14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
پورے پاکستان اور دنیا میں انسانیت سوز مظالم کا خاتمہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ بچے ، بچیوں اور خواتین کے اغواء ، زیادتی کا نشانہ بننے اور قتل کا سلسلہ جاری ہے لیکن کب تک؟
پورے ملک میں روز روز کہیں نہ کہیں واقعات ہورہے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ بالکل بے حس اور مردہ بن چکا ہے۔ اس کا تدارک کرنے کیلئے قرآن کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ ***********************************************
ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں: 1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام 2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر اور اس پر تبصرہ عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔ 3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔ بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی 4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی 5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟ اور اس پر تبصرہ پڑھیں نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟ 6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا! 7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف اس پر تبصرہ پڑھیں اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف 8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے اس پر تبصرہ پڑھیں۔ الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
فرقہ وارانہ شدت کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس سے دہشتگردی پر اثر پڑے، سیاسی شدت بھی ختم کی جائے۔
علماء اور جدید مذہبی طبقے کے علم وفہم اور عمل وکردار میں بڑا فرق ہے۔ انجینئر مرزا نے رٹ لگائی ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا: ”عمار باغی گروہ کے ہاتھوں شہید ہوگا، عمار جنت کی طرف بلارہا ہوگا اورباغی گروہ جہنم کی طرف بلا رہا ہوگا”۔ بلاشبہ دو گروہ لڑیں گے تو ایک ٹھیک اور دوسرا غلطی پر ہوگا۔ پاکستان بن رہا تھا توکچھ پاکستان اور مسلم لیگ کے حامی اور کچھ مخالف تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، جمعیت علماء ہند اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جماعت ”احرار الاسلام” پاکستان اورمسلم لیگ کے خلاف تھے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی اور پاکستان و مسلم لیگ کی حمایت شروع کی۔جماعت اسلامی نہ ادھر تھی اور نہ ادھر ۔ آزادی اور سیاسی تحریک بہت بڑی قربانیاں مانگتی ہے۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے اپنے فتاویٰ کے نویں جلد میں لکھ دیا کہ انگریز نے جمعیت علماء ہند کو ختم کرنے کیلئے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھ دی ۔ آج مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کا تعلق مولانا احمد علی لاہوری ، مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا مفتی محمود اور مولانا عبداللہ درخواستی سے ہے جو جمعیت علماء ہند کے نظریاتی ساتھی تھے۔ اصل جمعیت علماء اسلام مرکزی کے نام سے تھی جو مفتی محمد شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی کی جماعت تھی ختم ہو گئی اسلئے کہ انہوں نے1970میں مولانا غلام غوث ہزاروی،مولانا عبداللہ درخواستی ، مولانا عبیداللہ انور ، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک اور مفتی محمود پر کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی کے مریدین وخلفاء میں مولانا محمدقاسم نانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی اور بہت بڑے بڑے علماء ومشائخ تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی شیخ الہند مولانا محمودحسن کے شاگردتھے اور شیخ الہند نے اپنے استاذ مولانا رشیداحمد گنگوہی سے بیعت کی تھی۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا گنگوہی سے بیعت کی خواہش رکھی اور حاجی امداللہ مہاجر مکی سے سفارش کی درخواست کی تھی ۔حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے فرمایا کہ ” میں تمہیں خود بیعت کرتا ہوں”۔ اگر حقائق کو دیکھا جائے تومولانا تھانوی کے استاذ کے اساتذہ بھی حاجی امداد اللہ سے بیعت تھے لیکن حکیم الامت اور مجدد ملت کا تمغہ اسلئے مولانا تھانوی کے سر پر سجا تھا کہ مہاجر مکی کے سلسلہ کے اصل جانشین آپ ہی تھے۔ تصوف وسلوک بھی دین کا شعبہ ہے۔شریعت و طریقت کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ مولانا رشیداحمد گنگوہینے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے علم سے اختلاف کیا، تقویٰ حاصل کرنے کیلئے بیعت ہوئے تھے۔مولانا قاسم نانوتوی نے کہا کہ ”میں حاجی صاحب سے ان کے علم کی وجہ سے بیعت ہوا ہوں”۔ مولانا رشیداحمد گنگوہی کے شاگرد مولانا حسین علی تھے ، جن کی وجہ سے شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور مولانا طاہر پنج پیری نے توحید کا پیغام پھیلایا۔ اس نے اپنی تفسیرمیں لکھا ” میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ گر رہے ہیں اور میں ان کو سہارا دیکر تھام لیتا ہوں”۔”بلغة الحیران” ۔ مفتی منیر شاکر کو شاید علم نہ ہوکہ دوسروں پر تنقید کے نشتر چلانے والوں نے گھر میں کیا دال دلیہ پکایا؟۔ مفتی منیر شاکرنے کہا کہ اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب میں لکھاکہ شاہ عبدالرحیم نے ایک بزرگ کی قبر پر مراقبہ کیا تو بزرگ نے بتایا کہ تمہاری گھر والی کے حمل میں جو بچہ ہے وہ بڑی شان والا ہوگا۔ بیگم نے بتایا کہ جب تہجد کے وقت ہاتھ اُٹھائے تو میرے ہاتھوں میں بچے کے بھی دو ہاتھ تھے جس سے میں ڈر گئی۔ پھر شاہ عبدالرحیم کو یاد آیا کہ مراقبہ میں بزرگ نے بیوی کے حمل میں موجود بچے حضرت شاہ ولی اللہ کے بارے میں خوشخبری دی تھی اور ان کا نام بھی تجویز کیا تھا۔ یہ وہ باتیں ہیں جو مردوں کو زندہ سمجھنے والوں نے عقل سے عاری عقیدت مندوں کے سامنے گھڑ رکھی ہیں۔ حضرت خضر نے بچے کو قتل کیا تو تصوف و طریقت کی کتابوں میں اتنا بڑا واقعہ نہیں۔ حضرت عیسیٰ جب مٹی کا پرندہ بناتے تو پھونک سے روح آجاتی تھی۔ حضرت ابراہیم نے چار پرندوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا پھر زندہ ہوگئے۔ اللہ نے آگ کو ٹھنڈی ہونے کا حکم دیا تھا۔ بیت المقدس میں رسول اللہ ۖ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی اور قبر میں سوال پوچھا جائیگا کہ ” اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟”۔ عیسیٰ کا باپ کے بغیر آدم کی طرح پیدا ہونا قرآن میں ہے۔ بزرگوں کا انکار کفر و گمراہی نہیں مگر قرآن وسنت پر زد نہ پڑے۔ مولانا طاہر پنج پیری کراچی تشریف لائے تھے تو میں نے ان کی خدمت میں مولانا مسعود الدین عثمانی کی توحید خالص پیش کرنا چاہی مگر اس کے چیلے ناراض ہوگئے اور سوال نہیں کرنے دیا تھا۔ مولانا مسعود الدین عثمانی جامعہ بنوری ٹاؤن اور وفاق المدارس کے فاضل تھے۔ دورہ ٔ توحید ایسا ہو کہ اپنے پرائے کا لحاظ نہ ہو مگر قرآن و سنت کا خیال رکھا جائے ۔ معراج کا ذکر قرآن وسنت میں موجود ہے۔ کوئی سوال کرے کہ ہجرت کی رات براق کیوں نہیں آیا؟۔ اگر مظالم سے بچنے کیلئے معجزات کا سہاراہوتا تو پھر کمال اور آزمائش کی بات نہ ہوتی۔ معراج اور ہجرت جیسا کوئی واقعہ صوفی کا ہوتا تو سوالات اُٹھتے اور مذاق بھی اُڑایا جاتا۔ پشتو شاعر اور عالم دین رحمن بابا کاشعر ہے کہ ”جس کا ایک قدم عرش تک پہنچتا ہے میں نے درویش لوگوں کی رفتار کو دیکھا ہے”۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء نے یہ واقعہ بیان کیا کہ خواجہ نظام الدین سلطان الاولیائ قوالی کا اہتمام کرتے تھے اور اس وقت کے محتسب قاضی ضیاء الدین سنامی ان کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ایک دن سپاہیوں کو لے کر گئے تو سلطان جی اپنے مریدوں کیساتھ ذکر میں مشغول تھے۔ خیمے کی طنابیں کاٹ ڈالیں تو خیمہ ہوا میں معلق ہوا ۔ قاضی نے کہا کہ اس سے متاثر مت ہونا۔ آئندہ آئیں گے اور اس بدعت سے روکیں گے۔ دوسری مرتبہ ذکر شروع ہونے سے پہلے سپاہیوں کیساتھ پہنچ گئے اور کہا کہ اس بدعت سے نہ رکوگے ؟۔ سلطان جی نے کہا کہ اگر نبی ۖ فرمادیں تو؟۔ قاضی رضا مندہوئے تو کیفیت طاری ہوگئی۔ دیکھا کہ نبی ۖ جلوہ افروز ہیں اور فرمایا کہ اس فقیر کو کیوں تنگ کررہے ہو؟۔ قاضی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ۖ مجھے اس کیفیت پر بھروسہ نہیں لیکن جو دین روایات کے ذریعے ہم تک پہنچاہے ،اس پر اعتماد ہے اورہم اس پر عمل کے پابند ہیں۔ جب کیفیت ختم ہوگئی تو سلطان جی نے کہا کہ اب کیا کہتے ہو؟۔ اب تو نبی ۖ نے تمہیں کیا فرمایا؟۔ قاضی نے کہا کہ روکوں گا، نبی ۖ کی خدمت میں نے کیا عرض کیا؟۔ سلطان جی نے قوال کو اشارہ کیا کہ شروع کرو۔ قوال نے شعر پڑھا تو سلطان جی وجد میں کھڑے ہوگئے، قاضی نے اس کو گریبان سے پکڑ کر بٹھادیا۔ دوسری بار وہ کھڑے ہوگئے پھر گریبان سے پکڑ کر بٹھادیا۔ تیسری بار کھڑے ہوگئے اور اس کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا چاہا مگر دست بستہ کھڑے ہوگئے۔ محفل برخاست ہونے لگی تو لوگوں نے سمجھا تھا کہ قاضی بھی مرید بن کر جائیں گے۔ قاضی نے کہا کہ اچھا میں پھر آؤں گا اور تجھے اس بدعت سے روکوں گا۔ لوگوں نے کہا کہ ابھی تو آپ دست بستہ کھڑے تھے؟۔ قاضی نے کہا کہ جب پہلی بار اس کو وجد آیا تو اس کی روح پہلے آسمان تک پہنچی۔ وہاں تک میری رسائی تھی، پکڑ کر واپس لایا ۔ دوسری بار اس کی روح عرش تک پہنچی اور وہاں سے واپس لا یا۔ تیسری بار اس کی روح عرش کے اوپر گئی ، میں جانے لگا تو حاملانِ عرش نے کہا کہ تیری اوقات نہیں ، یہ سلطان جی کا مقام ہے۔ میں تجلیات عرش کے سامنے کھڑا تھا اس بدعتی کے سامنے تھوڑا کھڑا تھا۔ پھر قاضی بیمار ہوگئے ۔ سلطان جی عیادت کیلئے جانے لگے۔ لوگوں نے کہا یہ بر ا بھلا کہتا ہے ؟۔ سلطان جی نے کہا کہ یہ عالم ربانی ہے اس کا یہ منصب ہے کہ مجھے منع کرے۔ حاضری کی اجازت مانگی تو قاضی نے کہا کہ تجھے بدعت سے روکتا رہا۔ اب اپنا چہرہ مت دکھاؤ، ایسا نہ ہو کہ میری عاقبت خراب ہوجائے۔ سلطان جی نے کہا کہ میں اتنا گستاخ نہیں کہ بارگاہ سنت میں بدعت سے ملوث ہوکر آؤں۔ توبہ کرکے آیا ہوں۔ قاضی بڑا خوش ہوا، اپنی دستار دی کہ اس کو بچھاؤ، اس پر چل کر تشریف لائے۔ سلطان نے اپنے سرپر وہ دستار رکھی اور خدمت میں حاضر ہوئے تو قاضی صاحب نے کہا کہ ” آپ وہ لوگ ہو ،جو اپنی نظر کیمیا سے مٹی کو سونا بنادو۔ آپ میری تقدیر پر نظر کرم فرمائیں کہ بری تقدیر اچھی میں بدل جائے ۔ واقعہ پر دیوبندی اور بریلوی خوش ہوںگے لیکن اہل حدیث کہہ سکتے ہیں کہ ولی کا عرش پر چڑھ جانا گستاخی ہے ۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اللہ کہتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعے میرا اتنا مقرب بن جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں ، جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ (حدیث قدسی) اس حدیث میں اللہ کا اپنے بندوں کے ہاتھ پیر بن جانا بڑی بات ہے۔ قرآن میں ملکہ سبا بلقیس کا تخت کیسے آنکھ پھیرنے کی دیر میں حاضر کیا گیا تھا؟۔ حقیقت یہ ہے کہ مولوی کی شریعت اور صوفی کی طریقت دونوں میں سب کچھ ہوسکتا ہے مگر ہدایت کامل سے دور ہیں۔مستی احوال اور مستی گفتار مسائل کا حل نہیں۔ اگر ملاکی کتابوں سے گمراہانہ معاملات نکالے جائیں تو قیصرو کسریٰ کی سپر طاقتوں کی طرح موجودہ دور میں بھی ہمارا ایک قدم نظام خلافت کے ذریعے سے امت مسلمہ اور دوسرا دنیا کی سپر طاقتوں کے حدود تک پہنچ جائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے علم الکلام کی گمراہی سے توبہ کرکے فقہ کی طرف توجہ کی توپھر فقہاء نے امام ابوحنیفہ کے نام پر علم الکلام کی گمراہی فقہ میں داخل کردی۔ جب یہ عقیدہ پڑھانا شروع کیا کہ قرآن لکھے ہوئے شکل میں اللہ کی کتاب نہیں ہے تو پھر فتاویٰ قاضی خان، صاحب ہدایہ ، فتاویٰ شامی اور مفتی تقی عثمانی نے سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا بھی جائز قرار دے دیا، اہل تصوف سے بڑھ کر اہل فقہ کی گمراہی قابل گرفت ہے۔ امام غزالی فقہ سے توبہ کرکے تصوف میں آئے تو المنقذ من ظلمات الی النور ” اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کے نام پر کتاب لکھ ڈالی”۔ پھر جس فقہ کے اندھیرے سے روشنی کا سفر کیا تھا جس سے مراد تصوف تھا تو اس تصوف میں فقہ کی گمراہیاں بھی ڈال دیں۔ یہ حقیقت تھی کہ شریعت الگ چیز ہے اور تصوف الگ ۔ جو حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ سے ثابت ہے۔ ہمارے ہاں دونوں کو خلط ملط کرکے دونوں میں بڑی گمراہی کا سامان پیدا کیا گیا ہے اسلئے دونوں کی آپس میں بنتی بھی نہیں ہے اور جہاں بنتی ہے تو وہاں زیادہ خرابیاں ہوتی ہے۔ پیسہ ہتھیانے کا چکر بنتا ہے۔ جب قرآن وسنت پر واقعی اعتماد اور بھروسہ ہوگا تو مذہبی جماعتوں کیلئے بھی معاملات آسان ہوں گے۔ کن فیکون ہوگا۔ اس کیلئے اعلیٰ ایمان اور اخلاقیات کی ضرورت ہے۔ بے گناہ لوگوں کو خود کش سے اڑانا اسلام نہیں ۔ اختلاف تو حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ کا بھی داڑھی اور سرکے بال پکڑنے تک پہنچاتھا نبی ۖ نے صحابہ سے فرمایا کہ ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔ مطلب یہ نہیں کہ خوارج کی طرح حضرت علی و حضرت عثمان پر کفر کافتویٰ لگائیں۔ مفتی تقی عثمانی نے حیلہ سے سود کو اسلامی جواز بخش دیا تو اکابر نے سخت مخالفت کی اور ان کا فتویٰ مدارس اور کتب خانوں میں ہے۔ حدیث میں ائمہ مساجد کو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق کہا گیا لیکن اس کا مقصد اچھائی کی طرف لانا ہے۔ فتنہ کے وقت میں لڑنے سے بہتر نہ لڑنا ہے ۔ حضرت علی نے بھی خوارج سے کہا تھا کہ ”اگر تم نہیں لڑوگے تو میں بھی نہیں لڑتا ہوں”۔ حضرت عثمانجب شہید کئے گئے تو حسن و حسین نے دروازے پر پہرہ دیا اور محمد بن ابو بکر پیچھے سے دیوار پھلانگ کر داخل ہوا ۔ حضرت عثمان کو داڑھی سے پکڑا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تیرا باپ یہ دیکھ لیتا تو آپ پر خفا ہوتا۔ جس پر محمد بن ابو بکر نے چھوڑ دیا اور پھر دوسرے دو افراد نے شہید کردیا۔ حضرت علی سے حضرت عثمان کی بیگم حضرت نائلہ نے واقعہ بیان کیا کہ ان دو نامعلوم افراد کو نہیں جانتی۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکر سے پوچھا تو وہ بھی نہیں جانتے تھے۔ یہ شکر ہے کہ حضرت علی نے مولویوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ عورت کی گواہی حدود میں معتبر نہیں۔ اسلئے اگر قاتلوں کا پتہ بھی چل جائے تو بدلے میں قتل نہیں کرسکتے۔ جب امیر معاویہ نے قاتلین عثمان کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تو خوارج کے سردار ذو الخویصرہ نے 20ہزار افراد کے لشکر کے ساتھ کہا کہ یہ سب قاتلین ہیں۔ جس پر حضرت امیر معاویہ نے مطالبہ ترک کردیا۔ اس وقت سے آج تک اُمت ایک اضطراب کا شکار ہے اور اس اضطراب سے نکلنے کیلئے قرآن کی طرف رجو ع کرنا بہت ضروری ہے۔ جس سے اُمت مسلمہ کے مسائل حل ہوں گے۔ سراج الحق عوامی جلسوں میں کہتا ہے کہ” سود کا ادنیٰ گناہ اپنی ماںکے ساتھ خانہ کعبہ میں36مرتبہ گناہ کے برابر ہے ”۔ اور یہ نہیں سمجھتا کہ سودکو حلال کرنے کی وعید اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ سراج الحق مولانا فضل الرحمن کو ٹارگٹ کرتا ہے کہ شرعی عدالت نے سودی نظام کے خلاف فیصلہ دیا،حکومت نافذ نہیں کرتی ۔ انگریز کے خلاف جمعیت علماء ہند نے قربانیاں دیں ۔ جاہلوں نے ان پر قوم پرستی وکفر کا فتویٰ لگایا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی بیگم کی لاش کی بے حرمتی کی گئی کہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا جائے۔صحابہ کی حرمت پر قربانی دینے والے علماء کرام تھے لیکن جماعت اسلامی اپنے ایک رکن کو ایک قرار داد کی وجہ سے کریڈت دیتی ہے۔ قاضی حسین احمدصدر ملی یکجہتی کونسل تھے تو نمائندہ ماہنامہ ضرب حق امین اللہ نے سوال کیا کہ شیعہ کافر ہیں یا مسلمان؟ تو سخت ناراض ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت میں مولانا حق نواز جھنگوی شہید شامل تھے۔ سپاہ صحابہ بدمعاش بن گئی تو مولانا فضل الرحمن نے دہشت گرد قرار دیا ۔مولانا فضل الرحمن معتدل مزاج ہیں ۔عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمن صاحب کہنا شروع کردیا جو خوش آئند ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے امریکی جہاد کو شروع سے پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا قرار دیا اور پیسے نہیں کمائے مگر ریاست کو ضرورت پڑگئی تو مجاہدین کا سوتیلا باپ بن گیا۔ مجھ سے زیادہ علماء اور مولانا پر کسی نے تنقید نہیں کی مگر میں ان کو زندہ باد کہتا ہوں ۔ البتہ انقلاب کیلئے مولانا فضل الرحمن اور علماء خود کو تبدیل کریں تو دہشتگردی کی لہر ختم ہوگی۔ مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر ”معارف القرآن” میں غلط تفسیر لکھ ڈالی ہے کہ مشرک کو قتل کرو اور زکوٰة نہ دینے اور نماز نہ پڑھنے پربھی قتل کا حکم ہے۔ دیوبندی بھی دو فرقوں میں تقسیم ہیں۔ جو سلفی کی طرف رحجان رکھتے ہیں وہ دوسروں کو مشرک سمجھتے ہیں۔ سوات میں طالبان نے بریلوی پیر کو شہید کرکے اس کی لاش بھی چوک پر لٹکادی تھی۔ سلفی گروپ داعش میں ہیں۔داعش عالمی خلافت چاہتا ہے اور طالبان مقامی سطح پر امارت اسلامیہ کے قائل ہیں۔ مفتی منیر شاکر نے کہا کہ میں محمد ۖ کو اسلئے مانتا ہوں کہ اللہ نے کہا ہے۔ میں عبد المطلب ، عبد اللہ اور آمنہ کو نہیں مانتا اسلئے کہ اللہ نے ماننے کیلئے نہیں کہا۔ جس کے جواب میں مفتی گوہر شاہ نے کہا کہ ”بات صحیح ہے لیکن اس سے نبی ۖ کی توہین ہوتی ہے۔ اگر میں کہوں کہ مفتی منیر شاکر کی عزت اسلئے کرتا ہوں کہ وہ عالم ہے اگر وہ عالم نہ ہوتا تو میں اس مینڈک کی طرح شکل کو نہ مانتا تو اس کو کتنا برا لگے گا؟۔ اللہ کیلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کتوں کا رب ہے ، خنزیروں کا رب ہے۔ لیکن یہ توہین ہے حالانکہ کتوں اور خنزیروں کا بھی کوئی اور رب نہیں ۔ اللہ مفتی منیر شاکر کو ہدایت دے ورنہ …”۔ بڑی حکمت عملی کے ساتھ فضاء کو بدلنا ہوگا۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا؟۔ بابری مسجد کو جس نے شہید کیا وہ مسلمان تھا؟۔ مسلمان عالم
ہندو لڑکی : اچھا ٹھیک یہ آپ مانتے ہیںکہ سارے مسلمان پاکستانی سوچ نہیں رکھتے ہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں؟۔ مہمان عالم دین کاجواب: مہاتما گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟، اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟، بابری مسجد کو جس نے شہید کیا وہ مسلمان تھا کیا؟، دلی کی سڑکوں پر سکھوں کی گردنیں کاٹی گئیں کیا وہ مسلمان تھے؟،گجرات کے گلی کوچوں میں جن لوگوں کو مارا گیا اور جن کو بے گھر کیا گیا کیا وہ مسلمان تھے؟۔ میری بہن میں آپ سے گزارش کررہا ہوں کہ آپ ایسا مت سوچیں۔ میںآپ کو صرف اتنی بات کہنا چاہ رہا ہوں کہ برائی برائی ہوتی ہے، اس کو آپ مذہب کے اینگل سے نہ دیکھیں، یہ موئز ان سے مسلمانوں کا کیا تعلق؟، موئزن سے ہمارا کیا تعلق؟ہم ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں، مذمت کرنا چاہیے ۔ میزبان: میں آپ کی اس بات سے بالکل متفق ہوں۔ جو دہشتگرد ہے وہ نا ہندو ہوتا ہے نا مسلمان ہوتا ہے۔ بلکہ دہشت گردی خود ایک مذہب بن گیا ہے اب۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
اگر وہ ذہنی مریض ہے تویہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟
میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ اب ان خاتون کو پاگل ثابت کیا جائے گا۔ میرے سوالات ہیں کہ اگر وہ ذہنی مریض ہیں تو انہوں نے یہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ اور جج صاحب کے ساتھ کیوں نہ کیا؟؟ یہی سلوک جس سکول میں پڑھاتی ہیں ان سکول کے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟؟ اڑوس پڑوس کے بچے ان کی ذہنی بیماری سے کیسے محفوظ رہے؟ اگر وہ ذہنی مریض ہے تو جج صاحب آپ نے ان کو پاگل خانے کیوں نہ بھیجا؟ جب آپ لوگ اس کو گھر میں قید کرکے جارہے تھے اس وقت آپ کے ہوش کدھر تھے جج صاحب؟۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
اس کا سارا حساب کتاب نیٹ پر دینا چاہیے کہ50فیصد منافع مرکز اور50فیصد صوبے کو منتقل کیا گیا؟
اربوں ڈالر کا تانبہ شمالی وزیرستان سے چین منتقل ہورہا ہے ،ایک ٹرک دہشتگردی کا شکار نہ ہوا، سوال بنتا ہے؟ سوال یہ بھی کہ وہ پیسہ کہاں ہے؟۔ ہم بتارہے ہیں آج کی سب سے بڑی خبر کہ پاکستان کے پاس6ٹریلین ڈالرز کے معدنی ذخائر ہیںیہ ذخائرجوآپ کو میرے پیچھے شمالی وزیرستان کے علاقے محمد خیل میں نظر آرہے ہیں۔ حامد میر: اگر6ٹریلین ڈالرز کی ورتھ کے منرلز ہیں تو ہمارے مسئلے حل ہوسکتے ہیں؟ انجینئر ذیشانFWO:یہ دوسرا سب سے بڑا تانبے کا ذخیرہ ہے پاکستان میں۔ حامد میر: محمد خیل سے ہم سالانہ کتنے پیسے کماسکتے ہیں؟ انجینئرFWO:ہم نے ابھی تک کوئی22ہزار ٹن تانبہ پچھلے تین ساڑھے تین سال میں چائنہ ایکسپورٹ کردیا۔ تقریباً30سے35ملین ڈالرز ریونیو جنریٹ کرچکے ہیں۔ محمد خیل کے اس پروجیکٹ میں3.5ملین ٹن کا ذخیرہ ہے، ابھی تک1.1ہم نکال چکے اور مزید2.5ملین ٹن کا ذخیرہ ہے۔ اوراس پروجیکٹ میں70فیصد محمد خیل گاؤں شمالی وزیرستان کے لوگ ہی یہاں کام کررہے ہیں۔ پروجیکٹ کے ریوینیوز کا50فیصد ہم یہاں لوکل کمیونٹی پر خرچ کررہے ہیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
حافظ حسین احمد اگر سورۂ نور میں لعان کی آیت کا حکم دیکھ لیں تو عوام کو ورغلانے کا جذبہ بالکل نکل جائیگا!
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ بل پاس ہوتا ہے کہ آپ کی بیٹی، آپ کی بیوی، آپ کی بچی، آپ کی خاتون کسی کیساتھ جائے نہ آپ اسے روک سکتے ہیں نہ آپ اس کے خلاف تھانے میں جاسکتے ہیں نہ آپ اس کو سزا دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے بات ہوئی کوشش کی گئی، مفتی تقی عثمانی کو ڈالا گیا۔ چوہدری شجاعت کو ڈالا گیا۔ مشرف نہیں مان رہا تھا کہ ہم پر دباؤ ہے امریکہ کا۔ اس بل کو منظور کرنا ہوگا، عورتوں کو آزادی دینی ہوگی۔ ہمارا اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں فیصلہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمن جوش میں آئے اورفرمایا کہ اگر یہ بل پاس ہواقومی اسمبلی میں تو ہم اسی وقت قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر باہر جائیں گے۔کہا تھا ،نہیں کہا تھا؟۔ بل پیش ہوا۔ پیپلز پارٹی نے مشرف کا ساتھ دیا۔ میں مولانا فضل الرحمن کے پاس پہنچاکہ آپ نے کہا تھا کہ اسمبلی کی چھت پر اللہ کے99نام لکھے ہیں ہمیں اس کی قسم ہے کہ اگر یہ بل پاس ہوتو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسمبلی کو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاگل نہ بنیں سیاست میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے اپنا ہاتھ چھڑا دیا میں باہر نکلا اور آج تک باہر ہوں۔
__حافظ حسین احمد جناب پر نوشة دیوار کا تبصرہ__ لعان کا حکم سورۂ نور میں نازل ہو اتو سعد بن عبادہ نے اس پر عمل سے انکار کردیا ۔ اگر لعان کا حکم قرآن ہے کہ بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑکر قتل نہیں کرسکتے اور نہ سزا دے سکتے ہیں تو دیکھنا پڑے گا کہ کیا غلط اور کیا صحیح ہے؟۔ کہیں اسلام کا حکم تو علماء اور مذہبی طبقات نے غلط نہیں سمجھ لیا ہے؟۔ اس پر مشاورت کریں!۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
باجوڑ کا سانحہ ایسا ہے کہ سننے کیلئے کان تیار نہیں دیکھنے کیلئے آنکھیں شرمارہی تھیں۔ جناب محترم! میں خود اس پروگرام کا چیف گِیسٹ تھا۔ ہوسکتا تھا کہ میں آج یہاں نا ہوتا لیکن مائوں، یار دوستوں کی دعائوں ، اللہ کے فضل سے مجھے اللہ نے بچایا،وہاں کا منظر تو بیان کرنے کا نہیں۔ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی کی، دعا کی، جتنے ساتھیوں نے پیغامات بھیجے ، ان سب کا میں مشکور ہوں۔ لیکن میں حکومت اور ذمہ دار لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر اس کاروک تھام نہ ہوا، قبائل اپنے لیے راستہ اختیار کرلیںگے کیونکہ ڈپٹی اسپیکر! ہمارے پاس وزیر اعلیٰ بشمولِ چیف سیکرٹری آئے تو وہاں پر ایک بندے نے ان سے کھڑے ہو کر کہا کہ ہمارے تین سوالوں کے جواب دے دیں یا ان لوگوں کے ساتھ بامعنی با مقصد مذاکرات کرلیں اس طرح نہ ہو جس طرح پہلے ان لوگوں کو آنے دیاپھر مذاکرات چھوڑ دیے ۔اگر وہ نہیں کر سکتے، مصلحت نہیں سمجھتے یا آپ لوگ مجبور ہیں وہ نہیں کر سکتے تو آپ ان کیساتھ جنگ کرلیں۔ آپکی ذمہ داری ہے ہماری حفاظت۔ عوام کے ٹیکسوں سے آپ کو تنخواہ دی جاتی ہے اور ہماری حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اگر جنگ نہیں کر سکتے یاکرنا نہیں چاہتے ہو یاپھر آپ لوگوں کو ہماری شہادتیںمتضاد معلوم ہورہی ہوں تو خدا را ہم منت سماجت نہیںکرتے۔ آپ نکل جائیں، یہ علاقے خالی کرلیںتو ہم اپنی حفاظت خود کر سکتے ہیںانشاء اللہ یہ ہمیں کچھ نہ کر سکیں گے۔ باجوڑ میں ایسا گھر نہ رہا جہاں جنازہ نہ اٹھایا گیا۔ جس گھر میں نماز کیلئے گیا، میزبان کہہ رہا ہے کہ میرا ایک بھانجا، ایک بھتیجا شہید ہوا ۔وہ مناظر ہم نے دیکھے پھر بھی باجوڑ کے لوگوں نے پاکستان کے خلاف نعرہ نہ لگایا، جھنڈے نہ جلائے، سرکاری املاک پر حملہ نہ کیا وفاداری کا ثبوت دیا لیکن جو لوگ حکومت کے وفادار ہیں،ہم ان کو تحفظ نہیں دے سکتے۔آپ یقین کریں وہاں کوئی برداشت نہیں کر سکتا تھا، لوگ بہت مجبور، بہت تنگ آ چکے، لاشیں اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، خدارا قبائل پر رحم کرلیں اس سے پہلے کہ قبائل ایسے اقدام پر مجبور ہو جائیں کہ پھر حکومت کیلئے بہت مشکلات ہوں گی۔ وہ ایسا قدم اٹھائیں گے کہ پھر کوئی برداشت نہ کر سکے گا۔ آج ہمارا قبائلی جرگہ ہے دیکھیں وہ کیا فیصلہ کرتاہے۔ جس طرح اور پاکستانی حفاظت کے حقدار تو قبائلی بھائی بھی حفاظت کے حقدار ہیں، ان کی بھی حفاظت کی جائے۔ محترم ڈپٹی اسپیکر! میں قائد محترم مولانا فضل الرحمن کا بے حد مشکور ہوںکہ اپنے کو ہلاکت میں ڈال کر وہاں پہنچے شہداء کے ورثاء سے ملے تعزیت کی دلاسہ دیا۔ ماشاء اللہ جمعیت علماء اسلام کے کارکنان ، شہداء کے وارث بجائے یہ کہ مولانا ان کو دلاسہ دیتے وہ قائد محترم کو فرمارہے ہیں کہ مولانا صاحب! ہم نے آپ کیساتھ عہد کیا، ہم اس کیلئے تیار تھے شہادت کیلئے تیار ہیں، ہمارے قائد بھی حیران ہوئے اور رشک کررہے تھے کہ ہمارے جیسے کارکن پاکستان نہیں بلکہ دنیا میں بھی کسی کو نہیں ملے، میں ان کارکنوں کو داد دیتا ہوں اور قائد محترم کو یقین دلاتا ہوں کہ فاٹا کا ہر ایک کارکن، ہر مشر آپ پر فداء ہے، آپ حکم کریں گے ہم لبیک کہہ کر آپ کے پاس حاضر ہوں گے اور میں وزیر اعظم کا بھی مشکور ہوں کہ پشاور آکر شہداء کی تعزیت کی اور شہداء کیلئے20،20لاکھ روپے کا اعلان کیا وہاں خود عیادت کیلئے آئے، گورنر کے پی غلام علی کا مشکور ہوں کہ اسی وقت ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہیلی کاپٹر ہائر کیا۔ انہی کی وجہ سے بیماروں کو ہیلی کاپٹر میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا جو خدمت انہوں نے کی وہ بے مثال ہے اورچیف سیکریٹری جب بھی ان سے بات ہوئی ہے فون کیا ہے انہوں نے فوراً لبیک کہا ہے بہت تعاون کیا ہے تو میں ان کا بھی بے حد مشکور ہوں اور انتظامیہ کا بھی۔ تو لہٰذا میں ایک بار پھر ایک بیمار کے پاس لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں گیاتو انہوں نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب! آپ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمارے دو بھائی شہید ہوئے اور میں یہاں زخمی پڑا ہوں کہ اللہ پاک مجھے بچالے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ قبائل آخری حد تک پہنچ چکے ہیں ذمہ دار ادارے سوچ لیں، قبائل کبھی بھی یہ بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ اس کا مقابلہ امریکہ نہیں کر سکتا تھا،48ملک نہیں کر سکتے تھے۔ ہم مجبور ہیں، یہ نہیں کرسکتے ہیںیہ قبائل کبھی بھی اس کیلئے تیار نہیں، وہاں بارڈر بھی لگا ہوا ہے یہ کس طرح آتے ہیں۔ جیکٹ ایک منٹ میں تیار نہیں ہوتی، اس میں تو میرے خیال میں کئی دن لگتے ہیں۔ یہ کہاں سیٹ ہوتا ہے یہ کہاں اس کو چھپ کر بناتے ہیںیہ باتیں لوگ ماننے کیلئے تیار نہیں ،اگر سلسلہ نہ روکا جائے تو قبائل وہ قدم اٹھائیںگے پھر حکومت کیلئے مشکل ہوگا میں حکومت اور اداروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا نا ہو کہ پھر پاکستان کیلئے مشکل ہو۔ خدا را! قبائل پر رحم کریں قبائل کو اپنا سمجھیںیہ اپنے لوگ ہیں۔ خدا کی قسم اگر کوئی بندہ پاکستان سے وفادار ہے تو قبائل پاکستان سے ہزار گناہ زیادہ وفادار ہیں، آپ وفاداری کو کیوں نہیں اہمیت دیتے ہیں؟اس کو وفادار کیوں نہیں سمجھتے ہیں؟اس کو بے وفائی پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے؟ اس کو جان پے کیوں گھسیٹا جارہا ہے؟تو لہٰذاقبائل پر رحم کرلیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
یہی وہ لوگ جن کا احادیث میں ذکر ہے اور جنہوں نے حضرت علی کو شہید کردیا تھااب علماء شہید کردئیے
کیا جب عوام ، مدارس، مساجد ، سیاسی پارٹیوں اور افغانوں کے علاوہ اپنوں کو شہید کیاتھا تو یہ مجاہد تھے؟
باجوڑ میں سانحہ ہوا بہت افسوسناک ، رات بھر نیند نہ آئی۔ بہت طبیعت پریشان رہی۔ کیسا وقت ہے کہ علماء اور طلباء تھے وہاں۔ چھوٹا سا علاقہ ہے آپ نے سنا ہوگا کہ بہت بڑا علاقہ نہیں۔ چھوٹے سے علاقے میں60،70جنازے اٹھے۔ ہر گھر میں شہید ہیں زخمی ہیں اس وجہ سے عورتیں بیوہ ہورہی ہیں بچے یتیم ہورہے ہیں، ماں باپ پریشان ہیں۔ دین کے نام پر خود کش حملے ہو رہے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہدایت دے۔ اللہ نے جو ہمیں دین کی سمجھ دی اس کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔ کون لوگ مولانا حسن جان کو شہید کررہے ہیں۔ جس نے تقریباً55مرتبہ بخاری شریف پڑھائی۔ اتنے بڑے شیخ الحدیث وہ کئی مرتبہ یہاں تشریف لائے۔ وہ صرف پاکستان کے شیخ الحدیث نہ تھے وہ عالم اسلام کے ان شیخ الحدیث میں تھے جو بالکل ٹاپ کے تھے۔ بہت اللہ نے ان کو علم عطا فرمایا ۔ بہت نیک بہت اللہ والے ان کو شہید کیا۔ شیخ الحدیث مولانا نور محمد وانا والے مسجد میں درس قرآن دے رہے تھے، خود کش حملہ کیا، مسجد کو خون سے نہلادیا کتنے لوگ اس میں شہید ہوگئے۔ مولانا معراج الدین بہت بڑے مدرس تھے ، بہت نیک تھے بہت آنا جانا تھا ان کو شہید کیااور یہ وہ لوگ ہیں جن کی انہوں نے ذمہ داری قبول کی۔ باجوڑ میں پچھلے سال ہمارے جامعہ کے سابق استاذ مفتی بشیر احمد کو شہید کیا اس بات پر کہ آپ فوجی کو کافر کیوں نہیں کہتے؟۔ ان کا ایک بچہ بڑا مجھ سے رابطے میں بھی رہتا تھا۔ اردو جانتا نہیں تھا بہت ہی نیک بچہ تھا اس سال رمضان میں اس کو بھی شہید کردیا۔ اتنے بے رحم لوگ۔ مولانا فضل الرحمن پر4مرتبہ خود کش حملہ ہوا ۔قاضی حسین احمد پر حملہ ہوا۔ مولانا طارق جمیل کو دھمکیاں دیں۔ مولانا تقی عثمانی نے مجھے فرمایا کہ مجھے ڈیڑھ سو سے زیادہ دھمکیاں دی ہوں گی۔ مجھے20سال ہوگئے اس پر بات کرتے ہوئے مجھے بھی بہت دھمکیاں دیں، بہت زیادہ مختلف طریقوں سے کوشش بھی کی انہوں نے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے دین میں ان کے بارے میں کچھ بھی احکامات نہیں ہوں گے؟ اگر آپ دیکھیں احادیث میں دین میں ، فقہاء نے جو کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ جتنے گمراہ فرقے ہیں ان میں سب سے زیادہ احادیث میں صراحتاً اور بہت تفصیل کیساتھ ذکر آیا ہے وہ خوارج کا ہے۔22،23ان کی علامات بتائی گئی ہیں۔ اتنی تفصیل کسی فرقے کے بارے میں حضور اکرم ۖ نے نہیں بتائی۔ فرمایا: یہ خوارج اٹھتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ختم کرتا رہے گا۔ پھر اٹھتے رہیں گے پھر ختم کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ یہ دجال کا ساتھ دیں گے۔ علامات میں20احادیث صحیح و حسن ہیں باقی جو اقوال ہیں صحابہ کرام یا روایات جن میں ضعف ہوتا ہے وہ الگ ہیں ۔ بعض علماء نے خوارج سے متعلق علامات والی روایات کو متواتر کہا۔ اتنی تفصیل سے، آپ لوگوں کو پتہ ہے اس کا ؟۔ کیوں نہیں پتہ؟ ، اتنا خون بہہ رہا ہے یہاں۔ اتنے لوگ یہاں مارے جارہے ہیں اتنی بربادی ہورہی ہے۔ تو آپ کیا پڑھتے ہیں یہاں؟ میں علماء اور طلبہ سے پوچھتا ہوں۔ آپ کا خون کون لوگ بہا رہے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ ایسے نو عمر ہوں گے۔ خوارج کی علامات حدثاء الاسنان بہت بڑی عمر کے نہ ہوں گے نو عمر ہوں گے۔ سفھاء الاحلام عقل کے لحاظ سے کمزور ہوں گے، عمر کم ہوتی ہے تو تجربہ کم ہوتا ہے۔ یقتلون اھل الاسلام و یدعون اھل الاوثانصحیح مسلم ۔ اہل اسلام کو قتل اور مشرکین کو چھوڑیں گے۔ فرمایا: اتنے نیک ہوں گے کہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوگی۔ تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلوں میں کچھ نہیں ہوں گے۔ تمہاری قرأت ان کی قرأت کے مقابلے میں، صحابہ کرام سے فرمارہے ہیں۔ مسلمانوں کی تکفیر کریں گے اور تکفیر کرنے کے بعد مسلمانوں کے خون کو حلال اور ان کے اموال کو حلال سمجھیں گے۔ ابن عمر نے فرمایا: شر الخلق کائنات کے بدترین لوگ ہوں گے۔ فرمایا: وہ آیات جو کفار کے بارے میں نازل ہوئی تھیں یجعلون فی اہل الاسلام ان کو اہل اسلام پر منطبق کرکے تکفیر کریں گے۔ بہت زیادہ عبادت گزار اور بڑے محنتی ہوں گے۔ ابن عباس ان سے مناظرے کیلئے گئے یہ وہ لوگ تھے جو حضرت علی کی تکفیر کرتے تھے اور ان سے وہ لڑے۔ عبد اللہ ابن خباب ایک صحابی تھے وہ کہیں مل گئے ان سے تو بات چیت کی کہ آپ عثمان غنی اور علی المرتضیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں تو ان کو اچھا سمجھتا ہوں اس بات پر ان کو شہید کیا۔ ان کی اُم ولد حاملہ تھی ،اُم ولد تو جانتے ہیں؟ جب باندی سے بچہ ہوجاتا ہے تو وہ اُم ولد ہوجاتی ہے اسکے احکام الگ ہوتے ہیں۔ وہ حاملہ تھی اس کا انہوں نے پیٹ چیر کر شہید کیا۔ اسی علاقے میں کسی عیسائی کا خنزیر چر رہا تھا تو خوارج میں کسی نے اس کو مار دیا تو انہوں نے بڑی توبہ استغفار کی اس پر اور اس سے جاکر معافی مانگی کہ تمہارا خنزیر ہمارے ہاتھوں سے قتل ہوگیا۔ اور یہ فرمایا کہ لوگ ان کو بہت نیک سمجھیں گے اور وہ اپنے عجب میں مبتلا ہونگے کہ بہت نیک ہیں۔ مسلمانوں کی طاقت کو توڑیں گے یہ بھی حدیث آتا ہے۔ اب دیکھیں عراق و شام میں کیا حالت ہوگئی ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں اور عزتیں کس طریقے سے لٹ رہی ہیں؟۔ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہورہا ہے۔ فرمایا: یہ اسلام سے ایسے نکلے ہوئے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکلا ہوتا ہے تو ان سے تو لڑنے کا حکم ہے۔ ایک روایت میں ہے کلاب النار یہ جہنم کے کتے ہونگے جو لوگ ان کو قتل کریں گے بہت مبارک لوگ ہوں گے۔ اور جو انکے ہاتھوں مارے جائیں گے بہت بڑے شہید ہوںگے۔ اتنا بڑا باب صحاح ستہ اور سیرت میںموجود ہے صحابہ کرام سے اور پھر عقائد میں بہت تفصیل سے پورا معاملہ پڑھایا جاتا ہے۔ ہم صرف زبانی جمع خرچ پر لگے رہتے ہیں۔ ان چیزوں کو دھیان سے پڑھنا چاہیے۔ ”العقیدة الطحاویة” سنا ہے نام وہ پڑھ لیں اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔ شرح العقائد میں کیا لکھا ہوا ہے مجھے بہت دکھ ہے اس بات کا کہ مذہب کے نام پر اتنی بڑی خونریزی اور یہاں کوئی بولنے کیلئے تیار نہیں، کیوں نہیں بولتے؟۔ انسانی جان تو بہت بڑی ہے۔ طلباء علماء کرام کو مارنا یہ کیسا دین ہے؟۔ پاکستان پھر بھی کافی کچھ بچا ہے کیونکہ یہاں فوج مستحکم تھی۔ عراق، شام ، لیبیا،الجزائر، یمن، صومالیہ، اور سوڈان میں جاکر تو دیکھیں کچھ نہیں بچا ہے وہاں۔ ایک دفعہ ایک عرب شخص ملتزم پر دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ بہت زیادہ اس نے چیخ و پکار اور آہ و فریاد کی تو میں نے پوچھا کہ کیا مشکل ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہم لیبیا سے ہیں روزانہ پانچ سو لوگ قتل اور ہماری عزتیں لٹتی ہیں کوئی نہیں جو ہماری فریاد سنے۔ نا میڈیا، ناOICاور نااور کوئی ایسے ممالک ہیں جہاں انسانوں کے بارے میں بات ہو۔ ہم کو پوری دنیا نے لاوارث چھوڑ دیا۔ ہم ذلیل، قتل ہورہے ہیں تویہ ایک جگہ بچی ہے کہ ہم یہاں پرآکر اللہ کو پکاریں۔ اللہ ہدایت دے ،پاکستان کو سلامت رکھے ۔ جو شہید ہوئے اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے۔جو زخمی ہیں اللہ ان کو صحت عطا فرمائے۔ شہداء کے گھر والوں کے بچے ، خواتین، ماں باپ اللہ ان کو صبر عطا فرمائے اور اللہ ان کو تباہ و برباد کرے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
جیونیوز پر ”جرگہ” میں سلیم صافی نے حکیم اللہ محسود کی ویڈیونشر کی، جو سوشل میڈیا پرپھر گردش کر رہی ہے !
حکیم اللہ محسود کی کیا رائے تھی جماعت اسلامی کی قیادت کے بارے میں؟۔ آئیے آپ کو اس کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔سلیم صافی : جرگہ جیونیوز حکیم اللہ محسود: … وہ قاضی حسین احمد جس پر پاکستانی طبقہ ناز کرتا تھا، پاکستان کے مدرسین ناز کرتے تھے، پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ناز کرتا تھا، وہ قاضی حسین احمد کھلم کھلا ٹی وی پر سلیم صافی کے پروگرام میں اعلان کرتا ہے کہ پاکستان میں جہاد ، جہاد نہیں فساد ہے، پاکستان میں فدائی عملیات فساد ہے۔ افغانستان میں جہاد، جہاد ہے ، حالانکہ کرزئی کا اتحاد بھی امریکیوں کے ساتھ اور پاکستان کا اتحاد بھی امریکیوں کے ساتھ ہے، کرزئی حکومت امریکہ کی دوست اور پاکستانی حکومت بھی امریکہ کی دوست ہے۔ جیکب آباد کے اڈے پر امریکی ، بلگرام میں امریکی، بلوچستان میں امریکی، اے قاضی حسین احمد ہمیں فرق واضح کردو کہ افغانستان کے جہاد کو کیوں جہاد کہہ رہے ہو اور پاکستان کے جہاد کو کیوں فساد قرار دیتے ہو۔ میں نے تمہیں پہچان لیا کہ تم وطن پرست ہو، وطن کی حفاظت چاہتے ہو،اسلام کی حفاظت نہیں چاہتے، مسجد و مدرسے کی حفاظت نہیں چاہتے، اپنااقتدار قربان نہیں کرسکتے، اسلام سے محبت نہیں ، سیکولر نظرئیے کے مالک ہو۔ میں کبھی بھی آپ کے قول پر اعتماد نہ کروں گا، تمہارے انٹرویو پر اعتماد نہ کروں گا، تمہاری ترجمانی پر اعتماد نہ کروں گا۔ پاکستان کا قانون کفری ہے، اس پر فیصلے کرنا کفر ہے۔ اسکے کفر ہونے کی دلیل اللہ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے سورة المائدہ44،45،47،ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلٰئک ھم الکافرون ان کفری قانون کے مطابق جس نے فیصلہ کیا وہ کافر ہے،فاؤلٰئک ھم الفاسقون وہ فاسق ہے، فاؤلٰئک ھم الظالمونوہ ظالم ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو شہید کردیا، یہ وہ نظام ہے جس نے شریعت کا نعرہ لگانے والے طلباء کو دریا میں پھینک دیا، یہ وہ قانون ہے جس نے سوات میں شریعت کا نعرہ لگانے والے طلباء کو درختوں سے لٹکادیا، یہ وہ قانون ہے جس نے سوات کے شریعت پسند طلباء کو دربدر کردیا، ان کی عورتیں کیمپوں میں پڑی ہیں، سوات کی عورتیں جیلوں میں ہیں، مہاجر ہوگئی ہیں، ان میری بہنوں کی بے عزتی ہوئی۔ واللہ، باللہ ، تاللہ، پاکستان کی حکومت کو معاف نہیں کروں گا۔ اس نظام کو معاف نہیں کروں گا ۔ ان سب دشمنوں کے سامنے میرا نعرہ ہے کہ دنیا میں غیرت مند لوگوں کے دو ہی کام ہوتے ہیں، یا شہید ہوجاتے ہیں یا پھر فتح و کامیابی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے عمران خان کی طرح تمام سول و ملٹری بیوروکریٹس اور سیاسی و غیر سیاسی رہنماؤں کو توشہ خانہ میں دھر لیا جائے ،جرمانہ وصول کیا جائے
ہم اپنوں اور پوری دنیا کو یہ بتادیں کہ اسلام نے انسانیت کو دورِ جاہلیت سے نکال کر کیا کیا تحائف دیے ہیں اور اپنی جہالت سے پھر کس طرح قرآن کی معنوی تحریف کا شکار ہوئے؟
جب امریکہ میں9/11کا واقعہ ہوا تو افغانستان کا کیا حال کردیا گیا؟۔ قندھار امریکی ائیر بیس سے گوانتا نامو بے تک کی داستانیں افغانستان کے سفیر مُلا عبد السلام ضعیف اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے علاوہ ان گنت داستانیں ہیں جو یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ پھرعراق اور لیبیا کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ پاکستان میں خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات سمیت تسلسل کے ساتھ چھوٹے بڑے واقعات ہوئے، سانحہ باجوڑ بھی اس تسلسل کا ایک حصہ ہے، اس کے بعد بھی خودکش دھماکوں کو کنٹرول کرنا افغانستان اور پاکستان کے بس کی بات نہیں۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو پاکستان میں علماء قرآنی آیت پڑھتے تھے کہ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الملآ ئکةِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ(الانفال:12) ترجمہ: ”جب آپ کے رب نے فرشتوں کو وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ عنقریب میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنیں مارو اورہر جوڑ پر ضرب لگاؤ”۔ جب تلواروں کی جنگ ہو تو کارگر ضرب گردن پر ہوتی ہے لیکن کبھی گردن کا موقع نہیں ملتا تو کسی جگہ پر بھی ضرب لگا کر دشمن پر تسلط حاصل کیا جاتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ علماء اور خطیبوں نے منبروں پر یہ کرنا شروع کردیا کہ ”کافروں کی گردنیں مارو اور ان کو ہر ہر جوڑ پر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کردو”۔ جنوبی وزیرستان علاقہ محسود میں پہلا گروپ عبد اللہ محسود کا تھا جو گوانتا ناموبے سے رہا ہوگیا تھا۔ دوسرا بیت اللہ محسود کا تھا جس کا گھر بار بنوں میں تھا اور وزیرستان کی سرزمین پر اس کی کوئی جائیداد نہیں تھی۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وزیرعلاقہ میں پہلے سے طالبان کے گروپ موجود تھے جن میں جنوبی وزیرستان کے نیک محمد اور شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ زیادہ مشہور تھے۔ شمالی وزیرستان میں مشہور بدمعاشوں کو طالبان نے کھمبوں پر لٹکایا تو عوام بڑی خوش ہوئی۔ طالبان کو عوام میں ہر جگہ زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ جتنے بدمعاش غنڈے تھے وہ بھی طالبان بن گئے۔ کمزور اور غریب طبقہ بھی طالبان بن گیا۔ سب سے زیادہ طالبان کا گڑھ وزیرستان کا محسود علاقہ بن گیا۔ وزیر علاقے سے جو ازبک وغیرہ بے دخل کئے گئے تھے وہ بھی محسود علاقے میں کیمپ لگاکر آباد ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ ازبک اور مقامی طالبان کے کیمپ قریب قریب تھے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مقامی طالبان پر بمباری کی گئی جس میں ہمارے اسکول کبیر پبلک اکیڈمی کا ایک برکی طالب علم شہید اور ایک اُستادزخمی ہوئے۔ جان محمد اورکزئی گورنر نے محسود قبائل کو پشاور گورنر ہاؤس طلب کیا اور ان کو پوری تفصیل بتائی کہ کس طرح ازبک محسود ایریا میں گئے اور کس کس نے کہاں کہاں ان کو ٹھہرایا تھا؟ جس پر جمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولانا عصام الدین محسود نے کہا کہ صاحب! میں معافی چاہتا ہوں جتنی تفصیل آپ کو معلوم ہے اتنی ہمیں پتہ نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آپ نے ازبک کے کیمپ کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟۔ جس پر جنرل اورکزئی نے کہا کہ اگر ہم نہ کرتے تو امریکہ یہ کرتا۔ یہ تسلی بخش جواب نہ تھا لیکن طاقتور کے سامنے کون بول سکتا تھا؟۔ باجوڑ واقعہ کے بعد سابق سینیٹر مولانا محمد صالح شاہ قریشی سے شیر عالم برکی نے تفصیل سے انٹرویو لیا ہے جس کی کچھ معلومات عوام اور بااثر طبقات تک پہنچ جائیں تو مفید ہوگا۔ انگریز دور میں کچھ قبائلی سرکاری ملکان کو مراعات ملتی تھیں۔ ماہانہ2روپے ،5روپے ،50روپے،120روپے وغیرہ جن جن افراد کو ملتے تھے تو انگریز دور میں ان کیلئے یہ بہت بڑا اثاثہ ہوتا ہوگا۔ جب انگریز ہندوستان چھوڑ کر گیا تو بھی کافی عرصہ تک برطانیہ سے انگریز سرکار کے دُرِ یتیموں کو وظیفہ ملتا تھا۔ پھر آزادی کے بعد پاکستان نے بھی ان ملکان میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ قبائلی علاقوں پر سرکار کا جتنا خرچہ ہوتا تھا اس میں ملکان کے پیسے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھے لیکن انگریز کے نمک خوار کے نام سے بدنام ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو سینیٹر صالح شاہ کیلئے6ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کرکے پورے قبائل کا گرینڈ چیف بنادیا۔ امریکہ سے عبوری وزیر اعظم معین قریشی آئے تھے تو قبائل میں بھی قومی اسمبلی کے ممبر وں کیلئے سرکاری ملکان کی جگہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کردیا تھا۔ پہلے جنوبی وزیرستان میں1300ملکان کے ووٹوں سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوتا تھا۔ جس میں ملکان کی اکثریت ووٹ بیچتے تھے۔جس طرح آج ٹانک میں بعض لوگوں نے قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے بھی فیس رکھی ہے اسی طرح ملکان بھی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے کبھی دستخط کرتے تھے اور بعض اس پر مفاد بھی اٹھاتے ہوں گے۔ جب طالبان نے چندوں اور مالی مفادات کا مزہ چکھ لیا تو وہ بھی دیوانے ہوگئے۔ کئی کتابوں کے مصنف اسماعیل ساگر جس نے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ویلاگ بھی کئے ۔ اس نے بتایا کہ پنڈی کے قریب بلیک واٹر نے بڑے پیمانے پر فوج اور پولیس سے نکالے گئے بدمعاش بھرتی کئے تھے اور اربوں روپے قبائل میں خرچ کئے۔ جب9/11کا واقعہ ہوا تو ہم نے ماہنامہ ضرب حق کا خصوصی شمارہ نکالا تھا اور اس میں بنوں کے ایک جوان حبیب اللہ کے خواب کی بڑی سرخی لگائی تھی۔ جس میں نبی کریم ۖ نے فرمایا تھا کہ” اللہ امریکہ کو تباہ کردے”۔ پہلے اس کو وہاں کے مذہبی طبقے نے تنگ کیا کہ تم شہرت چاہتے ہو پھر بڑے بالوں والے اٹھاکر لے گئے اور کہا کہ اگرپھر زبان کھولی تو پھر نظر نہیں آؤ گے۔ ہمیں یہ معمہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک خواب میں کونسا ایسا جرم ہے کہ اس بیچارے کو دھمکیاں دی گئیں۔ جب اسماعیل ساگر نے کہا کہ میں پہلے ڈر کے مارے بتا نہیں سکتا تھا اسلئے کہ حالات بہت مشکل تھے تو ہم سمجھے کہ یہ کرایہ دار افراد کی کاروائی ہوسکتی ہے لیکن پھر جب مُلا ضعیف کی روداد یوٹیوب پر دیکھی تو سمجھا کہ یہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے ہمیں امریکیوں کی دسترس سے بچایا ہو۔ سینیٹر صالح شاہ کا یہ انٹرویو مکمل اردو ترجمے کے ساتھ تمام میڈیا چینلوں پر نشر ہونا چاہیے اسلئے کہ ایک تو انہوں نے اپیل کی ہے کہ عوام تک یہ باتیں پہنچائی جائیں۔ دوسرا یہ کہ جنرل فیض حمید نے جن قبائلی رہنماؤں کو افغانستان بھیج کر تحریک طالبان سے صلح کی کوشش کی تھی اس میں اس کا مکمل احوال ہے۔ ایک تو جنرل فیض حمید نے سرکاری ملکان کے معطل شدہ وظائف کو دوبارہ جاری کردیا تھا جو انضمام کے بعد ختم کئے گئے تھے۔ دوسرا یہ کہ پہلے یہ مذاکرات طالبان حکومت سے پاکستان کی حکومت کی طرف سے ہوئے تھے اور پھر جب بقول مولانا صالح شاہ کے جب ہم نے پاکستانی طالبان سے براہ راست رابطہ کیا تو افغان طالبان ناراض ہوگئے کہ تم نے براہ راست بات کیوں کی؟۔ جس سے یہ اعتراض بالکل لغو بن جاتا ہے کہ پاکستان کو افغان حکومت سے ہی براہ راست بات کرنی چاہیے تھی۔ ایک طرف پاکستانی یہ چاہتے تھے تو دوسری طرف افغان طالبان کی بھی یہی خواہش تھی۔ تیسرا یہ کہ تحریک طالبان پاکستان سے یہ طے ہوگیا تھا کہ اگر قبائل کی اکثریت دوبارہ انضمام چاہتی ہو تو ان کا مطالبہ مان لیا جائے گا اور اگر وہ انضمام نہ چاہتے ہوں تو وہ اکثریت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ لیکن اس دوران جنرل فیض حمید کو تبدیل کردیا گیا اور بات ادھوری رہ گئی۔ مولانا صالح شاہ قریشی نے یہ بھی بتایا کہ جو قبائل پہلے انضمام کے حق میں تھے وہ بھی اب مخالف ہوگئے ہیں۔ قبائلی عوام بھی امن چاہتے ہیں اور فوجی بھی امن چاہتے ہیں لیکن وہاں امن ہے نہیں۔ کتے اتنے بڑھ گئے ہیں جو جانوروں کو کھاجاتے ہیں۔ ایک ایک آدمی کے کئی کئی جانور کھاکر کتوں نے عوام سے ان کا روزگار چھین لیا ہے لیکن سرکار نہ کتوں کو خود مارتی ہے اور نہ عوام کو مارنے کی اجازت دیتی ہے۔ خنزیر بہت زیادہ ہوگئے ہیں جو فصلوں کو تباہ کرتے ہیں جہاں گھاس میں خنزیر لوٹیاں لگاتے ہیں تو اس کو بدبو کی وجہ سے جانور نہیں کھاتے۔ عام آدمی کو پستول رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے لیکن جب دو قومیں آپس میں لڑتی ہیں تو بھاری اسلحوں سے ایک دوسرے کو تباہ کرتے ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان پر حکومت کی طرف سے پابندی کیوں نہیں لگتی؟۔ وزیر ، سلمان خیل اور دوتانی قبائل میں وانہ کے قریب بڑی لڑائی ہوئی، اس طرح شکئی اور شکتوئی میں لڑائیاں ہوئی ہیں۔ جب فوجی اور طالبان ایک دوسرے پر فائر کھولتے ہیں تو بھی عوام متاثر ہوتے ہیں۔ اتنے آپریشنوں کے باوجود آج تک امن نہیں آسکا اور ہمیں 7سالوں تک مہاجر بنادیا گیا تھا۔ ہم بنوں ، پنجاب، ژوب، سندھ اور مختلف علاقوں میں پناہ گزینی کی زندگی بھی گزار چکے ہیں اور بدامنی کی وجہ سے اکثریت ہمارے علاقے کی طرف اپنی آبادی آج بھی رُخ نہیں کرتی ہے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ بدامنی سندھ ، کراچی، بلوچستان، بنوں اور پنجاب ہر کہیں پر ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں کون لوگ محفوظ ہیں؟۔ لیکن لوگ رہتے ہیں۔ کل بھی لکی مروت میں ایک بندے کو قتل کردیا گیا تو کیا لوگ اپنا وطن چھوڑ دیں؟۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ اپنا علاقہ آباد کریں گے تو امن آئے گا۔ لطیفے کی بات یہ ہے کہ مولانا صالح شاہ نے کہا کہ جن لوگوں کو انگریز نے وظائف دئیے تھے وہ کہتے ہیں کہ تم کونسا انگریز کا سر قلم کرکے لائے ہو جو اتنی بڑی ملکی مل گئی؟۔دوسرے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ کونسے انگریز کے سر قلم کرکے لائے تھے جن کو یہ اعزاز دیا گیا؟ ۔ حالانکہ یہ اعزازات سرکار کی وفاداری میں دئیے گئے ہیں۔ انگریز کے سر لانے والوں کو کیوں اعزاز ملتا؟۔ تحریک طالبان پاکستان نے امریکہ کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں ان کے افغان طالبان معترف ہوں گے۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے جو دشمنیاں اپنوں سے مول لی ہیں وہ بھی خطرناک ہیں۔ بیت اللہ محسود اور عبد اللہ محسود گروپوں نے بھی ایک دوسرے کیخلاف کاروائیاں کی ہیں۔ ہم نے بھی تجویز پیش کی تھی کہ ان سے مذاکرات کرکے پاکستان میں آباد کیا جائے۔ ان میں بہت سے وہ لوگ ہیںجنہوں نے ایمانی جذبے کی بنیاد پر امریکہ کے خلاف جہاد کیا اور اب اس ماحول میں بہت پکے ہوگئے ہیں۔ مفتی عبد الرحیم اور جنرل سید عاصم منیر نے ان کو خوارج قرار دیا ہے لیکن ان کو خوارج بنانے والے کون ہیں؟۔ ایک دن میں یہ لوگ من و سلویٰ کی طرح آسمان سے زمین پر نہیں اترے ہیں بلکہ20سال میں نوزائدہ بچے بھی جوان ہوجاتے ہیں۔ افغانستان میں داعش ، تحریک طالبان پاکستان ، حقانی نیٹ ورک ، ملا یعقوب اور دوسرے افراد کے درمیان اس سے زیادہ بد اعتمادی کی اطلاع ہے جو پاکستان کی فوج اور سیاستدانوں کے درمیان موجود ہے۔ اس طرح شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث کے درمیان پاکستان میں بھی منافرت کی ایک فضاء ہے۔ اگر ہم سب نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو یہ خطہ پھر آگ اُگل سکتا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے کرے گا اور افغان طالبان ٹھکانے چھوڑ کر بھاگ رہے ہوں گے۔ پاکستان میں جب بد امنی کی فضاء تھی تو سرکاری گاڑیوں پر نمبر پلیٹ تک نہیں لگائے جاتے تھے۔ پہلے سے زیادہ سیاسی عدم استحکام اب پیدا ہوا ہے اور اس کی بنیادی وجہ پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی پارٹیوں عمران خان اور ن لیگ کے درمیان دشمنی کی فضاء ہے۔ مریم نواز کافی عرصے سے خاموش تھی اور اب سوشل میڈیا پرعمران خان کو سزا دینے والے جج ہمایوں دلاور کی ایک ویڈیو کسی نامعلوم عورت کے ساتھ وائرل ہوئی ہے، اس سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ کی ویڈیو بھی بہت ہلکے انداز میں وائرل ہوئی تھی جس میں خاتون کا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن جنرل باجوہ کی تصویر واضح تھی۔ اس سے پہلے بھی ایک جج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ گہری سازشیں چل رہی ہیں۔ قرآن میں سورہ یوسف کو احسن القصص قرار دیا گیا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی عام بدچلن نہیں تھی اور حضرت یوسف علیہ السلام بھی ایک تو پیغمبر تھے اور دوسرا انہوں نے فرمایا :”میں اپنے نفس کو بری نہیں سمجھتا بیشک نفس سرکشی کی طرف لے جاتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے”۔ (تیرہواں پارہ) ۔ تحریک انصاف اور ن لیگ کے زرخرید افراد ایک دوسرے کو ویڈیو لیک کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ویڈیوز بھی لیک ہوجاتی تھیں۔ جس سے پورا ملک بداعتمادی کی فضاؤں میں لٹک گیا۔ اب بھی پتہ نہیں کیا کیا ہے اور کس کس کی کیا کیا ویڈیو آئے گی؟۔ بلیک میلنگ کے ذریعے سے ملک میں استحکام نہیں آسکتا بلکہ فحاشی و عریانی اور بد اعتمادی کی فضائیں ملک و قوم میں بنتی ہیں۔ ہم نے اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں بہت مضبوط دلائل دئیے ہیں کہ اللہ نے قرآن کے ذریعے انسانیت کو کیا کیادیا تھا اور ہم نے کیا کیا کھویا ہے؟۔ 1:سورہ محمدۖ میں ہے کہ جنگی قیدیوں کو احسان کرکے بھی آزاد کرسکتے ہیں اور فدیہ لے کر بھی آزاد کرسکتے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن نے جنگ میں قید ہونے والے کسی بھی فرد کو غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت نہیں دی ہے اور اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی بھی اجازت نہیں دی ہے اور لمبے عرصے تک قید کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔ جب نبی ۖ نے فرمایا کہ عورتوں پر ہاتھ بھی مت اٹھاؤ تو ان کو لونڈیاں بنانے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟۔ جب عیسائیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے فتح کیا تو مسلمانوں کو بے دریغ شہید کیا گیا، ان کی عزتیں لوٹی گئیں اور مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا تو عیسائیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک نہیں کیا۔ کسی کو قتل نہیں کیا اور نہ کسی عورت کی عزت لوٹی گئی۔ صرف فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور جن کے پاس فدیہ دینے کیلئے کچھ نہیں تھا تو ان کو بغیر فدیہ احسان کیساتھ چھوڑ دیا اور قرآن پر من و عن عمل کیا۔ آج مغرب کے عیسائی صلاح الدین ایوبی کو بہت اچھے حکمران کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ” اے بنی اسرائیل ! یاد کرو جب آل فرعون تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کی عزتیں لوٹتے تھے”۔(القرآن)۔ جب آل فرعون بھی نبی اسرائیل کو لونڈیاں بناتے تھے تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کوآل فرعون کی جگہ لوگوں پر لونڈیاں بنانے کیلئے مسلط کیا ہو؟۔ جب روس نے کمیونزم اور سوشلزم کے ذریعے سے انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کا پروگرام دیا تو اللہ نے روس کو سپر طاقت بنادیا۔ اسی طرح جب امریکہ نے اپنے ملک میں غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی تو اللہ تعالیٰ نے امریکہ کو بھی سپر طاقت بنادیا۔ اگر مسلمان بھی یہ طے کرلیں کہ دنیا کو غلامی سے آزادی دلانی ہے تو پھر ان کو بھی دنیا کی خلافت مل سکتی ہے۔ 2: قرآن میں بیوی کا حق مہر شوہر کی استطاعت کے مطابق ہے لیکن قرآنی الفاظ پر علماء و فقہاء نے توجہ نہیں دی ہے۔ اگر شوہر ارب پتی ہے یا کروڑ پتی ہے یا لکھ پتی ہے یا پھر ہزار اور بالکل بھی حق مہر کی صلاحیت سے محروم ہے تو عورت بھی اس پر راضی ہوجائے تو حرج نہیں ہے۔ عورت کی شوہر کی طرف نسبت میں بھی اتنی اہمیت ہے کہ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے بھی طلاق دی جائے تو مقرر کردہ حق مہر کا نصف اور اگر مقرر نہ ہو تو امیر پر اپنی وسعت کے مطابق اور غریب پر اپنی وسعت کے مطابق دینا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر عورت نصف سے کم پر بھی راضی ہو تو ٹھیک ہے اور مرد نصف سے زیادہ بھی دے تو ٹھیک ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے وہ نصف سے زیادہ دے اور ایکدوسرے پر فضل نہ بھولو۔ قرآن میں چونکہ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کا مسئلہ ہے اور طلاق شوہر ہی کی طرف سے ہوتی ہے اسلئے یہ واضح کردیا کہ جب شوہر چھوڑنا چاہتا ہے جس کے ہاتھ میں طلاق کا گرہ ہے تو اس کو اپنے حق سے زیادہ دینا مناسب ہے۔ نادان فقہاء نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ طلاق مرد کا حق ہے اور عورت کا حق خلع اس وقت ہے جب مردخلع دینے پر راضی ہو۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے غیر فطری فقہی مسائل نے جنم لیا ہے کہ جب مرد تین طلاق دے پھر اس سے مکر جائے اور عورت کے پاس دو گواہ نہ ہوں اور خلع بھی عورت کو نہ ملے تو عورت اپنے شوہر کے ساتھ حرامکاری پر مجبور ہوگی۔ حالانکہ اسلام ایسی جہالت کے تصور کا بھی قائل نہیں ہے۔ سورہ نساء آیت 19میں پہلے اللہ نے نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ جو چیزیں بھی شوہر نے دی ہیں اور وہ لے جانے والی ہیں جیسے کپڑے ، چپل، زیور، نقدی، گاڑی اور تمام منقولہ دی ہوئی اشیاء بھی ساتھ لے جاسکتی ہے۔ ان میں بعض چیزیں بھی شوہر واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔ مگر عورت کھلی فحاشی کرے تو ۔ اور عورت چھوڑ کر جارہی ہو تو بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ اگر وہ بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز بری لگے اور اللہ اس میں بہت سارا خیر پیدا کرے۔ آیت19النساء کو عوام و خواص اچھی طرح سے تدبر سے دیکھیں۔ پھر آیت20اور21النساء میں شوہر کے طلاق کا ذکر ہے۔ جس میں جتنی بھی چیزیں دی ہیں منقولہ و غیر منقولہ اشیاء مکان ، دوکان، پلاٹ، زمین، باغ، فیکٹری اورمل سب کی سب طلاق شدہ بیوی کی ملکیت ہوں گی بھلے خزانے دئیے ہوں۔ خلع اور طلاق میں حقوق کا فرق ہے۔ اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرتی ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں تو اس پر خود بخود خلع کا اطلاق ہوگا۔ اور اس کو خلع کے حقوق ملیں گے۔ اگر اس کے پاس گواہ ہوں گے تو طلاق کے حقوق ملیں گے۔ جب خلع و طلاق کے حقوق کا مسئلہ سمجھ میں آجائے تو پھر طلاق کی حساسیت بھی سمجھ میں آئے گی۔ طلاق کیلئے اشارہ کنایہ اور صریح الفاظ کے تمام ابحاث اس وقت کارآمد ہونگے جب خلع و طلاق کے حقوق کا پتہ چلے گا۔ قرآنی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بار بار صلح و اصلاح،باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر طلاق کے بعد رجوع کی اجازت دی ہے۔ جب میاں بیوی رجوع کیلئے راضی ہوں اور مولوی فتویٰ دے کہ جب تک حلالہ نہیں ہوگا رجوع نہیں ہوسکتا تو یہ اتنی بڑی خباثت ہے کہ امریکہ نے جتنے مظالم مسلمانوں پر کئے ہیں اس سے زیادہ حلالہ کی لعنت اور بے غیرتی اس پر بھاری ہے۔ ہم نے اس پر اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں ہر طرح کے دلائل دئیے ہیں لیکن مولوی غیرت نہیں کھاتا ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ”قرآن میں معنوی تحریف بہت ہوئی ہے ”۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری)قرآن میں معنوی تحریف کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ خلع کیلئے سورہ نساء کی آیت19کے بجائے سورہ بقرہ کی آیت229سے خلع مراد لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس میں2مرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔ اللہ نے آیت229البقرہ میں پہلے3مرتبہ طلاق کا ذکر کیا ہے نبی ۖ نے فرمایا کہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں تسریح باحسان تیسری طلاق ہے۔ جس کو دیوبندی مکتبہ فکر کے وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے اُستاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کتاب ”کشف الباری شرح بخاری” اور بریلوی مکتبہ فکر کے تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے اُستاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی کتاب ”نعم الباری شرح بخاری” میں نقل کیا ہے۔ آیت229میں3طلاق کے بعد عورت کے حق کا ذکر ہے کہ دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے ہیں مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ اگر وہ دی ہوئی چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں میں رابطے کا ذریعہ بنے گی اور اس کی وجہ سے دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ ناجائز جنسی تعلقات میں مبتلا ہوجائیں گے تو پھر اس کو فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیں۔ یہ وہ صورت ہے کہ جب دونوں نے اور فیصلہ کرنے والوں نے یہ طے کیا ہے کہ اب صلح نہیں ہوگی تو پھر دنیا میں مرد کی غیرت بھی کارفرما ہوتی ہے اور طلاق کے بعد بھی دوسرے شوہر سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر طلاق ہوجائے تو اس سے نکاح کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ آیت230البقرہ۔ جب اس سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے اور اس کے بعد کی آیات میں بھی معروف اور صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے تو حلالے کاجاہلانہ تصور بالکل باطل ہوجاتا ہے۔ لیکن جب جہالت اور خواہشات کا خبط سوار ہوجائے تو لوگ عزت کو لوٹنے اور لٹانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور ایسا اسلام کس کو قبول ہوگا؟۔ 3: جس طرح نکاح میں حق مہر ایک اعزازی چیز ہے جو اگر بیوی شوہر کو بھی دے تو وہ خوشی خوشی اس میں سے کھاسکتا ہے۔ اگر نکاح و طلاق کا اسلامی قانون دنیا کے سامنے آجائے تو پوری دنیا کی خواتین اسلامی نظام کا مطالبہ کریں گی۔ آج عرب بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر اس کا مال کھاتے ہیں اور پختون جنہوں نے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنا ہے وہ بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر مال کھاتے ہیں تو پھر دہشت گردی سے اسلام نہیں آسکتا۔ ہماری حکومت ، قبائلی عمائدین ، علماء اور تعلیم یافتہ طبقے سے اپیل ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق دلانے کیلئے صف اول کا کردار ادا کریں اور اس میں وہ دوسروں کے محتاج نہیں آگاہی کا اعلان کریں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv