پوسٹ تلاش کریں

مشرف کیساتھ ڈیل کی طرح نواز شریف عدالتی فیصلے پر خوش اور شرمندہ ہیں، اشرف میمن

panama-leaks-pakistan-pervez-musharraf-hudaibiya-paper-mill-hazrat-umar-hazrat-abubakar-syed-atiq-ur-rehman-gilani

نوشتۂ دیوار کے پبلشراشرف میمن نے کہا کہ جمہوری نظام شخصیت پرستی نہیں مشاورت سے امور طے کرنے کا نام ہے۔ نوازشریف کے جو مالی سکینڈل میڈیا پرآئے۔کچھ اخلاقی قدریں ہوتیں تو شریف فیملی کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ تھی، اقامہ کی ملازمت ہم جیسا بھی وقار کیخلاف سمجھے ۔بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لینے کی بات بھی بے شرمی ہے۔ مغربی جمہوریت سے بڑھ کر ہمارا اسلامی نظام ہے۔ شکست میں صحابہؓ کے پیر اکھڑ گئے، فرمایا: ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’اورمحمد کیا ہیں؟۔مگرایک رسول ، آپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے ، اگر آپ فوت ہوں یا قتل کیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھروگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے تلوار اٹھائی جوکہے کہ آپﷺ کا وصال ہوا تو اسکی گردن اڑادوں گا، حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو آپﷺ فوت ہوچکے، جو اللہ کو پوجتا ہے تو وہ زندہ اورپر موت طاری نہیں ہوتی۔ صحابہؓ کی حددرجہ عقیدت اور نظریاتی پختگی نے دنیا میں عرو ج پر پہنچادیا۔ کوئی نااہل وزیراعظم سے پوچھتا، پارلیمنٹ میں کہاکہ سعودیہ کی فیکٹری بیچ کرلندن فلیٹ خریدلئے جسکے تمام ثبوت موجود ہیں۔ اگر عدالت میں پیش نہ کرسکے تو کارکنوں کو بتادو۔ بیٹے سے تنخواہ نہ لینا ثبوت ہے کہ باپ بیٹے میں مالی تفریق نہیں۔ اقامہ نہ کاروبار بلکہ کالا دھن سفید کرنیکا دھندہ تھا۔ ٹرائل میں تیرا کیا بنے گا؟، کالیا!۔ میڈیا اپنے پیسے سے تجھے ماردیگی ۔
بقیہ نمبر1 : نوازشریف کا کردار: اشرف میمندانیال ، طلال ، گلوبٹ، مولانا فضل الرحمن، میر شکیل الرحمن کو نوازشریف سے کیا عقیدت ہے؟۔ روزروزپارٹی ،موقف اورقبلے بدلنے والوں سے توقعات وابستہ رکھی جاسکتی ہیں؟۔
جمہوریت کیلئے مغرب کی طرف نہ دیکھو۔ اسلام جمہوری عمل کا بڑابنیادی ڈھانچہ ہے۔ نبیﷺ چچازاد و داماد حضرت علیؓ کو اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتے تھے۔ خفیہ نہیں کھلم کھلا اعلان کردیا :من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ’’جس کا میں مولا ہوں یہ علی اسکا مولیٰ ہے‘‘۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ رسول ﷺ پر یہ وحی تھی ۔ وماینطق عن الھوی الا وحی یوحیٰ ’’آپ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے مگر جو وحی کی جاتی ہے‘‘۔ شیعہ نے مغالطہ کھایا ہے۔ اللہ کاحکم تھا کہ وشاور ھم فی الامر ’’ان سے خاص امر میں مشاورت کریں‘‘۔
علیؓ کامولیٰ ہونا وحی نہیں ۔ آپﷺ کی یہ خواہش ضرور تھی جس کا برملا اعلان کردیا۔ پھر نبیﷺ نے قلم اور کاغذ منگواکر فرمایا کہ ’’ میں ایسی وصیت لکھ دیتا ہوں کہ میرے بعد گمراہ نہ ہوگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہاکہ ’’ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ علاوہ ازیں نبیﷺ نے فرمایا: میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی سے تھاموگے کبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیت‘‘(مسلم، ترمذی)
رسول اللہﷺ کے وصال پر قریب تھا کہ انصار وقریش میں خلافت پر جھگڑا ہوجاتا۔ حضرت ابوبکرؓ ہنگامی بنیاد پر منتخب ہوئے۔ آپؓ نے حضرت عمرؓ کواپنے بعد نامزد کردیا۔ شوریٰ نے حضرت عثمانؓ کو نامزد کردیاتھا اور حضرت علیؓ کے وقت حالت بہت بگڑچکی تھی۔ حضرت حسنؓ دستبرداراور حضرت حسینؓ نے کربلا میں شہادت پائی۔ حضرت علیؓ کی سخت اپوزیشن اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ نے کی۔ حضرت امام حسنؓ نے خود مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ اسلامی جمہوری معاشرے کی بنیاد تھی کہ عوام کا دل رسول اللہﷺ کی عقیدت سے لبریزتھا مگر خلافت راشدہ کااقتدار متفرق شخصیات اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے حضرات کے ہاتھ میں رہا۔ جوں جوں اسلام کی روح اُمت کی اجتماعیت سے نکلتی چلی گئی توں توں آمر کے خانوادے بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی خلافت کی شکل میں آگئے۔ علماء ومشائخ نے بھی اسلام سے دور ہوکر نالائق نا خلف اولاد کو اپنا جانشین بنانا شروع کردیا۔نبیﷺ نے علم کی میراث چھوڑی، مدینہ العلم کا باب بہترین قاضی کاخانوادہ بھی مسند سے محروم رہاتھا۔
مسجد،مدرسہ، خانقاہ ،مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں اور جماعتیں شخصی ملکیت نہیں خاندانی تسلط کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ نے جماعت اسلامی کو موروثی رنگ نہیں دیا۔ دارالعلوم دیوبند میں بھی موروثی نظام نہیں۔ قاری طیبؒ نے بیٹے مولانا سالم قاسمی کو مہتمم نامزدکیا تومزاحمت ہوئی پھردارالعلوم دیوبند بٹ گیا۔ تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ کے بعد مولانا یوسفؒ نہیں مولانا احتشام الحسنؒ ؒ کوامیر بنادیتی تو تبلیغی جماعت انقلاب لاچکی ہوتی۔ اب حاجی عبد الوہاب کا مولانا الیاسؒ کے پوتے یا پڑپوتے سے جھگڑابھی چل رہاہے۔
مذہبی وسیاسی جماعتوں ، مدارس، مساجد، خانقاہوں ، سماجی تنظیموں میں خلافتِ راشدہ کے طرز پر تبدیلی آجائے تو بہتری آسکتی ہے۔ رسول ﷺکے اہلبیت سے بہتر خانوادہ تھا؟، مگر حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کا تعلق بنی ہاشم سے نہیں تھااور مشکل صورتحال میں حضرت علیؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے کردار ادا کیا۔پاکستان میں مذہبی وسیاسی جماعتوں اور اداروں کا رول ماڈل اسلام ہو۔
شریف خاندان کو مشکل کا سامنا تھا تو جاوید ہاشمی نے قربانی دی۔ نواز شریف نظریاتی ہے تو سیدیوسف رضا گیلانی کیخلاف کیوں گیا تھا ؟ اب کیا اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا یا یہ بھائیوں کا جھگڑا ہے۔ فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر کو باقاعدہ وضاحت کرنا چاہیے کہ سیاست ن لیگ یا ش لیگ کا داخلی معاملہ ہے۔مشہور ہے کہ خوشحال خٹک سے اسکی ماں نے کہا تھا کہ بیٹا تیری زبردست شخصیت ہے لیکن اگر قد تھوڑا سا لمبا ہوتا۔ خوشحال نے اس کا یہ جواب دیا کہ ماں جی! میرا قد بالشت بھر مزید چھوٹا ہوتا لیکن کسی خٹک سے مجھے نہ جنا ہوتا۔کیا خواجہ آصف بھی کہے گا کہ’’ جتنی بھی پاک فوج کی مخالفت میں سر پھوڑی کروں مگر بات نہیں بنتی اسلئے کہ ماں نے اس باپ سے جننا، جو جنرل ضیاء کے شوریٰ کا چیئرمین تھا۔ میراقائد نوازشریف ہے جس کی ہڈیوں کا گودا بھی مارشل لائی ہے ، چوہدری نثار کا دوست شہبازشریف مسلط کردیا ۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ جیو اور چاپلوس صحافی ہمیں کتنا دھکیل دیں، عاصمہ جہانگیر کم بخت مرتی بھی نہیں، انوشہ اور تہمینہ کی چوڑیاں نواز اور شہباز کو پہنادو مگر سچ نہ بولیں گے ۔ معاہدہ کرکے سعودیہ جانے پر خوش اور شرمندہ تھے تو اب بھی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے‘‘۔
خواجہ آصف منہ پھٹ قائد کو کھری کھری سنائے تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ ایمان ،اسلام ، پاکستان اور سیاستدان کا یہی تقاضہ ہے۔

قانون سے کوئی بالاتر نہیں. عاصمہ جہانگیر کا بیان اور تبصرہ

asma-jahangir-gulu-bat-shahbaz-sharif-model-town-case-army-chief-javed-qamar-bajwa-syed-atiq-ur-rehman-gailani

عاصمہ جہانگیر کی بات 100%درست ہے کہ اگر فوج کی طرف سے تحفظ کا یقین نہیں ہوتا تو ججوں نے نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ نہیں دینا تھا۔ واقعی نہیں دے سکتے تھے اگر عدلیہ کی پشت پر ریاست کی قوت نہ ہو تو بوڑھے ججوں کے اندر مولا جٹوں ، گلوبٹوں اور موٹے گینگ نکٹوں سے کشتی کرنے کی صلاحیت تو نہیں !۔ ضعیف العمری و ییرانہ سالی میں محترمہ سٹیا گئیں یا مُلا کی طرح معاوضے کی آذان دے رہی ہیں؟۔ نوازشریف، شہبازشریف اور تمام ن لیگی رہنما عدالت کیخلاف سینہ سپر تھے۔ آرمی چیف کی وضاحت درست تھی کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آیاتو قابلِ عمل ہونا چاہیے۔ کیا آرمی چیف اور نوازشریف کے رشتہ دار آئی ایس آئی چیف یہ کہتے کہ نوازشریف ہمارا لاڈلہ بچہ ہے ، بگڑا ہوا ہے تو کیا ہوا؟۔ ماڈل ٹاؤن کی پولیس کے ہمراہ گلو بٹ نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے ڈنڈا برسایا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے ، گولی کا نشانہ بننے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں زخمی، معذور اور 14شہید ہوگئے۔ کیایہی نوازشریف کو ملنے والے فوجی بٹ مین بھی ادا کرتے تو اچھا ہوتا؟۔
آپ چاہتی کیا ہیں؟۔ کرپشن پر پہلی مرتبہ ہی ہاتھ پڑنے والا ہے تو پیٹ میں درد شروع ہوا، اپنا دوپٹہ نواز شریف کو پہنادیں، شہباز شریف کی ہیٹ پہن کر شاہد خاقان عباسی کی جگہ پر خود وزیر اعظم بن جائیں۔ پھر ججوں کو اٹھا کر جہاں پھینکنا چاہیں وہاں پھینک دیں۔
دوججوں نے پہلے ہی نااہل قرار دیا تھا جس پر مٹھایاں تقسیم کی گئیں۔ سلمان اکرم راجہ اپنی وکالت سے پہلے کہہ رہاتھا کہ پارلیمنٹ اور قطری خط کے تضاد پر جج وزیراعظم کو نااہل کرسکتے ہیں، یہ ان کا صوبدید ہے کہ نااہل کریں یا چھوڑدیں۔ 62،63کے اطلاق میں فرق ہے۔ ایک شخص اپنے طورپر دن بھر بدبودار پھوسیاں مارتا رہے مگر جب وہ نماز پڑھے گا تو وضو کے ٹوٹنے پر مقدس مسجد سے جانا پڑے گا۔ پھر جب نماز کی امامت کررہا ہو اور پھر زوردار ہوا کی آواز بھی گونج اُٹھے تو خود ہی نماز چھوڑ کر کسی کو نائب مقرر کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ عوام اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوں اور جب تک کوئی کان سے پکڑ کر نکال باہر نہ کرے وہ ڈٹا رہے۔ محترمہ ذرا سوچئے!
عاصمہ جہانگیرومولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے تھے کہ بہت مال نکلے گامگر اقامہ نکل آیا۔ مال کے چارجزلگانا ٹرائل کورٹ کا کام ہے جس میں اپیل کا بھی حق ہوگا۔

کلمانٹ دوشیزہ کا بیرون ملک خواتین کے اجتماع سے خطاب۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا !

کلمانٹ دوشیزہ کا بیرون ملک خواتین کے اجتماع سے خطاب۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا ! میری لوہے کی بھٹی تھی گواہ رہنا ! اگر جے آئی ٹی اور عدلیہ نے آرمی کے اشارے پر میرے خلاف فیصلہ دیدیا تو گواہ رہنا! ۔میرے ایک چوتڑ پر عدلیہ اور دوسرے پر آرمی کا نشان ہے گواہ رہنا!۔ایک موقع آیا تھا کہ میں نے پرویز مشرف کو ہٹایا تھا گواہ رہنا!۔ اور پھر اس موقع سے فائدہ اٹھاتا اور ایگریمنٹ کرکے نہ جاتا تو میرے چوتڑوں پر آرمی اور عدلیہ کے نشانات مٹ جاتے گواہ رہنا!۔ اب مجھے وہی ہراساں کررہے ہیں جنہوں نے کندھے دیکر میرے دونوں کولہوں کو داغدار کیا گواہ رہنا! میں نے سراسیمگی میں میڈیا پر ، پارلیمنٹ میں اور قطری خط کے ذریعے کنپٹی پر بندوق رکھنے سے غلط بیانی کی، گواہ رہنا رہنا!۔

خبر کی تفصیلات پڑھنے کیلئے نیچے ہیڈنگ پر کلک کریں

کلمانٹ دوشیزہ نواز شریف کو فوج نے ہراساں کرکے متضاد بیانات لئے ہیں۔ قدوس بلوچ

کلمانٹ دوشیزہ نواز شریف کو فوج نے ہراساں کرکے متضاد بیانات لئے ہیں۔ قدوس بلوچ

کلمانٹ دوشیزہ نواز شریف کو فوج نے ہراساں کرکے متضاد بیانات لئے ہیں۔ قدوس بلوچ

نوشتۂ دیوارتیز وتند کے معروف کالم نگار قدوس بلوچ نے پامانہ لیکس پر سیاسی جماعتوں کی قیادت ، اے آر وائی نیوز کے عارف حمید بھٹی ،سمیع ابراہیم ،صابر شاکر و دیگر چینلوں کے ان اینکر پرسن کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں حکومت کے کرپٹ مافیا کو بے نقاب کرنے میں اپنا پورا پورا زور لگایا۔ نوازشریف سیدھے انداز میں اپنی پوری دولت قوم کے سامنے پیش کرکے اپنی تضاد بیانی، جھوٹ اور کرپشن پر معافی مانگیں توہماری سیاست بدلے گی، قوم بھی بدلے گی، یہ ملک بھی بدل جائے گا اورہماری ریاست بھی بدلے گی۔ زرداری اور کرپٹ حواری سب اس پر مجبور ہونگے۔ بھتہ خوری،چوری ، رشوت خوری سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا۔(بقیہ صفحہ3نمبر11)
اس کنواری عورت کو جس کی شادی کی عمر گزری ہو،بلوچی میں کمانٹ کہتے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتاہے کہ فوج کا اس وقت عدلیہ پر کوئی دباؤ ہے کہ نوازشریف کو پانامہ کیس میں ٹنگا دیا جائے۔ جمہوریت کی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف عدلیہ بالکل کسی مصلحت ، مصالحت اور نظریۂ ضرورت کو سامنے رکھنے کے بجائے ضمیر سے فیصلہ دے اور جب آزاد عدلیہ اپنا یہ کردار ادا کرے گی تو اس سے جمہوری کلچر کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ فوج کی مخالف سمجھی جانے والی آپا محترمہ عاصمہ جہانگیر کی بہادری، جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کیلئے جو جدجہد ہے اس کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن اگر ان کو نوازشریف کا وکیل بنایا جائے تو کیا وکالت کریں گی؟۔ کیا وہ کہہ سکتی ہیں کہ میڈیا پر فیملی اور دوست سیاسی رہنماؤں کے اتنے سارے متضاد بیانات فوج نے کنپٹی پر بندوق رکھ کر ان سے کہلوائے تھے؟۔ کیا پارلیمنٹ میں لکھی تحریر پھانسی کی کال کوٹھری میں فوج نے زبردستی سے تیار کروائی تھی؟۔ کیا قطری شہزادے کے خط میں سنی سنائی حوالہ جات لکھ کر فوج نے زبردستی مجبور کیا تھا؟۔ کیااس کلمانٹ دوشیزے کا یہ رونا دھونا کوئی مانے گا؟۔ عاصمہ کو میڈیا پر میرے یہ سوالات کوئی پوچھے اور جواب طلب کرے تو بات بن جائے۔
اگر آمریت کو سپورٹ کرنے والے سیاسی جماعتوں اور شخصیات پر قانوناً پابندی لگائی جائے تو سر فہرست نوازشریف و شہباز شریف کے نام آئیں گے۔ پنجاب کی عوام سب سے زیادہ پسماندہ ہے اور اس کے سب سے بڑے ذمہ دار دونوں بھائی اور ان کی فیملی ہے۔ دوسرے لوگوں کو کھلونے بم سے اسلئے مارا جاتاہے کہ بڑے ہوشیار ہوتے ہیں اور بچے شکار بنتے ہیں۔ پنجاب کی عوام اسقدر پسماندہ ہیں کہ کھلے پیٹرول پر جاہلوں کی بھیڑ دیکھ کر بھی ذرا خوف نہیں کھایا۔ بعض یہ بکواس کرتے ہیں کہ چوری کررہے تھے ، ان کو شرم بھی نہیں آتی تھی کہ ٹرائلر گرگیا اور یہ لوٹ مار میں لگے تھے‘‘۔ حالانکہ پیٹرول ضائع ہورہاتھا، یہ چوری تھی، نہ بھتہ تھا، نہ چھینا جھپٹی۔ نقصان دے نہ ہوتا تو بالکل جائز ہوتا کہ زمین میں جانے کے بجائے عوام کے کام آتا۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر دھماکے کا خوف لئے بھاگ گئے ہوں گے کہ یہ انسان ہیں یا کوئی جانور، جو اتنی بڑی تعداد میں آرہے ہیں۔ کوئی ہوشمند اور قابل سیاستدان ہوتا تو اس واقعہ کی وجہ سے سیاست سے ریٹائرمنٹ لیتا کہ جہاں کئی دہائیوں تک حکمرانی کی ہو وہاں لوگوں کا اس طرح سے جہالت کا ارتکاب کرنا حکمران کی بڑی نااہلی ہے۔
شہباز شریف اس موقع پر کرپشن کو نہ بھولا اور زرداری کا نام لئے بغیر حادثے کے شکار ہونے والوں کے لواحقین سے کہا کہ ’’ یہ سب کرپشن کی وجہ سے ہوا ، جسکی وجہ سے تعلیم میں کمی آئی ہے‘‘۔
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
رہزنی ، غارتگری ، بیداد کی تشہیر ہے
عاقبت ہے سر برہنہ آبرو نخچیر ہے
نعرۂ حق و صداقت لائق تعزیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک شب اجڑا کسی بابا کی بیٹی کا سہاگ
اُڑ گئی پھولوں کی خوشبو ڈس گئے کلیوں کو ناگ
ظلمتوں میں سورہے چاندنی راتوں کے بھاگ
آدمیت ان دنوں اک لاشۂ تقدیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک بیچارے نے دم توڑا شفا گھر کے قریب
برق کے جھٹکے سے ٹھنڈا ہوگیا اک بد نصیب
لاریوں کے ٹکر سے مرگئے کتنے غریب
آج ہر مظلوم کی فریاد بے تاثیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک محلہ سے کسی کا لاڈلہ گم ہوگیا
وائے قسمت ایک بورھے کا عصا گم ہوگیا
کارواں سے بانگِ درا گم ہوگیا
یہ سب نظام جبر کی ایک زنجیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
چھن گئی مزدور کی پونجی بھرے بازار میں
اور مجرم ہوگئے مفرور فوراً کار میں
روز چھپتی ہیں بھیانک سرخیاں اخبار میں
دیکھئے اک خود کشی کی داستان تحریر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
زندگی کرتی ہے جرموں کی تجارت آج کل
چیختی ہے شرافت راہگذاروں پر آج کل
علم کے ماتھے پر جہالت آج کل
آج بے نام ونشان اسلاف کی توقیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک نابغہ حاجی عثمانؒ ، ایک فتویٰ، ایک الزام
غم دوراں! اے غم دوراں تجھے میرا سلام
زلف آوارہ ، گریبان چاک ، مستانی نظر
ان دنوں یہ تھا ہماری زندگانی کا نظام
فتوے چھوٹ کر دارالفتویٰ میں بکھر پڑے
میں نے پوچھا جو مشائخ سے اکابرؒ کا مقام
کہہ رہے ہیں چند بچھڑے مریدوں کے نقش پا
ہم کریں گے انقلاب جستجو کا اہتمام
پڑگئیں میرے روشن جبیں پر سلوٹیں
یاد آکر رہ گئی وہ بے خودی کی ایک شام
تیری عزت ہو کہ میری غیرت کی چاندنی
تاریخ کے ادوار میں ہر چیز کے لگے ہیں دام
ہم بنائیں گے یہاں ساغر نئی تصویر شوق
ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام

مجید اچکزئی ، جمشید دستی اور بہالپور وپاڑہ چنار کے واقعات میں فرق کیوں؟ اشرف میمن

پبلشرنوشتۂ دیوار محمد اشرف میمن نے کہا: یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ریاست اور حکومت کا قبلہ الگ الگ ہوتاہے۔ کوئٹہ میں نامعلوم کی معلومات نہ ہوتیں تو یہ بھی ایجنسیوں کے اس کھاتے میں ڈال دیا جاتا جو دھماکوں کے بعد افواہیں پھیلادی جاتی ہیں کہ خفیہ ہاتھ ملوث ہے۔ مجید اچکزئی نے جرأت کی یا مجبوری کی وجہ سے اعتراف کرنا پڑا؟۔ نامعلوم افراد پر ایف آئی آر درج کرنے سے پتہ چلنا چاہیے اگر محمود اچکزئی نے مطالبہ کردیا کہ اسی روڈ پر کھڑا کرکے مجرم کو یہی سزا ملنی چاہیے تو اسکے نتیجہ میں انقلاب آئیگا۔ کراچی کی سڑکوں پر12مئی کا واقع پرویز مشرف کے دور میں ہوا تو محمود خان اچکزئی بہت اچھا بولتے تھے کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ انسان، پٹھان اور مسلمان فطرت کے تقاضے پر چلیں تو دنیا امن و امان کا گہوارہ بن جائے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہوسکتاہے کہ اپنا استنجاء چھوڑ کر دوسرے کا عضو دھونے لگ جائے۔ اپنا گند سب کو خود ہی صاف کرنا پڑتاہے۔ 9/11کا واقعہ امریکہ میں ہوا، لیکن تباہ افغانستان ، عراق ، لیبیا اور دیگر ممالک کوکیا گیا جسکی وجہ سے مرض بڑھتا گیا ،جوں جوں دوا کی۔
محمود خان اچکزئی سب سے پہلے اپنے مجرم کو سزا دلانے میں پیش پیش رہے تو اپنی قوم اور پھر سب کا بھلا ہی بھلا ہوگا۔ پھر وہ نوازشریف کو بھی کہہ سکے گا کہ بابا ، آمریت کے دور میں کرپشن کی تو اس کی سزا بھی بھگت لو، طالبان تو اپنی شریعت کی بات کرتے ہیں تم نے تو ساری زندگی آمر کے گود میں گزاردی، جنرل ضیاء الحق خود کرپٹ نہیں تھا تو اس کا بیٹا بھی آپکے ساتھ نہیں ، اختر عبدالرحمن کی فیملی نے کرپشن کی تھی تو وہ آپکے ساتھ ہیں۔ آنکھیں نہ دکھاؤ اور نہ گھماؤ، سیدھا سیدھا حساب دو اور چلتے بنو تاکہ جمہوریت پر قوم کا اعتماد بحال ہوجائے۔ خوشحال کسان ،خوشحال پاکستان کے مد میں جو رقم اشہارات پر خرچ کردی ہے تاکہ میڈیا کو خریدا جاسکے ، اگر اس کا آدھا حصہ بھی غریبوں پر خرچ کیا جاتا تو کم از کم ان لوگوں میں اتنا شعور ہوتا کہ پیٹرول لینے کیلئے اس بے تحاشی کا کبھی مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ افریقہ کے جنگلی انسانوں کو بھی پتہ ہوگا کہ پیٹرول کیلئے جاہلوں کی ایسی گہماگہمی بہت غلط اور آگ کے دریا میں کودنے کے مترادف ہے۔ ہر پیٹرول پمپ پر سگریٹ کی ممانعت لکھی ہوتی ہے۔ شہباز شریف فرنگی ہیڈپہن کر قوم کو بتانا چاہتا ہے کہ طالبان کے حامیوں کو کس طرح اپنا رنگ ڈھنگ بدلنا آتاہے اور جاہلوں کے سامنے جھوٹی سلیمانی ٹوپی پہننا بھی آسان ہے۔ سوشل میڈیا پر تعصب کو ہوا دینے کی بات ٹھیک نہیں ہے البتہ جاہل میں جہالت کی وجہ سے ہی تعصب ہوتاہے۔
پنجاب سے ووٹ ملتے ہیں جس کی وجہ سے اقتدار کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ پاڑہ چنار کا تعلق قبائلی علاقہ سے ہے وہاں کے نمائندے ویسے بھی اپنا ووٹ فروخت کرتے ہیں تو عوام کو خوش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جو بھی قومی اسمبلی کا نمائندہ بن کر آئے اسکے دام لگادئیے جائیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قوم کی مشکلات اس وقت دور ہوں گی کہ جب ریاست اپنا کام کرے گی اور حکومت اپنا کام کرے گی۔ غریب و امیر ، طاقتور و کمزور اور حکومت و اپوزیشن کی بات اپنی جگہ پر مگر ریاست طاقتور ہو تو بات بنے۔ حکومت خود ہی ریاست کو طاقتور بنانے سے ڈرتی ہے۔ حکمران اگر ریاست کو خود تسلیم کریں تو ہی ریاست طاقتور ہوگی۔ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر مرکزی و صوبائی نامزد اور مجرم حکمرانوں کو ٹانگ دیا جاتا تو پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے، پی ٹی وی پر حملہ اور پولیس افسربری طرح زدوکوب پر مجرموں کو ضرور اور کھلے عام سزائیں بھی مل جاتیں۔ عدلیہ پر حملے، چیف جسٹس کو خریدنے اور آمریت کی حمایت کرنے پر سیاستدان نااہل قرار دئیے جاتے تو صاف ستھرے لوگوں کا اقتدار میں آنا بہت آسان ہوجاتا، ریاست بھی مضبوط ہوتی اور جمہوریت بھی مستحکم بن جاتی۔
آمریت کے پروردہ سیاستدانوں سے جمہوری کلچر کو پروان چڑھانے کی امید نامعقول منطق ہے۔ نوازشریف نے اپنے بچوں کے اثاثوں سے ہی لاتعلقی کا اعلان نہیں کررکھا ہے بلکہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میرے بچے پاکستانی نہیں لندنی ہیں، ہم چاہیں تو وہ عدالت کے کہنے پر جوابدہ بھی نہیں ہوں گے۔جس طرح زرداری کے سوئس اکاؤنٹ بھی پاکستانی نہ تھے لیکن کرپشن کا پیسہ واپس لانے کا مطالبہ ہورہاتھا اسی طرح جن لوگوں نے کرپشن کے پیسوں پر باہر تعلیم اور نیشنیلٹی حاصل کی ہے وہ بھی قوم کو پورا پورا حساب دینے کے پابند ہیں، جو کرپٹ فوجی، بیوروکریٹ و جرنلسٹ ہیں وہ انہی کیساتھ ہیں سب کو پکڑنے کی بات بالکل درست ہے۔ جمشید دستی نے ایک دفعہ پانی کھول کر جس قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے ، وہ رونے کیساتھ ساتھ اس وقت ہنسے گا بھی سہی جب پانامہ لیکس میں شریف فیملی کو بھی اس طرح پنجاب پولیس عوام کے سامنے تذلیل کا نشانہ بنائے۔ زرداری کی زبان کاٹنے والے شریفوں کو مچھر کاٹنے کی تکلیف کبھی نہیں بھولتی ۔ جنرل راحیل ہی نہیں پاک فوج کی موجودہ قیادت نے بھی دہشت گردی کا شکار ہونے والے پاڑہ چنار کے متاثرین کو بڑی اہمیت دی لیکن سیاسی قیادت ڈھیٹ بن گئی ہے، حالانکہ قومی یکجہتی سیاسی قیادت کا فرض بنتاہے۔ مودی سرکار کی دوستی کو نبھانے کیلئے ہندو کی تقریبات میں شرکت کرکے رنگ پھینکنے کی دعوت دیتے ہو لیکن دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے پاس نہیں جاتے۔ آخرکیوں؟۔عقیدہ کی جنگ اس بات پر ہے کہ کوئی جنت میں جائیگا کوئی جہنم میں، شرک کو اللہ معاف نہ کریگا۔ نوازشریف کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ جنت وجہنم کا فیصلہ ہم نے نہیں کرنا۔ عقیدہ میں زبردستی نہیں مگر جنت جہنم کی بنیاد پر بات ہے، پاڑہ چنار جنت کو دہشتگردوں نے جہنم بنا دیا اور تم نے پوچھا تک نہیں؟، جھوٹے!تمہاری کرپشن سے پنجاب کے عوام شعلوں کی نذرہوئے۔

وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں کا عمدہ کردار اور مفتی منیب الرحمن پر سخت برہمی کا اظہار. پیر عبد الواحد

پیرعبدالواحد شاہ نے جنوبی وزیرستان کے حالات نوشتۂ دیوار کو فون پر بتائے۔ پہلے تو عوام کو پاک فوج کے جوانوں سے تلاشی کی وجہ سے بہت شکایت رہتی تھی۔ اکادکاکمینہ ہے مگر سب کاعمومی رویہ بہت زبردست ہے، چیک پوسٹوں پر فوجی روزہ رکھتے تھے ۔عید کے موقع پر زبردستی سے مہمان فوجی سپاہیوں کو حلوے کے ڈبے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کیا۔ وانہ شہر سے فوجی جوانوں نے سودا منگوایا تو ان پر چار سو روپے نکلتے تھے جو زبردستی سے وہ بھی دے دئیے۔ مفتی منیب الرحمن پربہت برہم تھے کہ ہمیشہ غلط فیصلہ کرتاہے۔مرتا بھی نہیں کہ جان چھوٹ جائے۔ ظاہر ہے کہ روزہ اللہ کی عبادت ہے اور عید کے دن شیطان کا روزہ ہوتا ہے جو انسانی شکل میں پاکستان پر مسلط ہے وہ سب کیلئے عبادت نہیں سزاہی ہوسکتی ہے۔
پوری دنیا میں چاند ایک ہی ہوتا ہے ، اگر دنیا کا فیصلہ غلط ہو تو حج بھی موقوف کردیا جائے تاکہ عوام کی عبادت خراب نہ ہو، اگر سعودیہ غلط ہلال کا اعلان کرتی ہے تو اس کی مخالفت ایک شرعی اور اخلاقی فرض ہے۔ ہمارے ہاں یہ تماشا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جہاں محکمہ موسمیات اعلان کرتی ہے کہ بادل کی وجہ سے اسلام آباد میں چودھویں کا چاند کیا ساڑھے بارہ بجے بادل میں دن کو سورج بھی نظر نہیں آسکتا لیکن ٹی اے ڈی اے کے چکر میں ہلال کمیٹی کے اراکین چیئرمین سمیت وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ پورے ملک کے میڈیا پر مختلف شہروں سے نمایاں چاند کی تصاویر نشر ہوتی ہیں لیکن ہلال کمیٹی نے اپنا نمبر دیا ہوتا ہے کہ اس پر گواہی دیں۔ کیا شریعت مفتی کی اتنی محتاج ہے؟ اگر ٹی وی کوریج دینا چھوڑدے تو بھی یہ ڈھیٹ اور بے غیرت بننے سے جلد باز آجائیں گے۔

جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور کو پیغام حق

جماعت اسلامی انقلابی ہے تو طلاق و خلع کے حوالہ سے تحقیق انقلاب ہی کابڑا پیش خیمہ ہے

لاہور(تنویر)ہماراوفد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور گیا۔نجم محمود، ذکاء اللہ، محمد اجمل ملک اور سید عتیق الرحمن گیلانی نے تحقیق وتجزیہ کے شعبہ میں ایک خٹک صاحب سے بات کی جو اس شعبے کے نائب تھے۔ طلاق کے حوالہ سے ان کو کتاب دی جسکے نتائج کا انتظار ہے،انکا کہنا تھا کہ طلاق کتنوں کا مسئلہ ہے؟۔ عتیق گیلانی نے کہا: ایک انسان کا بے گناہ قتل انسانیت کا قتل ہے تو ایک عورت کی بے حرمتی انسانیت کی بے حرمتی ہے، اگرجماعت اسلامی نے طلاق وخلع کے حوالہ سے قرآن وسنت عام کرنے کا اعلان کیا تو خواتین ووٹ دیں گی۔

ہمارے مرکزویٹی کن سٹی سے برداشت اور امن کی بات کی گئی جبکہ اسلامی مرکز (سعودیہ)سے ایک سو بلین کے ہتھیاروں کاسودا کیا گیا: مسیحی خاتون اسکالر

اہل کتاب میں سے اکثروں کی چاہت یہ ہے کہ کسی طرح تم کو ایمان کے بعد کافر بنادیں۔ بسبب اپنے دلی حسد کے، اس کے بعد کہ ان کیلئے حق ظاہر ہوچکا ہے ۔ سو تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہےO اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ ۔ اور جو کچھ آگے بھیج د و گے اپنے پاس سے بھلائی تو اللہ کے پاس اس کو پاؤ گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ،سب دیکھتا ہےO اور کہتے ہیں کہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے مگر جو ہوں یہود یا نصاریٰ ۔ یہ ان کی آرزوئیں ہیں ۔ کہہ دیجئے کہ کوئی دلیل لے کر آؤ اگر تم سچے ہوO کیوں نہیں جس نے تابع کردیا اپنا منہ اللہ کیلئے اور وہ نیک کام کرنے والا ہے تو اس کیلئے اسکے رب کے پاس اجر ہے۔ نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہونگےO اور یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں ہیں کسی راہ پر اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں ہیں کسی راہ پرباوجود یہ کہ وہ کتاب پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے انہی کی طرح بات۔ اللہ فیصلہ کرے گا،قیامت کے دن، ان کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکے کہ اس میں اس کا نام لیا جائے۔ اور کوشش کرے ان کو ویران کرنے میں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ داخل نہ ہوں گے ان مساجد میں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کیلئے دنیا میں ذلت ہے اور ان کیلئے آخرت میں بڑا عذاب ہےO اور اللہ کیلئے مشرق اور مغرب ہے سو جس طرف تم منہ کرو وہاں اللہ کی توجہ ہے ، بیشک اللہ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے O (سورہ البقرہ : آیات109تا 115)

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگ خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا کہ کہیں مجھے نہ پہنچ جائے۔ میں نے کہا کہ ہم جاہلیت و شر میں تھے پھر اللہ نے یہ خیر بھیجی۔ کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟ فرمایا کہ ہاں! میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے؟ فرمایا کہ ہاں! اور اس میں دھواں ہے۔ میں نے کہا : اس کا دھواں کیا ہے؟ فرمایا: لوگ میری سنت کے بغیر راہ پر چلیں گے اور میری ہدایت کے بغیر ہدایت اپنائیں گے ، ان میں اچھے بھی ہونگے اور برے بھی۔ میں نے کہا : کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں! داعی ہونگے جو لوگوں کو جہنم کے دروازوں پر دعوت دینگے جو انکی دعوت قبول کریگا اسکو اس میں جھونک دینگے۔ میں نے کہا : ذرا انکا حال تو بیان فرمائیے۔ فرمایا: وہ ہمارے چمڑے میں ہونگے اور ہماری زبان بولیں گے ۔ میں نے کہا اگر میں انکو پاؤں تو کیا حکم ہے ؟ ،فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام سے مل جاؤ۔ میں نے کہا اگر مسلمانوں کا امام ہو اور نہ انکی جماعت تو پھر؟، فرمایا: ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ ، چاہے تمہیں درخت کی جڑ چوس کر پناہ لینی پڑے، یہاں تک کہ موت آجائے۔ (مشکوٰۃ، بخاری، عصر حاضر ، مولانا یوسف لدھیانویؒ )

جب سے میں نے اس مسیحی خاتون اسکالر کی یہ تحریر پڑھی ہے مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اسکی تردید کروں تو کس طرح، تائید کروں توکس طرح ؟ ۔ مسیحی خاتون اسکالر لکھتی ہیں ’’امریکی صدر نے دو مذاہب کے مراکز کے دورے کئے ہیں۔ ایک سعودی عرب جو مسلمانوں کا مرکز ہے اور دوسرا ویٹی کن سٹی جو کہ ہمارا ہے۔ ہمارے مرکز سے برداشت اور امن کی بات کی گئی اور ہمارے رہنما نے امریکی صدر کو دنیا میں پائیدار امن کیلئے کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ اسلامی دنیا کے مرکز سے عدم استحکام اور بدلے کی بات کی گئی اور امریکی صدر کو جنگوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ہمارے مرکز سے دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کی نشاندہی کی گئی جبکہ اسلامی مرکز (سعودیہ)سے ایک سو بلین کے ہتھیاروں کاسودا کیا گیا اور وہ ہتھیار دوسرے اسلامی ملک پر استعمال کے غرض سے خریدے گئے۔ ہمارے مرکز سے غربت کے خاتمے اورسماجی انصاف کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ اسلامی مرکز سے امیروں کو امیروں نے امیرانہ تحائف دینے کے باوجود اسلامی دنیا میں عدم استحکام ، غربت سے دوچار شہریوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا اور ان کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی جو اسلامی دنیا میں جنگوں سے بری طرح متاثر ہیں۔ کیا یہ فرق وہ ہے جسے آسانی سے نظر انداز کیاجائے؟

پاکستان کی بقاء اور ترقی کیلئے ایک منشور کی ضرورت

موسمیاتی تبدیلیوں ، پانی کے ذخائر،ماحولیاتی آلودگی ، اسلحہ کی دوڑ دھوپ سازش کے تحت فرقہ وارانہ لڑائی اور مضبوط اداروں کو سازش کے تحت کمزور کرنیکا رویہ خاص طور سے بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ ریاست کی مضبوطی اداروں سے اور اداروں کی مضبوطی دیانتداری، میرٹ اور اپنے کام سے کام رکھنے میں ہی ہے۔ سیاسی قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک وقوم کے بجائے اپنا کاروبار چمکارہے ہیں۔
1: تعلیمی نظام کے نصاب کو درست کرنیکی ضرورت ہے، بھاری بھرکم بستے اور بڑی بڑی فیسوں نے قوم کے بچوں ، نوجوانوں اور نسلوں کے مستقبل کوداؤ پر لگادیا ہے۔ اچھے نصاب اور بچوں کے معیار سے تعلیمی قابلیت کے اساتذہ قوم کی ضرورت ہیں۔ اساتذہ کی کم سے کم تنخواہ اورطلبہ کی زیادہ سے زیادہ فیس بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہاہے۔ جس سے قوم تباہ ہورہی ہے، سکول مالکان کی ناجائز منافع خوری المیہ ہے، تعلیم کاروبار نہیں خدمت ہے،اساتذہ کو کسمپرسی سے نکالنا اور طلبہ کو سستی تعلیم دینا ضروری ہے۔ نصاب تعلیم بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بجائے بوجھ بنتا جارہاہے جسکی وجہ سے نقل اور جعلی ڈگریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قوم کی نااہلی کیلئے ہمارا تعلیمی نظام اپنا کردار ادا کرنے میں سب سے آگے ہے۔
قدرت نے پاکستان کو بے پناہ دولت سے نوازا ۔ پانی اور ہر موسم کی آب و ہوا، میدانی و پہاڑی سلسلہ ، دشت وصحرا، عرب وعجم اور مشرق ومغرب کے اس سنگم پر واقعہ ہونا جس میں دنیاکیلئے اسکی بہت بڑی اہمیت ہے۔حکمران قذاقوں کی طرح لوٹ مار کے بجائے قوم کے بہتر مستقبل کیلئے سوچیں۔ہم گرمی میں پہاڑی، سردی میں میدانی علاقے کا موسم انجوائے کرنیوالے تعلیمی ادارے بناسکتے ہیں جو کم خرچ بالا نشیں ہونگے، وزیرستان کے بھی ایسے مدارس ہیں۔اگر مدارس کا نصاب درست کرلیا تو اسکے بہت مثبت اثرات پڑینگے۔ قرآن وسنت سے معاشرہ مالا مال ہوگا، تو عالم اسلام ہی نہیں پاکستان دنیا کی امامت بھی کریگا۔
2: پہاڑی علاقوں سے آنیوالا شفاف پانی ڈیموں کے ذریعہ ذخیرہ کیا جائے تو زیرزمین پانی کے ذخائز میٹھے پانی سے مالامال ہونگے۔ سستی بجلی پیدا ہوگی توعام لوگ پاکستان میں اے سی اور ہیٹر کا استعمال کرکے دنیا کے جہنم سے بچ سکیں گے اور پانی کو ہر طرح کی آلودگی سے بچانے کیلئے انتظام ہوگا تو صحتمند معاشرے پر حکمران فخر کرسکیں گے۔ ملیں، کارخانے اور فیکٹریاںآلودگی پیدا کریں توا ن کو فی الفور کراچی گوادر کوسٹل ہائی وے منتقل کیا جائے۔ بلوچستان کی غیرآباد زمیں آباد اور باقی پاکستان کو آلودہ پانی سے نجات ملے گی۔ دنیامیں کیا ہورہاہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟۔ جس طرح انسانی جسم قدرت کا حسین شاہکار ہے۔ کھانے پینے اور ہگنے وپیشاب کرنیکی راہیں ایک ہوجائیں توپورا جسم بدحال ہوجائے۔ ان حکمرانوں کی مسیحائی کے سہارے بیٹھنا زیادتی ہے جو قوم کی تباہی کو پیشہ بناچکے ،پاکستان کے اندر میٹھے پانی کی اتنی صلاحیت ہے کہ کراچی کی ندیاں شفاف پانی سے مالامال ہوں۔ بڑی سڑکوں پر گرین بیلٹ، نہریں اور چھوٹی سڑکوں پر نالے بنیں اور عوام فائدہ اٹھائیں۔ ابھی تو کچی آبادی کیا، متوسط طبقے بھی نہیں ڈیفنس والے بھی پانی سے محروم ہیں۔ سندھ کی زرعی آبادی کیلئے کالاباغ ڈیم ضروری ہے، سندھ کو نہری نظام کے ذریعے بنجر ہونے سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ دریائے سندھ کبھی طوفان نوح اور کبھی کربلا کا منظر پیش کرتا ہے، دنیا آسمانی پانی کی تسخیر پر عمل پیرا ہے اور ہم بہتے پانی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ہیں۔کالاباغ ڈیم بن جائے تو جب دریا خشک ہوتاہے توپورادریا ڈیم بن سکتاہے، نہ صرف دریا بلکہ جگہ جگہ بڑے مصنوعی ڈیم بنادئیے جائیں تو پاکستان سرسبزوشاداب ہوگا، باغات و جنگلات کی وجہ سے بارشیں برسیں گی ،پانی کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا، نہری نظام اور گندے نالوں کا جال پاکستان کو فطری زندگی سے مالامال کردے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ ہم نے پانی سے ہر جاندار کو زندگی بخشی ہے‘‘ ۔پانی کا مسئلہ حل کئے بغیر بہتر مستقبل کا خواب پورانہ ہوگا۔
3: پاکستان کے شہری علاقوں میں سڑکوں پر ہجوم کا معاملہ روزانہ خوامخواہ کی اذیت ہے۔ جہاں سرکاری املاک ہوتے ہیں وہاں بھی سڑک انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ سرکار عوام کی خادم ہو تو سب سے پہلے سرکاری املاک کی بہت بڑی کٹوتی کرکے راہ دکھائی جائے کہ جہاں عوام کو تکلیف نہ ہوگی وہاں زمین اور مارکیٹوں کا بھاؤ بھی نسبتاً بہت زیادہ ہوگا۔ گورنمنٹ کے اداروں کیلئے زمین کونسا بڑا مسئلہ ہے، لینڈ مافیا سے مل کر حکومت اور عوام کے املاک پر قبضے کا سلسلہ کب سے جاری ہے؟، مقتدر طبقہ اپنے مفاد میں اندھا ہونے کے بجائے قومی مفاد اور عوام کے مفادات کا بھی خیال رکھے ،لیاری ایکسپریس وے کے مکینوں کوگھروں سے محروم کیا جارہاہے اور بدلے میں 50ہزار روپے دئیے جارہے ہیں؟۔ کیا غریبوں کی بدعا ان لوگوں کو نہیں لگے گی؟۔ حکومت کیلئے مشکل نہ تھا کہ فلیٹ یا گھر بناکر دیتی مگربے حس اور مفاد پرست طبقہ حکمرانی کے مزے لیتاہے۔ منصوبہ بندی کرکے تمام شہروں کی شاہراہوں کو وسیع کیا جائے، ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ شریعت میں قبرستان اور مساجد کو بھی راستہ بڑا کرنے کیلئے مسمار کیا جاسکتاہے۔ پنجاب کی آبادی بہت بڑی ہے، جنوبی پنجاب کو ملتان سے اسلام آباد تک موٹر وے کے ذریعے میانوالی کی صراط مستقیم سے ملایا جائیگا تو اسکا فائدہ کراچی سندھ اور کوئٹہ بلوچستان کشمیر ، گلگت بلتستان، ہزارہ کے علاوہ پنجاب کو بھی ہوگا ٹریفک کی آلودگی سے بچت ہوگی۔ بڑی مقدار میں فیول اور انرجی بچے گی۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں کو بہترشاہراہوں کے ذریعے ملایا جائے توپوری قوم موسم کیمطابق پاکستان کے ہر علاقہ سے فائدہ اٹھا ئیگی۔ بابائے قوم گرمی کی چھٹیاں زیارت میں گزارتے تھے، حکمرانوں نے پہاڑی علاقوں میں محلات بنا رکھے ہیں تو عوام بھی اپنی اوقات کے مطابق گرمیوں کا موسم پہاڑی علاقے میں گزارسکتے ہیں۔
4: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خداداد صلاحیتیں دی ہیں، کوئی ذہنی صلاحیت رکھتاہے اور کوئی جسمانی صلاحیت رکھتاہے۔کوئی بھی قوم ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو ذہنی کاموں پر لگادیتی ہے اور جسمانی صلاحیت والوں کو جسمانی صلاحیت پر لگادیتی ہے تو وہ بلندی وعروج حاصل کرلیتی ہے اور جو اسکے برعکس جسمانی صلاحیت والوں کو ذہنی اور ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو جسمانی کام پر لگادیتی ہے تو وہ گراوٹ و پستی کا شکار ہوجاتی ہے۔ نوازشریف اور شہباز شریف میں قائدانہ صلاحیتیں نہ تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ نے ان کو پروان چڑھایا جس کی سزا آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو میں صلاحیت تھی تو ایوب خان نے ان کا درست انتخاب کیا تھا، جب بھٹو نے احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا اورایوب خان کو چھوڑ دیا تو عروج کی منزل حاصل کی مگر ڈکٹیٹر کے اثر نے خوئے جمہوریت کھو دی۔ اب بلاول بھٹو زرداری، حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز میں قائدانہ صلاحیت تو دور کی بات ذہنی صلاحیت بھی نہیں اور ملالہ یوسف زئی میں ایک غریب کی بچی ہونے کے باوجود قائدانہ صلاحیت ہے۔ جب امیر وغریب کو تعلیم کے یکساں مواقع مل جائیں تو ذہنی صلاحیت امیر وغریب کے بچے میں ہو تو قوم کو قابل ڈاکٹر، انجینئراور تعلیم یافتہ طبقہ ملے گا۔ جن میں ذہنی صلاحیت نہ ہو تو وہ قوم پر نالائق بن کر بھی بوجھ نہیں بنے گا۔ جاگیردار کا بچہ ذہنی صلاحیت سے محروم ہوکر ڈاکٹر بنے اور غریب کا بچہ ذہنی صلاحیت سے مالامال ہوکر بھی کھیتی باڑی کرے تو قوم کا مستقبل کبھی نہیں بن سکتاہے۔ پاکستان میں مزارعت پر پابندی لگائی جائے تو جاگیردار زمین کاشت کریگا یا مزراع کو مفت میں دیگا۔ جس مزارع کو مفت میں کاشت کیلئے زمین مل جائے تووہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دلواسکے گا۔ والدین بچوں کو تعلیم دلاسکیں تو بچوں پر مزدوری نہ کرنے کی پابندی لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔پھر بلاول زرداری، حسن و حسین نواز جیسے لوگ کھیتی باڑی کرینگے اور قابل لوگ آگے آئیں گے۔
5: میاں بیوی ، حکمران رعایا اور طاقتور کمزور کے حقوق کا تعین ہوجائے اور معاشرہ شعور سے مالامال ہوجائے تو ظلم وجبر کا خود بخودخاتمہ ہوگا اور اعلیٰ اخلاقی قدریں تہذیب وتمدن کا حصہ بن جائیں گی۔ النساء کی آیت19میں عورت کو خلع کا حق اور20میں شوہرکوطلاق کا حق اجاگر کیا جائے تو99%شوہروں کے غیر اخلاقی اور تشدد کے رویہ میں فرق آئیگا۔ اس طرح طلاق کی درست تعبیر سامنے لائی جائے تو 100%عوام رمضان کے مہینے میں تین عشرے کی طرح تین مرتبہ طلاق اور آخری عشرے میں مساجدمیں اعتکاف کی طرح حلالہ کا مسئلہ سمجھ میں آجائیگا۔ حقوق کا مسئلہ حل ہوگا تو لوگ قرآن کے وعظ سے مستفید ہونگے۔

کوئٹہ سے سوات تک علماء اُٹھ جائیں

کوئٹہ (عبد العزیز، محمد زبیر) کچلاک کے معراج خان ولد ملک باز محمد خان کا تعلق جمعیت علماء اسلام (ف) سے تھا۔ پھر الگ ہوا کہ جمعیت نے قرآن و سنت کے بجائے دنیاوی اقتدار کو اپنا نصب العین بنالیا ۔ پھر خوابوں کی بشارت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حکم ملاکہ امام مہدی کیلئے تحریک خراسان پاکستان کی بنیاد پر کام کرے۔ وہ بڑے درد ناک انداز میں پشتو اشعار پڑھتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے ۔ ہمارا کالا جھنڈا ہے جو خوبصورت بلند ہے ۔ حق کی یہ نشانی ہے۔ پانچ اس میں ستارے ہیں اور دوسرا یہ کہ چاند اس میں واضح ہے۔ میں کتاب سے بولتا ہوں ، بڑی قیامت کے باب سے مسلم عالی جناب !مشکوٰۃ ، ترمذی ، ابن ماجہ میں یہ لکھا ہوا ہے ، جانان ﷺ کی حدیث ہے ، تحریک خراسان کی ہے ، یہ بہت بڑا بخت ہے اے مسلماں!۔ اے اُمت! اگر تم شامل ہوجاؤ ، یہ امام مہدی کا لشکر ہے ۔ یہود ہوں کہ نصاریٰ ، بیت اللہ کے اوپر قابض ہیں اور وہ سچے گمراہ ہیں۔ بیت المقدس پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہے۔ سب ایک بات پر متفق ہوجاؤ ۔ تو کفر کی سرداری ٹوٹ جائیگی ۔ حق تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے ۔ قرآن کو دہشت گرد کہا جائے، یہ فرعونی دعویٰ ہے۔ میں طالب خراسان کا ہوں ، پورے جہان کیلئے اٹھ کھڑا ہوں، میں بے بس و کمزور ہوں۔ اللہ آپ مدد کرو ، مدینہ پریشان ہے۔
جولائی 1999ء میں ضرب حق کی مین لیڈ لگی مولاناامیر حمزہ بادینی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام (س) نے فرمایاکہ عتیق گیلانی کی حمایت کے بارے میں کچھ دوستوں سے مشورہ کیا لیکن دوستوں نے اجازت نہیں دی۔اللہ کے فضل سے حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی 25اپریل 1999ء کومدینہ منورہ میں استخارہ کیا ، مجھے بشارت ہوئی کہ سید عتیق الرحمن گیلانی اُمت مسلمہ کا خیر خواہ ہے۔ مولانا بادینی نے علماء کرام ، بزرگان دین اور عوام سے کہا کہ وہ ملکر شاہ صاحب سے تعاون فرمائیں۔ حال ہی میں ٹانک وزیرستان کے مولانا عصام الدین محسود نے گیلانی کے اہداف کو درست اور علماء کی روش کو غلط قرار دیا تھا۔