پوسٹ تلاش کریں

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

جیواورحامد میر نے سفید جھوٹ کہا کہ فوج نے عدلیہ کیخلاف فیصلہ دیا ۔ اتوار کا پورا دن گزار دیا اور کوئی فیصلہ اس خوف سے نہیں کیا کہ عدلیہ نا اہل کردے گی۔ یہ ثبوت ہے کہ فوج نے یقین نہیں دلایا

جسٹس اطہر کے اختلافی نوٹ میں سیاست سے دور رہنے کی بات تھی لیکن اس کا ساتھی جسٹس فائز عیسیٰ حیرت انگیز طور پر پارلیمنٹ پہنچ گیا۔ یہ اس نظام کے خاتمے کی نوید لگتی ہے۔

عدلیہ اور پارلیمنٹ نے آئین کو توڑنے کی گولڈن جوبلی منائی ہے۔ پاک فوج کو سیاست سے دور رہ کر اپنے معاملات درست کرنے چاہئیںتاکہ وہ اپنا کھویا ہوا اعتماد عوام میں بحال کرسکیں

پاک فوج واحد ادارہ ہے جس سے پاکستانی ریاست کا استحکام وابستہ ہے۔ اس کے جوان بے لوث قربانی دیکر شہادت کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسکے قابل ترین افسروں نے ملک کو مذہبی ، لسانی ، سیاسی اور نظریاتی جنگ وجدل سے محفوظ رکھنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صحافی ، سیاستدان ، حکومت ، اپوزیشن اور سبھی ان کو دعوت دیکر اپنے مخالف کے خلاف اکسانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ آج چیف جسٹس عمرعطابندیال سے پارلیمنٹ ٹکرانے کی ناجائز کوشش کرتی ہے تو قانون کی بالادستی کیلئے طاقت کا استعمال بہت ضروری ہے۔پہلے بھی ایک مرتبہ نوازشریف نے سپریم کورٹ پر اپنے ججوں اور پھر کارکنوں کے ذریعے سے ہلہ بول دیا تھا۔ اگر اس وقت مارشل لاء بھی لگادیا جاتا تو لوگ اس کو احسن قدم کہتے ۔ تحریک انصاف اور ن لیگ نے جن صحافیوں کو لفافوں کی قیمت پر لگایا ہے ،ان کو کٹہرے میں لانے کی سخت ضرورت ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر نے عدالت کے خلاف گرین سگنل دے دیا ہے ، دوسرا اپنی طرف سے ریڈ سگنل کی بات کرتا ہے۔ان کا مقصد آرمی چیف کی حمایت اور مخالفت سے پاک فوج کی مٹی پلید کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
پہلی فرصت میں پنجاب کی45ہزار ایکڑ اراضی پنجاب کی حکومت کو نہیں غریب مزارعین کسانوں میں بانٹ دیں۔ ایسا نہ ہوکہ مزارعین کے لبادے میں جاگیردار اور سیاستدان بھی اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے پہنچ جائیں۔ جب اکرم خان درانی اور مولانا فضل الرحمنGHQسے زمین لیتے ہیں تو شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی اور ملک بھر کے دوسرے جاگیردار اور سرمایہ دار بھی ان سے زیادہ بھوکے ہیں۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر قرآن کے حفظ اور سادات کی لاج رکھتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ملک میں کمزور طبقے میں عزت بڑھ جائے۔ ان سیاسی جماعتوں کے زر خرید میڈیا ٹولز سے ہرگز نہیں گھبرائیں۔ انہوں نے عزت نہیں دینی ہے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے اللہ نے عزت دینی ہے۔ عمران خانیوں کا جوش جنون واقعی خطرناک حد تک بڑھا ہوا ہے لیکن اس کا مقابلہ طاقت نہیں شعور سے کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب کے لوگوں میں شعور کی بہت کمی ہے اور جن لوگوں میں تھوڑا بہت شعور ہے وہی عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں۔ اس باشعور طبقے کو مزید شعور دینے کی سخت ضرورت ہے۔
جب پاک فوج اعلان کرے گی کہ ملک کی خاطر ہم اپنے پر تعیش علاقوں کو اپنے ہم وطنوں پر بیچ رہے ہیں اور خود جنگل میں منگل بنارہے ہیں تو پاکستانی ہی اپنا پرائیوٹ پیسہ باہر سے لاکر انویسٹ کردیںگے۔ ملک کے قرضے بھی تمہاری اس قربانی کی وجہ سے اتر جائیںگے اور قوم میں ایسی عزت بحال ہوگی کہ اللہ تمہیں امر کردے گا۔ سیاستدانوں ، کرپٹ ججوں ، جرنیلوں اور صحافیوں نے مل بیٹھ کر پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ معاشی استحکام کی جنگ جب تک فوج خود ہمت نہیں کرے گی تو سیاستدانوں نے کچھ بھی نہیں کرنا اور نہ ان کو کچھ کرنا آتا ہے۔ انہوں نے مال کمانے کے طریقے سیکھ لئے ہیں۔ جرنیلوں اور ججوں میں گنتی کے چند افراد کرپٹ ہوں گے ،انہوں نے تو ٹبر کے ٹبر تیار کر رکھے ہیں۔
زرداری جب الطاف حسین سے بات کرتاہے تو اپنی بیٹی آصفہ اور الطاف کی بیٹی فضا اور ان کی نسلوں تک سلسلہ جاری رکھنے کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کو جمہوری ملک بنانے کے بجائے مغل سلطنت کے دور میں راجے مہا راجے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ عوام بیچاروں کو اقتدار اور اس کے فوائد کی معلومات تک نہیں ہوتی ہیں لیکن سیاستدان فوج کیساتھ مال منڈی کے دلالوں کی طرح انگلیوں کے اشاروں سے عوام اور مال بیچنے والوں کے درمیان سودا طے کرکے اپنے مالی فوائد اٹھاتے ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان حکومت دلالی کرنے کے بجائے اپنے اصل کردار کو ادا کرے گی تو یہاں سیاستدان کے کپڑے اتریں گے اور نہ فوج کے کوئی کپڑے اتار سکے گا۔ پاکستان سب کا مشترکہ گھر ہے اور یہ قیامت تک اس وقت باقی رہ سکتا ہے کہ جب اس کے مکین عوام ہوں اور عوام ہی سے اُٹھ کر لوگ سیاست اور ریاست کی خدمت کررہے ہوں۔ عوام مرگئے ہیں یا مارے گئے ہیں؟۔اسلئے کہ یہاں کوئی اہل قیادت نہیں ہے۔ فوج میں آرمی چیف تو چند افسران میں سے قسمت پر سلیکٹ ہوجاتا ہے اور اس کی ساری زندگی اس ملازمت میں گزری ہوتی ہے جس میں اپنے افسران بالا کے حکم کی بجا آوری میں اس کے دماغ کی رگیں بہت کمزور ہوجاتی ہیں۔ جب اس کو اچانک بہت بڑا اختیار مل جاتا ہے تو رہی سہی عقل بھی کام نہیں کرتی ہے اسلئے کہ ادارے نے اپنا پریشر ڈالنا ہوتا ہے۔ بیرون واندرون ملک کے مسائل اپنی جگہ ہوتے ہیں اور سیاسی ومذہبی دباؤ کا سامنا الگ ہوتا ہے ۔اس عاشقی میں لیلائے سیاست کی کئی دلہنیں سج دھج کر کھڑی ہوتی ہیں اور بندہ ناچیز کو بھگوان سمجھ کر دیوی کا کردار کی پیشکش کرتی ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ شطرنج کے مہرے کی طرح اس کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے اور بھگوان سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرح ڈائن کے مقام ومرتبہ پر کھڑا کرکے کھایا پیا سب ہضم لیکن بلغم اس کے منہ پر پھینکا جاتا ہے اور ساری برائیوں کی جڑ ریٹائرڈ آرمی افسر بن جاتا ہے اور مغویہ حاملہ اور جبری زیادتی کا شکار نئے الیکشن کی تیاری کرنے والی لیلائے سیاست بن جاتی ہے۔
پاکستانی دو چیزوں کو پسند کرتے ہیں ۔ایک بہادری اور دوسری مظلومیت۔ مولانا عبدالغفور حیدری بھی اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرنے کیلئے کہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو جنرل باجوہ نے گھر پر بلواکر بہت فحش گالیاں بکیں اور آخر کار میرا پیمانہ صبر لبریز ہوا تو جنرل باجوہ کو شٹ اپ کی کال دی۔ اکرم شیخ ، ابصار عالم اور سارے صحافی اور سیاستدان اپنی کہانیاں بتاتے ہوئے بہادری اور مظلومیت کی داستانیں بتاتے ہیں۔ حامد میر نے خبر دی کہ شہباز گل کو ننگا کرکے مارا گیا لیکن احمد نورانی نے اس خبر کو جھوٹ قرار دے دیا۔ حامد میر نے کپڑے اتارنے کے بعد اپنی چڈی تک بات پہنچادی تھی لیکن یہ ایک واقعہ ہوگا اور اس میدان کا وسیع تجربہ ہوگا یا مظلومیت اور بہادری کے قصوں کا محض شوق؟۔فوجی سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹی بہادری بھی ایک کمال تو ہے؟۔ اگر قرآن وسنت کے ٹھوس احکام کو عوام میں عام نہیں کریںگے تو پاکستان ہاتھ سے ایسا نکل جائیگا جیسا کہ جنگلی درندہ!۔ جو نکلتے وقت زخمی بھی کرسکتا ہے اور جان سے مار بھی سکتا ہے۔
اگر پاکستانی قوم کی حالت دیکھ لی جائے تو ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے ؟، کس کی شامت ہے ؟، کس کی تذلیل ہے؟، کون اچھا ہے؟، کون برا ہے؟، حکومت جائے یا اپوزیشن آئے عوام کی اکثریت اس سے بالکل لا تعلق ہے اور یہ لاتعلقی بہت خطرناک ہے۔ یہ بھی بڑی غنیمت ہے کہ عمران خان کو کچھ چاہنے والے مل گئے ہیں۔ جو میڈیا کو سیاسی سرگرمیاں فراہم کررہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ شہباز شریف نے جتنی نفرت آصف زرداری سے قوم کو دلائی ہے وہ اتنی آسانی سے نکلنے والی نہیں ہے۔ ہر برائی کی جڑ آصف زرداری کو سمجھا جاتا ہے اور اس کا سارا کریڈٹ کھمبوں سے لٹکانے کی دھمکی دینے والے شہباز شریف کو جاتا ہے۔ اب ان کی دوستی پر دنیا پریشان ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف کیس بھی کئے، عدالتوں سے فیصلے بھی لئے اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خود کو معصوم سمجھنے کی اُمید بھی عوام سے لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ تو عقل کریں۔ عمران خان بڑا دبنگ انسان ہے لیکن جب وزیر اعظم بن گیا تو اس کی ساری دھمکیاں اس وقت ڈھبر ڈوس ہوئیں جب عبوری حکومت کی طرف سے گرفتار کیا گیا نواز شریف اس کی اجازت سے نکل گیا۔ مریم نواز تیمارداری کے غرض سے ضمانت پر رہا ہوئی تھی لیکن بیمار لندن پہنچ گیا اور تیمار دار مریم نواز عمران خان کو ترکی بہ ترکی زبردست جواب دیتی رہتی تھی۔ میلا اب صرف ایک عمران خان نے گرم کرکے رکھا ہے اور دوسری مریم نواز ہے۔ دونوں کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔ لیکن ایک دوسرے پر جملے زبردست کس کر مارسکتے ہیں۔
عوام بھوکی ہے، ننگی ہے ، بیروزگار ہے، جملوں سے ان کا پیٹ نہیں بھرتا ہے اور مریم نواز اور عمران خان جملے بازیوں سے میاں مٹھو کی طرح بولنے والے غریب عوام کو کچھ نہیں دے سکتے تو اب ان کی آواز بھی نہیں نکل رہی ہے۔ میدان ہے اور اس میں عمران خان اور مریم نواز ایک دوسرے کیخلاف میچ کھیل رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی جیتے یا ہارے لیکن عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔
عوام کو جگانے کیلئے ایک ہی طریقہ کار باقی رہ گیا ہے کہ قرآن کی طرف ان کو راغب کیا جائے۔ اور علماء و مفتیان نے دین کا جس طرح سے کباڑہ کرکے رکھا ہے اس سے ہٹ کر واقعی پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کیا جائے اور فرقوں ، جماعتوں ، گروہوں، تنظیموں اور پارٹیوں سے ہٹ کر موٹے موٹے احکامات سے لوگوں کو آگاہ کرکے زندگی کے نئے رخ پر انکو ڈالا جائے۔ پاکستان لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا تھا اور آئین پاکستان میں بھی قرآن و سنت کی بالادستی ہے لیکن ہمارے ہاں مذہب کا استعمال بھی بلیک میلنگ کیلئے کیا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی آج کل اپنے ماضی کے دشمن قوم پرستوں کو خوش کرنے میں لگی ہے۔ جب جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے آرمی کے خلاف کچھ کہا تھا تو جماعت اسلامی نے اسے ہٹا کر سراج الحق کو امیر بنادیا۔ جو بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار رہی ہو یا اس کی پیداوار ہو جب تک ان پر پابندی نہ لگائی جائے پاکستان کا ماحول درست نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ سینیٹر مشتاق احمد خان کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ اشرافیہ کا تعلق جس جماعت ، جس پارٹی اور جس تنظیم سے ہو اس کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بل بھی انگریزی زباں میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مدارس کے نصاب ، قرآن کے ترجمے اور تفسیر میں اتنی بڑی بڑی غلطیاں ہیں۔ حلالے کے نام پر عزت دار خواتین کی عزتیں لٹ رہی ہیں لیکن نام نہاد مذہبی جماعتوں کو اس کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔ جب کل اس پر کوئی بازار گرم ہوگا تو خطابت کے جوش دکھانے والے میدان میں اتریں گے اور لوگوں کو سمجھ میں آئے گا کہ یہ بیچارہ پتہ نہیں کب سے اس ایشو کیلئے مرا جا رہا تھا؟۔ تقریریں ان کے دل کی گہرائیوں سے نہیں نکلتیں بلکہ یہ انہوں نے اس طرح سے مشق کی ہوئی ہوتی ہے جیسے سکول کی بچیاں تقریریں کرتی ہیں اور کسی اُستاد کی لکھی ہوئی تقریر سے آسمان اور زمین کی قلابیں ملائی جاتی ہیں۔
سنجیدہ بات یہ ہے کہ جب ختم نبوت کے خلاف پارلیمنٹ میں بل پاس ہورہا تھا تو ایک ظفر اللہ جمالی تھا جس نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا کہ میں ایسی اسمبلی کا رکن نہیں رہ سکتا جس میں خاتم الانبیاء رحمت للعالمین ۖ کے خلاف یہ سازش ہو۔ اس ظفر اللہ جمالی پر پوری جماعت اسلامی ، پوری جمعیت علماء اسلام اور پوری مسلم لیگ و پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی بڑی پارٹیوں کے قائدین ، رہنما اور کارکن قربان ہوں۔ یہ سارے بکواسیہ موقع ملنے پر بک بک کرتے ہیں لیکن کسی نے بھی ناموس رسالت کیلئے اسمبلی اور اپنی جماعت سے استعفیٰ دینے کی جرأت نہیں کی ہے۔ ظفر اللہ جمالی آزاد حیثیت سے رکن پارلیمنٹ بنے تھے اور پھر مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور جب ختم نبوت کے خلاف سازش ہوئی تو وہ اسمبلی سے مستعفی ہوگئے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے گھرائیں تھے وہ بتائیں گے کہ اس نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر استعفیٰ دیا تھا یا اپنے ضمیر کے مطابق ایمان کا مظاہرہ کیا تھا؟۔ حافظ سعد حسین رضوی بھی اپنے باپ کی عزت و ناموس کیلئے عدالت میں پیش ہوں اور جسٹس فائز عیسیٰ سے معلومات حاصل کریں کہ کس طرح اس کے باپ نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر لوگوں کو قربانی دینے پر اکسایا تھا؟ ۔ اگر وہ ثابت کردیں تو تحریک لبیک کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جسٹس فائز عیسیٰ کو اپنے فیصلے کی جوابداری کرنی چاہیے۔ نواز شریف نے بڑے بڑوں کو شیشوں میں اتارا ہے ۔ اللہ خیر کرے پارلیمنٹ ، عدلیہ اور فوج کی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

اسٹیبلیشمنٹ کے دو چیلوں کی لڑائی کو سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ تک لیجانے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ پنجاب کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے اسلئے اپنا دائرہ کارپنجاب تک آپ ضرور بڑھائیں !

عمران خان کے زندہ دلانِ لاہور کی حوصلہ شکنی نہ کریں،صحت مند سیاست میں جان جذبے اور جنون سے آتی ہے مگر لڑائی بھڑائی سے جمہوری نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے!

پہلے مرکز کی سیاست کبھی پنجاب اور کبھی سندھ میں پیپلزپارٹی کی وجہ سے منتقل ہوتی رہتی تھی۔ مسلم لیگ ف، ج، ق ، ن ، ع سبھی اسٹیبلشمنٹ کی سگی ہیں۔ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں کوئی مسلم لیگ پنپ نہیں سکتی ہے ۔ پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ اعجاز الحق کی ضیاء مسلم لیگ ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ بھی ایک سیٹ کے ساتھ زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے بانی کو قتل کیا گیا تھا اسلئے پیپلزپارٹی کااسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ کمزور ہوگیا تھا۔ پھر اسٹیبلشمنٹ نے چاہا کہ اپنے گھر کے اندر ہی دو بٹیر پالے جائیں اور باریاں بھی پنجاب میں اپنوں میں رہ جائیں۔ مسلم لیگ ن اور عمران خان دونوں کو پنجاب سے ہمیشہ کیلئے بڑی جماعتوں کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے۔ دونوں نے ان کے کہنے پر اپنی ٹائی ، شرٹ، قمیص، شلوار اور چڈی اتارنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہے۔ دوسرے لوگ گناہ بے لذت میں خوامخواہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی پنجاب سے ختم ہوگئی اور اس کے کارکن اور رہنما تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں۔ پنجاب کی عوام کو اتنا بھوکا رکھا گیا ہے کہ20کلو زکوٰة کے آٹے کیلئے بھی مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ سیلاب سندھ میں آیا تھا اور حامد میر سے پنجاب کے کسان اسلام آباد میں کہہ رہے تھے کہ سندھ کی وجہ سے بحران آیا ہے۔ جس پر حامد میر نے ہنس کر کہہ دیاتھا کہ تمہیں سمجھانا بہت مشکل ہے۔
آخر میں عمران خان اور نوازشریف نے بھائی بھائی بن جاناہے۔ زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے کاندھوں پر گند کی ٹوکری لادی جائے گی۔ پنجاب میں شعور لانے کی سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کیلئے لاہوریوں کے جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ ماڈل ٹاؤن اور زمان پارک لاہور کی لڑائی لاہور ، جی ٹی روڈ ، گجرانوالہ، گجرات، جہلم ، گوجرہ ، پنڈی اور اسلام آباد تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ حافظ سعید کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا مگر کبھی اس نے بارود اپنے جسم کیساتھ باندھ کر دھماکے کی ترغیب نہیں دی۔ پختون اور بلوچ انتہاپسند ہیں۔ اپنی قوموں کو بھی ریاست کیساتھ بارود سے تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں تشدد نہیں نظریاتی جذبہ ہوتا ہے۔ نظریاتی جذبہ صحت مند سیاست ہے۔ پنجاب میں بھٹو کے بعد عمران خان نے زندہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری میں صلاحیت تھی ۔ماڈل ٹاؤن میں اس کے کارکن شہیدکئے گئے ۔ قمرزمان کائرہ نے مذاق اور نقل اتارنے سے اس کا جذبہ ختم کیا تھا مگر مسلم لیگ نے اس کے بندے مارکر عمران خان کی سیاست کو زندہ کردیا۔ نوازشریف نے تو کاندھے پر اٹھاکر طاہرالقادری کوغارِ حراء پر چڑھایا تھا، حالانکہ لنگڑے اور اندھے ایسا کرتے تو بات سمجھ میں آتی۔ پنجاب کی عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر اورنگزیب جیسے قابل لوگ اس میں ضائع ہوتے جارہے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے جن کی پرورش بطخوں کے ساتھ ہوئی ہو۔ بطخوں کا کام کویک کویک کرنا ہوتا ہے جبکہ شاہین خاموش رہتا ہے۔ جب شاہین کا بچہ بطخوں کے ساتھ پلا بڑھا تو وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ بھی اڑان نہیں بھرسکتا اوران بطخوں کے ساتھ گھومتا رہتا تھا۔ جن کا سارا دن صرف یہی کویک کویک کرنا ہوتا تھا۔ ہماری سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے سارے قائدین اور رہنما بطخوں کی طرح سارا دن کویک کویک کرتے رہتے ہیں۔ شاہین صفت بچے ان کا تماشہ دیکھتے رہتے ہیں اور انکے ساتھ گھوم پھر کر خود کو بطخ سمجھتے ہیں۔ جب شاہین نے اپنا بچہ بطخوں کے ساتھ دیکھا تو اس کو اٹھا کر پہاڑ پر لے گیا اور اوپر سے چھوڑ دیا۔ شاہین کے بچے نے پر کھولے اور اڑان بھرنی شروع کی تو اس کو پتہ چلا کہ وہ بطخ کا نہیں شاہین کا بچہ ہے۔ قدرت پاکستانیوں کی دستگیری کررہی ہے اور بطخوں کی کویک کویک سے اس کی جان چھڑا کر اس کو پہاڑ سے گرا نہیں رہا ہے بلکہ اڑان سکھا رہا ہے۔ اب اچھے دن آنے کو ہیں۔
پاکستانیو! غم مت کھاؤ۔ یہ نظام جو ٹوٹ رہا ہے اس میں بھلائی ہے۔ پاکستان جنت نظیر بن جائیگا لیکن تمہیں بھی اُڑان بھرنی ہوگی۔ قرآن کی طرف جس دن تم نے توجہ کی تو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کو بھی تم نے سود سے نجات دلانی ہے۔ سُودی بینکاری اسلامی نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسولۖ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ اسلام کا معاشرتی نظام بھی علماء کے ہاتھ تباہ ہے۔
پاکستان ، افغانستان، ایران ، سعودی عرب کیساتھ ہندوستان ، یورپ ، امریکہ ، روس اور چین میں بھی اسلام کا درست پیغام پہنچانا بہت ضروری ہے۔ اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام تمام دنیا کے سارے مسائل کا حل ہے

(نوٹ: اس آرٹیکل سے پہلے ”حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے ” عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

پاکستان شاہین کی طرح اب اپنے پَر، ناخن اور چونچ توڑ کرایک نئی زندگی کا آغاز کر رہاہے؟

1973کی50سالہ گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ کی طرف سے بھی آئین شکنی کی قرارداد منظور ہوئی ہے جو آئین کے مطابق90دن میں الیکشن سے فرارکا راستہ ہے

کبھی جنرل ضیاء الحق نے آئین کو ایک کتاب قرار دیکر جوتے کی نوک پر رکھا اور کبھی عدالت نے3سال تک جنرل پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دی،اب پارلیمنٹ نے…

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”مجھے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے اسلامی دفعات کے نفاذ کی توقع رکھوں؟۔ یہ تو عوام کا قصور ہے کہ ہمارے چندافراد اسمبلی بھیجتے ہیں”

اب سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے
اہل کشتی ناخداؤں کے طوفانوں سے مر گئے
پاکستان میں عوام الناس اور باشعور طبقات کو یہ شکایت بجا رہتی تھی کہ جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے ، پہلے اس کی لگام انگریز کی باقیات سول بیروکریسی اور ان کے نامزد گورنر جنرل اور وزیراعظم کے ہاتھوں میں تھی پھر سول اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں کے ہاتھوں یہ ملک دو لخت ہوا۔ معجزے میںچاند دو ٹکڑے ہونے کے بعدجڑ گیا مگر پاکستان پھر نہیں جڑ سکا۔1947کے25سال بعد سرزمین بے آئین کو1973میں متفقہ آئین مل گیا، جو دس سال میں اسلامی سانچے میں ڈھل جانا تھا۔1974میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا،پھر الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفیۖ چلی۔ پھر11سال تک مارشل لاء نے ڈیرے ڈال دئیے۔ جس کے خلافMRDتحریک بحالی جمہوریت چلی ۔دوسری طرف جنرل ضیاء کی تخلیق کردہ مسلم لیگ جونیجو سندھی اور نوازشریف پنجابی اور جماعت اسلامی نے غیر جماعتی جمہوریت اور اسلام کے نام پر ریفرینڈم کو فتوؤں سے سپورٹ کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے جونیجو لیگ کی حکومت کو ختم کردیا تو نوازشریف نے پھر جونیجو سے بے وفائی کردی۔MRDکے اتحاد سے پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی۔ اسلامی جمہوری اتحاد نیشنل پیپلزپارٹی کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے۔سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے۔ جتوئی کی ناکامی پر نوازشریف کو سمیع الحق نے سائیکل تھما دی۔ عدالت نے سود کے خاتمے کا فیصلہ دیا تو نوازشریف نے اپیل کردی۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل بنادیا۔ نوازشریف کاافیئر طاہرہ سید سے تھا۔ میڈیا نے رنگیلا وزیراعظم کتاب سے کچھ بھی عوام کو نہیں بتایا۔ بینظیر بھٹو کی ننگی تصویریں جہاز سے گرانے والے شریفوں سے قدرت کیا انتقام لیتی ہے؟۔ کیپٹن صفدر نے کہاکہ ”چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں”۔ مشرف کو عدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو آئین کی پاسداری پر سزا دی جارہی ہے؟۔ قدرت نے سب کا چہرہ دکھایا۔ریاست خلافت کا اعلان کردے اسلئے کہ الیکشن سے جمہوریت کے اپنے پاسدار بھاگ رہے ہیں۔اسلام کا چہرہ جس دن میڈیا پر دکھادیا تو پاکستان میں اسلام کو ووٹ ملے گااور ملک سے مشکلات ختم ہوں گی۔
مولانا فضل الرحمن سے صحافی نے پوچھ لیا کہ ”مسلم لیگ ن نے آپ سے اسلامی دفعات کو نافذ کرنے کا وعدہ پورا کیا؟”۔ جس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ ” مجھے آپ نے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے یہ توقع رکھوں کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گی؟۔1973کے آئین میں یہ شامل ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی ہوگی ۔عوام جب تک ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں نہیں بھیجے گی تو اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوسکے گا۔ چندافراد سے اسمبلی میں اسلامی قانون سازی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ جب عوام ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں بھیج دیں گے اور ہمارے اپنے ہاتھ میں اقتدارآجائے گا تو پھر اسلام کا نفاذ ہوسکے گا”۔
ایک طرف تحریک انصاف کے زمان پارک میں کارکنوں پر الزامات لگتے ہیں کہ رنگ رلیاں منائی جاتی ہیں اور دوسری طرف عمران خان پر بیٹی چھپانے اور عدت میں نکاح کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں۔تیسری طرف سوشل میڈیا پر ننگ دھڑنگ ویڈیوز کی بھرمار چل رہی ہے اور چوتھی طرف مریم نواز کا حمزہ شہباز سے سینہ سے سینہ ملاکر معانقہ کا چرچا ہے۔ پس دیوار کیا کیا چل رہاہے؟۔ لیکن نوشتۂ دیوار علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر کیلئے کوشاں ہے۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہوجائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز وساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہوجائے گی
دیکھ لوگے سطوت رفتار دریا کا مآل
موج مضطر ہی اسے زنجیر پا ہوجائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہوجائے گی
نالۂ صیاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خونِ گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہوجائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے
مولانا فضل الرحمن خود بھی اسلام کی حقیقت سے آشنا نہیں ہیں۔افغانستان میں ملا عمر نے جب امارت اسلامی قائم کردی تو لوگوں کو زبردستی سے داڑھی بھی رکھوانا شروع کردی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک کررہے ہیں۔ جب پختونخواہ میں بھاری اکثریت سے علماء کرام و مفتیان عظام، شیخ الحدیث و شیخ القرآن ، مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ اسمبلی میں پہنچے تو اکرم خان درانی کو چھوٹی داڑھی رکھواکر وزیراعلیٰ بنادیا اسلئے کہ جماعت اسلامی کو اس وقت داڑھی منڈا قابلِ قبول نہیں تھا۔ حالانکہ مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی بھی پہلے خود ڈاڑھی منڈے تھے، پھر چھوٹی داڑھی رکھ لی اور پھر علماء کے مطالبے اور اصرار پر ریش دراز رکھ لی لیکن جماعت اسلامی نے کبھی عالم دین کو اپنا امیر نہیں بنایا ہے۔
اگر مدارس اور مساجد کے علماء ومفتیان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوجائیں تو پاکستان میں اس سے زیادہ مضبوط مذہبی اور سیاسی پارٹی نہیں ہوگی۔ عوام سب سے زیادہ ووٹ بھی اسی پارٹی کو دیںگے۔ پاکستان میں حنفی مسلک کے بریلوی اور دیوبندی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ حنفی مسلک کا کمال یہ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو بھی اپنی تعلیمات کے ذریعے بالکل رد کردیتا ہے۔ قرآن و سنت کے ذریعے اللہ نے یہی تربیت صحابہ کرام اور خلفاء راشدینکے دلوں میں بھی اتاری تھی۔ حدیث قرطاس اور فضائل اہل بیت کی احادیث صحیحہ کے مقابلے میںقرآنی آیات وشاورھم فی الامراور وامرھم شوریٰ بینھم ”اور ان سے خاص امر میں مشورہ کریں۔ اور ان کا امر آپس کے مشورے سے طے ہوتا ہے” پر خلفاء راشدین نے عمل کر کے خلافت راشدہ قائم کی تھی۔
رسول اللہ ۖ نے حدیث قرطاس کے ذریعے قرآن کے مقابلے میں کوئی اپنی منشاء مسلط نہیں کی تھی۔ نبی ۖ نے بدری قیدیوں کا فیصلہ صحابہ کے مشورے سے کیا تھا۔ حضرت عمر اور حضرت سعد کی رائے تھی کہ ”جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے ،وہ اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے”۔ نبیۖ کے جانثار صحابہ نے مشورہ دیا کہ ” یہ اپنے لوگ ہیں۔ فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے۔ کل یہ مسلمان بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر دوبارہ مقابلہ میں آئے تو اُن کو نمٹ سکتے ہیں”۔ حضرت ابوبکر، حضرت عثمان اور حضرت علی و دیگر صحابہ کرام کی رائے یہی تھی۔جس کی نمائندگی حضرت ابوبکر نے کی تھی۔ نبی اکرم ۖ نے فرمایا کہ ” عمر کی رائے کافروں کیلئے حضرت نوح کی دعا ہے کہ کوئی کافر دنیا میں عذاب سے نہ بچے اور ابوبکر کی رائے ابراہیم کی دعا سے ملتی ہے جس میں اللہ سے رحم کی اپیل تھی، مجھے حضرت ابراہیم کی دعا بہتر لگتی ہے اسلئے حضرت ابوبکر کی رائے پر فیصلہ کردیتاہوں۔
اللہ نے فرمایا: وماکان للنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الآخرة ….
ترجمہ :” اور نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ زمین میں خوب خون بہادیتے ۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔
اللہ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ” اگر اللہ پہلے سے نہ لکھ چکا ہوتا تو تمہیں بہت سخت عذاب دیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھا دیا اور اس سے عمر وسعد کے علاوہ آج کوئی نہ بچتا۔ صحابہ کرام کے بارے میں ہمیں حسن ظن رکھنا چاہیے اسلئے کہ عام مؤمنین سے بھی حسنِ ظن رکھنے کا حکم ہے۔ علی، عثماناور ابوبکر پر کیسے یہ بدگمانی کی جاسکتی ہے کہ اکابر صحابہ دنیا کے طلبگارتھے؟ ، لیکن اللہ نے قرآن میں جو فرمایا ہے وہ بھی فرشتوں سے نہیں صحابہ کے بارے میں فرمایا۔ نبی ۖ نے پھر حضرت عمر وسعد کے علاوہ باقی صحابہ کرام کے بارے میں قرآن کی تفسیر بھی کردی۔ اگر یہاں علی وعمار کے بارے میں استثناء ہوتا تو اہل تشیع پھر ان قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کو خوب اُچھالتے مگریہاں سانپ سونگھتا ہے۔
بدری قیدیوں میں نبی ۖ کے چچا عباس اور داماد بھی تھے اسلئے صحابہ نے اپنے رشتہ داروں کا نہیں مگر نبی ۖ کے رشتہ داروں کا لحاظ رکھ کر مشورہ دیا تھا کہ ان سے فدیہ لیکر درگزر کیا جائے، اللہ نے اس کو بھی دنیا کی چاہت قرار دیا اور نبی کے فیصلے کو بھی واضح الفاظ میں نامناسب قرار دیدیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں ہے کہ آیات اور احادیث صحیحہ کا سہارا لیکر گستاخانہ لہجوں سے فرقہ پرستی کا بازار گرم کرکے تعصبات کی ہواؤں سے مخالفین کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی جائے۔
اہل سنت والجماعت قرآن وسنت اور عظمت صحابہ کرام کے قائل ہیںلیکن جس قرآن میں اللہ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کے ذریعے رہنمائی کی ہے اس میں نبی ۖ کی تضحیک وتوہین مقصد نہیں ہے کہ عورت نے جھگڑا کیا تھا اور اسی کے حق میں فیصلہ آیا تھا اور اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا: وتخشی الناس و اللہ احق ان تخشٰہ ”آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈریں” (سورۂ الاحزاب ) ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” اگر اللہ کے نبی ۖ قرآن کی کسی آیت کو چھپاتے تو یہ آیت چھپاتے” (صحیح بخاری )۔
یہ قرآن امت مسلمہ کیلئے رہنمائی کا سبب ہے کہ اسلام میں ڈکٹیٹر شپ کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اللہ نے قرآن میں سچ فرمایا ہے کہ ” انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے”۔ تکبر وغرور شیطان کا وظیفہ ہے اور جو لوگ اپنی پارسائی بیان کرتے ہیں تو اللہ نے قرآن میں واضح تنبیہ کردی کہ فلا تزکوا انفسکم ” پس اپنی پارسائی بیان مت کرو”۔ جب قرآن وسنت کی سمجھ آجائے گی تو ایک دوسرے کی عزتیں اچھالنے اور اپنی پارسائی بیان کرنے کے بجائے اللہ اور خلق خدا سے اپنے گناہوں اور حق تلفیوں کی معافی تلافی میں لگ جائیں گے۔ اقتدار کی خاطر لڑنے کے بجائے ”پہلے آپ پہلے آپ” کی دل وجان سے پیشکش کریں گے۔
جب آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اقتدار حاصل کیا تو نوازشریف کو پیشکش کردی کہ ” پہلے آپ” ۔ زرداری نے پنجاب کی حکومت ق لیگ اور پرویز الٰہی کی پیشکش کو مسترد کردیا اور شہباز شریف کو پنجاب کا اقتدار سپرد کردیا۔ شہباز شریف اور نوازشریف نے پھر بھی ق لیگ کا فارورڈ بلاک بنایا اور سید یوسف رضا گیلانی کو عدالت سے نااہل قرار دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ حالانکہ یوسف رضاگیلانی کا کہنا تھا کہ ” آئین میں صدر کو استثناء حاصل ہے اور میں نے آئین کا حلف اٹھایا ہے تو کس طرح خلاف ورزی کرسکتا ہوں”۔ لیکن عین غین کی طرح عدلیہ کے ترازو میں فرق رکھنے والے چوہدری افتخار نے اس کو نااہل قرار دیدیا اور شریف برادران نے اس بھنگڑے ڈال کر ناچنا شروع کیا۔
شہباز شریف نے زرداری کو چور، ڈاکو اور دنیا بھر کی گالیوں سے نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی حلف برداریاں عوامی جلسوں اور میڈیا میں روز کا معمول تھیں۔ ایک دن زرداری نے کہہ دیا کہ نوازشریف کی کھوپڑی میں ایک سیاستدان نہیں لوہار کا دماغ ہے تو مسلم لیگیوں کی چیخیں نکل گئیں کہ ”ہم اس حد تک نہیں گرسکتے جس حد تک زرداری گرگیا”۔
نوازشریف اور شہباز شریف کے دل گوشت نہیں زنگ آلود لوہے سے بنے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر بھی دل ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اور انگریز وںکے کتے نہلانے کے الزامات لگاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف نے اپنے نئے گھر رائیونڈ میں ایک میٹنگ کی ہے کہ ”20سال تک ملک کی سیاسی اور معاشی قوت کوسوہارتو کی طرح اپنے پاس رکھنا ہے”۔ سوہارتو کے خاندان نے اپنے ملک کو کس طرح سے لوٹ کر اپنے خاندان کو نوازاتھا۔ اس نے جنرل ضیاء الحق کی طرح11سال تک قبضہ کرنے کی بات نہیں کی۔ اس نے کہا کہ ہمارے راستے میں پانچ رکاوٹیں آسکتی ہیں ، ان کو پہلے دور کرنا ہے۔
نمبر1:اپوزیشن پیپلزپارٹی کو ختم کرنا ہے جو مقصد کے حصول میں رکاوٹ ہے۔
نمبر2:ہمیں خطرہ صدر سے ہوسکتا ہے اسلئے کہ اس دور میں آٹھویں ترمیم تھی۔
نمبر3:فوج کو راستے سے ہٹانا ہے،اسلئے کہ اس کا مختلف دور میں کرداررہا ہے۔
نمبر4:عدلیہ کو راستے سے ہٹاناہے اسلئے کہ یہ راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
نمبر5:پریس ۔انہوں یہ پانچ نکاتی ایجنڈہ بنایا تاکہ قائداعظم کاخواب دفن ہو۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہم نوازشریف کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس نے مجھ پر اور میرے خاندان پر کتنے کیس بنائے۔ الیکشن کمیشن سے کہا کہ صرف وہی کیس قبول کرنا ہے جو سیف الرحمن نے پیش کیا ہو۔ مجھ پر اور میری ماں پر، زارداری صاحب پر، اس کے باپ پر ، اس کی بہن پر ، اس کے برادر ان لاء پر، ہمارے تمام سیکرٹریوں پر، چوکیداروں پر سب پر اس نے کیس بنائے ہیں”۔
پھر جب بینظیر اقتدار میں آئی تو اس کی حکومت کا خاتمہ کرنے کیلئے فاروق خان لغاری کو بھی استعمال کیا۔ اس کے بھائی مرتضیٰ بھٹو اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا۔ اس کی حکومت ختم کرکے آصف زرداری کو جیل میں ڈال دیا۔ اس کے خاندانی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کیا۔ زرداری پر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے علاوہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی لگا ہے۔ مرتضی بھٹو کا بیٹا بھی بلاول بھٹو سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے لیکن زرداریوں نے وراثت پر قبضہ کرلیا ہے اور اصل بھٹو ذوالفقار علی جونیئر کی جگہ بلاول زرداری نے لے لی ہے۔
قرآن نے یہ سبق دیا ہے کہ اقلیت اور اکثریت سے بلاخوف وخطر حق کیلئے آواز اٹھانی ہے۔ اگر صحابہ کرام نے نبی ۖ کی قرابتداری کا لحاظ کیا تو بھی ان کی سرزنش ہوئی تھی۔ دوسری طرف اللہ نے اپنی حکمت بالغہ سے مشرکین مکہ کے دلوں میں یہ رعب بٹھانا تھا کہ اس دفعہ رحمت للعالمین ۖ نے مشاورت سے چھوڑ دیا ہے لیکن اللہ نے نبیۖ کے فیصلے کو بھی نامناسب قرار دیا اور اکثریت کے مشورے کو بھی قابل ستائش قرار نہیں دیا بلکہ اس پر گرفت فرمائی ہے۔ قرآن نے ایک طرف دشمن کے دل میں رعب ڈالا کہ آئندہ فدیہ کی توقع پر گرفتاری دینے کی غلطی نہ کرنا ، اگر میدان میں آؤگے تو مارے جاؤگے اور دوسری طرف مسلمانوں کو تنبیہ کردی کہ اکثریت اور نبیۖ کے فیصلے کا بھی اللہ نے لحاظ نہیں رکھا ہے۔ مسلمانوں کی اس تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعدامیرالمؤمنین حضرت علی اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ کے درمیان بھی تلوار اٹھانے تک بات پہنچ گئی تھی جہاںدونوں طرف عشرہ مبشرہ کے صحابہزبیرو طلحہ اور علی برسرپیکار تھے۔ ایک طرف قرآن میں حضرت عثمان کی شہادت کے حوالہ سے بیعت رضوان کا معاملہ تھاتو دوسری طرف نبی ۖ کی احادیث تھیں ۔
حضرت علی نے قاتلین عثمان کے بدلے سے انکار نہیں کیا تھا لیکن مجبوری تھی۔ دوسری طرف بہت ساری احادیث حضرت علی کی تائید اور مخالفین کا راستہ روکنے کیلئے موجود تھیں۔ حضرت عمار کی شہادت تو بعد میں ہوئی تھی اور اس سے پہلے نبیۖ نے ازواج مطہرات سے فرمایا تھا کہ میرے بعد حج کرنے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ اور حضرت عائشہ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا کہ جب حواہب کے کتے آپ پر بھونکیںگے۔ حضرت عائشہ نے کتوں کی آواز سن کر لوٹنا بھی چاہا مگر مشورہ دینے والوں نے خیر کے کام کیلئے اس کو مفید قرار دیا۔ نبی ۖ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ” وہ لشکر کامیاب نہیں ہوسکتا ہے جس کی قیادت عورت کررہی ہو”۔صحیح بخاری کی اس روایت میں حضرت عائشہ کے لشکر کی طرف اشارہ تھا۔ حضرت ابوبکرہ نے اس موقع پر اس کو بیان کیا تھا۔
اگر صحابہ کرام اور خاص طور پر عشرہ مبشرہ کے درمیان جنگ وجدل ہوسکتا تھا تو موجودہ دور کے مسلمانوں میں کیوں نہیں؟۔ اکثریت اور اقلیت معیارِ حق نہیں ہے۔ موجودہ دور میں چیف جسٹس اور اس سے اختلاف کرنے والے جج اور سیاستدانوں میں حق پر کون ہے؟۔ ایک طرف آئین کی پاسداری ہے لیکن دوسری طرف ٹیکنیکل بنیادپر آئین کو سبوتاژ کرنے کی کوشش محض بہانہ ہے۔جو لوگ چیف جسٹس کا آئینی فیصلہ نہیں مانتے وہ ازخود اختلافی نوٹ کو فیصلہ قرار دینے کی جسارت کرنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں۔ اکابر صحابہ کرام کی موجودگی میں یزید کی مسند نشینی کا کوئی جواز نہیں تھا اور امام حسین نے حق کا علم بلند کیا تھا مگر حسینیت اور یزیدیت کی تقدیر لکھی جاچکی تھی۔ کچھ لوگ اب بھی یزید کے طرف دار ہیں اور وہ بھی اپنے حس کی وجہ سے معذور ہیں۔ جب تک باغ کے پھولوں میں خوشبو کی مہک کا پتہ نہ چلے تو گٹر کی بدبو میں عادی لوگوں کو کس طرح خوشبو کا ادراک ہوسکتا ہے؟۔ تاریخ کے ادوار مظالم اور جبر سے بھرے پڑے ہیں۔ جن میں یزید تو بہت آئے ہیں لیکن حسین کی یاد اگرچہ اس کے اپنے پوتے زید بن علی بن حسین نے بھی شہادت کی مہک سے یاد تازہ کردی ۔ البتہ حسین کے ماننے والا طبقہ کوفی جس طرح غدار نکلے، اس طرح ان کے بڑے بھائی امام باقرنے بھی ساتھ دینے کے بجائے معذوری سے کام لیا تھا۔ امام ابوحنیفہ کی سخت نگرانی نہیں تھی اسلئے امام ابوحنیفہ نے امام زید کی شہادت کو بڑا اُونچا رتبہ دیا تھا۔امام باقر و امام جعفر کی سخت نگرانی جاری تھی اسلئے امام زید کے حق میں وہ آواز نہیں اٹھاسکتے تھے۔ جب تحریک طالبان پاکستان نے جبر وتشدد اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا تھا تو ان کے خلاف نصیحت وخیر خواہی سے آواز اٹھانے کی جرأت بھی کسی میں نہیں تھی ۔ البتہ پارہ چنار کے اہل تشیع نے ان کا ایسا حال کردیا تھا کہ بھنگ کا نشہ پی کر بھی اس طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ اعتزاز حسین شہید نے خود کش حملہ آور سے بغل گیر ہوکر بڑی خلق خدا کو بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔
ماحول کا بہت اثر پڑتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے2007میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ جب پیپلزپارٹی کے دور میں خبردار کیا تھا کہ طالبا ن مارگلہ کے پہاڑ کے قریب اسلام آباد تک پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمن کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ اس دور میں ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں طالبان کی آنکھوں کے تارے تھے۔ کلثوم نواز مرحومہ کا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے تھا اس نے پہلی بار طالبان کے خلاف زبان کھولی تھی۔ خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا تھا کہ طالبان کا یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے کہ بعض سیاستدانوں کو قتل کریں اور بعض کو دوست بنائیں۔ عرفان صدیقی کا تعلق لال کرتی سے ہے۔ حافظ سیدعاصم منیرپر اس کا جھوٹ اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان سے زیادہ عرفان صدیقی خود طالبان کا حامی رہاہے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل کے بعد ”پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے” عنوان کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

دوسری آیت میں جان کے بدلے جان ، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر ظالم کہا گیا ہے اور اس سے مراد حکمران ہیں!

تیسری آیت میں اہل انجیل عوام الناس کا ذکر ہے۔ عوام اللہ کے حکم پرفیصلہ نہ کریں تو ان کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ جتنی جس کی ذمہ داری اور کارکردگی ہے تو اسکے مطابق فتویٰ بھی لگایا ہے ۔

___پہلا طبقہ علماء و مشائخ کا ہے____
سورۂ مائدہ کی آیات میں واضح طور پر تین طبقات کا ذکر اور وضاحت ہے۔ پہلا طبقہ علما ء مشائخ کا ہے جس کی ذمہ داری قرآنی احکام کا تحفظ ہے اور ان کو تلقین ہے کہ وہ اپنے دل سے عوام وخواص کا خوف نکال کر اللہ سے ڈریں اور تھوڑے سے فائدے کیلئے دین پر سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنا فیصلہ نہیں کیا تو ان پر بالکل واضح انداز میں کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔ یہ وضاحت ہم اپنے کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ” میں کرچکے ہیں ، جس کی تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے1994میں بھی تائیدات کی تھیں۔ ہمارا مقصد مذہبی طبقات کا تسلط نہیں بلکہ اسلام کی بالادستی کا قیام عمل میں لانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے البقرہ آیت224میں تینوں چیزوں کیلئے اللہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ نیکی کرنا،تقویٰ اختیار کرنا، لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔ آج مولوی میاں بیوی کی صلح میں رکاوٹ ہے۔ فرقوں کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ مذاہب اور ادیان کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ ممالک اور قوم کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ نبی کریم ۖ نے بیت اللہ خانہ کعبہ میں360بت رکھنے والوں سے بھی10سالوں تک صلح کا معاہدہ کیا جس میں مزید توسیع کی بھی گنجائش تھی۔ نبیۖ نے اس کے بعد دنیا میں چار سال تک رہنا تھا۔ گویا یہ تادم حیات معاہدہ تھا۔ اگر مشرک اس کو نہ توڑتے تو قائم رہتا۔ حضرت ابوبکر کا پورا دور اور حضرت عمر کا آدھا دور بھی اسی میں گزر جاتا۔ مسلمان خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے جاتے تو تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکتے تھے۔ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے۔ تلوار بھی نیام سے نہ نکالتے۔ اگر مشرک کا کوئی فرد مسلمان بن جاتا تو اس کو مسلمان واپس کرنے کے پابند تھے اور کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر جاتا تو مشرک اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے کی آزادی تھی۔
آج مسلمانوں کو سعودی عرب میں زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمرہ اور حج کا خرچہ زیادہ ہے۔ شکرہے ایران سے سعودی عرب کی صلح ہوگئی تو جامعة الرشید میں ایرانی وفد بھی آگیا۔ جس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مفتی عبدالرحیم اور اس کے مرشد نے پہلے فرقہ وارانہ شدت پسندی میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ ایران کیلئے پڑوسی کا خیال رکھنے کی حدیث سے دلیل دے رہاہے کہ نبی ۖ نے تکرار کرکے فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا ہے جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو”۔ پڑوسی تو ہمارا بھارت بھی ہے ؟۔ یہ مفتی عبدالرحیم کسی سے پوچھ کر بتائے گا کہ وہ پڑوسی ہے یا نہیں؟۔ اس نے بتایا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نانی اور مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی ماں سگی بہنیں تھیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے طالبانائزیشن کی شدت کو ختم کرنے کیلئےPTM(پشتون تحفظ موومنٹ)کو بھی مکمل آزادی دے دی۔جنرل آصف غفور جبDGISPRتھے تو ازراہ تفننPTMپر انڈیا کی فنڈنگ کا الزام لگادیا تھا۔ جب فوج کسی کی مخالفت کا ٹھان لیتی ہے تو اعظم سواتی اور شہباز گل الزام لگاتے ہیں کہ ان سے جنسی زیادتی کی گئی۔ شہباز گل کہتا ہے کہ اب میں اور اعظم سواتی شلوار پہن لیں۔ پھر کہتا ہے کہ میں اپنے اداروں کو بین الاقوامی طور پر بدنام نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ صحافی احمد نورانی نے خبر دی تھی کہ جنسی زیادتی کی خبر غلط ہے اور حامد میر نے جنسی زیادتی کی خبر دی تھی۔ دونوں میں زیادہ بااعتماد صحافی احمد نورانی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے اثاثے بھی احمد نورانی نے لیک کردئیے تھے اور یہ بھی بتایا تھا کہ بلجیم میں اس کی جائیداد اور اشفاق پرویز کیانی کی آسٹریلیا میں جزیرے کی خبر غلط ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ، عمران خان کے باپ کا سسر ، جنگ کے میر شکیل الرحمن اور جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا سسر جنرل رحیم الدین قادیانی تھا۔ ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی سے پڑھوایا تھا۔ حضرت علی کی بہن حضرت ام ہانی کا شوہر مشرک تھا۔ نبیۖ کا سسر ابوسفیان پہلے مشرک تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا سسر پارسی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسر ہندو تھا۔
ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے مریدوں و عقیدتمندوں پر مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ لگایا تھا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟ ، عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا”۔ جب ہماری طاقت ہوگی تو مفتی عبدالرحیم کو اعزازات بھی بخش دیں گے کہ یہ بھی نبیۖ کی سنت ہے کہ اپنے دشمن ابوسفیان کو عزت سے نواز دیا تھا۔ البتہ غلط سلط فتوؤں سے نکلنا وقت کی ضرورت ہوگی۔ فلیضحکوا قلیلًا ولیبکوا کثیرًا ”پس ہنسو کم اور رؤو زیادہ”۔

___دوسرا طبقہ حکمرانوں کا ہے___
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورۂ مائدہ میں دوسرا طبقہ حکمرانوں کا بیان کیا ہے ،اسلئے جان کے بدلے جان اور اعضاء کے بدلے اعضاء کا فیصلہ حکمران ہی کرسکتے ہیں۔ ایک آدمی کو قتل کردیا، یا کسی کی ناک کاٹ دی، یا پھر کان، دانت اور ہاتھ کو ضائع کردیا تو اس کا بدلہ حکومت اور عدالت نے لینا ہے۔ حکومت اور عدالت سب کو انصاف دیتی ہے لیکن جن جن کو انصاف نہیں ملتا ہے تو ان کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ پہلے ٹیکس بھی امیر دیتا تھا اور اقتدار بھی ان کیلئے ہوتا تھا۔ اب ٹیکس مہنگائی کی شکل میں عوام پر پڑ رہاہے اور چوری حکمران طبقہ کرتا ہے اسلئے عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سب سے پہلے نیب کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر جن افراد نے پارلیمنٹ لاجز میں ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت کرنی تھی تو ان کو پولیس نے اٹھایا تو پورے پاکستان میں اہم شاہراؤں کو بند کردیا اور بندے چھڑالئے تھے۔ مریم نواز نے بھی نیب پر سنگِ باری کرنے کیلئے اپنی گاڑیاں پتھر سے بھر دی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن ہمارے وزیرستان کا انقلابی بادشاہ ملا پیوندہ ہے۔ جو ایک طرف انگریز ریاست سے مراعات لیتا تھا اور دوسری طرف تحریک آزادی کی قیادت بھی کررہاتھا۔ مریم نواز بھی گوجرانوالہ کے پہلوان خاندان کی نواسی ہے۔ ن لیگ میں یہ پہلی خاتون ہے جس نے واقعی مزاحمت کا حق ادا کیا ہے۔ نوازشریف اور شہبازشریف تو بہت زیادہ ہی شریف لوگ تھے جن کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی کرسیوں سے بھیڑ کی طرح اٹھاکر لے گئے اور یہ چپ چاپ ساتھ ہولئے۔ رانا ثناء اللہ کی حیثیت بھی ایک پہاڑی بکرے سے زیادہ اسلئے نہیں ہے کہ ایک دفعہ بیچارے کو اٹھاکر لے گئے تو مونچھ ، سرکے بال اور بھنویں تک مونڈ دئیے گئے۔ دوسری مرتبہ20کلو ہیروئن رنگے ہاتھ پکڑا دی گئی ۔ فوجی وردی میں ملبوس اینٹی نارکوٹیکس افسر کے ساتھ بیٹھ کر شہریار آفریدی قرآن اٹھاکر اپنی ماں کے سر کی قسم کھا کر کہتا تھا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے ، رانا ثناء اللہ کے پاس ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ اگر ہیروئن کے دھندے کی سمگلنگ میں کوئی پٹھان وزیر ملوث ہوسکتا ہے تو پنجابی وزیرداخلہ بھی ہوسکتا تھا اسلئے کہ لاہور سے کئی مرتبہ ڈرگز پکڑی گئی۔ حنیف عباسی پر بھی کیس تھا۔ لاہور میں ڈرگز پہنچتی ہیں اور ائیرپورٹ پر پکڑی جاتی ہے تو ذمہ دار عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب رانا ثناء اللہ کو ریکی کرکے پکڑا گیا تو موقع کی ویڈیو بھی ہونی چاہیے تھی۔حقائق تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن عمران خان نیازی نے کمال کردیا کہ بھیڑ بکری کی طرح خود کو حکمرانوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا۔ جب پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ دیا تھا اورPTVپر قبضہ کرلیا تھا تب بھی دہشت گردی کی عدالت نے اس طرح طلب نہیں کیا تھا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔عمران خان کے دورِ اقتدار میں بھی کچھ کم نہیں تھا لیکن موجودہ دور میں اس سے بڑھ کر ہے اور عمران خان آواز بھی اٹھا رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف حکومت پر بلکہ ریاست پر بھی بہت بری طرح پڑ رہے ہیں۔
ہندوستان کی ایک ہندو اینکر نے مولانا علیم الدین اور مذہبی اسکالر فیروز بخت کو ٹی وی پر بٹھا کر کتے کے بارے میں پوچھا کہ مسلمان اس سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟۔ دونوں حضرات پسپائی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ قرآن میں اصحاب کہف کے کتے کا بھی ذکر ہے اور شکاری کتے کے ذریعے سے شکار کی گنجائش بھی ہے۔ عالم نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی اور اپنے علم کے ذریعے رفعت کی جگہ پستی اختیار کرلی تو اس کو کتے سے تشبیہ بھی دی۔ ایک مرتد نے کہا کہ قرآن میں مشرکوں کو نجس کہا ہے انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھٰذا اس آیت میں مشرکوں کو عقیدے کی وجہ سے نجس نہیں کہا گیا ہے۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن عیسائی عورت سے شادی اور اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانا جائز ہے۔ لتا حیاء نے مساجد کے خلاف تحریک چلانے پر ہندوؤں کو کہا تھا کہ تم بھی صبح اٹھو اور منہ دھولو۔ جو مسلمان نہاتے نہیں ان کو بھی نجس کہا جاتا ہے۔ جنابت اور حیض کی حالت میں مسلمانوں کو نماز کے قریب جانے سے روکا گیا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک نچلی ذات والوں کا لعاب دہن نجس ہوتا ہے مسلمانوں کے نزدیک بنی آدم کا لعاب پاک ہے۔ اللہ نے تمام بنی آدم کو قرآن میں عزت و تکریم سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت آٹے کو ذخیرہ کرکے غریبوں میں بانٹنے کا تماشہ کرکے دجال کا کردار ادا کررہی ہے۔ مہدی کا کام مال کی مساوی تقسیم ہوگی۔ جس دن اشرافیہ کے اللے تللے ختم ہوجائیں تو عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔

___تیسرے طبقے سے عوام الناس مراد ہیں___
تیسرا طبقہ قرآن کی سورہ مائدہ میں اہل الانجیل کا بیان کیا گیا ہے جس سے عوام الناس مراد ہیں ۔ جن کا فیصلہ نہ علماء ومشائخ کی طرح دین کو بدلتا ہے اور نہ حکمرانوں کے عدل وظلم کے پیمانے کو بدلتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ فاسق ہیں”۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے سے آج کسی بھی عام شخص کو اقتدار میں لاسکتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسی پارٹی ”اسلامی انسانی انقلاب” کے نام سے تشکیل دیدی ہے جس میں نظریات اور منشور کی بنیاد پر عوام اپنا نمائندہ منتخب کریں گے اور پھر منتخب نمائندوں میں جسے بھی اکثریت سے منتخب کیا جائے وہی وزیراعظم بنے گا۔ پارٹی کی سینٹرل کمان کسی کو وزیراعظم نامزد نہ کرے گی۔ مثلاً عوام نے313افراد کو منتخب کرلیا۔ پہلے ان313افراد کو اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ دینے کا اختیار ہوگا۔ پھر جن دو افراد کی پوزیشن پہلے اور دوسرے نمبر پر ہوگی تو ان میں دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے سے ایک وزیراعظم اور دوسرا سینئر وزیر منتخب ہوگا۔ وزارتوں کیلئے اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ میں نوازشریف ، آصف علی زرداری ، عمران خان ، مولانا فضل الرحمن اور جن جن سیاسی اور فوجی قیادت پر الزامات ہوں تو ان کو صفائی کا قوم کے سامنے لائیو ٹی وی چینلوں پر موقع دیا جائے گا۔ جس کیساتھ بھی ناجائز اور زیادتی ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے گا اور جس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہو تو اس سے درخواست کی جائے گی کہ اپنے حق حلال کی کمائی میں سے ملک کے سودی قرضوں کا خاتمہ کریں۔ انور مقصود نے ٹھیک کہا ہے کہ ” اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو سب کو معاف کردیںگے اسلئے کہ20کروڑ میں سے19کروڑ انسانوں کے ہاتھ کاٹنے پڑیںگے۔ عدلیہ اور ججوں پر بھی کیسوں کا دباؤ کم ہوجائے گا تو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ بارش کے پانی میں عدالت کاغذ کی کشتی ہوتی ہے جو طوفان میں بہہ جاتی ہے۔ جب شعور کی روشنی پھیل جائے گی تو اندھیروں میں ٹکریں کھانے کی مجبوریاں بھی نہیں ہوں گی۔
جب حضرت عمر کے دور میں دولت کی فراوانی ہوئی تو اصحاب بدر، فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے مسلمانوں میں وظائف کے اندر فرق رکھا گیا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہ جب بصرہ کے گورنر تھے تو ان کے خلاف چار افراد نے ام جمیل سے بدکاری کی گواہی دیدی۔ حضرت عمر نے حضرت مغیرہ پر سنگساری کی حد جاری کرنے کے بجائے تین افرادکو80،80کوڑے لگائے، جن میں ایک صحابی حضرت ابوبکرہ تھے۔ اگر سورہ نور کے عین مطابق بدکاری کی سزا100کوڑے ہوتے تو عوام کو سزا دینے کے بجائے گورنر کو سزا دی جاتی۔ یہ واقعہ بڑا عجیب ہے اور اس پر صحیح بخاری وغیرہ میں احناف اور جمہور کی قانون سازی اس سے بھی بڑی عجیب ہے۔
تین افراد کی گواہی مکمل ہوگئی تو حضرت عمر نے چوتھے گواہ زیاد کو آتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اللہ ایک صحابی کو اس ذلت سے بچائے گا اور پھر زور سے دھاڑ ماری کہ تیرے پاس کیا ہے؟۔ راوی نے کہا کہ یہ اس قدر زور کی دھاڑ تھی کہ قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاتا۔ زیاد نے کہا کہ مغیرہ کے کاندھے پر ام جمیل کے پیر ایسے پڑے تھے جیسے گدھے کے کان ۔ میں نے ان کی سرین دیکھ لی اور ٹھنڈے ٹھنڈے سانس لینا سن لیا۔ عوام کو خلفاء راشدین کے دور میں بھی جنگیں لڑنی پڑی ہیں اسلئے اب عوام میں سے ایک حکمران بنانا چاہیے۔ بہادروں، قابل اورقربانی دینے والوں سب کی مہربانی۔ اس دفعہ عوام کو اپنی باری کی حکومت کرنے دیں۔
غریبوں تک اپنی زکوٰة ، خیرات اور صدقات پہنچائیں۔ غیرمسلم اقلیتوں پر بھی رحم کریں۔ حکومت پہلے بینکوں سے زکوٰة نہیں کاٹتی تھی تو لوگ فرض سمجھ کر غریبوں کا احساس کرتے تھے۔ علماء نے بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا فتویٰ جاری کرکے حکومت اور مالداروں میں بے حسی کو پروان چڑھادیا۔ مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ ”یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فرض ہے جس کو دوسرا کوئی منسوخ نہیںکرسکتا ہے”۔ اگر زکوٰة صحیح جگہوں پر پہنچ جائے تو بھی اس امت کے عوام وخواص پر رحمت اور انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے سودی قرضوں کی سزا عوام کو مل رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی کمائی خاکستر ہوگئی ہے اور یہ لوگ پھر بھی عوام اور غریبوں کا خیال رکھنے کے بجائے اپنے اقتدار کی فکر میں موج مستیاں کررہے ہیں۔ ہم ووٹ کے ذریعے اس وقت تبدیلی لاسکتے ہیں جب انقلابی پروگرام عوام کو دیں۔ باتوں سے تبدیلی یا انقلاب کی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوںاپنے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پختونیم کفرنہیں،عورت سے جبری زیادتی ہو تو 2 یا 3 پختون چیخ وپکار پر رُوکیںگے نہیں؟

پختونیم کفرنہیں،عورت سے جبری زیادتی ہو تو2یا3پختون چیخ وپکار پر رُوکیںگے نہیں؟

ملا کا اسلام یہ ہے کہ عورت سے جبری زیادتی ہو تو4گواہ ضروری ہیں،دو یاتین گواہ ہوئے تو عورت کو چپ رہنا ہوگا ، اگر شکایت کی تو پھراس پر بہتان لگانے کے80کوڑے لگیں گے

یہ اسلام پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی ، سرائیکی اور مہاجر سب کلچر کے خلاف ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کا مدرسہ تقوےة الایمان مردان میں نمازیوں اور علماء کرام سے پشتو زبان میں خطاب

مردان ( نمائندہ خصوصی شاہ وزیر ) مردان سپین جماعت (جامع مسجد سفید کے امام وخطیب پیر علامہ شکیل احمد قادری ، رہنما جمعیت علماء اسلام ف کی دعوت پر پیر صاحب کے دارالعلوم تقوےة الایمان کی مسجد میں بعد از نماز مغرب بروز پیر22مارچ2023کو نمازیوں اور علماء سے خطاب کیا جس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ افسوس کہ بیان کو ریکارڈ نہیں کیا جاسکا،ورنہ سوشل میڈیا پر سننے کو مل جاتا)
نحمد ونصلی علی رسولہ الکریم : ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ پشتو نیم کفر ہے لیکن اسلام کیا ہے؟۔ اگر یہاں مسجد میں لوگ اپنے بال بچوں کیساتھ آتے ہوں۔ ہماری خواتین مائیں، بہنیں ، بیگمات اور بیٹیاں مسجد میں نماز پڑھتی ہوں ۔ فجر کی نماز کے وقت کوئی شخص کسی عورت کیساتھ زبردستی جنسی زیادتی کرے تو کیا اس کی چیخ وپکار سن کر لوگ تماشا دیکھیںگے یا اس کو روکیںگے؟۔ پشتون کلچر کیا کہتا ہے؟۔ (مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے کہا کہ اس کو روکیںگے) اس کو روکنا ہی اسلام ہے اور یہی پشتو ن کلچر کا بھی تقاضا ہے۔ پنجابی ، سندھی ، سرائیکی، مہاجر اور بلوچی کلچر کا بھی یہ تقاضاہے۔ لیکن ملا کے اسلام میں یہ ہے کہ چار گواہ ہوں گے تو عدالت اس کو سزا دے گی اور چار سے کم ہوں گے تو عورت چپ رہے گی اور اگر اس نے گواہی دی تو اس پر حد قذف کے80کوڑے بھی لگیں گے۔
جنرل پرویزمشرف کے دور میں جب قومی اسمبلی میں یہ قانون بنانے کی کوشش ہوئی کہ زنا بالجبر میں قانونِ شہادت ختم کرکے تعزیرات کے تحت مجرم کو سزا دی جاسکے لیکن اس کے خلاف شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے فتوی لکھ دیا جو جماعت اسلامی نے کراچی میں شائع کرکے اس کی خوب تشہیر کردی۔ جس کا ہم نے مدلل جواب لکھ کرشائع کردیا۔ اس جواب کی وجہ سے جماعت اسلامی کو پھر یہ ہمت نہیں ہوئی کہ جب پیپلزپارٹی کے دور میں تعزیرات کے تحت زنابالجبر کے مجرم کیلئے سزا کا قانون پاس ہوا کہ جماعت شور کرتی یا مفتی محمد تقی عثمانی پھر اس پر آوازا ٹھانے کی ہمت کرتے۔ حالانکہ صحافیوں کے پوچھنے پر جماعت اسلامی کے سابقہ امیر سید منور حسن نے کہا تھا کہ ” اگر عورت کیساتھ جبری جنسی زیادتی ہوئی ہے اور اس کے پاس چار مرد گواہ نہیں ہیں تو اس کو خاموش رہنا چاہیے۔ اگر وہ اپنے اوپر زیادتی کی آواز اٹھائے گی تو اس کو سزا ملے گی”۔
ہماری مزاحمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ جبF9پارک اسلام آباد میں عورت سے زیادتی ہوئی تو جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے اس کو انصاف فراہم کرنے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ عمران خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ1992میں جیتاتھا اورمجھے تحریک چلانے کی وجہ سے1991میں ایک سال کی سزا دی گئی تھی۔ جب عمران خان کرکٹ کھیل رہا تھا تو میں تحریک چلا رہاتھا۔ پاکستان میں آئین کو قرآن وسنت کا پابند بنایا گیا ہے لیکن قرآن اور سنت کے مطابق کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان میںVIPکلچر کا تصور ہے۔ ایک عورت نے حرام کی کمائی سے دولت بنائی ہے ،اگر وہ اپنی عزت کے ہتک کا دعویٰ کرے تو عدالت میں اربوں روپے کا مقدمہ کرتی ہے اور جب غریب عورت کی عزت کامعاملہ ہو تو اس کو اتنی رقم بھی نہیں ملتی ہے جتنی سے کیس میں وکیل اور عدالت کی فیس ادا ہوسکے۔ حالانکہ ایک غریب آدمی کو کروڑوں کی رقم ملے تو بھی اس کی عورت اجنبیوں میں اس طرح جلسے نہ کرے۔ کیا یہی انصاف ہے؟۔ کیا عزت میں یہ تفریق اسلام کا تصور ہوسکتا ہے؟۔
قرآن وسنت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان لگایا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ اول کی صاحبزادی، رسول اللہ ۖ کی گھر والی اہل بیت اور قیامت تک تمام مؤمنوں کی ماں۔ اس سے بڑا مقام ومرتبہ کیا ہوسکتا ہے؟ لیکن آپ پر بہتان لگانے والوں کو بھی80،80کوڑوں کی سزا قرآن میں نازل ہوئی اور کسی عام غریب خاتون پر بھی بہتان لگانے کی سزا80،80کوڑے ہیں۔ اس سے بڑا مساوات دنیا کے کس نظام میں ہوسکتا ہے؟۔ کیا دنیا کیلئے یہ اسلام اور قرآن کا نظام انصاف قبول ہوگا یا نہیں ہوگا؟۔ ( سامعین نے کہا کہ دنیا کیلئے اسلام اور قرآن کا یہ نظام بالکل بھی قبول ہوگا)۔کیا آج تک علماء سے یہ اسلام سنا ہے؟۔ سیاستدانوں سے سنا ہے؟۔ (سامعین نے نفی میں سر ہلایاتھا)
علماء اور سیاستدان جب اسمبلی میں جاتے ہیں تو خود بھی اسVIPکلچر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایک غریب آدمی عوام کے ووٹوں کی طاقت سے اسمبلی میں پہنچتا ہے لیکن جب اسمبلی میں جاتا ہے تو پھر غریب نہیں رہتا بلکہ امیر بن جاتا ہے ۔ پھر وہ غریب کیلئے کیوں قانون سازی کرے گا۔ ووٹ کی طاقت دنیا بدل سکتی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ اس سے مغرب کی جمہوریت کی تائید ہوتی ہے ۔ خون خرابے کے بغیر عوام کی مرضی سے حکومت کی تبدیلی بہت اچھی بات ہے۔ اسلام میں عام لوگوں کو بدکاری پر جوسزا ہے وہ امہات المؤمنین کیلئے ڈبل ہے۔ نچلے طبقے کی خواتین کیلئے عوام کے مقابلہ میں آدھی سزا ہے۔ جب اسمبلی میں یہ قانون سازی ہوگی کہVVIPکی سزا جرم میں زیادہ ہو۔ عام آدمی کے مقابلے میں ڈبل ہو اور نچلے طبقے کی کم ہوتو عوام ایسی پارٹی کو ووٹ دیںگے یا نہیں؟۔ عزت میں طاقتور اور کمزور برابر ہو اور جرم میں طاقتور کوسزا زیادہ ہو تو یہ فطرت کا بھی تقاضہ ہے۔ لیکن یہاں طاقتور کو سزا دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص نے پہاڑی علاقہ میں گاؤں والوں سے کہا کہ ایک مہینے تک مجھے میری مرضی کے کھانے کھلاؤ اور پھر میں یہاں سے اس پہاڑ کو کہیں دور لے جاؤں گا۔ گاؤں والوں نے ایک ماہ تک فرمائشی کھانے کھلائے۔ جب مہینہ پورا ہوگیا تو سب جمع ہوگئے کہ صاحب بہادر پہاڑ یہاں سے اٹھاکر لے جائے گا۔ اس چالاک آدمی نے پہاڑ کے ایک طرف بیٹھ کر سیدھے سادے گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ میں پہاڑ یہاں سے دور لے جانے کیلئے بیٹھا ہوں۔ بس تم سارے مل کر مجھے پیٹھ پر لدوادینا۔ لوگوں نے پہاڑ پر زور لگاکر لدوانے کی کوشش کی اور آخر کار تھک کر کہا کہ آپ تو تیار تھے پہاڑ لے جانے کیلئے لیکن ہم نہیں لدواسکے۔
سیاسی قیادت عوام کیساتھ یہی سیاست کھیل رہی ہے۔ پہلے کہتے ہیں کہ ہم انقلاب لائیںگے۔ اقتدار دلاؤ۔ جب عوام اس کو اقتدار کی دہلیز پر پہنچاتی ہے تو پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اختیار بھی دلادو۔ غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے ہمارا ساتھ دو۔ عوام سمجھ رہی ہوتی ہے کہ واقعی یہ تبدیلی اور انقلاب چاہتا تھا مگر اسکے پاس اختیار نہیں تھا۔ پہاڑ والے کی طرح اس کو بھی بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔
علماء ومفتیان نے سیاسی اقتدار کے حوالے سے اسلام کی روح کے مطابق آج تک کوئی قانون سازی نہیں کی ۔ بہت سارے معاملات میں علماء ومفتیان نے اسلام کے احکام کو درست بیان بھی نہیں کیا ہے اور ان میں وہ احکام شامل ہیں جن کا اقتدار سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔ جب معاذ بن جبل کو نبیۖ نے یمن کا حاکم مقرر کیا تو ان سے پوچھا کہ لوگوں میں فیصلہ کس چیز پر کروگے؟۔ تو اس نے کہا کہ قرآن سے۔ پوچھا کہ قرآن میں نہ ملے تو؟۔ عرض ہوا کہ سنت سے۔ فرمایا کہ سنت میں نہ ملے تو؟۔ عرض کیا کہ پھر میں خود کوشش کروں گا۔
عربی میں کوشش کرنے کو اجتہاد کہتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بٹھادیا گیا ہے کہ اجتہاد کوئی مستقل مساوی نظام کا نام ہے۔ مثلًا اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ تو مجھ پر حرام ہے۔ صحیح بخاری میں حسن بصری نے اس پر علماء سے اجتہاد نقل کیا ہے کہ یہ تیسری طلاق ہے۔ کھانے پینے کو حرام کہا جائے تو کفارہ ادا کرکے کھانا پینا جائز ہے لیکن بیوی کو حرام کہا جائے تو تیسری طلاق کی وجہ سے حلالہ کے بغیر وہ حلال نہ ہوگی۔ ایک روایت چھوڑ کر اگلی روایت میں ابن عباس نے فرمایا کہ حرام کے لفظ سے کچھ بھی واقع نہیں ہوتا نہ طلاق اور نہ قسم ۔ دونوں کا اتنا بڑا اختلاف اور تضاد؟۔ علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے لفظ حرام پر20اجتہادت نقل کئے ہیں جن میں خلفاء راشدین اور دیگر حضرات کے اجہتاد شامل ہیں۔ حضرت عمر کے نزدیک ایک طلاق، حضرت علی کے نزدیک3طلاق اور حضرت عثمان کے نزدیک ظہار۔ ابن عباس کے نزدیک کچھ بھی نہیںوغیرہ۔
قرآن میں سورۂ تحریم ہے اور تحریم کا معنی حرام قرار دینا ہے۔ نبیۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ کے لئے ”حرام” کہہ دیا تو سورۂ تحریم نازل ہوئی ۔ قرآن کی طرف دیکھنے کے بجائے20اجتہادات اور تضادات کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور ہمارا فرض بنتا تھا کہ دیکھ لیتے کہ حضرت علی اور حضرت عمر میں حلال وحرام کا یہ اختلاف ہوسکتا ہے؟۔ قرآن کی موجودگی میں ایسا متضاد اجتہاد کرسکتے تھے؟۔
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا” اور انکے شوہر عدت میں صلح کی شرط پر ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں”۔(البقرہ228)
حضرت علی سے پوچھا گیا کہ بیوی کو لفظ حرام کہہ دیا ہے ۔ حضرت علی کو تحقیق سے پتہ چل گیا کہ اس کی بیوی صلح کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو فتویٰ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ اس کو کسی نے تیسری طلاق اور کسی نے تین طلاق کا نام دے دیا۔ حضرت عمر نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بیوی رجوع پر آمادہ ہے اسلئے رجوع کا فتویٰ دے دیا۔ اس کو لوگوں نے ایک طلاق رجعی کا نام دے دیا۔ دونوں کے فتوے میں کوئی تضاد نہیں تھا بلکہ قرآنی آیت کے مطابق صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت تھی اور فتوے بھی دونوں نے اسکے مطابق دئیے۔ علماء میں سمجھ نہیں ہے۔
جب مولانا محمد خان شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے تو میں نے ان سے کہا تھا کہ ایک طرف واضح آیت ہے کہ عدت میں صلح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے، اگر اسکے مقابلے میں صحیح حدیث ہو جس میں رجوع نہ کرنے اور حلالہ کا واضح فتویٰ موجود ہو تو کیا آیت کے مقابلے میں حدیث پر فتویٰ دیا جائیگا ؟ مولانا شیرانی نے مان لیا کہ آیت پر فتویٰ دیا جائیگا۔ قبلہ ایاز موجودہ دور میں چیئرمین ہیں ، انہوں نے خط لکھا اور طلاق کے حوالے سے مسائل کے حل کو سمجھا مگر انہوں نے کہا کہ مولوی شاہ دولہ کے چوہے ہیں ان تک نہیں پہنچ سکتا ہوں۔
آیات میں زبردست وضاحتوں کے باوجود علماء نے مسائل کو الجھادیا ۔ اللہ کہتا ہے کہ ”ہم نے کتاب کو ہر چیز کے واضح کرنے کیلئے نازل کی ”۔ عدت عورت کی ہوتی ہے۔ مرد کیلئے بہت معیوب ہے کہ جب عدت کو بھی اپنا ہی قرار دے۔ آیت226میں اللہ نے4ماہ کی عدت کا ذکر کیا ہے۔ جمہور فقہاء کے نزدیک4ماہ کے بعد بھی طلاق نہیں ہوگی اور احناف کے نزدیک طلا ق ہوگی اور دونوں میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ایک کہتا ہے کہ مرد نے اپنا حق استعمال کرلیا اسلئے طلاق ہوگی اور دوسراطبقہ کہتا ہے کہ مرد نے اپنا حق استعمال نہیں کیا جب تک زبان سے طلاق نہیں دے گا تو عورت طلاق نہیں ہوگی۔ حالانکہ اصل مسئلہ عورت کے حق کا ہے۔ چار ماہ کی عدت اس نے گزاری ہے۔ اب اس نے فیصلہ کرنا ہے لیکن عورت سے اس کی عدت کی اذیت بھی چھین لی گئی ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ بیوہ4ماہ10دن کے بعد اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ اگر وہ اپنے فوت شدہ شوہر سے تعلق باقی رکھنا چاہتی ہے تو قیامت اور جنت تک اس کا نکاح باقی رہے گا۔ نشان حیدر اور فوجی وسول ملازمین کی بیواؤں کو پینش اور مراعات اس وقت ملتی ہیں کہ جب عورت نے دوسری شادی نہیں کی ہو۔ اس بات کو سرکاری لوگ بھی سمجھتے ہیں لیکن میرے رشتہ داروں میں تربت کے بلوچ، شکارپور کے سندھی ، کراچی کے مہاجر اور کشمیر کے کشمیری شامل ہیں اور پشتو رسم کا بھی پتہ ہے کہ مولوی نے خود ساختہ شریعت بنارکھی ہے کہ میاں بیوی میں سے ایک فوت ہوجائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت فاطمہ کی میت کو علی نے غسل دیا تھا ۔ حضرت ابوبکر کی میت کو اس کی زوجہ نے غسل دیا تھا۔ کسی مولانا نے کہا کہ (یہ بوقت ضرورت ہے) تو اس کے جواب میں کہا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ مولوی قبر پر تختی لگاتا ہے کہ زوجہ مفتی محمود، زوجہ مفتی شفیع، زوجہ مولانا محمد طاہر پنج پیر۔ جب نکاح باقی نہیں رہاہے تو زوجہ کہاں سے لکھ سکتے ہیں؟۔ ایک مولانا نے کہا: قرآن وحدیث سے دلیل دو کہ فوت ہونے کے بعد نکاح باقی رہتا ہے۔ توکہہ دیا کہ ”اللہ نے قرآن میں بشارت دی ہے کہ جنت میں وہ اور ان کی ازواج ساتھ ہوں گی”۔ مولانا نے کہا :اگر بیوی یاشوہرنیک نہ ہو تو؟۔ جواب دیا: یوم یفر المر ء من اخیہ وامہ وبیہ وصاحبتہ وبنیہ میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ بیوی نیک یا بد ہوگی۔جب مولانا کو پھر بھی تشفی نہیں ہورہی تھی تو اس کو کہہ دیا کہ ”مولانا کو یہ اختیار کس نے دیا کہ گم شدہ شوہرکا نکاح80سال تک برقرار رہتاہے اور جب انگریز کے دور میں عورت مرتد ہوگئی تو پھر یہ مدت4سال کردی؟۔ یہ کتنی بڑی حماقت تھی کہ ہر عمر والے کیلئے80سال کا انتظار تھا۔ جس دن بچی پیدا ہو اور اس کا شوہر گم ہوجائے۔80سال بعد عورت ازدواجی تعلق کے قابل رہے گی؟۔ یہ کونسا نکاح ہے کہ جب شوہر3طلاق دے اور پھر مکر جائے۔ عدالت میں قسم اٹھالے تو عورت خلع لے اور خلع نہ ملے تو پھر وہ حرام کاری پر مجبور ہو؟۔جب دو مرتبہ طلاق دی اور حدیث میں آتاہے کہ اس جملے میں تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے تو اس کے بعد خلع کا تصور کہاں سے آسکتا ہے؟۔ جب تیسری طلاق کا تعلق فدیہ سے ہے تو پھر اس کے بغیر حلالے کا فتویٰ کیوں دیا جاتا ہے؟۔ آخر میں مولانا نے کہا کہ اللہ کے ذکر سے اطمینان نہیں ملتا؟۔توکہہ دیا کہ جہاں اطمینان کا ذکر ہے وہاں ذکر سے قرآن مراد ہے باقی جب جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت اختیار کریںتو ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف اور غم مت کھاؤ۔ نماز میں بھی ذکر ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان معاشی، سیاسی ، آئینی ، عدالتی، اخلاقی، صحافتی ، ادارتی اور مذہبی بحرانوں کا شکار ہے!

پاکستان معاشی، سیاسی ، آئینی ، عدالتی، اخلاقی، صحافتی ، ادارتی اور مذہبی بحرانوں کا شکار ہے!

رمضان میں بڑے شیطان قید ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان میں انسانوں نے شیطانوں کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ لوگ بھوک وافلاس سے مررہے ہیں اور بڑے حکمرانی کیلئے لڑرہے ہیں!

رمضان کے روزے پر بھی مولوی فرقہ واریت اور نااہلیت کی وجہ سے لڑنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ہیں،نااہلی اور اپنی اہلیت کو غلط استعمال کرنے کا طوفانِ بدتمیزی ہر طرف برپاہے

پاکستان سودی قرضوں کی وجہ سے مہنگائی کے دلدل میں مسلسل پھنستا جارہا ہے۔ پرویزمشرف نےIMFسے6ارب ڈالر قرضہ لیا تھا۔ زرداری نے10ارب مزید لیکرIMFکا قرضہ16ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ نوازشریف نے14ارب ڈالر لیکرIMFکا قرضہ30ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ سی پیک کیلئے چین کی طرف سے دو پراجیکٹ ایک19ارب ڈالر اور دوسرا35ارب ڈالر پر بھی کام شروع کیا۔ سی پیک کے مغربی روٹ کا رُخ کوئٹہ اور پشاور سے لاہور کی طرف موڑ دیا جس کی وجہ سے سی پیک کا منصوبہ بہت التواء میں پڑگیا اور سودی قرضے کا حجم بھی بہت بڑھ گیا۔ عمران خان کہتا تھا کہ پھانسی پر لٹک جاؤں گا لیکنIMFکے پاس نہیں جاؤں گا۔ پھرIMFکے پاس بھی جانا پڑگیا اور18ارب ڈالر کا مزید قرضہ لیا جس کی وجہ سے48ارب ڈالر تکIMFکا قرضہ پہنچ گیا اور چین و سعودی عرب اور دیگر ممالک اور اپنے بینکوں سے قرضہ الگ تھا۔ ساری سیاسی جماعتوں نے کٹھ پتلی کی طرح پاکستان کو استعمال کرکے بحرانوں میں دھکیل دیا۔ اگر نوازشریف مغربی روٹ کو چھوڑ کر سی پیک کا روٹ لاہور کی طرف منتقل نہ کرتا تو مغربی روٹ سے پاکستان کو بڑی آمدن بھی شروع ہوجاتی۔ پختونخواہ اور بلوچستان میں روزگار کے مواقع فراہم ہوجاتے تو طالبانائزیشن کا خاتمہ ہوجاتا۔ پانامہ لیکس نے نوازشریف کی دولت کو بے نقاب کیا ۔ پارلیمنٹ کاجھوٹا بیانیہ اور قطری خط سے اخلاقی ، قانونی اور سیاسی دیوالیہ بن گیا تو مجھے کیوں نکالا کی رٹ لگانا شروع کردی۔ سارا الزام فوج پر ڈال دیا۔ زرخرید جج اور بیوروکریٹ کے سہارے سے وہ سزا نہ ملی جس کا حقدار تھا اسلئے اقامہ کی سزاپربھی شور مچادیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوازشریف جب اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہواتو پاک فوج نے بھی کھل کر عمران خان کا ساتھ دیا لیکن عوام میں عمران خان کی مقبولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ عمران خان کی آمد سے قبل ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ کرونا نے سہارا بھی دیا،جس میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے1200ارب یعنی12کھرب کے فنڈز میں کرپشن کی خبر بریک کی تھی۔ ملک ریاض کو500ارب روپے کی رعایت بھی نشر ہوئی۔ نوازشریف کے دور میںجنرل باجوہ نے کہا تھا کہ سی پیک کیلئے20ارب ڈالر میں سے10ارب ڈالر فیلڈ میں نہیں لگے تھے۔ جنرل قمر باجوہ کو نوازشریف ،عمران خان، زرداری سبھی نے ایکسٹینشن دی تھی۔ جنرل قمر باجوہ عمران خان کی نالائقی کی وجہ سے نیوٹرل ہوا تو عمران خان کی حکومت نے گرنا ہی تھااسلئے کہ بیساکھی پرکھڑی تھی۔PDMنے اس کے بعد مزید جو گل کھلائے ہیں وہ بھی عوام کے سامنے ہیں۔ آئین، سپریم کورٹ، الیکشن،سیاست، اخلاق اور مذہب سب کچھ سے بھاگ رہے ہیں لیکن آخر کب تک؟۔سپریم کورٹ اور پاک فوج کی بے توقیری بھی ہوچکی ۔
سیاسی اورمذہبی قیادت میں سے بھی کسی پر قوم کا اتفاق نہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ آئین کے مطابق پنجاب اور پختونخواہ میں انتخابات کراؤ لیکن پارلیمنٹ کو اپنی عزت کا بھی احساس نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر بھی راجہ ریاض کو بنارکھا ہے۔ اگر تحریک انصاف کے ارکان کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے دیا جاتا توپارلیمنٹ اس قابل ہوتی کہ مسئلے پر بات کی جاتی۔ پہلے عمران خان کے خلاف انتخابات کیلئے دھرنے ، جلسے جلوس اور سیاسی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ پھر عمران خان کو اتار دیا گیا۔ پھر عمران خان نے سیاسی تحریک کا آغاز کیا تو اس کو اکسایا گیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑ دو۔ جب اسمبلیاں توڑ دیں تو عدالت سے اس کو بچانے کی کوشش ہوئی۔ اس میں ناکامی ہوئی تو پھر اب عدالت اور آئین کے خلاف سازش ہورہی ہے لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟۔
فوج کو پہلےPDMکے قائدین اور ان کے سوشل اور الیکڑانک میڈیانے آخری حد تک پہنچادیاتھا۔ جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گھر پر بلاکر مولانا فضل الرحمن کو ننگی گالیاں دیں تھیں مگر یہ نہیں بتایا کہ کیوں دی تھیں؟۔ جس پر مولانا عبدالغفور حیدری کو شٹ اپ کی کال دینی پڑی۔ مولانا فضل الرحمن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو حشر مولانا سمیع الحق کا میڈم طاہرہ کے ذریعے نوازشریف نے کیاتھا وہ مریم نواز بھی مریم طاہرہ اورنگزیب کے ذریعے کرسکتی ہیں۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے مولانا سمیع الحق کایہ قصور تھا کہ نوازشریف کو اقتدار میں لانے کیلئے اسلام اور جمہوریت کو استعمال کیا تھااور اسی ڈگر اب مولانا فضل الرحمن بھی چل رہے ہیں۔ مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک اب عمران خان کیلئے مولانا فضل الرحمن کے خلاف میدان میں ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دھرنے میں کہا تھا کہ ” عمران خان اور ملالہ یوسف زئی اس ملک وقوم کو ننگا کرنا چاہتے ہیں”۔ اب عمران خان کو قوم کا مسیحا بھی یہی لوگ کہتے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کو اسرائیل کا ایجنٹ کہتے ہیں۔
جب صحافی عمران ریاض خان نے مولانا فضل الرحمن پر بے بنیاد اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا تو اس وقت پاک فوج اور عمران خان ایک پیج پر تھے۔ اب حامد میر کہتا ہے کہ عمران خان سچ بتائے کہ اسرائیل کااصل ایجنٹ کون تھا؟۔ حالانکہ اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام پہلے بینظیر بھٹو نوازشریف پر لگاتی تھی۔ اس دوران اسامہ بن لادن پر بھی نوازشریف کو امداد فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ اسامہ بن لادن جس کی وجہ سے افغانستان ، پاکستان، عراق، لیبیا اور شام سب تباہ ہوگئے ۔ پشتون قوم کا دیوالیہ ہوگیا مگر اس کا بیٹا اور بہو پیرس فرانس میں رہتے ہیں اور مزے کررہے ہیں۔ کیا پتہ کہ اسامہ بن لادن بھی زندہ سلامت نکلے۔
طالبان کی جیت پر پاکستان نے سب سے زیادہ خوشی منائی تھی لیکن اب
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
کانیگرم جنوبی وزیرستان کے بریگیڈئیر مصطفی کمال کی شہادت ایک سانحہ ہے جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے بھی قبول نہیں کی ہے۔ رحمان بونیری نے وائس آف امریکہ سے سوال اٹھایا کہ اس کا تعلق جنرل فیض حمید سے تھا۔ کہیں فوج کی اندورنی چپلقش کا نتیجہ تو نہیں ہے؟۔ جو سوشل میڈیا میں بہت گردش کررہاہے؟۔ اس کا جواب ایک پشتون ریٹائرڈ بریگیڈئیر نے بڑا اچھا دیا کہ22سال تک کے عمر والے کچی ذہنیت کے ہوتے ہیں اور وہ اس قسم کا ذہن رکھتے ہیں اور اس کو پروموٹ کرتے ہیںلیکن اصل معاملہ ن لیگ کے راشد مراد کھریاں کھریاں لندن، اسد علی طور، شا ہ زیب خانزادہ ،سید شفقت وغیرہ نے ایک طرف سے خراب کیا ہے تو دوسری طرف حیدر مہدی ،میجر عادل ، ملک وقار وغیرہ نے بگاڑ دیا ہے۔سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا عوام کے ذہنوں پر سوار ہے۔ مغرب میں بھی باقاعدہ لابنگ کیلئے فرم ہائر کئے جاتے ہیں اور یہاں بھی یہی کام ہورہاہے۔ امریکہ اس کا متحمل ہوسکتا ہے لیکن پاکستان میں اتنا دم خم باقی نہیں ہے کہ جھوٹ کے بازارمیں مزید اپنے قدم جماسکے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ومن یشتری لھوالحدیث لیضل عن سبیل اللہ ”اور جو لہو بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے ان کو گمراہ کردیں”۔ موجودہ دور میں ان سوشل اورالیکڑانک میڈیا کی ٹیموں پر آیت کا اطلاق ہوتاہے۔ ہروہ بات جس سے غلط فہمیاں جنم لیں، دوسروں کی خوامخواہ کی تذلیل ہو اور سیاسی مقاصد اور منافرت کیلئے قومی بحران کھڑا کرنے کیلئے کیا جائے تو یہ شیطان کی مشین ہے۔ اس سے جان چھڑانے کا نسخہ بھی نبیۖ نے زبردست تجویز فرمایا کہ ” جو شخص منہ پر تعریف کرے تو اسکے منہ پرمٹی ڈال دو”۔ اگرسیاسی ومذہبی جماعتیں اپنی تعریف کیلئے دوسرے کی بے جا مخالفت پر شاباش دینے کے بجائے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کردیںگے تو یہ فتنہ ختم ہوجائے گا۔ اس خوشامد کا فائدہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ عمران خان نے کہاہے کہ سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ اپنے حامیوں کی طرف سے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہونے کا احساس ہورہاہے۔ عمران خان کو درست رہنمائی مل جائے تو اپنے حامیوں کے منہ میںمٹی ڈالنے سے بھی گریز نہیں کریگا۔ نوازشریف نے جب سمجھ لیا تھا کہ بیرون ملک سے معاہدے کی پاسداری توڑتے ہوئے آمد کسی مصیبت کا ذریعہ بن سکتی ہے تو ”نوازشریف زندہ باد” کا نعرہ لگانے پر کارکنوں کو ڈانٹ دیا تھا کہ” چپ کرو۔تم کہتے تھے کہ نوازشریف قدم بڑھاؤ ،ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ جب مجھے پکڑکر لے جایا جارہاتھا تو پیچھے میں نے مڑ کر دیکھا تھا اور کوئی بھی نہیں تھا”۔ اپنے مفاد کی خاطر کارکنوں کے منہ میں مٹی ڈالی تھی تو وسیع تر قومی مفاد کی خاطر بھی بکریوں اور بھیڑوںکی طرح میں میں اور بھیں بھیںکرنے والوں کو لگام ڈال سکتے ہیں۔ میڈیا کا افراتفری پھیلانے میں بڑا کردار ہے۔
مصطفی کمال شہید کے خاندان کیلئے یہ پہلا سانحہ نہیں ہے۔ پہلے بھی اس خاندان کےISIکے بریگیڈئیر کے بھائی گلشاہ عالم برکی کو زندہ غائب کیا تھا جس کی ذمہ داری بھی کسی نے قبول نہیں کی اور آج تک اس کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔ گلشاہ عالم برکی کی قوم نے بیت اللہ محسود کے ہاں لشکر کی صورت میں جاکر پوچھا تھا اور بیت اللہ محسود نے اپنی لاعلمی اور لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کا طالب آج کے طالب سے زیادہ مضبوط تھا۔ لیکن طالبان کو پتہ تھا کہ اگر وزیر کی طرح ایک قبیلہ بھی کھڑا ہوگیا تو پھر وزیر کے ایریا سے ازبک کی طرح طالبان کو بھی علاقہ سے پوری قوم نکال دے گی۔ طالبان میں اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ وہ قتل کی ذمہ داری کو قبول کریں اسلئے کہ کانیگرم اور وزیرستان کے لوگ جس دن طالبان کے خلاف کھڑے ہوگئے تو ان کی پوری تحریک کے باقیات کا خاتمہ ہوگا اور پھر فوج اور پاکستان کے ریاستی اداروں پولیس وغیرہ سے نہیں لڑسکیںگے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بناہے لیکن اسلام کے حوالے سے مذہبی طبقات پر عوام کا کوئی اعتماد نہیں رہاہے۔ مدارس کے نصاب پر علماء ومفتیان کا اعتماد بالکل ختم ہوچکا ہے۔ طالبان بھی علماء ومفتیان پر اعتماد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور بے روزگاری سے بھی لوگ دہشت گرد بن رہے ہیں۔ امریکہ نے انسانیت سوز مظالم کے ذریعے سے لاکھوں افراد لقمہ ٔ اجل بنائے اور گوانتاناموبے کے اندر درندگی سے زیادہ بدترین ذہنی وجسمانی تشددکا مظاہرہ کیاہے جس سے اب انسانیت انسانوں میں دفن ہوچکی ہے۔پاک فوج کو مذہبی دہشتگردوں اور بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے تشدد کا سامنا کرنا پڑاہے اور پاک فوج نے بھی بہت بے رحمی سے ان کو نشانہ بنایاہے۔ رؤف کلاسرا نے اپنی کتاب” آخر کیوں ” میں اپنے اخباری کالم (جو2008کے درمیان سے2009کے جون تک ) شائع کئے ہیں۔ جس سے موجودہ دور میں سب کو اپنا عکس بخوبی نظر آتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلامی انسانی انقلاب کا تصور

___اسلامی انسانی انقلاب کا تصور ___
قرآن کی بہت ساری آیات اور خاتم الانبیاء ۖ کی بہت سی احادیث صحیحہ میںعالمی اسلامی انسانی انقلاب کا تصور موجود ہے۔ سورۂ واقعہ ، سورۂ جمعہ، سورۂ محمد، سورہ ٔ الدھر اور بہت ساری سورتوں میں اسلامی انسانی انقلاب کا نقشہ موجود ہے۔ احادیث صحیحہ میں بڑی وضاحت کیساتھ طرزنبوت کی خلافت کا ذکرہے ۔ جس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہوں گے۔ بین الاقوامی سودی نظام سے صرف پاکستان تنگ نہیں بلکہ پوری دنیا کے چھوٹے بڑے ملک اور ان کی عوام اس کی وجہ سے بہت مشکلات کا شکار ہیں۔ لوگوں کی آزادی سلب ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں حوالہ کا کاروبار اسلئے چل رہاہے کہ بینکنگ کاسودی نظام لوگوں کو جائز رقم منتقل کرنے پر بھی تنگ کررہاہے اور ٹیکس بھی بہت زیادہ ہیں۔
اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کی حیثیت کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی ہے۔ دو مرتبہ امریکہ کے صدر بننے والے بارک حسین اوبامہ نے آٹھ سال تک اقتدار میں وائٹ ہاوس کے مزے لئے جو بڑی خوش آئند بات تھی لیکن جب وہ صدر کیلئے حلف دے رہا تھا تو امریکہ کے چیف جسٹس نے اس کا پورا نام لینا تک گوارا نہیں کیا ۔ اگرچہ بارک حسین اوبامہ نے پھر بھی ہمت سے اپنا نام لیاتھا اور اس سے عدلیہ اور اقتدار کے درمیان عدم اعتماد کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
جب امریکہ کا یہ حال ہے تو دوسرے ممالک میں غلامی کا تصور محسوس کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر ملاعمر کے سرقیمت رکھی تھی اور پھر طالبان سے مذاکرات کرکے افغانستان سے نکل گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو80سال قید کی سزا دینا امریکی عدالت انصاف کے منہ پر طمانچہ تھا۔ گوانتا ناموبے میں قیدیوں کیساتھ غیرانسانی سلوک اور عراق کو تباہ و برباد کرنے کے بعد یہ کہنا کہ غلط اطلاعات پر ہم نے غلط فہمی میں یہ حرام پنا کیا ہے۔ آخرت میں نہیں دنیا میں ایک عدالت انصاف کی سخت ضرورت ہے لیکن جب ہمارے ہاں اپنے گھروں، معاشرہ، ریاستی ، سیاسی اور عدالتی نظام میں انصاف نہیں ہوگا ۔ تو دنیا سے کیا انصاف طلب کریں گے؟۔ میڈیا نے 17سالہ بلوچ لڑکی کو بہت ہائی لائٹ کیا لیکن آخر کار دھرنا والے بھی اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا اس کی اور اس کے گھروالوں کی حالت ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ارشد شریف اور دیگر مظلوموں سے کم ہے؟۔ کتنے لوگوں پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں؟۔ اس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مہنگائی سے کتنے لوگوں کی حالت خراب ہے؟۔ سیلاب زدگان کیساتھ بھی وہ بھلائی نہیں ہوسکی ہے جس کی توقع تھی۔ جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں سیلاب زدگان کے ٹینٹ بڑی تعداد میں بچھائے گئے تھے۔
پہلے فقہاء نے یہ مسائل مشہور کئے کہ اگر کسی کی چار بیویاں ہوں اور ایک کو طلاق دے اور یہ پتہ نہ چلے کہ کس کو طلاق دی ہے تو پھر چاروں کے ساتھ باری باری مباشرت کرے ، جس میں زیادہ لذت ہو ، اس کو حلالہ کیلئے پیش کرے۔ اسلئے کہ حرام میں زیادہ لذت ہوتی ہے۔ اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کسی خاتون نے ہمارے ساتھی سے طلاق کے بعد رجوع کیلئے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ میں کس طرح سے بتاؤں کہ مجھ سے ایک مفتی نے حلالہ کیلئے کیا بات کی۔ شرم آتی ہے، اس نے کہا کہ تمہارا حلالہ بھی ہوجائے گا اور جماع بھی نہیں ہوگا۔ وہ اس طرح کہ ہمارے آدمی کے ساتھ آپ کو ایک کمرے میں بند کردیں گے۔ کپڑے بھی اتار دیں گے اور ننگا کرنے کے بعدتمہاری شرم گاہ پر صرف ہمارا آدمی اپنی شرمگاہ ٹچ کرے گا، داخل نہیں کرے گا۔ اس طرح سے حلالہ ہوجائے گا اور تمہیں اس کیلئے بس صرف ہماری فیس10ہزار روپے دینے پڑیں گے۔

___علماء دیوبند کے اکابر نے اعتراف کیا___
نبی کریم ۖ نے معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنایا تو پوچھا: فیصلہ کیسے کروگے؟۔حضرت معاذ نے عرض کیا کہ قرآن سے!۔ نبی ۖ نے پوچھا : اگر قرآن میں نہ ملے تو؟۔ معاذ نے عرض کیا: نبی ۖ کی سنت سے!۔نبی ۖ نے پوچھا: قرآن وسنت میں نہ ملے تو؟۔ معاذ نے عرض کیا : پھر میں خود کوشش کروں گا۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے رسول ۖکے رسول کووہی توقیق بخش دی جس سے میں پسند کرتا ہوں”۔ عربی میں کوشش کو اجتہاد کہتے ہیں اور پیغام رساں کو رسول کہتے ہیں۔ بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ ” اجتہاد” کو نہ صرف مستقل شعبہ سمجھ لیا بلکہ اجتہادات میں اختلاف و تضادات وبدعات کو دین کا حصہ بنادیا۔ غسل ، وضو کے فرائض سے لے کر نکاح وطلاق جیسے اہم معاشرتی معاملے کے علاوہ معاشی مسائل تک اختلاف اور تضادات کے مستقل فقہی مسالک اجتہاد کے نام پر کھڑے کردئیے گئے۔ جس کے نتیجے میں عبادات، معاشرت اور معاشیات میں اجتہاد کے نام پر بالکل جدا جدا الگ تھلگ مذاہب بھی گھڑ لئے گئے ۔ بس ان کو صرف الگ الگ رسول کا نام دینا باقی رہ گیا تھا۔قرآن نے یہ نسخہ تجویز کیا ہے کہ ” حق آیا تو باطل بھاگ گیا، بیشک باطل تو تھابھاگنے کیلئے ”۔ایک دن پارلیمنٹ کے حال میں سب کو جمع کیا جائے اور سب سے کچھ معاملات پر ان کا مؤقف پوچھ لیا جائے اور قوم کو لائیو دکھایا جائے تو معاملہ حل ہوجائے گا۔ہم یہ گارنٹی دیتے ہیں کہ اگر تمام مسالک کے مخلص لوگ اکٹھے ہوجائیں تو دین کے اندر تضادات کا خاتمہ ہوجائے گا اسلئے کہ قرآن اور نبی ۖ ایک ہیں اور ایمان بھی ایک ہے اور قرآن نے ہر چیز کو الجھایا نہیں ہے بلکہ واضح کیا ہے اور اس میں تضاد بھی نہیں ہے۔
ان اجتہادات کیخلاف عام لوگوں نے نہیں بلکہ علماء دیوبند کے اکابر نے اعتراف کیا کہ قرآن وسنت کی خدمت کی ضرورت ہے اور انہوں نے دین کی کوئی خدمت نہیں کی۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے40سال تک درس نظامی کا نصاب پڑھایا تھا ۔جب شریف مکہ نے گرفتار کرکے آپ کو انگریز کے حوالے کیا تو مالٹا کی قید میں دماغ کی شریانیں کھل گئیں کہ ”امت کے زوال کے دوسبب ہیں۔ ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت” ۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اس پر لکھتے ہیں کہ ”فرقہ واریت بھی دراصل قرآن سے دوری کی وجہ سے ہے اسلئے امت کے زوال کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے قرآن سے دوری”۔ شیخ الہند کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسیرمالٹا کو جیل میں خدا کا یاد آنا فطری بات تھی لیکن عملی طور پر کسی مولوی نے فرقہ واریت سے توبہ اور قرآن کی طرف رجوع نہیں کرنا تھا۔ حالانکہ شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی نے یکسوئی سے اس مشن کو اپنایا تھا۔ علاوہ ازیں یہ بھی انوکھی خبر ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشیداحمد گنگوہی کے شاگرد شیخ الہند نے تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا لیکن مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے ساری زندگی درسِ نظامی کی تدریس میں گزار دی اور پھر آخر میں فرمایا کہ ” میں نے اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔ مفتی محمد شفیع نے عرض کیا کہ ” حضرت آپ نے ساری زندگی قرآن وحدیث کی خدمت کی ہے اور آپ کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ زندگی ضائع کردی؟”۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے فرمایا:” میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی ہے ”۔( وحدت اُمت: مفتی شفیع)۔رسول اللہ ۖ نے حضرت معاذ بن جبل سے پوچھا کہ کوئی مسئلہ پیش ہو تو اس کا حل کہاں تلاش کرو گے؟۔ حضرت معاذ نے عرض کیا تھا کہ قرآن میں !۔ حدیث وفقہ اور مذہبی کتابوں میں بیوی کو ”لفظ حرام” کیلئے سات سمندروں میں غوطہ زنی کے مرتکب مذہبی ناسور طبقے نے قرآن کی طرف کیوں دیکھنے کی زحمت نہیں کی؟۔ یہ مسئلہ تو سورۂ تحریم میں اللہ نے اپنے رسول ۖ کی سیرت کے ذریعے سے حل فرمادیا ۔

___القائے شیطانی کا درست اور غلط تصور___
حاجی محمد عثمان جب تبلیغی جماعت کے منبر پر وعظ فرماتے تو عوام بڑی متأثر ہوتی تھی ۔ جب دوسرے اکابر تقریر کرتے توحاجی عثمان پنڈال میں عوام کیساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ رائیونڈ مرکز میں حاجی محمد عثمان کا یہی معمول ہوتا تھا اور کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے میں عوام وخواص کے درمیان الگ الگ دسترخوان کی مخالفت کرتے تھے۔ جب یہ اختلاف بعض اکابراور ان کے ٹاؤٹ کو برداشت نہیں ہوا تو حاجی محمد عثمان کے خلاف یہ الزامات لگانے شروع کردئیے کہ ان کی وجہ سے جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے مرکزی امیر کیلئے مولانا سعد کا نام حاجی عبدالوہاب نے پیش کیا تھا۔ مولانا سعد مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت کے پڑپوتے ہیں۔ جب مولانا سعد نے تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز بستی نظام الدین میں عوام وخواص کے اندر الگ الگ دسترخوان کا سلسلہ ختم کیا اور جن لوگوں نے بیرونی ممالک تبلیغ کے نام سے اپنی قوم کے افراد کو آباد کرنا شروع کیا تھا ،ان کا نیٹ ورک توڑ دیا تو بغاوت ہوگئی۔ اگر حاجی محمد عثمان کی بات اس وقت مان لی جاتی تو نہ صرف آج تبلیغی جماعت کے مراکز رائیونڈ اور بستی نظام الدین متحد رہتے بلکہ بریلوی اور اہلحدیث کو بھی اپنی اپنی جماعتیں بنانے کے بجائے اسی کام سے منسلک ہوکر اصلاح کا کام کرتے۔
مولانا طارق جمیل نے ایسے رنگ میں پیش کیا جیسا اللہ نے حضرت خولہ کے جذبات سے متأثر ہوکر آسمان سے نبیۖ کے خلاف اپنا فتویٰ بدل دیا ہو۔ حالانکہ ظہار کا مسئلہ شیطان نے مذہبی اجتہاد کے سبب بگاڑ دیا تھا تو جب عورت کو مسئلہ پیش آیا اور نبیۖ نے ماحول کے مطابق غلط فتویٰ دیا تو اللہ نے اپنی آیات کے ذریعے اس شیطانی فتوے کو بہت واضح الفاظ میں غلط قرار دیاہے۔
وماارسلنامن قبلک من رسولٍ ولانبیٍ اِلّآ اذا تمنّٰی القی شیطٰن فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطٰن ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمOترجمہ :” اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول اور نبی کو نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان اپنی بات اس کی تمنا میں ڈال دیتاتھا۔ پس اللہ منسوخ کردیتاتھا جو شیطان نے ڈالا ہوتاتھا ، پھر اپنی آیات کو محکم بنادیتا تھا اور اللہ بہت علم اور بہت حکمت والا ہے۔ (سورہ الحج آیت52)
نبی کریم ۖ نے مذہبی ماحول سے فتویٰ دیا کہ ” ظہار کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے” تو اصل میں یہی غلط مذہبی ماحول ہی القائے شیطانی تھا جس پراللہ نے محکم آیت نازل کی۔ پہلے بھی انبیاء کرام و رسل عظام متاثر ہوئے۔ اللہ نے حضرت آدم وحواء سے فرمایا: ” اس درخت کے قریب نہ جانا” ۔ پھر شیطان نے ان کو شجرة الخلد کا وسوسہ ڈال کر بہکایا ۔ فعصٰی آدم وغویٰ ” پس آدم نے نافرمان ہواتو سرکشی کی”۔ (القرآن)۔ اللہ نے زمین کا خلیفہ بنانے سے پہلے حضرت آدم وحواء کے واقعہ سے یہ عبرتناک سبق سکھایا کہ کس طرح شیطان ورغلاتا ہے؟۔ انبیاء کی رہنمائی اللہ اپنی وحی سے کرتا ہے لیکن غیرانبیاء اس شرف سے محروم ہوتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے امتی نبی کا دعویٰ کرکے دجال ہونے کا ثبوت دیا۔ نبیۖ کے دور میں ابن صیاد ایک طرف کہتا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور دوسری طرف نبی ۖ کو امیوں کا نبی اور خود کو تمام دنیا کا نبی کہتا تھا۔ دونوں ملعونوںمیں بڑی مماثلت بھی تھی۔ایک کو نبی کریم ۖ سے جان کی امان ملی اور دوسرے کو اکابر نے جانی نقصان نہیں پہنچایاتھا۔ ابن عباس کے باپ نے بعد میں اسلام قبول کیا تھا اسلئے شیطانی آیات کے حوالہ سے ابن عباس کی روایت سنداً صحیح ہے مگرمشرکین مکہ کے غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے۔

___ حرام کو حلال کرنے کے غلط تصورات___
نبی کریم ۖ نے ظہار کے مسئلے پر شیطان کے بچھائے جال پر فتویٰ دیا تو اللہ تعالیٰ نے محکم آیات سے تدارک کردیا تھا۔ یہ صرف رسول اللہ ۖ کی سیرت طیبہ کا اعلیٰ نمونہ ہے تاکہ قیامت تک آنے والے علماء حق اس بات پر پہچانے جائیںکہ جب حق واضح ہوجائے تووہ شیطانی وسوسے پر ڈٹنے کی غلطی نہیں کرتے۔ اللہ نے سورہ مجادلہ میں ماحول کی نزاکت کے مطابق یہ بھی فرمایا ہے کہ ” مائیں صرف وہی ہیں جنہوں نے اس کو جنا ہے” لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ منطق بنائی جائے کہ سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے ۔ جیسا کہ اسلام سے پہلے مذہبی شیاطین الانس و الجن نے اپنے وسوسوں اور فتوؤں سے یہ کارنامہ انجام دیاتھا اور پھر اللہ نے محرمات کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھ کر اس کی تردید کی اور فرمایا کہ ” نکاح مت کرو،جن عورتوںسے تمہارے آبا ء نے نکاح کیا ہے مگر جو پہلے گزر چکاہے۔ بیشک یہ فاحشہ وناگوار ہے اور بہت برا راستہ ہے ”۔ (النساء آیت22)
امام ابوحنیفہ اسلئے امام اعظم کہلائے کہ درباری بننے اور قاضی القضاة (چیف جسٹس ) کا عہدہ کو قبول کرنے کے بجائے جیل میں زہر سے شہادت کی موت کو ترجیح دی۔ ابویوسف نے قاضی القضاة کا عہدہ قبول کرکے درباری امام کا درجہ حاصل کرلیاتھا۔ امام بوحنیفہ نے دین کی سمجھ میں اپنی کوشش کا سکہ رائج کیا تھاجبکہ امام ابویوسف کے فتوے صرف دربار کی حد تک ہوتے تھے۔
اہل سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ مجتہد اپنے اجتہاد میں غلطی اور ٹھیک بات پر پہنچ سکتا ہے۔ اجتہاد کی بھی شرائط ہیں کہ کون اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس پر بھی اختلاف ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہواہے یا بند ہوچکا ہے؟۔ سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینا بھی اجتہادی مسئلہ سمجھاجاتا ہے کہ اس میں اجتہاد کرنے والا ٹھیک ہے یا غلط ہے؟۔ جو لوگ اجتہاد کے دروازے کو بند سمجھتے تھے تو انہوں نے اجتہاد کے نام پر سودی نظام کو حلال قرار دینے کا بڑے معاوضہ کے تحت ٹھیکہ اٹھالیا ۔ اس کا اتنا طوطی بولتا ہے کہ اگر وہ کہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قلیل معاوضہ لینے کو منع کردیا ہے اور میں زیادہ معاوضہ لے رہاہوں۔ مدارس سے اپنے بچوں کو نکال کر بینکوں میں بڑی بڑی پوسٹوں پر بٹھادیا تو اس کے معتقدین کی ایک بڑی تعداد اپنے ہاتھوں سے چوتڑ بجاکر کہے گی کہ واہ زبردست ،کیا دلیل دی ہے شیخ الاسلام نے ؟۔گذشتہ شمارہ میں ہم نے انجینئر مرزا محمد علی کواسلئے اہلحدیث قرار دیا کہ وہ شیخ زبیر علی زئی سے عقیدت رکھتے ہیں اور مفتی محمد انس مدنی نے مرزا کو بے پیندے کا کتابی قرار دیا ۔ محمد علی مرزا خود کو اہلحدیث نہیں کہتا اسلئے ہماری طرف سے دونوں کا دل دکھنے پر بہت بہت معذرت۔ شیخ زبیر علی زئی ایک ساتھ تین طلاق کے قائل تھے ، ہمیں نہیں پتہ کہ وہ بھی…۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت ” میں لکھ دیا ہے کہ ”ائمہ کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ ایسا وقت آئیگا اور علم آسمان پر اٹھالینے سے نہیں اٹھے گا بلکہ علماء کے اُٹھ جانے سے اٹھے گا۔ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تولوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیںگے۔ لوگ ان سے فتویٰ پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریںگے”۔ (بخاری ومسلم ) ائمہ مجتہدین میں اجتہاد کی صلاحیت تھی اور ان کے بعد علم اٹھ گیا ہے اور اس کے بعد جنہوں نے تقلید نہیں کی اور اجتہاد کیا تو وہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کررہے ہیں”۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی یہ کتاب ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ سے غائب کردی جائے ۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” اس حدیث اور دیگر احادیث کو موجودہ دور پر فٹ کیا تھا اور وہ مارکیٹ سے غائب کردی گئی ہے۔ جس میں معاشی، سیاسی، معاشرتی ، علمی ، حکمرانی اور تہذیبی ہرطرف سے زوال انحطاط کے ماحول کی زبردست نشاندہی کی گئی ہے۔

___حضرت عمراور ذو الخویصرہ میں فرق___
جب پانی نہ ملے تو چاہے وضو کی ضرورت ہو یا غسل کی قرآن میں تیمم کا حکم ہے۔قرآن میں دوسری جگہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے اور حالت جنابت میں بھی لیکن مسافر کو اجازت ہے یہاں تک کہ غسل کیا جائے۔ قرآن کے احکام میں کوئی ابہام نہیں کہ وضو اور غسل کیلئے تیمم کا ایک ہی حکم ہے۔ جب حضرت عمار نے غسل کیلئے تیمم میں لوٹ پوٹ ہونے کا عمل کیا تو نبی ۖ نے فرمایا: ” وضو کی طرح غسل میں بھی چہرے اور ہاتھ کا تیمم کافی ہے”۔ حضرت عمر نے نبیۖ سے عرض کیا کہ ” سفر میں جنابت سے تیمم نہیں کیا، نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی ”۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”آپ نے اچھا کیا”۔
حضرت عمر کا عمل قرآن کے مطابق بالکل درست تھا اور نبیۖ نے اس کی تصدیق بھی کردی ،اسلئے کہ اللہ نے جنابت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا ہے لیکن مسافر کو غسل کے بغیر نماز پڑھنے کی تیمم سے صرف اجازت دی ہے لیکن اگر کوئی نماز نہیں پڑھے تو اس کی گنجائش ہے۔ نبیۖ کو معلوم تھا کہ ذوالخویصرہ کے شدت پسند پیروکار صحابہ کرام سے بھی زیادہ نماز کی پابندی کا اہتمام کریںگے جس کا امت کو بہت نقصان پہنچے گا۔ تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نذرالرحمن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر نے آنکھوں کاآپریشن کرنے کے بعد منع کیا ہے کہ سجدہ مت کریں۔ ذوالخویصرہ کی ذریت اس کو اعزاز سمجھ کر سیدھے سادے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے پھیلارہے ہیں۔ نبیۖ نے صحابہ کی ایک جماعت سے فرمایا کہ بنوقریضہ پہنچ کر نمازِ عصر پڑھو! تو بعض نے راستے میں نماز پڑھ لی اور بعض نے پہنچ کرمغرب کیساتھ قضاپڑھ لی۔ نبیۖ نے اس پر گرفت نہیں کی اور نہ یہ فرمایا کہ نماز کیوں قضا کی؟۔اور نہ یہ فرمایا کہ آئندہ نماز قضا مت کرو۔ نبیۖ کا مقصد اندھیرے سے پہلے پہنچنا اور کسی ناگہانی خوف سے بچانا تھا۔ جب وہ صحیح سلامت پہنچ گئے تو یہ بھی نہیں فرمایا کہ ”میرے حکم کے مطابق وقت پر وہاں کیوں نہیں پہنچے؟”۔
اللہ نے طلاق ، رجوع اور عدت کے مسائل میں نماز خوف کا ذکرکیا :حٰفظوا علی الصلوٰت و الصلوٰة الوسطٰی و قوموا للہ قٰنتینOفان خفتم فرجالًا او رکبانًا فاذآ اٰمنتم فاذکروا اللہ کما علّمکم مالم تکونوا تعلمونOترجمہ :” نمازقائم کرو، خاص کر بیچ کے نماز کی اور اللہ کیلئے عاجزی سے قیام کرو۔پس اگر تم ڈرو تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری کرتے ہوئے ( نماز پڑھو) پس جب تمہیں امن حاصل ہوجائے تو ایسا ذکرکرو( نماز پڑھو) جیسے تمہیں سکھایا گیا ہے”۔(البقرہ آیت238،239)۔ یہ حالت جنگ کی بات نہیں بلکہ خوف کی کوئی بھی ایسی صورت ہوسکتی ہے۔
حالت جنگ میں نما ز کی تلقین نہیں ۔ یہ بیت بازی شاعرانہ بکواس ہے کہ
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز قبلہ روہوکے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
حالت جنگ میں سر بسجود ہونے کے بعد ایک ساتھ محمود اور ایاز کا سر اور گردن کدو اور توری کی طرح کاٹ دیا جاتا۔ یہ بھی جھوٹ لگتا ہے کہ امام حسین نے حالت جنگ میں سجدہ کرتے ہوئے دشمن کو جان دی تھی البتہ دشمن نے دھوکہ دیا ہو تو الگ بات ہے۔ میدان جنگ میں لڑنے والوں کو اس بات کا پتہ ہے کہ رکوع وسجود اور معمولات کے مطابق نماز پڑھنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اقبال نے کبھی سیاسی قید نہیں کاٹی ہے جب مولانا محمد علی جوہر نے کہا کہ آپ بھی قربانی دیں تو علامہ اقبال نے کہا کہ اگر قوال وجد میں آیا تو پھر قوالی کون گائے گا؟۔

___جنگ نہیںسفر کی نماز میں خوف کا حکم___
نماز سفر میں جنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ نبیۖ موجود ہوں تو سفر میں نماز کی ترتیب بتائی ہے۔نبیۖ کو خطرات کا سامنا تھا اسلئے یہ بھی واضح فرمادیا کہ اگر آپ ۖ نماز باجماعت کا اہتمام کریں تو جانثار صحابہ کیلئے یہ احکام ہیں۔
واذا ضربتم فی الارض فلیس جناح علیکم ان تقصروا من الصلوٰة ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا ان الکٰفرین کانوا لکم عدو مبینًاO”اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ نماز میں سے کچھ کم کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ تمہیں آزمائش میں ڈال دیںگے ، بیشک کافر تمہارے لئے کھلے دشمن ہیں”۔ (النساء آیت101)
اس آیت میں ایک تو نماز سفر کی یہ وضاحت ہے کہ قصر کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اگر امام صاحب مسافر ہیں اور مقتدی مقیم ہیں اور مقتدیوں کی بڑی تعداد ہے تو مسافر امام پوری نماز پڑھائے۔ تاکہ مقتدیوں کو خلفشار کا سامنا نہیں کرنا پڑے کہ فاتحہ پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ اگر کوئی امام ہٹ دھرمی کرے تو اس کو نماز نہیں پڑھانی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ وغیرہ خواتین جب عوامی مقامات پر نماز پڑھتی ہیں تو یہ بھی بڑا فتنہ ہے کہ جب وہ سجدے میں جاتی ہیں تو پیچھے کھڑے ہوکر کافر اس کا مذاق اڑارہے ہوتے ہیں۔ ایسے فتنے اور آزمائش میں پڑھنے کے بجائے اپنی نماز اسی جگہ ختم کرکے قصر یعنی مختصر کریں اسلئے کہ جب اللہ نے پیدل چلتے اور سواری میں بیٹھتے ہوئے بھی نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو تماشا اور فتنہ بننے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جس کا حکم اللہ نے سورہ بقرہ کی آیات238اور239میں واضح فرمادیا ۔ ایک طرف نماز کے اہتمام کا حکم ہے اور دوسری طرف اس میں کسی طرح کے خوف کی شکل میں پیدل اور سواری کرتے ہوئے سہولت کا حکم ہے اور یہ اعتدال ہی اسلام کا تقاضہ ہے۔
واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوٰة فلتقم طائفة منھم معک ولیأخذوا اسلحتھم فاذا ……………… ”اور جب آپ (اے نبیۖ) خود ان میں موجود ہوں اور نمازکیلئے پڑھانے لگیں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کیساتھ اسلحہ لیکر کھڑے رہیں۔ جب وہ سجدہ کریں تو پیچھے ہٹ جائیں اور دوسرا گروہ آئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھیں اور اپنے ہوش وحواس کے ساتھ اور اپنے اسلحے کیساتھ بیدار رہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ اگر آپ غافل ہوجائیں اپنے سامان اور اپنے اسلحہ سے تو یہ یک بارگی تم پر دھاوا بول دیں۔ اور کوئی گناہ نہیں کہ اگر تہیں کوئی تکلیف ہو بارش یا بیماری کے سبب کہ اپنے اسلحہ کو رکھ لو۔ مگر اپنے ہوش وحواس کو برقرار رکھو۔ بیشک اللہ نے کافروں کیلئے ذلت کا عذاب تیار کررکھاہے”۔ (النساء :102)
اس آیت میں جنگ نہیں بلکہ سفر کا ذکر ہے۔ نبی کریم ۖ کی ذات کو خاص طور پراور مسلمانوں کو عام طور پر خطرات کا سامنا رہتا تھا۔ اس کا احوال سمجھنے کیلئے موجودہ دور میںVIPشخصیات کیلئے پروٹوکول کا اہتمام ہے۔ خصوصاً جب سے دہشتگردی کا معاملہ شروع ہوا ہے تو حفاظت پر مأمور دستوں کو اپنے فرائض کی سمجھ ان آیات سے سمجھ میں آئے گی۔ قرآن تمام ادوار اور حالات کی رہنمائی کرتا ہے اور نبیۖ کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے کہ جس کے پیچھے نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے لوگ ترس رہے ہوں۔
واذا قضیتم الصلوٰة فالذکروا اللہ ……” اور جب تم نماز پوری کرچکے ہو تو اللہ کا ذکر کرو۔ کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے اور اپنی کروٹوں پر۔ پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو نماز قائم کرو۔ بیشک نماز مؤمنوں پر فرض کی گئی ہے اوقات پر”۔ (النسائ: 103)یہ نماز خوف کا بیان ہے جس میں نماز بالکل ختم کرکے پوزیشن بدل سکتی ہے اور پھر اٹھتے ، بیٹھتے اور کروٹیں بدلتے ہوئے اللہ کو یاد کرنے کی بات ہے۔ یہ بہت بیوقوفی کی بات ہے کہ خطرات سے بڑھ کر حملہ ہوجائے اور مسلمان پھر بھی ستو پی کر نماز کی تکمیل پر لگے ہوئے ہوں۔

___اہل حق اور اہل باطل کو مشکل کا سامنا___
ولا تھنوا فی ابتغاء القوم ان تکونوا تأ لمون ……. ” اور سستی سے کام مت لو اس قوم کی تلاش میں۔اگر تم ان کی وجہ سے درد میں مبتلاء ہو تووہ بھی اسی طرح سے درد میں مبتلاء ہیں جیسے تم ہو۔ اور تم اللہ سے جو امید رکھتے ہو وہ ایسی امید نہیں رکھتے ہیں۔ اور بیشک اللہ بہت جاننے والا حکمت والا ہے”۔ (النساء آیت:104)آج افغانستان کو داعش اور پاکستان کو تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جن مشکلات کا سامنا ہے اس میں دونوں طرف مسلمان ہیں اور دونوں طرف سے اپنے اپنے حق میں دلیل پکڑتے ہیں۔ جب تک قرآن کے احکام واضح نہیں ہوںگے تو مشکلات سے ہم نکل نہیں سکیںگے۔ قرآن وسنت کی طرف درست توجہ کرنے کے بعد ہماری قوم کسی صحیح نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کی میڈیا پر ریاست کے افسران اور طالبان کی طرف سے بڑے پیمانے پر بھتہ خوری کے عجیب وغریب الزامات سامنے آرہے ہیں۔
انآ انزلنا الیک الکتٰب بالحق لتحکم بین الناس بما ارٰی ک اللہ ولا تکن للخآئنین خصیمًاO”بیشک ہم نے تیری طرف کتاب اتاری ہے حق کیساتھ تاکہ آپ فیصلہ کریں لوگوں کے درمیان جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے۔ اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے کبھی جھگڑالو مت بنو”۔ (النساء آیت:105) جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے خائن شخص کا ساتھ دیا تو دوسرے دن پھر وہ خیانت کا مرتکب کھڑا تھا۔ جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ مشکل میں پڑگئے تھے۔
واستغفراللہ ان اللہ کان…..O……….” اور اللہ سے بخشش مانگنا، بیشک اللہ بخشنے والا رحم والا ہے۔اور جو لوگ اپنی جانوں کیساتھ خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے مت جھگڑنا۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا ہے جو خائن گناہگار ہو۔یہ لوگ اللہ سے چھپتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپتے۔ اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی بات کرتے ہیں جس سے اللہ راضی نہیں ہوتا ہے۔ اور اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ تم ہی ہو وہی لوگ جو ان کی طرف سے بحث کرتے ہو تو کون ان کی طرف سے اللہ کیساتھ بحث کرے گا؟۔ یا کون ان کا وکیل مقرر ہوگا؟۔ اور جو شخص برا عمل کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر وہ اللہ سے معافی مانگے تو پائے گا اللہ کو غفور رحیم ۔ اور جو گناہ کماتا ہے تو وہ اپنے نفس کیلئے کماتا ہے۔ اور بہت جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور جو کوئی غلطی کمائے یا کوئی گناہ ۔ پھر اس کا الزام کسی بے گناہ پر لگادے تو اس نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر رکھا۔ اور اگر آپ پراللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ایک گروہ نے قصد کیا تھا کہ آپ کو راستے سے ہٹادے۔ لیکن یہ راستے سے نہیں ہٹاسکتے ہیں مگر اپنی جانوں کو۔ اور آپ کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ اور اللہ نے آپ پر کتاب نازل کی اورحکمت اور سکھایا وہ جو آپ نہیں جانتے تھے۔ اور اللہ کا فضل آپ پر بہت بڑا ہے ۔اور بہت ساری سرگوشیوں میں خیر نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی صدقے کا حکم دے،یا معروف کایا لوگوں کے درمیان صلح کا۔ جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے ایسا کرے گا تو اس کو ہم اجر عظیم دیں گے۔ اور جو ہدایت کا راستہ واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے اور مؤمنوں کی راہ کے علاوہ چلے تو ہم اس کو ادھر پھیر دیںگے اور جہنم میں پہنچادیںگے اور بہت برا ٹھکانہ ہے۔ بیشک اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کیساتھ شریک کیا جائے اور اسکے علاوہ جس کیلئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جو اللہ کیساتھ شرک کرے تو وہ دور کی گمراہی میں جاپڑا ”۔ (النساء آیات:106 سے 116)

___اللہ نے اہل کتاب کو غلو سے منع کیا___
نظام بدلنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ کے احکام سمجھنے کے بعد ان میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ فقہاء کا اختلاف ہے کہ عورت کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟۔ جب نبیۖ نماز پڑھتے تھے تو کبھی حضرت عائشہ کے پاؤں کو ہٹانے کی ضرورت پڑتی تھی جب نیند میں سامنے آجاتے تھے۔ اگر نبیۖ نے یہ فرمایا کہ عورت کو مس کرنے کے بعد وضو کرو تو اس سے مراد کیا ہے؟۔ حدیث ہے کہ انزال کے بغیر نبیۖ غسل نہیں کرتے تھے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ جماع کی ایک صورت میں غسل اور دوسری صورت میں وضو کا عمل تھا۔ جن احادیث میں عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو کا حکم دیا گیا تو مراد صرف ہاتھ لگانا نہیں ہے بلکہ جماع کا وہ عمل ہے جس میں انزال نہ ہوا ہو۔ امام ابوحنیفہ نے ہاتھ لگانے سے جماع کا عمل مراد لیا اور بعض نے عورت پر ہاتھ لگنے سے بھی وضو کا معاملہ بنالیا تھا۔ بہر حال یہ معاملات بھی خوش اسلوبی سے حل ہوسکتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ نے ہاتھ لگنے پر حرمت مصاہرت کا حکم نہیں لگایا تھا بلکہ ہاتھ لگنے سے مراد جماع تھا۔ بیوقوف فقہاء نے معاملہ کہاں پہنچادیا تھا۔ درسِ نظامی میں ہے کہ ”ساس کی شرمگاہ کوباہر سے شہوت کیساتھ دیکھنے میں عذرہے اور شرگاہ کے اندر شہوت سے نظر پڑگئی تو اپنی بیوی حرام ہوجائے گی”۔ اور جب اللہ نے واضح کیا: وامّھٰتُ نساء کم وربآئبکم الّٰتی فی حجورکم من نساء کم الّٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم ”اور تمہاری بیگمات کی مائیں اور تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں جو تمہارے حجروں میں ہیں، تمہاری ان بیویوں سے جن میں تم نے داخل کیا ہے اور اگر تم نے ان میں داخل نہیں کیا ہے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ”۔ (النسائ:23)
اس آیت میں فقہی کتابوں میں حرمت مصاہرت کے انتہائی گھناؤنے مسائل کا جڑ سے خاتمہ ہے۔ ایک طرف جس عورت سے کوئی شادی کرتا ہے تو اس کی ماں معلوم ہوتی ہے اور اس کی ماں سے نکاح کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ہے اسلئے اتنا بھی کافی تھا کہ حرمت کی فہرست میں وہ داخل ہیں۔ دوسری طرف ہوس پرست انسان سے بعید نہیں ہوتا ہے کہ اپنی بیوی کی دوسرے شوہر سے جوان بیٹی کو دیکھ کر اس کی نیت خراب ہوجائے اسلئے واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ جو تمہارے حجروں میں پلی ہیں اور جن کی ماؤں میں تم نے داخل کیا ہے تو ان کے بارے میں نیت کی خرابی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کھڑی کرکے ان کو محرمات کی فہرست میں ڈال دیا۔ تیسری طرف القائے شیطانی کے وہ اجتہادات تھے جن سے مذہبی ماحول کے آلودہ کرنے کے خطرات تھے کہ کہاں سے کہاں پہنچاکر مذہبی طبقات دم لیںگے؟۔ ان تمام لغو ولایعنی ، بیہودہ ، گھناؤنے مسائل کی توڑکیلئے آیت کے الفاظ کافی ہیں کہ بیوی میں دخول بھی شرط ہے تاکہ انقلاب آئے تو علماء حرف غلط کی طرح ان کو مٹادیں۔
اصل مسئلہ یہ تھا کہ جس حنفی مسلک میں حرمت مصاہرت کا مسئلہ بہت واضح تھا لیکن امام ابویوسف نے معاوضہ لے کر جب بادشاہ کو فتویٰ دیا کہ اپنے باپ کی لونڈی سے جماع کرنے کی شریعت میںاجازت ہے تو اس کے خلاف امام ابوحنیفہ کے دوسرے شاگرد حضرت عبداللہ بن مبارک نے آواز بلند کی جو ایک بڑے فقیہ، محدث ، مجاہد اور صوفی تھے۔ درباریوں نے عبداللہ بن مبارک کی مقبولیت سے گھبرا کر فقہ کے نصابِ تعلیم سے اس کا نام خارج کردیا۔ آمریت کے دور میں بہت اہل حق کا خون ہوا ہے۔
امام ابویوسف کی تاریخ دہرائی گئی۔ حرمت مصاہرت میں انتہائی غلو اور باپ کی لونڈی کوبیٹے کیلئے جائز قرار دیاگیا۔ دارالعلوم کراچی نے شادی بیاہ کے موقع پر لفافوں کی لین دین کو بھی سود اور70سے زیادہ گناہوں، وعیدوں اور وبالوں میں سب سے کم درجے کاگناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کو قرار دیا تھا۔ دوسری طرف پھر عالمی سودی بینکاری کا اسلام کے نام پر جواز پیش کردیا ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان نے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کیوں فائدہ نہیں اٹھایا؟، اب بھی تقدیر بدل سکتی ہے

پاکستان نے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کیوں فائدہ نہیں اٹھایا؟، اب بھی تقدیر بدل سکتی ہے

سعودی عرب کے پاس تیل کی دولت تھی اور اس کی وجہ سے وہ ہمیں زکوٰة ، خیرات دیتے تھے لیکن اگر ہم ایران سے تیل خریدتے تو جونقصان سودکی مد میں ہم نے اٹھالیا،وہ بہت زیادہ ہے

ہمارے پاس پانی کے بہاؤ کی دولت موجود تھی، جس سے بڑے پیمانے پر بجلی بناسکتے تھے اور اس سے پانی کی دولت میں کمی نہیں بلکہ اتنا اضافہ ہوتا کہ پورے پاکستان کی بنجر زمین آباد ہوتی

جن فوجی جرنیلوں ، سول بیوروکریٹ ،عدلیہ ججوں اور سیاستدانوں کے خاندان اور ان کی دولت ملک سے باہر ہے ،ان کو فوری طور پر ہٹایا جائے اورپینشن ختم کی جائے تو انقلاب آجائیگا!

پاکستان کے پاس پانی کے بہاؤ کی دولت تھی جس سے بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرکے پوری دنیا میں اس ملک کو بہت طاقتور ملک بنایا جاسکتا تھا۔ تیل وگیس اور سونے چاندی کے ذخائر ختم ہوسکتے ہیں لیکن پانی سے بجلی بنانے کی ترتیب وہ دولت ہے جس سے ایک قطرہ پانی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ ذخائر سے سمندر میں فالتو پانی گرنے سے بچتا ہے۔ زمین جب زرخیز بنتی ہے تو بارش زیادہ برستی ہے اور جب پانی زیادہ برستا ہے تو سمندر میں گرانے کی گنجائش بھی بڑے پیمانے پر پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم پانی سے بڑے پیمانے پر بجلی بناتے تو آج دریائے سندھ کا پانی سمندر میں ایسا گرتا کہ سورۂ رحمان کا وہ منظر دکھائی دیتا کہ
مرج البحرین یلتقےٰنoبینھما برزخ لا یبغےٰنoفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنOیخرج منھما اللؤ لؤ والمرجانOفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنOولہ الجوار المنشئٰت فی البحر کالاعلامOفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنOکل من علیھا فانOویبقٰی وجہ ذوالجلٰل و الاکرامOفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنO
ترجمہ :” اسی نے دو دریا رواں کئے ہیں جو آپس میں ملتے ہیں۔ دونوں میں آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرتے۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟۔دونوں دریاؤں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟۔اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑ کی طرح کھڑے ہیں۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟۔ اور ان میں سے ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور تمہارے رب کی وجاہت باقی رہے گی جو عظمت و جلال کا مالک ہے۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟”۔
مسلمان آنکھ کے نہیں دل کے اندھے بن چکے ہیں۔ سورۂ رحمان میں ان تمام نعمتوں کا ذکر ہے جس کا تعلق جنت سے نہیں بلکہ دنیا سے ہے اور فنا ہونے والی ہیں۔ صحابہ کرام کے دور میں سمندر کے اندر پہاڑ جیسے بحری جہازوں کا تصور بھی نہیں تھا۔ حجاز مقدس کو اللہ نے دو ایسے دریاؤں سے نہیں نوازا ہے جیسے برصغیر پاک وہند میں گنگا وجمنا اور پنجاب کے پانچ دریا ہیں۔ اگر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا تو کراچی میں لیاری اور ملیر ندی خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ قرآن کی ان آیات کا منظر پیش کریںگی۔ اب تو کراچی کے ڈیفنس میں دو دریا کے نام سے بہت زبردست رات کے ہوٹل آباد ہیں لیکن لوگوں میں غربت کی وجہ سے وہاں کھانے کا رحجان کم ہوتا جارہاہے۔ جب یہ ملک ترقی کرے گا تو یہی دو دریا سورۂ رحمان کا منظر پیش کررہاہوگا۔ سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز کھڑے نظر آئیںگے۔ لیاری اور ملیر ندی نہ صرف دو دریا کا منظر پیش کررہی ہوں گی بلکہ اس میں ہیرے اور مرجان بھی ملیںگے۔ البتہ یہ سب کچھ فانی ہوگا۔ نوازشریف اور بھٹو کے خاندان نے پنجاب اور سندھ پر ہمیشہ قیامت تک کیلئے اپنے اقتدار کا غلط خواب دیکھا ہے ، ہمیشہ قائم رہنے والی ایک ذات خدا کی ہے۔ کراچی کے مہاجروں نے اسلام کی خاطر پاکستان ہجرت کی تھی اور خواب کی تعبیرملے گی۔
ڈاکٹر تیمور رحمن کے سوشل میڈیا پر بیان کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔ پاکستان کی ریاست کو کمزور کرنے کیلئے بینظیر بھٹو کو تیل سے بجلی بنانے کا منصوبہ دیاگیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام پاکستان کو دیا اور سندھ کیلئے کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ختم کرنے کو مفید سمجھ لیا لیکن اس سے پاکستان کی معیشت بیٹھ گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پرائیویٹ ملوں اور فیکٹریوں کو بھی سرکاری تحویل میں لیا تھا اور بینظیر بھٹو نے سرکاری املاک کو بھی پرائیوٹ کردیا۔ باپ بیٹی میں تضاد کیوں تھا؟۔ نیم ملا خطرہ ایمان نیم حکیم خطرہ جان کی طرح اسلامی سوشلزم بھی کسی کام کا نہیں تھا بلکہ زیادہ خطرناک تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھا تو پہلی مرتبہ بلوچ وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کے بیٹے کو ایک ساتھی سمیت اغواء کرکے شہید کیا گیاتھا۔ بلوچ رہنماخیربخش مری سے وسعت اللہ خان نے انٹرویو لیا تھا اور خیربخش مری نے ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کا جن الفاظ میں تذکرہ کیا ہے وہ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ پھر یہ پالیسی نوازشریف اور عمران خان تک جاری وساری رہی ہے جس سے ہمارے اداروں کی ساکھ بھی خراب ہوئی اور قوم بھی تباہ وبرباد ہوگئی۔ پرویزمشرف کیساتھ کون کون کھڑے تھے اس کو اس وقت کے گروپ فوٹوز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جب ولی خان کو صدارت کی پیشکش کی گئی تو اس نے کہا تھا کہ ” یہ ایسی کرسی ہے کہ جو بھی اس پر بیٹھا اس کی شلوار ادھر ہی رہ جاتی ہے۔ آخری عمرمیں اپنی عزت نہیں کھونا چاہتا ہوں”۔
سلیم صافی نے جناح سینٹر اسلام آباد میں غفار خان اور ولی خان کی یادگار کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر پر اپنا تجزیہ دیا تھا کہ ” جب مفتی محمود وزیر اعلیٰ بنادئیے گئے تو اب پختونخواہ کی گورنری بھی میاں افتخارحسین سے چھین کر حاجی غلام علی کو دیدی گئی”۔ سلیم صافی کا بنیادی تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور یہ لوگ مولانا مودودی کے بعد حاجی میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن اور سراج الحق تک کبھی کسی عالم دین کو جماعت اسلامی کا امیر بنانا بھی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ مولانا مودودی بھی پہلے داڑھی منڈا تھا۔ دارالعلوم دیوبندماہنامہ کے ایڈیٹر نے علماء کو دیکھا کہ اسلام جیسے دین کو نکاح ، طلاق، حلالہ ، میت کو غسل دینے اورسودی کاروبار کیلئے حیلے تراشنے تک محدود کررکھا ہے ۔ اسلئے ایک اپنی جماعت بناڈالی اور بڑی چوٹی کے علماء بھی ساتھ میں رکھے جنہوں نے بعد میں اختلاف کے باعث علیحدگی اختیار کرلی اور اس میں علماء ہی نہیں باقی دانشور بھی ان سے جدا ہوگئے۔ جماعت اسلامی نے اسلام کی خاطر اقتدار تو حاصل نہیں کیا مگر ڈکٹیٹر کی صلیب پر لٹک گئی۔ جنرل ضیاء کا ریفرینڈم ، اسلامی جمہوری اتحاد اور پھر ظالمو! قاضی آرہاہے!۔ تک اپنا سب کچھ کھو دیا ۔اب بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کا لبادہ اوڑھ کر ڈرامے کی آخری قسط ختم ہونے کے قریب لگ رہی ہے اور اس سے پہلے گرگٹ کی طرح بڑے رنگ بدلے ۔ کبھی یکم یوم مئی کے مقابلے میں ”یوم بدر” منانے کی کوشش کی اور پھر وہ وقت آیا کہ سراج الحق امیر جماعت اسلامی نے لال ٹوپی پہن کر یوم مئی مزدروں کے ساتھ منایا مگر حاصل کیا ہوا؟۔
زیادہ عرصہ کی بات نہیں کہPDMنے آرمی چیف ،DGISIاور فوج سے آزادی کا طبل بجایا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ اتنی بڑی تحریک کیلئے پھر نوازشریف کو بھی میدان میں آنا چاہیے۔ مریم نواز کو یہ بات اتنی بری لگی کہ اس پر پیپلزپارٹی کوPDMسے باہر پھینک دیا۔ حالانکہ اسی پیپلزپارٹی نے مریم نواز کی گستاخی کرنے پر فوج کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ جبPDMکا بیانیہ مہنگائی ، فوج کی مداخلت اور نئے الیکشن کا تھا تو وہ موقع بھی ان کے ہاتھ میں آگیا۔ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن سب نے مل کر دی تھی اور عمران خان اتناکہتا تھا کہ ہم ایک پیج پر ہیں کہDGISPRجنرل آصف غفور کو اس وقت وضاحت کرنا پڑی جب نوازشریف اڈیالہ جیل میں تھے اور مولانا فضل الرحمن نے دھرنا دیا تھا کہ” فوج ہر اس سیاسی جماعت کیساتھ ہے جو جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئے”۔ تاکہ فوج پر ایک پیج کا دھبہ ختم ہوجائے لیکن پھر سوشل میڈیا کی زرخرید ٹیموں نے معاملات میں مزید غلط فہمیاں پیداکرنے میں کردار ادا کیا اور جب عمران خان کے پاؤں سے آصف زرداری نے زمین نکالی تو اس کو اپنے بندوق کے نشانے پر رکھنے کا اعلان کیا۔ پھر امریکہ مخالف بیانیہ اور اسٹبیلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنایا۔PDMپھر اپنی تینوں منزلوں کی مہم جوئی سے پیچھے ہٹ گئی اور آئین اور انتخابات سے بھی بھاگ رہی ہے۔ ضمنی الیکشن میں شکست کھائی تو آئندہ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے بھی انکار کیا اور جب گئی تو شکست ہوئی ۔
سیاسی جماعتوں کے قائدین، رہنما اور کارکن قوم کا عظیم سرمایہ ہیں لیکن وہ اپنی غلطیوں کو سمجھ کر اعلانیہ توبہ کریں۔ اگر زرداری معصوم تھا تو شہباز شریف اپنی الزام تراشیوں پر مرغا بن جائے اور اگر نوازشریف پر پیپلزپارٹی نے ایون فیلڈ کے غلط کیس بنانے تھے تو مریم نواز خالی اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ قوم میں بڑا غصہ ہے۔ عمران خان کی مقبولیت نہیںPDMاور جماعت اسلامی سے نفرت کا نتیجہ ہے کہ لوگPTIکو سپورٹ کررہے ہیں۔ عمران خان اس سے پہلے زیادہ بڑی بڑھکیاں مارتا تھا لیکن کچھ نہیں کرسکا۔ اب کونساتیر مارے گا سب کو پتہ ہے لیکنPDMکے قائدین کی شکلوں سے لوگوں کو نفرت ہوگئی ہے۔
ہم نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان بہت مجبوری میں کیا ہے۔ منشور ایسا ہونا چاہیے کہ اقتدار کے بغیر بھی مسئلے حل ہوں۔ نبی کریم ۖ نے اقتدار کے بغیر بھی اسلام کے مسائل حل کردئیے تھے اور اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کو طویل اقتدار مل گیا۔ حجاز مقدس میںاسلام سے پہلے جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا ، حضرت عمر فاروق اعظم اپنے کردار کی بدولت خلیفہ بن گئے۔ ورنہ پہلے اونٹ چرانے پر بھی مار پڑتی تھی۔ پھر اسلامی منشور کی وجہ سے ان کے سامنے مشرق ومغرب کی سپر طاقتوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ بیت المقدس کی چابی حوالے کی گئی تھی۔
ہم نے جنت جیسے پاکستان، ایران اور افغانستان کو اپنی عوام کیلئے جہنم بنادیا ہے۔ حجاز میں مکہ سے مدینہ تک پانی کا نالہ بھی نہیں تھا لیکن حجازی دنیا میں سب طرف بہترین ممالک کو فتح کرکے جنت کے مالک بن گئے تھے۔خاندانی یزید کے اقتدار کی ہوس یزید کے بیٹے معاویہ میں بھی نہیں تھی اور حضرت معاویہ کے بھائی یزید نے بھی اسلام کی خاطر زبردست کردار ادا کیا۔ دنیائے اسلام اب دونوں یزید اور معاویہ سے بے خبر ہیں جن کو اہل تشیع بھی مان سکتے ہیں۔
بنوا میہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز جیسا ہیرہ بھی نکل آیا تھا جو بنی مروان سے تعلق رکھتا تھا۔ یزیدی لشکر کے سپاہ سالار حضرت حر علیہ السلام کا کرداربہت زبردست تھا۔ سیاسی جماعتوں میں اچھے اچھے قائدین اور رہنماؤں کے کردار کو اپنی قوم کا بہت بڑا اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ سب مل جل کر پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالیں۔ آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر اپنے ادارے اور سیاسی جماعتوں کو معروف پر جمع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین یہ احسان نہ سمجھیں کہ آرمی چیف انہوں نے بنائے اور وہ نمک حرام نکلے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ آرمی چیف کے عہدے تک پہنچنے کیلئے ایک طویل محنت ہوتی ہے ۔ کوئی نامزد کرکے پاتال سے آسمان تک نہیں پہنچاتا ہے بلکہ جس جس میں ایک طرح کی اہلیت ہوتی ہے ان میں سے ایک کو نامزد کرنا پڑتا ہے۔چوہدری نثار اور پھر شاہد خاقان عباسی سے بھی برداشت نہیں ہوا کہ مریم نوازکے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں لیکن آرمی چیف کو سیلیوٹ کرنا پڑتا ہے اسلئے کہ اسکی ساری زندگی اسی ڈسپلن میں گزری ہوتی ہے۔ ظفراللہ جمالی کو ایک ووٹ کی برتری پر مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں وزیراعظم بنایا گیا۔ جمعیت علماء اسلام کی اپنی ذیلی جماعت سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق نے اپنا اکلوتا ووٹ ظفراللہ جمالی کو دیا تھا اور عمران خان نے اپنا اکلوتا ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا۔ پھر دشمنی کی کیا اوقات ہے؟۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے اتحادی جمعیت علماء اسلام س کی بجائے ٹانک کے دفتر مرکزی مسجد جامع مسجد سفید (سپین جماعت) مولانا فتح خان کو تحریک انصاف کے ایوب خان بیٹنی کیلئے وقف کیا تھا۔ جو مولانا شیخ محمد شفیع ضلعی امیرجمعیت علماء اسلام س امیدوار برائےMPAکا الیکشن لڑرہے تھے۔ جب جنرل ظہیرالاسلام عباسی نے ہمارے سامنے ایوب بیٹنی سے کہا تھا کہ یہودی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تو ہم نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا مرکز سپین جماعت (سفید جامع مسجد) اس کا دفتر تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے پشاور اورچارسدہ میں غلام احمد بلور اور اپنے مولانا قاسم کو ہارتے دیکھا ہے اسلئے وہ خود اسمبلی میں جانے کیلئے بھی الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔ حالانکہ اب تو کوئی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بھی نہیں ہے۔ ہم مولانا فضل الرحمن کو مشورہ دیتے ہیں کہ جن ایشوز کو ہم نے اٹھایا ہے وہ ان کو اپنے منشور میں داخل کردیں اور حلالہ کی لعنت سے اپنے لوگوں کی جان چھڑائیں تو اپنا کھویا ہوا وقار واپس مل سکتا ہے۔ ہندوستان میں پرسنل لاء کے اندر مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا اسلئے ہے کہ علماء نے قرآن وسنت کے درست احکام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور مولانا اس میں اپنا زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں جس سے افغان طالبان کو بھی دنیا تسلیم کرے گی اور پاکستان میں بھی اسلام کے مخالف ہمارے ساتھ کھڑے ہونگے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حکومت کو مزدور کی فکر نہیں ، یہ بین الاقوامی سرمایہ سے جڑی ہے!

حکومت کو مزدور کی فکر نہیں ، یہ بین الاقوامی سرمایہ سے جڑی ہے!

ڈاکٹر تیمور رحمان کا ٹریڈ یونین سے خطاب :دوستو! پاکستان میں اس وقت40فیصد مہنگائی ہے۔IMFسے قرضہ لے کرڈالر، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے سے تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔40فیصد مہنگائی کا مطلب ہے کہ مہینے میں جو30ہزار روپے کمارہا ہے اس کی40فیصد آمدنی ختم ہوگی۔ نتیجے میں لوگ غربت کی سطح سے بھی نیچے گریں گے۔22مرتبہ حکومتIMFکے پاس گئی۔1950سے اب تک چند ادوار کے علاوہ معاشی پالیسیIMFکے اپروول کے بعد بنی ۔ تین بڑے پہلو ہیں۔پہلی لبرالائزیشن یعنی ٹریڈ بیرئرز ختم کئے جائیں جس کا مطلب ہے کہ درآمدات اور برآمدات پر ڈیوٹی ختم کی جائے (جس سے حکومت وریاست کی طاقت ختم ہوگی)۔ دوسری ڈی لبرالائزیشن یعنی کمرشل بینکنگ پر تمام کنٹرول ختم کردیا جائے ( یہ بھی حکومت وریاست کی قوت کا خاتمہ ہے)اور تیسری سب سے اہم نجکاری کی پالیسی ہے۔ (اس سے بھی حکومت وریاست کی قوت کا خاتمہ ہوگا)1990کی دہائی سے یہ سبق سکھایا جارہا تھا کہ حکومتی ادارہ میں مزدور کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے خسارہ ہوتا ہے اسلئے نجکاری کی جائے۔1990میں حکومت کے پاس250سے زائد صنعتی اور کمرشل ادارے منڈی میں بیچے جانے والی چیزیں تھیں۔172اداروں کی نجکاری کی گئی اور کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا خسارہ پورا نہیں ہورہا۔ اب85حکومتی انڈسٹریاں بچ گئی ہیں۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ دو تہائی انڈسٹریاں منافع کماتی ہیں اور باقی بچتی ہیں ان میں90فیصد جو خسارہ حکومت کو ہورہا ہے وہ صرف10مختلف انٹرپرائزز سے ہورہا ہے۔ ان10میں سے5ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہیں جیسے الیکٹرک سپلائی کی کمپنی ہے۔ باقی5میں ایک نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہے۔ کمرشل اور ریگولیٹری ادارہ ہونے کی وجہ سے اس کی نجکاری نہیں ہوسکتی ۔ زرعی ترقیاتی بینک منافع کی طرف جارہا ہے، اس کی نجکاری بیوقوفی ہوگی۔ اسکے علاوہ پاکستان اسٹیل، ریلوے اورPIA۔ یہ نجکاری کی زد میں ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ادارے جن میں ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہیں جس میں کوئٹہ، پشاور، سرگودھا کے بجلی فراہم کرنے کے ادارے ہیں جو یا تو واپڈا یا پھرIPPسے بجلی خریدتے ہیں۔1994سے پہلے صرف واپڈا بجلی سپلائی کرتی تھی۔ پھر یہ بجلی بڑھانے کیلئے آزاد پاور پالیسی لیکر آئے جس کے تحتIPP(انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسر) نے کہا کہ ہم پلانٹ لگائیں گے مگر جو فیول خریدیں گے وہ آپ مقررہ ریٹ پر خرید کر دیں گے اور جو بجلی آپ لیں گے وہ بھی مقررہ ریٹ پر ہوگی اور یہ دونوں ریٹ ڈالر کیساتھ منسلک ہیں۔ تو یہ خسارہ1994کیIPPپالیسی کی وجہ سے پیدا ہورہا ہے اور یہ بڑا پیسہ کمارہے ہیں ۔ جب یہ پلانٹ آپریشنل کردیں اور حکومت بجلی نہ خریدے تب بھی حکومت کو پیسے دینے پڑتے ہیںاور اس کا حکومت نے حل یہ نکالا ہے کہ جس طرح الیکٹرک کی نجکاری کی اسی طرح ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کردی جائے، واپڈا کی نجکاری کردی جائے۔ نتیجے میں بجلی اور مہنگی ہو گی۔85فیصد بجلی واپڈا نہیں آئی پی پیز بنارہے ہیں۔ پہلے زیادہ تر مال ریلویز لیکر جاتے پھر سڑکوں پر ٹرک چلائے تاکہ ریلوے کی یونین کمزور ہو۔ واپڈا کو کمزور کرنے کیلئے آئی پی پیز بنائے تاکہ بشیر بختیاراور خورشید احمد کی جدوجہد کو کمزور کردیا جائے یہ دو سب سے بڑی یونین ہیں پاکستان کے جن کے ارد گر د ساری یونین اکھٹے رہی ہیںایک ریلوے کی ایک واپڈہ کی۔ اگر یہ دونوں اکھٹے ہوتے تو پورا پاکستان جام کردیتے ان کو توڑنے کیلئے یہ پالیسی بنائی۔ نتیجے میں ملک تباہ و برباد ہوگیا۔ یونین کو تباہ و برباد کرنے کیلئے معیشت تباہ و بربادکردی اور بجلی اب اتنی مہنگی ہونے جارہی ہے کہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن جو کہ مالکوں کی ایسوسی ایشن ہے وہ روزانہ اخبار میں اپنی ملیں بند کرنے کا اشتہار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اپنا سرمایہ دارانہ نظام خود تباہ کیا۔ حل یہ ہے کہ واپڈا کی نجکاری ہم بالکل بھی نہیں ہونے دیں ورنہ بجلی اور مہنگی ہوگی اور تمام چیزیں مہنگی ہوں گی۔ ریلوے اورPIAپر انوسٹمنٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پسنجر کا مسئلہ نہیں، مال آگے پیچھے ریلوے پر جائیگا تو ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کم ہوگی۔ ریلوے اور ٹرکوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ریلوے وہی چیز آدھی قیمت پر پہنچاتی ہے جو ٹرک ڈبل پر پہنچاتے ہیں۔ ٹرک کی اپنی قیمت کو چھوڑ کر انفرااسٹرکچر پر جو خرچہ ہوتا ہے وہ علیحدہ ہے۔ چین اپنی ریلوے کی بنیاد پرہی ترقی کررہا ہے۔ ریلوے ، واپڈا ،PIA، زرعی ترقیاتی بینک میں انوسٹمنٹ کریں ، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ٹھیک کریں۔بہترین مینجمنٹ لیکر آئیں، مزدوروں کا کوئی قصور نہیں دن رات ایک کرتے ہیں کھمبوں پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کرتے ہیں اور انہی بیچاروں کو سیفٹی اکوپمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے کرنٹ لگ جاتا ہے۔ ریلوے میں لوگ کس طرح کام کرتے ہیں کیا کیا حادثات نہیں ہوتے، اس حکومت کو نہ صرف مزدوروں کی بلکہ اپنی معیشت اور ملک کی کوئی پرواہ نہیں۔ کیونکہ ان کے سارے تانے بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں آپ کے ساتھ ان کا تعلق کمزور اور بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہے۔ کون بچاسکتا ہے اس پاکستان کو (نعرہ مزدور پاکستان)، یہ جو اس کمرے میں ٹریڈ یونین کی قیادت ہے بشمول میری پارٹی بشمول بائیں بازو کی پارٹی کے ہل نہیں سکتی جب تک کہ ٹریڈ یونین اور مزدور طبقہ نہ ساتھ ہو۔ کیونکہ یہ ایک اور طبقے کی، ایک اور نکتہ نظر ایک اور سیاست ، ایک اور ثقافت ، ایک اور سماج اور ایک نئے سویرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ کل ، مستقبل اور اس سماج کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ مساوات قائم کرسکے۔ قدم بڑھائیں، اتحاد بڑھائیں، آپ کی ضرورت ہے میدان عمل میں۔
فرمایا” خدا کی قسم مجھے تمہارے فقروافلاس کا اندیشہ نہیں لیکن یہ خطرہ ضرورہے کہ مال ودولت کی فراوانی تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسے تم سے پہلے لوگوں میں ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس میں تم بھی منہمک ہوجاؤگے، جیسے وہ ہوئے وہ تمہیں بھی تباہ وبرباد کرے گی جیسے وہ تباہ وبرباد ہوگئے۔ (بخاری،کتاب الجہاد)مال کی فراوانی بہت سی گمراہیوں کی جڑ ہے لیکن اسلام نے مال حلال کو اللہ تعالیٰ کا فضل بتایا، صحیح ذرائع سے حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ عین حج بیت اللہ کے موقع پر بھی تجارت پر پابندی نہیں لگائی کیونکہ سعی وکسب کے بغیر کوئی مسلمان زندہ ہی نہیں رہ سکتا ، لیکن اسلام اور قرآن کی رو سے جو شخص جتنا زیادہ کمائے گا ، اتنا ہی زیادہ انفاق پر بھی مأمور ہوگا،اسلئے افراد کی کمائی جتنی بڑھتی جائے گی ، اتنی ہی زیادہ جماعت کی اجتماعی خوشحالی ہوتی جائے گی۔ بہرحال اسلامی قانون سے جتنا زیادہ مالدار ہوگا ،اتنے اس پر زیادہ حقوق ہوں گے، اتنی ہی اس کی مشغولیت بڑھ جائے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv