پوسٹ تلاش کریں

پرویزمشرف کے دور میں سیکولر بل منظورہوا!

پرویزمشرف کے دور میں سیکولر بل منظورہوا!

حافظ حسین احمد اگر سورۂ نور میں لعان کی آیت کا حکم دیکھ لیں تو عوام کو ورغلانے کا جذبہ بالکل نکل جائیگا!

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ بل پاس ہوتا ہے کہ آپ کی بیٹی، آپ کی بیوی، آپ کی بچی، آپ کی خاتون کسی کیساتھ جائے نہ آپ اسے روک سکتے ہیں نہ آپ اس کے خلاف تھانے میں جاسکتے ہیں نہ آپ اس کو سزا دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے بات ہوئی کوشش کی گئی، مفتی تقی عثمانی کو ڈالا گیا۔ چوہدری شجاعت کو ڈالا گیا۔ مشرف نہیں مان رہا تھا کہ ہم پر دباؤ ہے امریکہ کا۔ اس بل کو منظور کرنا ہوگا، عورتوں کو آزادی دینی ہوگی۔ ہمارا اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں فیصلہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمن جوش میں آئے اورفرمایا کہ اگر یہ بل پاس ہواقومی اسمبلی میں تو ہم اسی وقت قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر باہر جائیں گے۔کہا تھا ،نہیں کہا تھا؟۔ بل پیش ہوا۔ پیپلز پارٹی نے مشرف کا ساتھ دیا۔ میں مولانا فضل الرحمن کے پاس پہنچاکہ آپ نے کہا تھا کہ اسمبلی کی چھت پر اللہ کے99نام لکھے ہیں ہمیں اس کی قسم ہے کہ اگر یہ بل پاس ہوتو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسمبلی کو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاگل نہ بنیں سیاست میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے اپنا ہاتھ چھڑا دیا میں باہر نکلا اور آج تک باہر ہوں۔

__حافظ حسین احمد جناب پر نوشة دیوار کا تبصرہ__
لعان کا حکم سورۂ نور میں نازل ہو اتو سعد بن عبادہ نے اس پر عمل سے انکار کردیا ۔ اگر لعان کا حکم قرآن ہے کہ بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑکر قتل نہیں کرسکتے اور نہ سزا دے سکتے ہیں تو دیکھنا پڑے گا کہ کیا غلط اور کیا صحیح ہے؟۔ کہیں اسلام کا حکم تو علماء اور مذہبی طبقات نے غلط نہیں سمجھ لیا ہے؟۔ اس پر مشاورت کریں!۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا جمال دین کی وارننگ اور ساتھ شکریہ!

مولانا جمال دین کی وارننگ اور ساتھ شکریہ!

باجوڑ کا سانحہ ایسا ہے کہ سننے کیلئے کان تیار نہیں دیکھنے کیلئے آنکھیں شرمارہی تھیں۔ جناب محترم! میں خود اس پروگرام کا چیف گِیسٹ تھا۔ ہوسکتا تھا کہ میں آج یہاں نا ہوتا لیکن مائوں، یار دوستوں کی دعائوں ، اللہ کے فضل سے مجھے اللہ نے بچایا،وہاں کا منظر تو بیان کرنے کا نہیں۔ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی کی، دعا کی، جتنے ساتھیوں نے پیغامات بھیجے ، ان سب کا میں مشکور ہوں۔ لیکن میں حکومت اور ذمہ دار لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر اس کاروک تھام نہ ہوا، قبائل اپنے لیے راستہ اختیار کرلیںگے کیونکہ ڈپٹی اسپیکر! ہمارے پاس وزیر اعلیٰ بشمولِ چیف سیکرٹری آئے تو وہاں پر ایک بندے نے ان سے کھڑے ہو کر کہا کہ ہمارے تین سوالوں کے جواب دے دیں یا ان لوگوں کے ساتھ بامعنی با مقصد مذاکرات کرلیں اس طرح نہ ہو جس طرح پہلے ان لوگوں کو آنے دیاپھر مذاکرات چھوڑ دیے ۔اگر وہ نہیں کر سکتے، مصلحت نہیں سمجھتے یا آپ لوگ مجبور ہیں وہ نہیں کر سکتے تو آپ ان کیساتھ جنگ کرلیں۔ آپکی ذمہ داری ہے ہماری حفاظت۔ عوام کے ٹیکسوں سے آپ کو تنخواہ دی جاتی ہے اور ہماری حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اگر جنگ نہیں کر سکتے یاکرنا نہیں چاہتے ہو یاپھر آپ لوگوں کو ہماری شہادتیںمتضاد معلوم ہورہی ہوں تو خدا را ہم منت سماجت نہیںکرتے۔ آپ نکل جائیں، یہ علاقے خالی کرلیںتو ہم اپنی حفاظت خود کر سکتے ہیںانشاء اللہ یہ ہمیں کچھ نہ کر سکیں گے۔ باجوڑ میں ایسا گھر نہ رہا جہاں جنازہ نہ اٹھایا گیا۔ جس گھر میں نماز کیلئے گیا، میزبان کہہ رہا ہے کہ میرا ایک بھانجا، ایک بھتیجا شہید ہوا ۔وہ مناظر ہم نے دیکھے پھر بھی باجوڑ کے لوگوں نے پاکستان کے خلاف نعرہ نہ لگایا، جھنڈے نہ جلائے، سرکاری املاک پر حملہ نہ کیا وفاداری کا ثبوت دیا لیکن جو لوگ حکومت کے وفادار ہیں،ہم ان کو تحفظ نہیں دے سکتے۔آپ یقین کریں وہاں کوئی برداشت نہیں کر سکتا تھا، لوگ بہت مجبور، بہت تنگ آ چکے، لاشیں اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، خدارا قبائل پر رحم کرلیں اس سے پہلے کہ قبائل ایسے اقدام پر مجبور ہو جائیں کہ پھر حکومت کیلئے بہت مشکلات ہوں گی۔ وہ ایسا قدم اٹھائیں گے کہ پھر کوئی برداشت نہ کر سکے گا۔ آج ہمارا قبائلی جرگہ ہے دیکھیں وہ کیا فیصلہ کرتاہے۔ جس طرح اور پاکستانی حفاظت کے حقدار تو قبائلی بھائی بھی حفاظت کے حقدار ہیں، ان کی بھی حفاظت کی جائے۔ محترم ڈپٹی اسپیکر! میں قائد محترم مولانا فضل الرحمن کا بے حد مشکور ہوںکہ اپنے کو ہلاکت میں ڈال کر وہاں پہنچے شہداء کے ورثاء سے ملے تعزیت کی دلاسہ دیا۔ ماشاء اللہ جمعیت علماء اسلام کے کارکنان ، شہداء کے وارث بجائے یہ کہ مولانا ان کو دلاسہ دیتے وہ قائد محترم کو فرمارہے ہیں کہ مولانا صاحب! ہم نے آپ کیساتھ عہد کیا، ہم اس کیلئے تیار تھے شہادت کیلئے تیار ہیں، ہمارے قائد بھی حیران ہوئے اور رشک کررہے تھے کہ ہمارے جیسے کارکن پاکستان نہیں بلکہ دنیا میں بھی کسی کو نہیں ملے، میں ان کارکنوں کو داد دیتا ہوں اور قائد محترم کو یقین دلاتا ہوں کہ فاٹا کا ہر ایک کارکن، ہر مشر آپ پر فداء ہے، آپ حکم کریں گے ہم لبیک کہہ کر آپ کے پاس حاضر ہوں گے اور میں وزیر اعظم کا بھی مشکور ہوں کہ پشاور آکر شہداء کی تعزیت کی اور شہداء کیلئے20،20لاکھ روپے کا اعلان کیا وہاں خود عیادت کیلئے آئے، گورنر کے پی غلام علی کا مشکور ہوں کہ اسی وقت ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہیلی کاپٹر ہائر کیا۔ انہی کی وجہ سے بیماروں کو ہیلی کاپٹر میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا جو خدمت انہوں نے کی وہ بے مثال ہے اورچیف سیکریٹری جب بھی ان سے بات ہوئی ہے فون کیا ہے انہوں نے فوراً لبیک کہا ہے بہت تعاون کیا ہے تو میں ان کا بھی بے حد مشکور ہوں اور انتظامیہ کا بھی۔ تو لہٰذا میں ایک بار پھر ایک بیمار کے پاس لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں گیاتو انہوں نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب! آپ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمارے دو بھائی شہید ہوئے اور میں یہاں زخمی پڑا ہوں کہ اللہ پاک مجھے بچالے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ قبائل آخری حد تک پہنچ چکے ہیں ذمہ دار ادارے سوچ لیں، قبائل کبھی بھی یہ بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ اس کا مقابلہ امریکہ نہیں کر سکتا تھا،48ملک نہیں کر سکتے تھے۔ ہم مجبور ہیں، یہ نہیں کرسکتے ہیںیہ قبائل کبھی بھی اس کیلئے تیار نہیں، وہاں بارڈر بھی لگا ہوا ہے یہ کس طرح آتے ہیں۔ جیکٹ ایک منٹ میں تیار نہیں ہوتی، اس میں تو میرے خیال میں کئی دن لگتے ہیں۔ یہ کہاں سیٹ ہوتا ہے یہ کہاں اس کو چھپ کر بناتے ہیںیہ باتیں لوگ ماننے کیلئے تیار نہیں ،اگر سلسلہ نہ روکا جائے تو قبائل وہ قدم اٹھائیںگے پھر حکومت کیلئے مشکل ہوگا میں حکومت اور اداروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا نا ہو کہ پھر پاکستان کیلئے مشکل ہو۔ خدا را! قبائل پر رحم کریں قبائل کو اپنا سمجھیںیہ اپنے لوگ ہیں۔ خدا کی قسم اگر کوئی بندہ پاکستان سے وفادار ہے تو قبائل پاکستان سے ہزار گناہ زیادہ وفادار ہیں، آپ وفاداری کو کیوں نہیں اہمیت دیتے ہیں؟اس کو وفادار کیوں نہیں سمجھتے ہیں؟اس کو بے وفائی پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے؟ اس کو جان پے کیوں گھسیٹا جارہا ہے؟تو لہٰذاقبائل پر رحم کرلیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دہشتگرد اب خوارج بن چکے :مفتی عبدالرحیم

دہشتگرد اب خوارج بن چکے :مفتی عبدالرحیم

یہی وہ لوگ جن کا احادیث میں ذکر ہے اور جنہوں نے حضرت علی کو شہید کردیا تھااب علماء شہید کردئیے

کیا جب عوام ، مدارس، مساجد ، سیاسی پارٹیوں اور افغانوں کے علاوہ اپنوں کو شہید کیاتھا تو یہ مجاہد تھے؟

باجوڑ میں سانحہ ہوا بہت افسوسناک ، رات بھر نیند نہ آئی۔ بہت طبیعت پریشان رہی۔ کیسا وقت ہے کہ علماء اور طلباء تھے وہاں۔ چھوٹا سا علاقہ ہے آپ نے سنا ہوگا کہ بہت بڑا علاقہ نہیں۔ چھوٹے سے علاقے میں60،70جنازے اٹھے۔ ہر گھر میں شہید ہیں زخمی ہیں اس وجہ سے عورتیں بیوہ ہورہی ہیں بچے یتیم ہورہے ہیں، ماں باپ پریشان ہیں۔ دین کے نام پر خود کش حملے ہو رہے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہدایت دے۔ اللہ نے جو ہمیں دین کی سمجھ دی اس کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔ کون لوگ مولانا حسن جان کو شہید کررہے ہیں۔ جس نے تقریباً55مرتبہ بخاری شریف پڑھائی۔ اتنے بڑے شیخ الحدیث وہ کئی مرتبہ یہاں تشریف لائے۔ وہ صرف پاکستان کے شیخ الحدیث نہ تھے وہ عالم اسلام کے ان شیخ الحدیث میں تھے جو بالکل ٹاپ کے تھے۔ بہت اللہ نے ان کو علم عطا فرمایا ۔ بہت نیک بہت اللہ والے ان کو شہید کیا۔ شیخ الحدیث مولانا نور محمد وانا والے مسجد میں درس قرآن دے رہے تھے، خود کش حملہ کیا، مسجد کو خون سے نہلادیا کتنے لوگ اس میں شہید ہوگئے۔ مولانا معراج الدین بہت بڑے مدرس تھے ، بہت نیک تھے بہت آنا جانا تھا ان کو شہید کیااور یہ وہ لوگ ہیں جن کی انہوں نے ذمہ داری قبول کی۔ باجوڑ میں پچھلے سال ہمارے جامعہ کے سابق استاذ مفتی بشیر احمد کو شہید کیا اس بات پر کہ آپ فوجی کو کافر کیوں نہیں کہتے؟۔ ان کا ایک بچہ بڑا مجھ سے رابطے میں بھی رہتا تھا۔ اردو جانتا نہیں تھا بہت ہی نیک بچہ تھا اس سال رمضان میں اس کو بھی شہید کردیا۔ اتنے بے رحم لوگ۔ مولانا فضل الرحمن پر4مرتبہ خود کش حملہ ہوا ۔قاضی حسین احمد پر حملہ ہوا۔ مولانا طارق جمیل کو دھمکیاں دیں۔ مولانا تقی عثمانی نے مجھے فرمایا کہ مجھے ڈیڑھ سو سے زیادہ دھمکیاں دی ہوں گی۔ مجھے20سال ہوگئے اس پر بات کرتے ہوئے مجھے بھی بہت دھمکیاں دیں، بہت زیادہ مختلف طریقوں سے کوشش بھی کی انہوں نے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے دین میں ان کے بارے میں کچھ بھی احکامات نہیں ہوں گے؟ اگر آپ دیکھیں احادیث میں دین میں ، فقہاء نے جو کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ جتنے گمراہ فرقے ہیں ان میں سب سے زیادہ احادیث میں صراحتاً اور بہت تفصیل کیساتھ ذکر آیا ہے وہ خوارج کا ہے۔22،23ان کی علامات بتائی گئی ہیں۔ اتنی تفصیل کسی فرقے کے بارے میں حضور اکرم ۖ نے نہیں بتائی۔ فرمایا: یہ خوارج اٹھتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ختم کرتا رہے گا۔ پھر اٹھتے رہیں گے پھر ختم کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ یہ دجال کا ساتھ دیں گے۔ علامات میں20احادیث صحیح و حسن ہیں باقی جو اقوال ہیں صحابہ کرام یا روایات جن میں ضعف ہوتا ہے وہ الگ ہیں ۔ بعض علماء نے خوارج سے متعلق علامات والی روایات کو متواتر کہا۔ اتنی تفصیل سے، آپ لوگوں کو پتہ ہے اس کا ؟۔ کیوں نہیں پتہ؟ ، اتنا خون بہہ رہا ہے یہاں۔ اتنے لوگ یہاں مارے جارہے ہیں اتنی بربادی ہورہی ہے۔ تو آپ کیا پڑھتے ہیں یہاں؟ میں علماء اور طلبہ سے پوچھتا ہوں۔ آپ کا خون کون لوگ بہا رہے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ ایسے نو عمر ہوں گے۔ خوارج کی علامات حدثاء الاسنان بہت بڑی عمر کے نہ ہوں گے نو عمر ہوں گے۔ سفھاء الاحلام عقل کے لحاظ سے کمزور ہوں گے، عمر کم ہوتی ہے تو تجربہ کم ہوتا ہے۔ یقتلون اھل الاسلام و یدعون اھل الاوثانصحیح مسلم ۔ اہل اسلام کو قتل اور مشرکین کو چھوڑیں گے۔ فرمایا: اتنے نیک ہوں گے کہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوگی۔ تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلوں میں کچھ نہیں ہوں گے۔ تمہاری قرأت ان کی قرأت کے مقابلے میں، صحابہ کرام سے فرمارہے ہیں۔ مسلمانوں کی تکفیر کریں گے اور تکفیر کرنے کے بعد مسلمانوں کے خون کو حلال اور ان کے اموال کو حلال سمجھیں گے۔ ابن عمر نے فرمایا: شر الخلق کائنات کے بدترین لوگ ہوں گے۔ فرمایا: وہ آیات جو کفار کے بارے میں نازل ہوئی تھیں یجعلون فی اہل الاسلام ان کو اہل اسلام پر منطبق کرکے تکفیر کریں گے۔ بہت زیادہ عبادت گزار اور بڑے محنتی ہوں گے۔ ابن عباس ان سے مناظرے کیلئے گئے یہ وہ لوگ تھے جو حضرت علی کی تکفیر کرتے تھے اور ان سے وہ لڑے۔ عبد اللہ ابن خباب ایک صحابی تھے وہ کہیں مل گئے ان سے تو بات چیت کی کہ آپ عثمان غنی اور علی المرتضیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں تو ان کو اچھا سمجھتا ہوں اس بات پر ان کو شہید کیا۔ ان کی اُم ولد حاملہ تھی ،اُم ولد تو جانتے ہیں؟ جب باندی سے بچہ ہوجاتا ہے تو وہ اُم ولد ہوجاتی ہے اسکے احکام الگ ہوتے ہیں۔ وہ حاملہ تھی اس کا انہوں نے پیٹ چیر کر شہید کیا۔ اسی علاقے میں کسی عیسائی کا خنزیر چر رہا تھا تو خوارج میں کسی نے اس کو مار دیا تو انہوں نے بڑی توبہ استغفار کی اس پر اور اس سے جاکر معافی مانگی کہ تمہارا خنزیر ہمارے ہاتھوں سے قتل ہوگیا۔ اور یہ فرمایا کہ لوگ ان کو بہت نیک سمجھیں گے اور وہ اپنے عجب میں مبتلا ہونگے کہ بہت نیک ہیں۔ مسلمانوں کی طاقت کو توڑیں گے یہ بھی حدیث آتا ہے۔ اب دیکھیں عراق و شام میں کیا حالت ہوگئی ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں اور عزتیں کس طریقے سے لٹ رہی ہیں؟۔ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہورہا ہے۔ فرمایا: یہ اسلام سے ایسے نکلے ہوئے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکلا ہوتا ہے تو ان سے تو لڑنے کا حکم ہے۔ ایک روایت میں ہے کلاب النار یہ جہنم کے کتے ہونگے جو لوگ ان کو قتل کریں گے بہت مبارک لوگ ہوں گے۔ اور جو انکے ہاتھوں مارے جائیں گے بہت بڑے شہید ہوںگے۔ اتنا بڑا باب صحاح ستہ اور سیرت میںموجود ہے صحابہ کرام سے اور پھر عقائد میں بہت تفصیل سے پورا معاملہ پڑھایا جاتا ہے۔ ہم صرف زبانی جمع خرچ پر لگے رہتے ہیں۔ ان چیزوں کو دھیان سے پڑھنا چاہیے۔ ”العقیدة الطحاویة” سنا ہے نام وہ پڑھ لیں اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔ شرح العقائد میں کیا لکھا ہوا ہے مجھے بہت دکھ ہے اس بات کا کہ مذہب کے نام پر اتنی بڑی خونریزی اور یہاں کوئی بولنے کیلئے تیار نہیں، کیوں نہیں بولتے؟۔ انسانی جان تو بہت بڑی ہے۔ طلباء علماء کرام کو مارنا یہ کیسا دین ہے؟۔ پاکستان پھر بھی کافی کچھ بچا ہے کیونکہ یہاں فوج مستحکم تھی۔ عراق، شام ، لیبیا،الجزائر، یمن، صومالیہ، اور سوڈان میں جاکر تو دیکھیں کچھ نہیں بچا ہے وہاں۔ ایک دفعہ ایک عرب شخص ملتزم پر دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ بہت زیادہ اس نے چیخ و پکار اور آہ و فریاد کی تو میں نے پوچھا کہ کیا مشکل ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہم لیبیا سے ہیں روزانہ پانچ سو لوگ قتل اور ہماری عزتیں لٹتی ہیں کوئی نہیں جو ہماری فریاد سنے۔ نا میڈیا، ناOICاور نااور کوئی ایسے ممالک ہیں جہاں انسانوں کے بارے میں بات ہو۔ ہم کو پوری دنیا نے لاوارث چھوڑ دیا۔ ہم ذلیل، قتل ہورہے ہیں تویہ ایک جگہ بچی ہے کہ ہم یہاں پرآکر اللہ کو پکاریں۔ اللہ ہدایت دے ،پاکستان کو سلامت رکھے ۔ جو شہید ہوئے اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے۔جو زخمی ہیں اللہ ان کو صحت عطا فرمائے۔ شہداء کے گھر والوں کے بچے ، خواتین، ماں باپ اللہ ان کو صبر عطا فرمائے اور اللہ ان کو تباہ و برباد کرے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قاضی حسین احمد بڑامنافق و قوم پرست ہے

قاضی حسین احمد بڑامنافق و قوم پرست ہے

جیونیوز پر ”جرگہ” میں سلیم صافی نے حکیم اللہ محسود کی ویڈیونشر کی، جو سوشل میڈیا پرپھر گردش کر رہی ہے !

حکیم اللہ محسود کی کیا رائے تھی جماعت اسلامی کی قیادت کے بارے میں؟۔ آئیے آپ کو اس کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔سلیم صافی : جرگہ جیونیوز
حکیم اللہ محسود: … وہ قاضی حسین احمد جس پر پاکستانی طبقہ ناز کرتا تھا، پاکستان کے مدرسین ناز کرتے تھے، پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ناز کرتا تھا، وہ قاضی حسین احمد کھلم کھلا ٹی وی پر سلیم صافی کے پروگرام میں اعلان کرتا ہے کہ پاکستان میں جہاد ، جہاد نہیں فساد ہے، پاکستان میں فدائی عملیات فساد ہے۔ افغانستان میں جہاد، جہاد ہے ، حالانکہ کرزئی کا اتحاد بھی امریکیوں کے ساتھ اور پاکستان کا اتحاد بھی امریکیوں کے ساتھ ہے، کرزئی حکومت امریکہ کی دوست اور پاکستانی حکومت بھی امریکہ کی دوست ہے۔ جیکب آباد کے اڈے پر امریکی ، بلگرام میں امریکی، بلوچستان میں امریکی، اے قاضی حسین احمد ہمیں فرق واضح کردو کہ افغانستان کے جہاد کو کیوں جہاد کہہ رہے ہو اور پاکستان کے جہاد کو کیوں فساد قرار دیتے ہو۔ میں نے تمہیں پہچان لیا کہ تم وطن پرست ہو، وطن کی حفاظت چاہتے ہو،اسلام کی حفاظت نہیں چاہتے، مسجد و مدرسے کی حفاظت نہیں چاہتے، اپنااقتدار قربان نہیں کرسکتے، اسلام سے محبت نہیں ، سیکولر نظرئیے کے مالک ہو۔ میں کبھی بھی آپ کے قول پر اعتماد نہ کروں گا، تمہارے انٹرویو پر اعتماد نہ کروں گا، تمہاری ترجمانی پر اعتماد نہ کروں گا۔ پاکستان کا قانون کفری ہے، اس پر فیصلے کرنا کفر ہے۔ اسکے کفر ہونے کی دلیل اللہ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے سورة المائدہ44،45،47،ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلٰئک ھم الکافرون ان کفری قانون کے مطابق جس نے فیصلہ کیا وہ کافر ہے،فاؤلٰئک ھم الفاسقون وہ فاسق ہے، فاؤلٰئک ھم الظالمونوہ ظالم ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو شہید کردیا، یہ وہ نظام ہے جس نے شریعت کا نعرہ لگانے والے طلباء کو دریا میں پھینک دیا، یہ وہ قانون ہے جس نے سوات میں شریعت کا نعرہ لگانے والے طلباء کو درختوں سے لٹکادیا، یہ وہ قانون ہے جس نے سوات کے شریعت پسند طلباء کو دربدر کردیا، ان کی عورتیں کیمپوں میں پڑی ہیں، سوات کی عورتیں جیلوں میں ہیں، مہاجر ہوگئی ہیں، ان میری بہنوں کی بے عزتی ہوئی۔ واللہ، باللہ ، تاللہ، پاکستان کی حکومت کو معاف نہیں کروں گا۔ اس نظام کو معاف نہیں کروں گا ۔ ان سب دشمنوں کے سامنے میرا نعرہ ہے کہ دنیا میں غیرت مند لوگوں کے دو ہی کام ہوتے ہیں، یا شہید ہوجاتے ہیں یا پھر فتح و کامیابی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔

افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے عمران خان کی طرح تمام سول و ملٹری بیوروکریٹس اور سیاسی و غیر سیاسی رہنماؤں کو توشہ خانہ میں دھر لیا جائے ،جرمانہ وصول کیا جائے

ہم اپنوں اور پوری دنیا کو یہ بتادیں کہ اسلام نے انسانیت کو دورِ جاہلیت سے نکال کر کیا کیا تحائف دیے ہیں اور اپنی جہالت سے پھر کس طرح قرآن کی معنوی تحریف کا شکار ہوئے؟

جب امریکہ میں9/11کا واقعہ ہوا تو افغانستان کا کیا حال کردیا گیا؟۔ قندھار امریکی ائیر بیس سے گوانتا نامو بے تک کی داستانیں افغانستان کے سفیر مُلا عبد السلام ضعیف اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے علاوہ ان گنت داستانیں ہیں جو یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ پھرعراق اور لیبیا کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ پاکستان میں خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات سمیت تسلسل کے ساتھ چھوٹے بڑے واقعات ہوئے، سانحہ باجوڑ بھی اس تسلسل کا ایک حصہ ہے، اس کے بعد بھی خودکش دھماکوں کو کنٹرول کرنا افغانستان اور پاکستان کے بس کی بات نہیں۔
جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو پاکستان میں علماء قرآنی آیت پڑھتے تھے کہ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الملآ ئکةِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ(الانفال:12)
ترجمہ: ”جب آپ کے رب نے فرشتوں کو وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ عنقریب میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنیں مارو اورہر جوڑ پر ضرب لگاؤ”۔
جب تلواروں کی جنگ ہو تو کارگر ضرب گردن پر ہوتی ہے لیکن کبھی گردن کا موقع نہیں ملتا تو کسی جگہ پر بھی ضرب لگا کر دشمن پر تسلط حاصل کیا جاتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ علماء اور خطیبوں نے منبروں پر یہ کرنا شروع کردیا کہ ”کافروں کی گردنیں مارو اور ان کو ہر ہر جوڑ پر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کردو”۔ جنوبی وزیرستان علاقہ محسود میں پہلا گروپ عبد اللہ محسود کا تھا جو گوانتا ناموبے سے رہا ہوگیا تھا۔ دوسرا بیت اللہ محسود کا تھا جس کا گھر بار بنوں میں تھا اور وزیرستان کی سرزمین پر اس کی کوئی جائیداد نہیں تھی۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وزیرعلاقہ میں پہلے سے طالبان کے گروپ موجود تھے جن میں جنوبی وزیرستان کے نیک محمد اور شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ زیادہ مشہور تھے۔ شمالی وزیرستان میں مشہور بدمعاشوں کو طالبان نے کھمبوں پر لٹکایا تو عوام بڑی خوش ہوئی۔ طالبان کو عوام میں ہر جگہ زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ جتنے بدمعاش غنڈے تھے وہ بھی طالبان بن گئے۔ کمزور اور غریب طبقہ بھی طالبان بن گیا۔ سب سے زیادہ طالبان کا گڑھ وزیرستان کا محسود علاقہ بن گیا۔ وزیر علاقے سے جو ازبک وغیرہ بے دخل کئے گئے تھے وہ بھی محسود علاقے میں کیمپ لگاکر آباد ہوئے تھے۔
ایک مرتبہ ازبک اور مقامی طالبان کے کیمپ قریب قریب تھے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مقامی طالبان پر بمباری کی گئی جس میں ہمارے اسکول کبیر پبلک اکیڈمی کا ایک برکی طالب علم شہید اور ایک اُستادزخمی ہوئے۔ جان محمد اورکزئی گورنر نے محسود قبائل کو پشاور گورنر ہاؤس طلب کیا اور ان کو پوری تفصیل بتائی کہ کس طرح ازبک محسود ایریا میں گئے اور کس کس نے کہاں کہاں ان کو ٹھہرایا تھا؟ جس پر جمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولانا عصام الدین محسود نے کہا کہ صاحب! میں معافی چاہتا ہوں جتنی تفصیل آپ کو معلوم ہے اتنی ہمیں پتہ نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آپ نے ازبک کے کیمپ کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟۔ جس پر جنرل اورکزئی نے کہا کہ اگر ہم نہ کرتے تو امریکہ یہ کرتا۔ یہ تسلی بخش جواب نہ تھا لیکن طاقتور کے سامنے کون بول سکتا تھا؟۔
باجوڑ واقعہ کے بعد سابق سینیٹر مولانا محمد صالح شاہ قریشی سے شیر عالم برکی نے تفصیل سے انٹرویو لیا ہے جس کی کچھ معلومات عوام اور بااثر طبقات تک پہنچ جائیں تو مفید ہوگا۔ انگریز دور میں کچھ قبائلی سرکاری ملکان کو مراعات ملتی تھیں۔ ماہانہ2روپے ،5روپے ،50روپے،120روپے وغیرہ جن جن افراد کو ملتے تھے تو انگریز دور میں ان کیلئے یہ بہت بڑا اثاثہ ہوتا ہوگا۔ جب انگریز ہندوستان چھوڑ کر گیا تو بھی کافی عرصہ تک برطانیہ سے انگریز سرکار کے دُرِ یتیموں کو وظیفہ ملتا تھا۔ پھر آزادی کے بعد پاکستان نے بھی ان ملکان میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ قبائلی علاقوں پر سرکار کا جتنا خرچہ ہوتا تھا اس میں ملکان کے پیسے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھے لیکن انگریز کے نمک خوار کے نام سے بدنام ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو سینیٹر صالح شاہ کیلئے6ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کرکے پورے قبائل کا گرینڈ چیف بنادیا۔ امریکہ سے عبوری وزیر اعظم معین قریشی آئے تھے تو قبائل میں بھی قومی اسمبلی کے ممبر وں کیلئے سرکاری ملکان کی جگہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کردیا تھا۔ پہلے جنوبی وزیرستان میں1300ملکان کے ووٹوں سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوتا تھا۔ جس میں ملکان کی اکثریت ووٹ بیچتے تھے۔جس طرح آج ٹانک میں بعض لوگوں نے قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے بھی فیس رکھی ہے اسی طرح ملکان بھی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے کبھی دستخط کرتے تھے اور بعض اس پر مفاد بھی اٹھاتے ہوں گے۔ جب طالبان نے چندوں اور مالی مفادات کا مزہ چکھ لیا تو وہ بھی دیوانے ہوگئے۔ کئی کتابوں کے مصنف اسماعیل ساگر جس نے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ویلاگ بھی کئے ۔ اس نے بتایا کہ پنڈی کے قریب بلیک واٹر نے بڑے پیمانے پر فوج اور پولیس سے نکالے گئے بدمعاش بھرتی کئے تھے اور اربوں روپے قبائل میں خرچ کئے۔
جب9/11کا واقعہ ہوا تو ہم نے ماہنامہ ضرب حق کا خصوصی شمارہ نکالا تھا اور اس میں بنوں کے ایک جوان حبیب اللہ کے خواب کی بڑی سرخی لگائی تھی۔ جس میں نبی کریم ۖ نے فرمایا تھا کہ” اللہ امریکہ کو تباہ کردے”۔ پہلے اس کو وہاں کے مذہبی طبقے نے تنگ کیا کہ تم شہرت چاہتے ہو پھر بڑے بالوں والے اٹھاکر لے گئے اور کہا کہ اگرپھر زبان کھولی تو پھر نظر نہیں آؤ گے۔ ہمیں یہ معمہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک خواب میں کونسا ایسا جرم ہے کہ اس بیچارے کو دھمکیاں دی گئیں۔ جب اسماعیل ساگر نے کہا کہ میں پہلے ڈر کے مارے بتا نہیں سکتا تھا اسلئے کہ حالات بہت مشکل تھے تو ہم سمجھے کہ یہ کرایہ دار افراد کی کاروائی ہوسکتی ہے لیکن پھر جب مُلا ضعیف کی روداد یوٹیوب پر دیکھی تو سمجھا کہ یہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے ہمیں امریکیوں کی دسترس سے بچایا ہو۔
سینیٹر صالح شاہ کا یہ انٹرویو مکمل اردو ترجمے کے ساتھ تمام میڈیا چینلوں پر نشر ہونا چاہیے اسلئے کہ ایک تو انہوں نے اپیل کی ہے کہ عوام تک یہ باتیں پہنچائی جائیں۔ دوسرا یہ کہ جنرل فیض حمید نے جن قبائلی رہنماؤں کو افغانستان بھیج کر تحریک طالبان سے صلح کی کوشش کی تھی اس میں اس کا مکمل احوال ہے۔ ایک تو جنرل فیض حمید نے سرکاری ملکان کے معطل شدہ وظائف کو دوبارہ جاری کردیا تھا جو انضمام کے بعد ختم کئے گئے تھے۔ دوسرا یہ کہ پہلے یہ مذاکرات طالبان حکومت سے پاکستان کی حکومت کی طرف سے ہوئے تھے اور پھر جب بقول مولانا صالح شاہ کے جب ہم نے پاکستانی طالبان سے براہ راست رابطہ کیا تو افغان طالبان ناراض ہوگئے کہ تم نے براہ راست بات کیوں کی؟۔ جس سے یہ اعتراض بالکل لغو بن جاتا ہے کہ پاکستان کو افغان حکومت سے ہی براہ راست بات کرنی چاہیے تھی۔ ایک طرف پاکستانی یہ چاہتے تھے تو دوسری طرف افغان طالبان کی بھی یہی خواہش تھی۔ تیسرا یہ کہ تحریک طالبان پاکستان سے یہ طے ہوگیا تھا کہ اگر قبائل کی اکثریت دوبارہ انضمام چاہتی ہو تو ان کا مطالبہ مان لیا جائے گا اور اگر وہ انضمام نہ چاہتے ہوں تو وہ اکثریت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ لیکن اس دوران جنرل فیض حمید کو تبدیل کردیا گیا اور بات ادھوری رہ گئی۔
مولانا صالح شاہ قریشی نے یہ بھی بتایا کہ جو قبائل پہلے انضمام کے حق میں تھے وہ بھی اب مخالف ہوگئے ہیں۔ قبائلی عوام بھی امن چاہتے ہیں اور فوجی بھی امن چاہتے ہیں لیکن وہاں امن ہے نہیں۔ کتے اتنے بڑھ گئے ہیں جو جانوروں کو کھاجاتے ہیں۔ ایک ایک آدمی کے کئی کئی جانور کھاکر کتوں نے عوام سے ان کا روزگار چھین لیا ہے لیکن سرکار نہ کتوں کو خود مارتی ہے اور نہ عوام کو مارنے کی اجازت دیتی ہے۔ خنزیر بہت زیادہ ہوگئے ہیں جو فصلوں کو تباہ کرتے ہیں جہاں گھاس میں خنزیر لوٹیاں لگاتے ہیں تو اس کو بدبو کی وجہ سے جانور نہیں کھاتے۔ عام آدمی کو پستول رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے لیکن جب دو قومیں آپس میں لڑتی ہیں تو بھاری اسلحوں سے ایک دوسرے کو تباہ کرتے ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان پر حکومت کی طرف سے پابندی کیوں نہیں لگتی؟۔ وزیر ، سلمان خیل اور دوتانی قبائل میں وانہ کے قریب بڑی لڑائی ہوئی، اس طرح شکئی اور شکتوئی میں لڑائیاں ہوئی ہیں۔ جب فوجی اور طالبان ایک دوسرے پر فائر کھولتے ہیں تو بھی عوام متاثر ہوتے ہیں۔ اتنے آپریشنوں کے باوجود آج تک امن نہیں آسکا اور ہمیں 7سالوں تک مہاجر بنادیا گیا تھا۔ ہم بنوں ، پنجاب، ژوب، سندھ اور مختلف علاقوں میں پناہ گزینی کی زندگی بھی گزار چکے ہیں اور بدامنی کی وجہ سے اکثریت ہمارے علاقے کی طرف اپنی آبادی آج بھی رُخ نہیں کرتی ہے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ بدامنی سندھ ، کراچی، بلوچستان، بنوں اور پنجاب ہر کہیں پر ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں کون لوگ محفوظ ہیں؟۔ لیکن لوگ رہتے ہیں۔ کل بھی لکی مروت میں ایک بندے کو قتل کردیا گیا تو کیا لوگ اپنا وطن چھوڑ دیں؟۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ اپنا علاقہ آباد کریں گے تو امن آئے گا۔
لطیفے کی بات یہ ہے کہ مولانا صالح شاہ نے کہا کہ جن لوگوں کو انگریز نے وظائف دئیے تھے وہ کہتے ہیں کہ تم کونسا انگریز کا سر قلم کرکے لائے ہو جو اتنی بڑی ملکی مل گئی؟۔دوسرے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ کونسے انگریز کے سر قلم کرکے لائے تھے جن کو یہ اعزاز دیا گیا؟ ۔ حالانکہ یہ اعزازات سرکار کی وفاداری میں دئیے گئے ہیں۔ انگریز کے سر لانے والوں کو کیوں اعزاز ملتا؟۔
تحریک طالبان پاکستان نے امریکہ کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں ان کے افغان طالبان معترف ہوں گے۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے جو دشمنیاں اپنوں سے مول لی ہیں وہ بھی خطرناک ہیں۔ بیت اللہ محسود اور عبد اللہ محسود گروپوں نے بھی ایک دوسرے کیخلاف کاروائیاں کی ہیں۔ ہم نے بھی تجویز پیش کی تھی کہ ان سے مذاکرات کرکے پاکستان میں آباد کیا جائے۔ ان میں بہت سے وہ لوگ ہیںجنہوں نے ایمانی جذبے کی بنیاد پر امریکہ کے خلاف جہاد کیا اور اب اس ماحول میں بہت پکے ہوگئے ہیں۔ مفتی عبد الرحیم اور جنرل سید عاصم منیر نے ان کو خوارج قرار دیا ہے لیکن ان کو خوارج بنانے والے کون ہیں؟۔ ایک دن میں یہ لوگ من و سلویٰ کی طرح آسمان سے زمین پر نہیں اترے ہیں بلکہ20سال میں نوزائدہ بچے بھی جوان ہوجاتے ہیں۔ افغانستان میں داعش ، تحریک طالبان پاکستان ، حقانی نیٹ ورک ، ملا یعقوب اور دوسرے افراد کے درمیان اس سے زیادہ بد اعتمادی کی اطلاع ہے جو پاکستان کی فوج اور سیاستدانوں کے درمیان موجود ہے۔ اس طرح شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث کے درمیان پاکستان میں بھی منافرت کی ایک فضاء ہے۔ اگر ہم سب نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو یہ خطہ پھر آگ اُگل سکتا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے کرے گا اور افغان طالبان ٹھکانے چھوڑ کر بھاگ رہے ہوں گے۔
پاکستان میں جب بد امنی کی فضاء تھی تو سرکاری گاڑیوں پر نمبر پلیٹ تک نہیں لگائے جاتے تھے۔ پہلے سے زیادہ سیاسی عدم استحکام اب پیدا ہوا ہے اور اس کی بنیادی وجہ پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی پارٹیوں عمران خان اور ن لیگ کے درمیان دشمنی کی فضاء ہے۔ مریم نواز کافی عرصے سے خاموش تھی اور اب سوشل میڈیا پرعمران خان کو سزا دینے والے جج ہمایوں دلاور کی ایک ویڈیو کسی نامعلوم عورت کے ساتھ وائرل ہوئی ہے، اس سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ کی ویڈیو بھی بہت ہلکے انداز میں وائرل ہوئی تھی جس میں خاتون کا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن جنرل باجوہ کی تصویر واضح تھی۔ اس سے پہلے بھی ایک جج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ گہری سازشیں چل رہی ہیں۔
قرآن میں سورہ یوسف کو احسن القصص قرار دیا گیا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی عام بدچلن نہیں تھی اور حضرت یوسف علیہ السلام بھی ایک تو پیغمبر تھے اور دوسرا انہوں نے فرمایا :”میں اپنے نفس کو بری نہیں سمجھتا بیشک نفس سرکشی کی طرف لے جاتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے”۔ (تیرہواں پارہ) ۔
تحریک انصاف اور ن لیگ کے زرخرید افراد ایک دوسرے کو ویڈیو لیک کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ویڈیوز بھی لیک ہوجاتی تھیں۔ جس سے پورا ملک بداعتمادی کی فضاؤں میں لٹک گیا۔ اب بھی پتہ نہیں کیا کیا ہے اور کس کس کی کیا کیا ویڈیو آئے گی؟۔ بلیک میلنگ کے ذریعے سے ملک میں استحکام نہیں آسکتا بلکہ فحاشی و عریانی اور بد اعتمادی کی فضائیں ملک و قوم میں بنتی ہیں۔
ہم نے اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں بہت مضبوط دلائل دئیے ہیں کہ اللہ نے قرآن کے ذریعے انسانیت کو کیا کیادیا تھا اور ہم نے کیا کیا کھویا ہے؟۔
1:سورہ محمدۖ میں ہے کہ جنگی قیدیوں کو احسان کرکے بھی آزاد کرسکتے ہیں اور فدیہ لے کر بھی آزاد کرسکتے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن نے جنگ میں قید ہونے والے کسی بھی فرد کو غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت نہیں دی ہے اور اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی بھی اجازت نہیں دی ہے اور لمبے عرصے تک قید کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔ جب نبی ۖ نے فرمایا کہ عورتوں پر ہاتھ بھی مت اٹھاؤ تو ان کو لونڈیاں بنانے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟۔
جب عیسائیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے فتح کیا تو مسلمانوں کو بے دریغ شہید کیا گیا، ان کی عزتیں لوٹی گئیں اور مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا تو عیسائیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک نہیں کیا۔ کسی کو قتل نہیں کیا اور نہ کسی عورت کی عزت لوٹی گئی۔ صرف فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور جن کے پاس فدیہ دینے کیلئے کچھ نہیں تھا تو ان کو بغیر فدیہ احسان کیساتھ چھوڑ دیا اور قرآن پر من و عن عمل کیا۔ آج مغرب کے عیسائی صلاح الدین ایوبی کو بہت اچھے حکمران کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ” اے بنی اسرائیل ! یاد کرو جب آل فرعون تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کی عزتیں لوٹتے تھے”۔(القرآن)۔ جب آل فرعون بھی نبی اسرائیل کو لونڈیاں بناتے تھے تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کوآل فرعون کی جگہ لوگوں پر لونڈیاں بنانے کیلئے مسلط کیا ہو؟۔
جب روس نے کمیونزم اور سوشلزم کے ذریعے سے انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کا پروگرام دیا تو اللہ نے روس کو سپر طاقت بنادیا۔ اسی طرح جب امریکہ نے اپنے ملک میں غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی تو اللہ تعالیٰ نے امریکہ کو بھی سپر طاقت بنادیا۔ اگر مسلمان بھی یہ طے کرلیں کہ دنیا کو غلامی سے آزادی دلانی ہے تو پھر ان کو بھی دنیا کی خلافت مل سکتی ہے۔
2: قرآن میں بیوی کا حق مہر شوہر کی استطاعت کے مطابق ہے لیکن قرآنی الفاظ پر علماء و فقہاء نے توجہ نہیں دی ہے۔ اگر شوہر ارب پتی ہے یا کروڑ پتی ہے یا لکھ پتی ہے یا پھر ہزار اور بالکل بھی حق مہر کی صلاحیت سے محروم ہے تو عورت بھی اس پر راضی ہوجائے تو حرج نہیں ہے۔ عورت کی شوہر کی طرف نسبت میں بھی اتنی اہمیت ہے کہ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے بھی طلاق دی جائے تو مقرر کردہ حق مہر کا نصف اور اگر مقرر نہ ہو تو امیر پر اپنی وسعت کے مطابق اور غریب پر اپنی وسعت کے مطابق دینا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر عورت نصف سے کم پر بھی راضی ہو تو ٹھیک ہے اور مرد نصف سے زیادہ بھی دے تو ٹھیک ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے وہ نصف سے زیادہ دے اور ایکدوسرے پر فضل نہ بھولو۔
قرآن میں چونکہ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کا مسئلہ ہے اور طلاق شوہر ہی کی طرف سے ہوتی ہے اسلئے یہ واضح کردیا کہ جب شوہر چھوڑنا چاہتا ہے جس کے ہاتھ میں طلاق کا گرہ ہے تو اس کو اپنے حق سے زیادہ دینا مناسب ہے۔
نادان فقہاء نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ طلاق مرد کا حق ہے اور عورت کا حق خلع اس وقت ہے جب مردخلع دینے پر راضی ہو۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے غیر فطری فقہی مسائل نے جنم لیا ہے کہ جب مرد تین طلاق دے پھر اس سے مکر جائے اور عورت کے پاس دو گواہ نہ ہوں اور خلع بھی عورت کو نہ ملے تو عورت اپنے شوہر کے ساتھ حرامکاری پر مجبور ہوگی۔
حالانکہ اسلام ایسی جہالت کے تصور کا بھی قائل نہیں ہے۔ سورہ نساء آیت 19میں پہلے اللہ نے نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ جو چیزیں بھی شوہر نے دی ہیں اور وہ لے جانے والی ہیں جیسے کپڑے ، چپل، زیور، نقدی، گاڑی اور تمام منقولہ دی ہوئی اشیاء بھی ساتھ لے جاسکتی ہے۔ ان میں بعض چیزیں بھی شوہر واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔ مگر عورت کھلی فحاشی کرے تو ۔ اور عورت چھوڑ کر جارہی ہو تو بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ اگر وہ بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز بری لگے اور اللہ اس میں بہت سارا خیر پیدا کرے۔ آیت19النساء کو عوام و خواص اچھی طرح سے تدبر سے دیکھیں۔
پھر آیت20اور21النساء میں شوہر کے طلاق کا ذکر ہے۔ جس میں جتنی بھی چیزیں دی ہیں منقولہ و غیر منقولہ اشیاء مکان ، دوکان، پلاٹ، زمین، باغ، فیکٹری اورمل سب کی سب طلاق شدہ بیوی کی ملکیت ہوں گی بھلے خزانے دئیے ہوں۔ خلع اور طلاق میں حقوق کا فرق ہے۔ اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرتی ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں تو اس پر خود بخود خلع کا اطلاق ہوگا۔ اور اس کو خلع کے حقوق ملیں گے۔ اگر اس کے پاس گواہ ہوں گے تو طلاق کے حقوق ملیں گے۔
جب خلع و طلاق کے حقوق کا مسئلہ سمجھ میں آجائے تو پھر طلاق کی حساسیت بھی سمجھ میں آئے گی۔ طلاق کیلئے اشارہ کنایہ اور صریح الفاظ کے تمام ابحاث اس وقت کارآمد ہونگے جب خلع و طلاق کے حقوق کا پتہ چلے گا۔ قرآنی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بار بار صلح و اصلاح،باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر طلاق کے بعد رجوع کی اجازت دی ہے۔ جب میاں بیوی رجوع کیلئے راضی ہوں اور مولوی فتویٰ دے کہ جب تک حلالہ نہیں ہوگا رجوع نہیں ہوسکتا تو یہ اتنی بڑی خباثت ہے کہ امریکہ نے جتنے مظالم مسلمانوں پر کئے ہیں اس سے زیادہ حلالہ کی لعنت اور بے غیرتی اس پر بھاری ہے۔ ہم نے اس پر اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں ہر طرح کے دلائل دئیے ہیں لیکن مولوی غیرت نہیں کھاتا ہے۔
مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ”قرآن میں معنوی تحریف بہت ہوئی ہے ”۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری)قرآن میں معنوی تحریف کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ خلع کیلئے سورہ نساء کی آیت19کے بجائے سورہ بقرہ کی آیت229سے خلع مراد لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس میں2مرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔ اللہ نے آیت229البقرہ میں پہلے3مرتبہ طلاق کا ذکر کیا ہے نبی ۖ نے فرمایا کہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں تسریح باحسان تیسری طلاق ہے۔ جس کو دیوبندی مکتبہ فکر کے وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے اُستاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کتاب ”کشف الباری شرح بخاری” اور بریلوی مکتبہ فکر کے تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے اُستاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی کتاب ”نعم الباری شرح بخاری” میں نقل کیا ہے۔
آیت229میں3طلاق کے بعد عورت کے حق کا ذکر ہے کہ دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے ہیں مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ اگر وہ دی ہوئی چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں میں رابطے کا ذریعہ بنے گی اور اس کی وجہ سے دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ ناجائز جنسی تعلقات میں مبتلا ہوجائیں گے تو پھر اس کو فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیں۔ یہ وہ صورت ہے کہ جب دونوں نے اور فیصلہ کرنے والوں نے یہ طے کیا ہے کہ اب صلح نہیں ہوگی تو پھر دنیا میں مرد کی غیرت بھی کارفرما ہوتی ہے اور طلاق کے بعد بھی دوسرے شوہر سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر طلاق ہوجائے تو اس سے نکاح کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ آیت230البقرہ۔
جب اس سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے اور اس کے بعد کی آیات میں بھی معروف اور صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے تو حلالے کاجاہلانہ تصور بالکل باطل ہوجاتا ہے۔ لیکن جب جہالت اور خواہشات کا خبط سوار ہوجائے تو لوگ عزت کو لوٹنے اور لٹانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور ایسا اسلام کس کو قبول ہوگا؟۔
3: جس طرح نکاح میں حق مہر ایک اعزازی چیز ہے جو اگر بیوی شوہر کو بھی دے تو وہ خوشی خوشی اس میں سے کھاسکتا ہے۔ اگر نکاح و طلاق کا اسلامی قانون دنیا کے سامنے آجائے تو پوری دنیا کی خواتین اسلامی نظام کا مطالبہ کریں گی۔ آج عرب بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر اس کا مال کھاتے ہیں اور پختون جنہوں نے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنا ہے وہ بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر مال کھاتے ہیں تو پھر دہشت گردی سے اسلام نہیں آسکتا۔ ہماری حکومت ، قبائلی عمائدین ، علماء اور تعلیم یافتہ طبقے سے اپیل ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق دلانے کیلئے صف اول کا کردار ادا کریں اور اس میں وہ دوسروں کے محتاج نہیں آگاہی کا اعلان کریں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ڈی جیISPRکی9مئی پر تفصیل سے بریفنگ اوربار بار ایک طرح کے سوال کا جواب

ڈی جیISPRکی9مئی پر تفصیل سے بریفنگ اوربار بار ایک طرح کے سوال کا جواب

پاک فوج کے ترجمانDGISPRکا عہدہ بہت اہم ہے۔جنر ل آصف غفور جب اس عہدے پر تھا تو اس نے الزام لگایا تھا کہ منظور پشتین اورPTMکو انڈیا اور افغانستان کے جاسوسی ادارے کی طرف سے بھاری رقم مل گئی ہیں۔ منظور پشتین نے بار بار چیلنج کیا کہ ثبوت پیش کئے جائیں۔
فوج کو دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار بنایاگیا تھا تو بندوق اوربارود کے مقابلے میں آواز اٹھانے کی حدتک بات زیادہ قابل برداشت تھی طالبان کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی اسلئے نرمی تھی کہ پوری قوم طالبان کے ساتھ تھی اور امریکہ کا ساتھ مجبوری میں دیا گیا تھا۔ پھرPDMنے بھی فوج پر اپنے ہاتھ صاف کردئیے اور آخر کار تحریک انصاف نے بھی بڑھ چڑھ کر حملے کرنا شروع کئے۔75سالہ تاریخ میں پاک فوج بھی کوئی معصوم نہیں تھی ، جنرل ایوب خان سے پہلے جتنے گورنر جنرل اور وزیراعظم آئے قائداعظم اور قائد ملت سے سکندر مرزا تک کوئی ایک بھی پاکستان کے کسی ایک حلقے سے بھی منتخب نمائندہ نہیں تھا۔ جنرل ایوب خان نے عوامی اقتدار پر شب خون نہیں مارا تھا بلکہ سول بیوروکریسی میں اسسٹنٹ کمشنر سے ترقی کرکے گورنر جنرل کا عہدہ ختم کرکے صدر بن جانے والے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا تھا۔ جمہوریت کی تاریخ جنرل ایوب خان کے دور سے شروع ہوتی ہے ،جب فاطمہ جناح کو مولانا مودودی نے سپورٹ کیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی گود میں بیٹھا تھا۔ ن لیگ کے وفاقی وزیر کے والد نے فاطمہ جناح لکھ کر کتیا کے گلے میں پٹی ڈالی تھی اور فاطمہ جناح کے خلاف جلوس نکالا تھا۔اب یہ جمہوریت کے علمبردار بن گئے۔
بلاول بھٹو پیدا نہیں ہوا تھا لیکن اس کو تاریخ کی درست رہنمائی کوئی کیوں نہیں کرتا ہے کہ1988کے الیکشن میں اس کی ماما بینظیر بھٹو الیکشن لڑرہی تھی تو مولانا فضل الرحمن کیساتھMRDکی سطح پر الیکشن کا انتخابی اتحاد اس حد تک تھا کہ مرکزی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی کو پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے اتحاد سے کامیاب ہوا تھا اور بینظیر بھٹو کے مقابلے میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔ جمعیت علماء اسلام نے اس کو ٹکٹ نہیں دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن اور جماعت کے اکابرین ڈاکٹر خالد محمود سومرو سے سخت ناراض ہوگئے تھے۔
جب پیپلزپارٹی نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنالی تو صدارت کیلئے نوابزادہ نصر اللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو اپنے ووٹ دیدئیے۔ جمہوریت کی جگہ جنرل ضیاء الحق کے بیوروکریٹ ساتھی کو پیپلزپارٹی نے جتوایا تھا اور مولا بخش چانڈیو جیسے لوگوں سے بلاول بھٹو کچھ سیکھے تو اس پر سیاسی نابالغ ہونے کا دورہ نہیں پڑے گا۔ اس وقت جماعت اسلامی اور ن لیگ والے جب مولانا فضل الرحمن کو تنقید کا نشانہ بنارہے تھے تو جواب میں مادر ملت فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کا حوالہ جماعت اسلامی کا اعتراض اٹھانے کیلئے دیتے تھے۔
اگر مسلم لیگ ن کے ساتھ جمعیت علماء اسلام یا جماعت اسلامی کی ڈیل ہوگئی تو پھر مریم نواز کو وزیراعظم بنانے میں اپنے تاریخی کردار کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو کیلئے تیسری جنس کے شبے کا مسئلہ بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ انتخابی دنگل میں ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلے بلوچ بینظیر بھٹو سے بہت محبت رکھتے تھے لیکن اب بلاول کو باجی بلاول کہنے والے بھی بہت ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی کی زبان کو کون لگام دے سکتا ہے۔ سیاسی قائدین اخلاقیات کو تباہ وبرباد کرنے میں اپنا پورا پورا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر شکوے کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کی سیاسی خوف کی وجہ سے13پارٹیوں کی حکومت الیکشن سے خوفزدہ ہے۔ الیکشن سے حکومت بھاگ رہی ہے لیکن الزام اسٹیبلیشمنٹ پر بھی لگ رہاہے۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیا تو متعدد بار سوال کو دہرایا گیا۔ بڑی مشکل سے اس سوال کا جواب دیا کہ ہم نے وزارت دفاع میں اپنا مؤقف پیش کیا لیکن اگر حکومت ہمیں بلالیتی تو الیکشن کیلئے آتے اسلئے کہ الیکشن کے اصل اسٹیک ہولڈر الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتیں اور حکومت ہیں اور ہم صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ باقی ان کے پابند ہیں۔ سوال یہ بھی تھا کہ چیف جسٹس پر الیکشن کے حوالہ سے دباؤ کی خبروں میں کتنی صداقت تھی؟۔
سپریم کورٹ کے سامنے مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز نے چیف جسٹس پر حکومت میں ہوتے ہوئے دفعہ144کے سائے میں جو پریشر ڈالا تھا وہ بھی اپنی نوعیت کا انوکھا احتجاج تھا۔ جسکے سامنے سپریم کورٹ کی عزت نہیں وہ فوج کی کیا عزت کریگا؟۔ عمران خان اور طاہرالقادری کو پارلیمنٹ پر حملہ اورPTVپر قبضہ کرنے کی پاداش میں سزا ئیں دی جاتیں تو9مئی کے واقعات نہ ہوتے۔
DGISPRنے واضح کیا کہ فوجی عدالتیں بہت پہلے سے قائم ہیں اور اپنا کام مختلف ادوار میں تسلسل کیساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ جھوٹ کے ذریعے حقائق کو نہیں بدلا جاسکتا ہے۔ جنگ اور جیو نیوز نے خود کو بڑا بدنام کردیا ہے، اب ان کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں ہے ، انکے سچ کو بھی جھوٹ سمجھ رہے ہیں۔ ہارون الرشید سمیت صحافیوں کا جوطبقہ پاک فوج کی حمایت کرتا تھا وہ اب دوسرے بلاک کا حصہ بن چکا ہے۔ عمران ریاض خان کے بارے میں افغانستان تک پہنچنے کی خبریں تشویشناک تھیں۔ اب تک لاپتہ ہے اور بہت سارے وہ لوگ بھی لاپتہ ہیں جو فوج کے خلاف بولتے ہیں۔ ایک طرف بلوچ خواتین کی طرف سے بھی خود کش حملوں کی خبریں آرہی ہیں اور دوسری طرف طالبان بھی اپنی کاروائیاں کررہے ہیں۔بھارت کی طرف سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے بھی خوف کی فضا پیدا کررکھی ہے تو فوج کی کسی معقول بات کو بھی ایسے ماحول میں لوگ غیرمعقول قرار دیتے رہتے ہیں۔
فوجی کوئی صحافی یا خطیب نہیں ہوتے ہیں کہ اپنی صفائی پیش کرنے کا درست گر سمجھتے ہوں۔ جب تسلسل کیساتھ مخالفانہ ماحول پیدا کرنے سے تنگ آجاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جب وہ اپنا ایکشن دکھاتے ہیں تو انکو زیبرا کہنے والے گدھے کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ ”گدھے کی محبت لات مارنا ہوتی ہے”۔ فوج کی ٹریننگ کا حصہ ہے کہ جب وہ کاروائی کرتے ہیں تو اپنی فوج کے خلاف بھی وہی کرتے ہیں جو عوام پر کرتے ہیں۔ اب سب سے پہلے اپنے فوجیوں کا احتساب کیا ہے جن میں بڑے رینک کے افسران بھی شامل ہیں اور ان کا قصور غفلت کا برتنا یا درست طریقے سے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی ہے۔ اس پر بھی صحافیوں نے بار بار سوالات کئے کہ جب تمہارا پروگرام یہ تھا کہ تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے تو پھر فوجیوں کو سزا کیوں دی ہے؟۔
DGISPRکی بات میں تضاد نہیں تھا بلکہ سانحہ9مئی کے واقعات کے کئی پہلو تھے۔ ایک طرف مسلسل فوج کے خلاف الزامات اور نفرت کی فضا تھی۔ دوسری طرف عوام مشتعل ہوگئی تو خلاف توقع جناح ہاوس اورGHQمیں بھی لوگ داخل ہوگئے۔ پھر خواتین کو آگے کیا ہوا تھا۔ اگر بڑے پیمانے پر رد عمل دیا جاتا تو انتشار کی فضا مزید پھیل سکتی تھی۔ یہ بات بالکل درست تھی۔ یہ بھی درست ہے کہ جن لوگوں نے زیادہ ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا یا غفلت برتی تو ان کے خلاف ایکشن بنتا ہے۔ یہ بھی درست تھا کہ یہ واقعہ مسلسل فوج کے خلاف بولنے کی وجہ سے ہوا ہے لیکن صحافی ان سوالوں میںDGISPRکو الجھاتے تھے۔
ایک فوج کو یہ مہارت ہوتی ہے کہ کمانڈوایکشن کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرے لیکن صحافیوں کی طرف سے الجھا ؤ پیدا کرنے سے اس میں صرف اشتعال آسکتا ہے۔ جس کا تھوڑا بہت احساس سامعین کو ہورہا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سانحہ9مئی کے مجرموں کو چھوڑ دیا گیا تو کل دوسری سیاسی جاعتوں کی طرف سے بھی یہ روز روز کا تماشا بن سکتا ہے۔
فوج کا ان کو سزا دلوانے کیلئے پر عزم ہونا اس کا حق ہے۔ البتہ فوجی عدالتوں سے خوفزدہ لوگ جب تحریک انصاف کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان کو کلین چٹ ملتا ہے تو اس سے یہ تأثر ابھرتا ہے کہ اصل معاملہ مجرموں کو سزا دینا نہیں بلکہ عمران خان کی سیاسی قوت کو توڑنا ہے۔ پرویز الٰہی تحریک انصاف کا صدر ضرور ہے لیکن اس کے گھر کو اس طرح نشانہ بنانے سے ایک غلط فہمی جنم لے رہی ہے اور اس پرDGISPRکا جواب بالکل ٹھیک ہے کہ حکومت اگر غلط فائدہ اٹھاکر ایسا کر رہی ہے تو یہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس کی وجہ سے اصل مجرموں کو چھوڑنا بھی غلط ہے اور اس سے پاک فوج کا بھرپور طریقے سے پر عزم ہونے کا اظہارہوتا ہے۔
DGISPRسے منصوبہ ساز کا نام پوچھا گیا تو اس نے بات ٹال دی ہے اور اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اگر عمران خان کا نام لے لیا اور پھر بوجوہ چھوڑ دیا تو ایک لکیر کھچ جائے گی کہ اصل مجرم کو کیسے چھوڑ دیا اور اگر کٹہرے میں لایا تو پھر اس کو پہلے سے بری الذمہ قرار دینے سے بھی معاملات بگڑ سکتے ہیں۔
اگر ملک میں اچھی حکومت یا اچھی اپوزیشن ہوتی تو پاک فوج کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ جب ایک مقبول لیڈر شپ تھی اور لوگوں کو فوج سے محبت تھی تو بھارت کی قید سے آنے والے فوجیوں کابھی شاندار استقبال کیا گیا تھا اور ان کو نوکریوں پر بھی بحال رکھا گیا تھا۔ اب حالات مختلف ہیں۔ تسلسل کیساتھ سیاسی جماعتوں اور صحافیوں نے ون پوائنٹ ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے فوج کی وہ مخالفت کی کہ ایسے پروپیگنڈے کی دنیا کی تاریخ میںکوئی مثال نہیں ملتی۔ سب سے زیادہ ہم نے مخالفت میں اپنا کردار ادا کیا لیکن دجال کی طرح صرف ایک نظر سے نہیں دیکھا بلکہ جہاں ان کی طرف سے خیر کا پہلو اور دفاع ہوتا تھا تو اس کو بھی اجاگر کرتے رہے ہیں۔ اگر فوج پر خود کش حملے ہوں اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے تو ردعمل میں مسنگ پرسن ایک معمولی بات ہے۔ جب ایک طرف مسنگ پرسن کا تذکرہ ہو اور دوسری طرف فوج پر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف بات نہ کی جائے تو توازن اور اعتدال کی فضا قائم نہیں ہوسکتی ہے۔ جب فوج کے خلاف حملوں اور فوج کی طرف سے ظالمانہ کاروائی دونوں کا تذکرہ کیا جائے تو پھر اس سے صحافت کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور صلح واصلاح اور اعتدال کی فضا بھی بنتی ہے۔ ارشد شریف شہید اور عمران ریاض خان سمیت صحافیوں کا بڑا ٹولہ صابر شاکر ، سمیع ابراہیم اور ہارون الرشید وغیرہ نے اتنا اللہ کا ذکر کیا ہوتا جتنا وہ پاک فوج کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے تو آج اپنے کئے کا ازالہ کرنے کیلئے ضمیر ضمیر کی باتیں نہیں کرتے تھے۔ ہماری چاہت ہے کہ کسی سے بھی زیادتی نہ ہو لیکن جس فوج نے میڈیا میں ایک اعلیٰ مقام تک پہنچایا ہے ، اگر اس کی مخالفت کروگے تو الٹی گنتی شروع ہونا یقینی ہے۔ ہم بھی اس مقام پر بیٹھ کر بہت شہرت اور دولت حاصل کرسکتے تھے لیکن اپنی اوقات میں رہنا اچھا لگتا تھا۔
آج بھی ہماری ایماندارانہ رائے یہی ہے کہ تحریک انصاف کے مجرموں کو بھی فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا دینا فوج کے ایک پر کو توڑنے کی طرح ہے۔ ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں فوج کے دو بازو اور پرواز والے پر ہیں۔ اگر کوئی ایک بھی ناکارہ ہوگیا تو فوج کی پرواز بالکل ختم ہوجائے گی، اسلئے کہ پاک فوج نے ہی ان کو ڈیزائن کیا ہوا ہے۔ پہلے نوازشریف نے تنقید کا نشانہ بنایا اور پھر عمران خان نے بنایا ۔ نوازشریف اپنے پارلیمنٹ کے بیان اور قطری خط کو بھی فوج کے کھاتے میں ڈال کر کہہ رہاتھا کہ مجھے کیوں نکالا ؟۔ حالانکہ فوج نے اس کو کوئی سزا نہیں دی تھی لیکن پنجاب کا آدھا حصہ فوج کا مخالف بن گیا۔ باقی ماندہ تحریک انصاف کی وجہ سے فوج کا حامی تھا اور اب وہ بھی گیا۔ بازو زخمی ہوجائے تو ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن کٹ جائے تو دوبارہ لگ نہیں سکتا ہے۔
پہلے جن سول لوگوں کو فوجی عدالتوں نے سزائیں دی ہیں وہ کسی سیاسی پارٹی کے کارکن نہیں تھے۔ اب معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو ایسی حالت میں فوجی کورٹ سے سزا دینا جب عدالت پر بھی پریشر ہوکہ آئین کے مطابق انتخابات نہ کرائے تو اس کا بہت زیادہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
فوجیوں کا دماغ زیبرے کی طرح ہوتا ہے اور سیاسی جنگ میں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ اگر گدھا ہو اور وہ بھی جنگلی تو اس کو سیاست کا کیا پتہ ہے؟۔ عمران خان کے ورغلاوے میں بھی آگئے تھے اور نواز شریف کے ورغلاوے میں بھی آسکتے ہیں۔ حامد میر نے خبر دی ہے کہ عمران خان کیساتھ عید کے بعد بہت کچھ ہوسکتا ہے۔یہ اکسانے کا ایک حربہ بھی ہوسکتا ہے لیکن پاک فوج کو اس کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ بعد میں حامد نے کسی کو آنکھ مار کر کہنا ہے کہ اس طرح سے کام نکالے جاتے ہیں۔ جب حامد میر چاہتا ہے تو مولانا فضل الرحمن کو بہت بڑا کریڈٹ دیتا ہے کہ رقم سے بھرا ہوا بریف کیس نہیں لیا اور جب چاہتا ہے کہ اس کی ایسی کی تیسی کردے تو انصار عباسی کو بٹھا کرGHQسے ملنے والی زمینوں کے دستاویزی ثبوت میڈیا پر علامہ راشد محمود سومرو کے سامنے دکھاتا ہے۔
جن سیاسی کارکن کا تعلق فوجی خاندانوں سے ہے ان کا ٹرائیل فوجی عدالت اور جن کا فوجی خاندان سے تعلق نہیں انکا ٹرائیل دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوجائے تب بھی زیادہ برا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر پوری پارٹی کو فوج کے سامنے کھڑا کیا گیا تو فوج کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا۔ حامد میر کہتا تھا کہ نوازشریف یہاں قدم بھی رکھ سکتا ہے لیکن عمران خان کو عبرتناک سزا دی گئی تو نوازشریف کیلئے بھی سزا کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔ اگر عدالت نے کہہ دیا کہ فوج کے خلاف زبان کھولنے والوں کو فوجی عدالتیں نمٹ لیں تو عدالت کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟۔
بیانات کی حد تک تو عمران خان سے زیادہ نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن پر مقدمات قائم ہوسکتے ہیں۔ ہم بھی انقلاب چاہتے ہیں لیکن ایسے انقلاب میں مزہ بھی نہیں آئے گا کہ اسٹیک ہولڈرز کو سزائیں دی جائیں اور ہمارے لئے راہ ہموار ہوجائے۔ اسلام کے اندر ایسی صلاحیت ہے کہ مشرکین عرب کے جاہلوں کو جب ایمان کی دولت سے مالامال کیا تو سپر طاقتوں کو انہوں نے شکست دی تھی۔ آج اسلام اور مسلمانوں میں زیادہ صلاحیت ہے کہ اسلام کے عظیم دین کو استعمال کرکے دنیا میں ایسی خلافت کا نظام قائم کردیں جس سے زمین والے بھی خوش ہوں اور آسمان والے بھی۔ سیاسی پارٹی کا خلاء استحکام پاکستان پارٹی کے ذریعے پورا نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو قوم پرستی اور فرقہ پرستی سے بالاتر اس قوم کے بچوں کو الو بنانے کے بجائے شاہین بنادے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے قوی امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری کمزوریوں کو نہیں اپنے فضل کو سامنے رکھ کرپاکستان کے بہترین مستقبل کیلئے اچھائی کے راستے پیدا کردیگا اور پاکستان کی وجہ سے عالم اسلام اور عالم انسانیت کو ایک نئے سورج کا انقلاب دیکھنے کو ملے گا۔ اسلام کے فطری قوانین کے ذریعے یورپ اور مغرب بھی بہت اعتدال پر آسکتے ہیں لیکن جب تک نمونہ نہیں دیکھیںگے تووہ کیسے آسکتے ہیں؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جنرل قمر جاوید باجوہ اور اس کی بیگم کی افغانی کے ہاتھوں توہین کا مسئلہ کیا تھا؟ حقائق جان لیجئے گا

جنرل قمر جاوید باجوہ اور اس کی بیگم کی افغانی کے ہاتھوں توہین کا مسئلہ کیا تھا؟ حقائق جان لیجئے گا

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو جب ایک افغانی نے فرانس میں گالیاں دیں تو اس نے کہا کہ میں پاکستان کی آرمی کا سربراہ نہیں ہوں۔ لیکن افغانی مسلسل گالیاں دے رہاتھا اور کہہ رہا تھا کہ اگر پولیس نہ ہوتی تو میں تمہارے ساتھ بہت کچھ کرتا۔ تم نے چالیس سال سے افغانستان میں جہاد جاری رکھا ہواہے اور یہاں اپنی بیوی کیساتھ گھوم رہے ہو۔ وہ قارئین کو بتارہاتھا کہ اس کی بہو نیکر میں گھوم رہی تھی اور ہم پر اسلام نافذ کرنے کیلئے جہاد کا حکم جاری کررکھاتھا۔یہ ویڈیو دنیا بھر میں بہت وائرل ہوگئی۔
یوٹیوب پر پیسہ کمانے کے چکر میں بھی لوگ انواع واقسام کی بہت بیہودہ قسم کی ویڈیوزپھیلاتے ہیں۔ افغانستان کے جہاد کا فتویٰ جن علماء ومفتیان نے جاری کیا تھا وہ بھی دنیا بھر میں گھومتے ہیں۔ شیعہ پر جنہوں نے فتوے جاری کئے تھے وہ مفتی عبدالرحیم وغیرہ بھی اپنے مدرسہ میں شیعوں کا استقبال کررہاہے،جس پر سپاہ صحابہ کے رہنماؤں نے بہت برا بھی منایا ہے۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید نے بیگم عابدہ حسین کے خلاف الیکشن لڑا تھا تو اعلان کیا تھا کہ کوئی شیعہ مجھے ووٹ نہ دے۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ مجھے قتل کیا گیا تو ذمہ داروں میں بیگم عابدہ حسین بھی ہوگی۔ بیگم عابدہ حسین نے جھنگ کی دونوں سیٹوں سے الیکشن جیت لیا تو مولانا حق نواز جھنگوی کو جس نشست سے شکست دی تھی وہ اپنے پاس رکھ لی۔ یہ1988کا الیکشن تھا جب مولانا حق نواز جھنگوی نے جمعیت علماء اسلام ف سے کتاب کے نشان پر الیکشن میں حصہ لیا۔پھر ان کو شہید کردیا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے قتل کا الزام بیگم عابدہ حسین اور نوازشریف پر لگایا تھا۔ شاعر جمعیت سیدامین گیلانی بھی بیگم عابدہ حسین اور تہمینہ کا نام لیکر جلسوں کو اشعار سے گرماتا تھا کہ یہ بیہودہ عورتیں ہیں ۔1990ایثارالحق قاسمی نے بیگم عابدہ حسین کیساتھ مل کر اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم پہلی مرتبہ نشست جیت لی تھی۔
جب مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل میں ایک ووٹ سے وزیراعظم کا الیکشن ہار گئے تھے تو اس وقت مولانا اعظم طارق نے اپنا وہی ووٹ ظفراللہ جمالی کو دیا تھا۔ دوسری طرف عمران خان نے اپنا ایک ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا۔ جمہوریت کفر وغداری کے سب داغ مٹادیتی ہے اور نسل در نسل جن خصائل اور شمائل کاپتہ نہ چل سکے جمہوریت چند سال میں انسان کے رگ رگ کا پتا دیتی ہے۔ خلافت کے قیام کا وقت قریب لگتاہے لیکن اس سے پہلے مختلف لوگوں کے چہروں سے نقاب کا اترنا بھی اللہ کی سنت رہی ہے۔ اگر شیطان جنت تک پہنچ کر فرشتوں کا استاذ اور بہت زیادہ عبادت گزار نہ بنتا تو کیسے ابلیس کا پتہ چل سکتا تھا؟۔
افغانستان میں روس وامریکہ کے خلاف جہاد کے فتوے پاک فوج نہیں علماء ومفتیان نے دئیے ہیں مگر کیا اس افغانی کی طیش کے حقدار علماء ومفتیان تھے یا پاکستان کی فوج ؟۔ یا پھردونوں ذمہ دار تھے؟۔سینیٹر مشتاق احمد خان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور وہ قوم پرستوں سے مل کر پاک فوج کو بہت برا بھلا کہتا ہے۔ فوج سے بہت لوگوں کو نفرت ہے اور اس بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اگر سوات یا وزیرستان میں طالبان نے قبضہ کیا تو پاک فوج ذمہ دار ہوگی یا علماء ومفتیان؟۔ کیا فوج نکل جائے تو طالبان سے عوام اپنی حفاظت کرسکتے ہیں؟۔ عمران خان نے کہا کہISPRپاک فوج کے ترجمان نے مجھے دوغلا کہہ دیا لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاک فوج نے دوغلا کردار اداکیا۔ میں نے دنیا بھر میں پاک فوج کا دفاع کیا۔ جب عمران خان نے طالبان اور پاک فوج دونوں کا دفاع کیا تو اس وقت کتنے دوغلے پن کی مشقیں کی ہوں گی؟۔
ہر طرف سے بے ایمانی ، بے غیرتی، بدفطرتی اور انسانیت سوز معاملات کا غلغلہ ہے۔ عمران خان نے کوئی اچھا کردار ادا نہیں کیا ہے تودوسرے بھی دودھ کے دھلے نہیں ہیں اسلئے قوم کو حق وسچ بتانا چاہیے ۔
رؤف کلاسرا کے کالم کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں، اس میں فوجی سپاہیوں کی قربانی کا بھی ذکر ہے اور طالبان کیلئے دوغلی پالیسیاں رکھنے والے ماڈرن پاکستانی خواتین کا بھی ذکر ہے۔سچ لکھنے پربڑی مشکلات کا بھی ذکر ہے اور حق گوئی کے دعویدار صحافیوں کے چہروں سے اس وقت نقاب اتر سکتی ہے کہ جب حقائق کی بھرپور نشاندہی عوام کے سامنے کی جائے۔ حکومت، ریاست ، عدالت اور صحافت سب کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر اس دور کے درست معاملات عوام کے سامنے لائیں۔ ایک فوج پر سارا بوجھ مسلط کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ جب ہمارے خاندان کے غیر فوجی اور غیرمذہبی لوگ طالبان کو سپورٹ کررہے تھے جن کو یہ معلوم تھا کہ1948کے کشمیری محسودمجاہدکی بیوی پیرآف وانہ نے چھین لی تھی تو کرایہ کے ٹٹو کس طرح قابلِ اعتماد ہوسکتے ہیں؟۔ پھر جاہل محسود وں کا کیا قصور تھا کہ وہ بارود اپنے دبر میں بھر کر مساجد، علمائ، بازاروں اور گھروں پر دھماکے کرتے تھے۔ علی وزیر کو گرفتار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ کوئٹہ پریس کلب میں بلوچ قوم کو یہ کہنا کہ” ہم مورچہ سنبھالیں گے اور آپ کو پیچھے رکھیں گے”۔ بالکل بے تکی بات تھی۔ بلوچ چھاپہ مار جنگ لڑرہے ہیں۔ بلوچ خاتون تک نے خود کش حملہ کردیا۔ علی وزیر قومی اسمبلی میں کہتا ہے کہ ”میرے خاندان نے پاک فوج کی وجہ سے قربانیاں دیں”۔ مضبوط فوج کے خلاف بغاوت کیلئے بڑی ہمت چاہیے۔ مرد پہاڑپرلڑیں اور خواتین احتجاجی دھرنے دیں تو مشکل بات ہے۔PTMایک طرف طالبان کو فوج کے کھاتے میں ڈالتی ہے اور دوسری طرف طالبان کے مسنگ پرسن کیلئے آواز اٹھاتی ہے۔ لوگ ان کواس ٹرائیکاکا حصہ سمجھتے ہیں ۔اگر فوج طالبان کے پیچھے ہے اور طالبان کو مسنگ کردیتی ہے اور یہ طبقہ ان مسنگ کیلئے آواز اٹھاتا ہے تو یہ تینوں آپس میں مربوط ہیں اور سپیرے کا ساز سانپ کو پکڑنے کیلئے ہے۔یہ روزی روٹی چلانے کااچھا دھندہ لگتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان میںمساجد، مدارس، امام بارگاہوں ، خانقاہوں سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا!

پاکستان میںمساجد، مدارس، امام بارگاہوں ، خانقاہوں سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا!

پاکستان کا آئین قرآن وسنت کا پابند علماء ومشائخ اور ذاکرین کی وجہ سے ہے لیکن کیا مدارس خود قرآن وسنت کے پابند ہیں ؟ اوراگر نہیں توپھرکیانشاندہی یہودونصاریٰ کریں گے؟

پارلیمنٹ میں تحفظ وصحابہ اہلبیت بل کی حمایت پر تمام اہل سنت اور اہل تشیع متفق ہوں گے اور پاکستان نہیں ایران سمیت دنیا بھر میں اس پر عمل بھی کریںگے مگر صحابہ واہل بیت کون ہیں؟

پاکستان کا آئین علماء ومشائخ اور شیعہ ذاکرین کی وجہ سے قرآن وسنت کا پابند ہے لیکن کیا مدارس قرآن وسنت کے پابند ہیں؟۔ مدارس کا نصاب تعلیم قرآن میں تحریف ،فقہی کتابیں قرآن کی توہین کا سبق دے تو کیا پارلیمنٹ میں اس پر بل پیش نہیں ہونا چاہیے ؟۔ قرآن میں متواتر اور غیرمتواتر آیات کا عقیدہ تحریف قرآن نہیں ؟۔سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا جاتا ہو تو پھر اس سے بڑھ کر قرآن کی کوئی توہین ہے؟۔مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی دوکتابوں سے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کے اوراق ایسے غائب کردئیے جیسے کہ اس نے اپنے سامنے کے دو بدنما دانت اڑادئیے۔ مگر اسکے بعد عمران خان کے نکاح خواں مفتی سعیدخان نے اپنی کتاب ” ریزہ الماس” میں فقہ حنفی کی فتاویٰ قاضی خان کی بھرپور تائید کردی ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنے کا جواز بنتا ہے جیسے خنزیرکا گوشت ضرورت کے وقت جائز بن جاتا ہے۔
میرے آباء واجداد ایسے توحید پرست تھے کہ دیوبند کے اکابر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ میری اپنی تعلیم وتربیت جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور مرشد حاجی عثمان کے ہاں ہوئی ہے۔جن کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا اور شریعت کے پابند اللہ والے تھے۔ اگر کرامات کو ماننا شرک ہے تو قرآن میں حضرت عیسیٰ کے جو معجزات ذکر کئے گئے ہیں تو اس سے بڑا شرک نعوذ باللہ اور کیا ہوسکتاہے؟۔ علماء دیوبند کی کرامات سے کتابیں بھری پڑی ہیں اور اللہ نے حاجی محمد عثمان سے دیوبند کے ماحول میں کام لینا تھا تاکہ خلقِ خدا گمراہی سے بچ جائے۔ البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو دیکھنے والے عیسائی جاہل مشرک بن گئے تو اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی قصور نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے ہاں بغیر باپ کے بیٹا پیدا کیا تو اس پر حضرت مریم علیہا السلام خوش نہیں بلکہ بڑی پریشان تھی اور فرمایا کہ ”اے کاش! میں لوگوں کے ذہن سے نکل کر بھولی بسری بن جاتی ”۔ اللہ نے اس کرامت کے ذریعے بد عقیدہ یہود کو درست کرنا تھالیکن بعض ہٹ دھرم یہود اپنی خباثت پر ڈٹے رہے اور اکثریت مسیحی بن گئی ہے۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی تأویل کرتے ہوئے لکھ دیا کہ ” علامہ شامی نے لکھا ہے کہ اگر یقین ہو کہ علاج ہو گا تو پھر لکھنا جائز ہے لیکن یقین کا حاصل ہونا وحی کے بغیر ممکن نہیں اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ اسلئے فقہ حنفی میں اس بات کا ثبوت ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے”۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھ دیا کہ ”علامہ شامی کے دل میں قرآن کی بہت بہت توقیر اور تعظیم تھی لیکن فقہاء نے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں یہاں ایک غلطی کردی۔ اگر سورج کی طرح یقین ہوجائے تو بھی پیشاب سے سورۂ فاتحہ کو لکھنے سے مرجانا بہتر ہے”۔
مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ” حنفی فقہاء نے سورہ ٔ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کو یقین سے مشروط کردیا ہے لیکن میں نے امام ابویوسف کی کتابوں کو چھان مارا اور مجھے یقین کی شرط کہیں نہیں ملی”۔ یعنی یقین نہ ہو تب بھی علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھناجائز ہے”۔ اور مفتی سعیدخان نے لکھ دیا کہ ” سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے میں حرج نہیں ہے اسلئے کہ یہ علاج پیٹ میں نہیں جاتا ہے اور خنزیر کا گوشت تو پیٹ میں بھی جاتا ہے اسلئے وہ زیادہ خطرناک مگر جائز ہے”۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ہم نے فتویٰ لیا تو انہوں نے لکھ دیا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا تصور بے دینی اور گمراہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے اور اس کیلئے اگرچہ فقہ کی کتابوں میں کوئی حوالہ نہیں ملا اسلئے نوروز میں تعویذ اپنے دروازے پر لٹکانے کی عبارت لکھ دی جس میں مشرکوں کی مشابہت ہے۔
اگر حنفی اس وجہ سے حدیث کو نہیں مانتے کہ قرآن سے متصادم ہے تو ہدایت کا یہی راستہ ہے۔ حنفی مسلک کا سب سے بڑا اعزاز یہی ہے کہ قرآن کے تحفظ کیلئے تن تنہاء اس اصول کے تحت بہت بڑا بند باندھ دیا۔جس کو تمام مسالک بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امت مسلمہ کی بہت بڑی اکثریت نے قبول بھی کرلیا۔ دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ماحول کی بنیاد پر اپنے مسلک اور فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ نبیۖ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ” اسلام سے پہلے دورِ جاہلیت میں جو لوگ سونا چاندی تانبا ، پیتل اور کوئلہ کی طرح تھے تو وہ اسلام کے بعد بھی ویسے ہی ہیں۔ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے مگر انسان اپنی فطرت نہیں بدل سکتا ہے”۔یہ زبردست فطری حقیقت ہے۔ابن صائد، مروان بن حکم اور ذوالخویصرہ جیسے لوگ دورِ جاہلیت میں بھی کوئلہ کی طرح تھے اور اسلام کے بعد بھی اپنی فطرت سے نہیں ہٹ سکے تھے۔ آج بھی بہت لوگ فطری طور پر اچھے اور بہت لوگ بدخلق اور بدکردار ہیں۔ جو ہر ماحول ومذہب میں ملتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” بیشک جو لوگ مسلمان ہیں، جو یہودی ہیں ، جو عیسائی ہیں اور جو صائبین ہیں ،جوبھی اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور صالح عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگیں ہو ں گے۔ (البقرہ :62)
عمل صالح کا تعلق عبادات نماز، روزہ اور حج سے نہیں بلکہ حقوق العباد سے ہے۔ عبادات اور اللہ کے ذکر میں سب کا منہاج الگ الگ ہے مگر حقوق العباد میں سب کیلئے ایک طرح کے اصول ومعاملات ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہماری ایک بہت نیک، صالح، قابل عزت وقدر اور مظلوم بہن ہوسکتی ہے لیکن اس پر ظلم اس امریکہ نے کیا جس نے افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور پاکستان کو بھی تباہ کردیا ہے۔ گوانتا ناموبے میں انسانی مظالم کی آخری حدیں پار کردیں ۔ ہوسکتا ہے کہ9/11کے حادثے کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت سب کچھ دنیا کو ٹھیک بھی لگتا ہو لیکن اسلام کے نام پر خواتین کیساتھ کیا ہورہاہے؟۔
ایک برمی یا بنگالی پاگل خاتون”چری” ٹانک کے بازار میں گھومتی تھی اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی اسلئے کہ وانا بازار میں بھی ایک پاگل خاتون گھومتی تھی۔ البتہ ٹانک برمی یا بنگالی خاتون کیسے پہنچی؟۔ اس طرح کتنی خواتین اذیتوں کا شکار ہوں گی؟۔ ہمارے ایک شخص نے چند بچوں سمیت خاتون خرید لی تھی۔ ابراہم لنکن نے امریکہ میں غلاموں کی خرید وفروخت اور سپلائی پر پابندی لگادی تو اللہ نے امریکہ کو سپر طاقت بنادیا۔ اسلام نے غلاموں اور لونڈیوں کے انسانی حقوق بحال کرکے دنیا میں انقلاب برپا کیا تو خلافت راشدہ کے دور میں دنیا کی دونوں سپر طاقتوں مشرق میں پارس اور مغرب میں روم کو شکست دی اور پھر1924تک مسلمانوں کی خلافت کا ڈنکا بج رہاتھا۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی سوات میں خواتین کی منڈی لگتی تھی اور وزیرستان کانیگرم میں بھی ایسی خواتین تھیں لیکن شادی بیاہ کی وجہ سے ان کی حیثیت لونڈی نہیں بلکہ آزاد خواتین کی ہی تھی۔
پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کی پابندی ہے لیکن قرآن وسنت کیا چیز ہیں؟، اس کا پارلیمنٹ تو دور کی بات ہے مدارس والوں کو بھی پتہ نہیں ہے۔ نبیۖ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑکرفرمایا :من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ” میں جس کا مولا ہوں یہ علی اس کا مولا ہے”۔ مولا کے ساتھ ”نا” لگایا جائے تو مولانا بنتا ہے جس کا مطلب ”ہمارامولا” ہے۔ آج ہر مدرسہ کے فارغ التحصیل عالم دین کو مولانا کہا جاتا ہے لیکن جب مولانا طارق جمیل نے کہا کہ حدیث کی وجہ سے میں آج کے بعد علی کیلئے بھی مولا کا لفظ استعمال کروں گا تو یارلوگ بہت برا مان گئے اور مولانا طارق جمیل کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑگئے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہ ۖ کی ذات سے زیادہ مدارس کی سند کو ہمارے ہاں اہمیت حاصل ہے؟۔ بالکل! یہی بات ہے۔ مدارس میں پڑھاتے ہیں کہ نبی ۖ نے فرمایا ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے ”۔ ساری امت اس حدیث کو مانتی ہے لیکن حنفی کہتے ہیں کہ یہ قرآن سے متصادم ہے اسلئے قابلِ قبول نہیں ہے ۔ یہ بہت خوب واقعی قرآن سے متصادم حدیث کو نہیں ماننا چاہیے لیکن جب کسی فقیہ کی عبارت آتی ہے کہ نسلی اعتبار سے عجم کی حیثیت نہیں ہے اور جعلی عربی کی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے تو پھر مفتی قرآن کو بھی نہیں مانتا ہے اور مفتی اعظم پاکستان اور شیخ الاسلام اس حد سے بھی گزر جاتا ہے کہ ”اگر عجم نسل کی بالغ عورت کو اغواء کرکے ڈرادھمکا کرنکاح کرلیا تو بھی اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دار اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو واحد طریقہ یہ ہے کہ لڑکے سے طلاق لی جائے”۔ اگر مفتی تقی عثمانی سے فتویٰ طلب کرنے والے آرائیں میں غیرت و طاقت ہوتی اور اس فتوے پر مکا رسید کرکے مفتی تقی عثمانی کی چونچ توڑ دیتا جس میں ناک اور آگے دونوں دانت شامل تھے تو پھر اس قسم کی بکواس کو ” فتاویٰ عثمانی جلد دوم ” میں شائع کرنے کی جرأت نہ کرتا اور اپنی حدود میں رہتا۔ عورت اور نسل کیساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے؟۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا: قلم اور کاغذ لاؤ، میں ایسی چیز لکھ کر دیتاہوں کہ میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ کچھ نے حضرت عمر کی تائید کی اور کچھ نے نبی ۖ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کیا نبیۖ ہذیان بول رہے ہیں؟۔ جب شوراُٹھاتونبی ۖ نے فرمایا کہ میرے پاس سے نکل جاؤ۔ ( صحیح بخاری ) اگر نبیۖ کی بات مان لیتے تو پھر نبی ۖ کے بعد خلافت کے مسئلے پر انصار ومہاجرین اور قریش واہل بیت میں کوئی دراڑ نہ پڑتی۔ حضرت عمر نے بھی فرمایا تھا کہ کاش ہم نبی ۖ سے پوچھتے کہ آپ کے بعد خلفاء کس کس کو مقرر کیا جائے اور زکوٰة نہ دینے والوں کا حکم بھی پوچھ لیتے۔ یہودی نے حضرت علی سے کہا کہ نبی ۖ کی تجہیزوتکفین اور تدفین سے پہلے تم خلافت پر لڑرہے تھے؟۔ تو حضرت علی نے جواب دیا کہ تمہارے ابھی دریائے نیل سے پیر خشک نہیں ہوئے تھے کہ بچھڑے کو اپنا معبودبنا لیا تھا۔
پہلا سوال یہ ہے کہ حدیث قرطاس کے نقصانات اپنی جگہ پر مسلمہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز بھی نہیں ہے کہ حضرت عمر نے کسی کفرو گمراہی کا ارتکاب کیا بلکہ منشاء الٰہی یہ تھی۔ حضرت عمر کے ذریعے اللہ نے یہ سبق سکھایا کہ پیپلزپارٹی کا بینظیر بھٹو کی وصیت کے ذریعے ایک جمہوری پارٹی کا چیئرمین بنانا، نوازشریف کا مریم نواز کو نامزد کرنا اور مولانا فضل الرحمن کا اپنے بیٹے اسد محمود کو نامزد کرناغلط ہے۔ مفتی محمد شفیع کا اپنے بیٹوں کا نہ صرف نامزد کرنا بلکہ مدرسے کی وقف زمین کا خریدنا اور اس کے خلاف فتویٰ دینے پر مفتی رشیداحمد لدھیانوی کا پیٹنا سب غلط تھا۔ چندوں اور وقف کے مال وجائیدادکو موروثی بناناشریعت اور اخلاقی اقدار کے بالکل منافی ہے۔ایران بھی امام خمینی کی اولاد اور کسی صدر کو نامزد کرنے کے بجائے عوامی رائے سے اپنا سربراہ منتخب کرتا ہے۔حضرت عمر کے اقدام نے بھی اسلام کے حوالے سے نامزدگی اور موروثیت کا راستہ روکا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت سے خلافت کے اسلامی نظام کو زندہ کیا جائے تو دنیا بھرکے مسلم و غیرمسلم ممالک اسلام کامعاشرتی، معاشی ، اخلاقی اور عدالتی نظام قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ عورت ماں ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے لیکن جب ماں کیلئے دنیا جہنم بنادی جائے تو پھر اس کے بچوں کیلئے دنیا کیسے جنت نظیر بن سکتی ہے؟۔ قرآن وسنت نے ہرنوع کی عورت کو جس طرح کا انسانی حق دیا ہے اس کو دنیا قبول کریگی مگر مذہبی طبقے نے جس طرح کا بگاڑ پیدا کیا ہے تو اسے غیرمسلم تو بہت دور کی بات ہے کوئی مسلمان بھی قبول نہیں کرسکتا ہے۔ چلتی کا نام گاڑی ہوسکتا ہے لیکن اگاڑی کا نام پچھاڑی نہیں ہوسکتا ۔علماء اور مفتیان نے سود کے عالمی نظام کو اسلامی جواز بخش کر جو خود کش حملہ قرآن وسنت اور اسلام پر کردیا ہے۔ اب اس نظام کو نئے سرے سے اپنے اصل کی طرف لانا پڑے گا۔ ہمارے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پر نسپل جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی نے ہمیں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے لیٹر پیڈ پر لکھ دیا کہ ” حضرت امام مالک کا یہ قول سامنے رکھنا چاہیے کہ اس امت کی اصلاح کبھی نہیں مگر جس چیز سے اس کی امت کی پہلے اصلاح ہوئی تھی ”۔آج مفتی تقی عثمانی اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس پاکستان اور میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صدر وفاق المدارس پاکستان سے منحرف ہوا ہے ،پھر بھی علماء نے پتہ نہیں کس لالچ میں اس کو وفاق المدارس کا صدربھی بنادیاہے ؟۔
زوال وپستی کی ایک حد ہوتی ہے جب کوئی قوم اس کو پہنچ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ اٹھانے کی سبیل پیدا کردیتا ہے۔ عرب ممالک کا پیسہ مغرب کے بینکوں میں پڑا رہتا تھا اور وہ اپنا سود نہیں لیتے تھے۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے ان کو جواز کا حیلہ پیش کردیا ۔ جب انہوں نے سود کو جائز سمجھ کر کھانا شروع کردیا تو پھر اس کے اثرات بھی سعودی عرب پر پڑ گئے۔ مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ جب مدینہ منورہ میں سینما گھر کھولنے کا فیصلہ ہوا تو مفتی تقی عثمانی نے اس پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا۔حالانکہ یہ کافی نہیں ہے بلکہ پاکستان کی فوج کو چاہیے کہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے ان خرافات کو دور کرنے کیلئے میدان میں اترے اور بزور بازو مسلمانوں کے مقدس مقامات کاخرافات سے تحفظ کرے۔
علماء و مشائخ اور ذاکرین نے مجھے تنہا اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے چھوڑ دیا ہے جو میرے بس کی بات نہیں ۔اللہ کے فضل سے اس کی مدد شاملِ حال ہے اور اب شیطان کے بچھائے مکڑی کے جالوں سے اس جدید دور میں جان چھڑانا مشکل نہیں ۔اور کیا واقعی عمران خان سیاسی جماعتوں اور نظام کے خلاف کھڑا ہے؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قال نبی ۖ:اسلام و اقتدار جڑواں بھائی ایک دوسرے کے بغیرصحیح نہیں ،اسلام بنیاد اوراقتداراسکا محافظ!

قال نبی ۖ:اسلام و اقتدار جڑواں بھائی ایک دوسرے کے بغیرصحیح نہیں ،اسلام بنیاد اوراقتداراسکا محافظ!

نبی ۖ نے اسلام کی نشاة ثانیہ پر فرمایا کہ
پھر اسلام زمین میں جڑ پکڑے گا اور اسکی گہرائی اور گھیرائی بھی زیادہ ہوگی۔ جن لوگوں کے ہاتھ ہوگی ان کو50صحابہجتنا اجر ملے گا۔

نبیۖنے فرمایا: نبوت و رحمة پھر خلافت، امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کا دور ہوگا، پھر طرزنبوت کی خلافت قائم ہو گی جس سے زمین وآسمان والے خوش ہونگے۔ اگر اسلام کو علماء نے مسخ نہ کیا ہوتا تو اس کی خوشنما عمارت اپنی بنیاد پر سیدھی کھڑی رہتی مگر اسکا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ جب قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہوجائیگا پھر اسلام ، مسلمانوں اورانسانوں کو معاشی، اخلاقی،سیاسی، سائنسی، معاشرتی اور قانونی بڑا زبردست عروج ملے گااور اہل زمیں بہت خوش ہوں گے
جب اسلام نازل ہوا تو حضرت ابراہیم کے ماننے والے عیسائی ، یہودی اور مشرکینِ مکہ تین ادیان میں تقسیم تھے۔حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کے بعد حجاز مقدس میں عربوں کے ہاں کوئی پیغمبر دورِ جاہلیت کے انتہاء تک نہیں آئے ۔یہاں تک کہ ابوجہل کے دور میں نبی ۖ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔دوسری طرف حضرت اسحاق ، یعقوب، یوسف کے بعد نبوت کا سلسلہ بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء کرام کی بعثت حضرت موسیٰ و عیسیٰ تک جاری رہاتھا۔ اور نبی ۖ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوا۔ ہندو اور بدھ مت کے پیروکار برصغیر پاک وہند میں پہلے سے تھے۔ بدھ مت چین، جاپان ، شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور دنیا بھر میں موجود ہیں۔ دنیا میں آج لوگوں کا مذاہب سے رشتہ برائے نام رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کا دین قرآن وسنت کی شکل میں موجود ہے۔اسلام کی نشاة اول کے وقت مشرکینِ مکہ نے اسلام قبول کرکے پوری دنیا میں پہلے اسلام اور مسلمانوں کا اقتدار قائم کیا۔ پھر تاتاری ترکوں نے اسلامی امارت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پھراسلام قبول کرلیا اور دنیا بھر میں عظیم سلطنت عثمانیہ قائم کردی۔ ترک اگر اپنی حکومت کو اسلامی ٹچ نہ دیتے تو زمین کے ایک بہت بڑے ٹکڑے پر اپنی سلطنت قائم کرنے کا خواب پورا نہیں کرسکتے تھے۔ جب1924میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو ہندؤں نے بھی مسلمانوں کیساتھ مل کر تحریک احیاء خلافت میں بھرپور حصہ لیا۔
آج مسلمان صرف پاکستان میں نہیں بلکہ56سے زیادہ اسلامی ممالک کے مالک ہیں۔ ہندوستان کے ہندو اور پاکستان کے مسلمانوں نے اگر اسلام کے درست معاشی اور معاشرتی نظام کی بنیاد پر اتحاد واتفاق اور وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودةً فی القربیٰ سے کام لیا تو برصغیر پاک وہند سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوجائیگا۔ ہندوکے بنائے مٹی اور تراشے پتھر کے بتوں، گائے ماتااور بندرکی پوجا سے زیادہ خطرناک مسلمانوں کے علماء ومشائخ ہیں جو پیٹ و نفس پرستی ، بیوی بچے ،بہن بھائی ، والدین ،برادری اور لسانی بنیادوں پر قوم پرستی کے جذبے سے بدحال ہیں۔حق اور انسانیت کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ اسلام کے آفاقی نظام سے اپنے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی حالات ٹھیک کرنے کی راہ دیکھنے کے باوجود بھی حقائق کیلئے کچھ بھی محنت نہیں کرتے ہیں۔ بے حسی، خود غرضی اور لایعنی کے امراض میں انتہاء درجہ تک مبتلاء ہیں لیکن اللہ مردہ زمین کی طرح انسانوں کو زندہ کرتا ہے۔قرآن کا فطری انقلاب سر پر کھڑا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

See more:
https://zarbehaq.com/mufti-taqi-usmani-ka-islami-muasshi-nizam-par-khudkush-hamla/

دیکھو!اسلامی انسانی انقلاب کا آغاز ہوا چاہتاہے! قرآن کا وہ ترجمہ جو تمام مسلمانوں کیلئے قبول ہے! حدیث وہی جوقرآن کیخلاف نہ ہو،یہ حنفی فقہ ہے! دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ متفق ہونگے!

دیکھو!اسلامی انسانی انقلاب کا آغاز ہوا چاہتاہے! قرآن کا وہ ترجمہ جو تمام مسلمانوں کیلئے قبول ہے! حدیث وہی جوقرآن کیخلاف نہ ہو،یہ حنفی فقہ ہے! دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ متفق ہونگے!

پاکستان اسلام اور انسانیت کے نام پر بنا تھا اسلام اور انسانیت ایکدوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں

مساجد ، مدارس ، امام بارگاہوں اور خانقاہوں سے اس تحریک اسلامی میں اتحاد ، اتفاق اور وحدت کا آغاز ہوگا۔جس کا اثر گھروں،بازاروں اور سرکاری اداروں تک پہنچے گا

___ پاکستان سے اتحاد اُمت مسلمہ کا آغازہوگیاہے؟___
اتحاد کا موضوع بہت بلند پایہ ہے۔ قرآن نے اہل کتاب کو دعوت دی کہ ” کہہ دو،اے اہل کتاب ! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور آپ کے درمیان برابرہے”۔ سیاسی جماعتوں کی ابتداء برصغیر پاک وہند میں کانگریس اور مسلم لیگ سے ہوئی تھی۔ کانگریس کی بنیاد انسانیت اور مسلم لیگ کی بنیاد مسلمانوں پر رکھی گئی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد بھی پاکستان میں کانگریس اور مسلم لیگ کے تصورات موجود تھے۔ پھر کانگریس کی سیاست مشرقی ومغربی پاکستان سے سمٹ کر پختونخواہ اور بلوچستان تک محدود ہوگئی۔ بعد از آں بلوچوں اور پختونوں میں بٹ گئی۔ مسلم لیگ کی کوکھ سے مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اورذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی نے جنم لیا جن کی وجہ سے یہ ملک دو لخت ہوگیا۔ مسلم لیگ نے ابن الوقت کی طرح بہت سارے بچے ہردور میں پیدا کئے۔ پھر پیپلزپارٹی سندھ تک محدود اورمسلم لیگ پنجاب تک ہے۔آج ایک انتشار کی کیفیت ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف ہے اور دوسری طرف 13 جماعتوں کا اتحاد الیکشن سے بھاگ رہا ہے۔ عمران خان کو اکیلا کردیا گیا۔ جہانگیر ترین اور علیم خان وہ دو پر تھے جن سے عمران خان نے پرواز کرنا شروع کردی تھی۔
لوگوں کی فوج سے محبت تھی مگر نفرتوں کی آگ اگلنے لگے۔ جنرل ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف سے زیادہ جنرل راحیل، قمر باجوہ اور حافظ سید عاصم منیر محبت کے قابل اورپاکستان کو بکھرنے سے بچانے کا وسیلہ ہیں۔ چیف جسٹس منیر، قیوم، افتخار چوہدری تک سے زیادہ چیف جسٹس ظہیر جمالی، آصف سعید کھوسہ اورچیف جسٹس عمر عطا بندیال تک کا عدلیہ لائق احترام ہے مگر سیاسی منڈے مولانا فضل الرحمن اورسیاسی کڑی مریم نواز نے اپنے اقتدار میں سپریم کورٹ کے سامنے دھما چوکڑی مچاکر بدتمیزی کی انتہاکردی تھی۔

___اتحاد سے اتفاق تک کی منزل کیسے حاصل ہوگی؟__ _
اپنے عقیدے ، مسلک اور سیاسی نظرئیے پر رہتے ہوئے ایک دوسرے کی حد کا خیال رکھنا اتحاد ہے۔ قرآن نے بقاء باہمی کی بنیاد پر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا فرمایا۔ جن سیاسی جماعتوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نہ صرف ایکس ٹینشن دی بلکہ پارلیمنٹ میں اس کیلئے آئینی ترمیم بھی کی ہے تو آج اس کے جانے کے بعد جنر ل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بکواس کرنا بنتا نہیں۔ جس سپریم کورٹ نے ایکسٹینشن کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کی کورٹ پارلیمنٹ میں ڈالا، اسی سپریم کورٹ کے خلاف پہلے عمران خان اور پھر موجودہ حکومت اورPDMکی جماعتوں نے بدتمیزی کا بازار گرم کرکے بہت گھٹیا پن کا ثبوت دیا ہے۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا” سلطان زمین پر اللہ کا سایہ ہے، جس نے اللہ کے سلطان کی توہین کی تو بیشک اس نے اللہ کی توہین کی ”۔خطبہ جمعہ۔ ملکی سرکاری اداروں کا احترام نہیں تو پھر حکومت میں آنا نہیں بنتا ہے ۔ اخلاقیات کی دھجیاں اُڑادی گئیں۔حکومت میں فوج کی پاسداری والا اپوزیشن میں فوج کی غلامی سے جان چھڑانے کی بات کرنے لگا اور اپوزیشن میں فوج کی غلامی سے جان چھڑانے والاPDMپلس پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آکر فوج کی غلامی اور اپوزیشن کو فارغ کرنے کی سیاست یامنافقت شروع کردی ہے؟۔
ہم نے سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھااور کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے ہوم ورک بھی کیا۔ ملک معاشی، سیاسی ، آئینی، عدالتی اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے۔اگر حریم شاہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون اچھا اور کون برا ہے تو پھر اس ملک اور اس کی قیادت کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ریاست مدینہ نے اس کو لوگوں کی عزتوں پر چھوڑنے کے بجائے اس کے اپنے گھر میںنظر بند کردینا تھا یہاں تک کہ اس کی شادی ہوجاتی۔

___وحدت کی منزل کیلئے حکمت عملی بنانی پڑے گی___
جس پر متفق ہوا جائے وہ اتفاق ہے ۔ کانگریس اور مسلم لیگ کا اتفاق تھا کہ ” ہندوستان دولخت ہوگا”۔ آج ہندوستان مودی کے ہاتھ میں گیا۔نہرو، اندرا گاندھی،واجپائی ، من موہن سنگھ سے دوستی کرلیتے تو بھارت مسلم ہندو فساد اور تنگ نظری کی نذر نہ ہوتا۔ پاک وہند میں روایتی دشمنی کو روایتی دوستی میں بدلنا ہوگا۔ جب دونوں ملکوں میں نفرتوں کا خاتمہ ہوگا تو پاکستان اور ہندوستان کے اندرونی معاملات پر اثر پڑے گا۔
مدینہ منورہ میں یہود اور منافقین تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن یہود ، منافقین اور مشرکینِ مکہ تھے۔ ابن صائد نے نبی ۖ سے کہا تھا کہ ” آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں عالمین کا نبی ہوں”۔ وہ دجال کہتا تھا کہ میں دجال نہیں اسلئے کہ دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں لیکن اس کوپھر بھی مکمل تحفظ حاصل تھا۔
نبی کریم ۖ نے یہود سے” میثاق مدینہ” اور مشرکین مکہ سے ” صلح حدیبیہ ” کا معاہدہ کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جس کو حکمت دی گئی تو اس کو خیر کثیر دیاگیا ”۔ صحابہ نے رسول اللہ ۖ سے حکمت سیکھی تھی۔ نبی ۖ نے فرمایا ” جس کیساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ دیتا ہے”۔ دین کی سمجھ کا تعلق اسلام کے احکام اور حکمت کا تعلق ان کو عملی جامہ پہنانے سے ہے۔ حضرت داؤد اور سلیمان میں فہم کا فرق تھا اور حضرت سلیمان کے فیصلوں کو اتفا ق رائے سے دل وجان کیساتھ قبول کیا گیا تو اسی کا نام وحدت تھا۔اب ہم نے وحدت کی منزل حاصل کرنی ہے۔مذہبی اتحاد،اتفاق اور وحدت سے مسلمانوں اور تمام انسانوں کی مشکلات کو حل کرنا ہے۔ ہمارا اللہ رب العالمین اورنبی خاتم الانبیاء والمر سلین ۖ رحمة للعالمین ہیں۔ پاکستان کو عالم کیلئے رحمت بنانا ہمارا نصب العین ہے۔ کوئی مسلم وغیرمسلم بدحال نہ ہوگا بلکہ سبھی کوبہت مثالی خوشی ملے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv