انقلابی شاعر شاکر شجاع آبادی



حاصل بزنجو ایک بڑے باپ کابڑا بیٹاتھا مگرپہلے قوم پرستی کے بانی عبدالمالک بلوچ کا ساتھی تھا، جب ان لوگوں کے کہنے پر جوان طبقے نے ہتھیار اُٹھاکر بغاوت شروع کردی تو خود جمہوری سسٹم کا حصہ بن گئے۔ چلو دیر آید درست آیدمگر جب جمہوری دور میں بھی فنڈ کھانیوالا مشتاق رئیسانی 65کروڑ نقدی پر پکڑا جائے تو ارکان میں بغاوت کا پھیل جانا بھی فطری بات تھی۔ جب ن لیگ اور اچکزئی کیساتھ مل جمعیت علماء اسلام کو حکومت سے باہر رکھا گیا تھا تو بلوچستان میں جو کچھ ہوا تھا تو اس کو فطری کہا جاسکتا ہے،ایوانِ بالا کا منہ کالا ہوا تو جنہوں نے کالا کیا ہے انکا نام بھی بتاؤ۔ ڈرنے کی ضرورت اسلئے نہیں کہ آرمی چیف کا بیان میڈیا پر آگیا کہ’’ بلوچستان کی حکومت کو بدلنے میں جس فوجی نے کردار ادا کیا ہے اس کا نام بتاؤ، ہم قانونی کاروائی کرینگے‘‘۔ اس الیکشن میں حصہ نہ لیا جاتا تب بھی بات ٹھیک ہوسکتی تھی۔ نوازشریف کی دیگ پر رضا ربانی بیٹھا ہوتاتو انکامنہ کالا ہوتا۔
جمہوریت کی اصل تو یہی تھی کہ رضا ربانی کو نوازشریف کی طرف سے اس شرط پر پیشکش کی گئی کہ پیپلزپارٹی نے رضا ربانی کو نامزد کیا تو ہم بھی ان کی حمایت پر غور کرسکتے ہیں۔
جب پیپلزپارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے برداشت کرتے کرتے آخر اپنی سیاست بچانے کی کوشش کی تو اس کا یہ جمہوری حق تھا۔ خواجہ آصف طعنے دے رہاہے کہ جس تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا ہے تو اس نے اپنی مقبولیت کم کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔
حاصل بزنجو نے جمہوریت نہیں بلوچوں کی بھی ناک کٹوادی ہے، اتنے پاپڑ تو ظفر اللہ جمالی نے پرویزمشرف کیلئے بھی نہیں بیلے تھے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ بڑے باپ کا بڑا بیٹا بہت سمجھدار اور جمہوریت کیلئے انسانیت کا کردار ادا کریگا۔ شاہ سے زیادہ زیادہ شاہ کا وفادار بننے پر یقیناًبڑا افسوس ہوا ہے۔ انسان غلطی کا پتلا ہے اور حاصل بزنجو کو چاہیے کہ بلاتاخیر اپنے اس جذباتی بیان پر شرمندگی ظاہر کریں۔ ن لیگ والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا ضمیر، جن کی غیرت، جن کی عقل، جن کی دانش، جن کی روایت اور جن کا ایمان سب کچھ اسٹیبلشمنٹ نے چھین لیاہے لیکن اب جمہوریت پسند طبقات نے بھی بحیرۂمردارکے گھاٹ کا پانی پی لیا ہے۔ پختونوں اور بلوچوں میں جو لوگ پنجاب کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرتے تھے۔ ان قوم پرستوں نے نوازشریف کے بغل میں جگہ بنالی ہے۔ فوج نے آخر اس کے علاوہ قصور کیا کیا تھا کہ نوازشریف و دیگر پنجابی کٹھ پتلی قیادت کو قوم پر مسلط کیا تھا۔ اس گناہ کو شاید اللہ بھی معاف نہیں کریگا ،اسلئے کہ اس کٹھ پتلی قیادت نے ریاست، سیاست، جمہوریت، صحافت سب کا بیڑہ غرق کردیا۔ نوازشریف مارشل لاء کی کال کوٹھڑی میں نظر بند نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں اپنی صفائی کیلئے جو تقریر کی تھی وہ جھوٹ تھی اللہ کا فضل وکرم نہیں تھا ۔
جی ٹی روڈ پر ایک بچے کو نادانستہ قافلے سے روند ڈالا تھا اور ڈرائیور کے پاس لائنس ہو تو بہت معمولی سا مقدمہ بنتا تھا لیکن وہ ڈرائیور آج تک پیش نہیں ہوسکا ۔ نامعمول وہ نہیں ہیں جن پر الزام لگایا جارہاہے بلکہ نامعلوم نے پہلے جو کردار ادا کیا تھا وہ اب نوازشریف کیلئے نہیں کررہے ہیں اور اس دکھ، قلق اور غم کا اظہار شیر دھاڑ کر نہیں کرتا بلکہ اس کی آواز گدھے کی طرح ڈھینچو ڈھینچو کرنے کی لگتی ہے اور دوسرے تو عادی ہیں، جنرل ضیاء الحق کی تو خیر پھر بھی کوئی مونچھ شونچھ تھیں جس کو شیر کہا جاتا تھا، نوازشریف تو یونہی شیر بناہوا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اب قومی سیاسی قیادتیں ہوش کے ناخن لیں۔ اگر نوازشریف اپنے قاتل ڈرائیور کو معمولی دفعہ کیلئے حاضر نہ کرسکے ۔ محمود خان اچکزئی کا کزن پولیس والے کو نشے کی حالت میں قتل کردے اور رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تب بھی رہائی پر شرمندہ ہونے کے بجائے گوانتا ناموبے کے قیدی یا کشمیر فتح کرنے اور یا پھر سیاسی قیدی کی طرح اس پر پھول بھی برسائے جائیں؟۔ یہ کونسے پختونوں کی روایات ہیں اگر محمود خان اچکزئی پختون روایات اور انسانیت کو قائم رکھتا تو مجید اچکزئی کو مجرم کی حیثیت سے غریب پولیس اہلکار کے سامنے پیش کرتا اور معافی مانگنے کیلئے منت کرتا۔ فوج کیخلاف بات کی جاتی ہے لیکن طالبان سے فوج نے عوام کو بچایاہے۔ عوام اٹھے گی تو سیاستدان اپنی بچت کیلئے اسی فوج سے مدد مانگیں گے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے قائد منظور پشتین ایک تعلیم یافتہ ، بہادر ، نڈر ، جرأتمند ، دانشمند، ٹھنڈے دل و دماغ اور زبردست شعور رکھنے والا جوان ہے۔ ایک فوجی کی شہادت پر جب وزیرستان میں تشدد کرکے ایک محسود جوان کو اس کی ماں کے سامنے شہید کیا گیا اورگاؤں پر تشدد کی انتہاء کی گئی ، دور دراز کے علاقوں تک کرفیو لگایا گیا تو منظور پشتون نے اس تحریک کا آغاز کیا۔ عید کے دوسرے دن فوجی اٹھا کر اس کو لے گئے اور دوسرے جوان ساتھیوں کی طرف سے احتجاج کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ فوج کا کہنا تھا کہ تم ہمارے مورال کو ڈاؤن کررہے ہو ۔ منظور پشتون نے کہا کہ اب ڈر اور خوف کو ہم نے دل سے نکال دیا ہے۔ بچوں کے قتل ، گھروں کو مسمار کرنے، بزرگوں کی بے عزتی کے ہم عادی ہوچکے ہیں ۔
علاقے میں بارودی سرنگوں کی وجہ سے بہت اموات ہورہی تھیں ، کوئی دھماکہ ہوتا تو مرنے والے بھی علاقہ والے ہوتے اور تشدد بھی انہی پر کیا جاتا۔ جبکہ عوام کے پاس چھرے رکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی اور پالے ہوئے دہشتگرد کو فوج کی حمایت حاصل تھی۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ نے ہندوستان کی آزادی کیلئے جنگ لڑتے وقت کہا تھا کہ ’’جب کسی قوم کو دبایا جاتا ہے تو اسکی ایک انتہاء ہوتی ہے جسکے بعد قوم دباؤ کو قبول نہیں کرتی ہے‘‘۔ پہلے یہ بات ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں پر کھلی تھی اور اب وزیرستان والوں نے خوف کو پھینک ڈالا ۔ تحریک کی قیادت منظور پشتون کو ملی ہے اور علی وزیر بھی انکے ساتھ ہیں جو محسود اور وزیر سے نکل کر تمام پشتونوں تک پھیل گئی ہے۔ اس تحریک کی حمایت ہزارہ برادری اور بلوچ عوام نے بھی کردی۔
منظور پشتون کے انٹرویوز اور تقاریر پشتو زبان میں ہیں۔ انکو اُردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ جن کا مدعا یہ ہے کہ ہم سے 100روپے موبائل بیلنس پر 25روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور ان پیسوں سے ریاست ہماری حفاظت کا ذمہ لیتی ہے۔ ہمیں ریاست مارے ، طالبان مارے یا خود کش حملوں میں ہم مریں ان سب کی ذمہ دار یاست ہے ۔ جتنے بھی قتل ہوئے ہیں ان سب کا حساب ریاست نے ہمیں دینا ہے ، پاکستان کے آئین کے تحت سب کے اپنے اپنے فرائض ہیں۔ دستورنے کسی کو حق نہیں دیا ہے کہ وہ کسی کو ماورائے عدالت قتل کرے۔ ہم ریاستی اداروں کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں کہ ہم بھی انسان ہیں ، ہمارے بھی جذبات ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جو اپنی زندگی سے تنگ آچکے ہیں ، بچوں کو قربان کرنا ہمارے لئے مسئلہ نہیں رہا۔ اس کا ہمیں عادی بنادیا گیا۔ گھروں کو مسمار کرنا ہو تو اپنے جہازوں اور توپوں کو آزمالو ، بزرگوں اور خواتین کی بے عزتی کرنی ہو تو اسکے بھی ہم عادی ہوچکے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکہ سے ڈالروں کے وصول کیلئے ہورہا ہے۔ دنیا مانتی ہے کہ ہمیں استعمال کیا گیا،جرنیل بھی کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کو استعمال کیا۔ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ پشتون سیدھے لوگ ہیں اور وہ اسلام ، جہاداور افغانستان کے نام پر استعمال ہوگئے۔ جنگ میں کس نے گھر بار ، جان و مال اور عزتوں کی قربانی دی؟ کون ڈالر کما رہا ہے؟۔ یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
فوج کے افسر ہمیں کہتے ہیں کہ ہماری فوج تمہاری فوج ہے ، ہماری ریاست تمہاری ریاست ہے ، ہمارا ملک تمہارا ملک ہے مگر وہ ہمیں اپنا سمجھتے تو یہ کیوں کہتے؟۔ ظلم و بربربیت کا بازار گرم کیا گیا پھر بھی قبائل نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی ریاست کا حصہ بنالو۔ وہ ہمیں اپنا حصہ بنانے کیلئے تیار نہیں۔ لوگ ایسی ریاستوں سے علیحدگی کیلئے تحریکیں چلاتے ہیں اور ہمیں شامل کرنے کیلئے یہ تیار نہیں ہیں۔ یہ ہماری کیسی ریاست ہے؟۔
2010ء میں ایک شخص کو پکڑا گیا جس نے جہاد سے توبہ کی تھی اور وہ فون کے بلاوے پر جا نہیں رہا تھا۔ پھر اس کو گرفتار کیا گیا اور جب 2016ء میں آرمی پبلک اسکول کاواقعہ ہوا تو اس کو سزا دی گئی۔ وہ قوم جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئی ہے اس کو اتنا ڈرا دیا گیا کہ اپنے حق کیلئے بھی آواز اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہورہی تھی۔ اس ظلم ، بربریت اور جبر کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ منظور پشتون قوم کا درد لیکر اٹھا ہے اور اپنے ساتھیوں سمیت اسکا یہ درد پوری قوم کو بیدار کررہا ہے جو انقلاب کا ذریعہ بنے گا۔

شطرنج کے مہرو! تم جیتے نہیں ہو، تمہیں بدترین شکست ہوئی ہے۔ذرا عوام کے سامنے تو آؤ۔ مریم نواز کے ٹوئیٹ پر عبدالقدوس بلوچ نے تیز وتند تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے اگر جمہوری سیاست کرنی ہے تو سچ بولنا ہوگا کہ نوازشریف کی ہڈیاں اور انکا گودا، گوشت اورچھیچھڑے، پھیپڑے، گردے اور کپورے اور اوجھڑی، آلائش اور چڑھی ہوئی بادی اور انکی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کا ایک ایک قطرہ اور اندرون ملک وبیرون ملک جائیدادیں سب کی سب ڈکٹیٹر شپ کی سے نکل نہیں سکے ہیں۔ آج جن ٹی وی چینلوں اور صحافیوں کی خدمات ہم نے مستعار لی ہیں، ان کے پاس کیمرے کی گواہی موجود ہے کہ 2011ء میں جیوٹی وی کے پروگرام’’ لیکن‘‘ میں مَیں نے کہا ’’ میری اور میرے بھائیوں کی کوئی جائیدادنہیں ہے، پتہ نہیں یہ لوگ کہاں سے نکال کر لائے ہیں‘‘۔ جبکہ حسین نواز نے ٹی وی چینل پر کہا کہ ’’لندن کے فلیٹ میرے ہیں۔ 2006ء میں خریدے ہیں، میڈیا پر نہیں بتاؤں گا، عدالت کے سامنے بتاؤں گا‘‘۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں تحریری دستاویزات کے ثبوت کا بھونڈا دعویٰ کیا ، کہ دبئی اور سعودی عرب کی وسیع تر اراضی بیچ کر لندن فلیٹ خریدے‘‘۔ جب ہمارے پا س اپنی گواہی کی کوئی دلیل نہیں ہے اور زرخرید وکیلوں کے ذریعے اپنی بھونڈی صفائی پیش کرتے ہیں، اکرم راجہ نے اصغر خان کیس میں ثابت کیا تھا کہ نوازشریف نے ISI سے 95 لاکھ روپے لئے تھے۔ آصف علی زرداری کو ہم نے لاکھ گالیاں دیں مگر وہ جانتا تھا کہ فوج اور نوازشریف ایک پیج پر ہیں اسلئے میرے ابا اور چاچا کو لوہاراور مولوی کہہ دیا مگر اپنے دورِ اقتدارمیں یہ کیس نہیں چھیڑا۔ اگر چھیڑ بھی دیدیتے تو عدالت نے نوازشریف کا کچھ نہیں کرنا تھا۔ عدالت کا تو کام بھی یہی تھا کہ پیسہ خرچ کرنے والوں کے پیمپر بھی اتر جاتے تو بھی پانی سے دھوکر پاجامہ پہنا دیتی تھی۔ بڑے لوگوں کا کبھی عدالت نے کچھ نہیں بگاڑاتھا بلکہ یہ عدالتیں تو بابا رحمتے بن کر خدمت کرتی تھیں۔ ترازو کے ایک پلڑے میں چیف جسٹس قیوم کی تصویر ہوتی تھی اور دوسرے میں شہباز شریف کی جو نوازشریف کے حکم اور تعمیلِ حکم کا عکاس ہوتا تھا۔ 70سال پہلے عوام کو انصاف ملنے کی توقع تھی لیکن70سال سے عدالت نے غریب عوام کی بجائے صرف اور صرف طاقتور طاقتوں کی خدمت کی ہے۔ اب نوازشریف پر بھی اس کی حکومت کے ہوتے ہوئے ہاتھ پڑ رہا ہے تو 70سالہ گدھے کو 70سالہ تاریخ بدلنے کی یاد آگئی ہے۔ جسکے سر کے تمام بال فوجیوں کی ٹانگوں میں رگڑتے رگڑتے گِر چکے ہیں۔ اب بھی بقیہ دوسرے بھائی شہبازشریف کوپارٹی سربراہ مقرر کرکے اسٹیبلشمنٹ کو رام کرنے کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ زرداری اور عمران خان سے کہا جارہاہے کہ ’’تم گھوڑی نہیں گدھی کا دودھ پی رہے ہو‘‘۔ ابھی خود انہی کی ٹانگوں کے نیچے سر دبائے رکھنے کی کوشش جاری ہے جس کا طعنہ دوسروں کو دیا جارہاہے۔ جونہی دوسرا ہٹ جائے تو خود مزے مزے سے پینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اسلئے کہ گدھوں کی اولاد کو گدھی کا دودھ پینے اور دولتیاں کھانے کے تسلسل کی عادت پڑی رہتی ہے ، ان کو شرم نہیں آتی ہے۔
قرآن میں ہاتھ پیر اوراپنے اعضاء کی گواہی اور بولنے والی کتاب کا ذکر ہے جس کی ایک ادنیٰ مثال موجودہ دور میں ویڈیوز ہیں۔ میڈیا ٹاک شوز میں گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا کردار ادا کرنے والے سیاستدانوں، صحافیوں اور دفاعی تجزیہ کاروں کی گواہیاں عوام الناس کا شعور بیدار کرنے کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ جس کا نتیجہ ایک بڑے انقلاب کی شکل میں انشاء اللہ العزیز نکلے گا۔ مریم نواز جنس بدل کر صحافی سلمان غنی بنے تو کہہ سکتی ہے کہ میرے بھائی حسن نواز اور حسین نواز تو ببلو اور ڈبلو طرح کے ہیں۔ پنجاب میں خاص طور سے جنس بدلنے کی رسم بھی بہت ہے۔ مرد خود کو مصنوعی ہجڑے بنالیتے ہیں اور شوق میں آپریشن بھی کرلیتے ہیں۔ دنیا نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ خواتین نے بچے بھی جنم دینے کے بعد اپنی جنس بدل کر مردانہ زندگی اختیار کرلیتی ہیں۔ اگر مریم نواز نے کھلے عام شوہر چھوڑنے کا اعلان کرکے اپنی جنس بدل ڈالی تو جلسوں میں وہ رونق اور کشش نہیں ہوگی جو ایک خاتون کے چہرے پرنمایاں ہوتی ہے۔ سیدالشہداء حضرت امیر حمزہؓ کے بارے میں صحاح ستہ کی ایک حدیث ہے کہ’’ محفل سماں جاری تھی، ایک لڑکی نے اپنے گانے میں جب یہ شعر کہا کہ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ فربہ فربہ اونٹنی کے سر اور پیر یہ جواں کاٹ کیوں نہیں ڈالتے؟۔تو حضرت امیر حمزہؓ نے شراب پی ہوئی تھی اور خاتون کی آواز سے جوش میں اضافہ ہوا۔اور اٹھ کر اپنی تلوار سے حضرت علیؓ کی اُونٹنی کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ حضرت علیؓ نے رسول اللہﷺ سے شکایت کی ،اس اونٹنی کو شادی کے اخراجات کیلئے رکھا ہوا تھا۔ رسول اللہﷺ نے حضرت امیر حمزہؓ سے پوچھا کہ یہ کیا کیا ہے؟، چچا امیر حمزہؓ نے کہا کہ جاجا ، تیرا باپ میرے باپ کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ واپس لوٹ گئے اور سمجھ گئے کہ نشے کی حالت میں ہیں‘‘۔ مریم نواز کی ٹوئیٹ جونہی سوشل میڈیا کے ذریعے وزیراعظم شاہد خاقان کے بیٹے عبداللہ عباسی کے پاس پہنچی تو فرطِ جذبات میں تحریک انصاف کے ایم این اے انجینئرحامدالحق کا گلہ سینٹ کی گیلری میں دبانے کی کوشش کردی۔ حامدالحق نے دانتوں سے چک مار کر اپنی جاں بخشی میں مدد کرائی۔ نوازشریف کو مدرسہ میں جوتا مارنیوالا اپنے دوساتھیوں کے ہمراہ 14دن کے ریمانڈ پرہے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا صاحبزادہ اپنے متعدد گارڈز کے ہمراہ میڈیا پر ایک جھلک دکھانے کیلئے بھی تیار نہیں ہے۔ ایسی جمہوریت تو ڈکٹیٹر شپ سے بدتر ہے۔

صحافیوں میں دنیا نیوز کے سلمان غنی ن لیگ کے اتنے حامی ہیں کہ اگر مریم نواز اپنی جنس بدل لے تو سلمان غنی سے زیادہ وہ بھی ن لیگ کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرسکے گی۔ سلمان غنی نے کہا کہ ’’یہ پہلے سے معلوم تھا کہ حکومت کے پاس اپنا چیئر مین سینٹ منتخب کرانے کیلئے مطلوبہ تعداد میسر نہیں اسلئے اس نے رضا ربانی کا نام لیا اور بار بار اجلاسوں کے باوجود کسی کو نامزدنہ کیا۔ اس سے واضح تھا کہ حکومت ہار جائے گی‘‘۔ سلمان غنی کی اس گواہی کو سند کا درجہ حاصل ہے لیکن حکومت اور اسکے اتحاد ی کی طرف سے مہم جوئی جاری ہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے ہرایا ہے۔ اگر حکومت کے پاس اکثریت ہوتی تو بقول نواز شریف مفلوج وزیر اعظم کی طرح اسحاق ڈار کو مفلوج چیئر مین سینٹ بنا دیا جاتا۔ منظور پشتون نے پختونوں کیلئے جو راہ اپنائی ہے وہ بلوچوں اور دیگر قوموں کیلئے بھی انقلاب لانے کا مثبت ذریعہ بن سکتی ہے۔ سیاسی قیادت نے بدتمیزی کا جو طوفان برپا کیا ہوا ہے اس کا لازمی نتیجہ قوم میں بدترین انتشار کی صورت میں آئیگا اور پھر شام سے بھی زیادہ پاکستان کے حالات خراب ہونگے۔

مدیر منتظم نوشتہ دیوار نادر شاہ نے کہا ہے کہ بعض صحافی اور سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کررہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ میچ جیتنے کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا اور نجومی ماموں بھی پیشگوئی کررہے تھے کہ فائنل کو پاکستان نے بہر صورت جیتنا ہے۔ آخر میں کھیل کا پانسا پلٹا اور ماموں نجومی بھاگتا ہوا نظر بھی نہیں آیا۔ ہارون الرشید اس وقت اچھا لگتا تھا جب اسٹیبلشمنٹ سیاست میں کردار ادا کررہی تھی ۔ اب جب خفیہ ہاتھوں نے اپنا کھیل خود ختم کردیا ہے اور برأت کا اظہار بھی کیا جارہا ہے تو شیخ رشید اور ماموں ہارون الرشید نہ جانے کس لئے تگنی کا ناچ ناچ رہے ہیں؟۔ ایک تخمینہ تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور تحریک انصاف و پیپلز پارٹی کو آخری راؤنڈ کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے لاہور میں کردار دیا ہے لیکن شیخ رشید کی لعنتوں نے دوسروں پر لعنت بھیجنے کے بجائے خود پر ہی لعنت بھیج دی۔ یہ کوئی دانشمندی اور اسٹیبلشمنٹ کا کھیل ہوسکتا تھا؟۔ نہیں ہرگز ہرگز نہیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحافیوں کو طلب کرکے واضح طور سے کہا کہ ’’اگر بلوچستان کی حکومت کو بدلنے میں کسی فوجی افسر یا اہل کار کا کردار ثابت ہوجائے تو اس کو بھرپور سزا دی جائے گی۔ فوج سیاست میں کوئی مداخلت نہیں کرتی ، جبکہ سیاستدانوں کو بھی فوج کو ملوث کرنے کیلئے کسی سے رابطے نہیں کرنے چاہئیں‘‘۔ بلوچستان کی حکومت بدلنے میں مولانا فضل الرحمن کا کردار درخت کے تنے کی طرح ہے۔ اور یہ تنا حکومت نے اپنے پاس نصب کر رکھا ہے۔ ماشاء اللہ چشم بددور ۔
صحافت کے ماموں ہارو ن الرشید نے کہاکہ ’’عمران خان کی طرف سے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کو اپنا اختیار دیا گیا تھا اور قدوس بزنجو نے اپنا اختیار آصف زرداری کو دیا تھا۔ یہ تو بعض دوسرے لوگوں نے کردار ادا کرکے عمران خان کو سمجھا دیا ورنہ عمران خان اور قدوس بزنجو کھیل بگاڑ چکے تھے‘‘۔
ہارون الرشید کے اس تجزئیے نے جمہوریت میں ہارے ہوئے سیاستدانوں کوحوصلہ دیا کہ وہ خفیہ ایجنسیوں پر الزامات تھوپ سکیں۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ عمران خان نے کہا کہ’’ وہ زرداری سے مل نہیں سکتا اور نواز شریف کے آدمی کو ناکام بنانے کیلئے بھرپور کوشش کریگا‘‘۔ پھر جب مریم نواز نے تقریر کی کہ ’’عمران خان تم کہتے ہو کہ تم جھکتے نہیں ہو اور بکتے نہیں ہو لیکن تم سیدھا سیدھا لیٹ جاتے ہو‘‘ تو عمران خان نے اپنا مؤقف بدلا اور کہا کہ زرداری سے میں کسی صورت اتحاد نہیں کروں گا۔ زرداری کو پتہ تھا کہ ایسی صورت میں ڈپٹی چیئر مین کا عہدہ بھی نہیں مل سکتا اسلئے اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ اگر پچھلی مرتبہ مولانا غفور حیدری کو بلوچستان کا دل رکھنے کیلئے ڈپٹی چیئر مین بنایا تھا تو اس مرتبہ چیئر مین کا عہدہ بلوچستان کو دینے میں کیا حرج تھا؟ جبکہ بصورت دیگر نواز شریف کی بالادستی قائم ہوجاتی۔
جمہوریت اپنے منطقی انجام کی طرف جارہی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے زندگی بھر پنجاب سے تعصب کی بنیاد پر سیاست کی لیکن اب وہ ایک پنجابی اوراسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے کارندے کی گود میں بیٹھ گئے ہیں۔ پنجابی اور اسٹیبلشمنٹ سے لوگ نفرت اسلئے نہیں کرتے تھے کہ وہ مسلمان اور انسان نہیں بلکہ پنجابی سیاستدانوں نے رنگ و روپ بدل بدل کر فوج کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا۔ آج اسٹیبلشمنٹ نے ان کٹھ پتلیوں سے اپنے ہاتھ اٹھالئے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رکھو۔ دیانتدارانہ صحافت کا یہ تقاضہ ہے کہ پیسے لئے بغیر جو تجزیہ ٹھیک لگے وہ پیش کرے۔ نواز شریف نے اب صحافت کو بھی خرید لیا ہے۔ جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام اور محمود خان اچکزئی و حاصل بزنجو سب کے سب اس کے گرد اسلئے نہیں گھوم رہے ہیں کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں اپنے اثاثہ جات کا ٹھیک ٹھیک حساب دیکر عوام کو مطمئن کیا بلکہ چوری اور سینہ زوری سے عدالت کو دبایا جارہا ہے اور ن لیگ نے مریم نواز کو ججوں پر چھوڑا ہوا ہے۔ قوم پرستی اور مذہب کو سیاست اور مفادات کیلئے استعمال کرنے والوں کا جنازہ ایک ساتھ نکل رہا ہے۔ عمران خان کے پاس بھی وہی لوگ ہیں جو دوسری سیاسی پارٹیوں کے پاس ہیں۔ بابر اعوان ، فردوس عاشق اعوان ، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور علی ترین وغیرہ وغیرہ وہی سیاست کررہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں کہ اچھے صحافی اور اچھے لوگ میدان میں نکل کر قوم کو نجات دلائیں گے انشاء اللہ

ڈائریکٹر فنانس نوشتۂ دیوار فیروز چھیپا نے مولانا فضل الرحمن کے بیان پر تبصرہ کیا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھیوں نے وقت پر احتجاج کیا کہ ہمیں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر نظر انداز کیا گیا اسلئے سینٹ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔ تین مولانا کے نام پکارے گئے لیکن وہ غیر حاضر تھے، جس پر ن لیگی رہنما پریشان ہوکر تلاش میں نکلے اور فون کرنے لگے، پھر مولانا صاحبان تشریف لائے اور اپنا ووٹ بھی کاسٹ کیا۔ جب زیادہ تعداد میں اپوزیشن کے نامزد چیئر مین کو ووٹ مل گئے تو یہ چہ مگوئیاں شروع ہوئیں کہ کس نے دغا کیا ہے؟۔ کچھ لوگ ن لیگ کے اپنے ارکان کی طرف انگلی اٹھانے لگے اور کچھ نے مولانا کی عزت افزائی کی۔ مولانا نے کہا کہ ’’میں بھی حیران ہوا کہ یہ کیسے ہوا؟۔ میں اپنے ارکان کے بارے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا‘‘۔ گرچہ مولانا فضل الرحمن اپنی حکمت عملی اور طریقہ کار کے مطابق سرخیوں میں رہتے ہیں اور میڈیا ان سے بغض رکھتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے بغیر پاکستان کی سیاست کا باب نہیں کھلتا ہے۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں بہت زیادہ قربانیاں مولانا نے دیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ علماء کرام کے فتوؤں کی زد میں بھی رہتے تھے۔ جب 1988ء کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو پہلی مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو پہلے مولانا ان کے اتحادی تھے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنیوالے موسم لیگی تھے۔ نواز شریف نے چھانگا مانگا میں منڈی لگائی تھی اور اپنے جانوروں کو حصار میں بند کیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے اپنے ممبروں کو بچانے کیلئے سوات میں قید کیا تھا۔ عمران خان کی موجودہ بیگم کا سسر غلام محمد مانیکا اور ایک دوسرا لیگی پیپلز پارٹی والوں کا شکار ہوا جسکی وجہ سے تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا سو فیصد درست تھا کہ ان کے ممبروں کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے جانشین غلام اسحاق خان کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں نے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کے مقابلے میں جتوایا۔ جس کی وجہ سے دونوں کے منہ کو اسٹیبلشمنٹ کی تاریخی کالک لگ گئی، لیکن مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت کی کمان سنبھالی رکھی تھی۔
جب متحدہ مجلس عمل کے تحت ڈھیر سارے علماء جیت گئے تو اکرم خان درانی کوداڑھی رکھوا کروزیر اعلیٰ کا منصب دیا گیاتھا ۔ جس میں پیسہ بنانے کی صلاحیت زیادہ تھی۔ پھر علماء نے بھی یہ صلاحیت پیدا کرلی اور تحریک انصاف کے موجودہ رہنما اعظم سواتی کو اپنا ووٹ بیچ کر سینیٹر منتخب کروایا۔ اعظم سواتی کو تجارت لن تبور کا پتہ چلا تو وہ جمعیت علماء اسلام میں شامل ہوا۔ مولانا کو اپنی تاریخ کا اتنا بھی پتہ نہیں تو یہ بڑھاپے کی وجہ سے حافظے کی کمزوری ہے یا دولت گنتی سے باہر ہوگئی ہے؟۔ مولانا فضل خود قومی اسمبلی کے ممبر ہیں ، ایک بھائی سینیٹر اور دوسرا صوبائی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن ۔ بیٹے کو بھی ٹکٹ دیا تھا مگر کامیاب نہیں ہوسکا۔ ایک بھائی ٹیلیفون کے محکمے میں بھرتی ہوا جو نیم سرکاری ادارہ تھا ، پھر کونسے اصول کی چھڑی چلائی کہ پی ایم ایس کے افسروں میں شامل کیا گیا۔ پھر سی ایس ایس کے افسروں میں شامل ہوکر میرٹ کو روندتا ہوا کمشنر تک پہنچ گیا۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو بلیک میل کرنے کیلئے سینٹ کے انتخابات کے عین موقع پر ڈرامہ رچایا اور شاید پھر مسلم لیگیوں کی طرف سے بلیک میلنگ میں آنے کے بجائے چٹہ بٹہ کھولنے کی دھمکی سے اپنے مقام پر آگیا۔ اسلئے مولانا کی حیرت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔
سیاستدانوں کی ان حرکات کی وجہ سے سیاست بدنام ہوگئی ہے، سینٹ کے ڈپٹی چیئر مین سلیم مانڈی والا نے اسلامی آئین کا حلف اٹھایا تو شیریں رحمان نے مبارکبادی کیلئے اس سے بغل گیر ہوگئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ شیریں رحمن کا سلیم مانڈی والا سے کیا رشتہ ہے؟۔ اور ان کی رسم و روایت کیا ہے؟ لیکن یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر سلیم مانڈی والا کے بجائے تھر کی ہندو سینٹر کرشنا کماری ہوتی تو وہ کسی مرد کو اس طرح بغل غیر نہ ہوتی، بلکہ ہاتھ بھی نہ ملاتی۔ ہمارے ہاں تو گوہ کا نام لو حلوہ رکھ دو اور شراب کا زم زم ، سودکا زکوٰۃ یا سودی بینکاری کا اسلامی بینکاری تو سب کچھ اسلام کے نام پر جائز بن جاتا ہے۔ فضل الرحمن نہ جانے کیوں یہ بات کہہ رہے ہیں کہ جو زرداری پر بھاری ہے، اس نے صادق سنجرانی کو منتخب کروایا۔ اگر اپنے ارکان پر شبہ نہیں تو بلوچستان کی حکومت کو بدلنے میں مرکزی کردار انہی کا تھا؟۔

منتظم خصوصی نوشتہ دیوارحنیف عباسی نے کہا : مجھے حیرت ہوتی ہے کہ صحافی و سیاستدان اتنی موٹی بات کو کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتیں ہیں۔ قومی اسمبلی کی طرح سینٹ میں بھی دونوں جماعتوں نے ہی اصل اپوزیشن کا کردار ادا کرنا تھا۔ اگر دونوں جماعتیں رضا ربانی پر متحد ہوجاتی تھیں تو اس کو نوازشریف اور حکومت کی کامیابی قرار دیا جاتا لیکن دونوں نے مل کر حکومت کی سازش ناکام بنادی۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا تحریک انصاف نے سینٹ میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا اور خود کو بدنام کردیا ہے۔ حالانکہ ن لیگ خود تو پیپلزپارٹی کی دُم کو بھی اپنی پگ بنانے کیلئے تیار بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ خود پیپلزپارٹی سے اتحاد کیلئے مررہے ہوں اور تحریک انصاف کو اتحاد کے طعنے دیں؟، مگر سچ کہا تھا کہ کوئی شرم بھی ہوتی ہے کوئی حیا بھی ہوتی۔جبکہ پکار تھی کہ ہمیں تحریک انصاف نہیں پیپلزپارٹی سے ہی گلہ ہے۔
ن لیگ نے نااہلی کے خاتمے کیلئے اسمبلی میں ترمیمی بل ایک سازش سے منظور کروایا تھا جس میں صرف ایک ووٹ کی برتری تھی ۔ وہ بھی ایم کیوایم کے میاں عتیق نے کہا تھا کہ ’’ خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ فاروق بھائی سے بات ہوگئی ہے۔ مجھے دھوکہ نہ دیا جاتا تو اپنی جماعت کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرتا‘‘۔ اس ترمیم کو پھر سینٹ نے بھاری اکثریت سے مسترد بھی کیا تھاجس کے بعد اصولی طور پر حکومت کو چاہیے تھا کہ ترمیم کو واپس لیتی۔ لیکن ن لیگ نے سازش میں کمال کرکے جمہوری نظام کو چت کردیا تھا۔ سینٹ میں اقلیت ہوتے ہوئے بھی اپنے مقصد کی ترمیم پاس کر ڈالی تھی۔ رضاربانی کے جمہوری اقدامات سے ن لیگ کو پیار ہوتا تو اپنی پارٹی میں بھی کسی صاحبِ کردار کو تلاش کرتے لیکن وہ تو پرویز رشید کو بے گناہ سمجھ کر بھی ڈان لیکس میں قربانی کی بھینٹ چڑھا چکے تھے۔ رضاربانی کی یہی ادا ان کو بھاگئی تھی کہ ترمیمی بل پاس کرنے میں اپنے بڑھاپے کیوجہ سے کوئی فعال کردار ادا نہیں کرسکے۔ جمہوریت کا تقاضہ تھا کہ اس ترمیم سے پہلے حکومت اخبارات میں اشہتار شائع کرتی۔پھر سب پارٹیوں کو اعتماد میں لیکر اپنا گول کرنے کی کوشش کرتی۔
ایسی سازش تو ڈکٹیٹر شپ کے لبادے میں بھی نہیں ہوتی کہ ووٹ ڈالنے والوں کو بھی پتہ نہ ہو کہ اس کی جماعت کا کیا حکم تھا اور اس بھونڈے طریقے سے سینٹ ترمیمی بل منظور کردے جو سینٹ کی بھاری اکثریت کیلئے قابلِ قبول ہی نہ ہو۔ رضا ربانی کو اپنی اس کمزوری کا کھل کر اعتراف کرنا چاہیے ۔ نوشتہ دیوار کا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے سے بروقت ہم نہ پہنچاتے تو ممکن بھی نہ ہوتا کہ پیپلزپارٹی رضا ربانی کو چیئرمین بنانے کی پیشکش کو مسترد کرتی۔ اخبار آنے میں دیر تھی اسلئے ایک صفحہ کے ذریعہ پیغام کو ہم نے پہنچادیا ۔ جب خواجہ آصف جیسے نااہل انسان بھی وزیرخارجہ بن گیا ہے تو خفیہ ایجنسیوں کا کونسا کردار باقی رہ جاتا ہے؟۔ خواجہ آصف نے درست کہا کہ ’’ جنرل ضیاء الحق نے جعلی جہادکے ذریعے قوم کو دھوکہ دیا تھا‘‘ لیکن یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ’’ جنرل ضیاء الحق نے جعلی سیاست کے ذریعے بھی ریاست کا بیڑہ غرق کیا۔ نوازشریف کے جھڑے ہوئے بالوں کو چھوڑ کر کیونکہ وہ شروع میں تحریکِ استقلال اصغر خان کے کارکن تھے، باقی سراپا نوازشریف جنرل ضیاء کا رہین منت تھا، خواجہ آصف کا والد جنرل ضیاء کی شوریٰ کا چیئرمین تھا جبکہ احسن اقبال کی والدہ محترمہ جنرل ضیاء الحق کے محافل کی نعت خواں تھی اور جنرل ضیاء الحق کے علاوہ پرویزمشرف کی باقیات بھی اب نااہل لیگ کا حصہ ہیں۔خواجہ آصف کی قابلیت کا یہ عالم ہے کہ جیو ٹی وی چینل پر حامد میر سے کہا کہ ’’ برما کے لاکھوں پناہ گزین مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے پاکستان لانے کیلئے ہماری طرف سے طیارے تیار کھڑے ہیں بس صرف اجازت مل جائے‘‘۔ یہ بات جیو نیوز پر کسی اور وزیرخارجہ کی طرف سے ہوتی تو خوب مہم جوئی کی جاتی مگر زر خرید لونڈی کا کردار ادا کرنے والی اس صحافت نے صحافت کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔
زرداری نے ربانی کو مسترد کرکے سلیم مانڈی والا کو ڈپٹی بنایا تو یہ بہت زبردست قدم اٹھایا اور تحریک انصاف نے زبردست قدم اٹھاتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین بھی حکومت کا نہیں آنے دیا تو یہ بالکل فطری جمہوریت کا تقاضہ تھا۔ دونوں لڑتے تو حکومت کو کامیابی ملتی اور دونوں خود ہی مرتے، فطری اتحاد ضروری تھا۔

چیف ایڈیٹر نوشتہ دیوارسید عتیق الرحمن گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں جو قیادتیں ریاست نے پال رکھی ہیں ان کٹھ پتلی قیادتوں نے پوری قوم اور ریاست کو تباہی کے دہانے پہنچادیا ہے۔ جنرل ایوب خان کے بغل سے نکل کر ذو الفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کے بغل سے نکل کر نواز شریف قائد بن گئے، یہی وجہ ہے کہ ریاست کے فوائد عوام تک نہیں پہنچے اور آج عوام اور ریاست کے درمیان بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ منظور پشتون نے محسود قبائل کی دہلیز سے نکل کر سوات سے کوئٹہ تک بہت بڑی جگہ اپنے لئے بنالی ہے۔ محسود تحفظ موومنٹ کو پشتون تحفظ موومنٹ سے بدلا ہے اور یہ اب مظلوم تحفظ موومنٹ بھی بن سکتی ہے جس کے پیچھے پاکستان کی تمام قومیں کھڑی ہوں۔ اس میں تعصب نہیں درد ہے۔
عدالت ، فوج ، حکومت اور صحافت سب کا اپنا اپنا دائرہ کار ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی قیادت کے گرد سب ہی گھوم رہے ہیں لیکن اگر سیاسی قیادت بندوق کی نالی میں گولی کی طرح کسی پر مسلط کی جائے تو قوم کبھی قوم نہیں بن سکتی ہے۔ 70سال سے ہماری تاریخ اسلئے نہیں بدلی کہ جس اسلام کے نام پر پاکستان بنا تھا ، اس اسلام سے سیاسی قیادت خود بھی آشنا نہیں تھی۔ تبلیغی جماعت کا مشہور لطیفہ ہے کہ کسی مولانا نے کہا کہ جس نے ایک ہندو کو مسلمان بنادیا تو اس کو اتنا اتنا اجر ملے گا اور ایک پٹھان نے یہ فضیلت سن لی تو ہندو کو تلوار کے زور پر ہی مسلمان کرنے کیلئے نکل پڑا۔ کہیں اس کو راستے میں ہندو مل گیا تو خوش ہوا کہ فضیلت حاصل کرنے کیلئے شکار مل گیا۔ ہندو کو زمین پر پٹخ کر اس پر تلوار تان لی کہ خو کلمہ پڑھو۔ ہندو نے جب جان کا خطرہ محسوس کیا تو کہا کہ خان صاحب مجھے کلمہ پڑھاؤ ۔ خان صاحب کو خود بھی کلمہ پڑھنا نہیں آتا تھا تو ہندو سے کہہ دیا کہ منحوس جاؤ تم نے مجھ سے بھی بھلادیا۔ یہی حال پاکستان کی تشکیل دینے والوں کا بھی تھا۔ جس اسلام کے نام پر ملک بنایا تھا وہ خود بھی اس اسلام سے واقف نہ تھے۔ جب فوجیوں نے وزیرستان میں پڑاؤ ڈالا تھا تو عوام سے چھ کلمے پوچھتے تھے اور لوگ کہتے کہ اگر ایک کلمہ سے جاں بخشی ہوسکتی ہے تو ایک کلمہ آتا ہے مگر چھ نہیں آتے۔ فوجی سپاہی ماں بہن کی گالیاں بکتے کہ تم اسلام کا نام لیتے ہو اور چھ کلمے پڑھنے بھی نہیں آتے؟۔
اس شرمندگی کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے تبلیغی جماعت کا رُخ کرنا شروع کیا۔ وہاں جنرل جاوید ناصر سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور جنرل محمود جیسے لوگ بڑی داڑھیاں رکھ کر طالبان بنانے کی فیکٹریاں بنائے بیٹھے تھے۔ جمال خان لغاری نے یہ منظر نامہ ایک میڈیا ٹاک شو پر پیش کیا تھا۔ اب لوگ اس قدر اعتماد کھو بیٹھے ہیں کہ منظور پشتون پر بھی شک کرتے ہیں کہ کسی سازش کا حصہ تو نہیں جو کھلم کھلا ریاست کیخلاف بول رہے ہیں اور غلطی عوام کی اسلئے نہیں ہے کہ جو فوج کیخلاف لڑ رہے تھے ان کو بھی تعلیم و تربیت دینے والے فوجی ادارے ہی تھے۔
منظور پشتون سے میری ملاقات تک نہیں ہوئی مگر مجھے اس بات کا یقین ہے کہ فوج سیاسی قیادتیں ، مجاہدین جنتے جنتے اور پیدا کرتے کرتے بیزار ہوچکی۔ وہ اب منظور پشتون کو بھی ایک غنیمت سمجھ کر برداشت کررہی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کی تاریخ کے سب سے نرم خو آرمی چیف لگتے ہیں اور یہ منظور پشتون اور اسکے ساتھیوں کی بھی بڑی خوش قسمتی ہے۔ اگر سینٹ کے چیئر مین صادق سنجرانی بن سکتے ہیں جو پھر بھی نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے ہاں گھسے ہوئے ہیں اور ان پر اسٹیبلشمنٹ سے قربت کا الزام سب سے بڑا الزام ہے۔ اس الزام کو عائد کرنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو خود اسٹیبلشمنٹ ہی کی پیداوار ہیں۔ سیاست کیلئے سب سے بڑی مصیبت اسکا کٹھ پتلی ہونا ہے۔منظور پشتون کا سب سے بڑا کمال کٹھ پتلی نہ ہونا ہے۔ وہ ایک نوجوان ہے، درد، جذبے اور شعور کیساتھ جو بات کرتاہے اس میں بناوٹ نہیں ہوتی۔ سیاسی قیادتیں بناوٹی انداز سے اپنا وقار، اپنی عزت اور اپنا اعتماد کھو بیٹھی ہیں۔ جب ان کو تکلیف ہوتی ہے تو چوتڑ سے عوام کے درد کی آوازیں نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ جذبات کو اشتعال دلاکر عوام سے روز روز بیوقوف بننے کی توقع رکھتے ہیں، منظور پشتون حقیقی قائد ہے

ایڈیٹر نوشتہ دیوار محمد اجمل ملک نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اقدام بہت ہی قابل تحسین ہے جس نے سندھ کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی ہندو خاتون کو سینیٹر بنادیا ہے جو ایک سوشل ورکر بھی ہیں۔ حکومت ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے علاوہ مذہبی جماعتیں بھی ایک ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی طرف سے اسمبلی میں خواتین کے کوٹے کو سراہتے ہیں۔ اگر یہ سب ملکر کرشنا کماری کو متفقہ طور پر سینٹ کی چیئر پرسن بنادیتیں تو کوئی اچھا کام ان کے کھاتے میں بھی آتا۔ قبائل میں بالغ رائے دہی کا حق کسی سیاسی جماعت نے نہیں دیا تھا۔ چند ملکان اپنے ووٹوں کے ذریعے سے اسمبلی کا ممبر منتخب کرتے تھے۔ جبکہ عبوری وزیر اعظم معین قریشی نے چند ماہ کیلئے اقتدار سنبھالا تھا تو قبائل کو بالغ رائے دہی کا حق دیدیا۔ ہماری سیاسی جماعتیں اپنے خاندانوں کے علاوہ کسی کا نہیں سوچتیں۔ بھٹو کے اصل جانشین مرتضیٰ بھٹو کے فرزند ذوالفقار جونیئر کے ناچ گانے کی ویڈیوز دیکھنے سے عبرت پکڑنا چاہیے۔

مدیر مسؤل نوشتہ دیوار فاروق شیخ نے کہا: اللہ کی مہربانی سے جماعت اسلامی نے بالکل آخری وقت میں راجہ ظفرالحق کی تائید کردی۔ اسٹیبلشمنٹ کا موڈ معلوم کرنے کیلئے جماعت اسلامی کا ترازو بہت اچھا پیمانہ ہے۔ جس کا انکار وہ خود بھی نہیں کرتے ہیں اور اچھی بات بھی یہی ہے کہ حقائق کا اعتراف کیا جائے۔ خواجہ آصف نے انکشاف کیا تھا کہ سراج الحق نے مجھ سے کہا کہ ’’فوج تو آپکے ساتھ ہے ‘‘، اگر اسٹیبلشمنٹ کی چاہت ہوتی تب بھی اس بات کا امکان نہیں تھا کہ جماعت اسلامی اپنی حمایت حکومت کے پلڑے میں ڈالتی۔لیکن جب اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار تھی تو سراج الحق نے ن لیگ کو ووٹ دینا اسلئے مناسب سمجھا تھا کہ وہ ضمنی الیکشن میں دیکھ چکے تھے کہ ن لیگ کی حمایت نہ ہونے کے بعد کی پوزیشن کا کیا حال تھا؟۔ جماعت اسلامی نے ممتاز قادری کی شہادت کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا لیکن تحریک لبیک یارسولﷺوالوں نے اپنی سیاست شروع کردی ۔
جمعیت علماء اسلام س اور جماعت اسلامی نے مذہب کوزندہ رکھنے کیلئے ممتازقادری کی شہادت کو سیاسی حربے طور پر اسلئے استعمال کیا کہ عوام کے پاس جانے کیلئے ان کو دوسرا کوئی ایشو نہیں مل رہا تھا۔ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی بات اسلئے کی تھی کہ کوئی بے گناہ سزا کی زد میں آنے سے بچ جائے۔ تبدیلی کی تجویز رکھنے اور تبدیلی کیلئے اقدامات اٹھانے میں بھی بڑا فرق ہے۔ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم ایک مذہبی مسئلہ تھا تو پالیمنٹ میں شیخ رشید واحد آدمی تھا جو اس مسئلے کو اجاگر کررہا تھا۔ سینٹ میں جمعیت علماء اسلام کے حافظ حمد اللہ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایاتھا۔ پھر لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنا اور ملک گیر سطح پر احتجاج ہوا تو حکومتی وزیر زاہد حامد کوسازش میں ملوث ہونے کے جرم پر برطرف کیا گیا۔ حکومت اور اسکے نمائندوں نے وعدہ کیا تھا کہ جو لوگ بھی اس سازش میں ملوث قرار پائے ان کو قرار واقعی سزا دی جائیگی لیکن تاحال وہ وعدہ جمہوری حکومت نے پورا نہیں کیا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو ترمیم کی گئی تھی اس کو راجہ ظفر الحق نے باہوش و حواس ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ لیکن کمیٹی کی رپورٹ راجہ صاحب نے نواز شریف کو دے دی۔ عدالت میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ نواز شریف سے اس رپورٹ کو طلب کرسکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے کے علاوہ پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں نے دیگر حلف نامے بھی تبدیل کردئیے ہیں۔ پہلے ضروری تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والا حلف نامہ تحریر کرتا کہ اس نے کوئی قرض نہیں لیا ہے جو معاف کرایا ہو۔ بیرونی و اندرونی ممالک میں اس کی یہ جائیداد ہے ۔ اسکے پاس دوہری شہریت نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔
نواز شریف کو بھی وزارت عظمیٰ سے اسلئے نااہل قرار دیا گیا تھا کہ اس نے اپنے اقامے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اپنے اقامے کا ذکر نہ کرنا آئین کی دفعہ 62، 63کی اتنی خلاف ورزی نہیں ہے جتنی دوہری شہریت دفعہ 62،63کی خلاف ورزی ہے۔ نواز شریف کو اقامہ چھپانے پر نا اہل قرار دیا گیا تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن اور دیگر سینٹ کے ممبران کو دوہری شہریت چھپانے پر زیادہ نا اہل قرار دینا چاہیے تھا۔ صادق اور امین کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ عوامی بیت الخلاء میں کوئی بندہ پدو مارے اور جھوٹ بولے کہ ساتھ والے نے مارا ہے۔ بلکہ اس کا تعلق حلف نامے کے ساتھ درج کئے جانے والے حلف نامے کے ساتھ ہے۔ جب حلف نامہ نہیں رہا تو آئین کی یہ دفعات بھی خود بخود غیر مؤثر ہوگئی ہیں۔ چیف جسٹس بابا رحمتے اگر ریٹائرڈ ہوگئے تو اپنے بال بچوں کی روزی کیلئے پھر وکالت کرنے لگیں اور نواز شریف نے ان کو وکیل کرلیا تو یقیناًعدالت میں اس کیس کی وکالت کریں گے کہ اب حلف نامے سے تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر قانون پاس کردیا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کے پاس اقامہ ہے یا نہیں ، اسی طرح کوئی جائیداد ہے یا نہیں اور سچ جھوٹ کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا جس بنیاد پر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا تھا اب وہ بنیاد ہی ختم کردی گئی ہے لہٰذا اس کی نااہلی بھی ختم کی جائے۔ پچھلی مرتبہ محترم عبد القدوس بلوچ نے بھی اس نکتے کو اٹھایا تھا جس کی شہ سرخی شاید میڈیا کی نظروں میں نہ آئی ہو اور بعض لوگ تو کہہ رہے تھے کہ یہ دفعات ختم نہیں ہوئیں ہیں۔