Category: سیاست
دومختلف، متضاد، متفرق کردار، ملا فضل اللہ اور ملالہ یوسفزئی: تحریر سید عتیق الرحمن گیلانی

سوات پختونخواہ کے دو متضاد کردار ملافضل اللہ ، ملالہ یوسفزئی ہیں۔ ملافضل اللہ کی شریعت کے سامنے ہماری ریاست اور سیاست دونوں سجدہ ریز تھیں۔ مینگورہ میں مسلکی اختلاف کے سبب ایک مذہبی شخصیت کو قتل کیا گیا اور پھر قبر سے نکال کر کئی روز تک اس کی لاش کو چوک پر لٹکادیا گیا، یہ ایک واقعہ نہ تھا بلکہ اس واقعہ سے صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسے لوگ اس ذہنیت اور ریاست کو اسکے آگے لیٹ جانے کی مخالفت کرتے تھے تو ان کو امریکی ایجنٹ کہا جاتا تھا۔ اے این پی کی حکومت آئی تو میاں افتخار حسین جیسے بہادروں نے بھی طالبانِ سوات سے شریعت کے نفاذ پر معاہدہ کیا تھا اور جب سوات کے طالبان کے بارے میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی توجہ دلائی کہ طالبان اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے مقبول ترین رہنما سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن امریکہ کا ایجنٹ ہے اور طالبان کیخلاف بول رہاہے‘‘۔ آپریشن کا آغاز ہوا تو کلثوم نواز واحد مسلم لیگی رہنما تھی جس نے کھل کر کہا کہ ’’ یہ وہ طالبان نہیں جس کی ہم نے حمایت کی تھی‘‘، آپریشن کے بعد حالات بہتر ہوئے تو ملالہ کے سر میں سکول جاتے ہوئے گولی ماری گئی۔ فوج نے اس کو ہیلی کاپٹر سے پشاور پہنچادیا اور اس کو زندگی مل گئی پھر فوج نے معذوری سے بچانے کیلئے بیرون ملک بھیجا۔
کسی اور کی بات نہیں کرتا، میرا اپنا ایک بیٹا شاہین ائر میں کام کرتا ہے، وہ پہلے میرے دوست کے آفس میں تھا۔ ایک دن مجھے کہا کہ اورنگی ٹاؤن میں مہاجر پٹھانوں کے ناک کاٹ رہے ہیں، لانڈھی میں پٹھان مہاجروں کے ناک کان کاٹ رہے ہیں۔ میں نے بہت ڈانٹا کہ ’’اس طرح کی افواہوں پر موبائل فون اور تیز رفتار میڈیا کے دور میں بہت بری بات ہے، آئندہ کسی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا‘‘۔ پھر جب ملالہ یوسف زئی کا واقعہ ہوا تو میرے بیٹے نے کہا کہ ’’ اس کو گولی نہیں لگی ،یہ بہت بڑی سازش ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’پہلے تجھے ڈانٹا تھا۔ اب پھر وہی بکواس کررہے ہو؟‘‘۔ اس نے کہا کہ میڈیا پر بات چل رہی ہے۔ میں نے غصہ میں کہا کہ میڈیا بھی بکواس کرتا ہے۔ پھر جب ملالہ یوسف زئی کا زخمی چہرہ میڈیا پر نظر آتا تھا تو میں اس سے کہتا تھا کہ اب یقین آیا ہے کہ گولی لگی ہے؟‘‘، جب واقعہ ہوا تھا تو میرے بھائی نے بھی کہا کہ ’’سازش سے ایک چھوٹی سی گولی ماری گئی ہے تاکہ اس کو آئندہ استعمال کیا جاسکے‘‘۔ میں نے اس سے بھی عرض کیا کہ یہاں بدگمانی کی ایک فضاء ہے جو ماحول میں پروان چڑھ گئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ جرم تھا۔ مولانا عبدالستار خان نیازیؒ نے داڑھی اس تحریک میں شمولیت کی وجہ سے ہی مونڈھ ڈالی تھی۔ بریلوی مکتبۂ فکر کا جو رہنما حصہ لیتا تھا اس کو اپنے مکتب کی طرف سے بھی ملامت کا نشانہ ہی بنایا جاتا تھا کہ دیوبندی گستاخان رسول قادیانیوں سے بدتر ہیں انکے ساتھ مل کر تم گمراہوں کے خلاف تحریک کیوں چلارہے ہو؟۔ جب فوج نے طالبان سوات پر تشدد کیا، ان کو ہیلی کاپٹروں سے گرانے کی خبریں آئیں تو عاصمہ جہانگیر نے طالبان کیساتھ غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی۔ جب عاصمہ جہانگیر سے سوال کیا گیا کہ آپ اتنی بہادری سے حق کہتی ہیں تو ملالہ کو آپ کیوں مشورہ نہیں دیتیں کہ وہ خدمت کیلئے آئے؟ جس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ’’ میں اپنی عمر گزار چکی ، مجھے گولی لگے بھی تو مسئلہ نہیں لیکن ملالہ کو نہیں آناچاہیے اس کو زندگی گزارنی ہے اور یہاں اس کو مخصوص ذہنیت کی طرف سے خطرہ ہے‘‘۔ ایک طرف وسعت اللہ خان، مبشر زیدی، ضرار کھوڑو، ماریہ میمن جیسے دیانتدار صحافی تو دوسری طرف طارق پیرزادہ جیسے لوگ میڈیا کے ٹاکشوز میں اپناخیال پیش کرتے ہیں بلکہ مسلط ہوجاتے ہیں۔
وہ لوگ بھی ہیں جو نوازشریف کی طرح زندگی بھر خود اسٹیبلیشمنٹ کے گھٹنوں نے نیچے سر کے تمام بال گراتے ہیں اور انڈے جیسے سر سے یہ بات نکلتی ہے کہ ریاست نے 70سال سے سازش کی ہے۔ پاکستان بن رہا تھا تو کچھ لوگ ہندوستان کی محبت میں تقسیم ہند کے مخالف تھے۔ ہندو بھی وطن کو ماتا سمجھ کر پوجتے ہیں، وہ بھی ہندو سے متأثر تھے بلکہ وطن سے محبت کا جذبہ فطری ہوتاہے لیکن ان پر ہندوؤں کے ایجنٹ کا الزام لگایا گیا۔ علامہ اقبال نے جمعیت علماء ہند ، دارالعلوم دیوبند کے مولانا حسین احمد مدنی کی سوچ کو ابولہب کا دین قرار دیا۔ آج یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وطن دشمنی کا سہرا بانیان پاکستان کے سر نہ باندھا جائے۔ فوج اپنا کوئی دماغ نہیں رکھتی۔ 1940میں پاکستان کے قرار داد مقاصد پیش نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا۔ ایک ٹھوس لائحہ عمل کے ذریعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم اُمہ کو ایک کرنیکی ضرورت ہے
ڈان لیکس پر ملعون نواز شریف یا جنرل راحیل شریف: قوم کو حقائق سے جلد از جلد آگاہ کیا جائے: اشرف میمن

نوشتہ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے آخری وقت میں ڈان لیکس کا معاملہ خبروں کی زینت بنا ۔ نواز شریف نے ایک بہت نازک وقت میں یہ الزام لگایا کہ فوج نے ہمارے خلاف ڈان لیکس کی سازش کی ہے۔ اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سازش کرنیوالے نواز شریف تھے یا جنرل راحیل شریف؟ ۔ جو بھی اس سازش کی لعنت میں ملوث تھا اس کو منظر عام پر لاکر قوم کے سامنے ننگا کیا جائے۔ تاکہ پھر کسی کو اس طرح سازش کرنے کی جرأت نہ ہو۔ لوگوں میں بھوک ، افلاس ، عزتوں کے تار تار ہونے ، جان و مال کے خطرات ، ظلم و جبر اور ستم کا سارا ریکارڈ ٹوٹ رہا ہے لیکن وہ یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں کہ بڑوں میں کون ملعون ہے اور کون نہیں ؟ اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے ہیں۔ عوام کو بیوقوف بنانا بند کیا جائے اور جلد سے جلد ان تمام رازوں سے پردہ چاک کیا جائے جن کو سازشوں کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر نواز شریف نے پاک فوج کیخلاف کوئی گھناؤنی سازش کی ہے تو عوام کے سامنے اس کو بے نقاب کیا جائے اور اگر فوج نے نواز شریف کے خلاف کوئی سازش کی ہے تو اس کو بھی بے نقاب کیا جائے ۔ الیکٹرانک میڈیا کے چینل تقسیم ہیں اور اپنے اپنے ایجنڈوں پر لوگوں کو چلاتے ہیں۔نواز شریف اور سیاسی قیادتوں کا جمہوری نظام صرف اور صرف اپنے اپنے مفادات کی خاطر ہے جس سے عوام الناس کو فائدہ نہیں۔
خادم حسین رضوی نے اربوں کے املاک کو تباہ کیا تو اسکا ذریعہ معاش کیا ہے: جسٹس فائز عیسیٰ

نوشتہ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سید ارشاد علی نقوی نے کہا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے بڑا اچھا کیا ہے کہ ایک قومی مسئلے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ختم نبوت کے مسئلے پر حکمرانوں نے اپنا اعتراف جرم نہ کیا ہوتا تو ملک میں کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں ہوسکتا تھا۔ بدقسمتی سے اس جرم میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پوری قومی قیادت بھی شریک تھی ۔ حکومت کی طرف سے راجہ ظفر الحق کو تحقیقاتی کمیٹی کا چیئر مین بھی بنایا گیا تھا اور راجہ ظفر الحق نے میڈیا پر بتایا کہ بہت ہوشیاری کے ساتھ ختم نبوت کیخلاف یہ سازش کی گئی تھی جس کو دھر لیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے بھی عدالت میں رپورٹ طلب کی تھی لیکن عدالت کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکالنے کی پوزیشن میں نہیں لگتی۔ اب یہ خبر کہ علامہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنیکا عدالت نے حکم دیا ہے۔ واضح کیا جائے کہ عدالتیں یہی شف شف کی رٹ لگائیں گی یا کبھی شفتالو بھی بولیں گی؟۔ پہلے ڈاکٹر فاروق ستار ، عمران خان اور جانے کون کون اشتہاری رہا لیکن عدالتوں نے ان کو گرفتار نہیں کیا۔ عوام کو اب یہ مذاق لگتا ہے کہ اشتہاری چھوٹو گینگ ، لیاری گینگ ، لشکر جھنگوی ،امامیہ والے ہیں یا کھلم کھلا جلسے جلوس کے سیاسی قائدین بھی اسی طرح کے اشتہاری ہوتے ہیں؟۔ جج ٹریفک پولیس کی طرح توہین عدالت کا پرچہ درج دیتی ہیں لیکن کیا سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اشتہاری قرار دینا ان کی توہین نہیں ؟۔ وضاحت کی جائے کہ اشتہاری کے الگ الگ اقسام ہیں یا یہ کوئی مذاق؟۔کیا سیاسی جماعتوں کیلئے امیر ترین ہونا بہت ضروری ہے تاکہ عدالتوں کے وکیلوں اور ججوں کے کام آئیں؟ ۔ اس پر تو قانون موجود ہے کہ مخصوص مقدار سے زیادہ الیکشن مہم میں پیسہ خرچ نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی قائدین خلاف ورزی کرتے ہیں اور ججوں نے کبھی بھولے سے ان کا نوٹس بھی نہ لیا ۔ اسپیکر ایاز صادق اور علیم خان کے مقابلے میں پچاس پچاس کروڑ سے زیادہ کا خرچہ کیا گیا اور جہانگیر ترین نے ایک ارب تک کا خرچہ کیا، مگرعدالتوں نے کوئی نوٹس نہ لیاغریب سیاست نہیں کرسکتا تو براہ مہربانی آئین کے آرٹیکل کا بھی ضرور حوالہ دیا جائے تاکہ غریب غرباء سیاست میں حصہ لیکر شرمندہ نہ ہوں۔
عمران خان اور طاہر القادری نے کونسے ذرائع سے پیسہ کمایا ہے اور کیا کاروبار کیا ہے جو علامہ خادم حسین رضوی پر تنقید ہورہی ہے؟۔ ایک نواز شریف کے پاس سیاست کی سند ہے تو اس کو ISIنے رقم دی تھی جس کا فیصلہ اصغر خان کیس میں بمشکل 16سال بعد ہماری تیز رفتار عدالتوں نے کیا۔ ماشاء اللہ چشم بددور۔ اس کا بھی تاحال شرمناک عدالتوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ افتخار چوہدری عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلٹ پروف گاڑی واپس کرنے سے بھی انکاری ہے۔ کیا مسجدوں کے امام اور خطیبوں پر انگشت نمائی اچھی روایت ہے؟۔ مسجد اور خطابت سے تو پھر بھی پیسہ مل جاتا ہے لیکن عوام کے ٹیکس پر جج عوام کو انصاف نہیں دیتے ہیں انکے منہ پر کسی دن ضرور کالک ملی جائے گی۔قرآن میں جھوٹی گواہی پر کہا گیا کہ ’’ اسکا دل گناہگار ہے‘‘۔ عدالت میں جان بوجھ کر غلط فیصلے کرنیوالوں کے چوتڑوں کو داغنے کا قانون بناناہوگا۔ عدلیہ وہ واحد ادارہ ہے جہاں ججوں کا اختلاف بھی ہوتا ہے اور غریب کو بھی داد رسی کیلئے دروازے کھلے ہوتے ہیں مگر بہت بدلنا ہوگا۔
ن لیگ پنجتن پاک ٹبر ہے: نواز شریف، مریم نواز، کلثوم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز

چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ کہا ہوگا کہ ’’حضرت عمرؓ جیسے لوگوں کی تلاش ہے‘‘۔ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، جب حضرت نبی کریم ﷺ حدیث قرطاس لکھوانا چاہ رہے تھے تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ پھر حضرت عمرؓ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو خلافت کیلئے ایک شوریٰ تشکیل دی اور اپنے بیٹے پر پابندی لگائی کہ وہ خلیفہ نہیں بن سکتا۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ اس وصیت میں نبی ﷺ حضرت علیؓ کو نامزد کرنا چاہ رہے تھے۔ ن لیگ کے نزدیک حفظ مراتب کیساتھ پانچ افراد ہیں ۔ اگر سینٹ میں انکی اکثریت ہو تو ان 52افراد کی فہرست بھی اب لوگوں کو بتادیں ۔ سینٹ الیکشن میں کامیاب نہیں ہونا تھا مگر حصہ لیا اور ناکام ہوئے تو پھر ووٹ کو عزت دینے کے بجائے تذلیل کردی
وزیر اعظم اور چیف جسٹس ناجائز دو گھنٹے خلوت صحیحہ پر مستعفی ہوجائیں: فیروز چھیپا

ڈائریکٹر فائنانس نوشتۂ دیوار محمد فیروز چھیپا نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے میمو گیٹ پر حسین حقانی کو امریکہ سے طلب کرلیا اور کہا کہ ’’سپریم کورٹ کی عزت کا مسئلہ ہے ‘‘ جبکہ نواز شریف نے کہا کہ ’’میمو گیٹ میں پیش ہونا میری غلطی تھی‘‘۔ نواز شریف کا کھلے عام میمو گیٹ میں پیش ہونا اتنی بڑی غلطی نہیں تھی جتنی وزیر اعظم عباسی کا چیف جسٹس سے ملنا ہے۔ اس ملاقات کی حیثیت خلوت صحیحہ کی تھی جس کا فقہی مطلب یہ ہے کہ نکاح کے بعد اگر شوہر سے بیوی ایسی خلوت میں ملے کہ سب کچھ یہ آپس میں کرسکیں اس پر خلوت صحیحہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد طلاق دی جائے اور خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو تو قرآن میں آدھا حق مہر اور عورت پر عدت فرض نہیں ہوتی۔ خلوت صحیحہ کے بعد عورت پر عدت شوہر پر پورا حق مہر فرض ہوتا ہے۔ یہ فقہ حنفی کا مسئلہ ہے جس پر زیادہ ترلوگ پاکستان میں عمل پیرا ہیں، اس خلوت صحیحہ سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے لیکن چیف جسٹس اور وزیر اعظم کی خفیہ ملاقات کا کسی صورت میں کوئی جواز نہیں تھا۔ وزیر اعظم کھلے عام میڈیا پر نواز شریف کے کیسوں کے حوالے سے چیف جسٹس اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا اور کسی چیف جسٹس ، جج ، مجسٹریٹ تو دور کی بات ہے گاؤں کے پنچایت کے کسی رکن و سربراہ کو بھی اس طرح سے متاثرہ فریق سے خلوت صحیحہ میں ملنے کے بعد اس کی ثالثی پر اعتماد نہیں رہ سکتا۔ چیف جسٹس نا اہل نواز شریف کے وکیل رہ چکے ہیں۔ عمران خان کو گھسیٹنے کے بعد ریلیف دینا اور جہانگیر ترین کو سزا دینا ایک منصوبہ بندی لگتی تھی۔ پھر اپنے کیس چھوڑ کر سندھ حکومت کے معاملات میں مداخلت اور پھر پنجاب کے ہسپتالوں کا رُخ کرنا عدالت نہیں سیاست لگتی ہے جو اپنے سابقہ کلائنٹ نواز شریف کو بچانے اور حقائق سے توجہ ہٹانے کی بظاہر منصوبہ بندی لگتی ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز میں ریلیف کے بعد چیف جسٹس کے ان ریمارکس کا نتیجہ بھی یہی نکلتا ہے کہ جو آپ نے نواز شریف کے حوالے سے میڈیا پر کھلے عام ذکر کئے کہ ہم تمہاری وجہ سے جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں وہ ہمیں پتہ لیکن یہ مشکلات وہی لگتے ہیں جو چیف جسٹس ثاقب نثار بابا رحمت بن کر اپنے سابقہ کلائنٹ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر برداشت کررہے ہیں، وزیر اعظم سے اس خفیہ ملاقات کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تو یہ ملک و قوم کیلئے اچھی مثال قائم ہوگی۔ وزیر اعظم کیلئے بھی استعفیٰ دینا زیادہ مناسب اسلئے ہے کہ جسکے کہنے پر ملنے گیا تھا وہ میمو گیٹ پر بھی اپنی غلطی کا اظہار کررہا ہے۔ عمران خان کی طرف سے جب چوہدری افتخار سے معافی مانگی گئی تھی پھر انکار کیا تھا تو اسکے وکیل حامد خان نے غیرت کا مظاہرہ کرکے کہا تھا کہ آئندہ عمران خان کا کیس نہیں لڑوں گا۔ اگروکیل سے زیادہ وزیر اعظم میں عزت نہ ہو تو یہ تاریخ کا سب سے بڑا الیمہ ہے۔ عمران خان کو تو بابر اعوان مل گیا جو آصف زرداری کے تقدس کی قسمیں کھاتا تھا۔ اب وہ عمران خان کی صفائی پیش کریگا۔
ہم بھی فرشتے نہیں انسانوں جیسے انسان ہیں مگر

ایک دن میں اپنی کار میں اکیلا ٹانک جارہا تھا۔ راستے میں ایک بوڑھا محسود پیدل جارہا تھا تو کسی واقف کار غالباً قاری نور اللہ محسود نے اس کو بھی اٹھانے کا کہہ دیا۔ میں نے پوچھا کہ پیدل کیوں جارہے تھے؟ ، بزرگ شخص نے جواب دیا کہ کرایہ نہیں تھا۔ مجھے دکھ ہوا اور جیب میں پڑے ایک دو ہزار روپے انکو دئیے تو وہ رونے لگا ،طالبان اور فوجیوں کو بد دعائیں دینے لگا کہ ہم غریبوں کو گھروں سے بھگادیا گیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ ٹانک سے وہ پہلے کسٹم گیٹ تک جو کئی کلومیٹر کا فاصلہ ہے پیدل گیا تاکہ وہاں اپنے واقف کاروں سے راشن لے لیکن وہاں وہ نہیں مل سکے تھے ۔ یہ چشم دید واقعہ ہے اور بچوں ، خواتین اور بزرگوں کی ان گنت کہانیاں ہوں گی جن کے تصور سے بھی دل لرز جاتا ہے۔ میرے اخبار کا تمام ریکارڈ دیکھا جائے جس میں ایک ہی بات کی تلقین ہوتی تھی کہ طالبان اور فوج ایسا ماحول نہ بنائیں جس سے آپس کا نقصان ہو اور لوگ بھی دربدر ہوں۔
پچھلے شمارے میں میرا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ منزئی اور بہلول زئی قبیلے ہی طالبان تھے اور شمن خیل صرف سیاسی ہیں۔ میرا مقصد منظور پشتون کیخلاف اس سازش کو ناکام بنانا تھا کہ منظور پشتون کو شمن خیل ہونے کی وجہ سے مسترد کیا جائے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان میں میرے دو دوست مولانا محمد امیر شمن خیل اور مولانا عبد اللہ نظر خیل تھے۔ مولانا محمد امیر افغانستان میں باغیوں کے ساتھ ہے اور مولانا عبد اللہ آج کل کوٹکئی میں سرنڈر طالبان رہنما بلکہ قائد ہے۔ دونوں پر مجھے یہ شبہ نہیں کہ وہ امریکہ ، بھارت اور پاکستان کے ہاتھوں بک سکتے ہیں بلکہ اپنے ضمیر کے مطابق جو درست سمجھتے ہیں وہی کررہے ہیں۔ دونوں طرح کی عوام کو درست ماحول فراہم کیا جائے تو اسلام اور ملک و قوم کیلئے بہترین کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ پاک فوج کے سپاہیوں اور افسروں کو جو حکم ملتا ہے انہوں نے اس پر عمل کرنا ہوتا ہے، بعض اوقات بدلتی ہوئی پالیسیوں کے نتیجے میں اپنے بھی بدظن ہوجاتے ہیں۔ جب شروع میں تعلیم یافتہ بیوروکریٹ ، سیاستدان اور صحافی کھل کر طالبان کی حمایت کرتے تھے تو فوج کے اندر بھی بڑے پیمانے پر ایسے عناصر کا ہونا بعید از قیاس نہیں تھا جو طالبان کے مشن کو درست سمجھ کر تائید کرتے ہوں۔
جب ہمارے ساتھ واقعہ ہوا ، طالبان نے 13افراد شہید کردئیے تو مجھے اس کی خبر ہوئی، میرا پہلا رد عمل یہ تھا کہ اب مجھے زندہ رہنے کا حق نہیں لیکن اطلاع دینے والے نے منت کی کہ نہیں آپ نے نہیں نکلنا۔ پھر دوسرے نے آکر مزید حوصلہ دیا کہ جو باقی بچے ہیں وہ بھی آپ پر قربان ہوجائیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ صورتحال ملاحظہ کرنے کے بعد جب میں نے کسی کو پہلی مرتبہ انہی لمحات میں خبر سنائی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ اب خلافت قائم ہوکر رہے گی تو مجھے کہا گیا کہ اب اس خلافت کا کیا فائدہ ہے؟۔ ماحول سے بہت کچھ بنتا اور بگڑتا ہے ۔ معاملہ کو مختلف پہلوؤں سے دیکھا جائے تو تضادات دور ہوجاتے ہیں۔ نیوٹن اور آئن اسٹائن کے نظریات میں تضادات تھے لیکن 14مارچ کو انتقال کرجانے والے سب سے بڑے سائنسی دماغ اسٹیفن ہاکنگ نے ان تضادات کو دور کرنے کا نیا نظریہ پیش کیا۔ مفلوج اسٹیفن ہاکنگ کیلئے کمپیوٹر کے ذریعے سے ایسے آلات لگائے گئے تھے جس سے وہ اپنا پیغام دنیا تک پہنچاتے تھے۔ اسٹیفن نے فلسطین کے مسلمانوں اور عراق کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف بھی احتجاج جاری رکھا۔
پاکستان میں ریاست کے فوائد غریب عوام تک پہنچانے کیلئے منظور پشتون کو وزیر اعظم اور ملک کے معروف شاعر شاکر شجا ع آبادی کو صدر مملکت کے عہدے پر بٹھایا جائے۔ شاکر شجاع آبادی کے خیالات کو عوام تک پہنچانے کیلئے اسٹیفن کے آلات کا اہتمام کیا جائے تو اس قوم کی تقدیر بھی بدلے گی۔ صدر مملکت کے مفلوج عہدے کو ایک مفلوج شاعر کے ذریعے سے بہت فعال بنایا جاسکتا ہے۔ محسود قبائل کے سب سے بڑے گھرانے کا سیاسی جانشین ہاشم خان عبدالائی محسود ہیں ، اگر منظور پشتون کو قومی اسمبلی کا ممبر اور ہاشم خان کو سینیٹر بنایا جائے تو محسود قوم بڑی خوشی سے اس جمہوری انقلاب کیلئے اٹھ کھڑی ہوگی۔ اس طرح سے وزیر اور داوڑ قبائل کے علاوہ بیٹنی اور سلمان خیل کے مستحق افراد کو زبردست نمائندگی دی جائے اور تمام پختونوں میں قیادت کے جھگڑوں کے بغیر ہم آہنگی پیدا کی جائے تو خون خرابے کے بغیر ایک پرامن انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ جن لوگوں کو سیاست ٹھیکے پر دیدی گئی تھی انہوں نے قوم کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اسطرح سے پنجابی ، بلوچ ، سندھی ،مہاجر ، کشمیری اور سرائیکی علاقوں اور عوام میں ایک نیا انقلاب آسکتا ہے جو ریاستی اداروں میں میرٹ کی بنیاد اور عوام تک ریاست کے فوائد پہنچانے کا اچھاذریعہ بن جائے۔ طبقاتی تعصب قوم کیلئے ہرسطح پر تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
منظور پشتون اور اسکے ساتھی اپنے لب و لہجے میں درشتی لانے کے بجائے اپنا مشن جاری رکھیں۔ اسلام آباد دھرنے کے بعد منظور پشتون نے فوج کی طرف سے مطالبات پر عمل کرنے کا ایک ویڈیو کلپ میں ذکر کیا ہے۔ جب بڑے جلسے ہوں تو بھی ان فوائد کو عوام کے سامنے رکھیں جس سے اعتماد کی فضا بڑھے گی۔ اس قوم نے جنت کے ٹکٹوں کے عوض بھی فوج کے آگے کھڑے ہونے کے بجائے اپنی دُم گھسیڑ رکھی تھی اور اگر پھر اس ڈگر پر ان کو لایا گیا تو یہ اپنے باشعور نوجوان طبقے کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ بلوچوں نے قومی حیثیت سے جس طرح کی قربانی دی اس کا پٹھان تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں لیکن نتیجہ میں اپنی قوم کو تباہ کیا۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ فوج سے کوئی شکایات ہوں تو برملا اس کا اظہار کیا جائے۔ ایک فائدہ اس کا یہ ہوگا کہ فوج کو پتہ چلے گا کہ کسی کو مرغا بنا کر اس میں انگلیاں ڈالنے سے اس کو راحت نہیں ملتی۔ اگر اظہار نہیں کرے گا تو کیسے پتہ چلے گا کہ اس کو تکلیف ہوئی ہے۔ پھر یہ ظلم و ستم اور جبر وبے عزتی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ فوج کا سپہ سالار حکم کرے گا تو فوج کے سپاہی دوسروں کو مرغا بنانے کے بجائے خود بھی دوسروں کو عزت دینے کیلئے مرغے بننے سے نہیں کترائیں گے۔ شعور کی لڑائی کو بے شعوری سے لڑنے کے بعد دنیا و آخرت میں کبھی سرخروئی نہیں ملتی۔
اسلام کے درست تصورات سے ایک ایسا پر امن انقلاب آسکتا ہے جس سے زمین و آسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کی تعلیمات کے تقاضے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے بڑی بنیاد بن سکتے ہیں۔ میرے وہ اساتذہ جنہوں نے مجھے عربی ، قرآن و سنت ، فقہ و حدیث اور اُصول فقہ کی تعلیم دی ہے وہ مجھے کان سے پکڑ کر سیدھی راہ پر لانے کے مجاز ہیں لیکن اگر میری بات درست ہو تو یہ حضرت مولانا یوسف بنوریؒ کے تقوے کا کمال ہے۔ عتیق گیلانی
منظور پشتون ،خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لو!
علامہ اقبال ؒ نے شکوہ میں بندے کی طرف سے شکوہ لکھتے ہوئے یہ جملہ لکھ دیا تھا اور پھر جوابِ شکوہ بھی لکھا تھامگر عام طور سے لوگ اس کو شکوہ، جوابِ شکوہ کے بجائے پہلے تعریف اور پھر خوب تنقید کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ میرا مقصد تنقید کرنا بھی نہیں ہے۔ البتہ جب انسان اللہ کے سامنے سجدہ کرتا ہے تو اپنی چوتڑوں کو آسمان کی طرف اٹھالیتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسری قوموں کے نزدیک یہ بڑی بدتمیزی بھی ہو لیکن عبادات کا منہاج سب کا اپنا اپنا ہے۔ میں جرمنی میں کسی گرجا میں گیا تاکہ ان کے طریقۂ تعلیم وتربیت اور عبادت کو دیکھ لوں۔ وہاں مجھے ٹوپی کو اتارنے کا کہا گیا اور یہ شاید ان کے بے ادبی ہو۔ ہمارے ہاں ننگے سر کو باز لوگ ادب کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ حج وعمرے میں احرام کی حالت میں بھی سر ننگا ہوتا ہے ۔ چین میں گیا توثناخوانِ تقدیس مشرق کے حامل بدھ مت مذہب کے افراد کو قبر یا قبر نما علامت پر سجدہ ریز ہوتے دیکھا۔ ہزار سال قبل ایک عربی عالم ابوالعلاء معریٰ گزرے ہیں جس نے اعلیٰ درجے کی صلاحیت پانے کے بعد ایک مایوسی کی زندگی کا آغاز کیا ۔ تمام مذاہب کو بشمول اسلام کے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے نام پر علامہ اقبال نے جو اشعار لکھے ہیں اس میں ’’ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات‘‘ کا ترانہ ہے۔ ابولعلاء معریٰ نے لکھا ہے کہ ’’ تمام قومیں ایک طرح کی ہیں ۔ یہود کہتے ہیں کہ خون بہانے سے ہماری مغفرت ہوگی۔ نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا مظلوم ہے اور مسلمان دور دور سے سفر کرکے پتھر مارنے اور چومنے کیلئے آتے ہیں‘‘۔ الحاد کی بنیاد بھی اسی شخص نے ہزار سال قبل رکھی تھی۔وہ کہتا تھا کہ ’’ انسان حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت کے مطابق نسیان سے ہے جس کا معنیٰ بھولنا ہے۔ حضرت آدمؑ کو جس درخت سے منع کیا تھا ، وہ اس حکم کو بھول گئے اور پھر جب زمین پر اتارے گئے تو جنت کی زبان عربی بھی بھول گئے۔ پھر ایک دور کے بعد زمین میں پھر سے یہ زبان وجود میں آگئی ہے‘‘۔
وزیرستان کے لوگ بہت آزاد منش تھے۔ زام پبلک سکول کے معروف ٹیچر عارف خان محسود نے وزیرستان پر باقاعدہ کتابیں لکھی ہیں۔ ایک زمانہ میں آپ پکے کیمونسٹ تھے۔ وزیرستان کے مرکز میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں ہاتھ اٹھا رہا ہوں اگر اللہ ہے تو میرے ہاتھ کو نیچے کرکے دکھادے، جب اللہ کا چہرہ ، اس کی ناک ، کان ، ہاتھ پیر اور کچھ بھی نہیں تو یہ ایک بوتل ہے‘‘۔ اس گستاخانہ تقریر پر لوگوں کے ہاتھ اپنے کانوں تک گئے مگر عارف خان محسود کو کسی نے گریبان سے پکڑنے کی جرأت نہیں کی، یورپ وامریکہ میں بھی آزادی کا یہ تصور نہیں تھا جو وزیرستان میں تھا، پھر عارف خان کو بعد میں فالج کا اٹیک ہوا جسکے بعد خودہی سچی توبہ کرکے سچے اور پکے مسلمان بن گئے۔ میرے خلاف کئی انواع واقسام کے غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈے کئے گئے لیکن کسی نے میرا راستہ نہیں روکا۔ پاکستان بھر کے علماء اور ٹانک کے سارے اکابر علماء میرے حامی تھے لیکن جب طالبان نے زور پکڑا تو ایک سے ایک شریف انسان کوشہید کردیا۔
مجھے میرے ایک بھائی نے کہا کہ’’ آپ جرأت کرلو اور ان دہشتگردوں کے خلاف کھڑے ہوجاؤ‘‘ میں نے کہا کہ مجھے پہلے اپنے بھائیوں کیخلاف جہاد کرنا ہوگا جو طالبان کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ جب میرے تعلیم یافتہ بھائی بھی طالبان کی حمایت کررہے ہیں تو زانگڑہ کے وہ محسود جنہوں نے سڑک تک نہ دیکھی ہو اس بین الاقوامی سازش کو کیا سمجھ سکتے ہیں؟۔ انہوں نے میری بات کو درست قرار دیدیا۔ ہمارے گھر میں 13 افراد کی شہادت سے پہلے مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ میرے بھائی اور عزیز وپڑوسی جان پر کھیل کر مجھ تک پہنچ گئے اورمجھے بحفاظت گھر تک پہنچادیا۔ اسکے بعد سے جب تک واقعہ نہیں ہوا تو ہم لوگوں نے خود ہی طالبان کو اپنے ہاں رکھا ہوا تھا۔ ٹانک شہر میں راکٹ لانچروں و میزائلوں کے حملے ہورہے تھے تو طالبان ہمارے ہاں پراٹھے کھاتے تھے۔ حادثہ میری وجہ سے ہوا یا یہ عوام کی بددعاؤں کا نتیجہ تھا ؟۔ اس کا جواب کسی موقع پر ملے گا۔
تحریک انصاف کے سرگرم کارکن اور آئی ایس آئی کے ایک موجودہ بریگیڈئر کے بھائی گلشا عالم خان برکی کو راستے میں دن دہاڑے طالبان نے اغوا کیا جس کا آج تک کوئی اتا پتہ نہیں چل سکا۔ کانیگرم کی برکی قوم نے جلوس کی شکل میں جاکر بیت اللہ محسود و غیرہ سے پوچھا لیکن انہوں نے اپنی لا علمی اور لا تعلقی کا اظہار کیا۔ کوٹکئی جنوبی وزیرستان کے ملک خاندان محسود اور وانہ کے مرزا عالم وزیر کو شہید کردیا گیا تو بہادر محسودوں نے دُم گھسیڑی ہوئی تھی۔ شکئی کے قاری حسن وزیر کو شہید کیا گیا تو ان کی مسجد کی بیٹھک میں ایک شہید صحافی غالباً میر نواب کے چچا کا کہنا تھا کہ وزیر تو شروع سے بے غیرت ہیں مگر محسود جو گالی پر قتل کردیتے تھے وہ بھی سب کچھ دیکھتے ہوئے اپنی آنکھوں کو بند کررہے ہیں۔ انسان غلطی کا پتلا ہے اور پاک ذات صرف رب کی ہے جونہ کھاتا ہے اور نہ پیشاب اور پوٹی کرتا ہے۔ اس کو سجدہ کرنے کا فائدہ اس وقت ہے جب انسان صدق دل سے صرف اسی ہی کو سبحان ربی الاعلیٰ اور سبحان ربی العظیم پکارے اور خود کو نہ سمجھے۔
انسان کے پاس دکھانے کیلئے چہرہ ہے جس سے وہ دیکھ اور بول سکتا ہے۔ اور اس کے پاس چوتڑ بھی ہے جس کو جائے ضرورت میں چھپا کر کھولتا ہے ۔ فوج ہو یا پختون قوم سب نے اپنی اپنی جگہ بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور اگر صرف اور صرف دوسرے کے عیوب کو آشکارا کیا گیا تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ وہ لوگ بھی ہیں جو اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ نقیب اللہ محسود اور راؤ انوار کا قصہ کوئی ڈرامہ نہ ہو جس کو بڑے پیمانے پر اچھالا گیا ۔ ڈان نیوز کے وسعت اللہ خان نے اپنے پروگرام میں ڈان اخبار کی رپورٹ بتائی کہ جہاں نقیب دکان خریدنا چاہتا تھا اس کی مالیت 3 کروڑ تھی ۔ نقیب 90لاکھ دے چکا تھا اور بقیہ رقم کیلئے اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ ورثا کو دکھانے کے لائق نہیں رہا تھا تو اس کو پولیس مقابلے کے نام پر قتل کیا گیا۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ طالبان لڑکوں کو بھی بد فعلی کیلئے اپنے پاس رکھتے تھے۔ جن غریبوں کے پاس صبح شام کا کھانا نہ ہوتا تھا ان کے پاس جو اتنی بڑی دولت آئی تھی جس کا خمیازہ پاکستان بھر کے لوگوں کے علاوہ خود پختون قوم کو بھی خود کش ، بھتہ خوری، چوری اور سینہ زوری کی صورت میں بھگتنا پڑتا تھا۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھی چوہدری افضل حق ؒ نے ’’حسن لا زوال‘‘ کے عنوان سے ایک قصہ لکھا ہے جس میں ایک کردار کو بھیانک پیش کیا جاتا ہے تو لوگوں کو اس کی شکل بھی منحوس لگتی ہے اور پھر منظر بدلتا ہے اور اس کو معصوم بنا کر پیش کیا گیا تو لوگوں کو وہ خاتون فرشتہ صفت دکھائی دینے لگی۔ اللہ خیر کرے۔
پاکستان کی ریاست اور سیاسی قیادت کا حال

شیخ رشید، امیر مقام،فواد چوہدری، دانیال عزیز، بابر اعوان، جان اچکزئی، مشاہد حسین سیداور ، اور اور بہت سے سیاسی قائدین اور رہنماؤں نے کس کس کی گھاٹ کا پانی نہیں پیا ہے۔ عورت کیلئے طلاق اور خلع کے علاوہ بدکاری کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو وہ احتجاج کرتی ہیں کہ عورت کیوں نشانہ بنتی ہیں اسلئے طلاق ،خلع اور بدکار عورت کے بجائے ملوثی کا لفظ زیادہ موزوں لگتاہے۔ قرآن میں زنا کار مرد اور عورت کیلئے برابر کی سزا کا حکم ہے اور اگر مرد آپس میں برائی کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت دینے کا حکم ہے ، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ مغفرت والا ہے۔یورپ اور مغرب میں جنسی آزادی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ اسلئے وہاں اس جرم کو جرم تصور نہیں کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں پارٹیاں بدلنا، وعدوں کی تکمیل نہ کرنا اور سیاسی مؤقف بدلنے کے دور سے گزر رہی ہیں۔ اخلاقیات تباہ ہوگئے ہیں اور اس صورتحال میں سیاسی قیادت کا بحران اور ریاست کا فقدان بڑا خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ شیخ رشید جیسے لوگ رات کو برملا کہتے ہیں کہ میں جمہوریت اور پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں اور یہ ہے میرا استعفیٰ ۔ عمران خان بھی اس کی بھر پور تائید کردیتے ہیں ۔ اس جلسے میں زرداری نے بھی شرکت کررکھی تھی اورڈاکٹر طاہرالقادری میزبان تھے۔ علامہ طاہر القادری نے کہا کہ ’’ یہ محفل شیخ رشید نے لوٹ لی‘‘۔ پنجاب میں ناچ گانے والی ہوتی ہیں اور پختونخواہ میں لڑکوں اور مردوں سے یہ کام لیا جاتا تھا۔ گویا رنڈی کا نعم البدل ہوتا تھا۔ شیخ رشید نے ساری زندگی جمہوریت کی خدمت میں گزاردی اور آخر کار اس پر لعنت بھیج کر بڑی داد بھی حاصل کرلی مگر افسوس کہ دوسرے دن پھر چوتڑ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں یہ لعنت والا کام جاری رکھوں گا۔
یہی حال پارٹیاں بدلنے والے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔ کیا ایسے لوگ فوج یا سیاستدان کے مورال کو بلند رکھ سکتے ہیں؟۔ عوام کے اندر صرف طاقت اور پیسے کی بنیاد پر زندہ ریاست اور سیاسی قیادت غریب عوام کی غربت میں ڈوب مری ہے لیکن اس کی آنکھوں میں شرم وحیاء کی چمک ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ژوب، قلعہ سیف اللہ اور کوئٹہ میں قیادت کی پیاسی عوام نے منظور پشتوں کا بھرپور استقبال کیا اور جو لوگ جلسہ میں نہیں پہنچ سکے تھے وہ جلسے کا احوال سن کر پیاسے ہوگئے کہ اس منظر کو دیکھنے سے کیوں محروم رہ گئے؟۔ اس جلسے میں ایک درد، ایک ولولہ اور حقیقی قیادت تھی۔ بلوچ رہنما اور ہزارہ برادری کی شیعہ رہنما نے بھی اپنے خطاب کے جوہر سے عوام کا لہو گرمایا اور اپنے ان جذبات کا اظہار کیا جس کا وہ پہلے اپنے خفیہ محافل میں کرتے ہونگے۔الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ کوئٹہ میں انٹرنیٹ بھی بند کیا گیا تھاتاکہ جلسے کی کوریج نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی لوگ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ جمعیت علماء اسلام آئینی کے مولانا عبدالقادر لونی اور محمود خا ن اچکزئی کے بھیجے گئے نمائندے کو بھی شرکاء کی طرف بہت سخت ردِ عمل اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عوام علماء اور قوم پرستوں سے بہت بیزار ہوچکے ہیں۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن عوام کویہ احساس دلایا گیا کہ اسلام کے نام پر دھوکہ دیا گیا ۔ تحریکِ نظام مصطفی کے وقت بھی قومی قیادت نے نعرہ لگایا تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی اسلام کا نعرہ لگایا تھا۔ طالبان نے بھی اسلام کا نعرہ لگایا تھااور متحدہ مجلس عمل نے بھی اسلام کا نعرہ لگایاتھا۔ میں جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا۔ غالباً 1984ء کا سال تھا جب طلبہ میں ایک جماعت ’’جمعیۃ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘کی بنیاد رکھی۔ میری پوری کوشش تھی کہ صدر کسی دوسرے کو منتخب کیا جائے کیونکہ صدر سے زیادہ کارکن کے طور پر کام ہوسکتا ہے مگر میری یہ کوشش ناکام ہوئی۔ میں نے کبھی جمعیت طلبہ اسلام اور علماء اسلام کی رکنیت کے طور پر بھی کام نہیں کیاہے لیکن ایک کارکن اور رہنما سے زیادہ اس کیلئے کام کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مولانا فضل الرحمن بنوری ٹاؤن میں آتے تھے تو جمعیت طلبہ کا کوئی کارکن ہاتھ ملانے کی جرأت نہیں کرسکتا تھااور کسی رہنما کو ساتھ آنے کی جرأت نہ ہوتی تھی یا ساتھ لانا حکمت کے تقاضے کے منافی سمجھا جاتا تھا اور میں مولانا کو عزت دینے کیلئے ساتھ چلتا تھا۔ ممکن ہے کہ وہ خوفزدہ بھی ہوں کہ تعاقب کرنے والے کے کچھ اور مقاصد تو نہیں ہیں۔ تصویر کو ناجائز سمجھ کر میں شناختی کارڈ پھاڑ چکا تھا لیکن مولانا فضل الرحمن کو ووٹ دینے کیلئے شناختی کارڈ بنا ڈالا۔ مولانا حق نواز جھنگوی انجمن سپاہ صحابہ کے بانی و قائد تھے اور جمعیت علماء اسلام پنجاب کے نائب امیر بھی تھے۔ جب سپاہ صحابہ کے قائد شہید ہوگئے تو ایسا دن بھی آیا کہ ان کا نعرہ آگے بڑھا اور یہانتک پہنچا کہ ’’ کافر کافر شیعہ کافر اور جو نہ بولے وہ بھی کافر‘‘۔ میں نے 1992ء کے ابتدائی سال میں کتاب ’’ عروج ملتِ اسلامیہ کا فیصلہ کن مرحلہ‘‘ لکھ ڈالی اور اس میں تمام مذہبی فرقوں کے اتحاد کے علاوہ یہ بھی لکھ دیا کہ ’’ سپاہِ صحابہ کا ہدف صرف مولانا فضل الرحمن کیوں ہے؟۔ سعودیہ کے بادشاہ اہل تشیع کو حرم میں آنے دیتے ہیں ، یہ فتویٰ ان پر کیوں نہیں لگایا جاتا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن کے اسٹیج سے مولانا حق نواز جھنگوی شیعہ کافر کا نعرہ بھی نہیں لگاتے تھے تو اپنے قائد سے انحراف ہے‘‘۔ پھر وہ وقت آیا کہ جمعیت علماء اسلام ف اور س کے دونوں دھڑوں کو الیکشن کے موقع پر ایک ساتھ جلسے کیلئے جمع کرنیوالا عتیق الرحمن دونوں کے فتوے کا نشانہ بن گیا اور فتویٰ نہیں تھا ایک خط تھا جو قاضی عبدالکریم مرحوم نے اپنے شاگرد مولانا شیخ شفیع کے نام لکھ دیا تھا کہ ’’جس شخص کی آپ عوام کے اندر تقاریر اور تحریرات کے ذریعے حمایت کررہے ہیں ، اس سے مجھے بڑا افسوس ہوا، اسلئے کہ عتیق الرحمن کی طرف سے مہدی وغیرہ کی بات مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ شیعہ کوکافر قرار دینے پر اجماع ہے اور یہ شخص اس اجماع کا منکر ہے اسلئے گمراہ ہے۔دوسرے لوگ جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما تو قادیانیوں کا بھی استقبال کرینگے‘‘۔ جس کو مولانا شفیع نے تسلیم کرنے سے انکار کردیالیکن جمعیت علماء اسلام ف کے رہنماؤں نے الجواب صحیح لکھ دیا۔ یہ فتویٰ خود ہی انہی پر لگ رہا تھا اور مولانا فضل الرحمن ہمارے اخبار کے پرچے کو سائیڈ کی جیب میں رکھ کر علماء کرام پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ تم نے ایسی حمایت کیوں کی ہے؟۔ مولانا عبدالرؤف نے جرأتمندانہ بیان دیا تھا کہ قاضی عبدالکریم ان بھونڈی حرکتوں سے باز آجائے اور عتیق گیلانی سے کہتا ہوں کہ
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے
مولانا عبدالرؤف نے مولانا فضل الرحمن سے کہا تھا کہ چھپ کر وار کرنے کے بجائے اگر عتیق گیلانی میں کوئی غلطی ہے تو ہم سیدھا کردیں گے۔
منظور پشتون کیلئے اعتدال کی راہ پر چلنا ضروری

محسود کے تین قبائل میں بہلول زئی اور منزئی بہادری اور شمن خیل سیاسی طور پر زیادہ سمجھدار شمار ہوتے ہیں، منظور پشتون نے اپنی شناخت محسود نہیں پشتون رکھ کر پشتون عوام کے دل جیت لئے۔ اسلام آباد دھرنے میں محسودوں کی اکثریت نے اس تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی اور علیحدہ ہونے والے قبائلی ملکان اور علماء تھے۔ منظور پشتون نے پشاور ہی میں تحریک کا نام محسود تحفظ موومنٹ سے بدل کر پشتون تحفظ موومنٹ کردیا تھا۔ جس کا ہمیں انٹرویو سے پتہ چلاہے۔محسود اور وزیر بڑی تعداد میں آئے تھے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعدیہی فیصلہ ہوا تھا کہ’’ دھرنے کو ختم کردیا جائے‘‘۔ منظور پشتون نے قبائلی ملکان اور علماء کے سامنے یہ گزارش رکھی کہ’’ بہت سارے دیگر لوگ بھی ہماری داد رسی کیلئے یہاں پہنچے ہوئے ہیں، رات کی تاریکی میں دھرنا ختم کرنے پر لوگ کیا سمجھ لیں گے کہ کیوں راتوں رات دھرنا ختم کیا گیا؟۔یہ بہت غیر اخلاقی بات ہے کہ ہم اپنی مدد کیلئے آئے ہوئے لوگوں کو آگاہ کیے بغیر چلے جائیں ‘‘۔ لیکن ملکان اور علماء نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد اپنا اخلاقی فرض یہی سمجھ لیا کہ دھرنے کو ختم کیا جائے۔ راتوں رات اسٹیج جو پہلے سے ٹرالر پر بناتھاہٹا دیا گیا۔ بڑی تعداد میں لوگ چلے گئے۔ دوسرے دن مایوسی کی ایک فضا تھی خوف کا عالم تھااور دھرنے میں شریک تھوڑے سے لوگوں کو حضرت زینب کی طرح ہی شام غریباں کے لوگوں کو صرف حوصلہ دینا درکار تھا جو اپنی شکست، خوف اور مایوسی کوتسلی کا ذریعہ سمجھتے۔ کراچی سے اسلام آباد دھرنے میں شرکت کا مقصد تحریک کی کامیابی کیلئے اعتدال کا رستہ بتانا تھا۔ گہماگہمی کے عالم میں تین دن تک دھرنے والوں کے پاس گیا۔ سوشل میڈیا پر سب سے مقبول ایکٹویسٹ اور اس تحریک کے روح رواں اختر وزیر سے پہلے دن ملاقات ہوئی، جب دھرنے کی تقاریرکا سلسلہ ختم ہوچکا تھا۔ مختصر ملاقات میں میں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ لڑنے کا طریقۂ کار غلط ہے، کسی بھی تحریک کیلئے عوام کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن میں ہے کہ ’’ کھلی ہوئی فحاشی پر بیوی کو گھر سے نکالا اور اس کا خود نکلنا درست ہے‘‘۔ اور قتل کے بجائے لعان کرنے کا حکم ہے مگر مسلمان آج تک اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے انکاری ہے۔ بیوی کو قتل کردیتا ہے لیکن جب مفتی فتویٰ دیتا ہے کہ ’’حلالہ کی لعنت ضروری ہے تو وہ مسلمان بے غیرت بن کر اپنی بیگم خود ہی پیش کردیتا ہے‘‘۔ اگر قوم کے اندر شعور آگیا تو وہ بڑی قربانی دینے کیلئے بھی تیار ہونگے اور اگر ان کو صرف لڑانے کی بات کی گئی تو وہ آپ کو اکیلا ہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ مجھے دوسرے دن اختر وزیر نے آنے کی دعوت دی اور کہا کہ اپنے خیالات پیش کردیں لیکن دوسرے دن موقع نہیں دیا گیا، تیسرے دن بلایا گیا اور پھر موقع نہیں دیا گیا، اسٹیج پر موجود ایک جواں کی آنکھوں میں آنسو آئے جو کہہ رہا تھا کہ ’’آپ لوگوں نے بھی تکلیف دیکھی ہے لیکن جو ہم پر گزری ہے جس طرح خواتین کی بے عزتی کی گئی اور جس طرح بزرگوں اور بچوں کیساتھ ہوا ، وہ بہت تکلیف دہ تھا‘‘۔ میں نے اپنے خاندان کی مشکلات کو سامنے رکھ کر کہا کہ واقعی محسود قوم نے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے تو دوسرے پختون بھائی نے کہا کہ ہمارا بھی یہی حال ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ سب کے ساتھ ہوا تھا مگر محسود قوم نے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ پھر رات کو پتہ چلا کہ دھرنا ختم ہوا ہے لیکن قبائلی عمائدین سے میں نے کہا کہ دھرنا کس نے ختم کیا؟ وہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے ختم کردیا۔ میں نے کہا کہ دھرنا دینے کا محرک جوان طبقہ تھا اور دھرنے کو ختم کرنا یا نہ کرنا انہی کا کام ہے۔ پھر یہ دھرنا ختم نہیں ہواہے۔
جب شام کو میں پہنچا تو شامِ غریباں کی کیفیت تھی۔ مجھے ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ کا نعرہ اسلئے لگانا پڑا کہ پست حوصلوں کو بلند کرنا تھا اور خوفزدہ لوگوں کے دلوں سے خوف نکالنا تھا،مجھے ریاست اور تحریک کے درمیان دلالی کرنے کا شوق نہیں تھا لیکن دونوں میں اعتدال پیدا کرنا تھا۔ جب تحریک کا مورال ڈاؤن ہوا تو میں نے اس کی اُٹھان کو ضروری سمجھا۔ جن ملکان اور علماء نے اس تحریک کی سرپرستی کرنی تھی وہ بھاگ چکے تھے البتہ اس تحریک کی اصل لگام تو جوان اور تعلیم یافتہ طبقے کے ہاتھ میں ہی تھی ،جنکے پاس تجربے کی بہت کمی تھی اور اس خلاء کو پُر کرنیوالاطبقہ بھاگ چکا تھا۔ مجھے اسٹیج پر اطمینان کیساتھ بولنے بھی نہیں دیا جارہاتھا۔ میں صرف یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ دھرنے کے شرکاء کا درد ریاست تک پہنچے کیونکہ مقررین اپنے اپنے مقاصد بیان کرکے چلے جاتے تھے۔ میری چاہت تھی کہ اعتدال اور پُر اَمن طریقے سے درست سمت اور درست نعرے کی بنیاد پر یہ تحریک اپنا سفر جاری رکھے۔ صرف پختونوں کی ہی نہیں بلوچ، سندھیوں اور پنجابیوں کی مشکلات کا حل بھی یہی جوان تلاش کریں۔ خواتین کی طرح اپنے غم کا بین بجانے کی طرح ماتمی جلوس نکالیں گے تو قیامت تک بھی ان کی مشکل ختم نہ ہوگی۔ اپنے دکھوں پر اُف کرنے کی بجائے دوسروں کے غم میں برابر کے شریک ہونگے تو یہ مردانہ وار امامت کے قابل بن جائیں گے۔
منظور پشتون نے بھاگے ہوئے عمائدین کے بارے میں بہت خوبصورت انداز میں کہا کہ ’’وہ ثالث تھے جو چلتے بنے‘‘۔ منظور پشتون نے وزیراعظم سے جو باتیں کی تھیں وہ بھی ریکارڈ پر لانے کی ضرورت ہے۔ قبائلی ملکان اور علماء صرف زیارت کرنے کو بھی طواف سمجھ کر سعی کرنے لگتے ہیں۔ منظور پشتون نے اچھے انداز میں کہا کہ ’’ وزیراعظم صاحب! مجھے اپنے بزرگوں سے حیاء آتی ہے اگر انکا احساس نہ ہوتا تو میں تمہارے قدموں میں گرجاتا اور اس وقت تک لپٹا رہتا کہ جب تک میری قوم کے مشکلات کا حل نہ نکالتے۔ ہمیں سکولوں، سڑکوں اور ترقی کی ضرورت نہیں ہے ، بس ہماری عزتِ نفس بحال کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ یہی مطالبہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی امریکہ سے کیا تھا۔
ہمیں وہ دن یاد ہیں کہ جب دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانیوالوں کی عمران خان اور نوازشریف و شہباز شریف کی طرف سے مذمت بھی نہیں ہوتی تھی، میڈیا ریکارڈ دیکھا جائے ،زیادہ سے زیادہ صرف اور صرف افسوس کا اظہار کرتے تھے۔شکر ہے آج جب قائدین کو جوتے پڑ رہے ہیں تو مذمت کی توفیق مل جاتی ہے وہ بھی اس خوف سے کہ آج کسی مذہبی جماعت کے جذباتی نوجوان نے نوازشریف کو جوتا دے مارا ہے تو کل کسی گلوبٹ کی طرف سے ان پر بھی پڑ سکتا ہے۔وزیرستان تباہ ہوا لیکن کسی نے دکھ کا ایسا اظہار نہیں کیا اور جب سینٹ الیکش حکومت ہار گئی تو گویا مردہ بچے جننے والوں کی صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔


