پوسٹ تلاش کریں

70سالوں میں پاکستانی ریاست بلوچوں کے ساتھ جو کررہی ہے30دنوں میں جو کچھ ہوا یہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

70سالوں میں پاکستانی ریاست بلوچوں کے ساتھ جو کررہی ہے30دنوں میں جو کچھ ہوا یہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
(اسلام آباد) ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آپ جو اتنے بڑے بڑے کیمرے لاتے ہو،وہاں (بلوچستان، کوئٹہ) پرکوئی نہیں آتا۔بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جب آپ کیFCعورتوں کو مارتی ہے۔جبFCنے خوشاب میں دو بچوں پر گولہ بارود پھینکی وہ نیوز آپ لوگوں نے کبھی نہیں دی۔ آپ لوگوں میں سے کسی بھی میڈیا چینل کو میں چیلنج کرتی ہوں کہ آئے بلوچستان میں، آپ لوگوں میں کس نے تربت، خوشاب اور آواران دیکھا ہے؟۔ آواران میں آپ لوگوں کو ویزہ لگاکر جانا پڑے گا۔ یہ ہے وہ بلوچستان جس کو آپ نے دیکھا نہیں ہے جس کو صرف اورصرف واٹس ایپ کے پیسٹ بیانئے سے ملاکر میچ کیا ہوا ہے۔ اس بلوچستان کو دیکھنے کی آپ میں جرأت نہیں ہے۔ اگر آپ دیکھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ آپ کے اندر انسانیت ہے تو آپ کی آنکھیں شرم سے ڈوب مرنی چاہئیں۔ شرم کریں آپ لوگوں نے ایک قوم کی70سالوں سے خونریزی کی ہے۔70سالوں میں آپ نے ان کی عورتوں کو نہیں بخشا، ان کے مردوں کو نہیں بخشا۔آپ ہم سے مذمت کرواکر اپنے ریاستی جبر کو نہیں چھپا سکتے۔ آپ ہم سے مذمت کروانے سے پہلے سب سے پہلے یحییٰ کی مذمت کروائیں، سب سے پہلے اپنے ہیرو پرویز مشرف کی مذمت کروائیں جس نے ایک80سالہ بزرگ اکبر بگٹی پر بھی گولہ بارود مارے، اس نے اس کو بھی مارا، ٹھیک ہے ناں جائیں! اپنی ریاستی مشینری سے مذمت کروائیں کہ اس نے بلوچوں کی نسل کشی کیوں کی۔آج بھی وہ نسل کشی کیوں کررہاہے؟۔ یہ ہے آپ کی ریاست کی حقیقت کہ رات کو ساڑھے تین بجے آپ کے ویگو میں جو نامعلوم افراد ہیں جن کو آج میں بزدل کہتی ہوں۔ تم سے زیادہ بزدل تو کوئی ہے نہیں۔یہ ہے ریاست جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔ اس کی یہ بچکانہ سوچ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو مارنے کے بعد جب یہ عورتیں آئی ہیں اپنے گھروں میں خوشیاں لانے کیلئے آپ پھر ان پر حملہ آور ہو رہے ہیں؟۔ کب تک آپ حملہ آورہوں گے بلوچ پر؟۔ دیکھیں پوری ہماری قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم اپنی نسل کشی کے خلاف کھڑے ہیں۔ہم اپنی زمین پر ابھی ایک قدم بھی برداشت نہیں کرینگے۔ وہ قدم وہ بندوق جو صرف اور صرف معصوم بلوچ لوگوں کو مارتی ہے۔ ہم اس بندوق کے خلاف نکلے ہیں،آپ ہمیں سخت کہیں آپ کا مکروہ چہرہ ہم دنیا کو دکھائیں گے۔ میں کشمیری سے کہتی ہوں کہ پاکستان بلوچ کی نسل کشی کرتا ہے تو وہ آپ کا بھی ہمنوا نہیں۔ آج تک عملی طور پر کچھ بھی کیا۔ آج پورا بلوچستان ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔سن1948سے آج2023تک بلوچ نے پرامن طریقے سے معصوم لوگوں کے تحفظ کی جنگ لڑی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فلسطین واتحاد امت کاایک فقیدالمثال اسلام آباد کانفرنس؟

فلسطین واتحاد امت کاایک فقیدالمثال اسلام آباد کانفرنس؟

اتحاد امت اجتماع نہیں بلکہ نظریاتی اتحاد سے ہوسکتا ہے ۔ ہم اپنی تاریخ سے سبق سیکھ کر توبہ کرینگے؟
جب تک خواتین کو لونڈیاں بنانے کی خواہش انگڑائی لے گی تو دنیا چوہے پر رحم کھاسکتی ہے لیکن ہم پر نہیں

علامہ زاہد الرشدی نے اسلام آباد علماء کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ
1: قائداعظم محمد علی جناح رحمة علیہ نے فرمایا کہ اسرائیل برطانیہ کا ناجائز بچہ ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف یہ تھا کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا ہے۔ کب سے یہ تبدیلی آئی ہے کہ اسرائیل وفلسطین کا دو ریاستی حل نکالا جائے؟۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو بھی ایک مستقل ریاست تسلیم کیا جائے۔
2: عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولہ ہے۔ دو ریاستی فارمولے پر کب عالمی طاقتوں نے عمل کیاہے؟۔ یہ تو در حقیقت ڈیڑھ ریاستی حل پر عمل ہورہاہے ۔یہ منافقانہ پالیسی کیسے کب تک جاری رہے گی؟۔ کیونکہ فلسطین کو مکمل آزادی نہیں دی جارہی ہے بلکہ نیم آزادی دی گئی ہے۔
جمعیت علماء اسلام مفتی محمود پر ایک فتویٰ1970میں لگا تھا جس کی بنیاد یہ تھی کہ کمیونزم کیلئے نرم گوشہ رکھا جارہاہے اور ذوالفقار علی بھٹو کو کافر کیوں نہیں کہا جاتا ہے جو سوشلزم کا نعرہ لگارہاہے۔ پھر1977میں قومی اتحاد کے نام سے مفتی محمود صدر اور جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور جنرل سیکرٹری بن گئے۔ اس تبدیلی کے محرکات کیا تھے؟۔ جس میں بھٹو کو پھانسی پر چڑھادیا گیا تھا؟۔
پھر جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن پر ایک فتویٰ1984میں لگا کہ وہMRDمیں شامل ہے جس میں پیپلزپارٹی ہے۔ پیپلزپارٹی کا منشور کفر ہے۔ علماء کے اس متفقہ فتوے کے روح رواں بھی علامہ زاہدالرشدی تھے۔ پھر اسلامی جمہور ی اتحاد نیشنل پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئی کی صدارت میں بن گیا۔
پیپلزپارٹی کے منشور کی وجہ سےMRDمیں شمولیت پر مولانا فضل الرحمن کو کافر قرار دیا ،اسی منشور کے غلام مصطفی جتوئی اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر بن گئے؟۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں تھا؟۔ برطانیہ اور امریکہ نے پاکستان اور اسرائیل کو بنایا۔ پاکستان کو اسلام اور اسرائیل کو یہودیت کے نام پر اور پاکستان کے مخالف جمعیت علماء ہند اور مذہبی سیاسی طبقات تھے اور اسرائیل کے مخالف یہودی مذہبی طبقات ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے وزیر قانون ہندو، آرمی چیف انگریز اور وزیرخارجہ سرظفر اللہ قادیانی کو بنادیا تھا۔قائداعظم کا آدھا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ آدھا پاکستان ٹوٹنے کے بعد باقی ماندہ پاکستان نے1973کا آئین بنایا۔1974میں مرزائیوں کو کافر قرار دیا گیا پھر نوازشریف کے دورِ حکومت میں( جس میں مولانا فضل الرحمن اتحادی تھے) مرزائیوں کے حق میں ترمیم پیش کی گئی۔ جو علامہ خادم حسین رضوی کے احتجاج کا کرشمہ تھا کہ واپس لی گئی اور وزیرقانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑگیا تھا۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے دور میں نواز شریف نے علامہ زاہدالراشدی کے ساتھی مولانا احمد علی لاہوری کے پوتے مولانا اجمل قادری کو اسرائیل بھیج دیا تھا اور بینظیر بھٹو نے نوازشریف کو اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے علماء ومفتیان کو پوچھنا ہوگا کہ شیعہ پر متفقہ کفر کا فتویٰ کیوں لگایا، پھر واپس کیوں لیا؟۔مفتی تقی عثمانی نے اسلامی بینکاری کے نام سے جواز کا فتویٰ دیا تو علماء ومفتیان نے متفقہ فتویٰ کے عنوان سے مخالفت کی ۔ پھر علماء ساتھ ہوگئے کیوں ؟۔اسلام کو بازیچہ اطفال بنانے پرکو ئی شرم نہیں آتی ؟ ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فلسطین کے مسلمان خود کیا چاہتے ہیں؟۔ وقت بدلنے کے ساتھ معاملات بدلتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے مکہ سے ہجرت بھی کی۔ پھرصلح حدیبیہ بھی کیا اور مکہ فتح بھی کیا۔ بدلتے حالات کے تقاضے بدلتے ہیں۔ اگر مشرکینِ مکہ مظالم کے پہاڑ نہ توڑتے تو نبی ۖ مکہ سے ہجرت کیوں کرتے؟ اور اگر مشرکین مکہ اپنی شرائط نہ رکھتے تو نبی ۖ صلح حدیبیہ کیوں کرتے؟۔ لیکن جب مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو فتح مکہ کا موقع اللہ نے دیا۔ فلسطین میں غزہ پٹی کے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ نے کہا کہ اگر پاکستان دباؤ ڈالے تو اسرائیل جنگ بند کرسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کرنا غلط ہے ، ہمارا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ عورتوں اور بچوں کو نہ مارو، لیکن یہ جنگ اسرائیل کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ سوشل میڈیا پر صحیح یا غلط یہ پروپیگنڈہ ہورہاہے کہ اقوام متحدہ میں120ممالک نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور20نے جنگ بندی کی مخالفت کی اور45ممالک نے حصہ نہیں لیا ۔ ان20ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفتی تقی عثمانی کابھی وہی مؤقف ہے کہ جنگ بندی نہیں ہونی چاہیے اور اگر کل اقوام متحدہ اور سفارتی تعلقات سے فلسطین کو آزادی بھی ملتی ہے تو علماء نے اس کی مخالفت کرنی ہے؟۔
علامہ جواد حسین نقوی نے گلہ شکوہ کیا کہ دیوبندی مکتب نے کسی شیعہ کو بھی اپنے پاس نہیں بلایا؟۔ علامہ عارف کاظمی نے کہا کہ عمر نے یہودی سازش سے بیت المقدس کو عیسائیوں سے آزاد کیاتھا۔ علامہ انور نجفی نے کہا کہ صلاح الدین ایوبی نے یہود کو فلسطین میں آباد کیا۔ مصر کی فاطمی حکومت ختم کرکے لاکھوں شیعہ قتل کئے ۔ اور حکومت کو بھائی اور بیٹوں میں بانٹ کر خلافت کے ٹکڑے کئے۔
جب شیعہ سنی بھی انتشار کا شکار ہیں اور شیعہ شیعہ اور سنی سنی بھی انتشار کے شکار ہیں۔ ایک فکر ، نظریہ اور عقیدہ رکھنے والوں کا آپس میں ایک دوسرے پر بھی اعتماد نہیں ہے تو فلسطین کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟۔ حالانکہ فلسطین کے مسئلے کا حل بڑا آسان ہے۔ پہلے مسلمانوں نے کافروں پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو آپ کی بیٹیوں، بہنوں ، بیگمات اور ماؤں کو ہم لونڈیاں نہیں بنائیں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کرنا ہے تو پھر وہ چوہے اور نیولے پر رحم کھا سکتے ہیں لیکن مسلمانوں پر نہیں۔ پھر ان کی انسانیت کا رونا مت رؤوبلکہ اپنی روش پر نظرثانی کرلو۔ ہمارے خیال میں قرآن وسنت اسکے بالکل برعکس ہے مگر مذہبی طبقات کی اپنے ائمہ سے عقیدت اور ماحولیاتی آلودگی کا بہت ہی بڑا مسئلہ ہے ۔
علامہ جار اللہ زمحشری نے لکھ دیا ہے کہ ”ایران کو سعد بن ابی وقاص نے فتح کیاتو شہنشاہ ایران کی تین صاحبزادیوں کو عمر نے نیلام کرنے کا حکم دیا۔ علی نے مشورہ دیا کہ ایک کی عبداللہ بن عمر، دوسری کی محمد بن ابی بکر ، تیسری کی حسین سے شادی کرادیتے ہیں، اسلئے ان تینوں افراد کی اولاد آپس میں خالہ زاد تھے”۔
اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت میں سے امام موسیٰ کاظم کی ماں بھی لونڈی تھیں۔ حضرت اسماعیل کی ماں بھی لونڈی تھیں۔اہل سنت کے چاروں فقہی مسالک کی کتابوں میں آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے احکام ، مسائل اور لباس میں فرق ہے اور لونڈی وغلاموں پر پہلے ابراہم لنکن نے امریکہ میں پابندی لگائی اور پھر اقوام متحدہ نے پوری دنیا میں پابندی لگائی۔ بلوچ قوم میں آزاد اور غلام قوم کا تصور ہے اور ہمارے ہاں بھی غلام نسل کا تصور ہے۔خاندانِ غلاماں کا اقتداربھی تھا۔ پنجاب،سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ میں انگریزوں کے تنخواہ دار خاندانوں کی بات ہوتی ہے لیکن ہمارے تمام ادارے فوج، عدلیہ ، پولیس ، سول انتظامیہ سب کے سب انگریز کے نوکر اور باقیات ہیں ۔1947میں برصغیر پاک وہند نے غلامی سے تو آزادی حاصل کی تھی۔اس سے پہلے30لاکھ سکھوں نے7کروڑ مسلمانوں اور دیگر اقوام ہندو، بدھ مت ،پارسی اور عیسائیوں پر حکومت کی تھی۔
حالانکہ سکھ مذہب نے اسلام اور ہندومت کے بیچ سے نکل کر نئے دھرم کی شکل اختیار کرلی تھی۔ سندھ کی مساجد میں خلافت عثمانیہ یا فاطمی خلافت کے خلفاء کا نام جمعہ کے خطبوں میں لیا جاتا تھا۔ شیعہ سنی تفریق کا زیادہ عمل دخل نہیں تھا اور خلافت عثمانیہ کے خلفاء سنی تھے اور فاطمی خلفاء اسماعیلی شیعہ تھے جو بعد میں آغا خانی اور بوہرہ فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ امامیہ یا اثنا عشریہ شیعہ فاطمی خلفاء پر سنی خلافت عثمانیہ کو ترجیح دیتے تھے۔ خلافت عثمانیہ نے مدینہ منورہ مسجد نبوی ۖ پر خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ کی ائمہ اہل بیت کے بارہ اماموں کے نام لکھے۔ اثنا عشریہ شیعہ اسماعیلی شیعہ کو ایسا سمجھتے تھے جیسے ہم مرزائیوں کو سمجھتے ہیں۔ اب بھی آغا خانیوں کو یہ حکم ہے کہ اپنی مساجد بنانے کی جگہ سنی مساجد میں سنی اماموں کے پیچھے نماز پڑھو۔فرقہ واریت اور دہشت گردی نے معاملہ خراب کردیا ہے۔
بوہری فرقہ تو بالکل صوفی ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا آئینہ لگتے ہیں۔ ہم نے شرعی پردے کی آواز لگائی تو بوہری فرقہ نے عمل کرنا شروع کیا۔ ان کی خواتین بھی مساجد میں نماز پڑھتی ہیں۔ فقہی کتابوں میں مساجد کے اندر باجماعت نماز کامسئلہ پڑھایا جاتا ہے کہ پہلے مردوں کی صف، پھر بچوں، پھر بچیوں اور پھر خواتین کی صف بنائی جائیںلیکن اس پر عمل نہیں ہوتا ہے۔ جب مساجد میں اسلام وفقہ پر عمل نہ ہو تو چوکوں اور عدالتوں میں کہاں ہوگا؟۔ لونڈیوں کا مختصر لباس جبے والے مولوی بھی پہن کر شرمندہ ہوجائیں گے لیکن ہمارے مدارس کے نصاب اور علماء کے عمل میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔
جب خلافت قائم ہوگی تو مساجد میں مردوں کیساتھ بچے، خواتین اور بچیاں بھی پنج وقتہ نماز پڑھیں گی۔ کعبة اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی بھی اس خاص ترتیب سے ہوگی کہ حجر اسود چومتے ہوئے اجنبی مرد اور خواتین ایکدوسرے کو چٹنی نہیں بنائیںگے۔ عزت واحترام اور فاصلہ برقرار رکھنے کا معاملہ ہوگا۔ اب تو غیرت مند غریب حج وعمرے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور امیروں میں غیرت کا فقدان ہے اسلئے حجراسود میں عورتوں کو غیرمردوں سے کشتی کرنے دیتے ہیں اور ان کے ایمان ، غیرت اور ضمیر پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور ماحولیاتی آلودگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کیا بیت المقدس کی آزادی کے بعد یہود ونصاریٰ کیساتھ مل کر مسجد اقصیٰ کی زیارت کریں گے تو ان سے آداب انسانیت سیکھ لیںگے یا ان کی خواتین کو لونڈیاں بناکر نیم برہنہ کرکے مزیدہم بگڑجائیںگے؟۔
آج دنیا سمجھ رہی ہے کہ مسلمانوں میں بہت خوبیاں ہیں لیکن اگر ان کے ہاتھوں میں دنیا کی خلافت آگئی تو اسلام کے نام پر ہمارا کباڑ خانہ بنارکر رکھ دیں گے اور ان کی اس ذہنیت میں بہت وزن بھی ہے۔ جب حامد میر ہمارے حکمران طبقے کی عیاشیاں اور عوام پر مظالم کی داستان بیان کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر جس طرح کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ کس طرح ہیرہ منڈی کی ایک لڑکی سے مصطفی کھر نے شادی کرکے گورنر ہاؤس کی زنیت بنادی اور اس کی خوشی کا دن بھی ہیرہ منڈی میں منایا گیا۔ جنرل رانی کا کیا کردار تھا؟۔ نواب آف کا لا باغ کے کیا کرتوت تھے؟۔ حبیب جالب نے اداکارہ ممتاز پر کیسی شاعری کی تھی کہ بھٹو نے زبردستی سے نچوانے کا اہتمام کرایا تھا۔ لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانہ چلو۔
بنوامیہ، بنوعباس ، خلافت عثمانیہ ، مغل اور خاندانِ غلاماں سمیت ہندوستان پر حکمرانی کرنے والے لوگوں کی عیاشیاں اور مظالم کی ایک بڑی تاریخ ہے۔پھر شیعہ حضرات تو خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کی تاریخ کا بھی منفی پہلو پیش کرتے ہیں ۔ اس میں بھی شک وشبہ نہیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں کو آپس کے جنگ وجدل اور قتل وغارت سے بہت نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ امام حسن کی قربانی کے بعد صلح ہوگئی اور امیرمعاویہ کی قیادت میں حسن وحسینسب نے اسلامی فتوحات کا شاندار دور دیکھا لیکن پھر یزید کے ہاتھوں کربلا، مکہ اور مدینہ پر چڑھائی اور پھر اس کے مرنے کے بعد عبداللہ بن زبیر کی مکہ میں شہادت کا المناک واقعہ تاریخ بن گیا۔ حقائق کو دیکھا جائے تو بنوامیہ کا خاتمہ بنوعباس نے بھی بہت ظالمانہ طریقے سے کیا لیکن ذاتی ظلم یا عدل اس دور کی بات تھی۔ حضرت عمربن عبدالعزیز نے خلافت راشدہ اور مہدی کی یاد تازہ کردی تھی۔
پشتو فلموں اور گانوں میں ناچتی ہوئی لڑکی گاتی ہے کہ ” اے دلبر آجاؤ، مجھے ظالم رلارہے ہیں اور میدان میں نچارہے ہیں”۔ اردو، پنجابی، پشتو اور سندھی فلموں اور ڈارموں میں سماج کا نقشہ پیش ہوتا تھا مگر بلوچوں نے فلم پر سینما کو بھی آگ لگائی تھی کہ ہمارے کلچر کی بڑی توہین ہے،حالانکہ اداکار بلوچ نہیں تھے۔ تربت میں بالاچ بلوچ شہید کی بڑی عمر والی بہن نے اپنے پڑوسی کونسلر سے کہا کہ آج تک آپ نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا، میں بھی غیرتمند بلوچ ہوں لیکن بھائی کی بے گناہ شہادت نے گھر سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ تربت میں عورتوں کا بہت بڑا جلوس جہاں بلوچ کے کلچر کو بدل رہاہے وہاں ریاست پر بھی اثر انداز ہے۔
جب ایک کھیتران بلوچ لڑکی نے فون سے ویڈیو وائرل کردی تاکہ مظلوم مری خاندان مظالم سے بچ جائے تو وہ جنسی زیادتی کے بعدکنویں میں ڈال دی گئی۔ مری قبائل نے بلوچستان اور سندھ سے بڑی تعداد میں کوئٹہ کے اندر دھرنا دیا تو جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دوسری جماعتوں اور قوموں کے لوگ بھی وہاں پہنچتے رہے اسلئے کہ تیار جھمگٹے سے خطاب کرنے کا مزہ ہے۔ پھر مری قبائل کے افراد بازیاب ہوگئے اور جو ناقابلِ شناخت لاش کی لڑکی لیکر مری بیٹھ گئے تھے۔ پھر وہ لڑکی کھیتران نکلی اور ایدھی نے لاوارث دفن کردیا۔
(کالعدم سپاہِ صحابہ) کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری جماعت نے پاکستان میں ناموس صحابہ کے تحفظ کیلئے12ہزار کارکنوں کی شہادت پیش کی۔ فلسطین کیلئے ایک لاکھ کارکن ہماری جماعت کی طرف سے قربانی و جہاد کیلئے حاضر ہیں۔ الحمد للہ کہ یہ دوسری بات ”اتحاد امت” کی قیادت اس حال میں جمع ہے۔ اس سے پہلے یہی اکابرین ”تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت بل” کیلئے اکھٹے ہوگئے تھے۔
علامہ احمد لدھیانوی سے ایک عرض یہ ہے کہ شیعہ پر کفر کے فتوے میں مفتی تقی عثمانی نے پہلے بھی دستخط نہیں کئے تھے اسلئے کہ دار العلوم کراچی متفق نہیں تھا۔ جماعت اسلامی بھی شیعہ کیساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل، اتحاد تنظیمات المدارس میں شیعہ شامل ہیں اسلئے جنہوں نے فتوے دئیے وہ بھی الٹے پاؤں پھر گئے۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے کھل کر کہا تھا کہ مجھے شیعہ ووٹ نہ دیں ۔ وہ عابدہ حسین سے1988میں جمعیت مولانا فضل الرحمن کی سیٹ ہار گئے تھے۔1990کے الیکشن میں سپاہ صحابہ کے مولانا ایثار الحق قاسمی اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر بیگم عابدہ حسین کے اتحادی تھے اسلئے شیعہ ووٹ کی وجہ سے سیٹ جیت گئے۔ پھر سپاہ صحابہ نے نعرہ لگایا کہ ”کافر کافر شیعہ کافر جو نہ بولے وہ بھی کافر”۔ حرمین میں کافروں کا داخلہ ممنوع ہے۔ شیعہ کو مسلمان سمجھ کر داخلہ سعودی عرب کے حکمران اجازت دیتے ہیں۔ سپاہ صحابہ کے نعروں کا نشانہ سعودی عرب نہیں مولانا فضل الرحمن ہوتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کو عمران خان اور نواز شریف نے وزیر اعظم کا ووٹ دیا مگر مولانا اعظم طارق کے ایک ووٹ سے مولانا فضل الرحمن ہار گئے اور ظفر اللہ جمالی (ق لیگ) جیت گئے۔ مولانا اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں تقریر میں کہا تھا کہ” بیشمار نوجوان میری جذباتی تقاریر کی وجہ سے جذبہ جہاد سے اس جنگ میں مارے گئے، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہوا”۔کاشف عباسی سے عمران خان نے کہا کہ ” سپاہ صحابہ والوں نے مجھ سے کہا کہ شیعہ سے صلح کراؤ”۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

ہمارا مسلسل مطالبہ تھا کہ ریاستِ مدینہ کی طرح مزارعین کو مفت زمین دی جائے۔ الحمد للہ یہ خبر بڑی حوصلہ افزا ہے کہ حکومت پنجاب نے صحرائے چولستان کے رہائشی27ہزار خاندانوں کوزمین فراہم کردی ۔ آخری مرتبہ1978میں صحرائے چولستان کے لوگوں کو لیز پر زمین دی گئی تھی۔ ہر آنے والا حکمران زمین دینے کے دعوے کرتا رہا مگر ان بیچاروں کو زمین نہیں دے سکا۔ شہباز شریف نے10سال بہت کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کام نہیں ہوسکا۔PTIنے اپنی ساڑھے3سالہ دور میں 6مرتبہ کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ پرویز الٰہی نے اپنے7مہینے کی مدت میں کمیٹیاں بنائیں اس سے بھی کام نہیں ہوسکا۔ بالآخر وہ تمام کام نگران حکومت کے ہتھے چڑھا انہوں نے تھوڑا ساکام تیز کیا اور41ہزار میں سے27ہزار خاندانوں کی درخواستوں کو قبول کیا گیا وہ لوگ جن کے شناختی کارڈ چولستان کے مقامی ہیں۔ فی خاندان ساڑھے12ایکڑ زمین الاٹ کی گئی۔ کل ملا کر3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ5سال کیلئے لیز پر دیا گیا ہے۔ یہ وہاں کاشتکاری کرسکیں گے اور5سال بعد پھر اوپن آپشن ہوگا۔ اگر مناسب سمجھاگیا تو میرٹ پر اگلے5سال کیلئے بھی انہی کو یہ زمین دے دی جائے گی۔ اکثر لوگ لیز پر زمین لیکر اس پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ زمین ریاست کی ہوتی ہے۔ صحرائے چولستان64لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔20لاکھ رقبہ ہموار ہے جہاں ریت کے ٹیلے نہیں۔ ہریالی سے بھی بارشیں برستی ہیں۔ اب انشاء اللہ پاکستان کے صحراؤں ، جنگلات اور پہاڑوں کوبھی آباد کیا جائیگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احتجاجی قافلہ تربت، کوئٹہ ، بارکھان سے ڈیرہ غازیخان تک اسلام آباد کیلئے پر عزم

احتجاجی قافلہ تربت، کوئٹہ ، بارکھان سے ڈیرہ غازیخان تک اسلام آباد کیلئے پر عزم

اگر ان ماؤں کو گرفتار کرنا ہے تو14سال سے لاپتہ بیٹوں کے پاس لے جائیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ1:تمام لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے۔2:بلوچوں کو قتل نہ کیا جائے،3:بالاچ کے قاتلوں کو سزا دی جائے4:ڈیتھ اسکواڈ کو ختم کیا جائے5:نجی جیلوں کو ختم کیا جائے ۔ بارکھان خطاب میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
GHQمیں گھسنے اور جناح ہاؤس لاہور کو جلانے پر گرفتاری کاردِ عمل کیا ہے؟۔ اور برسوں سے مسنگ پرسن پربلوچ قوم کس قدر مہذب انداز میں بغیر گالی گلوچ کے تحریک چلارہے ہیں۔ واہ بلوچ واہ بلوچ

ریاست ماں ہے۔ پاگل کتا کاٹے تو بھی ماںنہیں مارتی۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے کہا کہ ریاست ہماری سگی نہیں سوتیلی ماں ہے۔ ان کا بھائی سراج رئیسانی بم دھماکے میں200افراد کیساتھ شہید ہوگئے۔ اسٹیبلشمنٹ کا بندہ تھا۔ بڑے لوگوں کی قربانیاں بڑی ہوتی ہیں۔ نوابوں کا حوصلہ بڑا ہے۔ لشکری رئیسانی پاکستان کی ریاست کیلئے بڑا فکر مند رہتا ہے۔ بیشک اپنی بلوچ قوم کی لاشوں کیساتھ ان کا دل دھڑکتا ہے۔لاشوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
شہید کربلا امام حسین کیلئے صدیوں سے نوحہ جاری ہے ۔ بلوچ قوم پرستوں کے احتجاج ، دھرنے ، لانگ مارچ ، نوحہ خوانی ، ماتم اور مطالبات جاری ہیں۔ کسی مظلوم کا ساتھ دینا فرض ہے۔ دل دکھی انسانیت کیساتھ دھڑکتا ہے ۔ بلوچوں کے دکھ درد میں اپنی استطاعت کے مطابق ہمیشہ حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ وہ دن بہت جلد لائے کہ جب کوئی بھی دکھی نہ ہو اور ایک خوشحالی والا ایسا ماحول بن جائے کہ کوئی ماں بہن اور بیٹی دکھی نظر نہ آئے اور جو دکھ سہہ چکے ہیں وہ بھی اس کا بہترین نعم البدل اور غموں کو خوشیوں میں بدلنے کے دن دیکھ لیں۔ صرف بلوچ نہیں، پختون ، سندھی ، پنجابی ، مہاجر غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ہمارے حکومتی ادارے ، خان ، نواب سب غلام ہیں۔ آزادی میں انسانوں کیساتھ فارمی مرغیوں کی طرح سلوک روا نہیں رکھا جاتا ہے کہ خون سے ہر وقت زمین رنگین ہو۔ غلامی سے آزادی کا رونا کس نے نہیں رویا ہے؟۔ نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری، الطاف حسین، ولی خان، محمود خان اچکزئی اور سبھی مذہبی وسیاسی جماعتیں مگر بلوچ نے بندوق اٹھالی اور بندوق اٹھانا مشکل کام ہے۔76سالوں میں کسی نے آزادی کی خوشحالی نہیں دیکھی ہے اور نہ تو اس ملک میں عدل وانصاف کا نظام قائم ہوا ہے اور نہ ہی اسلام آیا ہے تو پھر وہ لوگ ضرور ناراض ہوں گے جو عدل وانصاف اور اسلام چاہتے ہیں۔
بلوچ ماؤں بہنوں کی طرح دوسری اقوام سے تعلق رکھنے والے مسنگ پرسن کا بھی یہی حال ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے اپنے شوہر کی تلاش میں عمر گزاردی اور اب اس کی بیٹی عائشہ باپ کیلئے آواز اٹھارہی ہے۔ گم شدگی کا غم کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ جب تحریک انصاف اورPDMدست وگریباں تھے تو ہم نے استدعا کی تھی کہ یہGTروڈ کی لڑائی لاہور اور اسلام آباد کے درمیان ہے۔ اس میں سندھ ، کراچی، بلوچستان ، پختونخواہ حصہ نہ لیں ۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ بلوچستان و پختونخواہ میں کافی لوگ گولیوں سے مار دئیے گئے لیکنGHQمیں داخل اور جناح ہاؤس لاہورجلانے والوں کو خراش بھی نہیں آئی ۔ ہماری بات مان لی جاتی تو کوئٹہ ، پشاور ،باجوڑ کو جانی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ البتہ یہ دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ جناح ہاؤس لاہور نذر آتش کردیا لیکن کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچایا گیا بلکہ کسی کو خراش تک نہ آئی۔ اگر یہ پنجابیوں کی جگہ سندھی، پشتوں ، بلوچ اور مہاجر ہوتے تو کور کمانڈر کے گھروالے مشکل سے زندہ بچ پاتے۔ پختون مذہبی لوگ جنت کی لالچ میں خود کش حملہ کرتے تھے۔ بلوچ خواتین نے بھی خود کش کئے ۔ ریاستی اداروں کے اہلکار ظالم تو ظالم بزدل بھی ہیں۔ جب خواتین تک خود کش حملہ آوروں کا خوف بھی ہوتو اس کے نتیجے میں بے گناہ لوگوں کا قتل بالکل جائز نہیں بنتا ۔ بے گناہوں کے قاتلوں کو سزا ملے گی تو ریاست کے خلاف آگ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ گناہگار کیلئے لوگ نہیں نکلتے ،بے گناہ کیلئے نکلتے ہیں۔ ذکری کا جنازہ پڑھنے سے کچھ ملاؤں نے روکنے کا اعلان کیا مگر اسکے باوجود بھی تربت کی تاریخ کا یہ بڑا اجتماع تھا۔ ذکریوں اور نمازیوں نے شرکت کی۔ ذکری جنازہ دعا ہے۔ رسول ۖ کا جنازہ کس نے پڑھایا؟۔ذکری عاشقان رسول ۖ ہیں اور دعا سے جنازہ کی سنت کو زندہ کیا۔ جنازہ اصل میں نماز نہیں دعا ہے۔نبیۖ کی دعا سے ابوطالب نچلے جہنم سے اُوپر آگئے(صحیح بخاری) نبیۖ نے فرمایا: ” کوئی نماز سورہ فاتحہ کے بغیر نہیں”۔عربی ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوان کی عربی کتاب ”مسلمان نوجوان” کا ترجمہ ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے کیا جس میں لکھا کہ ”ایک جماعت کہتی ہے کہ ہم ابھی مکی دور میں ہیں ،مدنی مرحلہ میں حکومتی احکام اور جہاد کریںگے توان پر مکی نہیں مرتد ہونے کے مرحلے کا اطلاق ہوتا ہے”۔ ذکری نے نماز چھوڑ دی۔ مولوی نے سال سے ایک دن پہلے مال بیوی کو ہبہ کرکے زکوٰة چھوڑ دی ۔مفتی نے معاوضہ لیکر سود کو اسلامی قرار دیا۔ حاجی عثمان پر 35سال تبلیغی جماعت کی خدمت اور علماء ومفتیان کے مرشد ہوکر بھی نہ صرف بد عقیدہ واہل کفارکا فتویٰ لگاتھا بلکہ ان کے حلقہ ارادت والوں کے نکاح کا انجام بھی عمر بھر کی حرام کاری اور اولادالزنا قرار دیا گیا۔
نبی ۖ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھایا تھا۔ بابائے جمہوریت غوث بخش بزنجو کا تعلق تربت سے تھا۔ کمیونسٹ کافر بنادیا گیا۔ فاطمہ جناح پر تہمت لگائی گئی ، حالانکہ قائداعظم کا خاندان آغا خانی مسلمان تھا۔ علامہ شبیراحمد عثمانی نے نماز جنازہ پڑھایا۔ حال میں پارسی مذہب کی معتبر شخصیت نے یہ جھوٹ قرار دیا کہ” پارسی مذہب میں بہن بھائی کی شادی جائز ہے”۔ اور تعجب کی بات ہے کہ پارسی نے کہا کہ” ہمارا پیغمبر تھا اور ہم اللہ کی پنج وقتہ نماز پڑھتے ہیں۔ مسلمان مغرب یا مشرق میں ہوتے ہیں تو قبلہ رو ہوتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں قبلے کا رخ سورج کیساتھ ہوتا ہے۔ ہم پڑھے لکھے تھے اسلئے ہندو راجہ نے ہماری تبلیغ پر پابندی لگائی تھی۔ ہمارے مذہب کے تین بنیادی اصول:
1:اچھے نظریات پیش کرو۔
2:بھلائی کی فکر رکھو۔
3:بھلائی کے کام کرو”۔
قرآن نے اہل کتاب کیساتھ مشترکہ باتوں پر متحد ہونے کا حکم دیا ۔ جھوٹے پروپیگنڈوں نے ماحول بڑا آلودہ کررکھا ہے۔مذہب ، سیاست اور قوم پرستی کی بنیاد پر نفرتوں کا خاتمہ انصاف کا نظام لانے سے ہوگا۔ کراچی میں رینجرز اہلکار نے غلطی سے گولی چلنے کی وجہ سے ایک ڈکیٹ کو قتل کیا تھا تو اس کو سپریم کورٹ سے سزائے موت ہوئی۔ بالاچ مولانا بخش بلوچ شہید کے قاتلوں کو انصاف کی عدالت میں کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ لواحقین اور عوام الناس کا اس ریاست سے عدالتی انصاف مانگنا مثبت اقدام ہے ۔دوسرا راستہ خطرناک ہے۔ ایک انسان کا ناحق قتل تمام انسانیت کا قتل ہے ۔ اسلام آباد سے حق کا مطالبہ نہ صرف بلوچ بلکہ ریاست کیلئے بھی مثبت نتائج کا حامل ہے۔ ریاست ظلم کرے یا مولوی حلالہ کی لعنت کرے یا سود کو جائز قرار دے تو حقائق کو اجاگر کرنا بنتا ہے۔اکرم زہری نے کہا کہ ذکریوں کے پیشوا نے بلوچوں کو سست سمجھ کر نماز کی جگہ ذکر پر لگادیا یہ لوگ مہدی جونپوری کے پیروہیں جس کی مولانا آزاد نے تعریف کی ہے۔قائد اعظم کے مسلک آغاخانی کے ہاں جماعت خانہ ہوتا ہے ۔ وہ جماعت خانہ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے اور مسجد میں تو آتے نہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بھٹو نے کہا تھا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔عمران خان بھی فائز عیسیٰ سے کہے گا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس

بھٹو نے کہا تھا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔عمران خان بھی فائز عیسیٰ سے کہے گا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس

وکیل رہنما ربیعہ باجوہ نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور تمام عدلیہ کے ججوں کو میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ جب بھٹو اس ہائیکورٹ میں اپنی پروسیڈنگ سے نکلے تھے تو انہوں نے کہا تھا نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔ ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے، مجھے آج بھٹو یادآرہا ہے تو کیا جوڈیشری آج یہ چاہتی ہے کہ کل عمران خان کہے نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس۔
جب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر اخبار میں لگی تھی تو ایک شخص نے ساہیوال میں پیپلز پارٹی کے کارکن کو یہ خبر سنائی اور اس نے دوکان سے پسٹل اٹھا کر خبر دینے والے کو قتل کردیا۔ لوگوں نے خود کو آگ تک لگائی تھی۔ وکیل رہنما ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے مظالم کی انتہاء کی تھی لیکن وہ بھی کسی خاتون کی تذلیل نہیں کرتا تھا۔ آج خواتین کی تذلیل کی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کا کارکن کہہ رہا تھا کہ بلوچستان سے قتل اور مسنگ پرسن کا معاملہ شروع ہوا اور وزیرستان تک پہنچ گیا اور اب پنجاب میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
جذباتی باتوں کے نتائج سمندر کے جھاگ کی طرح آخر کار بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو سزا ملتی کہ پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا اورPTVپر قبضہ کیا تھا توGHQمیں گھسنے اور جناح ہاؤس لاہور کو جلانے تک معاملہ نہ پہنچتا لیکن کل نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن پاک فوج کو برا بھلا کہہ رہے تھے عمران خان دفاع کررہا تھا اور آج معاملہ الٹ ہے۔
خاور مانیکا کے نوکر نے عدالت میں بشریٰ بی بی کیخلاف چشم دید گواہی دی ہے اور عدالت نے دوسرا گواہ طلب کیا تو ملزم کی طرف سے خاور مانیکا کو دوسرا گواہ بتایا گیا ۔سزا کیلئے دو افراد کی گواہی کا جج نے مطالبہ کیا ہے۔ اخلاقی طور پر گواہ اس وقت ہی سامنے آنا چاہیے تھا کہ جبDNAٹیسٹ ہوسکتا تھا۔ اب تو حضرت عمر کے دور میں بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہ پر3گواہوں کے بعد چوتھے گواہ زیاد کی عجیب ناقص گواہی کی وجہ سے3گواہوں کو80،80کوڑے لگائے گئے۔ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق ، مفتی تقی عثمانی اور دیگر مذہبی رہنما شریعت کا حکم جاری کرنے کیلئے ایک مطالبہ کریں گے تو ماحول میں بڑی زبردست تبدیلی آئے گی۔ وکیل رہنماؤں کو چاہیے کہ عدت کی قرآن و سنت کی مدت اور گواہوں پر شریعت کے مطابق سزا کا مطالبہ کریں تو ملک میں ایک انقلاب عظیم رونما ہوجائے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستانی آئین سن1973میں مذہبی وسیکولر جماعتوں نے بنایا

پاکستانی آئین سن1973میں مذہبی وسیکولر جماعتوں نے بنایا

لسانی، سیکولراور سیاسی جمہوری رہنما قرآن کے احکام کو سمجھ کر اسکے نفاذ کا مطالبہ کریں تو انقلاب آجائے!

اسلام میں آزادیٔ رائے مثالی تھی۔ ابن صائد نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، میں جہانوں کا رسول ہوں،میری نبوت کی گواہی دیں۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ جو اللہ کے رسول ہیں وہی اللہ کے رسول ہیں”۔ یہ تھا عظیم اخلاق کا نمونہ جو سیرت طیبہ میں ہی مل سکتاہے۔
خولہ بنت ثعلبہ کے شوہر نے ظہار کیا ۔ رسول اللہ ۖ نے مروجہ فتویٰ دیا کہ آپ شوہر پر حرام ہوچکی ہو،وہ مجادلہ کرنے لگی کہ اسلام میں یہ نہیں ہونا چاہیے ۔ اللہ نے سورۂ مجادلہ نازل کی کہ ”بیوی کو ماں کہنے سے وہ حرا م نہیں ہوتی ۔ ان کی مائیں نہیں ہیں مگر جنہوں نے ان کو جنا ہے”۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ قلم اور کاغذ لاؤ۔میں تمہیں ایسی تحریر لکھوادیتا ہوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ (صحیح بخاری)
ذوالخویصرہ نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ انصاف نہیں کرتے۔ انصار کے نوجوانوں نے شکایت کی کہ قربانیاں ہم نے دیں اور قریش مکہ کو نواز اجارہاہے اور حضرت عائشہ پر بہتان عظیم لگایا گیا تو بہتان کی وہی سزا دی گئی جو عام خاتون پر بہتان لگانے کی80کوڑے ہے۔ حضرت ابوبکر نے عہد کیا کہ بہتان طراز پر آئندہ احسان نہیں کروں گا تو اللہ نے وحی میں فرمایا کہ مؤمنوں کیلئے مناسب نہیں کہ احسان نہ کرنے کا عہد کریں۔ قرآن وسنت کا آئینہ جاہل مذہبی طبقہ نے عوام اور دنیا کے سامنے بگاڑدیا۔ اللہ نے اُم المؤمنین اور عام خاتون پر ہتک عزت کی ایک سزا رکھی۔ ہماری اور دنیا کی عدالتوں میں ہتک عزت کا معیار الگ الگ ہے۔ غریب کی عزت پھوٹی کوڑی نہیں اور امیر کی عزت عدالت میں کیس کرنے پر اربوں کی بنتی ہے۔ غریب کیلئے کم پیسے کی سزا بھی بڑی ہے اور امیر کیلئے زیادہ پیسوں کی سزا بھی کم ہے جبکہ کوڑوں کی سزاسبھی کیلئے برابر ہے۔
عدالتوں کا انصاف پیسوں سے اور دیرسے ملتا ہے ۔ نوازشریف کو سزا دینی ہویا عمران خان کو تو عدالتیں ہوا کے رخ پر چلتی ہیں اور عام لوگوں کا نظام انصاف سے اعتماد اُٹھ چکاہے۔ایک بلوچ لڑکی کو بے حرمتی کے بعد قتل کیا گیا تھا جس کی لاش وارثوں نے نہیں ایدھی نے لاوارث دفن کردی مگر کل مظلوم بلوچ کیساتھ مریم نواز بلوچی لباس میں آنسو بہارہی تھی۔ اب اس عبدالرحمن کھیتران کو مسلم لیگ ن بلوچستان سونپ دی گئی جس پراس لڑکی کو قتل کرنے کا بڑا الزام تھا۔ان تضادات کی وجہ سے لوگ سیاستدانوں سے نفرت کرتے ہیں۔
قرآن کے معروف کو مذہبی طبقہ نے منکر اور منکر کو معروف بنادیا ، جس کی وجہ سے اسلام اجنبی بن گیا ۔اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اس کے بہترین حقوق اور معاملات کی وجہ سے ہی قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے مشرق ومغرب کی سپر طاقتوں فارس وروم کو شکست دی تھی۔ اسلام نے بیوی کو فحاشی پر قتل کرنے کی جگہ گھر سے نکالنے اور حلالہ کی لعنت کا خاتمہ کردیا تھا۔ مسلمان غیرت پر بیوی کو قتل اور بے غیرتی سے حلالہ کرواکر دنیا کے سامنے اسلام کو مسخ کررہے ہیں۔
پنجابی، پشتون ، بلوچ ، سندھی اور مہاجر ایک پلیٹ فارم پر اگلا الیکشن لڑیں! اور پاکستان کو اس غضب کی سیاست سے نکال لیں۔ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے تھے لیکن عورت کو اسلام کے نام پر بدترین مظالم کا شکار بنایا گیا ۔ جس دن سیاسی جماعتوں نے عورت کے حقوق کو چارٹر یا منشور کی شکل میں پیش کیا اس دن پاکستان میں ایسا انقلاب آئیگا جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔انشاء اللہ
پاکستان کے تمام مذہبی اور سیاسی قائدین پورے ملک اور دنیا کی سطح پر میڈیا میں چند اعلانات کردیں تو لوگوں کے اندر شعور اور افہام وتفہیم کا مادہ بیدار ہوگا۔
نمبر1:مفتی تقی عثمانی نے اسلام کے نام پر سود کو جائز قرار دیا ہے ۔ سود کے نظام کو علماء حق کی اکثریت اور مفتی تقی عثمانی کے پیشرو صدر وفاق المدارس مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے مسترد کیا تھا ،ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق جو اتنی بڑی گالی دیتا ہے کہ سودکا کم ازکم گناہ خانہ کعبہ میں36مرتبہ اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر ہے اور عوام میں نفرت پھیلا رہاہے ،اس کو یہ موقع نہیں ملے گا۔ پھر عوام کہے گی کہ تم نے اتنے بڑے گناہ کو جائز اور اسلام کا نام دیا ہے اور کعبہ کا خیال نہیں ہے اور بیت المقدس کے نام پر چندہ کرتے ہو؟۔ کشمیر کو کونسا آزاد کردایا ہے؟۔
نمبر2:سیاسی قائدین اور رہنماؤں کو ایک دوسرا اہم اعلان یہ کرنا ہوگا کہ مفتی تقی عثمانی کی کتاب ” فتاویٰ عثمانی جلد دوم ” میں لکھاہے کہ باپ اپنی نابالغ بچی کا نکاح زبردستی سے کسی مسلمان سے کرسکتا ہے۔ ان مولوی اور مجاہدین کے اسلام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے اور اپنے بچوں کیلئے ان کی بچیوں سے ہی نکاح کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم وتربیت خود کش حملہ آوروں کی کریں گے اور پھر ان کو فلسطین کی آزادی کیلئے جہاد میں استعمال کریں گے۔ اس اعلان کی برکت سے علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کو اسلام کی حقیقت یاد آجائے گی۔
نمبر3:ہم یہود ونصاریٰ سے فلسطین کی آزادی کیلئے ان سے رشتہ داریاں کریں گے جس کی قرآن نے اجازت دی ہے اور علماء ومفتیان کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھ کر ان کواللہ کے علاوہ اپنے ارباب نہیں بنائیں گے اور جس قرآن نے ان پڑھ صحابہ کرام کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا تھا ہم اسی اسلام کو اسلام سمجھیں گے۔ ایران کو اگر اسرائیل پر حملہ کرنے میں کوئی دقت ہے تو ہم وہ دقت دور کرسکتے ہیں لیکن کسی حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ صرف اور صرف زبانی جمع خرچ یا دوسروں کی مدد کرکے کوئی کارنامہ انجام دیدے۔ اس کے نتائج پہلے بھی مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں نکلے ہیں جو ہم دیکھ چکے ہیں۔
ایرانی نژاد امریکی خاتون نے اپنی کتاب میں اسلام کے اندر خواتین کے حقوق کا جو نقشہ پیش کیا ہے ،اس میں شیعہ سنی نے اسلام کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ یہودونصاریٰ کی حکمرانی میں بھی مسلمان خواتین پر ایسے مظالم نہیں ہوسکتے جو مسلمان حکومتوں ایران و سعودی عرب تک میں اسلام کے نام پر ہوتے ہیں۔
پاکستان میں فوج اور علماء کی طاقت کو اگر درست استعمال کیا گیا تو پوری دنیا میں ہماری امامت قائم ہوگی۔ نبی ۖ نے اپنے دور کو بہترین قرار دیا تو بڑا دشمن ابوجہل تھا جس نے چھپ کر وار نہیں کیا۔ جبکہ حضرت علی کے ایک ساتھی ابن ملجم نے ایک عورت قطامہ کی لالچ میں حضرت علی کو شہید کیا۔ موجودہ دور فتنوں کا دور ہے۔ مفتی تقی عثمانی اپنی عاقبت کیلئے حاجی عثمان کی قبر پر حاضری دیتا تو بہتر ہوتا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرمی چیف کایہ کردار؟

آرمی چیف کایہ کردار؟
آرمی چیف سید عاصم منیر کی ویڈیو وائرل۔ بچی کہہ رہی ہے کہ وڈیرہ سیلاب کا پانی ہماری طرف چھوڑ تاہے۔ آرمی چیف نے کہا :” یہ اب نہیں چھوڑے گا”۔
مزارع وڈیروں کا غلام۔ سیاستدان وڈیرے کو خوش رکھتا ہے تو وڈیروں اور مزارعوں کا ووٹ ملتا ہے۔ سیاستدان فوج کا غلام ۔چاہا2تہائی اکثریت دلائی اورچاہا ٹنگاٹولی کرکے پھینک دیا۔ مزارعوں کا بادشاہ وڈیرہ ، وڈیروں کا بادشاہ سیاستدان ، سیاستدانوں کا شہنشاہ معظم آرمی چیف اسلئے اتنا کہنا کافی ہے کہ ”بول دیا اب پانی نہیں آئے گا”۔پورے سندھ میں مزارعین پر پانی چھوڑا گیا تھامگرکون کس کس کو بچائے گا؟۔ آرمی چیف اشفاق پرویزکیانی نے زرداری سے ایکسٹینشن لی تو نوازشریف کہہ رہاتھا کہ میں کبھی نہ دیتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ضرورت پڑی تو سب غلاموں نے آقا کو ایکسٹینشن دی ۔20منٹ میں قانون بنادیا اور مزید ایکسٹینشن کھاتہ بھی کھول دیا ۔ عمران خان نے میر صادق، میر جعفر کہا تو واضح کیا کہPDMکو کہا۔DGISIنے کہا کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو آئندہ کی پیشکش بھی کی تھی تو عمران خان نے تصدیق بھی کردی۔
اللہ نے سود کو حرام قرار دیاتونبی ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیا ۔مزارع آزاد ہوا تو اسلام کو فتوحات ملیں۔ کراچی کے علماء ومفتیان نے حاجی محمد عثمان پر فتوے لگائے ۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق ،میرے استاذ مولانا فضل محمد، جنرل ضیاء الدین بٹ ، کورکمانڈر جنرل نصیر اختر سمیت کئی علماء اور فوجی افسر حاجی عثمان سے بیعت تھے مگر آزمائش کی کچھ ہوائیں چل گئیں تو فوجی افسر اور علماء سرپٹ گھوڑوں کی طرح بھاگ گئے۔ ملک اجمل نے محترمہ صبیحہ اخلاق کی کتاب ”عالمگیریت” کے افتتاح کے موقع پر بابا فرید کا یہ شعر سنایا کہ
پنج رکن اسلام دے چھٹا رکن ٹک جے نہ لبے چھیواں تے پنجے جاندے مک
پنجابی میں ٹک روٹی کو کہتے ہیں اگر روٹی نہ ملے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دشمن سے دوستی اور کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد اور سختی

دشمن سے دوستی اور کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد اور سختی

ادفع بالتی ھی احسن فاذالذی بینک و بینہ عداوة کانہ ولی حمیم
دفع کرو اس کیساتھ جو بہترین ہے تو پھروہ شخص آپکے اورجس کے درمیان دشمنی ہے گویا کہ وہ گرمجوش دوست تھا

الدنیا ثلاث ایام الأمس عشناہ ولن یعود والیوم نعشہ ولن یدوم الغد لا ندری أین سنکون فصافح و سامح ودع الخلق للخالق فأنا و أنت و ھم راحلون لا تحاول أن تبحث عن الوجہ الثانی من أی شخص حتی لو کنت متأکد أنہ سییء یکفی أنہ احترمک و أظھر لک الجانب الأفضل منہ جمال العقل بالفکر و جمال اللسان بالصمت و جمال الوجہ بالأبتسامة وجمال الفؤاد بالنقاء و جمال الکلام بالصدق و جمال الحال فی الأستقامة علمتنی الحیاة ان العقل لا یقاس بالعمر فکم من صغیر اِذا تکلم أنصت لہ الکبار وکم من کبیر أذا تکلم ضحک علیہ الصغار
اِذا مات القلب ذھبت الرحمة واِذا مات العقل ذھبت الحکمة
و اِذا مات الضمیر ذھب کل شیئ
دنیا تین دن ہے۔ کل جو ہم نے جیاوہ کبھی واپس نہیں آئیگااور آج ہم جیتے ہیںمگر اس میں دوام نہیں۔کل نہیں معلوم کہ ہم کہاں ہونگے۔پس درگزر سے کام لواور مخلوق کو خالق کیلئے چھوڑ دو۔ پس میں ، آپ اور وہ سب مرینگے۔ کوشش نہ کرو کہ کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرواگرچہ آپ کو یقین ہوکہ وہ برا ہے ، کافی ہے کہ آپ کی عزت کرتا ہے اپنا اچھا دکھاتا ہے، عقل کی خوبصورتی فکر کیساتھ ہے زبان کی خوبصورتی خاموشی ، چہرے کی خوبصورتی مسکراہٹ، دل کی خوبصورتی صفائی، کلام کی خوبصورتی سچائی ہے، حال کی خوبصورتی استقامت کیساتھ ہے۔ مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ عقل کو عمر پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ پس کتنے چھوٹے ہیں جب وہ بولتے ہیں تو بڑے خاموش ہوجاتے ہیں اور کتنے بڑے ہیں جب وہ بولتے ہیں تو چھوٹے ان پر ہنستے ہیں۔ جب دل مرتا ہے تو رحمت جاتی ہے۔ جب عقل مرتی ہے تو حکمت جاتی ہے۔ جب ضمیر مرتا ہے تو ہر چیز چلی جاتی ہے۔
٭٭

بھیڑیاپنجے سے اُٹھائے وہ باز بھی پرندہ،آذان گائے مرغی زبان دراز بھی پرندہ
تلوار اٹھائے وہ بھی آدمی..سود جائز..

جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم
لڑو کافروں کیساتھ اور منافقوں کیساتھ اور ان پر سختی کرو۔

لیس کل من یطلق علیھم رجال ھم رجال فکلمة ”الطیر” تجمع الصقر والدجاجة النقاش مع الجہلاء مثل الرسم علی الماء فمھما أبدعت فلن یحدث شیء اِذا رأیت صدیقک مع عدوک فاِعلم أن الاِ ثنین أعدائک أحدھم جھرا والأخر سرا اِذا فشلت فی تحقیق أحلامک فغیر أسالیبک لا مبادئک فالأشجار تغیرأوراقھا ولیس جذورھا علمتنی الحیاة أن لا أسأل الکاذب لماذا کذبت؟ لانہ حتما سیجیبنی بکذبة أخری لا تعامل کل الناس بأسلوب واحد فلیس کل المرضیٰ یأخذون نفس الدواء اِذا فضحھم اللہ أمامک وأسقط أقنعتھم واحدا تلوی الأخر فاِعلم أن اللہ یحبک لأنہ أراک حقیقتھم
نہیں ہے تمام وہ لوگ مرد جن پر مردوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ پس پرندے کا لفظ شاہین اور مرغی دونوں کیلئے بولا جاتا ہے۔ جاہلوں کیساتھ مناقشہ پانی پر نقش بنانے کے مترادف ہے۔پس کبھی کوئی چیز ظاہر ہو تو بھی اس کا کچھ نہیں بنے گا۔ جب تم اپنے دوست کو اپنے دشمن کے ساتھ دیکھ لو تو جان لو کہ دونوں تمہارے دشمن ہیں۔ ایک ظاہر میں اور دوسرا چھپا ہوا۔ جب تم اپنے خوابوں تک رسائی میں ڈگمگاؤ تو اپنے طریقہ کار کو بدل دو۔ نہ کہ اپنے اُصولوں کو۔ پس درخت اپنے پتوں کو گراتے ہیں نہ کہ اپنی جڑوں کو۔مجھے زندگی نے یہ سکھایا ہے کہ جھوٹے سے نہیں پوچھوں کہ تم نے کیوں جھوٹ بولا؟۔ اسلئے کہ وہ حتمی طور پر ایک اور جھوٹ بول دے گا۔ سب لوگوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ مت کرو۔ پس ہر مریض کیلئے ایک طرح کی دوا نہیں ہوتی ہے۔ جب اللہ ان کو تمہارے سامنے رسوا کردے اور ان کے چہروں سے ایک کے بعد دوسرے نقاب اتریں ۔پس جان لو کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے اسلئے کہ اللہ نے ان کی حقیقت دکھائی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

فلسطین کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ مسلمان مار کھائیں اور ہم چندے کھائیں۔بلکہ ایک مؤثر رابطے کے ذریعے سے فلسطینیوں کو مشکلات سے نکالنا عالم اسلام اور عالم انسانیت کا فریضہ ہے۔

خدائی امریکہ کی نہیں ۔ خدائی اللہ کے پاس ہے۔ سپر پاور نہیں ۔ سپریم پاور اللہ ہے۔ پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے ، جفاکشی کے اقدامات کرنے پڑے تو کرینگے۔ ہم گولیوں، بموں کا سامنا کرینگے۔ نہ امریکہ نہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست دے سکتی ہے۔ ہمارا جہاد چندہ بھیجنا ہے،اسرائیل کے ختم ہونے تک جاری رہیگا۔مفتی تقی عثمانی کی تقریر
آپ صرف اور صرف عالمی سُودی نظام کا بائیکاٹ کریں،بس!
یہ تقریر میں بھی آذانیں پڑھ رہے ہیں۔ آذان بھی مجاہد والی نہیں جو دوسروں کو ڈرائے ۔ مُلا والی جو خود کو ڈرا تا ہے یا چندے کا بہانہ ہے؟

عربی شاعرہ پکار کر کہہ رہی ہے کہ عرب کی غیرت، غضب شرافت، قہر کہاں ہے؟۔ عربی لڑکیوں نے اسرائیل کو بددعا اور فلسطین کو دعائیں دیں۔ یہودی اسرائیل کیخلاف نکلے۔ سردار محمد اکمل سینئرایڈوکیٹ ہائیکورٹ خانپور نے کہا عتیق گیلانی مسلم حکمرانوں کی خاموشی پر لکھے۔ افغانستان، عراق کا بیڑہ غرق کیاگیا تو پاکستان وایران نے کونسا تیر مارا؟۔ حکمران سفارتی تعلق ختم اورطبل جنگ بجاتا ہے۔عیسائی و کمیونسٹ ممالک نے مسلم ممالک سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔
حماس نے عسقلان پرحملہ کیا،اسرائیل نے مظالم کی آخری حد کی۔ امریکی جنگ میں4لاکھ افغانی ،80ہزارپاکستانی ہلاک ہوگئے۔میڈیا کو کوریج اور شہید لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ملاعمرو ملا ضعیف بے گناہ تھے مگر طالبان کا خاتمہ کیا۔ امریکہ نے عراق کو تباہ کیا۔ لیبیا کی عوام سے قذافی کا خاتمہ کرایا۔ افغانی اور پاکستانی نے ایکدوسرے کومارا۔ عراق، لیبیا اور شام میں ایکدوسرے کا قتل ہوا۔اس بچی کا پورا خاندان اسرائیل نے شہید کیا تو اس نے رو روکر کہا کہ ”کا ش میں بھی اپنی ماں کیساتھ مرجاتی”۔
ایک عرب خاتون نے کہا کہ ” دنیا میں5%عرب دنیا کا50فیصد اسلحہ خریدتے ہیں دنیا کے60%وسائل رکھتے ہیں۔ آپس میں لڑیں تو خطرناک اسلحہ استعمال کرتے ہیں مگر اسرائیل کیخلاف صرف بددعا دیتے ہیں”۔
ابوعبیدہ نے خالد بن ولیدکا حوالہ دیا کہ اسلام قبول کرو ، یا جزیہ دو یا پھر لڑائی۔ تمہارا واسطہ ان سے پڑا ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔عربی علماء کا مذاق بنا کہ:”عرب لڑکیاں ابوعبیدہ کے فتنہ میں مبتلا ہو رہی ہیںمگر یہ مجبوری ہے”۔ن لیگی صحافی نے کہا ” خواتین فتنہ عمرانی میں مبتلاء ہیں”۔ بداخلاقی کا طوفان برپا ہے، جاویدچوہدری نے فلسطین کو شیعہ مسئلہ قرار دیا۔ خطرہ ہے کہ شیعہ کو یہود اور پاکستان کو اسرائیل سے بدتر قرار دیکر خانہ خرابی شروع کرنے کا معاملہ نہ ہو؟۔
سعودی عرب میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر مذہبی طبقہ گرفتار ہور ہاہے وہ سمجھتے ہیں کہ جوانوں کا تو اسرائیل تک ہاتھ نہیں پہنچے گا مگر حکمرانوں کیخلاف بھڑکانے کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ حکمران اپنی عوام سے ڈرتے ہیں۔ایران میں آگ مشکل سے بجھ گئی تھی۔
فوج نے کارگل قبضہ کیا کرنل شیر خان شہید نشان حیدر پاگیا۔نواز شریف سے امریکہ وبرطانیہ نے قبضہ چھڑا دیا۔ندیم ملک کو سن لیں۔دفاعی قوت سے بھارت نے ردعمل کی جرأت نہ کی۔ جارحیت کی تو منہ کی کھانی پڑ گئی ورنہ ہمارا حشر فلسطین جیسا ہوتا۔ فوج کو گالیاں بکی جارہی ہیں۔ فوجی کردار کا آئینہ جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ہے۔ان داشتاؤں نے ہی اپنے آقا کی ساکھ کونقصان پہنچایا۔ اپنے لئے تو جنرل اچھا لگتا ہے مگر اوروں کے حق میں فوجی کردار سے داشتائیں بلبلا اُٹھتی ہیں۔ عسقلان کا ذکر توراة میںہے۔73سال میں پہلی بار حماس نے بڑا حملہ کیا ۔ اسرائیل نے ہمیشہ فلسطین پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے۔ عیسائی القدس پر یہودی قبضہ کیخلاف ہیں ۔ یہودی اکثریت بھی اسرائیل سے نفرت کرتی ہے۔فلسطین کا مقدمہ اسلام کی حقیقی تعلیم اور اخلاقیات کے اعلیٰ نمونہ کے طور پر پیش کرنا ہوگا،پھر مسئلہ حل ہو جائے گا۔
حدیث میں عسقلان کے ذریعے رابطے کی اہمیت واضح ہے۔ اگر اسرائیل نے عسقلان پر جبری قبضہ کیا ہے تو اسرائیل اور یہودیوں کو اس سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اگر مسلمانوں نے خود بیچ کر غزہ پٹی کی پتلی گلی پکڑی ہے تو پھر عسقلان اور کسی بھی شہر پر زبردستی سے مسلمانوں کو بھی قبضے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بیت المقدس یہودونصاریٰ کا قبلہ ہے ہمارا نہیں ۔ ہمارا قبلہ تھا تو قبضہ نہ تھا۔ جب اپنارخ پھیر لیا تو قبضے کی ضرورت نہ تھی جب قبضہ کرلیا تو طاقت نہیں بنائی۔ رسول اللہ ۖ کے پاس طاقت نہ تھی تو مکہ سے مسلمانوں سمیت ہجرت کی۔
حضرت عمر کو بیت المقدس عیسائیوں نے حوالہ کیا، یہود پرالقدس کی پابندی ختم کی ۔یہ ایسا تھا جیسا کہ اللہ نہ کرے خاکم بدہن دجال مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار خانہ کعبہ پر قبضہ کرلیں اور مسلمانوں پر حج و عمرہ اور مکہ آمد کی پابندی لگائیں ۔ پھرسکھ مسلمانوں سے پابندی ہٹادیں۔ یہود اسلام کے شکر گزار ہیں۔ عیسائی مسلمان پر غصہ ہیں کہ یہود کو اجازت کیوں دی ؟۔ مسلمانوں نے یہود کو زمینیں اور مکانات بیچے۔ حقائق سمجھ لیںتو پھرمسلمان فاتح بن سکتے ہیں۔
وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال و النسآء والولدان الذین یقولون ربنآ اخرجنا من ھٰذہ القریة الظالم اھلھا… ” اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتال نہیں کرتے اور مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں نکال دے اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں…”۔ (النسائ:75)
مفتی تقی عثمانی نے آیت کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی ڈنڈی ماری ہے۔ اگر یہ فلسطین کے مسلمانوں کیلئے ہے تو فلسطینیوں کو اسرائیل نکالنا چاہتا ہے۔ پہلے جو قریب و دور کا معاملہ تھا تو اب حکمرانوں کیلئے دور مار میزائل کے ذریعے سے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مسلم حکمران چاہیں تو منٹوں میں اسرائیل کو مار بھگاسکتے ہیں لیکن یہود کے عالمی سُودی نظام نے حکمرانوں کیساتھ اب علماء کو بھی پھنسایا ہوا ہے۔ حماس کی اخبار میں سرخی لگائی گئی کہ اگر پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو جنگ بند ہوگی لیکن مفتی تقی عثمانی نے جنگ جاری رکھنے کا ترانہ سنایا اسلئے کہ خود نہیں کرنا۔
افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کی تباہی کے بعد کوئی مسلم ملک رسک نہیں لے سکتا کہ مغرب سے ٹکرائے۔ پاکستان نے افغانستان کے خلاف مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ ابوعبیدہ کہتا ہے کہ خالد بن ولید کی طرح ہم غیر مسلموں سے کہیں گے کہ اسلام قبول کرو یا جزیہ دو یا پھر لڑائی ہے۔ تمہارا ایسی قوم سے واسطہ ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ حماس کے کسی مجاہد نے خود کش نہیں کیا۔ افغانستان میں نیٹوافواج کے خلاف خود کشوں کا بڑا سلسلہ تھا۔ لاکھوں افراد موت کی گھاٹی میں پہنچ گئے لیکن کسی کی” چیں چاں پیں پاں” کسی نے نہیں سنی۔ وہ بھی یہی انسان تھے۔ ان کو بھی مشکلات سے گزرنا پڑاتھا۔ ان کو مظلوم سمجھنے کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہم نے ان سارے مراحل سے خود گزر کر بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔
قرآن میںمذہبی تعصبات نہیں۔ ان الذین اٰمنواوالذین ہادوا والنصٰرٰی والصٰبئین من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر وعمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولا ھم یحزنوںO(البقرہ آیت62)
ترجمہ ” بیشک جو لوگ مسلمان ہیںاور یہودی ہیں اور عیسائی ہیں اور صابئین ہیں جو اللہ پرایمان رکھے اور آخرت کے دن پر اور صالح عمل کرے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ لوگ غمگین ہوں گے”۔
مشرکینِ مکہ جاہلانہ مذہبی تعصبات رکھتے تھے تو نام ونشان مٹ گیا اور اب ہندؤوں کی من حیث القوم مسلمان ہونے کی باری ہے ۔دجال سے بڑا فتنہ نہیں، ابن صائد یہودی نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں جہانوں کا نبی ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں اس کا سر قلم نہ کردوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو آپ کواس کے قتل پر قدرت نہیں ۔ اور اگر وہ دجال نہیں تو اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رحمت للعالمین ۖ نے دجالوں کو بھی قتل کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔ابن صائد نے رسول اللہ ۖ کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ کیا مگرفرمایا: اس کے قتل میں خیر نہیں ؟۔ دجال اور یہود کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقدیر سے وابستہ کردیا۔ ابن صائد دجال نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود کہتا تھا کہ وہ مسلمان ہے لیکن صحابہ نے قتل نہ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو دیوبندی اکابرین، بریلوی اکابرین اور جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود قتل نہ کیا۔ آج بڑی تعداد میں قادیانی ہیں مگر شدت پسند جماعتی، دیوبندی اور بریلوی سے پوچھا جائے کہ تمہارے اکابر مرزا قادیانی کو اور تم قادیانیوں کو قتل کرنا اسلام سمجھتے ہو تو کیوں نہ کیا؟۔ تو یہ اپنی پچھاڑیوں سے قمیض اٹھاکر کہیںگے کہ ہم سب نسل در نسل بے غیرت ہیں۔ ڈاکٹرا سرار احمدMBBSڈاکٹر تھا کوئی عالم دین نہ تھااس نے کہا تھا کہ” قادیانیوں کو قتل کرنا باقی ہے”۔ آج اس کی جماعت کا بے غیرت امیر شجاع الدین شیخ قادیانیوں کو قتل کرنا تو در کنار سود کو جائز کہتا ہے۔ مذہبی شدت پسندوں کی کھلے عام ذہنی آپریشن کی ضرورت ہے۔ اسلئے نہیں کہ یہ خطرناک ہیں بلکہ یہ دوسروں میں شدت کے جراثیم بھرتے ہیں۔ ایک طرف اقامت دین کے نام پر چندہ لیتے ہیں اور دوسری طرف طاقتور حلقوں کی آشیر باد رکھتے ہیں۔ حالانکہ اصل چیز قرآن کے فطری احکام میں جہاد کا حق ادا کرنا ہے، جب عوام کے سامنے فطری احکام آئیں گے توپھر اسلام نافذ ہو جائے گا۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت خطرناک اسلئے تھی کہ مسلمان کچے دھاگے کی عقیدتوں سے بندھے ہوئے جاہل تھے جن میں علماء کی بڑی تعداد شامل تھی۔
فلسطین کا مسئلہ گیدڑ سنگھی چھوڑنے سے حل نہ ہوگا بلکہ اس کیلئے ایک عالمی سطح کا اجلاس طلب کرنا ہوگا۔ جس میں مسلمانوں کے تمام طبقات کی نمائندگی ہو اور اس میں عیسائی اور یہودکے نمائندے شامل ہوں۔یہود اور عیسائی مسیحا تک بیت المقدس مسلمانوں کو حوالے ہوگا ۔ القدس میں سب کیلئے آزادی کی خوشخبری ہوگی اور سیکورٹی مسلمان کے پاس ہوگی اور یہود ونصاری بھی آزاد ہوں گے۔
خراسان سے نکلنے والا قافلہ اسلامی تعلیم و انسانیت کا بہترین نمونہ ہوگا اور امن وسلامتی کے جھنڈوں کو القدس میں نصب کرنے سے کوئی نہ روک سکے گا۔
قرآن میں بنی اسرائیل کے بارے میں دومرتبہ فساد کی پیشین گوئی ہے۔
وقضینآالی بنی اسراء یل فی الکتٰب لتفسدن فی الارض مرتین و لتعلن علوًا کبیرًاOفاذا جآء وعد اولٰھما بعثنا علیکم عبادًا لنا اولی باسٍ شدید فجاسوا خلٰل الدیار وکان وعدًا کان مفعولًاO ثم رددنا لکم الکرة علیھم و امددنٰکم باموالٍ وبنین و جعلنٰکم اکثرنفیرًاO ان حسنتم احسنتم لانفسکم وان اسأتم فلھا فاذا جاء وعدالاٰخرة لیسو ء ا وجوھکم ولید خلوا المسجدکما دخلوہ اول مرةٍ ولییتبرواماعلوا تتبیرًاO عسٰی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجلعنا جھنم للکٰفرین حصیرًاO
ان آیات میں بنی اسرائیل کی طرف سے دومرتبہ فساد کرنے کی نسبت ہے۔ پہلی بار بنی اسرائیل عیسائیوں نے یہود کیساتھ مظالم کی انتہاء کردی تھی اور پھر اللہ نے مسلمانوں کو ان پر فتح ونصرت عطا فرمائی۔ اس کے بعد قرآن میں ان کے پاس گیند دوبارہ جانے کی خوشخبری ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ان کی مدد ہوگی اموال اور اولاد کے ذریعے ۔ اگر وہ اچھائی کریں تو ان کے اپنے لئے ہے اور اگر برائی کریں تو بھی ان کا سامنا خود ہی کرنا پڑے گا۔ جب دوسری مرتبہ کا وعدہ آئے گا تاکہ ان کے چہرے اُداس ہوں۔ ان آیات میں دوسری مرتبہ ان پر رحم کی امید ہے لیکن ان کو تنبیہ کردی گئی ہے کہ اگر تم اپنی حرکت کروگے تو ہم بھی واپس اسی طرح سے تمہیں سبق سکھائیں گے۔ سورہ الحدید میں بھی اسی طرح کی پیشگوئی ہے کہ اہل کتاب کے عروج کے بعد اللہ مسلمانوں کو ہی عروج بخشے گا۔

ارکان طغیان خمس
1:تقدیم الذیل علی الرأس
2: تخذیر الحاضر بالأمس
3: توزیع الخوف مع الیأس
4: تقدیس الشرطة والعسّ
5:بقاء الجحش علی الکرسی
طاغوت کی بنیاد 5ارکان پر ہے
1: دُم کا آگے سے ہونا سر کے اوپر
2: حاضر کو آنیوالے کل سے ڈرانا
3: ہڑتالیں خوف کی امید کیساتھ
4:سپاہی اور چوکیدار کو مقدس ماننا
5: گدھے کے بچے کا کرسی پر رہنا

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی عزتیں لوٹتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور علماء کرام فیصلہ کریں!

عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی
عزتیں لوٹتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور علماء کرام فیصلہ کریں!

یتیم بچیوں کو ہراساں…جنسی استعمال…بنی گالہ میں کالے جادو میں ذبح کی بدلتی ہوئی کہا نی :افشاء لطیف کی زبانی

واذ انجینٰکم من اٰل فرعون یسومونکم سو ء العذاب یذ بحون ابنآء کم و یستحیون نساء کم و ذالکم بلآء من ربکم عظیم O اور جب ہم نے آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے۔ذبح کرتے تمہارے بیٹوں کو اور عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہاری بہت بڑی آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے ۔(البقرہ:49) قارئین کچھ سمجھے!۔ بنی اسرائیل کوعذاب آل فرعون دیتا تھا مگر آزمائش ربّ کی طرف سے کیوں تھی؟۔
بنی اسرائیل کایوسف سے کردار؟ جو بچہ فرعون سے بچتا تو خضر قتل کرتا کہ اپنے مؤمن والدین کو کفر وسرکشی میں نہ ڈالے۔ جس کی وجہ سے موسیٰ نے قبطی کو قتل کیا وہی غلط نکلا۔ دشمن قوم کا شخص اچھا نکلا۔ موسیٰ سے کہاگیا :”آپ اور آپ کا رب لڑو، ہم یہاںبیٹھے ہیں”۔نجأت مل گئی توہارون ساتھ تھا لیکن بچھڑا معبود بنادیا۔
امریکیCIA،جنرل اختر عبدالرحمن، حمیدگل ، مشرف نے فرعونی قتل کیامگر کوٹکئی وزیرستان کے شریف انسان خاندان ملک کا کیا گناہ تھا کہ قاری حسین و حکیم اللہ محسود نے انکی فیملی کے7افراد کو شہید کیا ؟۔PTMکے غیرتمندنوجوان اپنی قوم کو حلالہ کی بے غیرتی سے بچانے میں آج ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیتے؟۔
صدرجمعیت علماء ہند مولاناحسین احمد مدنی نے کہاکہ” روحانی فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوچکا مگر ہندوکیساتھ اپنا وطن بنائیں گے”۔جس پر علامہ اقبال نے ابولہب قرار دیا۔ بشریٰ بی بی نے قرآنی عدت ایلائ4ماہ ،حدیث کی عدت خلع حیض گزاردی۔ توروحانی حکم پر اسکے نکاح سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی اور علماء کرام فیصلہ کرسکتے ہیں۔
علماء نے لکھا کہ ”اولیاء میں مجدد الف ثانی کو خلافت دینے پر جھگڑاہواتو نبی ۖ نے فیصلہ فرمایا کہ سبھی خلافت دیں۔ابوبکر کے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوگی مگر چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ کی خلافت بھی ہو گی۔ جن کا سلسلہ علی سے رسول ۖ تک پہنچتا ہے”۔( جمعیت علماء ہند کا شاندار ماضی: مصنف مولانا سید محمدمیاں)
شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے اپنی مکتوبات میں لکھ دیاہے کہ ”روحانیت کا اصل منبع ومرکز علی اورفاطمہ ہیں ۔ حسنو حسین ساتھ ہیں ۔ روحانی معاملہ علی و حسین کی رہنمائی میں چلتا ہے، وہ اولیاء کی مدد کرتے ہیں”۔ مجدد کے اس مکتوب کا حوالہ” اتحاد امت” کتاب کے سید خورشید علی وارثی نے دیا ۔ جس کی تائید مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ علماء نے کی۔ پیر صابر شاہ پختونخواہ کے وزیراعلیٰ تھے تو خورشید وارثی کیساتھ ہماری ملاقات ہوئی۔ پیر صابر شاہ اتحاد امت ہزارہ کے سیکرٹری نشرواشاعت رہے ۔ انجینئر محمد علی مرزا نے علماء کو قادیانیوں کی صف میں کھڑا کیا۔ مرزا سمجھتاہے کہ مرزا قادیانی جس روحانی حکم پردعویٰ نبوت سے کافر ٹھہرا۔ مجدد مکتوب اور علماء دیوبند اپنی کتابوں میں کفر کے مرتکب بن گئے۔ پرویزبھی علماء وصوفیاء اور قادیانیوں کو ایک سمجھتا تھا۔ پرویز حدیث کا منکر تھا مگر قرآن میں خضر کی تأویل کرتا تھا۔ انجینئر احادیث کو مانتا ہے۔ دیوبندی مسعود عثمانی، حزب اللہ ، طاہر پنج پیری، مفتی منیرشاکر اور اہلحدیث سے الگ جماعت المسلمین کا تقریباً ملتا جلتا حال ہے۔
شیخ سرہندی و شاہ ولی اللہ شریعت و تصوف مانتے تھے۔ بریلوی ، دیوبندی اور اہلحدیث ان شخصیات کو مانتے ہیں۔ عون چوہدری نے بتایا کہ عمران خان کیساتھ روحانی حکم پر عدت میں نکاح ہوا تھا۔ شیعوں نے روحانی حکم پر سمندر میں چھلانگ لگائی تھی۔ علامہ جواد نقوی شیعوں کونصیری و مشرک کہتا ہے ۔ شیعہ ان کو یزید سے بدترکہتے ہیں۔ عمران خان کی تائید میں انجینئر مرزا، مفتی منیر شاکر اور علامہ کوکب نورانی وغیرہ شیعہ ، سنی ، دیوبندی ، بریلوی ،اہلحدیث ایک تھے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کے روحانی احکام کا چرچا ہوا۔ مولانا احمد رضا بریلوی کی وجہ سے اکابر دیوبند نے تقلید کو بدعت کہنا چھوڑا ۔ حالانکہ شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”بدعت کی حقیقت ” میں تقلید کو چوتھی صدی ہجری کی بدعت قرار دیا تھا اور اسکے اردو ترجمہ پر علامہ سید یوسف بنوری نے تائیدی تقریظ لکھی ۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے سنت نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا مگر علماء دیوبند خیبرپختونخواہ، اندورن سندھ، بلوچستان اور افغانستان میں سنت کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت کہنے والے پنج پیری دیوبندی پر قادیانیت کا فتویٰ لگاتے۔
علامہ طاہرالقادری نے بریلوی سے نفرت نکالی۔ اگر مولانا احمد رضا کا فتویٰ مانا جاتا کہ دیوبندی ، قادیانی، شیعہ ، وہابی کافر ہیں تو بریلوی قادیانیوں کی طرح تنہاء رہ جاتے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ڈاکٹر اسرار احمد کے پروگرام میں منہاج القرآن وزٹ کی دعوت دی اور بتایاکہ ”میں نے اتحاد کیلئے200افراد کولندن آنے جانے کا ٹکٹ اور خرچہ دیا مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ آپ محنت کریں لیکن میں مایوس ہوں”۔ طاہرالقادری نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ” طوفان سب کو بہاتا ہے اور مجھے بھی بہالیتا ہے مگر ایک شخص کھڑا رہتا ہے اور نہیں جانتا ہوں کہ کون ہے؟ ”۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر نے مجھ سے کہا کہ ” آپ جوان ہو، جوانی کا خون جوش کرتا ہے۔ کوشش کرومگر مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کو متحد نہیں کرسکتے ہیں”۔ مولانا بجلی گھر نے جلسہ عام میں یہ بھی کہا تھا کہ ” عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی لڑ رہاہے جس کا مقابلہ امریکہ نہیں کرسکتا ہے ”۔
یتیم خانہ کاشانہ لاہور کی سپرنٹنڈٹ افشاء لطیف کے مختلف ادوار کی ویڈیوز ہیں۔ ایک یتیم بچی اقراء کائنات نے الزام لگایا کہ افشاء نے زبردستی شادی کرائی اور بعد میں اس کی موت واقع ہوئی۔ افشاء لطیف نے بتایا کہ اقراء کی مرضی سے شادی کرائی تھی۔ اس سے پہلے25لڑکیوں کا نکاح ہواتھا جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ ایک گارڈ پر یتیم خانہ کی بچیوں کو ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایاتھا ، جس کی بقول افشاء کےCCٹی وی ویڈیو بھی ہے۔ افشاء کی طرف سے3ماہ پہلے جو وڈیو بنائی گئی تو اس میں یتیم بچیوں کوباقاعدہ جنسی طور پر استعمال کرنے کیلئے تیار کرنے کابڑا الزام تھا ۔جو پہلے کے بیان اور باڈی لینگویج سے مختلف تھا۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچا یا کہ شہباز شریف نے جھوٹ بولا تھا کہ بنی گالہ میں منوںمرغیوں کا گوشت ڈالا گیا۔ یتیم بچیوں کا گوشت جادو میں استعمال ہوا ۔صحافی احمد نورانی نے ٹھیک تجویز دی کہ چیف جسٹس فائزعیسیٰ سزا دیدے۔
عمران خان کے حمایتی طبقے کا حال یہ ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ واقعی اس طرح بچیوں کو ذبح کیا گیا ہے تو بھی کہیں گے کہ فوج کی باتوں میں آگئے تھے اور صحابہ کرام نے بھی بچیوں کو زندہ دفن کیا تھا اور ہندہ نے امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ دوسری طرف نوازشریف سے بھاڑہ ملتا ہے تووہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک گھناؤنا الزام ثابت ہونے کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ جن کا نقصان بہرحال فوج کو ہورہاہے کہ اگر ایسی برائی تھی تو پیچھے کون تھا اور ہے تو پیچھے کون ہے؟۔ مریم نواز نے کہا کہ” میرے پاس آن ڈیوٹی لوگوں کی خطرناک ویڈیوز ہیں”۔ عورت کی پیشکش سے حضرت یوسف بھی اللہ کی مدد سے ہی بچ سکے تھے۔کیپٹن صفدر نے بھی ویڈیوز کا چیلنج دیاتھا۔تحریک انصاف کے ایک رہنماکی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تھی۔ خدا جانے قوم کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے؟۔
محمود خان اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن، نوازشریف اور علماء ومفتیان بشریٰ کے روحانی حکم پر نکاح کا جائزہ لیں۔اگر اسکی وجہ سے قرآن کی عدتِ ایلاء اور حدیث کی عدتِ خلع کی سنت زندہ ہوتی ہے تویہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ ہوگا اور الیکشن سے پہلے عوام اور اداروں کیلئے افہام وتفہیم کی بہترین فضاء پیدا ہوگی۔
اقبالنے کہا: علماء کا بڑااحسان کہ دین پہنچادیا مگر اللہ ، جبریل اور نبیۖ حیران ہیں کہ کیا یہ وہی دین ہے؟۔ عدت میں نکاح قائم رہتا ہے ۔ قرآن میں بار بار رجوع کی اجازت واضح ہے مگر فتویٰ دیاجاتاہے کہ نکاح قائم نہیں رہا اور حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزت لٹواکر اسلام اور مسلمانوں کا بیڑہ غرق کردیا۔

نوٹ: مکمل تفصیلات جاننے کیلئے اس کے بعد عنوان ” بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں ”
اور ”خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟”کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv