پوسٹ تلاش کریں

منظور پشتین پر علی محمد خان کے بیانیہ کا سب ہی کیلئے قابلِ قبول جوابی بیانیہ

malala-yousuf-manzoor-pashteen-asma-jahangir-imran-khan-taliban-army

منظور پشتین نے پوری ریاست اور اسکی لے پالکوں کو جتنا بڑا ٹف ٹائم دیاہے وہ میرے لئے بہت باعثِ حیرت ہے۔ ڈاکٹر شاہددانش کا اپنا مزاج ہے۔ 24چینل کے پروگرام میں ایک انوار الحق کاکڑ اورایک ریٹائرڈ برگیڈ ئیر کی باتیں بہت معقول تھیں۔ جنگوں کی حالت میں انسانی حقوق کے پیمانے بالکل ہی عام حالات سے مختلف ہوتے ہیں اور کور کمانڈر منظور پشتین سے مذاکرات کیلئے ٹیم تشکیل دے چکے ہیں اور سیاسی حکومت عدالتوں میں کرپشن کی پیشیاں بھگتنے میں مصروف ہیں جن کا کام مذاکرات تھالیکن تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کی باتیں سن کر سمجھ نہیں پاتا تھا کہ آدمی ہنسے یا روئے؟۔ علی محمد خان منظور پشتین کے پرامن ساتھیوں سے گولی کھاکر شہید ہونے اور پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہونے کی وصیت کرکے کہہ رہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا بے غیرت ماموں بھی بنگلہ دیش میں ہتھیار ڈال گر انڈیا کی جیل کاٹ کر آیا تھا اور آج میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ جنرل نیازی کی طرح ہتھیار ڈالنے کیلئے ہر وقت دستہ بستہ عمران خان نیازی کی لیڈرشپ میں کام کررہا ہوں۔ یہ اچھے رشتے ہیں لیکن بھارت کی جیل کاٹنے میں فخر کی کونسی بات ہے؟۔ مشرقی پاکستان نہیں بچایا تو بقیہ بچانے کیلئے یہ کہنا چاہیے تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ یہ غلطی ہوگئی اور اب مجھے منظور پشتین کیا امریکن فوج بھی آئے تو میں گولی کھالوں گا مگر سرنڈر ہونے کی غلطی نہیں کروں گا۔
منظور پشتین کے دادا نے کشمیر کے جہاد میں1948ء میں حصہ لیا تھا اور سری نگر تک فتح کے جھنڈے گاڑھ دئیے تھے ۔مگر نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم راعنا لیاقت علی خان کو فوج کے جرنیل کا عہدہ دیا گیا تھا اور اس کی سازش سے مقبوضہ کشمیر کوپھر بھارت کے حوالے کیا گیا۔ پاک فوج کو ان بے غیرت سیاسی رہنماؤں سے ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے کہ جب طالبان کا مقابلہ پشتو ن قیادت قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی خان، بشیربلور شہید، میاں افتخار حسین ، محمود خان اچکزئی ، ملالہ یوسف زئی اور افضل خان لالہ مرحوم کررہے تھے تو ن لیگ اور تحریک انصاف کے بے غیرت رہنما ان پر امریکی ایجنٹ کا الزام لگاتے تھے۔ فوج ضرب عضب کے مقدس مشن میں مگن تھی اور عمران خان دھرنوں بلکہ مجروں سے خطاب کے دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے۔ جب فوج کی لاشیں چھپ چھپاکر دفن کی جارہی تھیں تو آصف زرادی نے شہید کہنے کی جرأت کرلی۔
فوج ان بے غیرتوں کی غلط بیانی سے مغالطہ کھا جاتی ہے اور بسا اوقات مکڑے کے جال میں مکھی کی طرح پھنس جاتی ہے۔ خوشامد بھی تو ایک بڑا کارآمد ہتھیار ہے۔ فوج نے جس طرح ایک وقت تک بے غیرت سیاستدانوں کی فوج ظفر موج کو پالا تھا ،ایک بے غیرت کی جگہ دوسرا زیادہ بے غیرت لے لے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ منظور پشتین غیرتمند باپ اور غیرتمند دادا کی غیرتمند اولاد ہے وہ کسی کٹھ پتلی کا کردار ادا نہیں کرسکتا ہے۔ اس بات کا عوام کو اطمینان ہوجائے کہ منظور پشتین کے پیچھے فوج کا ہاتھ نہیں تو عوام کا ٹھاٹھے مارتا ہواسمندر سیاسی بڈھے ہجڑوں کو شکست دیگا۔ جس طرح ہجڑے جواں ہوں تب بھی ان میں جنسی خواہش نہیں ہوتی ہے لیکن کشش ہوتی ہے اور اپنی حرکتوں سے لوگوں کو مغالطہ دیتے ہیں کہ ان میں بھی خواہشات ہیں۔ اسی طرح سیاسی قائدین اور بیشتر رہنماؤں میں عوام کاکوئی درد نہ ہوتا تھا مگر عوام کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ اب تو ان سیاسی قائدین اور رہنماؤں کی حالت بڈھے ہجڑوں کی طرح ہے جو صرف انسانی بنیادوں پر قابلِ رحم نظر آتے ہیں۔
پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور قرآن پاک میں جہاں نبی پاک پیغمبرآخر زمانﷺ اور مقدس صحابہ کرامؓ کی اصلاح کا مثالی کارنامہ انجام دیا گیا ہے ۔ نبیﷺ کو عبداللہ بن مکتوم ایک نابینا صحابیؓ کے آنے پر عبس وتولیٰ ان جاء ہ الاعمیٰ نازل ہوئی۔ آیات کا مقصد یہی تھا کہ آنیوالے وقت میں جو خود کو مقدس گائے قرار دیکر اصلاح کی کوشش کو ناقابلِ برداشت کہے تو اس بے غیرت اور بے ایمان خوشامدی کا بھی پتہ چلے۔
پاک فوج نے منظور پشتین کی تحریک کا شروع میں خیرمقدم کیا تھا اور چیک پوسٹوں پر معاملات بھی درست کردئیے تھے۔ اور یہ فوج کے مفاد ہی میں تھا۔ لوگوں نے طالبان کے کردار کی وجہ سے دھوکہ کھایا ہے اور ان کے ذہنوں میں سازش کا خدشہ تھا اسلئے منظور پشتین سے زیادہ تر دور دور ہی رہے لیکن اب معلوم ہوگیا ہے کہ واقعی یہ انکے دل کی آواز اور عوام کی ہمدردی ہے جو زبردست مقبولیت کا ذریعہ بنے گی۔ فوج کی طرف سے تھوڑی بہت مخالفت سے عوام میں غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں۔ عوام ایک سیاسی قیادت کی ضرورت ہے اور پشتون نہیں بلکہ بلوچ، سندھی اور مہاجروں کے علاوہ سب سے زیادہ مظلوم پنجابی ہیں۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ پنجاب کے غریب اور مظلوم عوام منظور پشتین کی قیادت کیلئے ترس رہے ہیں۔ غریبوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں مگر پُر تکلف کھانوں، ہیلی کاپٹروں اور پروٹول کے شوقین لیڈر وزیراعظم کا خواب دیکھنے کیلئے مررہاہے۔منظور پشتین کی غلط باتوں اور بیانیہ کا جواب الزامات لگانے سے عوام کو نہیں مل سکتا ہے بلکہ معقول طریقے سے بات کا جواب بات سے دینا پڑیگا۔
منظور پشتین کہتا ہے کہ’’ مجھ سے کہا گیا کہ طالبان کیخلاف بیانات دینا شروع کردو تو پوری قوم تمہاری قیادت ماننے کیلئے تیار ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ملالہ یوسف زئی نے طالبان کے خلاف بیانات دئیے، طالبان نے گولی ماردی ، تم نے اس کی آمد پر بھی بلیک ڈے منایا ۔ تمہیں پشتونوں سے دشمنی ہے۔ تم نے ہمیشہ دوسروں کی جنگ صرف پیسوں کی لڑی ہے اور ہم پر بھی یہی گمان رکھتے ہو کہ کسی کی جنگ پیسوں کیلئے لڑ رہا ہوگا ۔ میں تمہارے دل ودماغ کی سوچ کو معذور سمجھتا ہوں۔ تمہاری اس سے زیادہ سوچ نہیں ہے اور نہ میں سمجھا سکتا ہوں‘‘۔
کھڈوں کیلئے الزام تراشی کے سوا دوسری کی بات سوجھتی ہی نہیں ہے۔ منظور پشتین کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون قوم سے تیری محبت ایمان کی علامت اور سلیم الفطرت ہونیکی نشانی ہے، یہ تجھ پر اللہ کا فضل ہے کہ اپنی قوم کیلئے آواز اٹھادی ہے ورنہ ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ عمران خان نے گلشا عالم برکی کیلئے بھی نہ پوچھا جس نے مشکل وقت میں عمران خان کو یہودیت کے طعنے برداشت کئے۔ ہاں قوم کی محبت اور تعصب میں بہت بڑا فرق ہے۔ تعصب بے ایمانی کی نشانی ہے۔ جن لوگوں نے ملالہ کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ پختون وپنجابی کا مسئلہ نہیں تھا، یہ رنگ دینا تعصب ہے۔ عاصمہ جہانگیر پنجابی تھیں ان کو بھی تنقید سے پنجابی ہونے کی وجہ سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔ عاصمہ جہانگیر نے جس بہادری سے ہرقوم وزبان اور طبقے کیلئے آواز اٹھائی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ تعصبات کا پیمانہ لامحدود ہے اور عدل کا دامن پھر ہاتھ سے نہ صرف نکلتا ہے بلکہ بڑے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ مہاجروں اور بلوچوں کی قوم پرستی اور تعصبات سے سبق سیکھنا چاہیے حضرت ابوبکرؓ نے تعصبات سے نجات حاصل کی تھی تو قریش کے کمزور قبیلے سے تعلق کے باجودخلیفہ اول بن گئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہؓ انصار کے سردار تھے مگر تنہائی کا شکار ہوگئے۔ سابقین الاولین سے ہمیں سبق سیکھنا ہوگا۔
پاکستان اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہے۔ نوازشریف ومریم نواز سارا دن عدلیہ اور فوج کے خلاف بک بک کرتے ہیں اور سارے ٹی وی چینلوں بشمول پی ٹی وی کوریج بھی ملتی ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ نوازشریف نے فوج کو کینگرو سمجھ رکھا ہے۔ ایک عمر تک تو فوج نے اپنے بچے کو بوڑھے ہونے کے باوجود بھی اٹھائے اٹھائے گھمایا اور اب عمران خان کی چاہت ہے کہ فوج کینگرو بن کر اس بڈھے ہجڑے کو بھی اٹھائے گھومے۔
منظور پشتین نے اپنے دلیر، بہادر اور جوانمرد ساتھیوں کے ذریعے سے مظلوم پشتونوں کے دل کی آواز وہاں تک پہنچائی، جہاں سے داد رسی بھی ہوئی ہے۔ میرانشاہ اور میرعلی کے تاجر اپنا حق مانگنے سے بھی ڈرتے تھے۔ یہ سب کھدڑی لیڈر شپ ہی کا کمال تھا کہ عوام بزدل بن گئے تھے۔ اب منظور پشتین نے ہی قیادت کرنی ہے اگر وہ شہید کردئیے گئے تو علی وزیر زیادہ خطرہ ثابت ہوگا اور ان کو شہید کیا گیا تو خان زمان کاکڑ جیسے جوانوں کو میدان میں اتارا جائیگا۔ فوج بیچاری تو حکموں پر چلتی ہے مگر اصل مسئلہ سیاسی لیڈر شپ کا ہے۔ لے پالکوں اور دُم چھلوں سے جان چھوٹ جائے گی تو فوج سے عوام کی محبت بڑھے گی۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

دہشت گردی کی اصل کہانی: ایک وزیرستانی کی زبانی

manzoor-pashteen-ghq-shahid-khakan-black-water-shahid-masood-ratan-bai-ptm-shabbir-ahmed-usmani
میں سید عتیق الرحمن گیلانی سکنہ کانیگرم تحصیل لدھاجنوبی وزیرستان ایجنسی، و جٹہ قلعہ گومل تحصیل وضلع ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان پختونخواہ کویہ اعزاز حاصل ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ اسلام آباد کے دھرنے میں پہلی مرتبہ یہ برملا نعرہ لگایا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے،اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔پھر اخبار کی شہہ سرخی کی ذیلی بھی لگادی۔فوج کی پشت پناہی کے بغیر پاکستان میں انسان تو دور کی بات ہے چیونٹی کے لشکر میں اپنی قوم کا ہمدردیہ نعرہ نہیں لگاسکتا جو حضرت سلیمان ؑ کے دور میں چیونٹی نے کہا : ’’ بچو! کہیں سلمان کا لشکر تمہیں روند نہ ڈالے‘‘۔
منظور پاشتین کی پہلی تقریر نقیب اللہ محسود کیلئے وزیرستان کے ایک جرگہ کے دوران موجود ہے جس میں ایک معمر شخص کہتا ہے کہ’’ پولیٹیکل ایجنٹ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ چلیں فوج کے افسروں سے بات کرتے ہیں‘‘۔ منظور پاشتین اچانک عوام کی طرف سے نمودار ہوتا ہے اور اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ ’’ کراچی میں اب ایک کتنا پیارا جوان ماردیا گیا ، میں نے چھ سات طلبہ ساتھیوں کیساتھ آواز اُٹھائی ہے تاکہ یہاں سے بارودی سرنگین صاف کی جائیں۔ دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو پورے علاقے کی عوام کو سزا دی جاتی ہے۔مجھے پہلے بھی روکا گیا کہ آپ نہیں آیا کریں مگر میری بے بسی ہے ،بس آجاتا ہوں۔ مجھے پہلے فوج گرفتار کرکے لے گئی اور اپنے ساتھیوں کے احتجاج پر مجھے چھوڑ دیا گیا۔ ہم اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے، ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، اسلام آباد اور GHQ کے سامنے تک یہ سلسلہ لیکر جائیں گے۔ ہمارے لوگ قانون سے واقف نہیں ہیں۔ پاکستان کا یہ قانون ہے کہ کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے کے بعد 24گھنٹوں میں اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائیگا۔چاہے وہ گناہگار ہو یا بے گناہ ہو۔ بہت بے گناہ لوگ لاپتہ ہیں جن کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ زندہ ہیں یا ماردئیے گئے ہیں۔ پولیس ، فوج اور خفیہ ادارے سب قانون کے پابند ہیں۔ ہم آئین کے مطابق ہی اپنے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ منظور پاشتین کی اس تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ قبائلی عمائدین پہلے بھی اس باغی جواں کی طرف سے چیونٹی کیطرح قوم کی ہمدردی کیلئے آواز اٹھانے سے بیزار تھے اور خوف وہراس کا شکار تھے۔
نقیب اللہ محسود کیلئے کراچی میں جو دھرنا دیا گیا تھا وہ حکومت کے دباؤ پر ختم کیا گیا لیکن اسلام آباد دھرنے کے اصل محرک منظور پاشتین اور اسکے ساتھی تھے۔ یہ جھوٹ بولا گیا کہ کراچی کا دھرنا اسلئے ختم کیا گیا کہ اسلام آباد دھرنے میں شریک ہوں گے۔ اسلام آباد دھرنے کے اسٹیج پر جوان طبقے کا قبضہ تھا لیکن عوام سب کے سب بہت جذبات میں تھے۔ پاکستان کے حق میں کوئی ہمدردی والی بات کرنے کا ہلکا سا اشارہ دیتا تو مخالفت میں آوازیں اٹھنا شروع ہوجاتی تھیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات میں کہا کہ ’’ہم خود بھی فوج سے تنگ ہیں۔ منتخب وزیراعظم سے طاقتور کون ہوگا؟ ، پہلے بھی نوازشریف کے برسراقتدار خاندان کی جس طرح سے توہین کی گئی۔ کود کر گرفتار کرلیا، ہتھکڑی پہناکر گھسیٹاگیا ، جلاوطنی پر مجبور کیا گیا۔ اب دوبارہ نوازشریف کو نااہل کیا گیا، یہ سب فوج ہے‘‘۔ عمائدین کیلئے وزیراعظم کی زیارت ، فوج کے ڈراؤنے چہرے کی نقاب کشائی بہت تھی جو سب کو راتوں رات احتجاج ختم کرنے پر مجبور کر گیا لیکن منظور پاشتین اور بہت ہی کم ساتھیوں نے شامِ غریباں میں بھی اپنا دیا جلائے رکھا۔ جب میں نے دیکھا کہ عوام پر مایوسی اور خوف کی کیفیت طاری ہے تو ان کو حوصلہ دینے کیلئے نعرہ لگوایا کہ ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ جس سے اسٹیج کے منظم افراد میں مارے خوف کے بھگڈر سی مچ گئی۔ میری تقریر کا ایک ایک لمحہ منتظم افراد کے اوپر پہاڑ سے زیادہ بھاری گزر رہا تھا۔ میں نے واضح کیا کہ میں حقائق بتاؤں گا، ڈرو نہیں ،میں تمہیں لڑاؤں گا نہیں۔ میں نے تقریر کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعرسے کیا۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یابندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
اور اس کا اختتام اس بات سے کیا کہ قبائل ریاست کی نرینہ اولاد ہیں۔بیٹے مار بھی کھاتے ہیں، بے عزتی بھی برداشت کرتے ہیں لیکن والدین کے سامنے اُف نہیں کرتے۔ قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ والدین کے سامنے اُف نہیں کرنا۔ قبائل نے اتنی مشکلات برداشت کیں مگر اُف نہیں کی اور آج بھی یہ اُف کرنے نہیں آئے ہیں۔ یہ وہ نہیں جو کہتے ہیں کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ ریاست نے جن کو اقتدار دیا ہے وہ ریاست کی زنانہ اولاد ہیں، ان کی حیثیت ان بیٹیوں کی طرح ہے جن کو والدین ناز سے پالتے ہیں اور پھر وہ بھاگ کر کورٹ میرج کرلیتی ہیں اور یہ بیٹیاں بھٹو، نوازشریف اور عمران خان ہیں۔ بیٹوں پر سختی کی جاتی ہے تو اس نے اپنے باپ کا منصب اور ذمہ داریاں اٹھانی ہوتی ہیں۔ مجھے موقع نہیں دیا گیا ورنہ بہت تفصیل سے ایک روڈ میپ دیتا کہ انقلاب کیسے آتا ہے۔
جو فقر ہوا تلخئ دوراں کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
جب پورے ملک میں بلیک واٹر کے کارندوں اور طالبان کو آزادی ہو ، لیکن شریف لوگوں کیلئے جینا حرام ہو۔ اسلام آباد کی سول بیوروکریسی کے افسر جعلی نمبر پلیٹ اپنے سرکاری گاڑیوں پر لگانے میں مجبور ہوں اور وزیراعظم یوسف گیلانی و گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے بھری محفل میں ملتان اور لاہور سے اغواء ہوکر افغانستان پہنچ جائیں تو پاک فوج کی پاکی اور صلاحیت کو سلام کیا جائے یا پھر اس دہشت گردی کے پیچھے وردی کو ملوث قرار دیا جائے؟۔ پنجاب کے کھدڑے اس حقیقت کو کھلے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ وہ غلامانہ ذہنیت پر مجبور ہیں لیکن آزاد قبائل کی آواز کو برطانیہ بھی نہ دبا سکا تھا جسکے اقتدار پر سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ جب امریکہ نے پاک فوج پر حقانی نیٹ ورک کا الزام لگایا تو پاک فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس میں باقاعدہ یہ جواب دیا گیا کہ ’’ہم اس میں اکیلے نہ تھے یعنی تمہاری وردی والے امریکی سی آئی اے بھی اس میں شریک تھی‘‘یعنی دونوں نے مل کر یہ گیم کھیلا ہے۔
جب پہلی مرتبہ وزیرستان کے مجاہدکیمپ پر بمباری ہوئی تو گورنر اورکزئی نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کو پشاور میں بلالیا۔ جنرل اورکزئی نے بہت تفصیل کیساتھ بتایا کہ وزیر علاقہ سے محسود علاقہ میں ازبک کس طرح کہاں کہاں اور کس کس کے پاس رُکے اور کیا کیا ہوا۔ مولانا عصام الدین محسود نے یہ رام کہانی کی داستان سن کر کہا کہ گورنر صاحب! میں معافی چاہتاہوں جو معلومات آپ کے پاس ہیں ، یہ ہمارے پاس بھی نہیں۔ ازبک کی ساری کہانی آپ نے بتادی۔ جب قبائل کے قریب ازبکوں کا کیمپ بھی تھا تو آپ نے ان کو کیوں نشانہ نہیں بنایا۔ قبائل کے بجائے ازبک کے کیمپ پر بمباری کرنی تھی؟۔ جس پر گورنر جنرل اورکزئی نے ناراضگی سے کہا کہ ’’ اگر ہم نشانہ نہ بناتے تو امریکہ بناتا‘‘۔ یہ جرگہ ختم ہونے کے بعد وہاں کہا گیا کہ ’’مجلس امانت ہوتی ہے ،اس مجلس کی بات کو باہر نہیں کرنا ہے لیکن کچھ غیرتمند لوگوں نے کہا کہ قوم کیساتھ غداری کی امانت کو ہم نہیں مانتے اور حقائق باہر بتادئیے۔ ہم نے اخبار ماہنامہ ضرب حق کے اہم اداریوں میں ان حقائق کو کھول دیا تھا۔ جس کی سزا بھی ہم نے بھگت لی ہے۔
سینٹر مولانا صالح شاہ نے بتایا کہ ’’شکئی وانا میں ایک مولوی دین سلام کو ازبک کو پناہ دینے پر فوج اٹھاکر لے گئی اور وہ مسجد میں ازبک کو گالیاں دے رہا تھا، جنہوں نے اس کے پاس رہائش اختیار کی تھی۔ پہلے تو وہ ازبک کا انکار کرتا تھا اور جب ویڈیوز دیکھ لیں تو پھر اس نے ازبک کے ترجمان کو بھی پہچان لیا جو وہی فوجی تھا جس نے پہلے لمبی داڑھی رکھ لی تھی اور پھر مونڈلی تھی ‘‘۔ ازبک رہنما طاہر یلدوشیف کو امریکہ نے غلطی سے گرفتار کرکے پھر چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنی کتاب میں ایک طرف یہ لکھ دیاتھا کہ ’’ امریکہ کو غاروں میں اسامہ حرکت کرنے پر بھی نظر آسکتا تھااسلئے کہ جدید ترین آلات سے تلاش جاری تھی اور اس نے دوسری طرف یہ بھی لکھ دیا کہ ’’ امریکہ کے فوجی کیمپ کے پاس قبائل کا بڑا لشکر پہنچ گیا جو امریکی فوج کا کباڑا کرنے والا تھا‘‘۔ یعنی یہ بڑا لشکر امریکہ کی نظروں سے پوشیدہ رہا اور غاروں میں اسامہ حرکت کرنے پر نظر آسکتا تھا۔ تضادات کے اس بانی صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کو جن شرمناک الفاظ میں معروف صحافی عطاء الحق قاسمی نے بڑا خراج عقیدت پیش کیا تھا وہ ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے لئے قابلِ فخر سمجھ رہا تھا۔ زرد صحافت کے کرتے دھرتے آج دونوں زیر عتاب مگر شرمندہ نہیں۔میڈیا پر حقائق سامنے لائے جائیں۔
بھائی پیر امیرالدین سابق کمشنر بنوں نے کسی بات پر کہا کہ ’’چیونٹی کو بھی کموڈ میں بہانے سے وہ ڈرتے ہیں ‘‘ کسی اور موقع پر کہا کہ ’’ اگر ریاست اپنا مفاد سمجھ کر اپنے لوگوں کو بھی قتل کرے تو بڑے مفاد کیلئے چھوٹا مفاد جائز ہے‘‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر فوج نے ملک بچانے کیلئے امریکہ کی تمام پالیسیوں کو مان کر ہمارا کباڑہ کردیا ہو تو ہزاروں نہیں لاکھوں خون بھی معاف ہیں اور اگر وہ ضمیر، غیرت اور ایمان سے پاک ہو اور پیسوں کی خاطر ملک تباہ کیا ہو تو بھی ایسوں سے گلہ کرنا اپنی ذات کی توہین ہے۔ بے ضمیر فوج اور بے ضمیر طالبان کے سامنے حق کی آواز اُٹھاؤ لیکن بے غیرت بن کر عورتوں کی طرح غم کا بین مت بجاؤ۔ اگر مجھے محسود قوم سے دشمنی ہوتی اور اپنا انتقام لینا چاہتا تو بھی محسود قوم کی اتنی بے عزتی نہ کرتا کہ ان سے کہتا کہ نقیب کی تصویر اٹھاؤ اوریہ مرثیہ گاؤ کہ یہ کیسی آزادی ہے؟۔ مجھ میں بھی محسود خون دوڑتا ہے۔ میری نانی محسود تھی،جس دن پیدا ہوئی تو انگریز نے بمباری کرکے گھر کے اکثر افراد شہید کئے تھے۔
پہلی مرتبہ وانا میں کانیگرم کے تحصیلدار اور ایک ملازئی کے تحصیلدار کو انتہائی بے دردی سے شہید کرکے مسخ کیا گیا اور لاشوں کو کنویں میں پھینک دیا گیا، مشہور یہی ہوا کہ ازبک اور مقامی دہشتگردوں نے فوجی کرنل کو چھوڑ دیا اور انکو ماردیا۔مطیع اللہ خان کا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان سے تھا ۔ پوری فیملی بہت ہی شریف ہے اور مطیع اللہ شہیدؒ کی شرافت مثالی تھی۔ اسکے چچاڈاکٹر عبدالوہاب سے جیو ٹی وی نے انٹرویو لیا کہ’’ آپ کے نزدیک یہ کون ہیں؟‘‘ اس نے یہ جواب دیا کہ ’’ بھارت کے ہندو یہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ بنگال میں قید ہونے والے فوجیوں میں سے کسی کیساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔ امریکہ بھی یہ نہیں کرسکتا گوانتا ناموبے کے قیدی یہاں موجود ہیں ۔ مسلمان بھی ایسا نہیں کرسکتے۔ پھر کیا کہہ سکتا ہوں کہ ایسا کس نے کیا ہے؟‘‘۔ جیوٹی وی چینل اگر امریکہ کا پٹھو نہ تھا تو اس کو ڈاکٹر عبدالوہاب کا یہ انٹرویو بار بار اپنے چینل پر اسی وقت دینا تھا۔ جب کوئٹہ میں غیرملکیوں کو اپنے خوف سے چوکی پر مارا گیا تو میڈیا نے آسمان سر پر ہی اٹھالیا تھا ۔ حالانکہ اپنا تجزیہ دے سکتے تھے کہ مقامی لوگوں میں بھی وہاں گھومنے کی ہمت نہیں ہے تو غیرملکی کس باغ کی مولی تھے اور کیا کرنے آئے تھے؟۔
جب کسی قوم کی سینٹرل کمان صحیح ہوتی ہے تو اس طرح بے تکے اندازمیں اپنی قوم اور ریاست کا کباڑا نہیں کیا جاتا ۔ کراچی دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال تھا ۔ کراچی رینجرز کے سپاہی کے ہاتھوں سے غلطی سے گولی چل گئی اور وہ لٹیرا ماراگیا جو خواتین کو جعلی پستول سے خوفزدہ کرکے پرس چھین لیتا تھا۔ اس قتل خطاء پر پھانسی کی سزادی گئی اور پھر جھوٹی خبر چلائی گئی کہ صدرمملکت نے معاف کردیا۔ جس کی پھر تردید بھی آگئی۔ ایم پی اے مجید اچکزئی نے جس طرح پولیس والے کو کھلے عام شہید کرکے راہِ فرار اختیار کی اور پھر رہائی پر پھول برسائے گئے ایک پختون کی حیثیت سے مجھے بھی شرم آتی ہے اور جب نااہل نوازشریف کے قافلے نے ایک بچے کو روند ڈالا، جسکا پرچہ بھی بہت معمولی ہے اور قبل از گرفتاری ضمانت بھی ہوجاتی ہے لیکن ابھی تک اس صاحب کا کوئی سراغ بھی نہ لگ سکاہے۔
منظور پاشتین پر افغانی کا الزام غلط ہے ۔ وزیرستان اس وقت بھی آزادی کی جنگ لڑرہا تھا ،جب افغانستان آزاد تھا اور ہندوستان پنجاب اور پختونخواہ کے سیٹل ایریا تک غلامی میں بندھا تھا۔ ہمارے ریاستی ادارے فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی انگریز کے وفادار غلام تھے۔ منظور پاشتین وزیرستان کی وہ ٹیٹھ زبان بولتا ہے کہ دوسرے پختون اس کو سیکھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ منظور پاشتین پر افغانی کا الزام لگانے والے نہیں جانتے کہ منظورپاشتین کا قبیلہ، خاندان اور شاخ در شاخ ایک قوم کا حصہ ہیں۔ البتہ قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں جھوٹے شجرہ نسب کی شہرت ہے۔ ٹھٹھہ کے قریب جھرک کو قائداعظم کا گاؤں کہاجاتا تھا لیکن نیٹ پر بھی یہ معلومات دستیاب نہیں۔ سندھی، اردو اور ہندی کوئی زبان قائداعظم کو نہیں آتی تھی۔ تحریک انصاف کے نومولودرہنما جسے عمران خان نے عدت میں شادی کے بعد جنم دیا ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے شہباز شریف کی قائداعظم کی انگریز ہیٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ قائداعظم کے کپڑے بھی استری کیلئے برطانیہ جاتے تھے، تمہاری کیا حیثیت ہے ان سے ملنے کی‘‘۔ پھر وہ بول ٹی وی سے نکال دئیے گئے تو اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’بول نے مجھ سے لوگوں کی بے عزتی کروائی ہے، میں ان سے معذرت چاہتا ہوں، وہ میری نہیں بول کی پالیسی تھی‘‘۔ یہ بتایا جائے کہ برطانیہ کپڑے استری کیلئے بھیجنے کی بات بھی قائداعظم کی تعریف میں آتی ہے یا یہ قائداعظم کے خلاف بھی سازش ہے؟۔ اسکی تائید اور تردید میں دلائل کی بہت ضرورت ہے۔ یہ بڑی سازش ہے جس سے بڑی دل آزاری ہوئی ۔
پاک فوج کے رہن سہن پر تنقید کرنے والے قائداعظم کے تکلفات کے بعد کس طرح تنقید کرینگے؟۔ سیاسی رہنماؤں کو بیرون ملک علاج پر تنقید والے استری کیلئے کپڑے لیجانے کے بعد کیا تنقید کرسکیں گے؟۔ قائداعظم کی اہلیہ اس کی کزن رتن بائی پارسی تھی۔ اسلام بھی قبول نہ کیا تھا۔ پارسی عورت کا نکاح پارسی مذہب کے مطابق مسلمان سمیت کسی اہل کتاب سے نہیں ہوسکتا ہے۔ جب اس کی وفات ہوئی تو قائداعظم اس کی میت لیکر آغا خانی جماعت خانے میں گئے ۔ جماعت خانے کے ذمہ دار نے کہا کہ ’’رتن بائی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اس کی نمازہ جنازہ یہاں نہیں ہوسکتی ہے‘‘۔ قائداعظم نے سر آغا خان سے کہا تو اس نے اپنے مذہبی رہنما کی تائید کردی۔ اس وقت قائداعظم کو بریلوی مکتبۂ فکر کے امام احمد رضاخانؒ بھی مسلمان نہیں مانتے تھے۔ دیوبندسے مسلم لیگ کی حمایت کرنے والے تھانوی گروپ نے قائداعظم کو سپورٹ کیا۔ اسلئے علامہ شبیرا حمد عثمانی نے قائداعظم کا جنازہ پڑھایا ۔ ’’تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک‘‘ کتاب میں پنجاب کے چوہدری غلام نبی نے زبردست داستان لکھ ڈالی ۔ جس میں لیگی قائدین اور علماء کے پول بھی کھول دئیے ہیں۔
جب ریاستِ پاکستان قادیانیوں کی حامی تھی تو پاکستان میں ختم نبوت زندہ باد کانعرہ لگانا بھی جرم تھا اور جس طرح جنرل نیازی نے بنگال میں ہتھیار ڈالے تھے اس سے زیادہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے ختم نبوت تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے ڈارھی مونڈی تھی۔ عمران خان بلاوجہ نیازی کے بجائے کانیگرم کے برکی قبائل سے اپنا رشتہ نہیں جوڑ رہا ہے۔ حالانکہ اسکے ماموں بھارت کے جالندھر ی برکی ہیں۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ریاست پاکستان کی پالیسیوں نے ملک وقوم کو آزاد ہونے کے بعد بھی غلامی سے دوچارکرکے رکھا ہے۔ گورے انگریز جانے اور کالے انگریز کے مسلط ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ۔ منظور پاشتین کے اندر محسود قوم کا درد تھا لیکن محسودوں نے اس کو قبول نہ کیا ، پھر پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے اپنی تنظیم کو وسیع کردیا۔ اب اگلی منزل اس کی مظلوم تحفظ موومنٹ لگتی ہے۔ پنجاب سے دوسرے صوبے اور قوموں کو بڑی شکایت ہے ۔ پختون، سندھی، بلوچ اور مہاجر کے علاوہ سرائیکی بھی نالاں ہے۔ گلے شکوے علاج نہیں بلکہ مفلوج ہونے کی راہیں ہیں۔ بلوچ قوم نے بڑی قربانیاں دیں مگر خود کو مزید غلام بنادیا ہے۔بلوچ، مہاجر، سندھی اور اے این پی سے تعلق رکھنے والے پختونوں کی خوشامد دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔PTMنے دوسری قوموں کی بات بھی شروع کردی۔
پاکستان کی ریاست اس بات سے ہرگز خوفزدہ نہ ہو کہ پختون قوم افغانستان سے ملے گی۔ افغانستان کے لوگ خود کو امریکہ کی نیٹو اور دہشت گردوں کی نیٹو سے نہیں بچاسکتے ہیں تو ہمیں کیا تحفظ دیں گے؟۔ البتہ مولانا محمد خان شیرانی امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان و سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ افغانستان کو ظاہر شاہ کے حوالے کیا جائیگا اور محسود ایریا کو عالمی دہشت گردوں کے حوالے کیا جائیگا۔ اگر پوری منصوبہ بندی کیساتھ ازبک کے ذریعے محسود ایریا میں شریف لوگوں کی نسل کشی کی گئی ہے اور منظور پشتین کو ریاست نے منصوبہ بندی اور سازش سے کھڑا کیا ہو تاکہ پاک فوج خود اس علاقہ کو دہشت گردوں کے سپرد کردے تو کچھ بھی بعید از قیاس نہیں ۔قائداعظم محمد علی جناح کو مارنے، لیاقت علی خان کو شہید کرنے اور فاطمہ جناح سے مناقشہ کرنے کے نام سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو ، زرداری اور نوازشریف تک سب کو فوج کے نامہ اعمال میں ڈالا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء سے پرویز مشرف تک ایم کیوایم کے کارناموں کو فوج کے کھاتہ میں ڈالا جاتا ہے۔جہادی تنظیموں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی سب ہی کچھ پاک فوج کے سیاہ کرتوت بتائے جاتے ہیں۔ تمام ادارے پاکستان کے ہیں مگر صرف فوج ہی کو پاک کہہ دیا جاتا ہے لیکن کس کس الزام سے فوج پاک ہے ؟۔ اس کی وضاحت آج تک کوئی نہیں کرسکا ہے ۔
منظور پشتین پہلے تو افغانی نہیں اور یقیناًنہیں ہے لیکن بالفرض افغانی ہو بھی تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ مکہ کے تھے اور ہجرت کرکے مدینے چلے گئے، جو اسلام کے نام نہاد علمبردار بنتے ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ افغانستان اور وزیرستان کا فاصلہ حرمین شریفین مکہ مدینہ سے بہت کم ہے۔ پہلے جن لوگوں نے اسلام کے نام پراپنے مفادات کیلئے ملک تقسیم کرکے حقیقی آزادی کیلئے کچھ نہیں کیا بس صرف ہندؤں سے نفرت کرنا سیکھ لی۔ اب افغانستان سے کیوں نفرت ہے؟۔ تمہاری کوئی دونمبر عورت بھی حادثے میں مرجائے تو شہید اور افغانستان میں جمعہ کے دن نمازی بھی شہید کردئیے جائیں تو ہمارا میڈیا اس کو شہید لکھنے کی جرأت نہیں کرتا جاں بحق نہیں ہلاک کہتا ہے۔ یہ بھی شکر ہے کہ انکے لئے آنجہانی نہیں کہا جاتا، یہ نفرت کے بیج کبھی ختم بھی ہونگے یا اپنے دال روٹی کیلئے نفرتوں کے بیج کا سلسلہ جاری رہے گا؟۔
انسان میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خامی اور دوسرے کی خوبی کو یاد کرکے زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا رہنما علی محمد خان کہتا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ میرے ماموں نے بنگال میں ہتھیار ڈال کر پاکستان کیلئے بھارت میں قید کاٹی تھی حالانکہ جان کی بازی لگاکر ہتھیار نہ ڈالتے تو فخر کی بات ہوتی۔ عمران خان جنرل نیازی کی وجہ سے اپنے ساتھ نیازی نہیں لکھتا۔ کل کو بریلوی مکتبۂ فکر والے اُٹھ کر کہیں گے کہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے ختم نبوت کیلئے داڑھی صاف کرنے کی قربانی دی تھی۔ انسانوں کو نسلی عصبیت سے روکنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زمین کا خلیفہ بنانے سے پہلے نافرمانی کرائی تھی اور ہمارے نبی آخر زمان رحمت للعالمین ﷺ کائنات کی بنیاد تھے ۔ قریش اپنے کردار کے سبب سب سے شریف تھے جس میں نبیﷺ کی بعثت ہوئی مگر بخاری شریف میں حضرت حاجرہؓ کی طرف اشارہ کرکے کہا گیا ہے کہ قریش آسمان کی اولاد ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ سے بڑی ہستی کس کی ہوسکتی ہے جن کی طرف یہود، نصاریٰ اور مشرکین اپنی نسبت کرتے تھے؟ اور اہل کتاب بنی اسماعیل ؑ کو اپنے سے کمتر سمجھتے تھے کہ لونڈی کی اولاد تھے۔ حالانکہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کا کردار کس سے پوشیدہ ہے ؟۔ جنکے باپ، دادا اور پردادا سب انبیاء تھے۔حضرت ابراہیم ؑ پر جھگڑا شروع ہوجائے تو ایک بیوی کو اہل کتاب لونڈی کہہ دیں گے اور دوسری کی بھی توہین ہوگی کہ اگر کہا جائے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے بدکار اور ظالم بادشاہ کے حوالے کیا تھا۔ بس اللہ نے عزت بھی بچائی اور تحفہ میں ایک شہزادی حضرت حاجرہ ؑ بھی ملی۔بادشاہ کی عادت یہ تھی کہ بہن اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ نہیں بناتا تھا۔ اسلئے حضرت ابراہیم ؑ نے بیوی کاکہاتھا کہ ’’یہ میری بہن ہے‘‘ حضرت حاجرہؓ بھی شہزادی تھی اسلئے ان کی عزت بھی محفوظ تھی۔ جب حضرت یوسف ؑ سے عزیز مصر کی بیوی نے بدکاری چاہی تو اس کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا۔سوال یہ ہے کہ ظالم بادشاہ بیوی کی عزت کو کیوں خراب کرنا چاہتا تھا؟۔
ایک مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی جو تبلیغی جماعت میں چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اسلام میں حلالے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ علماء خان، نواب ، بادشاہ اور چوہدری وڈیرے کا سامنا نہیں کرسکتے تھے۔ جب کسی بہانے سے مولوی کہتا کہ تمہارے بیوی تم پر حرام ہوگئی اور اسکا حلالہ کردیتا تو وہ بادشاہ ، خان ، نواب اور وڈیرہ اس مولوی کے سامنے آنکھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا تھا‘‘۔ بادشاہ بھی اسلئے بہنوں اور بیٹیوں کے بجائے بیگمات سے بدکاری کرکے مخالف کو سرنگوں کرنا چاہتا ہوگا۔ مولوی حضرات نے حضرت یوسف ؑ کی بجائے اس ظالم بادشاہ کی روحانی اولاد بن کر غلط دھندہ شروع کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرنے کے بعد فرمایا کہ ’’ تم آزاد ہو۔ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ‘‘۔ اگر اس وقت زبردستی ابوسفیان کی بیگم کو لونڈی بناکر عزت لوٹنے کی اجازت دی جاتی تو کربلا کے بعد اہل بیت کی خواتین بھی اپنی عزتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی تھیں۔ تاریخ کا ایک ایک واقعہ سبق آموز ہے اور قرآن واحادیث کے قصوں میں بہت بڑا سبق ہے۔ ایک دوسروں کے طعن وتشنیع کا نشانہ بنانے کے بجائے اپنی کمی کوتاہی پر نگاہ رکھ کر چلیں گے تو اپنے لوگوں اور انسانیت کا بیڑہ پار ہوجائیگا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسے سیاستدان اور صحافیوں پر کون اعتماد کریگا؟۔ بول چینل پر الزام لگایا اور پھر وہاں بیٹھ گیا۔ عمران خان سے متعلق کہا کہ عدت میں نکاح کیا ہے، قرآن کی روح سے یہ ناجائز اور حرامکاری ہے۔ پھر دوہفتے بعد اس کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ ایک ڈاکٹر عامر لیاقت نہیں بلکہ لنڈے بازار میں ایسے نام نہادصحافیوں، سیاستدانوں اور علماء کی کوئی کمی نہیں ہے۔میڈیا چینلوں پر انکی بھرمار رہتی ہے۔
منظور پشتین پر الزامات کی بوچھاڑ نے منظور پشتین کی اچھی شہرت کو چار چاند لگادئیے کیونکہ عوام کو معلوم ہوگیا کہ گلی کے معروف کتوں کا انکے پیچھے پڑ جانا اچھائی کی علامت ہے ۔ علی محمدخان ، عمران خان، ڈاکٹر عامر لیاقت ، سمیع ابراہیم، شیخ رشید کی طرح بہت سے لوگ وہ ہیں جن سے کہا جائے کہ تمام قومی اسمبلی اور ارکان سینٹ نے مغالطہ سے ختم نبوت کیخلاف سازش کی ہے مگر مارشل لاء لگ چکا ہے اور تمہیں چھوڑ کر سارے صحافی اور سیاستدانوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا ہے تو یہ لوگ کھدڑوں کے کپڑوں میں ناچ گانے کی محفلیں بھی سجائیں گے ،خوشی کی شادیانے بجائیں گے کہ رسول اللہﷺ کی ختم نبوت پر ہماری جان بھی قربان ہے لیکن اگر ان سے یہ کہہ دیا جائے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا والد کٹر قادیانی تھا اور فوج نے سلامی دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بے غیرت کہیں گے کہ ’’ اب قبر پر کھڑے ہوکر ہم سلام بھی پیش کرینگے۔ اسکے قبر کی مٹی خاکِ شفاء ہے جس نے ایک آرمی چیف کو جنم دیا ہے‘‘۔ عمران خان کی بیگم جمائماخان کی طرح کوئی خاتون اسلام قبول کرکے اسلام چھوڑ دیتی یا غیرمسلم آشناؤں سے آشنائیاں کرتی تو بہت سے ٹی وی چینل غیرت اور اسلام کا جذبہ ابھارنے میں عوام کو مشتعل کرتے۔ نوازشریف کی بھی خواہش تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد جب اسکے ختنے کی تصویر نکالی گئی تو ختنہ نہ ہوتا تاکہ اس کوہندو ثابت کیا جاتا۔ انگریزوں کے کتے نہلانے کی الزام تراشی تو نوازشریف نے کی ہے۔
نوازشریف بھی بڑا ڈھیٹ انسان ہے۔ 70سال کی عمر میں نظریاتی بھی ایسا بن گیا ہے کہ پارٹی صدارت کیلئے مریم نوازکے بجائے ایک مہرے شہبازشریف کا انتخاب کیا ہے اور ماروی میمن کو جاتے جاتے بھی وزارت تھمادی، مشاہد حسین کو آتے ہی سینٹر بنادیا گیا اور چوہدری نثار سے ناراض ہوکر بھی اس کی سب باتیں مان لیں۔ پرویز مشرف کو طعنہ دیا گیا کہ بیماری کے بہانے عدالت میں نہیں آتا لیکن اپنے بچوں اور اسحاق ڈار کو باہر رکھا ہوا ہے۔ جب نوازشریف اور شہباز شریف کی گرفتاری کا وقت آئے تو اپنی ماں کو اسٹینڈ بائی رکھا ہوا ہے۔ پھر حسن اور حسین نواز کی طرح دونوں نواز اور شہباز اپنی ماں کی تیمارداری کا فریضہ انجام دیں گے۔ پاکستان بھی کیا خوب ملک ہے ، قانون بنانے اور قانوں کے محافظ ہی قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ باقی پر بھی کوئی افتاد نہیں پڑی ہے۔ چیف جسٹس کی جائے پاخانہ کو بھی کوئی کاٹ ڈالے تو بیس سال تک اس کو سزا نہیں ہوسکتی ہے اور بیس سال بعد شواہد ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے اور باعزت بری ہوجاتا ہے۔پھر عدلیہ معذرت خواہ ہوتی ہے۔
منظور پشتین کے بارے میں بتایا گیا کہ جانوروں کے ڈاکٹر کی تعلیمی ڈگری اسکے پاس ہے۔ اگر چہ ہمارے معاشرے میں جانوروں ہی کی پوزیشن ہے بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ ھم کالانعام بل ھم اضل ’’ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ زیادہ بدتر ہیں‘‘۔بچیوں کیساتھ زیادتی کے بعد قتل کا معاملہ اور بے گناہوں کیساتھ بہت بڑی زیادتیاں ، ریاست اور دہشتگردوں کی کاروائیوں کے علاوہ معاشرتی برائیاں ظلم وستم کی انتہاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جابرانہ نظام سے ایک بہترین انقلاب کے ذریعے سب عوام کی جان چھڑائے۔ معاشرتی اصلاحات کا بڑا کارنامہ اس قوم میں انقلاب کا ذریعہ بنے گا۔ منظور پشتین کے پاس وکالت کی ڈگری ہوتی یا کسی وکیل ساتھی سے مشورہ کرتے تو پاکستان کے قانونی پہلو زیادہ بہتر سمجھ سکتے تھے۔ ویسے یہ جنگ قانون کی جنگ نہیں اخلاقیات کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جب کسی قوم کا اخلاقی معیار گر جاتا ہے تو قانون کی حیثیت نہیں رہتی۔
کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ڈیڑھ سوسال پہلے ہزارہ برادری والوں کو ماردیا گیا تھا۔ انکے خاندان کے باقیات ایک دو بچے ماؤں کے پیٹ میں زندہ بچ سکے تھے۔ کوئٹہ کی ہزارہ برداری سے تعلق رکھنے والے آج اپنا رونا رورہے ہیں۔ 150 سال قبل کو نسی طالبان گردی اور فوجی وردی تھی؟۔ ہزار سال قبل یعقوب بن اسحاق کندی معروف سائنسدان گزرے ہیں۔ جو ہارون الرشید اور مامون الرشید کے زمانے میں تھے۔ طب میں دواؤں کی مقدار کا تعین انہی کا مرہون منت ہے۔ دنیا ان کو بڑا مسلم سائنسدان مانتی ہے اور انکی کتابوں سے تراجم کئے گئے ۔ ایک بدخشانی نے اس کو بے دین سمجھ کر قتل کرنا چاہا اور ان کو پتہ چل گیا ۔ چاہتا تو خود قتل یا گرفتار کرادیتا لیکن اپنے پاس بلایا اور حقائق سمجھائے کہ سائنس اسلام کے خلاف نہیں ۔ پھر بدخشانی نے یعقوب کندی سے سائنس کے میدان میں استفادہ کیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت عمرؓ کو دہشت گرد نے شہید کیا اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہی شہید ہوئے تھے۔ ہر بات کو فوجی وردی کے کھاتے میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں بارودی بم رکھ کر بے گناہ لوگوں کو بہت پہلے معذور کیا گیا۔ شہر کے پانی کے ٹینک میں زہر ڈالا گیا تھا۔ مکین شہر میں کوئی آواز لگاتا تھا کہ 2ہزار روپے کے بدلے مجھ سے کوئی قتل کروائے۔ طالبان کی آمد سے پہلے بھی بد امنی ، شرانگیزی اور دہشت گردی ہوتی تھی اور اس کی تمام ذمہ داری ہمارے معاشرتی نظام پر تھی۔
سام سرائے کانیگرم سے ایک پک اپ اغوا ہوئی، غریب علاؤ الدین نے اغوا کاروں کی مزاحمت کرنا چاہی کہ یہ ہماری بے عزتی ہے کہ وزیر قبائل کی پک اپ ہمارے سرائے سے کوئی لے جائے۔ پھرکئی افراد کے ساتھ اپنی پک اپ میں رپورٹ درج کرنے لدھا گیا۔ رات 11بجے سام سرائے میں گاڑی کھڑی کی ۔ پھر کانیگرم کے قبائلی عمائدین نے چوری وارداتوں پر قسم اٹھانے کیلئے اس واقعہ میں ملوث ہونے کا علاؤ الدین پر الزام لگایا۔ ڈکیت وزیر کی پک اپ کو مخالف جانب لے گئے ۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ ڈکیتوں کیساتھ کالے کلر کی پک اپ والے کی سرِ راہ ملاقات ہوگئی اور علاؤ الدین کی پک اپ کا رنگ بھی کالا ہے۔ علاؤ الدین نے کہا کہ میرے چالیس گواہ ہیں ، اغوا کار مخالف جانب گئے اور میں دوسری جانب رپوٹ کے کیلئے گیا۔ میرے بھائی پیر نثار نے کہا کہ اس کو قسم پر مجبور کرنا غلط ہے اس کے پاس گواہ بھی ہیں ۔ عمائدین نے کہا کہ دوسروں کیلئے راہ کو ہموار کرنا ہے۔ پھر جن کیلئے راہ ہموار کرنی تھی انہوں نے قسم بھی نہیں اٹھائی۔ پھر علاؤ الدین کے بھائی عبد الرشید نے چور رات کی تاریکی میں پکڑ لیا اور مسجد کی لاؤڈ اسپیکر پر اقرار کروایا ۔ مگر چور کا کچھ نہیں بگاڑا گیا۔ علاؤ الدین اور رشید کے گھر وں کو مسمار کیا گیا اور انکے سامان کو قومی لشکر نے لوٹ لیا۔ ان مظالم کو سامنے رکھا جائے اور پھر غریب طبقے کی طرف سے طالبان کی شکل میں انتقامی کاروائی پر غور کیا جائے ۔ وردی والوں پر کوئی بات ڈالنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکا جائے۔
جب وزیرستان ، ٹانک اور ملک بھر میں طالبان کاروائیاں کررہے تھے تو ہم میزبانی کرتے تھے لیکن جب طالبان نے ہم پر حملہ کرکے 13افراد شہید کردئیے تو ہمیں طالبان برے لگے۔ میرا بس چلے تو اپنی قوم ، ریاست، ملک کی عوام اور دنیا سے کہہ دوں کہ جو ہمارے ساتھ ہوا ، اگر اس پر معاف کردو تو یہ تمہاری مہربانی ہے۔ اگر پھر بھی ہمارا جرم معاف نہیں ہوتا تو جو سزا دینا چاہو ہم حاضر ہیں۔ اگر معافی مل جائے تو ہم ان سب کو معاف کردیں جو اس واقعہ میں ملوث تھے۔ پھر قوم سے بھی اپیل کریں کہ معافی تلافی کریں اور جو معاف نہیں کرنا چاہتا تو وہ نشاندہی کرے ، میں اسکی قیادت کرونگا۔ قوم کو مصیبت سے چھٹکارا دلانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ماتمی جلوس کوئی حل نہیں۔

جاوید چودھری کے کالم پرایڈیٹر نوشتۂ دیوارملک اجمل کا تبصرہ

javed-chaudhry-columns-taliban-cia-biryani-ki-rehri-islamabad-nawaz-sharif

جاوید چودھری صاحب، آپ جو حقائق آج بیان کر رہے ہیں اسے دنیا عرصہ سے جانتی ہے۔ ہمارے جیسے چھوٹے اخبار کے چیف ایڈیٹر سید عتیق الرحمن گیلانی ماضی میں عرصۂ دراز تک ان حقائق کو عوام تک پہنچاتے رہے ہیں کہ افغان جنگ اور طالبان وغیرہ یہ CIA کا کھیل ہے اور اسی جُرم میں 2007 میں ٹانک کے علاقے گومل میں طالبان نے ان کے گھر پر حملہ کر کے گھر کے 13 افراد کو شہید کر دیا تھا اور بھی کئی سیاستدان اور صحافی اس پر بات کرتے رہے ہیں حیرت ہے آپ اسلام آباد میں بیٹھ کر بے خبر رہے اور آپکو *افغانیوں کا لہو* آج 3 اپریل 2018 میں یاد آیا۔
جسوقت CIA یہ سارا ڈرامہ کر رہی تھی آپ کا ضمیر سویا ہوا تھا اور آج نواز شریف سے لفافہ لیکر یہ کالم لکھا ہے تاکہ فوج کو بدنام کیا جائے اور عوام سے فوج کو لڑوانے کی سازش کامیاب ہو ۔
ہم کوئی فوج کے تنخواہ دار صحافی نہیں ہمیں معلوم ہے جسوقت 2007 میں طالبان نے ہمارے چیف ایڈیٹر کے گھر پر حملہ کیا تھا اسوقت ہماری ریاست طالبان کی پشت پر تھی لیکن اسوقت حالات کچھ اور تھے ساری قوم طالبان کو صحیح سمجھتی تھی، ہم حقائق کی صحافت پر یقین رکھتے ہیں اداروں اور عوام کو لڑوانے والی کسی قوت کے آلہ کار نہیں بنیں گے لیکن تمہیں یہ قوم اچھی طرح سے پہچان چکی ہے تم نواز شریف کے PayRollپر ہو اسلئے نواز شریف کے چور بیٹوں کے بارے میں یہ تشہیر کرتے ہو کہ ’’وہ تو ہر وقت وضو میں رہتے ہیں‘‘ ۔ جنرل حمید گل کی فیملی نے پریشانی میں اس سے اپنا دکھ بیان کیا ہے اور اس دلال شخص نے ان کا سودا کر لیا۔ اس حقیقت کا اعتراف جنرل حمید گل کے نظریات سے اختلاف کرنے والے بھی کرتے ہیں کہ وہ ایک نظریاتی شخص تھا پیسے نہیں بنائے، اگر دولت بنائی ہوتی تو کیا آج اسکے بچے اسکی پینشن کیلئے لڑتے۔جاوید چودھری ! شہزادہ بندر بن سلطان جسکا حوالہ دیکر آپ نے یہ سارا سازشی کالم لکھا ہے وہ کتاب تو 2006 میں چھپ گئی تھی اوراگر آپ وااقعی اتنے لاعلم صحافی ہیں توپھر آپ کفارے کے طور پر اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر بریانی بیچنے کی ریڑھی لگا لیں اور اس پر بورڈ لگا دیں کہ’’ میں اس قوم سے معافی چاہتا ہوں میں ساری زندگی وہ کام کرتا رہا جس کا میں اہل نہیں تھا ‘‘۔پھر تو شاید آپکو معافی مل جائے ورنہ یہ جان لیں کہ اب اس قوم کے مظلوم طبقات جاگنا شروع ہو گئے ہیں اور اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کیساتھ کیا ہوگاتو پھر ساری عمر آپ نے تاریخ کے اوراق سے نکال کر جو قصے اور کہانیاں بیان کی ہیں اُنہیں اُٹھا کر دیکھ لیں کہ جب کوئی قوم حقیقی انقلاب کیطرف بڑھتی ہے تو آپ جیسے بے ضمیر لوگوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔آپکو یقیناُ اپنے ہی کالموں میں اس کا جواب مل جائے گا۔

جن سیاستدانوں نے جتنی پارٹیاں بدلی ہوں انکے ساتھ اتنے لوٹوں کے سٹار بنائے جائیں

stars-of-loty-politicians-change-of-parties

نکل کر ڈرائنگ روم سے باتھ روم میں، لوٹا سیاست اب رسمِ شبیری ادا کررہی ہے۔منظور پاشتین 12 مئی کراچی کے جلسے میں تعصبات اورگلے شکوے کی زباں نہیں حقائق پر مبنی متوازن خطاب کریں۔ رمضان کی چھٹیوں کا اعلان نہ کریں، سیاست افضل جہاد اور بہترین عبادت بھی ہے۔ لاہور کی طرح کراچی میں مغرب وعشاء بلکہ ظہرو عصر نمازوں کو بھی یکجاکردیں۔ مسلم کی روایت میں چار نماز کو یکجا کرنے کا ذکر ہے، صحابہؓ کی جماعت نے عصرومغرب اکٹھی پڑھی تو نبیﷺ نے تنقید نہ کی، سنت کو زندہ کریں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین: تحریر محمد اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار

arm-chief-journal-qamar-jawed-bajwa-ptm-mnzoor-pashteen-editor-muhammad-ajmal-malik-supreme-court-marvi-memon-irshad-bhatti-hasan-nisar-abdul-haseeb-mqm-ayoub-khan-panama-leaks-isi

انسان ماحول سے بہت متأثر ہوتا ہے۔ بدر واُحد اور صلح حدیبیہ کا ذکر قرآن وسنت میں جلی عنوانات کیساتھ موجود ہے۔ قرآن وسنت مسلمانوں کیلئے عمومی طور پر اور پاکستانیوں کیلئے خصوصی طور پر مشعلِ راہ ہونے چاہیے۔ گھر بار چھوڑ کربے سر وسامانی کی حالت میں ہجرت کرنیوالے صحابہؓ نے نبیﷺ کی قیادت میں تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا۔ حال میں سپریم کورٹ کی ججمنٹ میں قرآن کی آیات کا حوالہ بھی دیا گیاہے اور 100 بااثر شخصیات پر معروف مصنف کی معروف کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ جب تک درست پسِ منظر پیش نہ ہو بات سمجھ نہیں آسکتی ہے، کسی چیز کے ادراک کیلئے ماحول سمجھنا ضروری ہے۔
امتحان اگر معلوم ہو تو امتحان نہیں ہوتا۔ ساری زندگی جس طرح اداروں کے احترام میں نوازشریف نے کھپائی ہے، اس کا منظر روز مختلف چینلوں پر عوام دیکھتے ہیں۔ جب افتخار احمد کی طرف مریم نواز کے حوصلے، جرأت اور شاطربیانی کو داد دی گئی تو ارشاد بھٹی نے ماروی میمن کے پروگرام میں کہا کہ میں خود بھی پنجابی ہوں مگر اس ڈھٹائی پر مجھے شرم آتی ہے، یہ کونسا طرزِ عمل ہے کہ دن رات جھوٹ بولو، اداروں کو کرپشن پر قربان کردو۔
ایک دوسرے ٹی وی چینل پر حسن نثار نے سرائیکی صوبے کے حوالہ سے کہا کہ ’’ ایم کیوایم کے عبدالحسیب نے صوبوں پر کتاب لکھی تھی جس کو پڑھنے کے بعد میں نے کئی کالم بھی لکھے اور میں نجیب الطرفین پنجابی ہوں ، میری والدہ اور والد دونوں پنجابی ہیں لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ بنگلہ دیش سے ہم نے سبق نہیں سیکھا‘‘۔ پنجاب کے ان باسیوں کے علاوہ وسعت اللہ خان، مبشر زیدی اور ضرار کھوڑو جیسے لوگ ایک مخصوص نظام اور مخصوص ذہنیت سے بہت مایوس ہیں لیکن اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو سلامت رکھے۔
سرائیکی صوبے کی ڈیمانڈ اسلئے درست نہیں کہ وہ پسماندہ ہیں ، پسماندگی پر سندھ کے تھر اوربلوچستان کے پسماندہ بہت سے علاقوں کو صوبہ بنانے کی تجویز آسکتی ہے بلکہ پنجاب ملک کا 60 سے 65 فیصد ہے۔ باقی صوبوں یا علاقوں سے وزیراعظم منتخب ہوتا ہے تو وہ 35سے 40فیصد کا حکمران ہوتا ہے پنجاب کا وزیراعلیٰ 60 سے 65فیصد پر حکومت کرتاہے۔ پاکستان کا توازن برقرار رکھنے کیلئے صرف یہ ضروری نہیں کہ پنجاب کے کم ازکم 2 صوبے بنائے جائیں بلکہ اٹک سے بھکر تک پختونخواہ میں شامل کیا جائے۔ ڈیرہ غازی خان کاکچھ علاقہ اور آبادی کو بلوچستان میں شامل کیا جائے۔ کچھ علاقے کو سندھ کا حصہ بنایا جائے اور اسلام آباد سے دارالخلافہ اور پنڈی سے GHQ بھی پاکستان کے مرکز میں میں منتقل کیا جائے۔ تاکہ کوئٹہ لاہور اور پشاور کراچی کیلئے درمیانی اور مرکزی جگہ ہو۔ قائداعظم کے وقت میں ملتان کو دارالخلافہ بنایا جاتا تو جنرل ایوب خان اس کو ہزارہ کے قریب اسلام آباد منتقل کرنے کی زحمت نہ کرتے۔
پاکستان میں تمام دریاؤں کو ڈیم بنایا جاسکتا ہے اور سیورج کے گٹرکو بھی پینے کے پانی سے الگ کیا جاسکتاہے۔ سستی بجلی بھی پیداکی جاسکتی ہے اور آئندہ سب سے بڑی ترجیح یہی ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کی مشاورت سے مشرکین کا شام سے آنیوالے قافلے کو لوٹنے کا پروگرام بنایا۔بہت کم تعداد میں معمولی اسلحہ کیساتھ جب مطلوبہ مقام پر پہنچے تو قافلہ نکل چکا تھا اور کئی گنا بڑا لشکر مقابلے کیلئے موجود تھا۔ اس امتحان میں صحابہؓ اور نبیﷺ نے اللہ سے خوب دعائیں مانگیں۔ اللہ نے فرمایا کہ لڑانے کیلئے میں نے دونوں کو ایکدوسرے سے کم دکھایااور ایسا نہ کرتا تو تم لڑنے سے گریز کرتے۔ تلواروں کے سامنے جانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔ ہمارے ریٹائرڈ دفاعی تجزیہ نگار بن کر ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں مگران کی ٹرینگ فوجی ہوتی ہے،ان کو نیٹو اور طالبان کے درمیان پیرا شوٹ سے اتار دیا جائے تو پتہ چل جائیگا کہ یہ کس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ٹی وی پر پھسکڑیاں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا، میدان میں پتہ چلتاہے۔
بدر کے میدان میں اللہ نے فرشتوں کے ذریعے بھی مدد کی اورموسمی حالات بھی مسلمانوں کے موافق کردئیے۔ 313 مجاہدین نے ہزار کو بدترین شکست دیدی۔70مار دئیے اور 70کو قیدی بنالیا۔ مدینہ میں مشاورت ہوئی کہ قیدیوں سے کیا سلوک کرنا ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت سعدؓ نے مشورہ دیا کہ جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے وہ اس کو قتل کردے۔ باقیوں نے یہ مشورہ دیا کہ اپنی قوم کے افراد ہیں، کل ان کو ہدایت بھی مل سکتی ہے۔ ہمیں مال کی ضرورت بھی ہے، فدیہ لیکر چھوڑ دیتے ہیں۔
نبیﷺ کو فدیہ کا مشورہ پسند آیا۔ پھر اللہ نے وحی اتاری کہ ’’نبی (ﷺ) کیلئے یہ مناسب نہیں کہ آپکے پاس قیدی ہوں، یہانتک کہ زمین میں خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر پہلے سے اللہ لکھ نہ چکا ہوتا تو بہت سخت عذاب نازل کردیتا۔ جن لوگوں سے فدیہ لیکر چھوڑ دیاہے اگر انکے دل میں خیر ہے تو اللہ اس سے زیادہ ان کو دیگا اور اگر انکے دلوں میں خیانت ہے تو اللہ ان سے پھر نمٹ لے گا‘‘۔
نبیﷺ زار وقطار رورہے تھے کہ مجھے نازل ہونے والے عذاب کا نقشہ بھی اللہ نے دکھا دیا ، اگر عذاب نازل ہوتا تو عمرؓ اور سعدؓ کے علاوہ کوئی نہیں بچتا۔ کہاں وہ بدر کا غزوہ اور کہاں یہ نوازشریف، اسکی صاحبزادی اور حواریوں کی جنگ؟۔ اللہ کی طرف سے ٹھیک فیصلہ آیا کہ پہلے شام کے قافلے سے جو جنگ شروع کی تھی ،اب اسکو فدیہ لینے پر ختم کررہے ہو؟ ن لیگ نے تو لندن کے فلیٹ ، پانامہ کی دولت اور نہ جانے کیا کیا 22 کروڑ عوام کیلئے بنایا ہے ۔ اب بھی عوام کی جنگ لڑرہے ہیں۔
قرآن وسنت کی تعلیمات اسلئے ہیں کہ جب صحابہؓ نے شام کے قافلے کا قصد کیا، فدیہ لینے کا مشورہ دیا اور اللہ نے کہا کہ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتاہے تو کسی اور کیلئے اس بات کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ مجھے ذات کیلئے نہیں عوام کیلئے جنگ لڑنی ہے۔ ارے تمہارے رائیونڈ کے محل، پانامہ کی دولت اور لندن کے فلیٹ وغیرہ سے بہترین ہسپتال، تعلیمی ادارے ، بجلی بنانے اور دیگر اشیاء کے کارآمد کارکانے بن سکتے تھے۔ مگر تم نے اپنا خیال رکھا۔ ساری زندگی جن سازشوں میں گزاری اس کی بیماری ہوگئی ہے ، سازش کوئی بھی نہیں کررہا ہے۔
نبیﷺ اور صحابہؓ نے وحی کے بعد محسوس کیا کہ اس دفعہ وہ ہاتھ آگئے تو نہیں چھوڑنا ہے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ غزوۂ احد کی باری آگئی اور مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچنے کا سامنا ہوا، صحابہؓ میں بعض بھاگے۔ اللہ نے فرمایا:ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل أفان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’ اور محمد کیا ہیں مگر ایک رسول، آپ سے پہلے رسول گزرچکے ہیں ،اگر آپ فوت ہوجائیں یا قتل کردئیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟‘‘۔ نبیﷺ اور صحابہؓ نے کہا کہ ہم سخت انتقام لیں گے، حضرت امیر حمزہؓ کے بدلے 70کے ساتھ ایسا برتاؤ کرینگے۔ اللہ نے فرمایا: اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے ان کو بھی پہنچا ہے۔ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ اس حد تک نہ لے جائے کہ اعتدال سے ہٹ جاؤ۔ اگر ان کو معاف کردو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے بلکہ معاف ہی کردو اور معاف کرنا بھی تمہارے لئے اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
شریف برادری کی اصلاح اس وقت ہوگی جب کوئی ان کا فرد کہہ دے کہ آصف علی زرداری نے بھی تو 11سال جیل میں گزاردئیے۔ سعودیہ میں سہیل وڑائچ سے کہا کہ ISIکے کہنے پر غلطی کی تھی اور پھر پیٹ پھاڑ کر، سڑکوں پر گھسیٹ کر اور چوکوں پر لٹکاکر سزائیں دینے کے اعلان کئے تھے۔ جب وہی زبان عمران خان نے استعمال کی تو تمہیں اخلاقیات یاد آگئے۔ فیصلہ چوکوں کے بجائے عدلیہ لے جانے کی تجویز بھی خود پیش کی تھی حالانکہ عاصمہ جہانگیر نے کہا تھا کہ عدالت کے دلدل میں نہیں پھنسنا چاہیے تھا۔ پارلیمنٹ میں جھوٹی تقریر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟، جن سوالات کے جوابات مانگے گئے تھے وہ اب بھی دیدینا تو اگر سچے ہو تو عوام کی عدالت میں سرخرو ہوجاؤ گے۔
یہ بات عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بدر کے فدیہ پر اسلئے ڈانٹ پڑی تھی کہ صحابہؓ کو کتاب کی تعلیم دینی تھی، انکا تزکیہ کرنا تھا اور حکمت کی تعلیم دینی تھی۔ حکمت یہی تھی کہ اللہ نے فدیہ کو رد نہیں کرنا تھا بلکہ مشرکوں کے دل میں خوف بٹھانا تھا کہ آئندہ نبیﷺ نے بھی معاف نہیں کرنا ہے۔ غزوہ احد میں اللہ نے پھر صبر وتحمل کی تعلیم دی۔ پھر اللہ نے خواب میں دکھایا کہ مکہ میں عمرہ کیلئے جاتے ہیں۔ نبیﷺ کے خواب پر ایمان رکھ کر صحابہؓ نے عمرے کیلئے احرام باندھے۔ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے توکچھ اور معاملے کا سامنا ہوا۔ جنگ کی خواب و خیال میں بھی تیاری نہ تھی ۔ عبادت کی غرض سے آئے تھے لیکن ان کو خبر دی گئی کہ ان کا سفیر حضرت عثمانؓ شہید کردئیے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں جنگ کیلئے مجبور ہونا کس قدر آزمائش تھی؟۔ نبیﷺ نے ایک درخت کے نیچے بدلہ لینے کی بیعت لی۔ اللہ نے وحی اتاری کہ جن لوگوں نے آپکے ہاتھ پر بیعت کی ہے انکے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا۔اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
پھر حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ جھوٹی نکلی۔ صلح حدیبیہ کا معاملہ ہوا، جس کو اللہ نے فتح مبین قرار دیا، حالانکہ صحابہ کرامؓ کے جذبات بالکل مختلف تھے۔ پھر وہ دن بھی دیکھنے کو مل گئے کہ حضرت عثمانؓ کو مدینہ میں تختِ خلافت پر شہید کیا گیا۔
انسان ماحول سے متأثر ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کو درست معلومات بھی مل جائیں اور فیصلہ بھی درست کرلے۔ یہ معلومات مقدمہ کے طور پر بیان کررہا ہوں تاکہ آرمی چیف اور پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان کسی غلط فہمی کے نتیجے میں قوم کا نقصان نہ ہو۔ نوازشریف اور عمران خان کی شخصیات ہرگز اس قابل نہیں کہ ملک وقوم کو درست طرف لے جائیں۔یہ بڈھے بڈھے اب سیاست کی بجائے کوئی ریٹائرمنٹ والا کام کریں۔ سیاست میں جوان دماغ اور قابلیت کی ضرورت ہے۔ سیاست ایک تجارت بن گئی ہے۔ ڈراینگ روم سے باتھ روم کے لوٹوں تک بات پہنچ گئی ہے۔ کوئی شریف آدمی یہ ڈرامہ بازی نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔اور بہروپئے یہ کام کررہے ہیں۔ جسکے پاس جتنے شرمناک لوٹوں کی تعداد ہوتی ہے وہ اتنے اسٹار کالیڈر ہوتا ہے اسکے پیٹ اورپیٹھ پر اتنے لوٹوں کے نشان بنانے ہونگے ۔
روزوں میں بنوں والوں کا دماغ کام نہیں کرتا اور لوگ قتل ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ مسلح بدمعاش گروپ آیااور اعلان کیا کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ نہیں کرتا تو ان کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ وہ گروپ گیا تو تھوڑی دیر میں دوسرامسلح جتھہ آیا اور اسی چوک پر اعلان کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ کرتاہے تو اس کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ بنوں والوں کی مثال اب ہمارے فوجی بھائیوں پر پوری اترتی ہے۔ ایک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’ جنرل اشفاق کیانی انتہائی بے غیرت وبے ضمیر انسان تھا، حامد میر بھی CIA کا ایجنٹ ہے۔ ملالہ یوسفزئی کو امریکہ کے کہنے پر تیار کیا گیا۔ فوج میں بھی ایسے بے غیرت اور بے ضمیر عناصر تھے جنہوں نے جنرل اشفاق کیانی کا ساتھ دیا، اور ایک بڑے منصوبے کے تحت ملالہ یوسفزئی کو تیار کرکے بھیجا گیا لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل راحیل شریف کے اس پرتحفظات تھے، انہوں نے اس ڈرامہ کی مخالفت کی تھی‘‘۔ اس بیان کے بعد میجر عامر پنچ پیر صوابی کا ایک بیان آیا’’ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے گورنری ٹھکرادی۔ اغیار کے ایجنڈے پر جنرل راحیل شریف نے پٹھانوں کو قتل کیا، 4ہفتے میں جنگ ختم کرنے کا کہا تھا لیکن اب چار سال ہوگئے ہیں وہ خود سعودیہ میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے۔ میں نے امریکہ کی سازش پر پٹھانوں کو قتل کرنے سے انکار کیا ، سب سے بڑا ظالم اور قاتل راحیل شریف تھا‘‘۔ دونوں طرف سے فوج ہی کو برا بھلا کہا گیاہے۔
پاکستان تحفظ موومنٹ کے نام سے ایک بریگڈئیر کا بیٹا یہ الٹی سیدھی تقریر کررہاتھا کہ جس کا کوئی ربط اور ضبط نہیں تھا لیکن ایک بات واضح تھی کہ ’’میں پشاور میں کھڑے ہوکر کہہ رہا ہوں کہ قوم کی بیٹی ملالہ نہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے‘‘۔ ٹھیک ہے لیکن اس میں فوج کے تحفظ اور بدظنی دور کرنے کی کوئی بات نہیں ہے اگر ملالہ ایجنٹ ہے تو بھی اشفاق کیانی اور فوج کو کریڈت جاتا ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیرو ہے تو بھی پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف نے اس کو امریکہ کے حوالہ کرکے اپنا منہ کالا کیا تھا۔ اس سے فوج کے بارے میں اچھا تأثر قائم نہیں ہوتاہے۔
جس طرح سیاستدان بے سُر کے ڈھول بجاتے ہیں اسی طرح فوجیوں کی تعریف کرنیوالے بھی بے پر کی اڑاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ریاست اور سیاست دونوں کمزور ہوتے ہیں مگر جوان کے بچوں کو کوئی پرواہی نہیں ہے۔ پرتعیش کھانوں اور آرام دہ جگہوں سے اٹھ کر بحفاظت تقریریں کرنے والوں کی عقل بھی ماری گئی ہے ۔ قوم کو بنانے کیلئے قرآن وسنت سے ہی استفادہ کرنا پڑے گا۔ فوجی کیپٹن بھرتی ہوتا ہے اور آرمی چیف تک پہنچنے سے پہلے صرف آرڈر ہی کو سمجھتا ہے۔ کوئی وردی ہی کو اپنی کھال قرار دیکرپرویزمشرف کی طرح بیٹھ جاتا ہے تو اس کو اپنے حق کیلئے بھی سالوں سال تک اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے۔ جب آرمی چیف بن جاتا ہے تو آدھی آزاد نوکری سکتے میں گرزرتی ہے اور بقیہ ایک آدھ سال رہ جاتا ہے تو اسکے ریٹائرڈمنٹ کا وقت پورا ہونے لگتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی قیادت کا بحران آیا ہواہے۔ PTM کی اتنی بڑی حیثیت نہیں کہ ا سے ملک کو خطرہ لاحق ہو۔ اس سے اعتدال پر لانے کیلئے وہاں کے عوام بھی اپنا کردار ادا کریں گے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جو سیاستدان بہت پیسہ خرچ کرکے بھی باشعور عوام کو جلسے جلوس میں نہیں لاسکتے ہیں، یہاں کا ماحول دیکھنے کے بعد قوم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا۔ فوج کی طرف سے انکے کندھے پر بزرگوں کو ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تو جن کو ساری زندگی شعور نہیں مل سکا ہے وہ بھی سمجھ بوجھ لے لیں گے۔ درد مند وں کو پختون تحفظ موومنٹ کے ذریعے ڈھارس مل گئی تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی عوامی تحریکوں سے لوگوں میں مایوسی کی فضا ختم ہوگی۔ کسی کے خلاف نفرتوں سے اسکے جذبے کارخ غلط راستے کی طرف مڑ سکتا ہے۔ اگردلوں میں بغض رہ جائے تو بھی یہ پوری قوم کا نقصان ہے۔
منظور پشتین کو محسودوں کی اجتماعیت بھی قبول نہیں کرسکتی۔ اگر محسودوں نے قبول کیا تو وزیر کہاں قبول کرینگے؟۔ وزیر بھی قبول کرلیں تو بیٹنی کہتے ہیں کہ محسود پیغمبر بھی بن جائے تو اس کو قبول نہیں کرینگے۔ وہ اعتماد بھی نہیں کرتے کہ یہ بک جاتے ہیں اور اس کے علاوہ محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی خان، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ کہاں قبول کرینگے؟۔ منصوبہ انکے خلاف سیاسی جماعتوں کا تھا مگر فوج استعمال ہوگئی۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو تعصبات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ پاک فوج انکے بارے میں اپنا رویہ بالکل بدل دے۔ یہ ایک فکروشعور کی تحریک ہے اور اسکے دل و دماغ کو بھی شعور وآگہی سے درست کیا جاسکتا ہے۔
بندوق کا مقابلہ بندوق اور فکر کا مقابلہ فکر سے کیا جاسکتاہے اور اگر کسی غیر ملکی فنڈنگ کا پتہ چلے تو کوئی مسئلہ نہیں ان سے وہ فنڈ چھینا جائے، ہماری ریاست کا قرضہ اس سے چکایا جائے ۔ اُوچھے ہتکنڈوں سے یہ ملک اس تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کیساتھ پٹھان اورمحسود ہی خاص طور پر ملوث تھے۔ منظور پشتیں کے گرد وہی لوگ دکھ، درد لیکر پہنچ جاتے ہیں جو کسی نہ کسی غلط سر گرمیوں میں ملوث تھے۔ عام عدالتوں سے سزائیں مل سکتی تھیں تو فوجی عدالتوں کا جواز نہیں ہوتا۔ یہ فوج ہی کمال ہے کہ پختونوں کو طالبان سے اب نجات دلانے میں بہت حد تک کامیاب ہوگئے ہیں، بلوچستان اور کراچی کا امن لوٹانے میں بھی پاک فوج نے تاریخ ساز کام کیا ہے۔ پختونوں، بلوچوں اور کراچی کے مہاجر عوام کو فوج کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہیے۔آج بھی پاکستان کے شہری علاقوں سے پاک فوج کا رعب ودبدبہ اور دہشت ہٹ جائے تو اپنے معاشرے کی تباہی کیلئے بیرونی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کی ریاست میں پاک فوج واحد ادارہ جسے اللہ قیامت تک سلامت رکھے جس نے ریاست کے نظام کو سہارا دیاہے، طاقت کے بغیر کوئی ریاست ریاست کہلانے کے قابل نہیں۔
ہاں ریاست کو صرف طاقت کے بل بوتے پر کنٹرول کرنا بھی انتہائی غلط ہے، پھر آزادی نہیں غلامی کا تصور پیدا ہوتاہے اور جب پیپلزپارٹی ، ایم کیوایم اور اے این پی پر طالبان نے امریکہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگادیا اور دہشت گردانہ حملے شروع کردئیے تو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف طالبان سے عقیدت ومحبت اور یکجہتی کا اظہار کررہے تھے لیکن جب دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن شروع ہوا توبہت افسوس کیساتھ پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر عاصم حسین پر سہولت کار کے الزامات لگائے گئے۔ جن مریضوں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا گیا تھا تو میڈیا نے سروے میں بتایا کہ وہ بھی بالکل عام لوگ تھے جن کو پتہ بھی نہیں تھا کہ انہی پر دہشت گردی کاالزام لگاکر ڈاکٹر عاصم حسین کو تین ماہ کیلئے رینجرز اٹھاکر لے گئی ہے۔
بندے کے پاس مال شال ہو تو وہ ریمانڈ میں بھی مار نہیں پیار کھاتا ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے بھی کہہ دیا کہ ہسپتال میں جو آتا ہے اس کا علاج کرنا ہمارا کام ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں؟۔ البتہ قصور کے ایک بے قصور شخص نے پولیس تشدد سے چھوٹی بچی کیساتھ زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا تو اس کو پولیس ہی نے قتل بھی کردیا اور اسکے بھائیوں رشتہ داروں پر مقدمات قائم کرکے خاموش بھی کردیا گیا۔ عوام کیلئے عدالت بھی کسی کام کی نہیں ۔ اداروں کی طرف سے زیادتی پر ایکشن تو بہت دور کی بات ہے، مظلوم کو پیشیاں بھگتنے میں بھی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں اسلئے کہ ہمارا معاشرتی نظام بھی بہت زیادہ گراوٹ کا شکار ہے۔ مشال خان کے والد جس طرح سے بے بسی کی تصویر بنے کھڑے رہتے ہیں اگر آرمی چیف ان کے سرپر ہاتھ پھیرنے چلے جاتے تو بہت سی جماعتیں کتیا کی طرح اقبال خان کے پاس دُم ہلاتی نظر آتیں۔ اب بھی پاک فوج کا ہی دبدبہ ہے ورنہ دوپولیس اہلکار ان کی کیا حفاظت کرتے؟۔
پختون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین بذاتِ خود ایک اچھا انسان ہے ، اس کے اردگرد جمع ہونے والوں کی اکثریت اچھے لوگوں کی ہے۔ ان میں محسود تحفظ موومنٹ سے پشتون تحفظ اور پھر مظلوم تحفظ موومنٹ میں بدلنے کی صلاحیت بھی ہے،کچھ ہی سڑیل، بدبوداراور متعصب لوگوں کا گھیرا اس تحریک کو نقصان پہنچارہاہے مگرخیر کی روشنی برائی کے اندھیرے پر غالب آسکتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے برخودار سارا دن فوج کی برائی کریں جس میں انکی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ پرویزمشرف ہی کا پروردہ عمران خان فوج کی تعریف کرے تو فوج کی بھی آنکھ نہیں کھل سکتی ہے اور قوم بھی بتدریج خرابیوں کا شکار بنے گی۔
ماحول میں مشاورت اور مخالف رائے کو برداشت کرنے پر معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ امریکہ کردار سے سپرطاقت بنا ہے۔ بھارت نے من موہن سنگھ کے دور میں کھربوں ڈالر سے ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا اور ہم US AEDکے زکوٰۃ کی رقم کیلئے ترستے ہیں۔ فوج سے محبت رکھنے والا میڈیا یہی راگ الاپتا رہتا ہے کہ جمہوری حکمران امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور ہمارا ڈی جی آئی ایس پی آر بیان دیتا ہے کہ ’’ امریکہ کو ہم نے مثبت انداز میں سپر طاقت بنایا‘‘۔ارے ! اتنی قربانی پر تو کشمیر آزاد ہوجاتامگر تمہارا دماغ نہیں ۔ قوم کی آزادی کیلئے آزاد عوام سے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی یہ ادارے فوج، عدلیہ، سول بیوروکریسی وغیرہ موجود تھے، پہلے انگریز کے ملازم تھے اور ملک آزاد ہوا تووہ بھی اس کی برکت سے آزاد ہوگئے۔ چیف جسٹس کسی بھی مثبت کام سے قابلِ تعریف بن سکتے ہیں لیکن نظام کو نہیں بدل سکتے۔ عراق کی عدلیہ صدام حسین کیساتھ کام کررہی تھی، جب امریکہ نے قبضہ کیا تو اسی عراقی عدالت نے صدام حسین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا۔ امریکہ کو مجاہدین اپنے جذبے سے نانی اماں کی یاد نہ دلاتے تو افغانستان، پاکستان اور اسلامی ممالک کو بڑی مشکل سے دوچار کرتے، قوم جذبہ جہاد سے زندہ رہ سکتی ہے، اداروں کا احترام بھی خوف نہیں بلکہ معروضی حقائق کی بنیاد پر لازم ہے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی بھی سب سے بڑا جہاد ہے۔ قوم کی بیداری کیلئے مظلوم پنجاب کا اٹھنا بھی بہت ضروری ہے۔ بعض طالبان نما افراد سے منظور پشتون کو شکایت ہے لیکن جبتک قوم کے اپنے افراد فوج کیساتھ نہیں ہونگے تو دہشتگروں سے وہ مقابلہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ان کیلئے پہچان ممکن نہیں ہے۔

امریکی اتاشی کو عتیق کے مارنے پر سزا مل سکتی ہے مگر محمود خان اچکزئی اور نا اہل نواز شریف اگر تیار ہوں

americi-atashi-atiq-gilani-punishment-mehmood-khan-achakzai-na-ahl-nawaz-sharif-majeed-achakzai-murder-bewa-widow-son-nadir-shah-karnal-josef-colonal-shah-rukh-jatoe

مدیر منتظم نوشتۂ دیوار نادر شاہ نے کہا کہ امریکی اتاشی کرنل جوسف نے سگنل توڑ کر ایک جوان عتیق کو قتل کیا۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو امریکی اتاشی خود کو قانون سے بالاتر قرار نہ دیتا۔ پچھلے رمضان میں محمود اچکزئی کے کزن مجید اچکزئی نے دن دہاڑے پولیس کے سپاہی کو اپنی گاڑی سے اڑادیا تھا۔ اس کی رہائی پرسیاسی کارکنوں نے اس طرح پھولوں کی بارش کردی جیسا کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ مجید اچکزئی اور امریکن اتاشی دونوں میں موازنہ کیا جائے تو اچکزئی زیادہ مجرم لگتا ہے۔ کیا امریکن اتاشی پر پھول برسائے جائینگے ؟ نااہل نواز شریف کے قافلے نے ایک بچے کو کچل ڈالا ، مریم نواز کے پتی کیپٹن صفدر نے اس کو شہید قرار دیا مگر آج تک ڈرائیور سامنے نہیں آسکا، ڈونلڈ ٹرمپ کہہ سکتا ہے کہ اچکزئی اور نواز شریف میرے پتر ہیں جب ان کا بال بیکا نہیں ہوسکا تو ہمارا کوئی کیا کریگا؟۔ شاہ رُخ جتوئی پر دہشتگردی کا مقدمہ اورمصطفی کانجو کو بری کیا ۔ بیوہ کہے گی کہ خواجہ آصف تو اچھوت ہوگا اسلئے منہ کالا کرنے کی پرواہ نہیں کی مگر میرا بیٹا اچھوت نہیں تھا نواز شریف کو جوتا مارنے پر دہشتگردی کا مقدمہ قائم ہوا مگر مصطفی کانجو پر دہشتگردی کا مقدمہ قائم نہ ہوا۔ تم پر تُف ہے۔

بہت فرسودہ درس نظامی والے علماء کیا کردار ادا کریں گے؟ ہیڈ ماسٹر الطاف الرحمن دو آبہ ہنگو

head-master-altafurr-ehman-do-aaba-hangu-pakhtoon-tahaffuz-movement-manzoor-pashteen-m-m-a-nizame-khilafat

ہنگو(نادرشاہ، جاوید صدیقی ) ہیڈ ما سٹر سیکنڈری اسکول دوآبہ کے الطاف الرحمن نے نمائندہ نوشتۂ دیوار سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ میں تقریباً1997 سے ضرب حق کا باقاعدہ قاری ہوں آپ لوگ اتحادامت اورنظام کی جو بات کرتے ہیں یہ عین قرآن وسنت کی دعوت ہے ۔ آجکل پختون تحفظ موومنٹ منظورپشتین کے حوالے سے ایک خبرہے اچانک سے تحریک چلتی ہے کیاپس پردہ محرکات ہوتے ہیں پتہ نہیں چلتاہے ۔ ماضی میں ایم ایم اے وجودمیں آئی اور پھر نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔ نام نہاد طالبان کے ہاتھوں گیلانی صاحب کا بہت بڑا نقصان ہواہے ، مجھے تھوڑی بہت معلومات ہیں گیلانی صاحب بہت بڑے دل گردے والے ہیں کہ حق پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ علما کیا کردار ادا کریں گے ان کا تو درس نظامی بہت فرسودہ ہے ۔ ایسی تعلیم لوگوں کو دلائی جائے توبالکل بے کارہے ، زیادہ تر چیزیں توہم فکری طورپرآپ کے اخبارسیکھتے ہیں ۔ مجھے اخبارمل جائے تومیں دوستوں کوبھی پڑھاتاہوں یہاں لوگ تعلیم یافتہ کم ہیں ، طالبان کا خوف ابھی تک لوگوں میں ہے ، میں بھی خطرے میں تھااب اللہ کا فضل ہے ۔ نظام خلافت ہی ہماری بنیادی ضرورت اورمسائل کا حل ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا گھر دوبار نشانہ بنا:محمد حنیف عباسی

justice-aijaz-ul-hassan-hanif-abbasi-dgispr-dr-tahir-ul-qadri-dhool-dawn-news-wusat-ullah-khan-hussain-nawaz

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کوایک نہیں دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا مگرنوازشریف و مریم نواز نے کوئی مذمت بھی جاری نہیں کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے تأثر ابھر کر سامنے آیا کہ’’ فریقین حکومت اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا یہ نتیجہ ہے‘‘۔ ایسا نہ ہو کہ جب کسی جج کے قتل کا سانحہ پیش آئے اور حالات بے قابو ہوں تو مارشل لاء لگانے کی نوبت آجائے۔ اس حقیقت کاریکارڈ موجود ہے کہ دھرنے کے دوران طاہرالقادری نے جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا تو مشاہداللہ خان بار بار یہ مؤقف دہراہا رہاتھا کہ ’’ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں خفیہ ہاتھ ملوث تھے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو ٹرینڈ لوگ دئیے گئے ۔وغیرہ‘‘۔
ایک فوجی دماغ سیاسی حکمت عملی نہیں سمجھتا ہے۔ جنرل باجوہ نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’’ بلوچستان کی سیاست میں کوئی ملوث ہو تو اس اہلکار یا افسر کا نام بتادو، ہم خبر لے لیں گے۔سیاستدان کسی سے بھی رابطہ نہ کریں ‘‘۔ مگر پھر بھی کہا گیا کہ ’’جنرل باجوہ ڈارکٹرائن کوئی نہ کوئی بات ہے‘‘۔ آخر کار ڈی جی آئی یس پی آر کو وضاحت کرنی پڑ ی کہ جنرل باجوہ کے کوئی عزائم نہیں ہیں‘‘۔ پھر نوازشریف کا بیان آیا کہ ’’ ہم تمام اداروں سے بات کرنے کو تیار ہیں‘‘۔ میاں رضاربانی نے بھی اس کی حمایت کردی تھی اور بعض نادان صحافی بھی یہ ڈھول پیٹ رہے تھے۔ اگر فوجی سمجھ کر بیان دینے کی صلاحیت رکھتا تو وضاحت کردیتا کہ ’’بھئی ہم نے واضح کیا ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھیں گے۔ پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف صدر مملکت تھا، نوازشریف جیل میں تھے اور معاہدہ ہوگیا تو مسلسل جھوٹ الاپتے رہے کہ معاہدہ نہیں ہوا، پھر 5 سال کا مان لیا اور 10 سال کا انکار کیا۔اب تو تمہاری ہی حکومت ہے ، مذاکرات کس سے کیوں کرنے ہیں؟۔ پارلیمنٹ کی تقریر کسی نے زبردستی نہیں کروائی۔ عدالت میں خود جانے کا فیصلہ کیا، عدالت کو دھمکیاں دیں تو ہم اس پر شاباش نہیں دے سکتے تھے۔ عدالت نے نظریۂ ضرورت دفن کیا ہے تو اس پر خوش ہونا چاہیے تھا کہ ایکدوسرے پر الزام تراشی کے بجائے عدالت کے فیصلوں سے حقائق کی جانچھ پڑتال ہوسکے گی‘‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیک نیتی سے صلح کی کوشش کرنے کا سوچا ہوگا مگر یہ اس غلط ماحول کا نتیجہ ہے کہ میڈیا میں بار بار کہا جارہاہے کہ نوازشریف کو اداروں سے ٹکراؤ مہنگا پڑگیاہے‘‘۔ یہ انتہائی غلط مؤقف ہے۔ نوازشریف اداروں کیخلاف بیانبا زی کر رہاہے مگر اداروں نے اس کو ابھی تک سنجیدہ اس کو نہیں لیا ہے اور یہ بات غلط ہے کہ اداروں کوئی ٹکراؤ ہے۔ عدالت نے بہت ہی محتاط انداز میں صرف اقامہ پر فیصلہ دیا اگر پارلیمنٹ کی تقریر کو قطری خط سے جھوٹا قرار دیا جاتا تو سارا قصہ ختم ہوتا۔ ڈان نیوز اور معروف صحافی ، اچھی صحافت کیلئے سکہ کی حیثیت رکھنے والے وسعت اللہ خان نے بھی کہا کہ ’’ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ٹکراؤ کا نتیجہ ہے‘‘۔ حامد میر نے کہا کہ ’’ حسین نواز کو روکتارہا کہ انٹریونہ دینا اور پھر سوال کچھ کرتا، جواب میں لندن کے فلیٹ کاذکر کریتا تھا۔

منظور پشتین مظلوم پنجابیوں کیلئے تحریک اٹھاتا تو کامیاب ہوجاتا: امین اللہ کوئٹہ

shah-wali-ullah-fikr-e-waliullah-ubaid-ullah-sindhi-talaq-londi-jibri-zina-muttahida-majlis-e-amal-mufti-taqi-usmani-saudi-arab-cenima-halala-muta

جنوبی وزیرستان کے منظور پشتین میں انسانیت کا درد ہے مگر تعصب نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محسود قبائل نے یہ درد محسوس کیااور ساتھ دیا، دوسروں سے زیادتی کا پتہ چلا تو محسود تحفظ موومنٹ کوپختون تحفظ موومنٹ میں بدل دیا۔ سوات سے کوئٹہ تک دُکھے دلوں کی آواز منظور پشتین کہتا ہے کہ طالبان ظلم کریں یا ریاستی ادارے، میں ہر ظالم پر لعنت بھیجتاہوں۔ قبائل تاریخی مظالم میں پس چکے۔ اگر اس تکلیف، مصیبت، درد، ظلم، جبر، بے عزتی،جان، مال اور عزتوں کی لوٹ مار سے کوئی دوسری قوم دوچار ہوتی تو اس کی نسلیں بھی نہیں اُٹھ سکتی تھیں۔ اسلام کی نشاۃ اول کے وقت پہلی ہجرت حبشہ اور دوسری مدینہ ہوئی تھی۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کی خوب عزت افزائی کی۔ انصار مدینہ نے مہاجرین کیلئے بھائی چارے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنیوالے انگریز کی جگہ اقتدار کا مالک بنے، مہاجر افغان کی دنیا بھر نے خوب مدد کی لیکن وزیرستان سے ہجرت پر مجبور ہونیوالوں سے انتہائی بدسلوک روا رکھا گیا۔
سید عتیق الرحمن گیلانی کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے۔ ایک گھر والی سندھی اور دوسری بلوچ ہیں۔ اکثر بچوں کی پیدائش شکار پور اور کراچی میں ہوئی۔ معروف ماہنامہ ضرب حق کراچی کے 10سال تک چیف ایڈیٹر رہے، کئی کتابوں کی تصنیف کے علاوہ ملک بھر سے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام ، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی تائید، سندھ پولیس و بیورو کریسی کے اعلیٰ افسران کی تحریری و شائع شدہ تائید رہی۔ چین کیلئے پولیس سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی تھا ۔ ڈان اخبار میں تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ عتیق گیلانی پر ٹانک سے جاتے ہوئے قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور اسکے بعد کراچی مستقل رہائش اختیار کرلی تھی،تمام اخبارات میں خبر لگی تھی کہ پیر عتیق گیلانی کے گھر پر طالبان نے حملہ کیا اور 13افراد شہید کردئیے۔ ٹی وی چینل، اخبارات کے علاوہ دنیا بھر کی میڈیا میں خبر رپورٹ ہوئی لیکن اسکے باوجود جس طرح طالبان نے رات کی تاریکی میں شبِ خون مارا۔ پاکستان کے لائق انٹیلی جنس اداروں نے اپنے لاؤ ولشکرکے ساتھ عتیق گیلانی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پورا علاقہ گھیرے میں لیا اور بلڈنگ کی دونوں لفٹوں کو بھی قبضہ میں لے لیا تھا۔
گھروالوں کے دل ودماغ سے طالبان کا خوفناک حملہ نہیں مٹا تھا کہ ’’ یہ بہادر گھر میں گھس گئے اور سید حمزہ کو ایک قدآور پولیس انٹیلی جنس افسر یا سپاہی نے زور دار تھپڑ رسید کیا اور پوچھا کہ’’ تمہارا باپ کہاں ہے‘‘ ۔یہ ظلم و جبر کی تاریخ رقم کرنے والی بزدل ریاست کے ظالم اہلکار کاوہ ہاتھ تھا جس نے انگریز کے بعد غلامانہ ذہنیت کا طوق اپنی گردن سے نہیں اتارا ہے، جسکے وزیراعظم کوآج ننگا کیا جاتاہے تو قانون کی پاسداری قرار دیتاہے۔ جسکے جوان عتیق کوامریکی اتاشی اسلام آباد میں سگنل توڑ کر اڑادیتا ہے لیکن پولیس اس کو چھوڑ دیتی ہے اور ہمارا دفتر خارجہ صرف احتجاج ہی کرتا ہے۔
عتیق گیلانی نے اپنے صاحبزادے کا نام حمزہ رکھاہے اور جب ان کو زور دار تھپڑ مارا گیا تو وہ حواس باختہ نہیں ہوا۔ بلکہ تھپڑ مارنے والے ظالم سے ڈٹ کر کہا کہ جب تک تم نہیں بتاؤ کہ مجھے تھپڑکیوں مارا ہے ،اس وقت تک تم نے جو کچھ بھی کرنا ہے کرلو، میں کچھ بھی نہیں بتاؤں گا۔
یہ قصہ اسلئے لکھ دیا کہ منظور پشتین غیرملکی ایجنڈے پر کام نہیں کررہا بلکہ بے گناہ لوگوں کیساتھ جو زیادتیاں ہوگئی ہیں اسکا سلسلہ روکا جائے۔ عتیق گیلانی کیساتھ یہ معاملہ ہواتھا تو دوسروں کیساتھ کیا نہ ہوا ہوگا؟۔ البتہ ریاستی اہلکار اخلاقیات سے عاری ہیں ، ان کی تعلیم وتربیت کا اہتمام نہیں ۔ نااہل نوازشریف نے پارلیمنٹ میں اقرار کیا کہ اثاثوں کا اللہ کے فضل وکرم سے میرے پاس تمام ثبوت ہیں، فیصلے چوکوں پر نہیں عدالتوں میں ہوتے ہیں اور حسین نواز نے بھی میڈیا پر کہا تھا کہ ’’میں عدالت میں اپنا ثبوت پیش کروں گا‘‘۔ ڈکٹیٹر شپ میں میڈیا پر پابندی لگتی ہے اور ملزم اپنا ثبوت و ریکارڈ میڈیا پر بھی پیش نہیں کرسکتا۔ ن لیگ کی حکومت ہے اور میڈیاکو حکومتی اشتہارات سے خرید اہے اور صحافی صحافت کے بجائے وکالت کرتے ہیں۔ذہنی پستی کا شکار جمہوریت کا نام لیکرقیادت کرپشن کی لڑائی میں کہہ رہا ہو کہ’’ پارلیمنٹ کی تقریر اور قطری شہزادے کے خط سے جو کالک اپنے منہ پر ملی تھی واجد ضیاء اس کو صاف کررہاہے‘‘ لیکن پھر بھی اپنے حواری اور مشرف کے لوٹے ہی نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن، حاصل بزنجو، اسفندیار ولی ، اچکزئی بھی اس بیانیہ کو سپورٹ کررہے ہوں۔ متحدہ مجلس عمل کو بھی زکوٰۃ و خیرات سے اپنا ٹاؤٹ بنالیا تو قوم کہاں جائے گی؟۔ باقی سیاسی قیادتوں اور برساتی مینڈکوں کا حال بھی مختلف نہیں۔ عمران خان کے دور میں واقعی تبدیلی آ نہیں رہی ہے بلکہ تبدیلی آگئی ہے۔ پہلے سینٹ کیلئے ارکان بکتے تھے ۔ عمران خان نے اپنے ارکان کو اسلئے پیسے دینے شروع کئے کہ دوسرے خریدلیں تو ہم اپنے ارکان کو خود ہی خرید لیں۔ اس دلالی میں اپنا اُلو بھی سیدھا کرلیا لیکن بعض ارکان نے شاید پھر بھی دھوکا دیدیا۔
آصف زرداری نے محسوس کیا کہ ن لیگ کو سہارا نہیں دیا جارہاہے تو اعلان کردیا کہ’’ میں اسے گراکر دکھاؤں گا‘‘۔ طاہرالقادری کے اسٹیج کیلئے اس بے غیرتی کو بھی برداشت کرلیا کہ عمران خان سے پہلے اپنا منحوس چہرہ اسٹیج سے غائب کردونگا۔ اگر لاہوری باربار طاہرالقادری کو اینویں (پنجابی میں ایسے ہی) ڈگڈی بجاتے ، بندر ناچ گاتے نہ دیکھ چکے ہوتے تو اس ڈرامہ کو کامیابی مل سکتی تھی۔ ڈرامہ کامیاب ہوتا تو زرداری نے کہتا کہ ’’ میں نے حکومت گراکر دکھائی ہے‘‘ جب سیاستدان اس قدر گھٹیا بن جائیں بلکہ گھٹیالوگوں کے ہاتھوں میں قیادت آئے تو یہ قیامت کی علامات ہیں اور اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ سیاستدانوں کی بہت گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے سیاست کا بہترین شعبہ بدنام ہوا ہے۔
پنجاب میں اصولوں، اعلیٰ اخلاقی اقدار ، بہترین روایات اور انسانیت کے اعلیٰ معیار کی کمی نہیں۔ ناکارہ اور لاوارث گدھا بھی کوئی غلطی سے مار دے توپٹھان قیمت وصول کرتا ہے۔ 80سال کی بوڑھی ماری جائے جسکا شوہر 20سال پہلے مرچکا ہو تو وارث یہ دعویٰ کرنے سے نہیں شرماتے کہ ایکسیڈنٹ پر غریب ڈرائیور دو افراد کی دیت دے، بڑھیا کے پیٹ میں بچہ بھی تھا۔ پنجاب میں اکلوتا بیٹا غلطی سے ماردیا جائے تو غریب باپ ایک پیسہ لئے بغیر معاف کردیتا ہے اور معاف کرنے میں احسان کا احساس بھی نہیں رکھتا، اس کو اللہ کی مرضی اور مقتول کا مقدر قرار دیتا ہے۔ آصف زرداری بے غیرت سیاسی قیادت کا ایک بے غیرت کھلاڑی ہے لیکن پرویزمشرف کو چلتا کرنے میں پنجاب کی حکومت کا موقع گنوادیا، شہبازشریف کی گالی برداشت کی، نوازشریف سے کہا تھا پہلے آپ کی باری ہے، کابینہ کا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بنایا۔ رات کی تاریکی میں شہبازاورجنرل کیانی کی ملاقاتوں سے تنگ آکر کئی بار کہا کہ صدارتی محل سے میری لاش ایمبولینس میں جائیگی۔ ن لیگ کیلئے پھر ان کی مشکلات کے دور میں پنجاب کے وفادار ساتھیوں کی ناراضگی مول لیکر سہارا بننے سے دریغ نہ کیا۔ نوازشریف کی بے وفائی کو خاطر میں نہ لایا ۔ 18ویں ترمیم میں صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کردئیے۔ دوتہائی نہیں 75فیصد ووٹ حاصل کرکے تین تہائی ووٹوں سے صدر مملکت بن گئے۔ ووٹ کو عزت دینے کی ڈگڈگی بجانے والا نوازشریف غیرت، حمیت، اقدار ، رسم وروایت سے اتنا عاری ہے کہ سندھی صدر مملکت جب نوازشریف کے بھائی عباس شریف کی تعزیت کیلئے جانا چاہ رہاتھا تو نوازشریف نے تعزیت کیلئے بھی آنے سے منع کیا۔واہ واہ۔
اسٹیبلشمنٹ نے چن چن کر بے غیرتوں کا انتخاب سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے مفاد کیلئے کیا تاکہ ذلت ورسوائی کی آخری حدوں کو پار کرسکیں۔ منظور پشتین نام مظلوم تحفظ موومنٹ رکھ دیں اور پنجاب کے غیور عوام کی عزتوں کو بے غیرت نسل کے بدمعاشوں سے تحفظ فراہم کریں۔ جن کا پیشہ یہ ہے کہ اقتدار ، اختیار، کرپشن اور شہرت حاصل کرلو، عزت کی بات نہیں، عزت تو شوہر کے ہوتے ہوئے لٹ جانا معمول ہے جبکہ طاہرہ سید اور بشری بی بی کی کہانیاں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ نوازشریف کی قیادت نے عوام میں یہ جذبہ پیدا کردیا کہ لاہور میں ڈاکٹر نے ایک عیسائی خاتون کو تھپڑ مارا۔ احتجاج پر ڈنڈوں سے ایک عیسائی کو مار ڈالا، اس سے پہلے بھی میاں بیوی عیسائی جوڑے کو آگ کی بٹی میں جلا ڈالا گیا تھا۔ گوجرانوالہ میں ایک شخص نے کھانا میں دیر کرنے پر اپنی دادی اور بہن کو ڈنڈے مار مار کر قتل کیا اور دوسری بہن کو زخمی کردیا۔ سندھ کے شاہ رخ جتوئی کا قصہ بھی موجود تھا کہ دوسرے جتوئی نے گانیوالی کو ناچنے کا حکم دیکر مار ڈالا۔ یہ ذولفقار علی بھٹو کا شہر ہے جہاں حبیب جالب کی آواز گونجتی ہے کہ ’’ لاڑکانہ چلو، ورنہ تھانہ چلو‘‘۔ پختون قوم سردار اور کسی لیڈر کو نہیں مانتی ۔ قوم کا اجتماعی شعور فیصلہ کرلے تو کوئی قائد بن سکتا ہے۔ قیادت کی اہمیت بالکل بھی نہیں ہوتی ہے۔
منظور پشتین سے معذرت کیساتھ PTMکی مثال کتیا کے پیچھے جمع ہونے ہونیوالے ریلے سے مختلف نہیں، جو کوئی خطرہ بن سکے۔ پنجاب کے مظلوموں کیلئے اٹھتے تو نظریاتی لوگ مل سکتے تھے۔ شک نہیں کہ تعصبات کی آگ خطرہ ہوتی ہے لیکن پٹھانوں کو تعصبات کی آگ میں جھونکا گیا تو آپس میں ہی ہڈی ڈالنے پر لڑپڑینگے۔ پختون قوم خیر کاکام کرے تو اس کو بہت راست آئیگا۔ طالبان کے بعد لسانی تعصب کو ہوا دینا بہت غلط ہے۔ محمود اچکزئی اور اسفندیار ولی نے آخر اسوقت نوازشریف کی گود میں پناہ لی جب کشتی ڈوب گئی۔

منظور پشتون کی تحریک سے عوام کو ریلیف مل گیا مگر سیاسی جماعتیں خوفزدہ ہیں: امین اللہ کوئٹہ

ptm-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-imran-khan-pervaiz-bushra-manika-iddat-period-shah-naimatullah-wali-

نوشتۂ دیوار کے نمائندہ خصوصی امین اللہ کوئٹہ نے کہا کہ منظور پشتون مظلوموں کا قائد بن کر ابھرا ۔ محسود قوم کی حالت کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ قبائل بدترین غلامی کا سامنا کررہے تھے۔ بہت لوگ غلط و بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے منظور پشتون کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔عوام نے فوجی آپریشن کی مشکلات کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا لیکن جب ظلم اس حد تک بڑھ گیا کہ مٹنے پر تل گیا تو منظور پشتون کو توفیق مل گئی۔ سیاسی جماعتیں اپنا وقار کھو چکی ہیں اور عوام میں کسی مقبول قیادت کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل، اے این پی و پیپلزپارٹی کے بعد پنجاب کے عمران خان کو بھی حکومت مل گئی۔
تحریک انصاف میں شمولیت سے محض دوہفتے قبل ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ ’’ عمران خان نے عدت میں شادی کی ہے، قرآن اس نکاح کی اجازت نہیں دیتا، یہ حرامکاری اور گناہ ہے۔ عمران خان قیادت کے لائق نہیں ہے‘‘۔ پھر علامہ اقبالؒ کے بقول’’ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘۔
پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز بھی ہے اور مردم خیز بھی مگر اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف اور عمران خان جیسے لوگوں کی پشت پناہی کرکے پنجاب اور ملک وقوم کا بیڑہ غرق کیا ۔ قائداعظم کی زبان بھی قوم نہیں سمجھ سکتی تھی مگرقوم کے اجتماعی ضمیر کا فیصلہ پاکستان بنانے کے حق میں تھا تو قراردادِ مقاصدکوکامیابی ملی۔ 23مارچ 1940 ؁ء میں برصغیر پاک وہند کی فوج ایک تھی لیکن قائدکی کامیاب سیاسی حکمت نے پاکستان کو وجود بخش دیا تھا۔
علماء ومفتیان کا حال یہ ہے کہ اگر عمران خان عدت میں شادی کا اعتراف بھی کرلیں تو ایک گروپ حرامکاری کہے گا اور دوسرا اس کو 100فیصد جائز قرار دیگا۔ ڈاکٹر عامر سے تو بعید نہیں کہ ’’ کہے کہ میرے ماں باپ عمران خان پر قربان ہوں ، انکا نکاح بھی عدت میں ہوا تھا، میں خود بھی عدت کی توپیداوار ہوں‘‘۔ پنجاب کی اس قیادت سے عوام کا بیڑہ پار ہوگا کہ ایک طرف عمران خان جعلی و اصلی علماء ومفتیان کیساتھ نمودار ہوکر الیکشن مہم چلائیں ۔ دوسری طرف مریم نواز اپنا شوہر کیپٹن صفدر کو قریب نہیں آنے دیگی اور کزن کیساتھ ساتھ گھومتی نظر آئے گی ۔ آخر ماجراء یہ ہے کیا؟۔ زمین و آسمان کی مخلوق پریشان ہے۔ کیپٹن صفدر کا حرمت مصاہرت کا مسئلہ بھی ہوسکتاہے جسکے بعد حلالہ پر بھی بیوی جائز نہیں بنتی ۔ علماء نے اسلام کو بگاڑ دیا۔
محترم رضا ربانی کی پونی پر قربان ہونا چاہیے اسلئے کہ ہر خاص وعام کی زبان پر آپ کی تعریف ہے۔ جناب رضا ربانی نے آنسو بہاتے ہوئے فوجی عدالتوں کو ووٹ دیا کہ ’’ یہ میری پارٹی کی امانت ہے‘‘ تو عوام نے پسندکیا۔ جب پارلیمنٹ سے ختم نبوت، الیکشن فارم سے جائیداد کی معلومات اور سب چیزیں غائب کردی گئیں اور پھر نااہلی کے خلاف سینٹ کی اکثریت کے نہ چاہتے ہوئے بھی بل منظور کیا گیا تو سینٹ کی نااہلی ثابت ہوگی ،رضاربانی اسکے بڑے ذمہ دار تھے۔ ن لیگ کی سینٹ میں اقلیت تھی تو بھی رضا ربانی نے خاصی رعایت دی یا مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا۔ تو جب ن لیگ والوں کو نسبتاًزیادہ تعداد مل گئی ہے پھر رضا ربانی کو چیئرمین بنادیا جاتا تو اسکے مزید بھیانک نتائج نکلتے۔ خفیہ رائے شماری کے فارم پر نام کا اندراج ہوا تو ضمیر وں کو مزید زنجیروں سے جکڑ دیا جائیگا۔ یہ قانون فوج نے نہیں بنایا بلکہ جمہوری تقاضہ ہے تاکہ روتے ہوئے وہ ووٹ پول کرنے پر مجبور ہونے کے بجائے اپنے ضمیر کیمطابق فیصلہ کرے۔ سیاسی جماعتوں کی مت ماری گئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور نوازشریف بے ضمیری سے ضمیر والے ان ارکان کا فیصلہ کردیں جن کی سیاست اور نظرئیے کیلئے قربانی پر کوئی اختلاف نہیں جیسے رضاربانی صاحب وغیرہ تب بھی ضمیر والے مجبور ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی سپرٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں اور قائدین سے مفقود ہے۔ نوازشریف خود اداروں کے بوٹ چاٹنے کے چکر میں ہے مگر جمہوریت کے علمبردارمحمود اچکزئی، حاصل بزنجو، مولانا فضل الرحمن وغیرہ ان کی دھوتی میں چھپ رہے ہیں۔
قوم کا اجتماعی ضمیر مروجہ سیاستدانوں سے نفرت کرتاہے اور منظور پشتون جیسے نوجوان ہرقوم ، ہر صوبے ، ہر علاقے اور ہر حلقے سے اٹھیں اور یکجہتی سے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں کہ ہماری ریاست اور سیاست دونوں بچ جائیں۔ اب ریاست کی فکر نہیں لیکن سیاست بچانے کی فکر سیاستدان ضرور کریں۔
ہماری تجویز سے منظور پشتون وزیراعظم نہیں بن سکتالیکن پنجابی اکثریت سے کسی کو بھی وزیراعظم بناسکتے ہیں چاہے گدھا ہو ، خچر ہو یا گھوڑا۔ پہلے پنجاب میں جسے بدنام کردیا جاتا تھا وہ وزیراعظم نہ بن سکتا تھا۔ عمران اور نوازشریف نے ایکدوسرے کو جتنا بدنام کیا ، عدالت اور میڈیا پر جس طرح ایکدوسرے کے کپڑے اتارے گئے تو قوم کا اجتماعی ضمیر کسی بھی سیاستدان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان کی سیاست تو کانگریس، جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار کے ہاتھوں میں تھی ۔ قائداعظم تو سرآغا خان کے منشی تھے ۔ علامہ اقبال کبھی ایک دن ملک کی خاطر جیل نہ گئے تھے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی عوام کیلئے قائداعظم کی شکل ، زبان اور لباس کچھ بھی مانوس نہیں تھا لیکن قوم کے اجتماعی ضمیر نے سب نامانوسی کے باوجود ایک گونگی آواز کو قبول کیا۔ مولانا فضل الرحمن نری بکواس کرے کہ جمعیت علماء اسلام نے پاکستان کیلئے قربانی دی تو اس کی مرضی ہے لیکن اس جھوٹ کی حیثیت اتنی ہے کہ’’ جیسے عمران خان اعتراف کرلے کہ اس نے بشریٰ بی بی سے نہ صرف عدت میں شادی کی بلکہ نکاح سے پہلے محترمہ کو حمل بھی تھا۔ پھر اس بچے کو حرامی قرار دیتا رہے لیکن جب یہ بچہ بڑا ہوکر پاکستان کا تاجدار بادشاہ بن جائے تو مولانا فضل الرحمن کی آنے والی نسلیں کہیں کہ اس بچے کے جواز کے فتوے ہم نے دئیے تھے، ڈاکٹر عامر لیاقت کو توعمران خان ایم کیوایم سے کھینچ کر لائے ہیں، عمران خا ن کا نکاح پڑھانے والے تو ہمارے مفتی سعید خان ہیں‘‘۔ جمعیت علماء اسلام کا وجود اتنا تھا جتنا عمران خان کا مفتی سعید خان سے تعلق ہے مگر جمعیت علماء اسلام تو یہودی سازش سے لیکر الزام کی بوچھاڑ کرنے میں پیش پیش ہے۔ حقائق کو مسخ کرنا بد دیانتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن سودی نظام سے زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کی لیبل قرار دیتا تھا اور پھر اپنوں کیلئے اس کو جنت کی شراب کو طہور کا نام دیکر پاک کردیاہے۔ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ اسلام کیلئے کرو اسلام آباد کیلئے نہیں۔
ریاست سے عوام کو تکلیف پہنچے یا ریلف نہ ملے تو ظلم و جبر کیخلاف آواز اٹھانا جرأت و بہادری ہے۔ سیاستدانوں کے خلاف تو ہجڑے بھی آواز اٹھاسکتے ہیں لیکن فوج اور طالبان کیخلاف آواز اٹھانا بہت بہادری تھی۔ عمران خان نے طالبان اور فوج کیخلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ پرویز مشرف کے دور میں پٹھانوں کے خون بہا پر جو ڈالر کمائے۔ ان پر کراچی کی تعمیر وترقی ہوئی ۔ پختون کو گلہ نہیں، کراچی پختونوں کا بھی شہر ہے۔ پٹھان درختوں پر لٹک کر فوج کی سلیکشن کیلئے اپناقد لمبا کرنے کی کوشش کرتے تھے اسلئے پاک فوج میں زیادہ پٹھان فوج میں بھرتی ہیں۔ بلوچ قدآور سردار فوج میں جانا نہیں چاہتے تھے اور پست قد فٹ نہ ہوتے تھے۔ پنجاب کے لوگ محنت مزدوری کیلئے بلوچستان پہنچ جاتے ہیں مگر مقامی لوگ ٹف مزدوری پر آمادہ نہیں۔ ریاست سے جائز گلے شکوے سب کا حق ہے۔ مشرکین مکہ کی باقاعدہ فوج نہیں تھی، حضرت عمر فاروق اعظمؓ، حضرت امیر حمزہؓاور علی المرتضیٰؓ جیسے بہادر سپوت اسلام قبول کرچکے تھے۔ اللہ نے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیالیکن جہاد کی اجازت نہ دی۔ سیاستدان ہتھیار نہیں دماغ رکھتا ہے ۔ فوجی کے پاس ہتھیار ہوتا ہے مگر دماغ نہیں ہوتا ۔ امریکہ کے تاجرحکمران اسلحہ کی تجارت سے دنیا اور امریکہ کو تباہ کررہے ہیں۔ صدیق اکبرؓ پہلے خلیفۂ راشد بن گئے تو تجارت کو چھوڑ دیا۔ حکمران اپنی تجارت کیلئے حکومت کرتے ہیں۔ دنیا میں خلافت کیلئے جمہوری بنیادوں پر کوششوں کا آغاز کرنا ہوگا۔
پنجاب کے جس حصہ کو سب سے زیادہ ظالم اور غاصب کہا جاتاہے جو سرائیکی، پختون، سندھی، بلوچ، کشمیری ، گلگت و بلتستان اور کراچی پر حکمران تصور ہوتے ہیں انکا حال سب سے زیادہ خراب ہے۔ اپنی تسکین کیلئے 100بچوں کو مارکر تیزاب میں گلا دینے والا بھی لاہوری تھا۔ قصور کے بچوں اور بچیوں کیساتھ بھی یہاں زیادتی ہوئی اور انہیں مزید ٹارچر کیا جا رہاہے جس کی تفصیل میڈیا نے عوام کو دکھادی ۔ ریاست نے قانون کا راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ بدمعاش بہت قتل کرتاہے لیکن راؤ انوار کو ایک نقیب اللہ محسود پر کتنے مشکلات کا سامنا ہوا ہے؟۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کے گھر پر حملہ کرنے والے قاتلوں کو مجلس عمل کی حکومت اور فوج کے افسران نے کھلی چھوٹ دی تھی۔جو مسلح آمد ورفت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ لیکن عتیق گیلانی تو سب کی خیر خواہی چاہتے ہیں اور یہ اسلام کا کمال ہے، اسلام نام ہی خیرخواہی کا ہے۔ محسود،وزیر لشکری قوم ہیں،ا نکا رخ درست طرف مڑجائے تو پنجاب کے وہ ظالم لوگ جو بچوں اور بچیوں کیساتھ زیادتی کے باوجود مظلوم کو دھمکیاں دیتے ہیں اگر منظور پشتون کے احتجاج سے فوج کی آنکھیں کھل سکتی ہیں اور عوام سے رویہ درست ہوسکتاہے تو مینار پاکستان پر مظلوموں کیلئے ایک زبردست آواز اٹھانے پر بھی قصور کے قصور وار ظالم اپنی حرکتوں سے باز آسکتے ہیں۔محسود قوم کی سب سے بڑی اور زبردست خوبی یہی تھی کہ کسی برائی کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کا خاتمہ قومی لشکر کے ذریعے سے کرتے تھے۔ ریاست کی رٹ کو بحال کرنے کیلئے صرف وزیرستان، قبائل ، پختونخواہ، پاکستان اور افغانستان کی سطح پر نہیں بلکہ مظلوم کشمیری عوام اور فلسطینی عوام کیلئے بھی قومی لشکر میں محسود قبائل کا طرزِ عمل دنیا کو نجات دلا سکتا ہے۔احادیث صحیحہ اور شاہ نعمت اللہ کی پیش گوئی بھی ایسی ہیں۔پنجاب کی عوام بھی پشتونوں کے لشکر کا زبردست استقبال کرے گی۔