پوسٹ تلاش کریں

پاکستان اور اسلام لازم وملزوم مگر ایک مظلوم ایک محروم

mirza-ghulam-ahmad-qadiani-allama-iqbal-imam-mehdi-tablighi-jamaat-isi-cia-afghan-jihad-gulbadin-hikmatyar-shakil-afridi-molana-masood-azhar-manzoor-pashtoon-molana-tariq-jameel-jannat-ki-hoor

پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، اسلام اس کی بقاہے اور اسلام کے بغیر یہ فنا ہے لیکن جس اسلام کے نام پر یہ بنا ہے جو ایمان اس کی روح ہے جو دین اسلام اس کا ڈھانچہ ہے ،وہ بھی معدوم ہے اسلئے پاکستان مظلوم اور اسلام محروم ہے۔
انتخابات ہورہے ہیں لیکن اسکا نتیجہ کیا نکلے گا؟۔ کوئی جماعت کامیاب ہوگی اور کسی شخصیت کو وزیراعظم بنایا جائیگا۔ کسی تفریح گاہ میں مسافروں کا گھوڑے پر سواری کی طرح باری باری اسٹیبلشمنٹ کے گودی بچے تھوڑی دیر کیلئے بادشاہت کا مزہ چکھ لیتے ہیں اور پھر دھاندلی دھاندلی کا شور اٹھتا ہے۔ 70سالوں سے نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ چل رہاہے۔ پاکستان مظلومیت کی آخری حدوں کو چھور ہاہے اور اسلام اجنبیت سے محرومیت کی آخری حدوں کو چھورہاہے۔ انگریز نے نبوت کے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کو اسلئے سپورٹ کیا تھا کہ اس نے جہادکی منسوخی کا اعلان کررکھا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے اشعار میں کہا کہ’’ مجذوبِ فرنگی نے بہ اندازِ فرنگی مہدی کے تصور کو اس ملک میں بدنام کردیا ہے‘‘۔ کسی طبقے نے کہا کہ’’ تبلیغی جماعت نے جہاد کیخلاف عملی اور ذہنی طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کے ناکام مشن کو کامیابی سے ہم کنار کردیا‘‘۔ دہشتگردوں کا سلسلہ شروع ہوا تو تبلیغی جماعت اس کی سب سے بڑی پناہ گاہ تھی۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے سودی نظام کو اسلامی بینکاری کے نام سے جواز بخشا ہے۔
آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے نے مجاہدین پالے تھے اور جہاد کی دنیا میں گلبدین حکمتیار کا بہت بڑا نام تھا۔ آج افغانستان میں گلبدین حکمتیار امریکی افواج کی گود میں بیٹھ گیا۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کے بارے میں پرویز مشرف الگ الگ رائے رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے مانگا تو ایک عورت زاد بھی پرویز مشرف نے حوالہ کردی ، حالانکہ شکیل آفریدی کی طرح ایک پاکستانی کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا تھا۔ وہ بھی بچوں کی ماں ایک خاتون۔ امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بجائے مولانا مسعود اظہر و حافظ سعید کو مانگا ہوتا تو بھی پرویزمشرف نے خوشی خوشی ان کو حوالہ کردینا تھا لیکن شاید امریکہ نے پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دینے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔
سودی نظام بھی مشرف بہ اسلام ہوگیا اور سود کی مد میں ادا کی جانے والی رقم دفاع کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے ہر شاخ پر اُلّو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟۔ پاکستان قرضوں میں دب گیا اور اسلام کو سودی نظام نے رگڑ کر رکھ دیا ہے۔ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور۔پاکستان کو کرپٹ فوجی جرنیلوں، بیوروکریٹوں، ججوں اور سیاستدانوں نے کھالیا ہے۔ اس کے ڈھانچے پر اب بھی گدھ منڈلارہے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے عوام کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اسلام اپنے بیٹے شیخ الاسلام کے باپ کا نام تھا جوکب کا مرچکا ہے۔ اسلام، ملک اور جمہوریت کے نام پر دھوکہ ہی دھوکہ ہے ، ایک تماشا لگا ہوا ہے جس میں جو اپنا منہ میٹھا کرلیتا ہے اس کو تماشا گاہ اچھا لگتا ہے اور جسکے ہاتھ کچھ نہیں آتا وہ چیختا چلّاتا ہے کہ لُٹ گئے، پِٹ گئے، مرگئے، غرق ہوگئے اور ظلم ہی ظلم ہے۔
منظور پشتین PTMکا قائد ہے، اللہ نہ کرے کہ وہ مشکلات کا شکار ہوں۔ اچھا خطیب ہے، اپنی قوم کا درد رکھتا ہے، بہادر ہے، اس کا نظریہ اسلام،پاکستان اور پختونوں کا بہترین اثاثہ ہے۔ اس کی للکار میں جان اور ایمان ہے۔ عوام کی عدالت میں سب سے آسان کام ان کی منہ پر ان کی تعریف کرکے دوسروں کے خلاف جذبات کو ابھارنا ہے۔ جب طالبان اور علماء ومفتیان امریکہ پر لعن طعن کرکے اسلامی غیرت کو ابھارتے تھے تو’’ ہرگھر سے طالب نکلے گا تم کتنے طالب ماروگے‘‘ ۔ پھر’’ افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر ہر خودکش ہے چمکتا ہوا تارا‘‘ سے امریکہ کا نقصان کیا یا نہیں کیا مگر اپنی قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ۔ داعش کی طرف سے ایک نئی جنگ کا محاذ کھلنے والا ہے ۔ مولانا طارق جمیل حوروں کا جو نقشہ پیش کرتا ہے کہ 70لباس ہونگے، اس میں دھڑکتا ہوا محبت سے بھرپور دل مچلتا نظر آتا ہے، ایک سے دوسرا لباس اتارتے اتارتے اس کی خوبصورتی میں بے انتہاء اضافہ ہوجاتا ہے۔جنسی جذبات کوبھرپور طریقے سے بھڑکایاجاتا ہے جوانسان اپنے ضمیر،ایمان، انسانیت اور اقدار کو پامال کرتے ہوئے جبری جنسی تشدد اور بچیوں کو مارنے تک سے باز نہیں آتا،اگر اسکے سامنے حوروں کایہ نقشہ پیش کیا جائے تو وہ اس تک پہنچنے کیلئے خود کش کرنے سے کبھی گریز نہ کریگا۔
جب تین بار اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی رہنے والا نوازشریف کہتاہو کہ انگریز نکل گیا مگر مٹھی بھر فوجیوں نے ہمیں دبوچ کررکھا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی کھلے عام اسٹیبلشمنٹ کیخلاف شکایت کررہا ہو، مشہورمیڈیا کے چینل میں بیٹھے معروف صحافی بھی اپنی جان پر کھیل کر فوج کے خلاف اپنا بیانیہ پیش کررہے ہوں تو فوج کیلئے اسکے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے صحافیوں میں زید حامد، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے لوگوں کا سہارا لیں۔داعش نے وار کیا تو اس کی روک تھام کیلئے سب سے مضبوط اور آہنی دیوار PTMہی کی ہوسکتی ہے۔ علاقہ گومل کا ایک نامی گرامی بدمعاش عطاء اللہ نے طالبان کا حملہ کئی بار اپنے گھر پر ناکام بنایا مگر ملازئی میں سیکورٹی فورس کے 40جوان ایک طالب کو نہیں مارسکے۔ 39کو موقع پر ذبح کردیا گیا اور ایک نے بھاگ کر جان بچائی تھی۔ فارس وروم کی سپر طاقتوں نے اسلامی جہاد کے جذبے کا سامنا نہ کیا تو ایک ایسی فوج جسکے سپاہی غربت کے مارے جان پر کھیل کر نوکری کررہے ہوں کہاں سے خود کش حملہ آوروں کے سامنے جان کی بازی لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟۔ جو لوگ نیٹوافواج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں ان کا رخ جب ہماری طرف ہوگا تو اسلامی جذبے سے ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ۔ ہمارے پاس اسلام کے نام کے سوا کچھ نہیں ، معیشت، معاشرت، سیاست،سول و ملٹری بیوروکریسی، بہت غلیظ قسم کا عدالتی نظام اور طبقاتی ولسانی تفریق اور بس۔
منظور پشتین اپنی قوم سے مخاطب ہوتا کہ طالبان کی تحریک آئی تو تم نے والہانہ انداز میں قربانیاں نہیں دیں بلکہ اپنی قوم کو تباہ وبرباد کیا، پاکستانی ریاست نے تمہارے جذبات کا خیال رکھا مگر تم نے امریکہ کے بجائے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اگر اس وقت اپنے چوروں اور ڈکیتوں کو ، لوفروں اور لونڈوں کو جذباتیوں اور خیراتیوں کو کنٹرول کرتے تو ہماری ریاست بھی مشکلات کا شکار نہ ہوتی اور تم بھی دربدر نہ ہوتے تو قوم اسکی تلخ بات بھی سن لیتی اور ان میں شعور بھی اجاگر ہوتا۔ اسلام آباد دھرنے میں قوم بھاگ کھڑی ہوئی اور منظور پشتین کو حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہ تھا۔ ہم نے شامِ غریباں کی کیفیت سے دوچار پست حوصلے میں جو روح پھونکی اسکی گونج آج انکے جلسوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ہم ظاہری وباطنی اور اندورنی وبیرونی ایجنٹوں پر لاکھوں لعنت بھیج کر ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ اسلام کو زندہ کئے بغیر پاکستان کو ماں کاکوئی لعل نہیں بچاسکتا۔ اسلام کو کسی نے نہیں علماء ومفتیان نے تباہ کیا ہے اور وہی اسلام کو بچا بھی سکتے ہیں۔

نیب اور عدلیہ کے قانون میں تضاد کی وجہ سے نوازوں کو نوازا جاسکتا ہے

nab-hazrat-umar-judiciary-of-pakistan-imam-abu-hanifa-model-town-incident-rao-anwar-qatari-khat-mashal-khan

نوشتۂ دیوارپرنٹنگ کے مہتمم عبدالکریم نے کہا ہے کہ نیب اور عدلیہ کے قوانین کا فرق سب کو معلوم ہے۔ نیب میں ذرائع آمدن سے زاید اثاثے کا مطلب چوری ہے۔ عدلیہ میں چوری کے ٹھوس ثبوت ہی کے ذریعے سزا ہوسکتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قانون یہ تھا کہ عورت کوشوہر کے بغیر حمل ہوجائے تو یہ زنا ہے اور اس پر حد ہوگی ۔ باقی اماموں جمہور کے برعکس امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک حمل سے حد جاری نہیں ہوگی۔ حضرت عمرؓ ودیگر جمہور کا قانون نیب والا تھا اور امام ابوحنیفہ کا مسلک عدلیہ والاتھا۔ مخالف کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن نے بھی نوازشریف کو بہت رقم دی تھی تو اس سے بھی لندن کے فلیٹ اسوقت خریدسکتے تھے۔ ماڈل ٹاؤن پر کسی کو سزا نہیں ہوئی ۔ راؤ انوار ضمانت پر رہا ہوگیا، مشال خان کو قتل کرنے والے رہا ہوگئے تو نوازشریف اور مریم نواز کو بھی اگر الیکشن کے بعدرہائی دینی ہے تو الیکشن سے پہلے دیدینی چاہیے تاکہ یہ تأثر زائل ہوجائے کہ عمران خان کیلئے میدان صاف کرنے کے نام پر ایک ڈراما رچایا گیا ہے۔ نوازشریف کو چاہیے کہ کھلے عام کہہ دے کہ اسامہ کا نام لے نہیں سکتا تھا اسلئے قطری خط کا سہارا لیاتھا اور آصف علی زرداری کو 11سال جیل کی سزا کھلائی ، اب میں یہی سزا خود بھی بھگت رہا ہوں اور معافی کی اپیل بھی نہیں کرونگا تاکہ اخلاقیات کا سبق قوم کو میرے ذریعہ ملے۔ مریم نواز کو رہا کرو تاکہ وزیراعظم بن جائے پھر اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کرونگا اور ہم نے اس ملک میں ہی رہنا ہے۔

آرمی چیف نے نقیب اللہ محسود کے جرم میں راؤ انوار کو سزا کی دہائی دی مگر راؤ انوار کی ضمانت ہوگئی

naqeebullah-mehsud-rao-anwar-daish-qamar-javed-bajwa-siraj-raisani-imran-khan-bilawal-bhutto-shahbaz-sharif

مدیر مسؤل نوشتۂ دیوار نادرشاہ نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ پاکستان کی ریاست ہر لحاظ سے مستحکم ہو، جمہوریت مضبوط ہو، انسانیت کا راج ہو، عدل وانصاف قائم ہو اور دنیا میں پاکستان عالمی اسلامی خلافت کی بنیاد بن جائے۔ دنیا بھر کا ریاستی اور عدالتی نظام اپنا اعتماد کھورہاہے۔ داعش کا ایجنڈہ خلافت کا قیام ہے جو اسلامی فریضہ ہے۔ اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نقیب محسود شہید کے والد سے تعزیت میں راؤ انوار کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کریں اور پھروہ ڈرامائی انداز میں نمودار ہوکر پیش ہوں۔ عدالت سے ضمانت مل جائے ۔ سزا کے امکانات ختم ہوجائیں تو کیا نقیب محسود کا بچہ بھی داعش سے تربیت حاصل کرکے پولیس سے انتقام لے گا؟۔ پولیس ماڈل ٹاؤن لاہور میں کھلے عام قتل کرے لیکن وزیراعلیٰ پر دہشت گردی کا مقدمہ نہ بنے اور ایک شخص نوازشریف کو جوتا مارے اس پر ساتھیوں سمیت دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے جائیں؟۔ عالمی قوتیں ملکوں کو تباہ کرکے دہشتگردی کی راہیں ہموار کررہی ہیں اور ہماری ریاست بھی نا انصافی میں بے بسی کی مثال بن کر شدت پسندوں کیلئے راہ ہموار کرتی ہے۔ سندھ پنجاب،بلوچستان،خیبرپختونخواہ کا مسئلہ نہیں بلکہ غریب کی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے کا مسئلہ ہے۔ سیاسی عدم مساوات کا مسئلہ ہے، ظلم وجبر اور بے توقیری کا مسئلہ ہے، ریاست کا غلط ہاتھوں میں جانے کا مسئلہ ہے۔ جمہوری شخصیات بے اوقات ہیں۔ مذہب کوبلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ قابل لوگوں کی بے قدری ہے۔چرب زبانی ہی سیاست ہے۔ایمان،تنظیم،اتحادکا فقدان ہے۔کتنے وہ بے بس ہیں جو اندھیرنگری کی موت مرتے ہیں، کتنے دھماکوں میں لقمہ اجل بنتے ہیں؟۔ اہل اقتدار کو ہوش ہے کہ نہیں؟ یایہ بھی خاندانی منصوبہ بندی کامنظم پروگرام ہے ؟۔
شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کی تقاریر سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس ملک کیلئے اتنی ہی قربانی ہم دے رہے ہیں جتنی کوئی اور دے رہاہے۔ جب پاکستان کا جھنڈا کوئی نہیں لگاسکتا تھا تو ہم نے گھروں پر لگایا سینے پر گولی کھانے کی قیمت پر ہم نے 14اگست کے جلوس مستونگ اور نوشکی وغیرہ میں نکالے جہاں کبھی یہ جلوس نہ نکلے تھے۔ مگر پھر بھی میرے بڑے بھائی کے سینے پر لگے ہوئے پاکستانی بیج کو چھین کر نکالا گیا، ہمیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آپ ہمیں کہاں دھکیلنا چاہتے ہو؟۔ سراج رئیسانی کی یہ تقریر حیران کن ہے۔ اس پر کوئی تحقیق ہوگی اور مجرم اپنے انجام کو پہنچ سکے گا؟۔ اگر سراج رئیسانی نے منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا تو بھی تحقیق لازمی ہے اور اگر ان کو ناجائز تنگ کیا گیا ہے، تب بھی اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔
150سے 220افراد کی شہادت کا واقعہ بہت دلخراش ہے۔ اس سے زیادہ خراب اور گھناؤنی بات یہ ہے کہ ہمارا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سراج رئیسانی کے جنازہ پر پہنچ گئے تو عمران خان اور شہبازشریف کو بھی تعزیت یاد آگئی ۔ وہ بھی پہنچ گئے حالانکہ اس بڑے سانحہ کے بعد بھی عمران خان نے اسلام آباد میں سیاسی تقریر کی اور واقعہ پر افسوس کا اظہار تک بھی نہیں کیا۔ آرمی چیف کو پتہ ہوتاکہ ہمارے بے غیرت سیاستدان ہارون بلور کے جنازے پر بھی نہیں پہنچیں گے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہاں پر بھی جنازے میں پہنچ جاتے۔ آرمی چیف کی تعزیت کے بعد ہی بلاول بھٹو زرداری کو بھی ہارون بلور کی تعزیت یاد آگئی تھی۔ عوام الناس نے گھاس نہیں کھائی ہے۔ معاملے کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ شہبازشریف نے اپنی ساکھ بحال رکھنے کی مجبوری سے ائرپورٹ جانے کا ڈرامہ رچایا ، جیب کے پیسوں سے پھول نچاور کرنے کا اہتمام کیا تھاورنہ کینٹ کے راستے ویسے بھی ائیرپورٹ جانا ممکن نہیں تھا۔ وہ مریم نواز کا استقبال کرکے اپنی خاندانی اقدار ملیامیٹ کرنے کے حق میں بھی نہ ہوگا مگر دوسروں کی عزتیں اچھالنے اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا انجام اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی دکھاتا ہے۔یہ وقت کی بڑی سزا ہے۔
نقیب شہید کے علاوہ دیگر بندے بھی ہیں جن کوپنجاب سے لایا گیا تھا۔راؤانوار غائب نہ تھا بلکہ کوئی اس کو لیکر گیا ہوگا کہ باقی راز مت کھولو، نقیب شہید کے کیس میں رہائی دلانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ راؤ انوار پہلے بھی کہہ رہا تھا کہ میں اکیلا نہیں ہوں ، دوسروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔زنا بالجبر میں عمران علی، ریاستی اہلکاروں میں راؤ انوار کے علاوہ تمام ذمہ داروں کو قرارِ واقعی سزا دی گئی تو ملک سے بدامنی، عذاب اور پریشانی کی کیفیت میں وہ کمی آئے گی کہ دنیا حیران ہوگی کہ یہ کیسا پاکستان تھا؟ اور کیسا بن گیا ہے۔جب تک حقیقی اسلامی ریاست بنانے کی درست کوشش نہ ہوگی تو سب کو مصائب ،آزمائش اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ ہمارا مقصد شعور کی بیداری کا رحجان بڑھانا ہے

اصل جرم مریم نواز؟ یا نواز شریف کو بار بار وزیر اعظم بنانے والوں کا ؟

establishment-of-pakistan-asghar-khan-case-smile-of-maryam-nawaz-tv-channels-saudi-arabia-humayun-akhtar-jihad-war-tarbooz-bair-ka-tree

سیکرٹری جنرل اعلاء کلمۃ الحق فاروق شیخ نے کہا ہے کہ آج مریم نواز کو نیب عدالت نے نوازشریف کے جرم میں معاونت پر7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ جیل کی سزا پانے والی مریم نواز مطمئن ہے اور مسکرارہی ہے کہ مجھے سزا دینے والوں کا یہ حق بنتا ہے کہ اصل مجرموں کو بھی کوئی سزا دیں۔ اصل مجرم کون ہے؟ اصغر خان کیس میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کو بنانے والے کون تھے؟، وہ خود بھی اپنے جرم کا اقرار کرتے ہیں۔ 1990ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی گئی اور نواز شریف کو لایا گیا۔ اس حکومت نے کرپشن سے 1993ء میں لندن فلیٹ خریدے۔ اسوقت مریم نواز کی عمر کرپشن کی نہیں ایک دوسری قسم کا جذبہ تھا، کیپٹن صفدر سے نکاح کیا تھا۔ والدین کی رضا بقول چینلے اس میں شامل نہ تھی۔ غلام اسحاق خان نے نوازشریف کو کرپشن کی بنیاد پر برطرف کیا اور پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو رحمن ملک نے ایف آئی اے سے تمام بینک اکاونٹ کی تفصیلات پکڑ لی۔ پھر وہ کونسی قوت تھی کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو ختم کرکے نواز شریف کو دوتہائی اکثریت دلائی۔ مرتضی بھٹوکو شہید کرکے زرداری کو11سال تک جیل میں قید رکھا۔ پھر پرویزمشرف سے پھڈہ ہوا تونوازشریف کاتختہ الٹ دیا تھا۔ مریم نواز کو عربوں کی منت کرکے اپنی گھریلو زندگی تباہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور منی لانڈرنگ کے ریکارڈ نکالنے کے بعد دوبارہ دفن کردئیے۔واپسی پر نواز شریف کوبالکل بری قرار دیا۔
پیپلزپارٹی کے5سالہ دور اقتدار میں نوازشریف کے شانہ بشانہ کھڑی رہنے والی قوت خلائی مخلوق نہ تھی تو کون ہے؟۔جس نے پختونخواہ میں تحریک انصاف، بلوچستان میں قوم پرستوں، سندھ میں پیپلزپارٹی،پنجاب اور مرکز میں مسلم ن لیگ کو حکومت دلائی۔ کیا مریم نوازشریف ہی مجرم ہے اور اتنی لمبی داستان رقم کرنے والوں کا کوئی قصور نہیں تھا؟۔جب افتخار چوہدری کو پرویزمشرف نے کہا تھا کہ تمہارے اوپر الزامات ہیں اور اس جرم پر استفعیٰ دیدو تو اس وقت بھی ہم نے ماہنامہ ضرب حق میں یہ لطیفہ فرنٹ صفحہ پر جلی حروف سے لکھا تھا کہ پرویزمشرف نے چیف جسٹس کو درست کہا ہوگا مگر وہ اپنا حال بھی دیکھ لے۔ جسکا اندازہ اس لطیفے سے لگایا جائے کہ ایک بادشاہ کو اکلوتی بیٹی کیلئے داماد چاہیے تھا۔ اس نے یہ شرط رکھی تھی کوئی ایسی چیز وہ کھلادے جو بادشاہ نے نہیں کھائی ہو لیکن اگر وہ کھائی ہو تو پھر لانے والے کے پشت میں وہ چیز ڈالی جائے گی۔
چنانچہ ایک شخص اپنی قسمت آزمائی لیکر جارہاتھا تو اسکے آنکھوں میں آنسو بھی تھے اور خوب ہنس بھی رہاتھا۔اس کی وجہ لوگوں نے پوچھی تو کہنے لگا کہ رویا تو اسلئے کہ مجھے بہت تکلیف ہوئی کیونکہ ایک بڑے سائز کی بیر لیکر گیا تھا۔ وہ پیچھے سے ڈال دی گئی تو شرمندگی و ذلت کا احساس بھی ہوا اور تکلیف بھی ہوئی۔ ہنس اسلئے رہا تھا کہ میرے بعد والے کے پاس بڑے سائز کا تربوز تھا، میں نے سوچا کہ اس غریب کا کیا بنے گا؟۔ مریم نواز کو معاونت کرنے پر جو7سال کی سزا دی گئی ہے ، تو جن لوگوں نے 1993ء سے پہلے ، 1993ء کے بعد ریاست وعدالت کے زور پر جس طرح کی معانت نوازشریف سے کی ہے اس کی سزا تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بھی زیادہ 100سال کی بنتی ہے اورجب عدلیہ، صحافت، ریاست اور عوام آزاد ہونگے تو پھر راج کرے گی خلقِ خدا اور تخت اچھالے جائیں گے۔
جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کا مطالبہ تو فواد چوہدری بھی کررہاہے کہ اس کو آسٹریلیا سے واپس لایا جائے۔ نواز شریف تو ایک تربیت یافتہ پروردہ ہے اسلئے اپنے ساتھ کرپشن میں ملوث فوجیوں کی بات نہیں کرتا ہے۔ ہاتھوں کی کمائی سے انقلاب آنیوالا ہے۔ ریاست ایم کیوایم کو کھلی چھوٹ نہ دیتی تو مہاجر قوم کی شرافت داؤ پر نہیں لگتی۔ گینگ وار کو سپورٹ نہ کیا جاتا تو بلوچ بدنام نہ ہوتے اور پنجاب میں کم نسل و بے غیرت لوگوں کو سیاست میں نہیں دکھیلا جاتا تو سیاست بدنام نہ ہوتی اور نہ غیرتمند پنجابی قوم پر مفادپرستی کے دھبے لگتے۔ جب ایاز صادق کو پتہ چلاتھا کہ ن لیگ کو حکومت ملے گی تو اپنے دیرینہ دوست عمران خان کی تحریک انصاف کو چھوڑ کر ن لیگ میں چھلانگ لگا دی۔ ہمایون اختر کے باپ اخترعبدالرحمن نے جہاد وار میں جو کمایا تھا نوازشریف اور اس سے پہلے پرویزمشرف کے بغل میں چھپ رہا تھا اور اب عمران خان کی گود میں گیا ۔ بلاتفریق احتساب اسلامی جمہوری عوامی انقلاب کا فرض ہوگا۔صحافی اپنا وقت اور ضمیر ضائع کررہے ہیں۔

عمران خان غدار نہیں مگر اس احمق کا غداروں سے زیادہ خطرناک کردار ہے. زید حامد

zaid-hamid-kangaroo-kids-idiot-imran-khan-nawaz-sharif-khud-sakta-fouji-kangroo-bacha-gang-war-pakistan

بینظیر ، نواز شریف ، اسفندیار، محمود اچکزئی ،مولانا فضل الرحمن امریکی ایجنٹ اور غدار ہیں، عمران خان غدار نہیں مگر اس احمق کا غداروں سے زیادہ خطرناک کردار ہے ، پہلے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت، اب PTMکے علی وزیر کو سپورٹ کیا ۔ خود ساختہ فوجی کینگرو بچہ زید حامد اور اس گینگ وار کے دیگر ساتھی دوسری طرف پشاور بم دھماکے میں ’’یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے ‘‘ کی آواز سوشل میڈیا میں عام ہورہی ہے ۔ ریاست اور سیاست ناکام ہیں اب ایک معتدل اور توانا آواز سے پاکستان کو مستحکم اور اسلام کا قلعہ بنانا ہوگا۔

بلور خاندان نے مسلسل قربانی دی. سراج رئیسانی محب وطن سیاستدان تھا. آرمی چیف

bilour-family-terrorism-in-balochistan-khalai-makhlooq-zaid-hamid-manzoor-pashtoon-asif-ghafoor-Imran-khan-falls-off-stage

ایڈیٹرنوشتۂ دیوار اجمل ملک نے کہاکہ بشیر بلورایک بہادر شخصیت تھی، بہادری کی جتیے جاگتی تصویر بن کر ہر حادثے میں پہنچ جاتے تھے۔ بشیر بلور کے فرزند ہارون بلور نے بھی شہید ابن شہید بن کر جمہوریت کا حق ادا کردیا ۔ 2013ء کے الیکشن میں عمران خان نے نوازشریف کو غلیظ گالیوں سے ہر محفل، ہر جلسے اور ہر پریس کانفرنس میں یاد کیا۔ ساری انتخابی مہم گالی گلوچ تھی لیکن جب اسٹیج سے گرکر زخمی ہوگئے تو نواز شریف نے انتخابی مہم کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ میاں نوازشریف کے اس اقدام سے عوام خوش ہوگئی کہ سیاسی قیادت میں ابھی اخلاقیات کی رمق باقی ہے، ہارون بلور کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تو اخلاقیات بھول گئے تھے اسلئے شہبازشریف نے جنازہ ہی کے دوران میڈیا کے سامنے اپنا منحوس چہرہ دکھانا لازم سمجھا۔ شاید یہ بتانا چاہ رہا تھاکہ دہشت گرودں کے اس واقعہ سے ہم پر اثر نہیں پڑا ۔ جب یونیورسٹی پر دہشگرد حملہ ہوا تھا تب بھی شہباز شریف نے ایک تقریب سے اپنا خطاب کیا تھا۔ جس کی ہم نے اس وقت بھی نشاندہی کی تھی۔ لوہار اور کھلاڑی سیاست کے بجائے اپنے کام میں مشغول ہوتے تو قوم کا بیڑہ غرق نہ ہوتا۔سیاسی جماعتوں کے قائدین میں اگرانسانیت، غیرت اور معاشرتی قدریں ہوتیں تو ہارون بلور کے جنازہ میں سب کے سب شریک ہوتے۔ تعزیت کیلئے بھی آرمی چیف کو پہل کرنی پڑی۔ بلوچستان دھماکہ میں میڈیا کے رویے پرعوام کو بہت غصہ آیا تھا۔ ہزاروں لعنت بھیجنے کی بات کو آوازِ خلق اور نقارۂ خدا سمجھو۔ عمران خان شہباز ونوازشریف سمیت سبھی نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ دہشتگردی ختم کرنے کا سیاسی قائدین کریڈٹ لے رہے تھے مگر اب ان کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ دہشتگرد کسی فرد کو بھی چھوڑنے والے نہیں، اپنی اپنی باری کا انتظار کرنا ہے، بہادری سے جان دے یا پھربزدلی ہی دکھائے۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اپنی طرف سے پوری صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنی ترجمانی کا بھرپور حق ادا کرتے ہیں۔ جب ملک میں دو مقبول جماعتیں ایکدوسرے پر آرمی کی پشت پناہی سے اقتدار حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہوں تو باقی لوگوں کیلئے فوج کی صفائی بھی سمجھ سے بالاتر نظر آتی ہے۔ آصف غفور نے کہاکہ خلائی مخلوق کا ہمیں نہیں پتہ لیکن ہم اللہ کی مخلوق ہیں۔ ایک طرف پاک فوج کیخلاف کھل کر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگ ہیں جن کے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ ان کو روکا کیوں نہیں جاتا؟۔ تو فوج کے ترجمان آصف غفور نے کہا: ’’کسی کے ذہن کو ڈنڈے کے زور سے نہیں بدلا جاسکتا ہے، یہ لوگ تھک جائیں گے اور ہمیں کوئی ملک کی سطح پر سیکیورٹی کا خدشہ ہوگا تو ایکشن لیں گے، اس کے علاوہ میڈیا کی آزادی سے لوگوں میں شعور وآگہی آتی ہے‘‘۔
جب پاک فوج اپنے مخالفین کی روک تھام کو نہیں روکتے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان سے محبت کا دم بھرنے والوں کی راہوں کو روک لے؟۔ نبیﷺ نے کسی بات پرفرمایا کہ ’’ شیطان جھوٹا ہے مگر یہ بات اس کی سچ ہے‘‘۔ زید حامد نے عمران خان کا کہا کہ میں اس کو غدار نہیں کہتا مگر ملک دشمنوں سے زیادہ یہ ملک کو نقصان پہنچائیگا‘‘۔ چلو ! اچھا ہے کہ سیاستدانوں میں کسی ایک کو تو غدار نہیں کہا اور اس بات میں بھی شک نہیں کہ نادان دوست ہوشیار دشمن سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ جو صحافی ہوشیار ہیں اور وہ ہر بات میں فوج کے پیچھے پڑنے سے باز نہیں رہتے ان سے زیادہ زید حامدجیسے لوگ ہی پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر دونوں طبقے سے شعور میں اضافہ ہورہاہے۔ دونوں پر پابندی کی ضرورت نہیں ۔
پاک فوج پاکستان کے استحکام کا بنیادی ادارہ ہے۔ اگر فوج نہ ہو تو ریاستِ پاکستان کا وجود نہ رہیگا، یہ نہیں کہ فوج غلطی سے پاک ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو پہلا کٹھ پتلی بنایا گیا۔ پھر نوازشریف کو بھی بنایا گیا اور اب حد ہوگئی ہے کہ عمران خان جیسے کو بنایا جارہاہے۔ غلطیوں کا تسلسل باشعور لوگوں میں ہی نہیں زید حامد جیسے احمقوں میں بھی بڑا شعور اجاگر کررہاہے۔ عمران خان سے زیادہ شریفوں کی منافقت خطرناک ہے۔ شہبازشریف جنازہ کے موقع پر دکھا رہاتھا کہ بلور کی شہادت سے لاتعلق ہیں ، مریم نواز الزام لگارہی تھی کہ فوج ہماری وجہ سے ملک کو تباہ کررہی ہے۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے۔ سراسر موم ہو یا سنگ ہوجا۔ جو چپ رہے گی زبان خنجر تو لہوبول اٹھے گا آستین کا۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نواز و شہباز شریف کا منافقانہ رویہ ہے تو عمران خان بھی حق لاشریک نہیں البتہ PTMکے جوانوں کو اگر زبردستی سے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی تو بھی ان کی مظلومیت پکار اُٹھے گی۔ سیاسی قائدین میں ڈکٹیٹرشپ ہے ، منظورپشتین اپنی ڈکٹیٹر شپ کا ماحول قائم نہ ہونے دیں تو کامیابی ملے گی۔

میرا وطن لہو لہو ہے ن لیگ دہشتگردوں کی ساس اور پی ٹی آئی ان کی بہو ہے

noon-league-and-pti-action-plan-imran-khan-nawaz-shareef-siraj-raesani-zainab-ptm-aman-foundation-mastung-incident

امیرادارہ کلمۃ الحق قدوس بلوچ نے کہا بلوچستان و پختونخواہ میں خون کا کھیل کھیلا گیا۔ مستونگ واقعہ پر عمران خان نے پروگرام میں بلوچوں کے خون پر افسوس کا اظہار تک نہ کیا۔ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف نے بلوچوں کا خون قابلِ افسوس نہ سمجھا۔ عمران خان میں انسانیت نہیں۔ یہ بندر کی طرح ڈنڈے پر چڑھتا ہے، قلا بازیاں کھاتاہے ، تماشے دکھاتا ہے۔ ن لیگ کا بھی یہی حال ہے۔عالمی قوتیں اقتدار میں لاکرانہیں استعمال کرتی ہیں ۔قوم کو جاگنا ہوگا۔
پاکستانی میڈیامخصوص ایجنڈے کے تناظر میں مختلف سیاسی قائدین، رہنماؤں، دانشوروں اور شخصیات کو کوریج دیتا ہے۔بلوچستان میں خود کش دھماکے سے70افراد کی شہادت اور سینکڑوں زخمی ہونے کی خبر آئی۔ شہیدوں کی تعداد 85بتائی گئی ، میڈیا کا فوکس مریم نواز، نواز شریف کا جہاز تھا اور مخالفت وموافقت کی خبریں چل رہی تھیں۔ کچھ میڈیا چینل عوام کو توجہ دلاتے، ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور خون کی ضرورت کی اطلاع دیتے، مگر بلوچوں کے خون کو اہمیت کے قابل نہ سمجھا ۔ صرف آرمی چیف کی طرف سے آئی ایس پی آر نے ایک تعزیتی بیان جاری کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ یہ ملک ایک وفادارو محبِ وطن سیاسی قائد نوابزادہ سراج رئیسانی سے محروم ہوا۔ باقی میڈیا کو یہ فرصت ہی نہیں ملی کہ رہنماؤں کو تعزیت کرنے کی تکلیف دیتے۔ میڈیا کے مختلف چینلوں پربھی تجزےۂ نگاروں کو مریم نواز اور نوازشریف کا طیارہ اترنے ہی کی فکر تھی ۔ کوئی ان کے جیل جانے کا غم منارہاتھا، حوصلہ بڑھارہا تھا، سیاسی اعتبار سے ن لیگ کو تقویت پہنچنے کی بات کررہاتھا اور کوئی ان پر لعن طعن اور جیل جانے کی خوشیاں منارہاتھا۔
وہ صحافی بھی تھے جو احساس دلارہے تھے کہ اس واقعہ کے بعد سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کی ضرورت تھی۔ پھولوں سے شہبازشریف کو منع کرنا چاہیے تھا، عمران خان کو پروگرام میں احساس کی ضرورت تھی کہ مستونگ میں قیامت صغریٰ برپا ہوئی ، ہم اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میڈیا کو ریج میں واقعے کو بھرپور اہمیت دینی چاہیے تھی لیکن یہ احساس بہت کم تعداد میں اجاگر ہوا۔ ن لیگ یا تحریک انصاف کے قائدین اس کو اہمیت دیتے تو ان کے پُجاری میڈیا چینل بھی لگ جاتے اور لہو لہو مستونگ کے لوگوں کی داد رسی ہوجاتی، ان کو حوصلہ ملتا، ان کے زخموں کو مرہم ملتا کہ ہمارا دکھ درد بانٹنے والے بہت ہیں اور اس حادثہ میں اصحابِ اقتدار نے ہمیں یاد رکھا ہے۔
اگر ہمارے اصحابِ سیاست سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنایا، ن لیگ کی حکومت گرا کر اقتدار کا مزہ چکھ لیا تو پنجاب کے سیاستدانوں نے کبھی یہ غلطی نہیں کی؟۔ کیا اسلام ، انسانیت اور پاکستانیت ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ہم بھی بے حس ہوجائیں؟۔ اگر فرقہ واریت، لسانیت کے نام پر ہمارے ہاں قتل وغارتگری ہوئی ہے تو کھل کر اس کا اظہار کرو تاکہ ٓائندہ ہماری آنکھیں کھل جائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ میڈیا کے پاس نوازشریف اور مریم نواز کا ایشو نہ ہوتا تو بہت ہمدردی دکھائی جاتی، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش تھی کہ کوریج کی بھوکی میڈیا نے بلوچوں کے اس بڑے واقعہ میں ساتھ نہ دیا۔ بلوچستان میں فرقہ واریت اور لسانیت کے نام پر کھیل کھیلا جارہا تھا تو میری قوم خاموش تھی۔ ہزارہ برادری کوآنسو پونچنے کیلئے ٹرک میں ٹشو پیپر بھیجنے کی بات کی جاتی تھی۔ مسافر مارے جاتے تھے، اس بربریت کا دکھ درد اللہ تعالیٰ نے دِکھانا تھا۔ اس میں معصوم لوگ لپیٹ میں آگئے ہیں۔ دل سے دکھ درد محسوس کر رہا ہوں۔ شکر ہے کہ میڈیا کو فراغت بھی نہ ملی ورنہ ماؤں اور بہنوں کی چیخ و پکار بھی چینلوں پر دکھائے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانیوں سے بلوچوں کی عزت رکھ دی۔ ان کی چیخ وپکار کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
پختونوں نے دھماکہ کے بعد نعرہ لگایا ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ اسلئے میڈیا نے دھماکہ کے بعد کے مناظر دکھانے سے گریز کیا۔ ان کی چیخ وپکار بھی اسلئے میڈیا پرنہیں دکھائی جاسکی ، ورنہ تو میڈیا نے اپنی ریٹنگ کیلئے بہت کچھ کرنا ہوتاہے۔ پنجاب میں عوام کی عزتیں تک بھی محفوظ نہیں تو چیخ وپکار دکھانے سے فرق نہیں پڑتا۔ سعودیہ میں لڑکی سے زیادتی کرنیوالوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیو نیٹ پر موجود ہے۔ اگر قصور کی زینب کے گرفتار مجرم کو قرآن کے مطابق قتل اور حدیث کیمطابق سنگسار کیا جاتا تو بہت خواتین کی عزتیں محفوظ ہوجاتیں۔ مستونگ کی عوام شکر کریں کہ انکے ساتھ یہ واقعات نہیں ہوئے جو پنجاب میں بڑے پیمانہ پرہورہے ہیں۔
پہلے عزتوں جانوں کا، اسکے بعد کرپشن کامعاملہ ہے۔ عزتوں و جانوں کا تحفظ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا نہیں۔ کرپشن ایجنڈا نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ’’ نتھیا گلی میں وزیراعلیٰ کے محل میں اپنے خرچے پر رہا ہوں‘‘۔ (تعلیمی ادارہ نہ بنایاتوکرایہ اداکرتے) سلیم صافی نے جیونیوز پر کروڑوں کا حساب بتایا تھا کہ ڈیڑھ ڈیڑھ، ڈھائی ڈھائی اور ساڑے تین تین لاکھ چائے پر سرکاری خزانے سے خرچ کیا۔ پی ٹی آئی کی جماعتی سرگرمی پر پختونخواہ کی عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنے سے بڑی کرپشن کیا ہوسکتی ہے؟۔ یہ اچھا وطیرہ ہے کہ دوستوں پر سرکاری خرچہ کرو اور دوستوں سے اپنے اوپر خرچ کراؤ؟۔
کراچی سے ایک ’’امن ‘‘ کے ملازم فاروق نے اپنی انتظامیہ سے کہا کہ مستونگ میں ایمبولینس بھیجو،مگر اسکے نالائق ذمہ داروں نے کہا کہ جب تک ہم سے درخواست نہیں کرینگے ہم نہیں بھیجیں گے۔ایک گھر کے 15افراد شہید ہوگئے ہیں، ایک گھر میں خواتین اور بچیاں رہ گئیں، کوئی مرد ہی نہیں بچا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کو سوات سے پشاور اور پھر بیرون ملک پہنچاکر موت کے منہ سے نکالا۔ نوابزدہ سراج رئیسانی پاکستان سے محبت اور بھارت سے نفرت کی سیاست کرتا تھا لیکن پھر بھی اس کی جان بچانے کی کوشش نہیں ہوئی۔دشمن تو دشمن ہوتا ہے مگر گلہ دوستوں سے ہوتا ہے۔ عمران خان اور نوازشریف وہ دلے اور بے غیرت ہیں جو بلوچوں کے زخم پر مرہم کے بجائے نمک ہی چھڑکتے ہیں۔ افواجِ پاکستان اس بات کا خیال رکھے کہ PTMوالے ناراض ضرور ہیں لیکن بے غیرت نہیں ہیں اگر کبھی ملک وقوم کو ضرورت پڑی تو منظور پشتین سب کی قیادت کریگا۔ناراض بلوچ بھی غیرتمند ہیں اور جب ان کا گلہ شکوہ ختم کرنے کیلئے درست پالیسی تشکیل دی جائے گی تو پاکستانی ریاست کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونگے یہ بے غیرت سیاسی جماعتوں اور میڈیا کا کام نہیں ہے۔

ریاستی معاملات ٹھیک ہونگے یاپھرایک انقلاب آئیگا؟

maulana-yousuf-ludhyanvi-amir-liaquat-fake-phd-certificate-gadha-imran-khan-shaukat-khanum-hospital

پاکستان ہی نہیں دنیا کی تمام ریاستوں کا بھی آوے کا آوا بگڑ چکا ہے۔ دنیا کو جانے انجانے ایک انقلاب کی راہ پر اللہ تعالیٰ نے ڈال دیا۔ امریکہ نے اسلامی دنیا کو تباہ کردیا، لیکن اسلام اور مسلمانوں کا خوف اسکے دل سے نہیں جارہاہے۔ یورپ ، مغرب اور دنیا بھر میں ایک انجانے انقلاب کا خوف لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہے۔ روس کا نظام انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں تھا تو چاروں شانوں وہ چِت ہوا۔ چین نے انقلابی روح بدلی اور بدترین سرمایہ دارانہ نظام پر اپنا انحصار شروع کردیا۔ پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ بوسیدہ ہوچکا ہے اور سیاست کا طرزِ عمل اخلاقیات کی تباہی کا ساماں لیکر سب کچھ سبوتاژ کررہاہے۔ وکالت میں کلائنڈ بدلنے سے وکیل کا ضمیر بدل جاتا ہے، سیاستدان اور صحافی بھی بے ضمیر ی کی تاریخ رقم کرنے لگے ہیں۔ حقائق کو میڈیا پر نہیں لایا جارہاہے مگر پھر بھی ایک حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارے میں اچھے لوگوں کی قطعی طور سے کوئی کمی نہیں ۔
علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کو یہ بہت بڑا کریڈٹ جاتا ہے کہ اپنے اپنے عقیدے، فرقے اور مسلکوں سے ان کی وابستگی بہت لازوال ہے۔ زمین جنبد یا نہ جنبد گل محمد نہ جنبد۔ (زمیں ہلے یا نہ ہلے مگر گل محمد نہیں ہلتا) کے مانند قدامت پسند علماء کرام ومشائخ عظام اپنی روش پر دنیا کی پروا کئے بغیر چل رہے ہیں۔ اس حقیقت کیساتھ ایک دوسری بڑی خوشخبری بھی دنیا کو مل رہی ہے کہ ہرمکتبۂ فکر کے اکابرین و مذہبی طبقات کی طرف سے ماہنامہ نوشتۂ دیوار کے مضامین ، ادارئیے، کالم، خبروں اور تبصروں کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ کوئی اظہارِ خیال کرنے کی جرأت کرلیتا ہے اور کوئی خاموشی سے حمایت کرنے پر اکتفاء کرتا ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے اپنی کتاب ’’ عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں میں‘‘ ایک حدیث لکھ دی کہ ’’ ایک وقت آئیگا کہ جب اہل اقتدار کی جانب سے سب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر وہ جس نے اللہ کے دین کو پہچان لیا، پھر اس کی خاطر زبان، ہاتھ اور دل سے جدوجہد کی۔ یہی ہے وہ جس کیلئے پہلے سے پیش گوئیاں ہوچکی ہیں(جو سبقت والوں میں شامل ہوا)۔ دوسرا وہ ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اس کی برملا تصدیق بھی کردی۔ تیسرا وہ ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچانا مگر حق کا اظہار کرنے سے ہچکچایا۔ جس کو اچھا کام کرتے دیکھا تو اس سے محبت رکھی اور کسی کو باطل عمل کرتے دیکھاتو اس سے نفرت کی لیکن ان تمام چیزوں کو چھپانے کے باوجود بھی وہ نجات پاگیا‘‘۔
موجودہ دور میں ایک سر بکف مجاہدین کی وہ جماعت ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچاننے کی سعادت حاصل کی اور پھر زبان ، ہاتھ اور دل سے اس کی خاطر جدوجہد کی ، یہ سب میں سبقت لے گئے ہیں۔ دوسرے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والوں کاوہ جمع غفیر ہے جو کھل کر ان کی حمایت کررہے ہیں۔ تیسرے درجہ میں وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین کی معرفت رکھتے ہیں اوراہل حق سے محبت رکھتے ہیں اور اہل باطل سے بغض رکھتے ہیں لیکن وہ اپنی ان تمام باتوں کو چھپاتے ہیں ان کیلئے بھی اس حدیث میں نجات کی خوشخبری موجود ہے۔ جب انقلاب آئیگا تو یہ سب لوگ کھل کر سامنے آئیں گے۔ ہمیں ان کی عزت وتوقیر کرنی ہے۔
طلاق و حلالہ ، خواتین کے حقوق اوردرسِ نظامی کے نقائص کا معاملہ سب ہی کو سمجھ آگیا ہے، بڑے مدارس کے ارباب فتویٰ وتدریس بھی فرقہ واریت کو بھول کر ہم سے کھل کرو چھپ کر اتفاقِ رائے کا اظہار فرمارہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے زمین میں خلیفہ بنایا تو اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے علاوہ اقتدار کیلئے کوئی دوسرا قبیلہ، قوم، رشتہ داراور دوسرے طبقے کے انسان موجود نہیں تھے۔ طبقاتی تقسیم اور اقتدار کا معاملہ بعد میںآتا ہے۔ پہلے گھر سے ہی اقتدار کا معاملہ ٹھیک کرنا ہوگا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، پاکستان کا آئین خاطر خواہ اسلامی تعلیمات سے واقفیت کو لازم قرار دیتاہے جبکہ عوام ، سیاستدان، سیاسی علماء اور نام نہاد مذہبی اسکالر تو بہت دور کی بات ہے، اسلامی تعلیمات کی تدریس کیلئے زندگی وقف کرنے والے بھی بنیادی اسلامی تعلیمات سے بھی بے بہرہ اسلئے ہیں کہ علم، دین اور ایمان احادیث صحیحہ کی پیش گوئیوں کے مطابق اٹھ چکے ہیں۔
وہ علماء کرام اور مفتیان عظام جنہوں نے کسی موضوع پر کتاب لکھ ڈالی ہے تو اس کو بھی علم نہیں جہالت سے بھر دیا ہے۔فقہ کی کتاب الطہارت میں لکھے گئے جو غسل اور وضو کے مسائل ہیں وہ بھی قرآن وسنت اور صحابہ کرامؓ سے انحراف کے مترادف ہیں۔ دین کی تکمیل ہوچکی تھی تو غسل اور وضو میں فرائض گھڑنے اور ان پر اختلافات کی کہاں گنجائش تھی۔ نہانے اور وضو میں فرق ہر انسان جانتاہے بس حالت جنابت سے نہانے کو غسل اور وضو ٹوٹنے کی صورت میں وضو کرنا عملی کام تھا جس میں فرائض و اختلاف گھڑنا امت کاوقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
قرآن وسنت میں نکاح وطلاق، خواتین کے حقوق اتنے واضح ہیں کہ صرف ان کی بنیاد پر گھر، محلہ اور معاشرے کی درست رہنمائی کی جائے تو ایک انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ سیاستدانوں سے الیکشن میں صرف یہ مطالبہ کیا جائے کہ زمینوں کو خود کاشت کرو،یا مزارعت کے بجائے کاشتکاروں کو مفت دو، تو پورے ملک کا طبقاتی نظام درست کرنے کیلئے ایک بڑی بنیاد فراہم ہوجائے گی۔ مزارع غلام نہ رہے گا اور اپنے ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکے گا جو قابل انجنیئر، ڈاکٹر، سائنسدان اور تمام شعبائے تعلیم میں قابلیت حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو ملک، قوم اور سلطنت ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے۔ بلاول بھٹو زرداری، بختاورزرداری، آصفہ زرداری، حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور دیگر بااثر طبقے کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ کر بھی اپنی تعلیمی فیس کا ضیاع کرتے ہیں اور اس کیلئے بول ٹی وی چینل کے ’’ایگزیکٹ‘‘ نے جعلی تعلیمی اسناد کا کامیاب راستہ نکالا تھا جس پر مغرب کے اداروں نے عرب ممالک پر بھی تجربات کئے تھے۔
عربی لطیفے کی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ کسی تعلیمی ادارے نے جاہل بدو سے کہا کہ تعلیمی سند برائے فروخت ہے،اگر لوگے تو تمہاری شخصیت بدلے گی، پی ایچ ڈی ڈاکٹر کہلاؤگے، تو بدو نے کہا کہ 2 سند دے دینا کیونکہ ایک میں اپنے لئے خریدوں گا اور دوسرا اپنے گدھے کیلئے‘‘۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کے پاس ڈاکٹر کی ایسی کوئی سند ہوگی اور ان اسناد سے سیاستدانوں کے گدھے جیسے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ قرار دیا جائے تو ان کی شخصیتوں میں فرق نہ آئیگا۔ البتہ غریب غرباء کے باصلاحیت بچوں کو تعلیم کے مواقع مل جائیں تو ملت کی تقدید بدل کر رکھ دینگے۔
جب مزارعت کا سودی اور ناجائزسسٹم ختم ہوجائیگا تو مزدور کی مزدوری بڑھ جائے گی، نوکر پیشہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا مجبوری بن جائے گی۔ محنت کشوں کو اپنی محنت کا درست صلہ مل جائے تو غربت، چوری، ڈکیتی، عزتوں کی پامالی اور بہت سی برائیوں میں فرق آئیگا۔ عمران خان شوکت خانم کے نام پر دنیا بھر سے جو غرباء کا فنڈز کوٰۃ کے نام پر ہتھیاتا ہے، اگر شوکت خانم کے اشتہارات کا پیسہ بھی غریبوں پر خرچ کیا جائے تو لوگ کینسر سے زیادہ سختی کے حالات سے نکل آئیں۔

پاکستان کی نظریاتی ریاست ( حقائق کے تناظرمیں)

quaid-e-azam-congress-party-habib-jalib-abdul-sattar-khan-niazi-mqm-taliban-bhutto-sharab-par-pabandi

پاکستان کے دامن میں خلوص کے سوا کچھ نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔ ہندوؤں کا متعصبانہ رویہ دیکھ کر مسلم لیگ کی کیمپ میں شامل ہوگئے۔ مسلم لیگ کیا تھی؟۔ نفرت پھیلانے میں انگریز سرکار کی ایک وفادار کٹھ پتلی جماعت!۔ البتہ اس میں نظرےۂ خلافت کے علم بردار محمد علی جوہر اور علامہ اقبال جیسے جدوجہد کرنے والے مخلص لوگ بھی تھے۔ قائداعظم نے بھی کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد شروع کردی۔ فرقہ وارانہ اور سیاسی مذہبی جماعتوں نے کھل کر پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کے نعرے کی زبردست مخالفت شروع کی۔
اگرچہ بت ہیں جماعت کے آستینوں میں مجھے ہے حکمِ اذاں لاالہ الااللہ
مشرقی اور مغربی پاکستان وجود میں آگیا، کیونکہ ایک طرف ایک قومی نظریہ تھا جو متحدہ ہندوستان کا تقاضہ کررہاتھا اور دوسری طرف دوقومی نظریہ تھا، ہندومسلم دو الگ الگ ملتیں ہیں جو ہندوستان کی تقسیم اور نظریۂ پاکستان کا تقاضہ کررہاتھا۔ 2013ء کے الیکشن پر تحریک انصاف کا الزام تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور چوہدری افتخار کی قیادت میں فوج اور عدلیہ نے مل کر ن لیگ کو دھاندلی سے جتوایا اور اب ن لیگ الزام لگارہی ہے کہ فوج اور عدلیہ مل کر ن لیگ کو آؤٹ اور تحریکِ انصاف کو اقتدار میں اِن کررہی ہے۔ 2013ء میں دونوں میں کانٹے کا مقابلہ ہورہاتھا اسلئے پتہ نہیں چل رہاتھا کہ اقتدار ن لیگ کو ملے گا یاتحریک انصاف کو مگر دونوں اسٹیبلشمنٹ کی منظورِنظر جماعتیں تھیں۔ طالبان کے جگری یار وں میں پتہ نہیں چل رہاتھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا گودی بچہ کون بنے گا؟۔ ایم کیوایم، پیپلزپارٹی، اے این پی اور طالبان کی سرپرست سمجھی جانے والی مذہبی جماعتوں جمعیت علماء اسلام اور جماعتِ اسلامی کی قیادت بھی دہشت گردوں کے نشانے پر تھیں۔
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف اور اسٹیبلشمنٹ کٹھ پتلی بیانیہ ہمیشہ رہاہے مگر اس کو حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب پاکستان بن گیا تو سیاسی قیادت محمد علی جناح، فاطمہ جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان اور بیگم راعنا لیاقت علی خان پر مشتمل تھی۔ قائد اعظم فوت ہوگئے۔ لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیا۔ پاکستان پر سول بیوروکریسی کی حکومت تھی۔پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے۔ مہاجر بڑی تعداد میں بھارت سے آئے تھے، بعض نے محسوس کیا کہ اسلام محض دھوکہ تھا اور جنکے پاس باہر جانے کی گنجائش تھی وہ پاکستان چھوڑ کر چلے گئے۔ ہندؤں کی جگہ زمین و مکان کے غلط کلیموں و قبضہ نے پاکستان میں بے ایمانی ، بے انصافی اور دھوکہ بازی کی بنیاد رکھ دی۔انگریز کی بدترین غلام سول وملٹری بیوروکریسی کو اقتدار مل گیا، نااہل لوگ بڑی پوسٹوں پرآئے جسکے نتیجے میں سیاسی ، نظریاتی اور اسلامی لوگوں کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑا کہ انگریز نے بھی وہ مظالم نہ کئے ۔ ختم نبوت کی تحریک میں شامل لوگوں کو غیرمسلم و غدار قرار دیا گیا ۔ مولانا عبدالستار خان نیازی کو خوف کے مارے داڑھی منڈوانی پڑگئی۔ لیگی علماء ومفتیان نے ختم نبوت والوں کو کانگریس کا ایجنٹ، ملک اور اسلام کا غدار کہنا شروع کیا تھا۔
حبیب جالب اور مولانا عبدالستار خان نیازی کی دوستی تھی، حبیب جالب کی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ ’’ مولانا عبدالستار خان نیازی میرے پاس آتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں فرمایا کہ’’ جالب کو میرا سلام دینا‘‘۔ حبیب جالب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ بھٹو نے سب سے بڑی غلطی یہ کی تھی کہ شراب پر پابندی لگائی تھی اور اس کی سزا اس کو مل گئی، کیونکہ شراب واحد وسیلہ تھا کہ جو پی کر آمروں اور ظالموں کے سامنے حق کی آواز بلند کی جاسکتی تھی‘‘۔ جبکہ قرآن میں شراب کے اندر منافع کا ذکر ہے اور ابتدائے اسلام میں اس پر پابندی نہیں تھی اور ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے سے بڑا فائدہ شراب کا نہیں ہوسکتا ۔
جب پاکستان میں سول بیوروکریسی نے انصاف اور اسلام کا کباڑہ کیا تھا تو جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے لیکن اگر وہ اقتدار پر قابض ہوں تو اچھی ریاست ، سیاست اور صحافت کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ فاطمہ جناح پر بھی ایجنٹ کے الزامات لگے۔ سول بیوروکریسی میں مہاجرین اکثریت تھی اور سیاست ولی خان، غوث بخش بزنجو، عبدالصمد خان اچکزئی شہید، عطاء اللہ مینگل ، حاکم علی زرداری ، جالب اور نوابزادہ نصر اللہ خان ومفتی محمود جیسے قائدین کے ہاتھوں میں تھی۔جنرل ایوب کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کو میدان میں لایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور مہاجرین کی سول اسٹیبلشمنٹ کا ناطہ توڑ کر سندھ اور پنجاب کا گٹھ جوڑ کرادیا۔ مہاجروں کی سول بیوروکریسی کو بڑے پیمانے پر اقتدار سے باہر کیا۔ بھٹونے غلام سول بیوروکریسی کے قبضے سے اقتدار چھڑانے کیلئے میرٹ کا بھی خاتمہ کردیا۔ کوٹہ سسٹم سے نالائق طبقوں کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا۔ پھر بنگلہ دیش نے آزادی حاصل کرلی اور بھٹو نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالا، بڑی تعداد میں قید ہونے والی پاک فوج کو بھارت کی قید سے آزادی دلائی گئی۔
قائداعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو قائدِعوام کا خطاب ملا۔ بھٹونے قادیانی کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا، اسلامی کانفرنس سے اُمہ کو اکٹھا کرنے کا آغاز کیا، اتوار کی جگہ جمعہ کی سرکاری چھٹی کی، افغانستان میں روس کیخلاف مجاہدین کی تربیت شروع کی، ایٹم بنانے کا اقدام اورسیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر عوام کی دہلیزتک پہنچاکر دم لیا مگر ایک آمر کا تربیت یافتہ جمہوری کیسے بن سکتاتھا؟، الیکشن میں لاڑکانہ سے اپنے خلاف کاغذاتِ نامزدگی داخل کرانے پر جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کو ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ خالد کھرل کے ذریعے اٹھاکر بند کرادیا ۔
جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ اُلٹ دیا تو تمام سیاسی جماعتوں کے قائد بغاوت کے مقدمے میں قیدو بند کی زندگی گزار رہے تھے۔ جنرل ضیاء نے رہائی دلائی تو جنرل ضیاء الحق نے قائد جمہوریت کے نام پر محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنا دیا اور پھر خود ہی اس کی حکومت کو تحلیل بھی کردیا۔ سیاسی جماعتوں نے ایم آر ڈی بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی۔ جنرل ضیاء حادثی موت کا شکار ہوگئے تو بینظیر بھٹو کو اقتدار مل گیا لیکن اس نے صدارتی امیدوار کیلئے نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو نوازشریف کیساتھ مل کر سپورٹ کیا۔ غلام اسحاق نے پہلے بینظیر بھٹو اورپھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نواز شریف کی حکومت کو چلتا کردیا، پھر پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو اپنے صدر فاروق لغاری نے بینظیر کو چلتا کردیا اور پھر دو تہائی اکثریت سے ن لیگ کی حکومت آئی تو جنرل مشرف کو ہٹایا گیا لیکن جنرل ضیاء الدین بٹ کو گرفتار کرکے ن لیگ کی حکومت ختم کردی گئی۔
پھر جنرل پرویز مشرف کے ریفرینڈم نے عمران خان کا تحفہ پاکستان کو دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے میرٹ کی تباہی اور کوٹہ سسٹم سے مہاجر تحریک کی بنیاد رکھ دی، جنرل پرویزمشرف نے امریکہ کی حمایت کرکے طالبان دہشت گردوں کی بنیاد رکھ دی۔ ضیاء الحق نے افغان مجاہدین اور نصیراللہ بابر نے طالبان بنائے تھے۔