پوسٹ تلاش کریں

منظور پشتین مظلوم پنجابیوں کیلئے تحریک اٹھاتا تو کامیاب ہوجاتا: امین اللہ کوئٹہ

shah-wali-ullah-fikr-e-waliullah-ubaid-ullah-sindhi-talaq-londi-jibri-zina-muttahida-majlis-e-amal-mufti-taqi-usmani-saudi-arab-cenima-halala-muta

جنوبی وزیرستان کے منظور پشتین میں انسانیت کا درد ہے مگر تعصب نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محسود قبائل نے یہ درد محسوس کیااور ساتھ دیا، دوسروں سے زیادتی کا پتہ چلا تو محسود تحفظ موومنٹ کوپختون تحفظ موومنٹ میں بدل دیا۔ سوات سے کوئٹہ تک دُکھے دلوں کی آواز منظور پشتین کہتا ہے کہ طالبان ظلم کریں یا ریاستی ادارے، میں ہر ظالم پر لعنت بھیجتاہوں۔ قبائل تاریخی مظالم میں پس چکے۔ اگر اس تکلیف، مصیبت، درد، ظلم، جبر، بے عزتی،جان، مال اور عزتوں کی لوٹ مار سے کوئی دوسری قوم دوچار ہوتی تو اس کی نسلیں بھی نہیں اُٹھ سکتی تھیں۔ اسلام کی نشاۃ اول کے وقت پہلی ہجرت حبشہ اور دوسری مدینہ ہوئی تھی۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کی خوب عزت افزائی کی۔ انصار مدینہ نے مہاجرین کیلئے بھائی چارے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنیوالے انگریز کی جگہ اقتدار کا مالک بنے، مہاجر افغان کی دنیا بھر نے خوب مدد کی لیکن وزیرستان سے ہجرت پر مجبور ہونیوالوں سے انتہائی بدسلوک روا رکھا گیا۔
سید عتیق الرحمن گیلانی کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے۔ ایک گھر والی سندھی اور دوسری بلوچ ہیں۔ اکثر بچوں کی پیدائش شکار پور اور کراچی میں ہوئی۔ معروف ماہنامہ ضرب حق کراچی کے 10سال تک چیف ایڈیٹر رہے، کئی کتابوں کی تصنیف کے علاوہ ملک بھر سے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام ، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی تائید، سندھ پولیس و بیورو کریسی کے اعلیٰ افسران کی تحریری و شائع شدہ تائید رہی۔ چین کیلئے پولیس سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی تھا ۔ ڈان اخبار میں تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ عتیق گیلانی پر ٹانک سے جاتے ہوئے قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور اسکے بعد کراچی مستقل رہائش اختیار کرلی تھی،تمام اخبارات میں خبر لگی تھی کہ پیر عتیق گیلانی کے گھر پر طالبان نے حملہ کیا اور 13افراد شہید کردئیے۔ ٹی وی چینل، اخبارات کے علاوہ دنیا بھر کی میڈیا میں خبر رپورٹ ہوئی لیکن اسکے باوجود جس طرح طالبان نے رات کی تاریکی میں شبِ خون مارا۔ پاکستان کے لائق انٹیلی جنس اداروں نے اپنے لاؤ ولشکرکے ساتھ عتیق گیلانی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پورا علاقہ گھیرے میں لیا اور بلڈنگ کی دونوں لفٹوں کو بھی قبضہ میں لے لیا تھا۔
گھروالوں کے دل ودماغ سے طالبان کا خوفناک حملہ نہیں مٹا تھا کہ ’’ یہ بہادر گھر میں گھس گئے اور سید حمزہ کو ایک قدآور پولیس انٹیلی جنس افسر یا سپاہی نے زور دار تھپڑ رسید کیا اور پوچھا کہ’’ تمہارا باپ کہاں ہے‘‘ ۔یہ ظلم و جبر کی تاریخ رقم کرنے والی بزدل ریاست کے ظالم اہلکار کاوہ ہاتھ تھا جس نے انگریز کے بعد غلامانہ ذہنیت کا طوق اپنی گردن سے نہیں اتارا ہے، جسکے وزیراعظم کوآج ننگا کیا جاتاہے تو قانون کی پاسداری قرار دیتاہے۔ جسکے جوان عتیق کوامریکی اتاشی اسلام آباد میں سگنل توڑ کر اڑادیتا ہے لیکن پولیس اس کو چھوڑ دیتی ہے اور ہمارا دفتر خارجہ صرف احتجاج ہی کرتا ہے۔
عتیق گیلانی نے اپنے صاحبزادے کا نام حمزہ رکھاہے اور جب ان کو زور دار تھپڑ مارا گیا تو وہ حواس باختہ نہیں ہوا۔ بلکہ تھپڑ مارنے والے ظالم سے ڈٹ کر کہا کہ جب تک تم نہیں بتاؤ کہ مجھے تھپڑکیوں مارا ہے ،اس وقت تک تم نے جو کچھ بھی کرنا ہے کرلو، میں کچھ بھی نہیں بتاؤں گا۔
یہ قصہ اسلئے لکھ دیا کہ منظور پشتین غیرملکی ایجنڈے پر کام نہیں کررہا بلکہ بے گناہ لوگوں کیساتھ جو زیادتیاں ہوگئی ہیں اسکا سلسلہ روکا جائے۔ عتیق گیلانی کیساتھ یہ معاملہ ہواتھا تو دوسروں کیساتھ کیا نہ ہوا ہوگا؟۔ البتہ ریاستی اہلکار اخلاقیات سے عاری ہیں ، ان کی تعلیم وتربیت کا اہتمام نہیں ۔ نااہل نوازشریف نے پارلیمنٹ میں اقرار کیا کہ اثاثوں کا اللہ کے فضل وکرم سے میرے پاس تمام ثبوت ہیں، فیصلے چوکوں پر نہیں عدالتوں میں ہوتے ہیں اور حسین نواز نے بھی میڈیا پر کہا تھا کہ ’’میں عدالت میں اپنا ثبوت پیش کروں گا‘‘۔ ڈکٹیٹر شپ میں میڈیا پر پابندی لگتی ہے اور ملزم اپنا ثبوت و ریکارڈ میڈیا پر بھی پیش نہیں کرسکتا۔ ن لیگ کی حکومت ہے اور میڈیاکو حکومتی اشتہارات سے خرید اہے اور صحافی صحافت کے بجائے وکالت کرتے ہیں۔ذہنی پستی کا شکار جمہوریت کا نام لیکرقیادت کرپشن کی لڑائی میں کہہ رہا ہو کہ’’ پارلیمنٹ کی تقریر اور قطری شہزادے کے خط سے جو کالک اپنے منہ پر ملی تھی واجد ضیاء اس کو صاف کررہاہے‘‘ لیکن پھر بھی اپنے حواری اور مشرف کے لوٹے ہی نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن، حاصل بزنجو، اسفندیار ولی ، اچکزئی بھی اس بیانیہ کو سپورٹ کررہے ہوں۔ متحدہ مجلس عمل کو بھی زکوٰۃ و خیرات سے اپنا ٹاؤٹ بنالیا تو قوم کہاں جائے گی؟۔ باقی سیاسی قیادتوں اور برساتی مینڈکوں کا حال بھی مختلف نہیں۔ عمران خان کے دور میں واقعی تبدیلی آ نہیں رہی ہے بلکہ تبدیلی آگئی ہے۔ پہلے سینٹ کیلئے ارکان بکتے تھے ۔ عمران خان نے اپنے ارکان کو اسلئے پیسے دینے شروع کئے کہ دوسرے خریدلیں تو ہم اپنے ارکان کو خود ہی خرید لیں۔ اس دلالی میں اپنا اُلو بھی سیدھا کرلیا لیکن بعض ارکان نے شاید پھر بھی دھوکا دیدیا۔
آصف زرداری نے محسوس کیا کہ ن لیگ کو سہارا نہیں دیا جارہاہے تو اعلان کردیا کہ’’ میں اسے گراکر دکھاؤں گا‘‘۔ طاہرالقادری کے اسٹیج کیلئے اس بے غیرتی کو بھی برداشت کرلیا کہ عمران خان سے پہلے اپنا منحوس چہرہ اسٹیج سے غائب کردونگا۔ اگر لاہوری باربار طاہرالقادری کو اینویں (پنجابی میں ایسے ہی) ڈگڈی بجاتے ، بندر ناچ گاتے نہ دیکھ چکے ہوتے تو اس ڈرامہ کو کامیابی مل سکتی تھی۔ ڈرامہ کامیاب ہوتا تو زرداری نے کہتا کہ ’’ میں نے حکومت گراکر دکھائی ہے‘‘ جب سیاستدان اس قدر گھٹیا بن جائیں بلکہ گھٹیالوگوں کے ہاتھوں میں قیادت آئے تو یہ قیامت کی علامات ہیں اور اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ سیاستدانوں کی بہت گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے سیاست کا بہترین شعبہ بدنام ہوا ہے۔
پنجاب میں اصولوں، اعلیٰ اخلاقی اقدار ، بہترین روایات اور انسانیت کے اعلیٰ معیار کی کمی نہیں۔ ناکارہ اور لاوارث گدھا بھی کوئی غلطی سے مار دے توپٹھان قیمت وصول کرتا ہے۔ 80سال کی بوڑھی ماری جائے جسکا شوہر 20سال پہلے مرچکا ہو تو وارث یہ دعویٰ کرنے سے نہیں شرماتے کہ ایکسیڈنٹ پر غریب ڈرائیور دو افراد کی دیت دے، بڑھیا کے پیٹ میں بچہ بھی تھا۔ پنجاب میں اکلوتا بیٹا غلطی سے ماردیا جائے تو غریب باپ ایک پیسہ لئے بغیر معاف کردیتا ہے اور معاف کرنے میں احسان کا احساس بھی نہیں رکھتا، اس کو اللہ کی مرضی اور مقتول کا مقدر قرار دیتا ہے۔ آصف زرداری بے غیرت سیاسی قیادت کا ایک بے غیرت کھلاڑی ہے لیکن پرویزمشرف کو چلتا کرنے میں پنجاب کی حکومت کا موقع گنوادیا، شہبازشریف کی گالی برداشت کی، نوازشریف سے کہا تھا پہلے آپ کی باری ہے، کابینہ کا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بنایا۔ رات کی تاریکی میں شہبازاورجنرل کیانی کی ملاقاتوں سے تنگ آکر کئی بار کہا کہ صدارتی محل سے میری لاش ایمبولینس میں جائیگی۔ ن لیگ کیلئے پھر ان کی مشکلات کے دور میں پنجاب کے وفادار ساتھیوں کی ناراضگی مول لیکر سہارا بننے سے دریغ نہ کیا۔ نوازشریف کی بے وفائی کو خاطر میں نہ لایا ۔ 18ویں ترمیم میں صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کردئیے۔ دوتہائی نہیں 75فیصد ووٹ حاصل کرکے تین تہائی ووٹوں سے صدر مملکت بن گئے۔ ووٹ کو عزت دینے کی ڈگڈگی بجانے والا نوازشریف غیرت، حمیت، اقدار ، رسم وروایت سے اتنا عاری ہے کہ سندھی صدر مملکت جب نوازشریف کے بھائی عباس شریف کی تعزیت کیلئے جانا چاہ رہاتھا تو نوازشریف نے تعزیت کیلئے بھی آنے سے منع کیا۔واہ واہ۔
اسٹیبلشمنٹ نے چن چن کر بے غیرتوں کا انتخاب سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے مفاد کیلئے کیا تاکہ ذلت ورسوائی کی آخری حدوں کو پار کرسکیں۔ منظور پشتین نام مظلوم تحفظ موومنٹ رکھ دیں اور پنجاب کے غیور عوام کی عزتوں کو بے غیرت نسل کے بدمعاشوں سے تحفظ فراہم کریں۔ جن کا پیشہ یہ ہے کہ اقتدار ، اختیار، کرپشن اور شہرت حاصل کرلو، عزت کی بات نہیں، عزت تو شوہر کے ہوتے ہوئے لٹ جانا معمول ہے جبکہ طاہرہ سید اور بشری بی بی کی کہانیاں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ نوازشریف کی قیادت نے عوام میں یہ جذبہ پیدا کردیا کہ لاہور میں ڈاکٹر نے ایک عیسائی خاتون کو تھپڑ مارا۔ احتجاج پر ڈنڈوں سے ایک عیسائی کو مار ڈالا، اس سے پہلے بھی میاں بیوی عیسائی جوڑے کو آگ کی بٹی میں جلا ڈالا گیا تھا۔ گوجرانوالہ میں ایک شخص نے کھانا میں دیر کرنے پر اپنی دادی اور بہن کو ڈنڈے مار مار کر قتل کیا اور دوسری بہن کو زخمی کردیا۔ سندھ کے شاہ رخ جتوئی کا قصہ بھی موجود تھا کہ دوسرے جتوئی نے گانیوالی کو ناچنے کا حکم دیکر مار ڈالا۔ یہ ذولفقار علی بھٹو کا شہر ہے جہاں حبیب جالب کی آواز گونجتی ہے کہ ’’ لاڑکانہ چلو، ورنہ تھانہ چلو‘‘۔ پختون قوم سردار اور کسی لیڈر کو نہیں مانتی ۔ قوم کا اجتماعی شعور فیصلہ کرلے تو کوئی قائد بن سکتا ہے۔ قیادت کی اہمیت بالکل بھی نہیں ہوتی ہے۔
منظور پشتین سے معذرت کیساتھ PTMکی مثال کتیا کے پیچھے جمع ہونے ہونیوالے ریلے سے مختلف نہیں، جو کوئی خطرہ بن سکے۔ پنجاب کے مظلوموں کیلئے اٹھتے تو نظریاتی لوگ مل سکتے تھے۔ شک نہیں کہ تعصبات کی آگ خطرہ ہوتی ہے لیکن پٹھانوں کو تعصبات کی آگ میں جھونکا گیا تو آپس میں ہی ہڈی ڈالنے پر لڑپڑینگے۔ پختون قوم خیر کاکام کرے تو اس کو بہت راست آئیگا۔ طالبان کے بعد لسانی تعصب کو ہوا دینا بہت غلط ہے۔ محمود اچکزئی اور اسفندیار ولی نے آخر اسوقت نوازشریف کی گود میں پناہ لی جب کشتی ڈوب گئی۔

منظور پشتون کی تحریک سے عوام کو ریلیف مل گیا مگر سیاسی جماعتیں خوفزدہ ہیں: امین اللہ کوئٹہ

ptm-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-imran-khan-pervaiz-bushra-manika-iddat-period-shah-naimatullah-wali-

نوشتۂ دیوار کے نمائندہ خصوصی امین اللہ کوئٹہ نے کہا کہ منظور پشتون مظلوموں کا قائد بن کر ابھرا ۔ محسود قوم کی حالت کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ قبائل بدترین غلامی کا سامنا کررہے تھے۔ بہت لوگ غلط و بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے منظور پشتون کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔عوام نے فوجی آپریشن کی مشکلات کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا لیکن جب ظلم اس حد تک بڑھ گیا کہ مٹنے پر تل گیا تو منظور پشتون کو توفیق مل گئی۔ سیاسی جماعتیں اپنا وقار کھو چکی ہیں اور عوام میں کسی مقبول قیادت کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل، اے این پی و پیپلزپارٹی کے بعد پنجاب کے عمران خان کو بھی حکومت مل گئی۔
تحریک انصاف میں شمولیت سے محض دوہفتے قبل ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ ’’ عمران خان نے عدت میں شادی کی ہے، قرآن اس نکاح کی اجازت نہیں دیتا، یہ حرامکاری اور گناہ ہے۔ عمران خان قیادت کے لائق نہیں ہے‘‘۔ پھر علامہ اقبالؒ کے بقول’’ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘۔
پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز بھی ہے اور مردم خیز بھی مگر اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف اور عمران خان جیسے لوگوں کی پشت پناہی کرکے پنجاب اور ملک وقوم کا بیڑہ غرق کیا ۔ قائداعظم کی زبان بھی قوم نہیں سمجھ سکتی تھی مگرقوم کے اجتماعی ضمیر کا فیصلہ پاکستان بنانے کے حق میں تھا تو قراردادِ مقاصدکوکامیابی ملی۔ 23مارچ 1940 ؁ء میں برصغیر پاک وہند کی فوج ایک تھی لیکن قائدکی کامیاب سیاسی حکمت نے پاکستان کو وجود بخش دیا تھا۔
علماء ومفتیان کا حال یہ ہے کہ اگر عمران خان عدت میں شادی کا اعتراف بھی کرلیں تو ایک گروپ حرامکاری کہے گا اور دوسرا اس کو 100فیصد جائز قرار دیگا۔ ڈاکٹر عامر سے تو بعید نہیں کہ ’’ کہے کہ میرے ماں باپ عمران خان پر قربان ہوں ، انکا نکاح بھی عدت میں ہوا تھا، میں خود بھی عدت کی توپیداوار ہوں‘‘۔ پنجاب کی اس قیادت سے عوام کا بیڑہ پار ہوگا کہ ایک طرف عمران خان جعلی و اصلی علماء ومفتیان کیساتھ نمودار ہوکر الیکشن مہم چلائیں ۔ دوسری طرف مریم نواز اپنا شوہر کیپٹن صفدر کو قریب نہیں آنے دیگی اور کزن کیساتھ ساتھ گھومتی نظر آئے گی ۔ آخر ماجراء یہ ہے کیا؟۔ زمین و آسمان کی مخلوق پریشان ہے۔ کیپٹن صفدر کا حرمت مصاہرت کا مسئلہ بھی ہوسکتاہے جسکے بعد حلالہ پر بھی بیوی جائز نہیں بنتی ۔ علماء نے اسلام کو بگاڑ دیا۔
محترم رضا ربانی کی پونی پر قربان ہونا چاہیے اسلئے کہ ہر خاص وعام کی زبان پر آپ کی تعریف ہے۔ جناب رضا ربانی نے آنسو بہاتے ہوئے فوجی عدالتوں کو ووٹ دیا کہ ’’ یہ میری پارٹی کی امانت ہے‘‘ تو عوام نے پسندکیا۔ جب پارلیمنٹ سے ختم نبوت، الیکشن فارم سے جائیداد کی معلومات اور سب چیزیں غائب کردی گئیں اور پھر نااہلی کے خلاف سینٹ کی اکثریت کے نہ چاہتے ہوئے بھی بل منظور کیا گیا تو سینٹ کی نااہلی ثابت ہوگی ،رضاربانی اسکے بڑے ذمہ دار تھے۔ ن لیگ کی سینٹ میں اقلیت تھی تو بھی رضا ربانی نے خاصی رعایت دی یا مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا۔ تو جب ن لیگ والوں کو نسبتاًزیادہ تعداد مل گئی ہے پھر رضا ربانی کو چیئرمین بنادیا جاتا تو اسکے مزید بھیانک نتائج نکلتے۔ خفیہ رائے شماری کے فارم پر نام کا اندراج ہوا تو ضمیر وں کو مزید زنجیروں سے جکڑ دیا جائیگا۔ یہ قانون فوج نے نہیں بنایا بلکہ جمہوری تقاضہ ہے تاکہ روتے ہوئے وہ ووٹ پول کرنے پر مجبور ہونے کے بجائے اپنے ضمیر کیمطابق فیصلہ کرے۔ سیاسی جماعتوں کی مت ماری گئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور نوازشریف بے ضمیری سے ضمیر والے ان ارکان کا فیصلہ کردیں جن کی سیاست اور نظرئیے کیلئے قربانی پر کوئی اختلاف نہیں جیسے رضاربانی صاحب وغیرہ تب بھی ضمیر والے مجبور ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی سپرٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں اور قائدین سے مفقود ہے۔ نوازشریف خود اداروں کے بوٹ چاٹنے کے چکر میں ہے مگر جمہوریت کے علمبردارمحمود اچکزئی، حاصل بزنجو، مولانا فضل الرحمن وغیرہ ان کی دھوتی میں چھپ رہے ہیں۔
قوم کا اجتماعی ضمیر مروجہ سیاستدانوں سے نفرت کرتاہے اور منظور پشتون جیسے نوجوان ہرقوم ، ہر صوبے ، ہر علاقے اور ہر حلقے سے اٹھیں اور یکجہتی سے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں کہ ہماری ریاست اور سیاست دونوں بچ جائیں۔ اب ریاست کی فکر نہیں لیکن سیاست بچانے کی فکر سیاستدان ضرور کریں۔
ہماری تجویز سے منظور پشتون وزیراعظم نہیں بن سکتالیکن پنجابی اکثریت سے کسی کو بھی وزیراعظم بناسکتے ہیں چاہے گدھا ہو ، خچر ہو یا گھوڑا۔ پہلے پنجاب میں جسے بدنام کردیا جاتا تھا وہ وزیراعظم نہ بن سکتا تھا۔ عمران اور نوازشریف نے ایکدوسرے کو جتنا بدنام کیا ، عدالت اور میڈیا پر جس طرح ایکدوسرے کے کپڑے اتارے گئے تو قوم کا اجتماعی ضمیر کسی بھی سیاستدان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان کی سیاست تو کانگریس، جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار کے ہاتھوں میں تھی ۔ قائداعظم تو سرآغا خان کے منشی تھے ۔ علامہ اقبال کبھی ایک دن ملک کی خاطر جیل نہ گئے تھے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی عوام کیلئے قائداعظم کی شکل ، زبان اور لباس کچھ بھی مانوس نہیں تھا لیکن قوم کے اجتماعی ضمیر نے سب نامانوسی کے باوجود ایک گونگی آواز کو قبول کیا۔ مولانا فضل الرحمن نری بکواس کرے کہ جمعیت علماء اسلام نے پاکستان کیلئے قربانی دی تو اس کی مرضی ہے لیکن اس جھوٹ کی حیثیت اتنی ہے کہ’’ جیسے عمران خان اعتراف کرلے کہ اس نے بشریٰ بی بی سے نہ صرف عدت میں شادی کی بلکہ نکاح سے پہلے محترمہ کو حمل بھی تھا۔ پھر اس بچے کو حرامی قرار دیتا رہے لیکن جب یہ بچہ بڑا ہوکر پاکستان کا تاجدار بادشاہ بن جائے تو مولانا فضل الرحمن کی آنے والی نسلیں کہیں کہ اس بچے کے جواز کے فتوے ہم نے دئیے تھے، ڈاکٹر عامر لیاقت کو توعمران خان ایم کیوایم سے کھینچ کر لائے ہیں، عمران خا ن کا نکاح پڑھانے والے تو ہمارے مفتی سعید خان ہیں‘‘۔ جمعیت علماء اسلام کا وجود اتنا تھا جتنا عمران خان کا مفتی سعید خان سے تعلق ہے مگر جمعیت علماء اسلام تو یہودی سازش سے لیکر الزام کی بوچھاڑ کرنے میں پیش پیش ہے۔ حقائق کو مسخ کرنا بد دیانتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن سودی نظام سے زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کی لیبل قرار دیتا تھا اور پھر اپنوں کیلئے اس کو جنت کی شراب کو طہور کا نام دیکر پاک کردیاہے۔ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ اسلام کیلئے کرو اسلام آباد کیلئے نہیں۔
ریاست سے عوام کو تکلیف پہنچے یا ریلف نہ ملے تو ظلم و جبر کیخلاف آواز اٹھانا جرأت و بہادری ہے۔ سیاستدانوں کے خلاف تو ہجڑے بھی آواز اٹھاسکتے ہیں لیکن فوج اور طالبان کیخلاف آواز اٹھانا بہت بہادری تھی۔ عمران خان نے طالبان اور فوج کیخلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ پرویز مشرف کے دور میں پٹھانوں کے خون بہا پر جو ڈالر کمائے۔ ان پر کراچی کی تعمیر وترقی ہوئی ۔ پختون کو گلہ نہیں، کراچی پختونوں کا بھی شہر ہے۔ پٹھان درختوں پر لٹک کر فوج کی سلیکشن کیلئے اپناقد لمبا کرنے کی کوشش کرتے تھے اسلئے پاک فوج میں زیادہ پٹھان فوج میں بھرتی ہیں۔ بلوچ قدآور سردار فوج میں جانا نہیں چاہتے تھے اور پست قد فٹ نہ ہوتے تھے۔ پنجاب کے لوگ محنت مزدوری کیلئے بلوچستان پہنچ جاتے ہیں مگر مقامی لوگ ٹف مزدوری پر آمادہ نہیں۔ ریاست سے جائز گلے شکوے سب کا حق ہے۔ مشرکین مکہ کی باقاعدہ فوج نہیں تھی، حضرت عمر فاروق اعظمؓ، حضرت امیر حمزہؓاور علی المرتضیٰؓ جیسے بہادر سپوت اسلام قبول کرچکے تھے۔ اللہ نے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیالیکن جہاد کی اجازت نہ دی۔ سیاستدان ہتھیار نہیں دماغ رکھتا ہے ۔ فوجی کے پاس ہتھیار ہوتا ہے مگر دماغ نہیں ہوتا ۔ امریکہ کے تاجرحکمران اسلحہ کی تجارت سے دنیا اور امریکہ کو تباہ کررہے ہیں۔ صدیق اکبرؓ پہلے خلیفۂ راشد بن گئے تو تجارت کو چھوڑ دیا۔ حکمران اپنی تجارت کیلئے حکومت کرتے ہیں۔ دنیا میں خلافت کیلئے جمہوری بنیادوں پر کوششوں کا آغاز کرنا ہوگا۔
پنجاب کے جس حصہ کو سب سے زیادہ ظالم اور غاصب کہا جاتاہے جو سرائیکی، پختون، سندھی، بلوچ، کشمیری ، گلگت و بلتستان اور کراچی پر حکمران تصور ہوتے ہیں انکا حال سب سے زیادہ خراب ہے۔ اپنی تسکین کیلئے 100بچوں کو مارکر تیزاب میں گلا دینے والا بھی لاہوری تھا۔ قصور کے بچوں اور بچیوں کیساتھ بھی یہاں زیادتی ہوئی اور انہیں مزید ٹارچر کیا جا رہاہے جس کی تفصیل میڈیا نے عوام کو دکھادی ۔ ریاست نے قانون کا راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ بدمعاش بہت قتل کرتاہے لیکن راؤ انوار کو ایک نقیب اللہ محسود پر کتنے مشکلات کا سامنا ہوا ہے؟۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کے گھر پر حملہ کرنے والے قاتلوں کو مجلس عمل کی حکومت اور فوج کے افسران نے کھلی چھوٹ دی تھی۔جو مسلح آمد ورفت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ لیکن عتیق گیلانی تو سب کی خیر خواہی چاہتے ہیں اور یہ اسلام کا کمال ہے، اسلام نام ہی خیرخواہی کا ہے۔ محسود،وزیر لشکری قوم ہیں،ا نکا رخ درست طرف مڑجائے تو پنجاب کے وہ ظالم لوگ جو بچوں اور بچیوں کیساتھ زیادتی کے باوجود مظلوم کو دھمکیاں دیتے ہیں اگر منظور پشتون کے احتجاج سے فوج کی آنکھیں کھل سکتی ہیں اور عوام سے رویہ درست ہوسکتاہے تو مینار پاکستان پر مظلوموں کیلئے ایک زبردست آواز اٹھانے پر بھی قصور کے قصور وار ظالم اپنی حرکتوں سے باز آسکتے ہیں۔محسود قوم کی سب سے بڑی اور زبردست خوبی یہی تھی کہ کسی برائی کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کا خاتمہ قومی لشکر کے ذریعے سے کرتے تھے۔ ریاست کی رٹ کو بحال کرنے کیلئے صرف وزیرستان، قبائل ، پختونخواہ، پاکستان اور افغانستان کی سطح پر نہیں بلکہ مظلوم کشمیری عوام اور فلسطینی عوام کیلئے بھی قومی لشکر میں محسود قبائل کا طرزِ عمل دنیا کو نجات دلا سکتا ہے۔احادیث صحیحہ اور شاہ نعمت اللہ کی پیش گوئی بھی ایسی ہیں۔پنجاب کی عوام بھی پشتونوں کے لشکر کا زبردست استقبال کرے گی۔

دومختلف، متضاد، متفرق کردار، ملا فضل اللہ اور ملالہ یوسفزئی: تحریر سید عتیق الرحمن گیلانی

talibanization-asma-jahangir-jmaat-e-islami-abdul-sattar-khan-niazi-mulla-fazal-ullah-malala-yousafzai

سوات پختونخواہ کے دو متضاد کردار ملافضل اللہ ، ملالہ یوسفزئی ہیں۔ ملافضل اللہ کی شریعت کے سامنے ہماری ریاست اور سیاست دونوں سجدہ ریز تھیں۔ مینگورہ میں مسلکی اختلاف کے سبب ایک مذہبی شخصیت کو قتل کیا گیا اور پھر قبر سے نکال کر کئی روز تک اس کی لاش کو چوک پر لٹکادیا گیا، یہ ایک واقعہ نہ تھا بلکہ اس واقعہ سے صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسے لوگ اس ذہنیت اور ریاست کو اسکے آگے لیٹ جانے کی مخالفت کرتے تھے تو ان کو امریکی ایجنٹ کہا جاتا تھا۔ اے این پی کی حکومت آئی تو میاں افتخار حسین جیسے بہادروں نے بھی طالبانِ سوات سے شریعت کے نفاذ پر معاہدہ کیا تھا اور جب سوات کے طالبان کے بارے میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی توجہ دلائی کہ طالبان اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے مقبول ترین رہنما سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن امریکہ کا ایجنٹ ہے اور طالبان کیخلاف بول رہاہے‘‘۔ آپریشن کا آغاز ہوا تو کلثوم نواز واحد مسلم لیگی رہنما تھی جس نے کھل کر کہا کہ ’’ یہ وہ طالبان نہیں جس کی ہم نے حمایت کی تھی‘‘، آپریشن کے بعد حالات بہتر ہوئے تو ملالہ کے سر میں سکول جاتے ہوئے گولی ماری گئی۔ فوج نے اس کو ہیلی کاپٹر سے پشاور پہنچادیا اور اس کو زندگی مل گئی پھر فوج نے معذوری سے بچانے کیلئے بیرون ملک بھیجا۔
کسی اور کی بات نہیں کرتا، میرا اپنا ایک بیٹا شاہین ائر میں کام کرتا ہے، وہ پہلے میرے دوست کے آفس میں تھا۔ ایک دن مجھے کہا کہ اورنگی ٹاؤن میں مہاجر پٹھانوں کے ناک کاٹ رہے ہیں، لانڈھی میں پٹھان مہاجروں کے ناک کان کاٹ رہے ہیں۔ میں نے بہت ڈانٹا کہ ’’اس طرح کی افواہوں پر موبائل فون اور تیز رفتار میڈیا کے دور میں بہت بری بات ہے، آئندہ کسی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا‘‘۔ پھر جب ملالہ یوسف زئی کا واقعہ ہوا تو میرے بیٹے نے کہا کہ ’’ اس کو گولی نہیں لگی ،یہ بہت بڑی سازش ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’پہلے تجھے ڈانٹا تھا۔ اب پھر وہی بکواس کررہے ہو؟‘‘۔ اس نے کہا کہ میڈیا پر بات چل رہی ہے۔ میں نے غصہ میں کہا کہ میڈیا بھی بکواس کرتا ہے۔ پھر جب ملالہ یوسف زئی کا زخمی چہرہ میڈیا پر نظر آتا تھا تو میں اس سے کہتا تھا کہ اب یقین آیا ہے کہ گولی لگی ہے؟‘‘، جب واقعہ ہوا تھا تو میرے بھائی نے بھی کہا کہ ’’سازش سے ایک چھوٹی سی گولی ماری گئی ہے تاکہ اس کو آئندہ استعمال کیا جاسکے‘‘۔ میں نے اس سے بھی عرض کیا کہ یہاں بدگمانی کی ایک فضاء ہے جو ماحول میں پروان چڑھ گئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ جرم تھا۔ مولانا عبدالستار خان نیازیؒ نے داڑھی اس تحریک میں شمولیت کی وجہ سے ہی مونڈھ ڈالی تھی۔ بریلوی مکتبۂ فکر کا جو رہنما حصہ لیتا تھا اس کو اپنے مکتب کی طرف سے بھی ملامت کا نشانہ ہی بنایا جاتا تھا کہ دیوبندی گستاخان رسول قادیانیوں سے بدتر ہیں انکے ساتھ مل کر تم گمراہوں کے خلاف تحریک کیوں چلارہے ہو؟۔ جب فوج نے طالبان سوات پر تشدد کیا، ان کو ہیلی کاپٹروں سے گرانے کی خبریں آئیں تو عاصمہ جہانگیر نے طالبان کیساتھ غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی۔ جب عاصمہ جہانگیر سے سوال کیا گیا کہ آپ اتنی بہادری سے حق کہتی ہیں تو ملالہ کو آپ کیوں مشورہ نہیں دیتیں کہ وہ خدمت کیلئے آئے؟ جس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ’’ میں اپنی عمر گزار چکی ، مجھے گولی لگے بھی تو مسئلہ نہیں لیکن ملالہ کو نہیں آناچاہیے اس کو زندگی گزارنی ہے اور یہاں اس کو مخصوص ذہنیت کی طرف سے خطرہ ہے‘‘۔ ایک طرف وسعت اللہ خان، مبشر زیدی، ضرار کھوڑو، ماریہ میمن جیسے دیانتدار صحافی تو دوسری طرف طارق پیرزادہ جیسے لوگ میڈیا کے ٹاکشوز میں اپناخیال پیش کرتے ہیں بلکہ مسلط ہوجاتے ہیں۔
وہ لوگ بھی ہیں جو نوازشریف کی طرح زندگی بھر خود اسٹیبلیشمنٹ کے گھٹنوں نے نیچے سر کے تمام بال گراتے ہیں اور انڈے جیسے سر سے یہ بات نکلتی ہے کہ ریاست نے 70سال سے سازش کی ہے۔ پاکستان بن رہا تھا تو کچھ لوگ ہندوستان کی محبت میں تقسیم ہند کے مخالف تھے۔ ہندو بھی وطن کو ماتا سمجھ کر پوجتے ہیں، وہ بھی ہندو سے متأثر تھے بلکہ وطن سے محبت کا جذبہ فطری ہوتاہے لیکن ان پر ہندوؤں کے ایجنٹ کا الزام لگایا گیا۔ علامہ اقبال نے جمعیت علماء ہند ، دارالعلوم دیوبند کے مولانا حسین احمد مدنی کی سوچ کو ابولہب کا دین قرار دیا۔ آج یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وطن دشمنی کا سہرا بانیان پاکستان کے سر نہ باندھا جائے۔ فوج اپنا کوئی دماغ نہیں رکھتی۔ 1940میں پاکستان کے قرار داد مقاصد پیش نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا۔ ایک ٹھوس لائحہ عمل کے ذریعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم اُمہ کو ایک کرنیکی ضرورت ہے

ڈان لیکس پر ملعون نواز شریف یا جنرل راحیل شریف: قوم کو حقائق سے جلد از جلد آگاہ کیا جائے: اشرف میمن

dawn-leaks-supreme-court-ispr-GHQ-pml-panama-leaks-raheel-sharif-maloon-nawaz-sharif

نوشتہ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے آخری وقت میں ڈان لیکس کا معاملہ خبروں کی زینت بنا ۔ نواز شریف نے ایک بہت نازک وقت میں یہ الزام لگایا کہ فوج نے ہمارے خلاف ڈان لیکس کی سازش کی ہے۔ اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سازش کرنیوالے نواز شریف تھے یا جنرل راحیل شریف؟ ۔ جو بھی اس سازش کی لعنت میں ملوث تھا اس کو منظر عام پر لاکر قوم کے سامنے ننگا کیا جائے۔ تاکہ پھر کسی کو اس طرح سازش کرنے کی جرأت نہ ہو۔ لوگوں میں بھوک ، افلاس ، عزتوں کے تار تار ہونے ، جان و مال کے خطرات ، ظلم و جبر اور ستم کا سارا ریکارڈ ٹوٹ رہا ہے لیکن وہ یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں کہ بڑوں میں کون ملعون ہے اور کون نہیں ؟ اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے ہیں۔ عوام کو بیوقوف بنانا بند کیا جائے اور جلد سے جلد ان تمام رازوں سے پردہ چاک کیا جائے جن کو سازشوں کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر نواز شریف نے پاک فوج کیخلاف کوئی گھناؤنی سازش کی ہے تو عوام کے سامنے اس کو بے نقاب کیا جائے اور اگر فوج نے نواز شریف کے خلاف کوئی سازش کی ہے تو اس کو بھی بے نقاب کیا جائے ۔ الیکٹرانک میڈیا کے چینل تقسیم ہیں اور اپنے اپنے ایجنڈوں پر لوگوں کو چلاتے ہیں۔نواز شریف اور سیاسی قیادتوں کا جمہوری نظام صرف اور صرف اپنے اپنے مفادات کی خاطر ہے جس سے عوام الناس کو فائدہ نہیں۔

خادم حسین رضوی نے اربوں کے املاک کو تباہ کیا تو اسکا ذریعہ معاش کیا ہے: جسٹس فائز عیسیٰ

justice-faiz-essa-allama-khadim-hussain-rizvi-shaftaloolyari-gang-war-lashkar-e-jhangvi-imamia-asghar-khan-case-muh-kala-karna

نوشتہ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سید ارشاد علی نقوی نے کہا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے بڑا اچھا کیا ہے کہ ایک قومی مسئلے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ختم نبوت کے مسئلے پر حکمرانوں نے اپنا اعتراف جرم نہ کیا ہوتا تو ملک میں کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں ہوسکتا تھا۔ بدقسمتی سے اس جرم میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پوری قومی قیادت بھی شریک تھی ۔ حکومت کی طرف سے راجہ ظفر الحق کو تحقیقاتی کمیٹی کا چیئر مین بھی بنایا گیا تھا اور راجہ ظفر الحق نے میڈیا پر بتایا کہ بہت ہوشیاری کے ساتھ ختم نبوت کیخلاف یہ سازش کی گئی تھی جس کو دھر لیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے بھی عدالت میں رپورٹ طلب کی تھی لیکن عدالت کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکالنے کی پوزیشن میں نہیں لگتی۔ اب یہ خبر کہ علامہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنیکا عدالت نے حکم دیا ہے۔ واضح کیا جائے کہ عدالتیں یہی شف شف کی رٹ لگائیں گی یا کبھی شفتالو بھی بولیں گی؟۔ پہلے ڈاکٹر فاروق ستار ، عمران خان اور جانے کون کون اشتہاری رہا لیکن عدالتوں نے ان کو گرفتار نہیں کیا۔ عوام کو اب یہ مذاق لگتا ہے کہ اشتہاری چھوٹو گینگ ، لیاری گینگ ، لشکر جھنگوی ،امامیہ والے ہیں یا کھلم کھلا جلسے جلوس کے سیاسی قائدین بھی اسی طرح کے اشتہاری ہوتے ہیں؟۔ جج ٹریفک پولیس کی طرح توہین عدالت کا پرچہ درج دیتی ہیں لیکن کیا سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اشتہاری قرار دینا ان کی توہین نہیں ؟۔ وضاحت کی جائے کہ اشتہاری کے الگ الگ اقسام ہیں یا یہ کوئی مذاق؟۔کیا سیاسی جماعتوں کیلئے امیر ترین ہونا بہت ضروری ہے تاکہ عدالتوں کے وکیلوں اور ججوں کے کام آئیں؟ ۔ اس پر تو قانون موجود ہے کہ مخصوص مقدار سے زیادہ الیکشن مہم میں پیسہ خرچ نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی قائدین خلاف ورزی کرتے ہیں اور ججوں نے کبھی بھولے سے ان کا نوٹس بھی نہ لیا ۔ اسپیکر ایاز صادق اور علیم خان کے مقابلے میں پچاس پچاس کروڑ سے زیادہ کا خرچہ کیا گیا اور جہانگیر ترین نے ایک ارب تک کا خرچہ کیا، مگرعدالتوں نے کوئی نوٹس نہ لیاغریب سیاست نہیں کرسکتا تو براہ مہربانی آئین کے آرٹیکل کا بھی ضرور حوالہ دیا جائے تاکہ غریب غرباء سیاست میں حصہ لیکر شرمندہ نہ ہوں۔
عمران خان اور طاہر القادری نے کونسے ذرائع سے پیسہ کمایا ہے اور کیا کاروبار کیا ہے جو علامہ خادم حسین رضوی پر تنقید ہورہی ہے؟۔ ایک نواز شریف کے پاس سیاست کی سند ہے تو اس کو ISIنے رقم دی تھی جس کا فیصلہ اصغر خان کیس میں بمشکل 16سال بعد ہماری تیز رفتار عدالتوں نے کیا۔ ماشاء اللہ چشم بددور۔ اس کا بھی تاحال شرمناک عدالتوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ افتخار چوہدری عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلٹ پروف گاڑی واپس کرنے سے بھی انکاری ہے۔ کیا مسجدوں کے امام اور خطیبوں پر انگشت نمائی اچھی روایت ہے؟۔ مسجد اور خطابت سے تو پھر بھی پیسہ مل جاتا ہے لیکن عوام کے ٹیکس پر جج عوام کو انصاف نہیں دیتے ہیں انکے منہ پر کسی دن ضرور کالک ملی جائے گی۔قرآن میں جھوٹی گواہی پر کہا گیا کہ ’’ اسکا دل گناہگار ہے‘‘۔ عدالت میں جان بوجھ کر غلط فیصلے کرنیوالوں کے چوتڑوں کو داغنے کا قانون بناناہوگا۔ عدلیہ وہ واحد ادارہ ہے جہاں ججوں کا اختلاف بھی ہوتا ہے اور غریب کو بھی داد رسی کیلئے دروازے کھلے ہوتے ہیں مگر بہت بدلنا ہوگا۔

ن لیگ پنجتن پاک ٹبر ہے: نواز شریف، مریم نواز، کلثوم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز

hazrat-umar-and-Hadith-Qirtas-panjtan-pak-tabbar-nawaz-sharif-maryam-nawaz-kulsoom-nawaz-shahbaz-sharif-hamza-shahbaz-

چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ کہا ہوگا کہ ’’حضرت عمرؓ جیسے لوگوں کی تلاش ہے‘‘۔ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، جب حضرت نبی کریم ﷺ حدیث قرطاس لکھوانا چاہ رہے تھے تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ پھر حضرت عمرؓ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو خلافت کیلئے ایک شوریٰ تشکیل دی اور اپنے بیٹے پر پابندی لگائی کہ وہ خلیفہ نہیں بن سکتا۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ اس وصیت میں نبی ﷺ حضرت علیؓ کو نامزد کرنا چاہ رہے تھے۔ ن لیگ کے نزدیک حفظ مراتب کیساتھ پانچ افراد ہیں ۔ اگر سینٹ میں انکی اکثریت ہو تو ان 52افراد کی فہرست بھی اب لوگوں کو بتادیں ۔ سینٹ الیکشن میں کامیاب نہیں ہونا تھا مگر حصہ لیا اور ناکام ہوئے تو پھر ووٹ کو عزت دینے کے بجائے تذلیل کردی

وزیر اعظم اور چیف جسٹس ناجائز دو گھنٹے خلوت صحیحہ پر مستعفی ہوجائیں: فیروز چھیپا

supreme-court-nawaz-sharif-panama-leaks-imran-khan-dawn-leaks-saqib-nisar-memo-gate-hussain-haqqani-khalwat-e-sahiha-haq-mehr-

ڈائریکٹر فائنانس نوشتۂ دیوار محمد فیروز چھیپا نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے میمو گیٹ پر حسین حقانی کو امریکہ سے طلب کرلیا اور کہا کہ ’’سپریم کورٹ کی عزت کا مسئلہ ہے ‘‘ جبکہ نواز شریف نے کہا کہ ’’میمو گیٹ میں پیش ہونا میری غلطی تھی‘‘۔ نواز شریف کا کھلے عام میمو گیٹ میں پیش ہونا اتنی بڑی غلطی نہیں تھی جتنی وزیر اعظم عباسی کا چیف جسٹس سے ملنا ہے۔ اس ملاقات کی حیثیت خلوت صحیحہ کی تھی جس کا فقہی مطلب یہ ہے کہ نکاح کے بعد اگر شوہر سے بیوی ایسی خلوت میں ملے کہ سب کچھ یہ آپس میں کرسکیں اس پر خلوت صحیحہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد طلاق دی جائے اور خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو تو قرآن میں آدھا حق مہر اور عورت پر عدت فرض نہیں ہوتی۔ خلوت صحیحہ کے بعد عورت پر عدت شوہر پر پورا حق مہر فرض ہوتا ہے۔ یہ فقہ حنفی کا مسئلہ ہے جس پر زیادہ ترلوگ پاکستان میں عمل پیرا ہیں، اس خلوت صحیحہ سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے لیکن چیف جسٹس اور وزیر اعظم کی خفیہ ملاقات کا کسی صورت میں کوئی جواز نہیں تھا۔ وزیر اعظم کھلے عام میڈیا پر نواز شریف کے کیسوں کے حوالے سے چیف جسٹس اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا اور کسی چیف جسٹس ، جج ، مجسٹریٹ تو دور کی بات ہے گاؤں کے پنچایت کے کسی رکن و سربراہ کو بھی اس طرح سے متاثرہ فریق سے خلوت صحیحہ میں ملنے کے بعد اس کی ثالثی پر اعتماد نہیں رہ سکتا۔ چیف جسٹس نا اہل نواز شریف کے وکیل رہ چکے ہیں۔ عمران خان کو گھسیٹنے کے بعد ریلیف دینا اور جہانگیر ترین کو سزا دینا ایک منصوبہ بندی لگتی تھی۔ پھر اپنے کیس چھوڑ کر سندھ حکومت کے معاملات میں مداخلت اور پھر پنجاب کے ہسپتالوں کا رُخ کرنا عدالت نہیں سیاست لگتی ہے جو اپنے سابقہ کلائنٹ نواز شریف کو بچانے اور حقائق سے توجہ ہٹانے کی بظاہر منصوبہ بندی لگتی ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز میں ریلیف کے بعد چیف جسٹس کے ان ریمارکس کا نتیجہ بھی یہی نکلتا ہے کہ جو آپ نے نواز شریف کے حوالے سے میڈیا پر کھلے عام ذکر کئے کہ ہم تمہاری وجہ سے جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں وہ ہمیں پتہ لیکن یہ مشکلات وہی لگتے ہیں جو چیف جسٹس ثاقب نثار بابا رحمت بن کر اپنے سابقہ کلائنٹ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر برداشت کررہے ہیں، وزیر اعظم سے اس خفیہ ملاقات کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تو یہ ملک و قوم کیلئے اچھی مثال قائم ہوگی۔ وزیر اعظم کیلئے بھی استعفیٰ دینا زیادہ مناسب اسلئے ہے کہ جسکے کہنے پر ملنے گیا تھا وہ میمو گیٹ پر بھی اپنی غلطی کا اظہار کررہا ہے۔ عمران خان کی طرف سے جب چوہدری افتخار سے معافی مانگی گئی تھی پھر انکار کیا تھا تو اسکے وکیل حامد خان نے غیرت کا مظاہرہ کرکے کہا تھا کہ آئندہ عمران خان کا کیس نہیں لڑوں گا۔ اگروکیل سے زیادہ وزیر اعظم میں عزت نہ ہو تو یہ تاریخ کا سب سے بڑا الیمہ ہے۔ عمران خان کو تو بابر اعوان مل گیا جو آصف زرداری کے تقدس کی قسمیں کھاتا تھا۔ اب وہ عمران خان کی صفائی پیش کریگا۔

ہم بھی فرشتے نہیں انسانوں جیسے انسان ہیں مگر

manzai-behlol-zai-mehsud-shaman-khail-neuton-einstein-stephen-hawking-shakir-shuja-abadi-president-of-pakistan-

ایک دن میں اپنی کار میں اکیلا ٹانک جارہا تھا۔ راستے میں ایک بوڑھا محسود پیدل جارہا تھا تو کسی واقف کار غالباً قاری نور اللہ محسود نے اس کو بھی اٹھانے کا کہہ دیا۔ میں نے پوچھا کہ پیدل کیوں جارہے تھے؟ ، بزرگ شخص نے جواب دیا کہ کرایہ نہیں تھا۔ مجھے دکھ ہوا اور جیب میں پڑے ایک دو ہزار روپے انکو دئیے تو وہ رونے لگا ،طالبان اور فوجیوں کو بد دعائیں دینے لگا کہ ہم غریبوں کو گھروں سے بھگادیا گیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ ٹانک سے وہ پہلے کسٹم گیٹ تک جو کئی کلومیٹر کا فاصلہ ہے پیدل گیا تاکہ وہاں اپنے واقف کاروں سے راشن لے لیکن وہاں وہ نہیں مل سکے تھے ۔ یہ چشم دید واقعہ ہے اور بچوں ، خواتین اور بزرگوں کی ان گنت کہانیاں ہوں گی جن کے تصور سے بھی دل لرز جاتا ہے۔ میرے اخبار کا تمام ریکارڈ دیکھا جائے جس میں ایک ہی بات کی تلقین ہوتی تھی کہ طالبان اور فوج ایسا ماحول نہ بنائیں جس سے آپس کا نقصان ہو اور لوگ بھی دربدر ہوں۔
پچھلے شمارے میں میرا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ منزئی اور بہلول زئی قبیلے ہی طالبان تھے اور شمن خیل صرف سیاسی ہیں۔ میرا مقصد منظور پشتون کیخلاف اس سازش کو ناکام بنانا تھا کہ منظور پشتون کو شمن خیل ہونے کی وجہ سے مسترد کیا جائے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان میں میرے دو دوست مولانا محمد امیر شمن خیل اور مولانا عبد اللہ نظر خیل تھے۔ مولانا محمد امیر افغانستان میں باغیوں کے ساتھ ہے اور مولانا عبد اللہ آج کل کوٹکئی میں سرنڈر طالبان رہنما بلکہ قائد ہے۔ دونوں پر مجھے یہ شبہ نہیں کہ وہ امریکہ ، بھارت اور پاکستان کے ہاتھوں بک سکتے ہیں بلکہ اپنے ضمیر کے مطابق جو درست سمجھتے ہیں وہی کررہے ہیں۔ دونوں طرح کی عوام کو درست ماحول فراہم کیا جائے تو اسلام اور ملک و قوم کیلئے بہترین کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ پاک فوج کے سپاہیوں اور افسروں کو جو حکم ملتا ہے انہوں نے اس پر عمل کرنا ہوتا ہے، بعض اوقات بدلتی ہوئی پالیسیوں کے نتیجے میں اپنے بھی بدظن ہوجاتے ہیں۔ جب شروع میں تعلیم یافتہ بیوروکریٹ ، سیاستدان اور صحافی کھل کر طالبان کی حمایت کرتے تھے تو فوج کے اندر بھی بڑے پیمانے پر ایسے عناصر کا ہونا بعید از قیاس نہیں تھا جو طالبان کے مشن کو درست سمجھ کر تائید کرتے ہوں۔
جب ہمارے ساتھ واقعہ ہوا ، طالبان نے 13افراد شہید کردئیے تو مجھے اس کی خبر ہوئی، میرا پہلا رد عمل یہ تھا کہ اب مجھے زندہ رہنے کا حق نہیں لیکن اطلاع دینے والے نے منت کی کہ نہیں آپ نے نہیں نکلنا۔ پھر دوسرے نے آکر مزید حوصلہ دیا کہ جو باقی بچے ہیں وہ بھی آپ پر قربان ہوجائیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ صورتحال ملاحظہ کرنے کے بعد جب میں نے کسی کو پہلی مرتبہ انہی لمحات میں خبر سنائی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ اب خلافت قائم ہوکر رہے گی تو مجھے کہا گیا کہ اب اس خلافت کا کیا فائدہ ہے؟۔ ماحول سے بہت کچھ بنتا اور بگڑتا ہے ۔ معاملہ کو مختلف پہلوؤں سے دیکھا جائے تو تضادات دور ہوجاتے ہیں۔ نیوٹن اور آئن اسٹائن کے نظریات میں تضادات تھے لیکن 14مارچ کو انتقال کرجانے والے سب سے بڑے سائنسی دماغ اسٹیفن ہاکنگ نے ان تضادات کو دور کرنے کا نیا نظریہ پیش کیا۔ مفلوج اسٹیفن ہاکنگ کیلئے کمپیوٹر کے ذریعے سے ایسے آلات لگائے گئے تھے جس سے وہ اپنا پیغام دنیا تک پہنچاتے تھے۔ اسٹیفن نے فلسطین کے مسلمانوں اور عراق کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف بھی احتجاج جاری رکھا۔
پاکستان میں ریاست کے فوائد غریب عوام تک پہنچانے کیلئے منظور پشتون کو وزیر اعظم اور ملک کے معروف شاعر شاکر شجا ع آبادی کو صدر مملکت کے عہدے پر بٹھایا جائے۔ شاکر شجاع آبادی کے خیالات کو عوام تک پہنچانے کیلئے اسٹیفن کے آلات کا اہتمام کیا جائے تو اس قوم کی تقدیر بھی بدلے گی۔ صدر مملکت کے مفلوج عہدے کو ایک مفلوج شاعر کے ذریعے سے بہت فعال بنایا جاسکتا ہے۔ محسود قبائل کے سب سے بڑے گھرانے کا سیاسی جانشین ہاشم خان عبدالائی محسود ہیں ، اگر منظور پشتون کو قومی اسمبلی کا ممبر اور ہاشم خان کو سینیٹر بنایا جائے تو محسود قوم بڑی خوشی سے اس جمہوری انقلاب کیلئے اٹھ کھڑی ہوگی۔ اس طرح سے وزیر اور داوڑ قبائل کے علاوہ بیٹنی اور سلمان خیل کے مستحق افراد کو زبردست نمائندگی دی جائے اور تمام پختونوں میں قیادت کے جھگڑوں کے بغیر ہم آہنگی پیدا کی جائے تو خون خرابے کے بغیر ایک پرامن انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ جن لوگوں کو سیاست ٹھیکے پر دیدی گئی تھی انہوں نے قوم کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اسطرح سے پنجابی ، بلوچ ، سندھی ،مہاجر ، کشمیری اور سرائیکی علاقوں اور عوام میں ایک نیا انقلاب آسکتا ہے جو ریاستی اداروں میں میرٹ کی بنیاد اور عوام تک ریاست کے فوائد پہنچانے کا اچھاذریعہ بن جائے۔ طبقاتی تعصب قوم کیلئے ہرسطح پر تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
منظور پشتون اور اسکے ساتھی اپنے لب و لہجے میں درشتی لانے کے بجائے اپنا مشن جاری رکھیں۔ اسلام آباد دھرنے کے بعد منظور پشتون نے فوج کی طرف سے مطالبات پر عمل کرنے کا ایک ویڈیو کلپ میں ذکر کیا ہے۔ جب بڑے جلسے ہوں تو بھی ان فوائد کو عوام کے سامنے رکھیں جس سے اعتماد کی فضا بڑھے گی۔ اس قوم نے جنت کے ٹکٹوں کے عوض بھی فوج کے آگے کھڑے ہونے کے بجائے اپنی دُم گھسیڑ رکھی تھی اور اگر پھر اس ڈگر پر ان کو لایا گیا تو یہ اپنے باشعور نوجوان طبقے کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ بلوچوں نے قومی حیثیت سے جس طرح کی قربانی دی اس کا پٹھان تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں لیکن نتیجہ میں اپنی قوم کو تباہ کیا۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ فوج سے کوئی شکایات ہوں تو برملا اس کا اظہار کیا جائے۔ ایک فائدہ اس کا یہ ہوگا کہ فوج کو پتہ چلے گا کہ کسی کو مرغا بنا کر اس میں انگلیاں ڈالنے سے اس کو راحت نہیں ملتی۔ اگر اظہار نہیں کرے گا تو کیسے پتہ چلے گا کہ اس کو تکلیف ہوئی ہے۔ پھر یہ ظلم و ستم اور جبر وبے عزتی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ فوج کا سپہ سالار حکم کرے گا تو فوج کے سپاہی دوسروں کو مرغا بنانے کے بجائے خود بھی دوسروں کو عزت دینے کیلئے مرغے بننے سے نہیں کترائیں گے۔ شعور کی لڑائی کو بے شعوری سے لڑنے کے بعد دنیا و آخرت میں کبھی سرخروئی نہیں ملتی۔
اسلام کے درست تصورات سے ایک ایسا پر امن انقلاب آسکتا ہے جس سے زمین و آسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کی تعلیمات کے تقاضے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے بڑی بنیاد بن سکتے ہیں۔ میرے وہ اساتذہ جنہوں نے مجھے عربی ، قرآن و سنت ، فقہ و حدیث اور اُصول فقہ کی تعلیم دی ہے وہ مجھے کان سے پکڑ کر سیدھی راہ پر لانے کے مجاز ہیں لیکن اگر میری بات درست ہو تو یہ حضرت مولانا یوسف بنوریؒ کے تقوے کا کمال ہے۔ عتیق گیلانی

منظور پشتون ،خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لو!

allama-iqbal-budh-mat-waziristan-communist-arif-khan-mehsud-tank-di-khan-kidnapping-gulsha-alam-barki-in-waziristan-pti-chaudhry-afzal-haq-book-husn-e-lazawal-

علامہ اقبال ؒ نے شکوہ میں بندے کی طرف سے شکوہ لکھتے ہوئے یہ جملہ لکھ دیا تھا اور پھر جوابِ شکوہ بھی لکھا تھامگر عام طور سے لوگ اس کو شکوہ، جوابِ شکوہ کے بجائے پہلے تعریف اور پھر خوب تنقید کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ میرا مقصد تنقید کرنا بھی نہیں ہے۔ البتہ جب انسان اللہ کے سامنے سجدہ کرتا ہے تو اپنی چوتڑوں کو آسمان کی طرف اٹھالیتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسری قوموں کے نزدیک یہ بڑی بدتمیزی بھی ہو لیکن عبادات کا منہاج سب کا اپنا اپنا ہے۔ میں جرمنی میں کسی گرجا میں گیا تاکہ ان کے طریقۂ تعلیم وتربیت اور عبادت کو دیکھ لوں۔ وہاں مجھے ٹوپی کو اتارنے کا کہا گیا اور یہ شاید ان کے بے ادبی ہو۔ ہمارے ہاں ننگے سر کو باز لوگ ادب کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ حج وعمرے میں احرام کی حالت میں بھی سر ننگا ہوتا ہے ۔ چین میں گیا توثناخوانِ تقدیس مشرق کے حامل بدھ مت مذہب کے افراد کو قبر یا قبر نما علامت پر سجدہ ریز ہوتے دیکھا۔ ہزار سال قبل ایک عربی عالم ابوالعلاء معریٰ گزرے ہیں جس نے اعلیٰ درجے کی صلاحیت پانے کے بعد ایک مایوسی کی زندگی کا آغاز کیا ۔ تمام مذاہب کو بشمول اسلام کے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے نام پر علامہ اقبال نے جو اشعار لکھے ہیں اس میں ’’ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات‘‘ کا ترانہ ہے۔ ابولعلاء معریٰ نے لکھا ہے کہ ’’ تمام قومیں ایک طرح کی ہیں ۔ یہود کہتے ہیں کہ خون بہانے سے ہماری مغفرت ہوگی۔ نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا مظلوم ہے اور مسلمان دور دور سے سفر کرکے پتھر مارنے اور چومنے کیلئے آتے ہیں‘‘۔ الحاد کی بنیاد بھی اسی شخص نے ہزار سال قبل رکھی تھی۔وہ کہتا تھا کہ ’’ انسان حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت کے مطابق نسیان سے ہے جس کا معنیٰ بھولنا ہے۔ حضرت آدمؑ کو جس درخت سے منع کیا تھا ، وہ اس حکم کو بھول گئے اور پھر جب زمین پر اتارے گئے تو جنت کی زبان عربی بھی بھول گئے۔ پھر ایک دور کے بعد زمین میں پھر سے یہ زبان وجود میں آگئی ہے‘‘۔
وزیرستان کے لوگ بہت آزاد منش تھے۔ زام پبلک سکول کے معروف ٹیچر عارف خان محسود نے وزیرستان پر باقاعدہ کتابیں لکھی ہیں۔ ایک زمانہ میں آپ پکے کیمونسٹ تھے۔ وزیرستان کے مرکز میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں ہاتھ اٹھا رہا ہوں اگر اللہ ہے تو میرے ہاتھ کو نیچے کرکے دکھادے، جب اللہ کا چہرہ ، اس کی ناک ، کان ، ہاتھ پیر اور کچھ بھی نہیں تو یہ ایک بوتل ہے‘‘۔ اس گستاخانہ تقریر پر لوگوں کے ہاتھ اپنے کانوں تک گئے مگر عارف خان محسود کو کسی نے گریبان سے پکڑنے کی جرأت نہیں کی، یورپ وامریکہ میں بھی آزادی کا یہ تصور نہیں تھا جو وزیرستان میں تھا، پھر عارف خان کو بعد میں فالج کا اٹیک ہوا جسکے بعد خودہی سچی توبہ کرکے سچے اور پکے مسلمان بن گئے۔ میرے خلاف کئی انواع واقسام کے غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈے کئے گئے لیکن کسی نے میرا راستہ نہیں روکا۔ پاکستان بھر کے علماء اور ٹانک کے سارے اکابر علماء میرے حامی تھے لیکن جب طالبان نے زور پکڑا تو ایک سے ایک شریف انسان کوشہید کردیا۔
مجھے میرے ایک بھائی نے کہا کہ’’ آپ جرأت کرلو اور ان دہشتگردوں کے خلاف کھڑے ہوجاؤ‘‘ میں نے کہا کہ مجھے پہلے اپنے بھائیوں کیخلاف جہاد کرنا ہوگا جو طالبان کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ جب میرے تعلیم یافتہ بھائی بھی طالبان کی حمایت کررہے ہیں تو زانگڑہ کے وہ محسود جنہوں نے سڑک تک نہ دیکھی ہو اس بین الاقوامی سازش کو کیا سمجھ سکتے ہیں؟۔ انہوں نے میری بات کو درست قرار دیدیا۔ ہمارے گھر میں 13 افراد کی شہادت سے پہلے مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ میرے بھائی اور عزیز وپڑوسی جان پر کھیل کر مجھ تک پہنچ گئے اورمجھے بحفاظت گھر تک پہنچادیا۔ اسکے بعد سے جب تک واقعہ نہیں ہوا تو ہم لوگوں نے خود ہی طالبان کو اپنے ہاں رکھا ہوا تھا۔ ٹانک شہر میں راکٹ لانچروں و میزائلوں کے حملے ہورہے تھے تو طالبان ہمارے ہاں پراٹھے کھاتے تھے۔ حادثہ میری وجہ سے ہوا یا یہ عوام کی بددعاؤں کا نتیجہ تھا ؟۔ اس کا جواب کسی موقع پر ملے گا۔
تحریک انصاف کے سرگرم کارکن اور آئی ایس آئی کے ایک موجودہ بریگیڈئر کے بھائی گلشا عالم خان برکی کو راستے میں دن دہاڑے طالبان نے اغوا کیا جس کا آج تک کوئی اتا پتہ نہیں چل سکا۔ کانیگرم کی برکی قوم نے جلوس کی شکل میں جاکر بیت اللہ محسود و غیرہ سے پوچھا لیکن انہوں نے اپنی لا علمی اور لا تعلقی کا اظہار کیا۔ کوٹکئی جنوبی وزیرستان کے ملک خاندان محسود اور وانہ کے مرزا عالم وزیر کو شہید کردیا گیا تو بہادر محسودوں نے دُم گھسیڑی ہوئی تھی۔ شکئی کے قاری حسن وزیر کو شہید کیا گیا تو ان کی مسجد کی بیٹھک میں ایک شہید صحافی غالباً میر نواب کے چچا کا کہنا تھا کہ وزیر تو شروع سے بے غیرت ہیں مگر محسود جو گالی پر قتل کردیتے تھے وہ بھی سب کچھ دیکھتے ہوئے اپنی آنکھوں کو بند کررہے ہیں۔ انسان غلطی کا پتلا ہے اور پاک ذات صرف رب کی ہے جونہ کھاتا ہے اور نہ پیشاب اور پوٹی کرتا ہے۔ اس کو سجدہ کرنے کا فائدہ اس وقت ہے جب انسان صدق دل سے صرف اسی ہی کو سبحان ربی الاعلیٰ اور سبحان ربی العظیم پکارے اور خود کو نہ سمجھے۔
انسان کے پاس دکھانے کیلئے چہرہ ہے جس سے وہ دیکھ اور بول سکتا ہے۔ اور اس کے پاس چوتڑ بھی ہے جس کو جائے ضرورت میں چھپا کر کھولتا ہے ۔ فوج ہو یا پختون قوم سب نے اپنی اپنی جگہ بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور اگر صرف اور صرف دوسرے کے عیوب کو آشکارا کیا گیا تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ وہ لوگ بھی ہیں جو اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ نقیب اللہ محسود اور راؤ انوار کا قصہ کوئی ڈرامہ نہ ہو جس کو بڑے پیمانے پر اچھالا گیا ۔ ڈان نیوز کے وسعت اللہ خان نے اپنے پروگرام میں ڈان اخبار کی رپورٹ بتائی کہ جہاں نقیب دکان خریدنا چاہتا تھا اس کی مالیت 3 کروڑ تھی ۔ نقیب 90لاکھ دے چکا تھا اور بقیہ رقم کیلئے اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ ورثا کو دکھانے کے لائق نہیں رہا تھا تو اس کو پولیس مقابلے کے نام پر قتل کیا گیا۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ طالبان لڑکوں کو بھی بد فعلی کیلئے اپنے پاس رکھتے تھے۔ جن غریبوں کے پاس صبح شام کا کھانا نہ ہوتا تھا ان کے پاس جو اتنی بڑی دولت آئی تھی جس کا خمیازہ پاکستان بھر کے لوگوں کے علاوہ خود پختون قوم کو بھی خود کش ، بھتہ خوری، چوری اور سینہ زوری کی صورت میں بھگتنا پڑتا تھا۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھی چوہدری افضل حق ؒ نے ’’حسن لا زوال‘‘ کے عنوان سے ایک قصہ لکھا ہے جس میں ایک کردار کو بھیانک پیش کیا جاتا ہے تو لوگوں کو اس کی شکل بھی منحوس لگتی ہے اور پھر منظر بدلتا ہے اور اس کو معصوم بنا کر پیش کیا گیا تو لوگوں کو وہ خاتون فرشتہ صفت دکھائی دینے لگی۔ اللہ خیر کرے۔