پوسٹ تلاش کریں

جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک اسلام کا درست پیغام دیں

جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک اسلام کا درست پیغام دیں

ہماری پاک فوج نے افغانستان کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور افغان سفیر کو ننگا کرکے امریکہ کے حوالے کیا تو کیایہ فلسطین کیلئے امریکہ اوراسرائیل کے خلاف لڑسکتی ہے؟

جماعت اسلامی نے زندگی کشمیر اور روس کیخلاف سببیلنا سببیلنا الجہاد الجہاد کرتے گزاری مگر جب امریکہ یہاںآیا تو مولانا فضل الرحمن کی ٹانگوں میں اپنا سر دیدیا تھا

پاکستان میں بریلوی، دیوبندی اور جماعت اسلامی ووٹ مانگنے سے پہلے اسلام کا درست پیغام سادہ لوح عوام تک پہنچائیں۔ یہاں ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ایک دوسرے کی مساجد کو فتح کرنے میں لگتے ہیں تو پھر تم مسجد اقصیٰ کو یہود سے فتح کروگے؟۔شیعہ اکثریت کو القدس سے زیادہ حرمین کے مقبوضہ ہونے کا غم ہے۔ علامہ سید جواد نقوی کے ہاں دیوبندی، بریلوی ، اہلحدیث اور جماعت اسلامی والے سب جاتے ہیں ۔ مسجد اقصیٰ سے زندہ دلانِ لاہور میں علامہ جواد نقوی کی مسجد العتیق اور جامعہ عروة الوثقیٰ زیادہ محصور ہے اور وہ واحد اتحاد کا داعی بھی شیعہ کے ہاتھوں کہیں قربانی کا بکرا نہ بن جائے۔
جمعیت علماء اسلام ، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی کا تعلق سنی حنفی مسلک سے ہے۔ اہل حدیث اور اہل تشیع اقلیت میں ہیں۔ اہل تشیع کی اکثریت عقیدۂ امامت کی وجہ سے ایران کی شیعہ جمہوری حکومت کو بھی ناجائز سمجھ رہی ہے اسلئے کہ ان کے نزدیک اقتدار کا حق صرف بارہ اماموں کا ہے۔ان کے نزدیک خلیفہ اول حضرت ابوبکر، خلیفہ دوم حضرت عمر اور خلیفہ سوم حضرت عثمان کی حکومت بھی ناجائز تھی۔ امیر معاویہ سے لیکر بنوامیہ، بنوعباس، خلافت عثمانیہ، مغلیہ سلطنت ، فاطمی خلافت سب حکمرانوں نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا ۔ شاہ ایران کے بعد ایرانی انقلاب نے دنیا میں شیعہ اقتدار کا خواب دیکھامگرعراق، سعودی عرب، عرب امارات ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے علماء نے ان کا راستہ روکا۔ فرانس اور عالمی قوتوں کو شیعہ سنی تنازع کا پتہ تھا اسلئے ایرانی انقلاب کیلئے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔ امام خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ اور انعام رکھا تو دنیا بھر میں شدت پسندی کو مزید تقویت مل گئی۔ اس شمارے میں ہم بتائیں گے کہ شیطانی آیات کیا ہیں ؟۔ اور مسلمانوں کو حقائق سے آگاہ کرنے کی کیوں ضرورت ہے؟۔ یہود کا مذہبی طبقہ بھی اسرائیل کو شیطانی حکومت سمجھتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک بھی شیعہ کی طرح ان کی نجات دہندہ شخصیت سے پہلے یہود کیلئے اقتدار کا قیام ناجائز ہے۔اہل تشیع نے اپنے ائمہ کا قول لکھا ہے کہ قیام قائم سے پہلے ہمارے اہل بیت میں سے جو خروج کرے گا تو وہ طائر کا بچہ ہوگا جو غیر وں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہوگا۔ یہ روایت امام خمینی پر فٹ بیٹھتی ہے۔
شیطانی قوتیں دنیا کو ایسی جنگ میں دھکیل رہی ہیں کہ مہدی و دجال سے پہلے بڑے پیمانے پر شدت پسند مسلمان موت کے گھاٹ اتاردئیے جائیں۔ داعش اور تحریک طالبان پاکستان کو اگر واقعی شہید بنناہے تو ایران سے لبنان اور پھر اسرائیل وفلسطین پہنچیں۔ یہود عیسائی کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے مسلمان قادیانیوں کو سمجھتے ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر اسلئے کہ عیسائیوں نے یہود پر تاریخی مظالم بھی ڈھائے ہیںاور عیسائی یہود کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے قادیانی مسلمانوں کو سمجھتے ہیں۔
یہود ونصاریٰ سمجھتے ہیںکہ اگر خلافت قائم ہوئی تو ان کی خواتین کو لونڈی بنایا جائیگا۔ جوانوں میں گوری لڑکیوں کا جذبہ حوروں سے زیادہ ہے۔ اقبال نے شکوہ میں کہا کہ ”کافر کیلئے دنیا میں حور و قصور اور مسلما ن کیلئے فقط وعدہ حور؟”۔ حماس اسرائیل کو پہنچے گا یا نہیں؟ ۔مگر ایران و افغانستان کے بعدپاکستان و سعودی عرب میں مذہبی شدت پسند اقتدارتک پہنچ سکتے ہیں۔ اگرہم اسلام کا واضح پیغام سمجھنے ، عمل کرنے اور پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تو ابلیسی منصوبے کا خاتمہ ہوجائیگا ۔

****************
نوٹ: اس آرٹیکل کی مکمل تفصیل جاننے کیلئے اس کے ساتھ متصل آرٹیکل ”یہود اورنصاریٰ کو مسجد اقصیٰ سے دلچسپی نہیں بلکہ پروگرام مسلمانوںکا خاتمہ ہے؟ ” ضرور پڑھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہود اورنصاریٰ کو مسجد اقصیٰ سے دلچسپی نہیں بلکہ پروگرام مسلمانوںکا خاتمہ ہے؟

یہود اورنصاریٰ کو مسجد اقصیٰ سے دلچسپی نہیں بلکہ پروگرام مسلمانوںکا خاتمہ ہے؟

ہماری پاک فوج نے افغانستان کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور افغان سفیر کو ننگا کرکے امریکہ کے حوالے کیا تو کیایہ فلسطین کیلئے امریکہ اوراسرائیل کے خلاف لڑسکتی ہے؟

جماعت اسلامی نے زندگی کشمیر اور روس کیخلاف سببیلنا سببیلنا الجہاد الجہاد کرتے گزاری مگر جب امریکہ یہاںآیا تو مولانا فضل الرحمن کی ٹانگوں میں اپنا سر دیدیا تھا

مسلمان یہ ذہن نشین اور دلنشیں کرلیں کہ یہوداورنصاریٰ کوبیت المقدس سے دلچسپی نہیں بلکہ ان کا مقصد اور پروگرام شدت پسند مسلمانوں کے وجودکا دنیا سے خاتمہ ہے۔9/11امریکی ٹاور میں ایک یہودی بھی نہیں مرا تھا مگر چند ہزار عیسائیوں کے بدلے افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا گیا۔ افغانستان میں فقط ڈھائی ہزار امریکی مرے اور چارلاکھ افغانی اور80ہزار پاکستانی شہید ہوگئے۔
عراق وشام میں شیعہ سنی فرقہ واریت اور شدت پسندی سے کتنے مسلمان مرگئے؟۔ داعش(دولت اسلامیہ عراق وشام) نے جب شیعہ اور ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیا تو اس جہاد میں شامل ہونے کیلئے دنیا بھر سے اور پنجاب سے بھی جواں اور خوبرو لڑکیوں نے خود کو مجاہدین کے نکاح بالجہاد کیلئے پیش کیا۔ شیعہ بھی بڑے پیمانے پر پاکستان اور ایران سے عراق وشام پہنچ گئے۔ مجاہدین ، دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں نے اسلام کے نام پر خواتین کو لونڈیاں بناکر ایکدوسرے کو فروخت کرنا شروع کیا جوBBCنے بھی رپورٹ کیا۔ یہود و نصاریٰ کے تھنک ٹینکوں نے دنیا کو یہ بتادیا کہ حوروں کی خواہش میں خود کش حملہ کرنے والوں کے ہاتھ میں اگر دنیا آگئی تو ان کی خوبرو لڑکیوں کو جنسی تسکین کیلئے استعمال کیا جائے گا اور عورتوں کو لونڈیاں بناکر گھریلو کام لیا جائے گا۔
کم عمربچیوں سے نکاح اور لونڈیوں سے انتفاع کو اسلام کا تقاضا اور نبیۖ کی سنت سمجھا جاتا ہے۔ غیرمسلم سمجھتے ہیں کہ اگر اسلامی خلافت دنیا میں قائم ہوگی تو یہودونصاریٰ اور دنیا بھر کی خوبصورت خواتین کو چھین کر لونڈیاں بنایا جائے گا۔ اگراسلام پسند مسلمانوں کو طاقت مل جائے تو یہ کام انہوں نے ضرور کرنا ہے۔
سادہ مسلمان یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ آخر کار مذہبی طبقوں سے مغرب ومشرق کی غیر مسلم طاقتوں کو یہ خوف کیوں ہے کہ ان لوگوںکو اقتدار میں نہیں آنا چاہیے؟۔ جمعیت علماء اسلام پنجاب کے نائب امیر مولانا حق نواز جھنگوی شہید کی جماعت سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق شہید اگر مولانا جھنگوی کی روح کو خوش کرنے کیلئے اسکے قائد کو اپنا ایک ووٹ دیتا تو مولانا فضل الرحمن وزیراعظم بن جاتے اور اگر بینظیر بھٹو گاڑی سے جذباتی ہوکر نہ نکلتی تو شہید ہونے سے بچ جاتی۔اگر نوازشریف بھٹو کی طرح جیل میں پھانسی پر چڑھ جاتا تو اس کی نسل کا نام چلتا۔ اگر عمران خان پاک فوج اور امریکہ کو مخالف نہ بناتا تو اقتدار میں آنے کا راستہ کھلا ہوتا۔ اگر داعش اور تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں ایک دوسرے سے لڑتے تو جنگجو ختم ہوجاتے۔حماس نے کتنا بڑا حملہ کیا ؟ اور اس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔ اسرائیل ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہے اور فلسطین اس کے حصار میں ہے۔ اگر افغان طالبان کو پاکستان سے لڑادیا گیا اور دنیا کی طاقتیں اس طرح سے پاکستان کے خلاف افغانستان میں اتریں جیسے پاکستان نے اپنے ہاں اتارا تھا تو کیا ہوگا؟۔ ہندوستان سندھ پر قبضے کی بات کرتا ہے اور سکھ خالصتان گریٹ پنجاب کی بات بھی کرسکتے ہیں۔ آزاد کشمیر پر چین قبضہ کرسکتا ہے۔ بلوچستان کی عوام بلوچ قوم پرستوں اور فوج کے درمیان پس رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں جو حال ہوا تھا ،اس سے زیادہ باقی ماندہ پاکستان کے بخرے ہوسکتے ہیں۔ ہماری فوج کے خلاف سیاستدانوں اور صحافیوں نے بھی مستقل محاذ کھول رکھاہے لیکن عالمی قوتیں اس خطے میں مذہبی شدت پسندوں کو کچلنے کے مشن پر گامزن ہیں۔

****************
نوٹ: اس آرٹیکل کی مکمل تفصیل جاننے کیلئے اس کے ساتھ متصل آرٹیکل ”جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک اسلام کا درست پیغام دیں ” ضرور پڑھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

موجودہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ عالمی طاقتوں کے زیر نگرانی اُمت مسلمہ کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ مولانامحمد خان شیرانی

موجودہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ عالمی طاقتوں کے زیر نگرانی اُمت مسلمہ کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ مولانامحمد خان شیرانی

کفر متفق ہے کہ دہشتگرد اسلام اور وحشی درندے مسلمان کو ختم نہ کیا جائے تو امن نہیں آسکتا

دنیا پر اصل حکمرانی پانچ ممالک امریکہ، روس، فرانس، چین اور برطانیہ کی ہے۔ جو دوسروں کو اپنے مفاد کیلئے جنگوں کے ماحول میں جھونکتے ہیں۔ جیسے علاقائی بدمعاش خود سامنے نہیں آتے دوسروں کو لڑاتے ہیں

نام ہوگا طالبان کا اور اسکی پشت پناہی روس اور چین کریں گے نام ہوگا داعش کا اور اس کی پشت پناہی امریکہ اور برطانیہ کریں گے۔ اس لڑائی میں مسلمان مریں گے اور نقصان صرف اور صرف اُمت مسلمہ کا ہوگا

شیعہ سنی ، عرب و عجم کو لڑایا جائیگا پھر گیس اور تیل کے ذخائر پر قبضہ ہوجائیگا۔ صد سالہ جمعیت علماء اسلام کے عظیم الشان جلسہ سے مولانا محمد خان شیرانی کا خطاب۔ سراج الحق امیر جماعت اسلامی وغیرہ موجود تھے

آج کی دنیا کو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آج کس قسم کی دنیا ہے؟۔ ہمارے ذہن پر جو سوار دنیا ہے وہ کچھ اور تھی۔ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں یہ کچھ اور دنیا ہے۔ ہمارے زہن میں جونقشہ دنیا کا ہے وہ نبی ۖ کے زمانے کا ہے اس زمانے میں بعض علاقوں میں منظم حکومتیں سرے سے نہیں ہوا کرتی تھیں۔ نواب ہوتے تھے یا سردار ہوتے تھے یا خان ہوتے تھے۔ اگر کہیں کوئی منظم حکومت ہوتی تھی تو صرف شہروں میں ہوتی تھی۔ جن لوگوں کو یونان کی تاریخ کا علم ہے ان کو پتہ ہے کہ آتن میں الگ حکومت تھی ، آسینیا میں الگ حکومت تھی اور ہر ایک شہر میں الگ الگ حکومتیں تھیں اور ہر حکومت اپنے طور پر آزاد اور خود مختار حکومت ہوا کرتی تھی۔ لہٰذا اس دنیا کو شہروں کی دنیا کا نام دیا جاتا تھا یعنی وہ دنیا جو مختلف شہروں کی آزاد اور خود مختار حکومتوں پر مشتمل ہے۔ آج کی دنیا وہ دنیا نہیں ہے۔ آج پوری دنیا ایک شہر ہے۔ اور آپ نے سنا ہے کہ گلوبل ولیج ہے۔ اور ایک شہر میں سارے چوہدری نہیں ہوتے سارے نواب اور خان بھی نہیں ہوتے سارے زمیندار بھی نہیں ہوتے ہیں۔ معدودِ چند لوگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا آج کی اس دنیا کے شہر میں حکومتی نظم کے وہی دو ادارے ہیں جیسا کہ پاکستان کے ہیں۔ پاکستان کا ایک ادارہ ہے قومی اسمبلی۔ اس ادارے میں مردم شماری کے حوالے سے افراد کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اور دوسرا ادارہ سینیٹ ہے۔ سینیٹ میں مختلف خطوں یعنی صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے اسی طرح بین الاقوامی دنیا کا جو شہر ہے اس کے بھی دو ادارے ہیں۔ ایک جنرل اسمبلی ہے جس میں تمام دنیا کے انتظامی یونٹوں کی نمائندگی ہے پاکستان افغانستان، ایران، ہندوستان، چین، روس وغیرہ۔ دوسرا ادارہ سلامتی کونسل ہے۔ سلامتی کونسل میں صرف پانچ ارکان ہیں جو مستقل ارکان ہیں۔ اور یہ پانچ ارکان دنیا بھر کے بحر و بر اور فضاء کے اپنے مملوک اور محکوم خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جنرل اسمبلی کوئی بھی فیصلہ صادر کرے کوئی بھی قرار داد پاس کرے اگر سلامتی کونسل کے پانچ ارکان میں سے کوئی ایک بھی اس قرار داد پر فیصلے کو اپنے محکوم اور مملوک خطے میں مداخلت سمجھتا ہے اور اس کو مسترد کردے تو جنرل اسمبلی کا فیصلہ فیصلہ نہیں ہوگا اور قرار داد، قرارداد نہیں ہوگی۔ لہٰذا آج کی دنیا ان پانچ ممالک کے درمیان تقسیم ہے اور ان پانچ کی مملوک اور محکوم ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس۔ اور ظاہر بات ہے کہ آپ حضرات نے سرداروں اور نوابوں کا تجربہ کیا ہوگا اگر کوئی ہو تو ناراض نہ ہوں۔ نواب اور سردار اپنا لا ؤلشکر کو لیکر ایک دوسرے پر چڑھائی نہیں کرتے ہیں اس زمانے میں ، اس کے گھر کے اندر لوگوں کو اٹھاتے ہیں تھپکی دیتے ہیں اور ان کیلئے گلے کا طوق بناتے ہیں تاکہ وہ مجبور ہوجائے اور فیصلے پر آجائے۔ لہٰذا آج کی اس دنیا میں جنگ نہ اسلام کے فائدے میں ہے اور اُمت مسلمہ کے فائدے میں ہے نہ عرب کے فائدے میں نہ عجم کے فائدے میں ہے، نہ پٹھان کے فائدے میں ہے نہ بلوچ کے فائدے میں ہے۔ اس دنیا میں جنگ ان پانچ ممالک میں سے کسی ایک کو فائدہ پہنچائیگی۔ لہٰذا وہ پشتو میں ایک کہاوت مشہور ہے ”تو ر تو پکہ مہ دہ خولہ سہ مہ دہ کونہ سہ”۔ لہٰذا بندوق سے جمعیت اسلام کا رکن اور جمعیت طلباء اسلام کا رکن مدارس کے طلبائ، علمائ، مفتی بچے رہا کریں۔ کبھی بھی جنگ کی نہ بات کریں نہ جنگ کے قریب جائیں۔ ایک نئی جنگ چھڑ جائے گی اس دنیا میں۔ اور دونوں طرف سے لبادہ پہنایا جائے گا مذہب کا۔ ایک طرف سے لبادہ مذہب کا! عنوان طالبان کا ہوگا۔ پشت پر روس اور چین ہوں گے۔ دوسری طرف سے لبادہ ہوگا مذہب کا! عنوان داعش کا ہوگا ! اور پیٹھ پیچھے امریکہ اور مغرب ہوگا۔ اور قتل عام مسلمانوں کا ہوگا۔ لہٰذا مغرب اور مشرق یعنی چین، روس، امریکہ ، برطانیہ اور فرانس الکفر ملت واحدة۔ اسلام اور امت مسلمہ کے بارے میں وہ ایک ہی رائے پر ہیں کہ اسلام دہشت گرد مذہب ہے اور مسلمان دہشتگرد وحشی درندے ہیں جب تک ان کا صفایہ نہ ہو دنیا میں امن نہیں آسکتا۔ پہلے شیعہ اور سنی کو لڑایا جائے گا اور جب اس لڑائی سے اپنے مفاد حاصل کریں گے پھر اس کے بعد شیعوں کو آپس میں لڑوایا جائے گا اور عجم اور عرب کے نام پر، تاکہ جو ہلالی پٹی ہے جہاں پر تیل اور گیس ہے وہاں پر ان کا قبضہ ہوجائے۔ پھر اس کے بعد سنیوں کو فرقوں کی بنیاد پر اور قوموں کی بنیاد پر لڑایا جائے گا اور یہ چوتھی عالمی جنگ ہے۔ نہ قوموں کی ہے نہ ملکوں کی ہے یہ دو تہذیبوں کی ہے ایک مذہب پرست خدا پرست اور دوسرا ہوا پرست جو مغرب ہے۔ لہٰذا تین باتوں کے بارے میں میں آپ حضرات کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ ہم اگر گذشتہ جرائم کے اعتراف کے بجائے آئندہ حالات کے بارے میں رہنمائی دیں کہ جنگ کے قریب نہ جاؤ، ہمارے اکابر کا جو آخری تجربہ ہے وہ یہی ہے، جو نبی ۖ کی ہدایات جو فتنے کے زمانے کیلئے وہ یہی ہے، جو آج کی دنیا کی حالت ہے وہ یہی تقاضہ کرتی ہے ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عسکری وسیاسی گٹھ جوڑ کیخلاف وکلاء آپ نکلو

عسکری وسیاسی گٹھ جوڑ کیخلاف وکلاء آپ نکلو

حسین شہید سہروردی، ولی خان، باچا اور بھٹو ہر عوامی لیڈر کو انہوں نے غدار قرار دیدیاہر جگہ انکا قبضہ ہے

عمران خان نے اسٹیٹس کو کی مخالفت کی تو اب اس کو غدار قرار دیا۔PDMسے جمہوریت بھی شرمندہ ہے

ایڈوکیٹ رابعہ باجوہ کا اسلام آباد وکلاء کنونشن سے خطاب
ہماری سپریم کورٹ بار ایسوس ایشن پاکستان کے عوامی وفاق کی علامت ہے یہ پاکستان کا عوامی وفاق ہے کہ جس نے پاکستان کے پورے وکلاء اور پاکستان کی عوام کو جوڑ رکھا ہے۔ محترم ساتھیو! اس وقت جب پورا نظام کیپچرڈ ہے۔ ملک کے اندر آئین اور قانون لاپتہ ہیں۔ جہاں عدالتیں غیر فعال ہیں۔ جہاں پر ہر طرف گمنام پہرے ہیں۔ آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ (وکلاء کے نعرے … زندہ ہیں وکلاء زندہ ہیں آئین کی خاطر زندہ ہیں ) ہم یہ سلسلہ کب سے دیکھ رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیر اعظم اور مایہ ناز سیاستدان کو ان جرنیلوں نے غدار کہا انہوں نے ہمارے … آج یہ عمران خان سابق وزیر اعظم پاکستان جس نے اسٹیٹس کو کو چیلنج کیا آج اس کو غدار کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے ولی خان، باچاخان ، بھٹو جو بھی عوامی امنگوں کا ترجمان تھا اس کو یہ غدار کہتے رہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ پاکستان کی فضاؤں کو دیکھ لیں، میں بہاولپور گئی وہاں پر ریگستانوں کو دیکھا، یہاں کی زمینوں کو دیکھ لیں، فضاؤں کو دیکھ لیں، بلوچستان کے پہاڑوں کو دیکھ لیں، کسی بھی ادارے کو دیکھ لیں، ہر جگہ توآپ کا قبضہ ہے۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور پاکستان کی عسکری اشرافیہ کے اس گٹھ جوڑ کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اس نظام کو عسکری نظام اور عسکری ریاست میں تبدیل کردیا جو پاکستان جمہوری ریاست تھی۔ کل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو کس نے اختیار دیا؟، آئین میں کونسا اختیار ہے کہ آپ کاروباری حضرات سے ملاقات کریں۔ آپ پاکستان کیلئے روڈ میپ دیں کہ ادھر سے فنڈز آرہے ہیں۔ آپ فائنانس منسٹر ، لاء منسٹر، فارن منسٹر بھی ہیں۔ آپ نے ہر ادارے سیاستدانوں میں اور بار کے غداروں کو بھی جنہوں نے وکلاء تحریک کو بیچا جو آج وکلاء کو تقسیم کررہے ہیں ان کو اکھٹا کیا۔ پھرPDMکی جماعتوں نے بہت قانون سازی کی کہ آج جمہوریت بھی شرمندہ ہے۔ آپ نے ان سب کو اکھٹا کرکے سیاسی عمل کو روک کر متوازی نظام ِ بے آئین قائم کیا ۔میں اپنے وکلاء برادری، غیور وکلاء ساتھیوں اور بہنوں کو بھی جن کا بہت کردار ہے پاکستان کی جمہوریت بچانے میں۔ درخواست کروں گی کہ اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو تلاش کریں کبھی ان پر اعتماد نہ کرنا۔ یہ یاد رکھنا ہے ، پلیز میری درخواست ہے کہ پاکستان کا صرف ایک ادارہ بچا ہے جو مزاحمت کرسکتا ہے صرف ایک ادارہ ہے جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو چیلنج کرسکتا ہے وہ لوگ آپ ہیں۔ آپ لوگ کبھی ان بدکردار ان کالی بھیڑوں کو نہ بھولئے گا کہ جنہوں نے آپ کے مفادات کا ہمیشہ سودا کیا۔ جو حکمرانوں کیساتھ ملتے ہیں۔ جو فوجیوں کے گرد نوکری کرتے ہیں۔ آپ لوگوں نے ان کو پہچان کر اور ،، دیکھئے ہمیں فخر ہے کہ ہمارے قائد عابد زبیری صاحب جو فخرہیں پاکستان کی عوام کا کہ جن پر نہ صرف وکلاء کمیونٹی بلکہ پورا پاکستان اعتماد کرتا ہے۔ اس ریاست نے جو جبر کیا9مئی کے مشکوک واقعہ کو بنیاد بناکر مجھے یہ بتائیے کہ ہمارا ایک کلچر ہے خواتین کی رسپیکٹ کا انہوں نے اس کو پامال کیا۔ جس طرح9مئی کے واقعے نے آپ کا پورا جوڈیشنل سسٹم ایکسپوز کردیا۔ یہ جو بزدل ججز بیٹھے ہیں ان میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ ان فیصلوں کو کردیں کہ ان بیلز کا فیصلہ کردیں۔ آخر میں صرف یہی گزارش کروں گی کہ اگر ریاست نے عوام سے بغاوت کی ہے تو اس جبر کے خلاف بغاوت ہم پر بھی لازم ہے۔ میں اب گزارش کروں گی اپنے اس ہاؤس سے ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے کہ اب آپ لوگ باہر نکلنے کیلئے لائحہ عمل دیں۔ میں آپ سے گزارش کروں گی کہ ہر جمعرات کا دن جس میں ہم نے (قریب سے آواز آئی ”دیکھیں سیاسی نہیں”) اچھا سیاسی نہیں ہم لوگ تو سارے ہی جمہوریت کی بات کرتے ہیں ہماری جنگ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہو بار کا رول ہمیشہ اپوزیشن کا رول رہا ہے اور میں یہی توقع کرتی ہوں کہ پوری پاکستان کی عوام آپ کے منتظر ہیں۔ اگلی جمعرات کو آپ لوگ کال دیں ملک گیر احتجاج کی۔ ہر بار اپنی جگہ پر احتجاج کرے۔ ہر بار احتجاج کرے۔ ہر جگہ پر ہاؤس ہو اور پھر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے۔ اور آخرمیں آپ کی نظرمیں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سر پہ موت کا پھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتی ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جعلی سیاستدان پیدا کئے گئے ۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی

جعلی سیاستدان پیدا کئے گئے ۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی

میرا ذاتی تجربہ ہے ۔ بلوچستان کے لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس ملک میں پولیٹیکل لیڈرشپ کو ڈویلپ نہیں ہونے دیا۔ بلوچستان میں لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں چپ کرکے بیٹھو، قتل کردئیے جاؤ گے۔ جس طرح جعلی ٹریڈ یونین بنائے گئے پاکستان کی انڈسٹریل ٹریڈ یونیز کو سبوتاژ کرنے کیلئے اسی طرح جعلی سیاستدان پیدا کئے گئے جو ریاست کی تنخواہ پر ہیں۔ یہ کہنا کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ کی کوالٹی بڑی خراب ہے یہ کوالٹی خراب جان بوجھ کر کی گئی۔ یہاں دس ججوں میں سے دو جج اچھے باقی وہ جن کی فائل بہت خراب ہے تاکہ ان کے ہاتھ مروڑے جائیں ۔ سیاست میں یہی ہے۔ بلوچستان میں میں نے ذاتی تجربہ کیا کہ کس طرح ریاستی سیاستدان عوامی سیاستدان پر کمپرومائز کرتے ہیں؟ ، پاکستان میں پبلک وپرائیویٹ سیکٹر کی بحث بیکار ہے۔ یہ ریاست ایک طبقہ چلاتا ہے اس میں شوگر بیرلز ، آٹو موبائل ، پیپر والے ہیں، ریئل اسٹیٹ، اسٹاک مارکیٹ ، فوج ہے۔ یہ پاکستان کے وسائل کو اپنے لئے استعمال کرتے ہیں ۔یہ پرائیویٹ سیکٹر نہیں بلکہ ایک ٹولہ ہے، ٹولے میں کچھ حصہ پبلک سیکٹر اپنے آپ کوپیش کرتا ہے اور کچھ ٹولہ ہے جو پرائیویٹ سیکٹر پیش کرتا ہے۔ لیکن بنیادی طور پر یہ دولت جمع کرتا ہے اپنے لئے عوام کو لوٹ کر۔ بلوچستان کا گیس پانی سے کم قیمت پر لیا جارہا ہے ۔ فرٹیلائز کمپنیDominated by فوجی فاؤنڈیشن کو جو گیس دیا جاتا ہےIs a 13% of the economic valueگیس اب گھروں میں بھی نہیں ہے اور سیکٹرز میں نہیں ہے لیکن فرٹیلائز کو گیس دیا جائے گا
As a 13% of the economic value
یہ ٹولہ ہے جو کہ خون چوس رہا ہے عوام اور ملک کے وسائل کا، پرائیویٹ سیکٹر پبلک سیکٹر خواہ مخواہ بحث کررہے ہیں۔ ایک
Academic intellectual debate
کررہے ہیں اسکے کوئی معنی نہیں ۔ یہ ٹولہ ہے، اس ٹولے کو توڑنا ہے۔ اس کو توڑنے کیلئے ہمیں بغاوت کرنی پڑے گی۔ سڑک پر آنا پڑے گا اور لڑنا پڑے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جماعتوں کو توڑنا اور جوڑنا ختم کرو مظہر عباس

جماعتوں کو توڑنا اور جوڑنا ختم کرو مظہر عباس

1980 کی دہائی سے اغواء کاروں اور جرائم پیشہ عناصر کیساتھ ادارے ملوث ہیں مگر چہرے بدلتے ہیں

صحافی مظہر عباس نے خطاب میںحقائق کوواضح کیا: ہم نے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھ لیا۔ ہم جرنلسٹ ہوں، وکیل ہوں۔ ہم نے یونینز میں بار ایسوسی ایشنز میں ووٹرز بنانے شروع کردئیے، ممبر زبنانے شروع نہیں کئے۔ جب ووٹرز بنائیں گے تو ووٹرز کو پروٹیکٹ کریں گے۔ آپ ممبر بنائیں گے تو ممبر کو بنیادی کورڈکا پتہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے قانون مجھ پر لاگو ہوتا ہے۔ مجھے نہ اپنی گاڑی پر پریس لکھوانا چاہیے نہ ایڈوکیٹ لکھوانا چاہیے ۔میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہوتا ہوں۔ میں اپنے کو عام آدمی سے بالاتر سمجھ رہا ہوتا ہوں۔ ایم پی ایز اور ایم این ایز بنتے ہیں توMPAاورMNAکی نمبرپلیٹ لگاتے ہیں، کیوں؟ اسلئے کہ پولیس والا روکے نہیں۔ ہمارے ہاں رول آف لاء نہیں رہی ہمارے ہاں رولرز کا لاء رہا ہے۔کبھی بھی آئی جی اورDIGلیول کے آفیسر کو چیف منسٹر ہاؤس میں حاضری دینی چاہیے نہ پارٹیوں میںشریک ہونا چاہیے۔ دعوتوں میں شریک تو سمجھوتا کرینگے، دوستیاں بنائیں گے اور دوستوں کو پروٹیکٹ کرینگے ، بلایا اسلئے جاتا ہے کہ کام کروائے جائیں۔ یہ چیزیں شروع ہوئیں80کی دہائی میں تو لاء اینڈ آرڈ رکی سچویشن خراب ہونا شروع ہوئی ۔ ڈاکوؤں کا خوف بڑھنے لگا ڈاکوؤں کی بڑی تعداد پولیس میں بھرتی ہوئی۔وہ ریفارم اٹھا کر دیکھ لیں جو پولیس میں کئی ہارڈ ان کرمنل رہے ہیں۔ کئی لوگوں کو باقاعدہ گھسایا گیا اور وہی پھر اغواء برائے تاوان کا حصہ رہے ہیں۔ یہ چیزیں اس وقت کھلیں جب سن89میں فخر الدین جی ابرہیم گورنر بنے۔ اغواء برائے تاوان ، سپرداری اور کار چوری کی بہت سی وارداتیں ہوتی تھیں اور وہ وقت آیا جب سٹیزن پولیس رابطہ کمیٹی (CPLC) بنائی گئی۔ ایسا آزاد ادارہ جو پولیس اور شہریوں کے درمیان رابطہ بنائے ۔ اس کی کارکردگی دیکھیں جب جمیل یوسف اسکے ہیڈ تھے اور ناظم حاجی صاحب، تو انہوں نے باقاعدہ شہریوں کو یہ اعتماد دلوایا کہ اگر پولیس والے شہریوں کیFIRنہیں کاٹتے توCPLCآپ کیFIRکٹوائے گی ، شنوائی کروائے گی ، اب آپ کاعدالتی نظام آڑے آیا۔ ایک بچے کا کیس مجھے یاد ہے جمیل صاحب کو بھی یاد ہوگا ، بچے اور اسکے والدین کو تیار کیا گیا کہ اغوا ء کار کو پکڑ لیا گیا۔ کیونکہ بچہ ہی پہچانتا تھاجس نے اغوا کیا تھا۔ تو بچے کی گواہی کروانی تھی اور والدین ظاہر ہے کہ ڈرے ہوئے تھے۔ تو انہیں یہ اعتماد دلایا گیا کہ سزا تو ہونی ہی ہونی ہے۔ ان کو اینٹی ٹیررازم کورٹ سے سزائے موت ہوئی۔ ہائی کورٹ نے انہیں بری کردیا اور اسکے بعد وہ فیملی ملک چھوڑ کر چلی گئی۔ کار سپرداری پر ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی ، غلام اسحاق خان صدر تھے۔ یہ ہوا کہ گاڑیاں کیوں نہیں بازیاب ہورہی سپرداری کی؟، تو جمیل صاحب نے کہا کہ اجازت دیں کہ اس کام کو آپ کے داماد سے شروع کیا جائے اور پھر بلوچستان اور دوسری جگہ ججز کے گھروں پر گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ اس ملک میں آپ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کیسے پروان چڑھائیں گے؟۔ جب میں بطور حکمران ایک کرمنل کو تحفظ دیتا ہوں ، جس میں کسی پارٹی کی بات نہیں ۔ آج پیپلز پارٹی کا دور ہے ،اس سے پہلے ارباب رحیم ، لیاقت جتوئی ، مظفر حسین شاہ ، عبد اللہ شاہ کا دور تھا، پھرقائم علی شاہ، مراد علی شاہ۔ حکومتیں ، چہرے بدلتے ہیں سسٹم وہی چلتا ہے کیونکہ سسٹم کو تحفظ دینے والےRULERSہیں۔ ڈاکوؤں کا بھتہ بھی وہ وصول کرتے ہیں اور دہشتگردوں کو تحفظ بھی وہ دیتے ہیں۔ جب وہ دہشتگرد ان سے آنکھیں ملاتا ہے تب لڑائی ہوتی ہے۔ جسMQMکیMilitancy(عسکریت پسندی) کی بات کی گئی اسMQMسےMilitancyکروائی گئی۔12مئی کیا تھا؟۔ کنٹینرز کس نے لگائے تھے؟۔ پورا پلان کس نے کیا تھا؟۔ گورنر ہاؤس میں میٹنگ ہوئی تھی۔ چیف جسٹس، تمام آفیسرز اور سیکٹر کمانڈر وہاں تھے۔ سب براہ راست پرویز مشرف سے رابطے میں تھے۔ میٹنگ ہوئی، دوپہر کو قائل کیا گیا کہ ہم نے کوشش کرلی چیف جسٹس افتخار چوہدری نہیں مان رہے ہیں تو جلسہ کرنے دیں کیا ہوگا؟ خطاب کرکے چلے جائیں گے۔ وہ اس پربھی نہیں مانے کہ ہیلی کاپٹر سے لے جایا جائے اور وہ تقریر کرکے چلے جائیں تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ ہے تو رہنے دیں اس چیز کو ۔دوپہر کو یہ طے ہوا مشرف نے کہا کہ میں پھر رابطہ کروں گا۔ یہ ساری اسٹوری اس وقت کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے بتائی۔ یہ11تاریخ کی بات ہے، شام کے وقت مشرف کے جو سب سے قابل اعتماد جنرل تھے ان کا فون آیا کہ جو پرانی اسکیم ہے اسی پر عمل درآمد ہوگا توkindly tell london۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ بات آپ لند ن کو ہی بتادیں۔ تو آپ کو لگا کہ12مئی کس نے کیا؟۔ اسی لئے12مئی کی انکوائری نہیں ہوئی۔ اسی لئے12مئی کے بارے میں آپ سیاسی طور پر ایکدوسرے پر الزامات لگاتے رہے اور کوئی لوگ پکڑے نہیں گئے،12مئی کے بعد27دسمبر بھی تو ہوا۔ شہر جل رہا تھا تو آپ نے آرمی کیوں نہیں کال کی؟۔ رینجرز کیا کررہی تھی؟۔ پورے شہر میں آگ لگی تھی۔ عام شہریوں کے اربوں کی جائیداد، پراپرٹی کی اجازت دی تھی؟۔ کون ذمہ دار ہے اسکا؟۔ ریاستی ادارے ریاست پاکستان میں امن و امان خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں آپ پولیٹیکل پارٹیز توڑتے ہیں، حکومتیں بناتے اور توڑتے ہیں۔ جب تک آپ اس عمل سے باہر نہیں نکلیں گے۔ آج آپ نے ایک گروپ کھڑا کیا کل آپ نے کہا کہ نہیں یہ گروپ نیشنل سیکورٹی کو تھریٹ کررہا ہے اسکے مقابلے میں آپ نے ایک اور گروپ کھڑا کردیا۔MQMکھڑی ہوئی اسکے مقابلے میںMQMحقیقی کھڑی کردی گئی۔ پیپلز پارٹی ،PMLN،MQMکے ٹکڑے کئے گئے، کب تک ٹکڑے کرتے رہیں گے؟،71سے سیکھیں سبق۔ بلوچستان کے لوگ مسنگ ہیں، ریاست سے ایک آدمی مسنگ ہوجاتا ہے اور ہم اسے کہتے ہیں کہ جی پتہ نہیں کورٹ میں آکراور میں مطمئن ہوجاتا ہوں اگر وہ ریکور ہوجاتا ہے کہ وہ گھر واپس آگیا۔ کسی نے پوچھا لیکر کون گیا تھا؟۔150دن ہوگئے ایک رپورٹر ایک اینکر عمران ریاض خان غائب ہے۔ نا ہائیکورٹ کی یہ جرأت نہ سپریم کورٹ کی جرأت ہے، سپریم کورٹ نے تو ارشد شریف کا کیس بھی انفائل کردیا۔ دو ممبر ز کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اگر پڑھ لیں تو پتہ چل جائیگا کہ کون ملوث ہے؟۔ اسکے بعدJITکا مطلب یہ ہےUnder the Carpetکر رہے ہیں ہر چیز کو۔ اسی لئے وہ کیس آگے نہ بڑھا۔ تو اگر لاء ان آرڈر کی صورتحال بہتر کرنی ہے تو پاکستان میں ہمیں اس سوچ کو بہتر کرنا ہوگا ۔ ہمیں اپنی قربانی دینی ہوگی۔ آپ کی کل حکومت آئے آپ فیصلہ کریں زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا کہ حکومت ہٹادی جائے گی۔ کم سے کم لوگ یہ تو کہیں گے کہ آپ نے کچھ جرأت کا مظاہرہ کیا لیکن اگر پسند کاآئی جی لاکر دوسروں کیخلاف ، آپ سارے جو وکیل بیٹھے ہیں ایک سیشن جج نبی شیر جونیجو کا جامعہ کلاتھ مارکیٹKMCکے پاس قتل ہوا تھا اور لوگ جس شام کو پکڑے گئےIGنے فون کرکے جام صادق علی سے کہا کہ سر لوگ پکڑلئے گئے، کل ہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔IGکے مطابق جام صاحب نے کہا کہ اس میں پیپلز پارٹی کے دو لونڈے بھی ڈال دو۔ الذوالفقار کے نام پر کہ یہ اس کا کیا دھرا ہے۔ اس نے کہا کہ سر پورا کیس ختم ہوجائے گا۔ جام صادق نے کہا کہ تجھے پروموشن اور ریوارڈ سے مطلب ہے یا کیس سے؟۔ یہی چیز حکیم سعید کے کیس میں ہوئی۔ جنIGکا کل انتقال ہوا اللہ مغفرت کرے۔ جس لڑکے کو پکڑا گیاDIGکراچی نےIGسے کہا کہ سر یہ لڑکا اور بہت سے کرائم میں ملوث ہو گا مگر اس قتل میں ملوث نہیں ۔ یہاں نواز شریف آئے، یہاںDG ISIضیاء الدین بٹ آئے ، رانا مقبول سمیت ہر کوئی اس میٹنگ میں موجود تھا مگر وہDIGباہر بیٹھا تھا۔ اس کو پکڑا کئی سال وہ جیلوں میں رہا آخر کار سپریم کورٹ نے بری کردیا۔ صرف کیسز بند کرنے کیلئے لوگ پکڑتے ہیں۔ بیشمار کیسز کی مثال دے سکتا ہوں۔ ایک تاریخ ہے پاکستان میں۔ مجھے نہیں لگتا کہ چیزیں بہتر ہوں گی، پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر بہتر ہوگا۔ جب تکRULERS(حاکم )جو ہیں وہ قانون کی حکمرانی کے بجائے اپنی حکمرانی چاہیں گے اور سپریم کورٹ بدقسمتی سے اتنی تقسیم ہوگئی ہے کہ جب تک ہم یہ فیصلے نہیں کریں گے کہ جس انکار کی وجہ سے تحریک چلی تھی وہ انکار اگر اقرار میں بدل گیا تو آزاد عدلیہ کیلئے ہم نے کیا جدوجہد کی؟۔ کیونکہ پھر تو اقرار والے چیف جسٹس ملتے رہے۔ انکار والا چیف جسٹس تو نہیں ملا پھر۔ فیصلے کمپرومائز کرتے رہے تو رول آف لا ء کے بغیر چیزیں آگے نہیں بڑھا سکتے، مبارکباد دیتا ہوں زین شاہ کو لیکن سندھ نیشنل پارٹی کوئی پروگرام لیکر آئے۔ اگر یہ موقع ملتا ہے تو آپ کے پاس پلان کیا ہے لاء اینڈآرڈر بہتر کرنے کا؟۔ بہت شکریہ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کرپشن میںسب ملوث ہیںJUIنظریاتی

کرپشن میںسب ملوث ہیںJUIنظریاتی

آج ایران میں پیٹرول14روپے لیٹر اور یہاں275روپے ہے پھر یہ وردی والے کیا کررہے ہیں؟

انوارالحق کاکڑ آپ اسمگلنگ کو نہیں روک سکتے۔ مجھے10طالب بندے دیں تومیں روک کر دکھاؤں گا

جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے نائب امیر قاری مہر اللہ کا کوئٹہ پریس کلب میں تقریب سے خطاب: سب کو معلوم ہے کہ معیشت کیوں تباہ ہے لیکن کوئی نہیں بولتا حقیقت چھپاتے ہیں۔ میں برسراقتدار آیا میری پارٹی ہے۔ آج تک برسر اقتدار پارٹی نے کرپشن کیخلاف کسی چوک پرکوئی مظاہرہ کیا ؟۔ کوئی بتائے۔ ایک پارٹی والا بتاسکتا ہے کہ ہم نے کرپشن نہیں کی ؟۔ بلوچستان کے حوالے چھوٹی سی مثال رکھنا چاہوں گا۔ ایران کا بارڈر کتنا میل دور ہے؟۔500کلومیٹر دور ہے،600ہے، اس بارڈر پر پیٹرول کا ایک لیٹر کتنے کا ہے؟۔ وہاں رشتے دار ہیں۔ آج کا وہاں ریٹ14سے15روپے فی لیٹر ہے۔5یا6سو کلومیٹر میں جو تیل آتا ہے آج275پر ایرانی پیٹرول مل رہا ہے۔ ابھی میں نے گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا تو اندازہ لگائیں کہ14سے یہاں تک پہنچنے میں275روپے فی لیٹرتک درمیان میں یہ کرپشن کون کررہا ہے؟۔ کسٹمز پر پیسہ لیتے ہیں نام کسی نے لیا؟ ۔ تو معیشت کیسے ٹھیک ہو گی؟۔ ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہے، کسی کے پاس پاکستانی موبائل ہے کوئی مجھے یہ بتائے؟۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستانی کپڑا نہیں چاہیے۔ جاپانی کپڑا اگرہے تو دیدیں۔
جس میں چائے پیتے ہیں، کس ملک کی ہے؟۔ ہمیں اپنے ملک سے محبت نہیں۔ جتنے بیٹھے ہیں انکے ہاتھ میں گھڑی کس ملک کی ہے؟۔ پاکستان میں سونے کی گھڑی ہو ہم نہیں لیتے۔ پیتل چاہے امریکہ، جرمن ، جاپان کی ہو جس ملک کی ہو ہمیں پسند ہے۔ اپنی معیشت خود تباہ و برباد کی۔ جب ہم خود اپنی مصنوعات کا بائیکاٹ کررہے ہیں تو معیشت کیسے ٹھیک ہوگی؟۔ دوسری طرف اللہ ہمیں ہدایت دے۔ آپ یقین کریں کہ کسی کو کرپشن ملتا ہے ، جیسے افطاری کیلئے کھجور ملتا ہے متین اخوندزادہ صاحب! اتنا کرپشن ہے۔ آپ لوگوں نے دیکھا کہ خزانے کے بڑے بڑے منسٹر جنہوں نے پیسے چوری کئے ان کیخلاف کیا ہوا؟۔ کچھ ہوا ؟ اسی ملازمت پر وہی بندہ بحال ہوا۔ چور کی سرپرستی کرتے ہیں سرکاری پھر معیشت کیسے ٹھیک ہوگی؟۔ معیشت ہم نے تباہ کی جس کا گلہ کررہے ہیں۔14روپے لیٹر500کلومیٹر بارڈر پر یہاں275فی لیٹر پر مل رہا ہے تو غریب کا کیا حال ہوگا؟۔ بڑے لوگوں کے پاس تو ماشاء اللہ سب کچھ ہے لیکن تباہ تو غریب ہے۔ جعفر صاحب! پوری دنیا میں ہمارا ملک چھٹے نمبر پر ہے گندم کی پیداوار میں اور دنیا میں سب سے مہنگی گندم پاکستان میں ہے۔ کیوں مہنگی ہے؟ جس مل میں چاہیں معلومات کرلیں فی بوری میں3000روپے فوڈ والوں کے الگ ہیں کہ مل میں پہلے فی بوری 3 ہزار روپے فوڈ والوں کو دینا ہے اس کے بعد بیچنا ہے۔ چینی کا سب ظاہر ہے کیا بولیں کس چیز پر بولیں۔ یہ ہمارے بندوق بردار کیا کررہے ہیں؟۔ خدا کی قسم رونا آتا ہے10طالب دیدیں اگر چینی کی ایک بوری کسی بندے نے اسمگل کیا تو میرا قتل معاف ہے۔10بندے مجھے دیدیں۔ آج دالبلدین میں اور چاغی میں دیکھیں۔ خدا کی قسم آپ سمجھوگے کہ یہ چینی عوام سے مفت آرہی ہے۔ ہزاروں لاکھوں بوریاں پڑی ہیں۔ پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ وزیر اعظم انوارالحق کہتے ہیں کہ بارڈر کو ہم بند کریں گے۔ آپ بند کریں میں چیلنج سے کہتا ہوں آپ یہ بند نہیں کرسکتے نہیں کرسکتے۔ جتنا آپ طاقتور ہو اپنی طاقت کو استعمال کرو یہ قوت سے باہر ہے۔ آپ چھوٹے آدمی ہیں۔ اگر بند ہوگی اتنی طاقت پیدا کی تودیکھناکہ بلوچستان اور پاکستان کی کیا صورتحال ہوگی؟۔ لہٰذا ہم سب ملکر گھر سے شروع کردیں کہ معیشت کو ٹھیک کرنا ہے تو پھر انشاء اللہ و تعالیٰ ٹھیک ہوجائے گی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نظام کی تبدیلی کیلئے ہمارے3بنیادی نکات1:معاشی پسماندگی کے خاتمے کیلئے3اقدامات2:شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے3اقدامات

نظام کی تبدیلی کیلئے ہمارے3بنیادی نکات1:معاشی پسماندگی کے خاتمے کیلئے3اقدامات2:شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے3اقدامات
3:مکمل آزادی رائے کیلئے3بنیادی اقدامات

1:معاشی حل: بیرونی دباؤ سے آزاد تیل،مزارعت، ٹیکس فری تجارت۔
2:اسلامی حقوق :مرد ، عورت، مسلم وغیرمسلم۔
3:آزاد ی اظہار رائے: مذہبی ، سیاسی اور معاشرتی

جب کسی قوم میں آزادی اظہار رائے کی گنجائش ہو تو وہ بندوق و بارود سے تباہ ہونے سے بچ جاتی ہیں۔سوشل، الیکٹرانک ،پرنٹ میڈیا کا درست استعمال وقت کی ضرورت ۔تفصیل اس آرٹیکل ”شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت” میں دیکھیں۔

معاشی مسائل کے حل کیلئے 3بنیادی اقدامات جن سے بڑا انقلاب آسکتا ہے!

1:جب ہماری معیشت گردشی سودی نظام کی وجہ سے بالکل تباہ ہے۔ ایران سے ہمیں سستے ًتیل، گیس اور بجلی کی فراہمی ہوسکتی ہے تو عوام کے مردہ جسم پر سو درے مارنے کے کیوں درپے ہیں؟۔ مقتدر طبقات نے ایرانی تیل سے جیب بھر لئے ہیں لیکن عوام کو سستا تیل میسر نہیں ہے؟۔عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان ایک طرف مہنگا ترین تیل ، گیس اور بجلی خریدتا تھا اوردوسری طرف سبسڈی بھی دیتا تھا ۔ ریاست کو اس قیمت سے بھی زیادہ مہنگا پڑتا تھا جس میں خریدتی تھی۔
مہربانی کرکے سب کرتے دھرتے دلال بیچ سے نکل جائیں اور عوام کو اپنی مرضی سے جتنا چاہیں ایران سے تیل وگیس لانے دیں۔ جس سے بجلی بھی سستی ہوجائے گی اور کاروبار چلنا شروع ہوجائے گا۔ اپنے کسٹم و انکم ٹیکس کے محکمے جتنا کھا چکے ہیں وہ بہت ہے، اب بس کریں۔ عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے تو ریاست کو بھی حد سے زیادہ ٹیکس دینا شروع کریں گے۔ کچھ عرصہ میں عوام کی حالت بدل جائے گی۔ کارخانے ، فیکٹریاں اور مل چلنا شروع ہوں گے۔ تو بیرون ملک پاکستانی بھی اپنے سرمایہ سمیت واپس آجائیں گے۔
2:قرآن انسانی انقلاب کے لئے مثال دیتا ہے کہ زمین مردہ ہونے کے بعد بھی زندہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں جتنے مزارعین ہیں ،اگر ریاست مدینہ کی طرح ان کو اپنی محنت کا مالک بنادیا جائے تو یہ سب اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے اور ساتھ میں ان سے کئی گنا دوسرے لوگ بھی بنجر زمینوں کو آباد کردیں گے جب مزارع کو محنت سے منافع بخش ذرائع آمدن ملیں گے تو پاکستان جنت نظیر بنے گا اور بہت بڑے پیمانے پر باغات اور جنگلات بھی لگ جائیں گے۔ رزق خدا کی فراوانی ہوگی تو اناج اور پھل سب انسان پیٹ بھر کر کھائیں گے اور جانور بھی رکھ سکیں گے۔ محنت کش طبقے کو بے انتہاء روزگار ملے گا۔ افغانستان سمیت دنیا بھر کو اپنی ضرورت سے زیادہ اناج اور چینی وغیرہ ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ہوگی اور جب پاکستان جنت نظیر سبزہ زار بنے گا تو آسمان سے دل کھول کر بارشیں بھی ہوں گی۔ دریا اور نہروں کے ذریعے غیر آباد علاقہ ہی نہیں سمندر میں بھی میٹھا پانی بڑی مقدار میں جائیگا۔ یہاں تک کہ کراچی کی ملیر اور لیاری ندی شفاف ندیوں کا منظر پیش کریں گی اور کراچی کے ‘دو دریا’ پر سورۂ رحمان کے مناظر ہوں گے۔
3: بھارت ، ایران ،افغانستان، عمان،عرب امارات، چین ، سعودی عرب کیساتھ عوام کو کھلی تجارت کی اجازت ہوگی جس میں خشکی اور سمندر کے راستوں سے سمگلنگ نہیں ٹیکس فری پالیسی ہوگی۔ ہماری عوام میں جو ڈفر قسم کے محنت کش لوگ ہیں ان کی مزدوری بھی بہت بڑھ جائے گی اور جن میں ذہنی صلاحیت ہے تو اپنی صلاحیت کا لوہا منواسکیںگے۔قوم کی ترقی کا راز اس میں پہناں ہوتا ہے کہ محنت کش سے ہاتھ پیر کی مزدوری اور فن کاری کا کام لیا جائے اور ذہنی صلاحیتوں والوں کو سائنس اور جدید ترقی کی راہوں پر لگایا جائے۔ ہمارے ہاں الٹا ہوتا ہے جس بلاول زرداری، حسن نواز ،حسین نواز، مولانا عطاء الرحمن ابن مفتی محمود اور دوسرے بڑے لوگوں کے صاحبزادوں کو لوڈر کا کام کرنا چاہیے تھاوہ عیش وآرام کی حرام زندگی گزارتے ہیں اور جن باصلاحیت افراد کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور علماء وسیاستدان بننا چاہیے تھا، ان کو مزدوری اور کاشتکاری سے اپنی صلاحتیں منوانے کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔ قوم ترقی کرے تو ملک بھی ترقی کرسکتا ہے۔
***************************************************
نوٹ: اس آرٹیکل کو مکمل پڑھنے کیلئے ”شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت” کے عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔
***************************************************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی

بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر سمگلنگ اور رشوت کا سسٹم ختم ہو تو پڑوس کی تجارت سے پوری قوم مرنے سے پہلے زندہ ہوجائے گی
وزیرستانی کہتے ہیں کہ فقیر اپنے لئے دعا کرو اور فقیر کہتا ہے کہ تمہاری خیرات سے میری توبہ اپنے کتے روکو!

محترم ڈاکٹر لعل خان ایک عظیم انسان تھے۔ بہت بہادر، جریح، صاف گو اور اپنے نظرئیے پر غیرمتزلز ل یقین رکھنے والے۔ کامریڈ لعل خان کو سرخ سلام اور ان کے نام اور کام کو زندہ رکھنے کیلئے لاہور ائیر پورٹ کا نام ڈاکٹر لعل خان ائیرپورٹ رکھنا چاہیے تا کہ پاکستان کی تمام لسانی اکائیوں اور دنیا کو پتہ چلے کہ لاہور میں صرف بادشاہی مسجد ، ہیرامنڈی، مینار پاکستان، علامہ اقبال کا مزار اور داتا کا دربار نہیںہے بلکہ ڈاکٹر لعل خان جیسے گمنام اور زبردست انسان ہیں۔
علامہ سید یوسف بنوری کی ایک تقریر کو ماہنامہ بینات جامعة العلوم الا سلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں شائع کیا گیا تھا جس کو ہم نے اپنے اخبار کی زینت بھی بنایا تھا۔ اس میں اسلام کے معاشی نظام کا جوخلاصہ پیش کیا گیا تھا وہ موجودہ سودی بینکاری اور امیر وغریب کے درمیان ناجائز منافع خوری کے خلاف تھا اور اسلام اور سودی نظام میں اس تفریق کی عکاسی کرتا تھا کہ اسلام نے جائز منافع پر بھی صدقہ وزکوٰة کا نظام نافذ کیا تھا اور سود میں لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکر قرض سے قرآن وسنت کے منافی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
روس دنیاکی سپرطاقت بن گیا ،ڈاکٹر لعل خان نے کہا کہ لینن نے کہا تھا کہ یورپ کا مرکز جرمنی ہے ، جب تک جرمنی ہمارے ساتھ نہ ہو تو یہ سرخ انقلاب کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ حالانکہ جس وقت یہ کہا ہوگا ،اس وقت جرمنی کو عالمی طاقت کا درجہ حاصل تھا۔ پھر جب روس خود سپرطاقت بن گیا اور جرمنی کی ایسی حیثیت بھی نہیں رہی تو ناچ نہ جائے آنگن ٹیڑھا والی بات ہے۔
مکہ اسلام کا قبلہ اور مرکز تھا۔ جب مسلمان ہجرت پر مجبور ہوگئے تو بھی مکہ کو فتح کرلیا۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن شہر کی تقسیم تک بھی سوشلزم پہنچ گیا تھا۔یہ حال چین میں بھی سوشلزم کا ہوا تھا۔ اسلام نے مشرق ومغرب کی سپر طاقت روم و ایران کو فتح کیا اور جب عرب سے اقتدار چھن گیا تو ترکیوں نے طویل عرصہ تک حکومت کی تھی۔ اگر پاکستان سے اسلامی نظام شروع ہوجائے تو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ اگرپوری دنیا سے سودی نظام کا خاتمہ ہو اور مزارعین کو مفت زمین فراہم کی جائے تو محنت کش طبقہ خوشحال ہوگا اور صلاحیت والا طبقہ بھی اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو نوازے گا۔ جب اسلام کے مطابق ترجیحات ہوں گی تو دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بھی بنایا جائے گا اور ماحولیاتی آلودگیوں کے پھیلاؤ کو انسانی بنیاد پر روکا جائے گا۔ سورہ الحدید کے آخر میں مسلمانوں کیلئے خوشخبری ہے کہ اہل کتاب کے عروج کے بعد مسلمانوں کے پاس قوت آئے گی۔ جب مسلمان طاقت میں آئیں گے تو امریکہ کی طرح انسانیت کو تباہ وبرباد کرنے کے بجائے درگزر اور شفقت ورحمت کا مظاہرہ کریں گے۔ پھر چودہ نمبر پارہ کے ابتداء کا منظر دنیا دیکھے گی کہ ” اہل کتاب اس بات کو پسند کریں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے”۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام ، لیبیا، سوڈان، چیچنیا، ازبکستان، تاجکستان، کر غیزستان وغیرہ کے ساتھ کیا کیا؟۔ علماء ومشائخ نے قرآن وسنت کی بڑی خدمت بھی کی ہے مگر اسلام کا حلیہ بھی بہت بگاڑا ہے۔ اگر اس حلیہ کو نہیں بگاڑتے تو لعل خان بھی اسلام کی ترویج کرتے۔
آج اسلامی بینکاری نے دنیا پر قبضہ کرنے کا مزید راستہ ہموار کردیا ہے۔ پہلے بینک کسی کو قرضہ دینے کیلئے اخلاقی بنیادوں پراعتماد کرتا تھا۔ پھر جب لوٹ کا بازار گرم ہوا۔ نوازشریف اور زرداری جیسے لوگ سیاست میں آگئے تو قرضہ لے کر بینکوں سے سیاسی اثر ورسوخ کی بنیاد پر معاف کرایا گیا۔ بینکوں کے مالک ہوشیارہوگئے اور حکومت سے معاملہ پرائیوٹ کردیا گیا تو قرضوں کے بدلے میں کسی چیز کے کاغذات رکھنے لگے۔ اب اسلامی بینکاری کی بنیاد پر بہت بڑا سودی فتنہ شروع کیا گیا ہے۔ جب بینک قرضہ دیتی ہے تو اس چیز کو مارکیٹ سے بہت کم قیمت میں اپنے نام کرالیتی ہے اور مالک اپنی جائیداد کا کرایہ دار بن جاتا ہے۔ مثلاً اسلام آباد ائیر پورٹ کی اصل قیمت ایک کروڑ ڈالر ہے تو اسے صرف40لاکھ ڈالر کا قرضہ دے کر بینک اپنے نام کرلے گا اور سودے بازی کرنے والی ہستی کو بھی کچھ رشوت منہ میں مٹھائی کے طور پر ڈال دے گا۔ پھر اس قرض پر جو سودبنتا جائے گا وہ بینک کو کرائے کے مد میں جائے گا۔ کس کے کرائے کے مد میں؟۔ ائیرپورٹ کے کرائے کے مد میںجو اصلی مالک پاکستان سے اس کی ملکیت لے کر بینک کو دی گئی ہے۔ یعنی ہم اپنی چیز کی ملکیت بھی دوسروں کو دیتے ہیں اور اس جائیداد کا کرایہ بھی دوسرے کو دے رہے ہیں اورجب ہمارے ہاتھ سے معاملہ نکل جائے گا اور جو قرضہ لیا ہے اس پر مزید سود کرائے کی مد میں ہم دینے کے لائق نہیں رہیں گے تو اسلام آباد ائیرپورٹ تو ہم ان کو پہلے سے دے بھی چکے ہیں۔ وہ تو ہم پہلے بھی اس کا سود کے مد میں کرایہ دے رہے تھے۔
بعض لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ۖ کیسے یہ الفاظ بول سکتے ہیں کہ سود کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے؟۔ جب پوری قوم سودی نظام سے غربت کی لکیر کے نیچے آجائے گی اور عزتیں فروخت ہونے تک نوبت پہنچے اور بچے چوری کرکے فروخت تک معاملہ پہنچے۔ پیسوں کی خاطر کرائے کے دہشت گرد بننے تک معاملہ پہنچے اور تمام اخلاقی گراوٹوں کی ساری حدیں پار کرنے تک معاملہ پہنچے تو نبی کریم ۖ کے الفاظ بالکل غیر مناسب نہیں لگیں گے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتا ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا ہے کہ سود کا ادنیٰ گناہ اپنی ماں سے خانہ کعبہ میں36مرتبہ زنا کے برابر ہے۔ مولانا فضل الرحمنPDMکا حصہ ہے اور حکومت میں شامل ہونے کے باوجود بھی سودی نظام کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ اس سے بڑا جرم اور کیا ہوسکتا ہے؟۔ حالانکہ یہ بات عیاں ہے دنیا پر کہ اسلام کے نام پر سودی بینکاری زیادہ خطرناک ہے۔
اب مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے لوگوں نے پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ جب سراج الحق پختونخواہ کے وزیر خزانہ تھے تو عالمی اداروں کے ساتھ سود پر دستخط کرتے ہوئے معاہدہ کیا کہ ایک اچھا سود ہوتا ہے جس کا ہم معاہدہ کرتے ہیں اور ایک ظالمانہ سود ہوتا ہے جس کو ہم برا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ سود میں اچھا اور برا سود کونسا ہوسکتا ہے؟۔ اب یہ ایکدوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔
پاکستان کے مسائل کا فی الحال ایک حل یہ ہے کہ افغانستان، ہندوستان اور بھارت کے سرحدات پر ٹیکس فری تجارت کا آغاز کیا جائے۔ رشوت واسمگلنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ جس سے غربت کی لیکر کے نیچے دبے ہوئے عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، بیرونی قرضہ بھی دے دیں گے۔ ائیرپورٹ پر ریل پیل اور تجارت کا دروازہ کھل جائے گا۔ سیاح بڑی تعداد میں آنا شروع ہوں گے۔ عوام مہذب بن جائے گی۔ معاشرتی درندگی کا خاتمہ ہوگا اور سرکار کے وحشی لوگ بھی انسان کے بچے بن جائینگے۔ عدالتوں کا کام حقیقی انصاف کی فراہمی بن جائیگا۔ کاشتکاروں کو مفت میں زمینیں دی جائیں اور صرف پاکستان نہیں پوری دنیا سے سود کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا جائے۔ اسلام کے معاشرتی نظام کو نافذ کیا جائے تو یورپ وامریکہ کی خواتین بھی اسلامی نظام کا مطالبہ کریں گی ۔ عورت کو حق مہر ، خلع وطلاق میں حقوق اور غیرت کے نام پر قتل سے تحفظ فراہم کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ کچھ بدنام چہروں کے ملاؤں کی بیگمات بھاگ جائیںگی؟
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان

ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان

بجلی، گیس، تعلیم ، ٹرانسپورٹ اور علاج مفت کرکے پاکستان کی عوام کو غربت کی لکیر سے نکالا جاسکتا ہے!
چند افراد کو پکڑ کر لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے اورIMFاور سودی نظام سے جان چھڑائی جائے ۔لعل خان

انیق احمد وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان کا ایک یادگار پروگرام دیکھ لیں۔
ہمارے سیاسی کلچر میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوگئیں۔ شروع کے سال د وسال جو ضیاء الحق کے گزرے اس میں تو نظریہ قائم رہا لیکن پھر جب ضیاء الحق کی چھتری تلے سیاسی جماعتوں نے اعلانیہ یا خفیہ طور پر مفادات کے حصول کیلئے اپنے نظرئیے تبدیل کئے یا خود کو غیر نظریاتی کرلیا تو ملک میں دائیں بازو بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کو زوال آنا شروع ہوگیا۔ خواتین و حضرات! سوال ہے کہ کیا کسی بھی ریاست اور معاشرے کیلئے نظریاتی سیاست مفید ہے یا مضر؟۔ ہمارے ملک کو غیر نظریاتی سمت لے جانے سے خاص طور پر ملک کے سیاسی کلچرنے عوام کو فائدہ پہنچا یا نقصان؟۔ بات کرینگے ملک کے ممتاز روشن دماغوں سے کہ ایسا سب کچھ کیوں ہوا؟۔ محترم ڈاکٹر لعل خان ۔ ممتاز کمیونسٹ رہنما۔ ڈاکٹریٹ آپ نے ہالینڈ سے کیا۔ بہت اہم پرچہ ایشین مارکسٹ ریویو کے آپ ایڈیٹر ہیں۔ اس کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں1970کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے اور ہمارے سیاستدانوں نے نظرئیے کو اہمیت دینا چھوڑ دی اور وقتی مفادات کے حصول کو اپنا شیوہ بنالیا؟۔
ڈاکٹر لعل خان: ٹروسٹکی نے کہا تھا کہ ہمارے سروں پر ایک نہیں دو آسمان ہیں، ایک نیلا، ایک پیلا آسمان ہے۔ اس پیلے آسمان پر مختلف سیاستدان ہیں، سپورٹس مین ہیں ، فنکار ہیں، دانشور ہیں جو اوپر گھوم پھر رہے ہیں ٹیلی ویژن پر تمام چیزوں پر۔ جس دن محنت کش طبقہ اس پیلے آسمان کو نیچے سے دیکھنے کے بجائے اوپر سے دیکھ لیتے ہیں تو انقلاب آتا ہے۔ اگر اکانو می ڈفرنس نہ ہو تو ہر سیاسی کمپرومائز ہوسکتا ہے کیونکہ پالیٹکس صرف رفلکشن ہے اکانومکس کی۔ سوال یہ ہے کہ اس معاشی بحران جس سے ہر روز10ہزار آدمی غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں80فیصد لوگ نان سائنٹفک میڈیکشن پر مجبور ہیں۔50فیصد سے زیادہ بچے اسکول جانے کا سوچ نہیں سکتے۔ ان کنڈیشنز میں کونسی اکانومک پالیسی ہے ان پارٹیز کے پاس جو اس کو بدل سکتی ہے؟، کسی کے پاس نہیں ہے! ۔ تمام کی اکانومک پالیسی پیپلز پارٹی کے پاس ہے، پیپلز پارٹی لاگو نہیں کرتی۔ (لیکن پیپلز پارٹی لاگو نہیں کرتی۔ انیق احمد)۔ آپ اعلان کریں پیپلز پارٹی اور محترمہ بینظیر اعلان کریں کہ پاکستان میں اقتدار میں آنے کے بعد تعلیم مفت ہوگی، علاج مفت ہوگا، بجلی مفت ہوگی، ٹرانسپورٹ مفت ہوگی۔ دوسری چیز جو شامی صاحب نے دو باتیں کیں ایک سوویت یونین کے ٹوٹنے پر اور مارکس ازم کی ناکامی پر۔ (پیسے کہاں سے آئیں گے اس کیلئے؟ مجیب الرحمن شامی) ۔ وہ میں آپ کو بتادوں وینزولا میں تیل سے پیسے نہیں آرہے؟۔ مختلف ملکوں میں پیسے جو ہیں وہ اس لوٹ مار کو بند کریں۔IMFکے پیسے دینا بند کریں۔ امریکی سامراج کی لوٹ مار کو بند کریں۔ فوج پر جو خرچ ہورہا ہے وہ بند کریں۔ (پوری دنیا سے یہ کہیں کہ حملہ کرو ہم پر۔ مجیب الرحمن شامی)۔28آدمی ہیں پاکستان کے جن کے پاس پاکستان کےGDPسے زیادہ دولت ہے۔ باہر کے بینکوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ آپ ان کو پکڑ لیں ان کو کہیں یہ پیسے لاؤ ۔ ہم یہاں تعلیم اور علاج مفت کرتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی حکمرانی ہے۔ فوج پر بھی، ریاست پر بھی ، سیاست پر بھی۔ اس وجہ سے ان لوگوں نے آپ کو ہر جگہ مقید رکھا ہوا ہے۔ اور انقلاب کے بغیر ان لوگوں کا اقتدار ٹوٹ نہیں سکتا۔ لیکن ایک بات ضروری سمجھتا ہوں جو پوائنٹ شامی صاحب نے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا جی سوویت یونین ناکام ہوگیا مارکس ازم ختم ہوگیا یہ تو سطحی پروپیگنڈہ ہے۔ میں ایک فیکٹ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ فیکٹ یہ ہے کہ آپ مجھے1917سے لیکر1991تک کسی بڑی یونیورسٹی پرسٹن، سٹین فرڈ م،ہاروڈ، ژیل، جون ہوپکنس، سن جیمسز کسی یونیورسٹی میں کوئیPHDتھیسز دکھادے آکسفورڈ میں دکھادے ، کیمرج میں دکھادے میں نے اور میرے دوست نے ریسرچ کی تھیسز پر جو سوویت یونین پر ہو یا سوشل ازم پر ہو جس میں یہ جامع طور یہ پراسپیکٹیو دیا گیا ہو کہ سوویت یونین ٹوٹ جائے گی۔ اگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کا پراسپیکٹیو کسی نے دیا تھا وہ صرف مارکسز تھے۔ لینن16جولائی1921،
He said burlon is a heart of europe, and Germany is a heart of world. If there is no revulation in Germany ….
آگے اسی اسپیچ میں لینن کیا کہتا ہے:
Even if you sacrificewe shall no hesitate for a second
1936 لیون ٹراسٹکی اس نے کتاب لکھی ہے ”The Revolution Betrayed”آپ اس کتاب کو پڑھیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ1989سے1991تک جو واقعات ہوئے ہیں وہ ان کا ایک اسکرپٹ تھا جو ڈرامہ پچاس سال بعد دنیا کی اسٹیج پر پلے ہوا ہے۔……… لڑتے لڑتے ٹراسٹکی مرگیا اس سوشل ازم کے لئے آپ اس ہسٹری کو بالکل ضائع کردیں؟۔ کیونکہCNN،BBCبلکہ تمام میڈیا نہیں چاہتا کیونکہ میڈیا کے تمام مالکان اس حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
سوال: اگر پاکستان میںحقیقی معنوں میں سوشل ازم آجائے تو کیا یہاں پر بجلی، تعلیم اور صحت فری ہوسکتی ہے؟۔ اور کیسے ہوسکتی ہے؟۔
لعل خان: پہلے تو بنیادی تعریف چاہئے کہ سوشل ازم اور کیپٹل ازم میں کیا فرق ہے؟۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز جو بنائی جاتی ہے آپ نے ٹائی پہنی ہوئی ہے ،یہ بوتل ہے ، یہ کاغذ ہے یہ اسلئے نہیں ہے کہ ہم ان کا استعمال کرتے ہیں ہر چیز کے بنائے جانے کا بنیادی مقصد پرافٹ ہے اور ریٹ آف پرافٹ ہے ورنہ کوئی چیز نہیں بنتی کیپٹل ازم میں۔1960کی دہائی میں لی لینڈ کا مالک تھا وہ پوری دنیا میں سب سے بڑی گاڑیاں بناتا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ دنیا میں سب سے زیادہ گاڑیاں بنارہے ہیں اور بیچ رہے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ میں مارکیٹ گاڑیاں بنانے کیلئے نہیں آیا میں پیسہ بنانے کیلئے آیا ہوں۔ اب سوشل ازم اور کیپٹل ازم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سوشل ازم میں ہر چیز کے بننے کی پروڈکشن کی وجہ بدل جاتی ہے۔ یہاں سوشل ازم میں پروفٹ نکل جاتا ہےas an incentive، انسانی ضرورت اور انسانی ضروریات کی تکمیل بنیادی ترغیب(incentive) بن جاتی ہے۔ جس میں ایک مارکیٹ اکونومی ، کیورٹیک اکونومی جس کا مارکیٹ تعین کرتی ہے جبکہ سوشل ازم میں ایک پلینڈ اور ڈیموکریٹک اکونومی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اگر سوشل ازم آجاتا ہے ۔ یہاں پر اتنی دولت ، اتنا سرمایہ ، اتنی لوٹ کھسوٹ ہے ہر ایک ڈالر جو پاکستان میں آرہا ہے وہ 14ڈالر واپس لیکر جارہا ہے یہ جو ڈائریکٹ فار انوسٹمنٹ کی بات کرتے ہیں۔ صرف یہاں یونی لیور جوAnglo Dutch Monopolyہے ، اس کی جو سالانہ یہاں پرافٹ کی انکم ہے وہ ہالینڈ کے بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح ملٹی نیشنل کی لوٹ کھسوٹ ہے امریکہ سامراج کی لوٹ کھسوٹ ہےIMFکی لوٹ کھسوٹ ہے اور پاکستان کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی لوٹ کھسوٹ ہے اس کو اگر ختم کردیا جائے تو اتنا سرمایہ بن سکتا ہے کہ ایک سال سے18ماہ میں یہاں پر تمام بنیادی سہولیات عوام کو فراہم ہوسکتی ہیں۔
انیق احمد: پاکستان کیلئے سوشل ازم انتہائی مفید ثابت ہوگا وہ سوشل ازم جو شکست سے روس میں دوچار ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر لعل خان: وہ سوشل ازم نہیں تھا وہ انسٹالن ازم تھا لینن نے اس کو مسترد کیا تھا۔ ٹراسٹکی نے مسترد کیا تھا۔ جو انقلاب کے فاؤنڈرز تھے انہوں نے اس کو مسترد کیا تھا۔ ایک صرف یہ کہ21stصدی سوشل ازم کی ہے جس کا اعلان2005میں ہوگوشاویز نے کیا وینزویلا میں۔ وہ ابھی کمپلیٹ نہیں ہے لیکن آپ کے سامنے آج کے اس عہد اور اس وقت میں چار پانچ چیزیں ہیں کہ وہاں پر اس وقت تعلیم مفت ہے۔15لاکھ لوگ ایک سال میں ہنر مند ہوئے ہیں تعلیم یافتہ ہوئے ہیں۔ وہاں پر علاج مفت ہے اس کیلئے پیسے لینا جرم ہے۔ وہ آئل ایکسپورٹ کرکے کیوبا سے ڈاکٹرز امپورٹ کررہے ہیں۔25ہزار ڈاکٹرز امپورٹ کئے ہیں اور جو کیوبن ڈاکٹر کشمیر میں آئے تھے آپ کو پتہ ہے کہ ان کی صلاحیت اور میڈیکل سیٹ اپ کیا ہے۔
انیق احمد: ڈاکٹر صاحب! صدر وینزویلا کا صدر امریکہ کے ساتھ رویہ؟
ڈاکٹر لعل خان: اس نے چیلنج کیا اس نے کہا ہمارے پاس پہاڑ بھی بہت ہیں، درخت بھی بہت ہیں ،ہاتھ بھی بہت ہیں یہ کوئی عراق نہیں ہے آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ جارحیت کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
انیق احمد:یعنی ایک چیز قومی غیرت اور قومی حمیت بھی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر لعل خان:اس نے20لاکھ کلاشنکوف عوام میں تقسیم کردئے کہ سامراج حملہ کرے تو ایک ایک بچہ لڑے گا مرے گا۔ یہ آج کا سوشل ازم ہے۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv