پوسٹ تلاش کریں

پانامہ لیکس کاکورٹ میں کیس اور اشرف میمن کی طرف سے تبصرہ

نوشتۂ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا : روزروزپانامہ پر تبصرے ، بچہ بچہ جانے ہے مگر جج اور جیو نہ جانے، شف شف چھوڑو، شفتالو بولو۔ دماغ کی دہی بنی، رومانس کے بجائے رومینٹک کی کیفیت ہے، سیاستدان سے زیادہ وکیل منافق ہے، صحافی نے وکیل کو مات دیدی ہے۔ لطیفہ ہے کہ عیارنے لوگوں کو ورغلایاکہ مہینہ تک میری ہر فرمائش پوری کردو، تویہ پہاڑ کواٹھا کر دوسری جگہ لے جاؤنگا، مہینے بعد عوام سے کہہ دیا کہ میں پہاڑ کے اس جانب بیٹھ جاتا ہوں اور تم دوسری جانب سے زور لگاؤ، جب لدوا دوگے تو میں اس کو یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا۔ عوام کوبہت ہی امید تھی کہ یہ تماشہ دیکھیں گے ، کھلاتے پلاتے خوار ہوچکے، سادگی میں پہاڑ کو لدوانے پر خوب زور لگایا۔ شام کو تھک ہار کر ناکام ہوگئے تو معذرت کرلی کہ آپ نے وعدہ پوراکیا ،اٹھانے بیٹھ گئے مگرہم نہ لدواسکے ‘‘۔ ججوں نے فیصلہ کرنا ہوتاتواصغر خان کیس پر کیا ہوتا۔وہ شیخ رشید ، سراج الحق کو بھی دھمکائیں۔
مجیب الرحمن شامی جاویدچوہدری ،جاوید ہاشمی اور جیوکے ضمیر بھی قوم کے سامنے آئے ، رؤف کلاسرا اور ارشد شریف نے حقائق کھول کر سامنے رکھ دئیے ۔ پیپلز پارٹی نے تجربہ سے عدلیہ کا رخ نہ کیا یا ن لیگ کی حالت دیکھ کرشلوار گیلی ہوگئی؟ یہ ملک ایک انقلاب کا تقاضہ کرتا ہے جو ججوں کو انصاف سمیت بہالے جائے۔ عدلیہ کاانصاف کیلئے غریب اورامیر کی کرپشن، چوری، قتل، تشدد، عزت وحرمت ہر پیمانہ مختلف ہے۔ انصاف طاقت اورروپیہ سے ملتاہے۔
جنرل راحیل شریف جسٹس ظہیر جمالی کی عدالت میں جاتے، سوشل میڈیا کو کردار کشی نہ کرنے دیتے اور حکمرانوں کو عدالت گرفتار کر لیتی تو جنرل راحیل اپنے وقت پر چلے جاتے۔ آرمی چیف اور جوائنٹ چیف کو تمغے دئیے گئے کل ان کو طعنے ملیں گے کہ ڈان نیوز پر اس وجہ سے اصل کرداروں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا۔ جنرل راحیل کو قدم قدم پر بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔جنرل راحیل نے زندگی فوج میں کھپائی، کرپشن نہیں کی۔ جو زمین ملی اس سے زیادہ مریم نواز نے تحفہ لیکر چند سال میں کمائی پھر تحفہ بھی واپس کیا۔ لیڈر ہو تو ایسا کہ جادو سر چڑھ کربولے مٹی کے بدلے سونا تولے ،یہ سیدھے سادے بھولے بھالے،پھر عیار کیسے جنکے چوری کے مالے، کرتوتہیں کالے؟بڑے بڑے مجرموں کی وجہ سے جرائم کا راستہ نہیں رُکتا اور میڈیا کے بڑے کرشمے ہیں۔اشتہارات کے بدلے جو چاہیں مہم چلائیں۔جیو ایک دن اے آر وائی کی طرح ن لیگ کیخلاف مہم تو چلائے۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن وعدہ پورا نہ ہوا۔ سرمایہ کو غیر قانونی طریقے سے باہر لیجانا جرم ہے لیکن قوم کا اشرافیہ اس میں ملوث ہے۔ کرپشن و منی لانڈرنگ کے ملزموں کوان کے خاندان سمیت گرفتار کیا جائے جب تک اپنی دولت واپس نہ لائیں۔ زمین کی مزارعت کا سسٹم ختم کیا جائے ۔ شہروں میں سبزی منڈیوں کے نام پر آڑھت کی دلالی کا نظام ختم کیا جائے تاکہ محنت کش اور صارف دونوں کو فائدہ ہو، صحافت کے نظام کو شفاف بنانے کا اقدام کیا جائے،وکالت کا نظام جرائم پر پردہ ڈالنے کا قانونی جواز فراہم کرتاہے ، شیطانی دھندے کو قانونی لگام دی جائے تاکہ انصاف کو بالادستی حاصل ہو، مقدمہ پر دیر لگانیوالے ججوں کو ایسا مار دینے کا قانون بنایا جائے جیسے ہٹلر نے کرکٹ ٹیم کو قتل اور کرکٹ پر پابندی لگادی ۔ دنیا کی اونچی چوٹی سر کرنے سے انصاف کاملنا مشکل کام ہے۔ پاکستان لندن کا مقتدی بننے کیلئے نہیں امامت کیلئے بنایا گیا تھا۔ ہم نے خود سے انصاف کیا تو ملک کو استحکام ملے گا۔
وکیلوں سے بڑے دلال وہ جج ہیں جو انصاف نہیں منافقت کرتے ہیں۔ قرآن میں ہے کہ ’’جان کے بدلہ جان، آنکھ کے بدلہ آنکھ، کان کے بدلہ کان، دانت کے بدلہ دانت اور زخموں کے بدلہ قصاص‘‘۔ قرآن میں یہ حکم توراۃ کے حوالہ سے ہے۔ یہودی طبقہ نے نسل اور امیر وغریب کیلئے قوانین بدل ڈالے۔ کیا پاکستان ان یہودیوں کے اتباع کیلئے بنایا گیا تھا ؟۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ’’ 62،63کی بات ہو تو سراج الحق کے سوا کوئی بھی پارلیمنٹ میں نہ رہے‘‘۔ پھر اپنے الفاظ واپس لیکر ندامت کا اظہار کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا؟۔ کیا عمران خان کے وکیل پر دباؤ ڈالنا مقصد تھا کہ تیرا مؤکل بھی نہ بچے گا۔ جیسا کہ مختلف مواقع پر ججوں نے اس کا اظہار بھی کیا۔ جس کی وجہ سے بڑا دباؤ پڑتا رہا۔ حامد خان اسی دباؤ کی وجہ سے بھاگا، یا بھگایا گیا۔ جبکہ اکرم شیخ کا معاملہ مختلف تھا، اکرم شیخ نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں نوازشریف قطری سرمایہ بھول گیا‘‘۔توایک جج صاحب نے یہ ٹوٹکا دیا تھا کہ ’’ نوازشریف نے سیاسی بیان دیا ‘‘۔ پھر اگلی پیشی میں وہی بیان نوازشریف کے وکیل نے دیاتھا، نوازشریف پھر بھی پھنس رہا تھا،اب پارلیمنٹ کی غلط بیانی کو تحفظ دیا جارہاہے؟ ۔ شہبازشریف بڑا چیختا تھا جیسے حبیب جالب کی روح جاگی ہو، ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔۔۔
اگر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرٹیکل 62،63پر بیان دینے کے بعد ندامت کا اظہار اسلئے کیا ہو کہ جج کا کام سیاست اور کسی کو آئین کی زد سے بچانا نہیں بلکہ انصاف دینا اور مجرم کو سزا دینا ہے تویہ خوش آئند ہے۔ جو صادق و امین نہ ہو ، اس کو فارغ کیا جائے۔ عمران خان نے ٹھیک کہا کہ میں زد میں آتا ہوں تومجھے نہیں پاکستان اور قوم کو بچایا جائے۔ کسی ذاتی کاروبار کیلئے ٹرسٹ کا لفظ کسی نے نہیں سنا ہوگا۔ حکمران اپنے مفتیان کے ذریعے سود کو بھی جائز قرار دیتاہے۔ انگریزی میں ٹرسٹ ’’وقف‘‘ کو کہتے ہیں جسکی خریدوفروخت نہیں ہوسکتی۔ این جی اوز کے نام پر بھی پیسے کماجاتے ہیں، حالانکہ ان اداروں کا منافع سے کام نہیں ،نوازشریف کے بعد ٹرسٹوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جائے۔
خواجہ آصف نے عمران خان سے کہا تھا کہ ’’او کالیا تیرا کیا بنے گا؟‘‘۔ عدالت میڈیا پر چلنے والے متضاد بیانات کو ایک ایک کرکے چلائے اور تضاد بیانی کی وجہ پوچھے؟۔ خواجہ سعد رفیق میں اخلاقی جرأت ہوتی تو دُرِ یتیم وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کومریضوں کیلئے جعلی اسٹنٹ پر جیل بھجوادیتا۔ جہاں حامد سعید کاظمی کیساتھ’’ آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک‘‘ کا مظاہرہ ہوجاتا اور پیپلزپارٹی کا گلہ دور ہوجاتا کہ ’’عدالت ہم پرایک طرف دشمن کی طرح بھینگی نظرِغضب رکھتی ہے اور ن لیگ کو معشوقہ کی طرح محبت میں دوسری آنکھ بندکرکے پیار دیتی ہے‘‘۔ میاں شریف نے حسین نواز کو وصیت کی تو سرمایہ نوازشریف کا ہی تھا۔ حسین نواز کو مریم نواز ٹرسٹ کنٹرول کرتاہے،کیا حمزہ شہباز اپنے دادا کا پوتا نہیں تھا اسلئے اس پر فخر کرتا ہے؟ ۔ نوازشریف نے کہا کہ چور کبھی اپنے نام پر جائیداد نہیں رکھتا، ساری قوم چور بن جائے تو بھی ایسے لوگوں کو ملک کی باگ ڈور کی امانت نہیں سونپی جاسکتی جو یہ ملک اپنے مفادات کیلئے قرضوں میں ڈبودے۔ قوم کے سارے اثاثے گروی رکھوائے جارہے ہیں اورجس سے ٹیکسوں کا بوجھ قوم پرخود ہی بڑھتا رہیگا۔ کوئی کوئی ایسا ہوتاہے جو ذمہ دار عہدے کا پاس رکھ کر قوم کے مستقبل کا خیال رکھے۔ نوازشریف کی عقل دولت چھپانے کی نذر ہوئی ہے۔
جنرل راحیل چالاک اور بیوقف نہیں ہوشیارو سادہ ہیں۔ بد نیت و بدفطرت انسان میں ذہانت ہو تو اس کو چالاک کہتے ہیں، جوں جوں اس کی عقل کم ہوتی جاتی ہے توں توں وہ بیوقوف کے درجے پر پہنچتا ہے۔ نیک نیت اور اچھی فطرت کے انسان میں ذہانت ہوتی ہے تو وہ ہوشیار ہوتاہے اور جوں جوں اس میں عقل کی کمی ہوتی ہے تو اس کو سادہ کہتے ہیں۔ حدیث میں آتاہے کہ ’’مؤمن دھوکہ کھانے والا معاف کرنیوالا ہوتاہے‘‘۔ یہ سادہ مؤمن کی نشانی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’مؤمن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا‘‘ یہ بہت ہوشیار مؤمن کی علامت ہے۔ نوازشریف نے ایک مرتبہ ڈاکٹر طاہرالقادری سے بات کرنے کی درخواست کردی اور پھر مکر گیا۔ پھر سعودی عرب بھیج کر کہا کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ جنرل راحیل سادہ مؤمن لگتاہے ، دھوکہ کھاتا ہے دیتا نہیں۔ سعودیہ سے اپنی شرائط رکھ دیں کہ ایران کو بھی شامل کیا جائے۔ اگر سعودیہ شرائط مان لیتا تو پاکستان بھی شامل ہوجاتا۔ تاہم پھر بھی جنرل راحیل اپنے طور سے وہاں کی قیادت لے تو اس کو نیک شگون خیال کرنا چاہیے۔
سند ھ حکومت کراچی اور شہری آبادی میں بلدیہ کے اختیارات ضبط کررہی ہے اور مرکزی حکومت نے کراچی حیدرآباد ہائی وے کے ٹول ٹیکس پر ڈاکہ ڈالا ، دنیا کا ہر طاقتور کمزور کو دباتا ہے اگر یہ روش ختم نہیں کی گئی تو کوئی خوش نہ ہوگا، وزیر اعظم سے انصاف ہوا تودور رس نتیجہ نکلے گا۔ محمداشرف میمن

کیا کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو رعایت دینے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

پچھلی پیشی پر نواز شریف کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ قطری شہزادے کا ذکر نواز شریف نے اسلئے نہیں کیا کہ بھول گئے تھے۔ جج نے کہا کہ اگر
قطری شہزادے پر پیسے لگائے ہوتے تو نواز شریف نہ بھولتا۔ تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ قطری شہزادے کے خط اور پارلیمنٹ میں نواز شریف کے بیان میں تضاد ہے۔جج نے کہا کہ نواز شریف کا پارلیمنٹ میں بیان سیاسی تھا۔ اگلی پیشگی پر ن لیگ کے وکیل نے جج والا موقف اختیار کہ نواز شریف کا بیان
سیاسی تھا۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ سیاست اس کو کہتے ہیں کہ یا تو آدمی جھوٹ بولے یا سچ کو چھپائے۔ اب جج نے میڈیا کو سوال و جواب پر تبصرہ کرنے سے منع کردیاہے تو کیا نواز شریف کے وکیل نے اگر آئندہ پیشی پر جج کے موقف کو اپنایا تو یہ ٹھیک ہوگا؟ اہم بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار عدالت کے سامنے منی لانڈرنگ کا اقرار کرچکا ہے ۔ یہ دیکھا جائے کہ اسکے بیان کے فیگر ٹھیک تھے یا غلط ۔ اگر اسکے بیان کے فیگر درست نکلے تو پھر نئے سوالات کھڑے کرنے کی ضرورت نہیں ہے منی لانڈرنگ اس سے ثابت ہوچکی تھی مگر ناجائز طریقے سے کورٹ نے وہ فیصلہ معطل کردیا۔
تو کیا کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو رعایت دینے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ایڈیٹر نوشتہ دیوار اجمل ملک کا بیان

وزیراعظم نوازشریف اعلان کردے کہ ’’ زرداری بھی قوم کا پیسہ لوٹادے اور میرے بچے بھی لوٹادیں، انصاف کیمطابق فیصلہ نہ ہوا تو احتجاج کی قیادت میں خود کرونگا‘‘۔
جنرل راحیل شریف نے غیرجانبداری کا کردار ادا کرکے قوم ،ملک اور سلطنت کو مضبوط کیا۔ جج کی پریکٹس وکالت کی ہوتی ہے اسلئے اسکے ضمیر پر قوم کاکوئی اعتماد نہیں ہوتا
اکبر الہ آبادی نے کہا : وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا ۔ صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہتا ہے کہ اس شعر کو بھول جاؤ، حق تو یہ تھا جو ادا ہوا

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر محمداجمل ملک نے اپنے بیان میں کہاہے کہ ’’ جب جج، جنرل اور جنرنلسٹ(صحافی) جانبدار بن جائیں تو ان کو جبری طور سے جیل جانا چاہیے۔ جنرل راحیل کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرکے قوم، ملک اور سلطنت کو استحکام کے راستے پر ڈالا۔ حکومت اور اپوزیشن میں اعتدال کی راہ پر چلے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری عمران خان اور نوازشریف شہباز شریف میں کوئی تفریق نہیں رکھی۔سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور اپوزیشن لیڈر خورشید کو یومِ دفاع کی مرکزی تقریب میں ساتھ بٹھایا، مسلم لیگ ن کی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ کھل کر اظہار کرتی کہ’’ غیرجانبدار آرمی چیف اور فوج کے کردار پر فخرہے،جو سازشی عناصر کے پیچھے بھی نہیں اورنہ حکومت کی دُم چھلہ ہے‘‘۔ مگر ن لیگ کی قیادت ہی ایسی کم عقل ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا اور آرمی چیف نے کرپشن کیخلاف بیان دیا تو نوازشریف کو اس کا بھرپور خیرمقدم کرنا چاہیے تھا، وزیراعظم نے الٹا حساب مانگا ،کہ’’ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کیا ، ہتھکڑی لگائی، حکومت ختم کی گئی اسکا حساب کون دیگا؟‘‘۔میڈیا کو چاہیے تھا ،کہتاکہ’’ جواب اپنے باپ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے لے لو، جس نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو قانون سازی کرنے اجازت دیدی۔نامزد چیف جسٹس ٹھیک کہتے ہونگے کہ ’’ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے ہمیشہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا۔ عوام مایوس نہ ہوں۔ہم انصاف ہی کرینگے‘‘۔
انسانوں کے ضمیر میں اختلاف ہوتاہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں بھائی اور پیغمبر تھے۔ جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں سامری کے ورغلانے سے ایک بچھڑے کی عبادت شروع کردی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عوام کو سزا نہیں دی ، اپنے ذمہ دار بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا، حضرت ہارونؑ نے کہا کہ ’’میں نے اسلئے منع نہ کیا کہ ان میں تفریق پیدا ہوتی، جس پر آپ کہتے کہ قوم کو تقسیم کردیاہے‘‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ناراض ہونا اور حضرت ہارون علیہ السلام کا نظریۂ ضرورت پر عمل کرنا ضمیر کا اختلاف تھا کوئی کوتاہی نہ تھی۔ یہ سچ ہے کہ جسٹس منیر سے لیکر جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کئے ہونگے لیکن ضمیروں کا اختلاف بھی قوم کیلئے بعض اوقات اطمینان کا ذریعہ نہیں بن سکاہے۔ ن لیگ نے جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں سپریم کورٹ پر ہلہ بول دیا تھا، ڈوگر کے خلاف طوفان برپا کیاتھا، جسٹس قیوم کا فون اور اقرارِ جرم ریکارڈ پر ہے۔وزیرداخلہ چوہدری نثارنے ٹھیک ٹھاک پریس کانفرنس کردی ہے اور ٹھنڈی فوج کی موجودگی میں عدالت کیلئے حکومت کے خلاف انصاف سے فیصلہ کرنا بھی ضمیر کیلئے بڑے دل گردے کا کام ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تھا اور نبیﷺ نے اپنے ضمیر کے مطابق ہی کیا تھالیکن صحابہ کرامؓ کی اکثریت کے ضمیر اس پر متفق نہ تھے اور کھل کر اپنے اختلاف کااظہارِ رائے کررہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے صلح حدیبیہ کو وحی کے ذریعے فتح مبین قرار دیا۔ صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے بدر ی قیدیوں کو اپنے ضمیر کے مطابق فدیہ لیکر رہا کرنے کا مشورہ دیا اور نبیﷺ نے فیصلہ فرمادیا لیکن اللہ نے اس کو نامناسب اور دنیا کی چاہت کا آئینہ دار قرار دیا۔ وحی کا سلسلہ بند ہوچکاہے اور عدلیہ اپنے ضمیر کے مطابق انصاف کرے تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے اور قوم کو فیصلے سے اختلاف ہو تو بھرپور احتجاج کا حق بھی رکھتی ہے ۔اپنے لئے شہبازشریف ڈوگر کیخلاف چیخا تھا ،قوم کیلئے بھی کھل کر کردار ادا کرے۔
جیو اور جنگ گروپ جمہوری نظام کی سہولت کاری کے طور پر فوج کو بدنام کرے تو یہ اس کا حق ہے اور اس کو سو خون بھی معاف ہیں لیکن جمہوریت کے نام پر کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو دوام بخشنے کیلئے یہ کردار ادا ہو تو اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی؟، شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں جنید نے حامد میر کے ذریعہ پیپلزپارٹی کیخلاف ن لیگ کے اقدام کو غیر مناسب قرار دینے کا سہرا پاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی کا نام لئے بغیر ڈالا۔ یہ جیو کی منافقانہ پالیسی ہے کہ 27دسمبر سے پہلے پیپلزپارٹی کو رام کرنے کیلئے پروگرام کیاگیا، روزنامہ جنگ کراچی میں مین لیڈ لگی تھی کہ وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کرپشن کی ہے۔ حالانکہ اسی شام میڈیا پر لائیو پروگرام میں حامدسعید کاظمی حلفیہ بیان دے رہے تھے کہ اس نے کوئی کرپشن نہیں کی ہے۔ کیا جنگ اور جیو کو اعترافِ جرم کیلئے بہت مجبور کیا جائے گا تو اپنا اخلاقی فرض ادا کرینگے؟۔ آزادئ صحافت پر قد غن کا لگانا بڑی بیمار ذہنیت کی علامت ہے، سرِ عام جھوٹ کا بکنا بذاتِ خود بڑی سزاہے مگر اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی سیاسی جماعت کی سپورٹ یا مخالفت صحافت کے مقدس پیشے سے بدترین بددیانتی کا ارتکاب ہے۔ غیرجانبداری کے بل بوتے پر ہی صحافت کی اجازت ملتی ہے۔ آج صحافیوں اور میڈیا چینلوں کی اکثریت کھل کر انحراف کے مرتکب ہیں۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کو قانون صحافت کی اجازت نہیں دیتا مگر یہاں تو آوے کا آوابگڑا ہواہے۔بازارِ صحافت کا ہر میراثی نمبر ون کے دعوے کرتانظرآتاہے۔
قوم کو عدل واعتدال والے ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کی سخت ضرورت ہے۔ عدالت اگر سابقہ ججوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے بے انصافی کرنے والوں کو سزا دے تو جرنیل کو بھی شکوہ نہیں ہوگا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ پرویز مشرف کی طرح ججوں کو بھی کٹہرے کا سامنا کرنا چاہیے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ضمیر کے مطابق ہوسکتا تھا کہ بعض ججوں کو پی سی او کے تحت ہی حلف اٹھانے پر انہی ججوں نے سزا دی جو خود ہی اس جرم میں ملوث رہے تھے۔ ضمیروں کا اختلاف بڑی رحمت ہے اور بعض اوقات ضمیروں کے اختلاف رحمت بھی بنتاہے لیکن بعض اوقات پتہ چلتا ہے کہ ضمیر اتنا آلودہ ہوچکا ہوتاہے کہ قانون کیساتھ جج بھی خود کو اندھا وکیل بنالیتاہے۔ قصور اس کا اس لئے نہیں ہوتا کہ ’’ہمارے نظام میں وکالت کی پریکٹس کرنے والوں کو بھی جج بنالیا جاتاہے‘‘۔ وکیل کا کام انصاف کرنا نہیں ہوتا بلکہ مجرم کو تحفظ دینا ہوتاہے، اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر سے معذرت کیساتھ جس کرپٹ اور جرائم پیشہ شخص کی معزز وکلاء صفائی کا ٹھیکہ اٹھالیں تواکبر الہ آبادی کے شعر کی یاد تازہ ہوگی کہ وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہ رہاہے کہ ’’اس شعر کو بھول جاؤ، مجھے دیکھو، حق تویہ تھا جو ادا ہوا‘‘۔
پوری قوم اور سیاسی قیادت کو نکل کر کہہ دینا چاہیے کہ ’’ اگر انصاف کا قیام عمل میں لایا گیا تویہ خوشگوار طریقے سے تبدیلی قوم کی خوشحالی ہوگی‘‘۔ نوازشریف کہہ دے کہ مجھے عدالت سے انصاف چاہیے، زرداری بھی چور تھا اور میں نے ٹھیک کہا تھا کہ قوم کا پیسہ واپس آنا چاہیے، میں بھی چور ہوں اور اپنے بچوں اور دوستوں کے نام پر پیسہ لوٹانے کے خلاف عدالت کو میرے خلاف بھی درست فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ قوم کے احتجاج کی قیادت مجھے کرنی پڑیگی، مجھے انصاف دواور زرداری کو بھی پیسہ لوٹانے پر مجبور کردو، یہ قوم بہت پس چکی ہے، اب کہیں ہمیں پیس کر نہ رکھ دے‘‘ ۔اجمل ملک

سیاسی نظام کی اصلاح

سب سے زیادہ قابلِ داد وہ سیاسی ورکر ہوتاہے جو غریب کی ہر مشکل میں کام آتاہے، ڈکٹیٹر شپ قوم پر مسلط ہوتی ہے تو یہی ورکر اور رہنما جیلوں کی صعوبت برداشت کرتے ہیں۔قربانیاں دیتے ہیں، عوام کے درمیان رہتے ہیں، جینے مرنے میں ساتھ ہوتے ہیں، باغی کہلاتے ہیں، جیالا اور جنونی کہلانے پر فخر کرتے ہیں ، مخالفین کی طرف سے آسائشوں کی پیشکشوں کوٹھکراتے ہیں اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگاکر نظرئیے ، تبدیلی اور عوامی خدمت کو اپنا مشن بناکر رکھتے ہیں، دوسری طرف سیاسی قیادت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، ان کا علاج ملک سے باہر ہوتاہے، ڈاکٹروں کی مبہم سی ہدایات پر دنیا بھر میں گھوم سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں آسکتے۔ جھوٹی بیماریاں جھوٹے علاج کرنے والے قائدین کے چاہنے والے غریبوں کو سچ کی بیماری اور سچ کا علاج بھی نصیب نہیں ہوتاہے۔
ایں خیال است و محال است کہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے سے کوئی مثبت اور بنیادی تبدیلی آئے گی۔ قانون بنایا گیا کہ قومی اسمبلی کے الیکشن میں 15لاکھ سے زیادہ رقم خرچ نہ ہوگی لیکن کیا اس پر عمل درآمد ہوا؟۔ ایاز صادق اسپیکرقومی اسمبلی اسپیکر اور تحریک انصاف کے علیم خان نے15لاکھ کے بجائے 15,15کروڑ کا خرچہ نہیں کیا بلکہ نجم سیٹھی کی بیگم جگنو محسن کے جیو کا پروگرام تھا جس میں50,50کروڑ سے زیادہ خرچہ کرنے کی بات عوام کے سامنے لائی گئی۔ اور جہانگیر ترین کو اس حلقے والے جانتے بھی نہ تھے جہاں سے الیکشن لڑا ، ایک ارب کا خرچہ میڈیاپر بتایا گیا۔ جسکے پاس الیکشن لڑنے کیلئے 15لاکھ روپے ہوتے ہیں وہ غریب اور پسے ہوئے طبقات کا دکھ درد نہیں سمجھ سکتاہے اور جہاں طلال چوہدری دانیال عزیز، جہانگیرترین اور دیگر لوٹے شوٹے قیادت کی آنکھ کا تارا ہوں، ان موتیا کے مریضوں کو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے کبھی نظر نہیں آسکتے ہیں۔ ایک ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو غریب ، قوم اور جمہوریت کی آواز بن کر اُبھرے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے انتظار میں عمران خان نے اپنا لائحۂ عمل بعد میں دینے کا اعلان کیا،حالانکہ جب پنڈی میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے جلسہ کیا تھا اس کا بھی عمران خان نے انتظار کیا تھا، ڈاکٹر طاہرالقادری کے بعدہی رائیونڈ جانے کا اعلان کیا لیکن فسٹ کزن نے سرخ بتی دکھادی، جب عمران خان نے 2نومبر کا اعلان کیا تھا اور فضا گرم تھی تو پھر بلاول بھٹو نے بھی 7نومبر کا اعلا ن کردیا تھا۔ اللہ خیر کرے کہ چوہدری اعتزاز احسن کو بلاول بھٹو حکم نہ دے کہ پانامہ لیکس میں نوازشریف کے وکیل بن جاؤ، زرداری کو بھی قابل وکیلوں نے بچایا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کو اردو صحیح نہیں آتی ورنہ اور کچھ نہیں تو نواب شاہ اور لاڑکانہ کے الیکشن کو جیتنے کیلئے شہبازشریف کو پرجوش تقریروں کا حوالہ دیتا کہ ’’ تم نے کہا تھا کہ صدر زرداری کو لٹکا دونگا، اب آؤ، تم زیادہ پکے مسلمان ہو، وعدہ کو قرآن و حدیث کی رو سے پورا کرنا ضروری سمجھتے ہو، پانامہ لیکس سے آلودہ نہیں دامن صاف ہے تو اس جوش کیساتھ خالی تقریر ہی کرکے دکھادو، کہ زرداری کو میں گھسیٹوں گا، پیٹ چاک کرونگا، چوکوں پر لٹکاونگا۔ میں بھی کہتا ہوں کہ کراچی سے جو پائپ لائن قطری گیس کی جارہی ہے، ایران کی سستی گیس کو چھوڑدیا ہے، جس سے عوام کو ریلیف مل جاتی تو اسی پائپ لائن کے اندر دونوں بھائیوں کو ڈال دونگا، بھلے نون لیگی مجھے شائستگی سکھادیں‘‘۔
عبدالحکیم بلوچ نے پیپلزپارٹی چھوڑ دی، پھر ن لیگ میں وزیرِ مملکت برائے ریلوے بن گئے اور پھر وزارت کو لات مارکر پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ انکے حلقہ صالح محمد گوٹھ میں ویرانے کی طرف میمن گوٹھ جاتے ہوئے ایک پرانا کھمبا پڑا ہے، جس کو قانون کے خوف سے چور نہیں لے جاتے مگر ٹانک سے بنوں تک پورا ریلوے ٹریک نوازشریف نے اتفاق کی بھٹی میں ڈال دیا۔ بڑے چوروں نے سیاست کو تجارت بنالیاہے۔درباری ملا دوپیازے ہر دور کے بادشاہوں کو میسر آجاتے ہیں، پاکستان کی سیاست کے فیصلے لندن میں ہوں، لندن میں رہنے والے کریں تو قوم کو کبھی درست سمت نہیں لے جاسکتے۔ جبتک جنرل راحیل شریف سے اہل اقتدار خوفزدہ تھے تو بھارت نے ہمارے معصوم لوگوں کو سرحد پر مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہندوستان سے دوستی ہونی چاہیے لیکن اسلئے نہیں کہ سرحدوں پر بھی دوستی نبھانے کیلئے ٹینشن کا کام لیں۔
پنجاب حکومت نے عوام کو گدھوں کا گوشت کھانے سے بچانے والی عائشہ ممتاز اور سندھ نے ایماندار پولیس آفسر اے ڈی خواجہ کو ہٹادیا۔ پانی سے مالامال اور سستی بجلی پیدا کرکے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے سوئس اکاونٹ اور پانامہ لیکس سے بھی سیاستدانوں کے پیٹ نہیں بھرے اور مخلص ورکروں اور رہنماؤں کا فرض بنتاہے کہ خودہی اپنی اپنی قیادتوں کے خلاف بھی آواز بلند کر دیں۔ سیاست ملازمت کی طرح بن جائے تو پاکستان میں جمہوری کلچر کبھی پروان نہیں چڑھے گا۔

ریاستی نظام کی اصلاح

ہماری سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں بافی قوم کی طرح اچھے برے لوگ ہیں مگرکوئی اپنے اہل و نااہل بیٹے یا بیٹی کو آرمی چیف نہیں بناسکتا اور جس سیاسی ، جمہوری اور آئینی نظام کے ماتحت ہماری سول وملٹری بیوروکریسی ہے وہاں موروثی نظام کے تحت بیٹا، بیٹی، پوتا اور نواسہ عوام پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ میڈیا سکرین پر راج کرنیوالے صحافی نظام کی تبدیلی کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے مقابلہ میں موروثی جمہوریت کو سپورٹ کرکے جمہوریت کی خدمت سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو تین طلاق دینے کے درپے آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے توقع رکھتے تھے کہ 27 دسمبر کو بڑا اعلان ہوگا۔ باپ بیٹے نے اچھا کیا کہ ’’ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی تمنائیں رکھ کر جینے والوں کی خواہش پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا کہ اسی اسمبلی کا حصہ بنیں گے جس پر کرپشن کا شاہسوار ہی حکومت کرنیکی اہلیت رکھتاہے‘‘۔ یہ کھیل بالکل ختم ہونا چاہیے کہ جمہوری حکومت پردباؤ ڈال کربیوروکریسی کے کرتے دھرتے اپنا الو سیدھا کرکے بیٹھ جائیں۔جنرل راحیل کے مداح سراؤں نے نیا موڑ لیا کہ’’ عمران خان بڑی چیز ہے،راحیل کی بات نہیں مانی ورنہ معاملہ بدلتا‘‘۔ عمران کہے گا کہ یہ کیا بکواس ہے؟۔
ڈاکٹر طاہرالقادری سے انقلاب کی کیاتوقع ہوگی کہ رائیونڈ مارچ کا اعلان کیا ، پھر اسکی طرف جانیوالی راہ پر بھی احتجاج جمہوریت و اسلام کیخلاف قرار دیا۔ عمران خان نے بھی دس لاکھ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا لیکن اس خوف سے کہ اس کو بنی گالہ سے نہ نکالا جائے ، اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کو اپنی حفاظتی حصار کیلئے پاس بلالیا اور کارکنوں کو مار کھلانے کے بعد خود کو بچانے کیلئے مبارک ہو، کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ عمران خان نے یوٹرن لے کر بڑی غلطی کی اور عمران کہتاہے کہ تم اپنے یوٹرن کو کیا بھول گئے؟۔ یہ طے ہے کہ کوئی مرتاہے تو آس پاس والے کفن دفن اور جنازہ پڑھنے کیلئے پہنچتے ہیں، شادی کے موقع پر بھنگڑے ڈالنے لوگ آتے ہیں۔ موجودہ سیاسی لیڈر شپ میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے علاوہ عمران خان نے بھی نہ صرف پرویزمشرف کی حمایت کا کردار ادا کیا تھا بلکہ دھرنے میں لمبے عرصہ سے امپائر کی انگلی اٹھنے کیلئے التحیات للہ والصلوٰ ت والطیباتپڑھنے کا ورد سلام پھیرنے تک جاری رکھا، طالبان کیلئے ایاک نعبد و ایاک نستعین اور اب امام ضامن بھی باندھا۔
مولانا فضل الرحمن کی بات ٹھیک ہوگی کہ مدارس سے ایک دہشت گرد نہ پکڑا گیامگر جے یوآئی (ف) کے رہنما مولانا سید محمد بنوریؒ کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں امریکہ نے ڈرون حملے سے تو شہید نہیں کیا؟۔خود کشی کا الزام لگایا تو خود کشی کرنیوالے کو مسجد کے احاطہ میں دفن کیا؟۔ جنرل ضیاء اور جنید جمشید کی باقیات کو عزت ملی، جنرل مشرف نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھنے کو اعزاز قرار دیا، اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خانہ کعبہ میں داخل ہونے کا اعزاز مل گیا۔ خانہ کعبہ میں رہائش پذیر ہونے کا اعزاز لات،منات سمیت 360 بتوں کو بھی ملا تھا، ظالم جابر بادشاہوں کو تاریخ کے ہردور میں خانہ کعبہ کے غلاف میں منہ چھپانے کا اعزاز ملتا رہا مگر حقیقی اعزاز توکردار کا ہوتاہے۔ صحافی سلیم بخاری نے کہا :جمعیت علماء ہند کے ایک عالم نے بتایا کہ ’’باجوہ کا خاندان سنی ہے‘‘۔ مجھ سے بڑے بھائی پیرنثار احمد شاہ سے کہا گیا تھا کہ اگر انٹرویو میں کہہ دو کہ احمدی ہوں تو فوج میں سلیکٹ ہوگے، بھائی نے یہ تو نہ کیا البتہ سیدعطاء شاہ بخاریؒ کو اپنی محبوب شخصیت قرار دیا، ہوسکتا ہے کہ باجوہ نے بھی سلیکشن کیلئے کہہ دیا ہو کہ احمدی ہوں اور پھر ترقی کیلئے برأت کا اعلان بھی کیا ہو، مجھے زیادہ معلومات ہیں اور نہ دلچسپی۔ کسی نے بتایا کہ جنرل رحیم اچھا انسان اور قادیانی تھا جو جنرل ضیاء الحق نہیں اعجازالحق کا سسر تھا۔ قادیانیوں نے بھی مذہب کو پیشہ بنایاہے اور دوسروں سے زیادہ ان پر مذہبی خبط سوار ہے۔ ہماری فوج، عدلیہ،انتظامیہ اور سیاسی قیادت بنانا انگریزہی کا کارنامہ تھالیکن مدارس اور مذہبی لوگوں نے اسلام کا ایسا بیڑہ غرق کردیاہے کہ اگر انگریز کے ہاتھ میں یہ مدارس ہوتے تو شاید دنیا کی سطح پر ابھی اسلامی خلافت کا نظام بھی عمل میں آجاتا۔
ہماری ریاست نے امریکہ کی سرپرستی میں اہل مدارس، فرقہ پرستی ، جہادی سرگرمی اور شدت پسندی کو رواج دیکر اسلام کا حلیہ مزید بگاڑا، مسلمان کو بدنام ہوا،ریاست کو لے پالک مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے نجات حاصل کرے۔ محنت کش عوام جانوروں کی زندگی گزار رہی ہے، غریب تنگ آمد بجنگ آمد کی حد تک پہنچے توواقعی اینٹ سے اینٹ بج جائیگی ،زرداری والی دھمکی نہ ہوگی۔
چوہدری نثار نے جسٹس کو بدنام کرنے پر ایکشن لیایا رام کرناچاہا ؟ایکشن کی منتظر لمبی فہرست تھی،غلط پروپیگنڈے سے زیادہ وزیرداخلہ کی اپنی پریس کانفرنس قابلِ گرفت تھی ۔ حکیم اللہ محسود کی روح تڑپی ہوگی کہ ’’ہم جان اور خاندان سے گزرگئے اورتم نے کھدڑے چوہدری سے ملادیا؟‘‘۔

عدالتی نظام کی اصلاح

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ، آئین میں قرآن وسنت کو بالادستی حاصل ہے اسلام ہی نہیں ہر ریاست کا بنیادی فریضہ عدل وانصاف کا قیام ہوتاہے۔ اسلام کا ایک پہلو یہ ہے کہ توحید کے عقیدے کے مطابق نبیﷺ کی سنت کو لائحہ عمل بناکر بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالا جائے۔ دین میں جبر وزبردستی نہیں ۔ مشرک وکافر مسلمان پر جبروظلم کرکے اسکے ایمان میں رکاوٹ ڈالے تو اللہ نے قرآن میں زبردستی کے کلمۂ کفر کو بھی معاف کیاہے،اسلام جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دیتا کہ وہ مسلم کو زبردستی سے کافر بنائیں تو تم بھی زبردستی کرکے ان کا مذہب بدل ڈالو۔ صلح حدیبیہ رسول اللہﷺ کی مجبوری نہ تھی بلکہ یہ معاہدہ اسلام کی روح کے مطابق تھا کہ ’’کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مکہ جائے تو اس کو واپس نہ کیا جائے اور کوئی مشرک مسلمان ہوجائے اور مدینہ میں مسلمانوں کے آغوش میں آجائے تو اس کو پھر واپس لوٹا دیا جائے‘‘۔ جو دل سے مسلمان ہوں اور ان کو پابند کیا جائے کہ والدین کی آغوش میں رہو تو یہ اسلام کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ تلقین ہونی چاہیے کہ اسلام نے والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بچپن، جوانی ادھیڑ عمر اور ایک حد تک بڑھاپا بھی اپنے مشرک باپ آزر کے سایہ میں گزارا، بت فروش باپ سے تلخ بات کی نوبت بھی نہ آئی، باپ کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔
مولانا منیراحمد قادری نے پچھلابیان دیا کہ ’’رسول اللہﷺ کو گالی دینے پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے باپ کے منہ پر تھپڑ مارا تھا‘‘۔ ہوسکتاہے مگر عائشہ صدیقہؓ پر جو بہتان لگا تو نبیﷺ کیلئے اس سے زیادہ اذیتناک واقعہ نہیں تھا، اللہ نے فرمایا کہ ’’مؤمنوں کی یہ شان نہیں کہ جنکو اللہ نے مالامال کیا ہو، وہ قسم کھائیں کہ مستحق لوگوں سے ہم مالی تعان نہ کرینگے، اپنا احسان جاری رکھو‘‘۔ کیونکہ ابوبکرؓ نے قسم کھالی تھی کہ وہ حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں کیساتھ احسان نہ کرینگے، جن میں اپنا قریبی رشتہ دار حضرت مسطحؓ اور معروف نعت خواں حضرت حسانؓ بھی شامل تھے۔ابن ماجہؓکی روایت ہے کہ ’’نبیﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کے والد حضرت ابوقحافہؓ کو خضاب لگانے کا حکم دیا تھا‘‘۔
اسلام کے عادلانہ نظام کی اس سے بڑی کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے اور ایک عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا ایک ہی ہے۔ عدالت میں کس اسلام کے قانون کے تحت امیر کی ہتک عزت اربوں اور کھربوں میں ہے اور غریب کی عزت ٹکے کی نہیں؟۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دوواقعے قرآن و حدیث میں موجود ہیں جن میں عدالت عظمیٰ سے انصاف میں غلطی ہوئی اور نچلی عدالت نے انصاف کا تقاضہ پورا کیا۔ اگر انور ظہیر جمالی کو پانامہ لیکس پر انصاف کی سمجھ نہ آتی تو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ یا بلوچستان کے جسٹس فائز عیسیٰ کو معاملہ سپرد کردیتے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے دو فریقوں کے درمیان فیصلہ کیا ، ایک کے جانور نے دوسرے کی فصل کو نقصان پہنچایا ۔ فصل و جانور کی قیمت ایک جتنی تھی اسلئے حضرت داؤد علیہ السلام نے فصل والوں کو نقصان میں جانور دیدئیے، حضر ت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح سے ایک قوم محروم ہوجائے گی، اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔ چنانچہ فصل کو اپنی جگہ تک پہنچانے کی ذمہ داری جانور والوں کے ذمہ لگادی اور جانور انکے حوالہ کئے جن کی فصل کو نقصان پہنچا تھا کہ جب تک اس کا فائدہ اٹھائیں، ایک پر محنت ڈال دی اور دوسری کے نقصان کا ازالہ کردیا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے سوفیصد درست کہا کہ ’’نیب کرپشن کی سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے‘‘ لیکن اگر عدالتی نظام جلد انصاف فراہم کرتا تو نیب کی ضرورت نہ ہوتی۔ عدالت کا کام قانون کے مطابق طاقتور اور مجرم کو تحفظ فراہم کرنا بن جائے تو اس سے ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے دو خواتین نے مقدمہ پیش کیا جن کا ایک بچے پر دعویٰ تھا، حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی صوابدید و ضمیر کیمطابق فیصلہ کیا جو غلط مگر قابلِ گرفت نہ تھا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔دونوں کی بات سن کر فیصلہ کیا کہ ’’بچے کو دو ٹکڑے کرتا ہوں‘‘ ، جو مقدمہ جیت چکی تھی کہہ رہی تھی کہ بچے کو دو ٹکڑے کردو، مجھے قبول ہے اور جو خاتون مقدمہ ہار چکی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ ’’میں دستبردار ہوں بچہ سلامت رہے، میں نے جھوٹ بولا تھا، یہ میرا بچہ نہیں، اسکا ہے جو اس کو ٹکڑے کرنیکی بات کررہی ہے‘‘۔ فیصلہ اسکے حق میں ہوا، جو دستبردار ہوئی۔ قانون کیاہے، وزیراعظم اپنے باپ اور بچوں سے انصاف کی خاطر دستبردار ہیں یا معاملہ کچھ اورہے؟۔نوازشریف نے عمران خان کا باپ نہیں مارا ، عدالت عمران خان کا وکیل ہی بھگادے، اگر عدالت کو خوف ہو تو دہشت گردوں کی طرح فوجی عدالت قائم کی جائے اور عدالت کو خوف نہ ہوتو پوری قوم کی خاطر نوازشریف سے ابتداء کرکے کسی کو بھی نہ چھوڑے۔

اسلامی دنیا کو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کرنا ہوگی. عتیق گیلانی

عالم اسلام میں بادشاہت، جمہوریت، ڈکٹیٹر شپ اور فرقہ واریت کا دور دورہ ہے۔ القاعدہ، طالبان، داعش اور فرقہ واریت کے علاوہ ہمارے ریاستی نظام بھی عوام کیلئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ افغانستان،عراق، لیبیا، شام کے بعد ایران، سعودیہ اور پاکستان کی باریاں بھی آسکتی ہیں، ہم سے زیادہ خوش فہمی کا شکار تباہ ہونے والے وہی ممالک تھے۔ ہم پرچاروں طرف سے دشمن کا گھیراؤ ہے۔ ایران، افغانستان اور عرب ممالک کی پاکستان سے زیادہ بھارت سے دوستی ہے۔ چین کے ترقی یافتہ علاقے سمندرکے ذریعہ سے دنیا میں ملے تھے تو دنیا میں کونسی تبدیلی آئی ہے؟۔ گوادر سی پیک کے ذریعہ چین کاپسماندہ ایریا دنیا سے مل جائیگا تب بھی دنیا میں کونسا بڑا انقلاب آئے گا؟۔ روس کے خلاف جب دنیا افغانستان میں جنگ لڑرہی تھی تو بھی راہداری پاکستان کے ذریعہ تھی اور جب نیٹو نے طالبان کیخلاف جنگ لڑی تب بھی راہداری کی یہی راہ تھی۔ البتہ پاکستان نے اب راہداری کے ذریعہ دوسروں کی جنگ لڑنے کے بجائے مثبت راستے کا سفر شروع کیا ہے اور اللہ کرے کہ خیر سے تبدیلی آئے۔
بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ چکا ہے، اسلئے تسلسل کیساتھ بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جنرل راحیل شریف کے دور میں ملک کی داخلی صورتحال بہت بہتر ہوئی۔ طالبان، بلوچستان اور کراچی کے حوالہ سے جو کامیابی ریاست کی رٹ بحال کرنے میں ملی اس کا انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ پاکستان بدریج بد سے بد حال تک جیسے پہنچ چکا تھا، اس میں قوم کے کسی ایک فرد یا ادارے کا کردارنہ تھا بلکہ پوری قوم زوال کی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے جمہوری جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگی قیادتوں کو جبری جلاوطن کر دیاتھا، عدالتوں کو پرغمالی بنالیالیکن فوجی قیادت عوام کی اصلاح نہ کرسکی تھی۔
جمہوریت اور عدالتیں بحال ہوئیں تو عدالت نے سیاست شروع کردی اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو ٹف ٹائم دیا، اگر اصغر کیس کے ذریعہ انصاف کے تقاضے پر عمل پیرا ہوکر یوسف رضا گیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہل قرار دیا جاتا تو قوم کا عدلیہ پر بے انتہااعتماد بڑھ جاتا۔ ریاست کی رٹ صرف فوجی طاقت سے ہمیشہ کیلئے بحال نہیں رہ سکتی ہے۔ عوام کے اعتماد کیلئے زیادہ اہمیت عدل و انصاف کے نظام کی ہوتی ہے۔پختونخواہ کے طالبان، بلوچستان کے قوم پرست اور کراچی کی ایم کیوایم سے زیادہ معاشرتی ظالمانہ نظام کا پنجاب میں راج ہے۔وزیردفاع وپانی وبجلی خواجہ آصف اور اقبال کے شہرسیالکوٹ کا تازہ واقعہ ہے کہ’’ دلہن کو اجتماعی زیادتی کا شکار بنایاگیا، شور مچانے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پولیس مجرموں کی پشت پناہی کررہی ہے‘‘۔ شور مچانے اور تشدد کا نشانہ بننے سے ڈر کر چپ کی سادھ لینے والوں کی کتنی ان گنت کہانیاں ہوں گی؟۔ یہ اس وقت پتہ چلے گا جب مظلوموں کا ظالموں کیخلاف انقلاب آئیگا۔ سیاسی جماعتیں عوامی نہیں بلکہ آشیرباد رکھنے والوں کی داشتائیں ہیں۔
القاعدہ، طالبان داعش کے علاوہ کراچی کی ایم کیوایم، بلوچی قوم پرست اور اندرون سندھ کی پارٹیاں زمانے کے جبر سے وجود میں آئی ہیں۔ امریکہ کا مجاہدین کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دینے سے القاعدہ بن گئی، افغانستان میں مجاہدین تنظیموں کی بدمعاشی سے مجبوری میں طالبان آگئے، امریکی حملے کی وجہ سے پاکستانی طالبان وجود میں آگئے، عراق پر حملے بعد شام میں کاروائی کی وجہ سے سنی مکتبۂ فکر کو ریلف مل گئی تو دولت اسلامیہ عراق وشام تشکیل پائی ،جو داعش کے نام سے دنیا میں پھیل گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بقول امتیاز عالم کے پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے اردو اسپکینگ مہاجروں کو کاٹ کر سند ھیوں سے ملا دیا تو ایم کیوایم کیلئے بنیاد بن گئی۔نجم سیٹھی نے پنجاب کے ظلم کی داستان نہری نظام کی شکل میں بیان کی ہے جس سے سندھ بنجر بن گیا اور احساسِ محرومی کالا باغ ڈیم میں رکاوٹ کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسائل کے باوجود عوام کی غربت کا مسئلہ بغاوت تک لے گیا۔ پاکستان سے عالمی اسلامی خلافت علی منہاج النبوۃ کا آغاز ہوجائے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
مدارس کے نصاب کی اصلاح سے کم عقل لوگوں کے چنگل سے اسلام کی تعبیرو تشریح پر اجنبیت کے پردے ہٹ جائیں گے۔ لونڈی بنانے کے نظام کو قرآن نے آلِ فرعون کا اختراع قرار دیاہے، امریکہ نے عافیہ صدیقی کو قید کرکے لونڈی بنانے سے بھی بڑی سزا دی ہے۔ طویل المدت قید انسانیت کی بہت بڑی تذلیل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرافت پر بڑا دھبہ ہے۔

کیا مغربی جمہوری نظام کفر ہے یا نہیں؟ عتیق گیلانی

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو خلافت کا حقدار قرار دیاہے، ابلیس اپنے تکبر کے باعث راندۂ درگاہ ہواتھا، فرشتوں نے اللہ سے اختلاف کرکے اعتراض اٹھایا کہ ’’یہ خلیفہ زمین میں فساد پھیلائے گا، خون بہائے گا اور قتل و غارتگری کریگا‘‘ لیکن اللہ کے فرمان پر سب نے سجدہ بھی کرلیا مگر ابلیس نے سرتابی کی۔ حضرت آدمؑ نے جنت میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور پھر ان کو زمین میں اتارا گیا تو بڑے بیٹے قابیل نے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں بنی اسرائیل میں نبوت وخلافت کا سلسلہ جاری رہا، پھر اللہ نے آخری نبیﷺ کی بعثت فرمائی۔ انصار ومہاجر اور قریش واہلبیت میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف واعتراض بالکل صحیح تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی شخصیت میں بڑے جامع تھے۔ بشریت، رسالت اور اولی الامر کے حوالہ سے آپﷺ کا اسوہ حسنہ انسانیت کی رہنمائی کیلئے بہترین نمونہ تھا۔ شادی، طلاق، اولاد، رشتہ داری اور معاشرے میں انسانی ضروریات کے تمام معاملات سے آپﷺ کی بشریت اعلیٰ صفات سے مالامال اور بہترین نمونہ تھی۔ رسالت کا تقاضہ تھا کہ آپﷺ کی وحی کے ذریعے رہنمائی ہو، مذہبی ماحول نے جو گہرے اثرات معاشرے پر ڈالے تھے اس کا نتیجہ تھا کہ جب ایک خاتون نے اپنے شوہر کی طرف سے شدید ترین طلاق ظہار کے مسئلہ پر مجادلہ کیا تو اللہ نے وحی کے ذریعے رہنمائی فرمائی جس کی تفصیل سورۂ مجادلہ کی آیات اور تفسیرو احادیث کی کتابوں میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مشاورت کا حکم بھی دیا تھا اور غزوہ بدر میں اکثریت کی مشاورت کے باوجود فدیہ کا فیصلہ ہوا،تو اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی۔ غزوہ احد کا فیصلہ اپنی منشاء کے خلاف شہر سے نکل کر باہر لڑنے کا فیصلہ کیا اور حدیث قرطاس کی وصیت سے مزاحمت پر دستبردار ہوئے۔ اس تعلیم و تربیت کا عملی نتیجہ یہ تھا کہ صحابہؓ اختلاف کے باوجود بھی نظامِ خلافت پرمتحد ومتفق رہے۔نبیﷺ نے انفرادی طور پر فرمایا: ’’امام قریش میں ہونگے‘‘ اور ’’بارہ خلفاء قریش سے ہونگے جن پر امت اکٹھی ہوجائے گی‘‘۔ یہ احادیث مستقبل کی پیش گوئی اور اخبار تھے۔ خلافت عثمانیہ عرصۂ دراز تک قائم رہی لیکن وہ قریشی نہیں تھے۔ ذیل کے نقشہ میں احادیث کا آرٹ دیا گیاہے۔ اور مغربی جمہوریت پر لوگ متفق ہوں تو یہ کفر نہیں بلکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ’’ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے‘‘۔ اس حدیث سے مغربی جمہوریت ہی مراد ہوسکتی ہے۔ انتقال اقتدار کا سب سے پرامن اور عوام کے اختیار کا بہترین راستہ جمہوری نظام ہے، یہ الگ بات ہے کہ جمہوریت کی روح مفقود ہے، حضرت امام حسنؓ نے اکثریت کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کی تو حدیث میں بھی آپؓ کی تائید ہے کہ ’’میرے اس فرزند کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘‘۔ رسول اللہ ﷺ سے اولی الامر کی حیثیت سے صحابہ کرامؓ نے اختلاف کیا، خلفاء راشدینؓ نے اپنی رائے سے اختلاف کیلئے روڑے نہیں اٹکائے مگراب جمہوری پارٹیوں کے قائدین و رہنما ڈکٹیٹر شپ اور موروثیت کی پیداوار کی وجہ سے خچروں اور تیسری جنس کی طرح لگتے ہیں۔
روزنامہ جنگ میں یہ شہ سرخی لگی کہ ’’حامد سعید کاظمی نے اقرار جرم کرلیا‘‘ مگر شام کو حلف دیکر حامد کاظمی انکار کررہاتھا۔ حامد میر نے کہاتھا کہ شہباز شریف ڈان کی خبر پر پریشان تھا، پھر راحیل شریف پر توسیع کا الزام لگادیا ، کل یہ نہ کہے کہ راحیل شریف کو شہباز نے جھاڑدیا ، جیسے عرفان صدیقی نے حامد میر کے پروگرام میں صدر تارڑ کی جرنیلوں کے سامنے بہادری کا ذکر کیا ۔ صحافت مقدس پیشہ ہے، فواد چوہدری پرویزمشرف ، پیپلزپارٹی کے بعد تحریک انصاف میں آیا، کیایہ جائز صحافت ہے؟۔اگر صحافت کا پیشہ ٹھیک ہوجائے تو انقلاب آسکتاہے۔باقی دھرنے کے دوران حامد میر لیگیوں کا مذاق اڑا رہا تھا کہ میرے پاس پناہ لے رہے تھے۔ ڈان کی خبر پر بھی پیروں کو پکڑنے کی باتیں میڈیا پر ہورہی تھیں۔ حکمرانوں کے پاس حکومت کرنیکی اخلاقی قدریں نہیں، اسلئے کہ ڈکٹیٹر ، موروثیت اور کرپشن کی پیداوار ہیں۔بس چلے تو گردن کو بھی پکڑ لیتے ہیں :بے بسی میں ٹانگیں بھی جکڑ لیتے ہیں۔

Naqsh-e-Inqalab-October-special2016

داعش کے پیچھے مغرب یا نظریہ خلافت؟ عتیق گیلانی

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں الماوردی کی کتاب’’ الاحکام السلطانیہ‘‘ کا تذکرہ ہے، علماء کا طبقہ اس کتاب کے نام اور احکام سے بالکل بے خبر ہے۔ ہزارسال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھی گئی یہ واحد کتاب تھی جو اس موضوع پر معروف و مشہور ہے۔ اس کتاب میں مسلم اُمہ کا اجتماعی فریضہ لکھا گیاہے کہ ’’ ایک خلیفہ مقرر کرنا ضروری ہے‘‘۔ یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ ’’ ایک ، دو یا چند افراد کے پہل کرنے سے خلیفہ مقرر ہوجائیگا اور پھر تمام مسلمانوں پر اس کی اطاعت فرض ہے‘‘۔ کتاب میں خلیفہ کے شرائط و صفات کا بھی ذکرہے۔ جن میں قریشی ہونا اور اعضاء کی سلامتی شامل ہے۔ جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے داعش کے امور پر مہارت رکھنے والے نے بتایا کہ ’’ داعش نے ملاعمر کے امیر المؤمنین بننے کو اسلئے مسترد کیا کہ وہ قریشی نہ تھے اور آنکھ سلامت نہ تھی‘‘۔
جس طرح کسی ملک میں بادشاہ یا وزیراعظم کی تقرری کے بعد عام باشندوں کیلئے رمضان کے روزے رکھنااور بقرہ عید کی قربانی ذبح کرنا بھی حکمران کے مقرر کردہ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے تابع ہوجاتا ہے اور سودی نظام بھی علماء ومفتیان کے فتوے سے حلال ہوتاہے،اسی طرح داعش کے خلیفہ اور انکے علماء ومفتیان جس قسم کے احکام بتاتے ہیں اور جو فتوے دیتے ہیں دنیا بھر میں ابوبکر البغدادی کی تقرری اور مقرر کردہ امیروں کا حکم چلتاہے اور اس کو سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جیسے اسماعیلیہ آغا خانیوں کا اپنا امام ہے، داودی بوہرہ کا اپنا امام ہے، میرا خیال ہے کہ اہل تشیع نے بھی ایرانی انقلاب اور امام خمینی کے بعد ہی پاکستان میں جمعہ پڑھنا شروع کردیا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستانی قوم کی طرف سے سپاسنامہ میں خلافت موومنٹ اور کمال اتاترک کا تذکرہ کیا ، علامہ اقبال ، خلافت موومنٹ اور پاکستان کا حوالہ دیا لیکن اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کن متضاد پگڈنڈیوں پر چل کر قدم ڈگمگارہے ہیں اور نہ ہی زبان لڑکڑارہی ہے، جاہل تو ہوتے ہی لٹ مار ہیں، قومی اسمبلی کا سپیکر غیر جانبداری کا حلف اٹھاتاہے مگر ہمارے سپیکر صاحب غیر جانبداری کے فرض سے ناواقف۔
بہرحال طیب اردگان نے مسلم امہ کو قریب کرنے کی بات کرکے داعش کو مغرب کے کھاتہ میں ڈال دیا تو بھی حقائق کا ان کو پتہ ہوگا مگر جس طرح اپنے سیاسی حریفوں کے سکول پاکستان میں بند کرادئیے جن میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی تعلیم نہیں تھی، فوجی بغاوت پر بھی فتح اللہ گولن نے کہا تھا کہ ’’ہم خود ہمیشہ فوجی بغاوت کے خلاف رہے ہیں اور ہم نے ان کے تشدد کا خود بھی سامنا کیاہے تو ہمارا ہاتھ کیسے ہوسکتاہے؟‘‘۔ پاکستان ، ترکی ، امریکہ اور دنیا بھر میں مغربی جمہوریت سے الزام تراشیوں کے سلسلے جاری ہیں۔داعش کے سخت ترین حریفوں کا داعش میں شمولیت کو امریکہ اور مغربی سازش قراردینا نادانی ہے، یہ درست ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں بھی گڈ اور بیڈ کا تصور تھا،ایک نمبر اور دونمبر والوں کی عام شہرت تھی لیکن داعش ایک سازش نہیں بلکہ خلافت کا فلسفہ و نظریہ ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء کے ایک بہت بڑے پروگرام میں خلافت کی احادیث کو اپنی جماعت پر فٹ کیا اور تسلسل کیساتھ اپنے مشن کی اس طرح سے تشہیر بھی کرتے رہے۔ مولانا نیاز محمد قریشی (جو سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی کے کزن ) نے یہ تقریر ’’آذانِ انقلاب‘‘ کے نام سے شائع کی۔ بریلوی مکتبۂ فکر علامہ عطاء محمد بندھیالویؒ نے خلافت کو شرعی فریضہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق بھی قریشی نہیں، مسلمانوں خلیفہ کا تقرر شرعی فریضہ ہے جو قریشی ہو۔ ڈاکٹرا اسرار کے ایک پروگرام میں علامہ طاہرالقادری اور دوسرے میں حزب التحریر اور المہاجرون تنظیم کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ خلافت کیلئے امام کا تقرر ہے اور امام کاتعلق سرحدوں سے بالاتر زمانہ کیساتھ ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ قادیانی بھی اپنے امیر وامام کی تقرری پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان کی ریاست کو خلافت کا اعلان کرنا ہوگا۔ زندگی آساں گر حوصلہ بڑا ہے، منزل بڑی ہے تو امتحان کھڑا ہے ۔ خلافت سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے۔

اسلاف ہمارے لئے سرمایہ افتخار کیوں؟ عتیق گیلانی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لااکراہ فی الدین ’’دین میں جبر کا کوئی تصور نہیں ‘‘۔ کسی کوزبردستی سے منافق تو بنایا جاسکتاہے لیکن مؤمن نہیں۔ منافق کادرجہ فی درک الاسفل من النار’’جہنم کا نچلا ترین ہے‘‘۔ایسا کوئی ماحول بنانا جس سے تشدد کے ذریعے منافقت کی راہ ہموار ہو اسلامی تعلیمات، فطرت اور انسانیت کے بالکل منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ظلم وجبر، تشدد وزبردستی کا ہر گز نہیں۔ اسلام سے پہلے بھی فرقہ واریت کا شدید ترین مسئلہ رہاہے لیکن اسلام نے اس کا حل قتل وغارت اور ظلم وتشدد سے پیش نہیں کیا بلکہ تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو قرآن میں تحفظ دینے کی تعلیم دی۔ صوامع، بیع، صلوٰت اور مساجد میں اللہ کے نام کا کثرت سے ذکر کی سند جاری کرکے مجوس،یہود ونصاری اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کیاہے۔ یہ کسی مخصوص وقت کیلئے نہیں بلکہ قیامت تک کیلئے آیات ہیں اور جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں تو اس وقت کے یہود ونصاریٰ ، مجوس و صابی موجودہ دور کے مقابلے میں زیادہ گمراہ تھے۔ دنیا میں عذاب کے بھی مستحق اسلئے تھے کہ اس وقت انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا، جن سے اتمام حجت بھی ہوجاتی تھی۔ اللہ نے فرمایا : وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ’’ اور ہم عذاب نہیں دیتے ہیں یہاں تک رسول کو مبعوث نہ کردیں‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی، یہود نے بے انتہا مظالم کردیے، گستاخانہ ذہنیت کی انتہا کری مگر جب اسلام نازل ہوا تو عیسائیوں کو مشرکانہ اور یہود کو گستاخانہ ذہنیت کے باوجود برداشت کرنے کی تعلیم دی اور اللہ نے فرمایا: ان الذین اٰمنوا والذین ہادووالنصٰری والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر لھم اجر فلاخوف علیھم ولاھم یحزنون ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے، اور جولوگ یہودی ہیں اور نصاریٰ ہیں اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پرایمان لائے تو ان کیلئے اجرہے ، نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
جس اسلام نے صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓ کے دل ودماغ میں بے پناہ وسعتیں پیدا کردیں، اسکے نام سے ہم نے جبروتشدد کی ایسی پگڈنڈی بنائی کہ دنیا کے مختلف ومتضاد مذاہب تو بہت دور کی بات ہے، اگر آیت میں انکی جگہ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کو رکھا جائے تب بھی فرقہ بندی کے خوگر اس ایمانی مٹھاس سے اتنا ہی پرہیز ضروری سمجھتاہے جتنا شوگر کا مریض قدرت کی عظیم نعمت مٹھاس سے۔ یہی حال رہا تو بعیدنہیں کہ جنت میں انواع واقسام کے مٹھاس سے دوسرے تو مانوس ہوکر خوف وغم سے آزاد بھی رہیں، تعصب سے قرآنی آیات کا کھل کر انکار کرنیوالوں کی قسمت میں جہنم کا شجرہ زقوم ہو۔ اللہ و آخرت پر بھی ایمان کے بعد اچھا عمل صدیقین، شہداء اور صالحین کی صف میں شامل کرتا ہے اور اچھے اعمال کے بغیر دوسروں کے خلاف تشدد کی آگ بھڑکانے والے ان لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے جو مرد ہوکر بھی ایکدوسرے کیساتھ جنسی عمل کے عادی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ’’ ان دونوں( فاعل مفعول) کو اذیت دو، اگر توبہ کریں تواللہ در گزر کرنے والاہے‘‘۔
صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے تشدد اور نفرت کی ایسی آگ نہیں بھڑکائی تھی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر دوسروں کے خلاف قتل وغارتگری اور جنگ وجدل کا بازار گرم ہو۔ اسلام افہام و تفہیم اور اچھے انداز کی تعلیم وتربیت سے جانی دشمن کے سامنے بھی ایسے انداز میں بات کرنے کی تلقین کرتاہے کہ جس سے وہ گرم جوش دوست بن جائے۔ انبیاء کرامؑ ،صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہوں پر چل کر صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے اختلاف کو تشدد میں بدلنے سے بچنے کیلئے جو راستہ اختیار کیا وہ مثالی تھا۔ حضرت عثمانؓ نے مسند پر شہید ہونا قبول فرمایالیکن فساد نہیں پھیلایا، حضرت علیؓ نے منصب سے دستبردار ہونے کی بات قبول کرلی مگر خوارج نے بغاوت کردی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’رسول اللہﷺ نے رسول اللہ کے لفظ کو بھی صلح حدیبیہ میں قلم زد کیا‘‘ ۔ مگروہ نہ مانے اور کہا کہ ’’قریش بحث کرنے کے عادی ہیں‘‘۔اللہ نے میاں بیوی کے درمیان ایک ایک حکم دونوں طرف سے مقرر کرنے کاحکم دیالیکن تحکیم کو کفر قرار دیاگیا۔ صلح حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ قائم رہتے تو حضرت عمرؓ کے دور تک مسلمان اسی پر کاربند رہتے۔ دنیا میں عدل کے قیام کیلئے اسلام سے زیادہ پرامن جدوجہد کی مثال نہیں ملتی ہے۔