پوسٹ تلاش کریں

اَلا کل شیئٍ ما خلا اللّٰہ باطل وکل نعیم لامحالة زائل نبیۖ کا یہ پسندیدہ شعر تھا اور مفتی منیر شہید اس کی تصویر تھے

محمد بن قاسم نے سندھ عورت کی عزت کیلئے فتح کیا اور اکبر بگٹی نے سندھی مہمان ڈاکٹر شازیہ خالد کی عزت کیلئے بلوچ راج کو ریاست پاکستان سے ٹکرادیا جس کے شعلے آج بھی بھڑک رہے ہیں

اللہ شہید مفتی منیر شاکرکی قبرکو جنت الفردوس کا باغیجہ بنادے اور لواحقین کو صبرجمیل عطاء فرمائے۔ مردان کے شاعراور صحافی شعیب صادق کے توسط سے ایک ملاقات میں کچھ مختصر باتیں ہوگئی تھیں۔ پھر ڈاک سے کتابیں بھیج دیں۔گزشتہ رمضان میں فون آیا۔ طلاق کے مسئلے پر کچھ وقت مانگا۔ کچھ دیر بات کے بعد میں نے کہا کہ پشاور آجاتا ہوں۔ ہم پہنچے توکوئی افغانی مریض لایا تھا۔ اس نے بتایا کہ ہم پہلی مرتبہ آئے اور ساتھ اندر داخل ہوا۔ پوچھا: مفتی صاحب دم کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ دم کے مخالف ہیں۔ اس نے کہا کہ مفتی کا چاہنے والا ہوں۔ مفتی صاحب آگئے تو اپنے خادم پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ میرے کمرے میں بٹھاتے۔ ہمارے ساتھ افغانی بھی آیا۔ مفتی صاحب نے مجھے کہا کہ آپ ایک موضوع پر ٹکتے نہیں۔افغانی نے اپنی استدعا کی۔ مفتی شہید چونک گئے اور مجھ سے کہا کہ آپ کا ساتھی نہیں؟۔ میں نے کہا کہ یہ مریض دم کیلئے لایا ہے اور میری خاطر باہر دم کرنا پڑے گا۔ مفتی صاحب اسکے ساتھ باہر گیا ۔تو میرے بھتیجے کا رنگ بگڑا تھا۔ میں نے کہا کہ کیا ہوا؟۔ اس نے کہا کوئی فون آیا تھا۔ میں نے کہا کہ اپنا موڈ ٹھیک کرو نہیں تو مفتی صاحب سمجھے گا کہ مجھ پر غصہ ہے۔

پھر مفتی صاحب نے اپنے درس کی چھٹی کا اعلان کیا اور ظہر سے عصر تک نشست رہی۔ہم باہر گئے تو بھتیجے نے کہا کہ مجھے اسی پرغصہ آیا کہ اس نے آپ سے ایسی بات کی ۔ میں نے کہا کہ اس نے جو سمجھا وہی کہا اور بہت لوگوں کو یہ شکایت ہے۔

مفتی صاحب نے اس مہمان کا دل رکھنے کیلئے دم کیا۔ مفتی شہید کا کلپ ہے کہ ” تم اپنی انا توڑدو یا میراسر توڑدو۔ خطرہ ہے اسلئے تلاشی لیتے ہیں”۔

عبداللہ شاکرکااللہ حافظ وناصر۔ایک طرف پنج پیری ساتھی ،دوسری طرف پشتون ۔ہاتھ اٹھانا دعا کی رسم ہوتب بھی گناہ نہیں۔منافق کی قبر پر کھڑا ہونا منع ہے مؤمن کے نہیں۔ مفتی زندہ ہوتے تو تعزیت کرنے والوں کیساتھ ہاتھ اٹھاتے ۔

شاہ اسماعیل شہیدسے مرشد سیدبریلوی نے کہا کہ نماز کا رفع یدین فرض نہیں سنت لیکن لوگوں کو غلط فہمی سے بچانا فرض ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان پر حملہ کیا گیاکہ کوئی نیا دین لائے ہیں اور علماء دیوبند نے ہندوستان اور پنجاب میں سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیامگر سندھ، پختونخواہ، بلوچستان اور افغانستان میں علماء دیوبند آتے تو سرینڈرتھے۔ دیوبندی اور پنج پیری اسلئے الگ الگ ہوگئے۔ مفتی منیر شہید اب اس دوڑ سے آگے نکل چکے تھے۔

میں نے قرآن کے حوالہ سے کچھ معاملات بتائے۔تو مفتی صاحب نے کہا کہ ایک دن افطاری میں آجاؤ پھر رات کو اطمینان سے بات کریںگے۔ چنانچہ افطاری کے بعد سے سحری تک پہلے طلاق کے مسئلے پر اور اسکے بعد مختلف مقامات سے قرآنی آیات کا میں نے بتایا کہ اس کا یہ ترجمہ و تفسیر ہے۔ مفتی صاحب نے پوچھا کہ آپ نے کونسی تفسیر پڑھی ہے؟۔ میں نے کہا کہ اصل معاملہ تفاسیر نے خراب کیا ہے۔ اس نے کہا کہ امام ابوبکر جصاص رازی حنفی بہت اچھے ہیں ۔ میں نے اس کی وکالت میں بھی تضاد کی نشاندہی کردی۔ میں نے کہا کہ قرآن کا متن بہت واضح ہے۔ پھر پوچھا کہ عربی پر مہارت کیسے حاصل کی ہے میں نے کہا کہ عربی لٹریچر سے۔

مفتی شہید توحید پرست تھا۔ رسول اللہ ۖ نے عربوں میں سب سے اچھا شعر لبید کا قرار دیا:

اَلا کل شیئٍ ما خلا اللہ باطل
وکل نعیم لامحالة زائل

”خبردار! ہر چیز اللہ کے سواء باطل ہے۔
اور ہر نعمت لامحالہ زائل ہوکر رہے گی”۔

بریلوی، شیعہ علماء سے مفتی شہید کی دوستی کرانی تھی۔ توحیدی گدھے نے لکھا کہ نماز میں نبیۖ کا خیال آنے سے گدھے کا خیال بہتر ہے۔ گدھا یہ نہیں سمجھتاتھا کہ نماز سنت طریقہ ہے۔ درودشریف بھی نماز میں پڑھتے ہیں تو خیال کیسے نہ آئے گا؟۔

امام ابوحنیفہ پر بھی منکر حدیث کافتویٰ لگاتھا۔ ابویوسف اور عبداللہ بن مبارک امام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے۔ ابویوسف فرمانبدار با ادب شاگرد اور ابن مبارک باغی وگستاخ مگر ہزار ابویوسفعبداللہ بن مبارک کے پیروں کی خاک پر قربان ہوں۔ کہاں ایک مرد مجاہد، کہاں ایک حیلہ ساز اور دین فروش؟۔ کبھی بھی دونوں برابر نہیں ہوسکتے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیر شاکردونوں مولانا سلیم اللہ خان کے شاگرد۔ ایک مجاہد اور دوسرادین فروش کہاں برابر تھے؟۔ معارف القرآن اور مفتی عبدالرؤف سکھروی اور دارالعلوم کراچی گواہ ہے کہ شادی بیاہ میں لفافہ کی لین دین کو سود قرار دیا اور 70 سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دیا۔ لیکن پھر معاوضہ لیکر سودکا عالمی نظام کو جائز قرار دیا اور اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خان اور میرے استاذ ڈاکٹر عبدالررزاق سکندر وفاق المدارس کے صدر کی بات نہیں مانی جو اس کے پیشروتھے اور سبھی علماء کا فتویٰ مسترد کیا۔

مولانا عبدالحق ثانی کو اللہ جزائے خیر دے کہ مولانا طیب طاہری تعزیت کیلئے جامعہ اکوڑہ خٹک گئے تو نمازمغرب کی امامت کروائی۔ علماء دیوبند کیلئے یہ سنگ میل ہے اور مولانا حامدالحق شہید نے مولانا فضل الرحمن کو جامعہ میں خطاب کی دعوت دیکر عظیم اتحاد کی بنیاد رکھ دی۔ مولانا فضل الرحمن نے مفتی منیر شاکرشہید کے بچوں پر دست شفقت رکھ کرحق ادا کیا اور مولانا یوسف شاہ کی قیادت میں حقانیہ اور مولانا عطاء الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کے وفد نے مفتی منیر شاکر کی تعزیت کی اور علامہ خضر حیات بھکروی نے مولانا حامدالحق کیلئے دعائے مغفرت کرنے پر مولانا طیب طاہری کو منافق قرار دیا اور بہت برا بھلا کہا۔ یہ اس کا حق تھا اور جو اس نے ٹھیک سمجھا وہ اس نے کیا۔ اگر علماء نے افہام وتفہیم کا ماحول نہیں بنایا تو یہ غلطی ہوگی۔

نبیۖ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھایا۔ نبیۖ نے ابن ابی رئیس المنافقین کا جنازہ پڑھایا۔ پھر اللہ نے حکم دیا: ولاتصل علٰی احدٍ منھم مات ابدًا ولاتقم علی قبرہ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم فاسقون ( سورہ التوبة:84)

” اور ان میں سے کسی پر جنازہ نہ پڑھنااور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک انہوں نے اللہ اور اسکے رسول کی ناشکری کی اور فاسقی میں مرگئے”۔

یہ حکم نبیۖ کیلئے خاص تھا اسلئے کہ منافقین کے عزیزواقارب بھی تھے۔ عبداللہ بن ابی کے بیٹے سچے صحابہ تھے۔نبیۖ نے بارہ منافق کے نام حذیفہ بن یمان کو بتائے۔ نبیۖ نے امت میں بھی بارہ منافق کابتایاتھا۔(صحیح مسلم کی روایات)

مفتی شہید کو جب طلاق کی قرآنی آیات سمجھ میں آئیں تو کہا کہ 50 سال بعد مسلمان کردیا۔

خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات کہاں تک پہنچیں گے ؟۔ مذہبی طبقے نے ہتھیار بھی اُٹھایا ہے اور علماء شہید بھی ہورہے ہیں۔ قوم پرستوں نے ہتھیار بھی اٹھائے ہیں اور احتجاج بھی چل رہا ہے۔ جمہوریت کے بس کی بات ہے اور نہ ڈکٹیٹر شپ یہ مسئلہ حل کرسکتی ہے۔اگر ہم اپنے مسائل چھوڑ کر یہ فیصلہ کرلیں کہ پاکستان کو عوام اور تمام طبقات کیلئے سورہ رحمن کے مطابق جنت نظیر بنائیں گے اور قوم کی اصلاح کریں گے تو بہتر ہوگا۔ مفتی منیر شاکر کی شہادت سے پہلے قریب میں چار پائی کے مسئلے پر پانچ افراد نے ایک دوسرے کو قتل کیا۔ پشاور متھرہ میں ایک خاتون کی لاش ملی جو حلالہ کے بعد پہلے شوہر کے پاس جانے سے مکر گئی تھی۔ بونیر میں شاہ وزیر نے بتایا کہ کسی کو 3 طلاق کا مسئلہ پیش ہوا تھا تو مسجد کے مولانا نے اپنے اخبار کی وجہ سے بغیر حلالہ کے رجوع کا فتویٰ دے دیا ہے۔ مفتی منیر شہید سے مسئلہ طلاق پر میٹنگ کرنی تھی۔

قیام کے بعد مشرقی پاکستان کی آبادی 54 فیصد اور مغربی پاکستان کی 46 فیصدتھی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی کچھ آبادیوں کو پنجاب میں شامل کیا جس سے پنجاب کی آبادی تین صوبوں کے مقابلے میں 60 فیصد ہوگئی۔ اگر تینوں صوبے ایک طرف اور دوسری طرف پنجاب ہو تو حکومت پنجاب کی ہی بن سکتی ہے۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو پھر شاید اس سے بھی بڑا مسئلہ ہوتا اسلئے کہ بھارت کا پنجاب بھی اس میں شامل ہوتا۔ انگریز نے نہری نظام صرف پنجاب میں بنایا تھا۔ دانشمندی یہ ہوتی کہ پنجاب کا کچھ حصہ بلوچستان ، پختونخواہ اور سندھ میں شامل کیا جاتا۔ اگر بلوچستان میں پشتون ، بلوچ ، بروہی ، ہزارہ اور کرد قبائل تھے تو سرائیکی بلوچ بھی اسی کا حصہ ہوتے۔ انگریز وطن کا نہیں ریاست کا وفادار تھا اور ہماری ریاست ہمیں انگریز سے ورثہ میں مل گئی۔ ہم نے ریاست کیلئے مشرقی پاکستان قربان کردیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ریاست اور وطن پرستی کا جذبہ کیا ہے؟۔ اللہ تعالیٰ سب کو جلد ہدایت عطا فرمائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شکوہ وجواب شکوہ لاجواب : پیر عابد

گزشتہ سے پیوستہ: شاہ صاحب کا شکوہ وجواب شکوہ لاجواب ہے۔ دور جبروت کے بعد ہی دورِ نبوت (کی طرز پر خلافت) نے آنا ہے۔ اجنبی اور نامعلوم میں بڑا فرق ہے۔

حدیث میں اجنبی کا ذکر ہے اور ایف آئی آر نامعلوم کے خلاف درج ہے۔ہم ایک پراکسی جنگ کی طرف دھکیل دئیے گئے ہیں۔ دشمن نامعلوم ہے اور الزام اجنبی پر ہے۔ تاریخ سے کوئی قاضی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ابھی ہم یہ فیصلہ نہیں کرپائے کہ ہمارا مستقبل امریکہ یا اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔جٹہ واقعہ سے بہت زیادہ ظلم غزہ کے مظلوم فلسطینی بچوں پر ہواہے اور ہورہا ہے۔ جذبہ شہادت سے سرشار شامی وفلسطینی بچے اس دور کے امام مہدی ہیں۔اگر کوئی نہیں مانتا تو نہ مانے ، ہمارے بچے پراکسی جنگ کا حصہ بن جائیں۔قومی عصبیت کے نام پرایک دوسرے کی گردن دبانا اور عزت تار تار کرنا یہ اگر سعادت ہے یا دین ہے یا غوثیت یا قطبیت یا مہدیت ہے تو لعنت ہے ایسے دین پر اور اس کے پیروکار پر۔ اسلام امن وسلامتی سے نکلا ہے ۔ دینِ ابراہیمی کی بنیاد وحدت اور سلامتی پر ہے۔خانہ کعبہ کی بنیاد رکھتے ہوئے ریاست کا وجود نہیں تھالیکن دعا میں ایسی ریاست مانگی جہاں باہم محبت ، اخوت، مساوات ، معاشی ترقی اور امن ہو ۔ ایک دوسرے کو صدق دل سے معاف کردو اور آپس میں امت پناہ بن جاؤ۔یہ قرآن کا تصور اور سنت کی راہ ہے،نہیں تو فتنہ وشر نہ پھیلاؤ،اپنے گناہوں کی اجتماعی معافی اللہ پاک سے مانگیںاور ظلم کو پاک رب پر چھوڑدو۔وہی بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ یا اللہ کی رضا کیلئے معاف کردو یا پھر شریعت مطہرہ کے مطابق شرعی ثبوت کے ساتھ ریاست کے حوالہ کردو اور مطمئن ہوں۔

پہ خیر راغلے ہر کلہ راشہ،دغہ دغہ بیابیابیا

عابد بھائی ! آپ بھی منیر نیازی کے پنجابی اشعار لکھتے کہ

کُج اونج وی رَاہواں اَوکھیاں سَن
کُج گَل وِچ غم دا طوق وِی سی
کُج شہر دے لوک وِی ظالم سَن
کُج مینوں مَرن دا شوق وِی سی

شاہ صاحب کا شکوہ جواب شکوہ لاجواب ہے لیکن پھر بھی جناب کے زیر عتاب ہے؟۔آپ نے خود ہی ہمیں سبحان شاہ کا غلام بنادیا۔ اپنے لئے بھی غلام ابن غلام لکھ دیا مگر تمہیں فرق کیا پڑتاہے؟۔ غلام کو عربی میں ”عبد” کہتے ہیں۔ اس کی تانیث کو اَمة کہتے ہیں۔ مرد غلام توعورتیں لونڈیاں یا کنیزیں!۔ شیعہ تو کلب علی اور کنیز فاطمہ (علی کا کتا، فاطمہ کی لونڈی) شوق سے نام رکھتے ہیں۔ ہمیں اللہ اپنا کتا نہیں بلکہ اپنابندہ بنادے۔

جب کانیگرم میں شیعہ ماتم کرتے تھے تو یوسف شاہ کا والد آپ کے دادے کا بھائی میرمحمد شاہ بھی جوش وخروش سے ماتم کرتا تھا۔ کانیگرم کے لوگ کہتے تھے کہ تم شیعہ ہو یا پھر مسلمان؟۔ شاید اسی وجہ سے یوسف شاہ کے باپ کو کوئی رشتہ بھی نہیں دیتا ہوگا اور سوات کی منڈی سے اسکی ماں لانی پڑی۔

اس میں کوئی عیب کی بات نہیں کہ اماں جان لونڈی ہو۔ حضرت اسماعیل کی والدہ بھی لونڈی تھیں لیکن نبیۖ تک یہ خاندان اسی کی بدولت چلا۔ کسی نبی کی بعثت کی ضرورت بھی پیش نہ آئی۔ یہود، نصاریٰ اور مشرکین مکہ سب ابراہیم کی ملت کے دعویدار تھے۔ قریش کو عرب نے تلوار کی زور پر مکہ سے بھی بے دخل کیا تھا لیکن جب ایک قریشی کی بنوخزاعہ کی عورت سے شادی ہوئی تو پھر ماموں کے توسط سے دوبارہ قریش مکہ مکرمہ میں آباد ہوگئے۔ اسلئے بنوخزاعہ نے جب اسلام قبول نہیں کیا تو بھی مسلمانوں کے ہمدرد اور حلیف تھے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی بنوخزاعہ کے خلاف بنوبکر کی قریش مکہ نے مدد کی تو ٹوٹ گیا اور اگر میرا ننھیال طالبان کو پال کر میری صحیح پوزشن بتاتے تو اس حملے سے طالبان بھی اتنے بدنام نہ ہوتے۔ چلو میری مخالفت کرتے تو مردوں کی طرح میدان میں کھڑے ہوجاتے ۔

آپ نے اچھا کیا کہ شرعی گواہ اور حکومت کی عدالت میں اس کے مطابق مقدمہ کرنے کی تجویز پیش کردی۔ آپ نے یہ کہا تھا کہ مجھے بھی معلوم ہے کہ اس واقعہ میں کون کون ملوث ہیں ۔ ابھی مشکل بڑھ سکتی ہے اسلئے وقت آنے پر بتادوں گا۔ جہاں تک شرعی گواہ کا تعلق ہے تو بیوی کو تین طلاق دو اور مکر گئے تو گواہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ حرام کاری پر مجبور؟۔ اس سے بھی بڑھ کر امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہے کہ ”اگر کسی کی بیوی کو چھین لیا اور عدالت میں اس پر گواہ بنادئیے تو وہ حقیقی بیوی کی طرح جائز ہے”۔ جبکہ دوسرے اس کو حرام کاری سمجھتے ہیں۔ اسی شریعت کے غلط تصورات کو ٹھیک کرنے کی جدو جہد ہے۔

پہلے شہر کو آگ لگائیں نامعلوم افراد
اور پھر امن کے نغمے گائیں نامعلوم افراد
لگتا ہے انسان نہیں ہیں کوئی چھلاوا ہیں
سب دیکھیں پر نظر نہ آئیں نامعلوم افراد
ہم سبھی اسی شہر ناپرساں کے باسی ہیں
جس کا نظم و نسق چلائیں نا معلوم افراد
لگتا ہے کہ شہر کا کوئی والی نہ وارث
ہر جانب سے بس دھوم مچائیں نامعلوم افراد
پہلے میرے گھر کے اندر مجھے قتل کریں
اور پھر میرا سوگ منائیں نامعلوم افراد
ان کا کوئی نام نہ مسلک ، نہ ہی کوئی نسل
کام سے بس پہچانے جائیں نامعلوم افراد
شہر میں جس جانب بھی جائیں ایک ہی منظر
آگے پیچھے دائیں بائیں نامعلوم افراد

جب عمران خان کے عروج اور اقتدار کا دور تھا تو مجھے اس وقت ایک ساتھی بہت اصرار کرتا تھا کہ اس کی حمایت کروں۔ ایک دن اس نے کہا کہ ” صرف ایک خوبی تو عمران خان کی بتاؤ تو پھرمیں نے کہا کہ خاور مانیکا بے غیرت سے بیوی چھین کر بڑا اچھا کیا ہے”۔ پھر جب عمران خان پر زوال آیااور دوسرے ساتھی نے کہا کہ ”آئندہ وزیراعظم نوازشریف ہوگا۔ اگر نہیں بنا تو میں بکرا کھلاؤں گا اور بن گیا تو آپ کھلا دیں” ۔ میں نے کہا کہ یہ یک طرفہ شرط رکھتا ہوں کہ اگر نوازشریف بن گیا تو میں کھلاؤں گا اور نہیں بنا تو آپ مت کھلانا”۔ عوام کے موڈ کو ہم سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے کہ ہمارے ساتھی اخبارات کو عوام میں بیچ رہے ہوتے ہیں۔

عابد بھائی!

میں خورشید کا تربور (چچیرا) ہوں ۔ اس نے کالج میں مخالف پر دوسری منزل سے چھلانگ لگائی تو وہ بیہوش ہوگیا اور اس کے پیر میں چھوٹ آئی۔ میں نے کہا کہ نیچے اترکر لڑتے تو اس نے کہا کہ میں نے سوچا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لڑائی ختم ہوجائے اور کوئی بیچ بچاؤ کرادے۔ میں نے بھی سوچا کہ صلح کی ہوا چلنے سے پہلے کچھ تاریخی حقائق لکھ دوں تاکہ نسلوں میں بھی جھوٹ پھیلانے کی کبھی جسارت نہیں ہو۔ اپنے قریبی بزرگ کی قبر وں کا پتہ نہیں اور ابوبکر ذاکر کی قبر پر بھی جھوٹی کہانی گھڑ دی؟۔اللہ نے فرمایا:” قتل ہو انسان ، کیوں ناشکری کرتا ہے؟ اس کو کس چیز سے پیدا کیا؟۔ نطفہ سے۔ اس کو پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر بنائی، پھر اس کا راستہ آسان کیا۔پھر اس کو موت دی اور پھر قبر دیدی ”۔ سورہ عبس:آیت:17تا21)اس میں قبر کو بھی احسان کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ عالم برزخ کی حیات کا تصور الگ ہے۔ کبیرالاولیاء سے میرے پردادا سید حسن شاہ بابو تک کی کچی قبریں تھیں۔ دادا سیدامیر شاہ کی قبر میرے والد کو شاید اسلئے پکی کرنی پڑی کہ سبحان شاہ کے پوتوں کو اپنے باپوں کی قبر کا خیال آئے۔ میں نے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب پڑھ لی تو1976میں بہت چھوٹا تھا۔ کدال اٹھائی کہ پکی قبر جائز نہیں ۔ اس کو توڑوں گا۔ میرے والد نے مجھ پر غصہ کیا کہ” قبر سے کون مانگتا ہے؟۔ جب تک پکی قبر نہ ہو تو کوئی دعا بھی نہیں کرتا ہے۔ میں نے اسلئے قبر پکی کردی ہے”۔ کسی یونیورسٹی کی لڑکی نے پوچھ لیا کہ قبر کو سجدہ کرنا، بوسہ دینا اور جھکنا جائز ہے تو مولاناشاہ احمدنورانی نے جواب دیا کہ ” صاحب قبر کیلئے فاتحہ پڑھنا اور دعا کرنا جائز ہے باقی کچھ بھی جائز نہیں ہے”۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے قبر پرستی کی بہت سخت مخالفت کی ہے لیکن جب عمران خان نے بشریٰ بی بی کے کہنے پر پاک پتن کی راہداری کو بوسہ دیا تو علامہ کوکب نورانی اور توحیدپرستی کا دعویٰ کرنے والے یکساں تائید کررہے تھے اسلئے کہ توحید ومسلک سے زیادہ لوگ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتے ہیں۔

ہمارے ایک ساتھی حافظ شارق کا خاندان بریلوی اور کچھ اہل حدیث ہیں توان کی بہن امریکہ میں زیادہ عمر گزارنے کی وجہ سے مزید کٹر اہل حدیث بن گئی۔ گھر میں شدت کا مذہبی اختلاف تفریق کا باعث تھا۔ میں نے بتایا کہ میراDNAبھی وہابی والا ہے اسلئے کہ ہمارے اجداد سید عبدالقادر جیلانی سے حنبلی مسلک کے تھے اور امام احمد بن حنبل کوفقہاء نہیں محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔ باقی رفع الیدین وغیرہ علاقائی رسم ہیں۔ جب عبدالقادر جیلانی حنفی ماحول میں تھے تو حنفی تھے ۔پھر حنبلی بن گئے۔جب ہمارے اجداد حنفی ماحول میں آئے تو حنفی تھے۔

جب خاتون کے سامنے یہ بات رکھی کہ شرک قرآن نے سکھایا ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کوئی دیکھے گا تو وہ شرک ہی کرے گا کہ اس سے بڑا مشکل کشا کیا ہوگا کہ جو مٹی کا پرندہ بنادے اور پھونک سے روح ڈال دے۔ ابرص کا مرض ٹھیک کردے اور مردے کو زندہ کردے۔ میں خود تو وہابی ہوں لیکن دم درود سے کسی کو صحت مل جائے تو اس کو شرک نہیں کہتا۔ اسلئے کہ پھر قرآن بھی شرک کی تعلیم والا ہے۔ خاتون پھر بیٹے کو امریکہ سے لائیں اور کسی اہل حدیث دم درود والے سے روحانی علاج بھی کروایا۔ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم کی کتاب ”اذکار مسنونہ” میں یہ وضاحت ہے کہ پہلے نبیۖ نے منع فرمایا لیکن پھر اجازت دیدی کہ اگر کوئی شرکیہ کلمات نہ ہوں اور فائدہ پہنچتا ہو تو ٹھیک ہے۔ بریلوی علماء ومشائخ نے جرأت نہیں دکھائی ورنہ مشرک وہ بھی نہیں تھے۔ دیوبندیوں کی جرأت نے بڑی تبدیلی لائی ہے ۔ مفتی منیب الرحمن مفتی اعظم پاکستان وغیرہ بھی درگاہوں کے رسوم کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں لیکن اس سے بڑی مصیبت فقہاء کی ان عبارات پر فتوے ہیں جن سے علماء ومفتیان بھی پہلے اتنے واقف نہیں تھے اور اگر تھے تو اس کو عوامی سطح پر اور علماء کی سطح پر عام نہیں کیا۔ اب اسکے خلاف طبل جنگ بجانا بہت بڑا جہاد اور ایمان کی محنت ہے۔

عابد بھائی!

آپ کی باتیں علم، عمل، تاریخ اور حقائق سے جوڑ نہیں کھاتی ہیں۔ اپنی صلاحیت کو درست استعمال کرو۔اپنا وقت ضائع مت کرو۔ آپ کے خلوص ومحبت میں شک نہیں۔ میراشکوہ جواب شکوہ پسند نہیں ہے اسلئے لعنتیں بھیجی ہیں حالانکہ اس بہتر تھا کہ میںبھی پھر ثقیل برکی کی تک بندی کرتا کہ

پورے وورے تکے شجہ وغیاں دے کاٹکے
اس پار اس پار چٹانیں اور بیوی چودھ دوں کاٹکے کی

جس کے جواب میںثقیل کو مقابلے کیلئے بلایا کہ مقابلہ کرو۔ کاغذ پر اشعار لکھے ہوئے تھے اور ثقیل کے خلاف پڑھا کہ

ووینا دیر ووخلا پہ ووینا کشے مخ کاتلائی نہ شے
طانبل دیر ووخلابے طانبل پائسے گاٹلائی نہ شے
آئینہ اُٹھاؤ آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ نہیں سکتے
کشکول اٹھاؤ ، بغیر کشکول کے پیسہ کما نہیں سکتے
ثقیل برکی نے دوبارہ سنانے کا کہا اور پھر فی البدیہہ کہا
بے طانبل پائسے گا ٹلائی نہ شہ پہ وویناکشے مخ کاتلائی نہ شہ
مور دے زاڑہ خوردے پہ شل زرہ کاولئی ن شہ
کشکول کے بغیر پیسہ کما نہیں سکتاآئینہ میں چہرہ دیکھ نہیں سکتا
تیری ماں بوڑھی ہے تیری بہن کو20ہزار میں خرید نہیں سکتا

 

عابد بھائی!

کاٹکے برکی کے بیٹے نے گالی کا جواب بہت ہی مہذب انداز میں منہ توڑ دیا اسلئے کہ ثقیل برکی پاگل تھا ،اس کا کوئی کاروبار تھا نہیں تو لوگ اس کی کچھ امداد بھی کردیتے تھے اور اس کی شکل بھی واقعی کوئی قابل رشک نہیں تھی تو کاٹکے کے بیٹے نے گالی کا جواب بہت زبردست انداز میں دیا لیکن جب ثقیل برکی نے جوابی شعر میں پہلے سے زیادہ بڑی گالی دی تووہ نہ صرف سرنڈر ہوااورکاغذپر لکھے ہوئے اشعار چھوڑ دئیے بلکہ ثقیل کا500روپیہ جرمانہ بھی دے دیا کہ بس آگے اور اشعار مت بناؤ۔ یہ کانیگرم کی ہزار سالہ مہذب قوم کی تاریخ ہے ،اس قابلیت، غیرت ، شرافت اور صلاحیت کو دنیا دادبھی دے گی ۔

 

عابد بھائی!

جب اسرائیل فلسطین پر بے تحاشا بمباری کرتا تھا تو آپ کو فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں تھی اور مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کروں تو کیا کروں؟۔ان کی بچیوں کے گلے شکوے سے دل پھٹ رہاتھا۔ مشہور عربی ڈاکٹر خالد الفجرنے میری تجویز پر درس قرآن دینا شروع کیا تھا تو اس نے سورہ الناس سے شروع کیا۔ میں نے اس کو تجویز دی کہ قرآن کو تجویدوقرأت کے قواعد سے پڑھنے کے بجائے سادہ زباں کی ادائیگی میں پڑھو۔ اس نے سورہ فلق کی تفسیر عام مفسرین کی طرح کی تو میں نے اس کی ویب سائٹ پر یہ بھی لکھ دیا کہ

تمہاری صلاحیت اور فصاحت وبلاغت بہت اچھی ہے۔ قل اعوذ برب الفلقOمن شرمن ماخلق …

فلق سے طلوع فجر کے علاوہ پھول کھلنے سے لیکر کائنات کی توسیع میں تمام تغیرات مراد ہیں۔ جن میں کوئی شر ہو تو اس سے پناہ مانگی ہے۔ اس سے مفسرین بہت ساری وہ توہمات بھی لیتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ فلسطین پر بم اور میزائل گرتے ہیں تو پھٹنے والے شر کی زد میں جس طرح سے وہ آتے ہیں تو ان کو اس سورة کا صحیح معنوں میں ادراک ہے۔ بندوق کی گولی سے وہ زہریلے بم جو بڑے پیمانے پر پھٹ کر بڑی تباہی مچاتے ہیں۔ جسے ڈاکٹر خالد الفجر نے بہت سراہا تھا۔

میں نے اس میں مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار کا بھی ٹچ دے دیا تھا کہ من شر نفٰثٰت فی العقد سے وہ گروہ اور جماعتیں مراد ہیں جو قوموں میں اقدار کو توڑنے کی مہم جوئی ، سازش اور معاشرے میں فتنہ وفساد برپا کرتے ہیں۔

مشرکین عرب کا معاشرہ حضرت اسماعیل کے بعد بھی انہی اقدار کی وجہ سے قائم تھا۔ بنی اسرائیل میں ہزاروں ابنیاء کرام بھیجے گئے۔حضرت یوسف کے والد، دادا، پردادا انبیاء کرام اعلیٰ نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن یوسف کو پھربھی بھائیوں نے قتل یا کنویں میں پھینکنے کی ترتیب لڑائی۔ بھیڑئیے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔ آخر کار یوسف کی قسمت نے پہلے انکے جھوٹ سے پردہ اٹھایا کہ انہوں نے کہا کہ اگر یوسف کا بھائی چور ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چور تھا۔ پھر جب پہچان لیا توکہا کہ کیا آپ یوسف ہیں؟۔ پھر معاف بھی کردیاتھا۔

طالبان نے اپنی غلطی مان لی اور معافی کیلئے بڑی عزت بھی بخش دی۔ مہمان نہ ہوتے تو ہم معاف کرچکے ہوتے۔جو یہ کہتے ہیں کہ اورنگزیب شہید نے بھائی کو بچانے کیلئے سب کو قربان کردیا تو وہ اسلام، قبائل ، انسانیت، علی کی اولاد اور فطری غیرت سے نابلد ہیں اور جب تک اقدار کے نشیب وفراز سے یہ لوگ واقف نہیں ہوں گے تو اگر ہمارے والے ان کو سارادن بھی کاندھے پر گھمائیں گے تو یہ کہیں گے کہ ہماری چوتڑیں توڑ دی ہیں۔میں واقعہ کی نہیں دراصل اقدار کی جنگ لڑرہاہوں۔

عابد! سرنڈرکو وہاں سلنڈرکہتے ہیں ۔سر+نڈر نہیں۔ سلنڈر میں زیادہ گیس ہو تو پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ آپ نے اچھا کیا کہ اپنی بیہودہ معلومات پر سلنڈر بن گئے۔ ممکن ہے کہ پھٹنے کے ڈر سے یہ ہوا چھوڑی ہولیکن اپنی کاوش جاری رکھو۔

آپ نے کانیگرم کو اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز اور سیاست کا محور بتایا اور شیخ الہند اور مجدد سبحان شاہ کی بنیادپر سیاست کو محور بناکر اس بات کا اظہار کیا کہ مہدی کی شخصیت بقیہ صفحہ ھذا نیچے بڑی ہے اور منصور کا کام تم نے کرنا ہے اور خود ساختہ پیران پیر بن گئے۔ آپ غلام قرار دو ، جھوٹی تاریخ لکھو توٹھیک اورمجھے سچ بولنے پر لعنت اور تعصبات ؟۔

شیخ الہند کی سیاست کے پہلوان مولانا فضل الرحمن کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے استاذ شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی مولانا سبحان محمود نے ”اخبار الاخیار” کا ترجمہ کیا اور میں نے اس کا ایک فتویٰ میں صرف حوالہ دیا تو اس نے اپنا نام بدل کر سحبان محمود رکھ دیا۔جس سے اس نے خود کو بہت بڑا جاہل ثابت کیا کہ ساری زندگی ایک ناجائز نام رکھا ہوا تھا۔

سبحان شاہ کی اولاد جھوٹی کہانی دم توڑنے پربغیر ماں باپ والے اکاؤنٹ سے گالیاں بک رہی ہے۔ پتہ نہیں چلتا کہ لڑکے ہیں لڑکیاں؟۔ حالانکہ شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ سچ کی وجہ سے انسان توبہ کرتا ہے اور تکبر اور دھوکے میں نہیں رہتا۔ عابد بھائی ! آپ ان کی وکالت ضرور کریں مگر کچھ حق بھی بولیں۔

سبحان شاہ کے بیٹوں مظفرشاہ و صنوبر شاہ کے پوتے زندہ ہیں۔ دادوں کی قبر تلاش نہیں کرسکتے اور ابوبکر ذاکر کی قبر اور قتل پر بیہودہ60خوارج کے بدلے میں قتل کی جھوٹی کہانی بناؤ اور پھر انہی برکی قبائل کو خوارج بھی قرار دے دو؟۔ چلو شجرہ اور قبروں تک رسائی نہیں تو اکاؤنٹ پر نام لکھ سکتے ہو۔ وہ بھی نامعلوم ۔FIRتو نامعلوم کے خلاف ہی درج ہوتی ہے ۔

مولانا قاسم نانوتوی نے ایک کارنامہ انجام دیا کہ بیوہ اور طلاق شدگان کیلئے شاہ اسماعیل شہید کے طرز پر تحریک چلائی مگر اپنی ایسی بوڑھی بہن کو قربانی کی دنبی بنایا جس کی عمر قرآن کے مطابق نکاح سے گزر چکی تھی۔ نوشہرہ میں مولانا گل حلیم شاہ نے بتایا کہ ایک شخص اپنی بوڑھی ماں کو ٹوکری میں لئے قرآن پر عمل کیلئے نکاح کرانا چاہتا تھا تو میں نے یہ سمجھادیا کہ غلط کررہا تھا ۔ جہاں کسی نے دہشت گرد پالے تھے تو بہادری کے باوجود بھی خواتین بچانے کیلئے بازو تڑوانے کا قصہ ہے۔ میری خواہش تھی کہ ضرورت ہو تو عمر کا لحاظ رکھے بغیر مرد حضرات قربانی دیں اور سب سے پہلے میں ، میرے بچے ، بھائی اوربات ماننے والے پیرعبدالوہاب ، عبدالرحیم ، عبدالواحد وغیرہ تیار کردئیے تھے لیکن ماموں سعدالدین نے کہا کہ یہ مشکل کام ہے۔

جنڈولہ سے وانا کے راستے میں آپ لوگوں کی بڑی زمین ہے۔ جس قبیلہ نے بیچی تھی تواس نے پھڈہ کھڑا کردیا۔ جب اس پربڑا جرگہ بٹھادیا تو معمول کیمطابق ایک طرف ہمارے والے بیٹھ گئے اور دوسری طرف وہ بیٹھ گئے۔ ثالثوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے زمین بیچی ہے لیکن اس کا پانی نہیں بیچا ہے۔ میرے والد نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھے کہہ رہاہے کہ میں نے عورت بیچ دی ہے لیکن اس کی پیشاب گاہ کو نہیں بیچا ہے۔ پانی کے بغیر زمین ایسی ہے جیسے عورت کی وہ چیز نہیں ہو۔ ثالثوں نے ان سے کہا کہ ”پیر صاحب کی بات ہم مجمع عام نہیں بتاسکتے۔ کچھ افراد الگ ہوجاؤ تو ان کو بتادیں گے لیکن انہوں نے زور لگایا کہ اب تو خواہ مخواہ بھی بتاؤ گے۔ جب بتایا تو کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہوئے کہ معاملہ ختم ہے۔

کبھی صرف بات کرنے سے بہت بڑے فساد ٹل جاتے ہیں۔ میرے بھائیوں نے والد کی زندگی میں والد کو بے خبر رکھ کر مینک برکی کی غلط ڈیمانڈ پر فیصلہ کیا کہ یا ہم قرآن کا حلف اٹھائیں تو210کنال میں105ہماری ہے۔ یا وہ حلف اٹھائیں گے کہ ہماری70کنال ہے۔ ماموں غیاث الدین کی موجودگی میں ہمارے بھائیوں نے ان کو حلف اٹھانے کیلئے کہہ دیا۔ ایک جھوٹے حلف پر ہم35کنال سے محروم ہوگئے تو ہمارے رشتہ داروں کو اس پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ لالچ کی جگہ زمین کی قربانی دیدی۔ ہماری مخالفت میں اس پر فضا بنائی گئی کہ جیسے ہم نے مینک برکی سے حلف اٹھواکر بڑا ظلم کردیا۔

اس کے پیچھے پھر حلف کا معاملہ تھا کہ وہ اٹھاتے اور زمین بھی لیتے اور بدنام بھی ہمیں کرتے۔ میں نے مولانا سبحان محمود کاواقعہ بھی بہت مختصر نقل کیا ہے جو دارالعلوم کراچی والوں کا دادا اور بنوری ٹاؤن والوں کا ننھیال تھا اسلئے کہ مفتی تقی عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر دونوں اسکے شاگرد تھے۔ بنوری ٹاؤن کراچی کے اکثر اساتذہ پہلے دارالعلوم کراچی میں تھے۔ اپنی ننھیال سبحان شاہ کے معاملات بھی ضروری حد تک بیان کیے لیکن تفصیل کی ضرورت آئے تو آسرا نہیں کروں گا ۔ بڑے مقاصد کے حصول کیلئے چھوٹی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بہت لوگ کچھ نہیں سمجھتے اور خدا کرے کہ کچھ نہ سمجھے کوئی اور بڑا مقصد بھی مل جائے۔ قدرت بڑی مہربان ہے۔ اگر یہ مد بھیڑ نہ ہوتی تو پھر سورہ سبا اور دیگر سورتوں کی تفسیر سمجھنے میں بھی مشکل ہوتی۔

مولانا پیر گل حلیم شاہ نے کانیگرم کے جلسہ میں میری والدہ کا نام لیا تو ماموں نے اپنی بہن اور بھائی نے اپنی والدہ کی بے حرمتی پر اس کو پکڑنے کے بجائے مجھے ہی جیل میں ڈال دیا۔ حالانکہ مولاناگل حلیم شاہ کو ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹا جاتا تو لوگ بھی کہتے کہ غلط کیا تو بھگتے بھی۔ پھر میں نے اس پر پہلے اتمام حجت کی اور اپنی کتابوں کا کہا کہ دیکھو اس میں کیا غلطی ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے پتہ نہیں مولانا فتح خان سے پوچھ لو۔ تو میں نے کہا کہ جب پتہ نہیں تو پھر مخالفت میں بولو بھی مت۔ پھر اس کی حقیقت سے”نیولے اور ٹرانسفارمر ” نقاب کشائی کی۔

نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے
ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے
اب ایک رات اگر کم جئے تو کم ہی سہی
یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جئے

مجاہد شا ہ ولی مروت ، شین مینار مسجد کے مولانا عنایت اللہ محسود اور سپاہ صحابہ کے شاہ حسین گواہ ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن سمیت ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء اور کلاچی کے قاضی، کراچی کے مدارس اور حاجی عثمان کے مریداور ضرب حق دیکھ لو۔

ابوسفیان کی بہن ام جمیل ابولہب کی بیوی تھی ۔ قرآن کی مذمت پر قریش نے نبیۖ پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔ ولید بن مغیرہ کو ترجمان بنایا۔اللہ تعالیٰ نے بھرپور جواب دیا ۔ فرمایا:

”ن قلم کی قسم اور جو اس سے لکھتے ہیں۔آپ اپنے رب کی نعمت سے دیوانہ نہیں ہیںاور آپ کیلئے بیشمار اجر ہے۔ اور بے شک آپ تو اخلاق کے عظیم مرتبہ پر ہیں۔ پس عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم سے کون فتنہ میں مبتلا ہے؟۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ کون راستے سے گمراہ ہے۔ اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ پس آپ جھٹلانے والوں کا کہا مت مانو۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی چاپلوسی کرو تو وہ بھی چاپلوسی کریںاور ہر قسم کھانے والے ذلیل کا کہنا نہ مانیں۔جو طعنے دینے والا چغل خور ا، نیکی سے روکنے والا، حد سے گزرا، گناہ گار۔ بدتمیز اور پھرناجائز نسبت والا ۔ اگرچہ وہ مال واولاد والا ہے ۔جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ عنقریب ہم اس کو سونڈ پر داغ دیں گے۔بیشک ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا، جیسا کہ ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا۔جب انہوں نے قسم کھائی کہ ہم صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ دیں گے اور انہوں نے استثناء نہیں کیا۔ پھر ایک گھومنے والاتیرے رب کی طرف سے آیا اور وہ سوئے ہوئے تھے۔پھر وہ باغ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح تھا”۔ (سورہ القلم آیت1تا21)

حضرت خالد بن ولید کے والد ولید بن مغیرہ بہت تیز طرار ، چالاک، عقل ودانش کے پیکر قریش مکہ کے ترجمان نے زبان کی تیزی دکھائی اور نبیۖ پر ڈھیر ساری بداخلاقی اور عزتوں کو تار تار کرنے کا الزام لگادیا تو سورہ قلم کی ان آیات سے خالق کائنات نے جواب دیا تھا۔ بعض مترجمیں نے ”زمیم” کا ترجمہ” ناجائز اولاد” کیا ۔ اس سے خالد بن ولید کی شخصیت اور نسب پر کتنا برا اثر پڑا؟ ۔جس کا بھائی ولید بن ولید مسلمان تھا۔ خالد بن ولیدمسلمان ہوا تو یہ آیات سنانے کا مطالبہ کیا جو اس کے باپ کی مذمت میں نازل ہوئی تھیں۔ پٹھانوں کو پتہ ہوتا تو وہ کبھی خود کو خالد بن ولید کی اولاد نہ کہتے۔ جب کچھ لوگوں نے سازش کی اور ہمارے ساتھی خانقاہ کے امیر شفیع بلوچ کو میرے سامنے کھڑا کیا تو اس نے کہا کہ ہم بلوچ بھی امیر حمزہ کی اولاد ہیں۔ پھر میںنے کہا کہ اگر میں تجھے مجمع میں چیلنج کرتا اور پھر یہ کتاب دکھاتا کہ امیر حمزہ لاولد تھے تو کیا حشر ہوتا؟۔ اس نے شکریہ ادا کیا کہ مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ طاہر شاہ نے لکھا کہ ”کیا دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی کہ مہدی کو دریافت کرسکے”۔ مہدی کی نسبت روحانی ہے اور سائنس ابھی روحانیت تک نہیں پہنچ سکی ہے لیکن طاہر شاہ ایک ویڈیو میں اپناتشخص، تعارف اور شجرہ نسب دنیا کے سامنے رکھ دیں۔ یہ تو وہ شخص ہے جو کہتا تھا کہ ”وزیرستان کا سپر خاندان ہم ہیں۔ انگریز نے بتادیا ہے”۔

یہ بد قماش جو اہل عطا بنے ہوئے ہیں
بشر تو بن نہیں سکتے خدا بنے ہوئے ہیں
میں جانتا ہوں ایسے عظیم لوگوں کو
جو ظلم سہہ کے سراپا دعا بنے ہوئے ہیں
وہ مجھ سے ہاتھ چھڑا لے تو کچھ عجب بھی نہیں
اسے خبر ہے کہ حالات کیا بنے ہوئے ہیں
لڑھکتا جاؤں کہاں تک میں ساتھ ساتھ ان کے
مرے شریک سفر تو ہوا بنے ہوئے ہیں
تو خلوتوں میں انہیں دیکھ لے تو ڈر جائے
یہ جتنے لوگ یہاں پارسا بنے ہوئے ہیں
کبھی کبھار تو ایسا گماں گزرتا ہے
ہمارے ہاتھ کے ارض وسما بنے ہوئے ہیں
ہمیں سے پہنچنا ہے تم کو منزل تک
گزر جانا کہ ہم راستا بنے ہوئے ہیں
ہزاروں لوگ بچھڑتے ہیں مل مل کر
سو زندگی میں بہت سے خلا بنے ہوئے ہیں
کسی سے مل کے بنے تھے جو زرد لمحوں میں
وہ سبز خواب میرا آسرا بنے ہوئے ہیں

عابد بھائی!

میں نے تو بارہایہ کہا کہ مجرم کوئی اور نہیں ہم خود ہیں ۔ دہشتگرد قوم کو نقصان پہنچارہے تھے تو ہم نے پالا۔ اگر اس کی سزا اس سے زیادہ ہے جو ہمیں ملی ہے توقبول ہے ۔

ہماری مسجد کے امام حافظ عبدالقادر شہیدکے گاؤں میں یہ بات پھیلائی گئی کہ اس کی موت حرام کی ہوئی ہے۔ جب اسکے بھانجے کو پتہ چلا کہ حرام کی موت نہیں ہوئی ہے تو بہت خوش ہوا کہ اس کی آخرت خراب نہیں ہے۔ یہ کس کس کا پروپیگنڈہ تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا؟۔ مجھے شہداء کیلئے کچھ حقائق سے پردہ اٹھانا ہوگا۔ منہاج کا ماموں پیر سجاد بھی یہ تشہیر کرتا تھا اور مجھے اس پر گرفت کی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہمارے شہداء کے وارث پریشان ہوں اور لوگ اپنی کم عقلی یا کمینگی سے غلط پروپیگنڈہ کریں۔

قاتل کو زعم چارہ گری ، اب دردِ نہاں کی خیر نہیں
اترا وہ خمار بادۂ غم ، رندوں کو ہوا ادراک ستم
کھلنے کو ہے مے خانے کا بھرم، اب پیرمغاں کی خیر نہیں
اب تک تو کرم کی نظروں نے، فتنۂ دوران روک لیا
اب دوش پہ زلفیں برہم ہیں، اب نظم جہاں کی خیر نہیں
سوچا ہے شکیل انکے دلوں کو میں فتح کروں گاسجدوں سے
یا میری جبیں کی خیر نہیں، یا کوئے بتاں کی خیر نہیں

مولانا فتح خان سے کوئی پوچھتا کہ” نامعلوم نے ہمارے آدمی کو قتل کیا تو یہ شہید ہے یا نہلائیں؟”۔ تو مولانا فتح خان جواب دیتے تھے کہ احتیاطاً نہلانے میں حرج نہیں ۔ شہادت نہلانے سے خراب نہیں ہوتی ہے۔ لیکن جب حاجی رفیق شاہ شہید کیلئے مولانا فتح خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ”یہ اس اونچے درجہ کے شہید ہیں کہ نہلانا تو دور کی بات چہرے پر گرد پڑا تو اس کو بھی مت ہٹاؤ”۔ پھر یہ کون ہیںجنکے نزدیک حافظ عبدالقادر شہید حرام کی موت مرا؟۔ اسکے بھانجے کو بتادیا کہ حرام کی موت نہیں مرا تو بڑا خوش ہوا۔ اورنگزیب شہید کی تصویرپر ڈیرہ میں یہ کہاگیا کہ” ہمارا عزیز تھا یہ غلط تھا”۔تو عام آدمی نے اس سے کہا کہ” تصویر سید کی ہے تم سید نہیں لگتے ”۔

جس طرح فلسطین کے مجاہد بچے مہدی ہیں اسی طرح جن مجاہدین نے امریکہ کے خلاف جہاد کیا تو وہ بھی مھدی ہیں۔ مجھے مجاہدین کی ان ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کو دکھ اور تکلیف پہنچنے کا جٹہ قلعہ کے واقعہ سے زیادہ احساس ہے جن کا اپنا کوئی گناہ نہیں تھا اور وہ بے گھر اور بے عزت کئے گئے ۔ اگر میں موجود ہوتا تو اپنے سکول اور گھروں میں ان کو ضرور بساتا اور ان کیلئے جتنا ہوسکتا تو خرچے کا بندوبست بھی ضرور کرتا۔

مجھ سے پیر طارق شاہ نے کہا کہ ” پیر یعقوب شاہ سے آپ بات کرلو تو صلح پر راضی ہونگے”۔ میں نے کہا کہ اس کیلئے کچھ ایسی تجویز ہو جو بخوشی سے قبول کریں۔ پھر اس بات کا اظہار کیا کہ پیرغفار لوگوں نے زندگی ماموں کے گھر میں گزاردی اور اب گھر چھوڑنے کی قیمت پر صلح کیلئے یہ بات بڑھانی ہوگی۔ پیر غفارجٹہ قلعہ آئے تو میں نے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ حالانکہ بظاہر یہ بالکل غلط تھا لیکن اس کا اتنا بڑا دل ہے کہ مجھ سے ناراضگی کی وجہ پوچھ لی۔ میں نے کہا کہ تم صلح نہیں کرتے۔ اس نے کہا کہ آپ کو ہر طرح کا اختیار ہے۔ میں نے کہا کہ اگر کسی اور دشمن کیلئے بات ہوتی تو میں کبھی نہیں بولتا۔ برکی قبائل کیلئے محسود ملک دینائی نے بندے مارنے کے بعد وطن چھوڑا تو عار بن گیا مگراپنے عزیزوں کیلئے یہ قربانی کوئی بے عزتی نہیں۔ وہ بالکل تیار تھا اور پھر دوسرے بھائیوں سے مشورہ کرکے بھی بتایا کہ ٹھیک ہے لیکن پھر پتہ نہیں کس ابلیس نے مشورہ دیا اور مجھے کہا کہ ”گھر چھوڑنے والی بات پر ہم سوچ میں پڑگئے”۔

اگر اس وقت معاملہ حل ہوجاتا تو مجھے یقین ہے کہ یعقوب شاہ بہت خوش ہوتے اور پہلے کوڑ چھوڑنے کیلئے اپنے ڈیرے کا گھر دیتے اور پھر اپنے ساتھ ڈیرہ سے ان کو واپس لاتے کہ بھئی اپنی چیز خود سنبھال لینا۔اچھوں کی کمی نہیں تھی مگر ماحول بہت تیزی سے بگڑ گیا اسلئے کچھ ضربیں برداشت کرو۔

نمازکی امامت پر میری کوشش ہوتی تھی کہ تاخیر سے جاؤں تاکہ کوئی اور امامت کرے۔ ایک دن حاجی بدیع الزمان مجھے آگے کررہے تھے اور میں اس کو امامت کی دعوت دے رہاتھا۔ ڈاکٹر آفتاب نے اس کو کہا کہ آپ پڑھائیں مگر اس نے مجھے آگے کیا۔ میرے دل میں ڈاکٹر آفتاب سے محبت بڑھی کہ اس نے اقدار اور چھوٹے بڑے کا بڑا خیال رکھا۔ آج بھی دل میں اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہوں۔ حاجی یونس شاہ نے ہمیشہ اپنی گاڑی دوسروں کی غم شادی میں پیٹرول سے بھری انکے گھر پر کھڑی کرکے رکھی تو میں نے کہا تھا کہ سب سے اچھی گاڑی حاجی صاحب کیساتھ ججتی ہے جبکہ ماموں سعدالدین نے مسجد میں حاجی شاہ عالم کے بھائی دین حاجی سے ہاتھ ملایا تو پوچھا کہ کون ہے۔ صمد نے بتایا کہ مزیانی ہے ، تواس نے کہا کہ گم ہوجائے۔ صمد نے کہا کہ دبئی سے آیا مہمان ہے تو اس نے کہا کہ دبئی سے بھی گزرے۔چھوٹے ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ ۔

حاجی یونس شاہ الیکشن کمپین کا خرچہ دیتا تھا اور بدتمیز مخلوق مذاق اڑاتی تھی۔ میرا کتا بس نے ماردیا تو ڈرائیور نے کہا کہ آدمی کی دیت دوں گا۔ حاجی یونس شاہ نے کہا : چائے پیتے ہوتو پلادیتا ہوں ،کتے کا کون پوچھتا ہے جاؤ۔ یہ ہوتا ہے معیار !۔

منہاج اور شہریار کی غیرت کتے کی غلطی کو معاف نہیں کرتی لیکن مہمان اور عورتوں سمیت جمع غفیر پر کبھی غیرت نہیں آئی۔
پیر طارق شاہ بہت اچھا تھامگر اللہ نے مجھ سے کام لیاہے۔ ”اللہ فاسق سے بھی دین کی خدمت لیتا ہے”۔(حدیث) گالی کھانا اور دینا اچھا نہیں مگر مجبوری ہوتو علی سے ابوسفیاننے کہا: ہماراجدایک عبدالشمس تھا تو علی نے کہا کہ صخر ابوطالب کی طرح تھا،نہ حرب عبدالمطلب اورنہ ہی امیہ ہاشم کی طرح۔ نبیۖ نے سچ فرمایا:انانبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب اللہ کا کلینڈر شاہکارہوتا ہے تعصبات نہیں۔فارمی نہیں سمجھ سکتا۔

عابد! آپ اور مولانا آصف میری تعلیم کو پہنچاتے تو سبحان شاہ ، مظفرشاہ ، سرورشاہ اور جلیل شاہ کا نام بھی روشن ہوتا اور مولانا فضل الرحمن اور اس کے ٹبر سے بھی بہت ہی آگے نکلتے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بیٹی کو شہوت سے زبردستی آلہ تناسل پکڑایا اگرانزال نہ ہوا تو بیوی حرام اور انزال ہوگیا تو بیوی حرام نہیں ہوگی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی جہالت سے بھرپور حماقتوں سے دل دہلانے والے حنفی فقہاء کی خباثتوں کا فتویٰ

(حرمت مصاہرة کے غلط مسائل سے جان چھڑانے کا قرآنی حل آخر میں پڑھیں)

دار الاافتاء جامعة العلوم علامہ بنوری ٹاؤن
ویب سائٹ لنک
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/hurmat-e-musaaharat-ki-sharaet-o-ahkaam-144603102755/28-09-2024

https://www.banuri.edu.pk/questions/fasal/hurmat-e-musaharat

 

کیا سوتیلا نانا (یعنی سوتیلی ماں کا والد)محرم ہے؟

محارم ، بہو اور سالی کو شہوت سے چھونا اور مصافحہ کا حکم….

نو سال سے کم بیٹی کو برہنہ دیکھنے کی صورت میں حرمت کا حکم

ساس سے زنا کرنے کی صورت میں بیوی سے نکاح ……

امام ابوحنیفہ اورامام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک حرمت……

بیٹی کیساتھ زنا سے آدمی پر اپنی بیوی حرام ہوجاتی ہے۔

بھتیجی کو شہوت سے چھونے کے بعد اس کیساتھ بیٹے کا نکاح

بیٹے کا ماں کو شہوت سے چھونے سے حرمت کب ہوگی؟۔

ہم بستری کے وقت بیوی کی والدہ کا تصور کرنے سے نکاح.

حرمتِ مصاہرت کی شرائط و احکام

عورت کو چھونے کے بعد انزال سے حرمت مصاہرت کا حکم

بھانجی کیساتھ ہم بستری کرنے پر ماموں کے نکاح کا حکم….

سوتیلی بیٹی کے ہاتھ میں زبردستی آلہ تناسل پکڑوانے…..

ساس کے پستان کو چھونے سے حرمت مصاہرت کا حکم

سسر کا بہو کو شہوت کے ساتھ چھونا

……بقیہ (بکواسات)

 

حرمت مصاہرت کی شرائط و احکام

سوال:1۔ اگر داماد ساس کو شہوت کی نظر سے دیکھے یا چھوئے تو کیا اس سے بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام ہوجاتی ہے؟ اسی طرح اگر سسر اپنی بہو کو شہوت کی نظر سے دیکھے یا چھوئے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

2۔اگر باپ پیار و شفقت سے اپنی بالغ بیٹی کابوسہ لے اور اسے پیار سے چومے تو کیا بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام ہوجاتی ہے؟۔ راہ نمائی فرمائیں۔ جواب

(1) واضح رہے کہ مرد کے کسی عورت کو محض شہوت سے دیکھنے یا چھونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، شرعا چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

6۔شہوت سے دیکھنے یا چھونے کی صورت میں اس وقت انزال نہ ہوا ہو، اگر اسی وقت انزال ہوگیا تو حرمت ثابت نہ ہو گی۔

(2) اگر باپ پیار و شفقت کی بنا پر اپنی بالغ بیٹی کو بوسہ دے اور اسے پیار سے چومے تو بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام نہیں ہوگی البتہ اگر بوسہ دیتے یا چومتے وقت شہوت پیدا ہوجائے یا

بوسہ دینا اور چومنا شہوت کیساتھ ہو اور اگر پہلے شہوت تھی تو وہ بڑھ گئی ہو تو اس سے بیوی اس پر ہمیشہ کیلیے حرام ہوجائے گی، نیز اگر بوسہ دیتے یا چومتے وقت شہوت کا غالبِ گمان ہو تو اپنی بالغ بیٹی کو چومنا یا بوسہ دینا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی:(وأصل ماستہ وناظرة الی ذکرہ والمنظور الی فرجہا) المدور (الداخل).. …(قولہ : فلاحرمة) لانہ بانزال تبین أنہ غیرمفض الی وط ء ھدایة…. فان أنزل لم تبت والا ثبت لا انھا ثبت بالمس ثم بالانزال تسقط ؛ لأن حرمة المصاہرة اذا تثبت لاتسقط أبدا ایچ ایم سعیدکمپنی

فتاوی عالمگیری :ووجود الشھوة من احدھما یکفی وشرطہ أن لاینزل حتی لوانزل عندالمس أو النظر لم تثبت بہ حرمت المصاہرةکذا فی التبیین . قال صدر الشہید وعلیہ الفتویٰ کذا فی الشمنی شرح النقایة : ولومس فأنزل لم تثبت بہ حرمة المصاہرة فی الصحیح لانہ تبین بالانزال انہ غیر داع الی الوط ء .کذا فی الکافی۔ ( ج:1مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

 

عورت کو چھونے کے بعد انزال سے حرمت مصاہرت کا حکم

سوال :اگر کوئی شخص کسی عورت کو شہوت کیساتھ ہاتھ لگائے یا گلے لگائے یا گلے لگاتے ہی انزال بھی ہوجائے لیکن اس میں برہنہ کچھ نہیں کیا ہو تو کیا اس عورت کے بچوں کیساتھ اس مرد کی شادی ہوسکتی ہے؟۔یا اس عورت کے بچوں کے ساتھ اس مرد کے بچوں کی شادی ہوسکتی ہے؟۔

جواب: واضح رہے کہ حرمت مصاہرت جس طرح نکاح سے ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح زنا اور شرائط معتبرہ کیساتھ دواعی زنا ( شہوت کیساتھ چھونے اوردیکھنے) سے بھی ثابت ہوجاتی ہے،مس یعنی چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہونے کیلئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ شہوت ختم ہونے سے پہلے انزال نہ ہوگیا ہو۔اگر انزال ہوگیا تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

 

سوتیلی بیٹی کے ہاتھ میں زبردستی آلہ تناسل پکڑوانے…..

سوال :ایک شخص نے مطلقہ سے شادی کی۔ شادی کے بعد اس مطلقہ بیوی کی تیرا سالہ بیٹی کے پیٹ کو چھوا،اوراس کے ہاتھ میں زبردستی اپنا آلہ تناسل پکڑوادیا، تو کیا اس شخص کا نکاح اس مطلقہ سے برقرار رہا یا ٹوٹ گیا؟۔

جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی اپنی بیٹی ( چاہے سوتیلی ہو یا سگی)………… صورت مسئولہ میںاگر سوتیلے باپ کو اس وقت انزال نہ ہوا ہو تو حرمت مصاہرةقائم ہوگئی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے اور دونوں کا مزید ساتھ رہنا شرعاًدرست نہیںہے جس کی وجہ سے شوہر پر لازم ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر یا نکاح سے خارج کرنے کے الفاظ کہہ کر اس سے علیحدگی اختیار کرے۔

 

ساس کے پستان کو چھونے سے حرمت مصاہرت کا حکم

سوال:ایک شخص نے دھوکہ سے ساس کے پستان کو پکڑلیا،شہوت کا پایا جانا توظاہر ہی ہے ………چانچہ فتاویٰ ہندیہ میں: ولو اخذ ثدیھا وقال ما کان شھوة لا یصدق لان الغالب خلافہ وکذا فی الشامی، البحر والمیط (اور اگر اس کو پستان سے پکڑلیا اور کہا کہ شہوت نہیں تھی تو تصدیق نہ ہو گی اسلئے کہ یقینِ غالب اسکے خلاف ہے)۔اس جزیہ میںفقہاء نے لفظ اخذ استعمال…
جواب: …. لمس کے بجائے ”اخذ ” کا تذکرہ عرف کی وجہ سے ہے۔ ….

فتاوی دارالعلوم دیوبند :زید شہادت دیتا ہے کہ عمر اپنے فرزند کی زوجہ ہندہ کیساتھ برہنہ لیٹا ہوا تھااور زوجہ کے پستان پکڑے ہوئے تھا ، خالد شہادت دیتا ہے کہ عمر نے فرزند کی زوجہ کا بوسہ لیا، حرمت مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں؟

الجواب: پستان کا پکڑنا شہوت کیساتھ تھا یا نہیں؟۔ اسی طرح بوسہ میں بھی شہوت کا ذکر نہیںہے اور بوسہ دینا ایک گواہ کا بیان ہے اور پستان پکڑنا ایک شخص کا بیان ہے ۔دوگواہ امر واحد پر متفق نہیںلہٰذا حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔
٭٭

 

حرمت مصاہرة کے غلط مسائل سے جان چھڑانے کا قرآنی حل

سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہۖ نے ”حرمت مصاہرت” پر ایسا بیہودہ درس نہیں دیا۔فرمایا: ”تم بھی اہل کتاب کے نقش قدم پر چلوگے ۔ اگر ان میں کوئی گو کے سوراخ میں گھسا ہوگا یا کسی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو تم میں بھی ایسے افراد ہونگے”۔ قرآن نے اہل کتاب کے مذہبی طبقے کا بتایا کہ” اس کی مثال گدھے کی ہے جس پر کتابیں لادی گئی ہوں”۔ اور یہ بھی ” اس کی مثال کتے کی طرح ہے ، جس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے اور چھوڑ دو تو بھی ہانپے”۔ ( الاعراف:176۔الجمعہ:5)

حرمت علیکم امہاتکم …….وامھات نسائکم وربائبکم الاتی فی حجورکم من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ماقد سلف ان اللہ کان غفورًا رحیمًا

”تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں………اور تمہاری عورتوں کی مائیںاور تمہاری وہ لے پالک جو تمہارے حجروں میں پلی ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگرتم نے ان کے اندر نہیں ڈالا ہے تو تمہارے اوپر حرج نہیں اور تمہارے سگے بیٹوںکی عورتیں۔اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے سے گزر چکا ہے۔بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (سورہ النسائ:23)

قرآن نے حضرت آدم وحواء کا قصہ ایسے الفاظ میں ذکر کیا کہ” لوگوں کو آج تک یہ پتہ نہیں چل سکاکہ وہ کوئی درخت تھا یا شجرہ نسب ؟جس سے منع کیاگیا”۔ مشرکوں کا فرمایا کہ ”پھرجب مرد نے اس کو چادر اُوڑھادی تو اس کو ہلکا حمل ٹھہرا، جس کو لیکر وہ چلتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی کہ ہمیں تندرست بچہ دیا تو ہم شکر گزار ہوں گے۔ پھر دونوں کو تندرست بچہ ملا تو دونوں اس کا شریک ٹھہرانے لگے”۔(الاعراف:189،190)

ایک توطلاق کے مسائل کی قرآن نے بھرپور وضاحت کی ہے جسے علماء نے نظرانداز کیااور دوسرا حرمت مصاہرت کے مسائل کو قرآن نے بہت واضح کردیا تاکہ سادہ لوح عوام کو انسانوں کی شکل میں گدھے اور کتے ورغلا نہیں سکیں۔

نکاح کے بندھن کیساتھ اپنی عورت میں ڈالنے کی وضاحت اور نہ ڈالنے کی صورت میں جائز ہونے کا تصور حنفی شافعی مسالک کو ملیامیٹ کردیتا ہے۔ایک طرف شافعی مسلک کی گنجائش نہیں بنتی اسلئے کہ نکاح سے زیادہ اہم ڈالنا ہے اور دوسری طرف حنفی مسلک کے بیہودہ مسائل کو بالکل ملیامیٹ کردیا کہ نکاح اور ڈالنے کی صریح وضاحت کردی ہے۔جس کے بعد شہوت سے چھونے اور فرج داخل کو دیکھنے وغیرہ کے بکواسات کی قطعی طور پر گنجائش نہیں رہتی ہے۔

عن زید بن براء عن ابیہ قال: لقیت عمی ومعہ رایة فقلت لہ این ترید ؟، قال: بعثنی رسول اللہ ۖ الی رجلٍ نکح امرأة أبیہ فأمرنی ان اضرب عنقہ واخذ مالہ ”زید بن برائ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ میری اپنے چچاسے ملاقات ہوئی اور میں نے کہا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟۔ اس نے کہا کہ رسول اللہۖ نے میری تشکیل کی ہے ایسے شخص کی طرف، جس نے اپنے باپ کی عورت سے نکاح کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اس کی گردن ماردوں اور اس کا مال لے لوں”۔سنن ابی داؤد ۔ شیخ الالبانی اورشیخ زبیر علی زئی نے صحیح لاسناد قراردی۔

دارالعلوم کراچی نے شادی بیاہ میں نیوتہ لفافہ کے لین دین کو سود اور کم از کم گناہ اپنی ماںسے زنا کے برابر حدیث سے قرار دیا اور پھر عالمی سودی بینکاری کو جواز فراہم کردیا۔ کہاں حدیث میں محارم پر قتل کا حکم اور کہاںیہ حیلہ سازیاں؟۔

امام ابوحنیفہ نے بادشاہ کی خواہش پوری نہیں کی اسلئے جیل میں زہر سے شہید کردئیے گئے۔ امام ابویوسف نے معاوضہ لیکر باپ کی لونڈی بادشاہ کیلئے جواز کا حیلہ نکال دیا۔ پھرامام ابوحنیفہ پر تہمت باندھی کہ شہوت کیساتھ چھونا بھی حرمت مصاہرت قرار دیا ہے۔پھر ساس کی داخلی شرمگاہ تک شہوت کی نظر سے دیکھنے پر حرمت مصاہرت کے مسائل پہنچاکر دم لیا۔ جس میں بیہودہ پن کی انتہاکردی ۔ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کشف الباری میں علامہ ابن حجر عسقلانی کے دلائل کو وزنی قرار دیکر حنفی بیہودہ مسائل سے جان چھڑانے کی بنیاد ڈالی ۔ایک مدرسہ کے بڑے مفتی نے بتایا کہ” اکابرعلماء نے حرمت مصاہرت کے مسائل سے جان چھڑانے کیلئے میٹنگ کی تھی”۔مفتی تقی عثمانی جان چھڑانے کیلئے نہیں مان رہا؟۔

” ایک شخص کی عورت فوت ہوگئی ۔ علی نے پوچھا کہ اس کی بیٹی ہے؟۔وہ شخص: ہاں۔ علی: تم سے ہے یا کسی غیر سے ؟۔ شخص: غیر سے ہے۔ علی: تمہارے حجرے میں پلی ہے یا باہر؟۔ شخص: باہر۔ علی : پھر اس سے نکاح کرلو”۔ ( مصنف عبدالرزاق ،ابن حجر عسقلانی۔کشف الباری) یہ شافعی مسلک والوں کا من گھڑت غلو ہے جس میں سوتیلی بیٹی کیساتھ شادی کے جواز کا قصہ گھڑا گیا ہے۔ دوسری انتہاپر حنفی مسلک نے امام ابوحنیفہ پربیہودہ تہمتوں کے انبار لگادئیے ہیں۔

ایک طرف انڈیا کے فلموں ، ڈراموں اور معاشرے کی بدترین صورتحال سے لوگ اسلامی ، قومی اور اخلاقی غیرت کھوگئے ہیں تو دوسری طرف شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن لاہوراور شیخ الحدیث مولانا نذیرفیصل آباد جیسے اسکینڈل زدہ علماء کے شاگرد مسند افتاء وارشاد پر انتہائی بیہودہ فتوے جاری کررہے ہیں۔ مذہب ایک کاروبار بنادیا گیا ہے اسلئے غیرت ایمانی مسلمانوں سے رخصت ہورہی ہے۔

جاوید احمد غامدی نے ”مرد وعورت کا مصافحہ” پر کہا کہ ”ہندمیں رواج نہیں۔ ملائشیا میں شافعی خواتین کا ماحول مذہبی ہے وہ مصافحہ کرتی ہیں”۔غامدی کو حنفی نزاکت کا پتہ نہیں ہوگا کہ حنفی فقہ کے مسائل میں کیا قباحت اور خباثت ہے ؟۔

میں نے37اور40سال پہلے فقہ واصول فقہ اور تفسیر پڑھی تھی تواللہ والے اساتذہ تھے۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے فرمایا کہ” فقہ، اصول فقہ اور تفسیر کی کتابوں اور درسِ نظامی کوآپ درست کرسکتے ہو”۔ آج ایسے نالائق افتاء کی مسند پر بیٹھے ہیں جن کو صرف اپنی نوکری اور مدارس میں گاہک پکڑنے سے غرض ہے۔ جبکہ مفتی محمود اور مولانا سیدمحمد بنوری کے قاتلوں کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے۔
٭٭

مشہور شیخ الحدیث اور مفتی نے سنایا: ”فقہاء نے حلالہ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیااسلئے کہ جب بادشاہ ، اور سردار کی بیوی کا حلالہ کردیتے تھے تو وہ آنکھ نہیں اٹھاسکتا تھا۔ ایک نواب کی بیوی ایک مولانا کو پسند آئی تو اس نے کہا کہ پیشاب کرتے ہوئے تیرا رُخ قبلہ کی طرف تھا،بیوی طلاق ہوگئی۔ پھر تجویز دی کہ اس کا نکاح مجھ سے کردو، کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ نواب نے دیکھا کہ ایک دن مولانا نے پیشاب کرتے ہوئے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا تو کہا کہ بیوی تجھ پر طلاق ،تو اس نے کہا کہ میں نے چیز کا رخ موڑ ا تھا”۔ مولوی حضرات عوام الناس کے خاندانوں کو تباہ کرتے ہیں لیکن جب اپنا مسئلہ ہو تو پھر دیانت سے کام لینا تو دور کی بات ہے۔ ننگے لیٹے پستان کو پکڑنے کیلئے بھی لکھا کہ شہوت کا ذکر نہیں اور گواہ متحد نہیں۔اللہ نے فرمایا یا اھل الکتٰب لا تغلوافی دینکم غیر الحق ”اے اہل کتاب دین میں ناحق غلو مت کرو”۔یہ غلیظ مسائل اہل کتاب نے چھوڑ دئے فقہاء نے رائج کردئیے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وَبدَّلنَاھُم بِجَنَّتَیھم جَنَّتَین ذَوَاتَی اُکُلٍ خَمط واَثلٍ وشَی ئٍ مِن سِدرٍ قَلِیل ”اور ہم نے انکے دو جنت کو بدل دیا ،دو ایسے جنت بے ذائقہ پیلو اور کریرہ والے اور کچھ کم تعداد بیروں کی ”۔( سورہ سبا:16)

سورہ الرحمن، الاعراف ، المرسلٰت ،الحج، الواقعہ اور سورہ الدھر میں انقلاب عظیم کی خبر اور خلافت کا گزشتہ شمارہ میںبتایا۔ فارس، خراسان، ہند، سندھ اور مشرق کی احادیث ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے سورہ القدر کی تفسیرمیں لکھا کہ ” اسلام کی نشاہ ثانیہ کیلئے قرآن ضروری ہے۔پنجاب، کشمیر ،سندھ، بلوچستان، فرنٹیئراور افغانستان میں جو قومیں بستی ہیں یہ امامت کی حقدار ہیں۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلہ میںلائے توبھی ان علاقوں سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے۔ نشاہ ثانیہ کا یہی مرکز ہیں۔( المقام المحمود) فرنٹ لائن پاکستان کی فرزانہ علی توجہ دیں۔

کانیگرم وزیرستان اورگومل ڈیرہ اسماعیل خان قوم سبا کے مصداق ہیں۔ جہاں کا امن وامان دہشت گردی میں بدل گیا۔ لذیذ باغ کے بدلے پیلو کے پھیکے چیونگم اور کریرہ کے پھل اور بیری کے چند درخت نشان ہیں۔

وزیرستان میں دہشتگردی کی بنیاد ڈیڑھ سوسال پہلے پڑی۔ وزیرستان کا امن وامان بہت مثالی تھا۔ برطانیہ نے دہشتگردی کے واقعات کو1900میں کتاب میں شائع کیا۔ قبائلی ملکان کوقابل شرم وظیفہ کچھ عرصہ پہلے تک دیتاتھا۔ پھرحکومت پاکستان نے غالباً بینظیر انکم سپوٹ کے تحت اپنے ذمہ لیا ۔
وزیراعظم متحدہ ہندوستان جواہر لال نہرو نے جب باچا خان کیساتھ جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا تو قبائلی ملکان سے کہا کہ چند ٹکے سے انگریز کے ہاتھوں مت کھیلو۔ جس پر یہ کہہ کر ورغلایا گیا کہ تمہیں گالی دی گئی ہے۔

اگرگالی تھی توپھرچند ٹکوں کے لفافے آج کھانا بند کیوں نہیں کئے؟۔ یہ زکوٰة و خیرات غریب غربائ، مساکین فقراء اور بیوہ و یتیم بچوں کا حق ہے جو خان و ملک کھارہے ہیں۔
قبائلی مستحکم اقدار کو ملکان نے تہس نہس کیا اور قومی اسمبلی میں بکنے کا رواج بھی انہوں نے ڈالا۔ پچ کے دونوں طرف دہشگردی کا بازار گرم کرنے میں بھی انہی کابڑاکردار تھا۔
جب ملک منہاج کے بھائی ضیا ء الدین نے بتایا کہ گوانتا ناموبے کی قید سے آزادی پر عبداللہ محسود نے سب ملکان کو رلادیا تو میں نے اس وقت لکھا کہ” ملکان خدا کیلئے تو کبھی روئے نہیں۔اسکے پیچھے بھی لفافوں کا چکر لگتا ہے”۔ ملکان فوج و طالبان کے درمیان ڈبل گیم کھیلتے تھے۔ مصطفی نواز کھوکھر نے فرزانہ علی کو بتایا کہ وزیرستانی کو فوج نے سند دی کہ ”اسکے دوبیٹے فوج کی طرف سے طالبان سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے”۔ لیکن پھر بھی فوج نے اس کا شناختی کارڈ بلاک کردیا تھا۔

سورہ سبا میں سیل العرم سے شدت پسندی اوردہشت گردی کی لہر مراد ہے۔

 

سیل کے معنی لہر ، طوفان ، سیلاب اور عرم کے معنی شدت ، تیزی اور سختی کے ہیں۔ پانی کاسیلاب، چوہے اور ٹڈی سے امن وامان کے مقابلے میں بدامنی نہیں آتی اسلئے وہ لہر ہی مراد ہوسکتی ہے جو امن کے مقابلہ میں ہو اور اثل کا معنی بے ذائقہ پھل ہوسکتا ہے جبکہ اس سے سایہ دار درخت مراد نہیں لیاجا سکتا۔ پہلی بار دنیا کے سامنے سیل العرم اور اثل کا درست ترجمہ اور تفسیر آئے گی ۔ انشاء اللہ

 

خلافت کی عظیم پیش گوئی قرآن میں وزیرستان اور گومل کے امن وامان کے بعد دہشتگردی کی لہرکا بڑاواضح تذکرہ

 

بیشک قوم سبا کے شہر میں نشانی ہے، دو باغ تھے دائیں بائیں جانب۔ کھاؤ اپنے رب کا رزق اور اسکا شکر ادا کرو، پاک شہر اور بخشنے والا ربّ۔توپہلوتہی برتنے لگے تو ہم نے ان پردہشت گردی کی لہر بھیجی اور ہم نے بدل دیا انکے دو باغ کو ، دوباغ بے ذائقہ پیلو اورکریرہ والے اور کچھ چند بیری کے درخت۔ یہ ہم نے ان کو بدلہ دیا ان کی ناشکری کا اور ہم ناشکروں کو برا بدلہ دیتے ہیں اور ہم نے انکے اور برکت والے گاؤں کے درمیان بہت گاؤں ظاہری آباد کردئیے تھے اور ہم نے ان میں کئی ٹھہرنے کی منزلیں مقرر کی تھیںکہ اس میں دن اوررات امن کیساتھ چلو،تو کہنے لگے اے ہمارا رب! ہماری اسفاردستاویز میں دوری کردو اور ظلم کیا اپنی جانوں پر، پس ہم نے انہیں کہانیاں بنادیا۔ اور ہم نے ان کوچیرپھاڑ کر تہس نہس کردیا۔
بیشک اس میں صبر شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں اور بیشک ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچ کر دکھایاتو سب اسکے تابع ہوگئے سوائے ایمان والے ایک گروہ کے۔ حالانکہ ان پر اس کا کوئی زور نہیں تھا مگر یہی کہ تاکہ ہم جان لیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس سے شک میں ہے؟اور تیرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے”۔ (سورہ سبا:15تا21)

٭

چچا کے گھر کے نیچے کھنڈرجگہ پر باغیچہ تھا اور دوسراباغ ہماری موجود ہ زمین پر تھا۔گھروں کی راہ میں دائیں بائیں کبھی یہی دو باغ تھے۔ان دونوں باغوں کا اجڑ نابھی بڑا تاریخی واقعہ تھا۔

یہ میرے پردادا سید حسن بابو نے نواسوں کو دئیے جو میرا ننھیال تھا اور انہوں نے1923میں جٹہ قلعہ علاقہ گومل خریدلیا تو اس میں دو پھیکے باغ تھے۔ جو ذائقہ دار نہ ہونے کی وجہ سے بعد میں ختم کردئیے گئے۔اور کچھ بیر کے درخت مزیدار تھے جو کافی عرصہ تک بڑی یادگار تھے۔
دل بند،مظفرشاہ، منور شاہ کا قتل ، حسین شاہ کا کان کٹنا، صنوبرشاہ کا قتل، حسین شاہ کا بیوی سمیت دوافراد کا قتل پھر محمود کا قتل7وزیرانقلابی افرادکے بدلے میں بڑی دہشتگردی کی لہرتھی۔

کانیگرم اولیاء کا پاک شہر تھا،1920سے پہلے روڈ نہیں تھا۔ ٹانک اور کانیگرم کے درمیان کئی رات پیدل چلنے کی منزلیں تھیں۔ جہاں خانہ بدوش سفر میں پڑاؤ ڈالتے تھے اسلئے کہ سامان، عورتوںاور بچوں کیساتھ پیدل سفر تھا۔ بعد میں پھر یہی گاؤں بس سٹاپ بھی بن گئے۔ وزیرستان امن وامان کا بہترین مرکز تھا۔ ٹانک اور کانیگرم تک کاسفرپر امن تھا۔پھر انہوں نے دستاویزکی تبدیلی سے دل بندشاہ کی نوکری پر قبضہ کیااور شجرہ نسب بدلا۔ ( اسفار سورۂ جمعہ آیت:5والا) انہوں نے خودپر ظلم کیا ،دواپنجہ کی تقسیم ، زمین پرجبری قبضہ کیا۔دہشتگردی میں ملوث ہوگئے اور اللہ نے ان کو کہانیاں بنا ڈالا اوران کے دل ودماغ پھاڑ کر تہس نہس کردیا۔

صبر شکر کرنے والوں کیلئے یہ عبرت ہیں ۔ جن بے گناہ لوگوں کو مظلوم بنایا تھا تو وہ ان کے اپنے کمزور عزیز ہی تھے۔ جب دہشتگردی کے مسئلے پر انتہائی منافقانہ کردار ادا کیا تو ابلیس نے اپنے گمان کے مطابق ان کو بالکل سچا پایا ہے اور یہ سب ابلیس ہی کے تابع ہوگئے۔البتہ ان میں ایمان والا اچھا گروہ بھی ہے جو ابلیس کی چالوں میں نہیں آیا۔اگر اتفاق ہو۔ افغان طالبان،TTPاور ہمارے ریاستی ادارے دہشتگردی کیلئے میٹنگ کرنے والوں کو بے نقاب کریں تو امت مسلمہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ ابلیس کیلئے استعمال ہونے پر مجبور نہ تھے۔ اللہ نے پرکھا کہ کس کا آخرت پر ایمان ، کون شک میں ہے۔ حضرت محمدۖ کے رب کی نگہبانی ماننی ہوگی۔
٭

 

خلافت کیلئے احادیث صحیحہ کا استدلال ہے لیکن قرآن میں اتنی بڑی خبر کا ذکر نہیں ؟۔اللہ نے فرمایا:
”اورکافر کہتے ہیں کہ ہم پر انقلابی لمحہ نہیں آئے گا۔ کہہ دو کہ کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم کہ تم پر ضرور آئے گاجو عالم الغیب ہے۔ اس سے غائب نہیں آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابرچیز۔ نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر کھلی کتاب میں موجود ہے۔ تاکہ ایمان اوردرست عمل والوں کو بدلہ دے۔ یہی لوگ ہیں جن کیلئے مغفرت اور عزت والی روزی ہے اور جو ہماری آیات کو عاجز بنانے کی کوشش کریںان کیلئے عذاب ہے مذموم دردناک اور جن لوگوں کو علم دیا، وہ دیکھتے ہیں جو تیری طرف تیرے رب سے نازل ہوا کہ وہ حق ہے۔اور وہ ہدایت دیتا ہے زورآور تعریف والے کی راہ کی طرف۔ اور کہتے ہیں جن لوگوں نے کفر کیا کہ کیا ہم اس شخص کی نشاندہی کردیں جو کہتا ہے کہ ہمارے تہس نہس کے بعد بھی ہماری نشاة ثانیہ ہوگی؟۔ یہ اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے یا اس پر جنات ہیں؟۔بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے تو عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں۔ (سورہ سبا:3تا8)

مکہ مکرمہ کے شرارتی لوگ نبیۖ کے خلاف سازش کرکے اس وقت کے دہشتگردوں کو بتاتے کہ ایسا شخص جو حجاز کے عربوں کا کہتا ہے کہ تمام ادیان پر اس کا غلبہ ہوگا۔ یہ انقلاب کبھی نہیں آئے گا اور حضرت عمر جیسے بہادروں کو نبیۖ کے خلاف خسرے سردار ابوجہل اور دوسرے سردار ورغلاتے تھے۔ امیرحمزہ نے ایک دفعہ ابوجہل سے کہا کہ اے چوتڑ پر خوشبو لگانے والا!تیری ہمت کیسے ہوئی کہ میرے بھتیجے محمد کو گالیاں دیں؟۔ شیخ القرآن مولانا طاہر پنج پیری نے آیت کا ترجمہ پشتو میں یوں کیا کہ ” ان کا سابقہ پڑتا ہے تو تمہیں گانڈ دکھاتے ہیں کہ ہماری یہ مارو۔ ہم کونہ مارو”۔شیخ اپنے مخالف دیوبندی علماء کو بھی مشرک اور گانڈو کہتے تھے۔

اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو اچھے اور بدکردار دنیا کے سامنے آئیںگے۔ مولانا شاداجان پنج پیری نے کانیگرم میں دیوبندی مسلک کے مطابق سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں مانگی تو مولوی محمد زمان نے قادیانیت کا فتویٰ لگادیا۔غلط فتویٰ لگانے پر پھر گالی پڑتی ہے اور کریکٹر لیس بھی سمجھا جاتا ہے۔

ایک طرف اسامہ بن لادن کوتلاش میں کانیگرم تک انگریزوفد لیکر جانا ۔ دوسری طرف دہشتگردوں کو میری نشاندہی کرنا کہ اسلام کی نشاة ثانیہ اور دنیا میں انقلاب کی خبر دینے والا یہ شخص ہے اور اس مشن میں خاتون کا کردارسوالیہ نشان ہے ۔امریکی بلیک واٹر کیلئے کام کرنے والا طبقہ ایک طرفTTPکے لوگوں سے گہرا تعلق رکھتے تھے تو دوسری طرف ان کا مذہبی بیک گراؤنڈ نہیں ہوتا تھا۔ فتنہ الدھیماء کا ذکر حدیث میں ہے۔ دھیما ء کا معنی چھوٹی کالک ہے۔ گرہن کو ”دھن” کہتے ہیں۔ سورج اور چاند گرہن کو دھن سیاہ کی وجہ سے کہتے ہیں۔ اللہ نے آگے فرمایا:

”اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کیلئے بشارت دینے والااور ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ کہو کہ تمہارے لئے مقررہ وقت ہے جس سے تم ایک لمحہ پیچھے ہوسکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔ اور کافر کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اس پر جو ہاتھ کامعاملہ ہے۔ اورجب آپ دیکھوگے کہ ظالم اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑے ہیں۔ بعض بعض کی بات کو رد کریں گے۔ جو کمزور ہوں گے وہ متکبر سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لاتے۔ تکبر والے کمزور وں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی؟۔ بلکہ تم خود ہی پہلے مجرم تھے اور کمزور کہیں گے تکبروالوں کو کہ بلکہ تمہارا رات دن کا فریب جاری تھا جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کیلئے کسی کو شریک (کسی سے مدد لینے کیلئے)ٹھہرائیںاور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو بہت پشیمان ہونگے ہم طوق کافروں کی گردنوں میں ڈالیں گے۔ وہ اپنے کئے کا بدلہ پائیں گے اور ہم نے کسی بھی گاؤں میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجے مگر ا س کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو تم لائے ہو ہم اسے نہیں مانتے۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد میں زیادہ ہیں اور ہم کوئی عذاب کھانے والے نہیں ہیں ۔(سبا:28تا35)

جو بے غیرت طبقہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتا ہے ان کو زیادہ ندامت ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز

فرمایا:پس آج بعض بعض کو نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ نقصان اور ہم کہیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا کہ آگ کے عذاب کا مزہ چکھو بسبب جو تم جھٹلاتے تھے۔ اور جب ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی تھیںتو کہتے تھے کہ یہ اور کچھ نہیں بس اس شخص کا ارادہ ہے تمہیں ان سے ہٹادے جن کو تمہارے آباء پوجتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ نہیں مگر جھوٹ ہے تراشا ہوا ۔اور کافروں نے کہا ہمیشہ جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ کھلا جادو ہے۔ اور ہم نے ان کو کچھ کتابیں نہیں دیں جن کا یہ درس دے رہے تھے اورجھٹلایا ان سے پہلے لوگوں نے اوریہ لوگ تو اس کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تو انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا۔پس میری پکڑ کیسی ہوگی؟۔ کہہ دیجیے کہ میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوںکہ تم اللہ کیلئے دو دو اور ایک ایک کھڑے ہوجاؤپھر غور کرو کہ تمہارے ساتھی کو جنون ہے؟۔وہ نہیں ہے مگر تمہارے لئے ڈرانے والااس سخت عذاب سے ڈرانے والاجو ہاتھوں میں ہے۔ کہہ دیجیے کہ اگر میں تم سے کچھ بدلہ مانگتا ہوں تو وہ تمہارے لئے ہے۔ میرا اجر اللہ پر ہے۔وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ کہہ دیجیے کہ میرا رب حق پھینک مارتا ہے جو غیب خوب جانتا ہے۔کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل جو ابتداء کرتا ہے اور جس انتہا ء کو لوٹتا ہے۔ کہہ دیجیے کہ اگر میں گمراہ ہوں تو اپنے لئے اور اگر ہدایت پاگیا ہوں تو جو میرے رب نے مجھ پر وحی کی ہے۔ وہ سننے والا قریب ہے اور اگر آپ دیکھ لیتے کہ جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں پس نہ ہوگی ان کی بچت اور دھر لئے جائیں قریبی جگہ سے اور کہیں کہ ہم ایمان لائے اس پر ۔لیکن ان کیلئے پل کے نیچے بہت پانی بہہ چکا دور جگہ تک ۔ جبکہ پہلے وہ انکار کرچکے اور دور کی جگہ سے غیب پھینکتے تھے۔ اور ان میں اور ان کی چاہت میں حائل کیا جائے گا۔ جیسا انکے جیسوں سے پہلے ہوتا رہا ہے۔ بیشک وہ شک میں شک سپلائی کرتے تھے۔(سبا:42سے آخر )

جیسے آئینہ میں ہر شخص کو اپنا چہرہ نظر آتا ہے اور نیٹ پر معلومات حالات کے مطابق ملتی ہیں اور دنیا بھر کے جدید آلات سے رگوں تک پہنچنا ممکن ہے اس سے کہیں زیادہ قرآن میں انسان کو روحانی ، جسمانی، تاریخی حقائق کی روشنی میں بھرپور طریقے سے آگاہی ملتی ہے۔ آج کل جرائم پیشہ عناصر کے ڈیٹا سے بہت کچھ برآمد ہوتا ہے۔قرآن کا یہ کمال ہے کہ منافقین کے دلوں تک پہنچتا ہے۔ اگر منافق کو خود پر بھروسہ ہوتا ہے تو اللہ ایسا ماحول بنادیتا ہے کہ منافق سمجھ جاتا ہے کہ فضول کا دلا ہے۔ اللہ منافقوں کو بے نقاب کردے اورہونگے۔ انشاء اللہ

ماموں نے کہا کہ اگر انقلاب آیا تو میری قبر پر پیشاب کرنا مگر دہشتگردی کی میٹنگ کہاں ہوئی؟۔ یوسف شاہ کا کردار کیا؟۔ عورت پر غیرت ؟ اور بہن کی بات آئی تو سائڈ لائن یا کرائم کے پیچھے لگا؟۔

 

وزیرستان اورقوم سبا کے امن وامان کی بنیاد کیاتھی؟، ظالم ظلم سے توبہ نہیں کرتا یا کرائے پر استعمال ہوتو ضمیر بھی مرتا ہے

 

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

 

وزیرستان صدیوں سے امن وامان کا گہوارہ تھا اور باوجود اسکے کہ وزیرستان میں حکومت،حکمران اور ریاست کا کوئی تصور نہیں تھا۔ پھر امن وامان کی ایسی مثالی صورتحال کیسے ممکن ہوسکی ہے؟۔

 

1:شخصی آزادی:

کا وہ تصور جس کی پوری دنیا میں کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔ مشہور شخصیت عارف خان محسود کتابوں کے مصنف اور زام پبلک سکول کے پرنسپل نے وزیرستان میں جلسہ عام کیا تھا جس میں اس نے اعلان کیا کہ ”جس خدا کے کان، ناک اور سر ، پیر وغیرہ نہیں یہ تو پھر ایک بوتل ہے”۔
لوگوں کے ہاتھ اپنے کانوں تک گئے لیکن کسی نے عارف خان محسود کے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالا اور جب تک اس نے خود اپنی مرضی سے توبہ نہیں کی تو اس پر ذرہ برابر کوئی دباؤ کسی نے نہیں ڈلا تھا۔

جب کانیگرم کے لوگوں نے مشاورت سے فیصلہ کیا تھا کہ جو رمضان کا روزہ نہیں رکھے گا تو اس پر جرمانہ ہوگا تو کچھ جوانوں کا روزہ تھا لیکن انہوں نے دن دیہاڑے روزہ نہیں رکھنے کا اعلان کرکے کھلی جگہ کھانا پکایا تھا۔

جہاد کشمیر سے1948میں کوئی مجاہد ایک ہندو چھوٹی بچی لایا تھا تو معروف قبائلی رہنما فرمان اللہ خان عرف خنڈائی شمن خیل نے حکم دیا کہ کہ سیدھا میرے پاس لاؤ۔ پھر اس نے دو افراد مقبوضہ کشمیر بھی بھیج دئیے تاکہ ورثا مل جائیں مگر ورثا نہیں ملے اور پھر ہندو بچی کو اختیار دیا کہ مسلمان ہونا چاہتی ہو یا ہندو بن کر رہنا چاہتی ہو۔یہ تمہاری مرضی ہے۔
بچی نے ہندو بن کر رہنا پسند کیا اور خندائی نے اس کو اپنی بیٹی بناکر پالا۔ جب جوان ہوگئی تو ایک ہندو سے مشتہ وزیرستان میں اس کی شادی کردادی اور پھر اس کا شوہر فوت ہوا تو دوسرے ہندو سے اس کی شادی ہوگئی۔ پھر کافی عرصہ بعد جب دوسرا ہندو شوہر بھی فوت ہوگیا تو فرمان اللہ خان کی ہندو بیٹی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔ پھر مسلمان سے اس کی شادی ہوگئی۔ طویل عمر پائی۔ تقریباً چار سال پہلے اس کا ڈیرہ اسماعیل خان میں انتقال ہوگیا اور وہیں پر تدفین عمل میں آئی۔ اس کا نام میرو تھا۔
وافی :خنڈائی شمن خیل : امین اللہ شمن خیل شیر عالم برکی کیساتھ یوٹیوب پر دیکھ لیں۔ خنڈائی اس وقت بھی ننگے سر نماز پڑھتاتھا۔ انگریز کے خلاف انہوں نے اس وقت دیسی توپ کا استعمال بھی کیا ہے جو ابھی وانا کیمپ میں نمائش کیلئے موجود ہے۔

 

قوم سبا میں بھی شخصی آزادی ہوگی اسلئے کہ شخصی آزادی کے بغیر امن وامان کا قیام انسانوں کی جگہ جانوروں کی طرح ہے۔ اقبال نے درست کہاکہ

افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

 

2:مشاورت کا عمل

:جب کوئی بھی اہم فیصلہ ہو تو اس پر پہلے مشاورت کا قرآن میں بھی ذکرہے۔
وزیرستان کے امن وامان میں سب سے بڑی بنیادمشاورت کا عمل تھا ۔ مکمل شخصی آزادی کے بغیر مشاورت کا تصور بھی بے کار بن جاتا ہے لیکن جب تک مشاورت نہ ہو تو قوم کے اجتماعی نظام کا تصور نہیں بنتا ہے۔ حضرت ابوبکر کی خلافت ہنگامی تھی۔ حضرت عمر نامزدگی سے خلیفہ بن گئے ۔ جبکہ حضرت عثمان کی مشاورت میں چندا افراد تھے اور انصار بھی شامل نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ23سال نبیۖ کی محنت سے دنیا کی تاریخ کی سب سے بہترین اور مقدس جماعت صحابہ کے25سالہ دور خلافت میں حضرت عثمان مسند خلافت پر شہید کردئیے گئے اور پھر حضرت علی کے دور میں عشرہ مبشرہ کے صحابہ نے بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔
وزیرستان صدیوں امن وامان کا مرکز تھا ،جب کوئی وزیرستان کی حدود میں داخل ہوجاتا تھا تو وہ اپنی جان، مال اور عزت کا تحفظ پالیتا تھا۔ صحابہ نے اسلام کیلئے قربانی دی تھی۔ حضرت سعد بن عبادہ انصارکے سردار خلافت کے مسئلہ پر ناراض ہوئے اور شام دمشق کے قریب ایک گاؤں میں زندگی کے بقیہ لمحات گزارنے گئے لیکن وہاں بھی جنات نے شہید کردیا تھا۔ جو انسانی جنات بھی ہوسکتے ہیں۔

قوم سبا کے پاس13پیغمبر آئے اور آخر میں وہ دہشت گردی کا شکار ہوئے تو عذاب سے ہجرت کرنی پڑگئی۔ قوم یونس نے کفر کے باوجود جب یہ مانگا کہ آپس میں لڑائی کا عذاب ہم پر نہیں آئے تو اللہ نے ان کفار اور نافرمان قوم سے عذاب کا فیصلہ بھی ٹال دیا اور عذاب کی خبر پر حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں دعا مانگنی پڑگئی کہ لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ۔ ”کوئی الٰہ نہیں مگر تو پاکی تیری بیشک میں ظالموں میں تھا”۔ امت مسلمہ کو صرف آپس کے لڑنے کا عذاب ہوگا۔

 

3:ظلم کیخلاف متفقہ اقدامات کا کرشماتی تصور

وہ زبردست بنیاد ہے جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال بہت مشکل سے مل سکتی ہے۔ ایک عربوں نے اس وقت حلف الفضول کا معاہدہ کیا تھا جس میں ظلم حد سے بڑھ گیا تھا اور قوم سبا کی بھی یہ صورت ہوگی۔

وزیرستان میں ظلم کے خلاف قوم کا اجتماعی قدم وہ بنیاد تھا جس نے امن وامان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ایک عورت رونقہ کو کسی نے برائی کی دعوت دیتے ہوئے جبر کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ میں خود آتی ہوں۔ وہ بندوق لے کر آئی اور اس کو قتل کیا۔ عورت کا خاندان کمزور تھا ، مقتول کے خاندان نے اسکا محاصرہ کیا تو قوم نے نہ صرف اس خاتون کا دفاع کیا بلکہ اس کیلئے ایک اعزازی قلعہ بھی تعمیر کردیا۔ پھرکون ظلم کی جرأت کرسکتا ہے۔
بیرون ملک سے کوئی شخص آیا تو کسی نے اس کو خاندان سمیت قتل کردیا۔ پڑوسیوں کو تفتیش سے پتہ چل گیا کہ مجرم کون ہے؟۔ میدان میں سب کو اکٹھا کیا اور ایک بوڑھے کو رونے کیلئے چھوڑ کر باقی سب کو قتل کیا اور ان کی لاشیں پل کے نیچے لٹکادیں اور کئی دنوں کے بعد بغیر جنازہ کے دفن کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وزیرستان میں پہلے تو کوئی ظلم کرتا نہیں تھا اور جس نے غلطی سے ظلم کیا تو اس نے بھگتا ۔

یہ تو پچھلے25،30سال قبل کے واقعات ہیں لیکن وزیرستان کے اقدار کبھی اس طرح کی حرکت کی اجازت نہیں دیتے۔آزادمنش قوم کی تباہی اس وقت شروع ہوگئی کہ جب مشیران نے عوام کے فیصلوں میں تاخیر، زیادتی اور ظلم کے عنصر کو شامل کردیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ چوری اور ڈکیتی سے ہوتے ہوئے معاملہ دہشت گردی تک اس وقت پہنچ گیا کہ جب طالبان کا دور دور تک بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ پہلے راستے میں بم رکھے گئے اور پھر قومی مشیران کے گھروں کے دروازے بھی بموں سے اڑائے گئے تھے۔ انگریزی ملکان نے ماحول کو خراب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

 

4:علاقہ اور قوم کے لوگ اپنے اپنے علاقے پر کسی بھی قسم کے جرم کی اجازت نہیں دیتے تھے

اور جب کوئی جرم کرتا تو علاقہ کے لوگوں کیلئے وہ جواب دہ ہوتا تھا۔ مثلاً برکی قوم بہت تھوڑے لوگ ہیں اور وزیرستان میں ان کا علاقہ بھی زیادہ نہیں ہے لیکن وہ کسی کو اپنے علاقہ میں دشمن مارنے کی کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اسی طرح ہرعلاقہ کے لوگ اپنی اپنی حدود میں جرم کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اگر کسی نے اپنے دشمن کو قتل کرنا ہوتا تو وہ اپنے علاقہ ہی میں قتل کرسکتا تھا۔ اگر کسی اور کے علاقہ میں اپنا دشمن قتل کیا تو جس سے دشمنی کا حساب تھا تو اس کے علاوہ جس علاقہ میں قتل کیا تو اہل علاقہ بھی اس کو پھر اپنا مجرم سمجھتے تھے اور اس کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا۔

 

5:کسی مجرم کی سہولت کاری بھی جرم تھا۔

ایک مجرم کو رہائش، ہتھیاراور کسی طرح کی مدد کرنے پر سہولت کار بھی جرم میں برابر کا شریک تصور ہوتا تھا اور اس کو مکمل طور پر اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا تھا۔

 

اگر کسی کے ہاں کسی کے دشمن نے سہولت کاری حاصل کرلی تو دشمن پھر کوئی مجرمانہ واردات کرنے کی جسارت اسلئے نہیں کرتا تھا کہ اس کو تین طرح کا سامنا ہوتا تھا۔ سہولت کار بھی اس کے خلاف خود بھی مدعی بن جاتا تھا کہ اگرجرم کرنا تھا تومیرا سہارا کیوں لیا۔ ان چیزوں کا دشمن اور دوست سب خیال رکھتے تھے۔ جس طرح اپنی پچھاڑی چھپانے کیلئے کسی سے مدد لینے یا معاوضہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تو اس طرح قبائلی رسم واقدار بھی غیرت کا مسئلہ تھا۔

 

6:فیصلہ کرنے کیلئے مکمل آزادی ہوتی تھی

کہ جو فریقین شریعت یا علاقائی رسم پر کسی کو اختیار دیں۔ جب ایک مرتبہ فیصلے کا اختیار دے دیا جاتا تھا تو پھر اس کو نہیں ماننے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اور اس پر فائدے اور نقصان کو نہیں اپنی غیرت، عزت اور وقار کو دیکھا جاتا تھا۔ بسا اوقات جگہ کم قیمت کی ہوتی تھی لیکن اس سے کئی گناہ زیادہ نقصان فریق کو صلح کے مراحل اور معزز مہمانوں کی دعوت میں خرچ کرنے پڑتے تھے۔ بکری اور دنبی نہیں بلکہ بکرے اور نبے کھائے جاتے تھے۔ جس کا گوشت اچھا ہوتا تھا اور مہنگا پڑتا تھا۔ وزیرستان کے لوگوں کاDNAاقدار کے تحفظ کیلئے اصیل مرغوں کی طرح ہوتاتھا۔

 

کٹ مر سکتے تھے لیکن اپنی روایت سے وہ نہیں ہٹ سکتے تھے۔ پھر ہم نے بچپن میں اپنے ماموں کے ہاتھوں مولوی کو فیصلہ بدلنے کیلئے رشوت دیتے دیکھ لی۔ وانا سے معزز مہمانوں کیلئے بکروں کی جگہ بکریاں لائی گئیں تو میرے والد کو ان پر بہت غصہ آیا تھا۔ اصل میں وزیرستان کے اندر ان کی دوسری پشت تھی ۔ پہلے ٹانک میں رہتے تھے اور خانہ بدوش بن کر محسود ایریا میں گرمیاں گزارتے تھے۔

 

7:مکان کی تعمیر میں دشمن کو مزدور سے روکنا۔

وزیرستان کی خمیر میں یہ بڑا زبردست رسم ورواج تھا کہ جب کسی تعمیر کی اجازت نہیں دیتے تھے تو پھر وہ مزدور کو بیچ سے ہٹا دیتا تھا۔ کیونکہ قتل کا مسئلہ آتا تھا اور قتل کیلئے مزدور کو استعمال کرنا بھی بے غیرتی تھی اور اس کو مارنا بھی بے غیرتی تھی۔ اسلئے یہ اقدار کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر تو اس سے بڑی مشکلات کا تصور ہوگا کہ مزدور پر بھی پابندی لگائی جائے لیکن جب مالک خود کام کرے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے؟۔ نہیں پھر ہر صورت میں اس کو قتل ہی کرنا پڑتا ہے اور اگر مزدورکو روک لیا اور مالک کو کام کرتے وقت قتل نہیں کیا تو نسلوں تک بھی کلنگ کا بہت بڑا ٹیکہ ہے۔ ایسی غلطی کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ البتہ یہ ہمارے ماموں غیاث الدین نے توڑ دیا تھا۔ علامہ اقبال نے جو کہاہے کہ

اے میرے کہستاں تجھے چھوڑ کر جاؤں کہاں؟
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب وجد کی خاک

 

اس کے پیچھے فطریDNAکا بہت بڑا فلسفہ ہے۔ ہمارے جن چچیرے کزنوں نے سامنے کی طرف سے وہ لپائی کی تھی جس سے مزدور پر کام بند کیا تھا تو وہ ان میں ایکMBBSڈاکٹر تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ کوئی رد عمل نہیں آرہاہے تو پھر آواز لگاکر کہا کہ ”تربور ( چچیرے) کیسی لپائی کی ہے؟”۔ پشتو میں والد کی طرف سے کزن کا الگ اسٹیٹس ہے اور والدہ کی طرف سے الگ ہے۔ عربی میں بھی چچیرے کے الفاظ ہیں۔ انگلش میڈیم نے کزن دونوں کی طرف سے استعمال کرکے فرق کو مٹادیا ہے۔ حالانکہ وزیرستان اور پشتون کلچر کا اہم حصہ ہے۔ جیسے علماء ومشائخ میں معاصرت کا لفظ مخصوص معنوں میں دشمنی اور عصبیت کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔اسی طرح تربور کے لفظ کی بھی خاص چاشنی ہے۔ دوسرے ماموں سعدالدین نے کہا کہ یہ لوگ ڈرپوک ہیں تو میں نے کہا کہ کانیگرم پر اتنی بڑی تہمت مت باندھو۔ اگر واقعی میں وہ بزدل ہوتا بھی تو وزیرستان کی مٹی کے روایات میں یہ گولی مارنے کے برابر ہے لیکن جب حقائق اس کے منافی ہوں تو پھر کسی کی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 

8:وزیرستان کے محسود اور وزیر کے قانون میں یہ فرق ہے کہ محسود میں کمزور وقتی طور پر فیصلہ کرلیتا ہے اور جب اس کو موقع ملتا ہے تو اپنا بدلہ لیتا ہے اور دیت واپس کردیتا ہے لیکن وزیر پہلے فیصلہ نہیں کرتا لیکن جب ایک دفعہ فیصلہ کرلیا تو پھر بدلہ نہیں لیتا ہے۔ جیسے شریعت اور پشتو قانون الگ الگ ہیں ایسے قوموں کے رسم ورواج میں بھی فرق ہے۔

 

9:کسی پر عورت سے تعلق کا الزام لگاکر قتل کیا جائے تو مقتول کا بدلہ وارث نہیں لیتے

لیکن یہ اتنی عار کی بات ہے کہ نسلوں تک بھی عورت کے الزام پر قتل عورت والوں ہی کو بھاری پڑتا ہے۔ اگر خمیر میں مٹی کا ضمیر نہیں ہو تو پھر الزام لگاکر قتل میں بے غیرت کو فرق نہیں پڑتا ہے لیکن ایسا کرنیوالا صرف اور صرف ایمان نہیں بلکہ غیرت ، ضمیر، انسانیت ، پشتو اور ہر طرح کی اخلاقیات سے نکل جاتا ہے۔

 

10:کسی بندے کو مارنے کا بدلہ خاندان کے کسی بھی ایسے شخص سے لیا جاسکتا ہے جس کو مقتول کے وارث اپنی پسند سے منتخب کرلیں۔
یہی وجہ ہے کہ قتل میں پہل کرنے سے لوگ بہت پرہیز کرتے ہیں کہ کوئی ریڑھ کی ہڈی جیسا شخص بدلے کرکے تشریف کے بل بٹھادے گا۔
واضح رہے کہ چند مثالیں عرض کردی ہیں ورنہ تو بہت بڑا موضوع ہے اور وزیرستان کی کہانی جاپان کی کہانی سے زیادہ مزیدار ہے۔ بہت سخت دشمنی کی حالت میں بھی عورت کو قتل نہیں کیا جاتا۔ تعزیت کا سلسلہ چل رہا ہو تو دشمن ایک دوسرے کو قتل کرنا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ رات کی تاریکی میںسوتے وقت حملہ بے غیرتی اور کسی کو قتل کرنے کیلئے معقول وجوہات نہ ہوں تو اسکا قتل کرنا بہت بڑا عار ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ قاتل کی ماں ،بہن، بیٹی اور بیوی پر چڑھا ہوگا۔اسلئے کوئی اس قسم کی غلطی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور لالچ کی بنیاد پر قتل تو انگریز نے ہی شروع کرایا جس کی سزا آج قوم بھگت رہی ہے

 

یہی اقدار ہی امن کی ضمانت تھے۔قوم سبا میں امن وامن کیلئے اس قسم کی صفات ہوں گی۔

 

1991میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں ایک محسود کو اپنے والد نے اسلئے بند کرایاتھا کہ اس نے کہا تھا کہ2ہزار روپے میںکسی کیلئے قتل کروں گا۔ اسی سالBBCکا نمائندہ سیلاب محسود میڈیا سے خبر شیئر کرنے جیل میں آیا تھا۔ امان اللہ کنڈی کیلئے جب وزیرستان کے گاؤں پر فوج نے ٹینک توپوں سے چڑھائی کی دھمکی دی تو عوام ڈھول کی تھاپ پر ناچ کر کہہ رہی تھی کہ ہمیں مارو۔ کنڈی حوالہ نہ ہوگا اور پھر مذاکرات میں حکومت سے کہا گیا کہ ہمارے اجداد نے تمہارے اجداد انگریز سے معاہدہ کیا تھا تو اسمیںکسی بھی پناہ گزیں کو حوالہ نہ کرنا شامل تھا۔ پھر یہ خبر چھپی کہ کنڈی کو جیل میںوہ مراعات حاصل ہونگی جو فرار سے پہلے حاصل تھیں۔امریکہ کے حوالہ نہیں کیا جائے گااور اس کیلئے بطور ضمانت ایک اس درجہ کا امریکی شہرت یافتہ شخص ہم مہمان رکھیں گے۔ پھر یہ خبر اخبارات کی سرخی بن گئی کہ رشدی کو ہمارے حوالہ کرو ،کنڈی تم لے لو، رشدی سے زیادہ بڑا مجرم کنڈی نہیں۔تو اس حوالہ سے خبروں پر مکمل پابندی لگی۔ اس وقت میں جیل میں ہی قیدی تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لاس اینجلس امریکہ کی آگ سے معاشرے کے چھوٹے یونٹ تک دنیا میں بہت بڑی تبدیلی کی سخت ضرورت ہے؟۔

لاس اینجلس امریکہ کی آگ سے معاشرے کے چھوٹے یونٹ تک دنیا میں بہت بڑی تبدیلی کی سخت ضرورت ہے؟۔

جب انسانی معاشرے میں بغض ، تکبر، حسد اور لالچ پھیل جائے تو زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ پوری دنیا میں ہر جگہ شیطانی بیماریاں پھیل گئی ہیں۔ کشمیر میں زلزلہ آیا تو امریکہ نے بہت مدد کی تھی ۔ آج لاس اینجلس کی مصیبت پر خوشیاں منانا زوال کی علامت ہے۔ اگر عذاب ہو تو چند درجن افراد کی موت سے بڑا عذاب مسلمانوں پر آیا ہے۔ لاس اینجلس امریکہ کی جنت تھی اور جیسے حضرت آدم وحواء جنت سے نکالے گئے ،ویسے یہ بھی آزمائش کا شکار ہوگئے۔ جمعیت علماء اسلام کے معروف عالم دین قاضی فضل اللہ کی رہائشگاہ لاس اینجلس میں ہے۔ امریکہ کے اچھے لوگوں کا درجہ بلند ہوگا اور گناہگاروں کے گناہ معاف ہوں گے اور نافرمانوں کو اللہ نے اپنی طرف متوجہ کرکے اظہار محبت کیا ۔ امریکہ میں یہود اور نصاریٰ کی خواتین اور مردوں نے جتنے بڑے بڑے جلوس غزہ کیلئے نکالے اور جس طرح عورتیں بلک بلک کر روئی ہیں تو اس کا غزہ کے نام پر چندہ کھانے اور اپنی سیاست چمکانے والے سوچ بھی نہیں سکتے۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ کے دماغ میں یہ بات بھی آئے کہ وہ مسلمان جو ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور انسانیت سے نفرت کرتے ہیں تو ان کے حق میں آواز اٹھانے پر اللہ نے ہمیں سزا دے دی ہے۔ البتہ امریکہ کے جس مقتدرہ میں تکبر ہے، مفاد پرستی ہے اوردوسروں پر ظلم کا احساس نہیں رکھتے تو ان کو سبق دینے کیلئے اللہ نے کام دکھادیا:
” پس قوم عاد نے زمین میں بغیر حق کے تکبر کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے طاقت کے اعتبار سے سخت کون ہے؟۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے ان کو بنایا ہے اور وہ ان سے زیادہ سخت ہے؟۔وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی سراہٹ والی ان نحس دنوں میں، ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں۔اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوائی والا ہے اور ان کی مدد نہیں ہوگی۔(حم سجدہ:15،16)
معروف سامعہ خان نے چند دن پہلے کہا تھا کہ نحس کے دن پاکستان نہیں امریکہ کیلئے ہیں وہاں تباہی آسکتی ہے۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایام نحس میں امریکہ کو قوم عاد کی طرح اللہ نے اپنی گرفت میں لیا۔ اس تنبیہ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوسال پہلے جاپان میں آگ کے بگولوں نے تباہی مچائی لیکن اس کا قرآن نے بہت پہلے سے بطور تنبیہ ذکر کیا ہے۔
امریکہ اور جن لوگوں نے بھی تکبر کیا تو ان پر اتمام حجت کے بغیر اللہ کا عذاب نہیں آسکتا۔ قوم عاد امریکہ کی طرح بڑی مضبوط قوم تھی اور معاشرے میں نچلی سطح پر لو کیٹہ گری کے لوگ مضبوط نہیں ہوتے لیکن بے شرم اور ڈھیٹ بہت ہوتے ہیں۔
فاستفتھم اھم اشد خلقاً ام من خلقناانا خلقناھم من طین لازب (سورہ الصافات:11)
”پس ان سے پوچھئے کہ ان کی تخلیق زیادہ سخت ہے یا جو ہم نے بنایا؟۔بیشک ہم نے ان کو بنایا چکنی مٹی ہے”۔ یہ چپکو مخلوق بہت چکنے گھڑے ہیںجن کو اپنے سے دور کرنابڑا مشکل ہے۔
لایکلف نفسًا الا وسعھا لھا ما کسبت وعلیھا من اکستبت ”کوئی جان ذمہ دار نہیں مگر اپنی وسعت کے مطابق ،جو اس نے اچھاکمایا وہ بھی اس کیلئے اور جو اس نے برا کمایا وہ بھی اس پر پڑے گا”۔(البقرہ)
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ” اسکے بیٹے حسان نیازی کو غلط سزا دی گئی ۔ اس پر تشدد ہوا مگر برداشت سے زیادہ اللہ تکلیف نہیں دیتا”۔یہ غلط ترجمہ و تفسیر ہے ۔ اللہ نے طاقت سے زیادہ تکلیف کی بات نہیں کی بلکہ ”ہم پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا جیسے ہم سے پہلوں پر ڈالا”۔(البقرہ آخری آیت)
امریکہ نے روس کیخلاف مسلمانوں کو استعمال کیا توبہت برا کیا لیکن مسلمان خود بھی ایکدوسرے کیخلاف استعمال ہوگئے۔ لاکھوں افغانیوں نے اپنے افغانیوں کو ماراہے اور پاکستانیوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے۔ یہ کس کے کھاتہ میں جائیں گے؟۔ اگر ہم ایک ماحول کا فائدہ اٹھاکر کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان مرد اور عورت نے اگر بدکاری کی یا قتل کئے ہیں لیکن وہ ایک ماحول کی وجہ سے تھا اور اللہ نہ صرف تو بہ کرنے پر ان کو معاف کرسکتا ہے بلکہ گناہوں کے بدلہ میں نیکیاں بھی دے سکتا ہے۔ فرمایا:
”اور رحمن کے بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل مخاطب ہو تو سلام کہتے ہیں۔جو اپنے رب کیلئے رات سجدہ میںاور کھڑے ہوکر گزارتے ہیں۔اور جو کہتے ہیں کہ اے اللہ ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے بیشک اس کا عذاب بہت تباہ کن ہے۔بیشک وہ بری قیام گاہ اور برا ٹھکانہ ہے اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔جو اللہ کیساتھ کسی اور کو دوسراالٰہ نہیں پکارتے۔اور نہ قتل کرتے ہیں مگر حق کیساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔ جس نے ایسا کیا تو بڑے گناہ کو پہنچ گیا ،اس کیلئے قیامت کے دن عذاب کو بڑھایا جائے گا۔ اور ہمیشہ ذلت میں رہے گا۔مگر جس نے توبہ کی اورعمل کیا درست تو ان لوگوں کیلئے اللہ بدل دے گا برائیوں کو نیکیوں سے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اور جس نے توبہ کی اور عمل کیا درست تو بیشک اس نے اللہ کی طرف خوب توبہ کی اور جو لوگ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو سے سامنا ہو تو عزت سے گزر جاتے ہیں۔اور جب کبھی اپنے رب کی آیت سے ان کو یاد کرایا جاتا ہے تو اس پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرپڑتے۔ (فرقان:67تا73)
امریکہ پر یہ مصیبت امریکہ کی عوام اور حکمرانوں کیلئے اللہ کی محبت کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ اگر اس کا انہوں نے مثبت فائدہ اٹھایا۔ فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ کھڑے ہوگئے تو عذاب نہیں یہ رحمت کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ ہمارے لئے یہ بہت باعث شرم ہے کہ اپنے آگ میں جلیں تو شہید اور دوسرے جلیں تو عذاب کا تصور کریں۔ اللہ امریکہ کو بھی ہدایت دے جس نے مسلمانوں اور پوری دنیا میں اپنی طاقت کا بہت غلط استعمال کیا ہے۔
جب کسی کے زوال کا وقت قریب ہو اور بڑی مصیبت بھی آن پڑے تو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت انداز میں متوجہ کیا:
” کیاتمہیں پسند ہے کہ کسی کا باغ ہوکھجور اور انگور کا جسکے نیچے نہریں بہتی ہوں اس کے اندر ہرقسم کے پھل ہوںاور وہ بڑھاپے کو پہنچے اور اس کے کمزور بچے ہوں ۔پس اس کو پہنچے بگولہ جس میں آگ ہو ،تو اس کو جلا ڈالے۔اسی طرح اللہ بیان کرتا ہے اپنی آیات کو ہوسکتاہے کہ تم سوچو”۔(البقرہ:266)
امریکہ بڑھاپے کو پہنچ چکا ہے اور لاس اینجلس اسکے کمزور بچوں کا باغ تھا جس کو بگولوں نے جلاڈالا ،جن میں آگ تھی اور اسکا گھمنڈ بھی اللہ نے توڑنا تھا۔ یہ انسانیت کیلئے عبرت ہے۔ لیکن اگر اس میں لوگوں نے اچھائی کا رُخ کیا تو یہ مصیبت بھی اچھائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ قرآن میں بالکل واضح ہے۔
میرے ماموں سعدالدین کا حال بھی امریکہ کی طرح ہے جس کے کمزور بچوں پربڑی اُفتاد پڑ گئی ہے۔ کبھی اپنے عزیز پیر یونس شاہ پر اپنی ناجائز بدمعاشی جماتا تھا اور کبھی پیر سجاد سے کہتا تھا کہ میں پیسہ دیتا ہوں ،اپنے چچا یوسف شاہ پر عدالت میں مقدمہ چلاؤ۔ پیر سجاد نے کہا کہ یہ تو بڑا ذلیل ہے تو ماموں نے کہا کہ سجادتو بڑا ذلیل ہے آدمی کا پول بھی کھولتا ہے۔اگر اس کو منہاج اچھے مشورے دیتا تو ممکن ہے کہ یہاں تک نہ پہنچتا ۔
جب پہلی مرتبہ مکین جنوبی وزیرستان میں چوروں ، ڈکیتوں اور اغواء برائے تاوان کرنے والوں کیلئے جلسہ ہوا تھا تو میں بھی پہنچ گیا اور اپنے ساتھ چھوٹا پسٹل بھی لیا تھا اسلئے کہ خطرات کا سامنا ہوسکتا تھا۔ رات کو تمام لوگوں کو روک لیا گیا اور گھروں میں مہمانی کیلئے بھیج دیا گیا۔ حاجی قریب خان، منہاج اور ہم چندافراد کو شہر کے قریبی گھر میں بھیج دیا۔ منہاج کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا تو میں نے عزت رکھنے کیلئے اپنا پسٹل دے دیاتھا۔
بعد میں کانیگرم میں پسٹل کا کہا تو منہاج نے کہا کہ ”میں تمہیں اس بوجھ سے آزاد کردیتا ہوں”۔ مجھے بڑا غصہ آیا کہ یہ اور ناراضگی سے کہہ دیا کہ ”میرے لئے بوجھ نہیں اپنی حفاظت کیلئے رکھا ہے”۔ کچہری اور عادت کے بگڑے لوگ معیار اور ضمیر کو نہیں سمجھتے۔ ماموں سعدالدین نے کہا کہ تیرے والد کا موڈ دیکھا تو دوبارہ نہیں گیا لیکن اس کو نہیں پتہ کہ اسکے بھائی غیاث الدین کو صبح شام ڈانٹ پڑتی تھی کہ پھر کیا چاہیے ؟۔
حاجی تامین کی زمین ہماری تھی والد نے اپنے دوست حاجی نعمت کو دینی تھی تو غیاث الدین نے علاؤالدین کوپیچھے لگادیا کہ یہ ہمیں دیدے۔ان کوکہا کہ اگر بیچنے کیلئے لیتے ہو تو نہیں دیتا تو انہوں نے کہا کہ رکھنے کیلئے لے رہے ہیں۔ حاجی نعمت بھی لے کر بیچ سکتا تھا مگر اس میں ضمیر تھا۔ اسلئے لالچ نہیں کی۔ میرے بھائی ممتاز نے گھر کا زیور بیچ کر کہا کہ میں لیتا ہوں لیکن والد نے کہا کہ عزیزوں کو خفا نہیں کرتا ۔ ممتاز نے علاء الدین سے بھی کہاتھا لیکن اس نے کہا کہ نفع کی چیز ہے اور اس کو ہر ایک سمجھتا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ضمیر ، انسانیت اور غیرت کی بات ہے۔ لالچ کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
پھر وہ زمین بیچ دی اور جس زمین پر ہم نے شفہ کا دعویٰ کیا تھا وہ بھی علاء الدین نے لے لی۔ حالانکہ وہاں ان کی قریب میں کوئی زمین بھی نہیں تھی۔ جب حاجی تامین کی اتنی بڑی زمین دی اور انہوں نے منافع پر بیچی تو بھی والد خفا نہیں ہوئے تھے۔ اسلئے کوٹ اعظم روڈ پر برکی قبائل کے افراد کو اس طرح بہت زمینیں دی تھیں یہ لوگ تو پھر بالکل اپنے قریبی تھے۔ میں ایک ذہنیت کا گراف بتارہاہوں۔ داؤد شاہ نے پڑوسی سے زمین خرید لی توسعدالدین نے کہا کہ تمہارا مغز اڑادوں گا۔ جس پر اس نے کہا کہ اس پر مغز اڑانا ہو تو بالکل اڑادو۔ پھر اس کے بھائیوں نے کہا کہ ہم متبادل زمین دیںگے اور وہ بہن کے نام پر حوالہ کردی۔ حالانکہ اس طرح زمین دینا اور لینا دونوں غلط ہے۔ داؤد شاہ اتنا اچھا انسان ہے کہ اگر میں اس کو کہتا ہے کہ یہ زمین مجھے دیدو تو خوشی سے دیتا اور اگر سعدالدین کہتا تو خوشی سے دیتا لیکن بدمعاشی کس کو اچھی لگتی ہے؟۔ میں نے داؤد شاہ سے کہا کہ پیرفاروق شاہ، یونس شاہ اور نوازشاہ ان سے بہت اچھے تھے ۔ آپ یتیم بھی تھے، کزن بھی تھے اور بہنوئی بھی لیکن کبھی سعدالدین نے پانچ روپے دئیے ہیں؟۔ حالانکہ بالکل پڑوس میں آمنے سامنے گھر تھا۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ پیر فاروق شاہ نے زبردستی سے بچپن میں سو کا نوٹ جیب میں ڈالا تھا ۔
سعد الدین نے جھوٹ بولا کہ اس نے نثار کی شادی کے موقع پر80ہزار دئیے اور اس کی بھابھی کو بھائی نے اور بہن کو بہنوئی نے طلاق دی تو ان کو میراثی کی اولاد قرار دیا۔ اگر کوئی لوہار اور کوئی میراثی ہو تو اسکے اپنے بچے نہیں بچتے۔ مجھے فخر ہوگا کہ میری والدہ حضرت داؤد کی نسل سے ہوجوزرعے بناتا تھا۔ میں علوی ہوں مگر حضرت فاطمہ کی وجہ سے سید تو جن کی نسل میں سید خواتین ہیں تو ان کو بھی سید ہونے کا حق ہے جبکہ عنایت اللہ گنڈہ پور نے کہا تھا کہ ”کلاچی کا ہررہاشی گنڈہ پورہے”۔
جب فاروق شاہ لوگوں نے اپنی زمین بیچنا چاہی تو انہوں نے پابندی لگادی کہ کسی اور کو نہیں بیچ سکتے۔ حالانکہ ان کی اپنی زمین تھی۔ میرے پردادا نے کانیگرم میں گھر اور زمینیں دیں۔ پہلے اپنی کنسٹریکشن کو گراکر سامان لے گئے اور پھر گھر بھی بیچا۔ ساری تاریخ معلوم ہے ۔ خالہ2000ء میں فوت ہوئی۔ جس کی شادی بھی کانیگرم ہجرت سے پہلے یا اسی وقت ہوئی تھی۔ جو سوتیلے بھائیوں اور ان کی اولاد کو اچھوت کی طرح سمجھتی تھی۔
داؤدشاہ نے کہا کہ انکل نثار نے اچھا نہیں کیا کہ کانیگرم کا گھر بیچ دیا۔ میں نے کہا کہ یہ بات مت کرو ،ورنہ سنائے گا۔ تمہارے والوں نے پہلے یہ کام کیا تھا۔ اس نے کہا کہ اچھا ہوا کہ بتادیا۔ پھر منہاج نے اس کی تشہیر شروع کردی کہ سبحان شاہ کا گھر بیچ دیا۔ تمام معلومات کے باوجود کبھی ہم نے مہم جوئی نہ کی اور کوئی دوسرا بھی نہیں کرتا تھا مگرمنہاج نے ہمارے اجداد کو گالیوں سے لیکر فساد کرانے تک کسی چیز پر بریک نہیں لگائی۔ حاجی سریر شاہ نے کہا کہ دسترخوان کے قریب کتے کے بال ہیں تو منہاج نے کہا کہ کیا پتہ کہ کسی کی داڑھی یا کتے کا بال ہے؟۔ منہاج کا باپ بھی دوسرے کو دباتا تھا اور کوئی نہیں دبتا تھا تو خود دب جاتا تھا۔مگر پھر کچھ خوبیاں بھی تھیں اور میرے نانا میں اس سے زیادہ خوبیاں تھیں۔ اب تو بالکل آسمانی بجلی گری ہے۔
میں نے سیاسی پناہ اسلئے نہیں لی کہ ریاست اور طالبان کے گٹھ جوڑ یا نرم گوشہ میں اس خطے کا مفاد نظر آتا تھا۔ احمدیار اور ضیاء الدین کا بیٹا بے شرمی سے اس واقعہ پر سیاسی پناہ کی کوشش میں تھے۔ محنت مزدوری سے انسان کا وقار بلند ہوتا ہے لیکن جو انگریز کے تھالی چٹ اور ہڈ حرام ہوں ان کو سمجھانا مشکل ہے۔
ماموں چار گھروں کا بڑا تھا وہ بھی ایک اپنا، دوچچااور ایک چچازاد۔ اس طرح 2+2=4 اور لگتا ہے کہ جیسے برطانیہ کے ملکہ کی اولاد ہوں ۔ عابد شاہ نے اپنی تحریر میں اسی وجہ سے غلط ذہنیت کا اظہار کیا تھا۔ کتے میں اچھی خصلتیں بھی ہوتی ہیں مگر پھر بھی انسان کو قرآن نے مذمت کی وجہ سے کتا قرار دیا ہے۔ ایک تو مالک بدلنے کیساتھ اپنی ہمدردیاں بدل دیتاہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اونچی جگہ پر پیشاب کرتا ہے اور اپنی ٹانگ اوراپنی دُم بھی اٹھالیتا ہے۔ کتے کی ماں ایک اور باپ زیادہ ہوتے ہیں اور انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہوتا ہے لیکن ماں اور باپ کی رگوں اور نسلوں میں انسان کس پر گیا ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ بہت سارے اونٹ نسل در نسل کسی ایک رنگ کے ہوتے ہیں اور پھر کوئی بچہ الگ رنگ بھی نکلتا ہے جو اپنے پہلے کے کسی رگ پر جاتا ہے۔ میں واقعہ سے پہلے منہاج کو بول چکا تھا کہ میرے دشمن کو جو پالتا ہے تو میں اپنے بچوں سے کہہ چکا ہوں کہ نقاب پوش کے پیچھے مت پڑو۔ پھر واقعہ کا زیادہ نقصان ہوا تھا اور منہاج کا بھائی بھی اس میں شہید ہوا تھا اسلئے انتظار کیا کہ اپنا حساب بعد میں دیکھ لیں گے ۔
اگر منہاج کیساتھ واقعہ ہوتا تو میں اسکے دشمن کو رکھتا پھر کیا ردِ عمل ہوتا؟۔ فوج نے گھر سے پک اپ اٹھائی اور بارود سے اڑادی۔ مہینوں اس کا کچرہ پڑا تھا۔ منہاج نے بتایا کہ” قاری حسین کو میرے گھرکے پاس اکیلا کھڑا دیکھا ۔ ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور بڑی کوشش کی کہ وہ اسکے گھر پر دعوت کھائے لیکن وہ انجان بن گیا۔ پھر سب حیران تھے کہ وہ طالبان سے تعزیت کرنے کیسے جارہاہے مگر طالبان نے اس کو لفٹ نہیں دی تو اس نے بھی چھوڑ دیا”۔ جس کی تاریخ جاسوسی کی ہو تو اس پر کون بھروسہ کرتا؟۔ اتنا سادہ بھی انسان کو نہیں ہونا چاہیے۔
ہمارے خلاف چندافرادکو کیوں ورغلایا گیا؟۔ جو طالبان اور ریاست کی بدنامی کا باعث بنا۔ کسی بھی واقعہ کی تہہ تک پہنچ جائیں تو یہ بہت بڑا بریک تھرو ہوگا ۔ذاتی دشمنی کو ریاست اور طالبان کے کھاتہ سے نکالا جائے تو سرخروئی ہوگی۔ انشاء اللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مشہور افغانی طالبان رہنما شیخ القرآن والحدیث عبدالحمید حماسی نے حلالہ کے مرتکب کو گناہ کبیرہ میں ملوث قرار دیا

مشہور افغانی طالبان رہنما شیخ القرآن والحدیث عبدالحمید حماسی نے حلالہ کے مرتکب کو گناہ کبیرہ میں ملوث قرار دیا

افغان عالم مشہور مدرس شیخ القرآن والحدیث معتدل مزاج عبدالحمید حماسی نے اپنے درس میں کہا
بعض کے نزدیک سارے گناہ کبیرہ ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں کسی کو گناہ صغیرہ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن ان کے نزدیک بھی گناہ صغیرہ کاانکار نہیں بلکہ وہ اس کے قائل ہیں کہ گناہ کبیرہ کی بہ نسبت گناہ صغیرہ بھی ہیں۔ طالبو! یہ بات زندگی میں پہلی بار ہی سن رہے ہوں گے کہ حلالہ کرنے والا اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے تو اس پر رسول اللہ ۖ نے لعنت فرمائی ہے اور یہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔ آج شیخ عبدالحمید حماسی نے ایک طر ف حلالہ کو حدیث کے مطابق لعنت قرار دیا اور حلالہ کرنے والا اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے تو دونوں کو گناہ کبیرہ کا مرتب قرار دیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بات کا بھی کھل کر اظہار کردیا کہ ”علماء اور طالبان یہ بات پہلی مرتبہ سن رہے ہوں گے”۔
برصغیر پاک وہند کے علماء ومفتیان نے حلالہ کی لعنت سے خاندان تو بہت جوڑ دئیے لیکن عزتوں کا بھی لنڈا بازار لگادیا ۔ معروف حنفی محمود بن احمد بن موسیٰ شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی (پیدائش30جولائی1361، وفات14 دسمبر1451) نے اپنے بزرگوں کے حوالہ سے لکھ دیا کہ ”اگردل میں نیت یہ ہو کہ اس حلالہ کے ذریعے دو خاندان مل جائیں گے توپھر یہ کارِ ثواب ہے”۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حلالہ بڑاگناہ بھی ہو اور اس کو کارِ ثواب بھی قرار دیا جائے تو علماء و مفتیان کے اس تضاد کا کیا نتیجہ نکلے گا؟، دیوبندی بریلوی اور پنج پیری ودیوبندی کے علماء کا مختلف معاملات پر اختلاف ہے۔ ایک چیز کوایک ٹولہ بدعت اور دوسراکارِ ثواب قرار دیتاہے، مذہبی طبقات کی یہ روش بہت پرانی ہے۔ مالکی وحنفی مسلک میں اکٹھی تین طلاق دینا ناجائز، گناہ اور بدعت ہے اور شافعی مسلک میں اکٹھی تین طلاق دینا جائز ،مباح اور سنت ہے۔ امام اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب ”صحیح البخاری” میں اپنا زیادہ تر رحجان امام ابوحنیفہ کے خلاف اور امام شافعی کے حق میں ظاہر کیا ہے۔
چنانچہ اکٹھی تین طلاق کے جواز پر ”من اجاز الطلاق الثلاث”باب کا عنوان لکھ دیا ہے اور اس میں آیت: الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان کو نقل کیا ہے ۔
حالانکہ امام بخاری کا اس عنوان کے تحت یہ نقل کرنا100فیصد غلط ہے ۔آیت میں مرحلہ وار الگ الگ مرتبہ میں طلاق دینے کی وضاحت ہے ۔جس کی صحیح بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب التفسیر، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میںنبیۖ کی طرف سے بہت بھرپور الفاظ میں وضاحت ہے۔
اگر طالبان قرآن کی صحیح تفسیراور حدیث کی صحیح تشریح عوام اور دنیا کے سامنے رکھ دیں گے تو اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوجائے گا۔ بہت سارے دیوبندی اور بریلوی علماء ومفتیان نے حقیقت کو سمجھ لیا ہے لیکن وہ کسی خوف یا مصلحت کا شکارہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے لاؤڈاسپیکر پر نماز و آذان کو ناجائز قرار دیا تو تبلیغی جماعت100سال بعد بھی اسی پر چلتی رہی اسلئے کہ علماء کا طرز منافقانہ تھا اگر کھل کر کہتے کہ ہمارا فتویٰ غلط تھا تو تبلیغی جماعت مشکلات کا شکار نہ بنتی۔ مولانا فضل الرحمن کہے گا کہ تصویرحرام ہے اور قطعی حرام ہے مگر کیمرے کی تصویر میں اختلاف ہے اور ہم اس اختلاف کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں تو پھر وہی حال ہوگاجس طرح ایک گروہ حلالہ کو لعنت قرار دیتا ہے اور دوسرا کارثواب قرار دیکر عزتوں کی لوٹ بازار سے لطف اُٹھارہاہے۔
ہم نے جاندار کی تصویر کی مخالفت کو شرعی حکم سمجھا تو کھل کر مخالفت کا فرض انجام دیا۔ شرح صدرہوا تو ”جوہری دھماکہ ”کتاب اور اخبار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغی جماعت والے لاؤڈ اسپیکر کے برعکس ویڈیو بنانے پر جلد آمادہ ہوگئے۔
شیخ حمیداللہ حماسی ایک اچھے اور معتدل مزاج شخصیت ہیں لیکن صوفیوں کی مخالفت اور سعودیہ پر مرتد کا حکم لگانا اچھی بات نہیں ہے۔ اس کے برعکس اس کو یہ بات کرنے کی جرأت کرنی چاہیے کہ علماء نے بخاری کی پہلی حدیث ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” کے مفہوم میں بگاڑ پیدا کردیا ہے۔ اسلئے کہ علامہ ابن ہمام اور علامہ بدر الدین عینی جیسے بڑے حنفی علماء نے حلالہ کے فعل کو ثواب کی نیت سے کارِ ثواب قرار دیا ہے۔ حماسی صاحب اس بات کا بھی اعتراف کریں کہ ملاعمر مجاہد اور انکے ساتھیوں میں علم کی بہت کمی تھی اسلئے تصویر پر پابندی لگائی تھی اور یہ بہت بڑا تضاد تھا کہ افغانستان میں میڈیسن کے ڈبوں پر تصویر کی پابندی تھی لیکن اسامہ بن لادن کو شادی بیاہ کی تقریب میں ویڈیو بنانے کی اجازت تھی۔ جس کی وجہ سے افغانستان اور اس خطے پر بڑا عذاب آیا اور اس آزمائش سے بہت نقصان پہنچا۔
شیخ عبدالحمید حماسی نے کہا پانی میں حس ہے اور سمندر کی لہریں خوبصورت آدمی کی طرف زور لگاتی ہیں اور بدصورت کی طرف نہیں جاتی ہیں۔ حالانکہ پانی ہاہیڈورجن اور آکسیجن کا مجموعہ ہے اور جس کی اپنی جوڑی دار ہو تو بادل سے پانی برسنے کا نظارہ بھی دکھائی دیتا ہے لیکن تاثیر بہرحال الفاظ میں بھی ہے اور نظر میں بھی تو پانی کی حس بھی بڑی بات نہیں ۔
اسامہ پاکستان نکل گیا، ملاعمر گھر میں چھپ گیا اورافغانی لڑکیوں اور خواتین کیساتھ امریکہ اور نیٹو نے جبراً یا برضاورغبت انتہائی برا کیا جس کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر چلیں اور خواتین نے شکایت بھی کردی۔ اب دوبارہ ایسی صورتحال کی طرف جانے سے طالبان افغانستان کو بچائیں۔ ایسا ماحول قائم کریں کہ دنیا بھر سے اپنی بچیوں اور خواتین کو لوگ تعلیم کیلئے افغانستان بھیجیںاسلئے کہ ان کی جان اور عزت کی حفاظت اور اس کیلئے سخت ترین اسلام کے قوانین کارآمد ہیں۔ پاکستان میں قرار واقعی سزا نہ ہونیکی وجہ سے بہت برے واقعات اپنے رشتہ داروں و پڑوسیوں کے ہاتھوں ہورہے ہیں جن کی مذمت کرنے سے بالکل بھی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
افغانی آپس میں بھی ایک دوسرے کو طعنے نہیں دیں اور دوسروں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں اور علم وشعور کو اجاگر کرکے اصلاحِ احوال کا زبردست ماحول بنائیں۔ اپنی تعریف اور دوسروں کی مذمت سے زیادہ اپنی اصلاح پر توجہ دیں، تنقید کو مثبت لیں تو پھر یہ خطہ بالکل جنت نظیر بن جائے گا۔
٭٭

صدیوں سے نالائقوں کا علمی مسندوں پر تسلط اورقرآن کی غلط تفسیر اور احادیث کی غلط تشریح کی زبردست نشاندہی

اللہ نے قرآن کی واضح آیات سے انسانوں کو روشنی دی اورنبیۖ نے اپنی سنت کی وضاحتوں سے رہنمائی فرمائی ہے لیکن اسکے باوجود مسلمانوں پر دنیا میں اندھیر نگری بدترین راج کررہی ہے۔
جب انسان کی پوٹی اور پیشاب کا فطری راستہ بند کردیا جائے تو مصنوعی نالیاں لگانی پڑتی ہیں۔ یہی کچھ مسلمانوں نے اسلام کے فطری نظام کے ساتھ اپنی ڈاکٹرائن سے کیا ہوا ہے۔ پاکستان میں مختلف مقتدر طبقات کے سربراہوں کے ڈاکٹرائن مشہور ہیں جن کی غلط پالیسوں کی وجہ سے ملک میں امن وامان، تعلیم وتربیت، معیشت ومعاشرت اور سیاست وعدالت کا نظام تباہی وبربادی کا شکارہے لیکن اسلام کے خلاف صدیوں سے طبع آزمائی کا مشق ستم جاری ہے اور کسی کو احساس تک نہیں ؟۔
قرآن کی سورہ مجادلہ، البقرہ، النسائ،الاحزاب اور سورہ الطلاق میں بھرپور طریقے سے وضاحتیں موجود ہیں کہ شوہر طلاق دے تو اللہ نے باہمی صلح اور معروف طریقے سے رجوع میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔ جاہلیت کی ایک ایک رسم کو انتہائی ضرر رساں کیڑے مکوڑوں کی طرح چن چن کر ختم کردیا ہے اور دنیا کی تمام اقوام اس پر عمل پیرا ہیں لیکن مسلمان اس سورج کی روشنی سے محروم ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی (پیدائش18فروری1372۔وفات2فروری1449ئ)کا تعلق شافعی مسلک سے تھا اور بخاری کے شارح تھے۔
ہمارے پیر عبدالوہاب شاہ ابھی ریٹارئرمنٹ کو پہنچ گئے۔ جب جمرود خیبر پشاور میں ٹیچنگ کے ٹریننگ سینٹر میں تھے تو پورا حال ٹیچروں سے بھرا تھا اورایک ٹیچر نے بورڈ پر پڑھایا کہ ” خریدنا کے معنی فروخت کرنا”۔عبدالوہاب کو ساتھ والے نے کہا کہ چلو یہ تو جو ہے سو ہے لیکن پورا حال بھرا ہواہے وہ بھی ایسے ہی دیکھ رہے ہیں اور سمجھ نہیں رہے ہیں کہ کیالکھ رہاہے؟۔ ہم نے رمضان کی نشریات میں آنے والے اسلامی سکالر سید بلال قطب کو اپنی کتاب ”ابر رحمت ” پیش کردی تو اسکے ساتھی نے کہا کہ یہ بڑا اسکالر ہے کتاب کی ضرورت ہے؟۔ پھر چند سالوں بعد رمضان نشریات میں سید بلال قطب نے پوچھا: ”اگر شوہر مرجائے تو پھر بیوہ کیا اپنے سسر سے شادی کرسکتی ہے؟”۔مولانا طارق جمیل کی کاپی مولانا آزاد جمیل نے جواب دیا کہ ”ہاں! اگر دوسرا رشتہ نہیں ملتا ہو تو کرسکتی ہے”۔ یہ دونوں جاہل تھے لیکن ساتھ میں مختلف مکاتب فکر کے علماء ومفتیان بھی بیٹھے تھے وہ بھی جاہل تھے اور سننے والے محفل میں شریک اور ٹی وی پر دیکھنے والا بڑا طبقہ بھی جاہل تھا۔ نشرمکررپر بھی یہ پروگرام چلا۔ پھر ہم نے اخبار میں اس جاہلیت کی تردید کردی۔
صحیح بخاری میں قرآن کی آیت229کا بالکل غلط حوالہ دیا گیا ہے جو قرآن کی روح اور ظاہر کے بالکل منافی ہے لیکن اس سے بڑی جہالت پھر ابن حجر عسقلانی نے کی ہے کہ ” دو طلاق اکٹھی ہوسکتی ہیں تو پھر تین بھی اکٹھی ہوسکتی ہیں”۔ پھراسی طرح جہالت کا مظاہرہ بدرالدین عینی نے بھی کیا ہے کہ ”دو طلاق رجعی پر تیسری طلاق کواکٹھا کرنے کا قیاس غلط ہے اسلئے کہ وہ مغلظہ ہے”۔ حالانکہ اس حقیقت کو دنیا کا احمق ترین انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ نے الطلاق مرتانسے الگ الگ مرتبہ طلاق کی وضاحت فرمائی ہے۔ میری اس پر نظر گئی تو چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم 5منٹ میں قائل ہوگئے تھے۔
نوازشریف اور عمران خان کی وکالت کرنیوالا طبقہ جس بے شرمی کیساتھ حقائق کو نظر انداز کرتاہے تو مذہبی طبقے کو بھی انہی پر قیاس کرلیجئے گا۔ قرآن کو دنیا پرست کتوں نے نوچ نوچ کر بوٹی بوٹی بنادیا۔ سودی عالمی نظام کو اسلامی قرار دے دیا ہے تو آخر پھر کیا رہ گیا ؟۔ پچھلے شمارے میں مختلف معاملات خاص کر طلاق کی وضاحتیں کردی تھیں۔
شیخ عبدالحمید حماسی کا حلالہ کو گناہ کبیرہ قرار دینا بھی بہت زبردست بات ہے لیکن اگر قرآن سے درست استفادہ کیا جائے تو میں دعوے سے یہ کہتا ہوں کہ اربوں عیسائی ، ہندو اور مغرب کے علاوہ ترقی یافتہ دنیا پکار اٹھے گی کہ طلاق کے حوالے سے یہ تبدیلی اسلام کا کارنامہ ہے کہ عورت کیلئے صلح میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اور اہلحدیث سمیت باقی مسالک حنبلی، مالکی ، شافعی اور شیعہ سبھی اپنے کھلے دل سے بھرپور اعتراف کریں گے کہ حنفی مسلک کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں ضعیف نہیں صحیح احادیث کو مسترد کرکے بہت ہی اچھا کیا تھا اور یہ اسی محنت اور جدوجہد کا صلہ ہے کہ امت مسلمہ کا قرآن کی طرف رجوع ہوگیا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ مولوی نے نیت سے معاملہ خراب کردیا ہے۔ تبلیغی جماعت نے بھی اس وجہ سے تصحیح نیت کی رٹ لگائی۔ حالانکہ اچھے اعمال میں ریا کاری ہو۔ شہید، عالم اور سخی جہنم میں نیت کی وجہ سے جائیں گے لیکن حلالہ کی نیت کارثواب کیسے ہوسکتی ہے؟۔ ایک آدمی قتل ، زنا، چوری اور ڈکیتی کرتا ہے اور نیت ثواب کی ہو تو کیا نیت کام آئے گی؟۔ تصوف کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ ایمان دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے اور پھر نیت بھی صحیح ہوجاتی ہے اور عمل بھی صحیح ہوجاتا ہے۔
انگریز نے لکھا کہ سیدامیر شاہ کی قیادت میں وزیرستان سے محسود قبائل کا نمائندہ وفد گیا تھا کہ انگریز کیخلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور پھر سیداحمد شاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل کا وفد اسی سال1877میں افغان بادشاہ امیر شیر علی کے پاس گیا تھا۔ انگریز نے وزیرستان کو بھی غلامی سے ہمیشہ کیلئے آزاد قرار دیا ہے۔سرکاری ملکان کی حیثیت گدھا کرائے پر چلانے والی جتنی بھی نہیں تھی۔ افغانستان بھی جن کو وظیفہ دیتا تھا تو وہ عوام کے سرکاری نمائندے بالکل بھی نہیں تھے۔
انگریز نے پاک وہندکو قبضہ کیا اور افغانستان کے حکمران کو بھی گرانٹ دیتا تھا۔ ڈیورنڈلائن کے معاہدہ کی اصل تاریخ1833تھی جو سکھ کیساتھ ہوا تھا اور60سال بعد انگریز نے واخان کو افغانستان کا بھی حصہ بناکر روس کی نظر اندازی کو روکا جس کا نقشہ میں املتاس کے پلی کی حیثیت ہے جس کو پشتو میں ہمارے ہاں خر غنڑ کہتے ہیں۔ افغانستان چین کوریڈور کی وجہ سے ڈیورنڈلائن معاہدے کا اصل فائدہ افغانستان ہی کو پہنچا ہے جو سمجھنے کی بات تھی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ رحمن الرحیم اورنبی رحمت للعالمینۖ لیکن مسلمان فرقے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کو چھوڑ کر ظالم ترین ہیں

اللہ رحمن الرحیم اورنبی رحمت للعالمینۖ لیکن مسلمان فرقے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کو چھوڑ کر ظالم ترین ہیں

سنی شیعہ ، دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث کے علاوہ اب ایک ایک فرقہ بھی کئی کئی فرقوں اورگروہوں میں تقسیم ہے۔ جن کا دھندہ ایک دوسرے پر اپنے اپنے مسلک سے انحراف کے فتوے ہیں۔1957میں دیوبندی مکتبہ فکر کی ایک جماعت ”اشاعت التوحید و السنة”کے نام سے وجود میں آئی جس نے دیوبندی اکابر پر بھی شرک و بدعت کا فتویٰ لگانا شروع کیا۔ پھر یہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور مولانا طاہر پنج پیری میں تقسیم ہوئے۔1970کی دہائی میں کانیگرم وزیرستان میں ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان فاضل دار العلوم دیوبند تھے۔ جبکہ اپر کانیگرم میں مولانا محمد زمان دیوبندی کا خاندان تھا اور درمیان میں ایک پنج پیری عالم مولانا شاداجان آئے جس نے سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کوبدعت قرار دیا۔ مولانا محمد زمان نے اس پر کفراور قادیانیت کافتویٰ لگادیا۔ مولانااشرف خان خود تو سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتے تھے لیکن مولانا شاداجان کو بھی کافر وقادیانی نہیں قرار دیتے تھے۔
پھر میرے والد نے فیصلے کیلئے باہر سے علماء کو بلایا تو انہوں نے دونوں کی بات سن کر فارسی میں اپنا فیصلہ سنایا۔ لوگ منتشر ہوگئے اور علماء چلے گئے تو مولانا محمد زمان نے اپنے حامیوں کے ذریعے ڈھول کی تھاپ پر روایتی ناچ گانے سے اپنی جیت کا اعلان کیا۔ دوسری طرف مولانا شاداجان کے حامیوں نے بھی ڈھول کی تھاپ پر روایتی ناچ گانے سے اپنی جیت منائی۔
مولانا محمد زمان بعد میں500علماء کی شوریٰ کے سربراہ بن گئے۔ مولانا محمد زمان نے کہا کہ ”منگنی نکاح ہے جس میں طے ہوجاتا ہے کہ ایجاب و قبول ہوگیا”۔ اور ان کی یہ بات بالکل درست ہے۔ پشتون خانہ بدوشوں کی یہ روایت ہے کہ منگنی کے بعد شوہر رخصتی سے پہلے اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتا ہے۔ لیکن یہ کاکردگی چھپ کر دکھانی پڑتی ہے۔ اگر موقع پر پکڑا جائے تو بیوی کے خاندان کی طرف سے زبردست قسم کی پٹائی ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتا ہے تو پھر حمل کے بعد رخصتی کردیتے ہیں۔ پھر نکاح کیلئے دلہن اجازت نہیں دیتی اور خوب مارپیٹ یہاں تک کہ گرم سلاخوں سے بھی داغنے کی نوبت آتی ہے تاکہ شرمیلی دلہن اپنے نکاح کی اجازت کیلئے زبان کھولے۔ اگر منگنی کو نکاح نہ قرار دیا جائے تو پھر سارا معاملہ شریعت کے خلاف ہوگا۔ یہ خانہ بدوش سردی گرمی میں کابل سے دہلی اور ڈھاکہ تک ہمیشہ سفر میں ہوتے تھے۔
مولانا فضل الرحمن کے آباء و اجداد بھی خانہ بدوش تھے اور افغانستان ، پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ان کی آزاد نقل و حمل کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سب سے پہلے چاروں ملک مولانا فضل الرحمن اور تمام خانہ بدوشوں کو اپنی اپنی شہریت دیں اور اس خطے کی تاریخی روایات کو برقرار رکھیں۔ مولانا بڑے ہی زیرک سیاستدان ہیں۔ طالبان ، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے نہ صرف دیوبندی مکاتب فکر میں اتحاد و اتفاق کی فضاپیدا کریں گے بلکہ دیگر مسالک ، فرقے اور ادیان کے لوگوں کو بھی متحد و متفق کرنے میں اپنا بڑاکردار ادا کریں گے۔ خاص طور پر بھیڑوں جیسی شریف تبلیغی جماعت کے متحارب گروپوں کو بنگلہ دیش ، ہندوستان اور دنیا بھر میں بھی متحد کریں گے۔ مولانا کو اس بات میں خاص مہارت حاصل ہے کہ افغانستان میں طالبان ، پاکستان میں جمعیت علماء اسلام اور ہندوستان میں جمعیت علماء ہند کا اسلام ایک دوسرے سے انتہائی تضادات رکھنے کے باوجود بھی مولانا چونا لگا دیتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے26ویں آئینی ترمیم میں سب کو خوش کیا اور کس کس کالے سانپ کے دانت توڑ دئیے؟۔ جب مولانا نے قومی اسمبلی میں گرجدار تقریر کی تھی کہ کسی جج ، جرنیل اور بیوروکریٹ کی ہم ایکسٹینشن قطعی نہیں ہونے دیں گے لیکن اداروں کی اصلاح کی بات ہوگی تو ہم ساتھ دیں گے۔
اس تقریر کو سن کر پاکستان کے سیدھے سادے عوام بہت خوش ہوئے کہ مولانا سیاست کے مسیحا بن گئے۔ نواز شریف کی خواہش پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ کو مزید توسیع نہیں ملے گی جس پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف خوش تھے لیکن نواز شریف نے کہا کہ ”ایک آدمی کا گھوڑا دوڑ میں سب سے پیچھے تھا تو اس کو پوچھا گیا (پنجابی میں )کہ تیرا گھوڑا کہاں ہے؟۔ اس نے کہا کہ وہ جس نے سب کو اپنے آگے لگایا ہوا ہے”۔ مطلب یہ تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی چند سیٹیں ہیں اوراس کی کوئی اہمیت نہیں مگر سمجھتا ہے کہ میں نے سب کو آگے لگایا ہوا ہے۔ اگر اس وقت سرکاری ملازمت کو توسیع مل جاتی تو سارے ملازمین کو ایکسٹینشن مل جاتی۔ جن میںISIچیف ندیم انجم اورفائز عیسیٰ وغیرہ سب شامل تھے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کا قانون تو پہلے سے موجود تھا جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید توسیع کی بھی پیشکش ہوئی تھی جس کا اعتراف عمران خان نے کیا تھا۔ البتہISIچیف جنرل ندیم انجم کو توسیع مل جاتی تو جنرل عاصم منیر مزید کافی عرصہ تک ایک با اختیار آرمی چیف نہ ہوتے۔ بڑی مشکل سے نواز شریف نے ضد کرکے آرمی چیف بنوادیا۔ لیکن جب تک اپنے اعتماد کاISIچیف نہ ہو تو آرمی چیف کچھ نہیں کرسکتا۔ جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنا دیا تھا تو اس وقت باخبر صحافی انصار عباسی نے کہا تھا کہ جو ہورہا ہے اس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مرضی شامل نہیں۔ پہلی مرتبہISIچیف زیادہ طاقتورہوگئے۔ ن لیگ کی حکومت کے خلافISIسازش کررہی ہے۔
انصار عباسی اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ صحافی شمار ہوتا تھا۔ لیکن پہلی مرتبہ اس کی ہمدردیاں واضح طور پر ن لیگ کے ساتھ تھیں اوروجہ شہباز شریف نے پنجاب حکومت کی طرف سے اسکے گھر تک کروڑوں روپے کا روڈ بنوایا تھا جو ابھی اربوں میں ہوگا۔
کوٹ نواز گومل ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میں چوری ہوئی تو کتا لایا گیا اور سب پریشان ہوگئے کہ کتا ہے کیا پتہ چلتا ہے کہ کس کی ناک کاٹ دے۔ لیکن جب وہ چلتے ہوئے ایسی راہ پر گامزن ہوا کہ اس طرف مشہور چور کا گھر تھا تو سب کو پتہ چل گیا کہ کتا کہاں جارہا ہے؟۔ اور پھر وہی ہوا کہ کتے نے چور کو پکڑ لیا اورچور نے بھی مانا اورلوگ بھی مطمئن ہوگئے۔
26ویں آئینی ترمیم میں اصل ہدف سید منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔ باقی سارے معاملات حلوے کے ساتھ اضافی تھے۔ سمجھ رکھنے والوں نے پہلے سے اظہار کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو جو ہدف دیا گیا ہے اس کو پورا کرکے دم لیں گے۔ باقی لوگ خوشیاں منارہے تھے کہ آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں اورآخر کار بروقت وہی کام کردیا جس کا ڈر تھا۔ لیکن اس کا فائدہ کیا ہوا؟ ۔ بلوچ خواتین سینیٹروں پر دباؤ تھا یا نہیں ؟۔ ووٹ زبردستی ڈلوانے کیلئے ممبر کی بیوی اورجواں بیٹی اغواء کی گئی یا نہیں؟۔ مولانا کے بندے مسنگ ہوگئے یا نہیں ؟ ۔ تحریک انصاف کے غائب ارکان خود غائب تھے یا نہیں؟۔ مگر عوام کے اندر یہ فضا بن گئی کہ مولانا کے بندوں سمیت خواتین کے اغواء تک جبری نظام پہنچا تو یہ کونسا جمہوری نظام ہے؟۔
ایک آدمی روزہ توڑنا چاہتا تھااور کفارہ سے بچنا چاہتا تھا تو اس نے گاؤں کے لڑکوں سے کہا کہ تم مجھے زبردستی روزہ تڑوادو اور اس کا روزہ بھی ٹوٹ گیا اورکفارہ بھی نہیںدینا پڑا۔ لیکن اس سے روزہ دار بدنام ہوگئے اور روزے اور کفارے کی اہمیت بھی ٹوٹ گئی۔ مولانا فضل الرحمن نے جنرل ندیم انجم کے دانت بھی توڑ دئیے، فائز عیسیٰ کے بھی دانت توڑدئیے، عمران خان اور نوازشریف کے بھی دانت توڑدئیے لیکن پیپلزپارٹی کے نہیں توڑے جس کے بعد جوبلی سرکس کا تماشا لگ گیا۔ جس میں دو بونے لڑتے تھے، پھر ایک مرجاتا ہے اور دوسرا اس کو سیدھا کرتا تھا ، جب اس کا دھڑ سیدھا کرنے کی کوشش میں ٹانگیں سیدھی کرتا تو پیچھے سے وہ اپنا سر اٹھالیتا تھا ،جب سر کو لٹاتا تو پیر اٹھاتا اور کچھ دیر کارٹون کی طرح یہ سلسلہ جاری رہتا اور آخر پیچھے سے اس کو چوتڑ پر دانتوں سے کاٹ لیتا تھا جس پر وہ اپنی چوتڑ بہت زور سے درد مٹانے کیلئے اسی تختے پر ملنا شروع کردیتا تھا اور لوگ اس کو دیکھ بہت لطف اٹھاتے تھے۔ مولانا کو صدر زرداری نے گفٹ دیا تھا اورپھر بونوں کی کچھ لڑائی بھی شروع ہوگئی۔
چیف جسٹس بندیال نے رات کو عدالت کھول کر صحیح وقت پر عمران خان کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر مجبور کیا۔ پھر اس نے جب آئین کے مطابق تین ماہ کی مدت میں نگراں حکومت کو حکم دیا کہ انتخابات کراؤ تو مولانا فضل الرحمن دفعہ144کے باوجود عدالت کی چاردیواری میں کود گیا اور مریم نوازشریف کو بھی ساتھ لیا اور عدالت وسیاست کا بیڑہ غرق کردیا۔ اگر آئینی مدت میں الیکشن ہوجاتا تو نظام پرآج اتنی بد اعتمادی نہ ہوتی ۔
مولانا کو اپنی کنڈیشن کا پتہ تھا اسلئے بلوچستان سے حصہ لیا۔ مولانا نے کہا کہ میرے پاس چشم دید گواہ ہیں کہ وڈیرے کو حکم دیا گیا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کو اپنی مرضی کے خلاف ووٹ دو اور سندھ میں جب دھاندلی کا پروگرام تھا تو کچھ نہیں بولامگر وہ مشن ناکام ہوا تب مولانا بول پڑے۔ مولانا نے کہا کہ الیکشن میں اگر دھاندلی نہیں ہوئی ہے تو9مئی کا بیانہ پٹ گیا اور اگر تم نے دھاندلی کی ہے تو پھر مان لو کہ ہم نے دھاندلی کی ہے۔
مولانا اسٹیبلشمنٹ کو9مئی کے بیانیہ پٹنے کی دھمکی صرف پختونخواہ کی حد تک دیتا تھا مگر پنجاب میںPTIسے دھاندلی کا اعتراف بھی تھا اور اس سے9مئی کا بیانیہ نہیں پٹتا تھا ؟۔
مولانا کی یہ سیاست اصول فقہ کی کتابوں میں پہلے اصول ”قرآن” کی تعریف سے سمجھ آجائے گی ۔ گذشتہ شمارے میں جس کی وضاحت کی تھی کہ کتنے تضادات اور جہالت ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن مدارس سے حدیث کو بھی ادھورا بیان کررہے ہیں کہ رسول اللہ ۖ یقول نضراللہ امرا سمع منا حدیثا فحفظہ حتی یبلغہ غیرہ فرب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ و رب حامل فقہ لیس بفقیہ
”رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اللہ یہ معاملہ تروتازہ رکھے کہ مجھ سے کوئی حدیث سنے تو اس کو یاد کرے اور دوسروں تک پہنچائے۔ بسا اوقات پہنچانے والے سے وہ زیادہ سمجھ رکھتا ہے جس کو حدیث پہنچائی جائے اور بسااوقات پہنچانے والا خود سمجھ سے عاری ہوتا ہے”۔ یہ حدیث مختلف الفاظ میں نقل ہے اور اصل حدیث کا دوسرا حصہ ہے کہ کسی بندے تک دین پہنچے جو سمجھدار ہو اور یہ دین کو انقلاب عظیم کا بہت بڑا ذریعہ بنادے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب سیاست کی وجہ سے میں قاسم العلوم میں پڑھانے کا وقت نہیں دے سکتا تھا تو تدریس چھوڑ دی اور پھر روزگار کیلئے مدرسہ بنادیا۔ مہتمم حضرات کیلئے مدارس ایک بہترین کاروبار ہے جس سے انکا چہرے نہیں بلکہ بہت کچھ تروتازہ رہتا ہے لیکن دین کو سمجھ کرقبول نہیں کرتے۔ جس کو موقع ملتا ہے تو مادر علمی چھوڑ کر اپنی دکان بنالیتا ہے۔ مولانا منظور مینگل نے کہا کہ” مولوی مرجائے گا لیکن کسی اور کو چندہ دینے والا سیٹھ نہیں بتائے گا”۔جب استاذالعلماء مولانا سلیم اللہ خان کے سیٹھوں پر منظور مینگل قبضہ کرے گا تو یہ کون غلطی کرسکتا ہے کہ مدرسہ کے وسائل پر قبضہ کرنے دے؟۔
اللہ نے فرمایا: الرٰ کتاب احکمت اٰیاتہ ثم فصلت من لدن حکیم ٍ خبیرٍO”ال ر۔کتاب جس کی آیات کا فیصلہ کیا گیا ۔ پھر حکمت والے خبر رکھنے والے کی طرف سے اس کی ساری تفصیلات بیان کی گئی ہیں”۔(سورہ ہود آیت:1)
اللہ کہتا ہے کہ یہ کتاب میری طرف سے ہے اور علماء نے علم لدنی کسی اور بلا کا نام رکھ دیا ہے۔ اللہ نے واضح کردیا ہے کہ
” یہ کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ کی ۔ بیشک میں تمہارے لئے اس کی طرف ڈرانے والا اور خوشخبری والا ہوں اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو۔پھر اس کی طرف توبہ کروتو تمہیں مقررہ مدت تک فائدہ پہنچائے گا اور ہر صاحب فضیلت کو اس کا فضل دیدے گا۔ لیکن اگر یہ پھر گئے تو میں تمہیں عذاب کبیر کے دن سے ڈراتا ہوں۔ اللہ کی طرف تمہارا ٹھکانہ ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ خبردار ! یہ اپنے سینے چوڑے کررہے ہیں تاکہ چھپ جائیں اس سے۔ خبردار ! جب تم اپنے کپڑے ڈھانکتے ہو تو وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو۔ وہ سینوں کی بات جانتا ہے۔ اور کوئی زمین پر چلنے والا نہیں مگر اللہ پر اس کا رزق ہے۔اور وہ اس کے ٹھکانے کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جائے گا اس کو بھی جانتا ہے۔ ہر چیز کھلی کتاب میں ہے۔ اور وہ وہی ہے جس نے چھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کو بنایا ۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے۔ اور اگر آپ کہیں کہ تم نے موت کے بعد مبعوث ہونا ہے تو کہیں گے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔ اگر ان سے عذاب مؤخر کردیں ایک محدود گروہ تک تو ضرور کہیں گے کہ کس چیز نے اس کو (عذاب دینے سے )قید میں رکھا۔خبردار ! جس دن ان پر (عذاب) آئے گا ۔الایوم یأتیھم لیس مصروفًا عنھم وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزئونOوہ اس سے مصروف نہیں ہوگا اور ان کو عذاب اپنے گھیرے میں لے گا۔ جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ (سورہ ہود آیت:2سے8)
جس طرح زمین مرتی ہے اور پھر بارش سے اس کی نئی نشو و نما ہوتی ہے ،اسی طرح انسانوں کے ضمیر بھی مرتے ہیں تو نئی نشوونما ہوتی ہے۔ کافر اصل میں نئی بعثت انقلاب کے منکر تھے کہ فتح مکہ کے انقلاب کی خبر کھلا جادو ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اتنی جنگیں ہوئیں۔ بدر، احد اور خندق لیکن جو اکابرین ابوجہل اور ابولہب وغیرہ مرگئے تو کس چیز نے اس انقلاب کو روکاہے؟۔ اللہ نے کہا کہ جب وہ دن آئے گا تو پھر دوسری مصروفیت نہیں ہوگی۔ علماء نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ عذاب ٹلے گا نہیں اور یہ ترجمہ بنتا ہے لیکن سورہ رحمان میں اللہ نے فرمایا کہ عنقریب ہم تمہارے لئے فارغ ہوں گے اے ثقلان!۔ تو وہ مصروف کا معاملہ اسلام کی نشاة اول اور فتح مکہ سے تھا جب ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ، ابوسفیان او ر اس کی بیوی ہند وغیرہ کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا اور اسی کو وہ جادو سمجھتے تھے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمارے استاذ مولانا بدیع الزماں وغیرہ کے چہروں کو اللہ نے ترو تازہ رکھاتھا اور ان کو فضیلت بھی بخشی تھی۔ اسلئے کہ حق بات کو سمجھ کر اس کو قبول کرلیتے تھے۔ آج مفتی محمود ، مفتی شفیع ، مولانا شفیع اوکاڑوی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، پروفیسرغفوراحمد، مولانا مودودی، علامہ طالب جوہری، امام خمینی، علامہ احسان الٰہی ظہیراور تمام مکاتب فکر کے علماء ربانی موجود ہوتے تو حق کو قبول کرتے۔ مگر مردہ ضمیر اسلام کی نشاة ثانیہ کو محض جادو سمجھتے ہیں اور اللہ کی کھلی آیات کو قبول کرنے سے منکر ہیں۔
اہل حل و عقد کو چاہیے کہ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا ہے تو اس کی طرف پیش قدمی کریں ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے پھر ان حالات کا سامنا ہو کہ خدانخواستہ کچھ نہ ہوسکے۔ انشاء اللہ پاکستان کی تقدیر میں دنیا کا انقلاب کبیر ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لیلیٰ خالد کا مختصر تعارف اور جمال عبد الناصر کے ساتھ مولانا یوسف بنوری کی دوستی اور ان کے ساتھ تصویر نہ لینے کا قصہ اور مزیدار تبصرہ

لیلیٰ خالد کا مختصر تعارف اور جمال عبد الناصر کے ساتھ مولانا یوسف بنوری کی دوستی اور ان کے ساتھ تصویر نہ لینے کا قصہ اور مزیدار تبصرہ

لیلیٰ خالد نے ابتدائی زندگی سے اسرائیل کے خلاف جہاد کیلئے بندوق اٹھائی اور اپنے چہرے کی سرجری کرواکر متعدد بار جہاز ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔ ایک مرتبہ کامیاب اور دوسری مرتبہ وہ شدید زخمی حالت میں گرفتار اور دوسرا ساتھی قتل ہوا۔ ابھی زندہ ہیںمگر گمنام۔CIAاور بلیک واٹر کے مجاہدین کی شہرت ہے کرایہ کے مجاہدین اور جماعت اسلامی اس کا نام نہیں لیتے ہیں۔
لیلیٰ خالد نے جہاز اغواء کیا تو پہلے اسرائیل پھر وہاں سے اپنے گاؤں کا جہاز سے نظارہ کیا اور اپنے فوت شدہ بزرگوں کا تخیل کرکے کہا کہ ہم واپس آئیںگے پھر دمشق لے جاکر مطالبات منوائے۔ دوسری مرتبہ جہاز اغواء کرنے کی کوشش ناکام ہوئی اسلئے کہ دو ساتھیوں کو سیٹ نہیں مل سکی تھی۔ دوسرا ساتھی مارا گیاتو افسوس کا اظہار کیاکہ یہ ہماری مدد کیلئے آیاتھا، جہاز لندن میں اتارا گیا۔ جیل میں پڑھنے کیلئے خواتین کے رسالے لینے سے انکار کیا۔ اخبار میں جمال عبدالناصر کی وفات کی خبر پڑھی تو رونے لگی کہ فلسطین کی آزادی کی آخری امید تھے۔ پھر جہاز اغواء کرکے لیلیٰ خالد کو رہائی دلائی گئی۔ جمعیت علماء اسلام ،جماعت اسلامی اور دیگر فلسطین کے حامی جماعتوں کو اب تو چاہیے کہ لیلیٰ خالد کو پاکستان کی دعوت دے کر اپنی جماعتوں اور عوام کو خواتین کی جدوجہدسے آگاہ کریں۔ یہ وہ مجاہدہ ہے جس نے امریکیCIAکیلئے کام نہیں کیا تو ا س کو دہشتگرد سمجھاجاتا ہے۔ نیٹ پر باکمال مجاہدہ سے آگاہی حاصل کریں۔
٭٭

فوٹو کی حرمت علامہ بنوری
غالبا مارچ میں راقم الحروف پاکستانی مندوب کی حیثیت سے مجمع البحوث الاسلامی کی پانچویں کانفرنس میں شرکت کے لیے قاہرہ گیا تھا، کانفرنس کے اختتام پر سابق صدر جمال عبدالناصر مرحوم نے گورنمنٹ ہاوس میں مندوبین کو ملاقات کی دعوت دی۔ جس شاہانہ کر و فر کا مظاہرہ ہوا اور جو بظاہر مصری حکومت کا خصوصی امتیاز ہے، اس کا ذکر مقصود نہیں۔ ترتیب کے مطابق ہر شخص ملاقات کیلئے جاتا، مصافحہ کرتا اور اسے کچھ کہنے کی خواہش ہوتی تو دوچار باتیں بھی کرلیتا۔ ملاقات اور مصافحہ کے بعد مرحوم نے مندوبین کے اعزاز کیلئے فوٹو گرافروں کو حکم دیا کہ ہر مندوب کا انکے ساتھ الگ الگ فوٹو لیا جائے۔آج کل جلسوں، کانفرنسوں اور عام اجتماعات میں فوٹو اتارنے کا مرض وبا کی شکل اختیار کرچکا ، یہ فتنہ اتنا عام ہوگیا کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی بچنا چاہے، نہیں بچ سکتا، پھر یہ معصیت اتنی پھیل گئی کہ لوگ اسے گناہ ہی نہیں سمجھتے، دورِ فتنہ نے معروف کو منکر اور منکر کو معروف بناڈالا، گناہوں کی گندگی سے قلب و ذہن مسخ ہوگئے اور کتنے ہی گناہ معاشرے میں ایسے رچ بس گئے کہ لوگوں کے دلوں سے گناہ کا تصور و ادراک ہی ختم ہوگیا۔مصر تو فوٹو کی وبا میں ہم سے بھی چار قدم آگے ہے، مدت ہوئی، وہاں کے ایک عالم شیخ محمدبخیت نے جو شیخ الازہر تھے، اسکے جواز میں رسالہ لکھ کر اس معصیت کو اور بھی عام کردیا۔ اسی رسالہ سے متاثر ہوکر حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے بھی معارف میں اسکے جواز پر مضمون لکھا تھا، امام العصر حضرت مولانا علامہ سید انور شاہ کشمیری کے حکم سے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اس پر ایک تردیدی مضمون لکھا جو القاسم میں شائع ہوا اور بعد میں التصویر لحکام التصاویر کے نام سے مستقل رسالہ کی صورت میں چھپ چکا ہے۔ الحمد للہ حضرت علامہ سید سلیمان ندوِی صاحب مرحوم نے اپنے مضمون سے اور فوٹو کے جواز سے رجوع فرما لیا تھا اور صاف اعلان کردیا تھا کہ: اب میں اسے حرام سمجھتا ہوں۔
خیرعرض یہ کرنا ہے کہ صدر مرحوم کی طرف سے جب اس خواہش کی تکمیل کا اظہار ہوا تو اس عزت افزائی پر مندوبین خصوصا عرب مندوبین کو بڑی خوشی ہوئی کہ جمال عبد الناصر کیساتھ ہمارا یاد گار فوٹو لیا جائیگا۔ ہر ایک نے باری باری صدر کی بائیں جانب کھڑے ہوکر فوٹو کھنچوائے، میں کوئی اِتنا صالح، متقی اور پارسا نہیں ہوں کہ ایسے مواقع میں بھی ان معصیتوں سے بچ سکوں، چنانچہ عام مجمعوں میں بہرحال فوٹو گرافر فوٹو لیتے رہتے ہیں لیکن صدر کیساتھ خصوصی فوٹو اتروانے کیلئے میری باری آنے لگی تو صف سے نکل کر اندر جاکر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اِتفاق سے صدر میرے سامنے تھے اور مجھے خوب دیکھ رہے تھے، جب میری باری آئی تو صدر نے دو ازہری علماء سے جو اس وقت ان کے سامنے تھے، کہا کہ جاؤ اور پاکستانی شیخ کو بلاؤ، وہ آکر فوٹو کھنچوائے۔ الحمد للہ اس وقت میری دِینی غیرت جوش میں آئی، دِل نے کہا آج اپنے اکابر کے مسلک پر جمے رہو اور اس اعزاز کو ٹھکرا دو!۔ آج اس حدیث نبوی پر عمل کرنا ضروری ہے: لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق۔ یعنی معصیت میں کسی امیر کی اطاعت جائز نہیں، امیر کی اطاعت بس جائز امور میں ہے۔ ان حضرات نے مجھ سے کہا: سیادة الرئیس یدعوک لاخذ الصورة معک، جناب صدر آپ کو اپنے ساتھ فوٹو بنوانے کیلئے بلاتے ہیں۔ میں نے کہا: لاحب ذلک، ولیست للصور عندی قیمة دینیة، فلا احبھا میں اسے درست نہیں سمجھتا، نہ میرے نزدیک اس کی کوئی دینی قدر و قیمت ہے۔
(بصائر و عبر، حصہ اول، ص٢٧٢)
تبصرہ: عتیق گیلانی
علامہ سید محمد یوسف بنوری درباری عالم نہیں تھے۔ جنرل ایوب کے دور میں جمال عبدالناصر پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو علامہ بنوری کو بھی بلایا تھا۔ علامہ بنوری نے جنرل ایوب کی ذرا بھر بھی پرواہ نہیں کی تھی ۔ جمال عبدالناصر مصری صدر نے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس سے نہر سوئیز کی ملکیت واپس لی تھی اور فلسطینی اور عربوں کے قومی ہیرو تھے۔ مولانا بنوری کا تقویٰ، خلوص اور دینی غیرت کمال کی تھی۔ مفتی شفیع کا رسالہ انتہائی نامعقول ، حماقت اورمفاد پرستی پر مبنی تھا۔ انگریز کا دور تھا تو تصویر ناجائز ، شرک ، ناقابلِ معافی جرم اور خدا کی تخلیق میں مداخلت لیکن جب ریاستِ پاکستان میں اس پر عمل کا معاملہ آیا تو قطع وبرید کی انتہا کردی کہ ریاست کیلئے جائز ہے، کرنسی پر بھی اجازت ہے، تجارت کیلئے بھی جائز ہے۔ جوہری دھماکہ کتاب میں اس مفادپرستی اور حماقتوں پر وہ گرفت کی ہے کہ درباری علماء کا جنازہ نکل گیاتھا جس میں لکھا تھا کہ ”مزدور کا گارے مٹی کا مکان بنانا بھی اللہ کی تخلیق میں مداخلت ہے لیکن معاف ہے ”۔ نرسری کا بچہ بطخ کا بچہ بنائے تو خدا کی تخلیق میں مداخلت اور فارمی مرغی، گائے، پرندے کوئی مداخلت نہیں؟۔ دنیا میں کتے کی بریڈ الگ الگ مقاصد کیلئے بن رہی تھی تو قرآن واحادیث کے واضح احکام کی انتہائی غلط تشریح کررہے تھے۔
علامہ بنوری کی روح کو تسکین پہنچی ہوگی جب انکے مدرسہ کے طالب نے تصویر کیخلاف بھرپور مہم چلائی اور افغان طالبان نے حکومتی سطح پر تصویر پر پابندی لگائی ۔ علماء حق و درباری ملاؤں میں یہی فرق ہے لیکن جب جوہری دھماکہ میں علم کا جوہر دکھایا تو تبلیغی ، صوفی ، علماء ومفتیان اور سب تصویر کے قائل ہوگئے۔حلالہ کی لعنت، تصویر کی حرمت اور نیوتہ کی رسم کو سود قرار دینے کا مسئلہ علامہ بنوری نے مفتی شفیع جیسے لوگوں پر چھوڑ دیا تھا اور ہم نے بھی شروع میں ان پر اعتماد کیا تھالیکن علامہ بنوری کا مقصد مدرسہ کھولنے سے روایتی علماء پیدا کرنا نہ تھا بلکہ قرآن وحدیث کی سمجھ اور اس پر عمل تھا اور الحمد للہ مجھے اللہ نے شرف بخش دیا کہ انکے مشن کی تکمیل کروں۔فاما بنعمة ربک فحدث ”پس اپنے ربک کی نعمت کو بیان کریں”۔
بنوری ٹاؤن میں حضرت مولانا بدیع الزمان کی شخصیت پر کوئی حرف نہیں تھا۔ جب حاجی عثمان پر مفادپرست ،دین فروش ، احمق اور مجذوب طبقے نے فتویٰ لگایا اور میں نے بفضل تعالیٰ ناکوں چنے جبوائے تو مولانا بدیع الزمان میرے اس کردار پر بہت خوش ہوئے تھے اور پوچھا تھا کہ وہ طالب علم جو چائے زیادہ پیتا تھا۔ پھر میں نے گھر پر حاضری دی تھی۔ ان کا بیٹا اور بھتیجا میرے کلاس فیلو تھے۔
تخصص کا کورس مولانا بنوری نے شروع کرایا تھا جس میں عربی لغت، قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ علماء کو پڑھائے جاتے تھے ۔ دارالعلوم دیوبندکے نصاب میں طلب الکل فوت الکل تھا۔ مولانا کے بھتیجے نے ڈاکٹر حبیب اللہ مختار سے کہا کہ مفتی سمیع تو وہ غصہ ہوگئے کہ دار الافتاء میں مفتی سمیع ہے؟۔ اس نے کہا کہ مولوی سمیع۔ ڈاکٹر مختار نے غصہ میں کہا کہ مولانا نہیں کہہ سکتے؟۔ دار العلوم دیوبند میں مولوی شیخ الہند تھے اور پھر مولوی کو توہین سمجھا گیا۔ پہلے مولوی فارغ پھر مفتی بھی فارغ۔ جس جہالت کا ماحول ہے اس کو مدارس کے علماء و طلباء خوب سمجھتے ہیں۔ انشاء اللہ اب سب سمجھیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ رحمان میں گھر، معاشرے، ملک ، خطے اور بین الاقوامی دنیا کو امن وامان کے قیام کا بہت ہی زبردست پیغام ہے

سورہ رحمان میں گھر، معاشرے، ملک ، خطے اور بین الاقوامی دنیا کو امن وامان کے قیام کا بہت ہی زبردست پیغام ہے

الرحمنOعلّم القراٰنO”رحمان نے قرآن نے سکھایا۔انسان کو پیدا کیا، اس کو بیان سکھایا،سورج و چاند حساب پر ہیں۔ بیل ودرخت سجدہ کرتے ہیں۔ آسمان کو بلند کردیا ،میزان کو قائم کیا۔ پس وزن انصاف کیساتھ قائم کرو ۔ میزان کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ زمین کو ہم نے مخلوق کیلئے بنایا ۔اس میں پھل و غلاف والی کھجور ہیں اور اناج ہے خوشوں و خوشبو والی۔ پس دونوں اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟۔ انسان کو ٹھیکری کی بجتی مٹی سے پیدا کیااور جن کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا……..”۔ سورہ رحمان کی آیات دیکھ لیجئے

اللہ تعالیٰ انسان کو براہِ راست قرآن سکھانے کی وضاحت کرتا ہے

بحری جہاز مغرب نے بنائے ۔ اللہ نے قرآن سکھایا کہ سمندر میں پہاڑ جیسے جہازہیں؟۔ سورج چاند کا حساب ، گرہن کا قبل ازوقت پتہ چلنا ہر تعلیم یافتہ براہ راست سمجھ لیتا ہے ۔
اللہ نے قرآن میں سورج ،چاند ، بادل اور ہر چیز کو انسان کیلئے مسخر کرنے کی وضاحت فرمائی۔ مسلمان کا سائنس میں بڑا کردار تھا لیکن مذہبی طبقہ خود ساختہ فرائض اور حلال وحرام میں لگ گیا۔ مذہب اچھا دھندہ تھااسلئے دانشور بھی گھس بیٹھے؟۔
اللہ نے نظام کائنات میں توازن رکھا ۔ ایک آسمانی میزان وتوازن ہے، دوسرا زمینی نظام کا میزان اور عدم توازن ہے۔ اللہ نے زمینی نظام کا توازن قائم کرنے کا ہمیں حکم دیا۔ توازن بگاڑنے سے نقصان ہوتا ہے۔ اللہ نے زمین مخلوقات کیلئے بنائی اور جب کوئی دوسرے کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کی وجہ سے توازن میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اوربڑا نقصان پہنچتا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی کیساتھ روکا ۔ اگر مسلمانوں اور دنیا بھر کے انسانوں کو قرآن سمجھ میں آگیا تودنیا جنت بن جائے گی اور اگر اپنی خصلت سے باز نہیں آئے تو پھر دنیا جہنم بنے گی۔ سورہ رحمان میں ہائی بریڈ اناج، پھل اور جانوروں سے اللہ نے منع نہیں کیا بلکہ تسخیرکائنات کی ترغیب دی ہے لیکن یہ بھی واضح کیا کہ توازن میں بگاڑ پیدانہ کرو۔ مثلاً اناج کو خوشے اور خوشبو دار بنایا ۔ اگر ہائی بریڈ گندم منرل اور خوشبو سے محروم ہو تو نقصان اور بگاڑ ہے۔والحب ذوالعصف والریحان ” اور اناج کو خوشے دار اور خوشبودار بنایا ”۔(یہ صحیح ترجمہ ہے) فارمی مرغی کو اللہ نے تخلیق میں مداخلت نہیں قرار دیا ،یہی تسخیر کائنات ہے۔ تخلیق کا توازن اہم ہے۔ اگر اچھے انسانوں کے ہاتھ میں یہی چیزیں آجائیں تو کاروباری مقاصد سے زیادہ انسانی صحت اور انسانیت بلکہ تمام مخلوقات کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔
انسان کی پیدائش کا اللہ نے مختلف آیات میں ذکرکیا ہے کہ اس کو کمزور پیدا کیا گیا، جلدبازی سے پیدا کیا گیا۔ زندگی پانی سے پیدا کی اور انسانوں میں ہوا،پانی، مٹی اور آگ سبھی ہیں۔ بجتی ہوئی مٹی آگ کی تپش سے بنتی ہے جیسے مٹکے وغیرہ اور اس میں عمل سے ردِ عمل کی خاصیت ہوتی ہے۔ جیسا کہ اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے تو جواب میں بجنے کی آواز آتی ہے۔ انسان کو اللہ نے بیان سکھایا اور ہر ایک کو عمل کا ردِ عمل دے سکتا ہے۔
اس عمل اور ردِ عمل میں اسکا ہمزاد شیطان شریک ہے۔ جس کی خاصیت آگ کا شعلہ ہے۔ لاس اینجلس تباہ ہوا۔ غزہ کی لڑائی سے تباہی مچی۔ افغانستان، عراق ، شام ، لیبیا اور پاکستان میں کتنا نقصان ہوا۔ میاں بیوی، رشتہ دار ، پڑوسی ، فرقہ وارانہ اور قوم پرستی سے بین الاقوامی سطح تک ماحولیاتی آلودگیوں سے عالم انسانیت غرق ہے اور عدالت، جج اور صحافیوں سے لیکر سیاستدانوں اور حکمرانوں تک عدم توازن کی شکار دنیا کو ہر لحاظ سے اعتدال وتوازن کی طرف لانا سورہ رحمن کا بڑامشن ہے۔
ویل لکل ھمزة لمزہOالذی جمع مالًا وعدّدہOیحسب ان مالہ اخلدہO” ہر طعنہ زن پیٹھ پیچھے باتیں لگانے والا ہلاک ہو، جس نے مال جمع کیا اور اس کو گنتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ زندہ رکھے گا”۔
وقل رب اعوذ بک من ھمزات الشیٰطینOواعوذبک رب ان یحضورونO” اور کہو کہ اے میرے رب! میں شیطانی طعنوں سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری پناہ چاہتا ہوں کہ ان کا سامنا کرنا ہو”۔(المؤمنون: 97، 98)
چھوٹی سطح سے لیکر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک انسان نماان شیطانوں سے پناہ کی تلقین ہے جو طعنہ زنی اور پس پشت باتیں بنانے اور مال اکٹھا کرنے کے حریص ہیں۔ رشتہ دار، پڑوسی، صحافی، سیاستدان،حکمران، اپوزیشن ، مذہبی طبقات اور دنیا بھر کی تمام قوتوں میں آگ لگانے اور لڑانے کا حربہ طعنہ زنی اور پس پشت جھوٹی باتیں بنانے اور مال بنانے کی وجہ سے ہیں۔
ہر عمل کا ردِ عمل بگاڑ فساد فی الارض ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: ”لوگو!دشمن کا سامنا کرنے کی تمنانہ کرواور اللہ سے عافیت مانگو اور جب ان سے سامنا ہوتو صبر سے ثابت قدم رہو اور جان لو! کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے”۔ قرآن عبادت کو مالی معاملات اور انسانی حقوق سے الگ نہیں کرتا۔لالچی وبدفطرت لوگوں کا راستہ روکنا زمین کو فساد فی الارض سے بچانا ہے۔سورۂ رحمن اور قرآن سے یہی سبق ملتا ہے لیکن مسلمان غور نہیں کرتا۔ انسان قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دنیا کی ترقی سے قرآن سمجھ میںبڑی اچھی طرح آسکتا ہے۔
٭٭

یرسل علیکما شواظ من نار ونحاس فلا تنتصران ،الرحمن:35

قرآن میںایٹمی جنگ کا تذکرہ

دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر ایٹم بم گرایاگیا ۔ قرآن کے اعجاز میں عربی عالم عبدالدائم الکحیل نے سورہ رحمان کامعجزہ عدد کے اعتبار سے اسی آیت35کو قرار دیا ہے۔
اللہ مشرق ومغرب کا رب ہے۔ تعصبات تخریب ہے۔ اگر دنیا کے نظام کو عدمِ توازن کا شکار بنایا تو معاشرتی سطح سے بین الاقوامی سطح تک خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ پاک افغان یا بھارت جنگ ہو۔ شیعہ سنی، ہندو مسلم، پشتون پنجابی، بلوچ پنجابی ، بریلوی دیوبندی، حنفی اہلحدیث، داعش طالبان جنگ ہو یا پھر قبائل، ملکوں اور بین الاقوامی ہر قسم کے دو متحارب گروہوں نے اعتدال سے ہٹ کر توازن کو بگاڑ دیا تو خسارہ مقدر بنے گا۔
تبلیغی جماعت اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین بتاتی ہے لیکن اللہ کے احکام کا پتہ علماء کو نہیں تو جہلاء کو کیسے ہو گا؟۔
” میں تمہارے لئے عنقریب فارغ ہوں گا اے دوبھاری گروہ! تم دونوں اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے۔اے جنوں اور انسانوں کا معاشرہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکلو۔تم نہیں نکل سکتے ہو مگر سلطان کیساتھ۔تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟۔ تم پر آگ کے گولے بغیر دھویں والے اور دھواں بھیجا جائے گا تو پھر تمہاری مدد نہیں کی جاسکے گی”۔ (الرحمان:31تا35)
آج انسان میں شعور آگیا اور اللہ بھی فارغ ہے۔ انسان اور جن جہازوں اور خلائی شٹل سے زمین اور آسمانوں کی حدود پر جاتے ہیں اور یہ سلطان ہوسکتا ہے۔اگر جاپان پر تجربہ کے بعد بھی روس، امریکہ، فرانس، اسرائیل، ہندوستان، چین اور پاکستان ایٹمی جنگ کی طرف گئے تو کوئی مدد نہیں ہوسکے گی۔
دنیا تیسری جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے اور اللہ انقلاب عظیم کی دعوت دیتا ہے جس سے تمام مذاہب و ممالک کے اچھے لوگ دنیا میں جنت پائیں اور مجرم بلا امتیاز جہنم پائیں۔
اسرائیل وفلسطین سمیت دنیا بھر کے اچھے لوگ اپنی اچھائی کا بھرپور صلہ پائیں ،جرائم پیشہ انجام کو پہنچیں ۔ مذہبی تعصبات کی جگہ انسانیت لے لے۔ مجرموں کی لڑائی سے معصوم لوگ اذیت کا شکار ہوں تو پاکستان،افغانستان ، امریکہ اوردنیا بھرکا حکمران طبقہ ہمیشہ سخت سیکیورٹی کی اذیت کا شکارہی رہے گا۔
٭٭

مرج البحرین یلتقیانOبینھما برزخ لایبغیانO”دو سمندروں کے بیچ میں آڑ ہے جو حدود سے تجاوز نہیں کرتے” ۔
عربی میں بحر، بحیرہ،دریا، نہر اور ندی سبھی کو بحر کہتے ہیں۔ برزخ درمیان کی چیزہوتی ہے جیسے دنیا وآخرت میں عالم برزخ ہے۔
فاذاانشقت السماء فکانت وردة کالدھانOپس جب آسمان پھٹ پڑے اور ہوجائے گلاب کا پھول جیسے چاول کی فصل ہو۔ (الرحمن:37) امریکی آفت غزہ پر مظالم کی وجہ سے آسمانی تحفہ سمجھا جانے لگا۔ جو تنبیہ یا مخالفین کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔

طالبان اور امریکی اہلکار مفتی عبدالرحیم کا بہت احترام کرتے تھے؟

2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی قرار داد پیش کی تو بھارت نے اس کی مخالفت کی تھی۔ہم نے اسی وقت بھارت کو خراج تحسین اور کلبھوشن یادیو کی رہائی کی تجویز پیش کی تھی۔آج بھی پڑوسی ممالک سے تعلقات کی بہتری ترجیح ہونی چاہیے۔
جاوید چوہدری نے لکھا: طالبان اورافغانستان میں امریکی نژاد حکومت کے اہلکار دونوں مفتی عبدالرحیم کا بہت احترام کرتے تھے۔(7مارچ2023جامعة الرشید میں ایک دن)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان طالبان اور امریکی نژاد افغانستان میںحکومتی اہلکاروں میں یہ حسن اتفاق کس بات کا کرشمہ تھا؟۔ ارشد شریف شہید نے کہا تھاکہ آئندہ آرمی چیف بننے کیلئے سب سے زیادہ موزوں اور پہلے نمبر پر سید عاصم منیر کا نام ہے اور بہت زیادہ تعریف کی تھی اور مسلم لیگ ن کے حامی صحافی راشد مرادMRلندن ٹی وی نے بھی بہت پہلے یہی پیش گوئی کی تھی کہ عاصم منیر کو آرمی چیف بنایاجائے گا۔ مگر اس نے اس کو گہری سازش قرار دیا تھا۔ یہ اللہ کا بہت بڑا کرشمہ ہے کہ عاصم منیر کی تعیناتی پر دونوں طرف کا معاملہ سراسر مختلف تھا۔
جمہوری و مذہبی قوتوں کے پیچھے سازشیں لیکن جب تک اپنی اصلاح نہیں کریںگے تو کوئی واویلا کام نہ آئیگا۔اگر ہوش کے ناخن نہیں لئے تو تباہی اور غلامی بھی مقدر بن سکتے ہیں۔
اللہ نے دعوتِ فکر دی کہ دو سمندر حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ پاکستان ، خطے اور دنیا کو خطرات کا سامنا ہے۔ جہاز ، ہیرے جواہرات ، قیمتی اشیاء تیل وگیس کی دریافت اور اس کو نفع بخش بنانے کی ضرورت ہے لیکن اس پر قبضہ کرنے کی سازش کرکے دنیا کو تباہ وبرباد کرنے کے نتائج بہت خطرناک ہوسکتے ہیں۔
پانامہ میں بھی امریکہ نے دو بحر میں راستہ نکالا تھا ۔جس سے1970کے دہائی میں امریکہ نے پانامہ کے حوالے کیا۔ ٹرمپ کی بات پر شور مچا۔تو اس کو سورہ رحمان بتائیں۔ کراچی کی لیاری اور ملیر ندی شفاف پانی سے مالا مال تھیں جن کو آلودہ کردیا گیا۔کانیگرم شہر وزیرستان کے دونوں طرف بھی ندیاں ہیں۔ عربی میں سمندر، دریا، نہر اور ندی کو” بحر” کہتے ہیں۔اور برزخ آڑ اور حقائق کے تناظر میں تاریخی واقعات ہیں۔
تکاد السماوات یتطفطرن من فوقھن ” قریب ہے کہ تمام آسمان پھٹ جائیںان کے اوپر سے”۔ شوری:4
مفتی تقی عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا کہ ”فرشتے اتنی تعداد میں عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں”۔ حالانکہ مظالم ، سود کو حلال اور حلالہ کی لعنت سے عزتیں برباد، قتل وغارت اور نا انصافی و نافرمانی کے باعث فرشتے اجازت مانگتے ہیں کہ ان دلّوں اور دلّالوں کو عذاب دیں ۔ جیسے طائف میں نبیۖ کو اذیت دینے پر فرشتوں نے اجازت مانگی تھی۔
وماتفرقوا الا من بعد ما جائتھم العلم بغیًا بینھم ولولا کلمة سبقت من ربک الیٰ اجلٍ مسمًی لقضی بینھم وان الذین اورثوا الکتاب من بعد ھم لفی شکٍ منہ مریبٍ ” اورانہوں نے تفریق نہیں ڈالی مگر جب انکے پاس علم آیاباہمی فحاشی (حلالہ سینٹروں) کی وجہ سے اور اگر اللہ مقررہ وقت (خلافت ) تک پہلے لکھ نہ چکا ہوتا تو انکے درمیان فیصلہ کردیتا اور جن کو انکے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا تواس سے شک میں پڑگئے”۔ سورہ الشوریٰ آیت:14
قرآن کی رہنمائی سے حالات درست ہوجائیں گے اور عالم انسانیت کے تمام اچھے لوگ بھی ساتھ کھڑے ہوں گے۔
سورہ رحمن کی آیات کا ایسا ترجمہ ہوگا کہ اللہ انسان کو براہِ راست قرآن سکھائے گا۔ ابن عباس نے درست فرمایا تھا کہ ”قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ علماء نے محکم آیات کا بیڑہ غرق کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تو متشابہات کی آیات کو اللہ نے ہرگز ان کے ذمہ نہیں چھوڑنا تھا۔ جب دنیا میں قرآن کے ذریعے طرز نبوت کی خلافت قائم ہوجائے گی تو فسادات کا ماحول امن وامان میں بدل جائے گا اور دنیا کو چار چاند ہی نہیں بلکہ چار جنت لگ جائیں گے ۔ جنتان دوجنت ہوں گے اور ذواتا افنان دونوں فن پارے کا عظیم نمونہ ہوںگے۔ مصنوعی ایجاد سے مزین ڈزنی لینڈ کے پارکوں کو پیچھے چھوڑ دیںگے۔ ومن دونھا جنتان ان دو کے علاوہ دو اور جنت ہوں گے۔
قیامت کے بعد جنت کا تصور بالکل دوسرا ہوگا اور اس دنیا میں چار جنتوں کی بات عظیم انقلاب کی بنیاد ہوگی۔ پاکستان کو اللہ سورہ الدھر کا مصداق نعمتوں اور ملک کبیرکا مرکز بنادے۔
٭٭٭

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کچھ جہالتیں اور اسکے شاندار جوابات

ڈاکٹر ذاکر نائیک
نے مروت پختون لڑکی کے سوال کا بڑا جاہلانہ جواب دیا تھا
فرقہ کی بنیاد پرطلاق کا جواب جاہلانہ تھا

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کچھ جہالتیں اور اسکے شاندار جوابات

لکی مروت کی ایک پشتون حافظہ یتیم لڑکی نے مذہبی طبقے کے کردار پر تضاد کا سوال اٹھایا توڈاکٹر ذاکر نائیک نے انتہائی جاہلانہ جواب دیا تھا۔ اس کا قرآن سے درست جواب یہ تھا۔ اللہ نے فرمایا:
قدافلح المؤمنونOالذین ھم…….
”بیشک مؤمنین کامیاب ہوگئے۔ وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشیت رکھتے ہیںاور وہ جو لغو چیزوں سے پہلو تہی برتتے ہیںاور وہ جو زکوٰة دیتے ہیں اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اپنی بیویوں پر اور جن سے معاہدہ ہوچکا ہے۔ پس بیشک ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ جو اس کے علاوہ ڈھونڈے تو وہی لوگ اپنی حدوں سے تجاوز کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد وپیمان کی پاسداری کرتے ہیں۔ وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ فردوس کے وارث ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیںگے”۔المؤمنون۔1تا11
ڈاکٹر ذاکر نائیک جواب میں قرآن کی آیات پڑھ دیتا تو نہ صرف لکی مروت کے پختون بلکہ ہمارا حکمران، سیاستدان، تاجر، صحافی اور دنیا بھر کا ایک ایک مسلمان قرآن کے آئینہ میں اپنے کردار کو بھی ٹٹولتا اور اصلاح کی کوشش بھی کرتا۔ خاص طور پر ہمارا وہ مذہبی ٹٹو طبقہ جو اسلام کے پیچھے چھپتا ہے۔
پاکستان میں دیوبندی دیوبندی کو مشرک قرار دیتا ہے، بریلوی کو مشرک قرار دیتا ہے۔ کسی پر کفر، کسی پر گستاخی، کسی پر توہین اور کسی پر شرک ، کسی پر بدعت کے فتوے لگاتا ہے۔ خیبر پختونخواہ کا ایک مشہور عالم دین جو جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھتا ہے اس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آمد سے پہلے کہا تھا کہ میں اس کو ایسا ماروں گا……..”۔ بریلوی کا حال اس سے بھی دو انگلی آگے ہے اور اہل حدیث اور شیعہ اس سے بھی بہت آگے ہیں۔ لیکن پھر بھی فرقوں سے بالاتر رشتہ داریاں ہیں۔ آرمی چیف سنی اور بیگم شیعہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ اگر فلاں عورت کا شوہر دوسرے فرقہ سے ہے تو پہلے توبہ اور پھر طلاق بنتی ہے۔ حالانکہ پہلی بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر ذاکر نائیک سے عیسائی نے سوال کیا کہ نبیۖ سے کہا گیا تھا کہ ہم اپنے علماء اور مشائخ کو نہیں پوجتے تھے تو اب مسلمانوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے تو ڈاکٹر ذاکر نائیک نے انتہائی جاہلانہ جواب دیا کہ ”مسلمانوں میں کوئی ایسا نہیں جو اپنے پیروں کو پوجتا ہو۔ میں نے تو نہیں دیکھا، اگر آپ کو معلوم ہو تو بتادیجئے”۔ حدیث کا جواب یہ تھا کہ ”نبیۖ نے فرمایا: اپنی طرف سے حلال و حرام کرنا اور اس کو ماننا ہی رب بنانا ہے”۔ واقعی جو علماء ومفتیان سود کو حلال قرار دے رہے ہیں اور ان کی بات کو مسلمان مان رہے ہیں تو یہودونصاریٰ ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر ایک کاروباری مذہبی شخصیت اور جاہل ہیں اسلئے سوال کا درست جواب نہیں دیا۔ البتہ قرآن نے اسکے باوجود اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے پارسی عورت سے شادی کی تو اس کی بیٹی نے بھی پارسی سے نکاح کیا تھا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کہتا ہے کہ اگر ہندو اپنی کتابوں ویدوں کو مان لیں تو مسلمان اور ہندو میں پھر کوئی فرق نہیں ہے جس کا مطلب ہندو بھی اہل کتاب ہیں۔ شاعرہ لتا حیا کہتی ہیں کہ ”جو نوح پر نازل ہوا اسلام وہی تو ہے”۔ یعنی ہندو بھی حضرت نوح کی امت ہیں۔ جب اہل کتاب سے نکاح کی اجازت ہے اور مسلمانوں میں کوئی مشرک بھی نہیں ہے تو ڈاکٹر ذاکر نائیک جاہل کے کہنے پر کوئی عورت اپنے شوہر کو نہیں چھوڑے۔ ریاست ہی نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو مدعو کیا تھا اسلئے اس کا فرض بنتا ہے کہ جو گند اس نے پھیلایا ہے اس کو صاف کرے۔ ورنہ تو لوگوں کے دلوں میں بہت زیادہ خدشات ہوں گے کہ نکاح صحیح یا غلط؟۔ جبکہ نبیۖ نے ام ہانی کو مشرک سے نہیں چھڑایا تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv