پوسٹ تلاش کریں

امام مہدی کا کردار اور عصر حاضر کی احادیث

حدیث نمبر72۔ عنوان ’’خدا کی زمین تنگ ہوجائے گی‘‘۔ ترجمہ ’’ حضرت بوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں میری امت پر ان کے حاکموں کی جانب سے ایسے مصائب ٹوٹ پڑینگے کہ ان پر خدا کی زمین تنگ ہوجائیگی، اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں سے ایک شخص( مہدی علیہ الرضوان) کو کھڑاکرینگے، جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دینگے جس طرح وہ پہلے ظلم وستم سے بھری ہوئی ہوگی، ان سے زمین والے بھی راضی ہونگے، آسمان والے بھی، انکے زمانہ میں زمین اپنی تمام پیداوار اُگل دے گی، وہ ان میں سات یاآٹھ یا نو سال رہیں گے‘‘درمنثور ج:6ص:58 عصر حاضر حدیث ۔۔۔ مولانا لدھیانویؒ
حدیث نمبر36’’ ارباب اقتدار کی غلط روش کے خلاف جہاد کے تین درجے‘‘
عن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ انہ تصیب اُمتی فی اخر زمان من سلطانھم شدائد لاینجو منہ الا رجل عرف دین اللہ فجاھد علیہ لسانہ ویدہ وقلبہ، فذٰلک الذی سبقت لہ السوابق ، ورجل عرف دین اللہ فصدّق بہ ، ورجل عرف دین اللہ فسکت علیہ ، فان رای من یعمل الخیر احبہ علیہ ،وان رای من یعمل بباطل ابغضہ علیہ ، فذٰلک ینجو علی ابطانہ کلہ ( رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، مشکوٰۃ شریف صفحہ 438) عصر حاضر صفحہ 43
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانے میں میری امت کو ارباب اقتدار کی جانب سے بہت سختیوں کا سامنا کرنا پڑیگا، ان سے کوئی نجات نہیں پائے گا مگر وہ شخص جس نے اللہ کادین پہچانا اورپھر اس کیلئے اپنی زبان،اپنے ہاتھ اور اپنے دل سے جدوجہد کی، یہ وہ شخص ہے جس کیلئے پہلے سے ہی پیش گوئیاں ہوچکی ہیں۔ اور وہ شخص جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر اسکے ذریعے سے تصدیق کرنے کا اعلان بھی کیا، اور وہ شخص جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر اس پر خاموشی اختیار کرلی، کسی کو اچھا عمل کرتے دیکھ لیا تو اس سے محبت رکھی اور کسی کو باطل عمل کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے دل میں بغض رکھا۔ یہ شخص اپنے معاملات کے چھپانے یعنی حق کا اظہار نہ کرنے کے باوجود بھی نجات پاگیا۔
جب حاجی عثمانؒ پر فتوے لگے تو کچھ لوگوں نے حقائق کو سمجھنے کے باوجود محبت و بغض کا معاملہ چھپائے رکھا، جس کی مثال مولانا یوسف لدھیانویؒ خود بھی تھے، کچھ لوگوں نے برملا ساتھ دیا ، پھر جب حاجی عثمانؒ کاوصال ہوا تو اللہ کے فضل سے سب سے پہلے ہم نے خلافت کی احیاء کیلئے اللہ کے دین کو پہچان کر جدوجہد کا آغاز کیا،وہ زبان، ہاتھ اور دل کے تمام مراحل طے کرلئے جس کی درج بالا حدیث میں پیشگوئی ہے۔ بہت سے لوگوں نے دین کی حقیقت کو پہچان کر ہماری کھل کر تائید فرمادی اور بہت سے لوگوں نے ہمارے اچھے عمل کو دیکھ کر ہم سے دل میں محبت رکھی اور مخالفین سے بغض رکھا۔ اس حقیقت کے بغیر دنیا میں ہم بڑے مشکلات کا شکار ہوتے۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہمیں ارباب اقتدار کی جانب سے مشکلات کا کوئی سامنا نہیں کرنا پڑا۔
جب دین کو پہچان کر اس کیلئے دنیا میں زبردست جدوجہد کی جائے تو اسلام کی خاصیت ہی ایسی ہے کہ دنیا میں ایسا نظام عدل وانصاف قائم ہوگا کہ جس سے آسمان اور زمین والے سب خوش ہونگے۔ ایران کا شیعہ اور افغانستان کا دیوبندی انقلاب اسلئے دنیا میں ناکام ہوئے کہ وہ اللہ کے دین اسلام کو پہچاننے سے خود بھی قاصر تھے۔ جمعیت علماء اسلام کا کارکن معراج کاکڑ ولد باز محمد خان کاکڑ کچلاک شہر بلوچستان اپنی جماعت سے اسلئے باغی بن گیا کہ جمعیت علماء قرآن وسنت کیلئے کوئی کام نہیں کرتی، اس نے رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا کہ پاکستان خراسان کی طرف سے امام مہدی کا ظہور ہوگا اسلئے کام کرو، حدیث کے مطابق وہ سیاہ جھنڈے لگارہا تھا تو لوگوں نے اس پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا۔ پھر اس نے جھنڈے پر چاند اور تارے بھی بنالئے۔ خواب میں نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’یہ کیا ہے؟۔ تو اس نے عذر پیش کردیا کہ لوگ شیعہ کی تہمت لگاتے ہیں‘‘۔ علماء اور صوفیاء نے امام مھدی کے حوالے سے اپنے اپنے حلقۂ ارادت کوبہت گمراہ کررکھا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے حوالہ سے لکھ دیا کہ ’’ اب دنیا میں اصلاح کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوگی، مزید بگاڑ بڑھتا جائیگا، ایک امام مہدی کی شخصیت ایسی ہوگی کہ وہ اپنی بلند ترین روحانی قوت کے بل بوتے پر پوری دنیا کے حالات بدل سکیں گے‘‘۔ یہ صرف مولانا اشرف علی تھانوی اور شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کی بات نہیں بلکہ علماء وصوفیاء کی اکثریت کا یہی گمراہانہ عقیدہ ہے جسکی وجہ سے لوگ مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکاروں سے زیادہ گمراہ ہیں ، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر رسول اللہ ﷺ تک کوئی ایسی شخصیت نہیں آئی ہے جو اپنی روحانی قوت کی بنیاد پر ساری دنیا کے حالات کو بدل سکے ہوں۔
مھدی کے ذریعے سے دنیا کی حالات میں تبدیلی کی بڑی بنیاد کسی روحانی شخص کا ظہور نہیں ہوگا بلکہ زمانے کا عروج اور قرآن وسنت کے ذریعے دین کی پہچان اس انقلاب کا ذریعہ بنیں گے۔ بنی آدم انسان کو غلطی کا پتلا کہا جاتا ہے، حضرات انبیاءؑ تو معصوم ہوتے ہیں ، مہدی معصوم بھی نہیں ہوگا، بلکہ جس رات انقلاب آئے گا تو اسی رات کو اس کی اصلاح ہوجائے گی۔ جس طرح حدیث میں اس کی وضاحت ہے مگر اس کا بھی علماء نے غلط مفہوم بیان کیا ہے کہ ایک رات میں اس کو صلاحیت سے نوازا جائیگا، ایک حدیث میں آتا ہے کہ’’ میرے اہلبیت میں سے ایک شخص ضربیں لگائے گا یہاں تک کہ لوگ حق کی طرف آنے پر مجبور ہوں‘‘۔ ضرب لگانے میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو یہ خطاء کی دلیل ہے ،ضرب کی ضرورت نہ رہے توپھر اس کو اصلاح کرنے میں بھی حرج نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرون اولیٰ میں بھی مسلمانوں کو انتقام میں اعتدال سے ہٹنے کو منع فرمایا تھا تو آخری دور میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرنے والے بھی اپنی ضربوں میں اعتدال سے ہٹ سکتے ہیں۔
پاکستان میں سیاست اور مذہب کو خدمت کے بجائے زیادہ تر خالص تجارت بنالیا گیاہے۔ خدمت پر لڑائی بھڑائی نہیں ہوسکتی ہے۔ مساجد ومدارس اور سیاسی اور مذہبی جماعتیں خدمت پر نہیں تجارت، شہرت، دادا گیری اور لیڈر شپ پر لڑرہی ہیں اور جب تک کوئی ایسی قیادت وجود میں نہ آئے کہ مذہب اور سیاست کو تجارت سے پاک کرکے خدمت کا جذبہ اجاگر کرے اسوقت تک گروہ بندیوں اور تنزل کا خاتمہ نہیں ہوسکتاہے۔ شریف خاندان کی عزت کا کچومر اتر گیا لیکن قیادت نہیں چھوڑ رہا ہے، یہی حال دوسروں کا بھی ہے۔پانامہ کے عدالتی فیصلے میں دو ججوں نے لکھا کہ وزیراعظم نااہل ہے۔ تین نے لکھا کہ اتنے عرصہ سے ہم جس کیس کو سن رہے تھے، یہ ہمارا اختیار ہی نہیں کہ وزیراعظم کی نااہلیت کافیصلہ کرسکیں ۔پھر جی آئی ٹی کے نام پر دھوکہ کیوں دے رہے ہیں؟۔ وزیراعظم نے ٹھیک کہا کہ عوام نے عدالتی برطرفی کیلئے منتخب نہیں کیا مگر یہ بات وہ دوسرے وزیراعظموں کیلئے بھی کرتے؟ عدلیہ وزیر اعظم کو باہرسے پیسہ لانے کا حکم دے باقی سارا معاملہ حل ہوجائیگا۔جنکا باہر پیسہ ہواور وہ پاکستان میں سیاست کریں تو انکی فیملی کا پیسہ یہاں ہوناچاہیے۔ عتیق گیلانی

مشال کا قتل یا بے گناہ شہادت کا معمہ کیسے حل ہو؟

اگر مشال خان مجرم تھا تو اس کی عبرتناک ہلاکت موم بتی جلانے والوں کیلئے عبرت ہے، کوئی مشعلِ راہ نہیں، اس نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں ارکان پارلیمنٹ کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ وزیراعظم قوم کے سامنے جھوٹی صفائی پیش کرے، کوئی ریاست کا قلع قمع کرنے کی بات کرے، کسی پر جس قسم کی بھی تنقید کی جائے تو کسی عدالت میں اس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتاہے۔ مسلم لیگ ن کے میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ’’جب دوسروں کو ہم ایسے بیان پر غدار کہتے ہیں، الطاف حسین کو غدار کہتے ہیں تو اسی رویہ پر عمران خان کو غدار کیوں نہیں کہہ سکتے؟‘‘۔ جس پرتحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے میاں جاوید لطیف کومُکا کی سوغات رسید کردی۔ عمران خان نے کہا کہ’’ اگر میں ہوتا تو اس کو قتل کردیتا، پٹھان گولی کھا سکتاہے لیکن گالی برداشت نہیں کرسکتا ہے‘‘۔
مشال خان کے قتل پر سب سے مضبوط اسٹینڈ عمران خان نے لیا مگر پھر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جن سیاسی رہنماؤں کی برداشت کا یہ عالم ہو ،کہ غدار کہنے پر بھی قتل کرنے کی بات کرکے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں تو پھر اس قوم کے جوانوں میں یہ برداشت کہاں سے آئے گی کہ ’’رسول اللہ ﷺ کی توہین اور گالی کے مرتکب کو قانون کے حوالے کرنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرلیں؟‘‘۔ غدار کی گردان تو سیاستدان کا وظیفہ ہوتاہے ، مراد سعید کو میاں جاوید لطیف نے جو عمران خان کو اپنی بہنیں سپلائی کرنے کی گالی دی تھی تو میاں جاوید لطیف اور خواجہ سعد رفیق نے یہ گالی گواہی میں تبدیل کی کہ ’’ہم نہیں کہتے کہ جو کہاوہ سچ تھا یا جھوٹ؟مگر ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے‘‘۔ پھر حامد میر نے جیو پر مراد سعید کو لیگی رہنمادانیال عزیز کیساتھ بٹھا کرہنسی مذاق کا ماحول دکھایا تو دنیا نے دیکھ لیا کہ اس الزام کاکوئی سنجیدہ اثر نہ تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ پٹھان گالی برداشت نہیں کرتا ،باقی بہت کچھ برداشت کرتاہے۔
مشال مجرم تھا تو دیوث تھا اسلئے کہ ذاتی جذبے کو متأثر کرنابھی غلط ہے، ماں بہن کی گالی پر بھی اشتعال میں اقدامِ قتل کیا جائے تو مقتول کو معصوم کا درجہ نہیں ملتا۔ رسول اللہﷺ کی توہین کا حق کسی کو بھی نہیں دیا جاسکتا، کوئی بھی ایسی مہم جوئی فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہے جسکے غلط مقاصد ہوں۔ حق کا علمبردار قربانی سے مشعلِ راہ بنتاہے ،باطل اپنی دنیااور آخرت کی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتا۔ اب سوال یہ نہیں کہ مشال مجرم تھا یا نہیں؟۔مجرم نہیں تھاتوبھی سزا تو اس کو ملی۔ سوال یہ ہے کہ جنہوں نے مجرم سمجھ کر قتل کیاوہ خود کو کیوں چھپا رہے ہیں، کیا ممتاز قادری ؒ جیسی عزت کے طلبگار خود کو چھپاکر عزت بناسکتے ہیں؟غازی علم الدین ؒ نے راجپال کو مارا، تو اقرارِ جرم سے انگریز کے سامنے بھی نہیں گھبرایا لیکن مردان کے مردِ میدان فخریہ ویڈیو بناکر کیوں خود کو چھپا رہے ہیں؟۔ ممتاز قادریؒ نے پنجابی ہوکر غیرت کا مظاہرہ کیا تو یہ پٹھان ہوکر کیوں غیرت کے تقاضوں پر عمل کیوں نہیں کرتے؟۔
مشال خان کے سوگوار والد اقبال خان اور بردبار خاندان ہمدردی کا لائق نہیں بلکہ بہت داد کا بھی قابل ہے جس نے جرأت وبہادری کی مثال قائم کردی، بیٹے کو بے گناہ قرار دیا، مجرموں کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ اور عبدالولی خان یونیورسٹی کو اپنے بیٹے کے نام پر منسوب کرنے کی تجویز پیش کردی۔ بہادری کامظاہرہ ابوجہل کو بھی تاریخ میں امر کردیتاہے۔ جن والدین کے اچھے یا برے سپوتوں نے مشال کو قتل کرنے کے بعد بھی مسخ کرکے لاش کی بے حرمتی سے دریغ نہ کیا ، میرے بیٹے اس کا حصہ ہوتے اور مجھے انکے حلالی ہونے کا یقین ہوتا تو انکی اس بزدلی پر ہزاروں لعنت بھیجتاکہ بے یارومدد گار لاش کیساتھ بہیمانہ سلوک کے بعدچھپنے کا کیا جواز ہے؟۔ جس کو تم نے توہین رسالت کا مرتکب سمجھ کر قتل کیااور مرنے پر بھی جذبے کی تسکین نہیں ہورہی تھی ،ننگاکرکے لاش سے انتقام لیتے رہے تو اگر قانون تم کو معاف بھی کردے تو خود کشی کرکے عالمِ برزخ میں بھی اس کا پیچھا کرو، اسلام کی طرف سے خود کشی کے عدمِ جواز کا مسئلہ اسلئے نہیں کہ اسلام میں لاش کیساتھ بدسلوکی بھی جائز نہیں ۔ رسول اللہﷺ کے نام پر غیرت اچھی لگتی ہے، بے غیرتی نہیں۔
دنیا میںیہ پیغام پہنچا کہ الزام کی تحقیق کے بغیر رسول اللہﷺ کی توہین کے نام پر بے گناہ قتل ہوا، سرِ عام ویڈیو بنانیوالے تحفظ کے طلبگار ہیں تو مسلمان اور پٹھان کی غیرت پر بہت سوالات اٹھیں گے، یورپ وامریکہ کے عیسائی قانون میں ویسے بھی قتل کا بدلہ قتل نہیں۔ چیف جسٹس نے طیبہ تشدد کیس میں بھی تشدد کرنیوالی جج کی اہلیہ سے سوال تک نہیں پوچھا بلکہ طیبہ کو لاوارث بچوں کے مرکز میں داخل کردیا۔ قبائل میں ابھی تک 40ایف سی آر کا قانون ختم نہیں۔پشتون قوم اسلام اور غیرت کی بہت بڑی علمبردار ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ کر امریکہ کے حوالے کرنیوالے بے غیرت ریاستی اہلکاروں نے بھی اسلام کا سہارا لیا،قومیں غیرت سے زندہ رہتی ہیں ۔ اگر ریمنڈ ڈیوس کو اکرام وانعام دیکر رخصت کیا جاتا کہ ہمارے لاہور، ملتان، کراچی اور کوئٹہ وپشاور سے لوگ اغواء ہوجاتے ہیں تم نے شجاعت کی مثال قائم کردی تو ہمارا قومی وقار بلند ہوجاتا لیکن صداقت، شجاعت اور عدالت نام کی کوئی چیز ہمارے بے غیرتوں کے پاس نہیں ورنہ ہم دنیا میں کب سے امامت کے منصب پر بیٹھ جاتے؟۔
قبائلی علاقہ میں طالبان نے اسلام کو تو زندہ نہیں کیا بلکہ پختون کی غیرت کو بھی تباہ کردیا، اب لویہ جرگہ کے ذریعے مشال خان کے والد اور قاتلوں کے وارثین یہ تاریخی فیصلہ کردیں کہ قاتل ، قتل کی سازش کرنیوالے، اشتعال دلانے والے سب کو کٹہرے میں کھڑا کرکے ورثاء خود ہی گولی مارنے کیلئے اقدام کریں اور اگر والد کی طرف سے معافی مل جائے تودیت یا بلامعاوضہ معاف کر دیا جائے،اس سے دنیا میں اسلام ، پٹھان، پاکستان اور انسان کی طرف سے فطرت کیمطابق پیغام جائیگا۔ امریکہ نے افغانستان میں بڑا بم گرا نے کے بعد پاک فوج کو پراکسی جنگ ختم کرکے جو سفارتی طریقہ اختیار کرنے کا پیغام دیا جسکی پاک فوج نے تردید کی ، اسکے بعد حالات گھمبیر سے گھمبیر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، قوم کے اندر بڑے اعلیٰ پیمانے کے اخلاقیات اور اقدار کے بغیر کوئی ریاست کچھ بھی نہیں کرسکتی ہے۔
مشال خان کے قتل کو مخصوص چینل سازش نہ قرار دیتے تو عمران خان نے بھی اس کو سازش نہیں قراردینا تھا، اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت کے بعد نوازشریف و مریم نواز کو مذمت کا خیال آگیا، توہین رسالت کیلئے قربانی دینے والے مزید جرأت کا مظاہرہ کرتے تو نمازِ جنازہ پڑھانے کی بھی نوبت نہ آتی اور نمازجنازہ پڑھانیوالا طبقہ ماردیا جاتا تو پولیس اور فوج بھی اپنے ہیڈکواٹروں میں دبک جاتی۔ یزید نہیں طالبان کے دور میں بھی لوگوں نے مظالم کے آگے بے بسی کا مظاہرہ دیکھا، فضل اللہ اور حکیم اللہ نے بہت کچھ ریاستی سرپرستی میں کیا تھا ۔جھوٹ کی سیاست و صحافت قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں کردار ادا نہیں کرسکتی ۔ امریکہ افغانستان میں آیا تو ان میں منافقت کے بیج بودئیے اور ہماری طرف رخ ہوا تو ہماری ریاست مرغا بن کرہی انکے سامنے کھڑی ہوجائیگی۔ مسلم قوم کو دنیا کی لالچ اور موت کے خوف نے بزدل بنادیاہے، اعلیٰ اخلاقی اقدار کیلئے بکبک کرکے بکنے والے بے غیرت صحافی کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔اسلام اور قومی مفاد کا نام لینا جوک بن گیا۔

عصر حاضرحدیث نبویﷺ کے آئینہ میں

مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ کی کتاب پر بعنوان عرض ناشر مولانا جلال پوری لکھتے ہیں’’ رسالہ ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں ‘‘ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کی اسی افادیت کے پیشِ نظر اُسے ۱۴۰۵ھ میں کتابی شکل میں شائع کیا گیا ، جسے اللہ تعالیٰ نے بے حد مقبولیت سے نوازا، اور بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں شائع اور تقسیم ہوا۔اب جبکہ کمپیوٹر کمپوزنگ کا دور ہے تو احباب کا اصرار ہواکہ۔۔۔
*عربی متن پر اعراب لگاکر ۔۔۔* اب ترجمہ کا لفظ بڑھایا گیا۔ ۔۔۔*سابقہ ایڈیشنوں میں جہاں کہیں عربی یا اردو کی کتابت کی اغلاط تھیں۔۔۔ * احادیث کے متن کو اصل سے ملاکر اس کی تصحیح کردی گئی ہے۔۔۔ *احادیث کے نمبرات کو واضح کرنے کیلئے ان کو چوکٹے میں واضح کردیا گیا ہے۔
اگرچہ ناقص کا ہر کام ناقص ہوتاہے ، تاہم بہتر سے بہتر کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو امت کی راہ نمائی اور ہماری اصلاح کا ذریعہ بنائے آمین ۔خاکپائے حضرت لدھیانوی شہیدؒ سعید احمد جلال پوری ۲۰/۲/۱۴۲۵ ھ
’’پیش لفظ‘‘ کے عنوان سے مولانا یوسف لدھیانویؒ کا مقدمہ قابلِ غور ہے۔
دورِ حاضر کو سائنسی اور مادی اعتبار سے لاکھ ترقی یافتہ کہہ لیجئے لیکن اخلاقی اقدار روحانی بصیرت، ایمانی جوہر کی پامالی کے لحاظ سے یہ انسانیت کا بدترین دورِ انحطاط ہے۔ مکر وفن، دغا وفریب، شر وفساد، لہو ولعب، کفر ونفاق اور بے مروّتی ودنائت کا جو طوفان ہمارے گرد وپیش برپا ہے، اس نے سفینۂ انسانیت کیلئے سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے۔ خلیفۂ ارضی (بنی نوع انسان) کی فتنہ سامانیوں سے زمین لرز رہی ہے اور بحر و بر ، جبل و دشت اور وحوش و طیور ’’ الامان والحفیظ!‘‘ کی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں، انسانیت پر نزع کا عالم طاری ہے،اس کی نبضیں ڈوب رہی ہیں، لمحہ بہ لمحہ اس جاں بلب مریض کی حالت متغیر ہوتی جارہی ہے، یہ دیکھ کر اہلِ بصیرت کایہ احساس قوی ہوتا جارہاہے کہ شاید اس عالم کی بساط لپیٹ دینے کا وقت زیادہ دور نہیں۔ ذیل میں احادیث نبویہ ( علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام) سے ایک آئینہ پیش کیا جارہا ہے جس میں دورِ حاضر کے تمام خدو خال نظر آتے ہیں اور علماء ، خطباء ، حکام اور عوام سبھی کے قابلِ اصلاح اُمور کی نشاندہی فرمائی گئی ہے، اس کی جمع وترتیب سے مقصود کسی خاص طبقہ کی تنقیص نہیں، لالچ صرف یہ ہے کہ ہم اس شفاف آئینہ میں اپنا رخِ کرداردیکھ کر اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔
یہ سلسلہ ماہنامہ بینات میں شروع کیاگیاتھا، اورمندرجہ بالا ابتدائیہ بھی اس کی قسطِ اوّل میں آیاتھا۔ ۔۔۔ حق تعالیٰ شانہ اسے قبول فرمائے اور تمام فتنوں سے امت کی حفاظت فرمائے ۔ واللہ ولی التوفیق محمدیوسف لدھیانوی۱۵/۱۰/۱۴۰۵ھ
1: ہلاکت کا خطرہ کب؟۔ عن زینب بنت جحشؓ قالت۔۔۔ قیل : انھلک و فینا الصالحون ؟، قال : نعم اذا کثر الخبث ’’ حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا : کیا ہم ایسی حالت میں بھی ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں؟۔ فرمایا: ہاں جب خباثت کی کثرت ہوجائے ۔ بخاری ج۲، ۱۰۴۶۔ مسلم ج۲، ۳۸۸
عصر حاضر کی یہ پہلی حدیث ہے۔ جب جمعیت علماء اسلام کے اکابرین پر مفتی رشید احمد لدھیانوی، مفتی محمد شفیع، مولانا سلیم اللہ خان وغیرہ نے کفر والحاد کا فتوی لگایا تھا تو علامہ یوسف بنوریؒ نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ یہ1970ء کی بات تھی۔ پھر حاجی عثمانؒ پر علماء ومفتیان نے جب فتویٰ لگادیا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ حاجی عثمان کوئی اچھے انسان ہونگے ، پیسہ کھاکر یہ فتویٰ لگایا ہوگا جیسے70میں کیا تھا۔ جب میں نے علماء ومفتیان سے ایسا فتویٰ لیا ہے جس میں وہ حضرت شاہ ولی اللہؒ ، حضرت عبدالقادر جیلانیؒ ، علامہ یوسف بنوریؒ اور شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ پر کفر والحاد اور قادیانیت کے فتوے لگاکر پھنس رہے تھے تومولانا فضل محمد نے کہا کہ مفتی رشید نے علامہ یوسف بنوریؒ کو بہت ستایا تھا، حدیث قدسی ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے میرے ولی کو اذیت دی ، میرا اس کیساتھ اعلانِ جنگ ہے۔اب مفتی رشید احمد لدھیانوی اس کی سزا بھگت رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھ سے کہا تھا کہ’’ دنبے کو آپ نے لٹادیا، چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے ، اس کو ذبح کردینا، اگر ٹانگیں ہلائیں تو ہم پکڑ لیں گے‘‘علماء ومفتیان جمعیت کے رہنماؤں سے بھیک مانگ رہے تھے کہ ’’ ہم پھنسے ہیں ، کسی طرح سے ہمیں بچاؤ‘‘۔مفتی رشید لدھیانوی کے جانشین مفتی عبدالرحیم کی وہ تحریراور فتویٰ ان لوگوں کیلئے وبال جان اور عذاب بن کر رہ گیا تھا۔
ہفت روزہ تکبیر کراچی کو انہوں نے خود مہیا کیا تھا جس پر ثروت جمال اصمعی نے لکھاکہ ’’یہ فتویٰ حاجی عثمان کے خاص مرید سید عتیق الرحمن گیلانی نے لیا، جنکے اس قسم کے عقائد ہوں تو حکومت کو اس پرپابندی لگانی چاہیے‘‘۔ مگر علماء اپنے دام میں صیاد کی طرح پھنس گئے تو مفتی تقی عثمانی نے اپنے ذمہ معاملہ لیا، مفتی تقی عثمانی نے حاجی عثمانؒ کے وکیل کی طرف سے نوٹس کے جواب میں لکھا کہ ’’ہم نے نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا‘‘۔ پھر تکبیر کراچی نے لکھا کہ ’’ اگرعلماء کی طرف سے کوئی بے احتیاطی ہوئی ہے تو غلط بیانی کے بجائے اعتراف میں عزت ہے‘‘۔ ہم چاہتے تو عوام میں ان کو بہت خراب کرسکتے تھے لیکن ہمارا طرزِ عمل پھر بھی ادب واحترام اور بہت پردہ پوشی والا ہی رہا ۔ حاجی عثمانؒ نے ثبوت دیا کہ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ ورنہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی چاہت بھی تھی کہ انکی عزت خراب ہوجائے۔
پھر ایک شخص نے مختلف الفاظ میں مفتیان سے الگ الگ فتویٰ لیا ، جس میں وہ حاجی عثمانؒ کے مریداور ہونے والے داماد کو شریعت کا پابند بتاتے ہوئے نکاح کے جواز اور منعقد ہونے کا فتویٰ پوچھ رہا تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا کہ ’’نکاح بہرحال جائز ہے، جو فتویٰ منسوب ہے، وہ درست نہیں تو فتویٰ نہیں لگتا‘‘۔ اسرار، مفتی عبدالسلام چاٹگامی اور مفتی ولی حسن ٹونکی کے دستخط تھے۔ دارالعلوم کراچی سے نکاح منعقد ہونے کا لفظ پوچھا گیا تو فتویٰ لکھ دیا کہ ’’نکاح منعقد ہوجائیگامگر بہتر یہ ہے کہ علماء نے جو فتویٰ لگایا ہے، انکے حالات سے آگاہ کیا جائے‘‘۔ مفتی رشید لدھیانوی کی دارالافتاء نے نکاح کے ناجائز ہونے کا فتویٰ لگادیا۔ پھر تینوں فتوؤں کے بعد مفتی رشید لدھیانوی کے شاگرد نے ایک ہی قلم سے سوال وجواب فتویٰ لکھا کہ ’’ اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟، عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا‘‘۔ پھر مجذوب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے بھی دستخط کردئیے، مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی نے لکھ دیا کہ ’’نکاح جائز نہیں، گومنعقد ہوجائے‘‘۔ مفتی نظام الدین شامزئی جامعہ فاروقیہ میں تھے تو حاجی عثمانؒ کے حق میں فتویٰ دیا اوربنوری ٹاؤن آئے تو دارالعلوم دیوبند انڈیا کی طرف سے ہمارے حق میں اور علماء ومفتیان کی مخالفت آئی تو مفتی شامزئی نے کہا کہ ’’ابھی میں نیا نیا آیا ہوں اسلئے رسک نہیں لے سکتا ہوں‘‘۔ مفتی رشید کی خباثت کا طوطی بول رہا تھاتو امت کے اکابر اور پھر عوام کی ہلاکت کا جو سلسلہ شروع ہوا، اسے عصر حاضر کی پہلی حدیث کی روشنی میں دیکھ لیجئے۔ قیوم آباد کے قریب محمودآباد کے ایک مولانا نے بتایا کہ ’’امریکی کونصلیٹ کا ملازم اور مفتی رشید کا مرید کہتاہے کہ مفتی رشید کیلئے جو گناہ کئے، اللہ مجھے معاف نہیں کریگا‘‘۔

پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

turabul-haq-yousuf-ludhyanvi-shujaat-ali-qadri-janaza(2)

(مدرسہ نعیمیہ میں علامہ سید سعادت علی قادری اپنے بھائی سید شجاعت علی قادری کی میت کے انتظار میں (فروری 1993): بائیں سے مولانا ابرار احمد رحمانی ،علامہ شاہ تراب الحق قادری اور مولانا یوسف لدھیانوی ، علامہ سید سعادت علی قادری کے ساتھ۔ )

(نوٹ : یہ تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے جو آپ مندرجہ ذیل لنک پر چیک کرسکتے ہیں۔ )

https://en.wikipedia.org/wiki/File:Ulema_Janaza_Procession_Syed_Shujaat_Ali_Qadri.jpg

http://en.academic.ru/dic.nsf/enwiki/11775228
مولانا یوسف لدھیانویؒ اور علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ کی تصویر حکومت اور عوام کی طرف سے شاہراہوں پر آویزاں کرنے کے لائق ہے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ نہ تو مولانا لدھیانویؒ بریلوی مکتب کو مشرک سمجھ کر ’’جہاں پالو قتل کردو‘‘ کا فتویٰ دیتے تھے اور نہ ہی علامہ تراب الحق قادریؒ دیوبندی کو گستاخ سمجھ کر انکے قتل کا فتویٰ دیتے تھے۔ کہاوت ہے کہ ہاتھی زندہ ہوتا ہے تو لاکھ کا ہوتاہے اور مرتاہے تو سوا لاکھ کا بن جاتاہے۔خوبی خامیاں سب میں ہوتی ہیں لیکن ان خفیہ گوشوں سے نقاب اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے قوم کا شعور بڑھ جائے۔

Attaur_Rehman_SissiPaleejo(2)

( بین الاصوبائی وزراء سیاحت اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر سیاحت مولانا عطاء الرحمن ، وزیر سیاحت آزاد کشمیر طاہر کھوکھر، وزیر سیاحت سندھ سسی پلیجو )

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان ؒ کا تعلق ملاعمرؒ کے شہر قندھار سے تھا۔ کسی سے نظرئیے اور عمل کا اختلاف نہ ہوتا تو عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ نے بھی ایک دوسرے کو قتل نہ کیا ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے سیاسی اور جہادی لشکر کی قیادت فرمائی۔ آج مولانا الیاسؓ کی دعوت وتبلیغ نے مساجد کو رونق بخشی ہے اور مولانا الیاس قادری کی دعوت اسلامی نے مساجد کو نمازیوں سے بھرنے کی خدمت انجام دی۔ اللہ کرے کہ یہی لوگ مکہ مکرمہ کی طرح ساری عوام کو روزانہ مساجد میں لانے کے سنت طریقے کو اپنائیں ،خواتین اور بچے بھی باجماعت نماز میں آئیں۔

bukhari-ahmad-raza-molana-ilyaas(دائیں سے بائیں: اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ ، بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ )

بھرچونڈی شریف دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کے اکابرین ؒ کا مشترکہ مرکز تھا۔جس طرح سے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ مسجد نبویﷺ وکعبہ میں کون بیٹھا ہے، صلح حدیبیہ کے شرائط پر بھی زیارت کیلئے جاتے ہیں اس طرح تاریخی انقلابی مراکز کی اہمیت کو برقرار رکھناتھا، اگرعلامہ شاہ تراب الحق قادریؒ اور مولانا یوسف لدھیانویؒ بھرچونڈی شریف، امروٹ شریف، ہالیجی شریف اور خانپور شریف اکٹھے جایا کرتے تو دونوں فرقوں میں انتشارو افتراق کی کیفیت کے بجائے اتحادو اتفاق اور وحدت کا راستہ ہموار ہوجاتااور یہ آج کے دور میں ہوسکتاہے۔

Pir-Saien-Abdul-Khaliq-Bharchundi-sharif(پیر سائیں عبد الخالق سجادہ نشین بھرچونڈی شریف، ڈھرکی سندھ۔ ہماری جماعت پہلے گئی تھی ،سائیں نے خوشی کا اظہار فرماکر تعاون کا یقین دلایاتھا۔)

ہم نے پاکستان میں بہت علماء ومشائخ سے ملاقات کرکے اتحاد واتفاق اور وحدت کے جذبے کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمد کندیاں شریف نے فرمایا کہ اگر مولانا فضل الرحمن کو ساتھ کردیا تو بہت جلد کامیابی مل جائے گی مگر ہم نے کہا کہ نہیں وہ ملنا بھی چاہیں تو ہم نہیں ملائیں گے جس پر وہ زیادہ خوش ہوکر داد اور دعائیں دینے لگے۔ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی پیشکش تھی کہ ہمارے مدرسے کو اپنا مرکز بنالو، ہم نے معذرت کرلی کہ اپنی اجنبیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، جس پر بہت خوش ہوئے فرمایا کہ تمہاری پیشانی میں خلافت کی کامیابی کی جھلک دیکھ رہا ہوں۔ بیرشریف لاڑکانہ جمعیت علماء اسلام کے سابقہ امیر اور مولانا مراد ہالیجویؒ منزل گاہ سکھر بھی بہت تائید کرتے تھے۔ دیوبندی،بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ علماء کرام نے بڑے پیمانے پر ہماری تائیدکی لیکن ہم مشکل کا شکار ہوکر اس طرح سے چل نہ سکے۔ آج ہماری ریاست بھی فرقہ واریت ختم کرنا چاہتی ہے ۔ پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

Nawaz-Sharif-with-Afghan-War-Lords-hikmat-yaar(گلبدین حکمت یار اور نوازشریف کے درمیان کون صاحب ہیں؟۔ تاریخ کا ایک منظر، اب حالات بدل گئے ہیں یا کچھ نہیں بدلا ہے؟۔)

ہم نے اسلام کے نام پر پاکستان بنایا، اسلام کے نام پر امریکہ کی جنگ لڑی اور اسلام کے نام پر فرقہ واریت کو پروان چڑھایا، اسلام کے نام پر ایک مخصوص کاز کی وکالت کرکے ہماری مذہبی جماعتوں کو بہت زبردست پذیرائی مل گئی۔ اب اپنے مفادات کے خول سے نکل کریہ قربانی دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے اسلامی نظام کے قیام کا عمل آئے۔ اسلام کی ایسی امامت کرنے سے گریز کرنا ہوگا کہ استنجاء بھی نہیں کیا ہو۔ سب سے پہلے خود احتسابی کرکے اپنی کمزوری کو دور کرنا ہوگا۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس پر نہ صرف مسلم اُمہ بلکہ کفر کی دنیا بھی متفق ہوسکتی ہے۔ پاکستان میثاق مدینہ کے طرز پر وجود میں آیا تھا۔ نبیﷺ نے یہود، نصاریٰ، مشرکین اور منافقین سے معاہدہ کیا تھا کہ شہر اور علاقے کے تمام باشندوں کی جانوں اور عزتوں کی حفاظت مشترکہ ذمہ دار ی ہے۔ اس معاہدے کو دنیا کی کوئی طاقت بھی ایک وقتی سازش نہیں قرار دے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کا وجود تو بہت بعد میں آیا ہے۔ نبیﷺ نے نبوت سے قبل مکہ میں جس حلف الفضول کو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب قرار دیا، اس میں اسلام سے پہلے ہر مظلوم کی داد رسی تھی۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت سے عرب میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہورہاہے ، اگر ہم نے فرصت کے ان لمحات سے فائدہ اٹھایا تو ناراض طالبان ، بلوچ ، مہاجر، سندھی، پٹھان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی قریب آجائیں گے اور بنگلہ دیش بھی الحاق کا اعلان کردیگا۔ کشمیروفلسطین کو بھی ظلم سے نجات مل جائے گی۔

پاک فوج اور صحافت کے درمیان سرد جنگ اور اسکے نتائج کا متوازن جائزہ

پی ٹی وی کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی بڑے لاہوری ہیں، لاہور کو عروس البلاد کہا جاتاتھااور اب تختِ لاہورکی شہرت ہے، جہاں دربار ہوتاہے وہاں درباری بھی ہوتے ہیں، خصائل کیساتھ رذائل بھی ہوتے ہیں، پنجاب سے پاکستان میں سورج طلوع ہوتا ہے ، نمازکاقبلہ مغرب مگر سیاسی قبلہ ہمارامشرق میں واقع ہے، ہندوستان میں ایک بریلوی شہروہ تھاجو علم ودانش اور فکر وانقلاب کا مرکز تھا تو دوسرا الٹا بانس بریلی تھا، شاہ ولی اللہ ؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید ؒ کے مرشد سید بریلویؒ کا تعلق معروف شہر بریلی سے تھا جہاں کے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی کتابیں عربی ممالک کی عربی نصاب میں داخل ہیں۔ الٹے بانس بریلی سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاں بریلویؒ کا تعلق تھا۔
ہندوستان کے مشہور مذہبی دریا کے بارے میں الٹا گنگا بہنے کی کہاوت ہے، علامہ اقبالؒ نے ’’پنجابی مسلمان‘‘ کے عنوان سے لکھا کہ تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا۔ یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد، ہو کھیل مریدی کا تو ہرتاہے بہت جلد۔ کافی عرصہ ہوا کہ پنجاب کی زمین بانجھ ہوگئی ، عطاء الحق قاسمی کیساتھ صحافی حامد میر جس انداز میں گفتگو کررہے تھے کہ کیا تحقیق کا واقعی کوئی مسئلہ نہیں جو بھونک دیا، سو بھونک دیا۔ حقائق کو ردی کی ٹوکری کی طرح آگ کے شعلے میں جھونک دیا، بس سردی میں گرمی حاصل کرنے کی جو رِیت چلی ہے کوئی نہیں پوچھتا کہ حقیقت میں کیا بیت چلی ہے؟۔میر شکیل الرحمٰن نے کہا کہ ’’ حامد میر حکومت گراسکتاہے‘‘یہ بول مہنگا پڑا۔
حامد میر نے مہمان کی حیثیت سے لاہورمیں عطاء الحق قاسمی کی میزبانی میں محفل جمائی تھی۔ عقیدت ومحبت کے سارے رنگوں کو لٹیرے کی طرح تاریخ پر نقب لگاکر لوٹا جارہاتھا۔ حامد میر نے فوج کیخلاف قربانیوں کے تمغے گنوانا شروع کئے۔ پہلا کارنامہ یہ بتایا کہ ’’سندھ میں فوج کے تشدد پر ڈرامے کیلئے مجھے فوجی کا کردار دیا گیا، طالب علم تھا، میں نے فوجی کا کردار پر سچ مچ میں زور دار طریقے سے ڈنڈا برسانا شروع کیا تو خاتون چیخ پڑی کہ یہ کیا کررہے ہو؟۔ میں نے جواب دیا کہ اس طرح سے لوگوں کو پتہ چل جائیگا کہ فوج عوام پر کتنا تشدد کرتی ہے‘‘۔ حامد میر کی رام کہانی سن کر مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو یاد آیا ہوگا کہ نوازشریف معافی مانگ کر سعودیہ سے پہلے فوج کا تشدد برداشت کررہے تھے تو واقعی حامد میر نے ڈرامے میں اچھا کیاکہ فوجی تشدد کو اس ادا سے اجاگر کیا کہ اس کو سن کو مریم نواز کی طرف سے شاباش کی ٹویٹ بھی ضرورآئی ہوگی۔
دانیال عزیز ، طلال چوہدری اور پریزمشرف کے دور کے بعد لیگ کا شرف حاصل کرنیوالے رہنما ؤں اور کارکنوں میں بھی ذہنی پختگی آئی ہوگی کہ اب کے بار ظالم فوج کا ساتھ نہیں دیناہے اور اگر کوئی طعنے پر اتر آیا کہ مشرف کا ساتھ دیاتھا تو غم کی بات نہیں ضیاء سے لیکر اشفاق کیانی تک ن لیگ کی قیادت روح کی طرح ڈھانچے میں رہی ہے بس غلطی ہوئی تھی جو خواب کی طرح سعودیہ کی طرف رختِ سفر باندھا ،پھر وہ دور گزر گیا۔ حامد میر یہ کہتے تو ٹھیک ہوتا کہ پہلے میں بھی اس طرح کی ذہنیت رکھتا تھا، فوج کو بدنام کرنیوالے سندھی ڈرامے بازوں کو میں نے سچ مچ انتقام کا نشانہ بنایا۔ فوج کے بڑے باغی مولانا فضل الرحمن کو بھی GHQکی دہلیز پر لانے کے کارنامے میرے نامہ اعمال میں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کا ایڈیٹر تھا تو ریکارڈ پر بھی لایا، پھر روزنامہ جنگ میں بھرتی ہوا تو ہندوستان سے ’’ایک آنٹی‘‘ کی کہانی لایا، جو اخبار کی زینت بنی، آنٹی نے اللہ کا واسطہ دیکر کہا کہ میری کوکھ سے ہندوؤں نے اپنے بچے جنوالئے، اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ مجاہدین کے ذریعے میرا انتقام ضرور لینا۔ روزنامہ جنگ میں یہ کہانی چھپنے سے پہلے میں نے مفتی شامزئی کے حوالہ سے روزنامہ اوصاف کے اداریہ میں لکھا تھا کہ مجاہد تنظیمیں واشنگٹن سے رابطۂ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے رقم تقسیم کرکے علماء کو خرید تی ہیں، پھر منظرنامہ بدلا ۔ اجمل قصاب نے ’’آنٹی‘‘ کا بدلہ لینے کیلئے بھارت کے اوپر زبردست حملہ کردیا۔ جیو ٹی چینل کو بھارت سے امن کی آشا کے نام پر خطیر رقم مل گئی۔ کیمرے کی آنکھ نے پنجاب کی سرزمین سے جیو کی اسکرین پردکھا دیا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے تھا اور باقاعدہ یہ بھی دکھا دیا کہ خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ عوام کو روک رہے تھے اور صحافت کی نمائندگی کرنیوالے بہت بہادری سے اسکرین پر نشاندہی بھی کررہے تھے۔
کسی پر ایجنٹ کے الزامات لگانے کیلئے عدالت میں ثبوت دینا پڑتاہے، زرداری کی کرپشن کو ٹی وی چینلوں نے بہت اجاگر کیا لیکن 11سال جیل کاٹنے کے باوجود ثابت نہیں کرسکے، نواز شریف کی پانامہ لیکس من وسلویٰ کی طرح قوم پر نازل ہوئی لیکن ملکہ سبا کے تخت کی طرح قطر سے شہزادے کا خط بھی بڑی تیزی سے سامنے آگیا۔ اے آر وائی کو لندن میں نشریات بند کرنی پڑگئی۔ الزامات لگانے سے کام نہیں بنتا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والوں کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔طاقتوروں پر الزام تراشی کی حوصلہ شکنی ہر دور میں ہوتی رہی ہے لیکن اس دور کا یہ اعزاز ہے کہ سچ نام کی کوئی چیز جھوٹ کی بہتات میں نظر نہیں آتی ہے، جمہوریت اور صحافت نے قوم کی اُمنگ بن کر قوم کے اچھے عزائم کو بھی شکست خوردہ بنادیاہے۔ پہلے حبیب جالب کی طرح کے لوگ ہردور میں عتاب کا نشانہ بنتے تھے ،اب رقم سے خدمات دستیاب ہیں۔ ہر ایک اُلو عقاب بنا پھرتا ہے۔اگر علامہ اقبال کا شاہین نایاب ہے تو اس منصب کیلئے اُلو کیوں بے تاب ہے؟۔
جب حامد میر کو گولیاں لگی تھیں تو بہت افسوس ہوا،اور کیوں نہ ہوتا کہ کسی درخت سے کوئی ہری بھری شاخ کٹے ، نبیﷺ نے حرم کیلئے حکم جاری فرمایا کہ کوئی درخت اور جنگلی گھاس بھی نہ کاٹے۔ آکسیجن زندگی کیلئے ضروری اور زندگی حلقہ احباب کی زینت ہے، زندگی اجڑے تو ماحول اجڑجاتا ہے ، قرآن نے ایک جان کے قتل کو کسی جان یا فساد کے بغیر پوری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ جب فرقہ واریت کو پروان چڑھایا جارہاتھا تو میں نے اگست2003ء کو جنگ فورم میں آواز اٹھائی تھی جسکو سپرٹ کیساتھ جگہ نہ ملی سکی ، رضا ربانی کی طرف سے یاد ماضی کے عذاب کو اجاگر کرنا حماقت ہے ، اگر دستخط سے انکارکرتے تو اسکی گردن کی چٹیہ سرکی چوٹی کا تاج بن کر ابھرتا۔فوج ملک کیلئے امید کی کرن ہے ، ڈان نیوز میں بھی مظلوم کی داد رسی نہ ہوسکی ۔ لوہا لوہے کو کاٹتاہے۔ کہا جاتاہے کہ ’’کلہاڑی میں درخت کا دستہ نہ ہوتا تو درخت نہ کٹتا‘‘،سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں۔
ہمارا گھر طالبان نے اجاڑ دیا ،اگر ہمارے گھر سے انکو ایندھن نہ ملتا تو ہمارا گھر نہ جلتا۔فوج نے ماضی میں جو کیااس کی سزابھی خود بھگت لی لیکن اب جب فوج بدل گئی ہے تو اس پر رکیک حملے کرنے میں ملک وقوم کی تباہی ہے۔ حکومت اور صحافت کا فوج کیخلاف ایک گٹھ جوڑ نظر آتاہے۔

جمہوریت کی ناک چیئر مین سینٹ رضا ربانی

پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کا پارلیمنٹ سے توثیق کا معاملہ آیا تو پیپلزپارٹی رہنما سینٹر رضاربانی کی بھرائی ہوئی آواز کو بہت مقبولیت کا درجہ حاصل ہوا۔یہ مگر مچھ کے آنسو نہ تھے کہ رضا ربانی نے روتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارٹی کی امانت سمجھ کر فوجی عدالت کے قیام کو ووٹ دے رہا ہوں‘‘۔ سینٹر رضا ربانی اپنی مقبول آواز کے ذریعے سے ہماری لولی لنگڑی، بہری اندھی اور موروثی گندی جمہوریت کی ناک بن گئے۔ قوم کو رضا ربانی پر بہت پیار آیا، ان کی عزت دوبالا ہوگئی۔ چیئرمین سینٹ کیلئے انکے نام کو ہی تقریباً بلامقابلہ پذیرائی مل گئی۔ جنرل راحیل شریف نے دفاعی تقریب کی رونمائی میں اپنے ساتھ بٹھاکر نمایاں حیثیت سے نوازنے میں بالکل بخل سے کام نہیں لیا۔
سینٹر رضاربانی ایک باکرداراور ایماندار شخصیت ہیں، نواز شریف نے سعیدالزمان صدیقی کو زرداری کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار نامزد کیا ، اگر نوازشریف رفیق تارڑ کے بعد ممنون حسین کو صدر بنوانے کے بجائے محترم رضا ربانی کو صدر بنانے کیلئے نامزد کردیتے تو پاکستان میں جمہوری قدروں کو بہت تقویت مل جاتی۔ اگر پیپلزپارٹی پرویزمشرف کے دور میں جمالی اور شوکت عزیز کو موقع دینے کے بجائے متحدہ مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمن کو وزیراعظم بنانے میں کردار ادا کرتی تو بھی جمہوریت کو استحکام ملتا، اسلئے کہ مولانا فضل الرحمن مشرف کے مقابلے میں پھر نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کا بھی وزیراعظم بنتا ، جس نے دونوں پارٹی کے قائدین کو جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔ جب ن لیگ وعمران خان نے پیپلزپارٹی اورپرویز مشرف کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دیا تو کتنا اچھا ہوتا کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن بھی نوازلیگ اور عمران خان کا ہی ساتھ دیتے؟۔کیا سیاسی کردار ہر دور میں جمہوریت کی ناک کٹوانے ہی کانام نہیں رہاہے؟۔
سینٹر رضاربانی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میری بزدلی تھی یا کوئی لالچ مگر فوجی عدالت کیلئے میرا ووٹ دینا میری غلطی تھی ، اب اس غلطی کو نہیں دہراؤں گا۔ اگر چیئرمین سینٹ رضا ربانی اعتراف کرلیں کہ بزدلی کا تو سوال ہی ختم ہوگیا ہے اور یہ کنفرم ہے کہ مجھے پہلے بھی اور آج بھی عہدے کی لالچ نے مجبور کیا کہ میں فوجی عدالت کے حق میں اپنا کردار اداکروں۔ تو بہت ہی بہتر ہوگا۔ جب پہلے رضاربانی ایک ووٹ نہ بھی دیتے تو فرق نہیں پڑتا تھا، جاوید ہاشمی نے بھی پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔ ہاشمی کی قیادت ضیاء نواز تھی ، رضا ربانی جمہوریت کی ناک مگر کٹ گئی ۔ مولانا فضل الرحمٰن اقتدار کیلئے زرداری کاساتھ نہ دیتے ،نوازشریف و عمران خان کے احسان کا بدلہ اتارتے تو اقتدار کی جوتی نہیں جمہوریت کے تاجدار بنتے،شرم و حیاء کھوگئی ہے،اب پنجاب کے شیروں سے پختونخواہ کے چوہوں کی بات میں جوش اور ہوش سے بات آگئے نکل گئی۔