، مفتی تقی عثمانی نے جانے بوجھے بغیر اپنی کتابوں میں نقل کیا اور پھردباؤ پر نکالا تھا۔ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء کے اجتماع کے اہتمام پر مولانا فضل الرحمن نے میرے سامنے مولانا عطاء اللہ شاہ کو شرکت کا کہا، مگرخفیہ طورپر مولانا عصام الدین محسود کو بھی روکنے کاکہا، یہی وجہ تھی کہ ڈیرہ کے علماء وعدے کے باوجود نہ آئے ۔ٹانک کے علماء سے مولانا فتح خانؒ نے میری وضاحت پر فرمایاکہ ’’میری داڑھی سفید ہوچکی، عتیق کی کیا عمر ہے؟، مگر آج اس جوان نے میری آنکھوں سے پٹیاں کھول دیں ہیں‘‘۔
ہماری قوم بدترین زوال وپستی کا شکار اسلئے ہے کہ سیاسی ومذہبی قیادتیں موروثی بنیادوں پر اپنی نااہلیت کے باجود سب پر مسلط ہیں، اسفندیاراوربلاول زرداری کا کوئی اپنی پارٹی میں ثانی نہ ہو، تو مریم نواز کو بھی ن لیگ کی قیادت سونپ دی جائیگی جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور نواسے کے سلسلوں کی کیفیت رہی ہے، پاکستان کے آئین میں ترمیم ہونی چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتیں ملکی انتخابات میں نااہل ہیں جن کے ہاں موروثی قیادت کا نظام ہے، نوازشریف پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے سعودی عرب چلا جائے اور پاکستان میں بغاوت ، جیل اور بدترین تشدد کا سامنا مخدوم جاوید ہاشمی کر رہا ہو مگر جب نواز شریف کو اقتدار مل جائے توجانشین مریم نوازبن جائے۔ مسلم لیگ ن میں اخلاقی، سیاسی اور انسانی اقدار کا فقدان نہ ہوتا تو یہ ن نہ ہوتی بلکہ اصل مسلم لیگ کا سربراہ جاویدہاشمی بن جاتا۔ جس نے تحریک انصاف میں جاتے ہوئے بھی اعلان کیا تھا کہ میری لاش لیگ کے جھنڈے میں دفن کی جائے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کے اجلاس کا تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا تو بھی حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں صرف 75ارکان اسمبلی تھے ۔ 380ارکان میں سے اتنی کم تعداد کی شرکت کرنا اور ان کی بھی آپس میں مڈ بھیڑ یہ پتہ دیتی ہے کہ ہمارے سیاسی جماعتوں کی قومی معاملات سے کتنی دلچسپی ہے؟۔ بلاول بھٹو زرداری ٹی او آرکے مسئلہ پر اپوزیشن کی حمایت کیلئے مولانا فضل الرحمن سے مدد لینے گئے لیکن الٹا شکار کرنے کے بجائے خود ہی شکار ہوگئے۔ جس طرح اسکے والد آصف علی زرداری پاک فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی کے بعد بیان کے متن کی غلط تشریحات کرتے رہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم نوازشریف اور انکل الطاف کے بارے میں اپنے بیانات کی غلط تشریحات کی اور شیر ڈیزل سے نہیں چلتا ، کی بھی تلافی کرنے کی کوشش کی ۔ ہواؤں کے رخ کو دیکھ کر جو بلاول اپنے باپ کے خلاف شیخ رشید سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا تھا، ایک ملاقات اور ہواؤں کے رخ نے اس کی منزل اور قبلہ وکعبہ کو بدل دیا۔ بلاول بھٹو کی پارٹی میں پھر بھی کچھ تو سیاسی پختگی رکھنے والے رہنما ہیں لیکن پپا جانی کی اسیر مریم نواز کی پارٹی میں چند حاشیہ برداروں کے تسلط کے سوا کیا ہے؟۔ سید ظفر علی شاہ وغیرہ بھی کارنر کردئیے گئے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کیا آئندہ بلاول زرداری اور مریم نواز کے ہاتھوں میں اسلئے ہوگی کہ انکے باپوں کے بڑے کارنامے ہیں؟ بڑی سیاسی بصیرت کے مالک ہیں یا پانامہ لیکس اور سوئس اکاونٹ کے؟۔ جنرل راحیل شریف اور پاک فوج کے دل ودماغ میں جو بات بیٹھ جائے ، اس کو نکالنا آسان نہیں مگر نوازشریف کے بیٹے بیٹیاں ، نواسے پوتے ہیں، نواسی کی شادی ہوئی ، اسکے بھی بچے آجائیں گے لیکن اگر ملک وقوم ، اسلام اور ملت کیلئے قربانی کی بات آجائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس نے نواسے اور نواسی کو سیاسی قیادت کیلئے تیار کرنا ہے مگر اس کی قربانی نہیں دے سکتا۔ الطاف حسین پر کتنے بھی غداری کے الزامات لگائے جائیں ، پھر بھی وہ اپنی اکلوتی بچی کی قربانی اسلام، وقوم وملت اور اپنے ملک کیلئے دے دیگا۔ اسکے پروردہ سید مصطفی کمال اینڈ کمپنی نے بھی قربانی دینے کا فیصلہ کیا اور ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ؤں اور قائد ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی جانوں پر کھیلنے کیلئے میدان میں آئے۔ کراچی کے باسی روزانہ نہ جانے کتنے بڑے پیمانے پر مٹی اور آلودگی کھانے کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سب کرپٹ مافیا کی کارستانی ہے۔ الطاف حسین اور اسکے تربیت یافتہ برگشتہ گروہوں کو کراچی کا مہاجر طبقہ اسلئے بھگت رہا ہے کہ اس کو سانس لینے کی بھی کھلی فضا میں فرصت نہیں اور پانی ، بجلی، روڈوں کی خستہ حالی، ابلتے ہوئے گٹر کے سیلاب ، مہنگائی، بے روزگاری اور مسائل ہی مسائل نے ان کا جینا مرنا دوبھر کردیا ہے۔ دن میں پچاس مرتبہ الطاف قیادت چھوڑنے کی بات کرتا تھا تو ایک مرتبہ ایم کیوایم نے بھی اس کو فارغ ہی کردیا مگر اس سے کراچی کے عوام کے مسائل تو حل نہ ہوئے اور نہ ہونگے۔ کراچی کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بدامنی اور دہشت گردی تھا جس میں ایم کیوایم کا بھی پورا پورا حصہ تھا۔ رینجرز گذشتہ تیس سال سے کراچی کے مسائل حل نہیں کرپارہی تھی اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر پہلے ڈی رینجرز سندھ تھے ، فوج کے خلوص پر پہلے بھی شک نہ تھا لیکن باصلاحیت قیادت کے بغیر خلوص زیادہ کام نہیں آتا۔ پورے ملک اور کراچی میں پرامن فضا پاک فوج کی باصلاحیت قیادت اور خلوص کے نتیجے میں قائم ہے اور اس کو جاری رہنا چاہیے۔ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ ’’ بجلی پر کسی ایک کمپنی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ درست بات ہے لیکن جو سوچ سیاسی قیادت کی ہونی چاہیے ، اس کا اظہار پاک فوج کے ذمہ دار کی زبان سے ہورہا ہے۔ سیاستدان کو ملک وقوم کی فلاح وبہبود سے دلچسپی ہوتی تو آج پاکستان میں بجلی سستی ، سڑکوں کی حالت بہتر، تعلیم و صحت کے شعبوں میں ترقی اور داخلی و خارجہ پالیسی مثالی ہوتی، آئی ایم ایف کا اسحاق ڈار کو ایوارڈ دینا قابلِ شرم ہے کہ جس سے جان چھڑانے کا دعویٰ کیا وہی گلے پڑگیا
میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے یہ تأثر مل رہاہے کہ جنرل راحیل کے جانے کا وقت بالکل قریب میں ٹھہرگیاہے لیکن پاک فوج نے ان کی قیادت میں جو مثالی کردار اداکیا ہے، پوری قوم پر احسان کا فرض چکانے کا وقت آگیاہے،جنرل راحیل شریف نہ ہوتے تو نوازشریف کیا عمران خان کے وزیراعظم کی باری لگتی تب بھی دہشت گردی سیچھٹکارا نہ ملتا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت محترمہ بے نظیربھٹو شہید اور اے این پی کے رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین نہ پیش کرنا بڑی زیادتی ہے، ایم کیوایم نے بھی طالبان کیخلاف جو جاندارآواز اٹھائی تھی وہ بھی قابلِ ستائش تھی مگر کراچی میں ایم کیوایم کا ٹارگٹ کلر ونگ اور پیپلز پارٹی کی امن کمیٹی نے طالبان سے زیادہ بدامنی پھیلانے کا ارتکاب کیا، کورٹ نے سارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مسلح ونگ اور بھتہ خور مافیہ کی ٹھیک نشاندہی کی ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کو عالمی اور بھارتی سپورٹ کے علاوہ مسلم لیگ ن سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوساٹیز کے نام پر این جی اوز کی حمایت بھی حاصل رہی، حالانکہ وہاں آزادی کے نام پر سیاسی جدوجہدکے بجائے بدترین قسم کی دہشت گردی ہورہی تھی۔ پورے ملک میں ہرقسم کی دہشت گردی کو پاک فوج نے جنرل راحیل کی قیادت میں بہت جرأت، بہادری اور حکمت کیساتھ سے ختم کرکے سیاستدانوں کیلئے ایک بہترین فضاء بنائی ہے لیکن دہشت گردوں نے وقتی طور سے چپ کی سادھ لی ہے، فوج کی طرف سے باگ ڈھیلی ہونے کی دیر ہے، یہ پھر اسی زور وشور سے پاکستان کو دیمک زدہ بناکر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے چکر میں ہیں، نوازشریف اور مودی عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر پاکستان اور بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے نظر آتے ہیں۔ آج اعلان ہوجائے کہ کشمیر الگ ملک ہے، پختون ، بلوچ ، سندھ، کراچی اور پنجاب الگ الگ ممالک ہیں تو نوازشریف کو اور نوازشریف کے کھلم کھلا اور درپردہ یاروں کو بڑی خوشی ہوگی۔ مودی بھارتی پنجاب کے سکھوں سے عالمی ایجنڈے کے تحت جان چھڑانے کی کوشش میں ہے اور نوازشریف نے مغل بادشاہوں اور راجہ رنجیت سنگھ کے طرز پر گریٹر پنجاب کا خوب دیکھ رکھا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سیاستدانوں نے پاک فوج کو بھی کرپشن کا شہد چٹا دیاہے ، سیاستدانوں کی طرح فوج بھی کرپشن سے پاک نہیں لیکن فوج کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے، فوج کی تربیت پاکستانی سرحدات کی حفاظت اور حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہوکر کی گئی ہے، پنجاب کے لوگوں میں سب سے بڑی خوبی جمود کا شکار نہ ہوناہے مگر ان کی سب سے بڑی خامی پیسیوں کی ریل پیل کا انکے سر پر سوار ہوناہے۔ ہر وقت ایک ہی دھن کہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟۔ یہ لالچ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کو ایک کرکے عالمی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مودی انتہاپسند ہندو ہے وہ پنجاب کے کم عقل سکھوں اور پاکستانی فوج سے جان چھڑانے کیلئے یہ قربانی دینے کا جذبہ رکھتاہے۔ محب وطن بھارتی رہنما لالوپرشادیو نے بیان دیا کہ ’’ کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے‘‘۔ تو میڈیا پر ایک جھلک کے بعد یہ خبر غائب کردی گئی۔ میڈیا زرخرید لونڈی جیسی حیثیت رکھتا ہے جس کی کھائے اس کی گائے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات اب نہ رہی۔ میڈیا کا مالک سودابازی یا اپنے عزائم کی تکمیل کی پالیسی بنالیتاہے، ملازمین کو اس کی خواہش کے مطابق چلنا پڑتاہے۔ سیاسی جماعتیں بھی سیاست نہیں تجارت کرتی ہیں۔ جب پاک فوج کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی تھی، تب بھی ہم نے بفضل تعالیٰ اپنا فرض پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، اخبار کے ادارئیے ، بڑی شہ سرخیاں اورآرٹیکل اسکے گواہ ہیں، طاقت کے حصول کیلئے دم ہلانے والے سیاستدان کتوں سے زیادہ برے لگتے ہیں لیکن اب حب الوطنی کا یہ تقاضہ ہے کہ کرپٹ، تاجر، ضمیر فروش ، اخلاقی دیوالیہ پن کے شکار اور اسلام و ملک سے بے وفائی کرنے والے حکمرانوں کو بے نقاب کیا جائے۔ عمران خان نے جو الفاظ شیخ رشید کیلئے استعمال کئے تھے ، اس سے زیادہ عمران خان خود بھی برے ہیں مگر اس وقت ان کی آواز سب سیاستدانوں کے مقابلہ زبردست ہے، کراچی وسندھ سے ایم کیوایم و پیپلزپارٹی ، بلوچستان سے بلوچ رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور مولانا محمد خان شیرانی کی صوبائی جمعیت اور پختونخواہ سے مولانا فضل الرحمن و اے این پی کے رہنما قومی سطح کے معاملات کرپشن اور بے انصافی پراگر اس اہم وقت میں نوازشریف پر دباؤ بڑھانے کیلئے اٹھ جاتے تو دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب کو بھی غنڈہ گردی سے پاک کردیا جاتا، اصغر خان کیس کے جرم میں مجرموں کو سزا ہوجاتی، جنرل پرویز اشفاق کیانی کی طرح جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہوتی تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوجاتی ۔ نوازشریف نے پہلے بھی دھوکے دئیے ہیں اور مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا ہے۔مسلم لیگ(ن) کیلئے بھی جنرل راحیل ایک بہترین جرنیل ہیں جو حکومت کیخلاف سازش نہیں کرتے لیکن نوازشریف کو اپنے لئے ایک تابعدار جنرل کی ضرورت ہے گر یہ خواہش پوری ہوئی تو بہت برا ہوگا۔
مال ودولت ، اسٹیبلشمنٹ ، موروثیت کی پیداوار کی قیادت میں قومی ایکشن پلان کے ان نکات پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت ہی نہ نہیں جو حکومت سے متعلق ہیں اسلئے وقت ختم ہوگیا مگر سنجیدہ کوشش پرصرف غورہی کیا جارہاہے
قومی ایکشن پلان سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے تشکیل دیا گیا لیکن آخری وقت تک اسکے ان کو نکات کو سنجیدگی سے نہ لیاگیا جن کا تعلق سیاسی حکو مت سے تھا، کیونکہ دہشت گردی کیخلاف ذہن سازی کی مطلوبہ صلاحیت حکمرانوں میں موجودنہ تھی اور اپوزیشن رہنما بھی یکسر محروم دکھائی دیتے ہیں، اسلئے فوج کی تشویش کاخاطر خواہ جواب کسی سے نہیں بن پڑا، کور کمانڈرکے اجلاس میں جب بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تو حکومت اپنی غلطی مان لینے کی بجائے سیخ پا ہوجاتی رہی ہے۔ حکومت، جمہوریت اور نوازشریف کے زبردست وکیل جیوکے معروف صحافی نجم سیٹھی نے کہا کہ ’’ طالبان، جہادی تنظیمیں، سپاہ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی وغیرہ کی قوت 10فیصد سے بھی کم اور مدارس ،مذہبی سیاسی جماعتوں جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان اور جماعت اسلامی کی طاقت90فیصد سے زیادہ ہے، اسلئے ان پر قومی ایکشن پلان کے تحت ہاتھ ڈالنے سے اسٹیبلشمنٹ،حکومت اور عدلیہ سب ہی ڈرتے ہیں۔قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق اسلئے عمل نہیں ہوسکتاہے‘‘۔ معاشرے کے ہر طبقہ میں شریف اور بدمعاش ہوتے ہیں، محلہ کے دو، تین بدمعاش سینکڑوں شریفوں پر حاوی رہتے ہیں ، ریاست کا کام یہی ہوتا ہے کہ بدمعاشی کے کردار کا خاتمہ کرکے انسانیت، شرافت اور اخلاقی اقدار کی حکمرانی قائم کی جائے۔ پاک فوج نے کراچی میں ایم کیوایم ، پختونخواہ میں طالبان اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی دہشت کا خاتمہ کرکے پاکستان کے کونے کونے میں ریاست کی رٹ بحال کردی لیکن پنجاب میں روایتی بدمعاشی بحال ہے۔ طالبان ، ایم کیوایم کے کارکن اور بلوچ قوم پرست ن لیگ اور تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی طرح کلہاڑی اور ڈنڈے لیکر اپنی قوت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے ۔ قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا تو بہت سے لیگی اور تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن روایتی لب ولہجے اور دہشت پسندی کے باعث پنجاب رینجرز کے حوالے ہوجاتے، پھر وہ بھی ایم کیوایم کی طرح ریاست کی رٹ مان کر عاجزانہ گفتگو پر مجبور ہوجاتے۔ جنرل راحیل شریف میں جرأت وبہادری ہے وہ پنجاب کے گلوبٹوں سے بھی طالبان، ایم کیوایم اور بلوچ قوم پرستوں کی طرح نمٹ سکتے ہیں مگر بھاری بھرکم پیسہ، جمہوریت سے زیادہ نوازشریف کی ذاتی فکر اور پاک فوج سے بدظنی کا یہ نتیجہ ہے کہ ن لیگ کی حکومت قانون، اخلاق اور کردار کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتی ہے۔ ماڈل گرل ایان علی کے مقابلہ میں مریم نواز شریف زیادہ تفتیش کے قابل ہے، ڈاکٹر عاصم کے مقابلہ میں اسحاق ڈار نے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا ہے اور یوسف رضاگیلانی کا جرم اتنا بڑا نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کو عدالت نے نااہل قرار دیا ، جتنا نوازشریف کاہے اصغر خان کیس میں جمہوریت کے خلاف سازش اور پانامہ لیکس سے راہِ فرار اختیار کرنے میں۔ 16سال بعد اصغر خان کیس میں شریک ملزموں کو باقاعدہ مجرم قرار دیا مگر اس سے رقوم کی واپسی اور نااہل ہونے کی سزا نہیں دی گئی۔ جنرل راحیل شریف اور چیف جسٹس اپنے وقت پر رخصت ہوجائیں اور پاکستان کی ریاست میں نوازشریف کیساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو دوسروں کیساتھ ہوا ہے تو چوہدری افتخار کی طرح تعریف کرنے والے تنقید کرتے پھریں گے اور ان کی زبانوں کو روکنے کیلئے ہتک عزت کے دعوے کام نہ آئینگے۔ قوم کا اجتماعی ضمیر یہ تقاضہ کرتا ہے کہ طاقتوروں اور کمزوروں کو یکساں انصاف کے فراہم کرنے میں سب سے بڑا کردار جمہوری حکومت کا ہونا چاہیے لیکن جب جمہوریت کا اپنا سیٹ اپ غیر جمہوری ہوگا، مشاہداللہ خان، سعد رفیق، خواجہ آصف اور دیگر رہنما ؤں کو بی بی مریم نواز کے سامنے وہ اہمیت حاصل نہ ہو ، جسکے وہ مستحق ہیں اور وہ وزارتوں اور اپنے مفادات کے چکر میں اس پر راضی ہوں۔ بلاول زردای کے سامنے چودھری اعتزاز حسن، قمرزمان کائرہ، افضل چن وغیرہ سر نگوں ہوں تو عوام کو کونسی جمہوریت کا پیغام دینگے؟۔ کیا گھوڑے، گدھے اور کتے کو جعلی ڈگری کی طرح بھاری بھرکم پیسے دیکر موجودہ انتخابی نظام میں نہیں جتوایا جاسکتاہے؟، اس کا تجربہ کرکے دیکھ لیا جائے تو ضرور کامیاب ہوگا۔یقینی طورسے مارشل لاء مسائل کا حل نہیں لیکن جمہوری قوتیں عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ماضی میں بھی مارشل لاء کو روکنے کیلئے عوام نے اسلئے کوئی قربانی نہ دی کہ جمہوری حکومتیں جن جمہوری جماعتوں کی وجہ سے برسرِ اقتدار تھیں، ان میں بذات خود جمہوریت کی روح نہیں تھی۔ اب دن بدن مزید معاملہ تنزلی کی طرف ہی جارہا ہے۔ اگر جمہوری قوتوں نے قانون کی حکمرانی قائم نہ کی اور مارشل لاء کے ذریعہ سے بھی اس ملک کو سیدھی راہ پر لگانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی تو کراچی، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں پھر دہشت پسند بھی آزاد ہوکر اپنے لئے ان جمہوری جماعتوں سے انصاف مانگ لیں گے جن کے ساتھ مل کر پاک فوج نے ان کو کنارے لگایا تھا، پھر اس ملک کی بدحالی کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔ ن لیگ نے سوئس اکاونٹ پر جس طرح تقریریں کیں، اب پانامہ لیکس پر دوسروں کو دھمکانے اور الزام لگانے کی بجائے کھلے دل سے جرم کی سزا کھانی چاہیے۔
ہندو کے بارے میں مشہور تھا کہ ’’ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘، مودی سرکار نے اس کا بالکل الٹا نقشہ پیش کرتے ہوئے ایک ایسے موقع پر جب وزیراعظم نوازشریف نے کشمیر میں مظالم اور بھارتی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی تھی، اس عین موقع پر مودی نے سر پر دوپٹہ باندھ کر دھوتی سے باہر آنے کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ جب پاکستان کے دفاعی بجٹ کے برابر پاکستان سے بھارت پیسہ منتقل ہورہا ہے تو افواج پاکستان کے برابر مودی سرکار کو نوازحکومت کی فکر ضرور ہوگی اور جو کبوتر نوازشریف کی طرف سے مودی سرکار کے پاس پیغام لے کر گیا ہے یہ وہ منافقت کا کبوتر ہوسکتا ہے جو مودی سرکار نوازشریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر ہی چھوڑ کر گیاہو، کچھ دن پہلے دبئی سے پاکستان لائے جانے والے جن کبوتروں کی خبر میڈیا کی زینت بنی تھی ان بھی بھارتی کبوتروں کی اسمگلنگ کا معاملہ ہوسکتاہے۔
پچھلے دنوں سندھ میں جمعیت علماء اسلام نے ڈاکٹر خالد سومرو شہید کے قاتلوں کا مقدمہ فوجی عدالتوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے کیلئے کراچی میں مظاہرہ کیا تو اس میں پچاس بسیں تھرپارکر جیسے قحط زدہ علاقے سے لانے کی بات جے یوآئی ف کورنگی کے ذمہ داروں مولانا سیدعالم انصاری وغیرہ نے دارالعلوم کراچی کے پاس اجلاس میں کیا، یہ سب نوازشریف ہی کی طرف سے خرچے کا اہتمام لگتاہے،یہ تو ہوسکتاہے کہ بلوچستان کے وزراء اپنی حرام کی کمائی سے جمعیت علماء اسلام ف کے جلسوں کو کامیاب کریں لیکن سندھ والوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ یہ فوج کو اپنی قوت دکھانے کا مظاہرہ ہے، مفتی تقی عثمانی نے ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ کاساتھ دیا مگر اب اسحاق ڈار کیساتھ روابط کے نتیجے میں ترکی میں فوج کی ناکامی پر یکجہتی کا پیغام دیا گیا، مولانا فضل الرحمن نے دیر میں جلسہ کیا تو سعودیہ کی رقم کھا جانے اور قبائلی عوام کوان کی مرضی کے مطابق نظام دینے کی بات کی۔ جس نوازشریف سے پیسہ لیکر جلسہ کیا گیا اسی کیخلاف غلطی سے ’’گونواز گو‘‘ کے نعرے لگے تو جیو ٹی وی چینل نے دکھائے لیکن صحافیوں نے مولانا فضل الرحمن سے یہ سوال نہیں کیا کہ قبائلی علاقوں کے کسی نمائندے کو حکومت نے اپنی کمیٹی میں شامل نہیں کیاہے تو اس سے بڑھ کر حکومت کا قبائل کیساتھ ظلم کیا ہوسکتاہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اس کا یہی جواب دیتا کہ یہ سوال قبائلیوں کا حق بنتا ہے کہ اٹھائیں، میں تو قبائلی نہیں ہوں، سلیم صافی قبائلی ہیں وہ یہ سوال اٹھارہے ہیں یہ ان کا حق بنتاہے، البتہ یہ صحافیوں کا کام نہیں سیاستدانوں کا کام ہے، مسلم لیگ کے قبائلی رہنما تو یہ سوال اٹھانہیں رہے اور ہم ان کے اتحادی ہیں اسلئے ہم بھی نہیں اٹھارہے ہیں۔ تحریک انصاف والوں کو بات کرنے کاحق ہے لیکن حکومت سنے یا نہ سنے یہ حکومت کا حق ہے۔ میراکام تواپنی جیب بھرنا ہے ، باقی قبائلی بھاڑ میں جائیں، میں صرف شرارت کرکے اپنا پیسہ حلال کرسکتاہوں جو نوازشریف نے عنایت فرمایا ہے، اسکے بدلہ میں کہہ سکتا ہوں کہ فوج نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن نہیں کیا ہے بلکہ قبائلی عوام کیخلاف کیا ہے، جس سے قبائل اور نوازشریف دونوں خوش ہونگے اور فوج پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ مولانافضل الرحمن سے سوال کیا جاتا کہ وزیراعظم نوازشریف نے عیدالفطر کو لندن میں پاکستان سے ایک دن پہلے سعودی عرب کیساتھ منایا اور عیدالاضحی کو اسکے بالکل برعکس امریکہ میں سعودیہ کے ایک دن پاکستان کیساتھ منایا، اس کی وجہ کیا تھی؟ مولانا فضل الرحمن فی البدیہ کہہ دیگا کہ مجھے نوازشریف کی وکالت کرنی ہے، اسلئے یہ راستے بنانے کیلئے مدلل شرعی مسائل بتانے پڑیں گے۔ جاویداحمد غامدی سے بھی یہ پوچھ لیا جائے تو وہ کہہ دینگے کہ یہ عوام اور علماء کی صوابدید کا مسئلہ نہیں ہے، یہ فیصلہ تو حکومت نے کرنا ہوتا ہے، لندن اور امریکہ میں جن کی حکمرانی ہے، اوباما وغیرہ ، عید کا فیصلہ وہاں انہوں نے ہی کرنا ہوتا ہے، لہٰذا نوازشریف نے عیدالفطر پاکستان سے ایک دن پہلے سعودیہ اور عیدالاضحی ایک دن بعد سعودیہ کے بعد پاکستان کیساتھ ٹھیک منائی۔ مفتی اعظم پاکستان بریلوی اور چیئرمین ہلال کمیٹی پاکستان مفتی منیب الرحمن اور مفتی اعظم پاکستان دیوبندی مفتی رفیع عثمانی بھی یہ فتویٰ دیں گے کہ مسئلہ یہی ہے اور پھر کسی اور کا فتویٰ نہیں چلے گا۔ اگر عمران خان بک بک کرے تو اس نے بھی اپنی صوبائی رویت کے مسئلہ میں حکومت کا جبر قبول کرلیا، پاکستان میں اتحاد سے عیدیں منائی گئیں۔ جب تک اقوام متحدہ کسی ملک کو تسلیم نہ کرے ، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور اقوام متحدہ میں مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ کا بنیادی کردار ہے، ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ و برطانیہ نے ہماری عیدوں میں بھی دلچسپی لینی شروع کردی ہے، سودی نظام کو اسلامی بنانے میں بھی انہی کی مہربانی ہے اور اسلامی خلافت کے قیام کی کوشش بھی انہی کی مرہونِ منت ہوگی۔ پاکستان کے سابق صدرپرویزمشرف نے کہا کہ ’’ امریکہ نے ہمیں استعمال کیا اور ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے‘‘۔ یہ غلط بات ہے، پاکستان نے اپنی مجبوری اور مفاد کی خاطر امریکہ کا ساتھ دیاتھا، اب امریکہ کا مفاد بھارت کیساتھ ہے تو بھارت ہی کا ساتھ دے گا۔ ہمارے حکمرانوں میں سیاسی حکمت عملی کا فقدان ہے، کل توشریف براداران کو زرداری کے سوئس اکاونٹ کیخلاف آواز اٹھانے میں کوئی جمہوریت کے خلاف سازش نظر نہیں آتی تھی مگر آج پانامہ لیکس میں نوازشریف کی کمپنیوں پر سازش نظر آتی ہے۔ عدالت نے تو زرداری کو بھی گیارہ سال تک قید میں رکھنے کے باوجود کوئی سزا نہیں دی تھی۔ اگر شریف برادری کو پاکستان سے محبت ہے تو دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے اپنے بچوں کو دولت سمیت پاکستان لائیں۔ پاکستان کی میڈیا کو اگر جمہوریت کی حمایت ،اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور قانون کی حکمرانی کا خیال ہو تو 16سال بعد سپریم کورٹ نے اسلامی جمہوری اتحاد کا جرم عدالت میں ثابت کردیا، یوسف رضاگیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہلی کی سزا دی جائے۔ عدلیہ بحالی تحریک سے زیادہ قانون کی حکمرانی کیلئے اس تحریک کی جان ہوگی،اسلئے افتخار چوہدری نے پہلے خود بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ عدالت کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر لاہور سے جی ٹی روڈ اور ساہیوال سے فیصل آبادکے راستے موٹروے، کوئٹہ سے ڈیرہ غازی خان کے راستے کراچی سے ملتان کے راستے اورپشاور سے اسلام آباد کیطرف ہلکا پھلکا مارچ کریں تو حکومت قانون کے سامنے گھٹنے ٹیکنے میں دیر نہیں لگائے گی۔ لوڈشیڈنگ کاوعدہ حکومت نے پورانہ کیا۔ عمران خان کی تقریرپر کیبل آپریٹر کی کارستانیاں بھی رہیں۔
شیعہ سنی فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیموں تحریکِ جعفریہ و سپاہ صحابہ ،سپاہِ محمداور لشکرِ جھنگوی، جہادی اور دہشت گرد تنظیموں نے پنجاب ہی سے جنم لیا تھا، پورے پاکستان میں فوج نے دہشت گردی کیخلاف بھرپور اقدامات کئے لیکن پنجاب کوضربِ عضب (نبیﷺ کی تلوار) کی ضرورت پر بحث مباحثہ رہا پنجاب کو قدرت نے مذہبی آزادی کی بھرپور انسانی و اسلامی فطرت ودیعت فرمائی، پنجاب کے برعکس پاکستان کے دیگر صوبے اس نعمت سے محروم ہیں، اقبالؒ نے پنجابی مسلمان کوکہا مذہبی جدت پسند، یہ شاخ نشیمن سے اترتا بہت جلد، تحقیق کی بازی ہوتو شرکت نہیں کرتا، ہوکھیل مریدی کا توہرتابہت جلد
تقسیم ہند کے وقت زیادہ مظالم پنجاب کے سکھوں نے مسلمانوں پر ڈھائے۔ والدین اور اساتذہ سے مار کھانے والے کی سخت مزاجی فطری ہوتی ہے
پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان اپنی بیتی کے نتیجہ میں نظریاتی مخالفین اور اقلیتی صوبوں سے وہ سلوک نہ کریں،جو سکھوں نے انکی امی اور ابو کیساتھ کیاتھا
پاکستان کے دیگر صوبوں اور علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کی آبادی زیادہ ہے۔ پنجاب کی عوام محنت کش، ذہین، جذباتی، سیاسی شعوراور مذہبی لحاظ سے پاکستان میں ’پہلے نمبر‘ کی حقدار ہے۔ علامہ اقبالؒ ، پیر مہر علی شاہ ؒ گولڑہ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ،فیض احمد فیضؒ ، حبیب جالبؒ ،نوابزادہ نصراللہ خانؒ ،شاکر شجاع آبادی اور دیگر شخصیات نے جنم لیا۔ میرا مقصد ایسے بنیادی نکات کو سامنے لانا ہے جن سے پنجاب میں خاص طورسے اور پاکستان میں عام طورسے مذہبی اور سیاسی شعور بیدار ہو۔ علامہ اقبالؒ کولوگ سیاسی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو مذہبی سمجھتے ہیں ، حالانکہ علامہ اقبالؒ سیاست سے زیادہ مذہب کے علمبردار تھے اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مذہب سے زیادہ سیاست کے علمبردار تھے، یہ حقیقت سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جب برطانیہ کی سلطنت پر دنیا میں سورج غروب نہ ہوتا تھااور دنیا بھر میں بالعموم اور برصغیر پاکستان میں برٹش امپائر کی غلامی کیخلاف جد وجہد جاری تھی تو علامہ اقبالؒ نے دس سال، دس مہینے، دس ہفتے، دس دن ، دس گھنٹے، دس منٹ کیا دس سیکنڈ بھی برطانیہ کیخلاف جدوجہد میں برطانیہ کی قید میں نہ گزارے مگر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے دس سال جیل میں گزاردئیے۔ بخاریؒ نے چیخ چیخ قائداعظم ؒ محمد علی جناح کو مشرقی اور مغربی پاکستان کا نقشہ جلسۂ عام میں کلہاڑی کی مدد سے سمجھایا کہ دونوں کے درمیان بھارت حائل ہوگا، ہماری بری بحری اور فضائی افواج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گی، بنگال پر بھارت قبضہ نہیں کرسکتا، اسے الگ آزاد ملک بننے دو، پورا پنجاب لے لو، بمبئی تک سندھ لے لواور کشمیر کا مسئلہ سب سے پہلے حل کرو، یہ برطانیہ کی سازش ہے، ’’لڑاو اور حکومت کرو‘‘ کی جس پالیسی کے تحت انگریز نے قبضہ کیا، وہ پھر دوہرایا جائیگا اور ان کی بات آج سوفیصد درست نکلی۔ ان کی بات مان لی جاتی تو آج ہمارے حالات بھی بہت مختلف ہوتے، جنرل ایوب خانؒ کے زمانہ میں پاکستان نے جرمنی کو قرضہ دیا تھا، اس ملک کو بھٹو نے دولخت کیا، جنرل ضیاء الحق نے باقی ماندہ کو بھی ذبح کردیا۔نوازشریف اور زرداری کمپنیوں نے اس کی کھال اتاری، عمران اور طاہر القادری اس کوتکہ بوٹی کرنے کے درپے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاست کو بنیاد سے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ تھا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے سیاسی نظریات کو پنجاب میں دفن کیا گیا اور انکے مذہبی کردارکا روپ قوم کے سامنے رہا، نوابزادہ نصراللہ خانؒ نے بھی اپنی سیاست کا آغاز ’’مجلسِ احرار‘‘ سے کیا تھا، اسی کے تربیت یافتہ تھے،جب وہ جنرل ضیاء کی زندگی میں ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) میں بیش بہا قربانیاں دینے کے باجود پہلی مرتبہ جنرل ضیاء کے جانشین غلام اسحاق خان کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے تو سرکار اور اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ جماعتوں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے علاوہ اصول پسندی کی علمبردار جماعت ’’پیپلزپارٹی ‘‘ کی بے مثال قائدآنسہ بینظیر بھٹو نے بھی نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلہ میں غلام اسحاق خان کو ووٹ دئیے۔ مولانا فضل الرحمن کی ضرورت نہ ہوگی ورنہ اس کو بھی شہد چٹا دیا جاتا تو اپنے اصول بھول جاتا، یہ الگ بات ہے کہ غلام اسحاق خان نے پھر نوازشریف کی کرپشن بھی برداشت نہ کی اور اس وقت دونوں کی کرپشن کو بھانپ کر دونوں کی حکومتوں کو چلتا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وضاحت فرمائی ہے کہ’’ دین میں جبروزبردستی نہیں ہے‘‘۔ پنجاب کا یہ بہت بڑا کمال ہے کہ اللہ نے اس کو یہ حسین فطرت ودیعت کی ہے کہ دین میں زبردستی والے معاملہ کا تصور نہیں سمجھتے۔علامہ عنایت اللہ مشرقی، غلام احمد قادیانی، غلام احمد پرویز، مولانامودوی اورلاتعداد قسم کے مولوی ، پیرفقیر اور مذہب کے روپ میں رہنے والوں کو پنجاب کے وسیع دامن میں پناہ ملی۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی سیاست اور عدم تشدد کے علمبردار تھے ،اسلئے ان کا صرف نام ہی باقی رہا۔ غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کی ذہنیت خالص مذہبی تھی اسلئے ان کو پنپنے کا خوب موقع ملا۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی غیرسیاسی خالص مذہبی ہیں اسلئے یاجوج ماجوج کی طرح بڑھ رہے ہیں اور انتہاپسند انہ اور احمقانہ نظریات کی ترویج کررہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے اپنے مذہبی روپ کو سیاست میں بدل ڈالا، تو اس کادائرہ سکڑگیا اور مخصوص حلقوں اور افراد تک محدود ہوگئی، رہی سہی جو ساکھ تھی اور قاضی حسین احمدمرحوم نے طبلے بجاکر تباہ کی۔ جن کو روس کے گورباچوف سے جماعتِ اسلامی کو تباہ کرنے کیلئے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مذہب کیلئے پنجاب کی زمین زرخیز اور سیاست کیلئے سخت اور بنجر اسلئے ہے کہ سیاست میں مذہب کی طرح رواداری کی فضاء نہیں ،مذہبی جماعتِ اسلامی سیاسی بن گئی تو پنجاب کے کالجوں ا ور یونیورسٹیوں سے ملک بھر میں بدترین تشدد کی روایت ڈال دی۔ تحریک انصاف کے عمران خان کیساتھ ایم کیوایم اور طالبان نے کوئی ذاتی زیادتی نہیں کی لیکن کراچی یونیورسٹی میں عمران خان کیساتھ اسلامی جمعیت طلبہ نے جو کچھ کیا ، اس کا میں چشم دید گواہ ہوں، میں اپنی گاڑی میں عمران خان کو لیکر گیا تھا، وہاں سے جس طرح الٹے پاؤں بھاگنا پڑا، میری گاڑی کا شیشہ بھی توڑدیا گیا۔ پنجاب کے اندر تو عمران خان کو سنا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ والوں نے الف ننگا کردیا تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنما امیرالعظیم کی اپیل پر بھی نہیں چھوڑا جارہا تھا جس پر انہوں نے شرمندگی کا بھی اظہار کیاتھا۔
عمران خان نے رائیونڈ جلسہ میں مذہب کا ہتھیار استعمال کیا کہ’’ میں نے ایمان سیکھ لیا، پہلے میرے اندر ایمان نہ تھا ، ایمان آنے کے بعد اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا‘‘۔ پنجاب میں تحقیق کا مادہ نہیں ورنہ اسی محفل میں کہہ دیتا کہ’’ جس پرویز مشرف کو کرسی اور پیسہ کیلئے امریکہ کی غلامی کا نام دیکر گالی دی، جب امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاکر افغانستان میں امریکہ کی حمایت کی تھی تو اس وقت تم نے پرویزمشرف کی بھرپور حمایت کی تھی، جہاں تک وزیرستان میں فوج بھیجنے کی بات ہے تو وزیرستان پاکستان ہی ہے جہاں سے معصوم بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جاتاتھا، اگر شمالی سے پہلے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن راہِ نجات کو سیاستدانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوجاتی تو شرپسند عناصر کا صفایا ہونے میں اتنی دیر نہ لگتی، عمران خان نے تو ضربِ عضب کے بعد قبائلی پناہ گزینوں کو سہارا دینے کے بجائے مہینوں دھرنے کے مجرے میں بھنگڑے ڈالے۔اور پنجاب کے گلوبٹوں اور پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔ آرمی پبلک ا سکول کے واقعہ کے بعد دھرنے سے باعزت جان چھڑانے کیلئے ضرب عضب کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ احمقانہ بات ہے کہ بے ایمان پاک فوج امریکہ سے ڈرتی ہے باایمان عمران خان نہیں ڈرتا۔ اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مخلوق کے ظلم سے نہ ڈرا جائے۔ نبی کریم ﷺ شبِ ہجرت اسلئے چھپ کر نکلے کہ ظالم مشرکوں کا خوف تھا۔ اگر عمران خان نے یہودی جمائما خان سے نئے طرز کا ایمان سیکھا ہے تو اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت اور معجزات دئیے ، اسکے باوجود اپنی قوم کو لیکر فرعون کا ایسا مقابلہ نہیں کیا کہ اللہ کے علاوہ ظالم کا ڈر نہیں تھا بلکہ فرعون سے بھاگے اور فرعون پیچھا کررہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسکو ڈبودیا۔ قرآن کی تعلیمات کیخلاف عوام کو بیوقوف بنانا چھوڑ دیا جائے ۔ رائیونڈ کی تبلیغی جماعت 80 سال سے محنت کررہی ہے کہ ایسے لوگ پیدا کئے جائیں جن کا اللہ پر انبیاء کرام ؑ سے بھی بڑھ کر ایمان ہو مگرآج تک وہ خود بھی ایسا ایمان پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی اپنے رنگ میں دعوت اسلامی بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے مذہبی معاملات سے دامن چھڑا کر سیاسی میدان کا رُخ کیا اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے مذہب کی طرف توجہ دی، مولانا مودودی نے مسئلہ لکھا کہ دوبہنیں آپس میں جڑی ہیں تو قرآن کی آیت کے منافی اس کا ایک ہی آدمی سے نکاح کردیا جائے ، بخاریؒ نے اس کو قرآن کے خلاف سازش اور من گھڑت جھوٹ قرار دیا تھا۔ ختم نبوت کی تحریک میں گرفتاری دینے پنجاب سے کراچی کارکن آتے تھے، مساجد کے آئمہ تو پولیس کو اطلاع دینے کی دھمکی دیکر بھتہ مانگتے تھے، سرکاری ٹانگے مفتی اعظم مفتی شفیع ؒ و مولانا احتشام تھانوی ؒ تحریک کے درپردہ مخالف تھے۔
پنجاب کی زرخیز سرزمین سے قرآن و سنت کی تفہیم کا معاملہ شروع ہو تو کوئی جماعت بنانے کی ضرورت نہیں پڑیگی بلکہ عوام الناس ، تمام فرقے اور جماعتیں اپنی گروہ بندیوں کو بھول کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ پر آمادہ ہونگی اور ایک بہترین فکر کو عملی شکل دینے میں پنجاب کی طرف سے پہل ہوگی تو تمام صوبے بھی اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ سیاسی لوگوں نے ایک دوسرے کیخلاف ڈنڈے اسلئے اٹھا رکھے ہیں اور کلہاڑیوں کی نمائش اس لئے ہورہی ہے کہ انکا ضمیر ، پارٹیاں اور قیادت ایکدوسرے سے مختلف نہیں۔ سب کو چند ٹکے بھی ملتے ہیں اور قیادت کیلئے وفاداری کے اظہار سے سیاسی موسم بھی گرما دیا جاتا ہے۔ دوسرے صوبے والے خوفزدہ نہ ہوں فرقہ واریت ، جہادی تنظیموں ، مذہبی انتہا پسندی ، شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرح سیاسی شدت پسندی کی وبا نہیں پھیلے گی۔ پنجاب کی مشہور کہاوت ہے کہ ’’جنہاں دے کاردانڑے،انہاں دے کملے وی سیانڑے‘‘ یعنی امیروں کے بیوقوفوں کو سمجھدار سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان کیساتھ معراج محمد خان تھے تو عمران خان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اب جہانگیر ترین اور علیم خان کی وجہ سے عمران خان بھی ہوشیار ہوگیا ہے،ایسی سیاست اور اسکی سوچ پر لعنت بھیجنی ہوگی اور یہ بات یاد رکھی جائے کہ میرا اپنا تعلق بھی تحریک انصاف سے رہا ہے۔ میں نے قومی اسمبلی کیلئے الیکشن بھی کراچی تحریک انصاف کی ٹکٹ پر لڑا ہے ، بہت قریب سے معاملات دیکھے ہیں۔ پنجاب میں خواتین کیخلاف تشدد کا بل پیش کرکے مولانا فضل الرحمن کے احتجاج پر غائب کردیا گیا ، حالانکہ قرآن میں خواتین کے نام پرایک سورت کا نام ’’النساء‘‘ ہے، جس کی آیت 19 اور 20 کو دیکھا جائے تو کسی بل کی ضرورت بھی پیش نہیں آئیگی۔ اللہ نے پہلے عورت کو شوہر کی مملوکہ بننے کی نفی کی ہے اور اسکو شوہر کا گھر چھوڑ کر الگ ہونے کی اجازت دی ہے اور پھر مرد کو ایک بیوی چھوڑ کر دوسری سے شادی کرنے کی اجازت دی ہے جس میں خواتین کے حقوق کی بھرپور وضاحت کی گئی ہے، سید عتیق الرحمن گیلانی نے عمران خان کے رہبر مولانا مفتی سعید خان صاحب کے سامنے ان آیات کی وضاحت بھی کی جن کے بارے میں غلط تفاسیر لکھ کر معاملہ بگاڑا گیا ہے۔ قرآن کا ترجمہ بالکل واضح ہے اورجو تفسیریں لکھی گئی ہیں ان میں ترجمے کو مسخ کرکے اسلام کو اجنبی بنادیا گیا ہے۔ اگر عورت شوہر کی مملوکہ نہ ہو اور اس کو شریعت نے شوہر کو چھوڑنے کی اجازت دی ہو تو کوئی شوہر اس پر بے تحاشہ مظالم تو بہت دور کی بات ہے کوئی ایسا رویہ بھی نہیں رکھے گا جو علیحدگی کا سبب بن سکے۔ پنجاب ، پاکستان اور ہندوستان و افغانستان ایران و عربستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں قرآن کی اس آیت کے ذریعے سے خواتین کو تحفظ حاصل ہوگا اور انقلاب کیلئے بہت بڑی بنیاد بنے گا۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تمام فرقوں کے مراکز ہی بھارت میں ہیں ، جہاں سے فرقوں اور جماعتوں کی ڈوریں بندھی ہوئی ہیں ان بیچاروں کو خود بھی معلوم نہیں کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں وہاں بندھا رہنا بالکل فضول ہے۔ مفتی شاہ حسین گردیزی نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف ؒ کا واحد مرید قرار دیا ہے جس کا تعلق علماء دیوبند سے ہے۔ انہوں نے مولانارشید احمد گنگوہیؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ’’ مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ نبی اور مہدی نہیں لیکن صالح مسلمان ہے‘‘ جس پر کفر کا فتویٰ لگانے میں بنیادی کردار سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تھا جن کے ہاتھ پر دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیریؒ سمیت سب نے امیر شریعت کے نام سے بیعت کی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں بہت ساری عبارات بھی یکساں ہیں، جنکے حوالے بھی مفتی سید شاہ حسین گردیزی نے دئیے ہیں۔ ویسے یہ بات درست ہے کہ علماء دیوبند نے بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت کی طرح کفر کے فتوؤں کی فیکٹریاں نہیں کھول رکھی تھیں اور اگر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ یہ کردار ادا نہ کرتے تو شاید مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار آج خود بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و مہدویت کے دعویٰ سے دستبردار ہوکر مسلمانوں میں شامل ہوتے۔ قائد اعظم کا جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی شیخ الاسلام نے پڑھایا لیکن بریلوی اور قادیانی اس سے گریزاں رہے سیاسی و مذہبی شعور وقت کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کے ایما پر بھارت کے مولانا منظور نعمانی کے استفتاء کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کی طرف سے اہل تشیع کیخلاف ایک تفصیلی فتویٰ لکھا گیا جسمیں قرآن کریم کی تحریف ، صحابہ کرام کو کافر اور عقیدہ امامت سے ختم نبوت کا منکر قادیانیوں سے بدترکافر قرار دینے کی وضاحت کی گئی۔ مفتی ولی حسن ؒ ایک مجذوب ٹائپ کے انسان تھے ، مولانا یوسف لدھیانویؒ نے بھی فرمایا تھا کہ حاجی عثمان صاحبؒ کیخلاف میری طرف فتویٰ منسوب کرکے لکھا گیا ہے۔ اب سعودی عرب کے علماء کی شوریٰ نے اس قسم کے فتوؤں کی مذمت کردی ہے اور اس سے پہلے ’’اتحاد تنظیمات المدارس‘‘ کے نام سے شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، اہلحدیث کے مدارس اسلام کے نام پر اکھٹے ہوئے تھے۔ پنجاب کی عوام کو فرقہ واریت کیخلاف ٹھوس ثبوت کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت ہے اور اسلامی احکامات کے حوالے سے پنجاب کے لوگ بالکل بھی دوسروں کی طرح سے گدھے پن اور کتے پن کا مظاہرہ نہیں کرینگے۔ عتیق گیلانی کے استاد مولانا بدیع الزمان ؒ کا تعلق رائیونڈ سے تھا اور انکے صاحبزادگان نے تین طلاق کی درست تعبیر کو سراہا ہے، بہت بڑی بات یہ ہے کہ سید عتیق الرحمن گیلانی کی حمایت اسکے باوجود تمام مکتبۂ فکر والے سر عام کررہے ہیں کہ سب کی جڑوں اور بنیادوں کو ہلا دیا ہے، یہ قرآن وسنت ہی کی طاقت کا کرشمہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کے پیرحاجی عثمانؒ کو اپنے خلفاء اور مرید وں سمیت اپنے مکتب کے دوست علماء ومفتیان نے نشانہ بنایا اور ٹانک کے تمام دیوبندی سرگردہ علماء کی طرف سے کھلی حمایت کے باوجود طالبان نے بریلوی سمجھ کر ان کے گھر تباہ کو کیا۔ عمران خان جب کرکٹ کھیل رہا تھا تو عتیق گیلانی نے تحریک شروع کی تھی، سال با مشقت سزا کالے قانون 40ایف سی آر کے تحت ہوئی چارماہ کی قید 1991ء میں کاٹی۔ عتیق گیلانی نے 1979 سے چیچہ وطنی،لیہ ، کوٹ ادو میں سکول کے دوران ہی ساتویں سے دسویں تک مذہبی فرقوں کے خدوخال اور سیاست کے داو پیج کی شدوبد حاصل کرلی ۔ بھٹواور مفتی محمودکے متوالے و مخالف دو بڑے بھائی تھے۔ 82ء میں میٹرک کے امتحان سے پہلے کوٹ ادو سے لیہ اور پھر رائیونڈکی بودوباش کاتجربہ کرکے چیچہ وطنی کے دوست سے ملتے ہوئے کراچی میں مذہبی تعلیم و حاجی عثمان سے تصوف کی تربیت شروع کی، اور84ء میں طالبِ علمی کے دوران سہراب گوٹھ میں وزیراور محسود طلبہ کی ذہن سازی کیلئے جمیعۃ اعلاء کلمۃ الحق کے نام سے وزیرستان سے رسوم و رواج کی جگہ اسلامی قانون سازی پر فیصلوں کیلئے تحریک کا آغاز کیا۔ قید میں اور92ء میں قید سے رہائی کے بعد کتابوں کا سلسلہ جاری رکھا، شکارپور اور ملتان سے مشکلات کے دور میں تحریک جاری رکھی۔ پھر اپنے علاقہ میں پبلک سکول اور کراچی سے اخبار ضرب حق کا اجراء کیا، پھر کچھ عرصہ تک خاموش رہنے پر مجبوری کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ یہ محنت پنجاب میں ہوتی تو تناور درخت کی صورت اپنالیتی۔ کافی عرصہ سے پنجاب میں دفتر قائم کرنے کا ارادہ تھا، ہم کسی روایتی مخصوص جماعت بنانے کی بجائے قومی سظح کی تحریک چاہتے ہیں۔
جنرل راحیل شریف نے ستار ایدھی کو کراچی میں عزت دی۔ ٹانک کے بے لوث مولانا ، امن وامان کے ضامن کو بھی زبردست عزت دینی چاہیے ۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے تحریک انصاف کے ایوب بیٹنی سے کہا ’’ یہودی کے ٹکٹ پر کھڑے تھے؟‘‘ ہم نے بتایا مولانا فتح خان کی مسجد دفتر تھا جب خانہ کعبہ پر مہدی کے نام سے قبضہ ہوا، تو ٹانک شہر میں علماء، لیڈر اور رہنما مشن ہسپتال ٹانک کو لوٹنے کیلئے بپھرے تھے، مولانا فتح خان ؒ نے روکا
جنرل راحیل نے ستار ایدھی کو انسانیت کی بلاامتیاز خدمت پر قومی اعزاز سے دفنانے کی عزت بخشی ، عمران خان کو کراچی کے ڈیفنس میں پلاٹ دیا تو ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حضرت مولانا فتح خان صاحبؒ کا انتقال ہوا ، جنوبی وزیرستان اور ضلع کیلئے ٹانک شہر مرکزی حیثیت کا حامل ہے اگر مولانا فتح خان صاحبؒ نہ ہوتے تو ٹانک روز روز بلوؤں کا شکار ہوتا، مختلف ادوار میں مختلف مواقع پر بلوائی آتے اور شہر کے امن ومان کو خراب کردیتے، اقلیتوں کا فرقہ واریت، مذہب اور قوم قبیلہ کے نام پر جینا دوبھر کردیا جاتا، لوٹ مار ہوتی اور لوگوں کو دہشتگردی کا عام نشانہ بنایا جاتا لیکن سب تخریبی قوتوں کے سامنے مولانا فتح خان کی شخصیت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح حائل رہی ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کے دور سے مولانا فضل الرحمن تک ٹانک میں جمعیت کے ووٹوں کی اکثریت رہی۔ مگر جمعیت کی مرکزی قیادت نے کبھی تومولانا فتح خانؒ کو ایک مرتبہ جیتوانے اپنا کردار ادا کیا ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی اشیرباد حاصل کی تو سرکاری سطح پر ڈسٹریکٹ خطیب کا عہدہ مولانا فتح خان سے چھین کر غیرمعروف ملا کو دینے میں بھی شرم وحیاء اور غیرت و حمیت سے کام نہ لیا، اپنے باپ کی دوستی کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا۔اپنی اخلاقی حیثیت کھونے کے بعد مولانا فتح خانؒ کو سامنے لایا۔ مولانا فتح خان ؒ نے مولانا فضل الرحمن کی منافقانہ چال چلن کو بھرپور طریقہ سے سمجھا مگر حدیث کے مصداق کہ المؤمن غر کریم ’’مؤمن دھوکہ کھانے والا معاف کرنے والا ہوتا ہے‘‘ ہمیشہ عفو و درگزر ، چشم پوشی اور غلطیوں پر گرفت کرنے کے بجائے صرف نظر سے کام لیا۔ ٹانک میں بریلوی، اہل تشیع ، اہلحدیث اقلیت اور دیوبندی مکتبۂ فکر والے اکثریت میں ہیں، عیسائی بھی ہیں۔ اگر مولانا فتح خان تخریب کاری والی ذہنیت رکھتے یا تخریب کارانہ ذہنیت کیخلاف ایک مضبوط بند کی طرح سے زبردست رکاوٹ نہ ہوتے تو ٹانک میں اقلیتوں کیساتھ وہ سلوک ہوتا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے شیعہ اور پنجاب میں عیسائیوں کی بستیاں جلانے کو دنیا بھول جاتی۔ شرو خیر کا مادہ ماحول میں گھٹتا اور بڑھتا ر ہتا ہے، ہرجگہ خیرکے نمائندے اور شر کے عناصر موجود ہیں مگر جب قیادت خیر کے نمائندوں کو نہیں شر کے عناصر کو مل جاتی ہے تو ماحول میں دنگا وفساد اور شرو فتنے کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ ڈیڑھ سوسال پہلے اپرکانیگرم جنوبی وزیرستان میں شرپسند قیادت نے ہلا بول کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے تمام افراد کو مرد، خواتین، بوڑھے، جون اور بچے سب کو قتل کردیا تھا اور اتفاق سے ایکا دکا شیر خوار بچے رہ گئے تھے جن کی وجہ سے آج انکے ایک دو گھرانے موجود ہیں۔ لوگ سمجھتے ہونگے کہ ماتمی جلوس اور کالے کپڑوں کی وجہ سے کانیگرم کے باشندوں نے ایسا کیا ہوگا، لیکن یہ بات بالکل بھی نہ تھی، اسلئے کہ مارنے والوں نے کافی عرصہ بعد تک ماتم اور کالی قمیصوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ یہ صرف ایک برادری کو لوٹ مار کے بہانے قتل کرنے کا جذبہ تھا ۔ عوام سمجھے گی کہ کانیگرم جنوبی وزیرستان کے لوگوں نے کیا اپنا اجتماعی ضمیر کھو دیا تھا؟۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں، میرے والد پیرمقیم شاہؒ نے تقسیم ہند کے وقت بھی بنوں تک سے آنے والے ہندو خاندانوں کو لوئرکانیگرم شہر جنوبی وزیرستان میں کافی عرصہ تک پناہ دی تھی۔ جب حالات ٹھیک ہوگئے تو وہ لوگ بحفاظت گئے اور ابھی قریب کے دور میں کوئی غریب ہندو بسوں میں سفر کرکے میرے والد صاحبؒ سے ملنے آیا، جس کی ملاقات بڑے بھائی پیر جلال شاہ مرحوم سے ہوئی، دور کے مسافر کی دوسرے بھائیوں کو پتہ نہ چلنے کی وجہ سے خاطر خواہی مہمان نوازی نہیں ہوسکی جس کا سب کو بہت افسوس ہوا۔ بھارت جاکر بھی معذرت کرلیں تو سکون نہ ملے گا، اللہ یہ موقع پھر فراہم کردے تاکہ اس کا گلہ دور کردیں۔ وزیرستان اور ٹانک بڑی معتبر شخصیات اور ان کی عمدہ روایات کی وجہ سے امن وامان ، سکون و خوشحالی اور بھائی چارے و رواداری کی آماجگاہ رہے ہیں۔ ٹانک کے ڈگری کالج میں کسی پروفیسر کا پتہ چلا کہ وہ مرزائی ہے تو بڑی مشکل سے وہ جان بچانے میں کامیاب ہوا، ٹانک کے جذباتی عوام کی رہنمائی کیلئے بڑی شخصیات نہ ہوتیں تو پاکستان بھر میں اس کی شہرت فتنہ وفساد، جنگ وجدل اور ہنگامی آرائی کے حوالہ سے پہلے نمبر پر ہوتی۔ مولانا فتح خان ؒ ایک عرصۂ دراز سے ایک بلند مینار ، تناور اور پھلدار درخت کی طرح تھے۔ علمی اعتبار سے میں نے کوئٹہ سے لاہور، سوات سے کراچی تک سفر کرکے بڑے نامی گرامی علماء کرام کی زیارت، ملاقات اور شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے ، مدینہ یونیورسٹی میں تخصص( اسپشلائزیشن) پڑھانے والوں کی علمی حیثیت کو ملاقات کرکے بھی دیکھا ہے مگر مولانا فتح خان نوراللہ مرقدہ کی طرح کسی میں علمی قابلیت، معلومات کا وسیع ذخیرہ اور سمجھ بوجھ نہیں دیکھی۔ انکی وفات کے دن نمائندہ نوشتۂ دیوار خیبر پختونخواہ شاہ وزیرخان کافی عرصہ بعد خوش قسمتی سے وہاں تھے اور جنازہ میں بھی شریک ہوئے۔ اسکے فون پر صاحبزادے سے تعزیت بھی کرلی ، نیٹ پر ان کا کوئی نام اور تصویر نہ تھی۔مولانا فضل الرحمن پر رقم قربان کرنے کا اعلان نوازشریف نے کیا تھا جس کا افتتاح کرتے وقت مولانا فتح خانؒ کو بھی اپنی ساکھ کیلئے ساتھ لیا ہوگا، بہرحال قارئین کے ساتھ اخبار کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا مرحومؒ کی ایک تصویر مل گئی جو مولاناؒ کی شخصیت کی ایک جھلک ہے۔ مولانا فتح خانؒ سے بہت یادیں وابستہ ہیں، راز ونیاز کی گفتگو ہے، جس سے بہت گوشوں کی نقاب کشائی ہوتی ہے، حوصلہ افزاء ہیں، مولاناؒ کے توسط سے علماء حقانی سے عقیدت ومحبت بڑھتی اور علم وسمجھ کے ابواب کھلتے ہیں۔ مولاناؒ کا دور ایک طویل عرصہ پر محیط ہے، مولاناؒ نے ایک واقعہ کا ذکر کئی مرتبہ کیا کہ ’’بہت عرصہ ہوا، میں ٹانک سے کانیگرم گیاتھا، والد صاحب مرحوم پیر مقیم شاہ نے کہا کہ ہم یہ دوست بیٹھے ہیں، دعوتوں میں یہ موجودافراد سب شریک ہونگے، سات دنوں کایہ شیڈول ہے، میں نے کہا کہ کل مجھے واپس جانا ہے، تو پیرصاحب نے فی البدیہہ کہا کہ اللہ آپ کو زندگی بھر نہ ٹھہرائے، ہمارے شغل کو خراب کردیا۔ وہ دن تھا اور آج کے دن تک کہ پھر کانیگرم میں رات نہیں گزاری ہے‘‘۔
نیٹ پرہمارے پڑوسی فہیم محسودولد خیربادشاہ مرحوم نے اپنے دادا اور ہمارے والد کی بہت پرانے دور کی تصویر لگائی ۔ بیچ میں دائیں سے بائیں جانب ان کی اور بائیں سے دائیں عصا ء اور گھڑی والی والد مرحوم کی تصویر ہے۔یہ وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے علاقے کی عزت اور امن قائم رہنے کا سکہ چلتا تھا، مولانا فتح خان کی مسجد متحدہ مجلس عمل کے وقت تحریک انصاف کا بھی آفس رہاتھا جب لوگ یہودی کہاکرتے تھے۔ وزیراعلیٰ خٹک ٹانک کا نام ’’فتح آباد‘‘ رکھ دے تو بہتر ہوگا۔
قرآن میں مشاورت کے بعد اللہ پر توکل کرنے کا حکم ہے،طاہرالقادری نے کہا کہ راحیل سے بھیک نہ مانگونگا
پھر یورپ سے بھیگ مانگنے نکلا، عمران خان سے پہلے رائیونڈ کا اعلان کیا پھر شریعت و جمہوریت کیخلاف قراردیا
پھر کہا عمران نے مشاورت نہ کی تھی،پھر کہا کہ ہم شرکت کرسکتے ہیں، پھر کہا علامتی شرکت بھی نہ کرینگے۔ واہ واہ
عقل ہوتی تو کہتا کہ ’’ عمرہ جاتی میں چائے کی دعوت قبول کرنے کا اعلان کرکے ہمارے حوصلے کوشکست دیدی‘‘
’’ رائیونڈ طالبان کا نظریاتی قبلہ رہاوہاں ہم نہیں جاسکتے‘‘۔ اتنی گلاٹیاں تو پاکستانی سرکس میں چینی بھی نہ کھا تا ۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے دنیا دیکھی ، ایک منظم جماعت ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ اور تحریک منہاج القرآن کے بانی ہیں اور بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں، اس کے باوجود انقلاب کو بدنام کرنے کیلئے جو تماشہ طالبان نے لگا رکھا تھا، آخر کار وہ تو شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ و سیدا حمدبریلوی شہیدؒ کے پیروکار تھے اس لئے قربانی بھی دی لیکن اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے سے بھی بدنام کردیا، اب ڈاکٹر طاہرالقادری اسلامی انقلاب کے نظریہ کو بھی داؤ پر لگانے کیلئے میدان میں اتراتھا، ہربات میں قلابازی کھانے کو انقلاب کہنا عوام میں سلگتی ہوئی چنگاری کو بھجانے کے مترادف تھا۔ طلاق کے مسئلہ پر میڈیا میں تحریک منہاج القرآن والے عوام کو آگاہ کریں تو بھی لوگوں میں بڑی تبدیلی آئے اور ڈاکٹرطاہرالقادری کے سچے یا جھوٹے خوابوں کی تعبیر عمل میں آسکتی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری یہ قضیہ بیان کرتا کہ تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کا جاتی عمرہ کے بجائے رائیونڈجانے اور پھر نوازشریف کے گھرچائے پینے کی دعوت کا اعلان ہمیں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کرگیا۔ اگر نوازشریف کے گھر نہیں جانا تھا اور نواز شریف چائے کی دعوت دیتاتو پھر ہم کہاں کھڑے ہوتے؟۔ رائیونڈ تو طالبان کے اکابرین کا مرکز ہے، عمران خان کیلئے کوئی خطرہ نہیں لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسی تبلیغی جماعت کی وجہ سے طالبان پر بھی یہ فتویٰ لگادیا کہ ’’ جہنم کے کتے ہیں انکومارنا انسانیت اور شریعت کی خدمت ہے‘‘ ۔ ہماری ریاست، حکومت اور عوام کی قیادت جبتک اچھے ہاتھوں میں منتقل نہ ہو، ہر مداری اورجوکرقائدبالکل بازاروں میں منجن فروش،سنیاسی باوا اور بنگالی باباوغیرہ کے روپ میں اپنی سیاسی دکان چمکانے کی پریکٹس جاری رکھے گا۔ تاہم جسطرح بھٹو نے فیکٹریوں اور ملوں کو بحقِ سرکار ضبط کیا، جس سے قوم وملک کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس طرح سیاسی مداریوں پر پابندی لگانے سے قوم وملک کو نقصان پہنچ جائیگا۔ تاہم ریاستی اداروں کو کرپشن وغیرہ میں ڈاکٹر عاصم حسین و اسحاق ڈار اور نواز شریف و زرداری میں تفریق چھوڑنی ہوگی اور جس دن بڑے بڑوں پر یکساں گرفت کی گئی تو پوری قوم ساتھ ہوگی، فوج کو نواز شریف سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
گوجرانوالہ میں لیگی غنڈوں نے گھیرا تو جاوید ہاشمی کی بہادری کام آئی، یہ شیخ رشید کو جگہ پر چھوڑکر بھاگ نکلا تھا
شیخ رشید اسلئے ڈاکٹر طاہرالقادری اور انکے ساتھیوں کی تعریف کرتا تھا، عمران کا امپائر سے بھی اعتماد اُٹھ گیا
جنرل راحیل شریف نے اپنا موڈ نہ دیکر بڑا اچھا کیا ہے،جس کتیا کوا قتدار کا جھانسہ دیاگیا ریلہ پیچھے لگتاہے
قائدین کو ماحول کی برائی نے لیڈر بنادیا ہے، تخریب کار پیسوں پر اورماحول کا فائدہ اٹھاکر اپنا رنگ بدلتے ہیں
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی گردن اور دُم امپائر کی انگلی اُٹھنے کی خواہش میں بڑی ہلتی رہیں مگرجنرل راحیل نے ان کو اپنا موڈ نہیں دیا اور بہت اچھا کیا۔ اس کی وجہ سے پہلے بھی معاشرے میں خرابیاں جنم لیتی رہی ہیں۔ پنجاب کے سمجھداروغیرتمند و بہادر لوگوں میں یہ شعور بیدار کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ عوامی جذبے کا فائدہ اٹھاکر فرقہ واریت، طالبان کو کھلے عام سپورٹ کیا گیا لیکن پھر منہ موڑا گیا، خیر یہ قائدین میں شعور کا فقدان ہوسکتا ہے، وہ بھی عوام ہی تو ہیں، ماحول کی برائیوں نے ان کو لیڈر بنادیا تو یہ الگ بات ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے جس کو حکومت دینے کا جھانسہ دیا، وہ بے نسل کتیا کی طرح کتوں کے ریلوں کی قیادت کرنے لگی، یہی قائدین کی قیادت کا اصلی راز ہے کم عقلوں میں اورکوئی صلاحیت نہیں ہے۔ کیا نواز اورشہبازنے زرداری کے سوئس اکاؤنٹ میں60کروڑ ڈالرکیخلاف آواز ISIکے کہنے سے اٹھائی؟۔ جیو جنگ کے صحافی سہیل وڑائچ سے یہی کہا تھا، اپنے بچوں کا پتہ بھی نہیں کہ پانامہ لیکس میں کتنی رقم ہے؟۔ سیاستدانوں کے چہرے پر شرم و حیاء کے کوئی آثار نہیں ہیں، دولت مابدولت کے کھیل سے عوام کا بیڑہ غرق کردیں۔ پورا ملک انتہاپسندی ، شدت پسندی ، دہشتگردی کی زد میں تھانوازشریف ،عمران خان اسکی حمایت میں پیش پیش تھے، پیپلزپارٹی کے وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے کے متأثرین سے کہا تھا کہ ’’ آنسو پونجھنے کیلئے ٹشو پیپر کے ٹرک بھیج دوں؟‘‘۔ سیاستدان اپنا چہرہ اور تخریب کار اپنا رویہ بدلتے رہتے ہیں۔ افغانستان میں روس آیا تو تخریب کار خاد کے ایجنٹ بن کر دھماکے کرتے رہے ۔ جنوبی وزریرستان کے مرکزی شہر کانیگرم کو عمران خان اپنا ننھیال قرار دیتا ہے، جہاں برکی قبیلہ رہتا ہے،جہاں کسی ملکی وغیرملکی کا کردار نہ تھا، تخریب کار پھر بھی رات کو بارود نصب کردیتے، صبح نماز کیلئے اٹھنے والے اور پانی لانے والی خواتین وحضرات کو خوامخواہ میں دھماکوں کا شکار کرنا چاہتے تھے۔ پھر شہر کی ٹینکی بن گئی تو اس میں ڈی ٹی ٹی ڈال دی اور پھر چوریاں بڑھ گئیں، پھر ڈکیتی اور اغواء کی واردتیں شروع ہوئیں۔ پھر طالبان کے دور میں تخریب کاروں، چوروں ، ڈکیتوں کا روپ بدلا اور طالبان بن گئے۔ کرایہ کے یہ ٹٹو اب اسکے ہیں جو انکو پیسہ دے، کتیا کتوں کا کھیل ختم کرکے انسانیت ہونی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی سب سے بڑی نعمت اپنی کتاب ’’ قرآن مجید‘‘ اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے رسول اللہ ﷺ کی اسوۂ حسنہ ’’سنت‘‘ کا تحفہ دیا ہے۔ علماء کرام اور مذہبی طبقات کی یہ بہت بڑی مہربانی ہے کہ مختلف ادوار میں آندھی آئے یا طوفان انہوں نے بڑا زبردست کارنامہ انجام دیا ہے کہ’’ہر دور میں ایمان کے ٹمٹاتے ہوئے دیا کو جلائے رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے‘‘۔ جس طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ عرب سے تین وجوہات کی وجہ سے محبت رکھو، ایک یہ کہ قرآن عربی میں ہے، دوسرا یہ کہ میں عربی ہوں اور تیسرا یہ کہ جنت کی زبان عربی میں ہے‘‘۔ نبیﷺ کی وجہ سے صحابہؓ اوراہلبیت سے محبت بھی احادیث میں ایمان کا تقاضہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے مذہبی طبقات سے انسیت اور محبت رکھنا بھی ایمان کا اولین تقاضہ ہے۔ خواہ یہ مذہبی طبقات ایک دوسرے سے تعصب، نفرت، عداوت اور انسانیت و اسلام کے منافی کتنے ہی جذبات واحساسات رکھتے ہوں۔ ان کی اپنے مسلک و فرقہ سے محبت ایمان اور دوسرے سے عداوت رکھنا اپنے ماحول میں تو ایمان واسلام ہی کا تقاضہ ہوتا ہے۔ یہی تو ان کی اصل ،بنیادی اور جوہری خوبی ہے۔ اللہ ہی کیلئے محبت وعداوت ہو تو اس سے بڑا ایمان کیا ہوسکتا ہے؟۔ صحابہ کرامؓ میں بھی اختلاف رہا ہے، جنگیں برپا ہوئی ہیں، ہزاروں لوگ ان میں قتل ہوئے ،رسول اللہﷺ نے فرمایاتھا کہ ’’ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو‘‘۔ جن عظیم لوگوںؓ نے اپنے کانوں سے حجۃ الوداع کی یہ نصیحت سنی ، وہ بھی ایک ماحول کی وجہ سے خود پر قابو نہ پاسکے۔ جن دس صحابہؓ نے جنت کی بشارت پائی تھی، حضرت علیؓ ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی جنگوں میں ایک دوسرے کیخلاف حصہ لیا۔ حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ نے اسی میں شہادت پائی۔
ہمارے ہاں انتہا پسند اور شدت پسند مذہبی طبقات کو حقائق کی طرف متوجہ کیا جائے توپھر یہی لوگ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنیں گے۔ مذہبی طبقات کو عوام میں پذیرائی بھی اسلئے نہیں ملتی کہ ان لوگوں میں مثبت سوچ کا فقدان اور منفی سوچ کا رحجان ہے۔ جبکہ سیاستدان عوام کو شعور دینے کی بجائے مفادات کی سیاست کرتے ہیں۔ سیاسی لیڈر شپ مذہبی جذبہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہے۔افغانستان نیٹو کی افواج نے قبضہ کرلیا، طالبان اور عوام کو دربدر کردیا، خاندان تباہ ہوئے۔ بچوں، خواتین، بوڑھوں اور سب ہی بموں، دھماکوں اور بمباری کا نشانہ بنے یا بارود کی گن گرج سے لرزے، ترسے اور بدحال ہوئے۔ بے شعور اور عقل سے عاری عوام نے جانوں اور عزتوں کی تباہی اور بربادی کا احساس کرکے کبھی تواپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایاہوتا مگر نہیں لیکن کسی افغانی کے مرتد ہونے کی خبر سے تمام افغان نے زبردست احتجاج کیا۔ اگر پاکستان کے علماء اور مذہبی طبقات عمران خان کی سابقہ بیگم جمائماخان کیخلاف ارتداد یا غیرمسلم سے شادی کے نام پر تحریک چلاتے تو تحریک انصاف کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ملتا۔ افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی دینے والی کمپنیوں کو 75% کی رعایت پر مال ملتا تھا اور بعض کمپنیاں نیٹو کو سپلائی دینے کی بجائے مارکیٹ میں بڑا منافع رکھ کر وہ مال فروخت کردیتی تھی اور انکے کارندے نہیں چاہتے تھے کہ جن کمپنیوں سے مال لیا ہے اس کی معائنہ ٹیم افغانستان جاکر صورتحال کا پتہ لگائے، اسلئے عوام کو اکسانے کیلئے یہ ڈرامہ بھی رچایا جاسکتا تھا کہ کوئی مرتد ہوگیا ہے یا قرآن جلایا گیا ہے، یا گستاخی کی گئی ہے۔ مذہبی جذبے اور سیاست کو اپنے مالی اور تجارتی مفادات کیلئے استعمال کرنا بہت بڑا المیہ ہے۔ قرآن کریم نے اس کی جڑیں کاٹی ہیں۔ ایسے لوگوں کو بدترین جانور کتااور گدھا قرار دیا ہے۔ نوازشریف نے مذہبی جذبے سے ڈاکٹر طاہرالقادری کو غارِ حرا تک کندھے پر اٹھایا اور شہبازشریف نے طاہرالقادری کے جوتوں کے تسمے باندھنے اور کھولنے تک امریکہ کے سفر میں خدمت انجام دی تھی، یہ مذہبی جذبے اور خوبیوں کی بہترین دلیل ہے۔ اگرچہ شعور بیدار ہونے کے بعد اس جذبے کو بے شعوری ، جہالت اور اندھیر نگری کا اب نتیجہ کہا جائے، مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاست کی شروعات اپوزیشن سے کی تھی اور اب سوشل میڈیا پر اس کی تصویر کیساتھ یہ مذاق چل رہا ہے کہ ’’ ہر حکومت اپنے ورثہ میں دوسری حکومت کیلئے غربت، بے روگاری اور مولانا فضل الرحمن کو چھوڑ کر جاتی ہے‘‘۔یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ’’ہماری سیاست سے متأثر ہوکر امریکی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صدارتی امیدوار ی سے ثبوت دیا ہے کہ سیاست کے ذریعہ سے بہترین تجارت بھی ہوسکتی ہے‘‘۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان ؒ نے کہا کہ ’’پاکستان میں نظریاتی سیاست کو تجارت میں بدلنے کا اصل بانی نوازشریف ہے‘‘۔ اب توماشاء اللہ مولانا فضل الرحمن بھی شانہ بشانہ ہیں جب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں ہوتے تھے تو ان کو امت میں شعور بیدار کرنے کے سوا ملتا کیا تھا؟۔ آخر ان کی بھی ماشاء اللہ جان ہے، کسی کریانہ سٹور میں کھانے ، پینے کی اشیاء و اجناس ملتی ہیں۔ بطور مثال چوہا اگر دکان میں ایک معزز مقام رکھتا ہو، اور اس کیلئے کھانے کے تمام راستے بند ہوں اور صرف ترازو میں وزن ڈالنے کی اس کو اجازت ہو تو اپوزشن میں جانے کی مثال ایسی ہو ، جیسے لوہے کے وٹے میں چوہا اپناوزن ڈالے،حکومت کے پلڑے میں جان ڈالنے کی مثال اشیاء خورد ونوش کے پلڑے میں جانے کی طرح ہو تو چوہا بلکہ کوئی بھی جاندار، جانور اور انسان کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالے گا؟۔ اگر لوہے کے وٹے کے پلڑے میں جانے سے دکاندار کا نقصان ہو اور کھانے پینے کی اشیاء میں وزن ڈالنے سے حکومت اور موصوف دونوں کا فائدہ ہو تو باڑ میں جائے عوام کی ایسی کی تیسی، انکے مفاد کا کیا ہے اور کس نے خیال رکھنا ہے؟۔ حکومت اپنے مفاد کی خاطر تگڑے قسم کے لوگوں اور بڑی ہستیوں کو اپنے ساتھ رکھے تو یہ مذہب اور سیاست کی سوداگری ہوگی جو ہوتی رہی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ علماء امت میں دین کی حفاظت کے امین اور محافظ ہیں جو دین کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں جبتک یہ دنیا گھس نہ جائیں اور حکمرانوں سے خلط ملط نہ ہوجائیں، جب یہ دنیا میں گھس گئے اور حکمرانوں سے مل گئے تو انہوں نے اللہ سے خیانت کی۔ (عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں : مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ ) سید عتیق الرحمن گیلانی نے جس طرح سے درسِ نظامی کے نصاب میں قرآن کی تعریف اور طلاق کے مسئلہ میں حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ، اگر عتیق گیلانی کے پاس حکومت، مدرسہ یا دنیاوی کوئی بڑا منصب ہوتا تو بڑے بڑے لوگ یقیناًاسلام ، قرآن و سنت، شریعت وفطرت اور وقت کے تقاضوں اور دنیا کے ماحول کو سمجھ کر پاکستان سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرنا ایک مذہبی فرض قرار دیتے۔ عتیق گیلانی کے خاندان نے اپنے دور میں کربلا کی قربانی دی۔ عتیق گیلانی نے فرقہ وارانہ تصورات کی کامیابی سے بیخ کنی کرکے قرآن وسنت کو جس انداز میں اجاگر کیا ، مدارس عربیہ، بنوری ٹاؤن ،مکتبِ دیوبند اور فقہ حنفیہ کے اکابراور اصاغرکیلئے یہ باعثِ فخر ہونا چاہیے تھا کہ ہماری فضائیں اس عظیم شخصیت کی گزر گائیں رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا عبدالکریمؒ بیرشریف لاڑکانہ سے لیکر جمعیت علماء اسلام ٹانک تک کے بہت سے اکابر واصاغر نے سید گیلانی کی تائید کی تھی، جمعیت علماء پاکستان کے پروفیسر شاہ فریدالحقؒ سے لیکر بہت سے بریلوی مکتب کے اکابر واصاغر نے سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری تک نے تائید کی ہے۔پروفیسر غفور احمدؒ ، مولانا عبدالرؤف اتحادالعلماء کے صدر ، جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی صدر مولانا عبدالحق بلوچؒ سے مفتی علی زمان تک بہت لوگوں کی تائید حاصل رہی ہے۔ پروفیسر غفور احمدؒ کا بیان ضربِ حق کی زینت بنا تھا کہ سید عتیق گیلانی نے فرقہ پرستی کا مسئلہ حل کردیا، اب فرقہ پرست گدھ کی طرح پہاڑوں کی چوٹی پر بیٹھ کر اس کی مردار لاش کو نوچتے رہیں۔ اہلحدیث کے بہت سے اکابرین مولانا عبدالرحمن سلفی، مفتی عبدالرشیدؒ ، مولانا ارشد وزیر آبادی اور مولانا محمد سلفی سمیت بڑی تعدادمیں تائید کرتے ہیں۔ اہل تشیع کے علامہ طالب جوہری، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ عباس کمیلی، علامہ حسن ترابیؒ ، ڈاکٹر حسن رضوی، علامہ کرار نقوی وغیرہ بڑی تعداد میں اکابر واصاغر تائید کررہے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ اہلسنت و الجماعت کے مرکز جامع مسجد صدیق اکبر کے خطیب اور کراچی کے امیر علامہ ربنوازحنفی اور پشاور کے رہنماؤں تک کی تائیدات شائع ہوئی ہیں اور ہوتی رہی ہیں۔ اصل مسئلہ عتیق گیلانی کی تائید یا تردید کا نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کے مطابق عائلی اور معاشرتی قوانین سے لیکر ملکی و بین الاقوامی میں اسلام اور فطرت کے مطابق روح پھونکنے کا ہے۔ اگر میاں بیوی کے تعلقات، حقوق، نکاح اور خلع و طلاق کے حوالہ سے قرآن و سنت کے واضح احکامات سے روگردانی ہے ، خاندانوں کو تباہ کرنے اور حلالہ کی لعنتوں سے قرآن وسنت کے مطابق علماء ومفتیان اور دانشور و سیاستدان اور جج و ریاستدان اپنی عوام کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں تو ان سے کیا خیر کی توقع رکھی جائے گی؟۔ عمران خان نے جیسے باہوش و حواس قانونی پراسس سے جمائما خان کو طلاق دی ، ویسے ریحام خان کا معاملہ ہوتا تو عوام کو رہنمائی ملتی، ریحام خان نے کہا کہ ’’میری طلاق شرعی نہیں ‘‘ ، مسیج پر لندن میں اترتے وقت طلاق طلاق طلاق کے الفاظ کو شہرت ملی۔ مریم نواز کے حوالہ سے افواہوں کی گردش ہے ،یہ مسئلہ مفتیان کی وجہ سے بگڑا یا حکمران قانون اور شریعت کی پاسداری نہیں کرتے؟، اسے گھر کا مسئلہ کہنا غلط ہے۔ طلاق کے گھمبیر مسئلہ کی قرآن و سنت سے وضاحت بڑا کارنامہ ہے۔